یاد کرو جب کہا یوسف نے اپنے والد سے اے میرے محترم باپ! میں نے خواب میں دیکھا ہے گیارہ ستاروں کو اور سورج اور چاند کو میں نے دیکھا کہ وہ مجھے سجدہ کررہے ہیں۔
اور اس طرح چن لے گا تجھے تیرا رب اور سکھادے گا تجھے باتوں کا انجام (یعنی خوابوں کی تعبیر) اور پورا فرمائے گا اپنا انعام تجھ پر اور یعقوب کے گھرانے پر جیسے اس نے پورا فرمایا اپنا انعام اس سے پہلے تیرے دو باپوں ابراہیم اور اسحٰق پر یقیناً تیرا پروردگار سب کچھ جاننے والا بہت دانا ہے۔
جب بھائیوں نے (آپس میں) کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی زیادہ پیارا ہے ہمارے باپ کو ہم سے حالانکہ ہم ایک (مضبوط ) جتھہ ہیں۔ یقیناً ہمارے والد (ایسا کرنے میں ) کھلی غلطی کا شکا ر ہیں۔
(یہ سن کر) ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ نہ قتل کرو یوسف کو (بلکہ ) پھینک دو اسے کسی گہرے کنوئیں کی تاریک تہہ میں اٹھالیں گے اسے کوئی راہ چلتے مسافر۔ اگر تم نے کچھ کرنا ہی ہے۔
آپ نے فرمایا بیشک مجھے غمزدہ بناتی ہے یہ بات کہ تم اسے لے جاؤ اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں کھا نہ جائے اس کو بھیڑیا اور تم (سیر و تفریح کے باعث) اس سے بےخبر ہو۔
پھر جب بڑے اصرار سے اسے لے گئے اور سب نے یہی طے کرلیا کہ ڈال دیں گے اسے کسی گہرے کنوئیں کی تاریک تہہ میں اور عن اس وقت ہم نے اسکی طرف وحی کی (گھبراؤ نہیں ) تم ضرور انھیں آگاہ کرو گے ان کے اس فعل پر ۔ اور وہ (تیرے رتبہء عالی کو ) نہیں سمجھتے
(آکر ) کہا باوا جی ! ہم ذرا گئے کہ دوڑ لگائیں اور ہم چھوڑ گئے یوسف کو اپنے سامان کے پاس (ہائے افسوس) کھا گیا اس کو بھیڑ یا ۔ اور آپ نہیں مانے گے ہمارے بات اگرچہ ہم سچے ہیں
اور لے آئے اس کی قیمیض پر جھوٹا خون لگا کر آپ نے فرمایا (غلط کہتے ہو یوں نہیں) بلکہ آراستہ کردکھایا تمہیں تمھارے نفسوں نے اس (سنگین جرم) کو ( اس جانکاہ حادثہ ) پر صبر جمیل کرونگا اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگوں گا اس پر جو تم بیان کرتے ہو
اور تھوڑی دیر بعد ایک قافلہ آیا تو اہل قافلہ نے (پانے لانے کے لیے ) اپنا آبکش بھیجا ۔ انے نے لٹکا دیا اپنا ڈول ۔ وہ پکار اٹھا مژدہ باد! یہ لو کتنا من مہنا بچہ ہے ۔ اور انھوں نے چھپا دیا اسے متاع (گرابنہا) سمجھتے ہوئے ۔ اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے جو وہ کررہے تھے
اور کہا اس شخص نے جس نے یوسف کو خریدا تھا اہل مصر سے اپنی بیوی کو عزت و اکرام سے اسے ٹھراؤ شاید یہ ہمیں نفع پہنچائے یا بنالیں ہم اسے اپنا فرزند اور یوں (اپنی حکمت کاملہ سے) ہم نے قرار بخشا یوسف کو (مصر کی ) سرزمین میں اور تاکہ ہم سکھادیں اسے خوابوں کی تعبیر ۔ اور اللہ تعالیٰ غالب ہے اپنے ہر کام پر لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو ) نہیں جانتے
اور بہلانے پھسلانے لگی انھیں وہ عورت جس کے گھر میں آپ تھے کہ ان سے مطلب براری کرے اور (ایک دن) ان نے تمام دروازے بند کردیئے اور (بصد ناز ) کہنے لگی بس آبھی جا۔ یوسف (پاکباز) نے فرمایا خدا کی پناہ! (یوں نہیں ہوسکتا) وہ (تیراخاوند) میرا محسن ہے ۔ اس نے مجھے بڑی عزت سے ٹھیرا یا ہے بیشک ظالم فلاح نہیں پاتے
اور اس عورت نے توقصد کرلیا تھا ان کا اور وہ بھی قصد کرتے اس کا اگر نہ دیکھ لیتے اپنے رب کی کی (روشن) دلیل۔ یوں ہوا تاکہ ہم دور کردیں یوسف سے برائی اور بےحیائی کو۔ بیشک وہ ہمارے ان بندوں میں سے تھا جو چن لئے گئے ہوں
اور وہ دونوں دوڑ پڑے دروازے کی طرف اور اس عورت نے پھاڑ ڈالا اس کا کرتا پیچھے سے اور (اتفاق ایسا ہوا کہ ) ان دونوں نے کھڑا پایا اس کے خاوند کو دروازے کے پاس ۔ جھٹ بول اٹھی (میرے سرتاج ! بتائیے) کیا سزا ہے اس کی جو ارادہ کرے تیری بیوی کے ساتھ برائی کا بجز اسکے کہ اسے قید کردیا جائے یا (اسے ) دردناک عذاب دیا جائے
آپ نے (جواباً) فرمایا (میں نے نہیں بلکہ ) اس نے بہلانا چاہا ہے مجھے کہ مطلب براری کرے اور گواہی دی ایک گواہ نے جو اس عورت کے خاندان سے تھا (کہ دیکھو!) اگر یوسف کی قمیض آگے سے پھٹی ہوئی ہے تو اس نے سچ کہا اور وہ جھوٹوں میں سے ہے
اور کہنے لگیں عورتیں شہر میں کہ عزیز کی بیوی بہلاتی ہے اپنے (نوجوان) غلام کو تاکہ اس سے مطلب براری کرے اس کے دل میں گھر کر گئی ہے اسکی محبت ۔ ہم دیکھ رہی ہیں اسے کہ وہ کھلی گمراہی میں ہے
پس جب زلیخا نے سنا انکی مکارانہ باتوں کو تو اس نے انھیں بلا بھیجا اور تیار کیں ان کے لیے مسندیں اور (جب وہ آگئیں تو ) دے دی ہر ایک کو ان میں سے ایک ایک چھری اور یوسف کو کہا کہ (ذرا ) نکل (تو) آؤ ان کے سامنے سے ۔ پس جب (یوسف آئے اور) انھوں نے اس کو دیکھا تو اس کی عظمت (حسن) کی قائل ہوگئیں اور (وارفتگی کے عالم میں) کاٹ بیھٹیں اپنے ہاتھوں کو اور کہہ اٹھیں سبحان اللہ ! یہ انسان نہیں بلکہ یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے۔
زلیخا (فاتحانہ انداز میں) بولی یہ ہے وہ (پیکر رعنائی) جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کیا کرتی تھیں ۔ بخدا میں نے اسے بہت بہلایا پھسلایا لیکن وہ بچا ہی رہا اور اگر وہ نہ بجا لایا جو میں اس کو حکم دیتی ہوں تو اسے قید کردیا جائے گا اور وہ ہوجائے گا ان لوگوں سے جو بےآبرو ہیں
یوسف نے عرض کی اے میرے پروردگار ! قید خانہ (کی صعوبتیں مجھے زیادہ پسند ہیں اس گناہ سے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو (اپنی عنایت سے) نہ دور کرے مجھ سے ان کے مکر کو تو میں مائل ہوجاؤنگا انکی طرف اور بن جاؤں گا نادانوں سے۔
پس قبول فرمالی اس کی دعا اسکے رب نے اور دور کردیا اس سے ان عورتوں کے مرکو فریب کو ۔ بیشک وہ (اپنے بندوں کی فریادیں ) سننے والا اور ان کے (حالات ) خوب جاننے والا ہے
اور داخل ہوئے آپ کے ساتھ ہی قید خانہ میں دو نوجوان ان میں سے ایک نے (آکر) کہا کہ میں نے (خواب میں) اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں۔! اور دوسرے نے کہا میں نے خواب میں اپنے آپکو دیکھا کہ میں اٹھائے ہوئے ہوں اپنے سر پر کچھ روٹیاں ، پرندے کھارہے ہیں اس میں سے ۔ آپ بتائیے ہمیں اسکی تعبیر۔ بیشک ہم دیکھ رہے ہیں آپ کو نیکو کاروں سے
آپ نے فرمایا نہیں آئیگا تمھارے پاس کھانا جو تمہیں کھلایا جاتاہے مگر میں تمھٰن بتادونگا اسکی تعبیر اس سے پیشتر کہ کھانا تمھارے پاس آئے۔ یہ ان علموں میں سے ہے جو سکھایا ہے مجھے میرے رب نے ۔ میں نے چھوڑ دیا ہے دین اس قوم کا جو نہیں ایمان لاتے اللہ تعالیٰ پر نیز وہ آکرت کا انکار کرنے والے ہیں
اور میں تو پیرو بن گیا اپنے باپ دادا ابراہیم (علیہ السلام) اسحاق اور یعقوب کے دین کا نہیں روا ہمارے لیے کہ ہم شریک ٹھیرائیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو ۔ یہ (توحید پر ایمان) تو اللہ تعالیٰ کا خاص احسان ہے ہم پر اور لوگوں پر لیکن بہت سے لوگ اس احسان پر شکر ہی بجا نہیں لاتے
تم نہیں پوجتے اس کے علاوہ مگر چند ناموں کو جو رکھ لیے ہیں تم نے اور تمھارے باپ دادا نے ۔ نہیں اتاری اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کوئی دلیل۔ نہیں ہے حکم (کا اختیار کسی کو ) سوائے اللہ تعالیٰ کے اسی نے یہ حکم دیا ہے کہ کسی کی عبادت نہ کرو بجز اس کے یہی دین قیم ہے لیکن بہت سے لوگ (اس حقیقت کو) نہیں جانتے
اے قید خانہ کے میرے دو ساتھیوں ! (اب خوابوں کی تعبیر سنو) تم میں سے ایک (یعنی پہلا) تو پلایا کرے گا اپنے مالک کو شراب۔ لیکن دوسرا سولی دیا جائے گا اور (نوچ ) کھائیں گے پرندے اس کے سر سے۔ (اٹل ) فیصلہ ہوچکا اس بات کا جس کے متعلق تم دریافت کرتے ہو
اور کہا (یوسف علیہ السلام ) نے اسے جسکے بارے میں آپ کو یقین تھا کہ وہ نجات پاجائے گا ان دونوں سے کہ میرا تذکرہ کرنا اپنے آقا کے پاس ۔ لیکن فراموش کرادیا اسے شیطان نے کہ وہ ذکر کرے اپنے بادشاہ کے پاس۔ پس آپ ٹھیرے رہے قید خانہ میں کئی سال
اور (کچھ عرصہ بعد ایک روز) بادشاہ نے کہا کہ میں (خواب میں کیا) دیکھتا ہوں کہ ساتھ گائیں ہیں موٹی تازی کھارہی ہیں انھیں ساتھ دبلی گائیں اور سات سبز خوشے ہیں اور دوسرے ساتھ خشک سوکھے ہوئے۔ اے درباریوں! بتاؤ مجھے میرے خواب کی تعبیر اگر تم خوابوں کی تعبیر بتایا کرتے ہو
اور (اس وقت) بولا وہ شخص جو بچ گیا تھا ان دو (قید یوں) سے اور (اب) اسے یوسف کی یاد آئی ایک عرصہ بعد۔ میں بتاتا ہوں تمھیں اس خواب کی تعبیر مجھے (قید خانہ تک) جانے دیجیے
اے یوسف! اے صدیق! بتائیے ہمیں (اس خواب کی تعبیر) کہ ساتھ موٹی تازہ گائیں ہیں ۔ کھارہی ہیں انھیں ساتھ لاغر گائیں اور ساتھ خوشے ہیں سرسبز اور دوسرے (سات خوشے ) خشک تاکہ میں (آپ کا جواب لیکر ) واپس جاؤں لوگوں کی طرف شاید وہ (آپ کے علم و فضل کو ) جان لیں۔
(یہ تعبیر سنتے ہی) بادشاہ نے کہا (فوراً) لے آؤ انہیں میرے پاس۔ پس جب (فرمان شاہی لیکر) انکے پاس قاصد آیا (تو) آپ نے فرمایا لوٹ جاؤ اپنے بادشاہ کے پاس اور اسے پوچھو کہ حقیقت حال کیا تھی ان عورتوں کی جنھوں نے کاٹ ڈالے تھے اپنے ہاتھ بےشک میرا پروردگار تو ان کے مکرو (فریب) سے خوب آگاہ ہے
بادشاہ نے (ان عورتوں کو بلا کر ) پوچھا کیا معاملہ ہوا تمھارا جب تم نے یوسف کو بہلایا تھا اپنی مطلب براری کے لیے۔ (بیک زبان ) بولیں حاشالِلہ! نہیں معلوم ہوئی ہمیں تو اس میں ذرا برائی۔ عزیز کی بیوی (کو یارائے ضبط نہ رہا) کہنے لگی اب تو آشکارا ہوگیا حق۔ میں نے ہی اسے پھسلانا چاہا تھا اپنی مطلب براری کے لیے بخدا وہ تو سچا ہے۔
یوسف ( علیہ السلام) نے کہا) یہ میں نے اس لیے کہا تھا تاکہ عزیز جان لے کہ میں نے اس کی غیر حاضری میں خیانت نہیں کی۔ اور یقیناً اللہ تعالیٰ کامیاب نہیں ہونے دیتا دغا بازوں کی فریب کاری کو
یوسف ( علیہ السلام) نے کہا) یہ میں نے اس لیے کہا تھا تاکہ عزیز جان لے کہ میں نے اس کی غیر حاضری میں خیانت نہیں کی۔ اور یقیناً اللہ تعالیٰ کامیاب نہیں ہونے دیتا دغا بازوں کی فریب کاری کو
اور بادشاہ نے حکم دیا کہ لے آؤ اسے میرے پاس ۔ میں چن لونگا اسے اپنی ذات کے لیے۔ پھر جب اس نے آپ سے گفتگو کی (اور مطمئن ہوگیا) تو کہا آپ آج سے ہمارے ہاں بڑے محترم (اور ) قابل اعتماد (درباری) ہیں
یوں ہم نے تسلط (اور اقتدار) بخشا یوسف کو سرزمین مصر میں۔ تاکہ رہے اس میں جہاں چاہے ہم سرفراز کرتے ہیں اپنی رحمت سے جسے چاہتے ہیں اور ہم ضائع نہیں کرتے اجر عمدہ کام کرنے والوں کا
سو جب مہیا کردیا ان کے لیے ان (کی رسد و خوراک) کا سامنا تو فرمایا (دوبارہ آؤ) تو لے آنا میرے پاس اپنے پدری بھائی کو کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں کس طرح پیمانہ پورا بھر کر دیتا ہوں اور میں کتنا بہتر مہمان نواز ہوں
اور آپ نے فرمایا اپنے غلاموں کو کہ (چپکے سے) رکھ دو ان کا سامان (جس کے عوض انھوں نے غلہ خریدا) ان کی خورجیوں میں تاکہ وہ اسے پہچان لیں جب وہ واپس لوٹیں اپنے گھر والوں کے پاس شاید وہ لوٹ کر آئیں
پھر جب واپس لوٹے اپنے باپ کے پاس تو عرض کرنے لگے اے ہمارے پدر (بزرگوار) روکدیا گیا ہے ہم سے غلہ سو (ازراہ نوازش) بھیجئے ہمارے ساتھ ہمارے بھائی (بن یامین) کو تاکہ ہم غلہ لاسکیں اور ہم یقیناً اسکی نگہبانی کرینگے
آپ نے (جواباً) فرمایا کیا میں اعتماد کروں تم پر اس کے بارے یں بجز اس کے جیسے میں نے اعتماد کیا تھا تم پر اس کے بھائی کے بارے میں اس سے قبل پس اللہ تعالیٰ ہی بہتر حفاظت کرنیوالا ہے اور وہ زیادہ مہربان ہے تمام مہربانی کرنیوالوں سے
اور جب انھوں نے کھولا اپنا سامان تو انھوں نے دیکھا کہ ا کا مال انھیں واپس لوٹا دیا گیا ہے (ترغیب دینے کے لیے) کہنے لگے اے ہمارے پدر (محترم ہم اور کیا چاہتے ہیں یہ (دیکیھے ) ہمارا مال بھی لوٹا دیا گیا ہے ہمارے طرف اور (اگر بن یامین ساتھ گیا ) تو ہم رسد لائینگے اپنے اہل خانہ کے لیے اور رکھوالی کرینگے اپنے بھائی کی اور ہم زیادہ لینگے اور اونٹ کا بوجھ۔ یہ غلہ بہت تھوڑا ہے
آپ نے کہا میں ہرگز نہیں بھیجوں گا اسے تمھارے ساتھ یہاں تک کہ کرو تم میرے ساتھ وعدہ جو پختہ کیا گیا ہو اللہ کی قسم سے کہ تم ضرور لے آؤ گے میرے پاس اسے مگر یہ کہ تمھیں بےبس کردیا جائے پس جب وہ لے آئے آپ کے پاس اپنا پختہ وعدہ تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جو ہم گفتگو کررہے ہیں اس پر گواہ ہے
اور آپ نے کہا اے میرے بچو! (شہر میں) نہ داخل ہونا ایک دروازہ سے بلکہ داخل ہونا مختلف دروازوں سے اور نہیں فائدہ پہنچا سکتا میں تمھیں اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے کچھ بھی۔ نہیں ہے حکم مگر اللہ تعالیٰ کے لیے اسی پر میں نے توکل کیا ہے اور اسی پر توکل کرنا چاہیے توکل کرنیوالوں کو۔
اور جب وہ (مصر میں) میں داخل ہوئے جس طرح حکم دیا گیا تھا انھیں ان کے باپ نے۔ وہ فائدہ نہیں پہنچا سکتا تھا انھیں اللہ کی تقدیر سے کچھ بھی مگر (یہ احتیاطی تدبیر) ایک خیال تھا نفس یعقوب میں جسے انھوں نے پورا کیا اور بیشک وہ صاحب علم تھے بوجہ اسکے جو ہم نے سکھایا تھا انھیں لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو ) نہیں جانتے
اور جب پہنچے یوسف کے پاس تو یوسف نے جگہ دی اپنے پاس اپنے بھائی کو (نیز) اُسے فرمایا میں تمھارا بھائی ہوں نہ غمزدہ ہو (ان حرکتوں پر ) جو یہ کیا کرتے تھے
پھر جب فراہم کردیا انھیں ان کا سامانِ (خوراک) تو رکھ دیا (اپنا) پیالہ اپنے بھائی کی خورجی میں پھر پکارا ایک پکارنے والا اے قافلہ والو! بلاشبہ تم چور ہو
پس تلاشی لینی شروع کی ان کے سامانوں کی یوسف کے بھائی کے سامان کی تلاشی سے پہلے آخر کار نکال لیا وہ پیالہ اس کے بھائی کی خورجی سے۔ یو تدبیر کی ہم نے یوسف کے لیے نہیں رکھ سکتے تھے یوسف اپنے بھائی کو بادشاہ مصر کے قانون میں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہے۔ ہم بلند کردیتے ہیں درجے جن کے چاہتے ہیں اور ہر صاحب علم سے برتر دوسرا صاحب علم ہوتا ہے
بھائی بولے اگر اس نے چوری کی ہے (تو کیا تعجب ہے) بیشک چوری کی تھی اسکے بھائی نے بھی اس سے پہلے۔ پس چھپا لیا اس بات کو یوسف ( علیہ السلام) نے اپنے جی میں اور نہ ظاہر کیا اسے ان پر۔ (جی ہاں) کہا تم بہت بری جگہ ہو۔ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو تم بیان کررہے ہو
وہ کہنے لگے اے عزیز! اس کا باپ بہت بوڑھا ہے (اسکی جدائی برداشت نہ کرسکے گا) پس ہم میں سے کسی کو اس کی جگہ پکڑ لیجیے بیشک ہم تجھے نیکوکاروں سے دیکھتے ہیں
پھر جب وہ مایوس ہوگئے یوسف سے تو الگ جاکر سرگوشی کرنے لگے۔ اُنکے بڑے بھائی نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمھارے باپ نے لیا تھا تم سے وعدہ پختہ کیا گیا تھا اللہ کے نام سے اور اس سے پہلے جو زیادتی یوسف کے حق میں تم کرچکے ہو (وہ بھی تمھیں یاد ہے) سو میں تو نہیں چھوڑوں گا اس زمین کو جب تک کہ اجازت نہ دیں مجھے میرے باپ یا فیصلہ فرمائے اللہ تعالیٰ میرے لیے ۔ اور وہ تمام فیصلہ کرنیوالوں سے بہتر ہے
تم لوٹ جاو اپنے باپ کی طرف پھر (انھیں یہ) عرض کرو اے ہمارے محترم باپ ! بلاشبہ آپ کے بیٹے نے چوری کی (اس لیے وہ گرفتار کرلیا گیا) اور ہم نے (آپ سے ) وہی کچھ بیان کیا جس کا ہمیں علم تھا اور ہم نہیں تھے غیب کی نگہبانی کرنے والے
آپ نے (یہ سن کر) کر کہا بلکہ آراستہ کردی ہے تمھارے لیے تمھارے نفسوں نے یہ بات (میرے لیے) اب صبر ہی زیبا ہے قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ لے آئیگا میرے پاس ان سب کو بیشک وہ سب کچھ جاننے والا بڑا دانا ہے
اور منہ پھیر لیا آپ نے ان کی طرف سے اور کہا ہائے افسوس! یوسف کی جدائی پر اور سفید ہوگئیں ان کی دونوں آنکھیں غم کے باعث اور وہ اپنے غم کو ضبط کیے ہوئے تھے
پھر جب وہ گئے (یوسف علیہ السلام) کے پاس تو انھوں نے عرض کی اے عزیز! پہنچی ہے ہمیں اور ہمارے اہل خانہ کو مصیبت اور ( اس مرتبہ) ہم لے آئے ہیں حقیر سے پونجی ۔ پس پورا ناپ کردیں ہمیں پیمانہ اور (اس کے علاوہ ) ہم پر خیرات بھی کریں۔ بیشک اللہ تعالیٰ نیک بدلہ دیتا ہے خیرات کرنے والوں کو
(سراپا حیرت بن کر ) کہنے لگے کیا (سچ مچ ) آپ ہی یوسف ہیں فرمایا (ہاں) میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ بڑا کرم فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے ہم پر ۔ یقیناً جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے اور صبر کرتا ہے (وہ آخر کار کامیاب ہوتا ہے ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا
پس جب آپہنچا خوشخبری سنانے والا (اور) اس نے ڈالا وہ پیراہن آپ کے چہرہ پر تو وہ فوراً بینا ہوگئے۔ (آپ نے فرط مسرت سے) کہا (دیکھو) کیا میں نہیں کہا کرتا تھا تمھیں کہ میں جانتا ہوں اللہ تعالیٰ (کے جتانے) سے جو تم نہیں جانتے
پھر جب وہ سب یوسف کے روبرو ہوئے آپ نے جگہ دی اپنے پاس اپنے والدین کو اور (اُنھیں) کہا داخل ہوجاؤ مصر میں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تم خیر و عافیت سے رہوگے
اور (جب شاہی دربارے میں پہنچے تو ) آپ نے اوپر بٹھایا اپنے والدین کو تخت پر اور وہ گر پڑے آپ کے لیے سجدہ کرتے ہوئے۔ اور (یہ منظر دیکھ کر ) یوسف نے کہا اے میرے پدر بزرگوار! یہ تعبیر ہے میرے خواب کی جو پہلے (عرصہ ہوا میں نے ) دیکھا تھا میرے پروردگار نے اسے سچا کردکھایا ہے۔ اور اس نے بڑا کرم فرمایا مجھ پر جب اس نے نکالا مجھے قید خانہ سے اور لے آیا تمھیں صحرا سے اس کے بعد کہ ناچاقی ڈال دی تھی شیطان نے میرے درمیان اور میرے بھائیوں کے درمیان۔ بیشک میرا رب لطف و کرم فرمانے والا ہے جس کے لیے چاہتا ہے ۔ یقیناً وہی سب کچھ جاننے والا بڑا دانا ہے
اے میرے رب ! عطا فرمایا تونے مجھے یہ ملک نیز تو نے سکھایا مجھے باتوں کے انجام کا علم اے بنانے والے آسمانون اور زمین کے ! تو ہی میرا کارساز ہے دنیا میں اور آخرت میں۔ مجھے وفات دے درآنحالیکہ میں مسلمان ہوں اور ملادے مجھے نیک بندوں کے ساتھ
(اے حبیب!) یہ قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم وحی کرتے ہیں آپ کی طرف۔ اور آپ ان کے پاس نہیں تھے جب وہ متفق ہوگئے تھے۔ اس بات پر درآنحالیکہ وہ مکر کررہے تھے
آپ فرمادیجیے یہ میرا راستہ ہے میں تو بلاتا ہوں صرف اللہ تعالیٰ کی طرف واضح دلیل پر ہوں میں اور (وہ بھی) جو میری پیروی کرتے ہیں اور ہر عیب سے پاک ہے اللہ تعالیٰ اور نہی ہوں میں مشرکوں سے
اور ہم نے (رسول بنا کر ) نہیں بھیجے آپ سے پہلے مگر مرد جن کی طرف ہم نے وحی بھیجی بستی والوں سے کیا یہ (مُنکر) لوگ سیر و سیاحت نہیں کرتے زمین میں تاکہ وہ دیکھیں کہ کیا ہوا تھا انجام ان (منکرین) کا جو ان سے پہلے (ہوگزرے ) تھے۔ اور دارآخرت یقیناً بہتر ہے ان کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں (اے سننے والوں !) کیا تم نہیں سمجھتے
جب ( نصیحت کرتے کرتے ) مایوس ہوگئے رسول اور وہ منکرین گمان کرنے لگے کہ ان سے جھوٹ بولا گیا ہے اس وقت آگئی ان کے پاس ہماری مدد۔ پس بچالیا گیا (عذاب سے) جس کو ہم نے چاہا۔ اور نہیں ٹالا جاسکتا ہمارا عذاب اس قوم سے جو جرائم پیشہ ہے
بلاشبہ پہلی قوموں (کے عروج و زوال ) کی داستانوں میں (درسِ) عبرت ہے سمجھ داروں کے لئے نہیں ہے یہ قرآن ایسی بات جو (یونہی) گھڑ لی گئی ہو بلکہ یہ تصدیق کرتی ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں اور یہ (قرآن ) ہر چیز کی تفصیل ہے اور سراپا ہدایت و رحمت ہے اس قوم کے لیے جو ایمان لاتے ہیں
الف۔ لام۔ میم۔ ر یہ آیتیں ہیں کتاب (الٰہی) کی اور جو نازل کیا گیا ہے آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے ، وہ حق ہے لیکن اکثر لوگ (اپنی کج فہمی کے باعث) ایمان نہیں لاتے۔