یہ کتاب ہے نازل کی گئی ہے آپ کی طر ف پس چاہیے کہ نہ ہو آپ کے سینہ میں کچھ تنگی اس (کی تبلیغ) سے (یہ نازل کی گئی ہے ) تاکہ آپ ڈرائیں اس سے ، اور یہ نصیحت ہے مومنوں کے لیے۔
(اے لوگو!) پیروری کرو جو نازل کیا گیا ہے تمھاری طرف تمھارے رب کے پاس سے اور نہ پیروی کرو اللہ کو چھوڑ کر دوسرے دوستوں کی ۔ بہت ہی کم تم نصیحت قبول کرتے ہو۔
اور بےشک ہم نے پیدا کیا تمھیں پھر (خاص) شکل و صورت بنائی تمھاری پھر حکم دیا ہم نے فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو تو انھوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے نہ تھا وہ سجدہ کرنے والوں میں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کس چیز نے روکا تجھے اس سے کہ تو سجدہ کرے جب میں حکم دیا تجھے ابلیس نے کہا (کیونکہ) میں بہتر ہوں اس سے تونے پیدا کیا مجھے آگ سے اور تونے پیدا کیا اسے کیچڑ سے۔
پھر وسوسہ ڈالا ان کے (دلوں میں) شیطان نے تاکہ بےپردہ کردے ان کے لیے جو ڈھانپا گیا تھا ان کی شرم گاہوں سے اور (انھیں) کہا کہ نہیں منع کیا تمھیں تمھارے رب نے اس درخت سے مگر اس لیے کہ کہیں نہ بن جاؤ تم دونوں فرشتے یا کہیں نہ ہوجاؤ ہمیشہ زندہ رہنے والوں سے۔
پس شیطان نے نیچے گرادیا ان کو دھوکہ سے پھر جب دونوں نے چکھ لیا درخت سے تو ظاہر ہوگئیں ان پر ان کی شرم گاہیں اور چپٹانے لگ گئے اپنے (بدن) پر جنت کے پتے اور ندا دی انھیں ان کے رب نے کیا نہیں منع کیا تھا میں تمھیں اس درخس سے اور کیا نہ فرمایا تھا تمھیں کہ بلاشبہ شیطان تمھارا کھلا دشمن ہے ۔
دونوں نے عرض کی اے ہمارے پروردگار! ہم نے ظلم کیا اپنی جانوں پر اور اگر نہ بخشش فرمائے تو ہمارے لیے اور نہ رحم فرمائے ہم پر تو یقیناً ہم نقصان اٹھانے والوں سے ہوجائیں گے۔
اے اولاد آدم بیشک اتارا ہم نے تم پر لباس جو ڈھانپتا ہے تمھاری شرمگاہوں کو اور باعث زینت ہے۔ اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بہتر ہے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ وہ نصیحت قبول کریں۔
اے اولاد آدم ! نہ فتنہ میں مبتلا کردے تمھیں شیطان جیسے نکالا اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے (اور) اُتروادیا ان سے ان کا لباس تاکہ دکھلادے انھیں ان کے پردہ کی جگہیں ۔ بےشک دیکھتا ہے تمھیں وہ اور اس کا کنبہ جہاں سے تم نہیں دیکھتے ہو انھین بلاشبہ ہم نے بنادیا ہے شیطانوں کو دوست ان کا جو ایمان نہیں لاتے۔
اور جب کرتے کوئی بےحیائی کا کام ( تو) کہتے ہیں پایا ہم نے ایسا ہی کرتے ہوئے اپنے باپ دادا کو اور اللہ نے بھی ہمیں حکم دیا اس کا ۔ آپ فرمادیجیے بےشک اللہ حکم نہیں دیتا بےحیائیوں کا کیا ایسی بات لگاتے ہو اللہ پر جو تم نہیں جانتے۔
آپ فرمائیے حکم دیا ہے میرے ر نے عدل و انصاف کا اور سیدھا کرو اپنے چہرے (قبلہ کی طرف) ہر نماز کے وقت اور عبادت کرو اس کی اس حال میں کہ تم خالص کرنے والے ہو اس کے لیے عبادت کو ۔ جس طرح اس نے پہلے پیدا کیا تھا تمھین ویسے ہی تم لوٹوگے۔
ایک گروہ کو اللہ نے ہدایت دے دی اور ایک گروہ ہے کہ مقرر ہوگئی ان پر گمراہی انھوں نے بنالیا شیطانوں کو (اپنا ) دوست اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔
آپ فرمائیے کس نے حرام کیا اللہ کی زینت کو جو پیدا کی اس نے اپنے بندوں کے لیے اور (کس نے حرام کیے) لذیذ پاکیزہ کھانے آپ فرمائیے یہ چیزین ایمان والوں کیلیے ہیں اس دنیوی زندگی میں بھی (اور) صرف انھیں کے لیے ہیں قیامت کے روز یونہی ہم مفصل بیان کرتے ہیں آیتوں کو ان لوگوں کے لیے جو (حقیقت) کو جانتے ہیں۔
آپ فرمائیے بےشک حرام کردیا ہے میرے رب نے سب بےحیائیوں کو جو ظاہر ہیں ان سے اور جو پوشیدہ ہیں اور (حرام کردیا) گناہ کو اور سرکشی کو بغیر حق کے اور یہ کہ شریک ٹھیراؤ اللہ کے ساتھ جس کے لیے نہیں اتاری اللہ نے کوئی سند اور یہ کہ تم کہو اللہ پر ایسی بات جو تم نہیں جانتے ہو۔
اے اولاد آدم! اگر آئیں تمھارے پاس رسول تم میں سے جو بیان کریں تم پر میری آیتیں جو جس نے تقویٰ اختیار کیا اور اپنی اصلاح کرلی تو نہیں ہے کوئی خوف ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے بہتان باندھا اللہ پر جھوٹا یا جھٹلایا اس کی آیتوں کو۔ انھیں مل جائے گا ان کا حصہ جو ان کی قسمت میں لکھا ہے یہاں تک کہ جب آئیں گے ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے جو قبض کریں گے ان کی روحوں کو تو (ان سے ) کہیں گے کہاں ہیں وہ جن کی تم عبادت کیا کرتے تھے اللہ کے سوا کہیں گے وہ گم ہوگئے ہم سے اور گوای دیں گے اپنے نفسوں پر کہ وہ کافر تھے۔
اللہ تعالیٰ فرمائے گا داخل ہوجاؤ ان امتوں میں جو گزر چکی ہیں تم سے پہلے جنوں اور انسانوں سے (ان کے پاس) دوزخ میں (داخل ہوجاؤ) جب بھی داخل ہوگی کوئی اُمت تو وہ لعنت بھیجے گی دوسری امت پر یہاں تک کہ جب جمع ہوجائیں گے اس مین سب امیتیں تو کہے گی آکری امت پہلی امتوں کے متعلق اے ہمارے رب! انھوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا پس دے ان کو دگنا عذاب آگ سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہر ایک کے لیے دگنا عذاب ہے لیکن تم نہیں جانتے۔
بے شک جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تکبر کیا ان سے نہ کھولے جائیں گے ان کے لیے آسمان کے دروازے اور نہ داخل ہوں گے جنت میں جب تک نہ داخل ہو اونٹ سوئی کے ناکہ میں اور اسی طرھ ہم بدلہ دیتے ہیں جرم کرنے والوں کو۔
اور جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے (ہمارا قانون یہ ہے کہ) ہم تکلیف نہیں دیتے کسی کو مگر جتنی اس کی طاقت ہے۔ وہ جنتی ہیں وہ اس مین ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
اور ہم نکال لیں گے جو کچھ ان کے سینوں میں کینہ ہے رواں ہوں گی ان کے نیچے سے نہریں اور کہیں گے ساری تعریفیں اللہ کیلیے ہیں جس نے راہ دکھائی ہمیں اس بہشت کی اور ہم ہدایت یافتہ نہیں ہوسکتے تھے اگر نہ ہدایت دیتا ہمیں اللہ تعالیٰ ۔ بےشک آئے ہمارے رب کے رسول حق کے ساتھ اور ان (خوش نصیبوں) کو آواز دی جائے گی کہ یہی وہ جنت ہے، وارث بنائے گئے ہو تم جس کے بوجہ ان عملوں کے جو تم کیا کرتے تھے۔
اور آواز دیں گے جنتی دوزخیوں کو کہ بےشک ہم نے پالیا جو وعدہ فرمایا تھا ہمارے ساتھ ہمارے رب نے سچا۔ تو کیا تم نے بھی پایا جو وعدہ کیا تھا تمھارے رب نے سچا وہ کہیں گے ہاں۔ تو پھر اعلان کرے گا ایک اعلان کرنے والا ان کے درمیان یہ کہ لعنت ہو اللہ کی ظالموں پر۔
اور ان دونوں (جنت و دوزخ ) کے درمیان پردہ ہے۔ اور اعراف پر کچھ مرد ہوں گے جو پہچانتے ہوں گے سب کو ان کی علامت سے اور وہ آوازیں دیں گے جنتیوں کو کہ سلامتی ہو تم پر (اور ابھی) جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے اور وہ جنت میں داخل ہونے کے خواہش مند ہوں گے۔
اور پکاریں گے اعراف والے ان لوگوں کو جنھیں وہ پہچانتے ہوں گے ان کی علامتوں سے (انھیں) کہیں گے نہ فائدہ پہنچایا تمھیں تمھارے جھتے نے اور (نہ اس سازو سامان نے) جس کی وجہ سے تم غرور کیا کرتے تھے۔
(اے سرکشو!) کیا یہ (جنتی) وہی (نہیں) ہیں جن کے متعلق تم قسمیں اٹھا یا کرتے تھے کہ نہیں عطا کرے گا انھیں اللہ اپنی رحمت سے (دیکھو انھیں تو حکم مل گیا ہے کہ) داخل ہوجاؤ جنت میں۔ نہیں کوئی خوف تم پر اور نہ تم غمگین ہوگے۔
اور آواز دوزخی جنتیوں کو کہ انڈیلو ہم پر کچھ پانی یا جو کچھ یا ہے تمھیں اللہ تعالیٰ نے ۔ جنت کہیں گے کہ اللہ نے حرام کردی ہیں یہ دونوں چیزیں کافروں پر۔
جنھوں نے بنالیا تھا اپنے دین کو کھیل اور تماشہ اور فریب میں مبتلا کردیا تھا انھیں دنیا کی زندگی نے ۔ سو آج ہم فراموش کردیں گے انھیں جیسے بھلادیا تھا انھوں نے اس دن کی ملاقات کو اور جس طرح وہ ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے۔
کافر کس چیز کے منتظر ہیں ؟ یہ کہ قرآن کی دھمکی کا انجان کیا ہوتا ہے۔ جس روز ظاہر ہوگا اس کا انجام تو کہین گے جو بھلائے ہوئے تھے اس سے پہلے کہ بےشک لائے تھے ہمارے رب کے رسول حق (پیغام) تو کیا (آج) ہمارے کوئی سفارشی ہیں تو وہ سفارش کریں ہمارے لیے یا ہمین واپس بھیج دیا جائے تاکہ ہم عمل کریں اس کے برعکس جو ہم کیا کرتے تھے بےانھوں نے نقصان پہنچایا اپنے آپ کو اور گم ہوگیا ان سے جو ہو بہتان باندھا کرتے تھے۔
بلاشبہ تمہارا رب اللہ ہے جس نے ٦٧ ف پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پھر متمکن ہوا عرش پر ٦٨ ف (جیسے اسے زیبا ہے) ڈھانکتا ہے رات سے دن کو ٦٩ ف درآں حالیکہ طلب کرتا ہے دن رات کو تیزی سے اور (پیدا فرمایا) ورج اور چاند اور ستاروں کو وہ سب پابند ہیں اس کے حکم کے سن لو! اسی کے لیے خاص ہے، پیدا کرنا اور حکم دینا ٧٠ فO بڑی برکت والا ہے اللہ تعالیٰ جو مرتبہ کمال تک پہنچانے والا ہے
اور وہی خدا ہے جو بھیجتا ہے ہواؤں کو خوشخبری سناتے ہوئے اپنی رحمت (بارش) سے پہلے۔ یہاں تک کہ جب وہ اٹھا لاتی ہیں بھاری بادل تو ہم لے جاتے ہیں اسے کسی ویران شہر کی طرف پھر ہم اتارتے ہیں اس سے پانی پھر پیدا کرتے ہیں اس کے ذریعہ ہر قسم کے پھل اسی طرح ہم نکالیں گے مردوں کو تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔
اور جو سر زمین عمدہ زرخیز ہے (کثرت سے) نکلتی ہے اس کی پیداوار اپنے رب کے حکم سے اور جو خراب ہے نہیں نکلتی اس سے (پیداوار) مگر قلیل گھٹیا اسی طرح ہم مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں اپنی نشانیاں اس قوم کے لیے جو شکر گزار ہے۔
بیشک ہم نے بھیجا نوح ( علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف تو انھوں نے کہا اے میری قوم! عبادت کرو اللہ کی نہیں ہے تمھار ا کوئی معبود اللہ کے سوا بےشک میں ڈرتا ہوں کہ تم پر بڑے دن کا عذاب نہ آجائے۔
کیا تم تعجب کرتے ہو اس پر کہ آئی تمھارے پاس نصیحت تمھارے رب کی طرف سے ایک آدمی کے ذریعہ جو تم میں سے ہے تاکہ وہ ڈرائے تمھیں (غضبِ الٰہی سے) اور تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
پھر بھی انھوں جھٹلایانوح ( علیہ السلام) کو تو ہم نے نجات دی ان کو اور جو آپ کے ساتھ کشتی میں تھے اور ہم نے غرق کردیا ان (بد بختوں) کو جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو بےشک وہ لوگ دل کے اندھے تھے۔
کیا تم تعجب کرتے ہو کہ آئی تمھارے پاس نصیحت تمھارے رب کی طرف سے ایک آدمی کے ذریعہ جو تم میں سے ہے تاکہ وہ ڈرائے تمھیں (عذابِ الٰہی سے ) اور یاد کرو جب اس نے بنادیا تمھیں جانشین قوم نوح ( علیہ السلام) کے بعد اور بڑھادیا تمھیں جسمانی لحاظ سے قدو قامت میں تو یاد کرو اللہ کی نعمتوں کو شاید تم کامیاب ہوجاؤ ۔
وہ کہنے لگے (اے ہود!) کیا تم اس لیے ٓئے ہو ہمارے پاس کہ ہم عبادت کریں ایک اللہ کی اور چھوڑ دیں ان (معبودوں) کو جن کی عبادت کیا کرتے تھے ہمارے باپ دادا سو لے آؤ ہم پر وہ (عذاب) جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو اگر تم سچے ہو۔
ہود (علیہ السلام) نے کہا واجب ہوگیا تم پر تمھارے رب کی طرف سے عذاب اور غضب کیا تم جھگڑا کرتے ہو مجھ سے ان ناموں کے بارے میں جو رکھ لیے ہیں تم نے اور تمھارے باپ دادا نے حالانکہ نہیں اتاری اللہ نے ان کے لیے کوئی سند سو تم بھی انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والا ہوں۔
پھر ہم نے نجات دے دی ہود کو اور جو ان کے ہمرا ہ تھے اپنی خاص رحمت سے اور ہم نے کاٹ کر رکھ دی جڑ ان لوگوں کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور نہ تھے وہ ایمان لانے والے۔
اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح (علیہ السلام ) کو بھیجا آپ نے کہا اے میری قوم! عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی نہیں ہے تمھارا کوئی معبود اس کے سوا بےشک آچکی ہے تمھارے پاس روشن دلیل تمھارے رب کی طرف سے یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمھارے لیے نشانی ہے پس چھوڑدو اس کو کھاتی پھرے اللہ کی زمین میں اور نہ ہاتھ لگاؤ اسے برائی سے ورنہ پکڑے گا تمھین عذاب دردناک ۔
اور یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے بنایا تمھیں جانشین عاد کے بعد اور ٹھکانا دیا تمھین زمین میں تم بناتے ہو اس کے میدانی علاقوں میں عالیشان محل اور تراشتے ہو پہاڑوں میں مکانات سو یاد کرو اللہ کی نعمتیوں کو اور نہ پھرو زمین میں فساد برپا کرتے ہوئے۔
کہا ان سرداروں نے جو تکبر کیا کرتے تھے ان کی قوم سے ان لوگوں کو جنھیں وہ کمزور و ذلیل سمجھتے تھے جو ان میں سے ایمان لائے تھے کیا تم یقین رکھتے ہو کہ صالح رسول ہے اپنے رب کی طرف سے ۔ انھوں نے کہا بےشک ہم اس پر جسے دے کر انھیں بھیجا گیا ہے ایمان لانے والے ہیں۔
پس انھوں نے کونچیں کاٹ ڈالیں اس اونٹنی کی اور انھوں نے سرکشی کی اپنے رب کے حکم سے اور کہا اے صالح! لے آؤ ہم پر اس (عذاب) کو جس کا تم نے ہم سے وعدہ کیا تھا اگر تم اللہ کے رسولوں سے ہو ۔
تو (صالح نے) منہ پھر لیا ان کی طرف سے اور (بصد حسرت) کہا اے میری قوم! بےشک پہنچادیا میں نے تم کو پیغام اپنے رب کا اور میں نے خیر خواہی کی تماھاری لیکن تم تو پسند ہی نہیں کرتے اپنے خیر خواہوں کو۔
اور (ہم نے بھیجا) مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب ( علیہ السلام) کو انھوں نے کہا اے میری قوم! عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی نہیں ہے تمھار ا کوئی خدا اس کے بغیر بےشک آگئی تمھارے پاس روشن دلیل تمھارے رب کی طرف سے تو پورا کرو ناپ اور تول کو اور نہ گھٹا کر دو لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ فساد برپا کرو زمین میں اس کی اصلاح کے بعد یہ بہتر ہے تمھارے لیے اگر تم ایمان لانے والے ہو۔
اور مت بیٹھا کرو راستوں پر کہ ڈرا رہے ہو تم (راہ گیروں کو ) اور روک رہے ہو تم اللہ کی راہ سے جو ایمان لایا اللہ کے ساتھ اور تالش کرتے ہو اس میں عیب ۔ اور یاد کرو (وہ وقت) جب تم تھوڑے تھے پھر اس نے تمھیں بڑھادیا اور دیکھو! کیا ہوا انجام فساد برپا کرنے والو کا۔
اور اگر ایک گروہ تم میں سے ایمان لاچکا ہے اس کے ساتھ جو دے کر میں بھیجا گیا ہوں اور ایک گروہ ایمان نہ لایا تو (ذرا) صبر کرو یہا تک کہ فیصلہ کردے اللہ ہمارے درمیان اور وہ سب سے بہت فیصلہ کرنے والا ہے۔
کہنے لگے وہ سردار جو غرور و تکبر کیا کرتے تھے ان (شعیب ( علیہ السلام) ) کی قوم سے یا تو ہم نکال کررہیں گے تمھیں اے شعیب ( علیہ السلام) اور جو ایمان لائے تمھارے ساتھ اپنی بستی سے یا تمھیں لوٹ آنا ہوگا ہماری ملت میں ۔ شعیب نے کہا اگر ہم اس (ارتداد) کو ناپسند بھی کرتے ہوں
پھر تو ہم نے ضرور بہتا ن باندھا اللہ تعالیٰ پر جھوٹا اگر ہم لوٹ آئیں گے تمھارے دین میں اس کے بعد کہ جب نجات دے دی ہمیں اللہ نے اس سے اور نہیں کوئی وجہ ہمارے لیے کہ ہم لوٹ آئیں اس میں مگر یہ کہ چاہے اللہ تعالیٰ جو پروردگار ہے ہمارا گھیرے ہوئے ہے ہمارا رب ہر چیز کو اپنے علم سے صرف اللہ پر ہم نے بھروسہ کیا ہے اے ہمارے رب فیصلہ فرمادے ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ اور تو سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔
جن (بد بختوں) نے جھٹلایا شعیب ( علیہ السلام) کو (وہ یوں نابود کردیے گئے) گویا کبھی بستے ہی نہ تھے ان مکانوں میں جنھوں نے جھٹلایا شعیب ( علیہ السلام) کو ہوگئے وہی نقصان اٹھانے والے ۔
تو منہ پھیر لیا ان کی طرف سے اور کہا اے میری قوم! بےشک میں نے پہنچا دئیے تھے تمھیں پیغامات اپنے رب کے اور میں نے نصیحت کی تھی تمھیں ۔ تو (اب) کیونکر غم کروں میں کافر قوم ( کے ہولناک انجام) پر۔
اور نہ بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی مگر یہ کہ (جب نبی جھٹلایا گیا ) تو ہم نے مبتلا کردیا وہاں کے باشندوں کو سختی اور تکلیف میں تاکہ وہ گڑگڑانے لگیں۔
پھر ہم نے بدل دی تکلیف کے بدلے راحت حتی کہ پھلے پھولے اور کہنے لگے بےشک (یونہی) پہنچا کرتی تھی ہمارے باپ دادا کو (کبھی) تکلیف اور (کبھی) راحت تو ہم نے پکڑ لیا انھیں اچانک اور اس کا انھیں خواب و خیال بھی نہ تھا۔
اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ضرور ہم کھول دیتے ان پر برکتیں آسمان کی اور زمین کی لیکن انھوں نے جھٹلایا (ہمارے رسولوں کو ) تو پکڑ لیا ہم نے انھیں بوجہ ان کرتوتوں کے جو وہ کیا کرتے تھے۔
کیا یہ (حقیقت) واضح نہ ہوئی ان لوگوں پر جو وارث بنے زمین کے اس کے اصلی مالکوں (کی تباہی) کے بعد کہ اگر ہم چاہیں تو سزا دیں انھیں ان کے گناہوں کی وجہ سے اور مہر لگادیں ان کے دلوں پر تاکہ وہ کچھ سن ہی نہ سکیں۔
یہ بستیاں ہیں ہم بیان کرتے ہیں آپ سے ان کی کچھ خبریں ۔ اور بےشک آئے ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ۔ اور نہ ہوا یہ کہ ایمان لاتے اس پر جس کو جھٹلا چکے تھے۔ اس سے پہلے اسی طرح مہر لگا دیتا ہے اللہ تعالیٰ کافروں کے دلوں پر ۔
پھر ہم نے بھیجا ان کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف انھوں نے انکار کردیا ان کا۔ سو دیکھو کیسا انجام ہوا فساد برپا کرنے والوں کا۔
فرعون نے کہا تم تو ایمان لائے ہوئے تھے اس پر اس سے پہلے کہ میں (اس کے مقابلہ کی) تمھیں اجازت دیتا بےشک یہ ایک فریب ہے جو تم نے (مل کر) کہا ہے شہر میں تاکہ تم نکال دو یہاں سے اس کے اصلی باشندوں کو ابھی (اس کا انجام) تمھیں معلوم ہوجائے گا۔
اور تو کیا ناپسند کرتا ہے ہم سے بجز اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ آئیں ہمارے پاس اے ہمارے رب! انڈیل دے ہم پر صبر اور وفات دے ہمیں اس حال میں کہ ہم مسلمان ہوں۔
اور کہا فرعون کے سرداروں نے (اے فرعون!) کیا تو (یونہی) چھوڑے رکھے گا موسیٰ اور اس کی قوم کو تاکہ فساد برپا کرتے رہیں اس ملک میں اور چھوڑے رہے موسیٰ تجھے اور تیرے خداؤں کو اس نے (برا فروختہ ہوکر ) کہا (ہر گز نہیں بلکہ) ہم تہہ تیغ کردیں گے ان کے لڑکوں کو اور زندہ چھوڑدیں گے ان کی عورتوں کو ۔ اور ہم بےشک ان پر غالب ہیں۔
فرمایا موسیٰ نے اپنی قوم کو (اس آزمائش میں) مدد طلب کرو اللہ سے اور صبرو استقامت سے کام لو۔ بلاشبہ زمین اللہ ہی کی ہے وارث بناتا ہے اس کا جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں سے۔ اور اچھا انجام پرہیزگاروں کے لیے (مخصوص) ہے۔
قوم موسیٰ نے کہا ہم تو ستائے گئے اس سے پہلے بھی کہ آپ آئے ہمارے پاس اور اس کے بعد بھی کہ ٓپ آئے ہمارے پاس آپ نے کہا عنقریب تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور (اُن کا ) جانشین بنادے گا تمھیں زمین میں پھر وہ دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔
تو جب آتا ان پر خوشحالی کا دور تو کہتے ہم مستحق ہیں اس کے اور اگر پہنچتی انھیں کوئی تکلیف (تو) بدفالی پکڑتے موسیٰ ( علیہ السلام) سے اور آپ کے ساتھیوں سے سن لو! ان کی بدفالی تو (مکافات عمل کے قانون کے مطابق) اللہ کے پاس سے ہے لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو ) نہیں جانتے۔
اور جب آجاتا ان کوئی عذاب تو کہتے اے موسیٰ دعا کر ہمارے لیے اپنے پروردگار سے اس عہد کے سبب جو اس کا تماھرے ساتھ ہے اگر تم ہٹادو گے ہم سے یہ عذاب تو ہم ضرور ایمان لائیں گے تم پر اور ضرور روانہ کردیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔
اور ہم نے وارث بنادیا اس قوم کو جسے ذلیل و حقیر سمجھا جاتا تھا (انھیں وارث بنایا) اس زمین کے شرق و غرب کا جس میں ہم نے برکت رکھ دی تھی اور پورا ہوگیا آپ کے پروردگار کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل کے متعلق بوجہ اس کے انھوں نے صبر کیا تھا اور ہم نے برباد کردیا جو کیا کرتا تھا فرعون اور اس کی قوم اور (برباد کردیے) جو بلند مکان وہ تعمیر کیا کرتے تھے۔
اور ہم نے پار اتار ا نبی اسرائیل کو سمندر سے تو گزرے وہ ایک ایسی قوم پر جو مگن بیٹھے تھے اپنے بتوں کی عبادت میں بنی اسرئیل نے کہا اے موسیٰ ! ہمارے لیے بھی ایک (ایسا ) خدا جیسے ان کے خدا ہیں موسیٰ نے فرمایا یقیناً تم جاہل (اور بےسمجھ) لوگ ہو۔
اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے نجات دی تمھیں فرعونیوں سے جو چکھاتے تھے تمھیں سخت عذاب مار ڈالتے تھے تمھارے فرزندوں کو اور زندہ چھوڑتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں تمھارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔
اور ہم نے وعدہ کیا موسیٰ سے تیس رات کا اور مکمل کرلیا اسے دس مزید راتوں سے سو پوری ہوگئی اس کے رب کی میعاد چالیس راتیں اور (طور پر جاتے وقت) کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہ میرا نائب رہنا میری قوم میں اور اصلاح کرتے رہنا اور مت چلنا مفسدوں کے راستہ پر۔
اور جب آئے موسیٰ ہمارے مقرر کیے وقت پر اور گفتگو کی ان سے ان کے رب نے (تو اس وقت) عرض کی اے میرے رب! مجھے دیکھنے کی قوت دے تاکہ میں تیری طرف دیکھ سکوں اللہ نے فرمایا تم ہرگز نہیں دیکھ سکتے مجھے البتہ دیکھو اس پہاڑ کی طرف سو اگر یہ ٹھیرا رہا اپنی جگہ پر تم بھی دیکھ سکو گے مجھے پھر جب تجلی ڈالی ان کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اسے پاش پاش اور گر پڑے موسیٰ بےہوش ہو کر پھر جب آپ کو ہوش آیا تو عرض کی پاک ہے تو (ہر نقص سے) میں توبہ کرتا ہوں تیری جناب میں اور میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ ! میں نے سرفراز کیا ہے تجھے تمام لوگوں پر اپنی پیغامبری سے اور اپنے کلام سے اور لے لو جو میں دیا ہے تمھیں اور ہوجاؤ شکر گزار بندوں سے۔
اور ہم نے لکھ دی موسیٰ کے لیے تختیوں میں ہر چیز نصیحت پذیری کے لیے اور (لکھ دی) تفصیل ہر چیز کی پھر (فرمایا) پکڑ لو اسے مضبوطی سے اور حکم دو اپنی قوم کو پکڑلیں اس کی اچھی باتیں عنقریب میں دکھاؤں گا تمھیں نافرمانوں کا (برباد شدہ) گھر۔
میں پھیر دوں گا اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کی توجہ کو جو غرور کرتے پھرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں تمام نشانیوں کو (تو بھی) نہ ایمان لائین گے ان پر۔ اور دیکھ بھی لیں راہ رشد و ہدایت تب بھی نہ بنائیں اسے (اپنا) راستہ۔ اور اگر دیکھیں گمراہی کے راستہ کو ( تو جھٹ) بنالیں اسے (اپنی) راہ یہ (ساری غلط روی) اس لیے ہے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور (ہمیشہ) رہے ان سے غفلت برتنے والے۔
اور جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو ضائع ہوگئے ان کے سارے اعمال کیا انھیں جزا دی جائے گی سوائے اس کے جو وہ کیا کرتے تھے؟ (ہر گز نہیں)۔
اور بنا لیا قوم موسیٰ نے ان کے (طور پر جانے کے بعد) اپنے زیوارت سے ایک بچھڑا جو محض ڈھانچہ تھا اس سے گائے کی آواز آتی تھی۔ کیا نہ دیکھا انھوں نے کہ وہ نہ بات کرسکتا ہے اسے اور نہ انھیں ہدایت کی راہ بتاسکتا ہے انھوں نے (خدا ) بنالیا اسے اور وہ (بڑے ) ظالم تھے۔
اور جب وہ سخت پشیمان ہوئے اور انھیں نظر آگیا کہ وہ (راہ راست سے ) بھٹک گئے (تو) کہنے لگے اگر نہ رحم فرماتا ہم پر ہمارا رب اور نہ بخش دیتا ہمیں تو ہم ضرور ہوجاتے نقصان اٹھانے والوں سے ۔
اور جب واپس آئے موسیٰ اپنی قوم کی طرف خشمناک (اور ) غمگین ہو کر ( تو) بولے (اے قوم!) بہت بری جانشینی کی ہے تم نے میری میرے بعد کیا تم نے جلد بازی کی اپنے رب کے فرمان سے اور (غصہ سے) پھینک دی تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا (اور ) کھنیچا اسے اپنی طرف ہارون نے کہا انے میری ماں جائے! اس قوم نے کمزور و بےبس بنادیا مجھے اور قریب تھا کہ قتل کردیں مجھے سو نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو اور نہ شمار کرو مجھے اس ظالم قوم کے ساتھ۔
بے شک جنھوں نے بنالیا بچھڑے کو معبود جلدی ہی پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سے اور رسوائی دنیا کی زندگی میں اور اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں بہتان باندھنے والو کو۔
اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم سے ستر آدمی ہمارے وعدہ ملاقات کے لیے b پھر جب پکڑ لیا انھیں زلزلہ (کے جھٹکوں) نے تو موسیٰ نے کہا اے میرے رب! اگر تو چاہتا تو ہلاک کردیتا انھیں اس سے پہلے اور مجھے بھی۔ کیا تو ہلاک کرتا ہے ہمیں بوجہ اس (غلطی) کے جو کی (چند) احمقوں نے ہم سے نہیں ہے یہ مگر تیری آزمائش تو گمراہ کرتا ہے اس سے جس کو چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار فرما ہے بخش دے ہم کو اور رحم فرما ہم پر اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔
اور لکھ دے ہامرے لیے اس دنیا میں خیر و برکت اور آخرت میں بھی بےشک ہم نے رجوع کیا ہے تیری طرف اللہ نے فرمایا میرا عذاب پہنچا تا ہوں اسے جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت کشادہ ہے ہر چیز پر سو میں لکھوں گا اس کو ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور ادا کرتے ہیں زکوٰۃ اور وہ جو ہمارے نشانیوں پر ایمان لاتے ہین ۔
(یہ وہ ہیں) جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبی امی ہے جس (کے ذکر) کو وہ پاتے ہیں لکھا ہوا اپنے پاس تورات اور انجیل میں وہ نبی حکم دیتا ہے انھیں نیکی کا اور روکتا ہے انھیں برائی سے اور حلال کرتا ہے ان کے لیے پاک چیزیں اور حرام کرتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کا بوجھ اور (کاٹتا ہے) وہ زنجیریں جو جکڑے ہوئے تھیں انھیں پس جو لوگ ایمان لائے اس (نبی امی) پر اور تعظیم کی آپ کی اور امداد کی آپ کی اور پیروی کی اس نور کی جو اتارا گیا آپ کے ساتھ وہی (خوش نصیب) کامیاب و کامران ہیں۔
آپ فرمائیے اے لوگو! بےشک میں اللہ کا رسول ہوں تم سب کی طرف وہ اللہ جس کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی نہیں کوئی معبود سوائے اس کے وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر جو نبی امی ہے جو خود ایمان لایا ہے اللہ پر اور اس کے کلام پر اور تم پیروی کرو اس کی تاکہ تم ہدایت یافتہ ہوجاؤ۔
اور ہم نے بانٹ دیا انھیں بارہ قبیلوں میں جو الگ الگ قومیں ہیں۔ اور ہم نے وحی بھیجی موسیٰ کی طرف جب پانی طلب کیا آپ سے آپ کی قوم نے (ہم نے وحی کی ) کہ مارو اپنا عصا سے اس پتھر کو تو پھوٹ نکلے اس سے بارہ چشمے جان لیا ہر ایک گروہ نے اپنا پنا گھاٹ اور ہم نے سایہ کردیا ان پر بادل کا اور ہم نے اتارا ان پر من و سلویٰ (اور فرمایا) کھاؤ ان پاک چیزوں کو جو ہم نے دی ہیں تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر بلکہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہتے تھے۔
اور جب کہا گیا کہ انھیں آباد ہوجاؤ اس شہر میں اور کھاؤاس سے جہاں سے چاہو اور کہو (اے کریم) بخش دے ہمیں اور داخل ہو دروازہ سے جکھتے ہوئے ہم بخش دیں گے تمھاری خطائیں (ا ور) زیادہ دیں گے احسان کرنے والو کو۔
اور پوچھو ان سے حال اس بستی کا جو آباد تھی ساحل سمندر پر جب کہ وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتہ (کے حکم کے بارے میں) جب آیا کرتیں ان کے پاس ان کی مچھلیاں ان کے ہفتہ کے دن پانی پر تیرتی ہوئیں اور جو دن ہفتہ کا نہ ہوتا تو وہ نہ آتیں ان کے پاس ( اس طرح بےدھڑک ) ہم نے آزمائش میں ڈالا انھیں بہ سبب اس کہ وہ نافرمانی کیا کرتے تھے۔
اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کہ تم کیوں نصیحت کرتے ہو اس قوم کو اللہ جنھیں ہلاک کرنے والا ہے یا انھیں عذاب دینے والا ہے سخت عذاب؟ انھوں نے کہا تاکہ معذرت پیش کرسکیں تمھارے رب کے دربار میں (کہ ہم نے اپنا فرض ادا کردیا ) اور شاید وہ ڈرنے لگیں۔
پھر جب انھوں نے فراموش کردی جو انھیں نصیحت کی گئی تھی (تو ) ہم نے نجات دے دی انھیں جو روکتے تھے برائی سے اور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا برے عذاب سے بوجہ اس کے کہ وہ نافرمانی کیا کرتے تھے۔
اور یاد کرو جب اعلان کردیا آپ کے رب نے کہ ضرور بھیجتا رہے گا ان پر روز قیامت تک ایسے (جابر) جو چکھائیں گے انھیں برا عذاب بےشک آپ کا رب جلدی عذاب دینے والا ہے اور بےشک وہ غفور رحیم (بھی) ہے۔
اور ہم نے بانٹ دیا انھیں زمین میں کئی گروہوں میں ان میں سے کچھ نیک ہیں اور کچھ اور طرح ہیں اور ہم نے آزمایا انھیں تعمتوں میں اور تکلیفوں کے ساتھ تاکہ وہ (اللہ تعالیٰ) کی طرف رجوع کریں۔
(پھر جانشین بنے ان کے بعد وہ ناخلف جو وارث ہوئے کتاب کے وہ لیتے ہیں مال اس دنیا کا ور بایں ہمہ) کہتے ہیں کہ ضرور بخش دیا جائے گا ہمیں اور اگر آجائے ان کے پاس اور مال اس جیسا تو لے لیں اسے بھی کیا نہیں لیا گیا تھا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں کہ نہ منسوب کریں اللہ کی طرف کوئی بات سوائے حق کے اور پڑھ لیا انھوں نے جو کتاب میں تھا اور دار آخرت بہتر ہے ان کے لیے جو متقی ہیں تو کیا تم (اِتنا ) بھی نہیں سمجھتے۔
اور جب ہم نے اٹھایا پہاڑ ان کے اوپر اس طرح گویا وہ سائبان ہے اور خیال کرنے لگے کہ وہ ضرور گر پڑے گا ان پر (ہم نے کہا) پکڑ لو جو ہم نے دیا ہے تمھیں (پوری) قوت سے اور یاد رکھو جو اس میں ہے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔
اور (اے محبوب) یاد کرو جب نکالا آپ کے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد کو اور گواہ بنا دیا خود ان کو ان کے نفسوں پر (اور پوچھا) کیا میں نہیں ہو تمھارا رب؟ سب نے کہا بےشک تو ہی ہمارا رب ہے ہم نے گواہی دی (یہ اس لی ہوا ) کہ کہیں تم یہ نہ کہو روز حشر کہ ہم تو اس سے بےخبر تھے۔
یا یہ نہ کہو کہ شرک تو صرف ہمارے باپ دادا نے کیا تھا (ہم سے ) پہلے اور ہم تو تھے ان کی اولاد ان کے بعد تو کیا تو ہمیں ہلاک کرتا ہے اس شرک کی وجہ سے جو کیا تھا باطل پرستوں نے ۔
اور اگر ہم چاہتے تو بلند کردیتے اس کا رتبہ ان آیتوں کے باعث لیکن وہ تو جھک گیا پستی کی طرف اور پیروی کرنے لگا اپنی خواہش کی اس اس کی مثال کتے جیسی ہے اگر حملہ کرے اس پر تب بھی ہانپے اور اگر تو اسے چھوڑدے تب بھی ہانپے یہ حال ہے ان لوگوں کا جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو آپ سنائیں (انھیں) یہ قصہ شاید وہ غور و فکر کرنے لگیں۔
اور بےشک ہم نے پیدا کیے جہنم کے لیے بہت سے جن اور انسان ان کے دل (تو) ہیں لیکن وہ سمجھتے نہیں ان سے اور ان کی آنکھیں تو ہیں لیکن وہ دیکھتے نہیں ان سے اور ان کے کان تو ہیں لیکن وہ سنتے نہیں ان سے وہ حیوانوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ یہی لوگ تو غافل (وبے خبر) ہیں۔
اور اللہ ہی کے لیے ہیں نام اچھے اچھے سو پکارو اسے انھیں ناموں سے اور چھوڑ دو انھیں جو کجروی کرتے ہیں اس کے ناموں میں انھیں سزا دی جائے گی جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔
کیا انھوں نے غور سے نہیں دیکھا آسمانوں اور زمین کی وسیع مملکت مین اور (اس میں) جو چیز پیدا فرمائی اللہ تعالیٰ نے اور اس میں کہ شاید نزدیک آگئی ہو ان کی مقررہ معیاد تو کس بات پر وہ اس (قرآن) کے بعد ایمان لے لائیں گے۔
وہ دریافت کرتے ہیں آپ سے قیامت کے متعلق کہ کب ہوگا اس کا وقوع آپ کہئیے کہ اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے نہیں ظاہر کرے گا اسے اپنے وقت پر مگر وہی یہ (حادثہ) بہت گراں ہے آسمانوں اور زمین میں نہ آئے گی تم پر مگر اچانک وہ پوچھتے ہیں آپ سے گویا آپ خوب تحقیق کرچکے ہیں اس کے متعلق آپ فرمائیے اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔
آپ کہیے نہیں مالک ہوں میں اپنے آپ کے نفع کا اور نہ ضرر کا مگر جو چاہے اللہ تعالیٰ اور اگر میں (تعلیم الٰہی کے بغیر) جان لیتا غیب کو تو خود ہی بہت جمع کرلیتا خیر سے اور نہ پہنچتی مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوں میں مگر ڈرانے والا (نافرمانوں کو ) اور خوشخبری سنانے والا اس قوم کو جو ایمان لائی ہے۔
وہ (خدا ہے) جس نے پیدا فرمایا تمھیں ایک نفس سے اور بنایا اس سے اس کا جوڑا تاکہ اطمینان حاصل کرے اس (جوڑے) سے پھر جب مرد ڈھانپ لیتا ہے عورت کو تو حاملہ ہوجاتی ہے ہلکے سے حمل سے پھر چلتی پھرتی رہتی ہے اس کے ساتھ ۔ پھر جب وہ بوجھل ہوجاتی ہے تو دعا مانگتے ہیں (میاں بیوی) اللہ سے جو ان کا رب ہے کہ اگر تو عنایت فرمائے ہمیں تندرست لڑکا تو ہم ضرور ہوجائیں گے (تیرے) شکر گزار بندوں سے۔
پس جب اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے انھیں تندرست لڑکا تو دونوں بناتے ہیں اللہ کے ساتھ شریک اس میں جو اس نے انھیں دیا ۔ تو بلند و برتر ہے اللہ ان سے جنھیں وہ شریک بناتے ہیں۔
کیا ان کے پاؤں ہیں چلتے ہیں وہ جن کے ساتھ یا کیا ان کے ہاتھ ہیں پکڑتے ہیں وہ جن کے ساتھ یا کیا ان کی آنکھیں ہیں دیکھتے ہیں جن سے یا کیا ان کے کان ہیں وہ سنتے ہیں جن کے ساتھ آپ کہیئے پکارو اپنے شریکوں کو پھر سازش کرو میرے خلاف اور مہلت دو مجھے۔
بے شک وہ لوگ جو تقویٰ اختیار کیے ہیں جب چھوتا ہے انھیں کوئی خیال شیطان کی طرف سے تو وہ (خدا کو ) یاد کرنے لگتے ہیں تو فوراً ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں ۔
اور ( اے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) جب آپ نہیں لاتے ان کے پاس کوئی آیت تو کہتے ہیں کیوں نہ بنا لیا تم نے خود اسے فرمائیے میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو وحی کی جاتی ہے میری طرف میرے رب سے۔ یہ روشن دلیلیں ہیں تمھارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہیں اس قوم کے لیے جو ایمان لاتی ہے۔
اور یاد کرو اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی کرتے ہوئے اور ڈرتے ڈرتے اور زبان سے بھی چلائے بغیر (یوں یاد کرو) صبح کے وقت بھی اور شام کے وقت بھی اور نہ ہوجاؤ (یادِ الٰہی سے ) غافل رہنے والوں سے۔