Back to Languages

Urdu - Chapter 88 - Al-Ghashiyah

Translation by Muhammad Karam Shah Al Azhari — Permalink

Verse 1 — Surah Al-Ghashiyah 88:1

کیا پہنچی ہے آپ کو چھا جانے والی آفت کی خبر

Verse 2 — Surah Al-Ghashiyah 88:2

کتنے ہی چہرے اس دن ذلیل وخوار ہوں گے

Verse 3 — Surah Al-Ghashiyah 88:3

مشقت میں مبتلا، تھکے ماندے

Verse 4 — Surah Al-Ghashiyah 88:4

داخل ہوں گے دہکتی ہوئی آگ میں

Verse 5 — Surah Al-Ghashiyah 88:5

انہیں پلایا جائے گا کھولتے ہوئے چشمہ سے

Verse 6 — Surah Al-Ghashiyah 88:6

انہیں کوئی کھانا نہ ملے گا بجز خاردار جھاڑ کے

Verse 7 — Surah Al-Ghashiyah 88:7

جو نہ فربہ کرے گا اور نہ بھوک دور کرے گا

Verse 8 — Surah Al-Ghashiyah 88:8

کتنے ہی چہرے اس دن بارونق ہوں گے

Verse 9 — Surah Al-Ghashiyah 88:9

اپنی کاوشوں پر خوش ہوں گے

Verse 10 — Surah Al-Ghashiyah 88:10

عالی شان جنت میں

Verse 11 — Surah Al-Ghashiyah 88:11

نہ سنیں گے وہاں کوئی لغو بات

Verse 12 — Surah Al-Ghashiyah 88:12

اس میں چشمہ جاری ہوگا

Verse 13 — Surah Al-Ghashiyah 88:13

اس میں اونچے اونچے تخت (بچھے) ہوں گے

Verse 14 — Surah Al-Ghashiyah 88:14

اور ساغر (قرینے سے ) رکھے ہوں گے

Verse 15 — Surah Al-Ghashiyah 88:15

اور گاؤ تکیے قطار در قطار لگے ہوں گے

Verse 16 — Surah Al-Ghashiyah 88:16

اور قیمتی قالین بچھے ہوں گے

Verse 17 — Surah Al-Ghashiyah 88:17

کیا یہ لوگ (غور سے) اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ اسے کیسے (عجیب طرح) پیدا کیا گیا ہے

Verse 18 — Surah Al-Ghashiyah 88:18

اور آسمان کی طرف نہیں دیکھتے کہ اسے کیسے بلند کیا گیا ہے

Verse 19 — Surah Al-Ghashiyah 88:19

اور پہاڑوں کی طرف کہ انہیں کیسے نصب کیا گیا ہے

Verse 20 — Surah Al-Ghashiyah 88:20

اور زمین کی طرف کہ اسے کیسے بچھایا گیا ہے

Verse 21 — Surah Al-Ghashiyah 88:21

پس آپ انہیں سمجھاتے رہا کریں آپ کا کام تو سمجھانا ہی ہے

Verse 22 — Surah Al-Ghashiyah 88:22

آپ ان کو جبر سے منوانے والے تو نہیں ہیں

Verse 23 — Surah Al-Ghashiyah 88:23

مگر جس نے روگردانی کی اور کفر کیا

Verse 24 — Surah Al-Ghashiyah 88:24

تو اللہ اس کو سخت عذاب دے گا

Verse 25 — Surah Al-Ghashiyah 88:25

بے شک انہیں (آخر) ہمارے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے

Verse 26 — Surah Al-Ghashiyah 88:26

پھر یقیناً ہمارے ہی ذمہ ان کا حساب لینا ہے