Back to Languages

Urdu - Chapter 22 - Al-Hajj

Translation by Muhammad Tahir Ul Qadri — Permalink

Verse 1 — Surah Al-Hajj 22:1

اے لوگو! اپنے رب سے ڈرتے رہو۔ بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے

Verse 2 — Surah Al-Hajj 22:2

جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی (ماں) اس (بچی) کو بھول جائے گی جسے وہ دودھ پلا رہی تھی اور ہر حمل والی عورت اپنا حمل گرا دے گی اور (اے دیکھنے والے!) تو لوگوں کو نشہ (کی حالت) میں دیکھے گا حالانکہ وہ (فی الحقیقت) نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب (ہی اتنا) سخت ہوگا (کہ ہر شخص حواس باختہ ہو جائے گا)

Verse 3 — Surah Al-Hajj 22:3

اور کچھ لوگ (ایسے) ہیں جو اللہ کے بارے میں بغیر علم و دانش کے جھگڑا کرتے ہیں اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں

Verse 4 — Surah Al-Hajj 22:4

جس (شیطان) کے بارے میں لکھ دیا گیا ہے کہ جو شخص اسے دوست رکھے گا سو وہ اسے گمراہ کر دے گا اور اسے دوزخ کے عذاب کا راستہ دکھائے گا

Verse 5 — Surah Al-Hajj 22:5

اے لوگو! اگر تمہیں (مرنے کے بعد) جی اٹھنے میں شک ہے تو (اپنی تخلیق و ارتقاء پر غور کرو کہ) ہم نے تمہاری تخلیق (کی کیمیائی ابتداء) مٹی سے کی پھر (حیاتیاتی ابتداء) ایک تولیدی قطرہ سے پھر (رِحمِ مادر کے اندر جونک کی صورت میں) معلق وجود سے پھر ایک (ایسے) لوتھڑے سے جو دانتوں سے چبایا ہوا لگتا ہے، جس میں بعض اعضاء کی ابتدائی تخلیق نمایاں ہو چکی ہے اور بعض (اعضاء) کی تخلیق ابھی عمل میں نہیں آئی تاکہ ہم تمہارے لئے (اپنی قدرت اور اپنے کلام کی حقانیت) ظاہر کر دیں، اور ہم جسے چاہتے ہیں رحموں میں مقررہ مدت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر ہم تمہیں بچہ بنا کر نکالتے ہیں، پھر (تمہاری پرورش کرتے ہیں) تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچ جاؤ، اور تم میں سے وہ بھی ہیں جو (جلد) وفات پا جاتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو نہایت ناکارہ عمر تک لوٹائے جاتے ہیں تاکہ وہ (شخص یہ منظر بھی دیکھ لے کہ) سب کچھ جان لینے کے بعد (اب پھر) کچھ (بھی) نہیں جانتا، اور تو زمین کو بالکل خشک (مُردہ) دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو اس میں تازگی و شادابی کی جنبش آجاتی ہے اور وہ پھولنے بڑھنے لگتی ہے اور خوش نما نباتات میں سے ہر نوع کے جوڑے اگاتی ہے

Verse 6 — Surah Al-Hajj 22:6

یہ (سب کچھ) اس لئے (ہوتا رہتا) ہے کہ اللہ ہی سچا (خالق اور رب) ہے اور بیشک وہی مُردوں (بے جان) کو زندہ (جان دار) کرتا ہے, اور یقینًا وہی ہر چیز پر بڑا قادر ہے

Verse 7 — Surah Al-Hajj 22:7

اور بیشک قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں اور یقیناً اللہ ان لوگوں کو زندہ کر کے اٹھا دے گا جو قبروں میں ہوں گے

Verse 8 — Surah Al-Hajj 22:8

اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ (کی ذات و صفات اور قدرتوں) کے بارے میں جھگڑا کرتے رہتے ہیں بغیر علم و دانش کے اور بغیر کسی ہدایت و دلیل کے اور بغیر کسی روشن کتاب کے (جو آسمان سے اتری ہو)

Verse 9 — Surah Al-Hajj 22:9

اپنی گردن کو (تکبّر سے) مروڑے ہوئے تاکہ (دوسروں کو بھی) اللہ کی راہ سے بہکا دے، اس کے لئے دنیا میں (بھی) رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اسے جلا دینے والے عذاب کا مزہ چکھائیں گے

Verse 10 — Surah Al-Hajj 22:10

یہ تیرے ان اعمال کے باعث ہے جو تیرے ہاتھ آگے بھیج چکے تھے اور بیشک اللہ اپنے بندوں پر بالکل ظلم کرنے والا نہیں ہے

Verse 11 — Surah Al-Hajj 22:11

اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو (بالکل دین کے) کنارے پر (رہ کر) اللہ کی عبادت کرتا ہے، پس اگر اسے کوئی (دنیاوی) بھلائی پہنچتی ہے تو وہ اس (دین) سے مطمئن ہو جاتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش پہنچتی ہے تو اپنے منہ کے بل (دین سے) پلٹ جاتا ہے، اس نے دنیا میں (بھی) نقصان اٹھایا اور آخرت میں (بھی)، یہی تو واضح (طور پر) بڑا خسارہ ہے

Verse 12 — Surah Al-Hajj 22:12

وہ (شخص) اللہ کو چھوڑ کر اس (بت) کی عبادت کرتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچا سکے اور نہ ہی اسے نفع پہنچا سکے، یہی تو (بہت) دور کی گمراہی ہے

Verse 13 — Surah Al-Hajj 22:13

وہ اسے پوجتا ہے جس کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے، وہ کیا ہی برا مددگار ہے اور کیا ہی برا ساتھی ہے

Verse 14 — Surah Al-Hajj 22:14

بیشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں رواں ہیں، یقیناً اللہ جو ارادہ فرماتا ہے کر دیتا ہے

Verse 15 — Surah Al-Hajj 22:15

جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ اپنے (محبوب و برگزیدہ) رسول کی دنیا و آخرت میں ہرگز مدد نہیں کرے گا اسے چاہئے کہ (گھر کی) چھت سے ایک رسی باندھ کر لٹک جائے پھر (خود کو) پھانسی دے لے پھر دیکھے کیا اس کی یہ تدبیر اس (نصرتِ الٰہی) کو دور کر دیتی ہے جس پر غصہ کھا رہا ہے

Verse 16 — Surah Al-Hajj 22:16

اور اسی طرح ہم نے اس (پورے قرآن) کو روشن دلائل کی صورت میں نازل فرمایا ہے اور بیشک اللہ جسے ارادہ فرماتا ہے ہدایت سے نوازتا ہے

Verse 17 — Surah Al-Hajj 22:17

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور ستارہ پرست اور نصارٰی (عیسائی) اور آتش پرست اور جو مشرک ہوئے، یقیناً اللہ قیامت کے دن ان (سب) کے درمیان فیصلہ فرما دے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز کا مشاہدہ فرما رہا ہے

Verse 18 — Surah Al-Hajj 22:18

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی کے لئے (وہ ساری مخلوق) سجدہ ریز ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور سورج (بھی) اور چاند (بھی) اور ستارے (بھی) اور پہاڑ (بھی) اور درخت (بھی) اور جانور (بھی) اور بہت سے انسان (بھی)، اور بہت سے (انسان) ایسے بھی ہیں جن پر (ان کے کفر و شرک کے باعث) عذاب ثابت ہو چکا ہے، اور اللہ جسے ذلیل کر دے تو اسے کوئی عزت دینے والا نہیں ہے۔ بیشک اللہ جو چاہتا ہے کر دیتا ہے

Verse 19 — Surah Al-Hajj 22:19

یہ دو فریق ہیں جو اپنے رب کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں پس جو کافر ہوگئے ہیں ان کے لئے آتشِ دوزخ کے کپڑے کاٹ (کر، سِی) دیئے گئے ہیں۔ ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا

Verse 20 — Surah Al-Hajj 22:20

جس سے ان کے شکموں میں جو کچھ ہے پگھل جائے گا اور (ان کی) کھالیں بھی

Verse 21 — Surah Al-Hajj 22:21

اور ان (کے سروں پر مارنے) کے لئے لوہے کے ہتھوڑے ہوں گے

Verse 22 — Surah Al-Hajj 22:22

وہ جب بھی شدّتِ تکلیف سے وہاں سے نکلنے کا ارادہ کریں گے (تو) اس میں واپس لوٹا دیئے جائیں گے اور (ان سے کہا جائے گا:) سخت آگ کے عذاب کا مزہ چکھو

Verse 23 — Surah Al-Hajj 22:23

بیشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لے آئے ہیں اور نیک اعمال انجام دیتے ہیں جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں وہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا، اور وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا

Verse 24 — Surah Al-Hajj 22:24

اور انہیں (دنیا میں) پاکیزہ قول کی ہدایت کی گئی اور انہیں (اسلام کے) پسندیدہ راستہ کی طرف رہنمائی کی گئی

Verse 25 — Surah Al-Hajj 22:25

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور (دوسروں کو) اللہ کی راہ سے اور اس مسجدِ حرام (کعبۃ اللہ) سے روکتے ہیں جسے ہم نے سب لوگوں کے لئے یکساں بنایا ہے اس میں وہاں کے باسی اور پردیسی (میں کوئی فرق نہیں)، اور جو شخص اس میں ناحق طریقہ سے کج روی (یعنی مقررہ حدود و حقوق کی خلاف ورزی) کا ارادہ کرے ہم اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے

Verse 26 — Surah Al-Hajj 22:26

اور (وہ وقت یاد کیجئے) جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بیت اللہ (یعنی خانہ کعبہ کی تعمیر) کی جگہ کا تعین کر دیا (اور انہیں حکم فرمایا) کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا اور میرے گھر کو (تعمیر کرنے کے بعد) طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع کر نے والوں اور سجود کرنے والوں کے لئے پاک و صاف رکھنا

Verse 27 — Surah Al-Hajj 22:27

اور تم لوگوں میں حج کا بلند آواز سے اعلان کرو وہ تمہارے پاس پیدل اور تمام دبلے اونٹوں پر (سوار) حاضر ہو جائیں گے جو دور دراز کے راستوں سے آتے ہیں

Verse 28 — Surah Al-Hajj 22:28

تاکہ وہ اپنے فوائد (بھی) پائیں اور (قربانی کے) مقررہ دنوں کے اندر اللہ نے جو مویشی چوپائے ان کو بخشے ہیں ان پر (ذبح کے وقت) اللہ کے نام کا ذکر بھی کریں، پس تم اس میں سے خود (بھی) کھاؤ اور خستہ حال محتاج کو (بھی) کھلاؤ

Verse 29 — Surah Al-Hajj 22:29

پھر انہیں چاہئے کہ (احرام سے نکلتے ہوئے بال اور ناخن کٹوا کر) اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں (یا بقیہ مناسک) پوری کریں اور (اللہ کے) قدیم گھر (خانہ کعبہ) کا طوافِ (زیارت) کریں

Verse 30 — Surah Al-Hajj 22:30

یہی (حکم) ہے، اور جو شخص اللہ (کی بارگاہ) سے عزت یافتہ چیزوں کی تعظیم کرتا ہے تو وہ اس کے رب کے ہاں اس کے لئے بہتر ہے، اور تمہارے لئے (سب) مویشی (چوپائے) حلال کر دیئے گئے ہیں سوائے ان کے جن کی ممانعت تمہیں پڑھ کر سنائی گئی ہے سو تم بتوں کی پلیدی سے بچا کرو اور جھوٹی بات سے پرہیز کیا کرو

Verse 31 — Surah Al-Hajj 22:31

صرف اللہ کے ہوکر رہو اس کے ساتھ (کسی کو) شریک نہ ٹھہراتے ہوئے، اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرتاہے تو گویا وہ (ایسے ہے جیسے) آسمان سے گر پڑے پھر اس کو پرندے اچک لے جائیں یا ہوا اس کو کسی دور کی جگہ میں نیچے جا پھینکے

Verse 32 — Surah Al-Hajj 22:32

یہی (حکم) ہے، اور جو شخص اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرتا ہے (یعنی ان جانداروں، یادگاروں، مقامات، احکام اور مناسک وغیرہ کی تعظیم جو اللہ یا اللہ والوں کے ساتھ کسی اچھی نسبت یا تعلق کی وجہ سے جانے پہچانے جاتے ہیں) تو یہ (تعظیم) دلوں کے تقوٰی میں سے ہے (یہ تعظیم وہی لوگ بجا لاتے ہیں جن کے دلوں کو تقوٰی نصیب ہوگیا ہو)

Verse 33 — Surah Al-Hajj 22:33

تمہارے لئے ان (قربانی کے جانوروں) میں مقررہ مدت تک فوائد ہیں پھر انہیں قدیم گھر (خانہ کعبہ) کی طرف (ذبح کے لئے) پہنچنا ہے

Verse 34 — Surah Al-Hajj 22:34

اور ہم نے ہر امت کے لئے ایک قربانی مقرر کر دی ہے تاکہ وہ ان مویشی چوپایوں پر جو اللہ نے انہیں عنایت فرمائے ہیں (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیں، سو تمہارا معبود ایک (ہی) معبود ہے پس تم اسی کے فرمانبردار بن جاؤ، اور (اے حبیب!) عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں

Verse 35 — Surah Al-Hajj 22:35

(یہ) وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے (تو) ان کے دل ڈرنے لگتے ہیں اور جو مصیبتیں انہیں پہنچتی ہیں ان پر صبر کرتے ہیں اور نماز قائم رکھنے والے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

Verse 36 — Surah Al-Hajj 22:36

اور قربانی کے بڑے جانوروں (یعنی اونٹ اور گائے وغیرہ) کو ہم نے تمہارے لئے اللہ کی نشانیوں میں سے بنا دیا ہے ان میں تمہارے لئے بھلائی ہے پس تم (انہیں) قطار میں کھڑا کر کے (نیزہ مار کر نحر کے وقت) ان پر اللہ کا نام لو، پھر جب وہ اپنے پہلو کے بل گر جائیں تو تم خود (بھی) اس میں سے کھاؤ اور قناعت سے بیٹھے رہنے والوں کو اور سوال کرنے والے (محتاجوں) کو (بھی) کھلاؤ۔ اس طرح ہم نے انہیں تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ تم شکر بجا لاؤ

Verse 37 — Surah Al-Hajj 22:37

ہرگز نہ (تو) اللہ کو ان (قربانیوں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون مگر اسے تمہاری طرف سے تقوٰی پہنچتا ہے، اس طرح (اللہ نے) انہیں تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ تم (وقتِ ذبح) اللہ کی تکبیر کہو جیسے اس نے تمہیں ہدایت فرمائی ہے، اور آپ نیکی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں

Verse 38 — Surah Al-Hajj 22:38

بیشک اللہ صاحبِ ایمان لوگوں سے (دشمنوں کا فتنہ و شر) دور کرتا رہتا ہے۔ بیشک اللہ کسی خائن (اور) ناشکرے کو پسند نہیں کرتا

Verse 39 — Surah Al-Hajj 22:39

ان لوگوں کو (اب اپنے دفاع کے لیے جنگ کی) اجازت دے دی گئی ہے جن پر (ناحق) جنگ مسلط کردی گئی ہے، (اور یہ اجازت) اِس وجہ سے (دی گئی ہے) کہ ان پر ظلم کیا گیا، اور بے شک اللہ ان (مظلوموں) کی مدد پر بڑا قادر ہے

Verse 40 — Surah Al-Hajj 22:40

(یہ) وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں (وطن) سے ناحق نکالے گئے صرف اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اللہ ہے، اور اگر اللہ انسانی طبقات میں سے بعض کو بعض کے ذریعے (قیامِ اَمن کی جدوجہد کی صورت میں) ہٹاتا نہ رہتا تو خانقاہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں (یعنی تمام ادیان کے مذہبی مراکز اور عبادت گاہیں) مسمار اور ویران کر دی جاتیں جن میں کثرت سے اللہ کے نام کا ذکر کیا جاتا ہے، اور جو شخص اللہ (کے دین) کی مدد کرتا ہے یقینًا اللہ اس کی مدد فرماتا ہے۔ بے شک اللہ ضرور (بڑی) قوت والا (سب پر) غالب ہے

Verse 41 — Surah Al-Hajj 22:41

(یہ اہلِ حق) وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دے دیں (تو) وہ نماز (کا نظام) قائم کریں اور زکوٰۃ کی ادائیگی (کا انتظام) کریں اور (پورے معاشرے میں نیکی اور) بھلائی کا حکم کریں اور (لوگوں کو) برائی سے روک دیں، اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے

Verse 42 — Surah Al-Hajj 22:42

اور اگر یہ (کفار) آپ کو جھٹلاتے ہیں تو ا ن سے پہلے قومِ نوح اور عاد و ثمود نے بھی (اپنے رسولوں کو) جھٹلایا تھا

Verse 43 — Surah Al-Hajj 22:43

اور قومِ ابراہیم اور قومِ لوط نے (بھی)

Verse 44 — Surah Al-Hajj 22:44

اور باشندگانِ مدین نے (بھی جھٹلایا تھا) اور موسٰی (علیہ السلام) کو بھی جھٹلایا گیا سو میں (ان سب) کافروں کو مہلت دیتا رہا پھر میں نے انہیں پکڑ لیا، پھر (بتائیے) میرا عذاب کیسا تھا

Verse 45 — Surah Al-Hajj 22:45

پھر کتنی ہی (ایسی) بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر ڈالا اس حال میں کہ وہ ظالم تھیں پس وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور (ان کی ہلاکت سے) کتنے کنویں بے کار (ہوگئے) اور کتنے مضبوط محل اجڑے پڑے (ہیں)

Verse 46 — Surah Al-Hajj 22:46

تو کیا انہوں نے زمین میں سیر و سیاحت نہیں کی کہ (شاید ان کھنڈرات کو دیکھ کر) ان کے دل (ایسے) ہو جاتے جن سے وہ سمجھ سکتے یا کان (ایسے) ہو جاتے جن سے وہ (حق کی بات) سن سکتے، تو حقیقت یہ ہے کہ (ایسوں کی) آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں لیکن دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں

Verse 47 — Surah Al-Hajj 22:47

اور یہ آپ سے عذاب میں جلدی کے خواہش مند ہیں اور اللہ ہرگز اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہ کرے گا، اور (جب عذاب کا وقت آئے گا) تو (عذاب کا) ایک دن آپ کے رب کے ہاں ایک ہزار سال کی مانند ہے (اس حساب سے) جو تم شمار کرتے ہو

Verse 48 — Surah Al-Hajj 22:48

اور کتنی ہی بستیاں (ایسی) ہیں جن کو میں نے مہلت دی حالانکہ وہ ظالم تھیں پھر میں نے انہیں (عذاب کی) گرفت میں لے لیا، اور (ہر کسی کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے

Verse 49 — Surah Al-Hajj 22:49

فرما دیجئے: اے لوگو! میں تو محض تمہارے لئے (عذابِ الٰہی کا) ڈر سنانے والا ہوں

Verse 50 — Surah Al-Hajj 22:50

پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لئے مغفرت ہے اور (مزید) بزرگی والی عطا ہے

Verse 51 — Surah Al-Hajj 22:51

اور جو لوگ ہماری آیتوں (کے ردّ) میں کوشاں رہتے ہیں اس خیال سے کہ (ہمیں) عاجز کردیں گے وہی لوگ اہلِ دوزخ ہیں

Verse 52 — Surah Al-Hajj 22:52

اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا اور نہ کوئی نبی مگر (سب کے ساتھ یہ واقعہ گزرا کہ) جب اس (رسول یا نبی) نے (لوگوں پر کلامِ الٰہی) پڑھا (تو) شیطان نے (لوگوں کے ذہنوں میں) اس (نبی کے) پڑھے ہوئے (یعنی تلاوت شدہ) کلام میں (اپنی طرف سے باطل شبہات اور فاسد خیالات کو) ملا دیا، سو شیطان جو (وسوسے سننے والوں کے ذہنوں میں) ڈالتا ہے اللہ انہیں زائل فرما دیتا ہے پھر اللہ اپنی آیتوں کو (اہلِ ایمان کے دلوں میں) نہایت مضبوط کر دیتا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے

Verse 53 — Surah Al-Hajj 22:53

(یہ اس لئے ہوتا ہے) تاکہ اللہ ان (باطل خیالات اور فاسد شبہات) کو جو شیطان (لوگوں کے ذہنوں میں) ڈالتا ہے ایسے لوگوں کے لئے آزمائش بنا دے جن کے دلوں میں (منافقت کی) بیماری ہے اور جن لوگوں کے دل (کفر و عناد کے باعث) سخت ہیں، اور بیشک ظالم لوگ بڑی شدید مخالفت میں مبتلا ہیں

Verse 54 — Surah Al-Hajj 22:54

اور تاکہ وہ لوگ جنہیں علم (صحیح) عطا کیا گیا ہے جان لیں کہ وہی (وحی جس کی پیغمبر نے تلاوت کی ہے) آپ کے رب کی طرف سے (مَبنی) برحق ہے سو وہ اسی پر ایمان لائیں (اور شیطانی وسوسوں کو ردّ کردیں) اور ان کے دل اس (رب) کے لئے عاجزی کریں، اور بیشک اللہ مومنوں کو ضرور سیدھی راہ کی طرف ہدایت فرمانے والا ہے

Verse 55 — Surah Al-Hajj 22:55

اور کافر لوگ ہمیشہ اس (قرآن) کے حوالے سے شک میں رہیں گے یہاں تک کہ اچانک ان پر قیامت آپہنچے یا اس دن کا عذاب آجائے جس سے نجات کا کوئی امکان نہیں

Verse 56 — Surah Al-Hajj 22:56

حکمرانی اس دن صرف اللہ ہی کی ہوگی۔ وہی ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا، پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے (وہ) نعمت کے باغات میں (قیام پذیر) ہوں گے

Verse 57 — Surah Al-Hajj 22:57

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو انہی لوگوں کے لئے ذلت آمیز عذاب ہوگا

Verse 58 — Surah Al-Hajj 22:58

اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں (وطن سے) ہجرت کی پھر قتل کر دیئے گئے یا (راہِ حق کی مصیبتیں جھیلتے جھیلتے) مرگئے تو اللہ انہیں ضرور رزقِ حسن (یعنی اُخروی عطاؤں) کی روزی بخشے گا، اور بیشک اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

Verse 59 — Surah Al-Hajj 22:59

وہ ضرور انہیں اس جگہ (یعنی مقامِ رضوان میں) داخل فرمائے گا جس سے وہ راضی ہو جائیں گے، اور بیشک اللہ خوب جاننے والا بُردبار ہے

Verse 60 — Surah Al-Hajj 22:60

(حکم) یہی ہے، اور جس شخص نے اتنا ہی بدلہ لیا جتنی اسے اذیت دی گئی تھی پھر اس شخص پر زیادتی کی جائے تو اللہ ضرور اس کی مدد فرمائے گا۔ بیشک اللہ درگزر فرمانے والا بڑا بخشنے والا ہے

Verse 61 — Surah Al-Hajj 22:61

یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ رات کو دن میں داخل فرماتا ہے اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے اور بیشک اللہ خوب سننے والا دیکھنے والا ہے

Verse 62 — Surah Al-Hajj 22:62

یہ اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور بیشک وہ (کفار) اس کے سوا جو کچھ (بھی) پوجتے ہیں وہ باطل ہے اور یقیناً اللہ ہی بہت بلند بہت بڑا ہے

Verse 63 — Surah Al-Hajj 22:63

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ آسمان کی جانب سے پانی اتارتا ہے تو زمین سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے۔ بیشک اللہ مہربان (اور) بڑا خبردار ہے

Verse 64 — Surah Al-Hajj 22:64

اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور بیشک اللہ ہی بے نیاز قابلِ ستائش ہے

Verse 65 — Surah Al-Hajj 22:65

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے جو کچھ زمین میں ہے تمہارے لئے مسخر فرما دیا ہے اور کشتیوں کو (بھی) جو اس کے اَمر (یعنی قانون) سے سمندر (و دریا) میں چلتی ہیں، اور آسمان (یعنی خلائی و فضائی کرّوں) کو زمین پر گرنے سے (ایک آفاقی نظام کے ذریعہ) تھامے ہوئے ہے مگر اسی کے حکم سے (جب وہ چاہے گا آپس میں ٹکرا جائیں گے)۔ بیشک اللہ تمام انسانوں کے ساتھ نہایت شفقت فرمانے والا بڑا مہربان ہے

Verse 66 — Surah Al-Hajj 22:66

اور وہی ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی پھر تمہیں موت دیتا ہے پھر تمہیں (دوبارہ) زندگی دے گا۔ بیشک انسان ہی بڑا ناشکر گزار ہے

Verse 67 — Surah Al-Hajj 22:67

ہم نے ہر ایک امت کے لئے (احکامِ شریعت یا عبادت و قربانی کی) ایک راہ مقرر کر دی ہے، انہیں اسی پر چلنا ہے، سو یہ لوگ آپ سے ہرگز (اللہ کے) حکم میں جھگڑا نہ کریں، اور آپ اپنے رب کی طرف بلاتے رہیں۔ بیشک آپ ہی سیدھی (راہِ) ہدایت پر ہیں

Verse 68 — Surah Al-Hajj 22:68

اگر وہ آپ سے جھگڑا کریں تو آپ فرما دیجئے: اللہ بہتر جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو

Verse 69 — Surah Al-Hajj 22:69

اللہ تمہارے درمیان قیامت کے دن ان تمام باتوں کا فیصلہ فرما دے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے تھے

Verse 70 — Surah Al-Hajj 22:70

کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ وہ سب کچھ جانتا ہے جو آسمان اور زمین میں ہے، بیشک یہ سب کتاب (لوحِ محفوظ) میں (درج) ہے، یقیناً یہ سب اللہ پر (بہت) آسان ہے

Verse 71 — Surah Al-Hajj 22:71

اور یہ لوگ اللہ کے سوا ان (بتوں) کی پرستش کرتے ہیں جس کی اُس نے کوئی سند نہیں اتاری اور نہ (ہی) انہیں اس (بت پرستی کے انجام) کا کچھ علم ہے، اور (قیامت کے دن) ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا

Verse 72 — Surah Al-Hajj 22:72

اور جب ان (کافروں) پر ہماری روشن آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں (تو) آپ ان کافروں کے چہروں میں ناپسندیدگی (و ناگواری کے آثار) صاف دیکھ سکتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ عنقریب ان لوگوں پر جھپٹ پڑیں گے جو انہیں ہماری آیات پڑھ کر سنا رہے ہیں، آپ فرما دیجئے: (اے مضطرب ہونے والے کافرو!) کیا میں تمہیں اس سے (بھی) زیادہ تکلیف دہ چیز سے آگاہ کروں؟ (وہ دوزخ کی) آگ ہے، جس کا اللہ نے کافروں سے وعدہ کر رکھا ہے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے

Verse 73 — Surah Al-Hajj 22:73

اے لوگو! ایک مثال بیان کی جاتی ہے سو اسے غور سے سنو: بیشک جن (بتوں) کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو وہ ہرگز ایک مکھی (بھی) پیدا نہیں کرسکتے اگرچہ وہ سب اس (کام) کے لئے جمع ہو جائیں، اور اگر ان سے مکھی کوئی چیز چھین کر لے جائے (تو) وہ اس چیز کو اس (مکھی) سے چھڑا (بھی) نہیں سکتے، کتنا بے بس ہے طالب (عابد) بھی اور مطلوب (معبود) بھی

Verse 74 — Surah Al-Hajj 22:74

ان (کافروں) نے اللہ کی قدر نہ کی جیسی اس کی قدر کرنا چاہئے تھی۔ بیشک اللہ بڑی قوت والا (ہر چیز پر) غالب ہے

Verse 75 — Surah Al-Hajj 22:75

اللہ فرشتوں میں سے (بھی) اور انسانوں میں سے (بھی اپنا) پیغام پہنچانے والوں کو منتخب فرما لیتا ہے۔ بیشک اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے

Verse 76 — Surah Al-Hajj 22:76

وہ ان (چیزوں) کو (خوب) جانتا ہے جو ان کے آگے ہیں اور جو ان کے پیچھے ہیں، اور تمام کام اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں

Verse 77 — Surah Al-Hajj 22:77

اے ایمان والو! تم رکوع کرتے رہو اور سجود کرتے رہو، اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو اور (دیگر) نیک کام کئے جاؤ تاکہ تم فلاح پا سکو

Verse 78 — Surah Al-Hajj 22:78

اور (خاتمۂ ظلم، قیامِ اَمن اور تکریمِ اِنسانیت کے لیے) اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ اس کے جہاد کا حق ہے۔ اس نے تمہیں منتخب فرما لیا ہے اور اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ (یہی) تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا دین ہے۔ اس (اللہ) نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے، اس سے پہلے (کی کتابوں میں) بھی اور اس (قرآن) میں بھی تاکہ یہ رسولِ (آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم پر گواہ ہو جائیں اور تم بنی نوع انسان پر گواہ ہو جاؤ، پس (اس مرتبہ پر فائز رہنے کے لیے) تم نماز قائم کیا کرو اور زکوٰۃ ادا کیا کرو اور اللہ (کے دامن) کو مضبوطی سے تھامے رکھو، وہی تمہارا مدد گار (و کارساز) ہے، پس وہ کتنا اچھا کارساز (ہے) اور کتنا اچھا مدد گار ہے