Back to Languages

Urdu - Chapter 10 - Yunus

Translation by Muhammad Taqi Usmani — Permalink

Verse 1 — Surah Yunus 10:1

الر۔ یہ اس کتاب کی آیتیں ہیں جو حکمت سے بھری ہوئی ہے۔

Verse 2 — Surah Yunus 10:2

کیا لوگوں کے لیے یہ تعجب کی بات ہے کہ ہم نے خود انہی میں کے ایک شخص پر وحی نازل کی ہے کہ :“ لوگوں کو (اللہ کی خلاف ورزی سے) ڈراؤ، اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، ان کو خوشخبری دو کہ ان کے رب کے نزدیک ان کا صحیح معنی میں بڑا پایہ ہے ” (مگر جب اس نے لوگوں کو یہ پیغام دیا تو) کافروں نے کہا کہ یہ تو کھلا جادو گر ہے۔

Verse 3 — Surah Yunus 10:3

حقیقت یہ ہے کہ تمہارا پروردگار اللہ ہے جس نے سارے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر اس نے عرش پر اس طرح استواء فرمایا کہ وہ ہر چیز کا انتظام کرتا ہے۔ کوئی اس کی اجازت کے بغیر (اس کے سامنے) کسی کی سفارش کرنے والا نہیں، وہی اللہ ہے تمہارا پروردگار، لہذا اس کی عبادت کرو، کیا تم پھر بھی دھیان نہیں دیتے ؟۔

Verse 4 — Surah Yunus 10:4

اسی کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے، یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے، یقینا ساری مخلوق کو شروع میں بھی وہی پیدا کرتا ہے اور دوبارہ بھی وہی پیدا کرے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو انصاف کے ساتھ اس کا صلہ دے۔ اور جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے، انکے لیے کھولتے ہوئے پانی کا مشروب ہے، اور دکھ دینے والا عذاب ہے، کیونکہ وہ حق کا انکار کرتے تھے۔

Verse 5 — Surah Yunus 10:5

اور اللہ وہی ہے جس نے سورج کو سراپا روشنی بنایا، اور چاند کو سراپا نور، اور اس کے (سفر) کے لیے منزلیں مقرر کردیں، تاکہ تم برسوں کی گنتی اور (مہینوں کا) حساب معلوم کرسکو۔ اللہ نے یہ سب کچھ بغیر کسی صحیح مقصد کے پیدا نہیں کردیا وہ یہ نشانیاں ان لوگوں کے لیے کھول کھول کر بیان کرتا ہے جو سمجھ رکھتے ہیں۔

Verse 6 — Surah Yunus 10:6

حقیقت یہ ہے کہ رات دن کے آگے پیچھے آنے میں اور اللہ نے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ پیدا کیا ہے، اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جن کے دل میں خدا کا خوف ہو۔

Verse 7 — Surah Yunus 10:7

جو لوگ ہم سے (آخرت میں) آملنے کی کوئی توقع ہی نہیں رکھتے، اور دنیوی زندگی میں مگن اور اسی پر مطمئن ہوگئے ہیں، اور جو ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔

Verse 8 — Surah Yunus 10:8

ان کا ٹھکانا اپنے کرتوت کی وجہ سے دوزخ ہے۔

Verse 9 — Surah Yunus 10:9

(دوسری طرف) جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کے ایمان کی وجہ سے ان کا پروردگار انہیں اس منزل تک پہنچائے گا کہ نعمتوں سے بھرے باغات میں ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔

Verse 10 — Surah Yunus 10:10

اس میں (داخلے کے وقت) ان کی پکار یہ ہوگی کہ :“ یا اللہ ! تیری ذات ہر عیب سے پاک ہے ” اور ایک دوسرے کے خیر مقدم کے لیے جو لفظ وہ بولیں گے، وہ سلام ہوگا، اور ان کی آخری پکار یہ ہوگی :“ تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے ”۔

Verse 11 — Surah Yunus 10:11

اور اگر اللہ (ان کافر) لوگوں کو برائی (یعنی عذاب) کا نشانہ بنانے میں بھی اتنی ہی جلدی کرتا جتنی جلدی وہ اچھائیاں مانگنے میں مچاتے ہیں تو ان کی مہلت تمام کردی گئی ہوتی ۔ (لیکن ایسی جلد بازی ہماری حکمت کے خلاف ہے) لہذا جو لوگ ہم سے (آٓخرت میں) ملنے کی توقع نہیں رکھتے، ہم انہیں اس حال پر چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے پھریں۔

Verse 12 — Surah Yunus 10:12

اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ لیٹے بیٹھے اور کھڑے ہوئے (ہر حالت میں) ہمیں پکارتے ہیں۔ پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو اس طرح چل کھڑا ہوتا ہے جیسے کبھی اپنے آپ کو پہنچنے والی کسی تکلیف میں ہمیں پکارا ہی نہ تھا۔ جو لوگ حد سے گزر جاتے ہیں، انہیں اپنے کرتوت اسی طرح خوشنما معلوم ہوتے ہیں۔

Verse 13 — Surah Yunus 10:13

اور ہم نے تم سے پہلے (کئی) قوموں کو اس موقع پر ہلاک کیا جب انہوں نے ظلم کا ارتکاب کیا تھا، اور ان کے پیغمبر ان کے پاس روشن دلائل لے کر آئے تھے، اور وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے، ایسے مجرم لوگوں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔

Verse 14 — Surah Yunus 10:14

پھر ہم نے ان کے بعد زمین میں تم کو جانشین بنایا ہے تاکہ یہ دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ؟

Verse 15 — Surah Yunus 10:15

اور وہ لوگ جو (آخرت میں) ہم سے آملنے کی توقع نہیں رکھتے جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں، جبکہ وہ بالکل واضح ہوتی ہیں، تو وہ یہ کہتے ہیں کہ :“ یہ نہیں، کوئی اور قرآن لے کر آؤ، یا اس میں تبدیلی کرو ”۔ (اے پیغمبر) ان سے کہہ دو کہ :“ مجھے یہ حق نہیں پہنچتا کہ میں اس میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی کروں۔ میں تو کسی اور چیز کی نہیں، صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے۔ اگر کبھی میں اپنے رب کی نافرمانی کر بیٹھوں تو مجھے ایک زبردست دن کے عذاب کا خوف ہے۔

Verse 16 — Surah Yunus 10:16

کہہ دو کہ :“ اگر اللہ چاہتا تو میں اس قرآن کو تمہارے سامنے نہ پڑھتا، اور نہ اللہ تمہیں اس سے واقف کراتا ۔ آخر اس سے پہلے بھی تو میں ایک عمر تمہارے درمیان بسر کرچکا ہوں۔ کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ ۔

Verse 17 — Surah Yunus 10:17

پھر اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے، یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے ؟ یقین رکھو کہ مجرم لوگ فلاح نہیں پاتے۔”

Verse 18 — Surah Yunus 10:18

اور یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان (من گھڑت خداؤں) کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں، نہ ان کو کوئی فائدہ دے سکتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ (اے پیغمبر ! ان سے) کہو کہ :“ کیا تم اللہ کو اس چیز کی خبر دے رہے ہو جس کا کوئی وجود اللہ کے علم میں نہیں ہے، نہ آسمانوں میں نہ زمین میں ؟” (حقیقت یہ ہے کہ) اللہ ان کی مشرکانہ باتوں سے بالکل پاک اور کہیں بالا و برتر ہے۔

Verse 19 — Surah Yunus 10:19

اور (شروع میں) تمام انسان کسی اور دین کے نہیں، صرف ایک ہی دین کے قائل تھے، پھر بعد میں وہ آپس میں اختلاف کرکے الگ الگ ہوئے۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی تو جس معاملے میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں، اس کا فیصلہ (دنیا ہی میں) کردیا جاتا ۔

Verse 20 — Surah Yunus 10:20

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ :“ اس نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں کی گئ ؟” تو (اے پیغمبر ! تم جواب میں) کہہ دو کہ :“ غیب کی باتیں تو صرف اللہ کے اختیار میں ہیں۔ لہذا تم انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔”

Verse 21 — Surah Yunus 10:21

اور انسانوں کا حال یہ ہے کہ جب ان کو پہنچنے والی کسی تکلیف کے بعد ہم ان کو رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو ذرا سی دیر میں وہ ہماری نشانیوں کے بارے میں چالبازی شروع کردیتے ہیں ۔ کہہ دو کہ :“ اللہ اس سے بھی جلدی کوئی چال چل سکتا ہے یقینا ہمارے فرشتے تمہاری ساری چالبازیوں کو لکھ رہے ہیں۔

Verse 22 — Surah Yunus 10:22

وہ اللہ ہی تو ہے جو تمہیں خشکی میں بھی اور سمندر میں بھی سفر کراتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہوتے ہو، اور یہ کشتیاں لوگوں کو لے کر خوشگوار ہوا کے ساتھ پانی پر چلتی ہیں اور لوگ اس بات پر مگن ہوتے ہیں تو اچانک ان کے پاس ایک تیز آندھی آتی ہے اور ہر طرف سے ان پر موجیں اٹھتی ہیں اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ ہر طرف سے گھر گئے۔ تو اس وقت وہ خلوص کے ساتھ صرف اللہ پر اعتقاد کر کے صرف اسی کو پکارتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) “ (یا اللہ !) اگر تو نے ہمیں اس (مصیبت سے) نجات دے دی تو ہم ضرور بالضرور شکر گزار لوگوں میں شامل ہوجائیں گے۔”

Verse 23 — Surah Yunus 10:23

لیکن جب اللہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو زیادہ دیر نہیں گزرتی کہ وہ زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ ارے لوگو ! تمہاری یہ سرکشی درحقیقت خود تمہارے اپنے خلاف پڑتی ہے۔ اب تو دنیوی زندگی کے مزے اڑا لو، آخر کو ہمارے پاس ہی تمہیں لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تمہیں بتائیں گے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔

Verse 24 — Surah Yunus 10:24

دنیوی زندگی کی مثال تو کچھ ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا جس کی وجہ سے زمین سے اگنے والی وہ چیزیں خوب گھنی ہوگئیں جو انسان اور مویشی کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین نے اپنا یہ زیور پہن لیا، اور سنگھار کر کے خوشنما ہوگئی اور اس کے مالک سمجھنے لگے کہ بس اب یہ پوری طرح ان کے قابو میں ہے، تو کسی رات یا دن کے وقت ہمارا حکم آگیا (کہ اس پر کوئی آفت آجائے) اور ہم نے اس کو کٹی ہوئی کھیتی کی سپاٹ زمین میں اس طرح تبدیل کردیا جیسے کل وہ تھی ہی نہیں۔ اسی طرح ہم نشانیوں کو ان لوگوں کے لیے کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔

Verse 25 — Surah Yunus 10:25

اور اللہ لوگوں کو سلامتی کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے تک پہنچا دیتا ہے ۔

Verse 26 — Surah Yunus 10:26

جن لوگوں نے بہتر کام کیے ہیں، بہترین حالت انہی کے لیے ہے اور اس سے بڑھ کر کچھ اور بھی نیز ان کے چہروں پر نہ کبھی سیاہی چھائے گی، نہ ذلت۔ وہ جنت کے باسی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

Verse 27 — Surah Yunus 10:27

رہے وہ لوگ جنہوں نے برائیاں کمائی ہیں تو (ان کی) برائی کا بدلہ اسی جیسا برا ہوگا اور ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی، اللہ (کے عذاب) سے انہیں کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔ ایسا لگے گا جیسے ان کے چہروں پر اندھیری رات کی تہیں چڑھادی گئی ہیں۔ وہ دوزخ کے باسی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

Verse 28 — Surah Yunus 10:28

اور (یاد رکھو) وہ دن جب ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے پھر جن لوگوں نے شرک کیا تھا، ان سے کہیں گے کہ :“ ذرا اپنی جگہ ٹھہرو، تم بھی اور وہ بھی جن کو تم نے اللہ کا شریک مانا تھا۔” پھر ان کے درمیان (عابد اور معبود کا) جو رشتہ تھا، ہم وہ ختم کردیں گے، اور ان کے وہ شریک کہیں گے کہ :“ تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے ۔

Verse 29 — Surah Yunus 10:29

ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ بننے کے لیے کافی ہے (کہ) ہم تمہاری عبادت سے بالکل بیخبر تھے۔”

Verse 30 — Surah Yunus 10:30

ہر شخص نے ماضی میں جو کچھ کیا ہوگا، اس موقع پر وہ خود اس کو پرکھ لے گا اور سب کو اللہ کی طرف لوٹا دیا جائے گا جو ان کا مالک حقیقی ہے، اور جو جھوٹ انہوں نے تراش رکھے تھے، ان کا کوئی سراغ انہیں نہیں ملے گا۔

Verse 31 — Surah Yunus 10:31

(اے پیغمبر ! ان مشرکوں سے) کہو کہ :“ کون ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے ؟ یا بھلا کون ہے جو سننے اور دیکھنے کی قوتوں کا مالک ہے ؟ اور کون ہے جو جاندار کو بےجان سے اور بےجان کو جاندار سے باہر نکال لاتا ہے ؟ اور کون ہے جو ہر کام کا انتظام کرتا ہے ؟” تو یہ لوگ کہیں گے کہ :“ اللہ ! تو تم ان سے کہو :“ کیا پھر بھی تم اللہ سے نہیں ڈرتے ؟

Verse 32 — Surah Yunus 10:32

پھر تو لوگو ! وہی اللہ ہے جو تمہارا مالک برحق ہے، پھر حق واضح ہوجانے کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا باقی رہ گیا ؟ اس کے باوجود تمہیں کوئی کہاں الٹ لئے جارہا ہے ؟ ”

Verse 33 — Surah Yunus 10:33

اسی طرح جن لوگوں نے نافرمانی کا شیواہ اپنا لیا ہے، ان کے بارے میں اللہ کی یہ بات سچی ہوگئی ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے

Verse 34 — Surah Yunus 10:34

کہو کہ :“ جن کو تم اللہ کے ساتھ شریک مانتے ہو، کیا ان میں کوئی ایسا ہے جو مخلوقات کو پہلی بار پیدا کرے، پھر (ان کی موت کے بعد) انہیں دوبارہ پھر پیدا کردے ؟” کہو کہ :“ اللہ ہے جو مخلوقات کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر ان (کی موت کے بعد) انہیں دوبارہ پھر پیدا کردے گا۔ پھر آخر کوئی تمہیں کہاں اوندھے منہ لئے جارہا ہے ؟”

Verse 35 — Surah Yunus 10:35

کہو کہ :“ جن کو تم اللہ کے ساتھ شریک مانتے ہو، کیا ان میں کوئی ایسا ہے جو تمہیں حق کا راستہ دکھائے ؟” کہو کہ :“ اللہ حق کا راستہ دکھاتا ہے، اب بتاؤ کہ جو حق کا راستہ دکھاتا ہو کیا وہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کی بات مانی جائے، یا وہ (زیادہ حق دار ہے) جس کو خود اس وقت تک راستہ نہ سوجھے جب تک کوئی دوسرا اس کی رہنمائی نہ کرے ؟ بھلا تمہیں ہو کیا گیا ہے ؟ تم کس طرح کی باتیں طے کرلیتے ہو ؟”

Verse 36 — Surah Yunus 10:36

اور (حقیقت یہ ہے کہ) ان (مشرکین) میں سے اکثر لوگ کسی اور چیز کے نہیں، صرف وہمی اندازے کے پیچھے چلتے ہیں، اور یہ یقینی بات ہے کہ حق کے معاملے میں وہمی انداہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا۔ یقین جانو جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں، اللہ اس کا پورا پورا علم رکھتا ہے۔

Verse 37 — Surah Yunus 10:37

اور یہ قرآن ایسا نہیں ہے کہ اسے کسی نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہو، اللہ نے نہ اتارا ہو بلکہ یہ (وحی کی) ان باتوں کی تصدیق کرتا ہے جو اس سے پہلے آچکی ہیں، اور اللہ نے جو باتیں (لوح محفوظ میں) لکھ رکھی ہیں، ان کی تفصیل بیان کرتا ہے، اس میں ذرا شک کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ اس ذات کی طرف سے ہے جو تمام جہانوں کی پرورش کرتی ہے۔

Verse 38 — Surah Yunus 10:38

کیا پھر بھی یہ لوگ کہتے ہیں کہ : پیغمبر نے اسے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے ؟ کہو کہ : پھر تو تم بھی اس جیسی ایک ہی سورت (گھڑ کر) لے آؤ، اور (اس کام میں مدد لینے کے لیے) اللہ کے سوا جس کسی کو بلا سکو بلا لو، اگر سچے ہو۔

Verse 39 — Surah Yunus 10:39

بات دراصل یہ ہے کہ جس چیز کا احاطہ یہ اپنے علم سے نہیں کرسکے، اسے انہوں نے جھوٹ قرار دے دیا، اور ابھی اس کا انجام بھی ان کے سامنے نہیں آیا اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے، انہوں نے (اپنے پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا۔ پھر دیکھو کہ ان ظالموں کا انجام کیسا ہوا ؟

Verse 40 — Surah Yunus 10:40

اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو اس (قرآن) پر ایمان لے آئیں گے، اور کچھ وہ ہیں جو اس پر ایمان نہیں لائیں گے، اور تمہارا پروردگار فساد پھیلانے والوں کو خوب جانتا ہے۔

Verse 41 — Surah Yunus 10:41

اور (اے پیغمبر) اگر یہ تمہیں جھٹلائیں تو (ان سے) کہہ دو کہ : میرا عمل میرے لیے ہے، اور تمہارا عمل تمہارے لیے، جو کام میں کرتا ہوں اس کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے اور جو کام تم کرتے ہو اس کی ذمہ داری مجھ پر نہیں۔

Verse 42 — Surah Yunus 10:42

اور ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو تمہاری باتوں کو (بظاہر) کان لگا کر سنتے ہیں (مگر دل میں حق کی طلب نہیں رکھتے، اس لیے درحقیقت بہرے ہیں) تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے، چاہے وہ سمجھتے نہ ہوں ؟

Verse 43 — Surah Yunus 10:43

اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو تمہاری طرف دیکھتے ہیں (مگر دل میں انصاف نہ ہونے کی وجہ سے وہ اندھوں جیسے ہیں) تو کیا تم اندھوں کو راستہ دکھاؤ گے، چاہے انہیں کچھ بھی سجھائی نہ دیتا ہو ؟

Verse 44 — Surah Yunus 10:44

حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر ذرا بھی ظلم نہیں کرتا، لیکن انسان ہیں جو خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔

Verse 45 — Surah Yunus 10:45

اور جس دن اللہ ان کو (میدان حشر میں) اکٹھا کرے گا، تو انہیں ایسا معلوم ہوگا جیسے وہ (دنیا میں یا قبر میں) دن کی ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے، (اسی لیے) وہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچانتے ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے بڑے گھاٹے کا سودا کیا ہے جنہوں نے اللہ سے (آخرت میں) جاملنے کو جھٹلایا ہے اور جو راہ راست پر نہیں آئے۔

Verse 46 — Surah Yunus 10:46

اور (اے پیغمبر) جن باتوں کی ہم نے ان (کافروں کو) دھمکی دی ہوئی ہے، چاہے ان میں سے کوئی بات ہم تمہیں (تمہاری زندگی میں) دکھا دیں، یا (اس سے پہلے) تمہاری روح قبض کرلیں، بہرصورت ان کو آخر میں ہماری طرف ہی لوٹنا ہے، پھر (یہ تو ظاہر ہی ہے کہ) جو کچھ یہ کرتے ہیں، اللہ اس کا پورا پورا مشاہدہ کر رہا ہے۔ (لہذا وہاں ان کو سزا دے گا)

Verse 47 — Surah Yunus 10:47

اور ہر امت کے لیے ایک رسول بھیجا گیا ہے، پھر جب ان کا رسول آجاتا ہے تو ان کا فیصلہ پورے انصاف سے کیا جاتا ہے، اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا۔

Verse 48 — Surah Yunus 10:48

اور یہ (کافر) لوگ (مسلمانوں سے مذاق اڑانے کے لیے) کہتے ہیں کہ : اگر تم سچے ہو تو (اللہ کی طرف سے عذاب کا) یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟

Verse 49 — Surah Yunus 10:49

(اے پیغمبر ! ان سے) کہہ دو کہ : میں تو خود اپنی ذات کو بھی کوئی نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہوں، نہ فائدہ پہنچانے کا، مگر جتنا اللہ چاہے۔ ہر امت کا ایک وقت مقرر ہے، چنانچہ جب ان کا وہ وقت آجاتا ہے تو وہ اس سے نہ ایک گھڑی پیچھے جاسکتے ہیں نہ آگے آسکتے ہیں۔

Verse 50 — Surah Yunus 10:50

ان سے کہو کہ : ذرا مجھے یہ بتاؤ کہ اگر اللہ کا عذاب تم پر رات کے وقت آئے یا دن کے وقت تو اس میں کون سی ایسی (اشتیاق کے قابل) چیز ہے جس کے جلد آنے کا یہ مجرم لوگ مطالبہ کر رہے ہیں ؟

Verse 51 — Surah Yunus 10:51

کیا جب وہ عذاب آہی پڑے گا، تب اسے مانو گے ؟ (اس وقت تو تم سے یہ کہا جائے گا کہ) اب مانے ؟ حالانکہ تم ہی (اس کا انکار کر کے) اس کی جلدی مچایا کرتے تھے۔

Verse 52 — Surah Yunus 10:52

پھر ظالموں سے کہا جائے گا کہ : اب ہمیشہ کے عذاب کا مزہ چکھو، تمہیں کسی اور چیز کا نہیں، صرف اس (بدی) کا بدلہ دیا جارہا ہے جو تم کماتے رہے ہو۔

Verse 53 — Surah Yunus 10:53

اور یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ (آخرت کا عذاب) واقعی سچ ہے ؟ کہو دو کہ : میرے پروردگار کی قسم یہ بالکل سچ ہے، اور تم (اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتے۔

Verse 54 — Surah Yunus 10:54

اور جس جس شخص نے ظلم کا ارتکاب کیا ہے، اگر اس کے پاس روئے زمین کی ساری دولت بھی ہوگی تو وہ اپنی جان چھڑانے کے لیے اس کی پیشکش کردے گا، اور جب وہ عذاب کو آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو اپنی شرمندگی کو چھپانا چاہیں گے، اور ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ ہوگا، اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔

Verse 55 — Surah Yunus 10:55

یاد رکھو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ یا درکھو کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

Verse 56 — Surah Yunus 10:56

وہی زندہ کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، اور اسی کے پاس تم سب کو لوٹایا جائے گا۔

Verse 57 — Surah Yunus 10:57

لوگو تمہارے پاس ایک ایسی چیز آئی ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک نصیحت ہے، اور دلوں کی بیماریوں کے لیے شفا ہے، اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا سامان ہے۔

Verse 58 — Surah Yunus 10:58

(اے پیغمبر) کہو کہ : یہ سب کچھ اللہ کے فضل اور رحمت سے ہوا ہے، لہذا اسی پر تو انہیں خوش ہونا چاہیے، یہ اس تمام دولت سے کہیں بہتر ہے جسے یہ جمع کر کر کے رکھتے ہیں۔

Verse 59 — Surah Yunus 10:59

کہو کہ : بھلا بتاؤ اللہ نے تمہارے لیے جو رزق نازل کیا تھا، تم نے اپنی طرف سے اس میں سے کسی کو حرام اور کسی کو حلال قرار دے دیا، ان سے پوچھو کہ : کیا اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہو ؟

Verse 60 — Surah Yunus 10:60

اور جو لوگ اللہ پر بہتان باندھتے ہیں روز قیامت کے بارے میں ان کا کیا گمان ہے ؟ اس میں شک نہیں کہ اللہ انسانوں کے ساتھ فضل کا معاملہ کرنے والا ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔

Verse 61 — Surah Yunus 10:61

اور (اے پیغمبر) تم جس حالت میں بھی ہوتے ہو اور قرآن کا جو حصہ بھی تلاوت کرتے ہو اور (اے لوگو) تم جو کام بھی کرتے ہو، تو جس وقت تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو ہم تمہیں دیکھتے رہتے ہیں اور تمہارے رب سے کوئی ذرہ برابر چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے، نہ زمین میں نہ آسمان میں، نہ اس سے چھوٹی، نہ بڑی، مگر وہ ایک واضح کتاب میں درج ہے۔

Verse 62 — Surah Yunus 10:62

یا درکھو کہ جو اللہ کے دوست ہیں ان کو نہ کوئی خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں۔

Verse 63 — Surah Yunus 10:63

یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے، اور تقوی اختیار کیے رہے۔

Verse 64 — Surah Yunus 10:64

ان کے لیے خوشخبری ہے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، یہی زبردست کامیابی ہے۔

Verse 65 — Surah Yunus 10:65

اور (اے پیغمبر) یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں وہ تمہیں رنجیدہ نہ کریں، یقین رکھو کہ اقتدار تمام تر اللہ کا ہے، اور وہ ہر بات سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

Verse 66 — Surah Yunus 10:66

یاد رکھو کہ آسمانوں اور زمین میں جتنے جان دار ہیں وہ سب اللہ ہی کی ملکیت میں ہیں اور جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں وہ کوئی اللہ کے (حقیقی) شرکاء کی پیروی نہیں کرتے، وہ کسی اور چیز کی نہیں، محض گمان کی پیروی کرتے ہیں اور ان کا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ اندازوں کے تیر چلاتے رہیں۔

Verse 67 — Surah Yunus 10:67

اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی، تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو، اور دن کو ایسا بنایا جو تمہیں دیکھنے کی صلاحیت دے، اس میں یقینا ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو غور سے سنتے ہوں۔

Verse 68 — Surah Yunus 10:68

(کچھ) لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ اولاد رکھتا ہے، پاک ہے اس کی ذات، وہ ہر چیز سے بےنیاز ہے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے۔ تمہارے پاس اس بات کی ذرا بھی کوئی دلیل نہیں ہے، کیا تم اللہ کے ذمے وہ بات لگاتے ہو جس کا تمہیں کوئی علم نہیں ؟

Verse 69 — Surah Yunus 10:69

کہہ دو کہ : جو لوگ اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے۔

Verse 70 — Surah Yunus 10:70

(ان کے لیے) بس دنیا میں تھوڑا سا مزہ ہے، پھر ہمارے پاس ہی انہیں لوٹ کر آنا ہے، پھر کفر کا جو رویہ انہوں نے اپنا رکھا تھا، اس کے بدلے ہم انہیں شدید عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

Verse 71 — Surah Yunus 10:71

اور (اے پیغمبر) ان کے سامنے نوح کا واقعہ پڑھ کر سناؤ، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : میری قوم کے لوگو ! اگر تمہارے درمیان میرا رہنا، اور اللہ کی آیات کے ذریعے خبردار کرنا تمہیں بھاری معلوم ہورہا ہے تو میں نے تو اللہ ہی پر بھروسہ کر رکھا ہے، اب تم اپنے شریکوں کو ساتھ ملا کر (میرے خلاف) اپنی تدبیروں کو خوب پختہ کرلو، پھر جو تدبیر تم کرو وہ تمہارے دل میں کسی گھٹن کا باعث نہ بنے، بلکہ میرے خلاف جو فیصلہ تم نے کیا ہو، اسے (دل کھول کر) کر گزرو، اور مجھے ذرا مہلت نہ دو ۔

Verse 72 — Surah Yunus 10:72

پھر بھی اگر تم نے منہ موڑے رکھا تو میں نے تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت تو نہیں مانگی میرا اجر کسی اور نے نہیں، اللہ نے ذمے لیا ہے، اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبردار لوگوں میں شامل رہوں۔

Verse 73 — Surah Yunus 10:73

پھر ہوا یہ کہ ان لوگوں نے نوح کو جھٹلایا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے نوح کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں تھے انہیں بچا لیا، اور ان کو کافروں کی جگہ زمین میں بسایا، اور جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا، انہیں (طوفان میں) غرق کردیا۔ اب دیکھو کہ جن لوگوں کو خبردار کیا گیا تھا ان کا انجام کیسا ہوا ؟

Verse 74 — Surah Yunus 10:74

اس کے بعد ہم نے مختلف پیغمبر ان کی اپنی اپنی قوموں کے پاس بھیجے، وہ ان کے پاس کھلے کھلے دلائل لے کر آئے، لیکن ان لوگوں نے جس بات کو پہلی بار جھٹلایا دیا تھا اسے مان کر ہی نہ دیا۔ جو لوگ حد سے گزر جاتے ہیں ان کے دلوں پر ہم اسی طرح مہر لگا دیتے ہیں۔

Verse 75 — Surah Yunus 10:75

اس کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر بھیجا، تو انہوں نے تکبر کا معاملہ کیا، اور وہ مجرم لوگ تھے۔

Verse 76 — Surah Yunus 10:76

چنانچہ جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق کا پیغام آیا تو وہ کہنے لگے کہ ضرور یہ کھلا ہوا جادو ہے۔

Verse 77 — Surah Yunus 10:77

موسیٰ نے کہا : کیا تم حق کے بارے میں ایسی بات کہہ رہے ہو جبکہ وہ تمہارے پاس آچکا ہے ؟ بھلا کیا یہ جادو ہے ؟ حالانکہ جادو گر فلاح نہیں پایا کرتے۔

Verse 78 — Surah Yunus 10:78

کہنے لگے : کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ جس طور طریقے پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اس سے ہمیں برگشتہ کردو، اور اس سرزمین میں تم دونوں کی چودہراہٹ قائم ہوجائے ؟ ہم تو تم دونوں کی بات ماننے والے نہیں ہیں۔

Verse 79 — Surah Yunus 10:79

اور فرعون نے (اپنے ملازموں سے) کہا کہ : جتنے ماہر جادوگر ہیں ان سب کو میرے پاس لے کر آؤ۔

Verse 80 — Surah Yunus 10:80

چنانچہ جب جادوگر آگئے تو موسیٰ نے ان سے کہا : پھینکو جو کچھ تمہیں پھینکنا ہے۔

Verse 81 — Surah Yunus 10:81

پھر جب انہوں نے (اپنی لاٹھیوں اور رسیوں کو) پھینکا (اور وہ سانپ بن کر چلتی ہوئی نظر آئیں) تو موسیٰ نے کہا کہ : یہ جو کچھ تم نے دکھایا ہے جادو ہے۔ اللہ ابھی اس کو مل یا میٹ کیے دیتا ہے۔ اللہ فسادیوں کا کام بننے نہیں دیتا۔

Verse 82 — Surah Yunus 10:82

اور اللہ سچ کو اپنے حکم سے سچ کر دکھاتا ہے، چاہے مجرم لوگ کتنا برا سمجھیں۔

Verse 83 — Surah Yunus 10:83

پھر ہوا یہ کہ موسیٰ پر کوئی اور نہیں، لیکن خود اس کی قوم کے کچھ نوجوان فرعون اور اپنے سرداروں سے ڈرتے ڈرتے ایمان لائے کہ کہیں فرعون انہیں نہ ستائے۔ اور یقینا فرعون زمین میں بڑا زور آور تھا، اور وہ ان لوگوں میں سے تھا جو کسی حد پر قائم نہیں رہتے۔

Verse 84 — Surah Yunus 10:84

اور موسیٰ نے کہا : اے میری قوم اگر تم واقعی اللہ پر ایمان لے آئے ہو تو پھر اسی پر بھروسہ رکھو، اگر تم فرمانبردار ہو۔

Verse 85 — Surah Yunus 10:85

اس پر انہوں نے کہا : اللہ ہی پر ہم نے بھروسہ کرلیا ہے، اے ہمارے پروردگار ہمیں ان ظالم لوگوں کے ہاتھوں آزمائش میں نہ ڈالیے۔

Verse 86 — Surah Yunus 10:86

اور اپنی رحمت سے ہمیں کافر قوم سے نجات دے دیجیے۔

Verse 87 — Surah Yunus 10:87

اور ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی پر وحی بھیجی کہ : تم دونوں اپنی قوم کو مصر ہی کے گھروں میں بساؤ، اور اپنے گھروں کو نماز کی جگہ بنا لو۔ اور (اس طرح) نماز قائم کرو اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو ۔

Verse 88 — Surah Yunus 10:88

اور موسیٰ نے کہا : اے ہمارے پروردگار ! آپ نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیوی زندگی میں بڑی سج دھج اور مال و دولت بخشی ہے، اے ہمارے پروردگار ! ان کے مال و دولت کو تہس نہس کردیجیے، اور ان کے دلوں کو اتنا سخت کردیجیے کہ وہ اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔

Verse 89 — Surah Yunus 10:89

اللہ نے فرمایا : تمہاری دعا قبول کرلی گئی ہے۔ اب تم دونوں ثابت قدم رہو، وار ان لوگوں کے پیچھے ہرگز نہ چلنا جو حقیقت سے ناواقف ہیں۔

Verse 90 — Surah Yunus 10:90

اور ہم نے بنو اسرائیل کو سمندر پار کرادیا، تو فرعون اور اس کے لشکر نے بھی ظلم اور زیادتی کی نیت سے ان کا پیچھا کیا، یہاں تک کہ جب ڈوبنے کا انجام اس کے سر پر آپہنچا تو کہنے لگا : میں مان گیا کہ جس خدا پر بنو اسرائیل ایمان لائے ہیں اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں بھی فرمانبرداروں میں شامل ہوتا ہوں۔

Verse 91 — Surah Yunus 10:91

(جواب دیا گیا کہ) اب ایمان لاتا ہے ؟ حالانکہ اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا، اور مسلسل فساد ہی مچاتا رہا۔

Verse 92 — Surah Yunus 10:92

لہذا آج ہم تیرے (صرف) جسم کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد کے لوگوں کے لیے عبرت کا نشان بن جائے۔ (کیونکہ) بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل بنے ہوئے ہیں۔

Verse 93 — Surah Yunus 10:93

اور ہم نے بنو اسرائیل کو ایسی جگہ بسایا جو صحیح معنی میں بسنے کے لائق جگہ تھی، اور ان کو پاکیزہ چیزوں کا رزق بخشا۔ پھر انہوں نے (دین حق کے بارے میں) اس وقت تک اختلاف نہیں کیا جب تک ان کے پاس علم نہیں آگیا۔ یقین رکھو کہ جن باتوں میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے، ان کا فیصلہ تمہارا پروردگار قیامت کے دن کرے گا۔

Verse 94 — Surah Yunus 10:94

پھر (اے پیغمبر) اگر (بالفرض محال) تمہیں اس کلام میں ذرا بھی شک ہو جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے تو ان لوگوں سے پوچھو جو تم سے پہلے سے (آسمانی) کتاب پڑھتے ہیں۔ یقین رکھو کہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہی آیا ہے۔ لہذا تم کبھی بھی شک کرنے والوں میں شامل نہ ہونا۔

Verse 95 — Surah Yunus 10:95

نیز کبھی ہرگز ان لوگوں میں شامل نہ ہونا، جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا ہے، ورنہ تم ان لوگوں میں شامل ہوجاؤ گے جنہوں نے گھاٹے کا سودا کرلیا ہے۔

Verse 96 — Surah Yunus 10:96

بیشک جن لوگوں کے بارے میں تمہارے رب کی بات طے ہوچکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

Verse 97 — Surah Yunus 10:97

چاہے ہر قسم کی نشانی ان کے سامنے آجائے، یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔

Verse 98 — Surah Yunus 10:98

بھلا کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ ایسے وقت ایمان لے آتی کہ اس کا ایمان اسے فائدہ پہنچا سکتا ؟ البتہ صرف یونس کی قوم کے لوگ ایسے تھے۔ جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیوی زندگی میں رسوائی کا عذاب ان سے اٹھا لیا، اور ان کو ایک مدت تک زندگی کا لطف اٹھانے دیا۔

Verse 99 — Surah Yunus 10:99

اور اگر اللہ چاہتا تو روئے زمین پر بسنے والے سب کے سب ایمان لے آتے تو کیا تم لوگوں پر زبردستی کرو گے تاکہ وہ سب مومن بن جائیں ؟

Verse 100 — Surah Yunus 10:100

اور کسی بھی شخص کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر مومن بن جائے، اور جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے، اللہ ان پر گندگی مسلط کردیتا ہے۔

Verse 101 — Surah Yunus 10:101

(اے پیغمبر) ان سے کہو کہ : ذرا نظر دوڑاؤ کہ آسمانوں اور زمین کیا کیا چیزیں ہیں ؟ لیکن جن لوگوں کو ایمان لانا ہی نہیں ہے ان کے لیے (زمین و آسمان میں پھیلی ہوئی) نشانیاں اور آگاہ کرنے والے (پیغمبر) کچھ بھی کار آمد نہیں ہوتے۔

Verse 102 — Surah Yunus 10:102

بھلا بتاؤ کہ یہ لوگ (ایمان لانے کے لیے) اس کے سوا کس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ اس طرح کے دن یہ بھی دیکھیں جیسے ان سے پہلے کے لوگوں نے دیکھے تھے ؟ کہہ دو کہ : اچھا تم انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔

Verse 103 — Surah Yunus 10:103

پھر (جب عذاب آتا ہے تو) ہم اپنے پیغمبروں کو اور جو لوگ ایمان لے آتے ہیں ان کو نجات دے دیتے ہیں، اسی طرح ہم نے یہ بات اپنے ذمے لے رکھی ہے کہ ہم تمام (دوسرے) مومنوں کو بھی نجات دیں۔

Verse 104 — Surah Yunus 10:104

(اے پیغمبر) ان سے کہو کہ : اے لوگو اگر تم میرے دین کے بارے میں کسی شک میں مبتلا ہو تو (سن لو کہ) تم اللہ کے سوا جن جن کی عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا، بلکہ میں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری روح قبض کرتا ہے۔ اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں مومنوں میں شامل رہوں۔

Verse 105 — Surah Yunus 10:105

اور (مجھ سے) یہ (کہا گیا ہے) کہ : اپنا رخ یکسوئی کے ساتھ اس دین کی طرف قائم رکھنا، اور ہرگز ان لوگوں میں شامل نہ ہونا جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مانتے ہیں۔

Verse 106 — Surah Yunus 10:106

اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی ایسے (من گھڑت معبود) کو نہ پکارنا جو تمہیں نہ کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے، نہ کوئی نقصان۔ پھر بھی اگر تم (بفرض محال) ایسا کر بیٹھے تو تمہارا شمار بھی ظالموں میں ہوگا۔

Verse 107 — Surah Yunus 10:107

اور اگر تمہیں اللہ کوئی تکلیف پہنچا دے تو اس کے سوا کوئی نہیں ہے جو اسے دور کردے، اور اگر وہ تمہیں کوئی بھلائی پہنچانے کا ارادہ کرلے تو کوئی نہیں ہے جو اس کے فضل کا رخ پھیر دے۔ وہ اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے پہنچا دیتا ہے، اور وہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔

Verse 108 — Surah Yunus 10:108

(اے پیغمبر) کہہ دو کہ : لوگو تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس حق آگیا ہے، اب جو شخص ہدایت کا راستہ اپنائے گا وہ خود اپنے فائدے کے لیے اپنائے گا، اور جو گمراہی اختیار کرے گا، اس کی گمراہی کا نقصان خود اسی کو پہنچے گا، اور میں تمہارے کاموں کا ذمہ دار نہیں ہوں۔

Verse 109 — Surah Yunus 10:109

اور جو وحی تمہارے پاس بھیجی جارہی ہے، تم اس کی اتباع کرو، اور صبر سے کام لو، یہاں تک کہ اللہ کوئی فیصلہ کردے۔ اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔