Back to Languages

Urdu - Chapter 12 - Yusuf

Translation by Muhammad Karam Shah Al Azhari — Permalink

Verse 1 — Surah Yusuf 12:1

بیشک ہم نے اتارا اسے یعنی قرآن عربی کو تاکہ تم (اسے ) خوب سمجھ سکو۔

Verse 2 — Surah Yusuf 12:2

ہم بیان کرتے ہیں آپ سے ایک بہترین قصہ اس قرآن کے ذریعہ جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے۔ اگرچہ آپ اِ س سے پہلے غافلوں میں سے تھے۔

Verse 3 — Surah Yusuf 12:3

یاد کرو جب کہا یوسف نے اپنے والد سے اے میرے محترم باپ! میں نے خواب میں دیکھا ہے گیارہ ستاروں کو اور سورج اور چاند کو میں نے دیکھا کہ وہ مجھے سجدہ کررہے ہیں۔

Verse 4 — Surah Yusuf 12:4

آپ نے فرمایا اے میرے بچے نہ بیان کرنا اپنا خواب اپنے بھائیوں سے ورنہ وہ سازش کریں گے تیرے خلاف ۔ بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

Verse 5 — Surah Yusuf 12:5

اور اس طرح چن لے گا تجھے تیرا رب اور سکھادے گا تجھے باتوں کا انجام (یعنی خوابوں کی تعبیر) اور پورا فرمائے گا اپنا انعام تجھ پر اور یعقوب کے گھرانے پر جیسے اس نے پورا فرمایا اپنا انعام اس سے پہلے تیرے دو باپوں ابراہیم اور اسحٰق پر یقیناً تیرا پروردگار سب کچھ جاننے والا بہت دانا ہے۔

Verse 6 — Surah Yusuf 12:6

بیشک یوسف اور اسکے بھائیوں ( کے قصہ) میں (عبرت کی ) کئی نشانیاں ہیں دریافت کرنے والوں کے لیے ۔

Verse 7 — Surah Yusuf 12:7

جب بھائیوں نے (آپس میں) کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی زیادہ پیارا ہے ہمارے باپ کو ہم سے حالانکہ ہم ایک (مضبوط ) جتھہ ہیں۔ یقیناً ہمارے والد (ایسا کرنے میں ) کھلی غلطی کا شکا ر ہیں۔

Verse 8 — Surah Yusuf 12:8

قتل کرڈالو یوسف کو یا دور پھینک آؤ اسے کسی علاقہ میں (یوں) تنہا ہوجائے گا تمھاری طرف تمھارے باپ کا رخ اور ہوجانا اس کے بعد (توبہ کرکے) نیک قوم۔

Verse 9 — Surah Yusuf 12:9

(یہ سن کر) ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ نہ قتل کرو یوسف کو (بلکہ ) پھینک دو اسے کسی گہرے کنوئیں کی تاریک تہہ میں اٹھالیں گے اسے کوئی راہ چلتے مسافر۔ اگر تم نے کچھ کرنا ہی ہے۔

Verse 10 — Surah Yusuf 12:10

(یہ طے کرنے کے بعد ) انھوں نے (آکر) کہا اے ہمارے باپ! کیا ہوا آپ کو آپ اعتبار ہی نہیں کرتے ہم پر یوسف کے بارے میں حالانکہ ہم تو اسکے سچے خیر خواہ ہیں۔

Verse 11 — Surah Yusuf 12:11

آپ بھیجیے اسے ہمارے ساتھ کل تاکہ خوب کھائے پیئے اور کھیلے کودے اور (کوئی فکر نہ کیجیے) ہم اسکے نگہبان ہیں۔

Verse 12 — Surah Yusuf 12:12

آپ نے فرمایا بیشک مجھے غمزدہ بناتی ہے یہ بات کہ تم اسے لے جاؤ اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں کھا نہ جائے اس کو بھیڑیا اور تم (سیر و تفریح کے باعث) اس سے بےخبر ہو۔

Verse 13 — Surah Yusuf 12:13

کہنے لگے اگر کھاجائے اسے بھیڑیا حالانکہ ہم ایک مضبوط جتھہ ہیں بلا شبہ ہم تو بڑے زیاں کار ہوئے

Verse 14 — Surah Yusuf 12:14

پھر جب بڑے اصرار سے اسے لے گئے اور سب نے یہی طے کرلیا کہ ڈال دیں گے اسے کسی گہرے کنوئیں کی تاریک تہہ میں اور عن اس وقت ہم نے اسکی طرف وحی کی (گھبراؤ نہیں ) تم ضرور انھیں آگاہ کرو گے ان کے اس فعل پر ۔ اور وہ (تیرے رتبہء عالی کو ) نہیں سمجھتے

Verse 15 — Surah Yusuf 12:15

اور آئے اپنے باپ کے پاس عشاء کے وقت گریہ زاری کرتے ہوئے

Verse 16 — Surah Yusuf 12:16

(آکر ) کہا باوا جی ! ہم ذرا گئے کہ دوڑ لگائیں اور ہم چھوڑ گئے یوسف کو اپنے سامان کے پاس (ہائے افسوس) کھا گیا اس کو بھیڑ یا ۔ اور آپ نہیں مانے گے ہمارے بات اگرچہ ہم سچے ہیں

Verse 17 — Surah Yusuf 12:17

اور لے آئے اس کی قیمیض پر جھوٹا خون لگا کر آپ نے فرمایا (غلط کہتے ہو یوں نہیں) بلکہ آراستہ کردکھایا تمہیں تمھارے نفسوں نے اس (سنگین جرم) کو ( اس جانکاہ حادثہ ) پر صبر جمیل کرونگا اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگوں گا اس پر جو تم بیان کرتے ہو

Verse 18 — Surah Yusuf 12:18

اور تھوڑی دیر بعد ایک قافلہ آیا تو اہل قافلہ نے (پانے لانے کے لیے ) اپنا آبکش بھیجا ۔ انے نے لٹکا دیا اپنا ڈول ۔ وہ پکار اٹھا مژدہ باد! یہ لو کتنا من مہنا بچہ ہے ۔ اور انھوں نے چھپا دیا اسے متاع (گرابنہا) سمجھتے ہوئے ۔ اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے جو وہ کررہے تھے

Verse 19 — Surah Yusuf 12:19

اور انھوں نے بیچ ڈالا یوسف کو حقیر سی قیمت پر چند درہموں کے عوض اور وہ (پہلے ہی ) اس میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے تھے

Verse 20 — Surah Yusuf 12:20

اور کہا اس شخص نے جس نے یوسف کو خریدا تھا اہل مصر سے اپنی بیوی کو عزت و اکرام سے اسے ٹھراؤ شاید یہ ہمیں نفع پہنچائے یا بنالیں ہم اسے اپنا فرزند اور یوں (اپنی حکمت کاملہ سے) ہم نے قرار بخشا یوسف کو (مصر کی ) سرزمین میں اور تاکہ ہم سکھادیں اسے خوابوں کی تعبیر ۔ اور اللہ تعالیٰ غالب ہے اپنے ہر کام پر لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو ) نہیں جانتے

Verse 21 — Surah Yusuf 12:21

اور جب وہ پہنچے اپنے پورے جوبن کو تو ہم نے عطا فرمائی انھیں نبوت اور علم۔ اور یونہی ہم نیک جزا دیتے ہیں اچھے کام کرنیوالوں کو

Verse 22 — Surah Yusuf 12:22

اور بہلانے پھسلانے لگی انھیں وہ عورت جس کے گھر میں آپ تھے کہ ان سے مطلب براری کرے اور (ایک دن) ان نے تمام دروازے بند کردیئے اور (بصد ناز ) کہنے لگی بس آبھی جا۔ یوسف (پاکباز) نے فرمایا خدا کی پناہ! (یوں نہیں ہوسکتا) وہ (تیراخاوند) میرا محسن ہے ۔ اس نے مجھے بڑی عزت سے ٹھیرا یا ہے بیشک ظالم فلاح نہیں پاتے

Verse 23 — Surah Yusuf 12:23

اور اس عورت نے توقصد کرلیا تھا ان کا اور وہ بھی قصد کرتے اس کا اگر نہ دیکھ لیتے اپنے رب کی کی (روشن) دلیل۔ یوں ہوا تاکہ ہم دور کردیں یوسف سے برائی اور بےحیائی کو۔ بیشک وہ ہمارے ان بندوں میں سے تھا جو چن لئے گئے ہوں

Verse 24 — Surah Yusuf 12:24

اور وہ دونوں دوڑ پڑے دروازے کی طرف اور اس عورت نے پھاڑ ڈالا اس کا کرتا پیچھے سے اور (اتفاق ایسا ہوا کہ ) ان دونوں نے کھڑا پایا اس کے خاوند کو دروازے کے پاس ۔ جھٹ بول اٹھی (میرے سرتاج ! بتائیے) کیا سزا ہے اس کی جو ارادہ کرے تیری بیوی کے ساتھ برائی کا بجز اسکے کہ اسے قید کردیا جائے یا (اسے ) دردناک عذاب دیا جائے

Verse 25 — Surah Yusuf 12:25

آپ نے (جواباً) فرمایا (میں نے نہیں بلکہ ) اس نے بہلانا چاہا ہے مجھے کہ مطلب براری کرے اور گواہی دی ایک گواہ نے جو اس عورت کے خاندان سے تھا (کہ دیکھو!) اگر یوسف کی قمیض آگے سے پھٹی ہوئی ہے تو اس نے سچ کہا اور وہ جھوٹوں میں سے ہے

Verse 26 — Surah Yusuf 12:26

اور اگر اس کی قمیض پھٹی ہوئی ہو پیچھے سے تو پھر اس نے جھوٹ بولا اور یوسف سچوں میں سے ہے

Verse 27 — Surah Yusuf 12:27

پس جب عزیز نے دیکھا پیراہن یوسف کو کہ پھٹا ہوا ہے پیچھے سے تو بول اٹھا یہ سب تم عورتوں کا فریب ہے ۔ بیشک تم عورتوں کا فریب بڑا (خطرناک) ہوتا ہے

Verse 28 — Surah Yusuf 12:28

اے یوسف (پاکباز) اس بات کو جانے دو اور (اے عورت) اپنے گناہ کی معافی مانگ بیشک تو ہی قصور واروں میں سے ہے

Verse 29 — Surah Yusuf 12:29

اور کہنے لگیں عورتیں شہر میں کہ عزیز کی بیوی بہلاتی ہے اپنے (نوجوان) غلام کو تاکہ اس سے مطلب براری کرے اس کے دل میں گھر کر گئی ہے اسکی محبت ۔ ہم دیکھ رہی ہیں اسے کہ وہ کھلی گمراہی میں ہے

Verse 30 — Surah Yusuf 12:30

پس جب زلیخا نے سنا انکی مکارانہ باتوں کو تو اس نے انھیں بلا بھیجا اور تیار کیں ان کے لیے مسندیں اور (جب وہ آگئیں تو ) دے دی ہر ایک کو ان میں سے ایک ایک چھری اور یوسف کو کہا کہ (ذرا ) نکل (تو) آؤ ان کے سامنے سے ۔ پس جب (یوسف آئے اور) انھوں نے اس کو دیکھا تو اس کی عظمت (حسن) کی قائل ہوگئیں اور (وارفتگی کے عالم میں) کاٹ بیھٹیں اپنے ہاتھوں کو اور کہہ اٹھیں سبحان اللہ ! یہ انسان نہیں بلکہ یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے۔

Verse 31 — Surah Yusuf 12:31

زلیخا (فاتحانہ انداز میں) بولی یہ ہے وہ (پیکر رعنائی) جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کیا کرتی تھیں ۔ بخدا میں نے اسے بہت بہلایا پھسلایا لیکن وہ بچا ہی رہا اور اگر وہ نہ بجا لایا جو میں اس کو حکم دیتی ہوں تو اسے قید کردیا جائے گا اور وہ ہوجائے گا ان لوگوں سے جو بےآبرو ہیں

Verse 32 — Surah Yusuf 12:32

یوسف نے عرض کی اے میرے پروردگار ! قید خانہ (کی صعوبتیں مجھے زیادہ پسند ہیں اس گناہ سے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو (اپنی عنایت سے) نہ دور کرے مجھ سے ان کے مکر کو تو میں مائل ہوجاؤنگا انکی طرف اور بن جاؤں گا نادانوں سے۔

Verse 33 — Surah Yusuf 12:33

پس قبول فرمالی اس کی دعا اسکے رب نے اور دور کردیا اس سے ان عورتوں کے مرکو فریب کو ۔ بیشک وہ (اپنے بندوں کی فریادیں ) سننے والا اور ان کے (حالات ) خوب جاننے والا ہے

Verse 34 — Surah Yusuf 12:34

پھر مناسب معلوم ہوا انھیں اسکے باوجود کہ وہ (یوسف کی پاکبازی کی ) نشانیاں دیکھ چکے تھے کہ وہ اسے قید کردیں کچھ عرصہ تک

Verse 35 — Surah Yusuf 12:35

اور داخل ہوئے آپ کے ساتھ ہی قید خانہ میں دو نوجوان ان میں سے ایک نے (آکر) کہا کہ میں نے (خواب میں) اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں۔! اور دوسرے نے کہا میں نے خواب میں اپنے آپکو دیکھا کہ میں اٹھائے ہوئے ہوں اپنے سر پر کچھ روٹیاں ، پرندے کھارہے ہیں اس میں سے ۔ آپ بتائیے ہمیں اسکی تعبیر۔ بیشک ہم دیکھ رہے ہیں آپ کو نیکو کاروں سے

Verse 36 — Surah Yusuf 12:36

آپ نے فرمایا نہیں آئیگا تمھارے پاس کھانا جو تمہیں کھلایا جاتاہے مگر میں تمھٰن بتادونگا اسکی تعبیر اس سے پیشتر کہ کھانا تمھارے پاس آئے۔ یہ ان علموں میں سے ہے جو سکھایا ہے مجھے میرے رب نے ۔ میں نے چھوڑ دیا ہے دین اس قوم کا جو نہیں ایمان لاتے اللہ تعالیٰ پر نیز وہ آکرت کا انکار کرنے والے ہیں

Verse 37 — Surah Yusuf 12:37

اور میں تو پیرو بن گیا اپنے باپ دادا ابراہیم (علیہ السلام) اسحاق اور یعقوب کے دین کا نہیں روا ہمارے لیے کہ ہم شریک ٹھیرائیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو ۔ یہ (توحید پر ایمان) تو اللہ تعالیٰ کا خاص احسان ہے ہم پر اور لوگوں پر لیکن بہت سے لوگ اس احسان پر شکر ہی بجا نہیں لاتے

Verse 38 — Surah Yusuf 12:38

اے قید خانہ کے میرے دو رفیقو! (یہ تو بتاؤ) کیا بہت سے جدا جدا رب بہتر ہیں یا ایک اللہ جو سب پر غالب ہے

Verse 39 — Surah Yusuf 12:39

تم نہیں پوجتے اس کے علاوہ مگر چند ناموں کو جو رکھ لیے ہیں تم نے اور تمھارے باپ دادا نے ۔ نہیں اتاری اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کوئی دلیل۔ نہیں ہے حکم (کا اختیار کسی کو ) سوائے اللہ تعالیٰ کے اسی نے یہ حکم دیا ہے کہ کسی کی عبادت نہ کرو بجز اس کے یہی دین قیم ہے لیکن بہت سے لوگ (اس حقیقت کو) نہیں جانتے

Verse 40 — Surah Yusuf 12:40

اے قید خانہ کے میرے دو ساتھیوں ! (اب خوابوں کی تعبیر سنو) تم میں سے ایک (یعنی پہلا) تو پلایا کرے گا اپنے مالک کو شراب۔ لیکن دوسرا سولی دیا جائے گا اور (نوچ ) کھائیں گے پرندے اس کے سر سے۔ (اٹل ) فیصلہ ہوچکا اس بات کا جس کے متعلق تم دریافت کرتے ہو

Verse 41 — Surah Yusuf 12:41

اور کہا (یوسف علیہ السلام ) نے اسے جسکے بارے میں آپ کو یقین تھا کہ وہ نجات پاجائے گا ان دونوں سے کہ میرا تذکرہ کرنا اپنے آقا کے پاس ۔ لیکن فراموش کرادیا اسے شیطان نے کہ وہ ذکر کرے اپنے بادشاہ کے پاس۔ پس آپ ٹھیرے رہے قید خانہ میں کئی سال

Verse 42 — Surah Yusuf 12:42

اور (کچھ عرصہ بعد ایک روز) بادشاہ نے کہا کہ میں (خواب میں کیا) دیکھتا ہوں کہ ساتھ گائیں ہیں موٹی تازی کھارہی ہیں انھیں ساتھ دبلی گائیں اور سات سبز خوشے ہیں اور دوسرے ساتھ خشک سوکھے ہوئے۔ اے درباریوں! بتاؤ مجھے میرے خواب کی تعبیر اگر تم خوابوں کی تعبیر بتایا کرتے ہو

Verse 43 — Surah Yusuf 12:43

درباریوں نے کہا (اے بادشاہ) یہ خواب پریشان ہیں اور ہم پریشان خوابوں کی تعبیر جاننے والے نہیں

Verse 44 — Surah Yusuf 12:44

اور (اس وقت) بولا وہ شخص جو بچ گیا تھا ان دو (قید یوں) سے اور (اب) اسے یوسف کی یاد آئی ایک عرصہ بعد۔ میں بتاتا ہوں تمھیں اس خواب کی تعبیر مجھے (قید خانہ تک) جانے دیجیے

Verse 45 — Surah Yusuf 12:45

اے یوسف! اے صدیق! بتائیے ہمیں (اس خواب کی تعبیر) کہ ساتھ موٹی تازہ گائیں ہیں ۔ کھارہی ہیں انھیں ساتھ لاغر گائیں اور ساتھ خوشے ہیں سرسبز اور دوسرے (سات خوشے ) خشک تاکہ میں (آپ کا جواب لیکر ) واپس جاؤں لوگوں کی طرف شاید وہ (آپ کے علم و فضل کو ) جان لیں۔

Verse 46 — Surah Yusuf 12:46

آپ نے فرمایا کہ تم کاشت کروے ساتھ سال تک حسب دستور۔ تو جو تم کاٹو گے اسے رہنے دو خوشوں میں مگر تھوڑا سا (ضرورت کے لیے نکال لو ) جسے تم کھالو

Verse 47 — Surah Yusuf 12:47

پھر آئیں گے اس (خوشحالی ) کے بعد سات سال بہت سخت کھا جائیں گے جو ذخیرہ تم نے پہلے جمع کر رکھا ہوگا۔ ان کے لیے مگر تھوڑا سا جو تم محفوظ کرلوگے

Verse 48 — Surah Yusuf 12:48

پھر آئے گا اس عرصہ کے بعد ایک سال جس میں مینہ برسایا جائے گا لوگوں کے لیے اور اس سال وہ (پھلوں کا ) رس نکالیں گے

Verse 49 — Surah Yusuf 12:49

(یہ تعبیر سنتے ہی) بادشاہ نے کہا (فوراً) لے آؤ انہیں میرے پاس۔ پس جب (فرمان شاہی لیکر) انکے پاس قاصد آیا (تو) آپ نے فرمایا لوٹ جاؤ اپنے بادشاہ کے پاس اور اسے پوچھو کہ حقیقت حال کیا تھی ان عورتوں کی جنھوں نے کاٹ ڈالے تھے اپنے ہاتھ بےشک میرا پروردگار تو ان کے مکرو (فریب) سے خوب آگاہ ہے

Verse 50 — Surah Yusuf 12:50

بادشاہ نے (ان عورتوں کو بلا کر ) پوچھا کیا معاملہ ہوا تمھارا جب تم نے یوسف کو بہلایا تھا اپنی مطلب براری کے لیے۔ (بیک زبان ) بولیں حاشالِلہ! نہیں معلوم ہوئی ہمیں تو اس میں ذرا برائی۔ عزیز کی بیوی (کو یارائے ضبط نہ رہا) کہنے لگی اب تو آشکارا ہوگیا حق۔ میں نے ہی اسے پھسلانا چاہا تھا اپنی مطلب براری کے لیے بخدا وہ تو سچا ہے۔

Verse 51 — Surah Yusuf 12:51

یوسف ( علیہ السلام) نے کہا) یہ میں نے اس لیے کہا تھا تاکہ عزیز جان لے کہ میں نے اس کی غیر حاضری میں خیانت نہیں کی۔ اور یقیناً اللہ تعالیٰ کامیاب نہیں ہونے دیتا دغا بازوں کی فریب کاری کو

Verse 52 — Surah Yusuf 12:52

یوسف ( علیہ السلام) نے کہا) یہ میں نے اس لیے کہا تھا تاکہ عزیز جان لے کہ میں نے اس کی غیر حاضری میں خیانت نہیں کی۔ اور یقیناً اللہ تعالیٰ کامیاب نہیں ہونے دیتا دغا بازوں کی فریب کاری کو

Verse 53 — Surah Yusuf 12:53

اور بادشاہ نے حکم دیا کہ لے آؤ اسے میرے پاس ۔ میں چن لونگا اسے اپنی ذات کے لیے۔ پھر جب اس نے آپ سے گفتگو کی (اور مطمئن ہوگیا) تو کہا آپ آج سے ہمارے ہاں بڑے محترم (اور ) قابل اعتماد (درباری) ہیں

Verse 54 — Surah Yusuf 12:54

آپ نے فرمایا مجھے مقرر کردے زمین کے خزانوں پر بیشک میں (انکی) حفاظت کرنے والا ( اور معاشی مسائل کا ) کا ماہر ہوں

Verse 55 — Surah Yusuf 12:55

یوں ہم نے تسلط (اور اقتدار) بخشا یوسف کو سرزمین مصر میں۔ تاکہ رہے اس میں جہاں چاہے ہم سرفراز کرتے ہیں اپنی رحمت سے جسے چاہتے ہیں اور ہم ضائع نہیں کرتے اجر عمدہ کام کرنے والوں کا

Verse 56 — Surah Yusuf 12:56

اور آخرت کا اجر اس سے یقیناً بہتر ہے ان کے لیے جو ایمان لے آئے اور تقویٰ اختیار کیے رہے

Verse 57 — Surah Yusuf 12:57

اور ایک روز آنکلے برادران یوسف (علیہ السلام) اور ان کی خدمت میں حاضر ہوئے سو آپ نے تو انھیں پہچان لیا لیکن وہ آپ کو نہ پہچان سکے

Verse 58 — Surah Yusuf 12:58

سو جب مہیا کردیا ان کے لیے ان (کی رسد و خوراک) کا سامنا تو فرمایا (دوبارہ آؤ) تو لے آنا میرے پاس اپنے پدری بھائی کو کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں کس طرح پیمانہ پورا بھر کر دیتا ہوں اور میں کتنا بہتر مہمان نواز ہوں

Verse 59 — Surah Yusuf 12:59

اور اگر تم اسے نہ لے آئے میرے پاس تو (سن لو) کوئی پیمانہ تمھارے پاس نہیں ہوگا اور نہ تم میرے قریب آسکو گے

Verse 60 — Surah Yusuf 12:60

وہ بولے ہم ضرور مطالبہ کریں گے اس کے بھیجنے کے متعلق اسکے باپ سے اور ہم ضرور ایسا کرینگے

Verse 61 — Surah Yusuf 12:61

اور آپ نے فرمایا اپنے غلاموں کو کہ (چپکے سے) رکھ دو ان کا سامان (جس کے عوض انھوں نے غلہ خریدا) ان کی خورجیوں میں تاکہ وہ اسے پہچان لیں جب وہ واپس لوٹیں اپنے گھر والوں کے پاس شاید وہ لوٹ کر آئیں

Verse 62 — Surah Yusuf 12:62

پھر جب واپس لوٹے اپنے باپ کے پاس تو عرض کرنے لگے اے ہمارے پدر (بزرگوار) روکدیا گیا ہے ہم سے غلہ سو (ازراہ نوازش) بھیجئے ہمارے ساتھ ہمارے بھائی (بن یامین) کو تاکہ ہم غلہ لاسکیں اور ہم یقیناً اسکی نگہبانی کرینگے

Verse 63 — Surah Yusuf 12:63

آپ نے (جواباً) فرمایا کیا میں اعتماد کروں تم پر اس کے بارے یں بجز اس کے جیسے میں نے اعتماد کیا تھا تم پر اس کے بھائی کے بارے میں اس سے قبل پس اللہ تعالیٰ ہی بہتر حفاظت کرنیوالا ہے اور وہ زیادہ مہربان ہے تمام مہربانی کرنیوالوں سے

Verse 64 — Surah Yusuf 12:64

اور جب انھوں نے کھولا اپنا سامان تو انھوں نے دیکھا کہ ا کا مال انھیں واپس لوٹا دیا گیا ہے (ترغیب دینے کے لیے) کہنے لگے اے ہمارے پدر (محترم ہم اور کیا چاہتے ہیں یہ (دیکیھے ) ہمارا مال بھی لوٹا دیا گیا ہے ہمارے طرف اور (اگر بن یامین ساتھ گیا ) تو ہم رسد لائینگے اپنے اہل خانہ کے لیے اور رکھوالی کرینگے اپنے بھائی کی اور ہم زیادہ لینگے اور اونٹ کا بوجھ۔ یہ غلہ بہت تھوڑا ہے

Verse 65 — Surah Yusuf 12:65

آپ نے کہا میں ہرگز نہیں بھیجوں گا اسے تمھارے ساتھ یہاں تک کہ کرو تم میرے ساتھ وعدہ جو پختہ کیا گیا ہو اللہ کی قسم سے کہ تم ضرور لے آؤ گے میرے پاس اسے مگر یہ کہ تمھیں بےبس کردیا جائے پس جب وہ لے آئے آپ کے پاس اپنا پختہ وعدہ تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جو ہم گفتگو کررہے ہیں اس پر گواہ ہے

Verse 66 — Surah Yusuf 12:66

اور آپ نے کہا اے میرے بچو! (شہر میں) نہ داخل ہونا ایک دروازہ سے بلکہ داخل ہونا مختلف دروازوں سے اور نہیں فائدہ پہنچا سکتا میں تمھیں اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے کچھ بھی۔ نہیں ہے حکم مگر اللہ تعالیٰ کے لیے اسی پر میں نے توکل کیا ہے اور اسی پر توکل کرنا چاہیے توکل کرنیوالوں کو۔

Verse 67 — Surah Yusuf 12:67

اور جب وہ (مصر میں) میں داخل ہوئے جس طرح حکم دیا گیا تھا انھیں ان کے باپ نے۔ وہ فائدہ نہیں پہنچا سکتا تھا انھیں اللہ کی تقدیر سے کچھ بھی مگر (یہ احتیاطی تدبیر) ایک خیال تھا نفس یعقوب میں جسے انھوں نے پورا کیا اور بیشک وہ صاحب علم تھے بوجہ اسکے جو ہم نے سکھایا تھا انھیں لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو ) نہیں جانتے

Verse 68 — Surah Yusuf 12:68

اور جب پہنچے یوسف کے پاس تو یوسف نے جگہ دی اپنے پاس اپنے بھائی کو (نیز) اُسے فرمایا میں تمھارا بھائی ہوں نہ غمزدہ ہو (ان حرکتوں پر ) جو یہ کیا کرتے تھے

Verse 69 — Surah Yusuf 12:69

پھر جب فراہم کردیا انھیں ان کا سامانِ (خوراک) تو رکھ دیا (اپنا) پیالہ اپنے بھائی کی خورجی میں پھر پکارا ایک پکارنے والا اے قافلہ والو! بلاشبہ تم چور ہو

Verse 70 — Surah Yusuf 12:70

(حیرت زدہ ہوکر) وہ بولے درآنحال کہ وہ انکی طرف متوجہ تھے کونسی چیز تم نے گم کی ہے

Verse 71 — Surah Yusuf 12:71

انھوں نے کہا ہم نے گم کیا ہے بادشاہ کا پیالہ اور وہ شخص جو ڈھونڈ لائیگا اسے بطور انعام بار شتر (غلہ) دیا جائیگا اور میں اس کا ضامن ہوں

Verse 72 — Surah Yusuf 12:72

کہنے لگے خدا کی قسم ! تم خوب جانتے ہو کہ ہم (یہاں) اس لیے نہیں آئے کہ فساد برپا کریں زمین میں اور نہ ہی ہم چوری پیشہ ہیں

Verse 73 — Surah Yusuf 12:73

خدام (یوسف) نے کہا پھر اس کی کیا سزا ہے اگر تم جھوٹے ثابت ہوجاؤ

Verse 74 — Surah Yusuf 12:74

اُنھوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان میں یہ پیالہ دستیاب ہو تو وہ کود ہی اس کا بدلہ ہے اسی طرح ہم سزا دیا کرتے ہیں ظالموں کو۔

Verse 75 — Surah Yusuf 12:75

پس تلاشی لینی شروع کی ان کے سامانوں کی یوسف کے بھائی کے سامان کی تلاشی سے پہلے آخر کار نکال لیا وہ پیالہ اس کے بھائی کی خورجی سے۔ یو تدبیر کی ہم نے یوسف کے لیے نہیں رکھ سکتے تھے یوسف اپنے بھائی کو بادشاہ مصر کے قانون میں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہے۔ ہم بلند کردیتے ہیں درجے جن کے چاہتے ہیں اور ہر صاحب علم سے برتر دوسرا صاحب علم ہوتا ہے

Verse 76 — Surah Yusuf 12:76

بھائی بولے اگر اس نے چوری کی ہے (تو کیا تعجب ہے) بیشک چوری کی تھی اسکے بھائی نے بھی اس سے پہلے۔ پس چھپا لیا اس بات کو یوسف ( علیہ السلام) نے اپنے جی میں اور نہ ظاہر کیا اسے ان پر۔ (جی ہاں) کہا تم بہت بری جگہ ہو۔ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو تم بیان کررہے ہو

Verse 77 — Surah Yusuf 12:77

وہ کہنے لگے اے عزیز! اس کا باپ بہت بوڑھا ہے (اسکی جدائی برداشت نہ کرسکے گا) پس ہم میں سے کسی کو اس کی جگہ پکڑ لیجیے بیشک ہم تجھے نیکوکاروں سے دیکھتے ہیں

Verse 78 — Surah Yusuf 12:78

آپ نے کہا ہم خدا کی پناہ مانگتے ہیں اس سے کہ پکڑ لیں ہم مگر اس کو جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے۔ ورنہ ہم ظالم ہوں گے

Verse 79 — Surah Yusuf 12:79

پھر جب وہ مایوس ہوگئے یوسف سے تو الگ جاکر سرگوشی کرنے لگے۔ اُنکے بڑے بھائی نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمھارے باپ نے لیا تھا تم سے وعدہ پختہ کیا گیا تھا اللہ کے نام سے اور اس سے پہلے جو زیادتی یوسف کے حق میں تم کرچکے ہو (وہ بھی تمھیں یاد ہے) سو میں تو نہیں چھوڑوں گا اس زمین کو جب تک کہ اجازت نہ دیں مجھے میرے باپ یا فیصلہ فرمائے اللہ تعالیٰ میرے لیے ۔ اور وہ تمام فیصلہ کرنیوالوں سے بہتر ہے

Verse 80 — Surah Yusuf 12:80

تم لوٹ جاو اپنے باپ کی طرف پھر (انھیں یہ) عرض کرو اے ہمارے محترم باپ ! بلاشبہ آپ کے بیٹے نے چوری کی (اس لیے وہ گرفتار کرلیا گیا) اور ہم نے (آپ سے ) وہی کچھ بیان کیا جس کا ہمیں علم تھا اور ہم نہیں تھے غیب کی نگہبانی کرنے والے

Verse 81 — Surah Yusuf 12:81

(اور اگر آپ کو اعتبار نہ آئے تو ) دریافت کیجیے بستی والوں سے جس میں ہم رہے اور (پوچھیے) اس قافلہ سے جسمیں ہم آئے اور یقیناً ہم سچ عرض کررہے ہیں

Verse 82 — Surah Yusuf 12:82

آپ نے (یہ سن کر) کر کہا بلکہ آراستہ کردی ہے تمھارے لیے تمھارے نفسوں نے یہ بات (میرے لیے) اب صبر ہی زیبا ہے قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ لے آئیگا میرے پاس ان سب کو بیشک وہ سب کچھ جاننے والا بڑا دانا ہے

Verse 83 — Surah Yusuf 12:83

اور منہ پھیر لیا آپ نے ان کی طرف سے اور کہا ہائے افسوس! یوسف کی جدائی پر اور سفید ہوگئیں ان کی دونوں آنکھیں غم کے باعث اور وہ اپنے غم کو ضبط کیے ہوئے تھے

Verse 84 — Surah Yusuf 12:84

بیٹوں نے عرض کی بخدا ! آپ ہر وقت یاد کرتے رہتے ہیں یوسف کو کہیں بگڑ نہ جائے آپ کی صحت یا آپ ہلاک نہ ہوجائیں

Verse 85 — Surah Yusuf 12:85

آپ نے فرمایا میں تو شکوہ کررہا ہوں اپنی مصیبت اور دکھوں کا خدا کی بارگاہ میں اور میں جانتا ہوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے

Verse 86 — Surah Yusuf 12:86

اے میرے بیٹوں ! جاؤ اور سراغ لگاؤ یوسف کا اور اسکے بھائی کا اور مایوس نہ ہو جاؤ رحمت الٰہی سے بلاشبہ مایوس نہیں ہوتے رحمتِ الٰہی سے مگر کافر لوگ

Verse 87 — Surah Yusuf 12:87

پھر جب وہ گئے (یوسف علیہ السلام) کے پاس تو انھوں نے عرض کی اے عزیز! پہنچی ہے ہمیں اور ہمارے اہل خانہ کو مصیبت اور ( اس مرتبہ) ہم لے آئے ہیں حقیر سے پونجی ۔ پس پورا ناپ کردیں ہمیں پیمانہ اور (اس کے علاوہ ) ہم پر خیرات بھی کریں۔ بیشک اللہ تعالیٰ نیک بدلہ دیتا ہے خیرات کرنے والوں کو

Verse 88 — Surah Yusuf 12:88

آپ نے پوچھا کیا تمہیں علم ہے جو سلوک تم نے کیا یوسف اور اس کے بھائی کے سات جب تم نادان تھے

Verse 89 — Surah Yusuf 12:89

(سراپا حیرت بن کر ) کہنے لگے کیا (سچ مچ ) آپ ہی یوسف ہیں فرمایا (ہاں) میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ بڑا کرم فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے ہم پر ۔ یقیناً جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے اور صبر کرتا ہے (وہ آخر کار کامیاب ہوتا ہے ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا

Verse 90 — Surah Yusuf 12:90

بھائیوں نے کہا خدا کی قسم ! بزرگی دی ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہم پر اور بیشک ہم ہی خطا کار تھے

Verse 91 — Surah Yusuf 12:91

آپ نے فرمایا نہیں کوئی گرفت تم پر آج کے دن معاف فرمادے اللہ تعالیٰ تمھارے (قصوروں) کو اور وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے

Verse 92 — Surah Yusuf 12:92

لے جاؤ میرا یہ پیراہن پس ڈالو اسے میرے باپ کے چہرے پر وہ بینا ہو جائیں گے۔ اور (جاکر) لے آؤ میرے پاس اپنے سب اہل و عیال کو

Verse 93 — Surah Yusuf 12:93

اور جب قافلہ (مصر سے ) روانہ ہوا (تو ادھر کنعان میں ) ان کے باپ نے فرمایا کہ میں تو یوسف کی خوشبو سونگھ رہا ہوں اگر تم مجھے بیوقوف خیا ل نہ کرو

Verse 94 — Surah Yusuf 12:94

گھر والوں نے کہا بخدا ! (بابا جی!) آپ اپنی اس پرانی محبت میں مبتلا ہیں

Verse 95 — Surah Yusuf 12:95

پس جب آپہنچا خوشخبری سنانے والا (اور) اس نے ڈالا وہ پیراہن آپ کے چہرہ پر تو وہ فوراً بینا ہوگئے۔ (آپ نے فرط مسرت سے) کہا (دیکھو) کیا میں نہیں کہا کرتا تھا تمھیں کہ میں جانتا ہوں اللہ تعالیٰ (کے جتانے) سے جو تم نہیں جانتے

Verse 96 — Surah Yusuf 12:96

بیٹوں نے عرض کی کہ اے ہمارے پدرِ (محترم) مغفرت مانگیے ہمارے لیے ہمارے گناہوں کی ۔ بیشک ہم ہی قصوروار تھے

Verse 97 — Surah Yusuf 12:97

فرمایا عنقریب مغفرت طلب کرونگا تمھارے لیے اپنے رب سے۔ بیشک وہی غفور رحیم ہے

Verse 98 — Surah Yusuf 12:98

پھر جب وہ سب یوسف کے روبرو ہوئے آپ نے جگہ دی اپنے پاس اپنے والدین کو اور (اُنھیں) کہا داخل ہوجاؤ مصر میں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تم خیر و عافیت سے رہوگے

Verse 99 — Surah Yusuf 12:99

اور (جب شاہی دربارے میں پہنچے تو ) آپ نے اوپر بٹھایا اپنے والدین کو تخت پر اور وہ گر پڑے آپ کے لیے سجدہ کرتے ہوئے۔ اور (یہ منظر دیکھ کر ) یوسف نے کہا اے میرے پدر بزرگوار! یہ تعبیر ہے میرے خواب کی جو پہلے (عرصہ ہوا میں نے ) دیکھا تھا میرے پروردگار نے اسے سچا کردکھایا ہے۔ اور اس نے بڑا کرم فرمایا مجھ پر جب اس نے نکالا مجھے قید خانہ سے اور لے آیا تمھیں صحرا سے اس کے بعد کہ ناچاقی ڈال دی تھی شیطان نے میرے درمیان اور میرے بھائیوں کے درمیان۔ بیشک میرا رب لطف و کرم فرمانے والا ہے جس کے لیے چاہتا ہے ۔ یقیناً وہی سب کچھ جاننے والا بڑا دانا ہے

Verse 100 — Surah Yusuf 12:100

اے میرے رب ! عطا فرمایا تونے مجھے یہ ملک نیز تو نے سکھایا مجھے باتوں کے انجام کا علم اے بنانے والے آسمانون اور زمین کے ! تو ہی میرا کارساز ہے دنیا میں اور آخرت میں۔ مجھے وفات دے درآنحالیکہ میں مسلمان ہوں اور ملادے مجھے نیک بندوں کے ساتھ

Verse 101 — Surah Yusuf 12:101

(اے حبیب!) یہ قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم وحی کرتے ہیں آپ کی طرف۔ اور آپ ان کے پاس نہیں تھے جب وہ متفق ہوگئے تھے۔ اس بات پر درآنحالیکہ وہ مکر کررہے تھے

Verse 102 — Surah Yusuf 12:102

اور نہیں ہیں اکثر لوگ ، خواہ آپ کتنا ہی چاہیں، ایمان لانے والے

Verse 103 — Surah Yusuf 12:103

اور نہیں طلب کرتے آپ ان سے (درس ہدایت) پر کچھ معاوضہ ۔ نہیں ہے یہ مگر نصیحت سب جہانوں کے لیے

Verse 104 — Surah Yusuf 12:104

اور کتنی ہی (بیشمار) نشانیاں ہے۔ جو آسمانوں اور زمین (ہر گوشہ) میں سجی ہوئی ہیں جن پر یہ (ہر صبح و شام) گزرتے ہیں اور وہ ان سے روگردانی کیے ہوتے ہیں

Verse 105 — Surah Yusuf 12:105

اور نہیں ایمان لاتے ان میں سے اکثر اللہ کے ساتھ مگر اس حالت میں کہ وہ شرک کرنیوالے ہوتے ہیں۔

Verse 106 — Surah Yusuf 12:106

کیا وہ بےغم ہوگئے ہیں اس بات سے کہ آئے ان پر چھا جانے والا اللہ تعالیٰ کا عذاب یا آجائے ان پر قیامت اچانک اور انھیں ان کی آمد کا شعور تک نہ ہو

Verse 107 — Surah Yusuf 12:107

آپ فرمادیجیے یہ میرا راستہ ہے میں تو بلاتا ہوں صرف اللہ تعالیٰ کی طرف واضح دلیل پر ہوں میں اور (وہ بھی) جو میری پیروی کرتے ہیں اور ہر عیب سے پاک ہے اللہ تعالیٰ اور نہی ہوں میں مشرکوں سے

Verse 108 — Surah Yusuf 12:108

اور ہم نے (رسول بنا کر ) نہیں بھیجے آپ سے پہلے مگر مرد جن کی طرف ہم نے وحی بھیجی بستی والوں سے کیا یہ (مُنکر) لوگ سیر و سیاحت نہیں کرتے زمین میں تاکہ وہ دیکھیں کہ کیا ہوا تھا انجام ان (منکرین) کا جو ان سے پہلے (ہوگزرے ) تھے۔ اور دارآخرت یقیناً بہتر ہے ان کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں (اے سننے والوں !) کیا تم نہیں سمجھتے

Verse 109 — Surah Yusuf 12:109

جب ( نصیحت کرتے کرتے ) مایوس ہوگئے رسول اور وہ منکرین گمان کرنے لگے کہ ان سے جھوٹ بولا گیا ہے اس وقت آگئی ان کے پاس ہماری مدد۔ پس بچالیا گیا (عذاب سے) جس کو ہم نے چاہا۔ اور نہیں ٹالا جاسکتا ہمارا عذاب اس قوم سے جو جرائم پیشہ ہے

Verse 110 — Surah Yusuf 12:110

بلاشبہ پہلی قوموں (کے عروج و زوال ) کی داستانوں میں (درسِ) عبرت ہے سمجھ داروں کے لئے نہیں ہے یہ قرآن ایسی بات جو (یونہی) گھڑ لی گئی ہو بلکہ یہ تصدیق کرتی ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں اور یہ (قرآن ) ہر چیز کی تفصیل ہے اور سراپا ہدایت و رحمت ہے اس قوم کے لیے جو ایمان لاتے ہیں

Verse 111 — Surah Yusuf 12:111

الف۔ لام۔ میم۔ ر یہ آیتیں ہیں کتاب (الٰہی) کی اور جو نازل کیا گیا ہے آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے ، وہ حق ہے لیکن اکثر لوگ (اپنی کج فہمی کے باعث) ایمان نہیں لاتے۔