کیا (یہ بات) لوگوں کے لیے باعث تعجب ہے کہ ہم نے وحی بھیجی ایک مرد (کامل) پر جو ان میں سے ہے کہ ڈراؤ لوگوں کو اور خوشخبری دو انھیں جو ایمان لائے کہ ان کے لیے مرتبہ بلند ہے ان کے رب کے ہاں۔ کفار نے کہا بلاشبہ یہ جادوگر ہے کھلا ہوا ۔
بیشک تمھارا رب اللہ تعالیٰ ہے جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں، پھر متمکن ہو ا عرش پر (جیسے اپسے زیبا ہے) ہر کام کی تدبیر فرماتا ہے کوئی نہیں شفاعت کرنے والا مگر اس کی اجازت کے بعد یہ ہے اللہ تعالیٰ جو تمھارا پروردگار ہے سو عبادت کرو اس کی۔ تو کیا تم غور و فکر نہیں کرتے؟ ۔
اسی کی طرف لوٹنا ہے تم سب نے یہ اللہ تعالیٰ کا سچا وعدہ ہے بیشک وہی ابتدا کرتا ہے پیدائش کی پھر وہی دہرائے گا اس تاکہ جزا دے انھیں جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے انصاف کے ساتھ۔ اور جنھوں نے کفر کیا ان کے لیے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ہوگا بوجہ اس کے وہ کفر کرتے رہتے تھے۔
وہی ہے جس نے بنایا سورج کو درخشاں اور چاند کو نور اور مقرر کیں اس کے لیے منزلیں تاکہ تم جان لو گنتی برسوں کی اور حساب نہیں پیدا فرمایا اللہ تعالیٰ نے اسے مگر حق کے ساتھ تفصیل سے بیان کرتا ہے (اپنی قدرت کی ) نشانیاں ! ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔
بیشک وہ لوگ جو امید نہیں رکھتے ہم سے ملنے کی اور خوش و خرم ہیں دینوی زندگی سے اور مطمئن ہوگئے ہیں اس (کے سازوں سامان) سے اور وہ لوگ جو ہماری آیتوں سے غفلت برتتے ہیں ۔
یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے پہنچائیگا انھیں ان کا رب (منزل مقصود تک ) ان کے ایمان کے باعث۔ رواں ہوں گی انکے نیچے نہریں نعمت (وسرور) کے باغوں میں۔
(بہار جنت کو دیکھ کر ) ان کی صدا وہاں یہ ہوگی پاک ہے تو اے اللہ اور ان کی دعا یہ ہوگی کہ ’’سلامتی ہو‘‘ اور ان کی آخری پکاری ہوگی کہ سب تعریفیں اللہ تعالی ٰ کے لیے ہیں جو مرتبہ کمال تک پہنچانے والا ہے سارے جہانوں کو ۔
اور اگر جلدی بازی کرتا اللہ تعالیٰ لوگوں کو شر پہنچانے میں جیسے وہ جلدی بازی کرتے ہیں بھلائی کے لیے تو پوری کردی گئی ہوتی ان کی معیاد۔ (لیکن یوں نہیں بلکہ) ہم چھوڑے رکھتے ہیں انھیں جو توقع نہیں رکھتے ہماری ملاقات کی تاکہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔
اور جب پہنچتی ہے انسان کو کوئی تکلیف (تو اس وقت) پکارتا ہے ہمیں لیٹا ہوا یا بیٹھا ہوا ہو یا کھڑا ہوا ہو۔ پھر جب ہم دور کردیتے ہیں اس سے اس کی تکلیف (تو) چل دیتا ہے جیسے اس نے ہمیں (کبھی) پکارا ہی نہیں تھا کسی تکلیف میں جس اسے پہنچی تھی۔ اسی طرح آراستہ کردیے گئے حد سے بڑھنے والوں کے لیے وہ کرتوت جو وہ کیا کرتے تھے۔
اور بیشک ہم نے ہلاک کردیا کئی قوموں کو جو تم سے پہلے تھیں جب وہ زیادتیاں کرنے لگے اور آئے ان کے پاس کے رسول روشن دلیلیں لے کر اور وہ (ایسے) نہیں تھے کہ ایمان لاتے۔ اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں مجرم قوم کو۔
اور جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری روشن آیتیں (تو) کہنے لگتے ہیں وہ جو توقع نہیں رکھتے ہم سے ملنے کی کہ لے آئیے (دوسرا) قرآن اس (قرآن) کے علاوہ یا ردوبدل کردیجیے اسی میں۔ فرمائیے مجھے اختیار نہیں کہ ردوبدل کردوں اس میں اپنی مرضی سے میں نہیں پیروی کرتا (کسی چیز کی) بجز اسکے جو وحی کی جاتی ہے میری طرف میں ڈرتا ہوں اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں، بڑے دن کے عذاب سے۔
آپ فرمادیجیے اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو میں نہ پڑھتا اسے تم پر اور نہ ہی وہ آگا ہ کرتا تمھیں اس سے۔ میں تو گزار چکا ہوں تمھارے درمیاں عمر (کا ایک حصہ) اس سے پہلے ۔ کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے۔
اور (یہ مشرک) عبادت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا ایسی چیزوں کی جو نہ انھیں نقصان پہنچاسکتی ہیں اور نہ نفع پہنچاسکتی ہیں اور وہ کہتے ہیں یہ (معبود) ہمارے سفارشی ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ فرمائیے کیا تم آگا ہ کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو اس بات سے جو وہ نہیں جانتا نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں پاک ہے وہ اور بلند وبالا ہے اس شرک سے جو وہ کرتے ہیں۔
اور نہیں تھے لوگ (ابتدا میں ) مگر ایک ہی امت پھر (اپنی کجروی سے) باہم اختلاف کرنے لگے اور اگر ایک بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی آپ کے رب کی طرف سے تو فیصلہ کردیا جاتا انکے درمیان ان امور میں جن میں وہ اختلاف کیا کرتے ہیں۔
اور کہتے ہیں کیوں نہ نازل کی گئی ان پر کوئی آیت ان کے رب کی طرف سے؟ سو آپ فرمائیے غیب تو صرف اللہ کے لیے ہے۔ پس انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والا ہوں ۔
اور جب ہم لطف اندوز کرتے ہیں لوگوں کو (اپنی) رحمت سے اس تکلیف کے بعد جو انھیں پہنچی تو فوراً وہ مکروفریب کرنے لگتے ہیں ہماری آیتوں میں ۔ فرمائیے اللہ زیادہ تیز ہے اس فریب کو سزا دینے میں بیشک ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) قلمبند کررہے ہیں جو فریب تم کررہے ہو۔
وہی ہے جو سیر کراتا ہے تمھیں خشک زمین اور سمندر میں یہاں تک کہ جب تم سوار ہتے ہو کشتیوں میں اور وہ چلنے لگتی ہیں مسافروں کو لیکر موافق ہوا کی وجہ سے اور وہ مسرور ہوتے ہیں اس سے (تو اچانک) آلیتی ہے تندوتیز ہوا اور آلیتی ہیں انھیں موجیں ہر جگہ (طرف) سے اور وہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ انھیں گھیر لیا گیا ( تو اس وقت) پکارتے ہیں اللہ تعالیٰ کو خالص اسی کی عبادت کرتے ہوئے کہتے ہیں اے کریم! اگر تونے بچالیا ہمیں اس طوفان سے تو ہم یقیناً ہوجائینگے (تیرے) شکرگزار (بندوں ) سے۔
پھر جب وہ بچالیتا ہے انہیں تو وہ سرکشی کرنے لگتے ہیں زمین میں ناحق اے لوگو! تمھاری سرکشی کا وبال تمھیں پڑے گا لطف اٹھالو دینوی زندگی سے پھر ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے تمھیں پھر ہم آگاہ کریں گے تمھیں جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔
پس حیات دنیوی (کے عروج و زوال) کی مثال ایسی ہے جیسے ہم نے اتارا پانی آسمان سے سو گھنی ہو کر اگی پانی کے باعث سر سبزی زمین کی جس سے انسان بھی کھاتے ہیں اور حیوان بھی۔ یہاں تک کہ جب لے لیا زمین نے اپنا سنگار اور وہ خوب آراستہ ہوگئی اور یقین کرلیا اس کے مالکوں نے کہ (اب) انھوں نے قابو پالیا ہے اس پر (تو اچانک) آپڑا اس پر ہمارا حکم (عذاب) رات یا دن کے وقت پس ہم نے کاٹ کر رکھ دیا اسے گویا کل وہ یہاں تھی ہی نہیں یونہیں ہم وضاحت سے بیان کرتے ہیں (اپنی قدرت کی) نشانیوں کو اس قوم کے لیے جو غورو فکر کرتی ہے ۔
ان کے لیے جنھوں نے نیک عمل کیے نیک جزا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور نہ چھائے گا ان کے چہروں پر (رسوائی کا) غبار اور نہ ذلت (اثر ہوگا ) یہی لوگ جنتی ہیں وہ اس میں ہمشہ رہیں گے۔
اور جنھوں نے برے کام کیے تو برائی کی سزا اس جیسی ہوگی۔ اور چھارہی ہوگی اُ ن پر ذلت ۔ نہیں ہوگا ان کیلیے اللہ ( کے عذاب) سے کوئی بچانے والا۔ گویا ڈھانپ دیے گئے ہں ان کے چہرے کالی رات کے کسی ٹکڑے سے وہی دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
اور (ان کی پشیمانی کا تصور کرو) جس روز ہم جمع کریں گے ان سب کو (میدان حشر میں) پھر ہم حکم دینگے مشرکوں کو اپنی اپنی جگہ پر ٹھیر جاؤ تم اور تمھارے جھوٹے معبود ۔ پھر ہم منقطع کردیں گے ان کے باہمی تعلقات اور کہیں گے انکے معبود (اے مشرکو!) تم ہماری تو عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔
وہاں آزمالے گا ہر شخص جو اس نے آگے بھیجا تھا اور انھیں لوٹا دیا جائیگا اللہ تعالیٰ کی طرف جو ان کا مالک حقیقی ہے اور گم ہوجائیگا ان سے جو وہ افترا باندھا کرتے تھے۔
آپ پوچھیے کون رزق دیتا ہے تمھیں آسمان اور زمین سے یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور (کون) نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے اور کون ہے جو انتظام فرماتا ہے ہر کام کا ؟ تو وہ (جواباً) کہیں گے اللہ! پس آپ کہیے (جب حقیقت یہ ہے) تو تم (شرکِ سے) کیوں نہیں بچتے۔
(اے حبیب) آپ پوچھیئے کیا تمھارے معبودوں میں کوئی ہے جو آغاز آفرنیش میں بھی کرے پھر (فنا کے بعد) اسے لوٹا بھی دے آپ ہی فرمائیے اللہ ہی آفرنیش کی ابتدا بھی کرتا ہے اور (فنا کے بعد) اُسے لوٹا نا بھی ہے۔
پس (ہوش کرو) کرو تم کدھر پھرے جاتے ہو ۔ آپ پوچھیئے کیا تمھارے معبودوں میں سے کوئی حق کی طرف رہنمائی کرسکتا ہے (خود ہی جواباً ) فرمائیے اللہ ہی حق کی طرف رہنمائی فرماتا ہے تو کیا جو راہ دیکھائے حق کی وہ زیادہ مستحق ہے ک اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو خود ہی راہ نہ پائے مگر یہ کہ اس کی رہنمائی کی جائے۔ (اے مشرکین) تمھیں کیا ہوگیا ہے ؟ تم کیسے غلط فیصلے کرتے ہو۔
اور نہیں پیروی کرتے ان میں سے اکثر مگر محض وہم و گمان کی بلاشبہ وہم و گمان بےنیاز نہیں کرسکتا حق سے ذرہ بھر بیشک اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے ۔ جو وہ کرتے ہیں ۔
اور نہیں ہے یہ قرآن کہ گھڑ لیا گیا ہو اللہ تعالیٰ (کی وحی کے بغیر) بلکہ یہ تو تصدیق کرنے والا ہے اس وحی کی جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہے اور الکتاب کی تفصیل ہے ذرہ شک نہیں اس میں کہ یہ رب العٰلمین کی طرف سے (اتری) ہے۔
کیا یہ (کافر) کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑ لیا ہے اسے۔ آپ فرمائیے پھر تم بھی لے آؤ ایک سورت اس جیسی اور (امداد کے لیے ) بلالو جن کو تم بلاسکتے ہو اللہ تعالیٰ کے علاوہ اگر تم (اپنے الزام میں) سچے ہو۔
بلکہ انھوں نے جھٹلایا اس چیز کو جسے وہ پوری طرح نہ جان سکے اور نہیں آیا ان کے پاس اس کا انجام اسی طرح (بے علمی سے) جھٹلایا انھوں نے جو ان سے پہلے تھے پھر دیکھ لو کیسا انجام ہو ا ظالموں کا ۔
اور اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو فرمادیجیے میرے لیے میرا عمل ہے اور تمھارے لیے تمھارا عمل تم بری الذمہ ہو اس سے جو میں کرتا ہوں اور میں بری الذمہ ہوں اس سے جو تم کرتے ہو۔
اور جس روز اللہ تعالیٰ جمع کرے گا انھیں (وہ خیال کریں گے) گویا وہ (دنیا میں ) نہیں ٹھیرے مگر ایک گھڑی دن کی پہچانے گے ایک دوسرے کو (تب حقیقب کھلے گی کہ ) گھاٹے میں رہے وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو اور وہ ہدایت یافتہ نہیں تھے۔
اور خواہ ہم دیکھادیں آپ کو کچھ (عذاب) جس کا ہم نے وعدہ کیا ہے ان سے یا (پہلے ہی) ہم اٹھالیں آپ کو ۔ ہر حالت میں ہماری طرف ہی انھیں لوٹنا ہے پھر اللہ تعالیٰ گواہ ہے اس پر جو وہ کرتے ہیں۔
اور ہر قوم کے لیے ایک رسول ہے پس جب آیا ان کا رسول (اور انھوں نے اس کو جھٹلا یا تو ) فیصلہ کردیا گیا ان کے در میان انصاف کے ساتھ۔ اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا۔
آپ کہیے نہیں مالک ہوں میں اپنے آپ کے لیے ضرر کا اور نہ نفع کا۔ مگر جتنا چاہے اللہ تعالیٰ ہر قو م کے لیے معیاد مقرر ہے جب آئے گی ان کی مقرر میعاد تو نہ وہ پیچھے رہ سکیں گے ایک لمحہ اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔
اور اگر ہر ظالم شخص کے لیے روئے زمین کی دولت ہو تو بھی وہ ساری دولت بطور فدیہ دیدے۔ اور وہ ظالم دل ہی دل میں پچھتانے لگے جب دیکھا انھوں نے عذاب کو اور فیصلہ کردیا گیا ان کے درمیان انصاف سے اور اُ ن پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
سُن لو! بیشک اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں سُن لو! یقیناً اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو ) نہیں جانتے۔
اے لوگو! آگئی ہے تمھارے پاس نصیحت تمھارے پروردگار کی طرف سے اور (آگئی ہے ) شفا ء ان روگوں کے لیے جو سینوں میں ہیں اور (آگئی ہے ) ہدایت اور رحمت اہل ایمان کے لیے۔
(اے حبیب!) آپ فرمائیے یہ کتاب محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے نازل ہوئی ہے ۔ پس چاہیے کہ اسی پر خوشی منائیں یہ بہتر ہے ان تمام چیزوں سے جن کو وہ جمع کرتے ہیں۔
آپ فرمائیے بھلا بتاؤ جو رزق اللہ نے تمھارے لیے اتارا پس بنا لیا تم نے اس سے بعض کو حرام اور بعض کو حلال۔ پوچھیئے کیا اللہ تعالیٰ نے (ایسا کرنے کی ) تمھیں اجازت دی ہے یا تم اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہو۔
اور کیا گمان ہے ان لوگوں کو جو افترا کرتے ہین اللہ تعالیٰ پر جھوٹا کہ قیامت کے دن ان کا کیا حال ہوگا۔ بیشک اللہ تعالیٰ فضل و کرم فرماتا ہے لوگوں پر لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔
اور نہیں ہوتے آپ کسی حال میں اور نہ آپ تلاوت کرتے ہیں اس حال میں کچھ قرآن اور (اے لوگو!) نہ تم کچھ عمل کرتے ہو مگر (ہر حال میں ) ہم تم پر گواہ ہوتے ہیں جب بھی تم شروع ہوتے ہو کسی کام میں اور نہیں چھپا ہوتا آپ کے رب سے ذرہ برابر بھی زمین میں اور نہ آسمان میں اور نہیں کوئی چھوٹی چیز اس ذرہ سے اور نہ بڑی مگر وہ روشن کتاب (لوح محفوظ ) میں ہے
خبردار بیشک اللہ کے ملک میں ہے جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے اور کس کی پیروی کررہے ہیں جو لوگ پکار رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا (دوسرے ) شریکوں کو ؟ نہیں پیروی کررہے مگر وہم و گمان کی اور نہیں وہ مگر اٹکلیں دوڑارہے ہیں۔
انھوں نے کہا بنا لیا ہے اللہ تعالیٰ نے کسی کو بیٹا ۔ وہ پاک ہے وہ تو بےنیاز ہے۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ نہیں تمھارے پاس کوئی دلیل اس (بے ہودہ بات ) کی ۔ کیا بہتان باندھتے ہو اللہ تعالی پر جس کا تمھیں علم ہی نہیں ۔
اور آپ پڑھ سنائیے انھیں نوح (علیہ السلام) کی خبر جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم! اگر گراں ہے تم پر میرا قیام اور میرا پندو نصیحت کرنا اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے پس (سُن لو) میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کرلیا تو تم بھی کوئی متفقہ فیصلہ کرلو اپنے شریکوں سے مل کر ۔ پھر نہ ہو تمھارا یہ فیصلہ تم پر مخفی پھر کر گزرو میرے ساتھ (جو جی میں آئے) اور مجھے مہلت نہ دو۔
تو آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلایا پس ہم نے نجات دی انھیں اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے اور ہم نے بنادیا انھیں ان کا جانشین اور ہم نے غرق کردیا جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ۔ ذرا دیکھو کیسا انجام ہوا ان کا جنھیں ڈرایا گیا تھا۔
پھر ہم نے بھیجے نوح (علیہ السلام) کے بعد اور رسول ان کی قوموں کی طرف پس وہ لائے ان کے پاس روشن دلیلیں تو وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے اس پر جسے وہ جھٹلا چکے تھے پہلے۔ یونہی ہم مہر لگادیتے ہیں سرکشوں کے دلوں پر ۔
پھر ہم نے بھیجا ان رسولوں کے بعد موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو فرعون اور اسکے درباریوں کی طرف اپنی نشانیوں کے ساتھ۔ تو فرعونیوں نے غرور و تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا (اے عقل کے اندھو) کیا تم کہتے ہو (ایسی بات) حق کے متعلق جب وہ تمھارے پاس آیا (سوچو) کیا یہ جادو ہے؟ اور نہیں کامیاب ہوتے جادو گر۔
کہنے لگے کیا تم اس لیے آئے ہو ہمارے پاس تاکہ ہٹادو ہمیں اس (دین سے) جس پر ہم نے پایا اپنے باپ دادا کو اور ہوجائے صرف تم دونوں کے لیے بڑائی سرزمین (مصر) میں۔ اور ہم لوگ تو تم کو نہیں مانے گے۔
پھر جب ڈال دیا انھوں نے تو موسیٰ نے فرمایا یہ جو تم لائے ہو یہ جادو ہے یقیناً اللہ تعالیٰ ملیامیٹ کردے گا اسے بیشک اللہ تعالیٰ نہیں سنوارتا شریروں کے کام کو۔
پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر بجز ان کی قوم کی اولاد کے (وہ بھی) ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اپنے سرداروں سے کہ کہیں وہ انھیں بہکا نہ دے ۔ اور واقعی فرعون بڑا سرکش (بادشاہ) تھا ملک میں اور واقعی حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا۔
اور ہم نے وحی بھیجی موسیٰ اور ان کے بھائی کی طرف کہ مہیا کرو اپنی قوم کیلیے مصر میں چند گھر اور بناؤ اپنے ان گھروں کو قبلہ رخ اور قائم کرو نماز اور (اے موسیٰ!) خوشخبری دو مومنوں کو
اور عرض کی موسیٰ نے اے ہمارے پروردگار! تونے بخشا ہے فرعون اور اس کے سرداروں کو سامان آرائش اور مال و دولت دینوی زندگی میں اے ہمارے مولا! کیا اس لیے وہ گمراہ کرتے پھریں (لوگوں کو ) تیری راہ سے ۔ اے ہمارے رب ! برباد کردے ان کے مالوں کو اور سخت کردے ان کے دلوں کو تاکہ وہ نہ ایمان لائیں جب تک نہ دیکھ لیں دردناک عذاب کو ۔
اور ہم پار لے گئے بنی اسرائیل کو سمندر سے پھر پیچھا کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور ظلم کرتے ہوئے حتی کہ جب وہ ڈوبنے لگا تو (بصد یاس) کہنے لگا میں ایمان لایا کہ کوئی سچا خدا نہیں بجز اس کے جس پر ایمان لائے تھے بنی اسرائیل اور (میں اعلان کرتا ہوں کہ) میں مسلمانوں میں سے ہوں۔
سو آج ہم بچا لیں گے تیری جسم کو (سمندر کی تند موجوں سے) تاکہ تو ہوجائے اپنے پچھلوں کے لیے (عبرت کی) نشانی ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اکثر لوگ ہماری نشانیوں سے غفلت برتنے والے ہیں۔
اور ہم نے عطا فرمایا بنی اسرائیل کو بہترین ٹھکانہ اور ہم نے انھیں پاکیزہ رزق بخشا پس انھوں نے اختلاف نہ کیا حتی کہ آگیا ان کے پاس حقیقت کا علم۔ (اے حبیب!) بیشک آپ کا رب فیصلہ فرمائے گا ان کے درمیا ن روز قیامت جن باتوں میں وہ جھگڑا کیا کرتے تھے۔
اور (اے سننے والے!) اگر تجھے کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے (اپنے نبی کے ذریعے ) تیری طرف اتارا ہے تو دریافت کر ان لوگون سے جو پڑھتے ہیں کتاب تجھ سے پہلے۔ بیشک آیا ہے تیرے پاس حق تیرے رب کی طرف سے پس ہرگز نہ ہوجانا شک کرنے والوں میں سے۔
پس کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی بستی ایمان لاتی تو نفع دیتا اسے اس کا ایمان (کسی سے ایسا نہ ہوا) بجز قوم یونس کے جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے دور کردیا ان سے رسوائی کا عذاب دینوی زندگی میں اور ہم نے لطف اندوز ہونے دیا انھیں ایک مدت تک۔
پس وہ انتظار نہیں کررہے مگر ان لوگوں جیسے حالات کا جو گزرچکے ہیں ان سے پہلے آپ فرمائیے اچھا انتظار کرو۔ بیشک میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں سے ہوں۔
فرمائیے اے لوگوں اگر تمھیں کچھ شک ہو میرے دین کے بارے میں تو (سُن لو) میں عبادت نہیں کرتا ان (بتوں ) کی جن کی تم پوچا کیا کرتے ہو اللہ تعالیٰ کے سوا لیکن میں تو عبادت کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کی جو مارتا ہے تمھیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ہوجاؤں اہل ایمان سے
اور نہ عبادت کرو اللہ تعالیٰ کے سوا اس کی جو نہ نفع پہنچاسکتا ہے تجھے اور نہ ضرر پہنچاسکتا ہے تجھے اور اگر تو ایسا کرے گا تو پھر تیرا شمار ظالموں میں ہوگا۔
اور اگر پہنچائے تجھے اللہ تعالٰ کوئی تکلیف تو نہیں کوئی دور کرنے والا اسے بجز اس کے اور اگر ارادہ فرمائے تیرے لیے کسی بھلائی کا تو کوئی رد کرنے والا نہیں اس کے فضل کو ۔ سرفراز فرماتا ہے اپنے فضل و کرم سے جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں سے ۔ اور وہی بہت مغفرت فرمانیوالا ہمیشہ رحم کرنیوالا ہے۔
(اے حبیب!) فرمائیے اے لوگو بیشک آگیا ہے تمھارے پاس حق تمھارے رب کی طرف سے تو جو ہدایت قبول کرتا ہے تو وہ ہدایت قبول کرتا ہے اپنے بھلے کے لیے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو وہ گمراہ ہوتا ہے اپنی تباہی کے لیے اور میں تم پر نگران نہیں ہوں۔
اور (اے حبیب!) آپ پیروی کرتے رہیں جو وحی کی جاتی ہے آپکی طرف اور (ظلم کفار پر) صبر کیجیے یہانتک کہ فیصلہ فرمادے اللہ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔