خبردار! صرف اللہ کے لیے ہے دین خالص اور جنہوں نے بنا لیا اللہ کے سوا اور والی (اور کہتے ہیں) ہم نہیں عبادت کرتے ان کی مگر محض اس لیے کہ یہ ہمیں اللہ کا مقرب بنا دیں بیشک اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمائے گا ان کے درمیان جن باتوں میں یہ اختلاف کیا کرتے ہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا اس کو جو جھوٹا (اور) بڑا نا شکرا ہو
اس نے پیدا فرمایا ہے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ وہ لپیٹتا ہے رات کو دن پر اور لپیٹتا ہے دن کو رات پر اور اس نے مسخر کر دیا ہے سورج اور چاند کو ۔ ہر ایک رواں ہے مقررہ میعاد تک غور سے سنو! وہی عزت والا (اور) بہت بخشنے والا ہے
اس نے پیدا کیا ہے تمہیں فرد واحد سے پھر بنایا اسی سے اس کا جوڑا اور پیدا کیے تمہارے لیے جانوروں میں سے آٹھ جوڑے وہ پیدا فرماتا ہے تمہیں تمہاری ماؤں کے شکموں میں (تدریجاً) ایک حالت سے دوسری حالت تین اندھیروں میں یہ (قدرت والا) اللہ تمہارا رب ہے، اسی کی حکومت ہے نہیں کوئی معبود بجز ا س کے پھر تم کدھر منہ پھیر کر جا رہے ہو
اگر تم نا شکری کرتے ہو تو بےشک اللہ کو تمہاری کوئی ضرورت نہیں ، اور وہ پسند نہیں کرتا اپنے بندوں سے نا شکری کو اور اگر تم شکر ادا کرو تو وہ پسند کرتا ہے اسے تمہارے لیے اور نہیں اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ پھر اپنے رب کی طرف تمہیں لوٹنا ہے پس وہ آگاہ کرے گا تمہیں ان کاموں سے جو تم کیا کرتے تھے۔ بیشک وہ خوب جاننے والا ہے سینوں کے رازوں کو
اور جب پہنچتی ہے انسان کو کوئی تکلیف (اسوقت) پکارتا ہے اپنے رب کو دل سے رجوع کرتے ہوئے اس کی طرف پھر جب عطا کرتا ہے اسے نعمت اپنی (جناب) سے تو بھول جاتا ہے اس تکلیف کو جس کے لیے فریاد کرتا رہا تھا اس سے پہلے، اور بناتا ہے اللہ کو ہم مثل تاکہ بہکا دے اس کی راہ سے ۔ (اے مصطفی! آپ اسے) فرمائیے لطف اٹھا لے اپنے کفر سے تھوڑے دن بیشک تو دوزخیوں میں سے ہے
بھلا جو شخص عبادت میں بسر کرتا ہے رات کی گھڑیاں کبھی سجدہ کرتے ہوئے کبھی کھڑے ہوئے (بایں ہمہ) ڈرتا ہے آخرت سے اور امید رکھتا ہے اپنے رب کی رحمت سے آپ پوچھیے کیا کبھی برابر ہو سکتے ہیں علم والے اور جاہل البتہ صرف عقلمند ہی نصیحت قبول کرتے ہیں
آپ فرمائیے ! اے میرے بندو جو ایمان لے آئے ہو ڈرتے رہا کرو اپنے رب سے (اور یاد رکھو) ا ن کے لیے جنہوں نے نیک اعمال کیے اس دنیا میں نیک صلہ ہے اور اللہ کی زمین بڑی وسیع ہے (مصائب و آلام میں) صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بےحساب دیا جائے گا
پس تم عبادت کرو جس کی چاہو اس کے سوا (نیز) فرما دیجیے اصل نقصان اٹھانے والے وہ ہیں جو گھاٹے میں ڈالیں گے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن ۔ سنو! یہی کھلا گھاٹا ہے
ان (بدبختوں) کے لیے اوپر سے بھی آگ کے شعلے ہوں گے اور نیچے سے بھی آگ کے شعلے اس (عذاب الیم ) سے ڈراتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ، اے میرے بندو! مجھ سے ڈرتے رہا کرو
البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لیے بالا خانے ہیں جن کے اوپر اور بالاخانہ بنے ہوئے ہیں رواں ہیں جن کے نیچے سے نہریں ۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کیا کرتا
کیا تم نہیں دیکھتے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ نے اتارا ہے آسمان سے پانی ۔ پھر جاری کیا اسے زمین کے چشموں سے پھر اگاتا ہے اس کے ذریعے فصلیں جن کے رنگ جدا جدا ہیں پھر وہ خشک ہونے لگتی ہے پس تو دیکھتا ہے اسے زردی مائل پھر وہ اس کو چورا چورا کر دیتا ہے ۔ یقیناً اس (کر شمہ قدرت ) میں نصیحت ہے اہل عقل کے لیے
بھلا وہ (سعادتمند) کشادہ فرما دیا ہو جس کا سینہ اسلام کے لیے تو وہ اپنے رب کی طرف سے دیے ہوئے نور پر ہے پس ہلاکت ہے ، ان سخت دلوں کے لیے جو ذکر خدا سے متاثر نہیں ہوتے یہی لوگ کھلی گمراہی میں ہیں
اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے نہایت عمدہ کلام یعنی وہ کتاب جس کی آیتیں ایک جیسی ہیں ، بار بار دہرائی جاتی ہیں اور کانپنے لگتے ہیں اس کے (پڑھنے ) سے بدن ان کے جو ڈرتے ہیں اپنے پروردگار سے ۔ پھر نرم ہو جاتے ہیں ان کے بدن اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف یہ اللہ کی ہدایت ہے راہنمائی کرتا ہے اس کے ذریعے جسے چاہتا ہے اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے تو اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں
بھلا وہ شخص جو ڈھال بنائے گا شدید عذاب کے سامنے اپنے چہرے کو روز قیامت (وہ کتنا بد نصیب ہو گا) اور کہا جائے گا ظالموں کو (اب) چکھو جو کچھ تم کمایا کرتے تھے
بیان فرمائی ہے اللہ تعالیٰ نے ایک مثال ایک غلام ہے جس میں کئی حصہ دار ہیں جو سخت بدخو ہیں اور ایک غلام ہے جو پورا ایک مالک کا ہے کیا ان دونوں کا حال یکساں ہے سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ۔ لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو) نہیں جانتے
کیا اللہ کافی نہیں اپنے بندے کے لیے ؟ (یقیناً کافی ہے) اور وہ (نادان) ڈراتے ہیں آپ کو ان معبودوں سے جو اللہ کے سوا ہیں ۔ اور جسے اللہ گمراہ ہونے دے تو اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں
اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو؟ تو ضرور کہیں گے اللہ نے آپ فرمائیے پھر ذرا یہ تو بتاؤ کہ جن کو تم پوجتے ہو اللہ کے سوا اگر اللہ تعالیٰ مجھے کوئی تکلیف پہچانا چاہے تو کیا وہ روک سکتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کو ۔ فرما دیجیے مجھے کافی ہے اللہ تعالیٰ فقط اسی پر بھروسہ کرتے ہیں بھروسہ کرنے والے
(اے حبیب!) ہم نے اتاری ہے آپ پر یہ کتاب لوگوں (کی ہدایت) کے لیے حق کے ساتھ پس جو ہدایت قبول کرتا ہے تو وہ اپنا بھلا کرتا ہے اور جو بہکتا ہے تو وہ بہکتا ہے اپنے آپ کو گمراہ کرنے کے لیے اور آپ ان (بدبختوں ) کے ذمہ دار نہیں
اللہ تعالیٰ قبض کرتا ہے جانوں کو موت کے وقت اور جن کی موت کا وقت ابھی نہیں آیا (ان کی روحیں) حالت نیند میں . پھر روک لیتا ہے ان روحوں کو جن کی موت کا فیصلہ کرتا ہے اور واپس بھیج دیتا ہے دوسری روحوں کو مقررہ میعاد تک بےشک اس میں (اس کی قدرت کی) نشانیاں ہیں ان کے لیے جو غورو فکر کرتے ہیں
اور جب ذکر کیا جائے اکیلے اللہ کا تو کڑھنے لگتے ہیں ان لوگوں کے دل جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور جب ذکر کیا جاتا ہے اس کے سوا دوسروں کا تو اسی وقت وہ خوشیاں منانے لگتے ہیں
آپ عرض کیجئے اے اللہ! اے پیدا کرنے والے آسمانوں اور زمین کے اے جاننے والے غیب اور شہادت کے وہی فیصلہ فرمائے گا اپنے بندوں کے درمیان، ان امور مین جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے
اور اگر ان کے پاس جنہوں نے شرک کیا زمین میں جو کچھ ہے سب ہو اور اور اتنا اور بھی اس کے ساتھ ، تو چاہیں گے کہ بطور فدیہ ادا کر دیں اسے برے عذاب کے عوض، قیامت کے دن اور (اس روز) ظاہر ہو جائے گا ان پر اللہ کی طرف سے سے جس کا وہ گمان بھی نہیں کیا کرتے تھے
پس جب پہنچتی ہے انسان کو کوئی تکلیف تو ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم عطا کر دیتے ہیں اسے نعمت اپنی جناب سے تو کہنے لگتا ہے کہ یہ نعمت مجھے دی گئی ہے (اپنے) علم (وفضل) کے باعث۔ (اے غافل ! یوں نہیں) بلکہ یہ آزمائش ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
پس جو برے کام انہوں نے کیے ان کا نتیجہ انہیں بھگتنا پڑا اور جنہوں نے ظلم کیا ہے ان لوگوں میں سے انہیں بھی عنقریب اپنی بد اعمالیوں کی سزا بھگتنی ہو گی اور یہ (عاجز) نہیں کر سکتے
کیا وہ نہیں جانتے کہ بےشک اللہ تعالیٰ کشادہ عطا فرماتا ہے رزق جس کو چاہتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے (جسکو چاہتاہے) یقیناً اس (تقسیم رزق) میں اس کی (حکمت کی) نشانیاں ہیں اہل ایمان کے لیے
آپ فرمائیے اے میرے بندو! جنہوں نے زیادتیاں کی ہیں اپنے نفسوں پر ، مایوس نہ ہو جاؤ اللہ کی رحمت سے یقیناً اللہ تعالیٰ بخش دیتا ہے سارے گناہوں کو بلاشبہ وہی بہت بخشنے والا ، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے
اور بےشک وحی کی گئی ہے آپ کی طرف اور ان کی طرف جو آپ سے پہلے تھے کہ اگر (بفرض محال) آپ نے بھی شرک کیا تو ضائع ہو جائینگے آپ کے اعمال اور آپ بھی خاسرین میں سے ہو جائیں گے
اور نہ قدر پہچانی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی جس طرح قدر پہچاننے کا حق تھا اور (اس کی شان تو یہ ہے) ساری زمین اسکی مٹھی میں ہو گی قیامت کے دن اور سارے آسمان لپٹے ہوئے اس کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے پاک ہے وہ ہر عیب سے اور برتر ہے لوگوں کے شرک سے
اور پھونکا جائے گا صور پس غش کھا کر گر پڑے گا جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے بجز ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ چاہے گا (کہ بیہوش نہ ہوں) پھر دوبارہ (جب) اسمیں پھونکا جائے گا تو اچانک وہ کھڑے ہو کر (حیرت سے) دیکھنے لگ جائیں گے
اور جگمگا اٹھے گی زمین اپنے رب کے نور سے اور رکھ دیا جائے گا دفتر عمل اور حاضر کیے جائیں گے انبیاء اور (دوسرے) گواہ اور فیصلہ کر دیا جائے گا ان کے درمیان انصاف سے اور ان پر (رتی بھر) ظلم نہیں کیا جائے گا
اور ہانکے جائیں گے کفار جہنم کی طرف گروہ در گروہ جب اس کے پاس آئیں گے تو کھول دیے جائیں گے اس کے دروازے اور پوچھیں گے ان سے دوزخ کے پہرے دار کیا نہیں آئے تھے تمہارے پاس پیغمبر تم میں سے جو پڑھ کر سناتے تمہیں تمہارے رب کی آیتیں اور ڈراتے تمہیں اس دن کی ملاقات سے ۔ کہیں گے بیشک آئے تھے لیکن ثبت ہو چکا تھا (لوح محفوظ میں) عذاب کا حکم کفار پر
اور لے جایا جائے گا انہیں جو ڈرتے رہے تھے (عمر بھر) اپنے رب سے جنت کی طرف گروہ در گروہ حتیٰ کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور جنت کے دروازے پہلے ہی کھول دیے گئے ہونگے تو کہیں گے انہیں جنت کے محافظ تم پر سلام ہو تم خوب رہے پس اندر تشریف لے چلو ہمیشہ ہمیش کے لیے
اور وہ ( خوش بخت) کہیں گے ساری تعریفیں اس اللہ (کریم) کے لیے جس نے پورا فرمایا ہمارے ساتھ اپنا وعدہ اور وارث بنا دیا ہمیں اس (پاک) زمین کا اب ہم ٹھہریں گے جنت میں جہاں چاہیں گے ۔ پس کتنا عمدہ اجر ہے نیک کام کرنے والوں کا
اور (اے حبیب!) آپ دیکھیں گے فرشتوں کو حلقہ باندھے کھڑے ہونگے عرش کے ارد گرد تسبیح پڑھ رہے ہونگے اپنے رب (جلیل) کی حمد وثناء کے ساتھ اور فیصلہ کر دیا گیا ہوگا ان کے درمیان حق کے ساتھ ۔ اور کہا جائے گا سب تعریفیں اللہ کے لیے جو رب العالمین ہے