Back to Languages

Urdu - Chapter 34 - Saba

Translation by Muhammad Karam Shah Al Azhari — Permalink

Verse 1 — Surah Saba 34:1

سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو مالک ہے ہر اس چیز کا جو آسمانوں میں ہے اور ہر اس چیز کا جو زمین میں ہے اور اسی کے لیے ساری تعریفیں ہیں آخرت میں اور وہی بڑا دانا، ہر بات سے باخبر ہے

Verse 2 — Surah Saba 34:2

وہ جانتا ہے جو زمین میں داخل ہو تا ہے ۔ اور جو اس سے نکلتا ہے۔ نیز وہ جانتا ہے جو آسمان سے نازل ہوتا اور جو آسمان کی طرف عروج کرتا ہے اور وہی ہمیشہ رحم فرمانے والا بہت بخشنے والا ہے

Verse 3 — Surah Saba 34:3

اور کفار کہتے ہیں ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔ آپ فرمائیے ضرور آئے گی ۔ مجھے اپنے رب کی قسم جو عالم الغیب ہے تم پر قیامت ضرور آئے گی نہیں چھپی ہوئی اس سے ذرّہ برابر کوئی چیز آسمانوں میں اور زمین میں اور نہ کوئی چھوٹی چیز ذرہ سے اور نہ کوئی بڑی چیز مگر وہ کتاب مبین میں (درج ) ہے

Verse 4 — Surah Saba 34:4

(قیامت آئے گی) تاکہ اللہ تعالیٰ جزا دے انھیں جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے یہی وہ (نیک بخت) لوگ ہیں جن کے لیے بخشش اور رزق کریم ہے

Verse 5 — Surah Saba 34:5

اور جو (بد بخت) کوشش کرتے رہے ہیں کہ ہماری آیتوں کو جھٹلا کر ہمیں ہرا دیں ، یہی ہے جن کے لیے بد ترین قسم کا درد ناک عذاب ہے

Verse 6 — Surah Saba 34:6

اور جانتے ہیں وہ لوگ جنہیں علم دیا گیا کہ جو آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے آپ کے رب کی طرف سے وہی (عین ) حق ہے اور عزت والے، سب خوبیوں سرا ہے (خدا) کا راستہ دکھاتا ہے

Verse 7 — Surah Saba 34:7

اور منکرین (قیامت) کہتے ہیں (اے یارو!) کیا ہم پتہ بتائیں تمھیں اس شخص کا جو تمھیں خبردار کرتا ہے کہ جب تم (مرنے کے بعد) ریزہ ریزہ کر دیے جاؤ گے تو تم از سرِ نو پیدا کیے جاؤ گے؟

Verse 8 — Surah Saba 34:8

یا تو اس نے (یہ کہہ کر) اللہ پر جھوٹا بہتان لگایا ہے یا یہ دیوانہ ہے (میرا حبیب نہ مفتری ہے نہ دیوانہ) بلکہ وہ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ (کل) عذاب میں اور (آج) دُور کی گمراہی میں مبتلا ہیں

Verse 9 — Surah Saba 34:9

کیا انہیں نظر نہیں آتاکہ انہیں آگے اور پیچھے سے آسمان اور زمین نے گھیر رکھا ہے اگر ہم چاہیں تو دھنسا دیں انہیں زمین میں یا گرا دیں ان پر چند ٹکڑے آسمان سے در حقیقت اس میں (کھلی) نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے جو خدا کی طرف رجوع کرنے والا ہے

Verse 10 — Surah Saba 34:10

بے شک ہم نے داؤد کو اپنی جناب سے بڑی فضیلت بخشی (ہم نے حکمدیا) اے پہاڑو! تسبیح کہو اس کے ساتھ مل کر اور پرندوں کو بھی یہی حکم دیا نیز ہم نے لوہے کو اس کے لیے نرم کر دیا

Verse 11 — Surah Saba 34:11

(اور حکم دیا) کہ کشادہ زریں بناؤ اور (انکے) حلقے جوڑنے میں اندازے کا خیال رکھو۔ اور (اے آل داؤد) نیک کام کیا کرو، بلاشبہ جو کچھ تم کرتے ہو میں انہیں خوب دیکھ رہا ہوں

Verse 12 — Surah Saba 34:12

اور ہم نے مسخر کر دی سلیمان کے لیے ہوا۔ اس کی صبح کی منزل ایک ماہ کی اور شام کی منزل ایک ماہ کی ہوتی۔ اور ہم نے جاری کر دیا ان کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ اور کئی جنّ (ان کے تابع کر دئیے) جو کام میں جتے رہتے انکے سامنے ان کے رب کے اذن سے اور جو سرتابی کرتا ان میں سے ہمارے حکم (کی تعمیل) سے تو ہم اسے چکھاتے بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب

Verse 13 — Surah Saba 34:13

وہ بناتے آپ کے لیے جو آپ چاہتے پختہ عمارتیں، مجسمے ، بڑے بڑے لگن جیسے حوض ہوں اور بھاری دیگیں جو چولہوں پر جمی رہتیں داؤد کے خاندان والو!(ان نعمتوں پر ) شکر ادا کیا کرو اور بہت کم ہیں میرے بندوں سے جو شکر گزار ہیں

Verse 14 — Surah Saba 34:14

پس جب ہم نے سلیمان پر موت کا فیصلہ نافذ کر دیا نہ پتہ بتایا جنات کو آپ کی موت کا ، مگر زمین کے دیمک نے جو کھاتا رہا آپ کے عصا کو پس جب آپ زمین پر آ رہے، تو جنوں پر یہ بات کھل گئی کہ اگر وہ غیب کو جانتے ہوتے تو (اتنا عرصہ) نہ رہتے اس رسوا کن عذاب میں

Verse 15 — Surah Saba 34:15

قوم سبا کے لیے ان کے مسکن میں ہی نشانی موجود تھی (وہاں) دو باغ تھے ایک دائیں طرف اور دوسرا بائیں طرف کھاؤ اپنے رب کا دیا ہوا رزق اور اس کا شکر ادا کرو اتنا پاکیزہ شہر اور ایسا رب غفور!(اہل سبا! تمہاری خوش قسمتی کا کیا کہنا)

Verse 16 — Surah Saba 34:16

پھر انہوں نے منہ پھیر لیاتو ہم نے ان پر تند و تیز سیلاب بھیج دیا اور ہم نے بدل دیا ان کو ایسے دو باغوں سے جن کے پھل ترش اور کڑوے تھے اور انمیں جھاؤ کے بوٹے اور چند بیری کے درخت تھے

Verse 17 — Surah Saba 34:17

یہ بدلہ دیا ہم نے انہیں بوجہ ان کی احسان فراموشی کے اور بجز احسان فراموش کے ہم کسے ایسی سزا دیتے ہیں

Verse 18 — Surah Saba 34:18

اور ہم نے بسا دی تھیں ان کے درمیان اور ان شہروں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی اور کئی بستیاں سر راہ اور ہم نے منزلیں مقرر کر دی تھیں ان میں آنے جانے کی سیر و سیاحت کرو ان میں (جب چاہو) رات یا دن کے وقت میں امن و امان سے

Verse 19 — Surah Saba 34:19

پھر وہ بولے اے ہمارے رب! دُور دراز کر دے ہماری مسافتوں کو (یہ کہہ کر ) اُنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ۔ پس ہم نے انہیں افسانہ بنا دیا اور ہم نے ان (کی جمعیت) کو پارہ پارہ کر دیا (سبا کی اس داستان) میں عبرت کی نشانیاں ہیں ہر بہت صبر بہت شکر کرنے والے کے لیے

Verse 20 — Surah Saba 34:20

اور بیشک سچ کر دکھایا ان (ناشکروں) پر شیطان نے اپنا گمان سو وہ اس کی تابعداری کرنے لگے بجز مومنوں کے ایک گروہ کے (جو حق پر ڈٹا رہا)

Verse 21 — Surah Saba 34:21

اور نہیں حاصل تھا شیطان کو ان پر ایسا قابو (کہ وہ بےبس ہوں) مگر یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ ہم دکھانا چاہتے تھے کہ کون آخرت پر ایمان رکھتا تھا اور کون اس کے متعلق شک میں مبتلا ہے اور (اے حبیب!) آپ کا رب ہر چیز پر نگہبان ہے

Verse 22 — Surah Saba 34:22

آپ فرمائیے (اے مشرکو!) تم پکار دیکھو جنھیں تم اللہ تعالیٰ کے سوا اپنا معبود خیال کرتے ہو۔ یہ تو ذرا برابر کے بھی مالک نہیں ہیں نہ آسمانوں میں اور نہ زمین مین اور نہ ان کا زمین و آسمان میں کچھ حصہ ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کا ان میں سے کوئی مددگار ہے

Verse 23 — Surah Saba 34:23

اور نہ نفع دے گی سفارش اس کے ہاں مگر جس کے لیے اس نے اجازت دی ہو یہاں تک کہ جب دور کر دی جاتی ہے گھبراہٹ ان کے دلوں سے تو پوچھتے ہیں کیا ارشاد فرمایا تمہارے رب نے وہ کہتے ہیں اس نے حق فرمایا ہے اور وہی بڑی شان والا ، سب سے بڑا ہے

Verse 24 — Surah Saba 34:24

آپ فرمائیے کون روزی دیتا ہے تمہیں آسمانوں اور زمین سے خود ہی فرمائیے اللہ اور ہم یا تم (دونوں میں سے ایک) ہدایت پر ہے اور (دوسرا ) کھلی گمراہی میں ہے

Verse 25 — Surah Saba 34:25

فرمائیے تم سے باز پرس نہیں ہو گی ان جرموں کی جو ہم نے کیے اور نہ ہم سے باز پرس ہو گی تمہارے کرتوتوں کی

Verse 26 — Surah Saba 34:26

فرمائیے ہمارا رب ہم سب کو جمع کرے گا پھر وہ فیصلہ کرے گا ہمارے درمیان حق (و انصاف) کے ساتھ ۔ وہی بہترین فیصلہ کرنے والا سب کچھ جاننے والا ہے

Verse 27 — Surah Saba 34:27

فرمائیے مجھے بھی دکھاؤ تو وہ شریک جنہیں تم نے اللہ کے ساتھ ملا دیا ہے ہر گز ایسا نہیں ۔ بلکہ فقط وہی اللہ ہے جو زبردست بڑا دانا ہے

Verse 28 — Surah Saba 34:28

اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر تمام انسانوں کی طرف بشیر اور نذیر بنا کر لیکن (اس حقیقت کو) اکثر لوگ نہیں جانتے

Verse 29 — Surah Saba 34:29

اور وہ کہتے ہیں کہ کب پورا ہوگا یہ وعدہ (بتاؤ ) اگر تم سچے ہو

Verse 30 — Surah Saba 34:30

فرمائیے (اے منکرو!) تمہارے لیے وعدہ کا دن مقرر ہے نہ تم اس سے ایک لمحہ پیچھے ہٹ سکو گے اور نہ (ایک لمحہ ) آگے بڑھ سکو گے

Verse 31 — Surah Saba 34:31

کفّار (اب تو) کہتے ہیں کہ ہر گز ایمان نہیں لائیں گے اس قرآن پر اور نہ ان کتابوں پر جو اس سے پہلے نازل ہوئیں ۔ کاش! تم (وہ منظر) دیکھو جب یہ ظالم کھڑے کیے جائیں گے اپنے رب کے رو برو اس وقت یہ ایک دوسرے پر الزام دھریں گے ۔ کہیں گے وہ لوگ جو (دنیا میں ) کمزور سمجھے جاتے تھے، ان سے جوبڑے بنا کرتے تھے اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایماندار ہوتے

Verse 32 — Surah Saba 34:32

جواب دینگے متکبّران کمزوروں کو کیا ہم نے تمہیں روکا تھا ہدایت (قبول کرنے) سے جب (نور ہدایت) تمہارے پاس آیا تھا۔ درحقیقت تم خود مجرم تھے

Verse 33 — Surah Saba 34:33

کہیں گے وہ کمزور لوگ ان مغروروں سے (یوں نہیں) بلکہ تمہارے شب و روز کے مکر و فریب نے ہمیں ہدایت سے باز رکھا جب تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ کو ماننے سے انکار کر دیں اور (بتوں کو) اس کا ہمسر بنائیں اور دل ہی دل میں پچھتائیں گے جب دیکھیں گے عذاب کو اور ہم ڈال دینگے طوق ان لوگوں کی گردنوں میں جنہوں نے کفر کیا (خواہ وہ برے ہوں یا چھوٹے) کیا انہیں بدلہ دیا جائیگا بجز ا سکے جو وہ کیا کرتے تھے

Verse 34 — Surah Saba 34:34

اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا مگر یہ کہ (بر ملا) کہہ دیا وہاں کے آسودہ حال لوگوں نے ہم اس (دین ) کا جو دیکر تم بھیجے گئے ہو انکار کرتے ہیں

Verse 35 — Surah Saba 34:35

اور کہتے (تم کون ہو ہمیں ڈرانے والے) ہمارا مال بھی (تم سے) زیادہ ہے اور اولاد بھی اور ہمیں عذاب نہیں دیا جا سکتا

Verse 36 — Surah Saba 34:36

آپ فرمائیے بیشک میر ارب کشادہ کرتا ہے رزق کو ( جس کے لیے چاہتا ہے ) لیکن اکثر لوگ (ان حکمتوں کو) نہیں جانتے

Verse 37 — Surah Saba 34:37

اور (یاد رکھو) نہ تمہارے اموال اور نہ ہی تمہاری اولاد ایسی چیزیں ہیں جو تمہیں ہمارا قرب بخشدیں ، مگر جو ایمان لایا اور نیک عمل کرتا رہا (اسے ہی) ہمارا قرب نصیب ہوگا پس یہی لوگ ہیں جن کے لیے دوگنا صلہ ہے ان کے عملوں کا اور وہ بالاخانوں میں امن و امان سے رہیں گے

Verse 38 — Surah Saba 34:38

اور جو لوگ کوشاں ہیں ہماری آیتوں کی تکذیب میں تاکہ ہم ہرا دیں وہی لوگ عذاب میں ہمیشہ گرفتا ر رہیں گے

Verse 39 — Surah Saba 34:39

آپ فرمائیے بےشک میرا پروردگار کشادہ کر دیتا ہے رزق کو جس کے لیے چاہتا ہے ۔ اور جو چیز تم خرچ کرتے ہو تو وہ اس کی جگہ اور دے دیتا ہے اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے

Verse 40 — Surah Saba 34:40

اور جس روز وہ ان سب کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے پوچھے گا کیا یہ لوگ تمہاری پوجا کیا کرتے تھے

Verse 41 — Surah Saba 34:41

فرشتے عرض کریں گے تو پاک ہے ہر شرک سے ، ہمارا مالک تو ہے ہمارا ان سے کیا واسطہ بلکہ یہ تو جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے ۔ ان میں سے اکثر ان پر ایمان رکھتے تھے

Verse 42 — Surah Saba 34:42

پس آج تم میں سے کوئی ایک دوسرے کو نہ نفع پہنچانے کی قدرت رکھتا ہے اور نہ نقصان کی ۔ اور ہم کہیں گے جنہوں نے ظلم کیا تھا کہ چکّھو آتشِ (جہنم) کا عذاب جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے

Verse 43 — Surah Saba 34:43

اور جب پڑھ کر سنائی جاتی ہیں انہیں ہماری آیتیں درآنحالیکہ وہ بالکل واضح ہیں کہتے ہیں نہیں ہے یہ مگر ایسا شخص جس نے ارادہ کر لیا ہے کہ روک دے تمہیں ان (معبودوں) سے جنکی تمہارے باپ دادا پوجا کیا کرتے تھے ۔ نیز کہتے ہیں نہیں ہے یہ قرآن مگر جھوٹ گھڑا ہوا اور کفار کہتے ہیں حق کے بارے میں جب وہ ان کے پا س آیا کہ نہیں ہے یہ مگر جادو کھلا کھلا

Verse 44 — Surah Saba 34:44

اور نہ ہی ہم نے انہیں کوئی کتابیں دیں جنکا یہ مطالعہ کرتے ہوں اور نہ ہی ہم نے بھیجا ان کی طرف آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا

Verse 45 — Surah Saba 34:45

اور (انبیاء کی) تکذیب کی جو ان سے پہلے گزرے اور یہ (کفار مکہ) نہیں پہنچے ددسویں حصہ کو بھی جو (قوت ، دبدبہ) ہم نے ان کو دیا تھا پس جب انہوں نے جھٹلایا میرے رسولوں کو تو کتنا ہولناک تھا میرا عذاب

Verse 46 — Surah Saba 34:46

(اے حبیب!) آپ (انہیں ) فرمائیے میں تمہیں صرف ایک نصیحت کرتا ہوں (یہ تو مان لو) تم اللہ کے لے کھڑے ہو جاؤ دو دو یا اکیلے اکیلے پھر خوب سوچو (تمہیں ماننا پڑے گا) تمہارے اس رفیق میں جنوں کا شائبہ تک نہیں ہے نہیں ہے وہ مگر بر وقت خبردار کرنے والا تمہیں سخت عذاب کے آنے سے پہلے

Verse 47 — Surah Saba 34:47

فرمائیے (لوگو!) جو معاوضہ میں نے تم سے مانگا ہے وہ تم اپنے پاس رکھو ۔ میری (دلسوزیوں) کا اجر تو (میرے ) اللہ کے ذمہ ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے

Verse 48 — Surah Saba 34:48

فرمائیے بیشک میرا رب (باطل پر) حق سے ضرب لگا تا ہے وہ سب غیبوں کو جاننے والا ہے

Verse 49 — Surah Saba 34:49

(اے محبوب!) اعلان کر دیجیے حق آگیا اور باطل کی قوت کا خاتمہ ہو گیا

Verse 50 — Surah Saba 34:50

فرمائیے (تمہارے گمان کے مطابق) اگر میں بہک گیا ہوں تو اس کا وبال میری جان پر ہوگا اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو (محض) اس وحی کے باعث جو میرا رب میری طرف بھیجتا ہے بیشک وہ سب کچھ سننے والا ، بالکل نزدیک ہے

Verse 51 — Surah Saba 34:51

کاش ! تم دیکھو جب یہ گھبرائے ہونگے ، بچ نکلنے کی صورت نہ ہو گی اور قریب ہی سے پکڑ لیے جائیں گے

Verse 52 — Surah Saba 34:52

اس وقت کہیں گے ہم ایمان لے آئے ان پر لیکن اب کیوں کر وہ پا سکتے ہیں ایمان کو اتنی دور جگہ سے

Verse 53 — Surah Saba 34:53

حالانکہ وہ کفر کرتے رہے ان سے اس سے پہلے اور دور سے بن دیکھے یاوہ گوئیاں کرتے رہے

Verse 54 — Surah Saba 34:54

اور رکاوٹ کھڑی کر دی جائے گی ان کے درمیان اور ان چیزوں کے درمیان جو وہ دل سے چاہتے ہوں گے جیسے ان کے ہم مشرب لوگوں کے ساتھ پہلے کیا گیا تھا وہ ایسے شک میں مبتلا تھے جو دوسروں کو بھی شک میں ڈالنے والا تھا