ایک سیدھی سیدھی کتاب جو اس نے اس لیے نازل کی ہے کہ لوگوں کو اپنی طرف سے ایک سخت عذاب سے آگاہ کرے اور جو مومن نیک عمل کرتے ہیں ان کو خوشخبری دے کہ ان کو بہترین اجر ملنے والا ہے۔
اس بات کا کوئی علمی ثبوت نہ خود ان کے پاس ہے، نہ ان کے باپ دادوں کے پاس تھا۔ بڑی سنگین بات ہے جو ان کے منہ سے نکل رہی ہے۔ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں، وہ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔
یقین جانو کہ روئے زمین پر جتنی چیزیں ہیں ہم نے انہیں زمین کی سجاوٹ کا ذریعہ اس لیے بنایا ہے تاکہ لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں کون زیادہ اچھا عمل کرتا ہے۔
یہ اس وقت کا ذکر ہے جب ان نوجوانوں نے غار میں پناہ لی تھی اور (اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے) کہا تھا کہ : اے ہمارے پروردگار ہم پر خاص اپنے پاس سے رحمت نازل فرمایے، اور ہماری اس صورت حال میں ہمارے لیے بھلائی کا راستہ مہیا فرما دیجیے۔
اور ہم نے ان کے دل خوب مضبوط کردیے تھے۔ یہ اس وقت کا ذکر ہے جب وہ اٹھے، اور انہوں نے کہا کہ : ہمارا پروردگار وہ ہے جو تمام آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ ہم اس کے سوا کسی کو معبود بنا کر ہرگز نہیں پکاریں گے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم یقینا انتہائی لغو بات کہیں گے۔
یہ ہماری قوم کے لوگ ہیں جنہوں نے اس پروردگار کو چھوڑ کر دوسرے معبود بنا رکھے ہیں۔ (اگر ان کا عقیدہ صحیح ہے تو) وہ اپنے معبودوں کے ثبوت میں کوئی واضح دلیل کیوں پیش نہیں کرتے ؟ بھلا اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے ؟
اور (ساتھیو) جب تم نے ان لوگوں سے بھی علیحدگی اختیار کرلی ہے اور ان سے بھی جن کی یہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں تو چلو اب تم اس غار میں پناہ لے لو، تمہارا پروردگار تمہارے لیے اپنا دامن رحمت پھیلا دے گا، اور تمہارے کام میں آسانی کے اسباب مہیا فرمائے گا۔
اور (وہ غار ایسا تھا کہ) تم سورج کو نکلتے وقت دیکھتے تو وہ ان کے غار سے دائیں طرف ہٹ کر نکل جاتا، اور جب غروب ہوتا تو ان سے بائیں طرف کترا کر چلا جاتا، اور وہ اس غار کے ایک کشادہ حصے میں (سوئے ہوئے) تھے۔ یہ سب کچھ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ جسے اللہ ہدایت دیدے، وہی ہدایت پاتا ہے، اور جسے وہ گمراہ کردے اس کا تمہیں ہرگز کوئی مددگار نہیں مل سکتا جو اسے راستے پر لائے۔
تم انہیں (دیکھ کر) یہ سمجھتے کہ وہ جاگ رہے ہیں، حالانکہ وہ سوئے ہوئے تھے، اور ہم ان کو دائیں اور بائیں کروٹ دلواتے رہتے تھے، اور ان کا کتا دہلیز پر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے (بیٹھا) تھا۔ اگر تم انہیں جھانک کر دیکھتے تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے، اور تمہارے اندر ان کی دہشت سما جاتی۔
اور (جیسے ہم نے انہیں سلایا تھا) اسی طرح ہم نے انہیں اٹھا دیا تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ گچھ کریں۔ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا : تم اس حالت میں کتنی دیر رہے ہوگے ؟ کچھ لوگوں نے کہا : ہم ایک دن یا ایک دن سے کچھ کم (نیند میں) رہے ہوں گے۔ دوسروں نے کہا : تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ تم کتنی دیر اس حالت میں رہے ہو۔ اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سکہ دے کر شہر کی طرف بھیجو، وہ جاکر دیکھ بھال کرے کہ اس کے کون سے علاقے میں زیادہ پاکیزہ کھانا (مل سکتا) ہے۔ پھر تمہارے پاس وہاں سے کچھ کھانے کو لے آئے، اور اسے چاہیے کہ ہوشیاری سے کام کرے، اور کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دے۔
کیونکہ اگر ان (شہر کے) لوگوں کو تمہاری خبر مل گئی تو یہ تمہیں پتھراؤ کر کے ہلاک کر ڈالیں گے، یا تمہیں اپنے دین میں واپس آنے کے لیے مجبور کریں گے، اور ایسا ہوا تو تمہیں کبھی فلاح نہیں مل سکے گی۔
اور یوں ہم نے ان کی خبر لوگوں تک پہنچا دی، تاکہ وہ یقین سے جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، نیز یہ کہ قیامت کی گھڑی آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ (پھر وہ وقت بھی آیا) جب لوگ ان کے بارے میں آپس میں جھگڑ رہے تھے، چنانچہ کچھ لوگوں نے کہا کہ ان پر ایک عمارت بنادو ۔ ان کا رب ہی ان کے معاملے کو بہتر جانتا ہے۔ (آخر کار) جن لوگوں کو ان کے معاملات پر غلبہ حاصل تھا انہوں نے کہا کہ : ہم تو ان کے اوپر ایک مسجد ضرور بنائیں گے۔
کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین آدمی تھے، اور چوتھا ان کا کتا تھا، اور کچھ کہیں گے کہ وہ پانچ تھے، اور چھٹا ان کا کتا تھا۔ یہ سب اٹکل کے تیر چلانے کی باتیں ہیں۔ اور کچھ کہیں گے کہ وہ سات تھے، اور آٹھواں ان کا کتا تھا، کہہ دو کہ : میرا رب ہی ان کی صحیح تعداد کو جانتا ہے۔ تھوڑے سے لوگوں کے سوا کسی کو ان کا پورا علم نہیں۔ لہذا ان کے بارے میں سرسری گفتگو سے آگے بڑھ کر کوئی بحث نہ کرو، اور نہ ان کے بارے میں کسی سے پوچھ گچھ کرو۔
ہاں (یہ کہو کہ) اللہ چاہے گا تو (کرلوں گا) اور جب کبھی بھول جاؤ تو اپنے رب کو یاد کرلو، اور کہو : مجھے امید ہے کہ میرا رب کسی ایسی بات کی طرف رہنمائی کردے جو ہدایت میں اس سے بھی زیادہ قریب ہو۔
(اگر کوئی اس میں بحث کرے تو) کہہ دو کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنی مدت (سوتے) رہے۔ آسمانوں اور زمین کے سارے بھید اسی کے علم میں ہیں۔ وہ کتنا دیکھنے والا، اور کتنا سننے والا ہے۔ اس کے سوا ان کا کوئی رکھوالا نہیں ہے، اور وہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔
اور (اے پیغمبر) تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے وحی کے ذریعے جو کتاب بھیجی گئی ہے، اسے پڑھ کر سنادو۔ کوئی نہیں ہے جو اس کی باتوں کو بدل سکے، اور اسے چھوڑ کر تمہیں ہرگز پناہ کی جگہ نہیں مل سکتی۔
اور اپنے آپ کو استقامت سے ان لوگوں کے ساتھ رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو اس لیے پکارتے ہیں کہ وہ اس کی خوشنودی کے طلبگار ہیں۔ اور تمہاری آنکھیں دنیوی زندگی کی خوبصورتی کی تلاش میں ایسے لوگوں سے ہٹنے نہ پائیں۔ اور کسی ایسے شخص کا کہنا نہ مانو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر رکھا ہے، اور جو اپنی خواہشات کے پیچھے پڑا ہوا، اور جس کا معاملہ حد سے گزر چکا ہے۔
اور کہہ دو کہ : حق تو تمہارے رب کی طرف سے آچکا ہے۔ اب جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کفر اختیار کرے۔ ہم نے بیشک (ایسے) ظالموں کے لیے آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں ان کو گھیرے میں لے لیں گی، اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد کا جواب ایسے پانی سے دیا جائے گا جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا، (اور) چہروں کو بھون کر رکھ دے گا۔ کیسا بدترین پانی، اور کیسی بری آرام گاہ !۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے ہمیشہ رہنے والے باغات ہیں، ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، ان کو وہاں سونے کے کنگنوں سے مزین کیا جائے گا، وہ اونچی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئے باریک اور دبیز ریشم کے سبز کپڑے پہنے ہوں گے۔ کتنا بہترین اجر اور کیسی حسین آرام گاہ۔
اور (اے پیغمبر) ان لوگوں کے سامنے ان دو آدمیوں کی مثال پیش کرو۔ جن میں سے ایک کو ہم نے انگوروں کے دو باغ دے رکھے تھے، اور ان کو کھجور کے درختوں سے گھیرا ہوا تھا، اور ان دونوں باغوں کے درمیان کھیتی لگائی ہوئی تھی۔
اور میرا خیال یہ ہے کہ قیامت کبھی نہیں آئے گی، اور اگر کبھی مجھے اپنے رب کے پاس واپس بھیجا بھی گیا، تب بھی مجھے یقین ہے کہ مجھے اس سے بھی اچھی جگہ ملے گی۔
اس کے ساتھی نے اس سے باتیں کرتے ہوئے کہا : کیا تم اس ذات کے ساتھ کفر کا معاملہ کر رہے رہو جس نے تمہیں مٹی سے، اور پھر نطفے سے پیدا کیا، پھر تمہیں ایک بھلا چنگا انسان بنادیا ؟
اور جب تم اپنے باغ میں داخل ہورہے تھے، اس وقت تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ ! (جو اللہ چاہتا ہے، وہی ہوتا ہے، اللہ کی توفیق کے بغیر کسی میں کوئی طاقت نہیں) ۔ اگر تمہیں یہ نظر آرہا ہے کہ میری دولت اور اولاد تم سے کم ہے۔
تو میرے رب سے کچھ بعید نہیں ہے کہ وہ مجھے تمہارے باغ سے بہتر چیز عطا فرمادے، اور تمہارے اس باغ پر کوئی آسمانی آفت بھیج دے، جس سے وہ چکنے میدان میں تبدیل ہو کر رہ جائے۔
اور (پھر ہوا یہ کہ) اس کی ساری دولت عذاب کے گھیرے میں آگئی، اور صبح ہوئی تو اس حالت میں کہ اس نے باغ پر جو کچھ خرچ کیا تھا، وہ اس پر ہاتھ ملتا رہ گیا، جبکہ اس کا باغ اپنی ٹٹیوں پر گرا پڑا تھا، اور وہ کہہ رہا تھا : کاش ! میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ مانا ہوتا۔
اور ان لوگوں سے دنیوی زندگی کی یہ مثال بھی بیان کردو کہ وہ ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا، تو اس سے زمین کا سبزہ خوب گھنا ہوگیا، پھر وہ ایسا ریزہ ریزہ ہوا کہ اسے ہوائیں اڑا لے جاتی ہیں۔ اور اللہ ہر چیز پر مکمل قدرت رکھتا ہے۔
مال اور اولاد دنیوی زندگی کی زینت ہیں، اور جو نیکیاں پائیدار رہنے والی ہیں، وہ تمہارے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں، اور امید وابستہ کرنے کے لیے بھی بہتر۔
اور (اس دن کا دھیان رکھو) جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے۔ اور تم زمین کو دیکھو گے کہ وہ کھلی پڑی ہے، اور ہم ان سب کو گھیر کر اکٹھا کردیں گے، اور ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔
اور سب کو تمہارے رب کے سامنے صف باندھ کر پیش کیا جائے گا۔ آخر تم ہمارے پاس اسی طرح آگئے جس طرح ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔ اس کے برعکس تمہارا دعوی یہ تھا کہ ہم تمہارے لیے (یہ) مقرر وقت کبھی نہیں لائیں گے۔
اور (اعمال کی) کتاب سامنے رکھ دی جائے گی۔ چنانچہ تم مجرموں کو دیکھو گے کہ وہ اس کے مندرجات سے خوف زدہ ہیں، اور کہہ رہے ہیں کہ : ہائے ہماری بربادی ! یہ کیسی کتاب ہے جس نے ہمارا کوئی چھوٹا بڑا عمل ایسا نہیں چھوڑا جس کا پورا احاطہ نہ کرلیا ہو۔ اور وہ اپنا سارا کیا دھرا اپنے سامنے موجود پائیں گے۔ اور تمہارا پروردگار کسی پر کوئی ظلم نہیں کرے گا۔
اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ : آدم کے آگے سجدہ کرو۔ چنانچہ سب نے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے وہ جنات میں سے تھا، چنانچہ اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔ کیا پھر بھی تم میرے بجائے اسے اور اس کی ذریت کو اپنا رکھوالا بناتے ہو۔ حالانکہ وہ سب تمہارے دشمن ہیں ؟ (اللہ تعالیٰ کا) کتنا برا متبادل ہے جو ظالموں کو ملا ہے۔
میں نے نہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے وقت ان کو حاضر کیا تھا، نہ خود ان کو پیدا کرتے وقت، اور میں ایسا نہیں ہوں کہ گمراہ کرنے والوں کو دست وبازو بناؤں۔
اور اس دن کا دھیان کرو جب اللہ (ان مشرکوں سے) کہے گا کہ : ذرا پکارو ان کو جنہیں تم نے میری خدائی میں شریک سمجھ رکھا تھا۔ چنانچہ وہ پکاریں گے، لیکن وہ ان کو کوئی جواب نہیں دیں گے، اور ہم ان کے درمیان ایک مہلک آڑ حائل کردیں گے۔
اور جب لوگوں کے پاس ہدایت آچکی تو اب انہیں ایمان لانے اور اپنے رب سے معافی مانگنے سے اس (مطالبے) کے سوا کوئی اور چیز نہیں روک رہی کہ ان کے ساتھ بھی پچھلے لوگوں جیسے واقعات پیش آجائیں، یا عذاب ان کے بالکل سامنے آکھڑا ہو۔
اور ہم پیغمبروں کو صرف اس لیے بھیجتے ہیں کہ وہ (مومنوں کو) خوشخبری دیں، اور (کافروں کو عذاب سے) متنبہ کریں۔ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ باطل کا سہارا لے کر جھگڑا کرتے ہیں، تاکہ اس کے ذریعے حق کو ڈگمگا دیں، اور انہوں نے میری آیتوں کو اور انہیں جو تنبیہ کی گئی تھی اس کو مذاق بنا رکھا ہے۔
اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی آیتوں کے حوالے سے نصیحت کی جائے، تو وہ ان سے منہ موڑ لے، اور اپنے ہاتھوں کے کرتوت کو بھلا بیٹھے ؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے (ان لوگوں کے کرتوت کی وجہ سے) ان کے دلوں پر غلاف چڑھا دیے ہیں جن کی وجہ سے وہ اس (قرآن) کو نہیں سمجھتے، اور ان کے کانوں میں ڈاٹ لگا دی ہے۔ اور اگر تم انہیں ہدایت کی طرف بلاؤ، تب بھی وہ صحیح راستے پر ہرگز نہیں آئیں گے۔
اور تمہارا پروردگار بہت بخشنے والا، بڑا رحمت والا ہے۔ جو کمائی انہوں نے کی ہے، اگر وہ اس کی وجہ سے انہیں پکڑنے پر آتا تو ان کو جلد ہی عذاب دے دیتا، لیکن ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے، جس سے بچنے کے لیے انہیں کوئی پناہ گاہ نہیں ملے گی۔
یہ ساری بستیاں (تمہارے سامنے) ہیں، جب انہوں نے ظلم کی روش اپنائی تو ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا، اور ان کی ہلاکت کے لیے (بھی) ہم نے ایک وقت مقرر کیا ہوا تھا۔
اور (اس وقت کا ذکر سنو) جب موسیٰ نے اپنے نوجوان (شاگرد) سے کہا تھا کہ : میں اس وقت تک اپنا سفر جاری رکھوں گا جب تک دو سمندروں کے سنگھم پر نہ پہنچ جاؤں، ورنہ برسوں چلتا رہوں گا۔
اس نے کہا : بھلا بتائیے ! (عجیب قصہ ہوگیا) جب ہم اس چٹان پر ٹھہرے تھے تو میں مچھلی (کا آپ سے ذکر کرنا) بھول گیا۔ اور شیطان کے سوا کوئی نہیں ہے جس نے مجھ سے اس کا تذکرہ کرنا بھلا یا ہو، اور اس (مچھلی) نے تو بڑے عجیب طریقے پر دریا میں اپنی راہ لے لی تھی۔
انہوں نے کہا : اچھا ! اگر آپ میرے ساتھ چلتے ہیں تو جب تک میں خود ہی آپ سے کسی بات کا تذکرہ شروع نہ کروں، آپ مجھ سے کسی بھی چیز کے بارے میں سوال نہ کریں۔
چنانچہ دونوں روانہ ہوگئے، یہاں تک کہ جب دونوں ایک کشتی میں سوار ہوئے تو ان صاحب نے کشتی میں چھید کردیا۔ موسیٰ بولے : ارے کیا آپ نے اس میں چھید کردیا تاکہ سارے کشتی والوں کو ڈبو ڈالیں ؟ یہ تو آپ نے بڑا خوفناک کام کیا۔
وہ دونوں پھر روانہ ہوگئے، یہاں تک کہ ان کی ملاقات ایک لڑکے سے ہوئی تو ان صاحب نے اسے قتل کر ڈالا۔ موسیٰ بول اٹھے : ارے کیا آپ نے ایک پاکیزہ جان کو ہلاک کردیا، جبکہ اس نے کسی کی جان نہیں لی تھی، جس کا بدلہ اس سے لیا جائے ؟ یہ تو آپ نے بہت ہی برا کام کیا۔
چنانچہ وہ دونوں پھر روانہ ہوگئے، یہاں تک کہ جب ایک بستی والوں کے پاس پہنچے تو اس کے باشندوں سے کھانا مانگا تو ان لوگوں نے ان کی مہمانی کرنے سے انکار کردیا۔ پھر انہیں وہاں ایک دیوار ملی جو گرا ہی چاہتی تھی، ان صاحب نے اسے کھڑا کردیا۔ موسیٰ نے کہا : اگر آپ چاہتے تو اس کام پر کچھ اجرت لے لیتے۔
جہاں تک کشتی کا تعلق ہے وہ کچھ غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں مزدوری کرتے تھے، میں نے چاہا کہ اس میں کوئی عیب پیدا کردوں، (کیونکہ) ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر (اچھی) کشتی کو زبردستی چھین کر رکھ لیا کرتا تھا۔
رہی یہ دیوار، تو وہ اس شہر میں رہنے والے دو یتیم لڑکوں کی تھی، اور اس کے نیچے ان کا ایک خزانہ گڑا ہوا تھا، اور ان دونوں کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ اس لیے آپ کے پروردگار نے یہ چاہا کہ یہ دونوں لڑکے اپنی جوانی کی عمر کو پہنچیں، اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ یہ سب کچھ آپ کے رب کی رحمت کی بنا پر ہوا ہے، اور میں نے کوئی کام اپنی رائے سے نہیں کیا۔ یہ تھا مقصد ان باتوں کا جن پر آپ سے صبر نہیں ہوسکا۔
یہاں تک کہ جب وہ سورج کے ڈوبنے کی جگہ پہنچے تو انہیں دکھائی دیا کہ وہ ایک دلدل جیسے (سیاہ) چشمے میں ڈوب رہا ہے۔ اور وہاں انہیں ایک قوم ملی۔ ہم نے (ان سے) کہا : اے ذوالقرنین ! (تمہارے پاس دو راستے ہیں) یا تو ان لوگوں کو سزا دو ، یا پھر ان کے معاملے میں اچھا رویہ اختیار کرو۔
انہوں نے کہا : ان میں سے جو کوئی ظلم کا راستہ اختیار کرے گا، اسے تو ہم سزا دیں گے، پھر اسے اپنے رب کے پاس پہنچا دیا جائے گا، اور وہ اسے سخت عذاب دے گا۔
البتہ جو کوئی ایمان لائے گا، اور نیک عمل کرے گا تو وہ بدلے کے طور پر اچھے انجام کا مستحق ہوگا، اور ہم بھی اس کو اپنا حکم دیتے وقت آسانی کی بات کہیں گے۔
یہاں تک کہ جب وہ سورج کے طلوع ہونے کی جگہ پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ وہ ایک ایسی قوم پر طلوع ہورہا ہے جسے ہم نے اس (کی دھوپ) سے بچنے کے لیے کوئی اوٹ مہیا نہیں کی تھی۔
انہوں نے کہا : اے ذوالقرنین ! یاجوج اور ماجوج اس زمین میں فساد پھیلانے والے لوگ ہیں۔ تو کیا ہم آپ کو کچھ مال کی پیش کش کرسکتے ہیں، جس کے بدلے آپ ہمارے اور ان کے درمیان کوئی دیوار بنادیں ؟
ذوالقرنین نے کہا : اللہ نے مجھے جو اقتدار عطا فرمایا ہے، وہی (میرے لیے) بہتر ہے۔ لہذا تم لوگ (ہاتھ پاؤں کی) طاقت سے میری مدد کرو، تو میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنا دوں گا۔
مجھے لوہے کی چادریں لادو، یہاں تک کہ جب انہوں نے (درمیانی خلا کو پاٹ کر) دونوں پہاڑی سروں کو ایک دوسرے سے ملا دیا تو کہا کہ : اب آگ دہکاؤ، یہاں تک کہ جب اس (دیوار) کو لال انگارا کردیا تو کہا کہ : پگھلا ہوا تانبا لاؤ، اب میں اس پر انڈیلوں گا۔
ذوالقرنین نے کہا : یہ میرے رب کی رحمت ہے (کہ اس نے ایسی دیوار بنانے کی توفیق دی) پھر میرے رب نے جس وقت کا وعدہ کیا ہے جب وہ وقت آئے گا تو وہ اس (دیوار) کو ڈھا کر زمین کے برابر کردے گا، اور میرے رب کا وعدہ بالکل سچا ہے۔
جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، کیا وہ پھر بھی یہ سمجھتے ہیں کہ مجھے چھوڑ کر میرے ہی بندوں کو اپنا رکھوالا بنالیں گے ؟ یقین رکھو کہ ہم نے ایسے کافروں کی مہمانی کے لیے دوزخ تیار کر رکھی ہے۔
یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے مالک کی آیتوں کا اور اس کے سامنے پیش ہونے کا انکار کیا، اس لیے ان کا سارا کیا دھرا غارت ہوگیا۔ چنانچہ قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن شمار نہیں کریں گے۔
(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ : اگر میرے رب کی باتیں لکھنے کے لیے سمندر روشنائی بن جائے، تو میرے رب کی باتیں ختم نہیں ہوں گی کہ اس سے پہلے سمندر خشک ہوچکا ہوگا، چاہے اس سمندر کی کمی پوری کرنے کے لیے ہم ویسا ہی ایک اور سمندر کیوں نہ لے آئیں۔
کہہ دو کہ : میں تو تمہی جیسا ایک انسان ہوں (البتہ) مجھ پر یہ وحی آتی ہے کہ تم سب کا خدا بس ایک خدا ہے۔ لہذا جس کسی کو اپنے مالک سے جاملنے کی امید ہو، اسے چاہیے کہ وہ نیک عمل کرے، اور اپنے مالک کی عبادت میں کسی اور کو شریک نہ ٹھہرائے۔