وہ جس کے لیے حکومت ہے آسمانوں اور زمین کی اور نہیں بنایا ہے اس نے کسی کو بیٹا اور نہیں اس کا کوئی شریک سلطنت میں اور ا س نے پیدا فرمایا ہے ہر چیز کو پس اس نے مقرر کیا ہے ہر چیز کا ایک اندازہ
اور بنا رکھے ہیں انہوں نے خدائے برحق کو چھوڑ کر ایسے خدا جو پیدا نہیں کر سکتے کسی چیز کو اور وہ خود پیدا کیے گئے ہیں اور نہیں قدرت رکھنے اپنے آپ کو نقصان (سے بچانے ) کی اور نہ نفع پہنچانے کی اور نہیں طاقت رکھتے کسی کو مارنے کی اور نہ زندہ کرنے کی اور نہ مرنے کے بعد جلانے کی
اور کہنے لگے کفار کہ نہیں یہ (قرآن) مگر محض بہتان جو گھڑ لیا ہے اس نے اور مدد کی ہے اس کی اس معاملہ میں ایک دوسری قوم نے سو یہ (کہہ کر) انھوں نے بڑا ظلم کیا ہے اور سفید جھوٹ بولا ہے
اور کفّار بولے کیا ہوا ہے اس رسول کو کہ کھانا کھاتا ہے اور چلتا پھرتا ہے بازاروں میں ۔ ایسا کیوں نہ ہوا کہ اتارا جاتا اس کی طرف کوئی فرشتہ اور وہ اس کے ساتھ مل کر (لوگوں کو) ڈراتا
یا (ایسا کیوں نہ ہوا) کہ اتارا جاتا اس کی طرف خزانہ یا (کم از کم) اس کا ایک باغ ہی ہوتا، کھایا کرتا اس (کی آمدنی) سے اور ان ظالموں نے (یہاں تک) کہہ دیا کہ تم پیروی نہیں کر رہے ہو مگر ایک ایسے شخص کی جس پر جادو کیا گیا ہے
بڑی (خیر و) برکت والا ہے اللہ تعالیٰ جو اگر چاہے تو بنا دے آپ کے لیے بہتر اس سے (یعنی ایسے) باغات رواں ہوں جن کے نیچے نہریں اور بنا دے آپ کے لیے بڑے بڑے محلات
ان سے پوچھیے (ذرا بتاؤ) یہ بھڑکتی ہوئی آگ بہتر ہے یا دائمی جنت جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے کیا گیا ہے ہو گی یہ جنت ان کے اعمال کا صلہ اور (ان کی زندگی کا) انجام
اور جس روز (محشر میں ) اللہ انھیں اکٹھا کرے گا اور ان (باطل خداؤں کو) جنھیں یہ پوجتے ہیں اللہ کے سوا تو اللہ پوچھے گا (ان معبودوں سے ) کیا تم نے گمراہ کیا میرے ان بندوں کو یا وہ خود ہی سیدھے راہ سے بھٹک گئے تھے
وہ کہیں گے تو پاک ہے (ہر عیب سے) یہ بات زیبا نہ تھی کہ ہم بناتے تیرے سوا کسی غیر کو دوست لیکن تو نے آرام و آسائش عطا کی انھیں اور ان کے آباء کو یہاں تک کہ انھوں نے بھلا دیا تیری یاد کو اور (یوں ) وہ لوگ تباہ و برباد ہو گئے
(اے کفار) تمھارے معبودوں نے تمھیں جھٹلا دیا جو تم کہتے ہو۔ پس اب نہ تم اپنے سے عذاب کو پھیر سکتے ہو اور نہ تمھاری مدد کی جائیگی اور جس نے ظلم کیا تم میں سے تو ہم چکھائیں گے اسے عذاب بڑا
اور نہیں بھیجے ہم نے آپ سے پہلے رسول مگر وہ سب کھانا کھایا کرتے اور چلا پھرا کرتے بازاروں میں اور ہم نے بنا دیا تمھیں ایک دوسرے کے لیے آزمائش کیا تم (اس آزمائش میں) صبر کرو گے؟ اور آپکا رب سب کچھ دیکھ رہا ہے
اور نہیں بھیجے ہم نے آپ سے پہلے رسول مگر وہ سب کھانا کھایا کرتے اور چلا پھرا کرتے بازاروں میں اور ہم نے بنا دیا تمھیں ایک دوسرے کے لیے آزمائش کیا تم (اس آزمائش میں) صبر کرو گے؟ اور آپکا رب سب کچھ دیکھ رہا ہے
اور (اے حبیب!) اسی طرح ہم نے بنائے ہر نبی کے لیے دشمن جرائم پیشہ لوگوں سے اور کافی ہے آپ کا رب ( آپکے لیے) منزل مقصود تک پہنچانے والا اور مدد فرمانے والا
اور کہنے لگے کفار (ازراہ اعتراض) کیوں نہیں اتارا گیا ان پر قرآن یکبارگی؟ اس طرح اس لیے کیا کہ ہم مضبوط کر دیں اس کے ساتھ آپ کے دل کو اور اسی لیے ہم نے ٹھیر ٹھیر کر اسے پڑھا ہے
اور قوم نوح کو یاد کرو جب انھوں نے جھٹلایا رسولوں کو تو ہم نے انھیں غرق کر دیا اور بنا دیا انھیں دوسرے لوگوں کے لیے عبرت۔ اور تیار کر رکھا ہے ہم نے ظالموں کے لیے دردناک عذاب
اور کئی بار گزرے ہیں یہ مشرک اس قصبہ کے پاس سے جس پر پتھراؤ کیا گیا تھا بری طرح ۔ کیا (وہاں سے گزرتے ہوئے) وہ اسے نہیں دیکھا کرتے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انھیں دوبارہ جینے کی امید ہی نہیں ہے
قریب تھا کہ یہ شخص ہمیں بہکا دیتا اپنے خداؤں سے اگر ہم ثابت نہ رہے ہوتے ان (کی پوجا) پر (اے حبیب!) یہ جان لیں گے جب (ہمارے) عذاب کو دیکھیں گے کہ کون بھٹکا ہوا ہے راہ راست سے
اور اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے ملا دیا ہے در دریاؤں کو، یہ (ایک) بہت شیریں ہے اور یہ (دوسرا) سخت کھاری اور بنا دی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کے درمیان آڑ اور مضبوط رکاوٹ
اور وہ پوجتے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا ان بتوں کو جو نہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں انھیں اور نہ نقصان۔ اور کافر اپنے رب کے مقابلے میں (ہمیشہ شیطان کا ) مدد گار ہوتا ہے
اور (اے مصطفے ٰ!) آپ بھروسہ کیجیے ہمیشہ زندہ رہنے والے پر جسے کبھی موت نہیں آئے گی اور اس کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کیجیے۔ اور اس کا اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر ہونا کافی ہے
جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دنوں میں پھر وہ متمکن ہوا عرش پر (جیسے اس کی شان ہے) وہ رحمن ہے، سو پوچھ اس کے بارے میں کسی واقف حال سے
اور جب کہا جاتا ہے انھیں کہ رحمن (کے حضور) سجدہ کرو۔ وہ پوچھتے ہیں رحمن کون ہے کیا ہم سجدہ کریں اس کو جس کے متعلق تم ہمیں حکم دیتے ہو اور وہ زیادہ نفرت کرنے لگتے ہیں
اور جو نہیں پوجتے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور خدا کو اور نہیں قتل کرتے اس نفس کو جس کو قتل کرنا اللہ تعالیٰ حرام کر دیا ہے مگر حق کے ساتھ ۔ اور نہ بد کاری کرتے ہیں۔ اور جو یہ کام کرے گا تو وہ پائے گا (اس کی) سزا