Back to Languages

Urdu - Chapter 20 - Ta-Ha

Translation by Muhammad Taqi Usmani — Permalink

Verse 1 — Surah Ta-Ha 20:1

Verse 2 — Surah Ta-Ha 20:2

ہم نے تم پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم تکلیف اٹھاؤ

Verse 3 — Surah Ta-Ha 20:3

البتہ یہ اس شخص کے لیے ایک نصیحت ہے جو ڈرتا ہو۔

Verse 4 — Surah Ta-Ha 20:4

اسے اس ذات کی طرف سے تھوڑ ا تھوڑا کر کے نازل کیا جارہا ہے جس نے زمین اور اونچے اونچے آسمان پیدا کیے ہیں۔

Verse 5 — Surah Ta-Ha 20:5

وہ بڑی رحمت والا عرش پر استوا فرمائے ہوئے ہے۔

Verse 6 — Surah Ta-Ha 20:6

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اور ان کے درمیان جو کچھ ہے وہ سب بھی اسی کی ملکیت ہے، اور زمین کی تہوں کے نیچے جو کچھ ہے وہ بھی۔

Verse 7 — Surah Ta-Ha 20:7

اگر تم کوئی بات بلند آواز سے کہو (یا آہستہ) تو وہ چپکے سے کہی ہوئی باتوں کو، بلکہ اور زیادہ چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہے۔

Verse 8 — Surah Ta-Ha 20:8

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کے اچھے اچھے نام ہیں۔

Verse 9 — Surah Ta-Ha 20:9

اور (اے پیغمبر) کیا تم تک موسیٰ کا واقعہ پہنچا ہے ؟

Verse 10 — Surah Ta-Ha 20:10

یہ اس وقت کی بات ہے جب ان کو ایک آگ نظر آئی تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا : تم یہیں ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ شاید میں اس میں سے کوئی شعلہ تمہارے پاس لے آؤں، یا اس آگ کے پاس مجھے راستے کا پتہ مل جائے۔

Verse 11 — Surah Ta-Ha 20:11

چنانچہ جب وہ آگ کے پاس پہنچے تو انہیں آواز دی گئی کہ : اے موسیٰ ۔

Verse 12 — Surah Ta-Ha 20:12

یقین سے جان لو کہ میں ہی تمہارا رب ہوں۔ اب تم اپنے جوتے اتار دو ، تم اس وقت طوی کی مقدس وادی میں ہو۔

Verse 13 — Surah Ta-Ha 20:13

اور میں نے تمہیں (نبوت کے لیے) منتخب کیا ہے۔ لہذا جو بات وحی کے ذریعے کہی جارہی ہے اسے غور سے سنو۔

Verse 14 — Surah Ta-Ha 20:14

حقیقت یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس لیے میری عبادت کرو، اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کرو۔

Verse 15 — Surah Ta-Ha 20:15

یقین رکھو کہ قیامت کی گھڑی آنے والی ہے، میں اس (کے وقت) کو خفیہ رکھنا چاہتا ہوں، تاکہ ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلہ ملے۔

Verse 16 — Surah Ta-Ha 20:16

لہذا کوئی شخص تمہیں اس سے ہرگز غافل نہ کرنے پائے جو اس پر ایمان نہ رکھتا ہو، اور اپنی خواہشات کے پیچھے چلتا ہو، ورنہ تم ہلاکت میں پڑجاؤ گے۔

Verse 17 — Surah Ta-Ha 20:17

اور موسیٰ یہ تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے ؟

Verse 18 — Surah Ta-Ha 20:18

موسیٰ نے کہا : یہ میری لاٹھی ہے، میں اس کا سہارا لیتا ہوں، اور اس سے اپنی بکریوں پر (درخت سے) پتے جھاڑتا ہوں، اور اس سے میری دوسری ضروریات بھی پوری ہوتی ہیں۔

Verse 19 — Surah Ta-Ha 20:19

فرمایا : موسیٰ ! اسے نیچے پھینک دو ۔

Verse 20 — Surah Ta-Ha 20:20

چنانچہ انہوں نے اسے پھینک دیا۔ بس پھر کیا تھا۔ وہ اچانک ایک دوڑتا ہوا سانپ بن گئی۔

Verse 21 — Surah Ta-Ha 20:21

اللہ نے فرمایا : اسے پکڑ لو، اور ڈرو نہیں۔ ہم ابھی اسے اس کی پچھلی حالت پر لوٹا دیں گے۔

Verse 22 — Surah Ta-Ha 20:22

اور اپنے ہاتھ کو اپنی بغل میں دباؤ، وہ کسی بیماری کے بغیر سفید ہو کر نکلے گا۔ یہ (تمہاری نبوت کی) ایک اور نشانی ہوگی۔

Verse 23 — Surah Ta-Ha 20:23

(یہ ہم اس لیے کر رہے ہیں) تاکہ اپنی بڑی نشانیوں میں سے کچھ تمہیں دکھائیں۔

Verse 24 — Surah Ta-Ha 20:24

(اب) فرعون کے پاس جاؤ۔ وہ سرکشی میں حد سے نکل گیا ہے۔

Verse 25 — Surah Ta-Ha 20:25

موسیٰ نے کہا : پروردگار ! میری خاطر میرا سینہ کھول دیجیے۔

Verse 26 — Surah Ta-Ha 20:26

اور میرے لیے میرا کام آسان بنا دیجیے۔

Verse 27 — Surah Ta-Ha 20:27

اور میری زبان میں جو گرہ ہے اسے دور کردیجیے

Verse 28 — Surah Ta-Ha 20:28

تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں۔

Verse 29 — Surah Ta-Ha 20:29

اور میرے لیے میرے خاندان ہی کے ایک فرد کو مددگار مقرر کردیجیے۔

Verse 30 — Surah Ta-Ha 20:30

یعنی ہارون کو جو میرے بھائی ہیں۔

Verse 31 — Surah Ta-Ha 20:31

ان کے ذریعے میری طاقت مضبوط کردیجیے۔

Verse 32 — Surah Ta-Ha 20:32

اور ان کو میرا شریک کار بنا دیجیے۔

Verse 33 — Surah Ta-Ha 20:33

تاکہ ہم کثرت سے آپ کی تسبیح کریں۔

Verse 34 — Surah Ta-Ha 20:34

اور کثرت سے آپ کا ذکر کریں۔

Verse 35 — Surah Ta-Ha 20:35

بیشک آپ ہمیں اچھی طرح دیکھنے والے ہیں۔

Verse 36 — Surah Ta-Ha 20:36

اللہ نے فرمایا : موسیٰ ! تم نے جو کچھ مانگا ہے تمہیں دے دیا گیا۔

Verse 37 — Surah Ta-Ha 20:37

اور ہم نے تم پر ایک اور مرتبہ بھی احسان کیا تھا۔

Verse 38 — Surah Ta-Ha 20:38

جب ہم نے تمہاری ماں سے وحی کے ذریعے وہ بات کہی تھی جو اب وحی کے ذریعے (تمہیں) بتائی جارہی ہے۔

Verse 39 — Surah Ta-Ha 20:39

کہ اس (بچے) کو صندوق میں رکھو، پھر اس صندوق کو دریا میں ڈال دو ۔ پھر دریا کو چھوڑ دو کہ وہ اسے ساحل کے پاس لاکر ڈال دے، جس کے نتیجے میں ایک ایسا شخص اس (بچے) کو اٹھالے گا جو میرا بھی دشمن ہوگا، اور اس کا بھی دشمن۔ اور میں نے اپنی طرف سے تم پر ایک محبوبیت نازل کردی تھی۔ اور یہ سب اس لیے کیا تھا کہ تم میری نگرانی میں پرورش پاؤ۔

Verse 40 — Surah Ta-Ha 20:40

اس وقت کا تصور کرو جب تمہاری بہن گھر سے چلتی ہے، اور (فرعون کے کارندوں سے) یہ کہتی ہے کہ : کیا میں تمہیں اس (عورت) کا پتہ بتاؤں جو اس (بچے) کو پالے ؟ اس طرح ہم نے تمہیں تمہاری ماں کے پاس لوٹا دیا، تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی رہے، اور وہ غمگین نہ ہو۔ اور تم نے ایک شخص کو مار ڈالا تھا، پھر ہم نے تمہیں اس گھٹن سے نجات دی، اور تمہیں کئی آزمائشوں سے گزارا۔ پھر تم کئی سال مدین والوں میں رہے، اس کے بعد اے موسیٰ ! تم ایک ایسے وقت پر یہاں آئے ہو جو پہلے سے مقدر تھا۔

Verse 41 — Surah Ta-Ha 20:41

اور میں نے تمہیں خاص اپنے لیے بنایا ہے۔

Verse 42 — Surah Ta-Ha 20:42

تم اور تمہارا بھائی دونوں میری نشانیاں لے کر جاؤ، اور میرا ذکر کرنے میں سستی نہ کرنا۔

Verse 43 — Surah Ta-Ha 20:43

دونوں فرعون کے پاس جاؤ، وہ حد سے آگے نکل چکا ہے۔

Verse 44 — Surah Ta-Ha 20:44

جاکر دونوں اس سے نرمی سے بات کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کرے، یا (اللہ سے) ڈر جائے۔

Verse 45 — Surah Ta-Ha 20:45

دونوں نے کہا : ہمارے پروردگار ! ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں وہ ہم پر زیادتی نہ کرے، یا کہیں سرکشی پر آمادہ نہ ہوجائے۔

Verse 46 — Surah Ta-Ha 20:46

اللہ نے فرمایا : ڈرو نہیں، میں تمہارے ساتھ ہوں، سن بھی رہا ہوں، اور دیکھ بھی رہا ہوں۔

Verse 47 — Surah Ta-Ha 20:47

اب اس کے پاس جاؤ، اور کہو کہ ہم دونوں تمہارے رب کے پیغمبر ہیں، اس لیے بنو اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دو ، اور انہیں تکلیفیں نہ پہنچاؤ، ہم تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں، اور سلامتی اسی کے لیے جو ہدایت کی پیروی کرے۔

Verse 48 — Surah Ta-Ha 20:48

ہم پر یہ وحی نازل کی گئی ہے کہ عذاب اس کو ہوگا جو (حق کو) جھٹلائے، اور منہ موڑے۔

Verse 49 — Surah Ta-Ha 20:49

(یہ ساری باتیں سن کر) فرعون نے کہا : موسیٰ تم دونوں کا رب کون ؟

Verse 50 — Surah Ta-Ha 20:50

موسیٰ نے کہا : ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو وہ بناوٹ عطا کی جو اس کے مناسب تھی، پھر (اس کی) رہنمائی بھی فرمائی۔

Verse 51 — Surah Ta-Ha 20:51

فرعون بولا : اچھا پھر ان قوموں کا کیا معاملہ ہوا جو پہلے گزر چکی ہیں ؟

Verse 52 — Surah Ta-Ha 20:52

موسیٰ نے کہا : ان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں محفوظ ہے۔ میرے رب کو نہ کوئی غلطی لگتی ہے، نہ وہ بھولتا ہے

Verse 53 — Surah Ta-Ha 20:53

یہ وہ ذات ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے فرش بنادیا، اور اس میں تمہارے لیے راستے بنائے، اور آسمان سے پانی برسایا، پھر ہم نے اس کے ذریعے طرح طرح کی مختلف نباتات نکالیں۔

Verse 54 — Surah Ta-Ha 20:54

خود بھی کھاؤ، اور اپنے مویشیوں کو بھی چراؤ، یقینا ان سب باتوں میں عقل والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔

Verse 55 — Surah Ta-Ha 20:55

اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا تھا، اسی میں ہم تمہیں واپس لے جائیں گے، اور اسی سے ایک مرتبہ پھر تمہیں نکال لائیں گے۔

Verse 56 — Surah Ta-Ha 20:56

حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اس (فرعون) کو اپنی ساری نشانیاں دکھائیں، مگر وہ جھٹلاتا ہی رہا، اور مان کر نہیں دیا۔

Verse 57 — Surah Ta-Ha 20:57

کہنے لگا : موسیٰ ! کیا تم اس لیے آئے ہو کہ اپنے جادو کے ذریعے ہمیں اپنی زمین سے نکال باہر کرو ؟

Verse 58 — Surah Ta-Ha 20:58

اچھا تو ہم بھی تمہارے سامنے ایسا ہی جادو لا کر رہیں گے۔ اب تم کسی کھلے میدان میں ہمارے اور اپنے درمیان مقابلے کا ایسا وقت طے کرلو جس کی خلاف ورزی نہ ہم کریں، نہ تم کرو۔

Verse 59 — Surah Ta-Ha 20:59

موسیٰ نے کہا : تم سے وہ دن طے ہے جس میں جشن منایا جاتا ہے۔ اور یہ بھی طے ہے کہ دن چڑھے ہی لوگوں کو جمع کرلیا جائے۔

Verse 60 — Surah Ta-Ha 20:60

چنانچہ فرعون (اپنی جگہ) واپس چلا گیا، اور اس نے اپنی ساری تدبیریں اکٹھی کیں، پھر (مقابلے کے لیے) آگیا۔

Verse 61 — Surah Ta-Ha 20:61

موسیٰ نے ان (جادوگروں سے) کہا : افسوس ہے تم پر ! اللہ پر بہتان نہ باندھو ورنہ وہ ایک سخت عذاب سے تمہیں مل یا میٹ کردے گا، اور جو کوئی بہتان باندھتا ہے، نامراد ہوتا ہے۔

Verse 62 — Surah Ta-Ha 20:62

اس پر ان کے درمیان اپنی رائے قائم کرنے میں اختلاف ہوگیا، اور وہ چپکے چپکے سرگوشیاں کرنے لگے۔

Verse 63 — Surah Ta-Ha 20:63

(آخر کار) انہوں نے کہا کہ : یقینی طور پر یہ دونوں (یعنی موسیٰ اور ہارون) جادوگر ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور پر تم لوگوں کو تمہاری سرزمین سے نکال باہر کریں، اور تمہارے بہترین (دینی) طریقے کا خاتمہ ہی کر ڈالیں۔

Verse 64 — Surah Ta-Ha 20:64

لہذا اپنی ساری تدبیریں پختہ کرلو، پھر صف باندھ کر آؤ، اور یقین رکھو کہ آج جو غالب آجائے گا، فلاح اسی کو حاصل ہوگی۔

Verse 65 — Surah Ta-Ha 20:65

جادوگر بولے : موسیٰ ! یا تو تم (اپنی لاٹھی پہلے) ڈال دو ، یا پھر ہم ڈالنے میں پہل کریں ؟

Verse 66 — Surah Ta-Ha 20:66

موسیٰ نے کہا : نہیں، تم ہی ڈالو۔ بس پھر اچانک ان کی (ڈالی ہوئی) رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے نتیجے میں موسیٰ کو ایسی محسوس ہونے لگیں جیسے دوڑ رہی ہیں۔

Verse 67 — Surah Ta-Ha 20:67

اس پر موسیٰ کو اپنے دل میں کچھ خوف محسوس ہوا۔

Verse 68 — Surah Ta-Ha 20:68

ہم نے کہا : ڈرو نہیں، یقین رکھو تم ہی تم سربلند رہو گے۔

Verse 69 — Surah Ta-Ha 20:69

اور جو (لاٹھی) تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے، اسے (زمین پر) ڈال دو ، ان لوگوں نے جو کاریگری کی ہے، وہ اس سب کو نگل جائے گی، ان کی ساری کاریگری ایک جادوگر کے کرتب کے سوا کچھ نہیں، اور جادوگر چاہے کہیں چلا جائے، اسے فلاح نصیب نہیں ہوتی۔

Verse 70 — Surah Ta-Ha 20:70

چنانچہ (یہی ہوا اور) سارے جادوگر سجدے میں گرا دیے گئے۔ کہنے لگے کہ : ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لے آئے۔

Verse 71 — Surah Ta-Ha 20:71

فرعون بولا : تم ان پر میرے اجازت دینے سے پہلے ہی ایمان لے آئے، مجھے یقین ہے کہ یہ (موسیٰ) تم سب کا سرغنہ ہے جس نے تمہیں جادو سکھلایا ہے۔ اب میں نے بھی پکا ارادہ کرلیا ہے کہ تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹوں گا، اور تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی چڑھاؤں گا۔ اور تمہیں یقینا پتہ لگ جائے گا کہ ہم دونوں میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے۔

Verse 72 — Surah Ta-Ha 20:72

جادوگروں نے کہا : قسم اس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ ہمارے سامنے جو روشن نشانیاں آگئی ہیں ان پر ہم تمہیں ہرگز ترجیح نہیں دے سکتے۔ اب تمہیں جو کچھ کرنا ہو، کرلو۔ تم جو کچھ بھی کرو گے اسی دنیوی زندگی کے لیے ہوگا۔

Verse 73 — Surah Ta-Ha 20:73

ہم تو اپنے رب پر ایمان لاچکے ہیں، تاکہ وہ ہمارے گناہوں کو بھی بخش دے، اور جادو کے اس کام کو بھی جس پر تم نے ہمیں مجبور کیا۔ اور اللہ ہی سب سے اچھا اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔

Verse 74 — Surah Ta-Ha 20:74

حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اپنے پروردگار کے پاس مجرم بن کر آئے گا، اس کے لیے جہنم ہے جس میں نہ وہ مرے گا اور نہ جئے گا۔

Verse 75 — Surah Ta-Ha 20:75

اور جو شخص اس کے پاس مومن بن کر آئے گا جس نے نیک عمل بھی کیے ہوں گے، تو ایسے ہی لوگوں کے لیے بلند درجات ہیں۔

Verse 76 — Surah Ta-Ha 20:76

وہ ہمیشہ رہنے والے باغات جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ صلہ ہے اس کا جس نے پاکیزگی اختیار کی۔

Verse 77 — Surah Ta-Ha 20:77

اور ہم نے موسیٰ پر وحی بھیجی کہ : تم میرے بندوں کو لے کر راتوں رات روانہ ہوجاؤ پھر ان کے لیے سمندر میں ایک خشک راستہ اس طرح نکال لینا کہ نہ تمہیں (دشمن کے) آپکڑنے کا اندیشہ رہے، اور نہ کوئی اور خوف ہو

Verse 78 — Surah Ta-Ha 20:78

چنانچہ فرعون نے اپنے لشکروں سمیت ان کا پیچھا کیا تو سمندر کی جس (خوفناک) چیز نے انہیں ڈھانپا، وہ انہیں ڈھانپ کر ہی رہی۔

Verse 79 — Surah Ta-Ha 20:79

اور فرعون نے اپنی قوم کو برے راستے پر لگایا، اور انہیں صحیح راستہ نہ دکھایا۔

Verse 80 — Surah Ta-Ha 20:80

اے بنی اسرائیل ! ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی، اور تم سے کوہ طور کے دائیں جانب آنے کا وعدہ ٹھہرایا، اور تم پر من وسلوی نازل کیا۔

Verse 81 — Surah Ta-Ha 20:81

جو پاکیزہ رزق ہم نے تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے کھاؤ، اور اس میں سرکشی نہ کرو جس کے نتیجے میں تم پر میرا غضب نازل ہوجائے۔ اور جس کسی پر میرا غضب نازل ہوجاتا ہے وہ تباہی میں گر کر رہتا ہے۔

Verse 82 — Surah Ta-Ha 20:82

اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جو شخص توبہ کرے، ایمان لائے، اور نیک عمل کرے، پھر سیدھے راستے پر قائم رہے تو میں اس کے لیے بہت بخشنے والا ہوں۔

Verse 83 — Surah Ta-Ha 20:83

اور (جب موسیٰ کوہ طور پر اپنے لوگوں سے پہلے چلے آئے تو اللہ نے ان سے کہا) موسیٰ ! تم اپنی قوم سے پہلے جلدی کیوں آگئے ؟

Verse 84 — Surah Ta-Ha 20:84

انہوں نے کہا : وہ میرے پیچھے پیچھے آیا ہی چاہتے ہیں، اور پروردگار ! میں آپ کے پاس اس لیے جلدی آگیا تاکہ آپ خوش ہوں۔

Verse 85 — Surah Ta-Ha 20:85

اللہ نے فرمایا : پھر تمہارے آنے کے بعد ہم نے تمہاری قوم کو فتنے میں مبتلا کردیا ہے، اور انہیں سامری نے گمراہ کر ڈالا ہے۔

Verse 86 — Surah Ta-Ha 20:86

چنانچہ موسیٰ غم و غصے میں بھرے ہوئے اپنی قوم کے پاس واپس لوٹے۔ کہنے لگے : میری قوم کے لوگو ! کیا تمہارے پروردگار نے تم سے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا ؟ تو کیا تم پر کوئی بہت لمبی مدت گزر گئی تھی، یا تم چاہتے ہی یہ تھے کہ تم پر تمہارے رب کا غضب نازل ہوجائے، اور اس وجہ سے تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی ؟

Verse 87 — Surah Ta-Ha 20:87

کہنے لگے : ہم نے اپنے اختیار سے آپ کے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی، بلکہ ہوا یہ کہ ہم پر لوگوں کے زیورات کے بوجھ لدے ہوئے تھے، اس لیے ہم نے انہیں پھینک دیا۔ پھر اسی طرح سامری نے کچھ ڈالا

Verse 88 — Surah Ta-Ha 20:88

اور لوگوں کے سامنے ایک بچھڑا بنا کر نکال لایا، ایک جسم تھا جس میں سے آواز نکلتی تھی۔ لوگ کہنے لگے کہ : یہ تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے، مگر موسیٰ بھول گئے ہیں۔

Verse 89 — Surah Ta-Ha 20:89

بھلا کیا انہیں یہ نظر نہیں آرہا تھا کہ وہ نہ ان کی بات کا جواب دیتا تھا اور نہ ان کو کوئی نقصان یا نفع پہنچا سکتا تھا ؟

Verse 90 — Surah Ta-Ha 20:90

اور ہارون نے ان سے پہلے ہی کہا تھا کہ : میری قوم کے لوگو ! تم اس (بچھڑے) کی وجہ سے فتنے میں مبتلا ہوگئے ہو، اور حقیقت میں تمہارا رب تو رحمن ہے، اس لیے تم میرے پیچھے چلو اور میری بات مانو

Verse 91 — Surah Ta-Ha 20:91

وہ کہنے لگے کہ : جب تک موسیٰ واپس نہ آجائیں، ہم تو اسی کی عبادت پر جمے رہیں گے۔

Verse 92 — Surah Ta-Ha 20:92

موسیٰ نے (واپس آکر) کہا : ہارون ! جب تم نے دیکھ لیا تھا کہ یہ لوگ گمراہ ہوگئے ہیں تو تمہیں کس چیز نے روکا تھا۔

Verse 93 — Surah Ta-Ha 20:93

کہ تم میرے پیچھے چلے آتے ؟ بھلا کیا تم نے میری بات کی خلاف ورزی کی ؟

Verse 94 — Surah Ta-Ha 20:94

ہارون نے کہا : میرے ماں کے بیٹے ! میری داڑھی نہ پکڑو، اور نہ میرا سر۔ حقیقت میں مجھے یہ اندیشہ تھا کہ تم یہ کہو گے کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا، اور میری بات کا پاس نہیں کیا۔

Verse 95 — Surah Ta-Ha 20:95

موسیٰ نے کہا : اچھا تو سامری ! تجھے کیا ہوا تھا ؟

Verse 96 — Surah Ta-Ha 20:96

وہ بولا : میں نے ایک ایسی چیز دیکھ لی تھی جو دوسروں کو نظر نہیں آئی تھی۔ اس لیے میں نے رسول کے نقش قدم سے ایک مٹھی اٹھالی، اور اسے (بچھڑے پر) ڈال دیا۔ اور میرے دل نے مجھے کچھ ایسا ہی سمجھایا۔

Verse 97 — Surah Ta-Ha 20:97

موسیٰ نے کہا : اچھا تو جا، اب زندگی بھر تیرا کام یہ ہوگا کہ تو لوگوں سے یہ کہا کرے گا کہ مجھے نہ چھونا۔ اور (اس کے علاوہ) تیرے لیے ایک وعدے کا وقت مقرر ہے جو تجھ سے ٹلایا نہیں جاسکتا۔ اور دیکھ اپنے اس (جھوٹے) معبود کو جس پر تو جما بیٹھا تھا ! ہم اسے جلا ڈالیں گے، اور پھر اس (کی راکھ) کو چورا چورا کر کے سمندر میں بکھیر دیں گے۔

Verse 98 — Surah Ta-Ha 20:98

حقیقت میں تم سب کا معبود تو بس ایک ہی اللہ ہے، جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

Verse 99 — Surah Ta-Ha 20:99

(اے پیغمبر) ماضی میں جو حالات گزرے ہیں ان میں سے کچھ واقعات ہم اسی طرح تم کو سناتے ہیں، اور ہم نے تمہیں خاص اپنے پاس سے ایک نصیحت نامہ عطا کیا ہے۔

Verse 100 — Surah Ta-Ha 20:100

جو لوگ اس سے منہ موڑیں گے، تو وہ قیامت کے دن بڑا بھاری بوجھ لادے ہوں گے۔

Verse 101 — Surah Ta-Ha 20:101

جس (کے عذاب) میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور قیامت کے دن ان کے لیے یہ بدترین بوجھ ہوگا۔

Verse 102 — Surah Ta-Ha 20:102

جس دن صور پھونکا جائے گا، اور اس دن ہم سارے مجرموں کو گھیر کر اس طرح جمع کریں گے کہ وہ نیلے پڑے ہوں گے۔

Verse 103 — Surah Ta-Ha 20:103

آپس میں سرگوشیاں کر رہے ہوں گے کہ تم (قبروں میں یا دنیا میں) دس دن سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔

Verse 104 — Surah Ta-Ha 20:104

جس بارے میں وہ باتیں کریں گے اس کی حقیقت ہمیں خوب معلوم ہے۔ جبکہ ان میں سے جس کا طریقہ سب سے بہتر ہوگا، وہ کہے گا کہ تم ایک دن سے زیادہ نہیں ٹھہرے ۔

Verse 105 — Surah Ta-Ha 20:105

اور لوگ تم سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں (کہ قیامت میں ان کا کیا بنے گا ؟) جواب میں کہہ دو کہ میرا پروردگار ان کو دھول کی طرح اڑا دے گا۔

Verse 106 — Surah Ta-Ha 20:106

اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا کر چھوڑے گا۔

Verse 107 — Surah Ta-Ha 20:107

کہ اس میں تمہیں نہ کوئی بل نظر آئے گا، نہ کوئی ابھار۔

Verse 108 — Surah Ta-Ha 20:108

ان دن سب کے سب منادی کے پیچھے اس طرح چلے آئیں گے کہ اس کے سامنے کوئی ٹیڑھ نہیں دکھا سکیں گے۔ اور خدائے رحمن کے آگے تمام آوازیں دب کر رہ جائیں گی، چنانچہ تمہیں پاؤں کی سرسراہٹ کے سوا کچھ سنائی نہیں دے گا۔

Verse 109 — Surah Ta-Ha 20:109

اس دن کسی کی سفارش کام نہیں آئے گی، سوائے اس شخص (کی سفارش) کے جسے خدائے رحمن نے اجازت دے دی ہو، اور جس کے بولنے پر وہ راضی ہو۔

Verse 110 — Surah Ta-Ha 20:110

وہ لوگوں کی ساری اگلی پچھلی باتوں کو جانتا ہے، اور وہ اس کے علم کا احاطہ نہیں کرسکتے۔

Verse 111 — Surah Ta-Ha 20:111

اور سارے کے سارے چہرے حی وقیوم کے آگے جھکے ہوں گے، اور جو کوئی ظلم کا بوجھ لاد کر لایا ہوگا نامراد ہوگا۔

Verse 112 — Surah Ta-Ha 20:112

اور جس نے نیک عمل کیے ہوں گے جبکہ وہ مومن بھی ہو تو اسے نہ کسی زیادتی کا اندیشہ ہوگا، نہ کسی حق تلفی کا۔

Verse 113 — Surah Ta-Ha 20:113

اور ہم نے اسی طرح یہ وحی ایک عربی قرآن کی شکل میں نازل کی ہے، اور اس میں تنبیہات کو طرح طرح سے بیان کیا ہے، تاکہ لوگ پرہیزگاری اختیار کریں، یا یہ قرآن ان میں کچھ سوچ سمجھ پیدا کرے۔

Verse 114 — Surah Ta-Ha 20:114

ایسی ہی اونچی شان ہے اللہ کی، جو سلطنت کا حقیقی مالک ہے۔ اور (اے پیغمبر) جب قرآن وحی کے ذریعے نازل ہورہا ہو تو اس کے مکمل ہونے سے پہلے قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کرو۔ اور یہ دعا کرتے رہا کرو کہ : میرے پروردگار ! مجھے علم میں اور ترقی عطا فرما۔

Verse 115 — Surah Ta-Ha 20:115

اور ہم نے اس سے پہلے آدم کو ایک بات کی تاکید کی تھی، پھر ان سے بھول ہوگئی، اور ہم نے ان میں عزم نہیں پایا۔

Verse 116 — Surah Ta-Ha 20:116

یاد کرو وہ وقت جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو، چنانچہ سب نے سجدہ کیا، البتہ ابلیس تھا جس نے انکار کیا۔

Verse 117 — Surah Ta-Ha 20:117

چنانچہ ہم نے کہا کہ : اے آدم ! یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے، لہذا ایسا نہ ہو کہ یہ تم دونوں کو جنت سے نکلوا دے، اور تم مشقت میں پڑجاؤ۔

Verse 118 — Surah Ta-Ha 20:118

یہاں تو تمہیں یہ فائدہ ہے کہ نہ تم بھوکے ہوگے، نہ ننگے۔

Verse 119 — Surah Ta-Ha 20:119

اور نہ یہاں پیاسے رہو گے، نہ دھوپ میں تپو گے۔

Verse 120 — Surah Ta-Ha 20:120

پھر شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا۔ کہنے لگا : اے آدم ! کیا میں تمہیں ایک ایسا درخت بتاؤں جس سے جاودانی زندگی اور وہ بادشاہی حاصل ہوجاتی ہے جو کبھی پرانی نہیں پڑتی ؟

Verse 121 — Surah Ta-Ha 20:121

چنانچہ ان دونوں نے اس درخت میں سے کچھ کھالیا جس سے ان دونوں کے شرم کے مقامات ان کے سامنے کھل گئے، اور وہ دونوں جنت کے پتوں کو اپنے اوپر گانٹھنے لگے۔ اور (اس طرح) آدم نے اپنے رب کا کہا ٹالا، اور بھٹک گئے۔

Verse 122 — Surah Ta-Ha 20:122

پھر ان کے رب نے انہیں چن لیا، چنانچہ ان کی توبہ قبول فرمائی، اور انہیں ہدایت عطا فرمائی۔

Verse 123 — Surah Ta-Ha 20:123

اللہ نے فرمایا : تم دونوں کے دونوں یہاں سے نیچے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے پھر اگر تمہیں میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے تو جو کوئی میری ہدایت کی پیروی کرے گا، وہ نہ گمراہ ہوگا، اور نہ کسی مشکل میں گرفتار ہوگا۔

Verse 124 — Surah Ta-Ha 20:124

اور جو میری نصیحت سے منہ موڑے گا تو اس کو بڑی تنگ زندگی ملے گی، اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے۔

Verse 125 — Surah Ta-Ha 20:125

وہ کہے گا کہ : یا رب ! تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا، حالانکہ میں تو آنکھوں والا تھا ؟

Verse 126 — Surah Ta-Ha 20:126

اللہ کہے گا : اسی طرح ہماری آیتیں تیرے پاس آئی تھیں، مگر تو نے انہیں بھلا دیا۔ اور آج اسی طرح تجھے بھلا دیا جائے گا۔

Verse 127 — Surah Ta-Ha 20:127

اور جو شخص حد سے گزر جاتا ہے، اور اپنے پروردگار کی نشانیوں پر ایمان نہیں لاتا، اسے ہم اسی طرح سزا دیتے ہیں، اور آخرت کا عذاب واقعی زیادہ سخت اور زیادہ دیر رہنے والا ہے۔

Verse 128 — Surah Ta-Ha 20:128

پھر کیا ان لوگوں کو اس بات نے بھی کوئی ہدایت کا سبق نہیں دیا کہ ان سے پہلے کتنی نسلیں تھیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا، جن کی بستیوں میں یہ لوگ چلتے پھرتے بھی ہیں ؟ یقینا جن لوگوں کے پاس عقل ہے، ان کے لیے اس بات میں عبرت کے بڑے سامان ہیں۔

Verse 129 — Surah Ta-Ha 20:129

اور اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کردی گئی ہوتی، اور (اس کے نتیجے میں عذاب کی) ایک میعاد مقرر نہ ہوتی، تو لازمی طور پر عذاب (ان کو) چمٹ چکا ہوتا۔

Verse 130 — Surah Ta-Ha 20:130

لہذا (اے پیغمبر) یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں، تم ان پر صبر کرو، اور سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب سے پہلے اپنے رب کی تسبیح اور حمد کرتے رہو، اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو، اور دن کے کناروں میں بھی، تاکہ تم خوش ہوجاؤ۔

Verse 131 — Surah Ta-Ha 20:131

اور دنیوی زندگی کی اس بہار کی طرف آنکھیں اٹھا کر بھی نہ دیکھو جو ہم نے ان (کافروں) میں سے مختلف لوگوں کو مزے اڑانے کے لیے دے رکھی ہے، تاکہ ہم ان کو اس کے ذریعے آزمائیں۔ اور تمہارے رب کا رزق سب سے بہتر اور سب سے زیادہ دیرپا ہے۔

Verse 132 — Surah Ta-Ha 20:132

اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو ، اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہو۔ ہم تم سے رزق نہیں چاہتے رزق تو ہم تمہیں دیں گے اور بہتر انجام تقوی ہی کا ہے۔

Verse 133 — Surah Ta-Ha 20:133

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ : یہ (نبی) ہمارے پاس اپنے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں لے آتے ؟ بھلا کیا ان کے پاس پچھلے (آسمانی) صحیفوں کے مضامین کی گواہی نہیں آگئی ؟

Verse 134 — Surah Ta-Ha 20:134

اور اگر ہم انہیں اس (قرآن) سے پہلے ان کو کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو یہ لوگ کہتے کہ : ہمارے پروردگار ! آپ نے ہمارے پاس کوئی پیغمبر کیوں نہیں بھیجا، تاکہ ہم ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے آپ کی آیتوں کی پیروی کرتے ؟

Verse 135 — Surah Ta-Ha 20:135

(اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ : (ہم) سب انتظار کر رہے ہیں، لہذا تم بھی انتظار کرو، کیونکہ عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ سیدھے راستے والے لوگ کون ہیں، اور کون ہیں جو ہدایت پاگئے ہیں ؟