اور اگر تم ان (مشرکوں) سے پوچھو کہ سارے آسمان اور زمین کس نے پیدا کیے ہیں، تو وہ ضرور یہی کہیں گے کہ : انہیں اس ذات نے پیدا کیا ہے جو اقتدار کی بھی مالک ہے، علم کی بھی مالک۔
اور جس نے آسمان سے ایک خاص اندازے سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ذریعے ایک مردہ علاقے کو نئی زندگی دے دی، اسی طرح تمہیں (قبروں سے) نکال کر نئی زندگی دی جائے گی۔
تاکہ تم ان کی پشت پر چڑھو، پھر جب ان پر چڑھ کر بیٹھ جاؤ تو اپنے پروردگار کی نعمت کو یاد کرو، اور یہ کہو کہ : پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے بس میں دے دیا، ورنہ ہم میں سے یہ طاقت نہیں تھی کہ اس کو قابو میں لاسکتے۔
حالانکہ ان میں سے کسی کو جب اس (بیٹی) کی (ولادت) خوشخبری دی جاتی ہے جو اس نے خدائے رحمن کی طرف منسوب کر رکھی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے، اور وہ دل ہی دل میں گھٹتا رہتا ہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے فرشتوں کو جو خدائے رحمن کے بندے ہیں، مؤنث بنادیا ہے۔ کیا یہ لوگ ان کی تخلیق کے وقت موجود تھے ؟ ان کا یہ دعوی لکھ لیا جائے گا اور ان سے باز پرس ہوگی۔
اور یہ کہتے ہیں کہ : اگر خدائے رحمن چاہتا تو ہم ان (فرشتوں) کی عبادت نہ کرتے۔ ان کو اس بات کی حقیقت کا ذرا بھی علم نہیں ہے اور ان کا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ اندازوں کے تیر چلاتے ہیں۔
اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے جب بھی کسی بستی میں کوئی خبردار کرنے والا (پیغمبر) بھیجا تو وہاں کے دولت مند لوگوں نے یہی کہا کہ : ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر پایا ہے، اور ہم انہی کے نقش قدم کے پیچھے چل رہے ہیں۔
پیغمبر نے کہا کہ : تم نے اپنے باپ دادوں کو جس طریقے پر پایا ہے، اگر میں تمہارے پاس اس سے زیادہ ہدایت کی بات لے کر آیا ہوں تو کیا پھر بھی (تم اپنے طریقے پر چلے جاؤ گے ؟) انہوں نے جواب دیا کہ : تم جو پیغام دے کر بھیجے گئے ہو ہم تو اس کو ماننے والے نہیں ہیں۔
(پھر بھی بہت سے لوگ باز نہ آئے) اس کے باوجود میں نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو زندگی کے فائدے دیے، یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف ہدایت دینے والا پیغمبر آگیا۔
بھلا کیا یہ لوگ ہیں جو تمہارے پروردگار کی رحمت تقسیم کریں گے ؟ دنیوی زندگی میں ان کی روزی کے ذرائع بھی ہم نے ہی ان کے درمیان تقسیم کر رکھے ہیں اور ہم نے ہی ان میں سے ایک کو دوسرے پر درجات میں فوقیت دی ہے، تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں۔ اور تمہارے پروردگار کی رحمت تو اس (دولت) سے کہیں بہتر چیز ہے جو یہ جمع کر رہے ہیں۔
اور اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمام انسان ایک ہی طریقے کے (یعنی کافر) ہوجائیں گے تو جو لوگ خدائے رحمن کے منکر ہیں، ہم ان کے لیے ان گھروں کی چھتیں بھی چاندی کی بنا دیتے، اور وہ سیڑھیاں بھی جن پر وہ چڑھتے ہیں۔
یہاں تک کہ جب ایسا شخص ہمارے پاس آئے گا تو (اپنے شیطان ساتھی سے) کہے گا کہ : کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا، کیونکہ تو بہت برا ساتھی تھا۔
اور وہ یہ کہنے لگے کہ : اے جادوگر ! تم سے تمہارے پروردگار نے جو عہد کر رکھا ہے اس کا واسطہ دے کر اس سے ہمارے لیے دعا کرو، ہم یقینا راہ راست پر آجائیں گے۔
اور فرعون نے اپنی قوم کے درمیان پکار کر کہا کہ : اے میری قوم ! کیا مصر کی سلطنت میرے قبضے میں نہیں ہے ؟ اور (دیکھو) یہ دریا میرے نیچے بہہ رہے ہیں۔ کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا ؟
اور جب عیسیٰ کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے تھے تو انہوں نے (لوگوں سے) کہا تھا کہ : میں تمہارے پاس دانائی کی بات لے کر آیا ہوں، اور اس لیے لایا ہوں کہ تمہارے سامنے کچھ وہ چیزیں واضح کردوں جن میں تم اختلاف کرتے ہو۔ لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور میری بات مان لو۔
ان کے آگے سونے کے پیالے اور گلاس گردش میں لائے جائیں گے۔ اور اس جنت میں ہر وہ چیز ہوگی جس کی دلوں کو خواہش ہوگی اور جس سے آنکھوں کو لذت حاصل ہوگی۔ (ان سے کہا جائے گا کہ) اس جنت میں تم ہمیشہ رہو گے۔
کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کی خفیہ باتیں اور ان کی سرگوشیاں نہیں سنتے ؟ کیسے نہیں سنتے ؟ نیز ہمارے فرشتے ان کے پاس ہیں، وہ سب کچھ لکھتے رہتے ہیں۔
لہذا (اے پیغمبر) انہیں اپنے حال پر چھوڑ دو کہ یہ ان باتوں میں ڈوبے رہیں، اور ہنسی کھیل کرتے رہیں، یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے جاملیں جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے۔
اور بڑی شان ہے اس کی جس کے قبضے میں آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان تمام چیزوں کی سلطنت ہے اور اسی کے پاس قیامت کا علم ہے، اور اسی کے پاس تم سب کو واپس لے جایا جائے گا۔
اور یہ لوگ اسے چھوڑ کر جن معبودوں کو پکارتے ہیں، انہیں کوئی سفارش کرنے کا اختیار نہیں ہوگا، ہاں البتہ جن لوگوں نے حق بات کی گواہی دی ہو، اور انہیں اس کا علم بھی ہو۔