Back to Languages

Urdu - Chapter 29 - Al-Ankabut

Translation by Muhammad Taqi Usmani — Permalink

Verse 1 — Surah Al-Ankabut 29:1

Verse 2 — Surah Al-Ankabut 29:2

کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں یونہی چھوڑ دیا جائے گا کہ بس وہ یہ کہہ دیں کہ : ہم ایمان لے آئے۔ اور ان کو آزمایا نہ جائے ؟

Verse 3 — Surah Al-Ankabut 29:3

حالانکہ ہم نے ان سب کی آزمائش کی ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ لہذا اللہ ضرور معلوم کر کے رہے گا کہ کون لوگ ہیں جنہوں نے سچائی سے کام لیا ہے اور وہ یہ بھی معلوم کر کے رہے گا کہ کون لوگ جھوٹے ہیں۔

Verse 4 — Surah Al-Ankabut 29:4

جن لوگوں نے برے برے کام کیے ہیں، کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہم سے بازی لے جائیں گے ؟ بہت برا اندازہ ہے جو وہ لگا رہے ہیں۔

Verse 5 — Surah Al-Ankabut 29:5

جو شخص اللہ سے جاملنے کی امید رکھتا ہو، اسے یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ کی مقرر کی ہوئی میعاد ضرور آکر رہے گی، اور وہی ہے جو ہر بات سنتا، ہر چیز جانتا ہے۔

Verse 6 — Surah Al-Ankabut 29:6

اور جو شخص بھی ہمارے راستے میں محنت اٹھاتا ہے، وہ اپنے ہی فائدے کے لیے محنت اٹھاتا ہے۔ یقینا اللہ تمام دنیا جہان کے لوگوں سے بےنیاز ہے۔

Verse 7 — Surah Al-Ankabut 29:7

اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ہم ان کی خطاؤں کو ضرور ان سے جھاڑ دیں گے، اور جو عمل وہ کرتے رہے ہیں، ان کا بہترین بدلہ انہیں ضرور دیں گے۔

Verse 8 — Surah Al-Ankabut 29:8

اور ہم نے انسان کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ اور اگر وہ تم پر زور ڈالیں کہ تم میرے ساتھ کسی ایسے (معبود) کو شریک ٹھہراؤ جس کے بارے میں تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، تو ان کا کہنا مت مانو میری ہی طرف تم سب کو لوٹ کر آنا ہے، اس وقت میں تمہیں بتاؤں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔

Verse 9 — Surah Al-Ankabut 29:9

اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ہم انہیں ضرور نیک لوگوں میں شامل کریں گے۔

Verse 10 — Surah Al-Ankabut 29:10

اور کچھ لوگ ایسے ہیں کہ وہ کہہ دیتے ہیں کہ : ہم اللہ پر ایمان لے آئے ہیں۔ پھر جب ان کو اللہ کے راستے میں کوئی تکلیف پہنچائی جاتی ہے تو وہ لوگوں کی پہنچائی ہوئی تکلیف کو ایسا سمجھتے ہیں جیسا اللہ کا عذاب اور اگر کبھی تمہارے پروردگار کی طرف سے کوئی مدد ان (مسلمانوں) کے پاس آگئی ہے تو وہ ضرور یہ کہیں گے کہ : ہم تو تمہارے ساتھ تھے۔ بھلا کیا اللہ کو وہ باتیں اچھی معلوم نہیں ہیں جو سارے دنیا جہان کے لوگوں کے سینوں میں چھپی ہیں ؟

Verse 11 — Surah Al-Ankabut 29:11

اور اللہ تعالیٰ ضرور معلوم کر کے رہے گا کہ کون لوگ ایمان لائے ہیں اور وہ ضرور معلوم کر کے رہے گا کہ کون لوگ منافق ہیں۔

Verse 12 — Surah Al-Ankabut 29:12

اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، انہوں نے ایمان والوں سے کہا کہ : ہمارے راستے کے پیچھے چلو تاکہ ہم تمہاری خطاؤں کا بوجھ اٹھالیں گے۔ حالانکہ وہ ان کی خطاؤں کا ذرا بھی بوجھ نہیں اٹھاسکتے، اور یہ لوگ یقینا بالکل جھوٹے ہیں۔

Verse 13 — Surah Al-Ankabut 29:13

اور وہ اپنے گناہوں کے بوجھ بھی ضرور اٹھائیں گے اور اپنے بوجھ کے ساتھ کچھ اور بوجھ بھی۔ اور یہ لوگ جتنے جھوٹ گھڑا کرتے تھے، قیامت کے دن ان سے سب کی باز پرس ضرور کی جائے گی۔

Verse 14 — Surah Al-Ankabut 29:14

اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کے پاس بھیجا تھا، چنانچہ پچاس کم ایک ہزار سال تک وہ ان کے درمیان رہے، پھر ان کو طوفان نے آپکڑا، اور وہ ظالم لوگ تھے۔

Verse 15 — Surah Al-Ankabut 29:15

پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو بچا لیا، اور ہم نے اس کو دنیا جہان والوں کے لیے ایک عبرت بنادیا۔

Verse 16 — Surah Al-Ankabut 29:16

اور ہم نے ابراہیم کو بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : اللہ کی عبادت کرو، اور اس سے ڈرو یہی بات تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم سمجھ سے کام لو۔

Verse 17 — Surah Al-Ankabut 29:17

جو کچھ تم کرتے ہو وہ یہ ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر تم بتوں کو پوجتے ہو، اور جھوٹی باتیں گھڑتے ہو، یقین جانو کہ اللہ کو چھوڑ کر جن جن کی تم عبادت کرتے ہو، وہ تمہیں رزق دینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے، اس لیے رزق اللہ کے پاس تلاش کرو، اور اس کی عبادت کرو، اور اس کا شکر ادا کرو۔ اسی کے پاس تمہیں واپس لوٹایا جائے گا۔

Verse 18 — Surah Al-Ankabut 29:18

اور اگر تم مجھے جھٹلا رہے ہو تو تم سے پہلے بہت سی قومیں جھٹلانے کی روش اختیار کرچکی ہیں، اور رسول پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی کہ وہ صاف صاف بات پہنچا دے۔

Verse 19 — Surah Al-Ankabut 29:19

بھلا کیا ان لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ کس طرح مخلوق کو شروع میں پیدا کرتا ہے ؟ پھر وہی اسے دوبارہ پیدا کرے گا، یہ کام تو اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔

Verse 20 — Surah Al-Ankabut 29:20

کہو کہ : ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے کس طرح مخلوق کو شروع میں پیدا کیا، پھر اللہ ہی آخرت والی مخلوق کو بھی اٹھا کھڑا کرے گا۔ یقینا اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

Verse 21 — Surah Al-Ankabut 29:21

وہ جس کو چاہے گا، سزا دے گا، اور جس پر چاہے گا رحم کرے گا، اور اسی کی طرف تم سب کو پلٹا کرلے جایا جائے گا۔

Verse 22 — Surah Al-Ankabut 29:22

اور تم نہ زمین میں (اللہ کو) عاجز کرسکتے ہو، اور نہ آسمان میں، اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی رکھوالا ہے، اور نہ کوئی مددگار۔

Verse 23 — Surah Al-Ankabut 29:23

اور جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں کا اور اس سے جاملنے کا انکار کیا ہے، وہ میری رحمت سے مایوس ہوچکے ہیں، اور ان کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے۔

Verse 24 — Surah Al-Ankabut 29:24

غرض ابراہیم کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ انہوں نے کہا : قتل کر ڈالو اس کو یا جلا ڈالو اسے۔ پھر اللہ نے ابراہیم کو آگ سے بچایا۔ یقینا اس واقعے میں ان لوگوں کے لیے بڑی عبرتیں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔

Verse 25 — Surah Al-Ankabut 29:25

اور ابراہیم نے یہ بھی کہا کہ : تم نے اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو (خدا) مانا ہوا ہے، جس کے ذریعے دنیوی زندگی میں تمہاری آپس کی دوستی قائم ہے۔ پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے کا انکار کرو گے، اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے، اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا، اور تمہیں کسی بھی طرح کے مددگار میسر نہیں ہوں گے۔

Verse 26 — Surah Al-Ankabut 29:26

پھر لوط ان پر ایمان لائے اور ابراہیم نے کہا کہ : میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کر کے جارہا ہوں وہی ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل

Verse 27 — Surah Al-Ankabut 29:27

اور ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب (جیسے بیٹے) عطا فرمائے، اور ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب کا سلسلہ جاری رکھا، اور ان کا اجر ہم نے انہیں دنیا میں (بھی) دیا اور یقینا آخرت میں ان کا شمار صالحین میں ہوگا۔

Verse 28 — Surah Al-Ankabut 29:28

اور ہم نے لو ط کو بھیجا جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا : حقیقت یہ ہے کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا جہان والوں میں سے کسی نے نہیں کیا۔

Verse 29 — Surah Al-Ankabut 29:29

کیا تم مردوں کے پاس جاتے ہو اور راستوں میں ڈاکے ڈالتے ہو، اور اپنی بھری مجلس میں بدی کا ارتکاب کرتے ہو ؟ پھر ان کی قوم کے لوگوں کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں تھا کہ انہوں نے کہا : لے آؤ ہم پر اللہ کا عذاب اگر تم سچے ہو۔

Verse 30 — Surah Al-Ankabut 29:30

لوط نے کہا : میرے پروردگار ! ان مفسد لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرمایے۔

Verse 31 — Surah Al-Ankabut 29:31

اور جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابراہیم کے پاس (ان کے بیٹا ہونے کی) خوشخبری لے کر پہنچے تو انہوں نے کہا کہ : ہم اس بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے باشندے بڑے ظالم بنے ہوئے ہیں۔

Verse 32 — Surah Al-Ankabut 29:32

ابراہیم نے کہا : اس بستی میں تو لوط موجود ہیں۔ فرشتوں نے کہا : ہمیں خوب معلوم ہے کہ اس میں کون ہے۔ ہم انہیں اور ان کے متعلقین کو ضرور بچا لیں گے، سوائے ان کی بیوی کے کہ وہ ان لوگوں میں شامل رہے گی جو پیچھے رہ جائیں گے۔

Verse 33 — Surah Al-Ankabut 29:33

اور جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لوط کے پاس پہنچے تو لوط ان کی وجہ سے سخت پریشان ہوئے، اور ان کی وجہ سے ان کا دل تنگ ہونے لگا، ان فرشتوں نے کہا : آپ نہ ڈریے، اور نہ غم کیجیے۔ ہم آپ کو اور آپ کے متعلقین کو بچالیں گے، سوائے آپ کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں شامل رہے گی۔

Verse 34 — Surah Al-Ankabut 29:34

اس بستی کے باشندے جو بدکاریاں کرتے رہے ہیں، ان کی وجہ سے ہم ان پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں۔

Verse 35 — Surah Al-Ankabut 29:35

اور ہم نے اس بستی کی کچھ کھلی نشانی ان لوگوں کے لیے چھوڑ دی ہے جو سمجھ سے کام لیں۔

Verse 36 — Surah Al-Ankabut 29:36

اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ چنانچہ انہوں نے کہا : میری قوم کے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو، اور آخرت والے دن کی امید رکھو، اور زمین میں فساد پھیلاتے مت پھرو۔

Verse 37 — Surah Al-Ankabut 29:37

پھر ہوا یہ کہ ان لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا، چنانچہ زلزلے نے ان کو آپکڑا، اور وہ اپنے گھر میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

Verse 38 — Surah Al-Ankabut 29:38

اور ہم نے عاد اور ثمود کو بھی ہلاک کیا، اور ان کی تباہی تم پر ان کے گھروں سے واضح ہوچکی ہے۔ اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نگاہوں میں خوشنما بنا کر انہیں راہ راست سے روک دیا تھا، حالانکہ وہ سوجھ بوجھ کے لوگ تھے۔

Verse 39 — Surah Al-Ankabut 29:39

اور قارون، فرعون اور ہامان کو بھی ہم نے ہلاک کیا موسیٰ ان کے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے تھے، مگر انہوں نے زمین میں تکبر سے کام لیا، اور وہ (ہم سے) جیت نہ سکے۔

Verse 40 — Surah Al-Ankabut 29:40

ہم نے ان سب کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ میں لیا، چنانچہ ان میں سے کچھ وہ تھے جن پر ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی اور کچھ وہ تھے جن کو ایک چنگھاڑ نے آپکڑا، اور کچھ وہ تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا، اور کچھ وہ جنہیں ہم نے پانی میں غرق کردیا۔ اور اللہ ایسا نہیں تھا کہ ان پر ظلم کرتا، لیکن یہ لوگ خود اپنی جانوں پر ظلم کیا کرتے تھے۔

Verse 41 — Surah Al-Ankabut 29:41

جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے رکھوالے بنا رکھے ہیں، ان کی مثال مکڑی کی سی ہے، جس نے کوئی گھر بنا لیا ہو، اور کھلی بات ہے کہ تمام گھروں میں سب سے کمزور گھر مکڑی کا ہوتا ہے۔ کاش کہ یہ لوگ جانتے۔

Verse 42 — Surah Al-Ankabut 29:42

یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جس جس چیز کو پکارتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے، اور وہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

Verse 43 — Surah Al-Ankabut 29:43

ہم یہ مثالیں لوگوں کے فائدے کے لیے دیتے ہیں، اور انہیں سمجھتے وہی ہیں جو علم والے ہیں۔

Verse 44 — Surah Al-Ankabut 29:44

اللہ نے آسمانوں اور زمین کو برحق (مقصد کے لیے) پیدا کیا ہے۔ درحقیقت اس میں ایمان والوں کے لیے بڑی نشانی ہے۔

Verse 45 — Surah Al-Ankabut 29:45

(اے پیغمبر) جو کتاب تمہارے پاس وحی کے ذریعے بھیجی گئی ہے اس کی تلاوت کرو، اور نماز قائم کرو۔ بیشک نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ اور اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سب کو جانتا ہے۔

Verse 46 — Surah Al-Ankabut 29:46

اور (مسلمانو) اہل کتاب سے بحث نہ کرو، مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو۔ البتہ ان میں سے جو زیادتی کریں، ان کی بات اور ہے۔ اور (ان سے) یہ کہو کہ : ہم اس کتاب پر بھی ایمان لائے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی ہے، اور اس پر بھی جو تم پر نازل کی گئی تھی، اور ہمارا خدا اور تمہارا خدا ایک ہے، اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔

Verse 47 — Surah Al-Ankabut 29:47

اور (اے پیغمبر) اسی طرح ہم نے تم پر کتاب نازل کی ہے، اس لیے جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں، اور ان (بت پرستوں) میں سے بھی کچھ لوگ ہیں جو اس پر ایمان لارہے ہیں، اور ہماری آیتوں کا انکار صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو کافر ہیں۔

Verse 48 — Surah Al-Ankabut 29:48

اور تم اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے، اور نہ کوئی کتاب اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے۔ اگر ایسا ہوتا تو باطل والے میں میخ نکال سکتے تھے۔

Verse 49 — Surah Al-Ankabut 29:49

حقیقت تو یہ ہے کہ یہ قرآن ایسی نشانیوں کا مجموعہ ہے جو ان لوگوں کے سینوں میں بالکل واضح ہیں جنہیں علم عطا کیا گیا ہے اور ہماری آیتوں کا انکار صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو ظالم ہیں۔

Verse 50 — Surah Al-Ankabut 29:50

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ : ان (پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ان کے پروردگار کی طرف سے نشانیاں کیوں نہیں اتاری گئیں ؟ (اے پیغمبر ! ان سے) کہہ دو کہ : نشانیاں صرف اللہ کے پاس ہیں اور میں تو ایک واضح طور پر خبردار کرنے والا ہوں۔

Verse 51 — Surah Al-Ankabut 29:51

بھلا کیا ان کے لیے یہ (نشانی) کافی نہیں ہے کہ ہم نے تم پر کتاب اتاری ہے جو ان کو پڑھ کر سنائی جارہی ہے ؟ یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی رحمت اور نصیحت ہے جو ماننے والے ہوں۔

Verse 52 — Surah Al-Ankabut 29:52

کہہ دو کہ : میرے اور تمہارے درمیان گواہی دینے کے لیے اللہ کافی ہے، اسے ان تمام چیزوں کا علم ہے جو آسمانوں اور زمین میں موجود ہیں۔ اور جو لوگ باطل پر ایمان لائے ہیں، اور اللہ کا انکار کیا ہے، وہی ہیں جو سخت نقصان اٹھانے والے ہیں۔

Verse 53 — Surah Al-Ankabut 29:53

اور یہ لوگ تم سے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں، اگر (عذاب کا) ایک معین وقت نہ ہوتا تو ان پر ضرور عذاب آجاتا اور وہ آئے گا ضرور (مگر) اتنا اچانک کہ ان کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔

Verse 54 — Surah Al-Ankabut 29:54

یہ تم سے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں، اور یقینا جہنم ان کو گھیرے میں لے لے گی۔

Verse 55 — Surah Al-Ankabut 29:55

اس دن جب عذاب ان پر اوپر سے بھی چھا جائے گا، اور ان کے پاؤں کے نیچے سے بھی، اور کہے گا کہ : چکھو ان کاموں کا مزہ جو تم کیا کرتے تھے۔

Verse 56 — Surah Al-Ankabut 29:56

اے میرے بندو جو ایمان لاچکے ہو ! یقین جانو میری زمین بہت وسیع ہے، لہذا خالص میری عبادت کرو۔

Verse 57 — Surah Al-Ankabut 29:57

ہر متنفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے، پھر ہماری ہی طرف تم سب کو واپس لایا جائے گا۔

Verse 58 — Surah Al-Ankabut 29:58

اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کو ہم ضرور جنت کے ایسے بالاخانوں میں آباد کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ بہترین اجر ہے ان عمل کرنے والوں کا۔

Verse 59 — Surah Al-Ankabut 29:59

جنہوں نے صبر سے کام لیا، اور جو اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں۔

Verse 60 — Surah Al-Ankabut 29:60

اور کتنے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے۔ اللہ انہیں بھی رزق دیتا ہے، اور تمہیں بھی اور وہی ہے جو ہر بات سنتا، ہر چیز جانتا ہے۔

Verse 61 — Surah Al-Ankabut 29:61

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ : کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور سورج اور چاند کو کام پر لگایا ؟ تو وہ ضرور یہ کہیں گے کہ : اللہ ! پھر آخر یہ لوگ کہاں سے اوندھے چل پڑتے ہیں ؟

Verse 62 — Surah Al-Ankabut 29:62

اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے، رزق میں کشادگی کردیتا ہے، اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگی کردیتا ہے، یقینا اللہ ہر چیز کا مکمل علم رکھتا ہے۔

Verse 63 — Surah Al-Ankabut 29:63

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ : کون ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعے زمین کے مردہ ہونے کے بعد اسے زندگی بخشی ؟ تو وہ ضرور یہ کہیں گے کہ : اللہ ! کہو : الحمدللہ ! لیکن ان میں سے اکثر لوگ عقل سے کام نہیں لیتے۔

Verse 64 — Surah Al-Ankabut 29:64

اور یہ دنیوی زندگی کھیل کود کے سوا کچھ بھی نہیں اور حقیقت یہ ہے کہ دار آخرت ہی اصل زندگی ہے، اگر یہ لوگ جانتے ہوتے۔

Verse 65 — Surah Al-Ankabut 29:65

چنانچہ جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو اس طرح پکارتے ہیں کہ ان کا اعتقاد خالص اسی پر ہوتا ہے۔ پھر جب وہ انہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو فورا شرک کرنے لگتے ہیں۔

Verse 66 — Surah Al-Ankabut 29:66

کرلیں یہ لوگ ناشکری اس نعمت کی جو ہم نے ان کو دی ہے، اور اڑالیں کچھ مزے۔ پھر وہ وقت دور نہیں جب انہیں سب پتہ چل جائے گا۔

Verse 67 — Surah Al-Ankabut 29:67

بھلا کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے (ان کے شہر کو) ایک پرامن حرم بنادیا ہے، جبکہ ان کے اردگرد لوگوں کا حال یہ ہے کہ انہیں اچک لیا جاتا ہے۔ کیا پھر بھی یہ باطل پر ایمان لاتے ہیں، اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں ؟

Verse 68 — Surah Al-Ankabut 29:68

اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر بہتان باندھے، یا جب اس کے پاس حق کی بات پہنچے تو وہ اسے جھٹلائے ؟ کیا جہنم میں (ایسے) کافروں کا ٹھکانا نہیں ہوگا ؟

Verse 69 — Surah Al-Ankabut 29:69

اور جن لوگوں نے ہماری خاطر کوشش کی ہے، ہم انہیں ضرور بالضرور اپنے راستوں پر پہنچائیں گے، اور یقینا اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔