Back to Languages

Urdu - Chapter 17 - Al-Isra

Translation by Muhammad Karam Shah Al Azhari — Permalink

Verse 1 — Surah Al-Isra 17:1

(ہر عیب سے) پاک ہے وہ ذات جس نے سیر کرائی اپنے بندے کو رات کے قلیل حصہ میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک با برکت بنا دیا ہے ہم نے جس کے گرد و نواح کو تاکہ ہم دکھائیں اپنے بندے کو اپنی قدرت کی نشانیاں بیشک وہی ہے سب کچھ سننے والا سب کچھ دیکھنے والا

Verse 2 — Surah Al-Isra 17:2

اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا ہم نے اس کتاب کو باعث ہدایت بنی اسرائیل کے لیے (اسمیں انہیں حکم دیا) کہ نہ بنانا میرے بغیر کسی کو (اپنا) کارساز

Verse 3 — Surah Al-Isra 17:3

اے ان لوگوں کی اولاد جنھیں ہم نے (کشتی میں) سوار کرایا نوح ( علیہ السلام) کیساتھ۔ بیشک نوح ( علیہ السلام) ایک شکر گزار بندہ تھا

Verse 4 — Surah Al-Isra 17:4

اور ہم نے آگاہ کر دیا تھا بنی اسرائیل کو کتاب میں کہ تم ضرور فساد برپا کرو گے زمین میں دو مرتبہ اور تم (احکام الہی سے) بڑی سر کشی کرو گے

Verse 5 — Surah Al-Isra 17:5

پس جب آگیا پہلا وعدہ ان دونوں دعدوں سے تو ہم نے (تمھاری سر کو بی کے لیے) بھیج دئیے اپنے چند بندے جو بڑے کرخت (اور) سخت تھے پس وہ گھس گئے (تمھاری ) آبادیوں میں اور جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا تھا وہ پورا ہو کر رہنا تھا

Verse 6 — Surah Al-Isra 17:6

پھر ہم نے پلٹا دیا تمھارے حق میں زمانہ کی گردش کو جو دشمن کے خلاف تھی اور ہم نے قوت دی تھمیں مال سے ، بیٹوں سے اور بنا دیا تھا تمھیں کثیر التعداد

Verse 7 — Surah Al-Isra 17:7

اگر تم اچھے کام کرو گے تو ان کا فائدہ تمھیں ہی پہنچے گا اور اگر تم برائی کرو گے تو اس کی سزا بھی (تمھارے) نفسوں کو ملے گی پس جب آگیا دوسرا وعدہ (تو اور ظالم ان پر غالب آگئے) تاکہ غمناک بنا دیں تمھارے چہروں کو اور تاکہ (جبراً) داخل ہو جائیں مسجد میں جیسے داخل ہوئے تھے اس میں پہلی مرتبہ تاکہ فنا و برباد کر کے رکھ دیں جس پر قابو پائیں

Verse 8 — Surah Al-Isra 17:8

قریب ہے کہ تمھارا رب تم پر رحم فرمائے گا اور اگر تم فسق و فجور کی طرف دوبارہ لوٹے تو ہم بھی لوٹائینگے اور ہم نے بنا دیا جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ

Verse 9 — Surah Al-Isra 17:9

بلاشبہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو سب راہوں سے سیدھی راہ ہے اور مژدہ سناتا ہے ان ایمان والوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں کہ بلاشبہ ان کے لیے بڑا اجر ہے

Verse 10 — Surah Al-Isra 17:10

اور بیشک وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے تیار کر دیا ہے ان کے لیے دردناک عذاب

Verse 11 — Surah Al-Isra 17:11

اور دعا مانگا کرتا ہے انسان برائی کے لیے جیسے دعا مانگا کرتا ہے بھلائی کے لیے اور (حقیقت یہ ہے کہ) انسان بڑا جلد باز (واقع ہوا) ہے

Verse 12 — Surah Al-Isra 17:12

اور ہم نے بنایا ہے رات اور دن کو (اپنی قدرت کی) دو نشانیاں اور ہم نے مدھم کر دیا رات کی نشانی کو اور بنا دیا دن کی نشانی کو روشن تاکہ (دن کے اجالے میں) تم تلاش کرو رزق اپنے رب سے اور تاکہ تم جان لو سالوں کی تعداد اور حساب کو اور ہر چیز کو ہم نے بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے

Verse 13 — Surah Al-Isra 17:13

اور ہر انسان کی (قسمت کا) نوشتہ اس کے گلے میں ہم نے لٹکا رکھا ہے اور ہم نکالیں گے اس کے لیے روز قیامت ایک کتاب جسے وہ (اپنے سامنے) کھلا ہوا پائے گا

Verse 14 — Surah Al-Isra 17:14

(اسے حکم ملیگا) پڑھو اپنا دفتر عمل تم خود ہی کافی ہو آج اپنی باز پرس کرنے کے لیے

Verse 15 — Surah Al-Isra 17:15

جو راہ ہدایت پر چلتا ہے تو وہ راہ ہدایت پر چلتا ہے اپنے فائدے کے لیے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کی گمراہی کا وبا ل اسی پر ہے اور نہیں اٹھائیگا کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ اور ہم عذاب نازل نہیں کرتے جب تک ہم نہ بھیجیں کسی رسول کو

Verse 16 — Surah Al-Isra 17:16

اور جب ہم ارادہ کرتے ہیں کہ ہلاک کر دیں کسی بستی کو (اسکے گناہوں کے باعث) تو (پہلے) ہم (نبیوں کے ذریعہ) وہاں کے رئیسوں کو (نیکی کا) حکم دیتے ہیں مگر وہ (الٹا) نافانی کرنے لگتے ہیں اس میں ۔ پس واجب ہو جاتا ہے ان پر (عذاب کا ) فرمان پھر ہم اس بستی کو جڑ سے اکھیڑ کر رکھ دیتے ہیں

Verse 17 — Surah Al-Isra 17:17

اور کتنی قومیں ہیں جنھیں ہم نے ہلاک کر دیا ہے نوح ( علیہ السلام) کے بعد اور آپکا پروردگا ر اپنے بندوں کے گناہوں سے اچھی طرح با خبر ہے (اور انھیں) خوب دیکھنے والا ہے

Verse 18 — Surah Al-Isra 17:18

جو لوگ طلبگار ہیں صرف دنیا کے ہم جلدی دیدیتے ہیں اس دنیا میں جتنا چاہتے ہیں (انمیں سے ) جسے چاہتے ہیں پھر ہم مقرر کر دیتے ہیں اس کے لیے جہنّم تاپے گا وہ اسے اس حال میں کہ مذمت کیا ہوا (اور ) ٹھکرایا ہوا ہوگا

Verse 19 — Surah Al-Isra 17:19

اور جو شخص طلبگار ہو تا ہے آخرت کا اور جدو جہد کرتا ہے اس کے لیے پوری طرح درآنحالیکہ وہ مومن بھی ہو پس یہ وہ ( خوش نصیب ہیں) جن کی کوشش مقبول ہو گی

Verse 20 — Surah Al-Isra 17:20

ہر ایک کی ہم امداد کرتے ہیں ان کی بھی جو (طالب دنیا ہیں) اور ان کی بھی (جو طالب آخرت ہیں) آپ کے رب کی بخششوں سے اور آپ کے رب کی بخشش کسی پر بند نہیں

Verse 21 — Surah Al-Isra 17:21

دیکھو! کیسے بزرگی دی ہے ہم نے بعض کو بعض پر اور اخرت باعتبار درجوں کے سب سے بڑی اور با عتبار فضل و کرم سے سب سے اعلیٰ ہے

Verse 22 — Surah Al-Isra 17:22

نہ ٹھیراؤ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ورنہ تم بیٹھ رہو گے اس حال میں کہ تمھاری مذمت کی جائیگی

Verse 23 — Surah Al-Isra 17:23

اور بےیارو مددگار ہو جاؤ گے اور حکم فرمایا آپ کے رب نے کہ نہ عبادت کرو بجز اس کے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر بڑھاپے کو پہنچ جائے تیری زندگی میں ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں تو انہیں اف تک مت کہو اور انھیں مت جھڑکو اور جب ان سے بات کرو تو بڑی تعظیم سے بات کرو

Verse 24 — Surah Al-Isra 17:24

اور جھکا دو ان کے لیے تواضع و انکسار کے پَر رحمت (و محبت) سے اور عرض کرو اے میرے پروردگار ان دونوں پر رحم فرما جس طرح انھوں نے ( بڑی محبت و پیار سے ) مجھے پالا تھا جب میں بچہ تھا

Verse 25 — Surah Al-Isra 17:25

تمھارا رب بہتر جانتا ہے جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے اگر تم نیک کردار ہو گے تو بیشک اللہ تعالیٰ بکثرت توبہ کرنے والوں کے لیے بہت بخشنے والا ہے

Verse 26 — Surah Al-Isra 17:26

اور دیا کرو رشتہ دار کو اس کا حق اور مسکین اور مسافر کو بھی اور فضول خرچی نہ کیا کرو

Verse 27 — Surah Al-Isra 17:27

بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکر گزار ہے

Verse 28 — Surah Al-Isra 17:28

اور اگر (بوجہ تنگدستی) تجھے ان سے منہ پھیرنا پڑے اور تم اپنے رب کی رحمت (یعنی خوشحالی ) کے متلاشی ہو جس کی تمھیں توقع ہے تو (اس اثناء میں) ان سے بات کرو تو بڑی نرمی سے کرو

Verse 29 — Surah Al-Isra 17:29

اور نہ بنا لو اپنے ہاتھ کو بندھا ہوا اپنی گردن کے ارد گرد اور نہ ہی اسے بالکل کشادہ کرو ورنہ تم بیٹھ جاؤ گے ملامت کیے ہوئے درماندہ

Verse 30 — Surah Al-Isra 17:30

بیشک آپ کا رب کشادہ کرتا ہے روزی جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے (جس کے لیے چاہتا ہے) یقیناً وہ اپنے بندوں (کے حالات) سے خوب آگاہ ہے اور ( انھیں) دیکھنے والا ہے

Verse 31 — Surah Al-Isra 17:31

اور نہ قتل کرو اپنی اولاد کو مفلسی کے اندیشہ سے ہم ہی رزق دیتے ہیں انھیں بھی اور تمھیں بھی۔ بلاشبہ اولاد کو قتل کرنا بہت بڑی غلطی ہے

Verse 32 — Surah Al-Isra 17:32

اور بد کاری کے قریب بھی مت جاؤبے شک یہ بڑی بےحیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے

Verse 33 — Surah Al-Isra 17:33

اور نہ قتل کر و اس نفس کو جس کو قتل کر نا اللہ تعالیٰ نے حرام کر دیا ہے مگر حق کے ساتھ اور جو قتل کیا جائے نا حق تو ہم نے مقتول کے وارث کو (قصاص کے مطالبہ کا ) حق دیدیا ہے پس اسے چاہیے کہ قتل میں اسراف نہ کرے۔ ضرور اس کی مدد کی جائے گی

Verse 34 — Surah Al-Isra 17:34

اور نہ قریب جاؤ یتیم کے مال کے مگر ایسے طریقے سے جو (اس یتیم کے لیے) بہترہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے اور پورا کیا کرو اپنے عہد کو بیشک ان وعدوں کے بارے میں ( تم سے) پوچھا جائے گا

Verse 35 — Surah Al-Isra 17:35

اور پورا پورا ماپو جب تم کسی چیز کو ماپنے لگو اور تولو تو ایسے ترازو سے تولو جو بالکل درست ہو۔ یہی طریقہ بہتر ہے اور اس کا انجام بھی بہت اچھا ہے

Verse 36 — Surah Al-Isra 17:36

اور نہ پیروی کرو اس چیز کی جس کا تمھیں علم نہیں بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب کے متعلق (تم سے) پوچھا جائے گا

Verse 37 — Surah Al-Isra 17:37

اور نہ چلو زمین میں اکڑتے ہوئے (اس طرح) نہ تم چیر سکتے ہو زمین کو اور نہ پہنچ سکتے ہو پہاڑوں کے برابر بلندی میں

Verse 38 — Surah Al-Isra 17:38

یہ سب (جن کا ذکر گزرا) ان میں سے ہر بری بات اللہ تعالیٰ کو (سخت) ناپسند ہے

Verse 39 — Surah Al-Isra 17:39

یہ ہدایات جنھیں بذریعہ وحی آپ کی طرف آپ کے رب نے بھیجا ہے دانائی کی باتوں میں سے ہیں اور (اے سننے والے!) نہ بناؤ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ورنہ تجھے پھینک دیے جائے گا جہنم میں اس حال میں کہ تمھیں ملامت کی جائیگی

Verse 40 — Surah Al-Isra 17:40

اور دھکے دیے جائیں گے۔ پس کیا چن لیا ہے تمھیں تمھارے رب نے بیٹوں کے لیے اور (اپنے لیے) بنا لیا ہے فرشتوں کو بیٹیاں (صد افسوس) تم ایسی بات کہہ رہے ہو جو بہت سخت ہے

Verse 41 — Surah Al-Isra 17:41

اور بلا شبہ ہم نے مختلف انداز سے بار بار بیان کیا ہے (دلائل توحید کو) اس قرآن میں تاکہ وہ نصیحت قبول کریں (بایہنمہ) سوائے نفرت کے ان میں کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا

Verse 42 — Surah Al-Isra 17:42

آپ فرمائیے اگر ہوتے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور خدا جس طرح یہ کافر کہتے ہیں تو ان خداؤں نے (ملکر) تلاش کر لی ہوتی عرش کے مالک (پر غالب آنے کی) کوئی راہ

Verse 43 — Surah Al-Isra 17:43

وہ پاک ہے اور وہ بہت برتر و بالا ہے ان باتوں سے جو وہ لوگ کیا کرتے ہیں

Verse 44 — Surah Al-Isra 17:44

پاکی بیان کرتے ہیں اسی کی ساتوں آسمان اور زمین اور جو چیز ان میں موجود ہے اور ( اس کائنات میں) کوئی بھی چیز ایسی نہیں مگر وہ اس کی پاکی بیان کرتی ہے اس کی حمد کرتے ہوئے لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے بےشک وہ بہت بردبار، بہت بخشنے والا ہے

Verse 45 — Surah Al-Isra 17:45

اور (اے محبوب!) جب آپ پڑھتے ہیں قرآن کو تو ہم (حائل ) کر دیتے ہیں آپ کے درمیان اور ان کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک پوشیدہ پردہ جو آنکھوں سے نہاں ہوتا ہے

Verse 46 — Surah Al-Isra 17:46

اور ہم ڈال دیتے ہیں ان کے دلوں پر پردہ تاکہ وہ اسے سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں گرانی (پیدا کر دیتے ہیں) اور جب آپ ذکر کرتے ہیں صرف اپنے رب کا قرآن میں تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ہیں نفرت کرتے ہوئے

Verse 47 — Surah Al-Isra 17:47

ہم خوب جانتے ہیں جس غرض کے لیے یہ سنتے ہیں اسے جب یہ کان لگاتے ہیں آپ کی طرف اور (ہم خوب جانتے ہیں) جب یہ سر گوشیاں کرتے ہیں، اس وقت یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم نہیں پیروی کر رہے مگر ایک ایسے آدمی کی جس پر جادو کر دیا گیا ہے

Verse 48 — Surah Al-Isra 17:48

دیکھیے (یہ گستاخ) کس طرح آپ کے لیے مثالیں بیان کرتے ہیں پس (اس گستاخی کے باعث) وہ گمراہ ہو گئے اب وہ سیدھے راستے پر چل نہیں سکتے

Verse 49 — Surah Al-Isra 17:49

اور انھوں نے (ازراہ انکار) کہا کہ جب ہم (مر کر) ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ہمیں اٹھایا جائے گا از سر نو پیدا کر کے

Verse 50 — Surah Al-Isra 17:50

فرمائیے ( یقیناً ایسا ہی ہو گا) خواہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا بن جاؤ

Verse 51 — Surah Al-Isra 17:51

یا کوئی ایسی مخلوق بن جاؤ جس کا از سر نو پیدا کرنا تمھارے خیال میں بہت مشکل ہے وہ کہیں گے ہمیں دوبارہ کون (زندہ کر کے ) لوٹائے گا؟ فرمائیے وہی جس نے پیدا فرمایا تمھیں پہلی مرتبہ پس وہ حیرت سے آپ کی طرف (دیکھ کر) سروں کو جنبش دیں گے اور پوچھیں گے ایسا کب ہو گا؟ آپ بتائیے شاید اس کا وقت قریب ہی ہو

Verse 52 — Surah Al-Isra 17:52

اس دن کو یاد کرو جب تمھیں اللہ تعالیٰ بلائیگا سو تم اس کی حمد کرتے ہوئے جواب دو گے اور یہ گمان کر رہے ہوگے کہ تم نہیں ٹھیرے (دنیا میں) مگر تھوڑا عرصہ

Verse 53 — Surah Al-Isra 17:53

اور آپ حکم دیجیے میرے بندوں کو کہ وہ ایسی باتیں کیا کریں جو بہت عمدہ ہوں بیشک شیطان فتنہ و فساد برپا کرنا چاہتا ہے ان کے درمیان یقیناً شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے

Verse 54 — Surah Al-Isra 17:54

تمھارا رب تمھیں خوب جانتا ہے اگر چاہے تو تم پر رحم (و کرم) فرما دے اور اگر چاہے تو تمھیں سزا دے اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار بنا کر (تا کہ ان کے کفر کے لیے آپ جوابدہ ہوں)

Verse 55 — Surah Al-Isra 17:55

اور آپ کا رب خوب جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور بیشک ہم نے بزرگی دی ہے بعض انبیاء کو بعض پر اور ہم نے عطا فرمائی ہے داؤد کو زبور

Verse 56 — Surah Al-Isra 17:56

(انھیں) کہیے اب بلاؤ ان کو جنھیں تم گمان کیا کرتے تھے (کہ یہ خدا ہیں) اللہ تعالیٰ کے سوا وہ تو قدرت نہیں رکھتے کہ تکلیف دور کر سکیں تم سے اور نہ ہی وہ (اسے ) بدل سکتے ہیں

Verse 57 — Surah Al-Isra 17:57

اور وہ لوگ جنھیں یہ مشرک پکارا کرتے ہیں وہ خود ڈھونڈتے ہیں اپنے رب کی طرف وسیلہ کہ کونسا بندہ (اللہ سے ) زیادہ قریب ہے اور امید رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی اور ڈرتے رہتے ہیں اس کے عذاب سے بیشک آپ کے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے

Verse 58 — Surah Al-Isra 17:58

اور کوئی ایسی بستی نہیں ہے مگر ہم اسے بربادکر دیں گے روز قیامت سے پہلے یا اسے سخت عذاب دیں گے یہ فیصلہ (کتاب) تقدیر میں لکھا ہو ا ہے

Verse 59 — Surah Al-Isra 17:59

اور نہیں روکا ہمیں اس امر سے کہ ہم بھیجیں (کفار کی تجویز کردہ) نشانیاں مگر اس بات نے کہ جھٹلایا تھاان نشانیوں کو پہلوں نے (اور وہ فوراً تباہ کر دیے گئے تھے) اور ہم نے دی تھی قوم ثمود کو اونٹنی جو روشن نشانی تھی پس انھوں نے زیادتی کی اس پر اور ہم نہیں بھیجتے ایسی نشانیاں مگر لوگوں کو (عذاب سے) خوفزدہ کرنے کے لیے

Verse 60 — Surah Al-Isra 17:60

اور یاد کرو جب ہم نے کہا تھا آپ کو کہ بیشک آپ کے پروردگارنے گھیرے میں لے لیا ہے لوگوں کو اور نہیں بنایا ہم نے اس نظارہ کو جو ہم نے دکھایا تھا آپ کو مگر آزمائش لوگوں کے لیے نیز (آزمائش بنایا) اس درخت کو جس پر لعنت بھیجی گئی ہے قرآن میں اور ہم انھیں (نافرمانی کے انجام سے ) ڈراتے رہتے ہیں پس نہ بڑھایا اس ڈرانے نے انھیں مگر یہ کہ وہ زیادہ سر کشی کرنے لگے

Verse 61 — Surah Al-Isra 17:61

اور یاد کرو جب ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم ( علیہ السلام) کو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے اس نے کہا کیا میں سجدہ کروں اس (آدم ) کو جس کو تو نے کیچڑ سے پیدا کیا ہے

Verse 62 — Surah Al-Isra 17:62

اس نے کہا مجھے بتا یہ (آدم) جس کو تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے (اس کی وجہ کیا ہے؟) اگر تم مجھے مہلت دے روز قیامت تک تو جڑ سے اکھیڑ پھینکوں گا اس کی اولاد کو سوائے چند افراد کے

Verse 63 — Surah Al-Isra 17:63

اللہ تعالیٰ نے فرمایا جا چلا جا (جو مرضی ہو کر) سو جو تیری پیروی کریگا ان سے تو بیشک جہنم ہی تم سب کی پوری پوری سزا ہے

Verse 64 — Surah Al-Isra 17:64

اور گمراہ کرنے کی کوشش کر جن کو تو گمراہ کر سکتا ہے ان میں سے اپنی آواز (کی فسوں کاری) سے دھاوا بول دے ان پر اپنے گھوڑ سواروں اور پیادہ دوستوں کے ساتھ اور شریک ہو جا ان کے مالوں میں اور اولاد میں اور ان سے (جھوٹے) وعدے کرتا رہ ۔ اور وعدہ نہیں کرتا ان سے شیطان گمر مکر و فریب کا

Verse 65 — Surah Al-Isra 17:65

جو میرے بندے ہیں ان پر تیر ا غلبہ نہیں ہو سکتا اور (اے محبوب!) کافی ہے تیر ا رب اپنے بندوں کی کارسازی کے لیے

Verse 66 — Surah Al-Isra 17:66

تمھار ارب وہ ہے جو چلاتا ہے تمھارے لیے کشتیوں کو سمندر میں تاکہ تم تلاش کرو (بحری سفر کے ذریعہ) اس کا فضل بیشک وہ تمھارے ساتھ ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے

Verse 67 — Surah Al-Isra 17:67

اور جب پہنچتی ہے تمھیں تکلیف سمندر میں تو گُم ہو جاتے ہیں وہ (معبود) جن کو تم پکارا کرتے ہو سوائے اللہ تعالیٰ کے پس جب وہ خیر و عافیت سے تمھیں ساحل پر پہنچا دیتا ہے (تو ) تم رو گردانی کرنے لگتے ہو اور انسان ( واقعی) بڑا نا شکرا ہے

Verse 68 — Surah Al-Isra 17:68

کیا تم بیخوف ہو گئے ہو اس سے کہ اللہ تعالیٰ دھنسا دے تمھارے ساتھ خشکی کے کنارے کو یا بھیج دے تم پر اولے برسانے والابا دل پھر اس وقت تم نہیں پاؤ گے اپنے لیے کوئی کارساز

Verse 69 — Surah Al-Isra 17:69

کیا تم اس سے بیخوف ہو گئے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمھیں لے جائے سمندر میں دوسری مرتبہ اور بھیجے تم پر سخت آندھی جو کشتیوں کو توڑنے والی ہو پھر غرق کر دے تمھیں بوجہ کفر کے جو تم نے کیا پھر تم نہیں پاؤ گے اپنے لیے ہم سے اس ڈبونے پر کوئی انتقام لینے والا

Verse 70 — Surah Al-Isra 17:70

اور بیشک ہم بڑی عزت بخشی اولاد آدم کو اور ہم نے سوار کیا انھیں ( مختلف سواریوں پر) خشکی میں اور سمندر میں اور رزق دیا انھیں پاکیزہ چیزوں سے اور ہم نے فضیلت دی انھیں بہت سی چیزوں پر جن کو ہم نے پیدا فرمایا نمایاں فضیلت

Verse 71 — Surah Al-Isra 17:71

وہ دن جب ہم بلائیں گے تمام انسانوں کو ان کے پیشوا کے ساتھ پس وہ شخص جس کو دیا گیا اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں تو یہ لوگ (خوشی خوشی) پڑھیں گے اپنا نامہ اعمال اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا

Verse 72 — Surah Al-Isra 17:72

اور جو شخص بنا رہا اس دنیا میں اندھا وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا اور بڑا گُم کردہ راہ ہو گا

Verse 73 — Surah Al-Isra 17:73

اور انھوں نے پختہ ارادہ کیا کہ وہ آپ کو بر گشتہ کر دیں اس (کتاب) سے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے تاکہ آپ بہتان باندھ کر (منسوب کریں) ہماری طرف اسکے علاوہ تو اس صورت میں وہ آپکو اپنا گہرا دوست بنا لیں گے

Verse 74 — Surah Al-Isra 17:74

اور اگر ہم نے آپکو ثابت قدم نہ رکھا ہوتا تو آپ ضرور مائل ہو جاتے ان کی طرف کچھ نہ کچھ

Verse 75 — Surah Al-Isra 17:75

(بفرض محال اگر آپ ایسا کرتے ) تو اس وقت ہم آپکو دوگنا عذاب دنیا میں اور دوگنا عذاب موت کے بعد پھر آپ نہ پاتے اپنے لیے ہمارے مقابلہ میں کوئی مددگار

Verse 76 — Surah Al-Isra 17:76

اور انھوں نے ارادہ کر لیا کہ پریشانیاں و مضطرب کر دیں آپ کو اس علاقے سے تاکہ نکال دیں آپ کو یہاں سے اور (اگر انھوں نے یہ حماقت کی) تب وہ نہیں ٹھیرینگے (یہاں ) آپ کے بعد مگر تھوڑا عرصہ

Verse 77 — Surah Al-Isra 17:77

(یہی ہمارا) دستور ہے ان کے بارے میں جنھیں ہم نے بھیجا آپ سے پہلے رسول بنا کر اور آپ نہیں پائیں گے ہمارے اس دستور میں کوئی ردو بدل

Verse 78 — Surah Al-Isra 17:78

نماز ادا کیا کریں سورج ڈھلنے کے بعد رات کے تاریک ہونے تک (نیز ادا کیجیے) نماز صبح بلاشبہ نماز صبح کا مشاہدہ کیا جاتا ہے

Verse 79 — Surah Al-Isra 17:79

اور رات کے بعض حصہ میں (اُٹھو) اور نما زتہجد ادا کرو (تلاوت و قرآن کیساتھ) (یہ نماز) زائد ہے آپ کے لیے یقیناً فائز فرمائے گا آپ کو آپ کا رب مقام محمود پر

Verse 80 — Surah Al-Isra 17:80

اور دعا مانگا کیجیے کہ اے میرے رب! جہاں کہیں تو مجھے لے جائے سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں کہیں سے مجھے لے آئے سچائی کے ساتھ لے آ اور عطا فرما مجھے اپنی جناب سے وہ قوت جو مدد کرنے والی ہو

Verse 81 — Surah Al-Isra 17:81

اور آپ (اعلان ) فرما دیجیے آگیا ہے حق اور مٹ گیا ہے باطل بےشک باطل تھا ہی مٹنے والا

Verse 82 — Surah Al-Isra 17:82

اور ہم نازل کرتے ہیں قرآن میں وہ چیزیں جو (باعثِ ) شفا ہیں اور سراپا رحمت ہیں اہل ایمان کے لیے اور قرآن نہیں بڑھا تا ظالموں کے لیے مگر خسارہ کو

Verse 83 — Surah Al-Isra 17:83

اور جب ہم کوئی انعام فرماتے ہیں انسان پر تو وہ (بجائے شکر کے ) منہ پھیر لیتا ہے اور پہلو تہی کرنے لگتا ہے اور جب پہنچتی ہے اسے کوئی تکلیف تو وہ مایوس ہو جاتا ہے

Verse 84 — Surah Al-Isra 17:84

آپ فرما دیجیے کہ ہر شخص عمل پیرا ہے اپنی فطرت کے مطابق پس تمھارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ سیدھی راہ پر (گامزن ) ہے

Verse 85 — Surah Al-Isra 17:85

یہ دریافت کرتے ہیں آپ سے روح کی حقیقت کے متعلق (انھیں ) بتائیے روح میرے رب کے حکم سے ہے اور نہیں دیا گیا ہے تمھیں علم مگر تھوڑا سا

Verse 86 — Surah Al-Isra 17:86

اور اگر ہم چاہتے تو سلب کر لیتے وہ وحی جو ہم نے آپ کی طرف کی ہے پھر آپ کوئی ایسا وکیل نہ پاتے جو آپ کے لیے اسکے متعلق ہماری بارگاہ میں وکالت کرتا

Verse 87 — Surah Al-Isra 17:87

سوائے اپنے رب کی رحمت کے (کہ وہ ہمہ وقت آپکے شامل حال ہے) یقیناً اس کا فضل (وکرم) آپ پر بہت بڑا ہے

Verse 88 — Surah Al-Isra 17:88

(بطور چیلنج ) کہہ دو کہ اگر اکٹھے ہو جائیں سارے انسان اور سارے جِنّ اس بات پر کہ لے آئیں اس قرآن کی مثل تو ہر گز نہیں لا سکیں گے اس کی مثل اگر وہ ہو جائیں ایک دوسرے کے مددگار

Verse 89 — Surah Al-Isra 17:89

اور بلاشبہ ہم نے طرح طرح سے (بار بار) بیان کی ہیں لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں (تا کہ وہ ہدایت پائیں) پس انکار کر دیا اکثر لوگوں نے سوائے اسکے کہ وہ نا شکری کریں

Verse 90 — Surah Al-Isra 17:90

اور کفار نے کہا ہم ہر گز ایمان نہیں لائیں گے آپ پر جب تک آپ رواں نہ کر دیں ہمارے لیے زمین سے ایک چشمہ

Verse 91 — Surah Al-Isra 17:91

یا (لگ کر تیار) ہو جائے آپ کے لیے ایک باغ کھجوروں اور انگوروں کا پھر آپ جاری کر دیں ندیاں جو اس باغ میں (ہر طرف) بہ رہی ہوں

Verse 92 — Surah Al-Isra 17:92

یا آپ گرا دیں آسمان کو ، جیسے آپ کا خیال ہے، ہم پر ٹکڑے ٹکڑے کر کے یا آپ اللہ تعالیٰ کو اور فرشتوں کو (بے نقاب کر کے ) ہمارے سامنے لے آئیں

Verse 93 — Surah Al-Isra 17:93

یا (تعمیر) ہو جائے آپ کے لیے ایک گھر سونے کا یا آ پ آسما ن پر چڑھ جائیں بلکہ ہم تو اس پر بھی ایمان نہ لائیں گے کہ آپ آسمان پر چڑھیں یہاں تک کہ آپ اتار لائیں ہم پر ایک کتاب جسے ہم پڑھیں آپ (ان سب خرافات کے جواب میں اتنا) فرما دیں میرا رب (ہر عیب سے ) پاک ہے میں کون ہوں مگر آدمی (اللہ کا) بھیجا ہوا

Verse 94 — Surah Al-Isra 17:94

اور نہیں روکا لوگوں کو ایمان لانے سے جب آئی ان کے پاس ہدایت مگر اس چیز نے کہ انھوں نے کہا کہ کیا بھیجا ہے اللہ تعالیٰ نے ایک انسان کو رسول بنا کر ! ایسا نہیں ہو سکتا

Verse 95 — Surah Al-Isra 17:95

فرمائیے اگر ہوتے زمین میں (انسانوں کی بجائے) فرشتے جو اس پر چلتے (اور اسمیں) سکونت اختیار کرتے تو ہم (انکی ہدایت کے لیے ) ان پر اتارتے آسمان سے کوئی فرشتہ رسول بنا کر

Verse 96 — Surah Al-Isra 17:96

فرمائیے کافی ہے اللہ تعالیٰ گواہ میرے درمیان اور تمھارے درمیان بیشک وہ اپنے بندوں (کے احوال) کو خوب جاننے والا اور ان کے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے

Verse 97 — Surah Al-Isra 17:97

اور جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے وہی ہدایت والا ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے تو آپ نہیں پائیں گے ان (گمراہوں ) کے لیے کوئی مدد گار اس کے سوا اور ہم اٹھائیں گے قیامت کے روزمنہ کے بل اس حال میں کہ وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہونگے ان کا ٹھکانا جہنم ہے جب بھی سرد ہونے لگے گی (جہنم کی آگ) تو ہم ان کے لیے اس کی آنچ کو بڑھا دینگے

Verse 98 — Surah Al-Isra 17:98

یہ سزا ہے ان کی کیونکہ انھوں نے انکار کیا ہماری آیتوں کا اور انھوں نے کہا کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ہم اٹھائیں جائیں گے از سرِ نو پیدا کر کے

Verse 99 — Surah Al-Isra 17:99

کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ جس نے پیدا فرمایا ہے آسمانوں اور زمین کو وہ اس پر بھی قادر ہے کہ پیدا فرمادے ان کی مثل اور اس نے مقرر فرما دی ہے ان کے لیے ایک میعاد جس میں ذرا شک نہیں پس انکار کر دیا ظالموں نے (اللہ تعالیٰ کی قدرت کا) سوائے اسکے کہ وہ نا شکری کریں

Verse 100 — Surah Al-Isra 17:100

فرمائیے اگر تم مالک ہوتے میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے تو اس وقت تم ضرور ہاتھ روک لیتے اس خوف سے کہ کہیں (سارے خزانے) ختم ہی نہ ہو جائیں واقعی انسان بڑا تنگدل ہے

Verse 101 — Surah Al-Isra 17:101

اور ہم نے عطا فرمائی تھیں موسیٰ (علیہ السلام) کو نو روشن نشانیاں آپ خود پوچھ لیں بنی اسرائیل سے جب موسیٰ ( علیہ السلام) آئے تھے انکے پاس پس فرعون نے آپ کو کہا اے موسی! میں تمھارے متعلق خیال کرتا ہوں کہ تم پر جادو کر دیا گیا ہے

Verse 102 — Surah Al-Isra 17:102

کلیم نے جواباً فرمایا (اے فرعون!) تو خوب جانتا ہے کہ نہیں اتارا ان نشانیوں کو مگر آسمانوں اور زمین کے رب نے یہ بصیرت افروز ہیں اور اے فرعون! میں تیرے متعلق یہ خیال کرتا ہوں کہ تو ہلاک کر دیا جائیگا

Verse 103 — Surah Al-Isra 17:103

پس اس نے ارادہ کر لیا کہ بنی اسرائیل کو ملک سے اکھاڑ کر پھینک دے سو ہم نے غرق کر دیا اسے اور اس کے سارے ساتھیوں کو

Verse 104 — Surah Al-Isra 17:104

اور ہم نے حکم دیا فرعون کو غرق کرنے کے بعد بنی اسرائیل کو کہ تم آباد ہو جاؤ اس سر زمین میں پس جب آئے گا آخرت کا وعدہ تو ہم لے آئینگے تمھیں سمیٹ کر

Verse 105 — Surah Al-Isra 17:105

اور حق کے ساتھ ہی ہم نے اسے اتارا ہے اور حق کے ساتھ ہی وہ اترا ہے اور نہیں بھیجا ہے نے آپ کو مگر (رحمت الہٰی کا ) مژدہ سنانے والا اور ( عذاب الہٰی سے ) ڈرانیوالا

Verse 106 — Surah Al-Isra 17:106

اور قرآن کو ہم نے جدا جدا کر کے نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کے سامنے اسے ٹھیر ٹھیر کر پڑھیں اور ہم نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا ہے

Verse 107 — Surah Al-Isra 17:107

آپ (کفارکو) کہیے خواہ تم ایمان لاؤ اس پر یا نہ ایمان لاؤ بیشک وہ لوگ جنھیں دیا گیا ہے علم اس سے پہلے جب اسے پڑھا جاتا ہے ان کے سامنے تو وہ گِر پڑتے ہیں ٹھوریوں کے بَل سجدہ کرتے ہوئے

Verse 108 — Surah Al-Isra 17:108

اور کہتے ہیں (ہر عیب اور ہر نقص سے) پاک ہے ہمارا رب بلاشبہ ہمارے رب کا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے

Verse 109 — Surah Al-Isra 17:109

اور گِر پڑتے ہیں ٹھوریوں کے بَل گر یہ و زاری کرتے ہوئے اور یہ قرآن انکے (خضوع) وخشوع کو بڑھا دیتا ہے

Verse 110 — Surah Al-Isra 17:110

آپ فرمائیے یا اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر پکارو جس نام سے اسے پکارو اس کے سارے نام (ہی) اچھے ہیں اور نہ تو بلند آواز سے نماز پڑھو اور نہ بالکل آہستہ پڑھو اسے اور تلاش کرو ان دونوں کے درمیان (معتدل) راستہ

Verse 111 — Surah Al-Isra 17:111

اور آپ فرمائیے سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے نہیں بنایا (کسی کو اپنا) بیٹا اور نہیں ہے جس کا کوئی شریک حکومت اور فرمانروائی میں اور نہیں ہے اس کا کوئی مددگاردرماندگی میں اور اس کی بڑائی بیان کرو کمال درجہ کی بڑائی