Back to Languages

Urdu - Chapter 7 - Al-Araf

Translation by Muhammad Karam Shah Al Azhari — Permalink

Verse 1 — Surah Al-Araf 7:1

الف۔ لام۔ میم۔ صاد۔

Verse 2 — Surah Al-Araf 7:2

یہ کتاب ہے نازل کی گئی ہے آپ کی طر ف پس چاہیے کہ نہ ہو آپ کے سینہ میں کچھ تنگی اس (کی تبلیغ) سے (یہ نازل کی گئی ہے ) تاکہ آپ ڈرائیں اس سے ، اور یہ نصیحت ہے مومنوں کے لیے۔

Verse 3 — Surah Al-Araf 7:3

(اے لوگو!) پیروری کرو جو نازل کیا گیا ہے تمھاری طرف تمھارے رب کے پاس سے اور نہ پیروی کرو اللہ کو چھوڑ کر دوسرے دوستوں کی ۔ بہت ہی کم تم نصیحت قبول کرتے ہو۔

Verse 4 — Surah Al-Araf 7:4

اور کتنی بستیاں تھیں برباد کردیا ہم نے انھیں ۔ پس آیا ان پر ہمارا عذاب رات کے وات یا جب وہ دوپہر کو سورہے تھے۔

Verse 5 — Surah Al-Araf 7:5

پس نہ تھی ان کی (چیخ و ) پکار جب آیا ان پر ہمارا عذاب بجز اس کے کہ انھوں نے کہا بےشک ہم ہی ظالم تھے۔

Verse 6 — Surah Al-Araf 7:6

سو ہم ضرور پوچھیں گے ان سے بھیجے گئے (رسول) جن کی طرف اور ہم ضرور پوچھیں گے رسولوں سے ۔

Verse 7 — Surah Al-Araf 7:7

پھر ہم ضرور بیان کرین گے (ان کے حالات) ان پر اپنے علم سے اور نہ تھے ہم ان سے غائب ۔

Verse 8 — Surah Al-Araf 7:8

اور (اعمال کا ) تولنا اس دن برھق ہے پس جن کے بھاری ہوئے ترازو تو وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔

Verse 9 — Surah Al-Araf 7:9

اور جن کے ہلکے ہوئے ترازو تو یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے نقصان پہنچایا اپنے آپ کو بوجہ اس کے کہ ہماری آیتوں کے ساتھ بےانصافی کیا کرتے تھے۔

Verse 10 — Surah Al-Araf 7:10

اور یقیناً ہم نے ہی آباد کیا تمھیں زمین میں اور مہیا کردئیے تمھارے لیے اس میں زندہ رہنے کے اسباب بہت ہی کم تم شکر ادا کرتے ہو۔

Verse 11 — Surah Al-Araf 7:11

اور بےشک ہم نے پیدا کیا تمھیں پھر (خاص) شکل و صورت بنائی تمھاری پھر حکم دیا ہم نے فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو تو انھوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے نہ تھا وہ سجدہ کرنے والوں میں۔

Verse 12 — Surah Al-Araf 7:12

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کس چیز نے روکا تجھے اس سے کہ تو سجدہ کرے جب میں حکم دیا تجھے ابلیس نے کہا (کیونکہ) میں بہتر ہوں اس سے تونے پیدا کیا مجھے آگ سے اور تونے پیدا کیا اسے کیچڑ سے۔

Verse 13 — Surah Al-Araf 7:13

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اتر جاؤ یہاں سے مناسب نہیں ہے تیرے لیے کہ تو غرور کرے یہاں رہتے ہوئے پس نکل جا بےشک تو ذلیلوں میں سے ہے۔

Verse 14 — Surah Al-Araf 7:14

بولا مہلت دے مجھے اس دن تک جب لوگ قبروں میں سے اٹھائے جائیں گے ۔

Verse 15 — Surah Al-Araf 7:15

اللہ نے فرمایا بےشک تو مہلت دیئے ہوؤں میں سے ہے۔

Verse 16 — Surah Al-Araf 7:16

کہنے لگا اس وجہ سے کہ تونے مجھے (اپنی رحمت سے) مایوس کردیا میں ضرور تاک میں بیٹھوں گا ان (کو گمراہ کرنے) کے لیے تیرے سیدھے راستہ پر۔

Verse 17 — Surah Al-Araf 7:17

پھر میں ضرور آؤں گا ان کے پاس (بہکانے کے لیے ) ان کے آگے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائین اور بائیں سے اور تو نہ پائے گا ان میں سے اکثر شکر گزار۔

Verse 18 — Surah Al-Araf 7:18

فرمایا نکل جا یہاں سے ذلیل (اور) راندہ ہوا جس کیسی نے پیروی کی تیری ان سے تو یقیناً میں بھردوں گا جہنم کو تم سب سے ۔

Verse 19 — Surah Al-Araf 7:19

اور اے آدم! رہو تم اور تمھاری بیوی جنت میں اور کھاؤ جہاں سے چاہو اور مت نزدیک جانا اس (خاص) درخت کے ورنہ تم دونوں ہوجاؤ گے اپنا نقصان کرنے والوں سے۔

Verse 20 — Surah Al-Araf 7:20

پھر وسوسہ ڈالا ان کے (دلوں میں) شیطان نے تاکہ بےپردہ کردے ان کے لیے جو ڈھانپا گیا تھا ان کی شرم گاہوں سے اور (انھیں) کہا کہ نہیں منع کیا تمھیں تمھارے رب نے اس درخت سے مگر اس لیے کہ کہیں نہ بن جاؤ تم دونوں فرشتے یا کہیں نہ ہوجاؤ ہمیشہ زندہ رہنے والوں سے۔

Verse 21 — Surah Al-Araf 7:21

اور قسم اٹھائی ان کے سامنے کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں ۔

Verse 22 — Surah Al-Araf 7:22

پس شیطان نے نیچے گرادیا ان کو دھوکہ سے پھر جب دونوں نے چکھ لیا درخت سے تو ظاہر ہوگئیں ان پر ان کی شرم گاہیں اور چپٹانے لگ گئے اپنے (بدن) پر جنت کے پتے اور ندا دی انھیں ان کے رب نے کیا نہیں منع کیا تھا میں تمھیں اس درخس سے اور کیا نہ فرمایا تھا تمھیں کہ بلاشبہ شیطان تمھارا کھلا دشمن ہے ۔

Verse 23 — Surah Al-Araf 7:23

دونوں نے عرض کی اے ہمارے پروردگار! ہم نے ظلم کیا اپنی جانوں پر اور اگر نہ بخشش فرمائے تو ہمارے لیے اور نہ رحم فرمائے ہم پر تو یقیناً ہم نقصان اٹھانے والوں سے ہوجائیں گے۔

Verse 24 — Surah Al-Araf 7:24

اللہ تعالیٰ نے فرمایا نیچے اترجاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے اور تمھارے لیے زمین میں ٹھکانہ ہے اور نفع اٹھانا ایک وقت تک۔

Verse 25 — Surah Al-Araf 7:25

(نیز) فرمایا اسی زمین میں تم زندہ رہوگے اور اسی میں مروگے اور اسی سے تم اٹھائے جاؤ گے۔

Verse 26 — Surah Al-Araf 7:26

اے اولاد آدم بیشک اتارا ہم نے تم پر لباس جو ڈھانپتا ہے تمھاری شرمگاہوں کو اور باعث زینت ہے۔ اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بہتر ہے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ وہ نصیحت قبول کریں۔

Verse 27 — Surah Al-Araf 7:27

اے اولاد آدم ! نہ فتنہ میں مبتلا کردے تمھیں شیطان جیسے نکالا اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے (اور) اُتروادیا ان سے ان کا لباس تاکہ دکھلادے انھیں ان کے پردہ کی جگہیں ۔ بےشک دیکھتا ہے تمھیں وہ اور اس کا کنبہ جہاں سے تم نہیں دیکھتے ہو انھین بلاشبہ ہم نے بنادیا ہے شیطانوں کو دوست ان کا جو ایمان نہیں لاتے۔

Verse 28 — Surah Al-Araf 7:28

اور جب کرتے کوئی بےحیائی کا کام ( تو) کہتے ہیں پایا ہم نے ایسا ہی کرتے ہوئے اپنے باپ دادا کو اور اللہ نے بھی ہمیں حکم دیا اس کا ۔ آپ فرمادیجیے بےشک اللہ حکم نہیں دیتا بےحیائیوں کا کیا ایسی بات لگاتے ہو اللہ پر جو تم نہیں جانتے۔

Verse 29 — Surah Al-Araf 7:29

آپ فرمائیے حکم دیا ہے میرے ر نے عدل و انصاف کا اور سیدھا کرو اپنے چہرے (قبلہ کی طرف) ہر نماز کے وقت اور عبادت کرو اس کی اس حال میں کہ تم خالص کرنے والے ہو اس کے لیے عبادت کو ۔ جس طرح اس نے پہلے پیدا کیا تھا تمھین ویسے ہی تم لوٹوگے۔

Verse 30 — Surah Al-Araf 7:30

ایک گروہ کو اللہ نے ہدایت دے دی اور ایک گروہ ہے کہ مقرر ہوگئی ان پر گمراہی انھوں نے بنالیا شیطانوں کو (اپنا ) دوست اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔

Verse 31 — Surah Al-Araf 7:31

اے آدم کی اولاد! پہن لیا کرو اپنا لباس ہر نماز کے وقت اور کھاؤ اور پیؤ اور فضول خرچی نہ کرو بےشک اللہ نہیں پسند کرتا فضول خرچی کرے والوں کو۔

Verse 32 — Surah Al-Araf 7:32

آپ فرمائیے کس نے حرام کیا اللہ کی زینت کو جو پیدا کی اس نے اپنے بندوں کے لیے اور (کس نے حرام کیے) لذیذ پاکیزہ کھانے آپ فرمائیے یہ چیزین ایمان والوں کیلیے ہیں اس دنیوی زندگی میں بھی (اور) صرف انھیں کے لیے ہیں قیامت کے روز یونہی ہم مفصل بیان کرتے ہیں آیتوں کو ان لوگوں کے لیے جو (حقیقت) کو جانتے ہیں۔

Verse 33 — Surah Al-Araf 7:33

آپ فرمائیے بےشک حرام کردیا ہے میرے رب نے سب بےحیائیوں کو جو ظاہر ہیں ان سے اور جو پوشیدہ ہیں اور (حرام کردیا) گناہ کو اور سرکشی کو بغیر حق کے اور یہ کہ شریک ٹھیراؤ اللہ کے ساتھ جس کے لیے نہیں اتاری اللہ نے کوئی سند اور یہ کہ تم کہو اللہ پر ایسی بات جو تم نہیں جانتے ہو۔

Verse 34 — Surah Al-Araf 7:34

اور ہر امت کے لیے ایک وقت مقرر ہے سو جب آجائے گا ان کا مقررہ وقت تو نہ وہ پیجھے ہٹ سکتے ہیں ایک لمحہ اور نہ وہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔

Verse 35 — Surah Al-Araf 7:35

اے اولاد آدم! اگر آئیں تمھارے پاس رسول تم میں سے جو بیان کریں تم پر میری آیتیں جو جس نے تقویٰ اختیار کیا اور اپنی اصلاح کرلی تو نہیں ہے کوئی خوف ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

Verse 36 — Surah Al-Araf 7:36

اور جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور غرور کیا ان سے وہ دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

Verse 37 — Surah Al-Araf 7:37

اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے بہتان باندھا اللہ پر جھوٹا یا جھٹلایا اس کی آیتوں کو۔ انھیں مل جائے گا ان کا حصہ جو ان کی قسمت میں لکھا ہے یہاں تک کہ جب آئیں گے ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے جو قبض کریں گے ان کی روحوں کو تو (ان سے ) کہیں گے کہاں ہیں وہ جن کی تم عبادت کیا کرتے تھے اللہ کے سوا کہیں گے وہ گم ہوگئے ہم سے اور گوای دیں گے اپنے نفسوں پر کہ وہ کافر تھے۔

Verse 38 — Surah Al-Araf 7:38

اللہ تعالیٰ فرمائے گا داخل ہوجاؤ ان امتوں میں جو گزر چکی ہیں تم سے پہلے جنوں اور انسانوں سے (ان کے پاس) دوزخ میں (داخل ہوجاؤ) جب بھی داخل ہوگی کوئی اُمت تو وہ لعنت بھیجے گی دوسری امت پر یہاں تک کہ جب جمع ہوجائیں گے اس مین سب امیتیں تو کہے گی آکری امت پہلی امتوں کے متعلق اے ہمارے رب! انھوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا پس دے ان کو دگنا عذاب آگ سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہر ایک کے لیے دگنا عذاب ہے لیکن تم نہیں جانتے۔

Verse 39 — Surah Al-Araf 7:39

اور کہیں گی پہلی امتیں پچھلی امتوں سے کہ نہیں ہے تمھیں ہم پر کوئی فضیلت پس چکھو عذاب بوجہ اس کے جو تم کیا کرتے تھے۔

Verse 40 — Surah Al-Araf 7:40

بے شک جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تکبر کیا ان سے نہ کھولے جائیں گے ان کے لیے آسمان کے دروازے اور نہ داخل ہوں گے جنت میں جب تک نہ داخل ہو اونٹ سوئی کے ناکہ میں اور اسی طرھ ہم بدلہ دیتے ہیں جرم کرنے والوں کو۔

Verse 41 — Surah Al-Araf 7:41

ان کے لیے دوزخ کا ہی بچھونا ہوگا اور ان کے اوپر (اسی کا ) اوڑھنا اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ظالموں کو۔

Verse 42 — Surah Al-Araf 7:42

اور جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے (ہمارا قانون یہ ہے کہ) ہم تکلیف نہیں دیتے کسی کو مگر جتنی اس کی طاقت ہے۔ وہ جنتی ہیں وہ اس مین ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

Verse 43 — Surah Al-Araf 7:43

اور ہم نکال لیں گے جو کچھ ان کے سینوں میں کینہ ہے رواں ہوں گی ان کے نیچے سے نہریں اور کہیں گے ساری تعریفیں اللہ کیلیے ہیں جس نے راہ دکھائی ہمیں اس بہشت کی اور ہم ہدایت یافتہ نہیں ہوسکتے تھے اگر نہ ہدایت دیتا ہمیں اللہ تعالیٰ ۔ بےشک آئے ہمارے رب کے رسول حق کے ساتھ اور ان (خوش نصیبوں) کو آواز دی جائے گی کہ یہی وہ جنت ہے، وارث بنائے گئے ہو تم جس کے بوجہ ان عملوں کے جو تم کیا کرتے تھے۔

Verse 44 — Surah Al-Araf 7:44

اور آواز دیں گے جنتی دوزخیوں کو کہ بےشک ہم نے پالیا جو وعدہ فرمایا تھا ہمارے ساتھ ہمارے رب نے سچا۔ تو کیا تم نے بھی پایا جو وعدہ کیا تھا تمھارے رب نے سچا وہ کہیں گے ہاں۔ تو پھر اعلان کرے گا ایک اعلان کرنے والا ان کے درمیان یہ کہ لعنت ہو اللہ کی ظالموں پر۔

Verse 45 — Surah Al-Araf 7:45

جو روکتے ہیں اللہ کے راستے سے اور چاہتے ہیں اسے کہ ٹیڑ ھا ہوجائے اور وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں۔

Verse 46 — Surah Al-Araf 7:46

اور ان دونوں (جنت و دوزخ ) کے درمیان پردہ ہے۔ اور اعراف پر کچھ مرد ہوں گے جو پہچانتے ہوں گے سب کو ان کی علامت سے اور وہ آوازیں دیں گے جنتیوں کو کہ سلامتی ہو تم پر (اور ابھی) جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے اور وہ جنت میں داخل ہونے کے خواہش مند ہوں گے۔

Verse 47 — Surah Al-Araf 7:47

اور جب پھیری جائیں گی ان کی نگاہیں دوزخیوں کی طرف (تو) کہیں گے اے ہمارے رب ! نہ کر تو ہمیں ظلم پیشہ لوگوں کے ساتھ۔

Verse 48 — Surah Al-Araf 7:48

اور پکاریں گے اعراف والے ان لوگوں کو جنھیں وہ پہچانتے ہوں گے ان کی علامتوں سے (انھیں) کہیں گے نہ فائدہ پہنچایا تمھیں تمھارے جھتے نے اور (نہ اس سازو سامان نے) جس کی وجہ سے تم غرور کیا کرتے تھے۔

Verse 49 — Surah Al-Araf 7:49

(اے سرکشو!) کیا یہ (جنتی) وہی (نہیں) ہیں جن کے متعلق تم قسمیں اٹھا یا کرتے تھے کہ نہیں عطا کرے گا انھیں اللہ اپنی رحمت سے (دیکھو انھیں تو حکم مل گیا ہے کہ) داخل ہوجاؤ جنت میں۔ نہیں کوئی خوف تم پر اور نہ تم غمگین ہوگے۔

Verse 50 — Surah Al-Araf 7:50

اور آواز دوزخی جنتیوں کو کہ انڈیلو ہم پر کچھ پانی یا جو کچھ یا ہے تمھیں اللہ تعالیٰ نے ۔ جنت کہیں گے کہ اللہ نے حرام کردی ہیں یہ دونوں چیزیں کافروں پر۔

Verse 51 — Surah Al-Araf 7:51

جنھوں نے بنالیا تھا اپنے دین کو کھیل اور تماشہ اور فریب میں مبتلا کردیا تھا انھیں دنیا کی زندگی نے ۔ سو آج ہم فراموش کردیں گے انھیں جیسے بھلادیا تھا انھوں نے اس دن کی ملاقات کو اور جس طرح وہ ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے۔

Verse 52 — Surah Al-Araf 7:52

اور بےشک لے آئے ہم ان کے پاس ایک کتاب جسے ہم نے واضح کردیا ہے (اپنے ) علم (کامل) سے درآں حالیکہ وہ ہدایت اور رحمت ہے، اس قوم کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔

Verse 53 — Surah Al-Araf 7:53

کافر کس چیز کے منتظر ہیں ؟ یہ کہ قرآن کی دھمکی کا انجان کیا ہوتا ہے۔ جس روز ظاہر ہوگا اس کا انجام تو کہین گے جو بھلائے ہوئے تھے اس سے پہلے کہ بےشک لائے تھے ہمارے رب کے رسول حق (پیغام) تو کیا (آج) ہمارے کوئی سفارشی ہیں تو وہ سفارش کریں ہمارے لیے یا ہمین واپس بھیج دیا جائے تاکہ ہم عمل کریں اس کے برعکس جو ہم کیا کرتے تھے بےانھوں نے نقصان پہنچایا اپنے آپ کو اور گم ہوگیا ان سے جو ہو بہتان باندھا کرتے تھے۔

Verse 54 — Surah Al-Araf 7:54

بلاشبہ تمہارا رب اللہ ہے جس نے ٦٧ ف پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پھر متمکن ہوا عرش پر ٦٨ ف (جیسے اسے زیبا ہے) ڈھانکتا ہے رات سے دن کو ٦٩ ف درآں حالیکہ طلب کرتا ہے دن رات کو تیزی سے اور (پیدا فرمایا) ورج اور چاند اور ستاروں کو وہ سب پابند ہیں اس کے حکم کے سن لو! اسی کے لیے خاص ہے، پیدا کرنا اور حکم دینا ٧٠ فO بڑی برکت والا ہے اللہ تعالیٰ جو مرتبہ کمال تک پہنچانے والا ہے

Verse 55 — Surah Al-Araf 7:55

دعا کرو اپنے رب سے گڑ گڑاتے ہوئے اور آہستہ آہستہ بےشک اللہ نہیں دوست رکھتا حد سے بڑھنے والو کو ۔

Verse 56 — Surah Al-Araf 7:56

اور نہ فساد پھیلاؤ زمین میں اس کی اصلاح کے بعد اور دعا مانگو اس سے ڈرتے ہوئے اور امید کرتے ہوئے بیشک اللہ کی رحمت قریب ہے نیکو کاروں سے۔

Verse 57 — Surah Al-Araf 7:57

اور وہی خدا ہے جو بھیجتا ہے ہواؤں کو خوشخبری سناتے ہوئے اپنی رحمت (بارش) سے پہلے۔ یہاں تک کہ جب وہ اٹھا لاتی ہیں بھاری بادل تو ہم لے جاتے ہیں اسے کسی ویران شہر کی طرف پھر ہم اتارتے ہیں اس سے پانی پھر پیدا کرتے ہیں اس کے ذریعہ ہر قسم کے پھل اسی طرح ہم نکالیں گے مردوں کو تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔

Verse 58 — Surah Al-Araf 7:58

اور جو سر زمین عمدہ زرخیز ہے (کثرت سے) نکلتی ہے اس کی پیداوار اپنے رب کے حکم سے اور جو خراب ہے نہیں نکلتی اس سے (پیداوار) مگر قلیل گھٹیا اسی طرح ہم مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں اپنی نشانیاں اس قوم کے لیے جو شکر گزار ہے۔

Verse 59 — Surah Al-Araf 7:59

بیشک ہم نے بھیجا نوح ( علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف تو انھوں نے کہا اے میری قوم! عبادت کرو اللہ کی نہیں ہے تمھار ا کوئی معبود اللہ کے سوا بےشک میں ڈرتا ہوں کہ تم پر بڑے دن کا عذاب نہ آجائے۔

Verse 60 — Surah Al-Araf 7:60

اور ان کی قوم کے سرداروں نے کہا (اے نوح!) ہم دیکھتے ہیں تمھیں کھلی گمراہی میں۔

Verse 61 — Surah Al-Araf 7:61

آپ نے کہا اے میری قوم! نہیں ہے مجھ میں ذرا گمراہی بلکہ میں تو رسول ہوں سارے جہانوں کے پروردگار کی طرف سے۔

Verse 62 — Surah Al-Araf 7:62

پہنچاتا ہوں تمھیں پیغامات اپنے رب کے اور نصیحت کرتا ہوں تمھیں اور میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے۔

Verse 63 — Surah Al-Araf 7:63

کیا تم تعجب کرتے ہو اس پر کہ آئی تمھارے پاس نصیحت تمھارے رب کی طرف سے ایک آدمی کے ذریعہ جو تم میں سے ہے تاکہ وہ ڈرائے تمھیں (غضبِ الٰہی سے) اور تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

Verse 64 — Surah Al-Araf 7:64

پھر بھی انھوں جھٹلایانوح ( علیہ السلام) کو تو ہم نے نجات دی ان کو اور جو آپ کے ساتھ کشتی میں تھے اور ہم نے غرق کردیا ان (بد بختوں) کو جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو بےشک وہ لوگ دل کے اندھے تھے۔

Verse 65 — Surah Al-Araf 7:65

اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا آپ نے کہا اے میری قوم! عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی نہیں ہے تمھار ا کوئی معبود اس کے سوا کیا تم نہیں ڈرتے۔

Verse 66 — Surah Al-Araf 7:66

کہنے لگے وہ سردار جو کافر تھے آپ کی قوم سے کہ ( اے ہود) ہم خیال کرتے ہیں کہ تم نرے نادان ہو اور ہم گمان کرتے ہیں کہ تم جھوٹوں میں سے ہو۔

Verse 67 — Surah Al-Araf 7:67

ہود نے کہا اے میری قوم! نہیں مجھ میں ذرا نادانی بلکہ میں تو رسول ہوں رب العالمین کی طر ف سے۔

Verse 68 — Surah Al-Araf 7:68

پہنچاتا ہوں تمھیں پیغامات اپنے رب کے اور میں تو تمھارا ایسا خیر خواہ ہوں جو دیانت دار ہو۔

Verse 69 — Surah Al-Araf 7:69

کیا تم تعجب کرتے ہو کہ آئی تمھارے پاس نصیحت تمھارے رب کی طرف سے ایک آدمی کے ذریعہ جو تم میں سے ہے تاکہ وہ ڈرائے تمھیں (عذابِ الٰہی سے ) اور یاد کرو جب اس نے بنادیا تمھیں جانشین قوم نوح ( علیہ السلام) کے بعد اور بڑھادیا تمھیں جسمانی لحاظ سے قدو قامت میں تو یاد کرو اللہ کی نعمتوں کو شاید تم کامیاب ہوجاؤ ۔

Verse 70 — Surah Al-Araf 7:70

وہ کہنے لگے (اے ہود!) کیا تم اس لیے ٓئے ہو ہمارے پاس کہ ہم عبادت کریں ایک اللہ کی اور چھوڑ دیں ان (معبودوں) کو جن کی عبادت کیا کرتے تھے ہمارے باپ دادا سو لے آؤ ہم پر وہ (عذاب) جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو اگر تم سچے ہو۔

Verse 71 — Surah Al-Araf 7:71

ہود (علیہ السلام) نے کہا واجب ہوگیا تم پر تمھارے رب کی طرف سے عذاب اور غضب کیا تم جھگڑا کرتے ہو مجھ سے ان ناموں کے بارے میں جو رکھ لیے ہیں تم نے اور تمھارے باپ دادا نے حالانکہ نہیں اتاری اللہ نے ان کے لیے کوئی سند سو تم بھی انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والا ہوں۔

Verse 72 — Surah Al-Araf 7:72

پھر ہم نے نجات دے دی ہود کو اور جو ان کے ہمرا ہ تھے اپنی خاص رحمت سے اور ہم نے کاٹ کر رکھ دی جڑ ان لوگوں کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور نہ تھے وہ ایمان لانے والے۔

Verse 73 — Surah Al-Araf 7:73

اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح (علیہ السلام ) کو بھیجا آپ نے کہا اے میری قوم! عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی نہیں ہے تمھارا کوئی معبود اس کے سوا بےشک آچکی ہے تمھارے پاس روشن دلیل تمھارے رب کی طرف سے یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمھارے لیے نشانی ہے پس چھوڑدو اس کو کھاتی پھرے اللہ کی زمین میں اور نہ ہاتھ لگاؤ اسے برائی سے ورنہ پکڑے گا تمھین عذاب دردناک ۔

Verse 74 — Surah Al-Araf 7:74

اور یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے بنایا تمھیں جانشین عاد کے بعد اور ٹھکانا دیا تمھین زمین میں تم بناتے ہو اس کے میدانی علاقوں میں عالیشان محل اور تراشتے ہو پہاڑوں میں مکانات سو یاد کرو اللہ کی نعمتیوں کو اور نہ پھرو زمین میں فساد برپا کرتے ہوئے۔

Verse 75 — Surah Al-Araf 7:75

کہا ان سرداروں نے جو تکبر کیا کرتے تھے ان کی قوم سے ان لوگوں کو جنھیں وہ کمزور و ذلیل سمجھتے تھے جو ان میں سے ایمان لائے تھے کیا تم یقین رکھتے ہو کہ صالح رسول ہے اپنے رب کی طرف سے ۔ انھوں نے کہا بےشک ہم اس پر جسے دے کر انھیں بھیجا گیا ہے ایمان لانے والے ہیں۔

Verse 76 — Surah Al-Araf 7:76

کہنے لگے وہ لوگ جو تکبر کیا کرتے تھے کہ ہم تو اس چیز کے جس پر تم ایمان لائے ہو منکر ہیں۔

Verse 77 — Surah Al-Araf 7:77

پس انھوں نے کونچیں کاٹ ڈالیں اس اونٹنی کی اور انھوں نے سرکشی کی اپنے رب کے حکم سے اور کہا اے صالح! لے آؤ ہم پر اس (عذاب) کو جس کا تم نے ہم سے وعدہ کیا تھا اگر تم اللہ کے رسولوں سے ہو ۔

Verse 78 — Surah Al-Araf 7:78

پھر آلیا انھیں زلزلہ کے جھٹکوں نے تو صبح کے وقت وہ اپنے گھروں میں منہ کے بل گرے پڑے تھے

Verse 79 — Surah Al-Araf 7:79

تو (صالح نے) منہ پھر لیا ان کی طرف سے اور (بصد حسرت) کہا اے میری قوم! بےشک پہنچادیا میں نے تم کو پیغام اپنے رب کا اور میں نے خیر خواہی کی تماھاری لیکن تم تو پسند ہی نہیں کرتے اپنے خیر خواہوں کو۔

Verse 80 — Surah Al-Araf 7:80

اور بھیجا ہم نے لوط کو جب انھوں نے کہا اپنی قوم سے کہ کیا تم کیا کرتے ہو ایسی بےحیائی (کا فعل) جو تم سے پہلے کسی نے نہیں کیا ساری دنیا میں ۔

Verse 81 — Surah Al-Araf 7:81

بے شک تم جاتے ہو مردوں کے پاس شہوت رانی کیلیے عورتوں کو چھوڑ کر بلکہ تم لوگ تو حد سے گزرنے والے ہو۔

Verse 82 — Surah Al-Araf 7:82

اور نہ تھا کوئی جواب ان کی قوم کے پاس سوائے اس کے کہ وہ بولے باہر نکال دو انھیں اپنی بستی سے یہ لوگ تو بڑے پاکباز بنتے ہیں۔

Verse 83 — Surah Al-Araf 7:83

پس ہم نے نجات دے دی لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بجز ان کی بیوی کے ، وہ ہوگئی پیچھے رہ جانے والوں سے۔

Verse 84 — Surah Al-Araf 7:84

اور برسایا ہم نے ان پر (پتھروں کا) مینہ تو دیکھو کیسا (عبرت ناک) انجام ہوا مجرموں کا۔

Verse 85 — Surah Al-Araf 7:85

اور (ہم نے بھیجا) مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب ( علیہ السلام) کو انھوں نے کہا اے میری قوم! عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی نہیں ہے تمھار ا کوئی خدا اس کے بغیر بےشک آگئی تمھارے پاس روشن دلیل تمھارے رب کی طرف سے تو پورا کرو ناپ اور تول کو اور نہ گھٹا کر دو لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ فساد برپا کرو زمین میں اس کی اصلاح کے بعد یہ بہتر ہے تمھارے لیے اگر تم ایمان لانے والے ہو۔

Verse 86 — Surah Al-Araf 7:86

اور مت بیٹھا کرو راستوں پر کہ ڈرا رہے ہو تم (راہ گیروں کو ) اور روک رہے ہو تم اللہ کی راہ سے جو ایمان لایا اللہ کے ساتھ اور تالش کرتے ہو اس میں عیب ۔ اور یاد کرو (وہ وقت) جب تم تھوڑے تھے پھر اس نے تمھیں بڑھادیا اور دیکھو! کیا ہوا انجام فساد برپا کرنے والو کا۔

Verse 87 — Surah Al-Araf 7:87

اور اگر ایک گروہ تم میں سے ایمان لاچکا ہے اس کے ساتھ جو دے کر میں بھیجا گیا ہوں اور ایک گروہ ایمان نہ لایا تو (ذرا) صبر کرو یہا تک کہ فیصلہ کردے اللہ ہمارے درمیان اور وہ سب سے بہت فیصلہ کرنے والا ہے۔

Verse 88 — Surah Al-Araf 7:88

کہنے لگے وہ سردار جو غرور و تکبر کیا کرتے تھے ان (شعیب ( علیہ السلام) ) کی قوم سے یا تو ہم نکال کررہیں گے تمھیں اے شعیب ( علیہ السلام) اور جو ایمان لائے تمھارے ساتھ اپنی بستی سے یا تمھیں لوٹ آنا ہوگا ہماری ملت میں ۔ شعیب نے کہا اگر ہم اس (ارتداد) کو ناپسند بھی کرتے ہوں

Verse 89 — Surah Al-Araf 7:89

پھر تو ہم نے ضرور بہتا ن باندھا اللہ تعالیٰ پر جھوٹا اگر ہم لوٹ آئیں گے تمھارے دین میں اس کے بعد کہ جب نجات دے دی ہمیں اللہ نے اس سے اور نہیں کوئی وجہ ہمارے لیے کہ ہم لوٹ آئیں اس میں مگر یہ کہ چاہے اللہ تعالیٰ جو پروردگار ہے ہمارا گھیرے ہوئے ہے ہمارا رب ہر چیز کو اپنے علم سے صرف اللہ پر ہم نے بھروسہ کیا ہے اے ہمارے رب فیصلہ فرمادے ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ اور تو سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔

Verse 90 — Surah Al-Araf 7:90

اور کہا ان ریئسوں نے جو کافر تھے ان کی قوم سے کہ اگر تم پیروی کرنے لگو شعیب ( علیہ السلام) کی تو یقیناً تم نقصان اٹھانے والے ہوجاؤ گے۔

Verse 91 — Surah Al-Araf 7:91

پھر پکڑ لیا انہیں زلزلہ نے تو صبح کے وقت وہ اپنے گھروں میں مبہ کے بل گرے پڑے تھے۔

Verse 92 — Surah Al-Araf 7:92

جن (بد بختوں) نے جھٹلایا شعیب ( علیہ السلام) کو (وہ یوں نابود کردیے گئے) گویا کبھی بستے ہی نہ تھے ان مکانوں میں جنھوں نے جھٹلایا شعیب ( علیہ السلام) کو ہوگئے وہی نقصان اٹھانے والے ۔

Verse 93 — Surah Al-Araf 7:93

تو منہ پھیر لیا ان کی طرف سے اور کہا اے میری قوم! بےشک میں نے پہنچا دئیے تھے تمھیں پیغامات اپنے رب کے اور میں نے نصیحت کی تھی تمھیں ۔ تو (اب) کیونکر غم کروں میں کافر قوم ( کے ہولناک انجام) پر۔

Verse 94 — Surah Al-Araf 7:94

اور نہ بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی مگر یہ کہ (جب نبی جھٹلایا گیا ) تو ہم نے مبتلا کردیا وہاں کے باشندوں کو سختی اور تکلیف میں تاکہ وہ گڑگڑانے لگیں۔

Verse 95 — Surah Al-Araf 7:95

پھر ہم نے بدل دی تکلیف کے بدلے راحت حتی کہ پھلے پھولے اور کہنے لگے بےشک (یونہی) پہنچا کرتی تھی ہمارے باپ دادا کو (کبھی) تکلیف اور (کبھی) راحت تو ہم نے پکڑ لیا انھیں اچانک اور اس کا انھیں خواب و خیال بھی نہ تھا۔

Verse 96 — Surah Al-Araf 7:96

اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ضرور ہم کھول دیتے ان پر برکتیں آسمان کی اور زمین کی لیکن انھوں نے جھٹلایا (ہمارے رسولوں کو ) تو پکڑ لیا ہم نے انھیں بوجہ ان کرتوتوں کے جو وہ کیا کرتے تھے۔

Verse 97 — Surah Al-Araf 7:97

تو کیا بےخوف ہو گئے ہیں ان بستیوں والے اس سے کہ آجائے ان پر ہمارا عذاب راتوں رات اس حال میں کہ وہ سورہے ہوں۔

Verse 98 — Surah Al-Araf 7:98

یا کیا بےخوف ہوگئے ہیں ان بستیوں والے اس سے کہ آجائے ان پر ہمارا عذاب چاشت کے وقت جب کہ وہ کھیل کود رہے ہوں۔

Verse 99 — Surah Al-Araf 7:99

تو کیا یہ بےخوف ہوگئے ہیں اللہ کی خفیہ تدبیر سے پس نہیں بےخوف ہوتے اللہ کی خفیہ تدبیر سے سوائے اس قوم کے جو نقصان اٹھانے والی ہوتی ہے۔

Verse 100 — Surah Al-Araf 7:100

کیا یہ (حقیقت) واضح نہ ہوئی ان لوگوں پر جو وارث بنے زمین کے اس کے اصلی مالکوں (کی تباہی) کے بعد کہ اگر ہم چاہیں تو سزا دیں انھیں ان کے گناہوں کی وجہ سے اور مہر لگادیں ان کے دلوں پر تاکہ وہ کچھ سن ہی نہ سکیں۔

Verse 101 — Surah Al-Araf 7:101

یہ بستیاں ہیں ہم بیان کرتے ہیں آپ سے ان کی کچھ خبریں ۔ اور بےشک آئے ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ۔ اور نہ ہوا یہ کہ ایمان لاتے اس پر جس کو جھٹلا چکے تھے۔ اس سے پہلے اسی طرح مہر لگا دیتا ہے اللہ تعالیٰ کافروں کے دلوں پر ۔

Verse 102 — Surah Al-Araf 7:102

اور نہ پایا ہم نے ان کی اکثریت کو وعدہ کا پانبد اور ضرور پایا ان میں سے بہتوں کو حکم عدولی کرنے والا۔

Verse 103 — Surah Al-Araf 7:103

پھر ہم نے بھیجا ان کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف انھوں نے انکار کردیا ان کا۔ سو دیکھو کیسا انجام ہوا فساد برپا کرنے والوں کا۔

Verse 104 — Surah Al-Araf 7:104

اور کہا موسیٰ (علیہ السلام) نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں پروردگار عالم کا ۔

Verse 105 — Surah Al-Araf 7:105

واجب ہے مجھ پر کہ نہ کہوں اللہ پر سوائے سچی بات کے میں آیا ہوں تمھارے پاس روشن دلیل لے کر تمھارے رب کی طر سے پس بھیج دے میرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔

Verse 106 — Surah Al-Araf 7:106

فرعون نے کہا اگر تم لائے ہو کوئی نشانی تو پیش کرو اسے اگر تم (اپنے دعویٰ میں) سچے ہو۔

Verse 107 — Surah Al-Araf 7:107

تو ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو وہ فوراً صاف اژدہا بن گیا۔

Verse 108 — Surah Al-Araf 7:108

اور نکالا اپنا ہاتھ (گریبان سے) تو فوراً وہ سفید (روشن ) ہوگیا دیکھنے والوں کے لیے۔

Verse 109 — Surah Al-Araf 7:109

کہنے لگے فرعون کے ریئس واقعی یہ شخص بڑا ماہر جادو گر ہے۔

Verse 110 — Surah Al-Araf 7:110

چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھارے ملک سے تو اب تم کیا مشورہ دیتے ہو۔

Verse 111 — Surah Al-Araf 7:111

بولے مہلت دو اسے اور اس کے بھائی کو اور بھیجو شہروں میں ہر کارے ۔

Verse 112 — Surah Al-Araf 7:112

تاکہ وہ لے آئیں تمھارے پاس ہر ماہر جادو گر کو۔

Verse 113 — Surah Al-Araf 7:113

اور آگئے جادوگر فرعون کے پاس جادوگروں نے کہا یقیناً (آج تو) ہمیں بڑا انعام ملنا چاہیے اگر ہم (موسیٰ ( علیہ السلام) پر ) غالب آجائیں۔

Verse 114 — Surah Al-Araf 7:114

فرعون نے کہا بےشک اور (اس کے علاوہ) تم خا صان بارگاہ سے ہوجاؤگے۔

Verse 115 — Surah Al-Araf 7:115

جادوگروں نے کہا اے موسیٰ! یا تو تم (پہلے) ڈالو ورنہ ہم ہی (پہلے ) ڈالنے والے ہیں۔

Verse 116 — Surah Al-Araf 7:116

آپ نے فرمایا تم ہی ڈالو پس جب انھوں نے ڈالا تو جادو کردیا انھوں نے لوگوں کی آنکھوں پر اور خوفزدہ کردیا انھیں اور مظاہرہ کیا انھوں نے بڑے جادو کا۔

Verse 117 — Surah Al-Araf 7:117

اور ہم نے وحی کی موسیٰ ( علیہ السلام) کو کہ ڈالیے اپنا عصا تو فوراً نگلنے لگا جو فریب انھوں نے بنا رکھا تھا ۔

Verse 118 — Surah Al-Araf 7:118

تو ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو (جادو) وہ کیا کرتے تھے۔

Verse 119 — Surah Al-Araf 7:119

یوں فرعونی مغلوب ہوگئے وہاں (بھرے مجمع میں) اور پلٹے ذلیل و خوار ہو کر۔

Verse 120 — Surah Al-Araf 7:120

اور گر پڑے جادو گر سجدہ کرتے ہوئے۔

Verse 121 — Surah Al-Araf 7:121

(اور) کہنے لگے ہم تو ایمان لے آئے سارے جہانوں کے پروردگار پر۔

Verse 122 — Surah Al-Araf 7:122

جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا۔

Verse 123 — Surah Al-Araf 7:123

فرعون نے کہا تم تو ایمان لائے ہوئے تھے اس پر اس سے پہلے کہ میں (اس کے مقابلہ کی) تمھیں اجازت دیتا بےشک یہ ایک فریب ہے جو تم نے (مل کر) کہا ہے شہر میں تاکہ تم نکال دو یہاں سے اس کے اصلی باشندوں کو ابھی (اس کا انجام) تمھیں معلوم ہوجائے گا۔

Verse 124 — Surah Al-Araf 7:124

میں پہلے کٹواؤں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مختلف طرفوں سے پھر تمھیں سولی پر لٹکاؤوں گا سب کے سب کو۔

Verse 125 — Surah Al-Araf 7:125

وہ بولے (پرواہ نہیں) ہم نے اپنے رب کی طرف جانے والے ہیں۔

Verse 126 — Surah Al-Araf 7:126

اور تو کیا ناپسند کرتا ہے ہم سے بجز اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ آئیں ہمارے پاس اے ہمارے رب! انڈیل دے ہم پر صبر اور وفات دے ہمیں اس حال میں کہ ہم مسلمان ہوں۔

Verse 127 — Surah Al-Araf 7:127

اور کہا فرعون کے سرداروں نے (اے فرعون!) کیا تو (یونہی) چھوڑے رکھے گا موسیٰ اور اس کی قوم کو تاکہ فساد برپا کرتے رہیں اس ملک میں اور چھوڑے رہے موسیٰ تجھے اور تیرے خداؤں کو اس نے (برا فروختہ ہوکر ) کہا (ہر گز نہیں بلکہ) ہم تہہ تیغ کردیں گے ان کے لڑکوں کو اور زندہ چھوڑدیں گے ان کی عورتوں کو ۔ اور ہم بےشک ان پر غالب ہیں۔

Verse 128 — Surah Al-Araf 7:128

فرمایا موسیٰ نے اپنی قوم کو (اس آزمائش میں) مدد طلب کرو اللہ سے اور صبرو استقامت سے کام لو۔ بلاشبہ زمین اللہ ہی کی ہے وارث بناتا ہے اس کا جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں سے۔ اور اچھا انجام پرہیزگاروں کے لیے (مخصوص) ہے۔

Verse 129 — Surah Al-Araf 7:129

قوم موسیٰ نے کہا ہم تو ستائے گئے اس سے پہلے بھی کہ آپ آئے ہمارے پاس اور اس کے بعد بھی کہ ٓپ آئے ہمارے پاس آپ نے کہا عنقریب تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور (اُن کا ) جانشین بنادے گا تمھیں زمین میں پھر وہ دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔

Verse 130 — Surah Al-Araf 7:130

اور بےشک ہم نے پکڑ لیا فرعونیوں کو قحط سالی اور پھلوں کی پیداوار میں کمی سے تاکہ وہ نصیحت قبول کریں۔

Verse 131 — Surah Al-Araf 7:131

تو جب آتا ان پر خوشحالی کا دور تو کہتے ہم مستحق ہیں اس کے اور اگر پہنچتی انھیں کوئی تکلیف (تو) بدفالی پکڑتے موسیٰ ( علیہ السلام) سے اور آپ کے ساتھیوں سے سن لو! ان کی بدفالی تو (مکافات عمل کے قانون کے مطابق) اللہ کے پاس سے ہے لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو ) نہیں جانتے۔

Verse 132 — Surah Al-Araf 7:132

اور انھوں نے کہا کیسی ہی تولے آئے ہمارے پاس نشانی (معجزہ) تاکہ تو جادو کرے ہم ر اس سے ہرگز نہیں ہم تم پر ایمان لانے والے۔

Verse 133 — Surah Al-Araf 7:133

پھر بھیجا ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈی اور جوئیں اور مینڈک اور خون (یہ سب ) واضح نشانیاں تھیں پھر بھی وہ تکبر کرتے رہے اور وہ لوگ (پیشہ ور ) مجرم تھے۔

Verse 134 — Surah Al-Araf 7:134

اور جب آجاتا ان کوئی عذاب تو کہتے اے موسیٰ دعا کر ہمارے لیے اپنے پروردگار سے اس عہد کے سبب جو اس کا تماھرے ساتھ ہے اگر تم ہٹادو گے ہم سے یہ عذاب تو ہم ضرور ایمان لائیں گے تم پر اور ضرور روانہ کردیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔

Verse 135 — Surah Al-Araf 7:135

پھر جب ہم نے دور کردیا ان سے عذاب ایک مقررہ میعا د تک جس کو وہ پہنچنے والے تھے تو فوراً انھوں نے (توبہ کا عہد ) توڑ دیا۔

Verse 136 — Surah Al-Araf 7:136

پھر ہم نے بدلہ لیا ان سے اور غرق کردیا انھیں سمندر میں کیونکہ انھوں نے جھٹلایا تھا ہماری آیتوں کو اور وہ اس (آنے والے ) عذاب سے بالکل غافل تھے۔

Verse 137 — Surah Al-Araf 7:137

اور ہم نے وارث بنادیا اس قوم کو جسے ذلیل و حقیر سمجھا جاتا تھا (انھیں وارث بنایا) اس زمین کے شرق و غرب کا جس میں ہم نے برکت رکھ دی تھی اور پورا ہوگیا آپ کے پروردگار کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل کے متعلق بوجہ اس کے انھوں نے صبر کیا تھا اور ہم نے برباد کردیا جو کیا کرتا تھا فرعون اور اس کی قوم اور (برباد کردیے) جو بلند مکان وہ تعمیر کیا کرتے تھے۔

Verse 138 — Surah Al-Araf 7:138

اور ہم نے پار اتار ا نبی اسرائیل کو سمندر سے تو گزرے وہ ایک ایسی قوم پر جو مگن بیٹھے تھے اپنے بتوں کی عبادت میں بنی اسرئیل نے کہا اے موسیٰ ! ہمارے لیے بھی ایک (ایسا ) خدا جیسے ان کے خدا ہیں موسیٰ نے فرمایا یقیناً تم جاہل (اور بےسمجھ) لوگ ہو۔

Verse 139 — Surah Al-Araf 7:139

بے شک یہ لوگ جس کام میں لگے ہیں تباہ ہوکر رہیں گے اور باطل ہے جو کچھ وہ کررہے ہیں۔

Verse 140 — Surah Al-Araf 7:140

موسیٰ نے کہا کیا بغیر اللہ کے میں تلاش کروں تمھارے لیے کوئی اور کدا حالانکہ اسی نے ضضیلت دی ہے تمھیں سارے جہانوں پر۔

Verse 141 — Surah Al-Araf 7:141

اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے نجات دی تمھیں فرعونیوں سے جو چکھاتے تھے تمھیں سخت عذاب مار ڈالتے تھے تمھارے فرزندوں کو اور زندہ چھوڑتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں تمھارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔

Verse 142 — Surah Al-Araf 7:142

اور ہم نے وعدہ کیا موسیٰ سے تیس رات کا اور مکمل کرلیا اسے دس مزید راتوں سے سو پوری ہوگئی اس کے رب کی میعاد چالیس راتیں اور (طور پر جاتے وقت) کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہ میرا نائب رہنا میری قوم میں اور اصلاح کرتے رہنا اور مت چلنا مفسدوں کے راستہ پر۔

Verse 143 — Surah Al-Araf 7:143

اور جب آئے موسیٰ ہمارے مقرر کیے وقت پر اور گفتگو کی ان سے ان کے رب نے (تو اس وقت) عرض کی اے میرے رب! مجھے دیکھنے کی قوت دے تاکہ میں تیری طرف دیکھ سکوں اللہ نے فرمایا تم ہرگز نہیں دیکھ سکتے مجھے البتہ دیکھو اس پہاڑ کی طرف سو اگر یہ ٹھیرا رہا اپنی جگہ پر تم بھی دیکھ سکو گے مجھے پھر جب تجلی ڈالی ان کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اسے پاش پاش اور گر پڑے موسیٰ بےہوش ہو کر پھر جب آپ کو ہوش آیا تو عرض کی پاک ہے تو (ہر نقص سے) میں توبہ کرتا ہوں تیری جناب میں اور میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں۔

Verse 144 — Surah Al-Araf 7:144

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ ! میں نے سرفراز کیا ہے تجھے تمام لوگوں پر اپنی پیغامبری سے اور اپنے کلام سے اور لے لو جو میں دیا ہے تمھیں اور ہوجاؤ شکر گزار بندوں سے۔

Verse 145 — Surah Al-Araf 7:145

اور ہم نے لکھ دی موسیٰ کے لیے تختیوں میں ہر چیز نصیحت پذیری کے لیے اور (لکھ دی) تفصیل ہر چیز کی پھر (فرمایا) پکڑ لو اسے مضبوطی سے اور حکم دو اپنی قوم کو پکڑلیں اس کی اچھی باتیں عنقریب میں دکھاؤں گا تمھیں نافرمانوں کا (برباد شدہ) گھر۔

Verse 146 — Surah Al-Araf 7:146

میں پھیر دوں گا اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کی توجہ کو جو غرور کرتے پھرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں تمام نشانیوں کو (تو بھی) نہ ایمان لائین گے ان پر۔ اور دیکھ بھی لیں راہ رشد و ہدایت تب بھی نہ بنائیں اسے (اپنا) راستہ۔ اور اگر دیکھیں گمراہی کے راستہ کو ( تو جھٹ) بنالیں اسے (اپنی) راہ یہ (ساری غلط روی) اس لیے ہے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور (ہمیشہ) رہے ان سے غفلت برتنے والے۔

Verse 147 — Surah Al-Araf 7:147

اور جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو ضائع ہوگئے ان کے سارے اعمال کیا انھیں جزا دی جائے گی سوائے اس کے جو وہ کیا کرتے تھے؟ (ہر گز نہیں)۔

Verse 148 — Surah Al-Araf 7:148

اور بنا لیا قوم موسیٰ نے ان کے (طور پر جانے کے بعد) اپنے زیوارت سے ایک بچھڑا جو محض ڈھانچہ تھا اس سے گائے کی آواز آتی تھی۔ کیا نہ دیکھا انھوں نے کہ وہ نہ بات کرسکتا ہے اسے اور نہ انھیں ہدایت کی راہ بتاسکتا ہے انھوں نے (خدا ) بنالیا اسے اور وہ (بڑے ) ظالم تھے۔

Verse 149 — Surah Al-Araf 7:149

اور جب وہ سخت پشیمان ہوئے اور انھیں نظر آگیا کہ وہ (راہ راست سے ) بھٹک گئے (تو) کہنے لگے اگر نہ رحم فرماتا ہم پر ہمارا رب اور نہ بخش دیتا ہمیں تو ہم ضرور ہوجاتے نقصان اٹھانے والوں سے ۔

Verse 150 — Surah Al-Araf 7:150

اور جب واپس آئے موسیٰ اپنی قوم کی طرف خشمناک (اور ) غمگین ہو کر ( تو) بولے (اے قوم!) بہت بری جانشینی کی ہے تم نے میری میرے بعد کیا تم نے جلد بازی کی اپنے رب کے فرمان سے اور (غصہ سے) پھینک دی تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا (اور ) کھنیچا اسے اپنی طرف ہارون نے کہا انے میری ماں جائے! اس قوم نے کمزور و بےبس بنادیا مجھے اور قریب تھا کہ قتل کردیں مجھے سو نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو اور نہ شمار کرو مجھے اس ظالم قوم کے ساتھ۔

Verse 151 — Surah Al-Araf 7:151

موسیٰ نے التجا کی اے میرے رب ! بخش دے مجھے اور میری بھائی کو اور داخل کر ہم کو اپنی رحمت میں اور تو زیادہ رحم کرنے والا ہے تمام رحم کرنے والوں سے۔

Verse 152 — Surah Al-Araf 7:152

بے شک جنھوں نے بنالیا بچھڑے کو معبود جلدی ہی پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سے اور رسوائی دنیا کی زندگی میں اور اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں بہتان باندھنے والو کو۔

Verse 153 — Surah Al-Araf 7:153

اور جنھوں نے کیے برے کام پھر توبہ کی اس کے بعد اور ایمان لائے بےشک آپ کا رب اس کے بعد بہت بخشنے والا بہت رحم کرنے والا ہے۔

Verse 154 — Surah Al-Araf 7:154

اور جب فرو ہوگیا موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ تو اٹھالیا ان تختیوں کو اور ان کی تحریر میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے ر ب سے ڈرتے ہیں۔

Verse 155 — Surah Al-Araf 7:155

اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم سے ستر آدمی ہمارے وعدہ ملاقات کے لیے b پھر جب پکڑ لیا انھیں زلزلہ (کے جھٹکوں) نے تو موسیٰ نے کہا اے میرے رب! اگر تو چاہتا تو ہلاک کردیتا انھیں اس سے پہلے اور مجھے بھی۔ کیا تو ہلاک کرتا ہے ہمیں بوجہ اس (غلطی) کے جو کی (چند) احمقوں نے ہم سے نہیں ہے یہ مگر تیری آزمائش تو گمراہ کرتا ہے اس سے جس کو چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار فرما ہے بخش دے ہم کو اور رحم فرما ہم پر اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔

Verse 156 — Surah Al-Araf 7:156

اور لکھ دے ہامرے لیے اس دنیا میں خیر و برکت اور آخرت میں بھی بےشک ہم نے رجوع کیا ہے تیری طرف اللہ نے فرمایا میرا عذاب پہنچا تا ہوں اسے جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت کشادہ ہے ہر چیز پر سو میں لکھوں گا اس کو ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور ادا کرتے ہیں زکوٰۃ اور وہ جو ہمارے نشانیوں پر ایمان لاتے ہین ۔

Verse 157 — Surah Al-Araf 7:157

(یہ وہ ہیں) جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبی امی ہے جس (کے ذکر) کو وہ پاتے ہیں لکھا ہوا اپنے پاس تورات اور انجیل میں وہ نبی حکم دیتا ہے انھیں نیکی کا اور روکتا ہے انھیں برائی سے اور حلال کرتا ہے ان کے لیے پاک چیزیں اور حرام کرتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کا بوجھ اور (کاٹتا ہے) وہ زنجیریں جو جکڑے ہوئے تھیں انھیں پس جو لوگ ایمان لائے اس (نبی امی) پر اور تعظیم کی آپ کی اور امداد کی آپ کی اور پیروی کی اس نور کی جو اتارا گیا آپ کے ساتھ وہی (خوش نصیب) کامیاب و کامران ہیں۔

Verse 158 — Surah Al-Araf 7:158

آپ فرمائیے اے لوگو! بےشک میں اللہ کا رسول ہوں تم سب کی طرف وہ اللہ جس کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی نہیں کوئی معبود سوائے اس کے وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر جو نبی امی ہے جو خود ایمان لایا ہے اللہ پر اور اس کے کلام پر اور تم پیروی کرو اس کی تاکہ تم ہدایت یافتہ ہوجاؤ۔

Verse 159 — Surah Al-Araf 7:159

اور موسیٰ کی قوم سے ایک گروہ ہے جو راہ بتاتا ہے حق کے ساتھ اور اسی حق کے ساتھ عدل کرتا ہے۔

Verse 160 — Surah Al-Araf 7:160

اور ہم نے بانٹ دیا انھیں بارہ قبیلوں میں جو الگ الگ قومیں ہیں۔ اور ہم نے وحی بھیجی موسیٰ کی طرف جب پانی طلب کیا آپ سے آپ کی قوم نے (ہم نے وحی کی ) کہ مارو اپنا عصا سے اس پتھر کو تو پھوٹ نکلے اس سے بارہ چشمے جان لیا ہر ایک گروہ نے اپنا پنا گھاٹ اور ہم نے سایہ کردیا ان پر بادل کا اور ہم نے اتارا ان پر من و سلویٰ (اور فرمایا) کھاؤ ان پاک چیزوں کو جو ہم نے دی ہیں تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر بلکہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہتے تھے۔

Verse 161 — Surah Al-Araf 7:161

اور جب کہا گیا کہ انھیں آباد ہوجاؤ اس شہر میں اور کھاؤاس سے جہاں سے چاہو اور کہو (اے کریم) بخش دے ہمیں اور داخل ہو دروازہ سے جکھتے ہوئے ہم بخش دیں گے تمھاری خطائیں (ا ور) زیادہ دیں گے احسان کرنے والو کو۔

Verse 162 — Surah Al-Araf 7:162

تو بدل ڈالی جنھوں نے ظلم کیا تھا ان سے بات خلاف اس کے جو کہی گئی تھی انھیں تب ہم نے بھیج دیا ان پر عذاب آسمان سے اس وجہ سے کہ وہ ظلم کیا کرتے تھے۔

Verse 163 — Surah Al-Araf 7:163

اور پوچھو ان سے حال اس بستی کا جو آباد تھی ساحل سمندر پر جب کہ وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتہ (کے حکم کے بارے میں) جب آیا کرتیں ان کے پاس ان کی مچھلیاں ان کے ہفتہ کے دن پانی پر تیرتی ہوئیں اور جو دن ہفتہ کا نہ ہوتا تو وہ نہ آتیں ان کے پاس ( اس طرح بےدھڑک ) ہم نے آزمائش میں ڈالا انھیں بہ سبب اس کہ وہ نافرمانی کیا کرتے تھے۔

Verse 164 — Surah Al-Araf 7:164

اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کہ تم کیوں نصیحت کرتے ہو اس قوم کو اللہ جنھیں ہلاک کرنے والا ہے یا انھیں عذاب دینے والا ہے سخت عذاب؟ انھوں نے کہا تاکہ معذرت پیش کرسکیں تمھارے رب کے دربار میں (کہ ہم نے اپنا فرض ادا کردیا ) اور شاید وہ ڈرنے لگیں۔

Verse 165 — Surah Al-Araf 7:165

پھر جب انھوں نے فراموش کردی جو انھیں نصیحت کی گئی تھی (تو ) ہم نے نجات دے دی انھیں جو روکتے تھے برائی سے اور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا برے عذاب سے بوجہ اس کے کہ وہ نافرمانی کیا کرتے تھے۔

Verse 166 — Surah Al-Araf 7:166

پھر جب انھوں نے سرکشی کی جس سے وہ روکے گئے تھے ہم نے حکم دیا انھیں کہ بن جاؤ بندر راندے ہوئے۔

Verse 167 — Surah Al-Araf 7:167

اور یاد کرو جب اعلان کردیا آپ کے رب نے کہ ضرور بھیجتا رہے گا ان پر روز قیامت تک ایسے (جابر) جو چکھائیں گے انھیں برا عذاب بےشک آپ کا رب جلدی عذاب دینے والا ہے اور بےشک وہ غفور رحیم (بھی) ہے۔

Verse 168 — Surah Al-Araf 7:168

اور ہم نے بانٹ دیا انھیں زمین میں کئی گروہوں میں ان میں سے کچھ نیک ہیں اور کچھ اور طرح ہیں اور ہم نے آزمایا انھیں تعمتوں میں اور تکلیفوں کے ساتھ تاکہ وہ (اللہ تعالیٰ) کی طرف رجوع کریں۔

Verse 169 — Surah Al-Araf 7:169

(پھر جانشین بنے ان کے بعد وہ ناخلف جو وارث ہوئے کتاب کے وہ لیتے ہیں مال اس دنیا کا ور بایں ہمہ) کہتے ہیں کہ ضرور بخش دیا جائے گا ہمیں اور اگر آجائے ان کے پاس اور مال اس جیسا تو لے لیں اسے بھی کیا نہیں لیا گیا تھا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں کہ نہ منسوب کریں اللہ کی طرف کوئی بات سوائے حق کے اور پڑھ لیا انھوں نے جو کتاب میں تھا اور دار آخرت بہتر ہے ان کے لیے جو متقی ہیں تو کیا تم (اِتنا ) بھی نہیں سمجھتے۔

Verse 170 — Surah Al-Araf 7:170

اور جنھوں نے مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے کتاب کو اور قائم کیا نماز کو بےشک ہم ضائع نہیں کریں گے اجر اصلاح کرنے والوں کا۔

Verse 171 — Surah Al-Araf 7:171

اور جب ہم نے اٹھایا پہاڑ ان کے اوپر اس طرح گویا وہ سائبان ہے اور خیال کرنے لگے کہ وہ ضرور گر پڑے گا ان پر (ہم نے کہا) پکڑ لو جو ہم نے دیا ہے تمھیں (پوری) قوت سے اور یاد رکھو جو اس میں ہے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔

Verse 172 — Surah Al-Araf 7:172

اور (اے محبوب) یاد کرو جب نکالا آپ کے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد کو اور گواہ بنا دیا خود ان کو ان کے نفسوں پر (اور پوچھا) کیا میں نہیں ہو تمھارا رب؟ سب نے کہا بےشک تو ہی ہمارا رب ہے ہم نے گواہی دی (یہ اس لی ہوا ) کہ کہیں تم یہ نہ کہو روز حشر کہ ہم تو اس سے بےخبر تھے۔

Verse 173 — Surah Al-Araf 7:173

یا یہ نہ کہو کہ شرک تو صرف ہمارے باپ دادا نے کیا تھا (ہم سے ) پہلے اور ہم تو تھے ان کی اولاد ان کے بعد تو کیا تو ہمیں ہلاک کرتا ہے اس شرک کی وجہ سے جو کیا تھا باطل پرستوں نے ۔

Verse 174 — Surah Al-Araf 7:174

اور اسی طرح ہم مفصل بیان کرتے ہیں نشانیاں تاکہ وہ (ان میں غور کریں) اور کفر سے باز آجائیں۔

Verse 175 — Surah Al-Araf 7:175

اور پڑھ سنائیے انھین حال اس کا جسے دیا ہم نے (علم) اپنی آیتوں کا تو وہ کترا کر نکل گیا ان سے تب پیچھے لگ گیا اس کے شیطان تو ہوگیا وہ گمراہوں میں۔

Verse 176 — Surah Al-Araf 7:176

اور اگر ہم چاہتے تو بلند کردیتے اس کا رتبہ ان آیتوں کے باعث لیکن وہ تو جھک گیا پستی کی طرف اور پیروی کرنے لگا اپنی خواہش کی اس اس کی مثال کتے جیسی ہے اگر حملہ کرے اس پر تب بھی ہانپے اور اگر تو اسے چھوڑدے تب بھی ہانپے یہ حال ہے ان لوگوں کا جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو آپ سنائیں (انھیں) یہ قصہ شاید وہ غور و فکر کرنے لگیں۔

Verse 177 — Surah Al-Araf 7:177

بہت بری کہاوت ہے اس قوم کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور (وہ) اپنی ہی جانوں پر ظلم کیا کرتے تھے۔

Verse 178 — Surah Al-Araf 7:178

جسے ہدایت بخشے اللہ تعالیٰ سو وہی ہدایت یافتہ ہے اور جنھیں گمراہ کردے تو وہی نقصان اٹھانے والے ہیں ۔

Verse 179 — Surah Al-Araf 7:179

اور بےشک ہم نے پیدا کیے جہنم کے لیے بہت سے جن اور انسان ان کے دل (تو) ہیں لیکن وہ سمجھتے نہیں ان سے اور ان کی آنکھیں تو ہیں لیکن وہ دیکھتے نہیں ان سے اور ان کے کان تو ہیں لیکن وہ سنتے نہیں ان سے وہ حیوانوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ یہی لوگ تو غافل (وبے خبر) ہیں۔

Verse 180 — Surah Al-Araf 7:180

اور اللہ ہی کے لیے ہیں نام اچھے اچھے سو پکارو اسے انھیں ناموں سے اور چھوڑ دو انھیں جو کجروی کرتے ہیں اس کے ناموں میں انھیں سزا دی جائے گی جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔

Verse 181 — Surah Al-Araf 7:181

اور ان میں سے جنھیں ہم نے پیدا فرمایا ایک امت ہے جو راہ دکھاتی ہے حق کے ساتھ اور حق کے ساتھ ہی عدل و انصاف کرتی ہے۔

Verse 182 — Surah Al-Araf 7:182

اور جنھوں نے تکذیب کی ہماری آیتوں کی تو ہم آہستہ آہستہ پستی میں گرادیں گے انھیں اس طرح کہ انھیں علم تک نہ ہوگا۔

Verse 183 — Surah Al-Araf 7:183

اور میں مہلت دیتا ہوں انھیں ۔ بےشک میری خفیہ تدبیر بہت پختہ ہے۔

Verse 184 — Surah Al-Araf 7:184

کیا اب تک نہیں غورر فکر کیا انھوں نے ان کے صاحب پر تو جنون کا ذرا اثر نہیں ہے وہ مگر کھلم کھلا ڈرانے والا۔

Verse 185 — Surah Al-Araf 7:185

کیا انھوں نے غور سے نہیں دیکھا آسمانوں اور زمین کی وسیع مملکت مین اور (اس میں) جو چیز پیدا فرمائی اللہ تعالیٰ نے اور اس میں کہ شاید نزدیک آگئی ہو ان کی مقررہ معیاد تو کس بات پر وہ اس (قرآن) کے بعد ایمان لے لائیں گے۔

Verse 186 — Surah Al-Araf 7:186

جسے گمراہ کردے اللہ تعالیٰ تو نہیں کوئی ہدایت دینے والا اسے ۔ وہ رہنے دیتا ہے انھیں کہ اپنی گمراہی میں بھٹکتے رہیں۔

Verse 187 — Surah Al-Araf 7:187

وہ دریافت کرتے ہیں آپ سے قیامت کے متعلق کہ کب ہوگا اس کا وقوع آپ کہئیے کہ اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے نہیں ظاہر کرے گا اسے اپنے وقت پر مگر وہی یہ (حادثہ) بہت گراں ہے آسمانوں اور زمین میں نہ آئے گی تم پر مگر اچانک وہ پوچھتے ہیں آپ سے گویا آپ خوب تحقیق کرچکے ہیں اس کے متعلق آپ فرمائیے اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔

Verse 188 — Surah Al-Araf 7:188

آپ کہیے نہیں مالک ہوں میں اپنے آپ کے نفع کا اور نہ ضرر کا مگر جو چاہے اللہ تعالیٰ اور اگر میں (تعلیم الٰہی کے بغیر) جان لیتا غیب کو تو خود ہی بہت جمع کرلیتا خیر سے اور نہ پہنچتی مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوں میں مگر ڈرانے والا (نافرمانوں کو ) اور خوشخبری سنانے والا اس قوم کو جو ایمان لائی ہے۔

Verse 189 — Surah Al-Araf 7:189

وہ (خدا ہے) جس نے پیدا فرمایا تمھیں ایک نفس سے اور بنایا اس سے اس کا جوڑا تاکہ اطمینان حاصل کرے اس (جوڑے) سے پھر جب مرد ڈھانپ لیتا ہے عورت کو تو حاملہ ہوجاتی ہے ہلکے سے حمل سے پھر چلتی پھرتی رہتی ہے اس کے ساتھ ۔ پھر جب وہ بوجھل ہوجاتی ہے تو دعا مانگتے ہیں (میاں بیوی) اللہ سے جو ان کا رب ہے کہ اگر تو عنایت فرمائے ہمیں تندرست لڑکا تو ہم ضرور ہوجائیں گے (تیرے) شکر گزار بندوں سے۔

Verse 190 — Surah Al-Araf 7:190

پس جب اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے انھیں تندرست لڑکا تو دونوں بناتے ہیں اللہ کے ساتھ شریک اس میں جو اس نے انھیں دیا ۔ تو بلند و برتر ہے اللہ ان سے جنھیں وہ شریک بناتے ہیں۔

Verse 191 — Surah Al-Araf 7:191

کیا وہ شریک بناتے ہیں اسے جس نے پیدا نہیں کیا کوئی چیز اور وہ خود پیدا ہوگئے ہیں۔

Verse 192 — Surah Al-Araf 7:192

اور وہ نہیں طاقت رکھتے ان کو مدد پہنچانے کی اور نہ اپنی آپ مدد کرسکتے ہیں۔

Verse 193 — Surah Al-Araf 7:193

اور اگر تو بلائے انھیں ہدایت کی طرف تو نہ پیروی کریں تمھاری۔ یکساں ہے تمھارے لیے خواہ تم بلاؤ انھیں یا تم خاموش رہو (اے کفار)۔

Verse 194 — Surah Al-Araf 7:194

بے شک وہ جنھیں تم پوجتے ہو اللہ کے سوا بندے ہیں تمھاری طرح تو پکارو انھیں پس چاہیے کہ قبول کریں تمھاری پکار کو اگر تم سچے ہو۔

Verse 195 — Surah Al-Araf 7:195

کیا ان کے پاؤں ہیں چلتے ہیں وہ جن کے ساتھ یا کیا ان کے ہاتھ ہیں پکڑتے ہیں وہ جن کے ساتھ یا کیا ان کی آنکھیں ہیں دیکھتے ہیں جن سے یا کیا ان کے کان ہیں وہ سنتے ہیں جن کے ساتھ آپ کہیئے پکارو اپنے شریکوں کو پھر سازش کرو میرے خلاف اور مہلت دو مجھے۔

Verse 196 — Surah Al-Araf 7:196

یقیناً میرا حمایتی اللہ ہے جس نے اتاری یہ کتاب اور وہ حمایت کیا کرتا ہے نیک بندوں کی۔

Verse 197 — Surah Al-Araf 7:197

اور جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کے سوا وہ طاقت نہیں رکھتے تمھاری امداد کی اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں۔

Verse 198 — Surah Al-Araf 7:198

اور اگر تم بلاؤ انھیں ہدایت کی طرف تو وہ نہ سنیں گے اور تو دیکھے گا انھیں کہ دیکھ رہے ہیں تیری طرف حالانکہ انھیں کچھ نظر نہیں آتا۔

Verse 199 — Surah Al-Araf 7:199

قبول کیجیے معذرت (خطاکاروں سے) اور حکم دیجیے نیک کاموں کا اور رخ (انور) پھیر لیجیے نادانوں کی طرف سے ۔

Verse 200 — Surah Al-Araf 7:200

اور اگر پہنچے آپ کو شیطان کی طرف سے زرا سا وسوسہ تو فوراً پناہ مانگئے اللہ سے بےشک وہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

Verse 201 — Surah Al-Araf 7:201

بے شک وہ لوگ جو تقویٰ اختیار کیے ہیں جب چھوتا ہے انھیں کوئی خیال شیطان کی طرف سے تو وہ (خدا کو ) یاد کرنے لگتے ہیں تو فوراً ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں ۔

Verse 202 — Surah Al-Araf 7:202

اور جو شیطانوں کے بھائی ہیں شیطان کھینچ لے جاتے ہیں انھیں گمراہی میں پھر (انھیں گمراہ کرنے میں) وہ کوتاہی نہیں کرتے۔

Verse 203 — Surah Al-Araf 7:203

اور ( اے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) جب آپ نہیں لاتے ان کے پاس کوئی آیت تو کہتے ہیں کیوں نہ بنا لیا تم نے خود اسے فرمائیے میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو وحی کی جاتی ہے میری طرف میرے رب سے۔ یہ روشن دلیلیں ہیں تمھارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہیں اس قوم کے لیے جو ایمان لاتی ہے۔

Verse 204 — Surah Al-Araf 7:204

اور جب پڑھا جائے قرآن (مجید) تو کان لگا کر سنو اسے اور چپ ہوجاؤ تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔

Verse 205 — Surah Al-Araf 7:205

اور یاد کرو اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی کرتے ہوئے اور ڈرتے ڈرتے اور زبان سے بھی چلائے بغیر (یوں یاد کرو) صبح کے وقت بھی اور شام کے وقت بھی اور نہ ہوجاؤ (یادِ الٰہی سے ) غافل رہنے والوں سے۔

Verse 206 — Surah Al-Araf 7:206

بے شک جو مقرب ہیں تیرے رب کے وہ تکبر نہیں کیا کرتے اس کی عبادت سے اور پاکی بیان کرتے رہتے ہیں اس کی اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔