بیشک فرعون متکبّر (و سر کش ) بن گیا سر زمین (مصر) میں اور اس نے بنا دیا وہاں کے باشندوں کو گروہ گروہ۔ وہ کمزور کرنا چاہتا تھا ایک گروہ کو ان میں سے ذبح کیا کرتا تھا ان کے بیٹوں کو اور زندہ چھوڑ دیتا ان کی عورتوں کو۔ بیشک وہ فساد برپا کرنے والوں سے تھا
اور ہم نے چاہا کہ احسان کریں ان لوگوں پر جنھیں کمزور بنا دیا گیا تھا ملک (مصر) میں اور بنا دیں انھیں پیشوا اور بنا دیں انھیں (فرعون کے تاج و تخت کا) وارث
اور ہم نے الہام کیا موسیٰ کی والدہ کی طرف کہ اسے (بے خطر) دودھ پلاتی رہ۔ پھر جب اس کے متعلق تمھیں اندیشہ لاحق ہو تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ہراساں ہونا اور نہ غمگین ہونا۔ یقیناً ہم لوٹا دینگے اسے تیری طرف اور ہم بنانے والے ہیں اسے رسولوں میں سے
اور کہا فرعون کی بیوی نے (اے میرے سرتاج!) یہ بچہ تو میری اور تیری آنکھوں کے لیے ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرنا۔ شاید یہ ہمیں نفع دے۔ یا ہم اسے اپنا فرزند بنا لیں اور وہ (اس تجویز کے انجام کو) نہ سمجھ سکے
اور موسیٰ کی ماں کا دل بیقرار ہو گیا قریب تھا کہ وہ ظاہر کر دے اس راز کو اگر ہم نے مضبوط نہ کر دیا ہوتا اس کے دل کو تاکہ وہ بنی رہے اللہ کے وعدہ پر یقین کرنے والی
اور ہم نے حرام کر دیں ا س پر ساری دودھ پلانے والیاں اس سے پہلے تو موسیٰ کی بہن نے کہا کیا میں پتہ دوں تمھیں ایسے گھر والوں کا جو اس کی پرورش کریں تمھاری خاطر اور وہ اس بچہ کے خیر خواہ بھی ہونگے۔
تو (اس طرح) ہم نے لوٹا دیا اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ اسے دیکھ کر اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور (اس کے فراق میں) غمزدہ نہ ہو اور وہ یہ بھی جان لے کہ بلاشبہ اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے لیکن اکثر (اس حقیقت کو) نہیں جانتے
وہ شہر میں داخل ہوئے اس وقت جب بےخبر سو رہے تھے اس کے باشندے۔ پس آپ نے پایا وہاں دو آدمیوں کو آپس میں لڑتے ہوئے یہ ایک ان کی جماعت سے تھا اور یہ دوسرا ان کے دشمنوں سے ۔ پس مدد کے لیے پکارا آپ کو اس نے جو آپ کی جماعت سے تھا اس کے مقابلہ میں جو آپ کے دشمن گروہ سے تھا۔ تو سینہ میں گھونسہ مارا موسیٰ نے اس کو اور اس کا کام تمام کر دیا۔ آپ نے فرمایا یہ کام شیطان کی انگیخت سے ہوا ہے۔ بیشک وہ کھلا دشمن ہے بہکا دینے والا
پھر آپ نے صبح کی اس شہر میں ڈرتے ہوئے ۔ اس انتظار میں کہ کیا ہوتا ہے تو اچانک وہی شخص جس نے کل ان سے مدد طلب کی تھی آج پھر انھیں مدد کے لیے پکارتا ہے موسیٰ نے اسے فرمایا بیشک تو کھلا ہوا گمراہ ہے
پس جب آپ نے ارادہ کیا کہ جھپٹ پڑیں ا س پر جو ان دونوں کا دشمن تھا وہ کہنے لگے اے موسیٰ! کیا تو چاہتا ہے کہ مجھے بھی قتل کر ڈالے جیسے کل تو نے ایک شخص کو قتل کیا تھا۔ تو نہیں چاہتا بجز اس کے کہ تو ملک میں بڑا جابر بن جائے اور تو نہیں چاہتا کہ اصلاح کرنے والوں میں سے ہو
اور آیا ایک آدمی شہر کے آخری گوشہ سے دوڑتا ہوا۔ اس نے (آکر ) بتایا اے موسیٰ! سردار لوگ سازش کر رہے ہیں آپ کے بارے میں کہ آپ کو قتل کر ڈالیں ۔ اس لیے نکل جائیے (یہاں سے) بیشک میں آپکا خیر خواہ ہوں
اور جب آپ مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں پر لوگوں کا ایک انبوہ ہے جو (اپنے مویشیوں کو) پانی پلا رہا ہے اور دیکھیں اس انبوہ سے الگ تھلگ دو عورتیں کہ اپنے ریوڑ کو روکے ہوئے ہیں ۔ آپ نے پوچھا تم کیوں اس حال میں کھڑی ہو۔ ان دونوں نے کہا ہم نہیں پلا سکتیں جبتک چرواہے اپنے مویشیوں کو لے کر واپس نہ چلے جائیں (٢٣) اور ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں
تو آپ نے پانی پلا دیا ان (کے ریوڑ) کو پھر لوٹ کر سایہ کی طرف آگئے اور عرض کرنے لگے میرے مالک ! واقعی میں ا س خیر و برکت کا جو تو نے میری طرف اتاری ہے محتاج ہوں
کچھ دیر بعد آئی آپ کے پاس ان دونوں میں سے ایک خاتون شرم و حیا سے چلتی ہوئی (اور آکر) کہا میرے والد تمھیں بلاتے ہیں تاکہ تم نے ہماری بکریوں کو جو پانی پلایا ہے اس کا تمھیں معاوضہ دیں پس جب آپ ان کے پاس آئے اور اپنا واقعہ ان کے سامنے بیان کیا تو انھوں نے (تسلیٰ دیتے ہوئے) کہا ڈرو نہیں ۔ تم بچ کر نکل آئے ہو ظالموں (کے پنجہ) سے
آپ نے کہا میں چاہتا ہوں کہ میں بیاہ دوں تمھیں ایک ان اپنی دو بچیوں سے بشرطیکہ تو میری خدمت کرے آٹھ سال تک پھر اگر تم پورے کرو دس سال تو یہ تمھاری اپنی مرضی اور میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ۔ تو پائے گا مجھے اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں سے (جو وعدہ ایفاء کرتے ہیں)
موسیٰ نے کہا یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے پا گئی ان دو میعادوں میں گزار دوں تو مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو گی ۔ اور اللہ تعالیٰ جو قول و قرار ہم نے کیا ہے اس پر نگہبان ہے
پھر جب موسیٰ علیہ السلام نے مقررہ مدّت پوری کر دی اور (وہاں سے) چلے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر تو آپ نے دیکھی طور کے ایک طرف آگ آپ نے اپنے اہل خانہ سے کہا تم ذرا ٹھیرو میں نے آگ دیکھی ہے (میں وہاں جاتا ہوں) شاید میں لے آؤں تمھارے پاس وہاں سے کوئی خبر یا آگ کی کوئی چنگاری تاکہ تم اسے تاپ سکو
اور (ذرا) ڈال دو (زمین پر) اپنے عصا کو اب جو اسے دیکھا تو وہ اس طرح لہرا رہا تھا جیسے وہ سانپ ہو ۔ آپ پیٹھ پھیر کر چل دئیے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا (آواز آئی) اے موسیٰ! سامنے آؤ اور ڈرو نہیں ۔ یقیناً تم (ہر خطرہ سے) محفوظ ہو
ڈالو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں وہ نکلے گا سفید ( چمکتا ہوا ) بغیر کسی تکلیف کے اور رکھ لے اپنے سینہ پر اپنا ہاتھ خوف دور کرنے کے لیے تو یہ دو دلیلیں ہیں تمھارے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں (کی طرف لے جانا) کے لیے ، بیشک وہ نافرمان لوگ ہیں
اور میرا بھائی ہارون وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے گفتگو کرنے میں تو اسے بھیج میرے ساتھ میرا مددگار بنا کرتا کہ وہ میری تصدیق کرے ۔ میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم مضبوط کریں گے تیرے بازو کو تیرے بھائی سے اور ہم عطا کریں گے تمھیں ایسا غلبہ (اور شوکت) کہ وہ تمھیں (اذیت ) نہیں پہنچا سکیں گے ہماری نشانیوں کے باعث تم دونوں اور تمھارے پیروکار ہی غالب آئیں گے
پھر جب آئے فرعونیوں کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) ہماری روشن نشانیاں لے کر ، انھوں نے کہا نہیں ہے یہ مگر جادوگھڑا ہوا اور ہم نے نہیں سنیں اس قسم کی باتیں اپنے پہلے آباؤاجداد کے زمانہ میں
اور موسیٰ (علیہ السلام ) نے فرمایا میرا رب خوب جانتا ہے اسے جو اس کی بارگاہ سے (نور) ہدایت لے کر آیا اور وہی جانتا ہے کہ اس کا انجام اچھا ہو گا۔ بےشک با مراد نہیں ہوتے ظلم و ستم کرنے والے
یہ (سُنکر ) فرعون نے کہا اے اہل دربار! میں تو نہیں جانتا کہ تمھارے لیے میرے سوا کوئی اور خدا ہے۔ پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان! اور اس پر اینٹیں پکوا میرے لیے ایک اونچا محل تعمیر کر ۔ شاید (اس پر چڑھ کر ) میں سراغ لگا سکوں موسیٰ کے خدا کا اور میں تو اس کے بارے میں یہ خیال کرتا ہوں کہ یہ جھوٹا ہے
اور ہم نے دی موسیٰ (علیہ السلام ) کو کتاب اس کے بعد کہ ہم نے ہلاک کر دیا تھا پہلی (نافرمان) قوموں کو۔ (یہ کتاب) لوگوں کے لیے بصیرت افروز اور سراپا ہدایت اور رحمت تھی تاکہ وہ نصیحت قبول کریں
لیکن ہم نے پیدا فرمائیں کئی قومیں (یکے بعد دیگرے) اور کافی لمبا عرصہ گزر گیا ان پر (اور انھوں نے عہد خداوندی بھلا دیا) اور آپ اہل مدین میں مقیم نہ تھے تاکہ آپ پڑھ کر سناتے ہوں انھیں ہماری آیتیں لیکن ہم ہی رسول بنا کر بھیجنے والے تھے
اور آپ (اس وقت) طور کے کنارہ پر بھی نہ تھے جب ہم نے (موسیٰ کو ) ندا فرمائی۔ لیکن یہ آپ کے رب کی محض رحمت ہے (کہ اس نے آپ کو ان حالات پر آگاہ کر دیا) تاکہ آپ (قہر الہی سے) ڈرائیں اس قوم کو جن کے پاس نہیں آیا کوئی ڈرانیوالاآپ سے پہلے شاہد وہ نصیحت قبول کریں
(اور اس کی وجہ یہ ہے ) کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جب پہنچے انھیں کوئی مصیبت ان اعمال کے باعث جو انھوں نے کیے ہیں تو وہ یہ نہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! کیوں نہ بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول تاکہ ہم پیروی کرتے تیری آیات کی اور ہم ہو جاتے ایمان لانے والوں سے
پھر جب آگیا ان کے پاس حق ، ہماری جناب سے تو وہ کہنے لگے کیوں نہ دئیے گئے انھیں اس قسم کے معجزے جو موسیٰ کو دئیے گئے تھے (ان نابکاروں سے پوچھو) کیا انھوں نے انکار نہیں کیا تھا ان معجزات کا جو موسیٰ کو دئیے گئے تھے انہی نے کہا (موسیٰ اور ہارون) دو جادوگر ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کررہے ہیں نیز انھوں نے کہا تھا ہم ان تمام کا انکا رکرتے ہیں
پس اگر وہ قبول نہ کریں آپ کے اس ارشاد کو تو جان لو کہ وہ صرف اپنی نفسانی خواہشوں کی پیروی کر رہے ہیں اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرتا ہے اپنی خواہش کی اللہ تعالیٰ کی جانب سے کسی رہنمائی کے بغیر بیشک اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا ظالم لوگوں کو
یہ لوگ ہیں جنھیں دیا جائے گا ان کا اجر دو مرتبہ بوجہ ان کے صبر کے اور وہ دور کرتے ہیں نیکی کے ساتھ برائی کو نیز اس مال سے جو ہم نے ان کو دیا ہے خرچ کرتے رہتے ہیں
اور جب وہ سنتے ہیں کسی بیہودہ بات کو تو منہ پھیر لیتے ہیں اس سے اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال ہیں ۔ تم سلامت رہو۔ ہم جاہلوں (سے الجھنے) کے خواہاں نہیں ہیں
اور انھوں نے کہا اگر ہم اتباع کریں ہدایت کا آپ کی معیت میں تو ہمیں اچک لیا جائے گا ہمارے ملک سے کیا ہم نے بسا نہیں دیا انھیں حرم میں جو امن والا ہے کچھے چلے آتے ہیں اس کی طرف ہر قسم کے پھل یہ رز ق ہے ہماری طرف سے لیکن ان کی اکثریت کچھ نہیں جانتی
اور ہم نے کتنے شہر برباد کر دئیے جب وہ فخر کرنے لگے اپنی خوش حالی پر۔ پس یہ ہیں ان کے گھر جن میں سکونت نہیں کی گئی ان کے بعد مگر بہت کم عرصہ ۔ اور (آخر کار) ہم ہی ان کے وارث بنے
اور نہیں ہے آپ کا رب ہلاک کرنے والا بستیوں کو یہاں تک کہ بھیجے ان کے مرکزی شہر میں کوئی رسول جو پڑھ کر سنائے وہاں کے رہنے والوں کو ہماری آیتیں اور ہم نہیں ہیں ہلاک کرنے والے بستیوں کو مگر یہ کہ ان کے بسنے والے ظالم ہیں
اور جو چیز دی گئی ہے تمھیں تو یہ سامان ہے دنیوی زندگی کا اور اس کی زیب و زینت ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہتر ہے اور دیرپا ہے ، کیا تم اس حقیقت کو نہیں سمجھتے
(تم خود سوچو) آیا وہ (نیک بخت ) جس کے ساتھ ہم نے وعدہ کیا ہے بہت اچھا وعدہ اور وہ اس کے پانیوالا بھی ہے اس (بد بخت) کی مانند ہو سکتا ہے جسے ہم نے دنیوی زندگی کا سامان دیا ہے پھر وہ (اس چند روز آسائش کے بعد) روز قیامت (مجرموں کے کٹہرے میں ) پیش کیا جائے گا
کہیں گے وہ لوگ جن پر عذاب کا فرمان ثابت ہو چکا اے ہمارے رب! یہ ہیں وہ جنھیں ہم نے گمراہ کیا ۔ ہم نے انھیں بھی گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے ۔ ہم (ان سے) بیزار ہو کر تیری طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ اور وہ ہماری پوجا نہیں کیا کرتے تھے
اور (انھیں ) کہا جائیگا (لو) اب پکارو اپنے شریکوں کو تو وہ انھیں پکارینگے لیکن وہ انھیں کوئی جواب نہیں دینگے اور دیکھ لیں گے عذاب کو ۔ کیا اچھا ہوتا اگر وہ ہدایت تافتہ ہوتے
اور آپ کا رب پیدا فرماتا ہے جو چاہتا ہے اور پسند کرتا ہے (جسے چاہتا ہے) نہیں ہے انھیں کچھ اختیار اللہ تعالیٰ پاک ہے اور برتر ہے اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں
آپ فرمائیے بھلا اتنا تو سوچو اگر بنا دے اللہ تعالیٰ تم رات ہمیشہ کے لیے قیامت کے دن تک تو کونسا خدا ہے اللہ تعالیٰ کے سواجو لادے تمھیں روشنی کیا تم سن نہیں رہے ہو
فرمائیے بھلا اتنا تو سوچو اگر بنا دے اللہ تعالیٰ تم پر دن ہمیشہ کے لیے روز قیامت تک تو کونسا خدا ہے اللہ تعالیٰ کے سوا جو لا دے تمھیں رات جس میں تم آرام کر سکو۔ کیا تمھیں (کچھ ) نظر نہیں آتا؟
اور محض اپنی رحمت سے اس نے بنا دیا ہے تمھارے لیے رات اور دن کو تاکہ تم آرام کرو رات میں اور تلاش کرو (دن میں ) اس کے فضل (رزق) سے اور تاکہ تم شکر گزار بنو
اور ہم نکالیں گے ہر امت سے گواہ پھر (ان امّتوں کو) ہم کہیں گے لے آؤ اپنی دلیل تو وہ جان لیں گے بیشک حق اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور گُم ہو جائیں گے ان سے جو افتراء وہ باندھا کرتے تھے
بیشک قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا۔ پھر اس نے سر کشی کی ان پر اور ہم نے دے دئیے تھے اسے اتنے خزانے کے ان کی چابیاں (اپنے بوجھ سے) جُھکا دیتی تھیں ایک طاقتور جتھہ (کی کمروں ) کو جب کہا اسے اس کی قوم نے زیادہ خوش نہ ہوبے شک اللہ تعالیٰ دوست نہیں رکھتا اترانے والوں کو
اور طلب کر اس (مال و زر) سے ج ودیا ہے تجھے اللہ تعالیٰ نے آخرت کا گھر اور نہ فراموش کر اپنے حصّہ کو دنیا سے اور احسان کیا کر (غریبوں پر) جس طرح اللہ تعالیٰ نے تجھ پر احسان فرمایا ہے اور نہ خواہش کر فتنہ و فساد کی ملک میں ۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نہیں دوست رکھتا فساد برپا کرنے والوں کو
وہ کہنے لگے مجھے دی گئی ہے یہ (دولت و ثروت) اس علم کی وجہ سے جو میرے پاس ہے کیا اس ( مغرور) کو اتنا علم بھی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالیں اس سے پہلے قومیں جو اس سے قوت میں کہیں سخت اور دولت جمع کرنے میں کہیں زیادہ تھیں ۔ اور نہیں دریافت کیے جائیں گے مجرموں سے ان کے گناہ
الغرض (ایک دن) وہ نکلا اپنی قوم کے سامنے بڑی زیب و زینت کے ساتھ ۔ کہنے لگے وہ لوگ جو آرزو مند تھے دنیوی زندگی کے اے کاش! ہمیں بھی اس قسم کا جاہ و جلال نصیب ہوتا جیسے دیا گیا ہے قارون کو۔ واقعی وہ تو بڑا خوش نصیب ہے
اور کہا ان لوگوں نے جنہیں (دنیا کی بےثباتی کا) علم دیا گیا تھا حیف تمھاری عقل پر ۔ اللہ کا ثواب بہتر ہے اس کے لیے جو ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے اور نہیں مرحمت کی جاتی یہ نعمت بجز صبر کرنے والوں کے
پس ہم نے غرق کر دیا اسے بھی اور اس کے گھر کو بھی زمین میں، تو نہ تھی اس کے حامیوں کی کوئی جماعت جو (اس وقت) اس کی مدد کرتی اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں ۔ اور وہ خود بھی اپنا انتقام نہ لے سکا
اور صبح کی ان لوگوں نے جو کل تک اس کے مرتبہ کی آرزو کر رہے تھے یہ کہتے ہوئے او ہو!(اب پتہ چلا) کہ اللہ تعالیٰ کشادہ کر دیتا ہے رزق کو جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں سے اور تنگ کر دیتا ہے ( جس کے لیے چاہتا ہے ) اگر اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہمیں بھی زمین میں گاڑ دیتا ۔ او ہو!(اب پتہ چلا) کہ کفار با مراد نہیں ہوتے
یہ آخرت کا گھر ہم مخصوص کر دیں گے اس (کی نعمتوں) کو ان لوگوں کے لیے جو خواہش نہیں رکھتے زمین میں بڑا بننے کی اور نہ فساد برپا کرنے کی اور اچھا انجام پرہیزگاروں کے لیے ہے
جو کرتا ہے نیکی تو اس کے لیے بہتر صلہ ہے اس نیکی سے ۔ اور جو ارتکاب کرتا ہے برائی کا تو نہ بدلہ دیا جائیگا انھیں جنھوں نے بدکاریاں کیں مگر اتنا، جتنا انھوں نے کیا
(اے محبوب!) یقیناً وہ (قادر مطلق جس نے آپ پر قرآن کی تبلیغ فرض کی ہے آپ کو واپس لے جائے گا جہاں آپ چاہتے ہیں آپ فرمائیے میرا رب خوب جانتا ہے اسے جو آیا ہدایت یافتہ ہو کر اور اسے بھی جو کھلی گمراہی میں ہے)
اور آپ کو تو یہ امید نہ تھی کہ نازل کی جائے گی آپ کی طر ف کتاب مگر یہ محض رحمت ہے آپ کے رب کی (جو آپ کو صاحب قرآن بنا دیا) تو آپ ہر گز کافروں کے مددگار نہ بنیں
اور (خیال رہے) وہ ہر گز نہ روکیں آپ کو اللہ تعالیٰ کی آیات سے اس کے بعد کہ وہ اتاری گئیں آپ کی طرف اور بلائیے (لوگوں کو) اپنے رب کی طرف اور ہر گز نہ ہو جانا شرک کرنے والوں سے
اور نہ پکارو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کو ۔ نہیں ہے کوئی معبود بجز اس کے ۔ ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے اسی کی حکمرانی ہے ۔ اور اسی کی طرف تمھیں لوٹایا جائیگا