Back to Languages

Urdu - Chapter 27 - An-Naml

Translation by Muhammad Karam Shah Al Azhari — Permalink

Verse 1 — Surah An-Naml 27:1

طا۔ سین یہ آیتیں ہیں قرآن (حکیم) اور روشن کتاب کی

Verse 2 — Surah An-Naml 27:2

(یہ) سراپا ہدایت اور خوشخبری ہے اہل ایمان کے لیے

Verse 3 — Surah An-Naml 27:3

جو صحیح صحیح ادا کرتے ہیں نماز، اور دیا کرتے ہیں زکوٰۃ اور وہ جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں

Verse 4 — Surah An-Naml 27:4

بے شک وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے خوبصورت بنا دئیے ان (کی نظروں) میں انکے اعمال (بد) پس وہ سرگرداں پھر رہے ہیں

Verse 5 — Surah An-Naml 27:5

یہ وہی لوگ ہیں جن کے لیے بد ترین عذاب ہے اور یہی آخرت میں سب سے زیادہ گھاٹے میں ہوں گے

Verse 6 — Surah An-Naml 27:6

اور بےشک آپ کو سکھایا جاتا ہے قرآن حکیم بڑے دانا سب کچھ جاننے والے کی جانب سے

Verse 7 — Surah An-Naml 27:7

(یاد فرماؤ) جب کہا موسیٰ نے اپنی زوجہ سے کہ میں نے دیکھی ہے آگ۔ ابھی لے آتا ہوں تمھارے پاس وہاں سے کوئی خبر یا لے آؤں گا تمھارے پاس (اس آگ سے) کوئی شعلہ سلگا کر تاکہ تم اسے تاپو

Verse 8 — Surah An-Naml 27:8

پھر جب اس کے پاس پہنچے تو ندا کی گئی کہ بابرکت ہو جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے آس پاس ہے اور (ہر تشبیہ و تمثیل سے) پاک ہے اللہ جو رب العالمین ہے

Verse 9 — Surah An-Naml 27:9

اے موسیٰ ! وہ میں اللہ ہی ہوں عزت والا دانا

Verse 10 — Surah An-Naml 27:10

اور ذرا زمین پر ڈال دو اپنے سونٹے کو اب جو اسے دیکھا تو وہ (اس طرح) لہرا رہا تھا جیسے سانپ ہو آپ پیٹھ پھیر کر وہاں سے چل دئیے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا (فرمایا) موسیٰ ڈرو نہیں ۔ میرے حضور ڈرا نہیں کرتے جنھیں رسول بنایا جاتا ہے

Verse 11 — Surah An-Naml 27:11

مگر وہ شخص جو زیادتی کرے (وہ ڈرے) پھر (وہ ظالم بھی اگر) نیکی کرنے لگے برائی کرنے کے بعد تو میں بیشک غفور رحیم ہوں

Verse 12 — Surah An-Naml 27:12

اور ذرا ڈالو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں وہ نکلے گا سفید چمکتا ہوا بغیر کسی تکلیف کے (یہ دو معجزے) ان نو معجزات سے ہیں جن کے ساتھ آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا گیا ۔ بیشک وہ بڑے سر کش لو گ ہیں

Verse 13 — Surah An-Naml 27:13

پس جب آئیں ان کے پاس ہماری نشانیاں بصیرت افروز بن کر تو انھوں نے کہا یہ تو جادو ہے کھلا ہوا

Verse 14 — Surah An-Naml 27:14

اور انھوں نے انکار کر دیا ان کا حالانکہ یقین کر لیا تھا ان کی صداقت کا ان کے دلوں نے ،(ان کا انکار) محض ظلم اور تکبر کے باعث تھا پس آپ ملاحظہ فرمائیے کیا (ہولناک ) انجام ہوا فساد برپا کرنیوالوں کا

Verse 15 — Surah An-Naml 27:15

اور یقیناً ہم نے عطا فرمایا داؤد اور سلیمان علیہ السلام کو علم اور انھوں نے کہا سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے جس نے برگزیدہ کیا ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر

Verse 16 — Surah An-Naml 27:16

اور جانشین بنے سلیمان داؤد کے اور فرمایا اے لوگو ! ہمیں سکھائی گئی ہے پرندوں کی بولی اور ہمیں عطا کی گئی ہیں ہر قسم کی چیزیں بےشک یہی وہ نمایاں بزرگی ہے (جو ہمیں مرحمت ہوئی)

Verse 17 — Surah An-Naml 27:17

اور فراہم کیے گئے سلیمان علیہ السلام کے لیے لشکر جنوں ، انسانوں اور پرندوں سے پس وہ نظم و ضبط کے پابند ہیں

Verse 18 — Surah An-Naml 27:18

یہاں تک کہ جب وہ گزرے چیونٹیوں کی وادی سے تو ایک چیونٹی کہنے لگی اے چیونٹیو! گُھس جاؤ اپنی بلوں میں کہیں کچل کر نہ رکھ دیں تمھیں سلیمان اور ان کے لشکر اور انہیں معلوم ہی نہ ہو (کہ تم پر کیا گزر گئی)

Verse 19 — Surah An-Naml 27:19

تو سلیمان ہنستے ہوئے مسکرا دئیے اس کی اس بات سے اور عرض کرنے لگے میرے مالک! مجھے توفیق دے تاکہ میں شکر ادا کروں تیری نعمت (عظمیٰ) کا جو تو نے مجھ پر فرمائی اور میرے والدین پر نیز (مجھے توفیق دے کہ) میں وہ نیک کام کروں جسے تو پسند فرمائے اور شامل کر لے مجھے اپنی رحمت کے باعث اپنے نیک بندوں میں

Verse 20 — Surah An-Naml 27:20

اور آپ نے (ایک روز) پرندوں کا جائزہ لیا تو فرمانے لگے کیا وجہ ہے کہ مجھے (آج) ہُد ہُد نظر نہیں آ رہا۔ یا وہ ہے ہی غیر حاضر

Verse 21 — Surah An-Naml 27:21

(اگر وہ غیر حاضر ہے) تو میں ضرور اسے سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح ہی کر ڈالوں گا یا اسے لانا پڑے گی میرے پاس کوئی روشن سند

Verse 22 — Surah An-Naml 27:22

پس کچھ زیادہ دیر نہ گزری (کہ وہ آگیا) اور کہنے لگا میں ایک ایسی اطلاع لے کر آیا ہوں جس کی آپ کو خبر نہ تھی اور (وہ یہ کہ) میں لے آیا ہوں آپ کے پاس ملک سبا سے ایک یقینی خبر

Verse 23 — Surah An-Naml 27:23

میں نے پایا ایک عورت کو جو انکی حکمران ہے اور اسے دی گئی ہر قسم کی چیز سے اور اس کا ایک عظیم (الشان) تخت ہے

Verse 24 — Surah An-Naml 27:24

میں نے پایا ہے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سب سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور آراستہ کر دئیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے (یہ مشرکانہ) اعمال پس اس نے روک دیا ہے انھیں (سیدھے) راستہ سے پس وہ ہدایت قبول نہیں کرتے

Verse 25 — Surah An-Naml 27:25

وہ کیوں نہ سجدہ کریں اللہ تعالیٰ کو جو نکالتا ہے پوشیدہ چیزوں کو آسمانوں اور زمین سے اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو

Verse 26 — Surah An-Naml 27:26

اللہ تعالیٰ نہیں ہے کوئی معبود بجز اس کے وہ مالک ہے عرش عظیم کا

Verse 27 — Surah An-Naml 27:27

آپ نے فرمایا ہم پوری تحقیق کریں گے اس بات کی کہ تونے سچ کہا ہے یا تو بھی غلط بیانی کرنے والوں سے ہے

Verse 28 — Surah An-Naml 27:28

لے جا میرا یہ مکتوب اور پہنچا دے ان کی طرف، پھر ہٹ کر کھڑا ہو جا ان سے اور دیکھ وہ ایک دوسرے سے کیا گفتگو کرتے ہیں

Verse 29 — Surah An-Naml 27:29

(خط پڑھ کر) ملکہ نے کہا اے سرداران قوم! پہنچایا گیا ہے میری طرف ایک عزت والا خط

Verse 30 — Surah An-Naml 27:30

یہ سلیمان علیہ السلام کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو رحمن (اور) رحیم ہے

Verse 31 — Surah An-Naml 27:31

تم لو گ غرور تکبر نہ کرو میرے مقابلہ میں اور چلے آؤ میرے پاس فرمانبردار بن کر

Verse 32 — Surah An-Naml 27:32

ملکہ نے کہا اے سرداران قوم ! مجھے مشورہ دو میرے اس معاملہ میں ۔ میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا کرتی جب تک تم موجود نہ ہو

Verse 33 — Surah An-Naml 27:33

وہ کہنے لگے ہم بڑے طاقت ور اور سخت جنگجو ہیں اور فیصلہ کرنا آپ کے اختیا ر میں ہے آپ غور کر لیں کہ آپ کیا حکم دینا چاہتی ہیں

Verse 34 — Surah An-Naml 27:34

ملکہ نے کہا اس میں شک نہیں کہ بادشاہ جب داخل ہوتے ہیں کسی بستی میں تو اسے برباد کر دیتے ہیں اور بنا دیتے ہیں وہاں کے معزز شہریوں کو ذلیل ۔ اور یہی ان کا دستور ہے (اس لیے جنگ کرنا قرین دانشمندی نہیں)

Verse 35 — Surah An-Naml 27:35

اور میں بھیجتی ہوں ان کی طرف ایک تحفہ پھر دیکھونگی کہ قاصد کیا جواب لیکر لوٹتے ہیں

Verse 36 — Surah An-Naml 27:36

سو جب قاصد آپ کے پاس (ہدیہ لے کر) آیا تو آپ نے فرمایا کیا تم لو گ مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو (سنو) جو عطا فرمایا ہے مجھے اللہ تعالیٰ نے وہ بہتر ہے اس سے جو تمھیں دیا ہے بلکہ تم تو اپنے ہدیہ پر پھُولے نہیں سما رہے (گویا کوئی نادر چیز لائے ہو)

Verse 37 — Surah An-Naml 27:37

تو واپس چلا جا ان کے پاس اور ہم آرہے ہیں ان کی طرف ایسے لشکر لے کر جن کے مقابلہ کی ان میں تاب نہیں اور یقیناً نکال دیں گے انہیں اس شہر سے ذلیل کر کے اور وہ خوار اور رسوا ہو چکے ہوں گے

Verse 38 — Surah An-Naml 27:38

آپ نے فرمایا اے (میرے) درباریو! کون تم سے لے آئے گا میرے پاس اس کے تخت کو اس سے پہلے کہ وہ آجائیں میری خدمت میں فرمانبردار بن کر

Verse 39 — Surah An-Naml 27:39

عرض کی ایک عفریت نے جنّات میں سے (حکم ہو تو) میں لے آتا ہوں آپ کے پاس اسے پیش ازیں کہ آپ کھڑے ہوں اپنی جگہ سے

Verse 40 — Surah An-Naml 27:40

اور بےشک میں اس کو اٹھا لانے کی طاقت بھی رکھتا ہوں (اور) امین بھی ہوں ۔ عرض کی اس نے جس کے پاس کتاب کا علم تھا (اجازت ہو تو) میں لے آتا ہوں اسے آپ کے پاس اس سے پہلے کہ آپکی آنکھ جھپکے پھر جب آپ نے دیکھا کہ وہ رکھا ہوا ہے آپ کے نزدیک تو وہ فرمانے لگے یہ میرے رب کا فضل (وکرم) ہے تاکہ وہ آزمائے مجھے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا نا شکری۔ اور جس نے شکر کیا تو وہ شکر کرتا ہے اپنے بھلے کے لیے اور جو ناشکری کرتا ہے (وہ اپنا نقصان کرتا ہے) بلاشبہ میرا رب غنی بھی ہے (اور ) کریم بھی

Verse 41 — Surah An-Naml 27:41

آپ نے حکم دیا شکل بدل دو اسکے لیے اس کے تخت کی ہم دیکھتے ہیں کہ وہ حقیقت پر آگاہ ہوتی ہے یا ہو جاتی ہے ان لوگوں میں سے جو حقیقت کو نہیں پہچانتے

Verse 42 — Surah An-Naml 27:42

سو جب وہ آئی تو اس سے پوچھا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے کہنے لگی یہ تو ہُو بہو وہی ہے اور ہمیں اطلاع مل گئی تھی اس واقعہ کی اس سے پہلے اور ہم تو فرمانبردار بن کر حاضر ہوئے ہیں

Verse 43 — Surah An-Naml 27:43

اور روک رکھا تھا اسے (ایمان لانے سے) ان بتوں نے جن کی وہ عبادت کیا کرتی تھی اللہ تعالیٰ کے سوا۔ بیشک وہ قوم کفّار سے تھی

Verse 44 — Surah An-Naml 27:44

اسے کہا گیا کہ اس محل میں داخل ہو جاؤ ۔ پس جب اسے نے دیکھا اس (کے بلوریں فرش) کو تو اس نے خیال کیا کہ یہ گہرا پانی ہے اور اس نے کپڑا اٹھا لیا اپنی دونوں پنڈلیوں سے ۔ آپ نے فرمایا (یہ پانی نہیں ) یہ چمکدار محل ہے بلور کا بنا ہوا (اس کی آنکھیں کھل گئیں) کہنے لگی اے میرے رب! میں (آجتک) ظلم ڈھاتی رہی اپنی جان پر اور (اب) ایمان لائی ہوں سلیمان کے ساتھ اللہ پر جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے

Verse 45 — Surah An-Naml 27:45

اور بےشک ہم نے رسول بنا کر بھیجا ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی تو وہ دو گروہ بن گئے (اور آپس میں ) جھگڑنے لگے

Verse 46 — Surah An-Naml 27:46

صالح نے فرمایا اے میری قوم ! کیوں تیزی کرتے ہو برائی کرنے میں نیک کام کرنے سے پہلے تم کیوں نہیں بخشش طلب کرتے اللہ تعالیٰ سے شاید تم پر رحم کر دیا جائے

Verse 47 — Surah An-Naml 27:47

کہنے لگے تم تو برا شگون سمجھتے ہیں تمھیں اور تمھارے ساتھیوں کو آپ نے فرمایا تمھارا برا شگون تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے بلکہ تم ایسی قوم ہو جو فتنہ میں مبتلا کر دی گئی ہے

Verse 48 — Surah An-Naml 27:48

اور اس شہر میں نو شخص تھے جو فتنہ و فساد برپا کیا کرتے تھے اس علاقہ میں اور اصلاح کی کوشش نہ کرتے

Verse 49 — Surah An-Naml 27:49

انھوں نے کہا آؤ اللہ کی قسم کھا کر یہ عہد کرلیں کہ شب خون مار کر صالح اور ان کے اہل خانہ کو ہلاک کر دینگے پھر کہہ دینگے اس کے وارث سے کہ ہم تو (سرے سے) موجود ہی نہ تھے جب انھیں ہلاک کیا گیا اور (یقین کرو) ہم بالکل سچ کہہ رہے ہیں

Verse 50 — Surah An-Naml 27:50

اور انھوں نے بھی خفیہ سازش کی اور ہم نے بھی خفیہ تدبیر کی اور وہ سمجھ ہی نہ سکے (ہماری تدبیرکو)

Verse 51 — Surah An-Naml 27:51

تم (خود ہی) دیکھ لو کیا (ہولناک ) انجام ہوا ان کے مکر کا ہم نے برباد کر کے رکھ دیا انہیں اور ان کی ساری قوم کو

Verse 52 — Surah An-Naml 27:52

پس یہ ان کے گھر ہیں جو اجڑے پڑے ہیں ان کے ظلم کے باعث ۔ بیشک اس میں عبرت ہے اس قوم کے لیے جو (کچھ ) جانتی ہے

Verse 53 — Surah An-Naml 27:53

اور ہم نے بچا لیا انھیں جو ایمان لائے تھے اور (اپنے رب سے) ڈرتے رہتے تھے

Verse 54 — Surah An-Naml 27:54

اور یاد کرو لوط علیہ السلام کو جب آپ نے اپنی قوم کو فرمایا کیا تم ارتکاب کرتے ہو بےحیائی کا حالانکہ تم دیکھ رہے ہوتے ہو

Verse 55 — Surah An-Naml 27:55

کیا تم جاتے ہو مردوں کے پاس شہوت رانی کے لیے (اپنی ) بیویوں کو چھوڑ کر بلکہ تم بڑے نادان لو گ ہو

Verse 56 — Surah An-Naml 27:56

پس نہیں تھا آپ کی قوم کا جواب بجز اس کے کہ انھوں نے کہا نکال دو آل لوط کو اپنی بستی سے ، یہ لو گ تو بڑے پاکباز بنے پھرتے ہیں

Verse 57 — Surah An-Naml 27:57

سو ہم نے بچا لیا لوط کو اور ان کے اہل خانہ کو سوائے ان کی بیوی کے ۔ ہم نے فیصلہ کر دیا اس کے متعلق کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہو گی ۔

Verse 58 — Surah An-Naml 27:58

اور ہم نے ان پر خوب پتھر برسائے ۔ پس تباہ کن پتھراؤ تھا (بارہا) ڈرائے جانے والوں پر

Verse 59 — Surah An-Naml 27:59

فرمائیے سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور سلام ہو ان کے بندوں پر جنھیں اس نے چُن لیا (بتاؤ) کیا اللہ بہتر ہے یاجنھیں وہ شریک بناتے ہیں

Verse 60 — Surah An-Naml 27:60

فرمائیے سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور سلام ہو ان کے بندوں پر جنھیں اس نے چُن لیا (بتاؤ) کیا اللہ بہتر ہے یاجنھیں وہ شریک بناتے ہیں

Verse 61 — Surah An-Naml 27:61

بھلا کس نے بنایا ہے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور جاری کر دیں اس کے درمیان نہریں اور بنا دئیے زمین کے لیے (پہاڑوں کے) لنگر اور بنا دی دو سمندروں کے درمیان آڑ کیا کوئی اور خدا ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ؟ بلکہ ان میں سے اکثر لوگ بےعلم ہیں

Verse 62 — Surah An-Naml 27:62

بھلا کون قبول کرتا ہے ایک بیقرار کی فریاد جب وہ اسے پکارتا ہے اور (کون) دُور کرتا ہے تکلیف کو اور (کس نے) بنایا ہے تمھیں زمین میں (اگلوں کا ) خلیفہ۔ کیا کوئی اور خدا ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ؟ تم بہت کم غور و فکر کرتے ہو

Verse 63 — Surah An-Naml 27:63

بھلا کون راہ دکھاتا ہے تمھیں برو بحر کے اندھیروں میں اور کون بھیجتا ہے ہواؤں کو خوشخبری دینے کے لیے اپنی (بارانِ) رحمت سے پہلے کیا کوئی اور خدا ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ۔ بر تر ہے اللہ تعالیٰ ان سے جنھیں وہ شریک بناتے ہیں

Verse 64 — Surah An-Naml 27:64

بھلا کون ہے جو آغاز کرتا ہے آفر نیش کا پھر دوبارہ پیدا کرے گا اسے اور کون ہے جو رزق دیتا ہے تمھیں آسمان سے اور زمین سے کیا کوئی اور خدا ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ؟فرمائیے (اے مشرکو!) پیش کرو اپنی کوئی دلیل اگر تم سچے ہو

Verse 65 — Surah An-Naml 27:65

آپ فرمائیے (خود بخود) نہیں جان سکتے جو آسمانوں اور زمین میں ہے غیب کو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور وہ (یہ بھی) نہیں سمجھتے کہ انھیں کب اٹھایا جائیگا

Verse 66 — Surah An-Naml 27:66

بلکہ گُم ہو گیا ہے ان کا علم آخرت کے متعلق بلکہ وہ تو اس کے بارے میں شک میں ہیں ۔ بلکہ وہ اس سے اندھے ہیں

Verse 67 — Surah An-Naml 27:67

اور کفار کہنے لگے کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی تو کیا ہمیں (پھر) نکالا جائیگا

Verse 68 — Surah An-Naml 27:68

بیشک قیامت کے آنے کا وعدہ ہم سے بھی کیا گیا اور ہمارے باپ دادا سے بھی اس سے پہلے ۔ نہیں ہے یہ وعدہ مگر پہلے لوگوں کے من گھڑت افسانے

Verse 69 — Surah An-Naml 27:69

آپ فرمائیے سیرو سیاحت کرو زمین میں ۔ پھر اپنی آنکھوں سے دیکھو کہ کیسا ہولناک انجام ہوا مجرموں کا

Verse 70 — Surah An-Naml 27:70

(اے محبوب!) آپ غمزدہ نہ ہوں ان (کے رویہّ) پر اور دل تنگ نہ ہوا کریں ان کے مکر و فریب سے

Verse 71 — Surah An-Naml 27:71

اور وہ پوچھتے ہیں کب ( پُورا ہوگا ) یہ وعدہ (بتاؤ) اگر تم سچے ہو

Verse 72 — Surah An-Naml 27:72

آپ فرمائیے قریب ہے کہ تمھارے پیچھے آلگا ہو اس عذاب کا کچھ حصہ جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو

Verse 73 — Surah An-Naml 27:73

اور بےشک آپ کا رب بہت فضل (و کرم) فرمانے والا ہے لوگوں پر، لیکن اکثر لوگ نا شکری کرتے ہیں

Verse 74 — Surah An-Naml 27:74

اور یقیناً آپ کا رب خوب جانتا ہے جو کچھ چھپا رکھا ہے ان کے سینوں نے اور جو وہ ظا ہر کرتے ہیں

Verse 75 — Surah An-Naml 27:75

اور نہیں کوئی پوشیدہ چیز آسمان اور زمین میں مگر اس کا بیان کتاب مبین میں موجود ہے

Verse 76 — Surah An-Naml 27:76

بلاشبہ یہ قرآن بیان کرتا ہے بنی اسرائیل کے سامنے اکثر ان امور (کی حقیقت) کو جن میں وہ جھگڑتے رہتے ہیں

Verse 77 — Surah An-Naml 27:77

اور بلاشبہ یہ قرآن سراپا ہدایت اور مجسّم رحمت ہے مومنین کے لیے

Verse 78 — Surah An-Naml 27:78

یقیناً آپ کا رب فیصلہ فرمائے گا ان کے درمیان اپنے حکم سے ۔ اور وہی ہے زبردست سب کچھ جاننے والا

Verse 79 — Surah An-Naml 27:79

سو آپ بھروسہ کریں اللہ تعالیٰ پر، بیشک آپ روشن حق پر ہیں

Verse 80 — Surah An-Naml 27:80

بیشک آپ نہیں سنا سکتے مردوں کو اور نہ آپ سنا سکتے ہیں بہروں کو اپنی پکار جب وہ بھاگے جا رہے ہوں پیٹھ پھیرے ہوئے

Verse 81 — Surah An-Naml 27:81

اور نہیں آپ ہدایت دینے والے (دل کے) اندھوں کوان کی گمراہی سے۔ نہیں سناتے آپ بجز ان کے جو ایمان لاتے ہیں ہماری آیتوں پر پھر وہ فرمانبردار بن جاتے ہیں

Verse 82 — Surah An-Naml 27:82

اور جب ہماری بات کے پورا ہونیکا وقت آجائے گا تو ہم نکالیں گے ان کے لیے ایک چوپایا زمین سے جو ان سے گفتگو کریگا، کیو نکہ لوگ ہماری آیتوں پر ایمان نہیں لاتے تھے

Verse 83 — Surah An-Naml 27:83

اور جس روز ہم اکٹھا کریں گے ہر امت سے ایک گروہ جو جھٹلایا کرتا تھا ہماری آیتوں کو تو ان کو (اپنی اپنی جگہ پر) روک لیاجائیگا

Verse 84 — Surah An-Naml 27:84

حتی کے جب وہ آجائیں گے اللہ فرمائیگا کیا تم نے جھٹلایا میری آیتوں کو حالانکہ تم نے اچھی طرح انھیں جانا بھی نہ تھا یا اس کے علاوہ اور کیا تھا جو تم کیا کرتے تھے

Verse 85 — Surah An-Naml 27:85

اور پوری ہو گئی (اللہ کی) بات ان پر بوجہ ان کے ظلم کے تو وہ (اس وقت) بولیں گے نہیں

Verse 86 — Surah An-Naml 27:86

کیا انھوں نے غور نہ کیا کہ ہم نے بنایا ہے رات کو اس لیے تاکہ وہ اس میں آرام کریں اور بنا یا ہے دن کو بینا بیشک اس میں (ہماری قدرت کی) نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں

Verse 87 — Surah An-Naml 27:87

اور جس دن پھونکا جائے گا صور تو گھبرا جائے گا ہر کوئی جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ مگر جنھیں خدا نے چاہا (وہ نہیں گھبرائیں گے) اور سب حاضر ہوں گے اس کی بارگاہ میں عاجزی کرتے ہوئے

Verse 88 — Surah An-Naml 27:88

اور تو جب (اس روز) پہاڑوں کو دیکھے گاتو گمان کریگا کہ یہ ٹھیرے ہوئے ہیں حالانکہ وہ چل رہے ہوں گے بادل کی سی چال۔ یہ کاریگری ہے اللہ کی جس نے (اپنی حکمت سے) مضبوط بنایا ہر چیز کو بیشک وہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو

Verse 89 — Surah An-Naml 27:89

جو شخص نیک عمل لے کر آئے گا تو اسے کہیں بہتر اجر ملے گا اس نیک عمل سے اور یہ نیک بندے اس دن کی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے

Verse 90 — Surah An-Naml 27:90

اور جو برائی لے کر آئے گا تو ان کو منہ کے بل اوندھا پھینک دیا جائے گا آگ میں (اے بدکارو!) کیا تمھیں بدلہ ملے گا بجز اس کے جو تم عمل کیا کرتے تھے

Verse 91 — Surah An-Naml 27:91

مجھے تو صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں عبادت کروں اس (مقدّس) شہر کے رب کی جس نے عزت و حرمت والا بنایا ہے اس کو اور اسی کی ہے ہر شے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں شامل ہو جاؤں فرمانبرداروں کے زمرہ میں

Verse 92 — Surah An-Naml 27:92

نیز (یہ بھی کہ) میں تلاوت کیا کروں قرآن کی پس جو ہدایت قبول کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدے کے لیے ہدایت قبول کرتا ہے۔ اور جو گمراہ ہو تاہے (تو اس کی قسمت) فرماؤ میں تو صرف ڈرانے والوں سے ہوں

Verse 93 — Surah An-Naml 27:93

اور آپ فرمائیے سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں وہ ابھی دکھائیگا تمھیں اپنی نشانیاں۔ تو تم انھیں پہچان لو گے۔ اور نہیں ہے آپ کا رب بےخرب ان کاموں سے جو (اے لوگو) تم کیا کرتے ہو