نیز گردش لیل و نہار میں اور جو اتارا ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان سے رزق (کا سبب مینہ) پھر زندہ کر دیا اس کے ذریعے زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد اور ہواؤں کے ادھر ادھر چلنے میں نشانیاں ہیں ان کے لیے جو عقلمند ہیں
یہ سب نشانیاں ہیں اللہ کی (قدرت کی ) ہم بیان کرتے ہیں انہیں آپ پر حق کے ساتھ۔ پس وہ کونسی ایسی بات ہے جس پر وہ اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد ایمان لائیں گے
جو سنتا ہے اللہ کی آیتوں کو جو پڑھی جاتی ہیں اس کے سامنے پھر بھی وہ (کفر پر ) اڑا رہتا ہے غرور کرتے ہوئے گویا اس نے انہیں سنا ہی نہیں ۔ پس آپ اسے دردناک عذاب کا مژدہ سنا دیں
ان کے آگے جہنم ہے ۔ اور ان کے ذرا کام نہ آئے گا جو انہوں نے (عمر بھر) کمایا اور نہ وہ کسی کام آئیں گے جن کو انہوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر مددگار بنایا تھا اور ان کے لیے بڑا عذاب ہو گا
اللہ وہ ہے جس نے مسخر کر دیا ہے تمہارے لیے سمندر کو تاکہ رواں رہیں ا س میں کشتیاں اس کے حکم سے اور تاکہ تم (بحری تجارت سے) تلاش کرو اس کا فضل اور تاکہ تم اس کا شکر ادا کیا کرو
اور اس نے مسخر کر دیا ہے تمہارے لیے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب اپنے حکم سے بےشک اس (نظام) میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غورو فکر کیا کرتے ہیں
اور ہم نے انہیں دین کے معاملہ میں واضح دلائل دیے پس آپس میں انہوں نے جھگڑنا شروع نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ انہیں (حقائق کا) صحیح علم آگیا۔ محض باہمی حسد و عناد کے باعث۔ یقیناً آپ کا رب فیصلہ فرمائے گا ان کے درمیان قیامت کے دن جن باتوں میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے
کیا خیال کر رکھا ہے ان لوگوں نے جو ارتکاب کرتے ہیں برائیوں کا کہ ہم بنا دیں گے انہیں ان لوگوں کی مانند جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے کہ یکساں ہو جائے ان (دونوں ) کا جینا مرنا بڑا غلط فیصلہ ہے جو وہ کرتے ہیں
ذرا اس کی طرف تو دیکھو جس نے بنا لیا ہے اپنا خدا ، اپنی خواہش کو اور گمراہ کر دیا ہے اسے اللہ نے باوجود علم کے اور مہر لگا دی ہے اس کے کانوں اور اس کے دل پر اور ڈال دیا ہے اس کی آنکھوں پر پردہ پس کون ہدایت دے سکتا ہے اسے اللہ کے بعد (لوگو!) کیا تم غور نہیں کرتے
اور وہ کہتے ہیں نہیں (کوئی دوسری) زندگی بجز ہماری دنیا کی زندگی کے (یہیں) ہم نے مرنا اور زندہ رہنا ہے اور نہیں فنا کرتا ہمیں مگر زمانہ حالانکہ انہیں اس حقیقت کا کوئی علم نہیں ۔ وہ محض ظن (و تخمین ) سے کام لے رہے ہیں
اور جب پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ان کے سامنے ہماری روشن آیتیں تو (ان کے جواب میں ) ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی بجز اس کے کہ وہ کہتے ہیں کہ لے آؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو
اور آپ دیکھیں گے ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل گرا ہوا اور ہر گروہ کو بلایا جائے گا اس کے صحیفہ (عمل) کی طرف (انہیں کہا جائے گا) آج تمہیں بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے
اور جو لوگ کفر کرتے رہے (ان سے پوچھا جائے گا) کیا میری آیتیں تمہارے سامنے تلاوت نہیں کی جاتی تھیں پھر تم (سن کر) تکبر کیا کرتے تھے اور تم لوگ (عادی) مجرم تھے
اور جب ( تمہیں ) کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت (کے آنے ) میں کوئی شک نہیں تو تم (بڑے غرور سے) کہتے ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہے ہمیں تو یونہی ایک گمان سا ہوتا ہے اور ہمیں اس پر (قطعاً) یقین نہیں
اور (انہیں ) کہہ دیا گیاآج ہم تمہیں فراموش کر دیں گے جس طرح تم نے فراموش کیے رکھا اپنے اس دن کی ملاقات کو اور تمہارا ٹھکانا آگ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں
یہ اس لیے کہ تم نے بنا رکھا تھا اللہ کی آیتوں کو مذاق اور فریب میں مبتلا کر دیا تھا تمہیں دنیوی زندگی نے ۔ پس آج وہ نہیں نکالے جائیں گے آگ سے اور نہ انہیں توبہ کر کے اپنے رب کو راضی کرنے کا موقع دیا جائے گا