Back to Languages

Urdu - Chapter 10 - Yunus

Translation by Muhammad Karam Shah Al Azhari — Permalink

Verse 1 — Surah Yunus 10:1

کیا (یہ بات) لوگوں کے لیے باعث تعجب ہے کہ ہم نے وحی بھیجی ایک مرد (کامل) پر جو ان میں سے ہے کہ ڈراؤ لوگوں کو اور خوشخبری دو انھیں جو ایمان لائے کہ ان کے لیے مرتبہ بلند ہے ان کے رب کے ہاں۔ کفار نے کہا بلاشبہ یہ جادوگر ہے کھلا ہوا ۔

Verse 2 — Surah Yunus 10:2

بیشک تمھارا رب اللہ تعالیٰ ہے جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں، پھر متمکن ہو ا عرش پر (جیسے اپسے زیبا ہے) ہر کام کی تدبیر فرماتا ہے کوئی نہیں شفاعت کرنے والا مگر اس کی اجازت کے بعد یہ ہے اللہ تعالیٰ جو تمھارا پروردگار ہے سو عبادت کرو اس کی۔ تو کیا تم غور و فکر نہیں کرتے؟ ۔

Verse 3 — Surah Yunus 10:3

اسی کی طرف لوٹنا ہے تم سب نے یہ اللہ تعالیٰ کا سچا وعدہ ہے بیشک وہی ابتدا کرتا ہے پیدائش کی پھر وہی دہرائے گا اس تاکہ جزا دے انھیں جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے انصاف کے ساتھ۔ اور جنھوں نے کفر کیا ان کے لیے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ہوگا بوجہ اس کے وہ کفر کرتے رہتے تھے۔

Verse 4 — Surah Yunus 10:4

وہی ہے جس نے بنایا سورج کو درخشاں اور چاند کو نور اور مقرر کیں اس کے لیے منزلیں تاکہ تم جان لو گنتی برسوں کی اور حساب نہیں پیدا فرمایا اللہ تعالیٰ نے اسے مگر حق کے ساتھ تفصیل سے بیان کرتا ہے (اپنی قدرت کی ) نشانیاں ! ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔

Verse 5 — Surah Yunus 10:5

بیشک گردش ، لیل و نہار میں اور جو کچھ پیدا فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین میں ( ان میں اس کی ) نشانیاں ہیں اس قوم کے لیے جو متقی ہے ۔

Verse 6 — Surah Yunus 10:6

بیشک وہ لوگ جو امید نہیں رکھتے ہم سے ملنے کی اور خوش و خرم ہیں دینوی زندگی سے اور مطمئن ہوگئے ہیں اس (کے سازوں سامان) سے اور وہ لوگ جو ہماری آیتوں سے غفلت برتتے ہیں ۔

Verse 7 — Surah Yunus 10:7

یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ دوزخ ہے بہ سبب ان عملوں کے جو وہ کماتے رہے۔

Verse 8 — Surah Yunus 10:8

یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے پہنچائیگا انھیں ان کا رب (منزل مقصود تک ) ان کے ایمان کے باعث۔ رواں ہوں گی انکے نیچے نہریں نعمت (وسرور) کے باغوں میں۔

Verse 9 — Surah Yunus 10:9

(بہار جنت کو دیکھ کر ) ان کی صدا وہاں یہ ہوگی پاک ہے تو اے اللہ اور ان کی دعا یہ ہوگی کہ ’’سلامتی ہو‘‘ اور ان کی آخری پکاری ہوگی کہ سب تعریفیں اللہ تعالی ٰ کے لیے ہیں جو مرتبہ کمال تک پہنچانے والا ہے سارے جہانوں کو ۔

Verse 10 — Surah Yunus 10:10

اور اگر جلدی بازی کرتا اللہ تعالیٰ لوگوں کو شر پہنچانے میں جیسے وہ جلدی بازی کرتے ہیں بھلائی کے لیے تو پوری کردی گئی ہوتی ان کی معیاد۔ (لیکن یوں نہیں بلکہ) ہم چھوڑے رکھتے ہیں انھیں جو توقع نہیں رکھتے ہماری ملاقات کی تاکہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔

Verse 11 — Surah Yunus 10:11

اور جب پہنچتی ہے انسان کو کوئی تکلیف (تو اس وقت) پکارتا ہے ہمیں لیٹا ہوا یا بیٹھا ہوا ہو یا کھڑا ہوا ہو۔ پھر جب ہم دور کردیتے ہیں اس سے اس کی تکلیف (تو) چل دیتا ہے جیسے اس نے ہمیں (کبھی) پکارا ہی نہیں تھا کسی تکلیف میں جس اسے پہنچی تھی۔ اسی طرح آراستہ کردیے گئے حد سے بڑھنے والوں کے لیے وہ کرتوت جو وہ کیا کرتے تھے۔

Verse 12 — Surah Yunus 10:12

اور بیشک ہم نے ہلاک کردیا کئی قوموں کو جو تم سے پہلے تھیں جب وہ زیادتیاں کرنے لگے اور آئے ان کے پاس کے رسول روشن دلیلیں لے کر اور وہ (ایسے) نہیں تھے کہ ایمان لاتے۔ اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں مجرم قوم کو۔

Verse 13 — Surah Yunus 10:13

پھر ہم نے بنایا تمھیں جانشین زمین میں ان کے بعد تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔

Verse 14 — Surah Yunus 10:14

اور جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری روشن آیتیں (تو) کہنے لگتے ہیں وہ جو توقع نہیں رکھتے ہم سے ملنے کی کہ لے آئیے (دوسرا) قرآن اس (قرآن) کے علاوہ یا ردوبدل کردیجیے اسی میں۔ فرمائیے مجھے اختیار نہیں کہ ردوبدل کردوں اس میں اپنی مرضی سے میں نہیں پیروی کرتا (کسی چیز کی) بجز اسکے جو وحی کی جاتی ہے میری طرف میں ڈرتا ہوں اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں، بڑے دن کے عذاب سے۔

Verse 15 — Surah Yunus 10:15

آپ فرمادیجیے اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو میں نہ پڑھتا اسے تم پر اور نہ ہی وہ آگا ہ کرتا تمھیں اس سے۔ میں تو گزار چکا ہوں تمھارے درمیاں عمر (کا ایک حصہ) اس سے پہلے ۔ کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے۔

Verse 16 — Surah Yunus 10:16

پس کون زیادہ ظالم ہے اس سے جو افترا باندھے اللہ تعالیٰ پر جھوٹا یا جھٹلائے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو۔ بیشک مجرم فلاح نہیں پاتے۔

Verse 17 — Surah Yunus 10:17

اور (یہ مشرک) عبادت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا ایسی چیزوں کی جو نہ انھیں نقصان پہنچاسکتی ہیں اور نہ نفع پہنچاسکتی ہیں اور وہ کہتے ہیں یہ (معبود) ہمارے سفارشی ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ فرمائیے کیا تم آگا ہ کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو اس بات سے جو وہ نہیں جانتا نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں پاک ہے وہ اور بلند وبالا ہے اس شرک سے جو وہ کرتے ہیں۔

Verse 18 — Surah Yunus 10:18

اور نہیں تھے لوگ (ابتدا میں ) مگر ایک ہی امت پھر (اپنی کجروی سے) باہم اختلاف کرنے لگے اور اگر ایک بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی آپ کے رب کی طرف سے تو فیصلہ کردیا جاتا انکے درمیان ان امور میں جن میں وہ اختلاف کیا کرتے ہیں۔

Verse 19 — Surah Yunus 10:19

اور کہتے ہیں کیوں نہ نازل کی گئی ان پر کوئی آیت ان کے رب کی طرف سے؟ سو آپ فرمائیے غیب تو صرف اللہ کے لیے ہے۔ پس انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والا ہوں ۔

Verse 20 — Surah Yunus 10:20

اور جب ہم لطف اندوز کرتے ہیں لوگوں کو (اپنی) رحمت سے اس تکلیف کے بعد جو انھیں پہنچی تو فوراً وہ مکروفریب کرنے لگتے ہیں ہماری آیتوں میں ۔ فرمائیے اللہ زیادہ تیز ہے اس فریب کو سزا دینے میں بیشک ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) قلمبند کررہے ہیں جو فریب تم کررہے ہو۔

Verse 21 — Surah Yunus 10:21

وہی ہے جو سیر کراتا ہے تمھیں خشک زمین اور سمندر میں یہاں تک کہ جب تم سوار ہتے ہو کشتیوں میں اور وہ چلنے لگتی ہیں مسافروں کو لیکر موافق ہوا کی وجہ سے اور وہ مسرور ہوتے ہیں اس سے (تو اچانک) آلیتی ہے تندوتیز ہوا اور آلیتی ہیں انھیں موجیں ہر جگہ (طرف) سے اور وہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ انھیں گھیر لیا گیا ( تو اس وقت) پکارتے ہیں اللہ تعالیٰ کو خالص اسی کی عبادت کرتے ہوئے کہتے ہیں اے کریم! اگر تونے بچالیا ہمیں اس طوفان سے تو ہم یقیناً ہوجائینگے (تیرے) شکرگزار (بندوں ) سے۔

Verse 22 — Surah Yunus 10:22

پھر جب وہ بچالیتا ہے انہیں تو وہ سرکشی کرنے لگتے ہیں زمین میں ناحق اے لوگو! تمھاری سرکشی کا وبال تمھیں پڑے گا لطف اٹھالو دینوی زندگی سے پھر ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے تمھیں پھر ہم آگاہ کریں گے تمھیں جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

Verse 23 — Surah Yunus 10:23

پس حیات دنیوی (کے عروج و زوال) کی مثال ایسی ہے جیسے ہم نے اتارا پانی آسمان سے سو گھنی ہو کر اگی پانی کے باعث سر سبزی زمین کی جس سے انسان بھی کھاتے ہیں اور حیوان بھی۔ یہاں تک کہ جب لے لیا زمین نے اپنا سنگار اور وہ خوب آراستہ ہوگئی اور یقین کرلیا اس کے مالکوں نے کہ (اب) انھوں نے قابو پالیا ہے اس پر (تو اچانک) آپڑا اس پر ہمارا حکم (عذاب) رات یا دن کے وقت پس ہم نے کاٹ کر رکھ دیا اسے گویا کل وہ یہاں تھی ہی نہیں یونہیں ہم وضاحت سے بیان کرتے ہیں (اپنی قدرت کی) نشانیوں کو اس قوم کے لیے جو غورو فکر کرتی ہے ۔

Verse 24 — Surah Yunus 10:24

اور اللہ تعالیٰ بلاتا ہے (امن) و سلامتی کے گھر کی طرف اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے سیدھے راستہ کی طرف۔

Verse 25 — Surah Yunus 10:25

ان کے لیے جنھوں نے نیک عمل کیے نیک جزا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور نہ چھائے گا ان کے چہروں پر (رسوائی کا) غبار اور نہ ذلت (اثر ہوگا ) یہی لوگ جنتی ہیں وہ اس میں ہمشہ رہیں گے۔

Verse 26 — Surah Yunus 10:26

اور جنھوں نے برے کام کیے تو برائی کی سزا اس جیسی ہوگی۔ اور چھارہی ہوگی اُ ن پر ذلت ۔ نہیں ہوگا ان کیلیے اللہ ( کے عذاب) سے کوئی بچانے والا۔ گویا ڈھانپ دیے گئے ہں ان کے چہرے کالی رات کے کسی ٹکڑے سے وہی دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

Verse 27 — Surah Yunus 10:27

اور (ان کی پشیمانی کا تصور کرو) جس روز ہم جمع کریں گے ان سب کو (میدان حشر میں) پھر ہم حکم دینگے مشرکوں کو اپنی اپنی جگہ پر ٹھیر جاؤ تم اور تمھارے جھوٹے معبود ۔ پھر ہم منقطع کردیں گے ان کے باہمی تعلقات اور کہیں گے انکے معبود (اے مشرکو!) تم ہماری تو عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔

Verse 28 — Surah Yunus 10:28

پس کافی ہے اللہ تعالیٰ گواہ ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان کہ ہم تمھاری پرستش سے بالکل بےخبر تھے۔

Verse 29 — Surah Yunus 10:29

وہاں آزمالے گا ہر شخص جو اس نے آگے بھیجا تھا اور انھیں لوٹا دیا جائیگا اللہ تعالیٰ کی طرف جو ان کا مالک حقیقی ہے اور گم ہوجائیگا ان سے جو وہ افترا باندھا کرتے تھے۔

Verse 30 — Surah Yunus 10:30

آپ پوچھیے کون رزق دیتا ہے تمھیں آسمان اور زمین سے یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور (کون) نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے اور کون ہے جو انتظام فرماتا ہے ہر کام کا ؟ تو وہ (جواباً) کہیں گے اللہ! پس آپ کہیے (جب حقیقت یہ ہے) تو تم (شرکِ سے) کیوں نہیں بچتے۔

Verse 31 — Surah Yunus 10:31

یہ ہے اللہ تعالیٰ جو تمھارا حقیقی پروردگار ہے پس حق کے بعد کیا ہے بجز گمراہی کے پھر تمھیں (حق سے) کدھر موڑا جارہا ہے۔

Verse 32 — Surah Yunus 10:32

یونہی ثابت ہوچکی ہے آپ کے رب کی بات ان پر جو فسقِ و فجور کرتے ہیں کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

Verse 33 — Surah Yunus 10:33

(اے حبیب) آپ پوچھیئے کیا تمھارے معبودوں میں کوئی ہے جو آغاز آفرنیش میں بھی کرے پھر (فنا کے بعد) اسے لوٹا بھی دے آپ ہی فرمائیے اللہ ہی آفرنیش کی ابتدا بھی کرتا ہے اور (فنا کے بعد) اُسے لوٹا نا بھی ہے۔

Verse 34 — Surah Yunus 10:34

پس (ہوش کرو) کرو تم کدھر پھرے جاتے ہو ۔ آپ پوچھیئے کیا تمھارے معبودوں میں سے کوئی حق کی طرف رہنمائی کرسکتا ہے (خود ہی جواباً ) فرمائیے اللہ ہی حق کی طرف رہنمائی فرماتا ہے تو کیا جو راہ دیکھائے حق کی وہ زیادہ مستحق ہے ک اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو خود ہی راہ نہ پائے مگر یہ کہ اس کی رہنمائی کی جائے۔ (اے مشرکین) تمھیں کیا ہوگیا ہے ؟ تم کیسے غلط فیصلے کرتے ہو۔

Verse 35 — Surah Yunus 10:35

اور نہیں پیروی کرتے ان میں سے اکثر مگر محض وہم و گمان کی بلاشبہ وہم و گمان بےنیاز نہیں کرسکتا حق سے ذرہ بھر بیشک اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے ۔ جو وہ کرتے ہیں ۔

Verse 36 — Surah Yunus 10:36

اور نہیں ہے یہ قرآن کہ گھڑ لیا گیا ہو اللہ تعالیٰ (کی وحی کے بغیر) بلکہ یہ تو تصدیق کرنے والا ہے اس وحی کی جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہے اور الکتاب کی تفصیل ہے ذرہ شک نہیں اس میں کہ یہ رب العٰلمین کی طرف سے (اتری) ہے۔

Verse 37 — Surah Yunus 10:37

کیا یہ (کافر) کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑ لیا ہے اسے۔ آپ فرمائیے پھر تم بھی لے آؤ ایک سورت اس جیسی اور (امداد کے لیے ) بلالو جن کو تم بلاسکتے ہو اللہ تعالیٰ کے علاوہ اگر تم (اپنے الزام میں) سچے ہو۔

Verse 38 — Surah Yunus 10:38

بلکہ انھوں نے جھٹلایا اس چیز کو جسے وہ پوری طرح نہ جان سکے اور نہیں آیا ان کے پاس اس کا انجام اسی طرح (بے علمی سے) جھٹلایا انھوں نے جو ان سے پہلے تھے پھر دیکھ لو کیسا انجام ہو ا ظالموں کا ۔

Verse 39 — Surah Yunus 10:39

اور ان میں سے کچھ ایمان لائیں گے اس پر اور ان میں سے کچھ ایمان نہیں لائیں تے اس پر اور آپ کا رب خوب جانتا ہے مفسدوں کو۔

Verse 40 — Surah Yunus 10:40

اور اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو فرمادیجیے میرے لیے میرا عمل ہے اور تمھارے لیے تمھارا عمل تم بری الذمہ ہو اس سے جو میں کرتا ہوں اور میں بری الذمہ ہوں اس سے جو تم کرتے ہو۔

Verse 41 — Surah Yunus 10:41

اور ان میں سے کچھ بظاہر کان لگاتے ہیں آپ کی طرف تو کیا آپ سناتے ہیں بہروں کو خواہ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوں۔

Verse 42 — Surah Yunus 10:42

اور ان میں سے کچھ بظاہردیکھتے ہیں آپ کی طرف تو کیا آپ راہ دیکھاتے ہیں اندھوں کو خواہ وہ کچھ نہ دیکھتے ہوں۔

Verse 43 — Surah Yunus 10:43

یقیناً اللہ تعالیٰ ظلم نہیں کرتا لوگوں پر ذرہ برابر لیکن لوگ ہی اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں۔

Verse 44 — Surah Yunus 10:44

اور جس روز اللہ تعالیٰ جمع کرے گا انھیں (وہ خیال کریں گے) گویا وہ (دنیا میں ) نہیں ٹھیرے مگر ایک گھڑی دن کی پہچانے گے ایک دوسرے کو (تب حقیقب کھلے گی کہ ) گھاٹے میں رہے وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو اور وہ ہدایت یافتہ نہیں تھے۔

Verse 45 — Surah Yunus 10:45

اور خواہ ہم دیکھادیں آپ کو کچھ (عذاب) جس کا ہم نے وعدہ کیا ہے ان سے یا (پہلے ہی) ہم اٹھالیں آپ کو ۔ ہر حالت میں ہماری طرف ہی انھیں لوٹنا ہے پھر اللہ تعالیٰ گواہ ہے اس پر جو وہ کرتے ہیں۔

Verse 46 — Surah Yunus 10:46

اور ہر قوم کے لیے ایک رسول ہے پس جب آیا ان کا رسول (اور انھوں نے اس کو جھٹلا یا تو ) فیصلہ کردیا گیا ان کے در میان انصاف کے ساتھ۔ اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا۔

Verse 47 — Surah Yunus 10:47

اور وہ کہتے ہیں کب پورا ہوگا یہ (عذاب کا ) وعدہ اگر تم سچے ہو ۔

Verse 48 — Surah Yunus 10:48

آپ کہیے نہیں مالک ہوں میں اپنے آپ کے لیے ضرر کا اور نہ نفع کا۔ مگر جتنا چاہے اللہ تعالیٰ ہر قو م کے لیے معیاد مقرر ہے جب آئے گی ان کی مقرر میعاد تو نہ وہ پیچھے رہ سکیں گے ایک لمحہ اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔

Verse 49 — Surah Yunus 10:49

آپ فرمایئے (اے منکرو!) ذرا غور تو کرو اگر آجائے تم پر اس کا عذاب راتوں رات یا دن دہاڑے (تو تم کیا کرلوگے) کس چیز کا جلدی مطالبہ کررہے ہیں اس سے مجرم۔

Verse 50 — Surah Yunus 10:50

کیا جب عذاب نازل ہوجائے گا تب ایمان لاؤ گے اس پر (فرشتے انہیں کہیں گے) اب آنکھیں کھلیں تم تو اس عذاب کے لیے بڑی جلدی مچا رہے تھے۔

Verse 51 — Surah Yunus 10:51

پھر کہا جائے گا ظالموں سے کہ چکھو (اب) دائمی عذاب (کا مزہ) کیا تمھیں بدلہ دیا جائے گا بجز اس کے جو تم کمایا کرتے تھے۔

Verse 52 — Surah Yunus 10:52

اور وہ دریافت کرتے ہیں آپ سے کیا یہ واقعی سچ ہے ؟ آپ فرمائیے ہاں! بخدا یہ سچ ہے اور تم (اللہ تعالیٰ کو ) عاجز کرنے والے نہیں ہو۔

Verse 53 — Surah Yunus 10:53

اور اگر ہر ظالم شخص کے لیے روئے زمین کی دولت ہو تو بھی وہ ساری دولت بطور فدیہ دیدے۔ اور وہ ظالم دل ہی دل میں پچھتانے لگے جب دیکھا انھوں نے عذاب کو اور فیصلہ کردیا گیا ان کے درمیان انصاف سے اور اُ ن پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

Verse 54 — Surah Yunus 10:54

سُن لو! بیشک اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں سُن لو! یقیناً اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو ) نہیں جانتے۔

Verse 55 — Surah Yunus 10:55

وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی مارتا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

Verse 56 — Surah Yunus 10:56

اے لوگو! آگئی ہے تمھارے پاس نصیحت تمھارے پروردگار کی طرف سے اور (آگئی ہے ) شفا ء ان روگوں کے لیے جو سینوں میں ہیں اور (آگئی ہے ) ہدایت اور رحمت اہل ایمان کے لیے۔

Verse 57 — Surah Yunus 10:57

(اے حبیب!) آپ فرمائیے یہ کتاب محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے نازل ہوئی ہے ۔ پس چاہیے کہ اسی پر خوشی منائیں یہ بہتر ہے ان تمام چیزوں سے جن کو وہ جمع کرتے ہیں۔

Verse 58 — Surah Yunus 10:58

آپ فرمائیے بھلا بتاؤ جو رزق اللہ نے تمھارے لیے اتارا پس بنا لیا تم نے اس سے بعض کو حرام اور بعض کو حلال۔ پوچھیئے کیا اللہ تعالیٰ نے (ایسا کرنے کی ) تمھیں اجازت دی ہے یا تم اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہو۔

Verse 59 — Surah Yunus 10:59

اور کیا گمان ہے ان لوگوں کو جو افترا کرتے ہین اللہ تعالیٰ پر جھوٹا کہ قیامت کے دن ان کا کیا حال ہوگا۔ بیشک اللہ تعالیٰ فضل و کرم فرماتا ہے لوگوں پر لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔

Verse 60 — Surah Yunus 10:60

اور نہیں ہوتے آپ کسی حال میں اور نہ آپ تلاوت کرتے ہیں اس حال میں کچھ قرآن اور (اے لوگو!) نہ تم کچھ عمل کرتے ہو مگر (ہر حال میں ) ہم تم پر گواہ ہوتے ہیں جب بھی تم شروع ہوتے ہو کسی کام میں اور نہیں چھپا ہوتا آپ کے رب سے ذرہ برابر بھی زمین میں اور نہ آسمان میں اور نہیں کوئی چھوٹی چیز اس ذرہ سے اور نہ بڑی مگر وہ روشن کتاب (لوح محفوظ ) میں ہے

Verse 61 — Surah Yunus 10:61

سنو! بےشک اولیا ء اللہ کو نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

Verse 62 — Surah Yunus 10:62

یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور (عمر بھر) پرہیزگاری کرتے رہے۔

Verse 63 — Surah Yunus 10:63

انھیں کے لیے بشارت ہے دینوی زندگی میں اور آخرت میں نہیں بدلتیں اللہ تعالیٰ کی باتیں ۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔

Verse 64 — Surah Yunus 10:64

اور نہ غمزدہ کریں آپ کو ان کی باتیں یقیناً ساری عزت اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ وہ سب کچھ سننے اور ہر چیز جاننے والا ہے۔

Verse 65 — Surah Yunus 10:65

خبردار بیشک اللہ کے ملک میں ہے جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے اور کس کی پیروی کررہے ہیں جو لوگ پکار رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا (دوسرے ) شریکوں کو ؟ نہیں پیروی کررہے مگر وہم و گمان کی اور نہیں وہ مگر اٹکلیں دوڑارہے ہیں۔

Verse 66 — Surah Yunus 10:66

وہی ہے جس نے بنائی تمھارے لیے رات تاکہ تم آرام کرو اس میں اور روشن دن بنایا بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو (غور سے ) سنتے ہیں۔

Verse 67 — Surah Yunus 10:67

انھوں نے کہا بنا لیا ہے اللہ تعالیٰ نے کسی کو بیٹا ۔ وہ پاک ہے وہ تو بےنیاز ہے۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ نہیں تمھارے پاس کوئی دلیل اس (بے ہودہ بات ) کی ۔ کیا بہتان باندھتے ہو اللہ تعالی پر جس کا تمھیں علم ہی نہیں ۔

Verse 68 — Surah Yunus 10:68

آپ فرمائیے جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوسکتے۔

Verse 69 — Surah Yunus 10:69

(چند روزہ) لطف اندوزی ہے دنیا میں پھر ہماری طرف ہی انھیں لوٹنا ہے پھر ہم چکھائیں گے انھیں سخت عذاب بوجہ اس کے کہ وہ کفر کیا کرتے تھے۔

Verse 70 — Surah Yunus 10:70

اور آپ پڑھ سنائیے انھیں نوح (علیہ السلام) کی خبر جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم! اگر گراں ہے تم پر میرا قیام اور میرا پندو نصیحت کرنا اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے پس (سُن لو) میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کرلیا تو تم بھی کوئی متفقہ فیصلہ کرلو اپنے شریکوں سے مل کر ۔ پھر نہ ہو تمھارا یہ فیصلہ تم پر مخفی پھر کر گزرو میرے ساتھ (جو جی میں آئے) اور مجھے مہلت نہ دو۔

Verse 71 — Surah Yunus 10:71

بانہیمہ اگر تم منہ موڑے رہو تو نہیں طلب کیا میں نے تم سے کچھ اجر نہیں میرا جر مگر اللہ کے ذمہ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ہوجاؤں مسلمانوں سے۔

Verse 72 — Surah Yunus 10:72

تو آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلایا پس ہم نے نجات دی انھیں اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے اور ہم نے بنادیا انھیں ان کا جانشین اور ہم نے غرق کردیا جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ۔ ذرا دیکھو کیسا انجام ہوا ان کا جنھیں ڈرایا گیا تھا۔

Verse 73 — Surah Yunus 10:73

پھر ہم نے بھیجے نوح (علیہ السلام) کے بعد اور رسول ان کی قوموں کی طرف پس وہ لائے ان کے پاس روشن دلیلیں تو وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے اس پر جسے وہ جھٹلا چکے تھے پہلے۔ یونہی ہم مہر لگادیتے ہیں سرکشوں کے دلوں پر ۔

Verse 74 — Surah Yunus 10:74

پھر ہم نے بھیجا ان رسولوں کے بعد موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو فرعون اور اسکے درباریوں کی طرف اپنی نشانیوں کے ساتھ۔ تو فرعونیوں نے غرور و تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔

Verse 75 — Surah Yunus 10:75

پھر جب آیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو انھوں نے کہہ دیا کہ یقیناً یہ کھلا جادو ہے۔

Verse 76 — Surah Yunus 10:76

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا (اے عقل کے اندھو) کیا تم کہتے ہو (ایسی بات) حق کے متعلق جب وہ تمھارے پاس آیا (سوچو) کیا یہ جادو ہے؟ اور نہیں کامیاب ہوتے جادو گر۔

Verse 77 — Surah Yunus 10:77

کہنے لگے کیا تم اس لیے آئے ہو ہمارے پاس تاکہ ہٹادو ہمیں اس (دین سے) جس پر ہم نے پایا اپنے باپ دادا کو اور ہوجائے صرف تم دونوں کے لیے بڑائی سرزمین (مصر) میں۔ اور ہم لوگ تو تم کو نہیں مانے گے۔

Verse 78 — Surah Yunus 10:78

اور فرعون نے حکم دیا (فوراً) لے آؤ میرے پاس ہر ماہر جادوگر

Verse 79 — Surah Yunus 10:79

پھر جب آگئے جادو گر تو کہا انھیں موسیٰ (علیہ السلام) نے ڈالو (میدان میں ) جو تم ڈالنے آئے ہو۔

Verse 80 — Surah Yunus 10:80

پھر جب ڈال دیا انھوں نے تو موسیٰ نے فرمایا یہ جو تم لائے ہو یہ جادو ہے یقیناً اللہ تعالیٰ ملیامیٹ کردے گا اسے بیشک اللہ تعالیٰ نہیں سنوارتا شریروں کے کام کو۔

Verse 81 — Surah Yunus 10:81

اور اللہ تعالیٰ حق کو حق کردکھاتا ہے اپنے ارشاد ات سے اور خواہ نا پسند ہی کریں (اسے) مجرم۔

Verse 82 — Surah Yunus 10:82

پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر بجز ان کی قوم کی اولاد کے (وہ بھی) ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اپنے سرداروں سے کہ کہیں وہ انھیں بہکا نہ دے ۔ اور واقعی فرعون بڑا سرکش (بادشاہ) تھا ملک میں اور واقعی حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا۔

Verse 83 — Surah Yunus 10:83

اور موسیٰ (علیہ السلام ) نے کہا اے میری قوم! اگر تم ایمان لائے ہو اللہ تعالیٰ پر تو اسی پر بھروسہ کرو اگر تم سچے مسلمان ہو۔

Verse 84 — Surah Yunus 10:84

انھوں نے عرض کی کہ اللہ تعالیٰ پر ہی ہم نے بھروسہ کیا ہے اے ہمارے رب! نہ بنا ہمیں فتنہ (کا موجب) ظالم قوم کے لیے۔

Verse 85 — Surah Yunus 10:85

اور نجات دی ہمیں اپنی رحمت سے کافروں (کے ظلم و ستم ) سے ۔

Verse 86 — Surah Yunus 10:86

اور ہم نے وحی بھیجی موسیٰ اور ان کے بھائی کی طرف کہ مہیا کرو اپنی قوم کیلیے مصر میں چند گھر اور بناؤ اپنے ان گھروں کو قبلہ رخ اور قائم کرو نماز اور (اے موسیٰ!) خوشخبری دو مومنوں کو

Verse 87 — Surah Yunus 10:87

اور عرض کی موسیٰ نے اے ہمارے پروردگار! تونے بخشا ہے فرعون اور اس کے سرداروں کو سامان آرائش اور مال و دولت دینوی زندگی میں اے ہمارے مولا! کیا اس لیے وہ گمراہ کرتے پھریں (لوگوں کو ) تیری راہ سے ۔ اے ہمارے رب ! برباد کردے ان کے مالوں کو اور سخت کردے ان کے دلوں کو تاکہ وہ نہ ایمان لائیں جب تک نہ دیکھ لیں دردناک عذاب کو ۔

Verse 88 — Surah Yunus 10:88

اللہ تعالیٰ نے فرمایا قبول کرلی گئی تمھاری دعا پس تم ثابت قدم رہو اور ہرگز نہ چلنا اس طریقہ پر جو جاہلوں کا (طریقہ ) ہے۔

Verse 89 — Surah Yunus 10:89

اور ہم پار لے گئے بنی اسرائیل کو سمندر سے پھر پیچھا کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور ظلم کرتے ہوئے حتی کہ جب وہ ڈوبنے لگا تو (بصد یاس) کہنے لگا میں ایمان لایا کہ کوئی سچا خدا نہیں بجز اس کے جس پر ایمان لائے تھے بنی اسرائیل اور (میں اعلان کرتا ہوں کہ) میں مسلمانوں میں سے ہوں۔

Verse 90 — Surah Yunus 10:90

کیا اب؟ اور تو نافرمانی کرتا رہا اس سے پہلے اور تو فتنہ و فساد برپا کرنے والوں سے تھا۔

Verse 91 — Surah Yunus 10:91

سو آج ہم بچا لیں گے تیری جسم کو (سمندر کی تند موجوں سے) تاکہ تو ہوجائے اپنے پچھلوں کے لیے (عبرت کی) نشانی ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اکثر لوگ ہماری نشانیوں سے غفلت برتنے والے ہیں۔

Verse 92 — Surah Yunus 10:92

اور ہم نے عطا فرمایا بنی اسرائیل کو بہترین ٹھکانہ اور ہم نے انھیں پاکیزہ رزق بخشا پس انھوں نے اختلاف نہ کیا حتی کہ آگیا ان کے پاس حقیقت کا علم۔ (اے حبیب!) بیشک آپ کا رب فیصلہ فرمائے گا ان کے درمیا ن روز قیامت جن باتوں میں وہ جھگڑا کیا کرتے تھے۔

Verse 93 — Surah Yunus 10:93

اور (اے سننے والے!) اگر تجھے کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے (اپنے نبی کے ذریعے ) تیری طرف اتارا ہے تو دریافت کر ان لوگون سے جو پڑھتے ہیں کتاب تجھ سے پہلے۔ بیشک آیا ہے تیرے پاس حق تیرے رب کی طرف سے پس ہرگز نہ ہوجانا شک کرنے والوں میں سے۔

Verse 94 — Surah Yunus 10:94

اور ہرگز نہ ہون ان لوگوں سے جنھوں نے جھٹلایا اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو ورنہ تو ہوجائے گا نقصان اٹھانے والوں سے۔

Verse 95 — Surah Yunus 10:95

بیشک وہ لوگ ثابت ہوچکی جن پر آپ کے رب کی بات وہ ایمان نہیں لائیں گے ۔

Verse 96 — Surah Yunus 10:96

اگرچہ آجائیں ان کے پاس ساری نشانیاں جب تک کہ وہ دیکھ نہ لیں دردناک عذاب ۔

Verse 97 — Surah Yunus 10:97

پس کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی بستی ایمان لاتی تو نفع دیتا اسے اس کا ایمان (کسی سے ایسا نہ ہوا) بجز قوم یونس کے جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے دور کردیا ان سے رسوائی کا عذاب دینوی زندگی میں اور ہم نے لطف اندوز ہونے دیا انھیں ایک مدت تک۔

Verse 98 — Surah Yunus 10:98

اور اگر چاہتا آپ کا رب تو ایمان لے آتے جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کے سب کیا آپ مجبور کرنا چاہتے ہیں لوگوں کو یہاں تک کہ وہ مومن بن جائیں۔

Verse 99 — Surah Yunus 10:99

اور کوئی بھی ایسا شخص نہیں کہ وہ ایمان لاسکے بغیر حکمِ الٰہی کے۔ اور (سنت الٰہی یہ ہے کہ ) وہ ڈالتا ہے (گمراہی کی) آلودگی ان لوگوں پر جو بےسمجھ ہیں۔

Verse 100 — Surah Yunus 10:100

فرمائیے غور سے دیکھو! کیا کیا (عجائبات ) ہیں آسمانوں اور زمین میں اور فائدہ نہیں پہنچاتیں آیتیں اور ڈرانے والے اس قوم کو جو ایمان نہیں لانا چاہتے۔

Verse 101 — Surah Yunus 10:101

پس وہ انتظار نہیں کررہے مگر ان لوگوں جیسے حالات کا جو گزرچکے ہیں ان سے پہلے آپ فرمائیے اچھا انتظار کرو۔ بیشک میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں سے ہوں۔

Verse 102 — Surah Yunus 10:102

(جب وہ عذاب آجائے گا) پھر ہم بچالیں گے اپنے رسولوں کو اور انھیں جو ایمان لائے۔ بلاشبہ ایسا ہی ہوگا ۔ یہ ہمارے ذمہ ہے کہ ہم بچالیں گے اہل ایمان کو ۔

Verse 103 — Surah Yunus 10:103

فرمائیے اے لوگوں اگر تمھیں کچھ شک ہو میرے دین کے بارے میں تو (سُن لو) میں عبادت نہیں کرتا ان (بتوں ) کی جن کی تم پوچا کیا کرتے ہو اللہ تعالیٰ کے سوا لیکن میں تو عبادت کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کی جو مارتا ہے تمھیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ہوجاؤں اہل ایمان سے

Verse 104 — Surah Yunus 10:104

نیز (مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ) اپنا رخ سیدھا کرلے اس دین کی طرف ہر کچھ سے بچتے ہوئے اور ہرگز نہ ہوجانا شر ک کرنے والوں سے۔

Verse 105 — Surah Yunus 10:105

اور نہ عبادت کرو اللہ تعالیٰ کے سوا اس کی جو نہ نفع پہنچاسکتا ہے تجھے اور نہ ضرر پہنچاسکتا ہے تجھے اور اگر تو ایسا کرے گا تو پھر تیرا شمار ظالموں میں ہوگا۔

Verse 106 — Surah Yunus 10:106

اور اگر پہنچائے تجھے اللہ تعالٰ کوئی تکلیف تو نہیں کوئی دور کرنے والا اسے بجز اس کے اور اگر ارادہ فرمائے تیرے لیے کسی بھلائی کا تو کوئی رد کرنے والا نہیں اس کے فضل کو ۔ سرفراز فرماتا ہے اپنے فضل و کرم سے جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں سے ۔ اور وہی بہت مغفرت فرمانیوالا ہمیشہ رحم کرنیوالا ہے۔

Verse 107 — Surah Yunus 10:107

(اے حبیب!) فرمائیے اے لوگو بیشک آگیا ہے تمھارے پاس حق تمھارے رب کی طرف سے تو جو ہدایت قبول کرتا ہے تو وہ ہدایت قبول کرتا ہے اپنے بھلے کے لیے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو وہ گمراہ ہوتا ہے اپنی تباہی کے لیے اور میں تم پر نگران نہیں ہوں۔

Verse 108 — Surah Yunus 10:108

اور (اے حبیب!) آپ پیروی کرتے رہیں جو وحی کی جاتی ہے آپکی طرف اور (ظلم کفار پر) صبر کیجیے یہانتک کہ فیصلہ فرمادے اللہ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔

Verse 109 — Surah Yunus 10:109

الف ۔ لام۔ ر ۔ یہ وہ کتاب ہے محفوظ و مستحکم بنادی گئی ہیں جسکی آیتیں پھر ان کی وضاحت کردی گئی ہے بڑے دانا اور ہر چیز سے باخبر (خدا) کی طرف سے۔