Back to Languages

Urdu - Chapter 3 - Al-Imran

Translation by Muhammad Karam Shah Al Azhari — Permalink

Verse 1 — Surah Al-Imran 3:1

الف لام میم ۔

Verse 2 — Surah Al-Imran 3:2

اللہ (وہ ہے کہ ) کوئی عبادت کے لائق نہیں بغیر اس کے زندہ ہے سب کو زندہ رکھنے والا ہے ۔

Verse 3 — Surah Al-Imran 3:3

نازل فرمائی اس نے آپ پر یہ کتاب حق کے ساتھ تصدیق کرنے والی ہے ان (کتابوں) کی جو اس سے پہلے (اُتری) ہیں اور اتاری اس نے توراۃ اور انجیل۔

Verse 4 — Surah Al-Imran 3:4

اس سے پہلے لوگوں کی ہدایت کے لیے اور اتار ا فرقان کو بےشک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اللہ کی آیتوں کے ساتھ ان کے لیے سخت عذاب ہے اور اللہ تعالیٰ غالب ہے بدلہ لینے والا ہے۔

Verse 5 — Surah Al-Imran 3:5

بے شک اللہ تعالیٰ نہیں پوشیدہ رہتی اس پر کوئی چیز زمین اور نہ آسمان میں۔

Verse 6 — Surah Al-Imran 3:6

وہی ہے جو تمہاری تصویریں بناتا ہے (ماؤں کے ) رحموں میں جس طرح چاہتا ہے کوئی معبود نہیں بغیر اس کے (وہی) غالب ہے حکمت والا ہے۔

Verse 7 — Surah Al-Imran 3:7

وہی ہے جس نے نازل فرمائی آپ پر کتاب اس کی کچھ آیتیں محکم ہیں وہی کتاب کی اصل ہیں اور دوسری آیتیں متشابہ ہیں پس وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے سو وہ پیروی کرتے ہیں (صرف) ان آیتوں کی جو متشابہ ہیں قرآن سے (ان کا مقصد) فتنہ انگیزی اور (غلط) معنی کی تلاش ہے اور نہیں جانتا اس کے صحیح معنی کو بغیر اللہ تعالیٰ کے اور پختہ علم والے کہتے ہیں ہم ایمان لائے ساتھ اس کے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے اور نہیں نصیحت قبول کرتے مگر عقل مند ۔

Verse 8 — Surah Al-Imran 3:8

اے ہمارے رب نہ ٹیڑھے کر ہمارے دل بعد اس کے کہ تونے ہدایت دی ہمیں اور عطا فرماہمیں اپنے پاس سے رحمت بےشک تو ہی سب کچھ بہت زیادہ دینے ولا ہے۔

Verse 9 — Surah Al-Imran 3:9

اے ہمارے پروردگار ! بےشک تو جمع کرنے والا ہے سب لوگوں کو اس دن کے لیے نہیں کوئی شبہ جس (کے آنے) میں بےشک اللہ تعالیٰ نہیں پھرتا اپنے وعدہ سے

Verse 10 — Surah Al-Imran 3:10

بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر اختیار کیا نہ بچاسکی گے انھیں ان کے مال اور نہ ان کی اولاد اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی اور وہی (بد بخت) اِیندھن ہیں آگ کا۔

Verse 11 — Surah Al-Imran 3:11

(اُن کا طریقہ) مثل طریقہ آل فرعون کے اور ان لوگوں کے تھا جو ان سے پہلے تھے انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو پس پکڑلیا انھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے۔

Verse 12 — Surah Al-Imran 3:12

(اے میرے رسول!) فرمادو ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا کہ عنقریب تم مغلوب کیے جاؤ گے اور ہانکے جاؤگے جہنم کی طرف اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

Verse 13 — Surah Al-Imran 3:13

بے شک تمہارے لیے (عبرت کا ) نشان (ان ) دو گروہوں میں جو ملے تھے (میدان بدر میں ) ایک گروہ لڑتا تھا اللہ کی راہ میں اور دوسرا کافر تھا دیکھ رہے تھے مسلمان انھیں اپنے سے دوچند (اپنی) آنکھوں سے اور اللہ مدد کرتا ہے اپنی نصرت سے جس کی چاہتا ہے یقیناً اس واقعہ (بدر) میں بہت بڑا سبق ہے آنکھ والوں کے لیے۔

Verse 14 — Surah Al-Imran 3:14

آراستہ کی گئی لوگوں کے لیے ان خواہشوں کی محبت یعنی عورتیں اور بیٹے اور خزانے جمع کیے ہوئے سونے اور چاندی کے اور گھوڑے نشان لگائے ہوئے اور چوپائے اور کھیتی یہ سب کچھ سامان ہے دنیوی زندگی کا اور اللہ ہے جس کے پاس اچھا ٹھکانا ہے۔

Verse 15 — Surah Al-Imran 3:15

اے میرے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) !) آپ فرمائیے کیا بتاؤں میں تمھیں اس سے بہتر چیز ان کے لیے جو متقی بنے ان کے رب کے ہاں باغات ہیں رواں ہیں ان کے نیچے نہریں ہمیشہ رہیں گے (متقی) ان مین اور (ان کے لیے ) پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور حاصل ہوں گی انھیں خوشنودی اللہ کی اور اللہ تعالیٰ خوب دیکھنے والا ہے اپنے بندوں کو۔

Verse 16 — Surah Al-Imran 3:16

یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! یقیناً ہم ایمان لائے تو معاف فرمادے ہمارے لیے ہمارے گناہ اور بچالے ہمیں آگ کے عذاب سے۔

Verse 17 — Surah Al-Imran 3:17

(یہ مصیبتوں) میں صبر کرنے والے ہیں اور (ہر حالت ) میں سچ بولنے والے ہیں اور (عبادت میں ) عاجزی کرنے والے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنے والے ہیں سحری کے وقت۔

Verse 18 — Surah Al-Imran 3:18

شہادت دی اللہ تعالیٰ نے (اس بات کی کہ) بیشک نہیں کوئی خدا سوائے اس کے (یہی گواہی دی) فرشتوں نے اور اہل علم نے ( ان سب نے گواہی دی کہ وہ ) قائم فرمانے والا ہے عدل و انصاف کو نہیں کوئی معبود سوائے اس کے (جو) عزت والا حکمت والا ہے۔

Verse 19 — Surah Al-Imran 3:19

بے شک دین اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے اور نہیں جھگڑا کیا جن کو دی گئی کتاب مگر بعد اس کے کہ آگیا تھا ان کے پاس صحیح علم (اور یہ جھگڑا) باہمی حسد کی وجہ سے تھا اور جو انکار کرتا ہے اللہ کی آیتوں کا تو بےشک اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والا ہے ۔

Verse 20 — Surah Al-Imran 3:20

پھر اگر (اب بھی) جھگڑا کریں گے آپ سے تو آپ کہہ دیجیے کہ میں نے جھکا دیا ہے اپنا سر اللہ کے سامنے اور جنھوں نے میری پیروی کی اور کہیے ان لوگوں سے جن کو کتاب دی گئی اور ان پڑھوں سے کہ کیا تم اسلام لائے پس اگر وہ اسلام لے آئیں جب تو ہدایت پاگئے اور اگر منہ پھیر لیں تو اتنا ہی آپ کے ذمہ تھا کہ آپ پیغام پہنچا دیں ( جو آپ نے پہنچا دیا) اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے (اپنے ) بندوں کو۔

Verse 21 — Surah Al-Imran 3:21

بے شک جو لوگ انکار کرتے ہیں اللہ کی آیتوں کا اور قتل کرتے ہیں انبیاء کو ناحق اور قتل کرتے ہیں ان لوگوں کو جو حکم کرتے ہیں عدل و انصاف کا لوگوں میں سے تو خوشخبری دو انھیں دردناک عذاب کی۔

Verse 22 — Surah Al-Imran 3:22

یہ ہیں وہ ( بد نصیب ) اکارت گئے جن کے اعمال دنیا میں اور آخرت میں اور نہیں ہے ان کے لیے کوئی مددگار۔

Verse 23 — Surah Al-Imran 3:23

کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کی طرف جنھیں دیا گیا کچھ حصہ کتاب کا (جب) بلائے جاتے ہیں کتاب الٰہی کی طرف تاکہ تصفیہ کردے ان کے باہمی جھگڑوں کا تو پیٹھ پھیر لیتا ہے ایک گروہ ان مین سے درآلخالیکہ وہ روگردانی کرنے والے ہوتے ہیں ۔

Verse 24 — Surah Al-Imran 3:24

اس (بیباکی) وجہ یہ تھی کہ وہ کہتے تھے کہ بالکل نہ چھوئے گی ہمیں دوزخ کی آگ مکر چند دن گنے ہوئے اور فریب میں مبتلا رکھا انھیں ان کے دین کے معاملہ میں ان باتوں نے جو وہ خود گھڑا کرتے تھے۔

Verse 25 — Surah Al-Imran 3:25

سو کیا حال ہوگا (اُن کا) جب ہم جمع کریں گے انھیں اس روز جس کے آنے میں کوئی شک نہیں اور پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ہر شخص کو جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم ہیں کیا جائے گا۔

Verse 26 — Surah Al-Imran 3:26

(اے حبیب یوں) عرض کرو اے اللہ ! اے مالک سب ملکوں کے! تو بخش دیتا ہے ملک جسے چاہتا ہے اور چھین لیتا ہے ملک جس سے چاہتا ہے اور عزت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ذلیل کرتا ہے جس کو چاہتا ہے تیرے ہی ہاتھ میں ہے ساری بھلائی بےشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

Verse 27 — Surah Al-Imran 3:27

تو داخل کرتا ہے رات (کا حصہ) دن میں اور داخل کرتا ہے تو دن (کا حصہ) رات میں اور نکالتا ہے تو زندہ کو مردہ سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے اور رزق دیتا ہے جسے چاہتا ہے بےحساب ۔

Verse 28 — Surah Al-Imran 3:28

نہ بنائیں مومن کافروں کو اپنا دوست مومنوں کو چھوڑ کر اور جس نے کیا یہ کام پس نہ رہا (اس کا) اللہ سے کوئی تعلق مگر اس حالت میں کہ تم کرنا چاہو ان سے اپنا بچاؤ اور ڈراتا ہے تمھیں اللہ تعالیٰ اپنی ذات سے (یعنی غضب سے) اور اللہ ہی کی طرف (سب نے) لوٹ کر جانا ہے۔

Verse 29 — Surah Al-Imran 3:29

فرمادیجیے کہ اگر تم چھپاؤ جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے یا ظاہر کرو اسے ، جانتا ہے اسے اللہ تعالیٰ اور جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

Verse 30 — Surah Al-Imran 3:30

جس دن موجود پائے گا ہر نفس جو کی تھی اس نے نیکی اپنے سامنے اور جو کچھ کی تھی اس نے برائی تمنا کرے گا کہ کاش اس کے درمیان اور اس دن کے درمیان (حائل ہوتی) مدت دراز اور ڈراتا ہے تمھیں اللہ اپنے (عذاب) سے اور اللہ تعالیٰ بہت مہربان ہے اپنے بندوں پر۔

Verse 31 — Surah Al-Imran 3:31

(اے محبوب) آپ فرمائیے (انھیں کہ) اگر تم واقعی محبت کرتے ہو اللہ سے تو میری پیروی کرو (تب ) محبت فرمانے لگے گا تم سے اللہ اور بخش دے گا تمہارے لیے تمہارے گناہ اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

Verse 32 — Surah Al-Imran 3:32

آپ فرمائیے اطاعت کرو اللہ کی اور (اس کے) رسول کی پھر اگر وہ منہ پھیرں تو یقیناً اللہ تعالیٰ دوست نہیں رکھتا کفر کرنے والوں کو ۔

Verse 33 — Surah Al-Imran 3:33

بے شک اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے آدم اور نوح اور ابراہیم کے گھرانے کو اور عمران کے گھرانے کو سارے جہاں والوں پر۔

Verse 34 — Surah Al-Imran 3:34

یہ ایک نسل ہے بعض ان میں سے بعض کی اولاد ہیں اور اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

Verse 35 — Surah Al-Imran 3:35

جب عرض کی عمران کی بیوی نے اے میرے رب! میں نذر مانتی ہوں تیرے لیے جو میرے شکم میں ہے (سب کاموں سے ) آزاد کرکے سو قبول فرمالے ( یہ نذرانہ) مجھ سے بےشک تو ہی (دعائیں) سننے والا

Verse 36 — Surah Al-Imran 3:36

(نیتوں کو ) جاننے والا ہے پھر جب اس نے جنا اسے (تو حیرت و حسرت سے) بولی اے رب! میں نے تو جنم دیا ایک لڑکی کو اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو اس نے جنا اور نہیں تھا لڑکا (جس کا وہ سوال کرتی تھی) مانند اس لڑکی کے اور (ماں نے کہا) میں نے نام رکھا ہے اس کا مریم اور میں تیری پناہ میں دیتی ہوں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود (کے شر) سے۔

Verse 37 — Surah Al-Imran 3:37

پھر قبول فرمایا اسے اس کے رب نے بڑی ہی اچھی قبولیت کے ساتھ اور پروان چڑھایا اسے اچھا پروان چڑھانا اور نگراں بنادیا اس کا زکریا کو جب بھی جاتے مریم کے پاس زکریا (اس کی) عبادت گاہ میں (تو) موجود پاتے اس کے پاس کھانے کی چیزیں (ایک بار) بولے اے مریم! کہاں سے تمہارے لیے آتا ہے یہ (رزق) مریم بولیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے آتا ہے بےشک اللہ تعالیٰ رزق دیتا ہے جسے چاہتا ہے بےحساب۔

Verse 38 — Surah Al-Imran 3:38

وہیں دعا مانگی زکریا نے اپنے رب سے عرض کی اے میرے رب! عطا فرما مجھ کو اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد بےشک تو ہی سننے والا ہے دعا کا۔

Verse 39 — Surah Al-Imran 3:39

پھر آواز دی ان کو فرشتوں نے جب کہ وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے (اپنی ) عبادت گاہ میں کہ بےشک اللہ تعالیٰ خوشخبری دیتا ہے آپ کو یحیی ٰ کی جو تصدیق کرنے والا ہوگا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرمان کی اور سردار ہوگا اور ہمیشہ عورتوں سے بچنے والا ہوگا اور نبی ہوگا صالحین سے۔

Verse 40 — Surah Al-Imran 3:40

زکریا کہنے لگے اے رب ! کیونکر ہوگا میرے ہاں لڑکا حالانکہ آ لیا ہے مجھے بڑھاپے نے اور میری بیوی بانچھ ہے فرمایا بات اسی طرح ہے (جیسی تم نے کہی) لیکن اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔

Verse 41 — Surah Al-Imran 3:41

عرض کی اے میرے رب! مقرر فرمادے میرے لیے کوئی نشانی فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ نہ بات کرسکوگے لوگوں سے تین دن مگر اشارہ سے اور یاد کرو اپنے پروردگار کو بہت اور پاکی بیان کرو (اس کی ) شام اور صبح۔

Verse 42 — Surah Al-Imran 3:42

اور جب کہا فرشتوں نے اے مریم ! بےشک اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے تمھیں اور خوب پاک کردیا ہے تمھیں اور پسند کیا ہے تجھے سارے جہان کی عورتوں سے ۔

Verse 43 — Surah Al-Imran 3:43

اے مریم! خلوص سے عبادت کرتی رہ اپنے رب کی اور سجدہ کر اور رکوع کر رکوع کرنے والوں کے ساتھ۔

Verse 44 — Surah Al-Imran 3:44

یہ واقعات غیب کی خبروں میں سے ہیں ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف اور نہ تھے آپ ان کے پاس جب پھینک رہے تھے وہ (مجاور) اپنی قلمیں ( یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ ) کون ان میں سے سرپرستی کرے مریم کی اور نہ تھے آپ ان کے پاس جب وہ آپس میں جھگڑرہے تھے۔

Verse 45 — Surah Al-Imran 3:45

جب کہا فرشتوں نے اے مریم ! اللہ تعالیٰ بشارت دیتا ہے تجھے ایک حکم کی اپنے پاس سے اس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا معزز ہوگا دنیا اور آخرت میں اور (اللہ کے) مقربین سے ہوگا۔

Verse 46 — Surah Al-Imran 3:46

اور گفتگو کرے گا لوگوں کے ساتھ گہوارے میں بھی اور پکی عمر میں بھی اور نیکو کاروں میں سے ہوگا ۔

Verse 47 — Surah Al-Imran 3:47

مریم بولیں اے میرے پروردگار ! کیونکر ہو سکتا ہے میرے ہاں بچہ ؟ حالانکہ ہاتھ تک نہیں لگایا مجھ کسی انسان نے فرمایا بات یونہی ہے ( جیسے تم کہتی ہو لیکن) اللہ پیدا فرماتا ہے جو چاہتا ہے جب فیصلہ فرماتا ہے کسی کام (کے کرنے) کا تو بس اتنا ہی کہتا ہے اسے کہ ہو جا تو وہ فورا! ہوجاتا ہے۔

Verse 48 — Surah Al-Imran 3:48

اور اللہ تعالیٰ سکھائے گا اسے کتاب و حکمت اور تورات و انجیل۔

Verse 49 — Surah Al-Imran 3:49

اور (بھیجے گا اسے) رسول بنا کر بنی اسرائیل کی طرف (وہ انھیں آکر کہے گا ) کہ میں آگیا ہوں تمہارے پاس ایک معجزہ لے کر تمہارے رب کی طرف سے (وہ معجزہ یہ ہے کہ) میں بنا دیتا ہوں تمہارے لیے کیچڑ سے پرندے کی سی صورت پھر پھونکتا ہوں اس (بے جان صورت) میں تو وہ فورا! ہوجاتی ہے پرندہ اللہ کے حکم سے اور میں تندرست کردیتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور (لاعلاج) کوڑھی کو اور میں زندہ کرتا ہوں مردے کو اللہ کے حکم سے اور بتلاتا ہوں تمھیں جو کچھ تم کھاتے ہو اور جو کچھ تم جمع کر رکھتے ہو اپنے گھروں میں بےشک ان معجزوں میں (میری صداقت کی ) بڑی نشانی ہے تمہارے لیے اگر تم ایمان دار ہو۔

Verse 50 — Surah Al-Imran 3:50

اور میں تصدیق کرنے والا ہوں اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتاب تورات کی اور تاکہ میں حلال کردوں تمہارے لی بعض وہ چیزیں جو (پہلے) حرام کی گئی تھیں تم پر اور لایا ہوں تمہارے پاس ایک نشانی تمہارے رب کی طرف سے سو ڈرو اللہ تعالیٰ سے اور میری اطاعت کرو۔

Verse 51 — Surah Al-Imran 3:51

بے شک اللہ مرتبہ کمال تک پہنچانے والا ہے مجھے اور مرتبہ کمال تک پہنچانے والا ہے تمھیں سو اس کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے ۔

Verse 52 — Surah Al-Imran 3:52

پھر جب محسوس کیا عیسیٰ ( علیہ السلام) نے ان سے کفر (و انکار) (تو) آپ نے کہا کون ہے میرے پروردگار کی راہ میں؟ ( یہ سن کر ) کہا حواریوں نے کہ ہم مدد کرنے والے ہیں اللہ (کے دین) کی ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر اور (اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ) آپ گواہ ہو جائیو کہ ہم (حکمِ الٰہی کے سامنے) سر جھکائے ہوئے ہیں۔

Verse 53 — Surah Al-Imran 3:53

اے رب ہمارے! ہم ایمان لائے اس پر جو تو نے نازل فرمایا اور ہم نے تابعداری کی رسول کی تو لکھ لے ہمیں (حق پر) گواہی دینے والوں کے ساتھ۔

Verse 54 — Surah Al-Imran 3:54

اور یہویوں نے بھی (مسیح کو قتل کرنے کی) خفیہ تدبیر کی اور (مسیح کو بچانے کے لیے) اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی۔ اور اللہ سب سے بہتر (اور مؤثر) خفیہ تدبیر کرنے والا ہے۔

Verse 55 — Surah Al-Imran 3:55

یاد کرو جب فرمایا اللہ نے اے عیسیٰ ( علیہ السلام) ! یقیناً میں پوری عمر تک پہنچادوں گا تمھیں اور اٹھانے والا ہوں تمھیں اپنی طرف اور پاک کرنے والا ہوں تمھیں ان لوگوں (کی تہمتوں) سے جنھوں نے (تیرا) انکار کیا اور بنانے والا ہوں ان کو جنھوں نے تیری پیروی کی غالب کفر کرنے والوں پر قیامت تک پھر میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے تم نے پس (اس وقت) میں فیصلہ کروں گا تمہارے درمیان (ان امور کا ) جن میں تم اختلاف کرتے رہتے تھے۔

Verse 56 — Surah Al-Imran 3:56

تو وہ جنھوں نے کفر کیا میں عذاب دوں گا انھیں سخت عذاب دنیا میں اور آخرت میں اور نہیں ہوگا ان کے لیے کوئی مددگار ۔

Verse 57 — Surah Al-Imran 3:57

اور وہ جو ایمان لائے اور کیے نیک کام تو اللہ پورے پورے دے گا انھیں ان کے اجر اور اللہ تعالیٰ نہیں محبت کرتا ظلم کرنے والوں سے۔

Verse 58 — Surah Al-Imran 3:58

یہ جو ہم پڑھ کر سناتے ہیں آپ کو آیتں ہیں اور نصیحت حکمت والی۔

Verse 59 — Surah Al-Imran 3:59

بے شک مثال عیسیٰ ( علیہ السلام) (علیہ السلام) کی اللہ تعالیٰ کے نذدیک آدم (علیہ السلام) کی مانند ہے بنایا اسے مٹی سے پھر فرمایا اے ہوجا تو ہو ہوگیا۔

Verse 60 — Surah Al-Imran 3:60

(اے سننے والے!) یہ حقیقت (کہ عیسیٰ انسان ہیں) تیرے رب کی طرف سے (بیان کی گئی ) ہے پس تو نہ ہوجا شک کرنے والوں سے۔

Verse 61 — Surah Al-Imran 3:61

پھر جو شخص جھگڑا کرے آپ سے اس بارے میں اس کے بعد کہ آگیا آپ کے پاس (یقینی) علم تو آپ کہہ دیجیے کہ آؤ ہم بلائیں اپنے بیٹوں کو بھی اور تمہارے بیٹوں کو بھی اپنی عورتوں کو بھی اور تمہاری عورتوں کو بھی اپنے آپ کو بھی اور تم کو بھی پھر بڑی عاجزی سے (اللہ کے حضور) التجا کریں پھر بھیجیں اللہ تعالیٰ کی لعنت جھوٹوں پر ۔

Verse 62 — Surah Al-Imran 3:62

بے شک یہی ہے واقعہ سچا اور نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے اور بےشک اللہ ہی غالب ہے (اور) حکمت والا ہے۔

Verse 63 — Surah Al-Imran 3:63

پھر اگر وہ منہ پھیر یں تو اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے فساد برپا کرنے والوں کو۔

Verse 64 — Surah Al-Imran 3:64

(میرے نبی!) آپ کہیے اے اہل کتاب آؤ اس بات کی طرف جو یکساں ہے ہمارے اور تمہارے درمیان (وہ یہ کہ) ہم نہ عبادت کریں (کسی کی) سوائے اللہ کے اور نہ شریک ٹھیرائیں اس کے ساتھ کیس چیز کو اور نہ بنالے کوئی ہم میں سے کسی کو رب اللہ کے سوا پھر اگر وہ روگردانی کریں (اس سے) تو تم کہہ دو گواہ رہنا (اے اہل کتاب) کہ ہم مسلمان ہیں۔

Verse 65 — Surah Al-Imran 3:65

اے اہل کتاب! کیوں جھگڑتے ہو تم ابراہیم کے بارے میں حا لانکہ نہیں اتاری گئی تورات اور انجیل مگر ان کے بعد کیا (اتنا بھی) تم نہیں سمجھ سکتے ۔

Verse 66 — Surah Al-Imran 3:66

سنتے ہو! تم وہ لوگ ہو جو جھگڑتے رہے ہو (اب تک) ان باتوں میں جن کا تمھیں کچھ نہ کچھ علم تھا پس (اب) کیوں جھگڑنے لگے ہو ان باتوں میں نہیں ہے تمھیں جن کا کچھ علم اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

Verse 67 — Surah Al-Imran 3:67

نہ تھے ابراہیم یہودی اور نہ نصرانی بلکہ وہ ہر گمراہی سے الک رہنے والے مسلمان تھے اور نہ ہی وہ شرک کرنے والوں میں سے تھے۔

Verse 68 — Surah Al-Imran 3:68

بیشک نزدیک تر لوگ ابراہیم (علیہ السلام) سیوہ تھے جنھوں نے ان کی پیروی کی نیز یہ نبی (کریم) اور جو (اس نبی پر) ایمان لائے اور اللہ تعالیٰ مددگار ہے مومنوں کا۔

Verse 69 — Surah Al-Imran 3:69

دل سے چاہتا ہے ایک گروہ اہل کتاب سے کہ کسی طرح گمراہ کردیں تمھیں اور نہیں گمراہ کرتے مگر اپنے آپ کو اور وہ ( اس حقیقت) کو نہیں سمجھتے۔

Verse 70 — Surah Al-Imran 3:70

اے اہل کتاب! کیوں انکار کرتے ہو اللہ کی آیتوں کا حالانکہ تم خود گواہ ہو۔

Verse 71 — Surah Al-Imran 3:71

اے اہل کتاب کیوں ملاتے ہو حق کو باطل کے ساتھ اور (کیوں ) چھپاتے ہو حق کو حا لا نکہ تم جانتے ہو۔

Verse 72 — Surah Al-Imran 3:72

کہا ایک گروہ نے اہل کتاب سے کہ ایمان لے آؤ اس (کتاب) پر جو اتاری گئی ایمان والوں پر صبح کے وقت اور انکار کردو اس کا سر شام شاید (اس طرح) وہ (اسلام سے) برگشتہ ہوجائیں

Verse 73 — Surah Al-Imran 3:73

(ایک دوسرے کو تاکید کرتے ہیں) ۔ کہ مت مانوں کسی کی بات سوائے ان لوگوں کے جو پیروی کرتے ہیں تمہارے دین کی ۔ فرمائیے ہدایت تو وہی ہے جو اللہ کی ہدایت ہو ( اور یہ بھی نہ ماننا کہ ) دیا جاسکتا ہے کسی کو جیسے تمھیں دیا گیا یا کوئی حجت لاسکتا ہے تم پر تمہارے رب کے پاس (اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) فرمادیجیے کہ فضل (وکرم) تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے دیتا ہے جسے چاہا ہے اور اللہ تعالیٰ وسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے۔

Verse 74 — Surah Al-Imran 3:74

خاص کرلیتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہتا ہے اور اللہ تعالی صاحب فضل عظیم ہے۔

Verse 75 — Surah Al-Imran 3:75

اور اہل کتاب سے بعض ایسے (دیانتدار) ہیں کہ اگر تو امانت رکھے اس کے پاس ایک ڈھیر (سونے چاندی کا) تو ادا کردے اسے تمہاری طرف اور ان میں سے بعض وہ بھی ہیں کہ اگر تو امانت رکھے اس کے پاس ایک اشرفی تو واپس نہ کرے گا اسے بھی تری طرف مگر جب تک تو اس کے سر پر کھڑا رہے اس (بد دیانتی) کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے ہم پر ان پڑھوں کے معاملہ میں کوئی گرفت اور یہ لوگ کہتے ہیں اللہ پر جھوٹ حالانکہ وہ جانتے ہیں۔

Verse 76 — Surah Al-Imran 3:76

ہاں کیوں نہیں جس نے پورا کیا اپنا وعدہ اور پرہیزگار بنا تو بےشک اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے پرہیزگاروں سے۔

Verse 77 — Surah Al-Imran 3:77

بے شک جو لوگ خریدتے ہیں اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی سی قیمت یہ وہ (بد نصیب ) ہیں کہ کچھ حصہ نہیں ان کے لیے آخرت میں اور بات تک نہ کرے گا ان سے اللہ تعالیٰ اور دیکھے گا بھی نہیں ان کی طرف قیامت کے روز اور نہ پاک کرے گا انھیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

Verse 78 — Surah Al-Imran 3:78

اور بےشک ان میں ایک فریق وہ ہے جو مروڑتے ہیں اپنی زبانوں کو کتاب کے ساتھ تاکہ تم خیال کرنے لگو (ان کی) اس (اُلٹ پھیر) کو بھی اصل کتاب سے حالاناکہ وہ کتاب سے نہیں اور وہ کہتے ہیں یہ بھی اللہ کی طرف سے (اُترا) ہے حالانکہ وہ نہیں ہے اللہ کے پاس سے اور وہ کہتے ہیں اللہ پر جھوٹ جان بوجھ کر ۔

Verse 79 — Surah Al-Imran 3:79

نہیں ہے مناسب کسی انسان کے لیے کہ (جب) عطا فرمادے اسے اللہ تعالیٰ کتاب اور حکومت اور نبوت تو پھر وہ کہنے لگے لگوں سے کہ بن جاؤ میرے بندے اللہ کو چھوڑ کر ( وہ تو یہ کہے گا کہ) بن جاؤ اللہ والے اس لیے کہ تم دوسروں کو تعلیم دیتے رہتے تھے کتاب کی اور بوجہ اس کے کہ تم خود بھی اسے پڑھتے تھے۔

Verse 80 — Surah Al-Imran 3:80

اور وہ (مقبول بندہ) نہیں حکم دے گا تمھیں اس بات کا کہ بنالو فرشتوں اور پیغمروں کو خدا (تم خود سوچو) کیا وہ حکم دے سکتا ہے تمھیں کفر کرنے کا بعد اس کے تم مسلمان بن چکے ہو۔

Verse 81 — Surah Al-Imran 3:81

اور یاد کرو جب لیا اللہ تعالیٰ نے انبیاء سے پختہ وعدہ کہ قسم ہے تمھیں اس کی جو دوں میں تم کو کتاب اور حکمت سے پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول جو تصدیق کرنے والا ہو ان (کتابوں) کی جو تمہارے پاس ہیں تم ضرور ضرور ایمان لانا اس پر اور ضرور ضرور مدد کرنا اس کی (اس کے بعد) فرمایا کیا تم نے اقرار کرلیا اور اٹھا لیا تم نے اس پر میرا بھاری ذمہ؟ سب نے عرض کی ہم نے اقرار کیا (اللہ) نے فرمایا تو گواہ رہنا اور میں (بھی) تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔

Verse 82 — Surah Al-Imran 3:82

پھر جو کوئی پھرے اس سے (پختہ عہد) کے بعد تو ہوی لوگ فاسق ہیں ۔

Verse 83 — Surah Al-Imran 3:83

کیا اللہ کے دین کے سوا (کوئی اور دین) تلاش کرتے ہیں حالانکہ اسی کے حضور سرجھکا دیا ہے ہر چیز نے جو آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی سے یا مجبوری سے اور اسی کی طرف وہ سب لوٹائے جائیں گے۔

Verse 84 — Surah Al-Imran 3:84

آپ فرمائیے ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو اتارا گیا ہم پر اور جو اتارا گیا ابراہیم، اِسمعیل، اِسحٰق، یعقوب اور ان کے بیٹوں پر اور جو کچھ دیا گی موسیٰ ، عیسیٰ اور (دوسرے) انبیاء کو ان کے رب کی طرف سے نہی فرق کرتے ہم کسی کے درمیان ان میں سے اور ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں۔

Verse 85 — Surah Al-Imran 3:85

اور جو تلاش کرے گا اسلام کے بغیر کوئی (اور) دین تو وہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اس سے اور وہ قیامت کو زیاں کاروں میں سے ہوگا۔

Verse 86 — Surah Al-Imran 3:86

کیسے ہوسکتا ہے کہ ہدایت دے اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو جنھوں نے کفر اختیار کر لیا ایمان لے آنے کے بعد اور وہ (پہلے خود) گواہی دے چکے تھے کہ رسول سچا ہے اور آچکی تھیں ان کے پاس کھلی نشانیاں اور اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا ظالم لوگوں کو۔

Verse 87 — Surah Al-Imran 3:87

ایسوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر پھٹکار پڑتی رہے اللہ کی فرشتوں کی اور سب انسانوں کی۔

Verse 88 — Surah Al-Imran 3:88

ہمیشہ رہیں اسی پھٹکار میں نہ ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ انھیں مہلت دی جائے گی ۔

Verse 89 — Surah Al-Imran 3:89

مگر وہ لوگ جنھوں نے (سچے دل سے) توبہ کرلی اس کے بعد اور اپنی اصلاح کرلی تو بیشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے (انھیں بخش دے گا) ۔

Verse 90 — Surah Al-Imran 3:90

یقیناً وہ لوگ جنھوں نے کفر اختیار کیا ایمان لانے کے بعد پھر بڑھتے چلے گئے کفر میں ہرگز نہ قبول کی جائے گی ان کی توبہ اور یہی لوگ ہیں جو گمراہ ہیں۔

Verse 91 — Surah Al-Imran 3:91

جن لوگوں نے کفر کیا اور مرگئے کفر ہی کی حالت میں تو ہر گز نہ قبول کیا جائے گا ان میں سے کسی سے زمین بھر سونا اگرچہ وہ (اپنی نجات کے لیے) عوض نہ دے اتنا سونا ایسے لوگوں کے لیے عذاب ہے دردناک اور نہیں ہے ان کا کوئی مددگار۔

Verse 92 — Surah Al-Imran 3:92

ہرگز نہ پاسکو گے تم کامل نیکی (کا رتبہ) جب تک نہ خرچ کرو (راہ خدا میں) ان چیزوں سے جن کو تم عزیز رکھتے ہو اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ اے جانتا ہے۔

Verse 93 — Surah Al-Imran 3:93

سب کھانے کی چیزیں حلال تھیں بنی اسرائیل کے لیے مگر وہ جسے حرام کیا اسرائیل نے اپنے آپ پر اس سے پہلے کہ نازل کی گئی تورات آپ فرماؤ لاؤ تورات پھر پڑھو اے اگر تم سچے ہو۔

Verse 94 — Surah Al-Imran 3:94

پس جو بہتا ن لگاتا ہے اللہ تعالیٰ پر جھوٹا اس کے بعد تو وہی ظالم ہیں۔

Verse 95 — Surah Al-Imran 3:95

آپ کہہ دیجیے سچ فرمایا ہے اللہ نے پس پیروی کرو تم ملت ابراہیم کی جو ہر اطل سے الگ تھلگ تھے اور (بالکل) نہ تھے وہ شرک کرنے والوں میں سے۔

Verse 96 — Surah Al-Imran 3:96

بے شک پہلا (عبادت) خانہ جو بنایا گیا لوگوں کے لیے وہی ہے جو مکہ میں ہے بڑا برکت والا ہدایت (کا سرچشمہ) ہے سب جہانوں کے لیے۔

Verse 97 — Surah Al-Imran 3:97

اس میں روشن نشانیاں ہیں (ان میں سے ایک) مقام ابراہیم ہے اور جو بھی داخل ہو ا اس میں ہوجاتا ہے (ہر خطرہ سے) محفوظ اور اللہ کے لیے فرض ہے لوگوں پر حج اس گھرکا جو طاقت رکھتا ہو وہاں تک پہنچنے کی کی اور جو شخص (اِس کے باوجود) انکار کرے تو بےشک اللہ بےنیاز ہے سارے جہان سے ۔

Verse 98 — Surah Al-Imran 3:98

آپ فرمائیے اے اہل کتاب! کیوں انکار کرتے ہو اللہ کی آیتوں کا اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

Verse 99 — Surah Al-Imran 3:99

آپ فرمائیے اے اہل کتاب! تم کیوں روکتے ہو اللہ کی راہ سے اسے جو ایمان لاچکا ۔ تم چاہتے ہو کہ اس راہ (راست) کو ٹیڑھا بنادو حالانکہ تم خود ( اس کی راستی کے) گواہ ہو اور نہیں ہے اللہ بےخبر ان (کرتوتوں ) سے جو تم کرتے ہو۔

Verse 100 — Surah Al-Imran 3:100

اے ایمان والوں! اگر تم کہا مانو گے ایک گورہ کا اہل کتاب سے (تو نتیجہ یہ ہوگا کہ ) لوٹا کر چھوڑیں گے تمھیں تمہارے ایمان قبول کرنے کے بعد کافروں میں۔

Verse 101 — Surah Al-Imran 3:101

اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تم (اب پھر) کفر کرتنے لگو حالانکہ تم وہ ہو کہ پڑھی جاتی ہیں تم پر اللہ کی آیتیں اور تم میں اللہ کا رسول بھی تشریف فرما ہے اور جو مضبوطی سے پکڑتا ہے اللہ (کے دامن) کو تو ضرور پہنچایا جاتا ہے اسے سیدھی راہ تک۔

Verse 102 — Surah Al-Imran 3:102

اے ایمان والو! ڈرو اللہ سے جیسے حق ہے اس سے ڈرنے کا اور (خبردار) نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔

Verse 103 — Surah Al-Imran 3:103

اور مضبوطی سے پکڑ لو الہ کی رسی سب مل کر اور جدا جدا نہ ہوتا اور یادرکھو اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت ( جو اس نے ) تم پر فرمائی جب کہ تم تھے (آپس میں) دُشمن پس اس نے الفت پیداد کردی تمہارے دلوں میں تو بن گئے تم اس کے احسان سے بھائی بھائی اور تم (کھڑے) تھے دوزخ کے گھڑے کے کنارے پر اس نے بچا لیا تمھیں اس (میں گرنے) سے یونہی بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیتیں تاکہ تم ہدایت پر ثابت رہو۔

Verse 104 — Surah Al-Imran 3:104

ضرور ہونی چاہیے تم یں ایک جماعت جو بلایا کرے نیکی کی طرف اور حکم دیا کرے بھلائی کا اور روکا کرے بدی سے اور یہی لوگ کامیاب و کامران ہیں۔

Verse 105 — Surah Al-Imran 3:105

اور نہ ہوجانا ان لوگوں کی طرح جو فرقوں میں بٹ گئے تھے اور اختلاف کرنے لگے تھے اس کے بعد بھی جب آچکی تھیں ان کے پاس روشن نشانیاں اور ان لوگوں کے لیے عذاب ہے بہت بڑا۔

Verse 106 — Surah Al-Imran 3:106

اُس دن (جب کہ ) روشن ہوں گے کئی چہرے اور کالے ہوں گے کئی منہ تو ہو جو سیاہ رو ہوں گے ( انھیں کہا جائے گا ) کہ کیا تم نے کفر اختیار کرلیا تھا ایمان لانے کے بعد تو اب چکھو عذاب (کی اذیتیں) بوجہ اس کفر کے جو تم کیا کرتے تھے۔

Verse 107 — Surah Al-Imran 3:107

اور وہ خوش نصیب لوگ روشن ہوں گے جن کے چہرے تو ہو رحمت الٰہی (کے سائے ) میں ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

Verse 108 — Surah Al-Imran 3:108

یہ اللہ کی آیتیں ہیں ہم پڑ ھ کر سناتے ہیں آپ کو ٹھیک ٹھیک اور نہیں ارادہ رکھتا اللہ ظلم کرنے کا دینا والوں پر۔

Verse 109 — Surah Al-Imran 3:109

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ کی طرف ہی لوٹائے جائیں گے سارے کام۔

Verse 110 — Surah Al-Imran 3:110

ہو تم بہتری ین امت جو ظاہر کی گئی ہے لگوں (کی ہدایت و بھلائی) کے لیے تم حکم دیتے ہو نیکی کا اور روکتے ہو برائی سے اور ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور اگر ایمان لاتے اہل کتاب تو یہ بہتر ہوتا ان کے لیے بعض ان میں سے مومن ہیں اور زیادہ ان میں سے نافرمان ہیں۔

Verse 111 — Surah Al-Imran 3:111

(کچھ ) نہ بگار سکیں گے تمہار سوائے ستانے کے اور اگر لڑیں گے تمہارے ساتھ تو پھیر دیں گے تمہاری طرف اپنی پیٹھیں (اور بھاگ جائیں گے) پھر ان کی امداد نہ کی جائے گی۔

Verse 112 — Surah Al-Imran 3:112

مسلط کردی گئی ہے ان پر ذلت ( و رسوائی) جہاں کہیں یہ پائے گئے بجز اس کے اللہ کے عہد سے یا لوگوں کے عہد سے (کہیں پناہ مل جائے) اور یہ مستحق ہوگئے ہیں غضبِ الٰہی کے اور مسلط کردی گئی ہے ان پر محتاجی یہ اس لیے کہ وہ کفر کیا کرتے تھے اللہ کی آیتوں سے اور قتل کیا کرتے تھے انبیاء کو ناحق یہ (بیباکی) اس لیے تھی کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور سرکش کیا کرتے تھے۔

Verse 113 — Surah Al-Imran 3:113

سب یکساں نہیں اہل کتاب سے ایک گورہ حق پر قائم ہے یہ تلاوت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی رات کے اوقات میں اور وہ سجدے کرتے ہیں۔

Verse 114 — Surah Al-Imran 3:114

ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور روز آخرت پر اور حکم دیتے ہیں بھلائی کا اور منع کرتے ہیں برائی سے اور جلدی کرتے ہیں نیکیوں میں اور یہ لوگ نیکو کاروں میں سے ہیں ۔

Verse 115 — Surah Al-Imran 3:115

اور جو یہ کریں گے نیک کاموں سے تو ہرگز انکر نہ کیا جائے گا س کار خیر کا اور اللہ جاننے والا ہے پرہیزگاروں کو۔

Verse 116 — Surah Al-Imran 3:116

بے شک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہرگز نہ بچاسکیں گے انھیں ان کے مال اور نہ ان کی اولاد اللہ ( کے عذاب) سے ذرہ بھر اور وہ دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

Verse 117 — Surah Al-Imran 3:117

مثال اس کی جو وہ خرچ کرتے ہیں اس دینوی زندگی میں ایسی ہے جیسے ہوا ہو اس میں سخت ٹھنڈک ہو (اور) لگے وہ ایک قوم کے کھیت کو جنھوں نے ظلم کیا ہو اپنے نفسوں پر پھر فنا کردے اس کھیت کو ۔ نہیں ظلم کیا ان پر اللہ تعالیٰ نے ۔ لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔

Verse 118 — Surah Al-Imran 3:118

اے ایمان والو! نہ بناؤ اپنا راز دار غیروں کو وہ کسر نہ اٹھارکھیں گے تمھیں خرابی پہنچانے میں وہ پسند کرتے ہیں جو چیز تمھیں ضرر دے۔ ظاہر ہوچکا ہے بغض ان کے مونہوں (یعنی زبانوں) سے اور جو چھپا رکھا ہے ان کے سینوں نے وہ اس سے بھی بڑا ہے ہم نے صاف بیان کردیں تمہارے لیے اپنی آیتیں اگر تم سمجھدار ہو۔

Verse 119 — Surah Al-Imran 3:119

سنو! تم وہ (پاک دل) ہو کہ محبت کرتے ہو ان سے اور وہ (ذرا) محبت نہیں کرتے تم سے اور مانتے ہو تم سب کتابوں کو اور جب وہ تم سے ملتے ہیں کہتے ہیں ہم ایمان لائے ہیں اور جب وہ تنہا ہوتے ہیں تو چباتے ہیں تم پر انگلیاں غصہ سے (اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) آپ فرمائیے مرجاؤ اپنے غصہ (کی آگ میں جل کر ) یقیناً اللہ خوب جاننے والا ہے دلوں کی باتوں کا ۔

Verse 120 — Surah Al-Imran 3:120

(ان کا حال تو یہ ہے کہ) اگر پہنچے تمھیں کوئی بھلائی تو بری لگی ہے انھیں اور اگر پہنچے تمھیں کوئی تکلیف تو (بڑے) خوش ہوتے ہیں اس سے اور اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو نہ نقصان پہنچائے گا تمھیں ان کا فریب کچھ بھی بےشک اللہ تعالیٰ جو کچھ وہ کرتے ہیں (اس ) کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

Verse 121 — Surah Al-Imran 3:121

اور یاد کرو (اے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) جب صبح سویرے رخصت ہوئے آپ اپنے گھروں سے (اور میدان احد میں) بٹھارہے تھے مومنوں کو مورچوں پر جنگ کے لیے اور اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

Verse 122 — Surah Al-Imran 3:122

جب ارادہ کیا دو جماعتوں نے تم میں سے کہ ہمت ہاردیں حالانکہ اللہ تعالیٰ دونوں کا مددگار تھا ( اسلیے اس نے اس لغزش سے بچالیا) اور صرف اللہ پر توکل کرنا چاہیے مومنوں کو ۔

Verse 123 — Surah Al-Imran 3:123

اور بےشک مدد کی تھی تمہاری اللہ تعالیٰ نے (میدانِ ) بدر میں حالانکہ تم بالکل کمزور تھے پس ڈرتے رہا کرو اللہ سے تاکہ تم (اس بروقت امداد کا ) شکر ادا کرسکو۔

Verse 124 — Surah Al-Imran 3:124

(عجب سہانی گھڑی تھی) جب آ پ فرمارہے تھے مومنوں سے کیا تمھیں یہ کافی نہیں کہ تمہاری مدد فرمائے تمہارا پروردگار تین ہزار فرشتوں سے جو اتارے گئے ہیں۔

Verse 125 — Surah Al-Imran 3:125

ہاں کافی ہے بشرطیکہ تم صبر و اور تقویٰ اختیار کرو اور (اگر ) آدھمکیں کفار تم پر تیزی سے اسی وقت تو مدد کرے گا تمہاری تمہارا رب پانچ ہزار فرشتوں سے جو نشان والے ہیں۔

Verse 126 — Surah Al-Imran 3:126

اور نہیں بنایا فرشتوں کے اترنے کو اللہ نے مگر خوش خبری تمہارے لیے اور تاکہ مطئمن ہوجائیں تمہارے دل اس سے اور (حقیقت تو یہ ہے ) کہ نہیں ہے فتح و نصرت مگر اللہ کی طرف سے جو بس پر غالب (اور ) حکمت والا ہے۔

Verse 127 — Surah Al-Imran 3:127

(یہ مدد اس لیے تھی) تاکہ کاٹ دے ایک حصہ کافروں سے یا ذلیل کردے ان کو پس لوٹ جائیں نامراد ہو کر۔

Verse 128 — Surah Al-Imran 3:128

نہیں ہے آپ کا اس معاملہ میں کوئی دخل چاہے تو اللہ ان کی توبہ قبول فرمالے اور چاہے تو عذاب دے انھیں پس بےشک وہ ظالم ہیں۔

Verse 129 — Surah Al-Imran 3:129

اور اللہ ہی کا جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے بخش دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور سزا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ بہت بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

Verse 130 — Surah Al-Imran 3:130

اے ایمان والو! نہ کھاؤ سود دوگنا چو گنا کرکے اور ڈرتے رہو اللہ سے تاکہ تم فلاح پاجاؤ ۔

Verse 131 — Surah Al-Imran 3:131

اور بچو آگ سے جو تیار کی گئی ہے کافروں کے لیے ۔

Verse 132 — Surah Al-Imran 3:132

اور اطاعت کرو اللہ کی اور رسول (کریم) کی تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

Verse 133 — Surah Al-Imran 3:133

اور دوڑو بخشش کی طرف جو تمہارے رب کی طرف سے ہے اور (دوڑو) جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین جتنی ہے جو تیار کی گئی ہے پرہیزگاروں کے لیے ۔

Verse 134 — Surah Al-Imran 3:134

وہ (پرہیز گار) جو خرچ کرتے ہیں خوشحالی میں اور تنگ دستی میں اور ضبط کرنے والے ہیں غصہ کو اور درگزر کرنے والے ہیں لوگوں سے اور اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے احسان کرنے والوں سے۔

Verse 135 — Surah Al-Imran 3:135

اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جب کر بیٹھیں کوئی برا کام یا ظلم کریں اپنے آپ پر ( تو فوراً) ذکر کرنے لگتے ہیں اللہ کا اور معافی مانگنے لگتے ہیں اپنے گناہوں کی اور کون بخشتا ہے گناہوں کو اللہ کے سوا اور نہیں اصرار کرتے اس جو ان سے سرزد ہوا اس حال میں کہ وہ جانتے ہیں۔

Verse 136 — Surah Al-Imran 3:136

یہ وہ (نیک بخت) ہیں جن کا بدلہ بخشش ہے اپنے رب کی طرف سے اور جنت رواں ہیں جن کے نیچے ندیاں ہمیشہ رہیں گے ان میں کیا ہی اچھا بدلہ ہے کام کرنے والوں کا ۔

Verse 137 — Surah Al-Imran 3:137

گزرچکے ہیں تم سے پہلے (قوموں کے عروج و زوال کے ) قاعدے پس سیر کرو زمین میں اور (اپنی آنکھوں سے ) دیکھو کہ کیسا انجام ( دعوت حق کو) جھٹلانے والوں کا ۔

Verse 138 — Surah Al-Imran 3:138

یہ ایک بیان ہے لوگوں (کے سمجھانے ) کے لیے اور ہدایت اور نصیحت ہے پرہیزگاروں کے واسطے۔

Verse 139 — Surah Al-Imran 3:139

اور نہ (تو) ہمت ہارو اور نہ غم کرو اور تمھیں سر بلند ہوگے اگر تم سچے مومن ہو۔

Verse 140 — Surah Al-Imran 3:140

(اُحد میں) اگر لگی ہے تمھیں چوٹ تو (بدر میں) لگ چکی ہے (تمہاری دشمن) قوم کو بھی چوٹ ایسی ہی اور یہ (ہارجیت کے ) دن ہم پھراتے رہتے ہیں ! انھیں لوگوں میں اور یہ اس لیے کہ دیکھ لے اللہ تعالیٰ ان کو جو ایمان لائے اور بنالے تم یں سے کچھ شہید اور اللہ تعالیٰ دوست نہیں رکھتا ظالموں کو۔

Verse 141 — Surah Al-Imran 3:141

اور اس لیے کہ نکھاردے اللہ تعالیٰ اُنھیں جو ایمان لائے اور مٹادے کافرو کو۔

Verse 142 — Surah Al-Imran 3:142

کیا تم گمان رکھتے ہو کہ (یونہی ) داخل ہوجاؤگے جنت میں حالانکہ ابھی دیکھا ہی نہیں اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے جہاد کیا تم میں سے اور دیکھا ہی نہیں (آزمائش میں ) صبر کرنے والو کو ۔

Verse 143 — Surah Al-Imran 3:143

اور تم تو آرزو کرتے تھے موت کی اس سے پہلے کہ تم اس سے ملاقات کرو سو اب دیکھ لیا تم نے اس کو اور تم (آنکھوں سے ) مشاہدہ کررہے ہو۔

Verse 144 — Surah Al-Imran 3:144

اور نہیں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) (مصطفٰے) مگر (اللہ کے) رسول گزر چکے ہیں آپ سے پہلے کئی رسول تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں یا شیہد کردیے جائیں پھر جاؤگے تم الٹے پاؤ ں (دین اسلام سے ) اور جو پھرتا ہے الٹے پاؤں تو نہیں بگاڑ سکے گا اللہ کا کچھ بھی اور جلد ی اجر دے گا اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کو ۔

Verse 145 — Surah Al-Imran 3:145

اور نہیں ممکن کہ کوئی شخص مرے بغیر اللہ کی اجازت کے ۔ لکھا ہوا ہے (موت) کا مقرر وقت۔ اور جو شخص چاہتا ہے دنیا کا فائدہ ہم دیتے ہیں اس کو اس سے اور جو شخص چاہتا ہے آخرت کا فائدہ ہم دیتے ہیں اسے اس مین سے اور ہم جلدی اجر دیں گے (اپنے ) شکر گزار بندوں کو۔

Verse 146 — Surah Al-Imran 3:146

اور کتنے ہی نبی گزرے ہیں کہ جہاد کیا ان کے ہمراہ بہت سے اللہ والوں نے سو نہ ہمت ہاری انھوں نے بوجہ تکلیفوں کے جو پہنچیں انھیں اللہ کی راہ میں اور نہ کمزور ہوئے اور نہ انھوں نے ہار مانی اور اللہ تعالیٰ پیار کرتا ہے (تکلیفوں میں) صبر کرنے والوں سے۔

Verse 147 — Surah Al-Imran 3:147

اور نہیں تھی ان کی گفتگو بغیر اس کے کہ کہا انھوں نے اے ہمارے رب ! بخش دے ہمارے گناہ اور جو زیادتیاں کیں ہم نے اپنے کام میں اور ثابت قدم رکھ ہمیں اور فتح دے ہم کو قوم کفار پر۔

Verse 148 — Surah Al-Imran 3:148

تو دے یا ان کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کا ثواب ( یعنی کامیابی) اور عمدہ ثواب آخرت کا ( یعنی نعیم جنت اور لذت و صل) اور اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے نیکو کاروں سے۔

Verse 149 — Surah Al-Imran 3:149

اے ایمان والو! اگر پیروی کروگے تم کافرورں کی تو وہ پھیر دیں گے تمھیں الٹے پاؤں (کفر کی طرف) تو تم لوٹوگے نقصان اٹھتے ہوئے۔

Verse 150 — Surah Al-Imran 3:150

بلکہ اللہ حامی ہے تمہار ا اور وہ سب سے بہتر مدد فرمانے والا ہے۔

Verse 151 — Surah Al-Imran 3:151

ابھی ہم ڈال دیں گے کافروں کے دلوں میں رعب اس لیے کہ انھوں نے شریک بنالیا اللہ کے ساتھ اس کو جس کے لیے نہیں اتاری اللہ نے کوئی دلیل اور ان کا ٹھکانا آتشِ (جہنم) ہے اور بہت بری جگہ ہے ظالموں کی ۔

Verse 152 — Surah Al-Imran 3:152

اور بےشک سچ کر دیکھایا اللہ نے تم سے اپنا وعدہ جب کہ تم قتل کررہے تھے کافروں کو اس کے حکم سے یہاں تک کہ جب تم بزدل ہوگئے اور جھگڑنے لگے (رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے) حکم کے بارے میں اور نافرمانی کی تم نے اس کے بعد کہ اللہ نے دیکھا دیا تھا تمھیں جو تم پسند کرتے تھے بعض تم سے طلبگار ہیں دنیا کے اور بعض تم میں سے طلبگار ہیں آخرت کے پھر پیچھے ہٹا دیا تمھیں ان کے تعاقب سے تاکہ آزمائے تمھیں اور بےشک اس نے معاف فرمادیا تم کو اور اللہ تعالیٰ بہت فضل و کرم فرمانے والا ہے مومنوں پر۔

Verse 153 — Surah Al-Imran 3:153

یاد کرو جب تم دور بھاگے جارہے تھے اور مڑ کر دیکتھے بھی نہ کسی کو اور رسول کریم بلارہے تھے تمھیں پیچھے سے پس اللہ پہنچایا تمھیں غم کے بدلے غم تاکہ تم نہ غمگین ہو اس چیز پر جو کھوگئی ہے تم سے اور نہ اس مصیبت پر جو پہنچی ہے تمھیں اور اللہ تعالیٰ خبردار ہے جو کچھ تم کررہے ہو۔

Verse 154 — Surah Al-Imran 3:154

پھر اتاری اللہ نے تم پر غم و اندوہ کے بعد راحت (یعنی) غنودگی جو چھارہی تھی ایک گروہ پر تم میں سے اور ایک جماعت ایسی تھی جسے فکر پڑا ہوا تھا (صرف) اپنی جانوں کا بدگمانی کررہے تھے اللہ کے ساتھ بلا وجہ عہد جایلیت کی بد گمانی کہتے کیا ہمارا بھی اس کام میں کچھ دخل ہے آپ فرمائیے ! اختیار تو سارا اللہ کا ہے چھپائے ہوئے ہیں اپنے دلوں میں جو ظاہر نہیں کرتے آپ پر کہتے ہیں (اپنے دلوں میں) اگر ہوتا ہمارا کام اس کام میں کچھ دخل تو نہ مارے جاتے ہم یہاں (اِس بےدردی سے) آپ فرمائیے کہ اگر تم (بیٹھے) ہوتے اپنے گھروں میں تو ضرور نکل آتے (وہاں سے) و ہ لوگ لکھا جاچکا تھا جن کا قتل ہونا اپنی قتل گاہوں کی طرف (یہ سارے مصائب اس لیے تھے) تاکہ آزمالے اللہ تعالیٰ جو کچھ تمہارے سینوں میں (چھپا) تھا اور صاف کردے جو (میل کچیل) تمہارے دلوں میں تھا اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے سینوں کے رازوں کا ۔

Verse 155 — Surah Al-Imran 3:155

بے شک وہ لوگ جو پیٹھ پھیر گئے تھے تم سے اس روز جب مقابلہ میں نکلے تھے دونوں لشکر تو پھسلا دیا تھا انھیں شیطان نے بوجہ ان کے کسی عمل کے اور بےشک (اب) معاف فرمادیا ہے اللہ تعالیٰ نے انھیں یقیناً اللہ بہت بخشنے والا نہایت حلم والا ہے۔

Verse 156 — Surah Al-Imran 3:156

اے ایمان والو! نہ ہوجاؤ ان لوگوں کی طرح جنھوں نے کفر اختیار کیا اور جو کہتے تھے اپنے بھائیوں کو جب وہ سفر کرتے کسی علاقہ میں یا ہوتے تھے جہاد کرنے والے کہ اگر وہ ہوتے ہمارے پاس تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے تاکہ بنائے اللہ تعالیٰ اس (خیال باطل) کو حسرت (کا باعث) ان کے دلوں میں اور (درحقیقت) اللہ ہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو دیکھ رہا ہے۔

Verse 157 — Surah Al-Imran 3:157

اور واقعی اگر تم قتل کیے جاؤ راہ خد امیں یا تم مرجاؤ تو اللہ کی بخشش اور رحمت (جو تمھیں نصیب ہوگی) بہت بہتر ہے اس سے جو وہ جمع کرتے ہیں۔

Verse 158 — Surah Al-Imran 3:158

اور اگر تم مرگئے یا مارے گئے تو اللہ کے حضور جمع کیے جاؤ گے۔

Verse 159 — Surah Al-Imran 3:159

پس ( صرف) اللہ کی رحمت سے آپ نرم ہوگئے ہیں ان کے لیے اور اگر ہوتے آپ تند مزاج سخت دل تو یہ لوگ منتشر ہوجاتے آپ کے آس پاس سے تو آپ درگزر فرمائیے ان سے اور بخشش طلب کیجیے ان کے لیے اور صلاح مشورہ کیجیے ان سے کام میں اور جب آپ ارادہ کرلیں (کسی بات کا) تو پھر توکل کرو اللہ پر بےشک اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے توکل کرنے والوں سے۔

Verse 160 — Surah Al-Imran 3:160

اگر مدد فرمائے تمہاری اللہ تعالیٰ تو کوئی غالب نہیں آسکتا تم پر اور اگر وہ (ساتھ ) چھوڑدے تمہار ا تو کون ہے جو مدد کرے گا تمہاری اس کے بعد اور صرف اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے ایمان والوں کو۔

Verse 161 — Surah Al-Imran 3:161

اور نہیں ہے کسی نبی کی یہ شان کہ خیانت کرے اور جو کوئی خیانت کرے گا تو لے آئے گا (اپنے ہمراہ) خیانت کی ہوئی چیز کو قیامت کے دن پھر پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ہر نفس کو جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا۔

Verse 162 — Surah Al-Imran 3:162

تو کیا جس نے پیروی کی رضائے الٰہی کی اس کی طرح ہوسکتا ہے جو حقدار بن گیا اللہ کی ناراضگی کا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور یہ بہت بری پلٹنے کی جگہ ہے۔

Verse 163 — Surah Al-Imran 3:163

لوگ درجہ بدرجہ ہیں اللہ کے ہاں اور اللہ تعالیٰ دیکھنے والا ہے جو وہ کرتے ہیں۔

Verse 164 — Surah Al-Imran 3:164

یقیناً بڑا احسان فرمایا اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر جب اس بھیجا ان میں ایک رسول انھیں میں سے پڑھتا ہے ان پر اللہ کی آیتیں اور پاک کرتا ہے انھیں اور سکھاتا ہے انھیں قرآن اور سنت اگرچہ وہ اس سے پہلے یقیناً کھلی گمراہی میں تھے۔

Verse 165 — Surah Al-Imran 3:165

کیا جب پہنچی تمھیں کچھ مصیبت حالانکہ تم پہنچا چکے ہو (دشمن کو) اس سے دگنی تو تم کہ اٹھے کہا سے آپڑی مصیبت ؟ فرمائیے یہ تمہاری طرف سے ہی آئی ہے بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

Verse 166 — Surah Al-Imran 3:166

اور وہ مصیبت جو پہنچی تھی تمھیں اس روز جب مقابلہ کو نکلے تھے دونوں لشکر تو وہ اللہ کے حم سے پہنچی تھی اور (مقصد یہ تھا کہ) دیکھ لے اللہ تعالیٰ مومنوں کو۔

Verse 167 — Surah Al-Imran 3:167

اور دیکھ لے جو نفاق کرتے تھے اور کہا گیا ان سے آؤ لڑو اللہ کی راہ میں یا بچاؤ کرو (اپنے شہر کا ) بولے اگر ہم جانتے کہ جنگ ہوگی تو ہم ضرور تمہاری پیروی کرتے۔ وہ کفر سے اس روز زیادہ قریب تھے بہ نسبت ایمان کے کہتے ہیں اپنے منہ سے (ایسی باتیں) جو نہیں ہیں ان کے دلوں میں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جسے وہ چھپاتے ہیں۔

Verse 168 — Surah Al-Imran 3:168

جنھوں نے کہا اپنے بھائیوں کے بارے میں حالانکہ وہ خود (گھر) بیٹھے تھے کہ اگر وہ ہمارا کہا مانتے تو نہ مارے جاتے آپ فرمائیے ذرا دور تو کر دکھاؤ اپنے آپ سے موت کو اگر تم سچے ہو۔

Verse 169 — Surah Al-Imran 3:169

اور ہر گز خیال نہ کرو کہ وہ جو قتل کیے گئے ہیں اللہ کی راہ میں وہ مردہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس (اور) رزق دئیے جاتے ہیں ۔

Verse 170 — Surah Al-Imran 3:170

شاد ہیں ان (نعمتوں) سے جو عنایت فرمائیے ہیں انھیں اللہ نے اپنے فضل و کر م سے اور خوش ہو رہے ہیں بسبب ان لوگوں کے جو ابھی تک نہیں آملے ان سے ان کے پیچھے رہ جانے والوں سے کہ نہیں ہے کوئی خوف ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

Verse 171 — Surah Al-Imran 3:171

خوش ہورہے ہیں اللہ کی نعمت اور اس کے فضل پر اور (اس پر) کہ اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرتا اجر ایمان والوں کا۔

Verse 172 — Surah Al-Imran 3:172

جنھوں نے لبیک کھا اللہ اور رسول کی دعوت پر اس کے بعد کہ لگ چکا تھا انھیں (گہرا) زخم ان کے لیے جنھوں نے نیکی کی ان میں سے اور تقویٰ اختیار کیا اجر عظیم ہے۔

Verse 173 — Surah Al-Imran 3:173

یہ وہ لوگ ہیں کہ جب کہا انھیں لوگوں نے کہ بلاشبہ کافروں نے جمع کر رکھا ہے تمہارے لیے (بڑا سامان اور لشکر) سو ڈرو ان سے تو (اس دھمکی نے) بڑھادیا ان کے (جوشِ ) ایمان کو اور انھوں نے کہا کافی ہے ہمیں اللہ تعالیٰ اور وہ بہترین کارساز ہے۔

Verse 174 — Surah Al-Imran 3:174

(ان کے عزم و توکل کا نتیجہ یہ نکلا کہ) واپس آئے یہ لوگ اللہ کے انعام اور فضل کے ساتھ نہ چھوا ان کو کسی برائی نے اور پیروی کرتے رہے رضائے الٰہی کی اور اللہ تعالیٰ صاحب فضل عظیم ہے۔

Verse 175 — Surah Al-Imran 3:175

یہ تو شیطان ہے جو ڈراتا ہے (تمھیں) اپنے دوستوں سے پس نہ ڈرو ان سے بلکہ مجھ سے ہی ڈرا کرو اگر تم مومن ہو۔

Verse 176 — Surah Al-Imran 3:176

اور (اے جان عالم) نہ غمزدہ کریں آپ کو جو جلدی سے کفر میں داخل ہوئے ہیں بےشک یہ لوگ نہیں نقصان پہنچاسکتے اللہ تعالیٰ کو کچھ بھی چاہتا ہے اللہ تعالیٰ کہ نہ رکھے ان کے لیے ذرا حصہ آخرت کی نعمتوں سے اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔

Verse 177 — Surah Al-Imran 3:177

بے شک جنھوں نے خرید لیا کفر کو ایمان کے عوض میں ہرگز نقصان نہ پہنچا سکیں گے اللہ تعالیٰ کو کچھ بھی اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

Verse 178 — Surah Al-Imran 3:178

اور نہ خیال کریں جو کفر کررہے ہیں کہ ہم جو مہلت دے رہے ہیں انھیں یہ بہتر ہے ان کے لیے صرف اس لیے ہم تو انھیں مہلت دے رہے ہیں کہ وہ اور زیادہ کرلین گناہ اور ان کے لیے عذاب ہے ، ذلیل و خوار کرنے والا۔

Verse 179 — Surah Al-Imran 3:179

نہیں ہے اللہ (کی شان) کہ چھوڑے رکھے مومنوں کو اس حال پر جس پر تم اب ہو جب تک الگ الگ نہ کردے پلید کو پاس سے اور نہیں ہے اللہ (کی شان) کہ آگاہ کرے تمھیں غیب پر البتہ اللہ (غیب کے علم کے لیے) چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہتا ہے سو ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر اور اگر تم ایمان لے آئے اور تقویٰ اختیار کیا تو تمہارے لیے اجر عظیم ہے۔

Verse 180 — Surah Al-Imran 3:180

اور ہرگز گمان نہ کریں جو بخل کرتے ہیں اس میں جو دے رکھا ہے انھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کر م سے کہ یہ بخل بہتر ہے ان کے لیے بلکہ یہ بخل بہت بڑا ہے ان کے لیے۔ طوق پہنایا جائے گا انھیں وہ مال جس میں انھوں نے بخل کیا قیامت کے دن اور اللہ کے لیے ہے میراث آسمانوں اور زمین کی اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کررہے ہو اس سے خبردار ہے۔

Verse 181 — Surah Al-Imran 3:181

بے شک سنا اللہ نے قول ان (گستاخوں) کا جنھوں نے کہا کہ اللہ مفلس ہے حالانکہ ہم غنی ہیں ہم لکھ لیں گے جو انھوں نے کہا نیز قتل کرنا ان کا انبیاء کو ناحق (بھی لکھ لیا جائے گا) اور ہم کہیں گے کہ (اب ) چکھوں آگ کے عذاب (کا مزہ) ۔

Verse 182 — Surah Al-Imran 3:182

یہ بدلہ ہے اس کا جو اگے بھیجا ہے تمہارے ہاتھوں نے اور یقیناً اللہ تعالیٰ نہیں ظلم کرنے والا اپنے بندوں پر ۔

Verse 183 — Surah Al-Imran 3:183

یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے کہا کہ تحقیق اللہ نے اقرار لیا ہے ہم سے کہ ہم نہ ایمان لائیں کسی رسول پر یہاں تک کہ وہ لائے ہمارے پا س ایک قربانی کھالے اس کو آگ آپ فرمائیے آچکے تمہارے پاس رسول مجھ سے پہلے بھی دلیلوں کے ساتھ اور اس معجزہ کے ساتھ بھی جو تم کہ رہے ہو تو کیوں قتل کیا تھا تم نے انھیں اگر تم سچے ہو۔

Verse 184 — Surah Al-Imran 3:184

اگر یہ جھٹلاتے ہیں آپ کو تو (یہ کوئی نئی بات نہیں) بےشک جھٹلائے گئے رسول آپ سے پہلے جو لائے تھے معجزات اور صحیفے اور روشن کتاب۔

Verse 185 — Surah Al-Imran 3:185

ہر نفس چکھنے والا ہے موت کو اور پوری مل کر رہے گی تمھیں تمہاری مزدوری قیامت کے دن پس جو شخص بچالیا گیا آتشِ (دوزخ) سے اور داخل کیا گیا جنت میں تو ہو کامیاب ہوگیا اور نہیں یہ دینوی زندگی مگر سازو سامان دھوکہ میں ڈالنے والا۔

Verse 186 — Surah Al-Imran 3:186

یقیناً تم آزمائے جاؤ گے اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے اور یقیناً تم سنوگے ان سے جنھیں دی گئی کتاب تم سے پہلے اور ان لوگوں سے جنھوں نے شرک کیا اذیت دینے والی بہت باتیں ار اگر تم (ان دل آزاریوں پر ) صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بےشک یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔

Verse 187 — Surah Al-Imran 3:187

اور یاد کرو جب لیا اللہ تعالیٰ نے پختہ وعدہ ان لوگوں سے جنھیں کتاب دی گئی کہ تم ضرور کھول کر بیان کرنا اسے لوگوں سے اور نہ چھپانا اس کو تو (اُلٹا) انھوں نے پھینک دیا اس وعدہ کو اپنی پشتوں کے پیچھے اور انھوں نے خرید لی اس کے عوض تھوڑی سی قیمت سو بہت بری ہے وہ چیز جو وہ خرید رہے ہیں۔

Verse 188 — Surah Al-Imran 3:188

ہر گز آپ یہ خیال نہ کریں کہ جو لوگ خوش ہوتے ہیں اپنی کارستانیوں پر اور پسند کرتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے ایسے کاموں سے جو انھوں نے کیے ہی نہیں تو ان کے متعلق یہ گمان نہ کرو کہ وہ امن میں ہیں عذاب سے ان کے لیے ہی دردناک عذاب ہے۔

Verse 189 — Surah Al-Imran 3:189

اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

Verse 190 — Surah Al-Imran 3:190

بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے بدلتے رہنے میں (بڑی) نشانیاں ہیں اہل عقل کے لیے۔

Verse 191 — Surah Al-Imran 3:191

وہ عقل مند جو یاد رکتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ کو کھڑے ہوئے اور بیٹھے ہوئے اور پہلوؤں پر لیٹے ہوئے اور غور کرتے رہتے ہیں آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور (تسلیم کرتے ہیں) اے ہمارے مالک ! نہیں پیدا فرمایا تونے یہ (کارخانہ حیات) بیکار۔ پاک ہے تو (ہر عیب سے ) بچالے ہمیں آگ کے عذاب سے۔

Verse 192 — Surah Al-Imran 3:192

اے ہمارے رب! بےشک تو نے جسے داخل کردیا آگ میں تو رسوا کردیا تونے اسے اور نہیں ظالموں کا کوئی مددگار۔

Verse 193 — Surah Al-Imran 3:193

اے ہمارے رب! بیشک سنا ہم نے منادی کرنے والے کو بلند آزاز سے بلات تھا یمان کی طرف اور کہتا تھا کہ ایمان لاؤ اپنے رب پر تو ہم ایمان لے آئے اے ہمارے مالک ! پس بخش دے ہمارے گناہ اور مٹادے ہم سے ہماری برائیاں اور اپنے کرم سے موت دے ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ۔

Verse 194 — Surah Al-Imran 3:194

اے ہمارے رب عطا فرما ہمیں جو وعدہ کیا تونے ہمارے ساتھ اپنے رسولوں کے ذریعہ اور نہ رسوا کر ہمیں قیامت کے دن بےشک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

Verse 195 — Surah Al-Imran 3:195

تو قبول فرمالی ان کی التجا ان کے پروردگار نے ( اور فرمایا) کہ میں ضائع نہیں کرتا عمل کسی عمل کرنے والے کا تم سے خواہ مرد ہو یا عورت بعض تمہارا جز ہے بعض کی تو وہ جنھوں نے ہجرت کی اور نکالے گئے اپنے وطن سے اور ستائے گئے میری راہ میں اور (دین کے لیے) لڑے اور مارے گئے تو ضرور میں مٹادوں گا ان (کے نامہ عل) سے انکے گناہ اور ضرور داخل کرونگا انھیں باغوں میں بہتی ہیں جن کے نیچے نہریں (یہ) جزا ہے (ان کے اعمال حسنہ ) کی اللہ کے ہاں اور اللہ ہی کے پاس بہترین ثواب ہے۔

Verse 196 — Surah Al-Imran 3:196

(اے سننے والے!) دھوکہ میں ڈالے تجھے چلنا پھرنا ان کا جنھوں نے کفر کیا ملکوں میں ۔

Verse 197 — Surah Al-Imran 3:197

یہ لطف اندوزی تھوڑی مدت کے لیے ہے پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور یہ بہت بری ٹھیر نے کی جگہ ہے۔

Verse 198 — Surah Al-Imran 3:198

لیکن وہ جو ڈرتے رہے اپنے رب سے ان کے لیے باغ ہوں گے رواں ہوں گی ان کے نیچے ندیاں (وہ متقی) ہمیشہ رہیں گے ان میں یہ تو مہمانی ہوگی اللہ کی طرف سے اور جو (ابدی نعمتیں) اللہ کے پاس ہیں وہ بہت بہتر نیکوں کے لیے۔

Verse 199 — Surah Al-Imran 3:199

اور بیشک بعض اہل کتاب ایسے ہیں جو ایمان لاتے ہیں اللہ تعالیٰ پر اور اس پر جو اتارا گیا تمہاری طرف اور جو اتارا گیا ان کی طرف عاجزی (اور نیاز مندی) کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں سودا کرتے اللہ کی آیتوں کا حقیر قیمت پر یہ وہ ہیں جن کا ثواب اُ ن کے رب کے پاس ہے بےشک اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔

Verse 200 — Surah Al-Imran 3:200

اے ایمان والو! صبر کور اور ثابت قدم رہو (دشمن کے مقابلے میں) اور کمر بستہ ہو (خدمت دین کے لیے ) اور (ہمیشہ ) اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ (اپنے مقصد میں) کامیاب ہوجاؤ