Back to Languages

Urdu - Chapter 21 - Al-Anbiya

Translation by Muhammad Hussain Najafi — Permalink

Verse 1 — Surah Al-Anbiya 21:1

لوگوں کے حساب کتاب (کا وقت) قریب آگیا ہے اور وہ غفلت میں پڑے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔

Verse 2 — Surah Al-Anbiya 21:2

ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نئی یاددہانی ان کے پاس آتی ہے۔ تو وہ اسے کھیل کود میں لگے ہوئے سنتے ہیں۔

Verse 3 — Surah Al-Anbiya 21:3

ان کے دل بالکل غافل ہیں اور یہ ظالم چپکے چپکے سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ شخص (رسول) اس کے سوا کیا ہے؟ تمہاری ہی طرح کا ایک بشر ہے کیا تم آنکھیں دیکھتے ہوئے (اور سوجھ بوجھ رکھتے ہوئے) جادو (کی بات) سنتے جاؤگے؟

Verse 4 — Surah Al-Anbiya 21:4

پیغمبر اسلام(ص)) نے کہا کہ میرا پروردگار آسمان اور زمین کی ہر بات کو جانتا ہے (کیونکہ) وہ بڑا سننے والا (اور) بڑا جاننے والا ہے۔

Verse 5 — Surah Al-Anbiya 21:5

بلکہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) خواب ہائے پریشان ہیں (نہیں) بلکہ یہ اس نے خود گھڑ لیا ہے۔ بلکہ وہ تو ایک شاعر ہے (اور اگر ایسا نہیں ہے) تو پھر ہمارے پاس کوئی معجزہ لائے جس طرح پہلے رسول (معجزات کے ساتھ) بھیجے گئے تھے۔

Verse 6 — Surah Al-Anbiya 21:6

ان سے پہلے کوئی بستی بھی جسے ہم نے ہلاک کیا وہ تو ایمان لائی نہیں تو کیا یہ ایمان لائیں گے؟

Verse 7 — Surah Al-Anbiya 21:7

(اے رسول) اور ہم نے آپ سے پہلے بھی مردوں کو ہی رسول بنا کر بھیجا تھا جن کی طرف وحی کیا کرتے تھے۔ اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر سے پوچھ لو۔

Verse 8 — Surah Al-Anbiya 21:8

اور ہم نے ان رسولوں کو کبھی ایسے جسم کا نہیں بنایا کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں۔ اور نہ وہ ہمیشہ زندہ رہنے والے تھے۔

Verse 9 — Surah Al-Anbiya 21:9

پھر ہم نے ان سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچا کر دکھایا اور انہیں اور ان کے ساتھ جن کو چاہا بچالیا اور زیادتی کرنے والوں کو تباہ و برباد کردیا۔

Verse 10 — Surah Al-Anbiya 21:10

بےشک ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا ہی ذکر ہے کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ (نہیں سمجھتے؟)۔

Verse 11 — Surah Al-Anbiya 21:11

اور کتنی ہی بستیاں ہیں جو ہم نے بریاد کر دیں۔ کیونکہ وہ ظالم تھیں (ان کے باشندے ظالم تھے) اور ان کی جگہ اور قوم کو پیدا کر دیا۔

Verse 12 — Surah Al-Anbiya 21:12

جب انہوں نے ہمارا عذاب محسوس کیا تو ایک دم وہاں سے بھاگنے لگے۔

Verse 13 — Surah Al-Anbiya 21:13

(ان سے کہا گیا) بھاگو نہیں (بلکہ) اپنی آسائش کی طرف لوٹو جو تمہیں دی گئی تھی۔ اور اپنے گھروں کی طرف لوٹو۔ تاکہ تم سے پوچھ گچھ کی جائے۔

Verse 14 — Surah Al-Anbiya 21:14

ان لوگوں نے کہا ہائے ہماری بدبختی بےشک ہم ظالم تھے۔

Verse 15 — Surah Al-Anbiya 21:15

وہ برابر یہی پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے انہیں کٹی ہوئی کھیتی کی طرح (اور) بجھی ہوئی آگ کی طرح کر دیا۔

Verse 16 — Surah Al-Anbiya 21:16

اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کو کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔

Verse 17 — Surah Al-Anbiya 21:17

اگر ہم کوئی دل بستگی کا سامان چاہتے تو اپنے پاس سے ہی کر لیتے مگر ہم ایسا کرنے والے نہیں ہیں۔

Verse 18 — Surah Al-Anbiya 21:18

بلکہ ہم باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں جو اس کا بھیجا نکال دیتی ہے (سر کچل دیتی ہے) پھر یکایک باطل مٹ جاتا ہے۔ افسوس ہے تم پر ان باتوں کی وجہ سے جو تم بناتے ہو۔

Verse 19 — Surah Al-Anbiya 21:19

جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین ہے سب اسی کیلئے ہے اور جو اس کی بارگاہ میں ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر و سرکشی نہیں کرتے اور نہ ہی تھکتے ہیں۔

Verse 20 — Surah Al-Anbiya 21:20

وہ رات دن اس کی تسبیح کرتے ہیں کبھی ملول ہوکر وقفہ نہیں کرتے۔

Verse 21 — Surah Al-Anbiya 21:21

کیا انہوں نے زمینی (مخلوق) سے ایسے معبود بنائے ہیں جو مردوں کو زندہ کر دیتے ہیں۔

Verse 22 — Surah Al-Anbiya 21:22

اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا کوئی اور خدا ہوتا تو دونوں کا نظام برباد ہو جاتا پس پاک ہے اللہ جو عرش کا مالک ہے ان باتوں سے جو لوگ بناتے ہیں۔

Verse 23 — Surah Al-Anbiya 21:23

وہ جو کچھ کرتا ہے اس کے بارے میں اس سے بازپرس نہیں کی جا سکتی اور وہ ہر ایک کا حساب لینے والا ہے۔

Verse 24 — Surah Al-Anbiya 21:24

کیا ان لوگوں نے اللہ کے علاوہ اور خدا بنائے ہیں؟ کہئے کہ اپنی دلیل پیش کرو۔ یہ (قرآن) میرے ساتھ والوں کی (کتاب) ہے اور مجھ سے پہلے والوں کی (کتابیں بھی) ہیں (ان سے کوئی بات میرے دعویٰ کے خلاف نکال کر لاؤ) بلکہ اکثر لوگ حق کو نہیں جانتے (اس لئے) اس سے روگردانی کرتے ہیں۔

Verse 25 — Surah Al-Anbiya 21:25

اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی ایسا رسول نہیں بھیجا جس کی طرف یہ وحی نہ کی ہو کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ پس تم میری ہی عبادت کرو۔

Verse 26 — Surah Al-Anbiya 21:26

اور وہ کہتے ہیں کہ خدائے رحمن نے اولاد بنا رکھی ہے وہ (اس سے) پاک ہے بلکہ وہ فرشتے تو اس کے بندے ہیں۔

Verse 27 — Surah Al-Anbiya 21:27

جو بات کرنے میں بھی اس سے سبقت نہیں کرتے اور اسی کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔

Verse 28 — Surah Al-Anbiya 21:28

اللہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور وہ کسی کی شفاعت نہیں کرتے سوائے اس کے جس سے خدا راضی ہو۔ اور وہ اس کے خوف و خشیہ سے لرزتے رہتے ہیں۔

Verse 29 — Surah Al-Anbiya 21:29

اور جو (بالفرض) ان میں سے یہ کہہ دے کہ اللہ کے علاوہ میں خدا ہوں۔ تو ہم اسے جہنم کی سزا دیں گے ہم ظالموں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔

Verse 30 — Surah Al-Anbiya 21:30

کیا کافر اس بات پر غور نہیں کرتے کہ آسمان اور زمین پہلے آپس میں ملے ہوئے تھے پھر ہم نے دونوں کو جدا کیا۔ اور ہم نے (پہلے) ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا ہے۔ کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لاتے؟

Verse 31 — Surah Al-Anbiya 21:31

اور ہم نے زمین میں پہاڑ قرار دیئے تاکہ وہ لوگوں کو لے کر ڈھلک نہ جائے اور ہم نے ان (پہاڑوں) میں کشادہ راستے بنائے تاکہ وہ راہ پائیں (اور منزل مقصود تک پہنچ جائیں)۔

Verse 32 — Surah Al-Anbiya 21:32

اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا مگر یہ لوگ پھر بھی اس کی نشانیوں سے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔

Verse 33 — Surah Al-Anbiya 21:33

اور وہ وہی ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو پیدا کیا۔ سب (اپنے اپنے) دائرہ (مدار) میں تیر رہے ہیں۔

Verse 34 — Surah Al-Anbiya 21:34

اور ہم نے آپ سے پہلے کسی آدمی کو ہمیشگی نہیں دی۔ تو اگر آپ انتقال کر جائیں تو کیا یہ لوگ ہمیشہ (یہاں) رہیں گے؟

Verse 35 — Surah Al-Anbiya 21:35

ہر جاندار موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور ہم تمہیں برائی اور اچھائی کے ساتھ آزماتے ہیں (آخرکار) تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤگے۔

Verse 36 — Surah Al-Anbiya 21:36

اور (اے رسول(ص)) جب کافر آپ کو دیکھتے ہیں تو بس وہ آپ کا مذاق اڑاتے ہیں (اور کہتے ہیں) کیا یہی وہ شخص ہے جو (برائی سے) تمہارے خداؤں کا ذکر کرتا ہے؟ حالانکہ وہ خود خدائے رحمن کے ذکر کے منکر ہیں۔

Verse 37 — Surah Al-Anbiya 21:37

انسان جلد بازی سے پیدا ہوا ہے میں عنقریب تمہیں اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھلاؤں گا۔ پس تم مجھ سے جلدی کا مطالبہ نہ کرو۔

Verse 38 — Surah Al-Anbiya 21:38

اور وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ سچے ہیں تو یہ (قیامت کا) وعدہ کب پورا ہوگا؟

Verse 39 — Surah Al-Anbiya 21:39

کاش ان کافروں کو اس کا کچھ علم ہوتا۔ جب یہ لوگ آگ کو نہیں روک سکیں گے نہ اپنے چہروں سے اور نہ اپنی پشتوں سے اور نہ ہی ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔

Verse 40 — Surah Al-Anbiya 21:40

بلکہ وہ (گھڑی) اچانک ان پر آجائے گی۔ اور انہیں مبہوت کر دے گی پھر نہ تو وہ اسے ہٹا سکیں گے اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی۔

Verse 41 — Surah Al-Anbiya 21:41

بےشک ان پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا جو آپ سے پہلے تھے تو اسی (عذاب) نے ان مذاق اڑانے والوں کو گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔

Verse 42 — Surah Al-Anbiya 21:42

اے رسول(ص)) کہہ دیجئے! کون ہے جو رات میں یا دن میں خدائے رحمن (کے عذاب) سے تمہاری حفاظت کر سکتا ہے؟ بلکہ یہ لوگ اپنے پروردگار کے ذکر سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔

Verse 43 — Surah Al-Anbiya 21:43

کیا ہمارے علاوہ ان کے ایسے خدا ہیں جو ان کی حفاظت کر سکیں؟ وہ (خود ساختہ) خدا تو خود اپنی مدد نہیں کر سکتے اور نہ ہی ہماری طرف سے ان کو پناہ دی جائے گی (اور نہ تائید کی جائے گی)۔

Verse 44 — Surah Al-Anbiya 21:44

بلکہ ہم نے انہیں اور ان کے آباء و اجداد کو (زندگی کا) سر و سامان دیا یہاں تک کہ ان کی لمبی لمبی عمریں گزر گئیں (عرصہ دراز گزر گیا) کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے اطراف سے برابر گھٹاتے چلے آرہے ہیں تو کیا وہ غالب آسکتے ہیں؟

Verse 45 — Surah Al-Anbiya 21:45

آپ کہہ دیجئے کہ میں تو تمہیں صرف وحی کی بناء پر (عذاب سے) ڈراتا ہوں مگر جو بہرے ہوتے ہیں وہ دعا و پکار نہیں سنتے جب انہیں ڈرایا جائے۔

Verse 46 — Surah Al-Anbiya 21:46

اور جب انہیں تمہارے پروردگار کے عذاب کا ایک جھونکا بھی چھو جائے تو وہ کہہ اٹھیں گے کہ ہائے افسوس بےشک ہم ظالم تھے۔

Verse 47 — Surah Al-Anbiya 21:47

ہم قیامت کے دن صحیح تولنے والے میزان (ترازو) قائم کر دیں گے۔ پس کسی شخص پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور اگر کوئی (عمل) رائی کے دانہ کے برابر بھی ہوگا تو ہم اسے (وزن میں) لے آئیں گے اور حساب لینے والے ہم ہی کافی ہیں۔

Verse 48 — Surah Al-Anbiya 21:48

بےشک ہم نے موسیٰ و ہارون کو فرقان، روشنی اور پرہیزگاروں کیلئے نصیحت نامہ عطا کیا۔

Verse 49 — Surah Al-Anbiya 21:49

جو بے دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں نیز جو قیامت سے بھی خوف زدہ رہتے ہیں۔

Verse 50 — Surah Al-Anbiya 21:50

اور یہ (قرآن) بابرکت نصیحت نامہ ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے۔ کیا تم اس کا انکار کرتے ہو؟

Verse 51 — Surah Al-Anbiya 21:51

اور یقیناً ہم نے اس (عہد موسوی) سے پہلے ابراہیم (ع) کو (ان کے مقام کے مطابق) سوجھ بوجھ عطا فرمائی تھی اور ہم ان کو خوب جانتے تھے۔

Verse 52 — Surah Al-Anbiya 21:52

جب آپ نے (منہ بولے) باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ مورتیں کیسی ہیں جن (کی عبادت) پر تم جمے بیٹھے ہو۔

Verse 53 — Surah Al-Anbiya 21:53

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے۔

Verse 54 — Surah Al-Anbiya 21:54

آپ نے کہا تم بھی اور تمہارے باپ دادا بھی کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔

Verse 55 — Surah Al-Anbiya 21:55

انہوں نے کہا کیا تم ہمارے پاس کوئی حق بات (سچا پیغام) لے کر آئے ہو یا صرف دل لگی کر رہے ہو؟

Verse 56 — Surah Al-Anbiya 21:56

آپ نے کہا (دل لگی نہیں) بلکہ تمہارا پروردگار وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے جس نے انہیں پیدا کیا ہے اور میں اس بات کے گواہوں میں سے ایک گواہ ہوں۔

Verse 57 — Surah Al-Anbiya 21:57

اور بخدا میں تمہارے بتوں کے ساتھ (کوئی نہ کوئی) چال ضرور چلوں گا جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔

Verse 58 — Surah Al-Anbiya 21:58

چنانچہ آپ نے ان کے ایک بڑے بت کے سوا باقی سب کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔

Verse 59 — Surah Al-Anbiya 21:59

انہوں نے کہا ہمارے خداؤں کے ساتھ کس نے یہ سلوک کیا ہے؟ بےشک وہ ظالموں میں سے ہے۔

Verse 60 — Surah Al-Anbiya 21:60

(بعض) لوگ کہنے لگے کہ ہم نے ایک نوجوان کو سنا ہے جو ان کا ذکر (برائی سے) کیا کرتا ہے جسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔

Verse 61 — Surah Al-Anbiya 21:61

انہوں نے کہا تو پھر اسے (پکڑ کر) سب لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ وہ گواہی دیں۔

Verse 62 — Surah Al-Anbiya 21:62

(چنانچہ آپ لائے گئے) ان لوگوں نے کہا اے ابراہیم (ع)! کیا تم نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے؟

Verse 63 — Surah Al-Anbiya 21:63

ابراہیم (ع)نے کہا: بلکہ ان کے بڑے بت نے یہ سب کاروائی کی ہے ان بتوں سے ہی پوچھ لو اگر وہ بول سکتے ہیں؟

Verse 64 — Surah Al-Anbiya 21:64

وہ لوگ (ابراہیم کا یہ جواب سن کر) اپنے دلوں میں سوچنے لگے اور آپس میں کہنے لگے واقعی تم خود ہی ظالم ہو۔

Verse 65 — Surah Al-Anbiya 21:65

پھر انہوں نے (خجالت سے) سر جھکا کر کہا کہ تم جانتے ہو کہ یہ (بت) بات نہیں کرتے۔

Verse 66 — Surah Al-Anbiya 21:66

آپ نے کہا تو پھر تم اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں فائدہ پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

Verse 67 — Surah Al-Anbiya 21:67

تف ہے تم پر اور ان (بتوں) پر جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر پرستش کرتے ہو۔ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟

Verse 68 — Surah Al-Anbiya 21:68

ان لوگوں نے کہا اگر کچھ کرنا چاہتے ہو تو اسے آگ میں جلا دو۔ اور اپنے خداؤں کی مدد کرو۔

Verse 69 — Surah Al-Anbiya 21:69

(چنانچہ انہوں نے آپ کو آگ میں ڈال دیا تو) ہم نے کہا اے آگ! ٹھنڈی ہوکر اور ابراہیم کے لئے سلامتی کا باعث بن جا۔

Verse 70 — Surah Al-Anbiya 21:70

ان لوگوں نے ابراہیم کے ساتھ چالبازی کرنا چاہی تھی مگر ہم نے انہیں ناکام کر دیا۔

Verse 71 — Surah Al-Anbiya 21:71

اور ہم نے انہیں اور لوط کو نجات دی اور اس سر زمین (شام) کی طرف لے گئے جسے ہم نے دنیا جہان والوں کیلئے بابرکت بنایا ہے۔

Verse 72 — Surah Al-Anbiya 21:72

اور ہم نے اسحاق (جیسا بیٹا) اور مزید یعقوب (جیسا پوتا) عطا فرمایا اور سب کو صالح بنایا۔

Verse 73 — Surah Al-Anbiya 21:73

اور ہم نے انہیں ایسا امام (پیشوا) بنایا جو ہمارے حکم سے (لوگوں کو) ہدایت کرتے تھے اور ہم نے انہیں نیک کاموں کے کرنے، نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے کی وحی کی اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے۔

Verse 74 — Surah Al-Anbiya 21:74

اور ہم نے لوط (ع) کو حکمت اور علم عطا کیا۔ اور انہیں اس بستی سے نجات دی جس کے باشندے گندے کام کیا کرتے تھے واقعی وہ قوم بڑی بری اور نافرمان تھی۔

Verse 75 — Surah Al-Anbiya 21:75

اور ہم نے اس (لوط(ع)) کو اپنی رحمت میں داخل کیا۔ بےشک وہ بڑے نیکوکاروں میں سے تھے۔

Verse 76 — Surah Al-Anbiya 21:76

اور نوح(ع) (کا ذکر کیجئے) جب انہوں نے (ان سب سے) پہلے پکارا اور ہم نے ان کی دعا و پکار قبول کی اور انہیں اور ان کے اہل کو سخت غم و کرب سے نجات دی۔

Verse 77 — Surah Al-Anbiya 21:77

اور ان لوگوں کے مقابلہ میں جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے ان کی مدد کی بےشک وہ بڑے برے لوگ تھے۔ پس ہم نے ان سب کو غرق کر دیا۔

Verse 78 — Surah Al-Anbiya 21:78

اور داؤد (ع) اور سلیمان (ع) (کا تذکرہ کیجئے) جب وہ کھیت کے بارے میں فیصلہ کر رہے تھے جب ایک گروہ کی بکریاں رات کے وقت اس میں گھس گئی تھیں اور ہم ان کے فیصلہ کا مشاہدہ کر رہے تھے۔

Verse 79 — Surah Al-Anbiya 21:79

اور ہم نے اس کا فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا تھا اور ہم نے ہر ایک کو حکمت اور علم عطا کیا تھا اور ہم نے داؤد کے ساتھ پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کر دیا تھا جو ان کے ساتھ تسبیح کیا کرتے تھے اور (یہ کام) کرنے والے ہم ہی تھے۔

Verse 80 — Surah Al-Anbiya 21:80

اور ہم نے انہیں تمہارے فائدہ کیلئے زرہ بنانے کی صنعت سکھائی تھی تاکہ وہ تمہیں تمہاری لڑائی میں ایک دوسرے کی زد سے بچائے۔ کیا تم اس (احسان) کے شکرگزار ہو؟

Verse 81 — Surah Al-Anbiya 21:81

اور ہم نے تیز و تند ہوا کو سلیمان کیلئے مسخر کر دیا تھا جو ان کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکت قرار دی ہے اور ہم ہر چیز کا علم رکھنے والے تھے۔

Verse 82 — Surah Al-Anbiya 21:82

اور ہم نے کچھ شیطانوں (جنات) کو ان کا تابع بنا دیا تھا جو ان کے لئے غوطہ زنی کرتے تھے۔ اور اس کے علاوہ اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ہی ان کے نگہبان تھے۔

Verse 83 — Surah Al-Anbiya 21:83

اور ایوب (کا ذکر کیجئے) جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا مجھے (بیماری کی) تکلیف پہنچ رہی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے (میرے حال پر رحم فرما)۔

Verse 84 — Surah Al-Anbiya 21:84

ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو جو تکلیف تھی وہ دور کر دی اور اپنی خاص رحمت سے ہم نے ان کو ان کے اہل و عیال عطا کئے اور ان کے برابر اور بھی اور اس لئے کہ یہ عبادت گزاروں کیلئے یادگار ہے۔

Verse 85 — Surah Al-Anbiya 21:85

اور اسماعیل (ع)، ادریس (ع) اور ذوالکفل (کا تذکرہ کیجئے) یہ سب (راہ حق میں) صبر کرنے والوں میں سے تھے۔

Verse 86 — Surah Al-Anbiya 21:86

اور ہم نے ان سب کو اپنی (خاص) رحمت میں داخل کر لیا تھا۔ یقیناً وہ نیکوکار بندوں میں سے تھے۔

Verse 87 — Surah Al-Anbiya 21:87

اور ذوالنون (مچھلی والے) کا (ذکر کیجئے) جب وہ خشمناک ہوکر چلے گئے اور وہ سمجھے کہ ہم ان پر تنگی نہیں کریں گے۔ پھر انہوں نے اندھیروں میں سے پکارا۔ تیرے سوا کوئی الہ نہیں ہے۔ پاک ہے تیری ذات بےشک میں زیاں کاروں میں سے ہوں۔

Verse 88 — Surah Al-Anbiya 21:88

ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں غم سے نجات دی اور ہم اسی طرح ایمان والوں کو نجات دیا کرتے ہیں۔

Verse 89 — Surah Al-Anbiya 21:89

اور زکریا (ع) کا (ذکر کیجئے) جب انہوں نے پکارا اے میرے پروردگار! مجھے (وارث کے بغیر) اکیلا نہ چھوڑ۔ جبکہ تو خود بہترین وارث ہے۔

Verse 90 — Surah Al-Anbiya 21:90

ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں یحییٰ (جیسا بیٹا) عطا کیا اور ان کی بیوی کو ان کیلئے تندرست کر دیا۔ یہ لوگ نیک کاموں میں جلدی کرتے تھے اور ہم کو شوق و خوف (اور امید و بیم) کے ساتھ پکارتے تھے اور وہ ہمارے لئے (عجز و نیاز سے) جھکے ہوئے تھے۔

Verse 91 — Surah Al-Anbiya 21:91

اور اس خاتون (کا ذکر کیجئے) جس نے اپنے ناموس کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی (خاص) روح پھونک دی۔ اور انہیں اور ان کے بیٹے (عیسیٰ) کو دنیا جہان والوں کیلئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنا دیا۔

Verse 92 — Surah Al-Anbiya 21:92

(اے ایمان والو) یہ تمہاری (ملت) ہے جو درحقیقت ملت واحدہ ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں۔ بس تم میری ہی عبادت کرو۔

Verse 93 — Surah Al-Anbiya 21:93

لیکن لوگوں نے اپنے (دینی) معاملہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا (انجام کار) سب ہماری ہی طرف لوٹ کر آنے والے ہیں۔

Verse 94 — Surah Al-Anbiya 21:94

پس جو کوئی نیک کام کرے درآنحالیکہ وہ مؤمن ہو تو اس کی کوشش کی ناقدری نہ ہوگی اور ہم اسے لکھ رہے ہیں۔

Verse 95 — Surah Al-Anbiya 21:95

اور جس بستی کو ہم نے ہلاک کر دیا اس کیلئے حرام ہے۔ یعنی وہ (دنیا میں) دوبارہ لوٹ کر نہیں آئیں گے۔

Verse 96 — Surah Al-Anbiya 21:96

یہاں تک کہ جب یاجوج و ماجوج کھول دیئے جائیں گے تو وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے نکل پڑیں گے۔

Verse 97 — Surah Al-Anbiya 21:97

اور (جب) اللہ کا سچا وعدہ (قیامت کا) قریب آجائے گا تو ایک دم کافروں کی آنکھیں پھٹی رہ جائیں گی (اور کہیں گے) ہائے افسوس! ہم اس سے غفلت میں رہے بلکہ ہم ظالم تھے۔

Verse 98 — Surah Al-Anbiya 21:98

بےشک تم اور وہ چیزیں جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے جہنم کا ایندھن ہیں اس میں تم سب کو داخل ہونا ہے۔

Verse 99 — Surah Al-Anbiya 21:99

اگر یہ چیزیں برحق خدا ہوتیں تو جہنم میں نہ جاتیں اب تم سب کو اس میں ہمیشہ رہنا ہے۔

Verse 100 — Surah Al-Anbiya 21:100

ان کی اس میں چیخ و پکار ہوگی اور وہ اس میں کچھ نہیں سنیں گے۔

Verse 101 — Surah Al-Anbiya 21:101

ہاں البتہ وہ لوگ جن کیلئے ہماری طرف سے پہلے بھلائی مقدر ہو چکی ہوگی وہ اس سے دور رہیں گے۔

Verse 102 — Surah Al-Anbiya 21:102

وہ اس کی آہٹ بھی نہیں سنیں گے اور وہ اپنی من پسند نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔

Verse 103 — Surah Al-Anbiya 21:103

ان کو بڑی گھبراہٹ بھی غمزدہ نہیں کر سکے گی اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے (اور بتائیں گے کہ) یہ ہے آپ کا وہ دن جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔

Verse 104 — Surah Al-Anbiya 21:104

جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح طومار میں خطوط لپیٹے جاتے ہیں جس طرح ہم نے پہلے تخلیق کی ابتداء کی تھی اسی طرح ہم اس کا اعادہ کریں گے۔ یہ ہمارے ذمہ وعدہ ہے یقیناً ہم اسے (پورا) کرکے رہیں گے۔

Verse 105 — Surah Al-Anbiya 21:105

اور ہم نے ذکر (توراۃ یا پند و نصیحت) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔

Verse 106 — Surah Al-Anbiya 21:106

بےشک اس میں عبادت گزار لوگوں کیلئے بڑا انعام ہے۔

Verse 107 — Surah Al-Anbiya 21:107

(اے رسول) ہم نے آپ کو تمام عالمین کیلئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

Verse 108 — Surah Al-Anbiya 21:108

آپ کہہ دیجئے! کہ میری طرف جو کچھ وحی کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ تمہارا الٰہ بس ایک الہ ہے۔ تو کیا تم اس کے آگے سر جھکاتے ہو؟

Verse 109 — Surah Al-Anbiya 21:109

پس اگر وہ اس سے روگردانی کریں تو آپ کہہ دیجئے! کہ میں نے برابر آپ کو خبردار کر دیا ہے اب مجھے معلوم نہیں ہے کہ وہ دن جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ قریب ہے یا دور؟

Verse 110 — Surah Al-Anbiya 21:110

بےشک وہ (اللہ) بلند آواز سے کہی گئی بات کو بھی جانتا ہے اور اسے بھی جسے تم چھپاتے ہو۔

Verse 111 — Surah Al-Anbiya 21:111

(اور میں کیا جانوں؟ کہ یہ تاخیر) تمہارے لئے آزمائش ہے یا ایک خاص وقت تک زندگی کا لطف اٹھانے کی مہلت ہے۔

Verse 112 — Surah Al-Anbiya 21:112

آخرکار رسول(ص) نے) کہا اے میرے پروردگار! تو حق کے ساتھ فیصلہ کر دے۔ (اے لوگو) ہمارا پروردگار وہی خدائے رحمن ہے جس سے ان باتوں کے خلاف مدد مانگی جاتی ہے جو تم بنا رہے ہو۔