Back to Languages

Urdu - Chapter 39 - Az-Zumar

Translation by Muhammad Karam Shah Al Azhari — Permalink

Verse 1 — Surah Az-Zumar 39:1

اتاری گئی ہے یہ کتاب اللہ کی طرف سے جو عزیز (اور) حکیم ہے

Verse 2 — Surah Az-Zumar 39:2

ہم نے اتاری ہے آپ کی طرف یہ کتاب حق کے ساتھ پس آپ عبادت کریں اللہ کی خالص کرتے ہوئے اس کے لیے اطاعت کو

Verse 3 — Surah Az-Zumar 39:3

خبردار! صرف اللہ کے لیے ہے دین خالص اور جنہوں نے بنا لیا اللہ کے سوا اور والی (اور کہتے ہیں) ہم نہیں عبادت کرتے ان کی مگر محض اس لیے کہ یہ ہمیں اللہ کا مقرب بنا دیں بیشک اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمائے گا ان کے درمیان جن باتوں میں یہ اختلاف کیا کرتے ہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا اس کو جو جھوٹا (اور) بڑا نا شکرا ہو

Verse 4 — Surah Az-Zumar 39:4

اگر اللہ چاہتا کہ کسی کو بیٹا بنائے تو چن لیتا اپنی مخلوق سے جس کو چاہتا وہ پاک ہے وہی اللہ ہے جو ایک ہے، سب سے زبردست

Verse 5 — Surah Az-Zumar 39:5

اس نے پیدا فرمایا ہے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ وہ لپیٹتا ہے رات کو دن پر اور لپیٹتا ہے دن کو رات پر اور اس نے مسخر کر دیا ہے سورج اور چاند کو ۔ ہر ایک رواں ہے مقررہ میعاد تک غور سے سنو! وہی عزت والا (اور) بہت بخشنے والا ہے

Verse 6 — Surah Az-Zumar 39:6

اس نے پیدا کیا ہے تمہیں فرد واحد سے پھر بنایا اسی سے اس کا جوڑا اور پیدا کیے تمہارے لیے جانوروں میں سے آٹھ جوڑے وہ پیدا فرماتا ہے تمہیں تمہاری ماؤں کے شکموں میں (تدریجاً) ایک حالت سے دوسری حالت تین اندھیروں میں یہ (قدرت والا) اللہ تمہارا رب ہے، اسی کی حکومت ہے نہیں کوئی معبود بجز ا س کے پھر تم کدھر منہ پھیر کر جا رہے ہو

Verse 7 — Surah Az-Zumar 39:7

اگر تم نا شکری کرتے ہو تو بےشک اللہ کو تمہاری کوئی ضرورت نہیں ، اور وہ پسند نہیں کرتا اپنے بندوں سے نا شکری کو اور اگر تم شکر ادا کرو تو وہ پسند کرتا ہے اسے تمہارے لیے اور نہیں اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ پھر اپنے رب کی طرف تمہیں لوٹنا ہے پس وہ آگاہ کرے گا تمہیں ان کاموں سے جو تم کیا کرتے تھے۔ بیشک وہ خوب جاننے والا ہے سینوں کے رازوں کو

Verse 8 — Surah Az-Zumar 39:8

اور جب پہنچتی ہے انسان کو کوئی تکلیف (اسوقت) پکارتا ہے اپنے رب کو دل سے رجوع کرتے ہوئے اس کی طرف پھر جب عطا کرتا ہے اسے نعمت اپنی (جناب) سے تو بھول جاتا ہے اس تکلیف کو جس کے لیے فریاد کرتا رہا تھا اس سے پہلے، اور بناتا ہے اللہ کو ہم مثل تاکہ بہکا دے اس کی راہ سے ۔ (اے مصطفی! آپ اسے) فرمائیے لطف اٹھا لے اپنے کفر سے تھوڑے دن بیشک تو دوزخیوں میں سے ہے

Verse 9 — Surah Az-Zumar 39:9

بھلا جو شخص عبادت میں بسر کرتا ہے رات کی گھڑیاں کبھی سجدہ کرتے ہوئے کبھی کھڑے ہوئے (بایں ہمہ) ڈرتا ہے آخرت سے اور امید رکھتا ہے اپنے رب کی رحمت سے آپ پوچھیے کیا کبھی برابر ہو سکتے ہیں علم والے اور جاہل البتہ صرف عقلمند ہی نصیحت قبول کرتے ہیں

Verse 10 — Surah Az-Zumar 39:10

آپ فرمائیے ! اے میرے بندو جو ایمان لے آئے ہو ڈرتے رہا کرو اپنے رب سے (اور یاد رکھو) ا ن کے لیے جنہوں نے نیک اعمال کیے اس دنیا میں نیک صلہ ہے اور اللہ کی زمین بڑی وسیع ہے (مصائب و آلام میں) صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بےحساب دیا جائے گا

Verse 11 — Surah Az-Zumar 39:11

فرمائیے ! مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں خالص کرتے ہوئے اس کے لیے اطاعت کو

Verse 12 — Surah Az-Zumar 39:12

اور مجھے حکم دیا گیا کہ میں سب سے پہلا مسلمان بنوں

Verse 13 — Surah Az-Zumar 39:13

آپ فرمائیے میں ڈرتا ہوں اگر میں حکم عدولی کروں اپنے رب کی، اس بڑے دن کے عذاب سے

Verse 14 — Surah Az-Zumar 39:14

فرمائیے اللہ کی ہی میں عبادت کرتا ہوں خالص کرتے ہوئے اس کے لیے اپنے دین کو

Verse 15 — Surah Az-Zumar 39:15

پس تم عبادت کرو جس کی چاہو اس کے سوا (نیز) فرما دیجیے اصل نقصان اٹھانے والے وہ ہیں جو گھاٹے میں ڈالیں گے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن ۔ سنو! یہی کھلا گھاٹا ہے

Verse 16 — Surah Az-Zumar 39:16

ان (بدبختوں) کے لیے اوپر سے بھی آگ کے شعلے ہوں گے اور نیچے سے بھی آگ کے شعلے اس (عذاب الیم ) سے ڈراتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ، اے میرے بندو! مجھ سے ڈرتے رہا کرو

Verse 17 — Surah Az-Zumar 39:17

اور جو لوگ بچتے ہیں شیطان سے کہ اس کی عبادت کریں اور (دل سے) جھکتے ہیں اللہ کی طرف، ان کے لیے مژدہ ہے پس آپ مژدہ سنا دیں میرے ان بندوں کو

Verse 18 — Surah Az-Zumar 39:18

جو غور سے سنتے ہیں بات کو پھر پیروی کرتے ہیں اچھی بات کی یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی ہے اور یہی لوگ دانشور ہیں

Verse 19 — Surah Az-Zumar 39:19

بھلا جس پر واجب ہو گیا عذاب کا حکم تو کیا آپ چھڑا سکتے ہیں اسے جو آگ میں ہے

Verse 20 — Surah Az-Zumar 39:20

البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لیے بالا خانے ہیں جن کے اوپر اور بالاخانہ بنے ہوئے ہیں رواں ہیں جن کے نیچے سے نہریں ۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کیا کرتا

Verse 21 — Surah Az-Zumar 39:21

کیا تم نہیں دیکھتے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ نے اتارا ہے آسمان سے پانی ۔ پھر جاری کیا اسے زمین کے چشموں سے پھر اگاتا ہے اس کے ذریعے فصلیں جن کے رنگ جدا جدا ہیں پھر وہ خشک ہونے لگتی ہے پس تو دیکھتا ہے اسے زردی مائل پھر وہ اس کو چورا چورا کر دیتا ہے ۔ یقیناً اس (کر شمہ قدرت ) میں نصیحت ہے اہل عقل کے لیے

Verse 22 — Surah Az-Zumar 39:22

بھلا وہ (سعادتمند) کشادہ فرما دیا ہو جس کا سینہ اسلام کے لیے تو وہ اپنے رب کی طرف سے دیے ہوئے نور پر ہے پس ہلاکت ہے ، ان سخت دلوں کے لیے جو ذکر خدا سے متاثر نہیں ہوتے یہی لوگ کھلی گمراہی میں ہیں

Verse 23 — Surah Az-Zumar 39:23

اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے نہایت عمدہ کلام یعنی وہ کتاب جس کی آیتیں ایک جیسی ہیں ، بار بار دہرائی جاتی ہیں اور کانپنے لگتے ہیں اس کے (پڑھنے ) سے بدن ان کے جو ڈرتے ہیں اپنے پروردگار سے ۔ پھر نرم ہو جاتے ہیں ان کے بدن اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف یہ اللہ کی ہدایت ہے راہنمائی کرتا ہے اس کے ذریعے جسے چاہتا ہے اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے تو اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں

Verse 24 — Surah Az-Zumar 39:24

بھلا وہ شخص جو ڈھال بنائے گا شدید عذاب کے سامنے اپنے چہرے کو روز قیامت (وہ کتنا بد نصیب ہو گا) اور کہا جائے گا ظالموں کو (اب) چکھو جو کچھ تم کمایا کرتے تھے

Verse 25 — Surah Az-Zumar 39:25

جھٹلایا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے گزرے تو آیا ان پر عذاب وہاں سے جہاں سے وہ سمجھ ہی نہ سکتے تھے

Verse 26 — Surah Az-Zumar 39:26

پس چکھائی انہیں اللہ نے ذلّت اس دنیوی زندگی میں اور آخرت کا عذاب اس سے بھی بڑا ہے ۔ کاش! وہ جان لیتے

Verse 27 — Surah Az-Zumar 39:27

اور ہم نے بیان کی ہیں لوگوں کے لیے اس قرآن (حکیم) میں ہر قسم کی مثالیں تاکہ وہ نصیحت قبول کریں

Verse 28 — Surah Az-Zumar 39:28

اور ہم نے دیا ہے (انہیں) قرآن جو عربی زبان میں ہے جس میں ذرا کجی نہیں تاکہ وہ اللہ سے ڈریں

Verse 29 — Surah Az-Zumar 39:29

بیان فرمائی ہے اللہ تعالیٰ نے ایک مثال ایک غلام ہے جس میں کئی حصہ دار ہیں جو سخت بدخو ہیں اور ایک غلام ہے جو پورا ایک مالک کا ہے کیا ان دونوں کا حال یکساں ہے سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ۔ لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو) نہیں جانتے

Verse 30 — Surah Az-Zumar 39:30

(بیشک آپ نے بھی دنیا سے) انتقال فرمانا ہے اور انہوں نے بھی مرنا ہے

Verse 31 — Surah Az-Zumar 39:31

پھر تم (سب) روز محشر اپنے رب کے حضور میں آپس میں جھگڑو گے

Verse 32 — Surah Az-Zumar 39:32

پس اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے اور تکذیب کرتا ہے اس سچ کی جب وہ اس کے پاس آیا۔ کیا جہنم میں کفار کا ٹھکانا نہیں ہے ؟

Verse 33 — Surah Az-Zumar 39:33

اور وہ ہستی جو اس سچ کو لے کر آئی اور جنہوں نے اس سچائی کی تصدیق کی یہی لوگ ہیں جو پرہیزگار ہیں

Verse 34 — Surah Az-Zumar 39:34

انہیں ملے گا جو وہ چاہیں گے اپنے رب کے پاس سے یہ صلہ ہے محسنوں کا

Verse 35 — Surah Az-Zumar 39:35

تا کہ ڈھانپ لے اللہ تعالیٰ ان سے ان کے بدترین اعمال کو اور عطا فرمائے انہیں اجر ان کے بہترین اعمال کا جو وہ کیا کرتے تھے

Verse 36 — Surah Az-Zumar 39:36

کیا اللہ کافی نہیں اپنے بندے کے لیے ؟ (یقیناً کافی ہے) اور وہ (نادان) ڈراتے ہیں آپ کو ان معبودوں سے جو اللہ کے سوا ہیں ۔ اور جسے اللہ گمراہ ہونے دے تو اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں

Verse 37 — Surah Az-Zumar 39:37

اور جس کو ہدایت بخش دے اللہ تعالیٰ تو اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں کیا نہیں ہے اللہ تعالیٰ زبردست، انتقام لینے والا

Verse 38 — Surah Az-Zumar 39:38

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو؟ تو ضرور کہیں گے اللہ نے آپ فرمائیے پھر ذرا یہ تو بتاؤ کہ جن کو تم پوجتے ہو اللہ کے سوا اگر اللہ تعالیٰ مجھے کوئی تکلیف پہچانا چاہے تو کیا وہ روک سکتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کو ۔ فرما دیجیے مجھے کافی ہے اللہ تعالیٰ فقط اسی پر بھروسہ کرتے ہیں بھروسہ کرنے والے

Verse 39 — Surah Az-Zumar 39:39

فرمائیے اے میری قوم ! تم عمل کیے جاؤ اپنی جگہ پر میں اپنا کام کرتا رہوں گا ۔ پس تم ضرور جان لو گے

Verse 40 — Surah Az-Zumar 39:40

کہ کس پر آتا ہے عذاب جو اسے رسوا کر دے گا اور کون ہے جس پر دائمی عذاب اترتا ہے

Verse 41 — Surah Az-Zumar 39:41

(اے حبیب!) ہم نے اتاری ہے آپ پر یہ کتاب لوگوں (کی ہدایت) کے لیے حق کے ساتھ پس جو ہدایت قبول کرتا ہے تو وہ اپنا بھلا کرتا ہے اور جو بہکتا ہے تو وہ بہکتا ہے اپنے آپ کو گمراہ کرنے کے لیے اور آپ ان (بدبختوں ) کے ذمہ دار نہیں

Verse 42 — Surah Az-Zumar 39:42

اللہ تعالیٰ قبض کرتا ہے جانوں کو موت کے وقت اور جن کی موت کا وقت ابھی نہیں آیا (ان کی روحیں) حالت نیند میں . پھر روک لیتا ہے ان روحوں کو جن کی موت کا فیصلہ کرتا ہے اور واپس بھیج دیتا ہے دوسری روحوں کو مقررہ میعاد تک بےشک اس میں (اس کی قدرت کی) نشانیاں ہیں ان کے لیے جو غورو فکر کرتے ہیں

Verse 43 — Surah Az-Zumar 39:43

کیا انہوں نے بنا لیا ہے اللہ کو چھوڑ کر اور سفارشی پوچھیے اگرچہ وہ (مزعومہ سفارشی) کسی چیز کے مالک نہ ہوں اور نہ عقل و شعور رکھتے ہوں

Verse 44 — Surah Az-Zumar 39:44

آپ فرمائیے سب شفاعت اللہ کے اختیار میں ہے اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی ۔ پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے

Verse 45 — Surah Az-Zumar 39:45

اور جب ذکر کیا جائے اکیلے اللہ کا تو کڑھنے لگتے ہیں ان لوگوں کے دل جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور جب ذکر کیا جاتا ہے اس کے سوا دوسروں کا تو اسی وقت وہ خوشیاں منانے لگتے ہیں

Verse 46 — Surah Az-Zumar 39:46

آپ عرض کیجئے اے اللہ! اے پیدا کرنے والے آسمانوں اور زمین کے اے جاننے والے غیب اور شہادت کے وہی فیصلہ فرمائے گا اپنے بندوں کے درمیان، ان امور مین جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے

Verse 47 — Surah Az-Zumar 39:47

اور اگر ان کے پاس جنہوں نے شرک کیا زمین میں جو کچھ ہے سب ہو اور اور اتنا اور بھی اس کے ساتھ ، تو چاہیں گے کہ بطور فدیہ ادا کر دیں اسے برے عذاب کے عوض، قیامت کے دن اور (اس روز) ظاہر ہو جائے گا ان پر اللہ کی طرف سے سے جس کا وہ گمان بھی نہیں کیا کرتے تھے

Verse 48 — Surah Az-Zumar 39:48

اور ظاہر ہو جائیں گے ان پر وہ برے اعمال جو انہوں نے کمائے تھے اور گھیرلے گا انہیں وہ (عذاب) جس کا یہ مذاق اڑایا کرتے تھے

Verse 49 — Surah Az-Zumar 39:49

پس جب پہنچتی ہے انسان کو کوئی تکلیف تو ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم عطا کر دیتے ہیں اسے نعمت اپنی جناب سے تو کہنے لگتا ہے کہ یہ نعمت مجھے دی گئی ہے (اپنے) علم (وفضل) کے باعث۔ (اے غافل ! یوں نہیں) بلکہ یہ آزمائش ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

Verse 50 — Surah Az-Zumar 39:50

کہی تھی یہی بات ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے (جب ہم نے انہیں پکڑا) تو نہ فائدہ پہنچایا انہیں (مال و دولت نے) جو وہ کمایا کرتے تھے

Verse 51 — Surah Az-Zumar 39:51

پس جو برے کام انہوں نے کیے ان کا نتیجہ انہیں بھگتنا پڑا اور جنہوں نے ظلم کیا ہے ان لوگوں میں سے انہیں بھی عنقریب اپنی بد اعمالیوں کی سزا بھگتنی ہو گی اور یہ (عاجز) نہیں کر سکتے

Verse 52 — Surah Az-Zumar 39:52

کیا وہ نہیں جانتے کہ بےشک اللہ تعالیٰ کشادہ عطا فرماتا ہے رزق جس کو چاہتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے (جسکو چاہتاہے) یقیناً اس (تقسیم رزق) میں اس کی (حکمت کی) نشانیاں ہیں اہل ایمان کے لیے

Verse 53 — Surah Az-Zumar 39:53

آپ فرمائیے اے میرے بندو! جنہوں نے زیادتیاں کی ہیں اپنے نفسوں پر ، مایوس نہ ہو جاؤ اللہ کی رحمت سے یقیناً اللہ تعالیٰ بخش دیتا ہے سارے گناہوں کو بلاشبہ وہی بہت بخشنے والا ، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے

Verse 54 — Surah Az-Zumar 39:54

اور (سچے ) دل سے لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف اور سر خم کر دو اس کے سامنے اس سے پہلے کہ آجائے تم پر عذاب پھر تمہاری مدد نہ کی جائے گی

Verse 55 — Surah Az-Zumar 39:55

اور پیروی کرو عمدہ کلام کی جو اتارا گیا ہے تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اس سے بیشتر کے تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمہیں خبر تک نہ ہونے پائے

Verse 56 — Surah Az-Zumar 39:56

(اس وقت) کوئی شخص یہ کہنے لگے صد حیف! ان کوتاہیوں پر جو مجھ سے سرزد ہوئیں اللہ کے بارے میں اور میں تو تمسخر اڑانے والوں سے تھا

Verse 57 — Surah Az-Zumar 39:57

یا یہ کہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت دے دیتا تو میں ہو جاتا پرہیزگاروں میں سے

Verse 58 — Surah Az-Zumar 39:58

یا یہ کہنے لگے جب عذاب دیکھے کاش! مجھے ایک بار پھر موقع دیا جائے تو میں نیکو کاروں میں سے ہو جاؤں گا

Verse 59 — Surah Az-Zumar 39:59

ہاں ! ہاں! آئی تھیں تیرے پاس میری آیتیں پس تو نے انہیں جھٹلایا اور تو گھمنڈ کرتا رہا اور تو کفر کرنے والوں میں سے تھا

Verse 60 — Surah Az-Zumar 39:60

اور روز قیامت آپ دیکھیں گے انہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھتے تھے اس حال میں کہ ان کے چہرے سیاہ ہونگے ۔ کیا نہیں ہے جہنم میں ٹھکانا تکبّر کرنے والوں کا ؟

Verse 61 — Surah Az-Zumar 39:61

اور نجات دے گا اللہ تعالیٰ متقیوں کو کامیابی کے ساتھ نہ چھوئے گی انہیں کوئی تکلیف اور نہ وہ غمگین ہوں گے

Verse 62 — Surah Az-Zumar 39:62

اللہ تعالیٰ پیدا کرنے والا ہے ہر چیز کا ۔ اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے

Verse 63 — Surah Az-Zumar 39:63

وہی مالک ہے آسمانوں اور زمین کی کنجیوں کا اور جو لوگ انکار کرتے ہیں اللہ کی آیتوں کا وہی لوگ خسارے میں ہیں

Verse 64 — Surah Az-Zumar 39:64

آپ فرمائیے اے جاہلو! کیا تم مجھے حکم دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کروں

Verse 65 — Surah Az-Zumar 39:65

اور بےشک وحی کی گئی ہے آپ کی طرف اور ان کی طرف جو آپ سے پہلے تھے کہ اگر (بفرض محال) آپ نے بھی شرک کیا تو ضائع ہو جائینگے آپ کے اعمال اور آپ بھی خاسرین میں سے ہو جائیں گے

Verse 66 — Surah Az-Zumar 39:66

بلکہ صرف اللہ ہی کی عبادت کیا کرو اور ہو جاؤ شکر گزاروں میں سے

Verse 67 — Surah Az-Zumar 39:67

اور نہ قدر پہچانی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی جس طرح قدر پہچاننے کا حق تھا اور (اس کی شان تو یہ ہے) ساری زمین اسکی مٹھی میں ہو گی قیامت کے دن اور سارے آسمان لپٹے ہوئے اس کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے پاک ہے وہ ہر عیب سے اور برتر ہے لوگوں کے شرک سے

Verse 68 — Surah Az-Zumar 39:68

اور پھونکا جائے گا صور پس غش کھا کر گر پڑے گا جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے بجز ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ چاہے گا (کہ بیہوش نہ ہوں) پھر دوبارہ (جب) اسمیں پھونکا جائے گا تو اچانک وہ کھڑے ہو کر (حیرت سے) دیکھنے لگ جائیں گے

Verse 69 — Surah Az-Zumar 39:69

اور جگمگا اٹھے گی زمین اپنے رب کے نور سے اور رکھ دیا جائے گا دفتر عمل اور حاضر کیے جائیں گے انبیاء اور (دوسرے) گواہ اور فیصلہ کر دیا جائے گا ان کے درمیان انصاف سے اور ان پر (رتی بھر) ظلم نہیں کیا جائے گا

Verse 70 — Surah Az-Zumar 39:70

اور پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ہر شخص کو جو اس نے کیا تھا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کام وہ لوگ کرتے ہیں

Verse 71 — Surah Az-Zumar 39:71

اور ہانکے جائیں گے کفار جہنم کی طرف گروہ در گروہ جب اس کے پاس آئیں گے تو کھول دیے جائیں گے اس کے دروازے اور پوچھیں گے ان سے دوزخ کے پہرے دار کیا نہیں آئے تھے تمہارے پاس پیغمبر تم میں سے جو پڑھ کر سناتے تمہیں تمہارے رب کی آیتیں اور ڈراتے تمہیں اس دن کی ملاقات سے ۔ کہیں گے بیشک آئے تھے لیکن ثبت ہو چکا تھا (لوح محفوظ میں) عذاب کا حکم کفار پر

Verse 72 — Surah Az-Zumar 39:72

انہیں کہا جائے گا داخل ہو جاؤ دوزخ کے دروازوں سے اس حال میں کہ تم ہمیشہ اس میں رہو گے ۔ پس کتنا برا ٹھکانا ہے مغروروں کا

Verse 73 — Surah Az-Zumar 39:73

اور لے جایا جائے گا انہیں جو ڈرتے رہے تھے (عمر بھر) اپنے رب سے جنت کی طرف گروہ در گروہ حتیٰ کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور جنت کے دروازے پہلے ہی کھول دیے گئے ہونگے تو کہیں گے انہیں جنت کے محافظ تم پر سلام ہو تم خوب رہے پس اندر تشریف لے چلو ہمیشہ ہمیش کے لیے

Verse 74 — Surah Az-Zumar 39:74

اور وہ ( خوش بخت) کہیں گے ساری تعریفیں اس اللہ (کریم) کے لیے جس نے پورا فرمایا ہمارے ساتھ اپنا وعدہ اور وارث بنا دیا ہمیں اس (پاک) زمین کا اب ہم ٹھہریں گے جنت میں جہاں چاہیں گے ۔ پس کتنا عمدہ اجر ہے نیک کام کرنے والوں کا

Verse 75 — Surah Az-Zumar 39:75

اور (اے حبیب!) آپ دیکھیں گے فرشتوں کو حلقہ باندھے کھڑے ہونگے عرش کے ارد گرد تسبیح پڑھ رہے ہونگے اپنے رب (جلیل) کی حمد وثناء کے ساتھ اور فیصلہ کر دیا گیا ہوگا ان کے درمیان حق کے ساتھ ۔ اور کہا جائے گا سب تعریفیں اللہ کے لیے جو رب العالمین ہے