اے ایمان والوں ! پورا کرو (اپنے) عہدوں کو حلال کیے گئے ہیں تمھارے لیے بےزبان جانور سوائے ان کے جن کا حکم پڑھ کر سنایا جائے گا تمھیں نہ حلال سمجھو شکار کو جب کہ تم احرام باندھے ہو بےشک اللہ تعالیٰ حکم فرمات ہے جو چاہتا ہے۔
اے ایمان والو! بےحرمتی نہ کرو اللہ کی نشانیوں کی اور نہ عزت والے مہینے کی اور نہ حرک کو بھیجی ہوئی قربانیوں کی اور نہ جن کے گلے میں پٹے ڈالے گئے ہیں اور نہ (بے حرمتی کرو) جو قصد کیے ہوئے ہیں بیت حرام کا طلب کرتے ہیں اپنے رب کا فضل اور (اس کی ) رضا اور جب احرام کھول چکو تو شکار کرسکتے ہو۔ اور ہر گز نہ اکسائے تمھیں کسی قوم کا بغض بوجہ اس کے کہ انھوں نے روکا تھا تمھیں مسجد حرام سے اس پر کہ تم زیادتی کرو اور ایک دوسرے کی مدد کرو نیکی اور تقویٰ (کے کاموں) میں اور باہم مدد نہ کرو گناہ اور زیادتی پر اور ڈرتے رہو اللہ سے بےشک اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے۔
حرام کیے گئے ہیں تم پر مردار ، خون، سور کا گوشت اور جس پر ذبح کے وقت غیر خدا کا نام لیا جائے اور گلا گھونٹنے سے مرا ہوا، چوٹ سے مرا ہوا، اُوپر سے نیچے گر کر مرا ہوا، سینگ لگنے سے مرا ہوا اور جسے کھایا ہو کسی درندے نے سوائے اس کے جسے تم ذبح کرلو اور (حرام ہے) جو ذبح کیا گیا ہو تھانوں پر (اور یہ بھی حرام ہے ) کہ تم تقسیم کرو جوئے کے تیروں سے یہ سب نافرمانی کے کام ہیں آج مایوس ہوگئے ہیں جنھوں نے کفر اختیار کیا تھا تمھارے دین سے سو نہ ڈرو تم ان سے اور ڈرو مجھ سے آج میں نے مکمل کردیا ہے تمھارے لیے تمھارا دین اور پوری کردی ہے تم پر اپنی نعمت اور میں نے پسند کرلیا تمھارے لیے اسلام کو بطور دین پس جو لاچار ہوجائے بھوک میں درآں حا لیکہ نہ جھکنے والا گناہ کی طرف تو یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔
پُوچھتے ہیں آپ سے کہ کیا کیا حلال کیا گیا ہے انن کے لیے آپ فرمائیے حلا ل کی گئی ہیں تمھارے لیے پاک چیزیں اور (شکار) ان کا سکھایا ہے تم نے جنھیں شکاری جانوروں سے شکار پکڑنے کی تعلیم دیتے ہوئے تم سکھاتے ہو انھیں (وہ طریقہ) جو سکھایا ہے تمھیں اللہ نے تو کھاؤ اس میں سے جسے پکڑے رکھیں تمھارے لیے اور لیا کرو اللہ کا نام اس جانور پر اور ڈرتے رہو اللہ سے بےشک اللہ تعالیٰ بہت تیز ہے حساب لینے میں۔
آج حلال کردی گئیں ہیں تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں اور کھان ان لگوں کا جنھیں دی گئی کتاب حلا ہے تمھارے لیے اور تمھارا کھانا حلال ان کے لیے اور (حلال ہیں) پاک دامن مومن عورتیں اور پاک دامن عورتیں ان لوگوں کی جنھیں دی گئی کتاب تم سے پہلے جب دے دو تم انھیں مہر ان کے پاکباز بنتے ہوئے نہ بدکاری کرتے ہوئے اور نہ چوری چھپے آشنا بناتے ہوئے اور جو انکار کرتا ہے ایمان کا تو بس ضائع ہوگیا اس کا عمل اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
اے ایمان والو! جب تم اٹھو نماز ادا کرنے کے لیے تو (پہلے) دھولو اپنے چہرے اور اپنے بازؤ کہنیوں تک اور مسح کرو اپنے سروں پر اور دھولو اپنے پاؤں ٹخنوں تک اور اگر ہو تم جنبی تو (سارا بدن ) پاک کرلو اور اگر ہو تم بیمار یا سفر پر یا آئے کوئی تم میں سے قضائے حاجت کے بعد یا صحبت کی ہو تم نے عورتوں سے پھر نہ پاؤ تم پانی تو تمیم کرو پاک مٹی سے یعنی مسح کرلو اپنے چہروں اور اپنے بازؤں پر اس سے نہیں چاہتا اللہ تعالیٰ کہ رکھے تم پر کچھ تنگی بلکہ وہ تو یہ چاہتا ہے کہ خوب پاک صاف کرے تمھیں اور پوری کردے اپنی نعمت تم پر تاکہ تم شکر ادا کرتے رہو ۔
اور یاد رکھو اللہ کی نعمت جو تم پر ہے اور اس کے وعدہ کو جو اس نے پختہ لیا تھا تم سے جب کہا تھا تم نے ہم نے سن لیا اور مان لیا اور ڈرتے رہو اللہ سے بےشک اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے جو کچھ سینوں میں ہے۔
اے ایمان والو! ہوجاؤ مضبوطی سے قائم رہنے والے اللہ کے لیے گواہی دینے والے انصاف کے ساتھ اور ہرگز نہ اکسائے تمھیں کسی قوم کی عداوت اس پر کہ تم عدل نہ کرو عدل کیا کرو یہی زیادہ نذدیک ہے تقویٰ سے اور ڈرتے رہا کرو اللہ سے بےشک اللہ تعالیٰ خوب خبردار ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
اے ایمان والو! یاد کرو اللہ اکی نعمت جو تم پر ہوئی جب پختہ ارادہ کرلیا تھا ایک قوم نے کہ بڑھائیں تمھاری طرف اپنے ہاتھ تو اللہ نے روک دیا ان کے ہاتھوں کو تم سے اور ڈرتے رہا کرو اللہ سے اور اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے ایمان والو کو۔
اور یقیناً لیا تھا اللہ تعالیٰ نے پختہ وعدہ بنی اسرائیل سے اور ہم نے مقرر کیے ان میں سے بارہ سردار اور فرمایا تھا اللہ تعالیٰ نے کہ میں تمھارے ساتھ ہوں اگر تم صحیح صحیح ادا کرتے رہے نماز اور دیتے رہے زکوٰۃ اور ایمان لائے میرے رسولوں پر اور مدد کرتے رہے ان کی اور قرض دیتے رہے اللہ کو قرض حسن تو میں جرور دور کردوں گا تم سے تمھارے گناہ اور میں داخل کروں گا تمھیں باغات میں رواں ہیں جن کے نیچے نہریں تو جس نے کفر کیا اس کے بعد تم میں سے تو یقیناً وہ بھٹک گیا سیدھی راہ سے۔
تو بوجہ ان کی عہد شکنی کے ہم نے اپنی رحمت سے انھیں دور کردیا اور کردیا ان کے دلوں کو سخت وہ بدل دیتے ہیں (اللہ کے ) کلام کو اپنی اصلی جگہوں سے اور انھوں نے بھلا دیا بڑا حصہ جس کے ساتھ انھیں نصیحیت کی گی تھی اور ہمیشہ آپ آگاہ ہوتے رہیں گے ان کی خیانت پر بز چند آدمیوں کے ان سے تو معاف فرماتے رہیے ان کو اور درگزر فرمائیے بےشک اللہ تعالیٰ محبوب رکھتا ہے احسان کرنے والوں کو۔
اور ان لوگوں سے جنھوں نے کہا کہ ہم نصرانی ہیں ہم نے لیا تھا پختہ وعدہ ان سے بھی۔ سو انھوں نے بھی بھلادیا بڑا حصہ جس کے ساتھ انھیں نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے بھڑکا دی ان کے درمیان عداوت اور بغض (کی آگ) روز قیامت تک اور آگاہ کردے گا انھیں اللہ تعالیٰ جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔
اے اہل کتاب! بےشک آگیا ہے تمھارتے پاس ہمارا رسول کھلو کر بیان کرتا ہے تمھارے لیے بہت سی ایسی چیزیں جنھیں تم چھپا یا کرتے تھے کتاب سے اور درگزر فرماتا ہے بہت سی باتوں سے بےشک تشریف لایا ہے تمھارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور اور ایک کتاب ظاہر کرنے والی۔
دکھاتا ہے اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ انھیں جو پیروی کرتے ہیں اس کی خوشنودی کی، سلامتی کی راہیں اور نکالتا ہے انھیں تارکیوں سے اُجالے کی طرف اپنی توفیق سے اور دکھاتا ہے انھیں راہ راست۔
یقیناً کفر کیس جنھوں نے کہا کہ اللہ تو مسیح بن مریم ہی ہے (اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) آپ فرمائیے کون قدرت رکھتا ہے اللہ کے حکم میں سے کوئی چیز روک دے (یعنی ) اگر وہ ارادہ فرمائے کہ ہلاک کردے مسیح بن مریم کو اور اس کی ماں کو اور جوئی بھی زمین میں ہے سب کو (تو اسے کون روک سکتا ہے) اور اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے پیدا فرماتا ہے جو چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔
اور کہا یہود اور نصاریٰ نے کہ ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اکے پیارے ہیں آپ فرمائیے (اگر تم سچے ہو) تو پھر کیوں عذاب دیتا ہے تمھیں تمھارے گناہوں پر بلکہ تم بشر ہو اس کی مخلوق سے بخش دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور سزا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کی طرف (سب نے) لوٹ کر جانا ہے۔
اے اہل کتاب! بےشک آگیا ہے تمھارے پاس ہمارا رسول صاف بیان کرتا ہے تمھارے لیے (احکام الٰہی) بعد اس کے کہ رسولوں کا آنا مدتوں بند رہا تھا تاکہ تم یہ نہ کہو کہ نہیں آیا تھا ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا اور نہ کوئی ڈرانے والا اب تو آگیا ہے تمھارے پاس خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔
اور کہا جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے اے میری قوم! یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہوا جب بنائے اس نے تم میں انبیاء اور بنایا تمھیں حکمران اور عطا فرمایا تمھیں جو نہیں عطا فرمایا تھا کیس کو سارے جہانوں میں ۔
کہنے لگے اے موسیٰ ( علیہ السلام) ! اس زمین میں تو بڑی جابر قوم (آباد ) ہے اور ہم ہرگز داخل نہ ہوں گے اس میں جب تک وہ نکل نہ جائیں وہاں سے اور اگر وہ نکل جائیں اس سے تو پھر ہم ضرور داخل ہوں گے۔
(اس وقت) کہا دوآدمیوں نے جو (اللہ ) سے ڈرنے والے تھے انعام فرمایا تھا اللہ نے جن پر کہ (بے دھڑک) داخال ہوجاؤ ان پر دروازہ سے اور جب تم داخل ہو گے دروازہ سے تو یقیناً تم غالب آجاؤ گے اور اللہ پر بھروسہ رکھو اگر ہو تم ایمان دار ۔
کہنے لگے اے موسیٰ ( علیہ السلام) ! ہم تو ہرگز داخل نہ ہوں گے اس میں قیامت تک جب تک وہ وہاں ہیں پس جاؤ تم اور تمھار ا رب اور دونوں لڑو (ان سے) ہم تو یہاں بیٹھے گے۔
موسیٰ ( علیہ السلام) نے عرض کی اے میرے رب! میں مالک نہیں ہوں بجز اپنی ذات کے اور اپنے بھائی کے پس جدائی ڈال دے ہمارے درمیان اور اس نافرمان قوم کے درمیان۔
اور آپ پڑھ سنائیے انھیں خبر دو فرزندان آدم کی ٹھیک ٹھیک جب دونوں نے قربانی دی تو قبول کی گئی ایک سے اور نہ قبول کی گئی دوسرے سے (اس دوسرے نے ) کہا قسم ہے میں تمھیں قتل کرڈالوں گا۔ (پہلے نہ ) کہا (تو بلاوجہ ناراض ہوتا ہے ) قبول فرماتا ہے اللہ صرف پرہیزگاروں سے۔
تو اگر تو بڑھائے میری طرف اپنا ہاتھ تاکہ تو قتل کرے مجھے (جب بھی) میں نہیں بڑھانے والا اپنا ہاتھ تیری طرف تاکہ میں قتل کردں تجھے میں تو ڈرتا ہوں اللہ سے جو مالک ہے سارے جہانوں کا۔
پھر بھیجا اللہ نے ایک کوا کھودتا تھا زمین کو تاکہ دکھائے اُسے کہ کس طرح چھپائے لاش اپنے بھائی کی کہنے لگا ہائے افسوس کیا قاصر رہا میں کہ ہوتا اس کوے کی مانند تو چھپا دیتا لاش اپنے بھائی کی غرض وہ ہوگیا سخت پچھتانے والوں سے۔
اسی وجہ سے (حکم) لکھ دیا ہم نے بنی اسرائیل پر کہ جس نے قتل کیا کسی انسان کو سوائے قصاص کے اور زمین میں فساد برپا کرنے کے تو گویا اس نے قتل کردیا تمام انسانوں کو اور جس نے بچا لیا کسی جان کو تو گویا بچایا اس نے تمام لوگوں کو اور بےشک آئے ان کے پاس ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ پھر بھی بہت سے لوگ ان میں اس کے بعد بھی زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں۔
بلاشبہ سزا ان لوگوں کی جو جنگ کرتے ہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور کوشش کرتے ہیں زمین میں فساد برپا کرنے کی یہ ہے کہ انھیں (چن چن) کر قتل کیا جائے یا سولی دیا جائے یا کاٹے جائیں ا کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مختلف طرفوں سے یا جلا وطن کردیے جائیں یہ تو ان کے لیے رسوائی ہے دنیا میں اور ان کے لیے آخرت میں (اس سے بھی) بڑی سزا ہے۔
مگر وہ جنھوں نے توبہ کرلی اس سے پہلے کہ تم قابو پالو ان پر (ان کو معاف کردیا جائے گا) اور خوب جان لو کہ یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے۔
بے شک وہ جنھوں نے کفر اختیار کیا اگر انہی کی ملکیت میں ہو جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب اور اتنا اور بھی اس کے ساتھ تاکہ بطور فدیہ دیں اے (اور نجات پائیں ) عذاب سے روز قیامت نہ قبول کیا جائے گا ان سے اور ان کے لیے عذاب دردناک ہوگا۔
اور چوری کرنے والے اور چوری کرنے والی (کی سزا یہ ہے ) کہ کاٹو ان کے ہاتھ بدلہ دینے کے لیے جو انھوں نے کیا (اور ) عبرتناک سزا اللہ کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ غالب ہے، حکمت والا ہے۔
پھر جس نے توبہ کرلی اپنے (اس) ظلم کے بعد اور اپنے آپ کو سنوار لیا تو بےشک اللہ تعلیٰ توجہ فرمائے گا اس پر بےشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔
کیا تو نہیں جانتا کہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی سزا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور بخش دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔
اے رسُول ! نہ غمگین کریں آپ کو وہ جو تیز رفتار ہیں کفر میں ان لوگوں سے جنھوں نے کہا ہم ایمان لائے (صرف ) اپنے منہ سے حالانکہ نہیں ایمان لائے تھے ان کے دل اور ان لوگوں سے جو یہودی ہیں جاسوسی کرنے والے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے وہ جاسوس ہیں دوسری قوم کے جو نہیں آئی آپ کے پاس دل دیتے ہیں اللہ کی باتوں کو اس کے صحیح موقعوں سے کہتے ہیں اگر تمھیں دیا جائے یہ حکم تو مان لو اسے اور اگر نہ دیا جائے تمھیں یہ حکم تو بچو اور جس کو ارادہ فرمالے اللہ تعالیٰ فتنہ میں ڈالنے کا تو نہیں طاقت رکھتا تو اس کے لیے اللہ سے کسی چیز کی یہ وہی لوگ ہیں کہ نہیں اراد فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ پاک کرے ان کے دلوں کو ان کے لیے دنیا میں ذلت ہے اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔
قبول کرنے والے ہیں جھوٹ کو بڑے حرام خور ہیں تو اگر وہ آئیں آپ کے پاس تو چاہے فیصلہ فرمائیے ان کے درمیاں یا منہ پھیر لیجیے ان سے (آپ کو اختیار ہے) اور اگر آ پ منہ پھر لیں ان سے تو نہ نقصان پہنچا سکیں گے آپ کو کچھ بھی اور اگر آپ فیصلہ کریں تو فیصلہ فرمائیے ان میں انصاف سے بےشک اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے انصاف کرنے والوں سے۔
بے شک اتاری ہم نے تورات اس میں ہدایت اور نور ہے حکم دیتے رہے اس کے مطابق انبیاء جو (ہمارے) فرماں بردار تھے یہودیوں کو اور (اسی کے مطابق حکم دیتے رہے) اللہ والے اور علماء اس واسطے کہ محافظ ٹھیرائے گئے تھے اللہ کی کتاب کے اور وہ تھے اس پر گواہ پس نہ ڈرا کرو لوگوں سے اور ڈرا کرو مجھ سے اور نہ بیچا کرو میری آیتوں کو تھوڑی سے قیمت سے اور جو فیصلہ نہ کرے اس (کتاب) کے مطابق جسے نازل فرمایا اللہ نے تو وہی لوگ کافر ہیں۔
اور ہم نے لکھ دیا تھا یہود کے لیے تورات میں (یہ حکم) کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں کے لیے قصاص تو جو شخص معاف کردے بدلا تو یہ معافی کفارہ بن جائے گی اس کے گناہوں کا اور جو فیصلہ نہ کرے اس (کتاب) کے مطابق جسے اتارا اللہ نے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔
اور ہم نے پیچھے بھیجا ان کے نقش قد م پر عیسیٰ ( علیہ السلام) بن مریم کو تصدیق کرنے والا جو اس کے سامنے موجود تھا یعنی تورات اور ہم نے دی اسے انجیل اس میں ہدایت اور نور تھا اور تصدیق کرنے والی تھی جو اس سے پہلے تھا یعنی تورات اور (یہ انجیل) ہدایت اور نصیحت تھی پرہیزگاروں کے لیے۔
اور ضرور فیصلہ کیا کریں انجیل والے اس کے مطابق جو نازل فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس میں۔ اور جو فیصلہ نہ کریں اس کے مطابق جسے اللہ تعالیٰ نے اتارا ہے تو وہی لوگ فاسق ہیں۔
اور (اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) اتاری ہم نے آپ کی طرف یہ کتاب (قرآن) سچائی کے ساتھ تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے (آسمانی) کتاب ہے اور (یہ قرآن) محافظ ہے اس پر تو آپ فیصلہ فرمادیں ان کے درمیاں اس سے جو نازل فرمایا اللہ تعالیٰ نے اور آپ نہ پیروی کریں ان کی خواہشات کی اس حق کو چھوڑ کر جو آپ کے پاس آیا ہے ہر ایک کے لیے بنائی ہے ہم نے تم میں سے ایک شریعت اور عمل کی راہ اور اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو بنا دیتا تم (سب کو ) ایک ہی امت لیکن آزمانا چاہتا ہے تمھیں اس چیز میں سے جو اس نے دی ہے تم کو تو آگے بڑھنے کی کوشش کرو نیکیوں میں اللہ کی طرف ہی لوٹ کر آنا ہے تم سب نے پھر وہ آگا ہ کرے گا تمھیں جن باتوں میں تم جھگڑا کرتے تھے۔
اور یہ کہ فیصلہ فرمائیں آپ ان کے درمیان اس کے مطابق جو نازل فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے اور نہ پیروی کریں ان ککی خواہشات کی اور آپ ہوشیار رہیں ان سے کہیں برگشتہ نہ کردیں آپ کو اس کے کچھ حصہ سے جو اتارا ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف اور اگر وہ منہ پھر لیں تو جان لو کہ بےشک ارادہ کرلیا ہے اللہ تعالیٰ نے کہ سزا دے انھیں ان کے بعض گناہوں کی اور بےشک بہت سے لوگ نافرمان ہیں۔
اے ایمان والوں ! نہ بناؤ یہود و نصاریٰ کو (اپنا) دوست ( و مددگار) وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جس نے دوست بنایا انھیں تم میں سے سو وہ انھیں میں سے ہے بےشک اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا ظالم قوم کو۔
سو آپ دیکھتے ہیں ان لوگوں کو جن کے دلوں میں (نفاق کا ) مرض ہے کہ وہ دوڑ دوڑ کر جاتے ہیں یہود و نصاریٰ کی طرف۔ کہتے ہیں ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں ہم پر کوئی گردش نہ آجائے وہ وقت دور نہیں جب اللہ تعالیٰ (تمھیں) دیدے فتح کامل یا (ظاہر کردے کامیابی کی ) کوئی بات اپنی طرف سے تو پھر ہوجائیں گے اس پر جو انھوں نے چھپا رکھا تھا اپنے دلوں میں نادم۔
اور (اُس وقت) کہیں گے ایمان والے کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے قسمیں اٹھائی تھیں اللہ کی سخت سے سخت کہ وہ یقیناً تمھارے ساتھ ہیں اکارت گئے ان کے اعمال اور ہوگئے وہ (سراسر) نقصان اٹھانے والے۔
اے ایمان والو! جو پھر گیا تم میں سے اپنے دین سے (تو اس کی بدنصیبی) سو عنقریب لے آئے گا اللہ تعالیٰ ایک ایسی قوم محبت کرتا ہے اللہ ان سے اور وہ محبت کرتے ہیں اس سے جو نرم ہوں گے ایماندروں کے لیے بہت سخت ہوں گے کافروں پر جہاد کریں گے اللہ کی راہ مین اور نہ ڈریں گے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ۔ یہ (محض) اللہ کا فضل (وکرم) ہے نوازتا ہے اس سے جسے چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی کشادہ رحمت والا سب کچھ جاننے والا ہے۔
تمھارا مددگار تو صرف اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول (پاک) ہے اور ایمان والے ہیں جو صحیح صحیح نماز ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیا کرتے ہیں اور (ہر حال میں) بارگاہِ الٰہی میں جھکنے والے ہیں۔
اور یاد رکھو جس نے مددگار بنایا اللہ کو اور اس کے رسول کریم کو اور ایمان والوں کو ( تو وہ اللہ کے گروہ سے ہیں ) اور بلاشبہ اللہ کا گروہ ہی غالب آنے والا ہے۔
اے ایمان والو! مت بناؤ ان لوگوں کو جنھوں نے بنارکھا ہے تمھارے دین کو ہنسی اور کھیل ان سے جنھیں دی گئی کتاب تم سے پہلے اور کفار سے (اپنے ) دوست اور ڈرتے رہو اللہ تعالیٰ سے اگر ہو تم ایمان دار۔
آپ فرمائیے اے اہل کتاب ! تم کیا ناپسند کرتے ہو ہم سے بجز اس کے کہ ہم ایمان لائے اللہ کے ساتھ جو اتارا گیا ہماری طرف اور جو اتارا گیا اس سے پہلے اور بلاشبہ بہت سے تم میں سے فاسق ہیں۔
آپ (انھیں ) فرمائیے کیا میں آگاہ کروں تمھیں کہ کون برا ہے ان سے با عتبار جزا کے اللہ کے نذدیک وہ لوگ (برے ہیں) جن پر لعنت کی اللہ نے اور غضب فرمایا ان پر اور بنایا ان میں سے بعض کو بندر اور بعض کو سؤر اور (وہ برے ہیں ) جنھوں نے پوجا کی شیطان کی وہی لوگ بدترین ہیں بلحاظ درجہ کے اور دوسروں سے زیادہ بھٹکنے والے ہیں راہ راست سے۔
اور جب آتے ہیں تمھارے پاس تو کہتے ہیں ہم ایمان لاچکے حالانکہ وہ (یہاں) داخل بھی کفر کے ساتھ اور وہ نکلے بھی کفر کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جسے وہ چھپا رہے تھے۔
اور کہا یہود نے کہ اللہ کا ہاتھ جکڑا ہوا ہے جکڑے جائیں ان کے ہاتھ اور پھٹکار ہو ان پر بوجہ اس (گستاخانہ) قول کے بلکہ اس کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں خرچ کرتا ہے جیسے چاہتا ہے اور ضرور بڑھادے گا اکثر کو ا میں سے جو نازل کیا گیا آپ کی طرف آپ کے رب سے سرکشی اور انکار میں۔ اور ہم نے ڈال دی ہے ان میں دُشمنی اور بغض روز قیامت تک جب کبھی وہ بھڑکاتے ہیں آگ لڑائی کی بجھا دیتا ہے اسے اللہ تعالیٰ اور یہ کوشش کرتے ہیں زمین میں فساد برپا کرنے کی۔ اور اللہ تعالیٰ نہیں پسند فرماتا فسادیوں کو۔
اور اگر وہ قائم کرتے تورات اور انجیل کو (اپنے عمل سے) اور جو نازل کیا گیا ان کی طرف ان کے رب کی جانب سے (تو فراخ رزق دیا جاتا انھیں حتی کہ ) وہ کھاتے اوپر سے بھی اور نیچے سے بھی ان میں ایک جماعت اعتدال پسند بھی ہے اور اکثر ان میں سے بہت برا ہے جو کررہے ہیں۔
اے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ! پہنچا دیجیے جو اتارا گیا ہے آپ کی طرف آپ کے پروردگار کی جانب سے۔ اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو نہیں پہنچایا آپ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام اور اللہ تعالیٰ بچالے گا آپ کو لوگوں (کے شر) سے یقیناً اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا کافروں کی قوم کو۔
آپ فرمائیے اے اہل کتاب! نہیں ہو تم کسی چیز پر (ہدایت سے) یہاں تک کہ (عمل سے) قائم کرو تورات اور انجیل کو اور جو اتارا گیا تمھاری طرف تمھارے رب کی جانب سے اور ضرور بڑھا دے گا اکثر کو ان مین سے جو نازل کیا گیا آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے سرکشی اور انکار میں پس آپ نہ افسوس کریں قوم کفار پر۔
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی بنے اور صابی اور نصرانی جو بھی ( ان میں سے) ایمان لایا اللہ پر اور روز قیامت پر اور نیک عمل کیے تو نہ کوئی خوف ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
بے شک ہم نے لیا تھا پختہ وعدہ بنی اسرائیل سے اور ہم نے بھیجے تھے ان کی طرف رسول جب کبھی آیا ان کے پاس کوئی رسول وہ حکم لے کر جسے ناپسند کیا ان کے نفسوں نے تو (انبیاء کے ) ایک گروہ کو تو انھوں نے جھٹلایا اور ایک گروہ کو قتل کردیا۔
اور یہ فرض کرلیا کہ نہیں ہوگا (انھیں) عذاب تو اندھے بن گئے اور بہرے بن گئے پھر نظر رحمت فرمائی اللہ تعالیٰ نے ان پر پھر وہ اندھے بن گئے اور بہرے بن گئے بہت ان میں سے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھ رہا ہے جو وہ کرتے ہیں۔
بے شک کافر ہوگئے وہ جنھوں نے (یہ) کہا کہ اللہ مسیح بن مریم ہی تو ہے حالانکہ کہا تھا کود مسیح نے اے بنی اسرائیل! عبادت کرو اللہ کی جو میرا بھی رب ہے ، اور تمھار ا بھی رب ہے، یقیناً جو بھی شریک بنائے گا اللہ کے ساتھ تو حرام کردی ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت اور اس کا ٹھکانہ آگ ہے اور نہیں ظالموں کا کوئی مددگار
بے شک کافر ہوگئے وہ جنھوں نے (یہ ) کہا کہ اللہ تیسرا ہے تین (خداؤں) سے ۔ اور نہیں کوئی خدا مگر ایک اللہ اور اگر باز نہ آئے اس (قول باطل) سے جو وہ کہ رہے ہیں تو ضرور پہنچے گا جنھوں نے کفر کیا ان میں سے دردناک عذاب۔
نہیں مسیحِ بن مریم مگر ایک رسول۔ گزر چکے ہیں اس سے پہلے بھی کئی رسول اور ان کی ماں بڑی راست باز تھیں دونوں کھایا کرتے تھے کھانا دیکھو! کیسے ہم کھول کر بیان کرتے ہیں ان کے لیے دلیلیں پھر دیکھو وہ کیسے الٹے پھر رہے ہیں۔
آپ فرمائیے اے اہل کتاب! نہ حد سے بڑھو اپنے دین میں ناحق اور نہ پیروی کرو اس قوم کی خواہشوں کی جو گمراہ ہوچکی ہے پہلے سے اور گمراہ کرچکے ہیں بہت سے لوگوں کو اور بھٹک چکے ہیں راہ راست سے ۔
لعنت کیے گئے وہ جنھوں نے کفر کیا بنی اسرائیل سے داؤد کی زبان پر اور عیسیٰ پسر مریم کی زبان پر یہ بوجہ اس کے کہ وہ نافرمانی کیا کرتے اور زیادتیاں کیا کرتے تھے۔
آپ دیکھیں گے بہتوں کو ان میں سے کہ وہ دوستی رکھتے ہیں کافروں سے بہت ہی برا ہے جو آگے بھیجا ان کے لیے ان کے نفسوں نے یہ کہ ناراض ہوگیا اللہ تعالی ٰ ان پر اور عذاب میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
ضرور پائیں گے آپ سب لوگوں سے زیادہ دشمنی رکھنے والے مومنوں سے یہود کو اور مشرکوں کو اور پائیں گے آپ سب سے زیادہ قریب دوستی میں ایمان والوں سے جنھوں نے کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اس لیے کہ ان میں عالم اور درویش ہیں اور وہ غرور نہیں کرتے۔
ضرور پائیں گے آپ سب لوگوں سے زیادہ دشمنی رکھنے والے مومنوں سے یہود کو اور مشرکوں کو اور پائیں گے آپ سب سے زیادہ قریب دوستی میں ایمان والوں سے جنھوں نے کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اس لیے کہ ان میں عالم اور درویش ہیں اور وہ غرور نہیں کرتے۔
اے ایمان والوں! نہ حرام کرو پاکیزہ چیزوں کو جنھیں حلال فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے اور نہ حد سے آگے بڑھو بےشک اللہ تعالیٰ نہیں دوست رکھتا حد سے تجاوز کرنے والوں کو ۔
نہ باز پرس کرے گا تم سے اللہ تعالیٰ تمھاری فضول قسموں پر لیکن باز پرس کرے گا تم سے ان قسموں پر جن کو تم پختہ کرچکے ہو تو اس (کے توڑنے) کا کفارہ یہ ہے کہ کھلایا جائے دس مسکینوں کو درمیانی قسم کا کھانا جو تم کھلاتے ہو اپنے گھر والوں کو یا کپڑے پہنائے جائیں انھیں یا آزاد کیا جائے غلام اور جو نہ پائے (ان میں سے کوئی چیز) تو وہ روزے رکھے تین دن یہ کفارہ ہے تمھاری قسموں کا جب تم قسم اٹھاؤ اور حفاظت کیا کرو اپنی قسموں کی اسی طرح کھول کر بیان فرماتا ہے اللہ تعالیٰ تمھارے لیے اپنی آیتیں تاکہ تم شکر یہ ادا کرو۔
یہی تو چاہتا ہے شیطان کہ ڈال دے تمھارے درمیان عداوت اور بغض شراب اور جؤئے کے ذریعہ اور روک دے تمھیں یادِ الٰہی سے اور نماز سے تو کیا تم باز آنے والے ہو؟
اور اطاعت کرو اللہ تعالیٰ کی اور اطاعت کرو رسول (کریم) کی اور محتاط رہو اور اگر تم نے روگردانی کی تو خوب جان لو کہ ہامرے رسول کا فرض تو بس پہنچا دینا ہے کھول کر (ہمارے احکا کو )۔
نہیں ان لگوں پر جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے کوئی گناہ جو (اس حکم سے پہلے) وہ کھاپی چکے جب کہ وہ پہلے بھی ڈرتے تھے اور ایمان رکھتے تھے اور نیک عمل کیا کرتے تھے پھر (ان احکام کے بعد بھی) ڈرتے ہیں اور (جو اترا) اس پر ایمان رکھتے ہیں پھر بھی ڈرتے ہیں اور اچھے کام کرتے ہیں اور اللہ محبت کرتا ہے اچھے کام کرنے والوں سے۔
اے ایمان والو! ضرور آزامائے گا تمھیں اللہ تعالیٰ کیس چیز کے ساتھ شکار سے پہنچ سکتے ہیں جس تمھارے ہاتھ اور تمھارے نیزے تاکہ پہچان کرداے اللہ تعالٰ اس کی جو ڈرتا ہے اس سے بن دیکھے ۔ پس جو شخص حد سے بڑے گا اس (تنبیہ ) کے بعد تو اس کے لیے دردنکا عذاب ہے۔
اے ایمان والو! نہ مارو شکار کو جب کہ تم احرام باندھے ہوئے ہو اور جو قتل کرے شکار کو تم میں سے جان بوجھ کر تو اس کی جزا یہ ہے ہ اسی قسم کا جانور دے جو اس نے قتل کیا ہے فیصلہ کریں اس کا دو معتبر آدمی تم میں سے درآں حالیکہ یہ قربانی کعبہ میں پہنچنے والی ہو یا کفارہ ادا کرے وہ یہ کہ چند مسکینوں کو کھانا دے یا اس کے برابر روزے رکھے تاکہ چکھے سزا اپنے کام کی۔ معاف فرمادیا اللہ تعالیٰ نے جو گزر چکا اور جو (اب) پھر گیا تو انتقام لے گا اللہ تالیٰ اس سے اور اللہ تعالیٰ غالب ہے بدلہ لینے والا ہے۔
حلال کیا گیا تمھارے لیے دریائی شکار اور اس کا کھانا فائدہ اٹھاؤ تم اور دوسرے قافلے اور حرام کیا گیا ہے تم پر خشکی کا شکار جب تک تم احرام باندھے ہوئے ہو اور ڈرتے رہو اللہ سے جس کے پاس تم اکٹھے کیے جاؤ گے۔
بنایا ہے اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو جو عزت والا گھر ہے بقا کا باعث لوگوں کے لیے نیز حر مت والے مہینوں کو اور حرم کی قربانی اور گلے میں پٹے پڑے ہوئے جانوروں کو تاکہ تم خوب جان لو کہ یقیناً اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔
اے ایمان والو! مت پوچھا کر وایسی باتیں کہ اگر ظاہر کردی جائیں تمھارے لیے تو بری لگیں تمھیں اور اگر پوچھو گے ان کے متعلق جب کہ اتر رہا ہے قرآن تو ظاہر کردی جائیں گی تمھارے لیے ۔ معاف کردیا ہے اللہ نے ان کو۔ اور اللہ بہت بخشنے والا بڑے حلم والا ہے۔
نہیں مقرر کیا اللہ تعالٰ نے بحیرہ اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام لیکن جنھوں نے کفر کیا وہ تہمت لگاتے ہیں اللہ تعالیٰ پر جھوٹی اور اکثر ان میں سے کچھ سمجھتے ہی نہیں ہیں۔
اور جب کہا جاتا ہے انھیں کہ آؤ اس کی طرف جو نازل کیا ہے اللہ تعالیٰ نے اور آؤ (اس کے) رسول کی طرف کہتے ہیں کافی ہے ہمیں جس پر پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو اگرچہ ان کے باپ دادا کچھ بھی نہ جانتے ہوں اور نہ ہدایت یافتہ ہوں (کیا پھر بھی وہ انھیں کی پیروی کریں گے)۔
اے ایمان والوں! تم پر اپنی جانوں کا فکر لازمی ہے۔ نہیں نقصان پہنچاسکے گا تمھیں جو گمراہ ہوا جب کہ تم ہدایت یافتہ ہو اللہ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے تم سب نے پھر وہ آگاہ کرے گا تمھیں جو تم (اس دنیا میں) کیا کرتے تھے۔
اے ایمان والو! آپس میں تمھاری گواہی جب آجائے کسی کو تم سے موت وصیت کرتے وقت (یہ ہے کہ ) دو معتبر شخص تم میں سے ہوں یا دو اور غیروں میں سے اگر تم سفر کررہے ہو زمین میں پھر پہنچے تمھیں موت کی مصیبت روکو ان دو گواہوں کو نماز پڑھنے کے بعد تو وہ قسم کھائیں اللہ کی اگر تمھیں شک پڑ جائے (اِن الفاظ سے) کہ ہم نہ خریدے گے اس قسم کے عوض کوئی مال اور اگرچہ قریبی رشتہ دار ہی ہو اور ہم نہ چھپائیں گے اللہ کی گواہی ( اگر ہم ایسا کریں) تو یقیناً ہم اس وقت گنہاگاروں میں (شمار) ہوں گے۔
پھر اگر پتہ چلے کہ وہ دونوں گواہ سزا وار ہوئے ہیں کسی گناہ کے تو دو اور کھڑے ہوجائیں ان کی جگہ ان مٰن سے جن کا حق ضائع کیا ہے پہلے گواہوں نے اور (یہ نئے دو گواہ) قسم اٹھائیں اللہ کی کہ ہمارے گواہی زیادہ ٹھیک ہے ان دو گواہی سے اور ہم نے حد سے تجاوز نہیں کیا (اگر ہم ایسا کریں تو) بےشک اس وقت ہم ظالموں میں شمار ہوں۔
یہ طریقہ زیادہ قریب ہے کہ گواہ دیا کریں گواہی جیسا کہ چاہیے یا خوف کریں اس بات کا کہ لوٹائی جائیں گی قسمیں (میت کے وارثوں کی طرف) ان کی قسموں کے بعد ۔ اور ڈرتے رہو اللہ سے اور سنو اس کا حکم اور اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا فاسق قوم کو۔
جس دن جمع کرے گا اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو پھر پوچھے گا (ان سے) کیا جواب ملا تمھیں؟ عرض کریں گے کوئی علم نہیں ہمیں بےشک تو ہی خوب جاننے والا ہے سب غیبوں کا
جب فرمائے گا اللہ تعالیٰ اے عیسیٰ ( علیہ السلام) بن مریم ! یاد کرو میرا انعام اپنے پر اور اپنی والدہ پر جب میں نے مدد فرمائی تمھاری روح القدس سے باتیں کرتا تھا تو لوگوں سے (جبکہ تو ابھی) پنگھوڑے میں تھا اور جب پکی عمر کو پہنچا ۔ اور جب سکھائی میں تمھیں کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل اور جب تو بناتا تھا کِیچڑ سے پرندے کی سی صورت میرے اذن سے پھر پھونک مارتا تھا اس میں تو وہ (مٹی کا بےجان پتلہ) بن جاتا تھا پرندہ میرے اذن سے اور (جب) تو تندرست کردیا کرتا تھا مادر زاد اندھے کو اور کوڑھی کو میرے اذن سے اور جب تو (زندہ کرکے ) نکالا کرتا تھا مرود ں کو میرے اذن سے ۔ اور جب میں روک دیا تھا بنی اسرائیل کو تجھ سے جب تو آیا تھا ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر تو کہا جنھوں نے کفر کیا تھا ان سے کہ یہ سب (معجزات) نہیں ہیں مگر کھلا ہوا جادو۔
اور جب میں نے حواریوں کے دل میں ڈالا کہ ایمان لاؤ میرے ساتھ اور میرے رسول کے ساتھ انھوں نے کہا ہم ایمان لائے اور ( اے مولا) تو گواہ رہ کہ ہم مسلمان ہیں ۔
جب کہا تھا حواریوں نے اے عیسیٰ بن مریم کیا یہ کر سکتا ہے تیرا رب کہ اتارے ہم پر ایک خوان آسمان سے (ان کی اس تجویز پر ) عیسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا ڈرو اللہ سے اگر تم مومن ہو۔
حواریوں نے کہا ہم تو (بس) یہ چاہتے ہیں کہ ہم کھائیں اس سے اور مطمئن ہوجائیں ہمارے دل اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا تھا اور ہم ہو جائیں اس پر گواہی دینے والوں سے۔
عرض کی عیسیٰ بن مریم نے اے اللہ ہم سب کے پالنے والے اتار ہم پر خوان آسمان سے بن جائے ہم سب کے لیے خوشی کا دن (یعنی) ہمارے اگلوں کے لیے بھی اور پچھلوں کے لیے بھی اور (ہوجائے) ایک نشانی تیری طرف سے اور رزق دے ہمیں تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔
فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ بلاشبہ اتارنے والا ہوں اسے تم پر پھر جس نے کفر اختیار کیا اس کے بعد تم سے تو بےشک میں عذاب دوں گا اے ایسا عذاب کہ نہیں دوں گا کیس کو بھی ایل جہان سے۔
اور جب پوچھے گا اللہ تعالیٰ اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تو نے کہا تھا لوگوں سے کہ بنالو مجھے اور میری ماں کو دو خد اللہ کے سوا۔ وہ عرض کریں گے پاک ہے تو ہر شریک سے کیا مجال تھی میری کہ میں کہوں ایسی بات جس کا نہیں ہے مجھے کوئی حق۔ اگر میں نے کہی ہوتی ایسی بات تو تو ضرور جانتا اس کو۔ تو جانتا ہے جو میری جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہے بےشک تو ہی خوب جاننے والا ہے تمام غیبوں کا۔
نہیں کہا میں نے انہیں مگر وہی کچھ جس کا تونے حکم دیا مجھے کہ عبادت کرو اللہ کی جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمھارا بھی پروردگار ہے اور تھا میں ان پر گواہ جب تک میں رہا ان میں پھر جب تونے مجھے اٹھالیا تو تو ہی نگران تھا ان پر اور تو ہر چیز کا مشاہد کرنے والا ہے۔
فرمایا اللہ تعالیٰ نے یہ ہے وہ دن جس میں فائدہ پہنچائے گا سچوں کو ان کا سچ ان کے لیے باغات ہیں رواں ہے جن کے نیچے نہریں وہ ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے راضی ہوگیا اللہ تعالیٰ ان سے اور راضی ہوگئے وہ اللہ تعالیٰ سے یہی ہے بڑی کامیابی ۔