انہوں نے کہا تھا کہ : میرے پروردگار ! میری ہڈیاں کمزور پڑگئی ہیں، اور سر بڑھاپے کی سفیدی سے بھڑک اٹھا ہے، اور میرے پروردگار ! میں آپ سے دعا مانگ کر کبھی نامراد نہیں ہوا۔
زکریا نے کہا : میرے پروردگار ! میرے یہاں لڑکا کس طرح پیدا ہوگا جبکہ میری بیوی بانجھ ہے، اور میں بڑھاپے سے اس حال کو پہنچ گیا ہوں کہ میرا جسم سوکھ چکا ہے۔
زکریا نے کہا : میرے پروردگار ! میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما دیجیے۔ فرمایا : تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم صحت مند ہونے کے باوجود تین رات تک لوگوں سے بات نہیں کرسکو گے۔
اور (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) سلام ہے ان پر اس دن بھی جس روز وہ پیدا ہوئے، اس دن بھی جس روز انہیں موت آئے گی، اور اس دن بھی جس روز انہیں زندہ کر کے دوبارہ اٹھایا جائے گا۔
پھر انہوں نے ان لوگوں کے اور اپنے درمیان ایک پردہ ڈال لیا۔ اس موقع پر ہم نے ان کے پاس اپنی روح (یعنی ایک فرشتے) کو بھیجا جو ان کے سامنے ایک مکمل انسان کی شکل میں ظاہر ہوا۔
فرشتے نے کہا : ایسے ہی ہوجائے گا۔ تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ : یہ میرے لیے ایک معمولی بات ہے۔ اور ہم یہ کام اس لیے کریں گے تاکہ اس لڑکے کو لوگوں کے لیے (اپنی قدرت کی) ایک نشانی بنائیں۔ اور اپنی طرف سے رحمت کا مظاہرہ کریں اور یہ بات پوری طرح طے ہوچکی ہے۔
اب کھاؤ، اور پیو، اور آنکھیں ٹھنڈی رکھو۔ اور اگر لوگوں میں سے کسی کو آتا دیکھو تو (اشارے سے) کہہ دینا کہ : آج میں نے خدائے رحمن کے لیے ایک روزے کی منت مانی ہے، اس لیے میں کسی بھی انسان سے بات نہیں کروں گی۔
اور (اللہ کی طرف سے) سلامتی ہے مجھ پر اس دن بھی جب میں پیدا ہوا، اور اس دن بھی جس دن میں مروں گا، اور اس دن بھی جب مجھے دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔
پھر بھی ان میں سے مختلف گروہوں نے اختلاف ڈال دیا ہے، چنانچہ جس دن یہ ایک زبردست دن کا مشاہدہ کریں گے، اس دن ان کی بڑی تباہی ہوگی جنہوں نے کفر کا ارتکاب کیا ہے۔
یاد کرو جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا تھا کہ : ابا جان ! آپ ایسی چیزوں کی کیوں عبادت کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں، نہ دیکھتی ہیں، اور نہ آپ کا کوئی کام کرسکتی ہیں ؟
ان کے باپ نے کہا : ابراہیم ! کیا تم میرے خداؤں سے بیزار ہو ؟ یاد رکھو، اگر تم باز نہ آئے تو میں تم پر پتھر برساؤں گا، اور اب تم ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور ہوجاؤ۔
اور میں آپ لوگوں سے بھی الگ ہوتا ہوں، اور اللہ کو چھوڑ کر آپ لوگ جن جن کی عبادت کرتے ہیں، ان سے بھی، اور میں اپنے پروردگار کو پکارتا رہوں گا۔ مجھے پوری امید ہے کہ اپنے رب کو پکار کر میں نامراد نہیں رہوں گا۔
چنانچہ جب وہ ان سے اور ان (بتوں) سے الگ ہوگئے جنہیں وہ اللہ کے بجائے پکارا کرتے تھے، تو ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب (جیسی اولاد) بخشی، اور ان میں سے ہر ایک کو نبی بنایا۔
آدم کی اولاد میں سے یہ وہ نبی ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا، اور ان میں سے کچھ ان لوگوں کی اولاد میں سے ہیں جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا تھا، اور کچھ ابراہیم اور اسرائیل (یعقوب (علیہ السلام)) کی اولاد میں سے ہیں۔ اور یہ سب ان لوگوں میں سے ہیں جن کو ہم نے ہدایت دی، اور (اپنے دین کے لیے) منتخب کیا۔ جب ان کے سامنے خدائے رحمن کی آیتوں کی تلاوت کی جاتی تو یہ روتے ہوئے سجدے میں گرجاتے تھے۔
پھر ان کے بعد ایسے لوگ ان کی جگہ آئے جنہوں نے نمازوں کو برباد کیا، اور اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے چلے۔ چنانچہ ان کی گمراہی بہت جلد ان کے سامنے آجائے گی۔
(ان کا داخلہ) ایسے ہمیشہ باقی رہنے والے باغات میں (ہوگا) جن کا خدائے رحمن نے اپنے بندوں سے ان کے دیکھے بغیر وعدہ کر رکھا ہے۔ یقینا اس کا وعدہ ایسا ہے کہ یہ اس تک ضرور پہنچیں گے۔
اور (فرشتے تم سے یہ کہتے ہیں کہ) ہم آپ کے رب کے حکم کے بغیر اتر کر نہیں آتے۔ جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ ہمارے پیچھے ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، وہ سب اسی کی ملکیت ہے۔ اور تمہارا رب ایسا نہیں ہے جو بھول جایا کرے۔
وہ آسمانوں اور زمین کا بھی مالک ہے، اور جو مخلوقات ان کے درمیان ہیں، ان کا بھی، لہذا تم اس کی عبادت کرو، اور اس کی عبادت پر جمے رہو۔ کیا تمہارے علم میں کوئی اور ہے جو اس جیسی صفات رکھتا ہو ؟
تو قسم ہے تمہارے پروردگار کی ! ہم ان کو اور ان کے ساتھ سارے شیطانوں کو ضرور اکٹھا کریں گے، پھر ان کو دوزخ کے گرد اس طرح لے کر آئیں گے کہ یہ سب گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے۔
پھر جن لوگوں نے تقوی اختیار کیا ہے، انہیں تو ہم نجات دے دیں گے، اور جو ظالم ہیں، انہیں اس حالت میں چھوڑ دیں گے کہ وہ اس (دوزخ میں) گھٹنوں کے بل پڑے ہوں گے۔
اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں، تو کافر لوگ مومنوں سے کہتے ہیں کہ : بتاؤ، ہم دونوں فریقوں میں سے کس کا مقام زیادہ بہتر ہے، اور کس کی مجلس زیادہ اچھی ہے ؟
کہہ دو کہ : جو لوگ گمراہی میں جا پڑیں تو ان کے لیے مناسب یہی ہے کہ خدائے رحمن انہیں خوب ڈھیل دیتا رہے۔ یہاں تک کہ جب یہ لوگ وہ چیز خود دیکھ لیں گے جس سے انہیں ڈرایا جارہا ہے، چاہے وہ (اس دنیا کا) عذاب ہو، یا قیامت، تو اس وقت انہیں پتہ چلے گا کہ بدترین مقام کس کا تھا، اور لشکر کس کا زیادہ کمزور تھا۔
اور جن لوگوں نے سیدھا راستہ اختیار کرلیا ہے، اللہ ان کو ہدایت میں اور ترقی دیتا ہے۔ اور جو نیک عمل باقی رہنے والے ہیں، ان کا بدلہ بھی تمہارے پروردگار کے یہاں بہتر ملے گا، اور ان کا (مجموعی) انجام بھی بہتر ہوگا۔
چنانچہ (اے پیغمبر) ہم نے اس قرآن کو تمہاری زبان میں آسان بنادیا ہے تاکہ تم اس کے ذریعے متقی لوگوں کو خوشخبردی دو ، اور اسی کے ذریعے ان لوگوں کو ڈراؤ جو ضد کی وجہ سے جھگڑے پر آمادہ ہیں۔
ان سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ کیا تمہیں ٹٹولنے سے بھی ان میں سے کسی کا پتہ ملتا ہے، یا ان میں سے کسی کی بھنک بھی تمہیں سنائی دیتی ہے ؟