اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے، اور تمہاری صورتیں بنائی ہیں اور تمہاری صورتیں اچھی بنائی ہیں، اور اسی کی طرف آخر کار (سب کو) پلٹ کر جانا ہے۔
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، وہ اسے جانتا ہے، اور جو کچھ تم چھپ کر کرتے ہو اور جو کچھ کھلم کھلا کرتے ہو، اس کا بھی اسے پورا علم ہے، اور اللہ دلوں کی باتوں تک کا خوب جاننے والا ہے۔
کیا تمہارے پاس ان لوگوں کے واقعات نہیں پہنچے جنہوں نے پہلے کفر اختیار کیا تھا، پھر اپنے کاموں کا وبال چکھا، اور (آئندہ) ان کے حصے میں ایک دردناک عذاب ہے ؟
یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر روشن دلائل لے کر آتے تھے تو وہ کہتے تھے کہ : کیا (ہم جیسے) انسان ہیں جو ہمیں ہدایت دیں گے ؟ غرض انہوں نے کفر اختیار کیا اور منہ موڑا، اور اللہ نے بھی بےنیازی برتی، اور اللہ بالکل بےنیاز ہے بذات خود قابل تعریف۔
جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، وہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ انہیں کبھی دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔ کہہ دو : کیوں نہیں ؟ میرے پروردگار کی قسم ! تمہیں ضرور زندہ کیا جائے گا، پھر تمہیں بتایا جائے گا کہ تم نے کیا کچھ کیا تھا، اور یہ اللہ کے لیے معمولی سی بات ہے۔
(یہ دوسری زندگی) اس دن (ہوگی) جب اللہ تمہیں روز حشر میں اکٹھا کرے گا۔ وہ ایسا دن ہوگا جس میں کچھ لوگ دوسروں کو حسرت میں ڈال دیں گے۔ اور جو شخص اللہ پر ایمان لایا ہوگا، اور اس نے نیک عمل کیے ہوں گے، اللہ اس کے گناہوں کو معاف کردے گا، اور اس کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ ہے بڑی کامیابی۔
اے ایمان والو ! تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے کچھ تمہارے دشمن ہیں، اس لیے ان سے ہوشیار رہو۔ اور اگر تم معاف کردو اور درگزر کرو، اور بخش دو تو اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔
لہذا جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو، اور سنو اور مانو اور (اللہ کے حکم کے مطابق) خرچ کرو، یہ تمہارے ہی لیے بہتر ہے، اور جو لوگ اپنے دل کی لالچ سے محفوظ ہوجائیں، وہی فلاح پانے والے ہیں۔