﴿2﴾ یہ ذِی شان کتاب ذرا شک نہیں اس میں یہ ہدایت ہے پرہیزگاروں کے لیے
﴿3﴾ وہ جو ایمان لائے ہیں غیب پر اور صحیح صحیح ادا کرتے ہیں نماز اور اس سے جو ہم نے انھیں روزی دی خرچ کرتے ہیں
﴿4﴾ اور وہ جو ایمان لائے ہیں اس پر (اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) جا اتارا گیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور جو اتارا گیا آپ سے پہلے اور آخرت پر بھی وہ یقین رکھتے ہیں
﴿5﴾ وُہی لوگ ہدایت پر ہیں اپنے رب (کی توفیق) سے اور وہی دونوں جہان میں کامیاب ہیں
﴿6﴾ بے شک نہوں نے کفر اختیار کرلیا ہے یکساں ہے ، ان کے لیے چاہے آپ انھیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے
﴿7﴾ مُہر لگادی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔
﴿8﴾ اور کچھ لوگ ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر اور روز قیات پر حالانکہ وُہ مومن نہیں
﴿9﴾ فریب دیا چاہتے ہیں اللہ کو اور اینا والوں کو اور (حقیقت میں) نہیں فریب دے رہے مگر اپنے آپ کو (اور اس حقیقت کو) نہیں سمجھتے
﴿10﴾ ان کے دلوں میں بیماری ہے پھر بڑھادی اللہ نے ان کی بیماری اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے بوجہ اس کے کہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔
﴿11﴾ اور جب کہا جائے اُنھیں کہ مت فساد پھیلاؤ زمین میں تو کہتے ہیں ہم ہی تو سنوارنے والے ہیں ۔
﴿12﴾ ہوشیار! وُہی فسادی ہیں لیکن سمجھتے نہیں
﴿13﴾ اور جب کہا جائے اُنھیں ایمان لاؤ جیسے ایمان لائے (اور) لوگ تو کہتے ہیں کیا ہم ایمان لائیں جس طرح ایمان لائے بیوقُوف خبردار! بےشک وہی احمق ہیں مگر وہ جانتے نہیں ۔
﴿14﴾ اور جب ملتے ہیں ایمان والوں سے کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب اکیلے میں ہوتے ہیں اپنے شیطانوں کے پاس تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو صرف (اِن کا ) مذاق اڑارہے تھے ۔
﴿15﴾ اللہ سزا دے رہا ہے انھیں اس مذاق کی اور ڈھیل دیتا ہے انھیں تاکہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں
﴿16﴾ (یہ) وہ لو گ ہیں جنھوں نے خرید لی گمراہی ہدایت کے بدلے مگر نفع بخش نہ ہوئی ان کی (یہ) تجارت اور وہ صحیح راہ نہ جانتے تھے ۔
﴿17﴾ ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ روشن کی پھر جب جگمگا اٹھا اس کا آس پاس تو لے گیا الہ ان کا نور اور چھوڑ ید انھیں گھپ اندھیروں میں کچھ نہیں دیکھتے۔
﴿18﴾ یہ بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں سو وہ نہیں پھریں گے
﴿19﴾ یا پھر جیسے زور کا مینہ برس رہا ہو بادل سے جس میں اندھیرے ہوں اور گرج اور چمک ہو ٹھونستے ہیں اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں کڑک کے باعث موت کے ڈر سے اور اللہ گھیرے ہوئے کافروں کو
﴿20﴾ قریب ہے کہ بجلی اچک لے جائے ان کی بینائی جب چمکتی ہے ان کے لیے تو چلنے لگتے ہیں اس (کی روشنی) میں اور جب اندھیرا چھا جاتا ہے ان پر تو کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر چاہے اللہ تو لے جائے ان کے سننے کی قوت اور ان کی بینائی بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے ۔
﴿21﴾ اے لوگو! عبادت کرو اپنے رب کی جس نے پیدا فرمایا تمہیں اور جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ
﴿22﴾ وہ جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو عمارت اور اتارا آسمان سے پانی پھر نکالے اس سے کچھ پھل تمہارے کھانے کے لیے پس نہ ٹھراؤ اللہ کے لیے مد مقابل اور تم جانتے ہو
﴿23﴾ اور اگر تمھیں شک ہو اس میں جو ہم نے نازل کیا اپنے (برگزیدہ) بندے پر تو لے آؤ ایک سورۃ اِ س جیسی اور بلا لو اپنے حماتیوں کو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو۔
﴿24﴾ پھر اگر ایسا نہ کرسکو اور ہرگز نہ کرسکو گے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں جو تیار کی گئی ہے کافروں کے لیے
﴿25﴾ اور خوشخبری دیجیے انھیں جو ایمان لائے اور کیے نیک عمل (کہ) یقیناً ان کے لیے باغات ہیں بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں جب کھلایا جائے گا انھیں ان باغوں سے کوئی پھل (تو صورت دیکھ کر ) کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ہمیں پہلے کھلایا گیا تھا اور دیا گیا انھیں پھل (صورت میں ) ملتا جلتا اور ان کے لیے جنت میں پاکیزہ بیویاں ہوں گی۔ اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ۔
﴿26﴾ بے شک اللہ حیا نہیں فرماتا اس سے کہ زکر کرے کوئی مثال مچھر کی ہو یا س سے بھی حقیر چیز کی تو جو ایمان لائے وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ مثال حق ہے ان کے رب کی طرف سے (اُتری ہے ) اور جنھوں نے کفر کیا سو وہ کہتے ہیں کیا قصد کیا اللہ نے اس مثال کے زکر سے گمراہ کرتا ہے اللہ اسے بہتیروں کو اور ہدایت دیتا ہے اس سے بہتروں کو اور نہیں گمراہ کرتا اس سے مگر نافرمانوں کو
﴿27﴾ وہ جو توڑتے رہتے ہیں عہد خداوندی کو اسے پختہ باندھنے کے بعد اور کاٹتے رہتے ہیں اسے، حکم فرمایا اللہ نے جس کے جوڑنے کا اور فساد مچاتے رہتے ہیں زمین میں وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔
﴿28﴾ کیونکر تم انکار کرتے ہو اللہ کا ف حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا پھر اسی کی طرف تم پلٹائے جاؤ گے ف۔
﴿29﴾ وہی تو ہے جس نے پیدا کیا تمہارے لیے جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب پھر توجہ فرمائی اُوپر کی طرف تو ٹھیک ٹھیک بنادیا انھیں ساتھ آسمان اور وہ سب کچھ خوب جانتا ہے
﴿30﴾ اور یاد کرو جب فرمایا تمہارے رب نے فرشتوں سے میں مقرر کرنے والا ہوں زمین میں ایک نائب کہنے لگے کیا تو مقرر کرتا زمین میں جو فساد برپا کرے گا اس میں اور خونریزیاں کرے گا حالانکہ ہم تیری تسبیح کرتے ہیں تیری حمد کے ساتھ اور پاکی بیان کرتے ہیں تیرے لیے فرمایا بےشک میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
﴿31﴾ اور اللہ نے سکھادیے آدم کو تمام اشیاء کے نام پھر پیش کیا انھیں فرشتوں کے سامنے اور فرمایا بتاؤ تو مجھے نام ان چیزوں کے اگر تم (اپنے اس خیال میں) سچے ہو
﴿32﴾ عرض کرنے لگے ہر عیب سے پاک تو ہی ہے کچھ علم نہیں ہمیں مگر جتنا تونے ہمیں سکھادیابے شک تو ہی علمِ و حکمت والا ہے
﴿33﴾ فرمایا اے آدم! بتادو انھیں ان چیزوں کے نام پھر جب آدم نے بتادیے فرشتوں کو ان کے نام تو اللہ نے فرمایا کیا نہیں کہا تھا میں نے تم سے کہ میں خوب جانتا ہوں سب چھپی ہوئی چیزیں آسمانوں اور زمین کی اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے تھے۔
﴿34﴾ اور جب ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور (داخل) ہوگیا وہ کفار (کے ٹولہ) میں
﴿35﴾ اور ہم نے فرمایا اے آدم! رہوتم اور تمہاری بیوی اس جنت میں اور دونوں کھاؤ اس سے جتنا چاہو جہاں سے چاہو اور مت نزدیک جانا اس درخت کے ورنہ ہوجاؤ گے اپنا حق تلف کرنے والوں سے
﴿36﴾ پھر پھسلادیا انھیں شیطان نے اس درخت کے باعث اور نکلوادیا ان دونوں کو وہاں سے جہاں وہ تھے اور ہم فرمایا اتر جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن رہوگے اور (اب) تمہارا زمین میں ٹھکانہ ہے اور فائدہ اٹھانا ہے وقت مقرر تک
﴿37﴾ پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے چند کلمے تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کی ۔ بےشک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم فرمانے والا
﴿38﴾ ہم نے حکم دیا اترجاؤ اس جنت سے سب کے سب پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے (پیغام) ہدایت تو جس نے پیروی کی میری ہدایت کی انھیں نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
﴿39﴾ اور جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو (تو) وہ دوزخی ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
﴿40﴾ اے اولاد یعقوب یاد کرو میرا وہ احسان جو کیا میں نے تم پر اور پورا کرو تم میرے (ساتھ کیے ہوئے) وعدہ کو میں پورا کروں گا تمہارے (ساتھ کیے ہوئے) وعدہ کو اور صرف مجھی سے ڈرا کرو
﴿41﴾ اور ایمان لاؤاُس (کتاب) پر جو نازل کی ہے میں نے یہ سچا ثابت کرنے والی ہے اس کو جو تمہارے پاس ہے اور نہ بن جاؤ تم سب سے پہلے انکار کرنے والے اس کے اور نہ خریدہ تم میری آیتوں کے عوض تھوڑی سے قیمت اور صرف مجھی سے ڈرا کرو
﴿42﴾ اور مت ملایا کرو حق کو باطل کے ساتھ ف اور مت چھپاؤ حق کو حالانکہ تم (اسے) جانتے ہو
﴿43﴾ اور صحیح ادا کرو نماز اور دیا کرو زکوٰۃ اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ
﴿44﴾ کیا تم حکم کرتے ہو (دوسرے ) لوگوں کو نیکی کا اور بھلا دیتے ہو اپ آپ کو حالانکہ تم پڑھتے ہو کتاب ف کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے
﴿45﴾ اور مدد لو صبر اور نماز سے اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر عاجزی کرنے والوں پر (بھاری نہیں)
﴿46﴾ جو یقین کرتے ہیں کہ وہ ملاقات کرنے والے ہیں اپنے رب سے اور وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں
﴿47﴾ اے اولاد یعقوب علیہ السلام! یاد کرو میرا وہ احسان جو میں نے تم پر کیا اور (یہ کہ ) میں نے فضیلت دی تھی تمہیں سارے جہان والوں پر
﴿48﴾ اور ڈرو اس دن سے جب نہ بدلہ دے سکے گا کوئی شخص کسی کا کچھ بھی اور نہ قبول کی جائے گی اس کے لئے سفارش ف اور نہ لیا جائے گا اس سے کوئی معاوضہ اور نہ وہ مدد کئے جائیں گے
﴿49﴾ اور یاد کرو جب نجات بخشی ہم نے تمہیں فرعونیوں سے جو پہنچاتے تھے تمہیں سخت عذاب (یعنی) ذبح کرتے تھے ف تمہارے بیٹوں کو اور زندہ رہنے دیتے تھے تمہاری عورتوں (بیٹیوں ) کو اور اس میں بڑی بھاری آزمائش تھی تمہارے رب کی طرف سے ف
﴿50﴾ اور جب پھاڑ دیا ہم نے تمہارے لئے سمندر کو پھر ہم نے بچا لیا تم کو اور ڈبو دیا فرعونیوں کو اور تم (کنارے پر کھڑے) دیکھ رہے تھے ف
﴿51﴾ اور یاد کرو جب ہم نے وعدہ فرمایا موسیٰ ( علیہ السلام) سے چالیس رات کا پھر بنالیا تم نے بچھڑے کو (معبود) اس کے بعد اور تم سخت ظالم تھے
﴿52﴾ پھر بھی درگزر فرمایا ہم نے تم سے اس (ظلم عظیم) کے بعد شاید کہ تم شکر گزار بن جاؤ ف
﴿53﴾ اور جب عطا فرمائی ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب اور حق وباطل میں تمیز کی قوت ف تاکہ تم سیدھی راہ پر چلنے لگو
﴿54﴾ اور یاد کرو جب کہا موسیٰ (علیہ السلام نے) اپنی قوم سے اے میری قوم! بےشک تم نے ظلم ڈھایا اپنے آپ پر بچھڑے کو (خدا) بنا کر پس چاہئے کہ توبہ کرو اپنے خالق کے حضور سو قتل کرو اپنوں کو (جنہوں نے شرک کیا) یہ بہتر ہے تمہارے لئے تمہارے خالق کے نزدیک ف پھر حق تعالیٰ نے تمہاری توبہ قبول کر لی بےشک وہی بہت توبہ قبول کرنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے
﴿55﴾ اور یاد کرو جب تم نے کہا اے موسیٰ علیہ السلام! ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے تجھ پر جب تک ہم نہ دیکھ لیں اللہ کو ظاہر ف پس (اس گستاخی پر) آلیا تم کو بجلی کی کڑک نے اور تم دیکھ رہے تھے
﴿56﴾ پھر ہم نے جلا اٹھایا تمہیں تمہارے مرجانے کے بعد کہ کہیں تم شکر گزار بنو
﴿57﴾ اور ہم نے سایہ کردیا تم پر بادل کا اور اتارا تم پر من و سلویٰ کھاؤ پاکیزہ چیزوں سے جو ہم نے تمھیں دے رکھی ہیں اور انھوں نے ہم پر کوئی زیادتی نہیں کی بلکہ وہ اپنی ہی جانوں پر زیادتی کرتے رہتے تھے۔
﴿58﴾ اور یاد کرو جب ہم نے حکم دیا داخل ہو جاؤ اس بستی میں ف پھر کھاؤ اس میں جہاں سے چاہو اور جتنا چاہو اور داخل ہونا دروازہ سے سر جھکائے ہوئے ف اور کہتے جانا بخش دے (ہمیں ) ہم بخش دیں گے تمہاری خطائیں اور ہم زیادہ دیتے ہیں نیکو کاروں کو
﴿59﴾ پس بدل ڈالا ان ظالموں نے اور بات سے جو کہا گیا تھا انہیں تو ہم نے اتارا ان ستم پیشہ لوگوں پر عذاب آسمان سے بوجہ اس کے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے ف
﴿60﴾ اور یاد کرو جب پانی کی دعا مانگی موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے لئے تو ہم نے فرمایا مارو اپنا عصا فلاں چٹان پر تو فوراً بہہ نکلے اس چٹان سے بارہ چشمے ف پہچان لیا ہر گروہ نے اپنا اپنا گھاٹ کھاؤ اور پیو اللہ کے دئیے ہوئے رزق سے اور نہ پھرو زمین میں فساد برپا کرتے ہوئے
﴿61﴾ اور یاد کرو جب تم نے کہا اے موسیٰ علیہ السلام! ہم صبر نہیں کر سکتے ایک ہی طرح کے کھانے پر سو آپ دعا کیجئے ہمارے لئے اپنے پروردگار سے کہ نکالے ہمارے لئے وہ جن کو زمین اگاتی ہے (مثلاً ) ساگ اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز ، موسیٰ علیہ السلام نے کہا کیا تم لینا چاہتے ہو وہ چیز جو ادنیٰ ہے اس کے بدلہ میں جو عمدہ ہے (اچھا ) جا رہو کسی شہر میں تمہیں مل جائے گا جو تم نے مانگا اور مسلط کر دی گئی ان پر ذلت اور غربت ف اور مستحق ہوگئے غضب الٰہی کے یہ (سب کچھ) اس وجہ سے تھا کہ وہ انکار کرتے رہتے تھے اللہ کی آیتوں کا اور قتل کرتے تھے انبیاء کو ناحق ف یہ (سب کچھ) اس وجہ سے تھا کہ وہ نافرمان تھے اور حد سے بڑھ جایا کرتے تھے
﴿62﴾ یقین کرو ف اسلام کے پیروکار ہوں یا یہودی، عیسائی ہوں یا صابی ف جو کوئی بھی ایمان لائے اللہ پر اور دن قیامت پر اور نیک عمل کرے تو ان کے لئے ان کا اجر ہے ان کے رب کے ہاں اور نہیں کوئی اندیشہ ان کے لئے اور نہ وہ غمگین ہوں گے
﴿63﴾ اور یاد کرو جب ہم نے لیا تم سے پختہ وعدہ اور بلند کیا تم پر طور کو (اور حکم دیا) پکڑ لو جو ہم نے تم کو دیا مضبوطی سے اور یاد رکھنا وہ (احکام) جو اس میں درج ہیں شاید کہ تم پرہیز گا ر بن جاؤ ۔
﴿64﴾ پھر منہ موڑ لیا تم نے پختہ وعدہ کرنے کے بعد تو اگر تم ر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم ضرور ہوجاتے نقصان اٹھانے والوں میں۔
﴿65﴾ اور تم خوب جانتے ہو ف انہیں جنہوں نے نافرمانی کی تھی تم میں سے سبت کے قانون کی تو ہم نے حکم انہیں کہ بن جاؤ بندر پھٹکارے ہوئے ف
﴿66﴾ پس ہم نے بنادیا اس سزا کو عبرت ان کے لیے جو اس زمانہ میں موجود تھے اور جو بعد میں آنے والے تھے اور (اسے) نصیحت بنا دیا پرہیزگاروں کے لیے۔
﴿67﴾ اور یاد کرو جب کہا موسیٰ (علیہ السلام نے) اپنی قوم سے کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے تمہیں کہ تم ذبح کرو ایک گائے ف وہ بولے کیا آپ ہمارا مذاق اڑاتے ہیں ف آپ نے کہا میں پناہ مانگتا ہو خدا سے کہ میں شامل ہو جاؤں جاہلوں (کے گروہ) میں ف
﴿68﴾ بولے دعا کیجئے ہمارے لئے اپنے رب سے کہ وہ بتائے ہمیں کہ کیسی ہے وہ گائے ف موسیٰ علیہ السلام نے کہا اللہ فرماتا ہے کہ وہ گائے ہے جو نہ بوڑھی ہو اور نہ بالکل بچی (بلکہ) درمیانی عمر کی ہو تو بجا لاؤ جو تمہیں حکم دیا جا رہا ہے
﴿69﴾ کہنے لگے دعا کرو ہمارے لیے اپنے رب سے کہ بتائے ہمیں کیسا رنگ ہو اس کا موسیٰ ( علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسی گائے جس کی رنگت خوب گہری زرد ہو جو فرحت بخشے دیکھنے والوں کو ۔
﴿70﴾ کہنے لگے پوچھو ہمارے لیے اپنے رب سے کہ کھول کر بیان کرے ہمارے لیے کہ گائے کیسی ہو بیشک گائے مشتبہ ہوگئی ہے ہم پر اور ہم اگر اللہ نے چاہا تو ضرور اس کو تلاش کرلیں گے ۔
﴿71﴾ موسیٰ علیہ السلام بولے اللہ فرماتا ہے وہ گائے جس سے خدمت نہ لی گئی ہو کہ ہل چلائے زمین میں اور نہ پانی دے کھیتی کو بےعیب بےداغ (عاجز ہو کر) کہنے لگے اب آپ لائے صحیح پتہ پھر انہوں نے ذبح کیا اسے اور وہ ذبح کرتے معلوم نہیں ہوتے تھے ف
﴿72﴾ اور یاد کرو جب قتل کرڈالا تھا تم نے ایک شخض کو پھر تم ایک دوسرے پر قتل کا الزام لگانے گلے اور اللہ ظاہر کرنے والا تھا جو تم چھپا رہے تھے ۔
﴿73﴾ تو ہم نے فرمایا کہ مارو اس مقتول کو گائے کے کسی ٹکڑے سے (دیکھا) یوں زندہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ مردوں کو اور دکھاتا ہے تمھیں اپنی (قدرت کی) نشانیاں شاید تم سمجھ جاؤ ۔
﴿74﴾ پھر سخت ہوگئے تمہارے دل یہ منظر دیکھنے کے بعد بھی وہ تو پتھر کی طرح (سخت) ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت (کیونکہ) کئی پتھر ایسے بھی ہیں جن سے بہ نکلتی ہیں نہریں اور کئی ایسے بھی ہیں کہ جو پھٹتے ہیں تو ان سے پانی نکلنے لگتا ہے اور کئی ایسے بھی ہیں جو گر پڑتے ہیں خوف الہیٰ سے اور اللہ بےخبر نہیں ہے ان (کرتوتوں) سے جو تم کرتے ہو۔
﴿75﴾ (اے مسلمانو) کیا تم یہ امید رکھتے ہو کہ (یہ یہودی) ایمان لائیں گے تمہارے کہنے سے حالانکہ ایک گروہ ان میں ایسا تھا جو سنتا تھا کلام الہیٰ کو پھر بدل دیتے تھے اسے خوب سمجھ لینے کے بعد جان بوجھ کر ۔
﴿76﴾ اور جب ملتے ہیں ایمان والوں سے تو کہتے ہیں ہم بھی ایمان لائے ہیں اور جب تنہا ملتے ہیں ایک دوسرے سے تو کہتے ہیں (ارے) کیا بیان کرتے ہو ان سے جو کھلا ہے اللہ نے تم پر یوں تو وہ دلیل قائم کریں گے تم پر ان باتوں سے تمہارے رب کے سامنے کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے۔
﴿77﴾ کیا وہ (یہ) نہیں جانتے کہ اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔
﴿78﴾ اور ان میں کچھ ان پڑھ ہیں جو نہیں جانتے کتاب کو بجز جھوٹی امیدوں کے اور وہ تو محض وہم و گمان ہی کرتے رہتے ہیں۔
﴿79﴾ پس ہلاکت ہو ان کے لیے جو لکھتے ہیں کتاب خود اپنے ہاتھوں سے پھر کہتے ہیں یہ نوشتہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ حاصل کرلیں اس کے عوض تھوڑے سے دام سو ہلاکت ہو ان کے لیے بوجہ اس کے جو لکھا ان کے ہاتھوں نے اور ہلاکت ہو ان کے لیے بوجہ اس مال جو وہ (یوں) کماتے ہیں۔
﴿80﴾ اور انہوں نے کہا ہرگز نہ چھوئے گی ہمیں (دوزخ کی ) آگ بجز گنتی کے چند دن ف آپ فرمائیے کیا لے رکھا ہے تم نے اللہ سے کوئی وعدہ تب تو خلاف ورزی نہ کرے گا اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کی یا (یونہی) بہتان باندھتے ہو اللہ پر جو تم جانتے ہی نہیں
﴿81﴾ ہاں (ہمارا قانون یہ ہے) جس نے جان کر برائی کی اور گھیر لیا اس کو اس کی خطا نے تو وہی دوزخی ہیں وہ ا س میں ہمیشہ رہنے والے ہیں
﴿82﴾ اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہی جنتی ہیں ف وہ اس جنت میں ہمیشہ رہنے والے ہیں
﴿83﴾ اور یاد کرو جب لیا تھا ہم نے پختہ وعدہ بنی اسرائیل سے (اس بات کا) کہ نہ عبادت کرنا بجز اللہ کے ف اور ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا نیز رشتہ داروں یتیموں اور مسکینوں سے بھی (مہربانی کرنا ) اور کہنا لوگوں سے اچھی باتیں اور صحیح ادا کرنا نماز اور دیتے رہنا زکوٰۃ پھر منہ موڑ لیا تم نے مگر چند آدمی تم سے (ثابت قدم رہے) اور تم رو گردانی کرنے والے ہو
﴿84﴾ اور یاد کرو جب لیا ہم نے تم سے پختہ وعدہ کہ تم اپنوں کا خون نہیں بہاؤ گے اور نہیں نکالوگے اپنوں کو اپنے وطن سے پھر تم نے (اِس وعدہ پر ثابت رہنے کا ) اقرار بھی کیا اور تم خود اس کے گواہ ہو۔
﴿85﴾ پھر تم وہی ہونا (جنہوں نے یہ وعدے کئے ) کہ اب قتل کر رہے ہو اپنوں کو اور نکال باہر کرتے ہو اپنے گروہ کو ان کے وطن سے (نیز) مدد دیتے ہو ان کے خلاف (دشمنوں کو) گناہ اور ظلم سے اور اگر آئیں تمہارے پاس قیدی بن کر (تو بڑے پاکباز بن کر) ان کو فدیہ ادا کرتے ہو حالانکہ حرام کیا گیا تھا تم پر ان کا گھروں سے نکالنا تو کیا تم ایمان لاتے ہو کتاب کے کچھ حصہ پر اور انکار کرتے ہو کچھ حصہ کا ف (تم خود ہی کہو) کیا سزا ہے ایسے نابکار کی تم میں سے سوائے اس کے کہ رسوا رہے دنیا کی زندگی میں اور قیامت کے دن تو انہیں پھینک دیا جائے گا سخت ترین عذاب میں اور اللہ بےخبر نہیں ان (کرتوتوں ) سے جو تم کرتے ہو
﴿86﴾ یہ ہیں وہ لوگ جنھوں نے مول لے لی ہے دنیا کی زندگی آخرت کے عوض تو نہ ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی۔
﴿87﴾ اور بےشک ہم نے عطا فرمائی موسیٰ علیہ السلام کو کتاب اور ہم نے پے در پے ان کے پیچھے پیغمبر بھیجے اور دیں ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) بن مریم علیہ السلام کو روشن نشانیاں ف اور ہم نے تقویت دی انہیں جبرائیل سے ف تو کیا جب کبھی لے آیا تمہارے پاس کوئی پیغمبر ایسا حکم ہے جسے تمہارے نفس پسند نہ کرتے تو تم اکڑ گئے بعض کو تم نے جھٹلایا اور بعض کو قتل کرنے لگے
﴿88﴾ اور یہودی بولے ہمارے دلوں پر تو غلاف چڑھے ہیں ف نہیں بلکہ پھٹکار دیا ہے انہیں اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے وہ بہت ہی کم ایمان رکھتے ہیں
﴿89﴾ اور جب آئی ان کے پاس اللہ کی طرف سے وہ کتاب (قرآن) جو تصدیق کرتی تھی اس (کتاب) کی جو ان کے پاس تھی اور وہ اس سے پہلے فتح مانگتے تھے کافروں پر (اس نبی کے وسیلہ سے ) ف تو جب تشریف فرما ہوا ان کے پاس وہ نبی جسے وہ جانتے تھے تو انکار کر دیا اس کے ماننے سے سو پھٹکار ہو اللہ کی (دانستہ) کفر کرنے والوں پر
﴿90﴾ بہت بری چیز ہے جس کے بدلے سود اچکایا انہوں نے اپنی جانوں کا وہ یہ کہ کفر کرتے ہیں اس (کتاب) کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے نازل کی حسد ف کے مارے کہ نازل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اپنا فضل (وحی) جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں سے سو وہ حق دار ہو گئے مسلسل ناراضگی کے اور کافروں کے لئے ذلیل ورسوا کرنے والا عذاب ہے
﴿91﴾ اور جب ان سے کہا جاتا ہے ایمان لے آؤ اس پر جسے اللہ نے اتارا ہے تو کہتے ہیں ہم تو (صرف) اس پر ایمان لائے ہیں جو نازل کی گئی ہم پر اور کفر کرتے ہیں اس کے علاوہ (دوسری کتابوں) کے ساتھ حالانکہ وہ بھی حق ہے تصدیق کرتا ہے اس کتاب کی جو ان کے پاس ہے آپ فرمائیے پھر تم کیوں قتل کرتے رہے اللہ کے پیغمبروں کو اس سے پہلے اگر تم (اپنی کتاب پر ہی ) ایمان رکھتے تھے ف
﴿92﴾ اور بےشک آئے تمہارے پاس موسیٰ علیہ السلام روشن دلیلیں لے کر پھر تم نے بنا لیا بچھڑے کو (اپنا معبود) اس کے بعد اور تم (تو عادی) جفا کار ہو
﴿93﴾ اور یاد کرو جب ہم نے لیا تم سے پختہ وعدہ اور بلند کیا تمہارے سروں پر کوہ طور (اور تمہیں حکم دیا) کہ پکڑلو جو ہم نے تمہیں دیا مضبوطی سے اور (خوب غور سے ) سنو انہوں نے (زبان سے) کہا ہم نے سن لیا اور (دل میں کہا) نہیں مانا سیراب ہو چکے تھے ان کے دل بچھڑے (کے عشق) سے یہ ان کے پیہم انکار کی نحوست تھی فرمائیے بہت برا ہے جس کا حکم کرتا ہے تمہیں (یہ ) تمہارا (عجیب وغریب ) ایمان اگر تم ایمان دار ہو ف
﴿94﴾ آپ فرمائیے اگر تمہارے لئے ہی دار آخرت (کی راحتیں) اللہ کے ہاں مخصوص ہیں تمام لوگوں کو چھوڑ کر تو بھلا آرزو تو کرو موت کی اگر تم سچ کہتے ہو ف
﴿95﴾ اور وہ ہرگز کبھی بھی اس کی تمنا نہ کریں گے اپنی کارستانیوں کے خوست اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو ۔
﴿96﴾ اور آپ یقیناً پائیں گے انھیں سب سے لوگوں سے زیادہ ہوس رکھنے والے زندگی کی حتیٰ کہ مشرکوں سے بھی (زیادہ جینے پر حریص ہیں) چاہتا ہے ہر ایک ان میں سے کہ زندہ رہنے دیا جائے ہزار سال اور نہیں بچا سکتا اس کو عذاب سے (اتنی مدت) جیتے رہنا اور اللہ ہر وقت دیکھ رہا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔
﴿97﴾ آپ فرمائیے جو دشمن ہو جبرئیل علیہ السلام کا (اسے معلوم ہونا چاہئے) کہ اس نے اتارا قرآن آپ کے دل پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ف (یہ ) تصدیق کرنے والا ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے اتریں ف اور سراپا ہدایت اور خوشخبری ہے ایمان والوں کے لئے
﴿98﴾ جو کوئی دشمن ہو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل ( علیہ السلام) و میکائیل ( علیہ السلام) کا تو اللہ بھی دشمن ہے (ان) کافروں کا۔
﴿99﴾ اور یقیناً ہم نے اتارے ہیں آپ پر روشن نشان اور کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا ان کا بجز نافرمانوں کے۔
﴿100﴾ کیا (یوں نہیں) کہ جب کبھی انھوں نے وعدہ کیا تو پھر توڑ پھینکا اسے انھیں میں سے ایک گروہ نے بلکہ ان کی اکثریت تو (سرے سے) ایمان ہی نہیں لائی
﴿101﴾ اور جب آیا ان کے پاس رسول اللہ کی طرف سے تصدیق کرنے والا اس کتاب کی جو ان کے پاس ہے تو پھینک دیا ایک جماعت نے اہل کتاب سے ف اللہ کی کتاب کو اپنی پشتوں کے پیچھے جیسے وہ کچھ جانتے ہی نہیں
﴿102﴾ اور پیروی کرنے لگے اس کی جو پڑھا کر تے تھے شیطان ف سلیمان علیہ السلام کے عہد حکومت میں ف حالانکہ سلیمان علیہ السلام نے کوئی کفر نہیں کیا بلکہ شیطانوں نے ہی کفر کیا سکھایا کرتے تھے ف لوگوں کو جادو نیز وہ بھی جو اتارا گیا دو فرشتوں پر (شہر) بابل میں (جن کے نام) ہاروت اور ماروت تھے ف اور (کچھ) نہ سکھاتے تھے وہ دونوں کسی کو جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو نری آزمائش ہیں (ان پر عمل کر کے) کفر مت کرنا (اس کے باوجود) لوگ سیکھتے رہے ان دونوں سے وہ منتر ف جس سے جدائی ڈالتے تھے خاوند اور اس کی بیوی میں اور وہ ضرر نہیں پہنچا سکتے اپنے جادو منتر سے کسی کو بغیر اللہ کے ارادہ کے ف اور وہ سیکھتے ہیں وہ چیز جو ضرر رساں ہے ان کے لئے اور نہیں نفع پہنچا سکتی انہیں اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جس نے اس کا سودا کیا اس کے لئے آخرت میں (رحمت الٰہی سے) کوئی حصہ نہیں اور بہت بری ہے وہ چیز بیچا ہے انہوں نے جس کے عوض اپنی جانوں (کی فلاح کو) کاش! وہ کچھ جانتے
﴿103﴾ اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیز گا ر بنتے تو (اس کا ) ثواب اللہ کے ہاں بہت اچھا ہوتا کاش! وہ کچھ جانتے۔
﴿104﴾ اے ایمان والو! (میرے حبیب سے کلام کرتے وقت ) مت کہا کرو ’’راعنا ‘‘ ف بلکہ کہو ’’ انظرنا‘‘ اور (ان کی بات پہلے ہی) غور سے سنا کرو ف اور کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے
﴿105﴾ نہیں پسند کرتے وہ لوگ جو کافر ہیں اہل کتاب سے اور نہ مشرک کہ اتاری جائے تم پر کچھ بھلائی تمہارے رب کی طرف سے ف اور اللہ خاص فرما لیتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہت بڑا فضل (فرمانے) والا ہے
﴿106﴾ جو آیت ہم منسوخ کر دیتے ہیں یا فراموش کرا دیتے ہیں تو لاتے ہیں (دوسری) بہتر اس سے یا (کم از کم) اس جیسی ف کیا تجھے علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ کر سکتا ہے
﴿107﴾ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور تمہارا اللہ کے سوا کوئی یارو مددگا نہیں۔
﴿108﴾ کیا تم (یہ) چاہتے ہو کہ پوچھو اپنے رسول سے (ایسے سوال) جیسے پوچھے گئے موسیٰ علیہ السلام سے اس سے پہلے ف اور جو بدل لیتا ہے کفر کو ایمان سے وہ (قسمت کا مارا) تو بھٹک گیا سیدھے راستہ ہے
﴿109﴾ دل سے چاہتے ہیں بہت سے اہل کتاب کہ کسی طرح پھر بنا دیں تمہیں ایمان لانے کے بعد کافر ف (ان کی یہ آرزو) بوجہ اس حسد کے ہے جو ان کے دلوں میں ہے (یہ سب کچھ) اس کے بعد جبکہ خوب واضح ہو چکا ہے ان پر حق پس (اے غلامان مصطفے ٰ) معاف کرتے رہو اور در گزر کرتے رہو یہاں تک کہ بھیج دے اللہ (ان کے بارے میں ) اپنا حکم۔ بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے
﴿110﴾ اور صحیح ادا کرو نماز اور دیا کرو زکوٰۃ اور جو کچھ آگے بھیجو گے اپنے لئے نیکیوں سے ضرور پاؤ گے اس کا ثمر اللہ کے ہاں ف یقیناً اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب دیکھ رہا ہے
﴿111﴾ اور انہوں نے کہا نہیں داخل ہوگا جنت میں (کوئی بھی) بغیر ان کے جو یہودی ہیں یا عیسائی یہ ان کی من گھڑت باتین ہین آپ (اُنھیں) فرمائیے لاؤ اپنی کوئی دلیل اگر تم سچے ہو۔
﴿112﴾ ہاں جس نے بھی جھکا دیا اپنے آپ کو اللہ کے لئے اور وہ مخلص بھی ہو تو اس کے لئے اس کا اجر ہے اپنے رب کے پاس ف نہ کوئی خوف ہے انہیں اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے
﴿113﴾ اور کہتے ہیں یہودی کہ نہیں ہیں عیسائی سیدھی راہ پر اور کہتے ہیں عیسائی نہیں ہیں یہودی سیدھی راہ پر ف حالانکہ وہ سب پڑھتے ہیں (آسمانی ) کتاب اسی طرح کہی ان لوگوں نے جو کچھ نہیں جانتے ان کی سی بات ف تو (اب) اللہ فیصلہ فرمائے گا ان کے درمیان قیامت کے دن جن باتوں میں وہ جھگڑتے رہتے تھے
﴿114﴾ اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جو روک دے اللہ کی مسجدوں سے ف کہ ذکر کیا جائے ان میں اس کے نام (پاک) کا اور کوشاں ہو ان کی ویرانی میں انہیں مناسب نہیں تھا کہ داخل ہوتے مسجدوں میں مگر ڈرتے ڈرتے ان کے لئے دنیا میں (بھی بڑی) ذلت ہے ف اور ان کے لئے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے
﴿115﴾ اور مشرق بھی اللہ کا ہے اور مغرب بھی ف سو جدھر بھی تم رخ کرو وہیں ذات خداوندی ہے ۔ بےشک اللہ تعالیٰ فراخ رحمت والا خوب جاننے والا ہے
﴿116﴾ اور یہ کہتے ہیں کہ بنا لیا ہے اللہ نے (اپنا) ایک بیٹا پاک ہے وہ (اس تہمت سے) ف بلکہ اسی کی ہے جو چیز آسمانوں میں ہے اور زمین میں سب اسی کے فرمانبردار ہیں
﴿117﴾ موجد ہے ف آسمانوں اور زمین کا اور جب ارادہ فرماتا ہے کسی کام کا تو صرف اتنا حکم دیتا ہے اسے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے
﴿118﴾ اور کہتے ہیں وہ لوگ جو کچھ نہیں جانتے کہ کیوں نہیں کلام کرتا ہمارے ساتھ (خود) اللہ یا کیوں نہیں آتی ہمارے پاس کوئی نشانی۔ اسی طرح کہی تھی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے (گزرے ) تھے ان کی سی (بے سروپا ) بات ف ملتے جلتے ہیں ان سب کے دل، بےشک ہم نے صاف صاف بیان کر دی ہیں (اپنی) نشانیاں اس قوم کے لئے جو یقین رکھتے ہیں ف
﴿119﴾ بے شک ہم نے بھیجا ہے ف آپ کو (اے حبیب) حق کے ساتھ (رحمت کی ) خوشخبری دینے والا (عذاب سے) ڈرانے والا۔ اور آپ سے باز پرس نہیں ہوگی ان دوزخیوں کے متعلق
﴿120﴾ اور ہرگز خوش نہیں ہوں گے آپ سے یہودی اور نہ عیسائی ف یہاں تک کہ آپ پیروی کرنے لگیں ان کے دین کی آپ (انہیں) کہہ دیجئے کہ اللہ کا بتایا ہوا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے اور اگر (بفرض محال ) آپ پیروی کریں ان کی خواہشوں کی اس علم کے بعد بھی جو آپ کے پاس آچکا ہے (تو پھر) نہیں ہوگا آپ کے لئے اللہ (کی گرفت) سے بچانے والا کوئی یار اور نہ کوئی مدد گار ف
﴿121﴾ جن کو ہم نے کتاب دی وہ اس کی تلاوت کا حق ادا کرتے ہیں وہی ایمان لائے ہیں اس کے ساتھ اور جو کوئی انکار کرتا ہے اس کا تو وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔
﴿122﴾ اے بنی اسرائیل! یاد کرو میری وہ نعمت جو میں نے تم پر فرمائی اور (خصوصا یہ کہ) میں نے تم کو فضیلت دی (اس زمانہ کے) سب لوگوں پر
﴿123﴾ اور ڈرو اس ف دن سے کہ نہ پکڑا جائے گا کوئی آدمی کسی کے عوض اور نہ قبول کیا جائے گا اس سے مالی تاوان اور نہ نفع دے گی اسے کوئی سفارش اور نہ ہی ان کی امداد کی جائے گی
﴿124﴾ اور یاد کرو جب ف آزمایا ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں سے تو انہیں پورے طور پر بجالایا ف اللہ نے فرمایا بےشک ہیں بنانے والا ہوں تمہیں تمام انسانوں کا پیشوا ف عرض کی میری اولاد سے بھی ! ف فرمایا نہیں پہنچتا میرا وعدہ ظالموں تک
﴿125﴾ اور یاد کرو جب ہم نے بنایا اس گھر (خانہ کعبہ ) کو مرکز ف لوگوں کے لئے اور امن کی جگہ اور (انہیں حکم دیا کہ ) بنالو ابراہیم (علیہ السلام) کے کھڑے ہونے کی جگہ کو جائے نماز ف اور ہم نے تاکید کر دی ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمٰعیل علیہ السلام کو کہ خوب صاف ستھرا رکھنا میرا گھر ف طواف کرنے والوں ، اعتکاف بیٹھنے والوں اور رکوع وسجود کرنے والوں کے لئے
﴿126﴾ اور یاد کرو جب عرض کی ابراہیم نے اے میرے رب! بنا دے اس شہر کو ف امن والا اور روزی دے اس کے باشندوں کو طرح طرح کے پھلوں سے (یعنی) جو ان میں سے ایمان لائے اللہ پر اور روز قیامت پر۔ اللہ نے فرمایا (ان میں سے) جس نے کفر بھی کیا اسے بھی فائدہ اٹھانے دوں گا چند روز پھر مجبور کروں گا اسے دوزخ کے عذاب کی طرف اور یہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے
﴿127﴾ اور یاد کرو جب اٹھا رہے تھے ابراہیم (علیہ السلام ) بنیادیں ف خانہ کعبہ کی اور اسمٰعیل (علیہ السلام ) بھی۔ اے ہمارے پروردگار قبول فرما ہم سے (یہ عمل) بےشک تو ہی سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے
﴿128﴾ اے ہمارے رب! بنادے ہم کو فرماں بردار اپنا اور ہماری اولاد سے بھی ایک ایسی جماعت پیدا کرنا جو تیری فرمابنردار ہو اور بتادے ہمیں ہماری عبادت کے طریقے اور توجہ فرما ہم پر (اپنی رحمت سے) بےشک تو ہی بہت توبہ قبول کرنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔
﴿129﴾ اے ہمارے رب! ف بھیج ان میں ایک برگزیدہ رسول انہیں میں سے تاکہ پڑھ کر سنائے ف انہیں تیری آیتیں اور سکھائے انہیں یہ کتاب اور دانائی کی باتین اور پاک صاف کر دے انہیں۔ بےشک تو ہی بہت زبردست (اور ) حکمت والا ہے
﴿130﴾ اور کون رو گردانی کر سکتا ہے دین ابراہیم (علیہ السلام) سے ف بجز اس کے جس نے احمق بنا دیا ہو اپنے آپ کو اور بےشک ہم نے چن لیا ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا میں اور بلاشبہ وہ قیامت کے دن نیکو کاروں میں ہوں گے
﴿131﴾ اور یاد کرو جب فرمایا اس کو اس کے رب نے ف (اے ابراہیم علیہ السلام) گردن جھکا دو عرض کی میں نے اپنی گردن جھکا دی سارے جہانوں کے پروردگار کے سامنے ف
﴿132﴾ اور وصیت کی اسی دین کی ابراہیم (علیہ السلام) کے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب ف نے اے میرے بچو! بےشک اللہ نے پسند فرمایا ہے تمہارے لئے یہی دین سو تم ہرگز نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو
﴿133﴾ بھلا کیا تم (اس وقت) موجود تھے جب آپہنچی یعقوب ( علیہ السلام) کو موت جب کہ پوچھا اس نے اپنے بیٹوں سے کہ تم کس کی عبادت کروگے میرے (انتقال کرنے جانے کے ) بعد انھوں نے عرض کی ہم عبادت کریں گے آپ کے خدا کی اور آپ کے بزرگوں ابراہیم (علیہ السلام) و اسمعیل ( علیہ السلام) اور اسحاق ( علیہ السلام) کے خدا کی جو وحدہ لاشریک ہے اور ہم اسی کے فرمابنردار رہیں گے۔
﴿134﴾ یہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی انھیں فائدہ دے گا جو (نیک عمل) انھوں نے کمایا اور تمھیں نفع دیں گے جو (نیک اعمال) تم نے کمائے اور نہ پوچھے جاؤ گے تم اس سے جو وہ کیا کرتے تھے ۔
﴿135﴾ اور (یہودی) کہتے ہیں یہودی بن جاؤ (عیسائی کہتے ہیں ) عیسائی بن جاؤ (تب) ہدایت پالو گے آپ فرمائیے میرا دین تو دین ابراہیم ہے جو باطل سے من موڑنے والا حق پسند تھا اور وہ نہیں تھا شرک کرنے والوں سے ف
﴿136﴾ کہہ دو ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر اور اس پر جو نازل کیا گیا ہماری طرف اور جو اتارا گیا ابراہیم (علیہ السلام) واسمٰعیل علیہ السلام واسحاق علیہ السلام ویعقوب علیہ السلام اور ان کی اولاد کی طرف اور جو عطا کیا گیا موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور جو عنایت کیا گیا دوسرے نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے ہم فرق نہیں کرتے ان میں کسی پر ایمان لانے میں اور ہم تو اللہ کے فرماں بردار ہیں ف
﴿137﴾ تو اگر یہ بھی ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو جب تو وہ ہدایت پاگئے اور اگر وہ منہ پھیر یں تو (معلوم ہوگیا کہ) وہی مخالفت پر کمر بستہ ہیں تو کافی ہوجائے گا آپ کو ان کے مقابلے میں اللہ اور وہ سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔
﴿138﴾ (ہم پر) اللہ کا رنگ (چڑھا ہے) اور کس کا رنگ خوبصورت ہے اللہ کے رنگ سے ف ہم تو اسی کے عبادت گزار ہیں
﴿139﴾ آپ فرمائیے کیا تم جھگڑتے ہو ہمارے ساتھ اللہ کے بارے میں حالانکہ وہ ہمارا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی مالک ۔ اور ہمیں ہمارے اعمال اور تمھیں تمہارے اعمال فائدہ پہنچائیں گے ہم تو اسی کی اخلاص سے عبادت کرتے ہیں۔
﴿140﴾ کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم (علیہ السلام) و اسمعیل ( علیہ السلام) و اسحاق ( علیہ السلام) و یعقوب ( علیہ السلام) اور ان کے بیٹے یہودی تھے یا عیسائی فرمائیے کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جو چھپاتا ہے گواہی جو اللہ کی طرف سے اس کے پاس ہے اور اللہ بےخبر نہیں ہے جو تم کررہے ہو۔
﴿141﴾ وہ ایک امت تھی جو گزر چکی اسے ملے گا جو اس نے کمایا اور تمھیں ملے گا جو تم نے کمایا اور تم سے نہ پوچھا جائے گا اس سے جو وہ کیا کرتے تھے۔
﴿142﴾ اب کہیں گے بےوقوف لوگ ف کہ کس چیز نے پھیر دیا ان (مسلمانوں) کو اپنے قبلہ سے جس پر وہ اب تک تھے آپ فرمائیے اللہ ہی کا ہے مشرق بھی اور مغرب بھی ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے سیدھے راستہ کی طرف
﴿143﴾ اور اسی ف طرح ہم نے بنا دیا تمہیں (اے مسلمانو!) بہترین امت تاکہ تم گواہ بنو لوگوں پر ف اور (ہمارا) رسول تم پر گواہ ہو اور نہیں مقرر کیا ف ہم نے (بیت المقدس کو) قبلہ جس پر آپ (اب تک ) رہے مگر اس لئے کہ ہم دیکھ لیں کہ کون پیروی کرتا ہے (ہمارے) رسول کی (اور) کون مڑتا ہے الٹے پاؤں بےشک یہ (حکم ) بہت بھاری ہے مگر ان پر (بھاری نہیں) جنہیں اللہ نے ہدایت فرمائی اور نہیں اللہ کی یہ شان کہ ضائع کر دے تمہارا ایمان ف بےشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر بہت ہی مہربان (اور) رحم فرمانے والا ہے
﴿144﴾ ہم دیکھ رہے ہیں ف بار بار آپ کا منہ کرنا آسمان کی طرف تو ہم ضرور پھیر دیں گے آپ کو اس قبلہ کی طرف جسے آپ پسند کرتے ہیں (لو) اب پھیر لو اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف ف (اے مسلمانو! ) جہاں کہیں تم ہو پھیر لیا کرو اپنے منہ اس کی طرف اور بےشک وہ جنہیں کتاب دی گئی ف ضرور جانتے ہیں کہ یہ حکم برحق ہے ان کے رب کی طرف سے اور نہیں اللہ تعالیٰ بےخبر ان کا موں سے جو وہ کرتے ہیں
﴿145﴾ اور اگر آپ لے آئیں اہل کتاب کے پاس ہر ایک دلیل (پھر بھی) نہیں پیروی کریں گے آپ کے قبلہ کی اور نہ آپ پیروی کرنے والے ہیں ان کے قبلہ کی اور نہ وہ ایک دوسرے کے قبلہ کو ماننے والے ہیں اور اگر (بفرض محال) آپ پیروی کریں ف ان کی خواہشوں کی اس کے بعد کہ آچکا آپ کے پاس علم تو یقیناً آپ اس وقت ظالموں میں (شمار) ہوں گے
﴿146﴾ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ پہچانتے ہیں انہیں جیسے وہ پہچانتے ہیں اپنے بیٹوں کو ف اور بےشک ایک گروہ ان میں سے چھپاتا ہے حق کو جان بوجھ کر
﴿147﴾ یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے تو ہرگز نہ بن جانا شک کرنے والوں سے۔
﴿148﴾ اور ہر قوم کے لئے ف ایک سمت (مقرر) ہے وہ اسی کی طرف منہ کرتی ہے پس آگے بڑھ جاؤ ف دوسروں سے نیکیوں میں تم کہیں ہو لے آئے گا اللہ تعالیٰ تم سب کو یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے
﴿149﴾ اور جہاں سے بھی آپ (باہر) نکلیں تو موڑلیا کریں (نماز کے وقت) اپنا رخ مسجد حرام کی طرف اور بےشک یہی حق ہے آپ کے رب کی طرف سے اور نہیں اللہ تعالیٰ بےخبر جو کچھ تم کرتے ہو۔
﴿150﴾ اور جہاں سے آپ (باہر) نکلیں تو موڑ لیا کریں اپنا رخ (نماز کے وقت) مسجد حرام کی طرف اور (اے مسلمانو! ) جہاں کہیں تم ہو تو پھیر لیا کرو اپنے منہ اس کی طرف تاکہ نہ رہے لوگوں کو تم پر اعتراض (کی گنجائش) ف بجز ان لوگوں کے جو نا انصافی کریں ان سے سو نہ ڈرو تم ان سے (بلکہ صرف) مجھ سے ڈرا کرو تاکہ میں پورا کردوں اپنا انعام تم پر ف تاکہ تم راہ راست پر ثابت قدم رہو
﴿151﴾ جیسا کہ بھیجا ف ہم نے تمہارے پاس رسول تم میں سے پڑھ کر سنتا ہے تمہیں ہماری آیتیں اور پاک کرتا ہے تمہیں اور سکھاتا ہے تمہیں کتاب اور حکمت اور تعلیم دیتا ہے تمہیں ف ایسی باتون کی جنہیں تم جانتے ہی نہیں تھے
﴿152﴾ سو تم مجھے یاد کیا کرو ف میں تمہیں یاد کیا کروں گا اور شکر ادا کیا کرو میرا اور میری ناشکری نہ کیا کرو ف
﴿153﴾ اے ایمان والو! مدد طلب کیا کرو صبر ف اور نماز (کے ذریعہ) سے بےشک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
﴿154﴾ اور نہ کہا کرو انہیں جو قتل کئے جاتے ہیں ف اللہ کی راہ میں کہ وہ مردہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم (اسے ) سمجھ نہیں سکتے
﴿155﴾ اور ہم ضرور آزمائیں گے تمہیں کسی ایک چیز کے ساتھ یعنی خوف ف اور بھوک اور کمی کرنے سے (تمہارے) مالوں اور جانوں اور پھلوں میں اور خوشخبری سنائیے ان صبر کرنے والوں کو
﴿156﴾ جو کہ جب پہنچتی ہے انھیں کوئی مُصیبت تو کہتے ہیں بےشک ہم صرف اللہ ہی کے ہیں اور یقیناً ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔
﴿157﴾ یہی وہ (خوش نصیب ) ہیں جن پر ان کے رب کی طرح طرح کی نوازشیں اور رحمت ہے ف اور یہی لوگ سیدھی راہ پر ثابت قدم ہیں
﴿158﴾ بےشک صفا اور مروہ ف اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں پس جو حج کرے اس گھر کا یا عمرہ کرے تو کچھ حرج نہیں اسے کہ چکر لگائے ان دونوں کے درمیان اور جو کوئی خوشی سے نیکی کرے تو اللہ تعالیٰ بڑا قدر دان خوب جاننے والا ہے
﴿159﴾ بےشک جو لوگ ف چھپاتے ہیں ان چیزوں کو جو ہم نے نازل کیں روشن دلیلوں اور ہدایت سے اس کے بعد بھی کہ ہم نے کھول کر بیان کر دیا انہیں لوگوں کے واسطے (اپنی) کتاب میں یہی وہ لوگ ہیں کہ دور کرتا ہے انہیں اللہ تعالیٰ (اپنی رحمت سے) اور لعنت کرتے ہیں انہیں لعنت کرنے والے
﴿160﴾ البتہ جو لوگ توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں اور ظاہر کردیں (جو اب تک چھپاتے رہے) تو ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہوں اور میں بہت توبہ قبول کرنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ہوں۔
﴿161﴾ بے شک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور مرے اس حال پر کہ وہ کافر تھے یہی وہ لوگ ہیں جن پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور سب لوگوں کی
﴿162﴾ ہمیشہ رہیں گے اس میں نہ ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ انھیں مہلت دی جائے گی۔
﴿163﴾ اور تمہارا خدا ایک خدا ہے ف نہیں کوئی خدا بجز اس کے بہت ہی مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے
﴿164﴾ بےشک ف آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کی گردش میں اور جہازوں میں جو چلتے ہیں سمندر میں وہ چیزیں اٹھائے جو نفع پہنچاتی ہیں لوگوں کو اور جو اتارا اللہ تعالیٰ نے بادلوں سے پانی پھر زندہ کیا اس کے ساتھ زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد اور پھیلا دئیے اس میں ہر قسم کے جانور اور ہواؤں کے بدلتے رہنے میں اور بادل میں جو حکم کا پابند ہو کر آسمان اور زمین کے درمیان (لٹکتا رہتا ) ہے (ان سب میں) نشانیان ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں
﴿165﴾ اور کچھ لوگ وہ ہیں ف جو بناتے ہیں اوروں کو اللہ کا مد مقابل محبت کرتے ہیں ان سے جیسے اللہ سے محبت کرنا چاہئے اور جو ایمان لائے وہ سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں اللہ سے ف اور کاش ! (اب) جان لیتے جنہوں نے ظلم کیا (جو وہ اس وقت جانیں گے ) جب (آنکھوں سے ) دیکھ لیں گے عذاب کہ ساری قوتوں کا مالک اللہ ہے اور بےشک اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے
﴿166﴾ جب بیزار ہوجائیں گے وہ جن کی تابعداری کی گئی ان سے جو تابعداری کرتے رہے اور دیکھ لیں گے عذاب کو اور ٹوٹ جائیں گے ان کے تعلقات ۔
﴿167﴾ اور کہیں گے تابعداری کرنے والے کاش ! ہمیں لوٹ کر جانا ہوتا (دنیامیں ) تو ہم بھی بیزار ہوجاتے ان سے جیسے وہ (آج) بیزار ہوگئے ہیں ہم سے یونہی دکھائے گا انھیں اللہ تعالیٰ ان کے (بُرے) اعمال کہ باعث پشیمانی ہوں گے ان کے لیے اور وہ (کسی صورت میں) نہ نکل پائیں گے آگ (کے عذاب) سے۔
﴿168﴾ اے انسانو! کھاؤ اس سے جو زمین میں ہے حلال (اور) پاکیزہ (چیزیں ) ف اور شیطان کے قدموں پر قدم نہ رکھو بےشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
﴿169﴾ وہ تو حکم دیتا ہے تمہیں فقط برائی اور بےحیائی کا اور یہ کہ بہتان باندھو اللہ پر جو تم جانتے ہی نہیں ف
﴿170﴾ اور جب کہا جاتا ہے ف ان سے پیروی کرو اس کی جو نازل فرمایا ہے اللہ نے تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے پایا اپنے باپ دادوں کو۔ اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھ سکتے ہوں اور نہ ہدایت یافتہ ہوں
﴿171﴾ اور مثال ان کی ف جنہوں نے کفر (اختیار ) کیا۔ ایسی ہے جیسے کوئی چلا رہا ہو ایسے (جانوروں) کے پیچھے جو نہیں سنتے سوائے خالی پکارا اور آواز کے۔ یہ لوگ بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے سو وہ کچھ نہیں سمجھتے
﴿172﴾ اے ایمان والو! کھاؤ پاک چیزیں جو ہم نے تم کو دی ہیں اور شکر ادا کیا کرو اللہ تعالیٰ کا اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو۔
﴿173﴾ اس نے حرام کیا ہے ف تم پر صرف مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور بلند کیا گیا ہو جس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام ف لیکن جو مجبور ف ہوجائے در آنحالیکہ وہ نہ سرکش ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر (بقدر ضرورت کھا لینے میں ) کوئی گناہ نہیں۔ بےشک اللہ تو بہت گناہ بخشنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے
﴿174﴾ بےشک جو لوگ چھپاتے ہیں ف اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور خرید لیتے ہیں اس کے بدلے حقیر سا معاوضہ۔ سو وہ نہیں کھا رہے اپنے پیٹوں میں سوائے آگ کے اور بات تک نہ کرے گا ان سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ف اور نہ (ان کے گناہ بخش کر ) انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے
﴿175﴾ یہ وہ (بدنصیب ) ہیں جنہوں نے خرید لی گمراہی ہدایت کے عوض، اور عذاب کو نجات کے بدلے (تعجب ہے) کِس چیز نے اتنا صابر بنادیا ہے انہیں آگ (کے عذاب) پر۔
﴿176﴾ یہ سزا اس لیے ہوگ کہ اللہ نے تو اتاری کتاب حق کے ساتھ اور بےشک جو لوگ اختلاف ڈال رہے ہیں کتاب میں وہ دور دراز کے جھگڑوں میں پھنسے ہیں۔
﴿177﴾ نیکی (بس یہی ) نہیں کہ (نماز میں ) تم پھیر لو اپنے رخ ف مشرق کی طرف اور مغرب کی طرف بلکہ ف نیکی (کا کمال ) تو یہ ہے کہ کوئی شخص ایمان لائے اللہ پر اور روز قیامت پر اور فرشتون پر اور کتاب پر اور سب نبیوں پر اور دے اپنا مال اللہ کی محبت سے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو اور (خرچ کرے ) غلام آزاد کرنے میں اور صحیح صحیح ادا کیا کرے نماز اور دیا کرے زکوٰۃ اور جو پورا کرنے والے ہیں اپنے وعدوں کو جب کسی سے وعدہ کرتے ہیں اور کمال نیک ہیں ف جو صبر کرتے ہیں مصیبت میں اور سختی میں اور جہاد کے وقت یہی لوگ ہیں جو راستباز ہیں اور یہی لوگ حقیقی پرہیزگار ہیں
﴿178﴾ اے ایمان والوں فرض کیا گیا ہے تم پر قصاص ف جو (ناحق) مارے جائیں۔ آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت ، پس جس کو ف معاف کی جائے اس کے بھائی ف (مقتول کے وارث ) کی طرف سے کچھ چیز تو چاہئے ف کہ طلب کرے (مقتول کا وارث ) خون بہا دستور کے مطابق اور (قاتل کو چاہئے) کہ اسے ادا کرے اچھی طرح۔ یہ رعایت ف تمہارے رب کی طرف سے اور رحمت ہے ۔ تو جس نے زیادتی کی ف اس کے بعد تو اس کے لئے دردناک عذاب ہے
﴿179﴾ اور تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے اے عقل مندو ف تاکہ (قتل کرنے سے ) پرہیز کرنے لگو
﴿180﴾ فرض کیا گیا ہے تم پر جب قریب آجائے تم میں سے کسی کے موت۔ بشرطیکہ چھوڑے کچھ مال ف ۔ کہ وصیت کرے اپنے ماں باپ کے لئے اور قریبی رشتہ داروں کے لئے انصاف کے ساتھ۔ ایسا کرنا ضروری ہے پرہیزگاروں پر
﴿181﴾ پھر جو بدل ڈالے اس وصیت کو سن لینے کے بعد تو اس کا گناہ انہیں بدلنے والوں پر ہوگا۔ بےشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا جاننے والاہے
﴿182﴾ اور جسے اندیشہ ہو وصیت کرنے والے سے کسی طرفداری یا گناہ کا پس وہ صلح کرادے ان کے درمیان تو کچھ گناہ نہیں اس پر بےشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔
﴿183﴾ اے ایمان والو! فرض کئے گئے تم پر روزے ف جیسے فرض کئے گئے تھے ان لوگوں پر جو تم سے پہلے تھے کہ کہیں تم پرہیزگار بن جاؤ ف
﴿184﴾ یہ گنتی کے چند روز ہیں۔ پھر جو تم میں سے بیمار ہو ف یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں رکھ لے ۔ اور جو لوگ ف اسے بہت مشکل سے ادا کر سکیں ان کے ذمہ فدیہ ہے ایک مسکین کا کھانا۔ اور جو خوشی سے زیادہ نیکی کرے تو وہ اس کے لئے زیادہ بہتر ہے۔ اور تمہارا روزہ رکھنا ہی بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم جانتے ہو
﴿185﴾ ماہ رمضان المبارک جس میں اتارا گیا قرآن ف اس حال میں کہ یہ راہ حق دکھاتا ہے لوگوں کو اور (اس میں ) روشن دلیلیں ہیں ہدایت کی اور حق وباطل میں تمیز کر نے کی۔ سو جو کوئی پائے ف تم میں سے اس مہینہ کو تو وہ یہ مہینہ روزے رکھے۔ اور جو کوئی ف بیمار ہو، یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں رکھ لے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تمہارے لئے سہولت اور نہیں چاہتا ف تمہارے لئے دشواری اور (چاہتا ہے کہ ) تم گنتی پوری کر لیا کرو۔ اور اللہ کی بڑائی بیان کیا کرو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر گزاری کیا کرو
﴿186﴾ اور جب پوچھیں ف آپ سے (اے میرے حبیب ) میرے بندے میرے متعلق تو (انہیں بتاؤ) میں (ان کے ) بالکل نزدیک ہوں۔ قبول کرتا ہوں دعا ف دعا کرنے والے کی جب وہ دعا مانگتا ہے مجھ سے پس انہیں چاہئے کہ میرے حکم مانیں اور ایمان لائیں مجھ پر تاکہ وہ کہیں ہدایت پا جائیں
﴿187﴾ حلال ف کر دیا گیا ہے تمہارے لئے رمضان کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا۔ وہ ف پردہ ، زینت وآرام ہیں اور تم ان کے لئے پردہ، زینت و آرام ہو۔ جانتا ہے اللہ تعالیٰ کہ تم خیانت کیا کرتے تھے اپنے آپ سے پس اس نے نظر کرم فرمائی تم پر اور معاف کر دیا تمہیں، سو اب تم ان سے ملو ملاؤ اور طلب کرو جو (قسمت میں ) لکھ دیا ہے اللہ نے تمہارے لئے اور کھاؤ اور پیؤ یہاں تک کہ ظاہر ہوجائے تمہارے لئے سفید ڈورا۔ سیاہ ڈورے سے ف صبح کے وقت پھر پورا کرو ف روزہ کو رات تک اور نہ مباشرت کرو ان سے ف جب کہ تم اعتکاف بیٹھے ہو مسجدوں میں یہ اللہ کی حدیں ہیں ان (کو توڑنے ) کے ف قریب بھی نہ جانا۔ اسی طرح بیان فرماتا ہے اللہ تعالیٰ اپنی آیتیں لوگوں کے لئے تاکہ وہ تقویٰ اختیار کر لیں
﴿188﴾ اور نہ کھاؤ ایک دوسرے کا مال آپس میں ناجائز طریقہ سے اور نہ رسائی حاصل کرو اس مال سے (رشوت دیکر) حاکموں تک تاکہ یوں کھاؤ کچھ حصہ لوگوں کے مال کا ظلم سے حالانکہ تم جانتے ہو (کہ اللہ نے یہ حرام کیا ہے) ۔
﴿189﴾ دریافت کرتے ہیں آپ سے نئے چاندوں کے متعلق (کہ یہ کیونکر گھٹتے بڑھتے ہیں) فرمائیے یہ وقت کی علامتیں ہیں لوگوں کے لیے اور حج کے لیے اور یہ کوئی نیکی نہیں کہ تم داخل ہو گھروں میں انکے پچھواڑے سے ہاں نیکی تو یہ ہے کہ انسان تقویٰ اختیار کرے۔ اور آیا کرو گھروں میں ان کے دروازوں سے اور ڈرتے رہو اللہ سے اس امید پر کہ کامیاب ہوجاؤ۔
﴿190﴾ اور لڑو اللہ کی راہ میں ان سے جو تم سے لڑتے ہیں اور (ان پر بھی) زیادتی نہ کرنا۔ بےشک اللہ تعالیٰ دوست نہیں رکھتا زیادتی کرنے والوں کو۔
﴿191﴾ اور قتل کرو انہیں جہاں بھی انہیں پاؤ اور نکال دو انہیں جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا اور فتنہ انگیزی تو قتل سے بھی زیادہ سخت ہے۔ اور نہ جنگ کرو ان سے مسجد حرام کے قریب یہاں کہ وہ (خود ) تم سے وہاں جنگ کرنے لیکیں۔ سو اگر وہ لڑیں تم سے تو پھر قتل کرو انہیں۔ یہی سزا ہے (ایسے) کافروں کی۔
﴿192﴾ پھر اگر وہ باز آجائیں (تو جان لو) اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔
﴿193﴾ اور لڑتے رہو ان سے یہاں تک کہ نہ رہے فتنہ (وفساد) اور ہوجائے دین صرف اللہ کے لیے پھر اگر وہ باز آجائیں ( تو سمجھ لو) کہ سختی (کسی پر) جائز نہیں مگر ظالموں پر۔
﴿194﴾ حرمت والا مہینہ حرمت والے مہینہ کا بدلہ ہے اور ساری حرمتوں میں (فریقین کے رویہ میں) برابری چاہیے تو جو تم پر زیادتی کرے تم اس پر زیادتی کرلو (لیکن) اسی قدر جتنی زیادتی اس نے تم پر کی ہو۔ اور ڈرتے رہا کرو اللہ سے اور جان لو یقیناً اللہ (نصرت) پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔
﴿195﴾ اور خرچ کیا کرو اللہ کی راہ میں اور نہ پھینکو اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں تباہی میں اور اچھے کام کیا کرو بےشک اللہ تعالیٰ محبت فرماتا ہے اچھے کام کرنیوالوں سے ۔
﴿196﴾ اور پورا کرو حج اور عمرہ اللہ (کی رضا) کے لیے پھر اگر تم گھر جاؤ تو قربانی کا جانور جو آسانی سے مل جائے (وہ بھیجدو) اور نہ منڈاؤ اپنے سر یہاں تک کہ پہنچ جائے قربانی کا جانور اپنے ٹھکانے پر۔ پس جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا اسے کچھ تکلیف ہو سر میں (اور وہ سر منڈالے) تو وہ فدیہ دیدے روزوں سے یا خیرات سے یا قربانی سے ، اور جب تم امن میں ہوجاؤ(اور حج سے پہلے مکہ پہنچ جاؤ) تو جو فائدہ اٹھانا چاہے عمرہ کا حج کے ساتھ تو جو اسے میسر ہو قربانی دے پھر جسے قربانی کی طاقت نہ ہو تو وہ تین دن روزے رکھے حج کے وقت اور سات جب تم گھر لوٹ آؤیہ پورے دس (روزے) ہوئے۔ یہ رعایت اس کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے قریب نہ ہوں۔ اور ڈرا کرو اللہ سے اور جان لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔
﴿197﴾ حج کے چند مہینے ہیں جو معلوم ہیں پس جو نیت کرلے ان میں حج کی تو اسے جائز نہیں بےحیائی کی بات اور نہ نافرمانی اور نہ جھگڑا ۔ حج کے دنوں میں اور جو تم نیک کام کرو اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے، اور سفر کا توشہ تیار کرو اور سب سے بہت توشہ تو پرہیزگاری ہے اور ڈرتے رہو مجھ سے اے عقلمندو ! ۔
﴿198﴾ نہیں ہے تم پر کوئی حرج (اگر حج کے ساتھ ساتھ) تم تلاش کرو اپنے رب کا فضل (رزق) پھر جب واسپس آؤ عرفات سے تو ذکر کرو اللہ کا مشعر حرام (مزدلفہ) کے پاس اور ذکر کرو اس کا جس طرح اس نے تمہیں سکھا یا اور اگرچہ تم اس سے پہلے گمراہوں میں سے تھے۔
﴿199﴾ پھر تم بھی (اے مغروران قریش) وہاں تک (جاکر) واپس آؤ جہاں جاکر دوسرے لوگ واپس آتے ہیں، اور معافی مانگو اللہ سے بےشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
﴿200﴾ پھر جب تم پورے کرچکو حج کے ارکان تو اللہ کو یاد کرو جس طرح اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ ذکر الہیٰ کرو اور کچھ لوگ ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب دیدے ہمیں دنیا میں ہی (سب کچھ) نہیں ہے اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ۔
﴿201﴾ اور بعض لوگ ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ! عطا فرما ہمیں دنیا میں بھی بھلائی اور آخرت میں بھی بھلائی اور بچالے ہمیں آگ کے عذاب سے
﴿202﴾ اور انہی لوگوں کو بڑا حصہ ملیگا (دونوں جہانوں میں) بسبب انکی (نیک ) کمائی کے، اور اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب چکانے والا ہے۔
﴿203﴾ اور (خوب) یاد کرلو اللہ تعالیٰ کو ان دنوں میں جو معدوے چند ہیں اور جو جلدی کرکے دو دنوں میں چلا گیا تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ اور جو کچھ دیر وہاں ٹھیرا رہا تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں (بشرطیکہ) وہ ڈرتا رہا ہو۔ اور ڈرتے رہو اللہ سے اور (خوب) جان لو تمہیں اسی کی بارگاہ میں اکٹھا کیا جائے گا ۔
﴿204﴾ اور (اے سننے والے) لوگوں سے وہ بھی ہے کہ پسند آتی ہے تجھے اس کی گفتگو دنیاوی زندگی کے بارے میں اور وہ گواہ بنا رہتا ہے اللہ کو اس پر جو اس کے دل میں ہے۔ حالانکہ وہ (حق کا) سخت ترین دشمن ہے۔
﴿205﴾ اور وہ جب حاکم بن جاتا ہے تو سرتوڑ کوشش کرتا ہے کہ ملک میں فساد برپا کردے اور تباہ کردے کھیتوں کو اور نسل انسانی کو اور اللہ تعالیٰ فساد کو ہرگز پسند نہیں کرتا ۔
﴿206﴾ اور جب کہا جائے اسے کہ (میاں) خدا سے تو ڈرو تو اکساتا ہے اسے غرور گناہ پر پس اس کے لیے جہنم کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔
﴿207﴾ اور لوگوں میں سے وہ بھی ہے جو بیچ ڈالتا ہے اپنی جان (عزیز) بھی اللہ کی خوشنودیاں حاصل کرنے کے لیے اور اللہ نہایت مہربان ہے اپنے بندوں پر ۔
﴿208﴾ اے ایمان والو داخل ہوجاؤ اسلام میں پورے پورے اور نہ چلو شیطان کے نقش قدم پر بےشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔
﴿209﴾ اور اگر تم پھسلنے لگو اس کے بعد کہ آچکی ہیں تمہارے پاس روشن دلیلیں تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ زبردست حکمت والا ہے ۔
﴿210﴾ کیا وہ اس بات کا انتظار کر رہے کہ آئے انکے پاس اللہ کا عذاب چھائے ہوئے بادلوں (کی صورت) میں اور فرشتے اور (انکا) فیصلہ ہی کردیا جائے اور (آخر کار) اللہ کی طرف ہی لوٹائے جائیں گے سارے معاملات ۔
﴿211﴾ آپ پوچھیئے بنی اسرائیل سے کہ ہم نے انہیں کتنی روشن دلیلیں عنایت فرمائیں اور جو (قوم) بدل ڈالے اللہ کی نعمت کو اس کے مل جانے کے بعد تو یقیناً اللہ تعالیٰ (اس قوم کو) سخت عذاب دینے والا ہے۔
﴿212﴾ آراستہ کردی گئی ہے کافروں کے لیے دنیا کی (فانی) زندگی اور مذاق اڑاتے ہیں یہ ایمان والوں کا ، حالانکہ پرہیزگاروں کی شان بلند ہوگی ان سے قیامت کے دن اور اللہ تعالیٰ روزی تو جسے چاہے بےحساب دیتا ہے۔
﴿213﴾ (ابتدا میں) سب لوگ ایک ہی دین پر تھے (پھر جب انمیں اختلاف پیدا ہوگیا) تو بھیجے اللہ نے انبیاء خوشخبری سنا نے والے اور ڈرانے والے اور نازل فرمائی ان کے ساتھ کتاب برحق تاکہ فیصلہ کردے لوگوں کے درمیان جن باتوں میں جھگڑنے لگے گے اور کسی نے اختلاف نہیں کیا اس میں بجز ان لوگوں کے جنہیں کتاب دی گئی تھی بعد ازاں کہ آگئی تھیں ان کے پاس روشن دلیلیں (اسکی وجہ) ایک دوسرے سے حسد تھا۔ پس اللہ نے ہدایت بخشی انھیں جو ایمان لائے تھے ان سچی باتوں پر جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے اپنی توفیق سے اور اللہ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے سیدے راستے کی طرف۔
﴿214﴾ کیا تم خیال کررہے ہو کہ (یونہی) داخل ہوجاؤگے جنت میں حالانکہ نہیں گزرے تم پر وہ حالات جو گزرے ان لوگوں پر جو تم سے پہلے ہوئے ہیں، پہنچی انھیں سختی اور مصیبت اور وہ لرز اٹھے یہاں تک کہہ اٹھا (اس زمانہ کا) رسول اور جو ایمان لے آئے تھے اسکے ساتھ کب آئیگی اللہ کی مدد؟ سن لو یقیناً اللہ کی مدد قریب ہے ۔
﴿215﴾ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں ، آپ فرمائیے جو کچھ خرچ کرو (اپنے) مال سے تو اس کے مستحق تمہارے ماں باپ ہیں ، اور قریبی رشتہ دار ہیں اور یتیم ہیں اور مسکین ہیں اور مسافر ہیں اور جو نیکی تم کرتے ہو تو بلا شبہ اللہ تعالیٰ اُسے خوب جانتا ہے۔
﴿216﴾ فرض کیا گیا ہے تم پر جہاد اور وہ نا پسند ہے تمہیں اور ہوسکتا ہے کہ تم نا پسند کرو کسی چیز حالانکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہو اور ہوسکتا ہے کہ تم پسند کرو کسی چیز کو حالانکہ وہ تمہارے حق میں بری ہو اور ( حقیقت حال ) اللہ ہی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔
﴿217﴾ وہ پوچھتے ہیں آپ سے کہ ماہ حرام میں جنگ کرنے کا حکم کیا ہے آپ فرمائیے کہ لڑائی کرنا اس میں بڑا گناہ ہے لیکن روک دینا اللہ کی راہ سے اور کفر کرنا اس کے ساتھ اور (روک دینا) مسجد حرام سے اور نکال دینا اسمیں بسنے والوں کو اس ، اسے بھی بڑے گناہ ہیں اللہ کے نزدیک اور فتنہ (و فساد) قتل سے بھی بڑا گنا ہے۔ اور ہمیشہ لڑتے رہیں گے تم سے یہاں تک کہ پھیر دیں تمہیں تمہارے دین سے اگر بن پڑے اور جو پھر سے تم میں سے اپنے دین سے پھر مرجائے حالت کفر پر تو یہی وہ (بدنصیب) ہیں کہ ضائع ہوگئے ان کے عمل دینا و آخرت میں اور یہی دوزخی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
﴿218﴾ بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا ، اللہ کی راہ میں ، (تو ) یہی لوگ امید رکھتے ہیں اللہ کی رحمت کی ، اور اللہ بڑا بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔
﴿219﴾ وہ پوچھتے ہیں آپ سے شراب اور جوئے کی بابت ، آپ فرمائیے ان دونوں میں بڑا گناہ ھے۔ اور کچھ فائدے بھی ہیں لوگوں کے لیے اور ان کا گناہ بہت بڑا ہے ان کے فائدے سے اور پوچھتے ہیں آپ سے کیا خرچ کریں فرمایے جو ضرورت سے زیادہ ہو اسی طرح کھول کر بیان کرتا ہے اللہ تمہارے لیے اپنے حکموں کو تاکہ تم غور و فکر کرو ۔
﴿220﴾ دنیا اور آخرت کے کاموں میں ۔ اور پوچھتے ہیں آپ سے یتیموں کے بارے میں فرمائیے (ان سے الگ تھلک رہنے سے) انکی بھلائی کرنا بہتر ہے، اور اگر (کاروبار میں) تم انہیں ساتھ ملالو تو وہ تمہارے بھائی ہیں۔ اور اللہ خوب جانتا ہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے اور اگر چاہتا اللہ تو مشکل میں ڈال دیتا تمہیں بےشک اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا حکمت والا ہے۔
﴿221﴾ اور نہ نکا ح کرو مشرک عورتوں کے ساتھ یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں۔ اور بےشک مسلمان لونڈی بہتر ہے (آزاد) مشرک عورت سے اگرچہ وہ بہت پسند آئے تمہیں۔ اور نہ نکاح کردیا کرو (اپنی عورتوں کا ) مشرکوں سے یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں اور بیشک مومن غلام بہتر ہے (آزاد) مشرک سے، اگرچہ وہ پسند آئے تمہیں وہ لوگ تو بلاتے ہیں دوزخ کی طرف اور اللہ تعالیٰ بلاتا ہے جنت کی اور مغفرت کی طرف اپنی توفیق سے اور کھول کر بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے حکم لوگوں کے لیے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں
﴿222﴾ اور وہ پوچھتے ہیں آپ سے حیض کے متعلق فرمائیے وہ تکلیف دہ ہے پس الگ رہا کرو عورتوں سے حیض کی حالت میں اور نہ نزدیک جایا کرو ان کے یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں ۔ پھر جب وہ پاک ہوجائیں تو جاؤ ان کے پاس جیسے حکم دیا ہے تمہیں اللہ نے بےشک اللہ دوست رکھتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور دوست رکھتا ہے صاف ستھرا رہنے والوں کو۔
﴿223﴾ تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں سو تم آؤ اپنے کھیت میں جس طرح چاہو اور پہلے پہلے کرلو اپنی بھلائی کے کام اور ڈرتے رہو اللہ سے اور خوب جان لو کہ تم ملنے والے ہو اس سے اور (اے حبیب) خوشخبری دو مومنوں کو ۔
﴿224﴾ اور نہ بناؤ اللہ (کے نام) کو رکاوٹ اس کی قسم کھا کر کہ نیکی نہ کروگے اور پرہیزگاری نہ کرو گے اور صلح نہ کرو گے لوگوں میں اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔
﴿225﴾ نہیں پکڑے گا تمہیں اللہ تعالیٰ تمہاری لایعنی قسموں پر لیکن پکڑے گا تمہیں ان قسموں پر جن کا ارادہ تمہارے دلوں نے کیا ہے اور اللہ بہت بخشنے والا حلم والا ہے۔
﴿226﴾ ان کے لیے جو قسم اٹھاتے ہیں کہ وہ اپنی بیویوں کے قریب نہ جائیں گے مہلت ہے چار ماہ کی پھر اگر رجوع کرلیں (اِس مدت میں) تو بیشک اللہ غفور رحیم ہے
﴿227﴾ اور اگر پکا ارادہ کرلیں طلاق دینے کا تو بےشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔
﴿228﴾ اور طلاق دی ہوئی عورتیں روکے رکھیں اپنے آپ کو تین حیضوں تک اور جائز نہیں ان کے لیے کہ چھپائیں جو پیدا کیا ہے اللہ نے ان کے رحموں میں اگر وہ ایمان رکھتی ہوں اللہ پر اور روز آخرت پر ان کے خاوند زیادہ حقدار ہیں ان کو لوٹانے کے اس مدت میں اگر وہ ارادہ کرلیں اصلاح کا اور ان کے بھی حقوق ہیں (مردوں پر) جیسے مردوں کے حقوق ہیں ان پر دستور کے مطابق البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ عزت والا حکمت والا ہے۔
﴿229﴾ طلاق دوبار ہے پھر یا روک لینا ہے بھلائی کے ساتھ یا چھوڑدینا ہے احسان کے ساتھ اور جائز نہیں تمارے لیے کہ لو تم اس سے جو تم نے دیا ہے انہیں کچھ بھی بجز اس کے کہ دونوں اندیشہ ہو کہ وہ قائم نہ رکھ سکیں گے اللہ کی حدو کو تو کوئی حرج نہیں ان پر کہ عورت کچھ فدیہ دیگر جان چھڑالے۔ یہ حدیں ہیں اللہ کی سو ان سے آگے نہ بڑھو اور جو کوئی آگے بڑھتا ہے اللہ کی حدو سے سو وہی لوگ ظالم ہیں۔
﴿230﴾ (دوبار طلاق دینے کے بعد) پھر اگر وہ طلاق دے اپنی بیوی کو تو وہ حلال نہ ہوگی اس پر اس کے بعد یہاں تک کہ نکاح کرے کسی اور خاوند کے ساتھ۔ پس اگر وہ (دوسرا) طلاق دے اسے تو کوئی حرج نہیں ان دونوں پر کہ رجوع کرلیں۔ بشرطیکہ انہیں خیال ہو کہ وہ قائم رکھ سکیں گے اللہ کی حدوں کو اور یہ حد یں ہیں اللہ کی وہ بیان فرماتا ہے انہیں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔
﴿231﴾ اور جب تم طلاق دیدو عورتوں کو اور وہ پوری کر لیں اپنی عدت پس یا تو روک لو انہیں بھلائی کے ساتھ یا چھوڑ دو انہیں بھلائی کے ساتھ اور نہ روکو انہیں تکلیف دینے کی غرض سے تاکہ زیادتی کرو۔ اور جو کوئی کرے گا اس طرح تو وہ ظلم کریگا اپنی ہی جان پر اور نہ بنا لو اللہ کی آیتوں کو مذاق اور یاد کرو اللہ کی نعمت کو جو تم پر ہے اور (یاد کرو) جو اس نے نازل فرمایا تم پر قرآن اور حکم وہ نصیحت فرماتا ہے تمہیں اس سے۔ اور ڈرتے رہو اللہ سے اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
﴿232﴾ اور جب تم طلاق دو عورتوں کو پھر وہ پوری کرچکیں اپنی عدت تو نہ منع کرو انہیں کہ نکاح کرلیں اپنے خاوندوں سے جبکہ رضا مند ہوجائیں آپس میں مناسب طریقہ سے یہ فرمان الٰہی (ہے) نصیحت کی جاتی ہے اسکے ذریعے اسکو جو تم میں سے یقین رکھتا ہو اللہ پر اور قیامت پر یہ بہت پاکیزہ ہے تمہارے لیے اور بہت صاف اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
﴿233﴾ اور مائیں دودھ پلائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال ( یہ مدت) اس کے لیے ہے جو پورا کرنا چاہتا ہے دودھ کی مدت۔ اور جس کا بچہ ہے اس کے ذمہ ہے کھانا ان ماؤں کا اور ان کا لباس مناسب طریقہ سے۔ تلیف نہیں دی جاتی کسی شخص کو مگر اسکی حیثیت کے مطابق نہ ضرر پہنچایا جاجے کیس ماں کو اسکے لڑکے کے باعث اور نہ کسی باپ کو (ضرر پہنچا یا جائے) اسکے لڑکے کے باعث اور وارث پر بھی اسی قسم کی ذمہ داری ہے۔ پس اگر دونوں ارادہ کرلیں دودھ چھڑانے کا اپنی مرضی اور مشورہ سے تو کوئی گناہ نہیں دونوں پر اور اگر تم چاہو کہ دودھ پلواؤ (دایہ سے) اپنی اولاد کو پھر کوئی گناہ نہیں تم پر جبکہ تم ادا کردو جو دینا ٹھرایا تھا تم نے مناسب طریقہ سے اور ڈرتے رہو اللہ سے اور (خوب) جان لو کہ یقیناً اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کررہے ہو اسے دیکھنے والا ہے۔
﴿234﴾ اور جو لوگ فوت ہوجائیں تم میں سے اور چھوڑ جائیں بیویاں تو ہو بیویاں انتظار کریں چار مہینے اور دس دن اور جب پہنچ جائیں اپنی (اس) مدت کو تو کوئی گناہ نہیں تم پر اس میں جو کریں وہ اپنی ذات کے بارے میں مناسب طریقہ سے ۔ اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو خوب واقف ہے۔
﴿235﴾ اور کوئی گناہ نہیں تم پر اس بات میں کہ اشارہ سے پیغام نکاح دو اِ ن عورتوں کو یا جو چھپائے ہو تم اپنے دلوں میں جانتا ہے اللہ تعالیٰ کہ تم ضرور اس کا ذکر کرو گے البتہ نہ وعدہ لینا ان سے خفیہ طور پر بھی مگر یہ کہ کہو (ان سے ) شریعت کے مطابق کوئی بات اور نہ پکی کرلو نکاح کی گرہ یہاں تک کہ پہنچ جائے عدت اپنی انتہا کو اور جان لو کہ یقیناً اللہ جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے سو اس ڈرتے رہو اور جان لو کہ بےشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا حلم والا ہے۔
﴿236﴾ کوئی حرج نہیں تم پر اگر تم طلاق دے دو ان عورتوں کو جن کو تم نے چھوا بھی نہیں اور نہیں مقرر کیا تم نے ان کا مہر اور خرچہ دہ انہیں مقدور والے پر اسکی حیثیت کے مطابق اور تنگدست پر اس کی حیثیت کے مطابق یہ خرچہ مناسب طریقہ پر ہونا چاہیے۔ یہ فرض ہے نیکو کاروں پر۔
﴿237﴾ اور اگر تم طلاق دو انہیں اس سے پہلے کہ تم انہیں ہاتھ لگاؤ اور مقرر کرچکے تھے ان کے لیے مہر تو نصف مہر (ادا کرو) جو تم نے مقرر کیا ہے مگر یہ کہ وہ (اپنا حق ) معاف کردیں یا معاف کردے وہ جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ اور (اے مردو) اگر تم معاف کردو تو یہ بہت قریب ہے تقویٰ سے اور نہ بھلایا کرو احسان کو آپس (کے لین دین) میں بیشک اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے
﴿238﴾ پابندی کرو سب نمازوں کی اور (خصوصا!) درمیانی نماز کی اور کھڑے رہا کرو اللہ کے لیے عاجزی کرتے ہوئے۔
﴿239﴾ پھر اگر تم کو ڈر ہو (دشمن وغیرہ کا ) تو پیادہ یا سوار (جیسے بن پڑے) پھر جب تمہیں امن حاصل ہوجائے تو یاد کرو اللہ تعالیٰ کو جس طرح اس نے سکھایا ہے ، تمہیں جو تم جانتے نہیں تھے۔
﴿240﴾ اور جو لوگ فوت ہو جاتے ہیں تم میں سے اور چھوڑ جاتے ہیں بیویاں (انہیں چاہیے کہ ) وصیت کرجایا کریں اپنی بیویوں کے لیے انہیں خرچ دیا جائے ایک سال تک (اور) نہ نکالا جائے (انہیں گھر سے ) پھر اگر وہ خود چلی جائیں تو کوئی گناہ نہیں تم پر جو کچھ وہ کریں۔ اپنے معاملہ میں مناسب طور پر اور اللہ بہت زبردست بڑا دانا ہے۔
﴿241﴾ اور (اسی طرح) جن کو طلاق دی گئی انکو خرچ دینا چاہیے مناسب طور پر ۔ یہ واجب ہے پرہیزگاروں پر ۔
﴿242﴾ اسی طرح کھول کر بیان فرماتا ہے اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنے احکام تاکہ تم سمجھ جاؤ۔
﴿243﴾ کیا نہیں دیکھا تو نے ان لوگوں کی طرف جو نکلے تھے اپنے گھروں سے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے تو فرمایا انہں اللہ تعالیٰ نے کہ مرجاؤ پھر زندہ فرمایا انھیں بےشک اللہ تعالیٰ بڑا مہربان ہے لوگوں پر لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے ۔
﴿244﴾ اور لڑائی کرو اللہ کی راہ میں اور جان لو کہ بےشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔
﴿245﴾ کون ہے جو دے اللہ تعالیٰ کو قرض حسن تو بڑھا دے الہ اس قرض کو اس کے لیے کئی گنا اور اللہ تعالیٰ تنگ کرتا ہے (رزق کو ) اور فراخ کرتا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤگے۔
﴿246﴾ کیا نہیں دیکھا تم نے اس گروہ کو بنی اسرائیل سے (جو) موسیٰ کے بعد ہوا جب کہا انھوں نے اپنے نبی سے کہ مقرر کردو ہامرے لیے ایک امیر تاکہ لڑائی کریں ہم اللہ کی راہ میں نبی نے کہا کہیں ایسا نہ ہو کہ فرض کردیا جائے تم پر جہاد تو تم جہاد نہ کرو وہ کہنے لگے (کوئی وجہ) نہیں ہمارے لیے کہ ہم جہاد نہ کریں اللہ کی راہ میں حالانکہ ہم نکالے گئے اپنے گھروں سے اور اپنے فرزندوں سے مگر جب فرض کردیا گیا ان پر جہاد تو منہ پھیر لیا انھوں نے بجز چند نے ان میں سے اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے ظالموں کو ۔
﴿247﴾ اور کہا انھیں ان کے نبی نے بےشک اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمادیا ہے تمہارے لیے طالوت کو امیر بولے کیونکر ہوسکتا ہے اسے حکومت کا حق ہم پر حا لانکہ ہم زیادہ حقدار ہیں حکومت کے اس سے اور نہیں گئی اسے فراخی ما ل و دولت میں بنی نے فرمایا بےشک اللہ تعالیٰ نے چُن لیا ہے اسے تمہارے مقابلہ میں اور زیادہ دی ہے اسے کشادگی علم میں اور جسم میں اور اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے اپنا ملک جسے چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ وُسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے۔
﴿248﴾ اور کہا انھیں ان کے نبی نے کہ اس کی بادشاہی کے نشانی یہ ہے کہ آئے گا تمہارے پاس ایک صندوق اس میں تسلی (کا سامان) ہوگا تمہارے رب کی طرف سے اور (اس میں) بچی ہوئی چیزیں ہوں گی جنھیں چھوڑ گئی ہے اولاد موسیٰ اور اولاد ہارون اٹھالائیں گے اس صندوق کو فرشتے بےشک اس میں بڑی نشانی ہے تمہارے لیے اگر تم ایمان دار ہو ۔
﴿249﴾ پھر جب روانہ ہوا طالوت اپنی فوجوں کے ساتھ اس نے کہا کہ بےشک اللہ تعالیٰ آزمانے والا ہے تمھیں ایک نہر سے جس نے پانی پی لیا اس وہ نہیں میرے ساتھیوں سے اور جس نے نہ پیا وہ یقیناً میرے ساتھیوں میں سے ہے مگر جس نے بھر لیا ایک چلو اپنے ہاتھ سے پس سب نے پیا اس سے مگر چند آدمیوں نے ان سے (نہیں پیا) پھر جب عبور کیا اسے طالوت نے اور ان لوگوں نے جو ایمان لائے تھے، اس کے ساتھ کہنے لگے کچھ طاقت نہیں ہم میں آج جالوت اور اس کے لشکر کے مقابلہ کرنے کی (مگر) کہا ان لوگوں نے جو یقین رکھتے تھے وہ ضرور ملاقات کرنے والے ہیں اللہ سے کہ بارہا چھوٹی جماعتیں غالب آئی ہیں بڑی جماعتوں پر اللہ کے ازن سے اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
﴿250﴾ اور جب سامنے آگئے جالوت اور اس کی فوجوں کے تو بارگاہِ الٰہی میں عرض کرنے لے اے ہمارے رب! اُتار ہم پر صبر اور جمائے رکھ ہمارے قدموں کو اور فتح دے ہمیں قوم کفار پر
﴿251﴾ پس انہوں نے شکست دی جالوت کے لشکر کو۔ اللہ کے اذن سے اور قتل کردیا داؤد نے جالوت کو اور عطا فرمائی داؤد کو اللہ نے حکومت اور دانائی اور سکھادیا اس کو جو چاہا اور اگر نہ بچاؤ کرتا اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کا بعض کے ذریعہ تو برباد ہوجاتی زمین لیکن اللہ تعالیٰ فضل و کرم فرمانے والاہے سارے جہانوں پر
﴿252﴾ یہ آیتیں ہیں اللہ کی ہم پڑھتے ہیں انھیں آپ پر (اے حبیب) ٹھیک ٹھیک اور یقیناً آپ رسولوں میں سے ہیں۔
﴿253﴾ یہ آیتیں ہیں اللہ کی ہم پڑھتے ہیں انھیں آپ پر (اے حبیب) ٹھیک ٹھیک اور یقیناً آپ رسولوں میں سے ہیں۔
﴿254﴾ اے ایمان والو خرچ کرلو اس (مال) سے جو ہم نے دیا ہے تم کو اس سے پہلے کہ آجائے وہ دن جس میں نہ خرید و فروخت ہوگی اور نہ (کفار کے لیے ) دوستی ہوگی اور نہ (ان کے لیے) شفاعت ہوگی اور جو کافر ہیں وہی ظالم ہیں ۔
﴿255﴾ اللہ (وہ ہے کہ) کوئی عبادت کے لائق نہیں بغیر اس کے زندہ ہے سب کو زندہ رکھنے والا ہے نہ اس کو اونگھ آتی ہے اور نہ نیند اُسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے کون ہے جو سفارش کرسکے اسکے پاس بغیر اس کی اجازت کے جانتا ہے جو ان سے پہلے (ہوچکا) ہے اور جو ان کے بعد (ہونے والا) ہے اور وہ نہیں گھیر سکتے کسی چیز کو اس کے علم سے مگر جتنا وہ چاہے سما رکھا ہے اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو اور نہیں تھکاتی اسے زمین و آسمان کی حفاظت اور وہی ہے سب سے بلند عظمت والا ۔
﴿256﴾ کوئی زبردستی نہیں ہے دین میں بےشک خوب واضح ہوگئی ہے ہدایت گمراہی سے تو جو انکار کرے شیطان کا اور ایمان لائے اللہ کے ساتھ تو اس نے پکڑ لیا مضبوط حلقہ جو ٹوٹنے ولا نہیں اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے
﴿257﴾ اللہ مدد گار ہے ایمان والوں کا نکال لے جاتا ہے انھیں اندھیروں سے نور کی طرف اور جنھوں نے کفر کیا اس کے ساتھی شیطان ہیں نکال لے جاتے ہیں انھیں نور سے اندھیروں کی طرف یہی لوگ دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
﴿258﴾ کیا نہ دیکھا آپ نے (اے حبیب) اسے جس نے جھگڑا کیا ابراہیم سے ان کے رب کے بارے میں اس وجہ سے کہ دی تھی اے اللہ نے بادشاہی جب کہ کہا ابراہیم (علیہ السلام) نے (اسے) کہ میرا رب وہ ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے اس نے کہا کہ میں بھی جلاسکتا ہوں اور مارسکتا ہوں ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نکالتا ہے سورج کو مشرق سے تو تو نکال لا اسے مغرب سے (یہ سن کر) ہوش اڑ گئے اس کافر کے اور اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا ظالم قوم کو۔
﴿259﴾ یا (کیا نہ دیکھا) اس شخص کو جو گزر ا ایک بستی پر درآں حال کہ وہ گری پڑی تھی اپنی چھتوں کے بل کہنے لگا کہ کیونکر زندہ کرے گا اسے اللہ تعالیٰ اس کے ہلاک ہونے کے بعد۔ سو مردہ رکھا اسے اللہ تعالیٰ نے سو سال تک پھر زندہ کیا اسے فرمایا کتنی مدت تو یہاں ٹھیرا رہا اس نے عرض کی کہ میں ٹھیرا ہوں گا ایک دن یا د کا کچھ حصہ اللہ نے فرمایا نہیں بلکہ ٹھیرا رہا ہے تو سو سال اب (ذرا) دیکھ اپنے کھانے اور اپنے پینے کے سامان کی طرف یہ باسی نہیں ہوا اور دیکھ اپنے گدھے کو اور یہ سب اس لیے کہ ہم بنائیں تجھے نشان لوگوں کے لیے اور دیکھ ان ہڈیوں کو کہ ہم کیسے جوڑتے ہیں انھیں پھر (کیسے) ہم پہناتے ہیں انھیں گوشت پھر جب حقیقت روشن ہوگئی اس کے لیے (تو) اس نے کہا میں جان گیا ہون کہ بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
﴿260﴾ اور یاد کرو جب عرض کی ابراہیم (علیہ السلام) نے اے میرے پروردگار دکھا مجھے کہ تو کیسے زدہ فرماتا ہے مردوں کو فرمایا (اے ابراہیم ( علیہ السلام) ) کیا تم اس پر یقین نہیں رکھتے عرض کی ایمان تو ہے لیکن (یہ سوال اس لیے ہے) تاکہ مطمئن ہوجائے میرا دل فرمایا تو پکڑلے چار پرندے پھر مانوس کرلے انھیں اپنے ساتھ پھر رکھ دے ہر پہاڑ پر ان کا ایک ایک ٹکڑا پھر بلا انھیں چلے آئیں گے تیرے پاس دوڑتے ہوئے اور جان لے یقیناً اللہ تعالیٰ سب پر غالب بڑا دانا ہے۔
﴿261﴾ مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں کو اللہ کی راہ میں ایسی ہے جیسے ایک دانہ جو اگاتا ہے سات بالیں (اور ) ہر بال میں سو دانہ ہو اور اللہ تعالیٰ (اس سے بھی) بڑھا دیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور اللہ وسیع بخشش والا جاننے والا ہے۔
﴿262﴾ جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی راہ میں پھر جو خرچ کیا اس کے پیچھے نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ دکھ دیتے ہیں انھیں کے لیے ثواب ہے ان کا ان کے رب کے پاس نہ کوئی خوف ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
﴿263﴾ اچھی بات کرنا اور (غلطی) معاف کردینا بہتر ہے اس صدقہ سے جس کے پیچھے دکھ پہنچایا جائے اور اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے بڑے حلم والا ہے۔
﴿264﴾ اے ایمان والو! مت ضائع کرو اپنے صدقوں کو احسان جتلا کر اور دکھ پہنچا کر اس آدمی کی طرح جو خرچ کرتا ہے اپنا مال لوگوں کو دیکھانے کے لیے اور یقین نہیں رکھتا اللہ پر اور دِن قیامت پر اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی چکنی چٹان ہو جس پر مٹی پڑی ہو پر برسے اس پر زور کی بارش اور چھوڑ جائے اُسے چٹیل صاف پتھر (ریا کار) حاصل نہ کرسکیں گے کچھ بھی اس سے جو انھوں نے کمایا ۔ اور اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا کفر اختیار کرنے والوں کو۔
﴿265﴾ اور مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی خوشنودیاں حاصل کرنے کے لیے اور اس لیے تاکہ پختہ ہوجائیں ان کے دل ان کی مثال اس باغ جیسی ہے جو ایک بلند زمین پر ہو برسا ہو اس پر زور کا مینہ تو لایا ہو وہ باغ دوگنا پھل اور اگر نہ برسے اس بارش تو شبنم ہی کافی ہو جائے اور اللہ تعالیٰ جو تم کررہے ہو سب دیکھ رہا ہے۔
﴿266﴾ کیا پسند کرتا ہے کوئی تم میں سے کہ ہو اس کا ایک باغ کھجوروں اور انگوروں کا بہتی ہو اس کے نیچے ندیاں ( کھجور و انگورکے علاوہ) اس کے لیے اس میں ہر قسم کے اور پھل بھی ہوں اور آلیا ہو اسے بڑھاپے نے اور اس کی اولاد بھی کمزور ہو (تو کیا وہ پسند کرتا ہے ) کہ پہنچے اس کے باغ کو بگولہ جس میں آگ ہو پھر وہ باغ جل بھن جائے ایسے ہی کھول کر بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ تمہارے لیے (اپنی ) آیتیں تاکہ تم غور و فکر کرو۔
﴿267﴾ اے ایمان والو ں! خرچ کیا کرو عمدہ چیزوں سے جو تم نے کمائی ہیں اور اس سے جو نکالا ہے ہم نے تمہارے لیے زمین سے اور نہ ارادہ کرو ردی چیز کا اپنی کمائی سے کہ ( تم اسے ) خرچ کرو حالانکہ (اگر تمھیں کوئی ردی چیز دے تو) تم نہ لو اسے بجز اس کے چشم پوشی کرلو اس میں اور (خوب ) جان لو کہ اللہ تعالیٰ غنی ہے ہر تعریف کے لائق ہے۔
﴿268﴾ شیطان ڈراتا ہے تمھیں تنگدستی سے اور حکم کرتا ہے تم کو بےحیائی کا اور اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے تم سے اپنی بخشش کا اور فضل (وکرم) کا اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے۔
﴿269﴾ عطا فرماتا ہے دانائی جسے چاہتا ہے اور جسے عطا کی گئی دانائی تو یقیناً اُسے دے دی گئی بہت بھلائی اور نہیں نصیحت قبول کرتے مگر عقل مند۔
﴿270﴾ اور جو تم خرچ کرتے ہو اور مننت مانتے ہو تو یقیناً اللہ تعالیٰ اُسے جانتا ہے اور نہیں ہے ظالموں کے لیے کوئی مدد گار۔
﴿271﴾ اگر ظاہر کرو (اپنی) خیرات تو بہت اچھی بات ہے اور اگر پوشیدہ رکھو صدقوں کو اور دو انھیں فقیروں کو تو یہ بہت بہتر ہے تمہارے لیے اور (صدقہ کی برکت سے ) مٹادے گا تم سے تمہارے بعض گناہ اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کررہے ہو خبردار ہے۔
﴿272﴾ نہیں ہے آپ کے ذمہ ان کو سیدھی راہ پر چلانا ہاں اللہ سیدھی راہ پر چلاتا ہے جسے چاہتا ہے اور جو کچھ تم خرچ کرو (اپنے) مال سے سے (اس میں ) تمہارا اپنا فائدہ ہے اور تم تو خرچ ہے نہیں کرتے ہو سوائے اللہ کی رضا طلبی کے اور جتنا کچھ تم خرچ کرو گے ( اپنے) مال سے پورا ادا کردیا جائے گا تمھیں اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
﴿273﴾ (خیرات) ان فقیروں کے لیے ہے جو روکے گئے ہیں اللہ کی راہ میں نہیں فرصت ملتی انھیں (روزی کمانے کے لیے ) چلنے پھرنے کی زمین میں خیال کرتا ہے انھیں ناواقف (کہ یہ) مالدار (ہیں) بوجہ ان کے سوال نہ کرنے کے (اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) آپ پہچانتے ہیں انھیں ان کی صورت سے یہ نہیں مانگا کرتے لوگوں سے لپٹ کر اور جو کچھ تم خرچ کروگے (اپنے ) مال سے پس یقیناً اللہ تعالیٰ اسے خوب جاننے والا ہے۔
﴿274﴾ جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مال رات میں اور دن میں چھپ کر اور علانیہ تو ان کے لیے ان کا اجر ہے اپنے رب کے پاس اور نہ انھیں کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
﴿275﴾ جو لوگ کھایا کرتے ہیں سود وہ نہیں کھڑے ہوں گے مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے وہ جسے پاگل بنا دیا ہو شیطان نے چھو کر یہ حالت اس لیے ہوگی کہ وہ کہا کرتے تھے کہ سوداگری بھی سود کی مانند ہے حالانکہ حلا ل فرمایا اللہ تعالیٰ نے تجارت کو اور حرام کیا سود کو پس جس کے پاس آئی نصیحت اپنے رب کی طرف سے تو وہ (سود سے) رک گیا تو جائز ہے اس کے لیے جو گزر چکا اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اور جو شخص پھر سود کھانے لگے تو وہ لوگ دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
﴿276﴾ مٹاتا ہے اللہ تعالیٰ سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو اور اللہ تعالیٰ دوست نہیں رکھتا ہر ناشکرے گنہگار کو۔
﴿277﴾ بے شک جو لوگ ایمان لائے اور کرتے رہے اچھے عمل اور صحیح صحیح ادا کرتے رہے نماز کو اور دیتے رہے زکوٰۃ کو ان کے لیے ان کا اجر ہے ان کے رب کے پاس نہ کوئی خوف ہے انھیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
﴿278﴾ اے ایمان والو! ڈرو اللہ سے اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود سے اگر تم (سچے دل سے) ایمان دار ہو۔
﴿279﴾ اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اعلان جنگ سن لو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اور اگر تم توبہ کرلو تہ تمھیں (مل جائیں گے) اصل مال نہ تم ظلم کیا کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔
﴿280﴾ اور اگر مقروض تنگدست ہو تو مہلت دو اسے خوشحال ہونے تک اور بخش دینا اسے (قرض) بہت بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم جانتے ہو ۔
﴿281﴾ اور ڈرتے رہو اس دن سے لوٹائے جاؤگے جس میں اللہ کی طرف پھر پورا پورا دے دیا جائے گا ہر نفس کو جس اس نے کمایا ہے اور ان پر زیادتی نہ کی جائے گی۔
﴿282﴾ اے ایمان والا! جب تم ایک دوسرے کو قرض دو مدت مقررہ تک تو لیکھ لیا کرو اسے اور چاہیے کہ لکھے تمہارے درمیان لکھنے والا دعدل و انصاف سے اور نہ انکار کرے لکھنے والا لکھنے سے جیسے سکھایا ہے اس کو اللہ نے پس وہ بھی لکھ دے اور لکھوائے وہ شخص جس کے ذمہ حق (قرضہ) ہے اور ڈرے اللہ سے جو اس کا پروردگار ہے اور نہ کمی کرے اس سے ذرہ بھر پھر اگر وہ شخص جس پر قرض ہے بیوقوف ہو یا کمزور ہو یا س کی طاقت نہ رکھتا ہو کہ خود لکھا سکے تو لکھائے اس کا ولی (سرپرست) انصاف سے اور بنا لیا کرو دو گواہ اپنے مردوں سے اور اگر نہ ہوں دو مرد تو ایک مرد اور دو عورتیں ان لوگوں میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو تم (اپنے لیے) گواہ تاکہ اگر بھول جائے ایک عورت تو یاد کرائے (وہ) ایک دوسری کو اور نہ انکار کریں گوہ جب وہ بلائے جائیں اور نہ اکتایا کرو اسے لکھنے سے خواہ (رقم قرضہ) تھوڑی ہو یا زیادہ اس کی میعاد تک یہ تحریر عدل قائم کرنے کے لیے بہت مفید ہے اللہ کے نزدیک اور بہت محفوظ رکھنے والی ہے گواہی کو اور آسان طریقہ ہے تمھیں شک سے بچانے کا مگر یہ کہ سودا دست بدستی ہو جس کا تم لین دین آپس میں کرو (اس صورت میں) نہیں تم پر کچھ حرج اگر نہ بھی لکھو اسے اور گواہ ضرور بنالیا کرو جب خرید و فروخت کرو اور ضرر نہ پہنچایا جائے لکھنے والے کو اور نہ گواہ کو اور اگر تم ایسا کروگے تو یہ نافرمانی ہوگی تمہاری اور ڈرا کرو اللہ سے اور سکھاتا ہے تمھیں اللہ تعالیٰ (آداب معاشرت) اور اللہ ہر چیز کو خوپ جاننے والا ہے۔
﴿283﴾ اور اگر تم سفر میں ہو اور نہ پاؤ کوئی لکھنے والا تو کوئی چیز گروی رکھ لیا کرو اور اس کا قبضہ دے دیا کرو پھر اگر اعتبار کرلے کوئی تم میں سے دوسرے پر پس چاہیے کہ ادا کردے وہ جس پر اعتبار کیا گیا ہے اپنی امانت کو اور ضروری ہے کہ ڈرتا رہے اللہ سے جو اس کا رب ہے، اور مت چھپاؤ گواہی کو اور جو شخص چھپاتا ہے اسے تو یقیناً گنہگار ہے اس کا ضمیر اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو خوب جاننے والا ہے۔
﴿284﴾ اللہ تعالیٰ کا ہی ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اگر تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے یا تم اسے چھپائے رہو حساب لے گا تم سے اس کا اللہ تعالیٰ پھر بخش دے گا جسے چاہے گا اور عذاب دے گا جسے چاہے گا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔
﴿285﴾ ایمان لایا جو رسول (کریم) اس (کتاب) پر جو اتاری گئی اس کی طرف اس کے رب ک طرف سے اور ( ایمان لائے ) مومن یہ سب دل سے مانتے ہیں اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی کتابوں کو اوراُس کے رسولوں کو (نیز کہتے ہیں) ہم فرق نہیں کرتے کسی میں اس کے رسولوں سے اور انھوں نے کہا ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی ہم طالب ہیں تیری بخشش کے اے ہامرے رب! اور تیری ہی طرف ہمہیں لوٹنا ہے۔
﴿286﴾ ذمہ داری نہیں ڈالتا اللہ تعالیٰ کسی شخص پر مگر جتنی طاقت ہو اس کی ۔ اس کو اجر ملے گا جو (نیک عمل) اس نے کیا اور اس پر وبال ہوگا جو (برا عمل) اس نے کمایا اے ہمارے رب نہ پکڑ ہم کو اگر ہم بھولیں یا خطا کر بیٹھیں اے ہمارے رب ! نہ ڈال ہم پر بھاری بوجھ جیسے تونے ڈالا تھا ان پر جو ہم سے پہلے گزرے ہیں اے ہمارے پروردگار! نہ ڈال ہم پر وہ بوجھ جس کے اٹھانے کی ہم میں قوت نہیں اور درگزر فرما ہم سے اور بخش دے ہم کو اور رحم فرما ہم پر توہی ہمارا دوست (اور مددگار) ہے تو مدد فرما ہماری ، قوم کفار پر