یہ اس وقت کی بات ہے جب ان کو ایک آگ نظر آئی تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا : تم یہیں ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ شاید میں اس میں سے کوئی شعلہ تمہارے پاس لے آؤں، یا اس آگ کے پاس مجھے راستے کا پتہ مل جائے۔
موسیٰ نے کہا : یہ میری لاٹھی ہے، میں اس کا سہارا لیتا ہوں، اور اس سے اپنی بکریوں پر (درخت سے) پتے جھاڑتا ہوں، اور اس سے میری دوسری ضروریات بھی پوری ہوتی ہیں۔
کہ اس (بچے) کو صندوق میں رکھو، پھر اس صندوق کو دریا میں ڈال دو ۔ پھر دریا کو چھوڑ دو کہ وہ اسے ساحل کے پاس لاکر ڈال دے، جس کے نتیجے میں ایک ایسا شخص اس (بچے) کو اٹھالے گا جو میرا بھی دشمن ہوگا، اور اس کا بھی دشمن۔ اور میں نے اپنی طرف سے تم پر ایک محبوبیت نازل کردی تھی۔ اور یہ سب اس لیے کیا تھا کہ تم میری نگرانی میں پرورش پاؤ۔
اس وقت کا تصور کرو جب تمہاری بہن گھر سے چلتی ہے، اور (فرعون کے کارندوں سے) یہ کہتی ہے کہ : کیا میں تمہیں اس (عورت) کا پتہ بتاؤں جو اس (بچے) کو پالے ؟ اس طرح ہم نے تمہیں تمہاری ماں کے پاس لوٹا دیا، تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی رہے، اور وہ غمگین نہ ہو۔ اور تم نے ایک شخص کو مار ڈالا تھا، پھر ہم نے تمہیں اس گھٹن سے نجات دی، اور تمہیں کئی آزمائشوں سے گزارا۔ پھر تم کئی سال مدین والوں میں رہے، اس کے بعد اے موسیٰ ! تم ایک ایسے وقت پر یہاں آئے ہو جو پہلے سے مقدر تھا۔
اب اس کے پاس جاؤ، اور کہو کہ ہم دونوں تمہارے رب کے پیغمبر ہیں، اس لیے بنو اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دو ، اور انہیں تکلیفیں نہ پہنچاؤ، ہم تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں، اور سلامتی اسی کے لیے جو ہدایت کی پیروی کرے۔
یہ وہ ذات ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے فرش بنادیا، اور اس میں تمہارے لیے راستے بنائے، اور آسمان سے پانی برسایا، پھر ہم نے اس کے ذریعے طرح طرح کی مختلف نباتات نکالیں۔
اچھا تو ہم بھی تمہارے سامنے ایسا ہی جادو لا کر رہیں گے۔ اب تم کسی کھلے میدان میں ہمارے اور اپنے درمیان مقابلے کا ایسا وقت طے کرلو جس کی خلاف ورزی نہ ہم کریں، نہ تم کرو۔
موسیٰ نے ان (جادوگروں سے) کہا : افسوس ہے تم پر ! اللہ پر بہتان نہ باندھو ورنہ وہ ایک سخت عذاب سے تمہیں مل یا میٹ کردے گا، اور جو کوئی بہتان باندھتا ہے، نامراد ہوتا ہے۔
(آخر کار) انہوں نے کہا کہ : یقینی طور پر یہ دونوں (یعنی موسیٰ اور ہارون) جادوگر ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور پر تم لوگوں کو تمہاری سرزمین سے نکال باہر کریں، اور تمہارے بہترین (دینی) طریقے کا خاتمہ ہی کر ڈالیں۔
موسیٰ نے کہا : نہیں، تم ہی ڈالو۔ بس پھر اچانک ان کی (ڈالی ہوئی) رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے نتیجے میں موسیٰ کو ایسی محسوس ہونے لگیں جیسے دوڑ رہی ہیں۔
اور جو (لاٹھی) تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے، اسے (زمین پر) ڈال دو ، ان لوگوں نے جو کاریگری کی ہے، وہ اس سب کو نگل جائے گی، ان کی ساری کاریگری ایک جادوگر کے کرتب کے سوا کچھ نہیں، اور جادوگر چاہے کہیں چلا جائے، اسے فلاح نصیب نہیں ہوتی۔
فرعون بولا : تم ان پر میرے اجازت دینے سے پہلے ہی ایمان لے آئے، مجھے یقین ہے کہ یہ (موسیٰ) تم سب کا سرغنہ ہے جس نے تمہیں جادو سکھلایا ہے۔ اب میں نے بھی پکا ارادہ کرلیا ہے کہ تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹوں گا، اور تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی چڑھاؤں گا۔ اور تمہیں یقینا پتہ لگ جائے گا کہ ہم دونوں میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے۔
جادوگروں نے کہا : قسم اس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ ہمارے سامنے جو روشن نشانیاں آگئی ہیں ان پر ہم تمہیں ہرگز ترجیح نہیں دے سکتے۔ اب تمہیں جو کچھ کرنا ہو، کرلو۔ تم جو کچھ بھی کرو گے اسی دنیوی زندگی کے لیے ہوگا۔
ہم تو اپنے رب پر ایمان لاچکے ہیں، تاکہ وہ ہمارے گناہوں کو بھی بخش دے، اور جادو کے اس کام کو بھی جس پر تم نے ہمیں مجبور کیا۔ اور اللہ ہی سب سے اچھا اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔
اور ہم نے موسیٰ پر وحی بھیجی کہ : تم میرے بندوں کو لے کر راتوں رات روانہ ہوجاؤ پھر ان کے لیے سمندر میں ایک خشک راستہ اس طرح نکال لینا کہ نہ تمہیں (دشمن کے) آپکڑنے کا اندیشہ رہے، اور نہ کوئی اور خوف ہو
جو پاکیزہ رزق ہم نے تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے کھاؤ، اور اس میں سرکشی نہ کرو جس کے نتیجے میں تم پر میرا غضب نازل ہوجائے۔ اور جس کسی پر میرا غضب نازل ہوجاتا ہے وہ تباہی میں گر کر رہتا ہے۔
چنانچہ موسیٰ غم و غصے میں بھرے ہوئے اپنی قوم کے پاس واپس لوٹے۔ کہنے لگے : میری قوم کے لوگو ! کیا تمہارے پروردگار نے تم سے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا ؟ تو کیا تم پر کوئی بہت لمبی مدت گزر گئی تھی، یا تم چاہتے ہی یہ تھے کہ تم پر تمہارے رب کا غضب نازل ہوجائے، اور اس وجہ سے تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی ؟
کہنے لگے : ہم نے اپنے اختیار سے آپ کے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی، بلکہ ہوا یہ کہ ہم پر لوگوں کے زیورات کے بوجھ لدے ہوئے تھے، اس لیے ہم نے انہیں پھینک دیا۔ پھر اسی طرح سامری نے کچھ ڈالا
اور لوگوں کے سامنے ایک بچھڑا بنا کر نکال لایا، ایک جسم تھا جس میں سے آواز نکلتی تھی۔ لوگ کہنے لگے کہ : یہ تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے، مگر موسیٰ بھول گئے ہیں۔
اور ہارون نے ان سے پہلے ہی کہا تھا کہ : میری قوم کے لوگو ! تم اس (بچھڑے) کی وجہ سے فتنے میں مبتلا ہوگئے ہو، اور حقیقت میں تمہارا رب تو رحمن ہے، اس لیے تم میرے پیچھے چلو اور میری بات مانو
ہارون نے کہا : میرے ماں کے بیٹے ! میری داڑھی نہ پکڑو، اور نہ میرا سر۔ حقیقت میں مجھے یہ اندیشہ تھا کہ تم یہ کہو گے کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا، اور میری بات کا پاس نہیں کیا۔
وہ بولا : میں نے ایک ایسی چیز دیکھ لی تھی جو دوسروں کو نظر نہیں آئی تھی۔ اس لیے میں نے رسول کے نقش قدم سے ایک مٹھی اٹھالی، اور اسے (بچھڑے پر) ڈال دیا۔ اور میرے دل نے مجھے کچھ ایسا ہی سمجھایا۔
موسیٰ نے کہا : اچھا تو جا، اب زندگی بھر تیرا کام یہ ہوگا کہ تو لوگوں سے یہ کہا کرے گا کہ مجھے نہ چھونا۔ اور (اس کے علاوہ) تیرے لیے ایک وعدے کا وقت مقرر ہے جو تجھ سے ٹلایا نہیں جاسکتا۔ اور دیکھ اپنے اس (جھوٹے) معبود کو جس پر تو جما بیٹھا تھا ! ہم اسے جلا ڈالیں گے، اور پھر اس (کی راکھ) کو چورا چورا کر کے سمندر میں بکھیر دیں گے۔
ان دن سب کے سب منادی کے پیچھے اس طرح چلے آئیں گے کہ اس کے سامنے کوئی ٹیڑھ نہیں دکھا سکیں گے۔ اور خدائے رحمن کے آگے تمام آوازیں دب کر رہ جائیں گی، چنانچہ تمہیں پاؤں کی سرسراہٹ کے سوا کچھ سنائی نہیں دے گا۔
اور ہم نے اسی طرح یہ وحی ایک عربی قرآن کی شکل میں نازل کی ہے، اور اس میں تنبیہات کو طرح طرح سے بیان کیا ہے، تاکہ لوگ پرہیزگاری اختیار کریں، یا یہ قرآن ان میں کچھ سوچ سمجھ پیدا کرے۔
ایسی ہی اونچی شان ہے اللہ کی، جو سلطنت کا حقیقی مالک ہے۔ اور (اے پیغمبر) جب قرآن وحی کے ذریعے نازل ہورہا ہو تو اس کے مکمل ہونے سے پہلے قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کرو۔ اور یہ دعا کرتے رہا کرو کہ : میرے پروردگار ! مجھے علم میں اور ترقی عطا فرما۔
پھر شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا۔ کہنے لگا : اے آدم ! کیا میں تمہیں ایک ایسا درخت بتاؤں جس سے جاودانی زندگی اور وہ بادشاہی حاصل ہوجاتی ہے جو کبھی پرانی نہیں پڑتی ؟
چنانچہ ان دونوں نے اس درخت میں سے کچھ کھالیا جس سے ان دونوں کے شرم کے مقامات ان کے سامنے کھل گئے، اور وہ دونوں جنت کے پتوں کو اپنے اوپر گانٹھنے لگے۔ اور (اس طرح) آدم نے اپنے رب کا کہا ٹالا، اور بھٹک گئے۔
اللہ نے فرمایا : تم دونوں کے دونوں یہاں سے نیچے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے پھر اگر تمہیں میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے تو جو کوئی میری ہدایت کی پیروی کرے گا، وہ نہ گمراہ ہوگا، اور نہ کسی مشکل میں گرفتار ہوگا۔
اور جو شخص حد سے گزر جاتا ہے، اور اپنے پروردگار کی نشانیوں پر ایمان نہیں لاتا، اسے ہم اسی طرح سزا دیتے ہیں، اور آخرت کا عذاب واقعی زیادہ سخت اور زیادہ دیر رہنے والا ہے۔
پھر کیا ان لوگوں کو اس بات نے بھی کوئی ہدایت کا سبق نہیں دیا کہ ان سے پہلے کتنی نسلیں تھیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا، جن کی بستیوں میں یہ لوگ چلتے پھرتے بھی ہیں ؟ یقینا جن لوگوں کے پاس عقل ہے، ان کے لیے اس بات میں عبرت کے بڑے سامان ہیں۔
اور اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کردی گئی ہوتی، اور (اس کے نتیجے میں عذاب کی) ایک میعاد مقرر نہ ہوتی، تو لازمی طور پر عذاب (ان کو) چمٹ چکا ہوتا۔
لہذا (اے پیغمبر) یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں، تم ان پر صبر کرو، اور سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب سے پہلے اپنے رب کی تسبیح اور حمد کرتے رہو، اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو، اور دن کے کناروں میں بھی، تاکہ تم خوش ہوجاؤ۔
اور دنیوی زندگی کی اس بہار کی طرف آنکھیں اٹھا کر بھی نہ دیکھو جو ہم نے ان (کافروں) میں سے مختلف لوگوں کو مزے اڑانے کے لیے دے رکھی ہے، تاکہ ہم ان کو اس کے ذریعے آزمائیں۔ اور تمہارے رب کا رزق سب سے بہتر اور سب سے زیادہ دیرپا ہے۔
اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ : یہ (نبی) ہمارے پاس اپنے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں لے آتے ؟ بھلا کیا ان کے پاس پچھلے (آسمانی) صحیفوں کے مضامین کی گواہی نہیں آگئی ؟
اور اگر ہم انہیں اس (قرآن) سے پہلے ان کو کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو یہ لوگ کہتے کہ : ہمارے پروردگار ! آپ نے ہمارے پاس کوئی پیغمبر کیوں نہیں بھیجا، تاکہ ہم ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے آپ کی آیتوں کی پیروی کرتے ؟
(اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ : (ہم) سب انتظار کر رہے ہیں، لہذا تم بھی انتظار کرو، کیونکہ عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ سیدھے راستے والے لوگ کون ہیں، اور کون ہیں جو ہدایت پاگئے ہیں ؟