Back to Languages

Urdu - Chapter 19 - Maryam

Translation by Muhammad Taqi Usmani — Permalink

Verse 1 — Surah Maryam 19:1

Verse 2 — Surah Maryam 19:2

یہ تذکرہ ہے اس رحمت کا جو تمہارے پروردگار نے اپنے بندے زکریا پر کی تھی۔

Verse 3 — Surah Maryam 19:3

یہ اس وقت کی بات ہے جب انہوں نے اپنے پروردگار کو آہستہ آہستہ آواز سے پکارا تھا۔

Verse 4 — Surah Maryam 19:4

انہوں نے کہا تھا کہ : میرے پروردگار ! میری ہڈیاں کمزور پڑگئی ہیں، اور سر بڑھاپے کی سفیدی سے بھڑک اٹھا ہے، اور میرے پروردگار ! میں آپ سے دعا مانگ کر کبھی نامراد نہیں ہوا۔

Verse 5 — Surah Maryam 19:5

اور مجھے اپنے بعد اپنے چچازاد بھائیوں کا اندیشہ لگا ہوا ہے۔ اور میری بیوی بانجھ ہے، لہذا آپ خاص اپنے پاس سے مجھے ایک ایسا وارث عطا کردیجیے۔

Verse 6 — Surah Maryam 19:6

جو میرا بھی وارث ہو، اور یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد سے بھی میراث پائے۔ اور یا رب ! اسے ایسا بنایے جو (خود آپ کا) پسندیدہ ہو۔

Verse 7 — Surah Maryam 19:7

(آواز آئی کہ) اے زکریا ! ہم تمہیں ایک ایسے لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحی ہوگا۔ اس سے پہلے ہم نے اس کے نام کا کوئی اور شخص پیدا نہیں کیا۔

Verse 8 — Surah Maryam 19:8

زکریا نے کہا : میرے پروردگار ! میرے یہاں لڑکا کس طرح پیدا ہوگا جبکہ میری بیوی بانجھ ہے، اور میں بڑھاپے سے اس حال کو پہنچ گیا ہوں کہ میرا جسم سوکھ چکا ہے۔

Verse 9 — Surah Maryam 19:9

کہا : ہاں ! ایسا ہی ہوگا۔ تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ یہ تو میرے لیے معمولی بات ہے، اور اس سے پہلے میں نے تمہیں پیدا کیا تھا جب تم کچھ بھی نہیں تھے۔

Verse 10 — Surah Maryam 19:10

زکریا نے کہا : میرے پروردگار ! میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما دیجیے۔ فرمایا : تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم صحت مند ہونے کے باوجود تین رات تک لوگوں سے بات نہیں کرسکو گے۔

Verse 11 — Surah Maryam 19:11

چنانچہ وہ عبادت گاہ سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آئے، اور ان کو اشارے سے ہدایت دی کہ تم لوگ صبح و شام اللہ کی تسبیح کیا کرو۔

Verse 12 — Surah Maryam 19:12

(پھر جب یحی پیدا ہو کر بڑے ہوگئے تو ہم نے ان سے فرمایا) اے یحی ! کتاب کو مضبوطی سے تھام لو۔ اور ہم نے بچپن ہی میں ان کو دانائی بھی عطا کردی تھی۔

Verse 13 — Surah Maryam 19:13

اور خاص اپنے پاس سے نرم دلی اور پاکیزگی بھی۔ اور وہ بڑے پرہیزگار تھے۔

Verse 14 — Surah Maryam 19:14

اور اپنے والدین کے خدمت گزار ! نہ وہ سرکش تھے، نہ نافرمان۔

Verse 15 — Surah Maryam 19:15

اور (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) سلام ہے ان پر اس دن بھی جس روز وہ پیدا ہوئے، اس دن بھی جس روز انہیں موت آئے گی، اور اس دن بھی جس روز انہیں زندہ کر کے دوبارہ اٹھایا جائے گا۔

Verse 16 — Surah Maryam 19:16

اور اس کتاب میں مریم کا بھی تذکرہ کرو۔ اس وقت کا تذکرہ جب وہ اپنے گھر والوں سے علیحدہ ہو کر اس جگہ چلی گئیں جو مشرق کی طرف واقع تھا۔

Verse 17 — Surah Maryam 19:17

پھر انہوں نے ان لوگوں کے اور اپنے درمیان ایک پردہ ڈال لیا۔ اس موقع پر ہم نے ان کے پاس اپنی روح (یعنی ایک فرشتے) کو بھیجا جو ان کے سامنے ایک مکمل انسان کی شکل میں ظاہر ہوا۔

Verse 18 — Surah Maryam 19:18

مریم نے کہا : میں تم سے خدائے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں۔ اگر تم میں خدا کا خوف ہے (تو یہاں سے ہٹ جاؤ)

Verse 19 — Surah Maryam 19:19

فرشتے نے کہا : میں تو تمہارے رب کا بھیجا ہوا (فرشتہ) ہوں (اور اس لیے آیا ہوں) تاکہ تمہیں ایک پاکیزہ لڑکا دوں۔

Verse 20 — Surah Maryam 19:20

مریم نے کہا : میرے لڑکا کیسے ہوجائے گا، جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں ہے، اور نہ میں کوئی بدکار عورت ہوں ؟

Verse 21 — Surah Maryam 19:21

فرشتے نے کہا : ایسے ہی ہوجائے گا۔ تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ : یہ میرے لیے ایک معمولی بات ہے۔ اور ہم یہ کام اس لیے کریں گے تاکہ اس لڑکے کو لوگوں کے لیے (اپنی قدرت کی) ایک نشانی بنائیں۔ اور اپنی طرف سے رحمت کا مظاہرہ کریں اور یہ بات پوری طرح طے ہوچکی ہے۔

Verse 22 — Surah Maryam 19:22

پھر ہوا یہ کہ مریم کو اس بچے کا حمل ٹھہر گیا (اور جب ولادت کا وقت قریب آیا) تو وہ اس کو لے کر لوگوں سے الگ ایک دور مقام پر چلی گئیں۔

Verse 23 — Surah Maryam 19:23

پھر زچگی کے درد نے انہیں ایک کھجور کے درخت کے پاس پہنچا دیا۔ وہ کہنے لگیں : کاش کہ میں اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی، اور مر کر بھولی بسری ہوجاتی۔

Verse 24 — Surah Maryam 19:24

پھر فرشتے نے ان کے نیچے ایک جگہ سے انہیں آواز دی کہ : غم نہ کرو، تمہارے رب نے تمہارے نیچے ایک چشمہ پیدا کردیا ہے۔

Verse 25 — Surah Maryam 19:25

اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ، اس میں سے پکی ہوئی تازہ کھجوریں تم پر جھڑیں گی۔

Verse 26 — Surah Maryam 19:26

اب کھاؤ، اور پیو، اور آنکھیں ٹھنڈی رکھو۔ اور اگر لوگوں میں سے کسی کو آتا دیکھو تو (اشارے سے) کہہ دینا کہ : آج میں نے خدائے رحمن کے لیے ایک روزے کی منت مانی ہے، اس لیے میں کسی بھی انسان سے بات نہیں کروں گی۔

Verse 27 — Surah Maryam 19:27

پھر وہ اس بچے کو اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں وہ کہنے لگے کہ : مریم تم نے تو بڑا غضب ڈھا دیا۔

Verse 28 — Surah Maryam 19:28

اے ہارون کی بہن نہ تو تمہارا باپ کوئی برا آدمی تھا، نہ تمہاری ماں کوئی بدکار عورت تھی۔

Verse 29 — Surah Maryam 19:29

اس پر مریم نے اس بچے کی طرف اشارہ کیا۔ لوگوں نے کہا : بھلا ہم اس سے کیسے بات کریں جو ابھی پالنے میں پڑا ہوا بچہ ہے ؟

Verse 30 — Surah Maryam 19:30

(اس پر) بچہ بول اٹھا کہ : میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی ہے، اور نبی بنایا ہے۔

Verse 31 — Surah Maryam 19:31

اور جہاں بھی میں رہوں، مجھے بابرکت بنایا ہے، اور جب تک زندہ رہوں، مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہے۔

Verse 32 — Surah Maryam 19:32

اور مجھے اپنی والدہ کا فرمانبردار بنایا ہے، اور مجھے سرکش اور سنگ دل نہیں بنایا۔

Verse 33 — Surah Maryam 19:33

اور (اللہ کی طرف سے) سلامتی ہے مجھ پر اس دن بھی جب میں پیدا ہوا، اور اس دن بھی جس دن میں مروں گا، اور اس دن بھی جب مجھے دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔

Verse 34 — Surah Maryam 19:34

یہ ہیں عیسیٰ بن مریم ! ان (کی حقیقت) کے بارے میں سچی بات یہ ہے جس میں لوگ جھگڑ رہے ہیں۔

Verse 35 — Surah Maryam 19:35

اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کوئی بیٹا بنائے، اس کی ذات پاک ہے۔ جب وہ کسی بات کا فیصلہ کرلیتا ہے تو بس اس سے یہ کہتا ہے کہ ہوجا۔ چنانچہ وہ ہو جاتی ہے۔

Verse 36 — Surah Maryam 19:36

اور (اے پیغمبر ! لوگوں سے کہہ دو کہ :) یقینا اللہ میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار، اس لیے اس کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔

Verse 37 — Surah Maryam 19:37

پھر بھی ان میں سے مختلف گروہوں نے اختلاف ڈال دیا ہے، چنانچہ جس دن یہ ایک زبردست دن کا مشاہدہ کریں گے، اس دن ان کی بڑی تباہی ہوگی جنہوں نے کفر کا ارتکاب کیا ہے۔

Verse 38 — Surah Maryam 19:38

جس روز یہ ہمارے پاس آئیں گے اس دن یہ کتنے سننے والے اور دیکھنے والے بن جائیں گے۔ لیکن یہ ظالم آج کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔

Verse 39 — Surah Maryam 19:39

اور (اے پیغمبر) ان کو اس پچھتاوے کے دن سے ڈرایے جب ہر بات کا آخری فیصلہ ہوجائے گا، جبکہ یہ لوگ (اس وقت) غفلت میں ہیں، اور ایمان نہیں لارہے۔

Verse 40 — Surah Maryam 19:40

یقین جانو کہ زمین اور اس پر سارے رہنے والوں کے وارث ہم ہی ہوں گے، اور ہماری طرف ہی ان سب کو لوٹایا جائے گا۔

Verse 41 — Surah Maryam 19:41

اور اس کتاب میں ابراہیم کا بھی تذکرہ کرو۔ بیشک وہ سچائی کے خوگر نبی تھے۔

Verse 42 — Surah Maryam 19:42

یاد کرو جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا تھا کہ : ابا جان ! آپ ایسی چیزوں کی کیوں عبادت کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں، نہ دیکھتی ہیں، اور نہ آپ کا کوئی کام کرسکتی ہیں ؟

Verse 43 — Surah Maryam 19:43

ابا جان ! میرے پاس ایک ایسا علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا، اس لیے میری بات مان لیجیے، میں آپ کو سیدھا راستہ بتلا دوں گا۔

Verse 44 — Surah Maryam 19:44

ابا جان ! شیطان کی عبادت نہ کیجیے یقین جانیے کہ شیطان خدائے رحمن کا نافرمان ہے۔

Verse 45 — Surah Maryam 19:45

ابا جان ! مجھے اندیشہ ہے کہ خدائے رحمن کی طرف سے آپ کو کوئی عذاب نہ آپکڑے، جس کے نتیجے میں آپ شیطان کے ساتھی بن کر رہ جائیں۔

Verse 46 — Surah Maryam 19:46

ان کے باپ نے کہا : ابراہیم ! کیا تم میرے خداؤں سے بیزار ہو ؟ یاد رکھو، اگر تم باز نہ آئے تو میں تم پر پتھر برساؤں گا، اور اب تم ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور ہوجاؤ۔

Verse 47 — Surah Maryam 19:47

ابراہیم نے کہا : میں آپ کو (رخصت کا) سلام کرتا ہوں۔ میں اپنے پروردگار سے آپ کی بخشش کی دعا کروں گا۔ بیشک وہ مجھ پر بہت مہربان ہے۔

Verse 48 — Surah Maryam 19:48

اور میں آپ لوگوں سے بھی الگ ہوتا ہوں، اور اللہ کو چھوڑ کر آپ لوگ جن جن کی عبادت کرتے ہیں، ان سے بھی، اور میں اپنے پروردگار کو پکارتا رہوں گا۔ مجھے پوری امید ہے کہ اپنے رب کو پکار کر میں نامراد نہیں رہوں گا۔

Verse 49 — Surah Maryam 19:49

چنانچہ جب وہ ان سے اور ان (بتوں) سے الگ ہوگئے جنہیں وہ اللہ کے بجائے پکارا کرتے تھے، تو ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب (جیسی اولاد) بخشی، اور ان میں سے ہر ایک کو نبی بنایا۔

Verse 50 — Surah Maryam 19:50

اور ان کو اپنی رحمت سے نوازا، اور انہیں اونچے درجے کی نیک نامی عطا کی۔

Verse 51 — Surah Maryam 19:51

اور اس کتاب میں موسیٰ کا بھی تذکرہ کرو۔ بیشک وہ اللہ کے چنے ہوئے بندے تھے، اور رسول اور نبی تھے۔

Verse 52 — Surah Maryam 19:52

ہم نے انہیں کوہ طور کی دائیں جانب سے پکارا اور انہیں اپنا راز دار بنا کر اپنا قرب عطا کیا۔

Verse 53 — Surah Maryam 19:53

اور ہم نے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر اپنی رحمت سے انہیں (ایک مددگار) عطا کیا۔

Verse 54 — Surah Maryam 19:54

اور اس کتاب میں اسماعیل کا بھی تذکرہ کرو۔ بیشک وہ وعدے کے سچے تھے اور رسول اور نبی تھے۔

Verse 55 — Surah Maryam 19:55

اور وہ اپنے گھر والوں کو بھی نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا کرتے، اور اپنے پروردگار کے نزدیک پسندیدہ تھے۔

Verse 56 — Surah Maryam 19:56

اور اس کتاب میں ادریس کا بھی تذکرہ کرو، بیشک وہ سچائی کے خوگر نبی تھے۔

Verse 57 — Surah Maryam 19:57

اور ہم نے انہیں رفعت دے کر ایک بلند مقام تک پہنچا دیا تھا

Verse 58 — Surah Maryam 19:58

آدم کی اولاد میں سے یہ وہ نبی ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا، اور ان میں سے کچھ ان لوگوں کی اولاد میں سے ہیں جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا تھا، اور کچھ ابراہیم اور اسرائیل (یعقوب (علیہ السلام)) کی اولاد میں سے ہیں۔ اور یہ سب ان لوگوں میں سے ہیں جن کو ہم نے ہدایت دی، اور (اپنے دین کے لیے) منتخب کیا۔ جب ان کے سامنے خدائے رحمن کی آیتوں کی تلاوت کی جاتی تو یہ روتے ہوئے سجدے میں گرجاتے تھے۔

Verse 59 — Surah Maryam 19:59

پھر ان کے بعد ایسے لوگ ان کی جگہ آئے جنہوں نے نمازوں کو برباد کیا، اور اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے چلے۔ چنانچہ ان کی گمراہی بہت جلد ان کے سامنے آجائے گی۔

Verse 60 — Surah Maryam 19:60

البتہ جن لوگوں نے توبہ کرلی، اور ایمان لے آئے، اور نیک عمل کیے تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اور ان پر ذرا بھی ظلم نہیں ہوگا۔

Verse 61 — Surah Maryam 19:61

(ان کا داخلہ) ایسے ہمیشہ باقی رہنے والے باغات میں (ہوگا) جن کا خدائے رحمن نے اپنے بندوں سے ان کے دیکھے بغیر وعدہ کر رکھا ہے۔ یقینا اس کا وعدہ ایسا ہے کہ یہ اس تک ضرور پہنچیں گے۔

Verse 62 — Surah Maryam 19:62

وہ اس میں سلامتی کی باتوں کے سوا کوئی لغو بات نہیں سنیں گے۔ اور وہاں ان کا رزق انہیں صبح و شام ملا کرے گا۔

Verse 63 — Surah Maryam 19:63

یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اس کو بنائیں گے جو متقی ہو۔

Verse 64 — Surah Maryam 19:64

اور (فرشتے تم سے یہ کہتے ہیں کہ) ہم آپ کے رب کے حکم کے بغیر اتر کر نہیں آتے۔ جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ ہمارے پیچھے ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، وہ سب اسی کی ملکیت ہے۔ اور تمہارا رب ایسا نہیں ہے جو بھول جایا کرے۔

Verse 65 — Surah Maryam 19:65

وہ آسمانوں اور زمین کا بھی مالک ہے، اور جو مخلوقات ان کے درمیان ہیں، ان کا بھی، لہذا تم اس کی عبادت کرو، اور اس کی عبادت پر جمے رہو۔ کیا تمہارے علم میں کوئی اور ہے جو اس جیسی صفات رکھتا ہو ؟

Verse 66 — Surah Maryam 19:66

اور (کافر) انسان یہ کہتا ہے کہ : جب میں مرچکا ہوں گا تو کیا واقعی اس وقت مجھے زندہ کر کے نکالا جائے گا ؟

Verse 67 — Surah Maryam 19:67

کیا اس انسان کو یہ بات یاد نہیں آتی کہ ہم نے اسے شروع میں اس وقت پیدا کیا تھا جب وہ کچھ بھی نہیں تھا ؟

Verse 68 — Surah Maryam 19:68

تو قسم ہے تمہارے پروردگار کی ! ہم ان کو اور ان کے ساتھ سارے شیطانوں کو ضرور اکٹھا کریں گے، پھر ان کو دوزخ کے گرد اس طرح لے کر آئیں گے کہ یہ سب گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے۔

Verse 69 — Surah Maryam 19:69

پھر ان کے ہر گروہ میں سے ان لوگوں کو کھیچ نکالیں گے جو خدائے رحمن کے ساتھ سرکشی کرنے میں زیادہ سخت تھے۔

Verse 70 — Surah Maryam 19:70

پھر یہ بات ہم ہی خوب جانتے ہیں کہ وہ کون لوگ ہیں جو سب سے پہلے اس دوزخ میں جھونکے جانے کے زیادہ مستحق ہیں۔

Verse 71 — Surah Maryam 19:71

اور تم میں سے کوئی نہیں ہے جس کا اس (دوزخ) پر گزر نہ ہو۔ اس بات کا تمہارے پروردگار نے حتمی طور پر ذمہ لے رکھا ہے۔

Verse 72 — Surah Maryam 19:72

پھر جن لوگوں نے تقوی اختیار کیا ہے، انہیں تو ہم نجات دے دیں گے، اور جو ظالم ہیں، انہیں اس حالت میں چھوڑ دیں گے کہ وہ اس (دوزخ میں) گھٹنوں کے بل پڑے ہوں گے۔

Verse 73 — Surah Maryam 19:73

اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں، تو کافر لوگ مومنوں سے کہتے ہیں کہ : بتاؤ، ہم دونوں فریقوں میں سے کس کا مقام زیادہ بہتر ہے، اور کس کی مجلس زیادہ اچھی ہے ؟

Verse 74 — Surah Maryam 19:74

اور (یہ نہیں دیکھتے کہ) ان سے پہلے ہم کتنی نسلیں ہلاک کرچکے ہیں، جو اپنے سازو سامان اور ظاہری آن بان میں ان سے کہیں بہتر تھیں۔

Verse 75 — Surah Maryam 19:75

کہہ دو کہ : جو لوگ گمراہی میں جا پڑیں تو ان کے لیے مناسب یہی ہے کہ خدائے رحمن انہیں خوب ڈھیل دیتا رہے۔ یہاں تک کہ جب یہ لوگ وہ چیز خود دیکھ لیں گے جس سے انہیں ڈرایا جارہا ہے، چاہے وہ (اس دنیا کا) عذاب ہو، یا قیامت، تو اس وقت انہیں پتہ چلے گا کہ بدترین مقام کس کا تھا، اور لشکر کس کا زیادہ کمزور تھا۔

Verse 76 — Surah Maryam 19:76

اور جن لوگوں نے سیدھا راستہ اختیار کرلیا ہے، اللہ ان کو ہدایت میں اور ترقی دیتا ہے۔ اور جو نیک عمل باقی رہنے والے ہیں، ان کا بدلہ بھی تمہارے پروردگار کے یہاں بہتر ملے گا، اور ان کا (مجموعی) انجام بھی بہتر ہوگا۔

Verse 77 — Surah Maryam 19:77

بھلا تم نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے ہماری آیتوں کو ماننے سے انکار کیا، اور یہ کہا ہے کہ : مجھے مال اور اولاد (آخرت میں بھی) ضرور ملیں گے۔

Verse 78 — Surah Maryam 19:78

کیا اس نے عالم غیب میں جھانک کر دیکھ لیا ہے، یا اس نے خدائے رحمن سے کوئی عہد لے رکھا ہے ؟

Verse 79 — Surah Maryam 19:79

ہرگز نہیں ! جو کچھ یہ کہہ رہا ہے ہم اسے بھی لکھ رکھیں گے، اور اس کے عذاب میں اور اضافہ کردیں گے۔

Verse 80 — Surah Maryam 19:80

اور جس (مال اور اولاد) کا یہ حوالہ دے رہا ہے، اس کے وارث ہم ہوں گے، اور یہ ہمارے پاس تن تنہا آئے گا۔

Verse 81 — Surah Maryam 19:81

اور ان لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود اس لیے بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کی پشت پناہی کریں۔

Verse 82 — Surah Maryam 19:82

یہ سب غلط بات ہے ! وہ تو ان کی عبادت ہی کا انکار کردیں گے، اور الٹے ان کے مخالف ہوجائیں گے۔

Verse 83 — Surah Maryam 19:83

(اے پیغمبر) کیا تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ ہم نے کافروں پر شیاطین چھوڑ رکھے ہیں جو انہیں برابر اکساتے رہتے ہیں ؟

Verse 84 — Surah Maryam 19:84

لہذا تم ان کے معاملے میں جلدی نہ کرو، ہم تو ان کے لیے گنتی گن رہے ہیں۔

Verse 85 — Surah Maryam 19:85

(اس دن کو نہ بھولو) جس دن ہم سارے متقی لوگوں کو مہمان بنا کر خدائے رحمن کے پاس جمع کریں گے۔

Verse 86 — Surah Maryam 19:86

اور مجرموں کو پیاسے جانوروں کی طرح ہنکا کر دوزخ کی طرف لے جائیں گے۔

Verse 87 — Surah Maryam 19:87

لوگوں کو کسی کی سفارش کرنے کا اختیار بھی نہیں ہوگا، سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے خدائے رحمن سے کوئی اجازت حاصل کرلی ہو۔

Verse 88 — Surah Maryam 19:88

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ خدائے رحمن کی کوئی اولاد ہے۔

Verse 89 — Surah Maryam 19:89

(ایسی بات کہنے والو !) حقیقت یہ ہے کہ تم نے بڑی سنگین حرکت کی ہے۔

Verse 90 — Surah Maryam 19:90

کچھ بعید نہیں کہ اس کی وجہ سے آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ٹوٹ کر گرپڑیں۔

Verse 91 — Surah Maryam 19:91

کہ ان لوگوں نے خدائے رحمن کے لیے اولاد ہونے کا دعوی کیا ہے۔

Verse 92 — Surah Maryam 19:92

حالانکہ خدائے رحمن کی یہ شان نہیں ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو۔

Verse 93 — Surah Maryam 19:93

آسمانوں اور زمین میں جتنے لوگ ہیں، ان میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو خدائے رحمن کے حضور بندہ بن کر نہ آئے۔

Verse 94 — Surah Maryam 19:94

یقین رکھو کہ اس نے سب کا احاطہ کر رکھا ہے اور انہیں خوب اچھی طرح گن رکھا ہے۔

Verse 95 — Surah Maryam 19:95

اور قیامت کے دن میں سے ایک ایک شخص اس کے پاس اکیلا آئے گا۔

Verse 96 — Surah Maryam 19:96

(ہاں) بیشک جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، خدائے رحمن ان کے لیے دلوں میں محبت پیدا کردے گا۔

Verse 97 — Surah Maryam 19:97

چنانچہ (اے پیغمبر) ہم نے اس قرآن کو تمہاری زبان میں آسان بنادیا ہے تاکہ تم اس کے ذریعے متقی لوگوں کو خوشخبردی دو ، اور اسی کے ذریعے ان لوگوں کو ڈراؤ جو ضد کی وجہ سے جھگڑے پر آمادہ ہیں۔

Verse 98 — Surah Maryam 19:98

ان سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ کیا تمہیں ٹٹولنے سے بھی ان میں سے کسی کا پتہ ملتا ہے، یا ان میں سے کسی کی بھنک بھی تمہیں سنائی دیتی ہے ؟