اس سے پہلے لوگوں کی ہدایت کے لیے اور اتار ا فرقان کو بےشک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اللہ کی آیتوں کے ساتھ ان کے لیے سخت عذاب ہے اور اللہ تعالیٰ غالب ہے بدلہ لینے والا ہے۔
وہی ہے جس نے نازل فرمائی آپ پر کتاب اس کی کچھ آیتیں محکم ہیں وہی کتاب کی اصل ہیں اور دوسری آیتیں متشابہ ہیں پس وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے سو وہ پیروی کرتے ہیں (صرف) ان آیتوں کی جو متشابہ ہیں قرآن سے (ان کا مقصد) فتنہ انگیزی اور (غلط) معنی کی تلاش ہے اور نہیں جانتا اس کے صحیح معنی کو بغیر اللہ تعالیٰ کے اور پختہ علم والے کہتے ہیں ہم ایمان لائے ساتھ اس کے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے اور نہیں نصیحت قبول کرتے مگر عقل مند ۔
(اُن کا طریقہ) مثل طریقہ آل فرعون کے اور ان لوگوں کے تھا جو ان سے پہلے تھے انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو پس پکڑلیا انھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے۔
بے شک تمہارے لیے (عبرت کا ) نشان (ان ) دو گروہوں میں جو ملے تھے (میدان بدر میں ) ایک گروہ لڑتا تھا اللہ کی راہ میں اور دوسرا کافر تھا دیکھ رہے تھے مسلمان انھیں اپنے سے دوچند (اپنی) آنکھوں سے اور اللہ مدد کرتا ہے اپنی نصرت سے جس کی چاہتا ہے یقیناً اس واقعہ (بدر) میں بہت بڑا سبق ہے آنکھ والوں کے لیے۔
آراستہ کی گئی لوگوں کے لیے ان خواہشوں کی محبت یعنی عورتیں اور بیٹے اور خزانے جمع کیے ہوئے سونے اور چاندی کے اور گھوڑے نشان لگائے ہوئے اور چوپائے اور کھیتی یہ سب کچھ سامان ہے دنیوی زندگی کا اور اللہ ہے جس کے پاس اچھا ٹھکانا ہے۔
اے میرے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) !) آپ فرمائیے کیا بتاؤں میں تمھیں اس سے بہتر چیز ان کے لیے جو متقی بنے ان کے رب کے ہاں باغات ہیں رواں ہیں ان کے نیچے نہریں ہمیشہ رہیں گے (متقی) ان مین اور (ان کے لیے ) پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور حاصل ہوں گی انھیں خوشنودی اللہ کی اور اللہ تعالیٰ خوب دیکھنے والا ہے اپنے بندوں کو۔
(یہ مصیبتوں) میں صبر کرنے والے ہیں اور (ہر حالت ) میں سچ بولنے والے ہیں اور (عبادت میں ) عاجزی کرنے والے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنے والے ہیں سحری کے وقت۔
شہادت دی اللہ تعالیٰ نے (اس بات کی کہ) بیشک نہیں کوئی خدا سوائے اس کے (یہی گواہی دی) فرشتوں نے اور اہل علم نے ( ان سب نے گواہی دی کہ وہ ) قائم فرمانے والا ہے عدل و انصاف کو نہیں کوئی معبود سوائے اس کے (جو) عزت والا حکمت والا ہے۔
بے شک دین اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے اور نہیں جھگڑا کیا جن کو دی گئی کتاب مگر بعد اس کے کہ آگیا تھا ان کے پاس صحیح علم (اور یہ جھگڑا) باہمی حسد کی وجہ سے تھا اور جو انکار کرتا ہے اللہ کی آیتوں کا تو بےشک اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والا ہے ۔
پھر اگر (اب بھی) جھگڑا کریں گے آپ سے تو آپ کہہ دیجیے کہ میں نے جھکا دیا ہے اپنا سر اللہ کے سامنے اور جنھوں نے میری پیروی کی اور کہیے ان لوگوں سے جن کو کتاب دی گئی اور ان پڑھوں سے کہ کیا تم اسلام لائے پس اگر وہ اسلام لے آئیں جب تو ہدایت پاگئے اور اگر منہ پھیر لیں تو اتنا ہی آپ کے ذمہ تھا کہ آپ پیغام پہنچا دیں ( جو آپ نے پہنچا دیا) اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے (اپنے ) بندوں کو۔
بے شک جو لوگ انکار کرتے ہیں اللہ کی آیتوں کا اور قتل کرتے ہیں انبیاء کو ناحق اور قتل کرتے ہیں ان لوگوں کو جو حکم کرتے ہیں عدل و انصاف کا لوگوں میں سے تو خوشخبری دو انھیں دردناک عذاب کی۔
کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کی طرف جنھیں دیا گیا کچھ حصہ کتاب کا (جب) بلائے جاتے ہیں کتاب الٰہی کی طرف تاکہ تصفیہ کردے ان کے باہمی جھگڑوں کا تو پیٹھ پھیر لیتا ہے ایک گروہ ان مین سے درآلخالیکہ وہ روگردانی کرنے والے ہوتے ہیں ۔
اس (بیباکی) وجہ یہ تھی کہ وہ کہتے تھے کہ بالکل نہ چھوئے گی ہمیں دوزخ کی آگ مکر چند دن گنے ہوئے اور فریب میں مبتلا رکھا انھیں ان کے دین کے معاملہ میں ان باتوں نے جو وہ خود گھڑا کرتے تھے۔
سو کیا حال ہوگا (اُن کا) جب ہم جمع کریں گے انھیں اس روز جس کے آنے میں کوئی شک نہیں اور پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ہر شخص کو جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم ہیں کیا جائے گا۔
(اے حبیب یوں) عرض کرو اے اللہ ! اے مالک سب ملکوں کے! تو بخش دیتا ہے ملک جسے چاہتا ہے اور چھین لیتا ہے ملک جس سے چاہتا ہے اور عزت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ذلیل کرتا ہے جس کو چاہتا ہے تیرے ہی ہاتھ میں ہے ساری بھلائی بےشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
تو داخل کرتا ہے رات (کا حصہ) دن میں اور داخل کرتا ہے تو دن (کا حصہ) رات میں اور نکالتا ہے تو زندہ کو مردہ سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے اور رزق دیتا ہے جسے چاہتا ہے بےحساب ۔
نہ بنائیں مومن کافروں کو اپنا دوست مومنوں کو چھوڑ کر اور جس نے کیا یہ کام پس نہ رہا (اس کا) اللہ سے کوئی تعلق مگر اس حالت میں کہ تم کرنا چاہو ان سے اپنا بچاؤ اور ڈراتا ہے تمھیں اللہ تعالیٰ اپنی ذات سے (یعنی غضب سے) اور اللہ ہی کی طرف (سب نے) لوٹ کر جانا ہے۔
فرمادیجیے کہ اگر تم چھپاؤ جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے یا ظاہر کرو اسے ، جانتا ہے اسے اللہ تعالیٰ اور جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔
جس دن موجود پائے گا ہر نفس جو کی تھی اس نے نیکی اپنے سامنے اور جو کچھ کی تھی اس نے برائی تمنا کرے گا کہ کاش اس کے درمیان اور اس دن کے درمیان (حائل ہوتی) مدت دراز اور ڈراتا ہے تمھیں اللہ اپنے (عذاب) سے اور اللہ تعالیٰ بہت مہربان ہے اپنے بندوں پر۔
(اے محبوب) آپ فرمائیے (انھیں کہ) اگر تم واقعی محبت کرتے ہو اللہ سے تو میری پیروی کرو (تب ) محبت فرمانے لگے گا تم سے اللہ اور بخش دے گا تمہارے لیے تمہارے گناہ اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔
جب عرض کی عمران کی بیوی نے اے میرے رب! میں نذر مانتی ہوں تیرے لیے جو میرے شکم میں ہے (سب کاموں سے ) آزاد کرکے سو قبول فرمالے ( یہ نذرانہ) مجھ سے بےشک تو ہی (دعائیں) سننے والا
(نیتوں کو ) جاننے والا ہے پھر جب اس نے جنا اسے (تو حیرت و حسرت سے) بولی اے رب! میں نے تو جنم دیا ایک لڑکی کو اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو اس نے جنا اور نہیں تھا لڑکا (جس کا وہ سوال کرتی تھی) مانند اس لڑکی کے اور (ماں نے کہا) میں نے نام رکھا ہے اس کا مریم اور میں تیری پناہ میں دیتی ہوں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود (کے شر) سے۔
پھر قبول فرمایا اسے اس کے رب نے بڑی ہی اچھی قبولیت کے ساتھ اور پروان چڑھایا اسے اچھا پروان چڑھانا اور نگراں بنادیا اس کا زکریا کو جب بھی جاتے مریم کے پاس زکریا (اس کی) عبادت گاہ میں (تو) موجود پاتے اس کے پاس کھانے کی چیزیں (ایک بار) بولے اے مریم! کہاں سے تمہارے لیے آتا ہے یہ (رزق) مریم بولیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے آتا ہے بےشک اللہ تعالیٰ رزق دیتا ہے جسے چاہتا ہے بےحساب۔
پھر آواز دی ان کو فرشتوں نے جب کہ وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے (اپنی ) عبادت گاہ میں کہ بےشک اللہ تعالیٰ خوشخبری دیتا ہے آپ کو یحیی ٰ کی جو تصدیق کرنے والا ہوگا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرمان کی اور سردار ہوگا اور ہمیشہ عورتوں سے بچنے والا ہوگا اور نبی ہوگا صالحین سے۔
زکریا کہنے لگے اے رب ! کیونکر ہوگا میرے ہاں لڑکا حالانکہ آ لیا ہے مجھے بڑھاپے نے اور میری بیوی بانچھ ہے فرمایا بات اسی طرح ہے (جیسی تم نے کہی) لیکن اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔
عرض کی اے میرے رب! مقرر فرمادے میرے لیے کوئی نشانی فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ نہ بات کرسکوگے لوگوں سے تین دن مگر اشارہ سے اور یاد کرو اپنے پروردگار کو بہت اور پاکی بیان کرو (اس کی ) شام اور صبح۔
یہ واقعات غیب کی خبروں میں سے ہیں ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف اور نہ تھے آپ ان کے پاس جب پھینک رہے تھے وہ (مجاور) اپنی قلمیں ( یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ ) کون ان میں سے سرپرستی کرے مریم کی اور نہ تھے آپ ان کے پاس جب وہ آپس میں جھگڑرہے تھے۔
جب کہا فرشتوں نے اے مریم ! اللہ تعالیٰ بشارت دیتا ہے تجھے ایک حکم کی اپنے پاس سے اس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا معزز ہوگا دنیا اور آخرت میں اور (اللہ کے) مقربین سے ہوگا۔
مریم بولیں اے میرے پروردگار ! کیونکر ہو سکتا ہے میرے ہاں بچہ ؟ حالانکہ ہاتھ تک نہیں لگایا مجھ کسی انسان نے فرمایا بات یونہی ہے ( جیسے تم کہتی ہو لیکن) اللہ پیدا فرماتا ہے جو چاہتا ہے جب فیصلہ فرماتا ہے کسی کام (کے کرنے) کا تو بس اتنا ہی کہتا ہے اسے کہ ہو جا تو وہ فورا! ہوجاتا ہے۔
اور (بھیجے گا اسے) رسول بنا کر بنی اسرائیل کی طرف (وہ انھیں آکر کہے گا ) کہ میں آگیا ہوں تمہارے پاس ایک معجزہ لے کر تمہارے رب کی طرف سے (وہ معجزہ یہ ہے کہ) میں بنا دیتا ہوں تمہارے لیے کیچڑ سے پرندے کی سی صورت پھر پھونکتا ہوں اس (بے جان صورت) میں تو وہ فورا! ہوجاتی ہے پرندہ اللہ کے حکم سے اور میں تندرست کردیتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور (لاعلاج) کوڑھی کو اور میں زندہ کرتا ہوں مردے کو اللہ کے حکم سے اور بتلاتا ہوں تمھیں جو کچھ تم کھاتے ہو اور جو کچھ تم جمع کر رکھتے ہو اپنے گھروں میں بےشک ان معجزوں میں (میری صداقت کی ) بڑی نشانی ہے تمہارے لیے اگر تم ایمان دار ہو۔
اور میں تصدیق کرنے والا ہوں اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتاب تورات کی اور تاکہ میں حلال کردوں تمہارے لی بعض وہ چیزیں جو (پہلے) حرام کی گئی تھیں تم پر اور لایا ہوں تمہارے پاس ایک نشانی تمہارے رب کی طرف سے سو ڈرو اللہ تعالیٰ سے اور میری اطاعت کرو۔
پھر جب محسوس کیا عیسیٰ ( علیہ السلام) نے ان سے کفر (و انکار) (تو) آپ نے کہا کون ہے میرے پروردگار کی راہ میں؟ ( یہ سن کر ) کہا حواریوں نے کہ ہم مدد کرنے والے ہیں اللہ (کے دین) کی ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر اور (اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ) آپ گواہ ہو جائیو کہ ہم (حکمِ الٰہی کے سامنے) سر جھکائے ہوئے ہیں۔
اور یہویوں نے بھی (مسیح کو قتل کرنے کی) خفیہ تدبیر کی اور (مسیح کو بچانے کے لیے) اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی۔ اور اللہ سب سے بہتر (اور مؤثر) خفیہ تدبیر کرنے والا ہے۔
یاد کرو جب فرمایا اللہ نے اے عیسیٰ ( علیہ السلام) ! یقیناً میں پوری عمر تک پہنچادوں گا تمھیں اور اٹھانے والا ہوں تمھیں اپنی طرف اور پاک کرنے والا ہوں تمھیں ان لوگوں (کی تہمتوں) سے جنھوں نے (تیرا) انکار کیا اور بنانے والا ہوں ان کو جنھوں نے تیری پیروی کی غالب کفر کرنے والوں پر قیامت تک پھر میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے تم نے پس (اس وقت) میں فیصلہ کروں گا تمہارے درمیان (ان امور کا ) جن میں تم اختلاف کرتے رہتے تھے۔
پھر جو شخص جھگڑا کرے آپ سے اس بارے میں اس کے بعد کہ آگیا آپ کے پاس (یقینی) علم تو آپ کہہ دیجیے کہ آؤ ہم بلائیں اپنے بیٹوں کو بھی اور تمہارے بیٹوں کو بھی اپنی عورتوں کو بھی اور تمہاری عورتوں کو بھی اپنے آپ کو بھی اور تم کو بھی پھر بڑی عاجزی سے (اللہ کے حضور) التجا کریں پھر بھیجیں اللہ تعالیٰ کی لعنت جھوٹوں پر ۔
(میرے نبی!) آپ کہیے اے اہل کتاب آؤ اس بات کی طرف جو یکساں ہے ہمارے اور تمہارے درمیان (وہ یہ کہ) ہم نہ عبادت کریں (کسی کی) سوائے اللہ کے اور نہ شریک ٹھیرائیں اس کے ساتھ کیس چیز کو اور نہ بنالے کوئی ہم میں سے کسی کو رب اللہ کے سوا پھر اگر وہ روگردانی کریں (اس سے) تو تم کہہ دو گواہ رہنا (اے اہل کتاب) کہ ہم مسلمان ہیں۔
سنتے ہو! تم وہ لوگ ہو جو جھگڑتے رہے ہو (اب تک) ان باتوں میں جن کا تمھیں کچھ نہ کچھ علم تھا پس (اب) کیوں جھگڑنے لگے ہو ان باتوں میں نہیں ہے تمھیں جن کا کچھ علم اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
بیشک نزدیک تر لوگ ابراہیم (علیہ السلام) سیوہ تھے جنھوں نے ان کی پیروی کی نیز یہ نبی (کریم) اور جو (اس نبی پر) ایمان لائے اور اللہ تعالیٰ مددگار ہے مومنوں کا۔
کہا ایک گروہ نے اہل کتاب سے کہ ایمان لے آؤ اس (کتاب) پر جو اتاری گئی ایمان والوں پر صبح کے وقت اور انکار کردو اس کا سر شام شاید (اس طرح) وہ (اسلام سے) برگشتہ ہوجائیں
(ایک دوسرے کو تاکید کرتے ہیں) ۔ کہ مت مانوں کسی کی بات سوائے ان لوگوں کے جو پیروی کرتے ہیں تمہارے دین کی ۔ فرمائیے ہدایت تو وہی ہے جو اللہ کی ہدایت ہو ( اور یہ بھی نہ ماننا کہ ) دیا جاسکتا ہے کسی کو جیسے تمھیں دیا گیا یا کوئی حجت لاسکتا ہے تم پر تمہارے رب کے پاس (اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) فرمادیجیے کہ فضل (وکرم) تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے دیتا ہے جسے چاہا ہے اور اللہ تعالیٰ وسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے۔
اور اہل کتاب سے بعض ایسے (دیانتدار) ہیں کہ اگر تو امانت رکھے اس کے پاس ایک ڈھیر (سونے چاندی کا) تو ادا کردے اسے تمہاری طرف اور ان میں سے بعض وہ بھی ہیں کہ اگر تو امانت رکھے اس کے پاس ایک اشرفی تو واپس نہ کرے گا اسے بھی تری طرف مگر جب تک تو اس کے سر پر کھڑا رہے اس (بد دیانتی) کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے ہم پر ان پڑھوں کے معاملہ میں کوئی گرفت اور یہ لوگ کہتے ہیں اللہ پر جھوٹ حالانکہ وہ جانتے ہیں۔
بے شک جو لوگ خریدتے ہیں اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی سی قیمت یہ وہ (بد نصیب ) ہیں کہ کچھ حصہ نہیں ان کے لیے آخرت میں اور بات تک نہ کرے گا ان سے اللہ تعالیٰ اور دیکھے گا بھی نہیں ان کی طرف قیامت کے روز اور نہ پاک کرے گا انھیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
اور بےشک ان میں ایک فریق وہ ہے جو مروڑتے ہیں اپنی زبانوں کو کتاب کے ساتھ تاکہ تم خیال کرنے لگو (ان کی) اس (اُلٹ پھیر) کو بھی اصل کتاب سے حالاناکہ وہ کتاب سے نہیں اور وہ کہتے ہیں یہ بھی اللہ کی طرف سے (اُترا) ہے حالانکہ وہ نہیں ہے اللہ کے پاس سے اور وہ کہتے ہیں اللہ پر جھوٹ جان بوجھ کر ۔
نہیں ہے مناسب کسی انسان کے لیے کہ (جب) عطا فرمادے اسے اللہ تعالیٰ کتاب اور حکومت اور نبوت تو پھر وہ کہنے لگے لگوں سے کہ بن جاؤ میرے بندے اللہ کو چھوڑ کر ( وہ تو یہ کہے گا کہ) بن جاؤ اللہ والے اس لیے کہ تم دوسروں کو تعلیم دیتے رہتے تھے کتاب کی اور بوجہ اس کے کہ تم خود بھی اسے پڑھتے تھے۔
اور وہ (مقبول بندہ) نہیں حکم دے گا تمھیں اس بات کا کہ بنالو فرشتوں اور پیغمروں کو خدا (تم خود سوچو) کیا وہ حکم دے سکتا ہے تمھیں کفر کرنے کا بعد اس کے تم مسلمان بن چکے ہو۔
اور یاد کرو جب لیا اللہ تعالیٰ نے انبیاء سے پختہ وعدہ کہ قسم ہے تمھیں اس کی جو دوں میں تم کو کتاب اور حکمت سے پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول جو تصدیق کرنے والا ہو ان (کتابوں) کی جو تمہارے پاس ہیں تم ضرور ضرور ایمان لانا اس پر اور ضرور ضرور مدد کرنا اس کی (اس کے بعد) فرمایا کیا تم نے اقرار کرلیا اور اٹھا لیا تم نے اس پر میرا بھاری ذمہ؟ سب نے عرض کی ہم نے اقرار کیا (اللہ) نے فرمایا تو گواہ رہنا اور میں (بھی) تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔
کیا اللہ کے دین کے سوا (کوئی اور دین) تلاش کرتے ہیں حالانکہ اسی کے حضور سرجھکا دیا ہے ہر چیز نے جو آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی سے یا مجبوری سے اور اسی کی طرف وہ سب لوٹائے جائیں گے۔
آپ فرمائیے ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو اتارا گیا ہم پر اور جو اتارا گیا ابراہیم، اِسمعیل، اِسحٰق، یعقوب اور ان کے بیٹوں پر اور جو کچھ دیا گی موسیٰ ، عیسیٰ اور (دوسرے) انبیاء کو ان کے رب کی طرف سے نہی فرق کرتے ہم کسی کے درمیان ان میں سے اور ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں۔
کیسے ہوسکتا ہے کہ ہدایت دے اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو جنھوں نے کفر اختیار کر لیا ایمان لے آنے کے بعد اور وہ (پہلے خود) گواہی دے چکے تھے کہ رسول سچا ہے اور آچکی تھیں ان کے پاس کھلی نشانیاں اور اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا ظالم لوگوں کو۔
جن لوگوں نے کفر کیا اور مرگئے کفر ہی کی حالت میں تو ہر گز نہ قبول کیا جائے گا ان میں سے کسی سے زمین بھر سونا اگرچہ وہ (اپنی نجات کے لیے) عوض نہ دے اتنا سونا ایسے لوگوں کے لیے عذاب ہے دردناک اور نہیں ہے ان کا کوئی مددگار۔
ہرگز نہ پاسکو گے تم کامل نیکی (کا رتبہ) جب تک نہ خرچ کرو (راہ خدا میں) ان چیزوں سے جن کو تم عزیز رکھتے ہو اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ اے جانتا ہے۔
سب کھانے کی چیزیں حلال تھیں بنی اسرائیل کے لیے مگر وہ جسے حرام کیا اسرائیل نے اپنے آپ پر اس سے پہلے کہ نازل کی گئی تورات آپ فرماؤ لاؤ تورات پھر پڑھو اے اگر تم سچے ہو۔
اس میں روشن نشانیاں ہیں (ان میں سے ایک) مقام ابراہیم ہے اور جو بھی داخل ہو ا اس میں ہوجاتا ہے (ہر خطرہ سے) محفوظ اور اللہ کے لیے فرض ہے لوگوں پر حج اس گھرکا جو طاقت رکھتا ہو وہاں تک پہنچنے کی کی اور جو شخص (اِس کے باوجود) انکار کرے تو بےشک اللہ بےنیاز ہے سارے جہان سے ۔
آپ فرمائیے اے اہل کتاب! تم کیوں روکتے ہو اللہ کی راہ سے اسے جو ایمان لاچکا ۔ تم چاہتے ہو کہ اس راہ (راست) کو ٹیڑھا بنادو حالانکہ تم خود ( اس کی راستی کے) گواہ ہو اور نہیں ہے اللہ بےخبر ان (کرتوتوں ) سے جو تم کرتے ہو۔
اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تم (اب پھر) کفر کرتنے لگو حالانکہ تم وہ ہو کہ پڑھی جاتی ہیں تم پر اللہ کی آیتیں اور تم میں اللہ کا رسول بھی تشریف فرما ہے اور جو مضبوطی سے پکڑتا ہے اللہ (کے دامن) کو تو ضرور پہنچایا جاتا ہے اسے سیدھی راہ تک۔
اور مضبوطی سے پکڑ لو الہ کی رسی سب مل کر اور جدا جدا نہ ہوتا اور یادرکھو اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت ( جو اس نے ) تم پر فرمائی جب کہ تم تھے (آپس میں) دُشمن پس اس نے الفت پیداد کردی تمہارے دلوں میں تو بن گئے تم اس کے احسان سے بھائی بھائی اور تم (کھڑے) تھے دوزخ کے گھڑے کے کنارے پر اس نے بچا لیا تمھیں اس (میں گرنے) سے یونہی بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیتیں تاکہ تم ہدایت پر ثابت رہو۔
اور نہ ہوجانا ان لوگوں کی طرح جو فرقوں میں بٹ گئے تھے اور اختلاف کرنے لگے تھے اس کے بعد بھی جب آچکی تھیں ان کے پاس روشن نشانیاں اور ان لوگوں کے لیے عذاب ہے بہت بڑا۔
اُس دن (جب کہ ) روشن ہوں گے کئی چہرے اور کالے ہوں گے کئی منہ تو ہو جو سیاہ رو ہوں گے ( انھیں کہا جائے گا ) کہ کیا تم نے کفر اختیار کرلیا تھا ایمان لانے کے بعد تو اب چکھو عذاب (کی اذیتیں) بوجہ اس کفر کے جو تم کیا کرتے تھے۔
ہو تم بہتری ین امت جو ظاہر کی گئی ہے لگوں (کی ہدایت و بھلائی) کے لیے تم حکم دیتے ہو نیکی کا اور روکتے ہو برائی سے اور ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور اگر ایمان لاتے اہل کتاب تو یہ بہتر ہوتا ان کے لیے بعض ان میں سے مومن ہیں اور زیادہ ان میں سے نافرمان ہیں۔
(کچھ ) نہ بگار سکیں گے تمہار سوائے ستانے کے اور اگر لڑیں گے تمہارے ساتھ تو پھیر دیں گے تمہاری طرف اپنی پیٹھیں (اور بھاگ جائیں گے) پھر ان کی امداد نہ کی جائے گی۔
مسلط کردی گئی ہے ان پر ذلت ( و رسوائی) جہاں کہیں یہ پائے گئے بجز اس کے اللہ کے عہد سے یا لوگوں کے عہد سے (کہیں پناہ مل جائے) اور یہ مستحق ہوگئے ہیں غضبِ الٰہی کے اور مسلط کردی گئی ہے ان پر محتاجی یہ اس لیے کہ وہ کفر کیا کرتے تھے اللہ کی آیتوں سے اور قتل کیا کرتے تھے انبیاء کو ناحق یہ (بیباکی) اس لیے تھی کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور سرکش کیا کرتے تھے۔
ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور روز آخرت پر اور حکم دیتے ہیں بھلائی کا اور منع کرتے ہیں برائی سے اور جلدی کرتے ہیں نیکیوں میں اور یہ لوگ نیکو کاروں میں سے ہیں ۔
بے شک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہرگز نہ بچاسکیں گے انھیں ان کے مال اور نہ ان کی اولاد اللہ ( کے عذاب) سے ذرہ بھر اور وہ دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
مثال اس کی جو وہ خرچ کرتے ہیں اس دینوی زندگی میں ایسی ہے جیسے ہوا ہو اس میں سخت ٹھنڈک ہو (اور) لگے وہ ایک قوم کے کھیت کو جنھوں نے ظلم کیا ہو اپنے نفسوں پر پھر فنا کردے اس کھیت کو ۔ نہیں ظلم کیا ان پر اللہ تعالیٰ نے ۔ لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔
اے ایمان والو! نہ بناؤ اپنا راز دار غیروں کو وہ کسر نہ اٹھارکھیں گے تمھیں خرابی پہنچانے میں وہ پسند کرتے ہیں جو چیز تمھیں ضرر دے۔ ظاہر ہوچکا ہے بغض ان کے مونہوں (یعنی زبانوں) سے اور جو چھپا رکھا ہے ان کے سینوں نے وہ اس سے بھی بڑا ہے ہم نے صاف بیان کردیں تمہارے لیے اپنی آیتیں اگر تم سمجھدار ہو۔
سنو! تم وہ (پاک دل) ہو کہ محبت کرتے ہو ان سے اور وہ (ذرا) محبت نہیں کرتے تم سے اور مانتے ہو تم سب کتابوں کو اور جب وہ تم سے ملتے ہیں کہتے ہیں ہم ایمان لائے ہیں اور جب وہ تنہا ہوتے ہیں تو چباتے ہیں تم پر انگلیاں غصہ سے (اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) آپ فرمائیے مرجاؤ اپنے غصہ (کی آگ میں جل کر ) یقیناً اللہ خوب جاننے والا ہے دلوں کی باتوں کا ۔
(ان کا حال تو یہ ہے کہ) اگر پہنچے تمھیں کوئی بھلائی تو بری لگی ہے انھیں اور اگر پہنچے تمھیں کوئی تکلیف تو (بڑے) خوش ہوتے ہیں اس سے اور اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو نہ نقصان پہنچائے گا تمھیں ان کا فریب کچھ بھی بےشک اللہ تعالیٰ جو کچھ وہ کرتے ہیں (اس ) کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
اور یاد کرو (اے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) جب صبح سویرے رخصت ہوئے آپ اپنے گھروں سے (اور میدان احد میں) بٹھارہے تھے مومنوں کو مورچوں پر جنگ کے لیے اور اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔
جب ارادہ کیا دو جماعتوں نے تم میں سے کہ ہمت ہاردیں حالانکہ اللہ تعالیٰ دونوں کا مددگار تھا ( اسلیے اس نے اس لغزش سے بچالیا) اور صرف اللہ پر توکل کرنا چاہیے مومنوں کو ۔
اور بےشک مدد کی تھی تمہاری اللہ تعالیٰ نے (میدانِ ) بدر میں حالانکہ تم بالکل کمزور تھے پس ڈرتے رہا کرو اللہ سے تاکہ تم (اس بروقت امداد کا ) شکر ادا کرسکو۔
ہاں کافی ہے بشرطیکہ تم صبر و اور تقویٰ اختیار کرو اور (اگر ) آدھمکیں کفار تم پر تیزی سے اسی وقت تو مدد کرے گا تمہاری تمہارا رب پانچ ہزار فرشتوں سے جو نشان والے ہیں۔
اور نہیں بنایا فرشتوں کے اترنے کو اللہ نے مگر خوش خبری تمہارے لیے اور تاکہ مطئمن ہوجائیں تمہارے دل اس سے اور (حقیقت تو یہ ہے ) کہ نہیں ہے فتح و نصرت مگر اللہ کی طرف سے جو بس پر غالب (اور ) حکمت والا ہے۔
اور اللہ ہی کا جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے بخش دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور سزا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ بہت بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔
وہ (پرہیز گار) جو خرچ کرتے ہیں خوشحالی میں اور تنگ دستی میں اور ضبط کرنے والے ہیں غصہ کو اور درگزر کرنے والے ہیں لوگوں سے اور اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے احسان کرنے والوں سے۔
اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جب کر بیٹھیں کوئی برا کام یا ظلم کریں اپنے آپ پر ( تو فوراً) ذکر کرنے لگتے ہیں اللہ کا اور معافی مانگنے لگتے ہیں اپنے گناہوں کی اور کون بخشتا ہے گناہوں کو اللہ کے سوا اور نہیں اصرار کرتے اس جو ان سے سرزد ہوا اس حال میں کہ وہ جانتے ہیں۔
یہ وہ (نیک بخت) ہیں جن کا بدلہ بخشش ہے اپنے رب کی طرف سے اور جنت رواں ہیں جن کے نیچے ندیاں ہمیشہ رہیں گے ان میں کیا ہی اچھا بدلہ ہے کام کرنے والوں کا ۔
(اُحد میں) اگر لگی ہے تمھیں چوٹ تو (بدر میں) لگ چکی ہے (تمہاری دشمن) قوم کو بھی چوٹ ایسی ہی اور یہ (ہارجیت کے ) دن ہم پھراتے رہتے ہیں ! انھیں لوگوں میں اور یہ اس لیے کہ دیکھ لے اللہ تعالیٰ ان کو جو ایمان لائے اور بنالے تم یں سے کچھ شہید اور اللہ تعالیٰ دوست نہیں رکھتا ظالموں کو۔
کیا تم گمان رکھتے ہو کہ (یونہی ) داخل ہوجاؤگے جنت میں حالانکہ ابھی دیکھا ہی نہیں اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے جہاد کیا تم میں سے اور دیکھا ہی نہیں (آزمائش میں ) صبر کرنے والو کو ۔
اور نہیں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) (مصطفٰے) مگر (اللہ کے) رسول گزر چکے ہیں آپ سے پہلے کئی رسول تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں یا شیہد کردیے جائیں پھر جاؤگے تم الٹے پاؤ ں (دین اسلام سے ) اور جو پھرتا ہے الٹے پاؤں تو نہیں بگاڑ سکے گا اللہ کا کچھ بھی اور جلد ی اجر دے گا اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کو ۔
اور نہیں ممکن کہ کوئی شخص مرے بغیر اللہ کی اجازت کے ۔ لکھا ہوا ہے (موت) کا مقرر وقت۔ اور جو شخص چاہتا ہے دنیا کا فائدہ ہم دیتے ہیں اس کو اس سے اور جو شخص چاہتا ہے آخرت کا فائدہ ہم دیتے ہیں اسے اس مین سے اور ہم جلدی اجر دیں گے (اپنے ) شکر گزار بندوں کو۔
اور کتنے ہی نبی گزرے ہیں کہ جہاد کیا ان کے ہمراہ بہت سے اللہ والوں نے سو نہ ہمت ہاری انھوں نے بوجہ تکلیفوں کے جو پہنچیں انھیں اللہ کی راہ میں اور نہ کمزور ہوئے اور نہ انھوں نے ہار مانی اور اللہ تعالیٰ پیار کرتا ہے (تکلیفوں میں) صبر کرنے والوں سے۔
اور نہیں تھی ان کی گفتگو بغیر اس کے کہ کہا انھوں نے اے ہمارے رب ! بخش دے ہمارے گناہ اور جو زیادتیاں کیں ہم نے اپنے کام میں اور ثابت قدم رکھ ہمیں اور فتح دے ہم کو قوم کفار پر۔
تو دے یا ان کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کا ثواب ( یعنی کامیابی) اور عمدہ ثواب آخرت کا ( یعنی نعیم جنت اور لذت و صل) اور اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے نیکو کاروں سے۔
ابھی ہم ڈال دیں گے کافروں کے دلوں میں رعب اس لیے کہ انھوں نے شریک بنالیا اللہ کے ساتھ اس کو جس کے لیے نہیں اتاری اللہ نے کوئی دلیل اور ان کا ٹھکانا آتشِ (جہنم) ہے اور بہت بری جگہ ہے ظالموں کی ۔
اور بےشک سچ کر دیکھایا اللہ نے تم سے اپنا وعدہ جب کہ تم قتل کررہے تھے کافروں کو اس کے حکم سے یہاں تک کہ جب تم بزدل ہوگئے اور جھگڑنے لگے (رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے) حکم کے بارے میں اور نافرمانی کی تم نے اس کے بعد کہ اللہ نے دیکھا دیا تھا تمھیں جو تم پسند کرتے تھے بعض تم سے طلبگار ہیں دنیا کے اور بعض تم میں سے طلبگار ہیں آخرت کے پھر پیچھے ہٹا دیا تمھیں ان کے تعاقب سے تاکہ آزمائے تمھیں اور بےشک اس نے معاف فرمادیا تم کو اور اللہ تعالیٰ بہت فضل و کرم فرمانے والا ہے مومنوں پر۔
یاد کرو جب تم دور بھاگے جارہے تھے اور مڑ کر دیکتھے بھی نہ کسی کو اور رسول کریم بلارہے تھے تمھیں پیچھے سے پس اللہ پہنچایا تمھیں غم کے بدلے غم تاکہ تم نہ غمگین ہو اس چیز پر جو کھوگئی ہے تم سے اور نہ اس مصیبت پر جو پہنچی ہے تمھیں اور اللہ تعالیٰ خبردار ہے جو کچھ تم کررہے ہو۔
پھر اتاری اللہ نے تم پر غم و اندوہ کے بعد راحت (یعنی) غنودگی جو چھارہی تھی ایک گروہ پر تم میں سے اور ایک جماعت ایسی تھی جسے فکر پڑا ہوا تھا (صرف) اپنی جانوں کا بدگمانی کررہے تھے اللہ کے ساتھ بلا وجہ عہد جایلیت کی بد گمانی کہتے کیا ہمارا بھی اس کام میں کچھ دخل ہے آپ فرمائیے ! اختیار تو سارا اللہ کا ہے چھپائے ہوئے ہیں اپنے دلوں میں جو ظاہر نہیں کرتے آپ پر کہتے ہیں (اپنے دلوں میں) اگر ہوتا ہمارا کام اس کام میں کچھ دخل تو نہ مارے جاتے ہم یہاں (اِس بےدردی سے) آپ فرمائیے کہ اگر تم (بیٹھے) ہوتے اپنے گھروں میں تو ضرور نکل آتے (وہاں سے) و ہ لوگ لکھا جاچکا تھا جن کا قتل ہونا اپنی قتل گاہوں کی طرف (یہ سارے مصائب اس لیے تھے) تاکہ آزمالے اللہ تعالیٰ جو کچھ تمہارے سینوں میں (چھپا) تھا اور صاف کردے جو (میل کچیل) تمہارے دلوں میں تھا اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے سینوں کے رازوں کا ۔
بے شک وہ لوگ جو پیٹھ پھیر گئے تھے تم سے اس روز جب مقابلہ میں نکلے تھے دونوں لشکر تو پھسلا دیا تھا انھیں شیطان نے بوجہ ان کے کسی عمل کے اور بےشک (اب) معاف فرمادیا ہے اللہ تعالیٰ نے انھیں یقیناً اللہ بہت بخشنے والا نہایت حلم والا ہے۔
اے ایمان والو! نہ ہوجاؤ ان لوگوں کی طرح جنھوں نے کفر اختیار کیا اور جو کہتے تھے اپنے بھائیوں کو جب وہ سفر کرتے کسی علاقہ میں یا ہوتے تھے جہاد کرنے والے کہ اگر وہ ہوتے ہمارے پاس تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے تاکہ بنائے اللہ تعالیٰ اس (خیال باطل) کو حسرت (کا باعث) ان کے دلوں میں اور (درحقیقت) اللہ ہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو دیکھ رہا ہے۔
پس ( صرف) اللہ کی رحمت سے آپ نرم ہوگئے ہیں ان کے لیے اور اگر ہوتے آپ تند مزاج سخت دل تو یہ لوگ منتشر ہوجاتے آپ کے آس پاس سے تو آپ درگزر فرمائیے ان سے اور بخشش طلب کیجیے ان کے لیے اور صلاح مشورہ کیجیے ان سے کام میں اور جب آپ ارادہ کرلیں (کسی بات کا) تو پھر توکل کرو اللہ پر بےشک اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے توکل کرنے والوں سے۔
اگر مدد فرمائے تمہاری اللہ تعالیٰ تو کوئی غالب نہیں آسکتا تم پر اور اگر وہ (ساتھ ) چھوڑدے تمہار ا تو کون ہے جو مدد کرے گا تمہاری اس کے بعد اور صرف اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے ایمان والوں کو۔
اور نہیں ہے کسی نبی کی یہ شان کہ خیانت کرے اور جو کوئی خیانت کرے گا تو لے آئے گا (اپنے ہمراہ) خیانت کی ہوئی چیز کو قیامت کے دن پھر پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ہر نفس کو جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا۔
یقیناً بڑا احسان فرمایا اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر جب اس بھیجا ان میں ایک رسول انھیں میں سے پڑھتا ہے ان پر اللہ کی آیتیں اور پاک کرتا ہے انھیں اور سکھاتا ہے انھیں قرآن اور سنت اگرچہ وہ اس سے پہلے یقیناً کھلی گمراہی میں تھے۔
کیا جب پہنچی تمھیں کچھ مصیبت حالانکہ تم پہنچا چکے ہو (دشمن کو) اس سے دگنی تو تم کہ اٹھے کہا سے آپڑی مصیبت ؟ فرمائیے یہ تمہاری طرف سے ہی آئی ہے بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔
اور وہ مصیبت جو پہنچی تھی تمھیں اس روز جب مقابلہ کو نکلے تھے دونوں لشکر تو وہ اللہ کے حم سے پہنچی تھی اور (مقصد یہ تھا کہ) دیکھ لے اللہ تعالیٰ مومنوں کو۔
اور دیکھ لے جو نفاق کرتے تھے اور کہا گیا ان سے آؤ لڑو اللہ کی راہ میں یا بچاؤ کرو (اپنے شہر کا ) بولے اگر ہم جانتے کہ جنگ ہوگی تو ہم ضرور تمہاری پیروی کرتے۔ وہ کفر سے اس روز زیادہ قریب تھے بہ نسبت ایمان کے کہتے ہیں اپنے منہ سے (ایسی باتیں) جو نہیں ہیں ان کے دلوں میں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جسے وہ چھپاتے ہیں۔
جنھوں نے کہا اپنے بھائیوں کے بارے میں حالانکہ وہ خود (گھر) بیٹھے تھے کہ اگر وہ ہمارا کہا مانتے تو نہ مارے جاتے آپ فرمائیے ذرا دور تو کر دکھاؤ اپنے آپ سے موت کو اگر تم سچے ہو۔
شاد ہیں ان (نعمتوں) سے جو عنایت فرمائیے ہیں انھیں اللہ نے اپنے فضل و کر م سے اور خوش ہو رہے ہیں بسبب ان لوگوں کے جو ابھی تک نہیں آملے ان سے ان کے پیچھے رہ جانے والوں سے کہ نہیں ہے کوئی خوف ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
جنھوں نے لبیک کھا اللہ اور رسول کی دعوت پر اس کے بعد کہ لگ چکا تھا انھیں (گہرا) زخم ان کے لیے جنھوں نے نیکی کی ان میں سے اور تقویٰ اختیار کیا اجر عظیم ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں کہ جب کہا انھیں لوگوں نے کہ بلاشبہ کافروں نے جمع کر رکھا ہے تمہارے لیے (بڑا سامان اور لشکر) سو ڈرو ان سے تو (اس دھمکی نے) بڑھادیا ان کے (جوشِ ) ایمان کو اور انھوں نے کہا کافی ہے ہمیں اللہ تعالیٰ اور وہ بہترین کارساز ہے۔
(ان کے عزم و توکل کا نتیجہ یہ نکلا کہ) واپس آئے یہ لوگ اللہ کے انعام اور فضل کے ساتھ نہ چھوا ان کو کسی برائی نے اور پیروی کرتے رہے رضائے الٰہی کی اور اللہ تعالیٰ صاحب فضل عظیم ہے۔
اور (اے جان عالم) نہ غمزدہ کریں آپ کو جو جلدی سے کفر میں داخل ہوئے ہیں بےشک یہ لوگ نہیں نقصان پہنچاسکتے اللہ تعالیٰ کو کچھ بھی چاہتا ہے اللہ تعالیٰ کہ نہ رکھے ان کے لیے ذرا حصہ آخرت کی نعمتوں سے اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔
اور نہ خیال کریں جو کفر کررہے ہیں کہ ہم جو مہلت دے رہے ہیں انھیں یہ بہتر ہے ان کے لیے صرف اس لیے ہم تو انھیں مہلت دے رہے ہیں کہ وہ اور زیادہ کرلین گناہ اور ان کے لیے عذاب ہے ، ذلیل و خوار کرنے والا۔
نہیں ہے اللہ (کی شان) کہ چھوڑے رکھے مومنوں کو اس حال پر جس پر تم اب ہو جب تک الگ الگ نہ کردے پلید کو پاس سے اور نہیں ہے اللہ (کی شان) کہ آگاہ کرے تمھیں غیب پر البتہ اللہ (غیب کے علم کے لیے) چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہتا ہے سو ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر اور اگر تم ایمان لے آئے اور تقویٰ اختیار کیا تو تمہارے لیے اجر عظیم ہے۔
اور ہرگز گمان نہ کریں جو بخل کرتے ہیں اس میں جو دے رکھا ہے انھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کر م سے کہ یہ بخل بہتر ہے ان کے لیے بلکہ یہ بخل بہت بڑا ہے ان کے لیے۔ طوق پہنایا جائے گا انھیں وہ مال جس میں انھوں نے بخل کیا قیامت کے دن اور اللہ کے لیے ہے میراث آسمانوں اور زمین کی اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کررہے ہو اس سے خبردار ہے۔
بے شک سنا اللہ نے قول ان (گستاخوں) کا جنھوں نے کہا کہ اللہ مفلس ہے حالانکہ ہم غنی ہیں ہم لکھ لیں گے جو انھوں نے کہا نیز قتل کرنا ان کا انبیاء کو ناحق (بھی لکھ لیا جائے گا) اور ہم کہیں گے کہ (اب ) چکھوں آگ کے عذاب (کا مزہ) ۔
یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے کہا کہ تحقیق اللہ نے اقرار لیا ہے ہم سے کہ ہم نہ ایمان لائیں کسی رسول پر یہاں تک کہ وہ لائے ہمارے پا س ایک قربانی کھالے اس کو آگ آپ فرمائیے آچکے تمہارے پاس رسول مجھ سے پہلے بھی دلیلوں کے ساتھ اور اس معجزہ کے ساتھ بھی جو تم کہ رہے ہو تو کیوں قتل کیا تھا تم نے انھیں اگر تم سچے ہو۔
ہر نفس چکھنے والا ہے موت کو اور پوری مل کر رہے گی تمھیں تمہاری مزدوری قیامت کے دن پس جو شخص بچالیا گیا آتشِ (دوزخ) سے اور داخل کیا گیا جنت میں تو ہو کامیاب ہوگیا اور نہیں یہ دینوی زندگی مگر سازو سامان دھوکہ میں ڈالنے والا۔
یقیناً تم آزمائے جاؤ گے اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے اور یقیناً تم سنوگے ان سے جنھیں دی گئی کتاب تم سے پہلے اور ان لوگوں سے جنھوں نے شرک کیا اذیت دینے والی بہت باتیں ار اگر تم (ان دل آزاریوں پر ) صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بےشک یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔
اور یاد کرو جب لیا اللہ تعالیٰ نے پختہ وعدہ ان لوگوں سے جنھیں کتاب دی گئی کہ تم ضرور کھول کر بیان کرنا اسے لوگوں سے اور نہ چھپانا اس کو تو (اُلٹا) انھوں نے پھینک دیا اس وعدہ کو اپنی پشتوں کے پیچھے اور انھوں نے خرید لی اس کے عوض تھوڑی سی قیمت سو بہت بری ہے وہ چیز جو وہ خرید رہے ہیں۔
ہر گز آپ یہ خیال نہ کریں کہ جو لوگ خوش ہوتے ہیں اپنی کارستانیوں پر اور پسند کرتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے ایسے کاموں سے جو انھوں نے کیے ہی نہیں تو ان کے متعلق یہ گمان نہ کرو کہ وہ امن میں ہیں عذاب سے ان کے لیے ہی دردناک عذاب ہے۔
وہ عقل مند جو یاد رکتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ کو کھڑے ہوئے اور بیٹھے ہوئے اور پہلوؤں پر لیٹے ہوئے اور غور کرتے رہتے ہیں آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور (تسلیم کرتے ہیں) اے ہمارے مالک ! نہیں پیدا فرمایا تونے یہ (کارخانہ حیات) بیکار۔ پاک ہے تو (ہر عیب سے ) بچالے ہمیں آگ کے عذاب سے۔
اے ہمارے رب! بیشک سنا ہم نے منادی کرنے والے کو بلند آزاز سے بلات تھا یمان کی طرف اور کہتا تھا کہ ایمان لاؤ اپنے رب پر تو ہم ایمان لے آئے اے ہمارے مالک ! پس بخش دے ہمارے گناہ اور مٹادے ہم سے ہماری برائیاں اور اپنے کرم سے موت دے ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ۔
تو قبول فرمالی ان کی التجا ان کے پروردگار نے ( اور فرمایا) کہ میں ضائع نہیں کرتا عمل کسی عمل کرنے والے کا تم سے خواہ مرد ہو یا عورت بعض تمہارا جز ہے بعض کی تو وہ جنھوں نے ہجرت کی اور نکالے گئے اپنے وطن سے اور ستائے گئے میری راہ میں اور (دین کے لیے) لڑے اور مارے گئے تو ضرور میں مٹادوں گا ان (کے نامہ عل) سے انکے گناہ اور ضرور داخل کرونگا انھیں باغوں میں بہتی ہیں جن کے نیچے نہریں (یہ) جزا ہے (ان کے اعمال حسنہ ) کی اللہ کے ہاں اور اللہ ہی کے پاس بہترین ثواب ہے۔
لیکن وہ جو ڈرتے رہے اپنے رب سے ان کے لیے باغ ہوں گے رواں ہوں گی ان کے نیچے ندیاں (وہ متقی) ہمیشہ رہیں گے ان میں یہ تو مہمانی ہوگی اللہ کی طرف سے اور جو (ابدی نعمتیں) اللہ کے پاس ہیں وہ بہت بہتر نیکوں کے لیے۔
اور بیشک بعض اہل کتاب ایسے ہیں جو ایمان لاتے ہیں اللہ تعالیٰ پر اور اس پر جو اتارا گیا تمہاری طرف اور جو اتارا گیا ان کی طرف عاجزی (اور نیاز مندی) کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں سودا کرتے اللہ کی آیتوں کا حقیر قیمت پر یہ وہ ہیں جن کا ثواب اُ ن کے رب کے پاس ہے بےشک اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔
اے ایمان والو! صبر کور اور ثابت قدم رہو (دشمن کے مقابلے میں) اور کمر بستہ ہو (خدمت دین کے لیے ) اور (ہمیشہ ) اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ (اپنے مقصد میں) کامیاب ہوجاؤ