حالانکہ ہم نے ان سب کی آزمائش کی ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ لہذا اللہ ضرور معلوم کر کے رہے گا کہ کون لوگ ہیں جنہوں نے سچائی سے کام لیا ہے اور وہ یہ بھی معلوم کر کے رہے گا کہ کون لوگ جھوٹے ہیں۔
جو شخص اللہ سے جاملنے کی امید رکھتا ہو، اسے یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ کی مقرر کی ہوئی میعاد ضرور آکر رہے گی، اور وہی ہے جو ہر بات سنتا، ہر چیز جانتا ہے۔
اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ہم ان کی خطاؤں کو ضرور ان سے جھاڑ دیں گے، اور جو عمل وہ کرتے رہے ہیں، ان کا بہترین بدلہ انہیں ضرور دیں گے۔
اور ہم نے انسان کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ اور اگر وہ تم پر زور ڈالیں کہ تم میرے ساتھ کسی ایسے (معبود) کو شریک ٹھہراؤ جس کے بارے میں تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، تو ان کا کہنا مت مانو میری ہی طرف تم سب کو لوٹ کر آنا ہے، اس وقت میں تمہیں بتاؤں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔
اور کچھ لوگ ایسے ہیں کہ وہ کہہ دیتے ہیں کہ : ہم اللہ پر ایمان لے آئے ہیں۔ پھر جب ان کو اللہ کے راستے میں کوئی تکلیف پہنچائی جاتی ہے تو وہ لوگوں کی پہنچائی ہوئی تکلیف کو ایسا سمجھتے ہیں جیسا اللہ کا عذاب اور اگر کبھی تمہارے پروردگار کی طرف سے کوئی مدد ان (مسلمانوں) کے پاس آگئی ہے تو وہ ضرور یہ کہیں گے کہ : ہم تو تمہارے ساتھ تھے۔ بھلا کیا اللہ کو وہ باتیں اچھی معلوم نہیں ہیں جو سارے دنیا جہان کے لوگوں کے سینوں میں چھپی ہیں ؟
اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، انہوں نے ایمان والوں سے کہا کہ : ہمارے راستے کے پیچھے چلو تاکہ ہم تمہاری خطاؤں کا بوجھ اٹھالیں گے۔ حالانکہ وہ ان کی خطاؤں کا ذرا بھی بوجھ نہیں اٹھاسکتے، اور یہ لوگ یقینا بالکل جھوٹے ہیں۔
اور وہ اپنے گناہوں کے بوجھ بھی ضرور اٹھائیں گے اور اپنے بوجھ کے ساتھ کچھ اور بوجھ بھی۔ اور یہ لوگ جتنے جھوٹ گھڑا کرتے تھے، قیامت کے دن ان سے سب کی باز پرس ضرور کی جائے گی۔
جو کچھ تم کرتے ہو وہ یہ ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر تم بتوں کو پوجتے ہو، اور جھوٹی باتیں گھڑتے ہو، یقین جانو کہ اللہ کو چھوڑ کر جن جن کی تم عبادت کرتے ہو، وہ تمہیں رزق دینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے، اس لیے رزق اللہ کے پاس تلاش کرو، اور اس کی عبادت کرو، اور اس کا شکر ادا کرو۔ اسی کے پاس تمہیں واپس لوٹایا جائے گا۔
اور اگر تم مجھے جھٹلا رہے ہو تو تم سے پہلے بہت سی قومیں جھٹلانے کی روش اختیار کرچکی ہیں، اور رسول پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی کہ وہ صاف صاف بات پہنچا دے۔
کہو کہ : ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے کس طرح مخلوق کو شروع میں پیدا کیا، پھر اللہ ہی آخرت والی مخلوق کو بھی اٹھا کھڑا کرے گا۔ یقینا اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
غرض ابراہیم کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ انہوں نے کہا : قتل کر ڈالو اس کو یا جلا ڈالو اسے۔ پھر اللہ نے ابراہیم کو آگ سے بچایا۔ یقینا اس واقعے میں ان لوگوں کے لیے بڑی عبرتیں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔
اور ابراہیم نے یہ بھی کہا کہ : تم نے اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو (خدا) مانا ہوا ہے، جس کے ذریعے دنیوی زندگی میں تمہاری آپس کی دوستی قائم ہے۔ پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے کا انکار کرو گے، اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے، اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا، اور تمہیں کسی بھی طرح کے مددگار میسر نہیں ہوں گے۔
اور ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب (جیسے بیٹے) عطا فرمائے، اور ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب کا سلسلہ جاری رکھا، اور ان کا اجر ہم نے انہیں دنیا میں (بھی) دیا اور یقینا آخرت میں ان کا شمار صالحین میں ہوگا۔
اور ہم نے لو ط کو بھیجا جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا : حقیقت یہ ہے کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا جہان والوں میں سے کسی نے نہیں کیا۔
کیا تم مردوں کے پاس جاتے ہو اور راستوں میں ڈاکے ڈالتے ہو، اور اپنی بھری مجلس میں بدی کا ارتکاب کرتے ہو ؟ پھر ان کی قوم کے لوگوں کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں تھا کہ انہوں نے کہا : لے آؤ ہم پر اللہ کا عذاب اگر تم سچے ہو۔
اور جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابراہیم کے پاس (ان کے بیٹا ہونے کی) خوشخبری لے کر پہنچے تو انہوں نے کہا کہ : ہم اس بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے باشندے بڑے ظالم بنے ہوئے ہیں۔
ابراہیم نے کہا : اس بستی میں تو لوط موجود ہیں۔ فرشتوں نے کہا : ہمیں خوب معلوم ہے کہ اس میں کون ہے۔ ہم انہیں اور ان کے متعلقین کو ضرور بچا لیں گے، سوائے ان کی بیوی کے کہ وہ ان لوگوں میں شامل رہے گی جو پیچھے رہ جائیں گے۔
اور جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لوط کے پاس پہنچے تو لوط ان کی وجہ سے سخت پریشان ہوئے، اور ان کی وجہ سے ان کا دل تنگ ہونے لگا، ان فرشتوں نے کہا : آپ نہ ڈریے، اور نہ غم کیجیے۔ ہم آپ کو اور آپ کے متعلقین کو بچالیں گے، سوائے آپ کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں شامل رہے گی۔
اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ چنانچہ انہوں نے کہا : میری قوم کے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو، اور آخرت والے دن کی امید رکھو، اور زمین میں فساد پھیلاتے مت پھرو۔
اور ہم نے عاد اور ثمود کو بھی ہلاک کیا، اور ان کی تباہی تم پر ان کے گھروں سے واضح ہوچکی ہے۔ اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نگاہوں میں خوشنما بنا کر انہیں راہ راست سے روک دیا تھا، حالانکہ وہ سوجھ بوجھ کے لوگ تھے۔
اور قارون، فرعون اور ہامان کو بھی ہم نے ہلاک کیا موسیٰ ان کے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے تھے، مگر انہوں نے زمین میں تکبر سے کام لیا، اور وہ (ہم سے) جیت نہ سکے۔
ہم نے ان سب کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ میں لیا، چنانچہ ان میں سے کچھ وہ تھے جن پر ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی اور کچھ وہ تھے جن کو ایک چنگھاڑ نے آپکڑا، اور کچھ وہ تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا، اور کچھ وہ جنہیں ہم نے پانی میں غرق کردیا۔ اور اللہ ایسا نہیں تھا کہ ان پر ظلم کرتا، لیکن یہ لوگ خود اپنی جانوں پر ظلم کیا کرتے تھے۔
جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے رکھوالے بنا رکھے ہیں، ان کی مثال مکڑی کی سی ہے، جس نے کوئی گھر بنا لیا ہو، اور کھلی بات ہے کہ تمام گھروں میں سب سے کمزور گھر مکڑی کا ہوتا ہے۔ کاش کہ یہ لوگ جانتے۔
(اے پیغمبر) جو کتاب تمہارے پاس وحی کے ذریعے بھیجی گئی ہے اس کی تلاوت کرو، اور نماز قائم کرو۔ بیشک نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ اور اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سب کو جانتا ہے۔
اور (مسلمانو) اہل کتاب سے بحث نہ کرو، مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو۔ البتہ ان میں سے جو زیادتی کریں، ان کی بات اور ہے۔ اور (ان سے) یہ کہو کہ : ہم اس کتاب پر بھی ایمان لائے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی ہے، اور اس پر بھی جو تم پر نازل کی گئی تھی، اور ہمارا خدا اور تمہارا خدا ایک ہے، اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔
اور (اے پیغمبر) اسی طرح ہم نے تم پر کتاب نازل کی ہے، اس لیے جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں، اور ان (بت پرستوں) میں سے بھی کچھ لوگ ہیں جو اس پر ایمان لارہے ہیں، اور ہماری آیتوں کا انکار صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو کافر ہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ یہ قرآن ایسی نشانیوں کا مجموعہ ہے جو ان لوگوں کے سینوں میں بالکل واضح ہیں جنہیں علم عطا کیا گیا ہے اور ہماری آیتوں کا انکار صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو ظالم ہیں۔
اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ : ان (پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ان کے پروردگار کی طرف سے نشانیاں کیوں نہیں اتاری گئیں ؟ (اے پیغمبر ! ان سے) کہہ دو کہ : نشانیاں صرف اللہ کے پاس ہیں اور میں تو ایک واضح طور پر خبردار کرنے والا ہوں۔
بھلا کیا ان کے لیے یہ (نشانی) کافی نہیں ہے کہ ہم نے تم پر کتاب اتاری ہے جو ان کو پڑھ کر سنائی جارہی ہے ؟ یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی رحمت اور نصیحت ہے جو ماننے والے ہوں۔
کہہ دو کہ : میرے اور تمہارے درمیان گواہی دینے کے لیے اللہ کافی ہے، اسے ان تمام چیزوں کا علم ہے جو آسمانوں اور زمین میں موجود ہیں۔ اور جو لوگ باطل پر ایمان لائے ہیں، اور اللہ کا انکار کیا ہے، وہی ہیں جو سخت نقصان اٹھانے والے ہیں۔
اور یہ لوگ تم سے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں، اگر (عذاب کا) ایک معین وقت نہ ہوتا تو ان پر ضرور عذاب آجاتا اور وہ آئے گا ضرور (مگر) اتنا اچانک کہ ان کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔
اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کو ہم ضرور جنت کے ایسے بالاخانوں میں آباد کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ بہترین اجر ہے ان عمل کرنے والوں کا۔
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ : کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور سورج اور چاند کو کام پر لگایا ؟ تو وہ ضرور یہ کہیں گے کہ : اللہ ! پھر آخر یہ لوگ کہاں سے اوندھے چل پڑتے ہیں ؟
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ : کون ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعے زمین کے مردہ ہونے کے بعد اسے زندگی بخشی ؟ تو وہ ضرور یہ کہیں گے کہ : اللہ ! کہو : الحمدللہ ! لیکن ان میں سے اکثر لوگ عقل سے کام نہیں لیتے۔
چنانچہ جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو اس طرح پکارتے ہیں کہ ان کا اعتقاد خالص اسی پر ہوتا ہے۔ پھر جب وہ انہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو فورا شرک کرنے لگتے ہیں۔
بھلا کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے (ان کے شہر کو) ایک پرامن حرم بنادیا ہے، جبکہ ان کے اردگرد لوگوں کا حال یہ ہے کہ انہیں اچک لیا جاتا ہے۔ کیا پھر بھی یہ باطل پر ایمان لاتے ہیں، اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں ؟
اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر بہتان باندھے، یا جب اس کے پاس حق کی بات پہنچے تو وہ اسے جھٹلائے ؟ کیا جہنم میں (ایسے) کافروں کا ٹھکانا نہیں ہوگا ؟