وہ (اللہ) وہی ہے جس نے اُمّی قوم میں انہیں میں سے ایک رسول(ص) بھیجا جو ان کو اس (اللہ) کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاکیزہ بناتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ اس سے پہلے یہ لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا تھے۔
اور جن لوگوں (یہود) کو توراۃ کا حامل بنایا گیا مگر انہوں نے اسکو نہ اٹھایا ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس نے بڑی بڑی کتابیں اٹھائی ہوئی ہوں اور کیا بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا (انہیں منزلِ مقصود تک نہیں پہنچاتا)۔
آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو وہ بہرحال تم سے مل کر رہے گی پھر تم اس (خدا) کی بارگاہ میں لوٹائے جاؤ گے جو غائب اور حاضر کا جاننے والا ہے پھر وہ تمہیں بتائے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔
اے ایمان والو! جب تمہیں جمعہ کے دن والی نمازکے لئے پکارا جائے (اس کی اذان دی جائے) تو اللہ کے ذکر (نمازِ جمعہ) کی طرف تیز چل کر جاؤ اورخرید و فروخت چھوڑ دو۔ یہ بات تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔
اور (کئی لوگوں کی حالت یہ ہے کہ) جب کوئی تجارت یا کھیل تماشہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور آپ(ص) کو کھڑا ہوا چھوڑ دیتے ہیں آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ جو کچھ (اجر و ثوا ب) اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشہ اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ بہترین رزق دینے والا ہے۔