Back to LanguagesPrevious ChapterNext Chapter
Urdu - Chapter 26 - Ash-Shuara
Translation by Muhammad Taqi Usmani — Permalink
Verse 1 — Surah Ash-Shuara 26:1
Verse 2 — Surah Ash-Shuara 26:2
یہ اس کتاب کی آیتیں ہیں جو حق کو واضح کرنے والی ہے۔
Verse 3 — Surah Ash-Shuara 26:3
(اے پیغمبر) شاید تم اس غم میں اپنی جان ہلاک کیے جار ہے ہو کہ یہ لوگ ایمان (کیوں) نہیں لاتے۔
Verse 4 — Surah Ash-Shuara 26:4
اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتار دیں کہ اس کے آگے ان کی گردنیں جھک کر رہ جائیں۔
Verse 5 — Surah Ash-Shuara 26:5
(ان کا حال تو یہ ہے کہ) ان کے پاس خدائے رحمن کی طرف سے کوئی نئی نصیحت آتی ہے، یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔
Verse 6 — Surah Ash-Shuara 26:6
اس طرح انہوں نے حق کو جھٹلا دیا ہے۔ چنانچہ یہ لوگ جن باتوں کا مذاق اڑاتے رہے ہیں، اب عنقریب ان کے ٹھیک ٹھیک حقائق ان کے سامنے آجائیں گے۔
Verse 7 — Surah Ash-Shuara 26:7
اور کیا انہوں نے زمین کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اس میں ہر نفیس قسم کی کتنی چیزیں اگائی ہیں ؟
Verse 8 — Surah Ash-Shuara 26:8
یقینا ان سب چیزوں میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے
Verse 9 — Surah Ash-Shuara 26:9
اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار صاحب اقتدار بھی ہے، بہت مہربان بھی۔
Verse 10 — Surah Ash-Shuara 26:10
اور اس وقت کا حال سنو جب تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو آواز دے کر کہا تھا کہ : اس ظالم قوم کے پاس جاؤ
Verse 11 — Surah Ash-Shuara 26:11
یعنی فرعون کی قوم کے پاس۔ کیا ان کے دل میں خدا کا خوف نہیں ہے ؟
Verse 12 — Surah Ash-Shuara 26:12
موسیٰ نے کہا کہ : میرے پروردگار ! مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھوٹا بنائیں گے۔
Verse 13 — Surah Ash-Shuara 26:13
اور میرا دل تنگ ہونے لگتا ہے، اور میری زبان نہیں چلتی۔ اس لیے آپ ہارون کو بھی (نبوت کا) پیغام بھیج دیجیے۔
Verse 14 — Surah Ash-Shuara 26:14
اور میرے خلاف ان لوگوں نے ایک جرم بھی عائد کر رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے قتل نہ کر ڈالیں
Verse 15 — Surah Ash-Shuara 26:15
اللہ نے فرمایا کہ : ہرگز نہیں۔ تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ۔ یقین رکھو کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، ساری باتیں سنتے رہیں گے۔
Verse 16 — Surah Ash-Shuara 26:16
اب تم فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ : ہم دونوں رب العالمین کے پیغمبر ہیں۔
Verse 17 — Surah Ash-Shuara 26:17
(اور یہ پیغام لائے ہیں) کہ تم بنو اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دو ۔
Verse 18 — Surah Ash-Shuara 26:18
فرعون نے (جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) سے) کہا : کیا ہم نے تمہیں اس وقت اپنے پاس رکھ کر نہیں پالا تھا جب تم بالکل بچے تھے ؟ اور تم نے اپنی عمر کے بہت سے سال ہمارے یہاں رہ کر گزارے۔
Verse 19 — Surah Ash-Shuara 26:19
اور جو حرکت تم نے کی تھی وہ بھی کر گزرے اور تم بڑے ناشکرے آدمی ہو۔
Verse 20 — Surah Ash-Shuara 26:20
موسیٰ نے کہا : اس وقت وہ کام میں ایسی حالت میں کر گزرا تھا کہ مجھے پتہ نہیں تھا۔
Verse 21 — Surah Ash-Shuara 26:21
چنانچہ جب مجھے تم لوگوں سے خوف ہوا تو میں تمہارے پاس سے فرار ہوگیا، پھر اللہ نے مجھے حکمت عطا فرمائی، اور پیغمبروں میں شامل فرما دیا۔
Verse 22 — Surah Ash-Shuara 26:22
اور وہ احسان جو تم مجھ پر رکھ رہے ہو (اس کی حقیقت) یہ ہے کہ تم نے سارے بنو اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔
Verse 23 — Surah Ash-Shuara 26:23
فرعون نے کہا : اور یہ رب العالمین کیا چیز ہے ؟
Verse 24 — Surah Ash-Shuara 26:24
موسیٰ نے کہا : وہ سارے آسمانوں اور زمین کا، اور ان ساری چیزوں کا پروردگار ہے جو ان کے درمیان پائی جاتی ہیں، اگر تم کو واقعی یقین کرنا ہو۔
Verse 25 — Surah Ash-Shuara 26:25
فرعون نے اپنے اردگرد کے لوگوں سے کہا : سن رہے ہو کہ نہیں ؟
Verse 26 — Surah Ash-Shuara 26:26
موسیٰ نے کہا : وہ تمہارا بھی پروردگار ہے اور تمہارے پچھلے باپ دادوں کا بھی۔
Verse 27 — Surah Ash-Shuara 26:27
فرعون بولا : تمہارا یہ پیغمبر جو تمہارے پاس بھیجا گیا ہے یہ تو بالکل ہی دیوانہ ہے۔
Verse 28 — Surah Ash-Shuara 26:28
موسیٰ نے کہا : وہ مشرق و مغرب کا بھی پروردگار ہے، اور ان کے درمیان ساری چیزوں کا بھی، اگر تم عقل سے کام لو۔
Verse 29 — Surah Ash-Shuara 26:29
کہنے لگا : یاد رکھو، اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود مانا تو میں تمہیں ضرور ان لوگوں میں شامل کردوں گا جو جیل خانے میں پڑے ہوئے ہیں۔
Verse 30 — Surah Ash-Shuara 26:30
موسیٰ بولے : اور اگر میں تمہیں کوئی ایسی چیز لا دکھاؤں جو حق کو واضح کر دے، پھر ؟
Verse 31 — Surah Ash-Shuara 26:31
فرعون نے کہا : اچھا، اگر واقعی سچے ہو تو لے آؤ وہ چیز۔
Verse 32 — Surah Ash-Shuara 26:32
چنانچہ موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ کھلا ہوا اژدھا بن گیا۔
Verse 33 — Surah Ash-Shuara 26:33
اور انہوں نے اپنا ہاتھ (بغل میں سے) کھینچ کر نکالا تو پل بھر میں وہ سب دیکھنے والوں کے سامنے سفید ہوگیا۔
Verse 34 — Surah Ash-Shuara 26:34
فرعون نے اپنے ارد گرد کے سرداروں سے کہا : یقینا یہ کوئی ماہر جادوگر ہے۔
Verse 35 — Surah Ash-Shuara 26:35
یہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے ذریعے تمہیں تمہاری سرزمین سے نکال باہر کرے۔ اب بتاؤ کیا رائے ہے ؟
Verse 36 — Surah Ash-Shuara 26:36
انہوں نے کہا : ان کو اور ان کے بھائی کو کچھ مہلت دیجیے، اور تمام شہروں میں ہر کارے بھیج دیجیے۔
Verse 37 — Surah Ash-Shuara 26:37
جو ماہر جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں (اور ان جادوگروں کا مقابلہ کریں)
Verse 38 — Surah Ash-Shuara 26:38
چنانچہ ایک دن مقررہ وقت پر سارے جادوگر جمع کرلیے گئے۔
Verse 39 — Surah Ash-Shuara 26:39
اور لوگوں سے کہا گیا کہ : کیا تم لوگ جمع ہورہے ہو ؟
Verse 40 — Surah Ash-Shuara 26:40
شاید اگر یہ جادو گر ہی غالب آگئے تو ہم انہی کے راستے پر چلیں۔
Verse 41 — Surah Ash-Shuara 26:41
پھر جب جادوگر آئے تو انہوں نے فرعون سے کہا : یہ بات تو یقینی ہے نا کہ اگر ہم غالب آگئے تو ہمیں کوئی انعام ملے گا ؟
Verse 42 — Surah Ash-Shuara 26:42
فرعون نے کہا : ہاں ہاں، اور تمہیں اس صورت میں مقرب لوگوں میں بھی ضرور شامل کرلیا جائے گا۔
Verse 43 — Surah Ash-Shuara 26:43
موسیٰ نے ان جادوگروں سے کہا : جو کچھ تمہیں پھینکنا ہے، پھینکو
Verse 44 — Surah Ash-Shuara 26:44
اس پر ان جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈال دیں اور کہا کہ : فرعون کی عزت کی قسم ! ہم ہی غالب آئیں گے۔
Verse 45 — Surah Ash-Shuara 26:45
اب موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈالا تو اچانک اس نے (اژدھا بن کر) اس تماشے کو نگلنا شروع کردیا جو وہ جھوٹ موٹ بنا رہے تھے۔
Verse 46 — Surah Ash-Shuara 26:46
بس پھر وہ جادوگر سجدے میں گرا دیئے گئے۔
Verse 47 — Surah Ash-Shuara 26:47
کہنے لگے کہ : ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے۔
Verse 48 — Surah Ash-Shuara 26:48
جو موسیٰ اور ہارون کا پروردگار ہے۔
Verse 49 — Surah Ash-Shuara 26:49
فرعون بولا : تم میرے اجازت دینے سے پہلے ہی موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ ثابت ہوا کہ یہ تم سب کا سرغنہ ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔ اچھا ابھی تمہیں پتہ چل جائے گا۔ میں تم سب کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹواؤں گا، اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا۔
Verse 50 — Surah Ash-Shuara 26:50
جادوگروں نے کہا : ہمارا کچھ نہیں بگڑے گا، ہمیں یقین ہے کہ ہم لوٹ کر اپنے پروردگار کے پاس چلے جائیں گے۔
Verse 51 — Surah Ash-Shuara 26:51
ہم تو شوق سے امیدلگائے ہوئے ہیں کہ ہمارا پروردگار اس وجہ سے ہماری خطائیں بخش دے گا کہ ہم سب سے پہلے ایمان لائے تھے۔
Verse 52 — Surah Ash-Shuara 26:52
اور ہم نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ : میرے بندوں کو لے کر راتوں رات روانہ ہوجاؤ، تمہارا پیچھا یقینا کیا جائے گا۔
Verse 53 — Surah Ash-Shuara 26:53
اس پر فرعون نے شہروں میں ہر کارے بھیج دیے۔
Verse 54 — Surah Ash-Shuara 26:54
(اور یہ کہلا بھیجا کہ) یہ (بنی اسرائیل) ایک چھوٹی سی ٹولی کے تھوڑے سے لوگ ہیں۔
Verse 55 — Surah Ash-Shuara 26:55
اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ہمارے دل جلائے ہوئے ہیں۔
Verse 56 — Surah Ash-Shuara 26:56
اور ہم سب احتیاطی تدبیریں کیے ہوئے ہیں۔ (لہذا سب ملکر ان کا تعاقب کرو۔)
Verse 57 — Surah Ash-Shuara 26:57
اس طرح ہم انہیں باہر نکال لائے باغوں اور چشموں سے بھی۔
Verse 58 — Surah Ash-Shuara 26:58
اور خزانوں اور باعزت مقامات سے بھی۔
Verse 59 — Surah Ash-Shuara 26:59
ان کا معاملہ تو اسی طرح ہوا، اور (دوسری طرف) ان چیزوں کا وارث ہم نے بنی اسرائیل کو بنادیا
Verse 60 — Surah Ash-Shuara 26:60
غرض ہوا یہ کہ یہ سب لوگ سورج نکلتے ہی ان کا پیچھا کرنے نکل کھڑے ہوئے۔
Verse 61 — Surah Ash-Shuara 26:61
پھر جب دونوں جتھے ایک دوسرے کو نظر آنے لگے تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا کہ : اب تو پکی بات ہے کہ ہم پکڑ ہی لیے گئے۔
Verse 62 — Surah Ash-Shuara 26:62
موسیٰ نے کہا : ہرگز نہیں، میرے ساتھ یقینی طور سے میرا پروردگار ہے، وہ مجھے راستہ بتائے گا۔
Verse 63 — Surah Ash-Shuara 26:63
چنانچہ ہم نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مارو۔ بس پھر سمندر پھٹ گیا، اور ہر حصہ ایک بڑے پہاڑ کی طرح کھڑا ہوگیا۔
Verse 64 — Surah Ash-Shuara 26:64
اور دوسرے فریق کو بھی ہم اس جگہ کے نزدیک لے آئے۔
Verse 65 — Surah Ash-Shuara 26:65
اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے بچالیا۔
Verse 66 — Surah Ash-Shuara 26:66
پھر دوسروں کو غرق کرڈالا۔
Verse 67 — Surah Ash-Shuara 26:67
یقینا اس سارے واقعے میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
Verse 68 — Surah Ash-Shuara 26:68
اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار صاحب اقتدار بھی ہے، بڑا مہربان بھی۔
Verse 69 — Surah Ash-Shuara 26:69
اور (اے پیغمبر) ان کو ابراہیم کا واقعہ سناؤ
Verse 70 — Surah Ash-Shuara 26:70
جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ : تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو ؟
Verse 71 — Surah Ash-Shuara 26:71
انہوں نے کہا کہ : ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں، اور انہی کے آگے دھرنا دیے رہتے ہیں۔
Verse 72 — Surah Ash-Shuara 26:72
ابراہیم نے کہا : جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا یہ تمہاری بات سنتے ہیں ؟
Verse 73 — Surah Ash-Shuara 26:73
یا تمہیں کوئی فائدہ یا نقصان پہنچاتے ہیں ؟
Verse 74 — Surah Ash-Shuara 26:74
انہوں نے کہا : اصل بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایسا ہی کرتے ہوئے پایا ہے۔
Verse 75 — Surah Ash-Shuara 26:75
ابراہیم نے کہا : بھلا کبھی تم نے ان چیزوں کو غور سے دیکھا بھی جن کی تم عبادت کرتے رہے ہو ؟
Verse 76 — Surah Ash-Shuara 26:76
تم بھی اور تمہارے پرانے باپ دادے بھی۔
Verse 77 — Surah Ash-Shuara 26:77
میرے لیے تو یہ سب دشمن ہیں، سوائے ایک رب العالمین کے
Verse 78 — Surah Ash-Shuara 26:78
جس نے مجھے پیدا کیا ہے، پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے۔
Verse 79 — Surah Ash-Shuara 26:79
اور جو مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔
Verse 80 — Surah Ash-Shuara 26:80
اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو مجھے شفا دیتا ہے
Verse 81 — Surah Ash-Shuara 26:81
اور جو مجھے موت دے گا، پھر زندہ کرے گا۔
Verse 82 — Surah Ash-Shuara 26:82
اور جس سے میں یہ امید لگائے ہوئے ہوں کہ وہ حساب و کتاب کے دن میری خطا بخش دے گا۔
Verse 83 — Surah Ash-Shuara 26:83
میرے پروردگار ! مجھے حکمت عطا فرما، اور مجھے نیک لوگوں میں شامل فرمالے۔
Verse 84 — Surah Ash-Shuara 26:84
اور آنے والی نسلوں میں میرے لیے وہ زبانیں پیدا فرمادے جو میری سچائی کی گواہی دیں۔
Verse 85 — Surah Ash-Shuara 26:85
اور مجھے ان لوگوں میں سے بنا دے جو نعمتوں والی جنت کے وارث ہوں گے۔
Verse 86 — Surah Ash-Shuara 26:86
اور میرے باپ کی مغفرت فرما، یقینا وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے۔
Verse 87 — Surah Ash-Shuara 26:87
اور اس دن مجھے رسوا نہ کرنا جس دن لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔
Verse 88 — Surah Ash-Shuara 26:88
جس دن نہ کوئی مال کام آئے گا، نہ اولاد
Verse 89 — Surah Ash-Shuara 26:89
ہاں جو شخص اللہ کے پاس سلامتی والا دل لے کر آئے گا (اس کو نجات ملے گی)
Verse 90 — Surah Ash-Shuara 26:90
اور جنت متقی لوگوں کے لیے قریب کردی جائے گی
Verse 91 — Surah Ash-Shuara 26:91
اور دوزخ کھلے طور پر گمراہوں کے سامنے کردی جائے گی۔
Verse 92 — Surah Ash-Shuara 26:92
اور ان سے کہا جائے گا کہ : کہاں ہیں وہ جن کی تم عبادت کیا کرتے تھے ؟
Verse 93 — Surah Ash-Shuara 26:93
اللہ کو چھوڑ کر ، کیا وہ تمہاری مدد کریں گے یا خود اپنا بچاؤ کرلیں گے ؟
Verse 94 — Surah Ash-Shuara 26:94
پھر ان کو اور گمراہوں کو بھی اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔
Verse 95 — Surah Ash-Shuara 26:95
اور ابلیس کے سارے لشکروں کو بھی۔
Verse 96 — Surah Ash-Shuara 26:96
وہاں یہ سب آپس میں جھگڑتے ہوئے (اپنے معبودوں سے) کہیں گے۔
Verse 97 — Surah Ash-Shuara 26:97
کہ : اللہ کی قسم ہم تو اس زمانے میں کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔
Verse 98 — Surah Ash-Shuara 26:98
جب ہم نے تمہیں رب العالمین کے برابر قرار دے رکھا تھا۔
Verse 99 — Surah Ash-Shuara 26:99
اور ہمیں تو ان بڑے بڑے مجرموں نے ہی گمراہ کیا تھا۔
Verse 100 — Surah Ash-Shuara 26:100
نتیجہ یہ ہے کہ نہ تو ہمیں کسی قسم کی سفارش کرنے والے میسر ہیں۔
Verse 101 — Surah Ash-Shuara 26:101
اور نہ کوئی ایسا دوست جو ہمدردی کرسکے۔
Verse 102 — Surah Ash-Shuara 26:102
اب کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ دنیا میں واپس جانے کا موقع مل جائے تو ہم مومن بن جائیں۔
Verse 103 — Surah Ash-Shuara 26:103
یقینا اس سارے واقعے میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
Verse 104 — Surah Ash-Shuara 26:104
اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار صاحب اقتدار بھی ہے، بہت مہربان بھی۔
Verse 105 — Surah Ash-Shuara 26:105
نوح کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔
Verse 106 — Surah Ash-Shuara 26:106
جبکہ ان کے بھائی نوح نے ان سے کہا کہ : کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟
Verse 107 — Surah Ash-Shuara 26:107
یقین جانو کہ میں تمہارے لیے ایک امانت دار پیغمبر ہوں۔
Verse 108 — Surah Ash-Shuara 26:108
لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو
Verse 109 — Surah Ash-Shuara 26:109
اور میں تم سے اس کام پر کسی قسم کی کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو صرف اس ذات نے اپنے ذمے لے رکھا ہے جو سارے دنیا جہان کی پرورش کرتی ہے۔
Verse 110 — Surah Ash-Shuara 26:110
لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو۔
Verse 111 — Surah Ash-Shuara 26:111
وہ لوگ بولے : کیا ہم تم پر ایمان لے آئیں، حالانکہ بڑے نیچے درجے کے لوگ تمہارے پیچھے لگے ہوئے ہیں ؟
Verse 112 — Surah Ash-Shuara 26:112
نوح نے کہا : میں کیا جانوں کہ وہ کیا کام کرتے ہیں ؟
Verse 113 — Surah Ash-Shuara 26:113
ان کا حساب لینا کسی اور کا نہیں، میرے پروردگار کا کام ہے۔ کاش ! تم سمجھ سے کام لو۔
Verse 114 — Surah Ash-Shuara 26:114
اور میں ان مومنوں کو دھتکار کر اپنے سے دور نہیں کرسکتا۔
Verse 115 — Surah Ash-Shuara 26:115
میں تو بس ایک خبردار کرنے والا ہوں جو (تمہارے سامنے) حقیقت کھول کر رکھ رہا ہے۔
Verse 116 — Surah Ash-Shuara 26:116
وہ کہنے لگے : اے نوح اگر تم باز نہ آئے تو تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیا جائے گا۔
Verse 117 — Surah Ash-Shuara 26:117
نوح نے کہا : میرے پروردگار ! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا ہے۔
Verse 118 — Surah Ash-Shuara 26:118
اب آپ میرے اور ان کے در میان دو ٹوک فیصلہ کردیجیے، اور مجھے اور میرے مومن ساتھیوں کو بچا لیجیے۔
Verse 119 — Surah Ash-Shuara 26:119
چنانچہ ہم نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو بھری ہوئی کشتی میں بچا لیا۔
Verse 120 — Surah Ash-Shuara 26:120
پھر اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کردیا
Verse 121 — Surah Ash-Shuara 26:121
یقینا اس سارے واقعے میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
Verse 122 — Surah Ash-Shuara 26:122
اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار صاحب اقتدار بھی ہے، بہت مہربان بھی۔
Verse 123 — Surah Ash-Shuara 26:123
عاد کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔
Verse 124 — Surah Ash-Shuara 26:124
جبکہ ان کے بھائی ہود نے ان سے کہا کہ : کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟
Verse 125 — Surah Ash-Shuara 26:125
یقین جانو کہ میں تمہارے لیے ایک امانت دار پیغمبر ہوں۔
Verse 126 — Surah Ash-Shuara 26:126
لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو۔
Verse 127 — Surah Ash-Shuara 26:127
اور میں تم سے اس کام پر کسی قسم کی کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف اس ذات نے اپنے ذمے لے رکھا ہے جو سارے دنیا جہان کی پرورش کرتی ہے۔
Verse 128 — Surah Ash-Shuara 26:128
کیا تم ہر اونچی جگہ پر کوئی یاد گار بنا کر فضول حرکتیں کرتے ہو ؟
Verse 129 — Surah Ash-Shuara 26:129
اور تم نے بڑی کاریگری سے بنائی ہوئی عمارتیں اس طرح رکھ چھوڑی ہیں جیسے تمہیں ہمیشہ زندہ رہنا ہے ؟
Verse 130 — Surah Ash-Shuara 26:130
اور جب کسی کی پکڑ کرتے ہو تو پکے ظالم و جابر بن کر پکڑ کرتے ہو۔
Verse 131 — Surah Ash-Shuara 26:131
اب اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو۔
Verse 132 — Surah Ash-Shuara 26:132
اور اس ذات سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے نواز کر تمہاری قوت میں اضافہ کیا ہے جو تم خود جانتے ہو۔
Verse 133 — Surah Ash-Shuara 26:133
اس نے تمہیں مویشیوں اور اولاد سے بھی نوازا ہے۔
Verse 134 — Surah Ash-Shuara 26:134
اور باغوں اور چشموں سے بھی۔
Verse 135 — Surah Ash-Shuara 26:135
حقیقت یہ ہے کہ مجھے تم پر ایک زبردست دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔
Verse 136 — Surah Ash-Shuara 26:136
وہ کہنے لگے : چاہے تم نصیحت کرو، یا نہ کرو، ہمارے لیے سب برابر ہے۔
Verse 137 — Surah Ash-Shuara 26:137
یہ باتیں تو وہی ہیں جو پچھلے لوگوں کی عادت رہی ہے۔
Verse 138 — Surah Ash-Shuara 26:138
اور ہم عذاب کا نشانہ بننے والے نہیں ہیں۔
Verse 139 — Surah Ash-Shuara 26:139
غرض ان لوگوں نے ہود کو جھٹلایا، جس کے نتیجے میں ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ یقینا اس سارے واقعے میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
Verse 140 — Surah Ash-Shuara 26:140
اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار صاحب اقتدار بھی ہے، بڑا مہربان بھی۔
Verse 141 — Surah Ash-Shuara 26:141
قوم ثمود نے پیغمبروں کو جھٹلایا
Verse 142 — Surah Ash-Shuara 26:142
جبکہ ان کے بھائی صالح نے ان سے کہا کہ : کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟
Verse 143 — Surah Ash-Shuara 26:143
یقین جانو کہ میں تمہارے لیے ایک امانت دار پیغمبر ہوں۔
Verse 144 — Surah Ash-Shuara 26:144
لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو۔
Verse 145 — Surah Ash-Shuara 26:145
اور میں تم سے اس کام پر کسی قسم کی کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو صرف اس ذات نے اپنے ذمے لے رکھا ہے جو سارے دنیا جہان کی پرورش کرتی ہے۔
Verse 146 — Surah Ash-Shuara 26:146
کیا تمہیں اطمینان کے ساتھ ان ساری نعمتوں میں ہمیشہ رہنے دیا جائے گا جو یہاں موجود ہیں ؟
Verse 147 — Surah Ash-Shuara 26:147
ان باغوں اور چشموں میں ؟
Verse 148 — Surah Ash-Shuara 26:148
اور ان کھیتوں اور ان نخلستانوں میں جن کے خوشے ایک دوسرے میں پیوست ہیں ؟
Verse 149 — Surah Ash-Shuara 26:149
اور کیا پہاڑوں کو بڑے ناز کے ساتھ تراش کر تم (ہمیشہ) گھر بناتے رہو گے ؟
Verse 150 — Surah Ash-Shuara 26:150
اب اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو۔
Verse 151 — Surah Ash-Shuara 26:151
اور ان حد سے گزرے ہوئے لوگوں کا کہنا مت مانو
Verse 152 — Surah Ash-Shuara 26:152
جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، اور اصلاح کا کام نہیں کرتے۔
Verse 153 — Surah Ash-Shuara 26:153
وہ کہنے لگے کہ : تم پر تو کسی نے بڑا بھاری جادو کردیا ہے۔
Verse 154 — Surah Ash-Shuara 26:154
تمہاری حقیقت اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ تم ہم جیسے ہی ایک انسان ہو۔ لہذا اگر سچے ہو تو کوئی نشانی لے کر آؤ۔
Verse 155 — Surah Ash-Shuara 26:155
صالح نے کہا : (لو) یہ اونٹنی ہے۔ پانی پینے کے لیے ایک باری اس کی ہوگی، اور ایک معین دن میں ایک باری تمہاری۔
Verse 156 — Surah Ash-Shuara 26:156
اور اس کو بری نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا، ورنہ ایک زبردست دن کا عذاب تمہیں آپکڑے گا۔
Verse 157 — Surah Ash-Shuara 26:157
پھر ہوا یہ کہ انہوں نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں، اور آخر کار پشیمان ہوئے۔
Verse 158 — Surah Ash-Shuara 26:158
چنانچہ عذاب نے انہیں آپکڑا، یقینا اس سارے واقعے میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
Verse 159 — Surah Ash-Shuara 26:159
اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار صاحب اقتدار بھی ہے، بڑا مہربان بھی۔
Verse 160 — Surah Ash-Shuara 26:160
لوط کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔
Verse 161 — Surah Ash-Shuara 26:161
جبکہ ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کہ : کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟
Verse 162 — Surah Ash-Shuara 26:162
یقین جانو کہ میں تمہارے لیے ایک امانت دار پیغمبر ہوں۔
Verse 163 — Surah Ash-Shuara 26:163
لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو۔
Verse 164 — Surah Ash-Shuara 26:164
اور میں تم سے اس کام پر کسی قسم کی کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف اس ذات نے اپنے ذمے لے رکھا ہے جو سارے دنیا جہان کی پرورش کرتی ہے۔
Verse 165 — Surah Ash-Shuara 26:165
کیا دنیا کے سارے لوگوں میں تم ہو جو مردوں کے پاس جاتے ہو۔
Verse 166 — Surah Ash-Shuara 26:166
اور تمہاری بیویاں جو تمہارے رب نے تمہارے لیے پیدا کی ہیں، ان کو چھوڑے بیٹھے ہو ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ تم حد سے بالکل گزرے ہوئے لوگ ہو۔
Verse 167 — Surah Ash-Shuara 26:167
کہنے لگے : لوط ! اگر تم باز نہ آئے تو تم بھی ان لوگوں میں شامل ہوجاؤ گے جنہیں (بستی سے) نکال باہر کیا جاتا ہے۔
Verse 168 — Surah Ash-Shuara 26:168
لوط نے کہا : یقین جانو، میں ان لوگوں میں سے ہوں جو تمہارے اس کام سے بالکل بیزار ہیں۔
Verse 169 — Surah Ash-Shuara 26:169
میرے پروردگار ! جو حرکتیں یہ لوگ کر رہے ہیں، مجھے اور میرے گھر والوں کو ان سے نجات دیدے۔
Verse 170 — Surah Ash-Shuara 26:170
چنانچہ ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی۔
Verse 171 — Surah Ash-Shuara 26:171
سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہنے والوں میں شامل رہی۔
Verse 172 — Surah Ash-Shuara 26:172
پھر اور سب کو ہم نے تباہ کردیا۔
Verse 173 — Surah Ash-Shuara 26:173
اور ان پر ایک زبردست بارش برسا دی۔ غرض بہت بری بارش تھی جو ان پر برسی جنہیں پہلے سے ڈرا دیا گیا تھا۔
Verse 174 — Surah Ash-Shuara 26:174
یقینا اس سارے واقعے میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
Verse 175 — Surah Ash-Shuara 26:175
اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار صاحب اقتدار بھی ہے، بڑا مہربان بھی۔
Verse 176 — Surah Ash-Shuara 26:176
ایکہ کے باشندوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔
Verse 177 — Surah Ash-Shuara 26:177
جبکہ شعیب نے ان سے کہا کہ : کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟
Verse 178 — Surah Ash-Shuara 26:178
یقین جانو کہ میں تمہارے لیے ایک امانت دار پیغمبر ہوں۔
Verse 179 — Surah Ash-Shuara 26:179
لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو۔
Verse 180 — Surah Ash-Shuara 26:180
اور میں تم سے اس کام پر کسی قسم کی کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو صرف اس ذات نے اپنے ذمے لے رکھا ہے جو سارے دنیا جہان کی پرورش کرتی ہے۔
Verse 181 — Surah Ash-Shuara 26:181
پورا پورا ناپ دیا کرو، اور ان لوگوں میں سے نہ بنو جو دوسروں کو گھاٹے میں ڈالتے ہیں۔
Verse 182 — Surah Ash-Shuara 26:182
اور سیدھی ترازو سے تولا کرو۔
Verse 183 — Surah Ash-Shuara 26:183
اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دیا کرو، اور زمین میں فساد مچاتے مت پھرو۔
Verse 184 — Surah Ash-Shuara 26:184
اور اس ذات سے ڈرو جس نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے، اور پچھلی خلقت کو بھی۔
Verse 185 — Surah Ash-Shuara 26:185
کہنے لگے : تم پر تو کسی نے بڑا بھاری جادو کردیا ہے۔
Verse 186 — Surah Ash-Shuara 26:186
تمہاری حقیقت اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ تم ہم جیسے ہی ایک انسان ہو اور ہم تمہیں پورے یقین کے ساتھ جھوٹا سمجھتے ہیں۔
Verse 187 — Surah Ash-Shuara 26:187
لہذا اگر تم سچے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو ۔
Verse 188 — Surah Ash-Shuara 26:188
شعیب نے کہا : میرا پروردگار خوب جانتا ہے کہ تم کیا کررہے ہو۔
Verse 189 — Surah Ash-Shuara 26:189
غرض ان لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں سائبان والے دن کے عذاب نے آپکڑا ۔ بیشک وہ ایک زبردست دن کا عذاب تھا۔
Verse 190 — Surah Ash-Shuara 26:190
یقینا اس سارے واقعے میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
Verse 191 — Surah Ash-Shuara 26:191
اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار صاحب اقتدار بھی ہے، بڑا مہربان بھی۔
Verse 192 — Surah Ash-Shuara 26:192
بیشک یہ قرآن رب العالمین کا نازل کیا ہوا ہے۔
Verse 193 — Surah Ash-Shuara 26:193
امانت دار فرشتہ اسے لے کر اترا ہے۔
Verse 194 — Surah Ash-Shuara 26:194
(اے پیغمبر) تمہارے قلب پر اترا ہے تاکہ تم ان (پیغمبروں) میں شامل ہوجاؤ جو لوگوں کو خبردار کرتے ہیں۔
Verse 195 — Surah Ash-Shuara 26:195
ایسی عربی زبان میں اترا ہے جو پیغام کو واضح کردینے والی ہے۔
Verse 196 — Surah Ash-Shuara 26:196
اور اس (قرآن) کا تذکرہ پچھلی (آسمانی) کتابوں میں بھی موجود ہے۔
Verse 197 — Surah Ash-Shuara 26:197
بھلا کیا ان لوگوں کے لیے یہ کوئی دلیل نہیں ہے کہ بنو اسرائیل کے علماء اس سے واقف ہیں ؟
Verse 198 — Surah Ash-Shuara 26:198
اور اگر ہم یہ کتاب عجمی لوگوں میں سے کسی پر نازل کردیتے۔
Verse 199 — Surah Ash-Shuara 26:199
اور وہ ان کے سامنے پڑھ بھی دیتا تو یہ لوگ تب بھی اس پر ایمان نہ لاتے۔
Verse 200 — Surah Ash-Shuara 26:200
مجرموں کے دلوں میں تو ہم نے اس کو اسی طرح داخل کیا ہے۔
Verse 201 — Surah Ash-Shuara 26:201
یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک دردناک عذاب آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔
Verse 202 — Surah Ash-Shuara 26:202
اور وہ ان کے پاس اس طرح اچانک آکھڑا ہو کہ ان کو پتہ بھی نہ چلے۔
Verse 203 — Surah Ash-Shuara 26:203
پھر یہ کہہ اٹھیں کہ کیا ہمیں کچھ مہلت مل سکتی ہے ؟
Verse 204 — Surah Ash-Shuara 26:204
تو کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں ؟
Verse 205 — Surah Ash-Shuara 26:205
بھلا بتاؤ اگر ہم کئی سال تک انہیں عیش کا سامان مہیا کرتے رہیں۔
Verse 206 — Surah Ash-Shuara 26:206
پھر وہ (عذاب) ان کے اوپر آکھڑا ہو جس سے انہیں ڈرایا جارہا ہے۔
Verse 207 — Surah Ash-Shuara 26:207
تو عیش کا جو سامان ان کو دیا جاتا رہا وہ انہیں (عذاب کے وقت) کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے ؟
Verse 208 — Surah Ash-Shuara 26:208
اور ہم نے کسی بستی کو اس کے بغیر ہلاک نہیں کیا کہ (پہلے) اس کے لیے خبردار کرنے والے موجود تھے۔
Verse 209 — Surah Ash-Shuara 26:209
تاکہ وہ نصیحت کریں اور ہم ایسے تو نہیں ہیں کہ ظلم کریں۔
Verse 210 — Surah Ash-Shuara 26:210
اور اس قرآن کو شیاطین لے کر نہیں اترے۔
Verse 211 — Surah Ash-Shuara 26:211
نہ یہ قرآن ان کے مطلب کا ہے اور نہ وہ ایسا کرسکتے ہیں۔
Verse 212 — Surah Ash-Shuara 26:212
انہیں تو (وحی کے) سننے سے بھی روک دیا گیا ہے۔
Verse 213 — Surah Ash-Shuara 26:213
لہذا اللہ کے ساتھ کوئی معبود نہ مانو، کبھی تم بھی ان لوگوں میں شامل ہوجاؤ جنہیں عذاب ہوگا۔
Verse 214 — Surah Ash-Shuara 26:214
اور (اے پیغمبر) تم اپنے قریب ترین خاندان کو خبردار کرو
Verse 215 — Surah Ash-Shuara 26:215
اور جو مومن تمہارے پیچھے چلیں، ان کے لیے انکساری کے ساتھ اپنی شفقت کا بازو جھکا دو ۔
Verse 216 — Surah Ash-Shuara 26:216
اور اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ : جو کچھ تم کر رہے ہو، اس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔
Verse 217 — Surah Ash-Shuara 26:217
اور اس (اللہ) پر بھروسہ رکھو جو بڑا اقتدار والا، بہت مہربان ہے۔
Verse 218 — Surah Ash-Shuara 26:218
جو تمہیں اس وقت بھی دیکھتا ہے جب تم (عبادت کے لیے) کھڑے ہوتے ہو۔
Verse 219 — Surah Ash-Shuara 26:219
اور سجدہ کرنے والوں کے درمیان تمہاری آمد و رفت کو بھی دیکھتا ہے۔
Verse 220 — Surah Ash-Shuara 26:220
یقین رکھو کہ وہی ہے جو ہر بات سنتا ہر چیز جانتا ہے۔
Verse 221 — Surah Ash-Shuara 26:221
کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کن لوگوں پر اترتے ہیں ؟
Verse 222 — Surah Ash-Shuara 26:222
وہ ہر ایسے شخص پر اترتے ہیں جو پرلے درجے کا جھوٹا گنہگار ہو۔
Verse 223 — Surah Ash-Shuara 26:223
وہ سنی سنائی بات لا ڈالتے ہیں، اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔
Verse 224 — Surah Ash-Shuara 26:224
رہے شاعر لوگ، تو ان کے پیچھے تو بےراہ لوگ چلتے ہیں۔
Verse 225 — Surah Ash-Shuara 26:225
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں ؟
Verse 226 — Surah Ash-Shuara 26:226
اور یہ کہ وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں ہیں۔
Verse 227 — Surah Ash-Shuara 26:227
ہاں مگر وہ لوگ مستثنی ہیں جو ایمان لائے، اور انہوں نے نیک عمل کیے، اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا، اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد اس کا بدلہ لیا۔ اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب پتہ چل جائے گا کہ وہ کس انجام کی طرف پلٹ رہے ہیں۔