Back to Languages

Urdu - Chapter 18 - Al-Kahf

Translation by Muhammad Taqi Usmani — Permalink

Verse 1 — Surah Al-Kahf 18:1

تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی، اور اس میں کسی قسم کی کوئی خاص خامی نہیں رکھی۔

Verse 2 — Surah Al-Kahf 18:2

ایک سیدھی سیدھی کتاب جو اس نے اس لیے نازل کی ہے کہ لوگوں کو اپنی طرف سے ایک سخت عذاب سے آگاہ کرے اور جو مومن نیک عمل کرتے ہیں ان کو خوشخبری دے کہ ان کو بہترین اجر ملنے والا ہے۔

Verse 3 — Surah Al-Kahf 18:3

جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

Verse 4 — Surah Al-Kahf 18:4

اور تاکہ ان لوگوں کو متنبہ کرے جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے کوئی بیٹا بنا رکھا ہے۔

Verse 5 — Surah Al-Kahf 18:5

اس بات کا کوئی علمی ثبوت نہ خود ان کے پاس ہے، نہ ان کے باپ دادوں کے پاس تھا۔ بڑی سنگین بات ہے جو ان کے منہ سے نکل رہی ہے۔ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں، وہ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔

Verse 6 — Surah Al-Kahf 18:6

اب (اے پیغمبر) اگر لوگ (قرآن کی) اس بات پر ایمان نہ لائیں تو ایسا لگتا ہے جیسے تم افسوس کر کر کے ان کے پیچھے اپنی جان کو گھلا بیٹھو گے۔

Verse 7 — Surah Al-Kahf 18:7

یقین جانو کہ روئے زمین پر جتنی چیزیں ہیں ہم نے انہیں زمین کی سجاوٹ کا ذریعہ اس لیے بنایا ہے تاکہ لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں کون زیادہ اچھا عمل کرتا ہے۔

Verse 8 — Surah Al-Kahf 18:8

اور یہ بھی یقین رکھو کہ روئے زمین پر جو کچھ ہے ایک دن ہم اسے ایک سپاٹ میدان بنادیں گے۔

Verse 9 — Surah Al-Kahf 18:9

کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ غار اور رقیم والے لوگ ہماری نشانیوں میں سے کچھ (زیادہ) عجیب چیز تھے ؟

Verse 10 — Surah Al-Kahf 18:10

یہ اس وقت کا ذکر ہے جب ان نوجوانوں نے غار میں پناہ لی تھی اور (اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے) کہا تھا کہ : اے ہمارے پروردگار ہم پر خاص اپنے پاس سے رحمت نازل فرمایے، اور ہماری اس صورت حال میں ہمارے لیے بھلائی کا راستہ مہیا فرما دیجیے۔

Verse 11 — Surah Al-Kahf 18:11

چنا نچہ ہم نے ان کے کانوں کو تھپکی دے کر کئی سال تک ان کو غار میں سلائے رکھا۔

Verse 12 — Surah Al-Kahf 18:12

پھر ہم نے ان کو جگایا تاکہ یہ دیکھیں کہ ان کے دو گروہوں میں سے کون سا گروہ اپنے سوئے رہنے کی مدت کا زیادہ صحیح شمار کرتا ہے۔

Verse 13 — Surah Al-Kahf 18:13

ہم تمہارے سامنے ان کا واقعہ ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں۔ یہ کچھ نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے، اور ہم نے ان کو ہدایت میں خوب ترقی دی تھی۔

Verse 14 — Surah Al-Kahf 18:14

اور ہم نے ان کے دل خوب مضبوط کردیے تھے۔ یہ اس وقت کا ذکر ہے جب وہ اٹھے، اور انہوں نے کہا کہ : ہمارا پروردگار وہ ہے جو تمام آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ ہم اس کے سوا کسی کو معبود بنا کر ہرگز نہیں پکاریں گے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم یقینا انتہائی لغو بات کہیں گے۔

Verse 15 — Surah Al-Kahf 18:15

یہ ہماری قوم کے لوگ ہیں جنہوں نے اس پروردگار کو چھوڑ کر دوسرے معبود بنا رکھے ہیں۔ (اگر ان کا عقیدہ صحیح ہے تو) وہ اپنے معبودوں کے ثبوت میں کوئی واضح دلیل کیوں پیش نہیں کرتے ؟ بھلا اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے ؟

Verse 16 — Surah Al-Kahf 18:16

اور (ساتھیو) جب تم نے ان لوگوں سے بھی علیحدگی اختیار کرلی ہے اور ان سے بھی جن کی یہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں تو چلو اب تم اس غار میں پناہ لے لو، تمہارا پروردگار تمہارے لیے اپنا دامن رحمت پھیلا دے گا، اور تمہارے کام میں آسانی کے اسباب مہیا فرمائے گا۔

Verse 17 — Surah Al-Kahf 18:17

اور (وہ غار ایسا تھا کہ) تم سورج کو نکلتے وقت دیکھتے تو وہ ان کے غار سے دائیں طرف ہٹ کر نکل جاتا، اور جب غروب ہوتا تو ان سے بائیں طرف کترا کر چلا جاتا، اور وہ اس غار کے ایک کشادہ حصے میں (سوئے ہوئے) تھے۔ یہ سب کچھ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ جسے اللہ ہدایت دیدے، وہی ہدایت پاتا ہے، اور جسے وہ گمراہ کردے اس کا تمہیں ہرگز کوئی مددگار نہیں مل سکتا جو اسے راستے پر لائے۔

Verse 18 — Surah Al-Kahf 18:18

تم انہیں (دیکھ کر) یہ سمجھتے کہ وہ جاگ رہے ہیں، حالانکہ وہ سوئے ہوئے تھے، اور ہم ان کو دائیں اور بائیں کروٹ دلواتے رہتے تھے، اور ان کا کتا دہلیز پر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے (بیٹھا) تھا۔ اگر تم انہیں جھانک کر دیکھتے تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے، اور تمہارے اندر ان کی دہشت سما جاتی۔

Verse 19 — Surah Al-Kahf 18:19

اور (جیسے ہم نے انہیں سلایا تھا) اسی طرح ہم نے انہیں اٹھا دیا تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ گچھ کریں۔ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا : تم اس حالت میں کتنی دیر رہے ہوگے ؟ کچھ لوگوں نے کہا : ہم ایک دن یا ایک دن سے کچھ کم (نیند میں) رہے ہوں گے۔ دوسروں نے کہا : تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ تم کتنی دیر اس حالت میں رہے ہو۔ اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سکہ دے کر شہر کی طرف بھیجو، وہ جاکر دیکھ بھال کرے کہ اس کے کون سے علاقے میں زیادہ پاکیزہ کھانا (مل سکتا) ہے۔ پھر تمہارے پاس وہاں سے کچھ کھانے کو لے آئے، اور اسے چاہیے کہ ہوشیاری سے کام کرے، اور کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دے۔

Verse 20 — Surah Al-Kahf 18:20

کیونکہ اگر ان (شہر کے) لوگوں کو تمہاری خبر مل گئی تو یہ تمہیں پتھراؤ کر کے ہلاک کر ڈالیں گے، یا تمہیں اپنے دین میں واپس آنے کے لیے مجبور کریں گے، اور ایسا ہوا تو تمہیں کبھی فلاح نہیں مل سکے گی۔

Verse 21 — Surah Al-Kahf 18:21

اور یوں ہم نے ان کی خبر لوگوں تک پہنچا دی، تاکہ وہ یقین سے جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، نیز یہ کہ قیامت کی گھڑی آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ (پھر وہ وقت بھی آیا) جب لوگ ان کے بارے میں آپس میں جھگڑ رہے تھے، چنانچہ کچھ لوگوں نے کہا کہ ان پر ایک عمارت بنادو ۔ ان کا رب ہی ان کے معاملے کو بہتر جانتا ہے۔ (آخر کار) جن لوگوں کو ان کے معاملات پر غلبہ حاصل تھا انہوں نے کہا کہ : ہم تو ان کے اوپر ایک مسجد ضرور بنائیں گے۔

Verse 22 — Surah Al-Kahf 18:22

کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین آدمی تھے، اور چوتھا ان کا کتا تھا، اور کچھ کہیں گے کہ وہ پانچ تھے، اور چھٹا ان کا کتا تھا۔ یہ سب اٹکل کے تیر چلانے کی باتیں ہیں۔ اور کچھ کہیں گے کہ وہ سات تھے، اور آٹھواں ان کا کتا تھا، کہہ دو کہ : میرا رب ہی ان کی صحیح تعداد کو جانتا ہے۔ تھوڑے سے لوگوں کے سوا کسی کو ان کا پورا علم نہیں۔ لہذا ان کے بارے میں سرسری گفتگو سے آگے بڑھ کر کوئی بحث نہ کرو، اور نہ ان کے بارے میں کسی سے پوچھ گچھ کرو۔

Verse 23 — Surah Al-Kahf 18:23

اور (اے پیغمبر) کسی بھی کام کے بارے میں کبھی یہ نہ کہو کہ میں یہ کام کل کرلوں گا۔

Verse 24 — Surah Al-Kahf 18:24

ہاں (یہ کہو کہ) اللہ چاہے گا تو (کرلوں گا) اور جب کبھی بھول جاؤ تو اپنے رب کو یاد کرلو، اور کہو : مجھے امید ہے کہ میرا رب کسی ایسی بات کی طرف رہنمائی کردے جو ہدایت میں اس سے بھی زیادہ قریب ہو۔

Verse 25 — Surah Al-Kahf 18:25

اور وہ (اصحاب کہف) اپنے غار میں تین سو سال اور مزید نو سال (سوتے) رہے۔

Verse 26 — Surah Al-Kahf 18:26

(اگر کوئی اس میں بحث کرے تو) کہہ دو کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنی مدت (سوتے) رہے۔ آسمانوں اور زمین کے سارے بھید اسی کے علم میں ہیں۔ وہ کتنا دیکھنے والا، اور کتنا سننے والا ہے۔ اس کے سوا ان کا کوئی رکھوالا نہیں ہے، اور وہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔

Verse 27 — Surah Al-Kahf 18:27

اور (اے پیغمبر) تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے وحی کے ذریعے جو کتاب بھیجی گئی ہے، اسے پڑھ کر سنادو۔ کوئی نہیں ہے جو اس کی باتوں کو بدل سکے، اور اسے چھوڑ کر تمہیں ہرگز پناہ کی جگہ نہیں مل سکتی۔

Verse 28 — Surah Al-Kahf 18:28

اور اپنے آپ کو استقامت سے ان لوگوں کے ساتھ رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو اس لیے پکارتے ہیں کہ وہ اس کی خوشنودی کے طلبگار ہیں۔ اور تمہاری آنکھیں دنیوی زندگی کی خوبصورتی کی تلاش میں ایسے لوگوں سے ہٹنے نہ پائیں۔ اور کسی ایسے شخص کا کہنا نہ مانو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر رکھا ہے، اور جو اپنی خواہشات کے پیچھے پڑا ہوا، اور جس کا معاملہ حد سے گزر چکا ہے۔

Verse 29 — Surah Al-Kahf 18:29

اور کہہ دو کہ : حق تو تمہارے رب کی طرف سے آچکا ہے۔ اب جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کفر اختیار کرے۔ ہم نے بیشک (ایسے) ظالموں کے لیے آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں ان کو گھیرے میں لے لیں گی، اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد کا جواب ایسے پانی سے دیا جائے گا جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا، (اور) چہروں کو بھون کر رکھ دے گا۔ کیسا بدترین پانی، اور کیسی بری آرام گاہ !۔

Verse 30 — Surah Al-Kahf 18:30

البتہ جو لوگ ایمان لائے، اور انہوں نے نیک عمل کیے، تو یقینا ہم ایسے لوگوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے جو اچھی طرح عمل کریں۔

Verse 31 — Surah Al-Kahf 18:31

یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے ہمیشہ رہنے والے باغات ہیں، ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، ان کو وہاں سونے کے کنگنوں سے مزین کیا جائے گا، وہ اونچی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئے باریک اور دبیز ریشم کے سبز کپڑے پہنے ہوں گے۔ کتنا بہترین اجر اور کیسی حسین آرام گاہ۔

Verse 32 — Surah Al-Kahf 18:32

اور (اے پیغمبر) ان لوگوں کے سامنے ان دو آدمیوں کی مثال پیش کرو۔ جن میں سے ایک کو ہم نے انگوروں کے دو باغ دے رکھے تھے، اور ان کو کھجور کے درختوں سے گھیرا ہوا تھا، اور ان دونوں باغوں کے درمیان کھیتی لگائی ہوئی تھی۔

Verse 33 — Surah Al-Kahf 18:33

دونوں باغ پورا پورا پھل دیتے تھے، اور کوئی باغ پھل دینے میں کوئی کمی نہیں چھوڑتا تھا، اور ان دونوں کے درمیان ہم نے ایک نہر جاری کردی تھی۔

Verse 34 — Surah Al-Kahf 18:34

اور اس شخص کو خوب دولت حاصل ہوئی تو وہ اپنے ساتھی سے باتیں کرتے ہوئے کہنے لگا کہ : میرا مال بھی تم سے زیادہ ہے، اور میرا جتھ بھی تم سے زیادہ مضبوط ہے۔

Verse 35 — Surah Al-Kahf 18:35

اور وہ اپنی جان پر ستم ڈھاتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا۔ کہنے لگا : میں نہیں سمجھتا کہ یہ باغ کبھی بھی تباہ ہوگا۔

Verse 36 — Surah Al-Kahf 18:36

اور میرا خیال یہ ہے کہ قیامت کبھی نہیں آئے گی، اور اگر کبھی مجھے اپنے رب کے پاس واپس بھیجا بھی گیا، تب بھی مجھے یقین ہے کہ مجھے اس سے بھی اچھی جگہ ملے گی۔

Verse 37 — Surah Al-Kahf 18:37

اس کے ساتھی نے اس سے باتیں کرتے ہوئے کہا : کیا تم اس ذات کے ساتھ کفر کا معاملہ کر رہے رہو جس نے تمہیں مٹی سے، اور پھر نطفے سے پیدا کیا، پھر تمہیں ایک بھلا چنگا انسان بنادیا ؟

Verse 38 — Surah Al-Kahf 18:38

جہاں تک میرا تعلق ہے، میں تو یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ اللہ میرا پروردگار ہے، اور میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں مانتا۔

Verse 39 — Surah Al-Kahf 18:39

اور جب تم اپنے باغ میں داخل ہورہے تھے، اس وقت تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ ! (جو اللہ چاہتا ہے، وہی ہوتا ہے، اللہ کی توفیق کے بغیر کسی میں کوئی طاقت نہیں) ۔ اگر تمہیں یہ نظر آرہا ہے کہ میری دولت اور اولاد تم سے کم ہے۔

Verse 40 — Surah Al-Kahf 18:40

تو میرے رب سے کچھ بعید نہیں ہے کہ وہ مجھے تمہارے باغ سے بہتر چیز عطا فرمادے، اور تمہارے اس باغ پر کوئی آسمانی آفت بھیج دے، جس سے وہ چکنے میدان میں تبدیل ہو کر رہ جائے۔

Verse 41 — Surah Al-Kahf 18:41

یا اس کا پانی زمین میں اتر جائے، پھر تم اسے تلاش بھی نہ کرسکو۔

Verse 42 — Surah Al-Kahf 18:42

اور (پھر ہوا یہ کہ) اس کی ساری دولت عذاب کے گھیرے میں آگئی، اور صبح ہوئی تو اس حالت میں کہ اس نے باغ پر جو کچھ خرچ کیا تھا، وہ اس پر ہاتھ ملتا رہ گیا، جبکہ اس کا باغ اپنی ٹٹیوں پر گرا پڑا تھا، اور وہ کہہ رہا تھا : کاش ! میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ مانا ہوتا۔

Verse 43 — Surah Al-Kahf 18:43

اور اسے کوئی ایسا جتھ میسر نہ آیا جو اللہ کو چھوڑ کر اس کی مدد کرتا، اور نہ وہ خود اس قابل تھا کہ اپنا دفاع کرسکے۔

Verse 44 — Surah Al-Kahf 18:44

ایسے موقع پر (آدمی کو پتہ چلتا ہے کہ) مدد کا سارا اختیار سچے اللہ کو حاصل ہے۔ وہی ہے جو بہتر ثواب دیتا اور بہتر انجام دکھاتا ہے۔

Verse 45 — Surah Al-Kahf 18:45

اور ان لوگوں سے دنیوی زندگی کی یہ مثال بھی بیان کردو کہ وہ ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا، تو اس سے زمین کا سبزہ خوب گھنا ہوگیا، پھر وہ ایسا ریزہ ریزہ ہوا کہ اسے ہوائیں اڑا لے جاتی ہیں۔ اور اللہ ہر چیز پر مکمل قدرت رکھتا ہے۔

Verse 46 — Surah Al-Kahf 18:46

مال اور اولاد دنیوی زندگی کی زینت ہیں، اور جو نیکیاں پائیدار رہنے والی ہیں، وہ تمہارے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں، اور امید وابستہ کرنے کے لیے بھی بہتر۔

Verse 47 — Surah Al-Kahf 18:47

اور (اس دن کا دھیان رکھو) جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے۔ اور تم زمین کو دیکھو گے کہ وہ کھلی پڑی ہے، اور ہم ان سب کو گھیر کر اکٹھا کردیں گے، اور ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔

Verse 48 — Surah Al-Kahf 18:48

اور سب کو تمہارے رب کے سامنے صف باندھ کر پیش کیا جائے گا۔ آخر تم ہمارے پاس اسی طرح آگئے جس طرح ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔ اس کے برعکس تمہارا دعوی یہ تھا کہ ہم تمہارے لیے (یہ) مقرر وقت کبھی نہیں لائیں گے۔

Verse 49 — Surah Al-Kahf 18:49

اور (اعمال کی) کتاب سامنے رکھ دی جائے گی۔ چنانچہ تم مجرموں کو دیکھو گے کہ وہ اس کے مندرجات سے خوف زدہ ہیں، اور کہہ رہے ہیں کہ : ہائے ہماری بربادی ! یہ کیسی کتاب ہے جس نے ہمارا کوئی چھوٹا بڑا عمل ایسا نہیں چھوڑا جس کا پورا احاطہ نہ کرلیا ہو۔ اور وہ اپنا سارا کیا دھرا اپنے سامنے موجود پائیں گے۔ اور تمہارا پروردگار کسی پر کوئی ظلم نہیں کرے گا۔

Verse 50 — Surah Al-Kahf 18:50

اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ : آدم کے آگے سجدہ کرو۔ چنانچہ سب نے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے وہ جنات میں سے تھا، چنانچہ اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔ کیا پھر بھی تم میرے بجائے اسے اور اس کی ذریت کو اپنا رکھوالا بناتے ہو۔ حالانکہ وہ سب تمہارے دشمن ہیں ؟ (اللہ تعالیٰ کا) کتنا برا متبادل ہے جو ظالموں کو ملا ہے۔

Verse 51 — Surah Al-Kahf 18:51

میں نے نہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے وقت ان کو حاضر کیا تھا، نہ خود ان کو پیدا کرتے وقت، اور میں ایسا نہیں ہوں کہ گمراہ کرنے والوں کو دست وبازو بناؤں۔

Verse 52 — Surah Al-Kahf 18:52

اور اس دن کا دھیان کرو جب اللہ (ان مشرکوں سے) کہے گا کہ : ذرا پکارو ان کو جنہیں تم نے میری خدائی میں شریک سمجھ رکھا تھا۔ چنانچہ وہ پکاریں گے، لیکن وہ ان کو کوئی جواب نہیں دیں گے، اور ہم ان کے درمیان ایک مہلک آڑ حائل کردیں گے۔

Verse 53 — Surah Al-Kahf 18:53

اور مجرم لوگ آگ کو دیکھیں گے تو سمجھ جائیں گے کہ انہیں اسی میں گرنا ہے، اور اس سے بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پائیں گے۔

Verse 54 — Surah Al-Kahf 18:54

اور ہم نے لوگوں کے فائدے کے لیے اس طرح قرآن میں طرح طرح سے ہر قسم کے مضامین بیان کیے ہیں، اور انسان ہے کہ جھگڑا کرنے میں ہر چیز سے بڑھ گیا ہے۔

Verse 55 — Surah Al-Kahf 18:55

اور جب لوگوں کے پاس ہدایت آچکی تو اب انہیں ایمان لانے اور اپنے رب سے معافی مانگنے سے اس (مطالبے) کے سوا کوئی اور چیز نہیں روک رہی کہ ان کے ساتھ بھی پچھلے لوگوں جیسے واقعات پیش آجائیں، یا عذاب ان کے بالکل سامنے آکھڑا ہو۔

Verse 56 — Surah Al-Kahf 18:56

اور ہم پیغمبروں کو صرف اس لیے بھیجتے ہیں کہ وہ (مومنوں کو) خوشخبری دیں، اور (کافروں کو عذاب سے) متنبہ کریں۔ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ باطل کا سہارا لے کر جھگڑا کرتے ہیں، تاکہ اس کے ذریعے حق کو ڈگمگا دیں، اور انہوں نے میری آیتوں کو اور انہیں جو تنبیہ کی گئی تھی اس کو مذاق بنا رکھا ہے۔

Verse 57 — Surah Al-Kahf 18:57

اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی آیتوں کے حوالے سے نصیحت کی جائے، تو وہ ان سے منہ موڑ لے، اور اپنے ہاتھوں کے کرتوت کو بھلا بیٹھے ؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے (ان لوگوں کے کرتوت کی وجہ سے) ان کے دلوں پر غلاف چڑھا دیے ہیں جن کی وجہ سے وہ اس (قرآن) کو نہیں سمجھتے، اور ان کے کانوں میں ڈاٹ لگا دی ہے۔ اور اگر تم انہیں ہدایت کی طرف بلاؤ، تب بھی وہ صحیح راستے پر ہرگز نہیں آئیں گے۔

Verse 58 — Surah Al-Kahf 18:58

اور تمہارا پروردگار بہت بخشنے والا، بڑا رحمت والا ہے۔ جو کمائی انہوں نے کی ہے، اگر وہ اس کی وجہ سے انہیں پکڑنے پر آتا تو ان کو جلد ہی عذاب دے دیتا، لیکن ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے، جس سے بچنے کے لیے انہیں کوئی پناہ گاہ نہیں ملے گی۔

Verse 59 — Surah Al-Kahf 18:59

یہ ساری بستیاں (تمہارے سامنے) ہیں، جب انہوں نے ظلم کی روش اپنائی تو ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا، اور ان کی ہلاکت کے لیے (بھی) ہم نے ایک وقت مقرر کیا ہوا تھا۔

Verse 60 — Surah Al-Kahf 18:60

اور (اس وقت کا ذکر سنو) جب موسیٰ نے اپنے نوجوان (شاگرد) سے کہا تھا کہ : میں اس وقت تک اپنا سفر جاری رکھوں گا جب تک دو سمندروں کے سنگھم پر نہ پہنچ جاؤں، ورنہ برسوں چلتا رہوں گا۔

Verse 61 — Surah Al-Kahf 18:61

چنانچہ جب وہ ان کے سنگھم پر پہنچے تو دونوں اپنی مچھلی کو بھول گئے، اور اس نے سمندر میں ایک سرنگ کی طرح کا راستہ بنا لیا۔

Verse 62 — Surah Al-Kahf 18:62

پھر جب دونوں آگے نکل گئے، تو موسیٰ نے اپنے نوجوان سے کہا کہ : ہمارا ناشتہ لاؤ، سچی بات یہ ہے کہ ہمیں اس سفر میں بڑی تھکاوٹ لاحق ہوگئی ہے۔

Verse 63 — Surah Al-Kahf 18:63

اس نے کہا : بھلا بتائیے ! (عجیب قصہ ہوگیا) جب ہم اس چٹان پر ٹھہرے تھے تو میں مچھلی (کا آپ سے ذکر کرنا) بھول گیا۔ اور شیطان کے سوا کوئی نہیں ہے جس نے مجھ سے اس کا تذکرہ کرنا بھلا یا ہو، اور اس (مچھلی) نے تو بڑے عجیب طریقے پر دریا میں اپنی راہ لے لی تھی۔

Verse 64 — Surah Al-Kahf 18:64

موسیٰ نے کہا : اسی بات کی تو ہمیں تلاش تھی۔ چنانچہ دونوں اپنے قدموں کے نشان دیکھتے ہوئے واپس لوٹے۔

Verse 65 — Surah Al-Kahf 18:65

تب انہیں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ ملا جس کو ہم نے اپنی خصوصی رحمت سے نوازا تھا، اور خاص اپنی طرف سے ایک علم سکھایا تھا۔

Verse 66 — Surah Al-Kahf 18:66

موسیٰ نے ان سے کہا : کیا میں آپ کے ساتھ اس غرض سے رہ سکتا ہوں کہ آپ کو بھلائی کا جو علم عطا ہوا ہے، اس کا کچھ حصہ مجھے بھی سکھا دیں ؟

Verse 67 — Surah Al-Kahf 18:67

انہوں نے کہا : مجھے یقین ہے کہ آپ میرے ساتھ رہنے پر صبر نہیں کرسکیں گے۔

Verse 68 — Surah Al-Kahf 18:68

اور جن باتوں کی آپ کو پوری پوری واقفیت نہیں ہے، ان پر آپ صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں ؟

Verse 69 — Surah Al-Kahf 18:69

موسیٰ نے کہا : انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے، اور میں آپ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا۔

Verse 70 — Surah Al-Kahf 18:70

انہوں نے کہا : اچھا ! اگر آپ میرے ساتھ چلتے ہیں تو جب تک میں خود ہی آپ سے کسی بات کا تذکرہ شروع نہ کروں، آپ مجھ سے کسی بھی چیز کے بارے میں سوال نہ کریں۔

Verse 71 — Surah Al-Kahf 18:71

چنانچہ دونوں روانہ ہوگئے، یہاں تک کہ جب دونوں ایک کشتی میں سوار ہوئے تو ان صاحب نے کشتی میں چھید کردیا۔ موسیٰ بولے : ارے کیا آپ نے اس میں چھید کردیا تاکہ سارے کشتی والوں کو ڈبو ڈالیں ؟ یہ تو آپ نے بڑا خوفناک کام کیا۔

Verse 72 — Surah Al-Kahf 18:72

انہوں نے کہا : کیا میں نے کہا نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکیں گے ؟

Verse 73 — Surah Al-Kahf 18:73

موسیٰ نے کہا : مجھ سے جو بھول ہوگئی، اس پر میری گرفت نہ کیجیے، اور میرے کام کو زیادہ مشکل نہ بنایے۔

Verse 74 — Surah Al-Kahf 18:74

وہ دونوں پھر روانہ ہوگئے، یہاں تک کہ ان کی ملاقات ایک لڑکے سے ہوئی تو ان صاحب نے اسے قتل کر ڈالا۔ موسیٰ بول اٹھے : ارے کیا آپ نے ایک پاکیزہ جان کو ہلاک کردیا، جبکہ اس نے کسی کی جان نہیں لی تھی، جس کا بدلہ اس سے لیا جائے ؟ یہ تو آپ نے بہت ہی برا کام کیا۔

Verse 75 — Surah Al-Kahf 18:75

انہوں نے کہا : کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہنے پر صبر نہیں کرسکیں گے ؟

Verse 76 — Surah Al-Kahf 18:76

موسیٰ بولے : اگر اب میں آپ سے کوئی بات پوچھوں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے۔ یقینا آپ میری طرف سے عذر کی حد کو پہنچ گئے ہیں۔

Verse 77 — Surah Al-Kahf 18:77

چنانچہ وہ دونوں پھر روانہ ہوگئے، یہاں تک کہ جب ایک بستی والوں کے پاس پہنچے تو اس کے باشندوں سے کھانا مانگا تو ان لوگوں نے ان کی مہمانی کرنے سے انکار کردیا۔ پھر انہیں وہاں ایک دیوار ملی جو گرا ہی چاہتی تھی، ان صاحب نے اسے کھڑا کردیا۔ موسیٰ نے کہا : اگر آپ چاہتے تو اس کام پر کچھ اجرت لے لیتے۔

Verse 78 — Surah Al-Kahf 18:78

انہوں نے کہا : لیجیے میرے اور آپ کے درمیان جدائی کا وقت آگیا۔ اب میں آپ کو ان باتوں کا مقصد بتائے دیتا ہوں جن پر آپ سے صبر نہیں ہوسکا۔

Verse 79 — Surah Al-Kahf 18:79

جہاں تک کشتی کا تعلق ہے وہ کچھ غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں مزدوری کرتے تھے، میں نے چاہا کہ اس میں کوئی عیب پیدا کردوں، (کیونکہ) ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر (اچھی) کشتی کو زبردستی چھین کر رکھ لیا کرتا تھا۔

Verse 80 — Surah Al-Kahf 18:80

اور لڑکے کا معاملہ یہ تھا کہ اس کے ماں باپ مومن تھے، اور ہمیں اس بات کا اندیشہ تھا کہ یہ لڑکا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے۔

Verse 81 — Surah Al-Kahf 18:81

چنانچہ ہم نے یہ چاہا کہ ان کا پروردگار انہیں اس لڑکے کے بدلے ایسی اولاد دے جو پاکیزگی میں بھی اس سے بہتر ہو، اور حسن سلوک میں بھی اس سے بڑھی ہوئی ہو۔

Verse 82 — Surah Al-Kahf 18:82

رہی یہ دیوار، تو وہ اس شہر میں رہنے والے دو یتیم لڑکوں کی تھی، اور اس کے نیچے ان کا ایک خزانہ گڑا ہوا تھا، اور ان دونوں کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ اس لیے آپ کے پروردگار نے یہ چاہا کہ یہ دونوں لڑکے اپنی جوانی کی عمر کو پہنچیں، اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ یہ سب کچھ آپ کے رب کی رحمت کی بنا پر ہوا ہے، اور میں نے کوئی کام اپنی رائے سے نہیں کیا۔ یہ تھا مقصد ان باتوں کا جن پر آپ سے صبر نہیں ہوسکا۔

Verse 83 — Surah Al-Kahf 18:83

اور یہ لوگ تم سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ : میں ان کا کچھ حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں۔

Verse 84 — Surah Al-Kahf 18:84

واقعہ یہ ہے کہ ہم نے ان کو زمین میں اقتدار بخشا تھا، اور انہیں ہر کام کے وسائل عطا کیے تھے۔

Verse 85 — Surah Al-Kahf 18:85

جس کے نتیجے میں وہ ایک راستے کے پیچھے چل پڑے۔

Verse 86 — Surah Al-Kahf 18:86

یہاں تک کہ جب وہ سورج کے ڈوبنے کی جگہ پہنچے تو انہیں دکھائی دیا کہ وہ ایک دلدل جیسے (سیاہ) چشمے میں ڈوب رہا ہے۔ اور وہاں انہیں ایک قوم ملی۔ ہم نے (ان سے) کہا : اے ذوالقرنین ! (تمہارے پاس دو راستے ہیں) یا تو ان لوگوں کو سزا دو ، یا پھر ان کے معاملے میں اچھا رویہ اختیار کرو۔

Verse 87 — Surah Al-Kahf 18:87

انہوں نے کہا : ان میں سے جو کوئی ظلم کا راستہ اختیار کرے گا، اسے تو ہم سزا دیں گے، پھر اسے اپنے رب کے پاس پہنچا دیا جائے گا، اور وہ اسے سخت عذاب دے گا۔

Verse 88 — Surah Al-Kahf 18:88

البتہ جو کوئی ایمان لائے گا، اور نیک عمل کرے گا تو وہ بدلے کے طور پر اچھے انجام کا مستحق ہوگا، اور ہم بھی اس کو اپنا حکم دیتے وقت آسانی کی بات کہیں گے۔

Verse 89 — Surah Al-Kahf 18:89

اس کے بعد وہ ایک اور راستے کے پیچھے چل پڑے۔

Verse 90 — Surah Al-Kahf 18:90

یہاں تک کہ جب وہ سورج کے طلوع ہونے کی جگہ پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ وہ ایک ایسی قوم پر طلوع ہورہا ہے جسے ہم نے اس (کی دھوپ) سے بچنے کے لیے کوئی اوٹ مہیا نہیں کی تھی۔

Verse 91 — Surah Al-Kahf 18:91

واقعہ اسی طرح ہوا، اور ذوالقرنین کے پاس جو کچھ (سازوسامان) تھا، ہمیں اس کی پوری پوری خبر تھی۔

Verse 92 — Surah Al-Kahf 18:92

اس کے بعد وہ ایک اور راستے کے پیچھے چل پڑے۔

Verse 93 — Surah Al-Kahf 18:93

یہاں تک کہ جب وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچے تو انہیں ان پہاڑوں سے پہلے کچھ لوگ ملے جن کے بارے میں ایسا لگتا تھا کہ وہ کوئی بات نہیں سمجھتے۔

Verse 94 — Surah Al-Kahf 18:94

انہوں نے کہا : اے ذوالقرنین ! یاجوج اور ماجوج اس زمین میں فساد پھیلانے والے لوگ ہیں۔ تو کیا ہم آپ کو کچھ مال کی پیش کش کرسکتے ہیں، جس کے بدلے آپ ہمارے اور ان کے درمیان کوئی دیوار بنادیں ؟

Verse 95 — Surah Al-Kahf 18:95

ذوالقرنین نے کہا : اللہ نے مجھے جو اقتدار عطا فرمایا ہے، وہی (میرے لیے) بہتر ہے۔ لہذا تم لوگ (ہاتھ پاؤں کی) طاقت سے میری مدد کرو، تو میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنا دوں گا۔

Verse 96 — Surah Al-Kahf 18:96

مجھے لوہے کی چادریں لادو، یہاں تک کہ جب انہوں نے (درمیانی خلا کو پاٹ کر) دونوں پہاڑی سروں کو ایک دوسرے سے ملا دیا تو کہا کہ : اب آگ دہکاؤ، یہاں تک کہ جب اس (دیوار) کو لال انگارا کردیا تو کہا کہ : پگھلا ہوا تانبا لاؤ، اب میں اس پر انڈیلوں گا۔

Verse 97 — Surah Al-Kahf 18:97

چنانچہ (وہ دیوار ایسی بن گئی کہ) یاجوج ماجوج نہ اس پر چڑھنے کی طاقت رکھتے تھے، اور نہ اس میں کوئی سوراخ بنا سکتے تھے۔

Verse 98 — Surah Al-Kahf 18:98

ذوالقرنین نے کہا : یہ میرے رب کی رحمت ہے (کہ اس نے ایسی دیوار بنانے کی توفیق دی) پھر میرے رب نے جس وقت کا وعدہ کیا ہے جب وہ وقت آئے گا تو وہ اس (دیوار) کو ڈھا کر زمین کے برابر کردے گا، اور میرے رب کا وعدہ بالکل سچا ہے۔

Verse 99 — Surah Al-Kahf 18:99

اور اس دن ہم ان کی یہ حالت کردیں گے کہ وہ موجوں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہوں گے، اور صور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو ایک ساتھ جمع کرلیں گے۔

Verse 100 — Surah Al-Kahf 18:100

اور اس دن ہم دوزخ کو ان کافروں کے سامنے کھلی آنکھوں لے آئیں گے۔

Verse 101 — Surah Al-Kahf 18:101

جن کی آنکھوں پر (دنیا میں) میری نصیحت کی طرف سے پردہ پڑا ہوا تھا، اور جو سننے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔

Verse 102 — Surah Al-Kahf 18:102

جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، کیا وہ پھر بھی یہ سمجھتے ہیں کہ مجھے چھوڑ کر میرے ہی بندوں کو اپنا رکھوالا بنالیں گے ؟ یقین رکھو کہ ہم نے ایسے کافروں کی مہمانی کے لیے دوزخ تیار کر رکھی ہے۔

Verse 103 — Surah Al-Kahf 18:103

کہہ دو کہ : کیا ہم تمہیں بتائیں کہ کون لوگ ہیں جو اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام ہیں ؟

Verse 104 — Surah Al-Kahf 18:104

یہ وہ لوگ ہیں کہ دنیوی زندگی میں ان کی ساری دوڑ دھوپ سیدھے راستے سے بھٹکی رہی، اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔

Verse 105 — Surah Al-Kahf 18:105

یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے مالک کی آیتوں کا اور اس کے سامنے پیش ہونے کا انکار کیا، اس لیے ان کا سارا کیا دھرا غارت ہوگیا۔ چنانچہ قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن شمار نہیں کریں گے۔

Verse 106 — Surah Al-Kahf 18:106

یہ ہے جہنم کی شکل میں ان کی سزا، کیونکہ انہوں نے کفر کی روش اختیار کی تھی، اور میری آیتوں اور میرے پیغمبروں کا مذاق بنایا تھا۔

Verse 107 — Surah Al-Kahf 18:107

(دوسری طرف) جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کی مہمانی کے لیے بیشک فردوس کے باغ ہوں گے۔

Verse 108 — Surah Al-Kahf 18:108

جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے (اور) وہ وہاں سے کہیں اور جانا نہیں چاہیں گے۔

Verse 109 — Surah Al-Kahf 18:109

(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ : اگر میرے رب کی باتیں لکھنے کے لیے سمندر روشنائی بن جائے، تو میرے رب کی باتیں ختم نہیں ہوں گی کہ اس سے پہلے سمندر خشک ہوچکا ہوگا، چاہے اس سمندر کی کمی پوری کرنے کے لیے ہم ویسا ہی ایک اور سمندر کیوں نہ لے آئیں۔

Verse 110 — Surah Al-Kahf 18:110

کہہ دو کہ : میں تو تمہی جیسا ایک انسان ہوں (البتہ) مجھ پر یہ وحی آتی ہے کہ تم سب کا خدا بس ایک خدا ہے۔ لہذا جس کسی کو اپنے مالک سے جاملنے کی امید ہو، اسے چاہیے کہ وہ نیک عمل کرے، اور اپنے مالک کی عبادت میں کسی اور کو شریک نہ ٹھہرائے۔