جس روز تم اس (کی ہولناکیوں) کو دیکھو گے تو غافل ہو جائیگی ہر دودھ پلانے والی (ماں) اس (لخت جگر) سے جس کو اس نے دودھ پلایا، اور گرا ددے گی ہر حاملہ اپنے حمل کو اور تجھے نظر آئیں گے لوگ جیسے وہ نشے میں مست ہوں حالانکہ وہ نشے میں مست نہیں ہوں گے بلکہ عذاب الہی بڑا سخت ہوگا (وہ اس کی ہیبت سے حواس بافتہ ہوں گے)
اے لوگو! اگر تمھیں کچھ شک ہو (روز محشر) جی اٹھنے میں ذرا اس امر میں غور کرو کہ ہم نے ہی پیدا کیا تھا تمھیں مٹی سے پھر نطفہ سے پھر خون کے لوٹھرے سے پھر گوشت کے ٹکڑے سے بعض کی تخلیق مکمل ہوتی ہے اور بعض کی نامکمل تاکہ ہم ظاہر فرما دیں تمھارے لیے (اپنی قدرت کا کمال) اور ہم قرار بخشتے ہیں رحموں میں جسے ہم چاہتے ہیں ایک مقررہ معیاد تک پھر ہم نکالتے ہیں تمھیں بچہ بنا کر پھر (پرورش کرتے ہیں تمھاری) تاکہ تم پہنچ جاؤ اپنے شباب کو اور تم میں سے کچھ (پہلے ) فوت ہو جاتے ہیں اور تم میں سے بعض کو پہنچا دیا جاتا ہے نکمی عمر تک تاکہ وہ کچھ نہ جانے ہر چیز کو جاننے کے بعد اور تو دیکھتا ہے کہ زمین خشک پڑی ہے پھر جب ہم اتارتے ہیں اس پر (بارش کا ) پانی ترو تازہ ہو جاتی ہے اور پھولتی ہے اور اگاتی ہے ہر خوشنما جوڑے کو
(تکبر سے) گردن مرورٹے ہوئے تاکہ بہکا دے (دوسروں کو بھی) اللہ کی راہ سے اس کے لیے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور ہم چکھائیں گے اسے قیامت کے دن جلانے والی آگ کا عذاب
اور لوگوں میں سے وہ بھی ہے جو عبادت کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی کنارہ پر (کھڑے کھڑے) پھر اگر پہنچے اسے بھلائی (اس عبادت سے) تو مطمئن ہو جاتے ہے اس سے اور اگر پہنچے اسے کوئی آزمائش تو فوراَ (دین سے) منہ موڑ لیتا ہے اس شخص نے برباد کر دی اپنی دنیا اور آخرت یہی تو کھلا ہوا خسارہ ہے
اور جو شخص یہ خیال کیے بیٹھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کی مدد نہیں کریگا نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں تو اسے چاہیے کہ لٹک جائے ایک رسی کے ذریعے چھت سے پھر (گلے میں پھندا ڈال کر) اسے کاٹ دے پھر دیکھے آیا دور کر دیا ہے اس کی (خود کشی کی) تدبیر نے اس کے غم و غصّہ کو
بیشک اہل ایمان، یہودی ستارہ پرست، عیسائی، آتش برست اور مشرک، ضرور فیصلہ فرمائے گا اللہ تعالیٰ ان سب (گروہوں ) کے درمیان قیامت کے دن بیشک اللہ تعالیٰ پر چیز کا مشاہدہ فرما رہا ہے
کیا تم ملاحظہ نہیں کر رہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہی سجدہ کر رہی ہے ہر چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے نیز آفتاب مہتاب، ستارے، پہاڑ، درخت اور چوپائے اور بہت سے انسان بھی (اسی کو سجدہ کرتے ہیں) اور بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جن پر عذاب مقرر ہو چکا ہے اور (دیکھو) جس کو ذلیل کر دے اللہ تعالیٰ تو کوئی اسے عزت دینے والا نہیں ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے جو چاہتا ہے
یہ دو فریق ہیں جو جھگڑ رہے اپنے رب کے بارے میں تو وہ لوگ جنھوں نے کفر اختیار کیا تیار کر دیے گئے ہیں ان کے لیے کپڑے آتشِ ( جہنم ) سے ۔ انڈیلا جائیگا ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی
یقیناً اللہ تعالیٰ داخل کریگا ان لوگوں کو جو ایمان بھی لے آئے اور عمل بھی نیک کرتے رہے جنتوں میں بہتی ہیں جن کے نیچے ندیاں انھیں پہنائے جائیں گے جنت میں سونے کے کنگن اور موتیوں کے ہار۔ اور ان کی پوشاک وہاں ریشمی ہو گی
بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا اور (دوسروں کو) روکتے ہیں اللہ تعالیٰ کی راہ سے اور مسجد حرام سے جسے ہم نے (بلا امتیاز) سب لوگوں کے لیے (مرکز ہدایت) بنایا ہے۔ یکساں ہیں اس میں وہاں کے رہنے والے اور پردیسی۔ اور جو ارادہ کرے اس میں زیادتی کا نا حق تو ہم اسے چکھائیں گے دردناک عذاب
اور یاد کرو جب ہم نے مقرر کر دی ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے اس گھرکے (تعمیر کرنے) کی جگہ اور حکم دیا کہ شریک نہ ٹھیرانا میرے ساتھ کسی چیز کو اور صاف ستھرا رکھنا میرے گھر کو طواف کرنے والوں، قیام کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے
(اعلان کیجیے) تاکہ وہ حاضر ہوں اپنے (دینی دنیوی) فائدوں کے لیے اور ذکر کریں اللہ تعالیٰ کے نام کا مقررہ دنوں میں ان بےزبان چوپائیوں پر (ذبح کے وقت) جو اللہ تعالیٰ نے انھیں عطا فرمائے ہیں۔ پس خود بھی کھاؤ ان سے اور کھلاؤمصیبت زدہ محتاج کو
ان احکام کو یاد رکھو اور جو شخص تعظیم کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کی تو یہ بہتر ہے اس کے لیے اس کے رب کے ہاں اور حلال کیے گئے تمھارے لیے جانور بجز ان کے جن کی حرمت پڑھی گئی تم پر پس پرہیز کرو بتوں کی نجاست سے اور بچو جھوٹی بات سے
یکسر مائل ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف ، نہ شریک ٹھیراتے ہو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور جو شریک ٹھیراتا ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تو اس کی حالت ایسی ہے گویا وہ گرا ہو آسمان سے پس اچک لیا ہو اسے کسی پرندے یا پھینک دیا ہو اسے ہوا نے کسی دور جگہ میں
اور ہر امت کے لیے ہم نے مقرر فرمائی ہے ایک قربانی تاکہ وہ ذکر کریں اللہ تعالیٰ کا اسم (پاک) ان بےزبان جانوروں پر ذبح کے وقت جو اللہ تعالیٰ نے انھیں عطا فرمائے ہیں پس تمھارا خدا خدا ئے واحد ہے تو اسی کے آگے سر جھکاؤ اور (اے محبوب) مثردہ سنائیے تواضع کرنے والوں کو
وہ لوگ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈرنے لگتے ہیں اور جو صبر کرنے والے ہیں ان (مصائب و آلام) پر جو پہنچتے ہیں انھیں اور جو صحیح ادا کرنے والے ہیں نماز کو اور ان چیزوں سے جو ہم نے انھیں عطا فرمائی ہیں وہ خرچ کرتے رہتے ہیں
اور قربانی کے فربہ جانوروں کو ہم نے بنایا ہے تمھارے لیے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ، تمھارے لیے ان میں بھلائی ہے پس لو اللہ تعالیٰ کا نام ان پر اس حال میں کہ ان کا ایک پاؤں بندھا ہو اور تین پر کھڑے ہوں ۔ پس جب وہ گِر پڑیں کسی پہلو پر تو خود بھی کھاؤ اس سے نیز کھلاؤ قناعت کرنیوالے فقیر کو اور بھیک مانگنے والے کو اس طرح ہم نے فرمانبردار بنا دیا ان جانوروں کو تمہارے لیے تاکہ تم (اس احسان کا) شکریہ ادا کرو
نہیں پہنچتے اللہ تعالیٰ کو ان کے گوشت اور نہ ان کے خون البتہ پہنچتا ہے اس کے حضور تک تقوی تمہاری طرف سے یوں اس نے فرمانبردار بنادیا ہے انہین تمہارے لیے تاکہ تم برائی بیان کرو اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر کہ اس نے تم کو ہدایت دی اور (اے حبیب!) جخوشخبری دیجیے احسان کرنیوالوں کو
وہ (مظلوم) جن کو نکال دیا گیا تھا ان کے گھروں سے ناحق صرف اتنی بات پر کہ انھوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور اگر اللہ تعالیٰ بچاؤ نہ کرتا لوگوں کا انھیں ایک دوسرے سے ٹکراکر تو (طاقتور کی غارتگری سے) منہدم ہو جائیں خانقاہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں جن میں اللہ تعالیٰ کے نام کا ذکر کثرت سے کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ضرور مدد فرمائیگا اس کی جو اس (کے دین) کی مدد کریگا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ قوت والا (اور) سب پر غالب ہے
وہ لوگ کہ اگر ہم انھیں اقتدار بخشیں زمین میں تو وہ صحیح صحیح ادا کرتے ہیں نماز کو اور دیتے ہیں زکوٰۃ اور حکم کرتے ہیں (لوگوں کو ) نیکی کا اور روکتے ہیں (انھیں ) برائی سے اور اللہ تعالیٰ کے لیے ہے سارے کاموں کا انجام
اور مدین کے رہنے والوں نے (اپنے اپنے نبیوں کو) اور جھٹلائے گئے موسیٰ بھی۔ تو (کچھ عرصہ) میں نے مہلت دی ان کفار کو (جب وہ باز نہ آئے) تو میں نے انھیں پکڑا (خود ہی بتاؤ) کتنا خوفناک تھا میرا عذاب
پس کتنی بستیاں ہیں جنھیں ہم نے تہ و بالا کر ڈالاکیونکہ وہ ظالم تھیں تو اب وہ گری پڑی ہیں اپنی چھتوں پر اور کتنے کنویں ہیں جو بیکار ہو چکے ہیں اور کتنے چونے سے بنے ہوئے مضبوط محل ہیں (جو ویران پڑے ہیں)
کیا انھوں نے سیر و سیاحت نہیں کی زمین میں تاکہ (ان کھنڈرات کو دیکھ کر) ان کے دل ایسے ہو جاتے جن سے وہ (حق ) کو سمجھ سکتے اور کان ایسے ہو جاتے جن سے یہ نصیحت سن سکتے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہوتے ہیں
یہ لوگ جلدی مانگ رہے ہیں آپ سے عذاب۔ (یہ تسلی رکھیں) اللہ تعالیٰ خلاف ورزی نہیں کریگا اپنے وعدہ کی۔ اور بےشک ایک دن تیرے رب کے ہاں ایک ہزار سال کی طرح ہوتا ہے جس حساب سے تم گنتی کرتے ہو
اور کتنی بستیاں تھیں جنھیں میں نے (کافی عرصہ) ڈھیل دی حالانکہ وہ ظالم تھیں پھر (جب وہ باز نہ آئے) تو میں نے انھیں پکڑ لیا اور میری طرف ہی (سب کو) لوٹنا ہے
اور نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول اور نہ کوئی نبی مگر اس کے ساتھ یہ ہوا کہ جب اس نے کچھ پڑھا تو ڈال دئیے شیطان نے اسکے پڑھنے میں (شکوک) پس مٹا دیتا ہے اللہ تعالیٰ جو دخل اندازی شیطان کرتا ہے پھر پختہ کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ اپنی آیتوں کو اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا بہت دانا ہے
یہ سب اس لیے تاکہ اللہ تعالیٰ بنا دے جو وسوسہ دالتا ہے شیطان ایک آزمائش ان لوگوں کے لیے جنکے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل بہت سخت ہیں اور بےشک ظالم لوگ مخالفت میں بہت دور نکل جاتے ہیں
نیز ا س میں یہ حکمت بھی ہے کہ جان لیں وہ لوگ جنھیں علم بخشا گیا کہ کتاب حق ہے آپ کے رب کی طرف سے تاکہ ایمان لائیں ا س کے ساتھ اور جھک جائیں اس (کی سچائی) کے آگے ان کے دل اور بےشک اللہ تعالیٰ ہدایت دینے والا ہے ایمان والوں کو راہ راست کی طرف
حکمرانی اس روز اللہ تعالیٰ کی ہو گی وہی فیصلہ فرمائے گا لوگوں کے درمیان پس جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے تو وہ نعمت (و احسان) کے باغوں میں (قیام پذیر ) ہونگے
اور جن لوگوں نے ہجرت کی راہ خدا میں پھر وہ (جہاد میں) قتل کر دیے گئے تا طبعی طور پر فوت ہوئے تو ضرور عطا فرمائیگا انھیں اللہ تعالیٰ بہترین رزق اور بےشک اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے
ان باتوں کو یاد رکھو! اور جس نے بدلا لیا اتنا قدر جتنی تکلیف اسے دی گئی تھی پھر (مزید ) زیادتی کی گئی اس پر تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مدد فرمائیگا بیشک اللہ تعالیٰ بہت معاف فرمانیوالا بہت بخشنے والا ہے
اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی داخل کرتا ہے رات (کے کچھ حصوں) کو دِن میں اور داخل کرتا ہے دِن (کے کچھ حصہ ) کو رات میں اور اللہ تعالیٰ سب باتیں سننے والا اور سب کچھ دیکھنے والا ہے
نیز اس کی یہ وجہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو خدائے برحق ہے اور جسے وہ پوجتے ہیں اس کے علاوہ وہ سراسر باطل ہے اور اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سب سے بلند (اور) سب سے بڑا ہے
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اتارا آسمان سے پانی تو ہو جاتی ہے (خشک ) زمین سر سبز و شاداب بےشک اللہ تعالیٰ ہمیشہ لطف فرمانیوالاہر چیز سے باخبر ہے
اور کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمانبردار بنا دیا ہے تمھارے لیے ہر چیز کو جو زمین میں ہے اور کشتی کو بھی کہ چلتی ہے سمندر میں اس کے حکم سے اور اس نے روکا ہوا ہے آسمان کو کہ گِر نہ پڑے زمین پر بجز اس کے فرمان کے ۔ بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ بڑی مہربانی فرمانیوالا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے
ہر امت کے لیے ہم نے مقرر کر دیا ہے عبادت کا طریقہ جس کے مطابق وہ عبادت کرتے ہیں تو انھیں چاہیے کہ وہ نہ جھگڑا کریں آپ سے اس معاملہ میں آپ بلاتے رہیے انھیں اپنے رب کی طرف (اے محبوب!) آپ بیشک سیدھی راہ پر (گامزن) ہیں
کیا آپ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے یہ سب کچھ ایک کتاب میں (لکھا ہوا) ہے بیشک (بلندی اور پستی کی ہر چیز کو جان لینا) اللہ تعالیٰ پر آسان ہے
اور وہ پوجتے ہیں اللہ تعالیٰ کے سواان کو نہیں اتاری جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے کوئی سند۔ اور انھیں خود بھی ان کے بارے میں کوئی علم نہیں ۔ اور نہیں ہوگا ظلم و ستم کرنے والوں کا کوئی مدگار
اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان کے سامنے ہماری آیتیں صاف صاف، تو آپ پہچان لیتے ہیں کفار کے چہروں پر نا پسندیدگی کے آثار ۔ یوں پتہ چلتا ہے کہ وہ عنقریب جھپٹ پڑینگے ان لوگوں پر جو پڑھتے ہیں ان کے سامنے ہماری آیتیں ۔ آپ فرمائیے (اے چیں بہ جبیں ہونے والو!) کیا میں آگاہ کر دوں تمھیں اس سے بھی تکلیف دہ چیز پر ۔ دوزخ کی آگ! وعدہ کیا ہے اس آگ کا اللہ تعالیٰ نے کفار سے ۔ اور دوزخ بہت برا ٹھکانا ہے
اے لوگو! ایک مثال بیان کی جا رہی ہے پس غور سے سنو اسے! بیشک جن معبودوں کو تم پکارتے ہو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر یہ تو مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے اگرچہ وہ سب جمع ہو جائیں اس (معمولی سے) کام کے لیے اور اگر چھین لے ان سے مکھی بھی کوئی چیز تو وہ نہیں چھوڑا سکتے اسے اس مکھی سے (آہ!) کتنا بےبس ہے ایسا طالب اور کتنا بےبس ہے ایسا مطلوب
اور (سر توڑ) کر کوشش کرو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جس طرح کوشش کرنے کا حق ہے اس نے چُن لیا ہے تمھیں (حق کی پاسبانی اور اشاعت کے لیے ) اور نہیں روا رکھی اس نے تم پر دین کے معاملہ میں کوئی تنگی ۔ پیروی کرو اپنے باپ ابراہیم کے دین کی اسی نے تمھارا نام مسلم (سر اطاعت خم کرنے والا) رکھا ہے اس سے پہلے اور اس قرآن میں بھی تمھارا یہی نام ہے تاکہ ہو جائے رسول (کریم) گواہ تم پر اور تم گواہ ہو جاؤ لوگوں پر پس (اے دین حق کے علمبردارو!) صحیح صحیح ادا کیا کرو نماز اور دیا کرو زکوٰۃ اور مضبوط پکڑ لو اللہ تعالیٰ (کے دامن رحمت) کو وہی تمھارا کارساز ہے ۔ پس وہ بہترین کارساز ہے اور بہترین مدد فرمانیوالا ہے