کیا لوگوں کے لیے یہ تعجب کی بات ہے کہ ہم نے خود انہی میں کے ایک شخص پر وحی نازل کی ہے کہ :“ لوگوں کو (اللہ کی خلاف ورزی سے) ڈراؤ، اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، ان کو خوشخبری دو کہ ان کے رب کے نزدیک ان کا صحیح معنی میں بڑا پایہ ہے ” (مگر جب اس نے لوگوں کو یہ پیغام دیا تو) کافروں نے کہا کہ یہ تو کھلا جادو گر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تمہارا پروردگار اللہ ہے جس نے سارے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر اس نے عرش پر اس طرح استواء فرمایا کہ وہ ہر چیز کا انتظام کرتا ہے۔ کوئی اس کی اجازت کے بغیر (اس کے سامنے) کسی کی سفارش کرنے والا نہیں، وہی اللہ ہے تمہارا پروردگار، لہذا اس کی عبادت کرو، کیا تم پھر بھی دھیان نہیں دیتے ؟۔
اسی کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے، یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے، یقینا ساری مخلوق کو شروع میں بھی وہی پیدا کرتا ہے اور دوبارہ بھی وہی پیدا کرے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو انصاف کے ساتھ اس کا صلہ دے۔ اور جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے، انکے لیے کھولتے ہوئے پانی کا مشروب ہے، اور دکھ دینے والا عذاب ہے، کیونکہ وہ حق کا انکار کرتے تھے۔
اور اللہ وہی ہے جس نے سورج کو سراپا روشنی بنایا، اور چاند کو سراپا نور، اور اس کے (سفر) کے لیے منزلیں مقرر کردیں، تاکہ تم برسوں کی گنتی اور (مہینوں کا) حساب معلوم کرسکو۔ اللہ نے یہ سب کچھ بغیر کسی صحیح مقصد کے پیدا نہیں کردیا وہ یہ نشانیاں ان لوگوں کے لیے کھول کھول کر بیان کرتا ہے جو سمجھ رکھتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ رات دن کے آگے پیچھے آنے میں اور اللہ نے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ پیدا کیا ہے، اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جن کے دل میں خدا کا خوف ہو۔
(دوسری طرف) جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کے ایمان کی وجہ سے ان کا پروردگار انہیں اس منزل تک پہنچائے گا کہ نعمتوں سے بھرے باغات میں ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔
اس میں (داخلے کے وقت) ان کی پکار یہ ہوگی کہ :“ یا اللہ ! تیری ذات ہر عیب سے پاک ہے ” اور ایک دوسرے کے خیر مقدم کے لیے جو لفظ وہ بولیں گے، وہ سلام ہوگا، اور ان کی آخری پکار یہ ہوگی :“ تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے ”۔
اور اگر اللہ (ان کافر) لوگوں کو برائی (یعنی عذاب) کا نشانہ بنانے میں بھی اتنی ہی جلدی کرتا جتنی جلدی وہ اچھائیاں مانگنے میں مچاتے ہیں تو ان کی مہلت تمام کردی گئی ہوتی ۔ (لیکن ایسی جلد بازی ہماری حکمت کے خلاف ہے) لہذا جو لوگ ہم سے (آٓخرت میں) ملنے کی توقع نہیں رکھتے، ہم انہیں اس حال پر چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے پھریں۔
اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ لیٹے بیٹھے اور کھڑے ہوئے (ہر حالت میں) ہمیں پکارتے ہیں۔ پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو اس طرح چل کھڑا ہوتا ہے جیسے کبھی اپنے آپ کو پہنچنے والی کسی تکلیف میں ہمیں پکارا ہی نہ تھا۔ جو لوگ حد سے گزر جاتے ہیں، انہیں اپنے کرتوت اسی طرح خوشنما معلوم ہوتے ہیں۔
اور ہم نے تم سے پہلے (کئی) قوموں کو اس موقع پر ہلاک کیا جب انہوں نے ظلم کا ارتکاب کیا تھا، اور ان کے پیغمبر ان کے پاس روشن دلائل لے کر آئے تھے، اور وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے، ایسے مجرم لوگوں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔
اور وہ لوگ جو (آخرت میں) ہم سے آملنے کی توقع نہیں رکھتے جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں، جبکہ وہ بالکل واضح ہوتی ہیں، تو وہ یہ کہتے ہیں کہ :“ یہ نہیں، کوئی اور قرآن لے کر آؤ، یا اس میں تبدیلی کرو ”۔ (اے پیغمبر) ان سے کہہ دو کہ :“ مجھے یہ حق نہیں پہنچتا کہ میں اس میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی کروں۔ میں تو کسی اور چیز کی نہیں، صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے۔ اگر کبھی میں اپنے رب کی نافرمانی کر بیٹھوں تو مجھے ایک زبردست دن کے عذاب کا خوف ہے۔
کہہ دو کہ :“ اگر اللہ چاہتا تو میں اس قرآن کو تمہارے سامنے نہ پڑھتا، اور نہ اللہ تمہیں اس سے واقف کراتا ۔ آخر اس سے پہلے بھی تو میں ایک عمر تمہارے درمیان بسر کرچکا ہوں۔ کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ ۔
اور یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان (من گھڑت خداؤں) کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں، نہ ان کو کوئی فائدہ دے سکتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ (اے پیغمبر ! ان سے) کہو کہ :“ کیا تم اللہ کو اس چیز کی خبر دے رہے ہو جس کا کوئی وجود اللہ کے علم میں نہیں ہے، نہ آسمانوں میں نہ زمین میں ؟” (حقیقت یہ ہے کہ) اللہ ان کی مشرکانہ باتوں سے بالکل پاک اور کہیں بالا و برتر ہے۔
اور (شروع میں) تمام انسان کسی اور دین کے نہیں، صرف ایک ہی دین کے قائل تھے، پھر بعد میں وہ آپس میں اختلاف کرکے الگ الگ ہوئے۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی تو جس معاملے میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں، اس کا فیصلہ (دنیا ہی میں) کردیا جاتا ۔
اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ :“ اس نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں کی گئ ؟” تو (اے پیغمبر ! تم جواب میں) کہہ دو کہ :“ غیب کی باتیں تو صرف اللہ کے اختیار میں ہیں۔ لہذا تم انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔”
اور انسانوں کا حال یہ ہے کہ جب ان کو پہنچنے والی کسی تکلیف کے بعد ہم ان کو رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو ذرا سی دیر میں وہ ہماری نشانیوں کے بارے میں چالبازی شروع کردیتے ہیں ۔ کہہ دو کہ :“ اللہ اس سے بھی جلدی کوئی چال چل سکتا ہے یقینا ہمارے فرشتے تمہاری ساری چالبازیوں کو لکھ رہے ہیں۔
وہ اللہ ہی تو ہے جو تمہیں خشکی میں بھی اور سمندر میں بھی سفر کراتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہوتے ہو، اور یہ کشتیاں لوگوں کو لے کر خوشگوار ہوا کے ساتھ پانی پر چلتی ہیں اور لوگ اس بات پر مگن ہوتے ہیں تو اچانک ان کے پاس ایک تیز آندھی آتی ہے اور ہر طرف سے ان پر موجیں اٹھتی ہیں اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ ہر طرف سے گھر گئے۔ تو اس وقت وہ خلوص کے ساتھ صرف اللہ پر اعتقاد کر کے صرف اسی کو پکارتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) “ (یا اللہ !) اگر تو نے ہمیں اس (مصیبت سے) نجات دے دی تو ہم ضرور بالضرور شکر گزار لوگوں میں شامل ہوجائیں گے۔”
لیکن جب اللہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو زیادہ دیر نہیں گزرتی کہ وہ زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ ارے لوگو ! تمہاری یہ سرکشی درحقیقت خود تمہارے اپنے خلاف پڑتی ہے۔ اب تو دنیوی زندگی کے مزے اڑا لو، آخر کو ہمارے پاس ہی تمہیں لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تمہیں بتائیں گے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔
دنیوی زندگی کی مثال تو کچھ ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا جس کی وجہ سے زمین سے اگنے والی وہ چیزیں خوب گھنی ہوگئیں جو انسان اور مویشی کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین نے اپنا یہ زیور پہن لیا، اور سنگھار کر کے خوشنما ہوگئی اور اس کے مالک سمجھنے لگے کہ بس اب یہ پوری طرح ان کے قابو میں ہے، تو کسی رات یا دن کے وقت ہمارا حکم آگیا (کہ اس پر کوئی آفت آجائے) اور ہم نے اس کو کٹی ہوئی کھیتی کی سپاٹ زمین میں اس طرح تبدیل کردیا جیسے کل وہ تھی ہی نہیں۔ اسی طرح ہم نشانیوں کو ان لوگوں کے لیے کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔
جن لوگوں نے بہتر کام کیے ہیں، بہترین حالت انہی کے لیے ہے اور اس سے بڑھ کر کچھ اور بھی نیز ان کے چہروں پر نہ کبھی سیاہی چھائے گی، نہ ذلت۔ وہ جنت کے باسی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
رہے وہ لوگ جنہوں نے برائیاں کمائی ہیں تو (ان کی) برائی کا بدلہ اسی جیسا برا ہوگا اور ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی، اللہ (کے عذاب) سے انہیں کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔ ایسا لگے گا جیسے ان کے چہروں پر اندھیری رات کی تہیں چڑھادی گئی ہیں۔ وہ دوزخ کے باسی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
اور (یاد رکھو) وہ دن جب ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے پھر جن لوگوں نے شرک کیا تھا، ان سے کہیں گے کہ :“ ذرا اپنی جگہ ٹھہرو، تم بھی اور وہ بھی جن کو تم نے اللہ کا شریک مانا تھا۔” پھر ان کے درمیان (عابد اور معبود کا) جو رشتہ تھا، ہم وہ ختم کردیں گے، اور ان کے وہ شریک کہیں گے کہ :“ تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے ۔
ہر شخص نے ماضی میں جو کچھ کیا ہوگا، اس موقع پر وہ خود اس کو پرکھ لے گا اور سب کو اللہ کی طرف لوٹا دیا جائے گا جو ان کا مالک حقیقی ہے، اور جو جھوٹ انہوں نے تراش رکھے تھے، ان کا کوئی سراغ انہیں نہیں ملے گا۔
(اے پیغمبر ! ان مشرکوں سے) کہو کہ :“ کون ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے ؟ یا بھلا کون ہے جو سننے اور دیکھنے کی قوتوں کا مالک ہے ؟ اور کون ہے جو جاندار کو بےجان سے اور بےجان کو جاندار سے باہر نکال لاتا ہے ؟ اور کون ہے جو ہر کام کا انتظام کرتا ہے ؟” تو یہ لوگ کہیں گے کہ :“ اللہ ! تو تم ان سے کہو :“ کیا پھر بھی تم اللہ سے نہیں ڈرتے ؟
پھر تو لوگو ! وہی اللہ ہے جو تمہارا مالک برحق ہے، پھر حق واضح ہوجانے کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا باقی رہ گیا ؟ اس کے باوجود تمہیں کوئی کہاں الٹ لئے جارہا ہے ؟ ”
کہو کہ :“ جن کو تم اللہ کے ساتھ شریک مانتے ہو، کیا ان میں کوئی ایسا ہے جو مخلوقات کو پہلی بار پیدا کرے، پھر (ان کی موت کے بعد) انہیں دوبارہ پھر پیدا کردے ؟” کہو کہ :“ اللہ ہے جو مخلوقات کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر ان (کی موت کے بعد) انہیں دوبارہ پھر پیدا کردے گا۔ پھر آخر کوئی تمہیں کہاں اوندھے منہ لئے جارہا ہے ؟”
کہو کہ :“ جن کو تم اللہ کے ساتھ شریک مانتے ہو، کیا ان میں کوئی ایسا ہے جو تمہیں حق کا راستہ دکھائے ؟” کہو کہ :“ اللہ حق کا راستہ دکھاتا ہے، اب بتاؤ کہ جو حق کا راستہ دکھاتا ہو کیا وہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کی بات مانی جائے، یا وہ (زیادہ حق دار ہے) جس کو خود اس وقت تک راستہ نہ سوجھے جب تک کوئی دوسرا اس کی رہنمائی نہ کرے ؟ بھلا تمہیں ہو کیا گیا ہے ؟ تم کس طرح کی باتیں طے کرلیتے ہو ؟”
اور (حقیقت یہ ہے کہ) ان (مشرکین) میں سے اکثر لوگ کسی اور چیز کے نہیں، صرف وہمی اندازے کے پیچھے چلتے ہیں، اور یہ یقینی بات ہے کہ حق کے معاملے میں وہمی انداہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا۔ یقین جانو جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں، اللہ اس کا پورا پورا علم رکھتا ہے۔
اور یہ قرآن ایسا نہیں ہے کہ اسے کسی نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہو، اللہ نے نہ اتارا ہو بلکہ یہ (وحی کی) ان باتوں کی تصدیق کرتا ہے جو اس سے پہلے آچکی ہیں، اور اللہ نے جو باتیں (لوح محفوظ میں) لکھ رکھی ہیں، ان کی تفصیل بیان کرتا ہے، اس میں ذرا شک کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ اس ذات کی طرف سے ہے جو تمام جہانوں کی پرورش کرتی ہے۔
کیا پھر بھی یہ لوگ کہتے ہیں کہ : پیغمبر نے اسے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے ؟ کہو کہ : پھر تو تم بھی اس جیسی ایک ہی سورت (گھڑ کر) لے آؤ، اور (اس کام میں مدد لینے کے لیے) اللہ کے سوا جس کسی کو بلا سکو بلا لو، اگر سچے ہو۔
بات دراصل یہ ہے کہ جس چیز کا احاطہ یہ اپنے علم سے نہیں کرسکے، اسے انہوں نے جھوٹ قرار دے دیا، اور ابھی اس کا انجام بھی ان کے سامنے نہیں آیا اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے، انہوں نے (اپنے پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا۔ پھر دیکھو کہ ان ظالموں کا انجام کیسا ہوا ؟
اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو اس (قرآن) پر ایمان لے آئیں گے، اور کچھ وہ ہیں جو اس پر ایمان نہیں لائیں گے، اور تمہارا پروردگار فساد پھیلانے والوں کو خوب جانتا ہے۔
اور (اے پیغمبر) اگر یہ تمہیں جھٹلائیں تو (ان سے) کہہ دو کہ : میرا عمل میرے لیے ہے، اور تمہارا عمل تمہارے لیے، جو کام میں کرتا ہوں اس کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے اور جو کام تم کرتے ہو اس کی ذمہ داری مجھ پر نہیں۔
اور ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو تمہاری باتوں کو (بظاہر) کان لگا کر سنتے ہیں (مگر دل میں حق کی طلب نہیں رکھتے، اس لیے درحقیقت بہرے ہیں) تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے، چاہے وہ سمجھتے نہ ہوں ؟
اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو تمہاری طرف دیکھتے ہیں (مگر دل میں انصاف نہ ہونے کی وجہ سے وہ اندھوں جیسے ہیں) تو کیا تم اندھوں کو راستہ دکھاؤ گے، چاہے انہیں کچھ بھی سجھائی نہ دیتا ہو ؟
اور جس دن اللہ ان کو (میدان حشر میں) اکٹھا کرے گا، تو انہیں ایسا معلوم ہوگا جیسے وہ (دنیا میں یا قبر میں) دن کی ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے، (اسی لیے) وہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچانتے ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے بڑے گھاٹے کا سودا کیا ہے جنہوں نے اللہ سے (آخرت میں) جاملنے کو جھٹلایا ہے اور جو راہ راست پر نہیں آئے۔
اور (اے پیغمبر) جن باتوں کی ہم نے ان (کافروں کو) دھمکی دی ہوئی ہے، چاہے ان میں سے کوئی بات ہم تمہیں (تمہاری زندگی میں) دکھا دیں، یا (اس سے پہلے) تمہاری روح قبض کرلیں، بہرصورت ان کو آخر میں ہماری طرف ہی لوٹنا ہے، پھر (یہ تو ظاہر ہی ہے کہ) جو کچھ یہ کرتے ہیں، اللہ اس کا پورا پورا مشاہدہ کر رہا ہے۔ (لہذا وہاں ان کو سزا دے گا)
(اے پیغمبر ! ان سے) کہہ دو کہ : میں تو خود اپنی ذات کو بھی کوئی نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہوں، نہ فائدہ پہنچانے کا، مگر جتنا اللہ چاہے۔ ہر امت کا ایک وقت مقرر ہے، چنانچہ جب ان کا وہ وقت آجاتا ہے تو وہ اس سے نہ ایک گھڑی پیچھے جاسکتے ہیں نہ آگے آسکتے ہیں۔
ان سے کہو کہ : ذرا مجھے یہ بتاؤ کہ اگر اللہ کا عذاب تم پر رات کے وقت آئے یا دن کے وقت تو اس میں کون سی ایسی (اشتیاق کے قابل) چیز ہے جس کے جلد آنے کا یہ مجرم لوگ مطالبہ کر رہے ہیں ؟
اور جس جس شخص نے ظلم کا ارتکاب کیا ہے، اگر اس کے پاس روئے زمین کی ساری دولت بھی ہوگی تو وہ اپنی جان چھڑانے کے لیے اس کی پیشکش کردے گا، اور جب وہ عذاب کو آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو اپنی شرمندگی کو چھپانا چاہیں گے، اور ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ ہوگا، اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔
لوگو تمہارے پاس ایک ایسی چیز آئی ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک نصیحت ہے، اور دلوں کی بیماریوں کے لیے شفا ہے، اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا سامان ہے۔
(اے پیغمبر) کہو کہ : یہ سب کچھ اللہ کے فضل اور رحمت سے ہوا ہے، لہذا اسی پر تو انہیں خوش ہونا چاہیے، یہ اس تمام دولت سے کہیں بہتر ہے جسے یہ جمع کر کر کے رکھتے ہیں۔
کہو کہ : بھلا بتاؤ اللہ نے تمہارے لیے جو رزق نازل کیا تھا، تم نے اپنی طرف سے اس میں سے کسی کو حرام اور کسی کو حلال قرار دے دیا، ان سے پوچھو کہ : کیا اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہو ؟
اور جو لوگ اللہ پر بہتان باندھتے ہیں روز قیامت کے بارے میں ان کا کیا گمان ہے ؟ اس میں شک نہیں کہ اللہ انسانوں کے ساتھ فضل کا معاملہ کرنے والا ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔
اور (اے پیغمبر) تم جس حالت میں بھی ہوتے ہو اور قرآن کا جو حصہ بھی تلاوت کرتے ہو اور (اے لوگو) تم جو کام بھی کرتے ہو، تو جس وقت تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو ہم تمہیں دیکھتے رہتے ہیں اور تمہارے رب سے کوئی ذرہ برابر چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے، نہ زمین میں نہ آسمان میں، نہ اس سے چھوٹی، نہ بڑی، مگر وہ ایک واضح کتاب میں درج ہے۔
اور (اے پیغمبر) یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں وہ تمہیں رنجیدہ نہ کریں، یقین رکھو کہ اقتدار تمام تر اللہ کا ہے، اور وہ ہر بات سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
یاد رکھو کہ آسمانوں اور زمین میں جتنے جان دار ہیں وہ سب اللہ ہی کی ملکیت میں ہیں اور جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں وہ کوئی اللہ کے (حقیقی) شرکاء کی پیروی نہیں کرتے، وہ کسی اور چیز کی نہیں، محض گمان کی پیروی کرتے ہیں اور ان کا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ اندازوں کے تیر چلاتے رہیں۔
اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی، تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو، اور دن کو ایسا بنایا جو تمہیں دیکھنے کی صلاحیت دے، اس میں یقینا ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو غور سے سنتے ہوں۔
(کچھ) لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ اولاد رکھتا ہے، پاک ہے اس کی ذات، وہ ہر چیز سے بےنیاز ہے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے۔ تمہارے پاس اس بات کی ذرا بھی کوئی دلیل نہیں ہے، کیا تم اللہ کے ذمے وہ بات لگاتے ہو جس کا تمہیں کوئی علم نہیں ؟
(ان کے لیے) بس دنیا میں تھوڑا سا مزہ ہے، پھر ہمارے پاس ہی انہیں لوٹ کر آنا ہے، پھر کفر کا جو رویہ انہوں نے اپنا رکھا تھا، اس کے بدلے ہم انہیں شدید عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
اور (اے پیغمبر) ان کے سامنے نوح کا واقعہ پڑھ کر سناؤ، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : میری قوم کے لوگو ! اگر تمہارے درمیان میرا رہنا، اور اللہ کی آیات کے ذریعے خبردار کرنا تمہیں بھاری معلوم ہورہا ہے تو میں نے تو اللہ ہی پر بھروسہ کر رکھا ہے، اب تم اپنے شریکوں کو ساتھ ملا کر (میرے خلاف) اپنی تدبیروں کو خوب پختہ کرلو، پھر جو تدبیر تم کرو وہ تمہارے دل میں کسی گھٹن کا باعث نہ بنے، بلکہ میرے خلاف جو فیصلہ تم نے کیا ہو، اسے (دل کھول کر) کر گزرو، اور مجھے ذرا مہلت نہ دو ۔
پھر بھی اگر تم نے منہ موڑے رکھا تو میں نے تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت تو نہیں مانگی میرا اجر کسی اور نے نہیں، اللہ نے ذمے لیا ہے، اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبردار لوگوں میں شامل رہوں۔
پھر ہوا یہ کہ ان لوگوں نے نوح کو جھٹلایا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے نوح کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں تھے انہیں بچا لیا، اور ان کو کافروں کی جگہ زمین میں بسایا، اور جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا، انہیں (طوفان میں) غرق کردیا۔ اب دیکھو کہ جن لوگوں کو خبردار کیا گیا تھا ان کا انجام کیسا ہوا ؟
اس کے بعد ہم نے مختلف پیغمبر ان کی اپنی اپنی قوموں کے پاس بھیجے، وہ ان کے پاس کھلے کھلے دلائل لے کر آئے، لیکن ان لوگوں نے جس بات کو پہلی بار جھٹلایا دیا تھا اسے مان کر ہی نہ دیا۔ جو لوگ حد سے گزر جاتے ہیں ان کے دلوں پر ہم اسی طرح مہر لگا دیتے ہیں۔
کہنے لگے : کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ جس طور طریقے پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اس سے ہمیں برگشتہ کردو، اور اس سرزمین میں تم دونوں کی چودہراہٹ قائم ہوجائے ؟ ہم تو تم دونوں کی بات ماننے والے نہیں ہیں۔
پھر جب انہوں نے (اپنی لاٹھیوں اور رسیوں کو) پھینکا (اور وہ سانپ بن کر چلتی ہوئی نظر آئیں) تو موسیٰ نے کہا کہ : یہ جو کچھ تم نے دکھایا ہے جادو ہے۔ اللہ ابھی اس کو مل یا میٹ کیے دیتا ہے۔ اللہ فسادیوں کا کام بننے نہیں دیتا۔
پھر ہوا یہ کہ موسیٰ پر کوئی اور نہیں، لیکن خود اس کی قوم کے کچھ نوجوان فرعون اور اپنے سرداروں سے ڈرتے ڈرتے ایمان لائے کہ کہیں فرعون انہیں نہ ستائے۔ اور یقینا فرعون زمین میں بڑا زور آور تھا، اور وہ ان لوگوں میں سے تھا جو کسی حد پر قائم نہیں رہتے۔
اور ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی پر وحی بھیجی کہ : تم دونوں اپنی قوم کو مصر ہی کے گھروں میں بساؤ، اور اپنے گھروں کو نماز کی جگہ بنا لو۔ اور (اس طرح) نماز قائم کرو اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو ۔
اور موسیٰ نے کہا : اے ہمارے پروردگار ! آپ نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیوی زندگی میں بڑی سج دھج اور مال و دولت بخشی ہے، اے ہمارے پروردگار ! ان کے مال و دولت کو تہس نہس کردیجیے، اور ان کے دلوں کو اتنا سخت کردیجیے کہ وہ اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔
اور ہم نے بنو اسرائیل کو سمندر پار کرادیا، تو فرعون اور اس کے لشکر نے بھی ظلم اور زیادتی کی نیت سے ان کا پیچھا کیا، یہاں تک کہ جب ڈوبنے کا انجام اس کے سر پر آپہنچا تو کہنے لگا : میں مان گیا کہ جس خدا پر بنو اسرائیل ایمان لائے ہیں اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں بھی فرمانبرداروں میں شامل ہوتا ہوں۔
اور ہم نے بنو اسرائیل کو ایسی جگہ بسایا جو صحیح معنی میں بسنے کے لائق جگہ تھی، اور ان کو پاکیزہ چیزوں کا رزق بخشا۔ پھر انہوں نے (دین حق کے بارے میں) اس وقت تک اختلاف نہیں کیا جب تک ان کے پاس علم نہیں آگیا۔ یقین رکھو کہ جن باتوں میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے، ان کا فیصلہ تمہارا پروردگار قیامت کے دن کرے گا۔
پھر (اے پیغمبر) اگر (بالفرض محال) تمہیں اس کلام میں ذرا بھی شک ہو جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے تو ان لوگوں سے پوچھو جو تم سے پہلے سے (آسمانی) کتاب پڑھتے ہیں۔ یقین رکھو کہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہی آیا ہے۔ لہذا تم کبھی بھی شک کرنے والوں میں شامل نہ ہونا۔
بھلا کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ ایسے وقت ایمان لے آتی کہ اس کا ایمان اسے فائدہ پہنچا سکتا ؟ البتہ صرف یونس کی قوم کے لوگ ایسے تھے۔ جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیوی زندگی میں رسوائی کا عذاب ان سے اٹھا لیا، اور ان کو ایک مدت تک زندگی کا لطف اٹھانے دیا۔
(اے پیغمبر) ان سے کہو کہ : ذرا نظر دوڑاؤ کہ آسمانوں اور زمین کیا کیا چیزیں ہیں ؟ لیکن جن لوگوں کو ایمان لانا ہی نہیں ہے ان کے لیے (زمین و آسمان میں پھیلی ہوئی) نشانیاں اور آگاہ کرنے والے (پیغمبر) کچھ بھی کار آمد نہیں ہوتے۔
بھلا بتاؤ کہ یہ لوگ (ایمان لانے کے لیے) اس کے سوا کس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ اس طرح کے دن یہ بھی دیکھیں جیسے ان سے پہلے کے لوگوں نے دیکھے تھے ؟ کہہ دو کہ : اچھا تم انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔
پھر (جب عذاب آتا ہے تو) ہم اپنے پیغمبروں کو اور جو لوگ ایمان لے آتے ہیں ان کو نجات دے دیتے ہیں، اسی طرح ہم نے یہ بات اپنے ذمے لے رکھی ہے کہ ہم تمام (دوسرے) مومنوں کو بھی نجات دیں۔
(اے پیغمبر) ان سے کہو کہ : اے لوگو اگر تم میرے دین کے بارے میں کسی شک میں مبتلا ہو تو (سن لو کہ) تم اللہ کے سوا جن جن کی عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا، بلکہ میں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری روح قبض کرتا ہے۔ اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں مومنوں میں شامل رہوں۔
اور (مجھ سے) یہ (کہا گیا ہے) کہ : اپنا رخ یکسوئی کے ساتھ اس دین کی طرف قائم رکھنا، اور ہرگز ان لوگوں میں شامل نہ ہونا جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مانتے ہیں۔
اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی ایسے (من گھڑت معبود) کو نہ پکارنا جو تمہیں نہ کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے، نہ کوئی نقصان۔ پھر بھی اگر تم (بفرض محال) ایسا کر بیٹھے تو تمہارا شمار بھی ظالموں میں ہوگا۔
اور اگر تمہیں اللہ کوئی تکلیف پہنچا دے تو اس کے سوا کوئی نہیں ہے جو اسے دور کردے، اور اگر وہ تمہیں کوئی بھلائی پہنچانے کا ارادہ کرلے تو کوئی نہیں ہے جو اس کے فضل کا رخ پھیر دے۔ وہ اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے پہنچا دیتا ہے، اور وہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔
(اے پیغمبر) کہہ دو کہ : لوگو تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس حق آگیا ہے، اب جو شخص ہدایت کا راستہ اپنائے گا وہ خود اپنے فائدے کے لیے اپنائے گا، اور جو گمراہی اختیار کرے گا، اس کی گمراہی کا نقصان خود اسی کو پہنچے گا، اور میں تمہارے کاموں کا ذمہ دار نہیں ہوں۔