سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو مالک ہے ہر اس چیز کا جو آسمانوں میں ہے اور ہر اس چیز کا جو زمین میں ہے اور اسی کے لیے ساری تعریفیں ہیں آخرت میں اور وہی بڑا دانا، ہر بات سے باخبر ہے
وہ جانتا ہے جو زمین میں داخل ہو تا ہے ۔ اور جو اس سے نکلتا ہے۔ نیز وہ جانتا ہے جو آسمان سے نازل ہوتا اور جو آسمان کی طرف عروج کرتا ہے اور وہی ہمیشہ رحم فرمانے والا بہت بخشنے والا ہے
اور کفار کہتے ہیں ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔ آپ فرمائیے ضرور آئے گی ۔ مجھے اپنے رب کی قسم جو عالم الغیب ہے تم پر قیامت ضرور آئے گی نہیں چھپی ہوئی اس سے ذرّہ برابر کوئی چیز آسمانوں میں اور زمین میں اور نہ کوئی چھوٹی چیز ذرہ سے اور نہ کوئی بڑی چیز مگر وہ کتاب مبین میں (درج ) ہے
اور جانتے ہیں وہ لوگ جنہیں علم دیا گیا کہ جو آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے آپ کے رب کی طرف سے وہی (عین ) حق ہے اور عزت والے، سب خوبیوں سرا ہے (خدا) کا راستہ دکھاتا ہے
اور منکرین (قیامت) کہتے ہیں (اے یارو!) کیا ہم پتہ بتائیں تمھیں اس شخص کا جو تمھیں خبردار کرتا ہے کہ جب تم (مرنے کے بعد) ریزہ ریزہ کر دیے جاؤ گے تو تم از سرِ نو پیدا کیے جاؤ گے؟
یا تو اس نے (یہ کہہ کر) اللہ پر جھوٹا بہتان لگایا ہے یا یہ دیوانہ ہے (میرا حبیب نہ مفتری ہے نہ دیوانہ) بلکہ وہ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ (کل) عذاب میں اور (آج) دُور کی گمراہی میں مبتلا ہیں
کیا انہیں نظر نہیں آتاکہ انہیں آگے اور پیچھے سے آسمان اور زمین نے گھیر رکھا ہے اگر ہم چاہیں تو دھنسا دیں انہیں زمین میں یا گرا دیں ان پر چند ٹکڑے آسمان سے در حقیقت اس میں (کھلی) نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے جو خدا کی طرف رجوع کرنے والا ہے
بے شک ہم نے داؤد کو اپنی جناب سے بڑی فضیلت بخشی (ہم نے حکمدیا) اے پہاڑو! تسبیح کہو اس کے ساتھ مل کر اور پرندوں کو بھی یہی حکم دیا نیز ہم نے لوہے کو اس کے لیے نرم کر دیا
(اور حکم دیا) کہ کشادہ زریں بناؤ اور (انکے) حلقے جوڑنے میں اندازے کا خیال رکھو۔ اور (اے آل داؤد) نیک کام کیا کرو، بلاشبہ جو کچھ تم کرتے ہو میں انہیں خوب دیکھ رہا ہوں
اور ہم نے مسخر کر دی سلیمان کے لیے ہوا۔ اس کی صبح کی منزل ایک ماہ کی اور شام کی منزل ایک ماہ کی ہوتی۔ اور ہم نے جاری کر دیا ان کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ اور کئی جنّ (ان کے تابع کر دئیے) جو کام میں جتے رہتے انکے سامنے ان کے رب کے اذن سے اور جو سرتابی کرتا ان میں سے ہمارے حکم (کی تعمیل) سے تو ہم اسے چکھاتے بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب
وہ بناتے آپ کے لیے جو آپ چاہتے پختہ عمارتیں، مجسمے ، بڑے بڑے لگن جیسے حوض ہوں اور بھاری دیگیں جو چولہوں پر جمی رہتیں داؤد کے خاندان والو!(ان نعمتوں پر ) شکر ادا کیا کرو اور بہت کم ہیں میرے بندوں سے جو شکر گزار ہیں
پس جب ہم نے سلیمان پر موت کا فیصلہ نافذ کر دیا نہ پتہ بتایا جنات کو آپ کی موت کا ، مگر زمین کے دیمک نے جو کھاتا رہا آپ کے عصا کو پس جب آپ زمین پر آ رہے، تو جنوں پر یہ بات کھل گئی کہ اگر وہ غیب کو جانتے ہوتے تو (اتنا عرصہ) نہ رہتے اس رسوا کن عذاب میں
قوم سبا کے لیے ان کے مسکن میں ہی نشانی موجود تھی (وہاں) دو باغ تھے ایک دائیں طرف اور دوسرا بائیں طرف کھاؤ اپنے رب کا دیا ہوا رزق اور اس کا شکر ادا کرو اتنا پاکیزہ شہر اور ایسا رب غفور!(اہل سبا! تمہاری خوش قسمتی کا کیا کہنا)
پھر انہوں نے منہ پھیر لیاتو ہم نے ان پر تند و تیز سیلاب بھیج دیا اور ہم نے بدل دیا ان کو ایسے دو باغوں سے جن کے پھل ترش اور کڑوے تھے اور انمیں جھاؤ کے بوٹے اور چند بیری کے درخت تھے
اور ہم نے بسا دی تھیں ان کے درمیان اور ان شہروں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی اور کئی بستیاں سر راہ اور ہم نے منزلیں مقرر کر دی تھیں ان میں آنے جانے کی سیر و سیاحت کرو ان میں (جب چاہو) رات یا دن کے وقت میں امن و امان سے
پھر وہ بولے اے ہمارے رب! دُور دراز کر دے ہماری مسافتوں کو (یہ کہہ کر ) اُنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ۔ پس ہم نے انہیں افسانہ بنا دیا اور ہم نے ان (کی جمعیت) کو پارہ پارہ کر دیا (سبا کی اس داستان) میں عبرت کی نشانیاں ہیں ہر بہت صبر بہت شکر کرنے والے کے لیے
اور نہیں حاصل تھا شیطان کو ان پر ایسا قابو (کہ وہ بےبس ہوں) مگر یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ ہم دکھانا چاہتے تھے کہ کون آخرت پر ایمان رکھتا تھا اور کون اس کے متعلق شک میں مبتلا ہے اور (اے حبیب!) آپ کا رب ہر چیز پر نگہبان ہے
آپ فرمائیے (اے مشرکو!) تم پکار دیکھو جنھیں تم اللہ تعالیٰ کے سوا اپنا معبود خیال کرتے ہو۔ یہ تو ذرا برابر کے بھی مالک نہیں ہیں نہ آسمانوں میں اور نہ زمین مین اور نہ ان کا زمین و آسمان میں کچھ حصہ ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کا ان میں سے کوئی مددگار ہے
اور نہ نفع دے گی سفارش اس کے ہاں مگر جس کے لیے اس نے اجازت دی ہو یہاں تک کہ جب دور کر دی جاتی ہے گھبراہٹ ان کے دلوں سے تو پوچھتے ہیں کیا ارشاد فرمایا تمہارے رب نے وہ کہتے ہیں اس نے حق فرمایا ہے اور وہی بڑی شان والا ، سب سے بڑا ہے
کفّار (اب تو) کہتے ہیں کہ ہر گز ایمان نہیں لائیں گے اس قرآن پر اور نہ ان کتابوں پر جو اس سے پہلے نازل ہوئیں ۔ کاش! تم (وہ منظر) دیکھو جب یہ ظالم کھڑے کیے جائیں گے اپنے رب کے رو برو اس وقت یہ ایک دوسرے پر الزام دھریں گے ۔ کہیں گے وہ لوگ جو (دنیا میں ) کمزور سمجھے جاتے تھے، ان سے جوبڑے بنا کرتے تھے اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایماندار ہوتے
کہیں گے وہ کمزور لوگ ان مغروروں سے (یوں نہیں) بلکہ تمہارے شب و روز کے مکر و فریب نے ہمیں ہدایت سے باز رکھا جب تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ کو ماننے سے انکار کر دیں اور (بتوں کو) اس کا ہمسر بنائیں اور دل ہی دل میں پچھتائیں گے جب دیکھیں گے عذاب کو اور ہم ڈال دینگے طوق ان لوگوں کی گردنوں میں جنہوں نے کفر کیا (خواہ وہ برے ہوں یا چھوٹے) کیا انہیں بدلہ دیا جائیگا بجز ا سکے جو وہ کیا کرتے تھے
اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا مگر یہ کہ (بر ملا) کہہ دیا وہاں کے آسودہ حال لوگوں نے ہم اس (دین ) کا جو دیکر تم بھیجے گئے ہو انکار کرتے ہیں
اور (یاد رکھو) نہ تمہارے اموال اور نہ ہی تمہاری اولاد ایسی چیزیں ہیں جو تمہیں ہمارا قرب بخشدیں ، مگر جو ایمان لایا اور نیک عمل کرتا رہا (اسے ہی) ہمارا قرب نصیب ہوگا پس یہی لوگ ہیں جن کے لیے دوگنا صلہ ہے ان کے عملوں کا اور وہ بالاخانوں میں امن و امان سے رہیں گے
آپ فرمائیے بےشک میرا پروردگار کشادہ کر دیتا ہے رزق کو جس کے لیے چاہتا ہے ۔ اور جو چیز تم خرچ کرتے ہو تو وہ اس کی جگہ اور دے دیتا ہے اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے
فرشتے عرض کریں گے تو پاک ہے ہر شرک سے ، ہمارا مالک تو ہے ہمارا ان سے کیا واسطہ بلکہ یہ تو جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے ۔ ان میں سے اکثر ان پر ایمان رکھتے تھے
پس آج تم میں سے کوئی ایک دوسرے کو نہ نفع پہنچانے کی قدرت رکھتا ہے اور نہ نقصان کی ۔ اور ہم کہیں گے جنہوں نے ظلم کیا تھا کہ چکّھو آتشِ (جہنم) کا عذاب جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے
اور جب پڑھ کر سنائی جاتی ہیں انہیں ہماری آیتیں درآنحالیکہ وہ بالکل واضح ہیں کہتے ہیں نہیں ہے یہ مگر ایسا شخص جس نے ارادہ کر لیا ہے کہ روک دے تمہیں ان (معبودوں) سے جنکی تمہارے باپ دادا پوجا کیا کرتے تھے ۔ نیز کہتے ہیں نہیں ہے یہ قرآن مگر جھوٹ گھڑا ہوا اور کفار کہتے ہیں حق کے بارے میں جب وہ ان کے پا س آیا کہ نہیں ہے یہ مگر جادو کھلا کھلا
اور (انبیاء کی) تکذیب کی جو ان سے پہلے گزرے اور یہ (کفار مکہ) نہیں پہنچے ددسویں حصہ کو بھی جو (قوت ، دبدبہ) ہم نے ان کو دیا تھا پس جب انہوں نے جھٹلایا میرے رسولوں کو تو کتنا ہولناک تھا میرا عذاب
(اے حبیب!) آپ (انہیں ) فرمائیے میں تمہیں صرف ایک نصیحت کرتا ہوں (یہ تو مان لو) تم اللہ کے لے کھڑے ہو جاؤ دو دو یا اکیلے اکیلے پھر خوب سوچو (تمہیں ماننا پڑے گا) تمہارے اس رفیق میں جنوں کا شائبہ تک نہیں ہے نہیں ہے وہ مگر بر وقت خبردار کرنے والا تمہیں سخت عذاب کے آنے سے پہلے
فرمائیے (تمہارے گمان کے مطابق) اگر میں بہک گیا ہوں تو اس کا وبال میری جان پر ہوگا اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو (محض) اس وحی کے باعث جو میرا رب میری طرف بھیجتا ہے بیشک وہ سب کچھ سننے والا ، بالکل نزدیک ہے
اور رکاوٹ کھڑی کر دی جائے گی ان کے درمیان اور ان چیزوں کے درمیان جو وہ دل سے چاہتے ہوں گے جیسے ان کے ہم مشرب لوگوں کے ساتھ پہلے کیا گیا تھا وہ ایسے شک میں مبتلا تھے جو دوسروں کو بھی شک میں ڈالنے والا تھا