(ہر عیب سے) پاک ہے وہ ذات جس نے سیر کرائی اپنے بندے کو رات کے قلیل حصہ میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک با برکت بنا دیا ہے ہم نے جس کے گرد و نواح کو تاکہ ہم دکھائیں اپنے بندے کو اپنی قدرت کی نشانیاں بیشک وہی ہے سب کچھ سننے والا سب کچھ دیکھنے والا
پس جب آگیا پہلا وعدہ ان دونوں دعدوں سے تو ہم نے (تمھاری سر کو بی کے لیے) بھیج دئیے اپنے چند بندے جو بڑے کرخت (اور) سخت تھے پس وہ گھس گئے (تمھاری ) آبادیوں میں اور جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا تھا وہ پورا ہو کر رہنا تھا
اگر تم اچھے کام کرو گے تو ان کا فائدہ تمھیں ہی پہنچے گا اور اگر تم برائی کرو گے تو اس کی سزا بھی (تمھارے) نفسوں کو ملے گی پس جب آگیا دوسرا وعدہ (تو اور ظالم ان پر غالب آگئے) تاکہ غمناک بنا دیں تمھارے چہروں کو اور تاکہ (جبراً) داخل ہو جائیں مسجد میں جیسے داخل ہوئے تھے اس میں پہلی مرتبہ تاکہ فنا و برباد کر کے رکھ دیں جس پر قابو پائیں
اور ہم نے بنایا ہے رات اور دن کو (اپنی قدرت کی) دو نشانیاں اور ہم نے مدھم کر دیا رات کی نشانی کو اور بنا دیا دن کی نشانی کو روشن تاکہ (دن کے اجالے میں) تم تلاش کرو رزق اپنے رب سے اور تاکہ تم جان لو سالوں کی تعداد اور حساب کو اور ہر چیز کو ہم نے بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے
جو راہ ہدایت پر چلتا ہے تو وہ راہ ہدایت پر چلتا ہے اپنے فائدے کے لیے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کی گمراہی کا وبا ل اسی پر ہے اور نہیں اٹھائیگا کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ اور ہم عذاب نازل نہیں کرتے جب تک ہم نہ بھیجیں کسی رسول کو
اور جب ہم ارادہ کرتے ہیں کہ ہلاک کر دیں کسی بستی کو (اسکے گناہوں کے باعث) تو (پہلے) ہم (نبیوں کے ذریعہ) وہاں کے رئیسوں کو (نیکی کا) حکم دیتے ہیں مگر وہ (الٹا) نافانی کرنے لگتے ہیں اس میں ۔ پس واجب ہو جاتا ہے ان پر (عذاب کا ) فرمان پھر ہم اس بستی کو جڑ سے اکھیڑ کر رکھ دیتے ہیں
اور کتنی قومیں ہیں جنھیں ہم نے ہلاک کر دیا ہے نوح ( علیہ السلام) کے بعد اور آپکا پروردگا ر اپنے بندوں کے گناہوں سے اچھی طرح با خبر ہے (اور انھیں) خوب دیکھنے والا ہے
جو لوگ طلبگار ہیں صرف دنیا کے ہم جلدی دیدیتے ہیں اس دنیا میں جتنا چاہتے ہیں (انمیں سے ) جسے چاہتے ہیں پھر ہم مقرر کر دیتے ہیں اس کے لیے جہنّم تاپے گا وہ اسے اس حال میں کہ مذمت کیا ہوا (اور ) ٹھکرایا ہوا ہوگا
اور بےیارو مددگار ہو جاؤ گے اور حکم فرمایا آپ کے رب نے کہ نہ عبادت کرو بجز اس کے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر بڑھاپے کو پہنچ جائے تیری زندگی میں ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں تو انہیں اف تک مت کہو اور انھیں مت جھڑکو اور جب ان سے بات کرو تو بڑی تعظیم سے بات کرو
اور جھکا دو ان کے لیے تواضع و انکسار کے پَر رحمت (و محبت) سے اور عرض کرو اے میرے پروردگار ان دونوں پر رحم فرما جس طرح انھوں نے ( بڑی محبت و پیار سے ) مجھے پالا تھا جب میں بچہ تھا
اور اگر (بوجہ تنگدستی) تجھے ان سے منہ پھیرنا پڑے اور تم اپنے رب کی رحمت (یعنی خوشحالی ) کے متلاشی ہو جس کی تمھیں توقع ہے تو (اس اثناء میں) ان سے بات کرو تو بڑی نرمی سے کرو
بیشک آپ کا رب کشادہ کرتا ہے روزی جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے (جس کے لیے چاہتا ہے) یقیناً وہ اپنے بندوں (کے حالات) سے خوب آگاہ ہے اور ( انھیں) دیکھنے والا ہے
اور نہ قتل کر و اس نفس کو جس کو قتل کر نا اللہ تعالیٰ نے حرام کر دیا ہے مگر حق کے ساتھ اور جو قتل کیا جائے نا حق تو ہم نے مقتول کے وارث کو (قصاص کے مطالبہ کا ) حق دیدیا ہے پس اسے چاہیے کہ قتل میں اسراف نہ کرے۔ ضرور اس کی مدد کی جائے گی
اور نہ قریب جاؤ یتیم کے مال کے مگر ایسے طریقے سے جو (اس یتیم کے لیے) بہترہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے اور پورا کیا کرو اپنے عہد کو بیشک ان وعدوں کے بارے میں ( تم سے) پوچھا جائے گا
یہ ہدایات جنھیں بذریعہ وحی آپ کی طرف آپ کے رب نے بھیجا ہے دانائی کی باتوں میں سے ہیں اور (اے سننے والے!) نہ بناؤ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ورنہ تجھے پھینک دیے جائے گا جہنم میں اس حال میں کہ تمھیں ملامت کی جائیگی
اور دھکے دیے جائیں گے۔ پس کیا چن لیا ہے تمھیں تمھارے رب نے بیٹوں کے لیے اور (اپنے لیے) بنا لیا ہے فرشتوں کو بیٹیاں (صد افسوس) تم ایسی بات کہہ رہے ہو جو بہت سخت ہے
اور بلا شبہ ہم نے مختلف انداز سے بار بار بیان کیا ہے (دلائل توحید کو) اس قرآن میں تاکہ وہ نصیحت قبول کریں (بایہنمہ) سوائے نفرت کے ان میں کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا
پاکی بیان کرتے ہیں اسی کی ساتوں آسمان اور زمین اور جو چیز ان میں موجود ہے اور ( اس کائنات میں) کوئی بھی چیز ایسی نہیں مگر وہ اس کی پاکی بیان کرتی ہے اس کی حمد کرتے ہوئے لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے بےشک وہ بہت بردبار، بہت بخشنے والا ہے
اور (اے محبوب!) جب آپ پڑھتے ہیں قرآن کو تو ہم (حائل ) کر دیتے ہیں آپ کے درمیان اور ان کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک پوشیدہ پردہ جو آنکھوں سے نہاں ہوتا ہے
اور ہم ڈال دیتے ہیں ان کے دلوں پر پردہ تاکہ وہ اسے سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں گرانی (پیدا کر دیتے ہیں) اور جب آپ ذکر کرتے ہیں صرف اپنے رب کا قرآن میں تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ہیں نفرت کرتے ہوئے
ہم خوب جانتے ہیں جس غرض کے لیے یہ سنتے ہیں اسے جب یہ کان لگاتے ہیں آپ کی طرف اور (ہم خوب جانتے ہیں) جب یہ سر گوشیاں کرتے ہیں، اس وقت یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم نہیں پیروی کر رہے مگر ایک ایسے آدمی کی جس پر جادو کر دیا گیا ہے
یا کوئی ایسی مخلوق بن جاؤ جس کا از سر نو پیدا کرنا تمھارے خیال میں بہت مشکل ہے وہ کہیں گے ہمیں دوبارہ کون (زندہ کر کے ) لوٹائے گا؟ فرمائیے وہی جس نے پیدا فرمایا تمھیں پہلی مرتبہ پس وہ حیرت سے آپ کی طرف (دیکھ کر) سروں کو جنبش دیں گے اور پوچھیں گے ایسا کب ہو گا؟ آپ بتائیے شاید اس کا وقت قریب ہی ہو
اور آپ حکم دیجیے میرے بندوں کو کہ وہ ایسی باتیں کیا کریں جو بہت عمدہ ہوں بیشک شیطان فتنہ و فساد برپا کرنا چاہتا ہے ان کے درمیان یقیناً شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے
تمھارا رب تمھیں خوب جانتا ہے اگر چاہے تو تم پر رحم (و کرم) فرما دے اور اگر چاہے تو تمھیں سزا دے اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار بنا کر (تا کہ ان کے کفر کے لیے آپ جوابدہ ہوں)
(انھیں) کہیے اب بلاؤ ان کو جنھیں تم گمان کیا کرتے تھے (کہ یہ خدا ہیں) اللہ تعالیٰ کے سوا وہ تو قدرت نہیں رکھتے کہ تکلیف دور کر سکیں تم سے اور نہ ہی وہ (اسے ) بدل سکتے ہیں
اور وہ لوگ جنھیں یہ مشرک پکارا کرتے ہیں وہ خود ڈھونڈتے ہیں اپنے رب کی طرف وسیلہ کہ کونسا بندہ (اللہ سے ) زیادہ قریب ہے اور امید رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی اور ڈرتے رہتے ہیں اس کے عذاب سے بیشک آپ کے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے
اور نہیں روکا ہمیں اس امر سے کہ ہم بھیجیں (کفار کی تجویز کردہ) نشانیاں مگر اس بات نے کہ جھٹلایا تھاان نشانیوں کو پہلوں نے (اور وہ فوراً تباہ کر دیے گئے تھے) اور ہم نے دی تھی قوم ثمود کو اونٹنی جو روشن نشانی تھی پس انھوں نے زیادتی کی اس پر اور ہم نہیں بھیجتے ایسی نشانیاں مگر لوگوں کو (عذاب سے) خوفزدہ کرنے کے لیے
اور یاد کرو جب ہم نے کہا تھا آپ کو کہ بیشک آپ کے پروردگارنے گھیرے میں لے لیا ہے لوگوں کو اور نہیں بنایا ہم نے اس نظارہ کو جو ہم نے دکھایا تھا آپ کو مگر آزمائش لوگوں کے لیے نیز (آزمائش بنایا) اس درخت کو جس پر لعنت بھیجی گئی ہے قرآن میں اور ہم انھیں (نافرمانی کے انجام سے ) ڈراتے رہتے ہیں پس نہ بڑھایا اس ڈرانے نے انھیں مگر یہ کہ وہ زیادہ سر کشی کرنے لگے
اور یاد کرو جب ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم ( علیہ السلام) کو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے اس نے کہا کیا میں سجدہ کروں اس (آدم ) کو جس کو تو نے کیچڑ سے پیدا کیا ہے
اس نے کہا مجھے بتا یہ (آدم) جس کو تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے (اس کی وجہ کیا ہے؟) اگر تم مجھے مہلت دے روز قیامت تک تو جڑ سے اکھیڑ پھینکوں گا اس کی اولاد کو سوائے چند افراد کے
اور گمراہ کرنے کی کوشش کر جن کو تو گمراہ کر سکتا ہے ان میں سے اپنی آواز (کی فسوں کاری) سے دھاوا بول دے ان پر اپنے گھوڑ سواروں اور پیادہ دوستوں کے ساتھ اور شریک ہو جا ان کے مالوں میں اور اولاد میں اور ان سے (جھوٹے) وعدے کرتا رہ ۔ اور وعدہ نہیں کرتا ان سے شیطان گمر مکر و فریب کا
اور جب پہنچتی ہے تمھیں تکلیف سمندر میں تو گُم ہو جاتے ہیں وہ (معبود) جن کو تم پکارا کرتے ہو سوائے اللہ تعالیٰ کے پس جب وہ خیر و عافیت سے تمھیں ساحل پر پہنچا دیتا ہے (تو ) تم رو گردانی کرنے لگتے ہو اور انسان ( واقعی) بڑا نا شکرا ہے
کیا تم بیخوف ہو گئے ہو اس سے کہ اللہ تعالیٰ دھنسا دے تمھارے ساتھ خشکی کے کنارے کو یا بھیج دے تم پر اولے برسانے والابا دل پھر اس وقت تم نہیں پاؤ گے اپنے لیے کوئی کارساز
کیا تم اس سے بیخوف ہو گئے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمھیں لے جائے سمندر میں دوسری مرتبہ اور بھیجے تم پر سخت آندھی جو کشتیوں کو توڑنے والی ہو پھر غرق کر دے تمھیں بوجہ کفر کے جو تم نے کیا پھر تم نہیں پاؤ گے اپنے لیے ہم سے اس ڈبونے پر کوئی انتقام لینے والا
اور بیشک ہم بڑی عزت بخشی اولاد آدم کو اور ہم نے سوار کیا انھیں ( مختلف سواریوں پر) خشکی میں اور سمندر میں اور رزق دیا انھیں پاکیزہ چیزوں سے اور ہم نے فضیلت دی انھیں بہت سی چیزوں پر جن کو ہم نے پیدا فرمایا نمایاں فضیلت
وہ دن جب ہم بلائیں گے تمام انسانوں کو ان کے پیشوا کے ساتھ پس وہ شخص جس کو دیا گیا اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں تو یہ لوگ (خوشی خوشی) پڑھیں گے اپنا نامہ اعمال اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا
اور انھوں نے پختہ ارادہ کیا کہ وہ آپ کو بر گشتہ کر دیں اس (کتاب) سے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے تاکہ آپ بہتان باندھ کر (منسوب کریں) ہماری طرف اسکے علاوہ تو اس صورت میں وہ آپکو اپنا گہرا دوست بنا لیں گے
اور انھوں نے ارادہ کر لیا کہ پریشانیاں و مضطرب کر دیں آپ کو اس علاقے سے تاکہ نکال دیں آپ کو یہاں سے اور (اگر انھوں نے یہ حماقت کی) تب وہ نہیں ٹھیرینگے (یہاں ) آپ کے بعد مگر تھوڑا عرصہ
اور رات کے بعض حصہ میں (اُٹھو) اور نما زتہجد ادا کرو (تلاوت و قرآن کیساتھ) (یہ نماز) زائد ہے آپ کے لیے یقیناً فائز فرمائے گا آپ کو آپ کا رب مقام محمود پر
اور دعا مانگا کیجیے کہ اے میرے رب! جہاں کہیں تو مجھے لے جائے سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں کہیں سے مجھے لے آئے سچائی کے ساتھ لے آ اور عطا فرما مجھے اپنی جناب سے وہ قوت جو مدد کرنے والی ہو
اور جب ہم کوئی انعام فرماتے ہیں انسان پر تو وہ (بجائے شکر کے ) منہ پھیر لیتا ہے اور پہلو تہی کرنے لگتا ہے اور جب پہنچتی ہے اسے کوئی تکلیف تو وہ مایوس ہو جاتا ہے
(بطور چیلنج ) کہہ دو کہ اگر اکٹھے ہو جائیں سارے انسان اور سارے جِنّ اس بات پر کہ لے آئیں اس قرآن کی مثل تو ہر گز نہیں لا سکیں گے اس کی مثل اگر وہ ہو جائیں ایک دوسرے کے مددگار
اور بلاشبہ ہم نے طرح طرح سے (بار بار) بیان کی ہیں لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں (تا کہ وہ ہدایت پائیں) پس انکار کر دیا اکثر لوگوں نے سوائے اسکے کہ وہ نا شکری کریں
یا (تعمیر) ہو جائے آپ کے لیے ایک گھر سونے کا یا آ پ آسما ن پر چڑھ جائیں بلکہ ہم تو اس پر بھی ایمان نہ لائیں گے کہ آپ آسمان پر چڑھیں یہاں تک کہ آپ اتار لائیں ہم پر ایک کتاب جسے ہم پڑھیں آپ (ان سب خرافات کے جواب میں اتنا) فرما دیں میرا رب (ہر عیب سے ) پاک ہے میں کون ہوں مگر آدمی (اللہ کا) بھیجا ہوا
اور نہیں روکا لوگوں کو ایمان لانے سے جب آئی ان کے پاس ہدایت مگر اس چیز نے کہ انھوں نے کہا کہ کیا بھیجا ہے اللہ تعالیٰ نے ایک انسان کو رسول بنا کر ! ایسا نہیں ہو سکتا
فرمائیے اگر ہوتے زمین میں (انسانوں کی بجائے) فرشتے جو اس پر چلتے (اور اسمیں) سکونت اختیار کرتے تو ہم (انکی ہدایت کے لیے ) ان پر اتارتے آسمان سے کوئی فرشتہ رسول بنا کر
اور جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے وہی ہدایت والا ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے تو آپ نہیں پائیں گے ان (گمراہوں ) کے لیے کوئی مدد گار اس کے سوا اور ہم اٹھائیں گے قیامت کے روزمنہ کے بل اس حال میں کہ وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہونگے ان کا ٹھکانا جہنم ہے جب بھی سرد ہونے لگے گی (جہنم کی آگ) تو ہم ان کے لیے اس کی آنچ کو بڑھا دینگے
یہ سزا ہے ان کی کیونکہ انھوں نے انکار کیا ہماری آیتوں کا اور انھوں نے کہا کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ہم اٹھائیں جائیں گے از سرِ نو پیدا کر کے
کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ جس نے پیدا فرمایا ہے آسمانوں اور زمین کو وہ اس پر بھی قادر ہے کہ پیدا فرمادے ان کی مثل اور اس نے مقرر فرما دی ہے ان کے لیے ایک میعاد جس میں ذرا شک نہیں پس انکار کر دیا ظالموں نے (اللہ تعالیٰ کی قدرت کا) سوائے اسکے کہ وہ نا شکری کریں
فرمائیے اگر تم مالک ہوتے میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے تو اس وقت تم ضرور ہاتھ روک لیتے اس خوف سے کہ کہیں (سارے خزانے) ختم ہی نہ ہو جائیں واقعی انسان بڑا تنگدل ہے
اور ہم نے عطا فرمائی تھیں موسیٰ (علیہ السلام) کو نو روشن نشانیاں آپ خود پوچھ لیں بنی اسرائیل سے جب موسیٰ ( علیہ السلام) آئے تھے انکے پاس پس فرعون نے آپ کو کہا اے موسی! میں تمھارے متعلق خیال کرتا ہوں کہ تم پر جادو کر دیا گیا ہے
کلیم نے جواباً فرمایا (اے فرعون!) تو خوب جانتا ہے کہ نہیں اتارا ان نشانیوں کو مگر آسمانوں اور زمین کے رب نے یہ بصیرت افروز ہیں اور اے فرعون! میں تیرے متعلق یہ خیال کرتا ہوں کہ تو ہلاک کر دیا جائیگا
اور حق کے ساتھ ہی ہم نے اسے اتارا ہے اور حق کے ساتھ ہی وہ اترا ہے اور نہیں بھیجا ہے نے آپ کو مگر (رحمت الہٰی کا ) مژدہ سنانے والا اور ( عذاب الہٰی سے ) ڈرانیوالا
آپ (کفارکو) کہیے خواہ تم ایمان لاؤ اس پر یا نہ ایمان لاؤ بیشک وہ لوگ جنھیں دیا گیا ہے علم اس سے پہلے جب اسے پڑھا جاتا ہے ان کے سامنے تو وہ گِر پڑتے ہیں ٹھوریوں کے بَل سجدہ کرتے ہوئے
آپ فرمائیے یا اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر پکارو جس نام سے اسے پکارو اس کے سارے نام (ہی) اچھے ہیں اور نہ تو بلند آواز سے نماز پڑھو اور نہ بالکل آہستہ پڑھو اسے اور تلاش کرو ان دونوں کے درمیان (معتدل) راستہ
اور آپ فرمائیے سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے نہیں بنایا (کسی کو اپنا) بیٹا اور نہیں ہے جس کا کوئی شریک حکومت اور فرمانروائی میں اور نہیں ہے اس کا کوئی مددگاردرماندگی میں اور اس کی بڑائی بیان کرو کمال درجہ کی بڑائی