دردیافت کتے ہیں آپ سے غنیمتوں کے متعلق آپ فرمائیے غنیمتوں کے مالک اللہ اور رسول ہیں۔ پس ڈرتے رہو اللہ تعالیٰ سے اور اصلاح کرو اپنے باہمی معاملات کی اور اطاعت کرو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اگر تم ایماندار ہو۔
صرف وہی سچے ایماندار ہیں کہ جب ذکر کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا تو کانپ اٹھتے ہیں ان کے دل اور جب پڑھی جاتی ہیں ان پر اللہ کی آیتیں تو یہ بڑھا دیتی ہیں ان کے ایمان کو اور صرف اپنے رب پروہ بھروسہ رکھتے ہیں۔
اور یاد کرو جب وعدہ فرمایا تم سے اللہ نے ایک کا ان دوگروہوں سے کہ وہ تمھارے لیے ہے اور تم پسند کرتے تھے کہ نہتہ گروہ تمھارے حصہ میں آئے اور اللہ چاہتا تھا کہ حق کو حق کردے اپنے ارشادات سے اور کاٹ دے کافروں کی جڑ۔
یاد کرو جب تم فریاد کررہے تھے اپنے رب سے تو سن لی اس نے تمھاری فریاد (اور فرمایا) یقیناً میں مدد کرنے والا ہوں تمھاری ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ جو پے در پے آنیوالے ہیں۔
اور نہیں بنایا فرشتوں کے نزول کو اللہ نے مگر ایک خوشخبری اور تاکہ مطمئن ہوجائیں اس سے تمھارے دل اور نہیں ہے مد د مگر اللہ کی طرف سے، بیشک اللہ بہت غالب ہے حکمت والا ہے۔
یاد کرو جب اللہ نے ڈھانپ دیا تمھین غنودگی سے تاکہ باعث تسکین ہو اس کی طرف سے اور اتار ا تم پر آسمان سے پانی تاکہ پاک کردے تمھیں اس سے اور دور کردے تم سے شیطان کی نجاست اور مضبوط کردے تمھارے دلوں کو اور جمادے اس سے تمھارے قدموں کو۔
یاد کرو جب وحی فرمائی آپ کے رب نے فرشتوں کی طرف کہ میں تمھارے ساتھ ہوں پس تم ثابت قدم رکھو ایمان والوں کو میں ڈال دونگا کافروں کے دلوں میں (تمھارا) رعب سو تم مارو (ان کی ) گردنوں کے اوپر اور چوٹ لگاؤ ان کے ہر بند پر۔
اور جو پھیرے گا ان کی طرف اس روز اپنی پیٹھ بجز اس صورت کے کہ پینترا بدلنے والا ہو لڑائی کے لیے یا پلٹ کر آنیوالا ہو اپنی جماعت کی طرف تو وہ مستحق ہوگا اللہ کے غضب کا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت بری لوٹنے کی جگہ ہے۔
پس تم نے نہیں قتل کیا انھیں بلکہ اللہ نے قتل کیا انھیں اور (اے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) نہیں پھینکی آپ نے (وہ مشت خاک) جب آپ نے پھینکی بلکہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی تاکہ احسان فرمائے مومنوں پر اپنی جناب سے بہترین احسان۔ بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔
(اے کفار!) اگر تم فیصلہ کے طلبگار تھے تو (لو) آگیا تمھارے پاس فیصلہ اور اگر تم (اب بھی) باز آجاؤ تو وہ بہتر ہے تمھارے لیے اور اگر تم پھر شرارت کروگے تو ہم پھر سزا دینگے اور نہ فائدہ پہنچائے گی تمیں تمھاری جماعت کچھ بھی چاہے اس کی تعداد بہت زیادہ ہو اور یقیناً اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ساتھ ہے۔
اور اگر جانتا اللہ تعالیٰ ان میں کوئی خوبی تو انھیں ضرور سنا دیتا ۔ اور اگر سنا دیتا انھیں (قبولِ حق کی استعداد کے بغیر) تو وہ پیٹھ پھیر دیتے روگردانی کرتے ہوئے۔
اے ایمان والو! لبیک کہو اللہ اور (اس کے ) رسول کی پکار پر جب وہ رسول بلائے تمھیں اس امر کی طرف جو زندہ کرتا ہے تمھیں اور خوب جان لو کہ اللہ (کا حکم) حائل ہوجاتا ہے انسان اور اس کے دل (کے ارادوں) کے درمیان بیشک اسی کی طرف تم اٹھائے جاؤ گے۔
اور ڈرتے رہو اس فتنہ سے ( جو اگر برپا ہوگیا تو ) نہ پہنچیگا صرف انھیں کو جنھوں نے ظلم کیا تم میں سے۔ اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے۔
اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے کمزور اور بےبس سمجھے جاتے تھے ملک میں (ہر وقت) ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں اچک نہ لے جائیں تمھیں لوگ ، پھر اللہ نے پناہ دی تمھیں اور طاقت بخشی تمھیں اپنی نصرت سے اور عطا کیں تمھیں پاکیزہ چیزیں تاکہ تم شکر گزار ہو جاؤ۔
اے ایمان والو! اگر تم ڈرتے رہوگے اللہ سے تو وہ پیدا کردے گا تم میں حق و باطل کی تمیز کی قوت اور ڈھانپ دیگا تم سے تمھارے گناہ اور بخش دیگا تمھیں اور اللہ بڑے فضل (وکرم) والا ہے۔
اور یاد کرو جب خفیہ تدبیریں کررہے تھے آپکے بارے میں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تھا تاکہ آپ کو قید کردیں یا آپکو شہید کردیں یا آپکو جلاوطن کردیں ۔ وہ بھی خفیہ تدبریں کررہے تھے اور اللہ بھی خفیہ تدبیر فرمارہا تھا اور اللہ سب سے بہتر خفیہ تدبیر کرنے والا ہے۔
اور جب پڑھی جاتی ہیں ان کے سامنے ہماری آیتیں تو کہتے ہیں (اجی رہنے دو ) سن لیا ہم نے اگر ہم چاہیں گے تو کہہ لیں ایسی آیتیں ۔ نہیں ہیں یہ مگر کہانیاں اگلے لوگوں کی۔
اور نہیں ہے اللہ تعالیٰ کہ عذاب دے انھیں حالانکہ آپ تشریف فرما ہیں ان میں۔ اور نہیں ہے اللہ تعالیٰ عذاب دینے والا انھیں حالانکہ وہ مغفرت طلب کررہے ہوں۔
(مکہ سے آپکی ہجرت کے بعد) اب کیا وجہ ہے ان کے لیے کہ نہ عذاب دے انھیں اللہ ھالانکہ وہ روکتے ہیں (مسلمانوں کو) مسجد حرام سے اور نہیں ہیں وہ اس کے متولی۔ اس کے متولی تو صرف پرہیزگار لوگ ہیں، لیکن ان کی اکثریت اس حقیقت کو نہیں جانتی۔
بے شک کافر خرچ کرتے ہیں اپنے مال تاکہ روکیں (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے اور یہ آئندہ بھی (اسی طرح) خرچ کرنیگے ۔ پھر ہوجائے گا یہ خرچ کرنا ان کے لیے باعث حسرت و افسوس ۔ پھر وہ مغلوب کردئیے جاینگے اور جنھوں نے کفر اختیار کیا وہ دوزخ کی طرف اکھٹے کیے جائیں گے۔
تاکہ الگ کردے اللہ تعالیٰ ناپاک کو پا ک سے اور رکھ دے سب ناپاکوں کو ایک دوسرے کے اوپر۔ پھر اکھٹا کردے ان سب کو۔ پھر ڈال دے اس مجموعہ کو جہنم میں۔ یہی لوگ ہیں جو نقصان اٹھانے والے ہیں۔
فرمادیجیے کافروں کو کہ اگر وہ اب بھی باز آجائیں تو بخش دیا جائے گا انھیں جو ہو چکا۔ اور اگر وہ (پہلے کرتوت) دُہرائیں تو گزرچکا ہے (ہمارا) طریقہ پہلے (نافرمانوں) کے ساتھ۔
اور (اے مسلمانوں!) لڑتے رہو ان سے یہاں تک کہ باقی نہ رہے کوئی فساد اور ہوجائے دین پورے کا پورا اللہ کے لیے۔ تو پھر اگر وہ باز آجائیں تو یقیناً اللہ تعالیٰ جو کچھ وہ کرتے ہیں اسے خوب دیکھنے والا ہے۔
جب تم وادی کے نزدیک والے کنارے پر تھے اور (لشکر کفار) دور والے کنارہ پر تھا۔ اور (تجارتی) قافلہ نیچے کی طرف تھا تم سے اور اگر تم لڑائی کے لیے وقت مقرر کرتے تو پیچھے رہ جاتے وقت مقرر سے لیکن (یہ بلاارادہ جنگ اس لیے تھی) تاکہ کردکھائے اللہ تعالیٰ وہ کان جو ہوکر رہنا تھا تاکہ ہلاک ہو جسے ہلاک ہونا ہے دلیل سے اور زندہ رہے جسے زندہ رہنا ہے دلیل سے اور بیشک اللہ تعالیٰ خوب سننے والا ، جاننے والا ہے۔
یاد کرو جب دیکھا یا اللہ نے آپ کو لشکرکفار خواب میں قلیل اور اگر دیکھایا ہوتا آپکو لشکر کفار کثیر تعداد میں تو ضرور تم لوگ ہمت ہار دیتے اور آپس میں جھگڑنے لگتے اس معاملہ میں لیکن اللہ نے (تمھیں) بچالیا۔ بیشک وہ خوب جاننے والا ہے جو کچھ سینوں میں ہے۔
اور یاد کرو جب اللہ نے دیکھایا تمھیں لشکر کفار جب تمھار ا مقابلہ ہوا تمھاری نگاہوں میں قلیل اور قلیل کردیا تمھیں ان کی نظروں میں تاکہ کر دکھائے اللہ تعالیٰ وہ کام جو ہو کر رہنا تھا اور اللہ تعالیٰ کی طرف ہی لوٹائے جاتے ہیں سارے معاملات۔
اور اطاعت کرو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی اور آپس میں نہ جھگڑو ورنہ تم کم ہمت ہوجاؤ گے اور اکھڑ جائے گی تمھاری ہوا اور ہر مصیبت میں صبر کرو بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
اور (دیکھو! ) نہ بن جانا ان لوگوں کی طرح جو نکلے تھے اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور (محض) لوگوں کے دکھلاوے کے لیے اور روکتے تھے اللہ کی راہ سے اور اللہ تعالیٰ جو کچھ وہ کرتے ہیں اسے (اپنے علم و قدرت سے) گھیرے ہوئے ہے۔
اور یاد کرو جب آراستہ کردیے انکے لیے شیطان نے ان کے اعمال اور (انھیں) کہا کوئی غالب نہیں آسکتا تم پر آج ان لوگوں میں سے اور میں نگہبان ہوں تمھارا تو جب آمنے سامنے ہوئیں دونوں فوجیں تو وہ الٹے پاؤں بھاگا ، اور بولا میں بری الذمہ ہوں تم سے ۔ میں دیکھ رہا ہوں وہ جو تم نہیں دیکھ رہے ۔ میں تو ڈرتا ہوں اللہ سے اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے۔
یاد کرو جب کہہ رہے تھے منافق اور وہ جن کے دلوں میں (شک کا) روگ تھا کہ مغرور کردیا ہے انہیں ان کے دین نے اور جو شخص بھروسہ کرتا ہے اللہ پر تو بیشک اللہ تعالیٰ زبردست حکمت والا ہے ۔
جیسے دستور تھا فرعونیوں کا اور جو (زبردست) لوگ ان سے پہلے تھے۔ انھوں نے کفر کیا آیات الٰہی کے ساتھ تو پکڑلیا انھیں اللہ نے انکے گناہوں کے باعث ۔ بیشک اللہ قوت والا سخت عذاب دینے والا ہے۔
یہ اس لیے کہ اللہ نہیں بدلنے والا کس نعمت کو جس کا انعام اس نے فرمایا ہو کسی قوم پر یہاں تک کہ بدل ڈالیں وہی اپنے آپ کو ۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔
(کفار مکہ کا طرز عمل بھی) فرعونیوں اور ان (سرکشوں) کا سا ہے جو پہلے گزر چکے انھوں نے جھٹلایا اپنے رب کی آیتوں کو پس ہم نے ہلاک کردیا انھیں بوجہ ان کے گناہوں کے اور ہم نے غرق کردیا فرعونیوں کو اور (وہ) سب کے سب ظالم تھے۔
اور تیار رکھو ان کے لیے جتنی استطاعت رکھتے ہو، قوت و طاقت اور بندھے ہوئے گھوڑے تاکہ تم خوفزدہ کردو اپنی جنگی تیاریوں سے اللہ کے دشمن کو اور اپنے دشمن کو اور دوسررے لوگوں کو ان کھلے دشمنوں کے علادوہ تم نہیں جانتے ہو انھیں (البتہ ) اللہ جانتا ہے انھیں۔ اور جو چیز خرچ کرو گے راہ خدا میں اس کا اجر پورا پورا دیا جائے گا تمھیں اور (کسی طرح) تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
اور اگر وہ ارادہ کریں کہ آپ کو دھو کہ دیں (تو آپ فکر مند کیوں ہوں) بیشک کافی ہے آپکو اللہ تعالیٰ وہی ہے جس نے آپ کی تائید کی اپنی نصرت اور مومنوں (کی جماعت) سے۔
اور اسی نے الفت پیدا کردی ان کے دلوں میں اگر آپ خرچ کرتے ہیں جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب تو نہ الفت پیدا کرسکتے ان کے دلوں میں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے الفت پیدا کردی ان کے درمیان بلاشبہ وہ ربردست ہے حکمت والا ہے۔
اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ! برانگخیتہ کیجیے مومنوں کو جہاد پر اگر ہوں تم سے بیس آدمی صبر کرنے والے تو وہ غالب آئیں گے دو سو پر اور اگر ہوئے تم میں سے سو آدمی (صبر کرنے والے) تو غالب آئیں گے ہزار کافروں پر کیونکہ یہ کافر وہ لوگ ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے۔
(اے مسلمانوں!) اب تخفیف کردی ہے اللہ تعالیٰ نے تم پر اور وہ جانتا ہے کہ تم میں کمزوری ہے ۔ تواگر ہوئے تم میں سے سو آدمی صبر کرنے والے تو وہ غالب آئیں گے دو سو پر ۔ اور اگر ہوئے تم میں سے ایک ہزار (صابر) تو وہ غالب آئیں گے دوہزار پر اللہ کے حکم سے اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
نہیں مناسب نبی کے لیے کہ ہوں اس کے پاس جنگی قیدی یہاں تک کہ غلبہ حاصل کرلے زمین میں تم چاہتے ہو دنیا کا سامان اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے (تمھارے لیے ) آخرت اور اللہ تعالیٰ بڑا غالب (اور) دانا ہے۔
اے نبی (کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) ) آپ فرمائیے ان قیدیوں سے جو تمھارے قبضہ میں ہیں۔ اگر جا ن لی اللہ تعالیٰ نے تمھارے دلوں مین کوئی خوبی تو عطا فرمائے گا تمھیں بہتر اس سے جو لیا گیا ہے تم سے اور بخشے گا تمھارے (قصور) اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔
اور اگر وہ ارادہ کریں آپ سے دھوکہ بازی کا (تو حیرت کیوں ہو) انھوں نے تو دھوکہ کیا ہے اللہ سے پہلے ہی (اسی لیے) اللہ تعالیٰ نے قابو دے دیا (تمھیں ) ان پر اور اللہ تعالیٰ علیم (و) حکیم ہے ۔
یقیناً جو لوگ ایمان لائے، ہجرت کی، اور جہاد کیا اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے راہ خدا میں اور وہ جنھوں نے پناہ دی (مہاجرین کو ) اور (ان کی ) مدد کی ۔ یہی لوگ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو لوگ ایمان تو لے آئے لیکن ہجرت نہیں کی۔ نہیں تمھارے لیے ان کی وراثت سے کوئی چیز یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں۔ اور اگر وہ مدد طلب کریں تم سے دین کے معاملہ میں تو فرض ہے تم پر ان کی امدا د مگر ان قوم کے خلاف نہیں کہ تمھارے اور انکے درمیان (صلح کا ) معاہدہ ہوچکا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو خوب دیکھ رہا ہے۔
اور وہ لوگ جنھوں نے کفر اختیار کیا وہ ایک دوسرے کے حمایتی ہیں اگر تم (ان حکموں پر) عمل نہیں کروگے تو برپا ہوجایگا فتنہ ملک میں اور (پھیل جائے گا ) بڑا فساد ۔
اور جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور جہاد کیا راہ خدا میں اور جنھوں نے پناہ دی اور ان کی امداد کی وہی (خوش نصیب) لوگ سچے ایماندار ہیں۔ انھیں کے لیے بخشش ہے اور باعزت روزی۔