Back to Languages

Urdu - Chapter 43 - Az-Zukhruf

Translation by Muhammad Taqi Usmani — Permalink

Verse 1 — Surah Az-Zukhruf 43:1

Verse 2 — Surah Az-Zukhruf 43:2

قسم ہے اس واضح کتاب کی۔

Verse 3 — Surah Az-Zukhruf 43:3

ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے، تاکہ تم سمجھو۔

Verse 4 — Surah Az-Zukhruf 43:4

اور حقیقت یہ ہے کہ وہ ہمارے پاس لوح محفوظ میں بڑے اونچے درجے کی حکمت سے بھری ہوئی کتاب ہے۔

Verse 5 — Surah Az-Zukhruf 43:5

بھلا کیا ہم منہ موڑ کر اس نصیحت نامے کو تم سے اس بنا پر ہٹالیں کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو ؟

Verse 6 — Surah Az-Zukhruf 43:6

اور کتنے ہی نبی ہم نے پچھلے لوگوں میں بھی بھیجے ہیں۔

Verse 7 — Surah Az-Zukhruf 43:7

اور ان لوگوں کے پاس کوئی نبی ایسا نہیں آیا جس کا وہ مذاق نہ اڑاتے ہوں۔

Verse 8 — Surah Az-Zukhruf 43:8

پھر جو لوگ ان (مکہ والوں) سے کہیں زیادہ زور آور تھے ہم نے انہیں ہلاک کردیا، اور ان پچھلے لوگوں کا حال پیچھے گزر چکا ہے۔

Verse 9 — Surah Az-Zukhruf 43:9

اور اگر تم ان (مشرکوں) سے پوچھو کہ سارے آسمان اور زمین کس نے پیدا کیے ہیں، تو وہ ضرور یہی کہیں گے کہ : انہیں اس ذات نے پیدا کیا ہے جو اقتدار کی بھی مالک ہے، علم کی بھی مالک۔

Verse 10 — Surah Az-Zukhruf 43:10

یہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا، اور اس میں تمہارے لیے راستے بنائے، تاکہ تم منزل تک پہنچ سکو۔

Verse 11 — Surah Az-Zukhruf 43:11

اور جس نے آسمان سے ایک خاص اندازے سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ذریعے ایک مردہ علاقے کو نئی زندگی دے دی، اسی طرح تمہیں (قبروں سے) نکال کر نئی زندگی دی جائے گی۔

Verse 12 — Surah Az-Zukhruf 43:12

اور جس نے ہر طرح کے جوڑے پیدا کیے اور تمہاری وہ کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سواری کرتے ہو۔

Verse 13 — Surah Az-Zukhruf 43:13

تاکہ تم ان کی پشت پر چڑھو، پھر جب ان پر چڑھ کر بیٹھ جاؤ تو اپنے پروردگار کی نعمت کو یاد کرو، اور یہ کہو کہ : پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے بس میں دے دیا، ورنہ ہم میں سے یہ طاقت نہیں تھی کہ اس کو قابو میں لاسکتے۔

Verse 14 — Surah Az-Zukhruf 43:14

اور بیشک ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

Verse 15 — Surah Az-Zukhruf 43:15

اور ان (مشرک) لوگوں نے یہ بات بنائی ہے کہ اللہ کا خود اس کے بندوں میں سے کوئی جزء ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلم کھلا ناشکرا ہے۔

Verse 16 — Surah Az-Zukhruf 43:16

بھلا کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے تو بیٹیاں پسند کی ہیں، اور تمہیں بیٹوں کے لیے منتخب کیا ہے ؟

Verse 17 — Surah Az-Zukhruf 43:17

حالانکہ ان میں سے کسی کو جب اس (بیٹی) کی (ولادت) خوشخبری دی جاتی ہے جو اس نے خدائے رحمن کی طرف منسوب کر رکھی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے، اور وہ دل ہی دل میں گھٹتا رہتا ہے۔

Verse 18 — Surah Az-Zukhruf 43:18

اور کیا (اللہ نے ایسی اولاد پسند کی ہے) جو زیوروں میں پالی پوسی جاتی ہے اور جو بحث مباحثے میں اپنی بات کھل کر بھی نہیں کہہ سکتی ؟

Verse 19 — Surah Az-Zukhruf 43:19

اس کے علاوہ انہوں نے فرشتوں کو جو خدائے رحمن کے بندے ہیں، مؤنث بنادیا ہے۔ کیا یہ لوگ ان کی تخلیق کے وقت موجود تھے ؟ ان کا یہ دعوی لکھ لیا جائے گا اور ان سے باز پرس ہوگی۔

Verse 20 — Surah Az-Zukhruf 43:20

اور یہ کہتے ہیں کہ : اگر خدائے رحمن چاہتا تو ہم ان (فرشتوں) کی عبادت نہ کرتے۔ ان کو اس بات کی حقیقت کا ذرا بھی علم نہیں ہے اور ان کا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ اندازوں کے تیر چلاتے ہیں۔

Verse 21 — Surah Az-Zukhruf 43:21

بھلا کیا ہم نے انہیں اس سے پہلے کوئی کتاب دی تھی جسے یہ تھامے بیٹھے ہیں ؟

Verse 22 — Surah Az-Zukhruf 43:22

نہیں، بلکہ ان کا کہنا یہ ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم کے مطابق ٹھیک ٹھیک راستے پر جارہے ہیں۔

Verse 23 — Surah Az-Zukhruf 43:23

اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے جب بھی کسی بستی میں کوئی خبردار کرنے والا (پیغمبر) بھیجا تو وہاں کے دولت مند لوگوں نے یہی کہا کہ : ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر پایا ہے، اور ہم انہی کے نقش قدم کے پیچھے چل رہے ہیں۔

Verse 24 — Surah Az-Zukhruf 43:24

پیغمبر نے کہا کہ : تم نے اپنے باپ دادوں کو جس طریقے پر پایا ہے، اگر میں تمہارے پاس اس سے زیادہ ہدایت کی بات لے کر آیا ہوں تو کیا پھر بھی (تم اپنے طریقے پر چلے جاؤ گے ؟) انہوں نے جواب دیا کہ : تم جو پیغام دے کر بھیجے گئے ہو ہم تو اس کو ماننے والے نہیں ہیں۔

Verse 25 — Surah Az-Zukhruf 43:25

نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان سے انتقام لیا، اب دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟

Verse 26 — Surah Az-Zukhruf 43:26

اور وہ وقت یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ : میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔

Verse 27 — Surah Az-Zukhruf 43:27

سوائے اس ذات کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، چنانچہ وہی میری رہنمائی کرتا ہے۔

Verse 28 — Surah Az-Zukhruf 43:28

اور ابراہیم نے اس (عقیدے) کو ایسی بات بنادیا جو ان کی اولاد میں باقی رہی، تاکہ لوگ (شرک سے) باز آئیں۔

Verse 29 — Surah Az-Zukhruf 43:29

(پھر بھی بہت سے لوگ باز نہ آئے) اس کے باوجود میں نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو زندگی کے فائدے دیے، یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف ہدایت دینے والا پیغمبر آگیا۔

Verse 30 — Surah Az-Zukhruf 43:30

اور جب وہ حق ان کے پاس آیا تو وہ کہنے لگے کہ : یہ تو جادو ہے اور ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔

Verse 31 — Surah Az-Zukhruf 43:31

اور کہنے لگے کہ : یہ قرآن دوبستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا ؟

Verse 32 — Surah Az-Zukhruf 43:32

بھلا کیا یہ لوگ ہیں جو تمہارے پروردگار کی رحمت تقسیم کریں گے ؟ دنیوی زندگی میں ان کی روزی کے ذرائع بھی ہم نے ہی ان کے درمیان تقسیم کر رکھے ہیں اور ہم نے ہی ان میں سے ایک کو دوسرے پر درجات میں فوقیت دی ہے، تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں۔ اور تمہارے پروردگار کی رحمت تو اس (دولت) سے کہیں بہتر چیز ہے جو یہ جمع کر رہے ہیں۔

Verse 33 — Surah Az-Zukhruf 43:33

اور اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمام انسان ایک ہی طریقے کے (یعنی کافر) ہوجائیں گے تو جو لوگ خدائے رحمن کے منکر ہیں، ہم ان کے لیے ان گھروں کی چھتیں بھی چاندی کی بنا دیتے، اور وہ سیڑھیاں بھی جن پر وہ چڑھتے ہیں۔

Verse 34 — Surah Az-Zukhruf 43:34

اور ان کے گھروں کے دروازے بھی، اور وہ تخت بھی جن پر وہ تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں۔

Verse 35 — Surah Az-Zukhruf 43:35

بلکہ انہیں سونا بنا دیتے، اور حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ بھی نہیں، صرف دنیوی زندگی کا سامان ہے۔ اور آخرت تمہارے پروردگار کے نزدیک پرہیزگاروں کے لیے ہے۔

Verse 36 — Surah Az-Zukhruf 43:36

اور جو شخص خدائے رحمن کے ذکر سے اندھا بن جائے، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں جو اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔

Verse 37 — Surah Az-Zukhruf 43:37

ایسے شیاطین ان کو راستے سے روکتے رہتے ہیں، اور وہ سمجھتے ہی کہ ہم ٹھیک راستے پر ہیں۔

Verse 38 — Surah Az-Zukhruf 43:38

یہاں تک کہ جب ایسا شخص ہمارے پاس آئے گا تو (اپنے شیطان ساتھی سے) کہے گا کہ : کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا، کیونکہ تو بہت برا ساتھی تھا۔

Verse 39 — Surah Az-Zukhruf 43:39

اور آج جب تم ظلم کرچکے ہو تو تمہیں یہ بات ہرگز کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی کہ تم عذاب میں ایک دوسرے کے شریک ہو۔

Verse 40 — Surah Az-Zukhruf 43:40

تو پھر (اے پیغمبر) کیا تم بہروں کو سناؤ گے، یا اندھوں کو اور ان لوگوں کو راستے پر لاؤ گے جو کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں ؟

Verse 41 — Surah Az-Zukhruf 43:41

اب تو یہی ہوگا کہ اگر ہم تمہیں دنیا سے اٹھالیں، تب بھی ہم ان سے بدلہ لینے والے ہیں۔

Verse 42 — Surah Az-Zukhruf 43:42

یا اگر تمہیں بھی وہ (عذاب) دکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے، تب بھی ہمیں ان پر ہر طرح کی قدرت حاصل ہے۔

Verse 43 — Surah Az-Zukhruf 43:43

لہذا تم پر جو وحی نازل کی گئی ہے، اسے مضبوطی سے تھامے رکھو۔ یقینا تم سیدھے راستے پر ہو۔

Verse 44 — Surah Az-Zukhruf 43:44

اور حقیقت یہ ہے کہ یہ وحی تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے ایک نیک نامی کا ذریعہ ہے، اور تم سب سے پوچھا جائے گا (کہ تم نے اس کا کیا حق ادا کیا ؟)

Verse 45 — Surah Az-Zukhruf 43:45

اور تم سے پہلے ہم نے اپنے جو پیغمبر بھیجے ہیں، ان سے پوچھ لو کہ کیا ہم نے خدائے رحمن کے سوا کوئی اور معبود بھی مقرر کیے تھے جن کی عبادت کی جائے ؟

Verse 46 — Surah Az-Zukhruf 43:46

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تھا، چنانچہ موسیٰ نے کہا کہ : میں رب العالمین کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں۔

Verse 47 — Surah Az-Zukhruf 43:47

پھر جب انہوں نے ہماری نشانیاں ان کے سامنے پیش کیں تو وہ ان کا مذاق اڑانے لگے۔

Verse 48 — Surah Az-Zukhruf 43:48

اور ہم انہیں جو نشانی بھی دکھاتے، وہ پہلی نشانی سے بڑھ چڑھ کر ہوتی تھی، اور ہم نے انہیں عذاب میں بھی پکڑا تاکہ وہ باز آجائیں۔

Verse 49 — Surah Az-Zukhruf 43:49

اور وہ یہ کہنے لگے کہ : اے جادوگر ! تم سے تمہارے پروردگار نے جو عہد کر رکھا ہے اس کا واسطہ دے کر اس سے ہمارے لیے دعا کرو، ہم یقینا راہ راست پر آجائیں گے۔

Verse 50 — Surah Az-Zukhruf 43:50

پھر جب ہم ان سے عذاب کو دور کردیتے ہیں تو پل بھر میں وہ اپنا وعدہ توڑ ڈالتے تھے۔

Verse 51 — Surah Az-Zukhruf 43:51

اور فرعون نے اپنی قوم کے درمیان پکار کر کہا کہ : اے میری قوم ! کیا مصر کی سلطنت میرے قبضے میں نہیں ہے ؟ اور (دیکھو) یہ دریا میرے نیچے بہہ رہے ہیں۔ کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا ؟

Verse 52 — Surah Az-Zukhruf 43:52

یا پھر مانو کہ میں اس شخص سے کہیں بہتر ہوں جو بڑا حقیر قسم کا ہے، اور اپنی بات کھل کر کہنا بھی اس کے لیے مشکل ہے۔

Verse 53 — Surah Az-Zukhruf 43:53

بھلا (اگر یہ پیغبر ہے تو) اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے ؟ یا پھر اس کے ساتھ فرشتے پر باندھے ہوئے کیوں نہ آئے ؟

Verse 54 — Surah Az-Zukhruf 43:54

اس طرح اس نے اپنی قوم کو بیوقوف بنایا اور انہوں نے اس کا کہنا مان لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ سب گنہگار لوگ تھے۔

Verse 55 — Surah Az-Zukhruf 43:55

چنانچہ جب انہوں نے ہمیں ناراض کردیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کردیا۔

Verse 56 — Surah Az-Zukhruf 43:56

اور ہم نے انہیں ایک گئی گزری قوم اور بعد والوں کے لیے عبرت کا نمونہ بنادیا۔

Verse 57 — Surah Az-Zukhruf 43:57

اور جب (عیسیٰ) ابن مریم کی مثال دی گئی تو تمہاری قوم کے لوگ یکایک شور مچانے لگے۔

Verse 58 — Surah Az-Zukhruf 43:58

اور کہنے لگے کہ : ہمارے معبودبہتر ہیں یا وہ ؟ انہوں نے تمہارے سامنے یہ مثال محض کٹ حجتی کے لیے دی ہے، بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو۔

Verse 59 — Surah Az-Zukhruf 43:59

وہ (یعنی عیسیٰ (علیہ السلام)) تو بس ہمارے ایک بندے تھے جن پر ہم نے انعام کیا تھا، اور بنی اسرائیل کے لیے ان کو ایک نمونہ بنایا تھا۔

Verse 60 — Surah Az-Zukhruf 43:60

اور اگر ہم چاہیں تو تم سے فرشتے پیدا کردیں جو زمین میں ایک دوسرے کے جانشین بن کر رہا کریں۔

Verse 61 — Surah Az-Zukhruf 43:61

اور یقین رکھو کہ وہ (یعنی عیسیٰ (علیہ السلام)) قیامت کی ایک نشانی ہیں۔ اس لیے تم اس میں شک نہ کرو، اور میری بات مانو، یہی سیدھا راستہ ہے۔

Verse 62 — Surah Az-Zukhruf 43:62

اور ایسا ہرگز نہ ہونے پائے کہ شیطان تمہیں اس راستے سے روک دے۔ یقین جانو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

Verse 63 — Surah Az-Zukhruf 43:63

اور جب عیسیٰ کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے تھے تو انہوں نے (لوگوں سے) کہا تھا کہ : میں تمہارے پاس دانائی کی بات لے کر آیا ہوں، اور اس لیے لایا ہوں کہ تمہارے سامنے کچھ وہ چیزیں واضح کردوں جن میں تم اختلاف کرتے ہو۔ لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور میری بات مان لو۔

Verse 64 — Surah Az-Zukhruf 43:64

یقینا اللہ ہی میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے، اس لیے اس کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔

Verse 65 — Surah Az-Zukhruf 43:65

پھر بھی ان میں سے کئی گروہوں نے اختلاف پیدا کیا، چنانچہ ان ظالموں کے لیے ایک دردناک دن کے عذاب کی وجہ سے بڑی خرابی ہوگی۔

Verse 66 — Surah Az-Zukhruf 43:66

یہ لوگ بس اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ قیامت ان کے سامنے اچانک آکھڑی ہو، اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔

Verse 67 — Surah Az-Zukhruf 43:67

اس دن تمام دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے، سوائے متقی لوگوں کے۔

Verse 68 — Surah Az-Zukhruf 43:68

(جن سے کہا جائے گا کہ) اے میرے بندو ! آج تم پر نہ کوئی خوف طاری ہوگا اور نہ تم غمگین ہوگے۔

Verse 69 — Surah Az-Zukhruf 43:69

اے میرے وہ بندو جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے تھے اور فرمانبردار رہے تھے۔

Verse 70 — Surah Az-Zukhruf 43:70

تم بھی اور تمہاری بیویاں بھی، خوشی سے چمکتے چہروں کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔

Verse 71 — Surah Az-Zukhruf 43:71

ان کے آگے سونے کے پیالے اور گلاس گردش میں لائے جائیں گے۔ اور اس جنت میں ہر وہ چیز ہوگی جس کی دلوں کو خواہش ہوگی اور جس سے آنکھوں کو لذت حاصل ہوگی۔ (ان سے کہا جائے گا کہ) اس جنت میں تم ہمیشہ رہو گے۔

Verse 72 — Surah Az-Zukhruf 43:72

اور یہ وہ جنت ہے جس کا تمہیں اپنے اعمال کے بدلے وارث بنادیا گیا ہے۔

Verse 73 — Surah Az-Zukhruf 43:73

اس میں تمہارے لیے خوب افراط کے ساتھ میوے ہیں جن میں سے تم کھاؤ گے۔

Verse 74 — Surah Az-Zukhruf 43:74

البتہ جو لوگ مجرم تھے وہ دوزخ کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔

Verse 75 — Surah Az-Zukhruf 43:75

وہ عذاب ان کے لیے ہلکا نہیں پڑنے دیا جائے گا، اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے۔

Verse 76 — Surah Az-Zukhruf 43:76

اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا، لیکن وہ خود ہی ظالم لوگ تھے۔

Verse 77 — Surah Az-Zukhruf 43:77

اور وہ (دوزخ کے فرشتے سے) پکار کر کہیں گے کہ : اے مالک ! تمہارا پروردگار ہمارا کام ہی تمام کردے۔ وہ کہے گا کہ تمہیں اسی حال میں رہنا ہے۔

Verse 78 — Surah Az-Zukhruf 43:78

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم تمہارے پاس حق بات لے کر آئے تھے لیکن تم میں سے اکثر لوگ حق بات ہی کو برا سمجھتے ہیں۔

Verse 79 — Surah Az-Zukhruf 43:79

ہاں کیا ان لوگوں نے کچھ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ؟ اچھا تو ہم بھی کچھ کرنے کا فیصلہ کرنے والے ہیں۔

Verse 80 — Surah Az-Zukhruf 43:80

کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کی خفیہ باتیں اور ان کی سرگوشیاں نہیں سنتے ؟ کیسے نہیں سنتے ؟ نیز ہمارے فرشتے ان کے پاس ہیں، وہ سب کچھ لکھتے رہتے ہیں۔

Verse 81 — Surah Az-Zukhruf 43:81

(اے پیغمبر) کہہ دو کہ : اگر خدائے رحمن کی کوئی اولاد ہوتی تو سب سے پہلا عبادت کرنے والا میں ہوتا۔

Verse 82 — Surah Az-Zukhruf 43:82

وہ جو آسمانوں اور زمین کا بھی مالک ہے، عرش کا بھی مالک، وہ ان ساری باتوں سے پاک ہے جو یہ بنایا کرتے ہیں۔

Verse 83 — Surah Az-Zukhruf 43:83

لہذا (اے پیغمبر) انہیں اپنے حال پر چھوڑ دو کہ یہ ان باتوں میں ڈوبے رہیں، اور ہنسی کھیل کرتے رہیں، یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے جاملیں جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے۔

Verse 84 — Surah Az-Zukhruf 43:84

وہی (اللہ) ہے جو آسمان میں بھی معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے۔ اور وہی ہے جو حکمت کا بھی مالک ہے، علم کا بھی مالک۔

Verse 85 — Surah Az-Zukhruf 43:85

اور بڑی شان ہے اس کی جس کے قبضے میں آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان تمام چیزوں کی سلطنت ہے اور اسی کے پاس قیامت کا علم ہے، اور اسی کے پاس تم سب کو واپس لے جایا جائے گا۔

Verse 86 — Surah Az-Zukhruf 43:86

اور یہ لوگ اسے چھوڑ کر جن معبودوں کو پکارتے ہیں، انہیں کوئی سفارش کرنے کا اختیار نہیں ہوگا، ہاں البتہ جن لوگوں نے حق بات کی گواہی دی ہو، اور انہیں اس کا علم بھی ہو۔

Verse 87 — Surah Az-Zukhruf 43:87

اور اگر تم ان لوگوں سے پوچھو کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ ضرور یہی کہیں گے کہ اللہ نے۔ اس کے باوجود کوئی انہیں کہاں سے اوندھا چلا دیتا ہے ؟

Verse 88 — Surah Az-Zukhruf 43:88

اور اللہ کو پیغمبر کی اس بات کا بھی علم ہے کہ : یا رب ! یہ ایسے لوگ ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔

Verse 89 — Surah Az-Zukhruf 43:89

لہذا (اے پیغمبر) تم ان کی پرواہ نہ کرو، اور کہہ دو : سلام۔ کیونکہ عنقریب انہیں خود سب پتہ چل جائے گا۔