Back to Languages

Urdu - Chapter 9 - At-Tawbah

Translation by Muhammad Karam Shah Al Azhari — Permalink

Verse 1 — Surah At-Tawbah 9:1

(اے مشرکو!) پس چل پھر لو ملک میں چار ماہ اور جان لو کہ تم نہیں عاجز کرنے والے اللہ تعالیٰ کو اور یقیناً اللہ تعالیٰ رسوا کرنے والا ہے کافروں کو ۔

Verse 2 — Surah At-Tawbah 9:2

اور اعلان عام ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے سب لوگوں کے لیے بڑے حج کے دن کہ اللہ تعالیٰ بری ہے مشرکوں سے۔ اور اس کا رسول بھی اب بھی اگر تم تائب ہوجاؤ تو یہ بہتر ہے تمھارے لیے اور اگر تم منہ پھیرے رہو تو خوب جان لو کہ تم نہیں عاجز کرنے والے اللہ تعالیٰ کو اور خوش خبری سنا دو کافرورں کو دردنکاک عذاب کی۔

Verse 3 — Surah At-Tawbah 9:3

بجز ان مشرکوں کے جن سے تم نے معاہدہ کیا پھر انھوں نے نہ کی تمھارے ساتھ ذرہ بھر اور نہ انھوں نے مدد کی تمھارے خلاف کسی کی۔ تو پورا کرو ان سے ان کا معاہدہ ان کی مدت (مقررہ) تک۔ بیشک اللہ تعالیٰ دوست رکھتا ہے پرہیزگاروں کو۔

Verse 4 — Surah At-Tawbah 9:4

پھر جب گرزجائیں حر مت والے مہینے تو قتل کرو مشرکین کو جہاں بھی تم پاؤ انھیں اور گرفتار کرو انھیں اور گھیرے میں لے لو انھیں اور بیٹھوان کی تاک میں ہر گھات کی جگہ۔ پھر اگر یہ توبہ کرلیں اور قائم کریں نماز اور ادا کریں زکوٰۃ تو چھوڑ دو ان کا راستہ ۔ بےشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

Verse 5 — Surah At-Tawbah 9:5

اور اگر کوئی شخص مشرکوں میں سے پناہ طلب کرے آپ سے تو پناہ دیجیے اسے تاکہ وہ سنے اللہ کا کلام پھر پہنچادیجیے اسے اس کی امن گاہ میں یہ حکم اس لیے ہے کہ وہ ایسی قوم ہیں جو (قرآن کو ) نہیں جانتے۔

Verse 6 — Surah At-Tawbah 9:6

کیونکر ہوسکتا ہے (ان عہد شکن) مشرکوں کے لیے کوئی معاہدہ اللہ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک سوائے ان لوگوں کے جن سے تم نے معاہدہ کیا ہے مسجد حرام کے پاس تو جب تک وہ قائم رہیں معاہدہ پر تم بھی قائم رہو ان کے لیے بیشک اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے پرہیزگاروں سے۔

Verse 7 — Surah At-Tawbah 9:7

کیونکر (انکے معاہدہ کا لحاظ رکھا جائے) حالانکہ اگر وہ غالب آجائیں تم پر تو نہ لحاظ کریں تمھارے بارے میں کسی رشتہ داری کا اور نہ کسی عہد کا راضی کرنا چاہتے ہیں تمھیں (صرف) اپنے منہ (کی باتوں ) سے اور انکار کررہے ہیں انکے دل اور اکثر ان میں سے فاسق ہیں۔

Verse 8 — Surah At-Tawbah 9:8

انھوں نے بیچ دیں اللہ کی آیتیں تھوڑی سی قیمت پر (مزید برآں) روکا انھوں نے (لوگوں کو ) اللہ کی راہ سے بیشک وہ بہت برا تھا جو وہ کیا کرتے تھے۔

Verse 9 — Surah At-Tawbah 9:9

نہیں لحاظ کرتے کسی مومن کے حق میں کسی رشتہ داری کا اور نہ کسی وعدہ کا ۔ اور یہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔

Verse 10 — Surah At-Tawbah 9:10

پس اگر یہ توبہ کرلیں اور قائم کریں نماز اور ادا کریں زکوٰۃ تو تمھارے بھائی ہیں دین میں۔ اور ہم کھول کر بیان کرتے ہیں (اپنی آیتیں) اس قوم کے لیے جو علم رکھتی ہے۔

Verse 11 — Surah At-Tawbah 9:11

اور اگر یہ لوگ توڑدیں اپنی قسمیں اپنے معاہدہ کے بعد اور طعن کریں تمھارے دین پر تو جنگ کرو کفر کے پیشواؤں سے بیشک ان لوگوں کی کوئی قسمیں نہیں ہیں (ایسوں سے جنگ کرو ) تاکہ یہ لوگ (عہد شکنی سے) باز آجائیں۔

Verse 12 — Surah At-Tawbah 9:12

کیا نہیں جنگ کروگے تم اس قوم کے ساتھ جنھوں نے توڑڈالا اپنی قسموں کو اور ارادہ کیا انھوں نے رسول کو نکال دینے کا اور انہی نے آغاز کیا تھا تم پر (زیادتی کا ) پہلی مرتبہ ۔ کیا تم ڈرتے ہو ان سے (سنو) اللہ تعالیٰ زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر ہو تم (سچے) ایماندار۔

Verse 13 — Surah At-Tawbah 9:13

جنگ کرو ان سے عذاب دیگا انھیں اللہ تعالیٰ تمھارے ہاتھوں سے اور رسسوا کریگا انہیں اور مدد کریگا تمھار ی انکے مقابلے میں اور (یوں) صحتمند کردیگا اس جماعت کے سینوں کو جو اہل ایمان ہے۔

Verse 14 — Surah At-Tawbah 9:14

اور یوں دور فرمادیگا غصہ انکے دلوں کا اور اپنی رحمت سے توجہ فرماتا ہے اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اور اللہ تعالٰ سب کچھ جاننے والا بڑا دانا ہے۔

Verse 15 — Surah At-Tawbah 9:15

کیا تم یہ خیال کررہے ہو کہ تمھیں (یونہی) چھوڑ دیا جائیگا حالانکہ ابھی تک پہچان نہیں کرائی اللہ نے ان کی جو جہاد کرینگے تم میں سے اور جنھوں نے نہیں بنایا بغیر اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کے (کسی کو اپنا) محرم راز۔ اور اللہ تعالیٰ خبردار ہے جو تم کرتے ہو ۔

Verse 16 — Surah At-Tawbah 9:16

نہیں ہے روا مشرکوں کے لیے کہ وہ آباد کریں اللہ کی مسجدوں کو حالانکہ وہ خود گواہی دے رہے ہیں اپنے نفسوں پر کفر کی۔ یہ وہ (بد نصیب) ہیں ضائع ہوگئے جن کے تمام اعمال ۔ اور (دوزخ کی) آگ میں ہی یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

Verse 17 — Surah At-Tawbah 9:17

صرف وہی آباد کرسکتا ہے اللہ کی مسجدوں کو جو ایمان لایا ہو اللہ پر اور روز قیامت پر اور قائم کیا نماز کو اور ادا کیا زکوٰۃ کو اور نہ ڈرتا ہو اللہ کے سوا کسی سے پس امید ہے کہ یہ لوگ ہوجائیں ہدایت پانے والوں سے۔

Verse 18 — Surah At-Tawbah 9:18

کیا تم نے ٹھیرا لیا ہے حاجیوں کو پانی پلانے (والے ) کو اور مسجد حرام کے آباد کرنے (والے) کو اس شخص کی مانند جو ایمان لے آیا اللہ پر اور روز قیامت پر اور جہاد کیا اس نے اللہ کی راہ مں وہ نہیں یکساں اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور اللہ تعالیٰ نہیں ہدایت دیتا ان لوگوں کو جو ظالم ہیں۔

Verse 19 — Surah At-Tawbah 9:19

جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور جہاد کیا راہ خدا میں اپنے مالوں اور جانوں سے بہت بڑا ہے (ان کا ) درجہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور یہی ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔

Verse 20 — Surah At-Tawbah 9:20

خوشخبری دیتا ہے انھیں ان کا رب اپنی رحمت اور اپنی خوشنودی کی اور (ایسے ) باغات کی کہ ان کے لیے ان میں دائمی نعمت ہوگی۔

Verse 21 — Surah At-Tawbah 9:21

ہمیشہ رہنے والے ہیں وہ اس میں تا ابد ۔ بیشک اللہ تعالی ٰ کے پاس ہی اجر عظیم ہے۔

Verse 22 — Surah At-Tawbah 9:22

اے ایمان والو! نہ بنالو اپنے باپوں اور بھائیوں کو دلی دوست اگر وہ پسند کریں کفر کو ایمان پر اور جو دوست بناتا ہے انھیں تم میں سے تو وہی لوگ ظلم کرنے والے ہیں۔

Verse 23 — Surah At-Tawbah 9:23

اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) !) آپ فرمائیے اگر ہیں تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اور تمھارا کنبہ اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ کاروبار اندیشہ کرتے ہو جس کے مندے کا اور وہ مکانات جن کو تم پسند کرتے ہو زیادہ پیارے ہیں تمھین اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ مین جہاد کرنے سے تو انتظار کرو یہاں تک کہ لے آئے اللہ تعالیٰ اپنا حکم اور اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا اس قوم کو جو نافرمان ہے۔

Verse 24 — Surah At-Tawbah 9:24

بیشک مدد فرمائی تمھارے اللہ نے بہت سے جنگی میدانوں میں اور حنین کے روز بھی جبکہ گھمنڈ میں ڈال دیا تھا تمھیں تمھاری کثرت نے پس نہ فائدہ دیا تمہیں (اس کثرت نے ) کچھ بھی اور تنگ ہوگئی تم پر زمین باوجود اپنی وسعت کے۔ پھر تم مڑے پیٹھ پھیر تے ہوئے۔

Verse 25 — Surah At-Tawbah 9:25

پھر نازل فرمائی اللہ نے اپنی (خاص) تسکین اپنے رسول پر اور اہل ایمان پر اور اتارے وہ لشکر جنھیں تم نہ دیکھ سکے اور عذاب دیا کافروں کو۔ اور یہی سزا ہے کافروں کی۔

Verse 26 — Surah At-Tawbah 9:26

پھر رحمت سے توجہ فرمائے گا اللہ تعالیٰ اس کے بعد جس پر چاہے گا اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

Verse 27 — Surah At-Tawbah 9:27

اے ایمان والو! مشرکین تو نرے ناپاک ہیں سو وہ قریب نہ ہونے پائیں مسجد حرام سے اس سال کے بعد اور اگر تم اندیشہ کرو تنگدستی کا تو غنی کردیگا تمہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کر م سے اگر چاہے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا بڑا دانا ہے ۔

Verse 28 — Surah At-Tawbah 9:28

جنگ کرو ان لوگوں سے جو نہیں ایمان لاتے اللہ پر اور نہ روز قیامت پر اور نہیں حرام سمجھتے جسے حرام کیا ہے اللہ نے اور اس کے رسول نے اور نہ قبول کرتے ہیں سچے دین کو ان لوگوں میں سے جنھیں کتاب دی گئی ہے یہاں تک کہ وہ جزیہ اپنے ہاتھ سے اس حال میں کہ وہ مغلوب ہوں ۔

Verse 29 — Surah At-Tawbah 9:29

اور کہا یہود نے کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور کہا نصرانیوں نے کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ ان کی (بے سروپا) بات ہے انکے مونہوں سے نکلی ہوئی نقل اتاررہے ہیں ان لوگوں کے قول کی جنہوں نے کفر کیا پہلے ہلاک کرے انھیں اللہ تعالیٰ ، کدھر بھٹکے چلے جارہے ہیں۔

Verse 30 — Surah At-Tawbah 9:30

انھوں نے بنالیا اپنے پادریوں اور اپنے راہبوں کو (اپنے) پروردگار اللہ کو چھوڑ کر اور مسیح فرزند مریم کو بھی۔ حالانکہ نہیں حکم دیا گیا تھا انھیں بجز اس کے کہ وہ عبادت کریں (صرف) ایک خدا کی۔ نہیں کوئی خدا بغیر اس کے وہ پاک ہے اس سے جسے وہ اس کا شریک بناتے ہیں۔

Verse 31 — Surah At-Tawbah 9:31

(یہ لوگ) چاہتے ہیں کہ بجھادیں اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے اور انکار فرماتا ہے اللہ مگر یہ کہ کمال تک پہنچا دے اپنے نور کو اگرچہ ناپسند کرین (اس کو ) کافر۔

Verse 32 — Surah At-Tawbah 9:32

وہی (قادر مطلق) ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو (کتابِ) ہدایت اور دین حق دے کر تاکہ غالب کردے اسے تمام دینوں پر اگرچہ ناگوار گزرے (یہ غلبہ ) مشرکوں کو۔

Verse 33 — Surah At-Tawbah 9:33

اے ایمان والوں ! بیشک اکثر پادری اور راہب کھاتے ہیں لوگوں کے مال ناجائز طریقے سے اور روکتے ہیں (لوگوں) کو راہ خدا سے اور جو لوگ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور نہیں خرچ کرتے اسے اللہ کی راہ میں تو انھیں خوشخبری سنادیجیے دردناک عذاب کی۔

Verse 34 — Surah At-Tawbah 9:34

جس دن تپایا جائے گا (یہ سونا اور چاندی ) جہنم کی آگ میں پھر داغی جائیں گی اس سے اُ ن کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور ان کی پشتیں ( اور انھیں بتایا جائیگا) کہ یہ ہے جو تم نے جمع کر رکھا تھا اپنے لیے تو (اب ) چکھو (سزا اس کی ) جو تم جمع کیا کرتے تھے۔

Verse 35 — Surah At-Tawbah 9:35

بیشک مہینوں کی تعداد اللہ تعالیٰ کے نزدیک بارہ ماہ ہے کتاب الٰہی میں جس روز سے اس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو، ان میں سے چار عزت والے ہیں۔ یہی دین قیم ہے پس نہ ظلم کرو ان مہینوں میں اپنے آپ پر اور جنگ کرو تمام مشرکوں سے جس طرح وہ سب تم سے جنگ کرتے ہیں اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

Verse 36 — Surah At-Tawbah 9:36

(حرمت والے مہینوں کو ) ہٹا دینا تو اور اضافہ کرنا ہے کفر میں۔ گمراہ کیے جاتے ہیں اس سے وہ لوگ جو کافر ہیں حلال کردیتے ہیں ایک ماہ کو ایک سال اور حرام کردیتے ہیں اسی کو دوسرے سال تاکہ پوری کریں گنتی ان مہینوں کی جنھیں حرام کیا ہے اللہ نے تاکہ اس حیلہ سے حلال کرلیں جسے حرام کیا ہے اللہ نے آراستہ کردیے گئے ہیں انکے لیے انکے برے عمال اور اللہ ہدایت نہیں دیتا اس قوم کو جو کفر اختیار کیے ہوئے ہے۔

Verse 37 — Surah At-Tawbah 9:37

اے ایمان والو! کیا ہوگیا ہے تمھیں کہ جب کہا جاتا ہے تمھیں نکلو راہ خدا میں تو بوجھل ہوکر زمین کی طرف جھک جاتے ہو۔ کیا تم نے پسند کرلی ہے دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں۔ سو نہیں ہے سروسامان دینوی زندگی کا آخر ت میں مگر قلیل۔

Verse 38 — Surah At-Tawbah 9:38

اگر تم نہیں نکلو گے تو اللہ عذاب دیگا تمھیں دردناک عذاب ۔ اور بدل کر لے آئیگا کوئی دوسری قوم تمھارے علاوہ اور تم نہ بگاڑ سکو گے اس کا کچھ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

Verse 39 — Surah At-Tawbah 9:39

اگر تم مدد نہ کر و گے رسول کریم کی تو (کیا ہوا) انکی مدد فرمائی ہے خود اللہ نے جب نکالا تھا ان کو کفار نے۔ آپ دوسرے تھے دو سے جب وہ دونون غارِ (ثور) میں تھے جب وہ فرمارہے تھے اپنے رفیق کو کہ مت غمگین ہو یقیناً اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ پھر نازل کی اللہ نے اپنی تسکین ان پر اور مدد فرمائی ان کی ایسے لشکروں سے جنھیں تم نے نہ دیکھا اور کردیا کافروں کی بات کو سرنگوں اور اللہ کی بات ہی ہمیشہ سربلند ہے۔ اور اللہ تعالیٰ غالب ہے حکمت والا ہے ۔

Verse 40 — Surah At-Tawbah 9:40

(جہاد کے لیے) نکلو (ہر حال میں ) ہلکے ہو یا بوجھل اور جہاد کرو اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں ۔ یہ بہتر ہے تمھارے لیے اگر تم (اپنا نفع و نقصان ) جانتے ہو۔

Verse 41 — Surah At-Tawbah 9:41

اگر ہوتا وہ مال نزدیک یا سفر آسان تو ضرور پیچھے چلتے آپ کے ، لیکن دور معلوم ہوتی ہے انھیں مسافت اور ابھی قسم کھائیں گے اللہ کی (اور کہیں گے) کہ اگر ہم میں طاقت ہوتی تو ہم ضرور نکلتے تمھارے ساتھ۔ ہلاک کررہے ہیں اپنے آپ کو ۔ اور اللہ جانتا ہے کہ وہ قطعاً جھوٹے ہیں۔

Verse 42 — Surah At-Tawbah 9:42

درگزر فرمایا ہے اللہ نے آپ سے (لیکن) کیوں آپ نے اجازت دے دی تھی انھیں یہاں تک کہ ظاہر ہوجاتے آپ پر وہ لوگ جنھوں نے سچ کہا اور آپ جان لیتے جھوٹوں کو۔

Verse 43 — Surah At-Tawbah 9:43

نہ اجازت مانگیں گے آپ سے جو ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور روز قیامت پر کہ (نہ ) جہاد کریں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے پرہیزگاروں کو۔

Verse 44 — Surah At-Tawbah 9:44

صرف وہی اجازت مانگتے ہیں آپ سے جو نہیں ایمان رکھتے اللہ تعالیٰ پر اور روز قیامت پر اور شک میں مبتلا ہیں ان کے دل تو وہ اپنے شک میں ڈانوں ڈول ہیں۔

Verse 45 — Surah At-Tawbah 9:45

اور اگر انھوں نے ارادہ کیا ہوتا (جہاد پر) نکلنے کا تو انھوں نے تیار کیا ہوتا اس کے لیے کچھ سامان لیکن ناپسند کیا اللہ تعالیٰ نے انکے کھڑے ہونے کو اسلیے پست ہمت کردیا انھیں اور کہہ دیا گیا تم بیٹھے رہو، بیٹھے رہنے والوں کے ساتھ۔

Verse 46 — Surah At-Tawbah 9:46

اگر نکلتے تمھارے (لشکر) میں تو نہ زیادہ کرتے تم میں بجز فساد کے اور دوڑ دھوپ کرکے تمھارے درمیان فتنہ پردازی کرتے۔ اور تم میں ان کے جاسوس (اب بھی) موجود ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ خوب جاتنا ہے ظالموں کو ۔

Verse 47 — Surah At-Tawbah 9:47

(اے حبیب!) وہ کوشاں رہے فتنہ انگیزی میں پہلے بھی اور الٹ پلٹ کرتے تھے اپکے لیے تجویزیں یہاں تک کہ آگیا حق اور غالب ہوا اللہ کا حکم اور وہ ناخوش تھے۔

Verse 48 — Surah At-Tawbah 9:48

اور ان میں سے بعض کہتے ہیں اجازت دیجیے مجھے (کہ گھر ٹھیرا رہوں) اور مجھے فتنہ میں نہ ڈالیے خبردار فتنہ میں تو وہ گر چکے اور بیشک جہنم گھیرے ہوئے ہے کافروں کو ۔

Verse 49 — Surah At-Tawbah 9:49

اگر پہنچے آپ کو کچھ بھلائی تو بری لگتی ہے انھیں اور اگر پہنچے آپ کو کوئی مصیبت تو کہیں کہ ہم نے درست کرلیا تھا اپنا کام پہلے ہی اور لوٹتے ہیں خوشیاں مناتے ہوئے۔

Verse 50 — Surah At-Tawbah 9:50

آپ فرمائیے ہرگز نہیں پہنچے گی ہمیں کوئی تکلیف بجز اس کے جو لکھ دی ہے اللہ نے ہمارے لیے ۔ وہی ہمارا حامی و ناصر ہے اور اللہ پر ہی توکل کرنا چاہیے مومنوں کو ۔

Verse 51 — Surah At-Tawbah 9:51

فرمائیے کیا تم منتظر ہو ہمارے متعلق (کہ ہم مارے جائیں۔ یہ مرنا نہیں) مگر ایک بھلائی ان دو بھلائیوں سے (جنکے ہم خواہاں ہیں) اور ہم انتظار کرتے ہیں تمھارے لیے کہ پہنچائے تمھیں اللہ عذاب اپنے پاس سے یا ہمارے ہاتھوں سے۔ پس تم بھی انتظار کرو ہم بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنیوالے ہیں۔

Verse 52 — Surah At-Tawbah 9:52

فرمائیے خرچ کرو خوشی سے یا ناخوشی سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا تم سے بیشک تم ایک نافرمان قوم تھے۔

Verse 53 — Surah At-Tawbah 9:53

اور نہیں منع کیا ہے انھیں کہ قبول کیے جائیں ان سے ان کے اخراجات سوائے اس کے کہ انھوں نے کفر کیا اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ اور نہیں آتے نماز ادا کرنے کے لیے مگر سست سُست اور نہیں خرچ کرتے مگر اس حال میں کہ وہ ناخوش ہیں۔

Verse 54 — Surah At-Tawbah 9:54

سو نہ تعجب میں ڈال دیں تمھیں ان کے مال اور نہ ان کی اولاد یہی چاہتا ہے اللہ تعالیٰ کہ عذاب دے انھیں ان چیزوں سے دینوی زندگی میں اور نکلے ان کا سانس اس حال میں کہ وہ کافر ہوں۔

Verse 55 — Surah At-Tawbah 9:55

اور قسمیں اٹھاتے ہیں اللہ کی کہ وہ تم میں سے ہیں حالانکہ وہ تم میں سے نہیں۔ لیکن وہ ایسی قوم ہیں جو ڈرتے رہتے ہیں۔

Verse 56 — Surah At-Tawbah 9:56

اگر مل جائے انھیں کوئی پناہ گاہ یا کوئی غار یا گھس بیٹھ نے کی جگہ تو (دیکھیے گا) وہ منہ پھیر لیں گے اس طرف منہ زوری کرتے ہوئے۔

Verse 57 — Surah At-Tawbah 9:57

اور بعض ان میں طعن کرتے ہیں آپ پر صدقات (کی تقسیم) کے بارے میں سو اگر انھیں دیا جائے ان سے تو خوش ہوجاتے ہیں اور اگر انھیں نہ دیا جائے اس سے تو اس وقت وہ ناراض ہوجاتے ہیں۔

Verse 58 — Surah At-Tawbah 9:58

اور (کیا اچھا ہوتا) اگر وہ خوش ہوجاتے اس سے جو دیا تھا انھیں اللہ اور اس کے رسول نے اور کہتے کافی ہے ہمیں اللہ تعالیٰ۔ عطا فرمائے گا ہمیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اور اس کا رسول ہم تو اللہ کی طرف ہی رغبت کرنیوالے ہیں۔

Verse 59 — Surah At-Tawbah 9:59

زکوۃ تو صرف ان کے لیے ہے جو فقیر ، مسکین اور زکوٰۃ کے کام پر جانے والے ہیں۔ اور جن کی دلداری مقصود ہے نیز گردنوں کو آزاد کرانے اور مقروضوں کے لیے اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لیے یہ سب فرض ہے اللہ کی طرف سے۔ اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا دانا ہے۔

Verse 60 — Surah At-Tawbah 9:60

اور کچھ ان میں سے ایسے ہیں جو (اپنی بدزبانی سے) اذیت دیتے ہیں نبی (کریم) کو اور کہتے ہیں یہ کانوں کا کچا ہے ۔ فرمائیے وہ سنتا ہے جس میں بھلا ہے تمھارا ، یقین رکھتا ہے اللہ پر اور یقین کرتا ہے مومنوں (کی بات ) پر اور سراپا رحمت ہے ان کے لیے جو ایمان لائے تم میں سے اور جو لوگ دکھ پہنچاتے ہیں اللہ کے رسول کو۔ ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

Verse 61 — Surah At-Tawbah 9:61

(منافق) قسمیں اٹھاتے ہیں اللہ کی تمھارے سامنے تاکہ خوش کریں تمھیں۔ حالانکہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ مستحق ہے کہ اسے راضی کریں اگر وہ ایماندار ہیں۔

Verse 62 — Surah At-Tawbah 9:62

کیا وہ نہیں جانتے کہ جو کوئی مخالفت کرتا ہے اللہ اور اس کے رسول کی تو اس کے لیے آتش جہنم ہے ہمیشہ رہے گا اس میں۔ یہ بہت بڑی رسوائی ہے۔

Verse 63 — Surah At-Tawbah 9:63

ڈرتے رہتے ہیں منافق کہ کہیں نازل (نہ) کی جائے اہل ایمان پر کوئی سورۃ جو آگا ہ کردے انھیں جو کچھ منافقوں کے دلوں میں ہے۔ آپ (انھیں) فرمائیے کہ مذاق کرتے رہو۔ یقیناً اللہ ظاہر کرنے والا ہے جس سے تم خوفزدہ ہو۔

Verse 64 — Surah At-Tawbah 9:64

اور اگر آپ دریافت فرمائیں ان سے تو کہیں گے بس ہم تو صرف دلی لگی اور خوش طبعی کررہے تھے۔ آپ فرمائیے (گستاخو!) کیا اللہ سے اور اس کی آیتوں سے اور اس کے رسول سے تم مذاق کیا کرتے تھے؟ ۔

Verse 65 — Surah At-Tawbah 9:65

(اب) بہانے مت بناؤ تم کافر ہوچکے (اظہار) ایمان کے بعد اگر ہم معاف بھی کردیں ایک گروہ کو تم میں سے تو عذاب دیں گے دوسرے گروہ کو کیونکہ وہی (اصلی) مجرم تھے۔

Verse 66 — Surah At-Tawbah 9:66

منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک جیسے ہیں حکم دیتے ہیں برائی کا اور روکتے ہیں نیکی سے اور بند رکھتے ہیں اپنے ہاتھ (حقیقت یہ ہے کہ ) انھوں نے بھلادیا ہے اللہ کو تو اس نے بھی فراموش کردیا ہے انھیں بیشک منافق ہی نافرمان ہیں۔

Verse 67 — Surah At-Tawbah 9:67

وعدہ کیا ہے اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کفار سے دوزخ کی آگ کا ، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں۔ یہی کافی ہے انھیں نیز لعنت کی ہے ان پر اللہ نے اور انہی کے لیے دائمی عذاب ۔

Verse 68 — Surah At-Tawbah 9:68

(منافقو!) تمھاری حالت بھی اسیس ہے جسیے ان لوگوں کی جو تم سے پہلے گزرے وہ زیادہ تھے تم سے قوت میں اور مال اور اولاد کی کثرت میں سو لطف اٹھایا انھوں نے اپنے (دینوی) حصہ سے اور تم نے بھی لطف اٹھایا اپنے (دینوی) حصہ اور (لذتوں میں) تم بھی ڈوبے رہے جیسے وہ ڈوبے رہے تھے ۔ یہی وہ لوگ ہیں ضائع ہوگئے جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں۔ اور یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

Verse 69 — Surah At-Tawbah 9:69

کیا نہ آئی ان کے پاس خبر ان لوگوں کی جو ان سے پہلے گزرے (یعنی ) قوم نوح اور عاد اور ثمود اور قوم ابراھیم اور اہل مدین اور وہ بستیاں جنھیں الٹ دیا گیا تھا ۔ آئے تھے ان سب کے پاس انکے رسول روشن دلیلیں لیکر اور نہ تھا اللہ (کا یہ دستور) کہ ظلم کرتا ان پر بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہتے تھے۔

Verse 70 — Surah At-Tawbah 9:70

نیز مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں حکم کرتے ہیں نیکی کا اور روکتے ہیں برائی سے اور صحیح صحیح ادا کرتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکوٰۃ اور اطاعت کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی۔ یہی لوگ ہیں جن پر ضرور رحم فرمائے گا اللہ بیشک اللہ تعالیٰ غالب ہے حکمت والا ہے۔

Verse 71 — Surah At-Tawbah 9:71

وعدہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے باغات کا، رواں ہیں جن کے نیچے ندیاں ۔ یہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ۔ نیز (وعدہ کیا ہے ) پاکیزہ مکانات کا سدا بہار باغوں میں اور رضائے خداوندی ان سب نعمتوں سے بڑی ہے یہی تو بڑی کامیابی ہے۔

Verse 72 — Surah At-Tawbah 9:72

اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کریم! جہاد کیجیے کافروں اور منافقوں کے ساتھ اور سختی کیجیے ان پر اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

Verse 73 — Surah At-Tawbah 9:73

قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ انھوں نے یہ نہیں کہا حالانکہ یقیناً انھوں نے کہی تھی کفر کی بات اور انھوں نے کفر اختیار کیا اسلام لانے کے بعد اور انھوں نے ارادہ بھی کیا ایسی چیز کا جسے وہ نہ پاسکے اور نہیں خشمناک ہوئے وہ مگر اس پر کہ غنی کردیا انھیں اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے اپنے فضل و کرم سے سو اگر وہ توبہ کرلیں تو یہ بہتر ہوگا ان کے لیے اور اگر وہ روگردانی کریں تو عذاب دیگا انھیں اللہ تعالیٰ عذاب الیم۔ دنیا اور آخرت میں اور نہیں ہوگا ان کے روئے زمین میں کوئی دوست اور نہ کوئی مددگار۔

Verse 74 — Surah At-Tawbah 9:74

اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے وعدہ کیا اللہ کے ساتھ کہ اگر اس نے دیا ہمیں اپنے فضل سے تو ہم دل کھول کر خیرات دیں گے اور ضرور ہوجائیں گے نیکو کاروں میں ۔

Verse 75 — Surah At-Tawbah 9:75

پس جب اس نے عطا فرمایا انھیں اپنے فضل سے تو کنجوسی کرنے لگے اس کے ساتھ اور روگردانی کرلی اور وہ منہ پھیر نے والے ہیں۔

Verse 76 — Surah At-Tawbah 9:76

پس اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ نے نفاق جما دیا ان کے دلوں میں اس دن تک جب ملیں گے اس کو اس وجہ سے کہ انھوں نے خلاف ورزی کی اللہ سے جو وعدہ انھوں نے کیا تھا اور اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔

Verse 77 — Surah At-Tawbah 9:77

کیا وہ نہیں جانتے کہ بیشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے ان کے راز کو اور ان کی سرگوشی کو اور یقیناً اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے سارے غیبوں کو ۔

Verse 78 — Surah At-Tawbah 9:78

جو لوگ (ریا کاری کا ) الزام لگاتے ہیں خوشی خوشی خیرات کرنے والوں پر مومنوں سے اور جو (نادار) نہیں پاتے بجز اپنی محنت و مشقت کی مزدوری کے تو یہ ان کا بھی مذاق اڑاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سزادے گا انہیں اس مذاق کی اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

Verse 79 — Surah At-Tawbah 9:79

آپ بخشش طلب کریں ان کے لیے یا نہ کریں اگر آپ بخشش طلب کریں ان کے لیے ستر بار جب بھی نہ بخشے گا اللہ تعالیٰ انھیں۔ یہ محض اس لیے کہ انھوں نے انکار کیا اللہ کا اور اس کے رسول (مکرم) کا ۔ اور اللہ تعالیٰ نہیں ہدایت دیتا نافرمان قوم کو۔

Verse 80 — Surah At-Tawbah 9:80

خوش ہوگئے پیچھے چھوڑے جانے والے اپنے (گھر) بیٹھے رہنے پر اللہ کے رسول کی (جہاد پر ) روانگی کے بعد اور ناگوار تھا انھیں کہ جہاد کریں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے راہ خدا میں اور (دوسروں کو بھی) کہتے کہ مت نکلو اس سخت گرمی میں فرمائیے دوزخ کی آگ اس سے بھی زیادہ گرم ہے۔ کاش ! وہ کچھ سمجھتے۔

Verse 81 — Surah At-Tawbah 9:81

تو انھیں چاہیے کہ ہنسیں تھوڑا اور روئیں زیادہ یہ سزا ہے جو وہ کمایا کرتے تھے۔

Verse 82 — Surah At-Tawbah 9:82

(اے حبیب!) پھر اگر لے جائے آپ کو اللہ تعالیٰ ان کے کسی گروہ کے پاس پر وہ اجازت طلب کریں آپ سے جہاد پر نکلنے کی تو آپ فرمائیے نہیں نکلو گے تم میرے ہمراہ کبھی اور ہرگز جنگ نہیں کروگے میری معیت میں کسی دشمن سے۔ تم نے تو (خود) پسند کیا تھا (گھر) بیٹھ رہنا پہلی مرتبہ تو اب بیٹھے رہو پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ۔

Verse 83 — Surah At-Tawbah 9:83

اور نہ پڑھیے نماز جنازہ کسی پر ان میں سے جو مرجائے کبھی اور نہ کھڑے ہوں اس کی قبر پر بیشک انھوں نے کفر کیا اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول مکرم کے ساتھ ۔ اور وہ مرے اس حالت میں کہ وہ نافرمان تھے۔

Verse 84 — Surah At-Tawbah 9:84

اور نہ تعجب میں ڈالیں آپ کو ان کے مال اور ان کی اولاد ۔ یہی چاہتا ہے اللہ تعالیٰ کہ عذاب دے انھیں ان سے دنیا میں اور نکلے ان کا سانس اس حال میں کہ وہ کافر ہوں۔

Verse 85 — Surah At-Tawbah 9:85

اور جب نازل کی جاتی ہے کوئی سورۃ (جس میں حکم ہوتا ہے کہ ) ایمان لاؤ اللہ پر اور جہاد کرو اللہ کے رسول کے ہمراہ تو اجازت طلب کرنے لگتے ہیں آپ سے جو طاقت والے ہیں ان میں سے اور کہتے ہیں رہنے دیجیے ہمیں تاکہ ہوں ہم پیچھے بیٹھنے والوں کے ساتھ۔

Verse 86 — Surah At-Tawbah 9:86

انھوں نے یہ پسند کیا کہ ہوجائیں پیچھے رہ جانے والوں کے سات اور مہر لگادی گئی ان کے دلوں پر تو وہ کچ نہیں سمجھتے۔

Verse 87 — Surah At-Tawbah 9:87

لیکن رسول اور جو ایمان لائے اس کے ساتھ انھوں نے جہاد کیا اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اور انہی کے لیے ساری بھلائیاں ہیں اور وہی لوگ کامیاب ہیں۔

Verse 88 — Surah At-Tawbah 9:88

تیار کر رکھے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے باغات ، بہتی ہیں ان کے نیچے ندیاں ہمیشہ رہنے والے ہیں ان میں۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔

Verse 89 — Surah At-Tawbah 9:89

اور آئے بہانہ بنانے والے بدو تاکہ اجازت مل جائے انھیں اور بیٹھ رہے وہ جنھوں نے جھوٹ بولا تھا اللہ اور اس کے رسول سے عنقریب پہنچے گا جنھوں نے کفر کیا ان میں سے عذاب دردناک۔

Verse 90 — Surah At-Tawbah 9:90

نہیں ہے کمزورں پر اور نہ بیماروں پر اور نہ ان پر جو نہیں پاتے مال جسے خرچ کریں (اگر یہ پیچھے رہ جائیں) کوئی حرج جبکہ وہ مخلص ہوں اللہ کیلیے اور اس کے رسول کے لیے نہیں ہے نیکوکاروں پر الزام کی کوئی وجہ اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

Verse 91 — Surah At-Tawbah 9:91

اور نہ ان پر (کوئی الزام ہے) جو جب حاضر ہوئے آپکے پاس تاکہ آپ سوار کریں انھیں تو فرمایا آپ نے میں نہیں پاتا جس پر میں تمھیں سوار کروں وہ لوٹتے ہیں اس حال میں کہ انکی آنکھیں بہارہی ہوتی ہیں آنسو اس غم میں کہ افسوس نہیں ان کے پاس جو وہ خرچ کریں۔

Verse 92 — Surah At-Tawbah 9:92

الزام تو بس ان لوگوں پر ہے جو اجازت مانگتے ہیں آپ سے حالانکہ وہ مالدار ہیں۔ وہ راضی ہوگئے اس پر کہ ہوجائیں پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ اور مہر لگادی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر پس وہ (کچھ ) نہیں جانتے۔

Verse 93 — Surah At-Tawbah 9:93

وہ بہانے پیش کریں گے تمھارے پاس جب تم لوٹ کر جاؤ گے ان کی طرف فرمائیے بہانے مت بناؤ ہم نہیں اعتبار کریں گے تم پر، آگا ہ کردیا ہے ہمین اللہ تعالیٰ نے تمھاری خبروں پر اور دیکھے گا اللہ تعالیٰ تمھارا عمل اور اس کا رسول پھر لوٹائے جاؤ گے اس کی طرف جو جاننے والا ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کو پھر وہ آگاہ کرے گا تمھیں جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

Verse 94 — Surah At-Tawbah 9:94

قسمیں کھائیں گے اللہ کی تمھارے سامنے جب تم لوٹو گے ان کی طرف تاکہ تم معاف کردو انھیں سو منہ پھیر لو ان سے یقیناً وہ ناپاک ہیں اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے ، بدلہ اس کا جو وہ کمایا کرتے تھے۔

Verse 95 — Surah At-Tawbah 9:95

وہ قسمیں کھاتے ہیں تمھارے لیے تاکہ تم خوش ہو جاؤ ان سے ۔ سو (یاد رکھو) اگر تم خوش ہو بھی گئے ان سے تو پھر بھی اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوگا نافرمانوں کو قوم سے۔

Verse 96 — Surah At-Tawbah 9:96

اعرابی زیادہ سخت ہیں کفر اور نفاق میں اور حقدار ہیں کہ نہ جانیں وہ احکام جو نازل کیے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا بڑا دانا ہے۔

Verse 97 — Surah At-Tawbah 9:97

اور بعض بدو ایسے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ جو وہ (راہ خدا میں ) خرچ کرتے ہیں وہ تاوان ہے اور منتظر ہیں تمھارے لیے (زمانہ کی ) گردشوں کے (حقیقت میں ) انہی پر ہے بری گردش اور اللہ تعالیٰ سمیع (و) علیم ہے۔

Verse 98 — Surah At-Tawbah 9:98

اور کچھ دیہاتیوں میں سے وہ ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور روز قیامت پر اور سمجھتے ہیں جو وہ خرچ کرتے ہیں قرب الٰہی اور رسول (پاک) کی دعائیں لینے کا ذریعہ ہے ہاں ہاں وہ ان کے لیے باعث قرب ہے۔ ضرور داخل فرمائے گا انہیں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں بیشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

Verse 99 — Surah At-Tawbah 9:99

اور سب سے آگے آگے سب سے پہلے ایمان لانے والے مہاجرین اور انصار سے اور جنھوں نے پیروی کی ان کی عمدگی سے راضی ہوگیا اللہ تعالیٰ ان سے اور راضی ہوگئے وہ اس سے اور اس نے تیار کر رکھے ہیں ان کے لیے باغات بہتی ہیں ان کے نیچے ندیاں ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک یہی بڑی کامیابی ہے۔

Verse 100 — Surah At-Tawbah 9:100

اور تمھارے آس پاس بسنے والے دیہاتیوں سے کچھ منافق ہیں اور کچھ مدینہ کے رہنے والے پکے ہوگئے ہیں نفاق میں تم نہیں جانتے ان کو۔ ہیں جانتے ہیں انھیں ہم عذاب دیں گے انھیں دوبار پھر وہ لوٹائے جائیں گے بڑے عذاب کی طرف ۔

Verse 101 — Surah At-Tawbah 9:101

کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اعتراف کرلیا ہے اپنے گناہوں کا۔ انھوں نے ملاجلادیئے ہیں کچھ اچھے اور کچھ برے عمل۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے ان کی توبہ بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔

Verse 102 — Surah At-Tawbah 9:102

اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) وصول کیجیے ان کے مالوں سے صدقہ تاکہ آپ پاک کریں انھیں اور بابرکت فرمائیں انھیں اس ذریعہ سے۔ نیز دعا مانگیے انکے لیے بیشک آپکی دعا (ہزار ) تسکین کا باعث ہے انکے لیے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

Verse 103 — Surah At-Tawbah 9:103

کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی توبہ قبول فرماتا ہے اپنے بندوں سے اور لیتا ہے صدقات کو۔ اور بیشک اللہ ہی بہت توبہ قبول کرنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔

Verse 104 — Surah At-Tawbah 9:104

اور فرمائیے عمل کرتے رہو ۔ پس دیکھے گا اللہ تعالیٰ تمھارے عملوں کو اور (دیکھے گا) اس کا رسول اور مومن اور لوٹائے جاو گے اس کی طرف جو جاننے والا ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر ہر چیز کا ۔ پس وہ خبردار کریگا تمھیں اس سے جو تم کیا کرتے تھے۔

Verse 105 — Surah At-Tawbah 9:105

اور دوسرے لوگ ہیں (جن کا معاملہ) ملتوی کردیا گیا ہے اللہ کا حکم (آنے) تک۔ چاہے وہ عذاب دے انہیں اور چاہے توبہ قبول فرمالے انکی۔

Verse 106 — Surah At-Tawbah 9:106

اور اللہ سب کچھ جاننے والا دانا ہے۔ اور وہ لوگ جنھوں نے بنائی ہے مسجد تقصان پہنچانے کے لیے کفر کرنے کے لیے اور پھوٹ ڈالنے کے لیے مومنوں کے درمیان اور (اسے) کمین گاہ بنایا ہے اس کے لیے جو لڑتا رہا ہے اللہ سے اور اس کے رسول سے اب تک اور وہ ضرور قسمیں کھائیں گے کہ نہیں ارادہ کیا ہم نے مگر بھلائی کا ور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ صاف جھوٹے ہیں۔

Verse 107 — Surah At-Tawbah 9:107

آپ نہ کھڑے ہوں کبھی اس میں البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے پہلے دن سے وہ زیادہ مستحق ہے کہ آپ کھڑے ہوں اس میں، اس میں ایسے لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں صاف ستھرا رہنے کو اور اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے پاک صاف لوگوں سے۔

Verse 108 — Surah At-Tawbah 9:108

تو کیا وہ شخص جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی اللہ کے تقویٰ پر اور (اس کی ) رضا جوئی پر بہتر ہے یا وہ جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی وادی کے کھوکھلے دہانے کے کنارے پر جو گرنے والا ہے پس وہ گر پڑا اسے لیکر دوزخ کی آگ میں اور اللہ تعالیٰ راہ حق پر نہیں چلات ظالم قوم کو۔

Verse 109 — Surah At-Tawbah 9:109

ہمیشہ ان کی یہ عمارت جو انھوں نے بنائی ہے کھٹکتی رہے گی ان کے دلوں میں مگر یہ کہ پارہ پارہ ہوجائیں ان کے دل اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔

Verse 110 — Surah At-Tawbah 9:110

یقیناً اللہ نے خرید لی ہے ایمانداروں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس عو ض میں کہ ان کے لیے جنت ہے لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں ۔ وعدہ کیا ہے اللہ نے اس پر پختہ وعدہ توراۃ اور انجیل اور قرآن (تینوں کتابوں) میں اور کون زیادہ پورا کرنے والا ہے اپنے وعدہ کو اللہ تعالیٰ سے (اے ایمان والو!) پس خوشیاں مناؤ اپنے اس سودے پر جو کیا ہے تم نے اللہ سے اور یہی تو سب سے بڑی فیروز مندی ہے۔

Verse 111 — Surah At-Tawbah 9:111

توبہ کرنے والے ، (اللہ کی ) عبادت کرنیوالے ، حمدوثنا کرنے والے روزہ رکھنے والے ، رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے ، نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے اور نگہبانی کرنیوالے اللہ کی (مقررہ) حدوں کی (اے میرے رسول!) خوشخبری سنادیجیے ان (کامل) مومنوں کو۔

Verse 112 — Surah At-Tawbah 9:112

درست نہیں ہے نبی کے لیے اور نہ ایمان والوں کے لیے کہ مغفرت طلب کریں مشرکوں کے واسطے اگرچہ وہ مشرک ان کے قریبی رشتہ دار ہی ہوں جب کہ واضح ہوگیا ان پر کہ یہ دوزخی ہیں۔

Verse 113 — Surah At-Tawbah 9:113

اور نہ تھی استغفار ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے مگر ایک وعدہ (کو پورا کرنے) کی وجہ سے انھوں نے اس سے کیا تھا ۔ اور جب ظاہر ہوگئی آپ پر یہ بات کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے تو آپ بیزار ہوگئے اس سے بیشک ابراہیم بڑے ہی نرم دل (اور ) بردبار تھے۔

Verse 114 — Surah At-Tawbah 9:114

اور نہیں ہے اللہ تعالیٰ کا دستور کہ گمراہ کردے کسی قوم کو اسے ہدایت دینے کے بعد یہاں تک کہ بیان کردے ان کے لیے وہ چیزیں جن سے انہیں بچنا چاہیے بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے ۔

Verse 115 — Surah At-Tawbah 9:115

بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے (ساری) بادشاہی آسمانوں اور زمین کی۔ وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے اور نہیں ہے تمھارے لیے اللہ کے سوا کوئی حامی اور نہ کوئی مدد گار۔

Verse 116 — Surah At-Tawbah 9:116

یقیناً رحمت سے توجہ فرمائی اللہ تعالیٰ نے (اپنے) نبی پر نیز مہاجرین اور انصار پر جنھوں نے پیروی کی تھی نبی کی مشکل گھڑی میں اس کے بعد کہ قریب تھا کہ ٹیڑھے ہوجائیں دل ایک گروہ کے ان میں سے پھر رحمت سے توجہ فرمائی ان پر، بیشک وہ ان سے بہت شفقت کرنیوالا رحم فرمانے والا ہے۔

Verse 117 — Surah At-Tawbah 9:117

اور تینوں پر بھی نظر رحمت فرمائی جن کا فیصلہ ملتوی کردیا گیا تھا یہاں تک کہ جب تنگ ہوگئی ان پر زمین باوجود کشادگی کے اور بوجھ بن گئیں ان پر ان کی جانیں اور جان لیا انھوں نے کہ نہیں کوئی جائے پناہ اللہ تعالیٰ سے مگر اسی کی ذات۔ تب اللہ تعالیٰ ان پر مائل بکرم ہوا تاکہ وہ بھی رجوع کریں۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی بہت توبہ قبول فرمانیوالا (اور) ہمیشہ رحم کرنیوالا ہے۔

Verse 118 — Surah At-Tawbah 9:118

اے ایمان والوں ! ڈرتے رہا کرو اللہ سے اور ہوجاؤ سچے لوگوں کے ساتھ۔

Verse 119 — Surah At-Tawbah 9:119

نہیں مناسب تھا مدینہ والوں کے لیے اور جو ان کے اردگرد دیہاتی لوگ ہیں کہ پیچھے بیٹھ رہتے اللہ کے رسول پاک سے اور نہ یہ کہ متوجہ ہونے اپنے نفسوں کی طرف ان سے بےفکر ہوکر۔ یہ اس لیے کہ نہیں پہنچتی انھیں کوئی پیاس اور نہ کوئی تکلیف اور نہ بھوک راہ خدا میں اور نہ و چلتے ہیں کسی چلنے کی جگہ جس سے کافروں کو غصہ آئے اور نہیں حاصل کرتے وہ دشمن سے کچھ مگر یہ کہ لکھا جاتا ہے ان کے لیے ان (تمام تکلیفوں) کے عوض نیک عمل بیشک اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرتا نیکوں کا اجر۔

Verse 120 — Surah At-Tawbah 9:120

اور وہ مجاہدین نہیں خرچ کرتے تھوڑا اور نہ زیادہ اور نہ طے کرتے ہیں کسی وادی کو مگر یہ کہ لکھ لیا جاتا ہے ان کے لیے تاکہ صلہ دے انھیں اللہ تعالیٰ بہترین ، ان کا موں کا جو وہ کیا کرتے تھے۔

Verse 121 — Surah At-Tawbah 9:121

اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن نکل کھڑے ہوں سارے کہ سارے تو کیوں نہ نکلے ہر قبیلہ سے چند آدمی تاکہ تفقہ حاصل کریں دین میں اور ڈرائیں اپنی قوم کو جب لوٹ کر آئیں ان کی طرف تاکہ وہ (نافرمانیوں سے ) بچیں۔

Verse 122 — Surah At-Tawbah 9:122

اے ایمان والو! جنگ کرو ان کافروں سے جو آس پاس ہیں تمھارے اور چاہیے کہ وہ پائیں تم میں سختی اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

Verse 123 — Surah At-Tawbah 9:123

اور جب کبھی نازل ہوتی ہے کوئی سورۃ تو بعض ان میں سے وہ ہیں جو (شرارتاً) کہتے ہیں کہ کس کا تم میں سے زیادہ کردیا ہے اس سورۃ نے ایمان تو وہ (سن لیں) ایمان والوں کے ایمان میں اس سورۃ نے اضافہ کردیا ہے اور وہ خوشیاں منا رہے ہیں۔

Verse 124 — Surah At-Tawbah 9:124

اور جن کے دلوں میں (نفاق کا ) روگ ہے تو بڑھادی اس سورۃ نے ان میں اور پلیدی ان کے (سابقہ) پلیدی پر اور وہ مرگئے اس حال میں کہ وہ کافر تھے۔

Verse 125 — Surah At-Tawbah 9:125

کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں ہر سال ایک بار یا دو بار پھر بھی وہ توبہ نہیں کرتے اور نہ وہ نصیحت قبول کرتے ہیں۔

Verse 126 — Surah At-Tawbah 9:126

اور جب کوئی سورۃ نازل ہوتی ہے تو دیکھنے لگتے ہیں ایک دوسرے کی طرف کیا دیکھ تو نہیں رہا تمھیں کوئی پھر چل دیتے ہیں ۔ پھیر دیئے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کیونکہ یہ لوگ کچھ نہیں سمجھتے۔

Verse 127 — Surah At-Tawbah 9:127

بیشک تشریف لایا ہے تمھارے پاس ایک برگزیدہ رسول تم میں سے گراں گزرتا ہے اس پر تمھارا مشقت میں پڑنا بہت ہی خواہشمند ہے تمھاری بھلائی کا مومنوں کے ساتھ بڑی مہربانی فرمانے والا ، بہت رحم فرمانے والا ہے۔

Verse 128 — Surah At-Tawbah 9:128

(اے حبیب!) پھر اگر منہ موڑلیں تو آپ فرمادیں کافی ہے مجھے اللہ نہیں کوئی معبود بجز اس کے اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔

Verse 129 — Surah At-Tawbah 9:129

الف۔ لام۔ را یہ آیتیں ہیں کتاب حکیم کی ۔