سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو اور بنایا اندھیروں کو اور نور کو پھر بھی جنھوں نے کفر کیا وہ اپنے رب کے ساتھ (اوروں کو ) برابر ٹھیرا رہے ہیں ۔
کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ کتنی ہلاک کردیں ہم نے ان سے پہلے قومیں جنھیں ہم نے (ایسا ) تسلط دیا تھا زمین میں جو ہم نے تمھیں نہیں دیا اور ہم نے بھیجے بادل ان پر موسلا دھار برسنے والے اور ہم نے بنادیں نہریں جو بہتی تھیں ان کے (گھروں اور باغوں) کے نیچے سے پھر ہم نے ہلاک کردیا انھیں بوجہ ان کے گناہوں کے اور پیدا کردی ہم نے ان کے بعد اور قوم۔
اور اگر ہم اتارتے آپ پر کتاب (لکھی ہوئی) کاغذ پر اور وہ چھو بھی لیتے اس کو اپنے ہاتھوں سے سب بھی کہتے جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے کہ نہیں ہے یہ مگر جادو کھلا ہوا۔
آپ ان سے پوچھیے کس کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے آپ (ہی انھیں) بتائیے (سب کچھ) اللہ ہی کاہے اس نے لازم کرلیا ہے اپنے آپ پر رحمت فرمانا یقیناً جمع کرے گا تمھیں قیامت کے دن ذرا شک نہیں اس میں (مگر) جنھوں نے نقصان میں ڈال دیا ہے اپنے آپ کو تو ہو نہیں ایمان لائیں گے۔
آپ فرمائیے کیا بغیر اللہ تعالیٰ کے کسی کو (اپنا) معبود بناوں (وہ اللہ جو) پیدا فرمانے والا ہے آسمانوں کو اور زمین کو اور وہ (سب کو) کھلاتا ہے اور خود نہیں کھلایا جاتا فرمایئے بیشک مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ہوجاؤں سب سے پہلے سرجھکانے والا (نیز یہ حکم دیا گیا ہے کہ ) ہرگز نہ بننا شرک کرنے والوں سے۔
اور اگر پہنچائے تجھے اللہ تعالیٰ کوئی دُکھ تو نہیں کوئی دور کرنے والا اس دکھ کو سوائے اس کے اور اگر پہنچائے تجھے کوئی بھلائی (اس کو کوئی روک نہیں سکتا) وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
آپ پوچھئیے کون سے چیز بڑی (معتبر) ہے گواہی کے لحاظ سے آپ ہی بتائیے اللہ وہی گواہ ہے میرے درمیان اور تمھارے درمیان اور وحی کیا گیا ہے میری طرف یہ قرآن تاکہ میں ڈراؤں تمھیں اس کے ساتھ اور (ڈراؤں ) اسے جس تک یہ پہنچے ۔ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خدا اور بھی ہیں؟ آپ فرمائیے میں تو (ایسی جھوٹی) گواہی نہیں دیتا ۔ آپ فرمائیے وہ تو صرف ایک ہی خدا ہی ہے اور بےشک میں بیزار ہوں ان (بتوں) سے جنھیں تم شریک ٹھیراتے ہو۔
اور کچھ ان میں سے ایسے ہیں جو کان لگاتے ہیں آپ کی طرف اور ہم نے ڈال دیئے ہیں ان کے دلوں پر پردے تاکہ نہ سمجھیں وہ اسے اور ان کے کانوں میں گرانی ہے اور اگر وہ دیکھ لیں ہر ایک نشانی بھی تو نہیں ایمان لائیں گے ان کے ساتھ۔ یہاں تک کہ جب حاضر ہوں آپ کے پاس جھگڑتے ہوئے آپ سے (تو) کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہ نہیں یہ (قرآن) مگر جھوٹے قصے پہلے لوگوں کے۔
اور اگر آپ دیکھیں جب وہ کھڑے کئے جائین گے آگ پر تو کہیں گے اے کاش! (کسی طرح) ہم لوٹادیے جائیں تو (پھر) نہیں جھٹلائیں گے اپنے رب کی نشائیوں کو اور ہم ہوجائیں گے ایمانداروں سے۔
بلکہ عیاں ہوگیا ان پر جسے چھپایا کرتے تھے پہلے اور اگر انھیں واپس بھیجا جائے ( جیسے ان کی خواہش ہے) تو پھر بھی کریں گے جس سے روکے گئے تھے اور بےشک وہ جھوٹے ہیں۔
اور اگر آپ دیکھیں جب وہ کھڑے کیے جائیں گے اللہ کے حضور میں اللہ فرمائے گا کیا یہ (قبروں سے اٹھنا) حق نہیں ؟ کہیں گے بےشک (حق ہے) ہمارے رب کی قسم اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو اب چکھو عذاب بسبب اس کفر کے جو تم کیا کرتے تھے۔
بے شک خسارہ میں رہے وہ جنھوں نے جھٹلایا اللہ سے ملاقات (کی خبر) کو ۔ یہاں تک کہ جب آگئی ان پر قیامت اچانک بولے ہائے افسوس ! اس کوتاہی پر جو ہم سے ہوئی اس زندگی میں اور وہ اٹھائے ہوئے ہیں اپنے بوجھ اپنی پشتوں پر ارے کتنا برا بوجھ ہے جسے وہ اٹھائے ہوئے ہیں۔
اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) ہم جانتے ہیں کہ رنجیدہ کرتی ہے آپکو وہ بات جو یہ کہ رہے ہیں تو وہ نہیں جھٹلاتے آپ کو بلکہ یہ ظالم (دراصل) اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔
اور بےشک جھٹلائے گئے رسول آپ سے پہلے تو انھوں نے صبر کیا اس جھٹلائے جانے پر اور ستائے جانے پر یہاں تک کہ آپہنچی انھیں ہماری مدد اور نہیں کوئی بدلنے والا اللہ کی باتوں کو اور آہی چکی ہیں آپ کے پا س رسولوں کی کچھ خبریں۔
اور اگر گراں ہے آپ پر ان کا (حق سے) روگردانی کرنا تو اگر آپ سے ہوسکے تو تلاش کرلو کوئی سرنگ زمین میں یا کوئی سیڑھی آسمان میں ( تو اس پر چڑھ جاؤ) پھر لے آؤ ان کے پاس کوئی معجزہ (تو بھی وہ ایمان نہیں لائیں گے)۔ اور اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو جمع کردیتا انھیں ہدایت پر تو آپ نہ ہوجائیں ان سے جو (حقیقت کا) علم نہیں رکھتے۔
اور بولے کیوں نہیں اتاری گئی ان پر کوئی نشانی ان کے رب کی طرف سے آپ فرمائیے بےشک اللہ تعالیٰ قادر ہے اس بات پر کہ اتارے کوئی نشانی لیکن اکثر ان میں سے کچھ نہیں جانتے۔
اور نہیں کوئی (جانور) چلنے والا زمین پر اور نہ کوئی پرندہ جو اڑتا ہے اپنے دو پروں سے مگر وہ امتیں ہیں تمھاری مانند نہیں نظر انداز کیا ہم نے کتاب میں کسی چیز کو پھر اپے رب کی طرف اٹھائے جائیں گے۔
اور جنھوں نے جھٹلایا ہمارے آیتوں کو (تو وہ) بہرے اور گونگے ہیں اندھیروں میں (سرگرداں) ہیں جسے چاہے اللہ تعالیٰ گمراہ کردے اور جسے چاہے لگادے اسے سیدھے راستہ پر ۔
تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ جب آیا ان پر ہمارا عذاب تو ہو (توبہ کرتے اور) گڑگڑاتے لیکن سخت ہوگئے ان کے دل اور آرستہ کردیا ان کے لیے شیطان نے جو وہ کیا کرتے تھے۔
پھر جب انھوں نے بھلادیں وہ نصیحتیں جو انھیں کی گئی تھیں کھول دیے ہم نے ان پر دروازے ہر چیز کے یہاں تک کہ جب وہ خوشیاں منانے لگے اس پر انھیں دیا گیا تو ہم نے پکڑلیا انھیں اچانک اب وہ نااُمید ہوکر رہ گئے۔
آپ فرمائیے بھلا بتاؤ کہ اگر لے لے اللہ تعالیٰ تمھارے کان اور تمھاری آنکھیں اور مہر لگادے دلوں پر تو کوئی خدا ہے اللہ کے سوا جو لادے تمھیں یہ چیزیں ؟ ملاحضہ ہو کس کس رنگ سے ہم بیان کرتے ہیں (توحیدکی ) دلیلیں پھر بھی وہ منہ پھیرے ہوئے ہیں۔
اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر خوش خبری سنانے کے لیے اور (عذاب جہنم سے ) ڈرانے کے لیے۔ تو جو ایمان لائے اور اپنے آپ کو سنوار لیا تو کوئی خوف نہیں ہوگا انھیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
آپ فرمائیے۔ کہ میں نہیں کہتا تم سے کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہوں کہ خود جان لیتا ہوں غیب کو اور نہ یہ کہتا ہوں تم سے کہ میں فرشتہ ہوں ۔ نہیں پیروی کرتا میں مگر وحی کی جو بھیجی جاتی ہے میر طرف ۔ آپ فرمائیے کیا (کبھی) برابر ہوسکتا ہے اندھا اور دیکھنے والا۔ تو کیا تم غوروفکر نہیں کرتے۔
اور ڈرائیے اس قرآن سے انھیں جو ڈرتے ہوں اس سے کہ اٹھایا جائے گا انھیں ان کے رب کی طرف اس حالت میں کہ نہیں ہوگا ان کے لیے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ کوئی سفارشی (انھیں ڈرائیے) تاکہ یہ (کامل) پرہیزگار ہوجائیں ۔
اور نہ دور ہٹاو انھیں جو پکارتے رہتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام طلبگار ہیں (فقط) اس کی رضا کے۔ نہیں آپ پر ان کے حساب سے کوئی چیز اور نہ آپ کے ھساب سے ان پر کوئی چیز ہے تو پھر بھی اگر آپ دور ہٹائیں انھیں تو ہو جائیں گے آپ بےانصافی کرنے والوں سے۔
اور اسی طرح ہم نے آزمائش میں ڈال دیا بعض کو بعض سے تاکہ کہیں (مالدار کافر نادار مسلمانوں کو دیکھ کر ) کیا یہ ہیں احسان کیا ہے اللہ نے جن پر ہم میں سے ۔ کیا نہیں جانتا اللہ تعالیٰ ان سے زیادہ اپنے شکر گزار ( بندوں کو ) ۔
اور جب آئیں آپ کی خدمت میں وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں ہماری آیتوں پر تو (ان سے) فرمائیے سلام ہو تم پر لازم کرلیا ہے تمھارے رب نے (محض اپنے کرم سے) اپنے آپ پر رحمت فرمانا تو جو کوئی کر بیٹھے تم میں سے برائی نادانی سے پھر توبہ کرلے اس کے بعد اور سنوارلے (اپنے آپ کو) تو بےشک اللہ تعا لیٰ بہت بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے۔
آپ فرمائیے مجھے منع کیا گیا کہ میں پوجوں انھیں جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کے سوا آپ فرمائیے میں نہیں پیروی کرتا تمھاری خواہشوں کی ایسا کروں تو گمراہ ہوگیا میں اور رہا میں ہدایت پانے والوں سے۔
آپ فرمائیے بےشک میں قائم ہوں ایک روشن دلیل پر اپنے رب کی طرف سے اور جھٹلا دیا تم نے اسے نہیں ہے میرے پاس جس کی تم جلدی مچارہے ہو نہیں ہے حکم (کسی کا ) سوائے اللہ کے وہی بتاتا ہے حق اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
آپ فرمائیے اگر میرے پاس ہوتی وہ چیزیں جس کی تم جلدی کررہے ہو تو (کبھی کا ) فیصلہ ہوگیا ہوتا اس بات کا میرے درمیاں اور تمھارے در میں اور اللہ خوب جانتا ہے ظالوموں کو
اور اسی کے پاس ہیں کنجیاں غیب کی نہیں جانتا انھیں سوائے اس کے اور جانتا ہے جو کچھ کشکی میں اور سمندر میں ہے اور نہیں گرتا کوئی پتہ مگر وہ جانتا ہے اس کو اور نہیں کوئی دانہ زمین کے اندھیروں میں اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز مگر وہ لکھی ہوئی ہے روشن کتاب ۔
اور وہی ہے جو قبضہ میں لے لیتا ہے تمھیں رات کو اور جانتا ہے جو کمایا تم نے دن کو پھر اٹھاتا ہے تمھیں (نیند سے ) دن میں تاکہ پوری کردی جائے (تمھاری عمر کی ) معیاد مقرر پھر اسی کی طرف تمھیں لوٹنا ہے پھر وہ بتائے گا تمھیں جو تم کیا کرتے تھے۔
اور وہی غالب ہے اپنے بندوں پر اور بھیجتا ہے تم پر نگہبان یہاں تک کہ جب آجائے تم میں سے کسی کو موت تو قبض کر لیتے ہیں اس کی روح ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اور وہ کوتاہی نہیں کرتے۔
آپ فرمائیے کون نجات دیتا ہے تمھیں خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں جسے تم پکارتے ہو گڑگڑاتے ہوئے اور آہستہ آہستہ (اور کہتے ہو) اگر نجات دی اللہ نے ہمیں اس (مصیبت) سے تو ہم ضرور ہوجائیں گے اس کے شکر گزار (بندے)۔
فرمائیے وہ قادر ہے اس پر کہ بھیجے تم پر عذاب تمھارے اوپر سے یا تمھارے پاؤ ں کے نیچے سے اور خلط ملط کردے تمھیں مختلف گروہوں میں اور چکھائے تم میں سے بعض کو شدت دوسروں کی دیکھو کیونکر ہم طرح طرح سے بیان کرتے ہیں (تو حید کی ) دلیلوں کو تاکہ یہ لوگ (حقیقت کو ) سمجھ لیں۔
اور (اے سننے والے!) جب تو دیکھے انھیں کہ بیہودہ بحثیں کررہے ہیں ہماری آیتوں میں تو منہ پھیر لے ان سے یہاں تک کہ وہ الجھنے لگیں کسی اور بات میں اور اگر (کہیں) بھلادے تجھے شیطان تو مت بیٹھو یاد آنے کے بعد ظالم قوم کے پاس۔
اور چھوڑ دے جنھوں نے بنالیا ہے اپنا دین کھیل اور دل لگی اور دھوکہ میں ڈال دیا ہے انھیں دنیوی زندگی نے اور نصیحت کرو قرآن سے تاکہ ہلاک نہ ہوجائے کوئی آدمی اپنے عملوں کی وجہ سے ۔ نہیں ہے اس کے لیے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ سفارشی اور اگر وہ معاوضہ میں دے ہر بدلہ تو نہ قبول کیا جائے گا اس سے یہی وہ لوگ ہیں جو ہلاک کیے گئے ہیں بوجہ اپنے کرتوتوں کے ان کے لیے پینے کو کھولتا ہوا پانی ہے اور دردناک عذاب ہے بوجہ اس کفر کے جو وہ کرتے رہے تھے۔
آپ فرمائیے کیا ہم پوجیں اللہ تعالیٰ کے سوا اس کو جو نہ نفع پہنچا سکتا ہے ہمیں اور نہ ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے اور (کیا) ہم پھر جائیں الٹے پاؤں اس کے بعد کہ ہدایت دی ہمیں اللہ نے ؟ مثل اس شخص کے کہ بھٹکا دیا ہو اسے جنوں نے زمین میں اور وہ حیران و پریشان ہو۔ اس کے ساتھی ہوں جو اسے بلارہے ہوں ہدایت کی طرف کہ ہمارے پاس آجا آپ فرمائیے اللہ کی رہنمائی ہی حقیقی رہنمائی ہے اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم گردن جھکادیں سارے جہانوں کے رب کے سامنے۔
اور وہ وہی ہے جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ اور جس رو ز وہ کہے گا کہ تو ہوجا تو بس ہوجائے گا اسی کا فرمان حق ہے اور اسی کی حکومت ہوگی جس دن پھونکا جائے گا صور جاننے والا ہے ہر چھپی چیز کا اور ہر ظاہر چیز کا وہی ہے حکمت والا سب کچھ جاننے والا۔
پھر جب دیکھا چاند کو کو چمکتے ہوئے تو کہا (کیا) یہ میر ا رب ہے (؟) پھر جب وہ (بھی) غروب ہوگیا تو آپ نے کہا اگر نہ ہدایت دیتا مجھے میرا رب تو ضرور ہوجاتا میں بھی گمراہ قوم سے۔
پھر جب دیکھا سورج کو جگمگاتے ہوئے (تو) بولے (کیا) یہ میرا رب ہے (؟) یہ تو ان سب سے بڑا ہے ۔ لیکن جب وہ بھی ڈوب گیا (تو) آپ نے فرمایا ۔ اے میری قوم! میں بیزار ہوں ان چیزوں سے جنھیں تم شریک ٹھیراتے ہو ۔
اور جھگڑنے لگی ان سے ان کی قوم آپ نے کہا کیا تم جھگڑتے ہو مجھ سے اللہ کے بارے میں حالانکہ اس نے ہدایت دے دی ہے مجھے اور نہیں ڈرتا میں ان سے جنھیں تم شریک بناتے ہو اس کا مگر یہ کہ چاہے میرا ہی پروردگار کوئی تکلیف پہنچانا ۔ گھیرے ہوئے ہے میرا رب ہر چیز کو (اپنے) علم سے تو کیا تم نصیحت قبول نہیں کرو گے۔
اور کیسے ڈروں میں (ان سے) جنھیں تم نے شریک ٹھیرا رکھا ہے حالانکہ تم نہیں ڈرتے (اس سے) کہ تم نے شریک بنایا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اسے کہ نہیں اتاری اللہ نے اس کے متعلق تم پر کوئی دلیل تو (تم ہی بتاؤ) دونوں فریقوں سے کون زیادہ حقدار ہے امن ( وسلامتی) کا ؟ اگر تم (کچھ) جانتے ہو۔
اور یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے دی تھی ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی قوم کے مقابلہ میں ہم بلند کرتے ہیں درجے جس کے چاہتے ہیں بیشک آپ کا رب بڑا دانا سب کچھ جاننے والا ہے۔
اور ہم نے عطا فرمائے اُنھیں اسحاق ( علیہ السلام) اور یعقوب ( علیہ السلام) ہر ایک کو ہم نے ہدایت دی اور نوح ( علیہ السلام) کو ہدایت دی تھی ان سے پہلے اور اس کی اولاد میں سے داؤد ( علیہ السلام) اور سلیمان ( علیہ السلام) اور ایوب ( علیہ السلام) اور یوسف ( علیہ السلام) اور موسیٰ ( علیہ السلام) اور ہارؤن ( علیہ السلام) کو (راہ راست دکھائی) اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں نیکو کاروں کو۔
اور (ہدایت دی) اسمٰعیل ( علیہ السلام) اور یسع ( علیہ السلام) اور یونس ( علیہ السلام) اور لوط ( علیہ السلام) کو اور ان سب کو ہم نے فضیلت دی سارے جہان والوں پر۔
یہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے رہنمائی کرتا ہے اس کے ساتھ جس کی چاہتا ہے اپنے بندوں سے اور اگر وہ شرک کرتے ہیں تو ضرور ضائع ہو جاتا ہے ان سے وہ (عمل) جو وہ کیا کرتے تھے۔
یہ وہ لوگ تھے ہم نے عطا کی تھی جنھیں کتاب اور حکمت اور نبوت تو اگر انکار کریں اس کا یہ (مکہ والے) تو ہم نے مقرر کردیے ہیں اس کو ماننے کے لیے ایسے لوگ جو اس کے ساتھ کفر کرنے والے نہیں۔
یہی وہ لوگ ہیں جنھیں ہدایت دی تھی اللہ نے تو انھیں کے طریقہ کی پیروی کرو آپ فرمائیے میں نہیں مانگتا تم سے اس (تبلیغ قرآن) پر کوئی اُجرت نہیں ہے وہ (قرآن) مگر نصیحت سارے جہانوں کے لیے۔
اور نہ قدر پہچانی انھوں نے اللہ کی جیسے حق تھا اس کی قدر پہچاننے کا جب کہا انھوں نے کہ نہیں اتاری اللہ نے کسی آدمی پر کوئی چیز (یعنی وحی) آپ پوچھئیے کس نے اتاری تھی وہ کتاب جسے لے آئے تھے موسیٰ ( علیہ السلام) (جو سراسر) نور تھی اور (سراپا) ہدایت تھی لوگوں کے لیے تم نے بنا لیا ہے اسے الگ الگ کاغذ ظاہر کرتے ہو اسے اور چھپالیتے ہو (اس کا ) بہت سا (حصہ) اور تمھیں سکھایا گیا جو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمھارے باپ دادا آپ فرمادیجیے اللہ ! پھر چھوڑ دیجیے انھیں (تاکہ) وہ اپنی بیہودہ باتوں میں کھیلتے رہیں۔
اور یہ (قرآن) کتاب ہے ہم نے اتاری ہے اس کو بابرکت ہے تصدیق کرنے والی ہے اس (وحی) کی جو اس سے پہلے (نازل ہوئی) اور اس لیے تاکہ ڈرائیں آپ مکہ (والوں) کو اور جو اس کے اردگرد ہیں اور جو ایمان لائے ہیں آخرت کے ساتھ وہ ایمان رکھتے ہیں اس پر (بھی) اور وہ اپنی نماز کی پانبدی کرتے ہیں۔
اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جو بہتان باندھے اللہ پر جھوٹا یا کہے کہ وحی کی گئی ہے میری طرف حالانکہ نہیں وحی کی گئی اس کی طرف کچھ بھی اور (کون زیادہ ظالم ہے اس ) جو کہے کہ میں (بھی) نازل کروں گا ایسا ہی کلام جسیے نازل کیا ہے اللہ نے ۔ کاش تم دیکھو جب ظالم موت کی سختیوں میں (گرفتار) ہوں اور فرشتے بڑھارہے ہوں (ان کی طرف) اپنے ہاتھ (اور انھیں کہیں کہ) نکالواپنی جانوں کو ۔ آج تمھیں دیا جائے گا ذلت کا عذاب اس وجہ سے کہ تم بہتان لگاتے تھے اللہ تعالیٰ پر ناحق اور تم اس کی آیتوں (کے ماننے) سے تکبر کیا کرتے تھے۔
اور بےشک آگئے ہو تم ہمارے پاس اکیلے اکیلے جیسے ہم نے پیدا کیا تھا تمھیں پہلی دفعہ اور تم چھوڑ آئے ہو جو ہم نے عطا فرمایا تھا تمھیں اپنے پیچھے اور ہم نہیں دیکھتے تمھارے ساتھ ان سفارشیوں کو جن کے متعلق تم خیال کرتے تھے کہ وہ تمھارے معاملہ میں (ہمارے ) شریک ہیں بےشک ٹوٹ گئے تمھارے سارے رشتے اور کھوگئے تم سے جو تم دعوے کیا کرتے تھے۔
بے شک اللہ تعالیٰ ہی پھاڑنے والا ہے دانے اور گھٹلی کو نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور نکالنے والا ہے مردہ کو زندہ سے یہ ہے اللہ پس کدھر تم بہکے چلے جارہے ہو۔
وہ نکالنے والا ہے صبح کو (رات کی تاریکی سے) اور بنایا ہے اس نے رات کو آرام کے لیے اور بنایا ہے سورج اور چاند کو حساب کے لیے یہ اندازہ ہے (مقرر کیا ہوا) سب سے زبردست ، سب کچھ جاننے والے کا۔
اور وہی ہے جس نے بنایا ہے تمھارے لیے ستاروں کو تاکہ سیدھی راہ معلوم کرسکو ان سے خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں بےشک ہم نے کھول کر بیا کردیے ہیں دلائل ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔
اور وہی ہے جس نے پیدا کیا تم کو ایک جان سے پھر (تمھارے لیے) ایک ٹھیرنے کی جگہ ہے اور ایک امانت رکھے جانے کی بےشک ہم نے تفصیل سے بیان کر دی ہیں دلیلیں ان لوگوں کے لیے جو (حقیقت) کو سمجھتے ہیں۔
اور وہی ہے جس نے اتار ا بادل سے پانی تو ہم نے نکالی اس کے ذریعہ سے اگنے والی ہر چیز پھر ہم نے نکال لین اس سے ہری ہری بالیں نکالتے ہیں اس سے (خوشہ جس میں ) دانے ایک دوسرے پر چڑھے ہوتے ہیں اور نکالتے ہیں کھجور سے یعنی اس کے گابھے سے گچھے نیچے جھکے ہوئے اور (ہم نے پیدا کیے) باغات انگور اور زیتون اور انار کے بعض (شکل و ذائقہ میں ) ایک جیسے ہیں اور بعض الگ الگ ۔ دیکھو ہر درخت کے پھل کی طرف جب وہ پھل دار ہو اور (دیکھو) اس کے پکنے کو بےشک ان میں نشانیاں ہیں (اس کی قدرت کاملہ کی) ۔
اس قوم کے لیے جو ایماندار ہے اور بنایا انھوں نے اللہ کا شریک جنوں کو حالانکہ اللہ نے پیدا کیا ہے انھیں اور گھڑ لیے ہیں انھوں نے اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں محض جہالت سے پاک ہے وہ اور برتر ہے اس سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔
مُوجد ہے آسمانوں اور زمین کا کیوں کر ہوسکتا ہے اس کا کوئی لڑکا حالانکہ نہیں ہے اس کی کوئی بیوی۔ اور پیدا فرمایا ہے اس نے ہر چیز کو اور وہ ہر چیز کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔
بے شک آئیں تمھارے پاس آنکھیں کھولنے والی دلیلیں اپنے رب کی طرف سے تو جس نے آنکھوں سے دیکھا تو اس نے اپنا فائدہ کیا اور جو اندھا بنا رہا تو اس نے اپنا نقصان کیا اور نہیں ہوں میں تم پر نگہبان۔
اور اسی طرح ہم طرح طرح سے بیان کرتے ہیں (توحیدکی ) دلیلوں کو اور تاکہ بول اٹھیں یہ لوگ آپ نے خوب پڑھ سنایا ہے اور تاکہ ہم واضح کردیں اس کو اس قوم کے لیے جو علم رکھتی ہے۔
اور تم نہ برا بھلا کہو انھیں جن کی یہ پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا (ایسا نہ ) کہ وہ بھی برا بھلا کہنے لگیں اللہ کو زیادتی کرتے ہوئے جہالت سے۔ یونہی آراستہ کردیا ہے ہم نے ہر امت کے لیے ان کا عمل پھر اپنے رب کی طر ف ہی لوٹ کر آنا ہے انھوں نے پھر وہ انھیں بتائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔
وہ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی پوری کوشش سے کہ اگر آگئی ان کے پاس کوئی نشانی تو ضرور ایمان لائیں گے اس کے ساتھ۔ آپ فرمائیے کہ نشانیاں تو صرف اللہ ہی کے پاس ہیں اور (اے مسلمانو!) تمھیں کیا خبر کہ جب یہ نشانی آجائے گی تو (تب بھی) یہ ایمان نہیں لائیں گے۔
اور ہم پھیر دیں گے ان کے دلوں کو اور ان کی آنکھوں کو جس طرح وہ نہیں ایمان لائے تھے اس کے ساتھ پہلی مرتبہ اور ہم چھوڑ دیں گے انھیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔
اور اگر ہم اُتارتے ان کی طرف فرشتے اور باتیں کرنے لگتے ان سے مرُدے (قبروں سے اٹھ کر ) اور ہم جمع کردیتے ہر چیز کو ان کے روبرو تب بھی وہ ایمان نہ لاتے مگر یہ کہ چاہتا اللہ تعالیٰ لیکن اکثر ان میں سے (بالکل) جاہل ہیں۔
اور اسی طرح بنادیئے ہم نے ہر نبی کے لیے دشمن (یعنی) سرکش انسان اور جن جو چپکے چپکے سکھاتے تھے ایک دوسرے کو خوش نما باتیں (لوگوں کو) دھوکہ دینے کے لے اور اگر چاہتا آپ کا رب تو وہ یہ نہ کرتے سو چھوڑدیجیے انھیں اور جو وہ بہتان باندھتے ہیں۔
(آپ ان سے پوچھئے) کیا اللہ کے سوا میں تلاش کروں کوئی اور منصف حالانکہ وہی ہے جس نے اتاری ہے تمھاری طرف کتاب مفصل اور جو کو ہم نے دی ہے کتاب وہ (اچھی طرح ) جانتے ہیں کہ یہ (قرآن) اُتارا گیا ہے آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ ۔ تو (اے سننے والے) ہر گز نہ ہوجانا شک کرنے والوں سے۔
اور (اے سننے والے) اگر تو اطاعت کرے اکثر لوگوں کی جو زمین میں ہیں تو وہ تجھے بہکادیں گے اللہ کی راہ سے وہ نہیں پیروی کرتے سوائے گمان کے اور نہیں ہیں وہ مگر محض تخمینے لگاتے ہیں۔
اور کیا ہوا تمھیں کہ نہیں کھاتے ہو تم اس جانور کو لیا گیا ہے اللہ کا نام جس پر حالانکہ اللہ تعالیٰ نے مفصل بیان کردیا ہے تمھارے لیے جو اس نے حرام کیا تم پر مگر وہ چیز کہ تم مجبور ہوجاؤ اس کی طرف اور بےشک بہت سے لوگ گمراہ کرتے ہیں اپنی خواہشوں سے بےعلمی کے باعث بےشک آپ کا رب خوب جانتا ہے حد سے بڑھنے والوں کو۔
اور ترک کردو ظاہری گناہ کو اور چھپے ہوئے کو بےشک وہ لوگ جو کماتے ہیں گناہ ( تو) جلدی ہی سزا دی جائے گی انھیں (اس گناہ کی ) جس کا وہ ارتکاب کیا کرتے تھے۔
اور مت کھاؤ اس جانور سے کہ نہیں لیا گیا اللہ کا نام اس پر اس کا کھانا نافرمانی ہے اور بےشک شیطان ڈالتے ہیں اپنے دوستوں کے دلوں میں (اعتراضات) تاکہ وہ تم سے جھگڑیں۔ اور اگر تم نے ان کا کہنا مانا تو تم مشرک ہو جاؤ گے۔
کیا وہ جو (پہلے) مردہ تھا پھر زندہ کیا ہم نے اسے اور بنادیا اس کے لیے نور چلتا ہے جس کے اجالے میں لوگوں کے درمیان وہ اس جیسا ہوسکتا ہے جو اندھیروں میں پڑا ہو نہیں نکلنے والا ان سے۔ یو نہی آراستہ کردئیے گئے کافروں کے لیے وہ اعمال جو وہ کیا کرتے تھے۔
اور اسی طرح ہم نے بنایا ہر بستی میں اس کے بڑے لوگوں کو وہاں کے مجرم تاکہ وہ مکرو فریب کیا کریں اس میں ۔ اور نہیں فریب دیتے مگر اپنے آپ کو اور وہ (اس بات کو ) نہیں سمجھتے۔
اور جب آئے ان کے پاس کوئی نشانی کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہمیں بھی ویسا ہے نہ دیا جائے جیسے دیا گیا اللہ کے رسولوں کو ۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ( اس دل کو ) جہاں وہ رکھتا ہے اپنی رسالت کو عنقریب پہنچے گی جنھوں نے جرم کیے زلت اللہ کے ہاں اور عزاب سخت بوجہ ان مکروں کے جو وہ کیا کرتے تھے۔
اور جس (خوش نصیب) کے لیے ارادہ فرماتا ہے اللہ کہ ہدایت دے اسے تو کشادہ کردیتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے اور جس (بد نصیب) کے لیے ارادہ فرماتا ہے کہ اسے گمراہ کردے تو بنا دیتا ہے اس کے سینہ کو تنگ ، بہت تنگ گویا وہ زبردستی چڑھ رہا ہے آسمان کی طرف اسی طرح ڈال دیتا ہے اللہ تعالیٰ ناپاکی ان پر جو ایمان نہیں لاتے۔
اور جس دن جمع کرے گا اللہ تعالیٰ ان سب کو (اور فرمائے گا) اے جنوں کے گروہ! بہت گمراہ کیا تم نے انسانوں کو اور کہیں گے ا کے دوست انسانوں میں سے اے ہمارے رب ! فائدہ اٹھایا ہم نے ایک دوسرے سے اور پہنچ گئے ہم اپنی اس معیاد کو جو تونے ہمارے لیے مقرر کی تھی اللہ فرمائے گا آگ تمھارا ٹھکانہ ہے ہمیشہ رہو گے اس میں مگر جسے اللہ تعالیٰ (نجات دینا) چاہے بےشک آپ کا رب بڑا دانا سب کچھ جاننے والا ہے۔
اے گروہ جنوں اور انسانوں کے ! کیا نہیں آئے تمھارے پاس رسول تم ہی میں سے سناتے تھے تمھیں ہماری آیتیں اور ڈراتے تھے تمھیں تمھار ی اس دن کی ملاقات سے کہیں گے ہم گواہی دیتے ہیں اپنے خلاف اور دھوکہ میں مبتلا کیا تھا انھیں دنیوی زندگی نے اور گواہی دیں گے اپنے خلاف کہ وہ کفر کرتے رہے تھے۔
اور آ پ کا پروردگار غنی ہے رحمت والا ہے اگر چاہے تو لے جائے (تباہ کردے) تمھیں اور تمھاری جگہ لے آئے تمھارے بعد جسے چاہے جیسے پیدا کیا تمھیں دوسری قوم کی اولاد سے۔
آپ فرمائیے اے میری قوم! تم عمل کیے جاؤ اپنی جگہ پر میں اپنا کام کرنے والا ہوں تو تم جان لو گے کہ کس کے لیے ہوتا ہے اچھا انجام اس دنیا کے گھر کا بےشک فلاح نہیں پاتے ظلم کرنے والے۔
اور انھوں نے بنارکھا ہے اللہ کے لیے اس سے جو پیدا فرماتا ہے فصلوں اور مویشیوں سے مقررہ حصہ اور کہتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے ان کے خیال میں اور یہ ہمارے شریکوں کے لیے ۔ توہ وہ (حصہ) جو ہو ان کے شریکوں کے لیے تو وہ پہنچتا ہے اللہ تعالیٰ کو اور جو (حصہ) ہو اللہ تعالیٰ کے لیے تو وہ پہنچ جاتا ہے ان کے شریکوں کو۔ کیا ہی برا فیصلہ کرتے ہیں۔
اور یونہی خوش نما بنادیا ہے بہت سے مشرکوں کے لیے اپنی اولاد کے قتل کرنے کو ان کے شریکوں نے تاکہ ہلاک کردیں انھیں اور مشتبہ کردیں ان پر ان کا دین اور اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو ایسا نہ کرتے تو چھوڑ دیجیے انھیں اور جو وہ بہتان باندھتے ہیں۔
اور بولے یہ مویشی اور کھیتی رکی ہوئی ہے کوئی نہیں کھا سکتا انھیں سوائے اس کے سجے ہین چاہیں (یہ بات) اپنے گمان سے (کہتے ہیں) اور بعض مویشی ہیں، حرام ہیں جن کی پشتیں (سواری کے لیے) اور بعض مویشی ہیں کہ نہیں ذکر کرتے نام خدا ان (کی ذبح) پر ( یہ سب محض ) افتراء ہے اللہ پر عنقریب سزا دے گا انھیں جو وہ بہتان باندھا کرتے تھے۔
اور بولے جو ان مویشیوں کے شکموں میں ہے وہ نرا ہمارے مردوں کے لیے ہے اور حرام ہے ہماری بیویوں پر اور اگر وہ مرا ہوا (پیدا) ہو تو پھر وہ سب (مردوزن) اس میں حصہ دار ہیں۔ اللہ جلدی بدلہ دے گا انھیں ان کے اس بیان کا ۔ بےشک وہ حکمت والا علم والا ہے۔
یقیناً نقصان اٹھایا جنھوں نے قتل کیا اپنی اولاد کو حماقت سے بغیر جانے اور حرام کردیا جو رزق دیا تھا انھیں اللہ نے بہتان باندھ کر اللہ تعالیٰ پر بےشک وہ گمراہ ہوگئے اور نہ تھے وہ ہدایت پانے والے۔
اور وہی ہے جس نے پیدا کیے ہیں باغات کچھ چھپروں پر چڑھائے ہوئے اور کچھ بغیر اس کے اور کھجور اور کھیتی الگ الگ ہیں کھانے کی چیزیں ان کی زیتون اور انار ( جو شکل میں ) ایک جیسے اور (زائقہ میں) مختلف ۔ کھاؤ اس کے پھل سے جب وہ پھلدار ہو اور ادا کرو اس کا حق جس دن وہ کٹے اور فضول خرچی نہ کرو بےشک اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا فضول خرچی کرنے والوں کو۔
اور (پیدا فرمائے) بعض مویشی بوجھ اٹھانے والے اور بعض زمین پر لٹا کر زبح کرنے کے لیے کھاؤ اس میں سے جو رزق دیا ہے تمھیں اللہ تعالیٰ نے اور نہ پیروی کرو شیطان کے قدموں کی بےشک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے ۔
(پیدا فرمائے) آٹھ جوڑے بھیڑ سے دو (نر و مادہ) اور بکری سے دہ (نر و مادہ) آپ پوچھئے کیا دونوں نر حرام کیے ہیں یا دونوں مادائیں یا جسے لیے ہوتے ہیں (اپنے اندر ) دو ماداؤں کے رحم بتاؤ مجھے علم کے ساتھ اگر ہو تم سچے۔
اور اونٹ سے دو (نر و مادہ) اور گائے سے دو (نرو مادہ) آپ پوچھئے کیا دونوں نر حرام کیے ہیں یا دونوں مادہ یا جسے لیے ہوئے ہیں (اپنے اندر) دو ماداؤں کے رحم۔ کیا تم تھے موجود جب وصیت کی تمھیں اللہ نے اس بات کی تو اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہے جو بہتان باندھے اللہ تعالیٰ پر جھوٹا تاکہ گمراہ کرے لوگوں کو اپنی جہالت سے بےشک اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا اس قوم کو جو ظالم ہے۔
آپ فرمائیے میں نہیں پاتا اس (کتاب) میں جو وحی کی گئی ہے میری طرف کوئی چیز حرام کھانے والے پر جو کھاتا ہے اسے مگر یہ کہ مردار ہو یا (رگوں کا) بہتا ہوا خون یا سؤر کا گوشت کیونکہ وہ سخت گندہ ہے یا جو نافرمانی کا باعث ہو (یعنی) وہ جانور جس پر ذبح کے وقت بلند کیا جائے غیر خدا کا نام پھر جو شخض لاچار ہوجائے نہ نافرمانی کرنے والا ہو اور نہ تجاوز کرنے والا ہو (حد ضرورت سے) تو بےشک آپ کا رب بہت بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔
اور ان لوگوں پر جو یہودی بنے تھے ہم نے حرام کردیا ہر ناخن والا جانور اور گائے اور بکری سے ہم نے حرام کی ان پر دونوں (گائے بکری) کی چربی مگر جو اٹھا رکھی ہو ان کی پشتوں یا آنتوں نے یا جو ملی ہوئی ہو ہڈی کے ساتھ یہ ہم نے سزا دی تھی انھیں بسبب ان کی سرکشی کے اور یقیناً ہم سچے ہیں۔
اب کہیں گے جنھوں نے شرک کیا اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم حرام کرتے کسی چیز کو ایسا ہی جھٹلایا تھا انھوں نے جو ان سے پہلے تھے یہاں تک کہ چکھا انھوں نے ہمارا عذاب ۔ آپ فرمائیے کیا تمھارے پاس کوئی علم ہے تو نکالو اسے ہمارے لیے تم نہیں پیروی کرتے مگر نرے گمان کی اور نہیں ہو تم مگر اٹکلیں مارتے ہو۔
آپ فرمائیے لاؤ اپنے گواہ جو گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ نے حرام کیا اسے پھر اگر وہ (جھوٹی) گواہی دے بھی دیں تو آپ نہ گواہی دیجیے ان کے ساتھ اور نہ تم پیروی کرنا ان کی خواہشوں کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور جو نہیں ایمان لاتے آخرت پر اور وہ اپنے رب کے ساتھ (دوسروں کو) برابر ٹھیراتے ہیں۔
آپ فرمائیے آؤ میں پڑھ سناؤں جو کچھ حرام کیا ہے تمھارے رب نے تم پر (وہ یہ) کہ نہ شریک بناؤ اس کے ساتھ کسی چیز کو اور ماں با پ کے ساتھ احسان کرو اور نہ قتل کرو اپنی اولاد کو مفلسی (کے خوف) سے۔ ہم رزق دیتے ہیں تمھیں بھی اور انھیں بھی اور مت نذدیک جاؤ بےحیائی کی باتوں کے جو ظاہر ہوں ان سے اور جو چھپی ہوئی ہوں اور نہ قتل کرو اس جان کو جسے حرام کردیا ہے اللہ نے سوائے حق کے یہ ہیں وہ باتیں حکم دیا ہے تمھیں اللہ نے جن کا۔ تاکہ تم (حقیقت) کو سمجھو۔
اور مت قریب جاؤ یتیم کے مال کے مگر اس طریقہ سے جو بہت اچھا ہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے اور پورا کرو ناپ اور تول انصاف کے ساتھ ہم نہیں تکلیف دیتے کسی کو مگر اس کی طاقت کے برابر۔ اور جب کھبی بات کہو تو انصاف کی کہو اگرچہ ہو (معاملہ) رشتہ دار کا اور اللہ سے کیے ہوئے وعدہ کو پورا کرو یہ ہیں وہ باتیں جن کا اللہ نے حکم دیا ہے تمھیں تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔
اور بےشک یہ ہے میرا راستہ سیدھا سو اس کی پیروی کرو اور نہ پیروی کرو اور راستوں کی (ورنہ ) جدا جدا کردیں گے تمھیں اللہ کے راستہ سے۔ یہ ہیں وہ باتیں حکم دیا ہے تمھیں جن کا تاکہ تم متقی بن جاؤ ۔
پھر عطا فرمائی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب تاکہ پوری کردیں نعمت ان پر جو نیک عمل کرتے ہیں اور تاکہ تفصیل ہوجائے ہر چیز کی اور (یہ کتاب) باعث ہدایت و رحمت ہے تاکہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے پر ایمان لائیں۔
یا یہ نہ کہو کہ اگر اتاری گئی ہوتی ہم پر کتاب تو ہوتے ہم زیادہ ہدایت پانے والے ان سے بےشک آگئی ہے تمھارے پاس روشن دلیل اپنے رب کی رف اور سراسر ہدایت اور رحمت تو کون زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے جھٹلایا اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو اور منہ پھیرا ان سے عنقریب ہم سزا دیں گے انھیں جو منہ موڑتے ہیں ہماری آیتوں سے برے عذاب سے اس وجہ سے کہ وہ منہ پھیرا کرتے تھے۔
کس کی انتظار کررہے ہیں بجز اس کے کہ آئیں ان کے پاس فرشتے یا خود آئے آپ کا رب یا آئے کوئی نشانی آپ کے رب کی (لیکن) جس روز آئے گی کوئی نشانی آپ کے رب کی تو نہ نفع دے گا کسی کو اس کا ایمان لانا جو نہیں ایمان لاچکا تھا اس سے پہلے یا نہ کی تھی اپنے ایمان کے ساتھ کوئی نیکی ۔ آپ (انھیں) فرمائیے تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کررہے ہیں۔
بے شک وہ جنھوں نے تفرقہ ڈالا اپنے دین میں اور ہوگئے کئی گروہ ( اے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) !) نہیں ہے آپ کا ان سے کوئی علاقہ۔ ان کا معاملہ صرف اللہ ہی کے حوالے ہے پھر وہ بتائے گا انھیں جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔
جو کوئی لائے گا ایک نیکی تو اس کے لیے دس ہوں گی اس کی مانند اور جوئی کرے گا ایک برائی تو نہ بدلہ ملے گا اسے مگر اس (ایک برائی) کے برابر اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا ۔
آپ فرمائیے بےشک مجھے پہنچادیا ہے میرے رب نے سیدھی را ہ تک یعنی دین مستحکم (جو) ملت ابراہیم ہے جو باطل سے ہٹ کر صرف حق کی طرف مائل تھے اور نہیں تھے وہ مشرکوں سے۔
آپ فرمائیے کیا اللہ کے سوا میں تلاش کروں کوئی اور رب ۔ حالانکہ وہ رب ہے ہر چیز کا اور نہیں کماتا کوئی شخص (کوئی چیز) مگر وہ اسی کے ذمہ ہوتی ہے اور نہ اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ پھر اپنے رب کی طرف ہی تمھیں لوٹ کر جانا ہے تو وہ بتائے گا تمھیں جس میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔
اور وہی ہے جس نے بنا یا تمھیں (اپنا) خلیفہ زمین میں اور بلند کیا ہے تم میں سے بعض کو بعض پر درجوں میں تاکہ آزمائے تمھیں اس چیز میں جو اس نے تمھیں عطا فرمائی ہے بےشک آپ کا رب بہت جلد سزا دینے والا ہے اور بےشک وہ بہت بخشنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔