Urdu

Translation: urd-muhammadkaramsh

Author: Muhammad Karam Shah Al Azhari

الفاتحہ

Surah 1

﴿1﴾ اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بہت ہی مہربان ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

﴿2﴾ سب تعریفیں ف اللہ کے لئے جو مرتبۂ کمال تک پہنچانے والا ہے ف سارے جہانوں کا ف

﴿3﴾ بہت ہی مہربان۔ ہمیشہ رحم فرمانے والا

﴿4﴾ مالک ہے ف جزا کا ف

﴿5﴾ تیری ہی ہم عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں

﴿6﴾ چلا ہم کو سیدھے راستہ پر

﴿7﴾ راستہ ان کا جن پر تو نے انعام فرمایا ۔ نہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ گمراہوں کا ۔

البقرہ

Surah 2

﴿1﴾ الف لام میم

﴿2﴾ یہ ذِی شان کتاب ذرا شک نہیں اس میں یہ ہدایت ہے پرہیزگاروں کے لیے

﴿3﴾ وہ جو ایمان لائے ہیں غیب پر اور صحیح صحیح ادا کرتے ہیں نماز اور اس سے جو ہم نے انھیں روزی دی خرچ کرتے ہیں

﴿4﴾ اور وہ جو ایمان لائے ہیں اس پر (اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) جا اتارا گیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور جو اتارا گیا آپ سے پہلے اور آخرت پر بھی وہ یقین رکھتے ہیں

﴿5﴾ وُہی لوگ ہدایت پر ہیں اپنے رب (کی توفیق) سے اور وہی دونوں جہان میں کامیاب ہیں

﴿6﴾ بے شک نہوں نے کفر اختیار کرلیا ہے یکساں ہے ، ان کے لیے چاہے آپ انھیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے

﴿7﴾ مُہر لگادی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔

﴿8﴾ اور کچھ لوگ ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر اور روز قیات پر حالانکہ وُہ مومن نہیں

﴿9﴾ فریب دیا چاہتے ہیں اللہ کو اور اینا والوں کو اور (حقیقت میں) نہیں فریب دے رہے مگر اپنے آپ کو (اور اس حقیقت کو) نہیں سمجھتے

﴿10﴾ ان کے دلوں میں بیماری ہے پھر بڑھادی اللہ نے ان کی بیماری اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے بوجہ اس کے کہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔

﴿11﴾ اور جب کہا جائے اُنھیں کہ مت فساد پھیلاؤ زمین میں تو کہتے ہیں ہم ہی تو سنوارنے والے ہیں ۔

﴿12﴾ ہوشیار! وُہی فسادی ہیں لیکن سمجھتے نہیں

﴿13﴾ اور جب کہا جائے اُنھیں ایمان لاؤ جیسے ایمان لائے (اور) لوگ تو کہتے ہیں کیا ہم ایمان لائیں جس طرح ایمان لائے بیوقُوف خبردار! بےشک وہی احمق ہیں مگر وہ جانتے نہیں ۔

﴿14﴾ اور جب ملتے ہیں ایمان والوں سے کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب اکیلے میں ہوتے ہیں اپنے شیطانوں کے پاس تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو صرف (اِن کا ) مذاق اڑارہے تھے ۔

﴿15﴾ اللہ سزا دے رہا ہے انھیں اس مذاق کی اور ڈھیل دیتا ہے انھیں تاکہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں

﴿16﴾ (یہ) وہ لو گ ہیں جنھوں نے خرید لی گمراہی ہدایت کے بدلے مگر نفع بخش نہ ہوئی ان کی (یہ) تجارت اور وہ صحیح راہ نہ جانتے تھے ۔

﴿17﴾ ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ روشن کی پھر جب جگمگا اٹھا اس کا آس پاس تو لے گیا الہ ان کا نور اور چھوڑ ید انھیں گھپ اندھیروں میں کچھ نہیں دیکھتے۔

﴿18﴾ یہ بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں سو وہ نہیں پھریں گے

﴿19﴾ یا پھر جیسے زور کا مینہ برس رہا ہو بادل سے جس میں اندھیرے ہوں اور گرج اور چمک ہو ٹھونستے ہیں اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں کڑک کے باعث موت کے ڈر سے اور اللہ گھیرے ہوئے کافروں کو

﴿20﴾ قریب ہے کہ بجلی اچک لے جائے ان کی بینائی جب چمکتی ہے ان کے لیے تو چلنے لگتے ہیں اس (کی روشنی) میں اور جب اندھیرا چھا جاتا ہے ان پر تو کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر چاہے اللہ تو لے جائے ان کے سننے کی قوت اور ان کی بینائی بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے ۔

﴿21﴾ اے لوگو! عبادت کرو اپنے رب کی جس نے پیدا فرمایا تمہیں اور جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ

﴿22﴾ وہ جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو عمارت اور اتارا آسمان سے پانی پھر نکالے اس سے کچھ پھل تمہارے کھانے کے لیے پس نہ ٹھراؤ اللہ کے لیے مد مقابل اور تم جانتے ہو

﴿23﴾ اور اگر تمھیں شک ہو اس میں جو ہم نے نازل کیا اپنے (برگزیدہ) بندے پر تو لے آؤ ایک سورۃ اِ س جیسی اور بلا لو اپنے حماتیوں کو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو۔

﴿24﴾ پھر اگر ایسا نہ کرسکو اور ہرگز نہ کرسکو گے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں جو تیار کی گئی ہے کافروں کے لیے

﴿25﴾ اور خوشخبری دیجیے انھیں جو ایمان لائے اور کیے نیک عمل (کہ) یقیناً ان کے لیے باغات ہیں بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں جب کھلایا جائے گا انھیں ان باغوں سے کوئی پھل (تو صورت دیکھ کر ) کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ہمیں پہلے کھلایا گیا تھا اور دیا گیا انھیں پھل (صورت میں ) ملتا جلتا اور ان کے لیے جنت میں پاکیزہ بیویاں ہوں گی۔ اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ۔

﴿26﴾ بے شک اللہ حیا نہیں فرماتا اس سے کہ زکر کرے کوئی مثال مچھر کی ہو یا س سے بھی حقیر چیز کی تو جو ایمان لائے وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ مثال حق ہے ان کے رب کی طرف سے (اُتری ہے ) اور جنھوں نے کفر کیا سو وہ کہتے ہیں کیا قصد کیا اللہ نے اس مثال کے زکر سے گمراہ کرتا ہے اللہ اسے بہتیروں کو اور ہدایت دیتا ہے اس سے بہتروں کو اور نہیں گمراہ کرتا اس سے مگر نافرمانوں کو

﴿27﴾ وہ جو توڑتے رہتے ہیں عہد خداوندی کو اسے پختہ باندھنے کے بعد اور کاٹتے رہتے ہیں اسے، حکم فرمایا اللہ نے جس کے جوڑنے کا اور فساد مچاتے رہتے ہیں زمین میں وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔

﴿28﴾ کیونکر تم انکار کرتے ہو اللہ کا ف حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا پھر اسی کی طرف تم پلٹائے جاؤ گے ف۔

﴿29﴾ وہی تو ہے جس نے پیدا کیا تمہارے لیے جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب پھر توجہ فرمائی اُوپر کی طرف تو ٹھیک ٹھیک بنادیا انھیں ساتھ آسمان اور وہ سب کچھ خوب جانتا ہے

﴿30﴾ اور یاد کرو جب فرمایا تمہارے رب نے فرشتوں سے میں مقرر کرنے والا ہوں زمین میں ایک نائب کہنے لگے کیا تو مقرر کرتا زمین میں جو فساد برپا کرے گا اس میں اور خونریزیاں کرے گا حالانکہ ہم تیری تسبیح کرتے ہیں تیری حمد کے ساتھ اور پاکی بیان کرتے ہیں تیرے لیے فرمایا بےشک میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

﴿31﴾ اور اللہ نے سکھادیے آدم کو تمام اشیاء کے نام پھر پیش کیا انھیں فرشتوں کے سامنے اور فرمایا بتاؤ تو مجھے نام ان چیزوں کے اگر تم (اپنے اس خیال میں) سچے ہو

﴿32﴾ عرض کرنے لگے ہر عیب سے پاک تو ہی ہے کچھ علم نہیں ہمیں مگر جتنا تونے ہمیں سکھادیابے شک تو ہی علمِ و حکمت والا ہے

﴿33﴾ فرمایا اے آدم! بتادو انھیں ان چیزوں کے نام پھر جب آدم نے بتادیے فرشتوں کو ان کے نام تو اللہ نے فرمایا کیا نہیں کہا تھا میں نے تم سے کہ میں خوب جانتا ہوں سب چھپی ہوئی چیزیں آسمانوں اور زمین کی اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے تھے۔

﴿34﴾ اور جب ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور (داخل) ہوگیا وہ کفار (کے ٹولہ) میں

﴿35﴾ اور ہم نے فرمایا اے آدم! رہوتم اور تمہاری بیوی اس جنت میں اور دونوں کھاؤ اس سے جتنا چاہو جہاں سے چاہو اور مت نزدیک جانا اس درخت کے ورنہ ہوجاؤ گے اپنا حق تلف کرنے والوں سے

﴿36﴾ پھر پھسلادیا انھیں شیطان نے اس درخت کے باعث اور نکلوادیا ان دونوں کو وہاں سے جہاں وہ تھے اور ہم فرمایا اتر جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن رہوگے اور (اب) تمہارا زمین میں ٹھکانہ ہے اور فائدہ اٹھانا ہے وقت مقرر تک

﴿37﴾ پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے چند کلمے تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کی ۔ بےشک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم فرمانے والا

﴿38﴾ ہم نے حکم دیا اترجاؤ اس جنت سے سب کے سب پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے (پیغام) ہدایت تو جس نے پیروی کی میری ہدایت کی انھیں نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

﴿39﴾ اور جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو (تو) وہ دوزخی ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

﴿40﴾ اے اولاد یعقوب یاد کرو میرا وہ احسان جو کیا میں نے تم پر اور پورا کرو تم میرے (ساتھ کیے ہوئے) وعدہ کو میں پورا کروں گا تمہارے (ساتھ کیے ہوئے) وعدہ کو اور صرف مجھی سے ڈرا کرو

﴿41﴾ اور ایمان لاؤاُس (کتاب) پر جو نازل کی ہے میں نے یہ سچا ثابت کرنے والی ہے اس کو جو تمہارے پاس ہے اور نہ بن جاؤ تم سب سے پہلے انکار کرنے والے اس کے اور نہ خریدہ تم میری آیتوں کے عوض تھوڑی سے قیمت اور صرف مجھی سے ڈرا کرو

﴿42﴾ اور مت ملایا کرو حق کو باطل کے ساتھ ف اور مت چھپاؤ حق کو حالانکہ تم (اسے) جانتے ہو

﴿43﴾ اور صحیح ادا کرو نماز اور دیا کرو زکوٰۃ اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ

﴿44﴾ کیا تم حکم کرتے ہو (دوسرے ) لوگوں کو نیکی کا اور بھلا دیتے ہو اپ آپ کو حالانکہ تم پڑھتے ہو کتاب ف کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے

﴿45﴾ اور مدد لو صبر اور نماز سے اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر عاجزی کرنے والوں پر (بھاری نہیں)

﴿46﴾ جو یقین کرتے ہیں کہ وہ ملاقات کرنے والے ہیں اپنے رب سے اور وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں

﴿47﴾ اے اولاد یعقوب علیہ السلام! یاد کرو میرا وہ احسان جو میں نے تم پر کیا اور (یہ کہ ) میں نے فضیلت دی تھی تمہیں سارے جہان والوں پر

﴿48﴾ اور ڈرو اس دن سے جب نہ بدلہ دے سکے گا کوئی شخص کسی کا کچھ بھی اور نہ قبول کی جائے گی اس کے لئے سفارش ف اور نہ لیا جائے گا اس سے کوئی معاوضہ اور نہ وہ مدد کئے جائیں گے

﴿49﴾ اور یاد کرو جب نجات بخشی ہم نے تمہیں فرعونیوں سے جو پہنچاتے تھے تمہیں سخت عذاب (یعنی) ذبح کرتے تھے ف تمہارے بیٹوں کو اور زندہ رہنے دیتے تھے تمہاری عورتوں (بیٹیوں ) کو اور اس میں بڑی بھاری آزمائش تھی تمہارے رب کی طرف سے ف

﴿50﴾ اور جب پھاڑ دیا ہم نے تمہارے لئے سمندر کو پھر ہم نے بچا لیا تم کو اور ڈبو دیا فرعونیوں کو اور تم (کنارے پر کھڑے) دیکھ رہے تھے ف

﴿51﴾ اور یاد کرو جب ہم نے وعدہ فرمایا موسیٰ ( علیہ السلام) سے چالیس رات کا پھر بنالیا تم نے بچھڑے کو (معبود) اس کے بعد اور تم سخت ظالم تھے

﴿52﴾ پھر بھی درگزر فرمایا ہم نے تم سے اس (ظلم عظیم) کے بعد شاید کہ تم شکر گزار بن جاؤ ف

﴿53﴾ اور جب عطا فرمائی ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب اور حق وباطل میں تمیز کی قوت ف تاکہ تم سیدھی راہ پر چلنے لگو

﴿54﴾ اور یاد کرو جب کہا موسیٰ (علیہ السلام نے) اپنی قوم سے اے میری قوم! بےشک تم نے ظلم ڈھایا اپنے آپ پر بچھڑے کو (خدا) بنا کر پس چاہئے کہ توبہ کرو اپنے خالق کے حضور سو قتل کرو اپنوں کو (جنہوں نے شرک کیا) یہ بہتر ہے تمہارے لئے تمہارے خالق کے نزدیک ف پھر حق تعالیٰ نے تمہاری توبہ قبول کر لی بےشک وہی بہت توبہ قبول کرنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے

﴿55﴾ اور یاد کرو جب تم نے کہا اے موسیٰ علیہ السلام! ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے تجھ پر جب تک ہم نہ دیکھ لیں اللہ کو ظاہر ف پس (اس گستاخی پر) آلیا تم کو بجلی کی کڑک نے اور تم دیکھ رہے تھے

﴿56﴾ پھر ہم نے جلا اٹھایا تمہیں تمہارے مرجانے کے بعد کہ کہیں تم شکر گزار بنو

﴿57﴾ اور ہم نے سایہ کردیا تم پر بادل کا اور اتارا تم پر من و سلویٰ کھاؤ پاکیزہ چیزوں سے جو ہم نے تمھیں دے رکھی ہیں اور انھوں نے ہم پر کوئی زیادتی نہیں کی بلکہ وہ اپنی ہی جانوں پر زیادتی کرتے رہتے تھے۔

﴿58﴾ اور یاد کرو جب ہم نے حکم دیا داخل ہو جاؤ اس بستی میں ف پھر کھاؤ اس میں جہاں سے چاہو اور جتنا چاہو اور داخل ہونا دروازہ سے سر جھکائے ہوئے ف اور کہتے جانا بخش دے (ہمیں ) ہم بخش دیں گے تمہاری خطائیں اور ہم زیادہ دیتے ہیں نیکو کاروں کو

﴿59﴾ پس بدل ڈالا ان ظالموں نے اور بات سے جو کہا گیا تھا انہیں تو ہم نے اتارا ان ستم پیشہ لوگوں پر عذاب آسمان سے بوجہ اس کے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے ف

﴿60﴾ اور یاد کرو جب پانی کی دعا مانگی موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے لئے تو ہم نے فرمایا مارو اپنا عصا فلاں چٹان پر تو فوراً بہہ نکلے اس چٹان سے بارہ چشمے ف پہچان لیا ہر گروہ نے اپنا اپنا گھاٹ کھاؤ اور پیو اللہ کے دئیے ہوئے رزق سے اور نہ پھرو زمین میں فساد برپا کرتے ہوئے

﴿61﴾ اور یاد کرو جب تم نے کہا اے موسیٰ علیہ السلام! ہم صبر نہیں کر سکتے ایک ہی طرح کے کھانے پر سو آپ دعا کیجئے ہمارے لئے اپنے پروردگار سے کہ نکالے ہمارے لئے وہ جن کو زمین اگاتی ہے (مثلاً ) ساگ اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز ، موسیٰ علیہ السلام نے کہا کیا تم لینا چاہتے ہو وہ چیز جو ادنیٰ ہے اس کے بدلہ میں جو عمدہ ہے (اچھا ) جا رہو کسی شہر میں تمہیں مل جائے گا جو تم نے مانگا اور مسلط کر دی گئی ان پر ذلت اور غربت ف اور مستحق ہوگئے غضب الٰہی کے یہ (سب کچھ) اس وجہ سے تھا کہ وہ انکار کرتے رہتے تھے اللہ کی آیتوں کا اور قتل کرتے تھے انبیاء کو ناحق ف یہ (سب کچھ) اس وجہ سے تھا کہ وہ نافرمان تھے اور حد سے بڑھ جایا کرتے تھے

﴿62﴾ یقین کرو ف اسلام کے پیروکار ہوں یا یہودی، عیسائی ہوں یا صابی ف جو کوئی بھی ایمان لائے اللہ پر اور دن قیامت پر اور نیک عمل کرے تو ان کے لئے ان کا اجر ہے ان کے رب کے ہاں اور نہیں کوئی اندیشہ ان کے لئے اور نہ وہ غمگین ہوں گے

﴿63﴾ اور یاد کرو جب ہم نے لیا تم سے پختہ وعدہ اور بلند کیا تم پر طور کو (اور حکم دیا) پکڑ لو جو ہم نے تم کو دیا مضبوطی سے اور یاد رکھنا وہ (احکام) جو اس میں درج ہیں شاید کہ تم پرہیز گا ر بن جاؤ ۔

﴿64﴾ پھر منہ موڑ لیا تم نے پختہ وعدہ کرنے کے بعد تو اگر تم ر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم ضرور ہوجاتے نقصان اٹھانے والوں میں۔

﴿65﴾ اور تم خوب جانتے ہو ف انہیں جنہوں نے نافرمانی کی تھی تم میں سے سبت کے قانون کی تو ہم نے حکم انہیں کہ بن جاؤ بندر پھٹکارے ہوئے ف

﴿66﴾ پس ہم نے بنادیا اس سزا کو عبرت ان کے لیے جو اس زمانہ میں موجود تھے اور جو بعد میں آنے والے تھے اور (اسے) نصیحت بنا دیا پرہیزگاروں کے لیے۔

﴿67﴾ اور یاد کرو جب کہا موسیٰ (علیہ السلام نے) اپنی قوم سے کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے تمہیں کہ تم ذبح کرو ایک گائے ف وہ بولے کیا آپ ہمارا مذاق اڑاتے ہیں ف آپ نے کہا میں پناہ مانگتا ہو خدا سے کہ میں شامل ہو جاؤں جاہلوں (کے گروہ) میں ف

﴿68﴾ بولے دعا کیجئے ہمارے لئے اپنے رب سے کہ وہ بتائے ہمیں کہ کیسی ہے وہ گائے ف موسیٰ علیہ السلام نے کہا اللہ فرماتا ہے کہ وہ گائے ہے جو نہ بوڑھی ہو اور نہ بالکل بچی (بلکہ) درمیانی عمر کی ہو تو بجا لاؤ جو تمہیں حکم دیا جا رہا ہے

﴿69﴾ کہنے لگے دعا کرو ہمارے لیے اپنے رب سے کہ بتائے ہمیں کیسا رنگ ہو اس کا موسیٰ ( علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسی گائے جس کی رنگت خوب گہری زرد ہو جو فرحت بخشے دیکھنے والوں کو ۔

﴿70﴾ کہنے لگے پوچھو ہمارے لیے اپنے رب سے کہ کھول کر بیان کرے ہمارے لیے کہ گائے کیسی ہو بیشک گائے مشتبہ ہوگئی ہے ہم پر اور ہم اگر اللہ نے چاہا تو ضرور اس کو تلاش کرلیں گے ۔

﴿71﴾ موسیٰ علیہ السلام بولے اللہ فرماتا ہے وہ گائے جس سے خدمت نہ لی گئی ہو کہ ہل چلائے زمین میں اور نہ پانی دے کھیتی کو بےعیب بےداغ (عاجز ہو کر) کہنے لگے اب آپ لائے صحیح پتہ پھر انہوں نے ذبح کیا اسے اور وہ ذبح کرتے معلوم نہیں ہوتے تھے ف

﴿72﴾ اور یاد کرو جب قتل کرڈالا تھا تم نے ایک شخض کو پھر تم ایک دوسرے پر قتل کا الزام لگانے گلے اور اللہ ظاہر کرنے والا تھا جو تم چھپا رہے تھے ۔

﴿73﴾ تو ہم نے فرمایا کہ مارو اس مقتول کو گائے کے کسی ٹکڑے سے (دیکھا) یوں زندہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ مردوں کو اور دکھاتا ہے تمھیں اپنی (قدرت کی) نشانیاں شاید تم سمجھ جاؤ ۔

﴿74﴾ پھر سخت ہوگئے تمہارے دل یہ منظر دیکھنے کے بعد بھی وہ تو پتھر کی طرح (سخت) ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت (کیونکہ) کئی پتھر ایسے بھی ہیں جن سے بہ نکلتی ہیں نہریں اور کئی ایسے بھی ہیں کہ جو پھٹتے ہیں تو ان سے پانی نکلنے لگتا ہے اور کئی ایسے بھی ہیں جو گر پڑتے ہیں خوف الہیٰ سے اور اللہ بےخبر نہیں ہے ان (کرتوتوں) سے جو تم کرتے ہو۔

﴿75﴾ (اے مسلمانو) کیا تم یہ امید رکھتے ہو کہ (یہ یہودی) ایمان لائیں گے تمہارے کہنے سے حالانکہ ایک گروہ ان میں ایسا تھا جو سنتا تھا کلام الہیٰ کو پھر بدل دیتے تھے اسے خوب سمجھ لینے کے بعد جان بوجھ کر ۔

﴿76﴾ اور جب ملتے ہیں ایمان والوں سے تو کہتے ہیں ہم بھی ایمان لائے ہیں اور جب تنہا ملتے ہیں ایک دوسرے سے تو کہتے ہیں (ارے) کیا بیان کرتے ہو ان سے جو کھلا ہے اللہ نے تم پر یوں تو وہ دلیل قائم کریں گے تم پر ان باتوں سے تمہارے رب کے سامنے کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے۔

﴿77﴾ کیا وہ (یہ) نہیں جانتے کہ اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔

﴿78﴾ اور ان میں کچھ ان پڑھ ہیں جو نہیں جانتے کتاب کو بجز جھوٹی امیدوں کے اور وہ تو محض وہم و گمان ہی کرتے رہتے ہیں۔

﴿79﴾ پس ہلاکت ہو ان کے لیے جو لکھتے ہیں کتاب خود اپنے ہاتھوں سے پھر کہتے ہیں یہ نوشتہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ حاصل کرلیں اس کے عوض تھوڑے سے دام سو ہلاکت ہو ان کے لیے بوجہ اس کے جو لکھا ان کے ہاتھوں نے اور ہلاکت ہو ان کے لیے بوجہ اس مال جو وہ (یوں) کماتے ہیں۔

﴿80﴾ اور انہوں نے کہا ہرگز نہ چھوئے گی ہمیں (دوزخ کی ) آگ بجز گنتی کے چند دن ف آپ فرمائیے کیا لے رکھا ہے تم نے اللہ سے کوئی وعدہ تب تو خلاف ورزی نہ کرے گا اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کی یا (یونہی) بہتان باندھتے ہو اللہ پر جو تم جانتے ہی نہیں

﴿81﴾ ہاں (ہمارا قانون یہ ہے) جس نے جان کر برائی کی اور گھیر لیا اس کو اس کی خطا نے تو وہی دوزخی ہیں وہ ا س میں ہمیشہ رہنے والے ہیں

﴿82﴾ اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہی جنتی ہیں ف وہ اس جنت میں ہمیشہ رہنے والے ہیں

﴿83﴾ اور یاد کرو جب لیا تھا ہم نے پختہ وعدہ بنی اسرائیل سے (اس بات کا) کہ نہ عبادت کرنا بجز اللہ کے ف اور ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا نیز رشتہ داروں یتیموں اور مسکینوں سے بھی (مہربانی کرنا ) اور کہنا لوگوں سے اچھی باتیں اور صحیح ادا کرنا نماز اور دیتے رہنا زکوٰۃ پھر منہ موڑ لیا تم نے مگر چند آدمی تم سے (ثابت قدم رہے) اور تم رو گردانی کرنے والے ہو

﴿84﴾ اور یاد کرو جب لیا ہم نے تم سے پختہ وعدہ کہ تم اپنوں کا خون نہیں بہاؤ گے اور نہیں نکالوگے اپنوں کو اپنے وطن سے پھر تم نے (اِس وعدہ پر ثابت رہنے کا ) اقرار بھی کیا اور تم خود اس کے گواہ ہو۔

﴿85﴾ پھر تم وہی ہونا (جنہوں نے یہ وعدے کئے ) کہ اب قتل کر رہے ہو اپنوں کو اور نکال باہر کرتے ہو اپنے گروہ کو ان کے وطن سے (نیز) مدد دیتے ہو ان کے خلاف (دشمنوں کو) گناہ اور ظلم سے اور اگر آئیں تمہارے پاس قیدی بن کر (تو بڑے پاکباز بن کر) ان کو فدیہ ادا کرتے ہو حالانکہ حرام کیا گیا تھا تم پر ان کا گھروں سے نکالنا تو کیا تم ایمان لاتے ہو کتاب کے کچھ حصہ پر اور انکار کرتے ہو کچھ حصہ کا ف (تم خود ہی کہو) کیا سزا ہے ایسے نابکار کی تم میں سے سوائے اس کے کہ رسوا رہے دنیا کی زندگی میں اور قیامت کے دن تو انہیں پھینک دیا جائے گا سخت ترین عذاب میں اور اللہ بےخبر نہیں ان (کرتوتوں ) سے جو تم کرتے ہو

﴿86﴾ یہ ہیں وہ لوگ جنھوں نے مول لے لی ہے دنیا کی زندگی آخرت کے عوض تو نہ ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی۔

﴿87﴾ اور بےشک ہم نے عطا فرمائی موسیٰ علیہ السلام کو کتاب اور ہم نے پے در پے ان کے پیچھے پیغمبر بھیجے اور دیں ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) بن مریم علیہ السلام کو روشن نشانیاں ف اور ہم نے تقویت دی انہیں جبرائیل سے ف تو کیا جب کبھی لے آیا تمہارے پاس کوئی پیغمبر ایسا حکم ہے جسے تمہارے نفس پسند نہ کرتے تو تم اکڑ گئے بعض کو تم نے جھٹلایا اور بعض کو قتل کرنے لگے

﴿88﴾ اور یہودی بولے ہمارے دلوں پر تو غلاف چڑھے ہیں ف نہیں بلکہ پھٹکار دیا ہے انہیں اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے وہ بہت ہی کم ایمان رکھتے ہیں

﴿89﴾ اور جب آئی ان کے پاس اللہ کی طرف سے وہ کتاب (قرآن) جو تصدیق کرتی تھی اس (کتاب) کی جو ان کے پاس تھی اور وہ اس سے پہلے فتح مانگتے تھے کافروں پر (اس نبی کے وسیلہ سے ) ف تو جب تشریف فرما ہوا ان کے پاس وہ نبی جسے وہ جانتے تھے تو انکار کر دیا اس کے ماننے سے سو پھٹکار ہو اللہ کی (دانستہ) کفر کرنے والوں پر

﴿90﴾ بہت بری چیز ہے جس کے بدلے سود اچکایا انہوں نے اپنی جانوں کا وہ یہ کہ کفر کرتے ہیں اس (کتاب) کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے نازل کی حسد ف کے مارے کہ نازل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اپنا فضل (وحی) جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں سے سو وہ حق دار ہو گئے مسلسل ناراضگی کے اور کافروں کے لئے ذلیل ورسوا کرنے والا عذاب ہے

﴿91﴾ اور جب ان سے کہا جاتا ہے ایمان لے آؤ اس پر جسے اللہ نے اتارا ہے تو کہتے ہیں ہم تو (صرف) اس پر ایمان لائے ہیں جو نازل کی گئی ہم پر اور کفر کرتے ہیں اس کے علاوہ (دوسری کتابوں) کے ساتھ حالانکہ وہ بھی حق ہے تصدیق کرتا ہے اس کتاب کی جو ان کے پاس ہے آپ فرمائیے پھر تم کیوں قتل کرتے رہے اللہ کے پیغمبروں کو اس سے پہلے اگر تم (اپنی کتاب پر ہی ) ایمان رکھتے تھے ف

﴿92﴾ اور بےشک آئے تمہارے پاس موسیٰ علیہ السلام روشن دلیلیں لے کر پھر تم نے بنا لیا بچھڑے کو (اپنا معبود) اس کے بعد اور تم (تو عادی) جفا کار ہو

﴿93﴾ اور یاد کرو جب ہم نے لیا تم سے پختہ وعدہ اور بلند کیا تمہارے سروں پر کوہ طور (اور تمہیں حکم دیا) کہ پکڑلو جو ہم نے تمہیں دیا مضبوطی سے اور (خوب غور سے ) سنو انہوں نے (زبان سے) کہا ہم نے سن لیا اور (دل میں کہا) نہیں مانا سیراب ہو چکے تھے ان کے دل بچھڑے (کے عشق) سے یہ ان کے پیہم انکار کی نحوست تھی فرمائیے بہت برا ہے جس کا حکم کرتا ہے تمہیں (یہ ) تمہارا (عجیب وغریب ) ایمان اگر تم ایمان دار ہو ف

﴿94﴾ آپ فرمائیے اگر تمہارے لئے ہی دار آخرت (کی راحتیں) اللہ کے ہاں مخصوص ہیں تمام لوگوں کو چھوڑ کر تو بھلا آرزو تو کرو موت کی اگر تم سچ کہتے ہو ف

﴿95﴾ اور وہ ہرگز کبھی بھی اس کی تمنا نہ کریں گے اپنی کارستانیوں کے خوست اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو ۔

﴿96﴾ اور آپ یقیناً پائیں گے انھیں سب سے لوگوں سے زیادہ ہوس رکھنے والے زندگی کی حتیٰ کہ مشرکوں سے بھی (زیادہ جینے پر حریص ہیں) چاہتا ہے ہر ایک ان میں سے کہ زندہ رہنے دیا جائے ہزار سال اور نہیں بچا سکتا اس کو عذاب سے (اتنی مدت) جیتے رہنا اور اللہ ہر وقت دیکھ رہا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔

﴿97﴾ آپ فرمائیے جو دشمن ہو جبرئیل علیہ السلام کا (اسے معلوم ہونا چاہئے) کہ اس نے اتارا قرآن آپ کے دل پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ف (یہ ) تصدیق کرنے والا ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے اتریں ف اور سراپا ہدایت اور خوشخبری ہے ایمان والوں کے لئے

﴿98﴾ جو کوئی دشمن ہو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل ( علیہ السلام) و میکائیل ( علیہ السلام) کا تو اللہ بھی دشمن ہے (ان) کافروں کا۔

﴿99﴾ اور یقیناً ہم نے اتارے ہیں آپ پر روشن نشان اور کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا ان کا بجز نافرمانوں کے۔

﴿100﴾ کیا (یوں نہیں) کہ جب کبھی انھوں نے وعدہ کیا تو پھر توڑ پھینکا اسے انھیں میں سے ایک گروہ نے بلکہ ان کی اکثریت تو (سرے سے) ایمان ہی نہیں لائی

﴿101﴾ اور جب آیا ان کے پاس رسول اللہ کی طرف سے تصدیق کرنے والا اس کتاب کی جو ان کے پاس ہے تو پھینک دیا ایک جماعت نے اہل کتاب سے ف اللہ کی کتاب کو اپنی پشتوں کے پیچھے جیسے وہ کچھ جانتے ہی نہیں

﴿102﴾ اور پیروی کرنے لگے اس کی جو پڑھا کر تے تھے شیطان ف سلیمان علیہ السلام کے عہد حکومت میں ف حالانکہ سلیمان علیہ السلام نے کوئی کفر نہیں کیا بلکہ شیطانوں نے ہی کفر کیا سکھایا کرتے تھے ف لوگوں کو جادو نیز وہ بھی جو اتارا گیا دو فرشتوں پر (شہر) بابل میں (جن کے نام) ہاروت اور ماروت تھے ف اور (کچھ) نہ سکھاتے تھے وہ دونوں کسی کو جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو نری آزمائش ہیں (ان پر عمل کر کے) کفر مت کرنا (اس کے باوجود) لوگ سیکھتے رہے ان دونوں سے وہ منتر ف جس سے جدائی ڈالتے تھے خاوند اور اس کی بیوی میں اور وہ ضرر نہیں پہنچا سکتے اپنے جادو منتر سے کسی کو بغیر اللہ کے ارادہ کے ف اور وہ سیکھتے ہیں وہ چیز جو ضرر رساں ہے ان کے لئے اور نہیں نفع پہنچا سکتی انہیں اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جس نے اس کا سودا کیا اس کے لئے آخرت میں (رحمت الٰہی سے) کوئی حصہ نہیں اور بہت بری ہے وہ چیز بیچا ہے انہوں نے جس کے عوض اپنی جانوں (کی فلاح کو) کاش! وہ کچھ جانتے

﴿103﴾ اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیز گا ر بنتے تو (اس کا ) ثواب اللہ کے ہاں بہت اچھا ہوتا کاش! وہ کچھ جانتے۔

﴿104﴾ اے ایمان والو! (میرے حبیب سے کلام کرتے وقت ) مت کہا کرو ’’راعنا ‘‘ ف بلکہ کہو ’’ انظرنا‘‘ اور (ان کی بات پہلے ہی) غور سے سنا کرو ف اور کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے

﴿105﴾ نہیں پسند کرتے وہ لوگ جو کافر ہیں اہل کتاب سے اور نہ مشرک کہ اتاری جائے تم پر کچھ بھلائی تمہارے رب کی طرف سے ف اور اللہ خاص فرما لیتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہت بڑا فضل (فرمانے) والا ہے

﴿106﴾ جو آیت ہم منسوخ کر دیتے ہیں یا فراموش کرا دیتے ہیں تو لاتے ہیں (دوسری) بہتر اس سے یا (کم از کم) اس جیسی ف کیا تجھے علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ کر سکتا ہے

﴿107﴾ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور تمہارا اللہ کے سوا کوئی یارو مددگا نہیں۔

﴿108﴾ کیا تم (یہ) چاہتے ہو کہ پوچھو اپنے رسول سے (ایسے سوال) جیسے پوچھے گئے موسیٰ علیہ السلام سے اس سے پہلے ف اور جو بدل لیتا ہے کفر کو ایمان سے وہ (قسمت کا مارا) تو بھٹک گیا سیدھے راستہ ہے

﴿109﴾ دل سے چاہتے ہیں بہت سے اہل کتاب کہ کسی طرح پھر بنا دیں تمہیں ایمان لانے کے بعد کافر ف (ان کی یہ آرزو) بوجہ اس حسد کے ہے جو ان کے دلوں میں ہے (یہ سب کچھ) اس کے بعد جبکہ خوب واضح ہو چکا ہے ان پر حق پس (اے غلامان مصطفے ٰ) معاف کرتے رہو اور در گزر کرتے رہو یہاں تک کہ بھیج دے اللہ (ان کے بارے میں ) اپنا حکم۔ بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے

﴿110﴾ اور صحیح ادا کرو نماز اور دیا کرو زکوٰۃ اور جو کچھ آگے بھیجو گے اپنے لئے نیکیوں سے ضرور پاؤ گے اس کا ثمر اللہ کے ہاں ف یقیناً اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب دیکھ رہا ہے

﴿111﴾ اور انہوں نے کہا نہیں داخل ہوگا جنت میں (کوئی بھی) بغیر ان کے جو یہودی ہیں یا عیسائی یہ ان کی من گھڑت باتین ہین آپ (اُنھیں) فرمائیے لاؤ اپنی کوئی دلیل اگر تم سچے ہو۔

﴿112﴾ ہاں جس نے بھی جھکا دیا اپنے آپ کو اللہ کے لئے اور وہ مخلص بھی ہو تو اس کے لئے اس کا اجر ہے اپنے رب کے پاس ف نہ کوئی خوف ہے انہیں اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے

﴿113﴾ اور کہتے ہیں یہودی کہ نہیں ہیں عیسائی سیدھی راہ پر اور کہتے ہیں عیسائی نہیں ہیں یہودی سیدھی راہ پر ف حالانکہ وہ سب پڑھتے ہیں (آسمانی ) کتاب اسی طرح کہی ان لوگوں نے جو کچھ نہیں جانتے ان کی سی بات ف تو (اب) اللہ فیصلہ فرمائے گا ان کے درمیان قیامت کے دن جن باتوں میں وہ جھگڑتے رہتے تھے

﴿114﴾ اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جو روک دے اللہ کی مسجدوں سے ف کہ ذکر کیا جائے ان میں اس کے نام (پاک) کا اور کوشاں ہو ان کی ویرانی میں انہیں مناسب نہیں تھا کہ داخل ہوتے مسجدوں میں مگر ڈرتے ڈرتے ان کے لئے دنیا میں (بھی بڑی) ذلت ہے ف اور ان کے لئے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے

﴿115﴾ اور مشرق بھی اللہ کا ہے اور مغرب بھی ف سو جدھر بھی تم رخ کرو وہیں ذات خداوندی ہے ۔ بےشک اللہ تعالیٰ فراخ رحمت والا خوب جاننے والا ہے

﴿116﴾ اور یہ کہتے ہیں کہ بنا لیا ہے اللہ نے (اپنا) ایک بیٹا پاک ہے وہ (اس تہمت سے) ف بلکہ اسی کی ہے جو چیز آسمانوں میں ہے اور زمین میں سب اسی کے فرمانبردار ہیں

﴿117﴾ موجد ہے ف آسمانوں اور زمین کا اور جب ارادہ فرماتا ہے کسی کام کا تو صرف اتنا حکم دیتا ہے اسے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے

﴿118﴾ اور کہتے ہیں وہ لوگ جو کچھ نہیں جانتے کہ کیوں نہیں کلام کرتا ہمارے ساتھ (خود) اللہ یا کیوں نہیں آتی ہمارے پاس کوئی نشانی۔ اسی طرح کہی تھی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے (گزرے ) تھے ان کی سی (بے سروپا ) بات ف ملتے جلتے ہیں ان سب کے دل، بےشک ہم نے صاف صاف بیان کر دی ہیں (اپنی) نشانیاں اس قوم کے لئے جو یقین رکھتے ہیں ف

﴿119﴾ بے شک ہم نے بھیجا ہے ف آپ کو (اے حبیب) حق کے ساتھ (رحمت کی ) خوشخبری دینے والا (عذاب سے) ڈرانے والا۔ اور آپ سے باز پرس نہیں ہوگی ان دوزخیوں کے متعلق

﴿120﴾ اور ہرگز خوش نہیں ہوں گے آپ سے یہودی اور نہ عیسائی ف یہاں تک کہ آپ پیروی کرنے لگیں ان کے دین کی آپ (انہیں) کہہ دیجئے کہ اللہ کا بتایا ہوا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے اور اگر (بفرض محال ) آپ پیروی کریں ان کی خواہشوں کی اس علم کے بعد بھی جو آپ کے پاس آچکا ہے (تو پھر) نہیں ہوگا آپ کے لئے اللہ (کی گرفت) سے بچانے والا کوئی یار اور نہ کوئی مدد گار ف

﴿121﴾ جن کو ہم نے کتاب دی وہ اس کی تلاوت کا حق ادا کرتے ہیں وہی ایمان لائے ہیں اس کے ساتھ اور جو کوئی انکار کرتا ہے اس کا تو وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔

﴿122﴾ اے بنی اسرائیل! یاد کرو میری وہ نعمت جو میں نے تم پر فرمائی اور (خصوصا یہ کہ) میں نے تم کو فضیلت دی (اس زمانہ کے) سب لوگوں پر

﴿123﴾ اور ڈرو اس ف دن سے کہ نہ پکڑا جائے گا کوئی آدمی کسی کے عوض اور نہ قبول کیا جائے گا اس سے مالی تاوان اور نہ نفع دے گی اسے کوئی سفارش اور نہ ہی ان کی امداد کی جائے گی

﴿124﴾ اور یاد کرو جب ف آزمایا ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں سے تو انہیں پورے طور پر بجالایا ف اللہ نے فرمایا بےشک ہیں بنانے والا ہوں تمہیں تمام انسانوں کا پیشوا ف عرض کی میری اولاد سے بھی ! ف فرمایا نہیں پہنچتا میرا وعدہ ظالموں تک

﴿125﴾ اور یاد کرو جب ہم نے بنایا اس گھر (خانہ کعبہ ) کو مرکز ف لوگوں کے لئے اور امن کی جگہ اور (انہیں حکم دیا کہ ) بنالو ابراہیم (علیہ السلام) کے کھڑے ہونے کی جگہ کو جائے نماز ف اور ہم نے تاکید کر دی ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمٰعیل علیہ السلام کو کہ خوب صاف ستھرا رکھنا میرا گھر ف طواف کرنے والوں ، اعتکاف بیٹھنے والوں اور رکوع وسجود کرنے والوں کے لئے

﴿126﴾ اور یاد کرو جب عرض کی ابراہیم نے اے میرے رب! بنا دے اس شہر کو ف امن والا اور روزی دے اس کے باشندوں کو طرح طرح کے پھلوں سے (یعنی) جو ان میں سے ایمان لائے اللہ پر اور روز قیامت پر۔ اللہ نے فرمایا (ان میں سے) جس نے کفر بھی کیا اسے بھی فائدہ اٹھانے دوں گا چند روز پھر مجبور کروں گا اسے دوزخ کے عذاب کی طرف اور یہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے

﴿127﴾ اور یاد کرو جب اٹھا رہے تھے ابراہیم (علیہ السلام ) بنیادیں ف خانہ کعبہ کی اور اسمٰعیل (علیہ السلام ) بھی۔ اے ہمارے پروردگار قبول فرما ہم سے (یہ عمل) بےشک تو ہی سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے

﴿128﴾ اے ہمارے رب! بنادے ہم کو فرماں بردار اپنا اور ہماری اولاد سے بھی ایک ایسی جماعت پیدا کرنا جو تیری فرمابنردار ہو اور بتادے ہمیں ہماری عبادت کے طریقے اور توجہ فرما ہم پر (اپنی رحمت سے) بےشک تو ہی بہت توبہ قبول کرنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔

﴿129﴾ اے ہمارے رب! ف بھیج ان میں ایک برگزیدہ رسول انہیں میں سے تاکہ پڑھ کر سنائے ف انہیں تیری آیتیں اور سکھائے انہیں یہ کتاب اور دانائی کی باتین اور پاک صاف کر دے انہیں۔ بےشک تو ہی بہت زبردست (اور ) حکمت والا ہے

﴿130﴾ اور کون رو گردانی کر سکتا ہے دین ابراہیم (علیہ السلام) سے ف بجز اس کے جس نے احمق بنا دیا ہو اپنے آپ کو اور بےشک ہم نے چن لیا ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا میں اور بلاشبہ وہ قیامت کے دن نیکو کاروں میں ہوں گے

﴿131﴾ اور یاد کرو جب فرمایا اس کو اس کے رب نے ف (اے ابراہیم علیہ السلام) گردن جھکا دو عرض کی میں نے اپنی گردن جھکا دی سارے جہانوں کے پروردگار کے سامنے ف

﴿132﴾ اور وصیت کی اسی دین کی ابراہیم (علیہ السلام) کے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب ف نے اے میرے بچو! بےشک اللہ نے پسند فرمایا ہے تمہارے لئے یہی دین سو تم ہرگز نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو

﴿133﴾ بھلا کیا تم (اس وقت) موجود تھے جب آپہنچی یعقوب ( علیہ السلام) کو موت جب کہ پوچھا اس نے اپنے بیٹوں سے کہ تم کس کی عبادت کروگے میرے (انتقال کرنے جانے کے ) بعد انھوں نے عرض کی ہم عبادت کریں گے آپ کے خدا کی اور آپ کے بزرگوں ابراہیم (علیہ السلام) و اسمعیل ( علیہ السلام) اور اسحاق ( علیہ السلام) کے خدا کی جو وحدہ لاشریک ہے اور ہم اسی کے فرمابنردار رہیں گے۔

﴿134﴾ یہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی انھیں فائدہ دے گا جو (نیک عمل) انھوں نے کمایا اور تمھیں نفع دیں گے جو (نیک اعمال) تم نے کمائے اور نہ پوچھے جاؤ گے تم اس سے جو وہ کیا کرتے تھے ۔

﴿135﴾ اور (یہودی) کہتے ہیں یہودی بن جاؤ (عیسائی کہتے ہیں ) عیسائی بن جاؤ (تب) ہدایت پالو گے آپ فرمائیے میرا دین تو دین ابراہیم ہے جو باطل سے من موڑنے والا حق پسند تھا اور وہ نہیں تھا شرک کرنے والوں سے ف

﴿136﴾ کہہ دو ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر اور اس پر جو نازل کیا گیا ہماری طرف اور جو اتارا گیا ابراہیم (علیہ السلام) واسمٰعیل علیہ السلام واسحاق علیہ السلام ویعقوب علیہ السلام اور ان کی اولاد کی طرف اور جو عطا کیا گیا موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور جو عنایت کیا گیا دوسرے نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے ہم فرق نہیں کرتے ان میں کسی پر ایمان لانے میں اور ہم تو اللہ کے فرماں بردار ہیں ف

﴿137﴾ تو اگر یہ بھی ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو جب تو وہ ہدایت پاگئے اور اگر وہ منہ پھیر یں تو (معلوم ہوگیا کہ) وہی مخالفت پر کمر بستہ ہیں تو کافی ہوجائے گا آپ کو ان کے مقابلے میں اللہ اور وہ سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔

﴿138﴾ (ہم پر) اللہ کا رنگ (چڑھا ہے) اور کس کا رنگ خوبصورت ہے اللہ کے رنگ سے ف ہم تو اسی کے عبادت گزار ہیں

﴿139﴾ آپ فرمائیے کیا تم جھگڑتے ہو ہمارے ساتھ اللہ کے بارے میں حالانکہ وہ ہمارا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی مالک ۔ اور ہمیں ہمارے اعمال اور تمھیں تمہارے اعمال فائدہ پہنچائیں گے ہم تو اسی کی اخلاص سے عبادت کرتے ہیں۔

﴿140﴾ کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم (علیہ السلام) و اسمعیل ( علیہ السلام) و اسحاق ( علیہ السلام) و یعقوب ( علیہ السلام) اور ان کے بیٹے یہودی تھے یا عیسائی فرمائیے کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جو چھپاتا ہے گواہی جو اللہ کی طرف سے اس کے پاس ہے اور اللہ بےخبر نہیں ہے جو تم کررہے ہو۔

﴿141﴾ وہ ایک امت تھی جو گزر چکی اسے ملے گا جو اس نے کمایا اور تمھیں ملے گا جو تم نے کمایا اور تم سے نہ پوچھا جائے گا اس سے جو وہ کیا کرتے تھے۔

﴿142﴾ اب کہیں گے بےوقوف لوگ ف کہ کس چیز نے پھیر دیا ان (مسلمانوں) کو اپنے قبلہ سے جس پر وہ اب تک تھے آپ فرمائیے اللہ ہی کا ہے مشرق بھی اور مغرب بھی ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے سیدھے راستہ کی طرف

﴿143﴾ اور اسی ف طرح ہم نے بنا دیا تمہیں (اے مسلمانو!) بہترین امت تاکہ تم گواہ بنو لوگوں پر ف اور (ہمارا) رسول تم پر گواہ ہو اور نہیں مقرر کیا ف ہم نے (بیت المقدس کو) قبلہ جس پر آپ (اب تک ) رہے مگر اس لئے کہ ہم دیکھ لیں کہ کون پیروی کرتا ہے (ہمارے) رسول کی (اور) کون مڑتا ہے الٹے پاؤں بےشک یہ (حکم ) بہت بھاری ہے مگر ان پر (بھاری نہیں) جنہیں اللہ نے ہدایت فرمائی اور نہیں اللہ کی یہ شان کہ ضائع کر دے تمہارا ایمان ف بےشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر بہت ہی مہربان (اور) رحم فرمانے والا ہے

﴿144﴾ ہم دیکھ رہے ہیں ف بار بار آپ کا منہ کرنا آسمان کی طرف تو ہم ضرور پھیر دیں گے آپ کو اس قبلہ کی طرف جسے آپ پسند کرتے ہیں (لو) اب پھیر لو اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف ف (اے مسلمانو! ) جہاں کہیں تم ہو پھیر لیا کرو اپنے منہ اس کی طرف اور بےشک وہ جنہیں کتاب دی گئی ف ضرور جانتے ہیں کہ یہ حکم برحق ہے ان کے رب کی طرف سے اور نہیں اللہ تعالیٰ بےخبر ان کا موں سے جو وہ کرتے ہیں

﴿145﴾ اور اگر آپ لے آئیں اہل کتاب کے پاس ہر ایک دلیل (پھر بھی) نہیں پیروی کریں گے آپ کے قبلہ کی اور نہ آپ پیروی کرنے والے ہیں ان کے قبلہ کی اور نہ وہ ایک دوسرے کے قبلہ کو ماننے والے ہیں اور اگر (بفرض محال) آپ پیروی کریں ف ان کی خواہشوں کی اس کے بعد کہ آچکا آپ کے پاس علم تو یقیناً آپ اس وقت ظالموں میں (شمار) ہوں گے

﴿146﴾ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ پہچانتے ہیں انہیں جیسے وہ پہچانتے ہیں اپنے بیٹوں کو ف اور بےشک ایک گروہ ان میں سے چھپاتا ہے حق کو جان بوجھ کر

﴿147﴾ یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے تو ہرگز نہ بن جانا شک کرنے والوں سے۔

﴿148﴾ اور ہر قوم کے لئے ف ایک سمت (مقرر) ہے وہ اسی کی طرف منہ کرتی ہے پس آگے بڑھ جاؤ ف دوسروں سے نیکیوں میں تم کہیں ہو لے آئے گا اللہ تعالیٰ تم سب کو یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے

﴿149﴾ اور جہاں سے بھی آپ (باہر) نکلیں تو موڑلیا کریں (نماز کے وقت) اپنا رخ مسجد حرام کی طرف اور بےشک یہی حق ہے آپ کے رب کی طرف سے اور نہیں اللہ تعالیٰ بےخبر جو کچھ تم کرتے ہو۔

﴿150﴾ اور جہاں سے آپ (باہر) نکلیں تو موڑ لیا کریں اپنا رخ (نماز کے وقت) مسجد حرام کی طرف اور (اے مسلمانو! ) جہاں کہیں تم ہو تو پھیر لیا کرو اپنے منہ اس کی طرف تاکہ نہ رہے لوگوں کو تم پر اعتراض (کی گنجائش) ف بجز ان لوگوں کے جو نا انصافی کریں ان سے سو نہ ڈرو تم ان سے (بلکہ صرف) مجھ سے ڈرا کرو تاکہ میں پورا کردوں اپنا انعام تم پر ف تاکہ تم راہ راست پر ثابت قدم رہو

﴿151﴾ جیسا کہ بھیجا ف ہم نے تمہارے پاس رسول تم میں سے پڑھ کر سنتا ہے تمہیں ہماری آیتیں اور پاک کرتا ہے تمہیں اور سکھاتا ہے تمہیں کتاب اور حکمت اور تعلیم دیتا ہے تمہیں ف ایسی باتون کی جنہیں تم جانتے ہی نہیں تھے

﴿152﴾ سو تم مجھے یاد کیا کرو ف میں تمہیں یاد کیا کروں گا اور شکر ادا کیا کرو میرا اور میری ناشکری نہ کیا کرو ف

﴿153﴾ اے ایمان والو! مدد طلب کیا کرو صبر ف اور نماز (کے ذریعہ) سے بےشک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

﴿154﴾ اور نہ کہا کرو انہیں جو قتل کئے جاتے ہیں ف اللہ کی راہ میں کہ وہ مردہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم (اسے ) سمجھ نہیں سکتے

﴿155﴾ اور ہم ضرور آزمائیں گے تمہیں کسی ایک چیز کے ساتھ یعنی خوف ف اور بھوک اور کمی کرنے سے (تمہارے) مالوں اور جانوں اور پھلوں میں اور خوشخبری سنائیے ان صبر کرنے والوں کو

﴿156﴾ جو کہ جب پہنچتی ہے انھیں کوئی مُصیبت تو کہتے ہیں بےشک ہم صرف اللہ ہی کے ہیں اور یقیناً ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

﴿157﴾ یہی وہ (خوش نصیب ) ہیں جن پر ان کے رب کی طرح طرح کی نوازشیں اور رحمت ہے ف اور یہی لوگ سیدھی راہ پر ثابت قدم ہیں

﴿158﴾ بےشک صفا اور مروہ ف اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں پس جو حج کرے اس گھر کا یا عمرہ کرے تو کچھ حرج نہیں اسے کہ چکر لگائے ان دونوں کے درمیان اور جو کوئی خوشی سے نیکی کرے تو اللہ تعالیٰ بڑا قدر دان خوب جاننے والا ہے

﴿159﴾ بےشک جو لوگ ف چھپاتے ہیں ان چیزوں کو جو ہم نے نازل کیں روشن دلیلوں اور ہدایت سے اس کے بعد بھی کہ ہم نے کھول کر بیان کر دیا انہیں لوگوں کے واسطے (اپنی) کتاب میں یہی وہ لوگ ہیں کہ دور کرتا ہے انہیں اللہ تعالیٰ (اپنی رحمت سے) اور لعنت کرتے ہیں انہیں لعنت کرنے والے

﴿160﴾ البتہ جو لوگ توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں اور ظاہر کردیں (جو اب تک چھپاتے رہے) تو ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہوں اور میں بہت توبہ قبول کرنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ہوں۔

﴿161﴾ بے شک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور مرے اس حال پر کہ وہ کافر تھے یہی وہ لوگ ہیں جن پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور سب لوگوں کی

﴿162﴾ ہمیشہ رہیں گے اس میں نہ ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ انھیں مہلت دی جائے گی۔

﴿163﴾ اور تمہارا خدا ایک خدا ہے ف نہیں کوئی خدا بجز اس کے بہت ہی مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے

﴿164﴾ بےشک ف آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کی گردش میں اور جہازوں میں جو چلتے ہیں سمندر میں وہ چیزیں اٹھائے جو نفع پہنچاتی ہیں لوگوں کو اور جو اتارا اللہ تعالیٰ نے بادلوں سے پانی پھر زندہ کیا اس کے ساتھ زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد اور پھیلا دئیے اس میں ہر قسم کے جانور اور ہواؤں کے بدلتے رہنے میں اور بادل میں جو حکم کا پابند ہو کر آسمان اور زمین کے درمیان (لٹکتا رہتا ) ہے (ان سب میں) نشانیان ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں

﴿165﴾ اور کچھ لوگ وہ ہیں ف جو بناتے ہیں اوروں کو اللہ کا مد مقابل محبت کرتے ہیں ان سے جیسے اللہ سے محبت کرنا چاہئے اور جو ایمان لائے وہ سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں اللہ سے ف اور کاش ! (اب) جان لیتے جنہوں نے ظلم کیا (جو وہ اس وقت جانیں گے ) جب (آنکھوں سے ) دیکھ لیں گے عذاب کہ ساری قوتوں کا مالک اللہ ہے اور بےشک اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے

﴿166﴾ جب بیزار ہوجائیں گے وہ جن کی تابعداری کی گئی ان سے جو تابعداری کرتے رہے اور دیکھ لیں گے عذاب کو اور ٹوٹ جائیں گے ان کے تعلقات ۔

﴿167﴾ اور کہیں گے تابعداری کرنے والے کاش ! ہمیں لوٹ کر جانا ہوتا (دنیامیں ) تو ہم بھی بیزار ہوجاتے ان سے جیسے وہ (آج) بیزار ہوگئے ہیں ہم سے یونہی دکھائے گا انھیں اللہ تعالیٰ ان کے (بُرے) اعمال کہ باعث پشیمانی ہوں گے ان کے لیے اور وہ (کسی صورت میں) نہ نکل پائیں گے آگ (کے عذاب) سے۔

﴿168﴾ اے انسانو! کھاؤ اس سے جو زمین میں ہے حلال (اور) پاکیزہ (چیزیں ) ف اور شیطان کے قدموں پر قدم نہ رکھو بےشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

﴿169﴾ وہ تو حکم دیتا ہے تمہیں فقط برائی اور بےحیائی کا اور یہ کہ بہتان باندھو اللہ پر جو تم جانتے ہی نہیں ف

﴿170﴾ اور جب کہا جاتا ہے ف ان سے پیروی کرو اس کی جو نازل فرمایا ہے اللہ نے تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے پایا اپنے باپ دادوں کو۔ اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھ سکتے ہوں اور نہ ہدایت یافتہ ہوں

﴿171﴾ اور مثال ان کی ف جنہوں نے کفر (اختیار ) کیا۔ ایسی ہے جیسے کوئی چلا رہا ہو ایسے (جانوروں) کے پیچھے جو نہیں سنتے سوائے خالی پکارا اور آواز کے۔ یہ لوگ بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے سو وہ کچھ نہیں سمجھتے

﴿172﴾ اے ایمان والو! کھاؤ پاک چیزیں جو ہم نے تم کو دی ہیں اور شکر ادا کیا کرو اللہ تعالیٰ کا اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو۔

﴿173﴾ اس نے حرام کیا ہے ف تم پر صرف مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور بلند کیا گیا ہو جس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام ف لیکن جو مجبور ف ہوجائے در آنحالیکہ وہ نہ سرکش ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر (بقدر ضرورت کھا لینے میں ) کوئی گناہ نہیں۔ بےشک اللہ تو بہت گناہ بخشنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے

﴿174﴾ بےشک جو لوگ چھپاتے ہیں ف اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور خرید لیتے ہیں اس کے بدلے حقیر سا معاوضہ۔ سو وہ نہیں کھا رہے اپنے پیٹوں میں سوائے آگ کے اور بات تک نہ کرے گا ان سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ف اور نہ (ان کے گناہ بخش کر ) انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے

﴿175﴾ یہ وہ (بدنصیب ) ہیں جنہوں نے خرید لی گمراہی ہدایت کے عوض، اور عذاب کو نجات کے بدلے (تعجب ہے) کِس چیز نے اتنا صابر بنادیا ہے انہیں آگ (کے عذاب) پر۔

﴿176﴾ یہ سزا اس لیے ہوگ کہ اللہ نے تو اتاری کتاب حق کے ساتھ اور بےشک جو لوگ اختلاف ڈال رہے ہیں کتاب میں وہ دور دراز کے جھگڑوں میں پھنسے ہیں۔

﴿177﴾ نیکی (بس یہی ) نہیں کہ (نماز میں ) تم پھیر لو اپنے رخ ف مشرق کی طرف اور مغرب کی طرف بلکہ ف نیکی (کا کمال ) تو یہ ہے کہ کوئی شخص ایمان لائے اللہ پر اور روز قیامت پر اور فرشتون پر اور کتاب پر اور سب نبیوں پر اور دے اپنا مال اللہ کی محبت سے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو اور (خرچ کرے ) غلام آزاد کرنے میں اور صحیح صحیح ادا کیا کرے نماز اور دیا کرے زکوٰۃ اور جو پورا کرنے والے ہیں اپنے وعدوں کو جب کسی سے وعدہ کرتے ہیں اور کمال نیک ہیں ف جو صبر کرتے ہیں مصیبت میں اور سختی میں اور جہاد کے وقت یہی لوگ ہیں جو راستباز ہیں اور یہی لوگ حقیقی پرہیزگار ہیں

﴿178﴾ اے ایمان والوں فرض کیا گیا ہے تم پر قصاص ف جو (ناحق) مارے جائیں۔ آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت ، پس جس کو ف معاف کی جائے اس کے بھائی ف (مقتول کے وارث ) کی طرف سے کچھ چیز تو چاہئے ف کہ طلب کرے (مقتول کا وارث ) خون بہا دستور کے مطابق اور (قاتل کو چاہئے) کہ اسے ادا کرے اچھی طرح۔ یہ رعایت ف تمہارے رب کی طرف سے اور رحمت ہے ۔ تو جس نے زیادتی کی ف اس کے بعد تو اس کے لئے دردناک عذاب ہے

﴿179﴾ اور تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے اے عقل مندو ف تاکہ (قتل کرنے سے ) پرہیز کرنے لگو

﴿180﴾ فرض کیا گیا ہے تم پر جب قریب آجائے تم میں سے کسی کے موت۔ بشرطیکہ چھوڑے کچھ مال ف ۔ کہ وصیت کرے اپنے ماں باپ کے لئے اور قریبی رشتہ داروں کے لئے انصاف کے ساتھ۔ ایسا کرنا ضروری ہے پرہیزگاروں پر

﴿181﴾ پھر جو بدل ڈالے اس وصیت کو سن لینے کے بعد تو اس کا گناہ انہیں بدلنے والوں پر ہوگا۔ بےشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا جاننے والاہے

﴿182﴾ اور جسے اندیشہ ہو وصیت کرنے والے سے کسی طرفداری یا گناہ کا پس وہ صلح کرادے ان کے درمیان تو کچھ گناہ نہیں اس پر بےشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

﴿183﴾ اے ایمان والو! فرض کئے گئے تم پر روزے ف جیسے فرض کئے گئے تھے ان لوگوں پر جو تم سے پہلے تھے کہ کہیں تم پرہیزگار بن جاؤ ف

﴿184﴾ یہ گنتی کے چند روز ہیں۔ پھر جو تم میں سے بیمار ہو ف یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں رکھ لے ۔ اور جو لوگ ف اسے بہت مشکل سے ادا کر سکیں ان کے ذمہ فدیہ ہے ایک مسکین کا کھانا۔ اور جو خوشی سے زیادہ نیکی کرے تو وہ اس کے لئے زیادہ بہتر ہے۔ اور تمہارا روزہ رکھنا ہی بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم جانتے ہو

﴿185﴾ ماہ رمضان المبارک جس میں اتارا گیا قرآن ف اس حال میں کہ یہ راہ حق دکھاتا ہے لوگوں کو اور (اس میں ) روشن دلیلیں ہیں ہدایت کی اور حق وباطل میں تمیز کر نے کی۔ سو جو کوئی پائے ف تم میں سے اس مہینہ کو تو وہ یہ مہینہ روزے رکھے۔ اور جو کوئی ف بیمار ہو، یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں رکھ لے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تمہارے لئے سہولت اور نہیں چاہتا ف تمہارے لئے دشواری اور (چاہتا ہے کہ ) تم گنتی پوری کر لیا کرو۔ اور اللہ کی بڑائی بیان کیا کرو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر گزاری کیا کرو

﴿186﴾ اور جب پوچھیں ف آپ سے (اے میرے حبیب ) میرے بندے میرے متعلق تو (انہیں بتاؤ) میں (ان کے ) بالکل نزدیک ہوں۔ قبول کرتا ہوں دعا ف دعا کرنے والے کی جب وہ دعا مانگتا ہے مجھ سے پس انہیں چاہئے کہ میرے حکم مانیں اور ایمان لائیں مجھ پر تاکہ وہ کہیں ہدایت پا جائیں

﴿187﴾ حلال ف کر دیا گیا ہے تمہارے لئے رمضان کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا۔ وہ ف پردہ ، زینت وآرام ہیں اور تم ان کے لئے پردہ، زینت و آرام ہو۔ جانتا ہے اللہ تعالیٰ کہ تم خیانت کیا کرتے تھے اپنے آپ سے پس اس نے نظر کرم فرمائی تم پر اور معاف کر دیا تمہیں، سو اب تم ان سے ملو ملاؤ اور طلب کرو جو (قسمت میں ) لکھ دیا ہے اللہ نے تمہارے لئے اور کھاؤ اور پیؤ یہاں تک کہ ظاہر ہوجائے تمہارے لئے سفید ڈورا۔ سیاہ ڈورے سے ف صبح کے وقت پھر پورا کرو ف روزہ کو رات تک اور نہ مباشرت کرو ان سے ف جب کہ تم اعتکاف بیٹھے ہو مسجدوں میں یہ اللہ کی حدیں ہیں ان (کو توڑنے ) کے ف قریب بھی نہ جانا۔ اسی طرح بیان فرماتا ہے اللہ تعالیٰ اپنی آیتیں لوگوں کے لئے تاکہ وہ تقویٰ اختیار کر لیں

﴿188﴾ اور نہ کھاؤ ایک دوسرے کا مال آپس میں ناجائز طریقہ سے اور نہ رسائی حاصل کرو اس مال سے (رشوت دیکر) حاکموں تک تاکہ یوں کھاؤ کچھ حصہ لوگوں کے مال کا ظلم سے حالانکہ تم جانتے ہو (کہ اللہ نے یہ حرام کیا ہے) ۔

﴿189﴾ دریافت کرتے ہیں آپ سے نئے چاندوں کے متعلق (کہ یہ کیونکر گھٹتے بڑھتے ہیں) فرمائیے یہ وقت کی علامتیں ہیں لوگوں کے لیے اور حج کے لیے اور یہ کوئی نیکی نہیں کہ تم داخل ہو گھروں میں انکے پچھواڑے سے ہاں نیکی تو یہ ہے کہ انسان تقویٰ اختیار کرے۔ اور آیا کرو گھروں میں ان کے دروازوں سے اور ڈرتے رہو اللہ سے اس امید پر کہ کامیاب ہوجاؤ۔

﴿190﴾ اور لڑو اللہ کی راہ میں ان سے جو تم سے لڑتے ہیں اور (ان پر بھی) زیادتی نہ کرنا۔ بےشک اللہ تعالیٰ دوست نہیں رکھتا زیادتی کرنے والوں کو۔

﴿191﴾ اور قتل کرو انہیں جہاں بھی انہیں پاؤ اور نکال دو انہیں جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا اور فتنہ انگیزی تو قتل سے بھی زیادہ سخت ہے۔ اور نہ جنگ کرو ان سے مسجد حرام کے قریب یہاں کہ وہ (خود ) تم سے وہاں جنگ کرنے لیکیں۔ سو اگر وہ لڑیں تم سے تو پھر قتل کرو انہیں۔ یہی سزا ہے (ایسے) کافروں کی۔

﴿192﴾ پھر اگر وہ باز آجائیں (تو جان لو) اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔

﴿193﴾ اور لڑتے رہو ان سے یہاں تک کہ نہ رہے فتنہ (وفساد) اور ہوجائے دین صرف اللہ کے لیے پھر اگر وہ باز آجائیں ( تو سمجھ لو) کہ سختی (کسی پر) جائز نہیں مگر ظالموں پر۔

﴿194﴾ حرمت والا مہینہ حرمت والے مہینہ کا بدلہ ہے اور ساری حرمتوں میں (فریقین کے رویہ میں) برابری چاہیے تو جو تم پر زیادتی کرے تم اس پر زیادتی کرلو (لیکن) اسی قدر جتنی زیادتی اس نے تم پر کی ہو۔ اور ڈرتے رہا کرو اللہ سے اور جان لو یقیناً اللہ (نصرت) پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

﴿195﴾ اور خرچ کیا کرو اللہ کی راہ میں اور نہ پھینکو اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں تباہی میں اور اچھے کام کیا کرو بےشک اللہ تعالیٰ محبت فرماتا ہے اچھے کام کرنیوالوں سے ۔

﴿196﴾ اور پورا کرو حج اور عمرہ اللہ (کی رضا) کے لیے پھر اگر تم گھر جاؤ تو قربانی کا جانور جو آسانی سے مل جائے (وہ بھیجدو) اور نہ منڈاؤ اپنے سر یہاں تک کہ پہنچ جائے قربانی کا جانور اپنے ٹھکانے پر۔ پس جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا اسے کچھ تکلیف ہو سر میں (اور وہ سر منڈالے) تو وہ فدیہ دیدے روزوں سے یا خیرات سے یا قربانی سے ، اور جب تم امن میں ہوجاؤ(اور حج سے پہلے مکہ پہنچ جاؤ) تو جو فائدہ اٹھانا چاہے عمرہ کا حج کے ساتھ تو جو اسے میسر ہو قربانی دے پھر جسے قربانی کی طاقت نہ ہو تو وہ تین دن روزے رکھے حج کے وقت اور سات جب تم گھر لوٹ آؤیہ پورے دس (روزے) ہوئے۔ یہ رعایت اس کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے قریب نہ ہوں۔ اور ڈرا کرو اللہ سے اور جان لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔

﴿197﴾ حج کے چند مہینے ہیں جو معلوم ہیں پس جو نیت کرلے ان میں حج کی تو اسے جائز نہیں بےحیائی کی بات اور نہ نافرمانی اور نہ جھگڑا ۔ حج کے دنوں میں اور جو تم نیک کام کرو اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے، اور سفر کا توشہ تیار کرو اور سب سے بہت توشہ تو پرہیزگاری ہے اور ڈرتے رہو مجھ سے اے عقلمندو ! ۔

﴿198﴾ نہیں ہے تم پر کوئی حرج (اگر حج کے ساتھ ساتھ) تم تلاش کرو اپنے رب کا فضل (رزق) پھر جب واسپس آؤ عرفات سے تو ذکر کرو اللہ کا مشعر حرام (مزدلفہ) کے پاس اور ذکر کرو اس کا جس طرح اس نے تمہیں سکھا یا اور اگرچہ تم اس سے پہلے گمراہوں میں سے تھے۔

﴿199﴾ پھر تم بھی (اے مغروران قریش) وہاں تک (جاکر) واپس آؤ جہاں جاکر دوسرے لوگ واپس آتے ہیں، اور معافی مانگو اللہ سے بےشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔

﴿200﴾ پھر جب تم پورے کرچکو حج کے ارکان تو اللہ کو یاد کرو جس طرح اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ ذکر الہیٰ کرو اور کچھ لوگ ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب دیدے ہمیں دنیا میں ہی (سب کچھ) نہیں ہے اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ۔

﴿201﴾ اور بعض لوگ ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ! عطا فرما ہمیں دنیا میں بھی بھلائی اور آخرت میں بھی بھلائی اور بچالے ہمیں آگ کے عذاب سے

﴿202﴾ اور انہی لوگوں کو بڑا حصہ ملیگا (دونوں جہانوں میں) بسبب انکی (نیک ) کمائی کے، اور اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب چکانے والا ہے۔

﴿203﴾ اور (خوب) یاد کرلو اللہ تعالیٰ کو ان دنوں میں جو معدوے چند ہیں اور جو جلدی کرکے دو دنوں میں چلا گیا تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ اور جو کچھ دیر وہاں ٹھیرا رہا تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں (بشرطیکہ) وہ ڈرتا رہا ہو۔ اور ڈرتے رہو اللہ سے اور (خوب) جان لو تمہیں اسی کی بارگاہ میں اکٹھا کیا جائے گا ۔

﴿204﴾ اور (اے سننے والے) لوگوں سے وہ بھی ہے کہ پسند آتی ہے تجھے اس کی گفتگو دنیاوی زندگی کے بارے میں اور وہ گواہ بنا رہتا ہے اللہ کو اس پر جو اس کے دل میں ہے۔ حالانکہ وہ (حق کا) سخت ترین دشمن ہے۔

﴿205﴾ اور وہ جب حاکم بن جاتا ہے تو سرتوڑ کوشش کرتا ہے کہ ملک میں فساد برپا کردے اور تباہ کردے کھیتوں کو اور نسل انسانی کو اور اللہ تعالیٰ فساد کو ہرگز پسند نہیں کرتا ۔

﴿206﴾ اور جب کہا جائے اسے کہ (میاں) خدا سے تو ڈرو تو اکساتا ہے اسے غرور گناہ پر پس اس کے لیے جہنم کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

﴿207﴾ اور لوگوں میں سے وہ بھی ہے جو بیچ ڈالتا ہے اپنی جان (عزیز) بھی اللہ کی خوشنودیاں حاصل کرنے کے لیے اور اللہ نہایت مہربان ہے اپنے بندوں پر ۔

﴿208﴾ اے ایمان والو داخل ہوجاؤ اسلام میں پورے پورے اور نہ چلو شیطان کے نقش قدم پر بےشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔

﴿209﴾ اور اگر تم پھسلنے لگو اس کے بعد کہ آچکی ہیں تمہارے پاس روشن دلیلیں تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ زبردست حکمت والا ہے ۔

﴿210﴾ کیا وہ اس بات کا انتظار کر رہے کہ آئے انکے پاس اللہ کا عذاب چھائے ہوئے بادلوں (کی صورت) میں اور فرشتے اور (انکا) فیصلہ ہی کردیا جائے اور (آخر کار) اللہ کی طرف ہی لوٹائے جائیں گے سارے معاملات ۔

﴿211﴾ آپ پوچھیئے بنی اسرائیل سے کہ ہم نے انہیں کتنی روشن دلیلیں عنایت فرمائیں اور جو (قوم) بدل ڈالے اللہ کی نعمت کو اس کے مل جانے کے بعد تو یقیناً اللہ تعالیٰ (اس قوم کو) سخت عذاب دینے والا ہے۔

﴿212﴾ آراستہ کردی گئی ہے کافروں کے لیے دنیا کی (فانی) زندگی اور مذاق اڑاتے ہیں یہ ایمان والوں کا ، حالانکہ پرہیزگاروں کی شان بلند ہوگی ان سے قیامت کے دن اور اللہ تعالیٰ روزی تو جسے چاہے بےحساب دیتا ہے۔

﴿213﴾ (ابتدا میں) سب لوگ ایک ہی دین پر تھے (پھر جب انمیں اختلاف پیدا ہوگیا) تو بھیجے اللہ نے انبیاء خوشخبری سنا نے والے اور ڈرانے والے اور نازل فرمائی ان کے ساتھ کتاب برحق تاکہ فیصلہ کردے لوگوں کے درمیان جن باتوں میں جھگڑنے لگے گے اور کسی نے اختلاف نہیں کیا اس میں بجز ان لوگوں کے جنہیں کتاب دی گئی تھی بعد ازاں کہ آگئی تھیں ان کے پاس روشن دلیلیں (اسکی وجہ) ایک دوسرے سے حسد تھا۔ پس اللہ نے ہدایت بخشی انھیں جو ایمان لائے تھے ان سچی باتوں پر جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے اپنی توفیق سے اور اللہ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے سیدے راستے کی طرف۔

﴿214﴾ کیا تم خیال کررہے ہو کہ (یونہی) داخل ہوجاؤگے جنت میں حالانکہ نہیں گزرے تم پر وہ حالات جو گزرے ان لوگوں پر جو تم سے پہلے ہوئے ہیں، پہنچی انھیں سختی اور مصیبت اور وہ لرز اٹھے یہاں تک کہہ اٹھا (اس زمانہ کا) رسول اور جو ایمان لے آئے تھے اسکے ساتھ کب آئیگی اللہ کی مدد؟ سن لو یقیناً اللہ کی مدد قریب ہے ۔

﴿215﴾ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں ، آپ فرمائیے جو کچھ خرچ کرو (اپنے) مال سے تو اس کے مستحق تمہارے ماں باپ ہیں ، اور قریبی رشتہ دار ہیں اور یتیم ہیں اور مسکین ہیں اور مسافر ہیں اور جو نیکی تم کرتے ہو تو بلا شبہ اللہ تعالیٰ اُسے خوب جانتا ہے۔

﴿216﴾ فرض کیا گیا ہے تم پر جہاد اور وہ نا پسند ہے تمہیں اور ہوسکتا ہے کہ تم نا پسند کرو کسی چیز حالانکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہو اور ہوسکتا ہے کہ تم پسند کرو کسی چیز کو حالانکہ وہ تمہارے حق میں بری ہو اور ( حقیقت حال ) اللہ ہی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔

﴿217﴾ وہ پوچھتے ہیں آپ سے کہ ماہ حرام میں جنگ کرنے کا حکم کیا ہے آپ فرمائیے کہ لڑائی کرنا اس میں بڑا گناہ ہے لیکن روک دینا اللہ کی راہ سے اور کفر کرنا اس کے ساتھ اور (روک دینا) مسجد حرام سے اور نکال دینا اسمیں بسنے والوں کو اس ، اسے بھی بڑے گناہ ہیں اللہ کے نزدیک اور فتنہ (و فساد) قتل سے بھی بڑا گنا ہے۔ اور ہمیشہ لڑتے رہیں گے تم سے یہاں تک کہ پھیر دیں تمہیں تمہارے دین سے اگر بن پڑے اور جو پھر سے تم میں سے اپنے دین سے پھر مرجائے حالت کفر پر تو یہی وہ (بدنصیب) ہیں کہ ضائع ہوگئے ان کے عمل دینا و آخرت میں اور یہی دوزخی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

﴿218﴾ بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا ، اللہ کی راہ میں ، (تو ) یہی لوگ امید رکھتے ہیں اللہ کی رحمت کی ، اور اللہ بڑا بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔

﴿219﴾ وہ پوچھتے ہیں آپ سے شراب اور جوئے کی بابت ، آپ فرمائیے ان دونوں میں بڑا گناہ ھے۔ اور کچھ فائدے بھی ہیں لوگوں کے لیے اور ان کا گناہ بہت بڑا ہے ان کے فائدے سے اور پوچھتے ہیں آپ سے کیا خرچ کریں فرمایے جو ضرورت سے زیادہ ہو اسی طرح کھول کر بیان کرتا ہے اللہ تمہارے لیے اپنے حکموں کو تاکہ تم غور و فکر کرو ۔

﴿220﴾ دنیا اور آخرت کے کاموں میں ۔ اور پوچھتے ہیں آپ سے یتیموں کے بارے میں فرمائیے (ان سے الگ تھلک رہنے سے) انکی بھلائی کرنا بہتر ہے، اور اگر (کاروبار میں) تم انہیں ساتھ ملالو تو وہ تمہارے بھائی ہیں۔ اور اللہ خوب جانتا ہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے اور اگر چاہتا اللہ تو مشکل میں ڈال دیتا تمہیں بےشک اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا حکمت والا ہے۔

﴿221﴾ اور نہ نکا ح کرو مشرک عورتوں کے ساتھ یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں۔ اور بےشک مسلمان لونڈی بہتر ہے (آزاد) مشرک عورت سے اگرچہ وہ بہت پسند آئے تمہیں۔ اور نہ نکاح کردیا کرو (اپنی عورتوں کا ) مشرکوں سے یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں اور بیشک مومن غلام بہتر ہے (آزاد) مشرک سے، اگرچہ وہ پسند آئے تمہیں وہ لوگ تو بلاتے ہیں دوزخ کی طرف اور اللہ تعالیٰ بلاتا ہے جنت کی اور مغفرت کی طرف اپنی توفیق سے اور کھول کر بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے حکم لوگوں کے لیے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں

﴿222﴾ اور وہ پوچھتے ہیں آپ سے حیض کے متعلق فرمائیے وہ تکلیف دہ ہے پس الگ رہا کرو عورتوں سے حیض کی حالت میں اور نہ نزدیک جایا کرو ان کے یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں ۔ پھر جب وہ پاک ہوجائیں تو جاؤ ان کے پاس جیسے حکم دیا ہے تمہیں اللہ نے بےشک اللہ دوست رکھتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور دوست رکھتا ہے صاف ستھرا رہنے والوں کو۔

﴿223﴾ تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں سو تم آؤ اپنے کھیت میں جس طرح چاہو اور پہلے پہلے کرلو اپنی بھلائی کے کام اور ڈرتے رہو اللہ سے اور خوب جان لو کہ تم ملنے والے ہو اس سے اور (اے حبیب) خوشخبری دو مومنوں کو ۔

﴿224﴾ اور نہ بناؤ اللہ (کے نام) کو رکاوٹ اس کی قسم کھا کر کہ نیکی نہ کروگے اور پرہیزگاری نہ کرو گے اور صلح نہ کرو گے لوگوں میں اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔

﴿225﴾ نہیں پکڑے گا تمہیں اللہ تعالیٰ تمہاری لایعنی قسموں پر لیکن پکڑے گا تمہیں ان قسموں پر جن کا ارادہ تمہارے دلوں نے کیا ہے اور اللہ بہت بخشنے والا حلم والا ہے۔

﴿226﴾ ان کے لیے جو قسم اٹھاتے ہیں کہ وہ اپنی بیویوں کے قریب نہ جائیں گے مہلت ہے چار ماہ کی پھر اگر رجوع کرلیں (اِس مدت میں) تو بیشک اللہ غفور رحیم ہے

﴿227﴾ اور اگر پکا ارادہ کرلیں طلاق دینے کا تو بےشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

﴿228﴾ اور طلاق دی ہوئی عورتیں روکے رکھیں اپنے آپ کو تین حیضوں تک اور جائز نہیں ان کے لیے کہ چھپائیں جو پیدا کیا ہے اللہ نے ان کے رحموں میں اگر وہ ایمان رکھتی ہوں اللہ پر اور روز آخرت پر ان کے خاوند زیادہ حقدار ہیں ان کو لوٹانے کے اس مدت میں اگر وہ ارادہ کرلیں اصلاح کا اور ان کے بھی حقوق ہیں (مردوں پر) جیسے مردوں کے حقوق ہیں ان پر دستور کے مطابق البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ عزت والا حکمت والا ہے۔

﴿229﴾ طلاق دوبار ہے پھر یا روک لینا ہے بھلائی کے ساتھ یا چھوڑدینا ہے احسان کے ساتھ اور جائز نہیں تمارے لیے کہ لو تم اس سے جو تم نے دیا ہے انہیں کچھ بھی بجز اس کے کہ دونوں اندیشہ ہو کہ وہ قائم نہ رکھ سکیں گے اللہ کی حدو کو تو کوئی حرج نہیں ان پر کہ عورت کچھ فدیہ دیگر جان چھڑالے۔ یہ حدیں ہیں اللہ کی سو ان سے آگے نہ بڑھو اور جو کوئی آگے بڑھتا ہے اللہ کی حدو سے سو وہی لوگ ظالم ہیں۔

﴿230﴾ (دوبار طلاق دینے کے بعد) پھر اگر وہ طلاق دے اپنی بیوی کو تو وہ حلال نہ ہوگی اس پر اس کے بعد یہاں تک کہ نکاح کرے کسی اور خاوند کے ساتھ۔ پس اگر وہ (دوسرا) طلاق دے اسے تو کوئی حرج نہیں ان دونوں پر کہ رجوع کرلیں۔ بشرطیکہ انہیں خیال ہو کہ وہ قائم رکھ سکیں گے اللہ کی حدوں کو اور یہ حد یں ہیں اللہ کی وہ بیان فرماتا ہے انہیں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔

﴿231﴾ اور جب تم طلاق دیدو عورتوں کو اور وہ پوری کر لیں اپنی عدت پس یا تو روک لو انہیں بھلائی کے ساتھ یا چھوڑ دو انہیں بھلائی کے ساتھ اور نہ روکو انہیں تکلیف دینے کی غرض سے تاکہ زیادتی کرو۔ اور جو کوئی کرے گا اس طرح تو وہ ظلم کریگا اپنی ہی جان پر اور نہ بنا لو اللہ کی آیتوں کو مذاق اور یاد کرو اللہ کی نعمت کو جو تم پر ہے اور (یاد کرو) جو اس نے نازل فرمایا تم پر قرآن اور حکم وہ نصیحت فرماتا ہے تمہیں اس سے۔ اور ڈرتے رہو اللہ سے اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

﴿232﴾ اور جب تم طلاق دو عورتوں کو پھر وہ پوری کرچکیں اپنی عدت تو نہ منع کرو انہیں کہ نکاح کرلیں اپنے خاوندوں سے جبکہ رضا مند ہوجائیں آپس میں مناسب طریقہ سے یہ فرمان الٰہی (ہے) نصیحت کی جاتی ہے اسکے ذریعے اسکو جو تم میں سے یقین رکھتا ہو اللہ پر اور قیامت پر یہ بہت پاکیزہ ہے تمہارے لیے اور بہت صاف اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

﴿233﴾ اور مائیں دودھ پلائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال ( یہ مدت) اس کے لیے ہے جو پورا کرنا چاہتا ہے دودھ کی مدت۔ اور جس کا بچہ ہے اس کے ذمہ ہے کھانا ان ماؤں کا اور ان کا لباس مناسب طریقہ سے۔ تلیف نہیں دی جاتی کسی شخص کو مگر اسکی حیثیت کے مطابق نہ ضرر پہنچایا جاجے کیس ماں کو اسکے لڑکے کے باعث اور نہ کسی باپ کو (ضرر پہنچا یا جائے) اسکے لڑکے کے باعث اور وارث پر بھی اسی قسم کی ذمہ داری ہے۔ پس اگر دونوں ارادہ کرلیں دودھ چھڑانے کا اپنی مرضی اور مشورہ سے تو کوئی گناہ نہیں دونوں پر اور اگر تم چاہو کہ دودھ پلواؤ (دایہ سے) اپنی اولاد کو پھر کوئی گناہ نہیں تم پر جبکہ تم ادا کردو جو دینا ٹھرایا تھا تم نے مناسب طریقہ سے اور ڈرتے رہو اللہ سے اور (خوب) جان لو کہ یقیناً اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کررہے ہو اسے دیکھنے والا ہے۔

﴿234﴾ اور جو لوگ فوت ہوجائیں تم میں سے اور چھوڑ جائیں بیویاں تو ہو بیویاں انتظار کریں چار مہینے اور دس دن اور جب پہنچ جائیں اپنی (اس) مدت کو تو کوئی گناہ نہیں تم پر اس میں جو کریں وہ اپنی ذات کے بارے میں مناسب طریقہ سے ۔ اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو خوب واقف ہے۔

﴿235﴾ اور کوئی گناہ نہیں تم پر اس بات میں کہ اشارہ سے پیغام نکاح دو اِ ن عورتوں کو یا جو چھپائے ہو تم اپنے دلوں میں جانتا ہے اللہ تعالیٰ کہ تم ضرور اس کا ذکر کرو گے البتہ نہ وعدہ لینا ان سے خفیہ طور پر بھی مگر یہ کہ کہو (ان سے ) شریعت کے مطابق کوئی بات اور نہ پکی کرلو نکاح کی گرہ یہاں تک کہ پہنچ جائے عدت اپنی انتہا کو اور جان لو کہ یقیناً اللہ جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے سو اس ڈرتے رہو اور جان لو کہ بےشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا حلم والا ہے۔

﴿236﴾ کوئی حرج نہیں تم پر اگر تم طلاق دے دو ان عورتوں کو جن کو تم نے چھوا بھی نہیں اور نہیں مقرر کیا تم نے ان کا مہر اور خرچہ دہ انہیں مقدور والے پر اسکی حیثیت کے مطابق اور تنگدست پر اس کی حیثیت کے مطابق یہ خرچہ مناسب طریقہ پر ہونا چاہیے۔ یہ فرض ہے نیکو کاروں پر۔

﴿237﴾ اور اگر تم طلاق دو انہیں اس سے پہلے کہ تم انہیں ہاتھ لگاؤ اور مقرر کرچکے تھے ان کے لیے مہر تو نصف مہر (ادا کرو) جو تم نے مقرر کیا ہے مگر یہ کہ وہ (اپنا حق ) معاف کردیں یا معاف کردے وہ جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ اور (اے مردو) اگر تم معاف کردو تو یہ بہت قریب ہے تقویٰ سے اور نہ بھلایا کرو احسان کو آپس (کے لین دین) میں بیشک اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے

﴿238﴾ پابندی کرو سب نمازوں کی اور (خصوصا!) درمیانی نماز کی اور کھڑے رہا کرو اللہ کے لیے عاجزی کرتے ہوئے۔

﴿239﴾ پھر اگر تم کو ڈر ہو (دشمن وغیرہ کا ) تو پیادہ یا سوار (جیسے بن پڑے) پھر جب تمہیں امن حاصل ہوجائے تو یاد کرو اللہ تعالیٰ کو جس طرح اس نے سکھایا ہے ، تمہیں جو تم جانتے نہیں تھے۔

﴿240﴾ اور جو لوگ فوت ہو جاتے ہیں تم میں سے اور چھوڑ جاتے ہیں بیویاں (انہیں چاہیے کہ ) وصیت کرجایا کریں اپنی بیویوں کے لیے انہیں خرچ دیا جائے ایک سال تک (اور) نہ نکالا جائے (انہیں گھر سے ) پھر اگر وہ خود چلی جائیں تو کوئی گناہ نہیں تم پر جو کچھ وہ کریں۔ اپنے معاملہ میں مناسب طور پر اور اللہ بہت زبردست بڑا دانا ہے۔

﴿241﴾ اور (اسی طرح) جن کو طلاق دی گئی انکو خرچ دینا چاہیے مناسب طور پر ۔ یہ واجب ہے پرہیزگاروں پر ۔

﴿242﴾ اسی طرح کھول کر بیان فرماتا ہے اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنے احکام تاکہ تم سمجھ جاؤ۔

﴿243﴾ کیا نہیں دیکھا تو نے ان لوگوں کی طرف جو نکلے تھے اپنے گھروں سے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے تو فرمایا انہں اللہ تعالیٰ نے کہ مرجاؤ پھر زندہ فرمایا انھیں بےشک اللہ تعالیٰ بڑا مہربان ہے لوگوں پر لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے ۔

﴿244﴾ اور لڑائی کرو اللہ کی راہ میں اور جان لو کہ بےشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔

﴿245﴾ کون ہے جو دے اللہ تعالیٰ کو قرض حسن تو بڑھا دے الہ اس قرض کو اس کے لیے کئی گنا اور اللہ تعالیٰ تنگ کرتا ہے (رزق کو ) اور فراخ کرتا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤگے۔

﴿246﴾ کیا نہیں دیکھا تم نے اس گروہ کو بنی اسرائیل سے (جو) موسیٰ کے بعد ہوا جب کہا انھوں نے اپنے نبی سے کہ مقرر کردو ہامرے لیے ایک امیر تاکہ لڑائی کریں ہم اللہ کی راہ میں نبی نے کہا کہیں ایسا نہ ہو کہ فرض کردیا جائے تم پر جہاد تو تم جہاد نہ کرو وہ کہنے لگے (کوئی وجہ) نہیں ہمارے لیے کہ ہم جہاد نہ کریں اللہ کی راہ میں حالانکہ ہم نکالے گئے اپنے گھروں سے اور اپنے فرزندوں سے مگر جب فرض کردیا گیا ان پر جہاد تو منہ پھیر لیا انھوں نے بجز چند نے ان میں سے اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے ظالموں کو ۔

﴿247﴾ اور کہا انھیں ان کے نبی نے بےشک اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمادیا ہے تمہارے لیے طالوت کو امیر بولے کیونکر ہوسکتا ہے اسے حکومت کا حق ہم پر حا لانکہ ہم زیادہ حقدار ہیں حکومت کے اس سے اور نہیں گئی اسے فراخی ما ل و دولت میں بنی نے فرمایا بےشک اللہ تعالیٰ نے چُن لیا ہے اسے تمہارے مقابلہ میں اور زیادہ دی ہے اسے کشادگی علم میں اور جسم میں اور اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے اپنا ملک جسے چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ وُسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے۔

﴿248﴾ اور کہا انھیں ان کے نبی نے کہ اس کی بادشاہی کے نشانی یہ ہے کہ آئے گا تمہارے پاس ایک صندوق اس میں تسلی (کا سامان) ہوگا تمہارے رب کی طرف سے اور (اس میں) بچی ہوئی چیزیں ہوں گی جنھیں چھوڑ گئی ہے اولاد موسیٰ اور اولاد ہارون اٹھالائیں گے اس صندوق کو فرشتے بےشک اس میں بڑی نشانی ہے تمہارے لیے اگر تم ایمان دار ہو ۔

﴿249﴾ پھر جب روانہ ہوا طالوت اپنی فوجوں کے ساتھ اس نے کہا کہ بےشک اللہ تعالیٰ آزمانے والا ہے تمھیں ایک نہر سے جس نے پانی پی لیا اس وہ نہیں میرے ساتھیوں سے اور جس نے نہ پیا وہ یقیناً میرے ساتھیوں میں سے ہے مگر جس نے بھر لیا ایک چلو اپنے ہاتھ سے پس سب نے پیا اس سے مگر چند آدمیوں نے ان سے (نہیں پیا) پھر جب عبور کیا اسے طالوت نے اور ان لوگوں نے جو ایمان لائے تھے، اس کے ساتھ کہنے لگے کچھ طاقت نہیں ہم میں آج جالوت اور اس کے لشکر کے مقابلہ کرنے کی (مگر) کہا ان لوگوں نے جو یقین رکھتے تھے وہ ضرور ملاقات کرنے والے ہیں اللہ سے کہ بارہا چھوٹی جماعتیں غالب آئی ہیں بڑی جماعتوں پر اللہ کے ازن سے اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

﴿250﴾ اور جب سامنے آگئے جالوت اور اس کی فوجوں کے تو بارگاہِ الٰہی میں عرض کرنے لے اے ہمارے رب! اُتار ہم پر صبر اور جمائے رکھ ہمارے قدموں کو اور فتح دے ہمیں قوم کفار پر

﴿251﴾ پس انہوں نے شکست دی جالوت کے لشکر کو۔ اللہ کے اذن سے اور قتل کردیا داؤد نے جالوت کو اور عطا فرمائی داؤد کو اللہ نے حکومت اور دانائی اور سکھادیا اس کو جو چاہا اور اگر نہ بچاؤ کرتا اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کا بعض کے ذریعہ تو برباد ہوجاتی زمین لیکن اللہ تعالیٰ فضل و کرم فرمانے والاہے سارے جہانوں پر

﴿252﴾ یہ آیتیں ہیں اللہ کی ہم پڑھتے ہیں انھیں آپ پر (اے حبیب) ٹھیک ٹھیک اور یقیناً آپ رسولوں میں سے ہیں۔

﴿253﴾ یہ آیتیں ہیں اللہ کی ہم پڑھتے ہیں انھیں آپ پر (اے حبیب) ٹھیک ٹھیک اور یقیناً آپ رسولوں میں سے ہیں۔

﴿254﴾ اے ایمان والو خرچ کرلو اس (مال) سے جو ہم نے دیا ہے تم کو اس سے پہلے کہ آجائے وہ دن جس میں نہ خرید و فروخت ہوگی اور نہ (کفار کے لیے ) دوستی ہوگی اور نہ (ان کے لیے) شفاعت ہوگی اور جو کافر ہیں وہی ظالم ہیں ۔

﴿255﴾ اللہ (وہ ہے کہ) کوئی عبادت کے لائق نہیں بغیر اس کے زندہ ہے سب کو زندہ رکھنے والا ہے نہ اس کو اونگھ آتی ہے اور نہ نیند اُسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے کون ہے جو سفارش کرسکے اسکے پاس بغیر اس کی اجازت کے جانتا ہے جو ان سے پہلے (ہوچکا) ہے اور جو ان کے بعد (ہونے والا) ہے اور وہ نہیں گھیر سکتے کسی چیز کو اس کے علم سے مگر جتنا وہ چاہے سما رکھا ہے اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو اور نہیں تھکاتی اسے زمین و آسمان کی حفاظت اور وہی ہے سب سے بلند عظمت والا ۔

﴿256﴾ کوئی زبردستی نہیں ہے دین میں بےشک خوب واضح ہوگئی ہے ہدایت گمراہی سے تو جو انکار کرے شیطان کا اور ایمان لائے اللہ کے ساتھ تو اس نے پکڑ لیا مضبوط حلقہ جو ٹوٹنے ولا نہیں اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے

﴿257﴾ اللہ مدد گار ہے ایمان والوں کا نکال لے جاتا ہے انھیں اندھیروں سے نور کی طرف اور جنھوں نے کفر کیا اس کے ساتھی شیطان ہیں نکال لے جاتے ہیں انھیں نور سے اندھیروں کی طرف یہی لوگ دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

﴿258﴾ کیا نہ دیکھا آپ نے (اے حبیب) اسے جس نے جھگڑا کیا ابراہیم سے ان کے رب کے بارے میں اس وجہ سے کہ دی تھی اے اللہ نے بادشاہی جب کہ کہا ابراہیم (علیہ السلام) نے (اسے) کہ میرا رب وہ ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے اس نے کہا کہ میں بھی جلاسکتا ہوں اور مارسکتا ہوں ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نکالتا ہے سورج کو مشرق سے تو تو نکال لا اسے مغرب سے (یہ سن کر) ہوش اڑ گئے اس کافر کے اور اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا ظالم قوم کو۔

﴿259﴾ یا (کیا نہ دیکھا) اس شخص کو جو گزر ا ایک بستی پر درآں حال کہ وہ گری پڑی تھی اپنی چھتوں کے بل کہنے لگا کہ کیونکر زندہ کرے گا اسے اللہ تعالیٰ اس کے ہلاک ہونے کے بعد۔ سو مردہ رکھا اسے اللہ تعالیٰ نے سو سال تک پھر زندہ کیا اسے فرمایا کتنی مدت تو یہاں ٹھیرا رہا اس نے عرض کی کہ میں ٹھیرا ہوں گا ایک دن یا د کا کچھ حصہ اللہ نے فرمایا نہیں بلکہ ٹھیرا رہا ہے تو سو سال اب (ذرا) دیکھ اپنے کھانے اور اپنے پینے کے سامان کی طرف یہ باسی نہیں ہوا اور دیکھ اپنے گدھے کو اور یہ سب اس لیے کہ ہم بنائیں تجھے نشان لوگوں کے لیے اور دیکھ ان ہڈیوں کو کہ ہم کیسے جوڑتے ہیں انھیں پھر (کیسے) ہم پہناتے ہیں انھیں گوشت پھر جب حقیقت روشن ہوگئی اس کے لیے (تو) اس نے کہا میں جان گیا ہون کہ بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

﴿260﴾ اور یاد کرو جب عرض کی ابراہیم (علیہ السلام) نے اے میرے پروردگار دکھا مجھے کہ تو کیسے زدہ فرماتا ہے مردوں کو فرمایا (اے ابراہیم ( علیہ السلام) ) کیا تم اس پر یقین نہیں رکھتے عرض کی ایمان تو ہے لیکن (یہ سوال اس لیے ہے) تاکہ مطمئن ہوجائے میرا دل فرمایا تو پکڑلے چار پرندے پھر مانوس کرلے انھیں اپنے ساتھ پھر رکھ دے ہر پہاڑ پر ان کا ایک ایک ٹکڑا پھر بلا انھیں چلے آئیں گے تیرے پاس دوڑتے ہوئے اور جان لے یقیناً اللہ تعالیٰ سب پر غالب بڑا دانا ہے۔

﴿261﴾ مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں کو اللہ کی راہ میں ایسی ہے جیسے ایک دانہ جو اگاتا ہے سات بالیں (اور ) ہر بال میں سو دانہ ہو اور اللہ تعالیٰ (اس سے بھی) بڑھا دیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور اللہ وسیع بخشش والا جاننے والا ہے۔

﴿262﴾ جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی راہ میں پھر جو خرچ کیا اس کے پیچھے نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ دکھ دیتے ہیں انھیں کے لیے ثواب ہے ان کا ان کے رب کے پاس نہ کوئی خوف ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

﴿263﴾ اچھی بات کرنا اور (غلطی) معاف کردینا بہتر ہے اس صدقہ سے جس کے پیچھے دکھ پہنچایا جائے اور اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے بڑے حلم والا ہے۔

﴿264﴾ اے ایمان والو! مت ضائع کرو اپنے صدقوں کو احسان جتلا کر اور دکھ پہنچا کر اس آدمی کی طرح جو خرچ کرتا ہے اپنا مال لوگوں کو دیکھانے کے لیے اور یقین نہیں رکھتا اللہ پر اور دِن قیامت پر اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی چکنی چٹان ہو جس پر مٹی پڑی ہو پر برسے اس پر زور کی بارش اور چھوڑ جائے اُسے چٹیل صاف پتھر (ریا کار) حاصل نہ کرسکیں گے کچھ بھی اس سے جو انھوں نے کمایا ۔ اور اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا کفر اختیار کرنے والوں کو۔

﴿265﴾ اور مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی خوشنودیاں حاصل کرنے کے لیے اور اس لیے تاکہ پختہ ہوجائیں ان کے دل ان کی مثال اس باغ جیسی ہے جو ایک بلند زمین پر ہو برسا ہو اس پر زور کا مینہ تو لایا ہو وہ باغ دوگنا پھل اور اگر نہ برسے اس بارش تو شبنم ہی کافی ہو جائے اور اللہ تعالیٰ جو تم کررہے ہو سب دیکھ رہا ہے۔

﴿266﴾ کیا پسند کرتا ہے کوئی تم میں سے کہ ہو اس کا ایک باغ کھجوروں اور انگوروں کا بہتی ہو اس کے نیچے ندیاں ( کھجور و انگورکے علاوہ) اس کے لیے اس میں ہر قسم کے اور پھل بھی ہوں اور آلیا ہو اسے بڑھاپے نے اور اس کی اولاد بھی کمزور ہو (تو کیا وہ پسند کرتا ہے ) کہ پہنچے اس کے باغ کو بگولہ جس میں آگ ہو پھر وہ باغ جل بھن جائے ایسے ہی کھول کر بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ تمہارے لیے (اپنی ) آیتیں تاکہ تم غور و فکر کرو۔

﴿267﴾ اے ایمان والو ں! خرچ کیا کرو عمدہ چیزوں سے جو تم نے کمائی ہیں اور اس سے جو نکالا ہے ہم نے تمہارے لیے زمین سے اور نہ ارادہ کرو ردی چیز کا اپنی کمائی سے کہ ( تم اسے ) خرچ کرو حالانکہ (اگر تمھیں کوئی ردی چیز دے تو) تم نہ لو اسے بجز اس کے چشم پوشی کرلو اس میں اور (خوب ) جان لو کہ اللہ تعالیٰ غنی ہے ہر تعریف کے لائق ہے۔

﴿268﴾ شیطان ڈراتا ہے تمھیں تنگدستی سے اور حکم کرتا ہے تم کو بےحیائی کا اور اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے تم سے اپنی بخشش کا اور فضل (وکرم) کا اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے۔

﴿269﴾ عطا فرماتا ہے دانائی جسے چاہتا ہے اور جسے عطا کی گئی دانائی تو یقیناً اُسے دے دی گئی بہت بھلائی اور نہیں نصیحت قبول کرتے مگر عقل مند۔

﴿270﴾ اور جو تم خرچ کرتے ہو اور مننت مانتے ہو تو یقیناً اللہ تعالیٰ اُسے جانتا ہے اور نہیں ہے ظالموں کے لیے کوئی مدد گار۔

﴿271﴾ اگر ظاہر کرو (اپنی) خیرات تو بہت اچھی بات ہے اور اگر پوشیدہ رکھو صدقوں کو اور دو انھیں فقیروں کو تو یہ بہت بہتر ہے تمہارے لیے اور (صدقہ کی برکت سے ) مٹادے گا تم سے تمہارے بعض گناہ اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کررہے ہو خبردار ہے۔

﴿272﴾ نہیں ہے آپ کے ذمہ ان کو سیدھی راہ پر چلانا ہاں اللہ سیدھی راہ پر چلاتا ہے جسے چاہتا ہے اور جو کچھ تم خرچ کرو (اپنے) مال سے سے (اس میں ) تمہارا اپنا فائدہ ہے اور تم تو خرچ ہے نہیں کرتے ہو سوائے اللہ کی رضا طلبی کے اور جتنا کچھ تم خرچ کرو گے ( اپنے) مال سے پورا ادا کردیا جائے گا تمھیں اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

﴿273﴾ (خیرات) ان فقیروں کے لیے ہے جو روکے گئے ہیں اللہ کی راہ میں نہیں فرصت ملتی انھیں (روزی کمانے کے لیے ) چلنے پھرنے کی زمین میں خیال کرتا ہے انھیں ناواقف (کہ یہ) مالدار (ہیں) بوجہ ان کے سوال نہ کرنے کے (اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) آپ پہچانتے ہیں انھیں ان کی صورت سے یہ نہیں مانگا کرتے لوگوں سے لپٹ کر اور جو کچھ تم خرچ کروگے (اپنے ) مال سے پس یقیناً اللہ تعالیٰ اسے خوب جاننے والا ہے۔

﴿274﴾ جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مال رات میں اور دن میں چھپ کر اور علانیہ تو ان کے لیے ان کا اجر ہے اپنے رب کے پاس اور نہ انھیں کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

﴿275﴾ جو لوگ کھایا کرتے ہیں سود وہ نہیں کھڑے ہوں گے مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے وہ جسے پاگل بنا دیا ہو شیطان نے چھو کر یہ حالت اس لیے ہوگی کہ وہ کہا کرتے تھے کہ سوداگری بھی سود کی مانند ہے حالانکہ حلا ل فرمایا اللہ تعالیٰ نے تجارت کو اور حرام کیا سود کو پس جس کے پاس آئی نصیحت اپنے رب کی طرف سے تو وہ (سود سے) رک گیا تو جائز ہے اس کے لیے جو گزر چکا اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اور جو شخص پھر سود کھانے لگے تو وہ لوگ دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

﴿276﴾ مٹاتا ہے اللہ تعالیٰ سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو اور اللہ تعالیٰ دوست نہیں رکھتا ہر ناشکرے گنہگار کو۔

﴿277﴾ بے شک جو لوگ ایمان لائے اور کرتے رہے اچھے عمل اور صحیح صحیح ادا کرتے رہے نماز کو اور دیتے رہے زکوٰۃ کو ان کے لیے ان کا اجر ہے ان کے رب کے پاس نہ کوئی خوف ہے انھیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

﴿278﴾ اے ایمان والو! ڈرو اللہ سے اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود سے اگر تم (سچے دل سے) ایمان دار ہو۔

﴿279﴾ اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اعلان جنگ سن لو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اور اگر تم توبہ کرلو تہ تمھیں (مل جائیں گے) اصل مال نہ تم ظلم کیا کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔

﴿280﴾ اور اگر مقروض تنگدست ہو تو مہلت دو اسے خوشحال ہونے تک اور بخش دینا اسے (قرض) بہت بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم جانتے ہو ۔

﴿281﴾ اور ڈرتے رہو اس دن سے لوٹائے جاؤگے جس میں اللہ کی طرف پھر پورا پورا دے دیا جائے گا ہر نفس کو جس اس نے کمایا ہے اور ان پر زیادتی نہ کی جائے گی۔

﴿282﴾ اے ایمان والا! جب تم ایک دوسرے کو قرض دو مدت مقررہ تک تو لیکھ لیا کرو اسے اور چاہیے کہ لکھے تمہارے درمیان لکھنے والا دعدل و انصاف سے اور نہ انکار کرے لکھنے والا لکھنے سے جیسے سکھایا ہے اس کو اللہ نے پس وہ بھی لکھ دے اور لکھوائے وہ شخص جس کے ذمہ حق (قرضہ) ہے اور ڈرے اللہ سے جو اس کا پروردگار ہے اور نہ کمی کرے اس سے ذرہ بھر پھر اگر وہ شخص جس پر قرض ہے بیوقوف ہو یا کمزور ہو یا س کی طاقت نہ رکھتا ہو کہ خود لکھا سکے تو لکھائے اس کا ولی (سرپرست) انصاف سے اور بنا لیا کرو دو گواہ اپنے مردوں سے اور اگر نہ ہوں دو مرد تو ایک مرد اور دو عورتیں ان لوگوں میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو تم (اپنے لیے) گواہ تاکہ اگر بھول جائے ایک عورت تو یاد کرائے (وہ) ایک دوسری کو اور نہ انکار کریں گوہ جب وہ بلائے جائیں اور نہ اکتایا کرو اسے لکھنے سے خواہ (رقم قرضہ) تھوڑی ہو یا زیادہ اس کی میعاد تک یہ تحریر عدل قائم کرنے کے لیے بہت مفید ہے اللہ کے نزدیک اور بہت محفوظ رکھنے والی ہے گواہی کو اور آسان طریقہ ہے تمھیں شک سے بچانے کا مگر یہ کہ سودا دست بدستی ہو جس کا تم لین دین آپس میں کرو (اس صورت میں) نہیں تم پر کچھ حرج اگر نہ بھی لکھو اسے اور گواہ ضرور بنالیا کرو جب خرید و فروخت کرو اور ضرر نہ پہنچایا جائے لکھنے والے کو اور نہ گواہ کو اور اگر تم ایسا کروگے تو یہ نافرمانی ہوگی تمہاری اور ڈرا کرو اللہ سے اور سکھاتا ہے تمھیں اللہ تعالیٰ (آداب معاشرت) اور اللہ ہر چیز کو خوپ جاننے والا ہے۔

﴿283﴾ اور اگر تم سفر میں ہو اور نہ پاؤ کوئی لکھنے والا تو کوئی چیز گروی رکھ لیا کرو اور اس کا قبضہ دے دیا کرو پھر اگر اعتبار کرلے کوئی تم میں سے دوسرے پر پس چاہیے کہ ادا کردے وہ جس پر اعتبار کیا گیا ہے اپنی امانت کو اور ضروری ہے کہ ڈرتا رہے اللہ سے جو اس کا رب ہے، اور مت چھپاؤ گواہی کو اور جو شخص چھپاتا ہے اسے تو یقیناً گنہگار ہے اس کا ضمیر اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو خوب جاننے والا ہے۔

﴿284﴾ اللہ تعالیٰ کا ہی ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اگر تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے یا تم اسے چھپائے رہو حساب لے گا تم سے اس کا اللہ تعالیٰ پھر بخش دے گا جسے چاہے گا اور عذاب دے گا جسے چاہے گا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

﴿285﴾ ایمان لایا جو رسول (کریم) اس (کتاب) پر جو اتاری گئی اس کی طرف اس کے رب ک طرف سے اور ( ایمان لائے ) مومن یہ سب دل سے مانتے ہیں اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی کتابوں کو اوراُس کے رسولوں کو (نیز کہتے ہیں) ہم فرق نہیں کرتے کسی میں اس کے رسولوں سے اور انھوں نے کہا ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی ہم طالب ہیں تیری بخشش کے اے ہامرے رب! اور تیری ہی طرف ہمہیں لوٹنا ہے۔

﴿286﴾ ذمہ داری نہیں ڈالتا اللہ تعالیٰ کسی شخص پر مگر جتنی طاقت ہو اس کی ۔ اس کو اجر ملے گا جو (نیک عمل) اس نے کیا اور اس پر وبال ہوگا جو (برا عمل) اس نے کمایا اے ہمارے رب نہ پکڑ ہم کو اگر ہم بھولیں یا خطا کر بیٹھیں اے ہمارے رب ! نہ ڈال ہم پر بھاری بوجھ جیسے تونے ڈالا تھا ان پر جو ہم سے پہلے گزرے ہیں اے ہمارے پروردگار! نہ ڈال ہم پر وہ بوجھ جس کے اٹھانے کی ہم میں قوت نہیں اور درگزر فرما ہم سے اور بخش دے ہم کو اور رحم فرما ہم پر توہی ہمارا دوست (اور مددگار) ہے تو مدد فرما ہماری ، قوم کفار پر

آل عمران

Surah 3

﴿1﴾ الف لام میم ۔

﴿2﴾ اللہ (وہ ہے کہ ) کوئی عبادت کے لائق نہیں بغیر اس کے زندہ ہے سب کو زندہ رکھنے والا ہے ۔

﴿3﴾ نازل فرمائی اس نے آپ پر یہ کتاب حق کے ساتھ تصدیق کرنے والی ہے ان (کتابوں) کی جو اس سے پہلے (اُتری) ہیں اور اتاری اس نے توراۃ اور انجیل۔

﴿4﴾ اس سے پہلے لوگوں کی ہدایت کے لیے اور اتار ا فرقان کو بےشک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اللہ کی آیتوں کے ساتھ ان کے لیے سخت عذاب ہے اور اللہ تعالیٰ غالب ہے بدلہ لینے والا ہے۔

﴿5﴾ بے شک اللہ تعالیٰ نہیں پوشیدہ رہتی اس پر کوئی چیز زمین اور نہ آسمان میں۔

﴿6﴾ وہی ہے جو تمہاری تصویریں بناتا ہے (ماؤں کے ) رحموں میں جس طرح چاہتا ہے کوئی معبود نہیں بغیر اس کے (وہی) غالب ہے حکمت والا ہے۔

﴿7﴾ وہی ہے جس نے نازل فرمائی آپ پر کتاب اس کی کچھ آیتیں محکم ہیں وہی کتاب کی اصل ہیں اور دوسری آیتیں متشابہ ہیں پس وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے سو وہ پیروی کرتے ہیں (صرف) ان آیتوں کی جو متشابہ ہیں قرآن سے (ان کا مقصد) فتنہ انگیزی اور (غلط) معنی کی تلاش ہے اور نہیں جانتا اس کے صحیح معنی کو بغیر اللہ تعالیٰ کے اور پختہ علم والے کہتے ہیں ہم ایمان لائے ساتھ اس کے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے اور نہیں نصیحت قبول کرتے مگر عقل مند ۔

﴿8﴾ اے ہمارے رب نہ ٹیڑھے کر ہمارے دل بعد اس کے کہ تونے ہدایت دی ہمیں اور عطا فرماہمیں اپنے پاس سے رحمت بےشک تو ہی سب کچھ بہت زیادہ دینے ولا ہے۔

﴿9﴾ اے ہمارے پروردگار ! بےشک تو جمع کرنے والا ہے سب لوگوں کو اس دن کے لیے نہیں کوئی شبہ جس (کے آنے) میں بےشک اللہ تعالیٰ نہیں پھرتا اپنے وعدہ سے

﴿10﴾ بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر اختیار کیا نہ بچاسکی گے انھیں ان کے مال اور نہ ان کی اولاد اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی اور وہی (بد بخت) اِیندھن ہیں آگ کا۔

﴿11﴾ (اُن کا طریقہ) مثل طریقہ آل فرعون کے اور ان لوگوں کے تھا جو ان سے پہلے تھے انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو پس پکڑلیا انھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے۔

﴿12﴾ (اے میرے رسول!) فرمادو ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا کہ عنقریب تم مغلوب کیے جاؤ گے اور ہانکے جاؤگے جہنم کی طرف اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

﴿13﴾ بے شک تمہارے لیے (عبرت کا ) نشان (ان ) دو گروہوں میں جو ملے تھے (میدان بدر میں ) ایک گروہ لڑتا تھا اللہ کی راہ میں اور دوسرا کافر تھا دیکھ رہے تھے مسلمان انھیں اپنے سے دوچند (اپنی) آنکھوں سے اور اللہ مدد کرتا ہے اپنی نصرت سے جس کی چاہتا ہے یقیناً اس واقعہ (بدر) میں بہت بڑا سبق ہے آنکھ والوں کے لیے۔

﴿14﴾ آراستہ کی گئی لوگوں کے لیے ان خواہشوں کی محبت یعنی عورتیں اور بیٹے اور خزانے جمع کیے ہوئے سونے اور چاندی کے اور گھوڑے نشان لگائے ہوئے اور چوپائے اور کھیتی یہ سب کچھ سامان ہے دنیوی زندگی کا اور اللہ ہے جس کے پاس اچھا ٹھکانا ہے۔

﴿15﴾ اے میرے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) !) آپ فرمائیے کیا بتاؤں میں تمھیں اس سے بہتر چیز ان کے لیے جو متقی بنے ان کے رب کے ہاں باغات ہیں رواں ہیں ان کے نیچے نہریں ہمیشہ رہیں گے (متقی) ان مین اور (ان کے لیے ) پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور حاصل ہوں گی انھیں خوشنودی اللہ کی اور اللہ تعالیٰ خوب دیکھنے والا ہے اپنے بندوں کو۔

﴿16﴾ یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! یقیناً ہم ایمان لائے تو معاف فرمادے ہمارے لیے ہمارے گناہ اور بچالے ہمیں آگ کے عذاب سے۔

﴿17﴾ (یہ مصیبتوں) میں صبر کرنے والے ہیں اور (ہر حالت ) میں سچ بولنے والے ہیں اور (عبادت میں ) عاجزی کرنے والے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنے والے ہیں سحری کے وقت۔

﴿18﴾ شہادت دی اللہ تعالیٰ نے (اس بات کی کہ) بیشک نہیں کوئی خدا سوائے اس کے (یہی گواہی دی) فرشتوں نے اور اہل علم نے ( ان سب نے گواہی دی کہ وہ ) قائم فرمانے والا ہے عدل و انصاف کو نہیں کوئی معبود سوائے اس کے (جو) عزت والا حکمت والا ہے۔

﴿19﴾ بے شک دین اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے اور نہیں جھگڑا کیا جن کو دی گئی کتاب مگر بعد اس کے کہ آگیا تھا ان کے پاس صحیح علم (اور یہ جھگڑا) باہمی حسد کی وجہ سے تھا اور جو انکار کرتا ہے اللہ کی آیتوں کا تو بےشک اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والا ہے ۔

﴿20﴾ پھر اگر (اب بھی) جھگڑا کریں گے آپ سے تو آپ کہہ دیجیے کہ میں نے جھکا دیا ہے اپنا سر اللہ کے سامنے اور جنھوں نے میری پیروی کی اور کہیے ان لوگوں سے جن کو کتاب دی گئی اور ان پڑھوں سے کہ کیا تم اسلام لائے پس اگر وہ اسلام لے آئیں جب تو ہدایت پاگئے اور اگر منہ پھیر لیں تو اتنا ہی آپ کے ذمہ تھا کہ آپ پیغام پہنچا دیں ( جو آپ نے پہنچا دیا) اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے (اپنے ) بندوں کو۔

﴿21﴾ بے شک جو لوگ انکار کرتے ہیں اللہ کی آیتوں کا اور قتل کرتے ہیں انبیاء کو ناحق اور قتل کرتے ہیں ان لوگوں کو جو حکم کرتے ہیں عدل و انصاف کا لوگوں میں سے تو خوشخبری دو انھیں دردناک عذاب کی۔

﴿22﴾ یہ ہیں وہ ( بد نصیب ) اکارت گئے جن کے اعمال دنیا میں اور آخرت میں اور نہیں ہے ان کے لیے کوئی مددگار۔

﴿23﴾ کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کی طرف جنھیں دیا گیا کچھ حصہ کتاب کا (جب) بلائے جاتے ہیں کتاب الٰہی کی طرف تاکہ تصفیہ کردے ان کے باہمی جھگڑوں کا تو پیٹھ پھیر لیتا ہے ایک گروہ ان مین سے درآلخالیکہ وہ روگردانی کرنے والے ہوتے ہیں ۔

﴿24﴾ اس (بیباکی) وجہ یہ تھی کہ وہ کہتے تھے کہ بالکل نہ چھوئے گی ہمیں دوزخ کی آگ مکر چند دن گنے ہوئے اور فریب میں مبتلا رکھا انھیں ان کے دین کے معاملہ میں ان باتوں نے جو وہ خود گھڑا کرتے تھے۔

﴿25﴾ سو کیا حال ہوگا (اُن کا) جب ہم جمع کریں گے انھیں اس روز جس کے آنے میں کوئی شک نہیں اور پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ہر شخص کو جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم ہیں کیا جائے گا۔

﴿26﴾ (اے حبیب یوں) عرض کرو اے اللہ ! اے مالک سب ملکوں کے! تو بخش دیتا ہے ملک جسے چاہتا ہے اور چھین لیتا ہے ملک جس سے چاہتا ہے اور عزت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ذلیل کرتا ہے جس کو چاہتا ہے تیرے ہی ہاتھ میں ہے ساری بھلائی بےشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

﴿27﴾ تو داخل کرتا ہے رات (کا حصہ) دن میں اور داخل کرتا ہے تو دن (کا حصہ) رات میں اور نکالتا ہے تو زندہ کو مردہ سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے اور رزق دیتا ہے جسے چاہتا ہے بےحساب ۔

﴿28﴾ نہ بنائیں مومن کافروں کو اپنا دوست مومنوں کو چھوڑ کر اور جس نے کیا یہ کام پس نہ رہا (اس کا) اللہ سے کوئی تعلق مگر اس حالت میں کہ تم کرنا چاہو ان سے اپنا بچاؤ اور ڈراتا ہے تمھیں اللہ تعالیٰ اپنی ذات سے (یعنی غضب سے) اور اللہ ہی کی طرف (سب نے) لوٹ کر جانا ہے۔

﴿29﴾ فرمادیجیے کہ اگر تم چھپاؤ جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے یا ظاہر کرو اسے ، جانتا ہے اسے اللہ تعالیٰ اور جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

﴿30﴾ جس دن موجود پائے گا ہر نفس جو کی تھی اس نے نیکی اپنے سامنے اور جو کچھ کی تھی اس نے برائی تمنا کرے گا کہ کاش اس کے درمیان اور اس دن کے درمیان (حائل ہوتی) مدت دراز اور ڈراتا ہے تمھیں اللہ اپنے (عذاب) سے اور اللہ تعالیٰ بہت مہربان ہے اپنے بندوں پر۔

﴿31﴾ (اے محبوب) آپ فرمائیے (انھیں کہ) اگر تم واقعی محبت کرتے ہو اللہ سے تو میری پیروی کرو (تب ) محبت فرمانے لگے گا تم سے اللہ اور بخش دے گا تمہارے لیے تمہارے گناہ اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

﴿32﴾ آپ فرمائیے اطاعت کرو اللہ کی اور (اس کے) رسول کی پھر اگر وہ منہ پھیرں تو یقیناً اللہ تعالیٰ دوست نہیں رکھتا کفر کرنے والوں کو ۔

﴿33﴾ بے شک اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے آدم اور نوح اور ابراہیم کے گھرانے کو اور عمران کے گھرانے کو سارے جہاں والوں پر۔

﴿34﴾ یہ ایک نسل ہے بعض ان میں سے بعض کی اولاد ہیں اور اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

﴿35﴾ جب عرض کی عمران کی بیوی نے اے میرے رب! میں نذر مانتی ہوں تیرے لیے جو میرے شکم میں ہے (سب کاموں سے ) آزاد کرکے سو قبول فرمالے ( یہ نذرانہ) مجھ سے بےشک تو ہی (دعائیں) سننے والا

﴿36﴾ (نیتوں کو ) جاننے والا ہے پھر جب اس نے جنا اسے (تو حیرت و حسرت سے) بولی اے رب! میں نے تو جنم دیا ایک لڑکی کو اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو اس نے جنا اور نہیں تھا لڑکا (جس کا وہ سوال کرتی تھی) مانند اس لڑکی کے اور (ماں نے کہا) میں نے نام رکھا ہے اس کا مریم اور میں تیری پناہ میں دیتی ہوں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود (کے شر) سے۔

﴿37﴾ پھر قبول فرمایا اسے اس کے رب نے بڑی ہی اچھی قبولیت کے ساتھ اور پروان چڑھایا اسے اچھا پروان چڑھانا اور نگراں بنادیا اس کا زکریا کو جب بھی جاتے مریم کے پاس زکریا (اس کی) عبادت گاہ میں (تو) موجود پاتے اس کے پاس کھانے کی چیزیں (ایک بار) بولے اے مریم! کہاں سے تمہارے لیے آتا ہے یہ (رزق) مریم بولیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے آتا ہے بےشک اللہ تعالیٰ رزق دیتا ہے جسے چاہتا ہے بےحساب۔

﴿38﴾ وہیں دعا مانگی زکریا نے اپنے رب سے عرض کی اے میرے رب! عطا فرما مجھ کو اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد بےشک تو ہی سننے والا ہے دعا کا۔

﴿39﴾ پھر آواز دی ان کو فرشتوں نے جب کہ وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے (اپنی ) عبادت گاہ میں کہ بےشک اللہ تعالیٰ خوشخبری دیتا ہے آپ کو یحیی ٰ کی جو تصدیق کرنے والا ہوگا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرمان کی اور سردار ہوگا اور ہمیشہ عورتوں سے بچنے والا ہوگا اور نبی ہوگا صالحین سے۔

﴿40﴾ زکریا کہنے لگے اے رب ! کیونکر ہوگا میرے ہاں لڑکا حالانکہ آ لیا ہے مجھے بڑھاپے نے اور میری بیوی بانچھ ہے فرمایا بات اسی طرح ہے (جیسی تم نے کہی) لیکن اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔

﴿41﴾ عرض کی اے میرے رب! مقرر فرمادے میرے لیے کوئی نشانی فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ نہ بات کرسکوگے لوگوں سے تین دن مگر اشارہ سے اور یاد کرو اپنے پروردگار کو بہت اور پاکی بیان کرو (اس کی ) شام اور صبح۔

﴿42﴾ اور جب کہا فرشتوں نے اے مریم ! بےشک اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے تمھیں اور خوب پاک کردیا ہے تمھیں اور پسند کیا ہے تجھے سارے جہان کی عورتوں سے ۔

﴿43﴾ اے مریم! خلوص سے عبادت کرتی رہ اپنے رب کی اور سجدہ کر اور رکوع کر رکوع کرنے والوں کے ساتھ۔

﴿44﴾ یہ واقعات غیب کی خبروں میں سے ہیں ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف اور نہ تھے آپ ان کے پاس جب پھینک رہے تھے وہ (مجاور) اپنی قلمیں ( یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ ) کون ان میں سے سرپرستی کرے مریم کی اور نہ تھے آپ ان کے پاس جب وہ آپس میں جھگڑرہے تھے۔

﴿45﴾ جب کہا فرشتوں نے اے مریم ! اللہ تعالیٰ بشارت دیتا ہے تجھے ایک حکم کی اپنے پاس سے اس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا معزز ہوگا دنیا اور آخرت میں اور (اللہ کے) مقربین سے ہوگا۔

﴿46﴾ اور گفتگو کرے گا لوگوں کے ساتھ گہوارے میں بھی اور پکی عمر میں بھی اور نیکو کاروں میں سے ہوگا ۔

﴿47﴾ مریم بولیں اے میرے پروردگار ! کیونکر ہو سکتا ہے میرے ہاں بچہ ؟ حالانکہ ہاتھ تک نہیں لگایا مجھ کسی انسان نے فرمایا بات یونہی ہے ( جیسے تم کہتی ہو لیکن) اللہ پیدا فرماتا ہے جو چاہتا ہے جب فیصلہ فرماتا ہے کسی کام (کے کرنے) کا تو بس اتنا ہی کہتا ہے اسے کہ ہو جا تو وہ فورا! ہوجاتا ہے۔

﴿48﴾ اور اللہ تعالیٰ سکھائے گا اسے کتاب و حکمت اور تورات و انجیل۔

﴿49﴾ اور (بھیجے گا اسے) رسول بنا کر بنی اسرائیل کی طرف (وہ انھیں آکر کہے گا ) کہ میں آگیا ہوں تمہارے پاس ایک معجزہ لے کر تمہارے رب کی طرف سے (وہ معجزہ یہ ہے کہ) میں بنا دیتا ہوں تمہارے لیے کیچڑ سے پرندے کی سی صورت پھر پھونکتا ہوں اس (بے جان صورت) میں تو وہ فورا! ہوجاتی ہے پرندہ اللہ کے حکم سے اور میں تندرست کردیتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور (لاعلاج) کوڑھی کو اور میں زندہ کرتا ہوں مردے کو اللہ کے حکم سے اور بتلاتا ہوں تمھیں جو کچھ تم کھاتے ہو اور جو کچھ تم جمع کر رکھتے ہو اپنے گھروں میں بےشک ان معجزوں میں (میری صداقت کی ) بڑی نشانی ہے تمہارے لیے اگر تم ایمان دار ہو۔

﴿50﴾ اور میں تصدیق کرنے والا ہوں اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتاب تورات کی اور تاکہ میں حلال کردوں تمہارے لی بعض وہ چیزیں جو (پہلے) حرام کی گئی تھیں تم پر اور لایا ہوں تمہارے پاس ایک نشانی تمہارے رب کی طرف سے سو ڈرو اللہ تعالیٰ سے اور میری اطاعت کرو۔

﴿51﴾ بے شک اللہ مرتبہ کمال تک پہنچانے والا ہے مجھے اور مرتبہ کمال تک پہنچانے والا ہے تمھیں سو اس کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے ۔

﴿52﴾ پھر جب محسوس کیا عیسیٰ ( علیہ السلام) نے ان سے کفر (و انکار) (تو) آپ نے کہا کون ہے میرے پروردگار کی راہ میں؟ ( یہ سن کر ) کہا حواریوں نے کہ ہم مدد کرنے والے ہیں اللہ (کے دین) کی ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر اور (اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ) آپ گواہ ہو جائیو کہ ہم (حکمِ الٰہی کے سامنے) سر جھکائے ہوئے ہیں۔

﴿53﴾ اے رب ہمارے! ہم ایمان لائے اس پر جو تو نے نازل فرمایا اور ہم نے تابعداری کی رسول کی تو لکھ لے ہمیں (حق پر) گواہی دینے والوں کے ساتھ۔

﴿54﴾ اور یہویوں نے بھی (مسیح کو قتل کرنے کی) خفیہ تدبیر کی اور (مسیح کو بچانے کے لیے) اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی۔ اور اللہ سب سے بہتر (اور مؤثر) خفیہ تدبیر کرنے والا ہے۔

﴿55﴾ یاد کرو جب فرمایا اللہ نے اے عیسیٰ ( علیہ السلام) ! یقیناً میں پوری عمر تک پہنچادوں گا تمھیں اور اٹھانے والا ہوں تمھیں اپنی طرف اور پاک کرنے والا ہوں تمھیں ان لوگوں (کی تہمتوں) سے جنھوں نے (تیرا) انکار کیا اور بنانے والا ہوں ان کو جنھوں نے تیری پیروی کی غالب کفر کرنے والوں پر قیامت تک پھر میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے تم نے پس (اس وقت) میں فیصلہ کروں گا تمہارے درمیان (ان امور کا ) جن میں تم اختلاف کرتے رہتے تھے۔

﴿56﴾ تو وہ جنھوں نے کفر کیا میں عذاب دوں گا انھیں سخت عذاب دنیا میں اور آخرت میں اور نہیں ہوگا ان کے لیے کوئی مددگار ۔

﴿57﴾ اور وہ جو ایمان لائے اور کیے نیک کام تو اللہ پورے پورے دے گا انھیں ان کے اجر اور اللہ تعالیٰ نہیں محبت کرتا ظلم کرنے والوں سے۔

﴿58﴾ یہ جو ہم پڑھ کر سناتے ہیں آپ کو آیتں ہیں اور نصیحت حکمت والی۔

﴿59﴾ بے شک مثال عیسیٰ ( علیہ السلام) (علیہ السلام) کی اللہ تعالیٰ کے نذدیک آدم (علیہ السلام) کی مانند ہے بنایا اسے مٹی سے پھر فرمایا اے ہوجا تو ہو ہوگیا۔

﴿60﴾ (اے سننے والے!) یہ حقیقت (کہ عیسیٰ انسان ہیں) تیرے رب کی طرف سے (بیان کی گئی ) ہے پس تو نہ ہوجا شک کرنے والوں سے۔

﴿61﴾ پھر جو شخص جھگڑا کرے آپ سے اس بارے میں اس کے بعد کہ آگیا آپ کے پاس (یقینی) علم تو آپ کہہ دیجیے کہ آؤ ہم بلائیں اپنے بیٹوں کو بھی اور تمہارے بیٹوں کو بھی اپنی عورتوں کو بھی اور تمہاری عورتوں کو بھی اپنے آپ کو بھی اور تم کو بھی پھر بڑی عاجزی سے (اللہ کے حضور) التجا کریں پھر بھیجیں اللہ تعالیٰ کی لعنت جھوٹوں پر ۔

﴿62﴾ بے شک یہی ہے واقعہ سچا اور نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے اور بےشک اللہ ہی غالب ہے (اور) حکمت والا ہے۔

﴿63﴾ پھر اگر وہ منہ پھیر یں تو اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے فساد برپا کرنے والوں کو۔

﴿64﴾ (میرے نبی!) آپ کہیے اے اہل کتاب آؤ اس بات کی طرف جو یکساں ہے ہمارے اور تمہارے درمیان (وہ یہ کہ) ہم نہ عبادت کریں (کسی کی) سوائے اللہ کے اور نہ شریک ٹھیرائیں اس کے ساتھ کیس چیز کو اور نہ بنالے کوئی ہم میں سے کسی کو رب اللہ کے سوا پھر اگر وہ روگردانی کریں (اس سے) تو تم کہہ دو گواہ رہنا (اے اہل کتاب) کہ ہم مسلمان ہیں۔

﴿65﴾ اے اہل کتاب! کیوں جھگڑتے ہو تم ابراہیم کے بارے میں حا لانکہ نہیں اتاری گئی تورات اور انجیل مگر ان کے بعد کیا (اتنا بھی) تم نہیں سمجھ سکتے ۔

﴿66﴾ سنتے ہو! تم وہ لوگ ہو جو جھگڑتے رہے ہو (اب تک) ان باتوں میں جن کا تمھیں کچھ نہ کچھ علم تھا پس (اب) کیوں جھگڑنے لگے ہو ان باتوں میں نہیں ہے تمھیں جن کا کچھ علم اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

﴿67﴾ نہ تھے ابراہیم یہودی اور نہ نصرانی بلکہ وہ ہر گمراہی سے الک رہنے والے مسلمان تھے اور نہ ہی وہ شرک کرنے والوں میں سے تھے۔

﴿68﴾ بیشک نزدیک تر لوگ ابراہیم (علیہ السلام) سیوہ تھے جنھوں نے ان کی پیروی کی نیز یہ نبی (کریم) اور جو (اس نبی پر) ایمان لائے اور اللہ تعالیٰ مددگار ہے مومنوں کا۔

﴿69﴾ دل سے چاہتا ہے ایک گروہ اہل کتاب سے کہ کسی طرح گمراہ کردیں تمھیں اور نہیں گمراہ کرتے مگر اپنے آپ کو اور وہ ( اس حقیقت) کو نہیں سمجھتے۔

﴿70﴾ اے اہل کتاب! کیوں انکار کرتے ہو اللہ کی آیتوں کا حالانکہ تم خود گواہ ہو۔

﴿71﴾ اے اہل کتاب کیوں ملاتے ہو حق کو باطل کے ساتھ اور (کیوں ) چھپاتے ہو حق کو حا لا نکہ تم جانتے ہو۔

﴿72﴾ کہا ایک گروہ نے اہل کتاب سے کہ ایمان لے آؤ اس (کتاب) پر جو اتاری گئی ایمان والوں پر صبح کے وقت اور انکار کردو اس کا سر شام شاید (اس طرح) وہ (اسلام سے) برگشتہ ہوجائیں

﴿73﴾ (ایک دوسرے کو تاکید کرتے ہیں) ۔ کہ مت مانوں کسی کی بات سوائے ان لوگوں کے جو پیروی کرتے ہیں تمہارے دین کی ۔ فرمائیے ہدایت تو وہی ہے جو اللہ کی ہدایت ہو ( اور یہ بھی نہ ماننا کہ ) دیا جاسکتا ہے کسی کو جیسے تمھیں دیا گیا یا کوئی حجت لاسکتا ہے تم پر تمہارے رب کے پاس (اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) فرمادیجیے کہ فضل (وکرم) تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے دیتا ہے جسے چاہا ہے اور اللہ تعالیٰ وسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے۔

﴿74﴾ خاص کرلیتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہتا ہے اور اللہ تعالی صاحب فضل عظیم ہے۔

﴿75﴾ اور اہل کتاب سے بعض ایسے (دیانتدار) ہیں کہ اگر تو امانت رکھے اس کے پاس ایک ڈھیر (سونے چاندی کا) تو ادا کردے اسے تمہاری طرف اور ان میں سے بعض وہ بھی ہیں کہ اگر تو امانت رکھے اس کے پاس ایک اشرفی تو واپس نہ کرے گا اسے بھی تری طرف مگر جب تک تو اس کے سر پر کھڑا رہے اس (بد دیانتی) کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے ہم پر ان پڑھوں کے معاملہ میں کوئی گرفت اور یہ لوگ کہتے ہیں اللہ پر جھوٹ حالانکہ وہ جانتے ہیں۔

﴿76﴾ ہاں کیوں نہیں جس نے پورا کیا اپنا وعدہ اور پرہیزگار بنا تو بےشک اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے پرہیزگاروں سے۔

﴿77﴾ بے شک جو لوگ خریدتے ہیں اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی سی قیمت یہ وہ (بد نصیب ) ہیں کہ کچھ حصہ نہیں ان کے لیے آخرت میں اور بات تک نہ کرے گا ان سے اللہ تعالیٰ اور دیکھے گا بھی نہیں ان کی طرف قیامت کے روز اور نہ پاک کرے گا انھیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

﴿78﴾ اور بےشک ان میں ایک فریق وہ ہے جو مروڑتے ہیں اپنی زبانوں کو کتاب کے ساتھ تاکہ تم خیال کرنے لگو (ان کی) اس (اُلٹ پھیر) کو بھی اصل کتاب سے حالاناکہ وہ کتاب سے نہیں اور وہ کہتے ہیں یہ بھی اللہ کی طرف سے (اُترا) ہے حالانکہ وہ نہیں ہے اللہ کے پاس سے اور وہ کہتے ہیں اللہ پر جھوٹ جان بوجھ کر ۔

﴿79﴾ نہیں ہے مناسب کسی انسان کے لیے کہ (جب) عطا فرمادے اسے اللہ تعالیٰ کتاب اور حکومت اور نبوت تو پھر وہ کہنے لگے لگوں سے کہ بن جاؤ میرے بندے اللہ کو چھوڑ کر ( وہ تو یہ کہے گا کہ) بن جاؤ اللہ والے اس لیے کہ تم دوسروں کو تعلیم دیتے رہتے تھے کتاب کی اور بوجہ اس کے کہ تم خود بھی اسے پڑھتے تھے۔

﴿80﴾ اور وہ (مقبول بندہ) نہیں حکم دے گا تمھیں اس بات کا کہ بنالو فرشتوں اور پیغمروں کو خدا (تم خود سوچو) کیا وہ حکم دے سکتا ہے تمھیں کفر کرنے کا بعد اس کے تم مسلمان بن چکے ہو۔

﴿81﴾ اور یاد کرو جب لیا اللہ تعالیٰ نے انبیاء سے پختہ وعدہ کہ قسم ہے تمھیں اس کی جو دوں میں تم کو کتاب اور حکمت سے پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول جو تصدیق کرنے والا ہو ان (کتابوں) کی جو تمہارے پاس ہیں تم ضرور ضرور ایمان لانا اس پر اور ضرور ضرور مدد کرنا اس کی (اس کے بعد) فرمایا کیا تم نے اقرار کرلیا اور اٹھا لیا تم نے اس پر میرا بھاری ذمہ؟ سب نے عرض کی ہم نے اقرار کیا (اللہ) نے فرمایا تو گواہ رہنا اور میں (بھی) تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔

﴿82﴾ پھر جو کوئی پھرے اس سے (پختہ عہد) کے بعد تو ہوی لوگ فاسق ہیں ۔

﴿83﴾ کیا اللہ کے دین کے سوا (کوئی اور دین) تلاش کرتے ہیں حالانکہ اسی کے حضور سرجھکا دیا ہے ہر چیز نے جو آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی سے یا مجبوری سے اور اسی کی طرف وہ سب لوٹائے جائیں گے۔

﴿84﴾ آپ فرمائیے ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو اتارا گیا ہم پر اور جو اتارا گیا ابراہیم، اِسمعیل، اِسحٰق، یعقوب اور ان کے بیٹوں پر اور جو کچھ دیا گی موسیٰ ، عیسیٰ اور (دوسرے) انبیاء کو ان کے رب کی طرف سے نہی فرق کرتے ہم کسی کے درمیان ان میں سے اور ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں۔

﴿85﴾ اور جو تلاش کرے گا اسلام کے بغیر کوئی (اور) دین تو وہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اس سے اور وہ قیامت کو زیاں کاروں میں سے ہوگا۔

﴿86﴾ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہدایت دے اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو جنھوں نے کفر اختیار کر لیا ایمان لے آنے کے بعد اور وہ (پہلے خود) گواہی دے چکے تھے کہ رسول سچا ہے اور آچکی تھیں ان کے پاس کھلی نشانیاں اور اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا ظالم لوگوں کو۔

﴿87﴾ ایسوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر پھٹکار پڑتی رہے اللہ کی فرشتوں کی اور سب انسانوں کی۔

﴿88﴾ ہمیشہ رہیں اسی پھٹکار میں نہ ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ انھیں مہلت دی جائے گی ۔

﴿89﴾ مگر وہ لوگ جنھوں نے (سچے دل سے) توبہ کرلی اس کے بعد اور اپنی اصلاح کرلی تو بیشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے (انھیں بخش دے گا) ۔

﴿90﴾ یقیناً وہ لوگ جنھوں نے کفر اختیار کیا ایمان لانے کے بعد پھر بڑھتے چلے گئے کفر میں ہرگز نہ قبول کی جائے گی ان کی توبہ اور یہی لوگ ہیں جو گمراہ ہیں۔

﴿91﴾ جن لوگوں نے کفر کیا اور مرگئے کفر ہی کی حالت میں تو ہر گز نہ قبول کیا جائے گا ان میں سے کسی سے زمین بھر سونا اگرچہ وہ (اپنی نجات کے لیے) عوض نہ دے اتنا سونا ایسے لوگوں کے لیے عذاب ہے دردناک اور نہیں ہے ان کا کوئی مددگار۔

﴿92﴾ ہرگز نہ پاسکو گے تم کامل نیکی (کا رتبہ) جب تک نہ خرچ کرو (راہ خدا میں) ان چیزوں سے جن کو تم عزیز رکھتے ہو اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ اے جانتا ہے۔

﴿93﴾ سب کھانے کی چیزیں حلال تھیں بنی اسرائیل کے لیے مگر وہ جسے حرام کیا اسرائیل نے اپنے آپ پر اس سے پہلے کہ نازل کی گئی تورات آپ فرماؤ لاؤ تورات پھر پڑھو اے اگر تم سچے ہو۔

﴿94﴾ پس جو بہتا ن لگاتا ہے اللہ تعالیٰ پر جھوٹا اس کے بعد تو وہی ظالم ہیں۔

﴿95﴾ آپ کہہ دیجیے سچ فرمایا ہے اللہ نے پس پیروی کرو تم ملت ابراہیم کی جو ہر اطل سے الگ تھلگ تھے اور (بالکل) نہ تھے وہ شرک کرنے والوں میں سے۔

﴿96﴾ بے شک پہلا (عبادت) خانہ جو بنایا گیا لوگوں کے لیے وہی ہے جو مکہ میں ہے بڑا برکت والا ہدایت (کا سرچشمہ) ہے سب جہانوں کے لیے۔

﴿97﴾ اس میں روشن نشانیاں ہیں (ان میں سے ایک) مقام ابراہیم ہے اور جو بھی داخل ہو ا اس میں ہوجاتا ہے (ہر خطرہ سے) محفوظ اور اللہ کے لیے فرض ہے لوگوں پر حج اس گھرکا جو طاقت رکھتا ہو وہاں تک پہنچنے کی کی اور جو شخص (اِس کے باوجود) انکار کرے تو بےشک اللہ بےنیاز ہے سارے جہان سے ۔

﴿98﴾ آپ فرمائیے اے اہل کتاب! کیوں انکار کرتے ہو اللہ کی آیتوں کا اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

﴿99﴾ آپ فرمائیے اے اہل کتاب! تم کیوں روکتے ہو اللہ کی راہ سے اسے جو ایمان لاچکا ۔ تم چاہتے ہو کہ اس راہ (راست) کو ٹیڑھا بنادو حالانکہ تم خود ( اس کی راستی کے) گواہ ہو اور نہیں ہے اللہ بےخبر ان (کرتوتوں ) سے جو تم کرتے ہو۔

﴿100﴾ اے ایمان والوں! اگر تم کہا مانو گے ایک گورہ کا اہل کتاب سے (تو نتیجہ یہ ہوگا کہ ) لوٹا کر چھوڑیں گے تمھیں تمہارے ایمان قبول کرنے کے بعد کافروں میں۔

﴿101﴾ اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تم (اب پھر) کفر کرتنے لگو حالانکہ تم وہ ہو کہ پڑھی جاتی ہیں تم پر اللہ کی آیتیں اور تم میں اللہ کا رسول بھی تشریف فرما ہے اور جو مضبوطی سے پکڑتا ہے اللہ (کے دامن) کو تو ضرور پہنچایا جاتا ہے اسے سیدھی راہ تک۔

﴿102﴾ اے ایمان والو! ڈرو اللہ سے جیسے حق ہے اس سے ڈرنے کا اور (خبردار) نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔

﴿103﴾ اور مضبوطی سے پکڑ لو الہ کی رسی سب مل کر اور جدا جدا نہ ہوتا اور یادرکھو اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت ( جو اس نے ) تم پر فرمائی جب کہ تم تھے (آپس میں) دُشمن پس اس نے الفت پیداد کردی تمہارے دلوں میں تو بن گئے تم اس کے احسان سے بھائی بھائی اور تم (کھڑے) تھے دوزخ کے گھڑے کے کنارے پر اس نے بچا لیا تمھیں اس (میں گرنے) سے یونہی بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیتیں تاکہ تم ہدایت پر ثابت رہو۔

﴿104﴾ ضرور ہونی چاہیے تم یں ایک جماعت جو بلایا کرے نیکی کی طرف اور حکم دیا کرے بھلائی کا اور روکا کرے بدی سے اور یہی لوگ کامیاب و کامران ہیں۔

﴿105﴾ اور نہ ہوجانا ان لوگوں کی طرح جو فرقوں میں بٹ گئے تھے اور اختلاف کرنے لگے تھے اس کے بعد بھی جب آچکی تھیں ان کے پاس روشن نشانیاں اور ان لوگوں کے لیے عذاب ہے بہت بڑا۔

﴿106﴾ اُس دن (جب کہ ) روشن ہوں گے کئی چہرے اور کالے ہوں گے کئی منہ تو ہو جو سیاہ رو ہوں گے ( انھیں کہا جائے گا ) کہ کیا تم نے کفر اختیار کرلیا تھا ایمان لانے کے بعد تو اب چکھو عذاب (کی اذیتیں) بوجہ اس کفر کے جو تم کیا کرتے تھے۔

﴿107﴾ اور وہ خوش نصیب لوگ روشن ہوں گے جن کے چہرے تو ہو رحمت الٰہی (کے سائے ) میں ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

﴿108﴾ یہ اللہ کی آیتیں ہیں ہم پڑ ھ کر سناتے ہیں آپ کو ٹھیک ٹھیک اور نہیں ارادہ رکھتا اللہ ظلم کرنے کا دینا والوں پر۔

﴿109﴾ اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ کی طرف ہی لوٹائے جائیں گے سارے کام۔

﴿110﴾ ہو تم بہتری ین امت جو ظاہر کی گئی ہے لگوں (کی ہدایت و بھلائی) کے لیے تم حکم دیتے ہو نیکی کا اور روکتے ہو برائی سے اور ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور اگر ایمان لاتے اہل کتاب تو یہ بہتر ہوتا ان کے لیے بعض ان میں سے مومن ہیں اور زیادہ ان میں سے نافرمان ہیں۔

﴿111﴾ (کچھ ) نہ بگار سکیں گے تمہار سوائے ستانے کے اور اگر لڑیں گے تمہارے ساتھ تو پھیر دیں گے تمہاری طرف اپنی پیٹھیں (اور بھاگ جائیں گے) پھر ان کی امداد نہ کی جائے گی۔

﴿112﴾ مسلط کردی گئی ہے ان پر ذلت ( و رسوائی) جہاں کہیں یہ پائے گئے بجز اس کے اللہ کے عہد سے یا لوگوں کے عہد سے (کہیں پناہ مل جائے) اور یہ مستحق ہوگئے ہیں غضبِ الٰہی کے اور مسلط کردی گئی ہے ان پر محتاجی یہ اس لیے کہ وہ کفر کیا کرتے تھے اللہ کی آیتوں سے اور قتل کیا کرتے تھے انبیاء کو ناحق یہ (بیباکی) اس لیے تھی کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور سرکش کیا کرتے تھے۔

﴿113﴾ سب یکساں نہیں اہل کتاب سے ایک گورہ حق پر قائم ہے یہ تلاوت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی رات کے اوقات میں اور وہ سجدے کرتے ہیں۔

﴿114﴾ ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور روز آخرت پر اور حکم دیتے ہیں بھلائی کا اور منع کرتے ہیں برائی سے اور جلدی کرتے ہیں نیکیوں میں اور یہ لوگ نیکو کاروں میں سے ہیں ۔

﴿115﴾ اور جو یہ کریں گے نیک کاموں سے تو ہرگز انکر نہ کیا جائے گا س کار خیر کا اور اللہ جاننے والا ہے پرہیزگاروں کو۔

﴿116﴾ بے شک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہرگز نہ بچاسکیں گے انھیں ان کے مال اور نہ ان کی اولاد اللہ ( کے عذاب) سے ذرہ بھر اور وہ دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

﴿117﴾ مثال اس کی جو وہ خرچ کرتے ہیں اس دینوی زندگی میں ایسی ہے جیسے ہوا ہو اس میں سخت ٹھنڈک ہو (اور) لگے وہ ایک قوم کے کھیت کو جنھوں نے ظلم کیا ہو اپنے نفسوں پر پھر فنا کردے اس کھیت کو ۔ نہیں ظلم کیا ان پر اللہ تعالیٰ نے ۔ لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔

﴿118﴾ اے ایمان والو! نہ بناؤ اپنا راز دار غیروں کو وہ کسر نہ اٹھارکھیں گے تمھیں خرابی پہنچانے میں وہ پسند کرتے ہیں جو چیز تمھیں ضرر دے۔ ظاہر ہوچکا ہے بغض ان کے مونہوں (یعنی زبانوں) سے اور جو چھپا رکھا ہے ان کے سینوں نے وہ اس سے بھی بڑا ہے ہم نے صاف بیان کردیں تمہارے لیے اپنی آیتیں اگر تم سمجھدار ہو۔

﴿119﴾ سنو! تم وہ (پاک دل) ہو کہ محبت کرتے ہو ان سے اور وہ (ذرا) محبت نہیں کرتے تم سے اور مانتے ہو تم سب کتابوں کو اور جب وہ تم سے ملتے ہیں کہتے ہیں ہم ایمان لائے ہیں اور جب وہ تنہا ہوتے ہیں تو چباتے ہیں تم پر انگلیاں غصہ سے (اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) آپ فرمائیے مرجاؤ اپنے غصہ (کی آگ میں جل کر ) یقیناً اللہ خوب جاننے والا ہے دلوں کی باتوں کا ۔

﴿120﴾ (ان کا حال تو یہ ہے کہ) اگر پہنچے تمھیں کوئی بھلائی تو بری لگی ہے انھیں اور اگر پہنچے تمھیں کوئی تکلیف تو (بڑے) خوش ہوتے ہیں اس سے اور اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو نہ نقصان پہنچائے گا تمھیں ان کا فریب کچھ بھی بےشک اللہ تعالیٰ جو کچھ وہ کرتے ہیں (اس ) کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

﴿121﴾ اور یاد کرو (اے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) جب صبح سویرے رخصت ہوئے آپ اپنے گھروں سے (اور میدان احد میں) بٹھارہے تھے مومنوں کو مورچوں پر جنگ کے لیے اور اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

﴿122﴾ جب ارادہ کیا دو جماعتوں نے تم میں سے کہ ہمت ہاردیں حالانکہ اللہ تعالیٰ دونوں کا مددگار تھا ( اسلیے اس نے اس لغزش سے بچالیا) اور صرف اللہ پر توکل کرنا چاہیے مومنوں کو ۔

﴿123﴾ اور بےشک مدد کی تھی تمہاری اللہ تعالیٰ نے (میدانِ ) بدر میں حالانکہ تم بالکل کمزور تھے پس ڈرتے رہا کرو اللہ سے تاکہ تم (اس بروقت امداد کا ) شکر ادا کرسکو۔

﴿124﴾ (عجب سہانی گھڑی تھی) جب آ پ فرمارہے تھے مومنوں سے کیا تمھیں یہ کافی نہیں کہ تمہاری مدد فرمائے تمہارا پروردگار تین ہزار فرشتوں سے جو اتارے گئے ہیں۔

﴿125﴾ ہاں کافی ہے بشرطیکہ تم صبر و اور تقویٰ اختیار کرو اور (اگر ) آدھمکیں کفار تم پر تیزی سے اسی وقت تو مدد کرے گا تمہاری تمہارا رب پانچ ہزار فرشتوں سے جو نشان والے ہیں۔

﴿126﴾ اور نہیں بنایا فرشتوں کے اترنے کو اللہ نے مگر خوش خبری تمہارے لیے اور تاکہ مطئمن ہوجائیں تمہارے دل اس سے اور (حقیقت تو یہ ہے ) کہ نہیں ہے فتح و نصرت مگر اللہ کی طرف سے جو بس پر غالب (اور ) حکمت والا ہے۔

﴿127﴾ (یہ مدد اس لیے تھی) تاکہ کاٹ دے ایک حصہ کافروں سے یا ذلیل کردے ان کو پس لوٹ جائیں نامراد ہو کر۔

﴿128﴾ نہیں ہے آپ کا اس معاملہ میں کوئی دخل چاہے تو اللہ ان کی توبہ قبول فرمالے اور چاہے تو عذاب دے انھیں پس بےشک وہ ظالم ہیں۔

﴿129﴾ اور اللہ ہی کا جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے بخش دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور سزا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ بہت بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

﴿130﴾ اے ایمان والو! نہ کھاؤ سود دوگنا چو گنا کرکے اور ڈرتے رہو اللہ سے تاکہ تم فلاح پاجاؤ ۔

﴿131﴾ اور بچو آگ سے جو تیار کی گئی ہے کافروں کے لیے ۔

﴿132﴾ اور اطاعت کرو اللہ کی اور رسول (کریم) کی تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

﴿133﴾ اور دوڑو بخشش کی طرف جو تمہارے رب کی طرف سے ہے اور (دوڑو) جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین جتنی ہے جو تیار کی گئی ہے پرہیزگاروں کے لیے ۔

﴿134﴾ وہ (پرہیز گار) جو خرچ کرتے ہیں خوشحالی میں اور تنگ دستی میں اور ضبط کرنے والے ہیں غصہ کو اور درگزر کرنے والے ہیں لوگوں سے اور اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے احسان کرنے والوں سے۔

﴿135﴾ اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جب کر بیٹھیں کوئی برا کام یا ظلم کریں اپنے آپ پر ( تو فوراً) ذکر کرنے لگتے ہیں اللہ کا اور معافی مانگنے لگتے ہیں اپنے گناہوں کی اور کون بخشتا ہے گناہوں کو اللہ کے سوا اور نہیں اصرار کرتے اس جو ان سے سرزد ہوا اس حال میں کہ وہ جانتے ہیں۔

﴿136﴾ یہ وہ (نیک بخت) ہیں جن کا بدلہ بخشش ہے اپنے رب کی طرف سے اور جنت رواں ہیں جن کے نیچے ندیاں ہمیشہ رہیں گے ان میں کیا ہی اچھا بدلہ ہے کام کرنے والوں کا ۔

﴿137﴾ گزرچکے ہیں تم سے پہلے (قوموں کے عروج و زوال کے ) قاعدے پس سیر کرو زمین میں اور (اپنی آنکھوں سے ) دیکھو کہ کیسا انجام ( دعوت حق کو) جھٹلانے والوں کا ۔

﴿138﴾ یہ ایک بیان ہے لوگوں (کے سمجھانے ) کے لیے اور ہدایت اور نصیحت ہے پرہیزگاروں کے واسطے۔

﴿139﴾ اور نہ (تو) ہمت ہارو اور نہ غم کرو اور تمھیں سر بلند ہوگے اگر تم سچے مومن ہو۔

﴿140﴾ (اُحد میں) اگر لگی ہے تمھیں چوٹ تو (بدر میں) لگ چکی ہے (تمہاری دشمن) قوم کو بھی چوٹ ایسی ہی اور یہ (ہارجیت کے ) دن ہم پھراتے رہتے ہیں ! انھیں لوگوں میں اور یہ اس لیے کہ دیکھ لے اللہ تعالیٰ ان کو جو ایمان لائے اور بنالے تم یں سے کچھ شہید اور اللہ تعالیٰ دوست نہیں رکھتا ظالموں کو۔

﴿141﴾ اور اس لیے کہ نکھاردے اللہ تعالیٰ اُنھیں جو ایمان لائے اور مٹادے کافرو کو۔

﴿142﴾ کیا تم گمان رکھتے ہو کہ (یونہی ) داخل ہوجاؤگے جنت میں حالانکہ ابھی دیکھا ہی نہیں اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے جہاد کیا تم میں سے اور دیکھا ہی نہیں (آزمائش میں ) صبر کرنے والو کو ۔

﴿143﴾ اور تم تو آرزو کرتے تھے موت کی اس سے پہلے کہ تم اس سے ملاقات کرو سو اب دیکھ لیا تم نے اس کو اور تم (آنکھوں سے ) مشاہدہ کررہے ہو۔

﴿144﴾ اور نہیں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) (مصطفٰے) مگر (اللہ کے) رسول گزر چکے ہیں آپ سے پہلے کئی رسول تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں یا شیہد کردیے جائیں پھر جاؤگے تم الٹے پاؤ ں (دین اسلام سے ) اور جو پھرتا ہے الٹے پاؤں تو نہیں بگاڑ سکے گا اللہ کا کچھ بھی اور جلد ی اجر دے گا اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کو ۔

﴿145﴾ اور نہیں ممکن کہ کوئی شخص مرے بغیر اللہ کی اجازت کے ۔ لکھا ہوا ہے (موت) کا مقرر وقت۔ اور جو شخص چاہتا ہے دنیا کا فائدہ ہم دیتے ہیں اس کو اس سے اور جو شخص چاہتا ہے آخرت کا فائدہ ہم دیتے ہیں اسے اس مین سے اور ہم جلدی اجر دیں گے (اپنے ) شکر گزار بندوں کو۔

﴿146﴾ اور کتنے ہی نبی گزرے ہیں کہ جہاد کیا ان کے ہمراہ بہت سے اللہ والوں نے سو نہ ہمت ہاری انھوں نے بوجہ تکلیفوں کے جو پہنچیں انھیں اللہ کی راہ میں اور نہ کمزور ہوئے اور نہ انھوں نے ہار مانی اور اللہ تعالیٰ پیار کرتا ہے (تکلیفوں میں) صبر کرنے والوں سے۔

﴿147﴾ اور نہیں تھی ان کی گفتگو بغیر اس کے کہ کہا انھوں نے اے ہمارے رب ! بخش دے ہمارے گناہ اور جو زیادتیاں کیں ہم نے اپنے کام میں اور ثابت قدم رکھ ہمیں اور فتح دے ہم کو قوم کفار پر۔

﴿148﴾ تو دے یا ان کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کا ثواب ( یعنی کامیابی) اور عمدہ ثواب آخرت کا ( یعنی نعیم جنت اور لذت و صل) اور اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے نیکو کاروں سے۔

﴿149﴾ اے ایمان والو! اگر پیروی کروگے تم کافرورں کی تو وہ پھیر دیں گے تمھیں الٹے پاؤں (کفر کی طرف) تو تم لوٹوگے نقصان اٹھتے ہوئے۔

﴿150﴾ بلکہ اللہ حامی ہے تمہار ا اور وہ سب سے بہتر مدد فرمانے والا ہے۔

﴿151﴾ ابھی ہم ڈال دیں گے کافروں کے دلوں میں رعب اس لیے کہ انھوں نے شریک بنالیا اللہ کے ساتھ اس کو جس کے لیے نہیں اتاری اللہ نے کوئی دلیل اور ان کا ٹھکانا آتشِ (جہنم) ہے اور بہت بری جگہ ہے ظالموں کی ۔

﴿152﴾ اور بےشک سچ کر دیکھایا اللہ نے تم سے اپنا وعدہ جب کہ تم قتل کررہے تھے کافروں کو اس کے حکم سے یہاں تک کہ جب تم بزدل ہوگئے اور جھگڑنے لگے (رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے) حکم کے بارے میں اور نافرمانی کی تم نے اس کے بعد کہ اللہ نے دیکھا دیا تھا تمھیں جو تم پسند کرتے تھے بعض تم سے طلبگار ہیں دنیا کے اور بعض تم میں سے طلبگار ہیں آخرت کے پھر پیچھے ہٹا دیا تمھیں ان کے تعاقب سے تاکہ آزمائے تمھیں اور بےشک اس نے معاف فرمادیا تم کو اور اللہ تعالیٰ بہت فضل و کرم فرمانے والا ہے مومنوں پر۔

﴿153﴾ یاد کرو جب تم دور بھاگے جارہے تھے اور مڑ کر دیکتھے بھی نہ کسی کو اور رسول کریم بلارہے تھے تمھیں پیچھے سے پس اللہ پہنچایا تمھیں غم کے بدلے غم تاکہ تم نہ غمگین ہو اس چیز پر جو کھوگئی ہے تم سے اور نہ اس مصیبت پر جو پہنچی ہے تمھیں اور اللہ تعالیٰ خبردار ہے جو کچھ تم کررہے ہو۔

﴿154﴾ پھر اتاری اللہ نے تم پر غم و اندوہ کے بعد راحت (یعنی) غنودگی جو چھارہی تھی ایک گروہ پر تم میں سے اور ایک جماعت ایسی تھی جسے فکر پڑا ہوا تھا (صرف) اپنی جانوں کا بدگمانی کررہے تھے اللہ کے ساتھ بلا وجہ عہد جایلیت کی بد گمانی کہتے کیا ہمارا بھی اس کام میں کچھ دخل ہے آپ فرمائیے ! اختیار تو سارا اللہ کا ہے چھپائے ہوئے ہیں اپنے دلوں میں جو ظاہر نہیں کرتے آپ پر کہتے ہیں (اپنے دلوں میں) اگر ہوتا ہمارا کام اس کام میں کچھ دخل تو نہ مارے جاتے ہم یہاں (اِس بےدردی سے) آپ فرمائیے کہ اگر تم (بیٹھے) ہوتے اپنے گھروں میں تو ضرور نکل آتے (وہاں سے) و ہ لوگ لکھا جاچکا تھا جن کا قتل ہونا اپنی قتل گاہوں کی طرف (یہ سارے مصائب اس لیے تھے) تاکہ آزمالے اللہ تعالیٰ جو کچھ تمہارے سینوں میں (چھپا) تھا اور صاف کردے جو (میل کچیل) تمہارے دلوں میں تھا اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے سینوں کے رازوں کا ۔

﴿155﴾ بے شک وہ لوگ جو پیٹھ پھیر گئے تھے تم سے اس روز جب مقابلہ میں نکلے تھے دونوں لشکر تو پھسلا دیا تھا انھیں شیطان نے بوجہ ان کے کسی عمل کے اور بےشک (اب) معاف فرمادیا ہے اللہ تعالیٰ نے انھیں یقیناً اللہ بہت بخشنے والا نہایت حلم والا ہے۔

﴿156﴾ اے ایمان والو! نہ ہوجاؤ ان لوگوں کی طرح جنھوں نے کفر اختیار کیا اور جو کہتے تھے اپنے بھائیوں کو جب وہ سفر کرتے کسی علاقہ میں یا ہوتے تھے جہاد کرنے والے کہ اگر وہ ہوتے ہمارے پاس تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے تاکہ بنائے اللہ تعالیٰ اس (خیال باطل) کو حسرت (کا باعث) ان کے دلوں میں اور (درحقیقت) اللہ ہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو دیکھ رہا ہے۔

﴿157﴾ اور واقعی اگر تم قتل کیے جاؤ راہ خد امیں یا تم مرجاؤ تو اللہ کی بخشش اور رحمت (جو تمھیں نصیب ہوگی) بہت بہتر ہے اس سے جو وہ جمع کرتے ہیں۔

﴿158﴾ اور اگر تم مرگئے یا مارے گئے تو اللہ کے حضور جمع کیے جاؤ گے۔

﴿159﴾ پس ( صرف) اللہ کی رحمت سے آپ نرم ہوگئے ہیں ان کے لیے اور اگر ہوتے آپ تند مزاج سخت دل تو یہ لوگ منتشر ہوجاتے آپ کے آس پاس سے تو آپ درگزر فرمائیے ان سے اور بخشش طلب کیجیے ان کے لیے اور صلاح مشورہ کیجیے ان سے کام میں اور جب آپ ارادہ کرلیں (کسی بات کا) تو پھر توکل کرو اللہ پر بےشک اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے توکل کرنے والوں سے۔

﴿160﴾ اگر مدد فرمائے تمہاری اللہ تعالیٰ تو کوئی غالب نہیں آسکتا تم پر اور اگر وہ (ساتھ ) چھوڑدے تمہار ا تو کون ہے جو مدد کرے گا تمہاری اس کے بعد اور صرف اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے ایمان والوں کو۔

﴿161﴾ اور نہیں ہے کسی نبی کی یہ شان کہ خیانت کرے اور جو کوئی خیانت کرے گا تو لے آئے گا (اپنے ہمراہ) خیانت کی ہوئی چیز کو قیامت کے دن پھر پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ہر نفس کو جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا۔

﴿162﴾ تو کیا جس نے پیروی کی رضائے الٰہی کی اس کی طرح ہوسکتا ہے جو حقدار بن گیا اللہ کی ناراضگی کا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور یہ بہت بری پلٹنے کی جگہ ہے۔

﴿163﴾ لوگ درجہ بدرجہ ہیں اللہ کے ہاں اور اللہ تعالیٰ دیکھنے والا ہے جو وہ کرتے ہیں۔

﴿164﴾ یقیناً بڑا احسان فرمایا اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر جب اس بھیجا ان میں ایک رسول انھیں میں سے پڑھتا ہے ان پر اللہ کی آیتیں اور پاک کرتا ہے انھیں اور سکھاتا ہے انھیں قرآن اور سنت اگرچہ وہ اس سے پہلے یقیناً کھلی گمراہی میں تھے۔

﴿165﴾ کیا جب پہنچی تمھیں کچھ مصیبت حالانکہ تم پہنچا چکے ہو (دشمن کو) اس سے دگنی تو تم کہ اٹھے کہا سے آپڑی مصیبت ؟ فرمائیے یہ تمہاری طرف سے ہی آئی ہے بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

﴿166﴾ اور وہ مصیبت جو پہنچی تھی تمھیں اس روز جب مقابلہ کو نکلے تھے دونوں لشکر تو وہ اللہ کے حم سے پہنچی تھی اور (مقصد یہ تھا کہ) دیکھ لے اللہ تعالیٰ مومنوں کو۔

﴿167﴾ اور دیکھ لے جو نفاق کرتے تھے اور کہا گیا ان سے آؤ لڑو اللہ کی راہ میں یا بچاؤ کرو (اپنے شہر کا ) بولے اگر ہم جانتے کہ جنگ ہوگی تو ہم ضرور تمہاری پیروی کرتے۔ وہ کفر سے اس روز زیادہ قریب تھے بہ نسبت ایمان کے کہتے ہیں اپنے منہ سے (ایسی باتیں) جو نہیں ہیں ان کے دلوں میں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جسے وہ چھپاتے ہیں۔

﴿168﴾ جنھوں نے کہا اپنے بھائیوں کے بارے میں حالانکہ وہ خود (گھر) بیٹھے تھے کہ اگر وہ ہمارا کہا مانتے تو نہ مارے جاتے آپ فرمائیے ذرا دور تو کر دکھاؤ اپنے آپ سے موت کو اگر تم سچے ہو۔

﴿169﴾ اور ہر گز خیال نہ کرو کہ وہ جو قتل کیے گئے ہیں اللہ کی راہ میں وہ مردہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس (اور) رزق دئیے جاتے ہیں ۔

﴿170﴾ شاد ہیں ان (نعمتوں) سے جو عنایت فرمائیے ہیں انھیں اللہ نے اپنے فضل و کر م سے اور خوش ہو رہے ہیں بسبب ان لوگوں کے جو ابھی تک نہیں آملے ان سے ان کے پیچھے رہ جانے والوں سے کہ نہیں ہے کوئی خوف ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

﴿171﴾ خوش ہورہے ہیں اللہ کی نعمت اور اس کے فضل پر اور (اس پر) کہ اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرتا اجر ایمان والوں کا۔

﴿172﴾ جنھوں نے لبیک کھا اللہ اور رسول کی دعوت پر اس کے بعد کہ لگ چکا تھا انھیں (گہرا) زخم ان کے لیے جنھوں نے نیکی کی ان میں سے اور تقویٰ اختیار کیا اجر عظیم ہے۔

﴿173﴾ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب کہا انھیں لوگوں نے کہ بلاشبہ کافروں نے جمع کر رکھا ہے تمہارے لیے (بڑا سامان اور لشکر) سو ڈرو ان سے تو (اس دھمکی نے) بڑھادیا ان کے (جوشِ ) ایمان کو اور انھوں نے کہا کافی ہے ہمیں اللہ تعالیٰ اور وہ بہترین کارساز ہے۔

﴿174﴾ (ان کے عزم و توکل کا نتیجہ یہ نکلا کہ) واپس آئے یہ لوگ اللہ کے انعام اور فضل کے ساتھ نہ چھوا ان کو کسی برائی نے اور پیروی کرتے رہے رضائے الٰہی کی اور اللہ تعالیٰ صاحب فضل عظیم ہے۔

﴿175﴾ یہ تو شیطان ہے جو ڈراتا ہے (تمھیں) اپنے دوستوں سے پس نہ ڈرو ان سے بلکہ مجھ سے ہی ڈرا کرو اگر تم مومن ہو۔

﴿176﴾ اور (اے جان عالم) نہ غمزدہ کریں آپ کو جو جلدی سے کفر میں داخل ہوئے ہیں بےشک یہ لوگ نہیں نقصان پہنچاسکتے اللہ تعالیٰ کو کچھ بھی چاہتا ہے اللہ تعالیٰ کہ نہ رکھے ان کے لیے ذرا حصہ آخرت کی نعمتوں سے اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔

﴿177﴾ بے شک جنھوں نے خرید لیا کفر کو ایمان کے عوض میں ہرگز نقصان نہ پہنچا سکیں گے اللہ تعالیٰ کو کچھ بھی اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

﴿178﴾ اور نہ خیال کریں جو کفر کررہے ہیں کہ ہم جو مہلت دے رہے ہیں انھیں یہ بہتر ہے ان کے لیے صرف اس لیے ہم تو انھیں مہلت دے رہے ہیں کہ وہ اور زیادہ کرلین گناہ اور ان کے لیے عذاب ہے ، ذلیل و خوار کرنے والا۔

﴿179﴾ نہیں ہے اللہ (کی شان) کہ چھوڑے رکھے مومنوں کو اس حال پر جس پر تم اب ہو جب تک الگ الگ نہ کردے پلید کو پاس سے اور نہیں ہے اللہ (کی شان) کہ آگاہ کرے تمھیں غیب پر البتہ اللہ (غیب کے علم کے لیے) چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہتا ہے سو ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر اور اگر تم ایمان لے آئے اور تقویٰ اختیار کیا تو تمہارے لیے اجر عظیم ہے۔

﴿180﴾ اور ہرگز گمان نہ کریں جو بخل کرتے ہیں اس میں جو دے رکھا ہے انھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کر م سے کہ یہ بخل بہتر ہے ان کے لیے بلکہ یہ بخل بہت بڑا ہے ان کے لیے۔ طوق پہنایا جائے گا انھیں وہ مال جس میں انھوں نے بخل کیا قیامت کے دن اور اللہ کے لیے ہے میراث آسمانوں اور زمین کی اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کررہے ہو اس سے خبردار ہے۔

﴿181﴾ بے شک سنا اللہ نے قول ان (گستاخوں) کا جنھوں نے کہا کہ اللہ مفلس ہے حالانکہ ہم غنی ہیں ہم لکھ لیں گے جو انھوں نے کہا نیز قتل کرنا ان کا انبیاء کو ناحق (بھی لکھ لیا جائے گا) اور ہم کہیں گے کہ (اب ) چکھوں آگ کے عذاب (کا مزہ) ۔

﴿182﴾ یہ بدلہ ہے اس کا جو اگے بھیجا ہے تمہارے ہاتھوں نے اور یقیناً اللہ تعالیٰ نہیں ظلم کرنے والا اپنے بندوں پر ۔

﴿183﴾ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے کہا کہ تحقیق اللہ نے اقرار لیا ہے ہم سے کہ ہم نہ ایمان لائیں کسی رسول پر یہاں تک کہ وہ لائے ہمارے پا س ایک قربانی کھالے اس کو آگ آپ فرمائیے آچکے تمہارے پاس رسول مجھ سے پہلے بھی دلیلوں کے ساتھ اور اس معجزہ کے ساتھ بھی جو تم کہ رہے ہو تو کیوں قتل کیا تھا تم نے انھیں اگر تم سچے ہو۔

﴿184﴾ اگر یہ جھٹلاتے ہیں آپ کو تو (یہ کوئی نئی بات نہیں) بےشک جھٹلائے گئے رسول آپ سے پہلے جو لائے تھے معجزات اور صحیفے اور روشن کتاب۔

﴿185﴾ ہر نفس چکھنے والا ہے موت کو اور پوری مل کر رہے گی تمھیں تمہاری مزدوری قیامت کے دن پس جو شخص بچالیا گیا آتشِ (دوزخ) سے اور داخل کیا گیا جنت میں تو ہو کامیاب ہوگیا اور نہیں یہ دینوی زندگی مگر سازو سامان دھوکہ میں ڈالنے والا۔

﴿186﴾ یقیناً تم آزمائے جاؤ گے اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے اور یقیناً تم سنوگے ان سے جنھیں دی گئی کتاب تم سے پہلے اور ان لوگوں سے جنھوں نے شرک کیا اذیت دینے والی بہت باتیں ار اگر تم (ان دل آزاریوں پر ) صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بےشک یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔

﴿187﴾ اور یاد کرو جب لیا اللہ تعالیٰ نے پختہ وعدہ ان لوگوں سے جنھیں کتاب دی گئی کہ تم ضرور کھول کر بیان کرنا اسے لوگوں سے اور نہ چھپانا اس کو تو (اُلٹا) انھوں نے پھینک دیا اس وعدہ کو اپنی پشتوں کے پیچھے اور انھوں نے خرید لی اس کے عوض تھوڑی سی قیمت سو بہت بری ہے وہ چیز جو وہ خرید رہے ہیں۔

﴿188﴾ ہر گز آپ یہ خیال نہ کریں کہ جو لوگ خوش ہوتے ہیں اپنی کارستانیوں پر اور پسند کرتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے ایسے کاموں سے جو انھوں نے کیے ہی نہیں تو ان کے متعلق یہ گمان نہ کرو کہ وہ امن میں ہیں عذاب سے ان کے لیے ہی دردناک عذاب ہے۔

﴿189﴾ اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

﴿190﴾ بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے بدلتے رہنے میں (بڑی) نشانیاں ہیں اہل عقل کے لیے۔

﴿191﴾ وہ عقل مند جو یاد رکتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ کو کھڑے ہوئے اور بیٹھے ہوئے اور پہلوؤں پر لیٹے ہوئے اور غور کرتے رہتے ہیں آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور (تسلیم کرتے ہیں) اے ہمارے مالک ! نہیں پیدا فرمایا تونے یہ (کارخانہ حیات) بیکار۔ پاک ہے تو (ہر عیب سے ) بچالے ہمیں آگ کے عذاب سے۔

﴿192﴾ اے ہمارے رب! بےشک تو نے جسے داخل کردیا آگ میں تو رسوا کردیا تونے اسے اور نہیں ظالموں کا کوئی مددگار۔

﴿193﴾ اے ہمارے رب! بیشک سنا ہم نے منادی کرنے والے کو بلند آزاز سے بلات تھا یمان کی طرف اور کہتا تھا کہ ایمان لاؤ اپنے رب پر تو ہم ایمان لے آئے اے ہمارے مالک ! پس بخش دے ہمارے گناہ اور مٹادے ہم سے ہماری برائیاں اور اپنے کرم سے موت دے ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ۔

﴿194﴾ اے ہمارے رب عطا فرما ہمیں جو وعدہ کیا تونے ہمارے ساتھ اپنے رسولوں کے ذریعہ اور نہ رسوا کر ہمیں قیامت کے دن بےشک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

﴿195﴾ تو قبول فرمالی ان کی التجا ان کے پروردگار نے ( اور فرمایا) کہ میں ضائع نہیں کرتا عمل کسی عمل کرنے والے کا تم سے خواہ مرد ہو یا عورت بعض تمہارا جز ہے بعض کی تو وہ جنھوں نے ہجرت کی اور نکالے گئے اپنے وطن سے اور ستائے گئے میری راہ میں اور (دین کے لیے) لڑے اور مارے گئے تو ضرور میں مٹادوں گا ان (کے نامہ عل) سے انکے گناہ اور ضرور داخل کرونگا انھیں باغوں میں بہتی ہیں جن کے نیچے نہریں (یہ) جزا ہے (ان کے اعمال حسنہ ) کی اللہ کے ہاں اور اللہ ہی کے پاس بہترین ثواب ہے۔

﴿196﴾ (اے سننے والے!) دھوکہ میں ڈالے تجھے چلنا پھرنا ان کا جنھوں نے کفر کیا ملکوں میں ۔

﴿197﴾ یہ لطف اندوزی تھوڑی مدت کے لیے ہے پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور یہ بہت بری ٹھیر نے کی جگہ ہے۔

﴿198﴾ لیکن وہ جو ڈرتے رہے اپنے رب سے ان کے لیے باغ ہوں گے رواں ہوں گی ان کے نیچے ندیاں (وہ متقی) ہمیشہ رہیں گے ان میں یہ تو مہمانی ہوگی اللہ کی طرف سے اور جو (ابدی نعمتیں) اللہ کے پاس ہیں وہ بہت بہتر نیکوں کے لیے۔

﴿199﴾ اور بیشک بعض اہل کتاب ایسے ہیں جو ایمان لاتے ہیں اللہ تعالیٰ پر اور اس پر جو اتارا گیا تمہاری طرف اور جو اتارا گیا ان کی طرف عاجزی (اور نیاز مندی) کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں سودا کرتے اللہ کی آیتوں کا حقیر قیمت پر یہ وہ ہیں جن کا ثواب اُ ن کے رب کے پاس ہے بےشک اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔

﴿200﴾ اے ایمان والو! صبر کور اور ثابت قدم رہو (دشمن کے مقابلے میں) اور کمر بستہ ہو (خدمت دین کے لیے ) اور (ہمیشہ ) اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ (اپنے مقصد میں) کامیاب ہوجاؤ

النساء

Surah 4

﴿1﴾ اے لوگو! ڈرو اپنے رب سے جس نے پیدا فرمایا تمھیں ایک جان سے اور پیدا فرمایا اسی سے جوڑا اس کا اور پھیلا دیئے ان دونوں سے مرد کثیر تعداد میں اور عورتیں (کثیر تعداد میں) اور ڈرو اللہ سے وہ اللہ مانگتے ہو تم ایک دوسرے سے (اپنے حقوق ) جس کے واسطے سے اور (ڈرو) رحموں (کے قطع کرنے سے ) بیشک اللہ تعالیٰ تم پر ہر وقت نگران ہے۔

﴿2﴾ اور دے دو یتیموں کو ان کے مال اور نہ بدلو (اپنی) ردی چیز کو (اُن کی) عمدہ چیز سے اور نہ کھاؤ ان کے مال اپنے مالوں سے ملا کر واقعی یہ بہت بڑا گناہ ہے۔

﴿3﴾ اور اگر ڈرو تم اس سے کہ نہ انصاف کرسکو گے تم یتییم بچوں کے معاملہ میں ( تو ان سے نکاح نہ کرو) اور نکاح کرو جو پسند آئیں تمھیں ( ان کے علاوہ دوسری) عورتون سے دو دو تین تین اور چار چار اور اگر تمھیں یہ اندیشہ ہو کہ تم ان میں عدل نہیں کرسکو گے تو پھر ایک ہی یا کنیز یں جن کے مالک ہوں تمہارے دائیں ہاتھ۔ یہ زیادہ قریب ہے اس کے تم ایک طرف ہی جھک جاؤ۔

﴿4﴾ اور دیاکرو (اپنی) عورتوں کو ان کے مہر خوشی خوشی پھر اگر وہ بخش دیں تمھیں کچھ عرصہ اس سے خوش دلی سے تو کھاؤ اُسے لذت حاصل کرتے ہوئے خوشگوار سمجھتے ہوئے۔

﴿5﴾ اور نہ دے نادانوں کو اپنے مال جنھیں بنایا ہے اللہ تعالیٰ نے تمہاری (زندگی کے) لیے سہارا اور کھلاؤ انھیں اس مال سے اور پہناؤ انھیں اور کہو ان سے بھلائی کی بات ۔

﴿6﴾ اور آزماتے رہو یتیموں کو یہاں تک کہ وہ پہنچ جائیں نکاح (کی عمر) کو پس اگر محسوس کرو تم ان میں دانائی تو لوٹا دو انھیں ا کے مال اور نہ کھاؤ انھیں فضول خرچی سے اور جلدی جلدی اس خوف سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے اور جو سر پر ست غنی ہو تو اسے چاہیے کہ (یتیموں کے مال سے) پرہیز کرے اور جو سرپرست فقیر ہو تو وہ کھالے مناسب مقدار سے پھر جب لوٹاؤ تم ان کی طرف ان کے مال تو گواہ بنالو ان پر اور کافی ہے اللہ تعالیٰ حساب لینے والا۔

﴿7﴾ مردوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑگئے ماں باپ اور قریبی رشتہ دار اور عورتوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قریبی رشتہ دار اس ترکہ سے خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ یہ حصہ (اللہ تعالیٰ کی طر ف سے ) مقرر ہے۔

﴿8﴾ اور جب حاضر ہو (ورثہ کی) تقسیم کے وقت (غیر وارث) رشتہ دار، یتیم بچے اور مسکین تو دو انھیں بھی اس سے اور کہو ان سے اچھی بات۔

﴿9﴾ اور چاہیے کہ ڈریں (جو یتیموں کے سرپرست ہیں اور سوچیں) کہ اگر چھوڑ جاتے وہ اپنے پیچھے چھوٹے چھوٹے کمزور بچے تو وہ کتنے فکر مند ہوتے ان کے متعلق پس چاہیے کہ وہ ڈریں اللہ سے اور کہیں ایسی بات جو بالکل درست ہو۔

﴿10﴾ بیشک وہ لوگ جو کھاتے ہیں یتیموں کے مال ظلم سے وہ تو بس کھارے ہیں اپنے پیٹوں میں آگ اور وہ عنقریب جھونکے جائیں گے بھڑکتی آگ میں۔

﴿11﴾ حکم دیتا ہے تمھیں اللہ تمہاری اولا (کی میراث) کے بارے میں ایک مرد (لڑکے) کا (حصہ) برابر ہے دو عورتوں (لڑکیوں) کے حصہ کے پھر اگر ہوں صرف لڑکیاں دو سے زائد تو ان کے لیے دو تہائی ہے جو میت نے چھوڑا اور اگر ہو ایک ہی لڑکی تو اس کے لیے نصف ہے اور میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا اس سے جو میت نے چھوڑا بشرطیکہ میت کی اولاد ہو اور اگر نہ ہو اس کی اولاد اور اس کے وارث صرف ماں باپ ہی ہوں تو اس کی ماں کا تیسرا حصہ ہے (باقی سب باپ کا ) اور اگر میت کے بہن بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ ہے (اور یہ تقسیم) اس وصیت کو پورا کرنے کے بعد ہے جو میت نے کی اور قرض ادا کرنے کے بعد ۔ تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم نہیں جانتے کون اس میں سے زیادہ قریب ہے تمھیں نفع پہنچانے میں یہ حصے مقرر ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بےشک اللہ تعالیٰ (تمہاری مصلحتوں کو) جاننے والا ہے بڑا دانا ہے۔

﴿12﴾ اور تمہارے لیے نصف ہے جو چھوڑ جائیں تمہاری بیویاں بشرطیکہ نہ ہو ان کی اولاد اور اگر ہو ان کی اولاد تو تمہارے لیے چوتھائی ہے اس سے جو وہ چھوڑ جائیں (یہ تقسیم) اس وصیت کے پورا کرنے کے بعد ہے جو وہ کرجائیں اور قرض ادا کرنے کے بعد اور تمہاری بیویوں کا چوتھا حصہ ہے اس سے ججو تم چھوڑو بشرطیکہ نہ ہو تمہاری اولاد اور اگر ہو تمہاری اولاد تو ان کا آٹھواں حصہ ہے اس سے جو تم پیچھے چھوڑ جاؤ(یہ تقسیم) اس وصیت کو پورا کرنے کے بعد ہے جو تم نے کی ہو اور (تمہارا) قرض ادا کرنے کے بعد ۔ اور اگر وہ شخص جس کی میراث تقسیم کی جانے والی ہے کلالہ وہ مرد ہو یا عورت اور اس کا بھائی یا بہن ہو تو ہر ایک کے لیے ان میں سے چھٹا حصہ ہے اور اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب شریک ہیں تہائی میں (یہ تقسیم) وصیت پوری کرنے کے بعد ہے جو کی گئی ہے اور قرض ادا کرنے کے بعد بشرطیکہ اس سے نقصان نہ پہنچایا گیا ہو۔ (یہ نظام وراثت) حکم ہے اللہ کی طر ف سے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا بڑا برد بار ہے۔

﴿13﴾ یہ حدیں اللہ کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو شخص فرمانبردای کرے گا اللہ کی اور اس کے رسول کی داخل فرمائے گا اسے اللہ تعالیٰ باغوں میں بہتی ہوں گی ان کے نیچے نہریں ہمشہ رہیں گے وہ ان میں اور یہی ہے بڑی کامیابی۔

﴿14﴾ اور جو نافرمانی کرے گا اللہ کی اور اس کے رسول کی اور تجاوز کرے گا اللہ کی (مقررہ) حدوں سے داخل کرے گا اسے اللہ آگ میں ہمیشہ رہے گا اس میں اور اس کے لیے عذاب ہے ذلیل کرنے والا۔

﴿15﴾ اور جو کوئی ارتکاب کرے بدکاری کا تمہاری عورتوں میں سے تو گواہ طلب کرو (تہمت لگانے والے سے ) ان پر چار مرد اپنوں میں سے پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو بدن کروو ان عورتوں کو گھروں میں یہاں تک کہ پورا کردے ان (کی زندگی) کو موت یا بنادے اللہ تعالیٰ ان (کی رہائی ) کے لیے کوئی رستہ

﴿16﴾ اور جو مرد عورت ارتکاب کریں بدکاری کا تم میں سے تو خوب اذیت دو انھیں پھر اگر دونوں توبہ کرلیں اور (اپنی ) اصلاح کرلیں تو چھوڑ دو انھیں بےشک اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول کرنے والا بہت رحم کرنے والا ہے۔

﴿17﴾ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے ذمہ لیا ہے ان کی توبہ ہے جو کر بیٹھتے ہیں گناہ بےسمجھی سے پھر توبہ کرتے ہیں چلدی سے پس یہی لوگ ہیں (نظر رحمت سے) توجہ فرماتا ہے اللہ ان پر اور ہے اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا بڑی حکمت والا۔

﴿18﴾ اور نہیں یہ توبہ (جس کے قبول کرنے کا وعدہ ہے ) ان لوگوں کے لیے جو کرتے رہتے ہیں برائیاں (ساری عمر) یہاں تک کہ جب آجائے کسی ایک کو ان میں سے موت (تو) کہے بشک میں توبہ کرتا ہوں اب اور نہ ان لوگوں کی توبہ جو مرتے ہیں اس حال میں کہ وہ کافر ہیں انھیں کے لیے ہم نے تیار کر رکھا ہے عذاب دردناک ۔

﴿19﴾ اے ایمان والو! نہیں حلال تمہارے لیے کہ وارث بن جاؤ عورتوں کے زبردستی اور نہ روکے رکھو انھیں تاکہ لے جاؤ کچھ حصہ اس (مہر وغیرہ) کا جو تم نے دیا ہے انھیں بجز اس صورت کے کہ ارتکاب کریں کھلی بدکاری کا اور زندگی بسر کرو اپنی بیویوں کے ساتھ عمدگی سے پھر اگر تم نا پسند کرو انھیں تو (صبر کرو) شاید تم ناپسند کرو کسی چیز کو اور رکھ دی ہو اللہ تعالیٰ نے اس میں (تمہارے لیے) خیر کثیر ۔

﴿20﴾ اور اگر تم ارادہ کرلو کہ بدلو ایک بیوی کو پہلی بیوی کی جگہ اور دے چکے ہو تم اسے ڈھیروں مال تو نہ لو اس مال سے کوئی چیز کیا تم لینا چاہتے ہو اپنا مال (زمانہ جاہلیت کی طرح) بہتان لگا کر اور کھلا گناہ کرکے۔

﴿21﴾ اور کیوں کر (واپس ) لیتے ہو تم مال کو حالانکہ مل جل چکے ہو تم (تنہائی میں) ایک دوسرے سے اور وہ لے چکی ہیں تم سے پختہ وعدہ ۔

﴿22﴾ اور نکاح نہ کرو جن سے نکاح کرچکے تمہارے باپ دادا مگر جو ہوچکا ( اس سے پہلے سو وہ معاف ہے) بےشک یہ فعل بہت بےحیائی اور نفرت کا فعل تھا اور بہت برا طریقہ تھا۔

﴿23﴾ حرام کردی گئیں تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری مائیں جنھوں نے تمھٰن دودہ پلایا اور تمہاری بہنیں رضاعت سے اور مائیں تمہاری بیویوں کی اور تمہاری بیویوں کی بیٹیاں جو تمہاری گودوں میں (پرورش پارہی ہیں ٩ ان بیویوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو اور اگر تم نے صحبت نہ ہو ان بیویوں سے تو کوئی حرج نہیں تم پر (ان کی بیٹیوں سے نکاح کرنے میں ) اور (حرام کی گئیں) بیویاں تمہارے ان بیٹوں کی جو تمہاری پشتوں سے ہیں اور (یہ بھی حرام ہے) کہ جمع کرو تم دو بہنوں کو مگر جو گزرچکا ( سو وہ معاف ہے) یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔

﴿24﴾ اور (حرام ہیں) خاوندوں والی عورتیں مگر (کافروں کی وہ عورتیں) جو تمہارے ملک میں آجائیں فرض کیا ہے اللہ نے (اِن احکام) کو تم پر اور حلال کردی گئیں ہیں تمہارے لیے ماسوا ان کے تاکہ تم طلب کرو (ان کو) اپنے مالوں کے زریعہ پاکدامن بنتے ہوئے نہ زناکار بنتے ہوئے پس جو تم نے لطف اٹھایا ہے ان سے تو دو ان کو ان کے مہر جو مقرر ہیں اور کوئی گناہ نہیں تم پر جس چیز پر تم آپس میں راضی ہو جاؤ مقرر کیے ہوئے مہر کے بعد بیشک اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے۔

﴿25﴾ اور جو نہ رکھتا ہو تم میں سے اس کی طاقت کہ نکاح کرے آزاد مسلمان عورتوں سے تو وہ نکاح کرے جو تمہارے قبضہ میں ہیں تمہاری کنیزیں جو مسلمان ہیں اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے تمہارے ایمان ( کی کیفیت) کو بعض تمہارا بعض (کی جنس) سے ہے تو نکاح کرلو ان سے ان کے سرپرستوں کی اجازت سے اور دو ان کو مہر ان کے دستور کے موافق (تاکہ نکاح سے ) وہ پاکدامن بن جائیں نہ (اعلانیہ) زنا کار اور نہ بنانے والی ہوں پوشیدہ یار اور جب وہ نکاح سے محفوظ ہوجائیں پھر اگر وہ ارتکاب کریں بدکاری کا تو ان پر اس سزا کا نصف ہے جو آزاد عورتوں کے لیے ہے یہ (لونڈیوں سے نکاح کی اجازت) اس کے لیے ہے جسے خطرہ ہو بدکاری میں مبتلا ہونے کا تم سے ۔ اور تمہارا صبر کرنا بہتر ہے تمہارے لیے اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

﴿26﴾ چاہتا ہے اللہ تعالیٰ کہ کھول کر بیان کردے (اپنے احکام) تمہارے لیے اور چلائے تم کو ان (کامیاب لوگوں) کی راہوں پر جو تم سے پہلے گزرے ہیں اور اپنی رحمت سے توجہ فرمائے تم پر اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا بڑا دانا ہے۔

﴿27﴾ اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اپنی رحمت سے توجہ فرمائے تم پر اور چاہتے ہیں وہ لوگ جو پیروی کررہے ہیں اپنی خواہشوں کی کہ تم (حق سے) بالکل منہ موڑ لو۔

﴿28﴾ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہلکا کرے تم سے (پابندیوں کا بوجھ) اور پیدا کیا گیا ہے انسان کمزور۔

﴿29﴾ اے ایمان والو نہ کھاؤ اپنے مال آپس میں ناجائز طریقہ سے مگر یہ کہ تجارت ہو تمہاری باہمی رجامندی سے اور نہ ہلاک کرو اپنے آپ کو بےشک اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بڑی مہربانی فرمانے والا ہے۔

﴿30﴾ اور جو شخص کرے گا یوں، سرکشی اور ظلم سے ڈال دیں گے ہم اسے آگ میں اور یہ اللہ پر بالکل آسان ہے۔

﴿31﴾ اگر تم بچتے رہو گے بڑے بڑے کاموں سے روکا گیا ہے تمھیں جن سے تہ ہم محو کردیں گے تمہارے (نامہ اعمال) سے تمہاری برائیاں اور ہم داخل کریں گے تمھیں عزت کی جگہ میں

﴿32﴾ اور نہ آرزو کرو اس چیز کی ، بزرگی دی ہے اللہ نے جس سے تمہارے بعض کو بعض پر مردوں کے لی حصہ ہے اس سے جو انھوں نے کمایا اور عورتوں کے لیے حصہ ہے اس سے جو انھوں نے کمایا اور مانگتے رہو اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل و کرم کو بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

﴿33﴾ اور ہر ایک لیے بانادیئے ہیں ہم نے وارث اس مال سے جو چھوڑ جائیں ماں باپ اور قریبی رشتہ دار اور وہ لوگ جن سے بندھ چکا ہے تمہار ا عہدو پیمان تو دو انھیں ان کا حصہ بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مشاہدہ فرمانے والا ہے۔

﴿34﴾ مرد محافظ و نگران ہیں عورتوں پر اس وجہ سے کہ فضیلت دی ہے اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر اور اس وجہ سے مرد خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں سے (عورتوں کی ضرورت و آرام کے لیے) تو نیک عورتیں اطاعت گزار ہوتی ہیں حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں (مردوں) کی غیر حاضری میں اللہ کی حفاظت سے اور وہ عورتیں اندیشہ ہو تمھیں ان کی نافرمانی کا تو (پہلے نرمی سے) انھیں سمجھاؤ اور پھر الگ کردو انھیں خواب گاہوں سے اور (پھر بھی باز نہ آئیں تو ) مارو انھیں پھر اگر وہ اطاعت کرنے لگیں تمہاری تو نہ تلاش کرو ان پر (ظلم کرنے کی) راہ یقیناً اللہ تعالیٰ (عظمت و کبریائی میں ) سب سے بالا سب سے بڑا ہے۔

﴿35﴾ اور اگر خوف کرو تم ناچاقی کا ان کے درمیان تو مقرر کرو ایک پنچ مرد کے کنبے سے اور ایک پنچ عورت کے کنبہ سے اگر وہ دونوں (پنچ ) ارادہ کریں گے صلح کرانے کا تو موافقت پیدا کردے گا اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے درمیان بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہر بات سے خبردار ہے۔

﴿36﴾ اور عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی اور نہ شریک بناؤ اس کے ساتھ کسی کو اور والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو نیز رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور پڑوسی جو رشتہ دار ہے اور پڑوسی جو رشتہ دار نہیں اور ہم مجلس اور مسافر اور جو (لونڈی غلام) تمہارے قبضہ میں ہیں ( ان سب سے حسن سلوک کرو) بےشک اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا اس کو جو مغرور ہو فخر کرنے والا ہو۔

﴿37﴾ جو خود بھی بخل کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں لوگوں کو بھی بخل کرنے اور چھپاتے ہیں جو عطا فرمایا ہے انھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل (وکرم) سے اور تیار کر رکھا ہے ہم نے کافروں کے لیے ذلیل کرنے ولا عذاب۔

﴿38﴾ اور وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال لوگوں کو دیکھانے کے لیے اور نہیں ایمان رکھتے اللہ پر اور نہ روز قیامت پر اور وہ (بد قسمت) ہوجائے شیطان جس کا ساتھی پس وہ بہت برا ساتھی ہے۔

﴿39﴾ اور کیا نقصان ہوتا ان کا اگر ایمان لاتے اللہ پر اور روز آخرت پر اور خرچ کرتے اس سے جو دیا ہے اللہ تعالیٰ نے اور اللہ تعالیٰ ان سے خوب واقف ہے۔

﴿40﴾ بے شک اللہ تعالیٰ ظلم نہیں کرتا ذرہ برابر بھی (بلکہ) اگر ہو معمولی سے نیکی تو دوگنا کردیتا ہے اسے اور دیتا ہے اپنے پاس سے اجر عظیم ۔

﴿41﴾ تو کیا حال ہوگا (ان نافرمانوں کا ) جب ہم لے آئیں گے ہر امت سے ایک گواہ اور (اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) ہم لے آئیں گے آپ کو ان سب پر گواہ۔

﴿42﴾ اُس روز تمنا کریں گے وہ جنھوں نے کفر کیا اور نافرمانی کی رسول کی کہ کاش! (انھیں دبا کر) کر ہموار کردی جاتی ان پر زمین اور نہ چھپا سکیں گے اللہ کوئی بات۔

﴿43﴾ اے ایمان والو! نہ قریب جاؤ نماز کہ جب کہ تم نشہ کی حالت میں ہو یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو جو (زبان) سے کہتے ہو اور نہ جنابت کی حالت میں مگر یہ کہ تم سفر کررہے ہو یہاں تک کہ تم غسل کرلو اور اگر ہو تم بیمار یا سفر میں یا آئے کوئی تم میں سے قضائے حاجت سے یا ہاتھ لگایا ہو تم نے (اپنی ) عورتوں کو پھر نہ پاؤ تم پانی تو ( اس صورت میں ) تیمم کرلو پاک مٹی سے اور (اس کا طریقہ یہ ہے کہ ) ہاتھ پھیرو اپنے چہروں پر اور اپنے بازؤں پر بیشک اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا بڑا بخشنے والا ہے۔

﴿44﴾ کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لگون کی طرف جنھیں دیا گیا حصہ کتاب سے وہ مول لے رہے ہیں گمراہی کو اور (یہ بھی ) چاہتے ہیں کہ بہک جاؤ تم بھی راہ راست سے ۔

﴿45﴾ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے تمہارے دشمنوں کو اور کافی ہے (تمہارے لیے) اللہ حمایتی اور کافی ہے (تمہارے لیے) اللہ تعالیٰ مددگار۔

﴿46﴾ کچھ لوگ جو یہودی ہیں پھیر دیتے ہیں (اللہ کے کلام کو ) اس کی آسلی جگہوں سے اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور ہم نے نافرمانی کی اور (کہتے ہیں) سنو تم نہ سنائے جاؤ اور ( کہتے ہیں) ’’راعِنا‘‘ بل دیتے ہوئے اپنی زبانوں کو اور طعنہ زنی کرتے ہوئے دین مین اور اگر وہ (یوں) کہتے ہم نے (آپ کا ارشاد) سنا اور (اسے) مان لیا اور (ہماری عرض) سنیے اور نگاہِ (کرم) فرمائیے ہم پر تو ہوتا بہت بہتر ان کے لیے اور بہت درست لیکن (اپنی رحمت سے) دور کردیا انھیں اللہ نے بوجہ ان کے کفر کے پس نہیں ایمان لائیں گے مگر تھوڑے سے۔

﴿47﴾ اے وہ لوگوں جنھیں دی گئی کتاب ١ ایمان لاؤ اس کتاب پر جو نازل فرمائی ہم نے تاکہ تصدیق کرے اس کتاب کی جو تمہارے پاس ہے (ایمان لاؤ) اس سے پہلے کہ ہم مسخ کردیں چہرے پھر پھیر دیں انہیں پشتوں کی طرف یا لعنت کریں ان پر جس طرح ہم نے لعنت کی سبت والوں پر اور اللہ کا حکم پور ا ہو کر رہتا ہے۔

﴿48﴾ بے شک اللہ تعالیٰ نہیں بخشتا اس بات کو کہ شرک کیا جائے اس کے ساتھ اور بخش دیتا ہے اس کے علاوہ جسکو چاہتا ہے اور جو شریک ٹھیراتا ہے اللہ کے ساتھ وہ ارتکاب کرتا ہے گناہ عظیم کا ۔

﴿49﴾ کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کی طرف جو پاکباز بتلاتے ہیں اپنے آپ کو بلکہ (یہ تو) اللہ کی (شان ہے کہ ) پاکباز بنادے جسے چاہے اور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے کھجور کی گھٹلی کے ریشہ کے برابر۔

﴿50﴾ دیکھئیے کیسے گھڑتے ہیں اللہ پر جھوٹ اور کافی ہے (انھیں رسوا کرنے کے لیے) یہ کھلا گناہ۔

﴿51﴾ کیا نہیں دیکھا تم نے ان لوگوں کی طرف جنھیں دیا گیا حصہ کتاب سے وہ (اب) اعتقاد رکھنے لگے ہیں جبت اور طاغوت پر اور کہتے ہیں ان کے بارے میں جنھوں نے کفر کیا کہ یہ کافر زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ان سے جو ایمان لائے ہیں ۔

﴿52﴾ یہی وہ ( بد نصیب) ہیں جن پر لعنت کی ہے اللہ تعالیٰ نے اور جس پر لعنت بھیجے اللہ تعالیٰ تو ہر گز نہ پائے گا تو اس کا کوئی مددگار۔

﴿53﴾ کیا ان کے لیے کوئی حصہ ہے حکومت میں اگر ایسا ہوتا تو نہ دیتے یہ لوگوں کو تل برابر۔

﴿54﴾ کیا حسد کرتے ہیں لگوں سے اس نعمت پر جو عطا فرمائی ہے انھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے (وہ حسد کی آگ میں جلا کریں) ہم نے مرحمت فرمادی ہے ابراہیم کے گھرانے کو کتاب اور حکمت اور عنایت فرمادی ہے انھیں عظیم الشان سلطنت ۔

﴿55﴾ تو ان سے کوئی ایمان لائے اس کے ساتھ اور کسی نے منہ پھیر لیا اس سے اور کافی ہے (انھیں جلانے کے لیے) جہنم کی دہکتی ہوئی آگ۔

﴿56﴾ بے شک جنھوں نے انکار کیا ہماری آیتوں کا ہم ڈال دیں گے انھیں آگ میں جب کبھی پک جائیں گی ان کی کھالیں تو بدل کردے دیں گے ہم انھیں کھالیں دوسری تاکہ وہ (مسلسل) چکھتے رہیں عذاب کو بےشک اللہ تعالیٰ غالب ہے حکمت والا ہے۔

﴿57﴾ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل بھی کیے عنقر یب ہم داخل کریں گے انھیں باغوں میں روان ۃین جن کے نیچے ندیاں ہمیشہ رہیں گے ان میں تا ابد۔ ان کے لیے ان باغوں میں پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور ہم داخل کریں گے انھیں گھنے سایہ میں۔

﴿58﴾ بے شک اللہ تعالیٰ حکم فرمات ہے تمھیں کہ (اُن کے ) سپرد کرو امانتوں کو نو ان کے اہل ہیں اور جب بھی فیصلہ کرو لوگوں کے درمیان تو فیصلہ کرو انصاف سے بیشک اللہ تعالیٰ بہت ہی اچھی بات کی نصیحت کرتا ہے تمھیں بےشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا ہر چیز دیکھنے والا ہے۔

﴿59﴾ اے ایمان والوں ! اطاعت کرو اللہ تعالیٰ کی اور اطاعت کرو (اپنے ذی شان) رسول کی اور حاکموں کی جو تم میں سے ہوں پھر اگر جھگڑنے لگو تم کیس چیز میں تو لوٹادو اسے اللہ اور (اپنے) رسول (کے فرمان) کی طرف اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور روز قیامت پر یہی بہتر ہے اور بہت اچھا ہے اس کا انجام۔

﴿60﴾ کیا نہیں دیکھا آپ نے ان کی طرف جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایمان لائے اس (کتاب) کے ساتھ جو اتاری گئی آپ کی طرف اور جو اتارا گیا آپ سے پہلے ( اس کے باوجود) چاہتے ہیں کہ فیصلہ کرانے کے لیے (اپنے مقدمات) طاغوت کے پاس لے جائیں حالانکہ انھیں حکم دیا گیا تھا کہ انکار کریں طاغوت کا اور چاہا ہے شیطان کہ بکادے اھیں بہت دور تک

﴿61﴾ اور جب کہا جائے انھیں کہ آؤ اس (کتاب) کی طرف جو اتاری ہے اللہ نے اور (آؤ) رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) (پاک) کی طرف تو آپ دیکھٰن گے منافقوں کو منہ موڑ لیتے ہیں آپ سے روگردانی کرتے ہوئے۔

﴿62﴾ پس کیا حال ہوتا ہے جب پہنچتی ہے انھیں مصیبت بوجہ ان (کرتوتوں) کے جو آگے بھیچے ہیں ان کے ہاتھوں نے پھر حاضر ہوتے ہیں آپ کے پاس قسمیں اٹھاتے ہیں اللہ کی (کہتے ہیں بخدا) نہیں قصد کیا تھا ہم نے مگر بھلائی اور باہمی مصالحت کا۔

﴿63﴾ یہ لوگ ہیں خوب جانتا ہے اللہ تعالیٰ جو کچھ ا کے دلوں میں ہے ( اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) چشم پوشی فرمائیے ان سے اور نصیحت کرتے رہیے انھیں اور کہیے انھیں تنہائی میں ایسی بات جو مؤثر ہو۔

﴿64﴾ اور نہیں بھیجا ہم نے کوئی رسول مگر اس لیے کہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ کے اذن سے اور اگر یہ لگو جب ظلم کربیٹھے تھے اپنے آپ پر حاضر ہوتے آپ کے پاس اور مغفرت طلب کرتے اللہ تعالیٰ سے نیز مغفرت طلب کرتا ان کے لیے رسول (کریم) بھی تو وہ جرور پاتے اللہ تعالیٰ کو بہت توبہ قبول فرمانے والا نہایت رحم کرنے والا ۔

﴿65﴾ پس (اے مصطفی) تیرے رب کی قسم یہ لوگ مومن نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ ھاکم بنائین آپ کو ہر اس جھگڑے میں جو پھوٹ پڑا ان کے درمیان پھر نہ پائیں اپنے نفسوں میں تنگی اس سے جو فیصلہ آ پ نے کیا ور تسلیم کرلیں دل و جان سے۔

﴿66﴾ اور اگر ہم فرض کردیتے ان پر کہ قتل کرو اپنے آپ کو یا نکل جاؤ اپنے اپنے گھروں سے تو نہ بجالاتے اس کو مگر چند آدمی ان میں سے اور اگر وہ کرتے جس کی انھیں نصیحت کی گئی تھی تو ہوتا بہتر ان کے لیلے اور (اس طرح) سختی سے (اللہ کے احکام پر) ثابت قدم ہوجاتے

﴿67﴾ تو اس وقت ہم بھی عطا فرماتے انھیں اپنے پاس سے اجر، عظیم ۔

﴿68﴾ اور ضرور پہنچاتے انھیں سیدھے راستہ تک۔

﴿69﴾ اور جو اطاعت کرتے ہیں اللہ کی اور (اس کے) رسول کی تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین اور کیا ہی اچھے ہیں یہ ساتھی۔

﴿70﴾ یہ (محض) فضل ہے اللہ تعالیی کا اور کافی ہے الل تعالیٰ جاننے والا۔

﴿71﴾ اے ایمان والو! ہوشیا رہو پھر (وقت آجائے تو) تو نکلو ٹولیا بن کر یا نکلو سب مل کر۔

﴿72﴾ اور بےشک تم میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو ضرور دیر لگائیں گے پھر اگر پہنچے تمھیں کوئی مصیبت تو ہو کہے احسان فرمایا اللہ نے مجھ پر کہ میں نہیں تھا ان کے ہمراہ (جنگ میں) حاضر۔

﴿73﴾ اور اگر ملے تمھیں فجل (فتح اور مال غنیمت) اللہ کی مہربای سے تو ضرور کہے جیسے نہیں تھی چھارے درمیان اور اس کے درمیاں کوئی دوستی کاش میں بھی ہوتا ان کے ھمراہ تو حاصل کرتا بڑی کامیابی۔

﴿74﴾ پس چاہیے کہ لڑا کریں اللہ کی راہ میں (صرف) وہ لوگ جنھوں نے بیچ دی ہے دنیا کی زندگی آخرت کے عوض اور جو شخص لڑے اللہ کی راہ میں پھر (خواہ) مارا جائے یا غالب آئے تو (دونوں حالتوں میں ) ہم دیں گے اسے اجر عظیم ۔

﴿75﴾ اور کیا ہوگیا ہے تمھیں کہ جنگ نہیں کرتے ہو راہ خدا میں حالانکہ کئی بےبس مرد اور عورتیں اور بچے ایسے بھی ہیں جو (ظلم سے تنگ آکر ) عرض کرتے ہیں اے میرے رب نکال ہمین اس بستی سے ظالم ہیں جس کے رہتے والے اور بنادے ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی دوست اور بنادے ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مددگار۔

﴿76﴾ جو ایمان لائے ہیں وہ جنگ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں اور جو کافر ہیں وہ جنگ کرتے ہیں طاغوت کی راہ میں تو (اے ایمان والو) لڑوشیطان کے حامیوں سے بیشک شیطان کا فریب کمزور ہے۔

﴿77﴾ کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کی طرف جنھیں جب کہا گیا کہ روکو اپنے ہاتھوں کو اور قائم کرو نماز اور ادا کرو زکوٰۃ (ان باتوں کو تو مان لیا) پھر جب فرض کیا گیا ان پر جہاد تب ایک گروہ ان میں سے ڈرنے لگ گیا لوگوں سے جیسے ڈرا جاتا ہے خدا سے یا س سے بھی زیادہ اور کہنے لگے اے ہمارے پروردگار ! کیوں فرض کردیا تونے ہم پر جہاد (اور) کیوں نہ مہلت دی تونے ہمیں تھوڑی مدت تک ( اے ترجمان حقیقت انھیں) کہو دنیا کا سامن بہت قلیل ہے اور آخرت زیادہ بہتر ہے اس کے لیے جو تقویٰ اختیار کیے ہے اور نہیں ظلم کیا جائے گا تم پر کھجور کی گٹھلی کے ریشہ کے برابر۔

﴿78﴾ جہاں کہیں تم ہو لے آے گی تمھیں موت اگرچہ (پناہ گزیں) ہو تم مضبوط قلعوں میں اور اگر پہنچے انھیں کوئی بھلائی تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر پہنچے اھیں کوئی تکلیف تو کہتیہیں یہ آپ کی طرف سے ہے (اے میرے رسول) آپ فرمایئے س اللہ کی طرف سے ہے تو کیا ہوگیا ہے اس قوم کو بات سمجھنے کے قریب ہی نہیں جاتے۔

﴿79﴾ جو پہنچے آپ کو بھلائی سو وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو پہنچے آپ کو تکلیف سو وہ آپ کی طرف سے ہے اور بھیجا ہم نے آپ کو سب لوگوں کی طرف رسول بنا کر اور کافی ہے اللہ تعالیٰ (آپ کی رسالت کا ) گواہ۔

﴿80﴾ جس نے اطاعت کی رسول کی تو یقیناً اس نے اعطاعت کی اللہ کی اور جس نے منہ پھیرا تو نہیں بھیجا ہم نے آپ کو ان کا پاسبان بنا کر۔

﴿81﴾ اور کہتے ہیں ہم نے حکم مان لیا اور جب باہر نکلتے ہیں آپ کے پاس سے تو رات بھر مشورہ کرتا ہے ایک گروہ ان میں سے اس کے برعکس جو آپ نے فرمایا اور اللہ تعالیٰ لکھ رہا ہے جو وہ راتوں کو سوچا کرتے ہیں پس رخِ (انور) موڑ لیجیے ان سے اور بھروسہ کیجیے اللہ پر اور کافی ہے اللہ تعالیٰ (آپ کا) کارساز۔

﴿82﴾ تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں ؟ اور (اِتنا بھی نہیں سمجھتے کہ) اگر وہ غیر اللہ کی طرف سے (بھیجا گیا) ہوتا تو ضرور پاتے اس میں اختلاف کثیر

﴿83﴾ اور جب آتی ہے ان کے پاس کوئی بات اطمینان یا خوف کی تو چرچا کرنے لگتے ہیں اس کا ۔ اور اگر لوٹا دیتے اسے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) (کریم) کی طرف اور بااقتدار لوگوں کی طرف اپنی جماعت سے تو جانن لیتے اس خبر (کی حقیقت) کو وہ لوگ جو نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں بات کا ان میں سے اور اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل تم پر اور (نہ ہوتی) اس کی رحمت تو ضرور تم اتباع کرنے لگتے شیطان کا سوائے چند آدمیوں کے۔

﴿84﴾ تو (اے محبوب!) جہاد کرو اللہ کی راہ میں نہ تکلیف دی جائے گی آپ کو سوائے اپنی ذات کے اور ابھاریں آپ ایمان والوں کو (جہاد) پر عجب نہیں کہ اللہ تعالیٰ روک دے زور ان لوگوں کا جو کفر کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی گرفت بہت سخت ہے نیز وہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔

﴿85﴾ جو کرے گا سفارش اچھی ہوگا اس کا حصہ اس میں سے اور جو کرے گا سفارش بری تو ہوگا اس کے لیے بوجھ اس سے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

﴿86﴾ اور جب سلام دیا جائے تمھیں کسی لفظ دعا سے تو سلام دو تم ایسے لفظ سے جو بہتر ہو اس سے یا (کم از کم) دوہرا وہی لفظ بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔

﴿87﴾ اللہ، نہیں کوئی معبود بغیر اس کے وہ ضرور جمع کرے گا تمھیں قیامت کے دن نہیں ذرا شک اس کے آنے میں اور کون زیاد سچا ہے اللہ تعالیٰ سے بات کہنے میں ۔

﴿88﴾ سو کیا ہوگیا ہے تمھیں کہ منافقوں کے بارے میں (تم) دو گروہ بن گئے ہو احالناکہ اللہ تعالیٰ نے اوندھا کردیا ہے انھیں بوجہ ان کرتوتوں کے جو انھوں نے کیے کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اسے راہ دکھاؤ جسے گمراہ کردیا اللہ نے اور جسے گمراہ کردے اللہ تعالیٰ تو ہر گز نہ پائے گا تو اس کے لیے (ہدایت) کا راستہ۔

﴿89﴾ وہ دوست رکھتے ہیں اگر تم بھی کفر کرنے لگو جیسے انھوں نے کفر کیس تاکہ تم سب یکساں ہوجاؤ پس نہ بناؤ تم ان سے اپنے دوست یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں اللہ کی راہ میں پس اگر وہ (ہجرت سے ) منہ موڑیں تو پکڑلو انھیں اور قتل کرو انھیں جہاں کہیں پاؤ ان کو اور نہ بناؤ ان سے (کسی) کو اپنا دوست اور نہ مددگار۔

﴿90﴾ مگر ان کو (قتل نہ کرو) جو تعلق رکھتے ہیں اس قوم سے کہ تمہارے درمیان اور ان کے درمیان معاہدہ ہے یا آگئے ہوں تمہارے پاس اس ھال میں کہ تنگ ہوچکے ہوں ان کے سینے کہ جنگ کریں تم سے یا جنگ کریں اپنی قوم سے اور اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو مسلط کردیتا انھیں تم پر تو وہ ضرور لڑتے تم سے پھر اگر وہ کنارہ کرلیں تم سے اور جنگ نہ کریں تمہارے ساتھ اور بھیجیں تمہاری طرف صلح (کا پیغام) تو نہیں بنائی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ان پر (زیادتی کرنے کی) راہ ۔

﴿91﴾ تم پاؤگے چند اور لوگ جو چاہتے ہیں کہ امن میں رہیں تم سے بھی اور امن میں رہیں اپنی قوم سے (لیکن) جب کبھی پھیرے جاتے ہین فتنہ کی طرف تو منہ کہ بل گر پڑتے ہیں اس میں سو اگر نہ کنارہ کریں تم سے یا نہ بھیجیں تمہاری طرف صلح (کا پیغام) اور نہ روک لیں اپنے ہاتھ تو پکڑ لو انھیں اور قتل کرو انھیں جہاں تم پاؤ انھیں اور یہی لوگ ہیں کہ دیا ہے ہم نے تمھیں ان پر کھلا اختیار۔

﴿92﴾ اور نہیں (جائز) کسی موکن کے لیے کہ قتل کرے کسی مومن کو مگر غلطی سے اور جس نے قتل کیس کسی مومن کو غلطی سے تو (اس کی سزا یہ ہے کہ ) آزاد کرے مسلمان غلام اور خوں بہا ادا کرے مقتول کے گھر والوں کو مگر یہ کہ وہ خود ہی (خوں بہا) معاف کردیں پھر اگر ہو (مقتول) اس قوم سے جو دشمن ہے تمہار لیکن وہ (مقتول) خود مومن ہو تو (قاتل) آزاد کرے ایک مسلمان غلام اور اگر مقتول اس قوم سے ہو کہ ہوچکا ہے تمہارے درمیان اور ان کے درمیان معاہدہ تو (قاتل) خوں بہادے دے اس کے گھر والوں کو اور آزاد کرے ایک مسلمان غلام تو جو شخص غلام نہ پاسکے تو روزے رکھے دہ ماہ لگا تار ( اس گناہ کی) توبہ اللہ کی طرف سے (یہی مقرر ہے) اور ہے اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا حکمت والا۔

﴿93﴾ اور جو شخص قتل کرے کسی مومن کو جان بوجھ کر تو اس کی سزا جہنم ہے ہمیشہ رہے گا اس میں اور غضبناک ہوگا اللہ تعالیٰ اس پر اور اپنی رحمت سے دور کردے گا اسے اور تیار کر رکھا ہے اس نے اس کے لیے عذاب عظیم ۔

﴿94﴾ اے اہل ایمان جب تم سفر پر نکلو اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے) تو خوب تحقیق کرلو اور نہ کہو اسے جو بھیجتا ہے تم پر سلام کہ تم مومن نہیں ہو تم تلاش کرتے ہو سامن دنیوی زندگی کا پس اللہ کے پاس بہت غنیمتیں ہیں (وہ تمھیں غنی کردے گا) ایسے ہی (کافر) تم بھی تھے اس سے پہلے پھر احسان فرمایا اللہ نے تم پر تو خوب تحقیق کرلیا کرو یقیناً اللہ تعالیٰ اس سے جو کچھ کرتے ہو خبردار ہے۔

﴿95﴾ نہیں برابر ہوسکتے (گھروں میں ) بیٹھنے والے مسلامن سوائے معذوروں کے اور جہاد کرنے والے الہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے بزرگی دی ہے اللہ تعالیٰ نے جہاد کرنے والوں کو اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے (گھروں میں ) بیٹھ رہنے والوں پر درجہ میں اور سب سے وعدہ فرمایا ہے اللہ نے بھلائی کا لیکن فضیلیت دی ہے اللہ نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھنے والوں پر اجر عظیم سے۔

﴿96﴾ (ان کے لیے) بلند درجے ہیں اللہ (کی جناب) سے اور (نوید) بخشش اور رحمت ہے اور ہے اللہ تالیٰ سارے گناہ بخشنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ۔

﴿97﴾ بے شک وہ لوگ کہ قبض کیا ان ( کی روحوں) فرشتوں نے اس حال میں کہ وہ ظلم توڑرہے تھے اپنی جانوں پر فرشتوں نے انھیں کہا تم کسی شغل میں تھے (معذرت کرتے ہوئے) انھوں نے کہا ہم تو بےبس تھے زمین میں فرشتوں نے کہا کیا نہیں تھی اللہ کی زمین کشادہ تاکہ تم ہجرت کرتے اس میں یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہے اور جہنم بہت بری پلٹ کر آنے کی جگہ ہے۔

﴿98﴾ مگر واقعی کمزور بےبس مرد اور عورتیں اور بچے جو نہیں کرسکتے تھے (ہجرت کی) کوئی تدبیر اور نہیں جانتے تھے (وہاں سے نکلنے کا ) کوئی راستہ ۔

﴿99﴾ تو یہ لوگ ہیں جن کے بارے میں امید کی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ درگزر فرمائے گا ان سے اور اللہ تعالیٰ درگزر فرمانے والا بہت بخشنے والا ہے۔

﴿100﴾ اور جو شخص ہجرت کرے گا للہ کی راہ میں پائے گا زمین میں پناہ کے لیے بہت جگہ اور کشادہ روزی اور جو شخص نکلے اپنے گھر سے ہجرت کرکے اللہ کی طرف اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف پھر آلے اس کو (راہ میں ) موت تو ثابت ہوگیا اس کا اجر اللہ اکے ذمہ اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

﴿101﴾ اور جب تم سفر کرو زمین میں تو نہیں تم پر کچھ حرج اگر تم قصر کرو نماز میں اگر ڈرو تم اس بات سے کہ تکلیف پہنچائیں گے تمہیں کافر بےشک کافر تو نمھارے کھلے دشمن ہیں۔

﴿102﴾ اور (اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) !) جب آپ ان میں موجود ہوں اور قائم کریں آپ ان کے لیے نماز تو چاہیے کہ کھڑا ہوا یک گروہ ان سے آپ کے ساتھ اور وہ پکڑ رکھیں اپنے ہتھیار پس جب سجدہ کرچکیں توہ وہ ہوجائیں تمہارے پیچھے اور آجائے دوسرا گورہ جن نے (ابھی) نماز نہیں پڑھی پس (اب) وہ نماز پڑھیں آپ کے ساتھ اور لیے رہیں اپنے بچاؤ کا سامان اور اپنے ہتھیار تمنا کرتے ہیں کافر اگر تم غافل ہو جاؤ اپنے اسلحہ سے اور اپنے سازوسامان سے تو وہ ٹوٹ پڑیں تم پر ایک بارگی اور نہیں کوئی حرج تم پر اگر ہو تنھیں تکلیف بارش کی وجہ سے یا ہو تم بیمار تو اتار دو اپنے ہتھیار مگر (دُشمن کی نقل و حرکت سے) ہوشیار رہو بےشک اللہ تعالیٰ نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے عذاب رسوا کرنے والا۔

﴿103﴾ جب تم ادا کرچکو نماز تو ذکر کرو اللہ تعالیٰ کا کھڑے ہوئے اور بیٹھے ہوئے اور اپنے پہلؤوں پر (لیٹے ہوئے) پھر جب مطمئن ہوجاؤ (دشمن کی طرف سے) تو ادا کرو نماز (حسب دستور) بےشک نماز مسلمانوں پر فرض کی گئی ہے اپنے اپنے مقرر وقت پر۔

﴿104﴾ اور نہ کمزوری دکھاؤ (دشمن) قوم کی تلاش میں اگر تمھیں دکھ پہنچتا ہے تو انھیں بھی دکھ پہنچتا ہے جیسے تمھیں دکھ پہنچتا ہے اور تم تو امید رکھتے ہو اللہ تعالی سے اس (ثواب ) کی جس کی وہ امید نہیں رکھتے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا بڑا دانا ہے۔

﴿105﴾ بے شک ہم نے نازل کی ہے آپ کی طرف یہ کتاب حق کے ساتھ تاکہ فیصلہ کریں آپ لوگوں میں اس کے مطابق جو دکھادیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے اور نہ بنیئے بددیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے۔

﴿106﴾ اور مغفرت طلب کیجیے اللہ سے بےشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

﴿107﴾ اور مت جھگڑیں آپ ان کی طرف سے جو خیانت کرتے ہیں اپنے اپ سے بےشک اللہ تعالیٰ نہیں دوست رکھتا اسے جو بڑا بددیانت (اور ) بد کار ہے۔

﴿108﴾ وہ چھپا سکتے ہیں (اپنے ارادے) لوگوں سے لیکن نہیں چھپا سکتے اللہ تعالیٰ سے اور وہ تو (اس وقت بھی) ان کے ساتھ ہوتا ہے جب راتوں کو مشورہ کرتے ہیں ایسی باتوں کا جو پسند نہیں اللہ کو اور اللہ تعالیٰ جو کچھ وہ کرتے ہیں اسے گھیرے ہوئے ہے۔

﴿109﴾ سنتے ہو! تم وہ لوگ ہو کہ جھگڑتے ہو ان کی طرف سے دنیا کی زندگی میں پس کون جھگڑے گا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی طرف سے قیامت کے دن یا کون ہوگا (اس روز) ان کا وکیل۔

﴿110﴾ اور جو شخص کربیٹھے بڑا کام یا ظلم کرے اپنے آپ پر پھر مغفرت مانگے اللہ تعالیٰ سے تو پائے گا اللہ تعالیٰ کو بڑا بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا۔

﴿111﴾ اور جو کمائے گناہ کو تو وہ کماتا ہے اسے اپنے لیے اور اللہ تعالیٰ علیم (و) حکیم ہے۔

﴿112﴾ اور جو شخص کمائے کوئی خطا یا گناہ پھر تہمت لگائے اس سے کسی بےگناہ کو تو اس نے اٹھا لیا (بوجھ) بہتان کا اور کھلے گناہ کا۔

﴿113﴾ اور اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل آپ پر اور اس کی رحمت تو تہیہ کرلیا تھا ایک گروہ نے ان سے کہ غلطی میں ڈال دیں آپ کو اور نہیں غلطی میں ڈال رہے مگر اپنے آپ کو اور نہیں ضرر پہنچاسکتے آپ کو کچھ بھی اور اتاری ہے اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور حکمت اور سکھادیا آپ کو جو کچھ بھی آپ نہیں جانتے تھے اور اللہ تعالیٰ کا آپ پر فضل عظیم ہے۔

﴿114﴾ نہیں کوئی بھلائی ان کی اکثر سرگوشیوں میں بجز ان لوگوں کے جو حکم دیں صدقہ دینے کا یا نیک کام کا یا صلح کرنے کا لوگوں میں اور جو شخص کرے یہ کام اللہ تعلاٰ کی رضا مندیاں حاصل کرنے کے لیے تو ہم عطا فرمائیں گے اسے اجر عظیم۔

﴿115﴾ اور جو شخص مخالفت کرے (اللہ کے ) رسول کی اس کے بعد کہ روشن ہوگئی اس کے لیے ہدایت کی راہ اور چلے اس راہ پر جو الگ ہے مسلمانوں کی راہ سے تو پھر ہم پھیرے دیں گے اسے جدھر وہ خود پھرا ہے اور ڈال دیں گے اسے جہنم میں اور یہ بہت بری پلٹنے کی جگہ ہے۔

﴿116﴾ بے شک اللہ تعالیٰ نہیں بخشتا اس (جرم عظیم) کو شریک ٹھیرا یا جائے اس کے ساتھ اور بخش دیتا ہے ماسوا جتنے جرائم ہوں جس کے لیے چاہتا ہے اور جو شریک ٹھیرائے (کسی کو) اللہ کے ساتھ تو وہ گمراہ ہوا اور گمراہی میں دور نکل گیا۔

﴿117﴾ نہیں عبادت کرتے یہ مشرک اللہ کے سوا مگر دیویوں کی اور نہیں عبادت کرتے مگر شیطان سرکش کی ۔

﴿118﴾ لعنت کی ہے اس پر اللہ نے اور اس نے کہا تھا کہ میں ضرور لوں گا تیرے بندوں سے (اپنا) حصہ مقرر

﴿119﴾ اور میں ضرور انھیں گمراہ کروں گا اور میں ضرور انھیں جھوٹی امیدوں میں رکھوں گا اور میں ضرور حکم دوں گا انھیں پس وہ ضرور چیریں گے جانوروں کے کان اور میں انھیں حکم دوں گا تو وہ ضرور بدل ڈالیں گے اللہ کی مخلوق کو اور جو شخص بنالے شیطان کو (اپنا) دوست اللہ کو چھوڑ کر تو نقصان اٹھایا اس نے کھلا نقصان۔

﴿120﴾ شیطان (جھوٹے ) وعدے کرتا ہے ان سے اور (غلط) اُمیدیں دلاتا ہے انھیں اور نہیں وعدہ کرتا ان سے شیطان مگر فریب کا۔

﴿121﴾ یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہے اور نہ پائین گے اس سے نکلنے کی جگہ۔

﴿122﴾ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے داخل کریں گے ہم انین ان باغوں میں رواں ہیں جن کے نیچے ندیاں ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے (یہ) اللہ کا سچا وعدہ ہے اور کون زیاد سچا ہے اللہ تعالیٰ سے بات کرنے میں۔

﴿123﴾ (نجات کا انحصار) نہ تمہاری جھوٹی امیدوں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی جھوٹی امیدوں پر (بلکہ) جو عمل کرے گا برے اسے سزا ملے گی اس کی اور نہ پائے گا اپنے لیے اللہ کے بغیر کوئی دوست اور نہ مددگار۔

﴿124﴾ اور جس نے عمل کیے اچھے مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو سو وہی لوگ داخل ہوں گے جنت میں اور نہ ظلم کیے جائی گے تل بھر۔

﴿125﴾ اور کون بہترہے دینی لحاظ سے اس شخص سے جس نے جھکا دیا ہو اپنا چہرہ اللہ کے لیے اور وہ احسان کرنے والا ہو اور پیروی کی ملت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس حال میں کہ وہ ہر باطل سے منہ موڑے ہوئے ہو اور بنالیا ہے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ( علیہ السلام) کو خلیل۔

﴿126﴾ اور اللہ کے لیے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو گھیرے میں لینے والا ہے۔

﴿127﴾ اور فتویٰ پوچھتے ہیں آپ سے عورتوں کے بارے میں ۔ آپ فرمائیے اللہ تعالیٰ فتویٰ دیتا ہے تمھیں ان کے بارے میں اور وہ آیتیں جو پڑھی جاتی ہے تم پر اس کتاب (قرآن) میں (ان میں احکام ہیں) ان یتیم بچیوں کے متعلق جنھیں تم نہیں دیتے ہو جو (حق ) مقرر کیا گیا ہے ان کے اور خواہش کرتے ہو کہ خود نکاح کرلو ان کے ساتھ ( ان کا مال دبوچنے کے لیے) اور (قرآن میں احکام ہیں) کمزور بچوں کے متعلق اور (وہ یہ) کہ قائم رہو یتیموں کے معاملہ میں انصاف پر اور جو کرو گے بھلائی (کے کاموں ) سے تو یقیناً اللہ تعالیٰ اس کو خوب جاننے والا ہے۔

﴿128﴾ اور اگر کوئی عورت خوف کرے اپنے خاوند سے (اس کی ) زیادتی یا روگردانی کی وجہ سے تو نہیں کوئی حرج ان دونوں پر کہ صلح کرلیں آپس میں اور صلح ہی (دونوں کے لیے ) بہتر ہے اور موجود رکھا گیا ہے نفسوں میں بخل اور اگر تم احسان کرو اور متقی بنو تو بےشک اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔

﴿129﴾ اور تم ہرگز طاقت نہیں رکھتے کہ پورا پورا انصاف کرو اپنی بیویوں کے درمیان اگرچہ تم اس کے بڑے خواہشمند بھی ہو تو یہ نہ کرو کہ جھک جاؤ (ایک بیوی کی طرف) بالکل اور چھوڑدو دوسری کو جیسے وہ (درمیان میں ) لٹک رہی ہو۔ اور اگر تم درست کرلو (اپنا رویہ) اور پرہیزگار بن جاؤ تو بےشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

﴿130﴾ اور اگر دونوں (میاں بیوی) جدا ہوجائیں تو غنی کردے گا اللہ تعالیٰ دونوں کو اپنی وسیع بخشش سے۔ اور اللہ تعالیٰ وسیع بخشش والا حکمت والا ہے۔

﴿131﴾ اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ۔ اور بےشک ہم نے حکم دیا ان لوگوں کو جنھیں دی گی کتاب تم سے پہلے اور (حکم دیا ) تمھیں بھی کہ ڈرو اللہ تعالیٰ سے اور اگر کفر کرو تو بیشک اللہ کے ملک میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ بےنیا ز ہے اور ہر تعریف کا مستحق ہے۔

﴿132﴾ اور اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور کافی ہے اللہ تعالیٰ کارساز۔

﴿133﴾ اگر چاہے تو لے جائے تمھیں اے لوگوں اور لے آئے دُوسروں کو اور اللہ تعالیٰ اس بات پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

﴿134﴾ جو شخص ارادہ کرتا ہو صرف ثواب دنیا کا (تو یہ اس کی اپنی کم نظری ہے ) اللہ کے پاس تو دنیا و آخرت (دونوں ) کا ثواب ہے اور اللہ تعالیٰ ہر بات سننے والا ہر چیز دیکھنے والا ہے۔

﴿135﴾ اے ایمان والوں ! ہوجاؤ مضبوطی سے قائم رہنے والے انصاف پر گواہی دینے والے محض اللہ کے لیے چاہے گواہی دینا پڑے تمھیں اپنے نفسوں کے خلاف یا اپنے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ۔ (جس کے خلاف گواہی دی جارہی ہے) وہ دولت مند ہو یا فقیر۔ پس اللہ زیادہ خیر خواہ ہے دونوں کا ۔ تو نہ پیروی کرو خواہش نفس کی انصاف کرنے میں اور اگر تم ہیر پھیر کرو یا منہ موڑو تو بےشک اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اچھی طرح با خبر ہے۔

﴿136﴾ اے ایمان والو! اِیمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور اس کتاب پر جو نازل فرمائی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور اس کتاب پر جو نازل کی اس سے پہلے اور جو کفر کرے اللہ کے ساتھ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور روز آخرت کے ساتھ تو وہ گمراہ ہوا اور گمراہی میں دور نکل گیا۔

﴿137﴾ بے شک جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر بڑھتے گئے کفر میں نہیں ہے سنت الٰہی ان کے متعلق کہ بخش دے انھیں اور نہ (یہ) کہ پہنچائے انھیں راہ (راست) تک ۔

﴿138﴾ خوشخبری سنادو منافقوں کو کہ بلاشبہ ان کے لیے دردناک عذاب ہے ۔

﴿139﴾ وہ منافق جو بناتے ہیں کافروں کو (اپنا) دوست مسلمانوں کو چھوڑ کر کیا وہ تلاش کرتے ہیں ان کے پاس عزت ؟ تو (وہ سن لیں) عِزت تو صرف اللہ کے لیے ہے سب کی سب۔

﴿140﴾ اور تحقیق اتارا ہے اللہ تعالیٰ نے تم پر (یہ حکم ٩ کتاب میں کہ جب تم سنو اللہ کی آیتیوں کو کہ انکار کیا جارہا ہے ان کا اور مذاق اڑایا جارہا ہے ان کا تو مت بیٹھوان (کفرو استہزا کرنے والوں ) کے ساتھ یہاں تک کہ وہ مشغول ہوجائیں کسی دوسری بات میں ورنہ تم بھی انھیں کی طرح ہوگے بےشک اللہ تعالیٰ اکٹھا کرنے والا ہے سب منافقوں اور سب کافروں کو جہنم میں ۔

﴿141﴾ وہ جو انتظار کررہے ہیں تمہارے (انجام ) کا ۔ تو اگر ہوجائے تمھیں فتح اللہ کی طرف سے (تو) کہتے ہیں کیا نہیں تھے ہم بھی تمہارے ساتھ اور اگر ہو کافروں کے لیے کچھ حصہ (کامیابی سے) کہتے ہیں کیا نہیں غالب آگئے تھے ہم تم پر اور (اس کے باوجود) کیا نہیں بچایا تھا ہم نے تم کو مومنوں سے پس (اے اہل نفاق) اللہ فیصلہ کرے گا تمہارے درمیان قیامت کے دن۔ اور ہرگز نہیں بنائے گا اللہ تعالیٰ کافروں کے لیے مسلمانوں پر (غالب آنے کا ) راستہ ۔

﴿142﴾ بے شک منافق (اپنے گمان میں) دھوکہ دے رہے ہیں اللہ کو اور اللہ تعالیٰ سزا دینے والا ہے انھیں ( اس دھوکہ بازی کی) اور جب کھڑے ہوتے ہیں نماز کی طرف تو کھڑے ہوتے ہیں کاہل بن کر ( وہ بھی عبادت کی نیت سے نہیں بلکہ) لوگوں کو دکھانے کے لیے اور نہیں ذکر کرتے اللہ تعالیٰ کا مگر تھوڑی دیر۔

﴿143﴾ ڈانواں ڈول ہورہے ہیں کفر و ایمان کے درمیان نہ ادھر کے اور نہ ادھر کے اور جس کو گمراہ کردے اللہ تعالیٰ تو ہرگز نہ پائے گا تو اس کے لیے ہدایت کا راستہ۔

﴿144﴾ اے ایمان والوں ! نہ بناؤ کافروں کو اپنا دوست مسلمانوں کو چھوڑ کر کیا تم ارادہ کرتے ہو کہ بنا دو اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے خلاف واضح دلیل ۔

﴿145﴾ بے شک منافق سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے دوزخ ( طبقوں) سے اور ہرگز نہ پائے گا تو ان کا کوئی مدد گار۔

﴿146﴾ ۔ مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی اور اپنی اصلاح کرلی اور مضبوطی سے پکڑ لیا اللہ کا (دامن رحمت) اور خالص کرلیا اپنا دین اللہ کے لیے تو یہ لوگ ایمان والوں کے ساتھ ہیں اور عطا فرمائے گا اللہ تعالیٰ مومنوں کو اجر عظیم ۔

﴿147﴾ کیا کرے گا اللہ تعالیٰ تمھیں عذاب دے کر اگر تم شکر کرنے لگو اور ایمان لے آؤ اور اللہ تعالیٰ بڑا قدردان ہے سب کچھ جاننے والا ہے۔

﴿148﴾ کیا کرے گا اللہ تعالیٰ تمھیں عذاب دے کر اگر تم شکر کرنے لگو اور ایمان لے آؤ اور اللہ تعالیٰ بڑا قدردان ہے سب کچھ جاننے والا ہے۔

﴿149﴾ اگر تم ظاہر کرو کوئی نیکی یا پوشیدہ رکھو اسے یا درگزر کرو (کسی کی) برائی سے تو بےشک اللہ تعالیٰ درگزر فرمانے والا قدرت والا ہے

﴿150﴾ بے شک جو لوگ کفر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ اور چاہتے ہیں کہ فرق کریں اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان اور کہتے ہیں ہم ایمان لائے ہیں بعض رسولوں پر اور ہم کفر کرتے ہیں بعض کے ساتھ اور چاہتے ہیں کہ اختیار کرلیں کفرو ایمان کے درمیان کوئی (تیسری) راہ۔

﴿151﴾ یہی لوگ کافر ہیں حقیقت میں اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافرورں کے لیے عذاب رسوا کرنے والا۔

﴿152﴾ اور جو لوگ ایمان لائے اللہ تعالیٰ اور اس کے (تمام) رسولوں کے ساتھ ار نہیں فرق کیا انھوں نے کسی میں ان سے یہی لوگ ہیں دے گا انھیں اللہ تعالیٰ ان کے اجر اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

﴿153﴾ مطالبہ کرتے ہیں آپ سے اہل کتاب کہ آپ اتروادیں ان پر کتاب آسمان سے سو وہ تو سوال کرچکے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑی بات کا انھوں نے کہا تھا ( اے موسیٰ ( علیہ السلام) ) دکھاؤ ہمیں اللہ کھلم کھلا تو پکڑ لیا تھا انھیں بجلی کی کڑک نے بسبب ان کے ظلم کے پھر بنالیا انھوں نے بچھڑے کو (اپنا معبود) اس کے بعد کہ آچکی تھیں ان کے پاس کھلی دلیلیں پھر بھی ہم نے بخش دیا ان کا یہ (سنگین) جرم اور ہم نے عطا فرمایا موسیٰ ( علیہ السلام) کو واضح غلبہ۔

﴿154﴾ اور ہم نے بلند کیا ان کے اوپر طور کو ان سے پختہ وعدہ لینے کے لیے اور ہم نے فرمایا انھں کہ داخل ہوجاؤ اس دروازہ سے سجدہ کرتے ہوئے اور ہم نے فرمایا انھیں کہ حد سے نہ بڑھنا سبت میں اور ہم نے لیا تھا ان سے پختہ وعدہ ۔

﴿155﴾ (ان پر پھٹکار کی) وجہ یہ تھی کہ انھوں نے توڑ دیا اپنے وعدہ کو اور انھوں نے انکار کیا اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا اور انھوں نے قتل کیا انبیاء کو ناحق اور انھوں نے یہ (گستاخانہ) بات کہی کہ ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہیں (یوں نہیں) بلکہ مہر لگادی اللہ نے ان کے دلوں پر بوجہ ان کے کفر کے سووہ ایمان نہیں لائیں گے مگر تھوڑی سی تعداد۔

﴿156﴾ اور ان کے کفر کے باعث اور مریم ( علیہ السلام) پر بہتان عظیم باندھنے کے باعث۔

﴿157﴾ اور ان کے اس قول سے کہ ہم نے قتل کردیا ہے مسیح عیسیٰ فرزند مریم کو جو اللہ کا رسول ہے حالانکہ نہ انھوں نے قتل کیا اور نہ اسے سولی چڑھا سکے بلکہ مشتبہ ہوگئی ان کے لیے (حقیقت) اور یقیناً جنھوں نے اختلاف کیا ان کے بارے میں وہ بھی شک و شبہ میں ہیں ان کے متعلق نہیں ان کے پاس اس امر کا کوئی صحیح علم بجز اس کے کہ وہ پیروی کرتے ہیں گمان کی اور نہیں قتل کیا انھوں نے اسے یقینا۔

﴿158﴾ بلکہ اٹھالیا ہے اسے اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا۔

﴿159﴾ اور کوئی ایسا نہیں ہوگا اہل کتاب سے مگر وہ ضرور ایمان لائے گا یسیھ پر ان کے موت سے پہلے اور قیامت کے دن وہ ہوں گے ان پر گواہ۔

﴿160﴾ سو بوجہ ظلم ڈھائے یہود کے ہم نے حرام کردیں ان پر وہ پاکیزہ چیزیں جو حلال کی گئی تھیں ان کے لیے اور بوجہ روکنے یہود کے اللہ کے راستے سے بہت لوگوں کو۔

﴿161﴾ اور بوجہ ان کے سود لینے کے حالانکہ منع کیے گئے تھے اس سے اور بوجہ ان کے کھانے کے لوگون کے مال ناحق ار تیار کر رکھا ہے ہم نے کافروں کے لیے ان میں سے عذاب دردناک۔

﴿162﴾ لیکن جو پختہ ہیں علم میں ان سے (وہ بھی) اور (جو) مسلمان ہیں ایمان لاتے ہین اس پر جو اتارا گیا آپ کی طرف اور جو اتارا گیا آپ سے پہلے اور صحیح ادا کرنے والے نماز کے اور دینے والے زکوٰۃ کے اور ایمان لانے والے اللہ اور روز آخرت کے ساتھ یہی ہیں جنھیں عنقریب ہم دیں گے اجر عظیم۔

﴿163﴾ بے شک ہم نے وحی بھیجی آپ کی طرف جیسے وحی بھیجی ہم نے نوح ( علیہ السلام) کی طرف اور ان نبیوں کی طرف جو نوح ( علیہ السلام) کے بعد آئے اور (جیسے) وحی بھیجی ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) ، اسمٰعل ( علیہ السلام) ، اِسحق ( علیہ السلام) ، یعقوب ( علیہ السلام) اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ ( علیہ السلام) ، ایوب ( علیہ السلام) ، یونس ( علیہ السلام) ، ہارون ( علیہ السلام) اور سلیمان ( علیہ السلام) کی طرف اور ہم نے عطا فرمائیے داؤد ( علیہ السلام) کو زبور ۔

﴿164﴾ اور (جیسے وحی بھیجی) دوسرے رسولوں پر جن کا حال بیان کردیا ہے ہم نے آپ سے اس سے پہلے اور ان رسولوں پر بھی جن کا ذکر ہم نے اب تک آپ سے نہیں کیا اور کلام فرمایا اللہ نے موسیٰ سے خاص کلام۔

﴿165﴾ (بھیجے ہم نے یہ سارے) رسول خوشخبری دینے کے لیے اور ڈرانیکے لیے تاکہ نہ رہے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی عذر رسولوں کے (آنے کے) بعد اور اللہ تعالیٰ غالب ہے حکمت والا ہے (کوئی تسلیم نہ کرے تو اس کی مرضی)۔

﴿166﴾ لیکن اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے اس کتاب کے ذریعہ جو اس نے آپ کی طرف اتاری کہ اس نے اسے اتارا ہے اپنے علم سے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور کافی ہے اللہ تعالیٰ بطور گواہ۔

﴿167﴾ بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور روکا (دوسروں کو) اللہ کی راہ سے وہ گمراہ ہوئے اور گمراہی میں بہت دور نکل گئے۔

﴿168﴾ بے شک جنہوں نے کفر کیا اور ظلم کیا نہیں ہے اللہ تعالیٰ کہ بخش دے انھیں اور نہ یہ کہ دکھائے انھیں سیدھی راہ۔

﴿169﴾ بجز جہنم کی راہ کے ہمشہ رہین گے اس میں ابد تک اور یہ بات اللہ تعالیٰ کے لیے بالکل آسان ہے۔

﴿170﴾ اے لوگوں ! تحقیق آگیا ہے تمھارے پاس رسول حق کے ساتھ تمھارے رب کی طرف سے پس تم ایمان لاؤ یہ بہتر ہے تمھارے لیے اور اگر تم انکار کرو تو بےشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور ہے اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا۔

﴿171﴾ اے اہل کتاب نہ غلو کرو اپنے دین میں اور نہ کہو اللہ تعالیٰ کے متعلق مگر سچی بات بےشک مسیح عیسیٰ ( علیہ السلام) پسر مریم تو صرف اللہ کے رسول ہین اور اس کا کلمہ جسے اللہ نے پہنچایا تھا مریم کی طرف اور ایک روح تھی اس کی طرف سے پس ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر اور نہ کہو تین (خدا ہیں) باز آجاؤ (ایسا کہنے سے) یہ بہتر ہے تمھارے لیے بےشک اللہ تو معبود واحد ہے پاک ہے وہ اس سے کہ ہو اس کا کوئی لڑکا اسی کا (مِلک) ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اور کافی ہے اللہ تعالیٰ کارساز۔

﴿172﴾ ہر گز عار نہ سمجھے گا مسیح (علیہ السلام) کہ وہ بندہ ہو اللہ کا اور نہ ہی مقرب فرشتے ( اس کو عار سمجھیں گے) اور جسے عار ہو اس کی بندگی سے اور وہ تکبر کرے تو اللہ جلد ہی جمع کرے گا ان سب کو اپنے ہاں۔

﴿173﴾ پھر جو ایمان لائے اور نیک عمل یے تو اللہ تعالیٰ پورا پورا دے گا انھیں ان کے اجر اور زیادہ بھی کردے گا انھیں اپنے فضل و کر م سے ۔ لیکن جنھوں نے عار سمجھا ( بندہ بننے کو ) اور تکبر کیا تو عذاب دے گا انھیں دردناک عذاب اور نہ پائین گے اپنے لیے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ کوئی مدد گار

﴿174﴾ اے لوگوں! آچکی ہے تمھارے پاس ایک (روشن ) دلیل تمھارے پروردگار کی طرف سے اور ہم نے اتارا ہے تمھاری طرف نور درخشاں۔

﴿175﴾ تو جو لوگ ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر اور مضبوطی سے پکڑ لیا اللہ (رسی) کو تو عنقریب داخل کرے گا انھیں اپنی رحمت اور فضل میں اور پہنچائے گا انھیں اپنی طرف لے جانے والی سیدھی راہ پر ۔

﴿176﴾ (اے میرے رسول) فتویٰ پوچھتے ہیں آپ سے۔ آپ فرمائیے اللہ تعالیٰ فتویٰ دیتا ہے تمھیں کلالہ (کی میراث) کے بارے میں اگر کوئی ایسا آدمی فوت ہوجائے نہ جس کی کوئی اولاد اور اس کی ایک بہن ہو تو بہن کا نصف حصہ ہے اس کے ترکہ سے اور وہ وارث ہوگا اپنی بہن کا اگر نہ ہو اس بہن کی کوئی اولاد۔ پھر اگر دو بہنیں ہوں تو ان دونوں کو دو تہائی ملے گا اس سے جو اس نے چھوڑا اور اگر وارث ہوں بہن بھائی مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد (بھائی) کا حصہ دوعورتوں (بہنوں) کے حصہ کے برابر ہے۔ صاف صاف بیان کرتا ہے اللہ تمارے لیے (اپنے ) احکام تاکہ گمراہ نہ ہوجاؤ اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

المائدہ

Surah 5

﴿1﴾ اے ایمان والوں ! پورا کرو (اپنے) عہدوں کو حلال کیے گئے ہیں تمھارے لیے بےزبان جانور سوائے ان کے جن کا حکم پڑھ کر سنایا جائے گا تمھیں نہ حلال سمجھو شکار کو جب کہ تم احرام باندھے ہو بےشک اللہ تعالیٰ حکم فرمات ہے جو چاہتا ہے۔

﴿2﴾ اے ایمان والو! بےحرمتی نہ کرو اللہ کی نشانیوں کی اور نہ عزت والے مہینے کی اور نہ حرک کو بھیجی ہوئی قربانیوں کی اور نہ جن کے گلے میں پٹے ڈالے گئے ہیں اور نہ (بے حرمتی کرو) جو قصد کیے ہوئے ہیں بیت حرام کا طلب کرتے ہیں اپنے رب کا فضل اور (اس کی ) رضا اور جب احرام کھول چکو تو شکار کرسکتے ہو۔ اور ہر گز نہ اکسائے تمھیں کسی قوم کا بغض بوجہ اس کے کہ انھوں نے روکا تھا تمھیں مسجد حرام سے اس پر کہ تم زیادتی کرو اور ایک دوسرے کی مدد کرو نیکی اور تقویٰ (کے کاموں) میں اور باہم مدد نہ کرو گناہ اور زیادتی پر اور ڈرتے رہو اللہ سے بےشک اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے۔

﴿3﴾ حرام کیے گئے ہیں تم پر مردار ، خون، سور کا گوشت اور جس پر ذبح کے وقت غیر خدا کا نام لیا جائے اور گلا گھونٹنے سے مرا ہوا، چوٹ سے مرا ہوا، اُوپر سے نیچے گر کر مرا ہوا، سینگ لگنے سے مرا ہوا اور جسے کھایا ہو کسی درندے نے سوائے اس کے جسے تم ذبح کرلو اور (حرام ہے) جو ذبح کیا گیا ہو تھانوں پر (اور یہ بھی حرام ہے ) کہ تم تقسیم کرو جوئے کے تیروں سے یہ سب نافرمانی کے کام ہیں آج مایوس ہوگئے ہیں جنھوں نے کفر اختیار کیا تھا تمھارے دین سے سو نہ ڈرو تم ان سے اور ڈرو مجھ سے آج میں نے مکمل کردیا ہے تمھارے لیے تمھارا دین اور پوری کردی ہے تم پر اپنی نعمت اور میں نے پسند کرلیا تمھارے لیے اسلام کو بطور دین پس جو لاچار ہوجائے بھوک میں درآں حا لیکہ نہ جھکنے والا گناہ کی طرف تو یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔

﴿4﴾ پُوچھتے ہیں آپ سے کہ کیا کیا حلال کیا گیا ہے انن کے لیے آپ فرمائیے حلا ل کی گئی ہیں تمھارے لیے پاک چیزیں اور (شکار) ان کا سکھایا ہے تم نے جنھیں شکاری جانوروں سے شکار پکڑنے کی تعلیم دیتے ہوئے تم سکھاتے ہو انھیں (وہ طریقہ) جو سکھایا ہے تمھیں اللہ نے تو کھاؤ اس میں سے جسے پکڑے رکھیں تمھارے لیے اور لیا کرو اللہ کا نام اس جانور پر اور ڈرتے رہو اللہ سے بےشک اللہ تعالیٰ بہت تیز ہے حساب لینے میں۔

﴿5﴾ آج حلال کردی گئیں ہیں تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں اور کھان ان لگوں کا جنھیں دی گئی کتاب حلا ہے تمھارے لیے اور تمھارا کھانا حلال ان کے لیے اور (حلال ہیں) پاک دامن مومن عورتیں اور پاک دامن عورتیں ان لوگوں کی جنھیں دی گئی کتاب تم سے پہلے جب دے دو تم انھیں مہر ان کے پاکباز بنتے ہوئے نہ بدکاری کرتے ہوئے اور نہ چوری چھپے آشنا بناتے ہوئے اور جو انکار کرتا ہے ایمان کا تو بس ضائع ہوگیا اس کا عمل اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔

﴿6﴾ اے ایمان والو! جب تم اٹھو نماز ادا کرنے کے لیے تو (پہلے) دھولو اپنے چہرے اور اپنے بازؤ کہنیوں تک اور مسح کرو اپنے سروں پر اور دھولو اپنے پاؤں ٹخنوں تک اور اگر ہو تم جنبی تو (سارا بدن ) پاک کرلو اور اگر ہو تم بیمار یا سفر پر یا آئے کوئی تم میں سے قضائے حاجت کے بعد یا صحبت کی ہو تم نے عورتوں سے پھر نہ پاؤ تم پانی تو تمیم کرو پاک مٹی سے یعنی مسح کرلو اپنے چہروں اور اپنے بازؤں پر اس سے نہیں چاہتا اللہ تعالیٰ کہ رکھے تم پر کچھ تنگی بلکہ وہ تو یہ چاہتا ہے کہ خوب پاک صاف کرے تمھیں اور پوری کردے اپنی نعمت تم پر تاکہ تم شکر ادا کرتے رہو ۔

﴿7﴾ اور یاد رکھو اللہ کی نعمت جو تم پر ہے اور اس کے وعدہ کو جو اس نے پختہ لیا تھا تم سے جب کہا تھا تم نے ہم نے سن لیا اور مان لیا اور ڈرتے رہو اللہ سے بےشک اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے جو کچھ سینوں میں ہے۔

﴿8﴾ اے ایمان والو! ہوجاؤ مضبوطی سے قائم رہنے والے اللہ کے لیے گواہی دینے والے انصاف کے ساتھ اور ہرگز نہ اکسائے تمھیں کسی قوم کی عداوت اس پر کہ تم عدل نہ کرو عدل کیا کرو یہی زیادہ نذدیک ہے تقویٰ سے اور ڈرتے رہا کرو اللہ سے بےشک اللہ تعالیٰ خوب خبردار ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

﴿9﴾ وعدہ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل رکتے رہے کہ ان کے لیے بخشش اور اجر عظیم ہے ۔

﴿10﴾ اور جن لوگوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو وہی لوگ دوزخی ہیں۔

﴿11﴾ اے ایمان والو! یاد کرو اللہ اکی نعمت جو تم پر ہوئی جب پختہ ارادہ کرلیا تھا ایک قوم نے کہ بڑھائیں تمھاری طرف اپنے ہاتھ تو اللہ نے روک دیا ان کے ہاتھوں کو تم سے اور ڈرتے رہا کرو اللہ سے اور اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے ایمان والو کو۔

﴿12﴾ اور یقیناً لیا تھا اللہ تعالیٰ نے پختہ وعدہ بنی اسرائیل سے اور ہم نے مقرر کیے ان میں سے بارہ سردار اور فرمایا تھا اللہ تعالیٰ نے کہ میں تمھارے ساتھ ہوں اگر تم صحیح صحیح ادا کرتے رہے نماز اور دیتے رہے زکوٰۃ اور ایمان لائے میرے رسولوں پر اور مدد کرتے رہے ان کی اور قرض دیتے رہے اللہ کو قرض حسن تو میں جرور دور کردوں گا تم سے تمھارے گناہ اور میں داخل کروں گا تمھیں باغات میں رواں ہیں جن کے نیچے نہریں تو جس نے کفر کیا اس کے بعد تم میں سے تو یقیناً وہ بھٹک گیا سیدھی راہ سے۔

﴿13﴾ تو بوجہ ان کی عہد شکنی کے ہم نے اپنی رحمت سے انھیں دور کردیا اور کردیا ان کے دلوں کو سخت وہ بدل دیتے ہیں (اللہ کے ) کلام کو اپنی اصلی جگہوں سے اور انھوں نے بھلا دیا بڑا حصہ جس کے ساتھ انھیں نصیحیت کی گی تھی اور ہمیشہ آپ آگاہ ہوتے رہیں گے ان کی خیانت پر بز چند آدمیوں کے ان سے تو معاف فرماتے رہیے ان کو اور درگزر فرمائیے بےشک اللہ تعالیٰ محبوب رکھتا ہے احسان کرنے والوں کو۔

﴿14﴾ اور ان لوگوں سے جنھوں نے کہا کہ ہم نصرانی ہیں ہم نے لیا تھا پختہ وعدہ ان سے بھی۔ سو انھوں نے بھی بھلادیا بڑا حصہ جس کے ساتھ انھیں نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے بھڑکا دی ان کے درمیان عداوت اور بغض (کی آگ) روز قیامت تک اور آگاہ کردے گا انھیں اللہ تعالیٰ جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔

﴿15﴾ اے اہل کتاب! بےشک آگیا ہے تمھارتے پاس ہمارا رسول کھلو کر بیان کرتا ہے تمھارے لیے بہت سی ایسی چیزیں جنھیں تم چھپا یا کرتے تھے کتاب سے اور درگزر فرماتا ہے بہت سی باتوں سے بےشک تشریف لایا ہے تمھارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور اور ایک کتاب ظاہر کرنے والی۔

﴿16﴾ دکھاتا ہے اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ انھیں جو پیروی کرتے ہیں اس کی خوشنودی کی، سلامتی کی راہیں اور نکالتا ہے انھیں تارکیوں سے اُجالے کی طرف اپنی توفیق سے اور دکھاتا ہے انھیں راہ راست۔

﴿17﴾ یقیناً کفر کیس جنھوں نے کہا کہ اللہ تو مسیح بن مریم ہی ہے (اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) آپ فرمائیے کون قدرت رکھتا ہے اللہ کے حکم میں سے کوئی چیز روک دے (یعنی ) اگر وہ ارادہ فرمائے کہ ہلاک کردے مسیح بن مریم کو اور اس کی ماں کو اور جوئی بھی زمین میں ہے سب کو (تو اسے کون روک سکتا ہے) اور اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے پیدا فرماتا ہے جو چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔

﴿18﴾ اور کہا یہود اور نصاریٰ نے کہ ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اکے پیارے ہیں آپ فرمائیے (اگر تم سچے ہو) تو پھر کیوں عذاب دیتا ہے تمھیں تمھارے گناہوں پر بلکہ تم بشر ہو اس کی مخلوق سے بخش دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور سزا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کی طرف (سب نے) لوٹ کر جانا ہے۔

﴿19﴾ اے اہل کتاب! بےشک آگیا ہے تمھارے پاس ہمارا رسول صاف بیان کرتا ہے تمھارے لیے (احکام الٰہی) بعد اس کے کہ رسولوں کا آنا مدتوں بند رہا تھا تاکہ تم یہ نہ کہو کہ نہیں آیا تھا ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا اور نہ کوئی ڈرانے والا اب تو آگیا ہے تمھارے پاس خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔

﴿20﴾ اور کہا جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے اے میری قوم! یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہوا جب بنائے اس نے تم میں انبیاء اور بنایا تمھیں حکمران اور عطا فرمایا تمھیں جو نہیں عطا فرمایا تھا کیس کو سارے جہانوں میں ۔

﴿21﴾ اے میری قوم! داخل ہوجاؤ اس پاک زمین میں جسے لکھ دیا ہے اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے اور نہ پیچھے ہٹو پیٹھ پھیرتے ہوئے ورنہ تم لوٹوگے نقصان اٹھاتے ہوئے۔

﴿22﴾ کہنے لگے اے موسیٰ ( علیہ السلام) ! اس زمین میں تو بڑی جابر قوم (آباد ) ہے اور ہم ہرگز داخل نہ ہوں گے اس میں جب تک وہ نکل نہ جائیں وہاں سے اور اگر وہ نکل جائیں اس سے تو پھر ہم ضرور داخل ہوں گے۔

﴿23﴾ (اس وقت) کہا دوآدمیوں نے جو (اللہ ) سے ڈرنے والے تھے انعام فرمایا تھا اللہ نے جن پر کہ (بے دھڑک) داخال ہوجاؤ ان پر دروازہ سے اور جب تم داخل ہو گے دروازہ سے تو یقیناً تم غالب آجاؤ گے اور اللہ پر بھروسہ رکھو اگر ہو تم ایمان دار ۔

﴿24﴾ کہنے لگے اے موسیٰ ( علیہ السلام) ! ہم تو ہرگز داخل نہ ہوں گے اس میں قیامت تک جب تک وہ وہاں ہیں پس جاؤ تم اور تمھار ا رب اور دونوں لڑو (ان سے) ہم تو یہاں بیٹھے گے۔

﴿25﴾ موسیٰ ( علیہ السلام) نے عرض کی اے میرے رب! میں مالک نہیں ہوں بجز اپنی ذات کے اور اپنے بھائی کے پس جدائی ڈال دے ہمارے درمیان اور اس نافرمان قوم کے درمیان۔

﴿26﴾ اللہ نے فرمایا تو یہ سرزمین حرام کردی گئی ہے ان پر چالیس سال تک سرگرداں پھریں گے زمین میں سو نہ غمگین ہوں آپ اس نافرمان قوم (کے انجام) پر۔

﴿27﴾ اور آپ پڑھ سنائیے انھیں خبر دو فرزندان آدم کی ٹھیک ٹھیک جب دونوں نے قربانی دی تو قبول کی گئی ایک سے اور نہ قبول کی گئی دوسرے سے (اس دوسرے نے ) کہا قسم ہے میں تمھیں قتل کرڈالوں گا۔ (پہلے نہ ) کہا (تو بلاوجہ ناراض ہوتا ہے ) قبول فرماتا ہے اللہ صرف پرہیزگاروں سے۔

﴿28﴾ تو اگر تو بڑھائے میری طرف اپنا ہاتھ تاکہ تو قتل کرے مجھے (جب بھی) میں نہیں بڑھانے والا اپنا ہاتھ تیری طرف تاکہ میں قتل کردں تجھے میں تو ڈرتا ہوں اللہ سے جو مالک ہے سارے جہانوں کا۔

﴿29﴾ میں تو یہی چاہتا ہوں کہ تو اٹھالے میرا گناہ اور اپنا گنا ہ تاکہ تو ہوجائے دوزخیوں سے ار یہی سزا ہے ظلم کرنے والوں کی ۔

﴿30﴾ پس آسان بنادیا اس کے لیے اس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل سو قتل کردیا اسے اور ہوگیا سخت نقصان اٹھانے والوں سے۔

﴿31﴾ پھر بھیجا اللہ نے ایک کوا کھودتا تھا زمین کو تاکہ دکھائے اُسے کہ کس طرح چھپائے لاش اپنے بھائی کی کہنے لگا ہائے افسوس کیا قاصر رہا میں کہ ہوتا اس کوے کی مانند تو چھپا دیتا لاش اپنے بھائی کی غرض وہ ہوگیا سخت پچھتانے والوں سے۔

﴿32﴾ اسی وجہ سے (حکم) لکھ دیا ہم نے بنی اسرائیل پر کہ جس نے قتل کیا کسی انسان کو سوائے قصاص کے اور زمین میں فساد برپا کرنے کے تو گویا اس نے قتل کردیا تمام انسانوں کو اور جس نے بچا لیا کسی جان کو تو گویا بچایا اس نے تمام لوگوں کو اور بےشک آئے ان کے پاس ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ پھر بھی بہت سے لوگ ان میں اس کے بعد بھی زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں۔

﴿33﴾ بلاشبہ سزا ان لوگوں کی جو جنگ کرتے ہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور کوشش کرتے ہیں زمین میں فساد برپا کرنے کی یہ ہے کہ انھیں (چن چن) کر قتل کیا جائے یا سولی دیا جائے یا کاٹے جائیں ا کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مختلف طرفوں سے یا جلا وطن کردیے جائیں یہ تو ان کے لیے رسوائی ہے دنیا میں اور ان کے لیے آخرت میں (اس سے بھی) بڑی سزا ہے۔

﴿34﴾ مگر وہ جنھوں نے توبہ کرلی اس سے پہلے کہ تم قابو پالو ان پر (ان کو معاف کردیا جائے گا) اور خوب جان لو کہ یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے۔

﴿35﴾ اے ایمان والو! ڈرو اللہ تعالیٰ سے اور تلاش کرو اس تک پہنچنے کا وسیلہ اور جدہ جہد کرو اس کی راہ میں تاکہ تم فلاح پاؤ۔

﴿36﴾ بے شک وہ جنھوں نے کفر اختیار کیا اگر انہی کی ملکیت میں ہو جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب اور اتنا اور بھی اس کے ساتھ تاکہ بطور فدیہ دیں اے (اور نجات پائیں ) عذاب سے روز قیامت نہ قبول کیا جائے گا ان سے اور ان کے لیے عذاب دردناک ہوگا۔

﴿37﴾ بہت چاہیں گے نکلیں اس آگ سے اور وہ نہیں نکل سکیں گے اس سے اور ان کے لیے عذاب ہوگا ہمیشہ رہنے والا۔

﴿38﴾ اور چوری کرنے والے اور چوری کرنے والی (کی سزا یہ ہے ) کہ کاٹو ان کے ہاتھ بدلہ دینے کے لیے جو انھوں نے کیا (اور ) عبرتناک سزا اللہ کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ غالب ہے، حکمت والا ہے۔

﴿39﴾ پھر جس نے توبہ کرلی اپنے (اس) ظلم کے بعد اور اپنے آپ کو سنوار لیا تو بےشک اللہ تعلیٰ توجہ فرمائے گا اس پر بےشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔

﴿40﴾ کیا تو نہیں جانتا کہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی سزا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور بخش دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔

﴿41﴾ اے رسُول ! نہ غمگین کریں آپ کو وہ جو تیز رفتار ہیں کفر میں ان لوگوں سے جنھوں نے کہا ہم ایمان لائے (صرف ) اپنے منہ سے حالانکہ نہیں ایمان لائے تھے ان کے دل اور ان لوگوں سے جو یہودی ہیں جاسوسی کرنے والے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے وہ جاسوس ہیں دوسری قوم کے جو نہیں آئی آپ کے پاس دل دیتے ہیں اللہ کی باتوں کو اس کے صحیح موقعوں سے کہتے ہیں اگر تمھیں دیا جائے یہ حکم تو مان لو اسے اور اگر نہ دیا جائے تمھیں یہ حکم تو بچو اور جس کو ارادہ فرمالے اللہ تعالیٰ فتنہ میں ڈالنے کا تو نہیں طاقت رکھتا تو اس کے لیے اللہ سے کسی چیز کی یہ وہی لوگ ہیں کہ نہیں اراد فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ پاک کرے ان کے دلوں کو ان کے لیے دنیا میں ذلت ہے اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔

﴿42﴾ قبول کرنے والے ہیں جھوٹ کو بڑے حرام خور ہیں تو اگر وہ آئیں آپ کے پاس تو چاہے فیصلہ فرمائیے ان کے درمیاں یا منہ پھیر لیجیے ان سے (آپ کو اختیار ہے) اور اگر آ پ منہ پھر لیں ان سے تو نہ نقصان پہنچا سکیں گے آپ کو کچھ بھی اور اگر آپ فیصلہ کریں تو فیصلہ فرمائیے ان میں انصاف سے بےشک اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے انصاف کرنے والوں سے۔

﴿43﴾ اور کیسے منصف بناتے ہیں آپ کو حالانکہ ان کے پاس تورات ہے اس میں اللہ کا حکم ہے پھر وہ منہ پھرتے ہیں (اس سے ) اس کے بعد اور نہیں ہیں وہ ایمان دار ۔

﴿44﴾ بے شک اتاری ہم نے تورات اس میں ہدایت اور نور ہے حکم دیتے رہے اس کے مطابق انبیاء جو (ہمارے) فرماں بردار تھے یہودیوں کو اور (اسی کے مطابق حکم دیتے رہے) اللہ والے اور علماء اس واسطے کہ محافظ ٹھیرائے گئے تھے اللہ کی کتاب کے اور وہ تھے اس پر گواہ پس نہ ڈرا کرو لوگوں سے اور ڈرا کرو مجھ سے اور نہ بیچا کرو میری آیتوں کو تھوڑی سے قیمت سے اور جو فیصلہ نہ کرے اس (کتاب) کے مطابق جسے نازل فرمایا اللہ نے تو وہی لوگ کافر ہیں۔

﴿45﴾ اور ہم نے لکھ دیا تھا یہود کے لیے تورات میں (یہ حکم) کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں کے لیے قصاص تو جو شخص معاف کردے بدلا تو یہ معافی کفارہ بن جائے گی اس کے گناہوں کا اور جو فیصلہ نہ کرے اس (کتاب) کے مطابق جسے اتارا اللہ نے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔

﴿46﴾ اور ہم نے پیچھے بھیجا ان کے نقش قد م پر عیسیٰ ( علیہ السلام) بن مریم کو تصدیق کرنے والا جو اس کے سامنے موجود تھا یعنی تورات اور ہم نے دی اسے انجیل اس میں ہدایت اور نور تھا اور تصدیق کرنے والی تھی جو اس سے پہلے تھا یعنی تورات اور (یہ انجیل) ہدایت اور نصیحت تھی پرہیزگاروں کے لیے۔

﴿47﴾ اور ضرور فیصلہ کیا کریں انجیل والے اس کے مطابق جو نازل فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس میں۔ اور جو فیصلہ نہ کریں اس کے مطابق جسے اللہ تعالیٰ نے اتارا ہے تو وہی لوگ فاسق ہیں۔

﴿48﴾ اور (اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) اتاری ہم نے آپ کی طرف یہ کتاب (قرآن) سچائی کے ساتھ تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے (آسمانی) کتاب ہے اور (یہ قرآن) محافظ ہے اس پر تو آپ فیصلہ فرمادیں ان کے درمیاں اس سے جو نازل فرمایا اللہ تعالیٰ نے اور آپ نہ پیروی کریں ان کی خواہشات کی اس حق کو چھوڑ کر جو آپ کے پاس آیا ہے ہر ایک کے لیے بنائی ہے ہم نے تم میں سے ایک شریعت اور عمل کی راہ اور اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو بنا دیتا تم (سب کو ) ایک ہی امت لیکن آزمانا چاہتا ہے تمھیں اس چیز میں سے جو اس نے دی ہے تم کو تو آگے بڑھنے کی کوشش کرو نیکیوں میں اللہ کی طرف ہی لوٹ کر آنا ہے تم سب نے پھر وہ آگا ہ کرے گا تمھیں جن باتوں میں تم جھگڑا کرتے تھے۔

﴿49﴾ اور یہ کہ فیصلہ فرمائیں آپ ان کے درمیان اس کے مطابق جو نازل فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے اور نہ پیروی کریں ان ککی خواہشات کی اور آپ ہوشیار رہیں ان سے کہیں برگشتہ نہ کردیں آپ کو اس کے کچھ حصہ سے جو اتارا ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف اور اگر وہ منہ پھر لیں تو جان لو کہ بےشک ارادہ کرلیا ہے اللہ تعالیٰ نے کہ سزا دے انھیں ان کے بعض گناہوں کی اور بےشک بہت سے لوگ نافرمان ہیں۔

﴿50﴾ تو کیا وہ جاہلیت کے زمانہ کے فیصلے چاہیتے ہیں ؟ اور اللہ تعالیٰ سے بہتر کس کا حکم ہوسکتا ہے اس قوم کے نذدیک جو یقین رکھتی ہے۔

﴿51﴾ اے ایمان والوں ! نہ بناؤ یہود و نصاریٰ کو (اپنا) دوست ( و مددگار) وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جس نے دوست بنایا انھیں تم میں سے سو وہ انھیں میں سے ہے بےشک اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا ظالم قوم کو۔

﴿52﴾ سو آپ دیکھتے ہیں ان لوگوں کو جن کے دلوں میں (نفاق کا ) مرض ہے کہ وہ دوڑ دوڑ کر جاتے ہیں یہود و نصاریٰ کی طرف۔ کہتے ہیں ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں ہم پر کوئی گردش نہ آجائے وہ وقت دور نہیں جب اللہ تعالیٰ (تمھیں) دیدے فتح کامل یا (ظاہر کردے کامیابی کی ) کوئی بات اپنی طرف سے تو پھر ہوجائیں گے اس پر جو انھوں نے چھپا رکھا تھا اپنے دلوں میں نادم۔

﴿53﴾ اور (اُس وقت) کہیں گے ایمان والے کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے قسمیں اٹھائی تھیں اللہ کی سخت سے سخت کہ وہ یقیناً تمھارے ساتھ ہیں اکارت گئے ان کے اعمال اور ہوگئے وہ (سراسر) نقصان اٹھانے والے۔

﴿54﴾ اے ایمان والو! جو پھر گیا تم میں سے اپنے دین سے (تو اس کی بدنصیبی) سو عنقریب لے آئے گا اللہ تعالیٰ ایک ایسی قوم محبت کرتا ہے اللہ ان سے اور وہ محبت کرتے ہیں اس سے جو نرم ہوں گے ایماندروں کے لیے بہت سخت ہوں گے کافروں پر جہاد کریں گے اللہ کی راہ مین اور نہ ڈریں گے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ۔ یہ (محض) اللہ کا فضل (وکرم) ہے نوازتا ہے اس سے جسے چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی کشادہ رحمت والا سب کچھ جاننے والا ہے۔

﴿55﴾ تمھارا مددگار تو صرف اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول (پاک) ہے اور ایمان والے ہیں جو صحیح صحیح نماز ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیا کرتے ہیں اور (ہر حال میں) بارگاہِ الٰہی میں جھکنے والے ہیں۔

﴿56﴾ اور یاد رکھو جس نے مددگار بنایا اللہ کو اور اس کے رسول کریم کو اور ایمان والوں کو ( تو وہ اللہ کے گروہ سے ہیں ) اور بلاشبہ اللہ کا گروہ ہی غالب آنے والا ہے۔

﴿57﴾ اے ایمان والو! مت بناؤ ان لوگوں کو جنھوں نے بنارکھا ہے تمھارے دین کو ہنسی اور کھیل ان سے جنھیں دی گئی کتاب تم سے پہلے اور کفار سے (اپنے ) دوست اور ڈرتے رہو اللہ تعالیٰ سے اگر ہو تم ایمان دار۔

﴿58﴾ اور جب تم بلاتے ہو نانماز کی طرف (یعنی اذان دیتے ہو) تو وہ بناتے ہیں اسے مذاق اور تماشہ یہ (حماقت) اس لیے ہے کہ وہ ایسی قوم ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے ۔

﴿59﴾ آپ فرمائیے اے اہل کتاب ! تم کیا ناپسند کرتے ہو ہم سے بجز اس کے کہ ہم ایمان لائے اللہ کے ساتھ جو اتارا گیا ہماری طرف اور جو اتارا گیا اس سے پہلے اور بلاشبہ بہت سے تم میں سے فاسق ہیں۔

﴿60﴾ آپ (انھیں ) فرمائیے کیا میں آگاہ کروں تمھیں کہ کون برا ہے ان سے با عتبار جزا کے اللہ کے نذدیک وہ لوگ (برے ہیں) جن پر لعنت کی اللہ نے اور غضب فرمایا ان پر اور بنایا ان میں سے بعض کو بندر اور بعض کو سؤر اور (وہ برے ہیں ) جنھوں نے پوجا کی شیطان کی وہی لوگ بدترین ہیں بلحاظ درجہ کے اور دوسروں سے زیادہ بھٹکنے والے ہیں راہ راست سے۔

﴿61﴾ اور جب آتے ہیں تمھارے پاس تو کہتے ہیں ہم ایمان لاچکے حالانکہ وہ (یہاں) داخل بھی کفر کے ساتھ اور وہ نکلے بھی کفر کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جسے وہ چھپا رہے تھے۔

﴿62﴾ اور آپ دیکھتے ہیں بہتوں کو ان میں سے بڑے تیز رفتار ہیں گناہ اور زیادتی کرے میں اور حرام خوری میں بےشک یہ بہت ہی برے کام کرتے رہے ہیں۔

﴿63﴾ کیوں نہیں منع کرتے انہیں ان کے مشائخ اور علماء گناہ کی بات کہنے سے اور حرام کھانے سے بےشک بہت برے ہیں وہ کرتوت جو وہ کیا کرتے تھے۔

﴿64﴾ اور کہا یہود نے کہ اللہ کا ہاتھ جکڑا ہوا ہے جکڑے جائیں ان کے ہاتھ اور پھٹکار ہو ان پر بوجہ اس (گستاخانہ) قول کے بلکہ اس کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں خرچ کرتا ہے جیسے چاہتا ہے اور ضرور بڑھادے گا اکثر کو ا میں سے جو نازل کیا گیا آپ کی طرف آپ کے رب سے سرکشی اور انکار میں۔ اور ہم نے ڈال دی ہے ان میں دُشمنی اور بغض روز قیامت تک جب کبھی وہ بھڑکاتے ہیں آگ لڑائی کی بجھا دیتا ہے اسے اللہ تعالیٰ اور یہ کوشش کرتے ہیں زمین میں فساد برپا کرنے کی۔ اور اللہ تعالیٰ نہیں پسند فرماتا فسادیوں کو۔

﴿65﴾ اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے ہیں اور پرہیزگار بنتے ہیں تو ہم ضرور دور کردیتے ان سے ان کی برائیاں اور ہم ضرور داخل کرتے انھیں نعمت کے باغوں میں۔

﴿66﴾ اور اگر وہ قائم کرتے تورات اور انجیل کو (اپنے عمل سے) اور جو نازل کیا گیا ان کی طرف ان کے رب کی جانب سے (تو فراخ رزق دیا جاتا انھیں حتی کہ ) وہ کھاتے اوپر سے بھی اور نیچے سے بھی ان میں ایک جماعت اعتدال پسند بھی ہے اور اکثر ان میں سے بہت برا ہے جو کررہے ہیں۔

﴿67﴾ اے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ! پہنچا دیجیے جو اتارا گیا ہے آپ کی طرف آپ کے پروردگار کی جانب سے۔ اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو نہیں پہنچایا آپ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام اور اللہ تعالیٰ بچالے گا آپ کو لوگوں (کے شر) سے یقیناً اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا کافروں کی قوم کو۔

﴿68﴾ آپ فرمائیے اے اہل کتاب! نہیں ہو تم کسی چیز پر (ہدایت سے) یہاں تک کہ (عمل سے) قائم کرو تورات اور انجیل کو اور جو اتارا گیا تمھاری طرف تمھارے رب کی جانب سے اور ضرور بڑھا دے گا اکثر کو ان مین سے جو نازل کیا گیا آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے سرکشی اور انکار میں پس آپ نہ افسوس کریں قوم کفار پر۔

﴿69﴾ بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی بنے اور صابی اور نصرانی جو بھی ( ان میں سے) ایمان لایا اللہ پر اور روز قیامت پر اور نیک عمل کیے تو نہ کوئی خوف ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

﴿70﴾ بے شک ہم نے لیا تھا پختہ وعدہ بنی اسرائیل سے اور ہم نے بھیجے تھے ان کی طرف رسول جب کبھی آیا ان کے پاس کوئی رسول وہ حکم لے کر جسے ناپسند کیا ان کے نفسوں نے تو (انبیاء کے ) ایک گروہ کو تو انھوں نے جھٹلایا اور ایک گروہ کو قتل کردیا۔

﴿71﴾ اور یہ فرض کرلیا کہ نہیں ہوگا (انھیں) عذاب تو اندھے بن گئے اور بہرے بن گئے پھر نظر رحمت فرمائی اللہ تعالیٰ نے ان پر پھر وہ اندھے بن گئے اور بہرے بن گئے بہت ان میں سے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھ رہا ہے جو وہ کرتے ہیں۔

﴿72﴾ بے شک کافر ہوگئے وہ جنھوں نے (یہ) کہا کہ اللہ مسیح بن مریم ہی تو ہے حالانکہ کہا تھا کود مسیح نے اے بنی اسرائیل! عبادت کرو اللہ کی جو میرا بھی رب ہے ، اور تمھار ا بھی رب ہے، یقیناً جو بھی شریک بنائے گا اللہ کے ساتھ تو حرام کردی ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت اور اس کا ٹھکانہ آگ ہے اور نہیں ظالموں کا کوئی مددگار

﴿73﴾ بے شک کافر ہوگئے وہ جنھوں نے (یہ ) کہا کہ اللہ تیسرا ہے تین (خداؤں) سے ۔ اور نہیں کوئی خدا مگر ایک اللہ اور اگر باز نہ آئے اس (قول باطل) سے جو وہ کہ رہے ہیں تو ضرور پہنچے گا جنھوں نے کفر کیا ان میں سے دردناک عذاب۔

﴿74﴾ تو کیا نہیں رجوع کرتے اللہ کی طرف اور کیا نہیں بخشش طلب کرتے اس سے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے۔

﴿75﴾ نہیں مسیحِ بن مریم مگر ایک رسول۔ گزر چکے ہیں اس سے پہلے بھی کئی رسول اور ان کی ماں بڑی راست باز تھیں دونوں کھایا کرتے تھے کھانا دیکھو! کیسے ہم کھول کر بیان کرتے ہیں ان کے لیے دلیلیں پھر دیکھو وہ کیسے الٹے پھر رہے ہیں۔

﴿76﴾ آپ فرمائیے کیا تم عبادت کرتے ہو اللہ کے سوا اس کی جو نہیں مالک تمھارے نقصان کا اور نہ نفع کا اور اللہ تعالیٰ ہی سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔

﴿77﴾ آپ فرمائیے اے اہل کتاب! نہ حد سے بڑھو اپنے دین میں ناحق اور نہ پیروی کرو اس قوم کی خواہشوں کی جو گمراہ ہوچکی ہے پہلے سے اور گمراہ کرچکے ہیں بہت سے لوگوں کو اور بھٹک چکے ہیں راہ راست سے ۔

﴿78﴾ لعنت کیے گئے وہ جنھوں نے کفر کیا بنی اسرائیل سے داؤد کی زبان پر اور عیسیٰ پسر مریم کی زبان پر یہ بوجہ اس کے کہ وہ نافرمانی کیا کرتے اور زیادتیاں کیا کرتے تھے۔

﴿79﴾ نہیں منع کیا کرتے تھے ایک دوسرے کو اس برائی سے جو وہ کرتے تھے بہت برا تھا جو وہ کیا کرتے تھے۔

﴿80﴾ آپ دیکھیں گے بہتوں کو ان میں سے کہ وہ دوستی رکھتے ہیں کافروں سے بہت ہی برا ہے جو آگے بھیجا ان کے لیے ان کے نفسوں نے یہ کہ ناراض ہوگیا اللہ تعالی ٰ ان پر اور عذاب میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

﴿81﴾ اور اگر وہ ایمان لائے ہوتے اللہ پر اور نبی پر اور جو اتارا گیا اس پر تو نہ بناتے ان کو (اپنا) دوست لیکن اکثر ان میں سے فاسق ہیں۔

﴿82﴾ ضرور پائیں گے آپ سب لوگوں سے زیادہ دشمنی رکھنے والے مومنوں سے یہود کو اور مشرکوں کو اور پائیں گے آپ سب سے زیادہ قریب دوستی میں ایمان والوں سے جنھوں نے کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اس لیے کہ ان میں عالم اور درویش ہیں اور وہ غرور نہیں کرتے۔

﴿83﴾ ضرور پائیں گے آپ سب لوگوں سے زیادہ دشمنی رکھنے والے مومنوں سے یہود کو اور مشرکوں کو اور پائیں گے آپ سب سے زیادہ قریب دوستی میں ایمان والوں سے جنھوں نے کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اس لیے کہ ان میں عالم اور درویش ہیں اور وہ غرور نہیں کرتے۔

﴿84﴾ اور کیا وجہ ہے کہ ہم ایمان نہ لائیں اللہ پر اور جو آچکا ہے ہمارے پاس حق حالانکہ ہم امید کرتے ہیں کہ داخل فرمائے ہمیں ہمارا رب نیک گروہ میں۔

﴿85﴾ تو عطا فرمائے اُنھیں اللہ تعالیٰ نے بعو ض اس قول کے باغات رواں ہیں ان کے نیچے نہریں وہ ہمیشہ رہیں گے ان مین اور یہی معاوضہ ہے نیکی کرنے والوں کا۔

﴿86﴾ اور جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو تو وہی دوزخی ہیں۔

﴿87﴾ اے ایمان والوں! نہ حرام کرو پاکیزہ چیزوں کو جنھیں حلال فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے اور نہ حد سے آگے بڑھو بےشک اللہ تعالیٰ نہیں دوست رکھتا حد سے تجاوز کرنے والوں کو ۔

﴿88﴾ اور کھاؤ اس میں سے جو رزق دیا ہے تمھیں اللہ تعالیٰ نے حلال (اور ) پاکیزہ اور ڈرتے رہو اللہ سے جس پر تم ایمان لائے ہو ۔

﴿89﴾ نہ باز پرس کرے گا تم سے اللہ تعالیٰ تمھاری فضول قسموں پر لیکن باز پرس کرے گا تم سے ان قسموں پر جن کو تم پختہ کرچکے ہو تو اس (کے توڑنے) کا کفارہ یہ ہے کہ کھلایا جائے دس مسکینوں کو درمیانی قسم کا کھانا جو تم کھلاتے ہو اپنے گھر والوں کو یا کپڑے پہنائے جائیں انھیں یا آزاد کیا جائے غلام اور جو نہ پائے (ان میں سے کوئی چیز) تو وہ روزے رکھے تین دن یہ کفارہ ہے تمھاری قسموں کا جب تم قسم اٹھاؤ اور حفاظت کیا کرو اپنی قسموں کی اسی طرح کھول کر بیان فرماتا ہے اللہ تعالیٰ تمھارے لیے اپنی آیتیں تاکہ تم شکر یہ ادا کرو۔

﴿90﴾ اے ایمان والوں! یہ شراب اور جؤا اور بت اور جؤئے کے تیز سب ناپاک ہیں شیطان کی کارستانیاں ہیں سو بچو ان سے تاکہ تم فلاح پاجاؤ۔

﴿91﴾ یہی تو چاہتا ہے شیطان کہ ڈال دے تمھارے درمیان عداوت اور بغض شراب اور جؤئے کے ذریعہ اور روک دے تمھیں یادِ الٰہی سے اور نماز سے تو کیا تم باز آنے والے ہو؟

﴿92﴾ اور اطاعت کرو اللہ تعالیٰ کی اور اطاعت کرو رسول (کریم) کی اور محتاط رہو اور اگر تم نے روگردانی کی تو خوب جان لو کہ ہامرے رسول کا فرض تو بس پہنچا دینا ہے کھول کر (ہمارے احکا کو )۔

﴿93﴾ نہیں ان لگوں پر جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے کوئی گناہ جو (اس حکم سے پہلے) وہ کھاپی چکے جب کہ وہ پہلے بھی ڈرتے تھے اور ایمان رکھتے تھے اور نیک عمل کیا کرتے تھے پھر (ان احکام کے بعد بھی) ڈرتے ہیں اور (جو اترا) اس پر ایمان رکھتے ہیں پھر بھی ڈرتے ہیں اور اچھے کام کرتے ہیں اور اللہ محبت کرتا ہے اچھے کام کرنے والوں سے۔

﴿94﴾ اے ایمان والو! ضرور آزامائے گا تمھیں اللہ تعالیٰ کیس چیز کے ساتھ شکار سے پہنچ سکتے ہیں جس تمھارے ہاتھ اور تمھارے نیزے تاکہ پہچان کرداے اللہ تعالٰ اس کی جو ڈرتا ہے اس سے بن دیکھے ۔ پس جو شخص حد سے بڑے گا اس (تنبیہ ) کے بعد تو اس کے لیے دردنکا عذاب ہے۔

﴿95﴾ اے ایمان والو! نہ مارو شکار کو جب کہ تم احرام باندھے ہوئے ہو اور جو قتل کرے شکار کو تم میں سے جان بوجھ کر تو اس کی جزا یہ ہے ہ اسی قسم کا جانور دے جو اس نے قتل کیا ہے فیصلہ کریں اس کا دو معتبر آدمی تم میں سے درآں حالیکہ یہ قربانی کعبہ میں پہنچنے والی ہو یا کفارہ ادا کرے وہ یہ کہ چند مسکینوں کو کھانا دے یا اس کے برابر روزے رکھے تاکہ چکھے سزا اپنے کام کی۔ معاف فرمادیا اللہ تعالیٰ نے جو گزر چکا اور جو (اب) پھر گیا تو انتقام لے گا اللہ تالیٰ اس سے اور اللہ تعالیٰ غالب ہے بدلہ لینے والا ہے۔

﴿96﴾ حلال کیا گیا تمھارے لیے دریائی شکار اور اس کا کھانا فائدہ اٹھاؤ تم اور دوسرے قافلے اور حرام کیا گیا ہے تم پر خشکی کا شکار جب تک تم احرام باندھے ہوئے ہو اور ڈرتے رہو اللہ سے جس کے پاس تم اکٹھے کیے جاؤ گے۔

﴿97﴾ بنایا ہے اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو جو عزت والا گھر ہے بقا کا باعث لوگوں کے لیے نیز حر مت والے مہینوں کو اور حرم کی قربانی اور گلے میں پٹے پڑے ہوئے جانوروں کو تاکہ تم خوب جان لو کہ یقیناً اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔

﴿98﴾ خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا (بھی) ہے اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم (بھی ) ہے۔

﴿99﴾ نہیں ہمارے رسول پر کوئی ذمہ داری سوائے پیغام پہنچانے کے ۔ اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کررہے ہو اور جو چھپا رہے ہو۔

﴿100﴾ آپ فرمادیجیے نہیں برابر ہوسکتا ناپاک اور پا ک اگرچہ حیرت میں ڈال دیے تجھے ناپاک کی کثرت سو ڈرتے رہو اللہ تعالیٰ سے اے عقل والو! تاکہ تم نجات پاجاؤ۔

﴿101﴾ اے ایمان والو! مت پوچھا کر وایسی باتیں کہ اگر ظاہر کردی جائیں تمھارے لیے تو بری لگیں تمھیں اور اگر پوچھو گے ان کے متعلق جب کہ اتر رہا ہے قرآن تو ظاہر کردی جائیں گی تمھارے لیے ۔ معاف کردیا ہے اللہ نے ان کو۔ اور اللہ بہت بخشنے والا بڑے حلم والا ہے۔

﴿102﴾ تحقیق پوچھا تھا ان کے متعلق ایک قوم نے تم سے پہلے پھر وہ ہوگئے ان احکام کا انکار کرنے والے۔

﴿103﴾ نہیں مقرر کیا اللہ تعالٰ نے بحیرہ اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام لیکن جنھوں نے کفر کیا وہ تہمت لگاتے ہیں اللہ تعالیٰ پر جھوٹی اور اکثر ان میں سے کچھ سمجھتے ہی نہیں ہیں۔

﴿104﴾ اور جب کہا جاتا ہے انھیں کہ آؤ اس کی طرف جو نازل کیا ہے اللہ تعالیٰ نے اور آؤ (اس کے) رسول کی طرف کہتے ہیں کافی ہے ہمیں جس پر پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو اگرچہ ان کے باپ دادا کچھ بھی نہ جانتے ہوں اور نہ ہدایت یافتہ ہوں (کیا پھر بھی وہ انھیں کی پیروی کریں گے)۔

﴿105﴾ اے ایمان والوں! تم پر اپنی جانوں کا فکر لازمی ہے۔ نہیں نقصان پہنچاسکے گا تمھیں جو گمراہ ہوا جب کہ تم ہدایت یافتہ ہو اللہ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے تم سب نے پھر وہ آگاہ کرے گا تمھیں جو تم (اس دنیا میں) کیا کرتے تھے۔

﴿106﴾ اے ایمان والو! آپس میں تمھاری گواہی جب آجائے کسی کو تم سے موت وصیت کرتے وقت (یہ ہے کہ ) دو معتبر شخص تم میں سے ہوں یا دو اور غیروں میں سے اگر تم سفر کررہے ہو زمین میں پھر پہنچے تمھیں موت کی مصیبت روکو ان دو گواہوں کو نماز پڑھنے کے بعد تو وہ قسم کھائیں اللہ کی اگر تمھیں شک پڑ جائے (اِن الفاظ سے) کہ ہم نہ خریدے گے اس قسم کے عوض کوئی مال اور اگرچہ قریبی رشتہ دار ہی ہو اور ہم نہ چھپائیں گے اللہ کی گواہی ( اگر ہم ایسا کریں) تو یقیناً ہم اس وقت گنہاگاروں میں (شمار) ہوں گے۔

﴿107﴾ پھر اگر پتہ چلے کہ وہ دونوں گواہ سزا وار ہوئے ہیں کسی گناہ کے تو دو اور کھڑے ہوجائیں ان کی جگہ ان مٰن سے جن کا حق ضائع کیا ہے پہلے گواہوں نے اور (یہ نئے دو گواہ) قسم اٹھائیں اللہ کی کہ ہمارے گواہی زیادہ ٹھیک ہے ان دو گواہی سے اور ہم نے حد سے تجاوز نہیں کیا (اگر ہم ایسا کریں تو) بےشک اس وقت ہم ظالموں میں شمار ہوں۔

﴿108﴾ یہ طریقہ زیادہ قریب ہے کہ گواہ دیا کریں گواہی جیسا کہ چاہیے یا خوف کریں اس بات کا کہ لوٹائی جائیں گی قسمیں (میت کے وارثوں کی طرف) ان کی قسموں کے بعد ۔ اور ڈرتے رہو اللہ سے اور سنو اس کا حکم اور اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا فاسق قوم کو۔

﴿109﴾ جس دن جمع کرے گا اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو پھر پوچھے گا (ان سے) کیا جواب ملا تمھیں؟ عرض کریں گے کوئی علم نہیں ہمیں بےشک تو ہی خوب جاننے والا ہے سب غیبوں کا

﴿110﴾ جب فرمائے گا اللہ تعالیٰ اے عیسیٰ ( علیہ السلام) بن مریم ! یاد کرو میرا انعام اپنے پر اور اپنی والدہ پر جب میں نے مدد فرمائی تمھاری روح القدس سے باتیں کرتا تھا تو لوگوں سے (جبکہ تو ابھی) پنگھوڑے میں تھا اور جب پکی عمر کو پہنچا ۔ اور جب سکھائی میں تمھیں کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل اور جب تو بناتا تھا کِیچڑ سے پرندے کی سی صورت میرے اذن سے پھر پھونک مارتا تھا اس میں تو وہ (مٹی کا بےجان پتلہ) بن جاتا تھا پرندہ میرے اذن سے اور (جب) تو تندرست کردیا کرتا تھا مادر زاد اندھے کو اور کوڑھی کو میرے اذن سے اور جب تو (زندہ کرکے ) نکالا کرتا تھا مرود ں کو میرے اذن سے ۔ اور جب میں روک دیا تھا بنی اسرائیل کو تجھ سے جب تو آیا تھا ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر تو کہا جنھوں نے کفر کیا تھا ان سے کہ یہ سب (معجزات) نہیں ہیں مگر کھلا ہوا جادو۔

﴿111﴾ اور جب میں نے حواریوں کے دل میں ڈالا کہ ایمان لاؤ میرے ساتھ اور میرے رسول کے ساتھ انھوں نے کہا ہم ایمان لائے اور ( اے مولا) تو گواہ رہ کہ ہم مسلمان ہیں ۔

﴿112﴾ جب کہا تھا حواریوں نے اے عیسیٰ بن مریم کیا یہ کر سکتا ہے تیرا رب کہ اتارے ہم پر ایک خوان آسمان سے (ان کی اس تجویز پر ) عیسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا ڈرو اللہ سے اگر تم مومن ہو۔

﴿113﴾ حواریوں نے کہا ہم تو (بس) یہ چاہتے ہیں کہ ہم کھائیں اس سے اور مطمئن ہوجائیں ہمارے دل اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا تھا اور ہم ہو جائیں اس پر گواہی دینے والوں سے۔

﴿114﴾ عرض کی عیسیٰ بن مریم نے اے اللہ ہم سب کے پالنے والے اتار ہم پر خوان آسمان سے بن جائے ہم سب کے لیے خوشی کا دن (یعنی) ہمارے اگلوں کے لیے بھی اور پچھلوں کے لیے بھی اور (ہوجائے) ایک نشانی تیری طرف سے اور رزق دے ہمیں تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔

﴿115﴾ فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ بلاشبہ اتارنے والا ہوں اسے تم پر پھر جس نے کفر اختیار کیا اس کے بعد تم سے تو بےشک میں عذاب دوں گا اے ایسا عذاب کہ نہیں دوں گا کیس کو بھی ایل جہان سے۔

﴿116﴾ اور جب پوچھے گا اللہ تعالیٰ اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تو نے کہا تھا لوگوں سے کہ بنالو مجھے اور میری ماں کو دو خد اللہ کے سوا۔ وہ عرض کریں گے پاک ہے تو ہر شریک سے کیا مجال تھی میری کہ میں کہوں ایسی بات جس کا نہیں ہے مجھے کوئی حق۔ اگر میں نے کہی ہوتی ایسی بات تو تو ضرور جانتا اس کو۔ تو جانتا ہے جو میری جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہے بےشک تو ہی خوب جاننے والا ہے تمام غیبوں کا۔

﴿117﴾ نہیں کہا میں نے انہیں مگر وہی کچھ جس کا تونے حکم دیا مجھے کہ عبادت کرو اللہ کی جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمھارا بھی پروردگار ہے اور تھا میں ان پر گواہ جب تک میں رہا ان میں پھر جب تونے مجھے اٹھالیا تو تو ہی نگران تھا ان پر اور تو ہر چیز کا مشاہد کرنے والا ہے۔

﴿118﴾ ۔ اگر تو عذاب دے انھیں تو وہ بندے ہیں تیرے اور اگر تو بخش دے ا کو تو بلاشبہ توہی سب پر غالب ہے (اور ) بڑا دانا ہے۔

﴿119﴾ فرمایا اللہ تعالیٰ نے یہ ہے وہ دن جس میں فائدہ پہنچائے گا سچوں کو ان کا سچ ان کے لیے باغات ہیں رواں ہے جن کے نیچے نہریں وہ ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے راضی ہوگیا اللہ تعالیٰ ان سے اور راضی ہوگئے وہ اللہ تعالیٰ سے یہی ہے بڑی کامیابی ۔

﴿120﴾ اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی سب آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔

الانعام

Surah 6

﴿1﴾ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو اور بنایا اندھیروں کو اور نور کو پھر بھی جنھوں نے کفر کیا وہ اپنے رب کے ساتھ (اوروں کو ) برابر ٹھیرا رہے ہیں ۔

﴿2﴾ اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا تمھیں مٹی سے پھر مقرر کی ایک معیاد اور ایک میعاد مقرر ہے اللہ کے نذدیک پھر بھی تم شک کررہے ہو۔

﴿3﴾ اور وہی ہے اللہ آسمانوں میں اور زمین میں وہ جانتا ہے تمھارے بھید بھی اور تمھاری کھلی باتیں بھی اور جانتا ہے جو تم کمارہے ہو۔ ا

﴿4﴾ اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی اپنے رب کی نشانیوں سے مگر وہ ہوجاتے ہیں اس سے منہ پھیر نے والے۔

﴿5﴾ بے شک انھوں نے جھٹلایا حق کو جب وہ آیا ان کے پاس سو اب آیا چاہتی ہیں ان کے پاس خبریں اس چیز کی جس کے ساتھ وہ مذاق کیا کرتے تھے۔

﴿6﴾ کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ کتنی ہلاک کردیں ہم نے ان سے پہلے قومیں جنھیں ہم نے (ایسا ) تسلط دیا تھا زمین میں جو ہم نے تمھیں نہیں دیا اور ہم نے بھیجے بادل ان پر موسلا دھار برسنے والے اور ہم نے بنادیں نہریں جو بہتی تھیں ان کے (گھروں اور باغوں) کے نیچے سے پھر ہم نے ہلاک کردیا انھیں بوجہ ان کے گناہوں کے اور پیدا کردی ہم نے ان کے بعد اور قوم۔

﴿7﴾ اور اگر ہم اتارتے آپ پر کتاب (لکھی ہوئی) کاغذ پر اور وہ چھو بھی لیتے اس کو اپنے ہاتھوں سے سب بھی کہتے جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے کہ نہیں ہے یہ مگر جادو کھلا ہوا۔

﴿8﴾ اور بولے کیوں نہ اتارا گیا ان پر فرشتہ اور اگر ہم اتارتے فرشتہ تو فیصلہ ہوگیا ہوتا ہر بات کا پھر نہ مہلت دی جاتی انھیں۔

﴿9﴾ اور اگر ہم بناتے نبی کسی فرشتہ کو تو بناتے اس کو انسان (کی شکل میں ) تو (یوں) ہم مشتبہ کردیتے ان پر جس شبہ میں وہ اب ہیں۔

﴿10﴾ اور بلاشبہ مذاق اڑایا گیا رسولوں کا آپ سے پہلے پھر گھیر لیا انھیں جو مذاق اڑاتے تھے رسولوں کا اس چیز نے جس کے ساتھ مذاق اڑایا کرتے تھے۔

﴿11﴾ آپ فرمائیے سیر کرو زمین میں پھر دیکھو کیسا ہوا انجام (رسولوں کو) جھٹلانے والوں کا۔

﴿12﴾ آپ ان سے پوچھیے کس کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے آپ (ہی انھیں) بتائیے (سب کچھ) اللہ ہی کاہے اس نے لازم کرلیا ہے اپنے آپ پر رحمت فرمانا یقیناً جمع کرے گا تمھیں قیامت کے دن ذرا شک نہیں اس میں (مگر) جنھوں نے نقصان میں ڈال دیا ہے اپنے آپ کو تو ہو نہیں ایمان لائیں گے۔

﴿13﴾ اور اسی کا ہے جو بس رہا ہے رات میں اور دن میں اور وہی سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

﴿14﴾ آپ فرمائیے کیا بغیر اللہ تعالیٰ کے کسی کو (اپنا) معبود بناوں (وہ اللہ جو) پیدا فرمانے والا ہے آسمانوں کو اور زمین کو اور وہ (سب کو) کھلاتا ہے اور خود نہیں کھلایا جاتا فرمایئے بیشک مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ہوجاؤں سب سے پہلے سرجھکانے والا (نیز یہ حکم دیا گیا ہے کہ ) ہرگز نہ بننا شرک کرنے والوں سے۔

﴿15﴾ آپ فرمائیے میں ڈرتا ہوں اگر میں نافرمانی کروں اپنے رب کی ، بڑے دن کے عذاب سے۔

﴿16﴾ وہ شخص ٹال دیا گیا عذاب جس سے اس روز تو یقیناً رحم فرمایا اللہ نے اس پر اور یہی کھلی کامیابی ہے۔

﴿17﴾ اور اگر پہنچائے تجھے اللہ تعالیٰ کوئی دُکھ تو نہیں کوئی دور کرنے والا اس دکھ کو سوائے اس کے اور اگر پہنچائے تجھے کوئی بھلائی (اس کو کوئی روک نہیں سکتا) وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

﴿18﴾ اور وہ غالب ہے اپنے بندوں پر اور وہ بڑا دانا ، ہر چیز سے خبردار ہے۔

﴿19﴾ آپ پوچھئیے کون سے چیز بڑی (معتبر) ہے گواہی کے لحاظ سے آپ ہی بتائیے اللہ وہی گواہ ہے میرے درمیان اور تمھارے درمیان اور وحی کیا گیا ہے میری طرف یہ قرآن تاکہ میں ڈراؤں تمھیں اس کے ساتھ اور (ڈراؤں ) اسے جس تک یہ پہنچے ۔ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خدا اور بھی ہیں؟ آپ فرمائیے میں تو (ایسی جھوٹی) گواہی نہیں دیتا ۔ آپ فرمائیے وہ تو صرف ایک ہی خدا ہی ہے اور بےشک میں بیزار ہوں ان (بتوں) سے جنھیں تم شریک ٹھیراتے ہو۔

﴿20﴾ جنھیں ہم نے دی ہے کتاب وہ پہچانتے ہیں اس نبی کو جیسے پہچانتے ہیں اپنے بیٹوں کو جنھوں نے نقصان میں ڈال دیا ہے اپنے آپ کو تو وہ نہیں ایمان لائیں گے۔

﴿21﴾ اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے بہتان لگایا اللہ پر جھوٹا یا جھٹلایا اس کی آیتوں کو بےشک فلاح نہیں پائیں گے ظلم کرنے والے۔

﴿22﴾ اور یاد کرو وہ دن جب ہم جمع کریں گے سب کو پھر ہم کہیں گے انھیں جو شرک کیا کرتے تھے کہ کہاں ہیں تمھارے شریک جن کے (خدا ہونے کا ) تم دعویٰ کیا کرتے تھے۔

﴿23﴾ پھر نہیں ہوگا کوئی عذر ان کے بجز اس کے کہ کہیں گے اس اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے نہ تھے ہم شرک کرنے والے۔

﴿24﴾ دیکھو کیسا جھوٹ باندھا انھوں نے اپنے نفسوں پر اور گم ہوگیءں ان سے اجو افترابازیاں کیا کرتے تھے۔

﴿25﴾ اور کچھ ان میں سے ایسے ہیں جو کان لگاتے ہیں آپ کی طرف اور ہم نے ڈال دیئے ہیں ان کے دلوں پر پردے تاکہ نہ سمجھیں وہ اسے اور ان کے کانوں میں گرانی ہے اور اگر وہ دیکھ لیں ہر ایک نشانی بھی تو نہیں ایمان لائیں گے ان کے ساتھ۔ یہاں تک کہ جب حاضر ہوں آپ کے پاس جھگڑتے ہوئے آپ سے (تو) کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہ نہیں یہ (قرآن) مگر جھوٹے قصے پہلے لوگوں کے۔

﴿26﴾ اور وہ روکتے ہیں اس سے اور دور بھاگتے ہیں اس سے اور نہیں ہلاک کرتے مگر اپنے نفسوں کو اور وہ (اتنا بھی) نہیں سمجھتے ۔

﴿27﴾ اور اگر آپ دیکھیں جب وہ کھڑے کئے جائین گے آگ پر تو کہیں گے اے کاش! (کسی طرح) ہم لوٹادیے جائیں تو (پھر) نہیں جھٹلائیں گے اپنے رب کی نشائیوں کو اور ہم ہوجائیں گے ایمانداروں سے۔

﴿28﴾ بلکہ عیاں ہوگیا ان پر جسے چھپایا کرتے تھے پہلے اور اگر انھیں واپس بھیجا جائے ( جیسے ان کی خواہش ہے) تو پھر بھی کریں گے جس سے روکے گئے تھے اور بےشک وہ جھوٹے ہیں۔

﴿29﴾ اور کہتے ہیں نہیں کوئی زندگی بجز ہماری اس دنیا وی زندگی کے اور ہم نہیں اٹھائے جائیں گے (قبروں سے)۔

﴿30﴾ اور اگر آپ دیکھیں جب وہ کھڑے کیے جائیں گے اللہ کے حضور میں اللہ فرمائے گا کیا یہ (قبروں سے اٹھنا) حق نہیں ؟ کہیں گے بےشک (حق ہے) ہمارے رب کی قسم اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو اب چکھو عذاب بسبب اس کفر کے جو تم کیا کرتے تھے۔

﴿31﴾ بے شک خسارہ میں رہے وہ جنھوں نے جھٹلایا اللہ سے ملاقات (کی خبر) کو ۔ یہاں تک کہ جب آگئی ان پر قیامت اچانک بولے ہائے افسوس ! اس کوتاہی پر جو ہم سے ہوئی اس زندگی میں اور وہ اٹھائے ہوئے ہیں اپنے بوجھ اپنی پشتوں پر ارے کتنا برا بوجھ ہے جسے وہ اٹھائے ہوئے ہیں۔

﴿32﴾ اور نہیں ہے دنیا کی زندگی مگر کھیل اور تماشا اور بےشک آخرت کا گھر بہتر ہے ان کے لیے جو (اللہ سے) ڈرتے ہیں تو کیا تم (اتنی بات بھی) نہیں سمجھتے۔

﴿33﴾ اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) ہم جانتے ہیں کہ رنجیدہ کرتی ہے آپکو وہ بات جو یہ کہ رہے ہیں تو وہ نہیں جھٹلاتے آپ کو بلکہ یہ ظالم (دراصل) اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔

﴿34﴾ اور بےشک جھٹلائے گئے رسول آپ سے پہلے تو انھوں نے صبر کیا اس جھٹلائے جانے پر اور ستائے جانے پر یہاں تک کہ آپہنچی انھیں ہماری مدد اور نہیں کوئی بدلنے والا اللہ کی باتوں کو اور آہی چکی ہیں آپ کے پا س رسولوں کی کچھ خبریں۔

﴿35﴾ اور اگر گراں ہے آپ پر ان کا (حق سے) روگردانی کرنا تو اگر آپ سے ہوسکے تو تلاش کرلو کوئی سرنگ زمین میں یا کوئی سیڑھی آسمان میں ( تو اس پر چڑھ جاؤ) پھر لے آؤ ان کے پاس کوئی معجزہ (تو بھی وہ ایمان نہیں لائیں گے)۔ اور اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو جمع کردیتا انھیں ہدایت پر تو آپ نہ ہوجائیں ان سے جو (حقیقت کا) علم نہیں رکھتے۔

﴿36﴾ صرف وہی قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں اور ان مردہ (دلوں) کو اٹھائے گا اللہ تعالیٰ پھر وہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے ۔

﴿37﴾ اور بولے کیوں نہیں اتاری گئی ان پر کوئی نشانی ان کے رب کی طرف سے آپ فرمائیے بےشک اللہ تعالیٰ قادر ہے اس بات پر کہ اتارے کوئی نشانی لیکن اکثر ان میں سے کچھ نہیں جانتے۔

﴿38﴾ اور نہیں کوئی (جانور) چلنے والا زمین پر اور نہ کوئی پرندہ جو اڑتا ہے اپنے دو پروں سے مگر وہ امتیں ہیں تمھاری مانند نہیں نظر انداز کیا ہم نے کتاب میں کسی چیز کو پھر اپے رب کی طرف اٹھائے جائیں گے۔

﴿39﴾ اور جنھوں نے جھٹلایا ہمارے آیتوں کو (تو وہ) بہرے اور گونگے ہیں اندھیروں میں (سرگرداں) ہیں جسے چاہے اللہ تعالیٰ گمراہ کردے اور جسے چاہے لگادے اسے سیدھے راستہ پر ۔

﴿40﴾ آپ فرمائیے بھلا بتاؤ تو اگر تم پر اللہ کا عذاب یا آجائے تم پر قیامت کیا اس وقت اللہ کے سوا کسی کو پکاروں گے (بتاؤ) اگر تم سچے ہو۔

﴿41﴾ بلکہ اسی کو پکارو گے تو دور کردے گا وہ تکلیف پکارا تھا تم نے جس کے لیے اگر وہ چاہے گا اور تم بھلا دو گے انھیں جنھیں تم نے شریک بنا رکھا ہے۔

﴿42﴾ اور بےشک بھیجے ہم نے رسول اُمتوں کی طرف آپ سے پہلے (جب انھوں نے سرکشی کی) تو ہم نے پکڑلیا انھیں سختی اور تکلیف سے تاکہ وہ گڑ گڑائیں ۔

﴿43﴾ تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ جب آیا ان پر ہمارا عذاب تو ہو (توبہ کرتے اور) گڑگڑاتے لیکن سخت ہوگئے ان کے دل اور آرستہ کردیا ان کے لیے شیطان نے جو وہ کیا کرتے تھے۔

﴿44﴾ پھر جب انھوں نے بھلادیں وہ نصیحتیں جو انھیں کی گئی تھیں کھول دیے ہم نے ان پر دروازے ہر چیز کے یہاں تک کہ جب وہ خوشیاں منانے لگے اس پر انھیں دیا گیا تو ہم نے پکڑلیا انھیں اچانک اب وہ نااُمید ہوکر رہ گئے۔

﴿45﴾ تو کاٹ کر رکھ دی گئی جڑ اس قوم کی جس نے ظلم کیا تھا اور سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو پروردگار ہے سارے جہان والوں کا۔

﴿46﴾ آپ فرمائیے بھلا بتاؤ کہ اگر لے لے اللہ تعالیٰ تمھارے کان اور تمھاری آنکھیں اور مہر لگادے دلوں پر تو کوئی خدا ہے اللہ کے سوا جو لادے تمھیں یہ چیزیں ؟ ملاحضہ ہو کس کس رنگ سے ہم بیان کرتے ہیں (توحیدکی ) دلیلیں پھر بھی وہ منہ پھیرے ہوئے ہیں۔

﴿47﴾ آپ فرمائیے یہ تو بتاؤ اگر آجائے تم پر اللہ کا عذاب اچانک یا کھلم کھلا تو کون ہلاک کیا جائے گا بغیر ظالم لوگوں کے۔

﴿48﴾ اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر خوش خبری سنانے کے لیے اور (عذاب جہنم سے ) ڈرانے کے لیے۔ تو جو ایمان لائے اور اپنے آپ کو سنوار لیا تو کوئی خوف نہیں ہوگا انھیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

﴿49﴾ اور جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو تو پہنچے گا انھیں عذاب بوجہ اس کے وہ حکم عدولی کیا کرتے تھے۔

﴿50﴾ آپ فرمائیے۔ کہ میں نہیں کہتا تم سے کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہوں کہ خود جان لیتا ہوں غیب کو اور نہ یہ کہتا ہوں تم سے کہ میں فرشتہ ہوں ۔ نہیں پیروی کرتا میں مگر وحی کی جو بھیجی جاتی ہے میر طرف ۔ آپ فرمائیے کیا (کبھی) برابر ہوسکتا ہے اندھا اور دیکھنے والا۔ تو کیا تم غوروفکر نہیں کرتے۔

﴿51﴾ اور ڈرائیے اس قرآن سے انھیں جو ڈرتے ہوں اس سے کہ اٹھایا جائے گا انھیں ان کے رب کی طرف اس حالت میں کہ نہیں ہوگا ان کے لیے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ کوئی سفارشی (انھیں ڈرائیے) تاکہ یہ (کامل) پرہیزگار ہوجائیں ۔

﴿52﴾ اور نہ دور ہٹاو انھیں جو پکارتے رہتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام طلبگار ہیں (فقط) اس کی رضا کے۔ نہیں آپ پر ان کے حساب سے کوئی چیز اور نہ آپ کے ھساب سے ان پر کوئی چیز ہے تو پھر بھی اگر آپ دور ہٹائیں انھیں تو ہو جائیں گے آپ بےانصافی کرنے والوں سے۔

﴿53﴾ اور اسی طرح ہم نے آزمائش میں ڈال دیا بعض کو بعض سے تاکہ کہیں (مالدار کافر نادار مسلمانوں کو دیکھ کر ) کیا یہ ہیں احسان کیا ہے اللہ نے جن پر ہم میں سے ۔ کیا نہیں جانتا اللہ تعالیٰ ان سے زیادہ اپنے شکر گزار ( بندوں کو ) ۔

﴿54﴾ اور جب آئیں آپ کی خدمت میں وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں ہماری آیتوں پر تو (ان سے) فرمائیے سلام ہو تم پر لازم کرلیا ہے تمھارے رب نے (محض اپنے کرم سے) اپنے آپ پر رحمت فرمانا تو جو کوئی کر بیٹھے تم میں سے برائی نادانی سے پھر توبہ کرلے اس کے بعد اور سنوارلے (اپنے آپ کو) تو بےشک اللہ تعا لیٰ بہت بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے۔

﴿55﴾ اور اسی طرح ہم کھول کر بیان کرتے ہیں آیتوں کو تاکہ ظاہر ہوجائے راستہ گنہگاروں کا ۔

﴿56﴾ آپ فرمائیے مجھے منع کیا گیا کہ میں پوجوں انھیں جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کے سوا آپ فرمائیے میں نہیں پیروی کرتا تمھاری خواہشوں کی ایسا کروں تو گمراہ ہوگیا میں اور رہا میں ہدایت پانے والوں سے۔

﴿57﴾ آپ فرمائیے بےشک میں قائم ہوں ایک روشن دلیل پر اپنے رب کی طرف سے اور جھٹلا دیا تم نے اسے نہیں ہے میرے پاس جس کی تم جلدی مچارہے ہو نہیں ہے حکم (کسی کا ) سوائے اللہ کے وہی بتاتا ہے حق اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

﴿58﴾ آپ فرمائیے اگر میرے پاس ہوتی وہ چیزیں جس کی تم جلدی کررہے ہو تو (کبھی کا ) فیصلہ ہوگیا ہوتا اس بات کا میرے درمیاں اور تمھارے در میں اور اللہ خوب جانتا ہے ظالوموں کو

﴿59﴾ اور اسی کے پاس ہیں کنجیاں غیب کی نہیں جانتا انھیں سوائے اس کے اور جانتا ہے جو کچھ کشکی میں اور سمندر میں ہے اور نہیں گرتا کوئی پتہ مگر وہ جانتا ہے اس کو اور نہیں کوئی دانہ زمین کے اندھیروں میں اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز مگر وہ لکھی ہوئی ہے روشن کتاب ۔

﴿60﴾ اور وہی ہے جو قبضہ میں لے لیتا ہے تمھیں رات کو اور جانتا ہے جو کمایا تم نے دن کو پھر اٹھاتا ہے تمھیں (نیند سے ) دن میں تاکہ پوری کردی جائے (تمھاری عمر کی ) معیاد مقرر پھر اسی کی طرف تمھیں لوٹنا ہے پھر وہ بتائے گا تمھیں جو تم کیا کرتے تھے۔

﴿61﴾ اور وہی غالب ہے اپنے بندوں پر اور بھیجتا ہے تم پر نگہبان یہاں تک کہ جب آجائے تم میں سے کسی کو موت تو قبض کر لیتے ہیں اس کی روح ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اور وہ کوتاہی نہیں کرتے۔

﴿62﴾ پھر لوٹائے جائیں گے اللہ تعالیٰ کی طرف جو ان کا حقیقی مالک ہے، سنتے ہو اسی کا حکم ہے اور وہ سب سے تیز حساب کرنے والا ہے۔

﴿63﴾ آپ فرمائیے کون نجات دیتا ہے تمھیں خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں جسے تم پکارتے ہو گڑگڑاتے ہوئے اور آہستہ آہستہ (اور کہتے ہو) اگر نجات دی اللہ نے ہمیں اس (مصیبت) سے تو ہم ضرور ہوجائیں گے اس کے شکر گزار (بندے)۔

﴿64﴾ فرمائیے اللہ ہی نجات دیتا ہے تمھیں اس سے اور ہر مصیبت سے پھر تم شریک ٹھیراتے ہو۔

﴿65﴾ فرمائیے وہ قادر ہے اس پر کہ بھیجے تم پر عذاب تمھارے اوپر سے یا تمھارے پاؤ ں کے نیچے سے اور خلط ملط کردے تمھیں مختلف گروہوں میں اور چکھائے تم میں سے بعض کو شدت دوسروں کی دیکھو کیونکر ہم طرح طرح سے بیان کرتے ہیں (تو حید کی ) دلیلوں کو تاکہ یہ لوگ (حقیقت کو ) سمجھ لیں۔

﴿66﴾ اور جھٹلایا اسے آپ کی قوم نے حالانکہ یہ ھق ہے فرمائیے نہیں ہوں میں تمھار ا ذمہ دار ۔

﴿67﴾ ہر ایک خبر (کے ظہور) کا ایک وقت مقرر ہے اور عنقریب جان لوگے۔

﴿68﴾ اور (اے سننے والے!) جب تو دیکھے انھیں کہ بیہودہ بحثیں کررہے ہیں ہماری آیتوں میں تو منہ پھیر لے ان سے یہاں تک کہ وہ الجھنے لگیں کسی اور بات میں اور اگر (کہیں) بھلادے تجھے شیطان تو مت بیٹھو یاد آنے کے بعد ظالم قوم کے پاس۔

﴿69﴾ اور نہیں ہے ان پر جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا ہے ان کافروں کے حساب سے کچھ بوجھ البتہ پرہیزگاروں پر نصیحت کرنا فرض ہے شاید وہ باز آجائیں۔

﴿70﴾ اور چھوڑ دے جنھوں نے بنالیا ہے اپنا دین کھیل اور دل لگی اور دھوکہ میں ڈال دیا ہے انھیں دنیوی زندگی نے اور نصیحت کرو قرآن سے تاکہ ہلاک نہ ہوجائے کوئی آدمی اپنے عملوں کی وجہ سے ۔ نہیں ہے اس کے لیے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ سفارشی اور اگر وہ معاوضہ میں دے ہر بدلہ تو نہ قبول کیا جائے گا اس سے یہی وہ لوگ ہیں جو ہلاک کیے گئے ہیں بوجہ اپنے کرتوتوں کے ان کے لیے پینے کو کھولتا ہوا پانی ہے اور دردناک عذاب ہے بوجہ اس کفر کے جو وہ کرتے رہے تھے۔

﴿71﴾ آپ فرمائیے کیا ہم پوجیں اللہ تعالیٰ کے سوا اس کو جو نہ نفع پہنچا سکتا ہے ہمیں اور نہ ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے اور (کیا) ہم پھر جائیں الٹے پاؤں اس کے بعد کہ ہدایت دی ہمیں اللہ نے ؟ مثل اس شخص کے کہ بھٹکا دیا ہو اسے جنوں نے زمین میں اور وہ حیران و پریشان ہو۔ اس کے ساتھی ہوں جو اسے بلارہے ہوں ہدایت کی طرف کہ ہمارے پاس آجا آپ فرمائیے اللہ کی رہنمائی ہی حقیقی رہنمائی ہے اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم گردن جھکادیں سارے جہانوں کے رب کے سامنے۔

﴿72﴾ اور یہ کہ صحیح صحیح ادا کرو نماز اور ڈرو اس سے اور وہی ہے جس کی طرف تم جمع کیے جاؤ گے۔

﴿73﴾ اور وہ وہی ہے جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ اور جس رو ز وہ کہے گا کہ تو ہوجا تو بس ہوجائے گا اسی کا فرمان حق ہے اور اسی کی حکومت ہوگی جس دن پھونکا جائے گا صور جاننے والا ہے ہر چھپی چیز کا اور ہر ظاہر چیز کا وہی ہے حکمت والا سب کچھ جاننے والا۔

﴿74﴾ اور یاد کرو جب کہا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر سے کیا تم بناتے ہو بتوں کو خدا بےشک میں دیکھتا ہوں تمھیں اور تمھاری قوم کو کھلی گمراہی میں۔

﴿75﴾ اور اسی طرح ہم نے دکھادی ابراہم کو ساری بادشاہی آسمانوں اور زمین کی تاکہ وہ ہوجائیں کا مل یقین کرنے والوں میں۔

﴿76﴾ پھر جب چھا گئی ان پر رات (تو) دیکھا انھوں نے ایک ستار ا۔ بولے (کیا) یہ میرا رب ہے۔؟ پھر جب وہ ڈوب گیا (تو) بولے میں نہیں پسند کرتا ڈوب جانے والوں کو۔

﴿77﴾ پھر جب دیکھا چاند کو کو چمکتے ہوئے تو کہا (کیا) یہ میر ا رب ہے (؟) پھر جب وہ (بھی) غروب ہوگیا تو آپ نے کہا اگر نہ ہدایت دیتا مجھے میرا رب تو ضرور ہوجاتا میں بھی گمراہ قوم سے۔

﴿78﴾ پھر جب دیکھا سورج کو جگمگاتے ہوئے (تو) بولے (کیا) یہ میرا رب ہے (؟) یہ تو ان سب سے بڑا ہے ۔ لیکن جب وہ بھی ڈوب گیا (تو) آپ نے فرمایا ۔ اے میری قوم! میں بیزار ہوں ان چیزوں سے جنھیں تم شریک ٹھیراتے ہو ۔

﴿79﴾ بے شک میں پھیر لیا ہے اپنے رخ اس ذات کی طرف جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو یک سو ہوکر اور نہیں ہوں میں مشرکوں میں سے۔

﴿80﴾ اور جھگڑنے لگی ان سے ان کی قوم آپ نے کہا کیا تم جھگڑتے ہو مجھ سے اللہ کے بارے میں حالانکہ اس نے ہدایت دے دی ہے مجھے اور نہیں ڈرتا میں ان سے جنھیں تم شریک بناتے ہو اس کا مگر یہ کہ چاہے میرا ہی پروردگار کوئی تکلیف پہنچانا ۔ گھیرے ہوئے ہے میرا رب ہر چیز کو (اپنے) علم سے تو کیا تم نصیحت قبول نہیں کرو گے۔

﴿81﴾ اور کیسے ڈروں میں (ان سے) جنھیں تم نے شریک ٹھیرا رکھا ہے حالانکہ تم نہیں ڈرتے (اس سے) کہ تم نے شریک بنایا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اسے کہ نہیں اتاری اللہ نے اس کے متعلق تم پر کوئی دلیل تو (تم ہی بتاؤ) دونوں فریقوں سے کون زیادہ حقدار ہے امن ( وسلامتی) کا ؟ اگر تم (کچھ) جانتے ہو۔

﴿82﴾ وہ جو ایمان لائے اور نہ ملایا انھوں نے اپنے ایمان کو ظلم (شرک) سے انھیں کے لیے ہی امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔

﴿83﴾ اور یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے دی تھی ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی قوم کے مقابلہ میں ہم بلند کرتے ہیں درجے جس کے چاہتے ہیں بیشک آپ کا رب بڑا دانا سب کچھ جاننے والا ہے۔

﴿84﴾ اور ہم نے عطا فرمائے اُنھیں اسحاق ( علیہ السلام) اور یعقوب ( علیہ السلام) ہر ایک کو ہم نے ہدایت دی اور نوح ( علیہ السلام) کو ہدایت دی تھی ان سے پہلے اور اس کی اولاد میں سے داؤد ( علیہ السلام) اور سلیمان ( علیہ السلام) اور ایوب ( علیہ السلام) اور یوسف ( علیہ السلام) اور موسیٰ ( علیہ السلام) اور ہارؤن ( علیہ السلام) کو (راہ راست دکھائی) اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں نیکو کاروں کو۔

﴿85﴾ (اور ہم نے ہدایت دی ) زکریا ( علیہ السلام) اور یحییٰ ( علیہ السلام) اور عیسیٰ ( علیہ السلام) اور الیاس ( علیہ السلام) کو (یہ) سب صالحین میں سے تھے۔

﴿86﴾ اور (ہدایت دی) اسمٰعیل ( علیہ السلام) اور یسع ( علیہ السلام) اور یونس ( علیہ السلام) اور لوط ( علیہ السلام) کو اور ان سب کو ہم نے فضیلت دی سارے جہان والوں پر۔

﴿87﴾ اور ہدایت دی ان کے کچھ باپ دادوں اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں کو اور ہم نے چن لیا ان (سب کو ) اور ہدایت دی ان (سب) کو راہ راست کی۔

﴿88﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے رہنمائی کرتا ہے اس کے ساتھ جس کی چاہتا ہے اپنے بندوں سے اور اگر وہ شرک کرتے ہیں تو ضرور ضائع ہو جاتا ہے ان سے وہ (عمل) جو وہ کیا کرتے تھے۔

﴿89﴾ یہ وہ لوگ تھے ہم نے عطا کی تھی جنھیں کتاب اور حکمت اور نبوت تو اگر انکار کریں اس کا یہ (مکہ والے) تو ہم نے مقرر کردیے ہیں اس کو ماننے کے لیے ایسے لوگ جو اس کے ساتھ کفر کرنے والے نہیں۔

﴿90﴾ یہی وہ لوگ ہیں جنھیں ہدایت دی تھی اللہ نے تو انھیں کے طریقہ کی پیروی کرو آپ فرمائیے میں نہیں مانگتا تم سے اس (تبلیغ قرآن) پر کوئی اُجرت نہیں ہے وہ (قرآن) مگر نصیحت سارے جہانوں کے لیے۔

﴿91﴾ اور نہ قدر پہچانی انھوں نے اللہ کی جیسے حق تھا اس کی قدر پہچاننے کا جب کہا انھوں نے کہ نہیں اتاری اللہ نے کسی آدمی پر کوئی چیز (یعنی وحی) آپ پوچھئیے کس نے اتاری تھی وہ کتاب جسے لے آئے تھے موسیٰ ( علیہ السلام) (جو سراسر) نور تھی اور (سراپا) ہدایت تھی لوگوں کے لیے تم نے بنا لیا ہے اسے الگ الگ کاغذ ظاہر کرتے ہو اسے اور چھپالیتے ہو (اس کا ) بہت سا (حصہ) اور تمھیں سکھایا گیا جو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمھارے باپ دادا آپ فرمادیجیے اللہ ! پھر چھوڑ دیجیے انھیں (تاکہ) وہ اپنی بیہودہ باتوں میں کھیلتے رہیں۔

﴿92﴾ اور یہ (قرآن) کتاب ہے ہم نے اتاری ہے اس کو بابرکت ہے تصدیق کرنے والی ہے اس (وحی) کی جو اس سے پہلے (نازل ہوئی) اور اس لیے تاکہ ڈرائیں آپ مکہ (والوں) کو اور جو اس کے اردگرد ہیں اور جو ایمان لائے ہیں آخرت کے ساتھ وہ ایمان رکھتے ہیں اس پر (بھی) اور وہ اپنی نماز کی پانبدی کرتے ہیں۔

﴿93﴾ اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جو بہتان باندھے اللہ پر جھوٹا یا کہے کہ وحی کی گئی ہے میری طرف حالانکہ نہیں وحی کی گئی اس کی طرف کچھ بھی اور (کون زیادہ ظالم ہے اس ) جو کہے کہ میں (بھی) نازل کروں گا ایسا ہی کلام جسیے نازل کیا ہے اللہ نے ۔ کاش تم دیکھو جب ظالم موت کی سختیوں میں (گرفتار) ہوں اور فرشتے بڑھارہے ہوں (ان کی طرف) اپنے ہاتھ (اور انھیں کہیں کہ) نکالواپنی جانوں کو ۔ آج تمھیں دیا جائے گا ذلت کا عذاب اس وجہ سے کہ تم بہتان لگاتے تھے اللہ تعالیٰ پر ناحق اور تم اس کی آیتوں (کے ماننے) سے تکبر کیا کرتے تھے۔

﴿94﴾ اور بےشک آگئے ہو تم ہمارے پاس اکیلے اکیلے جیسے ہم نے پیدا کیا تھا تمھیں پہلی دفعہ اور تم چھوڑ آئے ہو جو ہم نے عطا فرمایا تھا تمھیں اپنے پیچھے اور ہم نہیں دیکھتے تمھارے ساتھ ان سفارشیوں کو جن کے متعلق تم خیال کرتے تھے کہ وہ تمھارے معاملہ میں (ہمارے ) شریک ہیں بےشک ٹوٹ گئے تمھارے سارے رشتے اور کھوگئے تم سے جو تم دعوے کیا کرتے تھے۔

﴿95﴾ بے شک اللہ تعالیٰ ہی پھاڑنے والا ہے دانے اور گھٹلی کو نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور نکالنے والا ہے مردہ کو زندہ سے یہ ہے اللہ پس کدھر تم بہکے چلے جارہے ہو۔

﴿96﴾ وہ نکالنے والا ہے صبح کو (رات کی تاریکی سے) اور بنایا ہے اس نے رات کو آرام کے لیے اور بنایا ہے سورج اور چاند کو حساب کے لیے یہ اندازہ ہے (مقرر کیا ہوا) سب سے زبردست ، سب کچھ جاننے والے کا۔

﴿97﴾ اور وہی ہے جس نے بنایا ہے تمھارے لیے ستاروں کو تاکہ سیدھی راہ معلوم کرسکو ان سے خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں بےشک ہم نے کھول کر بیا کردیے ہیں دلائل ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔

﴿98﴾ اور وہی ہے جس نے پیدا کیا تم کو ایک جان سے پھر (تمھارے لیے) ایک ٹھیرنے کی جگہ ہے اور ایک امانت رکھے جانے کی بےشک ہم نے تفصیل سے بیان کر دی ہیں دلیلیں ان لوگوں کے لیے جو (حقیقت) کو سمجھتے ہیں۔

﴿99﴾ اور وہی ہے جس نے اتار ا بادل سے پانی تو ہم نے نکالی اس کے ذریعہ سے اگنے والی ہر چیز پھر ہم نے نکال لین اس سے ہری ہری بالیں نکالتے ہیں اس سے (خوشہ جس میں ) دانے ایک دوسرے پر چڑھے ہوتے ہیں اور نکالتے ہیں کھجور سے یعنی اس کے گابھے سے گچھے نیچے جھکے ہوئے اور (ہم نے پیدا کیے) باغات انگور اور زیتون اور انار کے بعض (شکل و ذائقہ میں ) ایک جیسے ہیں اور بعض الگ الگ ۔ دیکھو ہر درخت کے پھل کی طرف جب وہ پھل دار ہو اور (دیکھو) اس کے پکنے کو بےشک ان میں نشانیاں ہیں (اس کی قدرت کاملہ کی) ۔

﴿100﴾ اس قوم کے لیے جو ایماندار ہے اور بنایا انھوں نے اللہ کا شریک جنوں کو حالانکہ اللہ نے پیدا کیا ہے انھیں اور گھڑ لیے ہیں انھوں نے اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں محض جہالت سے پاک ہے وہ اور برتر ہے اس سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔

﴿101﴾ مُوجد ہے آسمانوں اور زمین کا کیوں کر ہوسکتا ہے اس کا کوئی لڑکا حالانکہ نہیں ہے اس کی کوئی بیوی۔ اور پیدا فرمایا ہے اس نے ہر چیز کو اور وہ ہر چیز کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔

﴿102﴾ یہ اللہ ہے (جو) تمھارا پروردگار ہے نہیں کوئی خدا سوائے اس کے ۔ پیدا کرنے والا ہے ہر چیز کا پس عبادت کرو اس کی اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔

﴿103﴾ نہیں گھیر سکتیں اسے نظریں اور وہ گھیرے ہوئے ہے سب نظروں کو اور وہ بڑا باریک بین (اور) پوری طرح باخبر ہے ۔

﴿104﴾ بے شک آئیں تمھارے پاس آنکھیں کھولنے والی دلیلیں اپنے رب کی طرف سے تو جس نے آنکھوں سے دیکھا تو اس نے اپنا فائدہ کیا اور جو اندھا بنا رہا تو اس نے اپنا نقصان کیا اور نہیں ہوں میں تم پر نگہبان۔

﴿105﴾ اور اسی طرح ہم طرح طرح سے بیان کرتے ہیں (توحیدکی ) دلیلوں کو اور تاکہ بول اٹھیں یہ لوگ آپ نے خوب پڑھ سنایا ہے اور تاکہ ہم واضح کردیں اس کو اس قوم کے لیے جو علم رکھتی ہے۔

﴿106﴾ پیروی کیجیے آپ اس کی جو وحی کی جاتی ہے آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے ۔ نہیں کوئی معبود بجز اس کے اور منہ پھیر لو مشرکوں کی طرف سے ۔

﴿107﴾ اور اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو وہ شرک نہ کرتے اور نہیں بنایا ہم نے آپ کو ان پر نگہبان اور نہیں ہیں آپ ان کے ذمہ دار۔

﴿108﴾ اور تم نہ برا بھلا کہو انھیں جن کی یہ پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا (ایسا نہ ) کہ وہ بھی برا بھلا کہنے لگیں اللہ کو زیادتی کرتے ہوئے جہالت سے۔ یونہی آراستہ کردیا ہے ہم نے ہر امت کے لیے ان کا عمل پھر اپنے رب کی طر ف ہی لوٹ کر آنا ہے انھوں نے پھر وہ انھیں بتائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔

﴿109﴾ وہ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی پوری کوشش سے کہ اگر آگئی ان کے پاس کوئی نشانی تو ضرور ایمان لائیں گے اس کے ساتھ۔ آپ فرمائیے کہ نشانیاں تو صرف اللہ ہی کے پاس ہیں اور (اے مسلمانو!) تمھیں کیا خبر کہ جب یہ نشانی آجائے گی تو (تب بھی) یہ ایمان نہیں لائیں گے۔

﴿110﴾ اور ہم پھیر دیں گے ان کے دلوں کو اور ان کی آنکھوں کو جس طرح وہ نہیں ایمان لائے تھے اس کے ساتھ پہلی مرتبہ اور ہم چھوڑ دیں گے انھیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔

﴿111﴾ اور اگر ہم اُتارتے ان کی طرف فرشتے اور باتیں کرنے لگتے ان سے مرُدے (قبروں سے اٹھ کر ) اور ہم جمع کردیتے ہر چیز کو ان کے روبرو تب بھی وہ ایمان نہ لاتے مگر یہ کہ چاہتا اللہ تعالیٰ لیکن اکثر ان میں سے (بالکل) جاہل ہیں۔

﴿112﴾ اور اسی طرح بنادیئے ہم نے ہر نبی کے لیے دشمن (یعنی) سرکش انسان اور جن جو چپکے چپکے سکھاتے تھے ایک دوسرے کو خوش نما باتیں (لوگوں کو) دھوکہ دینے کے لے اور اگر چاہتا آپ کا رب تو وہ یہ نہ کرتے سو چھوڑدیجیے انھیں اور جو وہ بہتان باندھتے ہیں۔

﴿113﴾ اور (چھوڑیئے) تاکہ مائل ہوجائیں اس کی طرف ان کے دل جو نہیں ایمان لائے آخرت پر اور تاکہ پسند کریں اسے اور کرتے رہیں جو گناہ وہ اب کررہے ہیں۔

﴿114﴾ (آپ ان سے پوچھئے) کیا اللہ کے سوا میں تلاش کروں کوئی اور منصف حالانکہ وہی ہے جس نے اتاری ہے تمھاری طرف کتاب مفصل اور جو کو ہم نے دی ہے کتاب وہ (اچھی طرح ) جانتے ہیں کہ یہ (قرآن) اُتارا گیا ہے آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ ۔ تو (اے سننے والے) ہر گز نہ ہوجانا شک کرنے والوں سے۔

﴿115﴾ اور مکمل ہوگئی آپ کے رب کی بات سچائی اور عدل سے نہیں کوئی بدلنے والا اس کی باتوں کا اور وہی ہے سب کچھ سننے والا جاننے والا۔

﴿116﴾ اور (اے سننے والے) اگر تو اطاعت کرے اکثر لوگوں کی جو زمین میں ہیں تو وہ تجھے بہکادیں گے اللہ کی راہ سے وہ نہیں پیروی کرتے سوائے گمان کے اور نہیں ہیں وہ مگر محض تخمینے لگاتے ہیں۔

﴿117﴾ بے شک آپ کا رب خوب جانتا ہے کہ کون بہکتا ہے اس کی راہ سے اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو۔

﴿118﴾ تو کھاؤ اس میں سے لیا گیا ہے نام خدا جس پر اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان لانے والے ہو۔

﴿119﴾ اور کیا ہوا تمھیں کہ نہیں کھاتے ہو تم اس جانور کو لیا گیا ہے اللہ کا نام جس پر حالانکہ اللہ تعالیٰ نے مفصل بیان کردیا ہے تمھارے لیے جو اس نے حرام کیا تم پر مگر وہ چیز کہ تم مجبور ہوجاؤ اس کی طرف اور بےشک بہت سے لوگ گمراہ کرتے ہیں اپنی خواہشوں سے بےعلمی کے باعث بےشک آپ کا رب خوب جانتا ہے حد سے بڑھنے والوں کو۔

﴿120﴾ اور ترک کردو ظاہری گناہ کو اور چھپے ہوئے کو بےشک وہ لوگ جو کماتے ہیں گناہ ( تو) جلدی ہی سزا دی جائے گی انھیں (اس گناہ کی ) جس کا وہ ارتکاب کیا کرتے تھے۔

﴿121﴾ اور مت کھاؤ اس جانور سے کہ نہیں لیا گیا اللہ کا نام اس پر اس کا کھانا نافرمانی ہے اور بےشک شیطان ڈالتے ہیں اپنے دوستوں کے دلوں میں (اعتراضات) تاکہ وہ تم سے جھگڑیں۔ اور اگر تم نے ان کا کہنا مانا تو تم مشرک ہو جاؤ گے۔

﴿122﴾ کیا وہ جو (پہلے) مردہ تھا پھر زندہ کیا ہم نے اسے اور بنادیا اس کے لیے نور چلتا ہے جس کے اجالے میں لوگوں کے درمیان وہ اس جیسا ہوسکتا ہے جو اندھیروں میں پڑا ہو نہیں نکلنے والا ان سے۔ یو نہی آراستہ کردئیے گئے کافروں کے لیے وہ اعمال جو وہ کیا کرتے تھے۔

﴿123﴾ اور اسی طرح ہم نے بنایا ہر بستی میں اس کے بڑے لوگوں کو وہاں کے مجرم تاکہ وہ مکرو فریب کیا کریں اس میں ۔ اور نہیں فریب دیتے مگر اپنے آپ کو اور وہ (اس بات کو ) نہیں سمجھتے۔

﴿124﴾ اور جب آئے ان کے پاس کوئی نشانی کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہمیں بھی ویسا ہے نہ دیا جائے جیسے دیا گیا اللہ کے رسولوں کو ۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ( اس دل کو ) جہاں وہ رکھتا ہے اپنی رسالت کو عنقریب پہنچے گی جنھوں نے جرم کیے زلت اللہ کے ہاں اور عزاب سخت بوجہ ان مکروں کے جو وہ کیا کرتے تھے۔

﴿125﴾ اور جس (خوش نصیب) کے لیے ارادہ فرماتا ہے اللہ کہ ہدایت دے اسے تو کشادہ کردیتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے اور جس (بد نصیب) کے لیے ارادہ فرماتا ہے کہ اسے گمراہ کردے تو بنا دیتا ہے اس کے سینہ کو تنگ ، بہت تنگ گویا وہ زبردستی چڑھ رہا ہے آسمان کی طرف اسی طرح ڈال دیتا ہے اللہ تعالیٰ ناپاکی ان پر جو ایمان نہیں لاتے۔

﴿126﴾ اور یہ ہے راستہ آپ کے رب کا (بالکل) سیدھا ہم نے کھول کر بیان کردی ہیں دلیلیں ان لوگوں کے لیے جو نصیحت قبول کرتے ہیں۔

﴿127﴾ اُن کے لیے سلامتی کا گھر ہے ان کے رب کے ہاں اور وہی ان کا دوست ہے بسبب ان نیک اعمال کے جو وہ کیا کرتے تھے۔

﴿128﴾ اور جس دن جمع کرے گا اللہ تعالیٰ ان سب کو (اور فرمائے گا) اے جنوں کے گروہ! بہت گمراہ کیا تم نے انسانوں کو اور کہیں گے ا کے دوست انسانوں میں سے اے ہمارے رب ! فائدہ اٹھایا ہم نے ایک دوسرے سے اور پہنچ گئے ہم اپنی اس معیاد کو جو تونے ہمارے لیے مقرر کی تھی اللہ فرمائے گا آگ تمھارا ٹھکانہ ہے ہمیشہ رہو گے اس میں مگر جسے اللہ تعالیٰ (نجات دینا) چاہے بےشک آپ کا رب بڑا دانا سب کچھ جاننے والا ہے۔

﴿129﴾ اور یونہی ہم مسلط کرتے ہیں بعض ظالموں کو بعض پر بوجہ ان (کرتوتوں) جو وہ کرتے رہتے تھے۔

﴿130﴾ اے گروہ جنوں اور انسانوں کے ! کیا نہیں آئے تمھارے پاس رسول تم ہی میں سے سناتے تھے تمھیں ہماری آیتیں اور ڈراتے تھے تمھیں تمھار ی اس دن کی ملاقات سے کہیں گے ہم گواہی دیتے ہیں اپنے خلاف اور دھوکہ میں مبتلا کیا تھا انھیں دنیوی زندگی نے اور گواہی دیں گے اپنے خلاف کہ وہ کفر کرتے رہے تھے۔

﴿131﴾ یہ اس لیے کہ نہیں ہے آپ کا رب ہلاک کرنے والا بستیوں کو ظلم سے اس حال میں کہ ان کے باشندے بےخبر ہوں۔

﴿132﴾ اور ہر ایک کے لیے درجے ہیں ان کے عمل کے مطابق اور نہیں ہے آپ کا رب بےخبر اس سے جو وہ کرتے ہیں۔

﴿133﴾ اور آ پ کا پروردگار غنی ہے رحمت والا ہے اگر چاہے تو لے جائے (تباہ کردے) تمھیں اور تمھاری جگہ لے آئے تمھارے بعد جسے چاہے جیسے پیدا کیا تمھیں دوسری قوم کی اولاد سے۔

﴿134﴾ بے شک جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے ضرور آنے والا ہے اور نہیں ہو تم (اللہ کو) عاجز کرنے والے۔

﴿135﴾ آپ فرمائیے اے میری قوم! تم عمل کیے جاؤ اپنی جگہ پر میں اپنا کام کرنے والا ہوں تو تم جان لو گے کہ کس کے لیے ہوتا ہے اچھا انجام اس دنیا کے گھر کا بےشک فلاح نہیں پاتے ظلم کرنے والے۔

﴿136﴾ اور انھوں نے بنارکھا ہے اللہ کے لیے اس سے جو پیدا فرماتا ہے فصلوں اور مویشیوں سے مقررہ حصہ اور کہتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے ان کے خیال میں اور یہ ہمارے شریکوں کے لیے ۔ توہ وہ (حصہ) جو ہو ان کے شریکوں کے لیے تو وہ پہنچتا ہے اللہ تعالیٰ کو اور جو (حصہ) ہو اللہ تعالیٰ کے لیے تو وہ پہنچ جاتا ہے ان کے شریکوں کو۔ کیا ہی برا فیصلہ کرتے ہیں۔

﴿137﴾ اور یونہی خوش نما بنادیا ہے بہت سے مشرکوں کے لیے اپنی اولاد کے قتل کرنے کو ان کے شریکوں نے تاکہ ہلاک کردیں انھیں اور مشتبہ کردیں ان پر ان کا دین اور اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو ایسا نہ کرتے تو چھوڑ دیجیے انھیں اور جو وہ بہتان باندھتے ہیں۔

﴿138﴾ اور بولے یہ مویشی اور کھیتی رکی ہوئی ہے کوئی نہیں کھا سکتا انھیں سوائے اس کے سجے ہین چاہیں (یہ بات) اپنے گمان سے (کہتے ہیں) اور بعض مویشی ہیں، حرام ہیں جن کی پشتیں (سواری کے لیے) اور بعض مویشی ہیں کہ نہیں ذکر کرتے نام خدا ان (کی ذبح) پر ( یہ سب محض ) افتراء ہے اللہ پر عنقریب سزا دے گا انھیں جو وہ بہتان باندھا کرتے تھے۔

﴿139﴾ اور بولے جو ان مویشیوں کے شکموں میں ہے وہ نرا ہمارے مردوں کے لیے ہے اور حرام ہے ہماری بیویوں پر اور اگر وہ مرا ہوا (پیدا) ہو تو پھر وہ سب (مردوزن) اس میں حصہ دار ہیں۔ اللہ جلدی بدلہ دے گا انھیں ان کے اس بیان کا ۔ بےشک وہ حکمت والا علم والا ہے۔

﴿140﴾ یقیناً نقصان اٹھایا جنھوں نے قتل کیا اپنی اولاد کو حماقت سے بغیر جانے اور حرام کردیا جو رزق دیا تھا انھیں اللہ نے بہتان باندھ کر اللہ تعالیٰ پر بےشک وہ گمراہ ہوگئے اور نہ تھے وہ ہدایت پانے والے۔

﴿141﴾ اور وہی ہے جس نے پیدا کیے ہیں باغات کچھ چھپروں پر چڑھائے ہوئے اور کچھ بغیر اس کے اور کھجور اور کھیتی الگ الگ ہیں کھانے کی چیزیں ان کی زیتون اور انار ( جو شکل میں ) ایک جیسے اور (زائقہ میں) مختلف ۔ کھاؤ اس کے پھل سے جب وہ پھلدار ہو اور ادا کرو اس کا حق جس دن وہ کٹے اور فضول خرچی نہ کرو بےشک اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا فضول خرچی کرنے والوں کو۔

﴿142﴾ اور (پیدا فرمائے) بعض مویشی بوجھ اٹھانے والے اور بعض زمین پر لٹا کر زبح کرنے کے لیے کھاؤ اس میں سے جو رزق دیا ہے تمھیں اللہ تعالیٰ نے اور نہ پیروی کرو شیطان کے قدموں کی بےشک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے ۔

﴿143﴾ (پیدا فرمائے) آٹھ جوڑے بھیڑ سے دو (نر و مادہ) اور بکری سے دہ (نر و مادہ) آپ پوچھئے کیا دونوں نر حرام کیے ہیں یا دونوں مادائیں یا جسے لیے ہوتے ہیں (اپنے اندر ) دو ماداؤں کے رحم بتاؤ مجھے علم کے ساتھ اگر ہو تم سچے۔

﴿144﴾ اور اونٹ سے دو (نر و مادہ) اور گائے سے دو (نرو مادہ) آپ پوچھئے کیا دونوں نر حرام کیے ہیں یا دونوں مادہ یا جسے لیے ہوئے ہیں (اپنے اندر) دو ماداؤں کے رحم۔ کیا تم تھے موجود جب وصیت کی تمھیں اللہ نے اس بات کی تو اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہے جو بہتان باندھے اللہ تعالیٰ پر جھوٹا تاکہ گمراہ کرے لوگوں کو اپنی جہالت سے بےشک اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا اس قوم کو جو ظالم ہے۔

﴿145﴾ آپ فرمائیے میں نہیں پاتا اس (کتاب) میں جو وحی کی گئی ہے میری طرف کوئی چیز حرام کھانے والے پر جو کھاتا ہے اسے مگر یہ کہ مردار ہو یا (رگوں کا) بہتا ہوا خون یا سؤر کا گوشت کیونکہ وہ سخت گندہ ہے یا جو نافرمانی کا باعث ہو (یعنی) وہ جانور جس پر ذبح کے وقت بلند کیا جائے غیر خدا کا نام پھر جو شخض لاچار ہوجائے نہ نافرمانی کرنے والا ہو اور نہ تجاوز کرنے والا ہو (حد ضرورت سے) تو بےشک آپ کا رب بہت بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔

﴿146﴾ اور ان لوگوں پر جو یہودی بنے تھے ہم نے حرام کردیا ہر ناخن والا جانور اور گائے اور بکری سے ہم نے حرام کی ان پر دونوں (گائے بکری) کی چربی مگر جو اٹھا رکھی ہو ان کی پشتوں یا آنتوں نے یا جو ملی ہوئی ہو ہڈی کے ساتھ یہ ہم نے سزا دی تھی انھیں بسبب ان کی سرکشی کے اور یقیناً ہم سچے ہیں۔

﴿147﴾ پھر اگر وہ جھٹلائیں آپ کو تو آپ فرمائیے تمھارا پروردگار کشادہ رحمت والا ہے اور نہیں ٹالا جاسکتا اس کا عذاب اس قوم سے جو جرائم پیشہ ہو۔

﴿148﴾ اب کہیں گے جنھوں نے شرک کیا اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم حرام کرتے کسی چیز کو ایسا ہی جھٹلایا تھا انھوں نے جو ان سے پہلے تھے یہاں تک کہ چکھا انھوں نے ہمارا عذاب ۔ آپ فرمائیے کیا تمھارے پاس کوئی علم ہے تو نکالو اسے ہمارے لیے تم نہیں پیروی کرتے مگر نرے گمان کی اور نہیں ہو تم مگر اٹکلیں مارتے ہو۔

﴿149﴾ آپ فرمائیے اللہ ہی کے لیے کامل دلیل ہے سو اگر وہ چاہتا تو ہدایت فرماتا تم سب کو ۔

﴿150﴾ آپ فرمائیے لاؤ اپنے گواہ جو گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ نے حرام کیا اسے پھر اگر وہ (جھوٹی) گواہی دے بھی دیں تو آپ نہ گواہی دیجیے ان کے ساتھ اور نہ تم پیروی کرنا ان کی خواہشوں کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور جو نہیں ایمان لاتے آخرت پر اور وہ اپنے رب کے ساتھ (دوسروں کو) برابر ٹھیراتے ہیں۔

﴿151﴾ آپ فرمائیے آؤ میں پڑھ سناؤں جو کچھ حرام کیا ہے تمھارے رب نے تم پر (وہ یہ) کہ نہ شریک بناؤ اس کے ساتھ کسی چیز کو اور ماں با پ کے ساتھ احسان کرو اور نہ قتل کرو اپنی اولاد کو مفلسی (کے خوف) سے۔ ہم رزق دیتے ہیں تمھیں بھی اور انھیں بھی اور مت نذدیک جاؤ بےحیائی کی باتوں کے جو ظاہر ہوں ان سے اور جو چھپی ہوئی ہوں اور نہ قتل کرو اس جان کو جسے حرام کردیا ہے اللہ نے سوائے حق کے یہ ہیں وہ باتیں حکم دیا ہے تمھیں اللہ نے جن کا۔ تاکہ تم (حقیقت) کو سمجھو۔

﴿152﴾ اور مت قریب جاؤ یتیم کے مال کے مگر اس طریقہ سے جو بہت اچھا ہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے اور پورا کرو ناپ اور تول انصاف کے ساتھ ہم نہیں تکلیف دیتے کسی کو مگر اس کی طاقت کے برابر۔ اور جب کھبی بات کہو تو انصاف کی کہو اگرچہ ہو (معاملہ) رشتہ دار کا اور اللہ سے کیے ہوئے وعدہ کو پورا کرو یہ ہیں وہ باتیں جن کا اللہ نے حکم دیا ہے تمھیں تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔

﴿153﴾ اور بےشک یہ ہے میرا راستہ سیدھا سو اس کی پیروی کرو اور نہ پیروی کرو اور راستوں کی (ورنہ ) جدا جدا کردیں گے تمھیں اللہ کے راستہ سے۔ یہ ہیں وہ باتیں حکم دیا ہے تمھیں جن کا تاکہ تم متقی بن جاؤ ۔

﴿154﴾ پھر عطا فرمائی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب تاکہ پوری کردیں نعمت ان پر جو نیک عمل کرتے ہیں اور تاکہ تفصیل ہوجائے ہر چیز کی اور (یہ کتاب) باعث ہدایت و رحمت ہے تاکہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے پر ایمان لائیں۔

﴿155﴾ اور یہ (قرآن) کتاب ہے ہم نے اتارا ہے اسے ، بابرکت ہے سو پیروی کرو اس کی اور ڈرو (اللہ سے ) تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

﴿156﴾ (ہم نے اسے اتارا ہے) تاکہ یہ نہ کہو کہ اتاری گئی تھی کتاب تو صرف دو گروہوں پر ہم سے پہلے اور ہم تو ان کے پڑھنے پڑھانے سے بالکل بےخبر تھے ۔

﴿157﴾ یا یہ نہ کہو کہ اگر اتاری گئی ہوتی ہم پر کتاب تو ہوتے ہم زیادہ ہدایت پانے والے ان سے بےشک آگئی ہے تمھارے پاس روشن دلیل اپنے رب کی رف اور سراسر ہدایت اور رحمت تو کون زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے جھٹلایا اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو اور منہ پھیرا ان سے عنقریب ہم سزا دیں گے انھیں جو منہ موڑتے ہیں ہماری آیتوں سے برے عذاب سے اس وجہ سے کہ وہ منہ پھیرا کرتے تھے۔

﴿158﴾ کس کی انتظار کررہے ہیں بجز اس کے کہ آئیں ان کے پاس فرشتے یا خود آئے آپ کا رب یا آئے کوئی نشانی آپ کے رب کی (لیکن) جس روز آئے گی کوئی نشانی آپ کے رب کی تو نہ نفع دے گا کسی کو اس کا ایمان لانا جو نہیں ایمان لاچکا تھا اس سے پہلے یا نہ کی تھی اپنے ایمان کے ساتھ کوئی نیکی ۔ آپ (انھیں) فرمائیے تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کررہے ہیں۔

﴿159﴾ بے شک وہ جنھوں نے تفرقہ ڈالا اپنے دین میں اور ہوگئے کئی گروہ ( اے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) !) نہیں ہے آپ کا ان سے کوئی علاقہ۔ ان کا معاملہ صرف اللہ ہی کے حوالے ہے پھر وہ بتائے گا انھیں جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔

﴿160﴾ جو کوئی لائے گا ایک نیکی تو اس کے لیے دس ہوں گی اس کی مانند اور جوئی کرے گا ایک برائی تو نہ بدلہ ملے گا اسے مگر اس (ایک برائی) کے برابر اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا ۔

﴿161﴾ آپ فرمائیے بےشک مجھے پہنچادیا ہے میرے رب نے سیدھی را ہ تک یعنی دین مستحکم (جو) ملت ابراہیم ہے جو باطل سے ہٹ کر صرف حق کی طرف مائل تھے اور نہیں تھے وہ مشرکوں سے۔

﴿162﴾ آپ فرمائیے بےشک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا (سب) اللہ کے لیے ہے جو رب ہے سارے جہانوں کا۔

﴿163﴾ نہیں کوئی شریک اس کا اور مجھے یہی حکم ہوا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں ۔

﴿164﴾ آپ فرمائیے کیا اللہ کے سوا میں تلاش کروں کوئی اور رب ۔ حالانکہ وہ رب ہے ہر چیز کا اور نہیں کماتا کوئی شخص (کوئی چیز) مگر وہ اسی کے ذمہ ہوتی ہے اور نہ اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ پھر اپنے رب کی طرف ہی تمھیں لوٹ کر جانا ہے تو وہ بتائے گا تمھیں جس میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔

﴿165﴾ اور وہی ہے جس نے بنا یا تمھیں (اپنا) خلیفہ زمین میں اور بلند کیا ہے تم میں سے بعض کو بعض پر درجوں میں تاکہ آزمائے تمھیں اس چیز میں جو اس نے تمھیں عطا فرمائی ہے بےشک آپ کا رب بہت جلد سزا دینے والا ہے اور بےشک وہ بہت بخشنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔

الاعراف

Surah 7

﴿1﴾ الف۔ لام۔ میم۔ صاد۔

﴿2﴾ یہ کتاب ہے نازل کی گئی ہے آپ کی طر ف پس چاہیے کہ نہ ہو آپ کے سینہ میں کچھ تنگی اس (کی تبلیغ) سے (یہ نازل کی گئی ہے ) تاکہ آپ ڈرائیں اس سے ، اور یہ نصیحت ہے مومنوں کے لیے۔

﴿3﴾ (اے لوگو!) پیروری کرو جو نازل کیا گیا ہے تمھاری طرف تمھارے رب کے پاس سے اور نہ پیروی کرو اللہ کو چھوڑ کر دوسرے دوستوں کی ۔ بہت ہی کم تم نصیحت قبول کرتے ہو۔

﴿4﴾ اور کتنی بستیاں تھیں برباد کردیا ہم نے انھیں ۔ پس آیا ان پر ہمارا عذاب رات کے وات یا جب وہ دوپہر کو سورہے تھے۔

﴿5﴾ پس نہ تھی ان کی (چیخ و ) پکار جب آیا ان پر ہمارا عذاب بجز اس کے کہ انھوں نے کہا بےشک ہم ہی ظالم تھے۔

﴿6﴾ سو ہم ضرور پوچھیں گے ان سے بھیجے گئے (رسول) جن کی طرف اور ہم ضرور پوچھیں گے رسولوں سے ۔

﴿7﴾ پھر ہم ضرور بیان کرین گے (ان کے حالات) ان پر اپنے علم سے اور نہ تھے ہم ان سے غائب ۔

﴿8﴾ اور (اعمال کا ) تولنا اس دن برھق ہے پس جن کے بھاری ہوئے ترازو تو وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔

﴿9﴾ اور جن کے ہلکے ہوئے ترازو تو یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے نقصان پہنچایا اپنے آپ کو بوجہ اس کے کہ ہماری آیتوں کے ساتھ بےانصافی کیا کرتے تھے۔

﴿10﴾ اور یقیناً ہم نے ہی آباد کیا تمھیں زمین میں اور مہیا کردئیے تمھارے لیے اس میں زندہ رہنے کے اسباب بہت ہی کم تم شکر ادا کرتے ہو۔

﴿11﴾ اور بےشک ہم نے پیدا کیا تمھیں پھر (خاص) شکل و صورت بنائی تمھاری پھر حکم دیا ہم نے فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو تو انھوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے نہ تھا وہ سجدہ کرنے والوں میں۔

﴿12﴾ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کس چیز نے روکا تجھے اس سے کہ تو سجدہ کرے جب میں حکم دیا تجھے ابلیس نے کہا (کیونکہ) میں بہتر ہوں اس سے تونے پیدا کیا مجھے آگ سے اور تونے پیدا کیا اسے کیچڑ سے۔

﴿13﴾ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اتر جاؤ یہاں سے مناسب نہیں ہے تیرے لیے کہ تو غرور کرے یہاں رہتے ہوئے پس نکل جا بےشک تو ذلیلوں میں سے ہے۔

﴿14﴾ بولا مہلت دے مجھے اس دن تک جب لوگ قبروں میں سے اٹھائے جائیں گے ۔

﴿15﴾ اللہ نے فرمایا بےشک تو مہلت دیئے ہوؤں میں سے ہے۔

﴿16﴾ کہنے لگا اس وجہ سے کہ تونے مجھے (اپنی رحمت سے) مایوس کردیا میں ضرور تاک میں بیٹھوں گا ان (کو گمراہ کرنے) کے لیے تیرے سیدھے راستہ پر۔

﴿17﴾ پھر میں ضرور آؤں گا ان کے پاس (بہکانے کے لیے ) ان کے آگے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائین اور بائیں سے اور تو نہ پائے گا ان میں سے اکثر شکر گزار۔

﴿18﴾ فرمایا نکل جا یہاں سے ذلیل (اور) راندہ ہوا جس کیسی نے پیروی کی تیری ان سے تو یقیناً میں بھردوں گا جہنم کو تم سب سے ۔

﴿19﴾ اور اے آدم! رہو تم اور تمھاری بیوی جنت میں اور کھاؤ جہاں سے چاہو اور مت نزدیک جانا اس (خاص) درخت کے ورنہ تم دونوں ہوجاؤ گے اپنا نقصان کرنے والوں سے۔

﴿20﴾ پھر وسوسہ ڈالا ان کے (دلوں میں) شیطان نے تاکہ بےپردہ کردے ان کے لیے جو ڈھانپا گیا تھا ان کی شرم گاہوں سے اور (انھیں) کہا کہ نہیں منع کیا تمھیں تمھارے رب نے اس درخت سے مگر اس لیے کہ کہیں نہ بن جاؤ تم دونوں فرشتے یا کہیں نہ ہوجاؤ ہمیشہ زندہ رہنے والوں سے۔

﴿21﴾ اور قسم اٹھائی ان کے سامنے کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں ۔

﴿22﴾ پس شیطان نے نیچے گرادیا ان کو دھوکہ سے پھر جب دونوں نے چکھ لیا درخت سے تو ظاہر ہوگئیں ان پر ان کی شرم گاہیں اور چپٹانے لگ گئے اپنے (بدن) پر جنت کے پتے اور ندا دی انھیں ان کے رب نے کیا نہیں منع کیا تھا میں تمھیں اس درخس سے اور کیا نہ فرمایا تھا تمھیں کہ بلاشبہ شیطان تمھارا کھلا دشمن ہے ۔

﴿23﴾ دونوں نے عرض کی اے ہمارے پروردگار! ہم نے ظلم کیا اپنی جانوں پر اور اگر نہ بخشش فرمائے تو ہمارے لیے اور نہ رحم فرمائے ہم پر تو یقیناً ہم نقصان اٹھانے والوں سے ہوجائیں گے۔

﴿24﴾ اللہ تعالیٰ نے فرمایا نیچے اترجاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے اور تمھارے لیے زمین میں ٹھکانہ ہے اور نفع اٹھانا ایک وقت تک۔

﴿25﴾ (نیز) فرمایا اسی زمین میں تم زندہ رہوگے اور اسی میں مروگے اور اسی سے تم اٹھائے جاؤ گے۔

﴿26﴾ اے اولاد آدم بیشک اتارا ہم نے تم پر لباس جو ڈھانپتا ہے تمھاری شرمگاہوں کو اور باعث زینت ہے۔ اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بہتر ہے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ وہ نصیحت قبول کریں۔

﴿27﴾ اے اولاد آدم ! نہ فتنہ میں مبتلا کردے تمھیں شیطان جیسے نکالا اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے (اور) اُتروادیا ان سے ان کا لباس تاکہ دکھلادے انھیں ان کے پردہ کی جگہیں ۔ بےشک دیکھتا ہے تمھیں وہ اور اس کا کنبہ جہاں سے تم نہیں دیکھتے ہو انھین بلاشبہ ہم نے بنادیا ہے شیطانوں کو دوست ان کا جو ایمان نہیں لاتے۔

﴿28﴾ اور جب کرتے کوئی بےحیائی کا کام ( تو) کہتے ہیں پایا ہم نے ایسا ہی کرتے ہوئے اپنے باپ دادا کو اور اللہ نے بھی ہمیں حکم دیا اس کا ۔ آپ فرمادیجیے بےشک اللہ حکم نہیں دیتا بےحیائیوں کا کیا ایسی بات لگاتے ہو اللہ پر جو تم نہیں جانتے۔

﴿29﴾ آپ فرمائیے حکم دیا ہے میرے ر نے عدل و انصاف کا اور سیدھا کرو اپنے چہرے (قبلہ کی طرف) ہر نماز کے وقت اور عبادت کرو اس کی اس حال میں کہ تم خالص کرنے والے ہو اس کے لیے عبادت کو ۔ جس طرح اس نے پہلے پیدا کیا تھا تمھین ویسے ہی تم لوٹوگے۔

﴿30﴾ ایک گروہ کو اللہ نے ہدایت دے دی اور ایک گروہ ہے کہ مقرر ہوگئی ان پر گمراہی انھوں نے بنالیا شیطانوں کو (اپنا ) دوست اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔

﴿31﴾ اے آدم کی اولاد! پہن لیا کرو اپنا لباس ہر نماز کے وقت اور کھاؤ اور پیؤ اور فضول خرچی نہ کرو بےشک اللہ نہیں پسند کرتا فضول خرچی کرے والوں کو۔

﴿32﴾ آپ فرمائیے کس نے حرام کیا اللہ کی زینت کو جو پیدا کی اس نے اپنے بندوں کے لیے اور (کس نے حرام کیے) لذیذ پاکیزہ کھانے آپ فرمائیے یہ چیزین ایمان والوں کیلیے ہیں اس دنیوی زندگی میں بھی (اور) صرف انھیں کے لیے ہیں قیامت کے روز یونہی ہم مفصل بیان کرتے ہیں آیتوں کو ان لوگوں کے لیے جو (حقیقت) کو جانتے ہیں۔

﴿33﴾ آپ فرمائیے بےشک حرام کردیا ہے میرے رب نے سب بےحیائیوں کو جو ظاہر ہیں ان سے اور جو پوشیدہ ہیں اور (حرام کردیا) گناہ کو اور سرکشی کو بغیر حق کے اور یہ کہ شریک ٹھیراؤ اللہ کے ساتھ جس کے لیے نہیں اتاری اللہ نے کوئی سند اور یہ کہ تم کہو اللہ پر ایسی بات جو تم نہیں جانتے ہو۔

﴿34﴾ اور ہر امت کے لیے ایک وقت مقرر ہے سو جب آجائے گا ان کا مقررہ وقت تو نہ وہ پیجھے ہٹ سکتے ہیں ایک لمحہ اور نہ وہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔

﴿35﴾ اے اولاد آدم! اگر آئیں تمھارے پاس رسول تم میں سے جو بیان کریں تم پر میری آیتیں جو جس نے تقویٰ اختیار کیا اور اپنی اصلاح کرلی تو نہیں ہے کوئی خوف ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

﴿36﴾ اور جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور غرور کیا ان سے وہ دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

﴿37﴾ اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے بہتان باندھا اللہ پر جھوٹا یا جھٹلایا اس کی آیتوں کو۔ انھیں مل جائے گا ان کا حصہ جو ان کی قسمت میں لکھا ہے یہاں تک کہ جب آئیں گے ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے جو قبض کریں گے ان کی روحوں کو تو (ان سے ) کہیں گے کہاں ہیں وہ جن کی تم عبادت کیا کرتے تھے اللہ کے سوا کہیں گے وہ گم ہوگئے ہم سے اور گوای دیں گے اپنے نفسوں پر کہ وہ کافر تھے۔

﴿38﴾ اللہ تعالیٰ فرمائے گا داخل ہوجاؤ ان امتوں میں جو گزر چکی ہیں تم سے پہلے جنوں اور انسانوں سے (ان کے پاس) دوزخ میں (داخل ہوجاؤ) جب بھی داخل ہوگی کوئی اُمت تو وہ لعنت بھیجے گی دوسری امت پر یہاں تک کہ جب جمع ہوجائیں گے اس مین سب امیتیں تو کہے گی آکری امت پہلی امتوں کے متعلق اے ہمارے رب! انھوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا پس دے ان کو دگنا عذاب آگ سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہر ایک کے لیے دگنا عذاب ہے لیکن تم نہیں جانتے۔

﴿39﴾ اور کہیں گی پہلی امتیں پچھلی امتوں سے کہ نہیں ہے تمھیں ہم پر کوئی فضیلت پس چکھو عذاب بوجہ اس کے جو تم کیا کرتے تھے۔

﴿40﴾ بے شک جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تکبر کیا ان سے نہ کھولے جائیں گے ان کے لیے آسمان کے دروازے اور نہ داخل ہوں گے جنت میں جب تک نہ داخل ہو اونٹ سوئی کے ناکہ میں اور اسی طرھ ہم بدلہ دیتے ہیں جرم کرنے والوں کو۔

﴿41﴾ ان کے لیے دوزخ کا ہی بچھونا ہوگا اور ان کے اوپر (اسی کا ) اوڑھنا اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ظالموں کو۔

﴿42﴾ اور جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے (ہمارا قانون یہ ہے کہ) ہم تکلیف نہیں دیتے کسی کو مگر جتنی اس کی طاقت ہے۔ وہ جنتی ہیں وہ اس مین ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

﴿43﴾ اور ہم نکال لیں گے جو کچھ ان کے سینوں میں کینہ ہے رواں ہوں گی ان کے نیچے سے نہریں اور کہیں گے ساری تعریفیں اللہ کیلیے ہیں جس نے راہ دکھائی ہمیں اس بہشت کی اور ہم ہدایت یافتہ نہیں ہوسکتے تھے اگر نہ ہدایت دیتا ہمیں اللہ تعالیٰ ۔ بےشک آئے ہمارے رب کے رسول حق کے ساتھ اور ان (خوش نصیبوں) کو آواز دی جائے گی کہ یہی وہ جنت ہے، وارث بنائے گئے ہو تم جس کے بوجہ ان عملوں کے جو تم کیا کرتے تھے۔

﴿44﴾ اور آواز دیں گے جنتی دوزخیوں کو کہ بےشک ہم نے پالیا جو وعدہ فرمایا تھا ہمارے ساتھ ہمارے رب نے سچا۔ تو کیا تم نے بھی پایا جو وعدہ کیا تھا تمھارے رب نے سچا وہ کہیں گے ہاں۔ تو پھر اعلان کرے گا ایک اعلان کرنے والا ان کے درمیان یہ کہ لعنت ہو اللہ کی ظالموں پر۔

﴿45﴾ جو روکتے ہیں اللہ کے راستے سے اور چاہتے ہیں اسے کہ ٹیڑ ھا ہوجائے اور وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں۔

﴿46﴾ اور ان دونوں (جنت و دوزخ ) کے درمیان پردہ ہے۔ اور اعراف پر کچھ مرد ہوں گے جو پہچانتے ہوں گے سب کو ان کی علامت سے اور وہ آوازیں دیں گے جنتیوں کو کہ سلامتی ہو تم پر (اور ابھی) جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے اور وہ جنت میں داخل ہونے کے خواہش مند ہوں گے۔

﴿47﴾ اور جب پھیری جائیں گی ان کی نگاہیں دوزخیوں کی طرف (تو) کہیں گے اے ہمارے رب ! نہ کر تو ہمیں ظلم پیشہ لوگوں کے ساتھ۔

﴿48﴾ اور پکاریں گے اعراف والے ان لوگوں کو جنھیں وہ پہچانتے ہوں گے ان کی علامتوں سے (انھیں) کہیں گے نہ فائدہ پہنچایا تمھیں تمھارے جھتے نے اور (نہ اس سازو سامان نے) جس کی وجہ سے تم غرور کیا کرتے تھے۔

﴿49﴾ (اے سرکشو!) کیا یہ (جنتی) وہی (نہیں) ہیں جن کے متعلق تم قسمیں اٹھا یا کرتے تھے کہ نہیں عطا کرے گا انھیں اللہ اپنی رحمت سے (دیکھو انھیں تو حکم مل گیا ہے کہ) داخل ہوجاؤ جنت میں۔ نہیں کوئی خوف تم پر اور نہ تم غمگین ہوگے۔

﴿50﴾ اور آواز دوزخی جنتیوں کو کہ انڈیلو ہم پر کچھ پانی یا جو کچھ یا ہے تمھیں اللہ تعالیٰ نے ۔ جنت کہیں گے کہ اللہ نے حرام کردی ہیں یہ دونوں چیزیں کافروں پر۔

﴿51﴾ جنھوں نے بنالیا تھا اپنے دین کو کھیل اور تماشہ اور فریب میں مبتلا کردیا تھا انھیں دنیا کی زندگی نے ۔ سو آج ہم فراموش کردیں گے انھیں جیسے بھلادیا تھا انھوں نے اس دن کی ملاقات کو اور جس طرح وہ ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے۔

﴿52﴾ اور بےشک لے آئے ہم ان کے پاس ایک کتاب جسے ہم نے واضح کردیا ہے (اپنے ) علم (کامل) سے درآں حالیکہ وہ ہدایت اور رحمت ہے، اس قوم کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔

﴿53﴾ کافر کس چیز کے منتظر ہیں ؟ یہ کہ قرآن کی دھمکی کا انجان کیا ہوتا ہے۔ جس روز ظاہر ہوگا اس کا انجام تو کہین گے جو بھلائے ہوئے تھے اس سے پہلے کہ بےشک لائے تھے ہمارے رب کے رسول حق (پیغام) تو کیا (آج) ہمارے کوئی سفارشی ہیں تو وہ سفارش کریں ہمارے لیے یا ہمین واپس بھیج دیا جائے تاکہ ہم عمل کریں اس کے برعکس جو ہم کیا کرتے تھے بےانھوں نے نقصان پہنچایا اپنے آپ کو اور گم ہوگیا ان سے جو ہو بہتان باندھا کرتے تھے۔

﴿54﴾ بلاشبہ تمہارا رب اللہ ہے جس نے ٦٧ ف پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پھر متمکن ہوا عرش پر ٦٨ ف (جیسے اسے زیبا ہے) ڈھانکتا ہے رات سے دن کو ٦٩ ف درآں حالیکہ طلب کرتا ہے دن رات کو تیزی سے اور (پیدا فرمایا) ورج اور چاند اور ستاروں کو وہ سب پابند ہیں اس کے حکم کے سن لو! اسی کے لیے خاص ہے، پیدا کرنا اور حکم دینا ٧٠ فO بڑی برکت والا ہے اللہ تعالیٰ جو مرتبہ کمال تک پہنچانے والا ہے

﴿55﴾ دعا کرو اپنے رب سے گڑ گڑاتے ہوئے اور آہستہ آہستہ بےشک اللہ نہیں دوست رکھتا حد سے بڑھنے والو کو ۔

﴿56﴾ اور نہ فساد پھیلاؤ زمین میں اس کی اصلاح کے بعد اور دعا مانگو اس سے ڈرتے ہوئے اور امید کرتے ہوئے بیشک اللہ کی رحمت قریب ہے نیکو کاروں سے۔

﴿57﴾ اور وہی خدا ہے جو بھیجتا ہے ہواؤں کو خوشخبری سناتے ہوئے اپنی رحمت (بارش) سے پہلے۔ یہاں تک کہ جب وہ اٹھا لاتی ہیں بھاری بادل تو ہم لے جاتے ہیں اسے کسی ویران شہر کی طرف پھر ہم اتارتے ہیں اس سے پانی پھر پیدا کرتے ہیں اس کے ذریعہ ہر قسم کے پھل اسی طرح ہم نکالیں گے مردوں کو تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔

﴿58﴾ اور جو سر زمین عمدہ زرخیز ہے (کثرت سے) نکلتی ہے اس کی پیداوار اپنے رب کے حکم سے اور جو خراب ہے نہیں نکلتی اس سے (پیداوار) مگر قلیل گھٹیا اسی طرح ہم مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں اپنی نشانیاں اس قوم کے لیے جو شکر گزار ہے۔

﴿59﴾ بیشک ہم نے بھیجا نوح ( علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف تو انھوں نے کہا اے میری قوم! عبادت کرو اللہ کی نہیں ہے تمھار ا کوئی معبود اللہ کے سوا بےشک میں ڈرتا ہوں کہ تم پر بڑے دن کا عذاب نہ آجائے۔

﴿60﴾ اور ان کی قوم کے سرداروں نے کہا (اے نوح!) ہم دیکھتے ہیں تمھیں کھلی گمراہی میں۔

﴿61﴾ آپ نے کہا اے میری قوم! نہیں ہے مجھ میں ذرا گمراہی بلکہ میں تو رسول ہوں سارے جہانوں کے پروردگار کی طرف سے۔

﴿62﴾ پہنچاتا ہوں تمھیں پیغامات اپنے رب کے اور نصیحت کرتا ہوں تمھیں اور میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے۔

﴿63﴾ کیا تم تعجب کرتے ہو اس پر کہ آئی تمھارے پاس نصیحت تمھارے رب کی طرف سے ایک آدمی کے ذریعہ جو تم میں سے ہے تاکہ وہ ڈرائے تمھیں (غضبِ الٰہی سے) اور تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

﴿64﴾ پھر بھی انھوں جھٹلایانوح ( علیہ السلام) کو تو ہم نے نجات دی ان کو اور جو آپ کے ساتھ کشتی میں تھے اور ہم نے غرق کردیا ان (بد بختوں) کو جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو بےشک وہ لوگ دل کے اندھے تھے۔

﴿65﴾ اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا آپ نے کہا اے میری قوم! عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی نہیں ہے تمھار ا کوئی معبود اس کے سوا کیا تم نہیں ڈرتے۔

﴿66﴾ کہنے لگے وہ سردار جو کافر تھے آپ کی قوم سے کہ ( اے ہود) ہم خیال کرتے ہیں کہ تم نرے نادان ہو اور ہم گمان کرتے ہیں کہ تم جھوٹوں میں سے ہو۔

﴿67﴾ ہود نے کہا اے میری قوم! نہیں مجھ میں ذرا نادانی بلکہ میں تو رسول ہوں رب العالمین کی طر ف سے۔

﴿68﴾ پہنچاتا ہوں تمھیں پیغامات اپنے رب کے اور میں تو تمھارا ایسا خیر خواہ ہوں جو دیانت دار ہو۔

﴿69﴾ کیا تم تعجب کرتے ہو کہ آئی تمھارے پاس نصیحت تمھارے رب کی طرف سے ایک آدمی کے ذریعہ جو تم میں سے ہے تاکہ وہ ڈرائے تمھیں (عذابِ الٰہی سے ) اور یاد کرو جب اس نے بنادیا تمھیں جانشین قوم نوح ( علیہ السلام) کے بعد اور بڑھادیا تمھیں جسمانی لحاظ سے قدو قامت میں تو یاد کرو اللہ کی نعمتوں کو شاید تم کامیاب ہوجاؤ ۔

﴿70﴾ وہ کہنے لگے (اے ہود!) کیا تم اس لیے ٓئے ہو ہمارے پاس کہ ہم عبادت کریں ایک اللہ کی اور چھوڑ دیں ان (معبودوں) کو جن کی عبادت کیا کرتے تھے ہمارے باپ دادا سو لے آؤ ہم پر وہ (عذاب) جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو اگر تم سچے ہو۔

﴿71﴾ ہود (علیہ السلام) نے کہا واجب ہوگیا تم پر تمھارے رب کی طرف سے عذاب اور غضب کیا تم جھگڑا کرتے ہو مجھ سے ان ناموں کے بارے میں جو رکھ لیے ہیں تم نے اور تمھارے باپ دادا نے حالانکہ نہیں اتاری اللہ نے ان کے لیے کوئی سند سو تم بھی انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والا ہوں۔

﴿72﴾ پھر ہم نے نجات دے دی ہود کو اور جو ان کے ہمرا ہ تھے اپنی خاص رحمت سے اور ہم نے کاٹ کر رکھ دی جڑ ان لوگوں کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور نہ تھے وہ ایمان لانے والے۔

﴿73﴾ اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح (علیہ السلام ) کو بھیجا آپ نے کہا اے میری قوم! عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی نہیں ہے تمھارا کوئی معبود اس کے سوا بےشک آچکی ہے تمھارے پاس روشن دلیل تمھارے رب کی طرف سے یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمھارے لیے نشانی ہے پس چھوڑدو اس کو کھاتی پھرے اللہ کی زمین میں اور نہ ہاتھ لگاؤ اسے برائی سے ورنہ پکڑے گا تمھین عذاب دردناک ۔

﴿74﴾ اور یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے بنایا تمھیں جانشین عاد کے بعد اور ٹھکانا دیا تمھین زمین میں تم بناتے ہو اس کے میدانی علاقوں میں عالیشان محل اور تراشتے ہو پہاڑوں میں مکانات سو یاد کرو اللہ کی نعمتیوں کو اور نہ پھرو زمین میں فساد برپا کرتے ہوئے۔

﴿75﴾ کہا ان سرداروں نے جو تکبر کیا کرتے تھے ان کی قوم سے ان لوگوں کو جنھیں وہ کمزور و ذلیل سمجھتے تھے جو ان میں سے ایمان لائے تھے کیا تم یقین رکھتے ہو کہ صالح رسول ہے اپنے رب کی طرف سے ۔ انھوں نے کہا بےشک ہم اس پر جسے دے کر انھیں بھیجا گیا ہے ایمان لانے والے ہیں۔

﴿76﴾ کہنے لگے وہ لوگ جو تکبر کیا کرتے تھے کہ ہم تو اس چیز کے جس پر تم ایمان لائے ہو منکر ہیں۔

﴿77﴾ پس انھوں نے کونچیں کاٹ ڈالیں اس اونٹنی کی اور انھوں نے سرکشی کی اپنے رب کے حکم سے اور کہا اے صالح! لے آؤ ہم پر اس (عذاب) کو جس کا تم نے ہم سے وعدہ کیا تھا اگر تم اللہ کے رسولوں سے ہو ۔

﴿78﴾ پھر آلیا انھیں زلزلہ کے جھٹکوں نے تو صبح کے وقت وہ اپنے گھروں میں منہ کے بل گرے پڑے تھے

﴿79﴾ تو (صالح نے) منہ پھر لیا ان کی طرف سے اور (بصد حسرت) کہا اے میری قوم! بےشک پہنچادیا میں نے تم کو پیغام اپنے رب کا اور میں نے خیر خواہی کی تماھاری لیکن تم تو پسند ہی نہیں کرتے اپنے خیر خواہوں کو۔

﴿80﴾ اور بھیجا ہم نے لوط کو جب انھوں نے کہا اپنی قوم سے کہ کیا تم کیا کرتے ہو ایسی بےحیائی (کا فعل) جو تم سے پہلے کسی نے نہیں کیا ساری دنیا میں ۔

﴿81﴾ بے شک تم جاتے ہو مردوں کے پاس شہوت رانی کیلیے عورتوں کو چھوڑ کر بلکہ تم لوگ تو حد سے گزرنے والے ہو۔

﴿82﴾ اور نہ تھا کوئی جواب ان کی قوم کے پاس سوائے اس کے کہ وہ بولے باہر نکال دو انھیں اپنی بستی سے یہ لوگ تو بڑے پاکباز بنتے ہیں۔

﴿83﴾ پس ہم نے نجات دے دی لوط کو اور ان کے گھر والوں کو بجز ان کی بیوی کے ، وہ ہوگئی پیچھے رہ جانے والوں سے۔

﴿84﴾ اور برسایا ہم نے ان پر (پتھروں کا) مینہ تو دیکھو کیسا (عبرت ناک) انجام ہوا مجرموں کا۔

﴿85﴾ اور (ہم نے بھیجا) مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب ( علیہ السلام) کو انھوں نے کہا اے میری قوم! عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی نہیں ہے تمھار ا کوئی خدا اس کے بغیر بےشک آگئی تمھارے پاس روشن دلیل تمھارے رب کی طرف سے تو پورا کرو ناپ اور تول کو اور نہ گھٹا کر دو لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ فساد برپا کرو زمین میں اس کی اصلاح کے بعد یہ بہتر ہے تمھارے لیے اگر تم ایمان لانے والے ہو۔

﴿86﴾ اور مت بیٹھا کرو راستوں پر کہ ڈرا رہے ہو تم (راہ گیروں کو ) اور روک رہے ہو تم اللہ کی راہ سے جو ایمان لایا اللہ کے ساتھ اور تالش کرتے ہو اس میں عیب ۔ اور یاد کرو (وہ وقت) جب تم تھوڑے تھے پھر اس نے تمھیں بڑھادیا اور دیکھو! کیا ہوا انجام فساد برپا کرنے والو کا۔

﴿87﴾ اور اگر ایک گروہ تم میں سے ایمان لاچکا ہے اس کے ساتھ جو دے کر میں بھیجا گیا ہوں اور ایک گروہ ایمان نہ لایا تو (ذرا) صبر کرو یہا تک کہ فیصلہ کردے اللہ ہمارے درمیان اور وہ سب سے بہت فیصلہ کرنے والا ہے۔

﴿88﴾ کہنے لگے وہ سردار جو غرور و تکبر کیا کرتے تھے ان (شعیب ( علیہ السلام) ) کی قوم سے یا تو ہم نکال کررہیں گے تمھیں اے شعیب ( علیہ السلام) اور جو ایمان لائے تمھارے ساتھ اپنی بستی سے یا تمھیں لوٹ آنا ہوگا ہماری ملت میں ۔ شعیب نے کہا اگر ہم اس (ارتداد) کو ناپسند بھی کرتے ہوں

﴿89﴾ پھر تو ہم نے ضرور بہتا ن باندھا اللہ تعالیٰ پر جھوٹا اگر ہم لوٹ آئیں گے تمھارے دین میں اس کے بعد کہ جب نجات دے دی ہمیں اللہ نے اس سے اور نہیں کوئی وجہ ہمارے لیے کہ ہم لوٹ آئیں اس میں مگر یہ کہ چاہے اللہ تعالیٰ جو پروردگار ہے ہمارا گھیرے ہوئے ہے ہمارا رب ہر چیز کو اپنے علم سے صرف اللہ پر ہم نے بھروسہ کیا ہے اے ہمارے رب فیصلہ فرمادے ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ اور تو سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔

﴿90﴾ اور کہا ان ریئسوں نے جو کافر تھے ان کی قوم سے کہ اگر تم پیروی کرنے لگو شعیب ( علیہ السلام) کی تو یقیناً تم نقصان اٹھانے والے ہوجاؤ گے۔

﴿91﴾ پھر پکڑ لیا انہیں زلزلہ نے تو صبح کے وقت وہ اپنے گھروں میں مبہ کے بل گرے پڑے تھے۔

﴿92﴾ جن (بد بختوں) نے جھٹلایا شعیب ( علیہ السلام) کو (وہ یوں نابود کردیے گئے) گویا کبھی بستے ہی نہ تھے ان مکانوں میں جنھوں نے جھٹلایا شعیب ( علیہ السلام) کو ہوگئے وہی نقصان اٹھانے والے ۔

﴿93﴾ تو منہ پھیر لیا ان کی طرف سے اور کہا اے میری قوم! بےشک میں نے پہنچا دئیے تھے تمھیں پیغامات اپنے رب کے اور میں نے نصیحت کی تھی تمھیں ۔ تو (اب) کیونکر غم کروں میں کافر قوم ( کے ہولناک انجام) پر۔

﴿94﴾ اور نہ بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی مگر یہ کہ (جب نبی جھٹلایا گیا ) تو ہم نے مبتلا کردیا وہاں کے باشندوں کو سختی اور تکلیف میں تاکہ وہ گڑگڑانے لگیں۔

﴿95﴾ پھر ہم نے بدل دی تکلیف کے بدلے راحت حتی کہ پھلے پھولے اور کہنے لگے بےشک (یونہی) پہنچا کرتی تھی ہمارے باپ دادا کو (کبھی) تکلیف اور (کبھی) راحت تو ہم نے پکڑ لیا انھیں اچانک اور اس کا انھیں خواب و خیال بھی نہ تھا۔

﴿96﴾ اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ضرور ہم کھول دیتے ان پر برکتیں آسمان کی اور زمین کی لیکن انھوں نے جھٹلایا (ہمارے رسولوں کو ) تو پکڑ لیا ہم نے انھیں بوجہ ان کرتوتوں کے جو وہ کیا کرتے تھے۔

﴿97﴾ تو کیا بےخوف ہو گئے ہیں ان بستیوں والے اس سے کہ آجائے ان پر ہمارا عذاب راتوں رات اس حال میں کہ وہ سورہے ہوں۔

﴿98﴾ یا کیا بےخوف ہوگئے ہیں ان بستیوں والے اس سے کہ آجائے ان پر ہمارا عذاب چاشت کے وقت جب کہ وہ کھیل کود رہے ہوں۔

﴿99﴾ تو کیا یہ بےخوف ہوگئے ہیں اللہ کی خفیہ تدبیر سے پس نہیں بےخوف ہوتے اللہ کی خفیہ تدبیر سے سوائے اس قوم کے جو نقصان اٹھانے والی ہوتی ہے۔

﴿100﴾ کیا یہ (حقیقت) واضح نہ ہوئی ان لوگوں پر جو وارث بنے زمین کے اس کے اصلی مالکوں (کی تباہی) کے بعد کہ اگر ہم چاہیں تو سزا دیں انھیں ان کے گناہوں کی وجہ سے اور مہر لگادیں ان کے دلوں پر تاکہ وہ کچھ سن ہی نہ سکیں۔

﴿101﴾ یہ بستیاں ہیں ہم بیان کرتے ہیں آپ سے ان کی کچھ خبریں ۔ اور بےشک آئے ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ۔ اور نہ ہوا یہ کہ ایمان لاتے اس پر جس کو جھٹلا چکے تھے۔ اس سے پہلے اسی طرح مہر لگا دیتا ہے اللہ تعالیٰ کافروں کے دلوں پر ۔

﴿102﴾ اور نہ پایا ہم نے ان کی اکثریت کو وعدہ کا پانبد اور ضرور پایا ان میں سے بہتوں کو حکم عدولی کرنے والا۔

﴿103﴾ پھر ہم نے بھیجا ان کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف انھوں نے انکار کردیا ان کا۔ سو دیکھو کیسا انجام ہوا فساد برپا کرنے والوں کا۔

﴿104﴾ اور کہا موسیٰ (علیہ السلام) نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں پروردگار عالم کا ۔

﴿105﴾ واجب ہے مجھ پر کہ نہ کہوں اللہ پر سوائے سچی بات کے میں آیا ہوں تمھارے پاس روشن دلیل لے کر تمھارے رب کی طر سے پس بھیج دے میرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔

﴿106﴾ فرعون نے کہا اگر تم لائے ہو کوئی نشانی تو پیش کرو اسے اگر تم (اپنے دعویٰ میں) سچے ہو۔

﴿107﴾ تو ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو وہ فوراً صاف اژدہا بن گیا۔

﴿108﴾ اور نکالا اپنا ہاتھ (گریبان سے) تو فوراً وہ سفید (روشن ) ہوگیا دیکھنے والوں کے لیے۔

﴿109﴾ کہنے لگے فرعون کے ریئس واقعی یہ شخص بڑا ماہر جادو گر ہے۔

﴿110﴾ چاہتا ہے کہ نکال دے تمھیں تمھارے ملک سے تو اب تم کیا مشورہ دیتے ہو۔

﴿111﴾ بولے مہلت دو اسے اور اس کے بھائی کو اور بھیجو شہروں میں ہر کارے ۔

﴿112﴾ تاکہ وہ لے آئیں تمھارے پاس ہر ماہر جادو گر کو۔

﴿113﴾ اور آگئے جادوگر فرعون کے پاس جادوگروں نے کہا یقیناً (آج تو) ہمیں بڑا انعام ملنا چاہیے اگر ہم (موسیٰ ( علیہ السلام) پر ) غالب آجائیں۔

﴿114﴾ فرعون نے کہا بےشک اور (اس کے علاوہ) تم خا صان بارگاہ سے ہوجاؤگے۔

﴿115﴾ جادوگروں نے کہا اے موسیٰ! یا تو تم (پہلے) ڈالو ورنہ ہم ہی (پہلے ) ڈالنے والے ہیں۔

﴿116﴾ آپ نے فرمایا تم ہی ڈالو پس جب انھوں نے ڈالا تو جادو کردیا انھوں نے لوگوں کی آنکھوں پر اور خوفزدہ کردیا انھیں اور مظاہرہ کیا انھوں نے بڑے جادو کا۔

﴿117﴾ اور ہم نے وحی کی موسیٰ ( علیہ السلام) کو کہ ڈالیے اپنا عصا تو فوراً نگلنے لگا جو فریب انھوں نے بنا رکھا تھا ۔

﴿118﴾ تو ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو (جادو) وہ کیا کرتے تھے۔

﴿119﴾ یوں فرعونی مغلوب ہوگئے وہاں (بھرے مجمع میں) اور پلٹے ذلیل و خوار ہو کر۔

﴿120﴾ اور گر پڑے جادو گر سجدہ کرتے ہوئے۔

﴿121﴾ (اور) کہنے لگے ہم تو ایمان لے آئے سارے جہانوں کے پروردگار پر۔

﴿122﴾ جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا۔

﴿123﴾ فرعون نے کہا تم تو ایمان لائے ہوئے تھے اس پر اس سے پہلے کہ میں (اس کے مقابلہ کی) تمھیں اجازت دیتا بےشک یہ ایک فریب ہے جو تم نے (مل کر) کہا ہے شہر میں تاکہ تم نکال دو یہاں سے اس کے اصلی باشندوں کو ابھی (اس کا انجام) تمھیں معلوم ہوجائے گا۔

﴿124﴾ میں پہلے کٹواؤں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مختلف طرفوں سے پھر تمھیں سولی پر لٹکاؤوں گا سب کے سب کو۔

﴿125﴾ وہ بولے (پرواہ نہیں) ہم نے اپنے رب کی طرف جانے والے ہیں۔

﴿126﴾ اور تو کیا ناپسند کرتا ہے ہم سے بجز اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ آئیں ہمارے پاس اے ہمارے رب! انڈیل دے ہم پر صبر اور وفات دے ہمیں اس حال میں کہ ہم مسلمان ہوں۔

﴿127﴾ اور کہا فرعون کے سرداروں نے (اے فرعون!) کیا تو (یونہی) چھوڑے رکھے گا موسیٰ اور اس کی قوم کو تاکہ فساد برپا کرتے رہیں اس ملک میں اور چھوڑے رہے موسیٰ تجھے اور تیرے خداؤں کو اس نے (برا فروختہ ہوکر ) کہا (ہر گز نہیں بلکہ) ہم تہہ تیغ کردیں گے ان کے لڑکوں کو اور زندہ چھوڑدیں گے ان کی عورتوں کو ۔ اور ہم بےشک ان پر غالب ہیں۔

﴿128﴾ فرمایا موسیٰ نے اپنی قوم کو (اس آزمائش میں) مدد طلب کرو اللہ سے اور صبرو استقامت سے کام لو۔ بلاشبہ زمین اللہ ہی کی ہے وارث بناتا ہے اس کا جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں سے۔ اور اچھا انجام پرہیزگاروں کے لیے (مخصوص) ہے۔

﴿129﴾ قوم موسیٰ نے کہا ہم تو ستائے گئے اس سے پہلے بھی کہ آپ آئے ہمارے پاس اور اس کے بعد بھی کہ ٓپ آئے ہمارے پاس آپ نے کہا عنقریب تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور (اُن کا ) جانشین بنادے گا تمھیں زمین میں پھر وہ دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔

﴿130﴾ اور بےشک ہم نے پکڑ لیا فرعونیوں کو قحط سالی اور پھلوں کی پیداوار میں کمی سے تاکہ وہ نصیحت قبول کریں۔

﴿131﴾ تو جب آتا ان پر خوشحالی کا دور تو کہتے ہم مستحق ہیں اس کے اور اگر پہنچتی انھیں کوئی تکلیف (تو) بدفالی پکڑتے موسیٰ ( علیہ السلام) سے اور آپ کے ساتھیوں سے سن لو! ان کی بدفالی تو (مکافات عمل کے قانون کے مطابق) اللہ کے پاس سے ہے لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو ) نہیں جانتے۔

﴿132﴾ اور انھوں نے کہا کیسی ہی تولے آئے ہمارے پاس نشانی (معجزہ) تاکہ تو جادو کرے ہم ر اس سے ہرگز نہیں ہم تم پر ایمان لانے والے۔

﴿133﴾ پھر بھیجا ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈی اور جوئیں اور مینڈک اور خون (یہ سب ) واضح نشانیاں تھیں پھر بھی وہ تکبر کرتے رہے اور وہ لوگ (پیشہ ور ) مجرم تھے۔

﴿134﴾ اور جب آجاتا ان کوئی عذاب تو کہتے اے موسیٰ دعا کر ہمارے لیے اپنے پروردگار سے اس عہد کے سبب جو اس کا تماھرے ساتھ ہے اگر تم ہٹادو گے ہم سے یہ عذاب تو ہم ضرور ایمان لائیں گے تم پر اور ضرور روانہ کردیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔

﴿135﴾ پھر جب ہم نے دور کردیا ان سے عذاب ایک مقررہ میعا د تک جس کو وہ پہنچنے والے تھے تو فوراً انھوں نے (توبہ کا عہد ) توڑ دیا۔

﴿136﴾ پھر ہم نے بدلہ لیا ان سے اور غرق کردیا انھیں سمندر میں کیونکہ انھوں نے جھٹلایا تھا ہماری آیتوں کو اور وہ اس (آنے والے ) عذاب سے بالکل غافل تھے۔

﴿137﴾ اور ہم نے وارث بنادیا اس قوم کو جسے ذلیل و حقیر سمجھا جاتا تھا (انھیں وارث بنایا) اس زمین کے شرق و غرب کا جس میں ہم نے برکت رکھ دی تھی اور پورا ہوگیا آپ کے پروردگار کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل کے متعلق بوجہ اس کے انھوں نے صبر کیا تھا اور ہم نے برباد کردیا جو کیا کرتا تھا فرعون اور اس کی قوم اور (برباد کردیے) جو بلند مکان وہ تعمیر کیا کرتے تھے۔

﴿138﴾ اور ہم نے پار اتار ا نبی اسرائیل کو سمندر سے تو گزرے وہ ایک ایسی قوم پر جو مگن بیٹھے تھے اپنے بتوں کی عبادت میں بنی اسرئیل نے کہا اے موسیٰ ! ہمارے لیے بھی ایک (ایسا ) خدا جیسے ان کے خدا ہیں موسیٰ نے فرمایا یقیناً تم جاہل (اور بےسمجھ) لوگ ہو۔

﴿139﴾ بے شک یہ لوگ جس کام میں لگے ہیں تباہ ہوکر رہیں گے اور باطل ہے جو کچھ وہ کررہے ہیں۔

﴿140﴾ موسیٰ نے کہا کیا بغیر اللہ کے میں تلاش کروں تمھارے لیے کوئی اور کدا حالانکہ اسی نے ضضیلت دی ہے تمھیں سارے جہانوں پر۔

﴿141﴾ اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے نجات دی تمھیں فرعونیوں سے جو چکھاتے تھے تمھیں سخت عذاب مار ڈالتے تھے تمھارے فرزندوں کو اور زندہ چھوڑتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں تمھارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔

﴿142﴾ اور ہم نے وعدہ کیا موسیٰ سے تیس رات کا اور مکمل کرلیا اسے دس مزید راتوں سے سو پوری ہوگئی اس کے رب کی میعاد چالیس راتیں اور (طور پر جاتے وقت) کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہ میرا نائب رہنا میری قوم میں اور اصلاح کرتے رہنا اور مت چلنا مفسدوں کے راستہ پر۔

﴿143﴾ اور جب آئے موسیٰ ہمارے مقرر کیے وقت پر اور گفتگو کی ان سے ان کے رب نے (تو اس وقت) عرض کی اے میرے رب! مجھے دیکھنے کی قوت دے تاکہ میں تیری طرف دیکھ سکوں اللہ نے فرمایا تم ہرگز نہیں دیکھ سکتے مجھے البتہ دیکھو اس پہاڑ کی طرف سو اگر یہ ٹھیرا رہا اپنی جگہ پر تم بھی دیکھ سکو گے مجھے پھر جب تجلی ڈالی ان کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اسے پاش پاش اور گر پڑے موسیٰ بےہوش ہو کر پھر جب آپ کو ہوش آیا تو عرض کی پاک ہے تو (ہر نقص سے) میں توبہ کرتا ہوں تیری جناب میں اور میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں۔

﴿144﴾ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ ! میں نے سرفراز کیا ہے تجھے تمام لوگوں پر اپنی پیغامبری سے اور اپنے کلام سے اور لے لو جو میں دیا ہے تمھیں اور ہوجاؤ شکر گزار بندوں سے۔

﴿145﴾ اور ہم نے لکھ دی موسیٰ کے لیے تختیوں میں ہر چیز نصیحت پذیری کے لیے اور (لکھ دی) تفصیل ہر چیز کی پھر (فرمایا) پکڑ لو اسے مضبوطی سے اور حکم دو اپنی قوم کو پکڑلیں اس کی اچھی باتیں عنقریب میں دکھاؤں گا تمھیں نافرمانوں کا (برباد شدہ) گھر۔

﴿146﴾ میں پھیر دوں گا اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کی توجہ کو جو غرور کرتے پھرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں تمام نشانیوں کو (تو بھی) نہ ایمان لائین گے ان پر۔ اور دیکھ بھی لیں راہ رشد و ہدایت تب بھی نہ بنائیں اسے (اپنا) راستہ۔ اور اگر دیکھیں گمراہی کے راستہ کو ( تو جھٹ) بنالیں اسے (اپنی) راہ یہ (ساری غلط روی) اس لیے ہے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور (ہمیشہ) رہے ان سے غفلت برتنے والے۔

﴿147﴾ اور جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو ضائع ہوگئے ان کے سارے اعمال کیا انھیں جزا دی جائے گی سوائے اس کے جو وہ کیا کرتے تھے؟ (ہر گز نہیں)۔

﴿148﴾ اور بنا لیا قوم موسیٰ نے ان کے (طور پر جانے کے بعد) اپنے زیوارت سے ایک بچھڑا جو محض ڈھانچہ تھا اس سے گائے کی آواز آتی تھی۔ کیا نہ دیکھا انھوں نے کہ وہ نہ بات کرسکتا ہے اسے اور نہ انھیں ہدایت کی راہ بتاسکتا ہے انھوں نے (خدا ) بنالیا اسے اور وہ (بڑے ) ظالم تھے۔

﴿149﴾ اور جب وہ سخت پشیمان ہوئے اور انھیں نظر آگیا کہ وہ (راہ راست سے ) بھٹک گئے (تو) کہنے لگے اگر نہ رحم فرماتا ہم پر ہمارا رب اور نہ بخش دیتا ہمیں تو ہم ضرور ہوجاتے نقصان اٹھانے والوں سے ۔

﴿150﴾ اور جب واپس آئے موسیٰ اپنی قوم کی طرف خشمناک (اور ) غمگین ہو کر ( تو) بولے (اے قوم!) بہت بری جانشینی کی ہے تم نے میری میرے بعد کیا تم نے جلد بازی کی اپنے رب کے فرمان سے اور (غصہ سے) پھینک دی تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا (اور ) کھنیچا اسے اپنی طرف ہارون نے کہا انے میری ماں جائے! اس قوم نے کمزور و بےبس بنادیا مجھے اور قریب تھا کہ قتل کردیں مجھے سو نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو اور نہ شمار کرو مجھے اس ظالم قوم کے ساتھ۔

﴿151﴾ موسیٰ نے التجا کی اے میرے رب ! بخش دے مجھے اور میری بھائی کو اور داخل کر ہم کو اپنی رحمت میں اور تو زیادہ رحم کرنے والا ہے تمام رحم کرنے والوں سے۔

﴿152﴾ بے شک جنھوں نے بنالیا بچھڑے کو معبود جلدی ہی پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سے اور رسوائی دنیا کی زندگی میں اور اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں بہتان باندھنے والو کو۔

﴿153﴾ اور جنھوں نے کیے برے کام پھر توبہ کی اس کے بعد اور ایمان لائے بےشک آپ کا رب اس کے بعد بہت بخشنے والا بہت رحم کرنے والا ہے۔

﴿154﴾ اور جب فرو ہوگیا موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ تو اٹھالیا ان تختیوں کو اور ان کی تحریر میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے ر ب سے ڈرتے ہیں۔

﴿155﴾ اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم سے ستر آدمی ہمارے وعدہ ملاقات کے لیے b پھر جب پکڑ لیا انھیں زلزلہ (کے جھٹکوں) نے تو موسیٰ نے کہا اے میرے رب! اگر تو چاہتا تو ہلاک کردیتا انھیں اس سے پہلے اور مجھے بھی۔ کیا تو ہلاک کرتا ہے ہمیں بوجہ اس (غلطی) کے جو کی (چند) احمقوں نے ہم سے نہیں ہے یہ مگر تیری آزمائش تو گمراہ کرتا ہے اس سے جس کو چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار فرما ہے بخش دے ہم کو اور رحم فرما ہم پر اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔

﴿156﴾ اور لکھ دے ہامرے لیے اس دنیا میں خیر و برکت اور آخرت میں بھی بےشک ہم نے رجوع کیا ہے تیری طرف اللہ نے فرمایا میرا عذاب پہنچا تا ہوں اسے جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت کشادہ ہے ہر چیز پر سو میں لکھوں گا اس کو ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور ادا کرتے ہیں زکوٰۃ اور وہ جو ہمارے نشانیوں پر ایمان لاتے ہین ۔

﴿157﴾ (یہ وہ ہیں) جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبی امی ہے جس (کے ذکر) کو وہ پاتے ہیں لکھا ہوا اپنے پاس تورات اور انجیل میں وہ نبی حکم دیتا ہے انھیں نیکی کا اور روکتا ہے انھیں برائی سے اور حلال کرتا ہے ان کے لیے پاک چیزیں اور حرام کرتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کا بوجھ اور (کاٹتا ہے) وہ زنجیریں جو جکڑے ہوئے تھیں انھیں پس جو لوگ ایمان لائے اس (نبی امی) پر اور تعظیم کی آپ کی اور امداد کی آپ کی اور پیروی کی اس نور کی جو اتارا گیا آپ کے ساتھ وہی (خوش نصیب) کامیاب و کامران ہیں۔

﴿158﴾ آپ فرمائیے اے لوگو! بےشک میں اللہ کا رسول ہوں تم سب کی طرف وہ اللہ جس کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی نہیں کوئی معبود سوائے اس کے وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر جو نبی امی ہے جو خود ایمان لایا ہے اللہ پر اور اس کے کلام پر اور تم پیروی کرو اس کی تاکہ تم ہدایت یافتہ ہوجاؤ۔

﴿159﴾ اور موسیٰ کی قوم سے ایک گروہ ہے جو راہ بتاتا ہے حق کے ساتھ اور اسی حق کے ساتھ عدل کرتا ہے۔

﴿160﴾ اور ہم نے بانٹ دیا انھیں بارہ قبیلوں میں جو الگ الگ قومیں ہیں۔ اور ہم نے وحی بھیجی موسیٰ کی طرف جب پانی طلب کیا آپ سے آپ کی قوم نے (ہم نے وحی کی ) کہ مارو اپنا عصا سے اس پتھر کو تو پھوٹ نکلے اس سے بارہ چشمے جان لیا ہر ایک گروہ نے اپنا پنا گھاٹ اور ہم نے سایہ کردیا ان پر بادل کا اور ہم نے اتارا ان پر من و سلویٰ (اور فرمایا) کھاؤ ان پاک چیزوں کو جو ہم نے دی ہیں تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر بلکہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہتے تھے۔

﴿161﴾ اور جب کہا گیا کہ انھیں آباد ہوجاؤ اس شہر میں اور کھاؤاس سے جہاں سے چاہو اور کہو (اے کریم) بخش دے ہمیں اور داخل ہو دروازہ سے جکھتے ہوئے ہم بخش دیں گے تمھاری خطائیں (ا ور) زیادہ دیں گے احسان کرنے والو کو۔

﴿162﴾ تو بدل ڈالی جنھوں نے ظلم کیا تھا ان سے بات خلاف اس کے جو کہی گئی تھی انھیں تب ہم نے بھیج دیا ان پر عذاب آسمان سے اس وجہ سے کہ وہ ظلم کیا کرتے تھے۔

﴿163﴾ اور پوچھو ان سے حال اس بستی کا جو آباد تھی ساحل سمندر پر جب کہ وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتہ (کے حکم کے بارے میں) جب آیا کرتیں ان کے پاس ان کی مچھلیاں ان کے ہفتہ کے دن پانی پر تیرتی ہوئیں اور جو دن ہفتہ کا نہ ہوتا تو وہ نہ آتیں ان کے پاس ( اس طرح بےدھڑک ) ہم نے آزمائش میں ڈالا انھیں بہ سبب اس کہ وہ نافرمانی کیا کرتے تھے۔

﴿164﴾ اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کہ تم کیوں نصیحت کرتے ہو اس قوم کو اللہ جنھیں ہلاک کرنے والا ہے یا انھیں عذاب دینے والا ہے سخت عذاب؟ انھوں نے کہا تاکہ معذرت پیش کرسکیں تمھارے رب کے دربار میں (کہ ہم نے اپنا فرض ادا کردیا ) اور شاید وہ ڈرنے لگیں۔

﴿165﴾ پھر جب انھوں نے فراموش کردی جو انھیں نصیحت کی گئی تھی (تو ) ہم نے نجات دے دی انھیں جو روکتے تھے برائی سے اور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا برے عذاب سے بوجہ اس کے کہ وہ نافرمانی کیا کرتے تھے۔

﴿166﴾ پھر جب انھوں نے سرکشی کی جس سے وہ روکے گئے تھے ہم نے حکم دیا انھیں کہ بن جاؤ بندر راندے ہوئے۔

﴿167﴾ اور یاد کرو جب اعلان کردیا آپ کے رب نے کہ ضرور بھیجتا رہے گا ان پر روز قیامت تک ایسے (جابر) جو چکھائیں گے انھیں برا عذاب بےشک آپ کا رب جلدی عذاب دینے والا ہے اور بےشک وہ غفور رحیم (بھی) ہے۔

﴿168﴾ اور ہم نے بانٹ دیا انھیں زمین میں کئی گروہوں میں ان میں سے کچھ نیک ہیں اور کچھ اور طرح ہیں اور ہم نے آزمایا انھیں تعمتوں میں اور تکلیفوں کے ساتھ تاکہ وہ (اللہ تعالیٰ) کی طرف رجوع کریں۔

﴿169﴾ (پھر جانشین بنے ان کے بعد وہ ناخلف جو وارث ہوئے کتاب کے وہ لیتے ہیں مال اس دنیا کا ور بایں ہمہ) کہتے ہیں کہ ضرور بخش دیا جائے گا ہمیں اور اگر آجائے ان کے پاس اور مال اس جیسا تو لے لیں اسے بھی کیا نہیں لیا گیا تھا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں کہ نہ منسوب کریں اللہ کی طرف کوئی بات سوائے حق کے اور پڑھ لیا انھوں نے جو کتاب میں تھا اور دار آخرت بہتر ہے ان کے لیے جو متقی ہیں تو کیا تم (اِتنا ) بھی نہیں سمجھتے۔

﴿170﴾ اور جنھوں نے مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے کتاب کو اور قائم کیا نماز کو بےشک ہم ضائع نہیں کریں گے اجر اصلاح کرنے والوں کا۔

﴿171﴾ اور جب ہم نے اٹھایا پہاڑ ان کے اوپر اس طرح گویا وہ سائبان ہے اور خیال کرنے لگے کہ وہ ضرور گر پڑے گا ان پر (ہم نے کہا) پکڑ لو جو ہم نے دیا ہے تمھیں (پوری) قوت سے اور یاد رکھو جو اس میں ہے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔

﴿172﴾ اور (اے محبوب) یاد کرو جب نکالا آپ کے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد کو اور گواہ بنا دیا خود ان کو ان کے نفسوں پر (اور پوچھا) کیا میں نہیں ہو تمھارا رب؟ سب نے کہا بےشک تو ہی ہمارا رب ہے ہم نے گواہی دی (یہ اس لی ہوا ) کہ کہیں تم یہ نہ کہو روز حشر کہ ہم تو اس سے بےخبر تھے۔

﴿173﴾ یا یہ نہ کہو کہ شرک تو صرف ہمارے باپ دادا نے کیا تھا (ہم سے ) پہلے اور ہم تو تھے ان کی اولاد ان کے بعد تو کیا تو ہمیں ہلاک کرتا ہے اس شرک کی وجہ سے جو کیا تھا باطل پرستوں نے ۔

﴿174﴾ اور اسی طرح ہم مفصل بیان کرتے ہیں نشانیاں تاکہ وہ (ان میں غور کریں) اور کفر سے باز آجائیں۔

﴿175﴾ اور پڑھ سنائیے انھین حال اس کا جسے دیا ہم نے (علم) اپنی آیتوں کا تو وہ کترا کر نکل گیا ان سے تب پیچھے لگ گیا اس کے شیطان تو ہوگیا وہ گمراہوں میں۔

﴿176﴾ اور اگر ہم چاہتے تو بلند کردیتے اس کا رتبہ ان آیتوں کے باعث لیکن وہ تو جھک گیا پستی کی طرف اور پیروی کرنے لگا اپنی خواہش کی اس اس کی مثال کتے جیسی ہے اگر حملہ کرے اس پر تب بھی ہانپے اور اگر تو اسے چھوڑدے تب بھی ہانپے یہ حال ہے ان لوگوں کا جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو آپ سنائیں (انھیں) یہ قصہ شاید وہ غور و فکر کرنے لگیں۔

﴿177﴾ بہت بری کہاوت ہے اس قوم کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور (وہ) اپنی ہی جانوں پر ظلم کیا کرتے تھے۔

﴿178﴾ جسے ہدایت بخشے اللہ تعالیٰ سو وہی ہدایت یافتہ ہے اور جنھیں گمراہ کردے تو وہی نقصان اٹھانے والے ہیں ۔

﴿179﴾ اور بےشک ہم نے پیدا کیے جہنم کے لیے بہت سے جن اور انسان ان کے دل (تو) ہیں لیکن وہ سمجھتے نہیں ان سے اور ان کی آنکھیں تو ہیں لیکن وہ دیکھتے نہیں ان سے اور ان کے کان تو ہیں لیکن وہ سنتے نہیں ان سے وہ حیوانوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ یہی لوگ تو غافل (وبے خبر) ہیں۔

﴿180﴾ اور اللہ ہی کے لیے ہیں نام اچھے اچھے سو پکارو اسے انھیں ناموں سے اور چھوڑ دو انھیں جو کجروی کرتے ہیں اس کے ناموں میں انھیں سزا دی جائے گی جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔

﴿181﴾ اور ان میں سے جنھیں ہم نے پیدا فرمایا ایک امت ہے جو راہ دکھاتی ہے حق کے ساتھ اور حق کے ساتھ ہی عدل و انصاف کرتی ہے۔

﴿182﴾ اور جنھوں نے تکذیب کی ہماری آیتوں کی تو ہم آہستہ آہستہ پستی میں گرادیں گے انھیں اس طرح کہ انھیں علم تک نہ ہوگا۔

﴿183﴾ اور میں مہلت دیتا ہوں انھیں ۔ بےشک میری خفیہ تدبیر بہت پختہ ہے۔

﴿184﴾ کیا اب تک نہیں غورر فکر کیا انھوں نے ان کے صاحب پر تو جنون کا ذرا اثر نہیں ہے وہ مگر کھلم کھلا ڈرانے والا۔

﴿185﴾ کیا انھوں نے غور سے نہیں دیکھا آسمانوں اور زمین کی وسیع مملکت مین اور (اس میں) جو چیز پیدا فرمائی اللہ تعالیٰ نے اور اس میں کہ شاید نزدیک آگئی ہو ان کی مقررہ معیاد تو کس بات پر وہ اس (قرآن) کے بعد ایمان لے لائیں گے۔

﴿186﴾ جسے گمراہ کردے اللہ تعالیٰ تو نہیں کوئی ہدایت دینے والا اسے ۔ وہ رہنے دیتا ہے انھیں کہ اپنی گمراہی میں بھٹکتے رہیں۔

﴿187﴾ وہ دریافت کرتے ہیں آپ سے قیامت کے متعلق کہ کب ہوگا اس کا وقوع آپ کہئیے کہ اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے نہیں ظاہر کرے گا اسے اپنے وقت پر مگر وہی یہ (حادثہ) بہت گراں ہے آسمانوں اور زمین میں نہ آئے گی تم پر مگر اچانک وہ پوچھتے ہیں آپ سے گویا آپ خوب تحقیق کرچکے ہیں اس کے متعلق آپ فرمائیے اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔

﴿188﴾ آپ کہیے نہیں مالک ہوں میں اپنے آپ کے نفع کا اور نہ ضرر کا مگر جو چاہے اللہ تعالیٰ اور اگر میں (تعلیم الٰہی کے بغیر) جان لیتا غیب کو تو خود ہی بہت جمع کرلیتا خیر سے اور نہ پہنچتی مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوں میں مگر ڈرانے والا (نافرمانوں کو ) اور خوشخبری سنانے والا اس قوم کو جو ایمان لائی ہے۔

﴿189﴾ وہ (خدا ہے) جس نے پیدا فرمایا تمھیں ایک نفس سے اور بنایا اس سے اس کا جوڑا تاکہ اطمینان حاصل کرے اس (جوڑے) سے پھر جب مرد ڈھانپ لیتا ہے عورت کو تو حاملہ ہوجاتی ہے ہلکے سے حمل سے پھر چلتی پھرتی رہتی ہے اس کے ساتھ ۔ پھر جب وہ بوجھل ہوجاتی ہے تو دعا مانگتے ہیں (میاں بیوی) اللہ سے جو ان کا رب ہے کہ اگر تو عنایت فرمائے ہمیں تندرست لڑکا تو ہم ضرور ہوجائیں گے (تیرے) شکر گزار بندوں سے۔

﴿190﴾ پس جب اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے انھیں تندرست لڑکا تو دونوں بناتے ہیں اللہ کے ساتھ شریک اس میں جو اس نے انھیں دیا ۔ تو بلند و برتر ہے اللہ ان سے جنھیں وہ شریک بناتے ہیں۔

﴿191﴾ کیا وہ شریک بناتے ہیں اسے جس نے پیدا نہیں کیا کوئی چیز اور وہ خود پیدا ہوگئے ہیں۔

﴿192﴾ اور وہ نہیں طاقت رکھتے ان کو مدد پہنچانے کی اور نہ اپنی آپ مدد کرسکتے ہیں۔

﴿193﴾ اور اگر تو بلائے انھیں ہدایت کی طرف تو نہ پیروی کریں تمھاری۔ یکساں ہے تمھارے لیے خواہ تم بلاؤ انھیں یا تم خاموش رہو (اے کفار)۔

﴿194﴾ بے شک وہ جنھیں تم پوجتے ہو اللہ کے سوا بندے ہیں تمھاری طرح تو پکارو انھیں پس چاہیے کہ قبول کریں تمھاری پکار کو اگر تم سچے ہو۔

﴿195﴾ کیا ان کے پاؤں ہیں چلتے ہیں وہ جن کے ساتھ یا کیا ان کے ہاتھ ہیں پکڑتے ہیں وہ جن کے ساتھ یا کیا ان کی آنکھیں ہیں دیکھتے ہیں جن سے یا کیا ان کے کان ہیں وہ سنتے ہیں جن کے ساتھ آپ کہیئے پکارو اپنے شریکوں کو پھر سازش کرو میرے خلاف اور مہلت دو مجھے۔

﴿196﴾ یقیناً میرا حمایتی اللہ ہے جس نے اتاری یہ کتاب اور وہ حمایت کیا کرتا ہے نیک بندوں کی۔

﴿197﴾ اور جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کے سوا وہ طاقت نہیں رکھتے تمھاری امداد کی اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں۔

﴿198﴾ اور اگر تم بلاؤ انھیں ہدایت کی طرف تو وہ نہ سنیں گے اور تو دیکھے گا انھیں کہ دیکھ رہے ہیں تیری طرف حالانکہ انھیں کچھ نظر نہیں آتا۔

﴿199﴾ قبول کیجیے معذرت (خطاکاروں سے) اور حکم دیجیے نیک کاموں کا اور رخ (انور) پھیر لیجیے نادانوں کی طرف سے ۔

﴿200﴾ اور اگر پہنچے آپ کو شیطان کی طرف سے زرا سا وسوسہ تو فوراً پناہ مانگئے اللہ سے بےشک وہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

﴿201﴾ بے شک وہ لوگ جو تقویٰ اختیار کیے ہیں جب چھوتا ہے انھیں کوئی خیال شیطان کی طرف سے تو وہ (خدا کو ) یاد کرنے لگتے ہیں تو فوراً ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں ۔

﴿202﴾ اور جو شیطانوں کے بھائی ہیں شیطان کھینچ لے جاتے ہیں انھیں گمراہی میں پھر (انھیں گمراہ کرنے میں) وہ کوتاہی نہیں کرتے۔

﴿203﴾ اور ( اے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) جب آپ نہیں لاتے ان کے پاس کوئی آیت تو کہتے ہیں کیوں نہ بنا لیا تم نے خود اسے فرمائیے میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو وحی کی جاتی ہے میری طرف میرے رب سے۔ یہ روشن دلیلیں ہیں تمھارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہیں اس قوم کے لیے جو ایمان لاتی ہے۔

﴿204﴾ اور جب پڑھا جائے قرآن (مجید) تو کان لگا کر سنو اسے اور چپ ہوجاؤ تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔

﴿205﴾ اور یاد کرو اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی کرتے ہوئے اور ڈرتے ڈرتے اور زبان سے بھی چلائے بغیر (یوں یاد کرو) صبح کے وقت بھی اور شام کے وقت بھی اور نہ ہوجاؤ (یادِ الٰہی سے ) غافل رہنے والوں سے۔

﴿206﴾ بے شک جو مقرب ہیں تیرے رب کے وہ تکبر نہیں کیا کرتے اس کی عبادت سے اور پاکی بیان کرتے رہتے ہیں اس کی اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔

الانفال

Surah 8

﴿1﴾ دردیافت کتے ہیں آپ سے غنیمتوں کے متعلق آپ فرمائیے غنیمتوں کے مالک اللہ اور رسول ہیں۔ پس ڈرتے رہو اللہ تعالیٰ سے اور اصلاح کرو اپنے باہمی معاملات کی اور اطاعت کرو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اگر تم ایماندار ہو۔

﴿2﴾ صرف وہی سچے ایماندار ہیں کہ جب ذکر کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا تو کانپ اٹھتے ہیں ان کے دل اور جب پڑھی جاتی ہیں ان پر اللہ کی آیتیں تو یہ بڑھا دیتی ہیں ان کے ایمان کو اور صرف اپنے رب پروہ بھروسہ رکھتے ہیں۔

﴿3﴾ (اور) جو صحیح صحیح ادا کرتے ہیں نماز کو، نیز اس سے جو ہم نے انھیں دیا ہے خرچ کرتے رہتے ہیں۔

﴿4﴾ یہی لوگ سچے مومن ہیں انہی کے لیے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور بخشش ہے اور باعزت روزی ۔

﴿5﴾ جس طرح نکال لایا آپ کو آپ کا رب آپ کے گھر سے حق کے ساتھ اور بیشک اہل ایمان کا ایک گروہ (اس کو ) ناپسند کرنیوالا تھا۔

﴿6﴾ جھگڑرہے تھے آپ سے سچی بات میں اس کے بعد کہ وہ واضح ہوچکی تھی گویا وہ ہانکے جارہے تھے موت کی طرف درآنحال کہ وہ (موت) کو دیکھ رہے ہیں۔

﴿7﴾ اور یاد کرو جب وعدہ فرمایا تم سے اللہ نے ایک کا ان دوگروہوں سے کہ وہ تمھارے لیے ہے اور تم پسند کرتے تھے کہ نہتہ گروہ تمھارے حصہ میں آئے اور اللہ چاہتا تھا کہ حق کو حق کردے اپنے ارشادات سے اور کاٹ دے کافروں کی جڑ۔

﴿8﴾ تاکہ ثابت کردے حق کو اور مٹادے باطل کو اگرچہ ناپسند کریں (اس کو) عادی مجرم ۔

﴿9﴾ یاد کرو جب تم فریاد کررہے تھے اپنے رب سے تو سن لی اس نے تمھاری فریاد (اور فرمایا) یقیناً میں مدد کرنے والا ہوں تمھاری ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ جو پے در پے آنیوالے ہیں۔

﴿10﴾ اور نہیں بنایا فرشتوں کے نزول کو اللہ نے مگر ایک خوشخبری اور تاکہ مطمئن ہوجائیں اس سے تمھارے دل اور نہیں ہے مد د مگر اللہ کی طرف سے، بیشک اللہ بہت غالب ہے حکمت والا ہے۔

﴿11﴾ یاد کرو جب اللہ نے ڈھانپ دیا تمھین غنودگی سے تاکہ باعث تسکین ہو اس کی طرف سے اور اتار ا تم پر آسمان سے پانی تاکہ پاک کردے تمھیں اس سے اور دور کردے تم سے شیطان کی نجاست اور مضبوط کردے تمھارے دلوں کو اور جمادے اس سے تمھارے قدموں کو۔

﴿12﴾ یاد کرو جب وحی فرمائی آپ کے رب نے فرشتوں کی طرف کہ میں تمھارے ساتھ ہوں پس تم ثابت قدم رکھو ایمان والوں کو میں ڈال دونگا کافروں کے دلوں میں (تمھارا) رعب سو تم مارو (ان کی ) گردنوں کے اوپر اور چوٹ لگاؤ ان کے ہر بند پر۔

﴿13﴾ یہ حکم اس لیے ہے کہ انھوں نے مخالفت کی اللہ کی اور اس کے رسول کی اور جو مخالفت کرتا ہے اللہ کی اور اس کے رسول کی تو بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔

﴿14﴾ (اے حق کے دشمنوں!) یہ سزا ہے پس چکھو اسے نیز (یاد رکھو) کافروں کے لیے آتشِ (جہنم) کا عذاب بھی ہے۔

﴿15﴾ اے ایمان والو! جب تم مقابلہ کرو کافروں کے لشکر جرار سے تو مت پھیر نا ان کی طرف (اپنی) پیٹھیں ۔

﴿16﴾ اور جو پھیرے گا ان کی طرف اس روز اپنی پیٹھ بجز اس صورت کے کہ پینترا بدلنے والا ہو لڑائی کے لیے یا پلٹ کر آنیوالا ہو اپنی جماعت کی طرف تو وہ مستحق ہوگا اللہ کے غضب کا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت بری لوٹنے کی جگہ ہے۔

﴿17﴾ پس تم نے نہیں قتل کیا انھیں بلکہ اللہ نے قتل کیا انھیں اور (اے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) نہیں پھینکی آپ نے (وہ مشت خاک) جب آپ نے پھینکی بلکہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی تاکہ احسان فرمائے مومنوں پر اپنی جناب سے بہترین احسان۔ بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

﴿18﴾ یہ تو ہوا اور بلاشبہ اللہ کمزور کرنے والا ہے کفار کے مکروفریب کو۔

﴿19﴾ (اے کفار!) اگر تم فیصلہ کے طلبگار تھے تو (لو) آگیا تمھارے پاس فیصلہ اور اگر تم (اب بھی) باز آجاؤ تو وہ بہتر ہے تمھارے لیے اور اگر تم پھر شرارت کروگے تو ہم پھر سزا دینگے اور نہ فائدہ پہنچائے گی تمیں تمھاری جماعت کچھ بھی چاہے اس کی تعداد بہت زیادہ ہو اور یقیناً اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ساتھ ہے۔

﴿20﴾ اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی اور نہ روگردانی کرو اس سے حالانکہ تم سن رہے ہو ۔

﴿21﴾ اور نہ بن جانا ان لوگوں کی طرح جنھوں نے کہا ہم نے سن لیا حالانکہ وہ نہیں سنتے ۔

﴿22﴾ بیشک سب جانوروں سے بدتر اللہ کے نزدیک وہ بہرے گونگے (انسان) ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے ۔

﴿23﴾ اور اگر جانتا اللہ تعالیٰ ان میں کوئی خوبی تو انھیں ضرور سنا دیتا ۔ اور اگر سنا دیتا انھیں (قبولِ حق کی استعداد کے بغیر) تو وہ پیٹھ پھیر دیتے روگردانی کرتے ہوئے۔

﴿24﴾ اے ایمان والو! لبیک کہو اللہ اور (اس کے ) رسول کی پکار پر جب وہ رسول بلائے تمھیں اس امر کی طرف جو زندہ کرتا ہے تمھیں اور خوب جان لو کہ اللہ (کا حکم) حائل ہوجاتا ہے انسان اور اس کے دل (کے ارادوں) کے درمیان بیشک اسی کی طرف تم اٹھائے جاؤ گے۔

﴿25﴾ اور ڈرتے رہو اس فتنہ سے ( جو اگر برپا ہوگیا تو ) نہ پہنچیگا صرف انھیں کو جنھوں نے ظلم کیا تم میں سے۔ اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے۔

﴿26﴾ اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے کمزور اور بےبس سمجھے جاتے تھے ملک میں (ہر وقت) ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں اچک نہ لے جائیں تمھیں لوگ ، پھر اللہ نے پناہ دی تمھیں اور طاقت بخشی تمھیں اپنی نصرت سے اور عطا کیں تمھیں پاکیزہ چیزیں تاکہ تم شکر گزار ہو جاؤ۔

﴿27﴾ اے ایمان والو! نہ خیانت کرو اللہ اور رسول سے اور نہ خیانت کرو اپنی امانتوں میں اس حال میں کہ تم جانتے ہو۔

﴿28﴾ اور خوب جان لو کہ تمھارے مال اور تمھار ی اولاد ( سب) آزمائش ہے اور بیشک اللہ اسی کے پاس اجر عظیم ہے۔

﴿29﴾ اے ایمان والو! اگر تم ڈرتے رہوگے اللہ سے تو وہ پیدا کردے گا تم میں حق و باطل کی تمیز کی قوت اور ڈھانپ دیگا تم سے تمھارے گناہ اور بخش دیگا تمھیں اور اللہ بڑے فضل (وکرم) والا ہے۔

﴿30﴾ اور یاد کرو جب خفیہ تدبیریں کررہے تھے آپکے بارے میں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تھا تاکہ آپ کو قید کردیں یا آپکو شہید کردیں یا آپکو جلاوطن کردیں ۔ وہ بھی خفیہ تدبریں کررہے تھے اور اللہ بھی خفیہ تدبیر فرمارہا تھا اور اللہ سب سے بہتر خفیہ تدبیر کرنے والا ہے۔

﴿31﴾ اور جب پڑھی جاتی ہیں ان کے سامنے ہماری آیتیں تو کہتے ہیں (اجی رہنے دو ) سن لیا ہم نے اگر ہم چاہیں گے تو کہہ لیں ایسی آیتیں ۔ نہیں ہیں یہ مگر کہانیاں اگلے لوگوں کی۔

﴿32﴾ اور جب انھوں نے کہا اے اللہ ! اگر ہو یہی (قرآن ) سچ تیری طرف سے تو برسا ہم پر پتھر آسمان سے اور لے آ ہم پر دردناک عذاب۔

﴿33﴾ اور نہیں ہے اللہ تعالیٰ کہ عذاب دے انھیں حالانکہ آپ تشریف فرما ہیں ان میں۔ اور نہیں ہے اللہ تعالیٰ عذاب دینے والا انھیں حالانکہ وہ مغفرت طلب کررہے ہوں۔

﴿34﴾ (مکہ سے آپکی ہجرت کے بعد) اب کیا وجہ ہے ان کے لیے کہ نہ عذاب دے انھیں اللہ ھالانکہ وہ روکتے ہیں (مسلمانوں کو) مسجد حرام سے اور نہیں ہیں وہ اس کے متولی۔ اس کے متولی تو صرف پرہیزگار لوگ ہیں، لیکن ان کی اکثریت اس حقیقت کو نہیں جانتی۔

﴿35﴾ اور نہیں تھی ان کی نماز خانہ کعبہ کے پاس بجز سیٹی اور تالی بجانے کے۔ سو چکھو اب عذاب بوجہ اس کے کہ تم کفر کیا کرتے تھے۔

﴿36﴾ بے شک کافر خرچ کرتے ہیں اپنے مال تاکہ روکیں (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے اور یہ آئندہ بھی (اسی طرح) خرچ کرنیگے ۔ پھر ہوجائے گا یہ خرچ کرنا ان کے لیے باعث حسرت و افسوس ۔ پھر وہ مغلوب کردئیے جاینگے اور جنھوں نے کفر اختیار کیا وہ دوزخ کی طرف اکھٹے کیے جائیں گے۔

﴿37﴾ تاکہ الگ کردے اللہ تعالیٰ ناپاک کو پا ک سے اور رکھ دے سب ناپاکوں کو ایک دوسرے کے اوپر۔ پھر اکھٹا کردے ان سب کو۔ پھر ڈال دے اس مجموعہ کو جہنم میں۔ یہی لوگ ہیں جو نقصان اٹھانے والے ہیں۔

﴿38﴾ فرمادیجیے کافروں کو کہ اگر وہ اب بھی باز آجائیں تو بخش دیا جائے گا انھیں جو ہو چکا۔ اور اگر وہ (پہلے کرتوت) دُہرائیں تو گزرچکا ہے (ہمارا) طریقہ پہلے (نافرمانوں) کے ساتھ۔

﴿39﴾ اور (اے مسلمانوں!) لڑتے رہو ان سے یہاں تک کہ باقی نہ رہے کوئی فساد اور ہوجائے دین پورے کا پورا اللہ کے لیے۔ تو پھر اگر وہ باز آجائیں تو یقیناً اللہ تعالیٰ جو کچھ وہ کرتے ہیں اسے خوب دیکھنے والا ہے۔

﴿40﴾ اور اگر وہ روگردانی کریں تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمھار ا کارساز ہے۔ وہ کیا ہی بہترین کارساز ہے اور کتنا بہترین مددگار ہے۔

﴿41﴾ اور اگر وہ روگردانی کریں تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمھار ا کارساز ہے۔ وہ کیا ہی بہترین کارساز ہے اور کتنا بہترین مددگار ہے۔

﴿42﴾ جب تم وادی کے نزدیک والے کنارے پر تھے اور (لشکر کفار) دور والے کنارہ پر تھا۔ اور (تجارتی) قافلہ نیچے کی طرف تھا تم سے اور اگر تم لڑائی کے لیے وقت مقرر کرتے تو پیچھے رہ جاتے وقت مقرر سے لیکن (یہ بلاارادہ جنگ اس لیے تھی) تاکہ کردکھائے اللہ تعالیٰ وہ کان جو ہوکر رہنا تھا تاکہ ہلاک ہو جسے ہلاک ہونا ہے دلیل سے اور زندہ رہے جسے زندہ رہنا ہے دلیل سے اور بیشک اللہ تعالیٰ خوب سننے والا ، جاننے والا ہے۔

﴿43﴾ یاد کرو جب دیکھا یا اللہ نے آپ کو لشکرکفار خواب میں قلیل اور اگر دیکھایا ہوتا آپکو لشکر کفار کثیر تعداد میں تو ضرور تم لوگ ہمت ہار دیتے اور آپس میں جھگڑنے لگتے اس معاملہ میں لیکن اللہ نے (تمھیں) بچالیا۔ بیشک وہ خوب جاننے والا ہے جو کچھ سینوں میں ہے۔

﴿44﴾ اور یاد کرو جب اللہ نے دیکھایا تمھیں لشکر کفار جب تمھار ا مقابلہ ہوا تمھاری نگاہوں میں قلیل اور قلیل کردیا تمھیں ان کی نظروں میں تاکہ کر دکھائے اللہ تعالیٰ وہ کام جو ہو کر رہنا تھا اور اللہ تعالیٰ کی طرف ہی لوٹائے جاتے ہیں سارے معاملات۔

﴿45﴾ اے ایمان والو! جب جنگ آزما ہو کسی لشکر سے تو ثابت قدم رہو اور ذکر کرو اللہ تعالیٰ کا کثرت سے تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔

﴿46﴾ اور اطاعت کرو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی اور آپس میں نہ جھگڑو ورنہ تم کم ہمت ہوجاؤ گے اور اکھڑ جائے گی تمھاری ہوا اور ہر مصیبت میں صبر کرو بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

﴿47﴾ اور (دیکھو! ) نہ بن جانا ان لوگوں کی طرح جو نکلے تھے اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور (محض) لوگوں کے دکھلاوے کے لیے اور روکتے تھے اللہ کی راہ سے اور اللہ تعالیٰ جو کچھ وہ کرتے ہیں اسے (اپنے علم و قدرت سے) گھیرے ہوئے ہے۔

﴿48﴾ اور یاد کرو جب آراستہ کردیے انکے لیے شیطان نے ان کے اعمال اور (انھیں) کہا کوئی غالب نہیں آسکتا تم پر آج ان لوگوں میں سے اور میں نگہبان ہوں تمھارا تو جب آمنے سامنے ہوئیں دونوں فوجیں تو وہ الٹے پاؤں بھاگا ، اور بولا میں بری الذمہ ہوں تم سے ۔ میں دیکھ رہا ہوں وہ جو تم نہیں دیکھ رہے ۔ میں تو ڈرتا ہوں اللہ سے اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے۔

﴿49﴾ یاد کرو جب کہہ رہے تھے منافق اور وہ جن کے دلوں میں (شک کا) روگ تھا کہ مغرور کردیا ہے انہیں ان کے دین نے اور جو شخص بھروسہ کرتا ہے اللہ پر تو بیشک اللہ تعالیٰ زبردست حکمت والا ہے ۔

﴿50﴾ اور (اے مخاطب!) اگر تو دیکھے جب جان نکالتے ہیں کافرورں کی فرشتے (اور) مارتے ہیں ان کے چہروں اور پشتوں پر اور (کہتے ہیں اب ) چکھو آگ کا عذاب۔

﴿51﴾ یہ بدلہ ہے اس کا جو آگے بھیجا ہے تمھارے ہاتھوں نے اور اللہ تعالیٰ ہرگز ظلم کرنے والا نہیں ہے (اپنے ) بندوں پر۔

﴿52﴾ جیسے دستور تھا فرعونیوں کا اور جو (زبردست) لوگ ان سے پہلے تھے۔ انھوں نے کفر کیا آیات الٰہی کے ساتھ تو پکڑلیا انھیں اللہ نے انکے گناہوں کے باعث ۔ بیشک اللہ قوت والا سخت عذاب دینے والا ہے۔

﴿53﴾ یہ اس لیے کہ اللہ نہیں بدلنے والا کس نعمت کو جس کا انعام اس نے فرمایا ہو کسی قوم پر یہاں تک کہ بدل ڈالیں وہی اپنے آپ کو ۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

﴿54﴾ (کفار مکہ کا طرز عمل بھی) فرعونیوں اور ان (سرکشوں) کا سا ہے جو پہلے گزر چکے انھوں نے جھٹلایا اپنے رب کی آیتوں کو پس ہم نے ہلاک کردیا انھیں بوجہ ان کے گناہوں کے اور ہم نے غرق کردیا فرعونیوں کو اور (وہ) سب کے سب ظالم تھے۔

﴿55﴾ بلاشبہ بدترین جانور اللہ کے نذدیک وہ انسان ہیں جنھوں نے کفر کیا پس وہ کسی طرح ایمان نہیں لاتے۔

﴿56﴾ وہ جن سے (کئی بار) آپ نے معاہدہ کیا ۔ پھر وہ توڑتے رہے اپنا عہد ہر بار اور وہ (عہد شکنی سے) ذر ا نہیں پرہیز کرتے۔

﴿57﴾ پس اگر آپ پائیں انھیں (میدان) جنگ میں تو (انھیں عبرتناک سزا دے کر ) منتشر کردو انھیں جو انکے پیچھے ہیں ۔ شاید وہ سمجھ جائیں۔

﴿58﴾ اور اگر آپ اندیشہ کریں کسی قوم سے خیانت کا تو پھینک دو ان کی طرف (ان کا معاہدہ) واضح طور پر بیشک اللہ تعالیٰ دوست نہیں رکھتا خیانت کرنے والوں کو۔

﴿59﴾ اور ہر گز نہ خیال کریں کافر کہ وہ بچ کر نکل گئے ۔ یقیناً وہ (اللہ تعالیٰ کو ) عاجز نہیں کرسکتے۔

﴿60﴾ اور تیار رکھو ان کے لیے جتنی استطاعت رکھتے ہو، قوت و طاقت اور بندھے ہوئے گھوڑے تاکہ تم خوفزدہ کردو اپنی جنگی تیاریوں سے اللہ کے دشمن کو اور اپنے دشمن کو اور دوسررے لوگوں کو ان کھلے دشمنوں کے علادوہ تم نہیں جانتے ہو انھیں (البتہ ) اللہ جانتا ہے انھیں۔ اور جو چیز خرچ کرو گے راہ خدا میں اس کا اجر پورا پورا دیا جائے گا تمھیں اور (کسی طرح) تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

﴿61﴾ اور اگر کفار مائل ہوں صلح کی طرف تو آپ بھی مائل ہوجائیے اس کی طرف اور بھروسہ کیجیے اللہ تعالیٰ پر بیشک وہی سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

﴿62﴾ اور اگر وہ ارادہ کریں کہ آپ کو دھو کہ دیں (تو آپ فکر مند کیوں ہوں) بیشک کافی ہے آپکو اللہ تعالیٰ وہی ہے جس نے آپ کی تائید کی اپنی نصرت اور مومنوں (کی جماعت) سے۔

﴿63﴾ اور اسی نے الفت پیدا کردی ان کے دلوں میں اگر آپ خرچ کرتے ہیں جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب تو نہ الفت پیدا کرسکتے ان کے دلوں میں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے الفت پیدا کردی ان کے درمیان بلاشبہ وہ ربردست ہے حکمت والا ہے۔

﴿64﴾ اے نبی (مکرم) کافی ہے آپ کو اللہ تعالیٰ اور جو آپ کے فرمانبردار ہیں مومنوں سے۔

﴿65﴾ اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ! برانگخیتہ کیجیے مومنوں کو جہاد پر اگر ہوں تم سے بیس آدمی صبر کرنے والے تو وہ غالب آئیں گے دو سو پر اور اگر ہوئے تم میں سے سو آدمی (صبر کرنے والے) تو غالب آئیں گے ہزار کافروں پر کیونکہ یہ کافر وہ لوگ ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے۔

﴿66﴾ (اے مسلمانوں!) اب تخفیف کردی ہے اللہ تعالیٰ نے تم پر اور وہ جانتا ہے کہ تم میں کمزوری ہے ۔ تواگر ہوئے تم میں سے سو آدمی صبر کرنے والے تو وہ غالب آئیں گے دو سو پر ۔ اور اگر ہوئے تم میں سے ایک ہزار (صابر) تو وہ غالب آئیں گے دوہزار پر اللہ کے حکم سے اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

﴿67﴾ نہیں مناسب نبی کے لیے کہ ہوں اس کے پاس جنگی قیدی یہاں تک کہ غلبہ حاصل کرلے زمین میں تم چاہتے ہو دنیا کا سامان اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے (تمھارے لیے ) آخرت اور اللہ تعالیٰ بڑا غالب (اور) دانا ہے۔

﴿68﴾ اور اگر نہ ہوتا حکمِ الٰہی پہلے سے (کہ خطاء اجتہادی معاف ہے) تو ضرور پہنچتی تمھیں بوجہ اس کے جو تم نے لیا ہے بڑی سزا۔

﴿69﴾ سو کھاؤ جو تم نے غنیمت حاصل کی ہے حلال (اور) پاکیزہ ۔ اور ڈرتے رہو اللہ تعالیٰ سے یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔

﴿70﴾ اے نبی (کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) ) آپ فرمائیے ان قیدیوں سے جو تمھارے قبضہ میں ہیں۔ اگر جا ن لی اللہ تعالیٰ نے تمھارے دلوں مین کوئی خوبی تو عطا فرمائے گا تمھیں بہتر اس سے جو لیا گیا ہے تم سے اور بخشے گا تمھارے (قصور) اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

﴿71﴾ اور اگر وہ ارادہ کریں آپ سے دھوکہ بازی کا (تو حیرت کیوں ہو) انھوں نے تو دھوکہ کیا ہے اللہ سے پہلے ہی (اسی لیے) اللہ تعالیٰ نے قابو دے دیا (تمھیں ) ان پر اور اللہ تعالیٰ علیم (و) حکیم ہے ۔

﴿72﴾ یقیناً جو لوگ ایمان لائے، ہجرت کی، اور جہاد کیا اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے راہ خدا میں اور وہ جنھوں نے پناہ دی (مہاجرین کو ) اور (ان کی ) مدد کی ۔ یہی لوگ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو لوگ ایمان تو لے آئے لیکن ہجرت نہیں کی۔ نہیں تمھارے لیے ان کی وراثت سے کوئی چیز یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں۔ اور اگر وہ مدد طلب کریں تم سے دین کے معاملہ میں تو فرض ہے تم پر ان کی امدا د مگر ان قوم کے خلاف نہیں کہ تمھارے اور انکے درمیان (صلح کا ) معاہدہ ہوچکا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو خوب دیکھ رہا ہے۔

﴿73﴾ اور وہ لوگ جنھوں نے کفر اختیار کیا وہ ایک دوسرے کے حمایتی ہیں اگر تم (ان حکموں پر) عمل نہیں کروگے تو برپا ہوجایگا فتنہ ملک میں اور (پھیل جائے گا ) بڑا فساد ۔

﴿74﴾ اور جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور جہاد کیا راہ خدا میں اور جنھوں نے پناہ دی اور ان کی امداد کی وہی (خوش نصیب) لوگ سچے ایماندار ہیں۔ انھیں کے لیے بخشش ہے اور باعزت روزی۔

﴿75﴾ یہ قطع تعلق (کا اعلان) ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان لوگوں سے جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا مشرکوں میں سے۔

التوبہ

Surah 9

﴿1﴾ (اے مشرکو!) پس چل پھر لو ملک میں چار ماہ اور جان لو کہ تم نہیں عاجز کرنے والے اللہ تعالیٰ کو اور یقیناً اللہ تعالیٰ رسوا کرنے والا ہے کافروں کو ۔

﴿2﴾ اور اعلان عام ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے سب لوگوں کے لیے بڑے حج کے دن کہ اللہ تعالیٰ بری ہے مشرکوں سے۔ اور اس کا رسول بھی اب بھی اگر تم تائب ہوجاؤ تو یہ بہتر ہے تمھارے لیے اور اگر تم منہ پھیرے رہو تو خوب جان لو کہ تم نہیں عاجز کرنے والے اللہ تعالیٰ کو اور خوش خبری سنا دو کافرورں کو دردنکاک عذاب کی۔

﴿3﴾ بجز ان مشرکوں کے جن سے تم نے معاہدہ کیا پھر انھوں نے نہ کی تمھارے ساتھ ذرہ بھر اور نہ انھوں نے مدد کی تمھارے خلاف کسی کی۔ تو پورا کرو ان سے ان کا معاہدہ ان کی مدت (مقررہ) تک۔ بیشک اللہ تعالیٰ دوست رکھتا ہے پرہیزگاروں کو۔

﴿4﴾ پھر جب گرزجائیں حر مت والے مہینے تو قتل کرو مشرکین کو جہاں بھی تم پاؤ انھیں اور گرفتار کرو انھیں اور گھیرے میں لے لو انھیں اور بیٹھوان کی تاک میں ہر گھات کی جگہ۔ پھر اگر یہ توبہ کرلیں اور قائم کریں نماز اور ادا کریں زکوٰۃ تو چھوڑ دو ان کا راستہ ۔ بےشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

﴿5﴾ اور اگر کوئی شخص مشرکوں میں سے پناہ طلب کرے آپ سے تو پناہ دیجیے اسے تاکہ وہ سنے اللہ کا کلام پھر پہنچادیجیے اسے اس کی امن گاہ میں یہ حکم اس لیے ہے کہ وہ ایسی قوم ہیں جو (قرآن کو ) نہیں جانتے۔

﴿6﴾ کیونکر ہوسکتا ہے (ان عہد شکن) مشرکوں کے لیے کوئی معاہدہ اللہ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک سوائے ان لوگوں کے جن سے تم نے معاہدہ کیا ہے مسجد حرام کے پاس تو جب تک وہ قائم رہیں معاہدہ پر تم بھی قائم رہو ان کے لیے بیشک اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے پرہیزگاروں سے۔

﴿7﴾ کیونکر (انکے معاہدہ کا لحاظ رکھا جائے) حالانکہ اگر وہ غالب آجائیں تم پر تو نہ لحاظ کریں تمھارے بارے میں کسی رشتہ داری کا اور نہ کسی عہد کا راضی کرنا چاہتے ہیں تمھیں (صرف) اپنے منہ (کی باتوں ) سے اور انکار کررہے ہیں انکے دل اور اکثر ان میں سے فاسق ہیں۔

﴿8﴾ انھوں نے بیچ دیں اللہ کی آیتیں تھوڑی سی قیمت پر (مزید برآں) روکا انھوں نے (لوگوں کو ) اللہ کی راہ سے بیشک وہ بہت برا تھا جو وہ کیا کرتے تھے۔

﴿9﴾ نہیں لحاظ کرتے کسی مومن کے حق میں کسی رشتہ داری کا اور نہ کسی وعدہ کا ۔ اور یہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔

﴿10﴾ پس اگر یہ توبہ کرلیں اور قائم کریں نماز اور ادا کریں زکوٰۃ تو تمھارے بھائی ہیں دین میں۔ اور ہم کھول کر بیان کرتے ہیں (اپنی آیتیں) اس قوم کے لیے جو علم رکھتی ہے۔

﴿11﴾ اور اگر یہ لوگ توڑدیں اپنی قسمیں اپنے معاہدہ کے بعد اور طعن کریں تمھارے دین پر تو جنگ کرو کفر کے پیشواؤں سے بیشک ان لوگوں کی کوئی قسمیں نہیں ہیں (ایسوں سے جنگ کرو ) تاکہ یہ لوگ (عہد شکنی سے) باز آجائیں۔

﴿12﴾ کیا نہیں جنگ کروگے تم اس قوم کے ساتھ جنھوں نے توڑڈالا اپنی قسموں کو اور ارادہ کیا انھوں نے رسول کو نکال دینے کا اور انہی نے آغاز کیا تھا تم پر (زیادتی کا ) پہلی مرتبہ ۔ کیا تم ڈرتے ہو ان سے (سنو) اللہ تعالیٰ زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر ہو تم (سچے) ایماندار۔

﴿13﴾ جنگ کرو ان سے عذاب دیگا انھیں اللہ تعالیٰ تمھارے ہاتھوں سے اور رسسوا کریگا انہیں اور مدد کریگا تمھار ی انکے مقابلے میں اور (یوں) صحتمند کردیگا اس جماعت کے سینوں کو جو اہل ایمان ہے۔

﴿14﴾ اور یوں دور فرمادیگا غصہ انکے دلوں کا اور اپنی رحمت سے توجہ فرماتا ہے اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اور اللہ تعالٰ سب کچھ جاننے والا بڑا دانا ہے۔

﴿15﴾ کیا تم یہ خیال کررہے ہو کہ تمھیں (یونہی) چھوڑ دیا جائیگا حالانکہ ابھی تک پہچان نہیں کرائی اللہ نے ان کی جو جہاد کرینگے تم میں سے اور جنھوں نے نہیں بنایا بغیر اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کے (کسی کو اپنا) محرم راز۔ اور اللہ تعالیٰ خبردار ہے جو تم کرتے ہو ۔

﴿16﴾ نہیں ہے روا مشرکوں کے لیے کہ وہ آباد کریں اللہ کی مسجدوں کو حالانکہ وہ خود گواہی دے رہے ہیں اپنے نفسوں پر کفر کی۔ یہ وہ (بد نصیب) ہیں ضائع ہوگئے جن کے تمام اعمال ۔ اور (دوزخ کی) آگ میں ہی یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

﴿17﴾ صرف وہی آباد کرسکتا ہے اللہ کی مسجدوں کو جو ایمان لایا ہو اللہ پر اور روز قیامت پر اور قائم کیا نماز کو اور ادا کیا زکوٰۃ کو اور نہ ڈرتا ہو اللہ کے سوا کسی سے پس امید ہے کہ یہ لوگ ہوجائیں ہدایت پانے والوں سے۔

﴿18﴾ کیا تم نے ٹھیرا لیا ہے حاجیوں کو پانی پلانے (والے ) کو اور مسجد حرام کے آباد کرنے (والے) کو اس شخص کی مانند جو ایمان لے آیا اللہ پر اور روز قیامت پر اور جہاد کیا اس نے اللہ کی راہ مں وہ نہیں یکساں اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور اللہ تعالیٰ نہیں ہدایت دیتا ان لوگوں کو جو ظالم ہیں۔

﴿19﴾ جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور جہاد کیا راہ خدا میں اپنے مالوں اور جانوں سے بہت بڑا ہے (ان کا ) درجہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور یہی ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔

﴿20﴾ خوشخبری دیتا ہے انھیں ان کا رب اپنی رحمت اور اپنی خوشنودی کی اور (ایسے ) باغات کی کہ ان کے لیے ان میں دائمی نعمت ہوگی۔

﴿21﴾ ہمیشہ رہنے والے ہیں وہ اس میں تا ابد ۔ بیشک اللہ تعالی ٰ کے پاس ہی اجر عظیم ہے۔

﴿22﴾ اے ایمان والو! نہ بنالو اپنے باپوں اور بھائیوں کو دلی دوست اگر وہ پسند کریں کفر کو ایمان پر اور جو دوست بناتا ہے انھیں تم میں سے تو وہی لوگ ظلم کرنے والے ہیں۔

﴿23﴾ اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) !) آپ فرمائیے اگر ہیں تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اور تمھارا کنبہ اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ کاروبار اندیشہ کرتے ہو جس کے مندے کا اور وہ مکانات جن کو تم پسند کرتے ہو زیادہ پیارے ہیں تمھین اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ مین جہاد کرنے سے تو انتظار کرو یہاں تک کہ لے آئے اللہ تعالیٰ اپنا حکم اور اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا اس قوم کو جو نافرمان ہے۔

﴿24﴾ بیشک مدد فرمائی تمھارے اللہ نے بہت سے جنگی میدانوں میں اور حنین کے روز بھی جبکہ گھمنڈ میں ڈال دیا تھا تمھیں تمھاری کثرت نے پس نہ فائدہ دیا تمہیں (اس کثرت نے ) کچھ بھی اور تنگ ہوگئی تم پر زمین باوجود اپنی وسعت کے۔ پھر تم مڑے پیٹھ پھیر تے ہوئے۔

﴿25﴾ پھر نازل فرمائی اللہ نے اپنی (خاص) تسکین اپنے رسول پر اور اہل ایمان پر اور اتارے وہ لشکر جنھیں تم نہ دیکھ سکے اور عذاب دیا کافروں کو۔ اور یہی سزا ہے کافروں کی۔

﴿26﴾ پھر رحمت سے توجہ فرمائے گا اللہ تعالیٰ اس کے بعد جس پر چاہے گا اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

﴿27﴾ اے ایمان والو! مشرکین تو نرے ناپاک ہیں سو وہ قریب نہ ہونے پائیں مسجد حرام سے اس سال کے بعد اور اگر تم اندیشہ کرو تنگدستی کا تو غنی کردیگا تمہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کر م سے اگر چاہے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا بڑا دانا ہے ۔

﴿28﴾ جنگ کرو ان لوگوں سے جو نہیں ایمان لاتے اللہ پر اور نہ روز قیامت پر اور نہیں حرام سمجھتے جسے حرام کیا ہے اللہ نے اور اس کے رسول نے اور نہ قبول کرتے ہیں سچے دین کو ان لوگوں میں سے جنھیں کتاب دی گئی ہے یہاں تک کہ وہ جزیہ اپنے ہاتھ سے اس حال میں کہ وہ مغلوب ہوں ۔

﴿29﴾ اور کہا یہود نے کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور کہا نصرانیوں نے کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ ان کی (بے سروپا) بات ہے انکے مونہوں سے نکلی ہوئی نقل اتاررہے ہیں ان لوگوں کے قول کی جنہوں نے کفر کیا پہلے ہلاک کرے انھیں اللہ تعالیٰ ، کدھر بھٹکے چلے جارہے ہیں۔

﴿30﴾ انھوں نے بنالیا اپنے پادریوں اور اپنے راہبوں کو (اپنے) پروردگار اللہ کو چھوڑ کر اور مسیح فرزند مریم کو بھی۔ حالانکہ نہیں حکم دیا گیا تھا انھیں بجز اس کے کہ وہ عبادت کریں (صرف) ایک خدا کی۔ نہیں کوئی خدا بغیر اس کے وہ پاک ہے اس سے جسے وہ اس کا شریک بناتے ہیں۔

﴿31﴾ (یہ لوگ) چاہتے ہیں کہ بجھادیں اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے اور انکار فرماتا ہے اللہ مگر یہ کہ کمال تک پہنچا دے اپنے نور کو اگرچہ ناپسند کرین (اس کو ) کافر۔

﴿32﴾ وہی (قادر مطلق) ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو (کتابِ) ہدایت اور دین حق دے کر تاکہ غالب کردے اسے تمام دینوں پر اگرچہ ناگوار گزرے (یہ غلبہ ) مشرکوں کو۔

﴿33﴾ اے ایمان والوں ! بیشک اکثر پادری اور راہب کھاتے ہیں لوگوں کے مال ناجائز طریقے سے اور روکتے ہیں (لوگوں) کو راہ خدا سے اور جو لوگ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور نہیں خرچ کرتے اسے اللہ کی راہ میں تو انھیں خوشخبری سنادیجیے دردناک عذاب کی۔

﴿34﴾ جس دن تپایا جائے گا (یہ سونا اور چاندی ) جہنم کی آگ میں پھر داغی جائیں گی اس سے اُ ن کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور ان کی پشتیں ( اور انھیں بتایا جائیگا) کہ یہ ہے جو تم نے جمع کر رکھا تھا اپنے لیے تو (اب ) چکھو (سزا اس کی ) جو تم جمع کیا کرتے تھے۔

﴿35﴾ بیشک مہینوں کی تعداد اللہ تعالیٰ کے نزدیک بارہ ماہ ہے کتاب الٰہی میں جس روز سے اس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو، ان میں سے چار عزت والے ہیں۔ یہی دین قیم ہے پس نہ ظلم کرو ان مہینوں میں اپنے آپ پر اور جنگ کرو تمام مشرکوں سے جس طرح وہ سب تم سے جنگ کرتے ہیں اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

﴿36﴾ (حرمت والے مہینوں کو ) ہٹا دینا تو اور اضافہ کرنا ہے کفر میں۔ گمراہ کیے جاتے ہیں اس سے وہ لوگ جو کافر ہیں حلال کردیتے ہیں ایک ماہ کو ایک سال اور حرام کردیتے ہیں اسی کو دوسرے سال تاکہ پوری کریں گنتی ان مہینوں کی جنھیں حرام کیا ہے اللہ نے تاکہ اس حیلہ سے حلال کرلیں جسے حرام کیا ہے اللہ نے آراستہ کردیے گئے ہیں انکے لیے انکے برے عمال اور اللہ ہدایت نہیں دیتا اس قوم کو جو کفر اختیار کیے ہوئے ہے۔

﴿37﴾ اے ایمان والو! کیا ہوگیا ہے تمھیں کہ جب کہا جاتا ہے تمھیں نکلو راہ خدا میں تو بوجھل ہوکر زمین کی طرف جھک جاتے ہو۔ کیا تم نے پسند کرلی ہے دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں۔ سو نہیں ہے سروسامان دینوی زندگی کا آخر ت میں مگر قلیل۔

﴿38﴾ اگر تم نہیں نکلو گے تو اللہ عذاب دیگا تمھیں دردناک عذاب ۔ اور بدل کر لے آئیگا کوئی دوسری قوم تمھارے علاوہ اور تم نہ بگاڑ سکو گے اس کا کچھ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

﴿39﴾ اگر تم مدد نہ کر و گے رسول کریم کی تو (کیا ہوا) انکی مدد فرمائی ہے خود اللہ نے جب نکالا تھا ان کو کفار نے۔ آپ دوسرے تھے دو سے جب وہ دونون غارِ (ثور) میں تھے جب وہ فرمارہے تھے اپنے رفیق کو کہ مت غمگین ہو یقیناً اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ پھر نازل کی اللہ نے اپنی تسکین ان پر اور مدد فرمائی ان کی ایسے لشکروں سے جنھیں تم نے نہ دیکھا اور کردیا کافروں کی بات کو سرنگوں اور اللہ کی بات ہی ہمیشہ سربلند ہے۔ اور اللہ تعالیٰ غالب ہے حکمت والا ہے ۔

﴿40﴾ (جہاد کے لیے) نکلو (ہر حال میں ) ہلکے ہو یا بوجھل اور جہاد کرو اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں ۔ یہ بہتر ہے تمھارے لیے اگر تم (اپنا نفع و نقصان ) جانتے ہو۔

﴿41﴾ اگر ہوتا وہ مال نزدیک یا سفر آسان تو ضرور پیچھے چلتے آپ کے ، لیکن دور معلوم ہوتی ہے انھیں مسافت اور ابھی قسم کھائیں گے اللہ کی (اور کہیں گے) کہ اگر ہم میں طاقت ہوتی تو ہم ضرور نکلتے تمھارے ساتھ۔ ہلاک کررہے ہیں اپنے آپ کو ۔ اور اللہ جانتا ہے کہ وہ قطعاً جھوٹے ہیں۔

﴿42﴾ درگزر فرمایا ہے اللہ نے آپ سے (لیکن) کیوں آپ نے اجازت دے دی تھی انھیں یہاں تک کہ ظاہر ہوجاتے آپ پر وہ لوگ جنھوں نے سچ کہا اور آپ جان لیتے جھوٹوں کو۔

﴿43﴾ نہ اجازت مانگیں گے آپ سے جو ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور روز قیامت پر کہ (نہ ) جہاد کریں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے پرہیزگاروں کو۔

﴿44﴾ صرف وہی اجازت مانگتے ہیں آپ سے جو نہیں ایمان رکھتے اللہ تعالیٰ پر اور روز قیامت پر اور شک میں مبتلا ہیں ان کے دل تو وہ اپنے شک میں ڈانوں ڈول ہیں۔

﴿45﴾ اور اگر انھوں نے ارادہ کیا ہوتا (جہاد پر) نکلنے کا تو انھوں نے تیار کیا ہوتا اس کے لیے کچھ سامان لیکن ناپسند کیا اللہ تعالیٰ نے انکے کھڑے ہونے کو اسلیے پست ہمت کردیا انھیں اور کہہ دیا گیا تم بیٹھے رہو، بیٹھے رہنے والوں کے ساتھ۔

﴿46﴾ اگر نکلتے تمھارے (لشکر) میں تو نہ زیادہ کرتے تم میں بجز فساد کے اور دوڑ دھوپ کرکے تمھارے درمیان فتنہ پردازی کرتے۔ اور تم میں ان کے جاسوس (اب بھی) موجود ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ خوب جاتنا ہے ظالموں کو ۔

﴿47﴾ (اے حبیب!) وہ کوشاں رہے فتنہ انگیزی میں پہلے بھی اور الٹ پلٹ کرتے تھے اپکے لیے تجویزیں یہاں تک کہ آگیا حق اور غالب ہوا اللہ کا حکم اور وہ ناخوش تھے۔

﴿48﴾ اور ان میں سے بعض کہتے ہیں اجازت دیجیے مجھے (کہ گھر ٹھیرا رہوں) اور مجھے فتنہ میں نہ ڈالیے خبردار فتنہ میں تو وہ گر چکے اور بیشک جہنم گھیرے ہوئے ہے کافروں کو ۔

﴿49﴾ اگر پہنچے آپ کو کچھ بھلائی تو بری لگتی ہے انھیں اور اگر پہنچے آپ کو کوئی مصیبت تو کہیں کہ ہم نے درست کرلیا تھا اپنا کام پہلے ہی اور لوٹتے ہیں خوشیاں مناتے ہوئے۔

﴿50﴾ آپ فرمائیے ہرگز نہیں پہنچے گی ہمیں کوئی تکلیف بجز اس کے جو لکھ دی ہے اللہ نے ہمارے لیے ۔ وہی ہمارا حامی و ناصر ہے اور اللہ پر ہی توکل کرنا چاہیے مومنوں کو ۔

﴿51﴾ فرمائیے کیا تم منتظر ہو ہمارے متعلق (کہ ہم مارے جائیں۔ یہ مرنا نہیں) مگر ایک بھلائی ان دو بھلائیوں سے (جنکے ہم خواہاں ہیں) اور ہم انتظار کرتے ہیں تمھارے لیے کہ پہنچائے تمھیں اللہ عذاب اپنے پاس سے یا ہمارے ہاتھوں سے۔ پس تم بھی انتظار کرو ہم بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنیوالے ہیں۔

﴿52﴾ فرمائیے خرچ کرو خوشی سے یا ناخوشی سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا تم سے بیشک تم ایک نافرمان قوم تھے۔

﴿53﴾ اور نہیں منع کیا ہے انھیں کہ قبول کیے جائیں ان سے ان کے اخراجات سوائے اس کے کہ انھوں نے کفر کیا اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ اور نہیں آتے نماز ادا کرنے کے لیے مگر سست سُست اور نہیں خرچ کرتے مگر اس حال میں کہ وہ ناخوش ہیں۔

﴿54﴾ سو نہ تعجب میں ڈال دیں تمھیں ان کے مال اور نہ ان کی اولاد یہی چاہتا ہے اللہ تعالیٰ کہ عذاب دے انھیں ان چیزوں سے دینوی زندگی میں اور نکلے ان کا سانس اس حال میں کہ وہ کافر ہوں۔

﴿55﴾ اور قسمیں اٹھاتے ہیں اللہ کی کہ وہ تم میں سے ہیں حالانکہ وہ تم میں سے نہیں۔ لیکن وہ ایسی قوم ہیں جو ڈرتے رہتے ہیں۔

﴿56﴾ اگر مل جائے انھیں کوئی پناہ گاہ یا کوئی غار یا گھس بیٹھ نے کی جگہ تو (دیکھیے گا) وہ منہ پھیر لیں گے اس طرف منہ زوری کرتے ہوئے۔

﴿57﴾ اور بعض ان میں طعن کرتے ہیں آپ پر صدقات (کی تقسیم) کے بارے میں سو اگر انھیں دیا جائے ان سے تو خوش ہوجاتے ہیں اور اگر انھیں نہ دیا جائے اس سے تو اس وقت وہ ناراض ہوجاتے ہیں۔

﴿58﴾ اور (کیا اچھا ہوتا) اگر وہ خوش ہوجاتے اس سے جو دیا تھا انھیں اللہ اور اس کے رسول نے اور کہتے کافی ہے ہمیں اللہ تعالیٰ۔ عطا فرمائے گا ہمیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اور اس کا رسول ہم تو اللہ کی طرف ہی رغبت کرنیوالے ہیں۔

﴿59﴾ زکوۃ تو صرف ان کے لیے ہے جو فقیر ، مسکین اور زکوٰۃ کے کام پر جانے والے ہیں۔ اور جن کی دلداری مقصود ہے نیز گردنوں کو آزاد کرانے اور مقروضوں کے لیے اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لیے یہ سب فرض ہے اللہ کی طرف سے۔ اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا دانا ہے۔

﴿60﴾ اور کچھ ان میں سے ایسے ہیں جو (اپنی بدزبانی سے) اذیت دیتے ہیں نبی (کریم) کو اور کہتے ہیں یہ کانوں کا کچا ہے ۔ فرمائیے وہ سنتا ہے جس میں بھلا ہے تمھارا ، یقین رکھتا ہے اللہ پر اور یقین کرتا ہے مومنوں (کی بات ) پر اور سراپا رحمت ہے ان کے لیے جو ایمان لائے تم میں سے اور جو لوگ دکھ پہنچاتے ہیں اللہ کے رسول کو۔ ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

﴿61﴾ (منافق) قسمیں اٹھاتے ہیں اللہ کی تمھارے سامنے تاکہ خوش کریں تمھیں۔ حالانکہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ مستحق ہے کہ اسے راضی کریں اگر وہ ایماندار ہیں۔

﴿62﴾ کیا وہ نہیں جانتے کہ جو کوئی مخالفت کرتا ہے اللہ اور اس کے رسول کی تو اس کے لیے آتش جہنم ہے ہمیشہ رہے گا اس میں۔ یہ بہت بڑی رسوائی ہے۔

﴿63﴾ ڈرتے رہتے ہیں منافق کہ کہیں نازل (نہ) کی جائے اہل ایمان پر کوئی سورۃ جو آگا ہ کردے انھیں جو کچھ منافقوں کے دلوں میں ہے۔ آپ (انھیں) فرمائیے کہ مذاق کرتے رہو۔ یقیناً اللہ ظاہر کرنے والا ہے جس سے تم خوفزدہ ہو۔

﴿64﴾ اور اگر آپ دریافت فرمائیں ان سے تو کہیں گے بس ہم تو صرف دلی لگی اور خوش طبعی کررہے تھے۔ آپ فرمائیے (گستاخو!) کیا اللہ سے اور اس کی آیتوں سے اور اس کے رسول سے تم مذاق کیا کرتے تھے؟ ۔

﴿65﴾ (اب) بہانے مت بناؤ تم کافر ہوچکے (اظہار) ایمان کے بعد اگر ہم معاف بھی کردیں ایک گروہ کو تم میں سے تو عذاب دیں گے دوسرے گروہ کو کیونکہ وہی (اصلی) مجرم تھے۔

﴿66﴾ منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک جیسے ہیں حکم دیتے ہیں برائی کا اور روکتے ہیں نیکی سے اور بند رکھتے ہیں اپنے ہاتھ (حقیقت یہ ہے کہ ) انھوں نے بھلادیا ہے اللہ کو تو اس نے بھی فراموش کردیا ہے انھیں بیشک منافق ہی نافرمان ہیں۔

﴿67﴾ وعدہ کیا ہے اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کفار سے دوزخ کی آگ کا ، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں۔ یہی کافی ہے انھیں نیز لعنت کی ہے ان پر اللہ نے اور انہی کے لیے دائمی عذاب ۔

﴿68﴾ (منافقو!) تمھاری حالت بھی اسیس ہے جسیے ان لوگوں کی جو تم سے پہلے گزرے وہ زیادہ تھے تم سے قوت میں اور مال اور اولاد کی کثرت میں سو لطف اٹھایا انھوں نے اپنے (دینوی) حصہ سے اور تم نے بھی لطف اٹھایا اپنے (دینوی) حصہ اور (لذتوں میں) تم بھی ڈوبے رہے جیسے وہ ڈوبے رہے تھے ۔ یہی وہ لوگ ہیں ضائع ہوگئے جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں۔ اور یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

﴿69﴾ کیا نہ آئی ان کے پاس خبر ان لوگوں کی جو ان سے پہلے گزرے (یعنی ) قوم نوح اور عاد اور ثمود اور قوم ابراھیم اور اہل مدین اور وہ بستیاں جنھیں الٹ دیا گیا تھا ۔ آئے تھے ان سب کے پاس انکے رسول روشن دلیلیں لیکر اور نہ تھا اللہ (کا یہ دستور) کہ ظلم کرتا ان پر بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہتے تھے۔

﴿70﴾ نیز مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں حکم کرتے ہیں نیکی کا اور روکتے ہیں برائی سے اور صحیح صحیح ادا کرتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکوٰۃ اور اطاعت کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی۔ یہی لوگ ہیں جن پر ضرور رحم فرمائے گا اللہ بیشک اللہ تعالیٰ غالب ہے حکمت والا ہے۔

﴿71﴾ وعدہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے باغات کا، رواں ہیں جن کے نیچے ندیاں ۔ یہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ۔ نیز (وعدہ کیا ہے ) پاکیزہ مکانات کا سدا بہار باغوں میں اور رضائے خداوندی ان سب نعمتوں سے بڑی ہے یہی تو بڑی کامیابی ہے۔

﴿72﴾ اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کریم! جہاد کیجیے کافروں اور منافقوں کے ساتھ اور سختی کیجیے ان پر اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

﴿73﴾ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ انھوں نے یہ نہیں کہا حالانکہ یقیناً انھوں نے کہی تھی کفر کی بات اور انھوں نے کفر اختیار کیا اسلام لانے کے بعد اور انھوں نے ارادہ بھی کیا ایسی چیز کا جسے وہ نہ پاسکے اور نہیں خشمناک ہوئے وہ مگر اس پر کہ غنی کردیا انھیں اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے اپنے فضل و کرم سے سو اگر وہ توبہ کرلیں تو یہ بہتر ہوگا ان کے لیے اور اگر وہ روگردانی کریں تو عذاب دیگا انھیں اللہ تعالیٰ عذاب الیم۔ دنیا اور آخرت میں اور نہیں ہوگا ان کے روئے زمین میں کوئی دوست اور نہ کوئی مددگار۔

﴿74﴾ اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے وعدہ کیا اللہ کے ساتھ کہ اگر اس نے دیا ہمیں اپنے فضل سے تو ہم دل کھول کر خیرات دیں گے اور ضرور ہوجائیں گے نیکو کاروں میں ۔

﴿75﴾ پس جب اس نے عطا فرمایا انھیں اپنے فضل سے تو کنجوسی کرنے لگے اس کے ساتھ اور روگردانی کرلی اور وہ منہ پھیر نے والے ہیں۔

﴿76﴾ پس اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ نے نفاق جما دیا ان کے دلوں میں اس دن تک جب ملیں گے اس کو اس وجہ سے کہ انھوں نے خلاف ورزی کی اللہ سے جو وعدہ انھوں نے کیا تھا اور اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔

﴿77﴾ کیا وہ نہیں جانتے کہ بیشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے ان کے راز کو اور ان کی سرگوشی کو اور یقیناً اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے سارے غیبوں کو ۔

﴿78﴾ جو لوگ (ریا کاری کا ) الزام لگاتے ہیں خوشی خوشی خیرات کرنے والوں پر مومنوں سے اور جو (نادار) نہیں پاتے بجز اپنی محنت و مشقت کی مزدوری کے تو یہ ان کا بھی مذاق اڑاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سزادے گا انہیں اس مذاق کی اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

﴿79﴾ آپ بخشش طلب کریں ان کے لیے یا نہ کریں اگر آپ بخشش طلب کریں ان کے لیے ستر بار جب بھی نہ بخشے گا اللہ تعالیٰ انھیں۔ یہ محض اس لیے کہ انھوں نے انکار کیا اللہ کا اور اس کے رسول (مکرم) کا ۔ اور اللہ تعالیٰ نہیں ہدایت دیتا نافرمان قوم کو۔

﴿80﴾ خوش ہوگئے پیچھے چھوڑے جانے والے اپنے (گھر) بیٹھے رہنے پر اللہ کے رسول کی (جہاد پر ) روانگی کے بعد اور ناگوار تھا انھیں کہ جہاد کریں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے راہ خدا میں اور (دوسروں کو بھی) کہتے کہ مت نکلو اس سخت گرمی میں فرمائیے دوزخ کی آگ اس سے بھی زیادہ گرم ہے۔ کاش ! وہ کچھ سمجھتے۔

﴿81﴾ تو انھیں چاہیے کہ ہنسیں تھوڑا اور روئیں زیادہ یہ سزا ہے جو وہ کمایا کرتے تھے۔

﴿82﴾ (اے حبیب!) پھر اگر لے جائے آپ کو اللہ تعالیٰ ان کے کسی گروہ کے پاس پر وہ اجازت طلب کریں آپ سے جہاد پر نکلنے کی تو آپ فرمائیے نہیں نکلو گے تم میرے ہمراہ کبھی اور ہرگز جنگ نہیں کروگے میری معیت میں کسی دشمن سے۔ تم نے تو (خود) پسند کیا تھا (گھر) بیٹھ رہنا پہلی مرتبہ تو اب بیٹھے رہو پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ۔

﴿83﴾ اور نہ پڑھیے نماز جنازہ کسی پر ان میں سے جو مرجائے کبھی اور نہ کھڑے ہوں اس کی قبر پر بیشک انھوں نے کفر کیا اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول مکرم کے ساتھ ۔ اور وہ مرے اس حالت میں کہ وہ نافرمان تھے۔

﴿84﴾ اور نہ تعجب میں ڈالیں آپ کو ان کے مال اور ان کی اولاد ۔ یہی چاہتا ہے اللہ تعالیٰ کہ عذاب دے انھیں ان سے دنیا میں اور نکلے ان کا سانس اس حال میں کہ وہ کافر ہوں۔

﴿85﴾ اور جب نازل کی جاتی ہے کوئی سورۃ (جس میں حکم ہوتا ہے کہ ) ایمان لاؤ اللہ پر اور جہاد کرو اللہ کے رسول کے ہمراہ تو اجازت طلب کرنے لگتے ہیں آپ سے جو طاقت والے ہیں ان میں سے اور کہتے ہیں رہنے دیجیے ہمیں تاکہ ہوں ہم پیچھے بیٹھنے والوں کے ساتھ۔

﴿86﴾ انھوں نے یہ پسند کیا کہ ہوجائیں پیچھے رہ جانے والوں کے سات اور مہر لگادی گئی ان کے دلوں پر تو وہ کچ نہیں سمجھتے۔

﴿87﴾ لیکن رسول اور جو ایمان لائے اس کے ساتھ انھوں نے جہاد کیا اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اور انہی کے لیے ساری بھلائیاں ہیں اور وہی لوگ کامیاب ہیں۔

﴿88﴾ تیار کر رکھے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے باغات ، بہتی ہیں ان کے نیچے ندیاں ہمیشہ رہنے والے ہیں ان میں۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔

﴿89﴾ اور آئے بہانہ بنانے والے بدو تاکہ اجازت مل جائے انھیں اور بیٹھ رہے وہ جنھوں نے جھوٹ بولا تھا اللہ اور اس کے رسول سے عنقریب پہنچے گا جنھوں نے کفر کیا ان میں سے عذاب دردناک۔

﴿90﴾ نہیں ہے کمزورں پر اور نہ بیماروں پر اور نہ ان پر جو نہیں پاتے مال جسے خرچ کریں (اگر یہ پیچھے رہ جائیں) کوئی حرج جبکہ وہ مخلص ہوں اللہ کیلیے اور اس کے رسول کے لیے نہیں ہے نیکوکاروں پر الزام کی کوئی وجہ اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

﴿91﴾ اور نہ ان پر (کوئی الزام ہے) جو جب حاضر ہوئے آپکے پاس تاکہ آپ سوار کریں انھیں تو فرمایا آپ نے میں نہیں پاتا جس پر میں تمھیں سوار کروں وہ لوٹتے ہیں اس حال میں کہ انکی آنکھیں بہارہی ہوتی ہیں آنسو اس غم میں کہ افسوس نہیں ان کے پاس جو وہ خرچ کریں۔

﴿92﴾ الزام تو بس ان لوگوں پر ہے جو اجازت مانگتے ہیں آپ سے حالانکہ وہ مالدار ہیں۔ وہ راضی ہوگئے اس پر کہ ہوجائیں پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ اور مہر لگادی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر پس وہ (کچھ ) نہیں جانتے۔

﴿93﴾ وہ بہانے پیش کریں گے تمھارے پاس جب تم لوٹ کر جاؤ گے ان کی طرف فرمائیے بہانے مت بناؤ ہم نہیں اعتبار کریں گے تم پر، آگا ہ کردیا ہے ہمین اللہ تعالیٰ نے تمھاری خبروں پر اور دیکھے گا اللہ تعالیٰ تمھارا عمل اور اس کا رسول پھر لوٹائے جاؤ گے اس کی طرف جو جاننے والا ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کو پھر وہ آگاہ کرے گا تمھیں جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

﴿94﴾ قسمیں کھائیں گے اللہ کی تمھارے سامنے جب تم لوٹو گے ان کی طرف تاکہ تم معاف کردو انھیں سو منہ پھیر لو ان سے یقیناً وہ ناپاک ہیں اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے ، بدلہ اس کا جو وہ کمایا کرتے تھے۔

﴿95﴾ وہ قسمیں کھاتے ہیں تمھارے لیے تاکہ تم خوش ہو جاؤ ان سے ۔ سو (یاد رکھو) اگر تم خوش ہو بھی گئے ان سے تو پھر بھی اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوگا نافرمانوں کو قوم سے۔

﴿96﴾ اعرابی زیادہ سخت ہیں کفر اور نفاق میں اور حقدار ہیں کہ نہ جانیں وہ احکام جو نازل کیے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا بڑا دانا ہے۔

﴿97﴾ اور بعض بدو ایسے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ جو وہ (راہ خدا میں ) خرچ کرتے ہیں وہ تاوان ہے اور منتظر ہیں تمھارے لیے (زمانہ کی ) گردشوں کے (حقیقت میں ) انہی پر ہے بری گردش اور اللہ تعالیٰ سمیع (و) علیم ہے۔

﴿98﴾ اور کچھ دیہاتیوں میں سے وہ ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور روز قیامت پر اور سمجھتے ہیں جو وہ خرچ کرتے ہیں قرب الٰہی اور رسول (پاک) کی دعائیں لینے کا ذریعہ ہے ہاں ہاں وہ ان کے لیے باعث قرب ہے۔ ضرور داخل فرمائے گا انہیں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں بیشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

﴿99﴾ اور سب سے آگے آگے سب سے پہلے ایمان لانے والے مہاجرین اور انصار سے اور جنھوں نے پیروی کی ان کی عمدگی سے راضی ہوگیا اللہ تعالیٰ ان سے اور راضی ہوگئے وہ اس سے اور اس نے تیار کر رکھے ہیں ان کے لیے باغات بہتی ہیں ان کے نیچے ندیاں ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک یہی بڑی کامیابی ہے۔

﴿100﴾ اور تمھارے آس پاس بسنے والے دیہاتیوں سے کچھ منافق ہیں اور کچھ مدینہ کے رہنے والے پکے ہوگئے ہیں نفاق میں تم نہیں جانتے ان کو۔ ہیں جانتے ہیں انھیں ہم عذاب دیں گے انھیں دوبار پھر وہ لوٹائے جائیں گے بڑے عذاب کی طرف ۔

﴿101﴾ کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اعتراف کرلیا ہے اپنے گناہوں کا۔ انھوں نے ملاجلادیئے ہیں کچھ اچھے اور کچھ برے عمل۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے ان کی توبہ بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔

﴿102﴾ اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) وصول کیجیے ان کے مالوں سے صدقہ تاکہ آپ پاک کریں انھیں اور بابرکت فرمائیں انھیں اس ذریعہ سے۔ نیز دعا مانگیے انکے لیے بیشک آپکی دعا (ہزار ) تسکین کا باعث ہے انکے لیے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

﴿103﴾ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی توبہ قبول فرماتا ہے اپنے بندوں سے اور لیتا ہے صدقات کو۔ اور بیشک اللہ ہی بہت توبہ قبول کرنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔

﴿104﴾ اور فرمائیے عمل کرتے رہو ۔ پس دیکھے گا اللہ تعالیٰ تمھارے عملوں کو اور (دیکھے گا) اس کا رسول اور مومن اور لوٹائے جاو گے اس کی طرف جو جاننے والا ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر ہر چیز کا ۔ پس وہ خبردار کریگا تمھیں اس سے جو تم کیا کرتے تھے۔

﴿105﴾ اور دوسرے لوگ ہیں (جن کا معاملہ) ملتوی کردیا گیا ہے اللہ کا حکم (آنے) تک۔ چاہے وہ عذاب دے انہیں اور چاہے توبہ قبول فرمالے انکی۔

﴿106﴾ اور اللہ سب کچھ جاننے والا دانا ہے۔ اور وہ لوگ جنھوں نے بنائی ہے مسجد تقصان پہنچانے کے لیے کفر کرنے کے لیے اور پھوٹ ڈالنے کے لیے مومنوں کے درمیان اور (اسے) کمین گاہ بنایا ہے اس کے لیے جو لڑتا رہا ہے اللہ سے اور اس کے رسول سے اب تک اور وہ ضرور قسمیں کھائیں گے کہ نہیں ارادہ کیا ہم نے مگر بھلائی کا ور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ صاف جھوٹے ہیں۔

﴿107﴾ آپ نہ کھڑے ہوں کبھی اس میں البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے پہلے دن سے وہ زیادہ مستحق ہے کہ آپ کھڑے ہوں اس میں، اس میں ایسے لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں صاف ستھرا رہنے کو اور اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے پاک صاف لوگوں سے۔

﴿108﴾ تو کیا وہ شخص جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی اللہ کے تقویٰ پر اور (اس کی ) رضا جوئی پر بہتر ہے یا وہ جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی وادی کے کھوکھلے دہانے کے کنارے پر جو گرنے والا ہے پس وہ گر پڑا اسے لیکر دوزخ کی آگ میں اور اللہ تعالیٰ راہ حق پر نہیں چلات ظالم قوم کو۔

﴿109﴾ ہمیشہ ان کی یہ عمارت جو انھوں نے بنائی ہے کھٹکتی رہے گی ان کے دلوں میں مگر یہ کہ پارہ پارہ ہوجائیں ان کے دل اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔

﴿110﴾ یقیناً اللہ نے خرید لی ہے ایمانداروں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس عو ض میں کہ ان کے لیے جنت ہے لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں ۔ وعدہ کیا ہے اللہ نے اس پر پختہ وعدہ توراۃ اور انجیل اور قرآن (تینوں کتابوں) میں اور کون زیادہ پورا کرنے والا ہے اپنے وعدہ کو اللہ تعالیٰ سے (اے ایمان والو!) پس خوشیاں مناؤ اپنے اس سودے پر جو کیا ہے تم نے اللہ سے اور یہی تو سب سے بڑی فیروز مندی ہے۔

﴿111﴾ توبہ کرنے والے ، (اللہ کی ) عبادت کرنیوالے ، حمدوثنا کرنے والے روزہ رکھنے والے ، رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے ، نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے اور نگہبانی کرنیوالے اللہ کی (مقررہ) حدوں کی (اے میرے رسول!) خوشخبری سنادیجیے ان (کامل) مومنوں کو۔

﴿112﴾ درست نہیں ہے نبی کے لیے اور نہ ایمان والوں کے لیے کہ مغفرت طلب کریں مشرکوں کے واسطے اگرچہ وہ مشرک ان کے قریبی رشتہ دار ہی ہوں جب کہ واضح ہوگیا ان پر کہ یہ دوزخی ہیں۔

﴿113﴾ اور نہ تھی استغفار ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے مگر ایک وعدہ (کو پورا کرنے) کی وجہ سے انھوں نے اس سے کیا تھا ۔ اور جب ظاہر ہوگئی آپ پر یہ بات کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے تو آپ بیزار ہوگئے اس سے بیشک ابراہیم بڑے ہی نرم دل (اور ) بردبار تھے۔

﴿114﴾ اور نہیں ہے اللہ تعالیٰ کا دستور کہ گمراہ کردے کسی قوم کو اسے ہدایت دینے کے بعد یہاں تک کہ بیان کردے ان کے لیے وہ چیزیں جن سے انہیں بچنا چاہیے بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے ۔

﴿115﴾ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے (ساری) بادشاہی آسمانوں اور زمین کی۔ وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے اور نہیں ہے تمھارے لیے اللہ کے سوا کوئی حامی اور نہ کوئی مدد گار۔

﴿116﴾ یقیناً رحمت سے توجہ فرمائی اللہ تعالیٰ نے (اپنے) نبی پر نیز مہاجرین اور انصار پر جنھوں نے پیروی کی تھی نبی کی مشکل گھڑی میں اس کے بعد کہ قریب تھا کہ ٹیڑھے ہوجائیں دل ایک گروہ کے ان میں سے پھر رحمت سے توجہ فرمائی ان پر، بیشک وہ ان سے بہت شفقت کرنیوالا رحم فرمانے والا ہے۔

﴿117﴾ اور تینوں پر بھی نظر رحمت فرمائی جن کا فیصلہ ملتوی کردیا گیا تھا یہاں تک کہ جب تنگ ہوگئی ان پر زمین باوجود کشادگی کے اور بوجھ بن گئیں ان پر ان کی جانیں اور جان لیا انھوں نے کہ نہیں کوئی جائے پناہ اللہ تعالیٰ سے مگر اسی کی ذات۔ تب اللہ تعالیٰ ان پر مائل بکرم ہوا تاکہ وہ بھی رجوع کریں۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی بہت توبہ قبول فرمانیوالا (اور) ہمیشہ رحم کرنیوالا ہے۔

﴿118﴾ اے ایمان والوں ! ڈرتے رہا کرو اللہ سے اور ہوجاؤ سچے لوگوں کے ساتھ۔

﴿119﴾ نہیں مناسب تھا مدینہ والوں کے لیے اور جو ان کے اردگرد دیہاتی لوگ ہیں کہ پیچھے بیٹھ رہتے اللہ کے رسول پاک سے اور نہ یہ کہ متوجہ ہونے اپنے نفسوں کی طرف ان سے بےفکر ہوکر۔ یہ اس لیے کہ نہیں پہنچتی انھیں کوئی پیاس اور نہ کوئی تکلیف اور نہ بھوک راہ خدا میں اور نہ و چلتے ہیں کسی چلنے کی جگہ جس سے کافروں کو غصہ آئے اور نہیں حاصل کرتے وہ دشمن سے کچھ مگر یہ کہ لکھا جاتا ہے ان کے لیے ان (تمام تکلیفوں) کے عوض نیک عمل بیشک اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرتا نیکوں کا اجر۔

﴿120﴾ اور وہ مجاہدین نہیں خرچ کرتے تھوڑا اور نہ زیادہ اور نہ طے کرتے ہیں کسی وادی کو مگر یہ کہ لکھ لیا جاتا ہے ان کے لیے تاکہ صلہ دے انھیں اللہ تعالیٰ بہترین ، ان کا موں کا جو وہ کیا کرتے تھے۔

﴿121﴾ اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن نکل کھڑے ہوں سارے کہ سارے تو کیوں نہ نکلے ہر قبیلہ سے چند آدمی تاکہ تفقہ حاصل کریں دین میں اور ڈرائیں اپنی قوم کو جب لوٹ کر آئیں ان کی طرف تاکہ وہ (نافرمانیوں سے ) بچیں۔

﴿122﴾ اے ایمان والو! جنگ کرو ان کافروں سے جو آس پاس ہیں تمھارے اور چاہیے کہ وہ پائیں تم میں سختی اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

﴿123﴾ اور جب کبھی نازل ہوتی ہے کوئی سورۃ تو بعض ان میں سے وہ ہیں جو (شرارتاً) کہتے ہیں کہ کس کا تم میں سے زیادہ کردیا ہے اس سورۃ نے ایمان تو وہ (سن لیں) ایمان والوں کے ایمان میں اس سورۃ نے اضافہ کردیا ہے اور وہ خوشیاں منا رہے ہیں۔

﴿124﴾ اور جن کے دلوں میں (نفاق کا ) روگ ہے تو بڑھادی اس سورۃ نے ان میں اور پلیدی ان کے (سابقہ) پلیدی پر اور وہ مرگئے اس حال میں کہ وہ کافر تھے۔

﴿125﴾ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں ہر سال ایک بار یا دو بار پھر بھی وہ توبہ نہیں کرتے اور نہ وہ نصیحت قبول کرتے ہیں۔

﴿126﴾ اور جب کوئی سورۃ نازل ہوتی ہے تو دیکھنے لگتے ہیں ایک دوسرے کی طرف کیا دیکھ تو نہیں رہا تمھیں کوئی پھر چل دیتے ہیں ۔ پھیر دیئے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کیونکہ یہ لوگ کچھ نہیں سمجھتے۔

﴿127﴾ بیشک تشریف لایا ہے تمھارے پاس ایک برگزیدہ رسول تم میں سے گراں گزرتا ہے اس پر تمھارا مشقت میں پڑنا بہت ہی خواہشمند ہے تمھاری بھلائی کا مومنوں کے ساتھ بڑی مہربانی فرمانے والا ، بہت رحم فرمانے والا ہے۔

﴿128﴾ (اے حبیب!) پھر اگر منہ موڑلیں تو آپ فرمادیں کافی ہے مجھے اللہ نہیں کوئی معبود بجز اس کے اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔

﴿129﴾ الف۔ لام۔ را یہ آیتیں ہیں کتاب حکیم کی ۔

یونس

Surah 10

﴿1﴾ کیا (یہ بات) لوگوں کے لیے باعث تعجب ہے کہ ہم نے وحی بھیجی ایک مرد (کامل) پر جو ان میں سے ہے کہ ڈراؤ لوگوں کو اور خوشخبری دو انھیں جو ایمان لائے کہ ان کے لیے مرتبہ بلند ہے ان کے رب کے ہاں۔ کفار نے کہا بلاشبہ یہ جادوگر ہے کھلا ہوا ۔

﴿2﴾ بیشک تمھارا رب اللہ تعالیٰ ہے جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں، پھر متمکن ہو ا عرش پر (جیسے اپسے زیبا ہے) ہر کام کی تدبیر فرماتا ہے کوئی نہیں شفاعت کرنے والا مگر اس کی اجازت کے بعد یہ ہے اللہ تعالیٰ جو تمھارا پروردگار ہے سو عبادت کرو اس کی۔ تو کیا تم غور و فکر نہیں کرتے؟ ۔

﴿3﴾ اسی کی طرف لوٹنا ہے تم سب نے یہ اللہ تعالیٰ کا سچا وعدہ ہے بیشک وہی ابتدا کرتا ہے پیدائش کی پھر وہی دہرائے گا اس تاکہ جزا دے انھیں جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے انصاف کے ساتھ۔ اور جنھوں نے کفر کیا ان کے لیے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ہوگا بوجہ اس کے وہ کفر کرتے رہتے تھے۔

﴿4﴾ وہی ہے جس نے بنایا سورج کو درخشاں اور چاند کو نور اور مقرر کیں اس کے لیے منزلیں تاکہ تم جان لو گنتی برسوں کی اور حساب نہیں پیدا فرمایا اللہ تعالیٰ نے اسے مگر حق کے ساتھ تفصیل سے بیان کرتا ہے (اپنی قدرت کی ) نشانیاں ! ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔

﴿5﴾ بیشک گردش ، لیل و نہار میں اور جو کچھ پیدا فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین میں ( ان میں اس کی ) نشانیاں ہیں اس قوم کے لیے جو متقی ہے ۔

﴿6﴾ بیشک وہ لوگ جو امید نہیں رکھتے ہم سے ملنے کی اور خوش و خرم ہیں دینوی زندگی سے اور مطمئن ہوگئے ہیں اس (کے سازوں سامان) سے اور وہ لوگ جو ہماری آیتوں سے غفلت برتتے ہیں ۔

﴿7﴾ یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ دوزخ ہے بہ سبب ان عملوں کے جو وہ کماتے رہے۔

﴿8﴾ یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے پہنچائیگا انھیں ان کا رب (منزل مقصود تک ) ان کے ایمان کے باعث۔ رواں ہوں گی انکے نیچے نہریں نعمت (وسرور) کے باغوں میں۔

﴿9﴾ (بہار جنت کو دیکھ کر ) ان کی صدا وہاں یہ ہوگی پاک ہے تو اے اللہ اور ان کی دعا یہ ہوگی کہ ’’سلامتی ہو‘‘ اور ان کی آخری پکاری ہوگی کہ سب تعریفیں اللہ تعالی ٰ کے لیے ہیں جو مرتبہ کمال تک پہنچانے والا ہے سارے جہانوں کو ۔

﴿10﴾ اور اگر جلدی بازی کرتا اللہ تعالیٰ لوگوں کو شر پہنچانے میں جیسے وہ جلدی بازی کرتے ہیں بھلائی کے لیے تو پوری کردی گئی ہوتی ان کی معیاد۔ (لیکن یوں نہیں بلکہ) ہم چھوڑے رکھتے ہیں انھیں جو توقع نہیں رکھتے ہماری ملاقات کی تاکہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔

﴿11﴾ اور جب پہنچتی ہے انسان کو کوئی تکلیف (تو اس وقت) پکارتا ہے ہمیں لیٹا ہوا یا بیٹھا ہوا ہو یا کھڑا ہوا ہو۔ پھر جب ہم دور کردیتے ہیں اس سے اس کی تکلیف (تو) چل دیتا ہے جیسے اس نے ہمیں (کبھی) پکارا ہی نہیں تھا کسی تکلیف میں جس اسے پہنچی تھی۔ اسی طرح آراستہ کردیے گئے حد سے بڑھنے والوں کے لیے وہ کرتوت جو وہ کیا کرتے تھے۔

﴿12﴾ اور بیشک ہم نے ہلاک کردیا کئی قوموں کو جو تم سے پہلے تھیں جب وہ زیادتیاں کرنے لگے اور آئے ان کے پاس کے رسول روشن دلیلیں لے کر اور وہ (ایسے) نہیں تھے کہ ایمان لاتے۔ اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں مجرم قوم کو۔

﴿13﴾ پھر ہم نے بنایا تمھیں جانشین زمین میں ان کے بعد تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔

﴿14﴾ اور جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری روشن آیتیں (تو) کہنے لگتے ہیں وہ جو توقع نہیں رکھتے ہم سے ملنے کی کہ لے آئیے (دوسرا) قرآن اس (قرآن) کے علاوہ یا ردوبدل کردیجیے اسی میں۔ فرمائیے مجھے اختیار نہیں کہ ردوبدل کردوں اس میں اپنی مرضی سے میں نہیں پیروی کرتا (کسی چیز کی) بجز اسکے جو وحی کی جاتی ہے میری طرف میں ڈرتا ہوں اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں، بڑے دن کے عذاب سے۔

﴿15﴾ آپ فرمادیجیے اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو میں نہ پڑھتا اسے تم پر اور نہ ہی وہ آگا ہ کرتا تمھیں اس سے۔ میں تو گزار چکا ہوں تمھارے درمیاں عمر (کا ایک حصہ) اس سے پہلے ۔ کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے۔

﴿16﴾ پس کون زیادہ ظالم ہے اس سے جو افترا باندھے اللہ تعالیٰ پر جھوٹا یا جھٹلائے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو۔ بیشک مجرم فلاح نہیں پاتے۔

﴿17﴾ اور (یہ مشرک) عبادت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا ایسی چیزوں کی جو نہ انھیں نقصان پہنچاسکتی ہیں اور نہ نفع پہنچاسکتی ہیں اور وہ کہتے ہیں یہ (معبود) ہمارے سفارشی ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ فرمائیے کیا تم آگا ہ کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو اس بات سے جو وہ نہیں جانتا نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں پاک ہے وہ اور بلند وبالا ہے اس شرک سے جو وہ کرتے ہیں۔

﴿18﴾ اور نہیں تھے لوگ (ابتدا میں ) مگر ایک ہی امت پھر (اپنی کجروی سے) باہم اختلاف کرنے لگے اور اگر ایک بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی آپ کے رب کی طرف سے تو فیصلہ کردیا جاتا انکے درمیان ان امور میں جن میں وہ اختلاف کیا کرتے ہیں۔

﴿19﴾ اور کہتے ہیں کیوں نہ نازل کی گئی ان پر کوئی آیت ان کے رب کی طرف سے؟ سو آپ فرمائیے غیب تو صرف اللہ کے لیے ہے۔ پس انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والا ہوں ۔

﴿20﴾ اور جب ہم لطف اندوز کرتے ہیں لوگوں کو (اپنی) رحمت سے اس تکلیف کے بعد جو انھیں پہنچی تو فوراً وہ مکروفریب کرنے لگتے ہیں ہماری آیتوں میں ۔ فرمائیے اللہ زیادہ تیز ہے اس فریب کو سزا دینے میں بیشک ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) قلمبند کررہے ہیں جو فریب تم کررہے ہو۔

﴿21﴾ وہی ہے جو سیر کراتا ہے تمھیں خشک زمین اور سمندر میں یہاں تک کہ جب تم سوار ہتے ہو کشتیوں میں اور وہ چلنے لگتی ہیں مسافروں کو لیکر موافق ہوا کی وجہ سے اور وہ مسرور ہوتے ہیں اس سے (تو اچانک) آلیتی ہے تندوتیز ہوا اور آلیتی ہیں انھیں موجیں ہر جگہ (طرف) سے اور وہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ انھیں گھیر لیا گیا ( تو اس وقت) پکارتے ہیں اللہ تعالیٰ کو خالص اسی کی عبادت کرتے ہوئے کہتے ہیں اے کریم! اگر تونے بچالیا ہمیں اس طوفان سے تو ہم یقیناً ہوجائینگے (تیرے) شکرگزار (بندوں ) سے۔

﴿22﴾ پھر جب وہ بچالیتا ہے انہیں تو وہ سرکشی کرنے لگتے ہیں زمین میں ناحق اے لوگو! تمھاری سرکشی کا وبال تمھیں پڑے گا لطف اٹھالو دینوی زندگی سے پھر ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے تمھیں پھر ہم آگاہ کریں گے تمھیں جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

﴿23﴾ پس حیات دنیوی (کے عروج و زوال) کی مثال ایسی ہے جیسے ہم نے اتارا پانی آسمان سے سو گھنی ہو کر اگی پانی کے باعث سر سبزی زمین کی جس سے انسان بھی کھاتے ہیں اور حیوان بھی۔ یہاں تک کہ جب لے لیا زمین نے اپنا سنگار اور وہ خوب آراستہ ہوگئی اور یقین کرلیا اس کے مالکوں نے کہ (اب) انھوں نے قابو پالیا ہے اس پر (تو اچانک) آپڑا اس پر ہمارا حکم (عذاب) رات یا دن کے وقت پس ہم نے کاٹ کر رکھ دیا اسے گویا کل وہ یہاں تھی ہی نہیں یونہیں ہم وضاحت سے بیان کرتے ہیں (اپنی قدرت کی) نشانیوں کو اس قوم کے لیے جو غورو فکر کرتی ہے ۔

﴿24﴾ اور اللہ تعالیٰ بلاتا ہے (امن) و سلامتی کے گھر کی طرف اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے سیدھے راستہ کی طرف۔

﴿25﴾ ان کے لیے جنھوں نے نیک عمل کیے نیک جزا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور نہ چھائے گا ان کے چہروں پر (رسوائی کا) غبار اور نہ ذلت (اثر ہوگا ) یہی لوگ جنتی ہیں وہ اس میں ہمشہ رہیں گے۔

﴿26﴾ اور جنھوں نے برے کام کیے تو برائی کی سزا اس جیسی ہوگی۔ اور چھارہی ہوگی اُ ن پر ذلت ۔ نہیں ہوگا ان کیلیے اللہ ( کے عذاب) سے کوئی بچانے والا۔ گویا ڈھانپ دیے گئے ہں ان کے چہرے کالی رات کے کسی ٹکڑے سے وہی دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

﴿27﴾ اور (ان کی پشیمانی کا تصور کرو) جس روز ہم جمع کریں گے ان سب کو (میدان حشر میں) پھر ہم حکم دینگے مشرکوں کو اپنی اپنی جگہ پر ٹھیر جاؤ تم اور تمھارے جھوٹے معبود ۔ پھر ہم منقطع کردیں گے ان کے باہمی تعلقات اور کہیں گے انکے معبود (اے مشرکو!) تم ہماری تو عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔

﴿28﴾ پس کافی ہے اللہ تعالیٰ گواہ ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان کہ ہم تمھاری پرستش سے بالکل بےخبر تھے۔

﴿29﴾ وہاں آزمالے گا ہر شخص جو اس نے آگے بھیجا تھا اور انھیں لوٹا دیا جائیگا اللہ تعالیٰ کی طرف جو ان کا مالک حقیقی ہے اور گم ہوجائیگا ان سے جو وہ افترا باندھا کرتے تھے۔

﴿30﴾ آپ پوچھیے کون رزق دیتا ہے تمھیں آسمان اور زمین سے یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور (کون) نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے اور کون ہے جو انتظام فرماتا ہے ہر کام کا ؟ تو وہ (جواباً) کہیں گے اللہ! پس آپ کہیے (جب حقیقت یہ ہے) تو تم (شرکِ سے) کیوں نہیں بچتے۔

﴿31﴾ یہ ہے اللہ تعالیٰ جو تمھارا حقیقی پروردگار ہے پس حق کے بعد کیا ہے بجز گمراہی کے پھر تمھیں (حق سے) کدھر موڑا جارہا ہے۔

﴿32﴾ یونہی ثابت ہوچکی ہے آپ کے رب کی بات ان پر جو فسقِ و فجور کرتے ہیں کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

﴿33﴾ (اے حبیب) آپ پوچھیئے کیا تمھارے معبودوں میں کوئی ہے جو آغاز آفرنیش میں بھی کرے پھر (فنا کے بعد) اسے لوٹا بھی دے آپ ہی فرمائیے اللہ ہی آفرنیش کی ابتدا بھی کرتا ہے اور (فنا کے بعد) اُسے لوٹا نا بھی ہے۔

﴿34﴾ پس (ہوش کرو) کرو تم کدھر پھرے جاتے ہو ۔ آپ پوچھیئے کیا تمھارے معبودوں میں سے کوئی حق کی طرف رہنمائی کرسکتا ہے (خود ہی جواباً ) فرمائیے اللہ ہی حق کی طرف رہنمائی فرماتا ہے تو کیا جو راہ دیکھائے حق کی وہ زیادہ مستحق ہے ک اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو خود ہی راہ نہ پائے مگر یہ کہ اس کی رہنمائی کی جائے۔ (اے مشرکین) تمھیں کیا ہوگیا ہے ؟ تم کیسے غلط فیصلے کرتے ہو۔

﴿35﴾ اور نہیں پیروی کرتے ان میں سے اکثر مگر محض وہم و گمان کی بلاشبہ وہم و گمان بےنیاز نہیں کرسکتا حق سے ذرہ بھر بیشک اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے ۔ جو وہ کرتے ہیں ۔

﴿36﴾ اور نہیں ہے یہ قرآن کہ گھڑ لیا گیا ہو اللہ تعالیٰ (کی وحی کے بغیر) بلکہ یہ تو تصدیق کرنے والا ہے اس وحی کی جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہے اور الکتاب کی تفصیل ہے ذرہ شک نہیں اس میں کہ یہ رب العٰلمین کی طرف سے (اتری) ہے۔

﴿37﴾ کیا یہ (کافر) کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑ لیا ہے اسے۔ آپ فرمائیے پھر تم بھی لے آؤ ایک سورت اس جیسی اور (امداد کے لیے ) بلالو جن کو تم بلاسکتے ہو اللہ تعالیٰ کے علاوہ اگر تم (اپنے الزام میں) سچے ہو۔

﴿38﴾ بلکہ انھوں نے جھٹلایا اس چیز کو جسے وہ پوری طرح نہ جان سکے اور نہیں آیا ان کے پاس اس کا انجام اسی طرح (بے علمی سے) جھٹلایا انھوں نے جو ان سے پہلے تھے پھر دیکھ لو کیسا انجام ہو ا ظالموں کا ۔

﴿39﴾ اور ان میں سے کچھ ایمان لائیں گے اس پر اور ان میں سے کچھ ایمان نہیں لائیں تے اس پر اور آپ کا رب خوب جانتا ہے مفسدوں کو۔

﴿40﴾ اور اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو فرمادیجیے میرے لیے میرا عمل ہے اور تمھارے لیے تمھارا عمل تم بری الذمہ ہو اس سے جو میں کرتا ہوں اور میں بری الذمہ ہوں اس سے جو تم کرتے ہو۔

﴿41﴾ اور ان میں سے کچھ بظاہر کان لگاتے ہیں آپ کی طرف تو کیا آپ سناتے ہیں بہروں کو خواہ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوں۔

﴿42﴾ اور ان میں سے کچھ بظاہردیکھتے ہیں آپ کی طرف تو کیا آپ راہ دیکھاتے ہیں اندھوں کو خواہ وہ کچھ نہ دیکھتے ہوں۔

﴿43﴾ یقیناً اللہ تعالیٰ ظلم نہیں کرتا لوگوں پر ذرہ برابر لیکن لوگ ہی اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں۔

﴿44﴾ اور جس روز اللہ تعالیٰ جمع کرے گا انھیں (وہ خیال کریں گے) گویا وہ (دنیا میں ) نہیں ٹھیرے مگر ایک گھڑی دن کی پہچانے گے ایک دوسرے کو (تب حقیقب کھلے گی کہ ) گھاٹے میں رہے وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو اور وہ ہدایت یافتہ نہیں تھے۔

﴿45﴾ اور خواہ ہم دیکھادیں آپ کو کچھ (عذاب) جس کا ہم نے وعدہ کیا ہے ان سے یا (پہلے ہی) ہم اٹھالیں آپ کو ۔ ہر حالت میں ہماری طرف ہی انھیں لوٹنا ہے پھر اللہ تعالیٰ گواہ ہے اس پر جو وہ کرتے ہیں۔

﴿46﴾ اور ہر قوم کے لیے ایک رسول ہے پس جب آیا ان کا رسول (اور انھوں نے اس کو جھٹلا یا تو ) فیصلہ کردیا گیا ان کے در میان انصاف کے ساتھ۔ اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا۔

﴿47﴾ اور وہ کہتے ہیں کب پورا ہوگا یہ (عذاب کا ) وعدہ اگر تم سچے ہو ۔

﴿48﴾ آپ کہیے نہیں مالک ہوں میں اپنے آپ کے لیے ضرر کا اور نہ نفع کا۔ مگر جتنا چاہے اللہ تعالیٰ ہر قو م کے لیے معیاد مقرر ہے جب آئے گی ان کی مقرر میعاد تو نہ وہ پیچھے رہ سکیں گے ایک لمحہ اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔

﴿49﴾ آپ فرمایئے (اے منکرو!) ذرا غور تو کرو اگر آجائے تم پر اس کا عذاب راتوں رات یا دن دہاڑے (تو تم کیا کرلوگے) کس چیز کا جلدی مطالبہ کررہے ہیں اس سے مجرم۔

﴿50﴾ کیا جب عذاب نازل ہوجائے گا تب ایمان لاؤ گے اس پر (فرشتے انہیں کہیں گے) اب آنکھیں کھلیں تم تو اس عذاب کے لیے بڑی جلدی مچا رہے تھے۔

﴿51﴾ پھر کہا جائے گا ظالموں سے کہ چکھو (اب) دائمی عذاب (کا مزہ) کیا تمھیں بدلہ دیا جائے گا بجز اس کے جو تم کمایا کرتے تھے۔

﴿52﴾ اور وہ دریافت کرتے ہیں آپ سے کیا یہ واقعی سچ ہے ؟ آپ فرمائیے ہاں! بخدا یہ سچ ہے اور تم (اللہ تعالیٰ کو ) عاجز کرنے والے نہیں ہو۔

﴿53﴾ اور اگر ہر ظالم شخص کے لیے روئے زمین کی دولت ہو تو بھی وہ ساری دولت بطور فدیہ دیدے۔ اور وہ ظالم دل ہی دل میں پچھتانے لگے جب دیکھا انھوں نے عذاب کو اور فیصلہ کردیا گیا ان کے درمیان انصاف سے اور اُ ن پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

﴿54﴾ سُن لو! بیشک اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں سُن لو! یقیناً اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو ) نہیں جانتے۔

﴿55﴾ وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی مارتا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

﴿56﴾ اے لوگو! آگئی ہے تمھارے پاس نصیحت تمھارے پروردگار کی طرف سے اور (آگئی ہے ) شفا ء ان روگوں کے لیے جو سینوں میں ہیں اور (آگئی ہے ) ہدایت اور رحمت اہل ایمان کے لیے۔

﴿57﴾ (اے حبیب!) آپ فرمائیے یہ کتاب محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے نازل ہوئی ہے ۔ پس چاہیے کہ اسی پر خوشی منائیں یہ بہتر ہے ان تمام چیزوں سے جن کو وہ جمع کرتے ہیں۔

﴿58﴾ آپ فرمائیے بھلا بتاؤ جو رزق اللہ نے تمھارے لیے اتارا پس بنا لیا تم نے اس سے بعض کو حرام اور بعض کو حلال۔ پوچھیئے کیا اللہ تعالیٰ نے (ایسا کرنے کی ) تمھیں اجازت دی ہے یا تم اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہو۔

﴿59﴾ اور کیا گمان ہے ان لوگوں کو جو افترا کرتے ہین اللہ تعالیٰ پر جھوٹا کہ قیامت کے دن ان کا کیا حال ہوگا۔ بیشک اللہ تعالیٰ فضل و کرم فرماتا ہے لوگوں پر لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔

﴿60﴾ اور نہیں ہوتے آپ کسی حال میں اور نہ آپ تلاوت کرتے ہیں اس حال میں کچھ قرآن اور (اے لوگو!) نہ تم کچھ عمل کرتے ہو مگر (ہر حال میں ) ہم تم پر گواہ ہوتے ہیں جب بھی تم شروع ہوتے ہو کسی کام میں اور نہیں چھپا ہوتا آپ کے رب سے ذرہ برابر بھی زمین میں اور نہ آسمان میں اور نہیں کوئی چھوٹی چیز اس ذرہ سے اور نہ بڑی مگر وہ روشن کتاب (لوح محفوظ ) میں ہے

﴿61﴾ سنو! بےشک اولیا ء اللہ کو نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

﴿62﴾ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور (عمر بھر) پرہیزگاری کرتے رہے۔

﴿63﴾ انھیں کے لیے بشارت ہے دینوی زندگی میں اور آخرت میں نہیں بدلتیں اللہ تعالیٰ کی باتیں ۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔

﴿64﴾ اور نہ غمزدہ کریں آپ کو ان کی باتیں یقیناً ساری عزت اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ وہ سب کچھ سننے اور ہر چیز جاننے والا ہے۔

﴿65﴾ خبردار بیشک اللہ کے ملک میں ہے جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے اور کس کی پیروی کررہے ہیں جو لوگ پکار رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا (دوسرے ) شریکوں کو ؟ نہیں پیروی کررہے مگر وہم و گمان کی اور نہیں وہ مگر اٹکلیں دوڑارہے ہیں۔

﴿66﴾ وہی ہے جس نے بنائی تمھارے لیے رات تاکہ تم آرام کرو اس میں اور روشن دن بنایا بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو (غور سے ) سنتے ہیں۔

﴿67﴾ انھوں نے کہا بنا لیا ہے اللہ تعالیٰ نے کسی کو بیٹا ۔ وہ پاک ہے وہ تو بےنیاز ہے۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ نہیں تمھارے پاس کوئی دلیل اس (بے ہودہ بات ) کی ۔ کیا بہتان باندھتے ہو اللہ تعالی پر جس کا تمھیں علم ہی نہیں ۔

﴿68﴾ آپ فرمائیے جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوسکتے۔

﴿69﴾ (چند روزہ) لطف اندوزی ہے دنیا میں پھر ہماری طرف ہی انھیں لوٹنا ہے پھر ہم چکھائیں گے انھیں سخت عذاب بوجہ اس کے کہ وہ کفر کیا کرتے تھے۔

﴿70﴾ اور آپ پڑھ سنائیے انھیں نوح (علیہ السلام) کی خبر جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم! اگر گراں ہے تم پر میرا قیام اور میرا پندو نصیحت کرنا اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے پس (سُن لو) میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کرلیا تو تم بھی کوئی متفقہ فیصلہ کرلو اپنے شریکوں سے مل کر ۔ پھر نہ ہو تمھارا یہ فیصلہ تم پر مخفی پھر کر گزرو میرے ساتھ (جو جی میں آئے) اور مجھے مہلت نہ دو۔

﴿71﴾ بانہیمہ اگر تم منہ موڑے رہو تو نہیں طلب کیا میں نے تم سے کچھ اجر نہیں میرا جر مگر اللہ کے ذمہ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ہوجاؤں مسلمانوں سے۔

﴿72﴾ تو آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلایا پس ہم نے نجات دی انھیں اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے اور ہم نے بنادیا انھیں ان کا جانشین اور ہم نے غرق کردیا جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ۔ ذرا دیکھو کیسا انجام ہوا ان کا جنھیں ڈرایا گیا تھا۔

﴿73﴾ پھر ہم نے بھیجے نوح (علیہ السلام) کے بعد اور رسول ان کی قوموں کی طرف پس وہ لائے ان کے پاس روشن دلیلیں تو وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے اس پر جسے وہ جھٹلا چکے تھے پہلے۔ یونہی ہم مہر لگادیتے ہیں سرکشوں کے دلوں پر ۔

﴿74﴾ پھر ہم نے بھیجا ان رسولوں کے بعد موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو فرعون اور اسکے درباریوں کی طرف اپنی نشانیوں کے ساتھ۔ تو فرعونیوں نے غرور و تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔

﴿75﴾ پھر جب آیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو انھوں نے کہہ دیا کہ یقیناً یہ کھلا جادو ہے۔

﴿76﴾ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا (اے عقل کے اندھو) کیا تم کہتے ہو (ایسی بات) حق کے متعلق جب وہ تمھارے پاس آیا (سوچو) کیا یہ جادو ہے؟ اور نہیں کامیاب ہوتے جادو گر۔

﴿77﴾ کہنے لگے کیا تم اس لیے آئے ہو ہمارے پاس تاکہ ہٹادو ہمیں اس (دین سے) جس پر ہم نے پایا اپنے باپ دادا کو اور ہوجائے صرف تم دونوں کے لیے بڑائی سرزمین (مصر) میں۔ اور ہم لوگ تو تم کو نہیں مانے گے۔

﴿78﴾ اور فرعون نے حکم دیا (فوراً) لے آؤ میرے پاس ہر ماہر جادوگر

﴿79﴾ پھر جب آگئے جادو گر تو کہا انھیں موسیٰ (علیہ السلام) نے ڈالو (میدان میں ) جو تم ڈالنے آئے ہو۔

﴿80﴾ پھر جب ڈال دیا انھوں نے تو موسیٰ نے فرمایا یہ جو تم لائے ہو یہ جادو ہے یقیناً اللہ تعالیٰ ملیامیٹ کردے گا اسے بیشک اللہ تعالیٰ نہیں سنوارتا شریروں کے کام کو۔

﴿81﴾ اور اللہ تعالیٰ حق کو حق کردکھاتا ہے اپنے ارشاد ات سے اور خواہ نا پسند ہی کریں (اسے) مجرم۔

﴿82﴾ پس نہ ایمان لائے موسیٰ پر بجز ان کی قوم کی اولاد کے (وہ بھی) ڈرتے ہوئے فرعون سے اور اپنے سرداروں سے کہ کہیں وہ انھیں بہکا نہ دے ۔ اور واقعی فرعون بڑا سرکش (بادشاہ) تھا ملک میں اور واقعی حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا۔

﴿83﴾ اور موسیٰ (علیہ السلام ) نے کہا اے میری قوم! اگر تم ایمان لائے ہو اللہ تعالیٰ پر تو اسی پر بھروسہ کرو اگر تم سچے مسلمان ہو۔

﴿84﴾ انھوں نے عرض کی کہ اللہ تعالیٰ پر ہی ہم نے بھروسہ کیا ہے اے ہمارے رب! نہ بنا ہمیں فتنہ (کا موجب) ظالم قوم کے لیے۔

﴿85﴾ اور نجات دی ہمیں اپنی رحمت سے کافروں (کے ظلم و ستم ) سے ۔

﴿86﴾ اور ہم نے وحی بھیجی موسیٰ اور ان کے بھائی کی طرف کہ مہیا کرو اپنی قوم کیلیے مصر میں چند گھر اور بناؤ اپنے ان گھروں کو قبلہ رخ اور قائم کرو نماز اور (اے موسیٰ!) خوشخبری دو مومنوں کو

﴿87﴾ اور عرض کی موسیٰ نے اے ہمارے پروردگار! تونے بخشا ہے فرعون اور اس کے سرداروں کو سامان آرائش اور مال و دولت دینوی زندگی میں اے ہمارے مولا! کیا اس لیے وہ گمراہ کرتے پھریں (لوگوں کو ) تیری راہ سے ۔ اے ہمارے رب ! برباد کردے ان کے مالوں کو اور سخت کردے ان کے دلوں کو تاکہ وہ نہ ایمان لائیں جب تک نہ دیکھ لیں دردناک عذاب کو ۔

﴿88﴾ اللہ تعالیٰ نے فرمایا قبول کرلی گئی تمھاری دعا پس تم ثابت قدم رہو اور ہرگز نہ چلنا اس طریقہ پر جو جاہلوں کا (طریقہ ) ہے۔

﴿89﴾ اور ہم پار لے گئے بنی اسرائیل کو سمندر سے پھر پیچھا کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور ظلم کرتے ہوئے حتی کہ جب وہ ڈوبنے لگا تو (بصد یاس) کہنے لگا میں ایمان لایا کہ کوئی سچا خدا نہیں بجز اس کے جس پر ایمان لائے تھے بنی اسرائیل اور (میں اعلان کرتا ہوں کہ) میں مسلمانوں میں سے ہوں۔

﴿90﴾ کیا اب؟ اور تو نافرمانی کرتا رہا اس سے پہلے اور تو فتنہ و فساد برپا کرنے والوں سے تھا۔

﴿91﴾ سو آج ہم بچا لیں گے تیری جسم کو (سمندر کی تند موجوں سے) تاکہ تو ہوجائے اپنے پچھلوں کے لیے (عبرت کی) نشانی ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اکثر لوگ ہماری نشانیوں سے غفلت برتنے والے ہیں۔

﴿92﴾ اور ہم نے عطا فرمایا بنی اسرائیل کو بہترین ٹھکانہ اور ہم نے انھیں پاکیزہ رزق بخشا پس انھوں نے اختلاف نہ کیا حتی کہ آگیا ان کے پاس حقیقت کا علم۔ (اے حبیب!) بیشک آپ کا رب فیصلہ فرمائے گا ان کے درمیا ن روز قیامت جن باتوں میں وہ جھگڑا کیا کرتے تھے۔

﴿93﴾ اور (اے سننے والے!) اگر تجھے کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے (اپنے نبی کے ذریعے ) تیری طرف اتارا ہے تو دریافت کر ان لوگون سے جو پڑھتے ہیں کتاب تجھ سے پہلے۔ بیشک آیا ہے تیرے پاس حق تیرے رب کی طرف سے پس ہرگز نہ ہوجانا شک کرنے والوں میں سے۔

﴿94﴾ اور ہرگز نہ ہون ان لوگوں سے جنھوں نے جھٹلایا اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو ورنہ تو ہوجائے گا نقصان اٹھانے والوں سے۔

﴿95﴾ بیشک وہ لوگ ثابت ہوچکی جن پر آپ کے رب کی بات وہ ایمان نہیں لائیں گے ۔

﴿96﴾ اگرچہ آجائیں ان کے پاس ساری نشانیاں جب تک کہ وہ دیکھ نہ لیں دردناک عذاب ۔

﴿97﴾ پس کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی بستی ایمان لاتی تو نفع دیتا اسے اس کا ایمان (کسی سے ایسا نہ ہوا) بجز قوم یونس کے جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے دور کردیا ان سے رسوائی کا عذاب دینوی زندگی میں اور ہم نے لطف اندوز ہونے دیا انھیں ایک مدت تک۔

﴿98﴾ اور اگر چاہتا آپ کا رب تو ایمان لے آتے جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کے سب کیا آپ مجبور کرنا چاہتے ہیں لوگوں کو یہاں تک کہ وہ مومن بن جائیں۔

﴿99﴾ اور کوئی بھی ایسا شخص نہیں کہ وہ ایمان لاسکے بغیر حکمِ الٰہی کے۔ اور (سنت الٰہی یہ ہے کہ ) وہ ڈالتا ہے (گمراہی کی) آلودگی ان لوگوں پر جو بےسمجھ ہیں۔

﴿100﴾ فرمائیے غور سے دیکھو! کیا کیا (عجائبات ) ہیں آسمانوں اور زمین میں اور فائدہ نہیں پہنچاتیں آیتیں اور ڈرانے والے اس قوم کو جو ایمان نہیں لانا چاہتے۔

﴿101﴾ پس وہ انتظار نہیں کررہے مگر ان لوگوں جیسے حالات کا جو گزرچکے ہیں ان سے پہلے آپ فرمائیے اچھا انتظار کرو۔ بیشک میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں سے ہوں۔

﴿102﴾ (جب وہ عذاب آجائے گا) پھر ہم بچالیں گے اپنے رسولوں کو اور انھیں جو ایمان لائے۔ بلاشبہ ایسا ہی ہوگا ۔ یہ ہمارے ذمہ ہے کہ ہم بچالیں گے اہل ایمان کو ۔

﴿103﴾ فرمائیے اے لوگوں اگر تمھیں کچھ شک ہو میرے دین کے بارے میں تو (سُن لو) میں عبادت نہیں کرتا ان (بتوں ) کی جن کی تم پوچا کیا کرتے ہو اللہ تعالیٰ کے سوا لیکن میں تو عبادت کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کی جو مارتا ہے تمھیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ہوجاؤں اہل ایمان سے

﴿104﴾ نیز (مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ) اپنا رخ سیدھا کرلے اس دین کی طرف ہر کچھ سے بچتے ہوئے اور ہرگز نہ ہوجانا شر ک کرنے والوں سے۔

﴿105﴾ اور نہ عبادت کرو اللہ تعالیٰ کے سوا اس کی جو نہ نفع پہنچاسکتا ہے تجھے اور نہ ضرر پہنچاسکتا ہے تجھے اور اگر تو ایسا کرے گا تو پھر تیرا شمار ظالموں میں ہوگا۔

﴿106﴾ اور اگر پہنچائے تجھے اللہ تعالٰ کوئی تکلیف تو نہیں کوئی دور کرنے والا اسے بجز اس کے اور اگر ارادہ فرمائے تیرے لیے کسی بھلائی کا تو کوئی رد کرنے والا نہیں اس کے فضل کو ۔ سرفراز فرماتا ہے اپنے فضل و کرم سے جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں سے ۔ اور وہی بہت مغفرت فرمانیوالا ہمیشہ رحم کرنیوالا ہے۔

﴿107﴾ (اے حبیب!) فرمائیے اے لوگو بیشک آگیا ہے تمھارے پاس حق تمھارے رب کی طرف سے تو جو ہدایت قبول کرتا ہے تو وہ ہدایت قبول کرتا ہے اپنے بھلے کے لیے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو وہ گمراہ ہوتا ہے اپنی تباہی کے لیے اور میں تم پر نگران نہیں ہوں۔

﴿108﴾ اور (اے حبیب!) آپ پیروی کرتے رہیں جو وحی کی جاتی ہے آپکی طرف اور (ظلم کفار پر) صبر کیجیے یہانتک کہ فیصلہ فرمادے اللہ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔

﴿109﴾ الف ۔ لام۔ ر ۔ یہ وہ کتاب ہے محفوظ و مستحکم بنادی گئی ہیں جسکی آیتیں پھر ان کی وضاحت کردی گئی ہے بڑے دانا اور ہر چیز سے باخبر (خدا) کی طرف سے۔

ھود

Surah 11

﴿1﴾ کہ تم نہ عبادت کرو مگر صرف اللہ کی بیشک میں تمھیں اس کی طرف سے ڈرانیوالا اور خوشخبری دینے والا ہوں ۔

﴿2﴾ اور یہ کہ مغفرت طلب کرو اپنے رب سے پھر (صدقِ دل سے ) متوجہ ہوجاؤ اس کی طرف و لطف اندوز کریگا تمھیں زندگی کی راحتوں سے اچھی طرح مقرر میعاد تک اور عطا کرے گا ہر زیادہ نیکی کرنے والے کو اس کی زیادہ نیکی (کا ثواب) اور اگر تم (یونہی) روگردان رہے تو میں اندیشہ کرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب سے ۔

﴿3﴾ اللہ تعالیٰ کی طرف ہی تمھیں لوٹ کر جانا ہے ۔ اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

﴿4﴾ سُنو! وہ دہرا کررہے ہیں اپنے سینوں کو تاکہ چھپالیں اللہ تعالیٰ سے (اپنے دلوں کا بغض) سنتے ہو! جس وقت وہ خوب اوڑھ لیتے ہیں اپنے کپڑے تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں بلاشبہ وہ خوب جاننے والا ہے جو کچھ سینوں میں (پوشیدہ) ہے۔

﴿5﴾ اور نہیں کوئی جاندادر زمین میں مگر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اس کا رزق وہ جانتا ہے اس کے ٹھیرنے کی جگہ کو اور اسکے امانت رکھے جانے کی جگہ کو۔ ہر چیز روشن کتاب میں (لکھی ہوئی) ہے۔

﴿6﴾ اور وہی (خدا) ہے جس نے پیدا فرمایا آسمانوں کو اور زمین کو چھ دنوں میں اور (اس سے پہلے) اس کا عرش پانی پر تھا (زمین اور آسمان پیدا کیے) تاکہ آزمائے تمھیں کہ تم میں سیکون اچھا ہے عمل کے لحاظ سے اور اگر آپ (انھیں) کہیں کہ یقیناً تم اٹھائے جاؤ گے موت کے بعد تو ضرور کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہ نہیں ہے یہ مگر جادو کھلا ہوا۔

﴿7﴾ اور اگر ہم ملتوی کردیں ان سے عذاب کچھ عرصہ تک تو (ازراہ مذاق) کہیں گے کہ کس چیز نے روک دیا ہے اس عذاب کو۔ وہ کان کھول کر سن لیں جس دن عذاب آئیگا ان پر تو نہیں پھیرا جاسکے گا ان سے اور گھیر لے گا انھیں وہ عذاب جس کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔

﴿8﴾ اور اگر ہم چکھائیں کسی انسان کو اپنی طرف سے رحمت (کا مزہ) پھر ہم چھین لیں اس رحمت کو تو وہ بڑا مایوس اور ناشکرا بن جاتا ہے

﴿9﴾ اور اگر ہم چکھاتے ہیں اسے کوئی نعمت اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ دور ہوگئیں سب تکلیفیں مجھ سے ۔ بیشک وہ بڑا خوش ہونے والا اترانے والا ہے۔

﴿10﴾ مگر وہ لوگ جو صبر کرتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں (وہ ایسے کم ظرف نہیں ہوتے) وہی ہیں جن کے لیے بخشش بھی ہے اور بڑا اجر بھی ہے۔

﴿11﴾ پس کیا یہ ہوسکتا ہے کہ آپ چھوڑدیں کچھ حصہ اس کا جو وحی کی جاتی ہے آپ کی طرف اور تنگ ہوجائے اس کے ساتھ آپ کا سینہ (اس اندیشہ سے) کہ کافر یہ کہیں گے کہ کیوں نہ اتارا گیا اس پر خزانہ یا کیوں نہ آیا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا نگہبان ہے۔

﴿12﴾ کیا کفار کہتے ہیں کہ اس نے یہ (قرآن خود) گھڑلیا ہے آپ فرمائیے (اگر ایسا ہے ) تو تم بھی لے آؤ دس سورتیں اس جیسی گھڑی ہوئی اور بلالو (اپنی مدد کے لیے ) جس کو بلاسکتے ہو اللہ تعالیٰ کے سوا اگر تم ( اس الزام تراشی میں ) سچے ہو۔

﴿13﴾ پس اگر وہ نہ قبول کرسکیں تمھاری دعوت تو پھر جان لو کہ یہ قرآن محض علمِ الٰہی سے اتارا گیا ہے اور (یہ بھی جان لو) کہ نہیں کوئی معبود سوائے اللہ تعالیٰ کے پس کیا (اب) تم اسلام لے آؤگے۔

﴿14﴾ جو طلب گار ہیں دنیاوی زندگی اور اس کی زیب و زینت تو ہم پورا بدلہ دینگے انھیں ان کے اعمال کا اس زندگی میں اور انھیں اس میں نقصان اٹھانا پڑیگا۔

﴿15﴾ یہ وہ لوگ ہیں نہیں جن کے لیے آخرت میں مگر آگ ۔ اور اکارت گیا جو کچھ انھوں نے دنیا میں کیا اور (درحقیقت) مٹ جانے والا تھا جو وہ کیا کرتے تھے۔

﴿16﴾ تو کیا وہ شخص انکار کرسکتا ہے جس کے پاس روشن دلیل ہو اپنے رب کی طرف سے اور اس کے پیچھے ایک سچا گواہ بھی آگیا ہو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اس سے قبل کتاب موسیٰ بھی آچکی ہو جو امام اور راپا رحمت ہے؟ (قطعاً نہیں بلکہ) یہ لوگ تو ایمان لائیں گے اس پر اور جو کفر کرے اس کے ساتھ مختلف گروہوں سے تو آتشِ (جہنم) ہی اس کے وعدہ کی جگہ ہے۔ پس (اے سننے والے) نہ پڑ جا شک میں اس کے متعلق ۔ بلاشبہ یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

﴿17﴾ اور کو ن زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جو بہتان لگاتا ہے اللہ تعالیٰ پر جھوٹا یہ لوگ پیش کیے جائیں گے اپنے رب کے سامنے اور کہیں گے گواہ یہی وہ (گستاخ) ہیں جنھوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا تھا۔ خبردار! اللہ کی پھٹکار ہو ظالموں پر۔

﴿18﴾ جو بدنصیب روکتے ہیں اللہ تعالیٰ کی راہ سے اور چاہتے ہیں کہ اس راہ (راست) کو ٹیرھا بنادیں اور وہی آخرت کے منکر ہیں۔

﴿19﴾ یہ لوگ (اللہ تعالیٰ) کو عاجز کرنے والے نہیں تھے زمین میں اور نہ ہی ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مددگار تھا۔ دوگنا کردیا جائے گا ان کے لیے عذاب ۔ نہ وہ (آوازِ حق) سن سکتے تھے اور نہ وہ (نورِ حق) دیکھ سکتے تھے۔

﴿20﴾ یہی وہ (بد قسمت) ہیں جنھوں نے نقصان پہنچایا اپنے آپ کو اور گم ہوگئیں ان سے وہ باتیں جو وہ تراشا کرتے تھے۔

﴿21﴾ یقیناً یہی لوگ ہیں جو آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔

﴿22﴾ بیشک جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور عجزو انکسار سے جھک گئے اپنے پروردگار کی طرف۔ یہی لوگ جنتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

﴿23﴾ ان دونوں فریقوں کی مثال ایسی ہے جیسے اندھا اور بہرا ہوا ور اور دوسرا دیکھنے والا اور سننے والا ہو۔ کیا یکساں ہے ان دونوں کا حال کیا تم (اس مثال) میں غور و فکر نہیں کرتے۔

﴿24﴾ اور بیشک ہم نے بھیجا نوح ( علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف۔ انھوں نے کہا اے قوم میں تمہیں کھلا کھلا ڈرانے والا ہوں۔

﴿25﴾ کہ تم نہ عبادت کرو کسی کی سوائے اللہ تعالیٰ کے بیشک میں ڈرتا ہوں کہ تم پر عذاب کا دردناک دن نہ آجائے۔

﴿26﴾ تو کہنے لگے ان کی قوم کے سردار جنہوں نے کفر کیا تھا (اے نوح ( علیہ السلام) ) ہم نہیں دیکھتے تمہیں مگر انسان اپنے جیسا اور ہم نہیں دیکھتے تمھیں کہ پیروی کرتے ہوں تمھاری بجز ان لوگوں کہ جو ہم میں حقیر و ذلیل (اور) ظاہر بین ہیں اور ہم نہیں دیکھتے کہ تمھیں ہم پر کوئی فضیلت ہے بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔

﴿27﴾ آپ نے فرمایا اے میری قوم! بھلا یہ بتاؤ اگر میرے پاس روشن دلیل ہو اپنے رب کی طرف سے اور اس نے عطا فرمائی ہو مجھے خاص رحمت اپنی جناب سے پھر پوشیدہ کردی گئی ہو تم پر (اس کی حقیقت) تو کیا ہم جبراً مسلط کریں تم پر یہ دعوت در آنحالیکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔

﴿28﴾ اور اے میری قوم! میں نہیں طلب کرتا تم سے اس (تبلیغ) کوئی مال ۔ نہیں میرا اجر مگر اللہ تعالیٰ کے ذمہ اور میں (تمھیں خوش کرنے کے لیے) ان کو نکالنے والا نہیں جو ایمان لے آئے ہیں ۔ بیشک وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں البتہ میں تمھیں دیکھتا ہوں کہ تم ایسی قوم ہو جو (حقیقت سے) ناواقف ہے۔

﴿29﴾ اور اے میری قوم کون مدد کرسکتا ہے میری اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں اگر میں نکال دوں اہل ایمان کو۔ کیا تم اتنا بھی نہیں سوچتے۔

﴿30﴾ اور میں نہیں کہتا تم سے کہ میرے پاس اللہ تعالٰ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں خود بخود جان لیتا ہوں غیب کو۔ اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ اور نہ یہ کہتا ہوں کہ جن لوگوں کو تمھاری نگاہیں حقیر جانتی ہیں کہ ہرگز نہیں دیگا انھیں اللہ تعالیٰ کچھ بھلائی۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے۔ (اگر میں ایسا کروں تو) میں بھی ہو جاؤنگا ظالموں سے۔

﴿31﴾ وہ (برا فروختہ ہوکر ) بولے اے نوح ! تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور اس جھگڑے کو بہت طول دیا ( اس مباحثہ کو رہنے دو) اور لے آؤ ہمارے پاس جس (عذاب ) کی تم ہمیں دھمکی دیتے رہتے ہو اگر تم سچے ہو۔

﴿32﴾ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہی لے آئیگا اسے تمھارے پاس اگر چاہے گا اور نہیں ہو تم عاجز کرنے والے۔

﴿33﴾ اور نہیں فائدہ پہنچائے گی تمھیں میری خیرخواہی اگرچہ میرا ارادہ ہو کہ میں تمھاری خیر خواہ کروں اگر اللہ تعالیٰ کی مرضی یہ ہو کہ وہ تمھیں گمراہ کردے ، وہ پروردگار ہے تمھارا ۔ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

﴿34﴾ کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑ لیا ہے اسے۔ آپ فرمائیے اگر میں نے کود گھڑا اسے تو مجھ پر ہوگا وبال میرے جرم کا ۔ اور میں بری الذمہ ہوں ان گناہوں سے جو تم کرتے ہو۔

﴿35﴾ اور وحی کی گئی نوح ( علیہ السلام) کی طرف سے کہ نہی ایمان لائیں گے آپ کی قوم سے بجز ان کے جو ایمان لاچکے اس لیے آپ غمگین نہ ہوں اس سے جو وہ کیا کرتے ہیں۔

﴿36﴾ اور بنائیے ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہمارے حکم سے اور نہ بات کیجیے مجھ سے ان لوگوں کے بارے میں جنھوں نے ظلم کیا وہ ضرور غرق کردیے جائیں گے

﴿37﴾ اور نوح کشتی بنانے لگے اور جب بھی گزرتے ان کے پاس سے ان کی قوم کے سردار (تو) آپ کا مذاق اڑاتے ۔ آپ کہتے اگر تم مذاق اڑاتے ہو ہمارا تو (ایک دن) ہم بھی تمہارا مذاق اڑائیں گے جس طرح تم مذاق اڑاتے ہو۔

﴿38﴾ سو تم جان لوگے کہ کس پر آتا ہے عذاب جو رسوا کردے گا اسے اور کون ہے اتراتا ہے جس پر عذاب ہمیشہ رہنے والا۔

﴿39﴾ یہاں تک کہ جب آگیا ہمارا حکم اور ابل پڑا تنور تو ہم نے (نوح کو ) فرمایا سوار کرلو کشتی میں ہر جنس سے نرومادہ دہ اور اپنے گھر والوں کو سوائے ان کے جن پر پہلے ہوچکا ہے حکم اور (سوار کرلو) جو ایمان لاچکے ہیں۔ اور نہیں ایمان لائے تھے آپ کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ۔

﴿40﴾ اور نوح نے کہا سوار ہوجاؤ اس (کشتی) میں اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ ہی اس کا چلنا اور اس کا لنگر انداز ہونا ہے۔ بیشک میرا پروردگار غفور رحیم ہے۔

﴿41﴾ اور وہ چلنے لگی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑ کی مانند ہیں اور پکارا نوح ( علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو اور وہ (ان سے) الگ تھا۔ بیٹا سوار ہوجاؤ ہمارے ساتھ اور نہ ملو کافروں کے ساتھ۔

﴿42﴾ بیٹے نے کہا (مجھے کشتی کی ضرورت نہیں) میں پناہ لے لوں گا کسی پہاڑ کی وہ بچا لے گا مجھے پانی سے ۔ آپ نے کہا (بیٹا!) آج کوئی بچانے والا نہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے مگر وہ جس پر رحم کرے۔ اور اسی اثنا میں ) حائل ہوگئی انکے درمیان موج پس ہوگیا وہ ڈوبنے والوں سے۔

﴿43﴾ اور حکم دیا گیا اے زمین! نگل لے اپنے پانی کو اور اے آسمان تھم جا اور اتر گیا پانی اور حکم الٰہی نافذ ہوگیا۔ اور ٹھیر گئی کشتی جودی (پہاڑ) پر اور کہا گیا ہلاکت و بربادی ہو ظالم قوم کے لیے ۔

﴿44﴾ اور پکارا نوح نے اپنے رب کو اور عرض کی میرے پروردگار! میرا بیٹا بھی تو میری اہل سے ہے اور یقیناً تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بہتر حکم کرنیوالا ہے۔

﴿45﴾ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نوح! وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں (کیونکہ) اس کے عمل اچھے نہیں پس نہ سوال کیا کرو مجھ سے جس کا تجھے علم نہ ہو میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ نہ ہوجانا نادانوں سے۔

﴿46﴾ عرض کرنے لگے میرے پروردگار! میں پناہ مانگتا ہوں تجھ سے کہ میں سوال کروں تجھ سے ایسی چیز کا جس کا مجھے علم نہیں اور اگر تو مجھے نہ بخشے اور مجھ پر رحم نہ کرے تو میں ہوجاؤنگا زیاں کاروں سے۔

﴿47﴾ ارشاد ہوا اے نوح! (کشتی سے) اُتریئے امن و سلامتی کے ساتھ ہماری طرف سے اور برکتوں کے ساتھ جو آپ پر ہیں اور ان قوموں پر جو آپکے ہمراہ ہیں اور (آئندہ) کچھ قومیں ہوں گی ہم لطف اندوز کریں گے انھیں پھر پہنچیگا انھیں ہماری طرف سے دردناک عذاب۔

﴿48﴾ یہْ قصہ غیب کی خبروں سے ہے جنھیں ہم وحی کررہے ہیں آپکی طرف۔ نہ آپ جانتے تھے اسے اور نہ ہی آپ کی قوم اس سے پہلے پس آپ صبر کریں یقیناً نیک انجام پرہیزگاروں کے لیے ہے۔

﴿49﴾ اور عاد کی طرف (ہم نے) انکے بھائی ہود کو بھیجا آپنے کہا اے میری قوم! عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی نہیں ہے تمہارا کوئی معبود اس کے سوا نہیں ہو تم مگر افترا پرداز۔

﴿50﴾ اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت نہیں ہے میری اجرت مگر اس (ذات پاک) کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا فرمایا۔ کیا تم (اس حقیقت کو ) نہیں سمجھتے۔

﴿51﴾ اے میری قوم! مغفرت طلب کرو اپنے رب سے پھر (دل و جان سے ) رجوع کرو اس کی طرف ۔ وہ اتاریگا آسمان سے تم پر موسلا دھار بارش اور بڑھا دیگا تمھیں قوت میں تمھاری پہلی قوت سے اور نہ منہ موڑو (اللہ تعالیٰ سے) جرم کرتے ہوئے۔

﴿52﴾ انھوں نے کہا اے ہود! نہیں لے آیا تو ہمارے پاس کوئی دلیل اور نہیں ہیں ہم چھوڑنے والے اپنے خداؤں کو تمھارے کہنے سے اور نہیں ہیں ہم تجھ پر ایمان لانے والے۔

﴿53﴾ ہم تو یہی کہیں گے کہ مبتلا کردیا تجھے ہمارے کسی خدا نے دماغی خلل میں ۔ ہود نے کہا میں گواہ بناتا ہوں اللہ تعالیٰ کو اور تم بھی گواہ رہنا کہ میں بیزار ہوں ان بتوں سے جنھیں تم شریک ٹھیراتے ہو۔

﴿54﴾ اس کے سوا پس سازش کرلو میرے خلاف سب مل کر پھر مجھے مہلت نہ دو۔

﴿55﴾ بلاشبہ میں نے بھروسہ کرلیا ہے اللہ تعالیٰ پر جو میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی رب ہے کوئی جاندار بھی ایسا نہیں ہے مگر اللہ تعالیٰ نے پکڑا ہوا ہے اسے پیشانی کے بالوں سے بیشک میرا رب سیدھی راہ پر ہے۔

﴿56﴾ پھر اگر تم روگردانی کرو تو میں نے تو پہنچادیا ہے تمھیں وہ پیغام جسے دے کر مجھے بھیجا گیا ہے تمھاری طرف اور جانشین بنادے گا۔ میرا رب کسی اور قوم کو تمھارے علاوہ اور تم اس کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے۔ بےشک میرا رب ہر چیز کا نگہبان ہے۔

﴿57﴾ اور جب آگیا ہمارا حکم تو ہم نے نجات دیدی ہود کو اور جو ایمان لائے تھے ان کے ساتھ بوجہ اپنی رحمت کے اور ہم نے نجات دے دی انھیں سخت عذاب سے۔

﴿58﴾ اور یہ قوم عاد (کی داستان ) ہے انھوں نے انکار کیا اپنے رب کی آیتوں کا اور نافرمانی کی اس کے رسولوں کی اور پیروی کرتے رہے ہر متکبر منکر حق کے حکم کی۔

﴿59﴾ اور ان کے پیچھے لگادی گئی اس دنیا میں لعنت اور قیامت کے د بھی۔ سنو! عاد نے انکار کیا اپنے رب کا۔ سنو! ہلاکت و بربادی ہو عاد کے لیے جو ہود کی قوم تھی۔

﴿60﴾ اور قوم تمود کی طرف (ہم نے ) ان کے بھائی صالح کو بھیجا آپ نے کہا اے میری قوم ! عباد کرو الہ تعالیٰکی نہیں ہے تمھارا کوئی معبود اس کے سوا اس نے پیدا فرمایا تمھیں زمین سے اور بسادیا تمھیں اس میں۔ پس مغفرت طلب کرو اس سے پھر (دل و جان سے ) رجوع کرو اس کی طرف بیشک میرا رب قریب ہے ( اور ) التجائیں قبول فرمانیوالا ہے۔

﴿61﴾ انھوں نے کہا اے صالح ! تم ہی ہم میں (ایک شخص) تھے جس سے امیدیں وابستہ تھیں اس سے پہلے۔ کیا تم روکتے ہو ہمیں اس سے کہ ہم عبادت کریں ان (بتوں) کی جن کی عبادت کرتے تھے ہمارے باپ دادا! بیشک ہم اس امر کے بارے میں جس کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے ایک بےچین کردینے والے شک میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

﴿62﴾ آپ نے کہا اے میری قوم! بھلا یہ بتاؤ اگر میں روشن دلیل پر ہوں اپنے رب کی طرف سے اور اس نے عطا کی ہو مجھے اپنی جناب سے خاص رحمت تو کون ہے جو بچائیگا مجھے اللہ (کے عذاب سے ) اگر میں اس کی نافرمانی کروں ۔ تم تو نہیں زیادہ کرنا چاہتے میرے لیے سوا نقصان کے۔

﴿63﴾ اور اے میری قوم ! یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمھارے لیے نشانی ہے پس اسے چھوڑدو اسے کھاتی پھرے اللہ تعالیٰ کی زمین میں اور نہ ہاتھ لگاؤ اسے برائی سے ورنہ پکڑلے گا تمھیں عذاب بہت جلد ۔

﴿64﴾ پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں ۔ تو صالح نے فرمایا لطف اٹھالو اپنے گھروں میں تین دن تک یہ (اللہ کا ) وعدہ ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔

﴿65﴾ پھر جب آگیا ہمارا حکم تو ہم نے بچالیا صالح کو اور انھیں جو ایمان لائے تھے ان کے ساتھ اپنی رحمت سے نیز (بچا لیا) اس دن کی رسوائی سے ۔ بیشک (اے محبوب) تیرا رب ہی بہت قوت والا بہت عزت والا ہے۔

﴿66﴾ اور پکڑلیا ظالموں کو ایک خوفناک کڑک نے اور صبح کی انھوں نے اس حال میں کہ وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل اوندھے گرے پڑے تھے۔

﴿67﴾ (انھیں یوں نابود کردیا گیا) گویا وہ یہاں کھبی آباد ہی نہ ہوئے تھے۔ سنو! ثمود نے انکار کیا اپنے رب کا ۔ سنو ! بربادی ہو ثمود کے لیے

﴿68﴾ اور بلاشبہ آئے ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے ) ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر انھوں نے کہا (اے خلیل) آپ پر سلام ہو۔ آپ نے فرمایا تم پر بھی سلام ہو۔ پھر آپ جلدی لے آئے (انکی ضیافت کے لیے ) ایک بچھڑا بھنا ہوا۔

﴿69﴾ پھر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ نہیں بڑھ رہے کھانے کی طرف تو اجنبی خیال کیا انھیں اور دل ہی دل میں ان سے اندیشہ کرنے گلے فرشتوں نے کہا ڈریے نہیں ۔ ہمیں بھیجا گیا ہے قوم لوط کی طرف ۔

﴿70﴾ اور آپکی اہلیہ (سارہ پاس) کھڑی تھیں وہ ہنس پڑیں تو ہم نے خوشخبری دی سارہ کو اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی ۔

﴿71﴾ سارہ نے کہا وائے حیرانی! کیا میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بوڑھی ہوں اور یہ میرے میاں بھی بوڑھے ہیں۔ بلاشبہ یہ تو عجیب و غریب بات ہے۔

﴿72﴾ فرشتے کہنے لگے کیا تم تعجب کرتی ہو اللہ کے حکم پر ؟ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے ابراہیم کے گھرانے والو! بیشک وہ ہر طرح تعریف کیا ہوا بڑی شان والا ہے۔

﴿73﴾ پھر جب دور ہوگیا ابراہیم (علیہ السلام) سے خوف اور مل گیا انھین مژدہ تو وہ ہم سے جھگڑنے لگے قوم لوط کے بارے میں ۔

﴿74﴾ بیشک ابراہیم بڑے بردبار ، رحم دل (اور) ہر حال میں ہماری طرف رجوع کرنے والے تھے۔

﴿75﴾ اے ابراہیم ( علیہ السلام) ! اس بات کو رہنے دیجیے۔ بیشک آگیا تیرے رب کا حکم۔ اور ان پر آکر رہے گا عذاب جو پھیرا نہیں جاسکتا۔

﴿76﴾ اور جب آئے ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لوط (علیہ ا لسلام) کے پاس وہ دلگیر ہوئے ان کے آنے سے اور بڑے پریشان ہوئے ان کی وجہ سے اور بولے آج کا دن تو بڑی مصیبت کا دن ہے۔

﴿77﴾ اور (مہمانوں کی خبر سنتے ہی ) آئے ان کے پاس ان کی قوم کے لوگ دوڑتے ہوئے اور اس سے پہلے ہی وہ کیا کرتے تھے برے کام لوط نے کہا اے میری قوم! (دیکھو) یہ میری قوم کی بیٹیاں ہیں وہ پاک اور حلال ہیں تمھارے لیے تم خدا کا خوف کرو۔ اور مجھے رسوا نہ کرو میرے مہمانوں کے معاملے میں۔ کیا تم میں ایک بھی سمجھدار آدمی نہیں؟

﴿78﴾ کہنے لگے تم خوب جانتے ہو ہمیں تمھاری (قوم کی ) بیٹیوں سے کوئی سروکار نہیں اور تم یہ بھی اچھی طرح جانتے ہو کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔

﴿79﴾ لوط نے (بصد حسرت ) کہا اے کاش! میرے پاس بھی تمہارے مقابلہ کی قوت ہوتی یا میں پناہ ہی لے سکتا کسی مضبوط سہارے کی۔

﴿80﴾ فرشتوں نے کہا اے لوط ! ہم آپ کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں یہ لوگ آپ کو کوئی گزند نہ پہنچا سکیں گے پس آپ لیکر نکل جائیے اپنے اہل و عیال کو جب رات کا کچھ حصہ گزر جائے اور پیچھے مڑ کر تم میں سے کوئی نہ دیکھے۔ مگر اپنی بیوی کو ساتھ نہ لے جائیے۔ بیشک وہی (عذاب ) اسے بھی پہنچے گا جو ان (دوسرے مجرموں) کو پہنچا۔ ان پر عذاب آنے کا مقررہ وقت صبح کا وقت ہے۔ کیا نہیں ہے صبح (بالکل) قریب؟

﴿81﴾ پھر جب آپہنچا ہمارا حکم تو ہم نے کردیا اس کی بلندی کو اس کی پستی اور ہم نے برسا ئے ان پر پتھر آگ میں پکے ہوئے پے درپے۔

﴿82﴾ جو نشان زدہ تھے آپ کے رب کی جانب سے۔ اور نہیں (لوط کی ) بستی (مکہ کے ) ظالموں سے کچھ دور۔

﴿83﴾ اور اہل مدین کی طرف (ہم نے) انکے بھائی شیعب کو بھیجا ۔ آپ نے کہا اے میر قوم! عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی نہیں تمھارا کوئی خدا اس کے بغیر ۔ اور نہ کمی کیا کر و ناپ اور تول میں مین دیکھتا ہوں تمھین کہ تم خوشحال ہو اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر اس دن کا عذاب نہ آجائے جو ہر چیز کو گھیر نے والا ہے۔

﴿84﴾ اور اے میری قوم! پورا کیا کرو ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ اور نہ گھٹا کر دیا کرو لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ پھرو زمین میں فساد برپا کرتے ہوئے۔

﴿85﴾ جو بچ رہے اللہ تعالیٰ کے دیے سے وہی بہتر ہے تمھارے لیے اگر تم ایمان دار ہو ۔ اور نہیں ہوں میں تم پر نگہبان ۔

﴿86﴾ قوم نے کہا اے شعیب! کیا تمھاری نماز تمھیں حکم دیتی ہے کہ ہم چھوڑ دیں انھیں جن کی عبادت کیا کرتے تھے ہمارے باپ دادا یا نہ تصرف کریں اپنے مالوں میں سے جیسے ہم چاہیں (ازراہ تمسخر بولے) بس تم ہی ایک دانا (اور) نیک چلن رہ گئے ہو۔

﴿87﴾ آپ نے کہا اے میری قوم! بھلا یہ تو بتاؤ اگر میں روشن دلیل پر ہوں اپنے رب کی طرف سے اور اس نے عطا بھی کی ہو مجھے اپنی جناب سے عمدہ روزی اور مین یہ بھی نہیں چاہتا کہ خود تمھارے خلاف کرنے لگوں اس امر میں جس سے میں تمھیں روکتا ہوں (نیز) نہیں چاہتا ہوں مگر (تمھاری) اصلاح اور درستی جہاں تک میرا بس ہے اور نہیں میرا راہ پانا۔ مگر اللہ تعالیٰ کی امداد سے اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

﴿88﴾ اور اے میری قوم ! ہر گز نہ اکسائے تمھیں میری عداوت (اللہ کی نافرمانی پر ) مبادا پہنچے تمھیں بھی ایسا عذاب جو پہنچا تھا قوم نوح ( علیہ السلام) یا قوم ہود ( علیہ السلام) یا قوم صالح ( علیہ السلام) کو۔ اور قوم لوط ( علیہ السلام) تو تم سے کچھ دور نہیں۔

﴿89﴾ اور مغفرت طلب کرو اپنے رب سے پھر (دل و جان) سے رجوع کرو اسکی طرف بیشک میرا رب بڑا مہربان (اور ) پیار کرنیوالا ہے۔

﴿90﴾ وہ بولے اے شیعب ہم نہیں سمجھ سکتے بہت سی باتیں جو تو کہتا ہے اور بلاشبہ ہم دیکھتے ہیں تجھے کہ تو ہم میں بہت کمزور ہے اور اگر تمھارے کنبہ کا لحاظ نہ ہوتا تو ہم نے تمھیں سنگسار کردیا ہوتا اور نہیں ہو تم ہم پر غالب۔

﴿91﴾ آپ نے فرمایا اے میری قوم ! کیا میرا کنبہ زیادہ معزز ہے تمھارے نذدیک اللہ تعالیٰ سے ۔ اور تم نے ڈال دیا ہے اسے پس پشت ۔ بیشک میرا رب جو عمل تم کرتے ہو (اسکو اپنے علم سے ) احاطہ کیے ہوئے ہے۔

﴿92﴾ اور اے میری قوم! تم عمل کیے جاؤ اپنی جگہ پر (اور) میں (اپنے طور پر ) عمل پیرا ہوں ۔ تمھیں پتہ چل جائے گا کہ کس پر آتا ہے عذاب جو رسوا کردے گا اور کون جھوٹا ہے۔ اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والا ہوں۔

﴿93﴾ اور جب آپہنچا ہمارا حکم (یعنی عذاب) تو ہم نے بچا لیا شعیب کو اور انھیں جو ایمان لائے تھے آپ کے ساتھ اپنی خاص رحمت سے اور آلیا ظالموں کو خوفناک کڑک نے تو صبح کی انھوں نے اپنے گھروں میں اس حال میں کہ وہ گھٹنوں کے بل گرے پڑے تھے ۔

﴿94﴾ گویا کبھی وہ ان میں بسے ہی نہ تھے سنو! ہلاکت ہو مدین کے لیے جیسے ہلاک ہوچکے تھے ثمود۔

﴿95﴾ اور بیشک ہم نے بھیجا موسیٰ ( علیہ السلام) کو اپنی خاص نشانیوں اور صریح غلبہ کے ساتھ۔

﴿96﴾ فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف تو انھوں نے پیروی کی فرعون کے حکم کی۔ اور فرعون کا حکم بالکل غلط تھا ۔

﴿97﴾ وہ اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا۔ روز قیامت اور لا ڈالیگا انھیں آتشِ (جہنم) میں۔ بہت بری داخل ہونے کی جگہ ہے جہاں انھیں داخل کیا جائے گا۔

﴿98﴾ اور ان پر بھیجی جاتی رہے گی اس دنیا میں لعنت اور قیامت کے دن بھی بہت برا عطیہ ہے جو انھیں دیا جائیگا۔

﴿99﴾ یہ ان بستیوں کی بعض خبریں ہیں جو ہم بیان کررہے ہیں آپ سے ان میں سے کچھ ہیں اور کچھ کٹ گئی ہیں۔

﴿100﴾ اور نہیں ظلم کیا ہم نے ان پر بلکہ انھوں نے خود زیادتی کی تھی اپنی جانوں پر ۔ پس نہ فائدہ پہنچایا انھیں ان کے (جھوٹے) خداؤں نے جن کی وہ عبادت کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ کے سوا کچھ بھی جب آگیا حکم آپ کے رب کا ۔ ان دیوتاؤں نے تو فقط ان کی بربادی میں ہی اضافہ کیا۔

﴿101﴾ اور یونہی گرفت ہوتی ہے آپ کے رب کی جب وہ پکڑ تا ہے بستیوں کو درآلخالیکہ وہ ظالم ہوتی ہیں بیشک اس کی پکڑ بڑی دردناک (اور ) سخت ہوتی ہے۔

﴿102﴾ بیشک ان واقعات میں (عبرت کی ) نشانی ہے اس کے لیے جو ڈرتا ہے عذاب آخرت سے یہ وہ دن ہے جس دن اکھٹے کیے جائیں گے سب لوگ اور یہ وہ دن ہے جب سب کو حاضر کیا جائیگا ۔

﴿103﴾ اور ہم نے نہیں مؤخر کیا ہے اسے مگر ایک مقرر مدت تک جو گنی ہوئی ہے۔

﴿104﴾ جب وہ دن آئیگا تو (اس کی ہیبت سے ) کوئی شخص نہیں بول سکے گا بجز اسکی اجازت کے بعض ان میں سے بدنصیب ہوں گے اور بعض خوش نصیب۔

﴿105﴾ سو وہ جو بدنصیب ہیں وہ آگ میں ہوں گے ان کے (مقدر میں) وہاں چیخنا اور چلانا ہوگا۔

﴿106﴾ وہ دوزخ میں رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں مگر جتنا چاہے آپ کا پروردگار بیشک آپ کو مرتبہء کمال تک پہنچا نے والا کرتا ہے جو چاہتا ہے۔

﴿107﴾ اور وہ جو خوش نصیب ہیں تو وہ (نعیم) جنت میں ہوں گے ہمیشہ رہیں گے اس میں جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں مگر جتنا چاہے آ پ کا رب ۔ یہ وہ عطا ہے جو ختم نہیں ہوگی۔

﴿108﴾ (تو اے سننے والے!) نہ ہوجا تو شک میں انکے متعلق جنکی یہ پوجا کرتے ہیں ۔ وہ نہیں پوجتے مگر ایسے ہی جیسے پوجتے تھے انکے باپ دادا اس سے پہلے۔ اور ہم یقیناً پورا پورا دینے والے ہیں انھیں ان کا حصہ جس میں ذرا کمی نہیں ہوگی۔

﴿109﴾ اور بیشک ہم نے عطا فرمائی موسیٰ کو کتاب پھر اختلاف کیا جانے لگا اس میں اور اگر ایک بات پہلے سے نہ طے کردی گئی ہوتی آپ کے پروردگار کی جانب سے تو یہ فیصلہ کردیا گیا ہوتا انکے درمیان اور وہ بیشک وہ ایسے شبہ میں ہیں اسکے متعلق جو بےچین کردینے والا ہے۔

﴿110﴾ اور یقیناً ان سب اختلاف کرنے والوں کو پورا پورا بدلہ دیگا انھیں آپ کا رب ان کے کرتو توں کا ۔ بیشک اللہ تعالیٰ جو وہ کام کرتے ہیں ان سے خوب آگاہ ہے۔

﴿111﴾ پس آپ ثابت قد م رہیے جیسے حکم دیا گیا ہے آپکو اور وہ بھی (ثابت قد م رہیں) جو تائب ہوکر آپکے ہمراہ ہیں اور سرکشی نہ کرو بیشک جو کچھ تم کرتے ہو وہ اسے خوب دیکھ رہا ہے ۔

﴿112﴾ اور مت جھکو انکی طرف جنھوں نے ظلم کیا ورنہ چھوئے گی تمھیں بھی آگ ۔ اور (اس وقت) نہیں ہوگا تمھارے لیے اللہ تعایٰ کے سوا کوئی مددگار پھر تمھاری مدد بھی نہ کی جائے گی۔

﴿113﴾ اور قائم کیجیے نماز دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات کے حصوں میں ۔ بیشک نیکیاں مٹا دیتی ہیں برائیوں کو یہ نصیحت ہے نصیحت قبول کرنیوالوں کے لیے۔

﴿114﴾ اور آپ صبر کیجیے بلاشبہ اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرتا نیکوں کے اجر کو ۔

﴿115﴾ تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ ان امتوں میں جو تم سے پہلے گزری ہیں ایسے زیرک لوگ ہوتے جو روکتے زمین میں فتنہ و فساد برپا کرنے سے مگر وہ قلیل تھے جنھیں ہم نے نجات دی تھی ان سے۔ اور پیچھے پڑے رہے ظالم اس عیش و طراب کے جس میں وہ تھے اور وہ مجرم تھے۔

﴿116﴾ اور آپ کا رب ایسا نہیں کہ برباد کردے بستیوں کو ظلم سے حالانکہ ان میں بسنے والے نیکو کار ہوں۔

﴿117﴾ اور اگر چاہتا آپ کا رب تو بنا دیتا سب لوگوں کو ایک ہی امت (لیکن حکمت کا یہ تقاضا نہیں اس لیے) وہ ہمشہ آپس میں اختلاف کرتے رہینگے۔

﴿118﴾ مگر جن پر آپ کے رب نے رحم فرمایا ( وہ اس فتنہ سے محفوظ رہیں گے) اور اسی (رحمت ) کے لیے انھیں پیدا فرمایا ہے اور پوری ہوگئی آپ کے رب کی (یہ) بات کہ میں ضرور بھردونگا جہنم کو جن و انسان دونوں سے۔

﴿119﴾ اور یہ سب جو ہم بیان کرتے ہیں آپ سے پیغمروں کی سرگزشتیں یہ اس لیے ہیں کہ پختہ کردیں ان سے آپ کے قلبِ (مبارک) کو اور آبا ہے آپ کے پاس اس سورۃ میں حق اور یہ نصیحت اور یاد دہانی ہے اہل ایمان کے لیے۔

﴿120﴾ اور آپ فرمادیجیے انھیں جو ایمان نہیں لائے کہ تم عمل کرتے رہو اپنی جگہ پر اور ہم (اپنے طور پر ) عمل پیرا ہیں۔

﴿121﴾ اور تم بھی انتظار کرو ۔ ہم بھی منتظر ہیں۔

﴿122﴾ اور اللہ ہی کے لیے ہے چھپی ہوئی چیزیں آسمانوں کی اور زمین کی ۔ اور اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں سارے کام۔ تو آپ بھی اسی کی عبادت کیجیے اور اسی پر بھروسہ رکھیے۔ اور نہیں ہے آپ کا رب بےخبر اس سے جو تم لوگ کرتے ہو۔

﴿123﴾ الف۔ لا۔ م ۔ ر یہ آیتیں ہیں روشن کتاب کی ۔

یوسف

Surah 12

﴿1﴾ بیشک ہم نے اتارا اسے یعنی قرآن عربی کو تاکہ تم (اسے ) خوب سمجھ سکو۔

﴿2﴾ ہم بیان کرتے ہیں آپ سے ایک بہترین قصہ اس قرآن کے ذریعہ جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے۔ اگرچہ آپ اِ س سے پہلے غافلوں میں سے تھے۔

﴿3﴾ یاد کرو جب کہا یوسف نے اپنے والد سے اے میرے محترم باپ! میں نے خواب میں دیکھا ہے گیارہ ستاروں کو اور سورج اور چاند کو میں نے دیکھا کہ وہ مجھے سجدہ کررہے ہیں۔

﴿4﴾ آپ نے فرمایا اے میرے بچے نہ بیان کرنا اپنا خواب اپنے بھائیوں سے ورنہ وہ سازش کریں گے تیرے خلاف ۔ بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

﴿5﴾ اور اس طرح چن لے گا تجھے تیرا رب اور سکھادے گا تجھے باتوں کا انجام (یعنی خوابوں کی تعبیر) اور پورا فرمائے گا اپنا انعام تجھ پر اور یعقوب کے گھرانے پر جیسے اس نے پورا فرمایا اپنا انعام اس سے پہلے تیرے دو باپوں ابراہیم اور اسحٰق پر یقیناً تیرا پروردگار سب کچھ جاننے والا بہت دانا ہے۔

﴿6﴾ بیشک یوسف اور اسکے بھائیوں ( کے قصہ) میں (عبرت کی ) کئی نشانیاں ہیں دریافت کرنے والوں کے لیے ۔

﴿7﴾ جب بھائیوں نے (آپس میں) کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی زیادہ پیارا ہے ہمارے باپ کو ہم سے حالانکہ ہم ایک (مضبوط ) جتھہ ہیں۔ یقیناً ہمارے والد (ایسا کرنے میں ) کھلی غلطی کا شکا ر ہیں۔

﴿8﴾ قتل کرڈالو یوسف کو یا دور پھینک آؤ اسے کسی علاقہ میں (یوں) تنہا ہوجائے گا تمھاری طرف تمھارے باپ کا رخ اور ہوجانا اس کے بعد (توبہ کرکے) نیک قوم۔

﴿9﴾ (یہ سن کر) ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ نہ قتل کرو یوسف کو (بلکہ ) پھینک دو اسے کسی گہرے کنوئیں کی تاریک تہہ میں اٹھالیں گے اسے کوئی راہ چلتے مسافر۔ اگر تم نے کچھ کرنا ہی ہے۔

﴿10﴾ (یہ طے کرنے کے بعد ) انھوں نے (آکر) کہا اے ہمارے باپ! کیا ہوا آپ کو آپ اعتبار ہی نہیں کرتے ہم پر یوسف کے بارے میں حالانکہ ہم تو اسکے سچے خیر خواہ ہیں۔

﴿11﴾ آپ بھیجیے اسے ہمارے ساتھ کل تاکہ خوب کھائے پیئے اور کھیلے کودے اور (کوئی فکر نہ کیجیے) ہم اسکے نگہبان ہیں۔

﴿12﴾ آپ نے فرمایا بیشک مجھے غمزدہ بناتی ہے یہ بات کہ تم اسے لے جاؤ اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں کھا نہ جائے اس کو بھیڑیا اور تم (سیر و تفریح کے باعث) اس سے بےخبر ہو۔

﴿13﴾ کہنے لگے اگر کھاجائے اسے بھیڑیا حالانکہ ہم ایک مضبوط جتھہ ہیں بلا شبہ ہم تو بڑے زیاں کار ہوئے

﴿14﴾ پھر جب بڑے اصرار سے اسے لے گئے اور سب نے یہی طے کرلیا کہ ڈال دیں گے اسے کسی گہرے کنوئیں کی تاریک تہہ میں اور عن اس وقت ہم نے اسکی طرف وحی کی (گھبراؤ نہیں ) تم ضرور انھیں آگاہ کرو گے ان کے اس فعل پر ۔ اور وہ (تیرے رتبہء عالی کو ) نہیں سمجھتے

﴿15﴾ اور آئے اپنے باپ کے پاس عشاء کے وقت گریہ زاری کرتے ہوئے

﴿16﴾ (آکر ) کہا باوا جی ! ہم ذرا گئے کہ دوڑ لگائیں اور ہم چھوڑ گئے یوسف کو اپنے سامان کے پاس (ہائے افسوس) کھا گیا اس کو بھیڑ یا ۔ اور آپ نہیں مانے گے ہمارے بات اگرچہ ہم سچے ہیں

﴿17﴾ اور لے آئے اس کی قیمیض پر جھوٹا خون لگا کر آپ نے فرمایا (غلط کہتے ہو یوں نہیں) بلکہ آراستہ کردکھایا تمہیں تمھارے نفسوں نے اس (سنگین جرم) کو ( اس جانکاہ حادثہ ) پر صبر جمیل کرونگا اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگوں گا اس پر جو تم بیان کرتے ہو

﴿18﴾ اور تھوڑی دیر بعد ایک قافلہ آیا تو اہل قافلہ نے (پانے لانے کے لیے ) اپنا آبکش بھیجا ۔ انے نے لٹکا دیا اپنا ڈول ۔ وہ پکار اٹھا مژدہ باد! یہ لو کتنا من مہنا بچہ ہے ۔ اور انھوں نے چھپا دیا اسے متاع (گرابنہا) سمجھتے ہوئے ۔ اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے جو وہ کررہے تھے

﴿19﴾ اور انھوں نے بیچ ڈالا یوسف کو حقیر سی قیمت پر چند درہموں کے عوض اور وہ (پہلے ہی ) اس میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے تھے

﴿20﴾ اور کہا اس شخص نے جس نے یوسف کو خریدا تھا اہل مصر سے اپنی بیوی کو عزت و اکرام سے اسے ٹھراؤ شاید یہ ہمیں نفع پہنچائے یا بنالیں ہم اسے اپنا فرزند اور یوں (اپنی حکمت کاملہ سے) ہم نے قرار بخشا یوسف کو (مصر کی ) سرزمین میں اور تاکہ ہم سکھادیں اسے خوابوں کی تعبیر ۔ اور اللہ تعالیٰ غالب ہے اپنے ہر کام پر لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو ) نہیں جانتے

﴿21﴾ اور جب وہ پہنچے اپنے پورے جوبن کو تو ہم نے عطا فرمائی انھیں نبوت اور علم۔ اور یونہی ہم نیک جزا دیتے ہیں اچھے کام کرنیوالوں کو

﴿22﴾ اور بہلانے پھسلانے لگی انھیں وہ عورت جس کے گھر میں آپ تھے کہ ان سے مطلب براری کرے اور (ایک دن) ان نے تمام دروازے بند کردیئے اور (بصد ناز ) کہنے لگی بس آبھی جا۔ یوسف (پاکباز) نے فرمایا خدا کی پناہ! (یوں نہیں ہوسکتا) وہ (تیراخاوند) میرا محسن ہے ۔ اس نے مجھے بڑی عزت سے ٹھیرا یا ہے بیشک ظالم فلاح نہیں پاتے

﴿23﴾ اور اس عورت نے توقصد کرلیا تھا ان کا اور وہ بھی قصد کرتے اس کا اگر نہ دیکھ لیتے اپنے رب کی کی (روشن) دلیل۔ یوں ہوا تاکہ ہم دور کردیں یوسف سے برائی اور بےحیائی کو۔ بیشک وہ ہمارے ان بندوں میں سے تھا جو چن لئے گئے ہوں

﴿24﴾ اور وہ دونوں دوڑ پڑے دروازے کی طرف اور اس عورت نے پھاڑ ڈالا اس کا کرتا پیچھے سے اور (اتفاق ایسا ہوا کہ ) ان دونوں نے کھڑا پایا اس کے خاوند کو دروازے کے پاس ۔ جھٹ بول اٹھی (میرے سرتاج ! بتائیے) کیا سزا ہے اس کی جو ارادہ کرے تیری بیوی کے ساتھ برائی کا بجز اسکے کہ اسے قید کردیا جائے یا (اسے ) دردناک عذاب دیا جائے

﴿25﴾ آپ نے (جواباً) فرمایا (میں نے نہیں بلکہ ) اس نے بہلانا چاہا ہے مجھے کہ مطلب براری کرے اور گواہی دی ایک گواہ نے جو اس عورت کے خاندان سے تھا (کہ دیکھو!) اگر یوسف کی قمیض آگے سے پھٹی ہوئی ہے تو اس نے سچ کہا اور وہ جھوٹوں میں سے ہے

﴿26﴾ اور اگر اس کی قمیض پھٹی ہوئی ہو پیچھے سے تو پھر اس نے جھوٹ بولا اور یوسف سچوں میں سے ہے

﴿27﴾ پس جب عزیز نے دیکھا پیراہن یوسف کو کہ پھٹا ہوا ہے پیچھے سے تو بول اٹھا یہ سب تم عورتوں کا فریب ہے ۔ بیشک تم عورتوں کا فریب بڑا (خطرناک) ہوتا ہے

﴿28﴾ اے یوسف (پاکباز) اس بات کو جانے دو اور (اے عورت) اپنے گناہ کی معافی مانگ بیشک تو ہی قصور واروں میں سے ہے

﴿29﴾ اور کہنے لگیں عورتیں شہر میں کہ عزیز کی بیوی بہلاتی ہے اپنے (نوجوان) غلام کو تاکہ اس سے مطلب براری کرے اس کے دل میں گھر کر گئی ہے اسکی محبت ۔ ہم دیکھ رہی ہیں اسے کہ وہ کھلی گمراہی میں ہے

﴿30﴾ پس جب زلیخا نے سنا انکی مکارانہ باتوں کو تو اس نے انھیں بلا بھیجا اور تیار کیں ان کے لیے مسندیں اور (جب وہ آگئیں تو ) دے دی ہر ایک کو ان میں سے ایک ایک چھری اور یوسف کو کہا کہ (ذرا ) نکل (تو) آؤ ان کے سامنے سے ۔ پس جب (یوسف آئے اور) انھوں نے اس کو دیکھا تو اس کی عظمت (حسن) کی قائل ہوگئیں اور (وارفتگی کے عالم میں) کاٹ بیھٹیں اپنے ہاتھوں کو اور کہہ اٹھیں سبحان اللہ ! یہ انسان نہیں بلکہ یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے۔

﴿31﴾ زلیخا (فاتحانہ انداز میں) بولی یہ ہے وہ (پیکر رعنائی) جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کیا کرتی تھیں ۔ بخدا میں نے اسے بہت بہلایا پھسلایا لیکن وہ بچا ہی رہا اور اگر وہ نہ بجا لایا جو میں اس کو حکم دیتی ہوں تو اسے قید کردیا جائے گا اور وہ ہوجائے گا ان لوگوں سے جو بےآبرو ہیں

﴿32﴾ یوسف نے عرض کی اے میرے پروردگار ! قید خانہ (کی صعوبتیں مجھے زیادہ پسند ہیں اس گناہ سے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو (اپنی عنایت سے) نہ دور کرے مجھ سے ان کے مکر کو تو میں مائل ہوجاؤنگا انکی طرف اور بن جاؤں گا نادانوں سے۔

﴿33﴾ پس قبول فرمالی اس کی دعا اسکے رب نے اور دور کردیا اس سے ان عورتوں کے مرکو فریب کو ۔ بیشک وہ (اپنے بندوں کی فریادیں ) سننے والا اور ان کے (حالات ) خوب جاننے والا ہے

﴿34﴾ پھر مناسب معلوم ہوا انھیں اسکے باوجود کہ وہ (یوسف کی پاکبازی کی ) نشانیاں دیکھ چکے تھے کہ وہ اسے قید کردیں کچھ عرصہ تک

﴿35﴾ اور داخل ہوئے آپ کے ساتھ ہی قید خانہ میں دو نوجوان ان میں سے ایک نے (آکر) کہا کہ میں نے (خواب میں) اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں۔! اور دوسرے نے کہا میں نے خواب میں اپنے آپکو دیکھا کہ میں اٹھائے ہوئے ہوں اپنے سر پر کچھ روٹیاں ، پرندے کھارہے ہیں اس میں سے ۔ آپ بتائیے ہمیں اسکی تعبیر۔ بیشک ہم دیکھ رہے ہیں آپ کو نیکو کاروں سے

﴿36﴾ آپ نے فرمایا نہیں آئیگا تمھارے پاس کھانا جو تمہیں کھلایا جاتاہے مگر میں تمھٰن بتادونگا اسکی تعبیر اس سے پیشتر کہ کھانا تمھارے پاس آئے۔ یہ ان علموں میں سے ہے جو سکھایا ہے مجھے میرے رب نے ۔ میں نے چھوڑ دیا ہے دین اس قوم کا جو نہیں ایمان لاتے اللہ تعالیٰ پر نیز وہ آکرت کا انکار کرنے والے ہیں

﴿37﴾ اور میں تو پیرو بن گیا اپنے باپ دادا ابراہیم (علیہ السلام) اسحاق اور یعقوب کے دین کا نہیں روا ہمارے لیے کہ ہم شریک ٹھیرائیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو ۔ یہ (توحید پر ایمان) تو اللہ تعالیٰ کا خاص احسان ہے ہم پر اور لوگوں پر لیکن بہت سے لوگ اس احسان پر شکر ہی بجا نہیں لاتے

﴿38﴾ اے قید خانہ کے میرے دو رفیقو! (یہ تو بتاؤ) کیا بہت سے جدا جدا رب بہتر ہیں یا ایک اللہ جو سب پر غالب ہے

﴿39﴾ تم نہیں پوجتے اس کے علاوہ مگر چند ناموں کو جو رکھ لیے ہیں تم نے اور تمھارے باپ دادا نے ۔ نہیں اتاری اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کوئی دلیل۔ نہیں ہے حکم (کا اختیار کسی کو ) سوائے اللہ تعالیٰ کے اسی نے یہ حکم دیا ہے کہ کسی کی عبادت نہ کرو بجز اس کے یہی دین قیم ہے لیکن بہت سے لوگ (اس حقیقت کو) نہیں جانتے

﴿40﴾ اے قید خانہ کے میرے دو ساتھیوں ! (اب خوابوں کی تعبیر سنو) تم میں سے ایک (یعنی پہلا) تو پلایا کرے گا اپنے مالک کو شراب۔ لیکن دوسرا سولی دیا جائے گا اور (نوچ ) کھائیں گے پرندے اس کے سر سے۔ (اٹل ) فیصلہ ہوچکا اس بات کا جس کے متعلق تم دریافت کرتے ہو

﴿41﴾ اور کہا (یوسف علیہ السلام ) نے اسے جسکے بارے میں آپ کو یقین تھا کہ وہ نجات پاجائے گا ان دونوں سے کہ میرا تذکرہ کرنا اپنے آقا کے پاس ۔ لیکن فراموش کرادیا اسے شیطان نے کہ وہ ذکر کرے اپنے بادشاہ کے پاس۔ پس آپ ٹھیرے رہے قید خانہ میں کئی سال

﴿42﴾ اور (کچھ عرصہ بعد ایک روز) بادشاہ نے کہا کہ میں (خواب میں کیا) دیکھتا ہوں کہ ساتھ گائیں ہیں موٹی تازی کھارہی ہیں انھیں ساتھ دبلی گائیں اور سات سبز خوشے ہیں اور دوسرے ساتھ خشک سوکھے ہوئے۔ اے درباریوں! بتاؤ مجھے میرے خواب کی تعبیر اگر تم خوابوں کی تعبیر بتایا کرتے ہو

﴿43﴾ درباریوں نے کہا (اے بادشاہ) یہ خواب پریشان ہیں اور ہم پریشان خوابوں کی تعبیر جاننے والے نہیں

﴿44﴾ اور (اس وقت) بولا وہ شخص جو بچ گیا تھا ان دو (قید یوں) سے اور (اب) اسے یوسف کی یاد آئی ایک عرصہ بعد۔ میں بتاتا ہوں تمھیں اس خواب کی تعبیر مجھے (قید خانہ تک) جانے دیجیے

﴿45﴾ اے یوسف! اے صدیق! بتائیے ہمیں (اس خواب کی تعبیر) کہ ساتھ موٹی تازہ گائیں ہیں ۔ کھارہی ہیں انھیں ساتھ لاغر گائیں اور ساتھ خوشے ہیں سرسبز اور دوسرے (سات خوشے ) خشک تاکہ میں (آپ کا جواب لیکر ) واپس جاؤں لوگوں کی طرف شاید وہ (آپ کے علم و فضل کو ) جان لیں۔

﴿46﴾ آپ نے فرمایا کہ تم کاشت کروے ساتھ سال تک حسب دستور۔ تو جو تم کاٹو گے اسے رہنے دو خوشوں میں مگر تھوڑا سا (ضرورت کے لیے نکال لو ) جسے تم کھالو

﴿47﴾ پھر آئیں گے اس (خوشحالی ) کے بعد سات سال بہت سخت کھا جائیں گے جو ذخیرہ تم نے پہلے جمع کر رکھا ہوگا۔ ان کے لیے مگر تھوڑا سا جو تم محفوظ کرلوگے

﴿48﴾ پھر آئے گا اس عرصہ کے بعد ایک سال جس میں مینہ برسایا جائے گا لوگوں کے لیے اور اس سال وہ (پھلوں کا ) رس نکالیں گے

﴿49﴾ (یہ تعبیر سنتے ہی) بادشاہ نے کہا (فوراً) لے آؤ انہیں میرے پاس۔ پس جب (فرمان شاہی لیکر) انکے پاس قاصد آیا (تو) آپ نے فرمایا لوٹ جاؤ اپنے بادشاہ کے پاس اور اسے پوچھو کہ حقیقت حال کیا تھی ان عورتوں کی جنھوں نے کاٹ ڈالے تھے اپنے ہاتھ بےشک میرا پروردگار تو ان کے مکرو (فریب) سے خوب آگاہ ہے

﴿50﴾ بادشاہ نے (ان عورتوں کو بلا کر ) پوچھا کیا معاملہ ہوا تمھارا جب تم نے یوسف کو بہلایا تھا اپنی مطلب براری کے لیے۔ (بیک زبان ) بولیں حاشالِلہ! نہیں معلوم ہوئی ہمیں تو اس میں ذرا برائی۔ عزیز کی بیوی (کو یارائے ضبط نہ رہا) کہنے لگی اب تو آشکارا ہوگیا حق۔ میں نے ہی اسے پھسلانا چاہا تھا اپنی مطلب براری کے لیے بخدا وہ تو سچا ہے۔

﴿51﴾ یوسف ( علیہ السلام) نے کہا) یہ میں نے اس لیے کہا تھا تاکہ عزیز جان لے کہ میں نے اس کی غیر حاضری میں خیانت نہیں کی۔ اور یقیناً اللہ تعالیٰ کامیاب نہیں ہونے دیتا دغا بازوں کی فریب کاری کو

﴿52﴾ یوسف ( علیہ السلام) نے کہا) یہ میں نے اس لیے کہا تھا تاکہ عزیز جان لے کہ میں نے اس کی غیر حاضری میں خیانت نہیں کی۔ اور یقیناً اللہ تعالیٰ کامیاب نہیں ہونے دیتا دغا بازوں کی فریب کاری کو

﴿53﴾ اور بادشاہ نے حکم دیا کہ لے آؤ اسے میرے پاس ۔ میں چن لونگا اسے اپنی ذات کے لیے۔ پھر جب اس نے آپ سے گفتگو کی (اور مطمئن ہوگیا) تو کہا آپ آج سے ہمارے ہاں بڑے محترم (اور ) قابل اعتماد (درباری) ہیں

﴿54﴾ آپ نے فرمایا مجھے مقرر کردے زمین کے خزانوں پر بیشک میں (انکی) حفاظت کرنے والا ( اور معاشی مسائل کا ) کا ماہر ہوں

﴿55﴾ یوں ہم نے تسلط (اور اقتدار) بخشا یوسف کو سرزمین مصر میں۔ تاکہ رہے اس میں جہاں چاہے ہم سرفراز کرتے ہیں اپنی رحمت سے جسے چاہتے ہیں اور ہم ضائع نہیں کرتے اجر عمدہ کام کرنے والوں کا

﴿56﴾ اور آخرت کا اجر اس سے یقیناً بہتر ہے ان کے لیے جو ایمان لے آئے اور تقویٰ اختیار کیے رہے

﴿57﴾ اور ایک روز آنکلے برادران یوسف (علیہ السلام) اور ان کی خدمت میں حاضر ہوئے سو آپ نے تو انھیں پہچان لیا لیکن وہ آپ کو نہ پہچان سکے

﴿58﴾ سو جب مہیا کردیا ان کے لیے ان (کی رسد و خوراک) کا سامنا تو فرمایا (دوبارہ آؤ) تو لے آنا میرے پاس اپنے پدری بھائی کو کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں کس طرح پیمانہ پورا بھر کر دیتا ہوں اور میں کتنا بہتر مہمان نواز ہوں

﴿59﴾ اور اگر تم اسے نہ لے آئے میرے پاس تو (سن لو) کوئی پیمانہ تمھارے پاس نہیں ہوگا اور نہ تم میرے قریب آسکو گے

﴿60﴾ وہ بولے ہم ضرور مطالبہ کریں گے اس کے بھیجنے کے متعلق اسکے باپ سے اور ہم ضرور ایسا کرینگے

﴿61﴾ اور آپ نے فرمایا اپنے غلاموں کو کہ (چپکے سے) رکھ دو ان کا سامان (جس کے عوض انھوں نے غلہ خریدا) ان کی خورجیوں میں تاکہ وہ اسے پہچان لیں جب وہ واپس لوٹیں اپنے گھر والوں کے پاس شاید وہ لوٹ کر آئیں

﴿62﴾ پھر جب واپس لوٹے اپنے باپ کے پاس تو عرض کرنے لگے اے ہمارے پدر (بزرگوار) روکدیا گیا ہے ہم سے غلہ سو (ازراہ نوازش) بھیجئے ہمارے ساتھ ہمارے بھائی (بن یامین) کو تاکہ ہم غلہ لاسکیں اور ہم یقیناً اسکی نگہبانی کرینگے

﴿63﴾ آپ نے (جواباً) فرمایا کیا میں اعتماد کروں تم پر اس کے بارے یں بجز اس کے جیسے میں نے اعتماد کیا تھا تم پر اس کے بھائی کے بارے میں اس سے قبل پس اللہ تعالیٰ ہی بہتر حفاظت کرنیوالا ہے اور وہ زیادہ مہربان ہے تمام مہربانی کرنیوالوں سے

﴿64﴾ اور جب انھوں نے کھولا اپنا سامان تو انھوں نے دیکھا کہ ا کا مال انھیں واپس لوٹا دیا گیا ہے (ترغیب دینے کے لیے) کہنے لگے اے ہمارے پدر (محترم ہم اور کیا چاہتے ہیں یہ (دیکیھے ) ہمارا مال بھی لوٹا دیا گیا ہے ہمارے طرف اور (اگر بن یامین ساتھ گیا ) تو ہم رسد لائینگے اپنے اہل خانہ کے لیے اور رکھوالی کرینگے اپنے بھائی کی اور ہم زیادہ لینگے اور اونٹ کا بوجھ۔ یہ غلہ بہت تھوڑا ہے

﴿65﴾ آپ نے کہا میں ہرگز نہیں بھیجوں گا اسے تمھارے ساتھ یہاں تک کہ کرو تم میرے ساتھ وعدہ جو پختہ کیا گیا ہو اللہ کی قسم سے کہ تم ضرور لے آؤ گے میرے پاس اسے مگر یہ کہ تمھیں بےبس کردیا جائے پس جب وہ لے آئے آپ کے پاس اپنا پختہ وعدہ تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جو ہم گفتگو کررہے ہیں اس پر گواہ ہے

﴿66﴾ اور آپ نے کہا اے میرے بچو! (شہر میں) نہ داخل ہونا ایک دروازہ سے بلکہ داخل ہونا مختلف دروازوں سے اور نہیں فائدہ پہنچا سکتا میں تمھیں اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے کچھ بھی۔ نہیں ہے حکم مگر اللہ تعالیٰ کے لیے اسی پر میں نے توکل کیا ہے اور اسی پر توکل کرنا چاہیے توکل کرنیوالوں کو۔

﴿67﴾ اور جب وہ (مصر میں) میں داخل ہوئے جس طرح حکم دیا گیا تھا انھیں ان کے باپ نے۔ وہ فائدہ نہیں پہنچا سکتا تھا انھیں اللہ کی تقدیر سے کچھ بھی مگر (یہ احتیاطی تدبیر) ایک خیال تھا نفس یعقوب میں جسے انھوں نے پورا کیا اور بیشک وہ صاحب علم تھے بوجہ اسکے جو ہم نے سکھایا تھا انھیں لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو ) نہیں جانتے

﴿68﴾ اور جب پہنچے یوسف کے پاس تو یوسف نے جگہ دی اپنے پاس اپنے بھائی کو (نیز) اُسے فرمایا میں تمھارا بھائی ہوں نہ غمزدہ ہو (ان حرکتوں پر ) جو یہ کیا کرتے تھے

﴿69﴾ پھر جب فراہم کردیا انھیں ان کا سامانِ (خوراک) تو رکھ دیا (اپنا) پیالہ اپنے بھائی کی خورجی میں پھر پکارا ایک پکارنے والا اے قافلہ والو! بلاشبہ تم چور ہو

﴿70﴾ (حیرت زدہ ہوکر) وہ بولے درآنحال کہ وہ انکی طرف متوجہ تھے کونسی چیز تم نے گم کی ہے

﴿71﴾ انھوں نے کہا ہم نے گم کیا ہے بادشاہ کا پیالہ اور وہ شخص جو ڈھونڈ لائیگا اسے بطور انعام بار شتر (غلہ) دیا جائیگا اور میں اس کا ضامن ہوں

﴿72﴾ کہنے لگے خدا کی قسم ! تم خوب جانتے ہو کہ ہم (یہاں) اس لیے نہیں آئے کہ فساد برپا کریں زمین میں اور نہ ہی ہم چوری پیشہ ہیں

﴿73﴾ خدام (یوسف) نے کہا پھر اس کی کیا سزا ہے اگر تم جھوٹے ثابت ہوجاؤ

﴿74﴾ اُنھوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان میں یہ پیالہ دستیاب ہو تو وہ کود ہی اس کا بدلہ ہے اسی طرح ہم سزا دیا کرتے ہیں ظالموں کو۔

﴿75﴾ پس تلاشی لینی شروع کی ان کے سامانوں کی یوسف کے بھائی کے سامان کی تلاشی سے پہلے آخر کار نکال لیا وہ پیالہ اس کے بھائی کی خورجی سے۔ یو تدبیر کی ہم نے یوسف کے لیے نہیں رکھ سکتے تھے یوسف اپنے بھائی کو بادشاہ مصر کے قانون میں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہے۔ ہم بلند کردیتے ہیں درجے جن کے چاہتے ہیں اور ہر صاحب علم سے برتر دوسرا صاحب علم ہوتا ہے

﴿76﴾ بھائی بولے اگر اس نے چوری کی ہے (تو کیا تعجب ہے) بیشک چوری کی تھی اسکے بھائی نے بھی اس سے پہلے۔ پس چھپا لیا اس بات کو یوسف ( علیہ السلام) نے اپنے جی میں اور نہ ظاہر کیا اسے ان پر۔ (جی ہاں) کہا تم بہت بری جگہ ہو۔ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو تم بیان کررہے ہو

﴿77﴾ وہ کہنے لگے اے عزیز! اس کا باپ بہت بوڑھا ہے (اسکی جدائی برداشت نہ کرسکے گا) پس ہم میں سے کسی کو اس کی جگہ پکڑ لیجیے بیشک ہم تجھے نیکوکاروں سے دیکھتے ہیں

﴿78﴾ آپ نے کہا ہم خدا کی پناہ مانگتے ہیں اس سے کہ پکڑ لیں ہم مگر اس کو جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے۔ ورنہ ہم ظالم ہوں گے

﴿79﴾ پھر جب وہ مایوس ہوگئے یوسف سے تو الگ جاکر سرگوشی کرنے لگے۔ اُنکے بڑے بھائی نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمھارے باپ نے لیا تھا تم سے وعدہ پختہ کیا گیا تھا اللہ کے نام سے اور اس سے پہلے جو زیادتی یوسف کے حق میں تم کرچکے ہو (وہ بھی تمھیں یاد ہے) سو میں تو نہیں چھوڑوں گا اس زمین کو جب تک کہ اجازت نہ دیں مجھے میرے باپ یا فیصلہ فرمائے اللہ تعالیٰ میرے لیے ۔ اور وہ تمام فیصلہ کرنیوالوں سے بہتر ہے

﴿80﴾ تم لوٹ جاو اپنے باپ کی طرف پھر (انھیں یہ) عرض کرو اے ہمارے محترم باپ ! بلاشبہ آپ کے بیٹے نے چوری کی (اس لیے وہ گرفتار کرلیا گیا) اور ہم نے (آپ سے ) وہی کچھ بیان کیا جس کا ہمیں علم تھا اور ہم نہیں تھے غیب کی نگہبانی کرنے والے

﴿81﴾ (اور اگر آپ کو اعتبار نہ آئے تو ) دریافت کیجیے بستی والوں سے جس میں ہم رہے اور (پوچھیے) اس قافلہ سے جسمیں ہم آئے اور یقیناً ہم سچ عرض کررہے ہیں

﴿82﴾ آپ نے (یہ سن کر) کر کہا بلکہ آراستہ کردی ہے تمھارے لیے تمھارے نفسوں نے یہ بات (میرے لیے) اب صبر ہی زیبا ہے قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ لے آئیگا میرے پاس ان سب کو بیشک وہ سب کچھ جاننے والا بڑا دانا ہے

﴿83﴾ اور منہ پھیر لیا آپ نے ان کی طرف سے اور کہا ہائے افسوس! یوسف کی جدائی پر اور سفید ہوگئیں ان کی دونوں آنکھیں غم کے باعث اور وہ اپنے غم کو ضبط کیے ہوئے تھے

﴿84﴾ بیٹوں نے عرض کی بخدا ! آپ ہر وقت یاد کرتے رہتے ہیں یوسف کو کہیں بگڑ نہ جائے آپ کی صحت یا آپ ہلاک نہ ہوجائیں

﴿85﴾ آپ نے فرمایا میں تو شکوہ کررہا ہوں اپنی مصیبت اور دکھوں کا خدا کی بارگاہ میں اور میں جانتا ہوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے

﴿86﴾ اے میرے بیٹوں ! جاؤ اور سراغ لگاؤ یوسف کا اور اسکے بھائی کا اور مایوس نہ ہو جاؤ رحمت الٰہی سے بلاشبہ مایوس نہیں ہوتے رحمتِ الٰہی سے مگر کافر لوگ

﴿87﴾ پھر جب وہ گئے (یوسف علیہ السلام) کے پاس تو انھوں نے عرض کی اے عزیز! پہنچی ہے ہمیں اور ہمارے اہل خانہ کو مصیبت اور ( اس مرتبہ) ہم لے آئے ہیں حقیر سے پونجی ۔ پس پورا ناپ کردیں ہمیں پیمانہ اور (اس کے علاوہ ) ہم پر خیرات بھی کریں۔ بیشک اللہ تعالیٰ نیک بدلہ دیتا ہے خیرات کرنے والوں کو

﴿88﴾ آپ نے پوچھا کیا تمہیں علم ہے جو سلوک تم نے کیا یوسف اور اس کے بھائی کے سات جب تم نادان تھے

﴿89﴾ (سراپا حیرت بن کر ) کہنے لگے کیا (سچ مچ ) آپ ہی یوسف ہیں فرمایا (ہاں) میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ بڑا کرم فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے ہم پر ۔ یقیناً جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے اور صبر کرتا ہے (وہ آخر کار کامیاب ہوتا ہے ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا

﴿90﴾ بھائیوں نے کہا خدا کی قسم ! بزرگی دی ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہم پر اور بیشک ہم ہی خطا کار تھے

﴿91﴾ آپ نے فرمایا نہیں کوئی گرفت تم پر آج کے دن معاف فرمادے اللہ تعالیٰ تمھارے (قصوروں) کو اور وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے

﴿92﴾ لے جاؤ میرا یہ پیراہن پس ڈالو اسے میرے باپ کے چہرے پر وہ بینا ہو جائیں گے۔ اور (جاکر) لے آؤ میرے پاس اپنے سب اہل و عیال کو

﴿93﴾ اور جب قافلہ (مصر سے ) روانہ ہوا (تو ادھر کنعان میں ) ان کے باپ نے فرمایا کہ میں تو یوسف کی خوشبو سونگھ رہا ہوں اگر تم مجھے بیوقوف خیا ل نہ کرو

﴿94﴾ گھر والوں نے کہا بخدا ! (بابا جی!) آپ اپنی اس پرانی محبت میں مبتلا ہیں

﴿95﴾ پس جب آپہنچا خوشخبری سنانے والا (اور) اس نے ڈالا وہ پیراہن آپ کے چہرہ پر تو وہ فوراً بینا ہوگئے۔ (آپ نے فرط مسرت سے) کہا (دیکھو) کیا میں نہیں کہا کرتا تھا تمھیں کہ میں جانتا ہوں اللہ تعالیٰ (کے جتانے) سے جو تم نہیں جانتے

﴿96﴾ بیٹوں نے عرض کی کہ اے ہمارے پدرِ (محترم) مغفرت مانگیے ہمارے لیے ہمارے گناہوں کی ۔ بیشک ہم ہی قصوروار تھے

﴿97﴾ فرمایا عنقریب مغفرت طلب کرونگا تمھارے لیے اپنے رب سے۔ بیشک وہی غفور رحیم ہے

﴿98﴾ پھر جب وہ سب یوسف کے روبرو ہوئے آپ نے جگہ دی اپنے پاس اپنے والدین کو اور (اُنھیں) کہا داخل ہوجاؤ مصر میں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تم خیر و عافیت سے رہوگے

﴿99﴾ اور (جب شاہی دربارے میں پہنچے تو ) آپ نے اوپر بٹھایا اپنے والدین کو تخت پر اور وہ گر پڑے آپ کے لیے سجدہ کرتے ہوئے۔ اور (یہ منظر دیکھ کر ) یوسف نے کہا اے میرے پدر بزرگوار! یہ تعبیر ہے میرے خواب کی جو پہلے (عرصہ ہوا میں نے ) دیکھا تھا میرے پروردگار نے اسے سچا کردکھایا ہے۔ اور اس نے بڑا کرم فرمایا مجھ پر جب اس نے نکالا مجھے قید خانہ سے اور لے آیا تمھیں صحرا سے اس کے بعد کہ ناچاقی ڈال دی تھی شیطان نے میرے درمیان اور میرے بھائیوں کے درمیان۔ بیشک میرا رب لطف و کرم فرمانے والا ہے جس کے لیے چاہتا ہے ۔ یقیناً وہی سب کچھ جاننے والا بڑا دانا ہے

﴿100﴾ اے میرے رب ! عطا فرمایا تونے مجھے یہ ملک نیز تو نے سکھایا مجھے باتوں کے انجام کا علم اے بنانے والے آسمانون اور زمین کے ! تو ہی میرا کارساز ہے دنیا میں اور آخرت میں۔ مجھے وفات دے درآنحالیکہ میں مسلمان ہوں اور ملادے مجھے نیک بندوں کے ساتھ

﴿101﴾ (اے حبیب!) یہ قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم وحی کرتے ہیں آپ کی طرف۔ اور آپ ان کے پاس نہیں تھے جب وہ متفق ہوگئے تھے۔ اس بات پر درآنحالیکہ وہ مکر کررہے تھے

﴿102﴾ اور نہیں ہیں اکثر لوگ ، خواہ آپ کتنا ہی چاہیں، ایمان لانے والے

﴿103﴾ اور نہیں طلب کرتے آپ ان سے (درس ہدایت) پر کچھ معاوضہ ۔ نہیں ہے یہ مگر نصیحت سب جہانوں کے لیے

﴿104﴾ اور کتنی ہی (بیشمار) نشانیاں ہے۔ جو آسمانوں اور زمین (ہر گوشہ) میں سجی ہوئی ہیں جن پر یہ (ہر صبح و شام) گزرتے ہیں اور وہ ان سے روگردانی کیے ہوتے ہیں

﴿105﴾ اور نہیں ایمان لاتے ان میں سے اکثر اللہ کے ساتھ مگر اس حالت میں کہ وہ شرک کرنیوالے ہوتے ہیں۔

﴿106﴾ کیا وہ بےغم ہوگئے ہیں اس بات سے کہ آئے ان پر چھا جانے والا اللہ تعالیٰ کا عذاب یا آجائے ان پر قیامت اچانک اور انھیں ان کی آمد کا شعور تک نہ ہو

﴿107﴾ آپ فرمادیجیے یہ میرا راستہ ہے میں تو بلاتا ہوں صرف اللہ تعالیٰ کی طرف واضح دلیل پر ہوں میں اور (وہ بھی) جو میری پیروی کرتے ہیں اور ہر عیب سے پاک ہے اللہ تعالیٰ اور نہی ہوں میں مشرکوں سے

﴿108﴾ اور ہم نے (رسول بنا کر ) نہیں بھیجے آپ سے پہلے مگر مرد جن کی طرف ہم نے وحی بھیجی بستی والوں سے کیا یہ (مُنکر) لوگ سیر و سیاحت نہیں کرتے زمین میں تاکہ وہ دیکھیں کہ کیا ہوا تھا انجام ان (منکرین) کا جو ان سے پہلے (ہوگزرے ) تھے۔ اور دارآخرت یقیناً بہتر ہے ان کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں (اے سننے والوں !) کیا تم نہیں سمجھتے

﴿109﴾ جب ( نصیحت کرتے کرتے ) مایوس ہوگئے رسول اور وہ منکرین گمان کرنے لگے کہ ان سے جھوٹ بولا گیا ہے اس وقت آگئی ان کے پاس ہماری مدد۔ پس بچالیا گیا (عذاب سے) جس کو ہم نے چاہا۔ اور نہیں ٹالا جاسکتا ہمارا عذاب اس قوم سے جو جرائم پیشہ ہے

﴿110﴾ بلاشبہ پہلی قوموں (کے عروج و زوال ) کی داستانوں میں (درسِ) عبرت ہے سمجھ داروں کے لئے نہیں ہے یہ قرآن ایسی بات جو (یونہی) گھڑ لی گئی ہو بلکہ یہ تصدیق کرتی ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں اور یہ (قرآن ) ہر چیز کی تفصیل ہے اور سراپا ہدایت و رحمت ہے اس قوم کے لیے جو ایمان لاتے ہیں

﴿111﴾ الف۔ لام۔ میم۔ ر یہ آیتیں ہیں کتاب (الٰہی) کی اور جو نازل کیا گیا ہے آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے ، وہ حق ہے لیکن اکثر لوگ (اپنی کج فہمی کے باعث) ایمان نہیں لاتے۔

الرعد

Surah 13

﴿1﴾ اللہ وہ (قدرت و حکمت والا ہے ) جس نے بلند کیا آسمانوں کو بغیر ستونوں کے (جیسے ) تم انھیں دیکھ رہے ہو پھر وہ متکمن ہوا عرش پر اور پابند حکم بنادیا سورج اور چاند کو ہر ایک رواں ہے مقررہ میعاد تک۔ اللہ تعالیٰ تدبیر فرماتا ہے ہر کام کی کھول کر بیان کرتا ہے (اپنی) نشانیوں کو۔ شاید تم اپنے رب سے ملاقات کا یقین کرلو۔

﴿2﴾ اور وہی ہے جس نے پھیلا دیا زمین کو اور بنادیے اس میں پہاڑ اور دریا اور ہر قسم کے پھلوں میں سے دو دو جوڑے بنادیے وہ ڈھانپ دیتا ہے رات سے دن کو بیشک ان تمام چیزوں میں (اسکی قدرت کی) نشانیاں ہیں اس قوم کے لیے جو غوروفکر کرتے رہتے ہیں

﴿3﴾ اور زمین میں (مختلف قسم کے ) ٹکڑے ہیں جو قریب قریب ہیں اور باغات ہیں انگوروں کے اور کھیتیاں ہیں اور کھجورین کچھ این تنے سے پھوٹی ہیں اور کچھ الگ الگ تنوں سے سیراب کیا جاتا ہے ایک ہی پانی سے (اسکے باوجود) ہم فضیلت دیتے ہیں بعض (درختوں ) کو بعض پر ذائقہ اور بو میں بیشک ان میں (اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کی ) نشانیاں ہیں اس قوم کے لیے جو عقلمند ہو

﴿4﴾ اے سننے والے اگر تو (انکے تعصب پر ) حیران ہوتا ہے تو حیرت انگیز ان کا یہ قول بھی ہے کہ کیا جب ہم (مر کر ) مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہمیں نئے سرے سے (دوبارہ ) پیدا کیا جائے گا یہی (منکرین قیامت ) وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا ۔ اور انھیں (بدنصیبوں ) کر گردنوں میں طوق ہوں گے۔ اور یہی لوگ جہنمی ہیں وہ اس (آگ ) میں ہمیشہ رہینے والے ہیں

﴿5﴾ اور یہ تیزی سے مطالبہ کرتے ہیں آپ سے برائی ( عذاب ) کا نیکی (یعنی بخشش ) سے پہلے ۔ اور ان نادانوں کو یاد نہیں کہ گزرچکے ہیں ان سے پہلے نزول عذاب کے کئی واقعات اور اے (محبوب!) بلاشبہ آپ کا رب بہت بخشنے والا (بھی) ہے لوگوں کیلیے ان کے ظلم (زیادتی) کے باوجود اور بیشک آپ کا رب سخت عذاب دینے والا (بھی ) ہے

﴿6﴾ اور کافر کہتے ہیں ۔ کہ کیوں نہ اتاری گئی ان کی طرف کوئی نشانی ان کے رب کی طرف سے آپ تو (کجروی کے انجام بد سے ) ڈرانیوالے ہیں اور ہر قوم کے لیے آپ ہادی ہیں

﴿7﴾ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو (شکم میں ) اُٹھائے ہوتی ہے کوئی مادہ اور (جانتا ہے ) جو کم کرتے ہیں رحم اور جو زیادہ کرتے ہیں اور ہر چیز اس کے نزدیک ایک اندازہ سے ہے۔

﴿8﴾ وہ جانے والا ہے ہر پوشیدہ چیز کو اور ہر ظاہر چیز کو سب سے بڑا عالی مرتبہ ہے

﴿9﴾ (اسکے علم میں ) سب یکساں ہیں تم میں سے وہ بھی جو آہستہ بات کرتا ہے اور جو بلند آواز سے بات کرتا ہے اور وہ بھی جو چھپا رہتا ہے رات کے وقت اور جو چلتا ہے پھرتا رہتا ہے دن کے وقت

﴿10﴾ انسان کے لیے یکے بعد دیگرے آنیوالے فرشتے ہیں اسکے آگے بھی اور اسکے پیچھے بھی وہ نگہبانی کرتے ہیں اس کی اللہ تعالیٰ کے حکم سے ۔ بیشک اللہ تعالیٰ نہیں بدلتا کسی قوم کی (اچھی یا بری) حالت کو جب تک وہ لوگ اپنے آپ میں تبدیلی پیدا نہیں کرتے اور جب ارادہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ کسی قوم کو تکلیف پہنچانے کا تو کوئی ٹال نہیں سکتا اور نہ ہی ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کوئی مدد کرنے والا ہوتا ہے

﴿11﴾ وہی ہے جو تمھیں دکھا تا ہے بجلی (کبھی) ڈرانے کے لیے اور (کبھی) امید دلانے کے لیے اور اٹھاتا ہے (دوش ہوا پر ) بھاری بادل

﴿12﴾ اور رعد اس کی پاکی بیان کرتا ہے اس کی حمد کے ساتھ اور فرشتے بھی اس کے خوف سے (اس کی تسبیح کرتے ہیں) اور اللہ تعالیٰ کڑکتی بجلیاں بھیجتا ہے پھر گراتا ہے انھیں جو پر چاہتا ہے ۔ اس حال میں کے لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑ رہے ہوتے ہیں۔ اور اس کی پکڑ بہت سخت ہے۔

﴿13﴾ اسی کو پکارنا سچ ہے اور وہ لوگ جو پکارتے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا وہ نہیں جواب دے سکتے انھیں کچھ بھی مگر اس شخص کی طرح جو پھیلائے ہو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو پانی کی طرف تاکہ اس کے منہ تک پانی پہنچ جائے اور (یوں تو) پانی اسکے منہ تک نہیں پہنچ سکتا اور نہیں کافروں کی دعا بجز اسکے کہ وہ بھٹکتی پھرتی ہے

﴿14﴾ اور اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کررہے ہے ہر چیز جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے بعض خوشی سے اور بعض مجبوراً ۔ اور انکے سائے بھی (سجدہ ریز ہیں ) صبح کے وقت بھی اور شام کے وقت بھی

﴿15﴾ آپ (ان سے) پوچھیے کون ہے پروردگار آسمانوں اور زمین کا؟ (خود ہی فرمائیے) اللہ (انھیں) کہیے کیا تم نے بنالیے ہیں اللہ کے سوا ایسے حمائیتی جو اختیار نہیں رکھتے اپنے لیے بھی کسی نفع اور نہ کسی نقصان کا۔ (ان سے ) پوچھیے کیا برابر ہوتا ہے اندھا اور بینا یا کیا یکساں ہوتے ہیں اندہیرے اور نور کیا انھوں نے بنائے ہیں اللہ کے لیے ایسے شریک جنھوں نے کچھ پیدا کیا ہو جیسے اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا پس یوں تخلیق ان پر مشتبہ ہوگئی ہو۔ فرمائیے اللہ تعالیٰ پیدا کرنے والا ہے ہر چیز کو اور وہ ایک ہے سب پر غالب ہے

﴿16﴾ اس نے اتارا آسمان سے پانی پس بہنے لگیں وادیاں اپنے اپنے اندازے کے مطابق۔ تو اٹھالیا سیلاب کی رونے ابھرا ہوا جھاگ۔ اور جن چیزوں کو آگ کے اندر تپاتے ہیں زیور بنانے کے لیے یا دیگر سامان بنانے کے لیے اس میں بھی ویسا ہی جھاگ اٹھتا ہے یوں اللہ تعالیٰ مثال بیان فرماتا ہے حق اور باطل کی ۔ پس (بیکار) جھاگ تو رائیگاں چلا جاتا ہے اور جو چیز نفع بخش ہے لوگوں کے لیے تو وہ باقی رہے گی زمین میں یونہی اللہ تعالیٰ مثالیں بیان فرماتا ہے

﴿17﴾ ان لوگوں کے لیے جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مان لیا بھلائی ( ہی بھلائی) ہے ۔ اور جنھوں نے نہیں مانا اس کا حکم تو اگر ان کے ملک میں ہو جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب اور اتنا ہی اور اسکے ساتھ ۔ تو وہ (عذاب سے بچنے کے لیے ) اسے بطور فدیہ دیدیں۔ یہی وہ (بد نصیب) ہیں جنکے لی سخت باز پرس ہوگی۔ اور انکا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اور وہ بہت بری قرار گا ہ ہے

﴿18﴾ تو کیا جو شخص جانتا ہے کہ جو نازل کیا گیا ہے آپ کی طرف آ پ کے رب سے جانب سے وہ حق ہے وہ اس جیسا ہوگا جو اندھا ہے نصیحت صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہوں

﴿19﴾ وہ جو پورا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے وعدہ کو اور نہیں توڑتے پختہ وعدہ کو

﴿20﴾ اور جو لوگ جوڑتے ہیں اسے جس کے متعلق حکم دیا ہے اللہ تعالیٰ نے کہ جو ڑا جائے اور ڈرتے رہتے ہیں اپنے رب سے اور خائف رہتے ہیں سخت حساب سے

﴿21﴾ اور جو لوگ (مصائب و آلام میں ) صبر کرتے رہے اپنے رب کی خشنودی حاصل کرنے کے لیے اور صحیح صحیح ادا کرتے رہے نماز کو ۔ اور خرچ کرتے رہے اس مال سے جو ہم نے ان کو دیا پوشیدہ طور پر اور اعلانیہ طور پر اور مدافعت کرتے رہتے ہیں نیکی سے برائی کی انھیں لوگوں کے لیے دار آخرت کی راحیتیں ہیں

﴿22﴾ (یعنی ) سدا بہار باغات جن میں وہ داخل ہوں گے اور جو صالح ہوں گے ان کے باپ دادوں ، ان کی بیویوں اور ان کی اولاد سے (وہ بھی داخل ہوں گے ) اور فرشتے (یہ کہتے ہوئے ) داخل ہونگے ان پر ہر دروازہ سے

﴿23﴾ سلامتی ہو تم پر بوجہ اس کے جو تم نے صبر کیا پس کیا عمدہ ہے یہ آخرت کا گھر

﴿24﴾ اور جو لوگ توڑتے ہیں اللہ (سے کیے ہوئے) وعدہ کو اسے پختہ کرنے کے بعد اور کاٹتے ہیں ان رشتوں کو جن کے متعلق حکم دیا ہے اللہ تعالیٰ نے کہ انھیں جوڑا جائے اور (فتنہ و ) فساد برپا کرتے ہیں زمین میں یہی لوگ ہیں جن پر لعنت ہے اور ان کے لیے برا گھر ہے

﴿25﴾ اللہ تعالیٰ کشادہ روزی دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تنگ روزی دیتا ہے (جسے چاہتا ہے ) اور کفار بڑے مسرور ہیں دینوی زندگی (کی راحتوں ) سے اور (حقیقت یہ ہے کہ ) نہیں ہے دینوی زندگی آخرت کے مقابلہ میں مگر متاع حقیر

﴿26﴾ اور کفار کہتے ہیں کہ (اگر یہ سچے نبی ہیں) تو کیوں نہ اتاری گئی ان پر کوئی نشانی ان کے رب کی طر ف سے آپ فرمائیے (نشانیاں تو بہت ہیں ) لیکن اللہ تعالیٰ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور راہنمائی فرماتا ہے اپنی (بارگاہ قرب ) کی طرف جو صدقِ دل سے رجوع کرتا ہے

﴿27﴾ (یعنی ) جو لوگ ایمان لائے اور مطمئن ہوتے ہیں جن کے دل ذکر الہیٰ سے دھیان سے سنو! اللہ تعالیٰ کی یاد سے ہی دل مطمئن ہوتے ہیں۔

﴿28﴾ وہ لوگ جو ایمان بھی لائے اور عمل (بھی) نیک کیے مژدہ ہو ان کیلے اور (انہی کے لیے ) اچھا انجام ہے

﴿29﴾ اسی طرح ہم نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ایک قوم میں جس سے پہلے گزرچکی ہیں کئی قومیں تاکہ پڑھ کر سنائیں انھیں وہ (کلام ) جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا اور یہ کفار انکار کررہے ہیں رحمن کو فرمائیے وہی میرا پروردگار ہے نہیں کوئی معبود بجز اس کے ۔ اسی پر بھروسہ کر رکھا ہے اور اسی کی جناب میں رجوع کیے ہوں

﴿30﴾ اور اگر کوئی ایسا قرآن اترتا جسکے ذریعہ سے پہاڑ چلنے لگتے یا اس کے اثر سے پھٹ جاتی زمین یا مردوں سے اس کے ذریعہ بات کی جاسکتی (یہ قدرت سے بعید نہ تھا ) بلکہ سب کام اللہ کے اختیار میں ہیں (بانیمہ وہ ایمان نہ لاتے) کیا ہیں جانتے ایمان والے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت دیدیتا اور کفار اس حالت میں رہیں گے کہ پہنچتا رہے گا انھیں ( آئے دن) اپنے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی صدمہ یا اترتی رہے گی کوئی نہ کوئی مصیبت ان کے گھروں کے گردونواح میں یہاں تک کہ آجائے اللہ کے وعدہ (کے ظہور کا دن) بیشک اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا

﴿31﴾ اور بیشک تمسخر اڑایا گیا رسولوں کا جو آپ سے پہلے گزرے پس میں نے ڈھیل دی کافروں کو (کچھ عرصہ تک ) پھر میں نے پکڑ لیا انہیں ۔ تو (دیکھو!) کیسا (بھیانک) تھا میرا عذاب

﴿32﴾ کیا وہ خدا جو نگہبانی فرمارہا ہے ہر نفس کی اس کے اعمال (نیک و بد ) ساتھ (انکے بتوں جیسا ہے ؟ ہرگز نہیں ) اور ان مشرکین نے بنالیے ہیں اللہ تعالیٰ کے شریک ۔ فرمائیے ذرا نام تو لو ان کا ۔ (نادانو!) کیا تم آگا ہ کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو ایسی بات سے جسے وہ (ہمہ دان) ساری زمین میں نہیں جانتا یو ہونہی یا وہ گوئی کررہے ہو۔ بلکہ آرستہ کردیا ہے کافروں کے لیے ان کا مکروفریب اور روک دیے گئے ہیں راہ (راست ) سے اور جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ ہونے دے تو اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں

﴿33﴾ ان (بدبختوں) کے لیے عذاب ہے دینوی زندگی میں اور آخرت کا عذاب تو بڑا سخت ہوگا۔ اور نہیں ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی گرفت سے کوئی بچانے والا

﴿34﴾ اس جنت کی کیفیت جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے کیا گیا ہے ایسی ہے کہ رواں ہیں اس کے نیچے ندیاں ۔ اس کا پھل ہمیشہ رہتا ہے اور اس کا سایہ بھی نہیں ڈھلتا یہ انجام ہے ان کا جو (اپنے رب سے ) ڈرتے رہے اور کفار کا انجام آگ ہے

﴿35﴾ اور جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی وہ خوش ہورہے ہیں اس کتاب پر جو نازل کی گئی آپ کی طرف اور ان لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو بعض قرآن کا انکار کرتے ہیں فرمادیجیے (مجھے تمہاری مخالفت کی پرواہ نہیں) مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں اور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیراوں ۔ اسی کیطرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کیطرف سب کو لوٹنا ہے

﴿36﴾ اور اسی طرح ہم نے اتارا ہے اسے فیصلہ عربی زبان میں۔ اور اگر تم پیروی کرو ان کی خواہشات کی اس کے بعد کہ آچکا تمھارے پاس صحیح علم تو نہیں ہوگا تمھارے لیے اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کوئی مدد گار اور نہ کوئی محافظ

﴿37﴾ اور بیشک ہم نے بھیجے کئی رسول آپ سے پہلے اور بنائیں ان کے لیے بیویاں اور اولاد ۔ اور نہیں مکمن کسی رسول کے لیے کہ وہ لے آئے کوئی نشانی اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر ہر میعاد کے لیے ایک نوشتہ ہے

﴿38﴾ مٹاتا ہے اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے اور باقی رکھتا ہے (جو چاہتا ہے ) اور اسی کے پاس ہے اصل کتاب

﴿39﴾ اور اگر ہم دکھا دیں آپ کو کچھ (عذاب ) جس کی ہم نے کفار کو دھمکی دی ہے (تو ہماری مرضی ) یا ہم (پہلے ہی ) اُٹھالیں آپ کو (تو ہماری مرضی ) سو آپ پر صرف تبلیغ فرض ہے اور یہ ہمارے ذمہ ہے کہ (ان سے ) حساب لیں

﴿40﴾ کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم (انکے مقبوضہ ) علاقہ کو ہر طرف سے (رفتہ رفتہ ) کم کررہے ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ حکم فرماتا ہے ۔ کوئی نہیں ردوبدل کرسکتا اسکے حکم میں۔ اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے

﴿41﴾ اور مکاریاں کرتے رہے وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے ۔ سو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ان سب کو مکر کی سزا دینا وہ جانتا ہے جو کماتا ہے ہر شخص اور عنقریب کفار بھی جان لیں گے کہ دارآخرت (کی ابدی مسرتیں) کس کے لیے ہیں

﴿42﴾ اور کفار کہتے ہیں کہ آپ رسول نہیں ہیں ۔ فرمائیے (میری رسالت پر ) اللہ تعالیٰ بطور گواہ کافی ہے میرے اور تمھارے درمیان اور وہ لوگ (بطور گواہ کافی ہیں) جن کے پاس کتاب کا علم ہے

﴿43﴾ الف ۔ لام ۔ را۔ یہ (عظیم الشان) کتاب ہے ہم نے اتارا ہے اسے آپ کی طرف تاکہ آپ نکالیں لوگوں کو (ہر قسم ) کی تاریکیوں سے نورِ (ہدایت و عرفان ) کی طرف ۔ ان کے رب کے اذن سے (یعنی) عزیز و حمید کے راستہ کی طر ف

ابراہیم

Surah 14

﴿1﴾ وہی اللہ ہے جس کے ملک میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ار بربادی ہے کفار کے لیے سخت عذاب کے باعث

﴿2﴾ جو پسند کرتے ہیں دینوی زندگی کو آخرت (ابدی زندگی) پر اور دوسروں کو بھی روکتے ہیں راہ خدا سے اور وہ چاہتے ہیں کہ اس راہ راست کو ٹیڑھا بنادیں یہ لوگ بڑی دور کی گمراہی میں ہیں

﴿3﴾ اور ہم نے نہیں بھیجا کسی رسول کو مگر اس قوم کی زبان کے ساتھ تاکہ وہ کھول کر بیان کرے ان کے لیے (احکامِ الٰہی کو) پس گمراہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اور ہدایت بخشتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہی سب پر غالب بہت دانا ہے

﴿4﴾ اور بیشک ہم نے بھیجا موسیٰ ( علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں کے ساتھ (اور انھیں حکم دیا ) کہ نکالو اپنی قوم کو (گمراہی کے ) اندھیروں سے نور ہدایت کی طرف اور دیا دلاؤ انھیں اللہ تعالیٰ کے دن یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ہر بہت صبر کرنے والے شکر گزار کے لیے۔

﴿5﴾ اور جب فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو کہ یاد کرو اللہ تعالیٰ کی نعمت ( و احسان) کو جو تم پر ہوا جب اس نے نجات دی تمھیں فرعونیوں سے جو پہنچاتے تھے تمھیں سخت عذاب اور ذبح کرتے تھے تمھارے فرزندوں کو اور زندہ چھوڑدیتے تھے تمھاری عورتوں (بیٹیوں) کو اور اس میں بڑی آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے

﴿6﴾ اور یاد کرو جب (تمھیں ) مطلع فرمایا تمھارے رب نے (اس حقیقت سے ) اگر تم پہلے احسانات پر شکر ادا کرو تو میں مزید اضافہ کردونگا اور اگر تم نے ناشکری کی (تو جان لو) یقیناً میرا عذاب شدید ہے

﴿7﴾ نیز (یہ بھی) فرمایا موسیٰ ( علیہ السلام) نے اگر تم ناشکری کرنے لگو (صرف تم ہی نہیں بلکہ) جو بھی سطح زمین پر ہے (ناشکری کرے) تو بیشک اللہ تعالیٰ غنی (اور) سب تعریفوں کا مستحق ہے

﴿8﴾ کیا نہیں پہنچی تمھیں اطلاع ان (قوموں ) کی جو پہلے گزرچکی ہیں یعنی قوم نوح اور عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے بعد گزرے ۔ نہیں جانتا انھیں مگر اللہ تعالیٰ۔ لے آئے تھے ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں پس انھوں نے (ازراہ تمسخر ) ڈال لیے اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں اور (بڑی ببجکای سے ) کہا ہم نے انکار کیا اس دین کا جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو اور جس کی تم ہمیں دوت دیتے ہو اس کی (صداقت کے بارے میں ) ہم شک میں ہیں

﴿9﴾ جو تذبذب میں ڈالنے والا ہے انکے پیغمبروں نے پوچھا کیا (تمھیں) اللہ تعالیٰ کے متعلق شک ہے جو پیدا فمانے واال ہے آسمانوں اور زمین کا جو (اتنا کریم ہے کہ ) بلاتا ہے تمھیں تاکہ بخش دے تمھارے گناہ اور جو (اتنا مہربان کہ پیہم نافرمانی کے باوجود) تمھیں مہلت دیتا ہے ایک مقررہ میعاد تک ان (نادانوں نے ) جواب دیا نہیں ہو تم مگر بشر ہماری طرح تم یہ چاہتے ہو کہ روک دہ ہمیں ان (بتوں) سے جن کی پوجا ہمارے باپ دادا کیا کرتے تھے ۔ پس لے آؤ ہمارے پاس کوئی روشن دلیل

﴿10﴾ کہا انھیں ان کے رسولوں نے کہ ہم تمھاری طرح انسان ہی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ احسان فرماتا ہے جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں سے۔ اور ہمین یہ طاقت نہیں کہ ہم لے آئیں تمھارے پاس کوئی دلیل بجز اذن خداوندی اور مومنوں کو فقط اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے

﴿11﴾ اور ہم کیوں نہ بھروسہ کریں اللہ تعالیٰ پر حالانکہ اس نے دکھائی ہیں ہمیں ہماری (کامیابی کی ) راہیں اور ہم ضرور صبر کرینگے تمھاری اذیت رسانیوں پر پس اللہ تعالیٰ پر ہی توکل کرنا چاہیے توکل کرنے والوں کو

﴿12﴾ اور کہا کفار نے اپنے رسولوں کو کہ ہم ضرورباہر نکال دیں گے تمھیں اپنے ملک سے یا تمھیں لوٹ آنا ہوگا ہماری ملت میں۔ پس وحی بھیجی ان کی طرف ان کے پروردگار نے کہ (مت گھبراؤ) ہم تباہ کردینگے ان ظالموں کو

﴿13﴾ نیز ہم یقیناً آباد کر ینگے تمھیں ( ان کے ) ملک میں انھیں (برباد کرنے) کے بعد ۔ یہ (وعدہ نصرت) ہر اس شخص کے لیے ہے جو ڈرتا ہے میرے روبرو کھڑا ہونے سے اور خائف ہے میری دھمکی سے

﴿14﴾ اور رسولوں نے حق کی فتح کے لیے التجا کی (جو قبول ہوئی) اور نامراد ہو گیا ہر سرکش ، منکر حق

﴿15﴾ اس (نامرادی ) کے بعد جہنم ہے اور پلایا جائے گا اسے خون اور پیپ کا پانی

﴿16﴾ وہ بمکشکل ایک ایک گھونٹ بھریگا اور حلق سے نیچے نہ اتاریگا اور آئے گی اس کے پاس موت ہر سمت سے اور وہ (بایہنمہ) مرے گا نہیں۔ (علاوہ ازیں) اس کے پیچھے ایک اور سخت عذاب ہوگا

﴿17﴾ ان لوگوں کی مثال جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا ایسی ہے کہ انکے اعمال راکھ کا ڈھیر ہیں جسے تند ہوا تیزی سے اڑا لے گئی سخت آندھی کے دن ۔ نہ حاصل کرنیگے ان اعمال سے جو انھوں نے کمائے تھے کوئی فائدہ ۔ یہ (اعمال اکارت جانا ہی ) بہت بڑی گمراہی ہے۔

﴿18﴾ کیا تم نے ملاحضہ نہیں کیا کہ یقیناً اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ اگر وہ چاہے تو تم سب کو ہلاک کردے اور لے آئے کوئی نئی مخلوق

﴿19﴾ اور یہ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں

﴿20﴾ اور (روز حشر) اللہ تعالیٰ کے سامنے (سب چھوٹے بڑے ) حاضر ہونگے تو کہیں گے کمزور (پیروکار) ان (سرداروں ) سے جو متکبر تھے (اے سردارو!) ہم تو (ساری عمر) تمھارے فرمانبردار رہے پس کیا (آج) تم ہمیں بچا سکتے ہو عذاب الٰہی سے وہ کہیں گے اگر ا للہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم بھی تمھاری راہنمائی کرتے۔ یکساں ہمارے لیے خواہ ہم گھبرائیں یا صبر کریں۔ ہمارے لیے (آج ) کوئی راہ فرار نہیں ہے

﴿21﴾ اور شیطان کہے گا جب (سب کی قسمت کا) فیصلہ ہوچکے گا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ تم سے کیا تھا وہ وعدہ سچا تھا۔ اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا پس میں نے تم سے کوئی وعدہ خلافی کی۔ اور نہیں تھا میرا تم پر کچھ زور مگر یہ کہ میں نے تم کو (کفر) کی دعوت دی اور تم نے (فوراً) قبول کرلی میری دعوت۔ سو تم مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو نہ میں آج تمھاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو میں انکار کرتا ہوں اس امر سے کہ تم نے مجھے شریک بنایا اس سے پہلے بیشک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے

﴿22﴾ اور داخل کیا جائے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے باغات میں رواں ہونگی جن کے نیجے ندیاں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اپنے رب کے حکم سے انکی دعا وہاں ایک دوسرے کو یہ ہوگی کہ تم سلامت رہو

﴿23﴾ کیا آپ نے ملاحضہ نہیں کیا کہ کیسی عمدہ مثال بیان کی ہے اللہ تعالیٰ نے کہ کلمہ طیبہ ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں بڑی مضبوط ہیں اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں

﴿24﴾ وہ دے رہا ہے اپنا پھل ہر وقت اپنے رب کے حکم سے ۔ اور بیان فرماتا ہے اللہ تعالیٰ مثالیں لوگوں کے لیے تاکہ وہ (انھیں) خوب ذہن نشین کرلیں

﴿25﴾ اور مثال ناپاک کلمہ کی ایسی ہے جیسے ناپاک درخت ہو جسے اکھاڑ لیا جائے زمین کے اوپر سے (اور) اسے کچھ بھی قرار نہ ہو

﴿26﴾ ثابت قدم رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو اس پختہ قول (کی برکت ) سے دینوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی اور بھٹکا دیتا ہے اللہ تعالیٰ زیادتی کرنیوالوں کو اور کرتا ہے اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے

﴿27﴾ کیا آپ نے نہیں دیکھا ان لوگوں کی طرف جنھوں نے بدل دیا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو ناشکری سے اور اتارا اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر (یعنی) دوزخ میں

﴿28﴾ جھونکے جائینگے اس میں اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے

﴿29﴾ اور بنالیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے مد مقابل تاکہ بھٹکا دیں (لوگوں کو) اس کی راہ سے آپ (انھیں ) فرمائیے (کچھ وقت) لطف اٹھالو۔ پھر یقیناً تمھارا انجام آگ کی طر ف ہے

﴿30﴾ آپ فرمائیے میرے بندوں کو جو ایمان لائے ہیں کہ وہ صحیح صحیح ادا کیا کریں نماز اور خرچ کیا کریں اس سے جو ہم نے انھیں رزق دیا ہے پوشیدہ طور پر اور اعلانیہ اس سے پیشتر کہ آجائے وہ دن جس میں نہ کوئی خرید و فروخت ہوگی اور نہ دوستی

﴿31﴾ اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے پیدا فرمایا آسمانوں کو اور زمین کو اور اتار ا بلندی سے پانی پھر پیدا کیے اس پانی سے پھل تمھارے کھانے کے لیے اور اس نے مسخر کردیا تمھارے لیے کشتی کو تاکہ وہ چلے سمندر میں اس کے حکم سے اور تابع فرمان کردیا تمھارے لیے دریاؤں کو

﴿32﴾ اور مسخر کردیا تمھارے لیے آفتاب و مہتاب کو جو برابر چل رہے ہیں اور مسخر کردیا تمھارے لیے رات اور دن کو

﴿33﴾ اور عطا فرمایا تمھیں ہر اس چیز سے جس کا تم نے اس سے سوال کیا۔ اور اگر تم گننا چاہو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو تو تم ان کا شمار نہیں کرسکتے ۔ بیشک انسان بہت زیادتی کرنیوالا ازحد ناشکرا ہے

﴿34﴾ اور (اے حبیب) یاد کرو جب عرض کی ابراہیم (علیہ السلام) نے کہ اے میرے رب ! بنادے اس شہر کو امن والا اور بچالے مجھے اور میرے بچوں کو کہ ہم پوجا کرنے لگیں بتوں کی

﴿35﴾ اے میرے پروردگار! اِن بتوں نے تو گمراہ کردیا بہت سے لوگوں کو پس جو کوئی میرے پیچھے چلا تو وہ میرا ہوگا اور جس نے میری نافرمانی کی (تو اس کا معاملہ تیرے سپرد ہے) بیشک تو غفور رحیم ہے

﴿36﴾ اے ہمارے رب ! میں نے بسا دیا ہے اپنی کچھ اولاد کو اس وادی میں جس میں کوئی کھیتی باڑی نہیں تیرے حرمت والے گھر کے پڑوس میں اے ہمارے رب! یہ اس لیے تاکہ وہ قائم کریں نماز پس کردے لوگوں کے دلوں کو کہ وہ شوق و محبت سے ان کی طرف مائل ہوں اور انھیں رزق دے پھلوں سے تاکہ وہ (تیرا) شکر ادا کریں۔

﴿37﴾ اے ہمارے رب! یقیناً تو جانتا ہے جو ہم (دل میں) چھپائے ہوئے ہیں اور جو ہم ظاہر کرتے ہیں اور کوئی چیز مخفی نہیں ہے اللہ تعالیٰ پر نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔

﴿38﴾ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے جس نے عطا فرمائے مجھے بڑھاپے میں اسمٰیل اور اسحق (جیسے فرزند) بلاشبہ میرا رب بہت سننے والا ہے دعاؤں کا

﴿39﴾ میرے رب ! بنادے مجھے نماز کو قائم کرنے والا اور میری اولاد کو بھی ۔ اے ہمارے رب ! میری یہ التجا ضرور قبول فرما

﴿40﴾ اے ہمارے رب ! بخش دے مجھے اور میرے ماں باپ کو اور سب مومنوں کو جس دن حساب قائم ہوگا۔

﴿41﴾ اور تم یہ مت خیال کرو کہ اللہ تعالیٰ بےخبر ہے ان کرتوتوں سے جو یہ ظالم کررہے ہیں وہ تو انھیں صرف ڈھیل دے رہا ہے اس دن کے لیے جب کہ (مارے خوف کے) کھلی کی کھلی رہ جائیں گی آنکھیں

﴿42﴾ بھاگم بھاگ جارہے ہوں گے اپنے سر اٹھائے ہوئے ان کی پلکیں نہیں جھپکتی ہوں گی اور انکے دل (دہشت سے ) اڑے جارہے ہونگے

﴿43﴾ (اے میرے نبی!) ڈرائیے لوگوں کو اس دن سے جب آجائے گا ان پر عذاب تو بول اٹھیں گے ظالم اے ہمارے رب! ہمیں مہلت دے تھوڑی دیر کے لیے ہم تیری دعوت پر لبیک کہیں گے اور ہم رسولوں کی پیروی کرینگے۔ (اے کافرو!) کیا تم قسمیں نہیں اٹھایا کرتے تھے اس سے پہلے کہ تمھیں یہاں سے کہیں جانا نہیں ہے۔

﴿44﴾ اور تم آباد تھے ان لوگوں کے (متروکہ) گھروں میں جنھوں نے ظلم کیے تھے اپنے آپ پر اور یہ بات تم پر خوب واضح ہوچکی تھی کہ کیسا برتاؤ کیا تھا ہم نے انکے ساتھ اور ہم نے بھی بیان کی تھیں تمھارے لیے (طرح طرح کی ) مثالیں

﴿45﴾ اور انھوں نے اپنی طرف سے بڑی فریب کاریاں کیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس انکے مکر کا توڑ تھا۔ اگرچہ انکی چالیں اتنی زبردست تھیں کہ ان سے پہاڑ اکھڑ جاتے تھے۔

﴿46﴾ تم یہ خیال مت کرو کہ اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی کرنیوالا ہے اپنے رسولوں سے ۔ یقیناً اللہ تعالیٰ بڑا زبردست ہے (اور) بدلہ لینے والا ہے

﴿47﴾ یاد کرو اس دن کو جب دل دی جائیگی یہ زمین دوسری (قسم کی ) زمین سے اور آسمان بھی (بدل دیے جائینگے) اور سب لوگ حاضر ہوجائینگے اللہ کے حضور میں (وہ اللہ) جو ایک ہے اور سب پر غالب ہے

﴿48﴾ اور تم دیکھو گے مجرموں کو اس روز کہ جکڑے ہوئے ہونگے زنجیروں میں

﴿49﴾ ان کا لباس تارکول کا ہوگا اور ڈھانپ رہی ہوگی انکے چہروں کو آگ

﴿50﴾ یہ اس لیے کہ تاکہ بدلہ دے اللہ تعالیٰ ہر شخص کو جو اس نے کمایا تھا۔ بیشک اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔

﴿51﴾ یہ (قرآن) ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لیے (اسے اتارا گیا ہے) تاکہ انھیں ڈرایا جائے اس کے ذریعہ اور تاکہ وہ اس حقیقت کو خوب جان لیں کہ صرف وہی ایک خدا ہے اور تاکہ اچھی طرح ذہن نشین کرلیں (اس حقیقت کو ) دانشمند لوگ

﴿52﴾ الف ۔ لام ۔ را یہ آیتیں ہیں کتاب (الہٰی) کی اور روشن قرآن کی

الحجر

Surah 15

﴿1﴾ الف ۔ لام ۔ را یہ آیتیں ہیں کتاب (الہٰی) کی اور روشن قرآن کی

﴿2﴾ (عذاب میں گرفتار ہونے کے بعد) بہت آرزو کرینگے کفّار کہ کاش وہ مسلمان ہوتے

﴿3﴾ انھیں رہنے دیجیے وہ کھائیں (پئیں) اور عیش کریں اور غافل رکھے انھیں جھوٹی امید۔ کچھ عرصے بعد وہ (حقیقت کو خود بخود) جان لیں گے

﴿4﴾ اور نہیں ہلاک کیا ہم نے کسی بستی کو مگر یہ کہ اس کی ( ہلاکت کا وقت) لکھا ہوا تھاجو معلوم تھا

﴿5﴾ نہ آگے بڑھ سکتی ہے کوئی قوم اپنے مقررہ وقت سے اور نہ پیچھے رہ سکتی ہے

﴿6﴾ اور وہ کہنے لگے اے وہ شخص اتارا گیا ہے جس پر قرآن بےشک تو مجنون ہے

﴿7﴾ تو کیوں نہیں لے آتا ہمارے پا س فرشتوں کو اگر تو سچا ہے

﴿8﴾ ہم نہیں اتارا کرتے فرشتوں کو مگر حق کے ساتھ انہیں اس کے بعد مزید مہلت نہیں دی جاتی

﴿9﴾ بے شک ہم ہی نے اتارا ہے اس ذکر (قرآن مجید ) کو اور یقیناً ہم ہی اس کے محافظ ہیں

﴿10﴾ اور بےشک ہم نے بھیجے (پیغمبر ) آ پ سے پہلے اگلی امتوں میں

﴿11﴾ اور نہیں آتا تھا ان کے پا س کوئی رسول مگر وہ اس کے ساتھ مذاق کیا کرتے تھے

﴿12﴾ اسی طرح ہم داخل کرتے ہیں گمراہی کو مجرموں کے دلوں میں

﴿13﴾ وہ نہیں ایمان لائیں گے اس پر اور گزر چکی ہے پہلوں کی یہی روش

﴿14﴾ اور اگر ہم کھول بھی دیتے ان پر دروازہ آسمان سے اور وہ سارا دن اس میں سے اوپر چڑھتے رہتے

﴿15﴾ پھر بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری تو نظریں بند کر دی گئی ہیں بلکہ ہم ایسی قوم ہیں جن پر جاد و کر دیا گیا ہے

﴿16﴾ اور بےشک ہم نے آسمان میں برج بنائے ہیں اور ہم نے آراستہ کر دیا ہے آسمان کو دیکھنے والوں کے لیے

﴿17﴾ اور ہم نے محفوظ کر دیا ہے آسمان کو ہر شیطان سے جو راندہ ہوا ہے

﴿18﴾ بجز اس کے جو چوری چھپے سن لے تو (اس صورت میں ) تعاقب کرتا ہے اس کا ایک روشن شعلہ

﴿19﴾ اور زمین کو ہم نے پھیلا دیا ہے اور گاڑ دیے اس میں محکم پہاڑ اور ہم نے اگا دی اس میں ہر چیز اندازے کے مطابق

﴿20﴾ اور ہم نے بنا دیے تمھارے لیے بھی اس میں رزق کے سامان اور ان کے لیے بھی جنھیں تم روزی دینے والے نہیں ہو

﴿21﴾ اور نہیں کوئی چیز مگر ہمارے پاس اس کے خزانے ( بھرے پڑے) ہیں ۔ اور ہم نہیں اتارتے اسے مگر ایک معلوم اندازے کے مطابق

﴿22﴾ پس ہم بھیجتے ہیں ہواؤں کو بار دار بنا کر پھر ہم اتارتے ہیں آسمان سے پانی پھر ہم پلاتے ہیں تمھیں وہی پانی۔ اور تم اس کا ذخیرہ کرنے والے نہیں ہو

﴿23﴾ اور بےشک ہم ہی زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہم ہی (ان سب کے) وارث ہیں

﴿24﴾ اور یقیناً ہم جانتے ہیں ان کو بھی جو گزر چکے ہیں تم میں سے اور یقیناً ہم جانتے ہیں بعد میں آنے والوں کو

﴿25﴾ اور بےشک آپ کا پروردگار ہی انہیں ( روز قیامت ) جمع کریگا۔ بیشک وہ بڑا دانا سب کچھ جاننے والا ہے

﴿26﴾ اور بلاشبہ ہم نے پیدا کیا انسان کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے جو پہلے سیاہ بدبودار گاراتھی

﴿27﴾ اور جان کو ہم نے پیدا فرمایا اس سے پہلے ایسی آگ سے جس میں دھواں نہیں

﴿28﴾ اور (اے محبوب!) یاد فرماؤ جب آپ کے رب نے کہا تھا فرشتوں کو میں پیدا کرنے والا ہوں بشر کو کھنکھناتی مٹی سے جو پہلے سیاہ بد بو دار کیچڑ تھی

﴿29﴾ تو جب میں اسے درست فرما دوں اور پھونک دوں اس میں خاص روح اپنی طرف سے تو گر جانا اس کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے

﴿30﴾ پس سر بسجود ہو گئے فرشتے سارے کے سارے

﴿31﴾ سوائے ابلیس کے ۔ اس نے انکار کر دیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو

﴿32﴾ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابلیس! کیا وجہ ہے کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیا

﴿33﴾ وہ ( گستاخ) کہنے لگا کہ میں گوارا نہیں کرتا کہ سجدہ کروں اس بشر کو جسے تو نے پیدا کیا ہے بجنے والی مٹی سے جو پہلے سیاہ بد بو دار تھی

﴿34﴾ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا (اے بےادب) نکل جا یہاں سے تو مردود ہے

﴿35﴾ اور بلاشبہ تجھ پر لعنت ہے روزِجزا تک

﴿36﴾ کہنے لگااے میرے رب ! پھر مہلت دے مجھے اس دن تک جب مردے (قبروں سے ) اٹھائے جائیں گے

﴿37﴾ اللہ تعالیٰ نے فرمایا بیشک تو مہلت دیے ہوئے گروہ میں سے ہے

﴿38﴾ (جنھیں ) وقت مقرر کے دن تک مہلت دی گئی ہے

﴿39﴾ وہ بولا اے رَب! اس وجہ سے کہ تو نے مجھے بھٹکا دیا ہے۔ میں (برے کاموں کو) ضرور خوشنما بنا دوں گا ان کے لیے زمین میں اور میں ضرور گمراہ کروں گا ان سب کو

﴿40﴾ سوائے تیرے ان بندوں کے جنھیں ان میں سے چُن لیا گیا ہے

﴿41﴾ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ سیدھا راستہ ہے جو میری طرف آتا ہے

﴿42﴾ بے شک میرے بندوں پر تیرا کوئی بس نہیں چلتا۔ مگر وہ جو تیری پیروی کرتے ہیں گمراہوں میں سے

﴿43﴾ اور بےشک جہنم وعدہ کی جگہ ہے ان سب کے لیے

﴿44﴾ اس کے سات دروازے ہیں پر دروازے کے لیے ان میں سے ایک حصّہ مخصوص ہے

﴿45﴾ یقیناً پر ہیز گار اس دن باغوں اور چشموں میں آباد ہونگے

﴿46﴾ (انہیں حکم ملیگا) داخل ہو جاؤ ان جنتوں میں خیر و عافیت کے ساتھ بےخوف ہو کر

﴿47﴾ اور ہم نکال دینگے جو کچھ ان کے سینوں میں کینہ ( وغیرہ) تھا وہ بھائی بھائی بن جائیں گے اور تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے

﴿48﴾ نہیں پہنچے گی انھیں اس میں کوئی تکلیف اور نہ انہیں ا س سے نکالا جائے گا

﴿49﴾ بتادو میرے بندوں کو کہ میں بلاشبہ بہت بخشنے والا از حد رحم کرنے والا ہوں

﴿50﴾ اور (یہ بھی بتا دو کہ) میرا عذاب بھی بہت دردناک عذاب ہے

﴿51﴾ اور بتائیے انہیں ابرہیم ( علیہ السلام) کے مہمانوں کا قصّہ

﴿52﴾ جب وہ آپ کے پاس آئے تو انھوں نے کہا آپ پر سلام ہو آپ نے کہا (اے اجنبیو) ہم تو تم سے خائف ہیں

﴿53﴾ مہمانوں نے کہا مت ڈرئیے ہم آپ کو مثردہ سنانے آئے ہیں ایک صاحب علم بچے کی پیدائش کا

﴿54﴾ آپ نے کہا کیا تم مجھے اس وقت خوشخبری دینے آئے ہو جبکہ مجھے بڑھاپا لاحق ہو چکا ہے پس یہ کیسی خوشخبری ہے

﴿55﴾ وہ بولے ہم نے آپ کو سچی خوشخبری دی پس نہ ہو جائیے آپ مایوس ہو جانے والوں سے

﴿56﴾ آپ نے فرمایا کون نا امید ہوتا ہے اپنے رب کی رحمت سے بجز گمراہوں کے

﴿57﴾ آپ نے کہا اے فرستادو! کس اہم کام کے لیے تم آئے ہو

﴿58﴾ انھوں نے کہا ہم بھیجے گئے ہیں ایک مجرم قوم کی طرف

﴿59﴾ مگر لوط کے گھرانے والے۔ ہم ان سب کو بچا لیں گے

﴿60﴾ بجز اس کی بیوی کے ہم نے ( باامر الٰہی) یہ طے کیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہو گی

﴿61﴾ پس جب آئے خاندان لوط کے پاس یہ فرستادے

﴿62﴾ آپ نے (انھیں دیکھ کر) کہا تم تو اجنبی لوگ معلوم ہوتے ہو۔ فرشتوں نے کہا (ہم اجنبی نہیں)

﴿63﴾ بلکہ ہم لے آئے ہیں تمھارے پاس وہ چیز جس میں وہ شک کیا کرتے تھے

﴿64﴾ اور ہم لے آئے ہیں آپ کے پاس حق (عذاب) اور ہم بلا شبہ سچ کہہ رہے ہیں

﴿65﴾ تو چلے جائیے اپنے اہل خانہ کے ساتھ رات کے کسی حصّہ میں اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلیے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھے تم میں سے کوئی ، اور چلے جائیے جہاں (جانے کا) تمھیں حکم دیا گیا ہے

﴿66﴾ اور ہم نے ( بذریعہ وحی) لوط کو آگاہ کر دیا اس حکم سے کہ یقیناً ان کی جڑ کاٹ دی جائے گی جب وہ صبح کر رہے ہونگے

﴿67﴾ اور ( اتنے میں) آگئے شہر والے خوشیاں مناتے ہوئے

﴿68﴾ آپ نے ( انھیں) کہا (ظالمو!) یہ تو میرے مہمان ہیں ان کے بارے میں تم مجھے شرمسار نہ کرو

﴿69﴾ اور ڈرو اللہ کے غضب سے اور مجھے رسوانہ کرو

﴿70﴾ وہ بولے کیا ہم نے تمھیں منع نہیں کیا تھا کہ دوسروں کے معاملے میں دخل نہ دیا کرو

﴿71﴾ آپ نے کہا یہ میری ( قوم کی) بچیاں ہیں اگر تم کچھ کرنا چاہتے ہو ( تو ان سے نکاح کر لو)

﴿72﴾ (اے محبوب) آپ کی زندگی کی قسم یہ ( اپنی طاقت کے نشہ میں) مَست ہیں ( اور) بہکے بہکے پھر رہے ہیں

﴿73﴾ پس آ لیا ان کو ایک سخت کڑک نے جب سورج نکل رہا تھا

﴿74﴾ پس ہم نے ان کی بستی کو زیر و زبر کر دیا اور ہم نے برسائے ان پر کھنگر کے پتھر

﴿75﴾ بیشک اس واقعہ میں ( عبرت کی) نشانیاں ہیں غور و فکر کرنے والوں کے لیے

﴿76﴾ اور بیشک یہ بستی ایک آباد راستے پر واقع ہے

﴿77﴾ یقیناً اس میں نشانی ہے اہل ایمان کے لیے

﴿78﴾ اور بےشک ایکہ کے باشندے بھی بڑے ظالم تھے

﴿79﴾ پس ہم نے ان سے بھی انتقام لیا اور یہ دونوں بستیاں کھلی شاہراہ پر واقع ہیں

﴿80﴾ اور بےشک جھٹلایا اہل حجر نے ( اللہ تعالیٰ کے) رسولوں کو

﴿81﴾ اور ہم نے عطاکیں انھیں اپنی نشانیاں مگر وہ ان سے رو گردانی ہی کرتے رہے

﴿82﴾ اور وہ کھود کر بنایا کرتے تھے پہاڑوں کو اپنے گھر ( اور) وہ بےخوف و خطر رہا کرتے تھے

﴿83﴾ پس پکڑ لیا انھیں ایک خوفناک چنگھاڑ نے جب وہ صبح اٹھ رہے تھے

﴿84﴾ پس نہ فائدہ پہنچایا انھیں اس ( مال) نے جو وہ کمایا کرتے تھے

﴿85﴾ اور نہیں پیدا فرمایا ہم نے آسمانوں اور زمین کو نیز جو کچھ ان کے درمیان ہے، مگر حق کے ساتھ اور بےشک قیامت آنے ہی والی ہے پس ( اے حبیب!) آپ درگزر فرمایا کیجیے ان سے عمدگی کے ساتھ

﴿86﴾ یقیناً آپ کا رب ہی سب کا خالق ( اور) سب کچھ جاننے والا ہے

﴿87﴾ اور بےشک ہم نے عطا فرمائی ہیں آپ کو سات آیتیں جو بار بار پڑھی جاتی ہیں اور قرآن عظیم بھی

﴿88﴾ اپنی آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھئے ان (اموال) کی طرف جس سے ہم نے لطف اندوز کیا ہے ان کے مختلف طبقوں کو اور رنجیدہ خاطر بھی نہ ہوں ان ( کی گمراہی) پر اور نیچے کیجیے اپنے پروں کو مومنوں کے لیے

﴿89﴾ اور فرمائیے کہ میں تو بلاشبہ ایسے عذاب سے کھلا ڈرانے والا ہوں

﴿90﴾ جیسے ہم نے اتارا ان بانٹنے والوں پر

﴿91﴾ جنھوں نے کر دیا تھا قرآن کو پارہ پارہ

﴿92﴾ پس آپ کے رب کی قسم ! ہم پوچھیں گے ان سب سے

﴿93﴾ ان اعمال کے متعلق جو وہ کیا کرتے تھے

﴿94﴾ سو آپ اعلان کر دیجیے اس کا جس کا آپ کو حکم دیا گیا اور منہ پھیر لیجیے مشرکوں سے

﴿95﴾ ہم کافی ہیں آپ کو مذاق اڑانے والوں کے شر سے بچانے کے لیے

﴿96﴾ جو بناتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور خدا سو یہ ( حقیقت حال کو ) ابھی جان لیں گے

﴿97﴾ اور ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کا دل تنگ ہوتا ہے ان باتوں سے جو وہ کیا کرتے ہیں

﴿98﴾ سو آپ پاکی بیان کیجیے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اور ہو جائیے سجدہ کرنے والوں سے

﴿99﴾ اور عبادت کیجیے اپنے رب کی یہاں تک کہ آجائے آپ کے پاس الیقین

النحل

Surah 16

﴿1﴾ قریب آگیا ہے حکم الہی پس اس کے لیے عجلت نہ کرو۔ پاک ہے اللہ تعالیٰ اور بر تر ہے اس شرک سے جو وہ کر رہے ہیں

﴿2﴾ اتارتا ہے فرشتوں کو روح (یعنی وحی) کے ساتھ اپنے حکم سے جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے کہ خبر دار کرو (لوگوں کو) کہ نہیں کوئی معبود سوائے میرے پس مجھ سے ہی ڈرا کرو

﴿3﴾ اس نے پیدا فرمایا آسمان کو اور زمین کو حق کے ساتھ وہ برتر ہے اس شرک سے جو وہ کر رہے ہیں

﴿4﴾ اس نے پیدا فرمایا انسان کو نطفہ سے پس اب وہ برملا جھگڑالو بن گیا ہے

﴿5﴾ نیز اس نے جانوروں کو پیدا کیا تمھارے لیے ان میں گرم لباس بھی ہے اور دیگر فائدے ہیں اور انھیں ( کا گوشت ) تم کھاتے ہو

﴿6﴾ اور تمھارے لیے ان میں زیب و زینت بھی ہے جب تم شام کو (چرا کر) انھیں گھر لاتے ہو اور جب تم صبح ان کو چرانے لیجاتے ہو

﴿7﴾ اور (یہ جانور) اٹھا لے جاتے ہیں تمھارے بوجھ ان شہروں تک جہاں تم نہیں پہنچ سکتے مگر سخت مشقت سے بیشک تمھارا رب بہت مہربان (اور) ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے

﴿8﴾ اور اس نے پیدا کیے گھوڑے اور خچرّ اور گدھے تاکہ تم ان پر سواری کرو اور (تمھارے لیے ان میں) زینت ہے، اور پیدا فرمائے گا ایسی سواریوں کو جو تم نہیں جانتے

﴿9﴾ اور اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے راہ راست کو دلائل سے واضح کرنا اور انمیں غلط راہیں بھی ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا

﴿10﴾ اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے اتاراآسمان سے پانی تمھارے لیے اس میں سے کچھ پینے کے کام آتا ہے اور اس سے سبزہ اگتا ہے جس میں تم ( مویشی) چراتے ہو

﴿11﴾ اگاتا ہے تمھارے لیے اس کے ذریعے (طرح طرح کے) کھیت اور زیتون اور کھجور اور انگور اور (انکے علاوہ) ہر قسم کے پھل۔ یقیناً ان تمام چیزوں میں (قدرت الہٰی کی) نشانی ہے اس قوم کے لیے جو غورو فکر کرتی ہے

﴿12﴾ اور اللہ تعالیٰ نے مسخر فرما دیا تمھارے لیے رات، دِن سورج اور چاند کو اور تمام ستارے بھی اس کے حکم کے پابند ہیں بیشک ان تمام چیزوں میں (قدرت الٰہی کی) نشانیاں ہیں اس قوم کے لیے جو دانشمند ہے

﴿13﴾ اور ( علاوہ ازیں ) جو پیدا فرمایا تمھارے لیے زمین میں (اسے بھی مسخر کر دیا) الگ الگ ہے ان کا رنگ و رُوپ۔ یقیناً ان میں (قدرت الٰہی کی) نشانی ہے ۔ ان لوگوں کے لیے جو نصیحت قبول کرتے ہیں

﴿14﴾ اور وہی ہے جس نے پابند حکم کر دیا ہے سمندر کو تاکہ تم کھاؤ اس سے تازہ گوشت اور نکالو اس سے زیور جسے تم پہنتے ہو اور تو دیکھتا ہے کشتیوں کو کہ موجوں کو چیر کی جا رہی ہیں سمندر میں تاکہ (ان کے ذریعے) تم تلاش کرواللہ تعالیٰ کے فضل (رزق ) کو تاکہ تم (اس کا) شکر ادا کرتے رہو

﴿15﴾ اور اللہ تعالیٰ نے گاڑ دیے ہیں زمین میں اونچے اونچے پہاڑ تاکہ زمین لرزتی نہ رہے تمھارے ساتھ اور نہریں جاری کر دیں اور راستے بنا دیے تاکہ تم (اپنی منزل کی) راہ پا سکو

﴿16﴾ اور راستوں پر علامتیں بنا دی ہیں اور ستاروں کے ذریعے سے وہ راہ یاب ہوتے ہیں

﴿17﴾ کیا وہ ذات جس نے سب کچھ پیدا فرمایا اس کی مانند ہو سکتی ہے جس نے کچھ بھی نہیں بنایا کیا تم اتنا بھی غو رنہیں کرتے

﴿18﴾ اور اگر تم شمار کرنا چاہو اللہ کی نعمتوں کو تو تم انہیں گن نہیں سکو گے یقیناً اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے

﴿19﴾ اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو

﴿20﴾ اور جو لوگ پوجتے ہیں اللہ کے سوا (غیروں کو) وہ نہیں پیدا کر سکتے کوئی چیز بلکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں

﴿21﴾ وہ مردہ ہیں وہ زندہ نہیں اور وہ نہیں سمجھتے کہ کب انھیں اٹھایا جائے گا

﴿22﴾ تمھارا خدا (بس) خدائے واحد ہے پس جو لوگ ایمان نہیں لاتے آخرت پر ان کے دل منکر ہیں اور وہ مغرور ہیں

﴿23﴾ یقیناً اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں بےشک وہ پسند نہیں کرتا غرور و تکبّر کرنے والوں کو

﴿24﴾ اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا نازل فرمایا ہے پروردگار نے کہتے ہیں (کچھ نہیں) یہ تو پہلے لوگوں کے من گھڑت قصّے ہیں

﴿25﴾ تا کہ (اس ہرزہ سرائی کے باعث) وہ اٹھائیں اپنے (گناہوں کے) پورے بوجھ قیامت کے دن اور ان لوگوں کے بوجھ بھی اٹھائیں جنہیں وہ گمراہ کرتے رہے ہیں جہالت سے کتنا برا (اور گراں ) ہے یہ جوجھ جسے وہ اپنے اوپر لاد رہے ہیں

﴿26﴾ (دعوت حق کے خلاف) مکرہ فریب کیا کرتے تھے وہ لو گ جو ان سے پہلے گزرے پس اللہ تعالیٰ نے ان کے (فریب ) کی عمارت جڑوں سے اکھیڑ کر رکھ دی پس گِر پڑی چھت ان کے اوپر سے اور آگیا ان پر عذاب جہاں سے انھیں خیال و گمان بھی نہ تھا

﴿27﴾ اس کے بعد روز قیامت اللہ تعالیٰ انہیں ذلیل و رسوا کرے گا اور (ان سے) پوچھیگا کہاں ہیں وہ میرے شریک جن کے بارے میں تم جھگڑا کیا کرتے تھے۔ کہیں گے وہ لوگ جنہیں علم دیا گیا ہے کہ بلاشبہ آج ہر قسم کی رسوائی اور بربادی کافروں کے لیے ہے

﴿28﴾ وہ کافر جن کی جانیں فرشتے قبض کرتے ہیں در آنحال کہ وہ اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں تب وہ سر تسلیم خم کرتے ہوئے کہتے ہیں ہم تو کوئی برا کام نہیں کیا کرتے تھے (اہل علم جواب دینگے) نہیں نہیں (تم بڑے بدکار تھے) بےشک اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو (بُرے کام) تم کیا کرتے تھے

﴿29﴾ (اے کفّار) پس داخل ہو جاؤ جہنم کے دروازوں سے تمھیں ہمیشہ رہنا ہوگا وہاں۔ بیشک برا ٹھکانہ ہے غرور و تکبّر کرنے والوں کے لیے

﴿30﴾ اور ( یونہی ) پوچھا گیا ان سے جو متقی تھے کہ وہ کیا ہے جو اتارا تمھارے رب نے؟ انھوں نے کہا (سراپا ) خیر! جنھوں نے اچھے کام کیے اس دنیا میں بھی ان کے لیے بھلائی ہے اور آخرت کا گھر بھی (ان کے لیے) بہتر ہے اور بہت ہی عمدہ ہے پرہیزگاروں کا گھر

﴿31﴾ (ان کے لیے) ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے رواں ہوں گی ان کے نیچے نہریں ان کے لیے وہاں ہر وہ چیز ہو گی جس کی وہ خواہش کریں گے یوں بدلہ دیتا ہے اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کو

﴿32﴾ وہ متقی جن کی روحیں فرشتے قبض کرتے ہیں اس حال میں کہ وہ خوش ہوتے ہیں (اس وقت) فرشتے کہتے ہیں (اے نیک بختو) سلامتی ہو تم پر داخل ہو جاؤ جنت میں ان (نیک اعمال ) کے باعث جو تم کیا کرتے تھے

﴿33﴾ یہ مشرک کس کے منتظر ہیں بجز اس کے کہ آجائیں ان کے پاس (عذاب کے ) فرشتے یا آجائے آپ کے رب کا (اٹل ) حکم۔ یونہی ان لوگوں نے بھی کیا تھا جو ان کے پیشرو تھے اور نہیں زیادتی کی تھی ان پر اللہ تعالیٰ نے بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر زیادتی کیا کرتے تھے

﴿34﴾ پس ملی انھیں سزا ان کے برے اعمال کی اور گھیر لیا انھیں اس عذاب نے جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے

﴿35﴾ اور کہنے لگے وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا کہ اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو ہم عبادت نہ کرتے اس کے سوا کسی اور چیز کی نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم حرام کرتے اس کے حکم کے بغیر کسی چیز کو ایسی ہی (بے سروپا) باتیں کیا کرتے تھے ان کے پیشرو (اے سننے والے!) کیا رسولوں کے ذمہ اسکے علاوہ بھی اور کچھ ہے کہ وہ صاف طور پر (حکم الٰہی) پہنچا دیں

﴿36﴾ اور ہم نے بھیجا ہر امت میں ایک رسول (جو انھیں یہ تعلیم دے) کہ عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی اور دور ہو طاغوت سے سو ان میں سے کچھ وہ لوگ تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جس پر گمراہی مسلّط ہو گئی پس سیر وسیاحت کرو زمین میں اور (اپنی آنکھوں سے ) دیکھو کس قدر عبرتناک تھا انجام (رسولوں کو) جھٹلانے والوں کا

﴿37﴾ (اے حبیب) آپ خواہ کتنے ہی حریص ہوں ان کے ہدایت یافتہ ہونے پر مگر اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا جنھیں وہ (پیہم شر کشی کے باعث ) گمراہ کر دیتا ہے اور نہیں ان کے لیے کوئی مدد کرنے والا

﴿38﴾ اور بڑی شدّو مدّ سے اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ (دوبارہ ) زندہ نہیں کریگا اللہ تعالیٰ جو (ایکبار) مر جاتا ہے۔ ہاں ضرور زندہ کریگا یہ اس کا وعدہ ہے اس پر لازم ہے اس کو پورا کرنا لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو) نہیں جانتے

﴿39﴾ (وہ انھیں دوبارہ زندہ کریگا) تاکہ واضح کر دے ان پر وہ بات جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے اور تاکہ خوب جان لیں کافر کہ بلاشبہ وہی جھوٹے ہیں

﴿40﴾ ہمارا فرمان کسی چیز کے لیے جب ہم ارادہ کرتے ہیں اس (کے پیدا کرنے کا) صرف اتنا ہے کہ ہم اسے حکم دیتے ہیں کہ ہو جا پس وہ ہو جاتی ہے

﴿41﴾ اور جنھوں نے راہ خدا میں ہجرت کی اس کے بعد کہ ان پر (طرح طرح کے) ظلم توڑے گئے تو ہم ضرور ان کو دنیا میں بہتر ٹھکانا دیں گے اور آخر ت کا اجر تو بہت بڑا ہے کاش! یہ جان لیتے

﴿42﴾ جنھوں نے ( مصائب میں) صبر کیا اور (مشکلات میں اپ بھی ) اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں

﴿43﴾ اور ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے (رسول بنا کر) مگر مردوں کو ہم وحی بھیجتے ہیں انکی طرف پس دریافت کر لو اہل علم سے اگر تم خود نہیں جانتے

﴿44﴾ (پہلے رسولوں کو بھی ہم نے) روشن نشانیاں اور کتابیں دیکر بھیجا اور ( اسی طرح ) ہم نے نازل کیا آپ پر یہ ذکر تاکہ آپ کھول کر بیان کریں لوگوں کے لیے (اس ذکر کو) جو نازل کیا گیا ہے ان کی طرف تاکہ وہ غورو فکر کریں

﴿45﴾ کیا بیخوف (اور نڈر) ہو گئے وہ لو گ جنہوں نے برے مکر کیے کہ مبادا گاڑ دے اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں یا آجائے ان پر عذاب اس طرح کہ (ان کو اس کی آمد کا) شعور ہی نہ ہو

﴿46﴾ یا پکڑ لے انہیں جب وہ (اپنے کاروبار میں) دوڑ دھوپ کر رہے ہوں پس نہیں وہ (اللہ کو) عاجز کرنیوالے

﴿47﴾ یا پکڑ لے انہیں جبکہ وہ خوف زدہ ہو چکے ہوں پس بےشک تمھار ا رب بہت مہربان ہمیشہ رحم فرمانیوالا ہے

﴿48﴾ انھوں نے نہیں دیکھا ان اشیاء کی طرف جنہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے کہ بدلتے رہتے ہیں ان کے سائے دائیں سے (بائیں طرف) اور بائیں سے (دائیں طرف) سجدہ کرتے ہوئے اللہ کو اس حال میں کہ وہ اظہار عجز کررہے ہیں

﴿49﴾ اور اللہ کے لیے سجدہ کر رہی ہے ہر چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے یعنی ہر قسم کے جاندار اور فرشتے اور وہ غرور تکبّر نہیں کرتے

﴿50﴾ ڈرتے ہیں اپنے رب کی قدرت سے اور کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے

﴿51﴾ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہ بناؤ دو خدا وہ تو صرف ایک ہی خدا ہے (اس نے فرمایا) پس فقط مجھ سے ہی ڈرا کرو

﴿52﴾ اور اسی کے ملک میں ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اسی کی تابعداری اور اطاعت لازمی ہے تو کیا اللہ کے سوا غیروں سے ڈرئے ہو

﴿53﴾ اور تمھارے پاس جتنی نعمتیں ہیں وہ تو اللہ کی دی ہوئی ہیں پس جب تمھیں تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کی جناب میں گڑگڑاتے ہو

﴿54﴾ پھر جب اللہ تعالیٰ دور فرما دیتا ہے تکلیف کو تم سے تو فوراً ایک گروہ تم میں سے اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے

﴿55﴾ اِس طرح وہ نا شکری کرتے ہیں ان نعمتوں کی جو ہم نے ان کو عطا کی ہیں۔ پس اے (ناشکرو!) لطف اٹھا لوچند روز تمھیں (اپنا انجام) معلوم ہو جائے گا

﴿56﴾ اور مقرر کرتے ہیں انکے لیے جنکو یہ جانتے ہی نہیں حصّہ اس مال سے جو ہم نے انکو دیا ہے اللہ کی قسم ! تم سے ضرور باز پرس ہو گی اسکے متعلق جو تم بہتان باندھا کرتے ہو

﴿57﴾ اور تجویز کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں سبحان اللہ ! اور انکے لیے تو وہ (بیٹے) ہیں جنہیں وہ پسند کرتے ہیں

﴿58﴾ اور جب اطلاع دی جاتی ہے ان میں سے کسی کو بیٹی (کی پیدائش) کی تو (غم سے) اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ (رنج و اندوہ سے) بھر جاتا ہے

﴿59﴾ چھپتا پھرتا ہے لوگوں (کی نظروں) سے اس بری خبر کے باعث جو دی گئی ہے اسے (اب یہ سوچتا ہے کہ) کیا وہ اس بچی کو اپنے پاس رکھے ذلّت کے ساتھ یا گاڑ دے اسے مٹی میں آہ! کتنا برا ہے وہ فیصلہ جو وہ کرتے ہیں

﴿60﴾ ان لوگوں کے لیے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے بری صفتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ اعلیٰ صفات کا مالک ہے اور وہی سب پر غالب بڑا دانا ہے

﴿61﴾ اور اگر (فوراً) پکڑ لیا کرتا اللہ تعالیٰ لوگوں کو انکے ظلم کے باعث تو نہ چھوڑتا زمین پرکسی جاندار کو لیکن وہ مہلت دیتا ہے انہیں ایک مقررّہ میعاد تک پس جب آجاتی ہے انکی (مقرّرہ) میعاد تو نہ وہ ایک لمحہ پیچھے ہو سکتے ہیں اور نہ آگے ہو سکتے ہیں

﴿62﴾ اور تجویز کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے لیے ( بیٹیاں) جنھیں وہ (اپنے لیے) نا پسند کرتے ہیں اور بیان کرتی ہیں انکی زبانیں جھوٹ (جب وہ کہتی ہیں کہ) فقط انہیں کے لیے بھلائی ہے یقیناً انہیں کے لیے آتش ( جہنم ) ہے اور انھیں کو (دوزخ میں) پہلے بھیجا جائیگا

﴿63﴾ بخدا ! ہم نے بھیجا ہے (رسولوں کو ) مختلف قوموں کی طرف آپ سے پہلے پس آراستہ کر دیا ان کے شیطان نے انکے (بُرے) اعمال کو پس وہی ان کا دوست ہے آج بھی اور ان کے لیے عذاب الیم ہے

﴿64﴾ اور نہیں اتاری ہم نے آپ پریہ کتاب مگر اس لیے کہ آپ صاف صاف بیان کر دیں انکے لیے وہ بات جسمیں وہ اختلاف کرتے ہیں اور (یہ کتاب) سراپا ہدایت اور رحمت ہے اس قوم کے لیے جو ایماندار ہے

﴿65﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اتارا آسمان سے پانی پھر زندہ کیا اس سے زمین کو اس کے بنجر بن جانے کے بعدبیشک اس میں ( کھلی) نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو (حق کی آواز) سنتے ہیں

﴿66﴾ اور بیشک تمھارے لیے مویشیوں میں ایک عبرت ہے دیکھو! ہم تمھیں پلاتے ہیں جو ان کے شکموں میں گوبر اور خون ہے ان کے درمیان سے نکال کر خالص دودھ جو بہت خوش ذائقہ ہے پینے والوں کے لیے

﴿67﴾ اور (ہم پلاتے ہیں تمھیں) کھجور اور انگور کے پھلوں سے تم بناتے ہو اس سے میٹھا رس اور پاک رزق بلاشبہ اس میں بھی (ہماری قدرت کی) نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو سمجھدار ہیں

﴿68﴾ اور ڈال دی آپ کے رب نے شہد کی مکھی میں یہ بات کہ بنایا کر پہاڑوں میں (اپنے ) چھتے اور درختوں (کی شاخوں) میں اور ان چھپروں میں جو لوگ بناتے ہیں

﴿69﴾ پھر رس چوسا کر ہر قسم کے پھلوں سے پس چلتی رہا کر اپنے رب کی آسان کی ہوئی راہوں پر ( یُوں) نکلتا ہے ان کے شکموں سے ایک شربت مختلف رنگوں والا اس میں شفا ہے لوگوں کے لیے بیشک ا س میں (قدرت الہٰی کی) نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غورو فکر کرتے ہیں

﴿70﴾ اور اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے تمھیں پھر جان قبض کریگا تمھاری اور تم میں سے بعض ایسے ہیں جنھیں لوٹا دیا جاتا ہے ناکارہ عمر کی طرف تاکہ وہ کچھ نہ جانے جان لینے کے بعد بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ، ہر چیز پر قادر ہے

﴿71﴾ اور اللہ تعالیٰ نے برتری بخشی ہے تم میں سے بعض کو بعض پر دولت کے لحاظ سے پس (اب بتاؤ) کیا وہ لوگ جنھیں برتری بخشی گئی ہے وہ لوٹانے والے ہیں اپنی دولت کو ان لوگوں پر جو ان کے مملوک ہیں تاکہ وہ سب اسممیں برابر ہو جائیں؟ (ہر گز نہیں) تو کیا وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں

﴿72﴾ اور اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا فرمائیں تمھارے لیے تمھاری جنس سے عورتیں اور پیدا فرمائے تمھارے لیے تمھاری بیویوں سے بیٹے اور پوتے اور رزق عطا فرمایا تمھیں پاکیزہ تو کیا (یہ لوگ) باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں کی ناشکری کرتے ہیں

﴿73﴾ اور یہ لوگ عبادت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا ان معبودوں کی جو انھیں آسمانوں اور زمین سے رزق دینے کے کچھ اختیار نہیں رکھتے اور نہ وہ کچھ کر سکتے ہیں

﴿74﴾ پس (اے جاہلو!) نہ بیان کیا کرو اللہ تعالیٰ کے لیے مثالیں بیشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

﴿75﴾ بیان فرمائی ہے اللہ تعالیٰ نے ایک مثال (وہ یہ کہ) ایک بندہ ہے جو مملوک ہے اور کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور (اسکے مقابلہ میں) ایک وہ بندہ ہے جسے ہم نے رزق دیا اپنی جناب پاک سے رزق حسن پس وہ خرچ کرتا رہتا ہے اس سے پوشیدہ طور پر اور علانیہ طور پر (اب تم ہی بتاؤ) کیا یہ برابر ہیں الحمد للہ!(حقیقت حال واضح ہو گئی) بلکہ انمیں سے اکثر لوگ (اس حقیقت کو) نہیں جانتے

﴿76﴾ اور بیان فرمائی اللہ تعالیٰ نے ایک اور مثال دو آدمی ہیں ان میں سے ایک تو گونگا ہے کسی چیز کی قدرت نہیں رکھتا اور وہ بوجھ ہے اپنے آقا پر جہاں کہیں وہ اس (نکمّے) کو بھیجتا ہے تو وہ واپس نہیں آتا کسی بھلائی کے ساتھ ۔ کیا برابر ہو سکتا ہے یہ (نکمّا) اور وہ شخص جو حکم دیتا ہے عدل کے ساتھ اور وہ راہ راست پر گامزن ہے

﴿77﴾ اور اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے آسمانوں اور زمین کی مخفی باتوں کو اور نہیں قیامت برپا ہونے کے معاملہ مگر جیسے آنکھ تیزی سے جھپکتی ہے یا اس بھی جلد بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے

﴿78﴾ اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں نکالا ہے تمھاری ماؤں کے شکموں سے اس حال میں کہ تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے اور بنائے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل تاکہ تم (ان بیش بہا نعمتوں پر ) شکر اد اکرو

﴿79﴾ کیا انھوں نے کبھی نہیں دیکھا پرندوں کی طرف کہ وہ مطیع اور فرمانبردار بن کر اڑ رہے ہیں فضاء آسمانی میں کوئی چیز انھیں تھامے ہوئے نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے بیشک اس میں (کھلی ) نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں

﴿80﴾ اور اللہ تعالیٰ نے ہی (اپنے فضل و کرم سے) بنا دیا ہے تمھارے لیے تمھارے گھروں کو آرام و سکون کی جگہ اور بنائے ہیں تمھارے لیے جانوروں کے چمڑوں سے گھر (یعنی خیمے) جنھیں تم ہلکا پھلکا پاتے ہو سفر کے دن اور اقامت کے دن اور ( اسی نے بنائے ) ہیں بھیڑوں کی صوف اور اونٹوں کی اون اور بکریوں کے بالوں سے مختلف گھریلو سامان اور استعمال کی چیزیں ایک وقت مقررّہ تک

﴿81﴾ اور اللہ تعالیٰ نے ہی بنائے ہیں تمھارے (آرام) کے لیے ان چیزوں کے سائے جن کو اس نے پیدا فرمایا اور اسی نے بنائی ہے تمھارے لیے پہاڑوں میں پناہ گاہیں اور اسی نے بنائے ہیں تمھارے لیے ایسے لباس جو بچاتے ہیں تمھیں گرمی سے اور (کچھ ایسے آہنی) لباس جو بچاتے ہیں تمھیں لڑائی کے وقت اسی طرح وہ پورا فرماتا ہے اپنا احسان تم پر تاکہ تم سر اطاعت خم کرو

﴿82﴾ اے محبوب! اگر (ان روشن دلائل کے باوجود) وہ منہ پھیریں تو (فکر مند نہ ہو) آپ کے ذمّہ تو صرف وضاحت کے ساتھ پیغام پہنچانا ہے

﴿83﴾ وہ پہچانتے ہیں اللہ تعالیٰ کی نعمت کو (اسکے باوجود) وہ انکار کرتے ہیں اس کا اور انمیں سے اکثر لوگ کافر ہیں

﴿84﴾ اور قیامت کے دن ہم اٹھائیں گے ہر اُمّت سے ایک گواہ تب ان لوگوں کو اجازت نہیں ہو گی جنھوں نے کفر کیا اور نہ ان سے توبہ کا مطالبہ کیا جائیگا

﴿85﴾ اور جب دیکھ لیں گے وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا عذاب (آخرت) کو تو اس وقت وہ عذاب ان سے ہلکا نہیں کیا جائیگا اور نہ انھیں (مزید) مہلت دی جائیگی

﴿86﴾ اور جب دیکھیں گے مشرک اپنے (ٹھیرائے ہوئے) شریکوں کوتو بول اٹھینگے اے ہمارے رب! یہ ہیں ہمارے بنائے ہوئے شریک جنھیں ہم پوجا کرتے تھے تجھے چھوڑ کر تو وہ شریک انھیں جواب دینگے یقیناً تم جھوٹ بول رہے ہو

﴿87﴾ وہ پیش کر دیں گے بارگاہ الہٰی میں اس دن اپنی عاجزی اور فراموش ہو جائیں گے انھیں وہ بہتان جو وہ باندھا کرتے تھے

﴿88﴾ جن لوگوں نے کفر کیا اور (دوسروں کو) روکا اللہ تعالیٰ کی راہ سے ہم نے بڑھا دیا اور عذاب ان کے پہلے عذاب پر اس وجہ سے کہ وہ فتنہ و فساد برپا کیا کرتے تھے

﴿89﴾ اور وہ دن (بڑا ہولناک ہو گا) جب ہم اٹھائینگے ہر امت سے ایک گواہ ان پر انھیں میں سے اور ہم لے آئینگے آپ کو بطور گواہ ان سب پر اور ہم نے اتاری ہے آپ پر یہ کتاب اس میں تفصیلی بیان ہے ہر چیز کا اور یہ سراپا ہدایت و رحمت ہے اور یہ مثردہ ہے مسلمانوں کے لیے

﴿90﴾ بیشک اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ ہر معاملہ میں انصاف کرو اور (ہر ایک کے ساتھ) بھلائی کرو اور اچھا سلوک کرو رشتہ داروں کے سا تھ اور منع فرماتا ہے بےحیائی سے، بُرے کاموں سے اور سر کشی سے اللہ تعالیٰ نصیحت کرتا ہے تمھیں تاکہ تم نصیحت قبول کرو

﴿91﴾ اور پورا کرو اللہ تعالیٰ کے عہد کو جب تم نے اس سے عہد کر لیا ہے اور نہ توڑو (اپنی) قسموں کو انھیں پختہ کرنے کے بعد حالانکہ تم نے کر دیا ہے اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر گواہ بیشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم کرتے ہو

﴿92﴾ اور نہ ہو جاؤ اس عورت کی مانندجس نے توڑ ڈالا اپنے سوت کو مضبوط کاتنے کے بعد (اور اسے) پارہ پارہ کر ڈالا تم بناتے ہو اپنی قسموں کو ایک دوسرے کے فریب دینے کا ذریعہ تاکہ اس طرح ہو جائے ایک گروہ زیادہ فائدہ اٹھانے والا دوسرے گروہ سے صرف آزماتا ہے تمھیں اللہ تعالیٰ ان قسموں سے اور واضح فرما دیگا تمھارے لیے قیامت کے روز ان باتوں کو جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے

﴿93﴾ اور اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو بنا دیتا تمھیں ایک اُمّت لیکن وہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور ضرور تم سے باز پرس کی جائیگی ان اعمال سے جو تم کیا کرتے تھے

﴿94﴾ اور نہ بناؤ اپنی قسموں کو آپس میں فریب دینے کا ذریعہ ورنہ (جاؤہ حق سے ) پِھسل جائے گا (لوگوں کا) قدم (اس پر) جم جانے کے بعد اور تمھیں چکھنا پڑے گا (اس کا) بُرانتیجہ کہ تم نے (اپنی عہد شکنی اور فریب کاری) کے باعث لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روک دیا اور تمھارے لیے بڑا دردناک عذاب ہو گا

﴿95﴾ اور مت بیچو اللہ تعالیٰ کے عہدوں کو تھوڑی سی قیمت کے عوض بیشک جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہی بہتر ہے تمھارے لیے اگر تم (حقیقت کو) جانتے ہو

﴿96﴾ جو (مال و زر) تمھارے پاس ہے وہ ختم ہو جائیگا اور جو (رحمت کے خزانے) اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں وہ باقی رہینگے اور ہم ضرور عطا کریں گے انھیں جنھوں نے (ہر مصیبت میں ) صبر کیا اور ان کا اجرانکے اچھے (اور مفید) کاموں کے عوض جو وہ کیا کرتے تھے

﴿97﴾ جو بھی نیک کام کرے مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ہم اسے عطا کرینگے ایک پاکیزہ زندگی اور ہم ضرور دیں گے انھیں ان کا اجر انکے اچھے (اور مفید) کاموں کے عوض جو وہ کیا کرتے تھے

﴿98﴾ سو جب تم قرآن کی تلاوت کرنے لگو تو پناہ مانگو اللہ تعالیٰ سے اس شیطان (کی وسوسہ اندازیوں) سے جو مردود ہے

﴿99﴾ یقیناً اس کا زور نہیں چلتا ان لوگوں پر جو (سچے دل سے) ایمان لائے ہیں اور اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہیں

﴿100﴾ ان کا زور تو صرف ان پر چلتا ہے جو یارانہ کانٹھتے ہیں اس سے اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں

﴿101﴾ اور جب ہم بدلتے ہیں ایک آیت کو دوسری آیت کی جگہ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو وہ نازل کرتاہے تو یہ لوگ کہتے ہیں تم صرف افترا پرداز ہوبلکہ ان میں سے اکثر (آیت بدلنے کی حکمت کو) نہیں جانتے

﴿102﴾ فرمائیے نازل کیا ہے اسے روح القدس نے آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ تاکہ ثابت قدم رکھے انھیں جو ایمان لائے ہیں اور یہ ہدایت اور خوش خبری ہے مسلمانوں کے لیے

﴿103﴾ اور ہم خوب جانتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ انھیں تو یہ قرآن ایک انسان سکھاتا ہے حالانکہ اس شخص کی زبان جس کی طرف یہ تعلیم قرآن کی نسبت کرتے ہیں عجمی ہے۔ اور یہ قرآن فصیح وبلیغ عربی زبان میں ہے

﴿104﴾ بیشک جو لوگ ایمان نہیں لاتے اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر اللہ تعالیٰ انھیں ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

﴿105﴾ وہی لوگ تراشا کرتے ہیں جھوٹ جو ایمان نہیں لاتے اللہ تعالیٰ کی آیات پر اور یہی لوگ جھوٹے ہیں

﴿106﴾ جس نے کفر کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان لانے کے بعد بجز اس شخص کے جسے مجبور کیا گیا اور اس کا دل مطمئن ہے ایمان کے ساتھ (تو اس سے مؤاخذہ نہ ہو گا) لیکن وہ (بد نصیب) کھل جائے کفر کے ساتھ (جس کا سینہ ) تو ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوگا اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے

﴿107﴾ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے پسند کر لیا دنیا کی (فانی) زندگی کو آخرت کی (ابدی) زندگی پر اور بیشک اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا اس قوم کو جو کافر ہے

﴿108﴾ یہ وہ لوگ ہیں مہر لگا دی ہے اللہ تعالیٰ نے جن کے دلوں ، جن کا کانوں اور جن کی آنکھوں پر اور یہی لوگ (اپنے اعمال کے نتائج سے) غافل ہیں

﴿109﴾ ضرور یہی لوگ آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہیں

﴿110﴾ پھر بیشک آپ کے پروردگار کا معاملہ ان کے ساتھ جنہوں نے ہجرت کی بڑی آزمائشوں سے گزرنے کے بعد پھر جہاد بھی کیا اور (مصائب میں) صبر سے کام لیا بیشک آپکا رب ان آزمائشوں کے بعد (انکے لیے) بڑا بخشنے والا بہت رحم فرمانیوالا ہے

﴿111﴾ اس دن کو یاد کرو جب آئے گا ہرنفس کہ جھگڑا کر رہا ہوگا (صرف ) اپنے معتلق اور پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ہر نفس کو جو اس نے کیا ہوگا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا

﴿112﴾ اور بیان فرمائی ہے اللہ تعالیٰ نے ایک مثال وہ یہ کہ ایک بستی میں جو امن (اور ) چین سے (آباد) تھی آتا تھا اس کے پاس اس کا رزق بکثرت ہر طرف سے پس اس (کے باشندوں ) نے نا شکری کی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی پس چکھایا انہیں اللہ تعالیٰ نے (یہ عذاب کہ پہنا دیا انہیں) بھوک اور خوف کا لباس ان کارستانیوں کے باعث جو وہ کیا کرتے تھے

﴿113﴾ اور آیا ان کے پاس رسول انہی میں سے پس انہوں نے اسے جھٹلایا پھر پکڑ لیا انھیں عذاب نے اس حال میں کہ وہ ظلم و ستم کیا کرتے تھے

﴿114﴾ پس کھاؤ اس سے جو رزق دیا تمھیں اللہ نے جو حلال (اور) طیّب ہے اور شکر کرو اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو

﴿115﴾ اس نے تم پر حرام کیا ہے صرف مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور وہ جس پر بلند کیا گیا ہو غیر اللہ کا نام ذبح کے وقت پس جو مجبور ہو جائے (انکے کھانے پر بشرطیکہ) وہ لذّت کا جویا نہ ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا ہو (تو کوئی حرج نہیں) بیشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے

﴿116﴾ اور نہ بولو جھوٹ جن کے بارے میں تمھاری زبانیں بیان کرتی ہیں (یہ کہتے ہوئے) کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے اس طرح تم افتراء باندھو گے اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بیشک جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹے بہتان تراشتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتے

﴿117﴾ (وہ) تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں (انجام کار) ان کے لیے دردناک عذاب ہے

﴿118﴾ اور یہودیوں پر ہم نے حرام کر دیں وہ چیزیں جن کا ذکر ہم آپ سے پہلے کر چکے ہیں اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کیا کرتے تھے

﴿119﴾ پھر بیشک آپکا رب ان کے لیے جنھوں نے غلطی کی (لیکن) نادانی سے پھر انھوں نے توبہ کر لی اس کے بعد اور اپنے آپ کو سنوار لیا بیشک آپکا پروردگار اس کے بعد (انکے گناہوں کو) بہت بخشنے والا (اور ان پر) نہایت رحم کرنے والا ہے

﴿120﴾ بلاشبہ ابراہیم ایک مرد کامل تھے اللہ تعالیٰ کے مطیع تھے، یکسوئی سے حق کی طرف مائل تھے اور وہ بالکل مشرکوں سے نہ تھے

﴿121﴾ وہ (ہر لمحہ) شکر گزار تھے اللہ تعالیٰ کی (پیہم نعمتوں کے لیے) اللہ تعالیٰ نے انھیں چن لیا اور انہیں ہدایت فرمائی سیدھے راستہ کی طرف

﴿122﴾ اور ہم نے مرحمت فرمائی انہیں دنیا میں بھی (ہر طرح کی) بھلائی اور وہ آخرت میں نیک لوگوں میں سے ہوں گے

﴿123﴾ پھر ہم نے وحی فرمائی (اے حبیب) آپ کی طرف کہ پیروی کرو مِلّت ابراہیم کی جو یکسوئی سے حق کی طرف مائل تھے، اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے

﴿124﴾ صرف ان لوگوں پر سنیچر کی پابندی تھی جنھوں نے اختلا ف کیا تھا اس میں اور بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ فرما ئیگا ان کے درمیان روز قیامت ان امور کے متعلق جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے

﴿125﴾ (اے محبوب!) بلائیے (لوگوں کو) اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت سے اور عمدہ نصیحت سے اور ان سے بحث (و مناظرہ) اس انداز سے کیجیے جوبڑا پسندیدہ (اور شائستہ ) ہو۔ بیشک آپ کا رب خوب جانتا ہے اسے جو بھٹک گیا اسکے راستے سے اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو

﴿126﴾ اور اگر تم (انھیں) سزا دینا چاہو تو انھیں سزا دو۔ لیکن اس قدر جتنی تمھیں تکلیف پہنچائی گئی ہے اور اگر تم (ان کی ستم رانیوں پر) صبر کرو تو یہ صبر ہی بہتر ہے صبر کرنے والوں کے لیے

﴿127﴾ اور آپ صبر فرمائیے اور نہیں ہے آپ کا صبر مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اور رنجیدہ نہ ہوا کریں ان (کی ہٹ دھرمی) پر اور نہ غمزدہ ہو ا کریں ان کی فریب کاریوں سے

﴿128﴾ یقیناً اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے جو (اس سے) ڈرتے ہیں اور جو نیک کاموں میں سر گرم رہتے ہیں

بنی اسرائیل

Surah 17

﴿1﴾ (ہر عیب سے) پاک ہے وہ ذات جس نے سیر کرائی اپنے بندے کو رات کے قلیل حصہ میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک با برکت بنا دیا ہے ہم نے جس کے گرد و نواح کو تاکہ ہم دکھائیں اپنے بندے کو اپنی قدرت کی نشانیاں بیشک وہی ہے سب کچھ سننے والا سب کچھ دیکھنے والا

﴿2﴾ اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا ہم نے اس کتاب کو باعث ہدایت بنی اسرائیل کے لیے (اسمیں انہیں حکم دیا) کہ نہ بنانا میرے بغیر کسی کو (اپنا) کارساز

﴿3﴾ اے ان لوگوں کی اولاد جنھیں ہم نے (کشتی میں) سوار کرایا نوح ( علیہ السلام) کیساتھ۔ بیشک نوح ( علیہ السلام) ایک شکر گزار بندہ تھا

﴿4﴾ اور ہم نے آگاہ کر دیا تھا بنی اسرائیل کو کتاب میں کہ تم ضرور فساد برپا کرو گے زمین میں دو مرتبہ اور تم (احکام الہی سے) بڑی سر کشی کرو گے

﴿5﴾ پس جب آگیا پہلا وعدہ ان دونوں دعدوں سے تو ہم نے (تمھاری سر کو بی کے لیے) بھیج دئیے اپنے چند بندے جو بڑے کرخت (اور) سخت تھے پس وہ گھس گئے (تمھاری ) آبادیوں میں اور جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا تھا وہ پورا ہو کر رہنا تھا

﴿6﴾ پھر ہم نے پلٹا دیا تمھارے حق میں زمانہ کی گردش کو جو دشمن کے خلاف تھی اور ہم نے قوت دی تھمیں مال سے ، بیٹوں سے اور بنا دیا تھا تمھیں کثیر التعداد

﴿7﴾ اگر تم اچھے کام کرو گے تو ان کا فائدہ تمھیں ہی پہنچے گا اور اگر تم برائی کرو گے تو اس کی سزا بھی (تمھارے) نفسوں کو ملے گی پس جب آگیا دوسرا وعدہ (تو اور ظالم ان پر غالب آگئے) تاکہ غمناک بنا دیں تمھارے چہروں کو اور تاکہ (جبراً) داخل ہو جائیں مسجد میں جیسے داخل ہوئے تھے اس میں پہلی مرتبہ تاکہ فنا و برباد کر کے رکھ دیں جس پر قابو پائیں

﴿8﴾ قریب ہے کہ تمھارا رب تم پر رحم فرمائے گا اور اگر تم فسق و فجور کی طرف دوبارہ لوٹے تو ہم بھی لوٹائینگے اور ہم نے بنا دیا جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ

﴿9﴾ بلاشبہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو سب راہوں سے سیدھی راہ ہے اور مژدہ سناتا ہے ان ایمان والوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں کہ بلاشبہ ان کے لیے بڑا اجر ہے

﴿10﴾ اور بیشک وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے تیار کر دیا ہے ان کے لیے دردناک عذاب

﴿11﴾ اور دعا مانگا کرتا ہے انسان برائی کے لیے جیسے دعا مانگا کرتا ہے بھلائی کے لیے اور (حقیقت یہ ہے کہ) انسان بڑا جلد باز (واقع ہوا) ہے

﴿12﴾ اور ہم نے بنایا ہے رات اور دن کو (اپنی قدرت کی) دو نشانیاں اور ہم نے مدھم کر دیا رات کی نشانی کو اور بنا دیا دن کی نشانی کو روشن تاکہ (دن کے اجالے میں) تم تلاش کرو رزق اپنے رب سے اور تاکہ تم جان لو سالوں کی تعداد اور حساب کو اور ہر چیز کو ہم نے بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے

﴿13﴾ اور ہر انسان کی (قسمت کا) نوشتہ اس کے گلے میں ہم نے لٹکا رکھا ہے اور ہم نکالیں گے اس کے لیے روز قیامت ایک کتاب جسے وہ (اپنے سامنے) کھلا ہوا پائے گا

﴿14﴾ (اسے حکم ملیگا) پڑھو اپنا دفتر عمل تم خود ہی کافی ہو آج اپنی باز پرس کرنے کے لیے

﴿15﴾ جو راہ ہدایت پر چلتا ہے تو وہ راہ ہدایت پر چلتا ہے اپنے فائدے کے لیے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کی گمراہی کا وبا ل اسی پر ہے اور نہیں اٹھائیگا کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ اور ہم عذاب نازل نہیں کرتے جب تک ہم نہ بھیجیں کسی رسول کو

﴿16﴾ اور جب ہم ارادہ کرتے ہیں کہ ہلاک کر دیں کسی بستی کو (اسکے گناہوں کے باعث) تو (پہلے) ہم (نبیوں کے ذریعہ) وہاں کے رئیسوں کو (نیکی کا) حکم دیتے ہیں مگر وہ (الٹا) نافانی کرنے لگتے ہیں اس میں ۔ پس واجب ہو جاتا ہے ان پر (عذاب کا ) فرمان پھر ہم اس بستی کو جڑ سے اکھیڑ کر رکھ دیتے ہیں

﴿17﴾ اور کتنی قومیں ہیں جنھیں ہم نے ہلاک کر دیا ہے نوح ( علیہ السلام) کے بعد اور آپکا پروردگا ر اپنے بندوں کے گناہوں سے اچھی طرح با خبر ہے (اور انھیں) خوب دیکھنے والا ہے

﴿18﴾ جو لوگ طلبگار ہیں صرف دنیا کے ہم جلدی دیدیتے ہیں اس دنیا میں جتنا چاہتے ہیں (انمیں سے ) جسے چاہتے ہیں پھر ہم مقرر کر دیتے ہیں اس کے لیے جہنّم تاپے گا وہ اسے اس حال میں کہ مذمت کیا ہوا (اور ) ٹھکرایا ہوا ہوگا

﴿19﴾ اور جو شخص طلبگار ہو تا ہے آخرت کا اور جدو جہد کرتا ہے اس کے لیے پوری طرح درآنحالیکہ وہ مومن بھی ہو پس یہ وہ ( خوش نصیب ہیں) جن کی کوشش مقبول ہو گی

﴿20﴾ ہر ایک کی ہم امداد کرتے ہیں ان کی بھی جو (طالب دنیا ہیں) اور ان کی بھی (جو طالب آخرت ہیں) آپ کے رب کی بخششوں سے اور آپ کے رب کی بخشش کسی پر بند نہیں

﴿21﴾ دیکھو! کیسے بزرگی دی ہے ہم نے بعض کو بعض پر اور اخرت باعتبار درجوں کے سب سے بڑی اور با عتبار فضل و کرم سے سب سے اعلیٰ ہے

﴿22﴾ نہ ٹھیراؤ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ورنہ تم بیٹھ رہو گے اس حال میں کہ تمھاری مذمت کی جائیگی

﴿23﴾ اور بےیارو مددگار ہو جاؤ گے اور حکم فرمایا آپ کے رب نے کہ نہ عبادت کرو بجز اس کے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر بڑھاپے کو پہنچ جائے تیری زندگی میں ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں تو انہیں اف تک مت کہو اور انھیں مت جھڑکو اور جب ان سے بات کرو تو بڑی تعظیم سے بات کرو

﴿24﴾ اور جھکا دو ان کے لیے تواضع و انکسار کے پَر رحمت (و محبت) سے اور عرض کرو اے میرے پروردگار ان دونوں پر رحم فرما جس طرح انھوں نے ( بڑی محبت و پیار سے ) مجھے پالا تھا جب میں بچہ تھا

﴿25﴾ تمھارا رب بہتر جانتا ہے جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے اگر تم نیک کردار ہو گے تو بیشک اللہ تعالیٰ بکثرت توبہ کرنے والوں کے لیے بہت بخشنے والا ہے

﴿26﴾ اور دیا کرو رشتہ دار کو اس کا حق اور مسکین اور مسافر کو بھی اور فضول خرچی نہ کیا کرو

﴿27﴾ بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکر گزار ہے

﴿28﴾ اور اگر (بوجہ تنگدستی) تجھے ان سے منہ پھیرنا پڑے اور تم اپنے رب کی رحمت (یعنی خوشحالی ) کے متلاشی ہو جس کی تمھیں توقع ہے تو (اس اثناء میں) ان سے بات کرو تو بڑی نرمی سے کرو

﴿29﴾ اور نہ بنا لو اپنے ہاتھ کو بندھا ہوا اپنی گردن کے ارد گرد اور نہ ہی اسے بالکل کشادہ کرو ورنہ تم بیٹھ جاؤ گے ملامت کیے ہوئے درماندہ

﴿30﴾ بیشک آپ کا رب کشادہ کرتا ہے روزی جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے (جس کے لیے چاہتا ہے) یقیناً وہ اپنے بندوں (کے حالات) سے خوب آگاہ ہے اور ( انھیں) دیکھنے والا ہے

﴿31﴾ اور نہ قتل کرو اپنی اولاد کو مفلسی کے اندیشہ سے ہم ہی رزق دیتے ہیں انھیں بھی اور تمھیں بھی۔ بلاشبہ اولاد کو قتل کرنا بہت بڑی غلطی ہے

﴿32﴾ اور بد کاری کے قریب بھی مت جاؤبے شک یہ بڑی بےحیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے

﴿33﴾ اور نہ قتل کر و اس نفس کو جس کو قتل کر نا اللہ تعالیٰ نے حرام کر دیا ہے مگر حق کے ساتھ اور جو قتل کیا جائے نا حق تو ہم نے مقتول کے وارث کو (قصاص کے مطالبہ کا ) حق دیدیا ہے پس اسے چاہیے کہ قتل میں اسراف نہ کرے۔ ضرور اس کی مدد کی جائے گی

﴿34﴾ اور نہ قریب جاؤ یتیم کے مال کے مگر ایسے طریقے سے جو (اس یتیم کے لیے) بہترہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے اور پورا کیا کرو اپنے عہد کو بیشک ان وعدوں کے بارے میں ( تم سے) پوچھا جائے گا

﴿35﴾ اور پورا پورا ماپو جب تم کسی چیز کو ماپنے لگو اور تولو تو ایسے ترازو سے تولو جو بالکل درست ہو۔ یہی طریقہ بہتر ہے اور اس کا انجام بھی بہت اچھا ہے

﴿36﴾ اور نہ پیروی کرو اس چیز کی جس کا تمھیں علم نہیں بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب کے متعلق (تم سے) پوچھا جائے گا

﴿37﴾ اور نہ چلو زمین میں اکڑتے ہوئے (اس طرح) نہ تم چیر سکتے ہو زمین کو اور نہ پہنچ سکتے ہو پہاڑوں کے برابر بلندی میں

﴿38﴾ یہ سب (جن کا ذکر گزرا) ان میں سے ہر بری بات اللہ تعالیٰ کو (سخت) ناپسند ہے

﴿39﴾ یہ ہدایات جنھیں بذریعہ وحی آپ کی طرف آپ کے رب نے بھیجا ہے دانائی کی باتوں میں سے ہیں اور (اے سننے والے!) نہ بناؤ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ورنہ تجھے پھینک دیے جائے گا جہنم میں اس حال میں کہ تمھیں ملامت کی جائیگی

﴿40﴾ اور دھکے دیے جائیں گے۔ پس کیا چن لیا ہے تمھیں تمھارے رب نے بیٹوں کے لیے اور (اپنے لیے) بنا لیا ہے فرشتوں کو بیٹیاں (صد افسوس) تم ایسی بات کہہ رہے ہو جو بہت سخت ہے

﴿41﴾ اور بلا شبہ ہم نے مختلف انداز سے بار بار بیان کیا ہے (دلائل توحید کو) اس قرآن میں تاکہ وہ نصیحت قبول کریں (بایہنمہ) سوائے نفرت کے ان میں کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا

﴿42﴾ آپ فرمائیے اگر ہوتے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور خدا جس طرح یہ کافر کہتے ہیں تو ان خداؤں نے (ملکر) تلاش کر لی ہوتی عرش کے مالک (پر غالب آنے کی) کوئی راہ

﴿43﴾ وہ پاک ہے اور وہ بہت برتر و بالا ہے ان باتوں سے جو وہ لوگ کیا کرتے ہیں

﴿44﴾ پاکی بیان کرتے ہیں اسی کی ساتوں آسمان اور زمین اور جو چیز ان میں موجود ہے اور ( اس کائنات میں) کوئی بھی چیز ایسی نہیں مگر وہ اس کی پاکی بیان کرتی ہے اس کی حمد کرتے ہوئے لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے بےشک وہ بہت بردبار، بہت بخشنے والا ہے

﴿45﴾ اور (اے محبوب!) جب آپ پڑھتے ہیں قرآن کو تو ہم (حائل ) کر دیتے ہیں آپ کے درمیان اور ان کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک پوشیدہ پردہ جو آنکھوں سے نہاں ہوتا ہے

﴿46﴾ اور ہم ڈال دیتے ہیں ان کے دلوں پر پردہ تاکہ وہ اسے سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں گرانی (پیدا کر دیتے ہیں) اور جب آپ ذکر کرتے ہیں صرف اپنے رب کا قرآن میں تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ہیں نفرت کرتے ہوئے

﴿47﴾ ہم خوب جانتے ہیں جس غرض کے لیے یہ سنتے ہیں اسے جب یہ کان لگاتے ہیں آپ کی طرف اور (ہم خوب جانتے ہیں) جب یہ سر گوشیاں کرتے ہیں، اس وقت یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم نہیں پیروی کر رہے مگر ایک ایسے آدمی کی جس پر جادو کر دیا گیا ہے

﴿48﴾ دیکھیے (یہ گستاخ) کس طرح آپ کے لیے مثالیں بیان کرتے ہیں پس (اس گستاخی کے باعث) وہ گمراہ ہو گئے اب وہ سیدھے راستے پر چل نہیں سکتے

﴿49﴾ اور انھوں نے (ازراہ انکار) کہا کہ جب ہم (مر کر) ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ہمیں اٹھایا جائے گا از سر نو پیدا کر کے

﴿50﴾ فرمائیے ( یقیناً ایسا ہی ہو گا) خواہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا بن جاؤ

﴿51﴾ یا کوئی ایسی مخلوق بن جاؤ جس کا از سر نو پیدا کرنا تمھارے خیال میں بہت مشکل ہے وہ کہیں گے ہمیں دوبارہ کون (زندہ کر کے ) لوٹائے گا؟ فرمائیے وہی جس نے پیدا فرمایا تمھیں پہلی مرتبہ پس وہ حیرت سے آپ کی طرف (دیکھ کر) سروں کو جنبش دیں گے اور پوچھیں گے ایسا کب ہو گا؟ آپ بتائیے شاید اس کا وقت قریب ہی ہو

﴿52﴾ اس دن کو یاد کرو جب تمھیں اللہ تعالیٰ بلائیگا سو تم اس کی حمد کرتے ہوئے جواب دو گے اور یہ گمان کر رہے ہوگے کہ تم نہیں ٹھیرے (دنیا میں) مگر تھوڑا عرصہ

﴿53﴾ اور آپ حکم دیجیے میرے بندوں کو کہ وہ ایسی باتیں کیا کریں جو بہت عمدہ ہوں بیشک شیطان فتنہ و فساد برپا کرنا چاہتا ہے ان کے درمیان یقیناً شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے

﴿54﴾ تمھارا رب تمھیں خوب جانتا ہے اگر چاہے تو تم پر رحم (و کرم) فرما دے اور اگر چاہے تو تمھیں سزا دے اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار بنا کر (تا کہ ان کے کفر کے لیے آپ جوابدہ ہوں)

﴿55﴾ اور آپ کا رب خوب جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور بیشک ہم نے بزرگی دی ہے بعض انبیاء کو بعض پر اور ہم نے عطا فرمائی ہے داؤد کو زبور

﴿56﴾ (انھیں) کہیے اب بلاؤ ان کو جنھیں تم گمان کیا کرتے تھے (کہ یہ خدا ہیں) اللہ تعالیٰ کے سوا وہ تو قدرت نہیں رکھتے کہ تکلیف دور کر سکیں تم سے اور نہ ہی وہ (اسے ) بدل سکتے ہیں

﴿57﴾ اور وہ لوگ جنھیں یہ مشرک پکارا کرتے ہیں وہ خود ڈھونڈتے ہیں اپنے رب کی طرف وسیلہ کہ کونسا بندہ (اللہ سے ) زیادہ قریب ہے اور امید رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی اور ڈرتے رہتے ہیں اس کے عذاب سے بیشک آپ کے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے

﴿58﴾ اور کوئی ایسی بستی نہیں ہے مگر ہم اسے بربادکر دیں گے روز قیامت سے پہلے یا اسے سخت عذاب دیں گے یہ فیصلہ (کتاب) تقدیر میں لکھا ہو ا ہے

﴿59﴾ اور نہیں روکا ہمیں اس امر سے کہ ہم بھیجیں (کفار کی تجویز کردہ) نشانیاں مگر اس بات نے کہ جھٹلایا تھاان نشانیوں کو پہلوں نے (اور وہ فوراً تباہ کر دیے گئے تھے) اور ہم نے دی تھی قوم ثمود کو اونٹنی جو روشن نشانی تھی پس انھوں نے زیادتی کی اس پر اور ہم نہیں بھیجتے ایسی نشانیاں مگر لوگوں کو (عذاب سے) خوفزدہ کرنے کے لیے

﴿60﴾ اور یاد کرو جب ہم نے کہا تھا آپ کو کہ بیشک آپ کے پروردگارنے گھیرے میں لے لیا ہے لوگوں کو اور نہیں بنایا ہم نے اس نظارہ کو جو ہم نے دکھایا تھا آپ کو مگر آزمائش لوگوں کے لیے نیز (آزمائش بنایا) اس درخت کو جس پر لعنت بھیجی گئی ہے قرآن میں اور ہم انھیں (نافرمانی کے انجام سے ) ڈراتے رہتے ہیں پس نہ بڑھایا اس ڈرانے نے انھیں مگر یہ کہ وہ زیادہ سر کشی کرنے لگے

﴿61﴾ اور یاد کرو جب ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم ( علیہ السلام) کو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے اس نے کہا کیا میں سجدہ کروں اس (آدم ) کو جس کو تو نے کیچڑ سے پیدا کیا ہے

﴿62﴾ اس نے کہا مجھے بتا یہ (آدم) جس کو تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے (اس کی وجہ کیا ہے؟) اگر تم مجھے مہلت دے روز قیامت تک تو جڑ سے اکھیڑ پھینکوں گا اس کی اولاد کو سوائے چند افراد کے

﴿63﴾ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جا چلا جا (جو مرضی ہو کر) سو جو تیری پیروی کریگا ان سے تو بیشک جہنم ہی تم سب کی پوری پوری سزا ہے

﴿64﴾ اور گمراہ کرنے کی کوشش کر جن کو تو گمراہ کر سکتا ہے ان میں سے اپنی آواز (کی فسوں کاری) سے دھاوا بول دے ان پر اپنے گھوڑ سواروں اور پیادہ دوستوں کے ساتھ اور شریک ہو جا ان کے مالوں میں اور اولاد میں اور ان سے (جھوٹے) وعدے کرتا رہ ۔ اور وعدہ نہیں کرتا ان سے شیطان گمر مکر و فریب کا

﴿65﴾ جو میرے بندے ہیں ان پر تیر ا غلبہ نہیں ہو سکتا اور (اے محبوب!) کافی ہے تیر ا رب اپنے بندوں کی کارسازی کے لیے

﴿66﴾ تمھار ارب وہ ہے جو چلاتا ہے تمھارے لیے کشتیوں کو سمندر میں تاکہ تم تلاش کرو (بحری سفر کے ذریعہ) اس کا فضل بیشک وہ تمھارے ساتھ ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے

﴿67﴾ اور جب پہنچتی ہے تمھیں تکلیف سمندر میں تو گُم ہو جاتے ہیں وہ (معبود) جن کو تم پکارا کرتے ہو سوائے اللہ تعالیٰ کے پس جب وہ خیر و عافیت سے تمھیں ساحل پر پہنچا دیتا ہے (تو ) تم رو گردانی کرنے لگتے ہو اور انسان ( واقعی) بڑا نا شکرا ہے

﴿68﴾ کیا تم بیخوف ہو گئے ہو اس سے کہ اللہ تعالیٰ دھنسا دے تمھارے ساتھ خشکی کے کنارے کو یا بھیج دے تم پر اولے برسانے والابا دل پھر اس وقت تم نہیں پاؤ گے اپنے لیے کوئی کارساز

﴿69﴾ کیا تم اس سے بیخوف ہو گئے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمھیں لے جائے سمندر میں دوسری مرتبہ اور بھیجے تم پر سخت آندھی جو کشتیوں کو توڑنے والی ہو پھر غرق کر دے تمھیں بوجہ کفر کے جو تم نے کیا پھر تم نہیں پاؤ گے اپنے لیے ہم سے اس ڈبونے پر کوئی انتقام لینے والا

﴿70﴾ اور بیشک ہم بڑی عزت بخشی اولاد آدم کو اور ہم نے سوار کیا انھیں ( مختلف سواریوں پر) خشکی میں اور سمندر میں اور رزق دیا انھیں پاکیزہ چیزوں سے اور ہم نے فضیلت دی انھیں بہت سی چیزوں پر جن کو ہم نے پیدا فرمایا نمایاں فضیلت

﴿71﴾ وہ دن جب ہم بلائیں گے تمام انسانوں کو ان کے پیشوا کے ساتھ پس وہ شخص جس کو دیا گیا اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں تو یہ لوگ (خوشی خوشی) پڑھیں گے اپنا نامہ اعمال اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا

﴿72﴾ اور جو شخص بنا رہا اس دنیا میں اندھا وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا اور بڑا گُم کردہ راہ ہو گا

﴿73﴾ اور انھوں نے پختہ ارادہ کیا کہ وہ آپ کو بر گشتہ کر دیں اس (کتاب) سے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے تاکہ آپ بہتان باندھ کر (منسوب کریں) ہماری طرف اسکے علاوہ تو اس صورت میں وہ آپکو اپنا گہرا دوست بنا لیں گے

﴿74﴾ اور اگر ہم نے آپکو ثابت قدم نہ رکھا ہوتا تو آپ ضرور مائل ہو جاتے ان کی طرف کچھ نہ کچھ

﴿75﴾ (بفرض محال اگر آپ ایسا کرتے ) تو اس وقت ہم آپکو دوگنا عذاب دنیا میں اور دوگنا عذاب موت کے بعد پھر آپ نہ پاتے اپنے لیے ہمارے مقابلہ میں کوئی مددگار

﴿76﴾ اور انھوں نے ارادہ کر لیا کہ پریشانیاں و مضطرب کر دیں آپ کو اس علاقے سے تاکہ نکال دیں آپ کو یہاں سے اور (اگر انھوں نے یہ حماقت کی) تب وہ نہیں ٹھیرینگے (یہاں ) آپ کے بعد مگر تھوڑا عرصہ

﴿77﴾ (یہی ہمارا) دستور ہے ان کے بارے میں جنھیں ہم نے بھیجا آپ سے پہلے رسول بنا کر اور آپ نہیں پائیں گے ہمارے اس دستور میں کوئی ردو بدل

﴿78﴾ نماز ادا کیا کریں سورج ڈھلنے کے بعد رات کے تاریک ہونے تک (نیز ادا کیجیے) نماز صبح بلاشبہ نماز صبح کا مشاہدہ کیا جاتا ہے

﴿79﴾ اور رات کے بعض حصہ میں (اُٹھو) اور نما زتہجد ادا کرو (تلاوت و قرآن کیساتھ) (یہ نماز) زائد ہے آپ کے لیے یقیناً فائز فرمائے گا آپ کو آپ کا رب مقام محمود پر

﴿80﴾ اور دعا مانگا کیجیے کہ اے میرے رب! جہاں کہیں تو مجھے لے جائے سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں کہیں سے مجھے لے آئے سچائی کے ساتھ لے آ اور عطا فرما مجھے اپنی جناب سے وہ قوت جو مدد کرنے والی ہو

﴿81﴾ اور آپ (اعلان ) فرما دیجیے آگیا ہے حق اور مٹ گیا ہے باطل بےشک باطل تھا ہی مٹنے والا

﴿82﴾ اور ہم نازل کرتے ہیں قرآن میں وہ چیزیں جو (باعثِ ) شفا ہیں اور سراپا رحمت ہیں اہل ایمان کے لیے اور قرآن نہیں بڑھا تا ظالموں کے لیے مگر خسارہ کو

﴿83﴾ اور جب ہم کوئی انعام فرماتے ہیں انسان پر تو وہ (بجائے شکر کے ) منہ پھیر لیتا ہے اور پہلو تہی کرنے لگتا ہے اور جب پہنچتی ہے اسے کوئی تکلیف تو وہ مایوس ہو جاتا ہے

﴿84﴾ آپ فرما دیجیے کہ ہر شخص عمل پیرا ہے اپنی فطرت کے مطابق پس تمھارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ سیدھی راہ پر (گامزن ) ہے

﴿85﴾ یہ دریافت کرتے ہیں آپ سے روح کی حقیقت کے متعلق (انھیں ) بتائیے روح میرے رب کے حکم سے ہے اور نہیں دیا گیا ہے تمھیں علم مگر تھوڑا سا

﴿86﴾ اور اگر ہم چاہتے تو سلب کر لیتے وہ وحی جو ہم نے آپ کی طرف کی ہے پھر آپ کوئی ایسا وکیل نہ پاتے جو آپ کے لیے اسکے متعلق ہماری بارگاہ میں وکالت کرتا

﴿87﴾ سوائے اپنے رب کی رحمت کے (کہ وہ ہمہ وقت آپکے شامل حال ہے) یقیناً اس کا فضل (وکرم) آپ پر بہت بڑا ہے

﴿88﴾ (بطور چیلنج ) کہہ دو کہ اگر اکٹھے ہو جائیں سارے انسان اور سارے جِنّ اس بات پر کہ لے آئیں اس قرآن کی مثل تو ہر گز نہیں لا سکیں گے اس کی مثل اگر وہ ہو جائیں ایک دوسرے کے مددگار

﴿89﴾ اور بلاشبہ ہم نے طرح طرح سے (بار بار) بیان کی ہیں لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں (تا کہ وہ ہدایت پائیں) پس انکار کر دیا اکثر لوگوں نے سوائے اسکے کہ وہ نا شکری کریں

﴿90﴾ اور کفار نے کہا ہم ہر گز ایمان نہیں لائیں گے آپ پر جب تک آپ رواں نہ کر دیں ہمارے لیے زمین سے ایک چشمہ

﴿91﴾ یا (لگ کر تیار) ہو جائے آپ کے لیے ایک باغ کھجوروں اور انگوروں کا پھر آپ جاری کر دیں ندیاں جو اس باغ میں (ہر طرف) بہ رہی ہوں

﴿92﴾ یا آپ گرا دیں آسمان کو ، جیسے آپ کا خیال ہے، ہم پر ٹکڑے ٹکڑے کر کے یا آپ اللہ تعالیٰ کو اور فرشتوں کو (بے نقاب کر کے ) ہمارے سامنے لے آئیں

﴿93﴾ یا (تعمیر) ہو جائے آپ کے لیے ایک گھر سونے کا یا آ پ آسما ن پر چڑھ جائیں بلکہ ہم تو اس پر بھی ایمان نہ لائیں گے کہ آپ آسمان پر چڑھیں یہاں تک کہ آپ اتار لائیں ہم پر ایک کتاب جسے ہم پڑھیں آپ (ان سب خرافات کے جواب میں اتنا) فرما دیں میرا رب (ہر عیب سے ) پاک ہے میں کون ہوں مگر آدمی (اللہ کا) بھیجا ہوا

﴿94﴾ اور نہیں روکا لوگوں کو ایمان لانے سے جب آئی ان کے پاس ہدایت مگر اس چیز نے کہ انھوں نے کہا کہ کیا بھیجا ہے اللہ تعالیٰ نے ایک انسان کو رسول بنا کر ! ایسا نہیں ہو سکتا

﴿95﴾ فرمائیے اگر ہوتے زمین میں (انسانوں کی بجائے) فرشتے جو اس پر چلتے (اور اسمیں) سکونت اختیار کرتے تو ہم (انکی ہدایت کے لیے ) ان پر اتارتے آسمان سے کوئی فرشتہ رسول بنا کر

﴿96﴾ فرمائیے کافی ہے اللہ تعالیٰ گواہ میرے درمیان اور تمھارے درمیان بیشک وہ اپنے بندوں (کے احوال) کو خوب جاننے والا اور ان کے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے

﴿97﴾ اور جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے وہی ہدایت والا ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے تو آپ نہیں پائیں گے ان (گمراہوں ) کے لیے کوئی مدد گار اس کے سوا اور ہم اٹھائیں گے قیامت کے روزمنہ کے بل اس حال میں کہ وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہونگے ان کا ٹھکانا جہنم ہے جب بھی سرد ہونے لگے گی (جہنم کی آگ) تو ہم ان کے لیے اس کی آنچ کو بڑھا دینگے

﴿98﴾ یہ سزا ہے ان کی کیونکہ انھوں نے انکار کیا ہماری آیتوں کا اور انھوں نے کہا کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ہم اٹھائیں جائیں گے از سرِ نو پیدا کر کے

﴿99﴾ کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ جس نے پیدا فرمایا ہے آسمانوں اور زمین کو وہ اس پر بھی قادر ہے کہ پیدا فرمادے ان کی مثل اور اس نے مقرر فرما دی ہے ان کے لیے ایک میعاد جس میں ذرا شک نہیں پس انکار کر دیا ظالموں نے (اللہ تعالیٰ کی قدرت کا) سوائے اسکے کہ وہ نا شکری کریں

﴿100﴾ فرمائیے اگر تم مالک ہوتے میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے تو اس وقت تم ضرور ہاتھ روک لیتے اس خوف سے کہ کہیں (سارے خزانے) ختم ہی نہ ہو جائیں واقعی انسان بڑا تنگدل ہے

﴿101﴾ اور ہم نے عطا فرمائی تھیں موسیٰ (علیہ السلام) کو نو روشن نشانیاں آپ خود پوچھ لیں بنی اسرائیل سے جب موسیٰ ( علیہ السلام) آئے تھے انکے پاس پس فرعون نے آپ کو کہا اے موسی! میں تمھارے متعلق خیال کرتا ہوں کہ تم پر جادو کر دیا گیا ہے

﴿102﴾ کلیم نے جواباً فرمایا (اے فرعون!) تو خوب جانتا ہے کہ نہیں اتارا ان نشانیوں کو مگر آسمانوں اور زمین کے رب نے یہ بصیرت افروز ہیں اور اے فرعون! میں تیرے متعلق یہ خیال کرتا ہوں کہ تو ہلاک کر دیا جائیگا

﴿103﴾ پس اس نے ارادہ کر لیا کہ بنی اسرائیل کو ملک سے اکھاڑ کر پھینک دے سو ہم نے غرق کر دیا اسے اور اس کے سارے ساتھیوں کو

﴿104﴾ اور ہم نے حکم دیا فرعون کو غرق کرنے کے بعد بنی اسرائیل کو کہ تم آباد ہو جاؤ اس سر زمین میں پس جب آئے گا آخرت کا وعدہ تو ہم لے آئینگے تمھیں سمیٹ کر

﴿105﴾ اور حق کے ساتھ ہی ہم نے اسے اتارا ہے اور حق کے ساتھ ہی وہ اترا ہے اور نہیں بھیجا ہے نے آپ کو مگر (رحمت الہٰی کا ) مژدہ سنانے والا اور ( عذاب الہٰی سے ) ڈرانیوالا

﴿106﴾ اور قرآن کو ہم نے جدا جدا کر کے نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کے سامنے اسے ٹھیر ٹھیر کر پڑھیں اور ہم نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا ہے

﴿107﴾ آپ (کفارکو) کہیے خواہ تم ایمان لاؤ اس پر یا نہ ایمان لاؤ بیشک وہ لوگ جنھیں دیا گیا ہے علم اس سے پہلے جب اسے پڑھا جاتا ہے ان کے سامنے تو وہ گِر پڑتے ہیں ٹھوریوں کے بَل سجدہ کرتے ہوئے

﴿108﴾ اور کہتے ہیں (ہر عیب اور ہر نقص سے) پاک ہے ہمارا رب بلاشبہ ہمارے رب کا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے

﴿109﴾ اور گِر پڑتے ہیں ٹھوریوں کے بَل گر یہ و زاری کرتے ہوئے اور یہ قرآن انکے (خضوع) وخشوع کو بڑھا دیتا ہے

﴿110﴾ آپ فرمائیے یا اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر پکارو جس نام سے اسے پکارو اس کے سارے نام (ہی) اچھے ہیں اور نہ تو بلند آواز سے نماز پڑھو اور نہ بالکل آہستہ پڑھو اسے اور تلاش کرو ان دونوں کے درمیان (معتدل) راستہ

﴿111﴾ اور آپ فرمائیے سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے نہیں بنایا (کسی کو اپنا) بیٹا اور نہیں ہے جس کا کوئی شریک حکومت اور فرمانروائی میں اور نہیں ہے اس کا کوئی مددگاردرماندگی میں اور اس کی بڑائی بیان کرو کمال درجہ کی بڑائی

الکھف

Surah 18

﴿1﴾ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے نازل فرمائی اپنے (محبوب) بندے پر یہ کتاب اور نہیں پیدا ہونے دی اس میں ذراکجی

﴿2﴾ (اور معاش و معاد کو) درست کرنیوالی ہے تاکہ ڈرائے سخت گرفت سے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوئی ہے اور یہ مژدہ سنائے ان اہل ایمان کو جو کرتے ہیں نیک اعمال کہ بیشک ان کے لیے بہت عمدہ جزاء ہے

﴿3﴾ وہ ٹھیریں گے اس (جنت) میں تا ابد

﴿4﴾ اور تاکہ ڈرائے ان (نادانوں) کو جو یہ کہتے ہیں کہ بنا لیا ہے اللہ تعالیٰ نے (فلاں کو اپنا ) بیٹا

﴿5﴾ نہ انھیں اللہ تعالیٰ (کی ذات و صفات) کا کچھ علم ہے اور نہ انکے باپ دادا کو کتنی بری ہے وہ بات جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے وہ نہیں کہتے ہیں مگر (سر تا سر) جھوٹ

﴿6﴾ تو کیا آپ (فرط غم سے ) تلف کر دیں گے اپنی جان کو انکے پیچھے اگر وہ ایمان نہ لائے اس قرآن کریم پر افسوس کرتے ہوئے

﴿7﴾ بے شک ہم نے بنایا ان چیزوں کو جو زمین پر ہیں اس کے لیے باعث زینت و آرائش تاکہ ہم انھیں آزمائیں کہ ان میں سے کون عمل کے لحاظ سے بہتر ہے

﴿8﴾ اور ہم ہی بنانے والے ہیں ان چیزوں کو جو زمین پر ہیں (ویران کر کے) چٹیل میدان، غیر آباد

﴿9﴾ کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ غار والے اور رقیم والے ہماری ان نشانیوں میں سے ہیں جو تعجب خیز ہیں

﴿10﴾ (یاد کرو) جب پناہ لی ان نوجوانوں نے غار میں پھر انھوں نے دعا مانگی اے ہمارے رب! ہمیں مرحمت فرما اپنی جناب سے رحمت اور مہیا فرما ہمارے لیے اس کام میں ہدایت

﴿11﴾ پس ہم نے بند کر دئیے ان کے کان (سننے سے) اس غار میں کئی سال تک جو گنے ہوئے تھے

﴿12﴾ پھر ہم نے انھیں بیدار کر دیا تاکہ ہم دیکھیں کہ ان دو گروہوں میں سے کو ن صحیح شمار کر سکتا ہے اس مدت کا جو وہ (غار) میں ٹھہرے تھے

﴿13﴾ (اے حبیب!) ہم بیان کرتے ہیں آپ سے ان کی خبر ٹھیک ٹھیک بیشک وہ چند نو جوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کے (نور) ہدایت میں اضافہ کر دیا

﴿14﴾ اور ہم نے مضبوط کر دیا ان کے دلوں کو جب وہ راہ حق میں کھڑے ہو گئے تو انہوں نے (بر ملا) کہہ دیا ہمارا پروردگار وہ ہے جو پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کو ہم ہر گز نہیں پکاریں گے اس کے سوا کسی معبود کو (اگر ہم ایسا کریں) تو گویا ہم نے ایسی بات کہی جو حق سے دور ہے

﴿15﴾ یہ ہماری قوم ہے جنھوں نے بنا لیا ہے اس کے سوا غیروں کو (اپنے ) خدا ۔ کیوں نہیں پیش کرتے ان (کی خدائی ) پر کوئی ایسی دلیل جو روشن ہو ورنہ پھر اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھتا ہے

﴿16﴾ اور جب تم الگ ہو گئے ہو ان (کفّار) سے اور ان معبودوں سے جن کی یہ پوجا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا۔ تو اب پناہ لو غار میں پھیلا دے گا تمھارے لیے تمھار ا رب اپنی رحمت (کا دامن) اور مہیا کر دے گا تمھارے لیے تمھارے اس کام میں آسانیاں

﴿17﴾ اور تو دیکھے گا سورج کو جب وہ ابھرتا ہے تو وہ ہٹ کر گزرتا ہے ان کی غار سے دائیں جانب اور جب وہ ڈوبتا ہے تو بائیں طرف کتراتا ہوا ڈوبتا ہے اور وہ ( سو رہے ) ہیں ایک کشادہ جگہ غار میں ۔ (سورج) کا یوں (طلوع و غرب) اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے (حقیقت یہ ہے) کہ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے وہی ہدایت یافتہ ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے تو تو نہیں پائیگا اس کے لیے کوئی مددگار (اور) رہنما

﴿18﴾ اور (اگر تو دیکھے تو) تو انھیں بیدار خیال کریگا حالانکہ وہ سو رہے ہیں اور ہم انکی کروٹ بدلتے رہتے ہیں (کبھی) دائیں جانب اور (کبھی) بائیں جانب اور ان کا کتّا پھیلائے بیٹھا ہے اپنے دونوں بازو ان کی دہلیز پر اگر تو جھانک کر انھیں دیکھے توان سے منہ پھیر کر بھاگ کھڑا ہو اور تو بھر جائے انکے (منظر ) کو دیکھ کرہیبت سے

﴿19﴾ اور اسی طرح ہم نے انھیں بیدار کر دیا تاکہ وہ ایک دوسرے سے آپس میں پوچھیں ۔ کہنے لگا ایک کہنے والا ان سے کہ تم یہاں کتنی مدت ٹھہرے ہو؟ بعض نے کہا ہم ٹھہرے ہونگے ایک دِن یا دِن کا کچھ حصہ۔ دوسروں نے کہا تمھار ا رب بہتر جانتاہے جتنی مدت تم ٹھہرے ہو۔ پس بھیجو کسی کو اپنے ساتھیوں سے اپنے ایک سِکّہ کے ساتھ شہر کی طرف پس وہ دیکھے کہ کس کے ہاں عمدہ پاکیزہ کھانا ملتا ہے پس وہ لے آئے تھمارے پاس کھاناوہاں سے۔ اسے چاہیے کہ خوش خلقی سے کام لے اور کسی کوتمھاری خبر نہ ہونے دے

﴿20﴾ وہ لوگ اگر آگاہ ہو گئے تم پر تو وہ تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے یا تمھیں (جبراً) لوٹا دینگے اپنے (جھوٹے) مذہب میں اور (اگر تم نے ایسا کیا) تو تم کبھی بھی فلاح نہیں پا سکو گے

﴿21﴾ اور بستی والوں کو ہم نے اچانگ آگاہ کر دیا ان (اصحاب کہف) پر تاکہ وہ جان لیں کہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور بلاشبہ قیامت کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ۔ جب وہ بستی والے جھگڑ رہے تھے آپس میں انکے معاملہ میں تو بعض نے کہا کہ (بطور یادگار) تعمیر کرو ان کے غار پر کوئی عمارت ان کا رب انکے اعمال سے خوب واقف ہے، کہنے لگے وہ لوگ جو غالب آئے تھے اپنے کام پر کہ بخدا ہم ضرور ان پر ایک مسجد بنائیں گے

﴿22﴾ کچھ کہیں گے کہ اصحاب کہف تین تھے چوتھا ان کا کتّا تھا کچھ کہیں گے وہ پانچ تھے چھٹا ان کا کتّا تھا یہ سب تخمینے ہیں بن دیکھے اور کچھ کہیں گے وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتّا تھا آپ فرمائیے (اس بحث کو رہنے دو) میرا رب بہتر جانتا ہے انکی تعداد کو (اور ) نہیں جانتے ان (کی صحیح تعداد) کو مگر چند آدمی ۔ سو بحث نہ کرو ان کے بارے میں بجز اس کے کہ سرسری سی گفتگو ہو جائے اور نہ دریافت کرو انکے متعلق (اہل کتاب) میں کسی اور سے

﴿23﴾ ہرگز نہ کہنا کسی چیز کے متعلق کہ میں اسے کرنیوالا ہوں کل

﴿24﴾ مگر (یہ کہ ساتھ یہ بھی کہو) اگر چاہا اللہ تعالیٰ نے اور یاد کرو اپنے رب کو جب تو بھول جائے (یہ بھی) کہو کہ مجھے امید ہے کہ دکھا دے گا مجھے میرا رب اس سے بھی قریب تر ہدایت کی راہ

﴿25﴾ اور (اہل کتاب کہتے ہیں کہ) وہ ٹھیرے رہے اپنے غار میں تین سو سال اور زیادہ کیے انھوں نے (اس پر) نو سال

﴿26﴾ آپ فرمائیے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے جتنی مدت وہ ٹھیرے اسی کے لیے (علم) غیب ہے آسمانوں اور زمین کا ۔ وہ بڑا دیکھنے والا ہے اور سب باتیں سننے والا ہے نہیں ان کا اس کے سوا کوئی دوست اور نہیں شریک کرتا اپنے حکم میں کسی کو

﴿27﴾ اور پڑھ سنائیے (انھیں ) جو وحی کیا جاتا ہے آپ کی طرف آپ کے رب کی کتاب سے کوئی بدلنے والا نہیں اس کے ارشادات کا۔ اور نہیں پائیں گے آپ اس کے سواپناہ گاہ

﴿28﴾ اور روکے رکھئے اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح و شام طلب گار ہیں اس کی رضا کے اور نہ ہٹیں آپ کی نگاہیں ان سے کیا آپ چاہتے ہیں دنیوی زندگی کی زینت اور نہ پیروی کیجیے اس (بدنصیب) کی غافل کر دیا ہے ہم نے جس کے دل کو اپنی یاد سے اور وہ اتباع کرتا ہے اپنی خواہش کا اور اس کا معاملہ حد سے گزر گیا ہے

﴿29﴾ اور فرمائیے حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جس کا جی چاہے وہ ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے کفر کرتا رہے۔ بیشک ہم نے تیار کر رکھی ہے ظالموں کے لیے آگ گھیر لیا ہے انھیں اس آگ کی دیوار نے ۔ اور اگر وہ فریاد کرینگے تو انکی فریاد رسی کی جائیگی ایسے پانی کے ساتھ جو پیپ کی طرح (غلیظ ) ہے (اور اتنا گرم کہ) بُھون ڈالتا ہے چہروں کو یہ مشروب بڑا ناگوار ہے اور یہ قرار گاہ بڑی تکلیف دہ ہے

﴿30﴾ بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے (تو ہمارا یہ دستور ہے کہ) ہم ضائع نہیں کرتے کسی کا اجرجو عمدہ اور (مفید) کام کرتاہے

﴿31﴾ یہی وہ خوش نصیب ہیں جنکے لیے ہمیشگی کی جنت ہیں رواں ہیں جن کے نیچے ندیاں انھیں پہنائے جائیں گے ان جنتوں میں کنگن سونے کے اور پہنیں گے سبز رنگ کا لباس جو باریک ریشمی کپڑے اور موٹے ریشمی کپڑے کا بنا ہوا ہو گا۔ تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے وہاں مرصع پلنگوں پر۔ کتنا اچھا ہے یہ اجر اور کتنی عمدہ ہے یہ آرام گاہ

﴿32﴾ اور بیان فرمائیے ان کے لیے مثال دو آدمیوں کی ہم نے دیے تھے ان دونوں میں سے ایک کو دو باغ انگوروں کے اور ہم نے باڑ بنا دی ان دونوں کے اردگردکھجور (کے درختوں ) کی اوراُگا دی ان دونوں کے درمیان کھیتی

﴿33﴾ یہ دونوں باغ اپنے اپنے پھل لائے اور نہ کم ہوئی ان سے کوئی چیز اور ہم نے جاری کر دی ان کے درمیان نہریں

﴿34﴾ اور (باغوں کے علاوہ) اور بھی اس کے اموال تھے تو (ایک روز ) اس نے اپنے ساتھی سے بحث مباحثہ کے دوران کہا کہ میں دولت کہ لحاظ سے بھی تم سے زیادہ ہوں اور نفری کے لحاظ سے بھی تم سے طاقتور ہوں

﴿35﴾ اور (ایک دن) وہ اپنے باغ میں گیا در آنحالیکہ وہ اپنی جان پر ظلم کرنیوالا تھا کہنے لگا میں نہیں خیال کرتاکہ (یہ سر سبز و شاداب باغ کبھی برباد ہوگا)

﴿36﴾ اور میں یہ خیال بھی نہیں کرتا کہ کبھی قیامت بھی پر پا ہو گی اور بفرض محال اگر مجھے لوٹایا گیا اپنے رب کی طرف تو یقیناً میں پاؤنگا اس (نزہتگاہ) سے بہترپلٹنے کی جگہ

﴿37﴾ اس کے ساتھی نے اسے بحث و مباحثہ کے درمیان کہا کیا تو انکار کرتا ہے اس ذات کا جس نے تجھے پیدا فرمایا مٹی سے پھر نطفہ سے پھر بنا سنوار کر تجھے مرد بنایا

﴿38﴾ لیکن میں ،(تو) وہ اللہ ہی میرا رب ہے اور میں شریک نہیں ٹھیراتا اپنے رب کے ساتھ کسی کو

﴿39﴾ اور کیوں ایسا نہ ہوا کہ جب تو باغ میں داخل ہواتو تو کہتا ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ (وہی ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کسی میں کوئی طاقت نہیں) اگر تو نے مجھے دیکھا کہ میں کم ہوں تجھ سے مال اور اولاد میں

﴿40﴾ پس عجب نہیں کہ میرا رب مجھے عطا فرما دے کوئی بہتر چیز تیرے (اس) باغ سے اور اتار رہے اس باغ پر کوئی آسمانی عذاب تو ہو جائے یہ (سر سبز) باغ ایک چٹیل میدان

﴿41﴾ یا یوں جذب ہو جائے اس کا پانی زمین کی گہرائی میں کہ پھر تو اس کو تلاش کے باوجود نہ پا سکے

﴿42﴾ اور اس کے (باغ) کا پھل برباد ہو گیا پس وہ کف افسوس ملنے لگا اس مال کے نقصان پر جو اس نے باغ پر خرچ کیا تھا اور (اب) وہ گِر پڑا تھا اپنے چھپروں پر اور (بصد حسرت) کہنے لگاکاش! میں نے کسی کو اپنے رب کا شریک نہ بنایا ہوتا

﴿43﴾ اور نہ رہی تھی اس کے پاس کوئی جماعت جو اس کی مدد کرتی اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں اور نہ وہ بدلہ لینے کے قابل تھے

﴿44﴾ یہاں سے ثابت ہو گیا کہ سارا اختیار اللہ سچے کے لیے ہے وہی بہتر ثواب دینے والا ہے اور اس کے ہاتھ میں بہتر انجام ہے

﴿45﴾ بیان فرمائیے ان سے دنیوی زندگی کی (ایک اور) مثال یہ پانی کی طرح ہے جسے ہم نے اتارا ہے آسمان سے پس گنجان ہو کر اگتی ہے اس پانی سے زمین کی انگوریاں پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ خشک بوسیدہ گھاس ہو جاتی ہے اڑائے پھرتی ہے اسے ہوائیں۔ اور اللہ تعالیٰ پر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے

﴿46﴾ مال اور فرزند (تو صرف) دنیوی زندگی کی زیب و زینت ہیں اور (در حقیقت) باقی رہنے والی نیکیاں بہتر ہیں تیرے رب کے ہاں ثواب کے اعتبار سے اور بہتر ہے جس سے امید وابستہ کی جاتی ہے

﴿47﴾ اور (غور کرو) جس روز ہم ہٹا دینگے پہاڑوں کو (انکی جگہ سے) اور تم دیکھو گے زمین کو کہ کھلا میدان ہے، اور ہم جمع کرینگے انھیں پس نہیں پیچھے رہنے دینگے ان میں سے کسی کو

﴿48﴾ اور وہ پیش کیے جائینگے آپ کے رب کی بارگاہ میں صفیں باندھے ہوئے (پھر ہم انھیں کہیں گے کہ) آج تم آگئے ہو ہمارے پاس جیسے ہم نے پیدا کیا تھا تمھیں پہلی بار ہاں تم یہ خیال کیے ہوئے تھے کہ ہم نہیں مقرر کرینگے تمھارے لیے وعدہ کا وقت

﴿49﴾ اور رکھ دیا جائیگا (انکے سامنے) نامہ اعمال پس تو دیکھے گا مجرموں کو وہ ڈر رہے ہونگے اس سے جو اس میں ہے وہ کہیں گے صد حیف! اس نوشتہ کو کیا ہو گیا ہے کہ نہیں چھوڑا اس نے کسی چھوٹے گناہ کو اور نہ کسی بڑے گناہ کو مگر اس نے اس کا شمار کر لیا ہے اور (اُس دن) وہ پالیں گے جو عمل انھوں نے کیے تھے اپنے سامنے اور آپکا رب تو (اے حبیب!) کسی پر زیادتی نہیں کرتا

﴿50﴾ اور یاد کرو جب ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو پس سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے وہ قوم جِنّ سے تھا سو اس نے نافرمانی کی اپنے رب کے حکم کی (اے اولاد آدم!) کیا تم بناتے ہو اسے اور اس کی ذریت کو اپنا دوست مجھے چھوڑ کر حالانکہ وہ سب تمھارے دشمن ہیں ظالموں کے لیے بہت بر ا بدلہ ہے

﴿51﴾ میں نے ان سے مدد نہیں لی تھی جب آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور نہ (اس وقت ان سے مدد لی) جب خود انھیں پیدا کیا اور میں نہیں بنایا کرتا گمراہ کرنے والوں کو اپنا دست و بازو

﴿52﴾ اور اس روز اللہ تعالیٰ (کفار کو) فرمائیگا بلاؤ میرے شریکوں کو جنھیں تم ( میرا شریک) خیال کیا کرتے تھے تو وہ انھیں پکارینگے پس وہ انھیں کوئی جواب نہیں دینگے اور ہم حائل کر دینگے ان کے درمیان ایک آڑ

﴿53﴾ اور دیکھیں گے مجرم (جہنم کی ) آگ کو اور وہ خیال کرینگے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور نہ پائیں گے اس سے نجات پانے کی کوئی جگہ

﴿54﴾ اور بیشک ہم نے طرح طرح سے بار بار بیان کی ہیں اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثالیں اور انسان ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے

﴿55﴾ اور کس چیز نے روکا ہے لو گوں کو اس بات سے کہ وہ ایمان لے آئیں جب آگئی ان کے پا س ہدایت (کی روشنی) اور مغفرت طلب کریں اپنے رب سے مگر یہ (کہ وہ منتظر ہیں) کہ آئے ان کے پاس اگلوں کا دستور یا آئے ان کے پاس طرح طرح کا عذاب

﴿56﴾ اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر مژدہ سنانے والا اور ڈرانے والا اور جھگڑتے ہیں کافر بےسروپا دلیلوں کی آڑ لے کرتا کہ وہ ہٹا دیں اس سے حق کو اور بنا لیا ہے انھوں نے میری آیتوں کو اور جن سے وہ ڈرائے گئے ایک مذاق

﴿57﴾ اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے نصیحت کی گئی اس کے رب کی آیتوں سے پس اس نے رو گردانی کر لی ان سے اور فراموش کر دیا اس نے ان (اعمال بد کو) جو آگے بھیجے تھے اس کے دونوں ہاتھوں نے ہم نے ڈالدئیے ان کے دلوں پر پردے تاکہ وہ قرآن کو نہ سمجھ سکیں اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کر دی اور اگر تم بلاؤ انھیں ہدایت کی طرف تو جب بھی وہ ہدایت قبول نہیں کرینگے

﴿58﴾ اور آپ کا پروردگار تو بہت بخشنے والا بڑا ہی رحمت والا ہے اگر وہ پکڑ لیتا انھیں ان کے کیے پر تو جلد ان پر عذاب بھیجتا (وہ ایسا نہیں کرتا) بلکہ ان کو سزا دینے کا ایک وقت مقرر ہے نہیں پائینگے اس وقت اسکے بغیر کوئی پناہ کی جگہ

﴿59﴾ اور یہ بستیاں ہیں ہم نے تباہ کر دیا ان کے باشندوں کو جب وہ ستم شعار بن گئے اور ہم نے مقرر کر دی تھی انکی ہلاکت کے لیے ایک میعاد

﴿60﴾ اور یاد کرو جب کہا موسیٰ نے اپنے (نوجوان) ساتھی کو کہ میں چلتا رہونگا یہاں تک کہ پہنچوں جہاں دو دریا ملتے ہیں یا (چلتے چلتے ) گزار دونگا مدّت دراز

﴿61﴾ پھر جب وہ دونوں پہنچے جہاں آپس میں دو دریا ملتے ہیں دونوں بھول گئے اپنی مچھلی کو تو بنا لیا اس نے اپنا راستہ دریا میں سرنگ کی طرح

﴿62﴾ پس جب وہاں سے آگے بڑھ گئے آپ نے اپنے نوجوان ساتھی سے کہا لے آؤ ہمارا صبح کا کھانابیشک ہمیں برداشت کرنی پڑی ہے اپنے اس سفر میں بڑی مشقت

﴿63﴾ اس ساتھی نے کہا (اے کلیم!) آپ نے ملاحظہ فرمایا جب ہم (سستانے کے لیے) اس چٹان کے پاس ٹھیرے تھے تو میں بھول گیا مچھلی کو اور نہیں فراموش کرائی مجھے وہ مچھلی مگر شیطان نے کہ میں اس کا ذکر کروں اور اس نے بنا لیا تھا اپنا راستہ دریا میں ۔ بڑے تعجب کی بات ہے

﴿64﴾ آپ نے فرمایا یہی تو وہ ہے جس کی ہم جستجو کر رہے تھے پس وہ دونوں لوٹے اپنے قدموں کے نشان دیکھتے ہوئے

﴿65﴾ تو پایا انھوں نے ایک بندے کو ہمارے بندوں میں سے جسے ہم نے عطا فرمائی تھی رحمت اپنی جانب سے اور ہم نے سکھایا تھا اسے اپنے پاس سے (خاص) علم

﴿66﴾ کہا اس بندے کو موسیٰ ( علیہ السلام) نے کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں بشرطیکہ آپ سکھائیں مجھے رشد و ہدایت کا خصوصی علم جو آپ کو سکھایا گیا ہے

﴿67﴾ اس بندے نے کہا (اے موسیٰ!) آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے

﴿68﴾ اور آپ صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں اس بات پر جس کی آپ کو پوری طرح خبر نہیں

﴿69﴾ آپ نے کہا آپ مجھے پائیں گے اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا صبر کرنے والا اور میں نافرمانی نہیں کرونگا آپ کے کسی حکم کی

﴿70﴾ اس بندے نے کہا اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں پوچھیے نہیں یہاں تک کہ میں آپ سے اس کا خود ذکر کروں

﴿71﴾ پس وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب وہ سوار ہوئے کشتی میں تو اس بندے نے اس میں شگاف کر دیا موسیٰ ( علیہ السلام) بول اٹھے کیا تم نے اس لیے شگاف کیا ہے کہ اس کی سواریوں کو ڈبو دو۔ یقیناً تم نے بہت برا کام کیا ہے

﴿72﴾ اس بندے نے کہا کیا میں نے نہیں کہا تھاکہ آپ میں یہ طاقت نہیں کہ میری سنگت پر صبر کرسکیں

﴿73﴾ آپ نے (عذر خواہی کرتے ہوئے) کہا کہ نہ گرفت کرو مجھ پر میری بھُول کی وجہ سے اور نہ سختی کرو مجھ پر میرے اس معاملہ میں بہت زیادہ

﴿74﴾ پھر وہ دونوں چل پڑے حتیٰ کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو اس نے اسے قتل کر ڈالا موسیٰ ( علیہ السلام) (غضب ناک ہو کر) کہنے لگے کیا مار ڈالا آپ نے ایک معصوم جان کو کسی نفس کے بدلہ کے بغیر ۔ بیشک آپ نے ایسا کام کیا ہے جو بہت ہی نازیبا ہے

﴿75﴾ پھر وہ دونوں چل پڑے حتیٰ کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو اس نے اسے قتل کر ڈالا موسیٰ ( علیہ السلام) (غضب ناک ہو کر) کہنے لگے کیا مار ڈالا آپ نے ایک معصوم جان کو کسی نفس کے بدلہ کے بغیر ۔ بیشک آپ نے ایسا کام کیا ہے جو بہت ہی نازیبا ہے

﴿76﴾ آپ نے کہا اگر میں پوچھوں آپ سے کسی چیز کے بارے میں اس کے بعد تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیں۔ آپ میری طرف سے معذور ہوں گے

﴿77﴾ پھر وہ چل پڑے یہاں تک کہ جب ان کا گزر ہوا گاؤں والوں کے پاس تو انھوں نے ان سے کھانا طلب کیا تو انھوں نے (صاف) انکار کر دیا ان کی میزبانی کرنے سے پھر ان دونوں نے اس گاؤں میں ایک دیوار دیکھی جو گرنے کے قریب تھی تو اس بندے نے اسے درست کر دیا ۔ موسیٰ کہنے لگے اگر آپ چاہتے تو اس محنت پر مزدوری ہی لے لیتے

﴿78﴾ اس نے کہا (بس سنگت ختم) اب میرے اور آپ کے درمیان جدائی کا وقت آگیا میں آگاہ کرتا ہوں آپ کو ان باتوں کی حقیقت پر جن کے متعلق آپ صبر نہ کر سکے میں آگاہ کرتا ہوں آپ کو ان باتوں کی حقیقت پر جن کے متعلق آپ صبر نہ کر سکے۔

﴿79﴾ وہ جو کشتی تھی وہ چند غریبوں کی تھی جو (ملاحی کا ) کام کرتے تھے دریا میں ۔ سو میں نے ارادہ کیا کہ اسے عیب دار بنا دوں اور (اسکی وجہ یہ تھی کہ) انکے آگے (جابر) بادشاہ تھا جو پکڑ لیا کرتا تھا ہر کشتی کو زبردستی سے

﴿80﴾ اور جو لڑکا تھا تو (اس کی حقیقت یہ ہے کہ) اس کے والدین مومن تھے پس ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ (اگر زندہ رہا تو) مجبور کر دیگا انھیں سر کشی اور کفر پر

﴿81﴾ پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے انھیں ان کا رب (ایسا بیٹا) جو بہتر ہو اس سے پاکیزگی میں اور (ان پر) زیادہ مہربان ہو

﴿82﴾ باقی رہی دیوار ( تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ ) وہ شہر کے دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ (دفن ) تھا اور ان کا باپ بڑا نیک شخص تھا پس آپ کے رب نے ارادہ فرمایا کہ وہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور نکال لیں اپنا دفینہ یہ (ان پر) ان کے رب کی خاص رحمت تھی اور (جو کچھ میں نے کیا) میں نے اپنی مرضی سے نہیں کیا یہ حقیقت ہے ان امور کی جن پر آپ سے صبر نہ ہو سکا

﴿83﴾ اور وہ دریافت کرتے ہیں آپ سے ذی القرنین کے متعلق فرمائیے میں ابھی بیان کرتا ہوں تمھارے سامنے ان کا حال

﴿84﴾ ہم نے اقتدار بخشا تھا اسے زمین میں اور ہم نے دیا تھا اسے ہر چیز (تک رسائی حاصل کرنے ) کا سازو سامان

﴿85﴾ پس وہ روانہ ہوا ایک راہ پر

﴿86﴾ یہاں تک کہ جب وہ غروب آفتاب کی جگہ پہنچا تو اس نے اسے یوں پایا گویا وہ ڈوب رہا ہے ایک سیاہ کیچڑ کے چشمہ میں اور اس نے وہاں ایک قوم پائی ہم نے کہا اے ذوالقرنین!(تمھیں اختیار ہے) خواہ تم انھیں سزا دو خواہ تم ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو

﴿87﴾ ذوالقرنین نے کہا جس نے ظلم (کفر و فسق) کیا تو ہم ضرور اسے سزا دینگے پھر اسے لوٹا دیا جائیگا اس کے رب کی طرف تو وہ اسے عذاب دیگا بڑا ہی سخت عذاب

﴿88﴾ اور جو شخص ایمان لایا اور اچھے عمل کیے تو اس کے لیے اچھا معاوضہ ہے اور ہم اسے حکم دینگے ایسے احکام بجا لانے کا جو آسان ہوں گے

﴿89﴾ پھر وہ روانہ ہوا دوسرے راستہ پر

﴿90﴾ یہاں تک کہ جب وہ پہنچا طلوع آفتاب کے مقام پر تو اس نے پایا سورج کو کہ وہ طلوع ہو رہا ہے ایسی قوم پر کہ نہیں بنائی ہم نے ان کے لیے سورج (کی گرمی) سے بچنے کی آڑ

﴿91﴾ بات یونہی ہے اور ہم نے احاطہ کر رکھا ہے ہر اس چیز کا جو اس کے پاس تھی اپنے علم سے

﴿92﴾ پھر وہ روانہ ہوا یک اور راہ پر

﴿93﴾ یہاں تک کہ جب وہ پہنچادو پہاڑوں کے درمیان تو پایا اس نے ان پہاڑوں کے پیچھے ایک قوم کو جو نہیں سمجھ سکتے تھے (انکی ) کوئی بات

﴿94﴾ انھوں نے کہا اے ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج نے بڑا فساد برپا کر رکھا ہے اس علاقے میں تو کیا ہم مقرر کر دیں آپ کے لیے کچھ خراج تاکہ آپ بنا دیں ہمارے درمیان اور ان کے درمیان ایک بلند دیوار

﴿95﴾ وہ بولا وہ دولت جس میں میرے رب نے مجھے اختیار دیا ہے وہ بہتر ہے پس تم میری مدد کرو جسمانی مشقت سے میں بنا دوں گا تمھارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط آڑ

﴿96﴾ تم لے آؤ میرے پاس لوہے کی چادریں (چنانچہ کام شروع ہو گیا) یہاں تک کہ جب ہموار کر دیا گیا وہ خلا جو دو پہاڑوں کے درمیان تھاتو اس نے حکم دیا دھونکو یہاں تک کہ جب وہ لوہا آگ بنا دیا تو اس نے کہا لے آؤ میرے پاس پگھلا ہوا تانبا کہ میں اسے اس پگھلے ہوئے لوہے پر انڈیلوں

﴿97﴾ سو یاجوج ماجوج بڑی کوشش کے باوجود اسے سر نہ کر سکے اور نہ ہی اس میں سوراخ کر سکے

﴿98﴾ ذوالقرنین نے کہا یہ میرے رب کی رحمت ہے (کہ اس نے مجھے یہ توفیق بخشی) اور جب آجائے گا میرے رب کا وعدہ تو وہ اسے ریزہ ریزہ کر دے گا۔ اور میرے رب کا وعدہ (ہمیشہ) سچا ہوا کرتا ہے

﴿99﴾ اور ہم واگزار کر دیں گے بعض کو اس دن کہ وہ (تُند خوں کی طرح) دوسروں میں گھس جائیں گے اور صور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو اکٹھا کر دیں گے

﴿100﴾ اور ہم ظاہر کر دیں گے جہنم کو اس دن کفار کے لیے بالکل عیاں

﴿101﴾ وہ کافرجن کی آنکھوں پر پردے پڑے تھے میری یاد سے اور جو (کلمہ حق) سُن بھی نہیں سکتے تھے

﴿102﴾ کیا گمان کرتے ہیں کفار کہ وہ بنا لیں گے میرے بندوں کو میرے بغیر اپنا حمایتی (یہ نا ممکن ہے) بیشک ہم نے تیار کر رکھا ہے جہنم کو کفار کی رہائش کے لیے

﴿103﴾ فرمائیے (اے لوگو) کیا ہم مطلع کریں تمھیں ان لوگوں پر جو اعمال کے لحاظ سے گھاٹے میں ہیں

﴿104﴾ یہ وہ لوگ ہیں جن کی ساری جدوجہد دنیوی زندگی کی اراستگی میں کھو کر رہ گئی اور وہ یہ خیال کر رہے ہیں کہ وہ کوئی بڑا عمدہ کام کر رہے ہیں

﴿105﴾ یہی وہ (بد نصیب) ہیں جنھوں نے انکار کیا اپنے رب کی آیتوں کا اور اس کی ملاقات کا تو ضائع ہو گئے ان کے اعمال تو ہم ان (کے اعمال) تولنے کے لیے روز قیامت کوئی ترازو نصب نہیں کریں گے

﴿106﴾ یہ ہے ان کی جزا جہنم اس وجہ سے کہ انھوں نے کفر کیا اور میری آیتوں اور رسولوں کو مذاق بنا لیا

﴿107﴾ یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل (بھی ) کرتے رہے تو فردوس کے باغات ان کی رہائش گاہ ہونگے

﴿108﴾ وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں (اور) نہیں چاہیں گے کہ وہ اس جگہ کو بدل لیں

﴿109﴾ (اے حبیب!) آپ فرمائیے کہ اگر ہو جائے سمندر روشنائی میرے رب کے کلمات (لکھنے ) کے لیے تو ختم ہو جائیگا سمندر اس سے پیشتر کہ ختم ہوں میرے رب کے کلمات اور اگر ہم لے آئیں اتنی اور روشنائی اسکی مدد کو (تب بھی ختم ہونگے)

﴿110﴾ (اے پیکر رعنائی و زیبائی) آپ فرمائیے کہ میں بشر ہی ہوں تمھاری طرح وحی کی جاتی ہے میری طرف کہ تمھارا خدا صرف اللہ وحدہ ہے پس جو شخص امید رکھتا ہے اپنے رب سے ملنے کی تو اسے چاہیے کہ وہ نیک عمل کرے اور نہ شریک کرے اپنے رب کی عبادت میں کسی کو

مریم

Surah 19

﴿1﴾ كۗهٰيٰعۗصۗ

﴿2﴾ یہ ذکر ہے آپ کے رب کی رحمت کا جو اس نے اپنے بندے زکریا پر فرمائی

﴿3﴾ جب اس نے پکارا اپنے رب کو چپکے چپکے

﴿4﴾ عرض کی اے میرے رب! میری حالت یہ ہے کہ کمزور بوسیدہ ہو گئی ہیں میری ہڈیاں اور بالکل سفید ہو گیا ہے (میرا) سر بڑھاپے کی وجہ سے اور اب تک ایسا نہیں کہ میں نے تجھے پکارا ہو اے میرے رب ! اور میں نا مراد رہا ہوں

﴿5﴾ اور میں ڈرتا ہوں (اپنے بےدین) رشتے داروں سے (کہ وہ) میرے بعد (دین ضائع نہ کر دیں) اور میری بیوی بانجھ ہے پس بخشدے مجھے اپنے پاس سے ایک وارث

﴿6﴾ جو وارث بنے میرا اور وارث بنے یعقوب (علیہ السلام) کے خاندان کا اور بنا دے اسے اے رب! پسندیدہ (سیرت والا)

﴿7﴾ اے زکرّیا! ہم مثردہ دیتے ہیں تجھے ایک بچے (کی ولادت) کا اس کا نام یحییٰ ہو گا۔ ہم نے نہیں بنایا اس کا کوئی ہم نام اس سے پہلے

﴿8﴾ زکریا نے عرض کی میرے رب! کیسے ہو سکتا ہے میرے ہاں لڑکا حالانکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں خود پہنچ گیا ہوں بڑھاپے کی انتہا کو

﴿9﴾ فرمایا یونہی ہوگا تیرے رب نے فرمایا ہے کہ اس کبر سنی میں بچہ دینا میرے لیے آسان بات ہے اور (دیکھو) میں نے تمھیں بھی تو پیدا کیا تھا اس سے پیشتر حالانکہ تم کچھ بھی نہ تھے

﴿10﴾ زکریا نے عرض کی اے میرے رب ٹھیراؤ میرے لیے کوئی علامت جواب ملا تیری علامت یہ ہے کہ تو بات نہیں کر سکے گا لوگوں سے تین رات تک حالانکہ تو بالکل تندرست ہوگا

﴿11﴾ پھر آپ نکل کر آئے اپنی قوم کے پاس (اپنے) عبادتخانہ سے تو اشارہ سے انھیں سمجھایا کہ تم پاکی بیان کرو (اپنے رب کی) صبح و شام

﴿12﴾ اے یحییٰ پکڑ لو اس کتاب کو مضبوطی سے اور ہم نے عطا فرما دی ان کو دانائی جبکہ وہ بچے تھے

﴿13﴾ نیز عطا فرمائی دل کی نرمی اپنی جناب سے اور نفس کی پاکیزگی اور وہ بڑے پرہیزگار تھے

﴿14﴾ اور وہ خدمتگار تھے اپنے والدین کے اور وہ جابر (اور ) سر کش نہ تھے

﴿15﴾ اور سلامتی ہو ان پر جس روز وہ پیدا ہوئے اور جس روز وہ انتقال کریں گے اور جس روز انھیں اٹھایا جائیگا زندہ کر کے

﴿16﴾ اور (اے حبیب!) بیان کیجیے کتاب میں مریم (کا حال) جب وہ الگ ہو گئی اپنے گھر والوں سے ایک مکان میں جو مشرق کی جانب تھا

﴿17﴾ پس بنا لیااس نے لوگوں کی طرف سے ایک پردہ پھر ہم نے بھیجا اس کی طرف اپنے جبرئیل کو پس وہ ظاہر ہوا اس کے سامنے ایک تندرست انسان کی صورت میں

﴿18﴾ مریم بولیں میں پناہ مانگتی ہوں رحمن کی تجھ سے اگر تو پرہیزگار ہے

﴿19﴾ جبرائیل نے کہا میں تو تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ میں عطا کروں تجھے ایک پاکیزہ فرزند

﴿20﴾ مریم (حیرت سے) بولیں (اے بندہ خدا) کیونکر ہو سکتا ہے میرے ہاں بچّہ حالانکہ نہیں چھوا مجھے کسی بشر نے اور نہ میں بد چلن ہوں

﴿21﴾ جبرائیل نے کہا یہ درست ہے (لیکن) تیرے رب نے فرمایا یوں بچہّ دینا میرے لیے معمولی بات ہے اور (مقصد یہ ہے کہ) ہم بنائیں اسے اپنی (قدرت کی ) نشانی لوگوں کے لیے اور سراپا رحمت اپنی طرف سے اور یہ ایسی بات ہے جس کا فیصلہ ہو چکا ہے

﴿22﴾ پس وہ حاملہ ہو گئیں اس (بچہّ) سے پھر وہ چلی گئیں اسے (شکم میں ) لیے کسی دور جگہ

﴿23﴾ پس لے آیا انھیں دردِ زہ ایک کھجور کے تنے کے پاس (بصد حسرت دیاس) کہنے لگیں کاش! میں مر گئی ہوتی اس سے پہلے اور بالکل فراموش کر دی گئی ہوتی

﴿24﴾ پس پکارا اسے ایک فرشتہ نے اسکے نیچے سے (اے مریم) غمزدہ نہ ہو جاری کر دی ہے تیرے رب نے تیرے نیچے ایک ندی

﴿25﴾ اور ہلاؤ اپنی طرف کھجور کے تنے کو گرِنے لگیں گی تم پر پکی ہوئی کھجوریں

﴿26﴾ (بیٹھے بیٹھے خرمے) کھاؤ اور (ٹھنڈا پانی) پیو اور (اپنے فرزند دلبند کو دیکھ کر) آنکھیں ٹھنڈی کرو پھر اگر تم دیکھو کسی آدمی کو تو (اشارہ سے اسے) کہو کہ میں نے نذر مانی ہوئی ہے رحمن کے لیے (خاموشی کے) روزہ کی پس میں آج کسی انسان سے گفتگو نہیں کروں گی

﴿27﴾ اس کے بعد وہ لے آئیں بچہّ کو اپنی قوم کے پاس (گود میں) اٹھائے ہوئے انھوں نے کہا اے مریم! تم نے بہت ہی برا کام کیا ہے

﴿28﴾ اے ہارون کی بہن! نہ تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں بد چلن تھی

﴿29﴾ اِس پر مریم نے بچہّ کی طرف اشارہ کیا لوگ کہنے لگے ہم کیسے بات کریں اس سے جو گہوارہ میں (کمسن) بچہّ ہے

﴿30﴾ (اچانک) وہ بچہّ بول پڑا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب عطا کی ہے اور اس نے مجھے نبی بنایا ہے

﴿31﴾ اور اسی نے مجھے با برکت کیا ہے جہاں کہیں بھی میں ہوں اور اسی نے مجھے حکم دیا ہے نماز ادا کرنے کا اور زکوٰۃ دینے کا جب تک میں زندہ رہوں

﴿32﴾ اور مجھے خدمتگار بنایا ہے اپنی والدہ کا اور اس نے نہیں بنایا مجھے جابر (اور) بدبخت

﴿33﴾ اور سلامتی ہو مجھ پر جس روز میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں گا اور جس دن مجھے اٹھایا جائیگا زندہ کر کے

﴿34﴾ یہ ہے عیسیٰ بن مریم (اور یہ ہے وہ) سچی بات جس میں لوگ جھگڑ رہے ہیں

﴿35﴾ یہ زیبا ہی نہیں اللہ تعالیٰ کو کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے وہ پاک ہے جب وہ فیصلہ فرما دیتا ہے کسی کام کا تو بس صرف اتنا حکم دیتا ہے اس کے لیے کہ ہو جا تو وہ کام ہو جاتا ہے

﴿36﴾ اور بلا شبہ اللہ تعالیٰ میرا بھی پروردگار ہے اور تمھارا بھی سو اسی کی عبادت کیا کرو یہی سیدھا راستہ ہے

﴿37﴾ پھر کئی گروہ آپس میں اختلاف کرنے لگے پس ہلاکت ہے کفار کے لیے اس دن کی حاضری سے جو بہت بڑا ہے

﴿38﴾ (اس دن) یہ خوب سننے لگیں گے اور خوب دیکھنے لگیں گے جس دین آئیں گے ہمارے پاس لیکن یہ ظالم آج تو کھلی گمراہی میں ہیں

﴿39﴾ اور اے نبی کریم ! آپ ڈرائیے انھیں حسرت و ندامت کے دن سے جب ہر بات کا فیصلہ کر دیا جائیگا اور آج یہ لوگ غفلت میں ہیں اور یہ ایمان نہیں لاتے

﴿40﴾ یقیناً ہم ہی وارث ہوں گے زمین کے اور جو کچھ اس کے اوپر ہے اور ہماری طرف ہی سب لوٹائے جائینگے

﴿41﴾ اور ذکر کیجیے آپ کتاب میں ابراہیم (علیہ السلام) کا وہ بڑا راستباز نبی تھا

﴿42﴾ جب انھوں نے کہا اپنے باپ سے کہ اے میرے باپ تو کیوں عبادت کرتا ہے اس کی جو نہ کچھ سنتا ہے اور نہ کچھ دیکھتا ہے اور نہ تجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتاہے

﴿43﴾ اے میرے باپ بیشک آیا ہے میرے پاس وہ علم جو تیرے پاس نہیں آیا اس لیے تو میری پیروی کر میں دکھاؤں گا تجھے سیدھا راستہ

﴿44﴾ اے باپ! شیطان کی پوجا نہ کیا کر بیشک شیطان تو رحمن کا نافرمان ہے

﴿45﴾ اے باپ! میں ڈرتا ہوں کہ کہیں تجھے پہنچے عذاب (خدائے) رحمن کی طرف سے تو تو بن جائے شیطان کا ساتھی

﴿46﴾ باپ نے کہا کیا روگردانی کرنے والا ہے تو میرے خداؤں سے اے ابراہیم؟ اگر تم باز نہ آئے تو میں تمھیں سنگسار کر دوں گا اور دور ہو جا میرے سامنے سے کچھ عرصہ

﴿47﴾ ابراہیم نے (جواب میں ) کہا سلام ہو تم پر میں مغفرت طلب کرونگا تیرے لیے اپنے رب سے بیشک وہ مجھ پر بیحد مہربان ہے

﴿48﴾ اور میں الگ ہو جاؤں گا تم سے اور (ان سے بھی) جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اور میں اپنے رب کی عبادت کرونگا۔ مجھے امید ہے کہ میں اپنے رب کی عبادت کی برکت سے نا مراد نہیں رہونگا

﴿49﴾ پس جب وہ جدا ہو گیا ان سے اور جن کی وہ عبادت کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر تو عطا فرمایا ہم نے ابراہیم کو اسحق اور یعقوب اور سب کو ہم نے نبی بنایا

﴿50﴾ اور ہم نے عطا فرمائیں انھیں اپنی رحمت سے (طرح طرح کی نعمتیں) اور ہم نے ان کے لیے سچی اور دائمی تعریف کی آواز بلند کر دی

﴿51﴾ اور ذکر فرمائیے کتاب میں موسیٰ کا بیشک وہ (اللہ کے چنے ہوئے) تھے اور رسول و نبی تھے

﴿52﴾ اور ہم نے انھیں پکارا طور کی دائیں جانب سے اور ہم نے انھیں قریب کیا راز کی باتیں کرنے کے لیے

﴿53﴾ اور ہم نے بخشا انہیں اپنی خاص رحمت سے ان کا بھائی ہارون جو نبی تھا

﴿54﴾ اور ذکر کیجیے کتاب میں اسمعیل کو بیشک وہ وعدہ کے سچے تھے اور رسول (اور) نبی تھے

﴿55﴾ اور وہ حکم دیا کرتے تھے اپنے گھر والوں کو نماز پڑھنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا اور اپنے رب کے نزدیک بڑے پسندیدہ تھے

﴿56﴾ اور ذکر فرمائیے کتاب میں ادریس ( علیہ السلام) کا بیشک وہ بڑے راستباز تھے (اور) نبی تھے

﴿57﴾ اور ہم نے بلند کیا تھا انھیں بڑے اونچے مقام تک

﴿58﴾ یہ وہ (مُقدس ہستیاں) ہیں جن پر انعام فرمایا اللہ تعالیٰ نے انبیاء (کرام کے زمرہ) سے یہ آدم کی اولاد سے تھے۔ اور بعض ان کی اولاد جن کو ہم نے سوار کیا تھا (کشتی میں ) نوح کے ساتھ اور بعض ابراہیم اور یعقوب کی اولاد سے تھے اور ان میں سے جنھیں ہم نے ہدایت دی اور چُن لیا۔ جب پڑھی جاتی ہیں ان کے سامنے رحمن کی آیتیں تو وہ گِر پڑتے ہیں سجدہ کرتے ہوئے اور (زار و قطار) روتے ہوئے

﴿59﴾ پس جانشین بنے ان کے بعدوہ نا خلف جنھوں نے ضائع کیا نمازوں کو اور پیروی کی خواہشات (نفسانی) کی سو وہ دو چار ہونگے اپنی نافرمانی (کی سزا) سے

﴿60﴾ مگر جو تائب ہوئے اور ایمان لائے اور نیک عمل کیے تو یہ لوگ جنت میں داخل ہونگے اور ان پر ذرا ظلم نہیں کیا جائیگا

﴿61﴾ سدا بہار چمن جن کا وعدہ (خداوند) رحمن نے اپنے بندوں سے غیب میں کیا ہے یقیناً اس کا وعدہ پورا ہو کر رہنے والا ہے

﴿62﴾ نہیں سنیں گے جنت میں کوئی لغو بات بجز ’سلامت رہو‘ کی دعائیہ صدا۔ اور انہیں ان کا رزق ملے گا وہاں ہر صبح و شام

﴿63﴾ یہ وہ جنت ہے جس کا ہم وارث بنائیں گے اپنے بندوں سے (صرف ) اس کو جو متقی ہو گا

﴿64﴾ اور ( جبرائیل! میرے نبی سے کہو) ہم نہیں اترتے مگر آپ کے رب کے حکم سے اسی کا ہے جو ہمارے سامنے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے اور نہیں ہے آپ کا رب بھولنے والا

﴿65﴾ وہ پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سو اس کی عبادت کرو اور ثابت قدم رہو اس کی عبادت پر۔ کیا تم جانتے ہو کہ اس کا کوئی ہم مثل ہے

﴿66﴾ اور انسان (ازراہ انکار) کہتا ہے کہ کیا جب میں مر جاؤں گا تو مجھے پھر زندہ کر کے نکالا جائے گا؟

﴿67﴾ کیا یاد نہ رہا انسان کو کہ ہم نے ہی پیدا کیا اسے اس سے پہلے حالانکہ وہ کچھ بھی نہ تھا

﴿68﴾ سو (اے محبوب!) تیرے رب کی قسم! ہم جمع کرینگے انھیں بھی اور شیطانوں کو بھی پھر حاضر کرینگے ان سب کو جہنم کے ارد گرد کہ وہ گھٹنوں کے بل گرے ہونگے

﴿69﴾ پھر ہم (چُن چُن کر) الگ کر لینگے ہر گروہ سے ان لوگوں کو جو (خداوند) رحمن کے سخت نا فرمان تھے

﴿70﴾ پھر ہم ہی خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو زیادہ مستحق ہیں اس آگ میں تپائے جانے کے

﴿71﴾ اور تم سے کوئی ایسا نہیں مگر اس کا گزر دوزخ پر ہوگا یہ آپ کے رب پر لازم ہے (اور اس کا) فیصلہ ہو چکا ہے

﴿72﴾ پھر ہم نجات دینگے پرہیزگاروں کو اور رہنے دینگے ظالموں کو دوزخ میں کہ وہ گھٹنوں کے بل گرے ہونگے

﴿73﴾ اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان کے سامنے ہماری آیتیں وضاحت سے (تو) کافر کہتے ہیں ایمان والوں سے کہ (یہ تو بتاؤ) ہم دونوں گروہوں میں سے کس کی رہائش گاہ آرام دہ ہے اور کس کی نشست گاہ خوبصورت ہے

﴿74﴾ اور (ان احمقوں نے یہ سوچا ) کہ کتنی قومیں ان سے پہلے تھیں جنکو ہم نے برباد کر دیا۔ وہ سازو سامان اور ظاہری سج دھج میں (ان سے ) بہتر تھیں۔

﴿75﴾ آپ فرمائیے جو گمراہی میں (مگن ) ہو تو ڈھیل دیے رکھتا ہے اسے رحمن لمبی ڈھیل ۔ یہاں تک کہ جب دیکھیں گے وہ چیز جس کا وعدہ کیا گیا ہے یعنی عذاب یا قیامت تو اس وقت انھیں پتہ چلے گا کہ کون مکان کے لحاظ سے برا اور لشکر کے اعتبار سے کمزور ہے

﴿76﴾ اور زیادہ کرتا رہتا ہے اللہ تعالیٰ ہدایت یافتہ لوگوں (کے نور) ہدایت کو اور باقی رہنے والی نیکیاں بہتر ہیں آپ کے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے اور انھیں کا انجام اچھا ہے

﴿77﴾ کیا آپ نے دیکھا اس کو جس نے انکار کیا ہماری آیتوں کا اور کہنے لگا کہ مجھے ضرور ضرور دیا جائیگا مال اور اولاد

﴿78﴾ (اس لاف زنی کی وجہ کیا ہے) کیا وہ آگاہ ہو گیا ہے غیب پر یا لے لیا ہے اس نے (خداوند ) رحمن سے کوئی وعدہ؟

﴿79﴾ ہر گز ایسا نہیں ۔ ہم لکھ لیں گے جو یہ کہہ رہا ہے اور لمبا کر دینگے اس کے لیے عذاب کو خوب لمبا کرنا

﴿80﴾ اور ہم ہی وارث ہونگے جو وہ کہتا ہے (یعنی اسکے مال و اولاد کے) اور وہ ہمارے پاس تنہا آئیگا

﴿81﴾ اور انھوں نے بنا لیے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا اور خدا کہ وہ ان کے لیے مدد گار بنیں

﴿82﴾ ہر گز نہیں۔ وہ جھوٹے خدا انکار کر دیں گے ان کی عبادت کا اور وہ (الٹے) ان کے دشمن ہو جائینگے

﴿83﴾ کیا آپ نے ملاحظہ نہیں کیا کہ ہم نے مسلّط کر دیا ہے شیطانوں کو کفار پر۔ وہ انہیں (اسلام کے خلاف) ہر وقت اکساتے رہتے ہیں

﴿84﴾ پس عجلت نہ کیجیے ان پر (نزول عذاب کے لیے) ہم گِن رہے ہیں ان کے ایام زندگی کو اچھی طرح

﴿85﴾ وہ دن جب ہم اکٹھا کرینگے پرہیزگاروں کو رحمن کے حضور میں (معزز ومکرم مہمان بنا کر)

﴿86﴾ اور اس روزہانک کر لائینگے مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسے جانور کی طرح

﴿87﴾ انھیں کوئی اختیار نہیں ہوگا شفاعت کا ۔ بجز ان کے جنھوں نے خداوند رحمن سے کوئی وعدہ لے لیا ہے

﴿88﴾ اور کفّار کہتے ہیں بنا لیا ہے رحمن نے (فلاں کو اپنا) بیٹا

﴿89﴾ (اے کافرو!) یقیناً تم نے ایسی بات کی ہے جو سخت معیوب ہے

﴿90﴾ قریب ہے آسمان شق ہو جائیں اس (خرافات) سے اور زمین پھٹ جائے اور پہاڑ گر پڑیں لرزتے ہوئے

﴿91﴾ کیونکہ وہ کہہ رہے ہیں کہ رحمن کا ایک بیٹا ہے

﴿92﴾ اور نہیں جائز رحمن کے لیے کہ وہ بنائے کسی کو (اپنا ) فرزند

﴿93﴾ کوئی ایسی چیز نہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہے مگر وہ حاضر ہو گی رحمن کی بار گاہ میں بندہ بن کر

﴿94﴾ اللہ تعالیٰ نے ان سب کا شمار کر رکھا ہے اور انہیں گِن لیا ہے اچھی طرح

﴿95﴾ اور وہ سب پیش ہونگے اس کے سامنے قیامت کے دن تنہا

﴿96﴾ بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے پیدا فرما دیگا خدائے مہربان ان کے لیے (دِلوں میں ) محبت

﴿97﴾ صرف اس لیے ہم نے آسان کر دیا ہے قرآن کو آپ کی زبان میں اتار کرتا کہ آپ مژدہ سنائیں اس سے پرہیزگاروں کو اور ڈرائیں اس کے ذریعے اس قوم کو جو بڑی جھگڑالو ہے

﴿98﴾ اور کتنی قومیں تھیں جن کو ہم نے ہلاک کر دیا ان سے پہلے۔ کیا محسوس کر تے ہیں ان میں سے کسی کو یا سنتے ہو ان کی کوئی آہٹ

طٰہٰ

Surah 20

﴿1﴾ طٰهٰ

﴿2﴾ نہیں اتارا ہم نے آپ پر یہ قرآن کہ آپ مشقت میں پڑیں

﴿3﴾ بلکہ یہ نصیحت ہے اس کے واسطے جو (اپنے رب سے) ڈرتا ہے

﴿4﴾ یہ اتارا گیا ہے اس ذات کی طرف سے جس نے پیدا فرمایا زمین کو اور بلند آسمانوں کو

﴿5﴾ یہ وہ بیحد مہربان (کائنات کی فرمانروائی کے) تخت پر متمکّن ہوا

﴿6﴾ اسی کے ملک میں جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو کچھ گیلی مٹی کے نیچے ہے

﴿7﴾ اور اگر تو بلند آواز سے بات کرے (تو تیری مرضی) وہ تو بلاشبہ جانتا ہے رازون کو بھی اور دلوں کے بھیدوں کو بھی

﴿8﴾ اللہ (وہ ہے کہ ) کوئی عبادت کے لائق نہیں بغیر اس کے لیے بڑے خوبصورت نام ہیں

﴿9﴾ اور (اے حبیب!) کیا پہنچی ہے آپ کو اطلاع موسیٰ کے قصّہ کی

﴿10﴾ جب (مدین سے واپسی پر تاریک رات میں ) آپ نے آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں کو کہا تم (ذرا یہاں) ٹھیرو۔ میں نے آگ دیکھی ہے شاید میں لے آؤں تمھارے لیے اس سے کوئی چنگاری یا مجھے مل جائے آگ کے پاس کوئی راہ دکھانے والا

﴿11﴾ پس جب آپ وہاں پہنچے تو ندا کی گئی اے موسیٰ

﴿12﴾ بلاشبہ میں تیرا پروردگار ہوں۔ پس تو اتار دے اپنے جوتے بےشک تو طوٰی کی مقدّس وادی میں ہے

﴿13﴾ اور میں نے پسند کر لیا ہے تجھے (رسالت کے لیے) سو خوب کان لگا کر سن جو وحی کیا جاتا ہے

﴿14﴾ یقیناً میں ہی اللہ ہوں نہیں ہے کوئی معبود میرے سوا پس تو میری عبادت کیا کر اور ادا کیا کر نماز مجھے یاد کرنے کے لیے

﴿15﴾ بیشک وہ گھڑی (قیامت) آنیوالی ہے میں اسے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ بدلہ دیا جائے ہر شخص کو اس کام کا جس کے لیے وہ کوشاں ہے

﴿16﴾ پس ہر گز نہ روکے تجھے اس (کو ماننے) سے وہ شخص جو نہیں ایمان رکھتااس پر اور پیروی کرتا ہے اپنی خواہش کی ورنہ تم بھی ہلاک ہوجاؤ گے

﴿17﴾ اور (ندا آئی) یہ آپ کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے اے موسیٰ

﴿18﴾ عرض کی (میرے رب!) یہ میرا عصا ہے میں ٹیک لگاتا ہوں اس پر اور میں پتے جھاڑتا ہوں اس سے اپنی بکریوں کے لیے اور میرے لیے اس میں کئی اور فائدہ بھی ہیں

﴿19﴾ حکم ہو ا ڈال دے اسے زمین پر اے موسیٰ

﴿20﴾ تو آپ نے اسے زمین پر ڈال دیا پس اچانک وہ سانپ بن کر (اِدھر ادھر ) دوڑنے لگا

﴿21﴾ حکم ہوا اسے پکڑ لو اور مت ڈروہم لوٹا دینگے اسے اپنی پہلی حالت پر

﴿22﴾ اور (حکم ملا) دبا لو اپنا ہاتھ اپنے بازو کے نیچے یہ نکلے گا خوب سپید ہو کر بغیر کسی بیماری کے یہ دوسرا معجزہ (ہم نے تمھیں دیا) ہے

﴿23﴾ تا کہ ہم دکھائیں تمھیں اپنی بڑی بڑی نشانیاں

﴿24﴾ (اب ) جائیے فرعون کے پاس وہ سر کش بن گیا ہے

﴿25﴾ آپ نے دعا مانگی اے میرے پروردگار! کشادہ فرما دے میرے لیے میرا سینہ

﴿26﴾ اور آسان فرمادے میرے لیے میرا یہ (کٹھن) کام

﴿27﴾ اور کھول دے گرہ میری زبان کی

﴿28﴾ تا کہ اچھی طرح سمجھ سکیں وہ لوگ میری بات

﴿29﴾ اور مقرر فرما میرا وزیر میرے خاندان سے

﴿30﴾ یعنی ہارون کو جو میرا بھائی ہے

﴿31﴾ مضبوط فرما دے اس سے میری کمر

﴿32﴾ اور شریک کر دے اسے میری ( اس ) مہم میں

﴿33﴾ تا کہ ہم دونوں کثرت سے تیری پاکی بیان کریں

﴿34﴾ اور ہم کثرت سے تیرا ذکر کریں

﴿35﴾ بیشک تو ہمارے (ظاہر وباطن کو) خوب دیکھنے والا ہے

﴿36﴾ جواب ملا منظوری کر لی گئی ہے آپ کی درخواست اے موسیٰ

﴿37﴾ اور ہم نے احسان فرمایا تھا تم پر ایک بار پہلے بھی

﴿38﴾ جب ہم نے وہ بات الہام کی تمھاری ماں کو جو الہام کیے جانے کے قابل تھی

﴿39﴾ یہ کہ رکھ دو اس معصوم بچے کو صندوق میں پھر ڈال دو اس صندوق کو دریا میں پھینگ دے گا اسے دریا ساحل پر پھر پکڑیگا اسے وہ شخص جو میرا بھی دشمن ہے اور اس بچے کا بھی دشمن ہے اور ( اے موسیٰ) میں نے پر تو ڈالا تجھ پر محبت کا اپنی جناب سے (تا کہ جو دیکھے فریفتہ ہو جائے) اور (اس تدبیر کا منشاء یہ تھا) کہ آپکی پرورش کی جائے میری چشم (کرم) کے سامنے

﴿40﴾ یاد کرو جب چلتے چلتے آئی آپ کی بہن اور کہنے لگی (فرعون کے اہل خانہ سے) کیا میں بتاؤں تمھیں وہ آدمی جو اس کی پرورش کر سکے پس (یوں) ہم نے آپکو لوٹا دیا آپ کی ماں کی طرف تاکہ ( آپ کو دیکھ کر) اپنی آنکھ ٹھنڈی کرے اور غمناک نہ ہو او (ر تمھیں یاد ہے جب) تو نے مار ڈالا تھا ایک شخص کو پس ہم نے نجات دی تمھیں غم و اندوہ سے اور ہم نے تمھیں اچھی طرح جانچ لیا تھا پھر تم ٹھہرے رہے کئی سال اہل مدین میں پھر تم آ گئے ایک مقررہ وعدہ پر اے موسیٰ

﴿41﴾ اور میں نے مخصوص کر لیا ہے تمھیں اپنی ذات کے لیے

﴿42﴾ اب جائیے آپ اور آپ کا بھائی میری نشانیاں لیکر اور نہ سْستی کرنا میری یاد میں

﴿43﴾ آپ دونوں جائیں فرعون کے پاس وہ سرکش بنا بیٹھا ہے

﴿44﴾ اور گفتگو کریں اس کے ساتھ نرم انداز سے شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ( میرے غضب سے ) ڈرنے لگے

﴿45﴾ دونوں نے عرض کی اے ہمارے رب! ہمیں یہ خوف ہے کہ وہ دست درازی کرے گا ہم پر یا سرکشی سے پیش آئیگا

﴿46﴾ ارشاد ہوا ڈرو نہیں ۔ میں یقیناً تمھارے ساتھ ہوں (ہر بات) سُن رہا ہوں اور ( ہر چیز) دیکھ رہا ہوں

﴿47﴾ پس (بیخوف و خطر) اس کے پاس جاؤ اور اسے بتاؤ ہم دونوں تیرے رب کے فرستادہ ہیں پس بھیجدے ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو اور انھیں (اب مزید) عذاب نہ دے ہم لے آئے ہیں تیرے پاس ایک نشانی تیرے رب کے پاس سے اور سلامتی ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے

﴿48﴾ بیشک وحی کی گئی ہے ہماری طرف کہ عذاب (خداوندی) اس پر آئیگا جو جھٹلاتا ہے (کلام الہی کو) اور روگردانی کرتا ہے

﴿49﴾ فرعون نے پوچھا موسیٰ! تم دونوں کا رب کون ہے؟

﴿50﴾ فرمایا ہمارا رب وہ ہے جس نے عطا کی ہر چیز کو (موزون) صورت پھر (مقصد تخلیق کی طرف) ہر چیز کی رہنمائی کی

﴿51﴾ اس نے کہا (اچھا یہ بتاؤ) کیا حال ہوا پہلی قوموں کا

﴿52﴾ فرمایا ان کا علم میرے رب کے پاس ہے جو کتاب میں (مرقوم) ہے نہ بھٹکتا ہے میرا رب اور نہ (کسی چیز کو) بھولتا ہے

﴿53﴾ وہ ذات جس نے تمھارے لیے زمین کو بچھونا بنایا اور بنا دئیے تمھارے فائدہ کے لیے اس میں راستے اور اتارا آسمان سے پانی پھر ہم نے نکالے پانی کے ذریعے (شکم زمین سے) جوڑے گوناں گوں نباتات کے

﴿54﴾ خود بھی کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو بھی چراؤ۔ بیشک اس میں (ہماری قدرت و حکمت کی) نشانیاں ہیں دانشوروں کے لیے

﴿55﴾ اسی زمین سے ہم نے تمھیں پیدا کیا ہے اور اسی میں ہم تمھیں لوٹائیں گے اور (روز حشر) اسی سے ہم تمھیں نکالیں گے ایکبار پھر

﴿56﴾ اور ہم نے دکھلا ددیں فرعون کو اپنی ساری نشانیاں پھر بھی اس نے جھٹلایا اور ماننے سے انکار کر دیا

﴿57﴾ کہنے لگا موسیٰ! کیا تم اس لیے ہمارے پاس آئے ہو کہ نکال دو ہمیں اپنے ملک سے اپنے جادو کی طاقت سے

﴿58﴾ سو ہم بھی لائیں گے تیرے مقابلے میں جادو ویسا ہی پس (اب ) مقرر کرو ہمارے اور اپنے درمیان مقابلے کا دِن نہ ہم پھریں ا س سے اور نہ ہی تو پھرے جمع ہونے کی جگہ ہموار اور کھلی ہو

﴿59﴾ آپ نے فرمایا (تمھارا چیلنج منظور ہے) جشن کا دِن تمھارے لیے مقرر کرتا ہوں۔ اور یہ خیال رہے کہ سارے لوگ چاشت کے وقت جمع ہو جائیں

﴿60﴾ پھر فرعون واپس مڑا اور اکٹھا کیا اپنی فریب کاریوں کو پھر خود آیا

﴿61﴾ فرمایا ان فرعونیوں کو موسیٰ ؑنے کمبختو ! نہ بہتان باندھو اللہ تعالیٰ پر جھوٹے ورنہ وہ تمھارا نام و نشان مٹا دیگا کسی عذاب سے اور (اس کا یہ اٹل قانون ہے) کہ ہمیشہ نا مراد رہتا ہے جو افتراء بازی کرتا ہے

﴿62﴾ پس وہ جھگڑنے لگے اس کام کے متعلق آپس میں اور چھپ چھپ کر مشورے کرنے لگے

﴿63﴾ (وہ ایک دوسرے کو کہنے لگے بلاشبہ یہ دو جادوگر ہیں یہ چاہتے ہیں کہ نکال دیں تمھیں تمھارے ملک سے اپنے جادو کے زور سے اور مٹا دیں تمھاری تہذیب و ثقافت کے ) مثالی طریقوں کو

﴿64﴾ پس یکجا کر لو اپنی حیلہ سازیوں کو پھر آؤ پرے باندھے ہوئے۔ اور کامیاب ہوگا آج وہ گروہ جو (اس مقابلہ میں) غالب رہا

﴿65﴾ جادوگر بولے اے موسیٰ! کیا پہلے آپ پھینکیں گے یا ہم ہی ہو جائیں پہلے پھینکنے والے؟ آپ نے فرمایا نہیں، تم ہی ( پہلے) پھینکو

﴿66﴾ پھر کیا تھا یکا یک ان کی رسیاں اور انکی لاٹھیاں آپ کو یوں دکھائی دینے لگیں ان کے جادو کے اثر سے جیسے وہ دوڑ رہی ہوں

﴿67﴾ موسیٰ علیہ السّلام نے اپنے دل میں کچھ خوف محسوس کیا

﴿68﴾ ہم نے فرمایا (اے کلیم!) مت ڈرو۔ یقیناً تم ہی غالب رہو گے

﴿69﴾ اور زمین پر پھینک دو جو (عصا) تمھارے داہنے ہاتھ میں ہے یہ نگل جائیگا جو انھوں نے کاریگری کی ہے وہ تو فقط جادو گر کا فریب ہے اور نہیں فلاح پاتا جادو گر جہاں بھی وہ جائے

﴿70﴾ پس گرا دیے گئے جادوگر سجدہ کرتے ہوئے انھوں نے (بر ملا) کہ دیا (اے لوگو! سُن لو) ہم ایمان لے آئے ہیں ہارون اور موسیٰ کے رب پر

﴿71﴾ فرعون (کویارائے ضبط نہ رہا) بولا تم ایمان لا چکے تھے اس پر اس سے پہلے کہ میں نے تمھیں ( مقابلہ کی) اجازت دی ۔ وہ تو تمھارا بڑا (گرو) ہے جس نے تمھیں سکھایا ہے جادو (کا فن) تو میں قسم کھاتا ہوں کہ میں کاٹ ڈالوں گا تمھارے ہاتھ پاؤں یعنی ایک طرف کا ہاتھ ایک طرف کا پاؤں اور سولی چڑھاؤں گا تمھیں کھجور کے تنوں پر اور تم خوب جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب شدید اور دیرپا ہے

﴿72﴾ انھوں نے کہا (اے فرعون!) ہمیں اس کی قسم جس نے ہمیں پیدا کیا ہم ہر گز ترجیح نہیں دینگے تجھے ان روشن دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئی ہیں پس (ہمارے بارے میں) جو فیصلہ تو کرنا چاہتا ہے کر دے (ہمیں ذرا پرواہ نہیں) تو صرف اس (فانی) دنیوی زندگی کے بارے میں ہی فیصلہ کر سکتا ہے

﴿73﴾ یقیناً ہم ایمان لے آئے ہیں اپنے رب پر تاکہ وہ بخشدے ہمارے لیے ہماری خطاؤں کو اور اس قصور کو بھی جس پر تم نے مجبور کیا ہے یعنی فن سحر۔ اور اللہ تعالیٰ ہی سب سے بہتر ہے اور ہمیشہ رہنے والا ہے

﴿74﴾ بیشک جو شخص بارگاہ الہٰی میں مجرم بن کر آئے تو اس کے لیے جہنم (کا شعلہ زار) ہے ۔ نہ وہ مر ہی سکے گا اس میں اور نہ وہ زندہ ہوگا

﴿75﴾ اور جو شخص حاضر ہوگا بار گاہ الہٰی میں مومن بن کر اس حال میں کہ اس نے عمل بھی نیک کیے ہوں تو یہ وہ (سعادتمند) ہیں جن کے لیے بلند درجات ہیں

﴿76﴾ یعنی سدا بہار باغات رواں ہیں جن کے نیچے نہریں وہ (خوش نصیب) ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ ہے جزا ن کی جنھوں نے (اپنا دامن ہر آلائش سے ) پاک رکھا

﴿77﴾ اور ہم نے وحی بھیجی موسیٰ ( علیہ السلام) کی طرف کہ راتوں رات لے چلیے میرے بندوں کو (مصر سے) (راہ میں سمندر حائل ہو) تو عصا کی ضرب سے ان کے لیے سمندر میں خشک راستہ بنا لیجیے نہ تمھیں پیچھے سے پکڑے جانے کا ڈر ہوگا اور نہ کوئی اور اندیشہ

﴿78﴾ پس فرعون نے ان کا تعاقب کیا اپنے لشکروں سمیت پس چھا گئیں فرعونیوں پر سمندر (کی تند موجیں) جیسا کہ چھا گئیں ان پر

﴿79﴾ اور گمراہ کر دیا فرعون نے اپنی قوم کو اور نہ دکھائی انھیں سیدھی راہ

﴿80﴾ اے بنی اسرائیل!(دیکھو) ہم نے بچا لیا تمھیں تمھارے دشمن سے اور ہم نے تم سے وعدہ کیا (کوہِ) طور کی دائیں جانب کا اور ہم نے اتارا تم پر من و سلوٰی

﴿81﴾ کھاؤ ان پاک چیزوں سے جو ہم نے تم کو عطا کی ہیں اور ا س میں حد سے تجاوز نہ کرنا ورنہ اترے گا تم پر میرا غضب اور وہ (بد نصیب) اترتا ہے جس پر میرا غضب تو یقیناً وہ گِر کر رہتا ہے

﴿82﴾ اور میں بلاشبہ بہت بخشنے والا ہوں اسے جو توبہ کرتا ہے اور ایمان لاتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے بعد ازاں ہدایت پر مستحکم رہتا ہے

﴿83﴾ اور کس وجہ سے تم جلدی آگئے اپنی قوم سے اے موسیٰ

﴿84﴾ عرض کی وہ یہ ہیں میرے پیچھے اور میں جلدی جلدی تیری بارگاہ میں ا س لیے حاضر ہو گیا ہوں میرے رب! کہ تو راضی ہو جائے

﴿85﴾ ارشاد ہوا کہ ہم نے تو آزمائش میں مبتلا کر دیا تمھاری قوم کو تمھارے (چلے آنے کے) بعد اور گمراہ کر دیا ہے، انھیں سامری نے

﴿86﴾ (یہ سنتے ہی) لوٹے موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف غضب ناک اور افسردہ خاطر ہو کر۔ فرمایا اے میری قوم! کیا وعدہ نہیں کیا تھا تم سے تمھارے رب نے بہت عمدہ وعدہ۔ تو کیا طویل مدّت گزر گئی ہے اس وعدہ پر (اور تم اس کے ایفاء سے مایوس ہو گئے) یا تم یہ چاہتے ہو کہ اترے تم پر غضب تمھارے رب کی طرف سے اس لیے تم نے توڑ ڈالا میرے ساتھ کیا ہوا وعدہ

﴿87﴾ کہنے لگے نہیں توڑا ہم نے آپ سے کیا ہوا وعدہ اپنے اختیار سے بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ہم پر لاد دئیے گئے تھے بوجھ قوم (فرعون) کے زیورات سے سو ہم نے (سامری کے کہنے پر) انھیں پھینک دیا۔ اسی طرح سامری نے بھی (اپنے حصّہ کے زیور ) پھینک دئیے

﴿88﴾ پھر سامری نے بنا نکالا ان کے لیے بچھڑے کا ڈھانچہ جو گائے کی طرح ڈکارتا تھا پھر سامری اور اس کے چیلوں نے کہا (اے فرزندان یعقوب) یہ ہے تمھارا خدا اور موسیٰ کا خدا پس موسیٰ بھول گئے

﴿89﴾ کیا ان احمقوں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ یہ بچھڑا ان کی کسی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا اور نہ اختیار رکھتا ہے ان کے لیے کسی ضرر کا اور نہ نفع کا

﴿90﴾ اور بیشک کہا تھا انھیں ہارون نے (موسیٰ کی واپسی سے پہلے) اے میری قوم! تم تو فتنہ میں مبتلا ہو گئے اس سے ۔ اور بلاشبہ تمھارا رب تو وہ ہے جو بیحد مہربان ہے پس تم میری پیروی کرو اور میرا حکم مانو

﴿91﴾ قوم نے کہا تم تو اسی کی عبادت پر جمے رہیں گے یہاں تک کہ لوٹ آئیں ہماری طرف موسیٰ (علیہ السلام)

﴿92﴾ موسیٰ نے (آکر غصّہ سے) کہا اے ہارون! کس چیز نے تجھے روکا کہ جب تو نے انھیں گمراہ ہوتے دیکھا

﴿93﴾ تو (انھیں چھوڑ کر) میرے پیچھے نہ چلا آیا کیا تو نے بھی میری حکم عدولی کی

﴿94﴾ ہارون نے کہا اے میرے ماں جائے (بھائی!) نہ پکڑو میری ڈاڑھی کو اور نہ میرے سر (کے بالوں) کو میں نے اس خوف سے (ان پر سختی نہ کی) کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے پھوٹ دال دی بنی اسرائیل کے درمیان اور میرے حکم کا انتظار نہ کیا

﴿95﴾ آپ نے پوچھا اے سامری! (اس فتنہ انگیزی) سے تیری غرض کیا تھی؟

﴿96﴾ اس نے کہا میں نے دیکھی ایسی چیز جو لوگوں نے یہ دیکھی پس میں نے مٹھی بھر لی ۔ رسول کی سواری کے نشان قدم کی خاک سے پھر اسے ڈال دیا (اس ڈھانچہ میں) اور اس طرح آراستہ کر دی میرے لیے میرے نفس نے یہ بات

﴿97﴾ آپ نے (غصّہ سے ) فرمایا چلا جا ۔ پس تیرے لیے اس زندگی میں تو یہ (سزا) ہے کہ تو کہتا پھریگا کہ مجھے کوئی ہاتھ نہ لگائے اور بیشک تیرے لیے ایک اور وعدہ (عذاب) بھی ہے جس کی خلاف ورزی نہیں ہو گی اور (ذرا) دیکھ اپنے اس خدا کی طرف جس پر تو جم کر بیٹھا رہا (اس کا کیا حشر ہوتاہے) ہم اسے جلا ڈالینگے پھر ہم بکھیر کر بہا دینگے اس سمندر میں اس (کی راکھ) کو

﴿98﴾ تمھارا معبود تو صرف اللہ تعالیٰ ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں گھیر رکھا ہے اس نے ہر چیز کو (اپنے) علم سے

﴿99﴾ یوں ہم بیان کرتے ہیں آپ سے خبریں ان لوگوں کی جو پہلے گزر چکے ۔ اور ہم نے مرحمت فرمایا ہے آپ کو اپنی جناب سے ایک پند نامہ

﴿100﴾ جو شخص روگردانی کریگا اس سے وہ اٹھائے گا قیامت کے دن ایک بوجھ

﴿101﴾ یہ لوگ ہمیشہ اس بوجھ تلے دبے رہیں گے اور بہت تکلیف دہ ہوگا ان کے لیے روز قیامت یہ بوجھ

﴿102﴾ جس روز پھونکا جائے گا صور میں اور ہم جمع کریں گے مجرموں کو اس دن اس حال میں کہ ان کی آنکھیں نیلی ہوں گی

﴿103﴾ چپکے چپکے آپس میں کہیں گے کہ نہیں رہے تم دنیا میں مگر صرف دس دِن

﴿104﴾ ہم خوب جانتے ہیں وہ جو کہیں گے جبکہ ان میں سب سے زیادہ زیرک کہے گا کہ نہیں ٹھیرے ہو تو مگر صرف ایک دن

﴿105﴾ اور وہ آپ سے پہاڑوں کے انجام کے بارے میں پوچھتے ہیں آپ فرمائیے میرا رب انھیں جڑوں سے اکھیڑ کر پھینک دے گا

﴿106﴾ پس بنا چھوڑیگا اس پہاڑی علاقہ کو کھلا ہموار میدان

﴿107﴾ نہ نظر آئیگا تجھے اس میں کوئی موڑ اور نہ کوئی ٹیلہ

﴿108﴾ اس روز سب لوگ پیروی کرینگے پکارنے والے کی کوئی رو گردانی نہیں کر سکے گا اس سے ۔ اور خاموش ہو جائیں گی سب آوازیں رحمن کے خوف سے پس تو نہ سنے گا (اس روز) مگر مدھم سے آہٹ

﴿109﴾ اُس دن نہیں نفع دے گی کوئی سفارش سوائے اس شخص کی شفاعت کے جسے رحمن نے اجازت دی اور پسند فرمایا ہو اس کے قول کو

﴿110﴾ وہ جانتا ہے لوگوں کے آنے والے حالات کو اور ان کے گزرے ہوئے واقعات کو اور لوگ نہیں احاطہ کر سکتے اس کا اپنے علم سے

﴿111﴾ اور (فرط نیاز سے ) جھک جائینگے سب (لوگوں کے) چہرے حیّ و قیوم کے سامنے اور نامراد ہو ا جس نے لادا اپنے (سر) پر ظلم (کا بارِگراں)

﴿112﴾ اور جو شخص کرتا ہے نیک اعمال اور وہ ایمان دار بھی ہو تو اسے اندیشہ نہ ہوگا کسی ظلم کا یہ حق تلفی کا

﴿113﴾ اور اسی طرح ہم نے اتارا اس کتاب کو قرآن عربی زبان میں اور طرح طرح سے بیان کیں اس میں گناہوں کی سزائیں تاکہ وہ پرہیزگار بن جائیں یا پیدا کر دے یہ قرآن ان کے دلوں میں یہ سمجھ

﴿114﴾ پس اعلیٰ و ارفع ہے اللہ جو سچّا بادشاہ ہے اور نہ عجلت کیجیے قرآن کے پڑھنے میں اس سے پہلے کہ پوری ہو جائے آپ کی طرف اس کی وحی اور دعا مانگا کیجیے میرے رب !(اور) زیادہ کرے میرے علم کو

﴿115﴾ اور ہم نے حکم دیا تھا آدم کو اس سے پہلے (کہ وہ اس درخت کے قریب نہ جائے) سو وہ بھُول گیا اور نہ پایا ہم نے (اس لغزش میں ) اس کا کوئی قصد

﴿116﴾ اور جب ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو تو سب نے سجدہ کیا (سوائے ابلیس کے) اس نے (حکم بجا لانے سے ) انکار کر دیا

﴿117﴾ اور ہم نے فرمادیا اے آدم ! بیشک یہ تیرا بھی دشمن ہے اور تیری زوجہ کا بھی سو (ایسا نہ ہو) کہ وہ نکال دیں تمھیں جنت سے اور تم مصیبت میں پڑ جاؤ

﴿118﴾ بیشک تمھارے لیے یہ ہے کہ تمھیں نہ بھوک لگے گی یہاں اور نہ تم ننگے ہو گے

﴿119﴾ اور تمھیں نہ پیاس لگے گی اور نہ دھوپ ستائے گی

﴿120﴾ پس شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا اس نے کہا اے آدم ! کیا میں آگاہ کروں تمھیں ہمیشگی کے درخت پر اور ایسی بادشاہی پر جو کبھی زائل نہ ہو

﴿121﴾ سو (اس کے پھسلانے سے) دونوں نے کھا لیا اس درخت سے تو (فوراً) برہنہ ہو گئیں ان پر ان کی شرمگاہیں اور وہ چپکانے لگ گئے اپنے (جسم ) پر جنت (کے درختوں) کے پتے اور حکم عدولی ہو گئی آدم سے اپنے رب کی سو وہ با مراد نہ ہوا

﴿122﴾ پھر (اپنے قرب کے لیے) چن لیا انھیں اپنے رب نے اور (عفو و رحمت سے) توجہ فرمائی ان پر اور ہدایت بخشی

﴿123﴾ حکم ملا دونوں اتر جاؤ یہاں سے اکٹھے تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے ۔ پس اگر آئے تمھارے پاس میری طرف سے ہدایت تو جس نے پیروی کی میری ہدایت کی تو نہ وہ بھٹکے گا اور نہ بدنصیب ہو گا

﴿124﴾ اور جس نے منہ پھیرا میری یاد سے تو اس کے لیے زندگی (کا جامہ) تنگ کر دیا جائیگا اور ہم اسے اٹھائینگے قیامت کے دن اندھا کر کے

﴿125﴾ وہ کہے گا اے میرے رب ! کیوں اٹھایا ہے تو نے مجھے نابینا بنا کر کے میں تو (پہلے بالکل) بینا تھا

﴿126﴾ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اسی طرح آئیں تھیں تیرے پاس ہماری آیتیں سو تو نے انھیں بھلا دیا ۔ اسی طرح آج تجھے فراموش کر دیا جائیگا

﴿127﴾ اور یونہی ہم بدلہ دینگے ہر اس شخص کو جس نے حد سے تجاوز کیا اور ایمان نہ لایا اپنے رب کی آیتوں پر اور (سُن لو) آخرت کا عذاب بڑا سخت اور بہت دیرپا ہے

﴿128﴾ کیا (یہ بات) انھیں راہ راست نہ دکھا سکی کہ کتنی قومیں تھیں جن کو ہم نے (بد اعمالیوں کے باعث) ان سے پہلے برباد کر دیا چلتے پھرتے ہیں یہ لوگ جنکے (اجڑے ہوئے) مکانوں میں ۔ اسمیں (ہماری قدرت کی ) نشانیاں ہیں دانش مندوں کے لیے

﴿129﴾ اور اگر ان کے (انجام کے ) متعلق آپ کے رب کا فیصلہ پہلے نہ ہو چکا ہوتا اور ان کے لیے ایک وقت مقرر پہلے نہ کر دیا گیا ہوتاتو بھی ان پر عذاب نازل ہو جاتا

﴿130﴾ پس (اے حبیب!) صبر فرمائیے انکی (دل دکھانیوالی) باتوں پر اور پاکی بیان کیجیے اپنے رب کی حمد کے ساتھ سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اور رات کے لمحوں میں اس کی پاکی بیان کرو اور دن کے اطراف میں بھی ۔ تاکہ آپ خوش رہیں

﴿131﴾ اور آپ مشتاق نگاہوں سے نہ دیکھیے ان چیزوں کی طرف جن سے ہم نے لطف اندوز کیا ہے کافروں کے چند گروہوں کو یہ محض زیب و زینت ہے دنیوی زندگی کی (اور انھیں اسی لیے دی ہیں) تاکہ ہم آزمائیں انھیں ان سے ۔ اور آپ کے رب کی عطا بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے

﴿132﴾ اور حکم دیجیے اپنے گھر والوں کو نماز کا اور خود بھی پابند رہیے اس پر نہیں سوال کرتے ہم آپ سے روزی کا (بلکہ) ہم ہی روزی دیتے ہیں آپ کو اور اچھا انجام پرہیزگاری کا ہی ہوتا ہے

﴿133﴾ اور کفار کہتے ہیں کہ (یہ نبی) کیوں نہیں لے آتا ہمارے پاس کوئی نشانی اپنے رب کے پاس سے (ان سے پوچھو) کیا نہیں آگیا ان کے پاس واضح بیان جو پہلے نازل شدہ کتابوں میں ہے

﴿134﴾ اور اگر ہم انھیں ہلاک کر دیتے کسی عذاب سے اس سے پہلے تو کہتے اے ہمارے رب ! کیوں نہ بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول تاکہ ہم پیروی کرتے تیری آیتوں کی اس سے پہلے کہ ہم ذلیل و رسوا ہوئے

﴿135﴾ (اے حبیب!) آپ انھیں فرمائیے ہر شخص (انجام ) کا منتظر ہے سو تم بھی انتظار کرو۔ تم عنقریب جان لو گے کون ہے سیدھی راہ (پر چلنے ) والے اور کون ہدایت یافتہ ہیں

الانبیاء

Surah 21

﴿1﴾ قریب آگیا ہے لوگوں کے لیے ان کے (اعمال کے ) حساب کا وقت اور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں

﴿2﴾ نہیں آتی ان کے پاس کوئی تازہ نصیحت ان کے رب کی طرف سے مگر یہ کہ وہ سنتے ہیں اس حال میں کہ وہ (لہو و) لعب میں (مگن) ہوتے ہیں

﴿3﴾ غافل ہوتے ہیں ان کے دل اور (آپ کے خلاف) سر گوشیاں کرتے ہیں ظالم (وہ کہتے ہیں ) کیا ہے یہ مگر ایک بشر تمھاری مانند تو کیا تم پیروی کرنے لگے ہو جادو کی حالانکہ تم دیکھ رہے ہو (کہ یہ تمھاری طرح بشرہے)

﴿4﴾ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے) فرمایا میرا رب جانتا ہے جو بات کہی جاتی ہے آسمان اور زمین میں اور وہی ہر بات سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

﴿5﴾ وہ کہتے ہیں بلکہ یہ پریشان خواب ہیں (نہیں ) بلکہ اس نے خود گھڑا ہے اسے (نہیں) بلکہ وہ شاعر ہے (اگر وہ سچا نبی ہے) تو لے آئے ہمارے پاس کوئی نشانی جس طرح بھیجے گئے تھے پہلے انبیاء

﴿6﴾ نہیں ایمان لائی ان سے پہلے کوئی بستی جسے ہم نے تباہ کیا تھا تو کیا اب یہ لوگ ایمان لے آئیں گے

﴿7﴾ اور نہیں رسول بنا کر بھیجا ہم نے (اے حبیب!) آپ سے پہلے مگر مردوں کو ہم نے وحی بھیجی ان کی طرف ۔ پس (اے منکرو!) لوچھو اہل علم سے اگر تم (خود حقیقت حال کو) نہیں جانتے

﴿8﴾ اور نہیں بنائے ہم نے ان انبیاء کے (ایسے ) جسم کہ وہ کھانا کھاتے ہوں اور نہ ہی وہ (اس دنیا میں ) ہمیشہ رہنے والے تھے

﴿9﴾ پھر ہم نے سچّا کر دکھایا انھیں (جو) وعدہ (ہم نے ان سے کیا تھا) پس ہم نے نجات دی انھیں اور ان لوگوں کو جن کو ہم نے (بچانا) چاہا اور ہم نے ہلاک کر دیا حد سے بڑھنے والوں کو

﴿10﴾ بیشک ہم نے اتاری تمھاری طرف ایک کتاب جس میں تمھارے لیے نصیحت ہے کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے

﴿11﴾ اور کتنی بستیاں ہم نے برباد کر دیں (کیونکہ) وہ ظالم تھیں اور ہم نے پیدا فرما دی ان (کی بربادی) کے بعد ایک دوسری قوم

﴿12﴾ پس جب انہوں نے محسوس کیا ہمارا عذاب تو فوراً انہوں نے وہاں سے بھاگنا شروع کر دیا

﴿13﴾ اب مت بھاگو ! اور واپس لوٹوان آسائشوں کی طرف جو تمھیں دی گئی تھیں اور (لوٹو) اپنے مکانوں کی طرف تاکہ تم سے باز پرس کی جائے

﴿14﴾ کہنے لگے وائے شومئیے قسمت! ہم ہی ظالم تھے

﴿15﴾ پس وہ یونہی شور و پکار کرتے رہے یہاں تک کہ ہم نے انھیں کٹے ہوئے کھیت (اور) بجھے ہوئے (انگاروں ) کی طرح کر دیا

﴿16﴾ اور نہیں پیدا فرمایا ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے دل لگی کرتے ہوئے

﴿17﴾ اگر ہمیں یہی منظور ہوتا کہ ہم (اس کائنات) کو کھیل تماشہ بنائیں تو ہم بنا لیتے اسے خود بخود (ہمیں کون روک سکتا تھا) مگر ہم ایسا کرنے والے نہیں ہیں

﴿18﴾ بلکہ ہم تو چوٹ لگاتے ہیں حق سے باطل پر پس وہ اسے کچل دیتا ہے اور وہ یکایک نا پید ہو جا تا ہے اور (اے باطل پرستو!) تمھارے لیے ہلاکت ہے ان (نازیبا) باتوں کے باعث جو تم بیان کرتے ہو

﴿19﴾ اور اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو (فرشتے ) اسکے نزدیک ہیں وہ ذرا سر کشی نہیں کرتے اسکی عبادت سے اور نہ ہی وہ تھکتے ہیں

﴿20﴾ وہ (اس کی) پاکی بیان کرتے رہتے ہیں رات دِن اور وہ اکتاتے نہیں

﴿21﴾ کیا بنا لیے ہیں انھوں نے خدا (اہل) زمین سے جو مردوں کو زندہ کر سکتے ہیں

﴿22﴾ اگر ہوتے زمین و آسمان میں کوئی اور خدا سوائے اللہ تعالیٰ کے تو یہ دونوں برباد ہو جاتے پس پاک ہے اللہ تعالیٰ جو عرش کا رب ہے ان تمام نا زیبا باتوں سے جو وہ کرتا ہیں

﴿23﴾ نہیں پرسش کی جا سکتی اس کام کے متعلق جو وہ کرتا ہے اور ان (تمام سے ) باز پرس ہو گی

﴿24﴾ کیا انھوں نے بنا لیا ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا اور معبود۔ (اے حبیب!) آپ (انھیں ) فرمائیے پیش کرو اپنی دلیل۔ یہ قرآن نصیحت ہے میرے ساتھ والوں کے لیے اور دوسری کتب جو نصیحت ہیں میرے پیش روؤں کے لیے (سب موجود ہیں انکا کوئی حوالہ و) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انمیں سے اکثر حق کو نہیں جانتے اس لیے وہ (اس سے ) منہ پھیرے ہوئے ہیں

﴿25﴾ اور نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول مگر یہ کہ ہم نے وحی بھیجی اس کی طرف کہ بلاشبہ نہیں ہے کوئی خدا بجز میرے پس میری عبادت کیا کرو

﴿26﴾ وہ کہتے ہیں بنا لیا ہے رحمن نے (اپنے لیے ) بیٹا سبحان اللہ !(یہ کیونکر ہو سکتا ہے) بلکہ وہ تو (اسکے ) معزز بندے ہیں

﴿27﴾ نہیں سبقت کرتے اس سے بات کرنے میں اور وہ اسی کے حکم پر کاربند ہیں

﴿28﴾ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے گزر چکا ہے اور وہ شفاعت نہیں کرینگے۔ مگر اس کے لیے جسے وہ پسند فرمائے اور وہ (اس کی بےنیازی کے باعث) اس کے خوف سے ڈر رہے ہیں

﴿29﴾ اور جو ان میں سے یہ کہے کہ میں خدا ہوں اللہ تعالیٰ کے سواتو اسے ہم سزا دینگے جہنم کی ۔ یونہی ہم سزا دیا کرتے ہیں ظالموں کو

﴿30﴾ کیا کبھی غور نہیں کیا کفر و انکار کرنے والوں نے کہ آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے پھر ہم نے الگ الگ کر دیا انھیں اور ہم نے پیدا فرمائی پانی سے ہر زندہ چیز کیا وہ اب بھی ایمان نہیں لاتے

﴿31﴾ اور ہم نے بنا دیے زمین میں بڑے بڑے پہاڑ تاکہ زمین لرزتی نہ رہے ان کے ساتھ اور بنا دیں ہم نے ان پہاڑوں میں کشادہ راہیں تاکہ وہ (اپنی منزل مقصود کا) راستہ پا سکیں

﴿32﴾ اور ہم نے بنایا آسمان کو ایک چھت جو (شکست و ریخت سے ) محفوظ ہے اور وہ لوگ (اب بھی) اسکی نشانیوں سے روگردانی کیے ہوئے ہیں

﴿33﴾ اور وہی ہے جس نے پیدا فرمایا لیل و نہار کو اور مہر و ماہ کو ۔ سب (اپنے اپنے ) مدار میں تیر رہے ہیں

﴿34﴾ اور نہیں مقدر کیا ہم نے کسی انسان کے لیے جو آپ سے پہلے گزرا (اس دنیا میں ) ہمیشہ رہنا تو اگر آپ انتقال فرما جائیں توکیا یہ لوگ (یہاں) ہمیشہ رہنے والے ہیں ۔

﴿35﴾ ہر نفس موت (کا مزہ) چکھنے والا ہے اور ہم خوب آزماتے ہیں تمھیں برے اور اچھے حالات سے دو چار کر کے اور (اخر کار) تم سب کو ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے

﴿36﴾ اور جب دیکھتے ہیں آپ کو وہ جنھوں نے کفر اختیارکیا ہے تو آپ سے بس تمسخر کرنے لگتے ہیں (کہتے ہیں) کیا یہی وہ صاحب ہیں جو (برائی سے) ذکر کیا کرتے ہیں تمھارے خداؤں کا ۔ حالانکہ وہ (کفار) رحمن کے ذکر سے خود (یکسر) انکاری ہیں

﴿37﴾ انسان کی سرشت میں ہی جلد بازی ہے میں عنقریب تمھیں (خود ہی) اپنی نشانیاں دکھاؤں گاسو تم مجھ سے جلدی کا مطالبہ نہ کرو

﴿38﴾ اور وہ کہتے ہیں کب پورا ہوگا یہ (قیامت کا ) وعدہ ؟ (بتاؤنا) اگر تم سچے ہو

﴿39﴾ کاش! جانتے کفار (اس وقت کو ) جب وہ نہ روک سکیں گے اپنے چہروں سے آگ (کے شعلوں) کو اور نہ اپنی پشتوں سے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی

﴿40﴾ بلکہ وہ آئے گی ان کے پاس نا گہاں سو انھیں بد حواس کر دیگی پھر وہ نہ اسے ردّ کر سکیں گے اور نہ ہی انھیں مزید مہلت دی جائے گی

﴿41﴾ اور بےشک مزاق اڑایا گیا ان رسولوں کا بھی جو آپ سے پہلے تشریف لائے تھے پس نازل ہوا ان لوگوں پر جو تمسخر کیا کرتے تھے ان میں سے وہ عذاب جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے

﴿42﴾ آپ پوچھیے (اے منکرو!) کون ہے جو نگہبانی کر سکتا ہے تمھاری رات بھر اور دن بھر خدائے رحمن سے (اگر وہ تمھیں عذاب دینا چاہے ) مگر (ان سے کیا پوچھنا) یہ تو اپنے رب کے ذکر سے ہی روگرداں ہیں

﴿43﴾ کیا ان کے اور خدا ہیں جو بچا سکتے ہیں انھیں (عذاب سے) ہمارے سوا وہ جھوٹے معبود تو خود اپنی مدد بھی نہیں کر سکتے اور نہ انھیں ہماری تائید میسر ہو گی

﴿44﴾ بلکہ ہم نے (عیش و آرام کا) سامان دیا انھیں اور ان کے آباؤاجداد کو حتیٰ کہ (اس عیش و آرام میں ) ا ن پر لمبا عرصہ گزر گیا اور وہ سر کش ہو گئے کیا وہ ملاحظہ نہیں کر رہے کہ ہم زمین (کی وسعتوں ) کو گھٹاتے چلے جا رہے ہیں اس کی (چاروں) سمتوں سے کیا وہ (ہماری تقدیر پر) غالب آسکتے ہیں؟

﴿45﴾ آپ فرمائیے میں تمھیں ڈراتا ہوں صرف وحی سے اور نہیں سنا کرتے بہرے پکارنے کو جب انھیں (عذاب الہی سے ) ڈرایا جا تا ہے

﴿46﴾ اور اگر (صرف ) چُھو جائے انھیں ایک جھونکا تیرے رب کے عذاب کا تو (سارا نشہ ہرن ہو جائے) یوں کہنے لگیں صدحیف! بیشک ہم ہی ظالم تھے

﴿47﴾ اور ہم رکھ دینگے صحیح تولنے والے ترازو قیامت کے دِن پس ظلم نہ کیا جائے گا کسی پر ذرّہ بھر اور اگر (کسی کا عمل ) رائی کے دانے کے برابر بھی ہوگا تو ہم اسے بھی لا حاضر کرینگے اور ہم کا فی ہیں حساب کرنے والے

﴿48﴾ اور یقیناً ہم نے عطا فرمایا موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام ) کو فرقان اور روشنی اور ذکر پرہیزگاروں کے لیے

﴿49﴾ جو ڈرتے رہتے ہیں اپنے رب سے بِن دیکھے ۔ نیز وہ قیامت سے بھی ترساں رہتے ہیں

﴿50﴾ اور یہ قرآن نصیحت ہے بڑی با برکت ہم نے (ہی ) اسے اتارا ہے تو کیا تم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہو

﴿51﴾ اور یقیناً ہم نے مرحمت فرمائی تھی ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی دانائی اس سے پہلے اور ہم ان کو خوب جانتے تھے

﴿52﴾ یاد کرو جب آپ نے کہا اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہ یہ کیا مورتیاں ہیں جن کی پوچا پاٹ پر تم جمے بیٹھے ہو

﴿53﴾ وہ بولے پایا ہے ہم نے اپنے باپ (دادوں ) کو کہ وہ ان کے پجاری تھے

﴿54﴾ آپ نے فرمایا بلاشبہ مبتلا رہے ہو تم بھی اور تمھارے باپ دادا بھی کھلی گمراہی میں

﴿55﴾ انھوں نے پوچھا کیا تم ہمارے پاس کوئی سچی بات لے کر آئے ہو یا (صرف) دل لگی کر رہے ہو

﴿56﴾ آپ نے فرمایا (دِل لگی نہیں کر رہا) بلکہ تمھارا رب وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان سب کو پیدا فرمایا ہے اور میں اس (صداقت) پر گواہی دینے والوں سے ہوں

﴿57﴾ اور بخدا! میں بندوبست کروں گا تمھارے بتوں کا جب تم چلے جاؤ گے پیٹھ پھیرتے ہوئے

﴿58﴾ پس آپ نے انھیں ریزہ ریزہ کر ڈالا مگر ان کے بڑے بت کو کچھ نہ کہا تاکہ وہ لوگ (اس افتادہ کے بارے میں ) اسکی طرف رجوع کریں

﴿59﴾ وہ بولے کس نے یہ حال کیا ہے ہمارے بتوں کا بیشک وہ ظالموں میں سے ہے

﴿60﴾ (چند آدمیوں نے ) کہا ہم نے ایک نوجوان کو سنا ہے کہ وہ ان کا ذکر (برائی سے ) کیا کرتا ہے ۔ اسے ابراہیم کہا جاتا ہے

﴿61﴾ کہنے لگے تو پھر (پکڑ کر) لاؤ اسے سب لوگوں کے روبرو شاید وہ اس کے متعلق کوئی شہادت دیں

﴿62﴾ (ابراہیم پکڑ کر لائے گئے تو) لوگوں نے پوچھا اے ابراہیم! کیا تو نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے ؟

﴿63﴾ فرمایا بلکہ ان کے اس بڑے نے یہ حرکت کی ہو گی سو ان سے پوچھو اگر یہ گفتگو کی سکت رکھتے ہوں

﴿64﴾ (لاجواب ہو کر ) اپنے دلوں میں غور کرنے لگے پھر بولے بلاشبہ تم ہی زیاں کار ستمگار ہو

﴿65﴾ پھر وہ اوندھے ہو کر (اپنی سابقہ گمراہی کی طرف) پلٹ گئے اور کہنے لگے تم خوب جانتے ہو کہ یہ بولتے نہیں

﴿66﴾ آپ نے فرمایا (نادانو!) کیا تم عبادت کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان (بے بس بتوں) کی جو نہ تمھیں کچھ فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ تمھیں ضرر پہنچا سکتے ہیں

﴿67﴾ تف ہے تم پر نیز ان بتوں پر جن کو تم پوجتے ہو اللہ تعالیٰ کے سوا کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے ؟

﴿68﴾ (سب یک زبان ہو کر) لولے جلا ڈالو اس کو اور مدد کرو اپنے خداؤں کی اگر تم کچھ کرنا چاہتے ہو

﴿69﴾ (جب آپ کو آتش کدہ میں پھینکا گیا تو) ہم نے حکم دیا اے آگ ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی کا باعث بن جا ابراہیم کے لیے

﴿70﴾ انھوں نے تو ابراہیم کو گزند پہنچانے کا ارادہ کیا لیکن ہم نے ان کو ناکام بنا دیا

﴿71﴾ اور ہم نے نجات دی آپ کو اور لوط کو اس سر زمین کی طرف (ہجرت کا حکم دیا) جسے ہم نے بابرکت بنایا تھا تمام جہان والوں کے لیے

﴿72﴾ اور ہم نے عطا فرمایا انھیں اسحق (جیسا فرزند) اور یعقوب (جیسا) پوتا۔ اور سب کو ہم نے صالح بنا دیا

﴿73﴾ اور ہم نے بنا دیا انھیں پیشوا (لوگوں کے لیے) وہ راہ دکھاتے تھے ہمارے حکم سے اور ہم نے وحی بھیجی ان کی طرف کہ وہ نیک کام کریں اور نماز ادا کریں اور زکوٰۃ دیاکریں اور سب ہمارے عبادت گزار تھے

﴿74﴾ اور لوط کو ہم نے حکومت اور علم عطا فرمایا اور نجات دی اسے اس گاؤں سے جس کے باشندے بہت رذیل کام کیا کرتے تھے بےشک وہ لوگ بڑے نا ہنجار (اور ) نافرمان تھے

﴿75﴾ اور ہم نے اسے داخل کر لیا اپنے (حریم ) رحمت میں بیشک وہ نیکو کاروں میں سے تھا

﴿76﴾ اور یاد کرو نوح علیہ السلام کو جب انھوں نے (ہمیں ) پکارا پیش ازیں ، تو ہم نے قبول فرمایا ان کی دعا کو اور بچایا انھیں اور ان کے گھر والوں کو سخت مصیبت سے

﴿77﴾ اور ہم نے ان کی حمایت کی اس قوم کے مقابلے میں جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا بیشک وہ بڑے نا ہنجار لوگ تھے پس ہم نے غرق کر دیاان سب کو

﴿78﴾ اور یاد کرو داؤد و سلیمان علیہ السلام کو جب وہ فیصلہ کر رہے تھے ایک کھیتی کے جھگڑے کا جب رات کے وقت چھوٹ گئیں اس میں ایک قوم کی بکریاں اور ہم ان کے فیصلہ کا مشاہدہ کر رہے تھے

﴿79﴾ سو ہم نے سجھا دیا وہ معاملہ سلیمان علیہ السلام کو اور ان سب کو ہم نے بخشا تھا حکم اور علم اور ہم نے فرمانبردار بنا دیا داؤد کا پہاڑوں اور پرندوں کو وہ سب انکے ساتھ مل کر تسبیح کہا کرتے اور (یہ شان) ہم دینے والے تھے

﴿80﴾ اور ہم نے سکھا دیاانھیں زرہ بنانے کا ہنر تمھارے فائدے کے لیے تاکہ وہ زرہ بچا لے تمھیں تمھاری زد سے تو کیا تم (اس احسان کا) شکر ادا کرنیوالے ہو

﴿81﴾ اور ہم نے سلیمان کے لیے تند و تیز ہوا کو فرمانبردار بنا دیا چلتی تھی وہ ہوا ان کے حکم سے اس سر زمین کی طرف سے جسے ہم نے با برکت بنادیا تھا اور ہم ہر چیز کو جاننے والے تھے

﴿82﴾ اور ہم نے مسخر کر دیے شیطانوں میں سے جو (سمندروں میں ) غوطہ زنی کرتے ان کے لیے اور کیا کرتے طرح طرح کے اور کام اور ہم ہی ان کے نگہبان تھے

﴿83﴾ اور یاد کرو ایوب کو جب پکارا انھوں نے اپنے رب کو کہ مجھے پہنچی ہے سخت تکلیف اور تو ارحم الراحمین ہے (میرے حال زار پر بھی رحم فرما)

﴿84﴾ تو ہم نے قبول فرما لی اس کی فریاد اور ہم نے دور فرما دی جو تکلیف انھیں پہنچ رہی تھی اور ہم نے عطا کیے اسے اس کے گھر والے نیز اتنے اور ان کے ساتھ اپنی رحمت خاص سے اور یہ نصیحت ہے عبادت گزاروں کے لیے

﴿85﴾ اور یاد کرو اسماعیل، ادریس اور ذوالکفل علیہ السلام کو یہ سب صابروں کے گروہ سے تھے

﴿86﴾ اور ہم نے داخل فرمایا انھیں اپنی رحمت خاص میں یقیناً وہ نیک بندوں میں سے تھے

﴿87﴾ اور یاد کرو ذوالنون کو جب وہ چل دیا غضبناک ہو کر اور یہ خیال کیا کہ ہم اس پر کوئی گرفت نہیں کریں گے پھر اس نے پکارا (تہ در تہ) اندھیروں میں کہ کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاک ہے تو بیشک میں ہی قصور واروں سے ہوں

﴿88﴾ پس ہم نے انکی پکار کو قبول فرما لیا اور نجات بخشدی انھیں غم (و اندوہ) سے اور یونہی ہم نجات دیا کرتے ہیں مومنوں کو

﴿89﴾ اور یاد کرو زکریا علیہ السلام کو جب انھوں نے پکارا اپنے رب کو کہ اے میرے پروردگار! مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب وارثوں سے بہترہے

﴿90﴾ تو ہم نے اس کی دعا کو قبول فرما لیا اور اسے یحیی (جیسا فرزند) عطا فرمایا اور ہم نے تندرست کر دیا ان کی خاطر انکی اہلیہ کو ۔ بیشک وہ بہت سبک رو تھے نیکیاں کرنے میں اور پکارا کرتے تھے ہمیں بڑی امید اور خوف سے اور وہ ہمارے سامنے بڑا عجز و نیاز کرتے تھے

﴿91﴾ اور یاد کرو اس خاتون کو جس نے محفوظ رکھا اپنی عصمت کو پس ہم نے پھونک دیا ا س میں اپنی روح سے اور ہم نے بنا دیا اسے اور اس کے بیٹے کو (اپنی قدرت کی ) نشانی سارے جہان والوں کے لیے

﴿92﴾ (اے ان انبیاء کو ماننے والو!) یہی (توحید ) تمھارا دین ہے جو ایک دین ہے اور میں تمھارا پروردگار ہوں پس میری بندگی کیا کرو

﴿93﴾ مگر لوگوں نے پارہ پارہ کر ڈالا اپنے دین کو آپس میں (اخر کار) سب ہماری طرف ہی لوٹنے والے ہیں

﴿94﴾ پس جو شخص کرتا رہا کوئی نیک کام بشرطیکہ وہ مومن ہو تو رائیگاں نہیں جانے دیا جائیگا اس کی کوشش کو اور ہم اس کے لیے (اس کے عملوں کو) لکھنے والے ہیں

﴿95﴾ اور نا ممکن ہے اس بستی کے لیے جس کو ہم نے برباد کر دیا کہ اس کے باشندے پھر لوٹ کر آئیں

﴿96﴾ یہاں تک کہ جب کھول دیے جائیں گے یاجوج اور ماجوج اور وہ ہر بلندی سے بڑی تیزی کے ساتھ نیچے اترنے لگیں گے

﴿97﴾ (تب معلوم ہوگا کہ) قریب آگیا ہے سچا وعدہ تو اس وقت تاڑے لگ جائیں گی ۔ نظریں ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا تھا (کہیں گے) صد حیف! ہم تو غافل رہے اس امر سے بلکہ ہم تو ظالم تھے

﴿98﴾ (اے مشرکو!) تم اور جن بتوں کی تم عبادت کیا کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر سب جہنم کا ایندھن ہوں گے تم اس میں داخل ہونے والے ہو

﴿99﴾ (سوچو) اگر یہ خدا ہوتے تو نہ داخل ہوتے جہنم میں ، اور (جھوٹے خدا اور ان کے پجاری) سب اسمیں ہمیشہ رہیں گے

﴿100﴾ وہ جہنم میں شدت عذاب سے چیخیں گے اور وہ اس میں اور کچھ نہ سن سکیں گے

﴿101﴾ بلاشبہ وہ لوگ جن کے لیے مقدر ہو چکی ہے ہماری طرف سے بھلا ئی وہ وہی اس جہنم سے دور رکھے جائیں گے

﴿102﴾ وہ اس کی آہٹ بھی نہ سنیں گے اور وہ ان (نعمتوں) میں جن کی خواہش انھوں نے کی تھی ہمیشہ رہیں گے

﴿103﴾ نہ غم ناک کرے گی انھیں وہ بڑی گھبراہٹ اور فرشنے ان کا استقبال کریں گے (انھیں بتائیں گے ) یہی وہ تمھارا دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا

﴿104﴾ یاد کرو جس دن ہم لپیٹ دیں گے آسمان کو جیسے لپیٹ دیے جاتے ہیں طومار میں کاغذات جیسے ہم نے آغاذ کیا تھا ابتدائے آفرینش کا اسی طرح ہم اسے لوٹائیں گے ۔ یہ وعدہ (پورا کرنا) ہم پر لازم ہے یقیناً ہم (ایسا) کرنے والے ہیں

﴿105﴾ اور بےشک ہم نے لکھ دیا ہے زبور میں پند و موعظت کے (بیان کے ) بعد کہ بلاشبہ زمین کے وارث تو میرے نیک بندے ہوں گے

﴿106﴾ یقیناً اس قرآن کی کفایت ہے اس قوم کی (فلاح دارین) کے لیے جو عبادت گزار ہے

﴿107﴾ اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو ، مگر سراپا رحمت بنا کر سارے جہانوں کے لیے

﴿108﴾ فرما دیجیے کہ میرے پاس تو صرف یہ وحی آئی ہے کہ تمھارا خدا وہی ہے جو ایک خدا ہے پس کیا تم اسلام لانے کے لیے تیار ہو

﴿109﴾ اگر وہ پھر بھی روگردانی کریں تو آپ فرمادیجیے کہ میں نے آگاہ کر دیا ہے تمھیں پوری طرح اور میں نہیں سمجھتا کہ قریب ہے یا بعید جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے

﴿110﴾ بیشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو بات تم بلند آواز سے کہتے ہو اور جانتا ہے جو تم (اپنے دل میں ) چھپاتے ہو

﴿111﴾ اور میں کیا جانوں (اس ڈھیل سے ) شاید تمھارا امتحان لینا اور ایک وقت تک تمھیں لطف اندوز کرنا مطلوب ہو

﴿112﴾ آپ نے عرض کی میرے رب فیصلہ فرمادے (ہمارے درمیان) حق کے ساتھ اور (اے کفار!) ہمارا رب وہ ہے جو رحمن ہے اسی سے مدد طلب کی جاتی ہے ان باتوں پر جو تم کرتے ہو

الحج

Surah 22

﴿1﴾ اے لوگو! ڈرو اپنے پروردگار (کی ناراضگی) سے بےشک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے

﴿2﴾ جس روز تم اس (کی ہولناکیوں) کو دیکھو گے تو غافل ہو جائیگی ہر دودھ پلانے والی (ماں) اس (لخت جگر) سے جس کو اس نے دودھ پلایا، اور گرا ددے گی ہر حاملہ اپنے حمل کو اور تجھے نظر آئیں گے لوگ جیسے وہ نشے میں مست ہوں حالانکہ وہ نشے میں مست نہیں ہوں گے بلکہ عذاب الہی بڑا سخت ہوگا (وہ اس کی ہیبت سے حواس بافتہ ہوں گے)

﴿3﴾ اور بعض ایسے لوگ ہیں جو جھگڑتے ہیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں علم کے بغیر اور پیروی کرتے ہیں سرکش شیطان کی

﴿4﴾ جس کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے کہ جو اس کو دوست بنائے گا تو وہ اسے گمراہ کر کے رہے گا اور راہ دکھائے گا اسے بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کی طرف

﴿5﴾ اے لوگو! اگر تمھیں کچھ شک ہو (روز محشر) جی اٹھنے میں ذرا اس امر میں غور کرو کہ ہم نے ہی پیدا کیا تھا تمھیں مٹی سے پھر نطفہ سے پھر خون کے لوٹھرے سے پھر گوشت کے ٹکڑے سے بعض کی تخلیق مکمل ہوتی ہے اور بعض کی نامکمل تاکہ ہم ظاہر فرما دیں تمھارے لیے (اپنی قدرت کا کمال) اور ہم قرار بخشتے ہیں رحموں میں جسے ہم چاہتے ہیں ایک مقررہ معیاد تک پھر ہم نکالتے ہیں تمھیں بچہ بنا کر پھر (پرورش کرتے ہیں تمھاری) تاکہ تم پہنچ جاؤ اپنے شباب کو اور تم میں سے کچھ (پہلے ) فوت ہو جاتے ہیں اور تم میں سے بعض کو پہنچا دیا جاتا ہے نکمی عمر تک تاکہ وہ کچھ نہ جانے ہر چیز کو جاننے کے بعد اور تو دیکھتا ہے کہ زمین خشک پڑی ہے پھر جب ہم اتارتے ہیں اس پر (بارش کا ) پانی ترو تازہ ہو جاتی ہے اور پھولتی ہے اور اگاتی ہے ہر خوشنما جوڑے کو

﴿6﴾ یہ (رنگا رنگیاں اس کی دلیل ہیں ) کہ اللہ تعالیٰ ہی برحق ہے اور وہی زندہ کرتا ہے مردوں کو اور بلاشبہ وہی ہر چیز پر قادر ہے

﴿7﴾ اور یقیناً قیامت آنے والی ہے اس میں ذرا شک نہیں اور اللہ تعالیٰ زندہ کر کے اٹھائیگا ان (مُردوں ) کو جو قبروں میں ہیں

﴿8﴾ اور انسانوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر علم کے اور بغیر کسی دلیل کے اور بغیر کسی روشن کتاب کے

﴿9﴾ (تکبر سے) گردن مرورٹے ہوئے تاکہ بہکا دے (دوسروں کو بھی) اللہ کی راہ سے اس کے لیے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور ہم چکھائیں گے اسے قیامت کے دن جلانے والی آگ کا عذاب

﴿10﴾ (اس روز اسے بتایا جائیگا کہ) یہ سزا ہے اس کی جو تیرے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں

﴿11﴾ اور لوگوں میں سے وہ بھی ہے جو عبادت کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی کنارہ پر (کھڑے کھڑے) پھر اگر پہنچے اسے بھلائی (اس عبادت سے) تو مطمئن ہو جاتے ہے اس سے اور اگر پہنچے اسے کوئی آزمائش تو فوراَ (دین سے) منہ موڑ لیتا ہے اس شخص نے برباد کر دی اپنی دنیا اور آخرت یہی تو کھلا ہوا خسارہ ہے

﴿12﴾ وہ عبادت کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے سوااس کی جو ضرر پہنچا سکتا ہے اسے اور نہ نفع پہنچا سکتا ہے اسے یہی تو انتہائی گمراہی ہے

﴿13﴾ وہ پوجتا ہے اسے جس کی ضرر رسانی زیادہ قریب ہے اس کی نفع رسانی سے یہ بہت برا دوست ہے اور بہت برا ساتھی ہے

﴿14﴾ بیشک اللہ تعالیٰ داخل کریگا انہیں جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے باغات میں رواں ہیں جن کے نیچے نہریں ۔ بیشک اللہ تعالیٰ کرتا ہے جو چاہتا ہے

﴿15﴾ اور جو شخص یہ خیال کیے بیٹھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کی مدد نہیں کریگا نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں تو اسے چاہیے کہ لٹک جائے ایک رسی کے ذریعے چھت سے پھر (گلے میں پھندا ڈال کر) اسے کاٹ دے پھر دیکھے آیا دور کر دیا ہے اس کی (خود کشی کی) تدبیر نے اس کے غم و غصّہ کو

﴿16﴾ اور اسی طرح ہم نے اتارا ہے اس کتاب کو روشن دلیلوں کے ساتھ ۔ اور بےشک اللہ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے

﴿17﴾ بیشک اہل ایمان، یہودی ستارہ پرست، عیسائی، آتش برست اور مشرک، ضرور فیصلہ فرمائے گا اللہ تعالیٰ ان سب (گروہوں ) کے درمیان قیامت کے دن بیشک اللہ تعالیٰ پر چیز کا مشاہدہ فرما رہا ہے

﴿18﴾ کیا تم ملاحظہ نہیں کر رہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہی سجدہ کر رہی ہے ہر چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے نیز آفتاب مہتاب، ستارے، پہاڑ، درخت اور چوپائے اور بہت سے انسان بھی (اسی کو سجدہ کرتے ہیں) اور بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جن پر عذاب مقرر ہو چکا ہے اور (دیکھو) جس کو ذلیل کر دے اللہ تعالیٰ تو کوئی اسے عزت دینے والا نہیں ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے جو چاہتا ہے

﴿19﴾ یہ دو فریق ہیں جو جھگڑ رہے اپنے رب کے بارے میں تو وہ لوگ جنھوں نے کفر اختیار کیا تیار کر دیے گئے ہیں ان کے لیے کپڑے آتشِ ( جہنم ) سے ۔ انڈیلا جائیگا ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی

﴿20﴾ گل جائیگا اس کھولتے پانی سے جو کچھ ان کے شکموں میں ہے اور ان کی چمڑیاں بھی گل جائینگی

﴿21﴾ اور ان (کو مارنے) کے لیے گرز ہونگے لوہے کے

﴿22﴾ جب بھی ارادہ کرینگے اس سے نکلنے کا فرط رنج و الم کے باعث تو انھیں لوٹا دیا جائے گا اس میں اور (کہا جائیگا) کہ چکھو جلتی ہوئی آگ کا عذاب

﴿23﴾ یقیناً اللہ تعالیٰ داخل کریگا ان لوگوں کو جو ایمان بھی لے آئے اور عمل بھی نیک کرتے رہے جنتوں میں بہتی ہیں جن کے نیچے ندیاں انھیں پہنائے جائیں گے جنت میں سونے کے کنگن اور موتیوں کے ہار۔ اور ان کی پوشاک وہاں ریشمی ہو گی

﴿24﴾ اور ان کی رہنمائی کی گئی تھی پاکیزہ قول کی طرف اور دکھایا گیا تھا انھیں راستہ اللہ تعالیٰ کا جو تعریف کیا گیا ہے

﴿25﴾ بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا اور (دوسروں کو) روکتے ہیں اللہ تعالیٰ کی راہ سے اور مسجد حرام سے جسے ہم نے (بلا امتیاز) سب لوگوں کے لیے (مرکز ہدایت) بنایا ہے۔ یکساں ہیں اس میں وہاں کے رہنے والے اور پردیسی۔ اور جو ارادہ کرے اس میں زیادتی کا نا حق تو ہم اسے چکھائیں گے دردناک عذاب

﴿26﴾ اور یاد کرو جب ہم نے مقرر کر دی ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے اس گھرکے (تعمیر کرنے) کی جگہ اور حکم دیا کہ شریک نہ ٹھیرانا میرے ساتھ کسی چیز کو اور صاف ستھرا رکھنا میرے گھر کو طواف کرنے والوں، قیام کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے

﴿27﴾ اور اعلان عام کر دو لوگوں میں حج کا وہ آینگے آپ کے پاس پاپیادہ اور ہر دبلی اونٹنی پر سوار ہو کر جو آتی ہیں پر دور دراز راستہ سے

﴿28﴾ (اعلان کیجیے) تاکہ وہ حاضر ہوں اپنے (دینی دنیوی) فائدوں کے لیے اور ذکر کریں اللہ تعالیٰ کے نام کا مقررہ دنوں میں ان بےزبان چوپائیوں پر (ذبح کے وقت) جو اللہ تعالیٰ نے انھیں عطا فرمائے ہیں۔ پس خود بھی کھاؤ ان سے اور کھلاؤمصیبت زدہ محتاج کو

﴿29﴾ پھر چاہیے کہ دور کریں اپنی میل کچیل اور پوری کریں اپنی نذریں اور طواف کریں ایسے گھر کا جو بہت قدیم ہے

﴿30﴾ ان احکام کو یاد رکھو اور جو شخص تعظیم کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کی تو یہ بہتر ہے اس کے لیے اس کے رب کے ہاں اور حلال کیے گئے تمھارے لیے جانور بجز ان کے جن کی حرمت پڑھی گئی تم پر پس پرہیز کرو بتوں کی نجاست سے اور بچو جھوٹی بات سے

﴿31﴾ یکسر مائل ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف ، نہ شریک ٹھیراتے ہو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور جو شریک ٹھیراتا ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تو اس کی حالت ایسی ہے گویا وہ گرا ہو آسمان سے پس اچک لیا ہو اسے کسی پرندے یا پھینک دیا ہو اسے ہوا نے کسی دور جگہ میں

﴿32﴾ حقیقت یہ ہے اور جو ادب و احترام کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا تو یہ (احترام) اس وجہ سے ہے کہ دلوں میں تقویٰ ہے

﴿33﴾ تمھارے لیے مویشیوں میں طرح طرح کے فائدے ہیں ایک معین مدت تک پھر انکے ذبح کرنے کا مقام بیت عتیق کے قریب ہے

﴿34﴾ اور ہر امت کے لیے ہم نے مقرر فرمائی ہے ایک قربانی تاکہ وہ ذکر کریں اللہ تعالیٰ کا اسم (پاک) ان بےزبان جانوروں پر ذبح کے وقت جو اللہ تعالیٰ نے انھیں عطا فرمائے ہیں پس تمھارا خدا خدا ئے واحد ہے تو اسی کے آگے سر جھکاؤ اور (اے محبوب) مثردہ سنائیے تواضع کرنے والوں کو

﴿35﴾ وہ لوگ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈرنے لگتے ہیں اور جو صبر کرنے والے ہیں ان (مصائب و آلام) پر جو پہنچتے ہیں انھیں اور جو صحیح ادا کرنے والے ہیں نماز کو اور ان چیزوں سے جو ہم نے انھیں عطا فرمائی ہیں وہ خرچ کرتے رہتے ہیں

﴿36﴾ اور قربانی کے فربہ جانوروں کو ہم نے بنایا ہے تمھارے لیے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ، تمھارے لیے ان میں بھلائی ہے پس لو اللہ تعالیٰ کا نام ان پر اس حال میں کہ ان کا ایک پاؤں بندھا ہو اور تین پر کھڑے ہوں ۔ پس جب وہ گِر پڑیں کسی پہلو پر تو خود بھی کھاؤ اس سے نیز کھلاؤ قناعت کرنیوالے فقیر کو اور بھیک مانگنے والے کو اس طرح ہم نے فرمانبردار بنا دیا ان جانوروں کو تمہارے لیے تاکہ تم (اس احسان کا) شکریہ ادا کرو

﴿37﴾ نہیں پہنچتے اللہ تعالیٰ کو ان کے گوشت اور نہ ان کے خون البتہ پہنچتا ہے اس کے حضور تک تقوی تمہاری طرف سے یوں اس نے فرمانبردار بنادیا ہے انہین تمہارے لیے تاکہ تم برائی بیان کرو اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر کہ اس نے تم کو ہدایت دی اور (اے حبیب!) جخوشخبری دیجیے احسان کرنیوالوں کو

﴿38﴾ یقیناً اللہ تعالیٰ حفاظت کرتا ہے اہل ایمان کی (کفار کے مکر و فریب سے ) بیشک اللہ تعالیٰ دوست نہیں رکھتاکسی دھوکہ باز احسان فراموش کو

﴿39﴾ اذن دے دیا گیا ہے (جہاد کا) ان (مظلوموں ) کو جن سے جنگ کیجاتی ہے اس بنا پر کہ ان پر ظلم کیا گیا اور بیشک اللہ تعالیٰ ان کی نصرت پر پوری طرح قادر ہے

﴿40﴾ وہ (مظلوم) جن کو نکال دیا گیا تھا ان کے گھروں سے ناحق صرف اتنی بات پر کہ انھوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور اگر اللہ تعالیٰ بچاؤ نہ کرتا لوگوں کا انھیں ایک دوسرے سے ٹکراکر تو (طاقتور کی غارتگری سے) منہدم ہو جائیں خانقاہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں جن میں اللہ تعالیٰ کے نام کا ذکر کثرت سے کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ضرور مدد فرمائیگا اس کی جو اس (کے دین) کی مدد کریگا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ قوت والا (اور) سب پر غالب ہے

﴿41﴾ وہ لوگ کہ اگر ہم انھیں اقتدار بخشیں زمین میں تو وہ صحیح صحیح ادا کرتے ہیں نماز کو اور دیتے ہیں زکوٰۃ اور حکم کرتے ہیں (لوگوں کو ) نیکی کا اور روکتے ہیں (انھیں ) برائی سے اور اللہ تعالیٰ کے لیے ہے سارے کاموں کا انجام

﴿42﴾ اور اگر یہ کفار آپ کو جھٹلاتے ہیں (تو کیا تعجب ہے) پس جھٹلایا تھا ان سے پہلے قوم نوح نے اور عاد و ثمود نے

﴿43﴾ اور قوم ابراہیم نے اور قوم لوط نے

﴿44﴾ اور مدین کے رہنے والوں نے (اپنے اپنے نبیوں کو) اور جھٹلائے گئے موسیٰ بھی۔ تو (کچھ عرصہ) میں نے مہلت دی ان کفار کو (جب وہ باز نہ آئے) تو میں نے انھیں پکڑا (خود ہی بتاؤ) کتنا خوفناک تھا میرا عذاب

﴿45﴾ پس کتنی بستیاں ہیں جنھیں ہم نے تہ و بالا کر ڈالاکیونکہ وہ ظالم تھیں تو اب وہ گری پڑی ہیں اپنی چھتوں پر اور کتنے کنویں ہیں جو بیکار ہو چکے ہیں اور کتنے چونے سے بنے ہوئے مضبوط محل ہیں (جو ویران پڑے ہیں)

﴿46﴾ کیا انھوں نے سیر و سیاحت نہیں کی زمین میں تاکہ (ان کھنڈرات کو دیکھ کر) ان کے دل ایسے ہو جاتے جن سے وہ (حق ) کو سمجھ سکتے اور کان ایسے ہو جاتے جن سے یہ نصیحت سن سکتے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہوتے ہیں

﴿47﴾ یہ لوگ جلدی مانگ رہے ہیں آپ سے عذاب۔ (یہ تسلی رکھیں) اللہ تعالیٰ خلاف ورزی نہیں کریگا اپنے وعدہ کی۔ اور بےشک ایک دن تیرے رب کے ہاں ایک ہزار سال کی طرح ہوتا ہے جس حساب سے تم گنتی کرتے ہو

﴿48﴾ اور کتنی بستیاں تھیں جنھیں میں نے (کافی عرصہ) ڈھیل دی حالانکہ وہ ظالم تھیں پھر (جب وہ باز نہ آئے) تو میں نے انھیں پکڑ لیا اور میری طرف ہی (سب کو) لوٹنا ہے

﴿49﴾ (اے حبیب) آپ فرمائیے اے لوگو! بس میں تو تمھیں (عذاب الٰہی سے) کھلا ڈرانیوالا ہوں

﴿50﴾ سو جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے تو ان کے لیے مغفرت بھی ہے اور با عزت روزی بھی

﴿51﴾ اور جو لوگ کوشش کرتے رہے ہماری آیتوں (کی تردید) میں اس خیال سے کہ وہ ہمیں ہرا دیں گے یہی لوگ دوزخی ہیں

﴿52﴾ اور نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول اور نہ کوئی نبی مگر اس کے ساتھ یہ ہوا کہ جب اس نے کچھ پڑھا تو ڈال دئیے شیطان نے اسکے پڑھنے میں (شکوک) پس مٹا دیتا ہے اللہ تعالیٰ جو دخل اندازی شیطان کرتا ہے پھر پختہ کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ اپنی آیتوں کو اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا بہت دانا ہے

﴿53﴾ یہ سب اس لیے تاکہ اللہ تعالیٰ بنا دے جو وسوسہ دالتا ہے شیطان ایک آزمائش ان لوگوں کے لیے جنکے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل بہت سخت ہیں اور بےشک ظالم لوگ مخالفت میں بہت دور نکل جاتے ہیں

﴿54﴾ نیز ا س میں یہ حکمت بھی ہے کہ جان لیں وہ لوگ جنھیں علم بخشا گیا کہ کتاب حق ہے آپ کے رب کی طرف سے تاکہ ایمان لائیں ا س کے ساتھ اور جھک جائیں اس (کی سچائی) کے آگے ان کے دل اور بےشک اللہ تعالیٰ ہدایت دینے والا ہے ایمان والوں کو راہ راست کی طرف

﴿55﴾ اور ہمیشہ شک میں مبتلا رہیں گے کفار ا س کے بارے میں یہاں تک کہ آجائے ان پر قیامت اچانک یا آجائے ان پر عذاب منحوس دن کا

﴿56﴾ حکمرانی اس روز اللہ تعالیٰ کی ہو گی وہی فیصلہ فرمائے گا لوگوں کے درمیان پس جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے تو وہ نعمت (و احسان) کے باغوں میں (قیام پذیر ) ہونگے

﴿57﴾ اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایاتو یہ وہ بد نصیب ہیں جن کے لیے رسوا کن عذاب ہو گا

﴿58﴾ اور جن لوگوں نے ہجرت کی راہ خدا میں پھر وہ (جہاد میں) قتل کر دیے گئے تا طبعی طور پر فوت ہوئے تو ضرور عطا فرمائیگا انھیں اللہ تعالیٰ بہترین رزق اور بےشک اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے

﴿59﴾ وہ ضرور داخل کریگا انھیں ایسی جگہ جسے وہ پسند کریں گے اور یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا ، بڑا برد بار ہے

﴿60﴾ ان باتوں کو یاد رکھو! اور جس نے بدلا لیا اتنا قدر جتنی تکلیف اسے دی گئی تھی پھر (مزید ) زیادتی کی گئی اس پر تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مدد فرمائیگا بیشک اللہ تعالیٰ بہت معاف فرمانیوالا بہت بخشنے والا ہے

﴿61﴾ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی داخل کرتا ہے رات (کے کچھ حصوں) کو دِن میں اور داخل کرتا ہے دِن (کے کچھ حصہ ) کو رات میں اور اللہ تعالیٰ سب باتیں سننے والا اور سب کچھ دیکھنے والا ہے

﴿62﴾ نیز اس کی یہ وجہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو خدائے برحق ہے اور جسے وہ پوجتے ہیں اس کے علاوہ وہ سراسر باطل ہے اور اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سب سے بلند (اور) سب سے بڑا ہے

﴿63﴾ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اتارا آسمان سے پانی تو ہو جاتی ہے (خشک ) زمین سر سبز و شاداب بےشک اللہ تعالیٰ ہمیشہ لطف فرمانیوالاہر چیز سے باخبر ہے

﴿64﴾ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سب سے بےپرواہ اور ہر تعریف کا مستحق ہے

﴿65﴾ اور کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمانبردار بنا دیا ہے تمھارے لیے ہر چیز کو جو زمین میں ہے اور کشتی کو بھی کہ چلتی ہے سمندر میں اس کے حکم سے اور اس نے روکا ہوا ہے آسمان کو کہ گِر نہ پڑے زمین پر بجز اس کے فرمان کے ۔ بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ بڑی مہربانی فرمانیوالا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے

﴿66﴾ اور وہی ہے جس نے تمھیں زندگی دی پھر مارے گا تمھیں پھر زندہ کریگا تمھیں بیشک انسان بڑا نا شکرا ہے

﴿67﴾ ہر امت کے لیے ہم نے مقرر کر دیا ہے عبادت کا طریقہ جس کے مطابق وہ عبادت کرتے ہیں تو انھیں چاہیے کہ وہ نہ جھگڑا کریں آپ سے اس معاملہ میں آپ بلاتے رہیے انھیں اپنے رب کی طرف (اے محبوب!) آپ بیشک سیدھی راہ پر (گامزن) ہیں

﴿68﴾ اور اگر وہ (پھر بھی) آپ سے جھگڑا کریں تو آپ (صرف اتنا) فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو تم کر رہے ہو

﴿69﴾ اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمائیگا تمھارے درمیان قیامت کے دن امور کے بارے میں جن میں تم اختلاف کرتے رہتے ہو

﴿70﴾ کیا آپ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے یہ سب کچھ ایک کتاب میں (لکھا ہوا) ہے بیشک (بلندی اور پستی کی ہر چیز کو جان لینا) اللہ تعالیٰ پر آسان ہے

﴿71﴾ اور وہ پوجتے ہیں اللہ تعالیٰ کے سواان کو نہیں اتاری جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے کوئی سند۔ اور انھیں خود بھی ان کے بارے میں کوئی علم نہیں ۔ اور نہیں ہوگا ظلم و ستم کرنے والوں کا کوئی مدگار

﴿72﴾ اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان کے سامنے ہماری آیتیں صاف صاف، تو آپ پہچان لیتے ہیں کفار کے چہروں پر نا پسندیدگی کے آثار ۔ یوں پتہ چلتا ہے کہ وہ عنقریب جھپٹ پڑینگے ان لوگوں پر جو پڑھتے ہیں ان کے سامنے ہماری آیتیں ۔ آپ فرمائیے (اے چیں بہ جبیں ہونے والو!) کیا میں آگاہ کر دوں تمھیں اس سے بھی تکلیف دہ چیز پر ۔ دوزخ کی آگ! وعدہ کیا ہے اس آگ کا اللہ تعالیٰ نے کفار سے ۔ اور دوزخ بہت برا ٹھکانا ہے

﴿73﴾ اے لوگو! ایک مثال بیان کی جا رہی ہے پس غور سے سنو اسے! بیشک جن معبودوں کو تم پکارتے ہو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر یہ تو مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے اگرچہ وہ سب جمع ہو جائیں اس (معمولی سے) کام کے لیے اور اگر چھین لے ان سے مکھی بھی کوئی چیز تو وہ نہیں چھوڑا سکتے اسے اس مکھی سے (آہ!) کتنا بےبس ہے ایسا طالب اور کتنا بےبس ہے ایسا مطلوب

﴿74﴾ نہ قدر پہچانی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی جیسے اس کی قدر پہچاننے کا حق تھا بیشک اللہ تعالیٰ بڑا طاقتور (اور ) سب پر غالب ہے

﴿75﴾ اللہ تعالیٰ چُن لیتا ہے فرشتوں سے بعض پیغام پہچانے والے اور انسانوں سے بھی بعض کو رسول بےشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا اور سب دیکھنے والا ہے

﴿76﴾ وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف ہی لوٹائے جائینگے سارے معاملات

﴿77﴾ اے ایمان والو! رکوع کرو اور سجدہ کرو اور عبادت کرو اپنے پروردگار کی اور (ہمیشہ) مفید کام کیا کروتاکہ تم (دین و دنیا میں) کامیاب ہو جاؤ

﴿78﴾ اور (سر توڑ) کر کوشش کرو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جس طرح کوشش کرنے کا حق ہے اس نے چُن لیا ہے تمھیں (حق کی پاسبانی اور اشاعت کے لیے ) اور نہیں روا رکھی اس نے تم پر دین کے معاملہ میں کوئی تنگی ۔ پیروی کرو اپنے باپ ابراہیم کے دین کی اسی نے تمھارا نام مسلم (سر اطاعت خم کرنے والا) رکھا ہے اس سے پہلے اور اس قرآن میں بھی تمھارا یہی نام ہے تاکہ ہو جائے رسول (کریم) گواہ تم پر اور تم گواہ ہو جاؤ لوگوں پر پس (اے دین حق کے علمبردارو!) صحیح صحیح ادا کیا کرو نماز اور دیا کرو زکوٰۃ اور مضبوط پکڑ لو اللہ تعالیٰ (کے دامن رحمت) کو وہی تمھارا کارساز ہے ۔ پس وہ بہترین کارساز ہے اور بہترین مدد فرمانیوالا ہے

المومنون

Surah 23

﴿1﴾ بیشک دونوں جہان میں با مراد ہو گئے ایمان والے

﴿2﴾ وہ ایمان والے جو اپنی نماز میں عجزو نیاز کرتے ہیں

﴿3﴾ اور وہ جو ہر بیہودہ امر سے منہ پھیرے ہوئے ہیں

﴿4﴾ اور وہ جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں

﴿5﴾ اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں

﴿6﴾ بجز اپنی بیویوں کے اور ان کنیزوں کے جو ان کے ہاتھوں کی ملکیت ہیں تو بیشک انہیں ملامت نہ کی جائیگی

﴿7﴾ اور جس نے خواہش کی ان دو کے ما سوا تو یہی لوگ حد سے بہت زیادہ تجاوز کرنے والے ہیں نیز وہ (مومن با مراد ہیں)

﴿8﴾ جو اپنی امانتوں اور اپنے وعدوں کی پاسداری کرنے والے ہیں

﴿9﴾ اور وہ جو اپنی نمازوں کی پوری حفاظت کرتے ہیں

﴿10﴾ یہی لوگ وارث ہیں

﴿11﴾ جو وارث بنیں گے فردوس (بریں) کے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

﴿12﴾ اور بیشک ہم نے پیدا کیا انسان کو مٹی کے جوہر سے

﴿13﴾ پھر ہم نے رکھا اسے پانی کی بوند بنا کر ایک محفوظ مقام میں

﴿14﴾ پھر ہم نے بنا دیا نطفہ کو خون کا لوتھڑا پھر ہم نے بنا دیا اس لوتھڑے کو گوشت کی بوٹی پھر ہم نے پیدا کر دیں اس بوٹی سے ہڈیاں ، پھر ہم نے پہنا دیا ان ہڈیوں کو گوشت ۔ پھر (روح پھونک کر) ہم نے اسے دوسری مخلوق بنا دیا پس بڑا با برکت ہے اللہ جو سب سے بہتر بنانے والا ہے

﴿15﴾ پھر یقیناً تم ان مرحلوں سے گزرنے کے بعد مرنے والے ہو

﴿16﴾ پھر بلا شبہ تمھیں روز قیامت (قبروں سے ) اٹھایا جائیگا

﴿17﴾ اور بےشک ہم نے تمھارے اوپر سات راستے بنا دیے اور ہم اپنی مخلوق (کی مصلحتوں) سے بےخبر نہ تھے

﴿18﴾ اور ہم نے اتارا آسمان سے پانی اندازہ کے مطابق پھر ہم نے ٹھیرا لیا اسے زمین میں اور یقیناً ہم اسے بالکل نا پید کرنے پر پوری طرح قادر ہیں

﴿19﴾ پھر ہم نے اگائے تمھارے لیے اس پانی سے باغات کھجوروں اور انگوروں کے تمھارے لیے ان میں بہت سے پھل ہیں اور ان میں سے تم کھاتے بھی ہو

﴿20﴾ نیز پیدا کیا ایک درخت جو اگتا ہے طور سینا میں وہ اگتا ہے تیل لیے ہوئے اور سالن لیے ہوئے کھانیوالوں کے لیے

﴿21﴾ اور بےشک تمھارے لیے جانوروں میں بھی غورو فکر کا مقام ہے ہم پلاتے ہیں تمھیں اس (دودھ) سے جو ان کے شکموں میں ہے اور تمھارے لیے ان میں طرح طرح کے بہت فائدے ہیں اور انھیں (کے گوشت) سے تم کھاتے ہو

﴿22﴾ اور ان پر اور کشتیوں پر تمھیں سوار کیا جاتا ہے

﴿23﴾ اور ہم نے بھیجا نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف تو آپ نے فرمایا اے میری قوم! اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، نہیں ہے تمھارا کوئی خدا اس کے بغیر ۔ کیا تم (بت پرستی کے انجام سے ) نہیں ڈرتے

﴿24﴾ تو کہنے لگے وہ سردار جنھوں نے کفر اختیار کیا تھا ان کی قوم سے کہ نہیں ہے یہ مگر بشر تمھارے جیسا یہ چاہتا ہے کہ اپنی بزرگی جتلائے تم پر اور اگر اللہ تعالیٰ (رسول بھیجنا) چاہتا تو وہ اتارتا فرشتوں کو ، ہم نے نہیں سنی یہ بات (جو نوح علیہ السلام کہتے ہیں ) اپنے پہلے آباؤاجداد میں

﴿25﴾ نہیں ہے یہ مگر ایسا شخص جسے جنون کا مرض ہو گیا ہے سو انتظار کرو اس کے انجام کا کچھ عرصہ

﴿26﴾ آپ نے عرض کی اے رب!(اب) تو ہی میری مدد فرما کیونکہ انھوں نے مجھے جھٹلا دیا ہے

﴿27﴾ تو ہم نے وحی بھیجی ان کی طرف کہ بناؤ ایک کشتی ہماری نگاہوں کے سامنے اور ہمارے حکم کے مطابق۔ پھر جب آجائے ہمارا عذاب اور (پانی) اُبل پڑے تنور سے تو داخل کر لو اس میں ہر جوڑے میں سے دو دو اور اپنے گھر والوں کو بجز ان کے جن کے بارے میں پہلے فیصلہ ہو چکا ہے ان میں سے ، اور گفتگو نہ کرنا میرے ساتھ ان کے متعلق جنھوں نے ظلم کیا وہ تو ضرور غرق کیے جائیں گے

﴿28﴾ پھر جب اچھی طرح بیٹھ جائیں آپ اور آپ کے ساتھی کشتی کے عرشہ پر تو کہنا سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے ہمیں نجات دی ظالم قوم (کے جوروستم) سے

﴿29﴾ اور یہ بھی عرض کرنا کہ اے میرے رب! اتار مجھے با برکت منزل پر اور تو ہی سب سے بہتر اتارنے والا ہے

﴿30﴾ بیشک اس قصہ میں ہماری قدرت کی نشانیاں ہیں اور ہم ضرور (اپنے بندوں کو ) آزمانے والے ہیں

﴿31﴾ پھر ہم نے پیدا فرما دی ان کے (غرق ہونے کے ) بعد ایک دوسری جماعت

﴿32﴾ پھر ہم نے بھیجا ان میں ایک رسول ان میں سے (اس نے انہیں کہا) کہ عبادت کرو اللہ کی ، نہیں ہے تمھارا کوئی خدا اس کے سوا، کیا تم (شرک کے انجام سے) نہیں ڈرتے ہو

﴿33﴾ تو بولے ان کی قوم کے سردار جنھوں نے کفرکیا تھا اور جنھوں نے جھٹلایا تھا قیامت کی حاضری کو اور ہم نے خوشحال بنا دیا تھا انھیں دنیوی زندگی میں ۔ (اے لوگو!) نہیں ہے یہ مگر ایک بشر تمھاری مانند، یہ کھاتا ہے وہی خوراک جو تم کھاتے ہو اور پیتا ہے اس سے جس تم پیتے ہو

﴿34﴾ اور اگر تم پیروی کرنے لگے اپنے جیسے بشر کی تو تم تب نقصان اٹھانے والے ہو جاؤ گے

﴿35﴾ کیا وہ تم سے یہ وعدہ کرتا ہے کہ تم جب مر جاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جاؤ گے تو تمھیں (پھر قبروں سے) نکالا جائیگا

﴿36﴾ یہ بات عقل سے بعید ہے بالکل بعیدجس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے

﴿37﴾ نہیں ہے کوئی اور زندگی سوائے ہماری اس دنیوی زندگی کے یہی ہمارا مرنا ہے اور یہی ہمارا جینا ہے اور ہمیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائیگا

﴿38﴾ وہ نہیں مگر ایسا شخص جس نے بہتان لگایا ہے اللہ تعالیٰ پر جھوٹا اور ہم تو قطعاً اس پر ایمان نہیں لائیں گے۔

﴿39﴾ اس پیغمبر نے کہامیرے رب! اب تو میری مدد فرما کیونکہ انھوں نے تو مجھے جھٹلا دیا ہے

﴿40﴾ اللہ تعالیٰ نے فرمایا عنقریب ہی یہ لوگ اپنے کیے پر نادم ہو جائیں گے

﴿41﴾ تو آ پکڑا انہیں حقیقی چنگھاڑ نے تو ہم نے انھیں خس و خاشاک بنا دیا تو برباد ہو جائے وہ قوم جو ستم شعار ہے

﴿42﴾ پھر ہم نے پیدا فرمائی ان (کی بربادی) کے بعد کئی قومیں

﴿43﴾ آگے نہیں بڑھ سکتی کوئی قوم اپنی مقررہ میعاد سے اور نہ وہ لوگ پیچھے رہ سکتے ہیں

﴿44﴾ پھر ہم بھیجتے رہے اپنے رسول یکے بعد دیگرے جب کبھی کسی امت کے پاس اس کا رسول آیا تو انھوں نے اسے جھٹلایا ۔ پس ہم بھی ایک کے بعد دوسرے کو ہلاک کرتے گئے اور ہم نے (ان جابر) قوموں کو افسانے بنا دیا پس خدا کی پھٹکار ہو ایسی قوم پر جو ایمان نہیں لاتی

﴿45﴾ پھر ہم نے بھیجا موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون علیہ السلام کو اپنی نشانیاں اور واضح دلیل دے کر

﴿46﴾ فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف تو انہوں نے بھی غرور و تکبر کیا اور وہ لوگ برے سر کش تھے

﴿47﴾ تو انہوں نے کہا کیا ہم ایمان لے آئیں ان دو آدمیوں پر جو ہماری مانند ہیں ، حالانکہ ان کی قوم ہماری غلام ہے

﴿48﴾ پس انھوں نے ان دونوں کو جھٹلایا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ بھی برباد ہونے والوں میں شامل ہو گئے

﴿49﴾ اور بیشک ہم نے عطا فرمائی موسیٰ علیہ السلام کو کتاب تاکہ ( ان کی قوم) ہدایت یافتہ ہو جائے

﴿50﴾ اور ہم نے بنا دیا مریم کے فرزند اور ان کی (مریم) ماں کو (اپنی قدرت کی) نشانی اور انھیں بسایا ایک بلند مقام پر جو رہائش کے قابل تھا اور جہاں چشمے جاری تھے

﴿51﴾ اے (میرے) پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھے کام کرو۔ بیشک میں جو اعمال تم کر رہے ہو ان سے خوب واقف ہوں

﴿52﴾ اور یہی تمھارا دین ہے (اور) وہ ایک ہی ہے اور میں تم سب کا پروردگار ہوں سو تم ڈرا کرو مجھ سے

﴿53﴾ لیکن کاٹ کر بنا دیا انھوں نے اپنی دینی وحدت کو باہمی اختلاف سے پارہ پارہ۔ ہر گروہ اپنے نظریات پر مسرور ہے

﴿54﴾ پس (اے محبوب!) رہنے دو انھیں اپنی مد ہوشی میں کچھ وقت تک

﴿55﴾ کیا یہ تفرقہ باز خیال کرتے ہیں کہ ہم جو ان کی مدد کر رہے ہیں مال و اولاد (کی کثرت سے)

﴿56﴾ تو ہم جلدی کر رہے ہیں انھیں بھلائیاں پہچانے میں (یوں نہیں) بلکہ وہ (حقیقت حال سے ) بےخبر ہیں

﴿57﴾ بیشک وہ لو گ جو اپنے رب کے خوف سے ڈر رہے ہیں

﴿58﴾ اور وہ جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں

﴿59﴾ اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ (کسی کو) شریک نہیں بناتے

﴿60﴾ اور وہ جو دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اس حال میں کہ ان کے دل ڈر رہے ہیں (اس خیال سے) کہ وہ (ایک دن) اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں

﴿61﴾ یہی لوگ جلدی کرتے ہیں بھلائیاں کرنے میں وہ بھلائیوں کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں

﴿62﴾ اور ہم تکلیف نہیں دیتے کسی شخص کو مگر جتنی اس کی طاقت ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو سچ بولتی ہے اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائیگا

﴿63﴾ بلکہ ان کے دل مد ہوش ہیں اس (خوفناک حقیقت) سے اور ان کے اعمال مومنوں کے اعمال سے مختلف ہیں یہ (نابکار) ان برے کاموں کو ہی کرنے والے ہیں

﴿64﴾ یہاں تک کہ ہم پکڑیں گے ان کے خوشحال لوگوں کو عذاب سے ، اس وقت وہ چلائیں گے

﴿65﴾ (ظالمو!) آج نہ چلّاؤ تمھاری ہماری طرف سے اب کوئی مدد نہ کی جائیگی

﴿66﴾ (وہ وقت یاد کرو) جب ہماری آیتیں تمھارے سامنے پڑھی جاتی تھیں اور تم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جایا کرتے تھے

﴿67﴾ غرور و تکبّر کرتے ہوئے (پھر صحن حرم میں) تم داستان سرائی کیا کرتے تھے

﴿68﴾ اور قرآن کی شان میں بکواس کیا کرتے تھے کیا انھوں نے کبھی تدبر نہ کیا قرآن میں ؟یا آئی تھی ان کے پاس ایسی چیز جو نہ آئی تھی ان کے پہلے آباؤاجداد کے پاس۔

﴿69﴾ یا انھوں نے اپنے رسول (مکرم) کو نہ پہچانا تھا اس لیے وہ اس کے منکر بنے رہے

﴿70﴾ یا کہتے ہیں کہ اسے سودا کا مرض ہے (یوں نہیں ) بلکہ وہ تشریف لایا ان کے پاس حق کے ساتھ اور بہت سے لوگ ان میں سے حق کو نا پسند کرتے ہیں

﴿71﴾ اور اگر پیروی کرتا حق ان کی خواہشات (نفسانی) کی تو درہم برہم ہو جاتے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے بلکہ ہم ان کے پاس لے آئے ان کی نصیحت تو وہ اپنی نصیحت سے ہی روگردانی کرنے والے ہیں

﴿72﴾ کیا آپ طلب کرتے ہیں ان سے کچھ معاوضہ ؟ (آپ کے لیے) تو آپ کے رب کی عطا بہتر ہے اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

﴿73﴾ اور بےشک آپ انھیں بلاتے ہیں سیدھی راہ کی طرف

﴿74﴾ بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے آخرت پر وہ راہ راست سے منحرف ہونے والے ہیں

﴿75﴾ اور اگر ہم ان پر مہربانی بھی فرمائیں اور دور بھی کر دیں اس مصیبت کو جس میں مبتلا ہیں پھر بھی وہ بڑھتے جائیں گے اپنی سر کشی میں اندھے بنے ہوئے

﴿76﴾ اور ہم نے پکڑ لیا انھیں عذاب سے ، پھر بھی وہ نہ جھکے اپنے رب کی بارگاہ میں اور نہ وہ اب گڑ گڑا کر (توبہ کرتے) ہیں

﴿77﴾ یہاں تک کہ جب ہم کھول دیں گے ان پر دروازہ سخت عذاب والا وہ اس وقت بالکل مایوس ہو جائیں گے

﴿78﴾ اور وہ وہی ہے جس نے بنائے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل، لیکن (ان عظیم نعمتوں پر بھی) تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو

﴿79﴾ اور وہ وہی ہے جس نے پھیلا دیا تمھیں زمین (کے اطراف ) میں اور (انجام کار) اسی کی جناب میں اکٹھے کیے جاؤ گے

﴿80﴾ اور وہ وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کے اختیار میں ہے گردش لیل و نہار۔ کیا (اتنا بھی) تم نہیں سمجھتے

﴿81﴾ بلکہ انھوں نے بھی وہی بات کہی جو پہلے (کفار) کہا کرتے تھے

﴿82﴾ انھوں نے کہا، کیا جب ہم مر جائیں گے اور بن جائیں گے خاک اور ہڈیاں تو کیا ہمیں پھر اٹھایا جائیگا؟

﴿83﴾ بلاشبہ یہ وعدہ کیا گیا ہم سے اور ہمارے باپ دادا کے ساتھ بھی آج سے پہلے (لیکن آج تک پورا نہ ہوا) نہیں ہیں یہ باتیں مگر من گھڑت افسانے پہلے لوگوں کے

﴿84﴾ (اے حبیب!) آپ پوچھیے کس کی ملکیت ہے یہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے (بتاؤ) اگر تم جانتے ہو

﴿85﴾ وہ کہیں گے (یہ سب) اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں۔ آپ فرمائیے پھر کیا تم غور نہیں کرتے

﴿86﴾ پوچھیے کون ہے مالک سات آسمانوں کا ، اور (کون ہے ) مالک عرش عظیم کا ؟

﴿87﴾ وہ کہیں گے (یہ سب) اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ آپ فرمائیے تم اس سے کیوں نہیں ڈرتے

﴿88﴾ آپ پوچھیے وہ کون ہے جس کے دست قدرت ہیں ہر چیز کی کامل ملکیت ہے اور وہ پناہ دیتا ہے (جسے چاہے) اور پناہ نہیں دی جا سکتی اس کی مرضی کے خلاف (بتاؤ) اگر تم کچھ علم رکھتے ہو

﴿89﴾ وہ کہیں گے یہ اللہ تعالیٰ ہی کی شان ہے۔ فرمائیے پھر کیسے تم دھوکہ میں مبتلا ہو جاتے ہو

﴿90﴾ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے پہنچا دیا انھیں حق اور وہ یقیناً جھوٹے ہیں

﴿91﴾ نہیں بنایا اللہ نے کسی کو (اپنا) بیٹا اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ورنہ لے جاتا ہر خدا ہر اس چیز کو جو اس نے پیدا کی ہوتی اور غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے وہ خدا ایک دوسرے پر ۔ پاک ہے اللہ تعالیٰ ان تمام (نا زیبا) باتوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں

﴿92﴾ وہ جاننے والا ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کو ، پس وہ بلند ہے اس شرک سے جو وہ کرتے ہیں

﴿93﴾ آپ یہ دعا مانگیے اے میرے پروردگار! اگر تو ضرور مجھے دکھانا چاہتا ہے وہ (عذاب) جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے

﴿94﴾ تو میرے رب!(ازراہ عنایت) مجھے ان ظالموں کے ساتھ نہ کرنا

﴿95﴾ اور ہم اس بات پر کہ دکھا دیں تجھے وہ عذاب جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے قادر ہیں

﴿96﴾ دُور کرو اس چیز سے جو بہت بہتر ہے برائی کو ہم خوب جانتے ہیں جو باتیں وہ بیان کرتے ہیں

﴿97﴾ اور کہیے میرے رب! میں پناہ طلب کرتا ہوں تیری شیطانوں کے وسوسوں سے

﴿98﴾ اور میں تیری پناہ طلب کرتاہوں میرے رب اس سے کہ وہ میرے پاس آئیں

﴿99﴾ یہاں تک کہ جب آئے گی ان میں سے کسی کو موت تو وہ (بصد حسرت) کہے گا میرے مالک ! مجھے (دنیا میں ) واپس بھیجدے

﴿100﴾ شاید میں اچھے کام کروں اس دنیا میں دوبارہ جا کر جسے میں ایک بار چھوڑ آیا ہوں ۔ ایسا نہیں ہو سکتا ۔ یہ ایک (لغو) بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے اور ان کے آگے ایک آڑ ہے اس دن تک جب وہ دوبارہ زندہ کیے جائینگے

﴿101﴾ تو جب صور پھونکا جائیگا تو کوئی رشتہ داریاں نہ رہیں گے ان کے درمیان اس روز اور نہ وہ ایک دوسرے کے متعلق پوچھ سکیں گے

﴿102﴾ البتہ جن کے پلڑے بھاری ہونگے تو وہی لوگ کامیاب و کامران ہونگے

﴿103﴾ اور جن کے پلڑے ہلکے ہونگے تو وہی لوگ ہیں جنھوں نے نقصان پہنچایا اپنے آپ کو وہ جہنم میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے

﴿104﴾ بُری طرح جھُلس دے گی ان کے چہروں کو آگ اور وہ اس میں دانت نکالے ہونگے

﴿105﴾ کیا ہماری آیتیں نہیں پڑھی جاتی تھیں تمہارے سامنے اور تم انھیں جھٹلایا کرتے تھے

﴿106﴾ (معذرت کرتے ہوئے) کہیں گے اے ہمارے رب ! غالب آگئی تھی ہم پر ہماری بد بختی اور ہم گم کردہ راہ لوگ تھے

﴿107﴾ اے ہمارے مالک !(ایک بار) ہمیں نکال اس سے پھر اگر ہم نا فرمانی کی طرف رجوع کریں تو یقیناً پھر ہم ظالم ہوں گے

﴿108﴾ جواب ملے گا پھٹکارے ہوئے پڑے رہو اس میں اور مت بولو میرے ساتھ

﴿109﴾ (تمھیں یاد ہے) ایک گروہ میرے بندوں میں سے ایسا تھا جو عرض کیا کرتا تھا اے ہمارے رب ! ہم ایمان لے آئے ہی ، سو تو بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اور تو سب سے بہتر رحم فرمانیوالاہے

﴿110﴾ تم نے ان کا مذاق اڑانا شروع کر دیا ، حتی کہ اس مشغلے نے غافل کر دیا تمھیں میری یاد سے اور تم ان پر قہق ہے لگایا کرتے تھے

﴿111﴾ میں نے بدلہ دے دیا انھیں آج ان کے صبر کا (ذرا دیکھو) وہی ہیں مراد کو پانے والے

﴿112﴾ اللہ تعالیٰ فرمائے گا (ذرا بتاؤ) کتنے سال تم زمین میں ٹھیرے رہے ؟

﴿113﴾ کہیں گے ہم ٹھیرے تھے بس ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ۔ آپ پوچھ لیں سال گننے والوں سے

﴿114﴾ ارشاد ہوگا تم نہیں ٹھیرے مگر تھوڑا عرصہ ۔ کاش! تم اس (حقیقت) کو (پہلے ہی) جان لیتے

﴿115﴾ کیا تم نے یہ گمان کر رکھا تھا کہ ہم نے تمھیں بےمقصد پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے

﴿116﴾ پس بہت بلند ہے اللہ جو بادشاہ حقیقی ہے (بے مقصد تخلیق سے) نہیں کوئی معبود بجز اس کے ۔ وہ مالک ہے عزت والے عرش کا

﴿117﴾ اور جو پوجتا ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبودکو جس کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں تو اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہے۔ بلاشبہ نہیں کامیاب ہونگے حق کا انکار کرنے والے

﴿118﴾ اور (اے محبوب!) آپ (یوں ) عرض کرو میرے رب! بخش دے (میری گنہگار اُمّت کو) اور رحم فرما (ہم سب پر ) اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والاہے

النور

Surah 24

﴿1﴾ یہ (ایک عظیم الشان) سورۃ ہے جو ہم نے نازل فرمائی ہے اور ہم نے فرض کیا ہے اس (کے احکام) کو اور ہم نے اتاری ہیں اس میں روشن آیتیں تاکہ تم نصیحت قبول کرو

﴿2﴾ جو عورت بدکار ہو اور جو مرد بدکار ہو تو لگاؤ ہر ایک کو ان دونوں میں سے سو (سو) دُرّے اور نہ آئے تمھیں ان دونوں پر ( ذرا) رحم اللہ تعالیٰ کے دین کے معاملے میں اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ تعالیٰ پر اور روز آخرت پر اور چاہیے کہ مشاہدہ کرے دونوں کی سزا کو اہل ایمان کا ایک گروہ

﴿3﴾ زانی شادی نہیں کرتا مگر زانیہ کے ساتھ یا مشرکہ کے ساتھ اور زانیہ نکاح نہیں کرتا اس کے ساتھ مگر زانی یا مشرک اور حرام کر دیا ہے یہ اہل ایمان پر

﴿4﴾ اور وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاکدامن عورتوں پر، پھر وہ نہ پیش کر سکیں چار گواہ تو لگاؤ ان (تہمت لگانے والوں ) کو اسّی دُرّے اور نہ قبول کرنا ان کی کوئی گواہی ہمیشہ کے لیے اور وہی لوگ فاسق ہیں

﴿5﴾ مگر (ان میں سے ) وہ لوگ جو توبہ کر لیں ایسا بہتان لگانے کے بعد اور اپنی اصلاح کر لیں تو بیشک اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے

﴿6﴾ اور وہ (خاوند) جو تہمت لگاتے ہیں اپنی بیویوں پر اور نہ ہو ان کے پاس کوئی گواہ بجز اپنے تو ان کی شہادت کا یہ طریقہ ہے کہ وہ خاوند چار مرتبہ گواہی دے کہ بخدا وہ (یہ تہمت لگانے میں ) سچا ہے

﴿7﴾ اور پانچویں بار یہ کہے اس پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہو اگر وہ کذب بیانی کرنے والوں میں سے ہو

﴿8﴾ اور ٹل سکتی ہے اس عورت سے حد کہ وہ گواہی دے چار مرتبہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہ وہ (خاوند) جھوٹا ہے

﴿9﴾ اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ خدا کا غضب ہو اس پر اگر وہ (خاوند) سچا ہو

﴿10﴾ اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی (تو تم بڑی الجھنوں میں پڑ جاتے) اور بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا بڑا دانا ہے

﴿11﴾ بیشک جنہوں نے جھوٹی تہمت لگائی ہے وہ ایک گروہ ہے تم میں سے ۔ تم اسے اپنے لیے برا خیال نہ کرو بلکہ یہ بہتر ہے تمھارے لیے ۔ ہر شخص کے لیے اس گروہ میں سے اتنا گناہ ہے جتنا اس نے کمایا اور جس نے سب سے زیادہ حصہ لیا ان میں سے (تو) اس کے لیے عذاب عظیم ہوگا

﴿12﴾ ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ (افواہ) سنی تو گمان کیا ہوتا مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنوں کے بارے میں نیک گمان اور کہ دیا ہو تاکہ یہ تو کھلا ہوا بہتان ہے

﴿13﴾ (اگر وہ سچے تھے تو ) کیوں نہ پیش کر سکے اس پر چار گواہ پس جب وہ پیش نہیں کر سکے گواہ تو (معلوم ہو گیا کہ) وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک جھوٹے ہیں

﴿14﴾ اور اگر نہ ہوتا اللہ تعالیٰ کا فضل تم پر اور اس کی رحمت دنیا اور آخرت میں تو پہنچتا تمھیں اس سخن سازی کی وجہ سے سخت عذاب

﴿15﴾ (جب تم ایک دوسرے سے) نقل کرتے تھے اس (بہتان) کو اپنی زبانوں سے اور کہا کرتے تھے اپنے مونہوں سے ایسی بات جس کا تمھیں کوئی علم ہی نہ تھا۔ نیز تم خیال کرتے کہ یہ معمولی بات ہے حالانکہ یہ بات اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑی تھی

﴿16﴾ اور ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ (افواہ) سُنی تو تم نے کہ دیا ہوتا کہ ہمیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ ہم گفتگو کریں اس کے متعلق ۔ اے اللہ ! تو پاک ہے یہ بہت بڑا بہتان ہے

﴿17﴾ نصیحت کرتا ہے تمھیں اللہ تعالیٰ کہ دوبارہ اس قسم کی بات ہر گز نہ کرنا اگر تم ایمان دار ہو

﴿18﴾ اور کھول کر بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ تمھارے لیے (اپنی ) آیتیں ۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا بڑا دانا ہے

﴿19﴾ بیشک جو لوگ یہ پسند کرتے ہیں کہ پھیلے بےحیائی ان لوگوں میں جو ایمان لائے ہیں (تو ) ان کے لیے دردناک عذاب ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ تعالیٰ (حقیقت کو ) جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ہو

﴿20﴾ اور اگر نہ ہوتا تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت اور یہ کہ اللہ تعالیٰ بہت مہربان (اور) رحیم ہے (تو تم بھی نہ بچ سکتے)

﴿21﴾ اے ایمان والو! نہ چلو شیطان کے نقش قدم پر اور جو چلتا ہے شیطان کے نقش قدم پر تو وہ حکم دیتا ہے (اپنے پیرؤوں کو) بےحیائی کا اور ہر برے کام کا اور اگر نہ ہوتا تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تو نہ بچ سکتا تم میں سے کوئی بھی ہر گز ہاں اللہ تعالیٰ پاک کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے

﴿22﴾ اور نہ قسم کھائیں جو برگزیدہ ہیں تم میں سے اور خوش حال ہیں اس بات پر کہ وہ نہ دیں گے رشتہ داروں کو اور مسکینوں کو اور راہ خدا میں ہجرت کرنے والوں کو اور چاہیے کہ (یہ لوگ ) معاف کر دیں اور در گزر کریں کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ بخش دے تمھیں اور اللہ غفور رحیم ہے

﴿23﴾ جو لوگ تہمت لگانے ہیں پاکدامن عورتوں پر جو انجان ہیں ، ایمان والیاں ہیں ان پر پھٹکا رہے دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے

﴿24﴾ وہ یاد کریں اس دن کو جب گواہی دیں گی ان کے خلاف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان اعمال پر جو وہ کیا کرتے تھے

﴿25﴾ اس روز پورا پورا دے گا انھیں اللہ تعالیٰ ان کا بدلہ جس کے وہ حقدار ہیں اور وہ جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی ٹھیک فیصلہ کرنے والا ۔ ہر بات واضح کر نے والا ہے

﴿26﴾ ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے ہیں اور پاک (دامن ) عورتیں پاک (دامن) مردوں کے لیے اور پاک (دامن ) مرد پاک (دامن) عورتوں کے لیے ہیں یہ مبرّا ہیں ان (تہمتوں ) سے جو وہ (ناپاک) لگاتے ہیں ان کے لیے (اللہ کی ) بخشش ہے اور عزت والی روزی ہے

﴿27﴾ اے ایمان والو! نہ داخل ہواکرو (دوسروں کے ) گھروں میں اپنے گھروں کے سوا، جب تک تم اجازت نہ لے لو اور سلام نہ کر لو ان گھروں میں رہنے والوں پر ۔ یہی بہتر ہے تمھارے لیے ، شاہد تم (اس کی حکمتوں میں ) غورو فکر کرو

﴿28﴾ پھر اگر نہ پاؤ ان گھروں میں کسی کو (جو تمھیں اجازت دے) تو نہ داخل ہو ان میں یہاں تک کہ اجازت دی جائے تمھیں ۔ اور اگر کہا جائے تمھیں کہ واپس لوٹ جاؤ تو واپس چلے جاؤ ۔ یہ (طرز معاشرت) بہت پاکیزہ ہے تمھارے لیے اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو خوب جاننے والا ہے

﴿29﴾ کوئی حرج نہیں تم پر اگر تم داخل ہو ایسے گھروں میں جن میں کوئی آباد نہیں ، جن میں تمھارا سامان رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو

﴿30﴾ آپ حکم دیجیے مومنوں کو کہ وہ نیچی رکھیں اپنی نگاہیں اور حفاظت کریں اپنی شرمگاہوں کی یہ (طریقہ) بہت پاکیزہ ہے ان کے لیے ۔ بیشک اللہ تعالیٰ خوب آگاہ ہے ان کاموں پر جو وہ کیا کرتے ہیں

﴿31﴾ اور اپ حکم دیجیے ایمان دار عورتوں کو کہ وہ نیچی رکھا کریں اپنی نگاہیں اور حفاظت کیا کریں اپنی عصمتوں کی اور نہ ظاہر کیا کریں اپنی آرائش کو مگر جتنا خود بخود نمایاں ہو اس سے اور ڈالے رہے اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر اور نہ ظاہر ہونے دیں اپنی آرائش کو مگر اپنے شوہروں کے لیے یا اپنے باپوں کے لیے یا اپنے شوہروں کے باپوں کے لیے یا اپنے بیٹوں کے لیے یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں کے لیے یا اپنے بھائیوں کے لیے یا اپنے بھتیجوں کے لیے اور اپنے بھانجوں کے لیے یا اپنی ہم مذہب عورتوں پر یا اپنی باندیوں پر یا اپنے ایسے نوکروں پر جو (عورت) کے خواہشمند نہ ہوں یا ان بچوں پر جو (ابھی تک) آگاہ نہیں عورتوں کی شرم والی چیزوں پر اور نہ زور سے ماریں اپنے پاؤں (زمین پر) تاکہ معلوم ہو جاؤے وہ بناؤ سنگار جو وہ چھپائے ہوئے ہیں اور رجوع کرو اللہ تعالیٰ کی طرف سب کے سب اے ایمان والو! تاکہ تم (دونوں جہانوں میں) بامرا دہو جاؤ

﴿32﴾ اور نکاح کر دیا کرو جو بےنکاح ہیں تم میں سے اور جو نیک ہیں تمھارے غلاموں اور کنیزوں میں سے اگر وہ تنگ دست ہوں (تو فکر نہ کرو) غنی کر دیگا اللہ تعالیٰ انھیں اپنے فضل سے اور اللہ تعالیٰ وسعت والا ہمہ دان ہے

﴿33﴾ اور چاہیے کہ پاکدامن بنے رہیں وہ لوگ جو نہیں پاتے شادی کی قدرت یہاں تک کہ غنی کر دے انھیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ۔ اور جو مکاتب بننا چاہیں تمھارے غلاموں سے تو مکاتب بنا لو انھیں اگر تم جانو ان میں کوئی بھلائی اور (زر مکاتبت ادا کرنے میں ) مدد کرو ان کی اللہ تعالیٰ کے مال سے جو اس نے تمھیں عطا کیا ہے اور نہ مجبور کرو اپنی لونڈیوں کی بدکاری پر اگر وہ پاکدامن رہنا چاہیں تاکہ تم حاصل کرو (اس بدکاری سے) دُنیوی زندگی کا کچھ سامان ۔ اور جو (کمینہ خصلت) پر مجبور کرتا ہے انھیں (عصمت فروشی پر) تو بیشک اللہ تعالیٰ ان کے مجبور کیے جانے کے بعد (انکی لغزشوں کو) بخشنے والا (اور ان پر) رحم فرمانیوالا ہے

﴿34﴾ اور ہم نے اتاری ہیں تمھاری طرف روشن آیتیں نیز (ہم نے اتارے ہیں ) بعض حالات ان لوگوں کے جو گزر چکے ہیں تم سے پہلے نیز (اتاری ہے) نصیحت پرہیزگاروں کے لے

﴿35﴾ اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق ہو اس میں چراغ ہو وہ چراغ شیشہ کے ( ایک فانوس) میں ہو ۔ وہ فانوس گویا ایک ستارہ ہے جو موتی کی طرح چمک رہا ہے جو روشن کیا گیا ہے برکت والے زیتون کے درخت سے جو نہ شرقی ہے نہ غربی ہے ۔ قریب ہے اس کا تیل روشن ہو جائے اگرچہ اسے آگ نہ چھوئے ۔ (یہ) نور ہی نور ہے پہنچا دیتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے نور کی طرف جس کو چاہتا ہے اور بیان فرماتا ہے اللہ تعالیٰ طرح طرح کی مثالیں لوگوں (کی ہدایت) کے لیے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے

﴿36﴾ ان گھروں میں (جنکے متعلق ) حکم دیا ہے اللہ نے کہ بلند کیے جائیں اور لیا جائے ان میں اللہ تعالیٰ کا نام ۔ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں ان میں صبح اور شام

﴿37﴾ وہ (جواں ) مرد جنھیں غافل نہیں کرتی تلاوت اور نہ خرید و فروخت یاد الہی سے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے سے ۔ وہ ڈرتے رہتے ہیں اس دن سے ، گبھرا جائیں گے جس میں دل ۔ اور آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی

﴿38﴾ تا کہ جزا دے انھیں اللہ تعالیٰ ان کے بہترین اعمال کی اور اس سے بھی زیادہ عطا فرمائے انھیں اپنے فضل سے اور اللہ تعالیٰ رزق دیتا ہے جس کو چاہتا ہے بےحساب

﴿39﴾ اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے چمکتی ہوئی ریت ہو کسی چٹیل میدان میں خیال کرتا ہے اسے پیاسا کہ وہ پانی ہے ۔ حتی کہ جب (پینے کے لیے) اس کے قریب آتا ہے تو اسے کچھ نہیں پاتا۔ اور پاتا ہے اللہ تعالیٰ کو اپنے قریب تو پورا چکا دیا اس نے اس کا حساب اور اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والا ہے

﴿40﴾ یا (اعمال کفار) ایسے اندھیروں کی طرح ہیں جو گہرے سمندر میں ہوتے ہیں چھا رہی ہوتی ہے اس پر موج ، اس کے اوپر ایک اور موج (اور) اس کے اوپر بادل (تہ در تہ) اندھیرے ہیں ایک دوسرے کے اوپر۔ جب وہ نکالتا ہے اپنا تاتھ تو نہیں دیکھ پاتا اسے۔ اور (سچ تو یہ ہے کہ) جس کے لیے اللہ تعالیٰ نور نہ بنائے تو اس کے لیے کہیں نور نہیں

﴿41﴾ کیا تم غور نہیں کرتے کہ بلاشبہ اللہ ہی ہے جس کی تسبیح بیان کرتے ہیں سارے آسمانوں والے اور زمین والے اور پرندے پر پھیلائے ہوئے۔ ہر ایک جانتا ہے اپنی (مخصوص) دعا اور اپنی تسبیح کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو وہ کرتے رہتے ہیں

﴿42﴾ اور اللہ تعالیٰ کے لیے بادشاہی ہے سارے آسمانوں کی اور ساری زمین کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف ہی (سب نے ) لوٹنا ہے

﴿43﴾ کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ آہستہ آہستہ لے جاتا ہے بادل کو پھر جوڑتا ہے اس کے (بکھرے ہوئے ٹکڑوں ) کو پھر اسے تہ بہ تہ کر دیتا ہے ۔ پھر تو دیکھتا ہے بارش کو کہ نکلتی ہے اس کے درمیان سے اور اتارتا ہے اللہ تعالیٰ آسمان سے برف جو پہاڑوں کی طرح ہوتی ہے پس نقصان پہنچاتا ہے اس سے جسے چاہتا ہے اور پھیر دیتا ہے اس کو جس سے چاہتا ہے قریب ہے کہ اس کی بجلی کی چمک لے جائے آنکھوں کی بینا ئی کو

﴿44﴾ بدلی کرتا رہتا ہے اللہ تعالیٰ رات اور دن کی بیشک اس میں عبرت ہے آنکھوں والوں کے لیے

﴿45﴾ اور اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے ہر جانور کو پانی سے تو ان میں سے کچھ تو رینگتے ہیں پیٹ کے بل ۔ اور ان میں سے بعض چلتے ہیں دو ٹانگوں پر ۔ اور ان میں سے بعض چلتے ہیں چار ٹانگوں پر ۔ پیدا فرماتا ہے اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے

﴿46﴾ ہم نے اتاری ہیں ایسی آیتیں جو (حق کو) صاف صاف بیان کرتی ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ پہنچاتا ہے جسے چاہتا ہے سیدھی راہ تک

﴿47﴾ اور وہ کہتے ہیں ہم ایمان لائے ہیں اللہ تعالیٰ پر اور (اس کے ) رسول پر اور ہم فرمانبردار ہیں پھر منہ پھیر لیتا ہے ایک فریق ان سے ( ایمان و اطاعت کے) اس دعویٰ کے بعد اور یہ لوگ ایمان دار نہیں ہیں

﴿48﴾ اور جب وہ بلائے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف تاکہ فیصلہ کرے ان کے درمیان تو اس وقت ایک جماعت ان میں سے رو گردانی کرنے لگتی ہے

﴿49﴾ اور اگر فیصلہ ان کے حق میں ہونا ہو تو (بھاگے) چلے آتے ہیں اس کی طرف تسلیم کرتے ہوئے

﴿50﴾ کیا ان کے دلوں میں (نفاق) کی بیماری ہے یا وہ (اسلام کے متعلق) شک میں مبتلا ہیں یا انھیں یہ اندیشہ ہے کہ ظلم کرے گا اللہ تعالیٰ ان پر اور اس کا رسول ۔ بلکہ (در حقیقت) وہ خود ظالم ہیں

﴿51﴾ ایمان داروں کی بات تو صرف اتنی ہے کہ جب انھیں بلایا جاتا ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف تاکہ وہ فیصلہ فرما دے ان کے درمیان تو وہ کہتے ہیں ہم نے فیصلہ سن لیا اور ہم نے اطاعت کی اور یہی لوگ دونوں جہانوں میں با مراد ہیں

﴿52﴾ اور جو شخص اطاعت کرتا ہے اللہ کی اور اس کے رسول کی اور ڈرتا رہتا ہے اللہ سے اور بچتا رہتا ہے اس (کی نافرمانی) سے تو یہی لوگ کامیاب ہیں

﴿53﴾ اور قسمیں اٹھاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی بڑے زور شور سے کہ اگر آپ انھیں حکم دیں تو وہ (گھروں سے بھی) نکل جائیں گے فرمائیے قسمیں نہ کھاؤ۔ تمھاری فرمانبرداری خوب معلوم ہے یقیناً اللہ تعالیٰ خوب واقف ہے جو کچھ تم کرتے رہتے ہو

﴿54﴾ آپ فرمائیے اطاعت کرو اللہ تعالیٰ کی اور اطاعت کرو رسول (مکرم) کی ۔ پھر اگر تم نے روگردانی کی تو (جان لو) رسول کے ذمہ اتنا ہے جو ان پر لازم کیا گیا اور تمھارے ذمہ ہے جو تم پر لازم کیا گیا ۔ اور اگر تم اطاعت کرو گے اس کی تو ہدایت پا جاؤ گے اور نہیں ہے (ہمارے) رسول کے ذمّہ بجز ا س کے کہ وہ صاف صاف پیغام پہنچا دے

﴿55﴾ وعدہ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے تم میں سے اور نیک عمل کیے کہ وہ ضرور خلیفہ بنائے گا انھیں زمین میں جس طرح اس نے خلیفہ بنایا ان کو جو ان سے پہلے تھے اور مستحکم کر دے گا ان کے لیے ان کے دین کو جسے اس نے پسند فرمایا ہے ان کے لیے اور وہ ضرور بدل دیگا انھیں ان کی حالت خوف کو امن سے ۔ وہ میری عبادت کرتے ہیں ، کسی کو میرا شریک نہیں بناتے۔ اور جس نے نا شکری کی اس کے بعد تو و ہی لوگ نا فرمان ہیں

﴿56﴾ اور صحیح ادا کیا کرو نماز اور دیا کرو زکوٰۃ اور اطاعت کرو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) (پاک) کی تاکہ تم پر رحم کیا جائے

﴿57﴾ یہ خیال ہر گز نہ کیجیے کہ کفّار عاجز کرنے والے ہیں (ہمیں) زمین میں اور ان کا ٹھکانا آتشِ (جہنم ) ہے اور یہ بہت برا ٹھکانا ہے

﴿58﴾ اے ایمان والو! اذن طلب کیا کریں تم سے (گھروں میں داخل ہوتے وقت) تمھارے غلام اور وہ (لڑکے) جو ابھی جوانی کو نہیں پہنچے ، تم میں سے تین مرتبہ، نماز فجر سے پہلے، اور جب تم اپنے کپڑے اتارتے ہو دوپہر کو اور نماز عشاء کے بعد یہ تین پردے کے وقت ہیں تمھارے لیے ۔ یہ تم پر اور نہ ان پر کوئی حرج ہے ان اوقات کے علاوہ۔ کثرت سے آنا جانا رہتا ہے تمھارا ایک دوسرے کے پاس یوں صاف صاف بیان فرماتا ہے اللہ تعالیٰ تمھارے لیے (اپنے) احکام۔ اور اللہ تعالیٰ علیم حکیم ہے

﴿59﴾ اور جب پہنچ جائیں تمھارے بچے حدِّ بلوغ کو تو وہ بھی اذن طلب کیا کریں جس طرح اذن طلب کیا کرتے ہیں وہ لوگ (جن کا ذکر) پہلے ہوا۔ یُوں صاف صاف بیان فرماتا ہے اللہ تعالیٰ تمھارے لیے اپنے احکام کو ۔ اور اللہ تعالیٰ علیم ہے حکیم ہے

﴿60﴾ اور بوڑھی خانہ نشین عورتیں جنہیں آرزو نہ ہو نکاح کی تو ان پر کوئی گناہ نہیں اگر وہ رکھ دیں اپنے بالائی کپڑے بشرطیکہ وہ ظاہر کرنے والی ہوں (اپنی ) آرائش۔ اور ان کا اس سے بھی اجتناب کرنا ان کے لیے بہت بہتر ہے ۔ اور اللہ سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے

﴿61﴾ نہ اندھے پر کوئی حرج ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج ہے اور نہ بیمار پر کوئی حرج ہے اور نہ تم پر اس بات میں کہ تم کھاؤ اپنے گھروں سے یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے ، یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا جن گھروں کی کنجیوں کے تم مالک ہو یا اپنے دوست کے گھر سے ۔ نہیں ہے تم پر کوئی حرج اگر تم کھاؤ سب مل کر یاالگ الگ۔ پھر جب تم داخل ہو گھروں میں تو سلامتی کی دعا دو اپنوں کو، وہ دعا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے جو بڑی بابرکت (اور) پاکیزہ ہے یونہی کھول کر بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ تمھارے لیے (اپنے) احکام کو تاکہ تم سمجھ لو

﴿62﴾ پس سچے مومن تو وہ ہیں جو ایمان لائے ہیں اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر اور جب ہوتے ہیں آپ کے ساتھ کسی اجتماعی کام کے لیے تو (وہاں سے ) چلے نہیں جاتے جب تک کہ آپ سے اجازت نہ لے لیں بلاشبہ وہ لوگ جو اجازت طلب کرتے ہیں آپ سے یہی وہ لوگ ہیں جو ایمان لاتے ہیں اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ ، پس جب وہ اجازت مانگیں آپ سے اپنے کسی کام کے لیے تو اجازت دیجیے ان میں سے جسے آپ چاہیں اور مغفرت طلب کیجیے ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے ۔ بیشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے

﴿63﴾ نہ بنا لو رسول کے پکارنے کو آپس میں جیسے تم پکارتے ہو ایک دوسرے کو اللہ تعالیٰ اچھی طرح جانتا ہے انھیں جو کھسک جاتے ہیں تم میں سے ایک دوسرے کی آڑ لے کر ۔ پس ڈرنا چاہیے انھیں جو خلاف ورزی کرتے ہیں رسول کریم کے فرمان کی کہ انھیں کوئی مصیبت نہ پہنچے یا انھیں دردناک عذاب نہ آلے

﴿64﴾ سُن لو ! بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا ہی ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ۔ وہ خوب جانتاہے جس حالت پر تم ہو اس دن جب وہ لوٹائے جائیں گے اس (کی بارگاہ) کی طرف تو وہ انھیں آگاہ کریگا جو انھوں نے کیا تھا ۔ اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والاہے

الفرقان

Surah 25

﴿1﴾ بڑی (خیرو) برکت والا ہے وہ جس نے اتارا ہے الفرقان اپنے (محبوب) بندہ پر تاکہ وہ بن جائے سارے جہان والوں کو (غضب الہی سے) ڈرانے والا

﴿2﴾ وہ جس کے لیے حکومت ہے آسمانوں اور زمین کی اور نہیں بنایا ہے اس نے کسی کو بیٹا اور نہیں اس کا کوئی شریک سلطنت میں اور ا س نے پیدا فرمایا ہے ہر چیز کو پس اس نے مقرر کیا ہے ہر چیز کا ایک اندازہ

﴿3﴾ اور بنا رکھے ہیں انہوں نے خدائے برحق کو چھوڑ کر ایسے خدا جو پیدا نہیں کر سکتے کسی چیز کو اور وہ خود پیدا کیے گئے ہیں اور نہیں قدرت رکھنے اپنے آپ کو نقصان (سے بچانے ) کی اور نہ نفع پہنچانے کی اور نہیں طاقت رکھتے کسی کو مارنے کی اور نہ زندہ کرنے کی اور نہ مرنے کے بعد جلانے کی

﴿4﴾ اور کہنے لگے کفار کہ نہیں یہ (قرآن) مگر محض بہتان جو گھڑ لیا ہے اس نے اور مدد کی ہے اس کی اس معاملہ میں ایک دوسری قوم نے سو یہ (کہہ کر) انھوں نے بڑا ظلم کیا ہے اور سفید جھوٹ بولا ہے

﴿5﴾ اور کفار نے کہا یہ تو افسانے ہیں پہلے لوگوں کے اس شخص نے لکھوا لیا ہے انھیں ۔ پھر یہ پڑھ کر سنائے جاتے ہیں اسے ہر صبح و شام (تا کہ ازبر ہو جائیں)

﴿6﴾ آپ فرمائیے اتارا ہے اس کو اس (خدا) نے جو جانتا ہے آسمانوں اور زمین کے سارے رازوں کو واقعی وہ بہت بخشنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے

﴿7﴾ اور کفّار بولے کیا ہوا ہے اس رسول کو کہ کھانا کھاتا ہے اور چلتا پھرتا ہے بازاروں میں ۔ ایسا کیوں نہ ہوا کہ اتارا جاتا اس کی طرف کوئی فرشتہ اور وہ اس کے ساتھ مل کر (لوگوں کو) ڈراتا

﴿8﴾ یا (ایسا کیوں نہ ہوا) کہ اتارا جاتا اس کی طرف خزانہ یا (کم از کم) اس کا ایک باغ ہی ہوتا، کھایا کرتا اس (کی آمدنی) سے اور ان ظالموں نے (یہاں تک) کہہ دیا کہ تم پیروی نہیں کر رہے ہو مگر ایک ایسے شخص کی جس پر جادو کیا گیا ہے

﴿9﴾ ملاحظہ تو کیجیے کیسے بیان کرتے ہیں آپ کے متعلق طرح طرح کی مثالیں سو وہ (اس بےادبی کے باعث) گمراہ ہو گئے ہیں پس وہ راہ نہیں پا سکتے

﴿10﴾ بڑی (خیر و) برکت والا ہے اللہ تعالیٰ جو اگر چاہے تو بنا دے آپ کے لیے بہتر اس سے (یعنی ایسے) باغات رواں ہوں جن کے نیچے نہریں اور بنا دے آپ کے لیے بڑے بڑے محلات

﴿11﴾ بلکہ یہ تو جھٹلاتے ہیں قیامت کو اور ہم نے تیار کر رکھی ہے ان کے لیے جو جھٹلاتے ہیں قیامت کو بھڑکتی ہوئی آگ

﴿12﴾ جب یہ آگ دیکھے گی انھیں دور سے تو وہ سنیں گے اس کا جوش مارنا اور چنگھاڑنا

﴿13﴾ اور جب انھیں پھینکا جائے گا اس آگ میں کسی تنگ جگہ سے زنجیروں میں جکڑ کر تو پکاریں گے وہاں موت کو

﴿14﴾ (کہا جائے گا بد بختو!) یہ مانگو آج ایک موت بلکہ مانگو بہت سی موتیں

﴿15﴾ ان سے پوچھیے (ذرا بتاؤ) یہ بھڑکتی ہوئی آگ بہتر ہے یا دائمی جنت جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے کیا گیا ہے ہو گی یہ جنت ان کے اعمال کا صلہ اور (ان کی زندگی کا) انجام

﴿16﴾ ان کے لیے اس میں ہر وہ نعمت ہو گی جس کی وہ خواہش کریں گے وہاں ہمیشہ رہیں گے آپ کے رب کے ذمہ وعدہ ہے جس کا ایفاء لازم ہے

﴿17﴾ اور جس روز (محشر میں ) اللہ انھیں اکٹھا کرے گا اور ان (باطل خداؤں کو) جنھیں یہ پوجتے ہیں اللہ کے سوا تو اللہ پوچھے گا (ان معبودوں سے ) کیا تم نے گمراہ کیا میرے ان بندوں کو یا وہ خود ہی سیدھے راہ سے بھٹک گئے تھے

﴿18﴾ وہ کہیں گے تو پاک ہے (ہر عیب سے) یہ بات زیبا نہ تھی کہ ہم بناتے تیرے سوا کسی غیر کو دوست لیکن تو نے آرام و آسائش عطا کی انھیں اور ان کے آباء کو یہاں تک کہ انھوں نے بھلا دیا تیری یاد کو اور (یوں ) وہ لوگ تباہ و برباد ہو گئے

﴿19﴾ (اے کفار) تمھارے معبودوں نے تمھیں جھٹلا دیا جو تم کہتے ہو۔ پس اب نہ تم اپنے سے عذاب کو پھیر سکتے ہو اور نہ تمھاری مدد کی جائیگی اور جس نے ظلم کیا تم میں سے تو ہم چکھائیں گے اسے عذاب بڑا

﴿20﴾ اور نہیں بھیجے ہم نے آپ سے پہلے رسول مگر وہ سب کھانا کھایا کرتے اور چلا پھرا کرتے بازاروں میں اور ہم نے بنا دیا تمھیں ایک دوسرے کے لیے آزمائش کیا تم (اس آزمائش میں) صبر کرو گے؟ اور آپکا رب سب کچھ دیکھ رہا ہے

﴿21﴾ اور نہیں بھیجے ہم نے آپ سے پہلے رسول مگر وہ سب کھانا کھایا کرتے اور چلا پھرا کرتے بازاروں میں اور ہم نے بنا دیا تمھیں ایک دوسرے کے لیے آزمائش کیا تم (اس آزمائش میں) صبر کرو گے؟ اور آپکا رب سب کچھ دیکھ رہا ہے

﴿22﴾ جس روز وہ دیکھیں گے فرشتوں کو تو کوئی خوشی کی بات نہ ہو گی اس روز مجرموں کے لیے اور فرشتے کہیں گے تمھارے لیے (جنت کا داخلہ) قطعاً حرام ہے

﴿23﴾ اور ہم متوجہ ہونگے ان کے کاموں کی طرف اور انھیں گردو غبار بنا کر اڑا دیں گے

﴿24﴾ اہل جنت کا اس دن بہت اچھا ٹھکانا ہوگا اور دوپہر گزارنے کی جگہ بڑی آرام دہ ہو گی

﴿25﴾ اور یاد کرو جس روز پھٹ جائیگا آسمان اور بادل نمودار ہوگا اور اتارے جائیں گے فرشتے گروہ در گروہ

﴿26﴾ اس دن سچّی بادشاہی (خداوند) رحمن کی ہو گی اور وہ دن کافروں کے لیے بڑا مشکل ہوگا

﴿27﴾ اور اس روز ظالم (فرط ندامت سے ) کاٹے گا اپنے ہاتھوں کو (اور) کہے گا کاش! میں نے اختیار کیا ہوتا رسول (مکّرم) کی میعت میں (نجات) کا راستہ

﴿28﴾ ہائے افسوس! کاش نہ بنایا ہوتا میں نے فلاں کو اپنا دوست

﴿29﴾ واقعی اس نے بہکا دیا مجھے اس قرآن سے اس کے میرے پاس آجانے کے بعد اور شیطان تو ہمیشہ سے انسان کو (مشکل کے وقت) بےیارو مدد گار چھوڑنے والا ہے

﴿30﴾ اور رسول عرض کریگا میرے رب! بلاشبہ میری قوم نے اس قرآن کو بالکل نظر انداز کر دیا ہے

﴿31﴾ اور (اے حبیب!) اسی طرح ہم نے بنائے ہر نبی کے لیے دشمن جرائم پیشہ لوگوں سے اور کافی ہے آپ کا رب ( آپکے لیے) منزل مقصود تک پہنچانے والا اور مدد فرمانے والا

﴿32﴾ اور کہنے لگے کفار (ازراہ اعتراض) کیوں نہیں اتارا گیا ان پر قرآن یکبارگی؟ اس طرح اس لیے کیا کہ ہم مضبوط کر دیں اس کے ساتھ آپ کے دل کو اور اسی لیے ہم نے ٹھیر ٹھیر کر اسے پڑھا ہے

﴿33﴾ اور نہیں پیش کریں گے آپ پر کوئی اعتراض مگر ہم لائیں گے آپ کے پاس اس کا صحیح جواب اور عمدہ تفسیر جو اعتراض کو رد کر دے گی

﴿34﴾ جو لوگ ہانکے جائیں گے اوندھے منہ جہنم کی طرف ان کا برا ٹھکانا ہوگا اور وہ سب سے زیادہ گم کردہ راہ ہونگے

﴿35﴾ اور بیشک ہم نے عطا فرمائی موسیٰ کو کتاب اور مقرر کیا ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون کو (ان کا) وزیر

﴿36﴾ پھر ہم نے حکم دیادونوں جاؤ اس قوم کی طرف جس نے جھٹلایا ہے ہماری آیتوں کو۔ (وہ گئے ۔ قوم نے ان کو ٹھکرا دیا) تو ہم نے ان کو بالکل برباد کر دیا

﴿37﴾ اور قوم نوح کو یاد کرو جب انھوں نے جھٹلایا رسولوں کو تو ہم نے انھیں غرق کر دیا اور بنا دیا انھیں دوسرے لوگوں کے لیے عبرت۔ اور تیار کر رکھا ہے ہم نے ظالموں کے لیے دردناک عذاب

﴿38﴾ اور یاد کرو قوم عاد، ثمود اور اصحاب الرس کو اور ان کثیر التعداد قوموں کو جو ان کے درمیان گزریں

﴿39﴾ حق سمجھانے کے لیے ہم نے بیان کیں ہر ایک کے لیے مثالیں اور ہم نے سب کو نیست و نابود کر دیا

﴿40﴾ اور کئی بار گزرے ہیں یہ مشرک اس قصبہ کے پاس سے جس پر پتھراؤ کیا گیا تھا بری طرح ۔ کیا (وہاں سے گزرتے ہوئے) وہ اسے نہیں دیکھا کرتے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انھیں دوبارہ جینے کی امید ہی نہیں ہے

﴿41﴾ اور جب وہ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کامذاق اڑانا شروع کر دیتے ہیں (کہتے ہیں) کیا یہ وہ صاحب ہیں جن کو خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے

﴿42﴾ قریب تھا کہ یہ شخص ہمیں بہکا دیتا اپنے خداؤں سے اگر ہم ثابت نہ رہے ہوتے ان (کی پوجا) پر (اے حبیب!) یہ جان لیں گے جب (ہمارے) عذاب کو دیکھیں گے کہ کون بھٹکا ہوا ہے راہ راست سے

﴿43﴾ کیا آپ نے ملاحظہ فرمایا اس (احمق) کو جس نے بنا لیا اپنا خدا اپنی خواہش کو۔ کیا آپ اس کے ذمہ دار ہیں

﴿44﴾ کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے ہیں یا (کچھ) سمجھتے ہیں ۔ نہیں ہیں یہ مگر ڈنگروں کی مانند، بلکہ یہ تو ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں

﴿45﴾ کیا آپ نے نہیں دیکھا اپنے رب کی طرف، کیسے پھیلا دیتا ہے سایہ کو اور اگر چاہتا تو بنا دیتا اسے ٹھیر ا ہوا پھر ہم نے بنا دیا آفتاب کو اس پر دلیل

﴿46﴾ پھر ہم سمیٹے جاتے ہیں سایہ کو اپنی طرف آہستہ آہستہ

﴿47﴾ اور وہی ہے جس نے بنایا ہے تمھارے لیے رات کو لباس اور نیند کو باعث راحت اور بنایا ہے دن کو (طلب معاش کے لیے) دوڑ دھوپ کا وقت

﴿48﴾ اور وہ وہی ہے جو بھیجتا ہے ہواؤں کو خوشخبری دینے کے لیے اپنی رحمت (بارش) سے پہلے اور ہم اتارتے ہیں آسمان سے پاکیزہ پانی

﴿49﴾ تاکہ ہم زندہ کریں اس پانی سے کسی غیر آباد شہر کو اور ہم پلائیں یہ پانی اپنی مخلوق سے کثیر التعداد مویشیوں اور انسانوں کو

﴿50﴾ اور ہم بانٹتے رہتے ہیں بارش کو لوگوں کے درمیان تاکہ وہ غور و فکر کریں ۔ پس انکار کر دیا اکثر لوگوں مگر یہ کہ وہ ناشکر گزار بنیں گے

﴿51﴾ اور اگر ہم چاہتے تو بھیجتے ہر گاؤں میں ڈرانے والا

﴿52﴾ پس کافروں کی پیروی نہ کرو اور خوب ڈٹ کر مقابلہ کروان کا قرآن (کی دلیلوں سے)

﴿53﴾ اور اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے ملا دیا ہے در دریاؤں کو، یہ (ایک) بہت شیریں ہے اور یہ (دوسرا) سخت کھاری اور بنا دی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کے درمیان آڑ اور مضبوط رکاوٹ

﴿54﴾ اور وہ وہی ہے جس نے پیدا فرمایا انسان کو پانی (کی بوند) سے اور بنا دیا اسے خاندان والا اور سسرال والا۔ اور آپ کا رب بڑی قدرت والا ہے

﴿55﴾ اور وہ پوجتے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا ان بتوں کو جو نہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں انھیں اور نہ نقصان۔ اور کافر اپنے رب کے مقابلے میں (ہمیشہ شیطان کا ) مدد گار ہوتا ہے

﴿56﴾ اور ہم نے نہیں بھیجا آپ کو مگر بشارت دینے والا اور ڈرانے والا

﴿57﴾ فرما دیجیے کہ میں نہیں مانگتا تم سے اس (خیر خواہی) پر کچھ اجرت مگر میری اجرت یہ ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کا راستہ اختیار کرے

﴿58﴾ اور (اے مصطفے ٰ!) آپ بھروسہ کیجیے ہمیشہ زندہ رہنے والے پر جسے کبھی موت نہیں آئے گی اور اس کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کیجیے۔ اور اس کا اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر ہونا کافی ہے

﴿59﴾ جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دنوں میں پھر وہ متمکن ہوا عرش پر (جیسے اس کی شان ہے) وہ رحمن ہے، سو پوچھ اس کے بارے میں کسی واقف حال سے

﴿60﴾ اور جب کہا جاتا ہے انھیں کہ رحمن (کے حضور) سجدہ کرو۔ وہ پوچھتے ہیں رحمن کون ہے کیا ہم سجدہ کریں اس کو جس کے متعلق تم ہمیں حکم دیتے ہو اور وہ زیادہ نفرت کرنے لگتے ہیں

﴿61﴾ بڑی (خیر و) برکت والا ہے جس نے بنائے ہیں آسمان میں برج ، اور بنایا ہے اس میں چراغ (آفتاب) اور چاند چمکتا ہوا

﴿62﴾ اور وہ وہی ہے جس نے بنایا ہے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا اس کے لیے جو یہ چاہتا ہے کہ وہ نصیحت قبول کرے یا چاہتا ہے کہ شکر گزار بنے

﴿63﴾ اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستہ آہستہ اور جب گفتگو کرتے ہیں ان سے جاہل تو وہ صرف یہ کہتے ہیں کہ تم سلامت رہو

﴿64﴾ اور جو رات بسر کرتے ہیں اپنے رب کے حضور سجدہ کرتے ہوئے اور کھڑے ہوئے

﴿65﴾ اور جو (بارگاہ الہی میں) عرض کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دور فرما دے ہم سے عذاب جہنم بیشک اس کا عذاب بڑا مہلک ہے

﴿66﴾ بیشک وہ بہت براٹھکانا اور بہت بری جگہ ہے

﴿67﴾ اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ کنجوسی (بلکہ) ان کا خرچ کرنا اسراف اور بخل کے بین بین اعتدال سے ہوتا ہے

﴿68﴾ اور جو نہیں پوجتے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور خدا کو اور نہیں قتل کرتے اس نفس کو جس کو قتل کرنا اللہ تعالیٰ حرام کر دیا ہے مگر حق کے ساتھ ۔ اور نہ بد کاری کرتے ہیں۔ اور جو یہ کام کرے گا تو وہ پائے گا (اس کی) سزا

﴿69﴾ دوگنا کر دیا جائیگا اس کے لیے عذاب روز قیامت اور ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل و خوا رہو کر

﴿70﴾ مگر وہ جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے تو یہ وہ لوگ ہیں بدل دے گا اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں کو نیکیوں سے اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے

﴿71﴾ اور جس نے توبہ کی اور نیک کام کیے تو اس نے رجوع کیا اللہ تعالیٰ کی طرف جیسے رجوع کا حق ہے

﴿72﴾ اور جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب گزرتے ہیں کسی لغو چیز کے پاس سے تو بڑا باوقار ہو کر گزرجاتے ہیں

﴿73﴾ اور وہ جب انھیں نصیحت کی جاتی ہے ان کے رب کی آیات سے تو نہیں گر پڑتے ان پر بہرے اور اندھے ہو کر

﴿74﴾ اور وہ جو عرض کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! مرحمت فرما ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک اور بنا ہمیں پریزگاروں کے لیے پیشوا

﴿75﴾ یہی وہ (خوش نصیب) ہیں جن کو بدلہ میں ملے گا (جنت کا) بالا خانہ ان کے صبر کرنے کے باعث اور ان کا استقبال کیا جائیگا وہاں دعا اور سلام سے

﴿76﴾ وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اس میں ۔ بہت عمدہ ٹھکانا اور قیامگاہ ہے

﴿77﴾ آپ فرمائیے کیا پرواہ ہے تمھاری میرے رب کو اگر تم اس کی عبادت نہ کرو۔ اور تم نے (تو الٹا) جھٹلانا شروع کر دیا ۔ تو یہ جھٹلانا تمھارے گلے کا ہار بنے گا

الشعراء

Surah 26

﴿1﴾ طا۔ سین۔ میم

﴿2﴾ یہ آیتیں ہیں روشن کتاب کی

﴿3﴾ (اے جان عالم!) شاید وہ ہلاک کر دیں گے اپنے رب کو اس غم میں کہ وہ ایمان نہیں لا رہے

﴿4﴾ اگر ہم چاہیں تو اتاریں ان پر آسمان سے کوئی نشانی پس ہو جائیں ان کی گردنیں اس کے آگے جھکی ہوئی

﴿5﴾ اور نہیں آیا کرتی ان کے پاس کوئی تازہ نصیحت الرحمن کی جانب سے مگر یہ کہ وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

﴿6﴾ تو بیشک انہوں نے تکذیب کی سو مل جائے گی انہیں اطلاع اس امر کی جس کے ساتھ وہ استہزاء کیا کرتے تھے

﴿7﴾ کیا انھوں نے نہیں دیکھا زمین کی طرف کہ کتنی کثرت سے ہم نے اگائے ہیں اس میں ہر طرح کے مفید پودے

﴿8﴾ بیشک اس میں (انکے لیے قدرت الہی کی) نشانی ہے اور ان سے اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے

﴿9﴾ اور بیشک آپ کا رب ہی سب پر غالب (اور) ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے

﴿10﴾ اور یاد کرو جب ندا دی آپ کے رب نے موسیٰ کو (اور فرمایا) کہ جاؤ ظالم لوگوں کے پاس

﴿11﴾ یعنی قوم فرعون کے پاس۔ کیا وہ (قہر الہی سے) نہیں ڈرتے

﴿12﴾ آپ نے عرض کی میرے رب! میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے

﴿13﴾ اور گھٹتا ہے میرا سینہ اور روانی سے نہیں چلتی میری زبان۔ سو (ازراہ کرم) وحی بھیج ہارون کی طرف

﴿14﴾ اور (تو جانتا ہے کہ) ان کا میرے ذمّہ ایک جرم بھی ہے اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر ڈالیں گے ۔

﴿15﴾ اللہ نے فرمایا ایسا نہیں ہو سکتا۔ پس تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم تمھارے ساتھ ہیں (اور ہر بات) سننے والے ہیں

﴿16﴾ سو دونوں جاؤ فرعون کے پاس اور اسے کہو ہم فرستادے ہیں رب العالمین کے

﴿17﴾ (ہم تمھیں کہتے ہیں) کہ بھیج دے ہمارے ساتھ (ہماری قوم) بنی اسرائیل کو

﴿18﴾ فرعون نے (یہ سنکر) کہا موسیٰ! کیا ہم نے تجھے پالا نہیں تھا اپنے یہاں جبکہ تو بچّہ تھا اور بسر کیے تو نے ہمارے پاس اپنی عمر کے کئی سال

﴿19﴾ اور تونے ارتکاب کیا اس فعل کا جس کا تو نے ارتکاب کیا اور تو بڑااحسان فراموش ہے

﴿20﴾ آپ نے جواب دیا میں نے ارتکاب کیا تھا اس کا اس وقت جبکہ میں نا واقف تھا

﴿21﴾ تو میں بھاگ گیا تھا تمھارے ہاں سے ۔ جبکہ میں تم سے ڈرا پس بخش دے مجھے میرے رب نے حکم، اور بنا دیا مجھے رسولوں سے

﴿22﴾ اور یہ نعمت ہے جس کا تو مجھ پر احسان جتلاتا ہے حالانکہ تو نے غلام بنا رکھا ہے بنی اسرائیل کو

﴿23﴾ فرعون نے پوچھا کیا حقیقت ہے رب العالمین کی ؟

﴿24﴾ آپ نے فرمایا (ربّ العالمین وہ ہے جو) مالک ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اگر ہو تم یقین کرنے والے

﴿25﴾ فرعون نے اپنے ارد گرد بیٹھنے والوں سے کہا کیا تم سن نہیں رہے

﴿26﴾ آپ نے فرمایا وہ جو تمھارا بھی مالک ہے اور تمھارے پہلے باپ دادا کا بھی

﴿27﴾ فرعون بولا بلاشبہ تمھارا یہ رسول جو بھیجا گیا ہے تمھاری طرف یہ تو دیوانہ ہے

﴿28﴾ آپ نے (معاً) فرمایا جو مشرق و مغرب کا رب ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ، اگر تم کچھ عقل رکھتے ہو

﴿29﴾ اس نے (رُعب جماتے ہوئے ) کہا (یاد رکھو!) اگر تم نے میرے سوا کسی کو خدا بنایاتو میں تمھیں ضرور قیدیوں میں داخل کر دوں گا

﴿30﴾ فرمایا اگرچہ میں لے آؤں تیرے پاس ایک روشن چیز

﴿31﴾ اس نے کہا پھر پیش کرو اسے اگر تم سچے ہو

﴿32﴾ پس آپ نے ڈالا اپنا عصا تو اسی وقت وہ صاف اژدھا بن گیا

﴿33﴾ اور آپ نے باہر نکالا اپنا ہاتھ تو یک لخت وہ سفید ہو گیا دیکھنے والوں کے لیے

﴿34﴾ (یہ دیکھ کر ) فرعون نے اپنے آس پاس بیٹھنے والے درباریوں سے کہاواقعی یہ ماہر جادوگر ہے

﴿35﴾ ٰیہ چاہتا ہے کہ نکال دیں تمھیں اپنے ملک سے اپنے جادُو (کے زور) سے (اب بتاؤ) تمھاری کیا رائے ہے؟

﴿36﴾ بولے مہلت دو اسے اور اس کے بھائی کو اور بھیج دو شہروں میں ہر کارے

﴿37﴾ تا کہ وہ لے آئیں تیرے پاس (ملک کے کونہ کونہ سے) تمام ماہر جادوگر

﴿38﴾ الغرض جمع کر لیے گئے سارے جادُو گرمقررہ وقت پرایک خاص دن

﴿39﴾ اور کہہ دیا گیا لوگوں سے کیا تم (مقابلہ دیکھنے کے لیے) اکٹھے ہو گے؟

﴿40﴾ شاہد ہم پیروی کرتے رہیں جادُو گروں کی اگر وہ (مقابلہ میں) غالب آجائیں

﴿41﴾ جب حاضر ہوئے جادو گر تو انھوں نے فرعون سے پوچھا کیا ہمیں کوئی انعام بھی ملے گا اگر ہم (موسیٰ پر) غالب آجائیں؟

﴿42﴾ اس نے کہا ہاں ضرور ملے گا اور تم اس وقت میرے مقرّبوں میں شامل کر لیے جاؤ گے

﴿43﴾ موسیٰ نے انھیں فرمایا پھینکو جو تم پھینکنے والے ہو

﴿44﴾ تو انھوں نے پھینک دیں اپنی ساری رسیاں اور اپنی لاٹھیاں (میدان میں) اور (بڑے وثوق سے) کہا ناموس فرعون کی قسم! ہم ہی یقیناً غالب آئیں گے

﴿45﴾ پھر پھینکا موسیٰ نے اپنا سونٹا تو وہ یکا یک نگلنے لگ گیا جو فریب انھوں نے بنا رکھا تھا

﴿46﴾ پس (یہ معجزہ دیکھ کر) گر پڑے جادو گر سجدہ کرتے ہوئے

﴿47﴾ انھوں نے ( برملا) کہہ دیا ہم ایمان لے آئے رب العالمین پر

﴿48﴾ جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا

﴿49﴾ فرعون نے (خفّت مٹانے کے لیے) کہا تم تو ایمان لا چکے تھے اس پر اس سے پہلے کہ میں تمھیں مقابلہ کی اجازت دیتا۔ یہ تو تمھارا بڑا (گرو) ہے جس نے تمھیں سحر کا فن سکھایا ہے ابھی (اس سازش کا انجام) تمھیں معلوم ہو جائیگا میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے پاؤں اور تمھارے ہاتھ مخالف طرفوں سے اور میں تم سب کو سولی چڑھا دوں گا

﴿50﴾ انہوں نے جواب دیا ہمیں اس کی ذرا پروا نہیں ۔ ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹنے والے ہیں

﴿51﴾ ہمیں یہ امید ہے کہ بخش دے گا ہمارے لیے ہمارا رب ہماری خطائیں ۔ کیونکہ ہم (تیری قوم میں سے) پہلے ایمان لانے والے ہیں

﴿52﴾ اور ہم نے وحی کی موسیٰ کی طرف کہ راتوں رات (یہاں سے ) میرے بندوں کو لے جاؤ یقیناً تمھارا تعاقب کیا جائیگا

﴿53﴾ پس بھیجے فرعون نے سارے شہروں میں ہر کارے

﴿54﴾ (تاکہ لوگوں کو بتائیں) یہ لوگ ایک چھوٹی سے جماعت ہیں

﴿55﴾ اور انھوں نے ہمیں سخت برا فروختہ کر دیا ہے

﴿56﴾ (تا ہم فکر نہ کرو) ہم سب (ان کے متعلق) بہت محتاط ہیں

﴿57﴾ سو ہم نے نکالا انھیں (سر سبز) باغوں اور (بہتے ہوئے) چشموں

﴿58﴾ اور (بھرپور) خزانوں اور شاندار محلّات سے

﴿59﴾ ہم نے ایسا ہی کیا۔ اور ہم نے بنی اسرائیل کو ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا

﴿60﴾ پس وہ ان کے تعاقب میں نکلے اشراق کے وقت

﴿61﴾ پس جب ایک دوسرے کو دیکھ لیا دونوں گروہوں نے تو موسیٰ کے ساتھی کہنے لگے (ہائے) ہم تو یقیناً پکڑ لیے گئے

﴿62﴾ آپ نے فرمایا ہر گز نہیں ۔ بلاشبہ میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا

﴿63﴾ سو ہم نے وحی بھیجی موسیٰ کی طرف کہ ضرب لگاؤ اپنے عصا سے سمندر کو تو سمندر پھٹ گیا اور ہو گیا پانی کا ہر حصّہ بڑے پہاڑ کی مانند

﴿64﴾ اور ہم نے قریب کر دیا وہاں دوسرے فریق کو

﴿65﴾ اور ہم نے بچا لیا (ان تند موجوں سے) موسیٰ علیہ السلام اور ان کے سب ہمراہیوں کو

﴿66﴾ پھر ہم نے غرق کر دیا دوسرے فریق کو

﴿67﴾ اس واقعہ میں (بڑی واضح) نشانی ہے۔ اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں

﴿68﴾ اور بےشک (اے حبیب!) آپ کا رب ہی سب پر غالب ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے

﴿69﴾ اور آپ بیان فرمائیے ان کے سامنے ابراہیم کا قصّہ

﴿70﴾ جب آپ نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کس کی پرستش کرتے ہو

﴿71﴾ انہوں نے کہا ہم تو پوجتے ہیں بتوں کو اور ہم انہی کی پوجا میں ہر وقت منہمک رہتے ہیں

﴿72﴾ آپ نے پوچھا ( بھلا یہ بتاؤ) کیا وہ سنتے ہیں تمھاری آوازجب تم انھیں پکارتے ہو

﴿73﴾ یا وہ تمھیں (کچھ) نفع پہنچا سکتے ہیں یا ضرر پہنچا سکتے ہیں

﴿74﴾ انھوں نے (لا جواب ہو کر) کہا بلکہ ہم نے تو پایا اپنے باپوں کو کہ وہ یونہی کیا کرتے تھے

﴿75﴾ آپ نے فرمایا کیا تم نے دیکھ لیاان (کی بےبسی) کو جن کی تم پرستش کیا کرتے ہو

﴿76﴾ تم اور تمھارے گذشتہ آباؤاجداد

﴿77﴾ پس وہ سب میرے دشمن ہیں سوائے رب العالمین کے

﴿78﴾ جس نے مجھے پیدا فرمایا پھر (ہر قدم پر) وہ میری رہنمائی کرتا ہے

﴿79﴾ اور وہ مجھے کھلاتا بھی ہے اور مجھے پلاتا بھی ہے

﴿80﴾ اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے صحت بخشتا ہے

﴿81﴾ اور وہ جو مجھے مارے گا ، پھر مجھے زندہ کریگا

﴿82﴾ اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ وہ بخش دے گا میرے لیے میری خطا کو روز جزا کو

﴿83﴾ اے میرے رب! عطا فرمامجھے علم و عمل (میں کمال) اور ملا دے مجھے نیک بندوں کے ساتھ

﴿84﴾ اور بنا دے میرے لیے سچی ناموری آئندہ آنے والوں میں

﴿85﴾ اور بنا دے مجھے ان لوگوں سے جو نعمت والی جت کے وارث ہیں

﴿86﴾ اور بخش دے میرے باپ کو وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے

﴿87﴾ اور نہ شرمسار کرنا مجھے جس روز لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے

﴿88﴾ جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ بیٹے

﴿89﴾ مگر وہ شخص جو لے آیا اللہ تعالیٰ کے حضور قلب سلیم

﴿90﴾ اور قریب کر دی جائیگی جنت پرہیزگاروں کے لیے

﴿91﴾ اور ظاہر کر دی جائیگی دوزخ بہکنے والوں کے لیے

﴿92﴾ اور کہا جائیگا انہیں کہ کہاں ہیں وہ ج کی تم پوجا کرتے تھے

﴿93﴾ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ۔ کیا وہ تمھاری (کچھ ) مدد کر سکتے ہیں یا انتقام لے سکتے ہیں

﴿94﴾ پس اوندھے پھینک دیے جائیں گے اس میں وہ اور دوسرے گمراہ

﴿95﴾ اور ابلیس کی ساری فوجیں

﴿96﴾ وہ کہیں گے اس حال میں کہ وہ دوزخ میں باہم جھگڑ رہے ہوں گے

﴿97﴾ خدا کی قسم! ہم کھلی گمراہی میں گرفتا ر تھے

﴿98﴾ جب ہم تمھیں رب العالمین کے برابر بنائے ہوئے تھے

﴿99﴾ اور نہیں گمراہ کیا ہمیں مگر (ان نامی) مجرموں نے

﴿100﴾ تو (آج ) نہیں ہے ہمارا کوئی شفارشی

﴿101﴾ اور نہ کوئی غم خوار دوست

﴿102﴾ پس اگر ہمارے اختیار میں ہوتا (دنیا میں ) واپس جانا تو ہم اہل ایمان سے ہوتے

﴿103﴾ بیشک اس واقعہ میں عبرت کی نشانی ہے اور نہیں تھے ان میں سے اکثرلوگ ایمان لانے والے

﴿104﴾ اور (اے حبیب!) بیشک آپ کا رب ہی سب پر غالب، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے

﴿105﴾ جھٹلایا قوم نوح نے (اللہ کے) رسولوں کو

﴿106﴾ جب کہا انھیں ان کے بھائی نوح نے کیا تم ڈرتے نہیں ہو

﴿107﴾ بیشک میں تمھارے لیے رسول امین ہوں

﴿108﴾ پس اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کرو

﴿109﴾ اور میں نہیں طلب کرتا تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت۔ میرا اجرا تو اللہ رب العالمین کے ذمّہ ہے

﴿110﴾ پس تم ڈرو اللہ سے اور میری پیروی کرو

﴿111﴾ انھوں نے کہا کیا ہم (قوم کے رئیس) ایمان لائیں تجھ پر حالانکہ تمھاری پیروی صرف گھٹیا لوگ کر رہے ہیں

﴿112﴾ آپ نے فرمایا مجھے کیا خبر کہ وہ کس نیت سے ایمان لائیں ہیں

﴿113﴾ ان کا حساب تو میرے رب کے ذمّہ ہے۔ اگر تمھیں (حقیقت کا) شعور ہے

﴿114﴾ اور نہیں ہوں میں دور بھگانے والا (غریب و مسکین ) مومنوں کو

﴿115﴾ نہیں ہوں میں مگر (عذاب سے ) صاف صاف ڈرانے والا

﴿116﴾ ان (مغروروں) نے کہا انے نوح! اگر تم باز نہ آئے (تو یاد رکھو) تمھیں ضرور سنگسار کر دیا جائے گا

﴿117﴾ آپ نے عرض کی میرے مالک! میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا ہے

﴿118﴾ پس تو فیصلہ فرما دے میرے اور ان کے درمیان جو قطعی ہو اور (اپنے عذاب سے ) نجات دے مجھے اور جو میرے ساتھ ہیں اہل ایمان سے

﴿119﴾ پس ہم نے نجات دی انھیں اور جو آپ کے ہمراہ اس کشتی میں تھے جو کھچا کھچ بھری ہوئی تھی

﴿120﴾ پھر ہم نے غرق کی دیا اس کے بعد پیچھے رہ جانے والوں کو

﴿121﴾ یقیناً اس واقعہ میں بھی (عبرت کی ) نشانی ہے اور نہیں تھے ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے

﴿122﴾ اور بیشک آپ کا رب ہی سب پر غالب ، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے

﴿123﴾ جھٹلایا عاد نے (اپنے) رسولوں کو

﴿124﴾ جب فرمایا انھیں ان کے بھائی ہود نے کیا تم (خدا سے) نہیں ڈرتے

﴿125﴾ بیشک میں تمھارے لیے رسول امین ہوں

﴿126﴾ پس اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

﴿127﴾ اور میں نہیں طلب کرتا تم سے اس (خدمت) کا کوئی صلہ۔ میرا اجر تو اس پر ہے جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے

﴿128﴾ کیا تم تعمیر کرتے ہو ہر اونچے مقام پر ایک یاد گار بےفائدہ

﴿129﴾ اور اپنی رہائش کے لیے بناتے ہو مضبوط محلّات اس امید پر کہ تم ہمیشہ رہو گے

﴿130﴾ اور جب تم کسی پر گرفت کرتے ہو تو بڑے ظالم اور بےدرد بن کر

﴿131﴾ پس (اب تو) اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

﴿132﴾ اور ڈرو اس ذات سے جس نے مدد کی ہے تمھاری ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو

﴿133﴾ (یعنی ) اس نے مدد فرمائی ہے تمھاری مویشیوں اور فرزندوں سے

﴿134﴾ اور باغات اور چشموں سے

﴿135﴾ میں ڈرتا ہوں کہ تم پربڑے دن کا عذاب نہ آجائے

﴿136﴾ انہوں نے کہا یکساں ہے ہمارے لیے خواہ آپ نصیحت کریں یانہ ہوں آپ نصیحت کرنے والوں سے

﴿137﴾ نہیں ہے یہ (محلّات کا شوق) مگر ہمارے اسلاف کا دستور

﴿138﴾ (آپ فکر نہ کریں) ہمیں عذاب نہیں دیا جائیگا

﴿139﴾ پس انھوں نے آپ کو جھٹلایا اس لیے ہم نے انھیں ہلاک کر دیا بیشک اس میں بھی (عبرت کی) نشانی ہے اور نہیں تھے ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے

﴿140﴾ اور بیشک آپ کا رب ہی سب پر غالب ہمیشہ رحم فرمانیوالا ہے

﴿141﴾ جھٹلایا قوم ثمود نے رسولوں کو

﴿142﴾ جب کہا انھیں ان کے بھائی صالح نے کیا تم (قہر الہیٰ سے) نہیں ڈرتے

﴿143﴾ میں تمھارے لیے رسول امین ہوں

﴿144﴾ سو ڈرو اللہ تعالیٰ سے اور میری پیروی کرو

﴿145﴾ اور میں نہیں طلب کرتا تم سے اس پر کوئی معاوضہ۔ میرا معاوضہ تو رب العالمین کے ذمّہ ہے

﴿146﴾ کیا تمھیں رہنے دیا جائیگا اس (عیش و طرب ) میں جس میں تم یہاں ہو امن سے

﴿147﴾ ان باغات میں اور چشموں میں

﴿148﴾ اور (شاداب) کھیتوں میں اور کھجور کے درختوں میں جنکے شگوفے بڑے نرم و نازک ہیں

﴿149﴾ اور تراشتے رہو گے پہاڑوں میں گھر ماہر ( سنگتراش ) بنتے ہوئے

﴿150﴾ پس ڈرو اللہ تعالیٰ سے اور میری اتباع کرو

﴿151﴾ اور نہ پیروی کرو حد سے بڑھنے والوں کے حکم کی

﴿152﴾ جو فساد برپا کرتے رہتے ہیں زمین میں اور اصلاح کی کوشش نہیں کرتے

﴿153﴾ جواب ملا (اے صالح!) تم تو ان لوگوں میں سے ہو جن پر جادو کر دیا گیا ہے

﴿154﴾ نہیں ہو تم مگر ایک انسان ہماری مانند ورنہ لاؤ کوئی معجزہ اگر تم راست بازوں میں سے ہو

﴿155﴾ فرمایا یہ ایک اونٹنی ہے۔ ایک دن اس کے پانی پینے کی باری ہے اور ایک مقرر دن تمھاری باری ہے

﴿156﴾ اور نہ پہنچانا اسے کوئی اذیّت ورنہ آ لے گا تمھیں بڑے دن کا عذاب

﴿157﴾ ان (بدبختوں) نے اس کی کونچیں کاٹ دالیں پھر ہو گئے ندامت (و افسوس) کرنیوالے

﴿158﴾ پس آ لیا انھیں عذاب نے بیشک اس واقعہ میں بھی (عبرت کی ) نشانی ہے اور نہیں تھے ان میں سے اکثرلوگ ایمان لانے والے

﴿159﴾ اور بےشک آپ کا رب ہی عزیز رحیم ہے

﴿160﴾ جھٹلایا قوم لوط نے اپنے رسولوں کو

﴿161﴾ جب کہا ان سے ان کے بھائی لوط نے ، کیا تم (قہر الہٰی) سے نہیں ڈرتے؟

﴿162﴾ بیشک میں تمھارے لیے رسول امین ہوں

﴿163﴾ پس ڈرو اللہ تعالیٰ سے اور میری اطاعت کرو

﴿164﴾ اور میں نہیں مانگتا تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی معاوضہ۔ میرا معاوضہ تو اس کے ذمّہ ہے جو رب العالمین ہے

﴿165﴾ کیا تم بد فعلی کے لیے جاتے ہو مردوں کے پاس ساری مخلوق سے

﴿166﴾ اور چھوڑ دیتے ہو جو پیدا کی ہیں تمھارے لیے تمھارے رب نے تمھاری بیویاں ۔ بلکہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو

﴿167﴾ وہ (غصّہ سے) کہنے لگے ( خاموش!) اے لوط! اگر تم اس سے باز نہ آئے تو تمھیں ضرور ملک بدر کر دیا جائیگا

﴿168﴾ آپ نے فرمایا (سُن لو) میں تمھارے اس (گندے) فعل سے بیزار ہوں

﴿169﴾ میرے مالک! نجات دے مجھے اور میرے اہل و عیال کو اس (کی شامت) سے جو وہ کرتے ہیں

﴿170﴾ سو ہم نے نجات دی اسے اور اس کے سب اہل کو

﴿171﴾ سوائے ایک بڑھیا کہ جو پیچھے رہنے والوں میں تھی

﴿172﴾ پھر ہم نے نام و نشان مٹا دیا دوسروں کا

﴿173﴾ اور ہم نے برسائی ان پر (پتھروں کی) بارش پس بڑی تباہ کن تھی وہ بارش جو برسی ان پر جنھیں ڈرایا گیا (اور وہ باز نہ آئے)

﴿174﴾ بیشک اس میں بھی (عبرت کی) نشانی ہے اور نہیں تھے ان میں سے اکثرلوگ ایمان لانے والے

﴿175﴾ اور بلاشبہ (اے محبوب!) آپ کا پروردگار ہی عزیز رحیم ہے

﴿176﴾ جھٹلایا اہل ایکہ نے بھی (اپنے ) رسولوں کو

﴿177﴾ جب فرمایا انھیں شعیب (علیہ السلام) نے کیا تم (قہر الہٰی سے) نہیں ڈرتے

﴿178﴾ بیشک میں تمھارے لیے رسول امین ہوں

﴿179﴾ پس ڈرو اللہ تعالیٰ سے اور میری پیروی کرو

﴿180﴾ اور میں نہیں طلب کرتا تم سے اس پر کوئی اجر۔ میرا جر تواس کے ذمّہ ہے جو سارے جہانوں کا پالنے والاہے

﴿181﴾ پورا کیا کرو ناپ اور نہ ہو جاؤ کم ناپنے والوں سے

﴿182﴾ اور وزن کیا کرو صحیح ترازو سے

﴿183﴾ اور نہ کم دیا کرو لوگوں کو ان کی چیزیں ، اور نہ پھرا کرو زمین میں فساد ربرپا کرتے ہوئے

﴿184﴾ اور ڈرو اس سے جس نے پیدا فرمایا تمھیں اور (تم سے) پہلی مخلوق کو

﴿185﴾ انھوں نے (جھلّا کر) کہا تم تو ان لوگوں میں سے ہو جن پر جادو کر دیا گیا ہے

﴿186﴾ اور نہیں ہو تم مگر ایک بشر ہماری مانند اور ہم تو تمھارے متعلق یہ خیال کر رہے ہیں کہ تم جھوٹوں میں سے ہو (ہم تمھاری بات نہیں مانتے)

﴿187﴾ لو اب گرا دو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا اگر تم راست بازوں میں سے ہو

﴿188﴾ آپ نے فرمایا میرا رب خوب جانتاہے جو تم کر رہے ہو

﴿189﴾ سو انھوں نے جھٹلایا شعیب ( علیہ السلام) کو تو پکڑ لیا انھیں چھتری والے دن کے عذاب نے بےشک یہبڑے دن کا عذاب تھا

﴿190﴾ بے شک اس میں بھی (عبرت) کی نشانی ہے اور نہیں تھے ان میں سے اکثرلوگ ایمان لانے والے

﴿191﴾ اور یقیناً آپکا رب ہی سب پر غالب ہمیشہ رحم فرمانے والاہے

﴿192﴾ اور بلاشبہ یہ کتاب رب العالمین کی اتاری ہوئی ہے

﴿193﴾ اترا ہے اسے لے کر روح الامین (یعنی جبرائیل ( علیہ السلام)

﴿194﴾ آپکے قلب (منیر) پر تاکہ بن جائیں آپ (لوگوں کو) ڈرانے والوں سے

﴿195﴾ یہ ایسی عربی زبان میں ہے جو بالکل واضح ہے

﴿196﴾ اور اس کا (ذکر خیر) پہلے لوگوں کی کتابوں میں بھی ہے

﴿197﴾ کیا نہیں تھی ان (مشرکین مکہ) کے لیے آپ کی سچائی کی یہ دلیل کہ جانتے ہیں آپ کو بنی اسرائیل کے علماء

﴿198﴾ اور اگر ہم اتارتے قرآن کو کسی غیر عربی پر

﴿199﴾ پھر وہ ان کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ ایمان لانے والے نہیں تھے

﴿200﴾ یونہی ہم نے داخل کر دی ہے انکار کی عادت مجرموں کے دلوں میں

﴿201﴾ وہ ایمان نہیں لائیں گے اس پر جب تک دیکھ نہ لیں درد ناک عذاب کو

﴿202﴾ سو وہ آئے گا ان پر اچانک اور انہیں اس (کی آمد) کا احساس ہی نہ ہو گا

﴿203﴾ تب (بصد حسرت) کہیں گے کیا ہمیں مزید مہلت ملے گی

﴿204﴾ کیا وہ اب ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں

﴿205﴾ کیا تم نے کچھ غور کیا اگر ہم لطف اندوز ہونے دیں چند سال

﴿206﴾ پھر (یہ عرصہ گزرنے کے بعد) آئے ان پر وہ عذاب جس سے انھیں ڈرایا جاتا تھا

﴿207﴾ تو کیا نفع دینگے انھیں (اس وقت) وہ (سازو سامان) جن سے وہ لطف اندوز ہوتے رہتے تھے

﴿208﴾ اور نہیں ہلاک کیا ہم نے کسی بستی کو مگر اس کے لیے ڈرانے والے (بھیجے گئے) تھے

﴿209﴾ یاد دہانی کے لیے۔ اور ہم ظالم نہیں تھے

﴿210﴾ اور نہیں اترے اس قرآن کو لے کر شیاطین

﴿211﴾ اور نہ یہ ان کے لیے مناسب ہے اور نہ ہی وہ اس کی طاقت رکھتے ہیں

﴿212﴾ انھیں (شیطانوں کو) تو اس کے سننے سے بھی محروم کر دیا گیا ہے

﴿213﴾ پس نہ پکارا کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور خدا کو ورنہ تو ہو جائیگا ان لوگوں میں سے جنھیں عذاب دیا گیا ہے

﴿214﴾ اور آپ ڈرایا کریں اپنے قریبی رشتہ داروں کو

﴿215﴾ اور آپ نیچے کیا کیجیے اپنے پروں کو ان لوگوں کے لیے جو آپ کی پیروی کرتے ہیں اہل ایمان سے

﴿216﴾ پھر اگر وہ آپ کی نافرمانی کریں تو آپ فرما دیں میں بری الذمہ ہوں ان کاموں سے جو تم کیا کرتے ہو

﴿217﴾ اور بھروسہ کیجیے سب سے غالب ہمیشہ رحم کرنے والے پر جو

﴿218﴾ آپ کو دیکھتا رہتا ہے جب آپ کھڑے ہوتے ہیں

﴿219﴾ اور (دیکھتا رہتا ہے جب) آپ چکّر لگاتے ہیں سجدہ کرنیوالوں (کے گھروں) کا

﴿220﴾ بیشک وہی سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے

﴿221﴾ کیا میں بتاؤں تمھیں کہ شیاطین کس پر اترتے ہیں

﴿222﴾ وہ اترتے ہیں ہر جھوٹ گھڑنے والے بدکار پر

﴿223﴾ یہ اپنے کان (شیطانوں کی طرف) لگائے رکھتے ہیں اور ان میں سے اکثر نرے جھوٹے ہیں

﴿224﴾ اور جو شعراء ہیں تو انکی پیروی حق سے بہکے ہوئے لوگ ہی کرتے ہیں

﴿225﴾ کیا تم نہیں دیکھتے کہ شعراء ہر وادی میں سر گرداں پھرتے رہتے ہیں

﴿226﴾ اور وہ کیا کرتے ہیں ایسی باتیں جن پر وہ خود عمل نہیں کرتے

﴿227﴾ بجز ان شعراء کے جو ایمان لے آئے اور انھوں نے نیک عمل کیے اور کثرت سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں اور انتقام لیتے ہیں اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا ۔ اور عنقریب جان لیں گے جنھوں نے ظلم و ستم کیے کہ وہ کس (بھیانک ) جگہ لوٹ کر آرہے ہیں

النمل

Surah 27

﴿1﴾ طا۔ سین یہ آیتیں ہیں قرآن (حکیم) اور روشن کتاب کی

﴿2﴾ (یہ) سراپا ہدایت اور خوشخبری ہے اہل ایمان کے لیے

﴿3﴾ جو صحیح صحیح ادا کرتے ہیں نماز، اور دیا کرتے ہیں زکوٰۃ اور وہ جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں

﴿4﴾ بے شک وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے خوبصورت بنا دئیے ان (کی نظروں) میں انکے اعمال (بد) پس وہ سرگرداں پھر رہے ہیں

﴿5﴾ یہ وہی لوگ ہیں جن کے لیے بد ترین عذاب ہے اور یہی آخرت میں سب سے زیادہ گھاٹے میں ہوں گے

﴿6﴾ اور بےشک آپ کو سکھایا جاتا ہے قرآن حکیم بڑے دانا سب کچھ جاننے والے کی جانب سے

﴿7﴾ (یاد فرماؤ) جب کہا موسیٰ نے اپنی زوجہ سے کہ میں نے دیکھی ہے آگ۔ ابھی لے آتا ہوں تمھارے پاس وہاں سے کوئی خبر یا لے آؤں گا تمھارے پاس (اس آگ سے) کوئی شعلہ سلگا کر تاکہ تم اسے تاپو

﴿8﴾ پھر جب اس کے پاس پہنچے تو ندا کی گئی کہ بابرکت ہو جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے آس پاس ہے اور (ہر تشبیہ و تمثیل سے) پاک ہے اللہ جو رب العالمین ہے

﴿9﴾ اے موسیٰ ! وہ میں اللہ ہی ہوں عزت والا دانا

﴿10﴾ اور ذرا زمین پر ڈال دو اپنے سونٹے کو اب جو اسے دیکھا تو وہ (اس طرح) لہرا رہا تھا جیسے سانپ ہو آپ پیٹھ پھیر کر وہاں سے چل دئیے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا (فرمایا) موسیٰ ڈرو نہیں ۔ میرے حضور ڈرا نہیں کرتے جنھیں رسول بنایا جاتا ہے

﴿11﴾ مگر وہ شخص جو زیادتی کرے (وہ ڈرے) پھر (وہ ظالم بھی اگر) نیکی کرنے لگے برائی کرنے کے بعد تو میں بیشک غفور رحیم ہوں

﴿12﴾ اور ذرا ڈالو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں وہ نکلے گا سفید چمکتا ہوا بغیر کسی تکلیف کے (یہ دو معجزے) ان نو معجزات سے ہیں جن کے ساتھ آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا گیا ۔ بیشک وہ بڑے سر کش لو گ ہیں

﴿13﴾ پس جب آئیں ان کے پاس ہماری نشانیاں بصیرت افروز بن کر تو انھوں نے کہا یہ تو جادو ہے کھلا ہوا

﴿14﴾ اور انھوں نے انکار کر دیا ان کا حالانکہ یقین کر لیا تھا ان کی صداقت کا ان کے دلوں نے ،(ان کا انکار) محض ظلم اور تکبر کے باعث تھا پس آپ ملاحظہ فرمائیے کیا (ہولناک ) انجام ہوا فساد برپا کرنیوالوں کا

﴿15﴾ اور یقیناً ہم نے عطا فرمایا داؤد اور سلیمان علیہ السلام کو علم اور انھوں نے کہا سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے جس نے برگزیدہ کیا ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر

﴿16﴾ اور جانشین بنے سلیمان داؤد کے اور فرمایا اے لوگو ! ہمیں سکھائی گئی ہے پرندوں کی بولی اور ہمیں عطا کی گئی ہیں ہر قسم کی چیزیں بےشک یہی وہ نمایاں بزرگی ہے (جو ہمیں مرحمت ہوئی)

﴿17﴾ اور فراہم کیے گئے سلیمان علیہ السلام کے لیے لشکر جنوں ، انسانوں اور پرندوں سے پس وہ نظم و ضبط کے پابند ہیں

﴿18﴾ یہاں تک کہ جب وہ گزرے چیونٹیوں کی وادی سے تو ایک چیونٹی کہنے لگی اے چیونٹیو! گُھس جاؤ اپنی بلوں میں کہیں کچل کر نہ رکھ دیں تمھیں سلیمان اور ان کے لشکر اور انہیں معلوم ہی نہ ہو (کہ تم پر کیا گزر گئی)

﴿19﴾ تو سلیمان ہنستے ہوئے مسکرا دئیے اس کی اس بات سے اور عرض کرنے لگے میرے مالک! مجھے توفیق دے تاکہ میں شکر ادا کروں تیری نعمت (عظمیٰ) کا جو تو نے مجھ پر فرمائی اور میرے والدین پر نیز (مجھے توفیق دے کہ) میں وہ نیک کام کروں جسے تو پسند فرمائے اور شامل کر لے مجھے اپنی رحمت کے باعث اپنے نیک بندوں میں

﴿20﴾ اور آپ نے (ایک روز) پرندوں کا جائزہ لیا تو فرمانے لگے کیا وجہ ہے کہ مجھے (آج) ہُد ہُد نظر نہیں آ رہا۔ یا وہ ہے ہی غیر حاضر

﴿21﴾ (اگر وہ غیر حاضر ہے) تو میں ضرور اسے سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح ہی کر ڈالوں گا یا اسے لانا پڑے گی میرے پاس کوئی روشن سند

﴿22﴾ پس کچھ زیادہ دیر نہ گزری (کہ وہ آگیا) اور کہنے لگا میں ایک ایسی اطلاع لے کر آیا ہوں جس کی آپ کو خبر نہ تھی اور (وہ یہ کہ) میں لے آیا ہوں آپ کے پاس ملک سبا سے ایک یقینی خبر

﴿23﴾ میں نے پایا ایک عورت کو جو انکی حکمران ہے اور اسے دی گئی ہر قسم کی چیز سے اور اس کا ایک عظیم (الشان) تخت ہے

﴿24﴾ میں نے پایا ہے اسے اور اس کی قوم کو کہ وہ سب سجدہ کرتے ہیں سورج کو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور آراستہ کر دئیے ہیں ان کے لیے شیطان نے ان کے (یہ مشرکانہ) اعمال پس اس نے روک دیا ہے انھیں (سیدھے) راستہ سے پس وہ ہدایت قبول نہیں کرتے

﴿25﴾ وہ کیوں نہ سجدہ کریں اللہ تعالیٰ کو جو نکالتا ہے پوشیدہ چیزوں کو آسمانوں اور زمین سے اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو

﴿26﴾ اللہ تعالیٰ نہیں ہے کوئی معبود بجز اس کے وہ مالک ہے عرش عظیم کا

﴿27﴾ آپ نے فرمایا ہم پوری تحقیق کریں گے اس بات کی کہ تونے سچ کہا ہے یا تو بھی غلط بیانی کرنے والوں سے ہے

﴿28﴾ لے جا میرا یہ مکتوب اور پہنچا دے ان کی طرف، پھر ہٹ کر کھڑا ہو جا ان سے اور دیکھ وہ ایک دوسرے سے کیا گفتگو کرتے ہیں

﴿29﴾ (خط پڑھ کر) ملکہ نے کہا اے سرداران قوم! پہنچایا گیا ہے میری طرف ایک عزت والا خط

﴿30﴾ یہ سلیمان علیہ السلام کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو رحمن (اور) رحیم ہے

﴿31﴾ تم لو گ غرور تکبر نہ کرو میرے مقابلہ میں اور چلے آؤ میرے پاس فرمانبردار بن کر

﴿32﴾ ملکہ نے کہا اے سرداران قوم ! مجھے مشورہ دو میرے اس معاملہ میں ۔ میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا کرتی جب تک تم موجود نہ ہو

﴿33﴾ وہ کہنے لگے ہم بڑے طاقت ور اور سخت جنگجو ہیں اور فیصلہ کرنا آپ کے اختیا ر میں ہے آپ غور کر لیں کہ آپ کیا حکم دینا چاہتی ہیں

﴿34﴾ ملکہ نے کہا اس میں شک نہیں کہ بادشاہ جب داخل ہوتے ہیں کسی بستی میں تو اسے برباد کر دیتے ہیں اور بنا دیتے ہیں وہاں کے معزز شہریوں کو ذلیل ۔ اور یہی ان کا دستور ہے (اس لیے جنگ کرنا قرین دانشمندی نہیں)

﴿35﴾ اور میں بھیجتی ہوں ان کی طرف ایک تحفہ پھر دیکھونگی کہ قاصد کیا جواب لیکر لوٹتے ہیں

﴿36﴾ سو جب قاصد آپ کے پاس (ہدیہ لے کر) آیا تو آپ نے فرمایا کیا تم لو گ مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو (سنو) جو عطا فرمایا ہے مجھے اللہ تعالیٰ نے وہ بہتر ہے اس سے جو تمھیں دیا ہے بلکہ تم تو اپنے ہدیہ پر پھُولے نہیں سما رہے (گویا کوئی نادر چیز لائے ہو)

﴿37﴾ تو واپس چلا جا ان کے پاس اور ہم آرہے ہیں ان کی طرف ایسے لشکر لے کر جن کے مقابلہ کی ان میں تاب نہیں اور یقیناً نکال دیں گے انہیں اس شہر سے ذلیل کر کے اور وہ خوار اور رسوا ہو چکے ہوں گے

﴿38﴾ آپ نے فرمایا اے (میرے) درباریو! کون تم سے لے آئے گا میرے پاس اس کے تخت کو اس سے پہلے کہ وہ آجائیں میری خدمت میں فرمانبردار بن کر

﴿39﴾ عرض کی ایک عفریت نے جنّات میں سے (حکم ہو تو) میں لے آتا ہوں آپ کے پاس اسے پیش ازیں کہ آپ کھڑے ہوں اپنی جگہ سے

﴿40﴾ اور بےشک میں اس کو اٹھا لانے کی طاقت بھی رکھتا ہوں (اور) امین بھی ہوں ۔ عرض کی اس نے جس کے پاس کتاب کا علم تھا (اجازت ہو تو) میں لے آتا ہوں اسے آپ کے پاس اس سے پہلے کہ آپکی آنکھ جھپکے پھر جب آپ نے دیکھا کہ وہ رکھا ہوا ہے آپ کے نزدیک تو وہ فرمانے لگے یہ میرے رب کا فضل (وکرم) ہے تاکہ وہ آزمائے مجھے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا نا شکری۔ اور جس نے شکر کیا تو وہ شکر کرتا ہے اپنے بھلے کے لیے اور جو ناشکری کرتا ہے (وہ اپنا نقصان کرتا ہے) بلاشبہ میرا رب غنی بھی ہے (اور ) کریم بھی

﴿41﴾ آپ نے حکم دیا شکل بدل دو اسکے لیے اس کے تخت کی ہم دیکھتے ہیں کہ وہ حقیقت پر آگاہ ہوتی ہے یا ہو جاتی ہے ان لوگوں میں سے جو حقیقت کو نہیں پہچانتے

﴿42﴾ سو جب وہ آئی تو اس سے پوچھا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے کہنے لگی یہ تو ہُو بہو وہی ہے اور ہمیں اطلاع مل گئی تھی اس واقعہ کی اس سے پہلے اور ہم تو فرمانبردار بن کر حاضر ہوئے ہیں

﴿43﴾ اور روک رکھا تھا اسے (ایمان لانے سے) ان بتوں نے جن کی وہ عبادت کیا کرتی تھی اللہ تعالیٰ کے سوا۔ بیشک وہ قوم کفّار سے تھی

﴿44﴾ اسے کہا گیا کہ اس محل میں داخل ہو جاؤ ۔ پس جب اسے نے دیکھا اس (کے بلوریں فرش) کو تو اس نے خیال کیا کہ یہ گہرا پانی ہے اور اس نے کپڑا اٹھا لیا اپنی دونوں پنڈلیوں سے ۔ آپ نے فرمایا (یہ پانی نہیں ) یہ چمکدار محل ہے بلور کا بنا ہوا (اس کی آنکھیں کھل گئیں) کہنے لگی اے میرے رب! میں (آجتک) ظلم ڈھاتی رہی اپنی جان پر اور (اب) ایمان لائی ہوں سلیمان کے ساتھ اللہ پر جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے

﴿45﴾ اور بےشک ہم نے رسول بنا کر بھیجا ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی تو وہ دو گروہ بن گئے (اور آپس میں ) جھگڑنے لگے

﴿46﴾ صالح نے فرمایا اے میری قوم ! کیوں تیزی کرتے ہو برائی کرنے میں نیک کام کرنے سے پہلے تم کیوں نہیں بخشش طلب کرتے اللہ تعالیٰ سے شاید تم پر رحم کر دیا جائے

﴿47﴾ کہنے لگے تم تو برا شگون سمجھتے ہیں تمھیں اور تمھارے ساتھیوں کو آپ نے فرمایا تمھارا برا شگون تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے بلکہ تم ایسی قوم ہو جو فتنہ میں مبتلا کر دی گئی ہے

﴿48﴾ اور اس شہر میں نو شخص تھے جو فتنہ و فساد برپا کیا کرتے تھے اس علاقہ میں اور اصلاح کی کوشش نہ کرتے

﴿49﴾ انھوں نے کہا آؤ اللہ کی قسم کھا کر یہ عہد کرلیں کہ شب خون مار کر صالح اور ان کے اہل خانہ کو ہلاک کر دینگے پھر کہہ دینگے اس کے وارث سے کہ ہم تو (سرے سے) موجود ہی نہ تھے جب انھیں ہلاک کیا گیا اور (یقین کرو) ہم بالکل سچ کہہ رہے ہیں

﴿50﴾ اور انھوں نے بھی خفیہ سازش کی اور ہم نے بھی خفیہ تدبیر کی اور وہ سمجھ ہی نہ سکے (ہماری تدبیرکو)

﴿51﴾ تم (خود ہی) دیکھ لو کیا (ہولناک ) انجام ہوا ان کے مکر کا ہم نے برباد کر کے رکھ دیا انہیں اور ان کی ساری قوم کو

﴿52﴾ پس یہ ان کے گھر ہیں جو اجڑے پڑے ہیں ان کے ظلم کے باعث ۔ بیشک اس میں عبرت ہے اس قوم کے لیے جو (کچھ ) جانتی ہے

﴿53﴾ اور ہم نے بچا لیا انھیں جو ایمان لائے تھے اور (اپنے رب سے) ڈرتے رہتے تھے

﴿54﴾ اور یاد کرو لوط علیہ السلام کو جب آپ نے اپنی قوم کو فرمایا کیا تم ارتکاب کرتے ہو بےحیائی کا حالانکہ تم دیکھ رہے ہوتے ہو

﴿55﴾ کیا تم جاتے ہو مردوں کے پاس شہوت رانی کے لیے (اپنی ) بیویوں کو چھوڑ کر بلکہ تم بڑے نادان لو گ ہو

﴿56﴾ پس نہیں تھا آپ کی قوم کا جواب بجز اس کے کہ انھوں نے کہا نکال دو آل لوط کو اپنی بستی سے ، یہ لو گ تو بڑے پاکباز بنے پھرتے ہیں

﴿57﴾ سو ہم نے بچا لیا لوط کو اور ان کے اہل خانہ کو سوائے ان کی بیوی کے ۔ ہم نے فیصلہ کر دیا اس کے متعلق کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہو گی ۔

﴿58﴾ اور ہم نے ان پر خوب پتھر برسائے ۔ پس تباہ کن پتھراؤ تھا (بارہا) ڈرائے جانے والوں پر

﴿59﴾ فرمائیے سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور سلام ہو ان کے بندوں پر جنھیں اس نے چُن لیا (بتاؤ) کیا اللہ بہتر ہے یاجنھیں وہ شریک بناتے ہیں

﴿60﴾ فرمائیے سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور سلام ہو ان کے بندوں پر جنھیں اس نے چُن لیا (بتاؤ) کیا اللہ بہتر ہے یاجنھیں وہ شریک بناتے ہیں

﴿61﴾ بھلا کس نے بنایا ہے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور جاری کر دیں اس کے درمیان نہریں اور بنا دئیے زمین کے لیے (پہاڑوں کے) لنگر اور بنا دی دو سمندروں کے درمیان آڑ کیا کوئی اور خدا ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ؟ بلکہ ان میں سے اکثر لوگ بےعلم ہیں

﴿62﴾ بھلا کون قبول کرتا ہے ایک بیقرار کی فریاد جب وہ اسے پکارتا ہے اور (کون) دُور کرتا ہے تکلیف کو اور (کس نے) بنایا ہے تمھیں زمین میں (اگلوں کا ) خلیفہ۔ کیا کوئی اور خدا ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ؟ تم بہت کم غور و فکر کرتے ہو

﴿63﴾ بھلا کون راہ دکھاتا ہے تمھیں برو بحر کے اندھیروں میں اور کون بھیجتا ہے ہواؤں کو خوشخبری دینے کے لیے اپنی (بارانِ) رحمت سے پہلے کیا کوئی اور خدا ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ۔ بر تر ہے اللہ تعالیٰ ان سے جنھیں وہ شریک بناتے ہیں

﴿64﴾ بھلا کون ہے جو آغاز کرتا ہے آفر نیش کا پھر دوبارہ پیدا کرے گا اسے اور کون ہے جو رزق دیتا ہے تمھیں آسمان سے اور زمین سے کیا کوئی اور خدا ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ؟فرمائیے (اے مشرکو!) پیش کرو اپنی کوئی دلیل اگر تم سچے ہو

﴿65﴾ آپ فرمائیے (خود بخود) نہیں جان سکتے جو آسمانوں اور زمین میں ہے غیب کو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور وہ (یہ بھی) نہیں سمجھتے کہ انھیں کب اٹھایا جائیگا

﴿66﴾ بلکہ گُم ہو گیا ہے ان کا علم آخرت کے متعلق بلکہ وہ تو اس کے بارے میں شک میں ہیں ۔ بلکہ وہ اس سے اندھے ہیں

﴿67﴾ اور کفار کہنے لگے کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی تو کیا ہمیں (پھر) نکالا جائیگا

﴿68﴾ بیشک قیامت کے آنے کا وعدہ ہم سے بھی کیا گیا اور ہمارے باپ دادا سے بھی اس سے پہلے ۔ نہیں ہے یہ وعدہ مگر پہلے لوگوں کے من گھڑت افسانے

﴿69﴾ آپ فرمائیے سیرو سیاحت کرو زمین میں ۔ پھر اپنی آنکھوں سے دیکھو کہ کیسا ہولناک انجام ہوا مجرموں کا

﴿70﴾ (اے محبوب!) آپ غمزدہ نہ ہوں ان (کے رویہّ) پر اور دل تنگ نہ ہوا کریں ان کے مکر و فریب سے

﴿71﴾ اور وہ پوچھتے ہیں کب ( پُورا ہوگا ) یہ وعدہ (بتاؤ) اگر تم سچے ہو

﴿72﴾ آپ فرمائیے قریب ہے کہ تمھارے پیچھے آلگا ہو اس عذاب کا کچھ حصہ جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو

﴿73﴾ اور بےشک آپ کا رب بہت فضل (و کرم) فرمانے والا ہے لوگوں پر، لیکن اکثر لوگ نا شکری کرتے ہیں

﴿74﴾ اور یقیناً آپ کا رب خوب جانتا ہے جو کچھ چھپا رکھا ہے ان کے سینوں نے اور جو وہ ظا ہر کرتے ہیں

﴿75﴾ اور نہیں کوئی پوشیدہ چیز آسمان اور زمین میں مگر اس کا بیان کتاب مبین میں موجود ہے

﴿76﴾ بلاشبہ یہ قرآن بیان کرتا ہے بنی اسرائیل کے سامنے اکثر ان امور (کی حقیقت) کو جن میں وہ جھگڑتے رہتے ہیں

﴿77﴾ اور بلاشبہ یہ قرآن سراپا ہدایت اور مجسّم رحمت ہے مومنین کے لیے

﴿78﴾ یقیناً آپ کا رب فیصلہ فرمائے گا ان کے درمیان اپنے حکم سے ۔ اور وہی ہے زبردست سب کچھ جاننے والا

﴿79﴾ سو آپ بھروسہ کریں اللہ تعالیٰ پر، بیشک آپ روشن حق پر ہیں

﴿80﴾ بیشک آپ نہیں سنا سکتے مردوں کو اور نہ آپ سنا سکتے ہیں بہروں کو اپنی پکار جب وہ بھاگے جا رہے ہوں پیٹھ پھیرے ہوئے

﴿81﴾ اور نہیں آپ ہدایت دینے والے (دل کے) اندھوں کوان کی گمراہی سے۔ نہیں سناتے آپ بجز ان کے جو ایمان لاتے ہیں ہماری آیتوں پر پھر وہ فرمانبردار بن جاتے ہیں

﴿82﴾ اور جب ہماری بات کے پورا ہونیکا وقت آجائے گا تو ہم نکالیں گے ان کے لیے ایک چوپایا زمین سے جو ان سے گفتگو کریگا، کیو نکہ لوگ ہماری آیتوں پر ایمان نہیں لاتے تھے

﴿83﴾ اور جس روز ہم اکٹھا کریں گے ہر امت سے ایک گروہ جو جھٹلایا کرتا تھا ہماری آیتوں کو تو ان کو (اپنی اپنی جگہ پر) روک لیاجائیگا

﴿84﴾ حتی کے جب وہ آجائیں گے اللہ فرمائیگا کیا تم نے جھٹلایا میری آیتوں کو حالانکہ تم نے اچھی طرح انھیں جانا بھی نہ تھا یا اس کے علاوہ اور کیا تھا جو تم کیا کرتے تھے

﴿85﴾ اور پوری ہو گئی (اللہ کی) بات ان پر بوجہ ان کے ظلم کے تو وہ (اس وقت) بولیں گے نہیں

﴿86﴾ کیا انھوں نے غور نہ کیا کہ ہم نے بنایا ہے رات کو اس لیے تاکہ وہ اس میں آرام کریں اور بنا یا ہے دن کو بینا بیشک اس میں (ہماری قدرت کی) نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں

﴿87﴾ اور جس دن پھونکا جائے گا صور تو گھبرا جائے گا ہر کوئی جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ مگر جنھیں خدا نے چاہا (وہ نہیں گھبرائیں گے) اور سب حاضر ہوں گے اس کی بارگاہ میں عاجزی کرتے ہوئے

﴿88﴾ اور تو جب (اس روز) پہاڑوں کو دیکھے گاتو گمان کریگا کہ یہ ٹھیرے ہوئے ہیں حالانکہ وہ چل رہے ہوں گے بادل کی سی چال۔ یہ کاریگری ہے اللہ کی جس نے (اپنی حکمت سے) مضبوط بنایا ہر چیز کو بیشک وہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو

﴿89﴾ جو شخص نیک عمل لے کر آئے گا تو اسے کہیں بہتر اجر ملے گا اس نیک عمل سے اور یہ نیک بندے اس دن کی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے

﴿90﴾ اور جو برائی لے کر آئے گا تو ان کو منہ کے بل اوندھا پھینک دیا جائے گا آگ میں (اے بدکارو!) کیا تمھیں بدلہ ملے گا بجز اس کے جو تم عمل کیا کرتے تھے

﴿91﴾ مجھے تو صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں عبادت کروں اس (مقدّس) شہر کے رب کی جس نے عزت و حرمت والا بنایا ہے اس کو اور اسی کی ہے ہر شے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں شامل ہو جاؤں فرمانبرداروں کے زمرہ میں

﴿92﴾ نیز (یہ بھی کہ) میں تلاوت کیا کروں قرآن کی پس جو ہدایت قبول کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدے کے لیے ہدایت قبول کرتا ہے۔ اور جو گمراہ ہو تاہے (تو اس کی قسمت) فرماؤ میں تو صرف ڈرانے والوں سے ہوں

﴿93﴾ اور آپ فرمائیے سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں وہ ابھی دکھائیگا تمھیں اپنی نشانیاں۔ تو تم انھیں پہچان لو گے۔ اور نہیں ہے آپ کا رب بےخرب ان کاموں سے جو (اے لوگو) تم کیا کرتے ہو

القصص

Surah 28

﴿1﴾ طا ۔ سین۔ میم

﴿2﴾ یہ آیتیں ہیں روشن کتاب کی

﴿3﴾ ہم پڑھ کر سناتے ہیں آپ کو موسیٰ اور فرعون کا کچھ واقعہ ٹھیک ٹھیک ان لوگوں (کے فائدہ) کے لیے جو ایمان لاتے ہیں

﴿4﴾ بیشک فرعون متکبّر (و سر کش ) بن گیا سر زمین (مصر) میں اور اس نے بنا دیا وہاں کے باشندوں کو گروہ گروہ۔ وہ کمزور کرنا چاہتا تھا ایک گروہ کو ان میں سے ذبح کیا کرتا تھا ان کے بیٹوں کو اور زندہ چھوڑ دیتا ان کی عورتوں کو۔ بیشک وہ فساد برپا کرنے والوں سے تھا

﴿5﴾ اور ہم نے چاہا کہ احسان کریں ان لوگوں پر جنھیں کمزور بنا دیا گیا تھا ملک (مصر) میں اور بنا دیں انھیں پیشوا اور بنا دیں انھیں (فرعون کے تاج و تخت کا) وارث

﴿6﴾ اور تسلّط بخشیں انھیں سر زمین (مصر) میں اور ہم دکھائیں فرعون اور ہامان اور ان کی فوجوں کو ان کی جانب سے (وہی خطرہ) جس کا وہ اندیشہ کیا کرتے تھے

﴿7﴾ اور ہم نے الہام کیا موسیٰ کی والدہ کی طرف کہ اسے (بے خطر) دودھ پلاتی رہ۔ پھر جب اس کے متعلق تمھیں اندیشہ لاحق ہو تو ڈال دینا اسے دریا میں اور نہ ہراساں ہونا اور نہ غمگین ہونا۔ یقیناً ہم لوٹا دینگے اسے تیری طرف اور ہم بنانے والے ہیں اسے رسولوں میں سے

﴿8﴾ پس (دریا سے ) نکال لیا اسے فرعون کے گھر والوں نے تاکہ (انجام کار) وہ ان کا دشمن اور باعث رنج و الم ہے۔ بیشک فرعون ، ہامان اور ان کے لشکری خطاکار تھے

﴿9﴾ اور کہا فرعون کی بیوی نے (اے میرے سرتاج!) یہ بچہ تو میری اور تیری آنکھوں کے لیے ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرنا۔ شاید یہ ہمیں نفع دے۔ یا ہم اسے اپنا فرزند بنا لیں اور وہ (اس تجویز کے انجام کو) نہ سمجھ سکے

﴿10﴾ اور موسیٰ کی ماں کا دل بیقرار ہو گیا قریب تھا کہ وہ ظاہر کر دے اس راز کو اگر ہم نے مضبوط نہ کر دیا ہوتا اس کے دل کو تاکہ وہ بنی رہے اللہ کے وعدہ پر یقین کرنے والی

﴿11﴾ اور اس نے کہا موسیٰ کی بہن سے کے اس کے پیچھے پیچھے ہو لے پس وہ اسے دیکھتی رہی دور سے۔ اور وہ اس (حقیقت کو) نہ سمجھتے تھے

﴿12﴾ اور ہم نے حرام کر دیں ا س پر ساری دودھ پلانے والیاں اس سے پہلے تو موسیٰ کی بہن نے کہا کیا میں پتہ دوں تمھیں ایسے گھر والوں کا جو اس کی پرورش کریں تمھاری خاطر اور وہ اس بچہ کے خیر خواہ بھی ہونگے۔

﴿13﴾ تو (اس طرح) ہم نے لوٹا دیا اس کو اس کی ماں کی طرف تاکہ اسے دیکھ کر اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور (اس کے فراق میں) غمزدہ نہ ہو اور وہ یہ بھی جان لے کہ بلاشبہ اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے لیکن اکثر (اس حقیقت کو) نہیں جانتے

﴿14﴾ اور جب پہنچ گئے موسیٰ اپنے شباب کو اور ان کی نشوونمامکمل ہو گئی توہم نے انھیں حکم اور علم عطا فرمایا۔ اور ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو

﴿15﴾ وہ شہر میں داخل ہوئے اس وقت جب بےخبر سو رہے تھے اس کے باشندے۔ پس آپ نے پایا وہاں دو آدمیوں کو آپس میں لڑتے ہوئے یہ ایک ان کی جماعت سے تھا اور یہ دوسرا ان کے دشمنوں سے ۔ پس مدد کے لیے پکارا آپ کو اس نے جو آپ کی جماعت سے تھا اس کے مقابلہ میں جو آپ کے دشمن گروہ سے تھا۔ تو سینہ میں گھونسہ مارا موسیٰ نے اس کو اور اس کا کام تمام کر دیا۔ آپ نے فرمایا یہ کام شیطان کی انگیخت سے ہوا ہے۔ بیشک وہ کھلا دشمن ہے بہکا دینے والا

﴿16﴾ آپ نے عرض کی میرے پروردگار! میں نے ظلم کیا اپنے آپ پر پس بخش دے مجھے ، تو اللہ تعالیٰ نے بخش دیا اسے ۔ بیشک وہی غفور رحیم ہے

﴿17﴾ عرض کرنے لگے میرے رب! مجھے ان انعامات کی قسم جو تو نے مجھ پر فرمائے اب میں ہر گز مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا

﴿18﴾ پھر آپ نے صبح کی اس شہر میں ڈرتے ہوئے ۔ اس انتظار میں کہ کیا ہوتا ہے تو اچانک وہی شخص جس نے کل ان سے مدد طلب کی تھی آج پھر انھیں مدد کے لیے پکارتا ہے موسیٰ نے اسے فرمایا بیشک تو کھلا ہوا گمراہ ہے

﴿19﴾ پس جب آپ نے ارادہ کیا کہ جھپٹ پڑیں ا س پر جو ان دونوں کا دشمن تھا وہ کہنے لگے اے موسیٰ! کیا تو چاہتا ہے کہ مجھے بھی قتل کر ڈالے جیسے کل تو نے ایک شخص کو قتل کیا تھا۔ تو نہیں چاہتا بجز اس کے کہ تو ملک میں بڑا جابر بن جائے اور تو نہیں چاہتا کہ اصلاح کرنے والوں میں سے ہو

﴿20﴾ اور آیا ایک آدمی شہر کے آخری گوشہ سے دوڑتا ہوا۔ اس نے (آکر ) بتایا اے موسیٰ! سردار لوگ سازش کر رہے ہیں آپ کے بارے میں کہ آپ کو قتل کر ڈالیں ۔ اس لیے نکل جائیے (یہاں سے) بیشک میں آپکا خیر خواہ ہوں

﴿21﴾ پس آپ نکلے وہاں سے ڈرتے ہوئے (اپنی گرفتاری کا) انتظار کرتے ہوئے عرض کی میرے رب! بچا لے مجھے ظلم و ستم کرنے والوں سے

﴿22﴾ اور جب آپ روانہ ہوئے مدین کی جانب (تو دل میں ) کہنے لگے امید ہے میرا رب میری رہنمائی فرمائے گا سیدھے راستہ کی طرف

﴿23﴾ اور جب آپ مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں پر لوگوں کا ایک انبوہ ہے جو (اپنے مویشیوں کو) پانی پلا رہا ہے اور دیکھیں اس انبوہ سے الگ تھلگ دو عورتیں کہ اپنے ریوڑ کو روکے ہوئے ہیں ۔ آپ نے پوچھا تم کیوں اس حال میں کھڑی ہو۔ ان دونوں نے کہا ہم نہیں پلا سکتیں جبتک چرواہے اپنے مویشیوں کو لے کر واپس نہ چلے جائیں (٢٣) اور ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں

﴿24﴾ تو آپ نے پانی پلا دیا ان (کے ریوڑ) کو پھر لوٹ کر سایہ کی طرف آگئے اور عرض کرنے لگے میرے مالک ! واقعی میں ا س خیر و برکت کا جو تو نے میری طرف اتاری ہے محتاج ہوں

﴿25﴾ کچھ دیر بعد آئی آپ کے پاس ان دونوں میں سے ایک خاتون شرم و حیا سے چلتی ہوئی (اور آکر) کہا میرے والد تمھیں بلاتے ہیں تاکہ تم نے ہماری بکریوں کو جو پانی پلایا ہے اس کا تمھیں معاوضہ دیں پس جب آپ ان کے پاس آئے اور اپنا واقعہ ان کے سامنے بیان کیا تو انھوں نے (تسلیٰ دیتے ہوئے) کہا ڈرو نہیں ۔ تم بچ کر نکل آئے ہو ظالموں (کے پنجہ) سے

﴿26﴾ ان دو میں سے ایک خاتون نے کہامیرے (محترم) باپ اسے نوکر رکھ لیجیے۔ بیشک بہتر آدمی جس کو آپ نوکر رکھیں وہ ہے جو طاقتور بھی ہو دیانتدار بھی ہو

﴿27﴾ آپ نے کہا میں چاہتا ہوں کہ میں بیاہ دوں تمھیں ایک ان اپنی دو بچیوں سے بشرطیکہ تو میری خدمت کرے آٹھ سال تک پھر اگر تم پورے کرو دس سال تو یہ تمھاری اپنی مرضی اور میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ۔ تو پائے گا مجھے اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں سے (جو وعدہ ایفاء کرتے ہیں)

﴿28﴾ موسیٰ نے کہا یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے پا گئی ان دو میعادوں میں گزار دوں تو مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو گی ۔ اور اللہ تعالیٰ جو قول و قرار ہم نے کیا ہے اس پر نگہبان ہے

﴿29﴾ پھر جب موسیٰ علیہ السلام نے مقررہ مدّت پوری کر دی اور (وہاں سے) چلے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر تو آپ نے دیکھی طور کے ایک طرف آگ آپ نے اپنے اہل خانہ سے کہا تم ذرا ٹھیرو میں نے آگ دیکھی ہے (میں وہاں جاتا ہوں) شاید میں لے آؤں تمھارے پاس وہاں سے کوئی خبر یا آگ کی کوئی چنگاری تاکہ تم اسے تاپ سکو

﴿30﴾ پس جب آپ وہاں گئے تو ندا آئی وادی کے دائیں کنارے سے اس با برکت مقام میں ایک درخت سے کہ اے موسیٰ! بلاشبہ میں ہی ہوں اللہ جو رب العالمین ہے

﴿31﴾ اور (ذرا) ڈال دو (زمین پر) اپنے عصا کو اب جو اسے دیکھا تو وہ اس طرح لہرا رہا تھا جیسے وہ سانپ ہو ۔ آپ پیٹھ پھیر کر چل دئیے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا (آواز آئی) اے موسیٰ! سامنے آؤ اور ڈرو نہیں ۔ یقیناً تم (ہر خطرہ سے) محفوظ ہو

﴿32﴾ ڈالو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں وہ نکلے گا سفید ( چمکتا ہوا ) بغیر کسی تکلیف کے اور رکھ لے اپنے سینہ پر اپنا ہاتھ خوف دور کرنے کے لیے تو یہ دو دلیلیں ہیں تمھارے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں (کی طرف لے جانا) کے لیے ، بیشک وہ نافرمان لوگ ہیں

﴿33﴾ آپ نے عرض کی میرے رب! میں نے تو قتل کیا تھا ان سے ایک شخص کو پس میں ڈرتا ہوں کہیں وہ مجھے قتل نہ کر ڈالیں

﴿34﴾ اور میرا بھائی ہارون وہ زیادہ فصیح ہے مجھ سے گفتگو کرنے میں تو اسے بھیج میرے ساتھ میرا مددگار بنا کرتا کہ وہ میری تصدیق کرے ۔ میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے

﴿35﴾ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم مضبوط کریں گے تیرے بازو کو تیرے بھائی سے اور ہم عطا کریں گے تمھیں ایسا غلبہ (اور شوکت) کہ وہ تمھیں (اذیت ) نہیں پہنچا سکیں گے ہماری نشانیوں کے باعث تم دونوں اور تمھارے پیروکار ہی غالب آئیں گے

﴿36﴾ پھر جب آئے فرعونیوں کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) ہماری روشن نشانیاں لے کر ، انھوں نے کہا نہیں ہے یہ مگر جادوگھڑا ہوا اور ہم نے نہیں سنیں اس قسم کی باتیں اپنے پہلے آباؤاجداد کے زمانہ میں

﴿37﴾ اور موسیٰ (علیہ السلام ) نے فرمایا میرا رب خوب جانتا ہے اسے جو اس کی بارگاہ سے (نور) ہدایت لے کر آیا اور وہی جانتا ہے کہ اس کا انجام اچھا ہو گا۔ بےشک با مراد نہیں ہوتے ظلم و ستم کرنے والے

﴿38﴾ یہ (سُنکر ) فرعون نے کہا اے اہل دربار! میں تو نہیں جانتا کہ تمھارے لیے میرے سوا کوئی اور خدا ہے۔ پس آگ جلا میرے لیے اے ہامان! اور اس پر اینٹیں پکوا میرے لیے ایک اونچا محل تعمیر کر ۔ شاید (اس پر چڑھ کر ) میں سراغ لگا سکوں موسیٰ کے خدا کا اور میں تو اس کے بارے میں یہ خیال کرتا ہوں کہ یہ جھوٹا ہے

﴿39﴾ اور تکبر کیا اس نے اور اس کی فوجوں نے زمین میں نا حق اور وہ یہ گمان کرتے رہے کہ انھیں ہماری طرف نہیں لوٹایا جائے گا

﴿40﴾ پس ہم نے پکڑ لیا اسے اور اس کے لشکریوں کو اور پھینک دیا انھیں سمندر میں ۔ دیکھو! کیسا (ہولناک) انجام ہوا ظلم و ستم کرنے والوں ک

﴿41﴾ اور ہم نے بنایا تھا انھیں ایسے پیشوا جو بلا رہے تھے (اپنی رعایا کو) آگ کی طرف اور روز حشر ان کی مدد نہیں کی جائے گی

﴿42﴾ اور ہم نے ان کے پیچھے اس دنیا میں بھی لعنت لگا دی ۔ اور قیامت کے دن بھی ان کا شمار ملعونوں میں ہوگا

﴿43﴾ اور ہم نے دی موسیٰ (علیہ السلام ) کو کتاب اس کے بعد کہ ہم نے ہلاک کر دیا تھا پہلی (نافرمان) قوموں کو۔ (یہ کتاب) لوگوں کے لیے بصیرت افروز اور سراپا ہدایت اور رحمت تھی تاکہ وہ نصیحت قبول کریں

﴿44﴾ اور آپ نہیں تھے (طور) کی مغربی سمت میں جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف (رسالت کا) حکم بھیجا اور نہ آپ گواہوں میں شامل تھے

﴿45﴾ لیکن ہم نے پیدا فرمائیں کئی قومیں (یکے بعد دیگرے) اور کافی لمبا عرصہ گزر گیا ان پر (اور انھوں نے عہد خداوندی بھلا دیا) اور آپ اہل مدین میں مقیم نہ تھے تاکہ آپ پڑھ کر سناتے ہوں انھیں ہماری آیتیں لیکن ہم ہی رسول بنا کر بھیجنے والے تھے

﴿46﴾ اور آپ (اس وقت) طور کے کنارہ پر بھی نہ تھے جب ہم نے (موسیٰ کو ) ندا فرمائی۔ لیکن یہ آپ کے رب کی محض رحمت ہے (کہ اس نے آپ کو ان حالات پر آگاہ کر دیا) تاکہ آپ (قہر الہی سے) ڈرائیں اس قوم کو جن کے پاس نہیں آیا کوئی ڈرانیوالاآپ سے پہلے شاہد وہ نصیحت قبول کریں

﴿47﴾ (اور اس کی وجہ یہ ہے ) کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جب پہنچے انھیں کوئی مصیبت ان اعمال کے باعث جو انھوں نے کیے ہیں تو وہ یہ نہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! کیوں نہ بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول تاکہ ہم پیروی کرتے تیری آیات کی اور ہم ہو جاتے ایمان لانے والوں سے

﴿48﴾ پھر جب آگیا ان کے پاس حق ، ہماری جناب سے تو وہ کہنے لگے کیوں نہ دئیے گئے انھیں اس قسم کے معجزے جو موسیٰ کو دئیے گئے تھے (ان نابکاروں سے پوچھو) کیا انھوں نے انکار نہیں کیا تھا ان معجزات کا جو موسیٰ کو دئیے گئے تھے انہی نے کہا (موسیٰ اور ہارون) دو جادوگر ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کررہے ہیں نیز انھوں نے کہا تھا ہم ان تمام کا انکا رکرتے ہیں

﴿49﴾ آپ فرمائیے تم لے آؤ کوئی کتاب اللہ کے پاس سے جو زیادہ ہدایت بخش ہو ان دونوں (قرآن و تورات) سے تو میں اس کی پیروی کرونگا اگر تم سچے ہوئے

﴿50﴾ پس اگر وہ قبول نہ کریں آپ کے اس ارشاد کو تو جان لو کہ وہ صرف اپنی نفسانی خواہشوں کی پیروی کر رہے ہیں اور کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو پیروی کرتا ہے اپنی خواہش کی اللہ تعالیٰ کی جانب سے کسی رہنمائی کے بغیر بیشک اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا ظالم لوگوں کو

﴿51﴾ اور ہم مسلسل بھیجتے رہے ان کی طرف اپنا کلام تاکہ وہ نصیحت قبول کریں

﴿52﴾ جن کو ہم نے عطا فرمائی کتاب (نزولِ) قرآن سے پہلے وہ اس پر ایمان لائے ہیں

﴿53﴾ اور جب یہ ان کے سامنے پڑھی جاتی ہے تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اس کے ساتھ ۔ بیشک یہ حق ہے ہمارے رب کی طرف سے ہم اس سے پہلے ہی سر تسلیم خم کر چکے تھے

﴿54﴾ یہ لوگ ہیں جنھیں دیا جائے گا ان کا اجر دو مرتبہ بوجہ ان کے صبر کے اور وہ دور کرتے ہیں نیکی کے ساتھ برائی کو نیز اس مال سے جو ہم نے ان کو دیا ہے خرچ کرتے رہتے ہیں

﴿55﴾ اور جب وہ سنتے ہیں کسی بیہودہ بات کو تو منہ پھیر لیتے ہیں اس سے اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال ہیں ۔ تم سلامت رہو۔ ہم جاہلوں (سے الجھنے) کے خواہاں نہیں ہیں

﴿56﴾ بیشک آپ ہدایت نہیں دے سکتے جس کو آپ پسند کریں البتہ اللہ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت یافتہ لوگوں کو

﴿57﴾ اور انھوں نے کہا اگر ہم اتباع کریں ہدایت کا آپ کی معیت میں تو ہمیں اچک لیا جائے گا ہمارے ملک سے کیا ہم نے بسا نہیں دیا انھیں حرم میں جو امن والا ہے کچھے چلے آتے ہیں اس کی طرف ہر قسم کے پھل یہ رز ق ہے ہماری طرف سے لیکن ان کی اکثریت کچھ نہیں جانتی

﴿58﴾ اور ہم نے کتنے شہر برباد کر دئیے جب وہ فخر کرنے لگے اپنی خوش حالی پر۔ پس یہ ہیں ان کے گھر جن میں سکونت نہیں کی گئی ان کے بعد مگر بہت کم عرصہ ۔ اور (آخر کار) ہم ہی ان کے وارث بنے

﴿59﴾ اور نہیں ہے آپ کا رب ہلاک کرنے والا بستیوں کو یہاں تک کہ بھیجے ان کے مرکزی شہر میں کوئی رسول جو پڑھ کر سنائے وہاں کے رہنے والوں کو ہماری آیتیں اور ہم نہیں ہیں ہلاک کرنے والے بستیوں کو مگر یہ کہ ان کے بسنے والے ظالم ہیں

﴿60﴾ اور جو چیز دی گئی ہے تمھیں تو یہ سامان ہے دنیوی زندگی کا اور اس کی زیب و زینت ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہتر ہے اور دیرپا ہے ، کیا تم اس حقیقت کو نہیں سمجھتے

﴿61﴾ (تم خود سوچو) آیا وہ (نیک بخت ) جس کے ساتھ ہم نے وعدہ کیا ہے بہت اچھا وعدہ اور وہ اس کے پانیوالا بھی ہے اس (بد بخت) کی مانند ہو سکتا ہے جسے ہم نے دنیوی زندگی کا سامان دیا ہے پھر وہ (اس چند روز آسائش کے بعد) روز قیامت (مجرموں کے کٹہرے میں ) پیش کیا جائے گا

﴿62﴾ اور اس دن اللہ تعالیٰ انھیں آواز دیگا تو فرمائیگا کہاں ہیں وہ شریک جنھیں تم (میرا شریک ) گمان کیا کرتے تھے

﴿63﴾ کہیں گے وہ لوگ جن پر عذاب کا فرمان ثابت ہو چکا اے ہمارے رب! یہ ہیں وہ جنھیں ہم نے گمراہ کیا ۔ ہم نے انھیں بھی گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے ۔ ہم (ان سے) بیزار ہو کر تیری طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ اور وہ ہماری پوجا نہیں کیا کرتے تھے

﴿64﴾ اور (انھیں ) کہا جائیگا (لو) اب پکارو اپنے شریکوں کو تو وہ انھیں پکارینگے لیکن وہ انھیں کوئی جواب نہیں دینگے اور دیکھ لیں گے عذاب کو ۔ کیا اچھا ہوتا اگر وہ ہدایت تافتہ ہوتے

﴿65﴾ اور اس دن اللہ تعالیٰ آواز دیگا انھیں پھر پوچھے گا تم نے کیا جواب دیا تھا (ہمارے ) رسولوں کو

﴿66﴾ تو اندھی ہو جائیں گی ان پر خبریں اس دن ۔ پس وہ (مارے دہشت کے ) ایکدوسرے سے کچھ پوچھ نہ سکیں گے

﴿67﴾ تو وہ جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کیے یقیناً وہ کامیاب و کامران لوگوں میں ہو گا

﴿68﴾ اور آپ کا رب پیدا فرماتا ہے جو چاہتا ہے اور پسند کرتا ہے (جسے چاہتا ہے) نہیں ہے انھیں کچھ اختیار اللہ تعالیٰ پاک ہے اور برتر ہے اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں

﴿69﴾ اور آپ کا رب خوب جانتا ہے جو چھپائے ہوئے ہیں ان کے سینے اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں

﴿70﴾ اور وہی اللہ ہے نہیں کوئی معبود بجز اس کے ۔ اسی کو زیبا ہے ہر قسم کی تعریف دنیا میں اور آخرت میں اور اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے

﴿71﴾ آپ فرمائیے بھلا اتنا تو سوچو اگر بنا دے اللہ تعالیٰ تم رات ہمیشہ کے لیے قیامت کے دن تک تو کونسا خدا ہے اللہ تعالیٰ کے سواجو لادے تمھیں روشنی کیا تم سن نہیں رہے ہو

﴿72﴾ فرمائیے بھلا اتنا تو سوچو اگر بنا دے اللہ تعالیٰ تم پر دن ہمیشہ کے لیے روز قیامت تک تو کونسا خدا ہے اللہ تعالیٰ کے سوا جو لا دے تمھیں رات جس میں تم آرام کر سکو۔ کیا تمھیں (کچھ ) نظر نہیں آتا؟

﴿73﴾ اور محض اپنی رحمت سے اس نے بنا دیا ہے تمھارے لیے رات اور دن کو تاکہ تم آرام کرو رات میں اور تلاش کرو (دن میں ) اس کے فضل (رزق) سے اور تاکہ تم شکر گزار بنو

﴿74﴾ اور جس دن اللہ تعالیٰ انھیں آواز دے کر فرمائے گا کہاں ہیں وہ جنہیں تم میرا شریک خیال کرتے تھے

﴿75﴾ اور ہم نکالیں گے ہر امت سے گواہ پھر (ان امّتوں کو) ہم کہیں گے لے آؤ اپنی دلیل تو وہ جان لیں گے بیشک حق اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور گُم ہو جائیں گے ان سے جو افتراء وہ باندھا کرتے تھے

﴿76﴾ بیشک قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا۔ پھر اس نے سر کشی کی ان پر اور ہم نے دے دئیے تھے اسے اتنے خزانے کے ان کی چابیاں (اپنے بوجھ سے) جُھکا دیتی تھیں ایک طاقتور جتھہ (کی کمروں ) کو جب کہا اسے اس کی قوم نے زیادہ خوش نہ ہوبے شک اللہ تعالیٰ دوست نہیں رکھتا اترانے والوں کو

﴿77﴾ اور طلب کر اس (مال و زر) سے ج ودیا ہے تجھے اللہ تعالیٰ نے آخرت کا گھر اور نہ فراموش کر اپنے حصّہ کو دنیا سے اور احسان کیا کر (غریبوں پر) جس طرح اللہ تعالیٰ نے تجھ پر احسان فرمایا ہے اور نہ خواہش کر فتنہ و فساد کی ملک میں ۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نہیں دوست رکھتا فساد برپا کرنے والوں کو

﴿78﴾ وہ کہنے لگے مجھے دی گئی ہے یہ (دولت و ثروت) اس علم کی وجہ سے جو میرے پاس ہے کیا اس ( مغرور) کو اتنا علم بھی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالیں اس سے پہلے قومیں جو اس سے قوت میں کہیں سخت اور دولت جمع کرنے میں کہیں زیادہ تھیں ۔ اور نہیں دریافت کیے جائیں گے مجرموں سے ان کے گناہ

﴿79﴾ الغرض (ایک دن) وہ نکلا اپنی قوم کے سامنے بڑی زیب و زینت کے ساتھ ۔ کہنے لگے وہ لوگ جو آرزو مند تھے دنیوی زندگی کے اے کاش! ہمیں بھی اس قسم کا جاہ و جلال نصیب ہوتا جیسے دیا گیا ہے قارون کو۔ واقعی وہ تو بڑا خوش نصیب ہے

﴿80﴾ اور کہا ان لوگوں نے جنہیں (دنیا کی بےثباتی کا) علم دیا گیا تھا حیف تمھاری عقل پر ۔ اللہ کا ثواب بہتر ہے اس کے لیے جو ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے اور نہیں مرحمت کی جاتی یہ نعمت بجز صبر کرنے والوں کے

﴿81﴾ پس ہم نے غرق کر دیا اسے بھی اور اس کے گھر کو بھی زمین میں، تو نہ تھی اس کے حامیوں کی کوئی جماعت جو (اس وقت) اس کی مدد کرتی اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں ۔ اور وہ خود بھی اپنا انتقام نہ لے سکا

﴿82﴾ اور صبح کی ان لوگوں نے جو کل تک اس کے مرتبہ کی آرزو کر رہے تھے یہ کہتے ہوئے او ہو!(اب پتہ چلا) کہ اللہ تعالیٰ کشادہ کر دیتا ہے رزق کو جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں سے اور تنگ کر دیتا ہے ( جس کے لیے چاہتا ہے ) اگر اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہمیں بھی زمین میں گاڑ دیتا ۔ او ہو!(اب پتہ چلا) کہ کفار با مراد نہیں ہوتے

﴿83﴾ یہ آخرت کا گھر ہم مخصوص کر دیں گے اس (کی نعمتوں) کو ان لوگوں کے لیے جو خواہش نہیں رکھتے زمین میں بڑا بننے کی اور نہ فساد برپا کرنے کی اور اچھا انجام پرہیزگاروں کے لیے ہے

﴿84﴾ جو کرتا ہے نیکی تو اس کے لیے بہتر صلہ ہے اس نیکی سے ۔ اور جو ارتکاب کرتا ہے برائی کا تو نہ بدلہ دیا جائیگا انھیں جنھوں نے بدکاریاں کیں مگر اتنا، جتنا انھوں نے کیا

﴿85﴾ (اے محبوب!) یقیناً وہ (قادر مطلق جس نے آپ پر قرآن کی تبلیغ فرض کی ہے آپ کو واپس لے جائے گا جہاں آپ چاہتے ہیں آپ فرمائیے میرا رب خوب جانتا ہے اسے جو آیا ہدایت یافتہ ہو کر اور اسے بھی جو کھلی گمراہی میں ہے)

﴿86﴾ اور آپ کو تو یہ امید نہ تھی کہ نازل کی جائے گی آپ کی طر ف کتاب مگر یہ محض رحمت ہے آپ کے رب کی (جو آپ کو صاحب قرآن بنا دیا) تو آپ ہر گز کافروں کے مددگار نہ بنیں

﴿87﴾ اور (خیال رہے) وہ ہر گز نہ روکیں آپ کو اللہ تعالیٰ کی آیات سے اس کے بعد کہ وہ اتاری گئیں آپ کی طرف اور بلائیے (لوگوں کو) اپنے رب کی طرف اور ہر گز نہ ہو جانا شرک کرنے والوں سے

﴿88﴾ اور نہ پکارو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کو ۔ نہیں ہے کوئی معبود بجز اس کے ۔ ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے اسی کی حکمرانی ہے ۔ اور اسی کی طرف تمھیں لوٹایا جائیگا

العنکبوت

Surah 29

﴿1﴾ الف ۔ لام ۔ میم

﴿2﴾ کیا لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ انھیں صرف اتنی بات پر چھوڑ دیا جائیگا کہ وہ کہیں ہم ایمان لے آئے اور انھیں آزمایا نہیں جائیگا

﴿3﴾ اور بےشک ہم نے آزمایا تھا ان لوگوں کو جو ان سے پہلے گزرے پس اللہ تعالیٰ ضرور دیکھے گا انھیں جو (دعوائے ایمان میں) سچے تھے اور ضرور دیکھے گا (ایمان کے ) جھوٹے (دعویداروں ) کو

﴿4﴾ کیا خیال کر رکھا ہے انھوں نے جو کر ہے ہیں برے کرتوت کہ وہ ہم سے آگے نکل جائیں گے بڑا غلط فیصلہ ہے جو وہ کر رہے ہیں

﴿5﴾ جو شخص امید رکھتا ہے اللہ تعالیٰ سے ملنے کی تو (وہ سن لے) کہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا وقت ضرور آنے والا ہے اور وہی ہر بات سننے والا ، ہر چیز کو جاننے والا ہے

﴿6﴾ اور جو شخص کوشش کرتا ہے (حق کو سر بلند کرنے کی) تو وہ اپنے فائدے کے لیے ہی کوشاں ہے بیشک اللہ تعالیٰ غنی ہے تمام کائنات سے

﴿7﴾ اور جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے تو ہم دور کر دیں گے ان سے ان کی برائیوں (کی نحوست) کو اور ہم انھیں بہت عمدہ بدلہ دیں گے ان (اعمال حسنہ) کا جو وہ کیا کرتے تھے

﴿8﴾ اور ہم نے حکم دیا انسان کو کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور اگر وہ یہ کوشش کریں تیرے ساتھ کہ تو شریک بنائے کسی کو میرا جس کے متعلق تجھے کوئی علم نہیں تو ( اس بات میں) ان کی اطاعت نہ کر میری طرف ہی تمھیں لوٹنا ہے ۔ پھر میں آگاہ کرونگا تمھیں ان اعمال سے جو تم کیا کرتے تھے

﴿9﴾ اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال بھی کیے تو ہم ضرور شامل کر لیں گے ۔ انھیں نیکوں (کے زمرہ) میں

﴿10﴾ اور بعض لوگ ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اللہ تعالیٰ پر ۔ پھر جب ستایا جائے اسے راہ خدا میں تو بنا لیتا ہے لوگوں کی آزمائش کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے برابر اور اگر آجائے نصرت آپ کے رب کی طرف سے تو وہ کہنے لگتے ہیں ہم تو تمھارے ساتھ تھے کیا نہیں ہے اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہر اس چیز کو جو لوگوں کے سینوں میں (پنہاں ) ہے

﴿11﴾ اور ضرور دیکھ لے گا اللہ تعالیٰ انھیں جو ایمان لائے اور ضرور دیکھ لے گا منافقوں کو

﴿12﴾ اور کہا کافروں نے ایمان والوں سے تم چلو ہماری راہ پر اور ہم اٹھا لیں گے تمھارے گناہوں (کے بوجھ) کو اور وہ نہیں اٹھا سکتے ان کے گناہوں سے کچھ بھی وہ بالکل جھوٹ بول رہے ہیں

﴿13﴾ اور وہ ضرور اٹھائیں گے اپنے بوجھ اور دوسرے کئی بوجھ اپنے (گناہوں کے ) بوجھوں کے ساتھ اور ان سے باز پرس ہو گی قیامت کے دن ان (جھوٹوں) کے متعلق جو وہ گھڑا کرتے تھے

﴿14﴾ اور بےشک ہم نے بھیجا نوح (علیہ السلام ) کو ان کی قوم کی طرف تو وہ ٹھیرے رہے ان میں پچا س کم ہزار سال ۔ آخر کا ر آلیا انھیں طوفان نے اس حال میں کہ وہ ظالم تھے

﴿15﴾ پس ہم نے نجات دی نوح کو اور کشتی والوں کو اور ہم نے بنا دیا اس کشتی کو ایک نشانی سارے جہان والوں کے لیے

﴿16﴾ اور ابراہیم کو یاد کرو جب آپ نے فرمایا اپنی قوم کو کہ عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی اور اس سے ڈرتے رہا کرو۔ یہی بہتر ہے تمھارے لیے اگر تم (حقیقت کو) جانتے ہو

﴿17﴾ تم تو پوجا کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں کی اور تم گھڑا کرتے ہو نرا جھوٹ بیشک جن کو تم پوجتے ہو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر وہ مالک نہیں تمھارے رزق کے پس طلب کیا کرو اللہ تعالیٰ سے رزق کو اور اس کی عبادت کیا کرو اور اس کا شکر ادا کیا کرو اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے

﴿18﴾ اور اگر تم جھٹلاتے ہو تو (یہ کوئی نئی بات نہیں) جھٹلایا (اپنے نبیوں کو) ان امتوں نے بھی جو تم سے پہلے تھیں ۔ اور رسول پر فرض نہیں بجز اس کے کہ وہ (اللہ کا حکم) صاف طور پر پہنچا دے ۔

﴿19﴾ کیا انھوں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کس طرح آغاذ فرماتا ہے اللہ تعالیٰ پیدا کرنے کا ۔ پھر وہ (کس طرح) اس کا اعادہ کرتا ہے بلاشبہ یہ بات اللہ تعالیٰ کے لیے بالکل آسان ہے

﴿20﴾ فرمائیے سیر وسیاحت کرو زمین میں اور غور سے دیکھو کس طرح اس نے خلق کی ابتدا فرمائی پھر اللہ تعالیٰ (اسی طرح) پیدا فرمائے گا دوسری بار۔ بیشک اللہ تعالیٰ پر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے

﴿21﴾ سزا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور رحم فرماتا ہے جس پر چاہتا ہے اور اسی کی طرف تم پھیرے جاؤ گے

﴿22﴾ اور نہیں ہو تم بےبس کرنے والے (اللہ تعالیٰ کو) زمین میں (بھاگ کر) اور نہ آسمان میں (پناہ لے کر) اور نہیں ہے تمھارے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوست اور نہ کوئی مددگار

﴿23﴾ اور جن لوگوں نے انکار کیا اللہ تعالیٰ کی آیات کا اور اس کی ملاقات کا ، وہ لوگ مایوس ہو گئے ہیں میری رحمت سے اور وہی لوگ ہیں جن کے لیے عذاب الیم ہے

﴿24﴾ آپ کی قوم سے کوئی جواب نہ بن پایا بجز اس کے کہ انھوں نے کہا اسے قتل کر ڈالو یا اسے جلا دو۔ سو بچا لیا اسے اللہ تعالیٰ نے آگ سے بیشک اس واقعہ میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں

﴿25﴾ اور ابراہیم نے کہا کہ تم نے بنا لیے ہے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں کو باہمی محبت (و پیار) کا ذریعہ اس دنیوی زندگی میں پھر قیامت کے دن تم انکار کرو گے ایک دوسرے کا اور پھٹکار بھیجو گے ایک دوسرے پر اور تمھارا ٹھکانا آتشِ (جہنم ) ہوگا اور نہیں ہوگا تمھارا کوئی مددگار

﴿26﴾ تو ایمان لائے ان پر لوط اور ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا میں ہجرت کرنے والا ہوں اپنے رب کی طرف بیشک وہی سب پر غالب بڑا دانا ہے

﴿27﴾ اور ہم نے عطا فرمایا آپ کو اسحق (جیسا فرزند) اور یعقوب (جیسا پوتا) اور ہم نے رکھ دی ان کی اولادمیں نبوت اور کتاب۔ اور ہم نے دیا ان کو ان ( کی جانثاری) کا اجر اس دنیا میں اور بلاشبہ وہ آخرت میں صالحین (کے زمرہ ) میں ہوں گے

﴿28﴾ اور (ہم نے ) لوط کو رسول بنا کر بھیجا جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا تم ایسی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو کہ نہیں پہل کی تم سے اس (بے حیائی ) کی طرف کسی قوم نے دنیا بھر میں

﴿29﴾ کیا تم بد فعلی کرتے ہو مردوں کے ساتھ اور ڈاکے ڈالتے ہو عام راستوں پر ۔ اور اپنی کھلی مجلسوں میں گناہ کرتے ہو تو نہیں تھا کوئی جواب آپ کی قوم کے پاس بجز اس کے کہ انھوں نے کہا اے لوط! لے آؤ ہم پر اللہ کا عذاب اگر تم (اپنے دعویٰ میں ) سچے ہو

﴿30﴾ آپ نے عرض کی میرے مالک ! مدد فرما میری ان فسادی لوگوں کے مقابلہ میں

﴿31﴾ اور جب آئے ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر ۔ انھوں نے بتایا کہ ہم ہلاک کر نے والے ہیں ۔ اس گاؤں کے باشندوں کو بیشک یہاں کے رہنے والے بڑے ظالم تھے

﴿32﴾ آپ نے کہا اس میں تو لوط بھی رہتا ہے ۔ فرشتوں نے عرض کی ہم خوب جانتے ہیں جو وہاں رہتے ہیں ۔ ہم ضرور بچا لیں گے اسے اور اس کے گھر والوں کو سوائے اس کی عورت کے وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے

﴿33﴾ اور جب آئے ہمارے فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس تو بڑے غمزدہ ہوئے ان کی آمد سے اور دل تنگ ہوئے اور (انھیں پریشان دیکھ کر) فرشتوں نے کہا نہ خوفزدہ ہو اور نہ رنجیدہ خاطرہم نجات دینے والے ہیں تجھے اور تیرے کنبہ کو سوائے تمھاری بیوی کے ، وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہے

﴿34﴾ بیشک ہم اتارنے والے ہیں اس بستی کے باشندوں پر عذاب آسمان سے اس وجہ سے کہ وہ نافرمانیاں کیا کرتے تھے

﴿35﴾ اور بےشک ہم نے باقی رہنے دئیے اس بستی کے کچھ واضح آثار ان لوگوں (کی عبرت) کے لیے جو عقلمند ہیں

﴿36﴾ اور (ہم نے بھیجا) مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو آپ نے کہا اے میری قوم! عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی اور امید رکھو پیچھے آنے والے دن کی اور ملک میں فتنہ و فساد برپا نہ کرو

﴿37﴾ پھر انھوں نے آپ کو جھٹلایا تو آلیا انھیں زلزلہ (کے جھٹکوں ) نے، پس صبح ہوئی تو وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے پڑے تھے

﴿38﴾ اور (ہم نے برباد کیا) عاد اور ثمود کو ۔ اور واضح ہیں تمھارے لیے ان کے مکانات۔ اور آراستہ کر دیا ان کے لیے شیطان نے ان کے (بُرے ) عملوں کو اور روک لیا انھیں راہ (راست) سے حالانکہ وہ اچھے بھلے سمجھدار تھے

﴿39﴾ اور (ہم نے ہلاک کر دیا) قارون ، فرعون اور ہامان کو۔ اور بلاشبہ تشریف لائے ان کے پاس موسیٰ روشن دلیلوں کے ساتھ پھر بھی وہ غرور تکبر کرتے رہے زمین میں اور وہ (ہم سے) آگے بڑھ جانیوالے نہ تھے

﴿40﴾ پس ہر (سر کش ) کو ہم نے پکڑا اس کے گناہ کے باعث ۔ پس ان میں سے بعض پر ہم نے برسائے پتھر اور ان میں سے بعض کو آلیا شدید کڑک نے اور بعض کو ہم نے غرق کر دیا زمین میں ۔ اور بعض کو ہم نے (دریا میں ) ڈبو دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ نہیں کہ وہ ان پر ظلم کرے بلکہ وہ اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے تھے

﴿41﴾ ان نادانوں کی مثال جنھوں نے بنا لیے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اور دوست، مکڑی کی سی ہے اس نے (جالے کا) گھر بنایا۔ اور (تم سب جانتے ہو) کہ تمام گھروں سے کمزور ترین مکڑی کا گھر ہوا کرتا ہے ۔ کاش! وہ بھی اس (حقیقت ) کو جانتے

﴿42﴾ یقیناً اللہ تعالیٰ جانتا ہے جس چیز کو وہ پوجتے ہیں اس کو چھوڑ کر اور وہی سب پر غالب حکمت والا ہے

﴿43﴾ اور یہ مثالیں ہیں ہم بیان کرتے ہیں انھیں لوگوں (کو سمجھانے) کے لیے اور نہیں سمجھتے انھیں مگر اہل علم

﴿44﴾ پیدا فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ ۔ بیشک اس میں (اس کی قدرت کی) نشانی ہے ایمان والوں کے لیے

﴿45﴾ پیدا فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ ۔ بیشک اس میں (اس کی قدرت کی) نشانی ہے ایمان والوں کے لیے

﴿46﴾ اور (اے مسلمانو!) بحث مباحثہ نہ کیا کرو اہل کتاب سے مگر شائستہ طریقہ سے مگر وہ جنھوں نے ظلم کیا ان سے اور تم کہو ہم ایمان لاتے ہیں اس پر جو اتارا گیا ہماری طرف اور ہمارا خدا اور تمھارا خدا ایک ہی ہے اور ہم اس کے سامنے گردن جھکا نیوالے ہیں

﴿47﴾ اور (اے حبیب!) اس طرح ہم نے نازل کی آپ کی طرف کتاب۔ پس وہ جنھیں ہم نے دی تھی کتاب (تورات) وہ ایمان لاتے ہیں قرآن پر ۔ اور ان اہل مکہ سے بھی کئی لوگ ایمان لا رہے ہیں قرآن پر اور نہیں انکار کرتے ہماری آیتوں کا مگر کفار

﴿48﴾ اور نہ آپ پڑھ سکتے تھے اس سے پہلے کوئی کتاب اور نہ ہی اسے لکھ سکتے تھے اپنے دائیں ہاتھ سے (اگر آپ لکھ پڑھ سکتے ) تو ضرور شک کرتے اہل باطل

﴿49﴾ بلکہ وہ روشن آیتیں ہیں جو ان کے سینوں میں محفوظ ہے جنھیں علم دیا گیا ۔ اور ظالموں کے بغیر ہماری آیتوں کا کوئی انکار نہیں کر سکتا

﴿50﴾ اور انہوں نے کہا کیوں نہ اتاری گئیں ان پر نشانیاں ان کے رب کی طرف سے ۔ آپ فرمائیے نشانیاں تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ اور میں تو صاف صاف ڈرانے والا ہوں

﴿51﴾ کیا انھیں یہ کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر اتاری ہے کتاب جو انھیں پڑھ کر سنائی جاتی ہے۔ بےشک اس میں رحمت اور نصیحت ہے مومنوں کے لیے

﴿52﴾ آپ فرمائیے کافی ہے اللہ تعالیٰ میرے اور تمھارے درمیان گواہ۔ وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں باطل پر اور انکار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ۔ وہی لوگ گھاٹے میں ہیں

﴿53﴾ وہ آپ سے جلدی عذاب نازل ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ اور اگر میعاد مقرر نہ ہوتی تو آجاتا ان پر عذاب اور (اپنے وقت پر) وہ ان پر اچانک آئیگا اور انھیں ہوش تک نہ ہو گا

﴿54﴾ وہ آپ سے جلدی عذاب لانے کا مطالبہ کرتے ہیں (ذرا سی دیر ہے) جہنم یقینا گھیر لے گا ان کافروں کو

﴿55﴾ جس دن ڈھانپ لے گا انھیں عذاب ان کے عذاب کے اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے اور اللہ تعالیٰ فرمائیگا لو اب چکھو اپنے کرتوتوں کا مزہ

﴿56﴾ اے میرے بندو! جو ایمان لائے ہو میری زمین بڑی کشادہ ہے سو میری ہی تم عبادت کیا کرو

﴿57﴾ ہر ایک موت کا مزہ چکھنے والا ہے پھر ہماری طرف ہی تم لوٹائے جاؤ گے

﴿58﴾ اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے ، انھیں ہم ٹھہرائیں گے جنت کے بالاخانوں میں رواں ہوں گی جن کے نیچے نہریں وہ وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔ کتنا عمدہ صلہ ہے نیک کام کرنے والوں کا

﴿59﴾ وہ جنھوں نے (ہر حال میں ) صبر کیا اور صرف اپنے رب پر بھروسہ کیے ہوئے ہیں

﴿60﴾ اور کتنے ہی زمین پر چلنے والے ہیں جو اٹھائے نہیں پھرتے اپنا رزق۔ اللہ تعالیٰ رزق دیتا ہے انھیں بھی اور تمھیں بھی اور وہ سب باتیں سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے

﴿61﴾ اور (اے حبیب!) اگر آپ پوچھیں ان (مشرکوں) سے کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور کس نے فرمانبردار بنا دیا ہے سورج اور چاند کو تو وہ ضرور کہیں گے ، اللہ تعالیٰ نے ، پھر وہ کہاں توحید سے پھیرے جاتے ہیں

﴿62﴾ اللہ تعالیٰ کشادہ کرتا ہے رزق کو جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں سے اور تنگ کرتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے ۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے

﴿63﴾ اور اگر پوچھیں ان سے کہ کس نے اتارا آسمان سے پانی ، پھر زندہ کر دیا اس کے ساتھ زمین کو اس کے بنجر بن جانے کے بعد تو ضرور کہیں گے اللہ تعالیٰ نے آپ فرمائیے الحمد للہ (حق واضح ہو گیا) بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نادان ہیں

﴿64﴾ اور نہیں یہ دنیوی زندگی مگر لہو و لعب اور دار آخرت کی زندگی ہی حقیقی زندگی ہے (جسے موت نہیں) کاش! وہ اس حقیقت کو جانتے

﴿65﴾ پھر جب سوار ہوتے ہیں کشتی میں تو دعا مانگتے ہیں اللہ تعالیٰ سے خالص کرتے ہوئے اس کے لیے اپنے دین کو پھر جب وہ سلامتی سے پہنچاتا ہے انھیں خشکی پر تو اس وقت وہ شرک کرنے لگتے ہیں

﴿66﴾ وہ ناشکری کر لیں جو نعمت ہم نے انھیں دی ہے اور لطف اٹھا لیں (اس سے ) وہ عنقریب جان لیں گے (حقیقت کو)

﴿67﴾ کیا انھوں نے (غور سے) نہیں دیکھا کہ ہم نے بنا دیا ہے حرم کو امن والا حالانکہ اچک لیا جاتا ہے لوگوں کو ان کے آس پاس سے کیا وہ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کی نا شکری کرتے ہیں

﴿68﴾ اور کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان لگایا یا حق کو جھٹلایا جب وہ اس کے پاس آیا کیا نہیں ہے جہنم میں ٹھکانا کفار کے لیے

﴿69﴾ اور جو (بلند ہمت) مصروف جہاد رہتے ہیں ہمیں راضی کرنے کے لیے ہم ضرور دکھا دینگے انھیں اپنے راستے ۔ اور بلا شبہ اللہ تعالیٰ (ہر وقت) محسنین کے ساتھ ہے

الروم

Surah 30

﴿1﴾ الف ۔ لام ۔ میم

﴿2﴾ ہرا دیے گئے رومی

﴿3﴾ پاس کی زمین میں اور وہ ہار جانے کے بعدضرور غالب آئیں گے

﴿4﴾ چند برس کے اندر اللہ ہی کا حکم ہے پہلے بھی اور بعد بھی اور اس روز خوش ہوں گے اہل ایمان

﴿5﴾ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ۔ وہ مدد فرماتا ہے جس کی چاہتا ہے اور وہی سب پر غالب ہے ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے

﴿6﴾ یہ وعدہ اللہ نے کیا ہے اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا، لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو) نہیں جانتے

﴿7﴾ وہ جانتے ہیں دنیوی زندگی کے ظاہری پہلو کو اور وہ آخرت سے بالکل غافل ہیں

﴿8﴾ کیا انھوں نے کبھی غور نہیں کیا اپنے جی میں نہیں پیدا فرمایا اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق کے ساتھ اور ایک مقررہ مدت کے لیے اور بلاشبہ اکثر لوگ اپنے رب کی ملاقات کے سخت منکر ہیں

﴿9﴾ کیا انہوں نے سیر و سیاحت نہیں کی زمین میں تاکہ وہ دیکھتے کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے وہ زیادہ تھے ان سے زور میں اور انہوں نے خوب ہل چلائے زمین میں اور انہوں نے اسے آباد کیا اس سے زیادہ جتنا انہوں نے آباد کیا اور آئے ان کے پاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر ۔ پس نہ تھی اللہ کی یہ شان کہ وہ ان پر ظلم کرتا، بلکہ وہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے رہتے تھے

﴿10﴾ آخر کار ان کا انجام جنہوں نے برائی کی تھی ، بہت برا ہوا کیونکہ انھوں نے جھٹلایا اللہ کی آیتوں کو اور وہ ان کے ساتھ مذا ق کیا کرتے تھ

﴿11﴾ اللہ تعالیٰ ابتدا کرتا ہے تخلیق کی پھر (فنا کرنے کے بعد) دوبارہ پیدا کرے گا اسے پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے

﴿12﴾ اور جس روز برپا ہوگی قیامت مجرموں کی آس ٹوٹ جائے گی

﴿13﴾ اور نہیں ہوں گے ان کے لیے ان کے شریکوں میں سے شفاعت کرنے والے اور وہ اپنے شریکوں کے منکر ہو جائیں گے

﴿14﴾ اور جس روز برپا ہو گی قیامت اس دن وہ جدا جدا ہو جائیں گے

﴿15﴾ تو وہ جو ایمان لائے تھے اور نیک عمل کرتے رہے تھے وہ باغ (جنت )) میں مسرور (اور محترم) ہوں گے

﴿16﴾ اور جنہوں نے کفر کیا تھا اور جھٹلایا تھا ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو تو وہ عذاب میں حاضر رکھے جائیں گے

﴿17﴾ سو پاکی بیان کرو اللہ تعالیٰ کی جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو

﴿18﴾ اور اسی کے لیے ساری تعریفیں ہیں آسمانوں میں اور زمین میں نیز (پاکی بیان کرو) سہ پہر کو اور جب تم دوپہر کرتے ہو

﴿19﴾ نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے اور زندہ کرتا ہے زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد اور یونہی (قبروں سے ) تمھیں نکالا جائے گا

﴿20﴾ اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے (ایک یہ ) ہے کہ اس نے پیدا کیا تمھیں مٹی سے پھر تم اچانک بشر بن کر (زمین میں) پھیل رہے ہو

﴿21﴾ اور اس کی (قدرت کی) ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے پیدا فرمائی تمھارے لیے تمھاری جنس سے بیویاں تاکہ تم سکون حاصل کرو ان سے اور پیدا فرما دیے تمھارے درمیان محبت اور رحمت (کے جذبات) بےشک اس میں بہت نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں

﴿22﴾ اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق ہے نیز تمھاری زبانوں اور رنگت کا اختلاف۔ بیشک اس میں بھی نشانیاں ہیں اہل علم کے لیے

﴿23﴾ اور اس کی نشانیوں میں سے ہے تمھارا سونا رات کے وقت اور دن کے وقت اور تمھارا تلاش کرنا اس کے فضل کو بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو (غور سے) سنتے ہیں

﴿24﴾ اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ دکھاتا ہے تمھیں بجلی ڈرانے اور امید دلانے کے لیے اور اتارتا ہے آسمان سے پانی اور زندہ کر تاہے اس سے زمین کو اس کی موت کے بعد ۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقلمند ہیں

﴿25﴾ اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ قائم ہے آسمان اور زمین اس کے حکم سے پھر جب بلائے گا تمھیں زمین سے تو تم فوراً باہر نکل آؤ گے

﴿26﴾ اور اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اس کے تابع فرمان ہے

﴿27﴾ اور وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے پھر (فنا کرنے کے بعد) اسے دوبارہ بنائے گا اور یہ آسان تر ہے اور اسی کے لیے برتر شان ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہی سب پر غالب ، حکمت والا ہے

﴿28﴾ اللہ تعالیٰ بیان کرتا ہے تمھارے لیے ایک مثال تمھارے ہی حالات میں سے (یہ بتاؤ) کیا تمھارے غلام تمھارے حصہ دار ہوتے ہیں اس مال میں جو ہم نے تم کو عطا فرمایا ہے یو کہ تم (اور وہ) اس میں برابر کے حصہ دار بن جاؤ۔ حتی کہ تم ڈرنے لگے ان سے جیسے تم ڈرتے ہو آپس میں ایک دوسرے سے ۔ یوں ہم کھول کر بیان کرتے ہیں (اپنی ) نشانیاں اس قوم کے لیے جو عقلمند ہے

﴿29﴾ بلکہ پیروی کرتے ہیں ظالم اپنی (نفسانی) خواہشات کی بغیر کسی دلیل کے پس کون ہدایت دے سکتا ہے جسے (پیہم نا فرمانی کے باعث) اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے ۔ اور ان لوگوں کا کوئی مددگار نہیں

﴿30﴾ پس آپ کر لیں اپنا رخ دین (اسلام) کی طرف پوری یکسوئی سے (مضبوطی سے پکڑ لو) اللہ کے دین کو جس کے مطابق اس نے لوگوں کو پیدا فرمایا ہے کوئی ردو بدل نہیں ہو سکتااللہ کی تخلیق میں یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو) نہیں جانتے

﴿31﴾ (اے غلامان مصطفی تم بھی اپنا رخ اسلام کر طرف کر لو) اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اور ڈرو اس سے اور قائم کرو نماز کو اور نہ ہو جاؤ (ان ) مشرکوں میں سے

﴿32﴾ جنہوں نے پارہ پارہ کر دیا اپنے دین کو اور خود گروہ گروہ ہو گئے ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اسی پر خوش ہیں

﴿33﴾ اور جب پہنچتی ہے لوگوں کو کوئی تکلیف تو پکارنے لگتے ہیں اپنے رب کو رجوع کرتے ہوئے اس کی طرف پھر جب (ان کی فریاد کو قبول فرما کر) چکھاتا ہے انہیں اپنی رحمت جناب سے تو یکایک ایک گروہ ان میں سے اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے

﴿34﴾ (اچھا!) نا شکری کر لیں اس نعمت کی جو ہم نے دی ہے انھیں پس (اے ناشکرو!) لطف اٹھا لوتمھیں (اس کا انجام) معلوم ہو جائے گا

﴿35﴾ کیا ہم نے اتاری ہے ان پر کوئی دلیل ۔ پس وہ گواہی دیتی ہے اس شرک (کی سچائی) کی جو وہ کرتے ہیں

﴿36﴾ اور جب ہم چکھاتے ہیں لوگوں کو رحمت (کا مزہ) تو وہ اس پر پھولے نہیں سماتے اور اگر پہنچتی ہے انہیں کوئی تکلیف بوجہ ان کرتوتوں کے جو آگے بھیجے ہیں ان کے ہاتھوں نے تو وہ مایوس ہو جاتے ہیں

﴿37﴾ کیا انہوں نے (بارہا) مشاہدہ نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ کشادہ کر دیتا ہے رزق کو جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے (جس کے لیے چاہتا ہے) بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لے آئے ہیں

﴿38﴾ پس دو رشتہ دار کو اس کا حق نیز مسکین اور مسافر کو یہ بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو رضائے الہی کے طلبگار ہیں اور وہی لوگ دونوں جہانوں میں کامیاب ہوں گے

﴿39﴾ اور جو روپیہ تم دیتے ہو بیاج پر تاکہ وہ بڑھتا رہے لوگوں کے مالوں میں (سُن لو!) اللہ کے نزدیک یہ نہیں بڑھتا اور جو زکوٰۃ تم دیتے ہو رضائے الہی کے طلبگار بن کر پس یہی لوگ ہیں (جو اپنے مالوں کو) کئی گُنا کر لیتے ہیں

﴿40﴾ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمھیں پیدا فرمایا پھر تمھیں رزق دیا پھر (مقررہ وقت پر) تمھیں مارے گا پھر تمھیں زندہ کریگا کیا تمھارے (ٹھیرائے ہوئے) شریکوں میں بھی کوئی ہے جو کر سکتا ہو ان کاموں میں سے کوئی ۔ پاک ہے اللہ تعالیٰ (ہر عیب سے) اور بلند ہے ان سے جنہیں یہ شریک ٹھیراتے ہیں

﴿41﴾ پھیل گیا ہے فساد برّ اور بحر میں بوجہ ان کرتوتوں کے جو لوگوں نے کیے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ چکھائے انھیں کچھ سزا ان کے (بُرے ) اعمال کی شاید وہ باز آجائیں

﴿42﴾ (اے محبوب!) آپ (انھیں ) فرمائیے سیر و سیاحت کرو زمین میں اور دیکھو کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزرے ان میں سے اکثر مشرک تھے

﴿43﴾ پس کر لو اپنا رخ اس دین قیم کی طرف اس سے پہلے کہ آجائے وہ دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے جسے ٹلنا نہیں اس روز یہ لوگ جدا جدا ہو جائیں گے

﴿44﴾ جس نے کفر کیا تو اس پر ہے اس کے کفر کا وبال اور جنہوں نے نیک عمل کیے تو وہ اپنے لیے ہی راہ ہموار کر رہے ہیں

﴿45﴾ تا کہ اللہ تعالیٰ بدلہ دے انھیں جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اپنے فضل و کرم سے بیشک وہ پسند نہیں کرتا کفار کو

﴿46﴾ اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ بھیجتا ہے ہواؤں کو (بارش کا) مژ دہ سناتے ہوئے ۔ نیز تاکہ وہ تمھیں چکھائے اپنی رحمت سے اور تاکہ چلیں کشتیاں اس کے حکم سے اور تاکہ تم طلب کرو اس کے فضل سے اور تاکہ تم شکر ادا کرو

﴿47﴾ اور بیشک ہم نے بھیجے آپ سے پہلے پیغمبر ان کی قوموں کی طرف ۔ پس وہ لے کر آئے ان کے پاس روشن دلیلیں ۔ پس ہم نے بدلہ لیا ان سے جنہوں نے جرم کیے اور ہمارے ذمہ کرم پر ہے اہل ایمان کی امداد فرمانا

﴿48﴾ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو بھیجتا ہے ہواؤں کو پس وہ اٹھاتی ہیں بادل کو پس اللہ تعالیٰ پھیلا دیتا ہے اسے آسمان پر جس طرح چاہتا ہے اور کر دیتا ہے اسے ٹکڑے ٹکڑے پھر تو دیکھتا ہے بارش کو کہ ٹپکنے لگتی ہے اس میں سے پھر جب پہنچاتا ہے اسے جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں سے اس وقت وہ خوشیاں منانے لگتے ہیں

﴿49﴾ اگرچہ وہ بندے اس سے پہلے کہ ان پر بارش ہوتی مایوس ہو چکے تھے

﴿50﴾ پس (چشم ہوش سے) دیکھو رحمت الہی کی علامتوں کی طرف (تمھیں پتہ چلے گا) کہ وہ کیسے زندہ کرتا ہے زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد ۔ بیشک وہی خدا مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے

﴿51﴾ اور اگر ہم بھیج دیتے ایسی ہوا (جس کے اثر سے ) وہ دیکھتے اپنے سر سبز کھیتوں کو کہ وہ زرد ہو گئے ہیں ، تو اس کے باوجود وہ کفر پر اڑے رہتے

﴿52﴾ پس آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں اپنی پکار (خصوصاً) جب وہ پیٹھ پھیر کر جا رہے ہوں

﴿53﴾ اور نہ آپ ہدایت دے سکتے ہیں اندھوں کو ان کی گمراہی سے ۔ آپ نہیں سناتے مگر انہیں جو ایمان لائے ہماری آیتوں پر پس وہ گردن جھکائے ہوئے ہیں

﴿54﴾ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمھیں (ابتدا میں) کمزور پیدا فرمایا پھر عطا کی (تمھیں ) کمزوری کے بعد قوت پھر ، پھر کمزوری کے بعد قوت اور بڑھاپا دے دیا۔ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور وہی سب کچھ جاننے والا بڑی قدرت والا ہے

﴿55﴾ اور جس روز قیامت قائم ہو گی قسمیں اٹھائیں گے مجرم کہ انھیں ٹھیرے وہ (دُنیا میں) مگر ایک گھڑی ۔ یونہی وہ (پہلے بھی) غلط بیانی کرتے تھے

﴿56﴾ اور کہیں گے وہ لوگ جنہیں علم ایمان دیا گیا (انہیں) کہ تم ٹھیرے رہے ہو توشتہ الہی کے مطابق روز حشر تک پس یہ (آگیا) ہے یوم محشر لیکن تم نہیں جانتے تھے

﴿57﴾ پس ا س دن نہ نفع دے گی ظالموں کو ان کی عذر خواہی اور نہ انہیں اجازت ہو گی کہ توبہ کر کے اللہ کو راضی کر لیں

﴿58﴾ اور بےشک ہم نے بیان فرمائی ہے لوگوں (کے بھلے) کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال اور اگر آپ لے آئیں ان کے پاس کوئی نشانی تو (جواباً) یہی کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا نہیں ہو تم مگر باطل پرست

﴿59﴾ یونہی مہر لگا دیتا ہے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلون پر جو (حق کو) نہیں جانتے

﴿60﴾ سو آپ صبر فرمائیں بےشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور آپ کو پھسلا نہ دیں (راہ حق سے) وہ لوگ جو یقین نہیں رکھتے

لقمان

Surah 31

﴿1﴾ الف ۔ لام ۔ میم

﴿2﴾ یہ آیتیں ہیں کتاب حکیم کی

﴿3﴾ سراپا ہدایت اور رحمت ہے نیکو کاروں کے لیے

﴿4﴾ وہ جو صحیح صحیح ادا کرتے ہیں نماز کو اور دیتے ہیں زکوٰۃ اور یہی لوگ ہیں جو آخرت پر پختہ یقین رکھتے ہیں

﴿5﴾ یہ لوگ ہدایت پر ہیں اپنے رب کی توفیق سے اور یہی لوگ دونوں جہانوں میں کامران ہیں

﴿6﴾ اور کئی ایسے لوگ بھی ہیں جو بیوپار کرتے ہیں (مقصد حیات سے) غافل کر دینے والی باتوں کا تاکہ بھٹکاتے رہیں راہ خدا سے (اس کے نتائج بد سے) بخیر ہو کر اور اسکا مذاق اڑاتے ہیں یہ لوگ ہیں جنکے لیے رسوا کن عذاب ہے

﴿7﴾ اور جب پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اسے ہماری آیتیں تو منہ پھیر لیتا ہے تکبّر کرتے ہوئے ۔ گویا اس نے انہیں سنا ہی نہیں جیسے اس کے دونوں کان بہرے ہیں سو آپ اسے دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیں

﴿8﴾ بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ، ان کے لیے خوشیوں والے باغات ہیں

﴿9﴾ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ کا یہ وعدہ سچا ہے ۔ اور وہی سب پر غالب ، بڑا دانا ہے

﴿10﴾ اس نے پیدا فرمایا آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر جنہیں تم دیکھ سکو اور کھڑے کردئیے ہیں زمین اونچے اونچے پہاڑ تاکہ زمین دولتی نہ رہے ساتھ تمہارے اور پھیلا دیے ہیں اس میں ہر قسم کے جانور اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی پس اگائے ہم نے زمین میں ہر نوع کے نفیس جوڑے

﴿11﴾ یہ تو ہے اللہ کی تخلیق (اے مشرکو!) اب ذرا دکھاؤ مجھ کو کیا بنایا ہے اوروں نے اس کے سوا؟ (کچھ بھی نہیں) مگر یہ ظالم کھلی گمراہی میں ہیں

﴿12﴾ اور ہم نے عنایت فرمائی لقمان کو حکمت (و دانائی) اور فرمایا اللہ کا شکر ادا کرو اور جو شکر ادا کرتا ہے تو وہ شکر ادا کرتا ہے اپنے بھلے کے لیے اور جو کفران نعمت کرتا ہے تو بیشک اللہ تعالیٰ غنی ہے حمید ہے

﴿13﴾ اور یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے کو کہا اسے نصیحت کرتے ہوئے اے میرے پیارے فرزند ! کسی کو اللہ کا شریک نہ بنانا ۔ یقیناً شرک ظلم عظیم ہے

﴿14﴾ اور ہم نے تاکیدی حکم دیا انسان کو کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے ۔ شکم میں اٹھائے رکھا ہے اسے اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری کے باوجود اور اس کا دودھ چھوٹنے میں دو سال لگے (اس لیے ہم نے حکم دیا) کہ شکر ادا کر و میرا اور اپنے ماں باپ کا (آخر کار) میری طرف ہی (تمھیں ) لوٹنا ہے

﴿15﴾ اور اگر وہ دباؤ ڈالیں تم پر کہ تو میرا شریک ٹھہرائے اس کو جس کا تجھے علم تک نہیں ، تو ان کا یہ کہنا نہ مان البتہ گزران کرو ان کے ساتھ دنیا میں خوبصورتی سے اور پیروی کرو اس کے راستے کی جو میری طرف مائل ہوا پھر میری طرف ہی تمھیں لوٹنا ہے پس میں آگاہ کروں گا تمھیں ان کاموں سے جو تم کیا کرتے تھے

﴿16﴾ (لقمان نے کہا) پیارے فرزند! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر وزنی ہو یا پھر وہ کسی چٹان میں یا آسمان یا زمین میں (چھپی) ہو تو لے آئے گا اسے اللہ تعالیٰ ۔ بیشک اللہ تعالیٰ بہت باریک بین ، ہر چیز سے باخبر ہے

﴿17﴾ میرے پیارے بچے! نماز صحیح صحیح ادا کیا کرو نیکی کا حکم دیا کرو۔ اور برائی سے روکتے رہو اور صبر کیا کرو ہر مصیبت پر جو تمھیں پہنچے بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں

﴿18﴾ اور (تکبر کرتے ہوئے) نہ پھیر لے اپنے رخسار کو لوگوں کی طرف سے اور نہ چلا کر زمین میں اتراتے ہوئے۔ بیشک اللہ تعالیٰ نہیں پسند کرتا کسی گھمنڈ کرنیوالے ، فخر کرنیوالے کو

﴿19﴾ اور درمیانہ روی اختیار کر اپنی رفتار میں اور دھیمی کر اپنی آواز بیشک سب سے وحشت خیز آواز گدھے کی آوازہے

﴿20﴾ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمانبردار بنا دیا ہے تمھارے لیے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اور تمام کر دی ہیں اس نے تم پر ہر قسم کی نعمتیں ظاہری بھی اور باطنی بھی اور بعض ایسے (نادان) لوگ بھی ہیں جو جھگڑتے ہیں (رسول کریم سے) اللہ تعالیٰ کے بارے میں نہ ان کے پاس علم ہے نہ ہدایت اور نہ کوئی روشن کتاب

﴿21﴾ اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ پیروی کرو جو اللہ تعالیٰ نے اتارا ہے کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو پیروی کریں گے اس کی جس پر پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو کیا وہ (انہیں کا اتباع کریں گے) خواہ شیطان انہیں (اس طرح) دعوت دے رہا ہو بھڑکتے عذاب کی

﴿22﴾ اور جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیتا ہے در آں حال کہ وہ محسن ہو ، تو بیشک اس نے مضبوطی سے پکڑلیا مضبوط حلقہ کو اور اللہ کی طرف ہی ہے تمام کاموں کا انجام

﴿23﴾ اور جس نے کفر کیا تو نہ غمزدہ کرے آپ کو اس کا کفر ہماری طرف ہی انہیں لوٹنا ہے پس ہم آگاہ کرینگے انہیں جو انہوں نے کیا تھا بیشک اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے جو کچھ سینوں میں (چھپا ) ہے

﴿24﴾ ہم لطف اندوز ہونے دیں گے نہیں تھوڑی دیر پھر ہم انہیں ہانک کر لے جائیں گے سخت عذاب کی طرف

﴿25﴾ اور اگر دریافت کریں ان سے کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے ۔ فرمائیے الحمد للہ (حق واضح ہو گیا) بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے

﴿26﴾ اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے یقیناً اللہ ہی بےنیاز ہے (اور) ہر تعریف کے لائق

﴿27﴾ اور اگر زمین میں جتنے درخت ہیں قلمیں بن جائیں اور سمندر سیاہی بن جائے اور اس کے علاوہ سات سمندر اسے (مزید) سیاہی مہیا کریں تو پھر بھی ختم نہیں ہوں گی اللہ کی باتیں ۔ بیشک اللہ سب پر غالب ، بڑا دانا ہے

﴿28﴾ نہیں ہے تم سب کو پیدا کرنا اور مارنے کے بعد پھر زندہ کرنا (اللہ کے نزدیک) مگر ایک نفس کی مانندبیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا ، دیکھنے والا ہے

﴿29﴾ کیا تم نے ملاحظہ نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور اس نے کام میں لگا دیا ہے سورج اور چاند کو ، ہر ایک چل رہا ہے (اپنے مدار میں) وقت مقررہ تک اور یقیناً اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو خوب جاننے والا ہے

﴿30﴾ یہ ہیں ا س کی قدرت کے کرشمے تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ ہی حق ہے اور بلاشبہ جنہیں وہ پکارتے ہیں اس کے سوا وہ سب باطل ہیں اور بلاشبہ اللہ ہی بڑی شان والا بزرگ ہے

﴿31﴾ کیا تم ملاحظہ نہیں کرتے کہ کشتی چلتی ہے سمندر میں محض اس کی مہربانی سے تاکہ وہ دکھائے تمھیں اپنی (قدرت کی) نشانیاں۔ بیشک اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ہر صبر کرنے والے شکر گزار کے لیے

﴿32﴾ اور جب ڈھانپ لیتی ہیں انہیں پہاڑوں جیسی موجیں اس وقت پکارتے ہیں اللہ تعالیٰ کو خالص کرتے ہوئے اس کے لیے اپنے عقیدہ کو پھر جب بچا لاتا ہے انہیں ساحل تک تو ان میں سے (چند ہی) حق پر رہتے ہیں۔ اور نہیں انکار کرتا ہماری آیتوں کا مگر ہر وہ شخص جو غدّار (اور) ناشکر ا ہے

﴿33﴾ اے لوگو! ڈرتے رہا کرو اپنے رب سے اور ڈرو اس دن سے کہ نہ بدلہ دے سکے گا کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے اور نہ ہی بیٹا بدلہ دے سکے گا اپنے باپ کی جانب سے کچھ بھی بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور نہ دھوکہ دے تمھیں دنیوی زندگی اور نہ مبتلا کرے تمھیں اللہ سے ، وہ بڑا مکّار دھوکہ باز

﴿34﴾ بیشک اللہ کے پاس ہی ہے قیامت کا علم اور وہی اتارتا ہے مینہ اور جانتا ہے جو کچھ (ماؤں کے) رحموں میں ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائے گا۔ اور کوئی نہیں جانتا کہ کس سر زمین میں مرے گا ۔ بیشک اللہ تعالیٰ علیم (اور) خبیر ہے

السجدہ

Surah 32

﴿1﴾ الف ۔ لام ۔ میم

﴿2﴾ اس کتاب کا نزول اس میں ذرّہ شک نہیں ، سب جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے

﴿3﴾ کیا وہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اسے خود گھڑا ہے ہر گز نہیں ، بلکہ وہی حق ہے آپ کے رب کی طرف سے تاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو نہیں آیا جنکے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے تاکہ وہ ہدایت پائیں

﴿4﴾ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دنوں میں پھر متمکن ہوا تخت (سلطانی) پر نہیں تمھارے لیے اس کے بغیر کوئی مددگار اور نہ کوئی سفارشی کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے

﴿5﴾ تدبیر فرماتا ہے ہر (چھوٹے بڑے) کام کی آسمان سے زمین تک پھر رجوع کرے گا ہر کام اس کی طرف اس روز جس کی مقدار ہزار سال ہے اس انداز سے جس سے تم شمار کرتے ہو

﴿6﴾ وہی جاننے والا ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کا سب پر غالب ، ہمیشہ رحم فرمانے والا

﴿7﴾ وہ جس نے خوب بنایا جس چیز کو بھی بنایا اور ابتدا فرمائی انسان کی تخلیق کی گارے سے

﴿8﴾ پھر پیدا کیا اس کی نسل کو ایک جوہر سے یعنی حقیر پانی سے

﴿9﴾ پھر اس (کے قددقامت) کو درست فرمایا اور پھونک دی اس میں اپنی روح اور بنا دئیے تمھارے لیے کان آنکھیں اور دل تم لوگ بہت کم شکر بجا لاتے ہو

﴿10﴾ اور کہنے لگے کیا جب (مرنے کے بعد) ہم گُم ہو جائینگے زمین میں تو کیا ہم از سر نو پیدا کیے جائیں گے در حقیقت یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات سے انکار کررہے ہیں

﴿11﴾ فرمائیے جان قبض کریگا تمھاری موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کر دیا گیا ہے پھر اپنے رب کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے

﴿12﴾ اور کاش! تم دیکھو جب مجرم اپنے سر جھکائے ہوئے اپنے رب کے حضور پیش ہونگے ( کہیں گے) اے ہمارے رب ! ہم نے (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیا اور (کانوں سے) سن لیا پس ایکبار بھیج ہمیں (دنیا میں) اب ہم نیک عمل کرینگے ) ہمیں اب پورا یقین آگیا ہے

﴿13﴾ (جواب ملیگا) اور اگر ہم چاہتے تو ہم دے دیتے ہر شخص کو اس کی ہدایت لیکن یہ بات طے ہو چکی ہے میری طرف سے کہ میں ضرور بھروں گا جہنم کو تمام (سر کش) جنوں اور (نافرمان) انسانوں سے

﴿14﴾ پس اب چکھو سزا اس جرم کی کہ تم نے بھلا دیا تھا اپنے اس روز کی ملاقات کو ہم نے تم کو نظر انداز کر دیا اور چکھو ابدی عذاب ان (کرتوتوں) کے عوض جو تم کیا کرتے تھے

﴿15﴾ صرف وہی لوگ ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں جنہیں جب ہماری آیتوں سے نصیحت کی جاتی ہے تو گِر پڑتے ہیں سجدہ کرتے ہوئے اور پاکی بیان کرتے ہیں اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے اور وہ غرور و تکبر نہیں کرتے

﴿16﴾ دور رہتے ہیں ان کے پہلو (اپنے) بستروں سے پکارتے ہیں اپنے رب کو ڈرتے ہوئے اور امید رکھتے ہوئے اور ان نعمتوں سے جو ہم نے ان کو دی ہیں خرچ کرتے رہے ہیں

﴿17﴾ پس نہیں جانتا کوئی شخص جو (نعمتیں ) چھپا کر رکھی گئی ہیں ان کے لیے جن سے آنکھیں ٹھنڈی ہونگی یہ صلہ ہے ان (اعمال حسنہ) کا جو وہ کیا کرتے تھے

﴿18﴾ تو کیا جو شخص ایمان دار ہو وہ اس کی مانند ہو سکتا ہے جو فاسق ہو ؟ (نہیں) یہ یکساں نہیں

﴿19﴾ پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ان کے لیے جنتیں ہمیشہ کا ٹھکانا ہیں بطور ضیافت ان (نیکیوں ) کے عیوض جو وہ کیا کرتے تھے

﴿20﴾ اور جنہوں نے نافرمانی کی تو ان کے ابدی ٹھکانا آگ ہے جتنی مرتبہ وہ ارادہ کریں گے کہ (کسی طرح) یہاں سے نکل جائیں تو (ہر بار) انہیں لوٹا دیا جائے گا اس میں اور انہیں کہا جائے گا چکھو آگ کا عذاب جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

﴿21﴾ اور ہم ضرور چکھاتے رہیں گے انہیں تھوڑا تھوڑا عذاب بڑے عذاب سے پہلے تاکہ وہ (فسق و فجور سے) باز آجائیں

﴿22﴾ اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جسے نصیحت کی گئی اس کے رب کی آیتوں سے پھر اس نے روگردانی کی ان سے ۔ بیشک ہم مجرموں سے ضرور بدلہ لیں گے

﴿23﴾ اور بےشک ہم نے عطا فرمائی تھی موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب، تو آپ شک میں مبتلا نہ ہوں ایسی کتاب کے ملنے سے اور ہم نے بنایا تھا اسے ہدایت بنی اسرائیل کے لیے

﴿24﴾ اور ہم نے بنایا ان میں سے بعض کو پیشوا، وہ رہبری کرتے رہے ہمارے حکم سے جب تک وہ صابر رہے اور جب تک وہ ہماری آیتوں پر پختہ یقین رکھتے تھے

﴿25﴾ بیشک آپ کا پروردگار ، وہی فیصلہ کرے گا ان کے درمیان قیامت کے دن ، جن امور میں وہ باہمی اختلاف کیا کرتے تھے

﴿26﴾ کیا یہ چیز ان کی ہدایت کا باعث نہ بنی کتنی قومیں تھیں جن کو ہم نے ان سے پہلے ہلاک کر دیا حالانکہ یہ چل پھر رہے ہیں ان کے مکانوں میں ۔ بیشک ان میں (عبرت کی ) کئی نشانیاں ہیں ۔ کیا وہ (ان در و دیوار سے داستان عبرت) نہیں سن رہے؟

﴿27﴾ کیا انہوں نے ملاحظہ نہیں کیا کہ ہم لے جاتے ہیں پانی بنجر زمین کی طرف پھر ہم نکالتے ہیں اس کے ذریعے سے کھیتی ، کھاتے ہیں اس سے ان کے چوپائے اور وہ خود بھی کیا وہ (یہ بھی) نہیں دیکھتے؟

﴿28﴾ اور (بار بار) پوچھتے ہیں یہ فیصلہ کب ہو گا؟ (بتاؤ) اگر تم سچے ہو

﴿29﴾ آپ فرمائیے فیصلہ کے دن نہ فائدہ پہنچائے گا کافروں کوان کا ایمان لانا اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی

﴿30﴾ پس (اے حبیب!) رُخِ (انور) پھیر لیجیے ان سے اور انتظار فرمائیے۔ وہ بھی منتظر ہیں

الاحزاب

Surah 33

﴿1﴾ اے نبی (مکرّم) (حسب سابق) ڈرتے رہیے اللہ تعالیٰ سے اور نہ کہنا مانیے کفار اور منافقین کا بےشک اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ، بڑا دانا ہے

﴿2﴾ اور پیروی کرتے رہیے ، جو وحی کیا جاتا ہے آپ کی طرف اپنے رب کی جانب سے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے رہتے ہو اس سے اچھی طرح باخبر ہے

﴿3﴾ اور (اے محبوب!) بھروسہ رکھیے اللہ پر اور کافی ہے اللہ تعالیٰ (آپکا ) کارساز

﴿4﴾ نہیں بنائے اللہ تعالیٰ نے ایک آدمی کے لیے دو دل اس کے شکم میں اور نہیں بنایا اس نے تمھاری بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو تمھاری مائیں اور نہیں بنایا اس نے تمھارے منہ بولے بیٹوں کو تمھارے فرزند یہ صرف تمھارے منہ کی باتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ تو سچی بات کہتا ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے یدھی راہ پر چلنے

﴿5﴾ بُلایا کرو انہیں ان کے باپوں کی نسبت سے ۔ یہ زیادہ قرین انصاف ہے اللہ کے نزدیک ۔ اگر تمھیں علم نہ ہو ان کے باپوں کا تو پھر وہ تمھارے دینی بھائی ہیں اور تمھارے دوست ہیں اور نہیں ہے تم پر کوئی گرفت جو تم نا دانستہ کر بیٹھو۔ البتہ وہ کام جو تمھارے دل قصداً کرتے ہیں (ان پر ضرور گرفت ہو گی) اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے

﴿6﴾ نبی (کریم) مومنوں کی جانوں سے بھی زیادہ ان کے قریب ہیں اور آپ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں اور قریبی رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں ، کتاب اللہ کی رو سے عام مومنوں اور مہاجرین سے مگر یہ کہ تم کرنا چاہو اپنے دوستوں سے کوئی بھلائی (تو اس کی اجازت ہے) یہ (حکم) کتاب (الہی) میں لکھا ہوا ہے

﴿7﴾ اور (اے حبیب!) یاد کرو جب ہم نے تمام نبیوں سے عہد لیا اور آپ سے بھی اور نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ سے بھی اور ہم نے ان سب سے پختہ عہد لیا تھا

﴿8﴾ یہ کہ (آپ کا رب) پوچھے سچوں سے ان کے سچ کے متعلق اور اس نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے دردناک عذاب

﴿9﴾ اے ایمان والو! یاد کرو اللہ تعالیٰ کے احسان کو جو اس نے تم پر کیا ۔ جب (حملہ آور ہو کر) آگئے تم پر (کفار کے) لشکر پس ہم نے بھیج دی ان پر آندھی اور ایسی فوجیں جنھیں تم دیکھ نہیں سکے تھے اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کر رہے تھے خوب دیکھ رہا تھا

﴿10﴾ جب انہوں نے ہلّہ بول دیا تھا تم پر اوپر کی طرف سے بھی اور تمھارے نیچے کی طرف سے بھی اور جب مارے دہشت کے آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منہ کو آگئے اور تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگ گئے

﴿11﴾ اس موقع پر خوب آزما لیا گیا ایمان والوں کو اور وہ خوب سختی سے جھنجھوڑے گئے

﴿12﴾ اور اس وقت کہنے لگے منافق اور جن کے دلوں میں روگ تھا کہ نہیں وعدہ کیا تھا تم سے (فتح کا) اللہ اور اس کے رسول نے مگر صرف دھوکہ دینے کے لیے

﴿13﴾ اور یاد کرو جب کہتی پھرتی تھی ان میں سے ایک جماعت کے اے یثرب والو! تمھارے لیے اب یہاں ٹھیرنا ممکن نہیں (جان عزیز ہے) تو لوٹ چلو (اپنے گھروں کو) اور اجازت مانگنے لگا انمیں سے ایک گروہ نبی کریم سے یہ کہہ کر کہ (حضور) ہمارے گھر بالکل غیر محفوظ ہیں ، حالانکہ وہ غیر محفوظ نہ تھے (اس بہانہ سازی سے) ان کا ارادہ محض (میدان جنگ سے) فرار تھا

﴿14﴾ اور اگر گھس آتے (کفار کے لشکر) ان پر مدینہ کے اطراف سے پھر ان سے درخواست کی جاتی فتنہ انگیزی میں شرکت کی تو فوراً اسے قبول کر لیتے اور توقف نہ کرتے اس میں مگر بہت کم

﴿15﴾ حالانکہ یہی لوگ پہلے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کر چکے تھے کہ وہ پیٹھ نہیں پھیریں گے اور اللہ تعالیٰ سے جو وعدہ کیا جاتا ہے اس کے متعلق ضرور باز پرس کی جاتی ہے

﴿16﴾ فرما دیجیے (اے بھگوڑو!) تمھیں نفع نہیں دے گا بھاگنا اگر تم بھاگنا چاہتے ہو موت سے یا قتل سے اور (اگر بھاگ کر تم نے جان بچا بھی لی) تو تم لطف اندوز نہ ہو سکو گے مگر تھوڑی مُدّت

﴿17﴾ فرمائیے کون بچا سکتا ہے تمھیں اللہ تعالیٰ سے اگر وہ تمھیں عذاب دینے کا ارادہ کر لے یا اگر وہ تم پر رحمت فرمانا چاہے اور نہیں پائیں گے وہ لوگ اپنے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوست اور نہ کوئی مددگار

﴿18﴾ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جہاد سے روکنے والوں کو تم میں سے اور انہیں جو اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں (اسلامی کیمپ چھوڑ کر) ہماری طرف آجاؤ اور خود بھی جنگ میں شرکت نہیں کرتے مگر برائے نام

﴿19﴾ پرلے درجے کے کنجوس ہیں تمھارے معاملے میں پھر جب خوف (و دہشت ) چھا جائے تو آپ انہیں ملاحظہ فرمائیں گے کہ وہ آپ کی طرف یوں دیکھنے لگتے ہیں ان کی آنکھیں چکرا رہی ہوتی ہیں اس شخص کی مانند جس پر موت کی غشی طاری ہو پھر جب خوف دور ہو جائے تو تمھیں سخت اذیّت پہنچاتے ہیں اپنی تیز زبانوں سے بڑے حریص ہیں مال غنیمت کے حصول میں (در حقیقت) یہ لوگ ایمان ہی نہیں لے آئے پس اللہ نے ضائع کر دئیے ہیں ان کے اعمال اور ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے بالکل آسان ہے

﴿20﴾ (دشمن بھاگ گیا لیکن یہ بزدل) یہی خیال کر رہے ہیں کہ ابھی جتھے نہیں گئے اور اگر جتھے (دوبارہ پلٹ کر) آجائیں تو یہ پسند کریں گے کہ کاش وہ صحرا میں بدوؤں کے ہاں ہوتے (آنے جانے والوں سے) تمھاری خبریں پوچھتے اور اگر یہ (بزدل ) تم میں موجود بھی ہوتے تو یہ (دشمن سے) جنگ نہ کرتے مگر برائے نام

﴿21﴾ بیشک تمھاری رہمنائی کے لیے اللہ کے رسول (کی زندگی) میں بہترین نمونہ ہے یہ نمونہ اس کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ سے ملنے اور قیامت کے آنے کی امید رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہے

﴿22﴾ (منافقین کا حال آپ پڑھ چکے) اور جب ایمان والوں نے (کفار کے) لشکروں کو دیکھا تو (فرط جوش سے) پکار اٹھے یہ ہے وہ لشکر جس کا وعدہ ہم سے اللہ اور اس کے رسول نے فرمایا تھا اور سچ فرمایا تھا اللہ اور اس کے رسول نے ۔ اور دشمن کے لشکر جرار نے ان کے ایمان اور جذبہ تسلیم میں اور اضافہ کر دیا

﴿23﴾ اہل ایمان میں ایسے جوانمرد ہیں جنہوں نے سچا کر دکھایا جو وعدہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا ان جوانمردوں سے کچھ تو اپنی نذر پوری کر چکے اور بعض ( اس ساعت سعید کا) انتظار کر رہے ہیں (جنگ کے مہیب خطرات کے باوجود) ان کے رویہ میں ذرا تبدیلی نہیں ہوئی

﴿24﴾ (اذن جہاد میں ایک حکمت یہ بھی ہے ) کہ اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے اپنا وعدہ سچا کرنے والوں کو ان کے سچ کے باعث اور عذاب دے منافقوں کو اگر اس کی مرضی ہو یا ان کی توبہ قبول فرما لے بیشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے

﴿25﴾ اور (ناکام) لوٹا دیا اللہ تعالیٰ نے کفار کو در آنحالیکہ اپنے غضہ میں (پیچ و تاب کھار ہے) تھے (اس لشکر کشی سے) انہیں کوئی فائدہ نہ ہوا ۔ اور بچا لیا اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو جنگ سے اور اللہ تعالیٰ بڑا طاقتور ، پر چیز پر غالب ہے

﴿26﴾ اہل کتاب سے جن لوگوں نے کفار کی امداد کی تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے قلعوں سے اتار لیا اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا ایک گروہ کو تم قتل کر رہے ہو اور دوسرے گروہ کو قیدی بنا رہے ہو

﴿27﴾ اور اس نے وارث بنا دیا تمھیں ان کی زمینوں ، ان کے مکانوں اور ان کے مال و متاع کا اور وہ ملک بھی تمھیں دے دئیے جہاں تمھارے قدم ابھی نہیں پہنچے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے

﴿28﴾ اے نبی مکرّم! آپ فرما دیجیے اپنی بیبیوں کو کہ اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی آرائش (و آسائش ) کی خواہاں ہو تو آؤ تمھیں مال و متاع دے دوں اور پھر تمھیں رخصت کر دوں بڑی خوبصورتی کے ساتھ

﴿29﴾ اور اگر تم چاہتی ہو اللہ کو اور اس کے رسول کو اور دار آخرت کو تو بیشک اللہ تعالیٰ نے تیار کر رکھا ہے ان کے لیے جو تم میں سے نیکو کار ہیں اجر عظیم

﴿30﴾ اے نبی کریم کی بیبیو! جس کسی نے تم میں سے کھلی ہوئی بیہودگی کی تو اس کے لیے عذاب کو دو چند کر دیا جائے گا اور ایسا کرنا اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہے

﴿31﴾ اے نبی کریم کی بیبیو! جس کسی نے تم میں سے کھلی ہوئی بیہودگی کی تو اس کے لیے عذاب کو دو چند کر دیا جائے گا اور ایسا کرنا اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہے

﴿32﴾ اے نبی کی ازواج (مطہرات) تم نہیں ہو دوسری عورتوں میں سے کسی عورت کی مانند۔ اگر تم پرہیزگاری اختیار کور پس ایسی نرمی سے بات نہ کرو کہ طمع کرنے لگے وہ (بے حیا) جس کے دل میں روگ ہے اور گفتگو کرو تو با وقار انداز سے کرو

﴿33﴾ اے نبی کی ازواج (مطہرات) تم نہیں ہو دوسری عورتوں میں سے کسی عورت کی مانند۔ اگر تم پرہیزگاری اختیار کور پس ایسی نرمی سے بات نہ کرو کہ طمع کرنے لگے وہ (بے حیا) جس کے دل میں روگ ہے اور گفتگو کرو تو با وقار انداز سے کرو

﴿34﴾ اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ کی آیتوں اور حکمت کی باتوں کو جو پڑھی جاتی ہیں تمھارے گھروں میں ۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑا لطف فرمانے والا ، ہر بات سے باخبر ہے

﴿35﴾ بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ، مومن مرد اور مومن عورتیں ، فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، سچ بولنے والے مرد اور سچ بولنے والی عورتیں ، صابر مرد اور صابر عورتیں، عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں ، خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں، روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں، اپنی عصمت کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والیاں اور کثرت سے اللہ کو یاد کرنے اور یاد کرنے والیاں تیار کر رکھا ہے اللہ نے ان سب کے لیے مغفرت اور اجر عظیم

﴿36﴾ نہ کسی مومن مرد کو یہ حق پہنچتا ہے اور نہ کسی مومن عورت کو کہ جب فیصلہ فرما دے اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول کسی معاملہ کا تو پھر انہیں کوئی اختیار ہو اپنے اس معاملہ میں اور جو نافرمانی کرتا ہے اللہ اور اس کے رسول کی تو وہ کھلی گمراہی میں مبتلا ہو گیا

﴿37﴾ اور یاد کیجیے جب آپ نے فرمایا اس شخص کو جس پر اللہ نے بھی احسان فرمایا اور آپ نے بھی احسان فرمایا اپنی بی بی کو اپنی زوجیت میں رہنے دے اور اللہ سے ڈر اور آپ مخفی رکھے ہوئے تھے اپنے جی میں وہ بات جسے اللہ ظاہر فرمانے والا تھا اور آپ کو اندیشہ تھا لوگوں (کے طعن و تشنیع) کا حالانکہ اللہ تعالیٰ زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں پھر جب پوری کر لی زید نے اسے طلاق دینے کی خواہش، تو ہم نے اس کا آپ سے نکاح کر دیا تاکہ (اس عملی سنت کے بعد) ایمان والوں پر کوئی حرج نہ ہو اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں جب وہ انہیں طلاق دینے کا پورا ارادہ کر لیں اور اللہ کا حکم تو ہر حال میں ہو کر رہتا ہے

﴿38﴾ نہیں ہے نبی پر کوئی مضائقہ ایسے کام کرنے میں جنہیں حلال کر دیا ہے اللہ نے اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی یہی سنت ہے ان (انبیاء) کے بارے میں جو پہلے گزر چکے ہیں ۔ اور اللہ کا حکم ایسا فیصلہ ہوتا ہے جو طے پا چکا ہو تا ہے

﴿39﴾ وہ لوگ جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں وہ نہیں ڈرا کرتے کسی سے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کافی ہے اللہ تعالیٰ حساب لینے والا

﴿40﴾ وہ لوگ جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں وہ نہیں ڈرا کرتے کسی سے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کافی ہے اللہ تعالیٰ حساب لینے والا

﴿41﴾ اے ایمان والو! یاد کیا کرو اللہ تعالیٰ کو کثرت سے

﴿42﴾ اور اس کی پاکی بیان کیا کرو صبح و شام

﴿43﴾ اللہ وہ ہے جو رحمت نازل کرتا ہے تم پر اور اس کے فرشتے بھی (تم پر نزول رحمت کی دعا کرتے ہیں) تاکہ وہ نکال کر لے جائیں تمھیں (طرح طرح کے ) اندھیروں سے نور کی طرف اور وہ مومنوں پر ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے

﴿44﴾ انہیں یہ دعا دی جائے گی جس روز وہ اپنے رب کریم سے ملیں گے ، ہمیشہ سلامت رہو اور اس نے تیار کر رکھا ہے ان کے لیے عزت والا اجر

﴿45﴾ اے نبی (مکرم) ہم نے بھیجا ہے آپ کو (سب سچائیوں کا) گواہ بنا کر اور خوشخبری سنانے والا

﴿46﴾ اور بروقت ڈرانے والا اور دعوت دینے والا اللہ کی طرف اس کے اذن سے اور آفتاب روشن کر دینے والا

﴿47﴾ اور آپ مژدہ سنا دیں مومنوں کو کہ ان کے لیے اللہ کی جناب سے بڑا ہی فضل ہے

﴿48﴾ اور نہ کہنا مانو کافروں اور منافقوں کا اور پروا نہ کرو ان کی اذیت رسانی کی اور بھروسہ رکھو اللہ پر اور کافی ہے اللہ تعالیٰ (آپ کا ) کارساز

﴿49﴾ اے ایمان والو! جب تم نکاح کرو مومن عورتوں سے پھر تم انہیں طلاق دے دو اس سے پہلے کہ تم انہیں ہاتھ لگاؤ پس تمھارے لیے ان پر عدّت گزارنا ضروری نہیں جسے تم شمار کرو لہذا انہیں کچھ مال دے دو اور انہیں رخصت کر دو خوبصورتی سے

﴿50﴾ اے نبی (مکّرم) ہم نے حلال کر دی ہیں آپ کے لیے آپکی ازواج جن کے مہر آپ نے ادا کر دئیے ہیں اور آپ کی کنیزیں جو اللہ نے بطور غنیمت آپ کو عطا کی ہیں اور آپ کے چچا کی بیٹیاں اور آپ کی پھُو پھیوں کی بیٹیاں اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں اور آپ کے خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے ہجرت کی آپ کے ساتھ اور مومن عورت اگر وہ اپنی جان نبی کی نذر کر دے اگر نبی اس سے نکاح کرنا چاہے۔ یہ (اجازت) صرف آپ کے لیے ہے، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں۔ ہمیں خوب علم ہے جو ہم نے مقرّر کیا ہے مسلمانوں پر ان کی بیویوں اور کنیزوں کے بارے میں تاکہ آپ پر کسی قسم کی تنگی نہ ہو اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا ، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہیّ

﴿51﴾ (آپکو اختیار ہے) دُور کر دیں جس کو چاہیں اپنی ازواج سے اور اپنے پاس رکھیں جس کو آپ چاہیں ۔ اور اگر آپ (دوبارہ) طلب کریں جن کو آپ نے علحیدہ کر دیا تھا تب بھی آپ پر کوئی مضائقہ نہیں ۔ اس (رخصت) سے پوری توقع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہونگی اور وہ آزردہ خاطر نہ ہوں گی اور سب کی سب خوش رہیں گی جو کچھ آپ انہیں عطا فرمائینگے اور (اے لوگو!) اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تمھارے دلوں میں ہے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا بڑا بردبار ہے

﴿52﴾ حلال نہیں آپ کے لیے دوسری عورتیں ا س کے بعد اور نہ اس کی اجازت ہے کہ آپ تبدیل کر لیں ان ازواج سے دوسری بیویاں اگرچہ آپ کو پسند آئے ان کا حسن۔ بجز کنیزوں کے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نگران ہے

﴿53﴾ اے ایمان والو! نہ داخل ہوا کرو نبی کریم کے گھروں میں بجز اس (صُورت) کے کہ تم کو کھانے کے لیے آنے کی اجازت دی جائے (اور) نہ کھانا پکنے کا انتظار کیا کرو لیکن جب تمھیں بلایا جائے ، تو اندر چلے آؤ پس جب کھانا کھا چکو، تو فوراََ منتشر ہو جاؤ اور نہ وہاں جا کر دل بہلانے کیلئے باتیں شروع کر دیا کرو۔ تمہاری یہ حرکتیں (میرے ) نبی کے لیے تکلیف کا باعث بنتی ہیں پس وہ تم سے حیا کر تے ہیں (اور چپ رہتے ہیں) اور اللہ تعالیٰ کسی کا شرم نہیں کرتا حق بیان کرنے میں ۔ اور جب تم مانگو ان سے کوئی چیز تو مانگو پس پردہ ہو کر یہ طریقہ پاکیزہ تر ہے تمہارے دلوں کے لیے نیز ان کے دلوں کے لیے اور تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اذیّت پہنچاؤ اللہ کے رسول کو اور تمہیں اس کی بھی اجازت نہیں کہ تم نکاح کرو ان کی ازواج سے ان کے بعد کبھی، بےشک ایسا کرنا اللہ کے نزدیک گناہ عظیم ہے (٥٣) چاہے تم کسی بات کو ظاہرکرو یا اسے چھپاؤ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز سے خوب آگاہ ہے

﴿54﴾ چاہے تم کسی بات کو ظاہر کرو یا اسے چھپاؤ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز سے خوب آگاہ ہے

﴿55﴾ کوئی حرج نہیں ان پر اگر ان کے ہاں آئیں ان کے باپ، ان کے بیٹے، ان کے بھائی ان کے بھتیجے اور ان کے بھانجے اسی طرح مسلمان عورتیں اور لونڈیوں کی آمدروفت پر بھی کوئی پابندی نہیں۔ (اے عورتو!) ڈرا کرو اللہ (کی نافرمانی) سے بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مشاہدہ فرما رہا ہے

﴿56﴾ بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس نبی مکرم پر اے ایمان والو! تم بھی آپ پر درود بھیجا کرو اور (بڑے ادب و محبت سے) سلام عرض کیا کرو

﴿57﴾ بیشک جو لوگ ایذا پہنچاتے ہیں اللہ اور ا س کے رسول کو اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت سے محروم کر دیتا ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور اس نے تیار کر رکھا ہے ان کے لیے رسوا کن عذاب

﴿58﴾ اور جو لوگ دل دکھاتے ہیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کا بغیر اس کے کہ انہوں نے کوئی (معیوب) کام کیا ہو، تو انہوں نے اٹھا لیا (اپنے سر پر) بہتان باندھنے اور کھلے گناہ کا بوجھ

﴿59﴾ اے نبی مکّرم! آپ فرمائیے اپنی ازواج مطہرات کو ، اپنی صاحبزادیوں کو اور جملہ اہل ایمان عورتوں کو کہ (جب وہ باہر نکلیں تو) ڈال لیا کریں اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو اس طرح کہ وہ بآسانی پہچان لی جائیں پھر انہیں ستایا نہیں جائے گا اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا، ہر دم رحم فرمانے والا ہے

﴿60﴾ اگر (اپنی حرکتوں سے) باز نہ آئے منافق اور جن کے دلوں میں بیماری ہے اور شہر میں جھوٹی افواہیں اڑانے والے ، تو ہم آپ کو مسلّط کر دیں گے ان پر پھر وہ نہ ٹھہر سکیں گے آپ کے پاس مدینہ طیبہ میں مگر چند روز

﴿61﴾ وہ بھی اس حال میں کہ ان پر لعنت برس رہی ہو گی ۔ جہاں پائے جائیں گے پکڑ لیے جائیں گے اور جان سے مار ڈالے جائینگے

﴿62﴾ اللہ کی سنت ان (بدقماشوں ) کے متعلق بھی یہی تھی جو پہلے گزر چکے اور آپ سنت الہی میں ہر گز کوئی تغیر و تبدل نہ پائیں گے

﴿63﴾ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں ۔ فرمائیے اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور (اے سائل) تو کیا جانے شاید وہ گھڑی قریب ہی ہو

﴿64﴾ بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے محروم کر دیا کفار کو اور تیار کر رکھی ہے اس نے ان کے لیے بھڑکتی آگ

﴿65﴾ وہ ہمیشہ رہیں گے اس میں تاابد نہ پائیں گے کوئی دوست اور نہ کوئی مددگار

﴿66﴾ جس روز وہ منہ کے بل آگ میں پھینکے جائیں گے تو (بصد یاس) کہیں گے اے کاش! ہم نے اطاعت کی ہوتی اللہ تعالیٰ کی اور ہم نے اطاعت کی ہوتی رسول اکرم کی

﴿67﴾ اور عرض کرینگے اے ہمارے رب! ہم نے پیروی کی اپنے سرداروں کی اور اپنے بڑے لوگوں کی پس ان (ظالموں نے) ہمیں بہکا دیا سیدھی راہ سے

﴿68﴾ اے ہمارے رب ان کو دوگنا عذاب دے اور لعنت بھیج ان پر بہت بڑی لعنت

﴿69﴾ اے ایمان والو! نہ بن جانا ان (بد بختوں ) کی طرح جنہوں نے موسیٰ کو ستایا۔ پس بری کری دیا للہ تعالیٰ نے اس سے جو انہوں نے کہا اور آپ کے نزدیک بڑی شان والے تھے

﴿70﴾ اے ایمان والو اللہ سے ڈرتا رہا کرو اور ہمیشہ سچی (اور درست) بات کہا کرو

﴿71﴾ تو اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال کو درست کر دے گا اور تمہارے گناہوں کو بھی بخش دے گا اور جو شخص حکم مانتا ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا تو وہی شخص حاصل کرتا ہے بہت بڑی کامیابی

﴿72﴾ ہم نے پیش کی یہ امانت آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے (کہ وہ اس کی ذمّہ داری اٹھائیں) تو انہوں نے انکار کر دیا، اس کے اٹھانے سے اور و ہ ڈر گئے اس سے اور اٹھا لیا اس کو انسان نے، بےشک یہ ظلوم بھی ہے (اور) جہول بھی

﴿73﴾ تا کہ عذاب دے اللہ تعالیٰ نفاق کرنے والوں اور نفاق کرنے والیوں کو شرک کرنے والوں اور شرک کرنے والیوں کو اور نگاہ لطف وکرم فرمائے اللہ تعالیٰ ایمان والوں اور ایمان والیوں پر اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا ، ہر دم رحم فرمانے والا ہے

سبا

Surah 34

﴿1﴾ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو مالک ہے ہر اس چیز کا جو آسمانوں میں ہے اور ہر اس چیز کا جو زمین میں ہے اور اسی کے لیے ساری تعریفیں ہیں آخرت میں اور وہی بڑا دانا، ہر بات سے باخبر ہے

﴿2﴾ وہ جانتا ہے جو زمین میں داخل ہو تا ہے ۔ اور جو اس سے نکلتا ہے۔ نیز وہ جانتا ہے جو آسمان سے نازل ہوتا اور جو آسمان کی طرف عروج کرتا ہے اور وہی ہمیشہ رحم فرمانے والا بہت بخشنے والا ہے

﴿3﴾ اور کفار کہتے ہیں ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔ آپ فرمائیے ضرور آئے گی ۔ مجھے اپنے رب کی قسم جو عالم الغیب ہے تم پر قیامت ضرور آئے گی نہیں چھپی ہوئی اس سے ذرّہ برابر کوئی چیز آسمانوں میں اور زمین میں اور نہ کوئی چھوٹی چیز ذرہ سے اور نہ کوئی بڑی چیز مگر وہ کتاب مبین میں (درج ) ہے

﴿4﴾ (قیامت آئے گی) تاکہ اللہ تعالیٰ جزا دے انھیں جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے یہی وہ (نیک بخت) لوگ ہیں جن کے لیے بخشش اور رزق کریم ہے

﴿5﴾ اور جو (بد بخت) کوشش کرتے رہے ہیں کہ ہماری آیتوں کو جھٹلا کر ہمیں ہرا دیں ، یہی ہے جن کے لیے بد ترین قسم کا درد ناک عذاب ہے

﴿6﴾ اور جانتے ہیں وہ لوگ جنہیں علم دیا گیا کہ جو آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے آپ کے رب کی طرف سے وہی (عین ) حق ہے اور عزت والے، سب خوبیوں سرا ہے (خدا) کا راستہ دکھاتا ہے

﴿7﴾ اور منکرین (قیامت) کہتے ہیں (اے یارو!) کیا ہم پتہ بتائیں تمھیں اس شخص کا جو تمھیں خبردار کرتا ہے کہ جب تم (مرنے کے بعد) ریزہ ریزہ کر دیے جاؤ گے تو تم از سرِ نو پیدا کیے جاؤ گے؟

﴿8﴾ یا تو اس نے (یہ کہہ کر) اللہ پر جھوٹا بہتان لگایا ہے یا یہ دیوانہ ہے (میرا حبیب نہ مفتری ہے نہ دیوانہ) بلکہ وہ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ (کل) عذاب میں اور (آج) دُور کی گمراہی میں مبتلا ہیں

﴿9﴾ کیا انہیں نظر نہیں آتاکہ انہیں آگے اور پیچھے سے آسمان اور زمین نے گھیر رکھا ہے اگر ہم چاہیں تو دھنسا دیں انہیں زمین میں یا گرا دیں ان پر چند ٹکڑے آسمان سے در حقیقت اس میں (کھلی) نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے جو خدا کی طرف رجوع کرنے والا ہے

﴿10﴾ بے شک ہم نے داؤد کو اپنی جناب سے بڑی فضیلت بخشی (ہم نے حکمدیا) اے پہاڑو! تسبیح کہو اس کے ساتھ مل کر اور پرندوں کو بھی یہی حکم دیا نیز ہم نے لوہے کو اس کے لیے نرم کر دیا

﴿11﴾ (اور حکم دیا) کہ کشادہ زریں بناؤ اور (انکے) حلقے جوڑنے میں اندازے کا خیال رکھو۔ اور (اے آل داؤد) نیک کام کیا کرو، بلاشبہ جو کچھ تم کرتے ہو میں انہیں خوب دیکھ رہا ہوں

﴿12﴾ اور ہم نے مسخر کر دی سلیمان کے لیے ہوا۔ اس کی صبح کی منزل ایک ماہ کی اور شام کی منزل ایک ماہ کی ہوتی۔ اور ہم نے جاری کر دیا ان کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ اور کئی جنّ (ان کے تابع کر دئیے) جو کام میں جتے رہتے انکے سامنے ان کے رب کے اذن سے اور جو سرتابی کرتا ان میں سے ہمارے حکم (کی تعمیل) سے تو ہم اسے چکھاتے بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب

﴿13﴾ وہ بناتے آپ کے لیے جو آپ چاہتے پختہ عمارتیں، مجسمے ، بڑے بڑے لگن جیسے حوض ہوں اور بھاری دیگیں جو چولہوں پر جمی رہتیں داؤد کے خاندان والو!(ان نعمتوں پر ) شکر ادا کیا کرو اور بہت کم ہیں میرے بندوں سے جو شکر گزار ہیں

﴿14﴾ پس جب ہم نے سلیمان پر موت کا فیصلہ نافذ کر دیا نہ پتہ بتایا جنات کو آپ کی موت کا ، مگر زمین کے دیمک نے جو کھاتا رہا آپ کے عصا کو پس جب آپ زمین پر آ رہے، تو جنوں پر یہ بات کھل گئی کہ اگر وہ غیب کو جانتے ہوتے تو (اتنا عرصہ) نہ رہتے اس رسوا کن عذاب میں

﴿15﴾ قوم سبا کے لیے ان کے مسکن میں ہی نشانی موجود تھی (وہاں) دو باغ تھے ایک دائیں طرف اور دوسرا بائیں طرف کھاؤ اپنے رب کا دیا ہوا رزق اور اس کا شکر ادا کرو اتنا پاکیزہ شہر اور ایسا رب غفور!(اہل سبا! تمہاری خوش قسمتی کا کیا کہنا)

﴿16﴾ پھر انہوں نے منہ پھیر لیاتو ہم نے ان پر تند و تیز سیلاب بھیج دیا اور ہم نے بدل دیا ان کو ایسے دو باغوں سے جن کے پھل ترش اور کڑوے تھے اور انمیں جھاؤ کے بوٹے اور چند بیری کے درخت تھے

﴿17﴾ یہ بدلہ دیا ہم نے انہیں بوجہ ان کی احسان فراموشی کے اور بجز احسان فراموش کے ہم کسے ایسی سزا دیتے ہیں

﴿18﴾ اور ہم نے بسا دی تھیں ان کے درمیان اور ان شہروں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی اور کئی بستیاں سر راہ اور ہم نے منزلیں مقرر کر دی تھیں ان میں آنے جانے کی سیر و سیاحت کرو ان میں (جب چاہو) رات یا دن کے وقت میں امن و امان سے

﴿19﴾ پھر وہ بولے اے ہمارے رب! دُور دراز کر دے ہماری مسافتوں کو (یہ کہہ کر ) اُنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ۔ پس ہم نے انہیں افسانہ بنا دیا اور ہم نے ان (کی جمعیت) کو پارہ پارہ کر دیا (سبا کی اس داستان) میں عبرت کی نشانیاں ہیں ہر بہت صبر بہت شکر کرنے والے کے لیے

﴿20﴾ اور بیشک سچ کر دکھایا ان (ناشکروں) پر شیطان نے اپنا گمان سو وہ اس کی تابعداری کرنے لگے بجز مومنوں کے ایک گروہ کے (جو حق پر ڈٹا رہا)

﴿21﴾ اور نہیں حاصل تھا شیطان کو ان پر ایسا قابو (کہ وہ بےبس ہوں) مگر یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ ہم دکھانا چاہتے تھے کہ کون آخرت پر ایمان رکھتا تھا اور کون اس کے متعلق شک میں مبتلا ہے اور (اے حبیب!) آپ کا رب ہر چیز پر نگہبان ہے

﴿22﴾ آپ فرمائیے (اے مشرکو!) تم پکار دیکھو جنھیں تم اللہ تعالیٰ کے سوا اپنا معبود خیال کرتے ہو۔ یہ تو ذرا برابر کے بھی مالک نہیں ہیں نہ آسمانوں میں اور نہ زمین مین اور نہ ان کا زمین و آسمان میں کچھ حصہ ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کا ان میں سے کوئی مددگار ہے

﴿23﴾ اور نہ نفع دے گی سفارش اس کے ہاں مگر جس کے لیے اس نے اجازت دی ہو یہاں تک کہ جب دور کر دی جاتی ہے گھبراہٹ ان کے دلوں سے تو پوچھتے ہیں کیا ارشاد فرمایا تمہارے رب نے وہ کہتے ہیں اس نے حق فرمایا ہے اور وہی بڑی شان والا ، سب سے بڑا ہے

﴿24﴾ آپ فرمائیے کون روزی دیتا ہے تمہیں آسمانوں اور زمین سے خود ہی فرمائیے اللہ اور ہم یا تم (دونوں میں سے ایک) ہدایت پر ہے اور (دوسرا ) کھلی گمراہی میں ہے

﴿25﴾ فرمائیے تم سے باز پرس نہیں ہو گی ان جرموں کی جو ہم نے کیے اور نہ ہم سے باز پرس ہو گی تمہارے کرتوتوں کی

﴿26﴾ فرمائیے ہمارا رب ہم سب کو جمع کرے گا پھر وہ فیصلہ کرے گا ہمارے درمیان حق (و انصاف) کے ساتھ ۔ وہی بہترین فیصلہ کرنے والا سب کچھ جاننے والا ہے

﴿27﴾ فرمائیے مجھے بھی دکھاؤ تو وہ شریک جنہیں تم نے اللہ کے ساتھ ملا دیا ہے ہر گز ایسا نہیں ۔ بلکہ فقط وہی اللہ ہے جو زبردست بڑا دانا ہے

﴿28﴾ اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر تمام انسانوں کی طرف بشیر اور نذیر بنا کر لیکن (اس حقیقت کو) اکثر لوگ نہیں جانتے

﴿29﴾ اور وہ کہتے ہیں کہ کب پورا ہوگا یہ وعدہ (بتاؤ ) اگر تم سچے ہو

﴿30﴾ فرمائیے (اے منکرو!) تمہارے لیے وعدہ کا دن مقرر ہے نہ تم اس سے ایک لمحہ پیچھے ہٹ سکو گے اور نہ (ایک لمحہ ) آگے بڑھ سکو گے

﴿31﴾ کفّار (اب تو) کہتے ہیں کہ ہر گز ایمان نہیں لائیں گے اس قرآن پر اور نہ ان کتابوں پر جو اس سے پہلے نازل ہوئیں ۔ کاش! تم (وہ منظر) دیکھو جب یہ ظالم کھڑے کیے جائیں گے اپنے رب کے رو برو اس وقت یہ ایک دوسرے پر الزام دھریں گے ۔ کہیں گے وہ لوگ جو (دنیا میں ) کمزور سمجھے جاتے تھے، ان سے جوبڑے بنا کرتے تھے اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایماندار ہوتے

﴿32﴾ جواب دینگے متکبّران کمزوروں کو کیا ہم نے تمہیں روکا تھا ہدایت (قبول کرنے) سے جب (نور ہدایت) تمہارے پاس آیا تھا۔ درحقیقت تم خود مجرم تھے

﴿33﴾ کہیں گے وہ کمزور لوگ ان مغروروں سے (یوں نہیں) بلکہ تمہارے شب و روز کے مکر و فریب نے ہمیں ہدایت سے باز رکھا جب تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ کو ماننے سے انکار کر دیں اور (بتوں کو) اس کا ہمسر بنائیں اور دل ہی دل میں پچھتائیں گے جب دیکھیں گے عذاب کو اور ہم ڈال دینگے طوق ان لوگوں کی گردنوں میں جنہوں نے کفر کیا (خواہ وہ برے ہوں یا چھوٹے) کیا انہیں بدلہ دیا جائیگا بجز ا سکے جو وہ کیا کرتے تھے

﴿34﴾ اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا مگر یہ کہ (بر ملا) کہہ دیا وہاں کے آسودہ حال لوگوں نے ہم اس (دین ) کا جو دیکر تم بھیجے گئے ہو انکار کرتے ہیں

﴿35﴾ اور کہتے (تم کون ہو ہمیں ڈرانے والے) ہمارا مال بھی (تم سے) زیادہ ہے اور اولاد بھی اور ہمیں عذاب نہیں دیا جا سکتا

﴿36﴾ آپ فرمائیے بیشک میر ارب کشادہ کرتا ہے رزق کو ( جس کے لیے چاہتا ہے ) لیکن اکثر لوگ (ان حکمتوں کو) نہیں جانتے

﴿37﴾ اور (یاد رکھو) نہ تمہارے اموال اور نہ ہی تمہاری اولاد ایسی چیزیں ہیں جو تمہیں ہمارا قرب بخشدیں ، مگر جو ایمان لایا اور نیک عمل کرتا رہا (اسے ہی) ہمارا قرب نصیب ہوگا پس یہی لوگ ہیں جن کے لیے دوگنا صلہ ہے ان کے عملوں کا اور وہ بالاخانوں میں امن و امان سے رہیں گے

﴿38﴾ اور جو لوگ کوشاں ہیں ہماری آیتوں کی تکذیب میں تاکہ ہم ہرا دیں وہی لوگ عذاب میں ہمیشہ گرفتا ر رہیں گے

﴿39﴾ آپ فرمائیے بےشک میرا پروردگار کشادہ کر دیتا ہے رزق کو جس کے لیے چاہتا ہے ۔ اور جو چیز تم خرچ کرتے ہو تو وہ اس کی جگہ اور دے دیتا ہے اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے

﴿40﴾ اور جس روز وہ ان سب کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے پوچھے گا کیا یہ لوگ تمہاری پوجا کیا کرتے تھے

﴿41﴾ فرشتے عرض کریں گے تو پاک ہے ہر شرک سے ، ہمارا مالک تو ہے ہمارا ان سے کیا واسطہ بلکہ یہ تو جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے ۔ ان میں سے اکثر ان پر ایمان رکھتے تھے

﴿42﴾ پس آج تم میں سے کوئی ایک دوسرے کو نہ نفع پہنچانے کی قدرت رکھتا ہے اور نہ نقصان کی ۔ اور ہم کہیں گے جنہوں نے ظلم کیا تھا کہ چکّھو آتشِ (جہنم) کا عذاب جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے

﴿43﴾ اور جب پڑھ کر سنائی جاتی ہیں انہیں ہماری آیتیں درآنحالیکہ وہ بالکل واضح ہیں کہتے ہیں نہیں ہے یہ مگر ایسا شخص جس نے ارادہ کر لیا ہے کہ روک دے تمہیں ان (معبودوں) سے جنکی تمہارے باپ دادا پوجا کیا کرتے تھے ۔ نیز کہتے ہیں نہیں ہے یہ قرآن مگر جھوٹ گھڑا ہوا اور کفار کہتے ہیں حق کے بارے میں جب وہ ان کے پا س آیا کہ نہیں ہے یہ مگر جادو کھلا کھلا

﴿44﴾ اور نہ ہی ہم نے انہیں کوئی کتابیں دیں جنکا یہ مطالعہ کرتے ہوں اور نہ ہی ہم نے بھیجا ان کی طرف آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا

﴿45﴾ اور (انبیاء کی) تکذیب کی جو ان سے پہلے گزرے اور یہ (کفار مکہ) نہیں پہنچے ددسویں حصہ کو بھی جو (قوت ، دبدبہ) ہم نے ان کو دیا تھا پس جب انہوں نے جھٹلایا میرے رسولوں کو تو کتنا ہولناک تھا میرا عذاب

﴿46﴾ (اے حبیب!) آپ (انہیں ) فرمائیے میں تمہیں صرف ایک نصیحت کرتا ہوں (یہ تو مان لو) تم اللہ کے لے کھڑے ہو جاؤ دو دو یا اکیلے اکیلے پھر خوب سوچو (تمہیں ماننا پڑے گا) تمہارے اس رفیق میں جنوں کا شائبہ تک نہیں ہے نہیں ہے وہ مگر بر وقت خبردار کرنے والا تمہیں سخت عذاب کے آنے سے پہلے

﴿47﴾ فرمائیے (لوگو!) جو معاوضہ میں نے تم سے مانگا ہے وہ تم اپنے پاس رکھو ۔ میری (دلسوزیوں) کا اجر تو (میرے ) اللہ کے ذمہ ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے

﴿48﴾ فرمائیے بیشک میرا رب (باطل پر) حق سے ضرب لگا تا ہے وہ سب غیبوں کو جاننے والا ہے

﴿49﴾ (اے محبوب!) اعلان کر دیجیے حق آگیا اور باطل کی قوت کا خاتمہ ہو گیا

﴿50﴾ فرمائیے (تمہارے گمان کے مطابق) اگر میں بہک گیا ہوں تو اس کا وبال میری جان پر ہوگا اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو (محض) اس وحی کے باعث جو میرا رب میری طرف بھیجتا ہے بیشک وہ سب کچھ سننے والا ، بالکل نزدیک ہے

﴿51﴾ کاش ! تم دیکھو جب یہ گھبرائے ہونگے ، بچ نکلنے کی صورت نہ ہو گی اور قریب ہی سے پکڑ لیے جائیں گے

﴿52﴾ اس وقت کہیں گے ہم ایمان لے آئے ان پر لیکن اب کیوں کر وہ پا سکتے ہیں ایمان کو اتنی دور جگہ سے

﴿53﴾ حالانکہ وہ کفر کرتے رہے ان سے اس سے پہلے اور دور سے بن دیکھے یاوہ گوئیاں کرتے رہے

﴿54﴾ اور رکاوٹ کھڑی کر دی جائے گی ان کے درمیان اور ان چیزوں کے درمیان جو وہ دل سے چاہتے ہوں گے جیسے ان کے ہم مشرب لوگوں کے ساتھ پہلے کیا گیا تھا وہ ایسے شک میں مبتلا تھے جو دوسروں کو بھی شک میں ڈالنے والا تھا

فاطر

Surah 35

﴿1﴾ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا جس نے بنایا ہے فرشتوں کو پیغام رساں جو پردار بازوؤں والے ہیں کسی کے دو ، کسی کے تین اور کسی کے چار وہ زیادہ کرتا ہے بناوٹ میں جو چاہتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ پر چیز پر پوری طرح قادر ہے

﴿2﴾ جو عطا فرمائے اللہ تعالیٰ لوگوں کو (اپنی ) رحمت سے تو اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو روک دے ، تو اسے کوئی دینے والا نہیں اس کے روکنے کے بعد اور وہی سب پر غالب بڑا دانا ہے

﴿3﴾ اے لوگو! یاد رکھو اللہ تعالیٰ کی نعمت کو جو اس نے تم پر فرمائی (بھلا یہ تو بتاؤ) کیا اللہ کے بغیر کوئی اور خالق بھی ہے جو تمہیں رزق دیتا ہے آسمان اور زمین سے نہیں کوئی معبود بجز اس کے سو (اس سے ) منہ پھیر کر کدھر جا رہے ہو

﴿4﴾ اور اے حبیب! اگر یہ آپ کو جھٹلا رہے ہیں (تو کوئی نئی بات نہیں) آپ سے پہلے بھی رسولوں کو جھٹلایا گیا اور (آخر کار) اللہ کی طرف ہی سارے کام لوٹائے جاتے ہیں

﴿5﴾ اے لوگو!(یاد رکھو) یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے ۔ پس دھوکہ میں نہ ڈال دے تمہیں یہ دنیوی زندگی اور نہ فریب میں مبتلا کر دے تمہیں اللہ کے بارے میں وہ بڑا فریبی

﴿6﴾ یقیناً شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اسے (اپنا) دُشمن سمجھا کرو وہ فقط اس لیے (سر کشی کی) دعوت دیتا ہے اپنے گروہ کو تاکہ وہ جہنمی بن جائیں

﴿7﴾ جن لوگوں نے کفر اختیا ر کیا ان کے لیے سخت عذاب ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، ان کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے

﴿8﴾ پس کیا وہ شخص جس کے لیے مزین کر دیا گیا ہے اس کا برا عمل اور وہ اس کو خوبصورت نظر آتا ہے (اس کے لیے آپ آزردہ کیوں ہوں) بیشک اللہ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ہدایت بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے پس نہ گھلے آپ کی جان ان کے لیے فرطِ غم سے بیشک اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے جو (کرتوت) وہ کیا کرتے ہیں

﴿9﴾ اور اللہ تعالیٰ وہ ہے جو بھیجتا ہے ہواؤں کو وہ اٹھا لاتی ہیں بادل کو، پھر ہم لے جاتے ہیں بادل کو مردہ شہر کی طرف پھر ہم زندہ کر دیتے ہیں اس بادل (کے مینہ) سے زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد ۔ یونہی (انہیں) قبروں سے اٹھایا جائے گا

﴿10﴾ جو عزت کا طلبگار ہو (وہ جان لے) کہ ہر قسم کی عزت اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اسی کی طرف چڑھتا ہے پاکیزہ کلام اور نیک عمل پاکیزہ کلام کو بلند کرتا ہے اور جو لوگ فریب کاریاں کرتے ہیں برے کاموں کے لیے ، ان کے لیے شدید عذاب ہے اور ان کا مکر (و فریب) تباہ ہو کر رہے گا

﴿11﴾ اور اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے تمہیں مٹی سے ، پھر پانی کی بوند سے پھر تمہیں بنا دیا جوڑے جوڑے اور نہیں حاملہ ہوتی کوئی عورت اور نہ بچہ جنتی ہے مگر اس کو اس کا علم ہوتا ہے اور نہ لمبی زندگی دی جاتی ہے کسی طویل العمر کو اور نہ کم رکھی جاتی ہے کسی کی عمر ، مگر (اس کی تفصیل) کتاب میں درج ہے بیشک یہ بات اللہ کے لیے بالکل آسان ہے

﴿12﴾ اور یکسان نہیں ہو سکتے پانی کے دو ذخیرے۔ یہ (ایک ) میٹھا ہے بہت شیریں اس کا پینا بڑا خوشگوار ہے اور یہ (دوسرا) سخت نمکیں، کھاری تلخ اور دونوں میں سے تم کھاتے ہو ترو تازہ گوشت اور نکالتے ہو زینت کا سمان، جسے تم پہنتے ہو اور تو دیکھتا ہے کشتیوں کو پانی میں کہ اسے چیرتی ، شور مچاتی چلی جا رہی ہیں تاکہ تم تلاش کرو اس کے فضل کو اور (یہ سب نوازشات اس لیے) تاکہ تم شکر ادا کرو

﴿13﴾ وہ داخل کرتا ہے (کبھی) رات (کے ایک حصّہ) کو دن میں اور (کبھی) داخل کرتا ہے دن (کے ایک حصّہ) کو رات میں ، اور اس نے پابند حکم کر دیا ہے سورج اور چاند کو ہر ایک رواں ہے مقررہ معیاد تک یہ ہے اللہ جو تمہارا رب ہے اسی کی ساری بادشاہی ہے اور وہ (بُت) جن کی تم پوجا کرتے ہو اللہ تعالیٰ کے سوا وہ تو گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں

﴿14﴾ اگر تم انہیں پکارو تو نہ سن سکیں گے تمہاری پکار اور اگر وہ بالفرض سن بھی لیں تو وہ تمہاری التجا قبول نہیں کر سکیں گے اور روز قیامت صاف انکار کر دیں گے تمہارے شرک کا اور (حقیقت حال سے) تجھے کوئی آگاہ نہیں کر سکتا خدائے خبیر کی مانند

﴿15﴾ اے لوگو! تم سب محتاج ہو اللہ تعالیٰ کے اور اللہ ہی غنی ہے سب خوبیاں سراہا

﴿16﴾ اگر اس کی مرضی ہو تم سب کو نا پید کر دے اور لے آئے ایک نئی مخلوق

﴿17﴾ اور ایسا کرنا اللہ تعالیٰ پر قطعاً دشوار نہیں

﴿18﴾ اور بوجھ نہیں اٹھائے گا کوئی گنہگار کسی دوسرے کا بوجھ اور اگر بلائے گا پشت پر بوجھ اٹھانے والا (کسی کو) اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے ، تو نہ اٹھائی جا سکے گی اس کے بوجھ سے کوئی شے اگرچہ کوئی قریبی رشتہ دار ہی ہو آپ صرف ان کو ڈرا سکتے ہیں جو اپنے رب سے بِن دیکھے ڈرتے ہیں اور صحیح صحیح ادا کرتے ہیں نماز اور جو پاکیزگی اختیار کرتا ہے سو وہ اپنی بھلائی کے لیے ہی اختیار کرتا ہے اور (یاد رکھوآخر کار) اللہ کی طرف ہی لوٹنا ہے

﴿19﴾ اور یکساں نہیں ہے اندھا اور بینا

﴿20﴾ اور نہ (یکساں) اندھیرے اور نور

﴿21﴾ اور نہ (یکساں ہے) سایہ اور تیز دھوپ

﴿22﴾ اور نہ ایک جیسے ہیں زندے اور مردے بیشک اللہ تعالیٰ سناتا ہے جس کو چاہتا ہے اور آپ نہیں سنانے والے جو قبروں میں ہیں

﴿23﴾ نہیں ہیں آپ مگر بر وقت ڈرانے والے

﴿24﴾ ہم نے آپ کو بھیجا ہے حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور بروقت ڈرانے والا اور کوئی امت ایسی نہیں جس میں کوئی ڈرانے والا نہ گزرا ہو

﴿25﴾ اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلاتے ہیں (تو کوئی تعجب نہیں) بیشک جھٹلاتے رہے جو ان سے پہلے تھے ۔ تشریف لائے تھے ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں ، آسمانی صحیفے اور نورانی کتاب لے کر

﴿26﴾ پھر (جب ان کی سر کشی کی حد ہو گئی) تو میں نے پکڑ لیا کفار کو ۔ پس (ساری دنیا جانتی ہے) میرا عذاب کیسا تھا

﴿27﴾ کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ اتارتا ہے آسمان سے پانی ۔ پس ہم نکالتے ہیں اس کے ذریعے طرح طرح کے پھل جن کے رنگ مختلف ہوئے ہیں اور پہاڑوں سے بھی رنگ برنگ ٹکڑے ہیں کوئی سفید ، کوئی سرخ،۔ مختلف رنگوں میں (کوئی شوخ کوئی مدہم) اور بعض حصّے سخت سیاہ

﴿28﴾ اور انسانوں ، چارپایوں اور جانوروں کے رنگ بھی اسی طرح جدا جدا ہیں اللہ کے بندوں میں سے صرف علماء ہی (پوری طرح) اس سے ڈرتے ہیں ۔ بیشک اللہ تعالیٰ سب پر غالب ، بہت بخشنے والا ہے

﴿29﴾ بیشک جو (غورو تدبّر ) سے تلاوت کرتے ہیں اللہ کی کتاب کی اور نماز قائم کرتے ہیں اور خرچ کرتے ہیں اس مال سے جو ہم نے ان کو دیا ہے راز داری سے اور اعلانیہ ، وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو ہر گز نقصان والی نہیں

﴿30﴾ تا کہ اللہ تعالیٰ انہیں پورا پورا اجرعطا فرمائے اور مزید اضافہ کرے ان کے اجر میں اپنے فضل سے ۔ بیشک وہ بہت بخشنے والا بڑا قدر دان ہے

﴿31﴾ اور جو کتاب بذریعہ وحی ہم نے آپ کی طر ف بھیجی ہے وہی سر ا سر حق ہے ۔ وہ تصدیق کرتی ہے پہلی کتابوں کی بیشک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے سارے احوال سے باخبر ہے (اور ) دیکھنے والا ہے

﴿32﴾ پھر ہم نے وارث بنا دیا اس کتاب کا ان کو جنہیں ہم نے چن لیا تھا اپنے بندوں سے ۔ پس بعض ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض درمیانہ رو ہیں اور بعض سبقت لے جانے والے ہیں نیکیوں میں اللہ کی توفیق سے یہی (اللہ تعالیٰ کا) بہت بڑا فضل (و کرم) ہے

﴿33﴾ سدا بہار باغات ! یہ ان میں داخل ہوں گے پہنائے جائیں گے انہیں وہاں سونے کے کنگن اور موتیوں کے ہار۔ اور ان کی پوشاک وہاں ریشمی ہو گی

﴿34﴾ (شکر نعمت کے طور پر) کہیں گے سب ستائشیں اللہ کے لیے ہیں جس نے دور کر دیا ہم سے غم (و اندوہ) یقیناً ہمارا رب بہت بخشنے والا بڑا قدردان ہے

﴿35﴾ جس نے ہمیں بسایا ہے ابدی ٹھکانے پر اپنے فضل (و احسان) سے نہ چھوئے گی ہمیں یہاں کوئی تکلیف اور نہ چھوئے گی ہمیں یہاں کوئی تھکن

﴿36﴾ اور جنہوں نے کفر کیا ان کے لیے دوزخ کی آگ (تیا ر ) ہے ۔ نہ ان کی قضا آئے گی کہ وہ مر جائیں اور نہ ہلکا کیا جائے گا ان سے دوزخ کا عذاب اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ہر نا شکر گزار کو

﴿37﴾ اور وہ اس میں چیختے چلّاتے ہوں گے (فریاد کریں گے) اے ہمارے رب!(ایک بار) ہمیں یہاں سے نکال ۔ ہم بڑے نیک کام کریں گے ایسے نہیں جیسے ہم پہلے کیا کرتے تھے (جواب ملے گا) کیا ہم نے تمہیں اتنی لمبی عمر نہیں دی تھی جس میں (بآسانی) نصیحت قبول کر سکتا جو نصیحت قبول کرنا چاہتا اور تشریف لے آیا تھا تمہارے پاس ڈرانے والا (تم نے اس کی بات نہ مانی) پس اب (اپنے کیے کا) مزہ چکھوظالموں کے لیے کوئی مدد گار نہیں

﴿38﴾ بیشک اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے آسمانوں اور زمین میں ہر چھپی ہوئی چیز کو ۔ یقیناً وہ جانتا ہے دلوں کے رازوں کو

﴿39﴾ وہی ہے جس نے تمہیں (گزشتہ قوموں کا) جانشین بنایا زمین میں ۔ پس جس نے کفر کیا اس کے کفر کا وبال بھی اسی پر ہوگا ۔ اور نہیں اضافہ کرے گا کفّار کے لیے ان کا کفر اللہ کی جناب میں بجز ناراضگی کے اور نہ اضافہ کرے گا کفا رکے لیے ان کا کفر بجز گھاٹے (اور خسران) کے

﴿40﴾ آپ فرمائیے کیا تم نے دیکھے ہیں اپنے شریک جنھیں تم پکارتے ہو اللہ تعالیٰ کے سوا۔ مجھے بھی تو دکھاؤ زمین کا وہ گوشہ جو انہوں نے بنایا ہے یا ان کی کوئی شراکت ہو آسمانوں (کی تخلیق) میں یا ہم نے انہیں کوئی کتاب دی ہو اور وہ اس کے روشن دلائل پر عمل پیرا ہوں (کچھ بھی نہیں ) بلکہ یہ ظالم محض ایک دوسرے کے ساتھ جھوٹے (دلفریب) وعدے کرتے رہتے ہیں

﴿41﴾ بیشک اللہ تعالیٰ روکے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو تاکہ وہ اپنی جگہ سے سرک نہ جائیں اور اگر وہ سرکنے لگیں تو کوئی نہیں روک سکتا انہیں اللہ تعالیٰ کے بعد ۔ بیشک وہ بڑا حلیم (اور) بخشنے والا ہے

﴿42﴾ اور (کفار مکہ) اللہ کی سخت قسمیں کھا کر کہتے تھے کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آیا تو وہ زیادہ ہدایت قبول کریں گے پہلی امتوں سے پس جب آگیا ان کے پاس ڈرانے والا تو ان کی (حق سے) نفرت اور بڑھ گئی

﴿43﴾ وہ زیادہ سر کشی کرنے لگے زمین میں اور گھناؤنی سازشیں کرنے لگے اور نہیں گھیرتی گھناؤنی سازش بجز سازشیوں کے پس کیا یہ لوگ انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے جو پہلے (نافرمانوں) کے ساتھ کیا گیا تھا (اگر یہ بات ہے) تو آپ نہیں پائیں گے اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی اور آپ نہیں پائیں گے اللہ کی سنت میں کوئی تغیر

﴿44﴾ کیا انہوں نے سیر وسیاحت نہیں کی زمین میں تاکہ وہ دیکھ لیتے کہ کتنا (دردناک) انجام ہوا ان (سر کشوں ) کا جو ان سے پہلے گزر چکے حالانکہ وہ قوت (و طاقت) میں ان سے (کئی گنا) زیادہ تھے اور (سنو!) اللہ تعالیٰ ایسا (کمزور) نہیں ہے کہ اسے آسمانوں اور زمین کی کوئی چیز نیچا دکھا سکے ۔ وہ ہر بات جاننے والا بڑی قدرت والا ہے

﴿45﴾ اور اگر اللہ تعالیٰ (فوراً) پکڑ لیا کرتا لوگوں کو ان کے کرتوتوں کے باعث تو نہ (زندہ ) چھوڑتا زمین کی پشت پر کسی جاندار کو لیکن (اسکی سنت یہ ہے) وہ ڈھیل دیتا رہتا ہے انہیں ایک مقررہ میعاد تک پس جب ان کی معیاد آجائے گی تو بیشک اللہ کے سب بندے اس کی نگاہ میں ہیں

یٰس

Surah 36

﴿1﴾ اے سیّد (عرب و عجم)

﴿2﴾ قسم ہے قرآن حکیم کی

﴿3﴾ بیشک آپ رسولوں میں سے ہیں

﴿4﴾ (یقینا) آپ راہ راست پر ہیں

﴿5﴾ نازل فرمایا ہے ( قرآن حکیم کو) عزیز (اور ) رحیم نے

﴿6﴾ تا کہ آپ ڈرا سکیں اس قوم کو جن کے باپ دادا کو (طویل عرصہ سے) نہیں ڈرایا گیا اس لیے وہ غافل ہیں

﴿7﴾ بے شک (ان کے پیہم کفر و عنادکے باعث) یہ بات لازم ہو چکی ہے ان میں سے اکثر پر کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے

﴿8﴾ ہم نے ڈال دئیے ہیں ان کی گردنوں میں طوق پس وہ ان کی ٹھوڑیوں تک پہنچے ہوئے ہیں، اس لیے ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہیں

﴿9﴾ اور ہم نے بنا دی ہے ان کے سامنے ایک دیوار اور ان کے پیچھے ایک دیوار اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے پس وہ کچھ نہیں دیکھ سکتے

﴿10﴾ اور یکساں ہے ان کے لیے چاہے آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے

﴿11﴾ آپ تو صرف اسی کو ڈرا سکتے ہیں جو اتباع کرتا ہے قرآن کا اور ڈرتا ہے (خداوند ) رحمان سے بن دیکھے پس مژدہ سنائیے ایسے شخص کو مغفرت کا اور بہترین اجر کا

﴿12﴾ بیشک ہم ہی زندہ کرتے ہیں مردوں کو اور لکھ لیتے ہیں (ان اعمال کو) جو وہ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے اس آثار کو جو وہ پیچھے چھوڑ جاتے ہیں اور ہر چیز کو ہم نے شمار کر رکھا ہے لوح محفوظ میں

﴿13﴾ اور بیان فرمائیے ان کے (سمجھانے کے لیے) مثال اس گاؤں کے باشندوں کی جب آئے وہاں (ہمارے) رسُول

﴿14﴾ جب (پہلے) ہم نے بھیجاان کی طرف دو رسول تو انہوں نے ان کو جھٹلایا پس ہم نے تقویت دی (انہیں) ایک تیسرے رسول سے، تو ان تینوں نے (انہیں) کہا کہ ہمیں تمہاری طرف بھیجا گیا ہے

﴿15﴾ بستی والوں نے کہا نہیں ہو تم مگر انسان ہماری مانند اور نہیں اتاری رحمن نے کوئی چیز نہیں ہو تم مگر جھوٹ بول رہے ہو

﴿16﴾ رسولوں نے کہا ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم یقیناً تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں

﴿17﴾ اور نہیں ہم پر کوئی ذمہ داری بجز اس کے (کہ پیغام حق) کھول کر پہنچا دیں

﴿18﴾ وہ کہنے لگے ہم تو تمہیں اپنے لیے فال بد سمجھتے ہیں اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں ضرور سنگسار کر دیں گے اور پہنچے گا تمہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب

﴿19﴾ رسولوں نے فرمایا تمہاری بدفالی تمہیں نصیب ہو (حیرت ہے) اگر تمہیں نصیحت کی جاتی ہے (تو تم دھمکیاں دینے لگتے ہو) بلکہ تم لوگ حد سے بڑھ جانے والے ہو

﴿20﴾ دریں اثنا آیا شہر کے کنارے سے ایک شخص ڈورتا ہوا۔ اس نے کہا اے میری قوم ! پیروی کرو رسولوں کی

﴿21﴾ پیروی کرو ان (پاکبازوں ) کی جو تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتے اور وہ سیدھی راہ پر ہیں

﴿22﴾ اور مجھے کیا حق پہنچتا ہے کہ میں عبادت نہ کروں اس کی جس نے مجھے پیدا فرمایا اسی کی طرف تم (سب) نے لوٹ کر جانا ہے

﴿23﴾ کیا (میرے لیے جائز ہے کہ) میں بنا لوں اسے چھوڑ کر کوئی اور خدا ؟ (ہر گز نہیں ) اگر رحمن مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو ان کی سفارش مجھے ذرا فائدہ نہ پہنچا سکے گی اور نہ وہ مجھے چھڑا سکیں گے

﴿24﴾ (اگر میں شرک کروں) تو میں بھی اس وقت کھلی گمراہی میں مبتلا ہو جاؤں گا

﴿25﴾ میں ایمان لے آیا ہوں تمہارے رب پر پس (کان کھول کر) میرا اعلان سن لو

﴿26﴾ حکم ہوا (جا) جنت میں داخل ہو جا وہ بولا کاش! میری قوم بھی جان لیتی

﴿27﴾ کہ بخش دیا ہے مجھے میرے رب نے اور شامل کر دیا ہے مجھے با عزت لوگوں میں

﴿28﴾ اور نہ اتارا ہم نے اس کی قوم پر اس (کی شہادت) کے بعد کوئی لشکر آسمان سے اور نہ ہمیں اس کی ضرورت تھی

﴿29﴾ نہ تھی مگر ایک گرج پس وہ بجھے ہوئے کوئلے بن گئے

﴿30﴾ صد افسوس ان بندوں پر ۔ نہیں آیا ان کے پاس کوئی رسول مگر وہ اس کے ساتھ مذاق کرنے لگ گئے

﴿31﴾ کیا انہیں علم نہیں کہ کتنی امتوں کو ہم نے ان سے پہلے ہلاک کر دیا (اور) وہ (آج تک) ان کی طرف لوٹ کر نہ آئے

﴿32﴾ اور ان سب کو ہمارے سامنے حاضر کر دیا جائے گا

﴿33﴾ اور ایک نشانی ان کے لیے یہ مردہ زمین ہے ہم نے اسے زندہ کر دیا اور ہم نے نکالا اس سے غلہ پس وہ اس سے کھاتے ہیں

﴿34﴾ اور ہم نے اگائے اس میں باغات کھجور اور انگوروں کے اور جاری کر دیے اس میں چشمے

﴿35﴾ تا کہ کھائیں وہ اس کے پھلوں سے اور نہیں بنایا ہے اس کو ان کے ہاتھوں نے ۔ کیا وہ ان نعمتوں پر شکر ادا نہیں کرتے

﴿36﴾ ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات جس نے ہر چیز کو جوڑا جوڑا پیدا فرمایا جنہیں زمین اگاتی ہے اور خود ان کے نفسوں کو بھی اور ان چیزوں کو بھی جنہیں وہ (ابھی) نہیں جانتے

﴿37﴾ اور دوسری نشانی ان کے لیے رات ہے ہم اتار لیتے ہیں اس سے دن کو تو یکلخت وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں

﴿38﴾ اور (یہ) آفتاب ہے جو چلتا رہتا ہے اپنے ٹھکانے کی طرف۔ یہ اندازہ مقرر کیا ہو ا ہے اس (خدا کا) جو عزیز (اور) علیم ہے

﴿39﴾ اور (ذرا) چاند کو دیکھوہم نے مقرر کر دی ہیں اس کے لیے منزلیں آخر کار ہو جاتا ہے کھجور کی بوسیدہ شاخ کی مانند

﴿40﴾ نہ سورج کی یہ مجال کہ (پیچھے سے) چاند کو آپکڑے اور نہ رات کی یہ طاقت ہے کہ دن سے آگے نکل جائے۔ اور سب (سیارے اپنے اپنے) فلک میں تیر رہے ہیں

﴿41﴾ اور ایک نشانی ان کے لیے یہ بھی ہے کہ ہم نے سوار کیا ان کی اولاد کو ایک کشتی میں جو بھری ہوئی تھی

﴿42﴾ اور ہم نے پیدا کیں ان کے لیے اس کشتی کی مانند اور چیزیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں

﴿43﴾ اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کر دیں پس کوئی ان کی فریاد سننے والا نہ ہو اور نہ وہ ڈوبنے سے بچائے جا سکیں

﴿44﴾ بجز اس کے کہ ہم ان پر رحمت فرمائیں اور انہیں کچھ وقت تک لطف اندوز ہونے دیں

﴿45﴾ اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ ڈرو (اس عذاب سے) جو تمہارے سامنے ہے اور جو تمہارے پیچھے ہے تاکہ تم پر حرام کیا جائے

﴿46﴾ اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی ان کے رب کی نشانیوں سے ، مگر وہ اس سے روگردانی کرنے لگتے ہیں

﴿47﴾ اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ خرچ کرو اس مال سے جو تمہیں اللہ تعالیٰ نے دیا ہے تو کافر کہتے ہیں اہل ایمان کو کیا ہم انہیں کھانا کھلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا۔ (اے ناصحو!) تم تو بالکل بہک گئے ہو

﴿48﴾ اور کافر کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئے گا اگر تم سچے ہو (تو اس کا وقت مقرر بتا دو)

﴿49﴾ یہ (نا ہنجار) نہیں انتظار کر رہے مگر اس ایک گرج کا جو (اچانک) انہیں دبوچ لے گی جب وہ بحث مباحثہ کر رہے ہوں گے

﴿50﴾ پس نہ وہ (اس وقت ) کوئی وصیت کر سکیں گے اور نہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ کر آسکیں گے

﴿51﴾ اور (دوبارہ جب) صور پھُونکا جائے گا تو فوراً وہ اپنی قبروں سے نکل نکل کر اپنے پروردگار کی طرف تیزی سے جانے لگیں گے

﴿52﴾ (اس وقت) کہیں گے ہائے ہم برباد ہو گئے! کس نے ہمیں اٹھا کھڑا کیا ہے ہماری خوابگاہ سے (آواز آئے گی) یہ وہی ہے جس کا رحمن نے وعدہ فرمایا تھا اور سچ کہا تھا (اسکے) رسولوں نے

﴿53﴾ نہیں ہو گی مگر ایک زوردار کڑک پھر وہ فوراً سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دیے جائیں گے

﴿54﴾ پس آج نہیں ظلم کیا جائے گا کسی پر ذرہ بھر اور نہ ہی بدلہ دیا جائے گا تمہیں مگر ان اعمال کا جو تم کیا کرتے تھے

﴿55﴾ بیشک اہل بہشت آج (حسب مراتب) اپنے اپنے شغل سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے

﴿56﴾ وہ اور ان کی بیویاں سایہ میں (مرصع) تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے

﴿57﴾ ان کے لیے وہاں (طرح طرح کے لذیذ) پھل ہوں گے اور انہیں ملے گا جو وہ طلب کرینگے

﴿58﴾ تم سلامت رہو!(انہیں) یہ کہا جائے گا اپنے رحیم رب کی طرف سے

﴿59﴾ اور (حکم ہو گا) اے مجرمو!(میرے دوستو سے) آج الگ ہو جاؤ

﴿60﴾ کیا میں نے تمہیں یہ تاکیدی حکم نہیں دیا تھا ، اے اولاد آدم! کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا بلاشبہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

﴿61﴾ اور میری عبادت کرنا ۔ یہ سیدھا راستہ ہے

﴿62﴾ (بایں ہمہ) گمراہ کر دیا شیطان نے تم میں سے بہت سے لوگوں کو کیا تم عقل (وخرد) نہیں رکھتے تھے

﴿63﴾ یہ ہے وہ جہنم جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا (٦٣) آج اس کی آگ تاپو اس کفر کے باعث جو تم کیا کرتے تھے

﴿64﴾ آج اس کی آگ تاپو اس کفر کے باعث جو تم کیا کرتے تھے

﴿65﴾ آج ہم مہر لگا دیں گے کفار کے مونہوں پر اور بات کریں گے ہم سے ان کے ہاتھ اور گواہی دیں گے ان کے پاؤں ان (بدکاریوں پر) جو وہ کمایا کرتے تھے

﴿66﴾ اور اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھوں کا نشان تک محو کر دیتے پھر وہ راستہ کی طرف ڈور کر آتے بھی تو ان (اندھوں ) کو راستہ کیسے نظر آتا

﴿67﴾ اور اگر ہم چاہتے تو ہم انہیں مسخ کر کے رکھ دیتے انکی جگہوں پر پھر وہ نہ آگے جا سکتے اور نہ پیچھے پلٹ سکتے

﴿68﴾ اور جس کو ہم طویل عمر دیتے ہیں تو کمزور کر دیتے ہیں اس کی قوتوں کو پھر کیا یہ اتنی بات بھی نہیں سمجھتے

﴿69﴾ اور نہیں سکھایا ہم نے اپنے نبی کو شعر، اور نہ یہ ان کے شایان شان ہے نہیں ہے یہ مگر نصیحت اور قرآن جو بالکل واضح ہے

﴿70﴾ تا کہ وہ بروقت خبردار کرے جو زندہ ہے اور تاکہ حجت تمام کر دے کفّار پر

﴿71﴾ کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ ہم نے پیدا فرمائے ان کے لیے اس مخلوق سے جو ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنائی، مویشی پھر (اب) یہ ان کے مالک ہیں

﴿72﴾ اور ہم نے تابعدار بنا دیا انہیں ان کا ۔ پس ان میں سے بعض پر سواری کرتے ہیں اور بعض کا (گوشت) کھاتے ہیں

﴿73﴾ اور ان کے لیے ان مویشیوں میں اور بھی کئی منفعتیں ہیں اور پینے کی چیزیں ہیں کیا وہ شکر ادا نہیں کرتے

﴿74﴾ اور ان (ظالموں نے بنالیے ہیں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اور خدا کہ شاید وہ ان کی مدد کریں)

﴿75﴾ یہ جھوٹے خدا نہیں مدد کر سکتے ان کی اور یہ کفّار ان کے لیے تیار شدہ لشکر ہیں

﴿76﴾ پس نہ رنجیدہ کرے آپ کو (اے حبیب!) ان کا قول۔ ہم خوب جانتے ہیں جس بات کو وہ چھپاتے ہیں ۔ اور جو ظاہر کرتے ہیں

﴿77﴾ کیا انسان (اس حقیقت کو) نہیں جانتا کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا ہے پس اب وہ (ہمارا) کُھلا دشمن بن بیٹھا ہے

﴿78﴾ اور بیان کرنے لگا ہے ہمارے لیے (عجیب و غریب) مثالیں اور ا س نے فراموش کر دیا ہے اپنی پیدائش کو (گستاخ) کہتا ہے اجی! کون زندہ کر سکتا ہے ہڈیوں کو جب وہ بوسیدہ ہو چکی ہوں

﴿79﴾ آپ فرمائیے (اے گستاخ سُن!) زندہ فرمائے گا انہیں وہی جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا تھا اور وہ ہر مخلوق کو خوب جانتا ہے

﴿80﴾ جس نے (اپنی حکمت سے) رکھ دی تمہارے لیے سبز درختوں میں آگ پھر تم اس سے اور آگ سلگاتے ہو

﴿81﴾ کیا وہ (قادر مطلق) جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو قدرت نہیں رکھتا کہ پیدا کر سکے ان جیسی (چھوٹی سی) مخلوق۔ بیشک !(وہ ایسا کر سکتا ہے) اور وہی پیدا فرمانے والا ، سب کچھ جاننے والا ہے

﴿82﴾ اس کا حکم ، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو صرف اتنا ہی ہے کہ وہ فرماتا ہے اس کو ہو جا ، پس وہ ہو جاتی ہے

﴿83﴾ پس وہ (ہر عیب سے) پاک ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی حکومت ہے اور اسی کی طر ف تمہیں لوٹایا جائے گا

الصّٰفّٰت

Surah 37

﴿1﴾ قسم ہے (مقام نیاز میں ) پرے باندھ کر کھرے ہونے والوں کی

﴿2﴾ پھر خوب جھڑکنے والوں کی

﴿3﴾ پھر قرآن کی تلاوت کرنے والوں کی

﴿4﴾ کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے

﴿5﴾ جو مالک ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور مالک ہے مشرقوں کا

﴿6﴾ بلاشبہ ہم نے آراستہ کیا ہے آسمان دنیا کو ستاروں کے سنگھار سے

﴿7﴾ اور (اسے ) محفوظ کر دیا ہے ہر سر کش شیطان (کی رسائی ) سے

﴿8﴾ نہیں سن سکتے کان لگا کر عالم بالا کی باتوں کو اور پتھراؤ کیا جاتا ہے ان پر ہر طرف سے

﴿9﴾ ان کو بھگانے کے لیے اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے

﴿10﴾ مگر جو شیطان کچھ جھپٹ لینا چاہتے ہیں تو تعاقب کرتا ہے اس کا تیز شعلہ

﴿11﴾ پس آپ ان سے پوچھیے آیا وہ زیادہ مضبوط ہیں خلقت کے اعتبار سے یا (دوسری چیزیں) جنہیں ہم نے پیدا فرمایا ۔ بیشک ہم نے پیدا کیا ہے انہیں لیسدار کیچڑ سے

﴿12﴾ آپ تو اظہار تعجب کرتے ہیں (قدرت کے کرشمے دیکھکر) اور وہ تمسخر اڑاتے

﴿13﴾ اور جب انہیں نصیت کی جاتی ہے تو وہ نصیحت قبول نہیں کرتے

﴿14﴾ اور جب کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو مذاق کرنے لگتے ہیں

﴿15﴾ اور کہتے ہیں نہیں ہے یہ مگر کھلا جادو

﴿16﴾ کیا جب ہم مر جائیں گے اور (مر کر) مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے (تو) کیا ہم زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے

﴿17﴾ اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی

﴿18﴾ فرمائیے ! ہاں (ضرور) اس حال میں کہ تم ذلیل و خوار ہو گے

﴿19﴾ پس قیامت تو فقط ایک جھڑکی ہو گی پس وہ (اُٹھ کر ادھر ادھر) دیکھنے لگیں گے

﴿20﴾ اور کہیں گے ہم برباد ہو گئے ! یہ تو یوم جزا ہے

﴿21﴾ (ہاں ہاں) یہی فیصلہ کا دن ہے جس (کی آمد) کو تم جھٹلایا کرتے تھے

﴿22﴾ (اے فرشتو!) جمع کرو جنہوں نے ظلم کیا تھا اور ان کے ساتھیوں کو اور جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے

﴿23﴾ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پس سیدھا لے چلو انہیں جہنم کی راہ کی طرف

﴿24﴾ اور (اب ذرا) روک لو انہیں ، ان سے باز پرس کی جائے گی

﴿25﴾ تمہیں کیا ہو گیا تم ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے

﴿26﴾ بلکہ آج تو وہ سر تسلیم خم کیے ہوئے ہیں

﴿27﴾ اور متوجہ ہوں گے ایک دوسرے کی طرف (اور) سوال و جواب کریں گے

﴿28﴾ (پیرو کار سرداروں سے) کہیں گے کہ تم آیا کرتے تھے ہمارے پاس بڑے کرّو فرسے

﴿29﴾ (اور ہمیں کفر پر مجبور کرتے تھے) وہ جواب دینگے بلکہ تم ایمان ہی کب لائے تھے (کہ ہم نے تم کو گمراہ کر دیا)

﴿30﴾ اور نہ ہمیں تم پر کوئی غلبہ حاصل تھا بلکہ تم بذات خودسر کش لوگ تھے

﴿31﴾ پس لازم ہو گیا ہم سب پر اپنے رب کا حکم۔ اب (خواہ مخواہ) ہم اس عذاب کو چکھنے والے ہیں

﴿32﴾ پس ہم نے تم کو بھی گمراہ کیا، ہم خود بھی گمراہ تھے

﴿33﴾ پس وہ (سب) اس روز عذاب میں حصہ دار ہوں گے

﴿34﴾ ہم اسی طرح سلوک کرتے ہیں مجرموں کے ساتھ

﴿35﴾ کفار کا یہ حال ہے کہ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ نہیں کوئی معبود اللہ کے سوا تو یہ تکبَر کرنے لگتے ہیں

﴿36﴾ اور کہتے ہیں کیا ہم چھوڑ دیں گے اپنے خداؤں کو ایک شاعر اور دیوانے کے کہنے سے

﴿37﴾ (دیوانے تو یہ خود ہیں) وہ تو دین حق لے کر آئے ہیں اور تصدیق کرتے ہیں سارے رسولوں کی

﴿38﴾ (اے مجرمو!) تم ضرور چکھو گے دردناک عذاب کو

﴿39﴾ اور نہیں بدلہ دیا جائے گا تمہیں مگر اسی کا جو تم کیا کرتے تھے

﴿40﴾ البتہ اللہ کے مخلص بندے (اس عذاب سے محفوظ رہیں گے)

﴿41﴾ وہی ہیں انہیں وہ رزق دیا جائے گا جس کی کیفیت معلوم ہے

﴿42﴾ لذیذ پھل۔ اور ان کا بڑا احترام و اکرام کیا جائے گا

﴿43﴾ (اور وہ ) نعمت کے باغوں میں ہوں گے

﴿44﴾ (زرنگاہ) پلنگوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے

﴿45﴾ پھرائے جائیں گے ان پر چھلکتے جام (شراب طہور کے) چشموں سے پرکر کے

﴿46﴾ (دودھ سے زیادہ) سفیدبڑے لذیذ، پینے والوں کے لیے

﴿47﴾ نہ اس میں مضر صحت کوئی چیز ہے اور نہ وہ اس (کے پینے) سے مدہوش ہوں گے

﴿48﴾ اور ان کے پاس ہوں گی نیچی نگاہوں والی آہو چشم (عورتیں)

﴿49﴾ گویا وہ (شتر مرغ کے) انڈوں کی مانند، گردو غبار سے محفوظ

﴿50﴾ پس وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے (اور) سوال جواب کریں گے

﴿51﴾ کہے گا ان میں سے ایک کہ میر ایک جگری دوست ہوا کرتا تھا

﴿52﴾ وہ (مجھے) کہا کرتا تھا کہ کیا تو (قیامت پر) ایمان لانے والوں سے ہے

﴿53﴾ کیا جب ہم مریں گے اور (مر کر) مٹی اور (بوسیدہ) ہڈیاں ہو جائیں گے کیا اس وقت ہمیں جزا دی جائے گی

﴿54﴾ ارشاد ہوگا کیا تم اسے دیکھنا چاہتے ہو؟

﴿55﴾ پس جب اس نے جھانکا تو دیکھا اپنے یار کو جہنم کے وسط میں

﴿56﴾ جنتی بول اٹھے گا بخدا! تُو تو مجھے ہلاک کرنا چاہتا تھا

﴿57﴾ اور اگر میرے رب کا احسان نہ ہوتا تو میں بھی (آج ) پکڑ کر لائے جانے والوں میں سے ہوتا

﴿58﴾ (جنتی کہیں گے) کیا اب تو ہمیں مرنا نہیں ہو گا

﴿59﴾ بجز اپنی پہلی موت کے اور نہ ہمیں (اب) عذاب دیا جائے گا

﴿60﴾ بیشک یہی وہ عظیم الشان کامیابی ہے

﴿61﴾ ایسی ہی عظیم الشان کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے

﴿62﴾ بھلا یہ دعوت بہتر ہے یا زقوم کا درخت

﴿63﴾ ہم نے بنا دیا ہے اسے آزمائش ظالموں کے لیے

﴿64﴾ یہ ایک درخت ہے جو اگتا ہے جہنم کی تہہ میں

﴿65﴾ اس کے شگوفے گویا شیطان کے سر ہیں

﴿66﴾ پس انہیں ضرور کھا نا ہوگا اس سے اور بھریں گے اس سے اپنے پیٹ

﴿67﴾ پھر انہیں زقوم کھانے کے بعد کھولتا ہوا پانی ملا کر دیا جائے گا

﴿68﴾ پھر انہیں لوٹا دیا جائے گا جہیم کی طرف

﴿69﴾ انہوں نے پایا تھا اپنے باپ دادا کو گمراہ

﴿70﴾ پس وہ (بے سوچے سمجھے) ان کے پیچھے بھاگے جا رہے ہیں

﴿71﴾ اور بہک گئے تھے ان سے قبل بہت سے پہلے گوگ

﴿72﴾ اور ہم نے بھیجے تھے ان میں ڈرانے والے

﴿73﴾ پس (اے مخاطب!) دیکھو کیسا انجام ہوا جنہیں ڈرایا گیا تھا (مگر وہ نہ سنبھلے تھے)

﴿74﴾ سوائے ان کے جو اللہ کے مخلص بندے تھے

﴿75﴾ اور (فریاد کرتے ہوئے ) پکاراہمیں نوح نے پس ہم بہترین فریاد رس ہیں

﴿76﴾ اور ہم نے نجات دے دی انہیں اور ان کے گھرانے کو ایسی مصیبت سے جو بڑی زبردست تھی

﴿77﴾ اور ہم نے بنا دیا فقط ان کی نسل کو باقی رہنے والا

﴿78﴾ اور ہم نے چھوڑا ان کے ذکر خیر کو پیچھے آنے والوں میں

﴿79﴾ نوح پر سلام ہو تمام جہانوں میں

﴿80﴾ ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں محسنین کو

﴿81﴾ بیشک وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھے

﴿82﴾ پھر ہم نے غرق کر دیا دوسرے لوگوں کو

﴿83﴾ اور ان کی جماعت میں سے ابراہیم (علیہ السلام) بھی تھے

﴿84﴾ جب وہ حاضر ہوئے اپنے رب کے دربار میں قلب سلیم کے ساتھ

﴿85﴾ جب انہوں نے کہا اپنے باپ اور اپنی قوم کو کہ تم کس کی پوجا کرتے ہو

﴿86﴾ کیا جھوٹے گھڑے ہوئے خدا، اللہ تعالیٰ کے علاوہ چاہتے ہو

﴿87﴾ پس تمہارا کیا خیال ہے سارے جہانوں کے پروردگار کے بارے میں

﴿88﴾ سو آپ نے ایک بار دیکھا ستاروں کی طرف

﴿89﴾ پھر کہا میری طبیعت نا ساز ہے

﴿90﴾ چنانچہ وہ لوگ انہیں پیچھے چھوڑ کر (میلہ دیکھنے) چلے گئے

﴿91﴾ پس آپ چپکے سے ان کے دیوتاؤں کی طرف گئے اور کہا کیا تم (یہ مٹھائیاں) نہیں کھاؤگے

﴿92﴾ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم بولتے بھی نہیں

﴿93﴾ پھر پوری قوت سے ضرب لگائی ان پر داہنے ہاتھ سے

﴿94﴾ (رنگ رلیاں منانے کے بعد) آئے آپ کی طرف ڈورتے ہوئے

﴿95﴾ آپ نے فرمایا کیا تم پوجتے ہو انہیں جنہیں تم خود تراشتے ہو؟

﴿96﴾ حالانکہ اللہ نے تمہیں پیدا بھی کیا اور جو کچھ تم کرتے ہو

﴿97﴾ انہوں نے (فیصلہ کن انداز میں ) کہا ۔ بناؤ اس کے لیے وسیع آتشکدہ پھر پھینک دو اسے بھڑکتی آگ میں

﴿98﴾ انہوں نے تو چاہا کہ آپ کے ساتھ مکر کریں لیکن ہم نے انہیں ذلیل کر دیا

﴿99﴾ اور آپ نے کہا میں جا رہا ہوں اپنے رب کی طرف ، وہ میری رہنمائی فرمائے گا

﴿100﴾ (دعا مانگی) میرے رب! عطا فرما دے مجھے ایک نیک بچہ

﴿101﴾ پس ہم نے مژدہ سنایا انہیں ایک حلیم فرزند کا

﴿102﴾ اور جب وہ اتنا بڑا ہو گیا کہ آپ کے ساتھ ڈور دھوپ کر سکے ۔ آپ نے فرمایا اے میرے پیارے فرزند! میں نے دیکھا ہے خواب میں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں ۔ اب بتا تیری کیا رائے ہے عرض کیا میرے پدر بزرگوار! کر ڈالیے جو آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے

﴿103﴾ پس جب دونوں نے سر اطاعت خم کر دیا اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا

﴿104﴾ اور ہم نے آواز دی اے ابراہیم!(بس ہاتھ روک لو)

﴿105﴾ بیشک تو نے سچ کر دکھایا خواب کو ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں محسنوں کو

﴿106﴾ بیشک یہ بڑی کھلی آزمائش تھی

﴿107﴾ اور ہم نے بچا لیا اسے فدیہ میں ایک عظیم ذبیحہ دے کر

﴿108﴾ اور ہم نے چھوڑا ان کا ذکر خیر آنے والوں میں

﴿109﴾ سلام ہو ابراہیم پر

﴿110﴾ اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں نیکو کاروں کو

﴿111﴾ بیشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا

﴿112﴾ اور ہم بشارت دی آپ کو اسحق کی (کہ) وہ نبی ہوگا (زمرہ) صالحین میں سے

﴿113﴾ اور ہم نے برکتیں نازل کیں ا س پر اور اسحق پر اور ان کی نسل میں کوئی نیک ہوگا اور کوئی اپنی جان پر کھلا ظلم کرنے والا ہو گا

﴿114﴾ ہم نے احسان فرمایا موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) پر

﴿115﴾ اور ہم نے بچا لیا ان دونوں کو اور ان کی قوم کو بڑے غم و اندوہ سے

﴿116﴾ اور ہم نے ان کی مدد فرمائی پس ہو گئے وہی غلبہ پانے والے

﴿117﴾ اور ہم نے بخشی ان دونوں کو ایسی کتاب جو نہایت واضح ہے

﴿118﴾ اور ہم نے ہدایت دی انہیں سیدھے راستہ کی

﴿119﴾ اور ہم نے چھوڑا ان کے ذکر خیر کو پیچھے آنے والوں میں

﴿120﴾ سلام ہو موسیٰ اور ہارون پر

﴿121﴾ ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں نیک کام کرنے والوں کو

﴿122﴾ بیشک وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے ہیں

﴿123﴾ اور بیشک الیاس (علیہ السلام) بھی پیغمبروں میں سے ہیں

﴿124﴾ (یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کیا تم ڈرتے نہیں؟

﴿125﴾ کیا تم عبادت کرتے ہو بعل کی اور چھوڑے ہوئے ہو احسن الخالقین کو

﴿126﴾ (یعنی) اللہ کو جو تمہارا بھی پروردگار ہے اور تمہارے پہلے باپ دادا کا بھی پروردگار ہے

﴿127﴾ پھر انہوں نے آپ کو جھٹلایا پس یقیناً انہیں (پکڑ کر) حاضر کیا جائے گا

﴿128﴾ بجز اللہ کے بندوں کے جو مخلص ہیں

﴿129﴾ اور ہم نے چھوڑا ان کے ذکر خیر کو پیچھے آنے والوں میں

﴿130﴾ سلام ہو الیاس پر

﴿131﴾ ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں نیک کام کرنے والوں کو

﴿132﴾ بیشک وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے ہیں

﴿133﴾ اور بےشک لوط بھی پیغمبروں میں سے ہیں

﴿134﴾ (یاد کرو) جب بچا لیا ہم نے انہیں اور ان کے اہل خانہ کو

﴿135﴾ بجز ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہنے والوں میں تھی

﴿136﴾ پھر ہم نے برباد کر دیا دوسرے لوگوں کو

﴿137﴾ اور تم گزرتے رہتے ہوان (کے اجڑے دیاروں ) پر صبح کے وقت

﴿138﴾ اور رات کے وقت کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے

﴿139﴾ اور بیشک یونس بھی (ہمارے ) رسولوں میں سے ہیں

﴿140﴾ جب وہ بھاگ کر گئے تھے بھری ہوئی کشتی کی طرف (سوار ہونے کے لیے)

﴿141﴾ پھر قرعہ اندازی میں شریک ہوئے اور دھکیلے ہوؤں میں سے ہو گئے

﴿142﴾ پس نگل لیا انہیں حوت نے در آنحالیکہ وہ اپنے آپ کو ملامت کر رہے تھے

﴿143﴾ پس اگر وہ اللہ کی پاکی بیان کرنے والوں سے نہ ہوتے

﴿144﴾ تو پڑے رہتے مچھلی کے پیٹ میں قیامت کے دن تک

﴿145﴾ پھر ہم نے ڈال دیا انہیں کھلے میدان میں اس حال میں کہ وہ بیمار تھے

﴿146﴾ اور (ان کی حفاظت کے لیے) ہم نے اگا دی ان پر کدّو کی بیل

﴿147﴾ اور ہم نے بھیجا تھا انہیں ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لوگوں کی طرف

﴿148﴾ پس وہ ایمان لائے اور ہم نے لطف اندوز ہونے دیا انہیں کچھ وقت تک

﴿149﴾ ذرا پوچھیے ان (نادانوں ) سے کیا آپ کے رب کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے

﴿150﴾ آیا جب ہم نے فرشتوں کو مونث بنایا تو کیا وہ موجود تھے

﴿151﴾ غور سے سنو! وہ جھوٹی تہمت لگاتے ہیں جب وہ کہتے ہیں

﴿152﴾ کہ اللہ نے بچے جنے اور وہ بلا شبہ جھوٹ بکتے ہیں

﴿153﴾ کیا اس نے پسند کی ہیں (اپنے لیے) بیٹیاں، بیٹوں کو چھوڑ کر

﴿154﴾ تمہیں کیا ہو گیا؟ تم کیسے فیصلے کر رہے ہو

﴿155﴾ کیا تم غورو فکر نہیں کرتے

﴿156﴾ کیا تمہارے پاس کوئی واضح دلیل ہے

﴿157﴾ تو اپنی وہ دستاویز پیش کرو اگر تم سچے ہو

﴿158﴾ اور ٹھہرا دیا ہے انہوں نے اللہ تعالیٰ اور جنوں کے درمیان رشتہ حالانکہ جن خود جانتے ہیں کہ انہیں (پکڑ کر) پیش کیا جائے گا

﴿159﴾ پاک ہے اللہ ان (لغویات) سے جو یہ بیان کرتے ہیں

﴿160﴾ مگر اللہ کے چنے ہوئے بندے (ایسی ہرزہ سرائی نہیں کرتے)

﴿161﴾ پس تم اور جن (جھوٹے خداؤں ) کی تم پوجا کرتے ہو

﴿162﴾ تم (سب مل کر) اللہ کے خلاف (کسی کو) نہیں بہکا سکتے

﴿163﴾ مگر اسے جو تاپنے والا ہے بھڑکتی ہوئی آگ کو

﴿164﴾ اور فرشتے کہتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ایسا نہیں مگر اس کے لیے مقام متعین ہے

﴿165﴾ اور ہم پرے باندھے (مقام نیاز میں ) کھڑے ہیں

﴿166﴾ اور بیشک ہم اس کی پاکی بیان کرنے والے ہیں

﴿167﴾ اور وہ (بعثت نبوی سے پہلے) کہا کرتے تھے

﴿168﴾ اگر ہمارے پاس کوئی نصیحت ہوتی پہلے لوگوں کی طرف سے

﴿169﴾ تو ہم اللہ کے مخلص بندے بن جاتے

﴿170﴾ پس (جب نصیحت آئی) تو اسے ماننے سے انکار کر دیا وہ عنقریب (اپنا انجام) جا ن لینگے

﴿171﴾ اور ہمارا وعدہ اپنے بندوں کے ساتھ جو رسول ہیں پہلے ہو چکا ہے

﴿172﴾ کہ ان کی ضرور مدد کی جائے گی

﴿173﴾ اور بیشک ہمارا لشکر ہی غالب ہوا کرتا ہے

﴿174﴾ Error fetching translation try again or latter

﴿175﴾ اور ملاحظہ فرماتے رہیے ان (کے حالات) کو وہ (خود بھی) اپنا انجام دیکھ لیں گے

﴿176﴾ کیا وہ ہمارے عذاب (کے اترنے ) کے لیے جلدی مچا رہے ہیں

﴿177﴾ پس جب وہ اترے گا ان کے آنگن میں تو وہ صبح بڑی خوفناک ہو گی جنہیں ڈرایا جاتا تھا

﴿178﴾ اور رُخِ انور پھیر لیجیے ان سے تھوڑی دیر کے لیے

﴿179﴾ اور (قدرت الہی کا تماشا) دیکھتے رہیے ، وہ بھی اپنا انجام دیکھ لیں گے

﴿180﴾ پاک ہے آپ کا رب ، جو عزت کا مالک ہے ان (نا سزا باتوں سے) جو وہ کیا کرتے ہیں

﴿181﴾ اور سلامتی ہوسب رسولوں پر

﴿182﴾ اور سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا رب ہے

ص

Surah 38

﴿1﴾ ص قسم ہے قرآن ، سراپا نصیحت کی (دعوت محمدی حق ہے)

﴿2﴾ لیکن یہ کفّار تکبّر اور مخالفت میں (اندھے ہو گئے ) ہیں

﴿3﴾ بہت سی امتوں کو ہم نے ہلاک کر دیا اس سے پہلے ۔ پس وہ فریاد کرنے لگے اور نہیں تھا یہ وقت بچ نکلنے کا

﴿4﴾ اور وہ (اس پر) حیرا ن تھا کہ آیا ہے ان کے پاس ایک ڈرانے والا ان میں سے ، اور کفار کہنے لگے کہ یہ شخص ساحر ہے ، کذاب ہے

﴿5﴾ کیا بنا یا ہے اس نے بہت سے خداؤں کی جگہ ایک خدا بیشک یہ بڑی عجیب و غریب بات ہے

﴿6﴾ اور تیزی سے چل دیے قوم کے سردار (رسول کے پاس سے) اور (قوم سے کہا) یہاں سے نکلو اور جمے رہو اپنے بتوں پر ۔ بیشک اس میں اس کا کوئی (ذاتی ) مدعا ہے

﴿7﴾ ہم نے تو ایسی بات آخری ملت (نصرانیت ) میں بھی نہیں سنی۔ یہ بالکل من گھڑت مذہب ہے

﴿8﴾ کیا نازل کیا گیا ہے اس پر ’الذکر‘ (قرآن ) ہمارے درمیان میں سے بلکہ یہ کفار شک میں مبتلا ہیں میرے ذکر کے متعلق۔ بلکہ انہوں نے ابھی نہیں چکھا میرے عذاب کا مزہ

﴿9﴾ کیا ان کے قبضہ میں ہیں خزانے آپ کے رب کی رحمت کے ، جو عزت والا بےحساب عطا کرنے والا ہے

﴿10﴾ کیا ان کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی جو کچھ ان کے درمیان ہے پس چاہیے کہ چڑھ جائیں (آسمان پر) اس کی راہوں سے

﴿11﴾ (در حقیقت) کفار کے لشکروں میں سے یہ ایک چھوٹا سا لشکر ہے جسے وہاں (بد ر میں) شکست دے دی جائے گی

﴿12﴾ جھٹلا یا تھا ان سے پہلے قوم نوح ، عاد اور میخوں والے فرعون نے

﴿13﴾ اور ثمود، قوم لوط اور اصحاب ایکہ نے یہی وہ گروہ ہیں (جنکا ذکر پہلے گزر چکا)

﴿14﴾ ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تو (ا ن پر ) لازم ہو گیا میرا عذاب

﴿15﴾ اور نہیں انتظار کر رہے ہیں یہ (کفار مکّہ) مگر ایک کڑک کی جس کے بعد کوئی مہلت نہیں ہو گی

﴿16﴾ اور (مذاقاً) کہتے ہیں اے ہمارے رب جلدی دے دے ہمارے حصہ (کا عذاب) یوم حساب سے پہلے

﴿17﴾ (اے حبیب!) ان کی (نا معقول ) باتوں پر اور یاد فرماؤ ہمارے بندے داؤد کو جو بڑا طاقتور تھا وہ (ہماری طرف) بہت رجوع کرنے والا تھا

﴿18﴾ ہم نے فرمانبردار بنا دیا تھا پہاڑوں کو وہ ان کے ساتھ تسبیح پڑھتے تھے عشاء اور اشراق کے وقت

﴿19﴾ اور پرندوں کو، وہ بھی تسبیح کے وقت جمع ہو جاتے سب ان کے فرمانبردار تھے

﴿20﴾ اور ہم نے مستحکم کر دیا ان کی حکومت کو اور ہم نے بخشی انہیں دانائی اور فیصلہ کُن بات کرنے کا ملکہ

﴿21﴾ اور کیا آئی ہے آپ کے پاس اطلاع قریقان مقدمہ کی جب انہوں نے دیوار پھاندی عبادت گاہ کی

﴿22﴾ اور جب اچانک داخل ہوئے داؤد پر پس آپ کچھ گھبرا گئے ان سے ۔ انہوں نے کہا ڈرئیے نہیں ہم تو مقدمہ کے دو فریق ہیں ، زیادتی کی ہے ہم میں سے ایک نے دوسرے پر آپ ہمارے درمیان انصاف سے فیصلہ فرمائیے اور بےانصافی نہ کیجیے اور دکھائیے ہمیں سیدھا راستہ

﴿23﴾ (صُورت نزاع یہ ہے کہ) یہ میرا بھائی ہے اور اس کی ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے اب یہ کہتا ہے کہ وہ بھی میرے حوالے کر دے اور سختی کرتا ہے میرے ساتھ گفتگو میں

﴿24﴾ آپ نے فرمایا بےشک اس نے ظلم کیا ہے تم پر یہ مطالبہ کر کے تیری دنبی کو اپنی دنبی میں ملا دے اور اکثر حصہ دار زیادتی کرتے ہیں ایک دوسرے پر سوائے ان حصہ داروں کے جو ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے اور ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں ۔ اور فوراً خیال آگیا داؤد کو ہم نے اسے آزمایا ہے سو وہ معافی مانگنے لگ گئے اپنے رب سے اور گِر پڑے رکوع میں اور (دل وجان سے) اس کی طرف متوجہ ہو گئے

﴿25﴾ پس ہم نے بخش دی ان کی یہ تقصیر ۔ اور بیشک ان کے لیے ہمارے ہاں بڑا قرب ہے اور خوبصورت انجام ہے

﴿26﴾ اے داود ہم نے مقرر کیا آپ کو (اپنا) نائب زمین میں پس فیصلہ کیا کرو لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ اور نہ پیروی کیا کرو ہوائے نفس کی وہ بہکا دے گی تمہیں راہ خدا سے ۔ بیشک جو لوگ بھٹک جاتے ہیں راہ خدا سے ان کے لیے سخت عذاب ہے اس لیے کہ انہوں نے بھلا دیا تھا یوم حساب کو

﴿27﴾ اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے بےفائدہ یہ تو کفار کا گمان ہے پس بربادی ہے کفّار کے لیے آگ (کے عذاب) سے

﴿28﴾ کیا ہم بنا دیں گے انہیں جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ، ان لوگوں کی مانند جو فساد برپا کرتے ہیں زمین میں ۔ یا ہم بنا دیں گے پرہیزگاروں کو فاجروں کی طرح

﴿29﴾ یہ کتاب ہے جو ہم نے اتاری ہے آپ کی طرف ، بڑی بابرکت ، تاکہ وہ تدبر کریں اس کی آیتوں میں اور تاکہ نصیحت پکڑیں عقلمند

﴿30﴾ اور ہم نے عطا فرمایا داؤد کو سلیمان (جیسا فرزند) بڑی خوبیوں والابندہ، بہت رجوع کرنے والا

﴿31﴾ جب پیش کیے گئے آپ پر سہ پہر کو تین پاؤں پر کھڑے ہونے والے تیز رفتار گھوڑے

﴿32﴾ تو آپ نے کہا مجھے ان گھوڑوں کی محبت پسند آئی ہے اپنے رب کی یاد کے لیے (پھر انہیں چلانے کا حکم دیا) یہاں تک کہ چھپ گئے پردہ کے پیچھے

﴿33﴾ (حکم دیا) واپس لاؤ انہیں میرے پاس تو ہاتھ پھیرنے لگے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر

﴿34﴾ اور ہم نے فتنہ میں ڈالا سلیمان (علیہ السلام) کو اور ڈال دیا ان کے تحت پر ایک بےجان جسم

﴿35﴾ پھر وہ (ہماری طرف) متوجہ ہوئے عرض کی میرے رب! مجھے معاف فرما دے اور عطا فرما مجھے ایسی حکومت جو کسی کو میسر نہ ہو میرے بعد۔ بےشک تو ہی نے انداز عطا کرنے والا ہے

﴿36﴾ پس ہم نے ہوا کو آپ کا فرمانبردار بنا دیا ۔ چلتی تھی آپ کے حسب حکم آرام سے جِدھر آپ چاہتے

﴿37﴾ اور سب دیو بھی ماتحت کر دیے کوئی معمار اور کوئی غوطہ خور

﴿38﴾ اور ان کے علاوہ (جو سر کش تھے) باندھ دیے گئے زنجیروں میں

﴿39﴾ (اے سلیمان!) یہ ہماری عطا ہے چاہے (کسی کو بخش کر) احسان کر چاہے اپنے پاس رکھ

﴿40﴾ تم سے کوئی باز پرس نہ ہو گی ۔ اور بیشک انہیں ہمارے ہاں بڑا قرب حاصل ہے اور خوبصورت انجام

﴿41﴾ اور یاد فرمائیے ہمارے بندے ایوب کو جب انہوں نے پکارا اپنے رب کو (الہٰی) پہنچائی ہے مجھے شیطان نے بہت تکلیف اور دکھ

﴿42﴾ (حکم ہوا) اپنا پاؤں (زمین پر) مارو۔ یہ نہانے کے لیے ٹھنڈا پانی ہے اور پینے کے لیے

﴿43﴾ اور ہم نے عطا فرمایا انہیں ان کا اہل و عیال اور ان کی مانند اور ان کے ساتھ بطور رحمت اپنی جناب سے اور بطور نصیحت اہل عقل کے لیے

﴿44﴾ اور ( حکم ملا ) پکڑ لو اپنے ہاتھ سے تنکوں کا ایک مٹھا اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو بیشک ہم نے پایا انہیں صبر کرنے والا، بڑا خوبیوں والا بندہ، ہر وقت ہماری طرف متوجہ

﴿45﴾ اور یاد فرماؤ ہمارے (مقبول) بندوں ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب کو بڑی قوتوں والے اور روشن دل تھے

﴿46﴾ ہم نے مختص کیا تھا انہیں ایک خاص چیز سے اور وہ دار آخر ت کی یاد تھی

﴿47﴾ اور یہ (حضرات) ہمارے نزدیک چنے ہوئے بہترین لوگ ہیں

﴿48﴾ اور یاد فرمائیے اسمعیل، یسع اور ذی الکفل کو یہ سب بہترین لوگوں میں سے ہیں

﴿49﴾ نہ نصیحت ہے اور بےشک پرہیزگاروں کے لیے بہت عمدہ ٹھکانا ہے

﴿50﴾ سدا بہار باغات، کُھلے ہوں گے ان کے لیے سب دروازے

﴿51﴾ تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے ان میں۔ طلب فرماتے ہوں گے وہاں طرح طرح کے پھل اور مشروبات

﴿52﴾ اور ان کے پاس نیچی نگاہوں والی (عمر، جمال و کمال ہیں) ہم مثل (حوُریں) ہوں گی ۔

﴿53﴾ یہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا کہ روز حساب (تمہیں ملے گا)

﴿54﴾ بیشک یہ ہمارا (دیا ہوا) رزق ہے جو کبھی ختم نہ ہو گا

﴿55﴾ یہ (تو پرہیزگاروں کے لیے) اور بلاشبہ سر کشوں کے لیے برا ٹھکانا ہو گا

﴿56﴾ (یعنی ) جہنّم۔ وہ داخل ہوں گے اس میں۔ تو یہ کتنا تکلیف دہ بچھونا ہے

﴿57﴾ یہ کھولتا پانی اور پیپ ہے پس چاہیے کہ وہ اسے چکھیں

﴿58﴾ اور اس کے علاوہ اس کی مانند طرح طرح کا عذاب

﴿59﴾ یہ (لو) دوسری فوج گھُسنا چاہتی ہے تمہارے ساتھ کوئی خوش آمدید نہیں انہیں یہ ضرور آگ تانپے والے ہیں

﴿60﴾ وہ کہیں گے (ظالمو!) تمہیں کوئی خوش آمدید نہ ہو تم نے ہی آگے کیا اس عذاب کو ہمارے لیے سو بہت برا ٹھکانا ہے

﴿61﴾ کہیں گے اے ہمارے رب! جس (بدبخت ) نے آگے کیا ہے ہمارے لیے یہ عذاب پس بڑھا دے اس کا عذاب دوگُنا آگ میں

﴿62﴾ اور کہیں گے کیا وجہ ہے کہ ہمیں نظر نہیں آرہے (یہاں) وہ لوگ جنہیں ہم شمار کرتے تھے برے لوگوں میں

﴿63﴾ ہم جن کا تمسخر اڑایا کرتے تھے یا پھر گئی ہیں ان کی طرف سے ہماری آنکھیں

﴿64﴾ یقیناً یہ سچ ہے دوزخی آپس میں جھگڑیں گے

﴿65﴾ (اے حبیب!) آپ فرمائیے میں تو فقط ڈرانے والا ہوں اور نہیں ہے کوئی خدا مگر اللہ جو ایک ہے سب پر غالب ہے

﴿66﴾ مالک ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے عزت والا ، بہت بخشنے والا

﴿67﴾ فرمائیے یہ بڑی اہم اور عظیم خبر ہے

﴿68﴾ تم اس سے منہ موڑے ہوئے ہو

﴿69﴾ مجھے کوئی علم نہ تھا عالم بالا کے بارے میں جب وہ جھگڑ رہے تھے

﴿70﴾ نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہ کہ میں کھلا ڈرانے والا ہوں

﴿71﴾ (اے حبیب!) یاد فرمائیے جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے کہ میں پیدا کرنیوالا ہوں بشر کو کیچڑ سے

﴿72﴾ پس جب میں اس کو سنوار دوں اور پھُونک دوں اس میں اپنی (طرف سے خاص ) روح تو تم گِر پڑنا اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے

﴿73﴾ پھر سجدہ کیا سب کے سب فرشتوں نے

﴿74﴾ سوائے ابلیس کے۔ اس نے گھمنڈ کیا اور ہو گیا کافروں سے

﴿75﴾ ارشاد ہوا اے ابلیس! کس چیز نے باز رکھا تمھیں اس کو سجدہ کرنے سے جسے میں نے پیدا کیا اپنے دونوں ہاتھوں سے کیا تو نے تکبر کیا یا تو اپنے آپ کو اس سے عالی مرتبہ خیال کرتا ہے

﴿76﴾ وہ (گستاخ) بولا میں بہتر ہوں اس سے تو نے پیدا کیا ہے مجھے آگ سے اور پیدا کیا ہے اسے کیچڑ سے

﴿77﴾ حکم ملا (اے بےحیا!) نکل جا جنت سے بیشک تو پھٹکارا گیا

﴿78﴾ اور بےشک تجھ پر میری لعنت برسے گی قیامت تک

﴿79﴾ ابلیس بولا (اگر یہی اٹل فیصلہ ہے) تو میرے رب! مجھے مہلت دیجیے روز حشر تک

﴿80﴾ جواب ملا بےشک تو مہلت دیے جانے والوں میں سے ہے

﴿81﴾ (یہ مہلت) مقررہ وقت کے دن تک ہے

﴿82﴾ کہنے لگا تیری عزت کی قسم ! میں ضرور گمراہ کر دوں گا ان سب کو

﴿83﴾ سوائے تیرے ان بندوں کے جنہیں ان میں سے تونے چُن لیا ہے

﴿84﴾ فرمایا تو میں حق ہوں اور میں سچ ہی کہتا ہوں

﴿85﴾ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اور تیرے سب فرماں برداروں سے

﴿86﴾ آپ فرمائیے میں نہیں مانگتا تم پر اس سے کوئی اجر اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں

﴿87﴾ نہیں ہے یہ (قرآن ) مگر نصیحت سب جہانوں کے لیے

﴿88﴾ اور (اے کفار!) تم ضرور جان لو گے اس کی خبر کچھ عرصہ بعد

الزمر

Surah 39

﴿1﴾ اتاری گئی ہے یہ کتاب اللہ کی طرف سے جو عزیز (اور) حکیم ہے

﴿2﴾ ہم نے اتاری ہے آپ کی طرف یہ کتاب حق کے ساتھ پس آپ عبادت کریں اللہ کی خالص کرتے ہوئے اس کے لیے اطاعت کو

﴿3﴾ خبردار! صرف اللہ کے لیے ہے دین خالص اور جنہوں نے بنا لیا اللہ کے سوا اور والی (اور کہتے ہیں) ہم نہیں عبادت کرتے ان کی مگر محض اس لیے کہ یہ ہمیں اللہ کا مقرب بنا دیں بیشک اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمائے گا ان کے درمیان جن باتوں میں یہ اختلاف کیا کرتے ہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا اس کو جو جھوٹا (اور) بڑا نا شکرا ہو

﴿4﴾ اگر اللہ چاہتا کہ کسی کو بیٹا بنائے تو چن لیتا اپنی مخلوق سے جس کو چاہتا وہ پاک ہے وہی اللہ ہے جو ایک ہے، سب سے زبردست

﴿5﴾ اس نے پیدا فرمایا ہے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ وہ لپیٹتا ہے رات کو دن پر اور لپیٹتا ہے دن کو رات پر اور اس نے مسخر کر دیا ہے سورج اور چاند کو ۔ ہر ایک رواں ہے مقررہ میعاد تک غور سے سنو! وہی عزت والا (اور) بہت بخشنے والا ہے

﴿6﴾ اس نے پیدا کیا ہے تمہیں فرد واحد سے پھر بنایا اسی سے اس کا جوڑا اور پیدا کیے تمہارے لیے جانوروں میں سے آٹھ جوڑے وہ پیدا فرماتا ہے تمہیں تمہاری ماؤں کے شکموں میں (تدریجاً) ایک حالت سے دوسری حالت تین اندھیروں میں یہ (قدرت والا) اللہ تمہارا رب ہے، اسی کی حکومت ہے نہیں کوئی معبود بجز ا س کے پھر تم کدھر منہ پھیر کر جا رہے ہو

﴿7﴾ اگر تم نا شکری کرتے ہو تو بےشک اللہ کو تمہاری کوئی ضرورت نہیں ، اور وہ پسند نہیں کرتا اپنے بندوں سے نا شکری کو اور اگر تم شکر ادا کرو تو وہ پسند کرتا ہے اسے تمہارے لیے اور نہیں اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ پھر اپنے رب کی طرف تمہیں لوٹنا ہے پس وہ آگاہ کرے گا تمہیں ان کاموں سے جو تم کیا کرتے تھے۔ بیشک وہ خوب جاننے والا ہے سینوں کے رازوں کو

﴿8﴾ اور جب پہنچتی ہے انسان کو کوئی تکلیف (اسوقت) پکارتا ہے اپنے رب کو دل سے رجوع کرتے ہوئے اس کی طرف پھر جب عطا کرتا ہے اسے نعمت اپنی (جناب) سے تو بھول جاتا ہے اس تکلیف کو جس کے لیے فریاد کرتا رہا تھا اس سے پہلے، اور بناتا ہے اللہ کو ہم مثل تاکہ بہکا دے اس کی راہ سے ۔ (اے مصطفی! آپ اسے) فرمائیے لطف اٹھا لے اپنے کفر سے تھوڑے دن بیشک تو دوزخیوں میں سے ہے

﴿9﴾ بھلا جو شخص عبادت میں بسر کرتا ہے رات کی گھڑیاں کبھی سجدہ کرتے ہوئے کبھی کھڑے ہوئے (بایں ہمہ) ڈرتا ہے آخرت سے اور امید رکھتا ہے اپنے رب کی رحمت سے آپ پوچھیے کیا کبھی برابر ہو سکتے ہیں علم والے اور جاہل البتہ صرف عقلمند ہی نصیحت قبول کرتے ہیں

﴿10﴾ آپ فرمائیے ! اے میرے بندو جو ایمان لے آئے ہو ڈرتے رہا کرو اپنے رب سے (اور یاد رکھو) ا ن کے لیے جنہوں نے نیک اعمال کیے اس دنیا میں نیک صلہ ہے اور اللہ کی زمین بڑی وسیع ہے (مصائب و آلام میں) صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بےحساب دیا جائے گا

﴿11﴾ فرمائیے ! مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں خالص کرتے ہوئے اس کے لیے اطاعت کو

﴿12﴾ اور مجھے حکم دیا گیا کہ میں سب سے پہلا مسلمان بنوں

﴿13﴾ آپ فرمائیے میں ڈرتا ہوں اگر میں حکم عدولی کروں اپنے رب کی، اس بڑے دن کے عذاب سے

﴿14﴾ فرمائیے اللہ کی ہی میں عبادت کرتا ہوں خالص کرتے ہوئے اس کے لیے اپنے دین کو

﴿15﴾ پس تم عبادت کرو جس کی چاہو اس کے سوا (نیز) فرما دیجیے اصل نقصان اٹھانے والے وہ ہیں جو گھاٹے میں ڈالیں گے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن ۔ سنو! یہی کھلا گھاٹا ہے

﴿16﴾ ان (بدبختوں) کے لیے اوپر سے بھی آگ کے شعلے ہوں گے اور نیچے سے بھی آگ کے شعلے اس (عذاب الیم ) سے ڈراتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ، اے میرے بندو! مجھ سے ڈرتے رہا کرو

﴿17﴾ اور جو لوگ بچتے ہیں شیطان سے کہ اس کی عبادت کریں اور (دل سے) جھکتے ہیں اللہ کی طرف، ان کے لیے مژدہ ہے پس آپ مژدہ سنا دیں میرے ان بندوں کو

﴿18﴾ جو غور سے سنتے ہیں بات کو پھر پیروی کرتے ہیں اچھی بات کی یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی ہے اور یہی لوگ دانشور ہیں

﴿19﴾ بھلا جس پر واجب ہو گیا عذاب کا حکم تو کیا آپ چھڑا سکتے ہیں اسے جو آگ میں ہے

﴿20﴾ البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لیے بالا خانے ہیں جن کے اوپر اور بالاخانہ بنے ہوئے ہیں رواں ہیں جن کے نیچے سے نہریں ۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کیا کرتا

﴿21﴾ کیا تم نہیں دیکھتے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ نے اتارا ہے آسمان سے پانی ۔ پھر جاری کیا اسے زمین کے چشموں سے پھر اگاتا ہے اس کے ذریعے فصلیں جن کے رنگ جدا جدا ہیں پھر وہ خشک ہونے لگتی ہے پس تو دیکھتا ہے اسے زردی مائل پھر وہ اس کو چورا چورا کر دیتا ہے ۔ یقیناً اس (کر شمہ قدرت ) میں نصیحت ہے اہل عقل کے لیے

﴿22﴾ بھلا وہ (سعادتمند) کشادہ فرما دیا ہو جس کا سینہ اسلام کے لیے تو وہ اپنے رب کی طرف سے دیے ہوئے نور پر ہے پس ہلاکت ہے ، ان سخت دلوں کے لیے جو ذکر خدا سے متاثر نہیں ہوتے یہی لوگ کھلی گمراہی میں ہیں

﴿23﴾ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے نہایت عمدہ کلام یعنی وہ کتاب جس کی آیتیں ایک جیسی ہیں ، بار بار دہرائی جاتی ہیں اور کانپنے لگتے ہیں اس کے (پڑھنے ) سے بدن ان کے جو ڈرتے ہیں اپنے پروردگار سے ۔ پھر نرم ہو جاتے ہیں ان کے بدن اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف یہ اللہ کی ہدایت ہے راہنمائی کرتا ہے اس کے ذریعے جسے چاہتا ہے اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے تو اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں

﴿24﴾ بھلا وہ شخص جو ڈھال بنائے گا شدید عذاب کے سامنے اپنے چہرے کو روز قیامت (وہ کتنا بد نصیب ہو گا) اور کہا جائے گا ظالموں کو (اب) چکھو جو کچھ تم کمایا کرتے تھے

﴿25﴾ جھٹلایا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے گزرے تو آیا ان پر عذاب وہاں سے جہاں سے وہ سمجھ ہی نہ سکتے تھے

﴿26﴾ پس چکھائی انہیں اللہ نے ذلّت اس دنیوی زندگی میں اور آخرت کا عذاب اس سے بھی بڑا ہے ۔ کاش! وہ جان لیتے

﴿27﴾ اور ہم نے بیان کی ہیں لوگوں کے لیے اس قرآن (حکیم) میں ہر قسم کی مثالیں تاکہ وہ نصیحت قبول کریں

﴿28﴾ اور ہم نے دیا ہے (انہیں) قرآن جو عربی زبان میں ہے جس میں ذرا کجی نہیں تاکہ وہ اللہ سے ڈریں

﴿29﴾ بیان فرمائی ہے اللہ تعالیٰ نے ایک مثال ایک غلام ہے جس میں کئی حصہ دار ہیں جو سخت بدخو ہیں اور ایک غلام ہے جو پورا ایک مالک کا ہے کیا ان دونوں کا حال یکساں ہے سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ۔ لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو) نہیں جانتے

﴿30﴾ (بیشک آپ نے بھی دنیا سے) انتقال فرمانا ہے اور انہوں نے بھی مرنا ہے

﴿31﴾ پھر تم (سب) روز محشر اپنے رب کے حضور میں آپس میں جھگڑو گے

﴿32﴾ پس اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے اور تکذیب کرتا ہے اس سچ کی جب وہ اس کے پاس آیا۔ کیا جہنم میں کفار کا ٹھکانا نہیں ہے ؟

﴿33﴾ اور وہ ہستی جو اس سچ کو لے کر آئی اور جنہوں نے اس سچائی کی تصدیق کی یہی لوگ ہیں جو پرہیزگار ہیں

﴿34﴾ انہیں ملے گا جو وہ چاہیں گے اپنے رب کے پاس سے یہ صلہ ہے محسنوں کا

﴿35﴾ تا کہ ڈھانپ لے اللہ تعالیٰ ان سے ان کے بدترین اعمال کو اور عطا فرمائے انہیں اجر ان کے بہترین اعمال کا جو وہ کیا کرتے تھے

﴿36﴾ کیا اللہ کافی نہیں اپنے بندے کے لیے ؟ (یقیناً کافی ہے) اور وہ (نادان) ڈراتے ہیں آپ کو ان معبودوں سے جو اللہ کے سوا ہیں ۔ اور جسے اللہ گمراہ ہونے دے تو اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں

﴿37﴾ اور جس کو ہدایت بخش دے اللہ تعالیٰ تو اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں کیا نہیں ہے اللہ تعالیٰ زبردست، انتقام لینے والا

﴿38﴾ اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو؟ تو ضرور کہیں گے اللہ نے آپ فرمائیے پھر ذرا یہ تو بتاؤ کہ جن کو تم پوجتے ہو اللہ کے سوا اگر اللہ تعالیٰ مجھے کوئی تکلیف پہچانا چاہے تو کیا وہ روک سکتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کو ۔ فرما دیجیے مجھے کافی ہے اللہ تعالیٰ فقط اسی پر بھروسہ کرتے ہیں بھروسہ کرنے والے

﴿39﴾ فرمائیے اے میری قوم ! تم عمل کیے جاؤ اپنی جگہ پر میں اپنا کام کرتا رہوں گا ۔ پس تم ضرور جان لو گے

﴿40﴾ کہ کس پر آتا ہے عذاب جو اسے رسوا کر دے گا اور کون ہے جس پر دائمی عذاب اترتا ہے

﴿41﴾ (اے حبیب!) ہم نے اتاری ہے آپ پر یہ کتاب لوگوں (کی ہدایت) کے لیے حق کے ساتھ پس جو ہدایت قبول کرتا ہے تو وہ اپنا بھلا کرتا ہے اور جو بہکتا ہے تو وہ بہکتا ہے اپنے آپ کو گمراہ کرنے کے لیے اور آپ ان (بدبختوں ) کے ذمہ دار نہیں

﴿42﴾ اللہ تعالیٰ قبض کرتا ہے جانوں کو موت کے وقت اور جن کی موت کا وقت ابھی نہیں آیا (ان کی روحیں) حالت نیند میں . پھر روک لیتا ہے ان روحوں کو جن کی موت کا فیصلہ کرتا ہے اور واپس بھیج دیتا ہے دوسری روحوں کو مقررہ میعاد تک بےشک اس میں (اس کی قدرت کی) نشانیاں ہیں ان کے لیے جو غورو فکر کرتے ہیں

﴿43﴾ کیا انہوں نے بنا لیا ہے اللہ کو چھوڑ کر اور سفارشی پوچھیے اگرچہ وہ (مزعومہ سفارشی) کسی چیز کے مالک نہ ہوں اور نہ عقل و شعور رکھتے ہوں

﴿44﴾ آپ فرمائیے سب شفاعت اللہ کے اختیار میں ہے اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی ۔ پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے

﴿45﴾ اور جب ذکر کیا جائے اکیلے اللہ کا تو کڑھنے لگتے ہیں ان لوگوں کے دل جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور جب ذکر کیا جاتا ہے اس کے سوا دوسروں کا تو اسی وقت وہ خوشیاں منانے لگتے ہیں

﴿46﴾ آپ عرض کیجئے اے اللہ! اے پیدا کرنے والے آسمانوں اور زمین کے اے جاننے والے غیب اور شہادت کے وہی فیصلہ فرمائے گا اپنے بندوں کے درمیان، ان امور مین جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے

﴿47﴾ اور اگر ان کے پاس جنہوں نے شرک کیا زمین میں جو کچھ ہے سب ہو اور اور اتنا اور بھی اس کے ساتھ ، تو چاہیں گے کہ بطور فدیہ ادا کر دیں اسے برے عذاب کے عوض، قیامت کے دن اور (اس روز) ظاہر ہو جائے گا ان پر اللہ کی طرف سے سے جس کا وہ گمان بھی نہیں کیا کرتے تھے

﴿48﴾ اور ظاہر ہو جائیں گے ان پر وہ برے اعمال جو انہوں نے کمائے تھے اور گھیرلے گا انہیں وہ (عذاب) جس کا یہ مذاق اڑایا کرتے تھے

﴿49﴾ پس جب پہنچتی ہے انسان کو کوئی تکلیف تو ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم عطا کر دیتے ہیں اسے نعمت اپنی جناب سے تو کہنے لگتا ہے کہ یہ نعمت مجھے دی گئی ہے (اپنے) علم (وفضل) کے باعث۔ (اے غافل ! یوں نہیں) بلکہ یہ آزمائش ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

﴿50﴾ کہی تھی یہی بات ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے (جب ہم نے انہیں پکڑا) تو نہ فائدہ پہنچایا انہیں (مال و دولت نے) جو وہ کمایا کرتے تھے

﴿51﴾ پس جو برے کام انہوں نے کیے ان کا نتیجہ انہیں بھگتنا پڑا اور جنہوں نے ظلم کیا ہے ان لوگوں میں سے انہیں بھی عنقریب اپنی بد اعمالیوں کی سزا بھگتنی ہو گی اور یہ (عاجز) نہیں کر سکتے

﴿52﴾ کیا وہ نہیں جانتے کہ بےشک اللہ تعالیٰ کشادہ عطا فرماتا ہے رزق جس کو چاہتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے (جسکو چاہتاہے) یقیناً اس (تقسیم رزق) میں اس کی (حکمت کی) نشانیاں ہیں اہل ایمان کے لیے

﴿53﴾ آپ فرمائیے اے میرے بندو! جنہوں نے زیادتیاں کی ہیں اپنے نفسوں پر ، مایوس نہ ہو جاؤ اللہ کی رحمت سے یقیناً اللہ تعالیٰ بخش دیتا ہے سارے گناہوں کو بلاشبہ وہی بہت بخشنے والا ، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے

﴿54﴾ اور (سچے ) دل سے لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف اور سر خم کر دو اس کے سامنے اس سے پہلے کہ آجائے تم پر عذاب پھر تمہاری مدد نہ کی جائے گی

﴿55﴾ اور پیروی کرو عمدہ کلام کی جو اتارا گیا ہے تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اس سے بیشتر کے تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمہیں خبر تک نہ ہونے پائے

﴿56﴾ (اس وقت) کوئی شخص یہ کہنے لگے صد حیف! ان کوتاہیوں پر جو مجھ سے سرزد ہوئیں اللہ کے بارے میں اور میں تو تمسخر اڑانے والوں سے تھا

﴿57﴾ یا یہ کہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت دے دیتا تو میں ہو جاتا پرہیزگاروں میں سے

﴿58﴾ یا یہ کہنے لگے جب عذاب دیکھے کاش! مجھے ایک بار پھر موقع دیا جائے تو میں نیکو کاروں میں سے ہو جاؤں گا

﴿59﴾ ہاں ! ہاں! آئی تھیں تیرے پاس میری آیتیں پس تو نے انہیں جھٹلایا اور تو گھمنڈ کرتا رہا اور تو کفر کرنے والوں میں سے تھا

﴿60﴾ اور روز قیامت آپ دیکھیں گے انہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھتے تھے اس حال میں کہ ان کے چہرے سیاہ ہونگے ۔ کیا نہیں ہے جہنم میں ٹھکانا تکبّر کرنے والوں کا ؟

﴿61﴾ اور نجات دے گا اللہ تعالیٰ متقیوں کو کامیابی کے ساتھ نہ چھوئے گی انہیں کوئی تکلیف اور نہ وہ غمگین ہوں گے

﴿62﴾ اللہ تعالیٰ پیدا کرنے والا ہے ہر چیز کا ۔ اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے

﴿63﴾ وہی مالک ہے آسمانوں اور زمین کی کنجیوں کا اور جو لوگ انکار کرتے ہیں اللہ کی آیتوں کا وہی لوگ خسارے میں ہیں

﴿64﴾ آپ فرمائیے اے جاہلو! کیا تم مجھے حکم دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کروں

﴿65﴾ اور بےشک وحی کی گئی ہے آپ کی طرف اور ان کی طرف جو آپ سے پہلے تھے کہ اگر (بفرض محال) آپ نے بھی شرک کیا تو ضائع ہو جائینگے آپ کے اعمال اور آپ بھی خاسرین میں سے ہو جائیں گے

﴿66﴾ بلکہ صرف اللہ ہی کی عبادت کیا کرو اور ہو جاؤ شکر گزاروں میں سے

﴿67﴾ اور نہ قدر پہچانی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی جس طرح قدر پہچاننے کا حق تھا اور (اس کی شان تو یہ ہے) ساری زمین اسکی مٹھی میں ہو گی قیامت کے دن اور سارے آسمان لپٹے ہوئے اس کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے پاک ہے وہ ہر عیب سے اور برتر ہے لوگوں کے شرک سے

﴿68﴾ اور پھونکا جائے گا صور پس غش کھا کر گر پڑے گا جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے بجز ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ چاہے گا (کہ بیہوش نہ ہوں) پھر دوبارہ (جب) اسمیں پھونکا جائے گا تو اچانک وہ کھڑے ہو کر (حیرت سے) دیکھنے لگ جائیں گے

﴿69﴾ اور جگمگا اٹھے گی زمین اپنے رب کے نور سے اور رکھ دیا جائے گا دفتر عمل اور حاضر کیے جائیں گے انبیاء اور (دوسرے) گواہ اور فیصلہ کر دیا جائے گا ان کے درمیان انصاف سے اور ان پر (رتی بھر) ظلم نہیں کیا جائے گا

﴿70﴾ اور پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ہر شخص کو جو اس نے کیا تھا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کام وہ لوگ کرتے ہیں

﴿71﴾ اور ہانکے جائیں گے کفار جہنم کی طرف گروہ در گروہ جب اس کے پاس آئیں گے تو کھول دیے جائیں گے اس کے دروازے اور پوچھیں گے ان سے دوزخ کے پہرے دار کیا نہیں آئے تھے تمہارے پاس پیغمبر تم میں سے جو پڑھ کر سناتے تمہیں تمہارے رب کی آیتیں اور ڈراتے تمہیں اس دن کی ملاقات سے ۔ کہیں گے بیشک آئے تھے لیکن ثبت ہو چکا تھا (لوح محفوظ میں) عذاب کا حکم کفار پر

﴿72﴾ انہیں کہا جائے گا داخل ہو جاؤ دوزخ کے دروازوں سے اس حال میں کہ تم ہمیشہ اس میں رہو گے ۔ پس کتنا برا ٹھکانا ہے مغروروں کا

﴿73﴾ اور لے جایا جائے گا انہیں جو ڈرتے رہے تھے (عمر بھر) اپنے رب سے جنت کی طرف گروہ در گروہ حتیٰ کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور جنت کے دروازے پہلے ہی کھول دیے گئے ہونگے تو کہیں گے انہیں جنت کے محافظ تم پر سلام ہو تم خوب رہے پس اندر تشریف لے چلو ہمیشہ ہمیش کے لیے

﴿74﴾ اور وہ ( خوش بخت) کہیں گے ساری تعریفیں اس اللہ (کریم) کے لیے جس نے پورا فرمایا ہمارے ساتھ اپنا وعدہ اور وارث بنا دیا ہمیں اس (پاک) زمین کا اب ہم ٹھہریں گے جنت میں جہاں چاہیں گے ۔ پس کتنا عمدہ اجر ہے نیک کام کرنے والوں کا

﴿75﴾ اور (اے حبیب!) آپ دیکھیں گے فرشتوں کو حلقہ باندھے کھڑے ہونگے عرش کے ارد گرد تسبیح پڑھ رہے ہونگے اپنے رب (جلیل) کی حمد وثناء کے ساتھ اور فیصلہ کر دیا گیا ہوگا ان کے درمیان حق کے ساتھ ۔ اور کہا جائے گا سب تعریفیں اللہ کے لیے جو رب العالمین ہے

المومن

Surah 40

﴿1﴾ حا ۔ میم

﴿2﴾ اتاری گئی ہے یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ، جو زبردست ہے سب کچھ جاننے والا ہے

﴿3﴾ گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول فرمانے والا سخت سزا دینے والا فضل و کرم فرمانے والا ہے نہیں کوئی معبود اس کے سوا اسی کی طرف (سب نے ) لوٹنا ہے

﴿4﴾ نہیں تنازعہ کیا کرتے اللہ کی آیتوں میں مگر کافر پس نہ دھوکے میں ڈالے تمہیں ان لوگوں کا (بڑے کرّو فر سے) آنا جانا مختلف شہروں میں

﴿5﴾ جھٹلایا تھا ان سے پہلے قوم نوح نے اور کئی (دوسرے) گروہوں نے ان کے بعد۔ اور قصد کیا ہر امت نے اپنے رسول کے متعلق کہ اسے گرفتار کر لیں اور جھگڑتے رہے (اس کے ساتھ) نا حق ۔ تاکہ جھٹلا دیں اس کے ذریعے حق کو ۔ پس میں نے پکڑ لیا انہیں ۔ پس کتنا شدید تھا میرا عذاب

﴿6﴾ اور اسی طرح واجب ہو گیا اللہ کا فیصلہ کفار پر کہ وہ دوزخی ہیں

﴿7﴾ جو فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں عرش کو اور وہ جو عرش کے ارد گرد (حلقہ زن) ہیں وہ تسبیح کرتے ہیں حمد کے ساتھ اپنے رب کی اور ایمان رکھتے ہیں اس پر اور استغفار کیا کرتے ہیں ایمان والوں کے لیے (کہتے ہیں) اے ہمارے رب! تو گھیرے ہوئے ہے ہر شے کو (اپنی) رحمت اور علم سے پس بخشدے انہیں جنہوں نے (کُفر سے) توبہ کی ہے اور پیروی کی ہے تیرے راستے کی اور بچا لے انہیں عذاب جہنم سے

﴿8﴾ اے ہمارے رب ! داخل فرما انہیں سدا بہار باغوں میں جن کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے اور جو قابل بخشش ہیں ان کے والدین ، ان کی بیویاں اور ان کی اولاد سے ۔ بیشک تو ہی سب سے زیادہ زبردست (اور) حکمت والا ہے

﴿9﴾ اور بچا لے انہیں سزاؤں سے اور جس کو تو بچا لے سزاوں سے اس دن تو گویا تو نے بڑی رحمت فرمائی اس پر اور یہی ہے بہت بڑی کامیابی

﴿10﴾ بے شک جن لوگوں نے کفر کیا انہیں ندا دی جائے گی کہ اللہ تعالیٰ کی (تم سے) بیزاری بہت زیادہ ہے اس بیزاری سے جو تمہیں اپنے آپ سے ہے (یاد ہے) جب تم بلائے جاتے ایمان کی طرف تو تم کفر کیا کرتے

﴿11﴾ وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! تو نے ہمیں دو مرتبہ موت دی اور دو مرتبہ زندہ کیا پس اب ہم اعتراف کرتے ہیں اپنے گناہوں کا۔ سو کیا (یہاں سے) نکلنے کی بھی کوئی صورت ہے

﴿12﴾ اس کی وجہ یہ تھی کہ جب پکارا جاتا اللہ تعالیٰ کو اکیلا تو تم انکار کر دیتے اور اگر شریک بنایا جاتا کسی کو اس کا تو تم مان لیتے پس حکم کا اختیار اللہ کے لیے ہے جو برتر اور بزرگ ہے

﴿13﴾ اور وہی ہے جو دکھاتا ہے تمہیں اپنی آیتیں اور نازل فرماتا ہے تمہارے لیے آسمان سے رزق اور نہیں نصیحت قبول کرتا مگر وہ جو (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا ہے

﴿14﴾ تو عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی خالص کرتے ہوئے اس کے لیے دین کو اگرچہ نا پسند کریں کفار

﴿15﴾ بلند درجات پر فائز کرنے والا ، عرش کا مالک نازل فرماتا ہے وحی اپنے فضل سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے تاکہ وہ ڈرائے ملاقات کے دن سے

﴿16﴾ وہ دن جب وہ ظاہر ہوں گے پوشیدہ نہ ہو گی اللہ تعالیٰ پر ان کے حالات سے کوئی شے کس کی بادشاہی ہے آج؟ (کسی کی نہیں) صرف اللہ کی جو واحد (اور) قہار ہے

﴿17﴾ آج بدلہ دیا جائے گا ہر نفس کو جو اس نے کمایا تھا ذرا ظلم نہیں ہوگا آج بیشک اللہ تعالیٰ بہت تیزی سے حساب لینے والا ہے

﴿18﴾ اور آپ ڈرائیے انہیں قریب آنے والے دن سے جب کہ دل گلے میں اٹک جائیں گے خوف و دہشت سے بھرے ہوئے نہ ہوگا ظالموں کے لیے کوئی دوست اور نہ ایسا سفارشی جس کی سفارش مانی جائے

﴿19﴾ وہ جانتا ہے خیانت کرنے والی آنکھوں کو اور ان باتوں کو جنہیں سینے چھپائے ہوئے ہیں

﴿20﴾ اور اللہ فیصلہ فرمائے گا حق کے ساتھ اور جنہیں وہ اللہ کے بغیر پکارتے ہیں وہ کسی چیز کا فیصلہ نہیں کر سکتے بےشک اللہ تعالیٰ ہی سب کچھ سننے والا (اور) سب کچھ دیکھنے والا ہے

﴿21﴾ کیا انہوں نے سیر و سیاحت نہیں کی زمین میں تاکہ وہ دیکھتے کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے وہ قوت کے لحا ظ سے بھی ان سے طاقتور تھے اور زمین میں (چھوڑے ہوئے) آثار کے لحاظ سے بھی۔ تو پکڑ لیا انہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کے باعث اور نہیں تھا ان کے لیے اللہ سے کوئی بچانے والا

﴿22﴾ یہ اس لیے کہ لے کر آتے رہے ان کے پاس ان کے رسول روشن نشانیاں تو انہوں نے (ہر بار) ماننے سے انکار کر دیا پس پکڑ لیا انہیں اللہ نے ۔ بےشک وہ بڑا طاقتور سخت سزا دینے والا ہے

﴿23﴾ اور بےشک ہم نے بھیجا موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں اور روشن سند کے ساتھ

﴿24﴾ فرعون ، ہامان اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا (یہ) جا دوگر ہے بڑا جھوٹا ہے

﴿25﴾ پھر جب موسیٰ لے کر آئے ان لوگوں کے پاس حق ہمارے ہاں سے تو انہوں نے کہا کہ قتل کر ڈالو ان لوگوں کے بچوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے اور زندہ چھوڑ دو ان کی لڑکیوں کو اور نہیں ہے کافروں کا ہر مکر مگر رائیگان

﴿26﴾ اور فرعون نے (جھنجھلا کر) کہا مجھے چھوڑ دو میں موسیٰ کو قتل کروں اور وہ بلائے اپنے رب کو (اپنی مدد کے لیے) مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ تمہارا دین بدل نہ دے یا فساد نہ پھیلا دے ملک میں

﴿27﴾ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں پناہ مانگتا ہوں اپنے رب کی اور تمہارے پر وردگار کی ہر اس متکبّر (کے شر) سے جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا

﴿28﴾ اور کہنا لگا ایک مرد مومن جو فرعون کے خاندان سے تھا اور چھپائے ہوئے تھے اپنے ایمان کو کیا تم قتل کرنا چاہتے ہو ایک شخص کو اس وجہ سے کہ وہ کہتا ہے میر اپروردگار اللہ تعالیٰ ہے ، حالانکہ وہ لے آیا ہے تمہارے پاس دلیلیں تمہارے رب کی طرف سے (اسے اپنے حال پر رہنے دو) اگر وہ حقیقتاً جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کی شامت اس پر ہو گی اور اگر وہ سچا ہوا (اور تم نے اس کو گزند پہنچائی) تو ضرور پہنچے گا تمہیں عذاب جس کا اس نے تم سے وعدہ کیا ہے بیشک اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا اسے جو حد سے بڑھنے والا ، بہت جھوٹ بولنے والا ہو

﴿29﴾ اے میری قوم ! مانا آج حکومت تمہاری ہے (نیز تمہیں) غلبہ حاصل ہے اس ملک میں (لیکن مجھے یہ تو بتاؤ) کون بچائے گا ہمیں خدا کے عذاب سے اگر وہ ہم پر آجائے (یہ سن کر) فرعون کہنے لگا میں تو تمہیں وہی مشورہ دیتا ہوں جس کو میں درست سمجھتا ہوں اور نہیں رہنمائی کرتا میں تمہاری مگر سیدھے راستے کی طرف

﴿30﴾ اور کہنے لگا وہی ایمان والا اے میری قوم ! میں ڈرتا ہوں کہ تم پر (بھی کہیں) پہلی قوموں کی تباہی کے دن جیسا دن نہ آجائے

﴿31﴾ جیسا حال ہوا تھا قوم نوح، عاد اور ثمود کا ان لوگوں کا جو ان کے بعد آئے اور اللہ نہیں چاہتا کہ بندوں پر ظلم کرے

﴿32﴾ اور اے میری قوم! میں ڈرتا ہوں تمہارے بارے میں پکار کے دن سے

﴿33﴾ جس روز تم بھاگو گے پیٹھ پھیرتے ہوئے نہیں ہوگا تمہارے لیے اللہ کے (عذاب) سے کوئی بچانے والا اور جسے گمراہ کردے اللہ تعالیٰ اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں

﴿34﴾ (اے میری قوم) بیشک آئے تمہارے پاس یوسف (موسیٰ علیہ السلام) سے پہلے روشن دلائل لے کر ۔ پس تم شک میں گرفتار رہے ا س میں جو وہ لے کر آئے تھے یہاں تک کہ جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہنا شروع کر دیا کہ نہیں بھیجے گا اللہ تعالیٰ ان کے بعد کوئی رسول یونہی گمراہ کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جو حد سے بڑھنے والا ، شک کرنے والا ہوتا ہے

﴿35﴾ (یونہی گمراہ کرتا ہے) انہیں جو جھگڑتے رہتے ہیں آیتوں میں بغیر کسی (معقول) دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو (یہ طریقہ) بڑی ناراضگی کا باعث ہے اللہ کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک۔ اسی طرح مہر لگا دیتا ہے اللہ تعالیٰ ہر مغرور (اور) سر کش کے دل پر

﴿36﴾ اور فرعون نے کہا اے ہامان! بنا میرے لیے ایک اونچا محل (اس پر چڑھ کر) میں ان راہوں تک پہنچ جاؤں

﴿37﴾ یعنی آسمان کی راہوں تک پھر میں جھانک کر دیکھوں موسیٰ کے خدا کو اور میں تو یقین کرتا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے اور یوں آراستہ کر دیا گیا فرعون کے لیے اس کا برا عمل اور روک دیا گیا اسے راہ (راست) سے اور نہیں تھا فرعون کا سارا فریب مگر اس کی اپنی تباہی کے لیے

﴿38﴾ اور کہنے لگا وہ جو ایمان لایا تھا اے میری قوم ! میرے پیچھے چلو میں دکھاؤں گا تمہیں ہدایت کی راہ

﴿39﴾ اے میری قوم! یہ دنیوی زندگی تو (چند روزہ ) لطف اندوز ہی ہے اور آخرت ہی ہمیشہ ٹھہرنے کی جگہ ہے

﴿40﴾ جو برے کام کرتا ہے اسے سزا دی جائے گی اسی قدر اور جو نیک کام کرتا ہے خواہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ ایماندار ہو تو وہ داخل ہوں گے جنت میں رزق دیا جائے گا انہیں وہاں بےحساب

﴿41﴾ اور اے میری قوم! میرا بھی عجیب حال ہے کہ میں تو تمہیں دعوت دیتا ہوں نجات کی طرف اور تم بلاتے ہو مجھے آگ کی طرف

﴿42﴾ تم مجھے دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کا انکار کروں اور میں شریک ٹھیراؤں اس کے ساتھ اس کو جس کا مجھے علم تک نہیں اور میرا حال یہ ہے کہ میں پھر بھی تمہیں اس خدا کی طرف بلاتا ہوں جو عزت والا بہت بخشنے والا ہے

﴿43﴾ سچی بات تو یہ ہے کہ جس کی (بندگی کی) طرف تم مجھے بلاتے ہو اسے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اسے پکارا جائے اس دنیا میں اور نہ آخر ت میں اور یقیناً ہم سب کو لوٹنا ہے اللہ کی طرف اور یقیناً حد سے گزرنے والے ہی جہنمی ہیں

﴿44﴾ پس (اے میرے ہم وطنو!) عنقریب تم یاد کرو گے جو میں (آج ) تمہیں کہہ رہا ہوں اور میں اپنا (سارا) کام اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔ بیشک اللہ تعالیٰ دیکھنے والا ہے (اپنے ) بندوں کو

﴿45﴾ پس بچا لیا اسے اللہ تعالیٰ نے ان اذیتوں سے جن کے پہچانے کا انہوں نے حیلہ کیا اور ہر طرف سے گھیر لیا فرعونیوں کو سخت عذاب نے

﴿46﴾ دوزخ کی آگ ہے پیش کیا جاتا ہے انہیں اس پر صبح و شام اور جس روز قیامت قائم ہو گی (حکم ہو گا) داخل کر دو فرعونیوں کو سخت تر عذاب میں

﴿47﴾ (کتنا ہو شربا سماں ہو گا) جب باہم جھگڑیں گے دوزخ میں پس کہیں گے کمزور لوگ انہیں جو تکبر کیا کرتے تھے کہ تم تو تمہارے تابع تھے پس کیا تم دور کر سکتے ہو ہم سے کچھ حصہ آگ (کے عذاب) کا

﴿48﴾ جواب دیں گے متکبّر ہم سب آگ میں (بُھن رہے ) ہیں بیشک اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا ہے بندوں کے متعلق (اب اس میں ردو بدل نہیں ہو سکتا)

﴿49﴾ اور کہیں گے سارے دوزخی جہنم کے داروغوں کو دعا کرو اپنے رب سے کہ ایک دن تو ہمارے عذاب میں (کچھ) تخفیف فرما دے

﴿50﴾ وہ (جواب میں) کہیں گے کیا نہیں آیا کرتے تھے تمہا رے پاس تمہارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ ۔ وہ کہیں گے بیشک ! داروغہ کہیں گے تم خود ہی دعا مانگو۔ اور حقیقت یہ ہے کہ نہیں ہے کافروں کی دعا مگر محض بےسود

﴿51﴾ بیشک ہم (اب بھی) مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں کی اور مومنین کی ۔ اس دنیوی زندگی میں اور اس دن بھی (مدد کرینگے ) جس دن گواہ (گواہی دینے کے لیے) کھڑے ہونگے

﴿52﴾ اس روز نفع نہ دے گی ظالموں کو ان کی عذر خواہی اور ان کے لیے لعنت ہو گی اور ان کے لیے (دوزخ کا ) بد ترین گھر ہو گا

﴿53﴾ اور ہم نے عطا فرمایا موسیٰ کو (نور) ہدایت اور وارث بنایا بنی اسرائیل کو کتاب کا

﴿54﴾ جو سراپا ہدایت اور نصیحت تھی عقلمندوں کے لیے (٥٤)

﴿55﴾ پس (اے محبوب) آپ صبر فرمائیے (کفار کی اذیتوں پر) بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور استغفار کرتے رہیے اپنی (موہومہ) کوتاہی پر اور پاکی بیان کیجیے اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے شام کے وقت اور صبح کے وقت

﴿56﴾ بیشک جو لوگ جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں کے بارے میں بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس آئی ہو ، نہیں ہے ان کے سینوں میں بجز بڑائی کی ایک ہوس کے جس کو وہ پا نہیں سکیں گے تو آپ اللہ کی پناہ طلب کیجیے بیشک وہی سب کچھ سننے والا ہے دیکھنے والا ہے

﴿57﴾ بیشک پیدا کرنا آسمانوں اور زمین کا بہت بڑا کام ہے لوگوں کے پیدا کرنے سے لیکن بہت سے لوگ (اس کھلی حقیقت کو) نہیں جانتے

﴿58﴾ اور یکساں نہیں ہے اندھا اور بینا اور (اسی طرح) مومن نیکو کار اور بدکار بھی یکساں نہیں تم بہت کم غور کرتے ہو

﴿59﴾ یقیناً قیامت آکر رہے گی ذرا شک نہیں ا س میں لیکن بہت سے لوگ (قیامت پر) ایمان نہیں لاتے

﴿60﴾ اور تمہارے رب نے فرمایا ہے مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا بیشک جو لوگ میری عبادت کرنے سے تکبر کرتے ہیں وہ عنقریب جہنم میں داخل ہوں گے ذلیل و خوا رہو کر

﴿61﴾ اللہ ہی ہے جس نے بنائی ہے تمہارے لیے رات تاکہ تم آرام کرو اس میں اور (بنایا ہے) دن کو روشن بیشک اللہ تعالیٰ بڑا فضل (و کرم) فرمانے والا ہے لوگوں پر لیکن بہت سے لوگ (اس کی نعمتوں کا) شکر ادا نہیں کرتے

﴿62﴾ وہ ہے اللہ تمہارا (رب) پیدا کرنے والا ہر چیز کا کوئی عبادت کے لائق نہیں بجز اس کے ۔ پس کیسے راہ حق سے تم رو گردانی کرتے ہو

﴿63﴾ اسی طرح (راہِ حق ) سے منہ پھیر دیا جاتا ہے ان (بد نصیبوں ) کا جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں

﴿64﴾ اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے بنایا ہے تمہارے لیے زمین کو قیام کی جگہ اور آسمان کو چھت (کی مانند) اور تمہاری صورت گری کی اور حسین بنا دیا تمہاری صورتوں کو اور کھانے کے لیے تمہیں پاکیزہ چیزیں عطا فرمائیں ایسی (خوبیوں والا) اللہ تمہارا پروردگار ہے پس بڑی ہی برکتوں والا ہے اللہ تعالیٰ جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے

﴿65﴾ وہی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے کوئی عبادت کے لائق نہیں بجز اس کے پس اس کی عبادت کرو اپنے دین کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے سب تعریفیں اللہ کے لیے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے

﴿66﴾ آپ فرما دیجیے کہ مجھے منع کر دیا گیا ہے کہ میں عبادت کروں ان کی جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے سوا (میں ان کی عبادت کیسے کر سکتا ہوں) جب آگئی ہیں میرے پاس دلیلیں اپنے رب کی طرف سے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سر تسلیم خم کر دوں رب العالمین کے سامنے

﴿67﴾ اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے پیدا کیا تمہیں مٹی سے پھر نطفہ سے، پھر گوشت کے لوتھڑے سے پھر نکالا تمہیں (شکم مادر سے) بچہ بنا کر پھر (پرورش کی تمہاری) تاکہ تم پہنچو اپنی جوانی کو پھر (تمہیں زندہ رکھا) تاکہ تم بوڑھے ہو جاؤ اور بعض تم میں سے فوت ہو جاتے ہیں پہلے ہی اور (یہ سارا نظام اس لیے ہے) کہ تم پہنچ جاؤ مقررہ معیاد تک اور تاکہ تم (اپنے رب کی عظمتوں کو) سمجھنے لگ جاؤ

﴿68﴾ وہی ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے پس جب کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو صرف اتنا فرماتا ہے اسے کہ ہو جا تو وہ کام ہو جاتا ہے

﴿69﴾ کیا تم نہیں دیکھتے ان (نادانوں ) کی طرف جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ کی آیات میں ۔ یہ کہاں بھٹک رہے ہیں

﴿70﴾ جن لوگوں نے جھٹلایا اس کتاب کو اور اس چیز کو بھی جو دے کر ہم نے اپنے رسولوں کو بھیجا تھا ۔ انہیں (اپنی تکذیب کا انجام) معلوم ہو جائیگا

﴿71﴾ جب طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور زنجیریں ۔ انہیں گھسیٹ کر لے جایا جائے گا

﴿72﴾ کھولتے ہوئے پانی میں پھر دوزخ کی آگ میں جھونک دیے جائینگے

﴿73﴾ پھر پوچھا جائے گا ان سے کہاں ہیں وہ جنہیں تم شریک ٹھہراتے تھے

﴿74﴾ اللہ کے سوا (بصد یاس) کہیں گے وہ تو گم ہو گئے ہم سے بلکہ ہم تو کسی چیز کو پوجتے ہی نہ تھے اس سے پہلے اسی طرح اللہ گمراہ کرتا ہے کافروں کو

﴿75﴾ یہ (سزا اور رسوائی) بدلہ ہے اس کام کا کہ تم خوشیاں منایا کرتے تھے زمین میں (اپنے عارضی اقتدار پر) ناحق اور بدلہ ہے اس کا جو تم (اپنے فانی اموال و املاک پر) اترایا کرتے تھے

﴿76﴾ اب داخل ہو جاؤ جہنم کے دروازوں میں تم وہاں ہمیشہ رہنے والے ہو ۔ پس یہ بہت برا ٹھکانا ہے تکبر و غرور کرنے والوں کا

﴿77﴾ (اے حبیب!) آپ (ا ن کی نا زیبا حرکتوں پر) صبر فرمائیے اللہ کا وعدہ سچا ہے سو ہم خواہ آپ کو دکھائیں اس عذاب کا کچھ حصہ جس کا ان سے ہم نے وعدہ کیا ہے یا (اس سے پہلے ہی) آپ کو دینا سے اٹھا لیں (یہ بچ نہیں سکتے) آخر کار ہماری طرف ہی لوٹائے جائیں گے

﴿78﴾ اور ہم نے بھیجے تھے پیغمبر آپ سے پہلے بھی ان میں سے بعض کا ذکر ہم نے آپ سے کر دیا اور ان میں سے بعض کا ذکر (قرآن کریم میں) آپ سے نہیں کیا اور کسی رسول کی مجال نہ تھی کہ وہ لے آتا کوئی نشانی اللہ کی اجازت کے بغیر۔ پس جب آئے گا اللہ کا حکم (تو) فیصلہ کر دیا جائیگا حق (و انصاف) کے ساتھ اور باطل پرست وہاں (سراسر) گھاٹے میں رہیں گے

﴿79﴾ اللہ پاک وہ ہے جس نے بنائے تمہارے لیے مویشی تاکہ انمیں سے کسی پر سواری کرو اور کسی کا (گوشت) کھاؤ

﴿80﴾ اور تمہارے لیے ان میں طرح طرح کے فائدے ہیں اور ان میں سے ایک یہ فائدہ بھی ہے کہ ان پر سوار ہو کر اس منزل تک پہنچو جو تمہارے سینوں میں ہے اور ان مویشیوں پر اور کشتیوں پر تم لدے پھرتے ہو

﴿81﴾ اور وہ دکھاتا ہے تمہیں اپنی نشانیاں ۔ پس اللہ تعالیٰ کی کن کن آیتوں کا تم انکار کرو گے

﴿82﴾ کیاان منکروں نے کبھی سیر و سیاحت نہیں کی زمین میں تاکہ انہیں نظر آجاتا کہ کیا انجام ہوا ان (منکروں ) کا جو ان سے پہلے گزرے وہ لوگ ان سے تعداد میں زیادہ تھے اور قوت میں زبردست تھے اور زمین میں اپنی نشانیوں کے لحاظ سے (کہیں ہنر مند تھے) پس یہ بتائیں کہ کیا فائدہ پہنچایا انہیں اس دولت نے جو وہ کماتے تھے

﴿83﴾ پس جب آئے ان کے پاس رسول روشن دلیلیں لے کر تو انہوں نے کفر کیا اور نازاں رہے اس علم پر جو ان کے پاس تھا ۔ اور (آخر کار) گھیر لیا انہیں جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے

﴿84﴾ پھر جب انہوں نے دیکھ لیا ہمارا عذاب تو کہنے لگے ہم ایمان لائے ہیں ایک اللہ پر اور ہم ان معبودوں کا انکار کرتے ہیں جن کو ہم ان کا شریک ٹھہرایا کرتے تھے

﴿85﴾ پس کوئی فائدہ نہ دیا انہیں ان کے ایمان نے جب دیکھ لیا انہوں نے ہمارا عذاب ۔ یہی دستور ہے اللہ تعالیٰ کا جو (قدیم سے) اس کے بندوں میں جاری ہے اور سرا سر خسارہ میں رہے اس وقت حق کا انکار کرنے والے

حم السجدہ

Surah 41

﴿1﴾ حا ۔ میم

﴿2﴾ اتارا گیا ہے (یہ قرآن) رحمن و رحیم (خدا) کی طرف سے

﴿3﴾ یہ ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں تفصیل سے بیان کر دی گئی ہیں ۔ یہ قرآن عربی (زبان میں ) ہے یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو علم (و فہم) رکھتے ہیں

﴿4﴾ یہ مژدہ سنانے والا اور (بروقت) خبر دار کرنے والا ہے بایں ہمہ منہ پھیر لیا ان میں سے اکثر نے پس وہ اسے قبول نہیں کرتے

﴿5﴾ اور ان (ہٹ دھرموں ) نے کہا ہمارے دل غلافوں میں (لپٹے ہوئے) ہیں اس بات سے جس کی طرف آپ ہمیں بلاتے ہیں اور ہمارے کانوں میں گرانی ہے اور ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان ایک حجاب ہے تم اپنا کام کرو ، ہم اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں

﴿6﴾ آپ فرمائیے میں انسان ہی ہوں (بظاہر) تمہاری مانند (البتہ ) وحی کی جاتی ہے میری طرف کہ تمہارا معبود خداوند یکتا ہی ہے پس متوجہ ہو جاؤ اس کی طرف اور مغفرت طلب کرو اس سے ۔ اور ہلاکت ہے مشرکوں کے لیے

﴿7﴾ جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور وہ آخرت کے منکر ہی رہتے ہیں

﴿8﴾ بے شک وہ لوگ جو ایمان لے آئے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے ایسا اجر ہے جو منقطع نہ ہوگا

﴿9﴾ آپ (ان سے) پوچھیے کیا تم لوگ انکار کرتے ہو اس ذات کا جس نے پیدا فرمایا زمین کو دو دن میں اور ٹھیراتے ہو اس کے لیے مد مقابل ۔ وہ تو رب العالمین ہے (اس کا مقابل کون ہو سکتا ہے)

﴿10﴾ اور اس نے (ہی) بنائے ہیں زمین میں گرے ہوئے پہاڑ جو اس کے اوپر (اٹھے ہوئے ) ہیں اور اس نے بڑی برکتیں رکھی ہیں اس میں اور اندازہ سے مقرر کر دی ہیں اس میں غذائیں (ہر نوع کے لیے) چار دنوں میں (انکا حصول) یکساں ہے طلبگاروں کے لیے

﴿11﴾ پھر اس نے توجہ فرمائی آسمان کی طرف ، وہ اس وقت محض دھواں تھا پس فرمایا اسے اور زمین کو کہ آجاؤ (تعمیل حکم اور ادائے فرض کے لیے) خوشی سے یا مجبوراً دونوں نے عرض کی ہم خوشی خوشی (دست بستہ) حاضر ہیں

﴿12﴾ پس بنا دیا انہیں سات آسمان وہ دونوں میں اور وحی فرمائی ہر آسمان میں اس کے حسب حال اور ہم نے مزین کر دیا آسمان دنیا کو چراغوں سے اور اسے خوب محفوظ کردیا یہ (سارا) نظام سب سے غالب، سب کچھ جاننے والے (خدا ) کا ہے

﴿13﴾ پس اگر وہ (پھر بھی) رو گردانی کریں تو آپ فرمائیے کہ میں نے ڈرایا ہے تمہیں اس کڑک سے جو عاد و ثمود کی کڑک کی مانند (ہلاکت خیز) ہو گی

﴿14﴾ (کچھ یا د ہے ) جب آئے تھے ان کے پاس رسول سامنے سے اور پیچھے سے (یعنی ہر طرف سے یہ سمجھانے کے لیے) کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو انہوں نے کہا اگر ہمارے رب کی مرضی ہوتی (کہ ہمیں کچھ سمجھائے ) تو فرشتے نازل کرتا پس ہم جو دیکر تمہیں بھیجا گیا ہے (اسکا سراسر) انکار کرتے ہیں

﴿15﴾ پس قوم عاد نے تو سرکشی اختیار کی زمین میں ناحق اور کہنے لگے ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے کیا انہوں نے نہ جانا کہ اللہ تعالیٰ جس نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے زیادہ قوی ہے اور وہ (تو) ہمیشہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے

﴿16﴾ پس ہم نے بھیج دی ان پر سخت ٹھنڈی تند ہوا منحوس دن میں تاکہ ہم انہیں چکھائیں ذلّت آمیز عذاب اس دنیوی زندگی میں ۔ اور آخرت کا عذاب تو بہت زیادہ رسوا کن ہوگا اور ان کی ہر گز مدد نہ کی جائے گی

﴿17﴾ باقی رہے ثمود تو انہیں ہم نے سیدھی راہ دکھائی انہوں نے پسند کیا اندھے پن کو ہدایت پر تو پکڑ لیا انہیں اس عذاب کی کڑک نے جو رسوا کن ہے ان کرتوتوں کے باعث جو وہ کیا کرتے تھے

﴿18﴾ اور ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو ایمان لائے تھے اور (اللہ کی نافرمانی سے ) ڈرتے رہتے تھے

﴿19﴾ اور (ذرا خیال کرو) اس دن کا جب جمع کیے جائینگے اللہ کے دشمن آتش (جہنم) کی طرف پھر وہ (گروہوں میں) بانٹ دیے جائینگے

﴿20﴾ یہاں تک کہ جب وہ دوزخ کے قریب آجائینگے (تو حساب شروع ہوگا اس وقت) گواہی دینگے ان کے خلاف ان کے کان ، ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں اس کے بارے میں جو وہ کیا کرتے تھے

﴿21﴾ اور وہ کہیں گے اپنی کھالوں سے تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی ۔ وہ کہیں گے (ہم بےبس ہیں) ہمیں تو گویا کر دیا ہے اللہ نے جس نے گویا کیا ہے ہر شے کو اور اسی نے تمہیں پیدا کیا تھا پہلی مرتبہ اور اب اسی کی طرف تم لوٹائے جا رہے ہو

﴿22﴾ اور تم نہیں چھپا سکتے تھے اپنے آپ کو اس امر سے کہ گواہی نہ دیں تمہارے خلاف تمہارے کان اور نہ تمہاری آنکھیں اور نہ تمہاری کھالیں بلکہ تم تو یہ گمان کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہی نہیں تمہارے اکثر اعمال کو جو تم کرتے ہو

﴿23﴾ اور تمہارے اسی گمان نے جو تم اپنے رب کے بارے میں کیا کرتے تھے تمہیں ہلاک کر دیا پس تم ہو گئے نقصان اٹھانے والوں سے

﴿24﴾ پس وہ صبر کریں (یا نہ کریں) آگ ہی ان کا ٹھکانا ہے اور اگر وہ (اسوقت) رضائے الہی چاہیں گے تو وہ ان میں سے نہیں ہوں گے جن پر اللہ راضی ہوا

﴿25﴾ اور ہم نے مقرر کر دیے ان کے لیے کچھ ساتھی پس انہوں نے آراستہ کر دکھایا انہیں اگلے اور پچھلے گناہوں کو اور ثابت ہو گیا ان پر فرمان (عذاب) ان قوموں کی طرح جو ان سے پہلے گزر چکی تھیں جنوں اور انسانوں سے ۔ وہ سب (اگلے پچھلے ) نقصان اٹھانے والے تھے

﴿26﴾ اور کہنے لگے وہ کافر مت سنا کرو اس قرآن کو اور شورو غل مچا دیا کرو اس کی تلاوت کے درمیان شاید تم (اس طرح) غالب آجاؤ

﴿27﴾ پس ہم خوب چکھائیں گے کفار کو شدید عذاب (کا مزہ) اور انہیں بدلہ دیں گے بہت برا اس (نافرمانی) کا جو وہ کیا کرتے تھے

﴿28﴾ یہ ہے سزا اللہ کے دشمنوں کی یعنی آگ۔ ان کے لیے اس میں ہی ہمیشہ ٹھہرنے کا گھر ہے ۔ یہ سزا ہے اس بات کی کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے

﴿29﴾ اور کافر کہیں گے اے ہمارے رب! ہمیں دکھا وہ دونوں (شیطان) جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا جنوں اور انسانوں سے ہم انہیں رونڈ ڈالیں گے اپنے قدموں کے نیچے تاکہ وہ ہو جائیں پست ترین لوگوں سے

﴿30﴾ بیشک وہ (سعادتمند) جنہوں نے کہا ہمارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے پھر وہ اس قول پر پختگی سے قائم رہے اُترتے ہیں ان پر فرشتے (اور انہیں کہتے ہیں) کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو تمہیں بشارت ہوجنت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

﴿31﴾ ہم تمہارے دوست ہیں دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ اور تمہارے لیے اس میں ہر وہ شے ہے جو تمہارا جی چاہے اور تمہارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم مانگو گے

﴿32﴾ یہ میزبانی ہے بہت بخشنے والے ہمیشہ رحم فرمانے والے کی طرف سے

﴿33﴾ اور اس شخص سے بہتر کس کا کلام ہے جس نے دعوت دی اللہ کی طرف اور نیک عمل کیے میں تو (اپنے رب کے) فرمانبردار بندوں میں سے ہوں

﴿34﴾ نہیں یکساں ہوتی نیکی اور برائی ۔ برائی کا تدارک اس (نیکی) سے کرو جو بہتر ہے پس نا گہاں وہ شخص، تیرے درمیان اور اس کے درمیان عداوت ہے ، یوں بن جائیگا گویا تمہاری جانی دوست ہے

﴿35﴾ اور نہیں توفیق دی جاتی ان (خصائل حمیدہ) کی بجز ان کے جو صبرکرتے ہیں اور نہیں توفیق دی جاتی ان کی مگر بڑے خوش نصیب کو

﴿36﴾ اور (اے سننے والے) اگر شیطان کی طرف سے تیرے دل میں کوئی وسوسہ پیدا ہو تو (اس کے شر سے) اللہ کی پناہ مانگ یقیناً وہی سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے

﴿37﴾ اور اس کی (قدرت کی ) نشانیوں میں سے رات بھی ہے اور دن بھی، سُورج بھی ہے اور چاند بھی مَت سجدہ کرو سورج کو اور نہ چاند کو بلکہ سجدہ کرو اللہ کو جس نے انہیں پیدا فرمایا ہے اگر تم واقعی اس کے پرستار ہو

﴿38﴾ پھر (بھی) اگر وہ تکبّر کرتے رہیں (تو انکی قسمت) پس وہ (فرشتے) جو آپ کے رب کے پاس ہیں تسبیح کرتے رہتے ہیں اس کی شب و روز اور وہ نہیں تھکتے

﴿39﴾ اور اس کی (قدرت کی ) نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تو دیکھتا ہے زمین کو کہ وہ (کسی وقت) خشک بنجر ہے پھر جب ہم اتارتے ہیں اس پر (بارش کا) پانی تو جھومنے لگتی ہے اور کھل اٹھتی ہے بیشک وہ (قادر مطلق) جس نے زندہ کر دیا ہے زمین کو وہی زندہ کرنے والا ہے مردوں کو بلاشبہ وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے

﴿40﴾ بیشک وہ لوگ جو ہماری آیتوں میں اپنی طرف سے اضافہ کرتے ہیں وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں ہیں تو کیا جوپھینکا جائے گا آگ میں وہ بہتر ہے یا جو آئے گا امن و سلامتی کے ساتھ قیامت کے دن (وہ بہترہے) تم وہ کرو جو تمہاری مرضی یقیناً جو کچھ تم کرتے ہو ، وہ خوب دیکھ رہا ہے

﴿41﴾ بیشک وہ لوگ جنہوں نے قرآن کو ماننے سے انکار کیا جب کہ وہ انکے پاس آیا (تو وہ ہٹ دھرم لوگ ہیں) اور بیشک یہ بڑی عزت (حُرمت ) والی کتاب ہے

﴿42﴾ اس کے نزدیک نہیں آ سکتا باطل نہ اس کے سامنے سے اور نہ پیچھے سے یہ اتری ہوئی ہے بڑے حکمت والے ، سب خوبیاں سراہے کی طرف سے

﴿43﴾ (اے حبیب!) نہیں کہا جاتا آپ کو مگر وہی جو کہا گیا پیغمبروں کو آپ سے پہلے بیشک آپ کا پروردگار (اہل ایمان کے لیے) بہت بخشنے والا اور (منکرین کے لیے) دردناک عذاب دینے والا ہے

﴿44﴾ اور بالفرض اگر ہم اسے بنا کر بھیجتے قرآن عجمی زبان میں تو کہتے کیوں نہ کھول کر بیان کی گئیں اس کی آیتیں ۔ کیا اچنبھ ہے کتاب عجمی اور نبی عربی آپ فرمائیے یہ قرآن ایمان لانے والوں کے لیے تو ہدایت اور شفاء ہے اور جو ایمان نہیں لائے ان کے کانوں میں بہرہ پن ہے اور وہ ان پر (ہر حال میں ) مشتبہ رہتا ہے۔ انہیں گویا بلایا جاتا ہے دور کی جگہ سے

﴿45﴾ اور ہم نے عطا فرمائی موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب پس اس میں بھی بہت اختلاف کیا گیا ہے اور اگر ایک بات طے نہ ہو گئی ہوتی آپ کے رب کی طرف سے تو (ابھی) فیصلہ کر دیا جاتا ان کے درمیان ۔ اور بیشک وہ ایک شک میں مبتلا ہیں اس کے بارے میں جو بےچین کر دینے والا ہے

﴿46﴾ جو نیک عمل کرتا ہے تو وہ اپنے بھلے کے لیے اور جو برائی کرتا ہے اس کا وبال اس پر ہے اور آپ کا رب تو بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں

﴿47﴾ جو نیک عمل کرتا ہے تو وہ اپنے بھلے کے لیے اور جو برائی کرتا ہے اس کا وبال اس پر ہے اور آپ کا رب تو بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں

﴿48﴾ اور گم ہو جائیں گے ان سے جن کی وہ پہلے عبادت کیا کرتے تھے اور وہ یقین کر لیں گے کہ اب بھاگ جانے کی کوئی جگہ نہیں

﴿49﴾ نہیں اکتاتا انسان بھلائی کی دعا کرنے سے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بالکل مایوس (اور ) نا امید ہو جاتا ہے

﴿50﴾ اور اگر ہم چکھائیں اسے رحمت اپنی جناب سے اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچتی ہے تو کہتا ہے میں اسی کا مستحق ہوں اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت برپا ہو گی اور اگر میں لوٹایا گیا اپنے رب کی طرف تو یقیناً میرے لیے اس کے پاس بھی اکرام ہی اکرام ہوگا (یہ احمق کیا سوچ رہے ہیں) ہم تو آگاہ کرینگے کافروں کو جو کرتوت انہوں نے کیے ۔ اور ہم ضرور چکھائیں گے انہیں سخت عذاب

﴿51﴾ اور جب ہم احسان فرماتے ہیں انسان پر تو وہ (تکبر سے) منہ پھیر لیتا ہے اور پہلو تہی کرنے لگتا ہے اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگ جاتا ہے

﴿52﴾ آپ فرمائیے (اے کافرو!) تم مجھے بتاؤاگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہو پھر تم اس کا انکار کرو تو کون زیادہ گمراہ ہے اس سے جو اختلاف میں بہت دور نکل گیا ہو

﴿53﴾ ہم دکھائیں گے انہیں اپنی نشانیاں آفاق (عالم) میں اور ان کے اپنے نفسوں میں تاکہ ان پر واضح ہو جائے کہ قرآن واقعی حق ہے کیا یہ کافی نہیں کہ آپ کا رب ہر چیز پر گواہ ہے

﴿54﴾ سُنو ! یہ لوگ شک میں مبتلا ہیں اپنے رب سے ملنے کے بارے میں یاد رکھو وہ ہر چیز کو گھیرے ہو ئے ہے

الشوریٰ

Surah 42

﴿1﴾ حا۔ میم

﴿2﴾ عین سین قاف

﴿3﴾ اسی طرح (کے مطالب نفیسہ) وحی فرماتا رہا ہے آپ کی طرف سے اور ان (پیغمبروں ) کی طرف سے جو آپ سے پہلے گزرے ہیں ۔ اللہ جو زبردست (اور) بہت دانا ہے

﴿4﴾ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور وہی سب سے اعلیٰ (اور) عظمت والا ہے

﴿5﴾ قریب ہے کہ (جلال الہی سے) آسمان پھٹ پڑیں اپنے اوپر سے اور (ایسا نہیں ہوتا کیونکہ) فرشتے تسبیح کر رہے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور بخشش طلب کر رہے ہیں اہل زمین کے لیے سُن لو ! یقیناً اللہ ہی بہت بخشنے والا ، ہمیشہ رحم کرنے والا ہے

﴿6﴾ اور جنہوں نے بنا رکھے ہیں اللہ کے سوا (اور) دوست اللہ تعالیٰ خوب آگاہ ہے ان کے حالات سے اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں

﴿7﴾ اور یونہی ہم نے وحی کے ذریعے اتارا ہے آپ کی طرف قرآن عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرائیں اہل مکہ کو اور جو اس کے آس پاس (آباد) ہیں اور تاکہ آپ ڈرائیں اکٹھے ہونے کے دن سے جس (کی آمد) میں کچھ شبہ نہیں (اس دن) ایک فریق جنت میں اور دوسرا فریق بھڑکتی آگ میں ہو گا

﴿8﴾ اور اگر چاہتا اللہ تعالیٰ بنا دیتا ان (سب) کو ایک امت لیکن وہ داخل کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں اور جو ظلم کرنے والے ہیں نہ ان کا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار

﴿9﴾ کیا انہوں نے بنا لیے ہیں اسے چھوڑ کر دوسرے کارساز پس اللہ ہی حقیقی کارساز ہے اور وہ زندہ کرتا ہے مردوں کو اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے

﴿10﴾ اور جس بات میں تمہارے درمیان اختلاف رونما ہو جائے تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد کر دو ۔ یہی اللہ میرا رب ہے اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں

﴿11﴾ وہ پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا اسی نے بنائے تمہارے لیے تمہاری جنس سے جوڑے اور مویشیوں سے بھی جوڑے بنائے ۔ وہ پھیلاتا رہتا ہے تمہاری نسل کو اس کے ذریعے۔ نہیں ہے اس کی مانند کوئی چیز اور وہی سب کچھ سننے والا دیکھنے والا ہے

﴿12﴾ اسی کے قبضے میں کنجیاں آسمانوں اور زمین (کے خزانوں) کی کشادہ کرتا ہے رزق کو جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے (جس کے لیے چاہتا ہے) بیشک وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے

﴿13﴾ اس نے مقرر فرمایا ہے تمہارے لیے وہ دین جس کا اس نے حکم دیا تھا نوح کو اور جسے ہم نے بذریعہ وحی بھیجا ہے آپ کی طرف اور جس کا ہم نے حکم دیا تھا ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو کہ اسی دین کو قائم رکھنا اور تفرقہ نہ ڈالنا اس میں ۔ بہت گراں گزرتی ہے مشرکین پر وہ بات جس کی طرف آپ انہیں بلاتے ہیں اللہ تعالیٰ چن لیتا ہے اپنی طرف جس کو چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے اپنی طرف جو (اس کی طرف) رجوع کرتا ہے

﴿14﴾ اور نہ بٹے وہ فرقوں میں مگر اس کے بعد کہ آگیا ان کے پاس (صحیح ) علم۔ (یہ تفرقہ) محض باہمی حسد کے باعث تھا ۔ اور اگر یہ فرمان پہلے نہ ہو چکا ہوتاآپ کے رب کی طرف سے کہ انہیں ایک مقررہ مدت تک مہلت دی جائے تو فیصلہ ہو چکا ہوتا ان کے درمیان اور جو لوگ وارث بنائے گئے تھے کتاب کے، ان کے بعدوہ ان کے متعلق ایسے شک میں مبتلا ہیں جو قلق انگیز ہے

﴿15﴾ پس اس دین کی طرف آپ دعوت دیتے رہیے اور ثابت قدم رہیے جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے اور نہ اتباع کیجیے ان کی خواہشات کا اور (برملا) فرمائیے کہ میں ایمان لایا ہر اس کتاب پر جو اللہ نے نازل کی اور مجھے حکم دیا گیا کہ میں عدل کروں تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے ۔ ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال کسی بحث و تکرار کی ضرورت نہیں ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف (سب نے) پلٹنا ہے

﴿16﴾ اور جو لوگ حجت بازی کرتے ہیں اللہ (کے دین) کے بارے میں اس کے بعد کہ (اکثر حق شناس) اس کو مان چکے ہیں۔ سو ان کی حجت بازی لغو ہے ان کے رب کے نزدیک اور ان پر (اللہ کا ) غضب ہے اور انہی کے لیے سخت عذاب ہے

﴿17﴾ اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے نازل کیا ہے کتاب کو حق کے ساتھ اور (نازل کیا ہے) میزان کو اور تمہیں کیا معلوم کہ شاید وہ گھڑی قریب ہی ہو

﴿18﴾ جلدی مچاتے ہیں اس کے لیے وہ لوگ جو ایمان نہیں رکھتے اس پر اور جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ خوفزدہ رہتے ہیں اس سے ۔ اور وہ جانتے ہیں کہ یہ حق ہے ۔ خبردار! جو لوگ شک کرتے ہیں قیامت کے متعلق، وہ بڑی گمراہی میں (مبتلا ) ہیں

﴿19﴾ اللہ تعالیٰ بہت مہربان ہے اپنے بندوں پر رزق دیتا ہے جس کو چاہتا ہے ۔ اور وہی قوی (اور) زبردست ہے

﴿20﴾ جو طلب گار ہو آخرت کی کھیتی کا تو ہم (اپنے فضل و کرم سے) اس کی کھیتی کو اور بڑھا دیں گے اور جو شخص خواہش مند ہے (صرف ) دنیا کی کھیتی کا تو ہم اسے دیں گے اس سے اور نہیں ہوگا اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ

﴿21﴾ کیا ان کے لیے ایسے شریک ہیں جنہوں نے مقرر کیا ہے ان کے لیے ایسا دین جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی۔ اور اگر ان کے فیصلے کی بات پہلے سے طے نہ ہوتی تو ان کا قصہ کبھی کا چکا دیا گیا ہوتا اور جو ظالم ہیں یقیناً ان کے لیے دردناک عذاب ہے

﴿22﴾ آپ دیکھیں گے ظالموں کوکہ ڈر رہے ہوں گے ان (کرتوتوں) سے جو انہوں نے کمائے اور وہ ان پر واقع ہو کر رہے گا اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے وہ بہشتوں کے باغوں میں ہوں گے ۔ انہیں ملے گا جو وہ چاہیں گے اپنے رب کے پاس سے ۔ یہی بڑا فضل ہے

﴿23﴾ یہ وہ چیز ہے جس کی خوشخبری اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دیتا ہے جو ایمان لے آئے اور نیک عمل کرتے رہے آپ فرمائیے میں نہیں مانگتا اس (دعوت حق) پر کوئی معاوضہ بجز قرابت کی محبت کے اور جو شخص کماتا ہے کوئی نیکی ہم دوبالا کر دیں گے اس کے لیے اس میں حسن بےشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا بڑا قدر دان ہے

﴿24﴾ کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نے اللہ پر جھوٹا بہتان باندھا ہے پس اگر اللہ چاہتا تو مہر لگا دیتا آپ کے دل پر ۔ اور مٹاتا ہے اللہ تعالیٰ باطل کو اور ثابت کرتا ہے حق کو اپنے ارشادات سے ۔ بےشک وہ جاننے والا ہے جو کچھ سینوں میں ہے

﴿25﴾ اور وہی ہے جو توبہ قبول کرتا ہے اپنے بندوں پر اور در گزر کرتا ہے ان کی غلطیوں سے اور جانتا ہے جو تم کرتے ہو

﴿26﴾ اور وہی قبول کرتا ہے دعائیں ان لوگوں کی جو ایمان لے آئے اور نیک عمل کرتے رہے اور (ان کے حق سے بھی) انہیں زیادہ (اجر) دیتا ہے اپنی مہربانی سے اور کُفّار ، ان کے لیے سخت عذاب ہے

﴿27﴾ اور اگر کشادہ کردیتا اللہ تعالیٰ رزق کو اپنے (تمام) بندوں کے لیے تو وہ سر کشی کرنے لگتے زمین میں لیکن وہ اتارتا ہے ایک اندازے سے جتنا چاہتا ہے ۔ بےشک وہ اپنے بندوں (کے احوال) سے خوب آگاہ ہے، سب کچھ دیکھنے والا ہے

﴿28﴾ اور وہی ہے جو برساتا ہے مینہ اس کے بعد کے لوگ مایوس ہو چکے ہوتے ہیں اور پھیلا دیتا ہے اپنی رحمت کو اور وہی کارساز حقیقی (اور) سب تعریفوں کے لائق ہے

﴿29﴾ اور اس کی (قدرت کی ) نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق ہے ۔ اور جو جاندار اس نے پھیلا دیے ہیں آسمان و زمین میں ۔ اور وہ جب چاہے ان کو جمع کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے

﴿30﴾ اور جو مصیبت تمہیں پہنچتی ہے تمہارے ہاتھوں کی کمائی کے سبب پہنچتی ہے اور وہ (کریم) درگزر فرما دیتا ہے (تمہارے) بہت سے کرتوتوں سے

﴿31﴾ اور تم عاجز نہیں کر سکتے (اللہ تعالیٰ کو ) زمین میں اور نہ تمہارا اللہ کے سوا کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار

﴿32﴾ اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے وہ سمندر ہیں تیرنے والے جہاز ہیں جو پہاڑوں کی مانند ہیں

﴿33﴾ اگر وہ چاہے تو ہوا کو ساکن کر دے پس وہ رکے رہیں سمندر کی پست پر ۔ بےشک اس میں اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں ہر کمال درجہ صبر کرنے والے شکر کرنے والے کے لیے

﴿34﴾ یا (اگر وہ چاہتا ہے تو) تباہ کر دے انہیں لوگوں کے اعمال بد کی وجہ سے اور در گزر فرما دیا کرتا ہے بہت سے گناہوں سے

﴿35﴾ اور (اس وقت) جان لیں گے جو جھگڑا کرتے رہتے ہیں ہماری آیتوں میں کہ ان کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں

﴿36﴾ پس جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے یہ دنیوی زندگی کا سامان ہے ۔ اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہت عمدہ اور باقی رہنے والا ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں

﴿37﴾ اور جو لوگ بچتے رہتے ہیں بڑے بڑے گناہوں اور بدکاریوں سے اور جب وہ غضب ناک ہوتے ہیں تو وہ معاف کر دیتے ہیں

﴿38﴾ اور جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور ان کے سارے کام باہمی مشورے سے طے ہوتے ہیں اور جو رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس سے خرچ کرتے ہیں

﴿39﴾ اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو وہ اس کا (مناسب) بدلہ لیتے ہیں

﴿40﴾ اور برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے پس جو معاف کر دے اور اصلاح کر دے تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے بےشک وہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا

﴿41﴾ اور جو بدلہ لیتے ہیں اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد پس یہ لوگ ہیں جن پر کوئی ملامت نہیں

﴿42﴾ بے شک ملامت ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور فساد برپا کرتے ہیں زمین میں نا حق ۔ یہی ہیں جن کے لیے دردناک عذاب ہے

﴿43﴾ اور جو شخص (ان مظالم پر) صبر کرے اور (طاقت کے باوجود) معاف کر دے تو یقیناً یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے

﴿44﴾ اور جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے تو اس کا کوئی کارساز نہیں اس کے بعد اور آپ ملاحظہ کریں گے ظالموں کو جب وہ دیکھیں گے عذاب (تو سٹپٹا جائیں گے) پوچھیں گے کیا واپس لوٹنے کا بھی کوئی راستہ ہے ؟

﴿45﴾ اور آپ انہیں دیکھیں گے کہ پیش کیے جا رہے ہوں گے دوزخ پر اس حال میں کہ عاجز و درماندہ ہوں گے ذلت کے باعث ۔ دیکھتے ہوں گے کنکھیوں سے چوری چوری اور کہیں گے اہل ایمان کہ حقیقی گھاٹے میں وہی لوگ ہیں جنہوں نے گھاٹے میں ڈالا اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے روز۔ سُن لو ! ظالم لوگ ضرور ابدی عذاب میں ہوں گے

﴿46﴾ اور نہیں ہوں گے (اس روز) ان کے لیے مددگار جو مدد کر سکیں ان کی اللہ کے بغیر ۔ اور جس کو گمراہ کر دے اللہ تعالیٰ تو اس کے لیے (بچنے کی) کوئی راہ نہیں

﴿47﴾ (لوگو!) مان لو اپنے رب کا حکم اس سے پیشتر کہ آجائے وہ دن جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ٹلنے والا نہیں نہ ہو گی تمہارے لیے کوئی پناہ گا ہ اس روز اور نہ تمہاری طرف سے کوئی روک ٹوک کرنے والا ہوگا

﴿48﴾ پس اگر وہ (پھر بھی) رو گردانی کریں تو ہم نے آپ کو ان کے اعمال کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا ۔ آپ کا فرض تو صرف (احکام کا ) پہنچا دینا ہے اور ہم جب مزا چکھا دیتے ہیں انسان کو اپنی رحمت کا تو خوش ہو جاتا ہے اس سے ۔ اور اگر انہیں کوئی تکلیف پہنچے اپنے کرتوتوں کے باعث (تو شور مچانے لگتے ہیں) بےشک انسان بڑا نا شکر گزار ہے

﴿49﴾ اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی ۔ پیدا فرماتا ہے جو چاہتا ہے ۔ بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے بچیاں اور عطا فرماتا ہے جس کو چاہتا ہے فرزند

﴿50﴾ یا ملا جلا کر دیتا ہے انہیں بیٹے اور بیٹیاں ۔ اور بنا دیتا ہے جس کو چاہتا ہے بانجھ ۔ بےشک وہ سب کچھ جاننے والا ، پر چیز پر قادر ہے

﴿51﴾ اور کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ کلام کرے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ (براہ راست) مگر وحی کے طور پر یا پس پردہ یا بھیجے کوئی پیغامبر (فرشتہ) اور وہ وحی کرے اس کے حکم سے جو اللہ تعالیٰ چاہے ۔ بلاشبہ وہ اونچی شان والا ، بہت دانا ہے

﴿52﴾ اور اسی طرح ہم نے بذریعہ وحی بھیجا آپ کی طرف ایک جانفزا کلام اپنے حکم سے نہ آپ یہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے لیکن (اے حبیب!) ہم نے بنا دیا اس بات کو (سراپا) نور۔ ہم ہدایت دیتے ہیں اس کے ذریعے جس کو چاہتے ہیں اپنے بندوں سے ۔ اور بلاشبہ آپ رہنمائی فرماتے ہیں صراط مستقیم کی طرف

﴿53﴾ جو اللہ کی راہ ہے وہ اللہ جو مالک ہے ہر اس چیز کا جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے خوب سن لو! سب کاموں کا انجام اللہ تعالیٰ کی طرف ہی ہے

الزخرف

Surah 43

﴿1﴾ حا۔ میم

﴿2﴾ قسم ہے اس کتاب مبین کی

﴿3﴾ ہم نے اتارا ہے اسے قرآن عربی زبان میں تاکہ تم (اس کے مطالب کو) سمجھو

﴿4﴾ اور بےشک یہ قرآن ہمارے ہاں لوح محفوظ میں ثبت ہے اونچی شان والا ، حکمت سے لبریز

﴿5﴾ کیا ہم روک لیں گے تم سے اس ذکر کو ناراض ہو کر اس وجہ سے کہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو

﴿6﴾ اور ہم نے بکثرت بھیجے ہیں نبی پہلے لوگوں میں

﴿7﴾ اور نہیں ان کے پاس کوئی نبی مگر وہ (کفّار) اس کا مذاق اڑایا کرتے

﴿8﴾ پس ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا جو ان سے زیادہ طاقتور تھے اور گزر چکا ہے حال پہلے لوگوں کا

﴿9﴾ اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو تو ضرور کہیں گے پیدا کیا ہے انہیں بڑے زبردست، سب کچھ جاننے والے نے

﴿10﴾ جس نے بنا دیا ہے تمہارے لیے زمین کو گہوارہ اور بنا دیے ہیں تمہارے لیے اس میں راستے تاکہ تم منزل مقصود تک پہنچ سکو

﴿11﴾ اور جس نے اتارا آسمان سے پانی اندازہ کے مطابق ۔ پس ہم نے زندہ کر دیا اس سے ایک مردہ شہر کو ۔ یونہی تمہیں بھی (قبروں سے ) نکالا جائے گا

﴿12﴾ اور جس نے ہر قسم کی مخلوق پیدا فرمائی اور بنا دیں تمہارے لیے کشتیاں اور مویشی جن پر تم سوار ہوتے ہو

﴿13﴾ تا کہ تم جم کر بیٹھو ان کی پیٹھوں پر پھر (دِلوں میں ) یاد کرو اپنے رب کی نعمت کو جب تم خوب جم کر بیٹھ جاو ان پر اور (زبان سے) یہ کہو پاک ہے وہ ذات جس نے فرمانبردار بنا دیا ہے اسے ہمارے لیے اور ہم اس پر قابو پانے کی قدرت نہ رکھتے تھے

﴿14﴾ اور یقیناً ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

﴿15﴾ اور بنا دی ہے (مشرکوں نے ) اس کے لیے اس کے بندوں سے اولاد بےشک انسان کھلا ہوا نا شکر گزار ہے

﴿16﴾ کیا اللہ تعالیٰ نے پسند کر لی ہیں (اپنے لیے) اپنی مخلوق سے بیٹیاں اور مخصوص کر دیا ہے تمہیں بیٹوں کے ساتھ

﴿17﴾ اور جب اطلاع دی جاتی ہے ان میں سے کسی کو اس کی جس کی نسبت اس نے رحمن کی طرف کی ہے تو اس کا چہرہ (فرط رنج سے) سیاہ ہو جاتا ہے اور اس کا دل غم سے بھر جاتا ہے

﴿18﴾ کیا وہ (ایسی اولاد جنے گا) جو پروان چڑھتی ہے زیوروں میں اور وہ مباحثہ کے وقت اپنا مدعا واضح نہیں کر سکتی

﴿19﴾ اور انہوں نے ٹھہرا لیا ہے فرشتوں کو جو (خداوند ) رحمن کے بندے ہیں ، عورتیں کیا یہ موجود تھے ان کی پیدائش کے وقت؟لکھ لی جائے گی ان کی گواہی اور ان سے باز پرس ہو گی

﴿20﴾ اور (کفار) کہتے ہیں اگر چاہتا (خداوندِ) رحمان تو ہم انہیں نہ پوجتے انہیں اس حقیقت کا کوئی علم نہیں ۔ وہ محض قیاس آرائیاں کر رہے ہیں

﴿21﴾ کیا ہم نے دی انہیں کوئی کتاب اس سے پہلے پس وہ اسے مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں

﴿22﴾ بلکہ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم نے پایا اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر اور ہم ان کے نقوش پا پر چل رہے ہیں

﴿23﴾ اور اسی طرح جب بھی ہم نے بھیجا آ پ سے پہلے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا تو کہا وہاں کے عیش پرستوں نے کہ ہم نے پایا اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر اور ہم ان کے نشانات قدم کی پیروی کرنے والے ہیں

﴿24﴾ اس نبی نے فرمایا اگر میں لے آؤں تمہارے پاس زیادہ درست چیز اس سے جس پر پایا ہے تم نے اپنے باپ دادا کو (تب بھی؟) انہوں نے جواب دیا ہم جو دے کر تمہیں بھیجا گیا ہے اس کو نہیں مانتے

﴿25﴾ پس ہم نے ان سے انتقام لیاذرا دیکھو کیسا (المناک) انجام ہوا جھٹلانے والوں کا

﴿26﴾ اور (یاد کیجیے ) جب کہا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہ میں بیزار ہوں ان سے جن کی تم عبادت کرتے ہو

﴿27﴾ بجز اس کے جس نے مجھے پیدا فرمایا بےشک وہی میری رہنمائی کرے گا

﴿28﴾ اور آپ نے بنا دیا کلمہ توحید کو باقی رہنے والی بات اپنی اولا د میں تاکہ وہ (اس کی طرف) رجوع کریں

﴿29﴾ بلکہ میں نے لطف اندوز ہونے دیا انہیں اور ان کے آباؤاجداد کو یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس حق اور کھول کر بیان کرنے والا رسول

﴿30﴾ اور جب آگیا ان کے پاس حق تو وہ کہنے لگے یہ تو جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں

﴿31﴾ اور کہنے لگے کیوں نہ اتارا گیا یہ قرآن کسی ایسے آدمی پر جو ان دو شہروں میں بڑا ہے

﴿32﴾ کیا وہ بانٹا کرتا ہیں آپ کے رب کی رحمت کو ؟ہم نے خود تقسیم کیا ہے ان کے درمیان سامان زیست کو اس دنیوی زندگی میں اور ہم نے ہی بلند کیا ہے بعض کو بعض پر مراتب میں تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں اور آپ کے رب کی رحمتِ (خاص) بہت بہتر ہے اس سے جو وہ جمع کرتے ہیں

﴿33﴾ اور اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ سب لو گ ایک امت بن جائیں گے تو ہم بنا دیتے ان کے لیے جو انکار کرتے ہیں رحمن کا ، ان کے مکانوں کے لیے چھتیں چاندی کی اور سیڑھیاں جن پر وہ چڑھتے ہیں (وہ بھی چاندی کی)

﴿34﴾ اور ان کے گھروں کے دروازے بھی چاندی کے اور وہ تخت جن پر وہ تکیہ لگاتے ہیں

﴿35﴾ (وہ بھی چاندی اور سونے کے اور یہ سب سنہری رو پہلی) چیزیں دنیوی زندگی کا سامان ہے اور آخرت (کی عزت و کامیابی) آ پ کے رب کے نزدیک پرہیزگاروں کے لیے ہے

﴿36﴾ اور جو شخص (دانستہ) اندھا بنتا ہے رحمان کے ذکر سے تو ہم مقرر کر دیتے ہیں اس کے لیے ایک شیطان ۔ پس وہ ہر وقت اس کا رفیق رہتا ہے

﴿37﴾ اور شیاطین روکتے ہیں ان (اندھوں ) کو راہ ہدایت سے اور یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں

﴿38﴾ یہاں تک کہ جب وہ (اندھا) ہمارے پاس آئے گا تو (آنکھیں کھل جائیں گی) کہے گا کاش! میرے درمیان اور (اے شیطان!) تیرے درمیان مشرق و مغرب کی دوری ہوتی۔ تو تو بہت برا ساتھی ہے

﴿39﴾ اور یہ (شورو فغاں) تمہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتا آج جب تک کہ تم (دنیا میں ) ظلم کرتے رہو تم (سب) اس عذاب میں حصہ دار ہو

﴿40﴾ کیا آپ سنانا چاہتے ہیں بہروں کو یا راہ دکھا نا چاہتے ہیں اندھوں کو اور انہیں جو کھلی گمراہی میں ہے

﴿41﴾ پس اگر ہم لے جائیں آپ کو (اس دار فانی سے) تو پھر بھی ہم ان سے بدلہ لیں گے

﴿42﴾ یا ہم آ پ کو دکھا دیں گے وہ عذاب جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے پس ہم ان پر پوری طرح قادر ہیں

﴿43﴾ پس مضبوطی سے پکڑے رہیے اس (قرآن) کو جو آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے بےشک آپ سیدھی راہ پر ہیں

﴿44﴾ اور بےشک یہ بڑا شرف ہے آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے اور (اے فرزندان اسلام!) تم سے جواب طلبی ہو گی

﴿45﴾ اور آپ پوچھیے ان سے جنہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے اپنے رسولوں سے کیا ہم نے بنائے ہیں خداوند رحمن کے علاوہ اور خدا تاکہ ان کی پوجا کی جائے

﴿46﴾ اور ہم نے بھیجا موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف پس آپ نے (انہیں ) کہا بیشک میں رب العالمین کا فرستادہ ہوں

﴿47﴾ پس جب آپ آئے ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر تو اس وقت وہ ان سے ہنسنے لگے

﴿48﴾ اور ہم نہیں دکھاتے تھے انہیں کوئی نشانی مگر وہ بڑی ہوتی پہلے سے۔ اور ہم نے مبتلا کر دیا انہیں عذاب میں تاکہ وہ باز آجائیں

﴿49﴾ اور وہ بولے اے جادو گر ! دعا مانگیے ہمارے لیے اپنے رب سے بسبب اس عہد کے جو اس نے تمہارے ساتھ کیا ہے ہم ضرور ہدایت قبول کریں گے

﴿50﴾ پس جب ہم نے دور کر دیا ان سے عذاب کو تو فوراََوہ عہد شکنی کرنے لگے

﴿51﴾ اور پکارا فرعون اپنی قوم میں (اور) کہنے لگااے میری قوم! کیا میں مصر کا فرمانروا نہیں؟ اور یہ نہریں جو میرے نیچے بہہ رہی ہیں کیا تم (انہیں) دیکھ نہیں رہے؟

﴿52﴾ کیا میں بہتر نہیں ہوں اس شخص سے جو ذلیل ہے اور بات بھی صاف نہیں کر سکتا

﴿53﴾ (اگر یہ سچا نبی ہے) تو کیوں نہ اتارے گئے اس پر سونے کے کنگن یا کیوں نہ آئے اس کے ساتھ فرشتے قطار در قطار

﴿54﴾ یوں اس نے احمق بنا دیا اپنی قوم کو سو وہ اس کی پیروی کرنے لگے۔ در حقیقت یہ نافرمان لوگ تھے

﴿55﴾ پس جب انہوں نے ہمیں ناراض کر دیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا پھر ہم نے ان سب کو غرق کر دیا

﴿56﴾ اور بنا دیا انہیں پیش رو اور کہاوت پچھلوں کے لیے

﴿57﴾ اور جب بیان کیا جاتا ہے مریم کے فرزند (عیسیٰ ( علیہ السلام) ) کا حال تو آپ کی قوم اس سے شورو غل مچا دیتی ہے

﴿58﴾ اور کہتے ہیں کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ ۔ وہ نہیں بیان کرتے یہ مثال آپ سے مگر کج بحثی کے لیے۔ در حقیقت یہ لوگ بڑے جھگڑالو ہیں

﴿59﴾ نہیں ہے عیسیٰ مگر ایک بندہ ہم نے انعام فرمایا ہے ان پر اور ہم نے بنا دیا ہے انہیں ایک نمونہ بنی اسرائیل کے لیے

﴿60﴾ اور اگر ہم چاہتے تو ہم بسا دیتے تمہارے بدلے فرشتے زمین میں جو تمہارے جانشین ہوتے

﴿61﴾ اور بےشک وہ ایک نشانی ہے قیامت کے لیے پس ہر گز نہ کرو اس میں اور میری پیروی کیا کرو یہ سیدھا راستہ ہے

﴿62﴾ کہیں روک نہ دے تمہیں شیطان (اس راہ سے) بےشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

﴿63﴾ اور جب آئے عیسیٰ (علیہ السلام) روشن نشانیاں لے کر تو فرمایا میں آیا ہوں تمہارے پاس حکمت لے کر اور میں بیان کروں گا تم سے کچھ وہ بات جس میں تم اختلا ف کرتے ہو۔ پس ڈرتے رہا کرو اللہ سے اور میری فرمانبرداری کیا کرو

﴿64﴾ یقیناً اللہ تعالیٰ وہی میرا بھی رب ہے تمہارا بھی رب ہے ۔ پس اس کی عبادت کیا کرو ۔ یہی سیدھا راستہ ہے

﴿65﴾ پھر اختلاف کرنے لگ گئے (ان کے) گروہ آپس میں پس ہلاکت ہے ظالموں کے لیے دردناک عذاب کے دن سے

﴿66﴾ کیا یہ لوگ قیامت برپا ہونے کے منتظر ہیں کہ آجائے ان پر اچانک اور انہیں خبر تک نہ ہو

﴿67﴾ گہرے دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے بجز ان کے جو متقی (اور پرہیزگار) ہیں

﴿68﴾ اے میرے (پیارے ) بندو! آج تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ تم (آج) غمزدہ ہو گے

﴿69﴾ (یعنی ) وہ بندے جو ایمان لے آئے تھے ہماری آیتوں پر اور فرمانبردار تھے

﴿70﴾ (حکم ہو گا) داخل ہو جاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں خوشی خوشی

﴿71﴾ گردش میں ہوں گے ان پر سونے کے تھال اور جام اور وہاں ہر چیز موجود ہو گی جسے دل پسند کریں اور آنکھوں کو لذت ملے۔ (مزید برآں) تم وہاں ہمیشہ رہو گے

﴿72﴾ اور یہی وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنادیے گئے ہوان اعمال کے باعث جو تم کیا کرتے تھے

﴿73﴾ تمہارے لیے یہاں بکثرت پھل ہیں ان میں سے کھاؤ گے جو جی چاہے

﴿74﴾ بے شک مجرم عذاب جہنم میں ہمیشہ رہیں گے

﴿75﴾ نہ ہلکا کیا جائے گا ان سے (یہ عذاب ) اور وہ اس میں آس توڑ بیٹھیں گے

﴿76﴾ اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا لیکن وہ (اپنی جانوں پر) ظلم ڈھانے والے تھے

﴿77﴾ اور وہ پکاریں گے اے مالک ! بہتر ہے کہ تمہارا رب خاتمہ ہی کر ڈالے ۔ وہ جواب دے گا کہ تمہیں تو یہاں ہمیشہ (جلتے ) رہنا ہے

﴿78﴾ بے شک ہم لے آئے تمہارے پاس (دین ) حق لیکن تم میں سے اکثر حق سے نفرت کرنے والے تھے

﴿79﴾ ہاں اگر انہوں نے کوئی قطعی فیصلہ کر لیا ہے تو ہم بھی اپنا قطعی فیصلہ کرنے والے ہیں

﴿80﴾ کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم نہیں سنتے ان کے رازوں اور سر گوشی کو ۔ ہاں ہم سنتے ہیں اور ہمارے فرشتے ان کے پاس بیٹھے لکھتے بھی رہتے ہیں

﴿81﴾ آپ فرمائیے (بفرض محال) اگر رحمن کا کوئی بچہ ہوتا تو میں سب سے پہلے اس کا پجاری ہوتا

﴿82﴾ پاک ہے آسمانوں اور زمین کا پروردگار (اور) عرش کا رب ہر اس عیب سے جو یہ بیان کرتے ہیں

﴿83﴾ پس (اے حبیب!) آپ رہنے دیں انہیں کہ بیہودہ باتیں بناتے رہیں اور کھیل (تماشا) کرتے رہیں حتیٰ کہ ملاقات ہو جائے ان کی اپنے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے

﴿84﴾ اور وہی ایک آسمان میں خدا ہے اور زمین میں بھی خدا ہے ۔ اور وہی بہت دانا سب کچھ جاننے والا ہے

﴿85﴾ اور بڑی برکت والا ہے وہ جس کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین میں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ۔ اور اسی کے پاس ہے قیامت کا علم اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے

﴿86﴾ اور نہیں اختیا ررکھتے جنہیں یہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں شفاعت کرنے کا ہاں شفاعت کا حق انہیں ہے جو حق کی گواہی دیں اور وہ (اس کو ) جانتے بھی ہیں

﴿87﴾ اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ انہیں کس نے پیدا کیا تو یقیناً کہیں گے اللہ نے پھر کدھر یہ الٹے پھر رہے ہیں

﴿88﴾ اور قسم ہے میرے رسول کے اس قول کی کہ اے میرے رب! یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لاتے

﴿89﴾ پس (اے حبیب!) رخ انور پھیر لیجیے ان سے اور فرمائیے تم سلامت رہو۔ وہ (اس کا انجام) ضرور جان لیں گے

الدخان

Surah 44

﴿1﴾ حا ۔ میم

﴿2﴾ حق کو واضح کرنے والی کتاب کی قسم

﴿3﴾ بیشک ہم نے اتارا ہے اسے ایک بابرکت رات میں ہماری یہ شان ہے کہ ہم بروقت خبردار کر دیا کرتے ہیں

﴿4﴾ اسی رات میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر اہم کام کا

﴿5﴾ ہر حکم ہماری جانب سے صادر ہوتا ہے ہم ہی (کتاب و رسول) بھیجنے والے ہیں

﴿6﴾ سراپا رحمت آپ کے رب کی طرف سے ۔ بیشک وہی سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے

﴿7﴾ وہ جو رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اگر تم ایماندار ہو

﴿8﴾ نہیں کوئی معبود بجز اس کے وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے تمہارا بھی رب اور تمہارے پہلے باپ دادا کا بھی رب ہے

﴿9﴾ بلکہ وہ شک میں پڑے کھیل رہے ہیں

﴿10﴾ پس آپ انتظار کریں اس دن کا جب ظاہر ہوگا آسمان پر صاف نظر آنے والا دھواں

﴿11﴾ جو چھا جائے گا لوگوں پر ۔ یہ دردناک عذاب ہو گا

﴿12﴾ (اس وقت کہیں گے) اے ہمارے رب! دُور کر دے ہم سے یہ عذاب ۔ ہم (ابھی ) ایمان لاتے ہیں

﴿13﴾ ان کے نصیحت قبول کرنے کی امید کہاں حالانکہ ان کے پاس تشریف لے آیا روشن رسول

﴿14﴾ پھر انہوں نے منہ پھیر لیا تھا اس سے اور کہا سکھایا ہوا ہے ، دیوانہ ہے

﴿15﴾ ہم دور کرنے والے ہیں عذاب کو قلیل عرصہ کے لیے تم پھر کفر کی طرف لوٹ جاؤ گے

﴿16﴾ جس روز ہم انہیں پوری شدت سے پکڑیں گے (اس روز) ہم (ان سے) بدلہ لے لیں گے

﴿17﴾ اور ہم نے آزمایا تھا ان سے پہلے قوم فرعون کو اور آیا تھا ان کے پاس معزز رسول

﴿18﴾ (اس نے فرمایا تھا) کہ میرے حوالے کر دو اللہ کے بندوں کو ۔ میں تمہارے لیے معتبر رسول ہوں

﴿19﴾ اور نہ سر کشی کرو اللہ کے مقابلہ میں میں لے آیا ہوں تمہارے پاس (اپنی رسالت کی ) روشن دلیل

﴿20﴾ اور میں نے پناہ لے لی ہے اپنے رب کی اور تمہارے رب کی کہ تم مجھ پر پتھراؤ کر سکو

﴿21﴾ اور اگر تم ایمان لانے کے لیے تیار نہیں تو پھر مجھ سے کنارہ کش ہو جاؤ

﴿22﴾ پس پکارا موسیٰ نے اپنے رب کو (الہٰی) بلاشبہ یہ مجرم لوگ ہیں

﴿23﴾ (حکم ملا) لے چلو میرے بندوں کو راتوں رات ۔ تمہارا تعاقب کیا جائے گا

﴿24﴾ اور رہنے دو سمندر کو تھما ہوا ۔ بےشک وہ ایسا لشکر ہے جو غرق ہو کر رہے گا

﴿25﴾ وہ چھوڑ گئے بہت سے باغات اور چشمے

﴿26﴾ (سر سبز) کھیتیاں اور شاندار مقامات

﴿27﴾ اور بہت سارا سازو سامان جس میں وہ عیش کیا کرتے تھے

﴿28﴾ یونہی ہوا۔ اور ہم نے وارث بنا دیا ان تمام چیزوں کا دوسرے لوگوں کو

﴿29﴾ پس نہ رویا ان (کی بربادی ) پر آسمان اور نہ زمین اور نہ انہیں مزید مہلت دی گئی

﴿30﴾ اور بےشک ہم نے نجات دی بنی اسرائیل کو رسوا کن عذاب سے

﴿31﴾ (یعنی) فرعون (کی غلامی) سے ۔ بلاشبہ وہ بڑا متکبّر (اور) حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا

﴿32﴾ اور ہم نے چنا تھا بنی اسرائیل کو جان بوجھ کر ، جہان والوں پر

﴿33﴾ اور ہم نے عطا فرمائیں انہیں ایسی نشانیاں جن میں صریح آزمائش تھی

﴿34﴾ بے شک یہ (کفار مکہ) بھی کہتے ہیں

﴿35﴾ نہیں ہے (ہمارے لیے) مگر ہماری (یہی) پہلی موت اور نہ ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا

﴿36﴾ بھلا ہمارے باپ دادوں کو تو زندہ کر کے لے آؤ اگر تم سچے ہو

﴿37﴾ (اے لوگو!) ذرا سوچو) کیا یہ لوگ بہتر ہیں یا تبع کی قوم اور جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں ہم نے انہیں (بہمہ شوکت و حشمت) ہلاک کر دیا۔ بیشک وہ مجرم تھے

﴿38﴾ اور نہیں پیدا فرمایا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل کے طور پر

﴿39﴾ نہیں پیدا فرمایا ہم نے آسمان و زمین کو مگر حق کے ساتھ لیکن ان میں سے اکثر (اس حقیقت کو ) نہیں جانتے

﴿40﴾ یقیناً فیصلہ کا دن ان سب کو (دوبارہ زندہ کرنے کے لیے) مقرروقت ہے

﴿41﴾ جس روز کوئی دوست کسی دوست کے ذرا کام نہ آئے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی

﴿42﴾ سوائے ان کے جن پر اللہ نے رحم فرمایا ہے بیشک وہ سب پر غالب ، ہمیشہ رحم کرنے والا ہے

﴿43﴾ بلاشبہ زقوم کا درخت

﴿44﴾ گنہگار کی خوراک ہوگا

﴿45﴾ پگھلے تانبے کی مانند، پیٹوں میں جوش مارے گا

﴿46﴾ جیسے کھولتا پانی جوش مارتا ہے

﴿47﴾ (حکم ہو گا) اس (نا بکار) کو پکڑ لو اسے گھسیٹ کر لے جاؤ جہنم کے وسط میں

﴿48﴾ پھر انڈیلو اس کے سر کے اوپر کھولتا پانی (اسے) عذاب دینے کے لیے

﴿49﴾ لو چکھو تم بڑے معزز و مکرم ہو

﴿50﴾ بے شک یہ وہ ہے جس میں تم شک کیا کرتے تھے

﴿51﴾ یقیناً پرہیزگار امن کی جگہ میں ہوں گے

﴿52﴾ باغات میں اور (بہتے ہوئے) چشموں میں

﴿53﴾ پہنے ہوئے ہوں گے لباس باریک اور دبیز ریشم کا ۔ آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے

﴿54﴾ ہاں یونہی ہوگا اور ہم بیاہ دینگے انہیں گوری گوری آہو چشم عورتوں سے

﴿55﴾ وہ منگوا لیا کریں گے وہیں ہر قسم کا پھل اطمینا ن سے

﴿56﴾ نہ چکھیں گے وہاں موت کا ذائقہ بجز اس پہلی موت کے اور اللہ نے بچا لیا انہیں عذاب جہنم سے

﴿57﴾ محض آپ کے رب کی مہربانی سے یہی وہ بڑی کامیابی ہے (جس کی انہیں آرزو تھی)

﴿58﴾ پس ہم نے آسان کر دیا قرآن کو آپ کی زبان میں تاکہ وہ نصیحت قبول کریں

﴿59﴾ سو آپ بھی انتظار کیجیے وہ بھی انتظار کرنے والے ہیں

الجاثیہ

Surah 45

﴿1﴾ حا۔ میم

﴿2﴾ اتاری گئی ہے یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو زبردست (اور) حکمت والا ہے

﴿3﴾ بے شک آسمانوں اور زمین میں (اس کی یکتائی اور قدرت کی ) نشانیاں ہیں اہل ایمان کے لیے

﴿4﴾ اور (خود) تمہاری پیدائش میں اور ان حیوانات میں جن کو وہ پھیلا رہا ہے نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں

﴿5﴾ نیز گردش لیل و نہار میں اور جو اتارا ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان سے رزق (کا سبب مینہ) پھر زندہ کر دیا اس کے ذریعے زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد اور ہواؤں کے ادھر ادھر چلنے میں نشانیاں ہیں ان کے لیے جو عقلمند ہیں

﴿6﴾ یہ سب نشانیاں ہیں اللہ کی (قدرت کی ) ہم بیان کرتے ہیں انہیں آپ پر حق کے ساتھ۔ پس وہ کونسی ایسی بات ہے جس پر وہ اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد ایمان لائیں گے

﴿7﴾ ہلاکت ہے ہر جھوٹے بدکار کے لیے

﴿8﴾ جو سنتا ہے اللہ کی آیتوں کو جو پڑھی جاتی ہیں اس کے سامنے پھر بھی وہ (کفر پر ) اڑا رہتا ہے غرور کرتے ہوئے گویا اس نے انہیں سنا ہی نہیں ۔ پس آپ اسے دردناک عذاب کا مژدہ سنا دیں

﴿9﴾ اور جب وہ آگاہ ہوتا ہے ہماری آیتوں میں سے کسی پر تو ان کا مذاق اڑانے لگتا ہے یہی وہ (بدقماش) ہیں جن کے لیے رسوا کن عذاب ہے

﴿10﴾ ان کے آگے جہنم ہے ۔ اور ان کے ذرا کام نہ آئے گا جو انہوں نے (عمر بھر) کمایا اور نہ وہ کسی کام آئیں گے جن کو انہوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر مددگار بنایا تھا اور ان کے لیے بڑا عذاب ہو گا

﴿11﴾ یہ قرآن سراپا ہدایت ہے اور جنہوں نے انکار کیا اپنے رب کی آیتوں کا ان کے لیے دردناک عذاب ہے سخت ترین عذاب میں سے

﴿12﴾ اللہ وہ ہے جس نے مسخر کر دیا ہے تمہارے لیے سمندر کو تاکہ رواں رہیں ا س میں کشتیاں اس کے حکم سے اور تاکہ تم (بحری تجارت سے) تلاش کرو اس کا فضل اور تاکہ تم اس کا شکر ادا کیا کرو

﴿13﴾ اور اس نے مسخر کر دیا ہے تمہارے لیے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب اپنے حکم سے بےشک اس (نظام) میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غورو فکر کیا کرتے ہیں

﴿14﴾ (اے حبیب!) فرمائیے اہل ایمان کو کہ در گزر کرتے رہیں ان لوگوں سے جو امید نہیں رکھتے اللہ کے دنوں کی تاکہ اللہ خود بدلہ دے ہر قوم کو جو وہ کیا کرتے تھے

﴿15﴾ جو نیک عمل کرتا ہے پس وہ اپنے بھلے کے لیے کرتا ہے اور جو برا کرتا ہے تو اس کو وبال اس پر ہوگا پھر اپنے رب کی طرف تمہیں لوٹایا جائے گا

﴿16﴾ اور بےشک ہم نے عطا فرمائی بنی اسرائیل کو کتاب ، حکومت اور نبوت اور ہم نے ان کو پاکیزہ رزق دیا اور انہیں بزرگی دی (اپنے زمانے کے) اہل جہاں پر

﴿17﴾ اور ہم نے انہیں دین کے معاملہ میں واضح دلائل دیے پس آپس میں انہوں نے جھگڑنا شروع نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ انہیں (حقائق کا) صحیح علم آگیا۔ محض باہمی حسد و عناد کے باعث۔ یقیناً آپ کا رب فیصلہ فرمائے گا ان کے درمیان قیامت کے دن جن باتوں میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے

﴿18﴾ پھر ہم نے پختہ کر دیا آپ کو صحیح راہ پر دین کے معاملہ میں پس آپ اس کی پیروی کرتے رہیں اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں جو بےعلم ہیں

﴿19﴾ یہ لوگ اللہ کے مقابلہ میں آپ کو قطعاََ کچھ فائدہ نہ پہنچا سکیں گے ۔ بلاشبہ ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کا دوست ہے

﴿20﴾ یہ بصیرت افروز باتیں ہیں سب لوگوں کے لیے اور (باعثِ ) ہدایت و رحمت ہیں ان کے لیے جو یقین رکھتے ہیں

﴿21﴾ کیا خیال کر رکھا ہے ان لوگوں نے جو ارتکاب کرتے ہیں برائیوں کا کہ ہم بنا دیں گے انہیں ان لوگوں کی مانند جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے کہ یکساں ہو جائے ان (دونوں ) کا جینا مرنا بڑا غلط فیصلہ ہے جو وہ کرتے ہیں

﴿22﴾ اور پیدا فرمایا اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ تاکہ بدلہ دیا جائے ہر شخص کو جو اس نے کمایا اور ان پر (قطعاََ) ظلم نہیں کیا جائے گا

﴿23﴾ ذرا اس کی طرف تو دیکھو جس نے بنا لیا ہے اپنا خدا ، اپنی خواہش کو اور گمراہ کر دیا ہے اسے اللہ نے باوجود علم کے اور مہر لگا دی ہے اس کے کانوں اور اس کے دل پر اور ڈال دیا ہے اس کی آنکھوں پر پردہ پس کون ہدایت دے سکتا ہے اسے اللہ کے بعد (لوگو!) کیا تم غور نہیں کرتے

﴿24﴾ اور وہ کہتے ہیں نہیں (کوئی دوسری) زندگی بجز ہماری دنیا کی زندگی کے (یہیں) ہم نے مرنا اور زندہ رہنا ہے اور نہیں فنا کرتا ہمیں مگر زمانہ حالانکہ انہیں اس حقیقت کا کوئی علم نہیں ۔ وہ محض ظن (و تخمین ) سے کام لے رہے ہیں

﴿25﴾ اور جب پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ان کے سامنے ہماری روشن آیتیں تو (ان کے جواب میں ) ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی بجز اس کے کہ وہ کہتے ہیں کہ لے آؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو

﴿26﴾ فرمائیے اللہ نے زندہ فرمایا ہے تمہیں پھر وہی مارے گا تمہیں پھر جمع کرے گا تمہیں روز قیامت جس میں ذرا شک نہیں لیکن اکثر لوگ ( اس حقیقت کو) نہیں جانتے

﴿27﴾ اور اللہ تعالیٰ کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جس روز برپا ہو گیا قیامت اس روز سخت نقصان اٹھائیں گے باطل پرست

﴿28﴾ اور آپ دیکھیں گے ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل گرا ہوا اور ہر گروہ کو بلایا جائے گا اس کے صحیفہ (عمل) کی طرف (انہیں کہا جائے گا) آج تمہیں بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے

﴿29﴾ یہ ہمارا نوشتہ ہے جو بولتا ہے تمہارے بارے میں سچ ہم لکھ لیا کرتے تھے جو تم (دنیا میں) عمل کیا کرتے تھے

﴿30﴾ پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو انہیں ان کا رب اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا یہی وہ روشن کامیابی ہے

﴿31﴾ اور جو لوگ کفر کرتے رہے (ان سے پوچھا جائے گا) کیا میری آیتیں تمہارے سامنے تلاوت نہیں کی جاتی تھیں پھر تم (سن کر) تکبر کیا کرتے تھے اور تم لوگ (عادی) مجرم تھے

﴿32﴾ اور جب ( تمہیں ) کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت (کے آنے ) میں کوئی شک نہیں تو تم (بڑے غرور سے) کہتے ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہے ہمیں تو یونہی ایک گمان سا ہوتا ہے اور ہمیں اس پر (قطعاً) یقین نہیں

﴿33﴾ اور ظاہر ہو گئے ان کے لیے برے نتائج ان کے کرتوتوں کے اور (ہر طرف سے) گھیر لیا انہیں اس (عذاب) نے جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے

﴿34﴾ اور (انہیں ) کہہ دیا گیاآج ہم تمہیں فراموش کر دیں گے جس طرح تم نے فراموش کیے رکھا اپنے اس دن کی ملاقات کو اور تمہارا ٹھکانا آگ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں

﴿35﴾ یہ اس لیے کہ تم نے بنا رکھا تھا اللہ کی آیتوں کو مذاق اور فریب میں مبتلا کر دیا تھا تمہیں دنیوی زندگی نے ۔ پس آج وہ نہیں نکالے جائیں گے آگ سے اور نہ انہیں توبہ کر کے اپنے رب کو راضی کرنے کا موقع دیا جائے گا

﴿36﴾ پس اللہ کے لیے ہیں سب تعریفیں جو رب ہے آسمانوں کا اور رب ہے زمین کا (اور وہی) سارے جہانوں کا پروردگار ہے

﴿37﴾ فقط اسی کے لیے بڑائی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہی عزت والا ، حکمت والا ہے

الاحقاف

Surah 46

﴿1﴾ حا۔ میم

﴿2﴾ اتاری گئی ہے یہ کتاب اللہ کی طرف سے جو سب پر غالب بہت دانا ہے

﴿3﴾ نہیں پیدا فرمایا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق کے ساتھ اور مدت مقررہ تک اور کفار اس چیز سے جس سے انہیں ڈرایا جا تا ہے رو گردانی کرنے والے ہیں

﴿4﴾ فرمائیے (اے کفار!) کبھی تم نے (غور سے) دیکھا ہے جنہیں تم اللہ کے سوا (خدا سمجھ کر) پکارتے ہو (بھلا) مجھے بھی تو دکھاؤ جو پیدا کیا ہے انہوں نے زمین سے یا ان کا آسمانوں (کی تخلیق) میں کچھ حصہ ہے لاؤ میرے پاس کوئی کتاب جو اس سے پہلے اتری ہو یا کوئی (دوسرا) علمی ثبوت اگر تم سچے ہو

﴿5﴾ اور کون زیادہ گمراہ ہے اس (بد بخت) سے جو پکارتا ہے اللہ کو چھوڑ کر ایسے معبود کو جو قیامت تک اس کی فریاد قبول نہیں کر سکتا اور وہ ان کے پکارنے سے ہی غافل ہیں

﴿6﴾ اور جب جمع کیے جائیں گے لوگ (روزِمحشر) تو وہ معبود ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا صاف انکار کر دیں گے

﴿7﴾ اور جب پڑھی جاتی ہیں ان کے سامنے ہماری آیتیں جو روشن ہیں تو کہتے ہیں کفارحق کے بارے میں جب ان کے پاس آیا کہ یہ کھلا جادو ہے

﴿8﴾ کیا وہ کہتے ہیں کہ نبی نے اس کو خود گھڑ لیا ہے فرمائیے اگر میں نے اس کو خود گھڑا ہے تو تم اس طاقت کے مالک نہیں کہ مجھے اللہ سے چھڑا لو ۔ وہ خوب جانتا ہے جن باتوں میں تم مشغول ہو ۔ وہ کافی ہے بطور گواہ میرے درمیان اور تمہارے درمیان اور وہ بہت بخشنے والا ، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے

﴿9﴾ آپ کہیے میں کوئی انوکھا رسول تو نہیں ہوں اور میں (ازخودیہ ) نہیں جان سکتا کہ کیا کیا جائے گا میرے ساتھ اور کیا کیا جائے گا تمہارے ساتھ ۔ میں تو پیروی کرتا ہوں جو وحی میری طرف کی جاتی ہے اور میں نہیں ہوں مگر صاف صاف ڈرانے والا

﴿10﴾ فرمائیے کیا تم نے کبھی اس پر غور کیا کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے ہو اور تم اس کا انکار کر دو (تو اس کا انجام کیا ہو گا؟) حالانکہ گواہی دے چکا ہے ایک گواہ بنی اسرائیل سے اس کی مثل پر اور وہ ایمان بھی لے آیا اور تم نے تکبر کیا بےشک اللہ تعالیٰ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو

﴿11﴾ اور کفار اہل ایمان کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر یہ (اسلام) کوئی بہتر چیز ہوتی تو یہ ہم سے سبقت نہ لے جاتے اس کی طرف اور کیونکہ انہیں ہدایت نصیب نہیں ہوئی قرآن سے تو یہ اب ضرور کہیں گے کہ (اجی) یہ تو وہی پرانا جھوٹ ہے

﴿12﴾ حالانکہ اس سے پہلے کتاب موسیٰ رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے۔ اور یہ کتاب (قرآن) تو اس کی تصدیق کرنے والی ہے عربی زبان میں ہے تاکہ بروقت خبردار کر دے ظالموں کو اور خوش خبری ہے نیکو کاروں کے لیے

﴿13﴾ بے شک جن لوگوں نے کہا ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے پس کوئی خوف نہیں انہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے

﴿14﴾ یہی لوگ جنتی ہیں ہمیشہ رہیں گے اس میں یہ جزا ہے ان نیکیوں کی جو وہ کیا کرتے تھے

﴿15﴾ اور ہم نے حکم دیا ہے انسان کو کہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے (اپنے شکم میں) اٹھائے رکھا اس کو اس کی ماں نے بڑی مشقت سے اور جنا اس کو بڑی تکلیف سے اور اس کے حمل اور اس کے دودھ چھڑانے تک تیس مہینے لگ گئے یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری قوت کو پہنچا اور چالیس برس کاہو گیا تو اس نے عرض کی اے میرے رب! مجھے والہانہ توفیق عطا فرما کہ میں شکر ادا کرتا رہوں تیری اس نعمت کا جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائی اور میں ایسے نیک کام کروں جن کو تو پسند فرمائے اور صلاح (و رشد) کو میرے لیے میری اولاد میں راسخ فرما دے ۔ بےشک میں توبہ کرتا ہوں تیری جناب میں اور میں تیرے حکم کے سامنے سر جھکانے والوں میں سے ہوں

﴿16﴾ یہی وہ (خوش نصیب) ہیں قبول کرتے ہیں ہم جن کے بہترین اعمال کو اور درگزر کرتے ہیں ہم جن کی برائیوں سے ، یہ جنتیوں میں سے ہوں گے ۔ یہ (اللہ کا) سچا وعدہ ہے جو (اہل ایمان سے) کیا گیا ہے

﴿17﴾ اور جس نے کہا اپنے والدین کو افسوس ہے تمہارے حال پر کیا تم مجھے دھمکی دیتے ہو اس کی کہ میں (قبر سے) نکالا جاؤں گا حالانکہ گزر چکی ہیں کئی صدیاں مجھ سے پہلے (ان میں سے تو کوئی اب تک زندہ نہ ہوا) اور اس کے والدین بارگاہ الہی میں فریاد کرتے ہیں (اور اسے کہتے ہیں) تیر اخانہ خراب ہو ایمان لے آ۔ یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے تو وہ (جواباً) کہتا ہے نہیں ہیں یہ دھمکیاں مگر پہلے لوگوں کی فرسودہ کہانیاں

﴿18﴾ یہی وہ (بد بخت ) ہیں جن پر ثابت ہو چکا ہے عذاب کا فرمان ان گروہوں میں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں جنوں اور انسانوں میں سے بےشک وہ سراسر گھاٹے میں تھے

﴿19﴾ اور ہر ایک کے لیے مرتبے ہوں گے ان کے اعمال کے مطابق اور اللہ تعالیٰ پورا پورا دے گا انہیں ان کے اعمال کا بدلہ اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا

﴿20﴾ اور جس روز لا کر کھڑا کر دیا جائے گا کفار کو آگ کے سامنے (تو انہیں کہا جائے گا) تم نے ختم کر دیا تھا اپنی نعمتوں کا حصہ اپنی دنیوی زندگی میں اور خوب لطف اٹھا لیا تھا تم نے ان سے آج تمہیں رسوائی کا عذاب دیا جائے گا بوجہ اس گھمنڈ کے جو تم زمین میں نا حق کیا کرتے تھے اور بوجہ تمہاری نافرمانیوں کے

﴿21﴾ (اے حبیب!) ذکر سنائیے انہیں قوم عاد کے بھائی (ہُود ) کا۔ جب ڈرایا اس نے اپنی قوم کو احقاف میں اور گزر چکے تھے ڈرانے والے ان سے پہلے بھی اور ان کے بعد بھی کہ اللہ تعالیٰ کے بغیر کسی کی عبادت نہ کرو (ورنہ) مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر بڑے دن کا عذاب نہ آجائے

﴿22﴾ وہ (برا فروختہ ہو کر) بولے (اے ہود) کیا تم اس لیے ہمارے پاس آئے ہو کہ ہمیں ہمارے خداؤں سے بر گشتہ کر دو لے آؤ (وہ عذاب) جس کی تم ہمیں دھمکیاں دیتے رہے ہو اگر تم سچے ہو

﴿23﴾ ہُود نے فرمایا کہ نزول عذاب کا علم تو اللہ کے پاس ہے اور میں (برابر) پہنچا رہا ہوں تمہیں وہ پیغام جو میں دے کر بھیجا گیا ہوں ، لیکن میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم جاہل قوم ہو

﴿24﴾ پس جب انہوں نے دیکھا عذاب کو بادل کی صورت میں کہ وہ ان کی وادیوں کی طرف آرہا ہے تو بولے یہ بادل ہے ہم پر برسنے والا ہے (نہیں نہیں !) بلکہ یہ تو وہ عذاب ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے۔ (یہ تند) ہوا ہے اس میں دردناک عذاب ہے

﴿25﴾ تہس نہس کر کے رکھ دے گی ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے ۔ پس جب ان پر صبح ہوئی تو نہ دکھائی دی کوئی چیز بجز ان کے (ویران) مکانوں کے ۔ اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں مجرموں کو

﴿26﴾ اور ہم نے ان کو وہ قوت و طاقت بخشی تھی جو ہم نے تمہیں نہیں دی اور ہم نے عطا کیے تھے انہیں کان، آنکھیں اور دل لیکن ان کے کسی کام نہ آئے ان کے کان ، نہ ان کی آنکھیں اور نہ ان کے دل کیونکہ وہ انکار کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا اور احاطہ کر لیا ان کا اس (عذاب) نے جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے

﴿27﴾ اور ہم نے برباد کر دیے وہ گاؤں جو تمہارے اردگرد ( آباد ) تھے اور ہم نے مختلف انداز میں اپنی نشانیاں پیش کیں شاید وہ (حق کی طرف) لوٹ آئیں

﴿28﴾ پس کیوں مدد نہ کی ان کی ان معبودوں نے جنہیں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرّب کے لیے (اپنے) خدا بنا رکھا تھا بلکہ وہ تو ان سے رو پوش ہو گئے ۔ اور یہ محض ان کا ڈھونگ تھا اور بہتان جو وہ باندھتے تھے

﴿29﴾ اور جس وقت ہم نے متوجہ کیا آپ کی طرف جنات کی ایک جماعت کو کہ وہ قرآن سنیں تو جب آ پ کی خدمت میں پہنچے تو بولے خاموش ہو کر سنو۔ پھر جب تلاوت ہو چکی تو لوٹے اپنی قوم کی طرف ڈر سناتے ہوئے

﴿30﴾ انہوں نے ( جا کر ) کہا اے ہماری قوم ! ہم نے (آج ) ایک کتاب سنی ہے جو اتاری گئی ہے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تصدیق کرنے والی ہے پہلی کتابوں کی رہنمائی کرتی ہے حق کی طرف اور راہ راست کی طرف

﴿31﴾ اے ہماری قوم! قبول کر لو اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت کو اور اس پر ایمان لے آؤ بخش دے گا تمہارے لیے تمہارے گناہوں کو اور بچا لے گا تمہیں دردناک عذاب سے

﴿32﴾ اور جو قبول نہیں کرتا اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت کو تو وہ اللہ کو عاجز کرنے والا نہیں زمین میں (کہ اس سے بچ کر بھاگ نکلے ) اور نہیں اس کے لیے اللہ کے سوا کوئی مددگار۔ یہ (منکر لوگ) کھلی گمراہی میں ہیں

﴿33﴾ کیا انہوں نے نہ جانا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ذرا تھکن محسوس نہ کی ان کے بنانے میں وہ ضرور اس پر قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے بلکہ وہ تو ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے

﴿34﴾ اور جس روز کفار آگ کے سامنے لائے جائیں گے (ان سے کہا جائے گا) کیا یہ حق نہیں ۔ کہیں گے ہمارے رب کی قسم یہ حق ہے اللہ فرمائے گا اچھا اب چکھو عذاب کا مزہ اس کفر کے باعث جو تم کیا کرتے تھے

﴿35﴾ پس (اے محبوب!) آ پ صبر کیجیے جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا تھا اور ان کے لیے (بد دعا کرنے میں ) جلدی نہ کیجیے جس روز وہ اس عذاب کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے تو خیال کریں گے کہ وہ نہیں ٹھہرے تھے دنیا میں مگر دن کی فقط ایک گھڑی۔ یہ پیغام حق ہے پس کیا نا فرمانوں کے علاوہ بھی کسی کو ہلاک کیا جائے گا

محمد

Surah 47

﴿1﴾ جنہوں نے (خود بھی) حق کا انکار کیا اور (دوسروں کو بھی) اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ، اللہ نے ان کے عملوں کو برباد کر دیا

﴿2﴾ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کر تے رہے اور ایمان لے آئے جو اتارا گیا (رسول معظم) محمد پر اور وہی حق ہے ان کے رب کی طرف سے اللہ تعالیٰ نے دور کر دیں ان سے ان کی برائیاں اور سنوار دیا ان کے حالات کو

﴿3﴾ (یوں ) اس لیے کہ جنہوں نے کفر کیا وہ باطل کی پیروی کرتے تھے اور جو ایمان لائے تھے وہ حق کی پیروی کرتے تھے جو ان کے رب کی طرف سے تھا اسی طرح اللہ بیان کرتا ہے لوگوں کے لیے ان کے حالات

﴿4﴾ پھر جب (میدان جنگ میں ) تمہارا کفار سے آمناسامنا ہو تا ان کی گردنیں اڑا دو یہاں تک کہ جب انہیں خوب قتل لر لو تو پھر کَس کر باندھو رسّیاں بعد ازاں یا تو احسان کر کے ان کو رہا کر دو یا ان سے فدیہ لو یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے یہی حکم ہے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو خود ہی ان سے بدلہ لے لیتا لیکن وہ آزمانا چاہتا ہے تمہیں بعض کو بعض سے اور جو مار ڈالے گئے اللہ کی راہ میں پس اللہ ان کے اعمال ضائع نہیں ہونے دے گا

﴿5﴾ وہ پہنچا دے گا انہیں مدارج پر اور سنوار دے گا ان کے حالات کو

﴿6﴾ اور داخل کرے گا انہیں بہشت میں جس کی پہچان اس نے انہیں کر اد ی تھی

﴿7﴾ اے ایمان والو! اگر تم اللہ ( کے دین ) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور (میدان جہاد میں ) تمہیں ثابت قدم رکھے گا

﴿8﴾ اور جہنوں نے (حق کا) انکار کیا خدا کرے وہ منہ کے بل اوندھے گریں اور اللہ ان کے اعمال کو برباد کر دے

﴿9﴾ یہ اس لیے کہ انہوں نے نا پسند کیا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا تھا پس اس نے ضائع کر دیے ان کے اعمال

﴿10﴾ تو کیا انہوں نے سیر وسیاحت نہیں کی زمین میں تاکہ وہ خود دیکھ لیتے کہ کیسا انجام ہوا ان (منکروں) کا جو ان سے پہلے گزرے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر تباہی نازل کر دی اور کفار کے لیے اسی قسم کی سزائیں ہیں

﴿11﴾ یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا مددگار ہے اور کفار کا کوئی مددگار نہیں

﴿12﴾ بے شک اللہ تعالیٰ داخل فرمائے گا جو ایمان لے آئے اور نیک عمل کرتے رہے (سدا بہار) باغات میں رواں ہیں جن کے نیچے نہریں اور جنہوں نے کفر کیا وہ عیش اڑا رہے ہیں اور محض کھانے (پینے ) میں مصروف ہیں ڈنگڑوں کی طرح حالانکہ آتش جہنم ان کا ٹھکانا ہے

﴿13﴾ اور بہت سی ایسی بستیاں تھیں جو قوت و شوکت میں تمہاری اس بستی سے کہیں زیادہ تھیں جس (کے باشندوں ) نے آپ کو نکال دیا ہم نے ان بستیوں کے مکینوں کو ہلاک کر دیا پس کوئی ان کا مدد گار نہ تھا

﴿14﴾ کیا وہ شخص جس کے پاس روشن دلائل ہیں اپنے رب کے پاس سے اس (بد بخت) کی مانند ہے آراستہ کر دیے گئے جس کے لیے اس کے برے اعمال اور پیروی کرتے رہے اپنی خواہشوں کی

﴿15﴾ احوال اس جنت کے جس کا وعدہ متقیوں سے کیا گیا ہے اس میں نہریں ہیں ایسے پانی کی جس کی بو اور مزہ نہیں بگڑتا اور نہریں ہیں دودھ کی جس کا ذائقہ نہیں بدلتا۔ اور نہریں ہیں شراب کی جو لذت بخش ہے پینے والوں کے لیے اور نہریں ہیں شہد کی جو صاف ستھرا ہے ۔ اور ان کے لیے اس میں ہر قسم کے پھل ہوں گے اور (مزید برآں ان کے لیے ) بخشش ہو گی اپنے رب کی طرف سے ۔ (سوچو!) کیا یہ ان کی مانند ہوں گے جو ہمیشہ آگ میں رہیں گے اور انہیں کھولتا پانی پلایا جائے گا اور وہ کاٹ دے گا ان کی آنتوں کو

﴿16﴾ اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو کان لگائے رکھتے ہیں آپ کی طرف حتی کہ جب نکلتے ہیں آپ کے پا س سے تو کہتے ہیں اہل علم سے (کہ ذرا فرمائیے) یہ صاحب ابھی ابھی کیا کہہ رہے تھے یہی وہ (بد بخت) ہیں مہر لگا دی ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اور وہ پیروی کرتے ہیں اپنی خواہشوں کی

﴿17﴾ اور جو لوگ راہ ہدایت پر چلے اللہ تعالیٰ بڑھا دیتا ہے ان کے نور ہدایت کو اور انہیں تقویٰ کی توفیق بخشتا ہے

﴿18﴾ پس کیا یہ لوگ انتظار کر رہے ہیں قیامت کا کہ آجائے ان پر اچانک بےشک اس کی نشانیاں تو آہی گئی ہیں (تو جب قیامت ان پر آگئی) تو اس وقت ان کو سمجھنا کب نصیب ہو گا

﴿19﴾ پس آپ جان لیں کہ نہیں کوئی معبود بجز اللہ کے اور دعا مانگا کریں کہ اللہ آپ کو گناہ سے محفوظ رکھے نیز مغفرت طلب کریں مومن مردوں اور عورتوں کے لیے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے تمہارے چلنے پھرنے اور آرام کرنے کی جگہوں کو

﴿20﴾ اور اہل ایمان کہتے ہیں کیوں نہ اتری کوئی نئی سورت (جہاد کے بارے میں) پس جب اتاری جاتی ہے کوئی واضح سورت اور اس میں جہاد کا ذکر ہوتا ہے تو آپ دیکھتے ہیں ان لوگوں کو جن کے دلوں میں (نفاق کا) روگ ہوتا ہے کہ وہ تکتے ہیں آپ کی طرف جیسے تکتا ہے جس پر موت کی غشی طاری ہو ۔ پس ان کے لیے بہتر یہ تھا

﴿21﴾ کہ اطاعت کرتے اور اچھی بات کہتے پھر جب حکم ناطق ہو چکا تو اگر وہ سچے رہتے اللہ تعالیٰ سے تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا

﴿22﴾ پھر تم سے یہی توقع ہے کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم فساد برپا کرو گے زمین میں اور قطع کر دو گے اپنی قرابتوں کو

﴿23﴾ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی پھر (حق سننے سے) انہیں بہرا کر دیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا

﴿24﴾ کیا یہ لوگ غور نہیں کرتے قرآن میں یا (ان کے) دلوں پر قفل لگا دیے گئے ہیں

﴿25﴾ بے شک جو لوگ پیٹھ پھیر کر پیچھے ہٹ گئے باوجودیکہ ان پر ہدایت (کی راہ) ظاہر ہو چکی تھی ۔ شیطان نے انہیں فریب دیا اور انہیں لمبی زندگی کی آس دلائی

﴿26﴾ یہ اس لیے کہ انہوں نے کہا ان لوگوں کو جنہوں نے نا پسند کیا جو اللہ نے اتارا کہ ہم تمہاری ایک بات میں اطاعت کریں گے ۔ اور اللہ تعالیٰ ان کے پوشیدہ مشوروں کو جانتا ہے

﴿27﴾ پس ان کا کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روحوں کو قبض کریں گے اور چوٹیں لگائیں گے ان کے چہروں اور پشتوں پر

﴿28﴾ یہ درگت اس لیے بنے گی کہ انہوں نے پیروی کی اس کی جو اللہ کی ناراضگی کا باعث تھا اور نا پسند کیا اس کی خوشنودی کو پس اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے

﴿29﴾ کیا خیال کرتے ہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے کہ اللہ تعالیٰ ظاہر نہیں کرے گا ان کے دلی کھوٹوں کو

﴿30﴾ اور اگر ہم چاہیں تو آپ کو دکھا دیں یہ لوگ سو آپ پہچان تو چکے ہیں ان کو ان کے چہرہ سے اور آپ ضرور پہچان لیا کریں گے انہیں ان کے انداز گفتگو سے ۔ اور اللہ جانتا ہے تمہارے اعمال کو

﴿31﴾ اور ہم ضرور آزمائیں گے تمہیں تاکہ ہم دیکھ لیں تم میں سے جو مصروف جہا د رہتے ہیں اور صبر کرنے والے ہیں اور ہم پرکھیں گے تمہارے حالات کو

﴿32﴾ بے شک جو لوگ خود بھی کفر کرتے رہے اور لوگوں کو بھی روکتے رہے اللہ کی راہ سے اور مخالفت کرتے رہے رسول (کریم) کی باوجودیکہ ظاہر وہ چکی تھی ان کے لیے راہ ہدایت وہ قطعاً اللہ تعالیٰ کو کچھ ضرر نہیں پہنچا سکتے اور اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو اکارت کر دے گا

﴿33﴾ اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ تعالیٰ کی اور اطاعت کرو رسول (مکرم) کی اور نہ ضائع کرو اپنے عملوں کو

﴿34﴾ بے شک جو لوگ خود بھی کفر کرتے رہے اور دوسروں کو بھی راہ حق سے روکتے رہے پھر وہ مر گئے کفر کی حالت میں تو اللہ تعالیٰ انہیں ہر گز نہیں بخشے گا

﴿35﴾ (اے فرزندان اسلام!) ہمت مت ہارو اور (کفار کو) صلح کی دعوت مت دو تم ہی غالب آؤ گے اور اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے اور وہ تمہارے اعمال (اور کوششوں ) کو ضائع نہیں ہونے دیگا

﴿36﴾ یہ دنیوی زندگی تو محض ایک کھیل اور تماشا ہے اور اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگار بن جاؤ تو وہ تمہیں تمہارے اجر عطا کرے گا اور وہ نہ طلب کرے گا تم سے تمہارے مال

﴿37﴾ اگر وہ طلب کرے تم سے تمہارے مال اور اس پر اصرار کرے تو تم بخل کرنے لگو اور (یوں ) ظاہر کر دیگا تمہاری نا گواریوں کو

﴿38﴾ ہاں تم ہی وہ لوگ ہو جنہیں دعوت دی جاتی ہے کہ (اپنے مال) خرچ کرو اللہ کی راہ میں پس تم میں سے کچھ بخل کرنے لگتے ہیں اور جو شخص بخل کرتا ہے تو وہ اپنی ذات سے بخل کر رہا ہو تا ہے اور اللہ تعالیٰ تو غنی ہے (کسی کا محتاج نہیں) بلکہ تم (اس کے ) محتاج ہو اور اگر تم رو گردانی کرو گے (تو اس سعادت سے محروم کر دیے جاؤ گے) اور تمہارے عوض وہ دوسری قوم لے آئے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے

الفتح

Surah 48

﴿1﴾ یقیناً ہم نے آپ کو شاندار فتح عطا فرمائی ہے

﴿2﴾ تا کہ دور فرما دے آپ کے لیے اللہ تعالیٰ جو الزام آپ پر (ہجرت سے) پہلے لگائے گئے اور جو ( ہجرت کے) بعد لگائے گئے اور مکمل فرما دے اپنے انعام کو آپ پر اور چلائے آپ کو سیدھی راہ پر

﴿3﴾ اور تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی ایسی مدد فرمائے جو زبردست ہے

﴿4﴾ وہی ہے جس نے اتارا اطمینان کو اہل ایمان کے دلوں میں تاکہ وہ اور بڑھ جائیں (قوتِ) ایمان میں اپنے (پہلے ) ایمان کے ساتھ اور اللہ کے زیر فرمان ہیں سارے لشکر آسمانوں اور زمین کے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ، بہت دانا ہے

﴿5﴾ تا کہ داخل کر دے ایمان والوں اور ایمان والیوں کو باغوں میں رواں ہیں جن کے نیچے نہریں وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور دور فرما دے ان سے ان کی برائیوں کو اور یہ اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی ہے

﴿6﴾ اور تاکہ عذاب میں مبتلا کر دے منافق مردوں اور منافق عورتوں ، مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو اللہ کے بارے میں برے گمان رکھتے ہیں ۔ انہیں پر ہے بری گردش اور ناراض ہو ا ہے اللہ تعالیٰ ان پر اور (اپنی رحمت سے) انہیں دور کر دیا ہے اور تیار کر رکھا ہے ان کے لیے جہنم ۔ اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے

﴿7﴾ اور اللہ کے زیر فرمان ہیں سارے لشکر آسمانوں اور زمین کے ۔ اور اللہ تعالیٰ سب پر غالب ، بڑا دانا ہے

﴿8﴾ بے شک ہم نے بھیجا ہے آپ کو گواہ بنا کر (اپنی رحمت کی) خوشخبری سنانے والا (عذاب سے) بر وقت ڈرانے والا

﴿9﴾ تا کہ (اے لوگو!) تم ایمان لاؤاللہ پر اور اس کے رسول پر اور تاکہ تم ان کی مدد کرو اور دل سے ان کی تعظیم کرو اور پاکی بیان کرو اللہ کی صبح اور شام

﴿10﴾ (اے جان عالم) بیشک جو لوگ آپ کی بیعت کرتے ہیں در حقیقت وہ اللہ تعالیٰ سے بیعت کرتے ہیں اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے پس جس نے توڑ دیا اس بیعت کو تو اس کے توڑنے کا وبال اس کی ذات پر ہو گا۔ اور جس نے ایفاء کیا اس عہد کو جو اس نے اللہ سے کیا تو وہ اس کو اجر عظیم عطا فرمائے گا

﴿11﴾ عنقریب آپ اس سے عرض کریں گے وہ دیہاتی جو پیچھے چھوڑے گئے تھے ہمیں بہت مشغول رکھا ہمارے مالوں اور اہل و عیال نے پس ہمارے لیے معافی طلب کریں ۔ (اے حبیب!) یہ اپنی زبانوں سے ایسی باتیں کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں آپ (انہیں) فرمائیے کون ہے جو اختیار رکھتا ہو تمہارے لیے اللہ کے مقابلے میں کسی چیز کا اگر وہ فرمائے تمہارے لیے کسی ضرر کا یا ارادہ فرمائے تمہارے لیے کسی نفع کا بلکہ اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے پوری طرح با خبر ہے

﴿12﴾ حقیقت یہ ہے کہ تم نے خیال کر لیا تھا کہ اب ہر گز لوٹ کر نہیں آئے گا یہ پیغمبر اور ایمان والے اپنے اہل خانہ کی طرف کبھی اور بڑا خوشنما لگتا تھا یہ ظن (فاسد) تمہارے دلوں کو اور تم طرح طرح کے برے خیالوں میں مگن رہے (اس وجہ سے) تم برباد ہونے والی قوم بن گئے

﴿13﴾ اور جو نہ ایمان لے آئے اللہ اور اس کے رسول پر تو بےشک ہم نے ان تمام کافروں کے لیے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے

﴿14﴾ اور اللہ تعالیٰ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی ۔ بخش دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور سزا دیتا ہے جس کو چاہتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا ، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے

﴿15﴾ کہیں گے (پہلے سفر جہاد سے) پیچھے چھوڑے جانے والے جب تم روانہ ہو گے اموال غنیمت کی طرف تاکہ تم ان پر قبضہ کر لو ، ہمیں بھی اجازت دو کہ تمہارے پیچھے پیچھے آئیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے حکم کو بدل دیں فرمائیے تم قطعاً ہمارے پیچھے نہیں آسکتے یونہی فرما دیا ہے اللہ تعالیٰ نے پہلے سے پھر وہ کہیں گے کہ (نہیں) بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو (ان کا یہ غلط خیال ہے) در حقیقت وہ (احکام الٰہی کے اسرار کو) بہت کم سمجھتے ہیں

﴿16﴾ فرما دیجیے ان پیچھے چھوڑے جانے والے بدوی عربوں کو کہ عنقریب تمہیں دعوت دی جائے گی ایک ایسی قوم سے جہاد کی جو بڑی سخت جنگجو ہے تم ان سے لڑائی کرو گے یا وہ ہتھیا ر ڈال دیں گے پس اگر تم نے اس وقت اطاعت کی تو اللہ تعالیٰ تمہیں بہت اچھا اجر دے گا ۔ اور اگر تم نے (اس وقت بھی) منہ موڑا جیسے پہلے تم نے منہ موڑا تھا تم تمہیں اللہ تعالیٰ دردناک عذاب دے گا

﴿17﴾ نہ اندھے پر کوئی گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ ہے اور نہ ہی مریض پر کوئی گناہ ہے (اگر یہ شریک جہاد) نہ ہو سکیں اور جو شخص اطاعت کرتا ہے اللہ اور اس کے رسول کی داخل فرمائے گا اسے باغات میں رواں ہیں جن کے نیچے نہریں ۔ اور جو شخص روگردانی کرے گا ، اللہ تعالیٰ اسے دردناک عذاب دے گا

﴿18﴾ یقیناً راضی ہو گیا اللہ تعالیٰ ان مومنوں سے جب وہ بیعت کر رہے تھے آ پ کی اس درخت کے نیچے ۔ پس جان لیا اس نے جو کچھ ان کے دلوں میں تھا پس اتارا اس نے اطمینا ن کو ان پر اور بطور انعام انہیں یہ قریبی فتح بخشی

﴿19﴾ اور بہت سی غنیمتیں بھی (عطا کیں) جن کو وہ (عنقریب ) حاصل کریں گے اور اللہ سب سے زبردست بڑا دانا ہے

﴿20﴾ (اے غلامان مصطفی) اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرمایا ہے جنہیں تم (اپنے اپنے وقت پر) حاصل کرو گے پس جلدی دے دی ہے تمہیں یہ (صلح) اور روک دیا ہے اس نے لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے اور تاکہ ہو جائے یہ (ہماری نصرت کی) نشانی اہل ایمان کے لیے اور تاکہ ثابت قدمی سے گامزن رکھے تمہیں صراط مستقیم پر

﴿21﴾ اور کئی مزید فتوحات بھی جن پر تم قدرت نہیں رکھتے تھے لیکن وہ اللہ کے احاطہ قدرت میں ہیں اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے

﴿22﴾ اور اگر جنگ کرتے تم سے یہ کفار تو پیٹھ دے کر بھاگ جاتے پھر نہ پاتے کسی کو (دنیا بھر میں) اپنا دوست اور مددگار

﴿23﴾ یہ اللہ کا دستور ہے جو پہلے سے چلا آتا ہے اور اللہ کے دستور میں تو ہر گز کوئی تبدیلی نہیں پائے گا

﴿24﴾ اور اللہ وہی ہے جس نے روک دیا تھا ان کے ہاتھوں کو تم اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے وادی مکہ میں باوجودیکہ تمہیں ان پر قابو دے دیا تھا اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کر رہے تھے خوب دیکھ رہا تھا

﴿25﴾ یہی وہ (بد نصیب ) ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں بھی روک دیا مسجد حرام (میں داخل ہونے) سے اور قربانی کے جانوروں کو بھی کہ وہ بندھے رہیں اور اپنی جگہ تک نہ پہنچ سکیں اور اگر نہ ہوتے (مکہ میں) چند مسلمان مرد اور چند مسلمان عورتیں جن کو تم نہیں جانتے (اور یہ اندیشہ نہ ہوتا) کہ تم رونڈ ڈالو گے انہیں سو تمہیں پہنچے گی ان کی وجہ سے عار بےعلمی کے باعث (نیز ) تاکہ داخل کر دے اللہ اپنی رحمت میں جسے چاہے اگر یہ (کلمہ گو) الگ ہو جاتے تو (اس وقت) جنہوں نے کفر کیا ان میں سے تو ہم انہیں دردناک عذاب میں مبتلا کر دیتے

﴿26﴾ جب جگہ دی کفار نے اپنے دلوں میں ضد کو وہی (زمانہ) جاہلیت کی ضد تو نازل فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنی تسکین کو اپنے رسول (مکرم) پر اور اہل ایمان پر اور انہیں استقامت بخش دی تقویٰ کے کلمہ پر اور وہ اس کے حقدار بھی تھے اور اس کے اہل بھی تھے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والاہے

﴿27﴾ یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا حق کے ساتھ کہ تم ضرور داخل ہو گے مسجد حرام میں جب اللہ نے چاہا امن و امان سے منڈواتے ہوئے اپنے سروں کو یا ترشواتے ہوئے ۔ تمہیں (کسی کا) خوف نہ ہوگا پس وہ جانتا ہے جو تم نہیں جانتے تو اس نے عطا فر ما دی (تمہیں ) اس سے پہلے ایسی فتح جو قریب ہے

﴿28﴾ وہ (اللہ ) ہی ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول کو (کتاب) ہدایت اور دین حق دے کر تاکہ غالب کر دے اسے تمام دینوں پر اور (رسول کی صداقت پر) اللہ کی گواہی کافی ہے

﴿29﴾ (جان عالم) محمد اللہ کے رسول ہیں اور وہ (سعادتمند) جو آپ کے ساتھی ہیں کفار کے مقابلہ میں بہادر اور طاقتور ہیں ۔ آپس میں بڑے رحم دل ہیں تو دیکھتا ہے انہیں کبھی رکوع کرتے ہوئے کبھی سجدہ کرتے ہوئے طلب گار ہیں اللہ کے فضل اور اس کی رضا کے ان (کے ایمان و عبادت) کی علامت ان کے چہروں پر سجدہ کے اثر سے نمایاں ہے یہ ان کے اوصاف تورات میں (مذکور) ہیں ۔ نیز ان کی صفات انجیل میں بھی (مرقوم ) ہیں (یہ صحابہ) ایک کھیت کی مانند ہیں جس نے نکالا اپنا پٹھا پھر تقویت دی اس کو پھر وہ مضبوط ہو گیا پھر سیدھا کھڑا ہو گیا اپنے تنے پر (اس کا جوبن) خوش کر رہا ہے بونے والوں کو تاکہ (آتش) غیظ میں جلتے رہیں انہیں دیکھ کر کفار اللہ نے وعدہ فرمایا ہے جو ایمان لے آئے اور نیک اعمال کرتے رہے ان سے مغفرت کا اور اجر عظیم کا

الحجرات

Surah 49

﴿1﴾ اے ایمان والو! آگے نہ بڑھا کرو اللہ اور اس کے رسول سے اور ڈرتے رہا کرواللہ تعالیٰ سے ۔ بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا ، جاننے والا ہے

﴿2﴾ اے ایمان والو! نہ بلند کیا کرو اپنی آوازوں کو نبی (کریم) کی آواز سے اور نہ زور سے آپ کے ساتھ بات کیا کرو جس طرح زور سے تم ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہو (اس بےادبی سے) کہیں ضائع نہ ہو جائیں تمہارے اعمال اور تمہیں خبر تک نہ ہو

﴿3﴾ بے شک جو پست رکھتے ہیں اپنی آوازوں کو اللہ کے رسول کے سامنے ، یہی وہ لوگ ہیں مختص کر لیاہے اللہ نے ان کے دلوں کو تقویٰ کے لیے انہی کے لیے بخشش اور اجر عظیم ہے

﴿4﴾ بے شک جو لوگ پکارتے ہیں آپ کو حجروں کے باہر سے ان میں سے اکثر نا سمجھ ہیں

﴿5﴾ اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ باہر تشریف لاتے ان کے پاس تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے

﴿6﴾ اے ایمان والو! اگر لے آئے تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر تو اس کی خوب تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ تم ضرر پہنچاو کسی قوم کو بےعلمی میں پھر تم اپنے کیے پر پچھتانے لگو

﴿7﴾ اور خوب جان لو تمہارے درمیان رسول اللہ تشریف فرما ہیں اگر وہ مان لیا کریں تمہاری بات اکثر معاملات میں تو تم مشقت میں پڑ جاؤ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے محبوب بنا دیا ہے تمہارے نزدیک ایمان کو اور آراستہ کر دیا ہے اسے تمہارے دلوں میں اور قابل نفرت بنا دیا ہے تمہارے نزدیک کفر، فسق اور نا فرمانی کو۔ یہی لوگ راہ حق پر ثابت قد م ہیں

﴿8﴾ (یہ سب کچھ) محض اللہ کا فضل اور انعام ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا ، بڑا دانا ہے

﴿9﴾ اور اگر اہل ایمان کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو اور اگر زیادتی کرے ایک گروہ دوسرے پر تو پھر سب (مل کر) لڑو ا س سے جو زیادتی کرتا ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے اللہ کے حکم کی طرف۔ پس اگر لوٹ آئے تو صلح کر ا دو ان کے درمیان عدل (و انصاف) سے اور انصاف کرو بےشک اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے انصاف کرنے والوں سے

﴿10﴾ بے شک اہل ایمان بھائی بھائی ہیں پس صلح کر ا دو اپنے دو بھائیوں کے درمیان اور ڈرتے رہا کرو اللہ سے تاکہ تم پر رحم فرمایا جائے

﴿11﴾ اے ایمان والو! نہ تمسخر اڑایا کرو مردوں کی ایک جماعت دوسری جماعت کا شاید وہ ان مذاق اڑانے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں مذاق اڑایا کریں دوسری عورتوں کا شاید وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عیب لگاؤ ایک دوسرے پر اور نہ برے القاب سے کسی کو بلاؤ کتنا ہی برا نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا اور جو لوگ باز نہیں آئیں گے (اس روش سے) تو وہی بےانصاف ہیں

﴿12﴾ اے ایمان والو! دور رہا کرو بکثرت بد گمانیوں سے بلاشبہ بعض بد گمانیاں گناہ ہیں اور نہ جاسوسی کیا کرو اور ایک دوسرے کی غیبت بھی نہ کیا کرو کیا پسند کرتا ہے تم میں سے کوئی شخص کہ اپنے مردہ بھائی کا کوشت کھائے ۔ تم اسے تو مکروہ سمجھتے ہو ۔ اور ڈرتے رہا کرو اللہ سے ۔ بےشک اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول کر نے والا ، ہمیشہ رحم کرنے والا ہے

﴿13﴾ اے لوگو! ہم نے پیدا کیا ہے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے اور بنا دیاہے تمہیں مختلف قومیں اور مختلف خاندان تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو تم میں سے زیادہ معزز اللہ کی بارگاہ میں وہ ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہے بےشک اللہ تعالیٰ علیم (اور) خبیر ہے

﴿14﴾ اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ۔ آپ فرمائیے تم ایمان تو نہیں لائے البتہ یہ کہو کہ ہم نے اطاعت اختیار کر لی ہے اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ اور اگر تم (سچے دل سے ) اطاعت کرو گے اللہ اور اس کے رسول کی تو وہ ذرا کمی نہیں کرے گا تمہارے اعمال میں بےشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے

﴿15﴾ (کامل) ایماندار تو وہی ہیں جو ایمان لے آئے اللہ اور اس کے رسول پر پھر (اس میں ) کبھی شک نہیں کیا اور جہاد کرتے رہے اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں یہی لوگ راستباز ہیں

﴿16﴾ آپ فرمائیے کیا تم آگاہ کرتے ہو اللہ کو اپنے دین سے ۔ حالانکہ اللہ جانتا ہے ہر اس چیز کو جو آسمانوں اور جو زمین میں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو اچھی طرح جاننے والا ہے

﴿17﴾ اور احسان جتلاتے ہیں آپ پر کہ وہ اسلام لے آئے ۔ فرمائیے مجھ پر احسان مت جتلا ؤ اپنے اسلام کا ۔ بلکہ اللہ نے احسان فرمایا ہے تم پر کہ تمہیں ایمان کی ہدایت بخشی اگر تم (اپنے ایمان کے دعویٰ میں ) سچے ہو

﴿18﴾ یقیناً اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے سب چھپے بھیدوں کو خوب جانتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ خوب دیکھ رہا ہے جو تم کر رہے ہو

ق

Surah 50

﴿1﴾ قاف۔ قسم ہے قرآن مجید کی (کہ میرا رسول سچا ہے)

﴿2﴾ مگر یہ (نادان) حیران ہیں اس بات پر کہ آیا ہے ان کے پاس ڈرانے والا ان میں سے تو کہنے لگے کفار کہ یہ تو بڑی عجیب و غریب بات ہے

﴿3﴾ (وہ کہتے ہیں) کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ کیے جائیں گے) یہ واپسی تو (عقل سے) بعید ہے

﴿4﴾ ہم خوب جانتے ہیں جو زمین ان کے جسموں سے گھٹاتی ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے

﴿5﴾ بلکہ انہوں نے جھٹلایا (دینِ) حق کو جب وہ ان کے پاس آیا پس (اس وجہ سے) وہ بڑی الجھن میں پھنس گئے ہیں

﴿6﴾ کیا انہوں نے نہیں دیکھا آسمان کی طرف جو ان کے اوپر ہے ہم نے اسے کس طرح بنایا ہے اور اسے کیسے آراستہ کیا ہے اور اس میں کوئی شگاف نہیں

﴿7﴾ اور زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور جما دیے اس پر بڑے بڑے پہاڑ اور اگا دی ہیں ا س میں ہر قسم کی رونق افزا چیزیں

﴿8﴾ یہ (آثار قدرت) بصیرت افروز اور یاددہانی ہیں ہر اس بندے کے لیے جو اپنے رب کی طرف مائل ہے

﴿9﴾ اور ہم نے اتارا آسمان سے برکت والا پانی پس ہم نے اگائے اس سے باغات اور اناج جس کا کھیت کاٹا جاتا ہے

﴿10﴾ اور کھجور کے لمبے لمبے درخت جن کے گحچھے (پھل سے) گندھے ہوتے ہیں

﴿11﴾ بندوں کی روزی کے لیے اور ہم نے زندہ کر دیا اس پانی سے مردہ شہر ۔ یونہی (روز محشر ان کا) نکلنا ہوگا

﴿12﴾ (حق کو) جھٹلایا تھا ان (اہل مکہ) سے پہلے قوم نوح، اہل رس اور ثمود نے

﴿13﴾ اور (جھٹلایا تھا) عاد ، فرعون اور قوم لوط نے

﴿14﴾ نیز ایکہ کے باشندوں اور تبع کی قوم نے ۔ ان سب نے جھٹلایا تھا رسولوں کو پس پورا ہو گیا (ہمارا ) عذاب کا وعدہ

﴿15﴾ تو کیا ہم تھک گئے ہیں پہلی مرتبہ مخلوق کو پیدا کر کے (ایسا نہیں) بلکہ یہ (کفار) از سر نو پیدا ہونے کے بارے میں شک میں ہیں

﴿16﴾ اور بلاشبہ ہم نے ہی انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم (خوب ) جانتے ہیں اس کا نفس جو وسوسے ڈالتا ہے اور ہم ا س سے شہ رگ سے بھی زیادہ نزدیک ہیں

﴿17﴾ جب (اس کے اعمال کو) لے لیتے ہیں دو لینے والے (ان میں سے) ایک دائیں جانب اور (دوسرا) بائیں جانب بیٹھا ہوتا ہے

﴿18﴾ وہ نہیں نکالتا اپنی زبان سے کوئی بات مگر اس کے پاس ایک نگہبان (لکھنے کے لیے) تیا ر ہوتا ہے

﴿19﴾ اور آپہنچی موت کی بےہوشی سچ مچ (اے نادان!) یہ ہے وہ جس تو دور بھاگا کرتا تھا

﴿20﴾ اور صورپھونکا جائے گا ۔ یہی وعید کا دن ہوگا

﴿21﴾ اور حاضر ہوگا ہر شخص اس طرح کہ اس کے ہمراہ ایک (اسے ) ہانکنے والا اور ایک گواہ ہوگا

﴿22﴾ تو (عمر بھر) غافل رہا اس دن سے پس ہم نے اٹھا دیا ہے تیری آنکھوں سے تیر اپردہ سو تیری بینائی آج بڑی تیز ہے

﴿23﴾ اور کہے گا اس کا (عمر بھر کا) ساتھی یہ اعمالنامہ جو میرے پاس تھا بالکل تیار ہے

﴿24﴾ جہنم میں جھونک دو ہر کافر سر کش کو

﴿25﴾ جو سختی سے روکنے والا تھا نیکی سے ، حد سے بڑھنے والا ، شک کرنے والا تھا

﴿26﴾ جس نے بنا رکھے تھے اللہ کے ساتھ کئی اور خدا پس جھونک دو اس (بد بخت ) کو عذاب شدید میں

﴿27﴾ اس کا ساتھی (شیطان ) بولے گا اے ہمارے پروردگار ! میں نے تو اسے سر کش نہیں بنایا تھا بلکہ وہ خود ہی گمراہی میں دور تک چلا گیا تھ

﴿28﴾ (اللہ) فرمائے گا مت جھگڑو میرے رو برو میں تو پہلے ہی تم کو وعید سنا چکا ہوں

﴿29﴾ میرے ہاں حکم بدلا نہیں جاتا اور نہ میں اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہوں

﴿30﴾ (یاد کرو) وہ دن جب ہم جہنم سے پوچھیں گے کیا تو پُر ہو گئی وہ (جواباً) کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے

﴿31﴾ اور قریب کر دی جائے گی جن پرہیزگاروں کے لیے وہ (ان سے) دور نہیں ہو گی

﴿32﴾ یہی ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا یہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا اپنی توبہ کی حفاظت کرنے والا ہے

﴿33﴾ جو ڈرتا تھا رحمن سے بن دیکھے اور ایسا دل لیے ہوئے آیا جو یاد الہی کی طرف متوجہ تھا

﴿34﴾ داخل ہو جاؤ جنت میں سلامتی سے ۔ یہ ہمیشگی کا دن ہے

﴿35﴾ انہیں ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ وہاں خواہش کریں گے اور ہمارے پا س تو (ان کے لیے) اس سے بھی زیادہ ہے

﴿36﴾ اور قریش مکہ سے پہلے ہم نے برباد کر دیا بہت سی قوموں کو جو شوکت و قوت میں ان سے کہیں زیادہ تھیں ۔ پس وہ گھومتے رہے شہروں میں کیا عذاب الہی سے انہیں کوئی پناہ گاہ ملی؟

﴿37﴾ بے شک اس میں نصیحت ہے اس کے لیے جو دلِ (بینا) رکھتا ہو یا (کلام الہی کو) کان لگا کر سنے متوجہ ہو کر

﴿38﴾ اور ہم نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دنوں میں اور ہمیں تھکن نہیں چھوا تک نہیں

﴿39﴾ پس آپ صبر فرمائیے ان کی (دل دکھانے والی) باتوں پر اور پاکی بیان کیجیے اپنے رب کی حمد کے ساتھ طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے

﴿40﴾ اور رات کے وقت بھی اس کی پاکی بیان کیجیے اور نمازوں کے بعد بھی

﴿41﴾ اور کان کھول کر سنو اس دن کے بارے میں جب پکارنے والا قریب سے پکارے گا

﴿42﴾ جس دن سنیں گے سب لوگ ایک گرجدار آواز بالیقین ۔ وہی دن (قبروں سے) نکلنے کا دن ہو گا

﴿43﴾ بے شک ہم ہی زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہماری طرف ہی (سب نے ) لوٹنا ہے

﴿44﴾ جس روز زمین پھٹ جائے گی ان کے اوپر سے جلدی سے نکل پڑیں گے ۔ یہی حشر ہے یہ ہمارے لیے بالکل آسان ہے

﴿45﴾ ہم خوب جانتے ہیں جو وہ کہتے ہیں اور آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں پس آپ نصیحت کرتے رہیے اس قرآن سے ہر اس شخص کو جو (میرے) عذاب سے ڈرتا ہے

الذاریات

Surah 51

﴿1﴾ قسم ہے ان ہواؤں کی جو اڑا کر بکھیرنے والیاں ہیں

﴿2﴾ پھر ان بادلوں کی جو (بارش کا) بوجھ اٹھانے والے ہیں

﴿3﴾ پھر کشتیوں کی جو آہستہ چلنے والیاں ہیں

﴿4﴾ پھر فرشتوں کی جو حکم (الہٰی) سے بانٹنے والے ہیں

﴿5﴾ بے شک جو وعدہ تم سے کیا گیا ہے وہ سچا ہے

﴿6﴾ اور یقیناً جزا و سزا کا دن ضرور آئے گا

﴿7﴾ قسم ہے آسمان کی جس میں راستے ہیں

﴿8﴾ بے شک تم مختلف (بے ربط) باتوں میں پڑے ہو

﴿9﴾ منہ پھیرے ہے اس (قرآن ) سے جس کا منہ ازل سے ہی پھیر دیا گیا ہے

﴿10﴾ ستیاناس ہو اٹکل پچو باتیں بنانے والے کا

﴿11﴾ جو غفلت (کے نشہ ) میں بےسدھ پڑے ہیں

﴿12﴾ وہ پوچھتے ہیں روز جزا کب آئے گا

﴿13﴾ یہ اس دن ہوگا جب وہ آگ پر تپائے جائیں گے

﴿14﴾ اپنی سزا کا مزہ چکھو یہی ہے وہ جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے

﴿15﴾ البتہ اللہ سے ڈرنے والے (اس روز) باغات اور چشموں میں ہوں گے

﴿16﴾ (بصد شکر) لے رہے ہوں گے جو ان کا رب انہیں بخشے گا بےشک یہ لوگ اس سے پہلے بھی نیکو کار تھے

﴿17﴾ یہ لوگ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے

﴿18﴾ اور سحری کے وقت (اپنی خطاؤں کی) بخشش طلب کرتے تھے

﴿19﴾ اور ان کے اموال میں حق تھا سائل کے لیے اور محروم کے لیے

﴿20﴾ اور زمین میں ہماری قدرت کی نشانیاں ہیں اہل یقین کے لیے

﴿21﴾ اور تمہارے وجود میں بھی (نشانیاں ہیں) کیا تمہیں نظر نہیں آتیں

﴿22﴾ اور آسمان میں ہے تمہارا رزق اور ہر وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے

﴿23﴾ پس قسم ہے آسمان اور زمین کے رب کی یہ حق ہے (بعینہ اسی طرح) جس طرح تم باتیں کررہے ہو

﴿24﴾ (اے حبیب!) کیا پہنچی ہے آپ کو خبر ابراہیم (علیہ السلام ) کے معزز مہمانوں کی

﴿25﴾ جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام عرض کیا ۔ آپ نے فرمایا تم پر بھی سلام ہو (دل ہی دل میں سوچا) بالکل انجان لوگ ہیں

﴿26﴾ پس چپکے سے اپنے اہل خانہ کی طرف گئے اور ایک (بھنا ہوا) موٹا تازہ بچھڑا لے آئے

﴿27﴾ لا کر ان کے قریب رکھ دیا فرمایا کھاتے کیوں نہیں

﴿28﴾ پس د ل ہی دل میں ان سے خوف کرنے لگے ۔ وہ بولے ڈریے نہیں اور انہوں نے بشارت دی آپ کو ایک صاحب علم بیٹے کی

﴿29﴾ پس آئی آپ کی بیوی چیں بجیں ہو کر اور (فرط حیرت سے) طمانچہ دے مارا اپنے چہرہ پر اور بولی (میں ) بانجھ (کیا میرے ہاں بچہ ہو گا)

﴿30﴾ انہوں نے کہا ایسا ہی تیرے رب نے فرمایا ہے ۔ بےشک وہی بڑا دانا سب کچھ جاننے والا ہے

﴿31﴾ انہوں نے کہا ایسا ہی تیرے رب نے فرمایا ہے ۔ بےشک وہی بڑا دانا سب کچھ جاننے والا ہے

﴿32﴾ وہ بولے ہم بھیجے گئے ہیں ایک ایسی قوم کی طرف جو جرئم پیشہ ہے

﴿33﴾ تاکہ ہم برسائیں ان پر گارے کے بنے ہوئے پتھر (کھنگر)

﴿34﴾ جن پر نشان لگے ہیں آپ کے رب کی طر ف سے حد سے بڑھنے والوں کے لیے

﴿35﴾ (نزول عذاب سے پہلے) ہم نے نکال لیا وہاں کے تمام ایمانداروں کو ٣١

﴿36﴾ پ نہ پایا ہم نے اس (ساری) بستی میں بجز ایک مسلم گھر کے

﴿37﴾ اور ہم نے باقی رہنے دی وہاں ایک نشانی ان لوگوں (کی عبرت پذیری) کے لیے جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں ٣٢

﴿38﴾ اور (داستان) موسیٰ میں بھی نشانی ہے جب ہم نے انہیں بھیجا فرعون کی طرف ایک روشن دلیل دے کر ٣٣

﴿39﴾ پس اس نے روگردانی کی اپنی قوت کے بل پوتے پر اور کہنے لگا یہ شخص جادوگر ہے یا دیوانہ ٣٤

﴿40﴾ تو ہم نے اس کو اس کے لشکر سمیت پکڑا اور انہیں سمندر میں پھینک دیا اور وہ قابل ملامت بن گیا۔ ٣٥

﴿41﴾ اور (قصہ) عاد میں بھی نشان عبرت ہے جب ہم نے ان پر آندھی بھیجی جو خیر و برکت سے خالی تھی ٣٦

﴿42﴾ نہیں چھوڑتی تھی کسی چیز کو جس پر گزرتی مگر اس کو ریزہ ریزہ کر دیتی

﴿43﴾ اور (واقعہ) ثمود میں بھی نشانی ہے جب انہیں کہہ دیا گیا کہ لطف اٹھالو ایک وقت تک ٣٧

﴿44﴾ پس انہوں نے سرکشی کی اپنے رب کے حکم سے تو پکڑ لیا انہیں ایک خوفناک کڑک نے دراں حال کہ وہ دیکھ رہے تھے

﴿45﴾ پھر ان میں نہ اٹھنے کی طاقت رہی ٣٨ ف اور نہ وہ (ہم سے) انتقام لے سکے ٣٩

﴿46﴾ اور قوم نوح کا اس سے پہلے (یہی حشر ہوا) بےشک وہ لوگ بھی (پرلے درجے کے) نافرمان تھے ٤٠

﴿47﴾ اور ہم نے آسمان کو (قدرت کے) ہاتھوں سے بنایا ٤١ ف اور ہم نے ہی اس کو وسیع کر دیا ٤٢

﴿48﴾ اور زمین کا ہم نے فرش بچھا دیا پس ہم کتنے اچھے (فرش) بچھانے والے ہیں ٤٣

﴿49﴾ اور ہم نے ہر چیز کے جوڑے بنائے ٤٤ ف تاکہ تم غور و فکر کرو

﴿50﴾ پر دوڑو اللہ کی طرف (اور اس کی پناہ لے لو) ٤٥ ف بےشک میں تمہیں اس (کے غضب ) سے کھلا ڈرانے والا ہوں ٤٦

﴿51﴾ اور نہ بناؤ اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ٤٧ ف بےشک میں تمہیں اس (کے غضب) سے کھلا ڈرانے والا ہوں

﴿52﴾ اسی طرح نہیں آیا ان سے پہلے لوگوں کے پاس کوئی رسول مگر انہوں نے یہی کہا کہ یہ ساحر ہے یا دیوانہ ٤٨

﴿53﴾ کیا پہلوں نے پچھلوں کو یہی وصیت کی تھی (نہیں) ٤٩ ف بلکہ یہ لوگ سرکش ہیں ٥٠ ف

﴿54﴾ پس آپ ان سے رخ انور پھیر لیجئے آپ پر کوئی الزام نہیں

﴿55﴾ اور آپ سمجھاتے رہیے یقیناً سمجھانا اہل ایمان کے لیے فائدہ بخش ہے ٥١

﴿56﴾ اور نہیں پیدا فرمایا میں نے جن و انس کو مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں

﴿57﴾ نہ طلب کرتا ہوں میں ان سے رزق اور نہ یہ طلب کرتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں

﴿58﴾ بلاشبہ اللہ تعالی ہی (سب کو) روزی دینے والا قوت والا (اور) زور والا ہے

﴿59﴾ پس ان ظالموں کے لیے عذاب کا ویسا ہی حصہ ہے جیسا ان کے ہم مشربوں کو حصہ ملا تھا پس یہ جلد بازی نہ کریں

﴿60﴾ پس تباہی ہے ان کے لیے جنہوں نے کفر کیا اس دن سے جس کا (ان سے) وعدہ کیا گیا ہے ٥٦

الطور

Surah 52

﴿1﴾ قسم ہے (کوہ) طور کی

﴿2﴾ اور کتاب کی جو لکھی گئی ہے

﴿3﴾ کھلے ورق پر

﴿4﴾ اور قسم ہے بیت معمور کی

﴿5﴾ اور بلند چھت کی

﴿6﴾ اور سمندر کی جو لبالب بھرا ہے

﴿7﴾ یقیناً آپ کے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا ١

﴿8﴾ اسے کوئی ٹالنے والا نہیں

﴿9﴾ جس روز آسمان بری طرح تھر تھرا رہا ہوگا ٢

﴿10﴾ اور پہاڑ (اپنی جگہ چھوڑ کر) تیزی سے چلنے لگیں گے ٣

﴿11﴾ پس بربادی ہوگی اس روز جھٹلانے والوں کے لیے ٤

﴿12﴾ جو محض تفریح طبع کے لیے فضول باتوں میں لگے رہتے ہیں ٥

﴿13﴾ اس روز انہیں دھکے دے کر آتش جہنم میں پھینک دیا جائے گا ٦

﴿14﴾ (انہیں کہا جائے گا) یہی وہ آگے ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے ٧

﴿15﴾ کیا یہ (آگ) جادو (کا کرشمہ) ہے یا تمہیں یہ نظر ہی نہیں آرہی ٨

﴿16﴾ اس میں (تشریف لے) چلو ٩ ف اب چاہے صبر کرو یا نہ کرو دونوں برابر ہیں تمہارے لیے۔ تمہیں اسی کا بدلہ دیا جا رہا ہے جو تم کیا کرتے تھے ١٠

﴿17﴾ بے شک پرہیزگار (اس روز) باغوں میں اور نعمتوں میں ہوں گے

﴿18﴾ شاد و مسرور ان نعمتوں پر جو انہیں ان کے رب نے دی ہوں گے ١١ ف اور بچا لیا انہیں ان کے رب نے دوزخ کے عذاب سے ١٢

﴿19﴾ (حکم ملے گا) کھاؤ پیؤ خوب مزے لے لے کر ان (نیکیوں) کے بدلے جو تم کیا کرتے تھے

﴿20﴾ تکیہ لگائے، بیٹھے ہوں گے بچھے ہوئے پتنگوں پر اور ہم انہیں بیاہ دیں گے گوری گوری آہو چشموں سے ١٣

﴿21﴾ اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی پیروی کی ان کی اولاد نے ایمان کے ساتھ، ہم ملادیں گے ان کے ساتھ ان کی اولاد کو ١٤ ف اور ہم کمی نہیں کریں گے ان کے عملوں (کی جزا) میں ذرہ بھر ١٥ ف ہر شخص اپنے اپنے اعمال میں اسیر ہوگا ١٦

﴿22﴾ اور ہم مسلسل دیتے رہیں گے انہیں (ایسے) میوے اور گوشت جو وہ پسند کریں گے ١٧

﴿23﴾ وہ چھینا چھپٹی کریں گے وہاں جام شراب پر (لیکن) اس میں نہ کوئی لغویت ہوگی اور نہ گناہ ١٨

﴿24﴾ اور (خدمت بجالانے کے لیے) چکر لگاتے ہوں گے ان کے گرد ان کے غلام (اپنے حسن کے باعث) یوں معلوم ہوں گے گویا وہ چھپے موتی ہیں ١٩

﴿25﴾ اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر پوچھیں گے ٢٠

﴿26﴾ کہیں گے ہم بھی اس سے پہلے اپنے اہل خانہ میں (اپنے انجام کے باے میں) سہمے رہتے تھے

﴿27﴾ سو بڑا احسان فرمایا ہے اللہ نے ہم پر اور بچا لیا ہے ہمیں گرم لوکے عذاب سے

﴿28﴾ بے شک ہم پہلے بھی (دنیا میں) اس سے دعا کیا کرتے تھے ٢١ ف یقیناً وہ بہت احسان کرنے والا ، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے

﴿29﴾ پس آپ سمجھاتے رہیے۔ آپ اپنے رب کی مہربانی سے نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون ٢٢

﴿30﴾ کیا یہ (بانکار) کہتے ہیں کہ آپ شاعر ہیں (اور) ہم انتظار کر رہے ہیں ان کے متعلق گردش زمانہ کا ٢٣

﴿31﴾ فرمائیے (ہاں ضرور) انتظار کر و پس میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں سے ہوں ٢٤

﴿32﴾ کیا حکم دیتی ہیں انہیں ان کی عقلیں ان (مہمل) باتوں کا ٢٥ ف یا یہ لوگ ہی سرکش ہیں ٢٦

﴿33﴾ کیا وہ لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے خود ہی (قرآن) گھڑ لیا ہے ٢٧ ف در حقیقت یہ بےایمان ہیں ٢٨

﴿34﴾ پس (گھڑ کر) لے آئیں وہ بھی اس جیسی کوئی (روح پرور) بات اگر وہ سچے ہیں ٢٩

﴿35﴾ کیا وہ پیدا ہوگئے بغیر کسی (خالق) کے یا وہ خود ہی (اپنے) خالق ہیں؟ ٣٠

﴿36﴾ کیاا نہوں نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو؟ (ہرگز نہیں) بلکہ وہ یقین سے محروم ہیں ٣١

﴿37﴾ کیا ان کے قبضہ میں ہیں آپ کے رب کے خزانے یا انہوں نے ہر چیز پر تسلط جما لیا ہے ٣٢

﴿38﴾ کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے (جس پر چڑھ کر) وہ (خفیہ باتیں) سن لیا کرتے ہیں۔ (اگر ایسا ہے) تو لے آئے ان میں سے سننے والا روشن دلیل ٣٣

﴿39﴾ (ظالمو!) کیا اللہ کے لیے نری بیٹیاں اور تمہارے لیے نرے بیٹے ٣٤

﴿40﴾ (اے حبیب!) کیا آپ ان سے کوئی اجرت مانگتے ہیں پس وہ چٹی کے بوجھ سے دبے جا رہے ہیں ٣٥

﴿41﴾ کیا ان کے پاس غیب (کا علم) ہے پس وہ لکھتے جاتے ہیں ٣٦

﴿42﴾ کیا وہ (رسول خدا سے) کوئی فریب کرنا چاہتے ہیں تو وہ کافر خود ہی فریب کا شکار ہو جائیں گے ٣٧

﴿43﴾ کیا ان کا کوئی اور خدا ہے اللہ کے سوا۔ پاک ہے اللہ تعالیٰ اس شرک سے جو وہ کرتے ہیں ٣٨

﴿44﴾ اور اگر وہ دیکھ لیں آسمان کے کسی ٹکڑے کو گرتا ہوا تو یہ (احمق) کہیں گے یہ تو بادل ہے تہ در تہہ ٣٩

﴿45﴾ پس انہیں (یونہی) چھوڑ دیجئے یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن کو پالیں جس میں وہ غش کھا کر گر پڑیں گے ٤٠

﴿46﴾ جس روز ان کی فریب کاری ان کے کسی کام نہ آئے گی اور نہ ان می مدد کی جائے گی

﴿47﴾ اور بےشک ظالموں کے لیے (ایک) عذاب (دنیا میں) اس سے پہلے بھی ہے ٤١ ف لیکن ان میں سے اکثر (اس سے) بےخبر ہیں

﴿48﴾ اور آپ صبر فرمائیے اپنے رب کے حکم سے ٤٢ ف پس آپ بلاشبہ ہماری نظروں میں ہیں ٤٣ ف اور پاکی بیان کیجئے اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے جبکہ آپ اٹھتے ہیں

﴿49﴾ اور رات کے کسی حصہ میں بھی اس کی تسبیح کیجئے اور اس وقت بھی جب ستارے ذوب رہے ہوتے ہیں ٤٤

النجم

Surah 53

﴿1﴾ قسم ہے اس (تابندہ ) ستارے کی جب وہ نیچے اترا

﴿2﴾ تمہارا (زندگی بھر کا) ساتھی نہ راہ حق سے بھٹکا اور نہ بہکا

﴿3﴾ اور وہ تو بولتا ہی نہیں اپنی خواہش سے

﴿4﴾ نہیں ہے یہ مگر وحی جو ان کی طرف کی جاتی ہے۔

﴿5﴾ انہیں سکھایا ہے زبردست قوت والے نے ۔

﴿6﴾ بڑے دانا نے ۔، پھر اس نے (بلندیوں کا) قصد کیا ۔

﴿7﴾ اور وہ سب سے اونچے کنارہ پر تھا

﴿8﴾ پھر وہ قریب ہوا ، اور قریب ہو ۔

﴿9﴾ یہاں تک کہ صرف دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا ۔

﴿10﴾ پس وحی کی اللہ نے اپنے (محبوب) بندے کی طرف جو وحی کی ۔

﴿11﴾ نہ جھٹلایا دل نے جو دیکھا (چشم مصطفی) نے ۔

﴿12﴾ کیا تم جھگڑتے ہو ان سے اس پر جو انہوں نے دیکھا ۔

﴿13﴾ اور انہوں تو اسے دوبارہ بھی دیکھا ۔

﴿14﴾ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ۔

﴿15﴾ اس کے پاس ہی جنت الماوی ۔

﴿16﴾ جب سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا۔

﴿17﴾ نہ درماندہ ہوئی چشم (مصطفی) اور نہ (حد ادب سے) آگے بڑھی ۔

﴿18﴾ یقیناً انہوں نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں ۔

﴿19﴾ (اے کفار!) کبھی تم نے غور کیا لات وعزی کے بارے میں ۔

﴿20﴾ اور مناۃ کے بارے میں جو تیسری ہے۔

﴿21﴾ کیا تمہارے لیے تو بیٹے ہیں اور اللہ کے لیے نری بیٹیاں

﴿22﴾ یہ تقسیم تو بڑی ظالمانہ ہے ۔ٍ

﴿23﴾ نہیں ہیں یہ مگر محض نام جو رکھ لیے ہیں تم نے اور تمہارے باپ دادا نے نہیں نازل کی اللہ نے ان کے بارے میں کوئی سند ۔۔ نہیں پیروی کر رہے یہ لوگ مگر گمان کی اور جسے ان کے نفس چاہتے ہیں ۔۔ حالانکہ آگئی ہے ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت ۔

﴿24﴾ کیا انسان کو ہر وہ چیز مل جاتی ہے جس کی وہ تمنا کرتا ہے

﴿25﴾ پس اللہ کے دست قدرت میں ہے آخرت اور دنیا ۔

﴿26﴾ اور کتنے فرشتے ہیں آسمانوں میں جن کی شفاعت کسی کام نہیں آسکتی مگر اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ اذن دے جس کے لیے چاہے اور پسند فرمائے۔

﴿27﴾ بے شک جو لوگ ایمان نہیں لاتے آخرت پر وہ فرشتوں کے نام عورتوں کے سے رکھتے ہیں۔

﴿28﴾ حالانکہ انہیں اس کا کچھ علم ہی نہیں ۔ وہ محض ظن کی پیروی کرتے ہیں۔ اور ظن حق کے مقابلہ میں کسی کام نہیں آسکتا۔

﴿29﴾ پس آپ رخ انور پھیر لیجیے اس (بد نصیب) سے جس نے ہمارے ذکر سے روگردانی کی اور انہیں خواہش رکھتا مگر دنیوی زندگی کی ۔

﴿30﴾ یہ ہے ان کا مبلغ علم ۔ بےشک آپ کا رب ہی خوب جانتا ہے جو بھٹک گیا اس کی راہ سے اور وہی بہتر جانتا ہے جس نے راہ راست پائی ۔

﴿31﴾ اور اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے تاکہ وہ بدلہ دے بدکاروں کو ان کے اعمال کا اور بدلہ دے نیکو کاروں کو ان کی نیکیوں کا

﴿32﴾ جو لوگ بچتے رہتے ہیں بڑے بڑے گناہوں سے اور بےحیائی کے کاموں سے مگر شاذونادر ۔ بلاشبہ آپ کا رب وسیع بخشش والا ہے ۔۔ وہ (اس وقت سے) خوب جانتا ہے تمہیں جب اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور جبکہ تم حمل تھے اپنی ماؤں کے شکموں میں پس اپنی خود ستائی نہ کیا کرو۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کون پرہیزگار ہے۔

﴿33﴾ کیا آپ نے ملاحظہ فرمایا جس نے روگردانی کی ۔

﴿34﴾ اور تھوڑا سا مال دیا پھر کنجوس بن گیا ۔

﴿35﴾ کیا اس کے پاس علم غیب ہے اور وہ دیکھ ررہا ہے ۔

﴿36﴾ کیا وہ آگاہ نہیں ہوا جو موسی (علیہ السلام ) کے صحیفوں میں ہے

﴿37﴾ اور ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں میں جو پوری طرح احکام بجا لائے ۔

﴿38﴾ کہ کوئی شخص دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ۔

﴿39﴾ اور نہیں ملتا انسان کو مگر وہی کچھ جس کی وہ کوشش کرتا ہے ۔

﴿40﴾ اور اس کی کوشش کا نتیجہ جلد نظر آجائے گا ۔

﴿41﴾ پھر اس کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

﴿42﴾ اور یہ کہ سب کو آپ کے رب کے پاس ہی پہنچنا ہے ۔

﴿43﴾ اور یہ کہ وہی ہنساتا ہے اور رلاتا ہے ۔

﴿44﴾ اور یہ کہ وہی مارتا ہے اور جلاتا ہے

﴿45﴾ اور یہ کہ اسی نے پیدا فرمائیں دونوں قسمیں نر اور مادہ

﴿46﴾ (وہ بھی) ایک بوند سے جب ٹپکتی ہے

﴿47﴾ اور یہ کہ اسی (اللہ تعالیٰ) کے ذمہ ہے دوسری بار پیدا فرمانا ۔

﴿48﴾ اور یہ کہ وہی غنی کرتا ہے اور مفلس بناتا ہے ۔

﴿49﴾ اور یہ کہ وہی شعری (ستارے) کا رب ہے ۔

﴿50﴾ اور یہ کہ اسی نے ہلاک کی اعاد اول (قوم ہود) کو ۔

﴿51﴾ اور ثمود کو بھی پھر کسی کو نہ چھوڑا۔

﴿52﴾ اور (ہلاک کیا ) قوم نوح کو ان سب سے پہلے وہ بڑے ظالم اور سرکش تھے۔

﴿53﴾ اور (لوط کی) اوندھی بستی کو بھی پٹخ دیا ۔

﴿54﴾ پس ان پر چھا گیا جو چھا گیا۔

﴿55﴾ پس (اے سننے والے بتا ) تو اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائے گا ۔

﴿56﴾ یہ ڈرانے والا (رسول عربی) بھی پہلے ڈرانے والوں کی طرح ہے ۔

﴿57﴾ قریب آنے والی قریب آگئی ۔

﴿58﴾ اللہ کے سوا اس کو کوئی ظاہر کرنے والا نہیں ۔

﴿59﴾ بھلا کیا تم اس بات سے تعجب کر رہے ہو۔

﴿60﴾ اور (بے شرموں کی طرح) ہنس رہے ہو اور روتے نہیں ہو ۔

﴿61﴾ اور تم نے کھیل مذاق بنا رکھا ہے ۔

﴿62﴾ پس سجدہ کرو اللہ تعالیٰ کے لیے اور اس کی عبادت کیا کرو۔

القمر

Surah 54

﴿1﴾ قیامت قریب آگئی ہے ۔ اور چاند شق ہو گیا ۔

﴿2﴾ اور اگر وہ کوئی ناانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہنے لگتے ہیں یہ بڑا زبرست جادو ہے ۔

﴿3﴾ اور انہوں نے جھٹلا (رسول خدا کو) اور پیروی کرتے رہے اپنی خواہشات کی ۔۔ اور ہر کام کے لیے ایک انجام ہے ۔

﴿4﴾ اور پہنچ چکی ہیں ان کے پاس (پہلی قوموں کی بربادی کی) اتنی خبریں جن میں بڑی عبرت ہے ۔

﴿5﴾ (وہ خبریں) سراسر حکمت ہیں پس ڈرانے والوں نے کوئی فائدہ نہ پہنچایا ۔۔

﴿6﴾ پس آپ رخ انور پھیر لیں ان سے ۔ ایک روز بلائے گا (انہیں ) بلانے والا ایک ناگوار چیز کی طرف ۔۔

﴿7﴾ (خوف سے) ان کی آنکھیں جھکی ہوں گی ۔۔ قبروں سے یوں نکلیں گے جیسے وہ پراگندہ ٹڈیاں ہیں۔

﴿8﴾ ڈرتے ڈرتے بھاگے جارہے ہوں گے بلانے والے کی طرف کافر کہتے ہوں گے یہ بڑا سخت دن ہے ۔

﴿9﴾ جھٹلایاان سے پہلے قوم نوح نے یعنی انہوں نے جھٹلایا ہمارے بندے کو اور کہا یہ دیوانہ ہے اور اسے جھڑکا بھی گیا ۔

﴿10﴾ آخر کار آپ نے دعا مانگی اپنے رب سے کہ میں عاجز آگیا ہوں پس تو (ان سے ) بدلہ لے ۔

﴿11﴾ پھر ہم نے کھول دیے آسمان کے دروازے موسلا دھار بارش کے ساتھ۔

﴿12﴾ اور جاری کردیا ہم نے زمین سے چشموں کو پھر دونوں پانی مال گئے ایک مقصد کے لیے جو پہلے مقرر ہوچکا تھا

﴿13﴾ اور ہم نے سوار کردیا نوح کو تختوں اور میخوں والی (کشتی ) پر

﴿14﴾ وہ بہتی جارہی تھی ہماری آنکھوں ے سامنے ۔۔ (یہ طوفان) بدلہ تھا اس (نبی ) کا جس کا انکار کیا گیا تھا۔

﴿15﴾ اور ہم نے باقی رکھا اس (قصہ) کو بطور نشانی پس ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ۔۔

﴿16﴾ سو کیسا (خوفناک) تھا میرا عذاب اور (کتنے سچے تھے ) میرے ڈراوے

﴿17﴾ اور بےشک ہم نے آسان کردیا ہے قرآن کو نصیحت پذیری کے لیے پس ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ۔

﴿18﴾ عاد نے بھی جھٹلایا تھا پھر کیسا (خوفناک) تھا میرا عذاب اور میرے ڈراوے۔

﴿19﴾ ہم نے ان پر تندوتیز آندھی بھیجی ایک دائمی نحوست کے دن میں ۔

﴿20﴾ وہ اکھاڑ کر پھینک دیتی لوگوں کو کہ گویا وہ مڈھ ہیں اکھڑی ہوئی کھجور کے ۔

﴿21﴾ پس کیسا (سخت) تھا میرا عذاب اور کتنے سچے تھے ) میرے ڈراوے۔

﴿22﴾ بے شک ہم نے آسان کردیا ہے قرآن کو نصیحت پذیری کے لیے پس ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا

﴿23﴾ ثمود نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا۔

﴿24﴾ پھر وہ کہنے لگے کیا ایک انسان جو ہم میں سے ہے (اور) اکیلا ہے ہم اس کی پیروی کریں پھر تو ہم گمراہی اور دیوانگی میں مبتلا ہوجائیں گے

﴿25﴾ کیا اتاری گئی ہے وحی اس پر ہم سب میں سے (یہ کیونکر ممکن ہے) بلکہ وہ بڑا جھوٹا شیخی باز ہے ۔

﴿26﴾ کل انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون بڑا جھوٹا ، شیخی باز ہے۔

﴿27﴾ ہم بھیج رہے ہیں ایک اونٹنی ان کی آزمائش کے لیے پس (اے صالح!) ان کے انجام کا انتظار کرو اور صبر کرو۔

﴿28﴾ اور انہیں آگاہ کردیجیے کہ پانی تقسیم کردیا گیا ہے ان کے درمیان۔ سب اپنی اپنی باری پر حاضر ہوں

﴿29﴾ پس ثمودیوں نے بلایا اپنے ایک ساتھی (قذار) کو پس اس نے وار کیا اور (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ دیں۔

﴿30﴾ پھر (معلوم ہے) کیسا تھا میرا عذاب اور میرے ڈراوے۔

﴿31﴾ ہم نے بھیجی ان پر ایک چنگھاڑ پھر وہ اس طرح ہو کر رہ گئے جیسے روندی ہوئی خاردار باڑھ۔

﴿32﴾ بے شک ہم نے آسان کردیا قرآن کو نصیحت پذیری کے لیے پس ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا

﴿33﴾ قوم لوط نے بھی جھٹلایا تھا پیغمبروں کو

﴿34﴾ ہم نے بھیجی ان پر پتھر برسانے والی ہوا سوائے لوط کے گھرانے کے ۔ ہم نے ان کو بچالیا سحری کے وقت

﴿35﴾ یہ (خاص) مہربانی تھی ہماری طرف سے۔ اسی طرح ہم جز ا دیتے ہیں جو شکر کرتا ہے

﴿36﴾ اور بےشک ڈرایا تھا انہیں لوط (علیہ السلام) ہماری پکڑ سے پس جھگڑنے لگے ان کے ڈرانے کے بارے میں

﴿37﴾ اور انہوں نے پھسلانا چاہا لوط کو اپنے مہمانوں سے تو ہم نے میٹ دیا ان کی آنکھوں کو لو اب چکھو اے بےحیاؤ! میرے عذاب اور میرے ڈرانے کا مزہ۔

﴿38﴾ پس صبح سویرے ان پر ٹھہرنے والا عذاب نازل ہوا۔

﴿39﴾ لو اب چکھو میرے عذاب اور میرے ڈرانے کا مزہ۔

﴿40﴾ اور بےشک ہم نے آسان کردیا قرآن کو نصیحت پذیری کے لیے پس ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا۔

﴿41﴾ اور آئے آل فرعون کے پاس ڈرانے والے

﴿42﴾ انہوں نے جھٹلایا ہماری ساری آیتوں کو پھر ہم نے ان کو پکڑ لیا جیسے کوئی زبردست قوت والا پکڑتا ہے۔

﴿43﴾ کیا تمہاری قوم کے کفار بہتر ہیں ان سے یا تمہارے لیے معافی لکھ دی گئی ہے آسمانی نوشتوں میں ۔

﴿44﴾ یا وہ کہتے ہیں کہ ہم ایسی جماعت ہیں جو غالب ہی رہے گی۔

﴿45﴾ عنقریب پسپا ہوگی یہ جماعت اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے

﴿46﴾ بلکہ ان کے وعدہ کا وقت (روز) قیامت ہے اور قیامت بڑی خوفناک اور تلخ ہے

﴿47﴾ بے شک مجرم گمراہی اور پاگل پن کا شکار ہیں

﴿48﴾ اس روز انہیں گھسیٹآ جائے گا آگ میں منہ کے بل (انہیں کہا جائے گا) چکھو اب آگ میں جلنے کا مزہ

﴿49﴾ ہم نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے ایک اندازے سے

﴿50﴾ اور نہیں ہوتا ہمارا حکم مگر ایک بار جو آنکھ جھپکنے میں واقع ہوجاتا ہے

﴿51﴾ اور بےشک ہم نے ہلاک کردیا جو (کفر میں) تمہارے ہم مشرب تھے پس ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا

﴿52﴾ اور جو کچھ انہوں نے کیا ہے ان کے نامۂ اعمال میں درج ہے

﴿53﴾ اور ہر چھوٹی اور بڑی بات (اس میں) لکھی ہوئی ہے

﴿54﴾ بے شک پرہیزگار باغوں میں اور نہروں میں ہوں گے

﴿55﴾ بڑی پسندیدہ جگہ میں عظیم قدرت والے بادشاہ کے پاس (بیٹھے) ہوں گے

الرحمٰن

Surah 55

﴿1﴾ رحمن نے

﴿2﴾ (اپنے حبیب کو) سکھایا ہے قرآن

﴿3﴾ پیدا فرمایا انسانِ (کامل) کو

﴿4﴾ (نیز) اسے قرآن کا بیان سکھایا

﴿5﴾ سورج اور چاند حساب کے پابند ہیں

﴿6﴾ اور (آسمان کے) تارے اور (زمین کے) درخت اسی کو سجدہ کناں ہیں

﴿7﴾ اور آسمان اسی نے بلند کیا اور میزانِ (عدل) قائم کی

﴿8﴾ تاکہ تم تولنے میں زیادتی نہ کرو

﴿9﴾ اور وزن کو ٹھیک رکھو انصاف کے ساتھ اور تول کو کم نہ کرو

﴿10﴾ اور اس نے زمین کو پیدا کیا ہے مخلوق کے لیے

﴿11﴾ اس میں گوناگوں پھل ہیں اور کھجوریں غلافوں والی

﴿12﴾ اور اناج بھی بھوسہ والا اور خوشبو دار پھول

﴿13﴾ پس (اے انس وجاں) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿14﴾ پیدا فرمایا انسان کو بجنے والی مٹی سے ٹھیکری کی مانند

﴿15﴾ اور پیدا کیا جان کو آگ کے خالص شعلے سے

﴿16﴾ پس (اے انس و جاں) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿17﴾ وہی دونوں مشرقوں کا رب ہے اور دونوں مغربوں کا رب ہے

﴿18﴾ پس (اے انس و جاں) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿19﴾ اس نے رواں کیا ہے دونوں دریاؤں کو جو آپس میں مل رہے ہیں

﴿20﴾ ان کے درمیان آڑ ہے آپس میں گڈ مڈ نہیں ہوتے

﴿21﴾ پس (اے انس و جاں) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿22﴾ نکلتے ہیں ان سے موتی اور مرجان

﴿23﴾ پس (اے انس و جاں) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿24﴾ اسی کے زیر فرمان ہیں وہ جہاز جو سمندر میں پہاڑوں کی مانند بلند نظر آتے ہیں

﴿25﴾ پس (اے انس و جاں) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿26﴾ جو کچھ زمین پر ہے فنا ہونے والا ہے

﴿27﴾ اور باقی رہے گی آپ کے رب کی ذات جو بڑی عظمت اور احسان والی ہے

﴿28﴾ پس (اے انس و جاں) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿29﴾ مانگ رہے ہیں اس سے (اپنی حاجتیں ) سب آسمان والے اور زمین والے ہر روز وہ ایک نئی شان سے تجلی فرماتا ہے

﴿30﴾ پس (اے انس و جاں) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿31﴾ ہم عنقریب توجہ فرمائیں گے تمہاری طرفاے جن وانس

﴿32﴾ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿33﴾ اے گروہ جن وانس! اگر تم میں طاقت ہے کہ تم نکل بھاگو آسمانوں اور زمین کی سرحدوں سے تو نکل کر بھاگ جاؤ (سنو) تم نہیں نکل سکتے بجز سلطان کے (اور وہ تم میں مفقود ہے)

﴿34﴾ پس (اے جن وانس) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿35﴾ بھیجا جائے گا تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں پھر تم اپنا بچاؤ بھی نہ کر سکو گے

﴿36﴾ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿37﴾ پھر پھٹ جائے گا آسمان تو سرخ ہوجائے گا جیسے رنگا ہوا سرخ چمڑا

﴿38﴾ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿39﴾ تو اس روز کسی انسان ار جن سے اس کے گناہ کے بارے نہ پوچھا جائے گا

﴿40﴾ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿41﴾ پہچان لیے جائیں گے مجرم اپنے چہروں سے تو انہیں پکڑ لیا جائے گا پیشانی کے بالوں سے اور ٹانگوں سے

﴿42﴾ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے

﴿43﴾ یہی وہ جہنم ہے جسے جھٹلایا کرتے تھے مجرم

﴿44﴾ وہ گردش کرتے رہیں گے جہنم اور گرم کھولتے ہوئے پانی کے درمیان جو از حد گرم ہوگا

﴿45﴾ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿46﴾ اور جو ڈرتا ہے اپنے رب کے روبرو کھڑا ہونے سے تو اس کو دو باغ ملیں گے

﴿47﴾ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿48﴾ دونوں باغ (پھلدار) ٹہنیوں والے ہوں گے

﴿49﴾ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿50﴾ دونوں باغوں میں دو چشمنے جاری ہوں گے۔

﴿51﴾ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔

﴿52﴾ ان دونوں باغوں میں ہر طرح کے میووں کی دو دو قسمیں ہوں گی

﴿53﴾ پس ( اے جن وانس!) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔

﴿54﴾ وہ تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے بستروں پر جن کے استر قنادیز کے ہوں گے اور دونوں باغوں کا پھل نیچے جھکا ہوگا

﴿55﴾ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿56﴾ ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی جن کو نہ کسی انسان نے چھوا ہوگا ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے

﴿57﴾ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿58﴾ یہ تو گویا یا قوت اور مرجان ہیں

﴿59﴾ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿60﴾ کیا احسان کا بدلہ بجز احسان کے کچھ اور بھی ہوتا ہے

﴿61﴾ پس (اے جن وانس!) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿62﴾ اور ان دو کے علاوہ دو اور باغ بھی ہیں

﴿63﴾ پس (اے جن وانس!) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿64﴾ دونوں نہایت سرسبز وشاداب

﴿65﴾ پس (اے جن وانس!) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿66﴾ ان میں دو چشمنے جوش سے ابل رہے ہوں گے

﴿67﴾ پس (اے جن وانس!) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿68﴾ ان میں میوے ہوں گے اور کھجوریں اور انار ہوں گے

﴿69﴾ پس (اے جن وانس!) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿70﴾ ان میں اچھی سیرت والیاں اچھی صورت والیاں ہوں گی

﴿71﴾ پس (اے جن وانس!) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿72﴾ یہ حوریں، پردہ دار خیموں میں

﴿73﴾ پس (اے جن وانس!) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿74﴾ ان کو بھی اب تک نہ کسی انسان نے چھوا ہوگا اور نہ کسی جن نے

﴿75﴾ پس (اے جن وانس!) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿76﴾ وہ تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے سبز مسند پر جو از حد نفیس، بہت خوبصورت ہوگی

﴿77﴾ پس (اے جن وانس!) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

﴿78﴾ (اے حبیب!) بڑا با برکت ہے اپ کے رب کا نام، بڑی عظمت والا، احسان فرمانے والا

الواقعہ

Surah 56

﴿1﴾ جب قیامت برپا ہوجائے گی

﴿2﴾ نہیں ہوگا جب یہ برپا ہوگی (اسے ) کوئی جھٹلانے والا

﴿3﴾ کسی کو پست کرنے والی کسی کو بلند کرنے والی

﴿4﴾ جب زمین تھر تھر کانپے گی

﴿5﴾ اور ٹوٹ پھوٹ کر پہاڑ ریز ریزہ ہوجائیں گے

﴿6﴾ پھر غبار بن کر بکھر جائیں گے

﴿7﴾ اور تم لوگ تین گروہوں میں بانٹ دیے جاؤ گے

﴿8﴾ پس (ایک گروہ) دائیں ہاتھ والوں کا ہوگا، کیا شان ہوگی دائیں ہاتھ والوں کی۔

﴿9﴾ اور (دوسرا گرو) بائیں ہاتھ والوں کا ہوگا، کیا (خستہ) حال ہوگا بائیں ہاتھ والوں کا۔

﴿10﴾ اور (تیسرا گروہ ہر کار خیر میں) آگے رہنے والوں کا وہ (اس روز بھی) آگے آگے ہوں گے۔

﴿11﴾ وہی مقرب بارگاہ ہیں۔

﴿12﴾ عیش وسرور کے باغوں میں

﴿13﴾ ایک بڑی جماعت پہلوں سے

﴿14﴾ اور قلیل تعداد پچھلوں سے

﴿15﴾ ان پلنگوں پر جو سونے کی تاروں سے بنے ہوں گے

﴿16﴾ تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے ان پر آمنے سامنے

﴿17﴾ گردش کرتے ہوں گے ان کے اردگرد نوخیز لڑکے جو ہمیشہ ایک جیسے رہیں گے

﴿18﴾ (ہاتھوں میں) پیالے، آفتابے اور شراب طہور سے چھلکتے جام لیے ہوئے

﴿19﴾ نہ سر درد محسوس کریں گے اس سے اور نہ مدہوش ہوں گے

﴿20﴾ اور میوے بھی (پیش کریں گے) جو وہ جنتی پسند کریں گے

﴿21﴾ اور پرندوں کا گوشت بھی جس کی وہ رغبت کریں گے

﴿22﴾ اور حوریں خوبصورت آنکھوں والیا ں۔

﴿23﴾ (سچے) موتیوں کی مانند جو چھپا رکھے ہوں

﴿24﴾ یہ اجر ہوگا ان نیکیوں کا جو وہ کرتے رہے تھے

﴿25﴾ نہ سنیں گے وہاں لغو باتیں اور نہ گناہ والی باتیں

﴿26﴾ بس ہر طرف سے سلام بنی سلام کی آواز آئے گی

﴿27﴾ اور دائیں ہاتھ والے، کیا شان ہوگی دائیں ہاتھ والوں کی

﴿28﴾ بے خار بیریوں میں

﴿29﴾ اور کیلے کے گچھوں میں

﴿30﴾ اور لمبے لمبے سایوں میں

﴿31﴾ اور پانی کے آبشاروں میں

﴿32﴾ اور پھلوں کی بہتات میں

﴿33﴾ نہ وہ ختم ہوں گے اور نہ ان سے روکا جائے گا

﴿34﴾ اور بستر بچھے ہوں گے اونچے اونچے پلنگوں پر

﴿35﴾ ہم نے پیدا کیا ان کی بیویوں کو حیرت انگیز طریقہ سے

﴿36﴾ پس ہم نے بنادیا انہیں کنواریاں

﴿37﴾ (دل و جان سے) پیار کرنے والیاں ہم عمر

﴿38﴾ (یہ سب نعمتیں) اصحاب یمین کے لیے مخصوص ہوں گی

﴿39﴾ ایک بڑی جماعت اگلوں سے

﴿40﴾ اور ایک بڑی جماعت پچھلوں میں سے ہوگی

﴿41﴾ اور بائیں ہاتھ والے، کیسی خستہ حالت ہوگی بائیں ہاتھ والوں کی

﴿42﴾ (یہ بد نصیب) جھلستی لو اور کھولتے ہوئے پانی میں

﴿43﴾ اور سیاہ دھوئیں کے سایہ میں ہوں گے

﴿44﴾ نہ یہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ آرام دہ

﴿45﴾ بے شک یہ لوگ پہلے بڑے خوش حال تھے

﴿46﴾ اور وہ اصرار کیا کرتے تھے بڑے بھاری گناہ پر

﴿47﴾ اور کہا کرتے تھے کہ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے

﴿48﴾ اور کیا ہمارے پہلے باپ دادا کو بھی ( یہ نا ممکن ہے)

﴿49﴾ آپ فرمادیجیے بےشک اگلوں کو بھی اور پچھلوں کو بھی

﴿50﴾ سب کو جمع کیا جائے گا ایک مقررہ وقت پر ایک جانے ہوئے دن میں

﴿51﴾ پھر تمہیں اے گمراہ ہونے والو! اے جھٹلانے والو

﴿52﴾ حکما کھانا پڑے گا زقوم کے درخت سے

﴿53﴾ پس تم بھروگے اس (اپنے ) پیٹوں کو۔

﴿54﴾ پھر پینا پڑے گا اس پر کھولتاپانی

﴿55﴾ اس طرح پیوگے جیسے پیاس کا مارا اونٹ پیتا ہے

﴿56﴾ یہ ان کی ضیافت ہوگی قیامت کے دن

﴿57﴾ (آج غور کرو) ہم نے ہی تم کو پیدا کیا ہے پس تم قیامت کی تصدیق کیوں نہیں کرتے

﴿58﴾ بھلا دیکھو تو جو منی ٹپکاتے ہو

﴿59﴾ (اور سچ سچ بتاؤ) کیا تم اس کو (انسان بنا کر) پیدا کرتے ہو یا ہم پیدا کرنے والے ہیں

﴿60﴾ ہم ہی نے مقرر کی ہے تمہارے درمیان موت اور ہم ( اس سے) عاجز نہیں ہیں

﴿61﴾ کہ تمہاری جگہ تم جیسے اور لوگ پیدا کردیں اور تم کو ایسی صورت میں پیدا کردیں جس کو تم نہیں جانتے

﴿62﴾ اور تمہیں اچھی طرح علم ہے اپنی پہلی پیدائش کا پس تم (اس میں) کیوں غور وخوض نہیں کرتے

﴿63﴾ کیا تم نے (غور سے) دیکھا ہے جو تم بوتے ہو

﴿64﴾ (سچ سچ بتاؤ) کیا تم اس کو اگاتے ہو یا ہم ہی اس کو اگانے والے ہیں

﴿65﴾ اگر ہم چاہیں تو اس کو چورا چورا بنادیں پھر تم کف افسوس ملتے رہ جاؤ

﴿66﴾ (ہائے) ہم تو قرضوں کے بوجھ تلے دب کر رہ گئے

﴿67﴾ بلکہ ہم تو ہیں ہی بڑے بد نصیب

﴿68﴾ کیا تم نے (غور سے) دیکھا ہے پانی جو تم پیتے ہو

﴿69﴾ (سچ سچ بتاؤ) کیا تم نے اس کو بادل سے اتارا ہے یا ہم ہی اتارنے والے ہیں۔

﴿70﴾ اگر ہم چاہتے تو اس کو کھاری بنا دیتے پھر تم کیوں شکر ادا نہیں کرتے

﴿71﴾ کیا تم نے (غور سے) دیکھا ہے آگ کو جو تم سلگاتے ہو

﴿72﴾ (سچ سچ بتاؤ) کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا ہم ہی پیدا کرنے والے ہیں

﴿73﴾ ہم نے ہی بنایا اس کو نصیحت اور فائدہ مند مسافروں کے لیے

﴿74﴾ تو (اے حبیب!) تسبیح کیجیے اپنے رب عظیم کے نام کی

﴿75﴾ پس میں قسم کھاتا ہوں ان جگہوں کی جہاں ستارے ڈوبتے ہیں

﴿76﴾ اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت بڑی قسم ہے

﴿77﴾ بے شک یہ قرآن ہے بڑی عزت والا

﴿78﴾ ایک کتاب میں جو محفوظ ہے

﴿79﴾ اس کو نہیں چھوتے مگر وہی جو پاک ہیں

﴿80﴾ یہ اتارا گیا ہے رب العالمین کی طرف سے

﴿81﴾ کیا تم اس قرآن کے بارے میں کوتاہی کورتے ہو

﴿82﴾ اور (اس کی بےپایاں برکتوں سے) تم نے اپنا یہی نصیب لیا ہے کہ تم اس کو جھٹلاتے رہو گے

﴿83﴾ پس تم کیوں لوٹا نہیں دیتے جب روح حلق تک پہنچ جاتی ہے

﴿84﴾ اور تم اس وقت (پاس بیٹھے ) دیکھ رہے ہوتے ہو

﴿85﴾ اور ہم (اس وقت بھی) تم سے زیادہ مرنے والے کے قریب ہوتے ہیں البتہ تم دیکھ نہیں سکتے

﴿86﴾ پس اگر تم کسی کے پابند حکم نہیں ہو

﴿87﴾ تو پھر کیوں نہیں لوٹا دیتے (مرنے والے کی روح) اگر تم سچے ہو

﴿88﴾ پس وہ (مرنے والا) اگر اللہ کے مقرب بندوں سے ہوگا

﴿89﴾ تو اس کے لیے راحت، خوشبو دار غذائیں سرور والی جنت ہوگی

﴿90﴾ اور اگر وہ اصحاب یمین (کے گروہ) سے ہوگا

﴿91﴾ تو (اسے کہا جائے گا) تمہیں سلام ہو اصحاب یمین کی طرف سے

﴿92﴾ اور اگر (وہ مرنے والا) جھٹلانے والے گمراہوں سے ہوگا۔

﴿93﴾ تو اس کی مہمانی کھولتے پانی سے ہوگی

﴿94﴾ اور داخل ہونا پڑے گا اسے بھڑکتے دوزخ میں

﴿95﴾ بے شک (جو بیان ہوا) یہ یقینا حق ہے ۔

﴿96﴾ پس (اے حبیب! پاکی بیان کیجیے اپنے رب کے نام کی جو بڑی عظمت والا ہے)

الحدید

Surah 57

﴿1﴾ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کہہ رہی ہے ہر چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہی سب پر غالب ، بڑا دانا ہے

﴿2﴾ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ ہرچیز پر پوری قدرت رکھتا ہے

﴿3﴾ وہی اول، وہی آخر، وہی ظاہر، وہی باطن، اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے

﴿4﴾ وہی ہے جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین وک چھ دنوں میں پھر متمکن ہوا تخت حکومت پر، وہ جاناتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا ہے اور جو اس کی طرف عروج کرتا ہے اور وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے جہاں بھی تم ہو اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو (اسے) خوب دیکھنے والا ہے

﴿5﴾ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور اللہ کی طرف ہی سارے کام لوٹائے جائیں گے۔

﴿6﴾ داخل فرماتا ہے رات (کا کچھ حصہ) دن میں اور داخل کرتا ہے دن (کا کچھ حصہ) رات میں اور وہ خوب جانتا ہے جو سینوں میں (پوشیدہ) ہے۔

﴿7﴾ ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور خرچ کرو (اس کی راہ میں) ان مالوں سے جن میں اس نے تمہیں اپنا نائب بنایا ہے۔ پس جو لوگ ایمان لائے تم میں سے اور (راہ خدا میں) خرچ کرتے رہے ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے

﴿8﴾ آخرت تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ (اس کا ) رسول دعوت دے رہا ہے تمہیں کہ ایمان لاؤ اپنے رب پر اور اللہ تعالی تم سے وعدہ بھی لے چکا ہے اگر تم یقین کرنے والے ہو

﴿9﴾ وہی ہے جو نازل فرمارہا ہے اپنے (محبوب) بندہ پر روشن آیتیں تاکہ تمہیں نکال لے (کفر کے) اندھیروں سے (ایمان کے) نور کی طرف۔ اور بےشک اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بڑی شفقت فرمانے ولا، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔

﴿10﴾ آخرتمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم خرچ نہیں کرتے (اپنے مال) راہ خدا میں حالانکہ اللہ تعالیٰ ہی آسمانوں اور زمین کا وارث ہے تم میں سے کوئی برابر نہیں کرسکتا ان کی جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے (راہ خدا میں) مال خرچ کیا اور جنگ کی ان کا درجہ بہت بڑا ہے ان سے جنہوں نے فتح مکہ کے بعد مال خرچ کیا اور جنگ کی۔ (ویسے تو) سب کے ساتھ اللہ نے وعدہ کیا ہے بھلائی کا۔ اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے بخوبی خبردار ہے

﴿11﴾ کون ہے جو (اپنا مال) اللہ تعالیٰ کو (بطور) قرضۂ حسنہ دے اور اور اللہ تعالیٰ کئی گنا بڑھا دے اس کے مال کو اس کے لیے (اسکے علاوہ) اسے شاندار اجر بھی ملے گا

﴿12﴾ جس روز آپ دیکھیں گے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو کہ ضو فشانی کر رہا ہوگا ان کا نور ان کے آگے بھی اور ان کی دائیں جانب بھی (مومنو! ) تمہیں مژدہ ہو آج ان باغوں کا بہہ رہی ہیں جن کے نیچے نہریں تم ہمیشہ وہاں رہو گے۔ یہی وہ عظیم الشان کامیابی ہے

﴿13﴾ اس روز کہیں گے منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے (اے نیک بختو!) ذرا ہمارا بھی انتظار کرو ہم بھی روشنی حاصل کرلیں تمہارے نور سے ۔ (انہیں) کہا جائے گا لوٹ جاؤ پیچھے کی طرف (اور (وہاں ) نور تلاش کرو۔ پس کھڑی کردی جائے گی ان کے اور اہل ایمان کے درمیان ایک دیوار جس کا ایک دروازہ ہوگا۔ اس کے باطن میں رحمت اور اس کے ظاہر کی جانب عذاب ہوگا

﴿14﴾ منافق پکاریں گے اہل ایمان کو کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے کہیں گے بےشک! لیکن تم نے اپنے آپ کو خود فتنوں میں ڈال دیا اور (ہماری تباہی کا) انتظار کرتے رہے اور شک میں مبتلا رہے اور دھوکہ میں ڈال دیا تمہیں جھوٹی امیدوں نے یہاں تک کہ اللہ کا فرمان آ پہنچا اور دھوکہ دیا تمہیں اللہ کے بارے میں شیطان (دغا باز ) نے

﴿15﴾ پس آج نہ تم سے فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ کفار سے ۔ تم (سب کا ) ٹھکانا آتش (جہنم ) ہے ۔ وہ تمہاری رفیق ہے اور بہت بری جگہ ہے لوٹنے کی

﴿16﴾ کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا اہل ایمان کے لیے کہ جھک جائیں ان کے دل یاد الہی کے لیے اور اس سچے کلام کے لیے جو اترا ہے اور نہ بن جائیں ان لوگوں کی طرح جنہیں کتاب دی گئی اس سے پہلے پس لمبی مدت گزر گئی ان پر تو سخت ہوگئے ان کے دل اور ایک کثیر تعداد ان میں سے نافرمان بن گئی

﴿17﴾ جان لو ! اللہ تعالیٰ زندہ کردیتا ہے زمین کو اس کے مرنے کے بعد۔ ہم نے کھول کر بیان کردی ہیں تمہارے لیے (اپنی) نشانیاں تاکہ تم سمجھو

﴿18﴾ بے شک صدقہ دینے والے اور صدقہ دینے والیا اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو قرضہ حسنہ دیا کئی گنا بڑھا دیا جائے ان کے لیے (ان کا مال) اور انہیں فیاضانہ اجر ملے گا

﴿19﴾ اور جو لوگ ایمان لائے اللہ اور اس کے رسولوں پر وہی (خوش نصیب) اللہ جناب میں صدیق اور شہید ہیں۔ ان کے لیے (خصوص) اجر اور ان کا (مخصوص) نور ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی لوگ تو دوزخی ہیں۔

﴿20﴾ خوب جان لو! کہ دنیوی زندگی محض کھیل، تماشا اور (سامان) آرائش ہے اور آپس میں (حسب ونسب پر) اترانا اور ایک دوسرے سے زیادہ مال اور اولاد حاصل کرنا ہے اس کی مثال یوں سمجھو جیسے بادل برسے اور نہال کردے کسانوں کو اس کی (شاداب وسرسبز) کھیتی۔ پھر وہ (یکایک) سوکھنے لگے تو تو اسے دیکھے کہ اس کا رنگ زرد پڑ گیا ہے پھر وہ ریزہ ریزہ ہوجائے اور (دنیا پرستوں کے لیے) آخرت میں سخت عذاب ہوگا (اور خدا پرستوں کے لیے) اللہ کی بخشش اور (اس کی ) خوشنودی ہوگی اور نہیں ہے دنیوی زندگی مگر نرا دھوکہ

﴿21﴾ تیزی سے آگے بڑھو اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمان اور زمین کی چوڑائی کے برابر ہے ۔ جو تیار کردی گئی ہے ان کے لیے جو ایمان لے آئے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر۔ یہ اللہ کا فضل (وکرم) ہے عطا فرماتا ہے جس کو چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا ہی فضل فرمانے والاہے

﴿22﴾ نہیں آئی کوئی مصیبت زمین پر اور نہ تمہاری جانوں پر مگر وہ لکھ ہوئی ہے کتاب میں اس سے پہلے کہ ہم ان کو پیدا کریں بےشک یہ بات اللہ کے لیے بالکل آسان ہے۔

﴿23﴾ (ہم نے تمہیں یہ اس لیے بتادیا ہے) کہ تم غمزدہ نہ ہو اس چیز پر جو تمہیں نہ ملے اور نہ اترانے لگو اس چیز پر جو تمہیں مل جائے۔ اور اللہ تعالیٰ دوست نہیں رکھتا کسی مغرور، شیخی باز کو

﴿24﴾ جو لوگ خود بھی بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیتے ہیں ۔ اور جو ( اللہ کے حکم سے ) رو گردانی کرے تو بےشک اللہ ہی بےنیاز، ہر تعریف کا مستحق ہے

﴿25﴾ یقینا ہم نے بھیجا ہے اپنے رسولوں کو روشن دلیلوں کے ساتھ اور ہم نے اتاری ہے اور ہم نے اتاری ہے ان کے ساتھ کتاب اور میزان (عدل) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔ اور ہم نے پیدا کیا لوہے کو اس میں بڑی قوت ہے اور طرح طرح کے فائدے ہیں لوگوں کے لیے اور (یہ سب اس لیے) تاکہ دیکھ لے اللہ تعالیٰ کی کہ کون مدد کرتا ہے اس کی اور اس کے رسولوں کی بن دیکھے یقیناً اللہ تعالیٰ بڑا زور آور ، سب پر غالب ہے

﴿26﴾ اور ہم نے نوح اور ابراہیم (علیہما السلام ) کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ہم نے رکھ دی ان دونوں کی نسل میں نبوت اور کتاب پس ان میں سے چند تو ہدایت یافتہ ہیں اور ان میں بہت سے نافرمان ہیں

﴿27﴾ پھر ہم نے ان کے پیچھے انہیں کی راہ پر اور رسول بھیجے اور ان کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم کو اور انہیں انجیل عطا فرمائی۔ اور ہم نے رکھ دی ان لوگوں کے دلوں میں جو عیسیٰ کے تابعدار تھے ، شفقت اور رحمت اور رہبانیت کو انہوں نے خود ایجاد کیا تھا ہم نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا البتہ انہوں نے رضائے الہی کے حصول کے لیے اسے اختیار کیا تھا پھر اسے وہ نباہ نہ سکے جیسے اس کے نباہنے کا حق تھا پس ہم نے عطا فرمایا جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے (ان کے حسن عمل اور حسن نیت ) کا اجر اور ان میں سے اکثر فاسق (وفاجر) تھے

﴿28﴾ اے ایمان والو! تم ڈرتے رہا کرو اللہ سے اور (سچے دل سے) ایمان لے آؤ اس کے رسول (مقبول) پر اللہ تمہیں عطا فرمائے گا دو حصے اپنی رحمت سے اور بنا دے گا تمہارے لیے ایک نور جس کی روشنی میں تم چلو گے اور بخش دے گا تمہیں اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے

﴿29﴾ (تم پر یہ خصوصی کرم اس لیے کیا) تاکہ جان لیں اہل کتاب کہ ان کا کوئی قابو نہیں اللہ تعالیٰ کے فضل (وکرم) پر اور یہ کہ فضل تو اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے نوازتا ہے اس سے جس کو چاہتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ صاحب فضل عظیم ہے

المجادلہ

Surah 58

﴿1﴾ بے شک اللہ تعالیٰ نے سن لی اس کی بات جو تکرار کر رہی تھی آپ سے اپنے خاوند کے بارے میں اور (ساتھ ہی) شکوہ کیے جاتی تھی اللہ سے (اپنے رنج وغم کا) اور اللہ سن رہا تھا تم دونوں کی گفتگو ۔ بےشک اللہ ( سب کی باتیں) سننے الا (سب کچھ) دیکھنے والا ہے

﴿2﴾ جو لوگ تم میں سے ظہار کرتے ہیں اپنی بیویوں سے وہ ان کی مائیں نہیں ہیں۔ نہیں ہیں ان کی مائیں بجز ان کے جنہوں نے انہیں جنا ہے بےشک یہ لوگ کہتے ہیں بہت بری بات اور جھوٹ ۔ اور بلا شبہ اللہ تعالیٰ بہت درگز فرمانے والا، بہت بخشنے والا ہے

﴿3﴾ جو لوگ ظہار کر بیٹھیں اپنی عورتوں سے پھر وہ پلٹنا چاہیں اس بات سے جو انہوں نے کہی تو (خاوند) غلام آزاد کرے اس سے قبل کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ یہ ہے جس کا تمہیں حکم دیا جاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جو تم کر رہے ہو (اس سے) آگاہ ہے

﴿4﴾ پس جو شخص غلام نہ پائے تو وہ دو ماہ لگاتار روزے رکھے اس سے قبل کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اور جو اس پار بھی قادر نہ ہو تو وہ کھانا کھلائے ساتھ مسکینوں کو یہ اس لیے کہ تم تصدیق کرو اللہ اور اس کے رسول ( کے فرمان) کی اور یہ اللہ کی (مقرر کردہ) حدیں ہیں اور منکرین کے لیے دردناک عذاب ہے

﴿5﴾ بے شک جو لوگ مخالفت کر رہے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی انہیں ذلیل کیا جائے گا جس طرح ذلیل کیے گئے وہ (مخالفین ) جو ان سے پہلے تھے اور بےشک ہم نے اتاری ہیں روشن آیتیں اور کفار کے لیے رسوا کن عذاب ہے

﴿6﴾ (یاد کرو) جس روز اللہ تعالی ان سب کو زندہ کرے گا پھر انہیں آگاہ کرے گا جو کچھ انہوں نے کیا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اعما ل کو گن رکھا ہے اور وہ بھلا چکے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر شاہد ہے

﴿7﴾ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ یقیناً اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے۔ نہیں ہوتی کوئی سرگوشی تین آدمیوں میں مگر وہ ان کا چوتھا ہوتا ہے اور نہ پانچ میں مگر وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم میں اور نہ زیادہ میں مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں وہ ہوں۔ پھر وہ انہیں آگاہ کرے گا جو (کرتوت) وہ کرتے رہے قیامت کے دن بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے

﴿8﴾ کیا تم نے نہیں دیکھا ان لوگوں کی طرف جنہیں (اسلام کے خلاف) سرگوشیوں سے روکا گیا پھر دوبارہ وہی کرتے ہیں جس سے انہیں روکا گیا اور سرگوشیاں کرتے ہیں گناہ، ظلم اور رسول کی نافرمانی کے بارے میں اور جب آپ کی خدمت میں آتے ہیں تو آپ کو اس طرح سلام دیتے ہیں جیسے اللہ نے آپ کو سلام نہیں دیا اور وہ کہا کرتے ہیں آپس میں کہ ( اگر یہ سچے رسول ہیں) تو اللہ تعالیٰ ہماری ان باتوں پر ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا۔ کافی ہے انہیں جہنم اس میں داخل ہوں گے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے

﴿9﴾ اے ایمان والو! جب خفیہ مشورہ کرو تو مت خفیہ مشورہ کرو گناہ، زیادتی اور رسول (کریم) کی نافرمانی کے متعلق بلکہ نیکی اور تقوی کے بارے میں مشورہ کیا کرو اور ڈرتے رہو اللہ سے جس کی (بارگاہ میں) تمہیں جمع کیا جائے گا

﴿10﴾ (کفار کی) سرگوشیاں تو شیطان کی طرف سے ہیں تاکہ وہ غمزدہ کردے ایمان والوں کو حالانکہ وہ انہیں کچھ بھی ضرر نہیں پہنچا سکتا اللہ کے حکم کے بغیر اور اللہ پر ہی توکل کرنا چاہیے اہل ایمان کو

﴿11﴾ اے ایمان والو! جب تمہیں کہا جائے کہ (آنے والوں کے لیے) جگہ کشادہ کردو مجلس میں تو کشادہ کردیا کرو اللہ تمہارے لیے کشادگی فرمائے گا اور جب کہا جائے کہ اٹھ کھڑے ہوا کرو اللہ تعالیٰ ان کے جو تم میں سے ایمان لے آئے اور جن کو علم دیا گیا درجات بلند فرمادے گا اور اللہ تعالیٰ جو تم کرتے ہو اس سے خوب آگاہ ہے

﴿12﴾ اے ایمان والو! جب تنہائی میں بات کرنا چاہو رسول (مکرم) سے تو سرگوشی سے پہلے صدقہ دیا کرو۔ یہ بات تمہارے لیے بہتر ہے اور ( دلوں کو) پاک کرنے والی ہے ۔ اور اگر تم ( اس کی سکت) نہ پاؤ تو بےشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے

﴿13﴾ کیا تم ( اس حکم سے ) ڈر گئے کہ تمہیں سرگوشی سے پہلے صدقہ دینا چاہیے ۔ پس ججب تم ایسا نہ کرسکے تو اللہ نے تم پر نظر کرم فرمائی پس ( اب) تم نماز صحیح صحیح ادا کیا کرو اور زکوٰۃ دیا کرو اور تابعداری کیا کرواللہ اور اس کے رسول کی اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو تم کرتے رہتے ہو

﴿14﴾ کیا تم نے نہیں دیکھا ان (نادانوں ) کی طرف جنہوں نے دوست بنالیا ایسی قوم کو جن پر خدا کا غضب ہوا نہ یہ لوگ تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے یہ جان بوجھ کر جھوٹی باتوں پر قسمیں کھاتے ہیں

﴿15﴾ تیار کر رکھا ہے اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب بلاشبہ یہ لوگ بہت برے کام کیا کرتے تھے۔

﴿16﴾ انہوں نے بنا رکھا ہے اپنی قسموں کو ڈھال پس وہ (اس طرح) روکتے ہیں اللہ کی راہ سے سو ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے

﴿17﴾ کچھ نفع نہیں پہنچائیں گے انہیں ان کے مال اور نہ ان کی اولاد عذاب الٰہی سے بچانے کے لیے یہ لوگ جہنمی ہیں یہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں

﴿18﴾ جس روز اللہ تعالیٰ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ قسمیں کھائیں گے اللہ کے سامنے جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور خیال کریں گے کہ وہ کسی مفید چیز پر تکیہ کیے ہیں۔ خبردار! یہی وہ جھوٹے لوگ ہیں

﴿19﴾ شیطان کا ٹولہ ہیں ۔ خوب سن لو! شیطان کا ٹولہ ہی یقینا نقصان اٹھانے والا ہے

﴿20﴾ بے شک جو لوگ مخالفت کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی وہ زلیل ترین لوگوں میں شمار ہوں گے

﴿21﴾ اللہ نے یہ لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ضرور غالب آکر رہیں گے بےشک اللہ تعالیٰ طاقتور اور زبردست ہے

﴿22﴾ تو ایسی قوم نہیں پائے گا جو ایمان رکھتی ہو اللہ اور قیامت پر (پھر) وہ محبت کرے ان سے جو مخالفت کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی خواہ وہ (مخالفین) ان کے باپ ہوں یا ان کے فرزند ہوں یا ان کے بھائی ہوں یا ان کے کنبہ والے ہوں یہ وہ لوگ ہیں نقش کردیا ہے اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان اور تقویت بخشی ہے انہیں اپنے فیض خاص سے اور داخل کرے گا انہیں باغوں میں رواں ہیں جن کے نیچے نہریں وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں اللہ تعالیٰ راضی ہوگیا ان سے ار وہ اس سے راضی ہوگئے ۔ یہ (بلند اقبال) اللہ کا گروہ ہیں۔ سن لو! اللہ تعالیٰ کا گروہ ہی دونوں جہانوں میں کامیاب وکامران ہے

الحشر

Surah 59

﴿1﴾ اللہ ہی کی پاکی بیان کر رہی ہر چیز جو آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے اور وہی سب پر غالب، بڑا دانا ہے

﴿2﴾ وہی تو ہے جو باھر نکال لا یا اہل کتاب کے کافروں کو ان کے گھروں سے پہلی جلاوطنی کے وقت تم نے کبھی یہ خیال بھی نہ کیا تھا کہ وہ نکل جائیں گے اور وہ بھی گمان کرتے تھے کہ انہیں ان کے قلعے بچالیں گے اللہ (کے قہر) سے پس آیا ان پر اللہ (کا قہر) اس جگہ سے جس کا انہیں خیال بھی نہ آیا تھا اور اللہ نے ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب چنانچہ وہ برباد کر رہے ہیں اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے اور اہل ایمان کے ہاتھوں سے پس عبرت حاصل کرو اے دیدۂ بینا رکھنے والو

﴿3﴾ اور اگر نہ لکھ دی ہوتی اللہ نے نہ ان کے حق میں جلاوطنی تو انہیں عذاب دے دیتا اس دنیا میں اور ان کے لیے آخرت میں تو آگ کا عذاب ہے

﴿4﴾ یہ سزا اس لیے دی گئی کہ انہوں نے مخالفت کی تھی اللہ اور اس کے رسول کی اور جو اللہ کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ عذاب دینے میں بڑا سخت ہے

﴿5﴾ جو کھجور کے درخت تم نے کاٹ ڈالے یا جن کو تم نے چھوڑ دیا کہ کھڑے رہیں اپنی جڑوں پر تو یہ دونوں باتیں اللہ کے اذن سے تھیں تاکہ وہ رسوا کرے فاسقوں کو

﴿6﴾ اور جو مال پلٹا دیے اللہ نے اپنے رسول کی طرف ان سے لے کر تو نہ تم نے اس پر گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ بلکہ اللہ تعالی تسلط بخشتا ہے اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے ۔ اور اللہ تعالی ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے

﴿7﴾ جو مال پلٹا دیا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی طرف ان گاؤں کے رہنے والوں سے تو وہ اللہ کا ہے ، اس کے رسول کا ہے اور رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ وہ مال گردش نہ کرتا رہے تمہارے دولت مندوں کے درمیان اور رسول (کریم) جو تمہیں عطا فرمادیں وہ لے لو اور جس سے تمہٰں روکیں تو رک جاؤ اور ڈرتے رہا کرو ۔ اللہ سے بےشک اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے

﴿8﴾ (نیز وہ مال) نادار مہاجرین کے لیے ہے جنہیں (جبراً) نکال دیا گیا تھاان کے گھروں سے اور جائیداد وں سے یہ (نک بخت) تلاش کرتے ہیں اللہ کا فضل اور اس کی رضا اور (ہر وقت) مدد کرتے رہتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی ۔ یہی رستباز لوگ ہیں

﴿9﴾ اور (اس مال میں) ان کا بھی حق ہے جو دار ہجرت میں مقیم ہیں اور ایمان میں (ثابق قدم ) ہیں مہاجرین کی آمد سے پہلے محبت کرتے ہیں ان سے جو ہجرت کر کے ان کے پاس آتے ہیں اور نہیں پاتے اپنے سینوں میں کوئی خلش اس چیز کے بارے میں جو مہاجرین کو دے دی جائے اور ترجیح دیتے ہیں، انہیں اپنے آپ پر اگرچہ خود انہیں اس چیز کی شدید حاجت ہو اور جس کو بچا لیا گیا اپنے نفس کی حرص سے تو وہی لوگ بامراد ہیں

﴿10﴾ اور اس مال میں ان کا بھی حق ہے جو ان کے بعد آئے جو کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لے آئے اور نہ پیدا کر ہمارے دلوں میں بغض اہل ایمان کے لیے اے ہمارے رب! بےشک تو رؤف رحیم ہے

﴿11﴾ کیا آپ نے منافقوں کی طرف نہیں دیکھا جو کہتے ہیں اپنے بھائیوں سے جنہوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے کہ اگر تمہیں (یہاں سے) نکالا گیا تو ہم بھی ضرور تمہارے ساتھ یہاں سے نکل جائیں گے اور ہم تمہارے بارے میں کسی کی بات ہر گز نہیں مانیں گے، اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے ۔ اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ بالکل جھوٹ بول رہے ہیں

﴿12﴾ (سن لو!) اگر یہودیوں کو نکالا گیا تو یہ نہیں نکلیں گے ان کے ساتھ اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے اور اگر (جی کڑا کر کے) انہوں نے ان کی مدد کی تو یقیناً پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے ۔ پھر ان کی مدد نہ کی جائے گی

﴿13﴾ (اے فرزندان اسلام!) ان (یہودیوں) کے دلوں میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ تمہارا ڈر ہے۔ یہ اس لیے کہ وہ ناسمجھ لوگ ہیں

﴿14﴾ (یہ بڑے بزدل ہیں) کبھی اکٹھے ہو کر (کھلے میدان میں) تم سے جنگ نہیں کریں گے۔ جنگ کریں گے تو قلعہ بند بستیوں میں یا دیواروں کی آڑ لے کر ان کا اختلاف آپس میں بہت سخت ہے ۔ تم انہیں متحد خیال کرتے ہو حالانکہ ان کے دل متفرق ہیں یہ اس لیے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں

﴿15﴾ یہ ان لوگوں کی مانند ہیں جو ان سے پہلے ابھی ابھی اپنے کرتوتوں کا مزہ چکھ چکے ہیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

﴿16﴾ منافقین اور یہود کی مثال شیطان کی سی ہے جو ( پہلے) انسان کو کہتا ہے انکار کردے۔ اور جب وہ انکار کردیتا ہے تو شیطان کہتا ہے میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں میں تو ڈرتا ہوں اللہ سے جو رب العالمین ہے

﴿17﴾ پھر ان دونوں (شیطان اور اس کے چیلے) کا انجام یہ ہوگا کہ دونوں آگ میں ڈالے جائیں گے اس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے ۔ اور یہی ظالموں کی سزا ہے

﴿18﴾ اے ایمان والو! ڈرتے رہا کرو اللہ اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کیا آگے بھیجا ہے کل کے لیے۔ اور ڈرتے رہا کرو اللہ تعالیٰ سے بےشک اللہ تعالیٰ خوب آگاہ ہے جو تم کرتے رہتے ہو

﴿19﴾ اور ان (نادانوں ) کی مانند نہ ہوجانا جنہوں نے بھلادیا اللہ تعالیٰ کو پس اللہ نے ان کو خود فراموش بنادیا۔ یہی نافرمان لوگ ہیں ؎

﴿20﴾ یکساں نہیں ہو سکتے دوزخی اور اہل جنت ، اہل جنت ہی تو کامیاب لوگ ہیں۔

﴿21﴾ اگر ہم نے اتارا ہوتا اس قرآن کو کسی پہاڑ پر تو آپ اس کو دیکھتے کہ وہ جھک جاتا (اور) پاش پاش ہوجاتا اللہ کے خوف سے ۔ اور یہ مثالیں ہم بیان کرتے ہیں لوگوں کے لیے تاکہ وہ غور وفکر کریں

﴿22﴾ اللہ وہی تو ہے جس کے سوا کوئی معبود نہٰں جاننے والا ہر چھپی ہوئی اور ہر ظاہر چیز کا وہی بہت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا

﴿23﴾ اللہ وہی تو ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں سب کا بادشاہ نہایت مقدس، سلامت رکھنے والا، امان بخشنے والا، نگہبان، عزت والا، ٹوٹے دلوں کو جوڑنے والا، متکبر ہے پاک ہے اللہ تعالیٰ اس شرک سے جو لوگ کرر ہے ہیں

﴿24﴾ وہی اللہ سب کا خالق، سب کو پیدا کرنے والا (سب کی مناسب) صورت بنانے والا ہے سارے خوبصورت نام اسی کے ہیں ۔ اس کی تسبیح کرر ہے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہی عزت والا، حکمت والا ہے

الممتحنہ

Surah 60

﴿1﴾ اے ایمان والو! نہ بنا ؤ میرے دشمنوں کو اور اپنے دشمنوں کو ( اپنے ) جگری دوست تم تو اظہار محبت کرتے ہو ان سے حالانکہ وہ انکار کرتے ہیں (اس دین) حق کا جو تمہارے پاس آیا ہے انہوں نے نکالا ہے رسول (مکرم) کو اور تمہیں بھی ( مکہ سے) محض اس لیے کہت م ایمان لائے ہو اللہ پر جو تمہارا پروردگار ہے ۔ اگر تم جہاد کرنے نکلے ہو میری راہ میں اور میری رضا جوئی کے لیے (تو انہیں دوست مت بناؤ) تم بڑی راز داری سے ان کی طرف محبت کا پیغام بھیجتے ہو حالانکہ میں جانتا ہوں جو تم نے چھپا رکھا ہے اور جو تم نے ظاہر کیا اور جو ایسا کرے تم میں سے تو وہ بھٹک گیا راہ راست سے

﴿2﴾ اگر وہ تم پر قابو پالیں تو وہ تمہارے دشمن ہوں گے اور بڑھائیں گے تمہاری طرف اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں برائی کے ساتھ وہ تو چاہتے ہیں کہ تم ( ان کی طرح) کافر بن جاؤ

﴿3﴾ نہ نفع پہنچائیں گے تمہیں تمہارے رشتہ دار اور نہ تمہاری اولاد روز قیامت اللہ تعالیٰ جدائی ڈال دے گا تمہارے درمیان اور اللہ تعالیٰ جو تم کر رہے خوب دیکھنے والا ہے

﴿4﴾ بے شک تمہارے لیے خوب صورت نمونہ ہے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں (کی زندگی) میں جب انہوں نے (برملا) کہہ دیا اپنی قوم سے کہ ہم بیزار ہیں تم سے اور ان معبودوں سے جن کی تم پوجا کرتے ہو اللہ کے سوا۔ ہم تمہارا انکار کرتے ہیں اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت اور بغض پیدا ہوگیا ہے۔ یہاں تک کہ تم ایمان لاؤ ایک اللہ پر گھر ابراہیم کا اپنے باپ سے یہ کہنا اس سے مستثنی ہے کہ میں ضرور مغفرت طلب کروں گا تمہارے لیے اور میں مالک نہیں ہوں تمہارے لیے اللہ کے سامنے کسی نفع کا (پھر کہا) اے ہمارے رب! ہم نے تجھی پر بھروسہ کیا اور تیری طرف ہی رجوع کیا اور تیری طرف ہی ہمیں پلٹ کر آنا ہے

﴿5﴾ اے ہمارے رب! ہمیں نہ بنادے فتنہ کافروں کے لیے اور ہمیں بخش دے اے ہمارے رب! بےشک توہی عزت والا (اور) حکمت والا ہے

﴿6﴾ بے شک تمہارے لیے ان میں خوبصورت نمونہ ہے اس کے لیے جو اللہ اور روز قیامت کا امیدوار ہے۔ اور جو روگردانی کرے (اس سے) تو بلاشبہ اللہ ہی بےنیاز ہے سب خوبیوں سراہا

﴿7﴾ یقیناً اللہ پیدا فرمادے گا تمہارے درمیان اور ان کے درمیان جن سے تم ( اس کی رضا کے لیے) دشمنی رکھتے ہو محبت۔ اور اللہ تعالیٰ بڑی قدرت والا ہے اور اللہ تعالی غفور رحیم ہے

﴿8﴾ اللہ تعالی تمہیں منع نہیں کرتا کہ جن لوگوں نے تم سے دین کے معاملہ میں جنگ نہیں کی اور نہ انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا کہ تم ان کے ساتھ احسان کرو اور ان کے ساتھ انصاف کا برتاؤ کرو بےشک اللہ تعالی انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

﴿9﴾ اللہ تمہیں صرف ان لوگوں سے روکتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے معاملہ میں جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا یا مدد دی تمہارے نکالنے میں کہ تم انہیں دوست بناؤ اور جو انہیں دوست بناتے ہیں تو وہی (اپنے آپ پر) ظلم توڑتے ہیں

﴿10﴾ اے ایمان والو! جب آجائیں تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کرکے تو ان کی جانچ پڑتال کرلو اللہ تعالی خوب جانتا ہے ان کے ایمان کو پس اگر تمہیں معلوم ہوجائے کہ وہ مومن ہیں تو انہیں کفار کی طرف مت واپس کرو نہ وہ حلال ہیں کفار کے لیے اور نہ وہ (کفار) حلال ہیں مومنات کے لیے اور دے دو کفار کو جو مہر انہوں نے خرچ کیے اور تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم ان عورتوں سے نکاح کرلو جب تم انہیں ان کے مہر ادا کردو۔ اور (اسی طرح) تم بھی نہ روکے رکھو (اپنے نکاح میں) کافر عورتوں کو اور مانگ لو جو تم نے (ان پر) خرچ کیا اور کفار بھی مانگ لیں جو انہوں نے خرچ کیا۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے۔ وہ تمہارے درمیان فیصلہ فرماتا ہے اور اللہ (سب کچھ) جاننے والا بڑا دانا ہے

﴿11﴾ اور اگر بھاگ جائے تم سے کوئی عورت تمہاری بی بیوں سے کفار کی طرف پھر تمہاری باری آجائے ( کہ کوئی کافرہ تمہارے قبضہ میں آجائے) تو جن کی بیبیاں ان کے قبضہ سے نکل گئیں جتنا انہوں نے خرچ کیا اتنا انہیں دے دو اور ڈرتے رہا کرو اللہ سے جس پر تم ایمان رکھتے ہو

﴿12﴾ اے نبی (مکرم) جب حاضر ہوں آپ کی خدمت میں مومن عورتیں تاکہ آپ سے اس بات پر بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنے بچوں کو قتل کریں گی اور نہیں لگائیں گی جھوٹا الزام جو انہوں نے گھڑ لیاہو اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان اور نہ آپ کی نافرمانی کریں گی کسی نیک کام میں تو ( اے میرے محبوب!) انہیں بیعت فرمالیا کرو اور اللہ سے ان کے لیے مغفرت مانگا کرو۔ بےشک اللہ تعالی غفور رحیم ہے

﴿13﴾ اے ایمان والو! نہ دوست بناؤ ان لوگوں کو غضب فرمایا ہے اللہ تعالی نے جن پر یہ آخرت ( کے ثواب سے) مایوس ہوگئے ہیں جیسے وہ کفار مایوس ہوچکے ہیں جو قبروں میں ہیں

الصّف

Surah 61

﴿1﴾ اللہ کی تسبیح کرتی ہے جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے اور وہی سب پر غالب بڑا دانا ہے

﴿2﴾ اے ایمان والو! تم کیوں ایسی بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو

﴿3﴾ بڑی ناراضگی کا باعث ہے اللہ کے نزدیک کہ تم ایسی بات کہو جو کرتے نہیں ہو

﴿4﴾ بے شک اللہ تعالی محبت کرتا ہے ان (مجاہدوں) سے جو اس کی راہ میں جنگ کرتے ہیں پرا باندھ کر گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں

﴿5﴾ اور یاد کرو جب موسی نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم! تم مجھے کیوں ستاتے ہو حالانکہ تم خوب جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا (بھیجا ہوا) رسول ہوں پس جب انہوں نے کجروی اختیار کی تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا اور اللہ تعالیٰ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

﴿6﴾ اور یاد کرو جب فرمایا عیسیٰ فرزند مریم نے اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں میں تصدیق کرنے والا ہوں تورات کی جو مجھ سے پہلے آئی ہے اور مژدہ دینے والا ہوں ایک رسول کا جو تشریف لائے گا میرے بعد اس کا نام (نامی) احمد ہوگا پس جب وہ (احمد) آیا ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا جادو ہے

﴿7﴾ اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹے بہتان باندھتا ہے حالانکہ اسے بلایا جارہا ہے اسلام کی طرف۔ اور اللہ تعالی (ایسے) ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

﴿8﴾ یہ (نادان) چاہتے ہیں کہ بجھا دیں اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے لیکن اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچا کر رہے گا خواہ سخت ناپسند کریں اس کو کافر

﴿9﴾ وہی تو ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ وہ غالب کردے اسے سب دینوں پر خواہ سخت ناپسند کریں اس کو مشرک

﴿10﴾ اے ایمان والو! کیا میں آگاہ کروں تمہیں ایسی تجارت پر جو بچا لے تمہیں دردناک عذاب سے

﴿11﴾ (وہ تجارت یہ ہے کہ) تم ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے۔ یہی طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم (حقیقت کو) جانتے ہو

﴿12﴾ اللہ تعالی بخش دے گا تمہارے لیے تمہارے گناہوں کو اور داخل کرے گا تمہیں باغات میں رواں ہیں جن کے نیچے نہریں اور پاکیزہ مکانوں میں جو سدا بہار باغوں میں ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے

﴿13﴾ اور ایک اور چیز جو تمہیں بڑی پسند ہے (وہ بھی ملے گی) یعنی اللہ کی جناب سے نصرت اور فتح جو بالکل قریب ہے اور (اے حبیب!) مومنوں کو (یہ) بشارت سنادیجیے

﴿14﴾ اے ایمان والو! اللہ کے (دین کے) مدد گار بن جاؤ جس طرح کہا تھا عیسیٰ بن مریم نے اپنے حواریوں سے کون ہے میرا مددگار اللہ کی طرف بلانے میں؟ حواریوں نے جواب دیا ہم اللہ کے (دین کے) مددگار ہیں پس ایمان لے آیا ایک گروہ بنی اسرائیل سے اور کفر کیا دوسرے گروہ نے۔ پھر ہم نے مدد کی جو ایمان لائے دشمنوں کے مقابلہ میں بالآخر وہی غالب رہے

الجمعہ

Surah 62

﴿1﴾ اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ چیز جو زمین میں ہے، جو بادشاہ ہے، نہایت مقدس ہے، زبردست ہے، حکمت والا ہے

﴿2﴾ وہی ( اللہ) جس نے مبعوث فرمایا امیوں میں ایک رسول انہیں میں سے جو بڑ کر سناتا ہے انہیں اس کی آیتیں اور پاک کرتا ہے ان (کے دلوں) کو اور سکھاتا ہے انہیں اور حکمت اگرچہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے

﴿3﴾ اور دوسرے لوگوں کا بھی ان میں (تزکیہ کرتا ہے تعلیم دیتا ہے) جو ابھی ان سے آکر نہیں ملے اور وہی سب پر غالب، حکمت والا ہے

﴿4﴾ یہ اللہ کا فضل ہے عطا فرما تا ہے اسے جسے چاہتا ہے اور اللہ تعالی صاحب فضل عظیم ہے

﴿5﴾ ان کی مثال جنہیں تورات کا حامل بنایا گیا تھا پھر انہوں نے اس کا بار نہ اٹھایا اس گھدے کی سہے جس نے بھاری کتابیں اٹھا رکھی ہوں ( اس سے بھی زیادہ) بری حالت ہے ان لوگوں کی جنہوں نے جھٹلایا اللہ کی آیتوں کو اور اللہ تعالی ( ایسے) ظالموں کی رہنمائی نہیں کرتا

﴿6﴾ آپ فرمائیے اے یہودیو! اگر تم دعویٰ کرتے ہو کہ صرف تم ہی اللہ کے دوست ہو اور لوگ (دوست) نہیں تو ذرا مرنے کی آرزو تو کرو اگر تم سچے ہو

﴿7﴾ اور (اے حبیب!) وہ اس کی تمنا کبھی نہکریں گے بوجہ ان اعمال کے جو وہ اپنے ہاتھوں پہلے بھیج چکے ہیں۔ اور اللہ تعالی خوب جانتا ہے ظالموں کو

﴿8﴾ آپ (انہیں) فرمائیے یقیناً وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو وہ ضرور تمہیں مل کر رہے گی پھر لو ٹا دیاجائے گا تمہیں اس کی طرف جو جاننے والا ہے ہر چھپے اور ظاہر کو پس وہ آگاہ کرے گا تمہیں ان ( اعمال) سے جو تم کیا کرتے تھے

﴿9﴾ اے ایمان والو! جب ( تمہیں) بلا یا جائے نماز کی طرف جمعہ کے دن تو دوڑ کر جاؤ اللہ کے ذکر کی طرف اور (فورا) چھوڑ دو خرید وفروخت یہ تمہارے لیے اگر تم ( حقیقت کو) جانتے ہو

﴿10﴾ پھر جب پوری ہوچکے نماز تو پھیل جاؤ زمین میں اور تلاش کرو اللہ کے فضل سے اور کثرت سے اللہ کی یاد کرتے رہا کرو تاکہ تم فلاح پاؤ

﴿11﴾ اور (بعض لوگوں نے) جب دیکھا کسی تجارت یا تماشا کو تو بکھر گئے اس کی اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیا (اے حبیب!) فرمائیے کہ جو نعمتیں اللہ کے پاس وہ کہیں بہتر ہیں لہو اور تجارت سے۔ اور اللہ تعالی بہترین رزق دینے والا ہے

المنافقون

Surah 63

﴿1﴾ (اے نبئ مکرم) جب منافق آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقینا ً اللہ کے رسول ہیں۔ اور اللہ تعالی بھی جانتا ہے کہ آپ بلاشبہ اس کے رسول ہیں۔ لیکن اللہ تعالی گواہی دیتا ہے کہ منافق قطعی جھوٹے ہیں

﴿2﴾ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اسی طرح روکتے ہیں اللہ کی راہ سے بےشک یہ لوگ بہت بڑے کرتوت ہیں جو یہ کر رہے ہیں

﴿3﴾ (ان کا) یہ (طریق کار) اس لیے ہے کہ وہ (پہلے) ایمان لائے پھر وہ کافر بن گئے پس مہر لگا دی گئی ان کے دلوں پر تو (اب) وہ کچھ سمجھتے ہی نہیں

﴿4﴾ اور جب آپ انہیں دیکھیں تو ان کے جسم آپ کو بڑے خوشنما معلوم ہوں گے اور اگر وہ گفتگو کریم تو توجہ سے آپ ان کی بات سنیں گے (در حقیقت) وہ (بیکار) لکڑیوں کی مانند ہیں جو دیوار کے ساتھ کھڑی کردی گئی ہوں گمان کرتے ہیں کہ ہر گرج ان کے خلاف ہی ہے یہی حقیقی دشمن ہیں پس آپ ان سے ہو شیار رہیے ہلاک کرے انہیں اللہ تعالی کیسے سرگرداں پھرتے

﴿5﴾ اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ آؤ تاکہ اللہ کا رسول تمہارے لیے مغفرت طلب کرے تو ( انکار سے ) اپنے سروں کو گھماتے ہیں اور تو انہیں دیکھے گا کہ وہ ( حاضری سے) رک رہے ہیں تکبرکرتے ہوئے

﴿6﴾ یکساں ہے ان کے لیے کہ آپ طلب مغفرت کریں ان کے لیے یاطلب مغفرت نہ کریں ان کے لیے اللہ تعالی ہر گز نہ بخشے گا انہیں بےشک اللہ تعالی فاسقوں کی رہبری نہیں کرتا

﴿7﴾ یہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں نہ خرچ کرو ان (درویشوں ) پر جو اللہ کے رسول کے پاس ہوتے ہیں یہاں تک کہ وہ (بھوک سے تنگ آکر) تتر بتر ہوجائیں اور اللہ کے لیے ہی ہیں خزانے آسمانوں اور زمین کے لیکن منافقین ( اس حقیقت کو) سمجھتے ہی نہین

﴿8﴾ منافق کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹ کر گئے مدینہ میں تو نکال دیں گے عزت والے وہاں سے ذلیلوں کو حالانکہ (ساری) عزت تو صرف اللہ کے لیے، اس کے رسول کے لیے اور ایمان والوں کے لیے ہے مگر منافقوں کو ( اس بات ا) علم ہی نہیں

﴿9﴾ اے ایمان والو! تمہیں غافل نہ کردیں تمہارے اموال اور نہ تمہاری اولاد اللہ کے ذکر سے اور جنہوں نے ایسا کیا تو وہی لوگ گھاٹے میں ہوں گے

﴿10﴾ اور خرچ کرلو اس رزق سے جو ہم نے تم کو دیا اس سے پیشتر کہ آجائے تم میں سے کسی کے پاس موت تو (اسوقت) وہ یہ کہنے لگے کہ اے میرے رب ! تونے مجھے تھوڑی مدت کے لیے کیوں مہلت نہ دی تاکہ میں صدقہ (وخیرات) کرلیتا اور نیکوں میں شامل ہوجاتا

﴿11﴾ اور اللہ تعالی مہلت نہیں دیا کرتا کسی شخص کو جب اس کی موت کا وقت آجائے اور اللہ تعالی خوب جانتا ہے جو تم کیا کرتے ہو

التغابن

Surah 64

﴿1﴾ اللہ ہی کی تسبیح کر رہی ہے ہر چیز جو آسمانوں میں ہے اور ہر چیز جو زمین میں ہے اسی کی حکومت ہے اور اسی کے لیے ساری تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے

﴿2﴾ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا فرمایا پھر تم میں بعض کافر ہیں اور تم میں سے بعض مؤمن ہیں اور اللہ تعالی جو تم کرتے ہو خوب دیکھ رہا ہے

﴿3﴾ اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ اور اس نے تمہاری صورتیں بنائیں اور تمہاری صورتوں کو خوبصورت بنایا اور اسی کی طرف ( سب نے ) لوٹنا ہے

﴿4﴾ وہ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو اور اللہ تعالی خوب جانتا ہے جو سینوں میں (پوشیدہ) ہے

﴿5﴾ کیا نہیں آئی تمہارے پاس ان کی خبر جنہوں نے کفر کیا اس سے پہلے پس چکھ لیا انہوں نے اپنے کام (یعنی کفر) کا وبال اور ان کے لیے (آخرت میں ) دردناک عذاب ہے

﴿6﴾ اس کی وجہ یہ تھی کہ آتے رہے ان کے پاس ان کے پیغمبر روشن نشانیاں لے کر پس وہ بولے کیا انسان ہماری رہبری کریں گے۔ پس انہوں نے کفر کیا اور منہ پھیر لیا اور اللہ تعالیٰ بھی (ان سے ) بےنیاز ہوگیا اور اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے، سب خوبیوں سراہا ہے

﴿7﴾ گمان کرتے ہیں کفار کہ انہیں ہر گز دوبارہ زندہ نہ کیا جائے گا۔ فرمائیے کیوں نہیں میرے رب کی قسم تمہیں ضرور زندہ کیا جائے گا پھر تمہیں آگاہ کیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے اور یہ اللہ کے لیے بالکل آسان ہے ۔

﴿8﴾ پس ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا ہے اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے خبردار ہے

﴿9﴾ جس دن تمہیں اکٹھا کرے گا جمع ہونے کے دن یہی گھاٹے کے ظہور کا دن ہے اور جو ایمان لے آیا اللہ پر اور نیک عمل کرتا رہا اللہ دور فرمادے گا اس سے اس کے گناہوں کو اور داخل فرمائے گا اسے باغوں میں رواں ہوگی جن کے نیچے ندیاں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے تا ابد یہی بہت بڑی کامیابی ہے ۔

﴿10﴾ اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ دوزخی ہوں گے ہمیشہ اس میں رہیں گے اور یہ بہت بری پلٹنے کی جگہ ہے

﴿11﴾ نہیں پہنچتی (کسی کو) کوئی مصیبت بجز اللہ کے اذن کے اور جو شخص اللہ پر ایمان لے آئے اللہ اس کے دل کو ہدایت بخشتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے

﴿12﴾ اور اطاعت کرو اللہ تعالیٰ کی اور اطاعت کرو رسول (مکرم) کی پھر اگر تم نے روگردانی کی (تو تمہاری قسمت) ہمارے رسول کے ذمہ فقط کھول کر (پیغام) پہنچانا ہے

﴿13﴾ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں۔ پس اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے ایمان والوں کو

﴿14﴾ اے ایمان والو! تمہاری کچھ بیبیاں اور تمہارے بچے تمہارے دشمن ہیں پس ہوشیار رہو ان سے اور اگر تم عفو درگزر سے کام لو اور بخش دو تو بلاشبہ اللہ تعالی غفور رحیم ہے

﴿15﴾ بے شک تمہارے مال اور تمہاری اولاد بڑی آزمائش ہیں اور اللہ ہی ہے جس کے پاس اجر عظیم ہے

﴿16﴾ پس ڈرتے رہو اللہ سے جتنی تمہاری استطاعت ہے اور (اللہ کا فرمان) سنو اور اسے مانو اور (اس کی راہ میں) خرچ کرو یہ بہتر ہے تمہارے لیے اور جنہیں بچا لیا گیا ان کے نفس کے بخل سے تو یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

﴿17﴾ اگر تم اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دو تو وہ اسے کئی گنا کردے گا تمہارے لیے اور بخش دے گا تمہیں اور اللہ تعالیٰ بڑا قدر دان (اور) بہت حلم والا ہے

﴿18﴾ ہر نہاں اور عیاں کا جاننے والا ہے، سب پر غالب، بڑا دانا ہے

الطلاق

Surah 65

﴿1﴾ اے نبی (مکرم!) (مسلمانوں سے فرماؤ) جب تم (اپنی) عورتوں کو طلاق دینے کا ارادہ کرو تو انہیں طلاق دو ان کی عدت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور شمار کرو عدت کو اور ڈرتے رہا کرو اللہ سے جو تمہارا پروردگار ہے نہ نکالوں انہیں ان کے گھروں سے اور نہ وہ خود نکلیں بجز اس کے کہ وہ ارتکاب کریں کسی کھلی بےحیائی کا اور یہ اللہ کی (مقرر کردہ) حدیں ہیں اور جو تجاوز کرتا ہے اللہ کی حدوں سے تو بےشک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا ۔ تجھے کیا خبر کہ اللہ تعالیٰ اس کے بعد کوئی اور صورت پیدا کردے

﴿2﴾ تو جب وہ پہنچنے لگیں اپنی میعاد کو تو روک لو انہیں بھلائی کے ساتھ یا جدا کردو انہیں بھلائی کے ساتھ اور گواہ مقرر کرلو دو معتبر آدمی اپنے میں سے اور گواہی ٹھیک ٹھیک اللہ کے واسے دو ان باتوں سے نصیحت کی جاتی ہے اس شخص کو جو ایمان رکھتا ہو اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت پر ۔ اور جو (خوش بخت) ڈرتا رہتا ہے اللہ تعالیٰ سے بنا دیتا ہے اللہ اس کے لیے نجات کا راستہ

﴿3﴾ اور اسے (وہاں سے ) رزق دیتا ہے جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔ اور جو (کوش نصیب) اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اس کے لیے وہ کافی ہے بےشک اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کرنے والا ہے مقرر کر رکھا ہے اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ

﴿4﴾ اور تمہاری (مطلقہ) عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہوں اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور اسی طرح ان کی بھیں جنہیں ابھی حیض آیا ہی نہیں اور حاملہ عورتوں کی میعاد ان کے بچہ جننے تک ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہتا ہے تو وہ اس کے کام میں آسانی پیدا فرمادیتا ہے

﴿5﴾ یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے ۔ اور جو اللہ سے ڈرتا رہتا ہے اللہ تعالیٰ دور کردیتا ہے اس کی برائیوں کو اور (روز قیامت) اس کے اجر کو بڑا کردے گا۔

﴿6﴾ انہیں ٹھہراؤ جہاں تم خود سکونت پذیر ہو اپنی حیثیت کے مطابق اور انہیں ضرر نہ پہنچاؤ تاکہ تم انہیں تنگ کرو اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان پر خرچ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ بچہ جنیں۔ پھر اگر وہ (بچے کو) دودھ پلائیں تمہاری خاطر تو تم انہیں ان کی اجرت دو اور اجرت کے بارے میں آپس میں مشورہ کرلیا کرو دستور کے مطابق ۔ اور اگر تم آپس میں طے نہ کرسکو تو اسے کوئی دوسری دودھ پلائے

﴿7﴾ خرچ کرے وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق ۔ اور وہ تنگ کردیا گیا ہے جس پر اس کا رزق تو وہ خرچ کرے اس سے جو اللہ نے اسے دیا ہے اور تکلیف نہیں دیتا اللہ تعالیٰ کسی کو مگر اس قدر جتنا اسے دیا ہے عنقریب اللہ تعالیٰ تنگی کے بعد فراخی دے دے گا

﴿8﴾ کتنی بستیاں تھیں جنہوں نے سرتابی کی اپنے رب کے حکم سے اور اس کے رسلوں ( کے فرمان) سے تو ہم نے بڑی سختی سے ان کا محاسبہ کیا اور ہم نے انہیں بھاری سزا دی

﴿9﴾ پس انہوں نے اپنے کرتوتوں کا وبال چکھا اور ان کے کام کا انجام نرا خسارہ تھا

﴿10﴾ تیار کر رکھا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک سخت عذاب پس اللہ سے ڈرتے رہا کرو اے دانشمندو ! بےشک اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا تمہاری طرف ذکر

﴿11﴾ ایک ایسا رسول جو پڑھ کر سناتا ہے تمہیں اللہ کی روشن آیتیں تاکہ نکال لے جائے انہیں جو ایمان لے آئے اور نیک عمل کرتے رہے اندھیروں سے نور کی طرف اور جو ایمان لاتا ہے اللہ پر اور نیک عمل کرتا ہے تو وہ اس کو داخل فرمائے گا باغات میں جن کے نیچے نہریں رواں ہیں جن میں وہ لوگ تاابد رہیں گے ۔ بلاشبہ اللہ نے ( اس مومن) کو بہترین رزق عطا فرمایا

﴿12﴾ اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا فرمائے اور زمین کو بھی انہی کی مانند نازل ہوتا رہتا ہے حکم ان کے درمیان تاکہ تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے ۔ اور بےشک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا اپنے علم سے احاطہ کر رکھا ہے

التحریم

Surah 66

﴿1﴾ اے نبی (مکرم) آپ کیوں حرام کرتے ہیں اس چیز کو جسے اللہ نے آپ کے لیے حلال کردیا ہے (کیا یوں) آپ اپنی بیویوں کی خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ تعالی غفور رحیم ہے

﴿2﴾ بے شک اللہ تعالیٰ نے مقرر کردیا ہے تمہارے لیے تمہاری قسموں کی گرہ کھولنے کا طریقہ (یعنی کفارہ) اور اللہ ہی تمہارا کارساز ہے اور وہی سب کچھ جاننے والا، بہت دانا ہے

﴿3﴾ اور (یہ واقعہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے ) جب نبی کریم نے راز داری سے اپنی ایک بیوی کو ایک بات بتائی پھر جب اس نے (دوسری کو) راز بتادیا (تو) اللہ نے آپ کو اس پر آگاہ کردیا آپ نے ( اس بیوی کو) کچھ بتادیا اور کچھ سے چشم پوشی فرمائی۔ پس جب آپ نے اس کو اس پر آگاہ کیا تو اس نے پوچھا آپ کو اس کی خبر کس نے دی ہے فرمایا مجھے اس نے آگاہ کیا ہے جو علیم وخبیر ہے

﴿4﴾ اگر تم دونوں اللہ کے حضور توبہ کرو اور تمہارے دل بھی (توبہ کی طرف) مائل ہوچکے ہیں ( تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے) اور اگر تم نے ایکا کر لیا آپ کے مقابلہ میں تو (خوب جان لو) کہ اللہ تعالی آپ کا مددگار ہے، جبریل اور نیک بخت مومنین بھی آپ کے مددگار ہیں اور ان کے علاوہ سارے فرشتے بھی مدد کرنے والے ہیں

﴿5﴾ کچھ بعید نہیں کہ اگر نبی کریم تم سب کو طلا ق دے دیں تو آپ کا رب تمہارے عوض آپ کو ایسی بیبیاں عطا فرمادے جو تم سے بہتر ہوں گی پکی مسلمان، ایمان والیاں، فرمانبردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار، روزہ دار، کچھ پہلے بیاہیاں اور کچھ کنواریاں

﴿6﴾ اے ایمان والو! تم بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے اس پر ایسے فرشتے مقرر ہیں جو بڑے تند خو، سخت مزاج ہیں نافرمانی نہیں کرتے اللہ کی جس کا اس نے انہیں حکم دیا ہے اور فواً بجا لاتے ہیں جو ارشاد انہیں فرمایا جاتا ہے

﴿7﴾ اے کفار! آج بہانہ نہ بناؤ تمہیں اسی کا بدلہ ملے گا جو (کرتوت) تم کیا کرتے تھے

﴿8﴾ اے ایمان والو! اللہ کی جناب میں سچے دل سے توبہ کرو امید ہے تمہارا رب دور کردے گا تم سے تمہاری برائیاں اور تمہیں داخل کرے گا ایسے باغات میں جن میں نہریں بہ رہی ہوں گی اس روز رسوا نہیں کرے گا اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو اور ان لوگوں کو جو آپ کے ساتھ ایمان لائے اس روز ان کا نور ایمان دوڑتا ہوگا ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب وہ عرض کریں گے اے ہمارے رب مکمل فرما دے ہمارے لیے ہمارا نور اور بخش دے ہمیں بےشک تو ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے

﴿9﴾ اے نبی! کفار اور منافقین سے جہاد جاری رکھو اور ان پر سختی کرو اور آخرت میں ان کا ٹھکانا جہنم ہے ۔ اور وہ لوٹ کر آنے کی بہت بری جگہ ہے ۔

﴿10﴾ بیان فرمائی ہے اللہ نے کفار کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال وہ دونوں ہمارے بندوں میں سے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں پھر ان دونوں نے ان دونوں سے خیانت کی پس وہ دونوں (نبی ان کے شوہر) اللہ کے مقابلہ میں انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکے اور انہیں حکم ملا تم دونوں داخل ہونے والوں کے ساتھ دوزخ میں داخل ہوجاؤ

﴿11﴾ اور اسی طرح اللہ نے اہل ایمان کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال پیش فرمائی جب کہ اس نے دعا مانگی اے میرے رب ! بنادے میرے لیے اپنے پاس ایک گھر جنت میں اور بچالے مجھے فرعون سے اور اس کے (کافرانہ) عمل سے اور مجھے اس ستم پیشہ قوم سے نجات دے

﴿12﴾ اور (دوسری مثال) مریم دختر عمران کی ہے جس نے اپنے گوہر عصمت کو محفوظ رکھا تو ہم نے پھونک دی اس کے اندر اپنی طرف سے روح اور مریم نے تصدیق کی اپنے رب کی باتوں اور اس کی کتابوں کی اور وہ اللہ کے فرمانبرداروں میں سے تھی

الملک

Surah 67

﴿1﴾ منزہ وبرتر ہے وہ جس کے قبضہ میں (سب جہانوں کی ) بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے

﴿2﴾ جس نے پیدا کیا ہے موت اور زندگی کو تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے اور وہی دائمی عزت والا، بہت بخشنے والا ہے

﴿3﴾ جس نے بنائے ہیں سات آسمان اوپر نیچے تمہیں نظر نہیں آئے گا (خداوند) رحمن کی آفرینش میں کوئی خلل۔ ذرا پھر نگاہ اٹھا کر دیکھ، کیا تجھے کوئی رخنہ دکھائی دیتا ہے

﴿4﴾ پھر بار بار نگاہ ڈالو لوٹ آئے گی تیری طرف (تیری ) نگاہ ناکام ہو کر درآن حالیکہ وہ تھکی ماندی ہوگی

﴿5﴾ اور بےشک ہم نے قریبی آسمان کو چراغوں سے آراستہ کردیا ہے اور بنادیا ہے انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ اور ہم نے تیار کر رکھا ہے ان کے لیے دہکتی آگ کا عذاب

﴿6﴾ اور جنہوں نے انکار کیا اپنے رب کا ان کے لیے عذاب جہنم ہے اور جہنم بڑی بری لوٹنے کی جگہ ہے

﴿7﴾ جب وہ اس میں جھونکے جائیں گے تو اس کی زور دار گرج سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہوگی

﴿8﴾ (ایسا معلوم ہوتا ہے) گویا مارے غضب کے پھٹا چاہتی ہے ۔ جب بھی اس میں کوئی جتھا جھونکا جائے گا تو ان سے دوزخ کے محافظ پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا

﴿9﴾ وہ کہیں گے کیوں نہیں بےشک ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا پس ہم نے اس کو جھٹلایا اور ہم نے اس کو ( صاف صاف) کہہ دیا کہ اللہ تعالی نے تو کوئی چیز نہیں اتاری۔ تم لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا ہو

﴿10﴾ وہ کہیں گے کاش! ہم ( ان کی نصیحت کو) سنتے اور سمجھتے تو (آج) ہم دوزخیوں میں نہ ہوتے

﴿11﴾ پس (اس روز) اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے تو پھٹکار ہو اہل جہنم پر

﴿12﴾ بے شک جو لوگ اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں ان کے لیے ( اللہ کی ) مغفرت اور اجر عظیم ہے

﴿13﴾ تم اپنی بات آہستہ کہو یا بلند آواز سے ( اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا) بےشک وہ خوب جاننے والا ہے جو کچھ سینوں میں ہے

﴿14﴾ (نادانو) کیا وہ نہیں جانتا ( بندوں کے احوال کو ) جس نے (انہیں) پیدا کیا ہے وہ بڑا باریک بین، ہر چیز سے باخبر ہے

﴿15﴾ وہی تو ہے جس نے نرم کردیا ہے تمہارے لیے زمین کو پس (اطمینان سے ) چلو اس کے راستوں پر اور کھاؤ اس کے (دیے ہوئے) رزق سے اور اسی کی طرف تم کو (قبروں سے ) اٹھ کر جانا ہے

﴿16﴾ کیا تم بےخوف ہوگئے ہو اس سے جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں غرق کردے اور وہ زمین تھر تھر کانپنے لگے

﴿17﴾ کیا تم بےخوف ہوگئے ہو اس سے جو آسمان میں ہے کہ وہ بھیج دے تم پر پتھر برسانے والی ہوا۔ تب تمہیں پتہ چلے گا کہ میرا ڈرانا کیسا ہوتا ہے

﴿18﴾ اور جو لوگ ان سے پہلے گزرے انہوں نے بھی جھٹلایا (خود دیکھ لو) کہ (ان پر ) میرا عذاب کتنا سخت تھا

﴿19﴾ کیا انہوں نے پرندوں کو اپنے اوپر (اڑاتے ) کبھی نہیں دیکھا پھیلائے ہوئے اور کبھی پر سمیٹ بھی لیتے ہیں۔ نہیں روکے ہوئے انہیں کوئی (فضا میں) بجز رحمین کے بےشک وہ ہر چیز کو خوب دیکھنے والا ہے

﴿20﴾ اے منکرو! کیا تمہارے پاس کوئی ایسا لشکر ہے جو تمہاری مدد کرے ( خداوند) رحمن کے علاوہ بےشک منکرین دھوکا میں مبتلا ہیں۔

﴿21﴾ کیا کوئی ایسی ہستی ہے جو تمہیں رزق پہنچا سکے اگر اللہ تعالیٰ اپنا رزق بند کرلے لیکن یہ لوگ سرکشی اور حق سے نفرت میں بہت دور نکل گئے ہیں

﴿22﴾ کیا وہ شخص جو منہ کے بل گرتا پڑتا چلا جا رہا ہے وہ راہ راست پر ہے یا جو سیدھا ہو کر صراط مستقیم پر گامزن ہے

﴿23﴾ آپ فرمائیے وہی تو ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل بنائے (لیکن) تم بہت کم شکر کیا کرتے ہو

﴿24﴾ آپ فرمائیے اسی نے تم کو پھیلا دیا ہے زمین میں اور (روز حشر) تم اسی کے پاس جمع کیے جاؤ گے

﴿25﴾ (کفار ازراہ مذاق) پوچھتے ہیں کہ ( بتاؤ) یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو

﴿26﴾ آپ فرمائیے (اس کا ) علم تو اللہ ہی کے پاس ہے ۔ میں تو محض واضح طور پر خبردار کرنے والا ہوں

﴿27﴾ پھر جس وقت اسے قریب آتے دیکھیں گے تو کافروں کے چہرے سے بگر جائیں گے اور انہیں کہا جائے گا کہ یہ ہے جس کا تم بار بار مطالبہ کرتے تھے

﴿28﴾ آپ فرمائیے (اے منکرو!) ذرا غور تو کرو اگر اللہ تعالیٰ مجھے اور جو میرے ساتھ ہیں، کو ہلاک کردے یا ہم پر رحم فرمادے تو کون بچالے گا کافروں کو دردناک عذاب سے

﴿29﴾ فرمائیے وہ (میرا خالق) بڑا ہی مہربان ہے ہم اسی پر ایمان لائے ہیں اور اسی پر ہم نے توکل کیا ہوا ہے ۔ پس عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ کھلی گمراہی میں کون ہے

﴿30﴾ آپ پوچھیے اگر کسی صبح تمہارا پانی زمین کی تہہ میں اتر جائے تو تمہیں میٹھا صاف پانی کون لادے گا

القلم

Surah 68

﴿1﴾ ن، قسم ہے قلم کی اور جو کچھ وہ لکھتے ہیں

﴿2﴾ آپ اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہیں

﴿3﴾ اور یقیناً آپ کے لیے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا

﴿4﴾ اور بےشک آپ عظیم الشان خلق کے مالک ہیں

﴿5﴾ عنقریب آپ بھی دیکھیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے

﴿6﴾ کہ تم میں سے (واقعی) مجنون کون ہے

﴿7﴾ بے شک آپ کا رب خوب جانتا ہے ان کو جو اس کی راہ سے بہک گئے ہیں اور انہیں بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت یافتہ ہیں

﴿8﴾ پس آپ بات نہ مانیں (ان) جھٹلانے والوں کی

﴿9﴾ وہ تو تمنا کرتے ہیں کہ کہیں آپ نرمی اختیار کریں تو وہ بھی نرم پڑجائیں

﴿10﴾ اور نہ بات مانیے کسی (جھوٹی) قسمیں کھانے والے ذلیل شخص کی

﴿11﴾ جو بہت نکتہ چین، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے

﴿12﴾ سخت منع کرنے والا بھلائی سے، حد سے بڑھا ہوا، بڑا بدکار ہے

﴿13﴾ اکھڑ مزاج ہے، اس کے علاوہ بد اصل ہے

﴿14﴾ (یہ غرور وسرکشی) اس لیے کہ وہ مالدار اور صاحب اولاد ہے

﴿15﴾ جب پڑھی جاتی ہیں اس کے سامنے ہماری آیتیں تو کہتا ہے کہ یہ تو پہلے لوگوں کے افسانے ہیں

﴿16﴾ ہم بہت جلد اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے

﴿17﴾ ہم نے ان (مکہ والوں کو بھی آزمایا جیسے ہم نے آزمایا تھا باغ والوں کو جب انہوں نے قسم اٹھائی کہ وہ ضرور توڑ لیں گے اس کا پھل صبح سویرے)

﴿18﴾ اور انہوں نے انشاء اللہ بھی نہ کہا

﴿19﴾ پس چکر لگا گیا اس باغ پر ایک چکر لگانے والا آپ کے رب کی طرف سے دراں حالیکہ وہ سوئے ہوئے تھے؎

﴿20﴾ چنانچہ (لہلہاتا) باغ کٹے ہوئے کھیت کی مانند ہوگیا

﴿21﴾ پھر انہوں نے ایک دوسرے کو ندا دی صبح سویرے

﴿22﴾ کہ سویرے سویرے اپنے کھیت کی طرف چلو اگر تم پھل توڑنا چاہتے ہو

﴿23﴾ سو وہ چل پڑے اور ایک دوسرے کو چپکے چپکے کہتے جاتے

﴿24﴾ کہ (خبردار ) اس باغ میں ہر گز داخل نہ ہو آج تم پر کوئی مسکین

﴿25﴾ اور تڑکے چلے (یہ سمجھتے ہوئے ) کہ وہ اس ارادہ پر قادر ہیں

﴿26﴾ پھر جب باغ کو دیکھا تو کہنے لگے (غالبا) ہم راستہ بھول گئے

﴿27﴾ نہیں نہیں ہماری تو قسمت پھوٹ گئی

﴿28﴾ ان میں جو زیرک تھا بول اٹھا کہ کیا میں تمہیں کہتا نہ تھا کہ تم ( اس کی ) تسبیح کیوں نہیں کرتے

﴿29﴾ کہنے لگے پاک ہے ہمارا رب، بےشک ہم ہی ظالم تھے

﴿30﴾ پھر ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے

﴿31﴾ کہنے لگے تف ہے ہم پر ہم ہی سرکش تھے

﴿32﴾ امید ہے کہ ہمارا رب ہمیں ( اس کا ) بدلہ دے گا جو بہتر ہوگا اس سے ہم (اب اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والے ہیں)

﴿33﴾ (دیکھ لیا) ایسا ہوتا ہے عذاب اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے کاش! یہ لوگ (اس حقیقت کو) جانتے

﴿34﴾ بے شک پرہیزگاروں کے لیے اپنے رب کے پاس نعمتوں بھری جنتیں ہیں

﴿35﴾ کیا ہم فرمانبرداروں کا حال مجرموں کا سا کردیں گے

﴿36﴾ تمہیں کیا ہوگیا تم کیسے فیصلے کرتے ہو

﴿37﴾ کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو

﴿38﴾ کہ تمہارے لیے اس میں ایسی چیزیں ہیں جن کو تم پسند کرتے ہو

﴿39﴾ کیا تمہارے لیے قسمیں ہم پر ( لازم ) ہیں جو باقی رہنے والی ہیں قیامت تک کہ تمہیں وہی ملے گا جو تم حکم کرو گے

﴿40﴾ ان سے پوچھیے ان میں سے کون ان ( بےسروپا) باتوں کا ضامن ہے

﴿41﴾ کیا ان کے پاس کوئی گواہ ہیں اگر ہیں تو پھر پیش کریں اپنے گواہوں کو اگر وہ سچے ہیں

﴿42﴾ جس روز پر دہ اٹھایا جائے گا ایک ساق سے تو ان (نابکاروں) کو سجدہ کی دعوت دی جائے گی تو اس وقت وہ سجدہ نہ کرسکیں گے

﴿43﴾ ندامت سے جھکی ہوں گی ان کی آنکھیں ان پر ذلت چھا رہی ہوگی حالانکہ انہیں (دنیا میں) بلایا جاتا تھا سجدہ کی طرف جبکہ وہ صحیح سلامت تھے

﴿44﴾ پس ( اے حبیب! ) آپ چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جو اس کتاب کو جھٹلاتا ہے ہم انہیں بتدریج تباہی کی طرف لے جائیں گے اس طرح کہ انہیں علم تک نہ ہوگا

﴿45﴾ اور میں نے (سر دست) انہیں مہلت دے رکھی میری (خفیہ ) تدبیر بڑی پختہ ہے

﴿46﴾ آیا آپ ان سے کچھ اجرت مانگتے ہیں پس وہ اس تاوان (کے بوجھ) سے دبے جاتے ہیں

﴿47﴾ کیا ان کے پاس غیب کی خبر آتی ہے اور وہ اس کو لکھ لیتے ہیں

﴿48﴾ پس انتظار فرمائیے اپنے رب کے حکم کا اور نہ ہوجائیے مچھلی والے کی مانند جب اس نے پکارا اور وہ غم واندوہ سے بھرا ہوا تھا

﴿49﴾ اگر اس کی چارہ سازی نہ کرتا اس کے رب کا لطف تو ڈال دیا جاتا اسے چٹیل میدان میں دراں حال کہ اس کی مذمت کی جاتی

﴿50﴾ پھر چن لیا اس کو اس کے رب نے اور بنا دیا اس کو اپنے نیک بندوں سے

﴿51﴾ اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ کفار پھسلا دیں گے آپ کو اپنی ( بد) نظروں سے جب وہ سنتے ہیں قرآن اور وہ کہتے ہیں کہ یہ تو مجنون ہے

﴿52﴾ حالانکہ وہ نہیں مگر سارے جہانوں کے لیے وجہ عز وشرف

الحاقہ

Surah 69

﴿1﴾ وہ ہو کر رہنے والی

﴿2﴾ کیا ہے وہ ہو کر رہنے والی

﴿3﴾ اور اے مخاطب تم کیا سمجھو وہ ہو کر رہنے والی کیا ہے

﴿4﴾ جھٹلایا ثمود اور عاد نے ٹکرا کر پاش پاش کرنے والی کو

﴿5﴾ پس ثمود تو انہیں ہلاک کر دیا گیا سخت چنگھاڑ سے

﴿6﴾ رہے عاد تو انہیں برباد کردیا گیا آندھی سے جو سخت سرد، بےحد تند تھی

﴿7﴾ اللہ نے مسلط کردیا اسے ان پر (مسلسل) سات رات اور آٹھ دن تک جو جڑوں سے اکھیڑنے والی تھی تو تو دیکھتا قوم ِ عاد کو ان دنوں کہ وہ گرے پڑے ہیں گویا وہ مڈھ ہیں کھوکھلی کھجور کے

﴿8﴾ کیا تمہیں نظر آتا ہے ان کا کوئی باقی ماندہ فرد

﴿9﴾ اور فرعون اور جو اس سے پہلے تھے اور الٹائی جانے والی بستیوں کے باشندوں نے غلطی کا ارتکاب کیا

﴿10﴾ پس انہوں نے نافرمانی کی اپنے رب کے رسولوں کی تو اللہ نے پکڑ لیا انہیں بڑی سختی سے

﴿11﴾ ہم نے جب سیلاب حد سے گزر گیا تو تمہیں کشتیوں میں سوار کردیا

﴿12﴾ تاکہ ہم بنادیں اس واقعہ کو تمہارے لیے یادگار اور محفوظ رکھیں اسے یاد رکھنے والے کان

﴿13﴾ پھر جب پھونک مار دی جائے گی صور میں ایک بار

﴿14﴾ اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر دفعۃً چور چور کردیا جائے گا

﴿15﴾ تو اس روز ہونے والا واقعہ ہوجائے گا

﴿16﴾ اور آسمان پھٹ پڑے گا تو وہ اس دن بالکل بو دا ہوگا

﴿17﴾ اور فرشتے اس کے کناروں پر مقرر کردیے جائیں گے اور آپ کے رب کے عرش کو اس روز اپنے اوپر آٹھ فرشتوں نے اٹھا رکھا ہوگا

﴿18﴾ وہ دن جب تم پیش کیے جاؤ گے تمہارا کوئی راز پوشیدہ نہ رہے گا

﴿19﴾ پس جس کو دے دیا گیا اس کا نامۂ عمل دائیں ہاتھ میں تو وہ (فرط مسرت سے) کہے گا لو پڑھو میرا نامۂ عمل

﴿20﴾ مجھے یقین تھا کہ میں اپنے حساب کو پہنچوں گا

﴿21﴾ پس یہ ( خوش نصیب) پسندیدہ زندگی بسر کرے گا

﴿22﴾ عالیشان جنت میں

﴿23﴾ جس کے خوشے جھکے ہوں گے

﴿24﴾ (اذن ملے گا) کھاؤ اور پیو مزے اڑا ؤ یہ ان اعمال کا اجر ہے جو تم نے آگے بھیج دیے گزشتہ دنوں میں

﴿25﴾ اور جس کو دیا جائے گا اس کا نامہ عمل بائیں ہاتھ میں وہ کہے گا اے کاش ! مجھے نہ دیا جاتا میرا نامۂ عمل

﴿26﴾ اور میں نہ جانتا میرا حساب کیا ہے

﴿27﴾ اے کاش! موت نے ہی (میرا) قصہ پاک کردیا ہوتا

﴿28﴾ آج میرا مال میرے کسی کام نہ آیا

﴿29﴾ میری بادشاہی بھی فنا ہوگئی

﴿30﴾ (فرشتوں کو حکم ہوگا) پکڑ لو اس کو اور اس کی گردن میں طوق ڈال دو

﴿31﴾ پھر اسے دوزخ میں جھونک دو

﴿32﴾ پھر ستر گز لمبے زنجیر میں اس کو جکڑ دو

﴿33﴾ بے شک یہ ( بدبخت ) ایمان ن ہں لایا تھا اللہ پر جو بزرگ (وبرتر) ے

﴿34﴾ اور نہ ترغیب دیتا تھا مسکین کو کھانا کھلانے کی

﴿35﴾ پس آج یہاں اس کا کوئی دوست نہیں

﴿36﴾ اور نہ کوئی طعام بجز پیپ کے

﴿37﴾ جسے کوئی نہیں کھاتا بجز خطاکاروں کے

﴿38﴾ پس میں قسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو

﴿39﴾ اور جنہیں تم نہیں دیکھتے

﴿40﴾ بے شک یہ قول ہے ایک عزت والے رسول کا

﴿41﴾ اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں (لیکن) تم بہت کم ایمان لاتے ہو

﴿42﴾ اور نہ ہی یہ کسی کاہن کا قول ہے ۔ تم لوگ بہت کم توجہ کرتے ہو

﴿43﴾ بلکہ یہ نازل شدہ ہے رب العالمین کا

﴿44﴾ اگر وہ خود گھڑ کر بعض باتیں ہماری طرف منسوب کرتا

﴿45﴾ تو ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے

﴿46﴾ پھر ہم کاٹ دیتے اس کی رگِ دل

﴿47﴾ پھر تم میں سے کوئی بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا

﴿48﴾ اور بےشک یہ تو ایک نصیحت ہے پرہیزگاروں کے لیے

﴿49﴾ اور ہم خوب جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض جھٹلانے والے ہیں

﴿50﴾ اور یہ بات باعث حسرت ہوگی کفار کے لیے

﴿51﴾ اور بےشک یہ یقینا حق ہے

﴿52﴾ پس (اے حبیب! ) آپ تسبیح کیا کریں اپنے رب کی جو عظمت والا ہے

المعارج

Surah 70

﴿1﴾ مطالبہ کیا ہے ایک سائل نے ایسے عذاب کا جو ہو کر کر رہے

﴿2﴾ (وہ سن لے) یہ تیار ہے کفار کے لیے اسے کوئی ٹالنے والا نہیں

﴿3﴾ یہ اللہ کی طرف سے ہے جو عروج کے زینوں کا مالک ہے

﴿4﴾ عروج کرتے ہیں فرشتے اور جبریل اللہ کی بارگاہ میں یہ عذاب اس روز ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے

﴿5﴾ (ایسا) صبر کیجیے جو بہت خوبصورت ہو

﴿6﴾ کفار کو تو یہ بہت دور نظر آتا ہے

﴿7﴾ (لیکن) ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں

﴿8﴾ اس روز آسمان پگھلی ہوئی دھات کی مانند ہوگا

﴿9﴾ اور پہاڑ رنگ برنگی اون کی طرح ہوجائیں گے

﴿10﴾ اور کوئی جگری دوست کسی جگری دوست کا حال نہ پوچھے گا

﴿11﴾ دکھائی دیں گے ایک دوسرے کو ہر مجرم تمنا کرے گا کہ کاش! بطور فدیہ دے سکتا آج کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنے بیٹوں کو،

﴿12﴾ اپنی بیوی کو، اپنے بھائی کے ،

﴿13﴾ اپنے خاندان کو جو (ہر مشکل میں) اسے پناہ دیتا تھا

﴿14﴾ اور (بس چلے تو) جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو پھر یہ (فدیہ) اس کو بچالے

﴿15﴾ (لیکن) ایسا ہر گز نہ ہوگا بیشک آگ بھڑک رہی ہوگی

﴿16﴾ نوچ لے گی گوشت پوست کو

﴿17﴾ وہ بلائے گی جس نے (حق سے) پیٹھ پھیری اور منہ موڑا تھا

﴿18﴾ اور مال جمع کرتا رہا پھر اسے سنبھال سنبھال کر رکھتا رہا

﴿19﴾ بے شک انسان بہت لالچی پیدا ہوا ہے

﴿20﴾ جب اسے تکلیف پہنچے تو سخت گھبرا جانے والا

﴿21﴾ اور جب اسے دولت ملے تو حد درجہ بخیل

﴿22﴾ بجز ان نمازیوں کے

﴿23﴾ جو اپنی نماز پر پابندی کرتے ہیں

﴿24﴾ اور وہ جن کے مالوں میں مقرر حق ہے

﴿25﴾ سائل کے لیے اور محروم کے لیے

﴿26﴾ اور جو تصدیق کرتے ہیں روزِجزاء کی

﴿27﴾ اور جو اپنے رب کے عذاب سے ہمیشہ ڈرنے والے ہیں

﴿28﴾ بے شک ان کے رب کا عذاب نڈر ہونے کی چیز نہیں

﴿29﴾ اور وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں

﴿30﴾ بجز اپنی بیویوں کے یا اپنی کنیزوں کے تو ان پر کوئی ملامت نہیں

﴿31﴾ البتہ جو خواہش کریں گے ان کے علاوہ تو وہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں

﴿32﴾ اور جو اپنی امانتوں اور عہد وپیمان کی پاسداری کرتے ہیں

﴿33﴾ اور جو لوگ اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں

﴿34﴾ اور جو لوگ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں

﴿35﴾ یہی لوگ مکرم (ومحترم) ہوں گے جنتوں میں

﴿36﴾ پس ان کافروں کو کیا ہو گیا ہے کہ آپ کی طرف ٹکٹکی باندھے بھاگے چلے آرہے ہیں

﴿37﴾ ایک گروہ دائیں طرف سے اور دوسرا گروہ بائیں طرف سے

﴿38﴾ (کیا طمع کرتا ہے ان میں سے ہر شخص کہ ایمان وعمل کے بغیر) نعمتوں بھری جنت میں اسے داخل کیا جائے

﴿39﴾ ہر گز نہیں ہم نے ان کو پیدا کیا ہے اس (مادہ) سے جس کو وہ بھی جانتے ہیں

﴿40﴾ پس میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی کہ ہم پوری قدرت رکھتے ہیں

﴿41﴾ کہ ان کے بدلے میں ان سے بہتر لوگ لے آئیں اور ہم ایسا کرنے سے عاجز نہیں

﴿42﴾ سو آپ رہنے دیجیے انہیں کہ (خرافات میں) مگن رہیں اور کھیلتے کودتے رہیں حتی کہ وہ ملاقات کریں اپنے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے

﴿43﴾ اس روز نکلیں گے (اپنی) قبروں سے جلدی جلدی گویا وہ (اپنے بتوں کے استھانوں کی طرف دوڑے جار ہے ہیں)

﴿44﴾ جھکی ہوں گی ان کی آنکھیں چھا رہی ہوگی ان پر ذلت یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا

نوح

Surah 71

﴿1﴾ بے شک ہم نے بھیجا نوح کو ان کی قوم کی طرف (اور فرمایا اے نوح!) بروقت خبردار کرو اپنی قوم کو اس سے پہلے کہ نازل ہوجائے ان پر عذاب الیم

﴿2﴾ آپ نے فرمایا اے میری قوم! میں تمہیں صریح طور پر ڈرانے والا ہوں

﴿3﴾ کہ عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی اور اس سے ڈرو اور میری پیروی کرو

﴿4﴾ وہ بخش دے گا تمہارے لیے تمہارے گناہ اور مہلت دے گا تمہیں ایک مقررہ میعاد تک بلاشبہ اللہ کا مقررہ وقت جب آجاتا ہے تو اسے مؤخر نہیں کیا جاسکتا کاش! تم (حقیقت کو) جان لیتے

﴿5﴾ نوح نے عرض کی اے میرے رب! میں نے دعوت اپنی قوم کو رات کے وقت اور دن کے وقت

﴿6﴾ لیکن میری دعوت کے باعث ان کے فرار (ونفرت) میں ہی اضافہ ہوا

﴿7﴾ اور جب بھی میں نے انہیں بلایا تاکہ تو ان کو بخش دے (تو ہر بار) انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور اپنے اوپر لپیٹ لیے اپنے کپڑے اور اڑ گئے (کفر پر ) اور پرلے درجہ کے متکبر بن گئے

﴿8﴾ پھر (بھی) میں نے ان کو بلند آواز سے دعوت دی

﴿9﴾ پھر انہیں کھلے بندوں بھی سمجھایا اور چپکے چپکے انہیں (تلقین) کی

﴿10﴾ پس میں نے کہا (ابھی وقت ہے) معافی مانگ لو اپنے رب سے بےشک وہ بہت بخشنے والا ہے

﴿11﴾ وہ برسائے گا آسمان سے تم پر موسلا دھار بارش ،

﴿12﴾ اور مدد فرمائے گا تمہاری اموال اور فرزندوں سے اور بنادے گا تمہارے لیے باغات اور بنادے گا تمہارے لیے نہریں

﴿13﴾ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم پروا نہیں کرتے اللہ کی عظمت وجلال کی

﴿14﴾ حالانکہ اس نے تمہیں کئی مرحلوں سے گزار کر پیدا کیا ہے

﴿15﴾ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کیسے پیدا کیا ہے سات آسمانوں کو تہ بہ تہ

﴿16﴾ اور بنایا ہے چاند کو ان میں روشنی اور بنایا ہے سورج کو (درخشاں) چراغ

﴿17﴾ اور اللہ نے تم کو زمین سے عجب طرح ا گیا ہے

﴿18﴾ پھر لوٹا دے گا تمہیں اس میں اور (اسی سے) تمہیں دوبارہ نکالے گا

﴿19﴾ اور اللہ نے ہی زمین کو تمہارے لیے فرش کی طرح بچھا دیا ہے

﴿20﴾ تاکہ تم اس کے کھلے راستوں میں چلو

﴿21﴾ نوح نے عرض کی اے میرے پروردگار ! نہوں نے میری نافرمانی کی اور اس کی پیروی کرتے رہے جس کو نہ بڑھایا اس کے مال اور اولاد نے بجز خسارہ کے

﴿22﴾ اور انہوں نے بڑے بڑے مکروفریب کیے

﴿23﴾ اور رئیسوں نے کہا (اے لوگو! نوح کے کہنے پر ) ہر گز نہ چھوڑنا اپنے خداؤں کو اور (خاص طور پر ) ود اور سواع کو مت چھوڑنا اور نہ یغوث ، یعوق اور نسر کو ۔

﴿24﴾ اور انہوں نے گمراہ کردیا بہت سے لوگوں کو ۔ (الہی!) تو بھی ان کی گمراہی میں اضافہ کردے

﴿25﴾ اپنی خطاؤں کے باعث انہیں غرق کردیا گیا پھر انہیں آگ میں ڈال دیا گیا پھر انہوں نے نہ پایا اپنے لیے کے سوا کوئی مددگا

﴿26﴾ اور نوح نے عرض کی اے میرے رب! نہ چھوڑ روئے زمین پر کافروں میں سے کسی کو بستا ہوا

﴿27﴾ اگر تونے ان میں سے کسی کو چھوڑ دیا تو وہ گمراہ کردیں گے تیرے بندوں کو اور نہ جنیں گے مگر ایسی اولاد بدکار، سخت ناشکر گزار ہوگی

﴿28﴾ میرے رب! بخش دے مجھے اور میرے والدین کو اور اسے بھی جو میرے گھر میں ایمان کے ساتھ داخل ہوا اور بخش دے سب مومن مردوں اور عورتوں کو اور کفار کی کسی چیز میں اضافہ نہ کر بجز ہلاکت وبربادی کے

الجن

Surah 72

﴿1﴾ آپ فرمائیے میری طرف وحی کی گئی ہے کہ بڑے غور سے سنا ہے (قرآن کو ) جنوں کی ایک جماعت نے پس انہوں نے (جا کر دوسرے جنات کو ) بتایا کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے

﴿2﴾ راہ دکھاتا ہے ہدایت کی پس ہم ( دل سے ) اس پر ایمان لے آئے ۔ اور ہم ہرگز شریک نہیں بنائیں گے کسی کو اپنے رب کا

﴿3﴾ اور بےشک اعلیٰ وارفع ہے ہمارے رب کی شان نہ اس نے کسی کو اپنی بیوی بنایا ہے اور نہ بیٹا

﴿4﴾ اور (یہ راز بھی کھل گیا کہ ) ہمارے احمق اللہ کے بارے میں ناروا باتیں کہتے رہے

﴿5﴾ اور ہم تو یہ خیال کیے تھے کہ انسان اور جن اللہ کے بارے میں کبھی جھوٹ نہیں بول سکتے

﴿6﴾ اور یہ کہ انسانوں میں سے چند مرد پناہ لینے لگے جنات میں سے چند مردوں کی پس انہوں نے بڑھا دیا جنوں کے غرور کو

﴿7﴾ اور انسانوں بھی یہی گمان کیا جیسے تم گمان کرتے ہو کہ اللہ کسی کو رسول بنا کر مبعوث نہیں کرے گا

﴿8﴾ اور (سنو!) ہم نے ٹٹولنا چاہا آسمان کو تو ہم نے اس کو سخت پہروں اور شہابوں سے بھرا ہوا پایا

﴿9﴾ اور پہلے تو ہم بیٹھ جایا کرتے تھے اس کے بعض مقامات پر سننے کے لیے لیکن اب جو (جن) سننے کی کوشش کرے گا تو وہ پائے گا اپنے لیے کسی شہاب کو انتظار میں

﴿10﴾ اور ہم نہیں سمجھتے (اس کی کیا وجہ ہے) کیا کسی شر کا ارادہ کیا جا رہا ہے زمین کے مکینوں کے بارے میں یا ان کے رب نے ان کو ہدایت دینے کا ارادہ فرمایا ہے

﴿11﴾ اور ہم میں بعض نیک بھی ہیں اور بعض اور طرح کے ہم بھی تو کئی راستوں پر گامزن ہیں

﴿12﴾ اور (اب) ہمیں یقین ہوگیا ہے کہ ہم زمین میں بھی اللہ تعالیٰ کو ہر گز عاجز نہیں کرسکتے اور نہ بھاگ کر اسے ہراسکتے ہیں

﴿13﴾ اور (اے جن بھائیو! ) ہم نے جب پیغام ہدایت سنا تو ہم اس پر ایمان لے آئے، پس جو شخص اپنے رب پر ایمان لاتا ہے تو اسے نہ کسی نقصان کا خوف ہوتا ہے اور نہ ظلم کا

﴿14﴾ اور بےشک ہم میں سے کچھ تو فرمانبردار ہیں اور کچھ ظالم تو جنہوں نے اسلام قبول کیا تو انہوں نے حق کی راہ تلاش کرلی

﴿15﴾ اور جو حق سے منحرف ہوتے ہیں تو وہ جہنم کا ایندھن ہیں

﴿16﴾ اور اگر وہ ثابت قدم رہیں راہ حق پر تو ہم انہیں سیراب کریں گے کثیر پانی سے

﴿17﴾ تاکہ ہم ان کی آزمائش کریں اس فراوانی سے ۔ اور جو منہ موڑے گا اپنے رب کے ذکر سے تو وہ داخل کرے گا اس فراوانی سے اور جو منہ موڑے گا اپنے رب کے ذکر سے تو وہ داخل کرے گا اسے سخت عذاب میں

﴿18﴾ اور بےشک سب مسجدیں اللہ کے لیے ہیں پس مت عبادت کرو اللہ کے ساتھ کسی کی

﴿19﴾ اور جب کھڑا ہوتا ہے اللہ کا (خاص) بندہ تاکہ اس کی عبادت کرے تو لوگ اس پر ہجوم کر کے آجاتے ہیں

﴿20﴾ آپ فرمائیے میں تو بس اپنے رب کی عبادت کرتا ہوں اور شریک نہیں ٹھہراتا اس کا کسی کو

﴿21﴾ آپ فرمائیے (اللہ کے اذن کے بغیر) نہ میں تمہیں نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ ہدایت کا

﴿22﴾ آپ فرمائیے مجھے اللہ تعالیٰ سے کوئی پناہ نہیں دے سکتا اور نہ میں پاسکتا ہوں اس کے بغیر کہیں پناہ

﴿23﴾ البتہ میرا فرض صرف یہ ہے کہ پہنچا دوں اللہ کے احکام اور اس کے پیغامات پس (اب) جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ت اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ( یہ نافرمان) ہمیشہ رہیں گے تا ابد

﴿24﴾ یہاں تک کہ جب وہ دیکھ لیں گے (وہ عذاب) جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے تو انہیں پتہ چل جائے گا کہ کون ہے جس کا مددگار کمزور ہے اور جس کی تعداد کم ہے

﴿25﴾ آپ فرمائیے میں ( اپنی سوچ بچار سے) نہیں جانتا کہ وہ دن قریب ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے یا مقرر کردی ہے اس کے لیے میرے رب نے لمبی مدت

﴿26﴾ (اللہ تعالی) غیب کو جاننے والا ہے پس وہ آگاہ نہیں کرتا اپنے غیب پر کسی کو

﴿27﴾ بجز اس رسول کے جس کو اس نے پسند فرمالیا ہو (غیب کی تعلیم کے لیے ) تو مقرر کر دیتا ہے اس رسول کے آگے اور اس کے پیچھے محافظ

﴿28﴾ تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے ہیں (درحقیقت پہلے ہی) اللہ ان کے حالات کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ہر چیز کا اس نے شمار کر رکھا ہے

المزمل

Surah 73

﴿1﴾ اے چادر لپیٹنے والے

﴿2﴾ رات کو (نماز کے لیے ) قیام فرمایا کیجیے مگر تھوڑا

﴿3﴾ یعنی نصف رات یا کم کرلیا کریں اس سے بھی تھوڑا سا

﴿4﴾ یا بڑھا دیا کریں اس پر اور (حسب معمول) خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کیجیے قرآن کریم کو

﴿5﴾ بے شک ہم جلد ہی القا کریں گے آپ پر ایک بھاری کلام

﴿6﴾ بلاشبہ رات کا قیام (نفس کو) سختی سے روندتا ہے اور بات کو درست کرتا ہے

﴿7﴾ یقیناً آپ کو دن میں بڑی مصروفیتیں ہیں

﴿8﴾ اور ذکر کیا کرو اپنے رب کے نام کا اور سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہو

﴿9﴾ مالک ہے شرق وغرب کا اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس بنائے رکھیے اسی کو اپنا کارساز

﴿10﴾ اور صبر کیجیے ان کی (دل آزار) باتوں پر اور ان سے الگ ہوجائیے بڑی خوبصورتی

﴿11﴾ آپ چھوڑدیں مجھے اور ان جھٹلانے والے مالداروں کو اور انہیں تھوڑی سی مہلت دیں

﴿12﴾ ہمارے پاس ان کے لیے بھاری بیڑیاں اور بھڑکتی آگ ہے

﴿13﴾ اور غذا جو گلے میں پھنس جانے والی ہے اور دردناک عذاب

﴿14﴾ (یہ اس روز) جس دن لرزنے لگیں گے زمین اور پہاڑ اور پہاڑ ریت کے بہتے ٹیلے بن جائیں گے

﴿15﴾ (اے اہل مکہ!) ہم نے بھیجا ہے تمہاری طرف ایک (عظیم الشان ) رسول تم پر گواہ بنا کر جیسے ہم نے فرعون کی طرف (موسی کو ) رسول بنا کر بھیجا

﴿16﴾ پس نافرمانی کی فرعون نے رسول کی تو ہم نے اس کو بڑی سختی سے پکڑ لیا

﴿17﴾ (ذرا سوچو ) کہ تم کیسے بچو گے اگر تم کفر کرتے رہے اس روز جو بچوں کو بوڑھا بنادے گا

﴿18﴾ (اور ) آسمان پھٹ جائے گا اس (کے ہول ) سے اللہ کا وعدہ تو پورا ہو کر رہے گا

﴿19﴾ یقینا یہ (قرآن ) نصیحت ہے پس اب جس کا جی چاہے اختیار کرلے اپنے رب کی طرف سیدھا راستہ

﴿20﴾ بے شک آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ (نماز میں) قیام کرتے ہیں کبھی دو تہائی رات کے قریب، کبھی نصف رات اور کبھی تہائی رات اور ایک جماعت ان سے جو آپ کے ساتھ ہیں وہ بھی (یونہی قیام کرتے ہیں اور اللہ تعالی ہی چھوٹا بڑا کرتا ہے رات اور دن کو وہ یہ بھی جانتا ہے کہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے تو اس نے تم پر مہربانی فرمائی پس تم اتنا قرآن پڑھ لیا کرو جتنا تم آسانی سے پڑھ سکتے ہو وہ یہ بھی جانتا ہے کہ تم میں سے کچھ بیمار ہوں گے اور کچھ سفر کرتے ہوں گے زمین میں تلاش کر رہے ہوں گے اللہ کے فضل (رزق حلال کو) اور کچھ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہوں گے تو پڑھ لیا کرو قرآن سے جتنا آسان ہو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ کو قرض حسنہ دیتے رہا کرو اور جو (نیکی) تم آگے بھیجو گے اپنے لیے تو اسے اللہ کے پاس موجود پاؤ گے یہی بہتر ہے اور (اس کا) اجر بہت بڑا ہوگا اور مغفرت طلب کیا کرو اللہ تعالیٰ سے بےشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے

المدثر

Surah 74

﴿1﴾ اے چادر لپیٹنے والے

﴿2﴾ اٹھیے اور (لوگوں کو ) ڈرائیے

﴿3﴾ اور اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کیجیے

﴿4﴾ اور اپنے لباس کو پاک رکھیے

﴿5﴾ اور بتوں سے (حسب سابق ) دور رہیے

﴿6﴾ اور کسی پر احسان نہ کیجیے زیادہ لینے کی نیت سے

﴿7﴾ اور اپنے رب (کی رضا ) کے لیے صبر کیجیے

﴿8﴾ پھر جب صور پھونکا جائے گا

﴿9﴾ تو وہ دن بڑا سخت دن ہوگا

﴿10﴾ کفار پر آسان نہ ہوگا

﴿11﴾ آپ چھوڑ دیجیے مجھے اور جس کو میں نے تنہا پیدا کیا ہے

﴿12﴾ اور دے دیا ہے اس کو مال کثیر

﴿13﴾ اور بیٹے دیے ہیں جو پاس رہنے والے ہیں

﴿14﴾ اور مہیا کردیا ہے اسے ہر قسم کا سامان

﴿15﴾ پھر طمع کرتا ہے کہ میں اسے مزید عطا کروں

﴿16﴾ ہر گز نہیں وہ ہماری آیتوں کا سخت دشمن ہے

﴿17﴾ میں اسے مجبور کروں گا کہ کٹھن چڑھائی چڑھے

﴿18﴾ اس نے غور کیا اور پھر ایک بات طے کرلی

﴿19﴾ اس پر پھٹکار اس نے کتنی بری بات طے کی

﴿20﴾ اس پر پھر پھٹکار کیسی بری بات اس نے طے کی

﴿21﴾ پھر دیکھا۔

﴿22﴾ پھر منہ بسورا اور ترش رو ہوا

﴿23﴾ پھر پیٹھ پھیریر اور غرور کیا

﴿24﴾ پھر بولا یہ نہیں ہے مگر جادو جو پہلوں سے چلا آتا ہے

﴿25﴾ یہ نہیں مگر انسان کا کلام

﴿26﴾ عنقریب میں اسے جہنم میں جھونکوں گا

﴿27﴾ اور تو کیا سمجھے کہ جہنم کیا ہے

﴿28﴾ نہ باقی رکھے اور نہ چھوڑے

﴿29﴾ جھلسا دینے والی آدمی کی کھال کو

﴿30﴾ اس پر انیس فرشتے مقرر ہیں

﴿31﴾ کی تعداد کو مگر آزمائش ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا تاکہ یقین کرلیں اھل کتاب اور بڑھ جائے اہل ایمان کا ایمان اور نہ شک میں مبتلا ہوں اھل کتاب اور مومن اور تاکہ کہنے لگیں جن کے دلوں میں روگ ہے اور کفار کیا ارادہ کیا ہے اللہ نے اس بیان سے یونہی اللہ تعالی (ایک ہی بات سے) گمراہ کردیاتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ہدایت بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے اور کوئی نہیں جانتا آپ کے رب کے لشکروں کو بغیر اس کے اور نہیں ہے یہ بیان مگر نصیحت لوگوں کے لیے

﴿32﴾ ہاں ہاں! چاند کی قسم

﴿33﴾ اور رات کی قسم جب وہ پیٹھ پھیرنے لگے

﴿34﴾ اور صبح کی قسم جب روشن ہوجائے

﴿35﴾ یقیناً دوزخ بڑی آفتوں میں سے ایک آفت ہے

﴿36﴾ ڈراوا ہے لوگوں کے لیے

﴿37﴾ ان کے لیے جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں یا پیچھے رہنا چاہتے ہیں

﴿38﴾ ہر نفس اپنے عملوں میں گروی ہے

﴿39﴾ سوائے اصحاب یمین کے

﴿40﴾ جو جنتوں میں ہوں گے ، اہل جنت پوچھیں گے

﴿41﴾ مجرموں سے

﴿42﴾ کہ کس جرم نے تم کو دوزخ میں داخل کیا

﴿43﴾ وہ کہیں گے ہم نماز نہیں پڑھا کرتے تھے

﴿44﴾ اور مسکین کو کھانا بھی نہیں کھلایا کرتے تھے

﴿45﴾ اور ہم ہرزہ سرائی کرنے والوں کے ساتھ ہرزہ سرائی میں لگے رہتے

﴿46﴾ اور ہم جھٹلایا کرتے تھے روز جزا کو

﴿47﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آلیا

﴿48﴾ پس انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچائے گی شفاعت کرنے والوں کی شفاعت

﴿49﴾ پس انہیں کیا ہوگیا ہے کہ وہ اس نصیحت سے روگرداں ہیں

﴿50﴾ گویا وہ بھڑکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں

﴿51﴾ جو بھاگے جارہے ہیں شیر سے

﴿52﴾ بلکہ ان میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ ان کو کھلے ہوئے صحیفے دیے جائیں

﴿53﴾ ایسا ہر گز نہیں ہوگا دراصل وہ آخرت سے ڈرتے ہی نہیں

﴿54﴾ ہاں ہاں یہ قرآن تو نصیحت ہے

﴿55﴾ پس جس کا جی چاہے نصیحت حاصل کرے

﴿56﴾ اور وہ نصیحت قبول نہیں کریں گے بجز اس کے کہ اللہ تعالیٰ چاہے

القیامہ

Surah 75

﴿1﴾ میں قسم کھتا ہوں روز قیامت کی

﴿2﴾ اور میں قسم کھاتا ہوں نفس لوامہ کی (کہ حشر ضرور ہوگا)

﴿3﴾ ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ

﴿4﴾ کیوں نہیں ہم اس پر بھی قادر ہیں کہ ہم اس کی انگلیوں کی پور پور درست کردیں

﴿5﴾ بلکہ انسان کی خواہش تو یہ ہے کہ آئندہ بھی بدکاریاں کرتا رہے

﴿6﴾ (ازراہ تمسخر) وہ پوچھتا ہے قیامت کب آئے گی

﴿7﴾ پھر جب آنکھ خیرہ ہوجائے گی

﴿8﴾ اور چاند بےنور ہوجائے گا

﴿9﴾ اور (بے نوری میں) سورج اور چاند یکساں ہوجائیں گے

﴿10﴾ (اس روز) انسان کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے

﴿11﴾ ہر گز نہیں ، وہاں کوئی پناہ گاہ نہیں

﴿12﴾ صرف آپ کے رب کے پاس ہی اس روز ٹھکانا ہوگا

﴿13﴾ آگاہ کردیا جائے گا انسان کو اس روز جو عمل اس نے پہلے بھیجے اور جو (اثرات ) وہ پیچھے چھوڑ آیا

﴿14﴾ بلکہ انسان خود بھی اپنے نفس کے احوال پر نظر رکھتا ہے

﴿15﴾ خواہ وہ زبان سے ہزار بہانے بناتا رہے

﴿16﴾ (اے حبیب!) آپ حرکت نہ دیں اپنی زبان کو اس کے س اتھ تاکہ آپ جلدی یاد کرلیں اس کو

﴿17﴾ ہمارے ذمہ ہے اس کو (سینۂ مبارک میں) جمع کرنا اور اس کو پڑھانا

﴿18﴾ پس جب ہم اسے پڑھیں تو آپ اتباع کریں اسی پڑھنے کا

﴿19﴾ پھر ہمارے ذمہ ہے اس کو کھول کر بیان کردینا

﴿20﴾ ہر گز نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم محبت کرتے ہو جلدی ملنے والی (نعمت ) سے

﴿21﴾ اور چھوڑ رکھا ہے تم نے آخرت کو

﴿22﴾ کئی چہرے اس روز تروتازہ ہوں گے

﴿23﴾ اور اپنے رب کے (انوار جمال) کی طرف دیکھ رہے ہوں گے

﴿24﴾ اور کئی چہرے اس دن اداس ہوں گے

﴿25﴾ خیال کرتے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ سلوک ہوگا

﴿26﴾ ہاں ہاں جب جان پہنچے گی ہنسلی تک

﴿27﴾ اور کہا جائے گا ہے کوئی ، جھاڑ پھونک کرنے والا

﴿28﴾ اور (مرنے والا) سمجھ لیتا ہے کہ جدائی کی گھڑی آپہنچی

﴿29﴾ اور لپٹ جاتی ہے ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے

﴿30﴾ اس دن آپ کے رب کی طرف کوچ ہوتا ہے

﴿31﴾ (اتنی فہمائش کے باوجود) نہ اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی

﴿32﴾ بلکہ اس نے (حق کو) جھٹلایا اور اس سے منہ پھیر لیا

﴿33﴾ پھر گیا گھر کی طرف نخرے کرتا ہوا

﴿34﴾ تیرا خرابی آ لگی اب آ لگی

﴿35﴾ پھر تیری خرابی آ لگی اب آ لگی

﴿36﴾ کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا

﴿37﴾ کیا وہ (ابتدا میں) منی کا ایک قطرہ نہ تھا جو (رحم مادر میں) ٹپکایا جاتا ہے

﴿38﴾ پھر اس سے وہ لوتھڑا بنا پھر اللہ نے اسے بنایا اور اعضا درست کیے

﴿39﴾ پھر اس سے دو قسمیں بنائیں مرد اور عورت

﴿40﴾ کیا وہ (اتنی قدرت والا) اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو پھر زندہ کردے؟

الدھر

Surah 76

﴿1﴾ بے شک گزرا ہے انسان پر زمانہ میں ایک ایسا وقت جبکہ یہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا

﴿2﴾ بلاشبہ ہم ہی نے انسان کو پیدا فرمایا ایک مخلوط نطفہ سے تاکہ ہم اس کو آزمائیں پس (اس غرض سے ) ہم نے بنا دیا ہے اس کو سننے والا، دیکھنے والا

﴿3﴾ ہم نے اسے دکھایا ہے (اپنا) راستہ اب چاہے شکر گزار بنے چاہے احسان فراموش

﴿4﴾ بے شک ہم نے بالکل تیار کر رکھی ہیں کفار کے لیے زنجیری، طوق اور بھڑکتی آگ

﴿5﴾ بے شک نیک لوگ پئیں گے (شراب کے ) ایسے جام جن میں آب کافور کی آمیزش ہوگی

﴿6﴾ (کافور) ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے (وہ) خاص بندے پئیں گے اور جہاں چاہیں گے اسے بہا کر لے جائیں گے

﴿7﴾ جو پوری کرتے ہیں اپنی منتیں اور ڈرتے ہیں اس دن سے جس کا شر ہر سو پھیلا ہوگا

﴿8﴾ اور جو کھانا کھلاتے ہیں اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو

﴿9﴾ (اور کہتے ہیں) ہم نہیں کھلاتے ہیں اللہ کی رضا کے لیے نہ ہم تم سے کسی اجر کے خواہاں ہیں اور نہ شکریہ کے

﴿10﴾ ہم ڈرتے ہیں اپنے رب سے اس دن کے لیے جو بڑا ترش (اور) سخت ہے

﴿11﴾ پس بچالے گا انہیں اللہ تعالیٰ اس دن کے شر سے اور بخش دے گا انہیں چہروں کی تازگی اور دلوں کا سرور

﴿12﴾ اور مرحمت فرمائے گا انہیں صبر کے بدلے جنت اور ریشمی لباس

﴿13﴾ وہاں پلنگوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے نہ نظر آئے گی انہیں وہاں سورج کی تپش اور نہ ٹھرن

﴿14﴾ اور قریب ہوں گے ان سے اس کے درختوں کے سائے اور میووں کے گچھے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے

﴿15﴾ اور گردش میں ہوں گے ان کے سامنے چاندی کے ظروف اور شیشہ کے چمکدار گلاس

﴿16﴾ (اور) شیشے بھی وہ جو چاندی کی قسم کے ہوں گے ساقیوں نے انہیں پورے اندازہ سے بھرا ہوگا

﴿17﴾ اور انہیں پلائے جائیں گے وہاں (ایسی شراب کے) جام جس میں زنجبیل کی آمیزش ہوگی

﴿18﴾ (یہ زنجبیل) جنت میں ایک چشمہ ہے جس کو سلسلبیل کہا جاتا ہے

﴿19﴾ اور چکر لگاتے رہیں گے ان کی خدمت میں ایسے بچے جو ایک ہی حالت پر رہیں گے جب تو انہیں دیکھے تو یوں سجھے گویا یہ موتی ہیں جو بکھر گئے ہیں

﴿20﴾ اور جدھر بھی تم وہاں دیکھو گے تمہیں نعمتیں ہی نعمتیں اور وسیع مملکت نظر آئے گی

﴿21﴾ ان کے اوپر لباس ہوگا باریک سبز ریشم کا (بنا ہوا) اور اطلس کا اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور پلائے گا انہیں ان کا پروردگار نہایت پاکیزہ شراب

﴿22﴾ (انہیں کہا جائے گا) یہ تمہارا صلہ ہے اور (مبارک ہو) تمہاری کوششیں مقبول ہوئیں

﴿23﴾ ہم نے ہی (اے حبیب!) آپ پر تھوڑا تھوڑا کر کے کلام نازل کیا

﴿24﴾ اور اپنے رب کے حم کا انتظار کیجیے اور نہ کہنا مانیے ان میں سے کسی بدکار یا احسان فراموش کا

﴿25﴾ اور یاد کرتے رہا کرو اپنے رب کے نام کو صبح بھی اور شام بھی

﴿26﴾ اور رات (کی تنہائیوں میں) بھی اس کو سجدہ کیا کیجیے اور رات کافی وقت اس کی تسبیح کیا کیجیے

﴿27﴾ بے شک یہ لوگ دنیا سے محبت کرتے ہیں اور پس پشت ڈال رکھا ہے انہوں نے بڑے سخت دن کو

﴿28﴾ ہم نے ہی ان کو پیدا کیا ہے اور ان کے جوڑ ، بند مضبوط کیے ہیں اور جب ہم چاہیں تو ان کی شکلوں کو بدل کر رکھ دیں

﴿29﴾ بے شک یہ ایک نصیحت ہے۔ پس جس کا جی چاہے اختیار کر لے اپنے رب کے قرب کا راستہ

﴿30﴾ اور (اے لوگو!) تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے بجز اس کے کہ اللہ خود چاہے بےشک اللہ تعالی علیم ہے، حکیم ہے

﴿31﴾ جس کو چاہتا ہے اپنے (دامنِ) رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کے لیے تو اس نے تیار کر رکھا ہے دردناک عذاب

المرسلات

Surah 77

﴿1﴾ (ان ہواؤں کی) قسم جو پے در پے بھیجی جاتی ہیں

﴿2﴾ پھر ان کی (قسم) جو تند وتیز ہیں

﴿3﴾ اور ان کی قسم جو بادلوں کو پھیلانے والی ہیں

﴿4﴾ پھر ان کی جو بادلوں کو پارہ پارہ کرنے والی ہیں

﴿5﴾ پھر ان کی قسم جو (دلوں میں) ذکر کا القاء کرنے والی ہیں

﴿6﴾ حجت تمام کرنے کے لیے یا ڈرانے کے لیے

﴿7﴾ بے شک جس بات کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ ضرور ہوکر رہے گی

﴿8﴾ پس اس وقت جب ستارے بےنور کردیے جائیں گے

﴿9﴾ اور جب اسمان میں شگاف پڑ جائیں گے

﴿10﴾ اور جب پہاڑ (خاک بنا کر) اڑا دیے جائیں گے

﴿11﴾ اور جب رسولوں کو وقت مقررہ پر اکٹھا کیا جائے گا

﴿12﴾ (تمہیں علم ہے) کس دن کے لیے یہ ملتوی کیا گیا ہے ؟

﴿13﴾ فیصلہ کے دن کے لیے

﴿14﴾ (اے مخاطب!) تجھے کیا علم کہ فیصلے کا دن کیسا ہے

﴿15﴾ تباہی ہوگی اس روز جھٹلانے والوں کے لیے

﴿16﴾ کیا ہم نے ہلاک نہیں کردیا جو ان سے پہلے تھے

﴿17﴾ پھر ہم ان کے پیچھے پیچھے بھیج دیں گے بعد میں آنے والوں کو

﴿18﴾ گناہ گاروں کے ساتھ ہم ایسا ہی سلوک کیا کرتے ہیں

﴿19﴾ تباہی ہوگی اس روز جھٹلانے والوں کے لیے

﴿20﴾ کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے پیدا نہیں فرمایا

﴿21﴾ پھر ہم نے رکھ دیا اسے ایک محفوظ جگہ (رحم مادر) میں

﴿22﴾ ایک معین مدت تک

﴿23﴾ پھر ہم نے ایک اندازہ ٹھہرایا ، پس ہم کتنے بہتر اندازہ ٹھہرانے والے ہیں

﴿24﴾ تباہی ہوگی اس روز جھٹلانے والوں کے لیے

﴿25﴾ کیا ہم نے نہیں بنایا زمین کو سمیٹنے والی

﴿26﴾ (تمہارے ) زندوں اور مردوں کو

﴿27﴾ اور ہم نے ہی بنادیے اس میں خوب جمے ہوئے اونچے اونچے پہاڑ اور ہم نے ہی تمہیں میٹھا پانی پلایا

﴿28﴾ تباہی ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لیے

﴿29﴾ (انہیں حکم ملے گا) چلو اس (آگ) کی طرف جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے

﴿30﴾ چلو اس سایہ کی طرف جو تین شاخوں والا ہے

﴿31﴾ نہ وہ سایہ دار ہے اور نہ وہ بچاتا ہے آگ کی لپٹ سے

﴿32﴾ وہ جہنم پھینک رہی ہوگی بڑے بڑے انگارے جیسے محل

﴿33﴾ گویا وہ زرد رنگ کے اونٹ ہیں

﴿34﴾ تباہی ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لیے

﴿35﴾ یہ وہ دن ہوگا جس میں نہ وہ بول سکیں گے

﴿36﴾ اور نہ انہیں اجازت ملے گی کہ وہ کچھ عذر پیش کریں

﴿37﴾ تباہی ہوگی اس روز جھٹلانے والوں کے لیے

﴿38﴾ (اے کافرو!) یہ فیصلے کا دن ہے (جس میں ) ہم نے تمہیں اور اگلوں کو جمع کردیا ہے

﴿39﴾ پس اگر تمہارے پاس کوئی چال ہے تو میرے خلاف استعمال کرو

﴿40﴾ تباہی ہوگی اس روز جھٹلانے والوں کے لیے

﴿41﴾ بے شک پرہیزگار (اللہ کی رحمت کے) سایوں میں اور چشموں میں ہوں گے

﴿42﴾ اور (ان ) پھلوں میں ہوں گے جن کو وہ پسند کریں گے

﴿43﴾ (انہیں کہا جائے گا) مزے سے کھاؤ اور پیو ان اعمال کے صلہ میں جو تم کیا کرتے تھے

﴿44﴾ ہم یونہی صلہ دیا کرتے ہیں نیکو کاروں کو

﴿45﴾ تباہی ہوگی اس روز جھٹلانے والوں کے لیے

﴿46﴾ (اے منکرو!) اب کھالو اور عیش کرلو تھوڑا سا وقت، بےشک تم مجرم ہو

﴿47﴾ تباہی ہوگی اس روز جھٹلانے والوں کے لیے

﴿48﴾ اور (آج) جب ان سے کہا جاتا ہے اپنے رب کے سامنے جھکو تو نہیں جھکتے

﴿49﴾ تباہی ہوگی اس روز جھٹلانے والوں کے لیے

﴿50﴾ آخر کس بات پر وہ اس کتاب کے بعد ایمان لائیں گے ؟

النبا

Surah 78

﴿1﴾ وہ کس چیز کے بارے میں ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں۔

﴿2﴾ کیا وہ اس بڑی اور اہم خبر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں

﴿3﴾ جس میں وہ اختلاف کرتے رہتے ہیں

﴿4﴾ یقینا وہ اسے جان لیں گے

﴿5﴾ پھر یقینا وہ اسے جان لیں گے (کہ قیامت بر حق ہے)

﴿6﴾ کیا ہم نے نہیں بنا دیا زمین کو بچھونا

﴿7﴾ اور پہاڑوں کو میخیں

﴿8﴾ اور ہم نے پیدا کیا ہے تمہیں جوڑا جوڑا

﴿9﴾ اور ہم نے بنادیا ہے تمہاری نیند کو باعث آرام

﴿10﴾ نیز ہم نے بنادیا رات کو پردہ پوش

﴿11﴾ اور ہم نے دن کو روزی کمانے کے لیے بنایا

﴿12﴾ اور ہم نے بنائے تمہارے اوپر سات مضبوط (آسمان)

﴿13﴾ اور ہم نے ہی ایک نہایت روشن چراغ بنایا

﴿14﴾ اور ہم نے برسایا بادلوں سے موسلا دھار پانی

﴿15﴾ تاکہ ہم اگائیں اس کے ذریعہ اناج اور سبزی

﴿16﴾ نیز گھنے باغات

﴿17﴾ بے شک فیصلہ کا دن ایک معین وقت ہے

﴿18﴾ جس روز صورت پھونکا جائے گا تو تم چلے آؤ گے فوج در فوج

﴿19﴾ اور کھول دیا جائے گا آسمان تو وہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا

﴿20﴾ اور حرکت دی جائے گی پہاڑوں کو تو وہ سراب بن جائیں گے

﴿21﴾ درحقیقت جہنم ایک گھات ہے

﴿22﴾ (یہ ) سرکشوں کا ٹھکانا ہے

﴿23﴾ پڑے رہیں گے اس میں عرصۂ دراز

﴿24﴾ وہ نہیں چکھیں گے اس میں کوئی ٹھنڈی چیز اور نہ پانی

﴿25﴾ بجز کھولتے پانی اور گرم پیپ کے

﴿26﴾ (ان کے گناہوں کی) پوری سزا

﴿27﴾ یہ لوگ (روز) حساب کی توقع ہی نہیں رکھتے تھے

﴿28﴾ اور انہوں نے ہماری آیتوں کو سختی سے جھٹلایا

﴿29﴾ حالانکہ ہر چیز کو ہم نے گن گن کر لکھ لیا تھا

﴿30﴾ پس (اے منکرو! اپنے کیے کا) مزا چکھو اب ہم نہیں زیادہ کریں گے تم پر مگر عذاب

﴿31﴾ بلاشبہ پرہیزگاروں کے لیے کامیابی (ہی کامیابی) ہے

﴿32﴾ (ان کے لیے) باغات اور انگوروں (کی بیلیں) ہیں

﴿33﴾ اور جواں سال ہم عمر لڑکیاں

﴿34﴾ اور چھلکتا ہوا جام

﴿35﴾ نہ سنیں گے وہاں کوئی بیہودہ بات اور نہ جھوٹ

﴿36﴾ یہ بدلہ ہے آپ کے رب کی طرف سے بڑا کافی انعام

﴿37﴾ جو پروردگار ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ، بےحد مہربان انہیں طاقت نہ ہوگی کہ (بغیر اجازت ) اس سے بات بھی کہہ سکیں

﴿38﴾ جس روز روح اور فرشتے پرے باندھ کر کھڑے ہوں گے کوئی نہ بول سکے گا بجز اس کے جس کو رحمن اذن دے اور وہ ٹھیک بات کرے

﴿39﴾ یہ دن برحق ہے، سو جس کا جی چاہے بنا لے اپنے رب کے جوار رحمت میں اپنا ٹھکانا

﴿40﴾ بے شک ہم نے ڈرا دیا ہے تمہیں جلد آنے والے عذاب سے اس دن دیکھ لے گا ہر شخص ( ان عملوں کو ) جو اس نے آگے بھیجے تھے اور کافر (بصد حسرت) کہے گا کاش ! میں خا ک ہوتا

النازعات

Surah 79

﴿1﴾ قسم ہے (فرشتوں کی) جو غوطہ لگا کر (جان) کھیننے والے ہیں

﴿2﴾ اور بند آسانی سے کھولنے والے ہیں

﴿3﴾ اور تیزی سے پیرنے والے ہیں

﴿4﴾ پھر (تعمیل ارشاد میں) جو دوڑ کر سبقت لے جانے والے ہیں

﴿5﴾ پھر (حسب حکم) ہر کام کا انتظام کرنے والے ہیں

﴿6﴾ جس روز تھر تھرائے گی تھرتھرانے والی

﴿7﴾ اس کے پیچھے ایک اور جھٹکا ہوگا

﴿8﴾ کتنے دل اس روز (خوف سے) کانپ رہے ہو گے

﴿9﴾ ان کی آنکھیں (ڈر سے) جھکی ہوں گی

﴿10﴾ کافر کہتے ہیں کیا ہم پلٹائے جائیں گے الٹے پاؤں

﴿11﴾ (یعنی جب ) ہم بوسیدہ ہڈیاں بن چکے ہوں گے

﴿12﴾ بولے یہ واپسی تو بڑے گھاٹے کی ہوگی

﴿13﴾ (پس اس واپسی کے لیے) تو فقط ایک جھڑک کافی ہے

﴿14﴾ پھر وہ فوراً کھلے میدان میں جمع ہوجائیں گے

﴿15﴾ (اے حبیب!) کیا پہنچی ہے آپ کو مسوی کی خبر ؟

﴿16﴾ جب ان کے رب نے انہیں طوی کی مقدس وادی میں پکارا تھا

﴿17﴾ (کہ) جاؤ فرعون کے پاس وہ سرکش بن گیا ہے

﴿18﴾ پس (اس سے) دریافت کرو کیا تیری خواہش ہے کہ تو پاک ہوجائے

﴿19﴾ (اور کیا تو چاہتا ہے کہ ) میں تیری رہبری کروں تیرے رب کی طرف تاکہ تو (اس سے ) ڈرنے لگے

﴿20﴾ پس آپ نے (جا کر) اسے بڑی نشانی دکھائی

﴿21﴾ پس اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی

﴿22﴾ پھر روگرداں ہو کر فتنہ انگیزی میں کوشاں ہوگیا

﴿23﴾ پھر (لوگوں کو) جمع کیا پس پکارا

﴿24﴾ اور کہا میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں

﴿25﴾ آخر کار مبتلا کردیا اسے اللہ نے آخرت اور دنیا کے (دوہرے ) عذاب میں

﴿26﴾ بے شک اس میں بڑی عبرت ہے اس کے لیے جو اللہ سے ڈرتا ہے

﴿27﴾ کیا تمہیں پیدا کرنا مشکل ہے یا آسمان کا ۔ اس نے اسے بنایا

﴿28﴾ اس کی چھت کو خوب اونچا کیا پھر اس کو درست کیا

﴿29﴾ اور تاریک کیا اس کی رات کو اور ظاہر کیا اس کے دن کو

﴿30﴾ اور زمین کو بعد ازاں بچھا دیا

﴿31﴾ نکالا اس سے اس کا پانی اور اس کا سبزہ

﴿32﴾ اور پہاڑ (اس میں) گاڑ دیے

﴿33﴾ سامان زیست ہے تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے

﴿34﴾ پھر جب آئے گی سب سے بڑی آفت

﴿35﴾ اس دن انسان یاد کرے گا جو دوڑ دھوپ اس نے کی تھی

﴿36﴾ اور ظاہر کردی جائے گی جہنم ہر دیکھنے والے کے لیے

﴿37﴾ پس جس نے سرکشی کی ہوگی

﴿38﴾ اور ترجیح دی ہوگی دنیوی زندگی کو

﴿39﴾ تو دوزخ ہی (اس کا) ٹھکانا ہوگا

﴿40﴾ اور جو ڈرتا رہا ہوگا اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے اور (اپنے) نفس کو روکتا رہا ہوگا (پر بری) خواہش سے

﴿41﴾ یقینا جنت ہی اس کا ٹھکانا ہوگا

﴿42﴾ یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب قائم ہوگی

﴿43﴾ یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب قائم ہوگی

﴿44﴾ آپ کے رب تک اس کی انتہا ہے

﴿45﴾ آپ ضرور خبردار کرنے والے ہیں ہر اس شخص کو جو اس سے ڈرتا ہو

﴿46﴾ گویا وہ جس روز اس کو دیکھیں گے (انہیں یوں محسوس ہوگا) کہ وہ (دنیا میں) نہیں ٹھہرے تھے مگر ایک شام یا ایک صبح

عبس

Surah 80

﴿1﴾ چیں برجبیں ہوئے اور منہ پھیر لیا

﴿2﴾ (اس وجہ سے کہ) ان کے پاس ایک نابینا آیا

﴿3﴾ اور آپ کیا جانیں شاید وہ پاکیزہ تر ہوجاتا

﴿4﴾ یا وہ غور وفکر کرتا تو نفع پہنچاتی اسے یہ نصیحت

﴿5﴾ لیکن وہ جو پروا نہیں کرتا

﴿6﴾ آپ اس کی طرف تو توجہ کرتے ہیں

﴿7﴾ اور آپ پر کوئی ضرر نہیں اگر وہ نہ سدھرے

﴿8﴾ اور جو آپ کے پاس آیا ہے دوڑتا ہوا

﴿9﴾ اور وہ ڈر بھی رہا ہے

﴿10﴾ تو آپ اس سے بےرخی برتتے ہیں

﴿11﴾ ایسا نہ چاہیے یہ تو نصیحت ہے ،

﴿12﴾ سو جس کا جی چاہے اسے قبول کرلے

﴿13﴾ یہ ایسے صحیفوں میں (ثبت ) ہے جو معزز ہیں

﴿14﴾ جو بلند مرتبہ پاکیزہ ہیں

﴿15﴾ ایسے کاتبوں کے ہاتھوں سے لکھے ہیں

﴿16﴾ جو بڑے بزرگ اور نیکو کار ہیں

﴿17﴾ غارت ہو (منکر) انسان! وہ کتنا احسان فراموش ہے

﴿18﴾ کسی چز سے اللہ نے اسے پیدا کیا

﴿19﴾ ایک بوند سے ۔ اسے پیدا کیا پھر اس کی ہرچیز اندازہ سے بنائی

﴿20﴾ پھر زندگی کی راہ اس کے لیے آسان کردی

﴿21﴾ پھر اسے موت دی اور اسے قبر میں پہنچا دیا

﴿22﴾ پھر جب چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کردے گا

﴿23﴾ یقیناً وہ بجا نہ لایا جو اللہ نے اسے حکم دیا تھا

﴿24﴾ پھر ذرا انسان غور سے دیکھے اپنی غذا کو

﴿25﴾ بے شک ہم نے زور سے پانی برسایا

﴿26﴾ پھر اچھی طرح پھاڑا زمین کو

﴿27﴾ پھر ہم نے اگایا اس میں غلہ

﴿28﴾ اور انگور اور ترکاریاں

﴿29﴾ اور زیتون اور کھجوریں

﴿30﴾ اور گھنے باغات

﴿31﴾ اور (طرح طرح کے ) پھل اور گھاس

﴿32﴾ سامان زیست تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے

﴿33﴾ پھر جب کان بہرا کرنے والا شور اٹھے گا

﴿34﴾ اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی سے

﴿35﴾ اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے

﴿36﴾ اور اپنی بیوی سے اور اپنے بچوں سے

﴿37﴾ ہر شخص کو ان میں سے اس دن ایسی فکر لاحق ہوگی جو اسے (سب سے) بےپروا کردے گی

﴿38﴾ کتنے ہی چہرے اس دن (نور ایمان سے) چمک رہے ہوں گے

﴿39﴾ ہنستے ہوئے خوش وخرم

﴿40﴾ اور کئی منہ اس دن غبار آلود ہوں گے

﴿41﴾ ان پر کالک لگی ہوگی

﴿42﴾ یہی وہ کافر (و) فاجر لوگ ہوں گے

التکویر

Surah 81

﴿1﴾ (یاد کرو) جب سورج لپیٹ دیا جائے گا

﴿2﴾ اور جب ستارے بکھر جائیں گے

﴿3﴾ اور جب پہاڑوں کو اکھیڑ دیا جائے گا

﴿4﴾ اور جب دس ماہ کی گابھن اونٹنیاں چھٹی پھریں گی

﴿5﴾ اور جب وحشی جانور یکجا کر دیے جائیں گے

﴿6﴾ اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے

﴿7﴾ اور جب جانیں (جسموں سے) جوری جائیں گی

﴿8﴾ اور جب زندہ درگور کی ہوئی (بچی) سے پوچھا جائے گا

﴿9﴾ کہ وہ کس گناہ کے باعث ماری گئی

﴿10﴾ اور جب اعمال نامے کھولے جائیں گے

﴿11﴾ اور جب آسمان کی کھال ادھیڑ لی جائے گی

﴿12﴾ اور جب جہنم دہکائی جائے گی

﴿13﴾ اور جب جنت قریب کردی جائے گی

﴿14﴾ (تو اس دن) ہر شخص جان لے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے

﴿15﴾ پھر میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹ جانے والے تاروں کی

﴿16﴾ (اور قسم کھاتا ہوں) سیدھے چلنے والے ، رکے رہنے والے تاروں کی

﴿17﴾ اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے

﴿18﴾ اور صبح کی جب وہ سانس لے

﴿19﴾ کہ یہ (قرآن) ایک معزز قاصد کا (لایا ہوا) قول ہے

﴿20﴾ جو قوت والا ہے مالک عرش کے ہاں عزت والا ہے

﴿21﴾ (سب فرشتوں کا) سردار اور وہاں کا امین ہے

﴿22﴾ اور تمہارا یہ ساتھی کوئی مجنون تو نہیں

﴿23﴾ اور بلاشبہ اس نے اس قاصد کو دیکھا ہے روشن کنارے پر

﴿24﴾ اور یہ نبی غیب بتانے میں ذرا بخیل نہیں

﴿25﴾ اور یہ (قرآن) کسی شیطان مردود کا قول نہیں

﴿26﴾ پھر تم (منہ اٹھائے) کدھر چلے جارہے ہو

﴿27﴾ نہیں ہے یہ مگر نصیحت سب اہل جہان کے لیے

﴿28﴾ (لیکن ہدایت وہی پاتا ہے) جو تم میں سے سیدھی راہ چلنا چاہے

﴿29﴾ اور تم نہیں چاہ سکتے بجز اس کے کہ اللہ چاہے جو رب العالمین ہے

الانفطار

Surah 82

﴿1﴾ جب آسمان پھٹ جائے گا

﴿2﴾ اور جب ستارے بکھر جائیں گے

﴿3﴾ اور جب سمندر بہنے لگیں گے

﴿4﴾ اور جب قبریں زیر وزبر کردی جائیں گی

﴿5﴾ (اس وقت) جان لے گا ہر شخص جو (اعمال) اس نے آگے بھیجے تھے اور جو (اثرات) وہ پیچھے چھوڑ آیا تھا

﴿6﴾ اے انسان! کس چیز نے تجھے دھوکے میں رکھا اپنے رب کریم کے بارے میں

﴿7﴾ جس نے تجھے پیدا کیا پھر تیرے (اعضاء کو) درست کیا پھر تیرے (عناصر کو) معتدل بنایا

﴿8﴾ (الغرض) جس شکل میں چاہا تجھے ترکیب دے دیا

﴿9﴾ یہ سچ ہے بلکہ تم جھٹلاتے ہو روز جزا کو

﴿10﴾ حالانکہ تم پر نگراں (فرشتے) مقرر ہیں

﴿11﴾ جو معزز ہیں (حرف بحرف) لکھنے والے ہیں

﴿12﴾ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو

﴿13﴾ بے شک نیک لوگ عیش وآرام میں ہوں گے

﴿14﴾ اور یقیناً بدکار جہنم میں ہوں گے

﴿15﴾ داخل ہوں گے اس میں قیامت کے روز

﴿16﴾ اور وہ اس سے غائب نہ ہوسکیں گے

﴿17﴾ اور آپ کو کیا علم کہ روز جزا کیا ہے

﴿18﴾ پھر آپ کو کیا علم کہ روز جزا کی اہے

﴿19﴾ (یہ وہ دن ہوگا) جس روز کسی کے لیے کچھ کرنا کسی کے بس میں نہ وہگا۔ اور سارا حکم اس روز اللہ ہی کا ہوگا

المطففین

Surah 83

﴿1﴾ بربادی ہے (ناپ تول میں) کمی کرنے والوں کے لیے

﴿2﴾ جب وہ لوگوں سے ناپ کرلیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں

﴿3﴾ اور جب لوگوں کو ناپ کر یا تول کردیتے ہیں تو (ان کو) نقصان پہنچاتے ہیں

﴿4﴾ کیا وہ (اتنا) خیال بھی نہیں کرتے کہ انہیں قبروں سے اٹھایا جائے گا

﴿5﴾ ایک بڑے دن کے لیے

﴿6﴾ جس دن لوگ (جواب دہی کے لیے ) کھڑے ہوں گے پروردگار علم کے سامنے

﴿7﴾ یہ حق ہے کہ بدکاروں کا نامہ عمل سجین میں ہوگا

﴿8﴾ اور تمہیں کیا خبر کہ سجین کیا ہے

﴿9﴾ یہ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی

﴿10﴾ تباہی ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لیے

﴿11﴾ جو جھٹلاتے ہیں روز جزا کو

﴿12﴾ اور نہیں جھٹلایا کرتے اسے مگر وہی جو حد سے گزرنے والا گنہگار ہے

﴿13﴾ جب پڑھی جاتی ہیں اس کے سامنے ہماری آیتیں تو کہتا ہے کہ یہ تو پہلے لوگوں کے افسانے ہیں

﴿14﴾ نہیں نہیں درحقیقت زنگ چڑھ گیا ہے ان کے دلوں پر ان کرتوتوں کے باعث جو وہ کیا کرتے تھے

﴿15﴾ یقیناً انہیں اپنے رب ( کے دیدار ) سے اس دنروک دیا جائے گا

﴿16﴾ پھر وہ ضرور جہنم میں داخل ہوں گے

﴿17﴾ پھر (ان سے) کہا جائے گا یہی وہ (جہنم) ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے

﴿18﴾ یہ حق ہے نیکو کاروں کا صحیفہ عمل علیین میں ہوگا

﴿19﴾ اور تمہیں کیا خبر کہ علییون کیا ہے

﴿20﴾ یہ ایک لکھ ہوئی کتاب ہے

﴿21﴾ (حفاظت کے لیے) دیکھتے رہتے ہیں اسے مقربین

﴿22﴾ بے شک نیکو کار راحت وآرام میں ہوں گے

﴿23﴾ پلنگوں پر بیٹھے (مناظر جنت کا) نظارہ کر رہے ہوں گے

﴿24﴾ آپ پہچان لیں گے ان کے چہروں پر راحتوں کی شگفتگی

﴿25﴾ انہیں پلائی جائے گی سربمہر خالص شراب

﴿26﴾ اس کی مہر کستوری کی ہوگی۔ اس کے لیے سبقت لے جانے کی کوشش کریں سبقت لے جانے والے

﴿27﴾ اس میں تسنیم کی آمیزش ہوگی

﴿28﴾ یہ وہ چشمہ ہے جس سے صرف مقربین پئیں گے

﴿29﴾ جو لوگ جرم کیا کرتے تھے وہ اہل ایمان پر ہنسا کرتے تھے

﴿30﴾ اور جب ان کے قریب سے گزرتے تو آپس میں آنکھیں مارا کرتے

﴿31﴾ اور جب اپنے اہل خانہ کی طرف لوٹتے تو دل لگیاں کرتے واپس آتے

﴿32﴾ اور جب وہ مسلمانوں کو دیکھتے تو کہتے یقیناً یہ لوگ راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں

﴿33﴾ حالانکہ وہ اہل ایمان پر محافظ بنا کر تو نہیں بھیجے گئے تھے

﴿34﴾ پس آج مومنین کفار پر ہنس رہے ہیں

﴿35﴾ (عرسی) پلنگوں پر بیٹھے (کفار کی خستہ حالی کو) دیکھ رہے ہیں

﴿36﴾ کیوں کچھ بدلہ ملا کفار کو ( اپنے کرتوتوں کا) جو وہ کیا کرتے تھے

الانشقاق

Surah 84

﴿1﴾ (یاد کرو) جب آسمان پھٹ جائے گا

﴿2﴾ اور کان لگا کر سنے گا اپنے رب کا فرمان اور اس پر فرض بھی ہے

﴿3﴾ اور جب زمین پھیلا دی جائے گی

﴿4﴾ اور باہر پھینک دے گی جو کچھ اس کے اندر ہے اور خالی ہوجائے گی

﴿5﴾ اور کان لگا کر سنے گی اپنے رب کا فرمان اور اس پر فرض بھی یہی ہے

﴿6﴾ اے انسان! تو محنت سے کوشاں رہتا ہے اپنے رب کے پاس پہنچنے تک پس تیری اس سے ملاقات ہو کر رہتی ہے

﴿7﴾ پس جس کو دیا گیا اس کا نامۂ عمل اس کے دائیں ہاتھ میں

﴿8﴾ تو اس سے حساب آسانی سے لیا جائے گا

﴿9﴾ اور واپس لوٹے گا اپنے گھروالوں کی طرف شاداں وفرحاں

﴿10﴾ اور جس (بدنصیب) کو اس کا نامۂ عمل پس پشت دیا گیا

﴿11﴾ تو وہ چلائے گا ہائے موت! ہائے موت

﴿12﴾ اور داخل ہوگا بھڑکتی آگ میں

﴿13﴾ بے شک وہ (دنیا میں) اپنے اہل وعیال میں خوش وخرم رہا کرتا تھا

﴿14﴾ وہ خیال کرتا تھا کہ وہ (اللہ کے حضور) لوٹ کر نہیں جائے گا

﴿15﴾ کیوں نہیں۔ اس کا رب اسے خوب دیکھ رہا تھا

﴿16﴾ پس میں قسم کھاتا ہوں شفق کی

﴿17﴾ اور رات کی اور جن کو وہ سمیٹے ہوئے ہے

﴿18﴾ اور چاند کی جب وہ ماہ کامل بن جائے

﴿19﴾ تمہیں (بتدریج ) زینہ بہ زینہ چڑھنا ہے

﴿20﴾ پس انہیں کیا ہوگیا ہے کہ یہ ایمان نہیں لاتے

﴿21﴾ اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے

﴿22﴾ بلکہ یہ کفار اسے (الٹا) جھٹلاتے ہیں

﴿23﴾ اور اللہ خوب جانتا ہے جو ان (کے دلوں ) میں بھرا ہوا ہے

﴿24﴾ پس آپ انہیں خوشخبری سنائی دردناک عذاب کی

﴿25﴾ البتہ جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے ایسا اجر ہے جو منقطع نہ ہوگا

البروج

Surah 85

﴿1﴾ قسم ہے آسمان کی جو برجوں والا ہے

﴿2﴾ اور اس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے

﴿3﴾ اور حاضر ہونیوالے دن کی اور اس کی جس کے پاس حاضر ہوں گے

﴿4﴾ مارے گئے کھائی کھودنے والے

﴿5﴾ (جس میں) آگ تھی بڑے ایندھن والی

﴿6﴾ جب وہ اس (کے کنارہ) پر بیٹھے تھے

﴿7﴾ اور وہ جو کچھ اہل ایمان کے ساتھ سلوک کر رہے تھے اسے دیکھ رہے تھے

﴿8﴾ اور نہیں ناپسند کیا تھا انہوں نے مسلمانوں سے بجز اس کے کہ وہ ایمان لائے تھے اللہ پر جو سب پر غالب، سب خوبیوں سراہا ہے

﴿9﴾ جس کے قبضہ میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھنے والا ہے

﴿10﴾ بے شک جن لوگوں نے ایذا دی مومن مردوں اور مومن عورتوں کو پھر توبہ بھی نہ کی تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لیے جلائے جانے کی سزا ہے

﴿11﴾ جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے

﴿12﴾ بے شک آپ کے رب کی پکڑ بہت سخت ہے

﴿13﴾ بے شک وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا

﴿14﴾ اور وہی بہت بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا ہے

﴿15﴾ عرش کا مالک ہے ، بڑی شان والا

﴿16﴾ کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے

﴿17﴾ کیا پہنچی ہے آپ کے پاس لشکروں کی خبر

﴿18﴾ (یعنی) فرعون اور ثمود (کے لشکروں) کی

﴿19﴾ بلکہ یہ کفار جھٹلانے میں مصروف ہیں

﴿20﴾ حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے

﴿21﴾ بلکہ وہ کمال شرف ولا قرآن ہے

﴿22﴾ ایسی لوح میں لکھا ہے جو محفوظ ہے

الطارق

Surah 86

﴿1﴾ قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی

﴿2﴾ اور آپ کو کیا معلوم یہ رات کو آنے والا کیا ہے ؟

﴿3﴾ ایک تارا نہایت تاباں

﴿4﴾ کوئی شخص ایسا نہیں جس پر کوئی محافظ نہ ہو

﴿5﴾ سو انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے

﴿6﴾ اسے پیدا کیا گیا ہے اچھلتے پانی سے

﴿7﴾ جو (مرد وزن کی) پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے

﴿8﴾ بے شک وہ اس کو پھر واپس لانے پر قادر ہے

﴿9﴾ یاد کرو اس دن کو جب سب راز فاش کردیے جائیں گے

﴿10﴾ پس نہ خود اس میں زور ہوگا اور نہ کوئی (دوسرا) مددگار ہوگا

﴿11﴾ قسم ہے آسمان کی جس سے بارش برستی ہے

﴿12﴾ اور زمین کی جو (بارش سے) پھٹ جاتی ہے

﴿13﴾ بلاشبہ یہ قرآن قول فیصل ہے

﴿14﴾ اور یہ ہنسی مذاق نہیں ہے

﴿15﴾ یہ لوگ طرح طرح کی تدبیریں کر رہے ہیں

﴿16﴾ اور میں بھی تدبیر فرما رہا ہوں

﴿17﴾ پس آپ کفار کو (تھوڑی سی) مہلت اور دے دیں کچھ وقت انہیں کچھ نہ کہیں

الاعلیٰ

Surah 87

﴿1﴾ (اے حبیب!) آپ پاکی بیان کریں اپنے رب کے نام کی جو سب سے برتر ہے

﴿2﴾ جس نے (ہر چیز کو) پیدا کیا پھر (ظاہری اور باطنی قوتیں دے کر ) درست کیا

﴿3﴾ اور جس نے (ہر چیز کا) اندازہ مقرر کیا پھر اسے راہ دکھائی

﴿4﴾ اور جس نے زمین سے چارا نکالا

﴿5﴾ پھر اسے بنادیا کوڑا سیاہی مائل

﴿6﴾ ہم خود آپ کو پڑھائیں گے پس آپ (اسے) نہ بھولیں گے

﴿7﴾ بجز اس کے جو اللہ چاہے بےشک وہ جانتا ہے ظاہر کو اور جو چھپی ہوتی ہے

﴿8﴾ اور ہم سہل بنادیں گے آپ کے لیے اس آسان (شریعت) پر عمل

﴿9﴾ پس آپ نصیحت کرتے رہیے اگر نصیحت فائدہ من دہو

﴿10﴾ سمجھ جائے گا جس کے دل میں (خدا کا) خوف ہوگا

﴿11﴾ اور دور رہے گا اس سے بد خت

﴿12﴾ جو (بالآخر) بڑی آگ میں داخل ہوگا۔

﴿13﴾ پھر نہ وہ وہاں مرے گا اور نہ جیے گا

﴿14﴾ بے شک اس نے فلاح پائی جس نے اپنے آپ کو پاک کیا

﴿15﴾ اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرتا رہا اور نماز پڑھتا رہا

﴿16﴾ البتہ تم لوگ دنیوی زندگی کو ترجیح دیتے ہو

﴿17﴾ حالانکہ آخرت کہیں بہتر ہے اس سے اور باقی رہنے والی ہے

﴿18﴾ یقیناً یہ (سب کچھ ) اگلے صحیفوں میں لکھا ہوا ہے

﴿19﴾ (یعنی) ابراہیم اور موسی (علیہما السلام) کے صحیفوں میں

الغاشیہ

Surah 88

﴿1﴾ کیا پہنچی ہے آپ کو چھا جانے والی آفت کی خبر

﴿2﴾ کتنے ہی چہرے اس دن ذلیل وخوار ہوں گے

﴿3﴾ مشقت میں مبتلا، تھکے ماندے

﴿4﴾ داخل ہوں گے دہکتی ہوئی آگ میں

﴿5﴾ انہیں پلایا جائے گا کھولتے ہوئے چشمہ سے

﴿6﴾ انہیں کوئی کھانا نہ ملے گا بجز خاردار جھاڑ کے

﴿7﴾ جو نہ فربہ کرے گا اور نہ بھوک دور کرے گا

﴿8﴾ کتنے ہی چہرے اس دن بارونق ہوں گے

﴿9﴾ اپنی کاوشوں پر خوش ہوں گے

﴿10﴾ عالی شان جنت میں

﴿11﴾ نہ سنیں گے وہاں کوئی لغو بات

﴿12﴾ اس میں چشمہ جاری ہوگا

﴿13﴾ اس میں اونچے اونچے تخت (بچھے) ہوں گے

﴿14﴾ اور ساغر (قرینے سے ) رکھے ہوں گے

﴿15﴾ اور گاؤ تکیے قطار در قطار لگے ہوں گے

﴿16﴾ اور قیمتی قالین بچھے ہوں گے

﴿17﴾ کیا یہ لوگ (غور سے) اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ اسے کیسے (عجیب طرح) پیدا کیا گیا ہے

﴿18﴾ اور آسمان کی طرف نہیں دیکھتے کہ اسے کیسے بلند کیا گیا ہے

﴿19﴾ اور پہاڑوں کی طرف کہ انہیں کیسے نصب کیا گیا ہے

﴿20﴾ اور زمین کی طرف کہ اسے کیسے بچھایا گیا ہے

﴿21﴾ پس آپ انہیں سمجھاتے رہا کریں آپ کا کام تو سمجھانا ہی ہے

﴿22﴾ آپ ان کو جبر سے منوانے والے تو نہیں ہیں

﴿23﴾ مگر جس نے روگردانی کی اور کفر کیا

﴿24﴾ تو اللہ اس کو سخت عذاب دے گا

﴿25﴾ بے شک انہیں (آخر) ہمارے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے

﴿26﴾ پھر یقیناً ہمارے ہی ذمہ ان کا حساب لینا ہے

الفجر

Surah 89

﴿1﴾ قسم ہے اس صبح کی

﴿2﴾ اور ان (مقدس) راتوں کی اور قسم ہے

﴿3﴾ جفت اور طاق (راتوں کی)

﴿4﴾ اور رات کی جب گزرنے لگے

﴿5﴾ یقینا اس میں قسم ہے عقلمند کے لیے

﴿6﴾ کیا آپ نے ملاحظہ نہ کیا کہ آپ کے رب نے کیا کیا عاد

﴿7﴾ ارم کے ساتھ جو اونچے ستونوں والے تھے

﴿8﴾ نہیں پیدا کیا گیا جن کا مثل (دنیا کے ) ملکوں میں

﴿9﴾ اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جنہوں نے کاٹا تھا چٹانوں کو وادی میں

﴿10﴾ اور (کیا کیا) فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا

﴿11﴾ جنہوں نے سرکشی کی تھی (اپنے اپنے) ملکوں میں

﴿12﴾ پھر ان میں بکثرت فساد برپا کردیا تھا

﴿13﴾ پس آپ کے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا

﴿14﴾ بے شک آپ کا رب (سرکشوں اور مفسدوں کی) تاک میں ہے

﴿15﴾ مگر انسان (بھی عجب شئے ہے ) کہ جب آزماتا ہے اسے اس کا رب یعنی اس کو عزت دیتا ہے اور پر انعام فرماتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رب نے مجھے عزت بخشی

﴿16﴾ اور جب اس کو (یوں) آزماتا ہے کہ اس پر روزی تنگ کردیتا ہے تو کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا

﴿17﴾ ایسا نہیں ہے بلکہ ( اس کی وجہ یہ ہے کہ) تم یتیم کی عزت نہیں کرتے

﴿18﴾ اور نہ تم ترغیب دیتے ہو مسکین کو کھانا کھلانے کی

﴿19﴾ اور چٹ کر جاتے ہو میراث کا سارا مال

﴿20﴾ اور دولت سے حد درجہ محبت کرتے ہو

﴿21﴾ ہر گز نہیں جب زمین کو کوٹ کر ریزہ ریزہ کردیا جائے گا

﴿22﴾ اور جب آپ کا رب جلوہ فرما ہوگا اور فرشتے قطار در قطار حاضر ہوں گے

﴿23﴾ اور (سامنے) لائی جائے گی اس دن جہنم اس روز انسان کو سمجھ آئے گی لیکن اس سمجھنے کا کیا فائدہ

﴿24﴾ (اس دن) کہے گا کاش! میں نے (کچھ) آگے بھیجا ہوتا اپنی (اس) زندگی کے لیے

﴿25﴾ پس اس دن اللہ کے عذاب کی طرح نہ کوئی عذاب دے سکے گا

﴿26﴾ اور نہ اس کے باندھنے کی طرح کوئی باندھ سکے گا

﴿27﴾ اے نفس مطمئن

﴿28﴾ پس چلو اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو اسے راضی (اور) اور وہ تجھ سے راضی

﴿29﴾ پس شامل ہوجاؤ میرے (خاص) بندوں میں

﴿30﴾ اور داخل ہوجاؤ میری جنت میں

البلد

Surah 90

﴿1﴾ میں قسم کھاتا ہوں اس شہر (مکہ ( کی)

﴿2﴾ دراں حالکہ آپ بس رہے ہیں اس شہر میں

﴿3﴾ اور قسم کھاتا ہوں باپ کی اور اولاد کی

﴿4﴾ بے شک ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں (زندگی بسر کرنے کے لیے ) پیدا کیا ہے

﴿5﴾ کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کسی کا بس نہیں چلے گا

﴿6﴾ کہتا ہے میں نے ڈھیروں مال فنا کردیا

﴿7﴾ کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اسے کسی نے نہیں دیکھا

﴿8﴾ کیا ہم نے نہیں بنائیں اس کے لیے دو آنکھیں

﴿9﴾ اور ایک زبان اور دو ہونٹ

﴿10﴾ اور ہم نے دکھا دیں اسے دونوں نمایاں راہیں

﴿11﴾ پھر وہ داخل ہی نہیں ہوا (عمل خیر کی دشوار) گھاٹی میں

﴿12﴾ اور کیا آپ سمجھے کہ وہ گھاٹی کیا ہے

﴿13﴾ وہ (غلامی سے) گردن چھڑانا ہے

﴿14﴾ یا کھانا کھلانا ہے بھوک کے دن (قحط سالی) میں

﴿15﴾ یتیم کو جو رشتہ دار ہے

﴿16﴾ یا خاک نشین مسکین کو

﴿17﴾ پھر وہ ایمان والوں سے ہو جو ایک دوسرے کو نصیحت کرتے ہیں صبر کی اور ایک دوسرے کو نصیحت کرتے ہیں رحمت کی

﴿18﴾ یہی لوگ دائیں ھاتھ والے ہیں

﴿19﴾ اور جنہوں نے انکار کیا ہماری آیتوں کا وہ لوگ بائیں ھاتھ والے ہیں

﴿20﴾ ان پر آگ چھائی ہوئی ہوگی

الشمس

Surah 91

﴿1﴾ قسم ہے آفتاب کی اور اس کی دھوپ کی

﴿2﴾ اور قسم ہے مہتاب کی جب وہ (غروب) آفتاب کے بعد آوے

﴿3﴾ اور قسم ہے دن کی جب آفتاب کو روشن کردے

﴿4﴾ اور رات کی جب وہ اسے چھپا لے

﴿5﴾ اور قسم ہے آسمان کی اور اسے بنانے والے کی

﴿6﴾ اور زمین کی اور اس کو بچھانے والے کی

﴿7﴾ قسم ہے نفس کی اور اس کو درست کرنے والے کی

﴿8﴾ پھر اس کے دل میں ڈال دیا اس کی نافرمانی اور اس کی پارسائی کو

﴿9﴾ یقیناً فلاح پا گیا جس نے (اپنے) نفس کو پاک کرلیا

﴿10﴾ اور یقیناً نامراد ہوا جس نے اس کو خاک میں دبا دیا

﴿11﴾ جھٹلایا قوم ثمود نے (اپنے پیغمبر کو) اپنی سرکشی کے باعث

﴿12﴾ جب اٹھ کھڑآ ہوا ان میں سے ایک بڑا بدبخت

﴿13﴾ تو کہا انہیں اللہ کے رسول نے کہ (خبردار رہنا) اللہ کی اونٹنی اور اس کی پانی کی باری سے

﴿14﴾ پھر بھی انہوں نے جھٹلایا رسول کو اور انٹنی کی کونچیں کاٹ دیں پس ہلاک کردیا انہیں ان کے رب نے ان کے گناہِ (عظیم) کے باعث اور سب کو پیوند خاک کردیا

﴿15﴾ اور کوئی ڈر نہیں اللہ کو ان کے (تباہ کن) انجام کا

اللّیل

Surah 92

﴿1﴾ قسم ہے رات کی جب وہ (ہر چیز پر) چھا جائے

﴿2﴾ اور قسم ہے دن کی جب وہ خوب چمک اٹھے

﴿3﴾ اور اس کی قسم جس نے پیدا کیا نر اور مادہ کو

﴿4﴾ بے شک تمہاری کوششیں مختلف ونوعیت کی ہیں

﴿5﴾ پھر جس نے (راہ خدا میں اپنا) مال دیا اور (اس سے ) ڈرتا رہا

﴿6﴾ اور (جس نے) اچھی بات کی تصدیق کی

﴿7﴾ تو ہم اسان کردیں گے اس کے لیے آسان راہ

﴿8﴾ اور جس نے بخل کیا اور بےپروا بنا رہا

﴿9﴾ اور اچھی بات کو جھٹلایا

﴿10﴾ تو ہم اسان کردیں گے اس کے لیے مشکل راہ

﴿11﴾ اور اس کے کسی کام نہ آئے گا اس کا مال جب وہ ہلاکت (کے گڑھے ) میں گرے گا

﴿12﴾ بے شک ہمارے ذمہ (کرم پر) ہے رہنمائی کرنا

﴿13﴾ یقیناً آخرت اور دنیا کے ہم ہی مالک ہیں

﴿14﴾ پس میں نے خبردار کردیا ہے تمہیں ایک بھڑکتی آگ سے

﴿15﴾ اس میں نہیں جلے گا مگر وہ انتہائی بدبخت

﴿16﴾ جس نے (نبی کریم کو) جھٹلایا اور (آپ سے) روگردانی کی

﴿17﴾ اور دور رکھا جائے گا اس سے وہ نہایت پرہیزگار

﴿18﴾ جو دیتا ہے اپنا مال اپنے (دل) کو پاک کرنے کے لیے

﴿19﴾ اور اس پر کسی کا کوئی احسان نہیں جس کا بدلہ اسے دینا ہو

﴿20﴾ بجز اس کے ککہ وہ اپنے برتر پروردگار کی خوشنودی کا طلب گار ہے

﴿21﴾ اور وہ ضرور (اس سے ) خوش ہوگا

الضحیٰ

Surah 93

﴿1﴾ قسم ہے روز روشن کی

﴿2﴾ اور رات کی جب وہ سکون کے ساتھ چھا جائے

﴿3﴾ نہ آپ کے رب نے آپ کو چھوڑا اور نہ ہی وہ ناراض ہوا

﴿4﴾ اور یقیناً ہر آنے والی گھڑی آپ کے لیے پہلی سے (بدرجہا) بہتر ہے

﴿5﴾ اوعنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے

﴿6﴾ کیا اس نے نہیں پایا آپ کو یتیم پھر ( اپنی آغوش رحمت میں) جگہ دی

﴿7﴾ اور آپ کو اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو منزل مقصود تک پہنچا دیا

﴿8﴾ اور اس نے آپ کو حاجت مند پایا تو غنی کردیا

﴿9﴾ پس کسی یتیم پر سختی نہ کیجیے

﴿10﴾ اور جو مانگنے آئے اس کو مت جھڑکیے

﴿11﴾ اور اپنے رب (کریم) کی نعمتوں کا ذکر فرمایا کیجیے

الم نشرح

Surah 94

﴿1﴾ کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ کشادہ نہیں کردیا

﴿2﴾ اور ہم نے اتار دیا ہے آپ سے آپ کا بوجھ

﴿3﴾ جس نے بوجھل کردیا تھا آپ کی پیٹھ کو

﴿4﴾ اور ہم نے بلند کردیا ہے آپ کی خاطر آپ کے ذکر کو

﴿5﴾ پس یقیناً ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے

﴿6﴾ بے شک یقینا ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے

﴿7﴾ پس جب آپ (فرائض نبوت سے) فارغ ہوں تو (حسب معمول) ریاضت میں لگ جائیں

﴿8﴾ اور اپنے رب کی طرف راغب ہوجائیں

التین

Surah 95

﴿1﴾ قسم ہے انجیر اور زیتون کی

﴿2﴾ اور قسم ہے طور سینا کی

﴿3﴾ اور اس امن والے شہر (مکہ مکرمہ) کی

﴿4﴾ بے شک ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے (عقل وشکل کے اعتبار سے) بہترین اعتدال پر

﴿5﴾ پھر ہم نے لوٹا دیا اس کو پست ترین حالت کی طرف

﴿6﴾ بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ان کے لیے نہ ختم کرنے والا اجر ہے

﴿7﴾ پس کون جھٹلا سکتا ہے آپ کو اس کے بعد جزا وسزا کے معاملہ میں

﴿8﴾ کیا نہیں ہے اللہ تعالیٰ سب حاکموں سے سے بڑا حاکم

العلق

Surah 96

﴿1﴾ آپ پڑھیے اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے (سب کو ) پیدا فرمایا

﴿2﴾ پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے

﴿3﴾ آپ کا رب بڑا کریم ہے

﴿4﴾ جس نے علم سکھایا قلم کے واسطہ سے

﴿5﴾ اسی نے سکھایا انسان کو جو وہ نہیں جانتا تھا

﴿6﴾ ہاں ہاں! بےشک انسان سرکشی کرنے لگتا ہے

﴿7﴾ اس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو مستغنی دیکھتا ہے

﴿8﴾ (اے غافل!) یقیناً تجھے اپنے رب کی طرف ہی پلٹنا ہے ۔

﴿9﴾ (اے حبیب!) آپ نے دیکھا اسے جو منع کرتا ہے

﴿10﴾ ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے

﴿11﴾ بھلا دیکھیے تو اگر وہ ہدایت پر ہوتا

﴿12﴾ یا پرہیزگاری کا حکم دیتا (تو اس کے لیے کتنا بہتر ہوتا)

﴿13﴾ آپ نے دیکھ لیا اگر اس نے جھٹلا یا اور روگردانی کی

﴿14﴾ کیا نہیں جانتا کہ اللہ تعالی (اسے) دیکھ رہا ہے

﴿15﴾ خبردار اگر وہ (اپنی روش سے ) باز نہ آیا تو ہم ضرور (اسے) گھسیٹیں گے اس کے پیشانی کے بالوں سے

﴿16﴾ وہ پیشانی جو جھوٹی (اور) خطا کار ہے

﴿17﴾ پس وہ بلالے اپنے ہم نشینوں کو (اپنی مدد کے لیے)

﴿18﴾ ہم بھی جہنم کے فرشتوں کو بلائیں گے۔

﴿19﴾ ہاں ہاں! اس کی ایک نہ سنیے ! (اے حبیب!) سجدہ کیجیے اور (ہم سے اور ) قریب ہوجائیے

القدر

Surah 97

﴿1﴾ بے شک ہم نے اس (قرآن) کو اتارا ہے شب قدر میں

﴿2﴾ اور آپ کچھ جانتے ہیں کہ شب قدر کیا ہے

﴿3﴾ شب قدر بہتر ہے ہزار مہینوں سے

﴿4﴾ اترتے ہیں فرشتے اور روح (القدس) اس میں اپنے رب کے حکم سے ہر امرِ (خیر) کے لیے

﴿5﴾ یہ سراسر (امن و) سلامتی ہے ۔ یہ رہتی ہے طلوع فجر تک

البیّنہ

Surah 98

﴿1﴾ جن لوگوں نے اہل کتاب میں سے کفر کیا (وہ) اور مشرکین (کفر سے) الگ ہونے والے نہ تھے جب تک کہ نہ آجائے ان کے پاس ایک روشن دلیل

﴿2﴾ (یعنی) ایک رسول اللہ کی طرف سے جو انہیں پڑھ کر سنائے پاک صحیفے

﴿3﴾ جن میں لکھی ہوں سچی اور درست باتیں

﴿4﴾ اور نہیں بٹے فرقوں میں اھل کتاب مگر اس کے بعد کہ آگئی ان کے پاس روشن دلیل

﴿5﴾ حالانکہ انہیں حکم دیا گیا تھا انہیں مگر یہ کہ عبادت کریں اللہ تعالیٰ کی دین کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے بالکل یکسو ہو کر اور قائم کرتے رہیں نماز، اور ادا کرتے رہیں زکوٰۃ اور یہی نہایت سچا دین ہے

﴿6﴾ بے شک جنہوں نے کفر کیا اہل کتاب سے (وہ) اور مشرکین آتش جہنم میں ہوں گے (اور) اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہی لوگ بدترین مخلوق ہیں

﴿7﴾ (ور) یقیناً جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، وہی ساری مخلوق سے بہتر ہیں

﴿8﴾ ان کی جزا ان کے پروردگار کے ہاں ہمیشگی کی جنتیں ہیں رواں ہوں گی جن کے نیچے نہریں وہ ان میں تاابد رہیں گے اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی یہ (سعادت) اس کو ملتی ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے

الزلزال

Surah 99

﴿1﴾ جب تھرتھرانے لگے گی زمین پوری شدت سے

﴿2﴾ اور باہر پھینک دے گی زمین اپنے بوجھوں (یعنی دفینوں) کو

﴿3﴾ اور انسان (حیران ہو کر ) کہے گا اسے کیا ہوگیا

﴿4﴾ اس روز وہ بیان کردے گی اپنے سارے حالات

﴿5﴾ کیونکہ آپ کے رب نے اسے (یونہی) حکم بھیجا ہے

﴿6﴾ اس روز پلٹ کر آئیں گے لوگ گروہ در گروہ تاکہ انہیں دکھا دیے جائیں ان کے اعمال

﴿7﴾ پس جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا

﴿8﴾ اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ (بھی) اسے دیکھ لے گا

العادیات

Surah 100

﴿1﴾ قسم ہے تیز دوڑنے والے گھوڑوں کی جب وہ سینہ سے آواز نکالتے ہیں

﴿2﴾ پھر پتھروں سے آگ نکالتے ہیں سم مار کر

﴿3﴾ ل پھر اچانک حملہ کرتے ہیں صبح کے وقت

﴿4﴾ پھر اس سے گردوغبار اڑاتے ہیں۔

﴿5﴾ پھر اسی وقت (دشمن کے) لشکر میں گھس جاتے ہیں

﴿6﴾ بے شک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکر گزار ہے

﴿7﴾ اور وہ اس پر (خود) گواہ ہے

﴿8﴾ اور بلاشبہ وہ مال کی محبت میں بڑا سخت ہے

﴿9﴾ کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا جب نکال لیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے

﴿10﴾ اور ظاہر کردیاجائے گا جو سینوں میں (پوشیدہ) ہے

﴿11﴾ یقیناً ان کا رب ان سے اس روز خوب باخبر ہوگا

القارعہ

Surah 101

﴿1﴾ (دل دہلا دینے والی) کڑک

﴿2﴾ یہ (زہرہ گداز) کڑک کیا ہے ؟

﴿3﴾ اور آپ کو کیا معلوم کہ یہ کڑک کیا ہے

﴿4﴾ جس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو گے

﴿5﴾ اور پہاڑ رنگ برنگی دھنکی ہوئی اون کی مانند ہوں گے

﴿6﴾ پھر جس کے (نیکیوں کے ) پلڑے بھاری ہوں گے

﴿7﴾ تو وہ دل پسند عیش (ومسرت) میں ہوگا

﴿8﴾ اور جس کے (نیکیوں کے) پلڑے ہلکے ہوں گے

﴿9﴾ تو اس کا ٹھکانا ہاویہ ہوگا

﴿10﴾ اور آپ کو کیا معلوم کہ وہ ہاویہ کیا ہے ؟

﴿11﴾ ایک دہکتی ہوئی اگ

التکاثر

Surah 102

﴿1﴾ غافل رکھا تمہیں زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے کی ہوس نے

﴿2﴾ یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پہنچے

﴿3﴾ ہاں ہاں تم جلد جان لوگے

﴿4﴾ پھر ہاں ہاں ! تمہیں ( اپنی کوششوں کا انجام) جلد معلوم ہوجائے گا

﴿5﴾ ہاں! ہاں! اگر تم (اس انجام کو ) یقینی طور سے جانتے (تو ایسا ہر گز نہ کرتے)

﴿6﴾ تم دیکھ کر رہو گے دوزخ کو

﴿7﴾ پھر آخرت میں تم دوزخ کو یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے

﴿8﴾ پھر ضرور پوچھا جائے گا تم سے اس دن جملہ نعمتوں کے بارے میں

العصر

Surah 103

﴿1﴾ قسم ہے زمانہ کی

﴿2﴾ یقیناً ہر انسان خسارہ میں ہے

﴿3﴾ بجز ان (خوش نصیبوں ) کے جو ایمان لے آئے اور نیک عمل کرتے رہے نیز ایک دوسرے کو حق کی تلقین کرتے رہے اور ایک دوسرے کو صبر کی تاکید کرتے رہے

الھمزہ

Surah 104

﴿1﴾ ہلاکت ہے ہر اس شخص کے لیے جو (روبرو ) طعنے دیتا ہے (پیٹھ پیچھے) عیب جوئی کرتا ہے

﴿2﴾ جس نے مال جمع کیا اور اسے گن گن کر رکھتا ہے

﴿3﴾ وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس کے مال نے اسے لافانی بنادیا ہے

﴿4﴾ ہر گز نہیں وہ یقیناً حطمہ میں پھینک دیا جائے گا

﴿5﴾ اور تم کیا جانو کہ حطمہ کیا ہے

﴿6﴾ وہ اللہ کی آگ ہے خوب بھڑکائی ہوئی

﴿7﴾ جو دلوں تک جا پہنچے گی

﴿8﴾ بے شک وہ (آگ) ان پر بند کردی جائے گی

﴿9﴾ (اس کے شعلے) لمبے لمبے ستونوں کی صورت میں ہوں گے

الفیل

Surah 105

﴿1﴾ کیا آپ نے ملاحظہ نہیں کیا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا

﴿2﴾ کیا اللہ تعالیٰ نے ان کے مکروفریب کو ناکام نہیں بنادیا

﴿3﴾ اور (وہ یوں کہ ) بھیج دیے ان پر ہر سمت سے پرندے، ڈاروں کے ڈار

﴿4﴾ جو برساتے تھے ان پر کنکر پتھریاں

﴿5﴾ پس بنا ڈال ان کو جیسے کھایا ہوا بھوسہ

قریش

Surah 106

﴿1﴾ اس لیے کہ اللہ نے قریش کے دلوں میں الفت پیدا کردی

﴿2﴾ الفت تجارتی سفر کی جاڑے اور گرمی (کے موسم) میں

﴿3﴾ پس چاہیے کہ وہ عبادت کیا کریں اس خانہ (کعبہ) کے رب کی

﴿4﴾ جس نے انہیں رزق دے کر فاقہ سے نجات بخشی اور امن عطا فرمایا انہیں (فتنہ و) خوف سے

الماعون

Surah 107

﴿1﴾ کیا آپ نے دیکھا ہے اس کو جو جھٹلاتا ہے (روزِ) جزا کو

﴿2﴾ پس یہی وہ (بدبخت ہے) جو دھکے دے کر نکالتا ہے یتیم کو

﴿3﴾ اور نہ ہی برانگیختہ کرتا ہے (دوسروں کو) کہ غریب کو کھانا کھلائیں

﴿4﴾ پس خرابی ہے ایسے نمازیوں کے لیے

﴿5﴾ جو اپنی نماز کی (ادائیگی ) سے غافل ہیں

﴿6﴾ وہ جو ریاکاری کرتے ہیں

﴿7﴾ اور (مانگے بھی) نہیں دیتے روز مرہ استعمال کی چیز

الکوثر

Surah 108

﴿1﴾ بے شک ہم نے آپ کو ( جو کچھ عطا کیا ) بےحد وحساب عطا کیا

﴿2﴾ پس آپ نماز پڑھا کریں اپنے رب کے لیے اور قربانی دیں (اسی کی خاطر)

﴿3﴾ یقیناً آپ کا جو دشمن ہے وہی بےنام (ونشاں) ہوگا

الکافرون

Surah 109

﴿1﴾ آپ فرمادیجیے اے کافرو

﴿2﴾ میں پرستش نہیں کیا کرتا (ان بتوں کی ) جن کی تم پرستش کرتے ہو

﴿3﴾ اور نہ ہی تم عبادت کرنے والے ہو اس (خدا ) کی جس کی میں عبادت کیا کرتا ہوں

﴿4﴾ اور نہ ہی میں کبھی عبادت کرنے والا ہوں جن کی تم پوجا کیا کرتے ہو

﴿5﴾ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کیا کرتا ہوں

﴿6﴾ تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین

النصر

Surah 110

﴿1﴾ جب اللہ کی مدد آ پہنچے اور فتح ( نصیب ہوجائے)

﴿2﴾ اور آپ دیکھ لیں لوگوں کو کہ وہ داخل ہورہے ہیں اللہ کے دین میں فوج در فوج

﴿3﴾ تو (اس وقت) اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے اس کی پاکی بیان کیجیے اور (اپنی امت کے لیے ) اس سے مغفرت طلب کیجیے بیشک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے

اللهب

Surah 111

﴿1﴾ ٹوٹ جائیں ابو لہب کے دونوں ہاتھ اور وہ تباہ وبرباد ہوگیا

﴿2﴾ کوئی فائدہ نہ پہنچایا اسے اس کے مال نے اور جو اس نے کمایا

﴿3﴾ عنقریب وہ جھونکا جائے گا شعلوں والی آگ میں

﴿4﴾ اور اس کی جورو بھی بدبخت ایندھن اٹھانے والی

﴿5﴾ اس کے گلے میں مونج کی رسی ہوگی

الاخلاص

Surah 112

﴿1﴾ اے حبیب! فرمادیجیے وہ اللہ ہے ، یکتا

﴿2﴾ اللہ صمد ہے

﴿3﴾ نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا

﴿4﴾ اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے

الفلق

Surah 113

﴿1﴾ آپ عرض کیجیے میں پناہ لیتا ہوں صبح کے پروردگار کی

﴿2﴾ ہر اس چیز کے شر سے جس کو اس نے پیدا کیا

﴿3﴾ اور (خصوصا) رات کی تاریکی کے شر سے جب وہ چھا جائے

﴿4﴾ اور ان کے شر سے جو پھونکے مارتی ہیں گرھوں میں

﴿5﴾ اور (میں پناہ مانگتا ہوں) حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے

الناس

Surah 114

﴿1﴾ (اے حبیب!) عرض کیجیے میں پناہ لیتا ہوں سب انسانوں کے پروردگار کی ،

﴿2﴾ سب انسانوں کے بادشاہ کی،

﴿3﴾ سب انسانوں کے معبود کی

﴿4﴾ بار بار وسوسہ ڈالنے والے، بار بار پسپا ہونے والے کے شر سے

﴿5﴾ جو وسوسہ ڈالتا رہتا ہے لوگوں کے دلوں میں

﴿6﴾ خواہ وہ جنات میں سے ہو یا انسانوں سے