اور اعلان عام ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے سب لوگوں کے لیے بڑے حج کے دن کہ اللہ تعالیٰ بری ہے مشرکوں سے۔ اور اس کا رسول بھی اب بھی اگر تم تائب ہوجاؤ تو یہ بہتر ہے تمھارے لیے اور اگر تم منہ پھیرے رہو تو خوب جان لو کہ تم نہیں عاجز کرنے والے اللہ تعالیٰ کو اور خوش خبری سنا دو کافرورں کو دردنکاک عذاب کی۔
بجز ان مشرکوں کے جن سے تم نے معاہدہ کیا پھر انھوں نے نہ کی تمھارے ساتھ ذرہ بھر اور نہ انھوں نے مدد کی تمھارے خلاف کسی کی۔ تو پورا کرو ان سے ان کا معاہدہ ان کی مدت (مقررہ) تک۔ بیشک اللہ تعالیٰ دوست رکھتا ہے پرہیزگاروں کو۔
پھر جب گرزجائیں حر مت والے مہینے تو قتل کرو مشرکین کو جہاں بھی تم پاؤ انھیں اور گرفتار کرو انھیں اور گھیرے میں لے لو انھیں اور بیٹھوان کی تاک میں ہر گھات کی جگہ۔ پھر اگر یہ توبہ کرلیں اور قائم کریں نماز اور ادا کریں زکوٰۃ تو چھوڑ دو ان کا راستہ ۔ بےشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔
اور اگر کوئی شخص مشرکوں میں سے پناہ طلب کرے آپ سے تو پناہ دیجیے اسے تاکہ وہ سنے اللہ کا کلام پھر پہنچادیجیے اسے اس کی امن گاہ میں یہ حکم اس لیے ہے کہ وہ ایسی قوم ہیں جو (قرآن کو ) نہیں جانتے۔
کیونکر ہوسکتا ہے (ان عہد شکن) مشرکوں کے لیے کوئی معاہدہ اللہ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک سوائے ان لوگوں کے جن سے تم نے معاہدہ کیا ہے مسجد حرام کے پاس تو جب تک وہ قائم رہیں معاہدہ پر تم بھی قائم رہو ان کے لیے بیشک اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے پرہیزگاروں سے۔
کیونکر (انکے معاہدہ کا لحاظ رکھا جائے) حالانکہ اگر وہ غالب آجائیں تم پر تو نہ لحاظ کریں تمھارے بارے میں کسی رشتہ داری کا اور نہ کسی عہد کا راضی کرنا چاہتے ہیں تمھیں (صرف) اپنے منہ (کی باتوں ) سے اور انکار کررہے ہیں انکے دل اور اکثر ان میں سے فاسق ہیں۔
پس اگر یہ توبہ کرلیں اور قائم کریں نماز اور ادا کریں زکوٰۃ تو تمھارے بھائی ہیں دین میں۔ اور ہم کھول کر بیان کرتے ہیں (اپنی آیتیں) اس قوم کے لیے جو علم رکھتی ہے۔
اور اگر یہ لوگ توڑدیں اپنی قسمیں اپنے معاہدہ کے بعد اور طعن کریں تمھارے دین پر تو جنگ کرو کفر کے پیشواؤں سے بیشک ان لوگوں کی کوئی قسمیں نہیں ہیں (ایسوں سے جنگ کرو ) تاکہ یہ لوگ (عہد شکنی سے) باز آجائیں۔
کیا نہیں جنگ کروگے تم اس قوم کے ساتھ جنھوں نے توڑڈالا اپنی قسموں کو اور ارادہ کیا انھوں نے رسول کو نکال دینے کا اور انہی نے آغاز کیا تھا تم پر (زیادتی کا ) پہلی مرتبہ ۔ کیا تم ڈرتے ہو ان سے (سنو) اللہ تعالیٰ زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر ہو تم (سچے) ایماندار۔
جنگ کرو ان سے عذاب دیگا انھیں اللہ تعالیٰ تمھارے ہاتھوں سے اور رسسوا کریگا انہیں اور مدد کریگا تمھار ی انکے مقابلے میں اور (یوں) صحتمند کردیگا اس جماعت کے سینوں کو جو اہل ایمان ہے۔
کیا تم یہ خیال کررہے ہو کہ تمھیں (یونہی) چھوڑ دیا جائیگا حالانکہ ابھی تک پہچان نہیں کرائی اللہ نے ان کی جو جہاد کرینگے تم میں سے اور جنھوں نے نہیں بنایا بغیر اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کے (کسی کو اپنا) محرم راز۔ اور اللہ تعالیٰ خبردار ہے جو تم کرتے ہو ۔
نہیں ہے روا مشرکوں کے لیے کہ وہ آباد کریں اللہ کی مسجدوں کو حالانکہ وہ خود گواہی دے رہے ہیں اپنے نفسوں پر کفر کی۔ یہ وہ (بد نصیب) ہیں ضائع ہوگئے جن کے تمام اعمال ۔ اور (دوزخ کی) آگ میں ہی یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
صرف وہی آباد کرسکتا ہے اللہ کی مسجدوں کو جو ایمان لایا ہو اللہ پر اور روز قیامت پر اور قائم کیا نماز کو اور ادا کیا زکوٰۃ کو اور نہ ڈرتا ہو اللہ کے سوا کسی سے پس امید ہے کہ یہ لوگ ہوجائیں ہدایت پانے والوں سے۔
کیا تم نے ٹھیرا لیا ہے حاجیوں کو پانی پلانے (والے ) کو اور مسجد حرام کے آباد کرنے (والے) کو اس شخص کی مانند جو ایمان لے آیا اللہ پر اور روز قیامت پر اور جہاد کیا اس نے اللہ کی راہ مں وہ نہیں یکساں اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور اللہ تعالیٰ نہیں ہدایت دیتا ان لوگوں کو جو ظالم ہیں۔
جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور جہاد کیا راہ خدا میں اپنے مالوں اور جانوں سے بہت بڑا ہے (ان کا ) درجہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور یہی ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔
اے ایمان والو! نہ بنالو اپنے باپوں اور بھائیوں کو دلی دوست اگر وہ پسند کریں کفر کو ایمان پر اور جو دوست بناتا ہے انھیں تم میں سے تو وہی لوگ ظلم کرنے والے ہیں۔
اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) !) آپ فرمائیے اگر ہیں تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اور تمھارا کنبہ اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ کاروبار اندیشہ کرتے ہو جس کے مندے کا اور وہ مکانات جن کو تم پسند کرتے ہو زیادہ پیارے ہیں تمھین اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ مین جہاد کرنے سے تو انتظار کرو یہاں تک کہ لے آئے اللہ تعالیٰ اپنا حکم اور اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا اس قوم کو جو نافرمان ہے۔
بیشک مدد فرمائی تمھارے اللہ نے بہت سے جنگی میدانوں میں اور حنین کے روز بھی جبکہ گھمنڈ میں ڈال دیا تھا تمھیں تمھاری کثرت نے پس نہ فائدہ دیا تمہیں (اس کثرت نے ) کچھ بھی اور تنگ ہوگئی تم پر زمین باوجود اپنی وسعت کے۔ پھر تم مڑے پیٹھ پھیر تے ہوئے۔
پھر نازل فرمائی اللہ نے اپنی (خاص) تسکین اپنے رسول پر اور اہل ایمان پر اور اتارے وہ لشکر جنھیں تم نہ دیکھ سکے اور عذاب دیا کافروں کو۔ اور یہی سزا ہے کافروں کی۔
اے ایمان والو! مشرکین تو نرے ناپاک ہیں سو وہ قریب نہ ہونے پائیں مسجد حرام سے اس سال کے بعد اور اگر تم اندیشہ کرو تنگدستی کا تو غنی کردیگا تمہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کر م سے اگر چاہے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا بڑا دانا ہے ۔
جنگ کرو ان لوگوں سے جو نہیں ایمان لاتے اللہ پر اور نہ روز قیامت پر اور نہیں حرام سمجھتے جسے حرام کیا ہے اللہ نے اور اس کے رسول نے اور نہ قبول کرتے ہیں سچے دین کو ان لوگوں میں سے جنھیں کتاب دی گئی ہے یہاں تک کہ وہ جزیہ اپنے ہاتھ سے اس حال میں کہ وہ مغلوب ہوں ۔
اور کہا یہود نے کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور کہا نصرانیوں نے کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ ان کی (بے سروپا) بات ہے انکے مونہوں سے نکلی ہوئی نقل اتاررہے ہیں ان لوگوں کے قول کی جنہوں نے کفر کیا پہلے ہلاک کرے انھیں اللہ تعالیٰ ، کدھر بھٹکے چلے جارہے ہیں۔
انھوں نے بنالیا اپنے پادریوں اور اپنے راہبوں کو (اپنے) پروردگار اللہ کو چھوڑ کر اور مسیح فرزند مریم کو بھی۔ حالانکہ نہیں حکم دیا گیا تھا انھیں بجز اس کے کہ وہ عبادت کریں (صرف) ایک خدا کی۔ نہیں کوئی خدا بغیر اس کے وہ پاک ہے اس سے جسے وہ اس کا شریک بناتے ہیں۔
(یہ لوگ) چاہتے ہیں کہ بجھادیں اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے اور انکار فرماتا ہے اللہ مگر یہ کہ کمال تک پہنچا دے اپنے نور کو اگرچہ ناپسند کرین (اس کو ) کافر۔
اے ایمان والوں ! بیشک اکثر پادری اور راہب کھاتے ہیں لوگوں کے مال ناجائز طریقے سے اور روکتے ہیں (لوگوں) کو راہ خدا سے اور جو لوگ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور نہیں خرچ کرتے اسے اللہ کی راہ میں تو انھیں خوشخبری سنادیجیے دردناک عذاب کی۔
جس دن تپایا جائے گا (یہ سونا اور چاندی ) جہنم کی آگ میں پھر داغی جائیں گی اس سے اُ ن کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور ان کی پشتیں ( اور انھیں بتایا جائیگا) کہ یہ ہے جو تم نے جمع کر رکھا تھا اپنے لیے تو (اب ) چکھو (سزا اس کی ) جو تم جمع کیا کرتے تھے۔
بیشک مہینوں کی تعداد اللہ تعالیٰ کے نزدیک بارہ ماہ ہے کتاب الٰہی میں جس روز سے اس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو، ان میں سے چار عزت والے ہیں۔ یہی دین قیم ہے پس نہ ظلم کرو ان مہینوں میں اپنے آپ پر اور جنگ کرو تمام مشرکوں سے جس طرح وہ سب تم سے جنگ کرتے ہیں اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔
(حرمت والے مہینوں کو ) ہٹا دینا تو اور اضافہ کرنا ہے کفر میں۔ گمراہ کیے جاتے ہیں اس سے وہ لوگ جو کافر ہیں حلال کردیتے ہیں ایک ماہ کو ایک سال اور حرام کردیتے ہیں اسی کو دوسرے سال تاکہ پوری کریں گنتی ان مہینوں کی جنھیں حرام کیا ہے اللہ نے تاکہ اس حیلہ سے حلال کرلیں جسے حرام کیا ہے اللہ نے آراستہ کردیے گئے ہیں انکے لیے انکے برے عمال اور اللہ ہدایت نہیں دیتا اس قوم کو جو کفر اختیار کیے ہوئے ہے۔
اے ایمان والو! کیا ہوگیا ہے تمھیں کہ جب کہا جاتا ہے تمھیں نکلو راہ خدا میں تو بوجھل ہوکر زمین کی طرف جھک جاتے ہو۔ کیا تم نے پسند کرلی ہے دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں۔ سو نہیں ہے سروسامان دینوی زندگی کا آخر ت میں مگر قلیل۔
اگر تم نہیں نکلو گے تو اللہ عذاب دیگا تمھیں دردناک عذاب ۔ اور بدل کر لے آئیگا کوئی دوسری قوم تمھارے علاوہ اور تم نہ بگاڑ سکو گے اس کا کچھ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔
اگر تم مدد نہ کر و گے رسول کریم کی تو (کیا ہوا) انکی مدد فرمائی ہے خود اللہ نے جب نکالا تھا ان کو کفار نے۔ آپ دوسرے تھے دو سے جب وہ دونون غارِ (ثور) میں تھے جب وہ فرمارہے تھے اپنے رفیق کو کہ مت غمگین ہو یقیناً اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ پھر نازل کی اللہ نے اپنی تسکین ان پر اور مدد فرمائی ان کی ایسے لشکروں سے جنھیں تم نے نہ دیکھا اور کردیا کافروں کی بات کو سرنگوں اور اللہ کی بات ہی ہمیشہ سربلند ہے۔ اور اللہ تعالیٰ غالب ہے حکمت والا ہے ۔
(جہاد کے لیے) نکلو (ہر حال میں ) ہلکے ہو یا بوجھل اور جہاد کرو اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں ۔ یہ بہتر ہے تمھارے لیے اگر تم (اپنا نفع و نقصان ) جانتے ہو۔
اگر ہوتا وہ مال نزدیک یا سفر آسان تو ضرور پیچھے چلتے آپ کے ، لیکن دور معلوم ہوتی ہے انھیں مسافت اور ابھی قسم کھائیں گے اللہ کی (اور کہیں گے) کہ اگر ہم میں طاقت ہوتی تو ہم ضرور نکلتے تمھارے ساتھ۔ ہلاک کررہے ہیں اپنے آپ کو ۔ اور اللہ جانتا ہے کہ وہ قطعاً جھوٹے ہیں۔
نہ اجازت مانگیں گے آپ سے جو ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور روز قیامت پر کہ (نہ ) جہاد کریں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے پرہیزگاروں کو۔
اور اگر انھوں نے ارادہ کیا ہوتا (جہاد پر) نکلنے کا تو انھوں نے تیار کیا ہوتا اس کے لیے کچھ سامان لیکن ناپسند کیا اللہ تعالیٰ نے انکے کھڑے ہونے کو اسلیے پست ہمت کردیا انھیں اور کہہ دیا گیا تم بیٹھے رہو، بیٹھے رہنے والوں کے ساتھ۔
اگر نکلتے تمھارے (لشکر) میں تو نہ زیادہ کرتے تم میں بجز فساد کے اور دوڑ دھوپ کرکے تمھارے درمیان فتنہ پردازی کرتے۔ اور تم میں ان کے جاسوس (اب بھی) موجود ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ خوب جاتنا ہے ظالموں کو ۔
اور ان میں سے بعض کہتے ہیں اجازت دیجیے مجھے (کہ گھر ٹھیرا رہوں) اور مجھے فتنہ میں نہ ڈالیے خبردار فتنہ میں تو وہ گر چکے اور بیشک جہنم گھیرے ہوئے ہے کافروں کو ۔
اگر پہنچے آپ کو کچھ بھلائی تو بری لگتی ہے انھیں اور اگر پہنچے آپ کو کوئی مصیبت تو کہیں کہ ہم نے درست کرلیا تھا اپنا کام پہلے ہی اور لوٹتے ہیں خوشیاں مناتے ہوئے۔
آپ فرمائیے ہرگز نہیں پہنچے گی ہمیں کوئی تکلیف بجز اس کے جو لکھ دی ہے اللہ نے ہمارے لیے ۔ وہی ہمارا حامی و ناصر ہے اور اللہ پر ہی توکل کرنا چاہیے مومنوں کو ۔
فرمائیے کیا تم منتظر ہو ہمارے متعلق (کہ ہم مارے جائیں۔ یہ مرنا نہیں) مگر ایک بھلائی ان دو بھلائیوں سے (جنکے ہم خواہاں ہیں) اور ہم انتظار کرتے ہیں تمھارے لیے کہ پہنچائے تمھیں اللہ عذاب اپنے پاس سے یا ہمارے ہاتھوں سے۔ پس تم بھی انتظار کرو ہم بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنیوالے ہیں۔
اور نہیں منع کیا ہے انھیں کہ قبول کیے جائیں ان سے ان کے اخراجات سوائے اس کے کہ انھوں نے کفر کیا اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ اور نہیں آتے نماز ادا کرنے کے لیے مگر سست سُست اور نہیں خرچ کرتے مگر اس حال میں کہ وہ ناخوش ہیں۔
سو نہ تعجب میں ڈال دیں تمھیں ان کے مال اور نہ ان کی اولاد یہی چاہتا ہے اللہ تعالیٰ کہ عذاب دے انھیں ان چیزوں سے دینوی زندگی میں اور نکلے ان کا سانس اس حال میں کہ وہ کافر ہوں۔
اور بعض ان میں طعن کرتے ہیں آپ پر صدقات (کی تقسیم) کے بارے میں سو اگر انھیں دیا جائے ان سے تو خوش ہوجاتے ہیں اور اگر انھیں نہ دیا جائے اس سے تو اس وقت وہ ناراض ہوجاتے ہیں۔
اور (کیا اچھا ہوتا) اگر وہ خوش ہوجاتے اس سے جو دیا تھا انھیں اللہ اور اس کے رسول نے اور کہتے کافی ہے ہمیں اللہ تعالیٰ۔ عطا فرمائے گا ہمیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اور اس کا رسول ہم تو اللہ کی طرف ہی رغبت کرنیوالے ہیں۔
زکوۃ تو صرف ان کے لیے ہے جو فقیر ، مسکین اور زکوٰۃ کے کام پر جانے والے ہیں۔ اور جن کی دلداری مقصود ہے نیز گردنوں کو آزاد کرانے اور مقروضوں کے لیے اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لیے یہ سب فرض ہے اللہ کی طرف سے۔ اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا دانا ہے۔
اور کچھ ان میں سے ایسے ہیں جو (اپنی بدزبانی سے) اذیت دیتے ہیں نبی (کریم) کو اور کہتے ہیں یہ کانوں کا کچا ہے ۔ فرمائیے وہ سنتا ہے جس میں بھلا ہے تمھارا ، یقین رکھتا ہے اللہ پر اور یقین کرتا ہے مومنوں (کی بات ) پر اور سراپا رحمت ہے ان کے لیے جو ایمان لائے تم میں سے اور جو لوگ دکھ پہنچاتے ہیں اللہ کے رسول کو۔ ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
ڈرتے رہتے ہیں منافق کہ کہیں نازل (نہ) کی جائے اہل ایمان پر کوئی سورۃ جو آگا ہ کردے انھیں جو کچھ منافقوں کے دلوں میں ہے۔ آپ (انھیں) فرمائیے کہ مذاق کرتے رہو۔ یقیناً اللہ ظاہر کرنے والا ہے جس سے تم خوفزدہ ہو۔
اور اگر آپ دریافت فرمائیں ان سے تو کہیں گے بس ہم تو صرف دلی لگی اور خوش طبعی کررہے تھے۔ آپ فرمائیے (گستاخو!) کیا اللہ سے اور اس کی آیتوں سے اور اس کے رسول سے تم مذاق کیا کرتے تھے؟ ۔
(اب) بہانے مت بناؤ تم کافر ہوچکے (اظہار) ایمان کے بعد اگر ہم معاف بھی کردیں ایک گروہ کو تم میں سے تو عذاب دیں گے دوسرے گروہ کو کیونکہ وہی (اصلی) مجرم تھے۔
منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک جیسے ہیں حکم دیتے ہیں برائی کا اور روکتے ہیں نیکی سے اور بند رکھتے ہیں اپنے ہاتھ (حقیقت یہ ہے کہ ) انھوں نے بھلادیا ہے اللہ کو تو اس نے بھی فراموش کردیا ہے انھیں بیشک منافق ہی نافرمان ہیں۔
وعدہ کیا ہے اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کفار سے دوزخ کی آگ کا ، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں۔ یہی کافی ہے انھیں نیز لعنت کی ہے ان پر اللہ نے اور انہی کے لیے دائمی عذاب ۔
(منافقو!) تمھاری حالت بھی اسیس ہے جسیے ان لوگوں کی جو تم سے پہلے گزرے وہ زیادہ تھے تم سے قوت میں اور مال اور اولاد کی کثرت میں سو لطف اٹھایا انھوں نے اپنے (دینوی) حصہ سے اور تم نے بھی لطف اٹھایا اپنے (دینوی) حصہ اور (لذتوں میں) تم بھی ڈوبے رہے جیسے وہ ڈوبے رہے تھے ۔ یہی وہ لوگ ہیں ضائع ہوگئے جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں۔ اور یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔
کیا نہ آئی ان کے پاس خبر ان لوگوں کی جو ان سے پہلے گزرے (یعنی ) قوم نوح اور عاد اور ثمود اور قوم ابراھیم اور اہل مدین اور وہ بستیاں جنھیں الٹ دیا گیا تھا ۔ آئے تھے ان سب کے پاس انکے رسول روشن دلیلیں لیکر اور نہ تھا اللہ (کا یہ دستور) کہ ظلم کرتا ان پر بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہتے تھے۔
نیز مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں حکم کرتے ہیں نیکی کا اور روکتے ہیں برائی سے اور صحیح صحیح ادا کرتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکوٰۃ اور اطاعت کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی۔ یہی لوگ ہیں جن پر ضرور رحم فرمائے گا اللہ بیشک اللہ تعالیٰ غالب ہے حکمت والا ہے۔
وعدہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے باغات کا، رواں ہیں جن کے نیچے ندیاں ۔ یہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ۔ نیز (وعدہ کیا ہے ) پاکیزہ مکانات کا سدا بہار باغوں میں اور رضائے خداوندی ان سب نعمتوں سے بڑی ہے یہی تو بڑی کامیابی ہے۔
قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ انھوں نے یہ نہیں کہا حالانکہ یقیناً انھوں نے کہی تھی کفر کی بات اور انھوں نے کفر اختیار کیا اسلام لانے کے بعد اور انھوں نے ارادہ بھی کیا ایسی چیز کا جسے وہ نہ پاسکے اور نہیں خشمناک ہوئے وہ مگر اس پر کہ غنی کردیا انھیں اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے اپنے فضل و کرم سے سو اگر وہ توبہ کرلیں تو یہ بہتر ہوگا ان کے لیے اور اگر وہ روگردانی کریں تو عذاب دیگا انھیں اللہ تعالیٰ عذاب الیم۔ دنیا اور آخرت میں اور نہیں ہوگا ان کے روئے زمین میں کوئی دوست اور نہ کوئی مددگار۔
اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے وعدہ کیا اللہ کے ساتھ کہ اگر اس نے دیا ہمیں اپنے فضل سے تو ہم دل کھول کر خیرات دیں گے اور ضرور ہوجائیں گے نیکو کاروں میں ۔
پس اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ نے نفاق جما دیا ان کے دلوں میں اس دن تک جب ملیں گے اس کو اس وجہ سے کہ انھوں نے خلاف ورزی کی اللہ سے جو وعدہ انھوں نے کیا تھا اور اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔
جو لوگ (ریا کاری کا ) الزام لگاتے ہیں خوشی خوشی خیرات کرنے والوں پر مومنوں سے اور جو (نادار) نہیں پاتے بجز اپنی محنت و مشقت کی مزدوری کے تو یہ ان کا بھی مذاق اڑاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سزادے گا انہیں اس مذاق کی اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
آپ بخشش طلب کریں ان کے لیے یا نہ کریں اگر آپ بخشش طلب کریں ان کے لیے ستر بار جب بھی نہ بخشے گا اللہ تعالیٰ انھیں۔ یہ محض اس لیے کہ انھوں نے انکار کیا اللہ کا اور اس کے رسول (مکرم) کا ۔ اور اللہ تعالیٰ نہیں ہدایت دیتا نافرمان قوم کو۔
خوش ہوگئے پیچھے چھوڑے جانے والے اپنے (گھر) بیٹھے رہنے پر اللہ کے رسول کی (جہاد پر ) روانگی کے بعد اور ناگوار تھا انھیں کہ جہاد کریں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے راہ خدا میں اور (دوسروں کو بھی) کہتے کہ مت نکلو اس سخت گرمی میں فرمائیے دوزخ کی آگ اس سے بھی زیادہ گرم ہے۔ کاش ! وہ کچھ سمجھتے۔
(اے حبیب!) پھر اگر لے جائے آپ کو اللہ تعالیٰ ان کے کسی گروہ کے پاس پر وہ اجازت طلب کریں آپ سے جہاد پر نکلنے کی تو آپ فرمائیے نہیں نکلو گے تم میرے ہمراہ کبھی اور ہرگز جنگ نہیں کروگے میری معیت میں کسی دشمن سے۔ تم نے تو (خود) پسند کیا تھا (گھر) بیٹھ رہنا پہلی مرتبہ تو اب بیٹھے رہو پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ۔
اور نہ پڑھیے نماز جنازہ کسی پر ان میں سے جو مرجائے کبھی اور نہ کھڑے ہوں اس کی قبر پر بیشک انھوں نے کفر کیا اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول مکرم کے ساتھ ۔ اور وہ مرے اس حالت میں کہ وہ نافرمان تھے۔
اور نہ تعجب میں ڈالیں آپ کو ان کے مال اور ان کی اولاد ۔ یہی چاہتا ہے اللہ تعالیٰ کہ عذاب دے انھیں ان سے دنیا میں اور نکلے ان کا سانس اس حال میں کہ وہ کافر ہوں۔
اور جب نازل کی جاتی ہے کوئی سورۃ (جس میں حکم ہوتا ہے کہ ) ایمان لاؤ اللہ پر اور جہاد کرو اللہ کے رسول کے ہمراہ تو اجازت طلب کرنے لگتے ہیں آپ سے جو طاقت والے ہیں ان میں سے اور کہتے ہیں رہنے دیجیے ہمیں تاکہ ہوں ہم پیچھے بیٹھنے والوں کے ساتھ۔
اور آئے بہانہ بنانے والے بدو تاکہ اجازت مل جائے انھیں اور بیٹھ رہے وہ جنھوں نے جھوٹ بولا تھا اللہ اور اس کے رسول سے عنقریب پہنچے گا جنھوں نے کفر کیا ان میں سے عذاب دردناک۔
نہیں ہے کمزورں پر اور نہ بیماروں پر اور نہ ان پر جو نہیں پاتے مال جسے خرچ کریں (اگر یہ پیچھے رہ جائیں) کوئی حرج جبکہ وہ مخلص ہوں اللہ کیلیے اور اس کے رسول کے لیے نہیں ہے نیکوکاروں پر الزام کی کوئی وجہ اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔
اور نہ ان پر (کوئی الزام ہے) جو جب حاضر ہوئے آپکے پاس تاکہ آپ سوار کریں انھیں تو فرمایا آپ نے میں نہیں پاتا جس پر میں تمھیں سوار کروں وہ لوٹتے ہیں اس حال میں کہ انکی آنکھیں بہارہی ہوتی ہیں آنسو اس غم میں کہ افسوس نہیں ان کے پاس جو وہ خرچ کریں۔
الزام تو بس ان لوگوں پر ہے جو اجازت مانگتے ہیں آپ سے حالانکہ وہ مالدار ہیں۔ وہ راضی ہوگئے اس پر کہ ہوجائیں پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ اور مہر لگادی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر پس وہ (کچھ ) نہیں جانتے۔
وہ بہانے پیش کریں گے تمھارے پاس جب تم لوٹ کر جاؤ گے ان کی طرف فرمائیے بہانے مت بناؤ ہم نہیں اعتبار کریں گے تم پر، آگا ہ کردیا ہے ہمین اللہ تعالیٰ نے تمھاری خبروں پر اور دیکھے گا اللہ تعالیٰ تمھارا عمل اور اس کا رسول پھر لوٹائے جاؤ گے اس کی طرف جو جاننے والا ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کو پھر وہ آگاہ کرے گا تمھیں جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔
قسمیں کھائیں گے اللہ کی تمھارے سامنے جب تم لوٹو گے ان کی طرف تاکہ تم معاف کردو انھیں سو منہ پھیر لو ان سے یقیناً وہ ناپاک ہیں اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے ، بدلہ اس کا جو وہ کمایا کرتے تھے۔
وہ قسمیں کھاتے ہیں تمھارے لیے تاکہ تم خوش ہو جاؤ ان سے ۔ سو (یاد رکھو) اگر تم خوش ہو بھی گئے ان سے تو پھر بھی اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوگا نافرمانوں کو قوم سے۔
اعرابی زیادہ سخت ہیں کفر اور نفاق میں اور حقدار ہیں کہ نہ جانیں وہ احکام جو نازل کیے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا بڑا دانا ہے۔
اور بعض بدو ایسے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ جو وہ (راہ خدا میں ) خرچ کرتے ہیں وہ تاوان ہے اور منتظر ہیں تمھارے لیے (زمانہ کی ) گردشوں کے (حقیقت میں ) انہی پر ہے بری گردش اور اللہ تعالیٰ سمیع (و) علیم ہے۔
اور کچھ دیہاتیوں میں سے وہ ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور روز قیامت پر اور سمجھتے ہیں جو وہ خرچ کرتے ہیں قرب الٰہی اور رسول (پاک) کی دعائیں لینے کا ذریعہ ہے ہاں ہاں وہ ان کے لیے باعث قرب ہے۔ ضرور داخل فرمائے گا انہیں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں بیشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔
اور سب سے آگے آگے سب سے پہلے ایمان لانے والے مہاجرین اور انصار سے اور جنھوں نے پیروی کی ان کی عمدگی سے راضی ہوگیا اللہ تعالیٰ ان سے اور راضی ہوگئے وہ اس سے اور اس نے تیار کر رکھے ہیں ان کے لیے باغات بہتی ہیں ان کے نیچے ندیاں ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک یہی بڑی کامیابی ہے۔
اور تمھارے آس پاس بسنے والے دیہاتیوں سے کچھ منافق ہیں اور کچھ مدینہ کے رہنے والے پکے ہوگئے ہیں نفاق میں تم نہیں جانتے ان کو۔ ہیں جانتے ہیں انھیں ہم عذاب دیں گے انھیں دوبار پھر وہ لوٹائے جائیں گے بڑے عذاب کی طرف ۔
کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اعتراف کرلیا ہے اپنے گناہوں کا۔ انھوں نے ملاجلادیئے ہیں کچھ اچھے اور کچھ برے عمل۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے ان کی توبہ بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔
اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) وصول کیجیے ان کے مالوں سے صدقہ تاکہ آپ پاک کریں انھیں اور بابرکت فرمائیں انھیں اس ذریعہ سے۔ نیز دعا مانگیے انکے لیے بیشک آپکی دعا (ہزار ) تسکین کا باعث ہے انکے لیے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔
کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی توبہ قبول فرماتا ہے اپنے بندوں سے اور لیتا ہے صدقات کو۔ اور بیشک اللہ ہی بہت توبہ قبول کرنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔
اور فرمائیے عمل کرتے رہو ۔ پس دیکھے گا اللہ تعالیٰ تمھارے عملوں کو اور (دیکھے گا) اس کا رسول اور مومن اور لوٹائے جاو گے اس کی طرف جو جاننے والا ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر ہر چیز کا ۔ پس وہ خبردار کریگا تمھیں اس سے جو تم کیا کرتے تھے۔
اور اللہ سب کچھ جاننے والا دانا ہے۔ اور وہ لوگ جنھوں نے بنائی ہے مسجد تقصان پہنچانے کے لیے کفر کرنے کے لیے اور پھوٹ ڈالنے کے لیے مومنوں کے درمیان اور (اسے) کمین گاہ بنایا ہے اس کے لیے جو لڑتا رہا ہے اللہ سے اور اس کے رسول سے اب تک اور وہ ضرور قسمیں کھائیں گے کہ نہیں ارادہ کیا ہم نے مگر بھلائی کا ور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ صاف جھوٹے ہیں۔
آپ نہ کھڑے ہوں کبھی اس میں البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے پہلے دن سے وہ زیادہ مستحق ہے کہ آپ کھڑے ہوں اس میں، اس میں ایسے لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں صاف ستھرا رہنے کو اور اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے پاک صاف لوگوں سے۔
تو کیا وہ شخص جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی اللہ کے تقویٰ پر اور (اس کی ) رضا جوئی پر بہتر ہے یا وہ جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی وادی کے کھوکھلے دہانے کے کنارے پر جو گرنے والا ہے پس وہ گر پڑا اسے لیکر دوزخ کی آگ میں اور اللہ تعالیٰ راہ حق پر نہیں چلات ظالم قوم کو۔
ہمیشہ ان کی یہ عمارت جو انھوں نے بنائی ہے کھٹکتی رہے گی ان کے دلوں میں مگر یہ کہ پارہ پارہ ہوجائیں ان کے دل اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔
یقیناً اللہ نے خرید لی ہے ایمانداروں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس عو ض میں کہ ان کے لیے جنت ہے لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں ۔ وعدہ کیا ہے اللہ نے اس پر پختہ وعدہ توراۃ اور انجیل اور قرآن (تینوں کتابوں) میں اور کون زیادہ پورا کرنے والا ہے اپنے وعدہ کو اللہ تعالیٰ سے (اے ایمان والو!) پس خوشیاں مناؤ اپنے اس سودے پر جو کیا ہے تم نے اللہ سے اور یہی تو سب سے بڑی فیروز مندی ہے۔
توبہ کرنے والے ، (اللہ کی ) عبادت کرنیوالے ، حمدوثنا کرنے والے روزہ رکھنے والے ، رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے ، نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے اور نگہبانی کرنیوالے اللہ کی (مقررہ) حدوں کی (اے میرے رسول!) خوشخبری سنادیجیے ان (کامل) مومنوں کو۔
درست نہیں ہے نبی کے لیے اور نہ ایمان والوں کے لیے کہ مغفرت طلب کریں مشرکوں کے واسطے اگرچہ وہ مشرک ان کے قریبی رشتہ دار ہی ہوں جب کہ واضح ہوگیا ان پر کہ یہ دوزخی ہیں۔
اور نہ تھی استغفار ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے مگر ایک وعدہ (کو پورا کرنے) کی وجہ سے انھوں نے اس سے کیا تھا ۔ اور جب ظاہر ہوگئی آپ پر یہ بات کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے تو آپ بیزار ہوگئے اس سے بیشک ابراہیم بڑے ہی نرم دل (اور ) بردبار تھے۔
اور نہیں ہے اللہ تعالیٰ کا دستور کہ گمراہ کردے کسی قوم کو اسے ہدایت دینے کے بعد یہاں تک کہ بیان کردے ان کے لیے وہ چیزیں جن سے انہیں بچنا چاہیے بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے ۔
بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے (ساری) بادشاہی آسمانوں اور زمین کی۔ وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے اور نہیں ہے تمھارے لیے اللہ کے سوا کوئی حامی اور نہ کوئی مدد گار۔
یقیناً رحمت سے توجہ فرمائی اللہ تعالیٰ نے (اپنے) نبی پر نیز مہاجرین اور انصار پر جنھوں نے پیروی کی تھی نبی کی مشکل گھڑی میں اس کے بعد کہ قریب تھا کہ ٹیڑھے ہوجائیں دل ایک گروہ کے ان میں سے پھر رحمت سے توجہ فرمائی ان پر، بیشک وہ ان سے بہت شفقت کرنیوالا رحم فرمانے والا ہے۔
اور تینوں پر بھی نظر رحمت فرمائی جن کا فیصلہ ملتوی کردیا گیا تھا یہاں تک کہ جب تنگ ہوگئی ان پر زمین باوجود کشادگی کے اور بوجھ بن گئیں ان پر ان کی جانیں اور جان لیا انھوں نے کہ نہیں کوئی جائے پناہ اللہ تعالیٰ سے مگر اسی کی ذات۔ تب اللہ تعالیٰ ان پر مائل بکرم ہوا تاکہ وہ بھی رجوع کریں۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی بہت توبہ قبول فرمانیوالا (اور) ہمیشہ رحم کرنیوالا ہے۔
نہیں مناسب تھا مدینہ والوں کے لیے اور جو ان کے اردگرد دیہاتی لوگ ہیں کہ پیچھے بیٹھ رہتے اللہ کے رسول پاک سے اور نہ یہ کہ متوجہ ہونے اپنے نفسوں کی طرف ان سے بےفکر ہوکر۔ یہ اس لیے کہ نہیں پہنچتی انھیں کوئی پیاس اور نہ کوئی تکلیف اور نہ بھوک راہ خدا میں اور نہ و چلتے ہیں کسی چلنے کی جگہ جس سے کافروں کو غصہ آئے اور نہیں حاصل کرتے وہ دشمن سے کچھ مگر یہ کہ لکھا جاتا ہے ان کے لیے ان (تمام تکلیفوں) کے عوض نیک عمل بیشک اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرتا نیکوں کا اجر۔
اور وہ مجاہدین نہیں خرچ کرتے تھوڑا اور نہ زیادہ اور نہ طے کرتے ہیں کسی وادی کو مگر یہ کہ لکھ لیا جاتا ہے ان کے لیے تاکہ صلہ دے انھیں اللہ تعالیٰ بہترین ، ان کا موں کا جو وہ کیا کرتے تھے۔
اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن نکل کھڑے ہوں سارے کہ سارے تو کیوں نہ نکلے ہر قبیلہ سے چند آدمی تاکہ تفقہ حاصل کریں دین میں اور ڈرائیں اپنی قوم کو جب لوٹ کر آئیں ان کی طرف تاکہ وہ (نافرمانیوں سے ) بچیں۔
اور جب کبھی نازل ہوتی ہے کوئی سورۃ تو بعض ان میں سے وہ ہیں جو (شرارتاً) کہتے ہیں کہ کس کا تم میں سے زیادہ کردیا ہے اس سورۃ نے ایمان تو وہ (سن لیں) ایمان والوں کے ایمان میں اس سورۃ نے اضافہ کردیا ہے اور وہ خوشیاں منا رہے ہیں۔
اور جب کوئی سورۃ نازل ہوتی ہے تو دیکھنے لگتے ہیں ایک دوسرے کی طرف کیا دیکھ تو نہیں رہا تمھیں کوئی پھر چل دیتے ہیں ۔ پھیر دیئے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کیونکہ یہ لوگ کچھ نہیں سمجھتے۔
بیشک تشریف لایا ہے تمھارے پاس ایک برگزیدہ رسول تم میں سے گراں گزرتا ہے اس پر تمھارا مشقت میں پڑنا بہت ہی خواہشمند ہے تمھاری بھلائی کا مومنوں کے ساتھ بڑی مہربانی فرمانے والا ، بہت رحم فرمانے والا ہے۔