Urdu

Translation: urd-muhammadtaqiusm

Author: Muhammad Taqi Usmani

الفاتحہ

Surah 1

﴿1﴾ شروع اللہ کے نام سے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے

﴿2﴾ تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے

﴿3﴾ جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے

﴿4﴾ جو روز جزاء کا مالک ہے

﴿5﴾ (اے اللہ) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں

﴿6﴾ ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرما

﴿7﴾ ان لوگوں کے راستے کی جن پر تو نے انعام کیا نہ کہ ان لوگوں کے راستے کی جن پر غضب نازل ہوا ہے اور نہ ان کے راستے کی جو بھٹکے ہوئے ہیں۔

البقرہ

Surah 2

﴿1﴾ الم

﴿2﴾ یہ کتاب ایسی ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں یہ ہدایت ہے ان ڈر رکھنے والوں کے لئے

﴿3﴾ جو بےدیکھی چیزوں پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا اس میں سے (اللہ کی خوشنودی کے کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔

﴿4﴾ اور جو اس (وحی) پر بھی ایمان لاتے ہیں جو آپ پر اتاری گئی اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری گئی اور آخرت پر وہ مکمل یقین رکھتے ہیں

﴿5﴾ یہ ہیں وہ لوگ جو اپنے پروردگار کی طرف سے صحیح راستے پر ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔

﴿6﴾ بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے ان کے حق میں دونوں باتیں برابر ہیں، چاہے آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے

﴿7﴾ اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے اور ان کے لئے زبردست عذاب ہے۔

﴿8﴾ کچھ لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لے آئے، حالانکہ وہ (حقیقت میں) مومن نہیں ہیں

﴿9﴾ وہ اللہ کو اور ان لوگوں کو جو (واقعی) ایمان لاچکے ہیں دھوکا دیتے ہیں اور (حقیقت تو یہ ہے کہ) وہ اپنے سوا کسی اور کو دھوکا نہیں دے رہے لیکن انہیں اس بات کا احساس نہیں ہے

﴿10﴾ ان کے دلوں میں روگ ہے چنانچہ اللہ نے ان کے روگ میں اور اضافہ کردیا ہے اور ان کے لئے دردناک سزا تیار ہے، کیونکہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے

﴿11﴾ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم زمین میں فساد نہ مچاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔

﴿12﴾ یاد رکھو یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں لیکن انہیں اس بات کا احساس نہیں ہے

﴿13﴾ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم بھی اسی طرح ایمان لے آؤ جیسے دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم بھی اسی طرح ایمان لائیں جیسے بیوقوف لوگ ایمان لائے ہیں ؟ خوب اچھی طرح سن لو کہ یہی لوگ بیوقوف ہیں لیکن وہ یہ بات نہیں جانتے

﴿14﴾ اور جب یہ ان لوگوں سے ملتے ہیں جو ایمان لاچکے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے اور جب یہ اپنے شیطانوں کے پاس تنہائی میں جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو مذاق کررہے تھے

﴿15﴾ اللہ ان سے مذاق (کا معاملہ) کرتا ہے اور انہیں ایسی ڈھیل دیتا ہے کہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں

﴿16﴾ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے لہٰذا نہ ان کی تجارت میں نفع ہوا اور نہ انہیں صحیح راستہ نصیب ہوا۔

﴿17﴾ ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے ایک آگ روشن کی پھر جب اس (آگ نے) اس کے ماحول کو روشن کردیا تو اللہ نے ان کا نور سلب کرلیا اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا

﴿18﴾ وہ بہرے ہیں گونگے ہیں، اندھے ہیں چنانچہ اب وہ واپس نہیں آئیں گے۔

﴿19﴾ یا پھر (ان منافقوں کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے برستی ایک بارش ہو، جس میں اندھیریاں بھی ہوں اور گرج بھی اور چمک بھی۔ وہ کڑکوں کی آواز پر موت کے خوف سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دے لیتے ہیں۔ اور اللہ نے کافروں کو گھیرے میں لے رکھا ہے)

﴿20﴾ ایسا لگتا ہے کہ بجلی ان کی آنکھوں کو اچک لے جائے گی جب بھی ان کے لئے روشنی کردیتی ہے وہ اس (روشنی) میں چل پڑتے ہیں اور جب وہ ان پر اندھیرا کردیتی ہے تو وہ کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے سننے اور دیکھنے کی طاقتیں چھین لیتا، بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

﴿21﴾ اے لوگو اپنے اس پروردگار کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور ان لوگوں کو پیدا کیا جو تم سے پہلے گزرے ہیں تاکہ تم متقی بن جاؤ۔

﴿22﴾ (وہ پروردگار) جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا، اور آسمان کو چھت اور آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعے تمہارے رزق کے طور پر پھل نکالے، لہذا اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ جبکہ تم (یہ سب باتیں) جانتے ہو

﴿23﴾ اور اگر تم اس (قرآن) کے بارے میں ذرا بھی شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اتارا ہے تو اس جیسی کوئی ایک سورت ہی بنا لاؤ۔ اور اگر سچے ہو تو اللہ کے سوا اپنے تمام مدد گاروں کو بلالو۔

﴿24﴾ پھر بھی اگر تم یہ کام نہ کرسکو اور یقینا کبھی نہیں کرسکو گے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے وہ کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے

﴿25﴾ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کئے ہیں ان کو خوشخبری دے دو کہ ان کے لئے ایسے باغات (تیار) ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی جب کبھی ان کو ان (باغات) میں سے کوئی پھل رزق کے طور پر دیا جائے گا تو وہ کہیں گے ” یہ تو وہی ہے جو ہمیں پہلے بھی دیا گیا تھا “ اور انہیں وہ رزق ایسا ہی دیا جائے گا جو دیکھنے میں ملتا جلتا ہوگا اور ان کے لئے وہاں پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور وہ ان (باغات) میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

﴿26﴾ بیشک اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ (کسی بات کو واضح کرنے کے لئے) کوئی بھی مثال دے، چاہے وہ مچھر (جیسی معمولی چیز) کی ہو، یا کسی ایسی چیز کی جو مچھر سے بھی زیادہ (معمولی) ہو اب جو لوگ مومن ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ مثال ایک حق بات ہے جو ان کے پروردگار کی طرف سے آئی ہے۔ البتہ جو لوگ کافر ہیں وہ یہی کہتے ہیں کہ بھلا اس (حقیر) مثال سے اللہ کا کیا مطلب ہے ؟ (اس طرح) اللہ اس مثال سے بہت سے لوگوں کو گمراہی میں مبتلا کرتا ہے اور بہت سوں کو ہدایت دیتا ہے (مگر) وہ گمراہ انہی کو کرتا ہے جو نافرمان ہیں

﴿27﴾ وہ جو اللہ سے کئے ہوئے عہد کو پختہ کرنے کے بعد بھی توڑ دیتے ہیں اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے انہیں کاٹ ڈالتے ہیں اور زمین میں فساد مچاتے ہیں ایسے ہی لوگ بڑا نقصان اٹھانے والے ہیں۔

﴿28﴾ تم اللہ کے ساتھ کفر کا طرز عمل آخر کیسے اختیار کرلیتے ہو حالانکہ تم بےجان تھے اسی نے تمہیں زندگی بخشی پھر وہی تمہیں موت دے گا پھر وہی تم کو (دوبارہ) زندہ کرے گا اور پھر تم اسی کے پاس لوٹ کر جاؤ گے

﴿29﴾ وہی ہے جس نے زمین میں جو کچھ ہے تمہارے لئے پیدا کیا پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا، چنانچہ ان کو سات آسمانوں کی شکل میں ٹھیک ٹھیک بنادیا، اور وہ ہر چیز کا پورا علم رکھنے والا ہے۔

﴿30﴾ اور (اس وقت کا تذکرہ سنو) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں وہ کہنے لگے۔ کیا آپ زمین میں ایسی مخلوق پیدا کریں گے جو اس میں فساد مچائے اور خون خرابہ کرے حالانکہ ہم آپ کی تسبیح اور حمد و تقدیس میں لگے ہوئے ہیں اللہ نے کہا : میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

﴿31﴾ اور آدم کو (اللہ نے) سارے نام سکھادیئے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور (ان سے) کہا اگر تم سچے ہو تو مجھے ان چیزوں کے نام بتلاؤ۔

﴿32﴾ وہ بول اٹھے آپ ہی کی ذات پاک ہے جو کچھ علم آپ نے ہمیں دیا ہے اس کے سوا ہم کچھ نہیں جانتے حقیقت میں علم و حکمت کے مالک تو صرف آپ ہیں

﴿33﴾ اللہ نے کہا آدم تم ان کو ان چیزوں کے نام بتادو چنانچہ جب اس نے ان کے نام ان کو بتادیئے تو اللہ نے (فرشتوں سے) کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کے بھید جانتا ہوں ؟ اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو مجھے اس سب کا علم ہے

﴿34﴾ اور (اس وقت کا تذکرہ سنو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو چنانچہ سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے کہ اس نے انکار کیا اور متکبرانہ رویہ اختیار کیا اور کافروں میں شامل ہوگیا،

﴿35﴾ اور ہم نے کہا آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور اس میں سے جہاں سے چاہو جی بھر کے کھاؤ مگر اس درخت کے پاس بھی مت جانا ورنہ تم ظالموں میں شمار ہوگے

﴿36﴾ پھر ہوا یہ کہ شیطان نے ان دونوں کو وہاں سے ڈگمگادیا اور جس (عیش) میں وہ تھے اس سے انہیں نکال کر رہا اور ہم نے (آدم، ان کی بیوی اور ابلیس سے) کہا : اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے، اور تمہارے لئے ایک مدت تک زمین میں ٹھہرنا اور کسی قدر فائدہ اٹھانا (طے کردیا گیا) ہے

﴿37﴾ پھر آدم نے اپنے پروردگار سے (توبہ کے) کچھ الفاظ سیکھ لیے (جن کے ذریعے انہوں نے توبہ مانگی) چنانچہ اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی بیشک وہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے

﴿38﴾ ہم نے کہا اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ پھر اگر میری طرف سے کوئی ہدایت تمہیں پہنچے تو جو لوگ میری ہدایت کی پیروی کریں گے ان کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ کسی غم میں مبتلا ہوں گے

﴿39﴾ اور جو لوگ کفر کا ارتکاب کریں گے اور ہماری آیتوں کو جھٹلائیں گے وہ دوزخ والے لوگ ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے

﴿40﴾ اے بنی اسرائیل میری وہ نعمت یاد کرو جو میں نے تم کو عطا کی تھی اور تم مجھ سے کیا ہوا عہد پورا کرو تاکہ میں بھی تم سے کیا ہوا عہد پورا کروں، اور تم (کسی اور سے نہیں، بلکہ) صرف مجھی سے ڈرو

﴿41﴾ اور جو کلام میں نے نازل کیا ہے اس پر ایمان لاؤ جبکہ وہ اس کتاب (یعنی تورات) کی تصدیق بھی کررہا ہے جو تمہارے پاس ہے اور تم ہی سب سے پہلے اس کے منکر نہ بن جاؤ اور میری آیتوں کو معمولی سی قیمت لے کر نہ بیچو اور (کسی اور کے بجائے) صرف میرا خوف دل میں رکھو

﴿42﴾ اور حق کو باطل کے ساتھ گڈ مڈ نہ کرو، اور نہ حق بات کو چھپاؤ جبکہ (اصل حقیقت) تم اچھی طرح جانتے ہو

﴿43﴾ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو

﴿44﴾ کیا تم (دوسرے) لوگوں کو تو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو ؟ حالانکہ تم کتاب کی تلاوت بھی کرتے ہو ! کیا تمہیں اتنی بھی سمجھ نہیں

﴿45﴾ اور صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو نماز بھاری ضرور معلوم ہوتی ہے مگر ان لوگوں کو نہیں جو خشوع (یعنی دھیان اور عاجزی) سے پڑھتے ہیں

﴿46﴾ جو اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں اور ان کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

﴿47﴾ اے بنی اسرائیل میری وہ نعمت یاد کرو جو میں نے تم کو عطا کی تھی اور یہ بات (یاد کرو) کہ میں نے تم کو سارے جہانوں پر فضیلت دی تھی

﴿48﴾ اور اس دن سے ڈرو جس دن کوئی شخص بھی کسی کے کچھ کام نہیں آئے گا نہ کسی سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی نہ کسی سے کسی قسم کا فدیہ لیا جائے گا اور نہ ان کو کوئی مدد پہنچے گی

﴿49﴾ اور وہ (وقت یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعون کے لوگوں سے نجات دی جو تمہیں بڑا عذاب دیتے تھے تمہارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس ساری صورت حال میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارا بڑا امتحان تھا۔

﴿50﴾ اور (یاد کرو) جب ہم نے تمہاری خاطر سمندر کو پھاڑ ڈالا تھا چنانچہ تم سب کو بچالیا تھا اور فرعون کے لوگوں کو (سمندر میں) غرق کرڈالا تھا اور تم یہ سارا نظام دیکھ رہے تھے

﴿51﴾ اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا وعدہ ٹھہرایا تھا پھر تم نے ان کے پیچھے (اپنی جانوں پر) ظلم کرکے بچھڑے کو معبود بنالیا

﴿52﴾ پھر اس سب کے بعد ہم نے تم کو معاف کردیا تاکہ تم شکر ادا کرو

﴿53﴾ اور (یاد کرو) جب ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، اور حق و باطل میں تمیز کا معیار (بخشا) تاکہ تم راہ راست پر آؤ۔

﴿54﴾ اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ” اے میری قوم ! حقیقت میں تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر خود اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے لہٰذا اب اپنے خالق سے توبہ کرو اور اپنے آپ کو قتل کرو تمہارے خالق کے نزدیک یہی تمہارے حق میں بہتر ہے اس طرح اللہ نے تمہاری توبہ قبول کرلی۔ بیشک وہی ہے جو اتنا معاف کرنے والا، اتنا رحم کرنے والا ہے

﴿55﴾ اور جب تم نے کہا تھا اے موسیٰ ہم اس وقت تک ہرگز تمہارا یقین نہیں کریں گے جب تک اللہ کو ہم خود کھلی آنکھوں نہ دیکھ لیں “

﴿56﴾ نتیجہ یہ ہوا کہ کڑکے نے تمہیں اس طرح آپکڑا کہ تم دیکھتے رہ گئے پھر ہم نے تمہیں تمہارے مرنے کے بعد دوسری زندگی دی تاکہ تم شکر گزار بنو۔ ف

﴿57﴾ اور ہم نے تم کو بادل کا سایہ عطا کیا اور تم پر من وسلویٰ نازل کیا (اور کہا کہ) جو پاکیزہ رزق ہم نے تمہیں بخشا ہے (شوق سے) کھاؤ اور یہ (نافرمانیاں کرکے) انہوں نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ہی ظلم کرتے رہے

﴿58﴾ اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے کہا تھا کہ ” اس بستی میں داخل ہوجاؤ اور اس میں سے جہاں سے چاہو جی بھر کر کھاؤ اور (بستی کے) دروازے میں جھکے سروں سے داخل ہونا اور یہ کہتے جانا کہ (یا اللہ) ہم آپ کی بخشش کے طلب گار ہیں (اس طرح) ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ (ثواب) بھی دیں گے۔

﴿59﴾ مگر ہوا یہ کہ جو بات ان سے کہی گئی تھی ظالموں نے اسے بدل کر ایک اور بات بنالی نتیجہ یہ کہ جو نافرمانیاں وہ کرتے آرہے تھے ہم نے ان کی سزا میں ان ظالموں پر آسمان سے عذاب نازل کیا

﴿60﴾ اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لئے پانی مانگا تو ہم نے کہا اپنی لاٹھی پتھر پر مارو “ چنانچہ اس (پتھر) سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے ہر ایک قبیلے نے اپنے پانی لینے کی جگہ معلوم کرلی (ہم نے کہا) اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ، اور زمین میں فساد مچاتے مت پھرنا۔

﴿61﴾ اور (وہ وقت بھی) جب تم نے کہا تھا کہ اے موسیٰ ہم ایک ہی کھانے پر صبر نہیں کرسکتے لہذا اپنے پروردگار سے مانگیے کہ وہ ہمارے لئے کچھ وہ چیزیں پیدا کرے جو زمین اگایا کرتی ہے یعنی زمین کی ترکاریاں، اس کی ککڑیاں، اس کی گندم، اس کی دالیں اور اس کی پیاز۔ موسیٰ نے کہا ” جو (غذا) بہتر تھی کیا تم اس کو ایسی چیزوں سے بدلنا چاہتے ہو جو گھٹیا درجے کی ہیں ؟ (خیر !) ایک شہر میں جا اترو۔ تو وہاں تمہیں وہ چیزیں مل جائیں گی جو تم نے مانگی ہیں اور ان (یہودیوں پر ذلت اور بیکسی کا ٹھپہ لگادیا گیا، اور وہ اللہ تعالیٰ کا غضب لے کر لوٹے۔ یہ سب اس لئے ہوا کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور پیغمبروں کو ناحق قتل کردیتے تھے۔ یہ سب اس لئے ہوا کہ انہوں نے نافرمانی کی اور وہ بےحد زیادتیاں کرتے تھے۔)

﴿62﴾ حق تو یہ ہے کہ جو لوگ بھی خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی یا نصرانی یا صابی، اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لے آئیں گے اور نیک عمل کریں گے وہ اللہ کے پاس اپنے اجر کے مستحق ہوں گے اور ان کو نہ کوئی خوف ہوگا نہ وہ کسی غم میں مبتلا ہوں گے

﴿63﴾ اور وقت یاد کرو جب ہم نے تم سے (تورات پر عمل کرنے کا) عہد لیا تھا، اور کوہ طور کو تمہارے اوپر اٹھا کھڑا کیا تھا۔ (کہ) جو (کتاب) ہم نے تمہیں دی ہے اس کو مضبوطی سے تھامو اور اس میں جو کچھ (لکھا) ہے اس کو یاد رکھو، تاکہ تمہیں تقویٰ حاصل ہو

﴿64﴾ اس سب کے باوجود تم دوبارہ (راہ راست سے) پھرگئے چنانچہ اگر اللہ کا فضل اور رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم ضرور سخت نقصان اٹھانے والوں میں شامل ہوجاتے۔

﴿65﴾ اور تم اپنے لوگوں کو اچھی طرح جانتے ہو جو سنیچر (سبت) کے معاملے میں حد سے گزر گئے تھے چنانچہ ہم نے ان سے کہا تھا کہ تم دھتکارے ہوئے بندر بن جاؤ

﴿66﴾ پھر ہم نے اس واقعے کو اس زمانے کے اور اس کے بعد کے لوگوں کے لئے عبرت اور ڈرنے والوں کے لئے نصیحت کا سامان بنادیا

﴿67﴾ اور (وقت یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم ایک گائے ذبح کرو۔ وہ کہنے لگے کہ کیا آپ ہمارا مذاق بناتے ہیں موسیٰ نے کہا : میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں (ایسے) نادانوں میں شامل ہوں (جو مذاق میں جھوٹ بولیں)

﴿68﴾ انہوں نے کہا کہ آپ ہماری خاطر اپنے رب سے درخواست کیجئے کہ ہمیں صاف صاف بتائے کہ وہ گائے کیسی ہو ؟ اس نے کہا : اللہ فرماتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہو کہ نہ بہت بوڑھی ہو نہ بالکل بچی (بلکہ) ان دونوں کے بیچ بیچ میں ہو۔ بس اب جو حکم تمہیں دیا گیا ہے اس پر عمل کرلو۔

﴿69﴾ کہنے لگے آپ ہماری خاطر اپنے رب سے درخواست کیجئے کہ ہمیں صاف صاف بتائے کہ اس کا رنگ کیسا ہو ؟ موسیٰ نے کہا اللہ فرماتا ہے کہ وہ ایسے تیز زرد رنگ کی گائے ہو جو دیکھنے والوں کا دل خوش کردے۔

﴿70﴾ انہوں نے (پھر) کہا کہ آپ ہماری خاطر اپنے رب سے درخواست کیجئے کہ ہمیں صاف صاف بتائے کہ وہ گائے کیسی ہو ؟ اس گائے نے تو ہمیں شبہ میں ڈال دیا ہے اور اللہ نے چاہا تو ہم ضرور اس کا پتہ لگالیں گے۔

﴿71﴾ موسیٰ نے کہا : اللہ فرماتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہو جو کام میں جت کر زمین نہ گا ہتی ہو، اور نہ کھیتی کو پانی دیتی ہو، پوری طرح صحیح سالم ہو جس میں کوئی داغ نہ ہو۔ انہوں نے کہا : ہاں ! اب آپ ٹھیک ٹھیک پتہ لے کر آئے۔ اس کے بعد انہوں نے اسے ذبح کیا، جبکہ لگتا نہیں تھا کہ وہ کر پائیں گے۔

﴿72﴾ اور (یاد کرو) جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا، اور اس کے بعد اس کا الزام ایک دوسرے پر ڈال رہے تھے، اور اللہ کو وہ راز نکال باہر کرنا تھا جو تم چھپائے ہوئے تھے۔

﴿73﴾ چنانچہ ہم نے کہا کہ اس (مقتول) کو اس (گائے) کے ایک حصے سے مارو۔ اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرتا ہے، اور تمہیں (اپنی قدرت کی) نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھ سکو۔

﴿74﴾ اس سب کے بعد تمہارے دل پھر سخت ہوگئے، یہاں تک کہ وہ ایسے ہوگئے جیسے پتھر ! بلکہ سختی میں کچھ ان سے بھی زیادہ۔ (کیونکہ) پتھروں میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے نہریں پھوٹ بہتی ہیں، اور انہی میں سے کچھ وہ ہوتے ہیں جو خود پھٹ پڑتے ہیں اور ان سے پانی نکل آتا ہے، اور انہی میں وہ (پتھر) بھی ہیں جو اللہ کے خوف سے لڑھک جاتے ہیں۔ ۔ اور (اس کے برخلاف) جو کچھ تم کر رہے ہو، اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے۔

﴿75﴾ (مسلمانو !) کیا اب بھی تمہیں یہ لالچ ہے کہ یہ لوگ تمہارے کہنے سے ایمان لے آئیں گے ؟ حالانکہ ان میں سے ایک گروہ کے لوگ اللہ کا کلام سنتے تھے، پھر اس کو اچھی طرح سمجھنے کے بعد بھی جانتے بوجھتے اس میں تحریف کر ڈالتے تھے۔

﴿76﴾ اور جب یہ لوگ ان (مسلمانوں) سے ملتے ہیں جو پہلے ایمان لاچکے ہیں تو (زبان سے) کہہ دیتے ہیں کہ ہم (بھی) ایمان لے آئے ہیں، اور جب یہ ایک دوسرے کے ساتھ تنہائی میں جاتے ہیں تو (آپس میں ایک دوسرے سے) کہتے ہیں کہ : کیا تم ان (مسلمانوں) کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں تاکہ یہ (مسلمان) تمہارے پروردگار کے پاس جاکر انہیں تمہارے خلاف دلیل کے طور پر پیش کریں ؟ کیا تمہیں اتنی بھی عقل نہیں ؟

﴿77﴾ کیا یہ لوگ (جو ایسی باتیں کرتے ہیں) یہ نہیں جانتے کہ اللہ کو ان ساری باتوں کا خوب علم ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں ؟

﴿78﴾ اور ان میں سے کچھ لوگ ان پڑھ ہیں جو کتاب (تورات) کا علم تو رکھتے نہیں، البتہ کچھ آرزوئیں پکائے بیٹھے ہیں، اور ان کا کام بس یہ ہے کہ وہم و گمان باندھتے رہتے ہیں۔

﴿79﴾ لہذا تباہی ہے ان لوگوں کی جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں، پھر (لوگوں سے) کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، تاکہ اس کے ذریعے تھوڑی سی آمدنی کما لیں۔ پس تباہی ہے ان لوگوں پر اس تحریر کی وجہ سے بھی جو ان کے ہاتھوں نے لکھی، اور تباہی ہے ان پر اس آمدنی کی وجہ سے بھی جو وہ کماتے ہیں۔

﴿80﴾ اور یہودیوں نے کہا ہے کہ ہمیں گنتی کے چند دنوں کے علاوہ آگ ہرگز نہیں چھوئے گی۔ آپ ان سے کہیے کہ کیا تم نے اللہ کی طرف سے کوئی عہد لے رکھا ہے جس کی بنا پر وہ اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا، یا تم اللہ کے ذمے وہ بات لگا رہے ہو جس کا تمہیں کچھ پتہ نہیں ؟

﴿81﴾ (آگ تمہیں) کیوں نہیں (چھوئے گی) ؟ جو لوگ بھی بدی کماتے ہیں اور ان کی بدی انہیں گھیر لیتی ہے تو ایسے لوگ ہی دوزخ کے باسی ہیں۔ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

﴿82﴾ اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں تو وہ جنت کے باسی ہیں۔ وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔

﴿83﴾ اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے بنی اسرائیل سے پکا عہد لیا تھا کہ : تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرو گے، اور والدین سے اچھا سلوک کرو گے، اور رشتہ داروں سے بھی اور یتیموں اور مسکینوں سے بھی۔ اور لوگوں سے بھلی بات کہنا، اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا۔ (مگر) پھر تم میں سے تھوڑے سے لوگوں کے سوا باقی سب (اس عہد سے) منہ موڑ کر پھرگئے۔

﴿84﴾ اور (یاد کرو) جب ہم نے تم سے پکا عہد لیا تھا کہ : تم ایک دوسرے کا خون نہیں بہاؤ گے اور اپنے آدمیوں کو اپنے گھروں سے نہیں نکالو گے، پھر تم نے اقرار کیا تھا اور تم خود اس کے گواہ ہو۔

﴿85﴾ اس کے بعد (آج) تم ہی وہ لوگ ہو کہ اپنے ہی آدمیوں کو قتل کرتے ہو، اور اپنے ہی میں سے کچھ لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال باہر کرتے ہو، اور ان کے خلاف گناہ اور زیادتی کا ارتکاب کر کے (ان کے دشمنوں کی) مدد کرتے ہو، اور اگر وہ (دشمنوں کے) قیدی بن کر تمہارے پاس آجاتے ہیں تو تم ان کو فدیہ دے کر چھڑا لیتے ہو، حالانکہ ان کو (گھر سے) نکالنا ہی تمہارے لیے حرام تھا۔ تو کیا تم کتاب (تورات) کے کچھ حصے پر تو ایمان رکھتے ہو اور کچھ کا انکار کرتے ہو ؟ اب بتاؤ کہ جو شخص ایسا کرے اس کی سزا اس کے سوا کیا ہے کہ دنیوی زندگی میں اس کی رسوائی ہو ؟ اور قیامت کے دن ایسے لوگوں کو سخت ترین عذاب کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ اور جو کچھ تم عمل کرتے ہو اللہ اس سے غافل نہیں ہے۔

﴿86﴾ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیوی زندگی کو آخرت کے بدلے خرید لیا ہے، لہذا نہ ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہوگی اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔

﴿87﴾ اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، اور اس کے بعد پے درپے رسول بھیجے۔ اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو کھلی کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے ان کی تائید کی۔ پھر یہ آخر کیا معاملہ ہے کہ جب کبھی کوئی رسول تمہارے پاس کوئی ایسی بات لے کر آیا جو تمہاری نفسانی خواہشات کو پسند نہیں تھی تو تم اکڑ گئے ؟ چنانچہ بعض (انبیاء) کو تم نے جھٹلایا، اور بعض کو قتل کرتے رہے۔

﴿88﴾ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ : ہمارے دل غلاف میں ہیں۔ نہیں ! بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے ان پر پھٹکار ڈال رکھی ہے اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔

﴿89﴾ اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے وہ کتاب آئی (یعنی قرآن) جو اس (تورات) کی تصدیق بھی کرتی ہے جو پہلے سے ان کے پاس ہے (تو ان کا طرز عمل دیکھو) باوجودیکہ یہ خود شروع میں کافروں (یعنی بت پرستوں) کے خلاف (اس کتاب کے حوالے سے) اللہ سے فتح کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ مگر جب وہ چیز ان کے پاس آگئی جسے انہوں نے پہچان بھی لیا، تو اس کا انکار کر بیٹھے۔ پس پھٹکار ہے اللہ کی ایسے کافروں پر۔

﴿90﴾ بری ہے وہ قیمت جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا ہے، کہ یہ اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب کا صرف اس جلن کی بنا پر انکار کر رہے ہیں کہ اللہ اپنے فضل کا کوئی حصہ (یعنی وحی) اپنے بندوں میں سے جس پر چاہ رہا ہے (کیوں) اتار رہا ہے ؟ چنانچہ یہ (اپنی اس جلن کی وجہ سے) غضب بالائے غضب لے کر لوٹے ہیں۔ اور کافر لوگ ذلت آمیز سزا کے مستحق ہیں۔

﴿91﴾ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو کلام اتارا ہے اس پر ایمان لے آؤ، تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو (صرف) اسی کلام پر ایمان رکھیں گے جو ہم پر نازل کیا گیا، (یعنی تورات) اور وہ اس کے سوا (دوسری آسمانی کتابوں) کا انکار کرتے ہیں، حالانکہ وہ بھی حق ہیں (اور) جو کتاب ان کے پاس ہے وہ اس کی تصدیق بھی کرتی ہیں۔ (اے پیغمبر) تم ان سے کہو کہ اگر تم واقعی (تورات) پر ایمان رکھتے تھے تو اللہ کے نبیوں کو پہلے زمانے میں کیوں قتل کرتے رہے ؟

﴿92﴾ اور خود موسیٰ تمہارے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے، پھر تم نے ان کے پیٹھ پیچھے یہ ستم ڈھایا کہ گائے کے بچھڑے کو معبود بنا لیا۔

﴿93﴾ اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تم سے عہد لیا اور تمہارے اوپر طور کو بلند کردیا (اور یہ کہا کہ) جو کچھ ہم نے تم کو دیا ہے اس کو مضبوطی سے تھامو اور (جو کچھ کہا جائے اسے ہوش سے) سنو۔ کہنے لگے : ہم نے (پہلے بھی) سن لیا تھا، مگر عمل نہیں کیا تھا (اب بھی ایسا ہی کریں گے) اور (دراصل) ان کے کفر کی نحوست سے ان کے دلوں میں بچھڑا بسا ہوا تھا۔ آپ (ان سے) کہیے کہ اگر تم مومن ہو تو کتنی بری ہیں وہ باتیں جو تمہارا ایمان تمہیں تلقین کر رہا ہے۔

﴿94﴾ آپ (ان سے) کہیے کہ : اگر اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لیے مخصوص ہے (جیسا کہ تمہارا کہنا ہے) تو موت کی تمنا تو کر کے دکھاؤ، اگر واقعی سچے ہو۔

﴿95﴾ اور (ہم بتائے دیتے ہیں کہ) انہوں نے اپنے جو کرتوت آگے بھیج رکھے ہیں، ان کی وجہ سے یہ کبھی ایسی تمنا نہیں کریں گے۔ اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

﴿96﴾ (بلکہ) یقینا تم ان لوگوں کو پاؤ گے کہ انہیں زندہ رہنے کی حرص دوسرے تمام انسانوں سے زیادہ ہے، یہاں تک کہ مشرکین سے بھی زیادہ۔ ان میں کا ایک ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ ایک ہزار سال عمر پائے، حالانکہ کسی کا بڑی عمر پالینا اسے عذاب سے دور نہیں کرسکتا۔ اور یہ جو عمل بھی کرتے ہیں اللہ اسے اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔

﴿97﴾ (اے پیغمبر) کہہ دو کہ اگر کوئی شخص جبرئیل کا دشمن ہے تو (ہوا کرے) انہوں نے تو یہ کلام اللہ کی اجازت سے تمہارے دل پر اتارا ہے جو اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کر رہا ہے، اور ایمان والوں کے لیے مجسم ہدایت اور خوشخبری ہے۔

﴿98﴾ اگر کوئی شخص اللہ کا، اس کے فرشتوں اور رسولوں کا، اور جبرئیل اور میکائیل کا دشمن ہے تو (وہ سن رکھے کہ) اللہ کافروں کا دشمن ہے۔

﴿99﴾ اور بیشک ہم نے آپ پر ایسی آیتیں اتاری ہیں جو حق کو آشکارہ کرنے والی ہیں، اور ان کا انکار وہی لوگ کرتے ہیں جو نافرمان ہیں۔

﴿100﴾ یہ آخر کیا معاملہ ہے کہ ان لوگوں نے جب کوئی عہد کیا، ان کے ایک گروہ نے اسے ہمیشہ توڑ پھینکا ؟ بلکہ ان میں سے اکثر لوگ ایمان لاتے ہی نہیں۔

﴿101﴾ اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول آئے جو اس (تورات) کی تصدیق کر رہے تھے جو ان کے پاس ہے، تو اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب (تورات و انجیل) کو اس طرح پس پشت ڈال دیا گویا وہ کچھ جانتے ہی نہ تھے (کہ اس میں نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں کیا ہدایات دی گئی تھیں

﴿102﴾ اور یہ (بنی اسرائیل) ان (منتروں) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت کے زمانے میں شیاطین پڑھا کرتے تھے۔ اور سلیمان (علیہ السلام) نے کوئی کفر نہیں کیا تھا، البہ شیاطین لوگوں کو جادو کی تعلیم دے کر کفر کا ارتکاب کرتے تھے۔ نیز (یہ بنی اسرائیل) اس چیز کے پیچھے لگ گئے جو شہر بابل میں ہاروت اور ماروت نامی دو فرشتوں پر نازل کی گئی تھی۔ یہ دو فرشتے کسی کو اس وقت تک کوئی تعلیم نہیں دیتے تھے جب تک اس سے یہ نہ کہہ دیں گے کہ : ہم محض آزمائش کے لیے (بھیجے گئے) ہیں، لہذا تم (جادو کے پیچھے لگ کر) کفر اختیار نہ کرنا۔ پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیزیں سیکھتے تھے جس کے ذریعے مرد اور اس کی بیوی میں جدائی پیدا کردیں۔ (ویسے یہ واضح رہے کہ) وہ اس کے ذریعے کسی کو اللہ کی مشیت کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔ (مگر) وہ ایسی باتیں سیکھتے تھے جو ان کے لیے نقصان دہ تھیں اور فائدہ مند نہ تھیں۔ اور وہ یہ بھی خوب جانتے تھے کہ جو شخص ان چیزوں کا خریدار بنے گا، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ وہ چیز بہت بری تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچ ڈالیں۔ کاش کہ ان کو (اس بات کا حقیقی) علم ہوتا۔

﴿103﴾ اور (اس کے برعکس) اگر وہ ایمان اور تقوی اختیار کرتے تو اللہ کے پاس سے ملنے والا ثواب یقینا کہیں زیادہ بہتر ہوتا۔ کاش کہ ان کو (اس بات کا بھی حقیقی) علم ہوتا۔

﴿104﴾ ایمان والو ! (رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مخاطب ہوکر) راعنا نہ کہا کرو، اور انظرنا کہہ دیا کرو۔ اور سنا کرو۔ اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

﴿105﴾ کافر لوگ خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکین میں سے، یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے کوئی بھلائی تم پر نازل ہو، حالانکہ اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے لیے مخصوص فرما لیتا ہے۔ اور اللہ فضل عظیم کا مالک ہے۔

﴿106﴾ ہم جب بھی کوئی آیت منسوخ کرتے ہیں یا اسے بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اسی جیسی (آیت) لے آتے ہیں۔ کیا تمہیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ؟

﴿107﴾ کیا تمہیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ وہ ذات ہے کہ آسمانوں اور زمین کی سلطنت تنہا اسی کی ہے، اور اللہ کے سوا نہ کوئی تمہارا رکھوالا ہے نہ مددگار ؟

﴿108﴾ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے اسی قسم کے سوال کرو جیسے پہلے موسیٰ سے کیے جاچکے ہیں ؟ اور جو شخص ایمان کے بدلے کفر اختیار کرے وہ یقینا سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔

﴿109﴾ (مسلمانو) بہت سے اہل کتاب اپنے دلوں کے حسد کی بنا پر یہ چاہتے ہیں کہ تمہارے ایمان لانے کے بعد تمہیں پلٹا کر پھر کافر بنادیں، باوجودیکہ حق ان پر واضح ہوچکا ہے۔ چنانچہ تم معاف کرو اور درگزر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ خود اپنا فیصلہ بھیج دے۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

﴿110﴾ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو، اور (یاد رکھو کہ) جو بھلائی کا عمل بھی تم خود اپنے فائدے کے لیے آگے بھیج دو گے اس کو اللہ کے پاس پاؤ گے بیشک جو عمل بھی تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔

﴿111﴾ اور یہ (یعنی یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ : جنت میں سوائے یہودیوں یا عیسائیوں کے کوئی بھی ہرگز داخل نہیں ہوگا۔ یہ محض ان کی آرزوئیں ہیں۔ آپ ان سے کہیے کہ اگر تم (اپنے اس دعوے میں) سچے ہو تو اپنی کوئی دلیل لے کر آؤ۔

﴿112﴾ کیوں نہیں ؟ (قاعدہ یہ ہے کہ) جو شخص بھی اپنا رخ اللہ کے آگے جھکا دے، اور وہ نیک عمل کرنے والا ہو، اسے اپنا اجر اپنے پروردگار کے پاس ملے گا۔ اور ایسے لوگوں کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

﴿113﴾ اور یہودی کہتے ہیں کہ عیسائیوں (کے مذہب) کی کوئی بنیاد نہیں، اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودیوں (کے مذہب) کی کوئی بنیاد نہیں، حالانکہ یہ سب (آسمانی) کتاب پڑھتے ہیں۔ اسی طرح وہ (مشرکین) جن کے پاس کوئی (آسمانی) علم ہی سرے سے نہیں ہے، انہوں نے بھی ان (اہل کتاب) کی جیسی باتیں کہنی شروع کردی ہیں۔ چنانچہ اللہ ہی قیامت کے دن ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں یہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔

﴿114﴾ اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ کی مسجدوں پر اس بات کی بندش لگا دے کہ ان میں اللہ کا نام لیا جائے، اور ان کو ویران کرنے کی کوشش کرے۔ ایسے لوگوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان (مسجدوں) میں داخل ہوں مگر ڈرتے ہوئے۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور انہی کو آخرت میں زبردست عذاب ہوگا۔

﴿115﴾ اور مشرق و مغرب سب اللہ ہی کی ہیں۔ لہذا جس طرف بھی تم رخ کرو گے، وہیں اللہ کا رخ ہے۔ بیشک اللہ بہت وسعت والا، بڑا علم رکھنے والا ہے۔

﴿116﴾ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نے کوئی بیٹا بنایا ہوا ہے۔ (حالانکہ) اس کی ذات (اس قسم کی چیزوں سے) پاک ہے، بلکہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے۔ سب کے سب اس کے فرمانبردار ہیں۔

﴿117﴾ وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اور جب وہ کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے بارے میں بس اتنا کہتا ہے کہ : ہوجا۔ چنانچہ وہ ہوجاتی ہے۔

﴿118﴾ اور جو لوگ علم نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں کہ : اللہ ہم سے (براہ راست) کیوں بات نہیں کرتا ؟ یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی ؟ جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں وہ بھی اسی طرح کی باتیں کہتے تھے جیسے یہ کہتے ہیں۔ ان سب کے دل ایک جیسے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ یقین کرنا چاہیں ان کے لیے ہم نشانیاں پہلے ہی واضح کرچکے ہیں۔

﴿119﴾ (اے پیغمبر) بیشک ہم نے تمہیں کو حق دے کر اس طرح بھیجا ہے کہ تم (جنت کی) خوشخبری دو اور (جہنم سے) ڈراؤ) اور جو لوگ (اپنی مرضی سے) جہنم (کا راستہ) اختیار کرچکے ہیں ان کے بارے میں آپ سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی۔

﴿120﴾ اور یہود و نصاری تم سے اس وقت تک ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک تم ان کے مذہب کی پیروی نہیں کرو گے۔ کہہ دو کہ حقیقی ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے۔ اور تمہارے پاس (وحی کے ذریعے) جو علم آگیا ہے اگر کہیں تم نے اس کے بعد بھی ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرلی تو تمہیں اللہ سے بچانے کے لیے نہ کوئی حمایتی ملے گا نہ کوئی مددگار۔

﴿121﴾ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی، جبکہ وہ اس کی تلاوت اس طرح کرتے ہوں جیسا اس کی تلاوت کا حق ہے، تو وہ لوگ ہی (درحقیقت) اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور جو اس کا انکار کرتے ہوں تو ایسے لوگ ہی نقصان اٹھانے والے ہیں ْ

﴿122﴾ اے بنی اسرائیل ! میری وہ نعمت یاد کرو جو میں نے تم کو عطا کی تھی، اور یہ بات (یاد کرو) کہ میں نے تم کو سارے جہانوں پر فضیلت دی تھی۔

﴿123﴾ اور اس دن سے ڈرو جس دن کوئی شخص بھی کسی کے کچھ کام نہیں آئے گا، نہ کسی سے کسی قسم کا فدیہ قبول کیا جائے گا، نہ اس کو کوئی سفارش فائدہ دے گی اور نہ ان کو کوئی مدد پہنچے گی۔

﴿124﴾ اور (وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیم کو ان کے پروردگار نے کئی باتوں سے آزمایا، اور انہوں نے وہ ساری باتیں کیں، اللہ نے (ان سے) کہا : میں تمہیں تمام انسانوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔ ابراہیم نے پوچھا : اور میری اولاد میں سے ؟ اللہ نے فرمایا میرا (یہ) عہد ظالموں کو شامل نہیں ہے۔

﴿125﴾ اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ایسی جگہ بنایا جس کی طرف وہ لوٹ لوٹ کر جائیں اور جو سراپا امن ہو۔ اور تم مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو۔ اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو یہ تاکید کی کہ : تم دونوں میرے گھر کو ان لوگوں کے لیے پاک کرو جو (یہاں) طواف کریں اور اعتکاف میں بیٹھیں اور رکوع اور سجدہ بجا لائیں۔

﴿126﴾ اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ابراہیم نے کہا تھا کہ : اے میرے پروردگار ! اس کو ایک پر امن شہر بنا دیجیے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائیں انہیں قسم قسم کے پھلوں سے رزق عطا فرمایے۔ اللہ نے کہا : اور جو کفر اختیار کرے گا اس کو بھی میں کچھ عرصے کے لیے لطف اٹھانے کا موقع دوں گا، (مگر) پھر اسے دوزخ کے عذاب کی طرف کھینچ لے جاؤں گا۔ اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔

﴿127﴾ اور اس وقت کا تصور کرو جب ابراہیم بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے اور اسماعیل بھی (ان کے ساتھ شریک تھے، اور دونوں یہ کہتے جاتے تھے کہ) اے ہمارے پروردگار ! ہم سے (یہ خدمت) قبول فرما لے۔ بیشک تو اور صرف تو ہی، ہر ایک کی سننے والا، ہر ایک کو جاننے والا ہے۔

﴿128﴾ اے ہمارے پروردگار ! ہم دونوں کو اپنا مکمل فرمانبردار بنا لے اور ہماری نسل سے بھی ایسی امت پیدا کر جو تیری پوری تابع دار ہو اور ہم کو ہماری عبادتوں کے طریقے سکھا دے اور ہماری توبہ قبول فرما لے۔ بیشک تو اور صرف تو ہی معاف کردینے کا خوگر (اور) بڑی رحمت کا مالک ہے۔

﴿129﴾ اور ہمارے پروردگار ! ان میں ایک ایسا رسول بھی بھیجنا جو انہی میں سے ہو، جو ان کے سامنے تیری آیتوں کی تلاوت کرے، انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے، اور ان کو پاکیزہ بنائے۔ بیشک تیری اور صرف تیری ذات وہ ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کی حکمت بھی کامل۔

﴿130﴾ اور کون ہے جو ابراہیم کے طریقے سے انحراف کرے ؟ سوائے اس شخص کے جو خود اپنے آپ کو حماقت میں مبتلا کرچکا ہو۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم نے دنیا میں انہیں (اپنے لیے) چن لیا تھا، اور آخرت میں ان کا شمار صالحین میں ہوگا۔

﴿131﴾ جب ان کے پروردگار نے ان سے کہا کہ : سر تسلیم خم کردو ! تو وہ (فورا) بولے : میں نے رب العالمین کے (ہر حکم کے) آگے سر جھکا دیا۔

﴿132﴾ اور اسی بات کی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی، اور یعقوب نے بھی (اپنے بیٹوں کو) کہ : اے میرے بیٹو ! اللہ نے یہ دین تمہارے لیے منتخب فرما لیا ہے، لہذا تمہیں موت بھی آئے تو اس حالت میں آئے کہ تم مسلم ہو۔

﴿133﴾ کیا اس وقت تم خود موجود تھے جب یعقوب کی موت کا وقت آیا تھا۔ جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے ؟ ان سب نے کہا تھا کہ : ہم اسی ایک خدا کی عبادت کریں گے جو آپ کا معبود ہے اور آپ کے باپ دادوں ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کا معبود ہے۔ اور ہم صرف اسی کے فرمانبردار ہیں۔

﴿134﴾ وہ ایک امت تھی جو گزر گئی، جو کچھ انہوں نے کمایا وہ ان کا ہے اور جو کچھ تم نے کمایا وہ تمہارا ہے، اور تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا عمل کرتے تھے۔

﴿135﴾ اور یہ (یہودی اور عیسائی مسلمانوں سے) کہتے ہیں کہ : تم یہودی یا عیسائی ہوجاؤ راہ راست پر آجاؤ گے۔ کہہ دو کہ : نہیں بلکہ (ہم تو) ابراہیم کے دین کی پیروی کریں گے جو ٹھیک ٹھیک سیدھی راہ پر تھے، اور وہ ان لوگوں میں سے نہ تھے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں۔

﴿136﴾ (مسلمانو) کہہ دو کہ : ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور اس کلام پر بھی جو ہم پر اتارا گیا اور اس پر بھی جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد پر اتارا گیا، اور اس پر بھی جو موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا گیا اور اس پر بھی جو دوسرے پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے عطا ہوا۔ ہم ان پیغمبروں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے، اور ہم اسی (ایک خدا) کے تابع فرمان ہیں۔

﴿137﴾ اس کے بعد اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جیسے تم ایمان لائے ہو تو یہ راہ راست پر آجائیں گے۔ اور اگر یہ منہ موڑ لیں تو درحقیقت وہ دشمنی میں پڑگئے ہیں۔ اب اللہ تمہاری حمایت میں عنقریب ان سے نمٹ لے گا، اور وہ ہر بات سننے والا، ہر بات جاننے والا ہے۔

﴿138﴾ (اے مسلمانوں ! کہہ دو کہ) ہم پر تو اللہ نے اپنا رنگ چڑھا دیا ہے اور کون ہے جو اللہ سے بہتر رنگ چڑھائے ؟ اور ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں۔

﴿139﴾ کہہ دو کہ : کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں حجت کرتے ہو ؟ حالانکہ وہ ہمارا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار (یہ) اور (بات ہے کہ) ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں، اور تمہارے عمل تمہارے لیے۔ اور ہم نے تو اپنی بندگی اسی کے لیے خالص کرلی ہے۔

﴿140﴾ بھلا کیا تم یہ کہتے ہو کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولادیں یہودی یا نصرانی تھیں ؟ (مسلمانو ! ان سے) کہو : کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟ اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو ایسی شہادت کو چھپائے جو اس کے پاس اللہ کی طرف سے پہنچی ہو ؟ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے۔

﴿141﴾ (بہرحال) وہ ایک امت تھی جو گزر گئی۔ جو کچھ انہوں نے کمایا وہ ان کا ہے، اور جو کچھ تم نے کمایا وہ تمہارا ہے، اور تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا عمل کرتے تھے ؟

﴿142﴾ اب یہ بیوقوف لوگ کہیں گے کہ آخر وہ کیا چیز ہے جس نے ان (مسلمانوں) کو قبلے سے رخ پھیرنے پر آمادہ کردیا جس کی طرف وہ منہ کرتے چلے آرہے تھے ؟ آپ کہہ دیجیے کہ مشرق اور مغرب سب اللہ ہی کی ہیں۔ وہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ کی ہدایت کردیتا ہے

﴿143﴾ اور (مسلمانو) اسی طرح تو ہم نے تم کو ایک معتدل امت بنایا ہے تاکہ تم دوسرے لوگوں پر گواہ بنو، اور رسول تم پر گواہ بنے اور جس قبلے پر تم پہلے کار بند تھے، اسے ہم نے کسی اور وجہ سے نہیں، بلکہ صرف یہ دیکھنے کے لیے مقرر کیا تھا کہ کون رسول کا حکم مانتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھرجاتا ہے ؟ اور اس میں شک نہیں کہ یہ بات تھی بڑی مشکل، لیکن ان لوگوں کے لیے (ذرا بھی مشکل نہ ہوئی) جن کو اللہ نے ہدایت دے دی تھی۔ اور اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو ضائع کردے۔ درحقیقت اللہ لوگوں پر بہت شفقت کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿144﴾ (اے پیغمبر) ہم تمہارے چہرے کو بار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ چنانچہ ہم تمہارا رخ ضرور اس قبلے کی طرف پھیر دیں گے جو تمہیں پسند ہے لو اب اپنا رخ مسجد حرام کی سمت کرلو، اور (آئند ہ) جہاں کہیں تم ہو اپنے چہروں کا رخ (نماز پڑھتے ہوئے) اسی کی طرف رکھا کرو۔ اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ یہی بات حق ہے جو ان کے پروردگار کی طرف سے آئی ہے اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اس سے غافل نہیں ہے۔

﴿145﴾ اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی اگر تم ان کے پاس ہر قسم کی نشانیاں لے آؤ تب بھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہیں کریں گے۔ اور نہ تم ان کے قبلے پر عمل کرنے والے ہو، نہ یہ ایک دوسرے کے قبلے پر عمل کرنے والے ہیں اور جو علم تمہارے پاس آچکا ہے اس کے بعد اگر کہیں تم نے ان کی خواہشات کی پیروی کرلی تو اس صورت میں یقینا تمہارا شمار ظالموں میں ہوگا۔

﴿146﴾ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو اتنی اچھی طرح پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں ۔ اور یقین جانو کہ ان میں سے کچھ لوگوں نے حق کو جان بوجھ کر چھپا رکھا ہے۔

﴿147﴾ اور حق وہی ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے آیا ہے، لہذا شک کرنے والوں میں ہرگز شامل نہ ہوجانا۔

﴿148﴾ اور ہر گروہ کی ایک سمت ہے جس کی طرف وہ رخ کرتا ہے ،۔ لہذا تم نیک کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ تم جہاں بھی ہوگے اللہ تم سب کو (اپنے پاس) لے آئے گا۔ یقینا اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

﴿149﴾ اور تم جہاں سے بھی (سفر کے لیے) نکلو، اپنا منہ (نماز کے وقت) مسجد حرام کی طرف کرو، اور یقینا یہی بات ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے آئی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے۔

﴿150﴾ اور جہاں سے بھی تم نکلو، اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو، اور تم جہاں کہیں ہو اپنے چہرے اسی کی طرف رکھو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف حجت بازی کا موقع نہ ملے البتہ ان میں جو لوگ ظلم کے خوگر ہیں (وہ کبھی خاموش نہ ہوں گے) سو ان کا کچھ خوف نہ رکھو، ہاں میرا خوف رکھو اور تاکہ میں تم پر اپنا انعام مکمل کردوں اور تاکہ تم ہدایت حاصل کرلو۔

﴿151﴾ (یہ انعام ایسا ہی ہے) جیسے ہم نے تمہارے درمیان تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو تمہارے سامنے ہماری آیتوں کی تلاوت کرتا ہے اور تمہیں پاکیزہ بناتا ہے، اور تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے

﴿152﴾ اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔ لہذا مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ اور میرا شکر ادا کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔

﴿153﴾ اے ایمان والو ! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

﴿154﴾ اور جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوں ان کو مردہ نہ کہو، دراصل وہ زندہ ہیں مگر تم کو (ان کی زندگی کا) احساس نہیں ہوتا

﴿155﴾ اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے اور (کبھی) بھوک سے (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں ان کو خوشخبری سنا دو ۔

﴿156﴾ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ “ ہم سب اللہ ہی کے ہیں اور ہم کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

﴿157﴾ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی طرف سے خصوصی عنایتیں ہیں، اور رحمت ہے اور یہی لوگ ہیں جو ہدایت پر ہیں۔

﴿158﴾ بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، لہذا جو شخص بھی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس کے لیے اس بات میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ وہ ان کے درمیان چکر لگائے اور جو شخص خوشی سے کوئی بھلائی کا کام کرے تو اللہ یقینا قدر دان (اور) جاننے والا ہے۔

﴿159﴾ بیشک وہ لوگ جو ہماری نازل کی ہوئی روشن دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم انہیں کتاب میں کھول کھول کر لوگوں کے لیے بیان کرچکے ہیں تو ایسے لوگوں پر اللہ بھی لعنت بھیجتا ہے اور دوسرے لعنت کرنے والے بھی لعنت بھیجتے ہیں،

﴿160﴾ ہاں وہ لوگ جنہوں نے توبہ کرلی ہو اور اپنی اصلاح کرلی ہو (اور چھپائی ہوئی باتوں کو) کھول کھول کر بیان کردیا ہو تو میں ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرلیتا ہوں، اور میں توبہ قبول کرنے کا خوگر ہوں بڑا رحمت والا۔

﴿161﴾ بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا اور کافر ہونے کی حالت ہی میں مرے، ان پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور سارے انسانوں کی لعنت ہے

﴿162﴾ وہ ہمیشہ اسی پھٹکار میں رہیں گے، نہ ان پر سے عذاب کو ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی

﴿163﴾ اور، تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے، اس کے سوا کوئی خدا نہیں جو سب پر مہربان، بہت مہربان ہے۔

﴿164﴾ بیشک آسمان اور زمین کی تخلیق میں رات دن کے لگاتار آنے جانے میں اور ان کشتیوں میں جو لوگوں کے فائدے کا سامان لیکر سمندر میں تیرتی ہیں اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا اور اس کے ذریعے زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندگی بخشی اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دیئے، اور ہواؤں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع دار بن کر کام میں لگے ہوئے ہیں، ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہی نشانیاں ہیں جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں

﴿165﴾ اور (اس کے باوجود) لوگوں میں کچھ وہ بھی ہیں جو اللہ کے علاوہ دوسروں کو اس کی خدائی میں اس طرح شریک قرار دیتے ہیں کہ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسے اللہ کی محبت (رکھنی چاہیے) اور جو لوگ ایمان لاچکے ہیں وہ اللہ ہی سے سب سے زیادہ محبت رکھتے ہیں، اور کاش کہ یہ ظالم جب (دنیا میں) کوئی تکلیف دیکھتے ہیں اسی وقت یہ سمجھا لیا کریں کہ تمام تر طاقت اللہ ہی کو حاصل ہے اور یہ کہ اللہ کا عذاب (آخرت میں) اس وقت بڑا سخت ہوگا۔

﴿166﴾ جب وہ (پیشوا) جن کے پیچھے یہ لوگ چلتے رہے ہیں، اپنے پیروکاروں سے مکمل بےتعلقی کا اعلان کریں گے اور یہ سب لوگ عذاب کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیں گے، اور ان کے تمام باہمی رشتے کٹ کر رہ جائیں گے

﴿167﴾ اور جنہوں نے ان (پیشواؤں) کی پیروی کی تھی وہ کہیں گے کہ کاش ہمیں ایک مرتبہ پھر (دنیا میں) لوٹنے کا موقع دے دیا جائے تو ہم بھی ان (پیشواؤں) سے اسی طرح بےتعلقی کا اعلان کریں جیسے انہوں نے ہم سے بےتعلقی کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح اللہ انہیں دکھا دے گا کہ ان کے اعمال (آج) ان کے لیے حسرت ہی حسرت بن چکے ہیں اور اب وہ کسی صورت دوزخ سے نکلنے والے نہیں ہیں۔

﴿168﴾ اے لوگو ! زمین میں جو حلال پاکیزہ چیزیں ہیں وہ کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو، یقین جانو کہ وہ تمہارے لیے ایک کھلا دشمن ہے

﴿169﴾ وہ تو تم کو یہی حکم دے گا کہ تم بدی اور بےحیائی کے کام کرو اور اللہ کے ذمے وہ باتیں لگاؤ جن کا تمہیں علم نہیں ہے۔

﴿170﴾ اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ اس کلام کی پیروی کرو جو اللہ نے اتارا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ نہیں ! ہم تو ان باتوں کی پیروی کریں گے جن پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے۔ بھلا کیا اس صورت میں بھی (ان کو یہی چاہیے) جب ان کے باپ دادے (دین کی) ذرا بھی سمجھ نہ رکھتے ہوں، اور انہوں نے کوئی (آسمانی) ہدایت بھی حاصل نہ کی ہو ؟

﴿171﴾ اور جن لوگوں نے کفر کو اپنا لیا ہے ان (کو حق کی دعوت دینے) کی مثال کچھ ایسی ہے جیسے کوئی شخص ان (جانوروں) کو زور زور سے بلائے جو ہانک پکار کے سوا کچھ نہیں سنتے۔ یہ بہرے، گونگے اندھے ہیں، لہذا کچھ نہیں سمجھتے۔

﴿172﴾ اے ایمان والو ! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں رزق کے طور پر عطا کی ہیں، ان میں سے (جو چاہو) کھاؤ، اور اللہ کا شکر ادا کرو، اگر واقعی تم صرف اسی کی بندگی کرتے ہو۔

﴿173﴾ اس نے تو تمہارے لئے بس مردار جانور، خون اور سور حرام کیا ہے، نیز وہ جانور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو ہاں اگر کوئی شخص انتہائی مجبوری کی حالت میں ہو (اور ان چیزوں میں سے کچھ کھالے) جبکہ اس کا مقصد نہ لذت حاصل کرنا ہو اور نہ وہ (ضرورت کی) حد سے آگے بڑھے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔

﴿174﴾ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت وصول کرلیتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ کے سوا کچھ نہیں بھر رہے، قیامت کے دن اللہ ان سے کلام بھی نہیں کرے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ،

﴿175﴾ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی اور مغفرت کے بدلے عذاب کی خریداری کرلی ہے۔ چنانچہ (اندازہ کرو کہ) یہ دوزخ کی آگ سہنے کے لیے کتنے تیار ہیں۔

﴿176﴾ یہ سب کچھ اس لئے ہوگا کہ اللہ نے حق پر مشتمل کتاب اتاری ہے، اور جن لوگوں نے ایسی کتاب کے بارے میں مخالفت کا رویہ اختیار کیا ہے وہ ضدا ضدی میں بہت دور نکل گئے ہیں۔

﴿177﴾ نیکی بس یہی تو نہیں ہے کہ اپنے چہرے مشرق یا مغرب کی طرف کرلو، بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ اللہ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوں پر اور اللہ کی کتابوں اور اس کے نبیوں پر ایمان لائیں، اور اللہ کی محبت میں اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سائلوں کو دیں، اور غلاموں کو آزاد کرانے میں خڑچ کریں، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، اور جب کوئی عہد کرلیں تو اپنے عہد کو پورا کرنے کے عادی ہوں، اور تنگی اور تکلیف میں نیز جنگ کے وقت صبر و استقلال کے خوگر ہوں۔ ایسے لوگ ہیں جو سچے (کہلانے کے مستحق) ہیں، اور یہی لوگ ہیں جو متقی ہیں۔

﴿178﴾ اے ایمان والو ! جو لوگ (جان بوجھ کر ناحق) قتل کر دئیے جائیں ان کے بارے میں تم پر قصاص (کا حکم) فرض کردیا گیا ہے، آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت (ہی کو قتل کیا جائے) ، پھر اگر قاتل کو اس کے بھائی) یعنی مقتول کے وارث) کی طرف سے کچھ معافی دے دی جائے تو معروف طریقے کے مطابق (خوں بہا کا) مطالبہ کرنا (وارث کا) حق ہے، اور اسے خوش اسلوبی سے ادا کرنا (قاتل کا) فرض ہے۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک آسانی پیدا کی گئی ہے اور ایک رحمت ہے، اس کے بعد بھی کوئی زیادتی کرے تو وہ دردناک عذاب کا مستحق ہے

﴿179﴾ اور اے عقل رکھنے والو ! تمہارے لئے قصاص میں زندگی (کا سامان ہے) امید ہے کہ تم (اس کی خلاف ورزی سے) بچو گے۔

﴿180﴾ تم پر فرض کیا گیا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی، اپنے پیچھے مال چھوڑ کر جانے والا ہو تو جب اس کی موت کا وقت قریب آجائے وہ اپنے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے حق میں دستور کے مطابق وصیت کرے یہ متقی لوگوں کے ذمے ایک لازمی حق ہے۔

﴿181﴾ پھر جو شخص اس وصیت کو سننے کے بعد اس میں کوئی تبدیلی کرے گا، تو اس کا گناہ ان لوگوں پر ہوگا جو اس میں تبدیلی کریں گے یقین رکھو کہ اللہ (سب کچھ) سنتا جانتا ہے

﴿182﴾ ہاں اگر کسی شخص کو یہ اندیشہ ہو کہ کوئی وصیت کرنے والا بےجا طرف داری یا گناہ کا ارتکاب کر رہا ہے، اور وہ متعلقہ آدمیوں کے درمیان صلح کرا دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿183﴾ اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کردیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تمہارے اندر تقوی پیدا ہو

﴿184﴾ گنتی کے چند دن روزے رکھنے ہیں، پھر بھی اگر تم میں سے کوئی شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرلے۔ اور جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں وہ ایک مسکین کو کھانا کھلا کر (روزے کا) فدیہ ادا کردیں اس کے علاوہ اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے کوئی نیکی کرے تو یہ اس کے حق میں بہتر ہے، اور اگر تم کو سمجھ ہو تو روزے رکھنے میں تمہارے لیے زیادہ بہتری ہے

﴿185﴾ رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے سراپا ہدایت، اور ایسی روشن نشانیوں کا حامل ہے جو صحیح راستہ دکھاتی اور حق و باطل کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کردیتی ہیں، لہذا تم میں سے جو شخص بھی یہ مہینہ پائے وہ اس میں ضرور روزہ رکھے، اور اگر کوئی شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرلے، اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا معاملہ کرنا چاہتا ہے اور تمہارے لئے مشکل پیدا کرنا نہیں چاہتا، تاکہ (تم روزوں کی) گنتی پوری کرلو، اور اللہ نے تمہیں جو راہ دکھائی اس پر اللہ کی تکبیر کہو اور تاکہ تم شکر گزار بنو۔

﴿186﴾ اور (اے پیغمبر) جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو (آپ ان سے کہہ دیجیے کہ) میں اتنا قریب ہوں کہ جب کوئی مجھے پکارتا ہے تو میں پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں لہذا وہ بھی میری بات دل سے قبول کریں، اور مجھ پر ایمان لائیں، تاکہ وہ راہ راست پر آجائیں۔

﴿187﴾ تمہارے لئے حلال کردیا گیا ہے کہ روزوں کی رات میں تم اپنی بیویوں سے بےتکلف صحبت کرو، وہ تمہارے لئے لباس ہیں، اور اتم ان کے لیے لباس ہو، اللہ کو علم تھا کہ تم اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے، پھر اس نے تم پر عنایت کی اور تمہاری غلطی معاف فرمادی چنانچہ اب تم ان سے صحبت کرلیا کرو، اور جو کچھ اللہ نے تمہارے لیے لکھ رکھا ہے اسے طلب کرو، اور اس وقت تک کھاؤ پیو جب تک صبح کی سفید دھاری سیادہ دھاری سے ممتاز ہو کر تم پر واضح (نہ) ہوجائے، اس کے بعد رات آنے تک روزے پورے کرو، اور ان (اپنی بیویوں) سے اس حالت میں مباشرت نہ کرو جب تم مسجدوں میں اعتکاف میں بیٹھے ہو، یہ اللہ کی (مقرر کی ہوئی) حدود ہیں، لہذا ان (کی خلاف ورزی) کے قریب بھی مت جانا، اسی طرح اللہ اپنی نشانیاں لوگوں کے سامنے کھول کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ وہ تقوی اختیار کریں۔

﴿188﴾ اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقوں سے نہ کھاؤ، اور نہ ان کا مقدمہ حاکموں کے پاس اس سے غرض سے لے جاؤ کہ لوگوں کے مال کا کوئی حصہ جانتے بوجھتے ہڑپ کرنے کا گناہ کرو۔

﴿189﴾ لوگ آپ سے نئے مہینوں کے چاند کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ انہیں بتا دیجیئے کہ یہ لوگوں (کے مختلف معاملات کے) اور حج کے اوقات متعین کرنے کے لیے ہیں۔ اور یہ کوئی نیکی نہیں ہے کہ تم گھروں میں ان کی پشت کی طرف سے داخل ہو بلکہ نیکی یہ ہے کہ انسان تقوی اختیار کرے، اور تم گھروں میں ان کے دروازوں سے داخل ہوا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔

﴿190﴾ اور ان لوگوں سے اللہ کے راستے میں جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں اور زیادتی نہ کرو، یقین جانو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا،

﴿191﴾ اور تم ان لوگوں کو جہاں پاؤ قتل کرو، اور انہیں اس جگہ سے نکال باہر کرو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا، اور فتنہ قتل سے زیادہ سنگین برائی ہے، اور تم ان سے مسجد حرام کے پاس اس وقت تک لڑائی نہ کرو جب تک وہ خود اس میں تم سے لڑائی شروع نہ کریں، ہاں اگر وہ تم سے اس میں لڑائی شروع کردیں تو تم ان کو قتل کرسکتے ہو، ایسے کافروں کی سزا یہی ہے ،

﴿192﴾ پھر اگر وہ باز آجائیں تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے

﴿193﴾ اور تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہوجائے پھر اگر وہ باز آجائیں تو (سمجھ لو کہ) تشدد سوائے ظالموں کے کسی پر نہیں ہونا چاہیے۔

﴿194﴾ حرمت والے مہینے کا بدلہ حرمت والا مہینہ ہے، اور حرمتوں پر بھی بدلے کے احکام جاری ہوتے ہیں چنانچہ اگر کوئی شخص تم پر کوئی زیادتی کرے تو تم بھی ویسی ہی زیادتی اس پر کرو جیسی زیادتی اس نے تم پر کی ہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور اچھی طرح سمجھ لو کہ اللہ انہی کا ساتھی ہے جو اس کا خوف دل میں رکھتے ہیں

﴿195﴾ اور اللہ کے راستے میں مال خرچ کرو، اور اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی اختیار کرو، بیشک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

﴿196﴾ اور حج اور عمرہ اللہ کے لیے پورا پورا ادا کرو، ہاں اگر تمہیں روک دیا جائے تو جو قربانی میسر ہو (اللہ کے حضور پیش کردو) ) اور اپنے سر اس وقت تک نہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔ ہاں اگر تم میں سے کوئی شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو روزوں یا صدقے یا قربانی کا فدیہ دے۔ پھر جب تم امن حاصل کرلو جو شخص حج کے ساتھ عمرے کا فائدہ بھی اٹھائے وہ جو قربانی میسر ہو (اللہ کے حضور پیش کرے) ہاں اگر کسی کے پاس اس کی طاقت نہ ہو تو وہ حج کے دنوں میں تین روزے رکھے اور سات (روز) اس وقت جب تم (گھروں کو) لوٹ جاؤ۔ اس طرح یہ کل دس روزے ہوں گے یہ حکم ان لوگوں کے لیے ہے جن کے گھر والے مسجد حرام کے پاس نہ رہتے ہوں اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور جان رکھو کہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔

﴿197﴾ حج کے چند متعین مہینے ہیں۔ چنانچہ جو شخص ان مہینوں میں (احرام باندھ کر) اپنے اوپر حج لازم کرلے تو حج کے دوران نہ وہ کوئی فحش بات کرے نہ کوئی گناہ نہ کوئی جھگڑا۔ اور تم جو کوئی نیک کام کرو گے اللہ اسے جان لے گا، اور (حج کے سفر میں) زاد راہ ساتھ لے جایا کرو، کیونکہ بہترین زاد راہ تقوی ہے اور اے عقل والو ! میری نافرمانی سے ڈرتے رہو

﴿198﴾ تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم (حج کے دوران تجارت یا مزدوری کے ذریعے) اپنے پروردگار کا فضل تلاش کرو پھر جب تم عرفات سے روانہ ہو تو مشعر حرام کے پاس (جو مزدلفہ میں واقع ہے) اللہ کا ذکر کرو، اور اس کا ذکر اسی طرح کرو جس طرح اس نے تمہیں ہدایت کی ہے جبکہ اس سے پہلے تم بالکل ناواقف تھتے

﴿199﴾ اس کے علاوہ (یہ بات بھی یاد رکھو کہ) تم اسی جگہ سے روانہ ہو جہاں سے عام لوگ روانہ ہوتے ہیں اور اللہ سے مغفرت مانگو، بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے

﴿200﴾ پھر جب تم اپنے حج کے کام پورے کرچکو تو اللہ کا اس طرح ذکر کرو جیسے تم اپنے باپ دادوں کا ذکر کیا کرتے ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ ذکر کرو اب بعض لوگ تو وہ ہیں جو (دعا میں بس) یہ کہتے ہیں کہ :“ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما ” اور آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔

﴿201﴾ اور انہی میں سے وہ بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ :“ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی، اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے

﴿202﴾ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اپنے اعمال کی کمائی کا حصہ (ثواب کی صورت میں) ملے گا، اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔

﴿203﴾ اور اللہ کو گنتی کے (ان چند) دنوں میں (جب تم منی میں مقیم ہو) یاد کرتے رہو۔ پھر جو شخص دو ہی دن میں جلدی چلا جائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے اور جو شخص (ایک دن) بعد میں جائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں یہ (تفصیل) اس کے لیے ہے جو تقوی اختیار کرے اور تم سب تقوی اختیار کرو، اور یقین رکھو کہ تم سب کو اسی کی طرف لے جا کر جمع کیا جائے گا۔

﴿204﴾ اور لوگوں میں ایک وہ شخص بھی ہے کہ دنیوی زندگی کے بارے میں اس کی باتیں تمہیں بڑی اچھی لگتی ہیں اور جو کچھ اس کے دل میں ہے اس پر وہ اللہ کو گواہ بھی بناتا ہے، حالانکہ وہ (تمہارے) دشمنوں میں سب سے زیادہ کٹر ہے

﴿205﴾ اور جب اٹھ کرجاتا ہے تو زمین میں اس کی دوڑ دھوپ اس لئے ہوتی ہے کہ وہ اس میں فساد مچائے، اور فصلیں اور نسلیں تبارہ کرے، حالانکہ اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا

﴿206﴾ اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کا خوف کرو، تو نخوت اس کو گناہ پر اور آمادہ کردیتی ہے۔ چنانچہ ایسے شخص کو تو جہنم ہی راس آئے گی

﴿207﴾ اور یقین کرو وہ بہت برابچھونا ہے، اور (دوسری طرف) لوگوں میں وہ شخص بھی ہے جو اللہ کی خوشنودی کی خاطر اپنی جان کا سودا کرلیتا ہے، اور اللہ (ایسے) بندوں پر بڑا مہربان ہے ،۔

﴿208﴾ اے ایمان والو ! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ، اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو، یقین جانو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

﴿209﴾ پھر جو روشن دلائل تمہارے پاس آچکے ہیں، اگر تم ان کے بعد بھی (راہ راست سے) پھسل گئے تو یاد رکھو کہ اللہ اقتدار میں بھی کامل ہے، حکمت میں بھی کامل

﴿210﴾ یہ (کفار ایمان لانے کے لیے) اس کے سوا کس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ خود بادل کے سائبانوں میں ان کے سامنے آموجود ہو، اور فرشتے بھی (اس کے ساتھ ہوں) اور سارا معاملہ ابھی چکا دیا جائے ؟ حالانکہ آخر کار سارے معاملات اللہ ہی کی طرف تو لوٹ کر رہیں گے۔

﴿211﴾ بنی اسرائیل سے پوچھو ہم نے ان کو کتنی ساری کھلی نشانیاں دی تھیں، اور جس شخص کے پاس اللہ کی نعمت آچکی ہو، پھر وہ اس کو بدل ڈالے، تو (اسے یاد رکھنا چاہیے کہ) اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔

﴿212﴾ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، ان کے لیے دنیوی زندگی بڑی دلکش بنادی گئی ہے، اور وہ اہل ایمان کا مذاق اڑاتے ہیں، حالانکہ جنہوں نے تقوی اختیار کیا ہے وہ قیامت کے دن ان سے کہیں بلند ہوں گے، اور اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے

﴿213﴾ (شروع میں) سارے انسان ایک ہی دین کے پیرو تھے، پھر (جب ان میں اختلاف ہوا تو) اللہ نے نبی بھیجے جو (حق والوں کو) خوشخبری سناتے، اور (باطل والوں کو) ڈراتے تھے، اور ان کے ساتھ حق پر مشتمل کتاب نازل کی، تاکہ وہ لوگوں کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے جن میں ان کا اختلاف تھا۔ اور (افسوس کی بات یہ ہے کہ) کسی اور نے نہیں بلکہ خود انہوں نے جن کو وہ کتاب دی گئی تھی، روشن دلائل آجانے کے بعد بھی، صرف باہمی ضد کی وجہ سے اسی (کتاب) میں اختلاف نکال لیا، پھر جو لوگ ایمان لائے اللہ نے انہیں اپنے حکم سے حق کی ان باتوں میں راہ راست تک پہنچایا جن میں انہوں نے اختلاف کیا تھا، اور اللہ جسے چاہتا ہے راہ راست تک پہنچا دیتا ہے۔

﴿214﴾ (مسلمانو) کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں (یونہی) داخل ہوجاؤ گے، حالانکہ ابھی تمہیں اس جیسے حالات پیش نہیں آئے جیسے ان لوگوں کو پیش آئے تھے جو تم سے پہلے ہوگزرے ہیں۔ ان پر سختیاں اور تکلیفیں آئیں، اور انہیں ہلا ڈالا گیا، یہاں تک کہ رسول اور ان کے ایمان والے ساتھ بول اٹھے کہ “ اللہ کی مدد کب آئے گی ؟” یا درکھو ! اللہ کی مدد نزدیک ہے۔

﴿215﴾ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ (اللہ کی خوشنودی کے لیے) کیا خرچ کریں ؟ آپ کہہ دیجیے کہ جو مال بھی تم خرچ کرو وہ والدین، قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہونا چاہیے، اور تم بھلائی کا جو کام بھی کرو، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

﴿216﴾ تم پر (دشمنوں سے) جنگ کرنا فرض کیا گیا ہے، اور وہ تم پر گراں ہے، اور یہ عین ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو برا سمجھو حالانکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرو، حالانکہ وہ تمہارے حق میں بری ہو، اور (اصل حقیقت تو) اللہ جانتا ہے، اور تم نہیں جانتے۔

﴿217﴾ لوگ آپ سے حرمت والے مہینے کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس میں جنگ کرنا کیسا ہے ؟ آپ کہہ دیجیے کہ اس میں جنگ کرنا بڑا گناہ ہے، مگر لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنا، اس کے خلاف کفر کی روش اختیار کرنا، مسجد حرام پر بندش لگانا اور اس کے باسیوں کو وہاں سے نکال باہر کرنا اللہ کے نزدیک زیادہ بڑا گناہ ہے، اور فتنہ قتل سے بھی زیادہ سنگین چیز ہے، اور یہ (کافر) تم لوگوں سے برابر جنگ کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ اگر ان کا بس چلے تو یہ تم کو تمہارا دین چھوڑنے پر آمادہ کردیں، اور اگر تم میں سے کوئی شخص اپنا دین چھوڑ دے، اور کافر ہونے کی حالت ہی میں مرے تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں اکارت ہوجائیں گے، ایسے لوگ دوزخ والے ہیں، وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔

﴿218﴾ (اس کے برخلاف) جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا، تو وہ بیشک اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿219﴾ لوگ آپ سے شراب اور جوے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ بھی ہے، اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں، اور ان دونوں کا گناہ ان کے فائدے سے زیادہ بڑھا ہوا ہے۔ اور لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ (اللہ کی خوشنودی کے لیے) کیا خرچ کریں ؟ آپ کہہ دیجیے کہ “ جو تمہاری ضرورت سے زائد ہو ” اللہ اسی طرح اپنے احکام تمہارے لیے صاف صاف بیان کرتا ہے تاکہ تم غورو فکر سے کام لو۔

﴿220﴾ دنیا کے بارے میں بھی اور آخرت کے بارے میں بھی۔ اور لوگ آپ سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ ان کی بھلائی چاہنا نیک کام ہے، اور اگر تم ان کے ساتھ مل جل کر رہو تو (کچھ حرج نہیں کیونکہ) وہ تمہارے بھائی ہی تو ہیں، اور اللہ خوب جانتا ہے کہ کون معاملات بگاڑنے والا ہے اور کون سنوارنے والا، اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشکل میں ڈال دیتا۔ یقینا اللہ کا اقتدار بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل۔

﴿221﴾ اور مشرک عورتوں سے اس وقت تک نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ یقینا ایک مومن باندی کسی بھی مشرک عورت سے بہتر ہے، خواہ وہ مشرک عورت تمہیں پسند آرہی ہو، اور اپنی عورتوں کا نکاح مشرک مردوں سے نہ کراؤ جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ اور یقینا ایک مومن غلام کسی بھی مشرک مرد سے بہتر ہے خواہ وہ مشرک مرد تمہیں پسند آرہا ہو۔ یہ سب دوزخ کی طرف بلاتے ہیں جبکہ اللہ اپنے حکم سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے، اور اپنے احکام لوگوں کے سامنے صاف صاف بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

﴿222﴾ اور لوگ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ وہ گندگی ہے لہذا حیض کی حالت میں عورتوں سے الگ رہو، اور جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں ان سے قربت (یعنی جماع) نہ کرو، ہاں جب وہ پاک ہوجائیں تو ان کے پاس اسی طریقے سے جاؤ جس طرح اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے، بیشک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی طرف کثرت سے رجوع کریں اور ان سے محبت کرتا ہے جو خوب پاک صاف رہیں۔

﴿223﴾ تمہاری بیویاں تمہارے لیے کھیتیاں ہیں لہذا اپنی کھتی میں جہاں سے چاہو جاؤ اور اپنے لئیے (اچھے عمل) آگے بھیجو، اللہ سے ڈرتے رہو، اور یقین رکھو کہ تم اس سے جاکر ملنے والے ہو، اور مومنوں کو خوشخبری سنا دو ۔

﴿224﴾ اور اللہ (کے نام) کو اپنی قسموں میں اس غرض سے استعمال نہ کرو کہ اس کے ذریعے نیکی اور تقوی کے کاموں اور لوگوں کے درمیان صلح صفائی کرانے سے بچ سکو اور اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے۔

﴿225﴾ اور اللہ تمہاری لغو قسموں پر تمہاری گرفت نہیں کرے گا البتہ جو قسمیں تم نے اپنے دلوں کے ارادے سے کھائی ہوں گی ان پر گرفت کرے گا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا بردبار ہے۔

﴿226﴾ جو لوگ اپنی بیویوں سے ایلاء کرتے ہیں (یعنی ان کے پاس نہ جانے کی قسم کھالیتے ہیں) ان کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے چنانچہ اگر وہ (قسم توڑ کر) رجوع کرلیں تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿227﴾ اور اگر انہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی ہو تو (بھی) اللہ سننے جاننے والا ہے۔

﴿228﴾ اور جن عورتوں کو طلاق دے دی گئی ہو وہ تین مرتبہ حیض آنے تک اپنے آپ کو انتظار میں رکھیں اور اگر وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہوں تو ان کے لیے حلال نہیں ہے کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو کچھ (حمل یا حیض) پیدا کیا ہے اسے چھپائیں، اور اس مدت میں اگر ان کے شوہر حالات بہتر بنانا چاہیں تو ان کو حق ہے کہ وہ ان عورتوں کو (اپنی زوجیت) میں واپس لے لیں۔ اور ان عورتوں کو معروف طریقے کے مطابق ویسے ہی حقوق حاصل ہیں جیسے (مردوں کو) ان پر حاصل ہیں۔ ہاں مردوں کو ان پر ایک درجہ فوقیت ہے اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے ،۔

﴿229﴾ طلاق (زیادہ سے زیادہ) دو بار ہونی چاہیے، اس کے بعد (شوہر کے لیے دو ہی راستے ہیں) یا تو قاعدے کے مطابق (بیوی کو) روک رکھے (یعنی طلاق سے رجوع کرلے) یا خوش اسلوبی سے چھوڑ دے (یعنی رجوع کے بغیر عدت گزر جانے دے) اور (اے شوہرو) تمہارے لیے حلال نہیں ہے کہ تم نے ان (بیویوں) کو جو کچھ دیا ہو وہ (طلاق کے بدلے) ان سے واپس لو، الا یہ کہ دونوں کو اس بات کا اندیشہ ہو کہ (نکاح باقی رہنے کی صورت میں) اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے ۔ چنانچہ اگر تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو ان دونوں کے لیے اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ عورت مالی معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کرلے۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں، لہذا ان سے تجاوز نہ کرو۔ اور جو لوگ اللہ کی حدود سے تجاوز کرتے ہیں وہ بڑے ظالم لوگ ہیں۔

﴿230﴾ پھر اگر شوہر (تیسری) طلاق دیدے تو وہ (مطلقہ عورت) اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک وہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرے، ہاں اگر وہ (دوسرا شوہر بھی) اسے طلاق دیدے تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ایک دوسرے کے پاس (نیا نکاح کر کے) دوبارہ واپس آجائیں، بشرطیکہ انہیں یہ غالب گمان ہو کہ اب وہ اللہ کی حدود قائم رکھیں گے، اور یہ سب اللہ کی حدود ہیں جو وہ ان لوگوں کے لیے واضح کر رہا ہے جو سمجھ رکھتے ہوں۔

﴿231﴾ اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دے دی ہو اور وہ اپنی عدت کے قریب پہنچ جائیں، تو یا تو ان کو بھلائی کے ساتھ (اپنی زوجیت میں) روک رکھو، یا انہیں بھلائی کے ساتھ چھوڑ دو ، اور انہیں ستانے کی خاطر اس لیے روک کر نہ رکھو کہ ان پر ظلم کرسکو اور جو شخص ایسا کرے گا وہ خود اپنی جان پر ظلم کرے گا، اور اللہ کی آیتوں کو مذاق مت بناؤ اور اللہ نے تم پر جو انعام فرمایا ہے اسے اور تم پر جو کتاب اور حکمت کی باتیں تمہیں نصیحت کرنے کے لیے نازل کی ہیں انہیں یاد رکھو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور جان رکھو کہ اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔

﴿232﴾ اور جب تم نے عوررتوں کو طلاق دے دی ہو اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو (اے میکے والو) انہیں اس بات سے منع نہ کرو کہ وہ اپنے (پہلے) شوہروں سے (دوبارہ) نکاح کریں، بشرطیکہ وہ بھلائی کے ساتھ ایک دوسرے سے راضی ہوگئے ہوں۔ ان باتوں کی نصیحت تم میں سے ان لوگوں کو کی جارہی ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہوں۔ یہی تمہارے لیے زیادہ ستھرا اور پاکیزہ طریقہ ہے، اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

﴿233﴾ اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں، یہ مدت ان کے لیے ہے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہیں، اور جس باپ کا وہ بچہ ہے اس پر واجب ہے کہ وہ معروف طریقے پر ان ماؤں کے کھانے اور لباس کا خرچ اٹھائے، ۔ (ہاں) کسی شخص کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی، نہ تو ماں کو اپنے بچے کی وجہ سے ستایا جائے، اور نہ باپ کو اپنے بچے کی وجہ سے اور اسی طرح کی ذمہ داری وارث پر بھی ہے پھر اگر وہ دونوں (یعنی والدین) آپس کی رضا مندی اور باہمی مشورے سے (دو سال گزرنے سے پہلے ہی) دودھ چھڑانا چاہیں تو اس میں بھی ان پر کوئی گناہ نہیں ہے، اور اگر تم یہ چاہو کہ اپنے بچوں کو کسی انا سے دودھ پلواؤ تو بھی تم پر کوئی گناہ نہیں، جبکہ تم نے جو اجرت ٹھہرائی تھی وہ (دودھ پلانے والی انا کو) بھلے طریقے سے دے دو ، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور جان رکھو کہ اللہ تمہارے سارے کاموں کو اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔

﴿234﴾ اور تم میں سے جو لوگ وفات پاجائیں، اور بیویاں چھوڑ کر جائیں تو وہ بیویاں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن انتظار میں رکھیں گی، پھر جب وہ اپنی (عدت کی) میعاد کو پہنچ جائیں تو وہ اپنے بارے میں جو کاروائی (مثلا دوسرا نکاح) قاعدے کے مطابق کریں تو تم پر کچھ گناہ نہیں، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

﴿235﴾ اور (عدت کے دوران) اگر تم ان عورتوں کو اشارے کنائے میں نکاح کا پیغام دو یا (ان سے نکاح کا ارادہ) دل میں چھپائے رکھو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے، اللہ جانتا ہے کہ تم ان (سے نکاح) کا خیال تو دل میں لاؤ گے، لیکن ان سے نکاح کا دو طرفہ وعدہ مت کرنا، الا یہ کہ مناسب طریقے سے کوئی بات کہہ دو اور نکاح کا عقد پکا کرنے کا اس وقت تک ارادہ بھی مت کرنا جب تک عدت کی مقررہ مدت اپنی میعاد کو نہ پہنچ جائے، اور یاد رکھو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اللہ اسے خوب جانتا ہے، لہذا اس سے ڈرتے رہو، اور یاد کھو کہ اللہ بہت بخشنے والا بڑا بردبار ہے۔

﴿236﴾ تم پر اس میں بھی کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم عورتوں کو ایسے وقت طلاق دو جبکہ ابھی تم نے ان کو چھوا بھی نہ ہو، اور نہ ان کے لیے کوئی مہر مقرر کیا ہو، اور (ایسی صورت میں) ان کو کوئی تحفہ دو ، خوشحال شخص اپنی حیثیت کے مطابق اور غریب آدمی اپنی حیثیت کے مطابق بھلے طریقے سے یہ تحفہ دے۔ یہ نیک آدمیوں پر ایک لازمی حق ہے۔

﴿237﴾ اور اگر تم نے انہیں چھونے سے پہلے ہی اس حالت میں طلاق دی ہو جبکہ ان کے لیے (نکاح کے وقت) کوئی مہر مقرر کرلیا تھا تو جتنا مہر تم نے مقرر کیا تھا اس کا آدھا دینا (واجب ہے) الا یہ کہ وہ عورتیں رعایت کردیں (اور آدھے مہر کا بھی مطالبہ نہ کریں) یا وہ (شوہر) جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے، رعایت کرے ا (اور پورا مہر دیدے) اور اگر تم رعایت کرو تو یہ تقوی کے زیادہ قریب ہے، اور آپس میں فراخ دلی کا برتاؤ کرنا مت بھولو۔ جو عمل بھی تم کرتے ہو، اللہ یقینا اسے دیکھ رہا ہے۔

﴿238﴾ تمام نمازوں کا پورا خیال رکھو، اور (خاص طور پر) بیچ کی نماز کا اور اللہ کے سامنے باادب فرمانبردار بن کر کھڑے ہوا کرو۔

﴿239﴾ اور اگر تمہیں (دشمن کا) خوف لاحق ہو تو کھڑے کھڑے یا سوار ہونے کی حالت ہی میں (نماز پڑھ لو) پھر جب تم امن کی حالت میں آجاؤ تو اللہ کا ذکر اس طریقے سے کرو جو اس نے تمہیں سکھایا ہے جس سے تم پہلے ناواقف تھے۔

﴿240﴾ اور تم میں سے جو لوگ وفات پاجائیں اور اپنے پیچھے بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ اپنی بیویوں کے حق میں یہ وصیت کر جایا کریں کہ ایک سال تک وہ (ترکے سے نفقہ وصول کرنے کا) فائدہ اٹھائیں گی اور ان کو (شوہر کے گھر سے) نکالا نہیں جائے گا ہاں اگر وہ خود نکل جائیں تو اپنے حق میں قاعدے کے مطابق وہ جو کچھ بھی کریں اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اور اللہ صاحب اقتدار بھی ہے، صاحب حکمت بھی۔

﴿241﴾ اور مطلقہ عورتوں کو قاعدے کے مطابق فائدہ پہنچانا متقیوں پر ان کا حق ہے۔ (ٍ)

﴿242﴾ اللہ اپنے احکام اسی طرح وضاحت سے تمہارے سامنے بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھ داری سے کام لو۔

﴿243﴾ کیا تمہیں ان لوگوں کا حال معلوم نہیں ہوا جو موت سے بچنے کے لیے اپنے گھروں سے نکل آئے تھے، اور وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے ؟ چنانچہ اللہ نے ان سے کہا : مرجاؤ، پھر انہیں زندہ کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر بہت فضل فرمانے والا ہے، لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔

﴿244﴾ اور اللہ کے راستے میں جنگ کرو، اور یقین رکھو کہ اللہ خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔

﴿245﴾ کون ہے جو اللہ کو اچھے طریقے پر قرض دے، تاکہ وہ اسے اس کے مفاد میں اتنا بڑھائے چڑھائے کہ وہ بدر جہاز یا دہ ہوجائے ؟ اور اللہ ہی تنگی پیدا کرتا ہے، اور وہی وسعت دیتا ہے، اور اسی کی طرف تم سب کو لوٹایا جائے گا۔

﴿246﴾ کیا تمہیں موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کے گروہ کے اس واقعے کا علم نہیں ہوا جب انہوں نے اپنے ایک نبی سے کہا تھا کہ ہمارا ایک بادشاہ مقرر کردیجیے تاکہ (اس کے جھنڈے تلے) ہم اللہ کے راستے میں جنگ کرسکیں۔ نبی نے کہا : کیا تم لوگوں سے یہ بات کچھ بعید ہے کہ جب تم پر جنگ فرض کی جائے تو تم نہ لڑو ؟ انہوں نے کہا : بھلا ہمیں کیا ہوجائے گا جو ہم اللہ کے راستے میں جنگ نہ کریں گے حالانکہ ہمیں اپنے گھروں اور اپنے بچوں کے پاس سے نکال باہر کیا گیا ہے۔ پھر (ہوا یہی کہ) جب ان پر جنگ فرض کی گئی تو ان میں سے تھوڑے لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب پیٹھ پھیر گئے، اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

﴿247﴾ اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ : اللہ نے تمہارے لیے طالوت کو بادشاہ بنا کر بھیجا ہے۔ کہنے لگے : بھلا اس کو ہم پر بادشاہت کرنے کا حق کہاں سے آگیا ؟ ہم اس کے مقابلے میں بادشاہت کے زیادہ مستحق ہیں، اور اس کو تو مالی وسعت بھی حاصل نہیں۔ نبی نے کہا : اللہ نے ان کو تم پر فضیلت دے کر چنا ہے اور انہیں علم اور جسم میں (تم سے) زیادہ وسعت عطا کی ہے، اور اللہ اپنا ملک جس کو چاہتا ہے دیتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت اور بڑا علم رکھنے والا ہے۔

﴿248﴾ اور ان سے ان کے نبی نے یہ بھی کہا کہ : طالوت کی بادشاہت کی علامت یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق (واپس) آجائے گا جس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے سکینت کا سامان ہے، اور موسیٰ اور ہارون نے جو اشیاء چھوڑی تھیں ان میں سے کچھ باقی ماندہ چیزیں ہیں۔ اسے فرشتے اٹھائے ہوئے لائیں گے اگر تم مومن ہو تو تمہارے لیے اس میں بڑی نشانی ہے۔

﴿249﴾ چنانچہ جب طالوت لشکر کے ساتھ روانہ ہوا تو اس نے (لشکر والوں سے) کہا کہ : اللہ ایک دریا کے ذریعے تمہارا امتحان لینے والا ہے، جو شخص اس دریا سے پانی پیے گا وہ میرا آدمی نہیں ہوگا، اور جو اسے نہیں چکھے گا وہ میرا آدمی ہوگا، الا یہ کہ کوئی اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے (تو کچھ حرج نہیں) پھر (ہوا یہ کہ) ان میں سے تھوڑے آدمیوں کے سوا باقی سب نے اس دریا سے (خوب) پانی پیا۔ چنانچہ جب وہ (یعنی طالوت) اور اس کے ساتھ ایمان رکھنے والے دریا کے پار اترے، تو یہ لوگ (جنہوں نے طالوت کا حکم نہیں مانا تھا) کہنے لگے کہ : آج جالوت اور اس کے لشکر کا مقابلہ کرنے کی ہم میں بالکل طاقت نہیں ہے۔ (مگر) جن لوگوں کا ایمان تھا کہ وہ اللہ سے جا ملنے والے ہیں انہوں نے کہا کہ : نہ جانے کتنی چھوٹی جماعتیں ہیں جو اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں، اور اللہ ان لوگوں کا ساتھی ہے جو صبر سے کام لیتے ہیں۔

﴿250﴾ اور جب یہ لوگ جالوت اور اس کے لشکروں کے آمنے سامنے ہوئے تو انہوں نے کہا : اے ہمارے پروردگار صبر و استقلال کی صفت ہم پر انڈیل دے، ہمیں ثابت قدمی بخش دے، اور ہمیں اس کافر قوم کے مقابلے میں فتح و نصرت عطا فرمادے۔

﴿251﴾ چنانچہ انہوں نے اللہ کے حکم سے ان (جالوت کے ساتھیوں) کو شکست دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کیا، اور اللہ نے اس کو سلطنت اور دانائی عطا کی، اور جو علم چاہا اس کو عطا فرمایا۔ اگر اللہ لوگوں کا ایک دوسرے کے ذریعے دفاع نہ کرے تو زمین میں فساد پھیل جائے، لیکن اللہ تمام جہانوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔

﴿252﴾ یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کے سامنے ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں، اور آپ بیشک ان پیغمبروں میں سے ہیں جو رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔

﴿253﴾ یہ پیغبر جو ہم نے (مخلوق کی اصلاح کے لیے) بھیجے ہیں، ان کو ہم نے ایک دوسرے پر فضیلت عطا کی ہے، ان میں سے بعض وہ ہیں جن سے اللہ نے کلام فرمایا، اور ان میں سے بعض کو اس نے بدرجہا بلندی عطا کی اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے ان کی مدد فرمائی اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے بعد والے لوگ اپنے پاس روشن دلائل آجانے کے بعد آپس میں نہ لڑتے، لیکن انہوں نے خود اختلاف کیا، چنانچہ ان میں سے کچھ وہ تھے جو ایمان لائے اور کچھ وہ جنہوں نے کفر اپنایا۔ اور اگر اللہ چاہتا تو وہ آپس میں نہ لڑتے، لیکن اللہ وہی کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے

﴿254﴾ اے ایمان والو۔ جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے وہ دن آنے سے پہلے پہلے (اللہ کے راستے میں) خرچ کرلو جس دن نہ کوئی سودا ہوگا نہ کوئی دوستی (کام آئے گی) اور نہ کوئی سفارش ہوسکے گی۔ اور ظالم وہ لوگ ہیں جو کفر اختیار کیے ہوئے ہیں۔

﴿255﴾ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو سدا زندہ ہے جو پوری کائنات سنبھالے ہوئے ہے جس کو نہ کبھی اونگھ لگتی ہے، نہ نیند۔ آسمانوں میں جو کچھ ہے (وہ بھی) اور زمین میں جو کچھ ہے (وہ بھی) سب اسی کا ہے۔ کون ہے جو اس کے حضور اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کرسکے ؟ وہ سارے بندوں کے تمام آگے پیچھے کے حالات کو خوب جانتا ہے، اور وہ لوگ اس کے علم کی کوئی بات اپنے علم کے دائرے میں نہیں لاسکتے، سوائے اس بات کے جسے وہ خود چاہے، اس کی کرسی نے سارے آسمانوں اور زمین کو گھیرا ہوا ہے، اور ان دونوں کی نگہبانی سے اسے ذرا بھی بوجھ نہیں ہوتا، اور وہ بڑا عالی مقام، صاحب عظمت ہے۔

﴿256﴾ دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے، ہدایت کا راستہ گمراہی سے ممتاز ہو کر واضح ہوچکا، اس کے بعد جو شخص طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آئے گا، اس نے ایک مضبوط کنڈا تھام لیا جس کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں، اور اللہ خوب سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

﴿257﴾ اللہ ایمان والوں کا رکھوالا ہے، وہ انہیں اندھیریوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے، اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، ان کے رکھوالے وہ شیطان ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھیریوں میں لے جاتے ہیں، وہ سب آگ کے باسی ہیں، وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔

﴿258﴾ کیا تم نے اس شخص (کے حال) پر غور کیا جس کو اللہ نے سلطنت کیا دے دی تھی کہ وہ اپنے پروردگار (کے وجود ہی) کے بارے میں ابراہیم سے بحث کرنے لگا ؟ جب ابراہیم نے کہا کہ : میرا پروردگار وہ ہے جو زندگی بھی دیتا ہے اور موت بھی، تو وہ کہنے لگا کہ : میں بھی زندگی دیتا ہوں اور موت دیتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا : اچھا اللہ تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تم ذرا اسے مغرب سے تو نکال کر لاؤ، اس پر وہ کافر مبہوت ہو کر رہ گیا۔ اور اللہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

﴿259﴾ یا (تم نے) اس جیسے شخص (کے واقعے) پر (غور کیا) جس کا ایک بستی پر ایسے وقت گزر ہوا جب وہ چھتوں کے بل گری پڑی تھی ؟ اس نے کہا کہ : اللہ اس بستی کو اس کے مرنے کے بعد کیسے زندہ کرے گا ؟ پھر اللہ نے اس شخص کو سو سال تک کے لیے موت دی، اور اس کے بعد زندہ کردیا۔ (اور پھر) پوچھا کہ تم کتنے عرصے تک (اس حالت میں) رہے ہو ؟ اس نے کہا : ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ۔ اللہ نے کہا : نہیں بلکہ تم سو سال اسی طرح رہے ہو۔ اب اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ وہ ذرا نہیں سڑیں۔ اور (دوسری طرف) اپنے گدھے کو دیکھو (کہ گل سڑ کر اس کا کیا حال ہوگیا ہے) اور یہ ہم نے اس لیے کیا تاکہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے (اپنی قدرت کا) ایک نشان بنادیں، اور (اب اپنے گدھے کی) ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے ہیں، پھر ان کو گوشت کا لباس پہناتے ہیں۔ چنانچہ جب حقیقت کھل کر اس کے سامنے آگئی تو وہ بول اٹھا کہ : مجھے یقین ہے اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

﴿260﴾ اور (اس وقت کا تذکرہ سنو) جب ابراہیم نے کہا تھا کہ میرے پروردگار مجھے دکھایے کہ آپ مردوں کو کیسے زندہ کرتے ہیں ؟ اللہ نے کہا : کیا تمہیں یقین نہیں ؟ کہنے لگے : یقین کیوں نہ ہوتا ؟ مگر (یہ خواہش اس لیے کی ہے) تاکہ میرے دل کو پورا اطمینان حاصل ہوجائے۔ اللہ نے کہا : اچھا تو چار پرندے لو، اور انہیں اپنے سے مانوس کرلو، پھر (ان کو ذبح کر کے) ان کا ایک ایک حصہ ہر پہاڑ پر رکھ دو ، پھر ان کو بلاؤ، وہ چاروں تمہارے پاس دوڑے چلے آئیں گے۔ اور جان رکھو کہ اللہ پوری طرح صاحب اقتدار بھی ہے، اعلی درجے کی حکمت والا بھی۔

﴿261﴾ جو لوگ اللہ کے راستے میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ سات بالیں اگائے (اور) ہر بالی میں سو دانے ہوں اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے (ثواب میں) کئی گنا اضافہ کردیتا ہے، اللہ بہت وسعت والا (اور) بڑے علم والا ہے۔

﴿262﴾ جو لوگ اپنے مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتلاتے ہیں اور نہ کوئی تکلیف پہنچاتے ہیں، وہ اپنے پروردگار کے پاس اپنا ثواب پائیں گے، نہ ان کو کوئی خوف لاحق ہوگا اور نہ کوئی غم پہنچے گا۔

﴿263﴾ بھلی بات کہہ دینا اور درگزر کرنا اس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد کوئی تکلیف پہنچائی جائے اور اللہ بڑا بےنیاز، بہت بردبار ہے۔

﴿264﴾ اے ایمان والو اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور تکلیف پہنچا کر اس شخص کی طرح ضائع مت کرو جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ چنانچہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چکنی چٹان پر مٹی جمی ہو، پھر اس پر زور کی بارش پڑے اور اس (مٹی کو بہا کر چٹان) کو (دوبارہ) چکنی بنا چھوڑے۔ ایسے لوگوں نے جو کمائی کی ہوتی ہے وہ ذرا بھی ان کے ہاتھ نہیں لگتی، اور اللہ (ایسے) کافروں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔

﴿265﴾ اور جو لوگ اپنے مال اللہ کی خوشنودی طلب کرنے کے لیے اور اپنے آپ میں پختگی پیدا کرنے کے لیے خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک باغ کسی ٹیلے پر واقع ہو، اس پر زور کی بارش برسے تو وہ دگنا پھل لے کر آئے۔ اور اگر اس پر زور کی بارش نہ بھی برسے تو ہلکی پھوار بھی اس کے لیے کافی ہے، اور تم جو عمل بھی کرتے ہو اللہ اسے خوب اچھی طرح دیکھتا ہے۔

﴿266﴾ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں (اور) اس کو اس باغ میں اور بھی ہر طرح کے پھل حاصل ہوں، اور بڑھاپے نے اسے آپکڑا ہو، اور اس کے بچے ابھی کمزور ہوں، اتنے میں ایک آگ سے بھرا بگولا آکر اس کو اپنی زد میں لے لے اور پورا باغ جل کر رہ جائے ؟ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم غور کرو۔

﴿267﴾ اے ایمان والو۔ جو کچھ تم نے کمایا ہو اور جو پیداوار ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالی ہو اس کی اچھی چیزوں کا ایک حصہ (اللہ کے راستے میں) خرچ کیا کرو، اور یہ نیت نہ رکھو کہ بس ایسی خراب قسم کی چیزیں (اللہ کے نام پر) دیا کرو گے جو (اگر کوئی دوسرا تمہیں دے تو نفرت کے مارے) تم اسے آنکھیں میچے بغیر نہ لے سکو۔ اور یاد رکھو کہ اللہ ایسا بےنیاز ہے کہ ہر قسم کی تعریف اسی کی طرف لوٹتی ہے۔

﴿268﴾ شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور تمہیں بےحیائی کا حکم دیتا ہے اور اللہ تم سے اپنی مغفرت اور فضل کا وعدہ کرتا ہے۔ اللہ بڑی وسعت والا، ہر بات جاننے والا ہے۔

﴿269﴾ وہ جس کو چاہتا ہے دانائی عطا کردیتا ہے، اور جسے دانائی عطا ہوگئی اسے وافر مقدار میں بھلائی مل گئی۔ اور نصیحت وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو سمجھ کے مالک ہیں۔

﴿270﴾ اور تم جو کوئی خرچ کرو یا کوئی منت مانو اللہ اسے جانتا ہے۔ اور ظالموں کو کسی طرح کے مددگار میسر نہیں آئیں گے۔

﴿271﴾ اگر تم صدقات ظاہر کر کے دو تب بھی اچھا ہے، اور اگر ان کو چھپا کر فقرا کو دو تو یہ تمہارے حق میں کہیں بہتر ہے، اور اللہ تمہاری برائیوں کا کفارہ کردے گا، اور اللہ تمہارے تمام کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔

﴿272﴾ (اے پیغمبر) ان (کافروں) کو راہ راست پر لے آنا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے، لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے راہ راست پر لے آتا ہے۔ اور جو مال بھی تم خرچ کرتے ہو وہ خود تمہارے فائدے کے لیے ہوتا ہے جبکہ تم اللہ کی خوشنودی طلب کرنے کے سوا کسی اور غرض سے خرچ نہیں کرتے۔ اور جو مال بھی تم خرچ کرو گے تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تم پر ذرا بھی ظلم نہیں ہوگا۔

﴿273﴾ (مالی امداد کے بطور خاص) مستحق وہ فقرا ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں اس طرح مقید کر رکھا ہے کہ وہ (معاش کی تلاش کے لیے) زمین میں چل پھر نہیں سکتے۔ چونکہ وہ اتنے پاک دامن ہیں کہ کسی سے سوال نہیں کرتے، اس لیے ناواقف آدمی انہیں مال دار سمجھتا ہے، تم ان کے چہرے کی علامتوں سے ان (کی اندرونی حالت) کو پہچان سکتے ہو (مگر) وہ لوگوں سے لگ لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔ اور تم جو مال بھی خرچ کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

﴿274﴾ جو لوگ اپنے مال دن رات خاموشی سے بھی اور علانیہ بھی خرچ کرتے ہیں وہ اپنے پروردگار کے پاس اپنا ثواب پائیں گے، اور نہ انہیں کوئی خوف لاحق ہوگا، نہ کوئی غم پہنچے گا۔

﴿275﴾ جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قیامت میں) اٹھیں گے تو اس شخص کی طرح اٹھیں گے جسے شیطان نے چھوکر پاگل بنادیا ہو، یہ اس لیے ہوگا کہ انہوں نے کہا تھا کہ : بیع بھی تو سود ہی کی طرح ہوتی ہے۔ حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ لہذا جس شخص کے پاس اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت آگئی اور وہ (سودی معاملات سے) باز آگیا تو ماضی میں جو کچھ ہوا وہ اسی کا ہے۔ اور اس (کی باطنی کیفیت) کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ اور جس شخص نے لوٹ کر پھر وہی کام کیا تو ایسے لوگ دوزخی ہیں، وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔

﴿276﴾ اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے، اور اللہ ہر اس شخص کو ناپسند کرتا ہے جو ناشکرا گنہگار ہو۔

﴿277﴾ (ہاں) وہ لوگ جو ایمان لائیں، نیک عمل کریں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں وہ اپنے رب کے پاس اپنے اجر کے مستحق ہوں گے، نہ انہیں کوئی خوف لاحق ہوگا نہ کوئی غم پہنچے گا۔

﴿278﴾ اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اگر تم واقعی مومن ہو تو سود کا جو حصہ بھی (کسی کے ذمے) باقی رہ گیا ہو اسے چھوڑ دو ۔

﴿279﴾ پھر بھی اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو۔ اور اگر تم (سود سے) توبہ کرو تو تمہارا اصل سرمایہ تمہارا حق ہے، نہ تم کسی پر ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے۔

﴿280﴾ اور اگر کوئی تنگدست (قرض دار) ہو تو اس کا ہاتھ کھلنے تک مہلت دینی ہے، اور صدقہ ہی کردو تو یہ تمہارے حق میں کہیں زیادہ بہتر ہے، بشرطیکہ تم کو سمجھ ہو۔

﴿281﴾ اور ڈرو اس دن سے جب تم سب اللہ کے پاس لوٹ کر جاؤ گے، پھر ہر ہر شخص کو جو کچھ اس نے کمایا ہے پورا پورا دیا جائے گا، اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔

﴿282﴾ اے ایمان والو جب تم کسی معین میعاد کے لیے ادھار کا کوئی معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو، اور تم میں سے جو شخص لکھنا جانتا ہو انصاف کے ساتھ تحریر لکھے، اور جو شخص لکھنا جانتا ہو لکھنے سے انکار نہ کرے۔ جب اللہ نے اسے یہ علم دیا ہے تو اسے لکھنا چاہیے۔ اور تحریر وہ شخص لکھوائے جس کے ذمے حق واجب ہورہا ہو، اور اسے چاہیے کہ وہ اللہ سے ڈرے جو اس کا پروردگار ہے اور اس (حق) میں کوئی کمی نہ کرے۔ ہاں اگر وہ شخص جس کے ذمے حق واجب ہورہا ہے ناسمجھ یا کمزور ہو یا (کسی اور وجہ سے) تحریر نہ لکھوا سکتا ہو تو اس کا سرپرست انصاف کے ساتھ لکھوائے۔ اور اپنے میں سے دو مردوں کو گواہ بنا لو، ہاں اگر دو مرد موجود نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ان گواہوں میں سے ہوجائیں جنہیں تم پسند کرتے ہو، تاکہ اگر ان دو عورتوں میں سے ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلادے۔ اور جب گواہوں کو (گواہی دینے کے لیے) بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں، اور جو معاملہ اپنی میعاد سے وابستہ ہو، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، اسے لکھنے سے اکتاؤ نہیں۔ یہ بات اللہ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف اور گواہی کو درست رکھنے کا بہتر ذریعہ ہے، اور اس بات کی قریبی ضمانت ہے کہ تم آئندہ شک میں نہیں پڑو گے۔ ہاں اگر تمہارے درمیان کوئی نقد لین دین کا سودا ہو تو اس کو نہ لکھنے میں تمہارے لیے کچھ حرج نہیں ہے۔ اور جب خریدو فروخت کرو تو گواہ بنا لیا کرو۔ اور نہ لکھنے والے کو کوئی تکلیف پہنچائی جائے، نہ گواہ کو۔ اور اگر ایسا کرو گے تو یہ تمہاری طرف سے نافرمانی ہوگی، اور اللہ کا خوف دل میں رکھو، اللہ تمہیں تعلیم دیتا ہے، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔

﴿283﴾ اور اگر تم سفر پر ہو اور تمہیں کوئی لکھنے والا نہ ملے تو (ادائیگی کی ضمانت کے طور پر) رہن قبضے میں رکھ لیے جائیں۔ ہاں اگر تم ایک دوسرے پر بھروسہ کرو تو جس پر بھروسہ کیا گیا ہے وہ اپنی امانت ٹھیک ٹھیک ادا کرے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا پروردگار ہے۔ اور گواہی کو چھپاؤ، اور جو گواہی کو چھپائے وہ گنہگار دل کا حامل ہے، اور جو عمل بھی تم کرتے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے۔

﴿284﴾ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے، اور جو باتیں تمہارے دلوں میں ہیں، خواہ تم ان کو ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ تم سے ان کا حساب لے گا پھر جس کو چاہے گا معاف کردے گا اور جس کو چاہے گا سزا دے گا (اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔)

﴿285﴾ یہ رسول (یعنی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس چیز پر ایمان لائے ہیں جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے اور (ان کے ساتھ) تمام مسلمان بھی، یہ سب اللہ پر، اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں (وہ کہتے ہیں کہ) ہم اس کے رسولوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے (کہ کسی پر ایمان لائیں، کسی پر نہ لائیں) اور وہ یہ کہتے ہیں کہ : ہم نے (اللہ اور رسول کے احکام کو توجہ سے) سن لیا ہے، اور ہم خوشی سے (ان کی) تعمیل کرتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم آپ کی مغفرت کے طلبگار ہیں، اور آپ ہی کی طرف ہمیں لوٹ کرجانا ہے۔

﴿286﴾ اللہ کسی بھی شخص کو اس کی وسعت سے زیادہ ذمہ داری نہیں سونپتا، اس کو فائدہ بھی اسی کام سے ہوگا جو وہ اپنے ارادے سے کرے، اور نقصان بھی اسی کام سے ہوگا جو اپنے ارادے سے کرے۔ (مسلمانو اللہ سے یہ دعا کیا کرو کہ) اے ہمارے پروردگار اگر ہم سے کوئی بھول چوک ہوجائے تو ہماری گرفت نہ فرمایئے۔ اور اے ہمارے پروردگار ہم پر اس طرح کا بوجھ نہ ڈالیے جیسا آپ نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اور اے ہمارے پروردگار ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالیے جسے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہ ہو، اور ہماری خطاؤں سے درگزر فرمایئے، ہمیں بخش دیجیے اور ہم پر رحم فرمایئے۔ آپ ہی ہمارے حامی و ناصر ہیں، اس لیے کافر لوگوں کے مقابلے میں ہمیں نصرت عطا فرمایئے۔

آل عمران

Surah 3

﴿1﴾ الم۔

﴿2﴾ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو سدا زندہ ہے، جو پوری کائنات سنبھالے ہوئے ہے۔

﴿3﴾ اس نے تم پر وہ کتاب نازل کی ہے جو حق پر مشتمل ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اسی نے تورات اور انجیل اتاریں۔

﴿4﴾ جو اس سے پہلے لوگوں کے لیے مجسم ہدایت بن کر آئی تھیں، اور اسی نے حق و باطل کو پرکھنے کا معیار نازل کیا۔ ۔ بیشک جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا ہے ان کے لیے سخت عذاب ہے، اور اللہ زبردست اقتدار کا مالک اور برائی کا بدلہ دینے والا ہے

﴿5﴾ یقین رکھو کہ اللہ سے کوئی چیز چھپ نہیں سکتی، نہ زمین میں نہ آسمان میں۔

﴿6﴾ وہی ہے جو ماؤں کے پیٹ میں جس طرح چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زبردست اقتدار کا بھی مالک ہے، اعلی درجے کی حکمت کا بھی

﴿7﴾ (اے رسول) وہی اللہ ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی ہے جس کی کچھ آیتیں تو محکم ہیں جن پر کتاب کی اصل بنیاد ہے اور کچھ دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔ اب جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ ان متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں تاکہ فتنہ پیدا کریں اور ان آیتوں کی تاویلات تلاش کریں، حالانکہ ان آیتوں کا ٹھیک ٹھیک مطلب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور جن لوگوں کا علم پختہ ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ : ہم اس (مطلب) پر ایمان لاتے ہیں (جو اللہ کو معلوم ہے) سب کچھ ہمارے پروردگار ہی کی طرف سے ہے، اور نصیحت وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔

﴿8﴾ (ایسے لوگ یہ دعا کرتے ہیں کہ) اے ہمارے رب تو نے ہمیں جو ہدایت عطا فرمائی ہے اس کے بعد ہمارے دلوں میں ٹیڑھ پیدا نہ ہونے دے، اور خاص اپنے پاس سے ہمیں رحمت عطا فرما۔ بیشک تیری اور صرف تیری ذات وہ ہے جو بےانتہا بخشش کی خوگر ہے۔

﴿9﴾ ہمارے پروردگار تو تمام انسانوں کو ایک ایسے دن جمع کرنے والا ہے جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ بیشک اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔

﴿10﴾ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے اللہ کے مقابلے میں نہ ان کی دولت ان کے کچھ کام آئے گی، نہ ان کی اولاد اور وہی ہیں جو آگ کا ایندھن بن کر رہیں گے۔

﴿11﴾ ان کا حال فرعون اور ان سے پہلے کے لوگوں کے معاملے جیسا ہے۔ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا، چنانچہ اللہ نے ان کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ میں لے لیا، اور اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔

﴿12﴾ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے ان سے کہہ دو کہ تم مغلوب ہوگئے اور تمہیں جمع کر کے جہنم کی طرف لے جایا جائے گا، اور وہ بہت برا بچھونا ہے۔

﴿13﴾ تمہارے لیے ان دو گروہوں (کے واقعے) میں بڑی نشانی ہے جو ایک دوسرے سے ٹکرائے تھے۔ ان میں سے ایک گروہ اللہ کے راستے میں لڑ رہا تھا، اور دوسرا کافروں کا گروہ تھا جو اپنے آپ کو کھلی آنکھوں ان سے کئی گنا زیادہ دیکھ رہا تھا۔ اور اللہ جس کی چاہتا ہے اپنی مدد سے تائید کرتا ہے۔ بیشک اس واقعے میں آنکھوں والوں کے لیے عبرت کا بڑا سامان ہے۔

﴿14﴾ لوگوں کے لیے ان چیزوں کی محبت خوشنما بنادی گئی ہے جو ان کی نفسانی خواہش کے مطابق ہوتی ہے ،۔ یعنی عورتیں، بچے، سونے چاندی کے لگے ہوئے ڈھیر، نشان لگائے ہوئے گھوڑے، چوپائے اور کھیتیاں۔ یہ سب دنیوی زندگی کا سامان ہے (لیکن) ابدی انجام کا حسن تو صرف اللہ کے پاس ہے۔

﴿15﴾ کہہ دو کیا میں تمہیں وہ چیزیں بتاؤں جو ان سب سے کہیں بہتر ہیں ؟ جو لوگ تقوی اختیار کرتے ہیں ان کے لیے ان کے رب کے پاس وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور پاکیزہ بیویاں ہیں، اور اللہ کی طرف سے خوشنودی ہے۔ اور تمام بندوں کو اللہ اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔

﴿16﴾ یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ : اے ہمارے پروردگار ہم آپ پر ایمان لے آئے ہیں، اب ہمارے گناہوں کو بخش دیجیے، اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لیجیے۔

﴿17﴾ یہ لوگ بڑے صبر کرنے والے ہیں، سچائی کے خوگر ہیں، عبادت گزار ہیں (اللہ کی خوشنودی کے لیے) خرچ کرنے والے ہیں، اور سحری کے اوقات میں استغفار کرتے رہتے ہیں۔

﴿18﴾ اللہ نے خود اس بات کی گواہی دی ہے، اور فرشتوں اور اہل علم نے بھی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس نے انصاف کے ساتھ (کائنات) کا انتظام سنبھالا ہوا ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جس کا اقتدار بھی کامل ہے حکمت بھی کامل۔

﴿19﴾ بیشک (معتبر) دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے، اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی انہوں نے الگ راستہ لاعلمی میں نہیں بلکہ علم آجانے کے بعد محض آپس کی ضد کی وجہ سے اختیار کیا اور جو شخص بھی اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے تو (اسے یاد رکھنا چاہیے کہ) اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔

﴿20﴾ پھر بھی اگر یہ تم سے جھگڑیں تو کہہ دو کہ : میں نے تو اپنا رخ اللہ کی طرف کرلیا ہے اور جنہوں نے میری اتباع کی ہے انہوں نے بھی، اور اہل کتاب سے اور (عرب کے) ان پڑھ (مشرکین) سے کہہ دو کہ کیا تم بھی اسلام لاتے ہو ؟ پھر اگر وہ اسلام لے آئیں تو ہدایت پاجائیں گے، اور اگر انہوں نے منہ موڑا تو تمہاری ذمہ داری صرف پیغام پہنچانے کی حد تک ہے اور اللہ تمام بندوں کو خود دیکھ رہا ہے۔

﴿21﴾ جو لوگ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور انصاف کی تلقین کرنے والے لوگوں کو بھی قتل کرتے ہیں، ان کو دردناک عذاب کی “ خوشخبری ” سنا دو ۔

﴿22﴾ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں غارت ہوچکے ہیں، اور ان کو کسی قسم کے مددگار نصیب نہیں ہوں گے۔

﴿23﴾ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا تھا کہ انہیں اللہ کی کتاب کی طرف دعوت دی جاتی ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے، اس کے باوجود ان میں سے ایک گروہ منہ موڑ کر انحراف کرجاتا ہے۔

﴿24﴾ یہ سب اس لیے ہے کہ انہوں نے یہ کہا ہوا ہے کہ ہمیں گنتی کے چند دنوں کے سوا آگ ہرگز نہیں چھوے گی، اور انہوں نے جو جھوٹی باتیں تراش رکھی ہیں انہوں نے ان کے دین کے معاملے میں ان کو دھوکے میں ڈال دیا ہے۔

﴿25﴾ بھلا اس وقت ان کا کیا حال ہوگا جب ہم انہیں ایک ایسے دن (کا سامنا کرنے) کے لیے جمع کر لائیں گے جس کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ہے اور ہر ہر شخص نے جو کچھ کمائی کی ہوگی وہ اس کو پوری پوری دے دی جائے گی، اور کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔

﴿26﴾ کہو کہ : اے اللہ ! اے اقتدار کے مالک ! تو جس کو چاہتا ہے اقتدار بخشتا ہے، اور جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے عزت بخشتا ہے اور جس کو چاہتا ہے رسوا کردیتا ہے، تمام تر بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ یقینا تو ہر چیز پر قادر ہے۔

﴿27﴾ تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ اور تو ہی بےجان چیز میں سے جاندار کو برآمد کرلیتا ہے اور جاندار میں سے بےجان چیز نکال لاتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق عطا فرماتا ہے۔

﴿28﴾ مومن لوگ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا یارومددگار نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں، الا یہ کہ تم ان (کے ظلم) سے بچنے کے لیے بچاؤ کا کوئی طریقہ اختیار کرو، اور اللہ تمہیں اپنے (عذاب) سے بچاتا ہے، اور اسی کی طرف (سب کو) لوٹ کر جانا ہے۔

﴿29﴾ (اے رسول) لوگوں کو بتادو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تم اسے چھپاؤ یا ظاہر کرو، اللہ اسے جان لے گا۔ اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، وہ سب جانتا ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

﴿30﴾ وہ دن یاد رکھو جس دن کسی بھی شخص نے نیکی کا جو کام کیا ہوگا، اسے اپنے سامنے موجود پائے گا، اور برائی کا جو کام کیا ہوگا اس کو بھی (اپنے سامنے دیکھ کر) یہ تمنا کرے گا کہ کاش اس کے اور اس کی بدی کے درمیان بہت دور کا فاصلہ ہوتا۔ اور اللہ تمہیں اپنے (عذاب) سے بچاتا ہے، اور اللہ بندوں پر بہت شفقت رکھتا ہے۔

﴿31﴾ (اے پیغمبر ! لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خاطر تمہارے گناہ معاف کردے گا۔ اور اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿32﴾ کہہ دو کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو، پھر بھی اگر منہ موڑو گے تو اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔

﴿33﴾ اللہ نے آدم، نوح، ابراہیم کے خاندان، اور عمران کے خاندان کو چن کر تمام جہانوں پر فضیلت دی تھی۔

﴿34﴾ یہ ایسی نسل تھی جس کے افراد (نیکی اور اخلاص میں) ایک دوسرے سے ملتے جلتے تھے، اور اللہ (ہر ایک کی بات) سننے والا ہے، ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔

﴿35﴾ (چنانچہ اللہ کے دعا سننے کا وہ واقعہ یاد کرو) جب عمران کی بیوی نے کہا تھا کہ : یا رب ! میں نے نذر مانی ہے کہ میرے پیٹ میں جو بچہ ہے میں اسے ہر کام سے آزاد کر کے تیرے لیے وقف رکھوں گی۔ میری اس نذر کو قبول فرما۔ بیشک تو سننے والا ہے، ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔

﴿36﴾ پھر جب ان سے لڑکی پیدا ہوئی تو وہ (حسرت سے) کہنے لگیں : یا رب یہ تو مجھ سے لڑکی پیدا ہوگئی ہے۔ حالانکہ اللہ کو خوب علم تھا کہ ان کے یہاں کیا پیدا ہوا ہے۔ اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں ہوتا، میں نے اس کا نام مریم رکھ دیا ہے اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے حفاظت کے لیے آپ کی پناہ میں دیتی ہوں۔

﴿37﴾ چنانچہ اس کے رب نے اس (مریم) کو بطریق احسن قبول کیا اور اسے بہترین طریقے سے پروان چڑھایا۔ اور زکریا اس کے سرپرست بنے۔ جب بھی زکریا ان کے پاس ان کی عبادت گاہ میں جاتے، ان کے پاس کوئی رزق پاتے، انہوں نے پوچھا : مریم ! تمہارے پاس یہ چیزیں کہاں سے آئیں ؟ وہ بولیں : اللہ کے پاس سے۔ اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے

﴿38﴾ اس موقع پر زکریا نے اپنے رب سے دعا کی، کہنے لگے : یا رب مجھے خاص اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرمادے۔ بیشک تو دعا کا سننے والا ہے۔

﴿39﴾ چنانچہ (ایک دن) جب زکریا عبادت گاہ میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، فرشتوں نے انہیں آواز دی کہ : اللہ آپ کو یحی کی (پیدائش) کی خوشخبری دیتا ہے جو اس شان سے پیدا ہوں گے کہ اللہ کے ایک کلمے کی تصدیق کریں گے، لوگوں کے پیشوا ہوں گے، اپنے آپ کو نفسانی خواہشات سے مکمل طور پر روکے ہوئے ہوں گے، اور نبی ہوں گے اور ان کا شمار راست بازوں میں ہوگا۔

﴿40﴾ زکریا نے کہا : یا رب ! میرے یہاں لڑکا کس طرح پیدا ہوگا جبکہ مجھے بڑھاپا آپہنچا ہے اور میری بیوی بانجھ ہے ؟ اللہ نے کہا : اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

﴿41﴾ انہوں نے کہا : پروردگار میرے لیے کوئی نشانی مقرر کردیجیے، اللہ نے کہا : تمہاری نشانی یہ ہوگی کہ تم تین دن تک اشاروں کے سوا کوئی بات نہیں کرسکو گے۔ اور اپنے رب کا کثرت سے ذکر کرتے رہو، اور ڈھلے دن کے وقت بھی اور صبح سویرے بھی اللہ کی تسبیح کیا کرو۔

﴿42﴾ اور (اب اس وقت کا تذکرہ سنو) جب فرشتوں نے کہا تھا کہ : اے مریم ! بیشک اللہ نے تمہیں چن لیا ہے، تمہیں پاکیزگی عطا کی ہے اور دنیا جہان کی ساری عورتوں میں تمہیں منتخب کرکے فضیلت بخشی ہے۔

﴿43﴾ اے مریم ! تم اپنے رب کی عبادت میں لگی رہو، اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع بھی کیا کرو۔

﴿44﴾ (اے پیغمبر) یہ سب غیب کی خبریں ہیں جو ہم وحی کے ذریعے تمہیں دے رہے ہیں، تم اس وقت ان کے پاس نہیں تھے جب وہ یہ طے کرنے کے لیے اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ ان میں سے کون مریم کی کفالت کرے گا، اور نہ اس وقت تم ان کے پاس تھے جب وہ (اس مسئلے میں) ایک دوسرے سے اختلاف کررہے تھے۔

﴿45﴾ (وہ وقت بھی یاد کرو) جب فرشتوں نے مریم سے کہا تھا کہ : اے مریم ! اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے ایک کلمے کی (پیدائش) کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا، جو دنیا اور آخرت دونوں میں صاحب وجاہت ہوگا، اور (اللہ کے) مقرب بندوں میں سے ہوگا۔

﴿46﴾ اور وہ گہوارے میں بھی لوگوں سے بات کرے گا اور بڑی عمر میں بھی، اور راست باز لوگوں میں سے ہوگا۔

﴿47﴾ مریم نے کہا : پروردگار مجھ سے لڑکا کیسے پیدا ہوجائے گا جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں ؟ اللہ نے فرمایا : اللہ اسی طرح جس کو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کوئی کام کرنے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو صرف اتنا کہتا ہے کہ “ ہوجا ” بس وہ ہوجاتا ہے۔

﴿48﴾ اور وہی (اللہ) اس کو (یعنی عیسیٰ ابن مریم کو) کتاب و حکمت اور تورات و انجیل کی تعلیم دے گا۔

﴿49﴾ اور اسے بنی اسرائیل کے پاس رسول بنا کر بھیجے گا (جو لوگوں سے یہ کہے گا) کہ : میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نشانی لے کر آیا ہوں، (اور وہ نشانی یہ ہے) کہ میں تمہارے سامنے گارے سے پرندے جیسی ایک شکل بناتا ہوں، پھر اس میں پھونک مارتا ہوں، تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے، اور میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو تندرست کردیتا ہوں، اور مردوں کو زندہ کردیتا ہوں، اور تم لوگ جو کچھ اپنے گھروں میں کھاتے یا ذخیرہ کر کے رکھتے ہو میں وہ سب بتادیتا ہوں۔ اگر تم ایمان لانے والے ہو تو ان تمام باتوں میں تمہارے لیے (کافی) نشانی ہے۔

﴿50﴾ اور جو کتاب مجھ سے پہلے آچکی ہے، یعنی تورات، میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں، اور (اس لیے بھیجا گیا ہوں) تاکہ کچھ چیزیں جو تم پر حرام کی گئی تھیں، اب تمہارے لیے حلال کردوں۔ اور میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں، لہذا اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔

﴿51﴾ بیشک اللہ میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار۔ یہی سیدھا راستہ ہے (کہ صرف اسی کی عبادت کرو)

﴿52﴾ پھر جب عیسیٰ نے محسوس کیا کہ وہ کفر پر آمادہ ہیں، تو انہوں نے (اپنے پیرؤوں سے) کہا : کون کون لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں میرے مددگار ہوں ؟ حواریوں نے کہا : ہم اللہ (کے دین) کے مددگار ہیں، ہم اللہ پر ایمان لاچکے ہیں، اور آپ گواہ رہیے کہ ہم فرمانبردار ہیں۔

﴿53﴾ اے ہمارے رب ! آپ نے جو کچھ نازل کیا ہے ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے رسول کی اتباع کی ہے، لہذا ہمیں ان لوگوں میں لکھ لیجیے جو (حق کی) گواہی دینے والے ہیں۔

﴿54﴾ اور ان کافروں نے (عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف) خفیہ تدبیر کی، اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی۔ اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔

﴿55﴾ (اس کی تدبیر اس وقت سامنے آئی) جب اللہ نے کہا تھا کہ : اے عیسیٰ میں تمہیں صحیح سالم واپس لے لوں گا، اور تمہیں اپنی طرف اٹھالوں گا، اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے ان (کی ایذا) سے تمہیں پاک کردوں گا۔ اور جن لوگوں نے تمہاری اتباع کی ہے، ان کو قیامت کے دن تک ان لوگوں پر غالب رکھوں گا جنہوں نے تمہارا انکار کیا ہے۔ پھر تم سب کو میرے پاس لوٹ کر آنا ہے، اس وقت میں تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کرتے تھے۔

﴿56﴾ چنانچہ جو لوگ ایسے ہیں کہ انہوں نے کفر اپنا لیا ہے، ان کو تو میں دنیا اور آخرت میں سخت عذاب دوں گا، اور ان کو کسی طرح کے مددگار میسر نہیں آئیں گے۔

﴿57﴾ البتہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کو اللہ ان کا پورا پورا ثواب دے گا، اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔

﴿58﴾ (اے پیغمبر) یہ وہ آیتیں اور حکمت بھرا ذکر ہے جو ہم تمہیں پڑھ کر سنا رہے ہیں۔

﴿59﴾ اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم جیسی ہے، اللہ نے انہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر ان سے کہا : ہوجاؤ۔ بس وہ ہوگئے۔

﴿60﴾ حق وہی ہے جو تمہارے رب کی طرف سے آیا ہے، لہذا شک کرنے والوں میں شامل نہ ہوجانا۔

﴿61﴾ تمہارے پاس (حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے واقعے کا) جو صحیح علم آگیا ہے اس کے بعد بھی جو لوگ اس معاملے میں تم سے بحث کریں تو ان سے کہہ دو کہ :“ آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو، اور ہم اپنی عورتوں کو اور تم اپنی عورتوں کو، اور ہم اپنے لوگوں کو اور تم اپنے لوگوں کو، پھر ہم سب ملکر اللہ کے سامنے گڑ گڑائیں، اور جو جھوٹے ہوں ان پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔

﴿62﴾ یقین جانو کہ واقعات کا سچا بیان یہی ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور یقینا اللہ ہی ہے جو اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

﴿63﴾ پھر بھی اگر یہ لوگ منہ موڑیں تو اللہ مفسدوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔

﴿64﴾ (مسلمانو ! یہود و نصاری سے) کہہ دو کہ : اے اہل کتاب ! ایک ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہم تم میں مشترک ہو، (اور وہ یہ) کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور اللہ کو چھوڑ کر ہم ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں۔ پھر بھی اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دو : گواہ رہنا کہ ہم مسلمان ہیں۔

﴿65﴾ اے اہل کتاب ! تم ابراہیم کے بارے میں کیوں بحث کرتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل ان کے بعد ہی تو نازل ہوئی تھیں، کیا تمہیں اتنی بھی سمجھ نہیں ہے ؟

﴿66﴾ دیکھو ! یہ تم ہی تو ہو جنہوں نے ان معاملات میں اپنی سی بحث کرلی ہے جن کا تمہیں کچھ نہ کچھ علم تھا۔ اب ان معاملات میں کیوں بحث کرتے ہو جن کا تمہیں سرے سے کوئی علم ہی نہیں ہے ؟ اللہ جانتا ہے، اور تم نہیں جانتے۔

﴿67﴾ ابراہیم نہ یہودی تھے، نہ نصرانی، بلکہ وہ تو سیدھے سیدھے مسلمان تھے، اور شرک کرنے والوں میں کبھی شامل نہیں ہوئے۔

﴿68﴾ ابراہیم کے ساتھ تعلق کے سب سے زیادہ حق دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی، نیز یہ نبی (آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور وہ لوگ ہیں جو (ان پر) ایمان لائے ہیں، اور اللہ مومنوں کا کارساز ہے۔

﴿69﴾ (مسلمانو) اہل کتاب کا ایک گروہ یہ چاہتا ہے کہ تم لوگوں کو گمراہ کردے، حالانکہ وہ اپنے سوا کسی اور کو گمراہ نہیں کر رہے، اگرچہ انہیں اس کا احساس نہیں ہے۔

﴿70﴾ اے اہل کتاب ! اللہ کی آیتوں کا کیوں انکار کرتے ہو حالانکہ تم خود (ان کے من جانب اللہ ہونے کے) گواہ ہو۔

﴿71﴾ اے اہل کتاب ! تم حق کو باطل کے ساتھ کیوں گڈ مڈ کرتے ہو اور کیوں جان بوجھ کر حق بات کو چھپاتے ہو ؟

﴿72﴾ اہل کتاب کے ایک گروہ نے (ایک دوسرے سے) کہا ہے کہ : جو کلام مسلمانوں پر نازل کیا گیا ہے اس پر دن کے شروع میں تو ایمان لے آؤ، اور ان کے آخری حصے میں اس سے انکار کردینا، شاید اس طرح مسلمان (بھی اپنے دین سے) پھرجائیں۔

﴿73﴾ مگر دل سے ان لوگوں کے سوا کسی کی نہ ماننا جو تمہارے دین کے متبع ہیں۔ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ ہدایت تو وہی ہدایت ہے جو اللہ کی دی ہوئی ہو، یہ ساری باتیں تم اس ضد میں کر رہے ہو کہ کسی کو اس جیسی چیز (یعنی نبوت اور آسمانی کتاب) کیوں مل گئی جیسی کبھی تمہیں دی گئی تھی یا یہ (مسلمان) تمہارے رب کے آگے تم پر غالب کیوں آگئے۔ آپ کہہ دیجیے کہ فضیلت تمام تر اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جس کو چاہتا ہے دے دیتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا ہے، ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔

﴿74﴾ وہ اپنی رحمت کے لیے جس کو چاہتا ہے خاص طور پر منتخب کرلیتا ہے، اور اللہ فضل عظیم کا مالک ہے۔

﴿75﴾ اہل کتاب میں کچھ لوگ تو ایسے ہیں کہ اگر تم ان کے پاس دولت کا ایک ڈھیر بھی امانت کے طور پر رکھوا دو تو وہ تمہیں واپس کردیں گے، اور انہی میں سے کچھ ایسے ہیں کہ اگر ایک دینار کی امانت بھی ان کے پاس رکھواؤ تو وہ تمہیں واپس نہیں دیں گے، الا یہ کہ تم ان کے سر پر کھڑے رہو۔ ان کا یہ طرز عمل اس لیے ہے کہ انہوں نے یہ کہہ رکھا ہے کہ : امیوں (یعنی غیر یہودی عربوں) کے ساتھ معاملہ کرنے میں ہماری کوئی پکڑ نہیں ہوگی۔ اور (اس طرح) وہ اللہ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھتے ہیں۔

﴿76﴾ بھلا پکڑ کیوں نہیں ہوگی ؟ (قاعدہ یہ ہے کہ) جو اپنے عہد کو پورا کرے گا اور گناہ سے بچے گا تو اللہ ایسے پرہیزگاروں سے محبت کرتا ہے۔

﴿77﴾ (اس کے برخلاف) جو لوگ اللہ سے کیے ہوئے عہد اور اپنی کھائی ہوئی قسموں کا سودا کر کے تھوڑی سی قیمت حاصل کرلیتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا، اور قیامت کے دن نہ اللہ ان سے بات کرے گا، نہ انہیں (رعایت کی نظر سے) دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، اور ان کا حصہ تو بس عذاب ہوگا، انتہائی دردناک۔

﴿78﴾ اور انہی میں سے ایک گروہ کے لوگ ایسے ہیں جو کتاب (یعنی تورات) پڑھتے وقت اپنی زبانوں کو مروڑتے ہیں تاکہ تم (ان کی مروڑ کر بنائی ہوئی) اس عبارت کو کتاب کا حصہ سمجھو، حالانکہ وہ کتاب کا حصہ نہیں ہوتی، اور وہ کہتے ہیں کہ یہ (عبارت) اللہ کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہوتی۔ اور (اس طرح) وہ اللہ پر جانتے بوجھتے جھوٹ باندھتے ہیں۔

﴿79﴾ یہ کسی بشر کا کام نہیں کہ اللہ تو اسے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کرے، اور وہ اس کے باوجود لوگوں سے کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ۔ اس کے بجائے (وہ تو یہی کہے گا کہ) اللہ والے بن جاؤ، کیونکہ تم جو کتاب پڑھاتے رہے ہو اور جو کچھ پڑھتے رہے ہو، اس کا یہی نتیجہ ہونا چاہیے۔

﴿80﴾ اور نہ وہ تمہیں یہ حکم دے سکتا ہے کہ فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا قرار دے دو ۔ جب تم مسلمان ہوچکے تو کیا اس کے بعد وہ تمہیں کفر اختیار کرنے کا حکم دے گا ؟

﴿81﴾ اور (ان کو وہ وقت یاد دلاؤ) جب اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ : اگر میں تم کو کتاب اور حکمت عطا کروں، پھر تمہارے پاس کوئی رسول آئے جو اس (کتاب) کی تصدیق کرے جو تمہارے پاس ہے، تو تم اس پر ضرور ایمان لاؤ گے، اور ضرور اس کی مدد کرو گے۔ اللہ نے (ان پیغمبروں سے) کہا تھا کہ : کیا تم اس بات کا اقرار کرتے ہو اور میری طرف سے دی ہوئی یہ ذمہ داری اٹھاتے ہو ؟ انہوں نے کہا تھا : ہم اقرار کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا : تو پھر (ایک دوسرے کے اقرار کے) گواہ بن جاؤ، اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہی میں شامل ہوں۔

﴿82﴾ اس کے بعد بھی جو لوگ (ہدایت سے) منہ موڑیں گے تو ایسے لوگ نافرمان ہوں گے۔

﴿83﴾ اب کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کی تلاش میں ہیں ؟ حالانکہ آسمانوں اور زمین میں جتنی مخلوقات ہیں ان سب نے اللہ ہی کے آگے گردن جھکا رکھی ہے، (کچھ نے) خوشی سے اور (کچھ نے) ناچار ہوکر، اور اسی کی طرف وہ سب لوٹ کر جائیں گے۔

﴿84﴾ کہہ دو کہ : ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو (کتاب) ہم پر اتاری گئی اس پر، اور اس (ہدایت) پر جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور (ان کی) اولاد پر ان کے پروردگار کی طرف سے اتاری گئی، اور ان باتوں پر جو موسیٰ ، عیسیٰ اور (دوسرے) پیغمبروں کو عطا کی گئیں۔ ہم ان (پیغمبروں) میں سے کسی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے، اور ہم اسی (ایک اللہ) کے آگے سرجھکائے ہوئے ہیں۔

﴿85﴾ جو کوئی شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے گا تو اس سے وہ دین قبول نہیں کیا جائے گا، اور آخرت میں وہ ان لوگوں میں شامل ہوگا جو سخت نقصان اٹھانے والے ہیں۔

﴿86﴾ اللہ ایسے لوگوں کو کیسے ہدایت دے جنہوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرلیا ؟ حالانکہ وہ گوہی دے چکے تھے کہ یہ رسول سچے ہیں، اور ان کے پاس (اس کے) روشن دلائل بھی آچکے تھے۔ اللہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

﴿87﴾ ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی پھٹکار ہے۔

﴿88﴾ اسی (پھٹکار) میں یہ ہمیشہ رہیں گے، نہ ان کے لیے عذاب ہلکا کیا جائے گا، اور نہ انہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔

﴿89﴾ البتہ جو لوگ اس سب کے بعد بھی توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلیں، تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿90﴾ (اس کے برخلاف) جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا، پھر کفر میں بڑھتے ہی چلے گئے، ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی۔ ایسے لوگ راستے سے بالکل ہی بھٹک چکے ہیں۔

﴿91﴾ جن لوگوں نے کفر اپنایا اور کافر ہونے کی حالت ہی میں مرے، ان میں سے کسی سے پوری زمین بھر کر سونا قبول نہیں کیا جائے گا، خواہ وہ اپنی جان چھڑانے کے لیے اس کی پیشکش ہی کیوں نہ کرے۔ ان کو تو دردناک عذاب ہو کر رہے گا، اور ان کو کسی قسم کے مددگار میسر نہیں آئیں گے۔

﴿92﴾ تم نیکی کے مقام تک اس وقت تک ہرگز نہیں پہنچو گے جب تک ان چیزوں میں سے (اللہ کے لیے) خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہیں۔ اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو، اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

﴿93﴾ تورات کے نازل ہونے سے پہلے کھانے کی تمام چیزیں (جو مسلمانوں کے لیے حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لیے (بھی) حلال تھیں، سوائے اس چیز کے جو اسرائیل (یعنی یعقوب (علیہ السلام)) نے اپنے اوپر حرام کرلی تھی۔ (اے پیغمبر ! یہودیوں سے) کہہ دو کہ : اگر تم سچے ہو تو تورات لے کر آؤ اور اس کی تلاوت کرو۔

﴿94﴾ پھر ان باتوں کے (واضح ہونے کے) بعد بھی جو لوگ اللہ پر جھوٹا بہتان باندھیں، تو ایسے لوگ بڑے ظالم ہیں۔

﴿95﴾ آپ کہیے کہ اللہ نے سچ کہا ہے، لہذا تم ابراہیم کے دین کا اتباع کرو جو پوری طرح سیدھے راستے پر تھے، اور ان لوگوں میں سے نہیں تھے جو اللہ کی خدائی میں کسی کو شریک مانتے ہیں۔

﴿96﴾ حقیقت یہ ہے کہ سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لیے بنایا گیا یقینی طور پر وہ ہے جو مکہ میں واقع ہے (اور) بنانے کے وقت ہی سے برکتوں والا اور دنیا جہان کے لوگوں کے لیے ہدایت کا سامان ہے۔

﴿97﴾ اس میں روشن نشانیاں ہیں، مقام ابراہیم ہے، اور جو اس میں داخل ہوتا ہے امن پا جاتا ہے۔ اور لوگوں میں سے جو لوگ اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں ان پر اللہ کے لیے اس گھر کا حج کرنا فرض ہے، اور اگر کوئی انکار کرے تو اللہ دنیا جہان کے تمام لوگوں سے بےنیاز ہے۔

﴿98﴾ کہہ دو کہ : اے اہل کتاب ! اللہ کی آیتوں کا کیوں انکار کرتے ہو ؟ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سب کا گواہ ہے۔

﴿99﴾ کہہ دو کہ : اے اہل کتاب ! اللہ کے راستے میں ٹیڑھ پیدا کرنے کی کوشش کر کے ایک مومن کے لیے اس میں کیوں رکاوٹ ڈالتے ہو جبکہ تم خود حقیقت حال کے گواہ ہو ؟ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے غافل نہیں ہے۔

﴿100﴾ اے ایمان والو ! اگر تم اہل کتاب کے ایک گروہ کی بات مان لو گے تو وہ تمہارے ایمان لانے کے بعد تم کو دوبارہ کافر بان کر چھوڑیں گے۔

﴿101﴾ اور تم کیسے کفر اپناؤ گے جبکہ اللہ کی آیتیں تمہارے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں اور اس کا رسول تمہارے درمیان موجود ہے ؟ اور (اللہ کی سنت یہ ہے کہ) جو شخص اللہ کا سہارا مضبوطی سے تھام لے، وہ سیدھے راستے تک پہنچا دیا جاتا ہے۔

﴿102﴾ اے ایمان والو ! دل میں اللہ کا ویسا ہی خوف رکھو جیسا خوف رکھنا اس کا حق ہے، اور خبردار ! تمہیں کسی اور حالت میں موت نہ آئے، بلکہ اسی حالت میں آئے کہ تم مسلمان ہو۔

﴿103﴾ اور اللہ کی رسی کو سب ملکر مضبوطی سے تھامے رکھو، اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے اسے یاد رکھو کہ ایک وقت تھا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، اللہ نے تمہیں اس سے نجات عطا فرمائی۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی نشانیاں کھول کھول کر واضح کرتا ہے، تاکہ تم راہ راست پر آجاؤ۔

﴿104﴾ اور تمہارے درمیان ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جس کے افراد (لوگوں کو) بھلائی کی طرف بلائیں، نیکی کی تلقین کریں، اور برائی سے روکیں۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔

﴿105﴾ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جن کے پاس کھلے کھلے دلائل آچکے تھے، اس کے بعد بھی انہوں نے آپس میں پھوٹ ڈال لی اور اختلاف میں پڑگئے، ایسے لوگوں کو سخت سزا ہوگی۔

﴿106﴾ اس دن جب کچھ چہرے چمکتے ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ پڑجائیں گے۔ چنانچہ جن لوگوں کے چہرے سیاہ پڑجائیں گے ان سے کہا جائے گا کہ : کیا تم نے اپنے ایمان کے بعد کفر اختیار کرلیا ؟ لو پھر اب مزہ چکھو اس عذاب کا، کیونکہ تم کفر کیا کرتے تھے۔

﴿107﴾ دوسری طرف جن لوگوں کے چہرے چمکتے ہوں گے وہ اللہ کی رحمت میں جگہ پائیں گے، وہ اسی میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

﴿108﴾ یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تمہیں ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سنا رہے ہیں، اور اللہ دنیا جہان کے لوگوں پر کسی طرح کا ظلم نہیں چاہتا۔

﴿109﴾ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے، اللہ ہی کا ہے اور اسی کی طرف تمام معاملات لوٹائے جائیں گے۔

﴿110﴾ (مسلمانو) تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدے کے لیے وجود میں لائی گئی ہے، تم نیکی کی تلقین کرتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو یہ ان کے حق میں کہیں بہتر ہوتا، ان میں سے کچھ تو مومن ہیں، مگر ان کی اکثریت نافرمان ہے۔

﴿111﴾ وہ تھوڑا بہت ستانے کے سوا تمہیں کوئی نقصان ہرگز نہیں پہنچا سکیں گے، اور اگر وہ تم سے لڑیں گے بھی تو تمہیں پیٹھ دکھا جائیں گے، پھر انہیں کوئی مدد بھی نہیں پہنچے گی۔

﴿112﴾ وہ جہاں کہیں پائے جائیں، ان پر ذلت کا ٹھپہ لگا دیا گیا ہے، الا یہ کہ اللہ کی طرف سے کوئی سبب پیدا ہوجائے یا انسانوں کی طرف سے کوئی ذریعہ نکل آئے جو ان کو سہارا دیدے، انجام کار وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے ہیں اور ان پر محتاجی مسلط کردی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے، اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے تھے۔ (نیز) اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے، اور ساری حدیں پھلانگ جایا کرتے تھے۔

﴿113﴾ (لیکن) سارے اہل کتاب ایک جیسے نہیں ہیں، اہل کتاب ہی میں وہ لوگ بھی ہیں جو (راہ راست پر) قائم ہیں، جو رات کے اوقات میں اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں اور جو (اللہ کے آگے) سجدہ ریز ہوتے ہیں۔

﴿114﴾ یہ لوگ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، اچھائی کی تلقین کرتے اور برائی سے روکتے ہیں، اور نیک کاموں کی طرف لپکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا شمار صالحین میں ہے۔

﴿115﴾ وہ جو بھلائی بھی کریں گے، اس کی ہرگز ناقدری نہیں کی جائے گی، اور اللہ پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے۔

﴿116﴾ (اس کے برعکس) جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، اللہ کے مقابلے میں نہ ان کے مال ان کے کچھ کام آئیں گے، نہ اولاد، وہ دوزخی لوگ ہیں، اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

﴿117﴾ جو کچھ یہ لوگ دنیوی زندگی میں خرچ کرتے ہیں، اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک سخت سردی والی تیز ہوا ہو جو ان لوگوں کی کھیتی کو جا لگے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کر رکھا ہو اور وہ اس کھیتی کو برباد کردے۔ ان پر اللہ نے ظلم نہیں کیا، بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔

﴿118﴾ اے ایمان والو ! اپنے سے باہر کے کسی شخص کو رازدار نہ بناؤ، یہ لوگ تمہاری بدخواہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ ان کی دلی خواہش یہ ہے کہ تم تکلیف اٹھاؤ، بغض ان کے منہ سے ظاہر ہوچکا ہے اور جو کچھ (عداوت) ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ کہیں زیادہ ہے۔ ہم نے پتے کی باتیں تمہیں کھول کھول کر بتادی ہیں، بشرطیکہ تم سمجھ سے کام لو۔

﴿119﴾ دیکھو تم تو ایسے ہو کہ ان سے محبت رکھتے ہو، مگر وہ تم سے محبت نہیں رکھتے، اور تم تو تمام (آسمانی) کتابوں پر ایمان رکھتے ہو، اور (ان کا حال یہ ہے کہ) وہ جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم (قرآن پر) ایمان لے آئے، اور جب تنہائی میں جاتے ہیں تو تمہارے خلاف غصے کے مارے اپنی انگلیاں چباتے ہیں۔ (ان سے) کہہ دو کہ : اپنے غصے میں خود مر رہو، اللہ سینوں میں چھپی ہوئی باتیں خوب جانتا ہے۔

﴿120﴾ اگر تمہیں کوئی بھلائی مل جائے تو ان کو برا لگتا ہے، اور اگر تمہیں کوئی گزند پہنچے تو یہ اس سے خوش ہوتے ہیں، اگر تم صبر اور تقوی سے کام لو تو ان کی چالیں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گی۔ جو کچھ یہ کر رہے ہیں وہ سب اللہ کے (علم اور قدرت کے) احاطے میں ہے۔

﴿121﴾ (اے پیغبر ! جنگ احد کا وہ وقت یاد کرو) جب تم صبح کے وقت اپنے گھر سے نکل کر مسلمانوں کو جنگ کے ٹھکانوں پر جما رہے تھے، اور اللہ سب کچھ سننے جاننے والا ہے۔

﴿122﴾ جب تمہی میں کے دو گروہوں نے یہ سوچا تھا کہ وہ ہمت ہار بیٹھیں، حالانکہ اللہ ان کا حامی و ناصر تھا، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔

﴿123﴾ اللہ نے تو (جنگ) بدر کے موقع پر ایسی حالت میں تمہاری مدد کی تھی جب تم بالکل بےسروسامان تھے۔ لہذا (صرف) اللہ کا خوف دل میں رکھو، تاکہ تم شکر گزار بن سکو۔

﴿124﴾ جب (بدر کی جنگ میں) تم مومنوں سے کہہ رہے تھے کہ : کیا تمہارے لیے یہ بات کافی نہیں ہے کہ تمہارا پروردگار تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد کو بھیج دے ؟

﴿125﴾ ہاں ! بلکہ اگر تم صبر اور تقوی اختیار کرو اور وہ لوگ اپنے اسی ریلے میں اچانک تم تک پہنچ جائیں تو تمہارا پروردگار پانچ ہزار فرشتے تمہاری مدد کو بھیج دے گا جنہوں نے اپنی پہچان نمایاں کی ہوئی ہوگی

﴿126﴾ اللہ نے یہ سب انتظام صرف اس لئے کیا تھا تاکہ تمہیں خوشخبری ملے، اور اس سے تمہارے دلوں کو اطمینان نصیب ہو، ورنہ فتح تو کسی اور کی طرف سے نہیں، صرف اللہ کے پاس سے آتی ہے جو مکمل اقتدار کا بھی مالک ہے، تمام تر حکمت کا بھی مالک۔

﴿127﴾ (اور جنگ بدر میں یہ مدد اللہ نے اس لئے کی) تاکہ جن لوگوں نے کفر اپنایا ہے ان کا ایک حصہ کاٹ کر رکھ دے، یا ان کو ایسی ذلت آمیز شکست دے کہ وہ نامراد ہو کر واپس چلے جائیں۔

﴿128﴾ (اے پیغبر) تمہیں اس فیصلے کا کوئی اختیار نہیں کہ اللہ ان کی توبہ قبول کرے یا ان کو عذاب دے کیونکہ یہ ظالم لوگ ہیں۔

﴿129﴾ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے معاف کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے عذاب دیتا ہے، اور اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔

﴿130﴾ اے ایمان والو ! کئی گنا بڑھا چڑھا کر سود مت کھاؤ، اور اللہ سے ڈرو تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو

﴿131﴾ اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

﴿132﴾ اور اللہ اور رسول کی بات مانو، تاکہ تم سے رحمت کا برتاؤ کیا جائے۔

﴿133﴾ اور اپنے رب کی طرف سے مغفرت اور وہ جنت حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر تیزی دکھاؤ جس کی چوڑائی اتنی ہے کہ اس میں تمام آسمان اور زمین سما جائیں۔ وہ ان پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

﴿134﴾ جو خوشحالی میں بھی اور بدحالی میں بھی (اللہ کے لیے) مال خرچ کرتے ہیں، اور جو غصے کو پی جانے اور لوگوں کو معاف کردینے کے عادی ہیں۔ اللہ ایسے نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔

﴿135﴾ اور یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر کبھی کوئی بےحیائی کا کام کر بھی بیٹھتے ہیں یا (کسی اور طرح) اپنی جان پر ظلم کر گزرتے ہیں تو فورا اللہ کو یاد کرتے ہیں کہ اور اس کے نتیجے میں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، اور اللہ کے سوا ہے بھی کون جو گناہوں کی معافی دے ؟ اور یہ اپنے کیے پر جانتے بوجھتے اصرار نہیں کرتے۔

﴿136﴾ یہ ہیں وہ لوگ جن کا صلہ ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت ہے، اور وہ باغات ہیں جن کے نیچے دریا بہتے ہوں گے، جن میں انہین دائمی زندگی حاصل ہوگی، کتنا بہترین بدلہ ہے جو کام کرنے والوں کو ملنا ہے۔

﴿137﴾ تم سے پہلے بہت سے واقعات گزر چکے ہیں، اب تم زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جنہوں نے (پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا ان کا انجام کیسا ہوا ؟

﴿138﴾ یہ تمام لوگوں کے لیے واضح اعلان ہے اور پرہیزگاروں کے لیے ہدایت اور نصیحت۔

﴿139﴾ (مسلمانو) تم نہ تو کمزور پڑو، اور نہ غمگین رہو، اگر تم واقعی مومن رہو تو تم ہی سربلند ہوگے۔

﴿140﴾ اگر تمہیں ایک زخم لگا ہے تو ان لوگوں کو بھی اسی جیسا زخم پہلے لگ چکا ہے۔ یہ تو آتے جاتے دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان باری باری بدلتے رہتے ہیں، اور مقصد یہ تھا کہ اللہ ایمان والوں کو جانچ لے، اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہید قرار دے، اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔

﴿141﴾ اور مقصد یہ (بھی) تھا کہ اللہ ایمان والوں کو میل کچیل سے نکھار کر رکھ دے اور کافروں کو ملیامیٹ کر ڈالے۔

﴿142﴾ بھلا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (یونہی) جنت کے اندر جاپہنچو گے ؟ حالانکہ ابھی تک اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جانچ کر نہیں دیکھا جو جہاد کریں، اور نہ ان کو جانچ کر دیکھا ہے جو ثابت قدم رہنے والے ہیں۔

﴿143﴾ اور تم تو خود موت کا سامنا کرنے سے پہلے (شہادت کی) موت کی تمنا کیا کرتے تھے۔ چنانچہ اب تم نے کھلی آنکھوں اسے دیکھ لیا ہے۔

﴿144﴾ اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک رسول ہی تو ہیں۔ ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں، بھلا اگر ان کا انتقال ہوجائے یا انہیں قتل کردیا جائے تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟ اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور جو شکر گزار بندے ہیں اللہ ان کو ثواب دے گا۔

﴿145﴾ اور یہ کسی بھی شخص کے اختیار میں نہیں ہے کہ اسے اللہ کے حکم کے بغیر موت آجائے، جس کا ایک معین وقت پر آنا لکھا ہوا ہے۔ اور جو شخص دنیا کا بدلہ چاہے گا ہم اسے اس کا حصہ دے دیں گے، اور جو آخرت کا ثواب چاہے گا ہم اسے اس کا حصہ عطا کردیں گے، اور جو لوگ شکر گزار ہیں ان کو ہم جلد ہی ان کا اجر عطا کریں گے۔

﴿146﴾ اور کتنے سارے پیغمبر ہیں جن کے ساتھ ملکر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی ! نتیجتا انہیں اللہ کے راستے میں جو تکلیفیں پہنچیں ان کی وجہ سے نہ انہوں نے ہمت ہاری، نہ وہ کمزور پڑے اور نہ انہوں نے اپنے آپ کو جھکایا، اللہ ایسے ثابت قدم لوگوں سے محبت کرتا ہے۔

﴿147﴾ ان کے منہ سے جو بات نکلی وہ اس کے سوا نہیں تھی کہ وہ کہہ رہے تھے : ہمارے پروردگار ! ہمارے گناہوں کو بھی اور ہم سے اپنے کاموں میں جو زیادتی ہوئی ہو اس کو بھی معاف فرمادے، ہمیں ثابت قدمی بخش دے، اور کافر لوگوں کے مقابلے میں ہمیں فتح عطا فرمادے۔

﴿148﴾ چنانچہ اللہ نے انہیں دنیا کا انعام بھی دیا اور آخرت کا بہترین ثواب بھی، اور اللہ ایسے نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔

﴿149﴾ اے ایمان والو ! جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے اگر تم ان کی بات مانو گے تو وہ تمہیں الٹے پاؤں (کفر کی طرف) لوٹا دیں گے، اور تم پلٹ کر سخت نقصان اٹھاؤ گے۔

﴿150﴾ (یہ لوگ تمہارے خیر خواہ نہیں) بلکہ اللہ تمہارا حامی و ناصر ہے، اور وہ بہترین مددگار ہے۔

﴿151﴾ جن لوگوں نے کفر اپنایا ہے ہم عنقریب ان کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کی خدائی میں ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرایا ہے جن کے بارے میں اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ ظالموں کا بدترین ٹھکانا ہے۔

﴿152﴾ اور اللہ نے یقینا اس وقت اپنا وعدہ پورا کردیا تھا جب تم دشمنوں کو اسی کے حکم سے قتل کر رہے تھے، یہاں تک کہ جب تم نے کمزوری دکھائی اور حکم کے بارے میں باہم اختلاف کیا اور جب اللہ نے تمہاری پسندیدہ چیز تمہیں دکھائی تو تم نے (اپنے امیر کا) کہنا نہیں مانا تم میں سے کچھ لوگ وہ تھے جو دنیا چاہتے تھے، اور کچھ وہ تھے جو آخرت چاہتے تھے۔ پھر اللہ نے ان سے تمہارا رخ پھیر دیا تاکہ تمہیں آزمائے۔ البتہ اب وہ تمہیں معاف کرچکا ہے، اور اللہ مومنوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔

﴿153﴾ (وہ وقت یاد کرو) جب تم منہ اٹھائے چلے جارہے تھے اور کسی کو مڑ کر نہیں دیکھتے تھے، اور رسول تمہارے پیچھے سے تمہیں پکار رہے تھے، چنانچہ اللہ نے تمہیں (رسول کو) غم (دینے) کے بدلے (شکست کا) غم دیا، تاکہ آئندہ تم زیادہ صدمہ نہ کیا کرو، نہ اس چیز پر جو تمہارے ہاتھ سے جاتی رہے، اور نہ کسی اور مصیبت پر جو تمہیں پہنچ جائے۔ اور اللہ تمہارے تمام کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔

﴿154﴾ پھر اس غم کے بعد اللہ نے تم پر طمانینت نازل کی، ایک اونگھ جو تم میں سے کچھ لوگوں پر چھا رہی تھی۔ اور ایک گروہ وہ تھا جسے اپنی جانوں کی پڑی ہوئی تھی، وہ لوگ اللہ کے بارے میں ناحق ایسے گمان کر رہے تھے جو جہالت کے خیالات تھے، وہ کہہ رہے تھے : کیا ہمیں بھی کوئی اختیار حاصل ہے ؟ کہہ دو کہ : اختیار تو تمام تر اللہ کا ہے۔ یہ لوگ اپنے دلوں میں وہ باتیں چھپاتے ہیں جو آپ کے سامنے ظاہر نہیں کرتے۔ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں بھی کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ ہوتے۔ کہہ دو کہ : اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے تب بھی جن کا قتل ہونا مقدر میں لکھا جاچکا تھا وہ خود باہر نکل کر اپنی اپنی قتل گاہوں تک پہنچ جاتے۔ اور یہ سب اس لیے ہوا تاکہ جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے اللہ اسے آزمائے، اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کا میل کچیل دور کردے۔ اللہ دلوں کے بھید کو خوب جانتا ہے۔

﴿155﴾ تم میں سے جن لوگوں نے اس دن پیٹھ پھیری جب دونوں لشکر ایک دوسرے سے ٹکرائے، درحقیقت ان کے بعض اعمال کے نتیجے میں شیطان نے ان کو لغزش میں مبتلا کردیا تھا۔ اور یقین رکھو کہ اللہ نے انہیں معاف کردیا ہے۔ یقینا اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا بردبار ہے۔

﴿156﴾ اے ایمان والو ! ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے کفر اختیار کرلیا ہے، اور جب ان کے بھائی کسی سرزمین میں سفر کرتے ہیں یا جنگ میں شامل ہوتے ہیں تو یہ ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ : اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے، اور نہ مارے جاتے۔ (ان کی اس بات کا) نتیجہ تو (صرف) یہ ہے کہ اللہ ایسی باتوں کو ان کے دلوں میں حسرت کا سبب بنا دیتا ہے، (ورنہ) زندگی اور موت تو اللہ دیتا ہے۔ اور جو عمل بھی تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔

﴿157﴾ اور اگر تم اللہ کے راستے میں قتل ہوجاؤ یا مرجاؤ، تب بھی اللہ کی طرف سے ملنے والی مغفرت اور رحمت ان چیزوں سے کہیں بہتر ہے جو یہ لوگ جمع کر رہے ہیں۔

﴿158﴾ اور اگر تم مرجاؤ یا قتل ہوجاؤ تو اللہ ہی کے پاس تو لے جاکر اکٹھے کیے جاؤ گے۔

﴿159﴾ ان واقعات کے بعد اللہ کی رحمت ہی تھی جس کی بنا پر (اے پیغمبر) تم نے ان لوگوں سے نرمی کا برتاؤ کیا۔ اگر تم سخت مزاج اور سخت دل والے ہوتے تو یہ تمہارے آس پاس سے ہٹ کر تتر بتر ہوجاتے۔ لہذا ان کو معاف کردو، ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو، اور ان سے (اہم) معاملات میں مشورہ لیتے رہو۔ پھر جب تم رائے پختہ کر کے کسی بات کا عزم کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔ اللہ یقینا توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

﴿160﴾ اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں، اور اگر وہ تمہیں تنہا چھوڑ دے تو کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے ؟ اور مومنوں کو چاہیے کہ وہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں۔

﴿161﴾ اور کسی نبی سے یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ مال غنیمت میں خیانت کرے۔ اور جو کوئی خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن وہ چیز لے کر آئے گا جو اس نے خیانت کر کے لی ہوگی، پھر ہر شخص کو اس کے کئے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، اور کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔

﴿162﴾ بھلا جو شخص اللہ کی خوشنودی کا تابع ہو وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو اللہ کی طرف سے ناراضی لے کر لوٹا ہو، اور جس کا ٹھکانا جہنم ہو ؟ اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

﴿163﴾ اللہ کے نزدیک ان لوگوں کے درجات مختلف ہیں، اور جو کچھ یہ کرتے ہیں اللہ اس کو خوب دیکھتا ہے۔

﴿164﴾ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا کہ ان کے درمیان انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرے، انہیں پاک صاف بنائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے، جبکہ یہ لوگ اس سے پہلے یقینا کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔

﴿165﴾ جب تمہیں ایک ایسی مسیبت پہنچی جس سے دگنی تم (دشمن کو) پہنچا چکے تھے تو کیا تم ایسے موقع پر یہ کہتے ہو کہ یہ مصیبت کہاں سے آگئی ؟ کہہ دو کہ : یہ خود تمہاری طرف سے آئی ہے۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

﴿166﴾ اور تمہیں جو مصیبت اس دن پہنچی جب دونوں لشکر ٹکرائے تھے، وہ اللہ کے حکم سے پہنچی، تاکہ وہ مومنوں کو بھی پرکھ کر دیکھ لے۔

﴿167﴾ اور منافقین کو بھی دیکھ لے، اور ان (منافقوں) سے کہا گیا تھا کہ آؤ اللہ کے راستے میں جنگ کرو یاد فاع کرو، تو انہوں نے کہا تھا کہ : اگر ہم دیکھتے کہ (جنگ کی طرح) جنگ ہوگی تو ہم ضرور آپ کے پیچھے چلتے۔ اس دن (جب وہ یہ بات کہہ رہے تھے) وہ ایمان کی بہ نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے۔ وہ اپنے منہ سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتی اور جو کچھ یہ چھپاتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

﴿168﴾ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے (شہید) بھائیوں کے بارے میں بیٹھے بیٹھے یہ باتیں بناتے ہیں کہ اگر وہ ہماری بات مانتے تو قتل نہ ہوتے، کہہ دو کہ : اگر تم سچے ہو تو خود اپنے آپ ہی سے موت کو ٹال دینا۔

﴿169﴾ اور (اے پیغبر) جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوئے ہیں، انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھنا، بلکہ وہ زندہ ہیں، انہیں اپنے رب کے پاس رزق ملتا ہے۔

﴿170﴾ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے جو کچھ دیا ہے وہ اس پر مگن ہیں، اور ان کے پیچھے جو لوگ ابھی ان کے ساتھ (شہادت میں) شامل نہیں ہوئے، ان کے بارے میں اس بات پر بھی خوشی مناتے ہیں کہ (جب وہ ان سے آکر ملیں گے تو) نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

﴿171﴾ وہ اللہ کی نعمت اور فضل پر بھی خوشی مناتے ہیں اور اس بات پر بھی کہ اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

﴿172﴾ وہ لوگ جنہوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول کی پکار کا فرمانبرداری سے جواب دیا، ایسے نیک اور متقی لوگوں کے لیے زبردست اجر ہے۔

﴿173﴾ وہ لوگ جن سے کہنے والوں نے کہا تھا : یہ (مکہ کے کافر) لوگ تمہارے (مقابلے) کے لیے (پھر سے) جمع ہوگئے ہیں، لہذا ان سے ڈرتے رہنا، تو اس (خبر) نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کردیا اور وہ بول اٹھے کہ : ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔

﴿174﴾ نتیجہ یہ کہ یہ لوگ اللہ کی نعمت اور فضل لے کر اس طرح واپس آئے کہ انہیں ذرا بھی گزند نہیں پہنچی، اور وہ اللہ کی خوشنودی کے تابع رہے۔ اور اللہ فضل عظیم کا مالک ہے۔

﴿175﴾ درحقیقت یہ تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے، لہذا اگر تم مومن ہو تو ان سے خوف نہ کھاؤ، اور بس میرا خوف رکھو۔

﴿176﴾ اور (اے پیغمبر) جو لوگ کفر میں ایک دوسرے سے بڑھ کر تیزی دکھا رہے ہیں، وہ تمہیں صدمے میں نہ ڈالیں، یقین رکھو وہ اللہ کا ذرا بھی نقصان نہیں کرسکتے، اللہ یہ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کوئی حصہ نہ رکھے، اور ان کے لیے زبردست عذاب (تیار) ہے۔

﴿177﴾ جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر کو مول لے لیا ہے وہ اللہ کو ہرگز ذرا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے، اور ان کے لیے ایک دکھ دینے والا عذاب (تیار ہے۔)

﴿178﴾ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ ہم انہیں جو ڈھیل دے رہے ہیں تاکہ وہ گناہ میں اور آگے بڑھ جائیں اور (آخر کار) ان کے لیے ایسا عذاب ہوگا جو انہیں ذلیل کر کے رکھ دے گا۔

﴿179﴾ اللہ ایسا نہیں کرسکتا کہ مومنوں کو اس حالت پر چھوڑ رکھے جس پر تم لوگ اس وقت ہو، جب تک وہ ناپاک کو پاک سے الگ نہ کردے، اور (دوسری طرف) وہ ایسا بھی نہیں کرسکتا کہ تم کو (براہ راست) غیب کی باتیں بتادے۔ ہاں وہ (جتنا بتانا مناسب سمجھتا ہے اس کے لیے) اپنے پیغمبروں میں سے جس کو چاہتا ہے چن لیتا ہے۔ لہذا تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھو، اور اگر ایمان رکھو گے اور تقوی اختیار کرو گے تو زبردست ثواب کے مستحق ہوگے۔

﴿180﴾ اور جو لوگ اس (مال) میں بخل سے کام لیتے ہیں جو انہیں اللہ نے اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے وہ ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ یہ ان کے لیے کوئی اچھی بات ہے، اس کے برعکس یہ ان کے حق میں بہت بری بات ہے، جس مال میں انہوں نے بخل سے کام لیا ہوگا، قیامت کے دن وہ ان کے گلے کا طوق بنادیا جائے گا۔ اور سارے آسمان اور زمین کی میراث صرف اللہ ہی کے لیے ہے، اور جو عمل بھی تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

﴿181﴾ اللہ نے ان لوگوں کی بات سن لی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ : اللہ فقیر ہے اور ہم مال دار ہیں۔ ہم ان کی یہ بات بھی (ان کے اعمال نامے میں) لکھے لیتے ہیں، اور انہوں نے انبیاء کو جو ناحق قتل کیا ہے، اس کو بھی، اور (پھر) کہیں گے کہ : دہکتی آگ کا مزہ چکھو۔

﴿182﴾ یہ سب تمہارے ہاتھوں کے کرتوت کا نتیجہ ہے جو تم نے آگے بھیج رکھا تھا، ورنہ اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔

﴿183﴾ یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ : اللہ نے ہم سے یہ وعدہ لیا ہے کہ کسی پیغمبر پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک وہ ہمارے پاس ایسی قربانی لے کر نہ آئے جسے آگ کھاجائے۔ تم کہو کہ : مجھ سے پہلے تمہارے پاس بہت سے پیغمبر کھلی نشانیاں بھی لے کر آئے اور وہ چیز بھی جس کے بارے میں تم نے (مجھ سے) کہا ہے۔ پھر تم نے انہیں کیوں قتل کیا اگر تم واقعی سچے ہو ؟

﴿184﴾ (اے پیغمبر) اگر پھر بھی یہ لوگ تمہیں جھٹلائیں تو (یہ کوئی نئی بات نہیں) تم سے پہلے بھی بہت سے ان رسولوں کو جھٹلایا جاچکا ہے جو کھلی کھلی نشانیاں بھی لائے تھے، لکھے ہوئے صحیفے بھی اور ایسی کتاب بھی جو (حق کو) روشن کردینے والی تھی۔

﴿185﴾ ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور تم سب کو (تمہارے اعمال کے) پورے پورے بدلے قیامت ہی کے دن ملیں گے۔ پھر جس کسی کو دوزخ سے دور ہٹالیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ صحیح معنی میں کامیاب ہوگیا، اور یہ دنیوی زندگی تو (جنت کے مقابلے میں) دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں۔

﴿186﴾ (مسلمانو) تمہیں اپنے مال و دولت اور جانوں کے معاملے میں (اور) آزمایا جائے گا، اور تم اہل کتاب اور مشرکین دونوں سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے۔ اور اگر تم نے صبر اور تقوی سے کام لیا تو یقینا یہی کام بڑی ہمت کے ہیں (جو تمہیں اختیار کرنے ہیں)

﴿187﴾ اور (ان لوگوں کو وہ وقت نہ بھولنا چاہیے) جب اللہ نے اہل کتاب سے یہ عہد لیا تھا کہ : تم اس کتاب کو لوگوں کے سامنے ضرور کھول کھول کر بیان کرو گے، اور اس کو چھپاؤ گے نہیں۔ پھر انہوں نے اس عہد کو پس پشت ڈال دیا اور اس کے بدلے تھوڑی سے قیمت حاصل کرلی، اس طرح کتنی بری ہے وہ چیز جو یہ مول لے رہے ہیں۔

﴿188﴾ یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ جو لوگ اپنے کئے پر بڑے خوش ہیں، اور چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف ان کاموں پر بھی کی جائے جو انہوں نے کئے ہی نہیں، ایسے لوگوں کے بارے میں ہرگز یہ نہ سمجھنا کہ وہ عذاب سے بچنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ان کے لیے دردناک سزا (تیار) ہے۔

﴿189﴾ اور آسمانوں اور زمین کی سلطنت صرف اللہ کی ہے، اور اللہ ہر چیز پر مکمل قدرت رکھتا ہے۔

﴿190﴾ بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات دن کے بارے بارے آنے جانے میں ان عقل والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔

﴿191﴾ جو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے ہوئے (ہر حال میں) اللہ کو یاد کرتے ہیں، اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غور کرتے ہیں، (اور انہیں دیکھ کر بول اٹھتے ہیں کہ) اے ہمارے پروردگار ! آپ نے یہ سب کچھ بےمقصد پیدا نہیں کیا۔ آپ (ایسے فضول کام سے) پاک ہیں، پس ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لیجیے۔

﴿192﴾ اے ہمارے رب ! آپ جس کسی کو دوزخ میں داخل کردیں، اسے آپ نے یقینا رسوا ہی کردیا، اور ظالموں کو کسی قسم کے مددگار نصیب نہ ہوں گے۔

﴿193﴾ اے ہمارے پروردگار ! ہم نے ایک منادی کو سنا جو ایمان کی طرف پکار رہا تھا کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ، چنانچہ ہم ایمان لے آئے۔ لہذا اے ہمارے پروردگار ! ہماری خاطر ہمارے گناہ بخش دیجیے، ہماری برائیوں کو ہم سے مٹا دیجیے، اور ہمیں نیک لوگوں میں شامل کر کے اپنے پاس بلایئے۔

﴿194﴾ اور اے ہمارے پروردگار ! ہمیں وہ کچھ بھی عطا فرمایئے جس کا وعدہ آپ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے ہم سے کیا ہے، اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کیجئے۔ یقینا آپ وعدے کی کبھی خلاف ورزی نہیں کیا کرتے۔

﴿195﴾ چنانچہ ان کے پروردگار نے ان کی دعا قبول کی (اور کہا) کہ : میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع نہیں کروں گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ تم سب آپس میں ایک جیسے ہو۔ لہذا جن لوگوں نے ہجرت کی، اور انہیں ان کے گھروں سے نکالا گیا، اور میرے راستے میں تکلیفیں دی گئیں، اور جنہوں نے (دین کی خاطر) لڑائی لڑی اور قتل ہوئے، میں ان سب کی برائیوں کا ضرور کفارہ کردوں گا، اور انہیں ضرور بالضرور ایسے باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے انعام ہوگا، اور اللہ ہی ہے جس کے پاس بہترین انعام ہے۔

﴿196﴾ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے ان کا شہروں میں (خوشحالی کے ساتھ) چلنا پھرنا تمہیں ہرگز دھوکے میں نہ ڈالے۔

﴿197﴾ (یہ تو تھوڑا سا مزہ ہے جو یہ اڑا رہے ہیں) پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ بدترین بچھونا ہے۔

﴿198﴾ لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہوئے عمل کرتے ہیں، ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اللہ کی طرف سے میزبانی کے طور پر وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ وہ نیک لوگوں کے لیے کہیں بہتر ہے۔

﴿199﴾ اور بیشک اہل کتاب میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اللہ کے آگے عجز و نیاز کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ پر بھی ایمان رکھتے ہیں، اس کتاب پر بھی جو تم پر نازل کی گئی ہے اور اس پر بھی جو ان پر نازل کی گئی تھی، اور اللہ کی آیتوں کو تھوڑی سی قیمت لے کر بیچ نہیں ڈالتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کے پاس اپنے اجر کے مستحق ہیں۔ بیشک اللہ حساب جلد چکانے والا ہے۔

﴿200﴾ اے ایمان والو ! صبر اختیار کرو، مقابلے کے وقت ثابت قدمی دکھاؤ، اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے جمے رہو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو، تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔

النساء

Surah 4

﴿1﴾ اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کی بیوی پیدا کی، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں (دنیا میں) پھیلا دیئے۔ اور اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حقوق مانگتے ہو، اور رشتہ داریوں (کی حق تلفی سے) ڈرو۔ یقین رکھو کہ اللہ تمہاری نگرانی کررہا ہے۔

﴿2﴾ اور یتیموں کو ان کے مال دے دو ، اور اچھے مال کو خراب مال سے تبدیل نہ کرو، اور ان (یتیموں) کا مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر مت کھاؤ، بیشک یہ بڑا گناہ ہے۔

﴿3﴾ اور اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے تو (ان سے نکاح کرنے کے بجائے) دوسری عورتوں میں سے کسی سے نکاح کرلو جو تمہیں پسند آئیں دو دو سے، تین تین سے، اور چار چار سے، ہاں ! اگر تمہیں یہ خطرہ ہو کہ تم (ان بیویوں) کے درمیان انصاف نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی بیوی پر اکتفا کرو، یا ان کنیزوں پر جو تمہاری ملکیت میں ہیں۔ اس طریقے میں اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ تم بےانصافی میں مبتلا نہیں ہوگے۔

﴿4﴾ اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے د یا کرو۔ ہاں ! اگر وہ خود اس کا کچھ حصہ خوش دلی سے چھوڑ دیں تو اسے خوشگواری اور مزے سے کھالو۔

﴿5﴾ اور ناسمجھ (یتیموں) کو اپنے وہ مال حوالے نہ کرو جن کو اللہ نے تمہارے لیے زندگی کا سرمایہ بنایا ہے، ہاں ان کو ان میں سے کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے مناسب انداز میں بات کرلو۔

﴿6﴾ اور یتیموں کو جانچتے رہو، یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے لائق عمر کو پہنچ جائیں، تو اگر تم یہ محسوس کرو کہ ان میں سمجھ داری آچکی ہے تو ان کے مال انہی کے حوالے کردو۔ اور یہ مال فضول خرچی کر کے اور یہ سوچ کر جلدی جلدی نہ کھا بیٹھو کہ وہ کہیں بڑے نہ ہوجائیں۔ اور (یتیموں کے سرپرستوں میں سے) جو خود مال دار ہو وہ تو اپنے آپ کو (یتیم کا مال کھانے سے) بالکل پاک رکھے، ہاں اگر وہ خود محتاج ہو تو معروف طریق کار کو ملحوظ رکھتے ہوئے کھالے۔ پھر جب تم ان کے مال انہیں دو تو ان پر گواہ بنا لو، اور اللہ حساب لینے کے لیے کافی ہے۔

﴿7﴾ مردوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، چاہے وہ (ترکہ) تھوڑا ہو یا زیادہ، یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے۔

﴿8﴾ اور جب (میراث کی) تقسیم کے وقت (غیر وارث) رشتہ دار، یتیم اور مسکین لوگ آجائیں، تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دو ، اور ان سے مناسب انداز میں بات کرو۔

﴿9﴾ اور وہ لوگ (یتیموں کے مال میں خرد برد کرنے سے) ڈریں جو اگر اپنے پیچھے کمزور بچے چھوڑ کر جائیں تو ان کی طرف سے فکر مند رہیں گے۔ لہذا وہ اللہ سے ڈریں اور سیدھی سیدھی بات کہا کریں۔

﴿10﴾ یقین رکھو کہ جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں، اور انہیں جلد ہی ایک دہکتی آگ میں داخل ہونا ہوگا۔

﴿11﴾ اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو حکم دیتا ہے کہ : مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔ اور اگر (صرف) عورتیں ہی ہوں، دو یا دو سے زیادہ، تو مرنے والے نے جو کچھ چھوڑا ہو، انہیں اس کا دو تہائی حصہ ملے گا۔ اور اگر صرف ایک عورت ہو تو اسے (ترکے کا) آدھا حصہ ملے گا۔ اور مرنے والے کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملے گا، بشرطیکہ مرنے والے کی کوئی اولاد ہو، اور اگر اس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں تہائی حصے کی حق دار ہے۔ ہاں اگر اس کے کئی بھائی ہوں تو اس کی ماں کو چھٹا حصہ دیا جائے گا (اور یہ ساری تقسیم) اس وصیت پر عمل کرنے کے بعد ہوگی جو مرنے والے نے کی ہو، یا اگر اس کے ذمے کوئی قرض ہے تو اس کی ادائیگی کے بعد تمہیں اس بات کا ٹھیک ٹھیک علم نہیں ہے کہ تمہارے باپ بیٹوں میں سے کون فائدہ پہنچانے کے لحاظ سے تم سے زیادہ قریب ہے ؟ یہ تو اللہ کے مقرر کیے ہوئے حصے ہیں، یقین رکھو کہ اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

﴿12﴾ اور تمہاری بیویاں جو کچھ چھوڑ کر جائیں، اس کا آدھا حصہ تمہارا ہے، بشرطیکہ ان کی کوئی اولاد (زندہ) نہ ہو۔ اور اگر ان کی کوئی اولاد ہو تو اس وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو انہوں نے کی ہو، اور ان کے قرض کی ادائیگی کے بعد تمہیں ان کے ترکے کا چوتھائی حصہ ملے گا۔ اور تم جو کچھ چھوڑ کر جاؤ اس کا ایک چوتھائی ان (بیویوں) کا ہے، بشرطیکہ تمہاری کوئی اولاد (زندہ) نہ ہو۔ اور اگر تمہاری کوئی اولاد ہو تو اس وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو تم نے کی ہو، اور تمہارے قرض کی ادائیگی کے بعد ان کو تمہارے ترکے کا آٹھواں حصہ ملے گا۔ اور اگر وہ مرد یا عورت جس کی میراث تقسیم ہونی ہے، ایسا ہو کہ نہ اس کے والدین زندہ ہوں، نہ اولاد، اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن زندہ ہو تو ان میں سے ہر ایک چھٹے حصے کا حق دار ہے۔ اور اگر وہ اس سے زیادہ ہوں تو وہ سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے، (مگر) جو وصیت کی گئی ہو اس پر عمل کرنے کے بعد اور مرنے والے کے ذمے جو قرض ہو اس کی ادائیگی کے بعد، بشرطیکہ (وصیت یا قرض کے اقرار کرنے سے) اس نے کسی کو نقصان نہ پہنچایا ہو۔ یہ سب کچھ اللہ کا حکم ہے، اور اللہ ہر بات کا علم رکھنے والا، بردبار ہے۔

﴿13﴾ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، وہ اس کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، ایسے لوگ ہمیشہ ان (باغات) میں رہیں گے، اور یہ زبردست کامیابی ہے۔

﴿14﴾ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدود سے تجاوز کرے گا، اسے اللہ دوزخ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اور اس کو ایسا عذاب ہوگا جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔

﴿15﴾ تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کا ارتکاب کریں، ان پر اپنے میں سے چار گواہ بنا لو۔ چنانچہ اگر وہ (ان کی بدکاری کی) گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں روک کر رکھو یہاں تک کہ انہیں موت اٹھا کرلے جائے، یا اللہ ان کے لیے کوئی اور راستہ پیدا کردے۔

﴿16﴾ اور تم میں سے جو دو مرد بدکاری کا ارتکاب کریں، ان کو اذیت دو ۔ پھر اگر وہ توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلیں تو ان سے درگزر کرو۔ بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿17﴾ اللہ نے توبہ قبول کرنے کی جو ذمہ داری لی ہے وہ ان لوگوں کے لیے جو نادانی سے کوئی برائی کر ڈالتے ہیں، پھر جلدی ہی توبہ کرلیتے ہیں۔ چنانچہ اللہ ان کی توبہ قبول کرلیتا ہے، اور اللہ ہر بات کو خوب جاننے والا بھی ہے، حکمت والا بھی۔

﴿18﴾ تو بہ کی قبولیت ان کے لیے نہیں جو برے کام کیے جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی پر موت کا وقت آکھڑا ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں نے اب توبہ کرلی ہے، اور نہ ان کے لیے ہے جو کفر ہی کی حالت میں مرجاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے تو ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

﴿19﴾ اے ایمان والو ! یہ بات تمہارے لیے حلال نہیں ہے کہ تم زبردستی عورتوں کے مالک بن بیٹھو، اور ان کو اس غرض سے مقید مت کرو کہ تم نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس کا کچھ حصہ لے اڑو، الا یہ کہ وہ کھلی بےحیائی کا ارتکاب کریں، اور ان کے ساتھ بھلے انداز میں زندگی بسر کرو، اور اگر تم انہیں پسند نہ کرتے ہو تو یہ عین ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔

﴿20﴾ اور اگر تم ایک بیوی کے بدلے دوسری بیوی سے نکاح کرنا چاہتے ہو اور ان میں سے ایک کو ڈھیر سارا مہر دے چکے ہو، تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔ کیا تم بہتان لگا کر اور کھلا گناہ کر کے (مہر) والس لو گے ؟

﴿21﴾ اور آخر تم کیسے (وہ مہر) واپس لے سکتے ہو جبکہ تم ایک دوسرے کے اتنے قریب ہوچکے تھے اور انہوں نے تم سے بڑا بھاری عہد لیا تھا ؟

﴿22﴾ اور جن عورتوں سے تمہارے باپ دادا (کسی وقت) نکاح کرچکے ہوں، تم انہیں نکاح میں نہ لاؤ، البتہ پہلے جو کچھ ہوچکا وہ ہوچکا۔ یہ بڑی بےحیائی ہے، گھناؤنا عمل ہے، اور بےراہ روی کی بات ہے۔

﴿23﴾ تم پر حرام کردی گئی ہیں تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، اور بھتیجیاں اور بھانجیاں، اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے، اور تمہاری دودھ شریک بہنیں، اور تمہاری بیویوں کی مائیں، اور تمہارے زیر پرورش تمہاری سوتیلی بیٹیاں جو تمہاری ان بیویوں (کے پیٹ) سے ہوں جن کے ساتھ تم نے خلوت کی ہو۔ ہاں اگر تم نے ان کے ساتھ خلوت نہ کی ہو (اور انہیں طلاق دے دی ہو یا ان کا انتقال ہوگیا ہو) تو تم پر (ان کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں) کوئی گناہ نہیں ہے، نیز تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں بھی تم پر حرام ہیں، اور یہ بات بھی حرام ہے کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرو، البتہ جو کچھ پہلے ہوچکا وہ ہوچکا۔ بیشک اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿24﴾ نیز وہ عورتیں (تم پر حرام ہیں) جو دوسرے شوہروں کے نکاح میں ہوں، البتہ جو کنیزیں تمہاری ملکیت میں آجائیں (وہ مستثنی ہیں) اللہ نے یہ احکام تم پر فرض کردیئے ہیں۔ ان عورتوں کو چھوڑ کر تمام عورتوں کے بارے میں یہ حلال کردیا گیا ہے کہ تم اپنا مال (بطور مہر) خرچ کر کے انہیں (اپنے نکاح میں لانا) چاہو، بشرطیکہ تم ان سے باقاعدہ نکاح کا رشتہ قائم کر کے عفت حاصل کرو، صرف شہوت نکالنا مقصود نہ ہو۔ چنانچہ جن عورتوں سے (نکاح کر کے) تم نے لطف اٹھایا ہو، ان کو ان کا وہ مہر ادا کرو جو مقرر کیا گیا ہو۔ البتہ مہر مقرر کرنے کے بعد بھی جس (کمی بیشی) پر تم آپس میں راضی ہوجاؤ، اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ یقین رکھو کہ اللہ ہر بات کا علم بھی رکھتا ہے، حکمت کا بھی مالک ہے۔

﴿25﴾ اور تم میں سے جو لوگ اس بات کی طاقت نہ رکھتے ہوں کہ آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرسکیں، تو وہ ان مسلمان کنیزوں میں سے کسی سے نکاح کر سکت ہیں جو تمہاری ملکیت میں ہوں، اور اللہ کو تمہارے ایمان کی پوری حالت خوب معلوم ہے۔ تم سب آپس میں ایک جیسے ہو۔ ، لہذا ان کنیزوں سے ان کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرلو، اور ان کو قاعدے کے مطابق ان کے مہر ادا کرو، بشرطیکہ ان سے نکاح کا رشتہ قائم کر کے انہیں پاک دامن بنایا جائے، نہ وہ صرف شہوت پوری کرنے کے لیے کوئی (ناجائز) کام کریں، اور نہ خفیہ طور پر ناجائز آشنائیاں پیدا کریں۔ پھر جب وہ نکاح کی حفاظت میں آجائیں، اور اس کے بعد کسی بڑی بےحیائی (یعنی زنا) کا ارتکاب کریں تو ان پر اس سزا سے آدھی سزا واجب ہوگی جو (غیر شادی شدہ) آزاد عورتوں کے لیے مقرر ہے۔ یہ سب (یعنی کنیزوں سے نکاح کرنا) تم میں سے ان لوگوں کے لیے ہے جن کو (نکاح نہ کرنے کی صورت میں) گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو۔ اور اگر تم صبر ہی کیے رہو تو یہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿26﴾ اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے لیے (احکام کی) وضاحت کردے، اور جو (نیک) لوگ تم سے پہلے گزرے ہیں، تم کو ان کے طور طریقوں پر لے آئے، اور تم پر (رحمت کے ساتھ) توجہ فرمائے، اور اللہ ہر بات کا جاننے والا بھی ہے، حکمت والا بھی ہے۔

﴿27﴾ اللہ تو چاہتا ہے کہ تمہاری طرف توجہ کرے، اور جو لوگ نفسانی خواہشات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر بہت دور جا پڑو۔

﴿28﴾ اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے ساتھ آسانی کا معاملہ کرے اور انسان کمزور پیدا ہوا ہے۔

﴿29﴾ اے ایمان والو ! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ، الا یہ کہ کوئی تجارت باہمی رضا مندی سے وجود میں آئی ہو (تو وہ جائز ہے) اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ یقین جانو اللہ تم پر بہت مہربان ہے۔

﴿30﴾ اور جو شخص زیادتی اور ظلم کے طور پر ایسا کرے گا، تو ہم اس کو آگ میں داخل کریں گے، اور یہ بات اللہ کے لیے بالکل آسان ہے۔

﴿31﴾ اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرو جن سے تمہیں روکا گیا ہے تو تمہاری چھوٹی برائیوں کا ہم خود کفارہ کردیں گے۔ اور تم کو ایک باعزت جگہ داخل کریں گے۔

﴿32﴾ اور جن چیزوں میں ہم نے تم کو ایک دوسرے پر فوقیت دی ہے، ان کی تمنا نہ کرو، مرد جو کچھ کمائی کریں گے ان کو اس میں سے حصہ ملے گا، اور عورتیں جو کچھ کمائی کریں گی ان ان کو اس میں سے حصہ ملے گا۔ اور اللہ سے اس کا فضل مانگا کرو، بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

﴿33﴾ اور ہم نے ہر اس مال کے کچھ وارث مقرر کیے ہیں جو والدین اور قریب ترین رشتہ دار چھوڑ کرجائیں۔ اور جن لوگوں سے تم نہ کوئی عہد باندھا ہوا ان کو ان کا حصہ دو ۔ بیشک اللہ ہر چیز کا گواہ ہے۔

﴿34﴾ مرد و عورتوں کے نگران ہیں، کیونکہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے، اور کیونکہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں۔ چنانچہ نیک عورتیں فرمانبردار ہوتی ہیں، مرد کی غیر موجودگی میں اللہ کی دی ہوئی حفاظت سے (اس کے حقوق کی) حفاظت کرتی ہیں۔ اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو تو (پہلے) انہیں سمجھاؤ، اور (اگر اس سے کام نہ چلے تو) انہیں خواب گاہوں میں تنہا چھوڑ دو ، (اور اس سے بھی اصلاح نہ ہو تو) انہیں مار سکتے ہو۔ پھر اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو ان کے خلاف کاروائی کا کوئی راستہ تلاش نہ کرو۔ یقین رکھو کہ اللہ سب کے اوپر، سب سے بڑا ہے۔

﴿35﴾ اور اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان پھوٹ پڑنے کا اندیشہ ہو تو (ان کے درمیان فیصلہ کرانے کے لیے) ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے بھیج دو ۔ اگر وہ دونوں اصلاح کرانا چاہیں گے تو اللہ دونوں کے درمیان اتفاق پیدا فرما دے گا۔ بیشک اللہ کو ہر بات کا علم اور ہر بات کی خبر ہے۔

﴿36﴾ اور اللہ کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو، نیز رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریب والے پڑوسی، دور والے پڑوسی، ساتھ بیٹھے (یا ساتھ کھڑے) ہوئے شخص اور راہ گیر کے ساتھ اور اپنے غلام باندیوں کے ساتھ بھی (اچھا برتاؤ رکھو) بیشک اللہ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا۔

﴿37﴾ ایسے لوگ جو خود بھی کنجوسی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی کنجوسی کی تلقین کرتے ہیں، اور اللہ نے ان کو اپنے فضل سے جو کچھ دے رکھا ہے اسے چھپاتے ہیں، اور ہم نے ایسے ناشکروں کے لیے زلیل کردینے والا عذاب تیار رکھا ہے۔

﴿38﴾ اور وہ لوگ جو اپنے مال لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں، اور نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، نہ روز آخرت پر، اور شیطان جس کا ساتھی بن جائے تو وہ بدترین ساتھی ہوتا ہے۔

﴿39﴾ بھلا ان کا کیا بگڑ جاتا اگر یہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لے آتے اور اللہ نے ان کو جو رزق عطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ (نیک کاموں میں) خرچ کردیتے ؟ اور اللہ کو ان کا حال خوب معلوم ہے۔

﴿40﴾ اللہ ذرہ برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا، اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے کئی گنا کردیتا ہے، اور خود اپنے پاس سے عظیم ثواب دیتا ہے۔

﴿41﴾ پھر (یہ لوگ سوچ رکھیں کہ) اس وقت (ان کا) کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور (اے پیغمبر) ہم تم کو ان لوگوں کے خلاف گواہ کے طور پر پیش کریں گے ؟

﴿42﴾ جن لوگوں نے کفر اپنا رکھا ہے اور رسول کے ساتھ نافرمانی کا رویہ اختیار کیا ہے، اس دن وہ یہ تمنا کریں گے کہ کاش انہیں زمین (میں دھنسا کر اس) کے برابر کردیا جائے اور وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے۔

﴿43﴾ اے ایمان والو ! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو اس وقت تک نماز کے قریب بھی نہ جانا جب تک تم جو کچھ کہہ رہے ہو اسے سمجھنے نہ لگو۔ اور جنابت کی حالت میں بھی جب تک غسل نہ کرلو، (نماز جائز نہیں) الا یہ کہ تم مسافر ہو (اور پانی نہ ملے تو تیمم کر کے نماز پڑھ سکتے ہو) اور اگر تم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت کی جگہ سے آیا ہو یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو، پھر تم کو پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرلو، اور اپنے چہروں اور ہاتھوں کا (اس مٹی سے) مسح کرلو۔ بیشک اللہ بڑا معاف کرنے والا بڑا بخشنے والا ہے۔

﴿44﴾ جن لوگوں کو کتاب (یعنی تورات کے علم) میں سے ایک حصہ دیا گیا تھا، کیا تم نے ان کو نہیں دیکھا کہ وہ (کس طرح) گمراہی مول لے رہے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راستے سے بھٹک جاؤ۔

﴿45﴾ اور اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے اور رکھوالا بننے کے لیے بھی اللہ کافی ہے، اور مددگار بننے کے لیے بھی اللہ کافی ہے۔

﴿46﴾ یہودیوں میں سے کچھ وہ ہیں جو (تورات) کے الفاظ کو ان کے موقع محل سے ہٹا ڈالتے ہیں، اور اپنی زبانوں کو توڑ مروڑ کر اور دین میں طعنہ زنی کرتے ہوئے کہتے ہیں : سمعنا وعصینا۔ اور اسمع غیر مسمع۔ اور راعنا۔ حالانکہ اگر وہ یہ کہتے کہ : سمعنا واطعنا اور اسمع وانظرنا۔ تو ان کے لیے بہتر اور راست بازی کا راستہ ہوتا لیکن ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے ان پر پھٹکار ڈال رکھی ہے، اس لیے تھوڑے سے لوگوں کے سوا وہ ایمان نہیں لاتے۔

﴿47﴾ اے اہل کتاب ! جو (قرآن) ہم نے اب نازل کیا ہے، جو تمہارے پاس پہلے سے موجود کتاب کی تصدیق بھی کرتا ہے، اس پر ایمان لے آؤ، قبل اس کے کہ ہم کچھ چہروں کو مٹا کر انہیں گدی جیسا بنادیں، یا ان پر ایسی پھٹکار ڈال دیں جیسی پھٹکار ہم نے سبت والوں پر ڈالی تھی۔ اور اللہ کا حکم ہمیشہ پورا ہو کر رہتا ہے۔

﴿48﴾ بیشک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور اس سے کمتر ہر بات کو جس کے لیے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے وہ ایسا بہتان باندھتا ہے جو بڑا زبردست گناہ ہے۔

﴿49﴾ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے آپ کو بڑا پاکیزہ بتاتے ہیں ؟ حالانکہ پاکیزگی تو اللہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے، اور (اس عطا میں) ان پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوتا۔

﴿50﴾ دیکھو یہ لوگ اللہ پر کیسے کیسے جھوٹے بہتان باندھتے ہیں وہ کھلا گناہ ہونے کے لیے یہی بات کافی ہے۔

﴿51﴾ جن لوگوں کو کتاب (یعنی تورات کے علم) میں سے ایک حصہ دیا گیا تھا، کیا تم نے انکو نہیں دیکھا کہ وہ (کس طرح) بتوں اور شیطان کی تصدیق کر رہے ہیں اور کافروں (یعنی بت پرستوں) کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ مومنوں سے زیادہ سیدھے راستے پر ہیں۔

﴿52﴾ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے پھٹکار ڈال رکھی ہے، اور جس پر اللہ پھٹکار ڈال دے، اس کے لیے تم کوئی مددگار نہیں پاؤ گے۔

﴿53﴾ تو کیا ان کو (کائنات کی) بادشاہی کا کچھ حصہ ملا ہوا ہے ؟ اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگوں کو گٹھلی کے شگاف کے برابر بھی کچھ نہ دیتے۔

﴿54﴾ یا یہ لوگوں سے اس بنا پر حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے ان کو اپنا فضل (کیوں) عطا فرمایا ہے ؟ سو ہم نے تو ابراہیم کے خاندان کو کتاب اور حکمت عطا کی تھی اور انہیں بڑی سلطنت دی تھی ؟

﴿55﴾ چنانچہ ان میں سے کچھ ان پر ایمان لائے اور کچھ نے ان سے منہ موڑ لیا۔ اور جہنم ایک بھڑکتی آگ کی شکل میں (ان کافروں کی خبر لینے کے لیے) کافی ہے۔

﴿56﴾ بیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے انکار کیا ہے، ہم انہیں آگ میں داخل کریں گے، جب بھی ان کی کھالیں جل جل کر پک جائیں گی، تو ہم انہیں ان کے بدلے دوسری کھالیں دے دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھیں۔ بیشک اللہ صاحب اقتدار بھی ہے، صاحب حکمت بھی۔

﴿57﴾ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو ہم ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہاں ان کے لیے پاکیزہ بیویاں ہوں گی، اور ہم انہیں گھنی چھاؤں میں داخل کریں گے۔

﴿58﴾ (مسلمانو) یقینا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ یقین جانو اللہ تم کو جس بات کی نصیحت کرتا ہے وہ بہت اچھی ہوتی ہے۔ بیشک اللہ ہر بات کو سنتا اور ہر چیز کو دیکھتا ہے۔

﴿59﴾ اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی بھی اطاعت کرو اور تم میں سے جو لوگ صاحب اختیار ہوں ان کی بھی۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہوجائے تو اگر واقعی تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اسے اللہ اور رسول کے حوالے کردو۔ یہی طریقہ بہترین ہے اور اس کا انجام بھی سب سے بہتر ہے۔

﴿60﴾ (اے پیغمبر) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعوی یہ کرتے ہیں کہ وہ اس کلام پر بھی ایمان لے آئے ہیں جو تم پر نازل کیا گیا ہے اور اس پر بھی جو تم سے پہلے نازل کیا گیا تھا، (لیکن) ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنا مقصد فیصلے کے لیے طاغوت کے پاس لے جانا چاہتے ہیں ؟ حالانکہ ان کو حکم یہ دیا گیا تھا کہ وہ اس کا کھل کر انکار کریں۔ اور شیطان چاہتا ہے کہ انہیں بھٹکا کر پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا کردے۔

﴿61﴾ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس حکم کی طرف جو اللہ نے اتارا ہے اور آؤ رسول کی طرف، تو تم ان منافقوں کو دیکھو گے کہ وہ تم سے پوری طرح منہ موڑ بیٹھتے ہیں۔

﴿62﴾ پھر اس وقت ان کا کیا حال بنتا ہے جب خود اپنے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے ؟ اس وقت یہ آپ کے پاس اللہ کی قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں کہ ہمارا مقصد بھلائی کرنے اور ملاپ کرادینے کے سوا کچھ نہ تھا۔

﴿63﴾ یہ وہ ہیں کہ اللہ ان کے دلوں کی ساری باتیں خوب جانتا ہے۔ لہذا تم انہیں نظر انداز کردو، انہیں نصیحت کر، اور ان سے خود ان کے بارے میں ایسی بات کہتے رہو جو دل میں اتر جانے والی ہو۔

﴿64﴾ اور ہم نے کوئی رسول اس کے سوا کسی اور مقصد کے لیے نہیں بھیجا کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔ اور جب ان لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، اگر یہ اس وقت تمہارے پاس آکر اللہ سے مغفرت مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے تو یہ اللہ کو بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان پاتے۔

﴿65﴾ نہیں، (اے پیغمبر) تمہارے پروردگار کی قسم ! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک یہ اپنے باہمی جھگڑوں میں تمہیں فیصل نہ بنائیں، پھر تم جو کچھ فیصلہ کرو اس کے بارے میں اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں، اور اس کے آگے مکمل طور پر سر تسلیم خم کردیں۔

﴿66﴾ اور اگر ہم ان کے لیے یہ فرض قرار دے دیتے کہ تم اپنے آپ کو قتل کرو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو ان میں سے تھوڑے سے لوگوں کے سوا کوئی اس پر عمل نہ کرتا۔ اور جس بات کی انہیں نصیحت کی جارہی ہے اگر یہ لوگ اس پر عمل کرلیتے تو ان کے حق میں کہیں بہتر ہوتا، اور ان میں خوب ثابت قدمی پیدا کردیتا۔

﴿67﴾ اور اس صورت میں ہم انہیں خود اپنے پاس سے یقینا اجر عظیم عطا کرتے۔

﴿68﴾ اور انہیں ضرور بالضرور سیدھے راستے تک پہنچا دیتے۔

﴿69﴾ اور جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے تو وہ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین۔ اور وہ کتنے اچھے ساتھی ہیں۔

﴿70﴾ یہ فضیلت اللہ کی طرف سے ملتی ہے، اور (لوگوں کے حالات سے) پوری طرح باخبر ہونے کے لیے اللہ کافی ہے۔

﴿71﴾ اے ایمان والو ! (دشمن سے مقابلے کے وقت) اپنے بچاؤ کا سامان ساتھ رکھو، پھر الگ الگ دستوں کی شکل میں (جہاد کے لیے) نکلو، یا سب لوگ اکٹھے ہو کر نکل جاؤ

﴿72﴾ اور یقینا تم میں کوئی ایسا بھی ضرور ہوگا جو (جہاد میں جانے سے) سستی دکھائے گا، پھر اگر (جہاد کے دوران) تم پر کوئی مصیبت آجائے تو وہ کہے گا کہ اللہ نے مجھ پر بڑا انعام کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ موجود نہیں تھا۔

﴿73﴾ اور اگر اللہ کی طرف سے کوئی فضل (یعنی فتح اور مال غنیمت) تمہارے ہاتھ آئے تو وہ کہے گا گویا تمہارے اور اس کے درمیان کبھی کوئی دوستی تو تھی ہی نہیں۔ کہ کاش میں بھی ان لوگوں کے ساتھ ہوتا تو بہت کچھ میرے بھی ہاتھ لگ جاتا۔

﴿74﴾ لہذا اللہ کے راستے میں وہ لوگ لڑیں جو دنیوی زندگی کو آخرت کے بدلے بیچ دیں۔ اور جو اللہ کے راستے میں لڑے گا، پھر چاہے قتل ہوجائے یا غالب آجائے، (ہر صورت میں) ہم اس کو زبردست ثواب عطا کریں گے۔

﴿75﴾ اور (اے مسلمانو) تمہارے پاس کیا جواز ہے کہ اللہ کے راستے میں اور ان بےبس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو یہ دعا کر رہے ہیں کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں اس بستی سے نکال لایئے جس کے باشندے ظلم توڑ رہے ہیں، اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی حامی پیدا کردیجیے، اور ہمار لیے اپنی طرف سے کوئی مددگار کھڑا کردیجیے۔

﴿76﴾ جو لوگ ایمان لائے ہوئے ہیں وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں، اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ طاغوت کے راستے میں لڑتے ہیں۔ لہذا (اے مسلمانو) تم شیطان کے دوستوں سے لڑو۔ (یاد رکھو کہ) شیطان کی چالیں درحقیقت کمزور ہیں۔

﴿77﴾ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے (مکی زندگی میں) کہا جاتا تھا کہ اپنے ہاتھ روک کر رکھو، اور نماز قائم کیے جاؤ اور زکوٰۃ دیتے رہو۔ پھر جب ان پر جنگ فرض کی گئی تو ان میں سے ایک جماعت (دشمن) لوگوں سے ایسی ڈرنے لگی جیسے اللہ سے ڈرا جاتا ہے، یا اس سے بھی زیادہ ڈرنے لگی، اور ایسے لوگ کہنے لگے کہ : اے ہمارے پروردگار ! آپ نے ہم پر جنگ کیوں فرض کردی، تھوڑی مدت تک ہمیں مہلت کیوں نہیں دی ؟ کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ تو تھوڑا سا ہے اور جو شخص تقوی اختیار کرے اس کے لیے آخرت کہیں زیادہ بہتر ہے، اور تم پر ایک تاگے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا۔

﴿78﴾ تم جہاں بھی ہوگے (ایک نہ ایک دن) موت تمہیں جاپکڑے گی، چاہے تم مضبوط قلعوں میں کیوں نہ رہ رہے ہو۔ اور اگر ان (منافقوں) کو کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، اور اگر ان کو کوئی برا واقعہ پیش آجاتا ہے تو (اے پیغمبر) وہ (تم سے) کہتے ہیں کہ یہ برا واقعہ آپ کی وجہ سے ہوا ہے۔ کہہ دو کہ ہر واقعہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ کوئی بات سمجھنے کے نزدیک تک نہیں آتے ؟

﴿79﴾ تمہیں جو کوئی اچھائی پہنچتی ہے تو وہ محض اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور جو کوئی برائی پہنچتی ہے، تو وہ تمہارے اپنے سبب سے ہوتی ہے، اور (اے پیغمبر) ہم نے تمہیں لوگوں کے پاس رسول بنا کر بھیجا ہے، اور اللہ (اس بات کی) گواہی دینے کے لیے کافی ہے۔

﴿80﴾ جو رسول کی اطاعت کرے، اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جو (اطاعت سے) منہ پھیر لے تو (اے پیغمبر) ہم نے تمہیں ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجا (کہ تمہیں ان کے عمل کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے)

﴿81﴾ اور یہ (منافق لوگ سامنے تو) اطاعت کا نام لیتے ہیں، مگر یہ تمہارے پاس سے باہر جاتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ رات کے وقت تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتا ہے، اور یہ رات کے وقت جو مشورے کرتے ہیں، اللہ وہ سب لکھ رہا ہے۔ لہذا تم ان کی پرواہ مت کرو، اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ اور اللہ تمہاری حمایت کے لیے بالکل کافی ہے۔

﴿82﴾ کیا یہ لوگ قرآن میں غور وفکر سے کام نہیں لیتے ؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بکثرت اختلافات پاتے۔

﴿83﴾ اور جب ان کو کوئی بھی خبر پہنچتی ہے، چاہے وہ امن کی ہو یا خوف پیدا کرنے والی، تو یہ لوگ اسے (تحقیق کے بغیر) پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ اور اگر یہ اس (خبر) کو رسول کے پاس یا اصحاب اختیار کے پاس لے جاتے تو ان میں سے جو لوگ اس کی کھوج نکالنے والے ہیں وہ اس کی حقیقت معلوم کرلیتے۔ اور (مسلمانو) اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تھوڑے سے لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔

﴿84﴾ لہذا (اے پیغمبر) تم اللہ کے راستے میں جنگ کرو، تم پر اپنے سوا کسی اور کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ہاں مومنوں کو ترغیب دیتے رہو، کچھ بعید نہیں کہ اللہ کافروں کی جنگ کا زور توڑ دے۔ اور اللہ کا زور سب سے زیادہ زبردست ہے اور اس کی سزا بڑی سخت۔

﴿85﴾ جو شخص کوئی اچھی سفارش کرتا ہے، اس کو اس میں سے حصہ ملتا ہے، اور جو کوئی بری سفارش کرتا ہے اسے اس برائی میں سے حصہ ملتا ہے، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے۔

﴿86﴾ اور جب تمہیں کوئی شخص سلام کرے تو تم اسے اس سے بھی بہتر طریقے پر سلام کرو، یا (کم از کم) انہی الفاظ میں اس کا جواب دے دو ۔ بیشک اللہ ہر چیز کا حساب رکھنے والا ہے۔

﴿87﴾ اللہ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی خدا نہیں، وہ تمہیں ضرور بالضرور قیامت کے دن اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے، اور کون ہے جو اللہ سے زیادہ بات کا سچا ہو ؟

﴿88﴾ پھر تمہیں کیا ہوگیا کہ منافقین کے بارے میں تم دو گروہ بن گئے ؟ حالانکہ انہوں نے جیسے کام کیے ہیں ان کی بناء پر اللہ نے ان کو اوندھا کردیا ہے۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ایسے شخص کو ہدایت پر لاؤ جسے اللہ (اس کی خواہش کے مطابق) گمراہی میں مبتلا کرچکا ؟ اور جسے اللہ گمراہی میں مبتلا کردے، اس کے لیے تم ہرگز کبھی کوئی بھلائی کا راستہ نہیں پاسکتے۔

﴿89﴾ یہ لوگ چاہتے یہ ہیں کہ جس طرح انہوں نے کفر کو اپنا لیا ہے، اسی طرح تم بھی کافر بن کر سب برابر ہوجاؤ،۔ لہذا (اے مسلمانو) تم ان میں سے کسی کو اس وقت تک دوست نہ بناؤ جب تک وہ اللہ کے راستے میں ہجرت نہ کرلے۔ چنانچہ اگر وہ (ہجرت سے) اعراض کریں تو ان کو پکڑو، اور جہاں بھی انہیں پاؤ، انہیں قتل کردو، اور ان میں سے کسی کو نہ اپنا دوست بناؤ، نہ مددگار۔

﴿90﴾ ہاں وہ لوگ اس حکم سے مستثنی ہیں جو کسی ایسی قوم سے جا ملیں جن کے اور تمہارے درمیان کوئی (صلح کا) معاہدہ ہے، یا وہ لوگ جو تمہارے پاس اس طرح آئیں کہ ان کے دل تمہارے خلاف جنگ کرنے سے بھی بیزار ہوں، اور اپنی قوم کے خلاف جنگ کرنے سے بھی اور اگر اللہ چاہتا تو انہیں تم پر مسلط کردیتا تو وہ تم سے ضرور جنگ کرتے۔ چنانچہ اگر وہ تم سے کنارہ کشی کرتے ہوئے تم سے جنگ نہ کریں، اور تم کو امن کی پیشکش کردیں تو اللہ نے تم کو ان کے خلاف کسی کاروائی کا کوئی حق نہیں دیا۔

﴿91﴾ (منافقین میں) کچھ دوسرے لوگ تمہیں ایسے ملیں گے جو یہ چاہتے ہیں کہ وہ تم سے بھی محفوظ رہیں اور اپنی قوم سے بھی (مگر) جب کبھی ان کو فتنے کی طرف واپس بلایا جائے، وہ اس میں اوندھے منہ جاگرتے ہیں۔ چنانچہ اگر یہ لوگ تم سے (جنگ کرنے سے) علیحدگی اختیار نہ کریں، اور نہ تمہیں امن کی پیشکش کریں اور نہ اپنے ہاتھ روکیں تو ان کو بھی پکڑو، اور جہاں کہیں انہیں پاؤ، انہیں قتل کرو۔ ایسے لوگوں کے خلاف اللہ نے تم کو کھلا کھلا اختیار دے دیا ہے۔

﴿92﴾ کسی مسلمان کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی دسرے مسلمان کو قتل کرے، الا یہ کہ غلطی سے ایسا ہوجائے۔ اور جو شخص کسی مسلمان کو غلطی سے قتل کر بیٹھے تو اس پر فرض ہے کہ وہ ایک مسلمان غلام آزاد کرے اور دیت (یعنی خون بہا) مقتول کے وارثوں کو پہنچائے، الا یہ کہ وہ معاف کردیں۔ اور اگر مقتول کسی ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہو جو تمہاری دشمن ہے، مگر وہ خود مسلمان ہو تو بس ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا فرض ہے، (خون بہا دینا واجب نہیں) ۔ اور اگر مقتول ان لوگوں میں سے ہو جو (مسلمان نہیں، مگر) ان کے اور تمہارے درمیان کوئی معاہدہ ہے تو بھی یہ فرض ہے کہ خوں بہا اس کے وارثوں تک پہنچایا جائے، اور ایک مسلمان غلام کو آزاد کیا جائے۔ ہاں اگر کسی کے پاس غلام نہ ہو تو اس پر فرض ہے کہ دو مہینے تک مسلسل روزے رکھے۔ یہ توبہ کا طریقہ ہے جو اللہ نے مقرر کیا ہے، اور اللہ علیم و حکیم ہے۔

﴿93﴾ اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا، اور اللہ نے اس کے لیے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے۔

﴿94﴾ ٍاے ایمان والو ! جب تم اللہ کے راستے میں سفر کرو تو تحقیق سے کام لیا کرو، اور جو شخص تم کو سلام کرے تو دنیوی زندگی کا سامان حاصل کرنے کی خواہش میں اس کو یہ نہ کہو کہ : تم مومن نہیں ہو۔ کیونکہ اللہ کے پاس مال غنیمت کے بڑے ذخیرے ہیں۔ تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے۔ پھر اللہ نے تم پر فضل کیا۔ لہذا تحقیق سے کام لو، بیشک جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سب سے پوری طرح باخبر ہے۔

﴿95﴾ جن مسلمانوں کو کوئی معذوری لاحق نہ ہو اور وہ (جہاد میں جانے کے بجائے گھر میں) بیٹھ رہیں وہ اللہ کے راستے میں اپنے مال و جان سے جہاد کرنے والوں کے برابر نہیں ہیں۔ جو لوگ اپنے مال و جان سے جہاد کرتے ہیں ان کو اللہ نے بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت دی ہے۔ اور اللہ نے سب سے اچھائی کا وعدہ کر رکھا ہے۔ اور اللہ نے مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر فضیلت دے کر بڑا ثواب بخشا ہے۔

﴿96﴾ یعنی خاص اپنے پاس سے بڑے درجے اور مغفرت اور رحمت اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿97﴾ جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا۔ اور اسی حالت میں فرشتے ان کی روح قبض کرنے آئے تو بولے : تم کس حالت میں تھے ؟ وہ کہنے لگے کہ : ہم تو زمین میں بےبس کردیئے گئے تھے۔ فرشتوں نے کہا : کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرجاتے ؟ لہذا ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ نہایت برا انجام ہے۔

﴿98﴾ البتہ وہ بےبس مرد، عورتیں اور بچے (اس انجام سے مستثنی ہیں) جو (ہجرت کی) کوئی تدبیر نہیں کرسکتے اور نہ (نکلنے کا) کوئی راستہ پاتے ہیں۔

﴿99﴾ چنانچہ پوری امید ہے کہ اللہ ان کو معاف فرمادے۔ اللہ بڑا معاف کرنے والا بہت بخشنے والا ہے۔

﴿100﴾ اور جو شخص اللہ کے راستے میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں بہت جگہ اور بڑی گنجائش پائے گا۔ اور جو شخص اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے کے لیے نکلے، پھر اسے موت آپکڑے تب بھی اس کا ثواب اللہ کے پاس طے ہوچکا، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿101﴾ اور جب تم زمین میں سفر کرو اور تمہیں اس بات کا خوف ہو کہ کافر لوگ تمہیں پریشان کریں گے، تو تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم نماز میں قصر کرلو۔ یقینا کفر لوگ تمہارے کھلے دشمن ہیں۔

﴿102﴾ اور (اے پیغمبر) جب تم ان کے درمیان موجود ہو اور انہیں نماز پڑھاؤ تو (دشمن سے مقابلے کے وقت اس کا طریقہ یہ ہے کہ) مسلمانوں کا ایک گروہ تمہارے ساتھ کھڑا ہوجائے اور اپنے ہتھیار ساتھ لے لے۔ پھر جب یہ لوگ سجدہ کرچکیں تو تمہارے پیچھے ہوجائیں، اور دوسرا گروہ جس نے ابھی تک نماز نہ پڑھی ہو آگے آجائے، اور وہ تمہارے ساتھ نماز پڑھے، اور وہ اپنے ساتھ اپنے بچاؤ کا سامان اور اپنے ہتھیار لے لے۔ کافر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان سے غافل ہوجاؤ تو وہ ایک دم تم پر ٹوٹ پڑیں۔ اور اگر تمہیں بارش کی وجہ سے تکلیف ہو یا تم بیمار ہو تو اس میں بھی تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم اپنے ہتھیار اتار کر رکھ دو ، ہاں اپنے بچاؤ کا سامان ساتھ لے لو۔ بیشک اللہ نے کافروں کے لیے ذلت والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

﴿103﴾ پھر جب تم نماز پوری کرچکو تو اللہ کو (ہر حالت میں) یاد کرتے رہو، کھڑے بھی بیٹھے بھی، اور لیٹے ہوئے بھی۔ پھر جب تمہیں (دشمن کی طرف سے) اطمینان حاصل ہوجائے تو نماز قاعدے کے مطابق پڑھو۔ بیشک نماز مسلمانوں کے ذمے ایک ایسا فریضہ ہے جو وقت کا پابند ہے۔

﴿104﴾ اور تم ان لوگوں (یعنی کافر دشمن) کا پیچھا کرنے میں کمزوری نہ دکھاؤ، اگر تمہیں تکلیف پہنچی ہے تو ان کو بھی اسی طرح تکلیف پہنچی ہے جیسے تمہیں پہنچی ہے۔ اور تم اللہ سے اس بات کے امیدوار ہو جس کے وہ امیدوار نہیں۔ اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

﴿105﴾ بیشک ہم نے حق پر مشتمل کتاب تم پر اس لیے اتاری ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اس طریقے کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے تم کو سمجھا دیا ہے، اور تم خیانت کرنے والوں کے طرف دار نہ بنو۔

﴿106﴾ اور اللہ سے مغفرت طلب کرو، بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿107﴾ اور کسی تنازعے میں ان لوگوں کی وکالت نہ کرنا جو خود اپنی جانوں سے خیانت کرتے ہیں۔ اللہ کسی بھی خیانت کرنے والے گنہگار کو پسند نہیں کرتا۔

﴿108﴾ یہ لوگوں سے تو شرماتے ہیں، اور اللہ سے نہیں شرماتے، حالانکہ وہ اس وقت بھی ان کے پاس ہوتا ہے جب وہ راتوں کو ایسی باتیں کرتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں۔ اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ نے اس سب کا احاطہ کر رکھا ہے۔

﴿109﴾ ارے تمہاری بساط یہی تو ہے کہ تم نے دنیوی زندگی میں لوگوں سے جھگڑ کر ان (خیانت کرنے والوں) کی حمایت کرلی۔ بھلا اس کے بعد قیامت کے دن اللہ سے جھگڑ کر کون ان کی حمایت کرے گا، یا کون ان کا وکیل بنے گا ؟

﴿110﴾ اور جو شخص کوئی کر گزرے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے، پھر اللہ سے معافی مانگ لے تو وہ اللہ کو بہت بخشنے والا، بڑا مہربان پائے گا۔

﴿111﴾ اور جو شخص کوئی گناہ کمائے، تو وہ اس کمائی سے خود اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے، اور اللہ پورا علم بھی رکھتا ہے، حکمت کا بھی مالک ہے۔

﴿112﴾ اور اگر کوئی شخص کسی غلطی یا گناہ کا مرتکب ہو، پھر اس کا الزام کسی بےگناہ کے ذمے لگا دے، تو وہ بڑا بھاری بہتان اور کھلا گناہ اپنے ا وپر لاد لیتا ہے۔

﴿113﴾ اور (اے پیغمبر) اگر اللہ کا فضل اور رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ نے تو تم کو سیدھی راہ سے بھٹکانے کا ارادہ کر ہی لیا تھا۔ اور (درحقیقت) یہ اپنے سوا کسی کو نہیں بھٹکا رہے ہیں، اور یہ تم کو ذرا بھی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور تم کو ان باتوں کا علم دیا ہے جو تم نہیں جانتے تھے، اور تم پر اللہ کا فضل ہمیشہ بہت زیادہ رہا ہے۔

﴿114﴾ لوگوں کی بہت سی خفیہ سرگوشیوں میں کوئی خیر نہیں ہوتی، الا یہ کہ کوئی شخص صدقے کا یا کسی نیکی کا یا لوگوں کے درمیان اصلاح کا حکم دے۔ اور جو شخص اللہ کی خوشنودی حاصل کے کرنے کے لیے ایسا کرے گا، ہم اس کو زبردست ثواب عطا کریں گے۔

﴿115﴾ اور جو شخص اپنے سامنے ہدایت واضح ہونے کے بعد بھی رسول کی مخالفت کرے، اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے کی پیروی کرے، اس کو ہم اسی راہ کے حوالے کردیں گے جو اس نے خود اپنائی ہے، اور اسے دوزخ میں جھونکیں گے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

﴿116﴾ بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور اس سے کمتر ہر گناہ کی جس کے لیے چاہتا ہے بخشش کردیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایات ہے، وہ راہ راست سے بھٹک کر بہت دور جا گرتا ہے۔

﴿117﴾ اللہ کو چھوڑ کر جن سے یہ دعائیں مانگ رہے ہیں وہ صرف چند زنانیاں ہیں، اور جس کو یہ پکار رہے ہیں وہ اس سرکش شیطان کے سوا کوئی نہیں۔

﴿118﴾ جس پر اللہ نے پھٹکار ڈال رکھی ہے، اور اس نے (اللہ سے) یہ کہہ رکھا ہے کہ : میں تیرے بندوں سے ایک طے شدہ حصہ لے کر رہوں گا،

﴿119﴾ اور میں انہیں راہ راست سے بھٹکا کر رہوں گا، اور انہیں خوب آرزوئیں دلاؤں گا، اور انہیں حکم دوں گا تو وہ چوپایوں کے کان چیر ڈالیں گے، اور انہیں حکم دوں گا تو وہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی پیدا کریں گے۔ اور جو شخص اللہ کے بجائے شیطان کو دوست بنائے اس نے کھلے کھ لے خسارے کا سودا کیا۔

﴿120﴾ وہ تو ان سے وعدے کرتا اور انہیں آرزووں میں مبتلا کرتا ہے جبکہ (حقیقت یہ ہے کہ) شیطان ان سے جو بھی وعدے کرتا ہے وہ دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔

﴿121﴾ ان سب کا ٹھکانا جہنم ہے اور ان کو اس سے بچنے کے لیے کوئی راہ فرار نہیں ملے گی۔

﴿122﴾ اور جو لوگ ایمان لائے ہی اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں ہم ان کو ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، یہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے، اور اللہ سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ؟

﴿123﴾ نہ تمہاری تمنائیں (جنت میں جانے کے لیے) کافی ہیں، نہ اہل کتاب کی آرزوئیں۔ جو بھی برا عمل کرے گا، اس کی سزا پائے گا، اور اللہ کے سوا اسے اپنا کوئی یارو مددگار نہیں ملے گا۔

﴿124﴾ اور جو شخص نیک کام کرے گا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ مومن ہو، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اور کھجور کی گٹھلی کے شگاف برابر بھی ان پر ظلم نہیں ہوگا۔

﴿125﴾ اور اس سے بہتر کس کا دین ہوگا جس نے اپنے چہرے (سمیت سارے وجود) کو اللہ کے آگے جھکا دیاہو، جبکہ وہ نیکی کا خوگر بھی ہو، اور جس نے سیدھے سچے ابراہیم کے دین کی پیروی کی ہو، اور (یہ معلوم ہی ہے کہ) اللہ نے ابراہیم کو اپنا خاص دوست بنا لیا تھا۔

﴿126﴾ اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے، اور اللہ نے ہر چیز کو (اپنی قدرت کے) احاطے میں لیا ہوا ہے۔

﴿127﴾ اور (اے پیغمبر) لوگ تم سے عورتوں کے بارے میں شریعت کا حکم پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ اللہ تم کو ان کے بارے میں حکم بتاتا ہے، اور اس کتاب (یعنی قرآن) کی جو آیتیں جو تم کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں وہ بھی ان یتیم عورتوں کے بارے میں (شرعی حکم بتاتی ہیں) جن کو تم ان کا مقرر شدہ حق نہیں دیتے، اور ان سے نکاح کرنا بھی چاہتے ہو نیز کمزور بچوں کے بارے میں بھی (حکم بتاتی ہیں) اور یہ تاکید کرتی ہیں کہ تم یتیموں کی خاطر انصاف قائم کرو۔ اور تم جو بھلائی کا کام کرو گے، اللہ کو اس کا پورا پورا علم ہے۔

﴿128﴾ اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے زیادتی یا بیزوری کا اندیشہ ہو تو ان میاں بیوی کے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ وہ آپس کے اتفاق سے کسی قسم کی صلح کرلیں۔ اور صلح کرلینا بہتر ہے اور انسانوں کے دل میں (کچھ نہ کچھ) لالچ کا مادہ تو رکھ ہی دیا گیا ہے۔ اور اگر احسان اور تقوی سے کام لو تو جو کچھ تم کرو گے اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

﴿129﴾ اور عورتوں کے درمیان مکمل برابری رکھتا تو تمہارے بس میں نہیں، چاہے تم ایسا چاہتے بھی ہو۔ البتہ کسی ایک طرف پورے پورے نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو ایسا بنا کر چھوڑ دو جیسے کوئی بیچ میں لٹکی ہوئی چیز اور اگر تم اصلاح اور تقوی سے کام لو گے تو یقین رکھو کہ اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿130﴾ اور اگر دونوں جدا ہو ہی جائیں تو اللہ اپنی (قدرت اور حمت کی) وسعت سے دونوں کو (ایک دوسرے کی حاجت سے) بےنیاز کردے گا۔ اللہ بڑی وسعتوں والا، بڑی حکمت والا ہے۔

﴿131﴾ اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ ہم نے تم سے پہلے اہل کتاب کو بھی اور تمہیں بھی یہی تاکید کی ہے کہ اللہ سے ڈرو اور اگر تم کفر اپناؤ گے تو (اللہ کا کیا نقصان ہے ؟ کیونکہ) آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے، اور اللہ ہر ایک سے بےنیاز اور بذات خود لائق تعریف ہے۔

﴿132﴾ اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے، اور کام بنانے کے لیے اللہ ہی کافی ہے۔

﴿133﴾ اگر وہ چاہے تو اے لوگو ! تم سب کو (دنیا سے) لے جائے اور دوسروں کو (تمہاری جگہ یہاں) لے آئے، اللہ اس بات کی پوری قدرت رکھتا ہے۔

﴿134﴾ جو شخص (صرف) دنیا کا ثواب چاہتا ہو (اسے یاد رکھنا چاہیے کہ) اللہ کے پاس دنیا اور آخرت دونوں کا ثواب موجود ہے۔ اللہ ایسا ہے کہ ہر بات کو سنتا اور ہر چیز کو جانتا ہے۔

﴿135﴾ اے ایمان والو ! انصاف قائم کرنے والے بنو، اللہ کی خاطر گواہی دینے والے، چاہے وہ گواہی تمہارے اپنے خلاف پڑتی ہو، یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف۔ وہ شخص (جس کے خلاف گواہی دینے کا حکم دیا جا رہا ہے) چاہے امیر ہو یا غریب، اللہ دونوں قسم کے لوگوں کا (تم سے) زیادہ خیر خواہ ہے، لہذا ایسی نفسانی خواہش کے پیچھے نہ چلنا جو تمہیں انصاف کرنے سے روکتی ہو۔ اور اگر تم توڑ مروڑ کرو گے (یعنی غلط گواہی دو گے) یا (سچی گواہی دینے سے) پہلو بچاؤ گے تو (یاد رکھنا کہ) اللہ تمہارے کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔

﴿136﴾ اے ایمان والو ! اللہ پر ایمان رکھو، اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول پر اتاری ہے اور ہر اس کتاب پر جو اس نے پہلے اتاری تھی۔ اور جو شخص اللہ کا، اس کے فرشتوں کا، اس کی کتابوں کا، اس کے رسولوں کا اور یوم آخرت کا انکار کرے وہ بھٹک کر گمراہی میں بہت دور جا پڑا ہے۔

﴿137﴾ جو لوگ ایمان لائے، پھر کافر ہوگئے، پھر ایمان لائے، پھر کافر ہوگئے، پھر کفر میں بڑھتے ہی چلے گئے، اللہ ان کو بخشنے والا نہیں ہے، اور نہ انہیں راستے پر لانے والا ہے۔

﴿138﴾ منافقوں کو یہ خوشخبری سنا دو کہ ان کے لیے ایک دکھ دینے والا عذاب تیار ہے۔

﴿139﴾ وہ منافق جو مسلمانوں کے بجائے کافروں کو دوست بناتے ہیں، کیا وہ ان کے پاس عزت تلاش کر رہے ہیں ؟ حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کی ہے۔

﴿140﴾ اور اس نے کتاب میں تم پر یہ حکم نازل کیا ہے کہ جب تم اللہ کی آیتوں کو سنو کہ ان کا انکار کیا جارہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جارہا ہے تو ایسے لوگوں کے ساتھ اس وقت تک مت بیٹھو جب تک وہ کسی اور بات میں مشغول نہ ہوجائیں، ورنہ تم بھی انہی جیسے ہوجاؤ گے۔ یقین رکھو کہ اللہ تمام منافقوں اور کافروں کو جہنم میں اکٹھا کرنے والا ہے۔

﴿141﴾ (اے مسلمانو) یہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے (انجام کے) انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں۔ چنانچہ اگر تمہیں اللہ کی طرف سے فتح ملے تو (تم سے) کہتے ہیں کہ : کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اور اگر کافروں کو (فتح) نصیب ہو تو (ان سے) کہتے ہیں کہ : کیا ہم نے تم پر قابو نہیں پالیا تھا ؟ اور کیا (اس کے باوجود) ہم نے تمہیں مسلمانوں سے نہیں بچایا ؟ بس اب تو تو اللہ ہی قیامت کے دن تمہارے اور ان کے درمیان فیصلہ کرے گا، اور اللہ کافروں کے لیے مسلمانوں پر غالب آنے کا ہرگز کوئی راستہ نہیں رکھے گا۔

﴿142﴾ یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکا بازی کرتے ہیں، حالانکہ اللہ نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ اور جب یہ لوگ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو کسمساتے ہوئے کھڑے ہوتے ہیں، لوگوں کے سامنے دکھا وا کرتے ہیں، اور اللہ کو تھوڑا ہی یاد کرتے ہیں

﴿143﴾ یہ کفر و ایمان کے درمیان ڈانواڈول ہیں، نہ پورے طور پر ان (مسلمانوں) کی طرف ہیں، نہ ان (کافروں) کی طرف۔ اور جسے اللہ گمراہی میں ڈال دے، تمہیں اس کے لیے ہدایت پر آنے کا کوئی راستہ ہرگز نہیں مل سکتا۔

﴿144﴾ اے ایمان والو ! مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست مت بناؤ، کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ کے پاس اپنے خلاف (یعنی اپنے مستحق عذاب ہونے کی) ایک کھلی کھلی وجہ پیدا کردو ؟

﴿145﴾ یقین جانو کہ منافقین جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے، اور ان کے لیے تم کوئی مددگار نہیں پاؤ گے۔

﴿146﴾ البتہ جو لوگ توبہ کرلیں گے، اپنی اصلاح کرلیں گے، اللہ کا سہارا مضبوطی سے تھام لیں گے اور اپنے دین کو خالص اللہ کے لیے بنالیں گے تو ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ شامل ہوجائیں گے، اور اللہ مومنوں کو ضرور اجر عظیم عطا کرے گا۔

﴿147﴾ اگر تم شکر گزار بنو اور (صحیح معنی میں) ایمان لے آؤ تو اللہ تمہیں عذاب دے کر آخر کیا کرے گا ؟ اللہ بڑا قدردان ہے (اور) سب کے حالات کا پوری طرح علم رکھتا ہے۔

﴿148﴾ اللہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کسی کی برائی علانیہ زبان پر لائی جائے، الا یہ کہ کسی پر ظلم ہوا ہو۔ اور اللہ سب کچھ سنتا، ہر بات جانتا ہے۔

﴿149﴾ اگر تم کوئی نیک کام علانیہ کرو یا خفیہ طور پر کرو، یا کسی برائی کو معا ف کرو تو (بہتر ہے کیونکہ) اللہ بہت معاف کرنے والا ہے (اگرچہ سزا دینے پر) پوری قدرت رکھتا ہے۔

﴿150﴾ جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کرنا چاہتے اور کہتے ہیں کہ کچھ (رسولوں) پر تو ہم ایمان لاتے ہیں اور کچھ کا انکار کرتے ہیں، اور (اس طرح) وہ چاہتے ہیں کہ) کفر اور ایمان کے درمیان) ایک بیچ کی راہ نکال لیں۔

﴿151﴾ ایسے لوگ صحیح معنی میں کافر ہیں اور کافروں کے لیے ہم نے ذلت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔

﴿152﴾ اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائیں، اور ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہ کریں تو اللہ ایسے لوگوں کو ان کا اجر عطا کرے گا، اور اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿153﴾ (اے پیغمبر) اہل کتاب تم سے (جو) مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم ان پر آسمان سے کوئی کتاب نازل کرواؤ، تو (یہ کوئی نئی بات نہیں، کیونکہ) یہ لوگ تو موسیٰ اسے اس سے بھی بڑا مطالبہ کرچکے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے (موسیٰ سے) کہا تھا کہ ہمیں اللہ کھلی آنکھوں دکھاؤ، چنانچہ ان کی سرکشی کی وجہ سے ان کو بجلی کے کڑکے نے آپکڑا تھا، پھر ان کے پاس جو کھلی کھلی نشانیاں آئیں، ان کے بعد بھی انہوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا تھا۔ اس پر بھی ہم نے انہیں معاف کردیا، اور ہم نے موسیٰ کو واضح اقتدار عطا کیا۔

﴿154﴾ اور ہم نے کوہ طور کو ان پر بلند کر کے ان سے عہد لیا تھا، اور ہم نے ان سے کہا تھا کہ (شہر کے) دروازے میں جھکے ہوئے سروں کے ساتھ داخل ہونا، اور ان سے کہا تھا کہ تم سینچر کے دن کے بارے میں حد سے نہ گزرنا اور ہم نے ان سے بہت پکا عہد لیا تھا۔

﴿155﴾ پھر ان کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ اس لیے کہ انہوں نے اپنا عہد توڑا، اللہ کی آیتوں کا انکار کیا، انبیاء کو ناحق قتل کیا، اور یہ کہا کہ ہمارے دلوں پر غلاف چڑھا ہوا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، اس لیے وہ تھوڑی سی باتوں کے سوا کسی بات پر ایمان نہیں لاتے۔

﴿156﴾ اور اس لیے کہ انہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا، اور مریم پر بڑے بھاری بہتان کی بات کہی۔

﴿157﴾ اور یہ کہا کہ : ہم نے اللہ کے رسول مسیح ابن مریم کو قتل کردیا تھا، حالانکہ نہ انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کیا تھا، نہ انہیں سولی دے پائے تھے، بلکہ انہیں اشتباہ ہوگیا تھا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے وہ اس سلسلے میں شک کا شکار ہیں، انہیں گمان کے پیچھے چلنے کے سوا اس بات کا کوئی علم حاصل نہیں ہے، اور یہ بالکل یقینی بات ہے کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل نہیں کر پائے۔

﴿158﴾ بلکہ اللہ نے انہیں اپنے پاس اٹھا لیا تھا، اور اللہ بڑا صاحب اقتدار، بڑا حکمت والا ہے

﴿159﴾ اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو اپنی موت سے پہلے ضرور بالضرور عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لائے، اور قیامت کے دن وہ ان لوگوں کے خلاف گواہ بنیں گے۔

﴿160﴾ غرض یہودیوں کی سنگین زیادتی کی وجہ سے ہم نے ان پر وہ پاکیزہ چیزیں حرام کردیں جو پہلے ان کے لیے حلال کی گئی تھیں۔ اور اس لیے کہ وہ بکثرت لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے۔

﴿161﴾ اور سود لیا کرتے تھے، حالانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا اور لوگوں کے مال ناحق طریقے سے کھاتے تھے۔ اور ان میں سے جو لوگ کافر ہیں، ان کے لیے ہم نے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

﴿162﴾ البتہ ان (بنی اسرائیل) میں سے جو لوگ علم میں پکے ہیں اور مومن ہیں وہ اس (کلام) پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو (اے پیغمبر) تم پر نازل کیا گیا اور اس پر بھی جو تم سے پہلے نازل کیا گیا تھا اور قابل تعریف ہیں وہ لوگ جو نماز قائم کرنے والے ہیں، زکوٰۃ دینے والے ہیں اور اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم اجر عظیم عطا کریں گے۔

﴿163﴾ (اے پیغمبر) ہم نے تمہارے پاس اسی طرح وحی بھیجی ہے جیسے نوح اور ان کے بعد دوسرے نبیوں کے پاس بھیجی تھی، اور ہم نے ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد کے پاس، اور عیسیٰ ، ایوب، یونس، ہارون اور سلیمان کے پاس بھی وحی بھیجی تھی، اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی تھی۔

﴿164﴾ اور بہت سے رسول ہیں جن کے واقعات ہم نے پہلے تمہیں سنائے ہیں اور بہت سے رسول ایسے ہیں کہ ہم نے ان کے واقعات تمہیں نہیں سنائے۔ اور موسیٰ سے تو اللہ براہ راست ہم کلام ہوا۔

﴿165﴾ یہ سب رسول وہ تھے جو (ثواب کی) خوشخبری سنانے اور (دوزخ سے) ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے تھے، تاکہ ان رسولوں کے آجانے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے سامنے کوئی عذر باقی نہ رہے، اور اللہ کا اقتدار بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل۔

﴿166﴾ (یہ کافر لوگ مانیں یا نہ مانیں) لیکن اللہ نے جو کچھ تم پر نازل کیا ہے اس کے بارے میں وہ خود گواہی دیتا ہے کہ اس نے اسے اپنے علم سے نازل کیا ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں، اور (یوں تو) اللہ کی گواہی ہی بالکل کافی ہے۔

﴿167﴾ یقین جانو کہ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا ہے وہ بھٹک کر گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں۔

﴿168﴾ جن لوگوں نے کفر اپنایا ہے (اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روک کر ان پر) ظلم کیا ہے اللہ ان کو بخشنے والا نہیں ہے، اور نہ ان کو کوئی اور راستہ دکھانے والا ہے۔

﴿169﴾ سوائے دوزخ کے راستے کے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اور یہ بات اللہ کے لیے بہت معمولی بات ہے۔

﴿170﴾ اے لوگو ! یہ رسول تمہارے آپس تمہارے پر ورگار کی طرف سے حق لے کر آگئے ہیں اب (ان پر) ایمان لے آؤ، کہ تمہاری بہتری اسی میں ہے، اور اگر (اب بھی) تم نے کفر کی راہ اپنائی تو (خوب سمجھ لو کہ) تمام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے، اور اللہ علم اور حکمت دونوں کا مالک ہے۔

﴿171﴾ اے اہل کتاب اپنے دین میں حد سے نہ بڑھو، اور اللہ کے بارے میں حق کے سوا کوئی بات نہ کہو۔ مسیح عیسیٰ ابن مریم تو محض اللہ کے رسول تھے اور اللہ کا ایک کلمہ تھا جو اس نے مریم تک پہنچایا، اور ایک روح تھی جو اسی کی طرف سے (پیدا ہوئی) تھی۔ لہذا اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور یہ مت کہو کہ (خدا) تین ہیں۔ اس بات سے باز آجاؤ، کہ اسی میں تمہاری بہتری ہے، اللہ تو ایک ہی معبود ہے وہ اس بات سے بالکل پاک ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے، اور سب کی دیکھ بھال کے لیے اللہ کافی ہے۔

﴿172﴾ مسیح کبھی اس بات کو عار نہیں سمجھ سکتے کہ وہ اللہ کے بندے ہوں، اور نہ مقرب فرشتے (اس میں کوئی عار سمجھتے ہیں) اور جو شخص اپنے پروردگار کی بندگی میں عار سمجھے، اور تکبر کا مظاہرہ کرے تو (وہ اچھی طرح سمجھ لے کہ) اللہ ان سب کو اپنے پاس جمع کرے گا۔

﴿173﴾ پھر جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے نیک عمل کیے ہوں گے ان کو ان کا پورا پورا ثواب دے گا، اور اپنے فضل سے اس سے زیادہ بھی دے گا۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے (بندگی کو) عار سمجھا ہوگا اور تکبر کا مظاہرہ کیا ہوگا، تو ان کو دردناک عذاب دے گا، اور ان کو اللہ کے سوا اپنا کوئی رکھوالا اور مددگار نہیں ملے گا۔

﴿174﴾ اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے کھلی دلیل آچکی ہے، اور ہم نے تمہارے پاس ایک ایسی روشنی بھیج دی ہے جو راستے کی پوری وضاحت کرنے والی ہے۔

﴿175﴾ چنانچہ جو لوگ اللہ پر ایمان لائے ہیں اور انہوں نے اسی کا سہارا تھام لیا ہے، اللہ ان کو اپنے فضل اور رحمت میں داخل کرے گا اور انہیں اپنے پاس آنے کے لیے سیدھے راستے تک پہنچائے گا۔

﴿176﴾ (اے پیغمبر) لوگ تم سے) کلالہ کا حکم) پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں حکم بتاتا ہے، اگر کوئی شخص اس حال میں مرجائے کہ اس کی اولاد نہ ہو، اور اس کی ایک بہن ہو تو وہ اس کے ترکے میں سے آدھے کی حق دار ہوگی۔ اور اگر اس بہن کی اولاد نہ ہو (اور وہ مرجائے، اور اس کا بھائی زندہ ہو تو وہ اس بہن کا وارث ہوگا۔ اور اگر بہنیں دو ہوں تو بھائی کے ترکے سے وہ دو تہائی کی حق دار ہوں گی۔ اور اگر (مرنے والے کے) بھائی بھی ہوں اور بہنیں بھی تو ایک مرد کو دو عورتوں کے برابر حصہ ملے گا۔ اللہ تمہارے سامنے وضاحت کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہو، اور اللہ ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے۔

المائدہ

Surah 5

﴿1﴾ اے ایمان والو ! معاہدوں کو پورا کرو۔ تمہارے لیے وہ چوپائے حلال کردیے گئے ہیں جو مویشیوں میں داخل (یا ان کے مشابہ) ہوں۔ سوائے ان کے جن کے بارے میں تمہیں پڑھ کر سنایا جائے گا بشرطیکہ جب تم احرام کی حالت میں ہو اس وقت شکار کو حلال نہ سمجھو۔ اللہ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اس کا حکم دیتا ہے

﴿2﴾ اے ایمان والو ! نہ اللہ کی نشانیوں کی بےحرمتی کرو، نہ حرمت والے مہینے کی، نہ ان جانوروں کی جو قربانی کے لیے حرم لے جائے جائیں، نہ ان پٹوں کی جو ان کے گلے میں پڑے ہوں، اور نہ ان لوگوں کی جو اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی حاصل کرنے کی خاطر بیت حرام کا ارادہ لے کر جارہے ہوں۔ اور جب تم احرام کھول دو تو شکار کرسکتے ہو۔ اور کسی قوم کے ساتھ تمہاری یہ دشمنی کہ انہوں نے تمہیں مسجد حرام سے روکا تھا تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم (ان پر) زیادتی کرنے لگو اور نیکی اور تقوی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو، اور گناہ اور ظلم میں تعاون نہ کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔

﴿3﴾ تم پر مردار جانور اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور حرام کردیا گیا ہے جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو اور وہ جو گلا گھٹنے سے مرا ہو، اور جسے چوٹ مار کر ہلاک کیا گیا ہو، اور جو اوپر سے گر کر مرا ہو۔ اور جسے کسی جانور نے سینگ مار کر ہلاک کیا ہو، اور جسے کسی درندے نے کھالیا ہو، الا یہ کہ تم (اس کے مرنے سے پہلے) اس کو ذبح کرچکے ہو، اور وہ (جانور بھی حرام ہے) جسے بتوں کی قربان گاہ پر ذبح کیا گیا ہو۔ اور یہ بات بھی (تمہارے لیے حرام ہے) کہ تم جوے کے تیروں سے (گوشت وغیرہ) تقسیم کرو۔ یہ ساری باتیں سخت گناہ کی ہیں۔ آج کافر لوگ تمہارے دین (کے مغلوب ہونے) سے ناامید ہوگئے ہیں، لہذا ان سے مت ڈرو، اور میرا ڈر دل میں رکھو۔ آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا، تم پر اپنی نعمت پوری کردی، اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر (ہمیشہ کے لیے) پسند کرلیا (لہذا اس دین کے احکام کی پوری پابندی کرو) ہاں جو شخص شدید بھوک کے عالم میں بالکل مجبور ہوجائے (اور اس مجبوری میں ان حرام چیزوں میں سے کچھ کھالے) بشرطیکہ گناہ کی رغبت کی بنا پر ایسا نہ کیا ہو، تو بیشک اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿4﴾ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کون سی چیزیں حلال ہیں ؟ کہہ دو کہ : تمہارے لیے تمام پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں۔ اور جن شکاری جانوروں کو تم نے اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق سکھا سکھا کر (شکار کے لیے) سدھا لیا ہو، وہ جس جانور کو (شکار کر کے) تمہارے لیے روک رکھیں، اس میں سے تم کھا سکتے ہو، اور اس پر اللہ کا نام لیا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ جلد حساب لینے والا ہے

﴿5﴾ آج تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کردی گئی ہیں، اور جن لوگوں کو (تم سے پہلے) کتاب دی گئی تھی، ان کا کھانا بھی تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے نیز مومنوں میں سے پاک دامن عورتیں بھی اور ان لوگوں میں سے پاک دامن عورتیں بھی تمہارے لیے حلال ہیں جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی جبکہ تم نے ان کو نکاح کی حفاظت میں لانے کے لیے ان کے مہر دے دیے ہوں، نہ تو (بغیر نکاح کے) صرف ہوس نکالنا مقصود ہو اور نہ خفیہ آشنائی پیدا کرنا۔ اور جو شخص ایمان سے انکار کرے اس کا سارا کیا دھراغارت ہوجائے گا اور آخرت میں اس کا شمار خسارہ اٹھانے والوں میں ہوگا۔

﴿6﴾ اے ایمان والو ! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے چہرے، اور کہنیوں تک اپنے ہاتھ دھو لو، اور اپنے سروں کا مسح کرو، اور اپنے پاؤں (بھی) ٹخنوں تک (دھو لیا کرو) اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو سارے جسم کو (غسل کے ذریعے) خوب اچھی طرح پاک کرو۔ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت کر کے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے جسمانی ملاپ کیا ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرو اور اپنے چہروں اور ہاتھوں کا اس (مٹی) سے مسح کرلو۔ اللہ تم پر کوئی تنگی مسلط کرنا نہیں چاہتا، لیکن یہ چاہتا ہے کہ تم کو پاک صاف کرے، اور یہ کہ تم پر اپنی نعمت تمام کردے، تاکہ تم شکر گزار بنو۔

﴿7﴾ اللہ نے تم پر جو انعام فرمایا ہے اسے اور اس عہد کو یاد رکھو جو اس نے تم سے لیا تھا۔ جب تم نے کہا تھا کہ : ہم نے (اللہ کے احکام کو) اچھی طرح سن لیا ہے، اور اطاعت قبول کرلی ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ یقینا سینوں کے بھید سے پوری طرح باخبر ہے۔

﴿8﴾ اے ایمان والو ! ایسے بن جاؤ کہ اللہ (کے احکام کی پابندی) کے لیے ہر وقت تیار ہو (اور) انصاف کی گواہی دینے والے ہو، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصافی کرو۔ انصاف سے کام لو، یہی طریقہ تقوی سے قریب تر ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ یقینا تمہارے تمام کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔

﴿9﴾ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ (آخرت میں) ان کو مغفرت اور زبردست ثواب حاصل ہوگا۔

﴿10﴾ اور جن لوگوں نے کفر اپنایا اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا وہ دوزخ کے باسی ہیں۔

﴿11﴾ اے ایمان والو ! اللہ نے تم پر جو انعام فرمایا اس کو یاد کرو۔ جب کچھ لوگوں نے ارادہ کیا تھا کہ تم پر دست درازی کریں، تو اللہ نے تمہیں نقصان پہنچانے سے ان کے ہاتھ روک دئیے اور (اس نعمت کا شکر یہ ہے کہ) اللہ کا رعب دل میں رکھتے ہوئے عمل کرو، اور مومنوں کو صرف اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔

﴿12﴾ اور یقینا اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا، اور ہم نے ان میں سے بارہ نگران مقرر کیے تھے اور اللہ نے کہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، اگر تم نے نماز قائم کی، زکوٰۃ ادا کی، میرے پیغمبروں پر ایمان لائے، عزت سے ان کا ساتھ دیا اور اللہ کو اچھا قرض دیا تو یقین جانو کہ میں تمہاری برائیوں کا کفارہ کردوں گا، اور تمہیں ان باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، پھر اس کے بعد بھی تم میں سے جو شخص کفر اختیار کرے گا تو درحقیقت وہ سیدھی راہ سے بھٹک جائے گا

﴿13﴾ پھر یہ ان کی عہد شکنی ہی تو تھی جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور کیا، اور ان کے دلوں کو سخت بنادیا۔ وہ باتوں کو اپنے موقع محل سے ہٹا دیتے ہیں۔ اور جس بات کی ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا ایک بڑا حصہ بھلا چکے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگوں کو چھوڑ کر تمہیں آئے دن ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ لہذا (فی الحال) انہیں معاف کردو اور درگزر سے کام لو بیشک اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

﴿14﴾ اور جن لوگوں نے کہا تھا کہ ہم نصرانی ہیں، ان سے (بھی) ہم نے عہد لیا تھا، پھر جس چیز کی ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا ایک بڑا حصہ وہ (بھی) بھلا بیٹھے۔ چنانچہ ہم نے ان کے درمیان قیامت کے دن تک کے لیے دشمنی اور بغض پیدا کردیا اور اللہ انہیں عنقریب بتادے گا کہ وہ کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔

﴿15﴾ اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ہمارے (یہ) پیغبر آگئے ہیں جو کتاب (یعنی تورات اور انجیل) کی بہت سی ان باتوں کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو تم چھپایا کرتے ہو، اور بہت سی باتوں سے درگزر کر جاتے ہیں تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی آئی ہے اور ایک ایسی کتاب جو حق کو واضح کردینے والی ہے۔

﴿16﴾ جس کے ذریعے اللہ ان لوگوں کو سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے جو اس کی خوشنودی کے طالب ہیں اور انہیں اپنے حکم سے اندھیریوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے، اور انہیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرماتا ہے۔

﴿17﴾ جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے وہ یقینا کافر ہوگئے ہیں۔ (اے نبی ! ان سے) کہہ دو کہ اگر اللہ مسیح ابن مریم کو اور ان کی ماں کو اور زمین میں جتنے لوگ ہیں ان سب کو ہلاک کرنا چاہے تو کون ہے جو اللہ کے مقابلے میں کچھ کرنے کی ذرا بھی طاقت رکھتا ہو ؟ تمام آسمانوں اور زمین پر اور ان کے درمیان جو کچھ موجود ہے اس پر تنہا ملکیت اللہ ہی کی ہے۔ وہ جو چیز چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر پوری پوری قدرت رکھتا ہے۔

﴿18﴾ یہود و نصاری کہتے ہیں کہ : ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں (ان سے) کہو کہ پھر اللہ تمہارے گناہوں کی وجہ سے تمہیں سزا کیوں دیتا ہے ؟ نہیں ! بلکہ تم انہی انسانوں کی طرح انسان ہو جو اس نے پیدا کیے ہیں۔ وہ جس کو چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے عذاب دیتا ہے۔ آسمانوں اور زمین پر اور ان کے درمیان جو کچھ موجود ہے اس پر تنہا ملکیت اللہ ہی کی ہے، اور اسی کی طرف (سب کو) لوٹ کر جانا ہے۔

﴿19﴾ اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر ایسے وقت دین کی وضاحت کرنے آئے ہیں جب پیغمبروں کی آمد رکی ہوئی تھی، تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس نہ کوئی (جنت کی) خوشخبری دینے والا آیا، نہ کوئی (جہنم سے) ڈرانے والا۔ لو اب تمہارے پاس خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا آگیا ہے۔ اور اللہ ہر بات پر پوری پوری قدرت رکھتا ہے۔

﴿20﴾ اور اس وقت کا دھیان کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : اے میری قوم ! اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر نازل فرمائی ہے کہ اس نے تم میں نبی پیدا کیے، تمہیں حکمران بنایا، اور تمہیں وہ کچھ عطا کیا جو تم سے پہلے دنیا جہان کے کسی فرد کو عطا نہیں کیا تھا۔

﴿21﴾ اے میری قوم ! اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے واسطے لکھ دی ہے، اور اپنی پشت کے بل پیچھے نہ لوٹو، ورنہ پلٹ کر نامراد جاؤ گے۔

﴿22﴾ وہ بولے۔ اے موسیٰ ! اس (ملک) میں تو بڑے طاقتور لوگ رہتے ہیں، اور جب تک وہ لوگ وہاں سے نکل نہ جائیں، ہم ہرگز اس میں داخل نہیں ہوں گے۔ ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو بیشک ہم اس میں داخل ہوجائیں گے۔

﴿23﴾ جو لوگ (خدا کا) خوف رکھتے تھے، ان میں سے دو مرد جن کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا تھا۔ بول اٹھے کہ : تم ان پر چڑھائی کر کے (شہر کے) دروازے میں گھس جاؤ۔ جب گھس جاؤ گے تو تم ہی غالب رہو گے۔ اور اپنا بھروسہ صرف اللہ پر رکھو، اگر تم واقعی صاحب ایمان ہو۔

﴿24﴾ وہ کہنے لگے : اے موسیٰ ! جب تک وہ لوگ اس (ملک) میں موجود ہیں، ہم ہرگز ہرگز اس میں قدم نہیں رکھیں گے (اگر ان سے لڑنا ہے تو) تو بس تم اور تمہارا رب چلے جاؤ، اور ان سے لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔

﴿25﴾ موسیٰ نے کہا : اے میرے پروردگار سوائے میری اپنی جان کے اور میرے بھائی کے کوئی میرے قابو میں نہیں ہے۔ اب آپ ہمارے اور ان نافرمان لوگوں کے درمیان الگ الگ فیصلہ کردیجیے۔

﴿26﴾ اللہ نے کہا : اچھا تو وہ سرزمین ان پر چالیس سال تک حرام کردی گئی ہے، یہ (اس دوران) زمین میں بھٹکتے پھریں گے تو (اے موسیٰ) اب تم بھی ان نافرمان لوگوں پر ترس مت کھانا۔

﴿27﴾ اور (اے پیغمبر) ان کے سامنے آدم کے دو بیٹوں کا واقعہ ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سناؤ۔ جب دونوں نے ایک ایک قربانی پیش کی تھی، اور ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوگئی، اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی۔ اس (دوسرے نے پہلے سے) کہا کہ : میں تجھے قتل کر ڈالوں گا۔ پہلے نے کہا کہ اللہ تو ان لوگوں سے (قربانی) قبول کرتا ہے جو متقی ہوں۔

﴿28﴾ اگر تم نے مجھے قتل کرنے کو اپنا ہاتھ بڑھایا تب بھی میں تمہیں قتل کرنے کو اپنا ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا۔ میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔

﴿29﴾ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ انجام کار تم اپنے اور میرے دونوں کے گناہ میں پکڑے جاؤ، اور دوزخیوں میں شامل ہو۔ اور یہی ظالموں کی سزا ہے۔

﴿30﴾ آخر کار اس کے نفس نے اس کو اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کرلیا، چنانچہ اس نے اپنے بھائی کو قتل کر ڈالا، اور نامرادوں میں شامل ہوگیا۔

﴿31﴾ پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اسے دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے (یہ دیکھ کر) وہ بولا۔ ہائے افسوس ! کیا میں اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا۔ اس طرح بعد میں وہ بڑا شرمندہ ہوا۔

﴿32﴾ اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل کو یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جو کوئی کسی کو قتل کرے، جبکہ یہ قتل نہ کسی اور جان کا بدلہ لینے کے لیے ہو اور نہ کسی کے زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے ہو، تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جو شخص کسی کی جان بچالے تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچالی۔ اور واقعہ یہ ہے کہ ہمارے پیغمبر ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات لے کر آئے، مگر اس کے بعد بھی ان میں سے بہت سے لوگ زمین میں زیادتیاں ہی کرتے رہے ہیں۔

﴿33﴾ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کرتے اور زمین میں فساد مچاتے پھرتے ہیں، ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں قتل کردیا جائے، یا سولی پر چڑھا دیا جائے، یا ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں، یا انہیں زمین سے دور کردیا جائے یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے، اور آخرت میں ان کے لیے زبردست عذاب ہے۔

﴿34﴾ ہاں وہ لوگ اس سے مستثنی ہیں جو تمہارے ان کو قابو میں لانے سے پہلے ہی توبہ کرلیں ایسی صورت میں یہ جان رکھو کہ اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿35﴾ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کے لیے وسیلہ تلاش کرو اور اس کے راستے میں جہاد کرو امید ہے کہ تمہیں فلاح حاصل ہوگی۔

﴿36﴾ یقین رکھو کہ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے اگر زمین میں جتنی چیزیں ہیں وہ سب ان کے پاس ہوں، اور اتنی ہی اور بھی ہوں، تاکہ وہ قیامت کے دن کے عذاب سے بچنے کے لیے وہ سب فدیہ میں پیش کردیں، تب بھی ان کی یہ پیشکش قبول نہیں کی جائے گی، اور ان کو دردناک عذاب ہوگا۔

﴿37﴾ وہ چاہیں گے کہ آگ سے نکل جائیں، حالانکہ وہ اس سے نکلنے والے نہیں ہیں، اور ان کو ایسا عذاب ہوگا جو قائم رہے گا۔

﴿38﴾ اور جو مرد چوری کرے اور جو عورت چوری کرے، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو ، تاکہ ان کو اپنے کیے کا بدلہ ملے، اور اللہ کی طرف سے عبرت ناک سزا ہو۔ اور اللہ صاحب اقتدار بھی ہے، صاحب حکمت بھی

﴿39﴾ پھر جو شخص اپنی ظالمانہ کاروائی سے توبہ کرلے، اور معاملات درست کرلے، تو اللہ اس کی توبہ قبول کرلے گا بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿40﴾ کیا تم نہیں جانتے کہ آسمانوں اور زمین کی حکمرانی صرف اللہ کے پاس موجود ہے ؟ وہ جس کو چاہے عذاب دے، اور جس کو چاہے بخش دے، اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

﴿41﴾ اے پیغمبر ! جو لوگ کفر میں بڑی تیزی دکھا رہے ہیں وہ تمہیں غم میں مبتلا نہ کریں یعنی ایک تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے زبان سے تو کہہ دیا ہے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں، مگر ان کے دل ایمان نہیں لائے، اور دوسرے وہ لوگ ہیں جنہوں نے (کھلے بندوں) یہودیت کا دین اختیار کرلیا ہے۔ یہ لوگ جھوٹی باتیں کان لگا لگا کر سننے والے ہیں (اور تمہاری باتیں) ان لوگوں کی خاطر سنتے ہیں جو تمہارے پاس نہیں آئے جو (اللہ کی کتاب کے) الفاظ کا موقع محل طے ہوجانے کے بعد بھی ان میں تحریف کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو اس کو قبول کرلینا اور اگر یہ حکم نہ دیا جائے تو بچ کر رہنا۔ اور جس شخص کو اللہ فتنے میں ڈالنے کا ارادہ کرلے تو اسے اللہ سے بچانے کے لیے تمہارا کوئی زور ہرگز نہیں چل سکتا۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ (ان کی نافرمانی کی وجہ سے) اللہ نے ان کے دلوں کو پاک کرنے کا ارادہ نہیں کیا۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور انہی کے لیے آخرت میں زبردست عذاب ہے۔

﴿42﴾ یہ کان لگا لگا کر جھوٹی باتیں سننے والے، جی بھر بھر کر حرام کھانے والے ہیں۔ چنانچہ اگر یہ تمہارے پاس آئیں تو چاہے ان کے درمیان فیصلہ کردو، اور چاہے ان سے منہ موڑ لو اگر تم ان سے منہ موڑ لو گے تو یہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، اور اگر فیصلہ کرنا ہو تو انصاف سے فیصلہ کرو۔ یقینا اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

﴿43﴾ اور یہ کیسے تم سے فیصلہ لینا چاہتے ہیں جبکہ ان کے پاس تورات موجود ہے جس میں اللہ کا فیصلہ درج ہے ؟ پھر اس کے بعد (فیصلے سے) منہ بھی پھیر لیتے ہیں دراصل یہ ایمان والے نہیں ہیں۔

﴿44﴾ بیشک ہم نے تورات نازل کی تھی جس میں ہدایت تھی اور نور تھا۔ تمام نبی جو اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے، اسی کے مطابق یہودیوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے، اور تمام اللہ والے اور علماء بھی (اسی پر عمل کرتے رہے) کیونکہ ان کو اللہ کی کتاب کا محافظ بنایا گیا تھا، اور وہ اس کے گواہ تھے۔ لہذا (اے یہودیو) تم لوگوں سے نہ ڈرو، اور مجھ سے ڈرو، اور تھوڑی سی قیمت لینے کی خاطر میری آیتوں کا سودا نہ کیا کرو۔ اور جو لوگ اللہ کے نازل کیے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہ لوگ کافر ہیں۔

﴿45﴾ اور ہم نے اس (تورات میں) ان کے لیے یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت۔ اور زخموں کا بھی (اسی طرح) بدلہ لیا جائے۔ ہاں جو شخص اس (بدلے) کو معاف کردے تو یہ اس کے لیے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔ اور جو لوگ اللہ کے نازل کیے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہ لوگ ظالم ہیں۔

﴿46﴾ اور ہم نے ان (پیغمبروں) کے بعد عیسیٰ ابن مریم کو اپنے سے پہلی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا، اور ہم نے ان کو انجیل عطا کی جس میں ہدایت تھی اور نور تھا، اور جو اپنے سے پہلی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والی اور متقیوں کے لیے سراپا ہدایت و نصیحت بن کر آئی تھی۔

﴿47﴾ اور انجیل والوں کو چاہیے کہ اللہ نے اس میں جو کچھ نازل کیا ہے اس کے مطابق فیصلہ کریں، اور جو لوگ اللہ کے نازل کیے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہ لوگ فاسق ہیں۔

﴿48﴾ اور (اے رسول محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے تم پر بھی حق پر مشتمل کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان کی نگہبان ہے۔ لہذا ان لوگوں کے درمیان اسی حکم کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے، اور جو حق بات تمہارے پاس آگئی ہے اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کے پیچھے نہ چلو۔ تم میں سے ہر ایک (امت) کے لیے ہم نے ایک (الگ) شریعت اور طریقہ مقرر کیا ہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنا دیتا، لیکن (الگ شریعتیں اس لیے دیں) تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے۔ لہذا نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ اللہ ہی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ اس وقت وہ تمہیں وہ باتیں بتائے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔

﴿49﴾ اور (ہم حکم دیتے ہیں) کہ تم ان لوگوں کے درمیان اسی حکم کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو، اور ان کی اس بات سے بچ کر رہو کہ وہ تمہیں فتنے میں ڈال کر کسی ایسے حکم سے ہٹا دیں جو اللہ نے تم پر نازل کیا ہو۔ اس پر اگر وہ منہ موڑیں تو جان رکھو کہ اللہ نے ان کے بعض گناہوں کی وجہ سے ان کو مصیبت میں مبتلا کرنے کا ارادہ کر رکھا ہے۔ اور ان لوگوں میں سے بہت سے فاسق ہیں۔

﴿50﴾ بھلا کیا یہ جاہلیت کا فیصلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں ؟ حالانکہ جو لوگ یقین رکھتے ہوں ان کے لیے اللہ سے اچھا فیصلہ کرنے والا کون ہوسکتا ہے ؟

﴿51﴾ اے ایمان والو ! یہودیوں اور نصرانیوں کو یارومددگار نہ بناؤ یہ خود ہی ایک دوسرے کے یارومددگار ہیں اور تم میں سے جو شخص ان کی دوستی کا دم بھرے گا تو پھر وہ انہی میں سے ہوگا۔ یقینا اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

﴿52﴾ چنانچہ جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) روگ ہے، تم انہیں دیکھتے ہو کہ وہ لپک لپک کر ان میں گھستے ہیں، کہتے ہیں : ہمیں ڈر ہے کہ ہم پر کوئی مصیبت کا چکر آپڑے گا لیکن) کچھ بعید نہیں کہ اللہ (مسلمانوں کو) فتح عطا فرمائے یا اپنی طرف سے کوئی اور بات ظاہر کردے اور اس وقت یہ لوگ اس بات پر پچھتائیں جو انہوں نے اپنے دلوں میں چھپا رکھی تھی۔

﴿53﴾ اور (اس وقت) ایمان والے (ایک دوسرے سے) کہیں گے کہ کیا یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے بڑے زور و شور سے اللہ کی قسمیں کھائی تھیں کہ وہ تمہارے ساتھ ہیں۔ ان کے اعمال غارت ہوگئے، اور وہ نامراد ہو کر رہے۔

﴿54﴾ اے ایمان والو ! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرجائے گا تو اللہ ایسے لوگ پیدا کردے گا جن سے وہ محبت کرتا ہوگا، اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے جو مومنوں کے لیے نرم اور کافروں کے لیے سخت ہوں گے۔ اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے، اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے، یہ اللہ کا فضل ہے جو وہ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا، بڑے علم والا ہے۔

﴿55﴾ (مسلمانو) تمہارے یارومددگار تو اللہ، اس کے رسول اور وہ ایمان والے ہیں جو اس طرح نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں کہ وہ (دل سے) اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔

﴿56﴾ اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اور ایمان والوں کو دوست بنائے تو (وہ اللہ کی جماعت میں شامل ہوجاتا ہے اور) اللہ کی جماعت ہی غلبہ پانے والی ہے۔

﴿57﴾ اے ایمان والو ! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ان میں سے ایسے لوگوں کو جنہوں نے تمہارے دین کو مذاق اور کھیل بنا رکھا ہے اور کافروں کو یارومددگار نہ بناؤ، اور اگر تم واقعی صاحب ایمان ہو تو اللہ سے ڈرتے رہو۔

﴿58﴾ اور جب تم نماز کے لیے (لوگوں کو) پکارتے ہو تو وہ اس (پکار) کو مذاق اور کھیل کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہ سب (حرکتیں) اس وجہ سے ہیں کہ ان لوگوں کو عقل نہیں ہے۔

﴿59﴾ تم (ان سے) کہو کہ : اے اہل کتاب ! تمہیں اس کے سوا ہماری کون سی بات بری لگتی ہے کہ ہم اللہ پر اور جو کلام ہم پر اتارا گیا اس پر اور جو پہلے اتارا گیا تھا اس پر ایمان لے آئے ہیں، جبکہ تم میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں ؟

﴿60﴾ (اے پیغمبر ان سے) کہو کہ : کیا میں تمہیں بتاؤں کہ (جس بات کو تم برا سمجھ رہے ہو) اس سے زیادہ برے انجام والے کون ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے پھٹکار ڈالی، جن پر اپنا غضب نازل کیا، جن میں سے لوگوں کو بندر اور سور بنایا، اور جنہوں نے شیطان کی پرستش کی، وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا بھی بدترین ہے اور وہ سیدھے راستے سے بھی بہت بھٹکے ہوئے ہیں۔

﴿61﴾ اور جب یہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں، حالانکہ یہ کفر لے کر ہی آئے تھے، اور اسی کفر کو لے کر باہر نکلے ہیں، اور اللہ خوب جانتا ہے کہ یہ کیا کچھ چھپاتے رہے ہیں۔

﴿62﴾ اور ان میں سے بہت سوں کو تم دیکھو گے کہ وہ گناہ، ظلم اور حرام خوری میں لپک لپک کر آگے بڑھتے ہیں سچ تو یہ ہے کہ جو حرکتیں یہ کرتے ہیں وہ نہایت بری ہیں۔

﴿63﴾ ان کے مشائخ اور علماء ان کو گناہ کی باتیں کہنے اور حرام کھانے سے آخر کیوں منع نہیں کرتے ؟ حقیقت یہ ہے کہ ان کا یہ طرز عمل نہایت برا ہے

﴿64﴾ اور یہودی کہتے ہیں کہ : اللہ کے ہاتھ بندے ہوئے ہیں ہاتھ تو خود ان کے بندھے ہوئے ہیں اور جو بات انہوں نے کہی ہے اس کی وجہ سے ان پر لعنت الگ پڑی ہے، ورنہ اللہ کے دونوں ہاتھ پوری طرح کشادہ ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ اور (اے پیغمبر) جو وحی تم پر نازل کی گئی ہے وہ ان میں سے بہت سوں کی سرکشی اور کفر میں مزید اضافہ کر کے رہے گی، اور ہم نے ان کے درمیان قیامت کے دن تک کے لیے عداوت اور بغض پیدا کردیا ہے۔ جب کبھی یہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اس کو بجھا دیتا ہے اور یہ زمین میں فساد مچاتے پھرتے ہیں، جبکہ اللہ فساد مچانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

﴿65﴾ اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے اور تقوی اختیار کرتے تو ہم ضرور ان کی برائیاں معاف کردیتے، اور انہیں ضرور آرام و راحت کے باغات میں داخل کرتے۔

﴿66﴾ اور اگر وہ تورات اور انجیل اور جو کتاب (اب) ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے بھیجی گئی ہے اس کی ٹھیک ٹھیک پابندی کرتے تو وہ اپنے اوپر اور اپنے پاؤں کے نیچے ہر طرف سے (اللہ کا رزق) کھاتے۔ (اگرچہ) ان میں ایک جماعت راہ راست پر چلنے والی بھی ہے، مگر ان میں سے بہت سے لوگ ایسے ہی ہیں کہ ان کے اعمال خراب ہیں۔

﴿67﴾ اے رسول ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی تبلیغ کرو۔ اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو (اس کا مطلب یہ ہوگا کہ) تم نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا۔ اور اللہ تمہیں لوگوں (کی سازشوں) سے بچائے گا۔ یقین رکھو کہ اللہ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

﴿68﴾ کہہ دو کہ : اے اہل کتاب ! جب تک تم تورات اور انجیل پر اور جو (کتاب) تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس (اب) بھیجی گئی ہے اس کی پوری پابندی نہیں کرو گے، تمہاری کوئی بنیاد نہیں ہوگی جس پر تم کھڑے ہوسکو۔ اور (اے رسول) جو وحی اپنے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل کی گئی ہے وہ ان میں سے بہت سوں کی سرکشی اور کفر میں مزید اضافہ کر کے رہے گی، لہذا تم ان کافر لوگوں پر افسوس مت کرنا۔

﴿69﴾ حق تو یہ ہے کہ جو لوگ بھی، خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی یا صابی یا نصرانی، اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لے آئیں گے اور نیک عمل کریں گے ان کو نہ کوئی خوف ہوگا، نہ وہ کسی غم میں مبتلا ہوں گے۔

﴿70﴾ ہم نے بنو اسرائیل سے عہد لیا تھا، اور ان کے پاس رسول بھیجے تھے، جب کوئی رسول ان کے پاس کوئی ایسی بات لے کر آتا جس کو ان کا دل نہیں چاہتا تھا تو کچھ (رسولوں) کو انہوں نے جھٹلایا اور کچھ کو قتل کرتے رہے۔

﴿71﴾ اور وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ کوئی پکڑ نہیں ہوگی، اس لیے اندھے بہرے بن گئے، پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی تو ان میں سے بہت سے پھر اندھے بہرے بن گئے، اور اللہ ان کے تمام اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے۔

﴿72﴾ وہ لوگ یقینا کافر ہوچکے ہیں جنہوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے۔ حالانکہ مسیح نے تو یہ کہا تھا کہ : اے بنی اسرائیل اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار۔ یقین جا نو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے، اللہ نے اس کے لیے جنت حرام کردی ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے، اور جو لوگ (یہ) ظلم کرتے ہیں ان کو کسی قسم کے یارومددگار میسر نہیں آئیں گے۔

﴿73﴾ وہ لوگ (بھی) یقینا کافر ہوچکے ہیں جنہوں نے یہ کہا ہے کہ : اللہ تین میں کا تیسرا ہے حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، اور اگر یہ لوگ اپنی اس بات سے باز نہ آئے تو ان میں سے جن لوگوں نے (ایسے) کفر کا ارتکاب کیا ہے، ان کو دردناک عذاب پکڑ کر رہے گا۔

﴿74﴾ کیا پھر بھی یہ لوگ معافی کے لیے اللہ کی طرف رجوع نہیں کریں گے، اور اس سے مغفرت نہیں مانگیں گے ؟ حالانکہ اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿75﴾ مسیح ابن مریم تو ایک رسول تھے، اس سے زیاد کچھ نہیں، ان سے پہلے (بھی) بہت سے رسول گزر چکے ہیں، اور ان کی ماں صدیقہ تھیں۔ یہ دونوں کھانا کھاتے تھے دیکھو ! ہم ان کے سامنے کس طرح کھول کھول کر نشانیاں واضح کر رہے ہیں۔ پھر یہ بھی دیکھو کہ ان کو اوندھے منہ کہاں لے جایا جارہا ہے۔

﴿76﴾ (اے پیغمبر ! ان سے) کہو کہ : کیا تم اللہ کے سوا ایسی مخلوق کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ کوئی نقصان پہنچانے کی طاقت رکھتی ہے اور نہ فائدہ پہنچانے کی جبکہ اللہ ہر بات کو سننے والا، ہر چیز کو جاننے والا ہے ؟

﴿77﴾ (اور ان سے یہ بھی کہو کہ) اے اہل کتاب ! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلو جو پہلے خود بھی گمراہ ہوئے، بہت سے دوسروں کو بھی گمراہ کیا، اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔

﴿78﴾ بنو اسرائیل کے جو لوگ کافر ہوئے ان پر داؤد اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے لعنت بھیجی گئی تھی یہ سب اس لیے ہوا کہ انہوں نے نافرمانی کی تھی، اور وہ حد سے گزر جایا کرتے تھے۔

﴿79﴾ وہ جس بدی کا ارتکاب کرتے تھے، اس سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کا طرز عمل نہایت برا تھا۔

﴿80﴾ تم ان میں سے بہت سوں کو دیکھتے ہو کہ انہوں نے (بت پرست) کافروں کو اپنا دوست بنایا ہوا ہے یقینا جو کچھ انہوں نے اپنے حق میں اپنے آگے بھیج رکھا ہے وہ بہت برا ہے، کیونکہ (ان کی وجہ سے) اللہ ان سے ناراض ہوگیا ہے، اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے۔

﴿81﴾ اگر یہ لوگ اللہ پر اور نبی پر اور جو کلام ان پر نازل ہوا ہے اس پر ایمان رکھتے تو ان (بت پرستوں) کو دوست نہ بناتے، لیکن (بات یہ ہے کہ) ان میں زیادہ تعداد ان کی ہے جو نافرمان ہیں۔

﴿82﴾ تم یہ بات ضرور محسوس کرلو گے کہ مسلمانوں سے سب سے سخت دشمنی رکھنے والے ایک تو یہودی ہیں، اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو (کھل کر) شرک کرتے ہیں۔ اور تم یہ بات بھی ضرور محسوس کرلو گے کہ (غیر مسلموں میں) مسلمانوں سے دوستی میں قریب تر وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو نصرانی کہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں بہت سے علم دوست عالم اور بہت سے تارک الدنیا درویش ہیں نیز یہ وجہ بھی ہے کہ وہ تکبر نہیں کرتے۔

﴿83﴾ اور جب یہ لوگ وہ کلام سنتے ہیں جو رسول پر نازل ہوا ہے تو چونکہ انہوں نے حق کو پہچان لیا ہوتا ہے، اس لیے تم ان کی آنکھوں کو دیکھو گے کہ وہ آنسوؤں سے بہہ رہی ہیں۔ (اور) وہ کہہ رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لے آئے ہیں، لہذا گواہی دینے والوں کے ساتھ ہمارا نام بھی لکھ لیجیے۔

﴿84﴾ اور ہم اللہ پر اور جو حق ہمارے پاس آگیا ہے اس پر آخر کیوں ایمان نہ لائیں، اور پھر یہ توقع بھی رکھیں کہ ہمارا رب ہمیں نیک لوگوں میں شمار کرے گا ؟

﴿85﴾ چنانچہ ان کے اس قول کی وجہ سے اللہ ان کو وہ باغات دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی نیکی کرنے والوں کا صلہ ہے

﴿86﴾ اور جن لوگوں نے کفر اپنایا ہے اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے وہ دوزخ والے لوگ ہیں۔

﴿87﴾ اے ایمان والو ! اللہ نے تمہارے لیے جو پاکیزہ چیزیں حلال کی ہیں ان کو حرام قرار دنہ دو ، اور حد سے تجاوز نہ کرو۔ یقین جانو کہ اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ۔

﴿88﴾ اور اللہ نے تمہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے حلال پاکیزہ چیزیں کھاؤ، اور جس اللہ پر تم ایمان رکھتے ہو اس سے ڈرتے رہو۔

﴿89﴾ اللہ تمہاری لغو قسموں پر تمہاری پکڑ نہیں کرے گا لیکن جو قسمیں تم نے پختگی کے ساتھ کھائی ہوں، ان پر تمہاری پکڑ کرے گا۔ چنانچہ اس کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو وہ اوسط درجے کا کھانا کھلاؤ جو تم اپنے گھر والوں کو کھلایا کرتے ہو، یا ان کو کپڑے دو ، یا ایک غلام آزاد کرو۔ ہاں اگر کسی کے پاس (ان چیزوں میں سے) کچھ نہ ہو تو وہ تین دن روزے رکھے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم نے کوئی قسم کھالی ہو (اور اسے توڑ دیا ہو) اور اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو۔ اسی طرح اللہ اپنی آیتیں کھول کھول کر تمہارے سامنے واضح کرتا ہے، تاکہ تم شکر ادا کرو۔

﴿90﴾ اے ایمان والو ! شراب، جوا، بتوں کے تھان اور جوے کے تیرے یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں، لہذا ان سے بچو، تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔

﴿91﴾ شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض کے بیج ڈال دے، اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے۔ اب بتاؤ کہ کیا تم (ان چیزوں سے) باز آجاؤ گے ؟

﴿92﴾ اور اللہ کی اطاعت کرو، اور رسول کی اطاعت کرو، اور (نافرمانی سے) بچتے رہو۔ اور اگر تم (اس حکم سے) منہ موڑو گے تو جان رکھو کہ ہمارے رسول پر صرف یہ ذمہ داری ہے کہ وہ صاف صاف طریقے سے (اللہ کے حکم کی) تبلیغ کردیں۔

﴿93﴾ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، اور نیکی پر کار بند رہے ہیں، انہوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا ہے، اس کی وجہ سے ان پر کوئی گناہ نہیں ہے، بشرطیکہ وہ آئندہ ان گناہوں سے بچتے رہیں، اور ایمان رکھیں اور نیک عمل کرتے رہیں، پھر (جن چیزوں سے آئندہ روکا جائے ان سے) بچا کریں، اور ایمان پر قائم رہیں اور اس کے بعد بھی تقوی اور احسان کو اپنائیں۔ اللہ احسان پر عمل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

﴿94﴾ اے ایمان والو ! اللہ تمہیں شکار کے کچھ جانوروں کے ذریعے ضرور آزمائے گا جو تمہارے ہاتھوں اور تمہارے نیزوں کی زد میں آجائیں گے، تاکہ وہ یہ جان لے کہ کون ہے جو اسے دیکھے بغیر بھی اس سے ڈرتا ہے۔ پھر جو شخص اس کے بعد بھی حد سے تجاوز کرے گا وہ دردناک سزا کا مستحق ہوگا۔

﴿95﴾ اے ایمان والو ! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو کسی شکار کو قتل نہ کرو۔ اور اگر تم میں سے کوئی اسے جان بوجھ کر قتل کردے تو اس کا بدلہ دینا واجب ہوگا (جس کا طریقہ یہ ہوگا کہ) جو جانور اس نے قتل کیا ہے، اس جانور کے برابر چوپایوں میں سے کسی جانور کو جس کا فیصلہ تم میں سے دو دیانت دار تجربہ کار آدمی کریں گے، کعبہ پہنچا کر قربان کیا جائے، یا (اس کی قیمت کا) کفارہ مسکینوں کا کھانا کھلا کر ادا کیا جائے، یا اس کے برابر روزے رکھے جائیں، تاکہ وہ شخص اپنے کیے کا بدلہ چکھے۔ پہلے جو کچھ ہوچکا اللہ نے اسے معاف کردیا، اور جو شخص دوبارہ ایسا کرے گا تو اللہ اس سے بدلہ لے گا، اور اللہ اقتدار اور انتظام کا مالک ہے۔

﴿96﴾ تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کردیا گیا ہے، تاکہ وہ تمہارے لیے اور قافلوں کے لیے فائدہ اٹھانے کا ذریعہ بنے، لیکن جب تک تم حالت احرام میں ہو تم پر خشکی کا شکار حرام کردیا گیا ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کی طرف تم سب کو جمع کر کے لے جایا جائے گا۔

﴿97﴾ اللہ نے کعبے کو جو بڑی حرمت والا گھر ہے لوگوں کے لیے قیام امن کا ذریعہ بنادیا ہے، نیز حرمت والے مہینے، نذرانے کے جانوروں اور ان کے گلے میں پڑے ہوئے پٹوں کو بھی (امن کا ذریعہ بنایا ہے) ۔ یہ سب اس لیے تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ اسے خوب جانتا ہے، اور اللہ ہر بات سے پوری طرح باخبر ہے۔

﴿98﴾ یہ بات بھی جان رکھو کہ اللہ عذاب دینے میں سخت ہے، اور یہ بھی کہ اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿99﴾ رسول پر سوائے تبلیغ کرنے کے کوئی اور ذمہ داری نہیں ہے۔ اور جو کچھ تم کھلے بندوں کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو، اللہ ان سب باتوں کو جانتا ہے۔

﴿100﴾ (اے رسول ! لوگوں سے) کہہ دو کہ ناپاک اور پاکیزہ چیزیں برابر نہیں ہوتیں، چاہے تمہیں ناپاک چیزوں کی کثرت اچھی لگتی ہو۔ لہذا اے عقل والو ! اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔

﴿101﴾ اے ایمان والو ! ایسی چیزوں کے بارے میں سوالات نہ کیا کرو جو اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں، اور اگر تم ان کے بارے میں ایسے وقت سوالات کرو گے جب قرآن نازل کیا جارہا ہو تو وہ تم پر ظاہر کردی جائیں گی۔ (البتہ) اللہ نے پچھلی باتیں معاف کردی ہیں۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا بردبار ہے۔

﴿102﴾ تم سے پہلے ایک قوم نے اس قسم کے سوالات کیے تھے، پھر ان (کے جو جوابات دیے گئے ان) سے منکر ہوگئے۔

﴿103﴾ اللہ نے کسی جانور کو نہ بحیرہ بنانا طے کیا ہے، نہ سائبہ، نہ وصیلہ اور نہ حامی لیکن جن لوگوں نے کفر اپنایا ہوا ہے وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں، اور ان میں سے اکثر لوگوں کو صحیح سمجھ نہیں ہے۔

﴿104﴾ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو کلام نازل کیا ہے، اس کی طرف اور رسول کی طرف آؤ، تو وہ کہتے ہیں کہ : ہم نے جس (دین پر) اپنے باپ دادوں کو پایا ہے، ہمارے لیے وہی کافی ہے۔ بھلا اگر ان کے باپ دادے ایسے ہوں کہ نہ ان کے پاس کوئی علم ہو، اور نہ کوئی ہدایت تو کیا پھر بھی (یہ انہی کے پیچھے چلتے رہیں گے ؟)

﴿105﴾ اے ایمان والو ! تم اپنی فکر کرو۔ اگر تم صحیح راستے پر ہوگے تو جو لوگ گمراہ ہیں وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ ہی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے، اس وقت وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا عمل کرتے رہے ہو۔

﴿106﴾ اے ایمان والو ! جب تم میں سے کوئی مرنے کے قریب ہو تو وصیت کرتے وقت آپس کے معاملات طے کرنے کے لیے گواہ بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ تم میں سے دو دیانت دار آدمی ہوں (جو تمہاری وصیت کے گواہ بنیں) یا اگر تم زمین میں سفر کر رہے ہو، اور وہیں تمہیں موت کی مصیبت پیش آجائے تو غیروں (یعنی غیر مسلموں) میں سے دو شخص ہوجائیں۔ پھر اگر تمہیں کوئی شک پڑجائے تو ان دو گواہوں کو نماز کے بعد روک سکتے ہو، اور وہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ ہم اس گواہی کے بدلے کوئی مالی فائدہ لینا نہیں چاہتے، چاہے معاملہ ہمارے کسی رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو، اور اللہ نے ہم پر جس گواہی کی ذمہ داری ڈالی ہے، اس کو ہم نہیں چھپائیں گے، ورنہ ہم گنہگاروں میں شمار ہوں گے۔

﴿107﴾ پھر بعد میں اگر یہ پتہ چلے کہ انہوں نے (جھوٹ بول کر) اپنے اوپر گناہ کا بوجھ اٹھا لیا ہے تو ان لوگوں میں سے دو آدمی ان کی جگہ (گواہی کے لیے) کھڑے ہوجائیں جن کے خلاف ان پہلے دو آدمیوں نے گناہ اپنے سر لیا تھا اور وہ اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی ان پہلے دو آدمیوں کی گواہی کے مقابلے میں زیادہ سچی ہے، اور ہم نے (اس گواہی میں) کوئی زیادتی نہیں کی ہے، ورنہ ہم ظالموں میں شمار ہوں گے۔

﴿108﴾ اس طریقے میں اس بات کی زیادہ امید ہے کہ لوگ (شروع ہی میں) ٹھیک ٹھیک گواہی دیں یا اس بات سے ڈریں کہ (جھوٹی گواہی کی صورت میں) ان کی قسموں کے بعد لوٹا کر دوسری قسمیں لی جائیں گی (جو ہماری تردید کردیں گے) اور اللہ سے ڈرو، اور (جو کچھ اس کی طرف سے کہا گیا ہے اسے قبول کرنے کی نیت سے) سنو۔ اللہ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

﴿109﴾ وہ دن یاد کرو جب اللہ تمام رسولوں کو جمع کرے گا، اور کہے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا تھا ؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں کچھ علم نہیں، پوشیدہ باتوں کا تمام تر علم تو آپ ہی کے پاس ہے۔

﴿110﴾ (یہ واقعہ اس دن ہوگا) جب اللہ کہے گا : اے عیسیٰ ابن مریم میرا انعام یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کیا تھا، جب میں نے روح القدس کے ذریعے تمہاری مدد کی تھی۔ تم لوگوں سے گہوارے میں بھی بات کرتے تھے، اور بڑی عمر میں بھی۔ اور جب میں نے تمہیں کتاب و حکمت اور تورات و انجیل کی تعلیم دی تھی، اور جب تم میرے حکم سے گارا لے کر اس سے پرندے کی جیسی شکل بناتے تھے، پھر اس میں پھونک مارتے تھے تو وہ میرے حکم سے (سچ مچ کا) پرندہ بن جاتا تھا، اور تم مادرزاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کردیتے تھے، اور جب تم میرے حکم سے مردوں کو (زندہ) نکال کھڑا کرتے تھے، اور جب میں نے بنی اسرائیل کو اس وقت تم سے دور رکھا جب تم ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے، اور ان میں سے جو کافر تھے انہوں نے کہا تھا کہ یہ کھلے جادو کے سوا کچھ نہیں۔

﴿111﴾ جب میں نے حواریوں کے دل میں یہ بات ڈالی کہ : تم مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ، تو انہوں نے کہا : ہم ایمان لے آئے اور آپ گواہ رہیے کہ ہم فرمانبردار ہیں۔

﴿112﴾ (اور ان کے اس واقعے کا بھی ذکر سنو) جب حواریوں نے کہا تھا کہ : اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا آپ کا پروردگار ایسا کرسکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے (کھانے کا) ایک دستر خوان اتارے ؟ عیسیٰ نے کہا : اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔

﴿113﴾ انہوں نے کہا : ہم چاہتے ہیں کہ اس خوان سے کھانا کھائیں، اور اس کے ذریعے ہمارے دل پوری طرح مطمئن ہوجائیں، اور ہمیں (پہلے سے زیادہ یقین کے ساتھ) یہ معلوم ہوجائے کہ آپ نے ہم سے جو کچھ کہا ہے وہ سچ ہے، اور ہم اس پر گواہی دینے والوں میں شامل ہوجائیں۔

﴿114﴾ (چنانچہ) عیسیٰ ابن مریم نے درخواست کی کہ : یا اللہ ! ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار دیجیے جو ہمارے لیے اور ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے ایک خوشی کا موقع بن جائے، اور آپ کی طرف سے ایک نشانی ہو۔ اور ہمیں یہ نعمت عطا فرما ہی دیجیے، اور آپ سب سے بہتر عطا فرمانے والے ہیں۔

﴿115﴾ اللہ نے کہا کہ : میں بیشک تم پر وہ خوان اتار دوں گا، لیکن اس کے بعد تم میں سے جو شخص بھی کفر کرے گا اس کو میں ایسی سزا دوں گا جو دنیا جہان کے کسی بھی شخص کو نہیں دوں گا۔

﴿116﴾ اور (اس وقت کا بھی ذکر سنو) جب اللہ کہے گا کہ : اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے علاوہ دو معبود بناؤ ؟ وہ کہیں گے : ہم تو آپ کی ذات کو (شرک سے) پاک سمجھتے ہیں۔ میری مجال نہیں تھی کہ میں ایسی بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے ایسا کہا ہوتا تو آپ کو یقینا معلوم ہوجاتا۔ آپ وہ باتیں جانتے ہیں جو میرے دل میں پوشیدہ ہی اور میں اور آپ کی پوشیدہ باتوں کو نہیں جانتا۔ یقینا آپ کو تمام چھپی ہوئی باتوں کا پورا پورا علم ہے۔

﴿117﴾ میں نے ان لوگوں سے اس کے س وا کوئی بات نہیں کہی جس کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا، اور وہ یہ کہ : اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار۔ اور جب تک میں ان کے درمیان موجود رہا، میں ان کے حالات سے واقف رہا۔ پھر جب آپ نے مجھے اٹھا لیا تو آپ خود ان کے نگران تھے، اور آپ ہر چیز کے گواہ ہیں۔

﴿118﴾ اگر آپ ان کو سزا دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں ہی، اور اگر آپ انہیں معاف فرمادیں تو یقینا آپ کا اقتدار بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل۔

﴿119﴾ اللہ کہے گا کہ : یہ وہ دن ہے جس میں سچے لوگوں کو ان کا سچ فائدہ پہنچائے گا۔ ان کے لیے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے خوش ہے اور یہ اس سے خوش ہیں۔ یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔

﴿120﴾ تمام آسمانوں اور زمین میں اور ان میں جو کچھ ہے اس سب کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے، اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

الانعام

Surah 6

﴿1﴾ تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور اندھیریاں اور روشنی بنائیَ پھر بھی جن لوگوں کفر اپنا لیا ہے وہ دوسروں کو (خدائی میں) اپنے پروردگار کے برابر قرار دے رہے ہیں۔

﴿2﴾ وہی ذات ہے جس نے تم کو گیلی مٹی سے پیدا کیا، پھر (تمہاری زندگی کی) ایک میعاد مقرر کردی، اور (دوبارہ زندہ ہونے کی) ایک متعین میعاد اسی کے پاس ہے پھر بھی تم شک میں پڑے ہوئے ہو۔

﴿3﴾ اور وہی اللہ آسمانوں میں بھی ہے، اور زمین میں بھی۔ وہ تمہارے چھپے ہوئے بھید بھی جانتا ہے اور کھلے ہوئے حالات بھی، اور جو کچھ کمائی تم کر رہے ہو، اس سے بھی واقف ہے۔

﴿4﴾ اور (ان کافروں کا حال یہ ہے کہ) ان کے پاس ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے جب بھی کوئی نشانی آتی ہے، تو یہ لوگ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔

﴿5﴾ چنانچہ جب حق ان کے پاس آگیا تو ان لوگوں نے اسے جھٹلا دیا۔ نتیجہ یہ کہ جس بات کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں، جلد ہی ان کو اس کی خبریں پہنچ جائیں گی۔

﴿6﴾ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ ان کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار دیا تھا جو تمہیں نہیں دیا۔ ہم نے ان پر آسمان سے خوب بارشیں بھیجیں، اور ہم نے دریاؤں کو مقرر کردیا کہ وہ ان کے نیچے بہتے رہیں۔ لیکن پھر ان کے گناہوں کی وجہ سے ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔ اور ان کے بعد دوسری نسلیں پیدا کیں۔

﴿7﴾ اور (ان کافروں کا حال یہ ہے کہ) اگر ہم تم پر کوئی ایسی کتاب نازل کردیتے جو کاغذ پر لکھی ہوئی ہوتی، پھر یہ اسے اپنے ہاتھوں سے چھو کر بھی دیکھ لیتے تو جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ پھر بھی یہی کہتے کہ یہ کھلے ہوئے جادو کے سوا کچھ نہیں۔

﴿8﴾ اور لوگ یہ کہتے ہیں کہ : اس (پیغمبر) پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ حالانکہ اگر ہم کوئی فرشتہ اتار دیتے تو سارا کام ہی تمام ہوجاتا پھر ان کو کوئی مہلت نہ دی جاتی

﴿9﴾ اور اگر ہم فرشتے ہی کو پیغمبر بناتے، تب بھی اسے کسی مرد ہی (کی شکل میں) بناتے، اور ان کو پھر ہم اسی شبہ میں ڈال دیتے جس میں اب مبتلا ہیں۔

﴿10﴾ اور (اے پیغمبر) حقیقت یہ ہے کہ تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا گیا ہے لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں سے جن لوگوں نے مذاق اڑایا تھا ان کو اسی چیز نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔

﴿11﴾ (ان کافروں سے) کہو کہ : ذرا زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو کہ (پیغمبروں کو) جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا ؟

﴿12﴾ (ان سے) پوچھو کہ : آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کی ملکیت ہے ؟ (پھر اگر وہ جواب نہ دیں تو خود ہی) کہہ دو کہ : اللہ ہی کی ملکیت ہے۔ اس نے رحمت کو اپنے اوپر لازم کر رکھا ہے۔ (اس لیے توبہ کرلو تو پچھلے سارے گناہ معاف کردے گا، ورنہ) وہ تم سب کو ضرور بالضرور قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے، (لیکن) جن لوگوں نے اپنی جانوں کے لیے گھاٹے کا سودا کر رکھا ہے وہ (اس حقیقت پر) ایمان نہیں لاتے۔

﴿13﴾ اور رات اور دن میں جتنی مخلوقات آرام پاتی ہیں، سب اسی کے قبضے میں ہیں اور وہ ہر بات کو سنتا، ہر چیز کو جانتا ہے۔

﴿14﴾ کہہ دو کہ : کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو رکھوالا بناؤں ؟ (اس اللہ کو چھوڑ کر) جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اور جو سب کو کھلاتا ہے، کسی سے کھاتا نہیں ؟ کہہ دو کہ : مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ فرمانبرداری میں سب لوگوں سے پہل کرنے والا میں بنوں۔ اور تم مشرکوں میں ہرگز شامل نہ ہونا۔

﴿15﴾ کہہ دو کہ : اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک زبردست دن کے عذاب کا خوف ہے۔

﴿16﴾ جس کسی شخص سے اس دن وہ عذاب ہٹا دیا گیا، اس پر اللہ نے بڑا رحم کیا، اور یہی واضح کامیابی ہے۔

﴿17﴾ اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو خود اس کے سوا اسے دور کرنے والا کوئی نہیں، اور اگر وہ تمہیں کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہی ہے۔

﴿18﴾ اور وہ اپنے بندوں کے اوپر مکمل اقتدار رکھتا ہے، اور وہ حکیم بھی ہے، پوری طرح باخبر بھی

﴿19﴾ کہو : کون سی چیز ایسی ہے جو (کسی بات کی) گواہی دینے کے لیے سب سے اعلی درجے کی ہو ؟ کہو : اللہ (اور وہی) میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے۔ اور مجھ پر یہ قرآن وحی کے طور پر اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعے میں تمہیں ڈراؤں، اور ان سب کو بھی جنہیں یہ قرآن پہنچے۔ کیا سچ مچ تم یہ گواہی دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور بھی معبود ہیں ؟ کہہ دو کہ : میں تو ایسی گواہی نہیں دوں گا۔ کہہ دو کہ : وہ تو صرف ایک خدا ہے اور جن جن چیزوں کو تم اس کی خدائی میں شریک ٹھہراتے ہو، میں ان سب سے بیزار ہوں۔

﴿20﴾ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ ان کو (یعنی خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو) اس طرح پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں (پھر بھی) جن لوگوں نے اپنی جانوں کے لیے گھاٹے کا سودا کر رکھا ہے، وہ اہمان نہیں لاتے۔

﴿21﴾ اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے، یا اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے ؟ یقین رکھو کہ ظالم لوگ فلاح نہیں پاسکتے۔

﴿22﴾ اس دن (کو یاد رکھو) جب ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے، پھر جن لوگوں نے شرک کیا ہوگا ان سے پوچھیں گے کہ : کہاں ہیں تمہارے وہ معبود جن کے بارے میں تم یہ دعوی کرتے تھے کہ وہ خدائی میں اللہ کے شریک ہیں ؟

﴿23﴾ اس وقت ان کے پاس کوئی بہانہ نہیں ہوگا، سوائے اس کے کہ وہ کہیں گے : اللہ کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم تو مشرک نہیں تھے۔

﴿24﴾ دیکھو یہ اپنے معاملے میں کس طرح جھوٹ بول جائیں گے، اور جو (معبود) انہوں نے جھوٹ موٹ تراش رکھے تھے، ان کا انہیں کوئی سراغ نہیں مل سکے گا۔

﴿25﴾ اور ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو تمہاری بات کان لگا کر سنتے ہیں، مگر (چونکہ یہ سننا طلب حق کے بجائے ضد پر اڑے رہنے کے لیے ہوتا ہے، اس لیے) ہم نے ان کے دلوں پر ایسے پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ اس کو سمجھتے نہیں ہیں، اور ان کے کانوں میں بہرا پن پیدا کردیا ہے۔ اور اگر وہ ایک ایک کر کے ساری نشانیاں دیکھ لیں تب بھی وہ ان پر ایمان نہیں لائیں گے۔ انتہا یہ ہے کہ جب تمہارے پاس جھگڑا کرنے کے لیے آتے ہیں تو یہ کافر لوگ یوں کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) پچھلے سلوں کی داستانوں کے سوا کچھ نہیں۔

﴿26﴾ اور یہ دوسروں کو بھی اس (قرآن) سے روکتے ہیں، اور خود بھیا س سے دور رہتے ہیں۔ اور (اس طرح) وہ اپنی جانوں کے سوا کسی اور کو ہلاکت میں نہیں ڈال رہے، لیکن ان کو احساس نہیں ہے۔

﴿27﴾ اور (بڑا ہولناک نظارہ ہوگا) اگر تم وہ وقت دیکھو جب ان کو دوزخ پر کھڑا کیا جائے گا، اور یہ کہیں گے : اے کاش ! ہمیں واپس (دنیا میں) بھیج دیا جائے، تاکہ اس بار ہم اپنے پروردگار کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ہمارا شمار مومنوں میں ہوجائے۔

﴿28﴾ حالانکہ (ان کی یہ آرزو بھی سچی نہ ہوگی) بلکہ دراصل وہ چیز (یعنی آخرت) ان کے سامنے کھل کر آچکی ہوگی جسے وہ پہلے چھپایا کرتے تھے (اس لیے مجبورا یہ دعوی کریں گے) ورنہ اگر ان کو واقعی واپس بھیجا جائے تو یہ دوبارہ وہی کچھ کریں گے جس سے انہیں روکا گیا ہے، اور یقین جانو یہ پکے جھوٹے ہیں۔

﴿29﴾ یہ تو یوں کہتے ہیں کہ جو کچھ ہے بس یہی دنیوی زندگی ہے اور ہم مر کر دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے۔

﴿30﴾ اور اگر تم وہ وقت دیکھو جب یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے۔ وہ کہے گا : کیا یہ (دوسری زندگی) حق نہیں ہے ؟ وہ کہیں گے : بیشک ہمارے رب کی قسم ! اللہ کہے گا : تو پھر چکھو عذاب کا مزہ، کیونکہ تم کفر کیا کرتے تھے۔

﴿31﴾ حقیقت یہ ہے کہ بڑے خسارے میں ہیں وہ لوگ جنہوں نے اللہ سے جا ملنے کو جھٹلایا ہے، یہاں تک کہ جب قیامت اچانک ان کے سامنے آکھڑی ہوگی تو وہ کہیں گے : ہائے افسوس ! کہ ہم نے اس (قیامت) کے بارے میں بڑی کوتاہی کی۔ اور وہ (اس وقت) اپنی پیٹھوں پر اپنے گناہوں کا بوجھ لادے ہوئے ہوں گے۔ (لہذا) خبردار رہو کہ بہت برا بوجھ ہے جو یہ لوگ اٹھا رہے ہیں۔

﴿32﴾ اور دنیوی زندگی تو ایک کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں اور یقین جانو کہ جو لوگ تقوی اختیار کرتے ہیں، ان کے لیے آخرت والا گھر کہیں زیادہ بہتر ہے۔ تو کیا اتنی سی بات تمہاری عقل میں نہیں آتی ؟

﴿33﴾ (اے رسول) ہمیں خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے، کیونکہ دراصل یہ تمہیں نہیں جھٹلاتے، بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں

﴿34﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ تم سے پہلے بہت سے رسولوں کو جھٹلایا گیا ہے۔ پھر جس طرح انہیں جھٹلایا گیا اور تکلیفیں دی گئیں، اس سب پر انہوں نے صبر کیا، یہاں تک کہ ہماری مدد ان کو پہنچ گئی۔ اور کوئی نہیں ہے جو اللہ کی باتوں کو بدل سکے اور (پچھلے) رسولوں کے کچھ واقعات آپ تک پہنچ ہی چکے ہیں۔

﴿35﴾ اور اگر ان لوگوں کا منہ موڑے رہنا تمہیں بہت بھاری معلوم ہورہا ہے تو اگر تم زمین کے اندر (جانے کے لیے) کوئی سرنگ یا آسمان میں (چڑھنے کے لیے) کوئی سیڑھی ڈھونڈ سکتے ہو تو ان کے پاس (ان کا منہ مانگا یہ) معجزہ لے آؤ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا۔ لہذا تم نادانوں میں ہرگز شامل نہ ہونا۔

﴿36﴾ بات تو وہی لوگ مان سکتے ہیں جو (حق کے طالب بن کر) سنیں۔ جہاں تک ان مردوں کا تعلق ہے ان کو تو اللہ ہی قبروں سے اٹھائے گا، پھر یہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

﴿37﴾ یہ لوگ کہتے ہیں کہ (اگر یہ نبی ہیں تو) ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی ؟ تم (ان سے) کہو کہ اللہ بیشک اس بات پر قادر ہے کہ کوئی نشانی نازل کردے، لیکن ان میں سے ا کثر لوگ (اس کا انجام) نہیں جانتے۔

﴿38﴾ اور زمین میں جتنے جانور چلتے ہیں، اور جتنے پرندے اپنے پروں سے اڑتے ہیں، وہ سب مخلوقات کی تم جیسی ہی اصناف ہیں۔ ہم نے کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ پھر ان سب کو جمع کر کے ان کے پروردگار کی طرف لے جایا جائے گا۔

﴿39﴾ اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے وہ اندھیروں میں بھٹکتے بھٹکتے بہرے اور گونگے ہوچکے ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے، (اس کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے) گمراہی میں ڈال دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے سیدھی راہ پر لگا دیتا ہے۔

﴿40﴾ (ان کافروں) سے کہو : اگر تم سچے ہو تو ذرا یہ بتاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آجائے، یا تم پر قیامت ٹوٹ پڑے تو کیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے ؟

﴿41﴾ بلکہ اسی کو پکارو گے، پھر جس پریشانی کے لیے تم نے اسے پکارا ہے، اگر وہ چاہے گا تو اسے دور کردے گا، اور جن (دیوتاؤں) کو تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو (اس وقت) ان کو بھول جاؤ گے۔

﴿42﴾ اور (اے پیغمبر) تم سے پہلے ہم نے بہت سی قوموں کے پاس پیغمبر بھیجے، پھر ہم نے (ان کی نافرمانی کی بنا پر) انہیں سختیوں اور تکلیفوں میں گرفتار کیا، تاکہ وہ عجز و نیاز کا شیوہ اپنائیں۔

﴿43﴾ پھر ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب ان کے پاس ہماری طرف سے سختی آئی تھی، اس وقت وہ عاجزی کا رویہ اختیار کرتے ؟ بلکہ ان کے دل تو اور سخت ہوگئے اور جو کچھ وہ کر رہے تھے، شیطان نے انہیں یہ سجھایا کہ وہی بڑے شاندار کام ہیں۔

﴿44﴾ پھر انہیں جو نصیحت کی گئی تھی، جب وہ اسے بھلا بیٹھے تو ہم نے ان پر ہر نعمت کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ جو نعمتیں انہیں دی گئی تھیں، جب وہ ان پر اترانے لگے تو ہم نے اچانک ان کو آپکڑا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بالکل مایوس ہو کر رہ گئے۔

﴿45﴾ اس طرح جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی، اور تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

﴿46﴾ (اے پیغمبر ! ان سے) کہو : ذرا مجھے بتاؤ کہ اگر اللہ تمہاری سننے کی طاقت اور تمہاری آنکھیں تم سے چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے، تو اللہ کے سوا کونسا معبود ہے جو یہ چیزیں تمہیں لاکر دیدے ؟ دیکھو ہم کیسے کیسے مختلف طریقوں سے دلائل بیان کرتے ہیں، پھر بھی یہ لوگ منہ پھیر لیتے ہیں۔

﴿47﴾ کہو : ذرا یہ بتاؤ کہ اگر اللہ کا عذاب تمہارے پاس اچانک آئے یا اعلان کرکے، دونوں صورتوں میں کیا ظالموں کے سوا کسی اور کو ہلاک کیا جائے گا ؟

﴿48﴾ ہم پیغمبروں کو اسی لیے تو بھیجتے ہیں کہ وہ (نیکیوں پر) خوشخبری سنائیں (اور نافرمانی پر اللہ کے عذاب سے) ڈرائیں۔ چنانچہ جو لوگ ایمان لے آئے اور اپنی اصلاح کرلی، ان کو نہ کوئی خوف ہوگا، اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

﴿49﴾ اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا، ان کو عذاب پہنچ کر رہے گا، کیونکہ وہ نافرمانی کے عادی تھے۔

﴿50﴾ (اے پیغمبر !) ان سے کہو : میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب کا (پورا) علم رکھتا ہوں، اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں تو صرف اس وحی کی اتباع کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے۔ کہو کہ : کیا ایک اندھا اور دوسر ا بینائی رکھنے والا دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ پھر کیا تم غور نہیں کرتے ؟

﴿51﴾ اور (اے پیغمبر) تم اس وحی کے ذریعے ان لوگوں کو خبردار کرو جو اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ ان کو ان کے پروردگار کے پاس ایسی حالت میں جمع کر کے لایا جائے گا کہ اس کے سوا نہ ان کا کوئی یارومددگار ہوگا، نہ کوئی سفارشی تاکہ وہ لوگ تقوی اختیار کرلیں۔

﴿52﴾ اور ان لوگوں کو اپنی مجلس سے نہ نکالنا جو صبح و شام اپنے پروردگار کو اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے پکارتے رہتے ہیں۔ ان کے حساب میں جو اعمال ہیں ان میں سے کسی کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے، اور تمہارے حساب میں جو اعمال ہیں ان میں سے کسی کی ذمہ داری ان پر نہیں ہے جس کی وجہ سے تم انہیں نکال باہر کرو، اور ظالموں میں شامل ہوجاؤ۔

﴿53﴾ اسی طرح ہم نے کچھ لوگوں کو کچھ دوسروں کے ذریعے آزمائش میں ڈالا ہے تاکہ وہ (ان کے بارے میں) یہ کہیں کہ : کیا یہ ہیں وہ لوگ جن کو اللہ نے ہم سب کو چھوڑ کر احسان کرنے کے لیے چنا ہے ؟ کیا (جو کافر یہ بات کہہ رہے ہیں ان کے خیال میں) اللہ اپنے شکر گزار بندوں کو دوسروں سے زیادہ نہیں جانتا ؟

﴿54﴾ اور جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں تو ان سے کہو : سلامتی ہو تم پر ! تمہارے پروردگار نے اپنے اوپر رحمت کا یہ معاملہ کرنا لازم کرلیا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی نادانی سے کوئی برا کام کر بیٹھے، پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿55﴾ اور ہم اسی طرح نشانیاں تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں (تاکہ سیدھا راستہ بھی واضح ہوجائے) اور تاکہ مجرموں کا راستہ بھی کھل کر سامنے آجائے

﴿56﴾ (اے پیغمبر ! ان سے) کہو کہ : تم اللہ کے سوا جن (جھوٹے خداؤں) کو پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ کہو کہ : میں تمہاری خواہشات کے پیچھے نہیں چل سکتا۔ اگر میں ایسا کروں تو گمراہ ہوں گا، اور میرا شمار ہدایت یافتہ لوگوں میں نہیں ہوگا۔

﴿57﴾ کہو کہ : مجھے اپنے پروردگار کی طرف سے ایک روشن دلیل مل چکی ہے جس پر میں قائم ہوں، اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے، جس چیز کے جلدی آنے کا تم مطالبہ کر رہے ہو وہ میرے پاس موجود نہیں ہے۔ حکم اللہ کے سوا کسی کا نہیں چلتا۔ وہ حق بات بیان کردیتا ہے، اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

﴿58﴾ کہو کہ : جس چیز کی تم جلدی مچا رہے ہو، اگر وہ میرے پاس ہوتی تو میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوگا۔ اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

﴿59﴾ اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور خشکی اور سمندر میں جو کچھ ہے وہ اس سے واقف ہے کسی درخت کا کوئی پتہ نہیں گرتا جس کا اسے علم نہ ہو، اور زمین کی اندھیریوں میں کوئی دانہ یا کوئی خشک یا تر چیز ایسی نہیں ہے جو ایک کھلی کتاب میں درج نہ ہو۔

﴿60﴾ اور وہی ہے جو رات کے وقت (نیند میں) تمہاری روح (ایک حد تک) قبض کرلیتا ہے اور دن بھر میں تم نے جو کچھ کیا ہوتا ہے، اسے خوب جانتا ہے، پھر اس (نئے دن) میں تمہیں زندگی دیتا ہے، تاکہ (تمہاری عمر کی) مقررہ مدت پوری ہوجائے۔ پھر اسی کے پاس تم کو لوٹ کر جانا ہے۔ اس وقت وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا کیا کرتے تھے

﴿61﴾ وہی اپنے بندوں پر مکمل اقتدار رکھتا ہے اور تمہارے لیے نگہبان (فرشتے) بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اس کو پورا پورا وصول کرلیتے ہیں، اور وہ ذرا بھی کوتاہی نہیں کرتے۔

﴿62﴾ پھر ان سب کو اللہ کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے جو ان کا مولائے برحق ہے۔ یاد رکھو ! حکم اسی کا چلتا ہے اور وہ سب سے زیادہ جلدی حساب لینے والا ہے۔

﴿63﴾ کہو : خشکی اور سمندر کی تاریکیوں سے اس وقت کون تمہیں نجات دیتا ہے جب تم اسے گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے پکارتے ہو، (اور یہ کہتے ہو کہ) اگر اس نے ہمیں اس مصیبت سے بچا لیا تو ہم ضرور بالضرور شکر گزار بندوں میں شامل ہوجائیں گے ؟

﴿64﴾ کہو : اللہ ہی تمہیں اس مصیبت سے بھی بچاتا ہے اور ہر دوسری تکلیف سے بھی، پھر بھی تم شرک کرتے ہو ؟

﴿65﴾ کہو کہ : وہ اس بات پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے (نکال دے) یا تمہیں مختلف ٹولیوں میں بانٹ کر ایک دوسرے سے بھڑا دے، اور ایک دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھا دے۔ دیکھو ! ہم کس طرح مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں واضح کر رہے ہیں تاکہ یہ کچھ سمجھ سے کام لے لیں۔

﴿66﴾ اور (اے پیغبر) تمہاری قوم نے اس (قرآن) کو جھٹلایا ہے، حالانکہ وہ بالکل حق ہے۔ تم کہہ دو کہ : مجھ کو تمہاری ذمہ داری نہیں سونپی گئی

﴿67﴾ ہر واقعے کا ایک وقت مقرر ہے، اور جلد ہی تمہیں سب معلوم ہوجائے گا۔

﴿68﴾ اور جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کو برا بھلا کہنے میں لگے ہوئے ہیں، تو ان سے اس وقت تک کے لیے الگ ہوجاؤ جب تک وہ کسی اور بات میں مشغول نہ ہوجائیں۔ اور اگر کبھی شیطان تمہیں یہ بات بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو

﴿69﴾ ان کے کھاتے میں جو اعمال ہیں ان کی کوئی ذمہ داری پرہیزگاروں پر عائد نہیں ہوتی۔ البتہ نصیحت کردینا ان کا کام ہے، شاید وہ بھی (ایسی باتوں سے) پرہیز کرنے لگیں۔

﴿70﴾ اور چھوڑ دو ان لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے اور جن کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا ہے، اور اس (قرآن) کے ذریعے (لوگوں کو) نصیحت کرتے رہو، تاکہ ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص اپنے اعمال کے سبب اس طرح گرفتار ہوجائے کہ اللہ (کے عذاب) سے بچانے کے لیے اللہ کو چھوڑ کر نہ کوئی اس کا یارومددگار بن سکے نہ سفارشی، اور اگر وہ (اپنی رہائی کے لیے) ہر طرح کا فدیہ بھی پیش کرنا چاہے تو اس سے وہ قبول نہ کیا جائے۔ (چنانچہ) یہی (دین کو کھیل تماشا بنانے والے) وہ لوگ ہیں جو اپنے کیے کی بدولت گرفتار ہوگئے ہیں۔ چونکہ انہوں نے کفر اپنا رکھا تھا، اس لیے ان کے لیے کھولتے ہوئے پانی کا مشروب اور ایک دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے۔

﴿71﴾ (اے پیغمبر) ان سے کہو : کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کو پکاریں جو ہمیں نہ کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہیں، نہ نقصان اور جب اللہ ہمیں ہدایت دے چکا ہے تو کیا اس کے بعد بھی ہم الٹے پاؤں پھرجائیں ؟ (اور) اس شخص کی طرح (ہوجائیں) جسے شیطان بہکا کر صحرا میں لے گئے ہوں، اور وہ حیرانی کے عالم میں بھٹکتا پھرتا ہو، اس کے کچھ ساتھی ہوں جو اسے ٹھیک راستے کی طرف بلا رہے ہوں کہ ہمارے پاس آجاؤَ کہو کہ : اللہ کی دی ہوئی ہدایت ہی صحیح معنی میں ہدایت ہے، اور ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم رب العالمین کے آگے جھک جائیں۔

﴿72﴾ اور یہ (حکم دیا گیا ہے) کہ : نماز قائم کرو، اور اس (کی نافرمانی) سے ڈرتے رہو، اور وہی ہے جس کی طرف تم سب کو اکٹھا کر کے لے جایا جائے گا۔

﴿73﴾ اور وہی ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے، اور جس دن وہ (روز قیامت سے) کہے گا کہ : تو ہوجا تو وہ ہوجائے گا۔ اس کا قول برحق ہے۔ اور جس دن صورت پھونکا جائے گا، اس دن بادشاہی اسی کی ہوگی وہ غائب و حاضر ہر چیز کو جاننے والا ہے، اور وہی بڑی حکمت والا، پوری طرح باخبر ہے

﴿74﴾ اور (اس وقت کا ذکر سنو) جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا تھا کہ : کیا آپ بتوں کو خدا بنائے بیٹھے ہیں ؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ اور آپ کی قوم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔

﴿75﴾ اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا نظارہ کراتے تھے، اور مقصد یہ تھا کہ وہ مکمل یقین رکھنے والوں میں شامل ہوں۔

﴿76﴾ چنانچہ جب ان پر رات چھائی تو انہوں نے ایک ستارا دیکھا۔ کہنے لگے : یہ میرا رب ہے پھر جب وہ ڈوب گیا تو انہوں نے کہا : میں ڈوبنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

﴿77﴾ پھر جب انہوں نے چاند کو چمکتے دیکھا تو کہا کہ : یہ میرا رب ہے۔ لیکن جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہنے لگے : اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ دیتا تو میں یقینا گمراہ لوگوں میں شامل ہوجاؤں۔

﴿78﴾ پھر جب انہوں نے سورج کو چمکتے دیکھا تو کہا : یہ میرا رب ہے۔ یہ زیادہ بڑا ہے۔ پھر جب وہ غروب ہوا تو انہوں نے کہا : اے میری قوم ! جن جن چیزوں کو تم اللہ کی خدائی میں شریک قرار دیتے ہو، میں ان سب سے بیزار ہوں۔

﴿79﴾ میں نے تو پوری طرح یکسو ہو کر اپنا رخ اس ذات کی طرف کرلیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔

﴿80﴾ اور (پھر یہ ہوا کہ) ان کی قوم نے ان سے حجت شروع کردی۔ ابراہیم نے (ان سے) کہا : کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں حجت کرتے ہو جبکہ اس نے مجھے ہدایت دے دی ہے ؟ اور جن چیزوں کو تم اللہ کے ساتھ شریک مانتے ہو، میں ان سے نہیں ڈرتا (کہ وہ مجھے کوئی نقصان پہنچا دیں گی) الا یہ کہ میرا پروردگار (مجھے) کچھ (نقصان پہنچانا) چاہے (تو وہ ہر حال میں پہنچے گا) میرے پروردگار کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ کیا تم پھر بھی کوئی نصیحت نہیں مانتے ؟

﴿81﴾ اور جن چیزوں کو تم نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے، میں ان سے کیسے ڈر سکتا ہوں جبکہ تم ان چیزوں کو اللہ کا شریک ماننے سے نہیں ڈرتے جن کے بارے میں اس نے تم پر کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے ؟ اب اگر تمہارے پاس کوئی علم ہے تو بتاؤ کہ ہم دو فریقوں میں سے کون بےخوف رہنے کا زیادہ مستحق ہے ؟

﴿82﴾ (حقیقت تو یہ ہے کہ) جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ کسی ظلم کا شائبہ بھی آنے نہیں دیا امن اور چین تو بس انہی کا حق ہے، اور وہی ہیں جو صحیح راستے پر پہنچ چکے ہیں۔

﴿83﴾ یہ ہماری وہ کامیاب دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے مقابلے میں عطا کی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ بیشک تمہارے رب کی حکمت بھی بڑی ہے، علم بھی کامل ہے۔

﴿84﴾ اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق (جیسا بیٹا) اور یعقوب (جیسا پوتا) عطا کیا۔ (ان میں سے) ہر ایک کو اہم نے ہدایت دی، اور نوح کو ہم نے پہلے ہی ہدایت دی تھی، اور ان کی اولاد میں سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کو بھی۔ اور اسی طرح ہم نیک کام کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں۔

﴿85﴾ اور زکریا، یحی، عیسیٰ اور الیاس کو (بھی ہدایت عطا فرمائی) یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے۔

﴿86﴾ نیز اسماعیل، الیسع، یونس اور لوط کو بھی۔ اور ان سب کو ہم نے دنیا جہان کے لوگوں پر فضیلت بخشی تھی۔

﴿87﴾ اور ان کے باپ دادوں، ان کی اولادوں اور ان کے بھائیوں میں سے بھی بہت سے لوگوں کو۔ ہم نے ان سب کو منتخب کر کے راہ راست تک پہنچا دیا تھا۔

﴿88﴾ یہ اللہ کی دی ہوئی ہدایت ہے جس کے ذریعے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے راہ راست تک پہنچا دیتا ہے۔ اور اگر وہ شرک کرنے لگتے تو ان کے سارے (نیک) اعمال اکارت ہوجاتے۔

﴿89﴾ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب، حکمت اور نبوت عطا کی تھی۔ اب اگر یہ (عرب کے) لوگ اس (نبوت) کا انکار کریں تو (کچھ پرواہ نہ کرو، کیونکہ) اس کے ماننے کے لیے ہم نے ایسے لوگ مقرر کردیئے ہیں جو اس کے منکر نہیں۔

﴿90﴾ یہ لوگ (جن کا ذکر اوپر ہوا) وہ تھے جن کو اللہ نے (مخالفین کے رویے پر صبر کرنے کی) ہدایت کی تھی، لہذا (اے پیغمبر) تم بھی انہی کے راستے پر چلو۔ (مخالفین سے) کہہ دو کہ میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ یہ تو دنیا جہان کے سب لوگوں کے لیے ایک نصیحت ہے، اور بس۔

﴿91﴾ اور ان (کافر) لوگوں نے جب یہ کہا کہ اللہ نے کسی انسان پر کچھ نازل نہیں کیا تو انہوں نے اللہ کی صحیح قدر نہیں پہچانی۔ (ان سے) کہو کہ : وہ کتاب کس نے نازل کی تھی جو موسیٰ لے کر آئے تھے، جو لوگوں کے لیے روشنی اور ہدایت تھی، اور جس کو تم نے متفرق کاغذوں کی شکل میں رکھا ہوا ہے۔ جن (میں سے کچھ) کو تم ظاہر کرتے ہو، اور بہت سے حصے چھپالیتے ہو، اور (جس کے ذریعے) تم کو ان باتوں کی تعلیم دی گئی تھی جو نہ تم جانتے تھے، نہ تمہارے باپ دادا ؟ (اے پیغمبر ! تم خود ہی اس سوال کے جواب میں) اتنا کہہ دو کہ : وہ کتاب اللہ نے نازل کی تھی۔ پھر ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو کہ یہ اپنی بےہودہ گفتگو میں مشغول رہ کر دل لگی کرتے رہیں۔

﴿92﴾ اور (اسی طرح) یہ بڑی برکت والی کتاب ہے جو ہم نے اتاری ہے، پچھلی آسمانی ہدایات کی تصدیق کرنے والی ہے، تاکہ تم اس کے ذریعے بستیوں کے مرکز (یعنی مکہ) اور اس کے اردگرد کے لوگوں کو خبردار کرو۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں، اور وہ اپنی نماز کی پوری پوری نگہداشت کرتے ہیں۔

﴿93﴾ اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے، یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی نازل کی گئی ہے، حالانکہ اس پر کوئی وحی نازل نہ کی گئی ہو، اور اسی طرح وہ جو یہ کہے کہ میں بھی ویسا ہی کلام نازل کردوں گا جیسا اللہ نے نازل کیا ہے ؟ اور اگر تم وہ وقت دیکھو (تو بڑا ہولناک منظر نظر آئے) جب ظالم لوگ موت کی سختیوں میں گرفتار ہوں گے، اور فرشتے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے (کہہ رہے ہوں گے کہ) اپنی جانیں نکالو، آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا، اس لیے کہ تم جھوٹی باتیں اللہ کے ذمے لگاتے تھے، اور اس لئے کہ تم اس کی نشانیوں کے خلاف تکبرکا رویہ اختیار کرتے تھے۔

﴿94﴾ (پھر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا کہ) تم ہمارے پاس اسی طرح تن تنہا آگئے ہو جیسے ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا، اور جو کچھ ہم نے تمہیں بخشا تھا وہ سب اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو، اور ہمیں تو تمہارے وہ سفارشی کہیں نظر نہیں آرہے جن کے بارے میں تمہارا دعوی تھا کہ وہ تمہارے معاملات طے کرنے میں (ہمارے ساتھ) شریک ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے ساتھ تمہارے سارے تعلقات ٹوٹ چکے ہیں اور جن (دیوتاؤں) کے بارے میں تمہیں بڑا زعم تھا وہ سب تم سے گم ہو کر رہ گئے ہیں۔

﴿95﴾ بیشک اللہ ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا ہے۔ وہ جاندار چیزوں کو بےجان چیزوں سے نکال لاتا ہے، اور وہی بےجان چیزوں کو جاندار چیزوں سے نکالنے والا ہے۔ لوگو ! وہ ہے اللہ پھر کوئی تمہیں بہکا کر کس اوندھی طرف لئے جارہا ہے ؟

﴿96﴾ وہی ہے جس کے حکم سے صبح کو پو پھٹتی ہے، اور اسی نے رات کو سکون کا وقت بنایا ہے، اور سورج اور چاند کو ایک حساب کا پابند ! یہ سب کچھ اس ذات کی منصوبہ بندی ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، علم بھی کامل

﴿97﴾ اور اسی نے تمہارے لیے ستارے بنائے ہیں، تاکہ تم ان کے ذریعے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں راستے معلوم کرسکو۔ ہم نے ساری نشانیاں ایک ایک کر کے کھول دی ہیں (مگر) ان لوگوں کے لیے جو علم سے کام لیں

﴿98﴾ وہی ہے جس نے تم سب کو ایک جان سے پیدا کیا، پھر ہر شخص کا ایک مستقر ہے، اور ایک امانت رکھنے کی جگہ ۔ ہم نے ساری نشانیاں ایک ایک کرکے کھول دی ہیں، (مگر) ان لوگوں کے لیے جو سمجھ سے کام لیں۔

﴿99﴾ اور اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا۔ پھر ہم نے اس کے ذریعے ہر قسم کی کونپلیں اگائیں۔ ان (کونپلوں) سے ہم نے سبزیاں پیدا کیں جن سے ہم تہہ بہ تہہ دانے نکالتے ہیں، اور کھجور کے گابھوں سے پھلوں کے وہ گچھے نکلتے ہیں جو (پھل کے بوجھ سے) جھکے جاتے ہیں، اور ہم نے انگوروں کے باغ اگائے، اور زیتون اور انار۔ جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں، اور ایک دوسرے سے مختلف بھی۔ جب یہ درخت پھل دیتے ہیں تو ان کے پھلوں اور ان کے پکنے کی کیفیت کو غور سے دیکھو۔ لوگو ! ان سب چیزوں میں بڑی نشانیاں ہیں (مگر) ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائیں۔

﴿100﴾ اور لوگوں نے جنات کو اللہ کے ساتھ خدائی میں شریک قرر دے لیا، حالانکہ اللہ نے ہی ان کو پیدا کیا ہے۔ اور سمجھ بوجھ کے بغیر اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں تراش لیں۔ حالانکہ اللہ کے بارے میں جو باتیں یہ بناتے ہیں وہ ان سب سے پاک اور بالاوبرتر ہے۔

﴿101﴾ وہ تو آسمانوں اور زمین کا موجود ہے۔ اس کا کوئی بیٹا کہاں ہوسکتا ہے، جبکہ اس کی کوئی بیوی نہیں ؟ اسی نے ہر چیز پیدا کی ہے اور وہ ہر ہر چیز کا پورا پورا علم رکھتا ہے۔

﴿102﴾ لوگو ! وہ ہے اللہ جو تمہارا پالنے والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ہر چیز کا خالق ہے۔ لہذا اس کی عبادت کرو۔ وہ ہر چیز کی نگرانی کرنے والا ہے۔

﴿103﴾ نگاہیں اس کو نہیں پاسکتیں، اور وہ تمام نگاہوں کو پالیتا ہے۔ اس کی ذات اتنی ہی لطیف ہے، اور وہ اتنا ہی باخبر ہے۔

﴿104﴾ (اے پیغمبر ! ان لوگوں سے کہو کہ) تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے بصیرت کے سامان پہنچ چکے ہیں۔ اب جو شخص آنکھیں کھول کر دیکھے گا، وہ اپنا ہی بھلا کرے گا، اور جو شخص اندھا بن جائے گا، وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ اور مجھے تمہاری حفاظت کی ذمہ داری نہیں سونپی گئی ہے۔

﴿105﴾ اسی طرح ہم آیتیں مختلف طریقوں سے بار بار واضح کرتے ہیں (تاکہ تم انہیں لوگوں تک پہنچا دو) اور بالآخر یہ لوگ تو یوں کہیں کہ : تم نے کسی سے سیکھا ہے اور جو لوگ علم سے کام لیتے ہیں ان کے لیے ہم حق کو آشکار کردیں۔

﴿106﴾ (اے پیغبر) تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے جو وحی بھیجی گئی ہے، تم اسی کی پیروی کرو، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور جو لوگ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ان سے بےپرواہ ہوجاؤ۔

﴿107﴾ اگر اللہ چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے ہم نے نہ تمہیں ان کی حفاظت پر مقرر کیا ہے اور نہ تم ان کاموں کے ذمہ دار ہو۔

﴿108﴾ (مسلمانو) جن (جھوٹے معبودوں) کو یہ لوگ اللہ کے بجائے پکارتے ہیں تم ان کو برا نہ کہو، جس کے نتیجے میں یہ لوگ جہالت کے عالم میں حد سے آگے بڑھ کر اللہ کو برا کہنے لگیں۔ (اس دنیا میں تو) ہم نے اسی طرح ہر گروہ کے عمل کو اس کی نظر میں خوشنما بنا رکھا ہے۔ پھر ان سب کو اپنے پروردگار ہی کے پاس لوٹنا ہے۔ اس وقت وہ انہیں بتائے گا کہ وہ کیا کچھ کیا کرتے تھے۔

﴿109﴾ اور ان لوگوں نے بڑی زور دار قسمیں کھائی ہیں کہ اگر ان کے پاس واقعی کوئی نشانی (یعنی ان کا مطلوب معجزہ) آگئی تو یہ یقینا ضرور اس پر ایمان لے آئیں گے (ان سے) کہو کہ : ساری نشانیاں اللہ کے قبضے میں ہیں۔ اور (مسلمانو) تمہیں کیا پتہ کہ اگر وہ (معجزے) آبھی گئے تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔

﴿110﴾ جس طرح یہ لوگ پہلی بار (قرآن جیسے معجزے پر) ایمان نہیں لائے، ہم بھی (ان کی ضد کی پاداش میں) ان کے دلوں اور نگاہوں کا رخ پھیر دیتے ہیں، اور ان کو اس حالت میں چھوڑ دیتے ہیں کہ یہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے پھریں۔

﴿111﴾ اور اگر بالفرض ہم ان کے پاس فرشتے بھیج دیتے، اور مردے ان سے باتیں کرنے لگتے، اور (ان کی مانگی ہوئی) ہر چیز ہم کھلی آنکھوں ان کے سامنے لاکر کے رکھ دیتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں تھے، الا یہ کہ اللہ ہی چاہتا (کہ انہیں زبردستی ایمان پر مجبور کردے تو بات دوسری تھی، مگر ایسا ایمان نہ مطلوب ہے نہ معتبر) لیکن ان میں سے اکثر لوگ جہالت کی باتیں کرتے ہیں۔

﴿112﴾ اور (جس طرح یہ لوگ ہمارے نبی سے دشمنی کر رہے ہیں) اسی طرح ہم نے ہر (پچھلے) نبی کے لیے کوئی نہ کوئی دشمن پیدا کیا تھا، یعنی انسانوں اور جنات میں سے شیطان قسم کے لوگ، جو دھوکا دینے کی خاطر ایک دوسرے کو بڑی چکنی چپڑی باتیں سکھاتے رہتے تھے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کرسکتے۔ لہذا ان کو اپنی افترا پردازیوں میں پڑا رہنے دو ۔

﴿113﴾ اور (وہ انبیاء کے دشمن چکنی چپڑی باتیں اس لیے بناتے تھے) تاکہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ان کے دل ان باتوں کی طرف خوب مائل ہوجائیں اور وہ ان میں مگن رہیں، اور ساری وہ حرکتیں کریں جو وہ کرنے والے تھے۔

﴿114﴾ (اے پیغمبر ! ان لوگوں سے کہو کہ) کیا میں اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو فیصل بناؤں، حالانکہ اسی نے تمہاری طرف یہ کتاب نازل کرکے بھیجی ہے جس میں سارے (متنازعہ) معاملات کی تفصیل موجود ہے ؟ اور جن لوگوں کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ یقین سے جانتے ہیں کہ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق لے کر نازل ہوئی ہے۔ لہذا تم شک کرنے والوں میں ہرگز شامل نہ ہونا۔

﴿115﴾ اور تمہارے رب کا کلام سچائی اور انصاف میں کامل ہے۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ وہ ہر بات سننے والا، ہر بات جاننے والا ہے۔

﴿116﴾ اور اگر تم زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کے پیچھے چلو گے تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے گمراہ کر ڈالیں گے۔ وہ تو وہم و گمان کے سوا کسی چیز کے پیچھے نہیں چلتے، اور ان کا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ خیالی اندازے لگاتے رہیں۔

﴿117﴾ یقین رکھو کہ تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون اپنے راستے سے بھٹک رہا ہے، اور وہی ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو صحیح راستے پر ہیں۔

﴿118﴾ چنانچہ ہر اس (حلال) جانور میں سے کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، اگر تم واقعی اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو۔

﴿119﴾ اور تمہارے لیے کون سی رکاوٹ ہے جس کی بنا پر تم اس جانور میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لے لیا گیا ہو ؟ حالانکہ اس نے وہ چیزیں تمہیں تفصیل سے بتادی ہیں جو اس نے تمہارے لیے (عام حالات میں) حرام قرار دی ہیں، البتہ جن کو کھانے پر تم بالکل مجبور ہی ہوجاؤ (تو ان حرام چیزوں کی بھی بقدر ضرورت اجازت ہوجاتی ہے) اور بہت سے لوگ کسی علم کی بنیاد پر نہیں (بلکہ صرف) اپنی خواہشات کی بنیاد پر دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں۔ بلا شبہ تمہارا رب حد سے گزرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔

﴿120﴾ اور تم ظاہری اور باطنی دونوں قسم کے گناہ چھوڑ دو ۔ یہ یقینی بات ہے کہ جو لوگ گناہ کماتے ہیں، انہیں ان تمام جرائم کی جلد ہی سزا ملے گی جن کا وہ ارتکاب کیا کرتے تھے۔

﴿121﴾ اور جس جانور پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، اس میں سے مت کھاؤ، اور ایسا کرنا سخت گناہ ہے۔ (مسلمانو) شیاطین اپنے دوستوں کو ورغلاتے رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے بحث کریں۔ اور اگر تم نے ان کی بات مان لی تو تم یقینا مشرک ہوجاؤ گے۔

﴿122﴾ ذرا بتاؤ کہ جو شخص مردہ ہو، پھر ہم نے اسے زندگی دی ہو، اور اس کو ایک روشنی مہیا کردی ہو جس کے سہارے وہ لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہو کیا وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کا حال یہ ہو کہ وہ اندھیروں میں گھرا ہوا ہو جن سے کبھی نکل نہ پائے ؟ اسی طرح کافروں کو یہ سجھا دیا گیا ہے وہ جو کچھ کرتے رہے ہیں، وہ بڑا خوشنما کام ہے۔

﴿123﴾ اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں وہاں کے مجرموں کے سرغنوں کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ اس (بستی) میں (مسلمانوں کے خلاف) سازشیں کیا کریں۔ اور وہ جو سازشیں کرتے ہیں، (درحقیقت) وہ کسی اور کے نہیں، بلکہ خود ان کے اپنے خلاف پڑتی ہیں، جبکہ ان کو اس کا احساس نہیں ہوتا۔

﴿124﴾ اور جب ان (اہل مکہ) کے پاس (قرآن کی) کوئی آیت آتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ : ہم اس وقت تک ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ اس جیسی چیز خود ہمیں نہ دے دی جائے جیسی اللہ کے پیغمبروں کو دی گئی تھی۔ (حالانکہ) اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کس کو سپرد کرے۔ جن لوگوں نے (اس قسم کی) مجرمانہ باتیں کی ہیں ان کو اپنی مکاریوں کے بدلے میں اللہ کے پاس جاکر ذلت اور سخت عذاب کا سامنا ہوگا۔

﴿125﴾ غرض جس شخص کو اللہ ہدایت تک پہنچانے کا ارادہ کرلے، اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے، اور جس کو (اس کی ضد کی وجہ سے) گمراہ کرنے کا ارادہ کرلے، اس کے سینے کو تنگ اور اتنا زیادہ تنگ کردیتا ہے کہ (اسے ایمان لانا ایسا مشکل معلوم ہوتا ہے) جیسے اسے زبردستی آسمان پر چڑھنا پڑ رہا ہو۔ اسی طرح اللہ (کفر کی) گندگی ان لوگوں پر مسلط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔

﴿126﴾ اور یہ (اسلام) تمہارے پروردگار کا (بتایا ہوا) سیدھا سیدھا راستہ ہے۔ جو لوگ نصیحت قبول کرتے ہیں، ان کے لیے ہم نے (اس راستے کی) نشانیاں کھول کھول کر بیان کردی ہیں۔

﴿127﴾ ان کے پروردگار کے پاس سکھ چین کا گھر ایسے ہی لوگوں کے لیے ہے اور جو عمل وہ کرتے رہے ہیں ان کی وجہ سے وہ خود ان کا رکھوالا ہے۔

﴿128﴾ اور (اس دن کا دھیان رکھو) جس دن اللہ ان سب کو گھیر کر اکٹھا کرے گا، اور (شیاطین جنات سے کہے گا کہ) اے جنات کے گروہ ! تم نے انسانوں کو بہت بڑھ چڑھ کر گمراہ کیا۔ اور انسانوں میں سے جو ان کے دوست ہوں گے، وہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہم ایک دوسرے سے خوب مزے لیتے رہے ہیں۔ اور اب اپنی اس میعاد کو پہنچ گئے ہیں جو آپ نے ہمارے لیے مقرر کی تھی۔ اللہ کہے گا ؛ (اب) آگ تم سب کا ٹھکانا ہے، جس میں تم ہمیشہ رہو گے، الا یہ کہ اللہ کچھ اور چاہے۔ یقین رکھو کہ تمہارے پروردگار کی حکمت بھی کامل ہے، علم بھی کامل۔

﴿129﴾ اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ایک دوسرے پر مسلط کردیتے ہیں۔ ۔

﴿130﴾ اے جنات اور انسانوں کے گروہ ! کیا تمہارے پاس خود تم میں سے وہ پیغمبر نہیں آئے تھے جو تمہیں میری آیتیں پڑھ کر سناتے تھے اور تم کو اسی دن کا سامنا کرنے سے خبردار کرتے تھے جو آج تمہارے سامنے ہے ؟ وہ کہیں گے : (آج) ہم نے خود اپنے خلاف گواہی دے دی ہے (کہ واقعی ہمارے پاس پیغمبر آئے تھے، اور ہم نے انہیں جھٹلایا تھا) اور (درحقیقت) ان کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا تھا، اور (اب) انہوں نے خود اپنے خلاف گواہی دے دی کہ وہ کافر تھے۔

﴿131﴾ یہ (پیغمبر بھیجنے کا) سارا سلسلہ اس لیے تھا کہ تمہارے پروردگار کو یہ گوارا نہیں تھا کہ وہ بستیوں کو کسی زیادتی کی وجہ سے اس حالت میں ہلاک کردے کہ اس کے لوگ بیخبر ہوں۔

﴿132﴾ اور ہر قسم کے لوگوں کو مختلف درجات ان اعمال کے حساب سے ملتے ہیں جو انہوں نے کیے ہوتے ہیں۔ اور جو اعمال بھی وہ کرتے ہیں، تمہارا پروردگار ان سے غافل نہیں ہے۔

﴿133﴾ اور تمہارا پروردگار ایسا بےنیاز ہے جو رحمت والا بھی ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو (دنیا سے) اٹھالے، اور تمہارے بعد جس کو چاہے تمہاری جگہ لے آئے، جیسے اس نے تم کو کچھ اور لوگوں کی نسل سے پیدا کیا تھا۔

﴿134﴾ یقین رکھو کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے اس کو آنا ہی آنا ہے۔ اور تم (اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتے۔

﴿135﴾ (اے پیغمبر ! ان لوگوں سے) کہو کہ : اے میری قوم ! تم اپنی جگہ (اپنے طریقے کے مطابق) عمل کرو، میں (اپنے طریقے کے مطابق) عمل کر رہا ہوں۔ پھر جلد ہی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ اس دنیا کا انجام کس کے حق میں نکلتا ہے۔ یہ حقیقت (اپنی جگہ) ہے کہ ظالم لوگ فلاح نہیں پاتے۔

﴿136﴾ اور اللہ نے جو کھیتیاں اور چوپائے پیدا کیے ہیں ان لوگوں نے ان میں سے اللہ کا بس ایک حصہ مقرر کیا ہے۔ چنانچہ بزعم خود یوں کہتے ہیں کہ یہ حصہ تو اللہ کا ہے، اور یہ ہمارے ان معبودوں کا ہے جن کو ہم خدائی میں اللہ کا شریک مانتے ہیں۔ پھر جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے، وہ تو (کبھی) اللہ کے پاس نہیں پہنچتا، اور جو حصہ اللہ کا ہوتا ہے، وہ ان کے گھڑے ہوئے معبودوں کو پہنچ جاتا ہے۔ ایسی بری بری باتیں ہیں جو انہوں نے طے کر رکھی ہیں۔

﴿137﴾ اور اسی طرح بہت سے مشرکین کو ان کے شریکوں نے سجھا رکھا ہے کہ اپنی اولاد کو قتل کرنا بڑا چھا کام ہے، تاکہ وہ ان (مشرکین) کو بالکل تباہ کر ڈالیں، اور ان کے لیے ان کے دین کے معاملے میں مغالطے پیدا کردیں۔ اور اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کرسکتے۔ لہذا ان کو اپنی افترا پردازیوں میں پڑا رہنے دو ۔

﴿138﴾ اور یوں کہتے ہیں کہ : ان چوپایوں اور کھیتیوں پر پابندی لگی ہوئی ہے۔ ان کا زعم یہ ہے کہ : ان کو سوائے ان لوگوں کے کوئی نہیں کھا سکتا جنہیں ہم کھلانا چاہیں۔ ۔ اور کچھ چوپائے ایسے ہیں جن کی پشت حرام قرار دی گئی ہے، اور کچھ چوپائے وہ ہیں جن کے بارے میں اللہ پر یہ بہتان باندھتے ہیں کہ ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے۔ جو افترا پردازی یہ لوگ کر رہے ہیں، اللہ انہیں عنقریب اس کا پورا پورا بدلہ دے گا۔

﴿139﴾ نیز وہ کہتے ہیں کہ : ان خاص چوپایوں کے پیٹ میں جو بچے ہیں وہ صرف ہمارے مردوں کے لیے مخصوص ہیں، اور ہماری عورتوں کے لیے حرام ہیں۔ اور اگر وہ بچہ مردہ پیدا ہو تو اس سے فائدہ اٹھانے میں سب (مرد و عورت) شریک ہوجاتے ہیں۔ جو باتیں یہ لوگ بنا رہے ہیں، اللہ انہیں عنقریب ان کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ یقینا وہ حکمت کا بھی مالک ہے، علم کا بھی مالک۔

﴿140﴾ حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ بڑے خسارے میں ہیں جنہوں نے اپنی اولاد کو کسی علمی وجہ کے بغیر محض حماقت سے قتل کیا ہے، اور اللہ نے جو رزق ان کو دیا تھا اسے اللہ پر بہتان باندھ کر حرام کرلیا ہے۔ وہ بری طرح گمراہ ہوگئے ہیں، اور کبھی ہدایت پر آئے ہی نہیں۔

﴿141﴾ اللہ وہ ہے جس نے باغات پیدا کیے جن میں سے کچھ (بیل دار ہیں جو) سہاروں سے اوپر چڑھائے جاتے ہیں، اور کچھ سہاروں کے بغیر بلند ہوتے ہیں، اور نخلستان اور کھیتیاں، جن کے ذائقے الگ الگ ہیں، اور زیتون اور انار، جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں، اور ایک دوسرے سے مختلف بھی۔ جب یہ درخت پھل دیں تو ان کے پھلوں کو کھانے میں استعمال کرو، اور جب ان کی کٹائی کا دن آئے تو اللہ کا حق ادا کرو، اور فضول خرچی نہ کرو۔ یاد رکھو، وہ فضول خرچ لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔

﴿142﴾ اور چوپایوں میں سے اللہ نے وہ جانور بھی پیدا کیے ہیں جو بوجھ اٹھاتے ہیں اور وہ بھی جو زمین سے لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ اللہ نے جو رزق تمہیں دیا ہے، اس میں سے کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ یقین جانو، وہ تمہارے لیے ایک کھلا دشمن ہے۔

﴿143﴾ (مویشیوں کے) کل آٹھ جوڑے اللہ نے پیدا کیے ہیں، دو صنفیں (نر اور مادہ) بھیڑوں کی نسل سے اور دو بکریوں کی نسل سے۔ ذرا ان سے پوچھو کہ : کیا دونوں نروں کو اللہ نے حرام کیا ہے، یا دونوں مادہ کو ؟ یا ہر اس بچے کو جو دونوں نسلوں کی مادہ کے پیٹ میں موجود ہو ؟ اگر تم سچے ہو تو کسی علمی بنیاد پر مجھے جواب دو ۔

﴿144﴾ اور اسی طرح اونٹوں کی بھی دو صنفیں (نر اور مادہ اللہ نے) پیدا کی ہیں، اور گائے کی بھی دو صنفیں۔ ان سے کہو کہ : کیا دونوں نروں کو اللہ نے حرام کیا ہے، یا دونوں مادہ کو ؟ یا ہر اس بچے کو جو دونوں نسلوں کی مادہ کے پیٹ میں موجود ہو ؟ کیا تم اس وقت خود حاضر تھے جب اللہ نے تمہیں اس کا حکم دیا تھا ؟ (اگر نہیں، اور یقینا نہیں) تو پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر اس لیے جھوٹ باندھے تاکہ کسی علمی بنیاد کے بغیر لوگوں کو گمراہ کرسکے ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔

﴿145﴾ (اے پیغمبر ! ان سے) کہو کہ : جو وحی مجھ پر نازل کی گئی ہے اس میں تو میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جس کا کھانا کسی کھانے والے کے لیے حرام ہو الا یہ کہ وہ مردار ہو، یا بہتا ہوا خون ہو، یا سور کا گوشت ہو، کیونکہ وہ ناپاک ہے، یا جو ایسا گناہ کا جانور ہو جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو۔ ہاں جو شخص (ان چیزوں میں سے کسی کے کھانے پر) انتہائی مجبور ہوجائے جبکہ وہ نہ لذت حاصل کرنے کی غرض سے ایسا کر رہا ہو، اور نہ ضرورت کی حد سے آگے بڑھے، تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿146﴾ اور یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن والے جانور کو حرام کردیا تھا، اور گائے اور بکری کے اجزاء میں سے ان کی چربیاں ہم نے حرام کی تھیں، البتہ جو چربی ان کی پشت پر یا آنتوں پر لگی ہو، یا جو کسی ہڈی سے ملی ہوئی ہو وہ مستثنی تھی۔ یہ ہم نے ان کو ان کی سرکشی کی سزا دی تھی۔ اور پورا یقین رکھو کہ ہم سچے ہیں۔

﴿147﴾ پھر بھی اگر یہ (کافر) تمہیں جھٹلائیں تو کہہ دو کہ : تمہارا پروردگار بڑی وسیع رحمت کا مالک ہے اور اس کے عذاب کو مجرموں سے ٹلایا نہیں جاسکتا۔

﴿148﴾ جن لوگوں نے شرک اپنایا ہوا ہے وہ یہ کہیں گے کہ : اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے، نہ ہمارے باپ دادا، اور نہ ہم کسی بھی چیز کو حرام قرار دیتے، ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی اسی طرح (رسولوں کو) جھٹلایا تھا، یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھ لیا۔ تم ان سے کہو کہ : کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جو ہمارے سامنے نکال کر پیش کرسکو ؟ تم تو جس چیز کے پیچھے چل رہے ہو وہ گمان کے سوا کچھ نہیں، اور تمہارا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہمی اندازے لگاتے رہو۔

﴿149﴾ (اے پیغمبر ! ان سے) کہو کہ : ایسی دلیل تو اللہ ہی کی ہے جو (دلوں تک) پہنچنے والی ہو۔ چنانچہ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو (زبردستی) ہدایت پر لے آتا۔

﴿150﴾ ان سے کہو کہ : اپنے وہ گواہ ذرا سامنے لاؤ جو یہ گواہی دیں کہ اللہ نے ان چیزوں کو حرام قرار دیا ہے۔ پھر اگر یہ خود گواہی دے بھی دیں تو تم ان کے ساتھ گواہی میں شریک نہ ہونا، اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے۔ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اور جو دوسروں کو (خدائی میں) اپنے پروردگار کے برابر مانتے ہیں۔

﴿151﴾ (ان سے) کہو کہ : آؤ، میں تمہیں پڑھ کر سناؤں کہ تمہارے پروردگار نے (درحقیقت) تم پر کونسی باتیں حرام کی ہیں۔ وہ یہ ہیں کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اور غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کو قتل نہ کرو۔ ہم تمہیں بھی رزق دیں گے اور ان کو بھی۔ اور بےحیائی کے کاموں کے پاس بھی نہ پھٹکو، چاہے وہ بےحیائی کھلی ہوئی ہو یا چھپی ہوئی، اور جس جان کو اللہ نے حرمت عطا کی ہے اسے کسی برحق وجہ کے بغیر قتل نہ کرو۔ لوگو ! یہ ہیں وہ باتیں جن کی اللہ نے تاکید کی ہے تاکہ تمہیں کچھ سمجھ آئے۔

﴿152﴾ اور یتیم جب تک پختگی کی عمر کو نہ پہنچ جائے، اس وقت تک اس کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ، مگر ایسے طریقے سے جو (اس کے حق میں) بہترین ہو، اور ناپ تول انصاف کے ساتھ وپرا پورا کیا کرو، (البتہ) اللہ کسی بھی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ کی تکلیف نہیں دیتا۔ اور جب کوئی بات کہو تو انصاف سے کام لو، چاہے معاملہ اپنے قریبی رشتہ دار ہی کا ہو، اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ لوگو ! یہ باتیں ہیں جن کی اللہ نے تاکید کی ہے، تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔

﴿153﴾ اور (اے پیغمبر ! ان سے) یہ بھی کہو کہ : یہ میرا سیدھا سیدھا راستہ ہے، لہذا اس کے پیچھے چلو، اور دوسرے راستوں کے پیچھے نہ پڑو، ورنہ وہ تمہیں اللہ کے راستے سے الگ کردیں گے۔ لوگو ! یہ باتیں ہیں جن کی اللہ نے تاکید کی ہے تاکہ تم متقی بنو۔

﴿154﴾ پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ نیک لوگوں پر اللہ کی نعمت پوری ہو، اور ہر چیز کی تفصیل بیان کردی جائے، اور وہ (لوگوں کے لیے) رہنمائی اور رحمت کا سبب بنے، تاکہ وہ (آخرت میں) اپنے پروردگار سے جا ملنے پر ایمان لے آئیں۔

﴿155﴾ اور (اسی طرح) یہ برکت والی کتاب ہے جو ہم نے نازل کی ہے۔ لہذا اس کی پیروی کرو، اور تقوی اختیار کرو، تاکہ تم پر رحمت ہو

﴿156﴾ (یہ کتاب ہم نے اس لیے نازل کی کہ) کبھی تم یہ کہنے لگو کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں (یہود و نصاری) پر نازل کی گئی تھی، اور جو کچھ وہ پڑھتے پڑھاتے تھے، ہم تو اس سے بالکل بیخبر تھے۔

﴿157﴾ یا یہ کہو کہ اگر ہم لوگوں پر کتاب نازل ہوجاتی تو ہم ان (یہودیوں اور عیسائیوں) سے یقینا زیادہ ہدایت پر ہوتے۔ لو ! پھر تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک روشن دلیل اور ہدایت و رحمت کا سامان آگیا ہے۔ اب اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے اور ان سے منہ موڑ لے ؟ جو لوگ ہماری آیتوں سے منہ موڑ رہے ہیں، ان کو ہم بہت برا عذاب دیں گے۔ کیونکہ وہ برابر منہ موڑے ہی رہے۔

﴿158﴾ یہ (ایمان لانے کے لیے) اس کے سوا کس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں، یا تمہارا پروردگار خود آئے، یا تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آجائیں ؟ (حالانکہ) جس دن تمہارے پروردگار کی کوئی نشانی آگئی، اس دن کسی ایسے شخص کا ایمان اس کے لیے کار آمد نہیں ہوگا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو، یا جس نے اپنے ایمان کے ساتھ کسی نیک عمل کی کمائی نہ کی ہو۔ (لہذا ان لوگوں سے) کہہ دو کہ : اچھا، انتظار کرو، ہم بھی انتظار کر رہے ہیں۔

﴿159﴾ (اے پیغمبر) یقین جانو کہ جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا ہے، اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں، ان سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا معاملہ تو اللہ کے حوالے ہے۔ پھر وہ انہیں جتلائے گا کہ کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔

﴿160﴾ جو شخص کوئی نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے اس جیسی دس نیکیوں کا ثوب ہے اور جو شخص کوئی بدی لے کر آئے گا، تو اس کو صرف اسی ایک بدی کی سزا دی جائے گی، اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔

﴿161﴾ (اے پیغمبر) کہہ دو کہ میرے پروردگار نے مجھے ایک سیدھے راستے پر لگا دیا ہے جو کجی سے پاک دین ہے، ابراہیم کا دین۔ جنہوں نے پوری طرح یکسو ہو کر اپنا رخ صرف اللہ کی طرف کیا ہوا تھا، اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہیں تھے۔

﴿162﴾ کہہ دو کہ : بیشک میری نماز، میری عبادت اور میرا جینا مرنا سب کچھ اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

﴿163﴾ اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے، اور میں اس کے آگے سب سے پہلے سرجھکانے والا ہوں۔

﴿164﴾ کہہ دو کہ : کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور پروردگار تلاش کروں، حالانکہ وہ ہر چیز کا مالک ہے ؟ اور جو کوئی شخص کوئی کمائی کرتا ہے، اس کا نفع نقصان کسی اور پر نہیں، خود اسی پر پڑتا ہے۔ اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی اور کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تمہارے پروردگار ہی کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے۔ اس وقت وہ تمہیں وہ ساری باتیں بتائے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔

﴿165﴾ اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں ایک دوسرے کا جانشین بنایا، اور تم میں سے کچھ لوگوں کو دوسروں سے درجات میں بلندی عطا کی، تاکہ اس نے تمہیں جو نعمتیں دی ہیں ان میں تمہیں آزمائے۔ یہ حقیقت ہے کہ تمہارا رب جلد سزا دینے والا ہے، اور یہ (بھی) حقیقت ہے کہ وہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔

الاعراف

Surah 7

﴿1﴾ المص

﴿2﴾ (اے پیغمبر) یہ کتاب ہے جو تم پر اس لیے اتاری گئی ہے کہ تم اس کے ذریعے لوگوں کو ہوشیار کرو، لہذا اس کی وجہ سے تمہارے دل میں کوئی پریشانی نہ ہونی چاہیے، اور مومنوں کے لیے یہ ایک نصیحت کا پیغام ہے۔

﴿3﴾ (لوگو) جو کتاب تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے اتاری گئی ہے، اس کے پیچھے چلو، اور اپنے پروردگار کو چھوڑ کر دوسرے (من گھڑت (سرپرستوں کے پیچھے نہ چلو۔ (مگر) تم لوگ نصیحت کم ہی مانتے ہو۔

﴿4﴾ کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کیا۔ چنانچہ ان کے پاس ہمارا عذاب راتوں رات آگیا، یا ایسے وقت آیا جب وہ دوپہر کو آرام کر رہے تھے۔

﴿5﴾ پھر جب ان پر ہمارا عذاب آپہنچا تو ان کے پاس کہنے کو اور تو کچھ تھا نہیں، بس بول اٹھے کہ واقعی ہم ہی ظالم تھے۔

﴿6﴾ اب ہم ان لووں سے ضرور باز پرس کریں گے جن کے پاس پیغمبر بھیجے گئے تھے، او ہم خود پیغمبروں سے بھی پوچھیں گے (کہ انہوں نے کیا پیغام پہنچایا، اور انہیں کیا جواب ملا ؟)

﴿7﴾ پھر ہم ان کے سامنے سارے واقعات خود اپنے علم کی بنیاد پر بیان کردیں گے، (کیونکہ) ہم (ان واقعات کے وقت) کہیں غائب تو نہیں تھے۔

﴿8﴾ اور اس دن (اعمال کا) وزن ہونا اٹل حقیقت ہے۔ چنانچہ جن کی ترازو کے پلے بھاری ہوں گے، وہی فلاح پانے والے ہوں گے۔

﴿9﴾ اور جن کی ترازو کے پلے ہلکے ہوں گے، وہی لوگ ہیں جنہوں نے ہماری آیتوں کے ساتھ زیادتیاں کر کر کے خود اپنی جانوں کو گھاٹے میں ڈالا ہے۔

﴿10﴾ اور کھلی بات ہے کہ ہم نے تمہیں زمین میں رہنے کی جگہ دی، اور اس میں تمہارے لیے روزی کے اسباب پیدا کیے۔ (پھر بھی) تم لوگ شکر کم ہی ادا کرتے ہو۔

﴿11﴾ اور ہم نے تمہیں پیدا کیا، پھر تمہاری صورت بنائی، پھر فرشتوں سے کہا کہ : آدم کو سجدہ کرو۔ چنانچہ سب نے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے۔ وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔

﴿12﴾ اللہ نے کہا : جب میں نے تجھے حکم دے دیا تھا تو تجھے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا ؟ وہ بولا : میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا، اور اس کو مٹی سے پیدا کیا۔

﴿13﴾ اللہ نے کہا : اچھا تو یہاں سے نیچے اتر، کیونکہ تجھے یہ حق نہیں پہنچتا کہ یہاں تکبر کرے۔ اب نکل جا، یقینا تو ذلیلوں میں سے ہے۔

﴿14﴾ اس نے کہا : مجھے اس دن تک (زندہ رہنے کی) مہلت دیدے جس دن لوگوں کو قبروں سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔

﴿15﴾ اللہ نے فرمایا تجھے مہلت دے دی گئی۔

﴿16﴾ کہنے لگا : اب چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے اس لیے میں (بھی) قسم کھاتا ہوں کہ ان (انسانوں) کی گھات لگا کر تیرے سیدھے راستے پر بیٹھ رہوں گا۔

﴿17﴾ پھر میں ان پر (چاروں طرف سے) حملے کروں گا، ان کے سامنے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی، اور ان کی دائیں طرف سے بھی، اور ان کی بائیں طرف سے بھی۔ اور تو ان میں سے اکثر لوگوں کو شکر گزار نہیں پائے گا۔

﴿18﴾ اللہ نے کہا : نکل جا یہاں سے، ذلیل اور مردار ہوکر، ان میں سے جو تیرے پیچھے چلے گا، (وہ بھی تیرا ساتھی ہوگا) اور میں تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔

﴿19﴾ اور اے آدم ! تم اور تمہاری بیوی دونوں جنت میں رہو، اور جہاں سے جو چیز چاہو، کھاؤ۔ البتہ اس (خاص) درخت کے قریب بھی مت پھٹکنا، ورنہ تم زیادتی کرنے والوں میں شامل ہوجاؤ گے۔

﴿20﴾ پھر ہوا یہ کہ شیطان نے ان دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا، تاکہ ان کی شرم کی جگہیں جو ان سے چھپائی گئی تھیں، ایک دوسرے کے سامنے کھول دے کہنے لگا کہ : تمہارے پروردگار نے تمہیں اس درخت سے کسی اور وجہ سے نہیں، بلکہ صرف اس وجہ سے روکا تھا کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ، یا تمہیں ہمیشہ کی زندگی نہ حاصل ہوجائے۔

﴿21﴾ اور ان کے سامنے وہ قسمیں کھا گیا کہ یقین جانو میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں۔

﴿22﴾ اس طرح اس نے دونوں کو دھوکا دے کر نیچے اتار ہی لیا۔ چنانچہ جب دونوں نے اس درخت کا مزہ چکھا تو ان دونوں کی شرم کی جگہیں ایک دوسرے پر کھل گئیں، اور وہ جنت کے کچھ پتے جوڑ جوڑ کر اپنے بدن پر چپکانے لگے۔ اور ان کے پروردگار نے انہیں آواز دی کہ : کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے روکا نہیں تھا، اور تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے ؟

﴿23﴾ دونوں بول اٹھے کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہم اپنی جانوں پر ظلم کر گزرے ہیں، اور اگر آپ نے ہمیں معاف نہ فرمایا اور ہم پر رحم نہ کیا تو یقینا ہم نامراد لوگوں میں شامل ہوجائیں گے۔

﴿24﴾ اللہ نے (آدم، ان کی بیوی اور ابلیس سے) فرمایا : اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے اور تمہارے لیے ایک مدت تک زمین میں ٹھہرنا اور کسی قدر فائدہ اٹھانا (طے کردیا گیا) ہے۔

﴿25﴾ فرمایا کہ : اسی (زمین) میں تم جیو گے، اور اسی میں تمہیں موت آئے گی، اور اسی سے تمہیں دوبارہ زندہ کرکے نکالا جائے گا۔

﴿26﴾ اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو ! ہم نے تمہارے لیے لباس نازل کیا ہے جو تمہارے جسم کے ان حصوں کو چھپا سکے جن کا کھولنا برا ہے، اور جو خوشنمائی کا ذریعہ بھی ہے۔ اور تقوی کا جو لباس ہے وہ سب سے بہتر ہے۔ یہ سب اللہ کی نشانیوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد یہ ہے کہ لوگ سبق حاصل کریں۔

﴿27﴾ اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو ! شیطان کو ایسا موقع ہرگز ہرگز نہ دینا کہ وہ تمہیں اسی طرح فتنے میں ڈال دے جیسے اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکالا، جبکہ ان کا لباس ان کے جسم سے اتر والیا تھا، تاکہ ان کو ایک دوسرے کی شرم کی جگہیں دکھا دے۔ اور وہ اس کا جتھ تمہیں وہاں سے دیکھتا ہے جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ ان شیطانوں کو ہم نے انہی کا دوست بنادیا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔

﴿28﴾ اور جب یہ (کافر) لوگ کوئی بےحیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو اسی طریقے پر عمل کرتے پایا ہے، اور اللہ نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا ہے۔ تم (ان سے) کہو کہ : اللہ بےحیائی کا حکم نہیں دیا کرتا۔ کیا تم وہ باتیں اللہ کے نام لگاتے ہو جن کا تمہیں ذرا علم نہیں ؟

﴿29﴾ کہو کہ : میرے پروردگار نے تو انصاف کا حکم دیا ہے۔ اور (یہ حکم دیا ہے کہ) جب کہیں سجدہ کرو، اپنا رخ ٹھیک ٹھیک رکھو، اور اس یقین کے ساتھ اس کو پکارو کہ اطاعت خالص اسی کا حق ہے۔ جس طرح اس نے تمہیں ابتدا میں پیدا کیا تھا۔ اسی طرح تم دوبارہ پیدا ہوگے۔

﴿30﴾ (تم میں سے) ایک گروہ کو تو اللہ نے ہدایت تک پہنچا دیا ہے، اور ایک گروہ وہ ہے جس پر گمراہی مسلط ہوگئی ہے، کیونکہ ان لوگوں نے اللہ کے بجائے شیطانوں کو دوست بنا لیا ہے، اور سمجھ یہ رہے ہیں کہ وہ سیدھے راستے پر ہیں۔

﴿31﴾ اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو ! جب کبھی مسجد میں آؤ تو اپنی خوشنمائی کا سامان (یعنی لباس جسم پر) لے کر آؤ، اور کھاؤ اور پیو، اور فضول خرچی مت کرو۔ یاد رکھو کہ اللہ فضول خرچ لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔

﴿32﴾ کہو کہ : آخر کون ہے جس نے زینت کے اس سامان کو حرام قرار دیا ہو جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کیا ہے اور (اسی طرح) پاکیزہ رزق کی چیزوں کو ؟ کہو کہ : جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ان کو یہ نعمتیں جو دنیوی زندگی میں ملی ہوئی ہیں، قیامت کے دن خالص انہی کے لیے ہوں گے۔ اسی طرح ہم تمام آیتیں ان لوگوں کے لیے تفصیل سے بیان کرتے ہیں جو علم سے کام لیں۔

﴿33﴾ کہہ دو کہ : میرے پروردگار نے تو بےحیائی کے کاموں کو حرام قرار دیا ہے، چاہے وہ بےحیائی کھلی ہوئی ہو یا چھپی ہوئی۔ نیز ہر قسم کے گناہ کو اور ناحق کسی سے زیادتی کرنے کو، اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک مانو جس کے بارے میں اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے، نیز اس بات کو کہ تم اللہ کے ذمے وہ باتیں لگاؤ جن کی حقیقت کا تمہیں ذرا بھی علم نہیں ہے۔

﴿34﴾ اور ہر قوم کے لیے ایک میعاد مقرر ہے۔ چنانچہ جب ان کی مقررہ میعاد آجاتی ہے تو وہ گھڑی بھر بھی اس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتے۔

﴿35﴾ (اور اللہ نے انسان کو پیدا کرتے وقت ہی یہ تنبیہ کردی تھی کہ) اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو ! اگر تمہارے پاس تم ہی میں سے کچھ پیغمبر آئیں جو تمہیں میری آیتیں پڑھ کر سنائیں، تو جو لوگ تقوی اختیار کریں گے اور اپنی اصلاح کرلیں گے، ان پر نہ کوئی خوف طاری ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

﴿36﴾ اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے، اور تکبر کے ساتھ ان سے منہ موڑا ہے، وہ لوگ دوزخ کے باسی ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

﴿37﴾ اب بتاؤ کہ اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے، یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے ؟ ایسے لوگوں کے مقدر میں (رزق کا) جتنا حصہ لکھا ہوا ہے، وہ انہیں (دنیا کی زندگی میں) پہنچتا رہے گا۔ یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی روح قبض کرنے کے لیے آپہنچیں گے تو وہ کہیں گے کہ : کہاں ہیں وہ (تمہارے معبود) جنہیں تم اللہ کے بجائے پکارا کرتے تھے ؟ یہ جواب دیں گے کہ : وہ سب ہم سے گم ہوچکے ہیں۔ اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے۔

﴿38﴾ اللہ فرمائے گا کہ : جاؤ، جنات اور انسانوں کے ان گروہوں کے ساتھ تم بھی دوزخ میں داخل ہوجاؤ جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ (اسی طرح) جب بھی کوئی گروہ دوزخ میں داخل ہوگا وہ اپنے جیسوں پر لعنت بھیجے گا یہاں تک کہ جب ایک کے بعد ایک، سب اس میں اکٹھے ہوجائیں گے تو ان میں سے جو لوگ بعد میں آئے تھے، وہ اپنے سے پہلے آنے والوں کے بارے میں کہیں گے کہ : اے ہمارے پروردگار ! انہوں نے ہمیں غلط راستے پر ڈالا تھا، اس لیے ان کو آگ کا دگنا عذاب دینا۔ اللہ فرمائے گا کہ : سبھی کا عذاب دگنا ہے، لیکن تمہیں (ابھی) پتہ نہیں ہے۔

﴿39﴾ اور پہلے آنے والے بعد میں آنے والوں سے کہیں گے : تو پھر تم کو ہم پر کوئی فوقیت تو حاصل نہ ہوئی۔ لہذا جو کمائی تم خود کرتے رہے ہو اس کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو۔

﴿40﴾ (لوگو) یقین رکھو کہ جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے، اور تکبر کے ساتھ ان سے منہ موڑا ہے، ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے، اور وہ جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوں گے جب تک کوئی اونٹ ایک سوئی کے ناکے میں داخل نہیں ہوجاتا اور اسی طرح ہم مجرموں کو ان کے کیے کا بدلہ دیا کرتے ہیں۔

﴿41﴾ ان کے لیے تو دوزخ ہی کا بچھونا ہے، اور اوپر سے اسی کا اوڑھنا۔ اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے کیے کا بدلہ دیا کرتے ہیں۔

﴿42﴾ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں (یاد رہے کہ) ہم کسی بھی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ کی تکلیف نہیں دیتے۔ تو ایسے لوگ جنت کے باسی ہیں۔ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

﴿43﴾ اور ان کے سینوں میں (ایک دوسرے سے دنیا میں) جو کوئی رنجش رہی ہوگی، اسے ہم نکال باہر کریں گے، ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، اور وہ کہیں گے : تمام تر شکر اللہ کا ہے، جس نے ہمیں اس منزل تک پہنچایا، اگر اللہ ہمیں نہ پہنچاتا تو ہم کبھی منزل تک نہ پہنچتے۔ ہمارے پروردگار کے پیغمبر واقعی ہمارے پاس بالکل سچی بات لے کر آئے تھے۔ اور ان سے پکار کر کہا جائے گا کہ : لوگو ! یہ ہے جنت ! تم جو عمل کرتے رہے ہو ان کی بنا پر تمہیں اس کا وارث بنادیا گیا ہے۔

﴿44﴾ اور جنت کے لوگ دوزخ والوں سے پکار کر کہیں گے کہ : ہمارے پروردگار نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا، ہم نے اسے بالکل سچا پایا ہے۔ اب تم بتاؤ کہ تمہارے پروردگار نے جو عدہ کیا تھا، کیا تم نے بھی اسے سچا پایا ؟ وہ جواب میں کہیں گے کہ : ہاں اتنے میں ایک منادی ان کے درمیان پکارے گا کہ : اللہ کی لعنت ہے ان ظالموں پر۔

﴿45﴾ جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے تھے، اور اس میں ٹیڑھ نکالنا چاہتے تھے، اور جو آخرت کا بالکل انکار کیا کرتے تھے۔

﴿46﴾ اور ان دونوں گروہوں (یعنی جنتیوں اور دوزخیوں) کے درمیان ایک آڑ ہوگی اور اعراف پر (یعنی اس آڑ کی بلندیوں پر) کچھ لوگ ہوں گے جو ہر گروہ کے لوگوں کو ان کی علامتوں سے پہچانتے ہوں گے۔ اور وہ جنت والوں کو آواز دے کر کہیں گے کہ : سلام ہو تم پر۔ وہ (اعراف والے) خود تو اس میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے، البتہ اشتیاق کے ساتھ امید لگائے ہوئے ہوں گے۔

﴿47﴾ اور جب ان کی نگاہوں کو دوزخ والوں کی سمت موڑا جائے گا تو وہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں ان ظالم لوگوں کے ساتھ نہ رکھنا۔

﴿48﴾ اور اعراف والے ان لوگوں کو آواز دیں گے جن کو وہ ان کی علامتوں سے پہچانتے ہوں گے۔ کہیں گے کہ : نہ تمہاری جمع پونجی تمہارے کچھ کام آئی، اور نہ وہ جنہیں تم بڑا سمجھے بیٹھے تھے۔

﴿49﴾ (پھر جنتیوں کی طرف اشارہ کر کے کہیں گے کہ) کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں تم نے قسمیں کھائی تھیں کہ اللہ ان کو اپنی رحمت کا کوئی حصہ نہیں دے گا ؟ (ان سے تو کہہ دیا گیا ہے کہ) جنت میں داخل ہوجاؤ، نہ تم کو کسی چیز کا ڈر ہوگا اور نہ تمہیں کبھی کوئی غم پیش آئے گا۔

﴿50﴾ اور دوزخ والے جنت والوں سے کہیں گے کہ : ہم پر تھوڑا سا پانی ہی ڈال دو ، یا اللہ نے تمہیں جو نعمتیں دی ہیں، ان کا کوئی حصہ (ہم تک بھی پہنچا دو) وہ جواب دیں گے کہ : اللہ نے یہ دونوں چیزیں ان کافروں پر حرام کردی ہیں۔

﴿51﴾ جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا تھا، اور جن کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا تھا۔ چنانچہ آج ہم بھی ان کو اسی طرح بھلا دیں گے جیسے وہ اس بات کو بھلائے بیٹھے تھے کہ انہیں اس دن کا سامنا کرنا ہے اور جیسے وہ ہماری آیتوں کا کھلم کھلا انکار کیا کرتے تھے۔

﴿52﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم ان کے پاس ایک ایسی کتاب لے آئے ہیں جس میں ہم نے اپنے علم کی بنیاد پر ہر چیز کی تفصیل بتادی ہے اور جو لوگ ایمان لائیں ان کے لیے وہ ہدایت اور رحمت ہے۔

﴿53﴾ (اب) یہ (کافر) اس آخری انجام کے سوا کس بات کے منتظر ہیں جو اس کتاب میں مذکور ہے ؟ (حالانکہ) جس دن وہ آخری انجام آگیا جو اس کتاب نے بتایا ہے، اس دن یہ لوگ جو اس انجام کو پہلے بھلا چکے تھے، یہ کہیں گے کہ : ہمارے پروردگار کے پیغمبر واقعی سچی خبر لائے تھے، اب کیا ہمیں کچھ سفارشی میسر آسکتے ہیں جو ہماری سفارش کریں، یا کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ ہمیں دوبارہ وہیں (دنیا میں) بھیج دیا جائے، تاکہ ہم جو (برے) کام پہلے کرتے رہے ہیں، ان کے برخلاف دوسرے (نیک) عمل کریں ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی جانوں کے لیے سخت گھاٹے کا سودا کرچکے ہیں، اور جو (دیوتا) انہوں نے گھڑ رکھے ہیں، انہیں (اس دن) ان کا کہیں سراغ نہیں ملے گا۔

﴿54﴾ یقینا تمہارا پروردگار وہ اللہ ہے جس نے سارے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے۔ پھر اس نے عرش پر استواء فرمایا۔ وہ دن کو رات کی چادر اڑھا دیتا ہے، جو تیز رفتاری سے چلتی ہوئی اس کو آدبوچتی ہے۔ اور اس نے سورج اور چاند تارے پیدا کیے ہیں جو سب اس کے حکم کے آگے رام ہیں۔ یاد رکھو کہ پیدا کرنا اور حکم دینا سب اسی کا کام ہے۔ بڑی برکت والا ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

﴿55﴾ تم اپنے پروردگار کو عاجزی کے ساتھ چپکے چپکے پکارا کرو۔ یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

﴿56﴾ اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو، اور اس کی عبادت اس طرح کرو کہ دل میں خوف بھی ہو او امید بھی۔ یقینا اللہ کی رحمت نیک لوگوں سے قریب ہے۔

﴿57﴾ اور وہی (اللہ) ہے جو اپنی رحمت (یعنی بارش) کے آگے آگے ہوائیں بھیجتا ہے جو (بارش کی) خوشخبری دیتی ہیں، یہاں تک کہ جب وہ بوجھ بادلوں کو اٹھالیتی ہیں تو ہم انہیں کسی مردہ زمین کی طرف ہنکالے جاتے ہیں، پھر وہاں پانی برساتے ہیں، اور اس کے ذریعے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو بھی زندہ کر کے نکالیں گے۔ شاید (ان باتوں پر غور کر کے) تم سبق حاصل کرلو۔

﴿58﴾ اور جو زمین اچھی ہوتی ہے اس کی پیداوار تو اپنے رب کے حکم سے نکل آتی ہے اور جو زمین خراب ہوگئی ہو اس سے ناقص پیداوار کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ اسی طرح ہم نے نشانیوں کے مختلف رخ دکھاتے رہتے ہیں، (مگر) ان لوگوں کے لیے جو قدردانی کریں۔

﴿59﴾ ہم نے نوح کو ان کی قوم کے پاس بھیجا چنانچہ انہوں نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ یقین جانو مجھے سخت اندیشہ ہے کہ تم پر ایک زبردست دن کا عذاب نہ آکھڑا ہو۔

﴿60﴾ ان کی قوم کے سرداروں نے کہا : ہم تو یقینی طور پر دیکھ رہے ہیں کہ تم کھلی گمراہی میں مبتلا ہو۔

﴿61﴾ نوح نے جواب دیا : اے میری قوم ! مجھے کوئی گمراہی نہیں لگی، مگر میں رب العالمین کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں۔

﴿62﴾ میں تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں، اور تمہارا بھلا چاہتا ہوں۔ مجھے اللہ کی طرف سے ایسی باتوں کا علم ہے، جن کا تمہیں پتہ نہیں ہے۔

﴿63﴾ بھلا کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے رب کی نصیحت ایک ایسے آدمی کے ذریعے تم تک پہنچی ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے اور تم بدعملی سے بچ کر رہو، اور تاکہ تم پر (اللہ کی) رحمت ہو ؟

﴿64﴾ پھر بھی انہوں نے نوح کو جھٹلایا، چنانچہ ہم نے ان کو اور کشتی میں ان کے ساتھیوں کو نجات دی۔ اور ان سب لوگوں کو غرق کردیا جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا۔ یقینا وہ اندھے لوگ تھے۔

﴿65﴾ اور قوم عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا پھر بھی تم اللہ سے نہیں ڈرو گے ؟

﴿66﴾ ان کی قوم کے سردار جنہوں نے کفر اپنا رکھا تھا، کہنے لگے : ہم تو یقینی طور پر دیکھ رہے ہیں کہ تم بےوقوفی میں مبتلا ہو، اور بیشک ہمارا گمان یہ ہے کہ تم ایک جھوٹے آدمی ہو۔

﴿67﴾ ہود نے کہا : اے میری قوم ! مجھے کوئی بےوقوفی لاحق نہیں ہوئی، بلکہ میں رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا پیغمبر ہوں۔

﴿68﴾ میں اپنے پروردگار کے پیغامات تم تک پہنچاتا ہوں، اور میں تمہارا ایسا خیر خواہ ہوں جس پر تم اطمینان کرسکتے ہو۔

﴿69﴾ بھلا کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے رب کی نصیحت ایک ایسے آدمی کے ذریعے تم تک پہنچی ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے ؟ اور وہ وقت یاد کرو جب اس نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بعد تمہیں جانشین بنایا، اور جسم کی ڈیل ڈول میں تمہیں (دوسروں سے) بڑھا چڑھا کر رکھا۔ لہذا اللہ کی نعمتوں پر دھیان دو ، تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔

﴿70﴾ انہوں نے کہا : کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم تنہا اللہ کی عبادت کریں، اور جن (بتوں) کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں انہیں چھوڑ بیٹھیں ؟ اچھا اگر تم سچے ہو تو لے آؤ ہمارے سامنے وہ (عذاب) جس کی ہمیں دھمکی دے رہے ہو۔

﴿71﴾ ہود نے کہا : اب تمہارے رب کی طرف سے تم پر عذاب اور قہر کا آنا طے ہوچکا ہے۔ کیا تم مجھ سے (مختلف بتوں کے) ان ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لیے ہیں، جن کی تائید میں اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی ؟ بس تو تم انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

﴿72﴾ چنانچہ ہم نے ان کو (یعنی ہود (علیہ السلام) کو) اور ان کے ساتھیوں کو اپنی رحمت کے ذریعے نجات دی، اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ ڈالی جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا، اور مومن نہیں ہوئے تھے۔

﴿73﴾ اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ انہوں نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل آچکی ہے۔ یہ اللہ کی اونٹنی ہے جو تمہارے لیے ایک نشانی بن کر آئی ہے۔ اس لیے اس کو آزاد چھوڑ دو کہ وہ اللہ کی زمین میں چرتی پھرے اور اسے کسی برائی کے ارادے سے چھونا بھی نہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں ایک دکھ دینے والا عذاب آپکڑے۔

﴿74﴾ اور وہ وقت یا دکرو جب اللہ نے تمہیں قوم عاد کے بعد جانشین بنایا، اور تمہیں زمین پر اس طرح بسایا کہ تم اس کے ہموار علاقوں میں محل بناتے ہو، اور پہاڑوں کو تراش کر گھروں کی شکل دے دیتے ہو۔ لہذا للہ کی نعمتوں پر دھیان دو ، اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو۔

﴿75﴾ ان کی قوم کے سرداروں نے جو بڑائی کے گھمنڈ میں تھے، ان کمزوروں سے پوچھا جو ایمان لے آئے تھے کہ : کیا تمہیں اس بات کا یقین ہے کہ صالح اپنے رب کی طرف سے بھیجے ہوئے پیغمبر ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ : بیشک ہم تو اس پیغام پر پورا ایمان رکھتے ہیں جو ان کے ذریعے بھیجا گیا ہے

﴿76﴾ وہ مغرور لوگ کہنے لگے : جس پیغام پر تم ایمان لائے ہو، اس کے تو ہم سب منکر ہیں۔

﴿77﴾ چنانچہ انہوں نے اونٹنی کو مارڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی، اور کہا : صالح ! اگر تم واقعی ایک پیغمبر ہو تو لے آؤ وہ (عذاب) جس کی ہمیں دھمکی دیتے ہو۔

﴿78﴾ نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں زلزلے نے آپکڑا اور وہ اپنے گھر میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

﴿79﴾ اس موقع پر صالح ان سے منہ موڑ کر چل دیے، اور کہنے لگے : اے میری قوم ! میں نے تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچایا اور تمہاری خیر خواہی کی، مگر (افسوس کہ) تم خیر خواہوں کو پسند ہی نہیں کرتے تھے۔

﴿80﴾ اور ہم نے لوط کو بھیجا جب اس نے اپنی قوم سے کہا : کیا تم اس بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا جہاں کے کسی شخص نے نہیں کی ؟

﴿81﴾ تم جنسی ہوس پوری کرنے کے لیے عورتوں کے بجائے مردوں کے پاس جاتے ہو۔ (اور یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں) بلکہ تم ایسے لوگ ہو کہ (شرافت کی) تمام حدیں پھلانگ چکے ہو۔

﴿82﴾ ان کی قوم کا جواب یہ کہنے کے سوا کچھ اور نہیں تھا کہ : نکالو ان کو اپنی بستی سے ! یہ لوگ ہیں جو بڑے پاکباز بنتے ہیں۔

﴿83﴾ پھر ہوا یہ کہ ہم نے ان کو (یعنی لوط (علیہ السلام) کو) اور ان کے گھر والوں کو (بستی سے نکال کر) بچا لیا، البتہ ان کی بیوی تھی جو باقی لوگوں میں شامل رہی (جو عذاب کا نشانہ بنے)

﴿84﴾ اور ہم نے ان پر (پتھروں کی) ایک بارش برسائی۔ اب دیکھو ! ان مجرموں کا انجام کیسا (ہولناک) ہوا ؟

﴿85﴾ اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ انہوں نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک روشن دلیل آچکی ہے۔ لہذا ناپ تول پورا پورا کیا کرو۔ اور جو چیزیں لوگوں کی ملکیت میں ہیں ان میں ان کی حق تلفی نہ کرو۔ اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو۔ لوگو ! یہی طریقہ تمہارے لیے بھلائی کا ہے، اگر تم میری بات مان لو۔

﴿86﴾ اور ایسا نہ کیا کرو کہ راستوں پر بیٹھ کر لوگوں کو دھمکیاں دو ، اور جو لوگ اللہ پر ایمان لائے ہیں، ان کو اللہ کے راستے سے روکو، اور اس میں ٹیڑھ پیدا کرنے کی کوشش کرو۔ اور وہ وقت یاد کرو جب تم کم تھے، پھر اللہ نے تمہیں زیادہ کردیا، اور یہ بھی دیکھو کہ فساد مچانے والوں کا انجام کیسا ہوا ہے۔

﴿87﴾ اور اگر تم میں سے ایک گروہ اس پیغام پر ایمان لے آیا ہے جو میرے ذریعے بھیجا گیا ہے اور دوسرا گروہ ایمان نہیں لایا، تو ذرا اس وقت تک صبر کرو جب تک اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کردے۔ اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

﴿88﴾ ان کی قوم کے سردار جو بڑائی کے گھمنڈ میں تھے، کہنے لگے : اے شعیب ! ہم نے پکا ارادہ کرلیا ہے کہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھ تمام ایمان والوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے، ورنہ تم سب کو ہمارے دین میں واپس آنا پڑے گا۔ شعیب نے کہا : اچھا ؟ اگر ہم (تمہارے دین سے) نفرت کرتے ہوں، تب بھی ؟

﴿89﴾ ہم اللہ پر جھوٹا بہتان باندھیں گے، اگر تمہارے دین کی طرف لوٹ آئیں گے، جبکہ اللہ نے ہمیں اس سے نجات دے دی ہے۔ ہمارے لیے تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اس کی طرف واپس جائیں۔ ہاں اللہ ہمارا پروردگار ہی کچھ چاہے تو اور بات ہے۔ ہمارے رب نے اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ اللہ ہی پر ہم نے بھروسہ کر رکھا ہے۔ اے ہمارے رب ! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کا فیصلہ فرمادے۔ اور تو ہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

﴿90﴾ اور ان کی قوم کے وہ سردار جنہوں نے کفر اپنایا ہوا تھا (قوم کے لوگوں سے) کہنے لگے : اگر تم شعیب کے پیچھے چلے تو یاد رکھو اس صورت میں تمہیں سخت نقصان اٹھانا پڑے گا۔

﴿91﴾ پھر ہوا یہ کہ انہیں زلزلے نے آپکڑا اور وہ اپنے گھر میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

﴿92﴾ جن لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا، وہ ایسے ہوگئے جیسے کبھی وہاں بسے ہی نہیں تھے۔ جن لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا، آخر کو نقصان اٹھانے والے وہی ہوئے۔

﴿93﴾ چنانچہ وہ (یعنی شعیب (علیہ السلام)) ان سے منہ موڑ کر چل دیے، اور کہنے لگے : اے قوم ! میں نے تجھے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے تھے، اور تیرا بھلا چاہا تھا۔ (مگر) اب میں اس قوم پر کیا افسوس کروں جو ناشکری تھی۔

﴿94﴾ اور ہم نے جس کسی بستی میں کوئی پیغمبر بھیجا، اس میں رہنے والوں کو بدحالی اور تکلیفوں میں گرفتار ضرور کیا، تاکہ وہ عاجزی اختیار کریں۔

﴿95﴾ پھر ہم نے کیفیت بدلی، بدحالی کی جگہ خوشحالی عطا فرمائی، یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے، اور کہنے لگے کہ دکھ سکھ تو ہمارے باپ دادوں کو بھی پہنچتے رہے ہیں۔ پھر ہم نے انہیں اچانک اس طرح پکڑ لیا کہ انہیں (پہلے سے) پتہ بھی نہیں چل سکا۔

﴿96﴾ اور اگر یہ بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقوی اختیار کرلیتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین دونوں طرف سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔ لیکن انہوں نے (حق کو) جھٹلایا، اس لیے ان کی مسلسل بدعملی کی پاداش میں ہم نے ان کو اپنی پکڑ میں لے لیا۔

﴿97﴾ اب بتاؤ کہ کیا (دوسری) بستیوں کے لوگ اس بات سے بالکل بےخوف ہوگئے ہیں کہ کسی رات ہمارا عذاب ان پر ایسے وقت آپڑے جب وہ سوئے ہوئے ہوں ؟

﴿98﴾ اور کیا ان بستیوں کے لوگوں کو اس بات کا (بھی) کوئی ڈر نہیں ہے کہ ہمارا عذاب ان پر کبھی دن چڑھے آجائے جب وہ کھیل کود میں لگے ہوئے ہوں ؟

﴿99﴾ بھلا کیا یہ لوگ اللہ کی دی ہوئی ڈھیل (کے انجام) سے بےفکر ہوچکے ہیں ؟ (اگر ایسا ہے) تو (یہ یاد رکھیں کہ) اللہ کی دی ہوئی ڈھیل سے وہی لوگ بےفکر ہو بیٹھتے ہیں جو آخر کار نقصان اٹھانے والے ہوتے ہیں۔

﴿100﴾ جو لوگ کسی زمین (کے باشندوں کی ہلاکت) کے بعد اس کے وارث بن جاتے ہیں، بھلا کیا ان کو یہ سبق نہیں ملا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو (بھی) ان کے گناہوں کی وجہ سے کسی مصیبت میں مبتلا کردیں ؟ اور (جو لوگ اپنی ضد کی وجہ سے یہ سبق نہیں لیتے) ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ کوئی بات نہیں سنتے۔

﴿101﴾ یہی ہیں وہ بستیاں جن کے واقعات ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ان سب کے پاس ان کے پیغمبر کھلے کھلے دلائل لے کر آئے تھے، مگر جس بات کو وہ پہلے جھٹلا چکے تھے، اس پر کبھی ایمان لانے کو تیار نہیں ہوئے۔ جو لوگ کفر کو اپنا چکے ہوتے ہیں، ان کے دلوں پر اللہ اسی طرح مہر لگا دیتا ہے۔

﴿102﴾ ہم نے ان کی اکثریت میں عہد کی کوئی پاسداری نہیں پائی، اور واقعہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگوں کو ہم نے نافرمان ہی پایا۔

﴿103﴾ پھر ہم نے ان سب کے بعد موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تو انہوں نے (بھی) ان (نشانیوں) کی ظالمانہ ناقدری کی۔ اب دیکھو کہ ان مفسدوں کا انجام کیسا ہوا۔

﴿104﴾ موسیٰ نے کہا تھا کہ : اے فرعون ! یقین جانو کہ میں رب العالمین کی طرف سے پیغمبر بن کر آیا ہوں۔

﴿105﴾ میرا فرض ہے کہ میں اللہ کی طرف منسوب کر کے حق کے سوا کوئی اور بات نہ کہوں۔ میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک کھلی دلیل لے کر آیا ہوں، لہذا بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو ۔

﴿106﴾ اس نے کہا کہ : اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو اسے پیش کرو، اگر تم ایک سچے آدمی ہو۔

﴿107﴾ اس پر موسیٰ نے اپنی لاٹھی پھینکی تو اچانک وہ ایک صاف صاف اژدھا بن گیا۔

﴿108﴾ اور اپنا ہاتھ (گریبان سے) کھینچا تو وہ سارے دیکھنے والوں کے لیے سامنے یکایک چمکنے لگا۔

﴿109﴾ فرعون کی قوم کے سردار (ایک دوسرے سے) کہنے لگے کہ : یہ تو یقینی طور پر بڑا ماہر جادوگر ہے۔

﴿110﴾ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہاری زمین سے نکال باہر کرے۔ اب بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے ؟

﴿111﴾ انہوں نے کہا کہ : ذرا اس کو اور اس کے بھائی کو کچھ مہلت دو ، اور تمام شہروں میں ہر کارے بھیج دو ۔

﴿112﴾ تاکہ وہ تمام ماہر جادوگروں کو جمع کر کے تمہارے پاس لے آئیں۔

﴿113﴾ (چنانچہ ایسا ہی ہوا) اور جادوگر فرعون کے پاس آگئے (اور) انہوں نے کہا کہ : اگر ہم (موسیٰ پر) غالب آگئے تو ہمیں کوئی انعام تو ضرور ملے گا۔

﴿114﴾ فرعون نے کہا : ہاں، اور تمہارا شمار یقینا ہمارے مقرب لوگوں میں (بھی) ہوگا۔

﴿115﴾ انہوں نے (موسیٰ سے کہا : چاہو تو (جو پھینکنا چاہتے ہو) تم پھینکو، ورنہ ہم (اپنے جادو کی چیز) پھینکیں ؟

﴿116﴾ موسیٰ نے کہا : تم پھینکو ! چنانچہ جب انہوں نے (اپنی لاٹھیاں اور رسیاں) پھینکیں تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا، ان پر دہشت طاری کردی، اور زبردست جادو کا مظاہرہ کیا۔

﴿117﴾ اور ہم نے موسیٰ کو وحی کے ذریعے حکم دیا کہ تم اپنی لاٹھی ڈال دو ۔ بس پھر کیا تھا، اس نے دیکھتے ہی دیکھتے وہ ساری چیزیں نگلنی شروع کردیں جو انہوں نے جھوٹ موٹ بنائی تھیں

﴿118﴾ اس طرح حق کھل کر سامنے آگیا اور ان کا بنا بنایا کام مل یا میٹ ہوگیا۔

﴿119﴾ اس موقع پر وہ مغلوب ہوئے، اور شدید سبکی کی حالت میں (مقابلے سے) پلٹ کر آگئے۔

﴿120﴾ اور اس واقعے نے سارے جادوگروں کو بےساختہ سجدے میں گرا دیا۔

﴿121﴾ وہ پکار اٹھے کہ : ہم اس رب العالمین پر ایمان لے آئے۔

﴿122﴾ جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے۔

﴿123﴾ فرعون بولا : تم میرے اجازت دینے سے پہلے ہی اس شخص پر ایمان لے آئے۔ یہ ضرور کوئی سازش ہے جو تم نے اس شہر میں ملی بھگت کر کے بنائی ہے، تاکہ تم یہاں کے رہنے والوں کو یہاں سے نکال باہر کرو۔ اچھا تو تمہیں ابھی پتہ چل جائے گا۔

﴿124﴾ میں نے بھی پکا ارادہ کرلیا ہے کہ تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالوں گا، پھر تم سب کو اکٹھے سولی پر لٹکا کر رہوں گا۔

﴿125﴾ انہوں نے کہا : یقین رکھ کہ ہم (مر کر) اپنے مالک ہی کے پاس واپس جائیں گے۔

﴿126﴾ اور تو اس کے سوا ہماری کس بات سے ناراض ہے کہ جب ہمارے مالک کی نشانیاں ہمارے پاس آگئیں تو ہم ان پر ایمان لے آئے ؟ اے ہمارے پروردگار ! ہم پر صبر کے پیمانے انڈیل دے، اور ہمیں اس حالت میں موت دے کہ ہم تیرے تابع دار ہوں۔

﴿127﴾ اور فرعون کی قوم کے سرداروں نے (فرعون سے) کہا : کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو کھلا چھوڑ رہے ہیں، تاکہ وہ زمین میں فساد مچائیں، اور آپ اور آپ کے خداؤں کو پس پشت ڈال دیں ؟ وہ بولا : ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھیں گے اور ہمیں ان پر پورا پورا قابو حاصل ہے۔

﴿128﴾ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : اللہ سے مدد مانگو اور صبر سے کام لو۔ یقین رکھو کہ زمین اللہ کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے۔ اور آخری انجام پرہیزگاروں ہی کے حق میں ہوتا ہے۔

﴿129﴾ انہوں نے کہا کہ : ہمیں تو آپ کے آنے سے پہلے بھی ستایا گیا تھا، اور آپ کے آنے کے بعد بھی (ستایا جارہا ہے) موسیٰ نے کہا : امید رکھو کہ اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کردے گا، اور تمہیں زمین میں اس کا جانشین بنا دے گا، پھر دیکھے گا کہ تم کیسا کام کرتے ہو۔

﴿130﴾ اور ہم نے فرعون کے لوگوں کو قحط سالی اور پیداوار کی کمی میں مبتلا کیا، تاکہ ان کو تنبیہ ہو۔

﴿131﴾ (مگر) نتیجہ یہ ہوا کہ اگر ان پر خوش حالی آتی تو وہ کہتے : یہ تو ہمارا حق تھا، اور اگر ان پر کوئی مصیبت پڑجاتی تو اس کو موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے۔ ارے (یہ تو) خود ان کی نحوست (تھی جو) اللہ کے علم میں تھی، لیکن ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں تھے۔

﴿132﴾ اور (موسیٰ سے) کہتے تھے کہ : تم ہم پر اپنا جادو چلانے کے لیے چاہے کیسی بھی نشانی لے کر آجاؤ، ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

﴿133﴾ چنانچہ ہم نے ان پر طوفان، ٹڈیوں، گھن کے کیڑوں، مینڈکوں اور خون کی بلائیں چھوڑیں، جو سب علیحدہ علیحدہ نشانیاں تھیں۔ پھر بھی انہوں نے تکبر کا مظاہرہ کیا، اور وہ بڑے مجرم لوگ تھے۔

﴿134﴾ اور جب ان پر عذاب آپڑتا تو وہ کہتے : اے موسیٰ ! تمہارے پاس اللہ کا جو عہد ہے، اس کا واسطہ دے کر ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کردو (کہ یہ عذاب ہم سے دور ہوجائے) اور اگر واقعی تم نے ہم پر سے یہ عذاب ہٹا دیا تو ہم تمہاری مان لیں گے، اور بنی اسرائیل کو ضرور تمہارے ساتھ بھیج دیں گے۔

﴿135﴾ پھر جب ہم ان پر سے عذاب کو، اتنی مدت تک ہٹا لیتے جس تک انہیں پہنچنا ہی تھا تو وہ ایک دم اپنے وعدے سے پھرجاتے۔

﴿136﴾ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان سے بدلہ لیا اور انہیں سمندر میں غرق کردیا۔ کیونکہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا، اور ان سے بالکل بےپرواہ ہوگئے تھے۔

﴿137﴾ اور جن لوگوں کو کمزور سمجھا جاتا تھا، ہم نے انہیں اس سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنادیا جس پر ہم نے برکتیں نازل کی تھیں۔ اور بنی اسرائیل کے حق میں تمہارے رب کا کلمہ خیر پورا ہوا، کیونکہ انہوں نے صبر سے کام لیا تھا۔ اور فرعون اور اس کی قوم جو کچھ بناتی چڑھاتی رہی تھی، اس سب کو ہم نے مل یا میٹ کردیا۔

﴿138﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل سے سمندر پار کروایا، تو وہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو اپنے بتوں سے لگے بیٹھے تھے، بنی اسرائیل کہنے لگے : اے موسیٰ ! ہمارے لیے بھی کوئی ایسا ہی دیوتا بنادو جیسے ان لوگوں کے دیوتا ہیں۔ موسیٰ نے کہا : تم ایسے (عجیب) لوگ ہو جو جہالت کی باتیں کرتے ہو۔

﴿139﴾ ارے یہ لوگ تو وہ ہیں کہ جس دھندے میں لگے ہوئے ہیں سب برباد ہونے والا ہے، اور جو کچھ کرتے آرہے ہیں، سب باطل ہے۔

﴿140﴾ (اور) کہا کہ : کیا تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی اور معبود ڈھونڈ کر لاؤں حالانکہ اسی نے تمہیں دنیا جہان کے سارے لوگوں پر فضیلت دے رکھی ہے۔

﴿141﴾ اور (اللہ فرماتا ہے کہ) یاد کرو ہم نے تمہیں فرعون کے لوگوں سے بچایا ہے جو تمہیں بدترین تکلیفیں پہنچاتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے، اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے۔ اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔

﴿142﴾ اور ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ ٹھہرایا (کہ ان راتوں میں کوہ طور پر آکر اعتکاف کریں) پھر دس راتیں مزید بڑھا کر ان کی تکمیل کی اور اس طرح ان کے رب کی ٹھہرائی ہوئی میعاد کل چالیس راتیں ہوگئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ : میرے پیچھے تم میری قوم میں میرے قائم مقام بن جانا، تمام معامات درست رکھنا اور مفسد لوگوں کے پیچھے نہ چلنا۔

﴿143﴾ اور جب موسیٰ ہمارے مقررہ وقت پر پہنچے اور ان کا رب ان سے ہم کلام ہوا تو وہ کہنے لگے : میرے پروردگار ! مجھے دیدار کرا دیجیے کہ میں آپ کو دیکھ لوں۔ فرمایا : تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکو گے، البتہ پہاڑ کی طرف نظر اٹھاؤ، اس کے بعد اگر وہ اپنی جگہ برقرار رہا تو تم مجھے دیکھ لو گے۔ پھر جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو اس کو ریزہ ریزہ کردیا، اور موسیٰ بےہوش ہو کر گرپڑے۔ بعد میں جب انہیں ہوش آیا تو انہوں نے کہا : پاک ہے آپ کی ذات۔ میں آپ کے حضور توبہ کرتا ہوں اور (آپ کی اس بات پر کہ دنیا میں کوئی آپ کو نہیں دیکھ سکتا) میں سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں۔

﴿144﴾ فرمایا : اے موسیٰ ! میں نے اپنے پیغام دے کر اور تمام سے ہم کلام ہو کر تمہیں تمام انسانوں پر فوقیت دی ہے۔ لہذا میں نے جو کچھ تمہیں دیا ہے، اسے لے لو، اور ایک شکر گزار شخص بن جاؤ۔

﴿145﴾ اور ہم نے ان کے لیے تختیوں میں ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی، (اور یہ حکم دیا کہ) اب اس کو مضبوطی سے تھام لو، اور اپنی قوم کو حکم دو کہ اس کے بہترین احکام پر عمل کریں۔ میں عنقریب تم کو نافرمانوں کا گھر دکھا دوں گا۔

﴿146﴾ میں اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کو برگشتہ رکھوں گا جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں، اور وہ اگر ہر طرح کی نشانیاں دیکھ لیں تو ان پر ایمان نہیں لائیں گے۔ اور اگر انہیں ہدایت کا سیدھا راستہ نظر آئے تو اس کو اپنا طریقہ نہیں بنائیں گے، اور اگر گمراہی کا راستہ نظر آجائے تو اس کو اپنا طریقہ بنالیں گے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا، اور ان سے بالکل بےپرواہ ہوگئے۔

﴿147﴾ اور جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کو اور آخرت کا سامنا کرنے کو جھٹلایا ہے، ان کے اعمال غارت ہوگئے ہیں۔ انہیں جو بدلہ دیا جائے گا، وہ کسی اور چیز کا نہیں خود ان اعمال کا ہوگا جو وہ کرتے آئے تھے۔

﴿148﴾ اور موسیٰ کی قوم نے ان کے جانے کے بعد اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنا لیا (بچھڑا کیا تھا ؟) ایک بےجان جسم جس سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ بھلا کیا انہوں نے اتنا بھی نہیں دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے، اور نہ انہیں کوئی راستہ بتاسکتا ہے ؟ (مگر) اسے معبود بنا لیا، اور (خود اپنی جانوں کے لیے) ظالم بن بیٹھے۔

﴿149﴾ اور جب اپنے کیے پر پچھتائے، اور سمجھ گئے کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے : اگر اللہ نے ہم پر رحم نہ فرمایا، اور ہماری بخشش نہ کی تو یقینا ہم برباد ہوجائیں گے۔

﴿150﴾ اور جب موسیٰ غصے اور رنج میں بھرے ہوئے اپنی قوم کے پاس واپس آئے تو انہوں نے کہا : تم نے میرے بعد میری کتنی بری نمائندگی کی۔ کیا تم نے اتنی جلد بازی سے کام لیا کہ اپنے رب کے حکم کا بھی انتظار نہیں ؟ اور (یہ کہہ کر) انہوں نے تختیاں پھینک دیں۔ اور اپنے بھائی (ہارون (علیہ السلام)) کا سر پکڑ کر ان کو اپنی طرف کھینچنے لگے۔ وہ بولے : اے میری ماں کے بیٹے ! یقین جانیے کہ ان لوگوں نے مجھے کمزور سمجھا۔ اور قریب تھا کہ مجھے قتل ہی کردیتے۔ اب آپ دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دیجیے، اور مجھے ان ظالم لوگوں میں شمار نہ کیجیے۔

﴿151﴾ موسیٰ نے کہا : میرے پروردگار ! میری اور میرے بھائی کی مغفرت فرمادے، اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کردے۔ تو تمام رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

﴿152﴾ (اللہ نے فرمایا) جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا ہے، ان پر جلد ہی ان کے رب کا غضب اور دنیوی زندگی ہی میں ذلت آپڑے گی۔ جو لوگ افترا پردازی کرتے ہیں ان کو ہم اسی طرح سزا دیتے ہیں۔

﴿153﴾ او جو لوگ برے کام کر گزریں، پھر ان کے بعد توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں تو تمہارا رب اس توبہ کے بعد (ان کے لیے) بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿154﴾ اور جب موسیٰ کا غصہ تھم گیا تو انہوں نے تختیاں اٹھالیں، اور ان میں جو باتیں لکھی تھیں، اس میں ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا سامان تھا جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔

﴿155﴾ اور موسیٰ نے اپنی قوم کے ستر آدمی منتخب کیے، تاکہ انہیں ہمارے طے کیے ہوئے وقت پر (کوہ طور) لائیں۔ پھر جب انہیں زلزلے نے آپکڑا تو موسیٰ نے کہا : میرے پروردگار ! اگر آپ چاہتے تو ان کو اور خود مجھ کو بھی پہلے ہی ہلاک کردیتے، کیا ہم میں سے کچھ بیوقوفوں کی حرکت کی وجہ سے آپ ہم سب کو ہلاک کردیں گے ؟ (ظاہر ہے کہ نہیں۔ لہذا پتہ چلا کہ) یہ واقعہ آپ کی طرف سے صرف ایک امتحان ہے جس کے ذریعے آپ جس کو چاہیں گمراہ کردیں، اور جس کو چاہیں ہدایت دے دیں۔ آپ ہی ہمارے رکھوالے ہیں۔ اس لیے ہمیں معاف کردیجیے، اور ہم پر رحم فرمایے۔ بیشک آپ سارے معاف کرنے والوں سے بہتر معاف کرنے والے ہیں۔

﴿156﴾ اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دیجیے اور آخرت میں بھی۔ ہم (اس غرض کے لیے) آپ ہی سے رجوع کرتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا : اپنا عذاب تو میں اسی پر نازل کرتا ہوں جس پر چاہتا ہوں۔ اور جہاں تک میری رحمت کا تعلق ہے وہ ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔ چنانچہ میں یہ رحمت (مکمل طور پر) ان لوگوں کے لیے لکھوں گا جو تقوی اختیار کریں، اور زکوٰۃ ادا کریں، اور جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھیں۔

﴿157﴾ جو اس رسول یعنی نبی امی کے پیچھے چلیں جس کا ذکر وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پائیں گے جو انہیں اچھی باتوں کا حکم دے گا، برائیوں سے روکے گا، اور ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال اور گندی چیزوں کو حرام قرار دے گا، اور ان پر سے وہ بوجھ اور گلے کے وہ طوق اتار دے گا جو ان پر لدے ہوئے تھے۔ چنانچہ جو لوگ اس (نبی) پر ایمان لائیں گے اس کی تعظیم کریں گے اس کی مدد کریں گے، اور اس کے ساتھ جو نور اتارا گیا ہے اس کے پیچھے چلیں گے تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہوں گے۔

﴿158﴾ (اے رسول ان سے) کہو کہ : اے لوگو ! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں جس کے قبضے میں تمام آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی زندگی اور موت دیتا ہے۔ اب تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ جو نبی امی ہے، اور جو اللہ پر اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے، اور اس کی پیروی کرو تاکہ تمہیں ہدایت حاصل ہو۔

﴿159﴾ اور موسیٰ کی قوم میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو لوگوں کو حق کا راستہ دکھاتی ہے اور اسی (حق) کے مطابق انصاف سے کام لیتی ہے۔

﴿160﴾ اور ہم نے ان کو (یعنی بنی اسرائیل کو) بارہ خاندانوں میں اس طرح تقسیم کردیا تھا کہ وہ الگ الگ (انتقامی) جماعتوں کی صورت اختیار کر گئے تھے۔ اور جب موسیٰ کی قوم نے ان سے پانی مانگا تو ہم نے ان کو وحی کے ذریعے حکم دیا کہ اپنی لاٹھی فلاں پتھر پر مارو۔ چنانچہ اس پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔ ہر خاندان کو اپنی پانی پینے کی جگہ معلوم ہوگئی۔ اور ہم نے ان کو بادل کا سایہ دیا، اور ہم نے ان پر من وسلوی (یہ کہہ کر) اتارا کہ : کھاؤ وہ پاکیزہ رزق جو ہم نے تمہیں دیا ہے۔ اور (اس کے باوجود انہوں نے ناشکری کی تو) انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا، بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔

﴿161﴾ اور وہ وقت یاد کرو جب ان سے کہا گیا تھا کہ : اس بستی میں جاکر بس جاؤ، اور اس میں جہاں سے چاہو کھاؤ، اور یہ کہتے جانا کہ (یا اللہ) ہم آپ کی بخشش کے طلب گار ہیں، اور (بستی کے) دروازے میں جھکے ہوئے سروں کے ساتھ داخل ہونا، تو ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے، (اور) نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ (ثواب) بھی دیں گے۔

﴿162﴾ پھر ہوا یہ کہ جو بات ان سے کہی گئی تھی ان میں سے ظالم لوگوں نے اسے بدل کر دوسری بات بنا لی۔ تب ہم نے ان کی مسلسل زیادتیوں کی وجہ سے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا۔

﴿163﴾ اور ان سے اس بستی کے بارے میں پوچھو جو سمندر کے کنارے آباد تھی، جب وہ سبت (سینچر) کے معاملے میں زیادتیاں کرتے تھے۔ جب ان (کے سمندر) کی مچھلیاں سینچر کے دن تو اچھل اچھل کر سامنے آتی تھیں، اور جب وہ سینچر کا دن نہ منا رہے ہوتے تو وہ نہیں آتی تھیں۔ اس طرح ان کی مسلسل نافرمانیوں کی وجہ سے ہم انہیں آزماتے تھے۔

﴿164﴾ اور (وہ وقت انہیں یاد دلاؤ) جب انہی کے ایک گروہ نے (دوسرے گروہ سے) کہا تھا کہ : تم ان لوگوں کو کیوں نصیحت کر رہے ہو جنہیں اللہ یا تو ہلاک کرنے والا ہے، یا کوئی سخت قسم کا عذاب دینے والا ہے ؟ دوسرے گروہ کے لوگوں نے کہا کہ : یہ ہم اس لیے کرتے ہیں تاکہ تمہارے رب کے حضور بری الذمہ ہوسکیں اور شاید اس (نصیحت سے) یہ لوگ پرہیزگاری اختیار کرلیں۔

﴿165﴾ پھر جب یہ لوگ وہ بات بھلا بیٹھے جس کی انہیں نصیحت کی گئی تھی تو برائی سے روکنے والوں کو تو ہم نے بچا لیا، اور جنہوں نے زیادتیاں کی تھیں، ان کی مسلسل نافرمانی کی بنا پر ہم نے انہیں ایک سخت عذاب میں پکڑ لیا۔

﴿166﴾ چنانچہ ہوا یہ کہ جس کام سے انہیں روکا گیا تھا جب انہوں نے اس کے خلاف سرکشی کی تو ہم نے ان سے کہا : جاؤ، ذلیل بندر بن جاؤ

﴿167﴾ اور (یاد کرو وہ وقت) جب تمہارے رب نے اعلان کیا کہ وہ ان پر قیامت کے دن تک کوئی نہ کوئی ایسا شخص مسلط کرتا رہے گا جو ان کو بری بری تکلیفیں پہنچائے گا۔ بیشک تمہارا رب جلد ہی سزا دینے والا بھی ہے، اور یقینا وہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان بھی ہے۔

﴿168﴾ اور ہم نے دنیا میں ان کو مختلف جماعتوں میں بانٹ دیا۔ چنانچہ ان میں نیک لوگ بھی تھے اور کچھ دوسری طرح کے لوگ بھی۔ اور ہم نے انہیں اچھے اور برے ھالات سے آزمایا، تاکہ وہ (راہ راست کی طرف) لوٹ آئیں۔

﴿169﴾ پھر ان کے بعد ان کی جگہ ایسے جانشین آئے جو کتاب (یعنی تورات) کے وارث بنے، مگر ان کا حال یہ تھا کہ اس ذلیل دنیا کا سازو سامان (رشوت میں) لیتے، اور یہ کہتے کہ : ہماری بخشش ہوجائے گی۔ حالانکہ اگر اسی جیسا سازوسامان دوبارہ ان کے پاس آتا تو وہ اسے بھی (رشوت میں) لے لیتے۔ کیا ان سے کتاب میں مذکور یہ عہد نہیں لیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی طرف حق کے سوا کوئی بات منسوب نہ کریں ؟ اور اس (کتاب) میں جو کچھ لکھا تھا وہ انہوں نے باقاعدہ پڑھا بھی تھا۔ اور آخرت والا گھر ان لوگوں کے لیے کہیں بہتر ہے جو تقوی اختیار کرتے ہیں۔ (اے یہود) کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟

﴿170﴾ اور جو لوگ کتاب کو مضبوطی سے تھامتے ہیں، اور نماز قائم کرتے ہیں تو ہم ایسے اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔

﴿171﴾ اور (یاد کرو) جب ہم نے پہاڑ کو ان کے اوپر اس طرح اٹھا دیا تھا جیسے وہ کوئی سائبات ہو اور انہیں یہ گمان ہوگیا تھا کہ وہ ان کے اوپر گرنے ہی والا ہے (اس وقت ہم نے حکم دیا تھا کہ) ہم نے تمہیں جو کتاب دی ہے اسے مضبوطی سے تھامو اور اس کی باتوں کو یاد کرو، تاکہ تم تقوی اختیار کرسکو۔

﴿172﴾ اور (اے رسول ! لوگوں کو وہ وقت یاد دلاؤ) جب تمہارے پروردگار نے آدم کے بیٹوں کی پشت سے ان کی ساری اولاد کو نکالا تھا، اور ان کو خود اپنے اوپر گواہ بنایا تھا، (اور پوچھا تھا کہ) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواب دیا تھا کہ : کیوں نہیں ؟ ہم سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔ (اور یہ اقرار ہم نے اس لیے لیا تھا) تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ : ہم تو اس بات سے بیخبر تھے۔

﴿173﴾ یا یہ نہ کہہ دو کہ : شرک (کا آغاز) تو بہت پہلے ہمارے باپ دادوں نے کیا تھا، اور ہم ان کے بعد انہی کی اولاد بنے۔ تو کیا آپ ہمیں ان کاموں کی وجہ سے ہلاک کردیں گے جو غلط کار لوگوں نے کیے تھے ؟

﴿174﴾ اور اسی طرح ہم نشانیوں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ (حق کی طرف) پلٹ آئیں۔

﴿175﴾ اور (اے رسول) ان کو اس شخص کا واقعہ پڑھ کر سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا فرمائیں مگر وہ ان کو بالکل چھوڑ نکلا، پھر شیطان اس کے پیچھے لگا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ گمراہ لوگوں میں شامل ہوگیا۔

﴿176﴾ اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں کی بدولت اسے سربلند کرتے، مگر وہ تو زمین ہی کی طرف جھک کر رہ گیا، اور اپنی خواہشات کے پیچھے پڑا رہا، اس لیے اس کی مثال اس کتے کی سی ہوگئی کہ اگر تم اس پر حملہ کرو تب بھی وہ زبان لٹکا کر ہانپے گا، اور اگر اسے (اس کے حال پر) چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکا کر ہانپے گا۔ یہ ہے مثال ان لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے۔ لہذا تم یہ واقعات ان کو سناتے رہو، تاکہ یہ کچھ سوچیں۔

﴿177﴾ کتنی بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے، اور جو اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔

﴿178﴾ جسے اللہ ہدایت دے بس وہی ہدایت یافتہ ہوتا ہے، اور جسے وہ گمراہ کردے، تو ایسے ہی لوگ ہیں جو نقصان اٹھاتے ہیں۔

﴿179﴾ اور ہم نے جنات اور انسانوں میں سے بہت سے لوگ جہنم کے لیے پیدا کیے۔ ان کے پاس دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، ان کے پاس آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، ان کے پاس کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔ وہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں، بلکہ وہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

﴿180﴾ اور اسمائے حسنی (اچھے اچھے نام) اللہ ہی کے ہیں۔ لہذا اس کو انہی ناموں سے پکارو۔ اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں ٹیڑھا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں، اس کا بدلہ انہیں دیا جائے گا۔

﴿181﴾ اور ہماری مخلوق میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو لوگوں کو حق کا راستہ دکھاتی ہے اور اسی (حق) کے مطابق انصاف سے کام لیتی ہے۔

﴿182﴾ اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے انہیں ہم اس طرح دھیرے دھیرے پکڑ میں لیں گے کہ انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا۔

﴿183﴾ اور میں ان کو ڈھیل دیتا ہوں، یقین جانو کہ میری خفیہ تدبیر بڑی مضبوط ہے۔

﴿184﴾ بھلا کیا ان لوگوں نے سوچا نہیں کہ یہ صاحب جن سے ان کا سابقہ ہے (یعنی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان میں جنون کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ وہ اور کچھ نہیں، بلکہ صاف صاف طریقے سے لوگوں کو متنبہ کرنے والے ہیں۔

﴿185﴾ اور کیا ان لوگوں نے آسمانوں اور زمین کی سلطنت پر اور اللہ نے جو جو چیزیں پیدا کی ہیں ان پر غور نہیں کیا، اور یہ (نہیں سوچا) کہ شاید ان کا مقررہ وقت قریب ہی آپہنچا ہو ؟ اب اس کے بعد آخر وہ کونسی بات ہے جس پر یہ ایمان لائیں گے ؟

﴿186﴾ جس کو اللہ گمراہ کردے اس کو کوئی ہدایت نہیں سے سکتا، اور ایسے لوگوں کو اللہ (بےیارومددگار) چھوڑ دیتا ہے کہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے پھریں۔

﴿187﴾ (اے رسول) لوگ تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب برپا ہوگی ؟ کہہ دو کہ : اس کا علم تو صرف میرے رب کے پاس ہے۔ وہی اسے اپنے وقت پر کھول کر دکھائے گا، کوئی اور نہیں۔ وہ آسمانوں اور زمین میں بڑی بھاری چیز ہے، جب آئے گی تو تمہارے پاس اچانک آجائے گی۔ یہ لوگ تم سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے تم نے اس کی پوری تحقیق کر رکھی ہے۔ کہہ دو کہ : اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے، لیکن اکثر لوگ (اس بات کو) نہیں جانتے۔

﴿188﴾ کہو کہ : جب تک اللہ نہ چاہے میں خود اپنے آپ کو بھی کوئی نفع یا نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا، اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں اچھی اچھی چیزیں خوب جمع کرتا، اور مجھے کبھی کوئی تکلیف ہی نہ پہنچتی میں تو بس ایک ہوشیار کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا ہوں، ان لوگوں کے لیے جو میری بات مانیں۔

﴿189﴾ اللہ وہ ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کی بیوی بنائی تاکہ وہ اس کے پاس آکر تسکین حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو عورت نے حمل کا ایک ہلکا سا بوجھ اٹھا لیا، جسے لے کر وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں (میاں بیوی) نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ : اگر تو نے ہمیں تندرست اولاد دی تو ہم ضرور بالضرور تیرا شکر ادا کریں گے۔

﴿190﴾ لیکن جب اللہ نے ان کو ایک تندرست بچہ دے دیا تو ان دونوں نے اللہ کی عطا کی ہوئی نعمت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرانا شروع کردیا، حالانکہ اللہ ان کا مشرکانہ باتوں سے کہیں بلند اور برتر ہے۔

﴿191﴾ کیا وہ ایسی چیزوں کو (اللہ کے ساتھ خدائی میں) شریک مانتے ہیں جو کوئی چیز پیدا نہیں کرتے، بلکہ خود ان کو پیدا کیا جاتا ہے ؟

﴿192﴾ اور جو نہ ان لوگوں کی کوئی مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد کرتے ہیں۔

﴿193﴾ اور اگر تم انہیں کسی صحیح راستے کی طرف دعوت دو تو وہ تمہاری بات نہ مانیں، (بلکہ) تم انہیں پکارو یا خاموش رہو، ان کے لیے دونوں باتیں برابر ہیں۔

﴿194﴾ یقین جانو کہ اللہ کو چھوڑ کر جن جن کو تم پکارتے ہو، وہ سب تمہاری طرح (اللہ کے) بندے ہیں۔ اب ذرا ان سے دعا مانگو، پھر اگر تم سچے ہو تو انہیں تمہاری دعا قبول کرنی چاہیے۔

﴿195﴾ بھلا کیا ان کے پاس پاؤں ہیں جن سے وہ چلیں ؟ یا ان کے پاس ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑیں ؟ یا ان کے پاس آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھیں ؟ یا ان کے پاس کان ہیں جن سے وہ سنیں ؟ (ان سے کہہ دو کہ) تم ان سب دیوتاؤں کو بلا لاؤ جنہیں تم نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے، پھر میرے خلاف کوئی سازش کرو، اور مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو ۔

﴿196﴾ میرا رکھوالا تو اللہ ہے جس نے کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک لوگوں کی رکھوالی کرتا ہے۔

﴿197﴾ اور تم اس کو چھوڑ کر جن جن کو پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں نہ اپنی مدد کرتے ہیں۔

﴿198﴾ اور اگر تم انہیں صحیح راستے کی طرف بلاؤ تو وہ سنیں گے بھی نہیں۔ وہ تمہیں نظر تو اس طرح آتے ہیں جیسے تمہیں دیکھ رہے ہوں، لیکن حقیقت میں انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا۔

﴿199﴾ (اے پیغمبر) درگزر کا رویہ اپناؤ، اور (لوگوں کو) نیکی کا حکم دو ، اور جاہلوں کی طرف دھیان نہ دو ۔

﴿200﴾ اور اگر کبھی شیطان کی طرف سے تمہیں کوئی کچو کا لگ جائے تو اللہ کی پناہ مانگ لو۔ یقینا وہ ہر بات سننے والا، ہر چیز جاننے والا ہے۔

﴿201﴾ جن لوگوں نے تقوی اختیار کیا ہے، انہیں جب شیطان کی طرف سے کوئی خیال آکر چھوتا بھی ہے تو وہ (اللہ کو) یاد کرلیتے ہیں۔ چنانچہ اچانک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں

﴿202﴾ اور جو ان شیاطین کے بھائی ہیں ان کو یہ شیاطین گمراہی میں گھسیٹے لے جاتے ہیں، نتیجہ یہ کہ وہ (گمراہی سے) باز نہیں آتے۔

﴿203﴾ اور (اے پیغمبر) جب تم ان کے سامنے (ان کا منہ مانگا) معجزہ پیش نہیں کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ : تم نے یہ معجزہ خود اپنی پسند سے کیوں نہ پیش کردیا ؟ کہہ دو کہ : میں تو اسی بات کا اتباع کرتا ہوں جو میرے رب کی طرف سے وحی کے ذریعے مجھ تک پہنچائی جاتی ہے۔ ۔ یہ (قرآن) تمہارے رب کی طرف سے بصیرتوں کا مجموعہ ہے، اور جو لوگ ایمان لائیں ان کے لیے ہدایت اور رحمت ۔

﴿204﴾ اور جب قرآن پڑھا جائے تو اس کو کان لگا کر سنو، اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحمت ہو۔

﴿205﴾ اور اپنے رب کا صبح و شام ذکر کیا کرو، اپنے دل میں بھی، عاجزی اور خوف کے (جذبات کے) ساتھ اور زبان سے بھی، آواز بہت بلند کیے بغیر ! اور ان لوگوں میں شامل نہ ہوجانا جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

﴿206﴾ یاد رکھو کہ جو (فرشتے) تمہارے رب کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر کر کے منہ نہیں موڑتے، اور اس کی تسبیح کرتے ہیں، اور اسی کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔

الانفال

Surah 8

﴿1﴾ (اے پیغمبر) لوگ تم سے مال غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ مال غنیمت (کے بارے میں فیصلے) کا اختیار اللہ اور رسول کو حاصل ہے۔ لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور آپس کے تعلقات درست کرلو، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم واقعی مومن ہو۔

﴿2﴾ مومن تو وہ لوگ ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور ترقی دیتی ہیں اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں۔

﴿3﴾ جو نماز قائم کرتے ہیں، اور ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے اس میں سے (فی سبیل اللہ) خرچ کرتے ہیں۔

﴿4﴾ یہی لوگ ہیں جو حقیقت میں مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑے درجے ہیں، مغفرت ہے اور باعزت رزق ہے۔

﴿5﴾ (مال غنیمت کی تقسیم کا) یہ معاملہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے تمہارے رب نے تمہیں اپنے گھر سے حق کی خاطر نکالا، جبکہ مسلمانوں کے ایک گروہ کو یہ بات ناپسند تھی۔

﴿6﴾ وہ تم سے حق کے معاملے میں اس کے واضح ہوجانے کے باوجود اس طرح بحث کر رہے تھے جیسے ان کو موت کی طرف ہنکا کرلے جایا جارہا ہو اور وہ (اسے) آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں۔

﴿7﴾ اور وہ وقت یاد کرو جب اللہ تم سے یہ وعدہ کر رہا تھا کہ دو گروہوں میں سے کوئی ایک تمہارا ہوگا، اور تمہاری خواہش تھی کہ جس گروہ میں (خطرے کا) کوئی کانٹا نہیں تھا، وہ تمہیں ملے اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے احکام سے حق کو حق کر دکھائے، اور کافروں کی جڑ کاٹ ڈالے۔

﴿8﴾ تاکہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ثابت کردے، چاہے مجرم لوگوں کو یہ بات کتنی ناگوار ہو۔

﴿9﴾ یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے، تو اس نے تمہاری فریاد کا جواب دیا کہ میں تمہاری مدد کے لیے ایک ہزار فرشتوں کی کمک بھیجے والا ہوں جو لگاتار آئیں گے۔

﴿10﴾ اور یہ وعدہ اللہ نے کسی اور وجہ سے نہیں بلکہ صرف اس لیے کیا کہ وہ خوشخبری بنے اور تاکہ تمہارے دلوں کو اطمینان حاصل ہو، ورنہ مدد کسی اور کے پاس سے نہیں، صرف اللہ کے پاس سے آتی ہے۔ یقینا اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

﴿11﴾ یاد کرو جب تم پر سے گھبراہٹ دور کرنے کے لیے وہ اپنے حکم سے تم پر غنودگی طاری کر رہا تھا اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا تاکہ اس کے ذریعے تمہیں پاک کرے، تم سے شیطان کی گندگی دور کرے تمہارے دلوں کی ڈھارس بندھائے اور اس کے ذریعے (تمہارے) پاؤں اچھی طرح جما دے۔

﴿12﴾ وہ وقت جب تمہارا رب فرشتوں کو وحی کے ذریعے حکم دے رہا تھا کہ : میں تمہارے ساتھ ہوں، اب تم مومنوں کے قدم جماؤ میں کافروں کے دلوں میں رعب طاری کردوں گا، پھر تم گردنوں کے اوپر وار کرو، اور ان کی انگلیوں کے ہر ہر جوڑ پر ضرب لگاؤ۔

﴿13﴾ یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی مول لی ہے، اور اگر کوئی شخص اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی مول لیتا ہے، تو یقینا اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔

﴿14﴾ یہ سب تو (اب) چکھ لو، اس کے علاوہ حقیقت یہ ہے کہ کافروں کے لیے (اصل) عذاب دوزخ کا ہے۔

﴿15﴾ اے ایمان والو ! جب کافروں سے تمہارا آمنا سامنا ہوجائے، جبکہ وہ چڑھائی کر کے آرہے ہوں، تو ان کو پیٹھ مت دکھاؤ۔

﴿16﴾ اور اگر کوئی شخص کسی جنگی چال کی وجہ سے ایسا کر رہا ہو یا اپنی کسی جماعت سے جا ملنا چاہتا ہو اس کی بات تو اور ہے، مگر اس کے سوا جو شخص ایسے دن اپنی پیٹھ پھیرے گا تو وہ اللہ کی طرف سے غضب لے کر لوٹے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

﴿17﴾ چنانچہ (مسلمانو ! حقیقت میں) تم نے ان (کافروں کو) قتل نہیں کیا تھا، بلکہ انہیں اللہ نے قتل کیا تھا، اور (اے پیغمبر) جب تم نے ان پر (مٹی) پھینکی تھی تو وہ تم نے نہیں، بلکہ اللہ نے پھینکی تھی اور (تمہارے ہاتھوں یہ کام اس لیے کرایا تھا) تاکہ اس کے ذریعے اللہ مومنوں کو بہترین اجر عطا کرے۔ بیشک اللہ ہر بات کو سننے والا، ہر چیز کو جاننے والا ہے۔

﴿18﴾ یہ سب کچھ تو اپنی جگہ، اس کے علاوہ یہ بات بھی تھی کہ اللہ کو کافروں کی ہر سازش کو کمزور کرنا تھا۔

﴿19﴾ (اے کافرو) اگر تم فیصلہ چاہتے تھے، تو لو ! اب فیصلہ تمہارے سامنے آگیا ہے۔ اب اگر تم باز آجاؤ تو یہ تمہارے ہی لیے بہتر ہوگا، اور اگر تم پھر وہی کام کرو گے (جو اب تک کرتے رہے ہو) تو ہم بھی پھر وہی کام کریں گے (جو اب کیا ہے) ۔ اور تمہارا جتھا تمہارے کچھ کام نہیں آئے گا، چاہے وہ کتنا زیادہ ہو اور یاد رکھو کہ اللہ مومنوں کے ساتھ ہے۔

﴿20﴾ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی تابع داری کرو، اور اس (تابع داری) سے منہ نہ موڑو، جبکہ تم (اللہ اور رسول کے احکام) سن رہے ہو۔

﴿21﴾ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو کہتے تو ہیں کہ ہم نے سن لیا، مگر وہ (حقیقت میں) سنتے نہیں ہیں۔

﴿22﴾ یقین رکھو کہ اللہ کے نزدیک بدترین جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔

﴿23﴾ اور اگر اللہ کے علم میں ان کے اندر کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ان کو سننے کی توفیق دے دیتا، لیکن اب (جبکہ ان میں بھلائی نہیں ہے) اگر ان کو سننے کی توفیق دے بھی دے تو وہ منہ موڑ کر بھاگ جائیں گے۔

﴿24﴾ اے ایمان والو ! اللہ اور رسول کی دعوت قبول کرو، جب رسول تمہیں اس بات کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے۔ اور یہ بات جان رکھو کہ اللہ انسان اور اس کے دل کے درمیان آڑ بن جاتا ہے ۔ اور یہ کہ تم سب کو اسی کی طرف اکٹھا کر کے لے جایا جائے گا۔

﴿25﴾ اور ڈرو اس وبال سے جو تم میں سے صرف ان لوگوں پر نہیں پڑے گا جنہوں نے ظلم کیا ہوگا اور جان رکھو کہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔

﴿26﴾ اور وہ وقت یاد کرو جب تم تعداد میں تھوڑے تھے، تمہیں لوگوں نے (تمہاری) سرزمین میں دبا کر رکھا ہوا تھا، تم ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں اچک کرلے جائیں گے۔ پھر اللہ نے تمہیں ٹھکانا دیا، اور اپنی مدد سے تمہیں مضبوط بنادیا، اور تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق عطا کیا، تاکہ تم شکرو کرو۔

﴿27﴾ اے ایمان والو ! اللہ اور رسول سے بےوفائی نہ کرنا، اور نہ جانتے بوجھتے اپنی امانتوں میں خیانت کے مرتکب ہونا۔

﴿28﴾ اور یہ بات سمجھ لو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک آزمائش ہیں، اور یہ کہ عظیم انعام اللہ ہی کے پاس ہے۔

﴿29﴾ اے ایمان والو ! اگر تم اللہ کے ساتھ تقوی کی روش اختیار کرو گے تو وہ تمہیں (حق و باطل کی) تمیز عطا کردے گا اور تمہاری برائیوں کا کفارہ کردے گا، اور تمہیں مغفرت سے نوازے گا، اور اللہ فضل عظیم کا مالک ہے۔

﴿30﴾ اور (اے پیغمبر) وہ وقت یاد کرو جب کافر لوگ تمہارے خلاف منصوبے بنا رہے تھے کہ تمہیں گرفتار کرلیں، یا تمہیں قتل کردیں، یا تمہیں (وطن سے) نکال دیں، وہ اپنے منصوبے بنا رہے تھے اور اللہ اپنا منصوبہ بنا رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر منصوبہ بنانے والا ہے

﴿31﴾ اور جب ان کے سامنے ہماری آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ : (بس) ہم نے سن لیا، اگر ہم چاہیں تو اس جیسی باتیں ہم بھی کہہ لائیں۔ یہ (قرآن) اور کچھ نہیں، صرف پچھلے لوگوں کے افسانے ہیں۔

﴿32﴾ (اور ایک وقت وہ تھا) جب انہوں نے کہا تھا کہ : یا اللہ ! اگر یہ (قرآن) ہی وہ حق ہے جو تیری طرف سے آیا ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا دے، یا ہم پر کوئی اور تکلیف دہ عذاب ڈال دے۔

﴿33﴾ اور (اے پیغمبر) اللہ ایسا نہیں ہے کہ ان کو اس حالت میں عذاب دے جب تم ان کے درمیان موجود ہو، اور اللہ اس حالت میں بھی ان کو عذاب دینے والا نہیں ہے جب وہ استغفار کرتے ہوں۔

﴿34﴾ اور بھلا ان میں کیا خوبی ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے جبکہ وہ لوگوں کو مسجد حرام سے روکتے ہیں۔ حالانکہ وہ اس کے متولی نہیں ہیں۔ متقی لوگوں کے سوا کسی قسم کے لوگ اس کے متولی نہیں ہوسکتے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ (اس بات کو) نہیں جانتے۔

﴿35﴾ اور بیت اللہ کے پاس ان کی نماز سیٹیاں بجانے اور تالیاں پیٹنے کے سوا کچھ نہیں۔ لہذا (اے کافرو) جو کافرانہ باتیں تم کرتے رہے ہو ان کی وجہ سے اب عذاب کا مزہ چکھو۔

﴿36﴾ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ اپنے مال اس کام کے لیے خرچ کر رہے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکیں۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ لوگ خرچ تو کریں گے، مگر پھر یہ سب کچھ ان کے لیے حسرت کا سبب بن جائے گا، اور آخر کار یہ مغلوب ہوجائیں گے۔ اور (آخرت میں) ان کافر لوگوں کو جہنم کی طرف اکٹھا کر کے لایا جائے گا۔

﴿37﴾ تاکہ اللہ ناپاک (لوگوں) کو پاک (لوگوں) سے الگ کردے، اور ایک ناپاک کو دوسرے ناپاک پر رکھ کر سب کا ایک ڈھیر بنائے، اور اس ڈھیر کو جہنم میں ڈال دے۔ یہی لوگ ہیں جو سراسر خسارے میں ہیں۔

﴿38﴾ (اے پیغمبر) جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے ان سے کہہ دو کہ : اگر وہ باز آجائیں تو پہلے ان سے جو کچھ ہوا ہے اسے معاف کردیا جائے گا۔ اور اگر وہ پھر وہی کام کریں گے تو پچھلے لوگوں کے ساتھ جو معاملہ ہوا، وہ (ان کے سامنے) گزر ہی چکا ہے۔

﴿39﴾ اور (مسلمانو) ان کافروں سے لڑتے رہو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے، اور دین پورے کا پورا اللہ کا ہوجائے۔ پھر اگر یہ باز آجائیں تو ان کے اعمال کو اللہ خوب دیکھ رہا ہے۔

﴿40﴾ اور اگر یہ منہ موڑے رکھیں تو یقین جانو کہ اللہ تمہارا رکھوالا ہے، بہترین رکھوالا اور بہترین مددگار۔

﴿41﴾ اور (مسلمانو) یہ بات اپنے علم میں لے آؤ کہ تم جو کچھ مال غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول اور ان کے قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے (جس کی ادائیگی تم پر واجب ہے) اگر تم اللہ پر اور اس چیز پر ایمان رکھتے ہو جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلے کے دن نازل کی تھی جس دن دو جماعتیں باہم ٹکرائی تھیں، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

﴿42﴾ وہ وقت یاد کرو جب تم لوگ وادی کے قریب والے کنارے پر تھے اور وہ لوگ دور والے کنارے پر، اور قافلہ تم سے نیچے کی طرف۔ اور اگر تم پہلے سے (لڑائی کا) وقت آپس میں طے کرتے تو وقت طے کرنے میں تمہارے درمیان ضرور اختلاف ہوجاتا، لیکن یہ واقعہ (کہ پہلے سے طے کیے بغیر لشکر ٹکرا گئے) اس لیے ہوا کہ جو کام ہو کر رہنا تھا، اللہ اسے پورا کر دکھائے، تاکہ جسے برباد ہونا ہو، وہ واضح دلیل دیکھ کر برباد ہو، اور جسے زندہ رہنا ہو وہ واضح دلیل دیکھ کر زندہ رہے، اور اللہ ہر بات سننے والا، ہر چیز جاننے والا ہے۔

﴿43﴾ اور (اے پیغمبر) وہ وقت یاد کرو جب اللہ خواب میں تمہیں ان (دشمنوں) کی تعداد کم دکھا رہا تھا، اور اگر تمہیں ان کی تعداد زیادہ دکھا دیتا تو (اے مسلمانو) تم ہمت ہار جاتے، اور تمہارے درمیان اس معاملے میں اختلاف پیدا ہوجاتا، لیکن اللہ نے (تمہیں اس سے) بچا لیا۔ یقینا وہ سینوں میں چھپی باتیں خوب جانتا ہے۔

﴿44﴾ اور وہ وقت یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے مد مقابلہ آئے تھے تو اللہ تمہاری نگاہوں میں ان کی تعداد کم دکھا رہا تھا، اور ان کی نگاہوں میں تمہیں کم کر رکے دکھا رہا تھا تاکہ جو کام ہو کر رہنا تھا، اللہ اسے پورا کر دکھائے۔ اور تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔

﴿45﴾ اے ایمان والو ! جب تمہارا کسی گروہ سے مقابلہ ہوجائے تو ثابت قدم رہو، اور اللہ کا کثرت سے ذکر کرو، تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو۔

﴿46﴾ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اور آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم کمزور پڑجاؤ گے، اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی، اور صبر سے کام لو۔ یقین رکھو کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

﴿47﴾ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو اپنے گھروں سے اکڑتے ہوئے اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے تھے، اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روک رہے تھے۔ اور اللہ نے لوگوں کے سارے اعمال کو (اپنے علم کے) احاطے میں لیا ہوا ہے۔

﴿48﴾ اور وہ وقت (بھی قابل ذکر ہے) جب شیطان نے ان (کافروں) کو یہ سمجھایا تھا کہ ان کے اعمال بڑے خوشنما ہیں اور یہ کہا تھا کہ : آج انسانوں میں کوئی نہیں ہے جو تم پر غالب آسکے، اور میں تمہاری کوئی ذمہ داری نہیں لے سکتا، مجھے جو کچھ نظر آرہا ہے وہ تمہیں نظر نہیں آرہا۔ مجھے اللہ سے ڈر لگ رہا ہے اور اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔

﴿49﴾ اور یاد کرو جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا، یہ کہہ رہے تھے کہ : ان (مسلمانوں) کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے، حالانکہ جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ سب پر غالب ہے، بڑی حکمت والا ہے۔

﴿50﴾ اور اگر تم دیکھتے (تو وہ عجیب منظر تھا) جب فرشتے ان کافروں کی روح قبض کر رہے تھے، ان کے چہروں اور پشت پر مارتے جاتے تھے (اور کہتے جاتے تھے کہ) اب جلنے کے عذاب کا مزہ (بھی) چکھنا۔

﴿51﴾ یہ سب کچھ ان اعمال کا بدلہ ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں آگے بھیج رکھے تھے، اور یہ بات طے ہے کہ اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔

﴿52﴾ (ان لوگوں کا حال ایسا ہی ہوا) جیسا فرعون کی قوم اور ان سے پہلے لوگوں کا حال ہوا تھا۔ انہوں نے اللہ کی نشانیوں کو ماننے سے انکار کیا، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا۔ یقینا اللہ کی طاقت بڑی ہے (اور) عذاب بڑا سخت۔

﴿53﴾ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اللہ کا دستور یہ ہے کہ اس نے جو نعمت کسی قوم کو دی ہو اسے اس وقت تک بدلنا گوارا نہیں کرتا جب تک وہ لوگ خود اپنی حالت تبدیل نہ کرلیں اور اللہ ہر بات سنتا، سب کچھ جانتا ہے۔

﴿54﴾ (اس معاملے میں بھی ان کا حال) ایسا ہی ہوا جیسا فرعون کی قوم اور ان سے پہلے لوگوں کا حال ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے رب کی نشانیوں کو جھٹلایا، نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں ہلاک کردیا، اور فرعون کی قوم کو غرق کردیا، اور یہ سب ظالم لوگ تھے۔

﴿55﴾ یقین جانو کہ اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والے جان داروں میں بدترین لوگ وہ ہیں جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے، جس کی وجہ سے وہ ایمان نہیں لاتے۔

﴿56﴾ یہ لوگ وہ ہیں جن سے تم نے عہد لے رکھا ہے، اس کے باوجود یہ ہر مرتبہ اپنے عہد کو توڑ دیتے ہیں اور ذرا نہیں ڈرتے۔

﴿57﴾ لہذا اگر کبھی یہ لوگ جنگ میں تمہارے ہاتھ لگ جائیں تو ان کو سامان عبرت بنا کر ان لوگوں کو بھی تتر بتر کر ڈالو جو ان کے پیچھے ہیں، تاکہ وہ یاد رکھیں۔

﴿58﴾ اور اگر تمہیں کسی قوم سے بدعہدی کا اندیشہ ہو تو تم وہ معاہدہ ان کی طرف صاف سیدھے طریقے سے پھینک دو ، یاد رکھو کہ اللہ بد عہدی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

﴿59﴾ اور کافر لوگ ہرگز یہ خیال بھی دل میں نہ لائیں کہ وہ بھاگ نکلے ہیں، یہ یقینی بات ہے کہ وہ (اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتے۔

﴿60﴾ اور (مسلمانو) جس قدر طاقت اور گھوڑوں کی جتنی چھاؤنیاں تم سے بن پڑیں ان سے مقابلے کے لیے تیار کرو جن کے ذریعے تم اللہ کے دشمن اور اپنے (موجودہ) دشمن پر بھی ہیبت طاری کرسکو، اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی نہیں ابھی تم نہیں جانتے، (مگر) اللہ انہیں جانتا ہے۔ اور اللہ کے راستے میں تم جو کچھ خرچ کرو گے، وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا، اور تمہارے لیے کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔

﴿61﴾ اور اگر وہ لوگ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اس کی طرف جھک جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو، یقین جانو وہی ہے جو ہر بات سنتا، سب کچھ جانتا ہے۔

﴿62﴾ اور اگر وہ تمہیں دھوکا دینے کا ارادہ کریں گے تو اللہ تمہارے لیے کافی ہے۔ وہی تو ہے جس نے اپنی مدد کے ذریعے اور مومنوں کے ذریعے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے۔

﴿63﴾ اور ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی الفت پیدا کردی۔ اگر تم زمین بھر کی ساری دولت بھی خرچ کرلیتے تو ان کے دلوں میں یہ الفت پیدا نہ کرسکتے، لیکن اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا، وہ یقینا اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

﴿64﴾ اے نبی ! تمہارے لیے تو بس اللہ اور وہ مومن لوگ کافی ہیں جنہوں نے تمہاری پیروی کی ہے۔

﴿65﴾ اے نبی ! مومنوں کو جنگ پر ابھارو۔ اگر تمہارے بیس آدمی ایسے ہوں گے جو ثابت قدم رہنے والے ہوں تو وہ دو سو پر غالب آجائیں گے۔ اور اگر تمہارے سو آدمی ہوں گے تو وہ کافروں کے ایک ہزار پر غالب آجائیں گے، کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے۔

﴿66﴾ لو اب اللہ نے تم سے بوجھ ہلکا کردیا، اور اس کے علم میں ہے کہ تمہارے اندر کچھ کمزوری ہے۔ لہذا (اب حکم یہ ہے کہ) اگر تمہارے ثابت قدم رہنے والے سو آدمی ہوں تو وہ دو سو پر غالب آجائیں گے، اور اگر تمہارے ایک ہزار آدمی ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غالب آجائیں گے، اور اللہ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے۔

﴿67﴾ یہ بات کسی نبی کے شایان شان نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی رہیں جب تک کہ وہ زمین میں (دشمنوں کا) خون اچھی طرح نہ بہا چکا ہو (جس سے ان کا رعب پوری طرح ٹوٹ جائے) تم دنیا کا سازوسامان چاہتے ہو اور اللہ (تمہارے لیے) آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے اور اللہ صاحب اقتدار بھی ہے، صاحب حکمت بھی۔

﴿68﴾ اگر اللہ کی طرف سے ایک لکھا ہوا حکم پہلے نہ آچکا ہوتا تو جو راستہ تم نے اختیار کیا، اس کی وجہ سے تم پر کوئی بڑی سزا آجاتی۔

﴿69﴾ لہذا اب تم نے جو مال غنیمت میں حاصل کیا ہے، اسے پاکیزہ حلال مال کے طور پر کھاؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿70﴾ اے نبی ! تم لوگوں کے ہاتھوں میں جو قیدی ہیں (اور جنہوں نے مسلمان ہونے کا ارادہ ظاہر کیا ہے) ان سے کہہ دو کہ : اگر اللہ تمہارے دلوں میں بھلائی دیکھے گا جو مال تم سے (فدیہ میں) لیا گیا ہے اس سے بہتر تمہیں دیدے گا اور تمہاری بخشش کردے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿71﴾ اور اگر ان لوگوں نے (اے نبی) تم سے خیانت کرنے کا ارادہ کیا تو یہ اس سے پہلے اللہ کے ساتھ خیانت کرچکے ہیں، جس کے نتیجے میں اللہ نے انہیں تمہارے قابو میں دے دیا اور اللہ کا علم بھی کامل ہے حکمت بھی کامل۔

﴿72﴾ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے ہجرت کی ہے اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے، وہ اور جنہوں نے ان کو (مدینہ میں) آباد کیا اور ان کی مدد کی، یہ سب لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ولی وارث ہیں۔ اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، (مگر) انہوں نے ہجرت نہیں کی، جب تک وہ ہجرت نہ کرلیں (اے مسلمانو) تمہارا ان سے وراثت کا کوئی رشتہ نہیں ہے۔ ہاں اگر دین کی وجہ سے وہ تم سے کوئی مدد مانگیں تو تم پر ان کی مدد واجب ہے سوائے اس صورت کے جبکہ وہ مدد کسی ایسی قوم کے خلاف ہو جس کے ساتھ تمہارا کوئی معاہدہ ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے اچھی طرح دیکھتا ہے۔

﴿73﴾ اور جن لوگوں نے کفر اپنا رکھا ہے وہ آپس میں ایک دوسرے کے والی وارث ہیں، اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہوگا۔

﴿74﴾ اور جو لوگ ایمان لے آئے، اور انہوں نے ہجرت کی، اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا، وہ اور جنہوں نے انہیں آباد کیا اور ان کی مدد کی وہ سب صحیح معنوں میں مومن ہیں۔ ایسے لوگ مغفرت اور باعزت رزق کے مستحق ہیں۔

﴿75﴾ اور جنہوں نے بعد میں ایمان قبول کیا، اور ہجرت کی، اور تمہارے ساتھ جہاد کیا تو وہ بھی تم میں شامل ہیں۔ اور (ان میں سے) جو لوگ (پرانے مہاجرین کے) رشتہ دار ہیں، وہ اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے (کی میراث کے دوسروں سے) زیادہ حق دار ہیں۔ یقینا اللہ ہر چیز کا پورا پورا علم رکھتا ہے۔

التوبہ

Surah 9

﴿1﴾ (مسلمانو) یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے دستبرداری کا اعلان ہے ان تمام مشرکین کے خلاف جن سے تم نے معاہدہ کیا ہوا ہے۔

﴿2﴾ لہذا (اے مشرکو) تمہیں چار مہینے تک اجازت ہے کہ تم (عرب کی) سرزمین میں آزادی سے گھومو پھرو، اور یہ بات جان رکھو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے، اور یہ بات بھی کہ اللہ اب کافروں کو رسوا کرنے والا ہے۔

﴿3﴾ اور حج اکبر کے دن اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمام انسانوں کے لیے یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اللہ بھی مشرکین سے دست بردار ہوچکا ہے، اور اس کا رسول بھی۔ اب (اے مشرکو) اگر تم توبہ کرلو تو یہ تمہارے حق میں بہت بہتر ہوگا، اور اگر تم نے (اب بھی) منہ موڑے رکھا تو یاد رکھو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے، اور تمام کافروں کو ایک دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو ۔

﴿4﴾ البتہ (مسلمانو) جن مشرکین سے تم نے معاہدہ کیا، پھر ان لوگوں نے تمہارے ساتھ عہد میں کوئی کوتاہی نہیں کی، اور تمہارے خلاف کسی کی مدد بھی نہیں کی، تو ان کے ساتھ کئے ہوئے معاہدے کی مدت کو پورا کرو۔ بیشک اللہ احتیاط کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

﴿5﴾ چنانچہ جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو ان مشرکین کو (جنہوں نے تمہارے ساتھ بدعہدی کی تھی) جہاں بھی پاؤ قتل کر ڈالو، اور انہیں پکڑو، انہیں گھیرو، اور انہیں پکڑنے کے لیے ہر گھات کی جگہ تاک لگا کر بیٹھو۔ ہاں اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿6﴾ اور اگر مشرکین میں سے کوئی تم سے پناہ مانگے تو اسے اس وقت تک پناہ دو جب تک وہ اللہ کا کلام سن لے۔ پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دو ۔ یہ اس لئے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں علم نہیں ہے۔

﴿7﴾ ان مشرکین سے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کوئی معاہدہ کیسے باقی رہ سکتا ہے ؟ البتہ جن لوگوں سے تم نے مسجد حرام کے قریب معاہدہ کیا ہے، جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں، تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو۔ بیشک اللہ متقی لوگوں کو پسند کرتا ہے۔

﴿8﴾ (لیکن دوسرے مشرکین کے ساتھ) کیسے معاہدہ برقرار رہ سکتا ہے جبکہ ان کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی تم پر غالب آجائیں تو تمہارے معاملے میں نہ کسی رشتہ داری کا خیال کریں، اور نہ کسی معاہدے کا ؟ یہ تمہیں اپنی زبانی باتوں سے راضی کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ ان کے دل انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں۔

﴿9﴾ انہوں نے اللہ کی آیتوں کے بدلے (دنیا کی) تھوڑی سی قیمت لے لینا پسند کرلیا ہے۔ اور اس کے نتیجے میں لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ان کے کرتوت بہت برے ہیں۔

﴿10﴾ یہ کسی بھی مومن کے معاملے میں کسی رشتہ داری یا معاہدے کا پاس نہیں کرتے، اور یہی ہیں جو حدیں توڑنے والے ہیں۔

﴿11﴾ لہذا اگر یہ توبہ کرلیں، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو یہ تمہارے دینی بھائی بن جائیں گے۔ اور ہم احکام کی یہ تفصیل ان لوگوں کے لیے بیان کر رہے ہیں جو جاننا چاہیں۔

﴿12﴾ اور اگر ان لوگوں نے اپنا عہد دے دینے کے بعد اپنی قسمیں توڑ ڈالی ہوں اور تمہارے دین کو طعنے دئیے ہوں، تو ایسے کفر کے سربراہوں سے اس نیت سے جنگ کرو کہ وہ باز آجائیں۔ کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کی قسموں کی کوئی حقیقت نہیں۔

﴿13﴾ کیا تم ان لوگوں سے جنگ نہیں کرو گے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑا، اور رسول کو (وطن سے) نکالنے کا ارادہ کیا، اور وہی ہیں جنہوں نے تمہارے خلاف (چھیڑ چھاڑ کرنے میں) پہل کی ؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ (اگر ایسا ہے) تو اللہ اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ تم اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔

﴿14﴾ ان سے جنگ کرو تاکہ اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے، انہیں رسوا کرے، ان کے خلاف تمہاری مدد کرے، اور مومنوں کے دل ٹھنڈے کردے۔

﴿15﴾ اور ان کے دل کی کڑھن دور کردے، اور جس کی چاہے توبہ قبول کرلے اور اللہ کا علم بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل

﴿16﴾ بھلا کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تمہیں یونہی چھوڑ دیا جائے گا، حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون لوگ جہاد کرتے ہیں، اور اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کے سوا کسی اور کو خصوصی رازدار نہیں بناتے ؟ اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

﴿17﴾ مشرکین اس بات کے اہل نہیں ہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں، حالانکہ وہ خود اپنے کفر کے گواہ بنے ہوئے ہیں، ان لوگوں کے تو اعمال ہی غارت ہوچکے ہیں، اور دوزخ ہی میں ان کو ہمیشہ رہنا ہے۔

﴿18﴾ اللہ کی مسجدوں کو تو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے ہوں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ ایسے ہی لوگوں سے یہ توقع ہوسکتی ہے کہ وہ صحیح راستہ اختیار کرنے والوں میں شامل ہوں گے۔

﴿19﴾ کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کے آباد رکھنے کو اس شخص کے (اعمال کے) برابر سمجھ رکھا ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا ہے، اور جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے۔ اللہ کے نزدیک یہ سب برابر نہیں ہوسکتے۔ اور اللہ ظالم لوگوں کو منزل مقصود تک نہیں پہنچاتا۔

﴿20﴾ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی ہے اور اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کیا ہے، وہ اللہ کے نزدیک درجے میں کہیں زیادہ ہیں، اور وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔

﴿21﴾ ان کا پروردگار انہیں اپنی طرف سے رحمت اور خوشنودی کی، اور ایسے باغات کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے دائمی نعمتیں ہیں۔

﴿22﴾ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یقینا اللہ ہی ہے جس کے پاس عظمت والا اجر موجود ہے۔

﴿23﴾ اے ایمان والو ! اگر تمہارے باپ بھائی کفر کو ایمان کے مقابلے میں ترجیح دیں تو ان کو اپنا سرپرست نہ بناؤ ۔ اور جو لوگ ان کو سرپرست بنائیں گے وہ ظالم ہوں گے۔

﴿24﴾ (اے پیغمبر ! مسلمانوں سے) کہہ دو کہ : اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، اور تمہارا خاندان، اور وہ مال و دولت جو تم نے کمایا ہے اور وہ کاروبار جس کے مندا ہونے کا تمہیں اندیشہ ہے، اور وہ رہائشی مکان جو تمہیں پسند ہیں، تمہیں اللہ اور اس کے رسول سے، اور اس کے راستے میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں۔ تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرما دے۔ اور اللہ نافرمان لوگوں کو منزل تک نہیں پہنچاتا۔

﴿25﴾ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری بہت سے مقامات پر مدد کی ہے، اور (خاص طور پر) حنین کے دن جب تمہاری تعداد کی کثرت نے تمہیں مگن کردیا تھا، مگر وہ کثرت تعداد تمہارے کچھ کام نہ آئی، اور زمین اپنی ساری وسعتوں کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی، پھر تم نے پیٹھ دکھا کر میدان سے رخ موڑ لیا۔

﴿26﴾ پھر اللہ نے اپنے رسول پر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل کی اور ایسے لشکر اتارے جو تمہیں نظر نہیں آئے، اور جن لوگوں نے کفر اپنا رکھا تھا، اللہ نے ان کو سزا دی، اور ایسے کافروں کا یہی بدلہ ہے۔

﴿27﴾ پھر اللہ جس کو چاہے اس کے بعد توبہ نصیب کردے، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿28﴾ اے ایمان والو ! مشرک لوگ تو سراپا ناپاکی ہیں، لہذا وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ آنے پائیں، اور (مسلمانو) اگر تم کو مفلسی کا اندیشہ ہو تو اگر اللہ چاہے گا تو تمہیں اپنے فضل سے (مشرکین سے) بےنیاز کردے گا۔ بیشک اللہ کا علم بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل۔

﴿29﴾ وہ اہل کتاب جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، نہ یوم آخرت پر اور جو اللہ اور اس کے رسول کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے، اور نہ دین حق کو اپنا دین مانتے ہیں ان سے جنگ کرو، یہاں تک کہ وہ خوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔

﴿30﴾ یہودی تو یہ کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں، اور نصرانی یہ کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں، یہ سب ان کی منہ کی بنائی ہوئی باتیں ہیں۔ یہ ان لوگوں کی سی باتیں کر رہے ہیں جو ان سے پہلے کافر ہوچکے ہیں۔ اللہ کی مار ہو ان پر ! یہ کہاں اوندھے بہکے جارہے ہیں ؟

﴿31﴾ انہوں نے اللہ کی بجائے اپنے احبار (یعنی یہودی علماء) اور راہبوں (یعنی عیسائی درویشوں) کو خدا بنا لیا ہے۔ اور مسیح ابن مریم کو بھی، حالانکہ ان کو ایک خدا کے سوا کسی کی عبادت کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ اس کے سوا کوئی خدا نہیں۔ وہ ان کی مشرکانہ باتوں سے بالکل پاک ہے۔

﴿32﴾ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں، حالانکہ اللہ کو اپنے نور کی تکمیل کے سوا ہر بات نامنظور ہے، چاہے کافروں کو یہ بات کتنی بری لگے۔

﴿33﴾ وہ اللہ ہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اسے ہر دوسرے دین پر غالب کردے، چاہے مشرک لوگوں کو یہ بات کتنی ناپسند ہو۔

﴿34﴾ اے ایمان والو ! (یہودی) احبار اور (عیسائی) راہبوں میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ لوگوں کا مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں، اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونے چاندی کو جمع کر کر کے رکھتے ہیں، اور اس کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، ان کو ایک دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو ۔

﴿35﴾ جس دن اس دولت کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور ان کی کروٹیں اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی، (اور کہا جائے گا کہ) یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا، اب چکھو اس خزانے کا مزہ جو تم جوڑ جوڑ کر رکھا کرتے تھے۔

﴿36﴾ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ مہینے ہے۔ جو اللہ کی کتاب (یعنی لوح محفوظ) کے مطابق اس دن سے نافذ چلی آتی ہے جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ ان (بارہ مہینوں) میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں، یہی دین (کا) سیدھا سادہ (تقاضا) ہے، لہذا ان مہینوں کے معاملے میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو، اور تم سب ملکر مشرکوں سے اسی طرح لڑو جیسے وہ سب تم سے لڑتے ہیں، اور یقین رکھو کہ اللہ متقی لوگوں کے ساتھ ہے۔

﴿37﴾ اور یہ نسیئ (یعنی مہینوں کو آگے پیچھے کردینا) تو کفر میں ایک مزید اضافہ ہے جس کے ذریعے کافروں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ اس عمل کو ایک سال حلال کرلیتے ہیں، اور ایک سال حرام قرار دے دیتے ہیں، تاکہ اللہ نے جو مہینے حرام کیے ہیں ان کی بس گنتی پوری کرلیں، اور (اس طرح) جو بات اللہ نے حرام قرار دی تھی اسے حلال سمجھ لیں۔ ان کی بدعملی ان کی نگاہ میں خوشنما بنادی گئی ہے، اور اللہ ایسے کافر لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔

﴿38﴾ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا گیا کہ اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) کوچ کرو تو تم بوجھ ہو کر زمین سے لگ گئے ؟ کیا تم آخرت کے مقابلے میں دنیوی زندگی پر راضی ہوچکے ہو ؟ (اگر ایسا ہے) تو (یاد رکھو کہ) دنیوی زندی کا مزہ آخرت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، مگر تھوڑا۔

﴿39﴾ اگر تم کوچ نہیں کرو گے تو اللہ تمہیں دردناک سزا دے گا، اور تمہاری جگہ کوئی اور قوم لے آئے گا، اور تم اسے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکو گے۔ اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

﴿40﴾ اگر تم ان کی (یعنی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی) مدد نہیں کرو گے تو (ان کا کچھ نقصان نہیں، کیونکہ) اللہ ان کی مدد اس وقت کرچکا ہے جب ان کو کافر لوگوں نے ایسے وقت (مکہ سے) نکالا تھا جب وہ دو آدمیوں میں سے دوسرے تھے، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ : غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھی ہے۔ چنانچہ اللہ نے ان پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی، اور ان کی ایسے لشکروں سے مدد کی جو تمہیں نظر نہیں آئے، اور کافر لوگوں کا بول نیچا کر دکھایا، اور بول تو اللہ ہی کا بالا ہے، اور اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

﴿41﴾ (جہاد کے لیے) نکل کھڑے ہو، چاہے تم ہلکے ہو یا بوجھل، اور اپنے مال و جان سے اللہ کے راستے میں جہاد کرو۔ اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔

﴿42﴾ اگر دنیا کا سامان کہیں قریب ملنے والا ہوتا، اور سفر درمیانہ قسم کا ہوتا، تو یہ (منافق لوگ) ضرور تمہارے پیچھے ہو لیتے، لیکن یہ کٹھن فاصلہ ان کے لیے بہت دور پڑگیا۔ اور اب یہ اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم میں استطاعت ہوتی تو ہم ضرور آپ کے ساتھ نکل جاتے۔ یہ لوگ اپنی جانوں کو ہلاک کر رہے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔

﴿43﴾ (اے پیغمبر) اللہ نے تمہیں معاف کردیا ہے، (مگر) تم نے ان کو (جہاد میں شریک نہ ہونے کی) اجازت اس سے پہلے ہی کیوں دے دی کہ تم پر یہ بات کھل جاتی کہ کون ہیں جنہوں نے سچ بولا ہے اور تم جھوٹوں کو بھی اچھی طرح جان لیتے۔

﴿44﴾ جو لوگ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، وہ اپنے مال و جان سے جہاد نہ کرنے کے لیے تم سے اجازت نہیں مانگتے، اور اللہ متقی لوگوں کو خوب جانتا ہے۔

﴿45﴾ تم سے اجازت تو وہ لوگ مانگتے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں، اور وہ اپنے شک کی وجہ سے ڈانواڈول ہیں۔

﴿46﴾ اگر ان کا ارادہ نکلنے کا ہوتا تو اس کے لیے انہوں نے کچھ نہ کچھ تیاری کی ہوتی۔ لیکن اللہ نے ان کا اٹھنا پسند ہی نہیں کیا، اس لیے انہیں سست پڑا رہنے دیا، اور کہہ دیا گیا کہ جو (اپاہج ہونے کی وجہ سے) بیٹھے ہیں، ان کے ساتھ تم بھی بیٹھ رہو۔

﴿47﴾ اگر یہ لوگ تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہوتے تو سوائے فساد پھیلانے کے تمہارے درمیان کوئی اور اضافہ نہ کرتے، اور تمہارے لیے فتنہ پیدا کرنے کی کوشش میں تمہاری صفوں کے درمیان دوڑے دوڑے پھرتے۔ اور خود تمہارے درمیان ایسے لوگ موجود ہیں جو ان کے مطلب کی باتیں خوب سنتے ہیں۔ اور اللہ ان ظالموں کو اچھی طرح جانتا ہے۔

﴿48﴾ ان لوگوں نے اس سے پہلے بھی فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، اور یہ تمہیں نقصان پہنچانے کے لیے معاملات کی الٹ پھیر کرتے رہے ہیں، یہاں تک کہ حق آیا، اللہ کا حکم غالب ہوا، اور یہ کڑھتے رہ گئے۔

﴿49﴾ اور انہی میں وہ صاحب بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ : مجھے اجازت دے دیجیے، اور مجھے فتنے میں نہ ڈالیے، ارے فتنے ہی میں تو یہ خود پڑے ہوئے ہیں۔ اور یقین رکھو کہ جہنم سارے کافروں کو گھیرے میں لینے والی ہے۔

﴿50﴾ اگر تمہیں کوئی بھلائی مل جائے تو انہیں دکھ ہوتا ہے، اور اگر تم پر کوئی مصیبت آپڑے تو کہتے ہیں کہ : ہم نے تو پہلے ہی اپنا بچاؤ کرلیا تھا، اور (یہ کہہ کر) بڑے خوش خوش واپس جاتے ہیں۔

﴿51﴾ کہہ دو کہ : اللہ نے ہمارے مقدر میں جو تکلیف لکھ دی ہے ہمیں اس کے سوا کوئی اور تکلیف ہرگز نہیں پہنچ سکتی۔ وہ ہمارا رکھوالا ہے، اور اللہ ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیے۔

﴿52﴾ کہہ دو کہ : تم ہمارے لیے جس چیز کے منتظر ہو، وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ (آخر کار) دو بھلائیوں میں سے ایک نہ ایک بھلائی ہمیں ملے۔ اور ہمیں تمہارے بارے میں انتظار اس کا ہے کہ اللہ تمہیں اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں سزا دے۔ بس اب انتظار کرو، ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں۔

﴿53﴾ کہہ دو کہ : تم اپنا مال چاہے خوشی خوشی چندے میں دو ، یا بددلی سے، وہ تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ تم ایسے لوگ ہو جو مسلسل نافرمانی کرتے رہے ہو۔

﴿54﴾ اور ان کے چندے قبول کیے جانے میں رکاوٹ کی کوئی اور وجہ اس کے سوا نہیں ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کا معاملہ کیا ہے، اور یہ نماز میں آتے ہیں تو کسمساتے ہوئے آتے ہیں اور (کسی نیکی میں) خرچ کرتے ہیں تو برا مانتے ہوئے خرچ کرتے ہیں۔

﴿55﴾ تمہیں ان کے مال اور اولاد (کی کثرت) سے تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ انہی چیزوں سے ان کو دنیوی زندگی میں عذاب دے اور ان کی جان بھی کفر ہی کی حالت میں نکلے۔

﴿56﴾ یہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں، حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں، بلکہ وہ ڈرپوک لوگ ہیں

﴿57﴾ اگر ان کو کوئی پناہ گاہ مل جاتی، یا کسی قسم کے غار مل جاتے، یا گھس بیٹھنے کی اور کوئی جگہ، تو یہ بےلگام بھاگ کر ادھر ہی کا رخ کرلیتے۔

﴿58﴾ اور انہی (منافقین) میں وہ بھی ہیں جو صدقات (کی تقسیم) کے بارے میں آپ کو طعنہ دیتے ہیں۔ چنانچہ اگر انہیں صدقات میں سے (ان کی مرضی کے مطابق) دے دیا جائے تو راضی ہوجاتے ہیں، اور اگر ان میں سے انہیں نہ دیا جائے تو ذرا سی دیر میں ناراض ہوجاتے ہیں۔

﴿59﴾ جو کچھ بھی انہیں اللہ اور اس کے سول نے دے دیا تھا، کیا اچھا ہوتا کہ یہ اس پر راضی رہتے، اور یہ کہتے کہ : اللہ ہمارے لیے کافی ہے، آئندہ اللہ اپنے فضل سے ہمیں نوازے گا، اور اس کا رسول بھی۔ ہم تو اللہ ہی سے لو لگائے ہوئے ہیں۔

﴿60﴾ صدقات تو دراصل حق ہے فقیروں کا، مسکینوں کا اور ان اہلکاروں کا جو صدقات کی وصولی پر مقرر ہوتے ہیں۔ اور ان کا جن کی دلداری مقصود ہے۔ نیز انہیں غلاموں کو آزاد کرنے میں اور قرض داروں کے قرضے ادا کرنے میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافروں کی مدد میں خرچ کیا جائے۔ یہ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

﴿61﴾ اور انہی (منافقین) میں وہ لوگ بھی ہیں جو نبی کو دکھ پہنچاتے ہیں اور (ان کے بارے میں) یہ کہتے ہیں کہ : وہ تو سراپا کان ہیں۔ کہہ دو کہ : وہ کان ہیں اس چیز کے لیے جو تمہارے لیے بھلائی ہے۔ وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور مومنوں کی بات کا یقین کرتے ہیں، اور تم میں سے جو (ظاہری طور پر) ایمان لے آئے ہیں، ان کے لیے وہ رحمت (کا معاملہ کرنے والے) ہیں۔ اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ پہنچاتے ہیں ان کے لیے دکھ دینے والا عذاب تیار ہے۔

﴿62﴾ (مسلمانو) یہ لوگ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں اس لیے کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کریں، حالانکہ اگر یہ واقعی مومن ہوں تو اللہ اور اس کے رسول اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ یہ ان کو راضی کریں۔

﴿63﴾ کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول سے ٹکر لے تو یہ بات طے ہے کہ اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ؟ یہ بڑی بھاری رسوائی ہے۔

﴿64﴾ منافق لوگ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ مسلمانوں پر کہیں کوئی ایسی سورت نازل نہ کردی جائے جو انہیں ان (منافقین) کے دلوں کی باتیں بتلا دے۔ ۔ کہہ دو کہ : (اچھا) تم مذاق اڑاتے رہو، اللہ وہ بات ظاہر کرنے والا ہے جس سے تم ڈرتے تھے۔

﴿65﴾ اور اگر تم ان سے پوچھو تو یہ یقینا یوں کہیں گے کہ : ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے۔ کہو کہ : کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول کے ساتھ دل لگی کر رہے تھے ؟

﴿66﴾ بہانے نہ بناؤ، تم ایمان کا اظہار کرنے کے بعد کفر کے مرتکب ہوچکے ہو۔ اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معافی دے بھی دیں تو دوسرے گروہ کو ضرور سزا دیں گے۔ کیونکہ وہ مجرم لوگ ہیں۔

﴿67﴾ منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک ہی طرح کے ہیں۔ وہ برائی کی تلقین کرتے ہیں اور بھلائی سے روکتے ہیں، اور اپنے ہاتھوں کو بند رکھتے ہیں۔ انہوں نے اللہ کو بھلا دیا ہے، تو اللہ نے بھی ان کو بھلا دیا۔ بلاشبہ یہ منافق بڑے نافرمان ہیں۔

﴿68﴾ اللہ نے منافق مردوں، منافق عورتوں اور تمام کافروں سے دوزخ کی آگ کا عہد کر رکھا ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہی ان کو راس آئے گی۔ اللہ نے ان پر پھٹکار ڈال دی ہے، اور ان کے لیے اٹل عذاب ہے۔

﴿69﴾ (منافقو) تم انہی لوگوں کی طرح ہو جو تم سے پہلے ہوگزرے ہیں۔ وہ طاقت میں تم سے مضبوط تر اور مال اور اولاد میں تم سے کہیں زیادہ تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے حصے کے مزے اڑا لیے، پھر تم نے اسی طرح اپنے حصے کے مزے اڑائے، جیسے تم سے پہلے لوگوں نے اپنے حصے کے مزے اڑائے تھے، اور تم بھی ویسی ہی بےہودہ باتوں میں پڑے جیسے وہ پڑے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں غارت ہوگئے، اور یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے خسارے کا سودا کیا۔

﴿70﴾ کیا ان (منافقوں) کو ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے گزرے ہیں ؟ نوح کی قوم، اور عاد وثمود، ابراہیم کی قوم، مدین کے باشندے اور وہ بستیاں جنہیں الٹ ڈالا گیا۔ ان سب کے پاس ان کے رسول روشن دلائل لے کر آئے تھے۔ پھر اللہ ایسا نہیں تھا کہ ان پر ظلم کرتا، لیکن یہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے۔

﴿71﴾ اور مومن مرد اور مومن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ وہ نیکی کی تلقین کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کو اللہ اپنی رحمت سے نوازے گا۔ یقینا اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

﴿72﴾ اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے وعدہ کیا ہے ان باغات کا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور ان پاکیزہ مکانات کا جو سدا بہار باغات میں ہوں گے۔ اور اللہ کی طرف سے خوشنودی تو سب سے بڑی چیز ہے۔ (جو جنت والوں کو نصیب ہوگی) یہی تو زبردست کامیابی ہے۔

﴿73﴾ اے نبی ! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو، اور ان پر سختی کرو۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

﴿74﴾ یہ لوگ اللہ کی قسمیں کھا جاتے ہیں کہ انہوں نے فلاں بات نہیں کہی، حالانکہ انہوں نے کفر کی بات کہی ہے، اور اپنے اسلام لانے کے بعد انہوں نے کفر اختیار کیا ہے۔ انہوں نے وہ کام کرنے کا ارادہ کرلیا تھا جس میں یہ کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ اور انہوں نے صرف اس بات کا بدلہ دیا کہ اللہ اور اس کے رسول نے انہیں اپنے فضل سے مال دار بنادیا ہے۔ اب اگر یہ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا، اور اگر یہ منہ موڑیں گے تو اللہ ان کو دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب دے گا، اور روئے زمین پر ان کا نہ کوئی یار ہوگا نہ مددگار۔

﴿75﴾ اور انہی میں وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ اگر وہ اپنے فضل سے ہمیں نوازے گا تو ہم ضرور صدقہ کریں گے، اور یقینا نیک لوگوں میں شامل ہوجائیں گے۔

﴿76﴾ لیکن جب اللہ نے ان کو اپنے فضل سے نوازا تو اس میں بخل کرنے لگے، اور منہ موڑ کر چل دیے۔

﴿77﴾ نتیجہ یہ کہ اللہ نے سزا کے طور پر نفاق ان کے دلوں میں اس دن تک کے لیے جما دیا ہے جس دن وہ اللہ سے جاکر ملیں گے، کیونکہ انہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا، اس کی خلاف ورزی کی، اور کیونکہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔

﴿78﴾ کیا انہیں یہ پتہ نہیں تھا کہ اللہ ان کی تمام پوشیدہ باتوں اور سرگوشیوں کو جانتا ہے اور یہ کہ اس کو غیب کی ساری باتوں کا پورا پورا علم ہے ؟

﴿79﴾ (یہ منافق وہی ہیں) جو خوشی سے صدقہ کرنے والے مومنوں کو بھی طعنے دیتے ہیں، اور ان لوگوں کو بھی جنہیں اپنی محنت (کی آمدنی) کے سوا کچھ میسر نہیں ہے اس لیے وہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں، اللہ ان کا مذاق اڑاتا ہے، اور ان کے لیے دردناک عذاب تیار ہے۔

﴿80﴾ (اے نبی) تم ان کے لیے استغفار کرو یا نہ کرو، اگر تم ان کے لیے ستر مرتبہ استغفار کرو گے تب بھی اللہ انہیں معاف نہیں کرے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کا رویہ اپنایا ہے، اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔

﴿81﴾ جن لوگوں کو (غزوہ تبوک سے) پیچھے رہنے دیا گیا تھا، وہ رسول اللہ کے جانے کے بعد اپنے (گھروں میں) بیٹھے رہنے سے بڑے خوش ہوئے، اور ان کو یہ بات ناگوار تھی کہ وہ اللہ کے راستے میں اپنے مال و جان سے جہاد کریں، اور انہوں نے کہا تھا کہ : اس گرمی میں نہ نکلو۔ کہو کہ : جہنم کی آگ گرمی میں کہیں زیادہ سخت ہے۔ کاش۔ ان کو سمجھ ہوتی۔

﴿82﴾ اب یہ لوگ (دنیا میں) تھوڑا بہت ہنس لیں، اور پھر (آخرت میں) خوب روتے رہیں، کیونکہ جو کچھ کمائی یہ کرتے رہے ہیں، اس کا یہی بدلہ ہے۔

﴿83﴾ (اے پیغمبر) اس کے بعد اگر اللہ تمہیں ان میں سے کسی گروہ کے پاس واپس لے آئے، اور یہ (کسی اور جہاد میں) نکلنے کے لیے تم سے اجازت مانگیں تو ان سے کہہ دینا کہ : اب تم میرے ساتھ کبھی نہیں چل سکو گے، اور میرے ساتھ ملکر کسی دشمن سے کبھی نہیں لڑ سکو گے۔ تم نے پہلی بار بیٹھے رہنے کو پسند کیا تھا، لہذا اب بھی انہی کے ساتھ بیٹھ رہو جن کو (کسی معذوری کی وجہ سے) پیچھے رہنا ہے۔

﴿84﴾ اور (اے پیغمبر) ان (منافقین) میں سے جو کوئی مرجائے، تو تم اس پر کبھی نماز (جنازہ) مت پڑھنا، اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا یقین جانو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کا رویہ اپنایا، اور اس حالت میں مرے ہیں کہ وہ نافرمان تھے۔

﴿85﴾ اور تمہیں ان کے مال اور اولاد (کی کثرت) سے تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ انہی چیزوں سے ان کو دنیا میں عذاب دے، اور ان کی جان بھی کفر ہی کی حالت میں نکلے۔

﴿86﴾ اور جب کوئی سورت یہ حکم لے کر نازل ہوتی ہے کہ : اللہ پر ایمان لاؤ، اور اس کے رسول کی رفاقت میں جہاد کرو، تو ان (منافقوں) میں سے وہ لوگ جو صاحب استطاعت ہیں، تم سے اجازت مانگتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل ہونے دیجیے جو (گھر میں) بیٹھے رہیں گے۔

﴿87﴾ یہ اس بات سے خوش ہیں کہ پیچھے رہنے والی عورتوں میں شامل ہوجائیں، اور ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے، چنانچہ وہ نہیں سمجھتے (کہ وہ کیا کر رہے ہیں) ۔

﴿88﴾ لیکن رسول اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں، اور یہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔

﴿89﴾ اللہ نے ان کے لیے وہ باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں یہ ہمیشہ رہیں گے، اور یہ بڑی زبردست کامیابی ہے۔

﴿90﴾ اور دیہاتیوں میں سے بھی بہانہ باز لوگ آئے کہ ان کو (جہاد سے) چھٹی دی جائے، اور (اس طرح) جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا تھا، وہ سب بیٹھ رہے۔ ان میں سے جنہوں نے کفر (مستقل طور پر) اپنا لیا ہے، ان کو دردناک عذاب ہوگا۔

﴿91﴾ کمزور لوگوں پر (جہاد میں نہ جانے کا) کوئی گناہ نہیں، نہ بیماروں پر، اور نہ ان لوگوں پر جن کے پاس خرچ کرنے کو کچھ نہیں ہے، جبکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے مخلص ہوں۔ نیک لوگوں پر کوئی الزام نہیں، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿92﴾ اور نہ ان لوگوں پر (کوئی گناہ ہے) جن کا حال یہ ہے کہ جب وہ تمہارے پاس اس غرض سے آئے کہ تم انہیں کوئی سواری مہیا کردو، اور تم نے کہا کہ : میرے پاس تو کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر میں تمہیں سوار کرسکوں۔ تو وہ اس حالت میں واپس گئے کہ ان کی آنکھیں اس غم میں آنسوؤں سے بہہ رہی تھیں کہ ان کے پاس خرچ کرنے کو کچھ نہیں ہے۔

﴿93﴾ الزام تو ان لوگوں پر ہے جو مال دار ہونے کے باوجود تم سے اجازت مانگتے ہیں۔ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ وہ پیچھے رہنے والی عورتوں میں شامل ہوگئے۔ اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، اس لیے انہیں حقیقت کا پتہ نہیں ہے۔

﴿94﴾ (مسلمانو) جب تم لوگ (تبوک سے) واپس ان (منافقوں) کے پاس جاؤ گے، تو یہ تمہارے سامنے (طرح طرح کے) عذر پیش کریں گے۔ (اے پیغمبر) ان سے کہہ دینا کہ : تم عذر پیش نہ کرو ہم ہرگز تمہاری بات کا یقین نہیں کریں گے۔ اللہ نے ہمیں تمہارے حالات سے اچھی طرح باخبر کردیا ہے۔ اور آئندہ اللہ بھی تمہارا طرز عمل دیکھے گا، اور اس کا رسول بھی، پھر تمہیں لوٹا کر اس ذات کے سامنے پیش کیا جائے گا جس کو چھپی اور کھلی تمام باتوں کا پورا علم ہے، پھر وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔

﴿95﴾ جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو یہ لوگ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے، تاکہ تم ان سے درگزر کرو۔ لہذا تم بھی ان سے درگزر کرلینا۔ یقین جانو یہ سراپا گندگی ہیں، اور جو کمائی یہ کرتے رہے ہیں، اس کے نتیجے میں ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔

﴿96﴾ یہ تمہارے سامنے اس لیے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے راضی ہوجاؤ، حالانکہ اگر تم ان سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ تو ایسے نافرمان لوگوں سے راضی نہیں ہوتا۔

﴿97﴾ جو دیہاتی (منافق) ہیں، وہ کفر اور منافقت میں زیادہ سخت ہیں، اور دوسروں سے زیادہ اسی لائق ہیں کہ اس دین کے احکام سے ناواقف رہیں جو اللہ نے اپنے رسول پر اتارا ہے۔ اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

﴿98﴾ انہی دیہاتیوں میں وہ بھی ہیں جو (اللہ کے نام پر) خرچ کیے ہوئے مال کو ایک تاوان سمجھتے ہیں، اور اس انتظار میں رہتے ہیں کہ تم مسلمانوں پر مصیبتوں کے چکر آپڑیں، (حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ) بدترین مصیبت کا چکر تو خود ان پر پڑا ہوا ہے۔ اور اللہ ہر بات سنتا، سب کچھ جانتا ہے۔

﴿99﴾ اور انہی دیہاتیوں میں وہ بھی جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، اور جو کچھ (اللہ کے نام پر) خرچ کرتے ہیں اس کو اللہ کے پاس قرب کے درجے حاصل کرنے اور رسول کی دعائیں لینے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ہاں یہ ان کے لیے یقینا تقرب کا ذریعہ ہے۔ اللہ ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿100﴾ اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے، اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہوگیا ہے، اور وہ اس سے راضی ہیں، اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔

﴿101﴾ اور تمہارے ارد گرد جو دیہاتی ہیں، ان میں بھی منافق لوگ موجود ہیں، اور مدینہ کے باشندوں میں بھی۔ یہ لوگ منافقت میں (اتنے) ماہر ہوگئے ہیں (کہ) تم انہیں نہیں جانتے، انہیں ہم جانتے ہیں۔ ان کو ہم دو مرتبہ سزا دیں گے۔ پھر ان کو ایک زبردست عذاب کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔

﴿102﴾ اور کچھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرلیا ہے۔ انہوں نے ملے جلے عمل کیے ہیں، کچھ نیک کام، اور کچھ برے۔ امید ہے کہ اللہ ان کی توبہ قبول کرلے گا۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿103﴾ (اے پیغمبر) ان لوگوں کے اعمال میں سے صدقہ وصول کرلو جس کے ذریعے تم انہیں پاک کردو گے اور ان کے لیے باعث برکت بنو گے، اور ان کے لیے دعا کرو۔ یقینا تمہاری دعا ان کے لیے سراپا تسکین ہے، اور اللہ ہر بات سنتا اور سب کچھ جانتا ہے۔

﴿104﴾ کیا ان کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ بھی قبول کرتا ہے اور صدقات بھی قبول کرتا ہے، اور یہ کہ اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے ؟

﴿105﴾ اور (ان سے) کہو کہ : تم عمل کرتے رہو۔ اب اللہ بھی تمہارا طرز عمل دیکھے گا، اور اس کا رسول بھی اور مومن لوگ بھی۔ پھر تمہیں لوٹا کر اس ذات کے سامنے پیش کیا جائے گا، جس کو چھپی اور کھلی تمام باتوں کا پورا علم ہے، پھر وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔

﴿106﴾ اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا فیصلہ اللہ کا حکم آنے تک ملتوی کردیا گیا ہے، یا اللہ ان کو سزا دے گا، یا معاف کردے گا، اور اللہ کامل علم والا بھی ہے، کامل حکمت والا بھی۔

﴿107﴾ اور کچھ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایک مسجد اس کام کے لیے بنائی ہے کہ (مسلمانوں کو) نقصان پہنچائیں، کافرانہ باتیں کریں، مومنوں میں پھوٹ ڈالیں اور اس شخص کو ایک اڈہ فراہم کریں جس کی پہلے سے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ ہے۔ اور یہ قسمیں ضرور کھا لیں گے کہ بھلائی کے سوا ہماری کوئی اور نیت نہیں ہے، لیکن اللہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ قطعی جھوٹے ہیں۔

﴿108﴾ (اے پیغمبر) تم اس (نام نہاد مسجد) میں کبھی (نماز کے لیے) کھڑے مت ہونا۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقوی پر رکھی گئی ہے وہ اس بات کی زیادہ حق دار ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک صاف ہونے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ پاک صاف لوگوں کو پسند کرتا ہے۔

﴿109﴾ بھلا کیا وہ شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی خوشنودی پر اٹھائی ہو، یا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایک ڈھانگ کے کسی گرتے ہوئے کنارے پر رکھی ہو، پھر وہ اسے لے کر جہنم کی آگ میں جاگرے ؟ اور اللہ ایسے ظالم لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔

﴿110﴾ جو عمارت ان لوگوں نے بنائی تھی، وہ ان کے دلوں میں اس وقت تک برابر شک پیدا کرتی رہے گی جب تک ان کے دل ہی ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہوجاتے۔ اور اللہ کامل علم والا بھی ہے، کامل حکمت والا بھی۔

﴿111﴾ واقعہ یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بات کے بدلے خرید لیے ہیں کہ جنت انہی کی ہے۔ وہ اللہ کے راستے میں جنگ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں مارتے بھی ہیں، اور مرتے بھی ہیں۔ یہ ایک سچا وعدہ ہے جس کی ذمہ داری اللہ نے تورات اور انجیل میں بھی لی ہے، اور قرآن میں بھی۔ اور کون ہے جو اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو پورا کرنے والا ہو ؟ لہذا اپنے اس سودے پر خوشی مناؤ جو تم نے اللہ سے کرلیا ہے۔ اور یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔

﴿112﴾ (جنہوں نے یہ کامیاب سودا کیا ہے وہ کون ہیں ؟) توبہ کرنے والے ! اللہ کی بندگی کرنے والے ! اس کی حمد کرنے والے ! روزے رکھنے والے ! رکوع میں جھکنے والے ! سجدے گزرنے والے ! نیکی کی تلقین کرنے والے، اور برائی سے روکنے والے، اور اللہ کی قائم کی ہوئی حدوں کی حفاظت کرنے والے، (اے پیغمبر) ایسے مومنوں کو خوشخبری دے دو ۔

﴿113﴾ یہ بات نہ تو نبی کو زیب دیتی ہے اور نہ دوسرے مومنوں کو کہ وہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا کریں، چاہے وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، جبکہ ان پر یہ بات پوری طرح واضح ہوچکی ہے کہ وہ دوزخی لوگ ہیں۔

﴿114﴾ اور ابراہیم نے اپنے باپ کے لیے جو مغفرت کی دعا مانگی تھی، اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں تھی کہ انہوں نے اس (باپ) سے ایک وعدہ کرلیا تھا۔ پھر جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ وہ اللہ کا دشمن ہے، تو وہ اس سے دستبردار ہوگئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم بڑی آہیں بھرنے والے، بڑے بردبار تھے۔

﴿115﴾ اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کردے جب تک اس نے ان پر یہ بات واضح نہ کردی ہو کہ انہیں کن باتوں سے بچنا ہے۔ یقین رکھو کہ اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔

﴿116﴾ یقینا اللہ ہی ہے جس کے قبضے میں سارے آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے۔ وہ زندگی بھی دیتا ہے، اور موت بھی، اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی رکھوالا ہے نہ مددگار۔

﴿117﴾ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے رحمت کی نظر فرمائی ہے نبی پر ان مہاجرین اور انصار پر جنہوں نے ایسی مشکل کی گھڑی میں نبی کا ساتھ دیا، جبکہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل ڈگمگا جائیں، پھر اللہ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی۔ یقینا وہ ان کے لیے بہت شفیق، بڑا مہربان ہے۔

﴿118﴾ اور ان تینوں پر بھی (اللہ نے رحمت کی نظر فرمائی ہے) جن کا فیصلہ ملتوی کردیا گیا تھا، یہاں تک کہ جب ان پر یہ زمین اپنی ساری وسعتوں کے باوجود تنگ ہوگئی، ان کی زندگیاں ان پر دو بھر ہوگئیں، اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ (کی پکڑ) سے خود اسی کی پناہ میں آئے بغیر کہیں اور پناہ نہیں مل سکتی، تو پھر اللہ نے ان پر رحم فرمایا، تاکہ وہ آئندہ اللہ ہی سے رجوع کیا کریں۔ یقین جانو اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿119﴾ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو، اور سچے لوگوں کے ساتھ رہا کرو۔

﴿120﴾ مدینہ کے باشندوں اور ان کے ارد گرد کے دیہات میں رہنے والوں کے لیے یہ جائز نہیں تھا کہ وہ اللہ کے رسول (کا ساتھ دینے سے) پیچھے رہیں، اور نہ یہ جائز تھا کہ وہ بس اپنی جان پیاری سمجھ کر ان کی (یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی) جان سے بےفکر ہوبیٹھیں۔ یہ اس لیے کہ ان (مجاہدین) کو جب کبھی اللہ کے راستے میں پیاس لگتی ہے، یا تھکن ہوتی ہے، یا بھوک ستاتی ہے، یا وہ کوئی ایسا قدم اٹھاتے ہیں جو کافروں کو گھٹن میں ڈالے، یا دشمن کے مقابلے میں کوئی کامیابی حاصل کرتے ہیں تو ان کے اعمال نامے میں (ہر ایسے کام کے وقت) ایک نیک عمل ضرور لکھا جاتا ہے۔ یقین جانو کہ اللہ نیک لوگوں کے کسی عمل کو بیکار جانے نہیں دیتا۔

﴿121﴾ نیز وہ جو کچھ (اللہ کے راستے میں) خرچ کرتے ہیں، چاہے وہ خرچ چھوٹا ہو یا بڑا، اور جس کسی وادی کو وہ پار کرتے ہیں، اس سب کو (ان کے اعمال نامے میں نیکی کے طور پر) لکھا جاتا ہے، تاکہ اللہ انہیں (ہر ایسے عمل پر) وہ جزاء دے جو ان کے بہترین اعمال کے لیے مقرر ہے۔

﴿122﴾ اور مسلمانوں کے لیے یہ بھی مناسب نہیں ہے کہ وہ (ہمیشہ) سب کے سب (جہاد کے لیے) نکل کھڑے ہوں۔ لہذا ایسا کیوں نہ ہو کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک گروہ (جہاد کے لیے) نکلا کرے، تاکہ (جو لوگ جہاد میں نہ گئے ہوں وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے کے لیے محنت کریں، اور جب ان کی قوم کے لوگ (جو جہاد میں گئے ہیں) ان کے پاس واپس آئیں تو یہ ان کو متنبہ کریں، تاکہ وہ (گناہوں سے) بچ کر رہیں۔

﴿123﴾ اے ایمان والو ! ان کافروں سے لڑو جو تم سے قریب ہیں۔ اور ہونا یہ چاہیے کہ وہ تمہارے اندر سختی محسوس کریں۔ اور یقین رکھو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔

﴿124﴾ اور جب کبھی کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو انہی (منافقین) میں وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ : اس (سورت) نے تم میں سے کس کے ایمان میں اضافہ کیا ہے ؟ اب جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو (واقعی) ایمان لائے ہیں، ان کے ایمان میں تو اس سورت نے واقعی اضافہ کیا ہے، اور وہ (اس پر) خوش ہوتے ہیں۔

﴿125﴾ رہے وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے تو اس سورت نے ان کی گندگی میں کچھ اور گندگی کا اضافہ کردیا ہے، اور ان کو موت بھی کفر ہی کی حالت میں آتی ہے۔

﴿126﴾ کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ وہ ہر سال ایک دو مرتبہ کسی آزمائش میں مبتلا ہوتے ہیں، پھر بھی نہ وہ توبہ کرتے ہیں، اور نہ کوئی سبق حاصل کرتے ہیں ؟

﴿127﴾ اور جب کبھی کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو یہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں (اور اشاروں میں ایک دوسرے سے کہتے ہیں) کہ کیا کوئی تمہیں دیکھ تو نہیں رہا ؟ پھر وہاں سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں۔ اللہ نے ان کا دل پھیر دیا ہے، کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ سمجھ سے کام نہیں لیتے۔

﴿128﴾ (لوگو) تمہارے پاس ایک ایسا رسول آیا ہے جو تمہی میں سے ہے، جس کو تمہاری ہر تکلیف بہت گراں معلوم ہوتی ہے، جسے تمہاری بھلائی کی دھن لگی ہوئی ہے، جو مومنوں کے لیے انتہائی شفیق، نہایت مہربان ہے۔

﴿129﴾ پھر بھی اگر یہ لوگ منہ موڑیں تو (اے رسول ! ان سے) کہہ دو کہ : میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔

یونس

Surah 10

﴿1﴾ الر۔ یہ اس کتاب کی آیتیں ہیں جو حکمت سے بھری ہوئی ہے۔

﴿2﴾ کیا لوگوں کے لیے یہ تعجب کی بات ہے کہ ہم نے خود انہی میں کے ایک شخص پر وحی نازل کی ہے کہ :“ لوگوں کو (اللہ کی خلاف ورزی سے) ڈراؤ، اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، ان کو خوشخبری دو کہ ان کے رب کے نزدیک ان کا صحیح معنی میں بڑا پایہ ہے ” (مگر جب اس نے لوگوں کو یہ پیغام دیا تو) کافروں نے کہا کہ یہ تو کھلا جادو گر ہے۔

﴿3﴾ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا پروردگار اللہ ہے جس نے سارے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر اس نے عرش پر اس طرح استواء فرمایا کہ وہ ہر چیز کا انتظام کرتا ہے۔ کوئی اس کی اجازت کے بغیر (اس کے سامنے) کسی کی سفارش کرنے والا نہیں، وہی اللہ ہے تمہارا پروردگار، لہذا اس کی عبادت کرو، کیا تم پھر بھی دھیان نہیں دیتے ؟۔

﴿4﴾ اسی کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے، یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے، یقینا ساری مخلوق کو شروع میں بھی وہی پیدا کرتا ہے اور دوبارہ بھی وہی پیدا کرے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو انصاف کے ساتھ اس کا صلہ دے۔ اور جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے، انکے لیے کھولتے ہوئے پانی کا مشروب ہے، اور دکھ دینے والا عذاب ہے، کیونکہ وہ حق کا انکار کرتے تھے۔

﴿5﴾ اور اللہ وہی ہے جس نے سورج کو سراپا روشنی بنایا، اور چاند کو سراپا نور، اور اس کے (سفر) کے لیے منزلیں مقرر کردیں، تاکہ تم برسوں کی گنتی اور (مہینوں کا) حساب معلوم کرسکو۔ اللہ نے یہ سب کچھ بغیر کسی صحیح مقصد کے پیدا نہیں کردیا وہ یہ نشانیاں ان لوگوں کے لیے کھول کھول کر بیان کرتا ہے جو سمجھ رکھتے ہیں۔

﴿6﴾ حقیقت یہ ہے کہ رات دن کے آگے پیچھے آنے میں اور اللہ نے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ پیدا کیا ہے، اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جن کے دل میں خدا کا خوف ہو۔

﴿7﴾ جو لوگ ہم سے (آخرت میں) آملنے کی کوئی توقع ہی نہیں رکھتے، اور دنیوی زندگی میں مگن اور اسی پر مطمئن ہوگئے ہیں، اور جو ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔

﴿8﴾ ان کا ٹھکانا اپنے کرتوت کی وجہ سے دوزخ ہے۔

﴿9﴾ (دوسری طرف) جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کے ایمان کی وجہ سے ان کا پروردگار انہیں اس منزل تک پہنچائے گا کہ نعمتوں سے بھرے باغات میں ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔

﴿10﴾ اس میں (داخلے کے وقت) ان کی پکار یہ ہوگی کہ :“ یا اللہ ! تیری ذات ہر عیب سے پاک ہے ” اور ایک دوسرے کے خیر مقدم کے لیے جو لفظ وہ بولیں گے، وہ سلام ہوگا، اور ان کی آخری پکار یہ ہوگی :“ تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے ”۔

﴿11﴾ اور اگر اللہ (ان کافر) لوگوں کو برائی (یعنی عذاب) کا نشانہ بنانے میں بھی اتنی ہی جلدی کرتا جتنی جلدی وہ اچھائیاں مانگنے میں مچاتے ہیں تو ان کی مہلت تمام کردی گئی ہوتی ۔ (لیکن ایسی جلد بازی ہماری حکمت کے خلاف ہے) لہذا جو لوگ ہم سے (آٓخرت میں) ملنے کی توقع نہیں رکھتے، ہم انہیں اس حال پر چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے پھریں۔

﴿12﴾ اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ لیٹے بیٹھے اور کھڑے ہوئے (ہر حالت میں) ہمیں پکارتے ہیں۔ پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو اس طرح چل کھڑا ہوتا ہے جیسے کبھی اپنے آپ کو پہنچنے والی کسی تکلیف میں ہمیں پکارا ہی نہ تھا۔ جو لوگ حد سے گزر جاتے ہیں، انہیں اپنے کرتوت اسی طرح خوشنما معلوم ہوتے ہیں۔

﴿13﴾ اور ہم نے تم سے پہلے (کئی) قوموں کو اس موقع پر ہلاک کیا جب انہوں نے ظلم کا ارتکاب کیا تھا، اور ان کے پیغمبر ان کے پاس روشن دلائل لے کر آئے تھے، اور وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے، ایسے مجرم لوگوں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔

﴿14﴾ پھر ہم نے ان کے بعد زمین میں تم کو جانشین بنایا ہے تاکہ یہ دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ؟

﴿15﴾ اور وہ لوگ جو (آخرت میں) ہم سے آملنے کی توقع نہیں رکھتے جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں، جبکہ وہ بالکل واضح ہوتی ہیں، تو وہ یہ کہتے ہیں کہ :“ یہ نہیں، کوئی اور قرآن لے کر آؤ، یا اس میں تبدیلی کرو ”۔ (اے پیغمبر) ان سے کہہ دو کہ :“ مجھے یہ حق نہیں پہنچتا کہ میں اس میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی کروں۔ میں تو کسی اور چیز کی نہیں، صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے۔ اگر کبھی میں اپنے رب کی نافرمانی کر بیٹھوں تو مجھے ایک زبردست دن کے عذاب کا خوف ہے۔

﴿16﴾ کہہ دو کہ :“ اگر اللہ چاہتا تو میں اس قرآن کو تمہارے سامنے نہ پڑھتا، اور نہ اللہ تمہیں اس سے واقف کراتا ۔ آخر اس سے پہلے بھی تو میں ایک عمر تمہارے درمیان بسر کرچکا ہوں۔ کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ ۔

﴿17﴾ پھر اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے، یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے ؟ یقین رکھو کہ مجرم لوگ فلاح نہیں پاتے۔”

﴿18﴾ اور یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان (من گھڑت خداؤں) کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں، نہ ان کو کوئی فائدہ دے سکتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ (اے پیغمبر ! ان سے) کہو کہ :“ کیا تم اللہ کو اس چیز کی خبر دے رہے ہو جس کا کوئی وجود اللہ کے علم میں نہیں ہے، نہ آسمانوں میں نہ زمین میں ؟” (حقیقت یہ ہے کہ) اللہ ان کی مشرکانہ باتوں سے بالکل پاک اور کہیں بالا و برتر ہے۔

﴿19﴾ اور (شروع میں) تمام انسان کسی اور دین کے نہیں، صرف ایک ہی دین کے قائل تھے، پھر بعد میں وہ آپس میں اختلاف کرکے الگ الگ ہوئے۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی تو جس معاملے میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں، اس کا فیصلہ (دنیا ہی میں) کردیا جاتا ۔

﴿20﴾ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ :“ اس نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں کی گئ ؟” تو (اے پیغمبر ! تم جواب میں) کہہ دو کہ :“ غیب کی باتیں تو صرف اللہ کے اختیار میں ہیں۔ لہذا تم انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔”

﴿21﴾ اور انسانوں کا حال یہ ہے کہ جب ان کو پہنچنے والی کسی تکلیف کے بعد ہم ان کو رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو ذرا سی دیر میں وہ ہماری نشانیوں کے بارے میں چالبازی شروع کردیتے ہیں ۔ کہہ دو کہ :“ اللہ اس سے بھی جلدی کوئی چال چل سکتا ہے یقینا ہمارے فرشتے تمہاری ساری چالبازیوں کو لکھ رہے ہیں۔

﴿22﴾ وہ اللہ ہی تو ہے جو تمہیں خشکی میں بھی اور سمندر میں بھی سفر کراتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہوتے ہو، اور یہ کشتیاں لوگوں کو لے کر خوشگوار ہوا کے ساتھ پانی پر چلتی ہیں اور لوگ اس بات پر مگن ہوتے ہیں تو اچانک ان کے پاس ایک تیز آندھی آتی ہے اور ہر طرف سے ان پر موجیں اٹھتی ہیں اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ ہر طرف سے گھر گئے۔ تو اس وقت وہ خلوص کے ساتھ صرف اللہ پر اعتقاد کر کے صرف اسی کو پکارتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) “ (یا اللہ !) اگر تو نے ہمیں اس (مصیبت سے) نجات دے دی تو ہم ضرور بالضرور شکر گزار لوگوں میں شامل ہوجائیں گے۔”

﴿23﴾ لیکن جب اللہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو زیادہ دیر نہیں گزرتی کہ وہ زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ ارے لوگو ! تمہاری یہ سرکشی درحقیقت خود تمہارے اپنے خلاف پڑتی ہے۔ اب تو دنیوی زندگی کے مزے اڑا لو، آخر کو ہمارے پاس ہی تمہیں لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تمہیں بتائیں گے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔

﴿24﴾ دنیوی زندگی کی مثال تو کچھ ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا جس کی وجہ سے زمین سے اگنے والی وہ چیزیں خوب گھنی ہوگئیں جو انسان اور مویشی کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین نے اپنا یہ زیور پہن لیا، اور سنگھار کر کے خوشنما ہوگئی اور اس کے مالک سمجھنے لگے کہ بس اب یہ پوری طرح ان کے قابو میں ہے، تو کسی رات یا دن کے وقت ہمارا حکم آگیا (کہ اس پر کوئی آفت آجائے) اور ہم نے اس کو کٹی ہوئی کھیتی کی سپاٹ زمین میں اس طرح تبدیل کردیا جیسے کل وہ تھی ہی نہیں۔ اسی طرح ہم نشانیوں کو ان لوگوں کے لیے کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔

﴿25﴾ اور اللہ لوگوں کو سلامتی کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے تک پہنچا دیتا ہے ۔

﴿26﴾ جن لوگوں نے بہتر کام کیے ہیں، بہترین حالت انہی کے لیے ہے اور اس سے بڑھ کر کچھ اور بھی نیز ان کے چہروں پر نہ کبھی سیاہی چھائے گی، نہ ذلت۔ وہ جنت کے باسی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

﴿27﴾ رہے وہ لوگ جنہوں نے برائیاں کمائی ہیں تو (ان کی) برائی کا بدلہ اسی جیسا برا ہوگا اور ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی، اللہ (کے عذاب) سے انہیں کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔ ایسا لگے گا جیسے ان کے چہروں پر اندھیری رات کی تہیں چڑھادی گئی ہیں۔ وہ دوزخ کے باسی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

﴿28﴾ اور (یاد رکھو) وہ دن جب ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے پھر جن لوگوں نے شرک کیا تھا، ان سے کہیں گے کہ :“ ذرا اپنی جگہ ٹھہرو، تم بھی اور وہ بھی جن کو تم نے اللہ کا شریک مانا تھا۔” پھر ان کے درمیان (عابد اور معبود کا) جو رشتہ تھا، ہم وہ ختم کردیں گے، اور ان کے وہ شریک کہیں گے کہ :“ تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے ۔

﴿29﴾ ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ بننے کے لیے کافی ہے (کہ) ہم تمہاری عبادت سے بالکل بیخبر تھے۔”

﴿30﴾ ہر شخص نے ماضی میں جو کچھ کیا ہوگا، اس موقع پر وہ خود اس کو پرکھ لے گا اور سب کو اللہ کی طرف لوٹا دیا جائے گا جو ان کا مالک حقیقی ہے، اور جو جھوٹ انہوں نے تراش رکھے تھے، ان کا کوئی سراغ انہیں نہیں ملے گا۔

﴿31﴾ (اے پیغمبر ! ان مشرکوں سے) کہو کہ :“ کون ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے ؟ یا بھلا کون ہے جو سننے اور دیکھنے کی قوتوں کا مالک ہے ؟ اور کون ہے جو جاندار کو بےجان سے اور بےجان کو جاندار سے باہر نکال لاتا ہے ؟ اور کون ہے جو ہر کام کا انتظام کرتا ہے ؟” تو یہ لوگ کہیں گے کہ :“ اللہ ! تو تم ان سے کہو :“ کیا پھر بھی تم اللہ سے نہیں ڈرتے ؟

﴿32﴾ پھر تو لوگو ! وہی اللہ ہے جو تمہارا مالک برحق ہے، پھر حق واضح ہوجانے کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا باقی رہ گیا ؟ اس کے باوجود تمہیں کوئی کہاں الٹ لئے جارہا ہے ؟ ”

﴿33﴾ اسی طرح جن لوگوں نے نافرمانی کا شیواہ اپنا لیا ہے، ان کے بارے میں اللہ کی یہ بات سچی ہوگئی ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے

﴿34﴾ کہو کہ :“ جن کو تم اللہ کے ساتھ شریک مانتے ہو، کیا ان میں کوئی ایسا ہے جو مخلوقات کو پہلی بار پیدا کرے، پھر (ان کی موت کے بعد) انہیں دوبارہ پھر پیدا کردے ؟” کہو کہ :“ اللہ ہے جو مخلوقات کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر ان (کی موت کے بعد) انہیں دوبارہ پھر پیدا کردے گا۔ پھر آخر کوئی تمہیں کہاں اوندھے منہ لئے جارہا ہے ؟”

﴿35﴾ کہو کہ :“ جن کو تم اللہ کے ساتھ شریک مانتے ہو، کیا ان میں کوئی ایسا ہے جو تمہیں حق کا راستہ دکھائے ؟” کہو کہ :“ اللہ حق کا راستہ دکھاتا ہے، اب بتاؤ کہ جو حق کا راستہ دکھاتا ہو کیا وہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کی بات مانی جائے، یا وہ (زیادہ حق دار ہے) جس کو خود اس وقت تک راستہ نہ سوجھے جب تک کوئی دوسرا اس کی رہنمائی نہ کرے ؟ بھلا تمہیں ہو کیا گیا ہے ؟ تم کس طرح کی باتیں طے کرلیتے ہو ؟”

﴿36﴾ اور (حقیقت یہ ہے کہ) ان (مشرکین) میں سے اکثر لوگ کسی اور چیز کے نہیں، صرف وہمی اندازے کے پیچھے چلتے ہیں، اور یہ یقینی بات ہے کہ حق کے معاملے میں وہمی انداہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا۔ یقین جانو جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں، اللہ اس کا پورا پورا علم رکھتا ہے۔

﴿37﴾ اور یہ قرآن ایسا نہیں ہے کہ اسے کسی نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہو، اللہ نے نہ اتارا ہو بلکہ یہ (وحی کی) ان باتوں کی تصدیق کرتا ہے جو اس سے پہلے آچکی ہیں، اور اللہ نے جو باتیں (لوح محفوظ میں) لکھ رکھی ہیں، ان کی تفصیل بیان کرتا ہے، اس میں ذرا شک کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ اس ذات کی طرف سے ہے جو تمام جہانوں کی پرورش کرتی ہے۔

﴿38﴾ کیا پھر بھی یہ لوگ کہتے ہیں کہ : پیغمبر نے اسے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے ؟ کہو کہ : پھر تو تم بھی اس جیسی ایک ہی سورت (گھڑ کر) لے آؤ، اور (اس کام میں مدد لینے کے لیے) اللہ کے سوا جس کسی کو بلا سکو بلا لو، اگر سچے ہو۔

﴿39﴾ بات دراصل یہ ہے کہ جس چیز کا احاطہ یہ اپنے علم سے نہیں کرسکے، اسے انہوں نے جھوٹ قرار دے دیا، اور ابھی اس کا انجام بھی ان کے سامنے نہیں آیا اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے، انہوں نے (اپنے پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا۔ پھر دیکھو کہ ان ظالموں کا انجام کیسا ہوا ؟

﴿40﴾ اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو اس (قرآن) پر ایمان لے آئیں گے، اور کچھ وہ ہیں جو اس پر ایمان نہیں لائیں گے، اور تمہارا پروردگار فساد پھیلانے والوں کو خوب جانتا ہے۔

﴿41﴾ اور (اے پیغمبر) اگر یہ تمہیں جھٹلائیں تو (ان سے) کہہ دو کہ : میرا عمل میرے لیے ہے، اور تمہارا عمل تمہارے لیے، جو کام میں کرتا ہوں اس کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے اور جو کام تم کرتے ہو اس کی ذمہ داری مجھ پر نہیں۔

﴿42﴾ اور ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو تمہاری باتوں کو (بظاہر) کان لگا کر سنتے ہیں (مگر دل میں حق کی طلب نہیں رکھتے، اس لیے درحقیقت بہرے ہیں) تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے، چاہے وہ سمجھتے نہ ہوں ؟

﴿43﴾ اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو تمہاری طرف دیکھتے ہیں (مگر دل میں انصاف نہ ہونے کی وجہ سے وہ اندھوں جیسے ہیں) تو کیا تم اندھوں کو راستہ دکھاؤ گے، چاہے انہیں کچھ بھی سجھائی نہ دیتا ہو ؟

﴿44﴾ حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر ذرا بھی ظلم نہیں کرتا، لیکن انسان ہیں جو خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔

﴿45﴾ اور جس دن اللہ ان کو (میدان حشر میں) اکٹھا کرے گا، تو انہیں ایسا معلوم ہوگا جیسے وہ (دنیا میں یا قبر میں) دن کی ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے، (اسی لیے) وہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچانتے ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے بڑے گھاٹے کا سودا کیا ہے جنہوں نے اللہ سے (آخرت میں) جاملنے کو جھٹلایا ہے اور جو راہ راست پر نہیں آئے۔

﴿46﴾ اور (اے پیغمبر) جن باتوں کی ہم نے ان (کافروں کو) دھمکی دی ہوئی ہے، چاہے ان میں سے کوئی بات ہم تمہیں (تمہاری زندگی میں) دکھا دیں، یا (اس سے پہلے) تمہاری روح قبض کرلیں، بہرصورت ان کو آخر میں ہماری طرف ہی لوٹنا ہے، پھر (یہ تو ظاہر ہی ہے کہ) جو کچھ یہ کرتے ہیں، اللہ اس کا پورا پورا مشاہدہ کر رہا ہے۔ (لہذا وہاں ان کو سزا دے گا)

﴿47﴾ اور ہر امت کے لیے ایک رسول بھیجا گیا ہے، پھر جب ان کا رسول آجاتا ہے تو ان کا فیصلہ پورے انصاف سے کیا جاتا ہے، اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا۔

﴿48﴾ اور یہ (کافر) لوگ (مسلمانوں سے مذاق اڑانے کے لیے) کہتے ہیں کہ : اگر تم سچے ہو تو (اللہ کی طرف سے عذاب کا) یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟

﴿49﴾ (اے پیغمبر ! ان سے) کہہ دو کہ : میں تو خود اپنی ذات کو بھی کوئی نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہوں، نہ فائدہ پہنچانے کا، مگر جتنا اللہ چاہے۔ ہر امت کا ایک وقت مقرر ہے، چنانچہ جب ان کا وہ وقت آجاتا ہے تو وہ اس سے نہ ایک گھڑی پیچھے جاسکتے ہیں نہ آگے آسکتے ہیں۔

﴿50﴾ ان سے کہو کہ : ذرا مجھے یہ بتاؤ کہ اگر اللہ کا عذاب تم پر رات کے وقت آئے یا دن کے وقت تو اس میں کون سی ایسی (اشتیاق کے قابل) چیز ہے جس کے جلد آنے کا یہ مجرم لوگ مطالبہ کر رہے ہیں ؟

﴿51﴾ کیا جب وہ عذاب آہی پڑے گا، تب اسے مانو گے ؟ (اس وقت تو تم سے یہ کہا جائے گا کہ) اب مانے ؟ حالانکہ تم ہی (اس کا انکار کر کے) اس کی جلدی مچایا کرتے تھے۔

﴿52﴾ پھر ظالموں سے کہا جائے گا کہ : اب ہمیشہ کے عذاب کا مزہ چکھو، تمہیں کسی اور چیز کا نہیں، صرف اس (بدی) کا بدلہ دیا جارہا ہے جو تم کماتے رہے ہو۔

﴿53﴾ اور یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ (آخرت کا عذاب) واقعی سچ ہے ؟ کہو دو کہ : میرے پروردگار کی قسم یہ بالکل سچ ہے، اور تم (اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتے۔

﴿54﴾ اور جس جس شخص نے ظلم کا ارتکاب کیا ہے، اگر اس کے پاس روئے زمین کی ساری دولت بھی ہوگی تو وہ اپنی جان چھڑانے کے لیے اس کی پیشکش کردے گا، اور جب وہ عذاب کو آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو اپنی شرمندگی کو چھپانا چاہیں گے، اور ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ ہوگا، اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔

﴿55﴾ یاد رکھو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ یا درکھو کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

﴿56﴾ وہی زندہ کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، اور اسی کے پاس تم سب کو لوٹایا جائے گا۔

﴿57﴾ لوگو تمہارے پاس ایک ایسی چیز آئی ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک نصیحت ہے، اور دلوں کی بیماریوں کے لیے شفا ہے، اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا سامان ہے۔

﴿58﴾ (اے پیغمبر) کہو کہ : یہ سب کچھ اللہ کے فضل اور رحمت سے ہوا ہے، لہذا اسی پر تو انہیں خوش ہونا چاہیے، یہ اس تمام دولت سے کہیں بہتر ہے جسے یہ جمع کر کر کے رکھتے ہیں۔

﴿59﴾ کہو کہ : بھلا بتاؤ اللہ نے تمہارے لیے جو رزق نازل کیا تھا، تم نے اپنی طرف سے اس میں سے کسی کو حرام اور کسی کو حلال قرار دے دیا، ان سے پوچھو کہ : کیا اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہو ؟

﴿60﴾ اور جو لوگ اللہ پر بہتان باندھتے ہیں روز قیامت کے بارے میں ان کا کیا گمان ہے ؟ اس میں شک نہیں کہ اللہ انسانوں کے ساتھ فضل کا معاملہ کرنے والا ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔

﴿61﴾ اور (اے پیغمبر) تم جس حالت میں بھی ہوتے ہو اور قرآن کا جو حصہ بھی تلاوت کرتے ہو اور (اے لوگو) تم جو کام بھی کرتے ہو، تو جس وقت تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو ہم تمہیں دیکھتے رہتے ہیں اور تمہارے رب سے کوئی ذرہ برابر چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے، نہ زمین میں نہ آسمان میں، نہ اس سے چھوٹی، نہ بڑی، مگر وہ ایک واضح کتاب میں درج ہے۔

﴿62﴾ یا درکھو کہ جو اللہ کے دوست ہیں ان کو نہ کوئی خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں۔

﴿63﴾ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے، اور تقوی اختیار کیے رہے۔

﴿64﴾ ان کے لیے خوشخبری ہے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، یہی زبردست کامیابی ہے۔

﴿65﴾ اور (اے پیغمبر) یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں وہ تمہیں رنجیدہ نہ کریں، یقین رکھو کہ اقتدار تمام تر اللہ کا ہے، اور وہ ہر بات سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

﴿66﴾ یاد رکھو کہ آسمانوں اور زمین میں جتنے جان دار ہیں وہ سب اللہ ہی کی ملکیت میں ہیں اور جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں وہ کوئی اللہ کے (حقیقی) شرکاء کی پیروی نہیں کرتے، وہ کسی اور چیز کی نہیں، محض گمان کی پیروی کرتے ہیں اور ان کا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ اندازوں کے تیر چلاتے رہیں۔

﴿67﴾ اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی، تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو، اور دن کو ایسا بنایا جو تمہیں دیکھنے کی صلاحیت دے، اس میں یقینا ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو غور سے سنتے ہوں۔

﴿68﴾ (کچھ) لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ اولاد رکھتا ہے، پاک ہے اس کی ذات، وہ ہر چیز سے بےنیاز ہے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے۔ تمہارے پاس اس بات کی ذرا بھی کوئی دلیل نہیں ہے، کیا تم اللہ کے ذمے وہ بات لگاتے ہو جس کا تمہیں کوئی علم نہیں ؟

﴿69﴾ کہہ دو کہ : جو لوگ اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے۔

﴿70﴾ (ان کے لیے) بس دنیا میں تھوڑا سا مزہ ہے، پھر ہمارے پاس ہی انہیں لوٹ کر آنا ہے، پھر کفر کا جو رویہ انہوں نے اپنا رکھا تھا، اس کے بدلے ہم انہیں شدید عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

﴿71﴾ اور (اے پیغمبر) ان کے سامنے نوح کا واقعہ پڑھ کر سناؤ، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : میری قوم کے لوگو ! اگر تمہارے درمیان میرا رہنا، اور اللہ کی آیات کے ذریعے خبردار کرنا تمہیں بھاری معلوم ہورہا ہے تو میں نے تو اللہ ہی پر بھروسہ کر رکھا ہے، اب تم اپنے شریکوں کو ساتھ ملا کر (میرے خلاف) اپنی تدبیروں کو خوب پختہ کرلو، پھر جو تدبیر تم کرو وہ تمہارے دل میں کسی گھٹن کا باعث نہ بنے، بلکہ میرے خلاف جو فیصلہ تم نے کیا ہو، اسے (دل کھول کر) کر گزرو، اور مجھے ذرا مہلت نہ دو ۔

﴿72﴾ پھر بھی اگر تم نے منہ موڑے رکھا تو میں نے تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت تو نہیں مانگی میرا اجر کسی اور نے نہیں، اللہ نے ذمے لیا ہے، اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبردار لوگوں میں شامل رہوں۔

﴿73﴾ پھر ہوا یہ کہ ان لوگوں نے نوح کو جھٹلایا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے نوح کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں تھے انہیں بچا لیا، اور ان کو کافروں کی جگہ زمین میں بسایا، اور جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا، انہیں (طوفان میں) غرق کردیا۔ اب دیکھو کہ جن لوگوں کو خبردار کیا گیا تھا ان کا انجام کیسا ہوا ؟

﴿74﴾ اس کے بعد ہم نے مختلف پیغمبر ان کی اپنی اپنی قوموں کے پاس بھیجے، وہ ان کے پاس کھلے کھلے دلائل لے کر آئے، لیکن ان لوگوں نے جس بات کو پہلی بار جھٹلایا دیا تھا اسے مان کر ہی نہ دیا۔ جو لوگ حد سے گزر جاتے ہیں ان کے دلوں پر ہم اسی طرح مہر لگا دیتے ہیں۔

﴿75﴾ اس کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر بھیجا، تو انہوں نے تکبر کا معاملہ کیا، اور وہ مجرم لوگ تھے۔

﴿76﴾ چنانچہ جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق کا پیغام آیا تو وہ کہنے لگے کہ ضرور یہ کھلا ہوا جادو ہے۔

﴿77﴾ موسیٰ نے کہا : کیا تم حق کے بارے میں ایسی بات کہہ رہے ہو جبکہ وہ تمہارے پاس آچکا ہے ؟ بھلا کیا یہ جادو ہے ؟ حالانکہ جادو گر فلاح نہیں پایا کرتے۔

﴿78﴾ کہنے لگے : کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ جس طور طریقے پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اس سے ہمیں برگشتہ کردو، اور اس سرزمین میں تم دونوں کی چودہراہٹ قائم ہوجائے ؟ ہم تو تم دونوں کی بات ماننے والے نہیں ہیں۔

﴿79﴾ اور فرعون نے (اپنے ملازموں سے) کہا کہ : جتنے ماہر جادوگر ہیں ان سب کو میرے پاس لے کر آؤ۔

﴿80﴾ چنانچہ جب جادوگر آگئے تو موسیٰ نے ان سے کہا : پھینکو جو کچھ تمہیں پھینکنا ہے۔

﴿81﴾ پھر جب انہوں نے (اپنی لاٹھیوں اور رسیوں کو) پھینکا (اور وہ سانپ بن کر چلتی ہوئی نظر آئیں) تو موسیٰ نے کہا کہ : یہ جو کچھ تم نے دکھایا ہے جادو ہے۔ اللہ ابھی اس کو مل یا میٹ کیے دیتا ہے۔ اللہ فسادیوں کا کام بننے نہیں دیتا۔

﴿82﴾ اور اللہ سچ کو اپنے حکم سے سچ کر دکھاتا ہے، چاہے مجرم لوگ کتنا برا سمجھیں۔

﴿83﴾ پھر ہوا یہ کہ موسیٰ پر کوئی اور نہیں، لیکن خود اس کی قوم کے کچھ نوجوان فرعون اور اپنے سرداروں سے ڈرتے ڈرتے ایمان لائے کہ کہیں فرعون انہیں نہ ستائے۔ اور یقینا فرعون زمین میں بڑا زور آور تھا، اور وہ ان لوگوں میں سے تھا جو کسی حد پر قائم نہیں رہتے۔

﴿84﴾ اور موسیٰ نے کہا : اے میری قوم اگر تم واقعی اللہ پر ایمان لے آئے ہو تو پھر اسی پر بھروسہ رکھو، اگر تم فرمانبردار ہو۔

﴿85﴾ اس پر انہوں نے کہا : اللہ ہی پر ہم نے بھروسہ کرلیا ہے، اے ہمارے پروردگار ہمیں ان ظالم لوگوں کے ہاتھوں آزمائش میں نہ ڈالیے۔

﴿86﴾ اور اپنی رحمت سے ہمیں کافر قوم سے نجات دے دیجیے۔

﴿87﴾ اور ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی پر وحی بھیجی کہ : تم دونوں اپنی قوم کو مصر ہی کے گھروں میں بساؤ، اور اپنے گھروں کو نماز کی جگہ بنا لو۔ اور (اس طرح) نماز قائم کرو اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو ۔

﴿88﴾ اور موسیٰ نے کہا : اے ہمارے پروردگار ! آپ نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیوی زندگی میں بڑی سج دھج اور مال و دولت بخشی ہے، اے ہمارے پروردگار ! ان کے مال و دولت کو تہس نہس کردیجیے، اور ان کے دلوں کو اتنا سخت کردیجیے کہ وہ اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔

﴿89﴾ اللہ نے فرمایا : تمہاری دعا قبول کرلی گئی ہے۔ اب تم دونوں ثابت قدم رہو، وار ان لوگوں کے پیچھے ہرگز نہ چلنا جو حقیقت سے ناواقف ہیں۔

﴿90﴾ اور ہم نے بنو اسرائیل کو سمندر پار کرادیا، تو فرعون اور اس کے لشکر نے بھی ظلم اور زیادتی کی نیت سے ان کا پیچھا کیا، یہاں تک کہ جب ڈوبنے کا انجام اس کے سر پر آپہنچا تو کہنے لگا : میں مان گیا کہ جس خدا پر بنو اسرائیل ایمان لائے ہیں اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں بھی فرمانبرداروں میں شامل ہوتا ہوں۔

﴿91﴾ (جواب دیا گیا کہ) اب ایمان لاتا ہے ؟ حالانکہ اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا، اور مسلسل فساد ہی مچاتا رہا۔

﴿92﴾ لہذا آج ہم تیرے (صرف) جسم کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد کے لوگوں کے لیے عبرت کا نشان بن جائے۔ (کیونکہ) بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل بنے ہوئے ہیں۔

﴿93﴾ اور ہم نے بنو اسرائیل کو ایسی جگہ بسایا جو صحیح معنی میں بسنے کے لائق جگہ تھی، اور ان کو پاکیزہ چیزوں کا رزق بخشا۔ پھر انہوں نے (دین حق کے بارے میں) اس وقت تک اختلاف نہیں کیا جب تک ان کے پاس علم نہیں آگیا۔ یقین رکھو کہ جن باتوں میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے، ان کا فیصلہ تمہارا پروردگار قیامت کے دن کرے گا۔

﴿94﴾ پھر (اے پیغمبر) اگر (بالفرض محال) تمہیں اس کلام میں ذرا بھی شک ہو جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے تو ان لوگوں سے پوچھو جو تم سے پہلے سے (آسمانی) کتاب پڑھتے ہیں۔ یقین رکھو کہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہی آیا ہے۔ لہذا تم کبھی بھی شک کرنے والوں میں شامل نہ ہونا۔

﴿95﴾ نیز کبھی ہرگز ان لوگوں میں شامل نہ ہونا، جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا ہے، ورنہ تم ان لوگوں میں شامل ہوجاؤ گے جنہوں نے گھاٹے کا سودا کرلیا ہے۔

﴿96﴾ بیشک جن لوگوں کے بارے میں تمہارے رب کی بات طے ہوچکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

﴿97﴾ چاہے ہر قسم کی نشانی ان کے سامنے آجائے، یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔

﴿98﴾ بھلا کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ ایسے وقت ایمان لے آتی کہ اس کا ایمان اسے فائدہ پہنچا سکتا ؟ البتہ صرف یونس کی قوم کے لوگ ایسے تھے۔ جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیوی زندگی میں رسوائی کا عذاب ان سے اٹھا لیا، اور ان کو ایک مدت تک زندگی کا لطف اٹھانے دیا۔

﴿99﴾ اور اگر اللہ چاہتا تو روئے زمین پر بسنے والے سب کے سب ایمان لے آتے تو کیا تم لوگوں پر زبردستی کرو گے تاکہ وہ سب مومن بن جائیں ؟

﴿100﴾ اور کسی بھی شخص کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر مومن بن جائے، اور جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے، اللہ ان پر گندگی مسلط کردیتا ہے۔

﴿101﴾ (اے پیغمبر) ان سے کہو کہ : ذرا نظر دوڑاؤ کہ آسمانوں اور زمین کیا کیا چیزیں ہیں ؟ لیکن جن لوگوں کو ایمان لانا ہی نہیں ہے ان کے لیے (زمین و آسمان میں پھیلی ہوئی) نشانیاں اور آگاہ کرنے والے (پیغمبر) کچھ بھی کار آمد نہیں ہوتے۔

﴿102﴾ بھلا بتاؤ کہ یہ لوگ (ایمان لانے کے لیے) اس کے سوا کس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ اس طرح کے دن یہ بھی دیکھیں جیسے ان سے پہلے کے لوگوں نے دیکھے تھے ؟ کہہ دو کہ : اچھا تم انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔

﴿103﴾ پھر (جب عذاب آتا ہے تو) ہم اپنے پیغمبروں کو اور جو لوگ ایمان لے آتے ہیں ان کو نجات دے دیتے ہیں، اسی طرح ہم نے یہ بات اپنے ذمے لے رکھی ہے کہ ہم تمام (دوسرے) مومنوں کو بھی نجات دیں۔

﴿104﴾ (اے پیغمبر) ان سے کہو کہ : اے لوگو اگر تم میرے دین کے بارے میں کسی شک میں مبتلا ہو تو (سن لو کہ) تم اللہ کے سوا جن جن کی عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا، بلکہ میں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری روح قبض کرتا ہے۔ اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں مومنوں میں شامل رہوں۔

﴿105﴾ اور (مجھ سے) یہ (کہا گیا ہے) کہ : اپنا رخ یکسوئی کے ساتھ اس دین کی طرف قائم رکھنا، اور ہرگز ان لوگوں میں شامل نہ ہونا جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مانتے ہیں۔

﴿106﴾ اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی ایسے (من گھڑت معبود) کو نہ پکارنا جو تمہیں نہ کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے، نہ کوئی نقصان۔ پھر بھی اگر تم (بفرض محال) ایسا کر بیٹھے تو تمہارا شمار بھی ظالموں میں ہوگا۔

﴿107﴾ اور اگر تمہیں اللہ کوئی تکلیف پہنچا دے تو اس کے سوا کوئی نہیں ہے جو اسے دور کردے، اور اگر وہ تمہیں کوئی بھلائی پہنچانے کا ارادہ کرلے تو کوئی نہیں ہے جو اس کے فضل کا رخ پھیر دے۔ وہ اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے پہنچا دیتا ہے، اور وہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔

﴿108﴾ (اے پیغمبر) کہہ دو کہ : لوگو تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس حق آگیا ہے، اب جو شخص ہدایت کا راستہ اپنائے گا وہ خود اپنے فائدے کے لیے اپنائے گا، اور جو گمراہی اختیار کرے گا، اس کی گمراہی کا نقصان خود اسی کو پہنچے گا، اور میں تمہارے کاموں کا ذمہ دار نہیں ہوں۔

﴿109﴾ اور جو وحی تمہارے پاس بھیجی جارہی ہے، تم اس کی اتباع کرو، اور صبر سے کام لو، یہاں تک کہ اللہ کوئی فیصلہ کردے۔ اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔

ھود

Surah 11

﴿1﴾ الر یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتوں کو (دلائل سے) مضبوط کیا گیا ہے، پھر ایک ایسی ذات کی طرف سے ان کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جو حکمت کی مالک اور ہر بات سے باخبر ہے۔

﴿2﴾ (یہ کتاب پیغمبر کو حکم دیتی ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہیں) کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، میں اس کی طرف سے تمہیں آگاہ کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا ہوں۔

﴿3﴾ اور یہ (ہدایت دیتا) کہ : اپنے پروردگار سے گناہوں کی معافی مانگو، پھر اس کی طرف رجوع کرو۔ وہ تمہیں ایک مقرر وقت تک (زندگی سے) اچھا لطف اٹھانے کا موقع دے گا، اور ہر اس شخص کو جس نے زیادہ عمل کیا ہوگا، اپنی طرف سے زیادہ اجر دے گا۔ اور اگر تم نے منہ موڑا تو مجھے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

﴿4﴾ اللہ ہی کے پاس تمہیں لوٹ کر جانا ہے، اور وہ ہر چیز کی پوری قدرت رکھتا ہے۔

﴿5﴾ دیکھو یہ (کافر) لوگ اپنے سینوں کو اس سے چھپنے کے لیے دہرا کرلیتے ہیں۔ یاد رکھو جب یہ اپنے اوپر کپڑے لپیٹتے ہیں، اللہ ان کی وہ باتیں بھی جانتا ہے جو یہ چھپاتے ہیں، اور وہ بھی جو یہ علی الاعلان کرتے ہیں، یقینا اللہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کا (بھی) پورا پورا علم رکھتا ہے۔

﴿6﴾ اور زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ نے اپنے ذمے نہ لے رکھا ہو وہ اس کے مستقل ٹھکانے کو بھی جانتا ہے، اور عارضی ٹھکانے کو بھی۔ ہر بات ایک واضح کتاب میں درج ہے۔

﴿7﴾ اور وہی ہے جس نے تمام آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا۔ جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا۔ تاکہ تمہیں آزمائے کہ عمل کے اعتبار سے تم میں کون زیادہ اچھا ہے۔ اور اگر تم (لوگوں سے) یہ کہو کہ تمہیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، وہ یہ کہیں گے کہ یہ کھلے جادو کے سوا کچھ نہیں ہے۔

﴿8﴾ اور اگر ہم ان لوگوں سے کچھ عرصے کے لیے عذاب کو موخر کردیں تو وہ یہی کہتے رہیں گے کہ : آخر کس چیز نے اس (عذاب) کو روک رکھا ہے ؟ ارے جس دن وہ عذاب آگیا تو وہ ان سے ٹلائے نہیں ٹلے گا، اور جس چیز کا یہ مذاق اڑا رہے ہیں، وہ ان کو چاروں طرف سے گھیر لے گی۔

﴿9﴾ اور جب ہم انسان کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ چکھاتے دیتے ہیں، پھر وہ اس سے واپس لے لیتے ہیں تو وہ مایوس (اور) ناشکرا بن جاتا ہے۔

﴿10﴾ اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچنے کے بعد ہم اسے نعمتوں کا مزہ چکھا دیں تو وہ کہتا ہے کہ ساری برائیاں مجھ سے دور ہوگئیں۔ (اس وقت) وہ اترا کر شیخیاں بگھارنے لگتا ہے۔

﴿11﴾ ہاں ! مگر جو لوگ صبر سے کام لیتے ہیں، اور نیک عمل کرتے ہیں وہ ایسے نہیں ہیں، ان کو مغفرت اور بڑا اجر نصیب ہوگا۔

﴿12﴾ پھر (اے پیغمبر) جو وحی تم پر نازل کی جارہی ہے، کیا یہ ممکن ہے کہ تم اس کا کوئی حصہ چھوڑ بیٹھو ؟ اور اس سے تمہارا دل تنگ ہوجائے ؟ کیونکہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ : ان (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کوئی خزانہ کیوں نازل نہیں ہوا، یا کوئی فرشتہ ان کے ساتھ کیوں نہیں آیا ؟ تم تو ایک آگاہ کرنے والے ہو، اور اللہ ہے جو ہر چیز کا مکمل اختیار رکھتا ہے۔

﴿13﴾ بھلا کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ یہ وحی اس (پیغمبر) نے اپنی طرف سے گھڑ لی ہے ؟ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ : پھر تو تم بھی اس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں بنا لاؤ، اور (اس کام میں مدد کے لیے) اللہ کے سوا جس کسی کو بلا سکو بلا لو، اگر تم سچے ہو۔

﴿14﴾ اس کے بعد اگر یہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو (اے لوگو) یقین کرلو کہ یہ وحی صرف اللہ کے علم سے اتری ہے، اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ تو کیا اب تم فرمانبردار بنو گے ؟

﴿15﴾ جو لوگ (صرف) دنیوی زندگی اور اس کی سج دھج چاہتے ہیں، ہم ان کے اعمال کا پورا پورا صلہ اسی دنیا میں بھگتا دیں گے، اور یہاں ان کے حق میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔

﴿16﴾ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں دوزخ کے سوا کچھ نہیں ہے، اور جو کچھ کارگزاری انہوں نے کی تھی، وہ آخرت میں بیکار ہوجائے گی، اور جو عمل وہ کر رہے ہیں، (آخرت کے لحاظ سے) کالعدم ہیں۔

﴿17﴾ بھلا بتاؤ کہ وہ شخص (ان کے برابر کیسے ہوسکتا ہے) جو اپنے رب کی طرف سے آئی ہوئی روشن ہدایت (یعنی قرآن) پر قائم ہو، جس کے پیچھے اس کی حقانیت کا ایک ثبوت تو خود اسی میں آیا ہے، اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب بھی (اس کی حقانیت کا ثبوت ہے) جو لوگوں کے لیے قابل اتباع اور باعث رحمت تھی۔ ایسے لوگ اس (قرآن پر) ایمان رکھتے ہیں۔ اور ان گروہوں میں سے جو شخص اس کا انکار کرے، تو دوزخ ہی اس کی طے شدہ جگہ ہے۔ لہذا اس (قرآن) کے بارے میں شک میں نہ پڑو۔ یقین رکھو کہ یہ حق ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے آیا ہے، لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لارہے۔

﴿18﴾ اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے ؟ ایسے لوگوں کی ان کے رب کے پاس پیشی ہوگی، اور گواہی دینے والے کہیں گے کہ : یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹی باتیں لگائی تھیں۔ سب لوگ سن لیں کہ اللہ کی لعنت ہے ان ظالموں پر۔

﴿19﴾ جو اللہ کے راستے سے دوسروں کو روکتے تھے، اور اس میں کجی تلاش کرتے تھے اور آخرت کے تو وہ بالکل ہی منکر تھے۔

﴿20﴾ ایسے لوگ روئے زمین پر کہیں بھی اللہ سے بچ کر نہیں نکل سکتے، اور اللہ کے سوا انہیں کوئی یارومددگار میسر نہیں آسکتے۔ ان کو دگنا عذاب دیا جائے گا۔ یہ (حق بات کو نفرت کی وجہ سے) نہ سن سکتے تھے، اور ان کو (حق) سجھائی دیتا تھا۔

﴿21﴾ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کے لیے گھاٹے کا سودا کرلیا تھا، اور جو معبود انہوں نے گھڑ رکھے تھے، انہیں ان کا کوئی سراغ نہیں ملے گا۔

﴿22﴾ لامحالہ یہی لوگ ہیں جو آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

﴿23﴾ (دوسری طرف) جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں اور وہ اپنے پروردگار کے آگے جھک کر مطمئن ہوگئے ہیں، تو وہ جنت کے بسنے والے ہیں، وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔

﴿24﴾ ان دو گروہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا اور بہرا ہو، اور دوسرا دیکھتا بھی ہو، سنتا بھی ہو۔ کیا یہ دونوں اپنے حالات میں برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا پھر بھی تم عبرت حاصل نہیں کرتے ؟

﴿25﴾ اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ : میں تمہیں اس بات سے صاف صاف آگاہ کرنے والا پیغمبر ہوں۔

﴿26﴾ کہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو۔ یقین جانو مجھے تم پر ایک دکھ دینے والے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

﴿27﴾ اس پر ان کی قوم کے وہ سردار لوگ جنہوں نے کفر اختیار کرلیا تھا، کہنے لگے کہ : ہمیں تو اس سے زیادہ (تم میں) کوئی بات نظر نہیں آرہی کہ تم ہم جیسے ہی ایک انسان ہو، اور ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ صرف وہ لوگ تمہارے پیچھے لگے ہیں جو ہم میں سب سے زیادہ بےحیثیت ہیں، اور وہ بھی سطحی طور پر رائے قائم کرکے۔ اور ہمیں تم میں کوئی ایسی بات بھی دکھائی نہیں دیتی جس کی وجہ سے ہم پر تمہیں کوئی فضیلت حاصل ہو، بلکہ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ تم سب جھوٹے ہو۔

﴿28﴾ نوح نے کہا : اے میری قوم ! ذرا مجھے یہ بتاؤ کہ اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے آئی ہوئی ایک روشن ہدایت پر قائم ہوں، اور اس نے مجھے خاص اپنے پاس سے ایک رحمت (یعنی نبوت) عطا فرمائی ہے، پھر بھی وہ تمہیں سجھائی نہیں دے رہی، تو کیا ہم اس کو تم پر زبردستی مسلط کردیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو ؟

﴿29﴾ اور اے میری قوم ! میں اس (تبلیغ) پر تم سے کوئی مال نہیں مانگتا، میرا اجر اللہ کے سوا کسی اور نے ذمے نہیں لیا، اور جو لوگ ایمان لاچکے ہیں، میں ان کو دھتکارنے والا نہیں ہوں، ان سب کو اپنے رب سے جا ملنا ہے۔ لیکن میں تو یہ دیکھ رہا ہوں کہ تم ایسے لوگ ہو جو نادانی کی باتیں کر رہے ہو۔

﴿30﴾ اور اے میری قوم ! اگر میں ان لوگوں کو دھتکاردوں تو کون مجھے اللہ (کی پکڑ) سے بچائے گا ؟ کیا تم پھر بھی دھیان نہیں دو گے ؟

﴿31﴾ اور میں تم سے یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ میرے قبضے میں اللہ کے خزانے ہیں، نہ میں غیب کی ساری باتیں جانتا ہوں، اور نہ میں تم سے یہ کہہ رہا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں۔ اور جن لوگوں کو تمہاری نگاہیں حقیر سمجھتی ہیں، ان کے بارے میں بھی میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ انہیں کبھی کوئی بھلائی عطا نہیں کرے گا۔ ان کے دلوں میں جو کچھ ہے اسے اللہ سب سے زیادہ جانتا ہے۔ اگر میں ان کے بارے میں ایسی باتیں کہوں تو میرا شمار یقینا ظالموں میں ہوگا۔

﴿32﴾ انہوں نے کہا کہ : اے نوح ! تم ہم سے بحث کرچکے، اور بہت بحث کرچکے۔ اب اگر تم سچے ہو تو لے آؤ وہ (عذاب) جس کی دھکمی ہمیں دے رہے ہو۔

﴿33﴾ نوح نے کہا کہ : اسے تو اللہ ہی تمہارے پاس لے آئے گا، اگر چاہے گا، اور تم اسے بےبس نہیں کرسکتے۔

﴿34﴾ اگر میں تمہاری خیر خواہی کرنا چاہوں تو میری خیر خواہی اس صورت میں تمہارے کوئی کام نہیں آسکتی جب اللہ ہی نے (تمہاری ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے) تمہیں گمراہی کرنے کا ارادہ کرلیا ہو۔ وہی تمہارا پروردگار ہے، اور اسی کے پاس تمہیں واپس لے جایا جائے گا۔

﴿35﴾ بھلا کیا (عرب کے یہ کافر) لوگ کہتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ قرآن اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے ؟ (اے پیغمبر) کہہ دو کہ : اگر میں نے اسے گھڑا ہوگا تو میرے جرم کا وبال مجھی پر ہوگا، اور جو جرم تم کر رہے ہو، میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں۔

﴿36﴾ اور نوح کے پاس وحی بھیجی گئی کہ : تمہاری قوم میں سے جو لوگ اب تک ایمان لاچکے ہیں، ان کے سوا اب کوئی اور ایمان نہیں لائے گا۔ لہذا جو حرکتیں یہ لوگ کرتے رہے ہیں، تم ان پر صدمہ نہ کرو۔

﴿37﴾ اور ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کی مدد سے کشتی بناؤ، اور جو لوگ ظالم بن چکے ہیں ان کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کرنا۔ یہ اب غرق ہو کر رہیں گے۔

﴿38﴾ چنانچہ وہ کشتی بنانے لگے۔ اور جب بھی ان کی قوم کے کچھ سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ نوح نے کہا کہ : اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو جیسے تم ہنس رہے ہو، اسی طرح ہم بھی تم پر ہنستے ہیں۔

﴿39﴾ عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ کس پر وہ عذاب آرہا ہے جو اسے رسوا کر کے رکھ دے گا، اور کس پر وہ قہر نازل ہونے والا ہے جو کبھی ٹل نہیں سکے گا۔

﴿40﴾ یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور تنور ابل پڑا، تو ہم نے (نوح سے) کہا کہ : اس کشتی میں ہر قسم کے جانوروں میں سے دو دو کے جوڑے سوار کرلو اور تمہارے گھر والوں میں سے جن کے بارے میں پہلے کہا جا چکا ہے (کہ وہ کفر کی وجہ سے غرق ہوں گے) ان کو چھوڑ کر باقی گھر والوں کو بھی، اور جتنے لوگ ایمان لائے ہیں ان کو بھی (ساتھ لے لو) اور تھوڑے ہی سے لوگ تھے جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے۔

﴿41﴾ اور نوح نے (ان سب سے) کہا کہ : اس کشتی میں سوار ہوجاؤ، اس کا چلنا بھی اللہ ہی کے نام سے ہے، اور لنگر ڈالنا بھی، یقین رکھو کہ میرا پروردگار بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿42﴾ اور وہ کشتی پہاڑوں جیسی موجوں کے درمیان چلی جاتی تھی۔ اور نوح نے اپنے اس بیٹے کو جو سب سے الگ تھا، آواز دی کہ : بیٹے ! ہمارے ساتھ سوار ہوجاؤ، اور کافروں کے ساتھ نہ رہو۔

﴿43﴾ وہ بولا : میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا، نوح نے کہا : آج اللہ کے حکم سے کوئی کسی کو بچانے والا نہیں ہے، سوائے اس کے جس پر وہ ہی رحم فرمادے۔ اس کے بعد ان کے درمیان موج حائل ہوگئی، اور ڈوبنے والوں میں وہ بھی شامل ہوا۔

﴿44﴾ اور حکم ہوا کہ : اے زمین ! اپنا پانی نگل لے، اور اے آسمان ! تھم جا۔ چنانچہ پانی اتر گیا اور سارا قصہ چکا دیا گیا۔ کشتی جودی پہاڑ پر آٹھہری اور کہہ دیا گیا کہ : بربادی ہے اس قوم کی جو ظالم ہو۔

﴿45﴾ اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ : اے میرے پروردگار ! میرا بیٹا میرے گھر ہی کا ایک فرد ہے، اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے، اور تو سارے حاکموں سے بڑھ کر حاکم ہے۔

﴿46﴾ اللہ نے فرمایا : اے نوح ! یقین جانو وہ تمہارے گھر والوں میں سے نہیں ہے، وہ تو ناپاک عمل کا پلندہ ہے۔ لہذا مجھ سے ایسی چیز نہ مانگو جس کی تمہیں خبر نہیں، میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم نادانوں میں شامل نہ ہو۔

﴿47﴾ نوح نے کہا : میرے پروردگار میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ آئندہ آپ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں، اور اگر آپ نے میری مغفرت نہ فرمائے اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوجاؤں گا جو برباد ہوگئے ہیں۔

﴿48﴾ فرمایا گیا کہ : اے نوح اب (کشتی سے) اتر جاؤ، ہماری طرف سے وہ سلامتی اور برکتیں لے کر جو تمہارے لیے بھی ہیں اور تمہاری جتنی قومیں ہیں، ان کے لیے بھی۔ اور کچھ قومیں ایسی ہیں جن کو ہم (دنیا میں) لطف اٹھانے کا موقع دیں گے، پھر ان کو ہماری طرف سے ایک دردناک عذاب آپکڑے گا۔

﴿49﴾ (اے پیغمبر) یہ غیب کی کچھ باتیں ہیں جو ہم تمہیں وحی کے ذریعے بتا رہے ہیں۔ یہ باتیں نہ تم اس سے پہلے جانتے تھے، نہ تمہاری قوم۔ لہذا صبر سے کام لو اور آخری انجام متقیوں ہی کے حق میں ہوگا۔

﴿50﴾ اور قوم عاد کے پاس ہم نے ان کے بھائی ہود کو پیغمبر بنا کر بھیجا انہوں نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے، تمہاری حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ تم نے جھوٹی باتیں تراش رکھی ہیں۔

﴿51﴾ اے میری قوم ! میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر کسی اور نے نہیں، اس ذات نے اپنے ذمے لیا ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟

﴿52﴾ اے میری قوم ! اپنے پروردگار سے گناہوں کی معافی مانگو، پھر اس کی طرف رجوع کرو، وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار بارشیں برسائے گا، اور تمہاری موجودہ قوت میں مزید قوت کا اضافہ کرے گا، اور مجرم بن کر منہ نہ موڑو۔

﴿53﴾ انہوں نے کہا : اے ہود ! تم ہمارے پاس کوئی روشن دلیل لے کر نہیں آئے۔ اور ہم اپنے خداؤں کو صرف تمہارے کہنے سے چھوڑنے والے نہیں ہیں، اور نہ ہم تمہاری بات پر ایمان لاسکتے ہیں۔

﴿54﴾ ہم تو اس کے سوا کچھ اور نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے خداؤں میں سے کسی نے تمہیں بری طرح جھپیٹے میں لے لیا ہے، ہود نے کہا : میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں، اور تم بھی گواہ رہو کہ تم اللہ کے سوا جس جس کو اس کی خدائی میں شریک مانتے ہو، میں اس سے بری ہوں۔

﴿55﴾ اب تم سب کے سب ملکر میرے خلاف چالیں چل لو، اور مجھے ذرا مہلت نہ دو ۔

﴿56﴾ میں نے تو اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار۔ زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی اس کے قبضے میں نہ ہو، یقینا میرا پروردگار سیدھے راستے پر ہے۔ ۔

﴿57﴾ پھر بھی اگر تم منہ موڑتے ہو تو جو پیغام دے کر مجھے تمہارے پاس بھیجا گیا تھا میں نے وہ تمہیں پہنچا دیا ہے، اور (تمہارے کفر کی وجہ سے) میرا پروردگار تمہاری جگہ کسی اور قوم کو یہاں بسا دے گا، اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے۔ بیشک میرا پروردگار ہر چیز کی نگرانی کرتا ہے۔

﴿58﴾ اور (آخر کار) جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اپنی رحمت کے ذریعے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے، ان کو بچا لیا، اور انہیں ایک سخت عذاب سے نجات دے دی۔

﴿59﴾ یہ تھے عاد کے لوگ جنہوں نے اپنے پروردگار کی نشانیوں کا انکار کیا، اور اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی، اور ہر ایسے شخص کا حکم مانا جو پرلے درجے کا جابر اور حق کا پکا دشمن تھا۔

﴿60﴾ اور (اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ) اس دنیا میں بھی پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی، اور قیامت کے دن بھی۔ یاد رکھو کہ قوم عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کا معاملہ کیا تھا۔ یا درکھو کہ بربادی عاد ہی کی ہوئی، جو ہود کی قوم تھی۔

﴿61﴾ اور قوم ثمود کے پسا ہم نے ان کے بھائی صالح کو پیغمبر بنا کر بھیجا۔ انہوں نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ اسی نے تم کو زمین سے پیدا کیا، اور اس میں تمہیں آباد کیا۔ لہذا اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو، پھر اس کی طرف رجوع کرو۔ یقین رکھو کہ میرا رب (تم سے) قریب بھی ہے، دعائیں قبول کرنے والا بھی۔

﴿62﴾ وہ کہنے لگے : اے صالح ! اس سے پہلے تو تم ہمارے درمیان اس طرح رہے ہو کہ تم سے بڑی امیدیں وابستہ تھیَ جن (بتوں) کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں کیا تم ہمیں ان کی عبادت کرنے سے منع کرتے ہو ؟ جس بات کی تم دعوت دے رہے ہو، اس کے بارے میں تو ہمیں ایسا شک ہے جس نے ہمیں اضطراب میں ڈال دیا ہے۔

﴿63﴾ صالح نے کہا : اے میری قوم ! ذرا مجھے یہ بتاؤ کہ اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے آئی ہوئی ایک روشن ہدایت پر قائم ہوں، اور اس نے مجھے خاص اپنے پاس سے ایک رحمت (یعنی نبوت) عطا فرمائی ہے، پھر بھی اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو کون ہے جو مجھے اللہ (کی پکڑ) سے بچا لے ؟ لہذا تم (میرے فرائض سے روک رک) بربادی میں مبتلا کرنے کے سوا مجھے اور کیا دے رہے ہو ؟

﴿64﴾ اور اے میری قوم ! یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی بن کر آئی ہے۔ لہذا اس کو آزاد چھوڑ دو کہ یہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے، اور اس کو برے ارادے سے چھونا بھی نہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں عنقریب آنے والا عذاب آپکڑے۔

﴿65﴾ پھر ہوا یہ کہ انہوں نے اس کو مار ڈالا، چنانچہ صالح نے کہا کہ : تم اپنے گھروں میں تین دن اور مزے کرلو، (اس کے بعد عذاب آئے گا اور) یہ ایسا وعدہ ہے جسے کوئی جھوٹا نہیں کرسکتا۔

﴿66﴾ پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے صالح کو اور ان کے ساتھ جو ایمان لائے تھے، ان کو اپنی خاص رحمت کے ذریعے نجات دی، اور اس دن کی رسوائی سے بچا لیا، یقینا تمہارا پروردگار بڑی قوت کا، بڑے اقتدار کا مالک ہے۔

﴿67﴾ اور جن لوگوں نے ظلم کا راستہ اپنایا تھا، ان کو ایک چنگھاڑ نے آپکڑا، جس کے نتیجے میں وہ اپنے گھروں میں اس طرح اوندھے پڑے رہ گئے۔

﴿68﴾ جیسے کبھی وہاں بسے ہی نہ تھے۔ یاد رکھو کہ ثمود نے اپنے رب کے ساتھ کفر کا معاملہ کیا تھا، یاد رکھو کہ بربادی ثمود ہی کی ہوئی۔

﴿69﴾ اور ہمارے فرشتے (انسانی شکل میں) ابراہیم کے پاس (بیٹا پیدا ہونے کی) خوشخبری لے کر آئے۔ انہوں نے سلام کہا، ابراہیم نے بھی سلام کہا، پھر ابراہیم کو کچھ دیر نہیں گزری تھی کہ وہ (ان کی مہمانی کے لیے) ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔

﴿70﴾ مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (بچھڑے) کی طرف نہیں بڑھ رہے، تو وہ ان سے کھٹک گئے، اور ان کی طرف سے دل میں خوف محسوس کیا۔ فرشتوں نے کہا : ڈریے نہیں، ہمیں (آپ کو بیٹے کی خوشخبری سنانے اور) لوط کی قوم کے پاس بھیجا گیا ہے۔

﴿71﴾ اور ابراہیم کی بیوی کھڑی ہوئی تھیں، وہ ہنس پڑیں، تو ہم نے انہیں (دوبارہ) اسحاق کی، اور اسحاق کے بعد یعقوب کی پیدائش کی خوشخبری دی۔

﴿72﴾ وہ کہنے لگیں : ہائے ! کیا میں اس حالت میں بچہ جنوں گی کہ میں بوڑھی ہوں، اور یہ میرے شوہر ہیں جو خود بڑھاپے کی حالت میں ہیں ؟ واقعی یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔

﴿73﴾ فرشتوں نے کہا : کیا آپ اللہ کے حکم پر تعجب کر رہی ہیں ؟ آپ جیسے مقدس گھرانے پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہی برکتیں ہیں، بیشک وہ ہر تعریف کا مستحق، بڑی شان والا ہے۔

﴿74﴾ پھر جب ابراہیم سے گھبراہٹ دور ہوئی، اور ان کو خوشخبری مل گئی تو انہوں نے ہم سے لوط کی قوم کے بارے میں (ناز کے ط ور پر) جھگڑنا شروع کردیا۔

﴿75﴾ حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم بڑے بردبار، (اللہ کی یاد میں) بڑی آہیں بھرنے والے (اور) ہر وقت ہم سے لو لگائے ہوئے تھے۔

﴿76﴾ (ہم نے ان سے کہا) ابراہیم ! اس بات کو جانے دو ۔ یقین کرلو کہ تمہارے رب کا حکم آچکا ہے، اور ان لوگوں پر ایسا عذاب آکر رہے گا جس کو کوئی پیچھے نہیں لوٹا سکتا۔

﴿77﴾ اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس پہنچے تو وہ ان کی وجہ سے گھبرائے، ان کا دل پریشان ہوا اور وہ کہنے لگے کہ : آج کا یہ دن بہت کٹھن ہے۔

﴿78﴾ اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس دوڑتے ہوئے آئے، اور اس سے پہلے وہ برے کام کیا ہی کرتے تھے۔ لوط نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! یہ میری بیٹیاں موجود ہیں، یہ تمہارے لیے کہیں زیادہ پاکیزہ ہیں اس لیے اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے معاملے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی ایک بھی بھلا آدمی نہیں ہے ؟

﴿79﴾ کہنے لگے : تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری بیٹیوں سے ہمیں کچھ مطلب نہیں، اور تم خوب جانتے ہو کہ ہم کیا چاہتے ہیں ؟

﴿80﴾ لو ط نے کہا : کاش کہ میرے پاس تمہارے مقابلے میں کوئی طاقت ہوتی، یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لے سکتا۔

﴿81﴾ (اب) فرشتوں نے (لوط سے) کہا : اے لوط ! ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ یہ (کافر) لوگ ہرگز تم تک رسائی حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لہذا تم رات کے کسی حصے میں اپنے گھر والوں کو لے کر بستی سے روانہ ہوجاؤ، اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ ہاں مگر تمہاری بیوی (تمہارے ساتھ نہیں جائے گی) اس پر بھی وہی مصیبت آنے والی ہے جو اور لوگوں پر آرہی ہے۔ یقین رکھو کہ ان (پر عذاب نازل کرنے) کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے۔ کیا صبح بالکل نزدیک نہیں آگئی۔

﴿82﴾ پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اس زمین کے اوپر والے حصے کو نیچے والے حصے میں تبدیل کردیا، اور ان پر پکی مٹی کے تہہ بر تہہ پتھر برسائے۔

﴿83﴾ جن پر تمہارے رب کی طرف سے نشان لگے ہوئے تھے۔ اور یہ بستی (مکہ کے ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ہے۔

﴿84﴾ اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو پیغمبر بنا کر بھیجا انہوں نے (ان سے) کہا کہ : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور ناپ تول میں کمی مت کیا کرو۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ خوشحال ہو۔ اور مجھے تم پر ایک ایسے دن کے عذاب کا خوف ہے جو تمہیں چاروں طرف سے گھیر لے گا۔

﴿85﴾ اور اے میری قوم کے لوگو ! ناپ تول پوراپورا کیا کرو، اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دیا کرو۔ اور زمین میں فساد پھیلاتے مت پھرو۔

﴿86﴾ اگر تم میری بات مانو تو (لوگوں کا حق ان کو دینے کے بعد) جو کچھ اللہ کا دیا بچ رہے، وہ تمہارے حق میں کہیں بہتر ہے، اور (اگر نہ مانو تو) میں تم پر پہرہ دار مقرر نہیں ہوا ہوں۔

﴿87﴾ وہ کہنے لگے : اے شعیب ! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہمارے باپ دادا جن کی عبادت کرتے آئے تھے، ہم انہیں بھی چھوڑ دیں اور اپنے مال و دولت کے بارے میں جو کچھ ہم چاہیں، وہ بھی نہ کریں۔ ؟ واقعی تم تو بڑے عقل مند، نیک چلن آدمی ہو۔

﴿88﴾ شعیب نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! ذرا مجھے یہ بتاؤ کہ اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے ایک روشن دلیل پر قائم ہوں، اور اس نے خاص اپنے پاس سے مجھے اچھا رزق عطا فرمایا ہے، (تو پھر میں تمہارے غلط طریقے پر کیوں چلوں ؟) اور میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ میں جس بات سے تمہیں منع کر رہا ہوں، تمہارے پیچھے جاکر وہی کام خود کرنے لگوں۔ میرا مقصد اپنی استطاعت کی حد تک اصلاح کے سوا کچھ نہیں ہے، اور مجھے جو کچھ توفیق ہوتی ہے صرف اللہ کی مدد سے ہوتی ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے اور اسی کی طرف میں (ہر معاملے میں) رجوع کرتا ہوں۔

﴿89﴾ اور اے میری قوم ! میرے ساتھ ضد کا جو معاملہ تم کر رہے ہو، وہ کہیں تمہیں اس انجام تک نہ پہنچا دے کہ تم پر بھی ویسی ہی مصیبت نازل ہو جیسی نوح کی قوم پر یا ہود کی قوم پر یا صالح کی قوم پر نازل ہوچکی ہے۔ اور لوط کی قوم تو تم سے کچھ دور بھی نہیں ہے۔

﴿90﴾ تم اپنے رب سے معافی مانگو، پھر اسی کی طرف رجوع کرو، یقین رکھو کہ میرا رب بڑا مہربان، بہت محبت کرنے والا ہے۔

﴿91﴾ وہ بولے : اے شعیب ! تمہاری بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں، اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم ہمارے درمیان ایک کمزور آدمی ہو، اور اگر تمہارا خاندان نہ ہوتا تو ہم تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیتے۔ ہم پر تمہارا کچھ زور نہیں چلتا۔

﴿92﴾ شعیب نے کہا : اے میری قوم ! کیا تم پر میرے خاندان کا دباؤ اللہ سے زیادہ ہے ؟ اور اس کو تم نے بالکل ہی پس پشت ڈال رکھا ہے۔ یقین جانو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو، میرا پروردگار اس سب کا پورا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

﴿93﴾ اور اے میری قوم ! تم اپنے حال پر رہ کر (جو چاہو) عمل کیے جاؤ، میں بھی (اپنے طریقے کے مطابق) عمل کر رہا ہوں۔ عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ کس پر وہ عذاب نازل ہوگا جو اسے رسوا کر کے رکھ دے گا، اور کون ہے جو جھوٹا ہے ؟ اور تم بھی انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں۔

﴿94﴾ اور (آخر کار) جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے شعیب کو اور ان کے ساتھ جو ایمان لائے تھے، ان کو اپنی خاص رحمت سے بچا لیا، اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا انہیں ایک چنگھاڑ نے آپکڑا، اور وہ اپنے گھروں میں اس طرح اوندھے منہ گرے رہ گئے۔

﴿95﴾ جیسے کبھی وہاں بسے ہی نہ تھے۔ یاد رکھو ! مدین کی بھی ویسی ہی بربادی ہوئی جیسی بربادی ثمود کی ہوئی تھی۔

﴿96﴾ اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور روشن دلیل کے ساتھ پیغمبر بنا کر۔

﴿97﴾ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا، تو انہوں نے فرعون ہی کی بات مانی۔ حالانکہ فرعون کی بات کوئی ٹھکانے کی بات نہیں تھی۔

﴿98﴾ وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا، اور ان سب کو دوزخ میں لا اتارے گا۔ اور وہ بدترین گھاٹ ہے جس پر کوئی اترے۔

﴿99﴾ اور پھٹکار اس دنیا میں بھی ان کے پیچھے لگا دی گئی ہے، اور قیامت کے دن بھی۔ یہ بدترین صلہ ہے جو کسی کو دیا جائے۔

﴿100﴾ یہ ان بستیوں کے کچھ حالات ہیں جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ (بستیاں) وہ ہیں جو ابھی اپنی جگہ کھڑی ہیں، اور کچھ کٹی ہوئی فصل (کی طرح بےنشان) بن چکی ہیں۔

﴿101﴾ اور ان پر ہم نے کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب تمہارے پروردگار کا حکم آیا تو جن معبودوں کو وہ اللہ کے بجائے پکارا کرتے تھے، وہ ان کے ذرا بھی کام نہ آئے، اور انہوں نے ان کو تباہی کے سوا اور کچھ نہیں دیا۔

﴿102﴾ اور جو بستیاں ظالم ہوتی ہیں، تمہارا رب جب ان کو گرفت میں لیتا ہے تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے۔ واقعی اس کی پکڑ بڑی دردناک، بڑی سخت ہے۔

﴿103﴾ ان ساری باتوں میں اس شخص کے لیے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو۔ وہ ایسا دن ہوگا جس کے لیے تمام لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا، اور وہ ایسا دن ہوگا جسے سب کے سب کھلی آنکھوں دیکھیں گے۔

﴿104﴾ ہم نے اسے ملتوی کیا ہے تو بس ایک گنی چنی مدت کے لیے ملتوی کیا ہے۔

﴿105﴾ جب وہ دن آجائے گا تو کوئی اللہ کی اجازت کے بغیر بات نہیں کرسکے گا۔ پھر ان میں کوئی بدحال ہوگا، اور کوئی خوشحال۔

﴿106﴾ چنانچہ جو بدحال ہوں گے وہ دوزخ میں ہوں گے جہاں ان کی چیخنے چلانے کی آوازیں آئیں گی۔

﴿107﴾ یہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں۔ الا یہ کہ تمہارے رب ہی کو کچھ اور منظور ہو یقینا تمہارا رب جو ارادہ کرلے، اس پر اچھی طرح عمل کرتا ہے۔

﴿108﴾ اور جو لوگ خوشحال ہوں گے وہ جنت میں ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں، الا یہ کہ تمہارے رب ہی کو کچھ اور منظور ہو۔ یہ ایک ایسی عطا ہوگی جو کبھی ختم ہونے میں نہیں آئے گی۔

﴿109﴾ لہذا (اے پیغمبر) یہ (مشرکین) جن (بتوں) کی عبادت کرتے ہیں، ان کے بارے میں ذرا بھی شک میں نہ رہنا۔ یہ تو اسی طرح عبادت کر رہے ہیں جیسے ان کے باپ دادے پہلے ہی عبادت کیا کرتے تھے، اور یقین رکھو کہ ہم ان سب کو ان کا حصہ پورا پورا چکا دیں گے، جس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔

﴿110﴾ اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی تو اس میں بھی اختلاف کیا گیا تھا۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ ہوچکی ہوتی (کہ ان کو پورا عذاب آخرت میں دیا جائے گا) تو ان کا فیصلہ (یہیں دنیا میں) ہوچکا ہوتا۔ اور یہ لوگ اس کے بارے میں (ابھی تک) سخت قسم کے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔

﴿111﴾ اور یقین رکھو کہ سب لوگوں کا معاملہ یہی ہے کہ تمہارا پروردگار ان کے اعمال کا بدلہ پورا پورا دے گا۔ یقینا وہ ان کے تمام اعمال سے پوری طرح باخبر ہے۔

﴿112﴾ لہذا (اے پیغمبر) جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اس کے مطابق تم بھی سیدھے راستے پر ثابت قدم رہو، اور وہ لوگ بھی جو توبہ کر کے تمہارے ساتھ ہیں، اور حد سے آگے نہ نکلو۔ یقین رکھو کہ جو عمل بھی تم کرتے ہو وہ اسے پوری طرح دیکھتا ہے۔

﴿113﴾ اور (مسلمانو) ان ظالم لوگوں کی طرف ذرا بھی نہ جھکنا، کبھی دوزخ کی آگ تمہیں بھی آپکڑے اور تمہیں اللہ کو چھوڑ کر کسی قسم کے دوست میسر نہ آئیں، پھر تمہاری کوئی مدد بھی نہ کرے۔

﴿114﴾ اور (اے پیغمبر) دن کے دونوں سروں پر اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کرو۔ یقینا نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں، یہ ایک نصیحت ہے ان لوگوں کے لیے جو نصیحت مانیں۔

﴿115﴾ اور صبر سے کام لو، اس لیے کہ اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

﴿116﴾ تم سے پہلے جو امتیں گزری ہیں، بھلا ان میں ایسے لوگ کیوں نہ ہوئے جن کے پاس اتنی بچی کھچی سمجھ تو ہوتی کہ وہ لوگوں کو زمین میں فساد مچانے سے روکتے ؟ ہاں تھوڑے سے لوگ تھے جن کو ہم نے (عذاب سے) نجات دی تھی۔ اور جو لوگ ظالم تھے، وہ جس عیش و عشرت میں تھے، اسی کے پیچھے لگے رہے، اور جرائم کا ارتکاب کرتے رہے۔

﴿117﴾ اور تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں پر ظلم کر کے انہیں تباہ کر دے جبکہ ان کے باشندے صحیح روشن پر چل رہے ہوں۔

﴿118﴾ اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی طریقے کا پیرو بنا دیتا، (مگر کسی کو زبردستی کسی دین پر مجبور کرنا حکمت کا تقاضا نہیں ہے، اس لیے انہیں اپنے اختیار سے مختلف طریقے اپنانے کا موقع دیا گیا ہے) اور وہ اب ہمیشہ مختلف راستوں پر ہی رہیں گے۔

﴿119﴾ البتہ جن پر تمہارا پروردگار رحم فرمائے گا، ان کی بات اور ہے (کہ اللہ انہیں حق پر قائم رکھے گا) اور اسی (امتحان) کے لیے اس نے ان کو پیدا کیا ہے۔ اور تمہارے رب کی وہ بات پوری ہوگی جو اس نے کہی تھی کہ : میں جہنم کو جنات اور انسانوں دونوں سے بھر دوں گا۔

﴿120﴾ اور (اے پیغمبر) گذشتہ پیغمبروں کے واقعات میں سے وہ سارے واقعات ہم تمہیں سنا رہے ہیں جن سے ہم تمہارے دل کو تقویت پہنچائیں۔ اور ان واقعات کے ضمن میں تمہارے پاس جو بات آئی ہے وہ خود بھی حق ہے اور تمام مومنوں کے لیے نصیحت اور یاددہانی بھی ہے۔

﴿121﴾ اور جو لوگ ایمان نہیں لارہے ہیں، ان سے کہو کہ : تم اپنی موجودہ حالت پر عمل کیے جاؤ، ہم بھی (اپنے طریقے پر) عمل کر رہے ہیں۔

﴿122﴾ اور تم بھی (اللہ کے فیصلے کا) انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔

﴿123﴾ آسمانوں اور زمین میں جتنے پوشیدہ بھید ہیں، وہ سب اللہ کے علم میں ہیں، اور اسی کی طرف سارے معاملات لوٹائے جائیں گے۔ لہذا (اے پیغمبر) اس کی عبادت کرو، اور اس پر بھروسہ رکھو۔ اور تم لوگ جو کچھ کرتے ہو، تمہارا پروردگار اس سے بیخبر نہیں ہے۔

یوسف

Surah 12

﴿1﴾ الر۔ یہ اس کتاب کی آیتیں ہیں جو حق واضح کرنے والی ہے۔

﴿2﴾ ہم نے اس کو ایسا قرآن بنا کر اتارا ہے جو عربی زبان میں ہے، تاکہ تم سمجھ سکو۔

﴿3﴾ (اے پیغمبر) ہم نے تم پر یہ قرآن جو وحی کے ذریعے بھیجا ہے اس کے ذریعے ہم تمہیں ایک بہترین واقعہ سناتے ہیں، جبکہ تم اس سے پہلے اس (واقعے سے) بالکل بیخبر تھے۔

﴿4﴾ (یہ اس وقت کی بات ہے) جب یوسف نے اپنے والد (یعقوب (علیہ السلام)) سے کہا تھا کہ : ابا جان ! میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ یہ سب مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔

﴿5﴾ انہوں نے کہا : بیٹا ! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ بتانا، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہارے لیے کوئی سازش تیار کریں، کیونکہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

﴿6﴾ اور اسی طرح تمہارا پروردگار تمہیں (نبوت کے لیے) منتخب کرے گا، اور تمہیں تمام باتوں کا صحیح مطلب نکالنا سکھائے گا (جس میں خوابوں کی تعبیر کا علم بھی داخل ہے) اور تم پر اور یعقوب کی اولاد پر اپنی نعمت اسی طرح پوری کرے گا جیسے اس نے اس سے پہلے تمہارے ماں باپ پر اور ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی۔ یقینا تمہارا پروردگار علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

﴿7﴾ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ (تم سے یہ واقعہ) پوچھ رہے ہیں، ان کے لیے یوسف اور ان کے بھائیوں (کے حالات میں) بڑی نشانیاں ہیں۔

﴿8﴾ (یہ اس وقت کا واقعہ ہے) جب یوسف کے ان (سوتیلے) بھائیوں نے (آپس میں) کہا تھا کہ : یقینی طور پر ہمارے والد کو ہمارے مقابلے میں یوسف اور اس کے (حقیقی) بھائی (بنیامین) سے زیادہ محبت ہے، حالانکہ ہم (ان کے لیے) ایک مضبوط جتھ بنے ہوئے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ہمارے والد کسی کھلی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔

﴿9﴾ (اب اس کا حل یہ ہے کہ) یوسف کو قتل ہی کرڈالو، یا اسے کسی اور سرزمین میں پھینک آؤ، تاکہ تمہارے والد کی ساری توجہ خالص تمہاری طرف ہوجائے، اور یہ سب کرنے کے بعد پھر (توبہ کر کے) نیک بن جاؤ۔

﴿10﴾ انہی میں سے ایک کہنے والے نے کہا : یوسف کو قتل تو نہ کرو، البتہ اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے تو اسے کسی اندھے کنویں میں پھینک آؤ، تاکہ کوئی قافلہ اسے اٹھا کرلے جائے۔

﴿11﴾ (چنانچہ) ان بھائیوں نے (اپنے والد سے) کہا کہ : ابا ! یہ آپ کو کیا ہوگیا ہے کہ آپ یوسف کے معاملے میں ہم پر اطمینان نہیں کرتے ؟ حالانکہ اس میں کوئی شک نہ ہونا چاہیے کہ ہم اس کے پکے خیر خواہ ہیں۔

﴿12﴾ کل آپ اسے ہمارے ساتھ (تفریح کے لیے) بھیج دیجیے، تاکہ وہ کھائے پیے، اور کچھ کھیل کود لے۔ اور یقین رکھیے کہ ہم اس کی پوری حفاظت کریں گے۔

﴿13﴾ یعقوب نے کہا : تم اسے لے جاؤ گے تو مجھے (اس کی جدائی کا) غم ہوگا۔ اور مجھے یہ اندیشہ بھی ہے کہ کسی وقت جب تم اس کی طرف سے غافل ہو، تو کوئی بھیڑیا اسے کھاجائے۔

﴿14﴾ وہ بولے : ہم ایک مضبوط جتھے کی شکل میں ہیں، اگر پھر بھی بھیڑیا اسے کھاجائے تو ہم تو بالکل ہی گئے گزرے ہوئے۔

﴿15﴾ پھر ہوا یہ کہ جب وہ ان کو ساتھ لے گئے، اور انہوں نے یہ طے کر ہی رکھا تھا کہ انہیں ایک اندھے کنویں میں ڈال دیں گے، (چنانچہ ڈال بھی دیا) تو ہم نے یوسف پر وحی بھیجی کہ (ایک وقت آئے گا جب) تم ان سب کو جتلاؤ گے کہ انہوں نے یہ کیا کام کیا تھا۔ اور اس وقت انہیں پتہ بھی نہ ہوگا (کہ تم کون ہو ؟)

﴿16﴾ اور رات کو وہ سب اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے پہنچ گئے۔

﴿17﴾ کہنے لگے : ابا جی ! یقین جانیے، ہم دوڑنے کا مقابلہ کرنے چلے گئے تھے، اور ہم نے یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا، اتنے میں ایک بھیڑیا اسے کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کا یقین نہیں کریں گے، چاہے ہم کتنے ہی سچے ہوں۔

﴿18﴾ اور وہ یوسف کی قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا کرلے آئے۔ ان کے والد نے کہا : (حقیقت یہ نہیں ہے) بلکہ تمہارے دلوں نے اپنی طرف سے ایک بات بنا لی ہے۔ اب تو میرے لیے صبر ہی بہتر ہے۔ اور جو باتیں تم بنا رہے ہو، ان پر اللہ ہی کی مدد درکار ہے۔

﴿19﴾ اور (دوسری طرف جس جگہ انہوں نے یوسف کو کنویں میں ڈالا تھا، وہاں) ایک قافلہ آیا۔ قافلے کے لوگوں نے ایک آدمی پانی لانے کے لیے بھیجا، اور اس نے اپنا ڈول (کنویں میں) ڈالا تو (وہاں یوسف (علیہ السلام) کو دیکھ کر) پکار اٹھا : لو خوشخبری سنو ! یہ تو ایک لڑکا ہے۔ اور قافلے والوں نے انہیں ایک تجارت کا مال سمجھ کر چھپالیا، اور جو کچھ وہ کر رہے تھے، اللہ کو اس کا پورا علم تھا۔

﴿20﴾ اور (پھر) انہوں نے یوسف کو بہت کم قیمت میں بیچ دیا جو گنتی کے چند درہموں کی شکل میں تھی، اور ان کو یوسف سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

﴿21﴾ اور مصر کے جس آدمی نے انہیں خریدا، اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ : اس کو عزت سے رکھنا۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے گا، یا پھر ہم اسے بیٹا بنالیں گے، اس طرح ہم نے اس سرزمین میں یوسف کے قدم جمائے تاکہ انہیں باتوں کا صحیح مطلب نکالنا سکھائیں، اور اللہ کو اپنے کام پر پورا قابو حاصل ہے، لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے۔

﴿22﴾ اور جب یوسف اپنی بھرپور جوانی کو پہنچے تو ہم نے انہیں حکمت اور علم عطا کیا، اور جو لوگ نیک کام کرتے ہیں ان کو ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔

﴿23﴾ اور جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے، اس نے ان کو ورغلانے کی کوشش کی، اور سارے دروازوں کو بند کردیا، اور کہنے لگی : آ بھی جاؤ !۔ یوسف نے کہا : اللہ کی پناہ ! وہ میرا آقا ہے، اس نے مجھے اچھی طرح رکھا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ جو لوگ ظلم کرتے ہیں انہیں فلاح حاصل نہیں ہوتی۔

﴿24﴾ اس عورت نے تو واضح طور پر یوسف (کے ساتھ برائی) کا ارادہ کرلیا تھا، اور یوسف کے دل میں بھی اس عورت کا خیال آچلا تھا، اگر وہ اپنے رب کی دلیل کو نہ دیکھ لیتے، ہم نے ایسا اس لیے کیا تاکہ ان سے برائی اور بےحیائی کا رخ پھیر دیں۔ بیشک وہ ہمارے منتخب بندوں میں سے تھے۔

﴿25﴾ اور دونوں آگے پیچھے دروازے کی طرف دوڑے، اور (اس کشمکش میں) اس عورت نے ان کی قمیص کو پیچھے کی طرف سے پھاڑ ڈالا۔ اتنے میں دونوں نے اس عورت کے شوہر کو دروازے پر کھڑا پایا۔ اس عورت نے فورا (بات بنانے کے لیے اپنے شوہر سے) کہا کہ : جو کوئی تمہاری بیوی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے، اس کی سزا اس کے سوا اور کیا ہے کہ اسے قید کردیا جائے، یا کوئی اور دردناک سزا دی جائے ؟

﴿26﴾ یوسف نے کہا : یہ خود تھیں جو مجھے ورغلا رہی تھیں، اور اس عورت کے خاندان ہی میں سے ایک گواہی دینے والے نے یہ گواہی دی کہ : اگر یوسف کی قمیص سامنے کی طرف سے پھٹی ہو تو عورت سچ کہتی ہے، اور وہ جھوٹے ہیں۔

﴿27﴾ اور اگر ان کی قمیص پیچھے کی طرف سے پھٹی ہے تو عورت جھوٹ بولتی ہے، اور یہ سچے ہیں۔

﴿28﴾ پھر جب شوہر نے دیکھا کہ ان کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہے تو اس نے کہا کہ : یہ تم عورتوں کی مکاری ہے، واقعی تم عورتوں کی مکاری بڑی سخت ہے۔

﴿29﴾ یوسف ! تم اس بات کا خیال نہ کرو، اور اے عورت ! تو اپنے گناہ کی معافی مانگ، یقینی طور پر تو ہی خطاکار تھی۔

﴿30﴾ اور شہر میں کچھ عورتیں یہ باتیں کرنے لگیں کہ : عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کو ورغلا رہی ہے۔ اس نوجوان کی محبت نے اسے فریفتہ کرلیا ہے۔ ہمارے خیال میں تو یقینی طور پر وہ کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔

﴿31﴾ چنانچہ جب اس (عزیز کی بیوی) نے ان عورتوں کے مکر کی یہ بات سنی تو اس نے پیغام بھیج کر انہیں (اپنے گھر) بلوا لیا۔ اور ان کے لیے ایک تکیوں والی نشست تیار کی، اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک چاقو دے دیا۔ اور (یوسف سے) کہا کہ : ذرا باہر نکل کر ان کے سامنے آجاؤ، اب جو ان عورتوں نے یوسف کو دیکھا تو انہیں حیرت انگیز (حد تک حسین) پایا، اور (ان کے حسن سے مبہوت ہوکر) اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے، اور بول اٹھیں کہ : حاشا للہ ! یہ شخص کوئی انسان نہیں ہے، ایک قابل تکریم فرشتے کے سوا یہ کچھ اور نہیں ہوسکتا۔

﴿32﴾ عزیز کی بیوی نے کہا : اب دیکھو ! یہ ہے وہ شخص جس کے بارے میں تم نے مجھے طعنے دیے تھے۔ یہ بات واقعی سچ ہے کہ میں نے اپنا مطلب نکالنے کے لیے اس پر ڈورے ڈالے، مگر یہ بچ نکلا، اور اگر یہ میرے کہنے پر عمل نہیں کرے گا، تو اسے قید ضرور کیا جائے گا، اور یہ ذلیل ہو کر رہے گا۔

﴿33﴾ یوسف نے دعا کی کہ : یا رب ! یہ عورتیں مجھے جس کام کی دعوت دے رہی ہیں، اس کے مقابلے میں قید خانہ مجھے زیادہ پسند ہے۔ اور اگر تو نے مجھے ان کی چالوں سے محفوظ نہ کیا تو میرا دل بھی ان کی طرف کھنچنے لگے گا، اور جو لوگ جہالت کے کام کرتے ہیں، ان میں میں بھی شامل ہوجاؤں گا۔

﴿34﴾ چنانچہ یوسف کے رب نے ان کی دعا قبول کی، اور ان عورتوں کی چالوں سے انہیں محفوظ رکھا۔ بیشک وہی ہے جو ہر بات سننے والا، ہر چیز جاننے والا ہے۔

﴿35﴾ پھر ان لوگوں نے (یوسف کی پاکدامنی کی) بہت سی نشانیاں دیکھ لینے کے بعد بھی مناسب یہی سمجھا کہ انہیں ایک مدت تک قید خانے بھیج دیں۔

﴿36﴾ اور یوسف کے ساتھ دو اور نوجوان قید خانے میں داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے (ایک دن یوسف سے) کہا کہ : میں (خواب میں) اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں۔ اور دوسرے نے کہا کہ : میں (خواب میں) یوں دیکھتا ہوں کہ میں نے اپنے سر پر روٹی اٹھائی ہوئی ہے (اور) پرندے اس میں سے کھا رہے ہیں۔ ذرا ہمیں اس کی تعبیر بتاؤ، ہمیں تم نیک آدمی نظر آتے ہو۔

﴿37﴾ یوسف نے کہا : جو کھانا تمہیں (قید خانے میں) دیا جاتا ہے، وہ ابھی آنے نہیں پائے گا کہ میں تمہیں اس کی حقیقت بتادوں گا یہ اس علم کا ایک حصہ ہے جو میرے پروردگار نے مجھے عطا فرمایا ہے۔ (مگر اس سے پہلے میری ایک بات سنو) بات یہ ہے کہ میں نے ان لوگوں کا دین چھوڑ دیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے، اور جو آخرت کے منکر ہیں۔

﴿38﴾ اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی کی ہے۔ ہمیں یہ حق نہیں ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک ٹھہرائیں۔ یہ (توحید کا عقیدہ) ہم پر اور تمام لوگوں پر اللہ کے فضل کا حصہ ہے، لیکن اکثر لوگ (اس نعمت کا) شکر ادا نہیں کرتے۔

﴿39﴾ اے میرے قید خانے کے ساتھیو ! کیا بہت سے متفرق رب بہتر ہیں، یا وہ ایک اللہ جس کا اقتدار سب پر چھایا ہوا ہے ؟

﴿40﴾ اس کے سوا جس جس کی تم عبادت کرتے ہو، ان کی حقیقت چند ناموں سے زیادہ نہیں ہے جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے ان کے حق میں کوئی دلیل نہیں اتاری۔ حاکمت اللہ کے سوا کسی کو حاصل ہیں ہے، اسی نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا سیدھا دین ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

﴿41﴾ اے میرے قید خانے کے ساتھیو ! (اب اپنے خوابوں کی تعبیر سنو) تم میں سے ایک کا معاملہ تو یہ ہے کہ وہ (قید سے آزاد ہوکر) اپنے آقا کو شراب پلائے گا۔ رہا دوسرا تو اسے سولی دی جائے گی، جس کے نتیجے میں پرندے اس کے سر کو (نوچ کر) کھائیں گے۔ جس معاملے میں تم پوچھ رہے تھے، اس کا فیصلہ (اسی طرح) ہوچکا ہے۔

﴿42﴾ اور ان دونوں میں سے جس کے بارے میں ان کا گمان تھا کہ وہ رہا ہوجائے گا، اس سے یوسف نے کہا کہ : اپنے آقا سے میرا بھی تذکرہ کردینا۔ پھر ہوا یہ کہ شیطان نے اس کو یہ بات بھلا دی کہ وہ اپنے آقا سے یوسف کا تذکرہ کرتا۔ چنانچہ وہ کئی برس قید خانے میں رہے۔

﴿43﴾ اور (چند سال بعد مصر کے) بادشاہ نے (اپنے درباریوں سے) کہا کہ : میں (خواب میں) کیا دیکھتا ہوں کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں جنہیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں، نیز سات خوشے ہرے بھرے ہیں، اور سات اور ہیں جو سوکھے ہوئے ہیں۔ اے درباریو ! اگر تم خواب کی تعبیر دے سکتے ہو تو میرے اس خواب کا مطلب بتاؤ۔

﴿44﴾ انہوں نے کہا کہ : یہ پریشان قسم کے خیالات (معلوم ہوتے) ہیں، اور ہم خوابوں کی تعبیر کے علم سے واقف (بھی) نہیں۔

﴿45﴾ اور ان دو قیدیوں میں سے جو رہا ہوگیا تھا، اور اسے ایک لمبے عرصے کے بعد (یوسف کی) بات یاد آئی تھی، اس نے کہا کہ : میں آپ کو اس خواب کی تعبیر بتائے دیتا ہوں، بس مجھے (یوسف کے پاس قید خانے میں) بھیج دیجیے۔

﴿46﴾ (چنانچہ اس نے قید خانے میں پہنچ کر یوسف سے کہا) یوسف ! اے وہ شخص جس کی ہر بات سچی ہوتی ہے، تم ہمیں اس (خواب) کا مطلب بتاؤ کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں جنہیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں، اور سات خوشے ہرے بھرے ہیں، اور دوسرے سات اور ہیں جو سوکھے ہوئے ہیں، شاید میں لوگوں کے پاس واپس جاؤں (اور انہیں خواب کی تعبیر بتاؤں) تاکہ وہ بھی حقیقت جان لیں۔

﴿47﴾ یوسف نے کہا : تم سات سال تک مسلسل غلہ زمین میں اگاؤ گے، اس دوران جو فصل کاٹو، اس کو اس کی بالیوں ہی میں رہنے دینا، البتہ تھوڑا سا غلہ جو تمہارے کھانے کے کام آئے، (وہ نکال لیا کرو) ۔

﴿48﴾ پھر اس کے بعد تم پر سات سال ایسے آئیں گے جو بڑے سخت ہوں گے، اور جو کچھ ذخیرہ تم نے ان سالوں کے واسطے جمع کر رکھا ہوگا، اس کو کھا جائیں گے، ہاں البتہ تھوڑا سا حصہ جو تم محفوظ کرسکو گے (صرف وہ بچ جائے گا)

﴿49﴾ پھر اس کے بعد ایک سال ایسا آئے گا جس میں لوگوں پر خوب بارش ہوگی، اور وہ اس میں انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔

﴿50﴾ اور بادشاہ نے کہا کہ : اس کو (یعنی یوسف کو) میرے پاس لے کر آؤ۔ چنانچہ جب ان کے پاس ایلچی پہنچا تو یوسف نے کہا : اپنے مالک کے پاس واپس جاؤ، اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا قصہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈا لے تھے ؟ میرا پروردگار ان عورتوں کے مکر سے خوب واقف ہے۔

﴿51﴾ بادشاہ نے (ان عورتوں کو بلا کر ان سے) کہا : تمہارا کیا قصہ تھا جب تم نے یوسف کو ورغلا نے کی کوشش کی تھی ؟ ان سب عورتوں نے کہا کہ : حاشا للہ ! ہم کو ان میں ذرا بھی کوئی برائی معلوم نہیں ہوئی۔ عزیز کی بیوی نے کہا کہ : اب تو حق بات سب پر کھل ہی گئی ہے۔ میں نے ہی ان کو ورغلانے کی کوشش کی تھی، اور حقیقت یہ ہے کہ وہ بالکل سچے ہیں۔

﴿52﴾ (جب یوسف کو قید خانے میں اس گفتگو کی خبر ملی تو انہوں نے کہا کہ :) یہ سب کچھ میں نے اس لیے کیا تاکہ عزیز کو یہ بات یقین کے ساتھ معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کے ساتھ کوئی خیانت نہیں کی، اور یہ بھی کہ جو لوگ خیانت کرتے ہیں اللہ ان کے فریب کو چلنے نہیں دیتا۔

﴿53﴾ اور میں یہ دعوی نہیں کرتا کہ میرا نفس بالکل پاک صاف ہے، واقعہ یہ ہے کہ نفس تو برائی کی تلقین کرتا ہی رہتا ہے، ہاں میرا رب رحم فرمادے تو بات اور ہے (کہ اس صورت میں نفس کا کوئی داؤ نہیں چلتا) بیشک میرا رب بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿54﴾ اور بادشاہ نے کہا کہ : اس کو میرے پاس لے آؤ، میں اسے خالص اپنا (معاون) بناؤں گا۔ چنانچہ جب (یوسف بادشاہ کے پاس آگئے اور) بادشاہ نے ان سے باتیں کیں تو اس نے کہا : آج سے ہمارے پاس تمہارا بڑا مرتبہ ہوگا، اور تم پر پورا بھروسہ کیا جائے گا۔

﴿55﴾ یوسف نے کہا کہ : آپ مجھے ملک کے خزانوں (کے انتظام) پر مقرر کردیجیے۔ یقین رکھیے کہ مجھے حفاظت کرنا خوب آتا ہے (اور) میں (اس کام کا) پورا علم رکھتا ہوں۔

﴿56﴾ اور اس طرح ہم نے یوسف کو ملک میں ایسا اقتدار عطا کیا کہ وہ اس میں جہاں چاہیں اپنا ٹھکانا بنائیں۔ ہم اپنی رحمت جس کو چاہتے ہیں پہنچاتے ہیں اور نیک لوگوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے۔

﴿57﴾ اور آخرت کا جو اجر ہے وہ ان لوگوں کے لیے کہیں زیادہ بہتر ہے جو ایمان لاتے اور تقوی پر کاربند رہتے ہیں

﴿58﴾ اور (جب قحط پڑا تو) یوسف کے بھائی آئے، اور ان کے پاس پہنچے۔ تو یوسف نے انہیں پہچان لیا، اور وہ یوسف کو نہیں پہچانے۔

﴿59﴾ اور جب یوسف نے ان کا سامان تیار کردیا تو ان سے کہا کہ (آئندہ) اپنے باپ شریک بھائی کو بھی میرے پاس لے کر آنا۔ کیا تم یہ نہیں دیکھ رہے ہو کہ میں پیمانہ بھر بھر کردیتا ہوں، اور میں بہترین مہمان نواز بھی ہوں ؟

﴿60﴾ اب اگر تم اسے لے کر نہ آئے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہوگا، اور تم میرے پاس بھی نہ پھٹکنا۔

﴿61﴾ وہ بولے : ہم اس کے والد کو اس کے بارے میں بہلانے کی کوشش کریں گے (کہ وہ اسے ہمارے ساتھ بھیج دیں) اور ہم ایسا ضرور کریں گے۔

﴿62﴾ اور یوسف نے اپنے نوکروں سے کہہ دیا کہ وہ ان (بھائیوں) کا مال (جس کے بدلے انہوں نے غلہ خریدا ہے) انہی کے کجاووں میں رکھ دیں، تاکہ جب یہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس پہنچیں تو اپنے مال کو پہچان لیں۔ شاید (اس احسان کی وجہ سے) وہ دوبارہ آئیں۔

﴿63﴾ چنانچہ جب وہ اپنے والد کے پاس واپس پہنچے تو انہوں نے کہا : ابا جان ! آئندہ ہمیں غلہ دینے سے انکار کردیا گیا ہے۔ لہذا آپ ہمارے بھائی (بنیامین) کو ہمارے ساتھ بھیج دیجیے، تاکہ ہم (پھر) غلہ لاسکیں، اور یقین رکھیے کہ ہم اس کی پوری پوری حفاظت کریں گے۔

﴿64﴾ والد نے کہا : کیا میں اس کے بارے میں تم پر ویسا ہی بھروسہ کروں جیسا اسکے بھائی (یوسف) کے بارے میں تم پر پہلے کیا تھا ؟ خیر ! اللہ سب سے بڑھ کر نگہبان ہے، اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔

﴿65﴾ اور جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کا مال بھی ان کو لوٹا دیا گیا ہے، وہ کہنے لگے : ابا جان ! ہمیں اور کیا چاہیے ؟ یہ ہمارا مال ہے جو ہمیں لوٹا دیا گیا ہے، اور (اس مرتبہ) ہم اپنے گھر والوں کے لیے اور غلہ لائیں گے، اپنے بھائی کی حٖفاظت کریں گے، اور ایک اونٹ کا بوجھ زیادہ لے کر آئیں گے (اس طرح) یہ زیادہ غلہ بڑی آسانی سے مل جائے گا۔

﴿66﴾ والد نے کہا : میں اس (بنیامین) کو تمہارے ساتھ اس وقت تک ہرگز نہیں بھیجوں گا جب تک تم اللہ کے نام پر مجھ سے یہ عہد نہ کرو کہ اسے ضرور میرے پاس واپس لے کر آؤ گے، الا یہ کہ تم (واقعی) بےبس ہوجاؤ۔ چنانچہ جب انہوں نے اپنے والد کو یہ عہد دے دیا تو والد نے کہا : جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس پر اللہ نگہبان ہے۔

﴿67﴾ اور (ساتھ ہی یہ بھی) کہا کہ : میرے بیٹو ! تم سب ایک دروازے سے (شہر میں) داخل نہ ہونا، بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا میں اللہ کی مشیت سے تمہیں بچا سکتا، حکم اللہ کے سوا کسی کا نہیں چلتا۔ اسی پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے، اور جن جن کو بھروسہ کرنا ہو، انہیں چاہیے کہ اسی پر بھروسہ کریں۔

﴿68﴾ اور جب وہ (بھائی) اسی طرح (مصر میں) داخل ہوئے جس طرح ان کے والد نے کہا تھا، تو یہ عمل اللہ کی مشیت سے ان کو ذڑا بھی بچانے والا نہیں تھا، لیکن یعقوب کے دل میں ایک خواہش تھی جو انہوں نے پوری کرلی۔ بیشک وہ ہمارے سکھائے ہوئے علم کے حامل تھے، لیکن اکثر لوگ (معاملے کی حقیقت) نہیں جانتے

﴿69﴾ اور جب یہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو انہوں نے اپنے (سگے) بھائی (بنیامین) کو اپنے پاس خاص جگہ دی، (اور انہیں) بتایا کہ میں تمہارا بھائی ہوں، لہذا تم ان باتوں پر رنجیدہ نہ ہونا جو یہ (دوسرے بھائی) کرتے رہے ہیں۔

﴿70﴾ پھر جب یوسف نے ان کا سامان تیار کردیا تو پانی پینے کا پیالہ اپنے (سگے) بھائی کے کجاوے میں رکھوا دیا، پھر ایک منادی نے پکار کر کہا کہ : اے قافلے والو ! تم چور ہو، ۔

﴿71﴾ انہوں نے ان کی طرف مڑ کر پوچھا کہ : کیا چیز ہے جو تم سے گم ہوگئی ہے ؟

﴿72﴾ انہوں نے کہا کہ : ہمیں بادشاہ کا پیمانہ نہیں مل رہا ِ اور جو شخص اسے لاکر دے گا، اس کو ایک اونٹ کا بوجھ (انعام میں) ملے گا، اور میں اس (انعام کے دلوانے) کی ذمہ داری لیتا ہوں۔

﴿73﴾ وہ (بھائی) بولے : اللہ کی قسم ! آپ لوگ جانتے ہیں کہ ہم زمین میں فساد پھیلانے کے لیے نہیں آئے تھے، اور نہ ہم چوری کرنے والے لوگ ہیں۔

﴿74﴾ انہوں نے کہا کہ : اگر تم لوگ جھوٹے (ثابت) ہوئے تو اس کی کیا سزا ہوگی ؟

﴿75﴾ انہوں نے کہا : اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے کجاوے میں سے وہ (پیالہ) مل جائے، وہ خود سزا میں دھر لیا جائے۔ جو لوگ ظلم کرتے ہیں، ہم ان کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں،

﴿76﴾ چنانچہ یوسف نے اپنے (سگے) بھائی کے تھیلے سے پہلے دوسرے بھائیوں کے تھیلوں کی تلاشی شروع کی، پھر اس پیالے کو اپنے (سگے) بھائی کے تھیلے میں سے برآمد کرلیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کی خاطر یہ تدبیر کی۔ اللہ کی یہ مشیت نہ ہوتی تو یوسف کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ بادشاہ کے قانون کے مطابق اپنے بھائی کو اپنے پاس رکھ لیتے، اور ہم جس کو چاہتے ہیں، اس کے درجے بلند کردیتے ہیں، اور جتنے علم والے ہیں، ان سب کے اوپر ایک بڑا علم رکھنے والا موجود ہے۔

﴿77﴾ (بہرحال) وہ بھائی بولے کہ : اگر اس (بنیامین) نے چوری کی ہے تو (کچھ تعجب نہیں، کیونکہ) اس کا ایک بھائی اس سے پہلے بھی چوری کرچکا ہے۔ اس پر یوسف نے ان پر ظاہر کیے بغیر چپکے سے (دل میں) کہا کہ : تم تو اس معاملے میں کہیں زیادہ برے ہو۔ اور جو بیان تم دے رہے ہو، اللہ اس کی حقیقت خوب جانتا ہے۔

﴿78﴾ (اب) وہ کہنے لگے کہ : اے عزیز ! اس کا ایک بہت بوڑھا باپ ہے، اس لیے اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو اپنے پاس رکھ لیجیے، ہم آپ کو ان لوگوں میں سے سمجھتے ہیں جو احسان کیا کرتے ہیں۔

﴿79﴾ یوسف نے کہا : اس (ناانصافی) سے میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ جس شخص کے پاس سے ہماری چیز ملی ہے، اس کو چھوڑ کر کسی اور کو پکڑ لیں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو یقینی طور پر ہم ظالم ہوں گے۔

﴿80﴾ چنانچہ جب وہ یوسف سے مایوس ہوگئے تو الگ ہو کر چپکے چپکے مشورہ کرنے لگے۔ ان سب میں جو بڑا تھا، اس نے کہا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے والد نے تم سے اللہ کے نام پر عہد لیا تھا، اور اس سے پہلے تم یوسف کے معاملے میں جو قصور کرچکے ہو، (وہ بھی معلوم ہے) لہذا میں تو اس ملک سے اس وقت تک نہیں ٹلوں گا جب تک میرے والد مجھے اجازت نہ دیں، یا اللہ ہی میرے حق میں کوئی فیصلہ فرمادے۔ اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

﴿81﴾ جاؤ۔ اپنے والد کے پاس واپس جاؤ، اور ان سے کہو کہ : ابا جان ! آپ کے بیٹے نے چوری کرلی تھی اور ہم نے وہی بات کہی ہے جو ہمارے علم میں آئی ہے، اور غیب کی نگہبانی تو ہمارے بس میں نہیں تھی۔

﴿82﴾ اور جس بستی میں ہم تھے اس سے پوچھ لیجیے، اور جس قافلے میں ہم آئے ہیں، اس سے تحقیق کرلیجیے، یہ بالکل پکی بات ہے کہ ہم سچے ہیں۔

﴿83﴾ چنانچہ یہ بھائی یعقوب (علیہ السلام) کے پاس گئے، اور ان سے وہی بات کہی جو بڑے بھائی نے سکھائی تھی) یعقوب نے (یہ سن کر) کہا : نہیں، بلکہ تمہارے دلوں نے اپنی طرف سے ایک بات بنا لی ہے۔ اب تو میرے لیے صبر ہی بہتر ہے، کچھ بعید نہیں کہ اللہ میرے پاس ان سب کو لے آئے۔ بیشک اس کا علم بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل۔

﴿84﴾ اور (یہ کہہ کر) انہوں نے منہ پھیرلیا، اور کہنے لگے : ہائے یوسف ! اور ان کی دونوں آنکھیں صدمے سے (روتے روتے) سفید پڑگئی تھیں، اور وہ دل ہی دل میں گھٹے جاتے تھے۔

﴿85﴾ ان کے بیٹے کہنے لگے : اللہ کی قسم ! آپ یوسف کو یاد کرنا نہیں چھوڑیں گے، یہاں تک کہ بالکل گھل کر رہ جائیں گے، یا ہلاک ہو بیٹھیں گے۔

﴿86﴾ یعقوب نے کہا : میں اپنے رنج و غم کی فریاد (تم سے نہیں) صرف اللہ سے کرتا ہوں، اور اللہ کے بارے میں جتنا میں جانتا ہوں، تم نہیں جانتے۔

﴿87﴾ میرے بیٹو ! جاؤ، اور یوسف اور اس کے بھائی کا کچھ سراغ لگاؤ، اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ یقین جانو، اللہ کی رحمت سے وہی لوگ ناامید ہوتے ہیں جو کافر ہیں۔

﴿88﴾ چنانچہ جب وہ یوسف کے پاس پہنچے تو انہوں نے (یوسف سے) کہا : اے عزیز ! ہم پر اور ہمارے گھر والوں پر سخت مصیبت پڑی ہوئی ہے، اور ہم ایک معمولی سی پونجی لے کر آئے ہیں، آپ ہمیں پورا پورا غلہ دے دیجیے، اور اللہ کے لیے ہم پر احسان کیجیے، یقینا اللہ اپنی خاطر احسان کرنے والوں کو بڑا اجر عطا فرماتا ہے۔

﴿89﴾ یوسف نے کہا : تمہیں کچھ پتہ ہے کہ تم جب جہالت میں مبتلا تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا ؟

﴿90﴾ (اس پر) وہ بول اٹھے : ارے کیا تم ہی یوسف ہو ؟ یوسف نے کہا : میں یوسف ہوں، اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر بڑا احسان فرمایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص تقوی اور صبر سے کام لیتا ہے، تو اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

﴿91﴾ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! اللہ نے تم کو ہم پر ترجیح دی ہے، اور ہم یقینا خطا کار تھے۔

﴿92﴾ یوسف بولے : آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہوگی، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سارے رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

﴿93﴾ میرا یہ قمیص لے جاؤ، اور اسے میرے والد کے چہرے پر ڈال دینا، اس سے ان کی بینائی واپس آجائے گی، اور اپنے سارے گھر والوں کو میرے پاس لے آؤ۔

﴿94﴾ اور جب یہ قافلہ (مصر سے کنعان کی طرف) روانہ ہوا تو ان کے والد نے (کنعان میں آس پاس کے لوگوں سے) کہا کہ : اگر تم مجھے یہ نہ کہو کہ بوڑھا سٹھیا گیا ہے، تو مجھے تو یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔

﴿95﴾ لوگوں نے کہا : اللہ کی قسم ! آپ ابھی تک اپنی پرانی غلط فہمی میں پڑے ہوئے ہیں۔

﴿96﴾ پھر جب خوشخبری دینے والا پہنچ گیا تو اس نے (یوسف کی) قمیص ان کے منہ پر ڈال دی، اور فورا ان کی بینائی واپس آگئی۔ انہوں نے (اپنے بیٹوں سے) کہا : کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ اللہ کے بارے میں جتنا میں جانتا ہوں، تم نہیں جانتے ؟

﴿97﴾ وہ کہنے لگے : ابا جان ! آپ ہمارے گناہوں کی بخشش کی دعا فرماییے۔ ہم یقینا بڑے خطا کار تھے۔

﴿98﴾ یعقوب نے کہا : میں عنقریب اپنے پروردگار سے تمہاری بخشش کی دعا کروں گا۔ بیشک وہی ہے جو بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿99﴾ پھر جب یہ سب لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو انہوں نے اپنے والدین کو اپنے پاس جگہ دی، اور سب سے کہا کہ : آپ سب مصر میں داخل ہوجائیں، جہاں انشاء اللہ سب چین سے رہیں گے۔

﴿100﴾ اور انہوں نے اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا، اور وہ سب ان کے سامنے سجدے میں گرپڑے، اور یوسف نے کہا : ابا جان ! یہ میرے پرانے خواب کی تعبیر ہے جسے میرے پروردگار نے سچ کر دکھایا، اور اس نے مجھ پر بڑا احسان فرمایا کہ مجھے قید خانے سے نکال دیا، اور آپ لوگوں کو دیہات سے یہاں لے آیا۔ حالانکہ اس سے پہلے شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال دیا تھا، حقیقت یہ ہے کہ میرا پروردگار جو کچھ چاہتا ہے، اس کے لیے بڑی لطیف تدبیریں کرتا ہے۔ بیشک وہی ہے جس کا علم بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل۔

﴿101﴾ میرے پروردگار ! تو نے مجھے حکومت سے بھی حصہ عطا فرمایا، اور مجھے تعبیر خواب کے علم سے بھی نوازا۔ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ! تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا رکھوالا ہے۔ مجھے اس حالت میں دنیا سے اٹھانا کہ میں تیرا فرمانبردار ہوں، اور مجھے نیک لوگوں میں شامل کرنا۔

﴿102﴾ (اے پیغمبر) یہ تمام واقعہ غیب کی خبروں کا ایک حصہ ہے جو ہم تمہیں وحی کے ذریعے بتا رہے ہیں، اور تم اس وقت ان (یوسف کے بھائیوں) کے پاس موجود نہیں تھے جب انہوں نے سازش کر کے اپنا فیصلہ پختہ کرلیا تھا (کہ یوسف کو کنویں میں ڈالیں گے) ۔

﴿103﴾ اس کے باوجود اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں، چاہے تمہارا کیسا ہی دل چاہتا ہو۔

﴿104﴾ حالانکہ تم ان سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت نہیں مانگتے۔ یہ تو دنیا جہان کے سب لوگوں کے لیے بس ایک نصیحت کا پیغام ہے۔

﴿105﴾ اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر ان کا گزر ہوتا رہتا ہے، مگر یہ ان سے منہ موڑ جاتے ہیں۔

﴿106﴾ اور ان میں سے اکثر لوگ ایسے ہیں کہ اللہ پر ایمان رکھتے بھی ہیں تو اس طرح کہ وہ اس کے ساتھ شرک بھی کرتے جاتے ہیں۔

﴿107﴾ بھلا کیا ان لوگوں کو اس بات کا ذرا ڈر نہیں ہے کہ اللہ کے عذاب کی کوئی بلا آکر ان کو لپیٹ لے، یا ان پر قیامت اچانک ٹوٹ پڑے اور انہیں پہلے سے احساس بھی نہ ہو ؟

﴿108﴾ (اے پیغمبر) کہہ دو کہ : یہ میرا راستہ ہے، میں بھی پوری بصیرت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاتا ہوں، اور جنہوں نے میری پیروی کی ہے وہ بھی، اور اللہ (ہر قسم کے شر سے) پاک ہے، اور میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں۔

﴿109﴾ اور ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھیجے وہ سب مختلف بستیوں میں بسنے والے انسان ہی تھے جن پر ہم وحی بھیجتے تھے۔ تو کیا ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر یہ نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے کی قوموں کا انجام کیسا ہوا ؟ اور آخرت کا گھر یقینا ان لوگوں کے لیے کہیں بہتر ہے جنہوں نے تقوی اختیار کیا۔ کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟

﴿110﴾ (پچھلے انبیاء کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ ان کی قوموں پر عذاب آنے میں کچھ دیر لگی) یہاں تک کہ جب پیغمبر لوگوں سے مایوس ہوگئے اور کافر لوگ یہ سمجھنے لگے کہ انہیں جھوٹی دھمکیاں دی گئی تھیں تو ان پیغمبروں کے پاس ہماری مدد پہنچ گئی (یعنی کافروں پر عذاب آیا) اور جن کو ہم چاہتے تھے، انہیں بچا لیا گیا، اور جو لوگ مجرم ہوتے ہیں، ان سے ہمارے عذاب کو ٹالا نہیں جاسکتا۔

﴿111﴾ یقینا ان کے واقعات میں عقل و ہوش رکھنے والوں کے لیے بڑا عبرت کا سامان ہے۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو جھوٹ موٹ گھڑ لی گئی ہو، بلکہ اس سے پہلے جو کتابیں آچکی ہیں ان کی تصدیق ہے، اور ہر بات کی وضاحت اور جو لوگ ایمان لائیں ان کے لیے ہدایت اور رحمت کا سامان۔

الرعد

Surah 13

﴿1﴾ المر یہ (اللہ کی) کتاب کی آیتیں ہیں، اور (اے پیغمبر) جو کچھ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، برحق ہے، لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لار ہے۔

﴿2﴾ اللہ وہ ہے جس نے ایسے ستونوں کے بغیر آسمانوں کو بلند کیا جو تمہیں نظر آسکیں، پھر اس نے عرش پر استوا فرمایا اور سورج اور چاند کو کام پر لگا دیا ہر چیز ایک معین میعاد تک کے لیے رواں دوان ہے۔ وہی تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے، وہی ان انشانیوں کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم اس بات کا یقین کرلو کہ (ایک دن) تمہیں اپنے پروردگار سے جا ملنا ہے

﴿3﴾ اور وہی ذات ہے جس نے یہ زمین پھیلائی، اس میں پہاڑ اور دریا بنائے، اور اس میں ہر قسم کے پھلوں کے دو دو جوڑے پیدا کیے۔ وہ دن کو رات کی چادر اڑھا دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان ساری باتوں میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کریں۔

﴿4﴾ اور زمین میں مختلف قطعے ہیں جو پاس پاس واقعے ہوئے ہیں اور انگور کے باغ اور کھیتیاں اور کھجور کے درخت ہیں، جن میں سے کچھ دہرے تنے والے ہیں، اور کچھ اکہرے تنے والے۔ سب ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں، اور ہم ان میں سے کسی کو ذائقے میں دوسرے پر فوقیت دے دیتے ہیں۔ یقینا ان سب باتوں میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیں۔

﴿5﴾ اور اگر تمہیں (ان کافروں پر) تعجب ہوتا ہے تو ان کا یہ کہنا (واقعی) عجیب ہے کہ : کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے تو کیا سچ مچ ہم نئے سرے سے پیدا ہوں گے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب (کی قدرت) کا انکار کیا ہے، اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے گلوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں اور وہ دوزخ کے باسی ہیں۔ وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔

﴿6﴾ اور یہ لوگ خوشحالی (کی میعاد ختم ہونے) سے پہلے تم سے بدحالی کی جلدی مچائے ہوئے ہیں حالانکہ ان سے پہلے ایسے عذاب کے واقعات گزر چکے ہیں جس نے لوگوں کو رسوا کر ڈالا تھا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ لوگوں کے لیے ان کی زیادتی کے باوجود تمہارے رب کی ذات ایک معاف کرنے والی ذات ہے، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کا عذاب بڑا سخت ہے۔

﴿7﴾ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ کہتے ہیں کہ : بھلا ان پر (یعنی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر) ان کے رب کی طرف سے کوئی معجزہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ (اے پیغمبر) بات یہ ہے کہ تم تو صرف خطرے سے ہوشیار کرنے والے ہو، اور ہر قوم کے لیے کوئی نہ کوئی ایسا شخص ہوا ہے جو ہدایت کا راستہ دکھائے۔

﴿8﴾ جس کسی مادہ کو جو حمل ہوتا ہے، اللہ اس کو بھی جانتا ہے، اور ماؤں کے رحم میں جو کوئی کمی بیشی ہوتی ہے اس کو بھی، اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے۔

﴿9﴾ وہ غائب و حاضر تمام باتوں کا جاننے والا ہے، اس کی ذات بہت بڑی ہے، اس کی شان بہت اونچی۔

﴿10﴾ تم میں سے کوئی چپکے سے بات کرے یا زور سے، کوئی رات کے وقت چھپا ہوا ہو، یا دن کے وقت چل پھر رہا ہو، وہ سب (اللہ کے علم کے لحاظ سے) برابر ہیں۔

﴿11﴾ ہر شخص کے آگے اور پیچھے وہ نگران (فرشتے) مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے باری باری اس کی حفاظت کرتے ہیں یقین جانو کہ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے حالات میں تبدیلی نہ لے آئے۔ اور جب اللہ کسی قوم پر کوئی آفت لانے کا ارادہ کرلیتا ہے تو اس کا ٹالنا ممکن نہیں، اور ایسے لوگوں کا خود اس کے سوا کوئی رکھوالا نہیں ہوسکتا۔

﴿12﴾ وہی ہے جو تمہیں بجلی کی چمک دکھلاتا ہے جس سے تمہیں (اس کے گرنے کا) ڈر بھی لگتا ہے، اور (بارش کی) امید بھی بندھتی ہے اور وہی (پانی سے) لدے ہوئے بادل اٹھاتا ہے۔

﴿13﴾ اور بادلوں کی گرج اسی کی تسبیح اور حمد کرتی ہے اور اس کے رعب سے فرشتے بھی (تسبیح میں لگے ہوئے ہیں) اور وہی کڑکتی ہوئی بجلیاں بھیجتا ہے۔ پھر جس پر چاہتا ہے انہیں مصیبت بنا کر گرا دیتا ہے، اور ان (کافروں) کا حال یہ ہے کہ اللہ ہی کے بارے میں بحثیں کر رہے ہیں، حالانکہ اس کی طاقت بڑی زبردست ہے۔

﴿14﴾ وہی ہے جس سے دعا کرنا برحق ہے۔ اور اس کو چھوڑ کر یہ لوگ جن (دیوتاؤں) کو پکارتے ہیں وہ ان کی دعاؤں کا کوئی جواب نہیں دیتے، البتہ ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو پانی کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر یہ چاہے کہ پانی خود اس کے منہ تک پہنچ جائے، حالانکہ وہ کبھی خود منہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ اور (بتوں سے) کافروں کے دعا کرنے کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ بھٹکتی ہی پھرتی رہے۔

﴿15﴾ اور وہ اللہ ہی ہے جس کو آسمانوں اور زمین کی ساری مخلوقات سجدہ کرتی ہیں، کچھ خوشی سے، کچھ مجبوری سے، اور ان کے سائے بھی صبح و شام اس کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔

﴿16﴾ (اے پیغمبر ! ان کافروں سے) کہو کہ : وہ کون ہے جو آسمانوں اور زمین کی پرورش کرتا ہے ؟ کہو کہ : وہ اللہ ہے ! کہو کہ : کیا پھر بھی تم نے اس کو چھوڑ کر ایسے کارساز بنا لیے ہیں جنہیں خود اپنے آپ کو بھی نہ کوئی فائدہ پہنچانے کی قدرت حاصل ہے نہ نقصان پہنچانے کی ؟ کہو کہ : کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہوسکتا ہے ؟ یا کیا اندھیریاں اور روشنی ایک جیسی ہوسکتی ہیں ؟ یا ان لوگوں نے اللہ کے ایسے شریک مانے ہوئے ہیں جنہوں نے کوئی چیز اسی طرح پیدا کی ہو جیسے اللہ پیدا کرتا ہے، اور اس وجہ سے ان کو دونوں کی تخلیق ایک جیسی معلوم ہورہی ہو ؟ (اگر کوئی اس غلط فہمی میں مبتلا ہے تو اس سے) کہہ دو کہ : صرف اللہ ہر چیز کا خالق ہے، اور وہ تنہا ہی ایسا ہے کہ اس کا اقتدار سب پر حاوی ہے۔

﴿17﴾ اسی نے آسمان سے پانی برسایا جس سے ندی نالے اپنی اپنی بشاط کے مطابق بہہ پڑے، پھر پانی کے ریلے نے پھولے ہوئے جھاگ کو اوپر اٹھا لیا، اور اسی قسم کا جھاگ اس وقت بھی اٹھتا ہے جب لوگ زیور یا برتن بنانے کے لیے دھاتوں کو آگ پر تپاتے ہیں۔ اللہ حق اور باطل کی مثال اسی طرح بیان کر رہا ہے کہ (دونوں قسم کا) جو جھاگ ہوتا ہے وہ تو باہر گر کر ضائع ہوجاتا ہے، لیکن وہ چیز جو لوگوں کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔ اسی قسم کی تمثیلیں ہیں جو اللہ بیان کرتا ہے۔

﴿18﴾ بھلائی انہی لوگوں کے حصے میں ہے جنہوں نے اپنے رب کا کہنا مانا ہے اور جنہوں نے اس کا کہنا نہیں مانا، اگر ان کے پاس دنیا بھر کی ساری چیزیں بھی ہوں گی، بلکہ اتنی ہی اور بھی، تو وہ (قیامت کے دن) اپنی جان بچانے کے لیے وہ سب کچھ دینے کو تیار ہوجائیں گے۔ ان لوگوں کے حصے میں بری طرح کا حساب ہے، اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

﴿19﴾ جو شخص یہ یقین رکھتا ہو کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے جو کچھ نازل ہوا ہے، برحق ہے، بھلا وہ اس جیسا کیسے ہوسکتا ہے جو بالکل اندھا ہو ؟ حقیقت یہ ہے کہ نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل و ہوش رکھتے ہوں۔

﴿20﴾ (یعنی) وہ لوگ جو اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں، اور معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔

﴿21﴾ اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے، یہ لوگ انہیں جوڑے رکھتے ہیں، اور اپنے پر ورگار سے ڈرتے ہیں، اور حساب کے برے انجام سے خوف کھاتے ہیں۔

﴿22﴾ اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی خوشنودی کی خاطر صبر سے کام لیا ہے، اور نماز قائم کی ہے اور ہم نے انہیں جو رزق عطا فرمایا ہے، اس میں سے خفیہ بھی اور علانیہ بھی خرچ کیا ہے، اور وہ بدسلوکی کا دفاع حسن سلوک سے کرتے ہیں، وطن اصلی میں بہترین انجام ان کا حصہ، ۔

﴿23﴾ یعنی ہمیشہ رہنے کے لیے وہ باغات جن میں وہ خود بھی داخل ہوں گے، اور ان کے باپ دادوں، بیویوں اور اولاد میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی، اور (ان کے استقبال کے لیے) فرشتے ان کے پاس ہر دروازے سے (یہ کہتے ہوئے) داخل ہوں گے۔

﴿24﴾ کہ تم نے (دنیا میں) جو صبر سے کام لیا تھا، اس کی بدولت اب تم پر سلامتی ہی سلامتی نازل ہوگی، اور (تمہارے) اصلی وطن میں یہ تمہارا بہترین انجام ہے۔

﴿25﴾ اور (دوسری طرف) جو لوگ اللہ سے کیے ہوئے عہد کو مضبوطی سے باندھنے کے بعد توڑتے ہیں اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے، انہیں کاٹ ڈالتے ہیں، اور زمین میں فساد مچاتے ہیں، تو ایسے لوگوں کے حصے میں لعنت آتی ہے، اور اصلی وطن میں برا انجام انہی کا ہے۔

﴿26﴾ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق میں وسعت کردیتا ہے، اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگی کردیتا ہے، یہ (کافر) لوگ دنیوی زندگی پر مگن ہیں، حالانکہ آخرت کے مقابلے میں دنیوی زندگی کی حیثیت اس سے زیادہ نہیں کہ وہ معمولی سی پونجی ہے۔

﴿27﴾ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، وہ یہ کہتے ہیں کہ ان پر (یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر) ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی ؟ کہہ دو کہ : اللہ جس کو چاہتا ہے، گمراہ کردیتا ہے اور اپنے راستے پر انہی کو لاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کریں۔

﴿28﴾ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اور جن کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یا درکھو کہ صرف اللہ کا ذکر ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔

﴿29﴾ (غرض) جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کے حصے میں خوش حالی بھی ہے اور بہترین انجام بھی۔

﴿30﴾ (اے پیغمبر ! جس طرح دوسرے رسول بھیجے گئے تھے) اسی طرح ہم نے تمہیں ایک ایسی امت میں رسول بنا کر بھیجا ہے جس سے پہلی بہت سی امتیں گزر چکی ہیں، تاکہ تم ان کے سامنے وہ کتاب پڑھ کر سنا دو جو ہم نے وحی کے ذریعے تم پر نازل کی ہے، اور یہ لوگ اس ذات کی ناشکری کر رہے ہیں جو سب پر مہربان ہے، کہہ دو کہ : وہ میرا پالنے والا ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ اسی پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے، اور اسی کی طرف مجھے لوٹ کر جانا ہے۔

﴿31﴾ اور اگر کوئی قرآن ایسا بھی اترتا ہے جس کے ذریعے پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹا دیے جاتے یا اس کی بدولت زمین شق کردی جاتی (اور اس سے دریا نکل پڑتے) یا اس کے نتیجے میں مردوں سے بات کرلی جاتی، (تب بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے) ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ تمام تر اختیار اللہ کا ہے۔ کیا پھر بھی ایمان والوں نے یہ سوچ کر اپنا ذہن فارغ نہیں کیا کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے ہی انسانوں کو (زبردستی) راہ پر لے آتا ؟ اور جنہوں نے کفر اپنایا ہے ان پر تو ان کے کرتوت کی وجہ سے ہمیشہ کوئی نہ کوئی کھڑ کھڑانے والی مصیبت پڑتی رہتی ہے، یا ان کی بستی کے قریب کہیں نازل ہوتی رہتی ہے، یہاں تک کہ (ایک دن) اللہ نے جو وعدہ کر رکھا ہے وہ آکر پورا ہوجائے گا۔ یقین رکھو کہ اللہ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔

﴿32﴾ اور (اے پیغمبر) حقیقت یہ ہے کہ تم سے پہلے پیغمبروں کا بھی مذاق اڑایا گیا تھا، اور ایسے کافروں کو بھی میں نے مہلت دی تھی مگر کچھ وقت کے بعد میں نے ان کو گرفت میں لے لیا، اب دیکھ لو کہ میرا عذاب کیسا تھا ؟

﴿33﴾ بھلا بتاؤ کہ ایک طرف وہ ذات ہے جو ہر ہر شخص کے ہر ہر کام کی نگرانی کر رہی ہے، اور دوسری طرف ان لوگوں نے اللہ کے ساتھ شریک مانے ہوئے ہیں ؟ کہو کہ : ذرا ان (خدا کے شریکوں) کے نام تو بتاؤ (اگر کوئی نام لو گے) تو کیا اللہ کو کسی ایسے وجود کی خبر دو گے جس کا دنیا بھر میں اللہ کو بھی پتہ نہیں ہے ؟ یا خالی زبان سے ایسے نام لے لو گے جن کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کافروں کو اپنی مکارانہ باتیں بڑی خوبصورت لگتی ہیں اور (اس طرح) ان کی ہدایت کے راستے میں رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے۔ اور جسے اللہ گمراہی میں پڑا رہنے دے، اسے کوئی راہ پر لانے والا میسر نہیں آسکتا۔

﴿34﴾ ایسے لوگوں کے لیے دنیوی زندگی میں بھی عذاب ہے اور یقینا آخرت کا عذاب کہیں زیادہ بھاری ہوگا، اور کوئی نہیں ہے جو انہیں اللہ (کے عذاب) سے بچا سکے۔

﴿35﴾ (دوسری طرف) وہ جنت جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس کے پھل بھی سدا بہار ہیں، اور اس کی چھاؤں بھی ! یہ انجام ہے ان لوگوں کا جنہوں نے تقوی اختیار کیا، جبکہ کافروں کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔

﴿36﴾ اور (اے پیغمبر) جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اس کلام سے خوش ہوتے ہیں جو تم پر نازل کیا گیا ہے، اور انہی گروہوں میں وہ بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کا ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ : مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں، اور اس کے ساتھ کسی کو خدائی میں شریک نہ مانوں، اسی بات کی میں دعوت دیتا ہوں، اور اسی (اللہ) کی طرف مجھے لوٹ کر جانا ہے، ۔

﴿37﴾ اور اسی طرح ہم نے اس (قرآن) کو عربی زبان میں ایک حکم نامہ بنا کر نازل کیا ہے۔ اور (اے پیغمبر) تمہارے پاس جو علم آچکا ہے، اگر اس کے بعد بھی تم ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے چلے تو اللہ کے مقابلے میں نہ تمہارا کوئی مددگار ہوگا، نہ کوئی بچانے والا۔

﴿38﴾ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے ہیں اور انہیں بیوی بچے بھی عطا فرمائے ہیں، اور کسی رسول کو یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ کوئی ایک آیت بھی اللہ کے حکم کے بغیر لاسکے۔ ہر زمانے کے لیے الگ کتاب دی گئی ہے۔

﴿39﴾ اللہ جس (حکم) کو چاہتا ہے، منسوخ کردیتا ہے، اور (جس کو چاہتا ہے) باقی رکھتا ہے۔ اور تمام کتابوں کی جو اصل ہے، وہ اسی کے پاس ہے۔

﴿40﴾ اور جس بات کی دھمکی ہم ان (کافروں) کو دیتے ہیں، چاہے اس کا کوئی حصہ ہم تمہیں (تمہاری زندگی ہی میں) دکھا دیں، یا (اس سے پہلے ہی) تمہیں دنیا سے اٹھالیں۔ بہرحال تمہارے ذمے تو صرف پیغام پہنچا دینا ہے، اور حساب لینے کی ذمہ داری ہماری ہے۔ ۔

﴿41﴾ کیا ان لوگوں کو یہ حقیقت نظر نہیں آئی کہ ہم ان کی زمین کو چاروں طرف سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں ؟ ہر حکم اللہ دیتا ہے، کوئی نہیں ہے جو اس کے حکم کو توڑ سکے، اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔

﴿42﴾ جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں، چالیں انہوں نے بھی چلی تھیں، لیکن چال تو تمام تر اللہ ہی کی چلتی ہے۔ کوئی بھی شخص جو کچھ کرتا ہے، سب اسے معلوم ہے، اور کافروں کو عنقریب پتہ لگ جائے گا کہا صلی وطن کا نیک انجام کس کے حصے میں آتا ہے۔

﴿43﴾ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ : تم پیغمبر نہیں ہو۔ کہہ دو کہ : میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لیے اللہ کافی ہے، نیز ہر وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔

ابراہیم

Surah 14

﴿1﴾ الر۔ (اے پیغمبر) یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے، تاکہ تم لوگوں کو ان کے پروردگار کے حکم سے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے آؤ، یعنی اس ذات کے راستے کی طرف جس کا اقتدار سب پر غالب ہے، (اور) جو ہر تعریف کا مستحق ہے۔

﴿2﴾ وہ اللہ کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، اسی کی ملکیت ہے۔ اور افسوس ہے ان لوگوں پر جو حق کا انکار کرتے ہیں، کیونکہ انہیں سخت عذاب ہونے والا ہے۔

﴿3﴾ وہ لوگ جو آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں، اور دوسروں کو اللہ کے راستے پر آنے سے روکتے ہیں، اور اس میں ٹیڑھ تلاش کرتے رہتے ہیں۔ وہ پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔

﴿4﴾ اور ہم نے جب بھی کوئی رسول بھیجا، خود اس کی قوم کی زبان میں بھیجا تاکہ وہ ان کے سامنے حق کو اچھی طرح واضح کرسکے۔ پھر اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے، ہدایت دے دیتا ہے۔ اور وہی ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کی حکمت بھی کامل۔

﴿5﴾ اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ : اپنی قوم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاؤ، اور (مختلف لوگوں کو) اللہ نے (خوشحالی اور بدحالی کے) جو دن دکھائے ہیں، ان کے حوالے سے انہیں نصیحت کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو صبر اور شکر کا خوگر ہو، اس کے لیے ان واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں۔

﴿6﴾ وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے، اسے یاد رکھو کہ اس نے تمہیں فرعون کے لوگوں سے نجات دی، جو تمہیں بدترین تکلیفیں پہنچاتے تھے، اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے، اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے، اور ان تمام واقعات میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارا زبردست امتحان تھا۔

﴿7﴾ اور وہ وقت بھی جب تمہارے پروردگار نے اعلان فرما دیا تھا کہ اگر تم نے واقعی شکر ادا کیا تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا، اور اگر تم نے ناشکری کی تو یقین جانو، میرا عذاب بڑا سخت ہے۔

﴿8﴾ اور موسیٰ نے کہا تھا کہ : اگر تم اور زمین پر بسنے والے تمام لوگ بھی ناشکری کریں، تو (اللہ کا کوئی نقصان نہیں، کیونکہ) اللہ بڑا بےنیاز ہے، بذات خود قابل تعریف۔

﴿9﴾ (اے کفار مکہ) کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچتی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں، قوم نوح، عاد، ثمود اور ان کے بعد آنے والی قومیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ان سب کے پاس ان کے رسول کھلے کھلے دلائل لے کر آئے، تو انہوں نے ان کہ منہ پر اپنے ہاتھ رکھ دیے، اور کہا کہ : جو پیغام تمہیں دے کر بھیجا گیا ہے، ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں، اور جس بات کی تم ہمیں دعوت دے رہے ہو، اس کے بارے میں ہمیں بڑا بھاری شک ہے۔

﴿10﴾ ان کے پیغمبروں نے ان سے کہا : کیا اللہ کے بارے میں شک ہے جو سارے آسمانوں اور زمین کا خالق ہے ؟ وہ تمہیں بلا رہا ہے کہ تمہاری خاطر تمہارے گناہ معاف کردے، اور تمہیں ایک مقررہ مدت تک مہلت دے۔ انہوں نے کہا کہ : تمہاری حقیقت اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ تم ایسے ہی انسان ہو جیسے ہم ہیں۔ تم یہ چاہتے ہو کہ ہمارے باپ دادا جن کی عبادت کرتے آئے ہیں ان سے ہمیں روک دو ، لہذا کوئی صاف صاف معجزہ لاکر دکھاؤ۔

﴿11﴾ ان سے ان کے پیغمبروں نے کہا : ہم واقعی تمہارے ہی جیسے انسان ہیں، لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے خصوصی احسان فرما دیتا ہے۔ اور یہ بات ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ ہم اللہ کے حکم کے بغیر تمہیں کوئی معجزہ لا دکھائیں، اور مومنوں کو صرف اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔

﴿12﴾ اور آخر ہم کیوں اللہ پر بھروسہ نہ رکھیں، جبکہ اس نے ہمیں ان راستوں کی ہدایت دے دی ہے جن پر ہمیں چلنا ہے ؟ اور تم نے ہمیں جو تکلیفیں پہنچائی ہیں، ان پر ہم یقینا صبر کریں گے، اور جن لوگوں کو بھروسہ رکھنا ہو، انہیں اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔

﴿13﴾ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا تھا، انہوں نے اپنے پیغمبروں سے کہا کہ : ہم تمہیں اپنی سرزمین سے نکال کر رہیں گے، ورنہ تمہیں ہمارے دین میں واپس آنا پڑے گا۔ چنانچہ ان کے پروردگار نے ان پر وحی بھیجی کہ : یقین رکھو، ہم ان ظالموں کو ہلاک کردیں گے۔

﴿14﴾ اور ان کے بعد یقینا تمہیں زمین میں بسائیں گے، یہ ہے ہر اس شخص کا صلہ جو میرے سامنے کھڑا ہونے کا خوف رکھتا اور میری وعید سے ڈرتا ہے۔

﴿15﴾ اور ان کافروں نے خود فیصلہ مانگا، اور (نتیجہ یہ ہوا کہ) ہر ڈینگیں مارنے والا ہٹ دھرم نامراد ہو کر رہا۔

﴿16﴾ اس کے آگے جہنم ہے اور (وہاں) اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔

﴿17﴾ وہ اسے گھونٹ گھونٹ کر کے پیے گا، اور اسے ایسا محسوس ہوگا کہ وہ اسے حلق سے اتار نہیں سکے گا، موت اس پر ہر طرف سے آرہی ہوگی، مگر وہ مرے گا نہیں، اور اس کے آگے (ہمیشہ) ایک اور سخت عذاب موجود ہوگا، ۔

﴿18﴾ جن لوگوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کی روش اختیار کی ہے، ان کی حالت یہ ہے کہ ان کے اعمال اس راکھ کی طرح ہیں جسے آندھی طوفان والے دن میں ہوا تیزی سے اڑا لے جائے، انہوں نے جو کچھ کمائی کی ہوگی، اس میں سے کچھ ان کے ہاتھ نہیں آئے گا۔ یہی تو پرلے درجے کی گمراہی ہے۔

﴿19﴾ کیا تمہیں یہ بات نظر نہیں آتی کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو برحق مقصد سے پیدا کیا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کردے، اور ایک نئی مخلوق وجود میں لے آئے۔

﴿20﴾ اور یہ بات اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔

﴿21﴾ اور یہ سب لوگ اللہ کے آگے پیش ہوں گے۔ پھر جو لوگ (دنیا میں) کمزور تھے، وہ بڑائی بگھارنے والوں سے کہیں گے کہ : ہم تو تمہارے پیچھے چلنے والے لوگ تھے، تو کیا اب تم ہمیں اللہ کے عذاب سے بچا لو گے ؟ وہ کہیں گے : اگر اللہ نے ہمیں ہدایت دی ہوتی تو ہم بھی تمہیں ہدایت دے دیتے۔ چاہے ہم چیخیں چلائیں یا صبر کریں، دونوں صورتیں ہمارے لیے برابر ہیں، ہمارے لیے چھٹکارے کا کوئی راستہ نہیں۔

﴿22﴾ اور جب ہر بات کا فیصلہ ہوجائے گا تو شیطان (اپنے ماننے والوں سے) کہے گا : حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے تم سے وعدہ کیا تو اس کی خلاف ورزی کی۔ اور مجھے تم پر اس سے زیادہ کوئی اختیار حاصل نہیں تھا کہ میں نے تمہیں (اللہ کی نافرمانی کی) دعوت دی تو تم نے میری بات مان لی۔ لہذا اب مجھے ملامت نہ کرو۔ بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو۔ نہ تمہاری فریاد پر میں تمہاری مدد کرسکتا ہوں، اور نہ میری فریاد پر تم میری مدد کرسکتے ہو۔ تم نے اس سے پہلے مجھے اللہ کا جو شریک مان لیا تھا، (آج) میں نے اس کا انکار کردیا ہے۔ جن لوگوں نے یہ ظلم کیا تھا، ان کے حصے میں تو اب دردناک عذاب ہے۔

﴿23﴾ اور جو لوگ ایمان لائے تھے، اور انہوں نے نیک عمل کیے تھے، انہیں ایسے باغات میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اپنے پروردگار کے حکم سے وہ ان (باغوں) میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کا استقبال سلام سے کریں گے۔

﴿24﴾ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کی کیسی مثال بیان کی ہے ؟ وہ ایک پاکیزہ درخت کی طرح ہے جس کی جڑ (زمین میں) مضبوطی سے جمی ہوئی ہے، اور اس کی شاخیں آسمان میں ہیں۔

﴿25﴾ اپنے رب کے حکم سے وہ ہر آن پھل دیتا ہے۔ اللہ (اس قسم کی) مثالیں اس لیے دیتا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔

﴿26﴾ اور ناپاک کلمے کی مثال ایک خراب درخت کی طرح ہے جسے زمین کے اوپر ہی اوپر سے اکھاڑ لیا جائے، اس میں ذرا بھی جماؤ نہ ہو۔

﴿27﴾ جو لوگ ایمان لائے ہیں، اللہ ان کو اس مضبوط بات پر دنیا کی زندگی میں جماؤ عطا کرتا ہے اور آخرت میں بھی، اور ظالم لوگوں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے، اور اللہ (اپنی حکمت کے مطابق) جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

﴿28﴾ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل ڈالا، اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں لا اتار۔

﴿29﴾ جس کا نام جہنم ہے ؟ وہ اس میں جلیں گے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

﴿30﴾ اور انہوں نے اللہ کے ساتھ (اس کی خدائی میں) کچھ شریک بنا لیے، تاکہ لوگوں کو اس کے راستے سے گمراہ کریں۔ ان سے کہو کہ : (تھوڑے سے) مزے اڑا لو، کیونکہ آخر کار تمہیں جانا دوزخ ہی کی طرف ہے۔

﴿31﴾ میرے جو بندے ایمان لائے ہیں، ان سے کہہ دو کہ وہ نماز قائم کریں، اور ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے اس میں سے پوشیدہ طور پر بھی اور علانیہ بھی (نیکی کے کاموں میں) خرچ کریں (اور یہ کام) اس دن کے آنے سے پہلے پہلے (کرلیں) جس میں نہ کوئی خریدو فروخت ہوگی، نہ کوئی دوستی آئے گی۔

﴿32﴾ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعے تمہارے رزق کے لیے پھل اگائے، اور کشتیوں کو تمہارے لیے رام کردیا، تاکہ وہ اس کے حکم سے سمندر میں چلیں، اور دریاؤں کو بھی تمہاری خدمت پر لگا دیا۔

﴿33﴾ اور تمہاری خاطر سورج اور چاند کو اس طرح کام پر لگایا کہ وہ مسلسل سفر میں ہیں، اور تمہاری خاطر رات اور دن کو بھی کام پر لگایا۔

﴿34﴾ اور تم نے جو کچھ مانگا، اس نے اس میں سے (جو تمہارے لیے مناسب تھا) تمہیں دیا۔ اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنے لگو تو شمار (بھی) نہیں کرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بہت بےانصاف، بڑا ناشکرا ہے۔

﴿35﴾ اور یاد کرو وہ وقت جب ابراہیم نے (اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے) کہا تھا کہ : یا رب ! اس شہر کو پر امن بنا دیجیے اور مجھے اور میرے بیٹوں کو اس بات سے بچایے کہ ہم بتوں کی پرستش کریں۔

﴿36﴾ میرے پروردگار ! ان بتوں نے لوگوں کی بڑی تعداد کو گمراہ کیا ہے۔ لہذا جو کوئی میری راہ پر چلے، وہ تو میرا ہے، اور جو میرا کہنا نہ مانے، تو (اس کا معاملہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں) آپ بہت بخشنے والے بڑے مہربان ہیں۔

﴿37﴾ اے ہمارے پروردگار ! میں نے اپنی کچھ اولاد کو آپ کے حرمت والے گھر کے پاس ایک ایسی وادی میں لا بسایا ہے جس میں کوئی کھیتی نہیں ہوتی، ہمارے پروردگار ! (یہ میں نے اس لیے کیا) تاکہ یہ نماز قائم کریں۔ لہذا لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے کشش پیدا کردیجیے، اور ان کو پھلوں کا رزق عطا فرمایے۔ تاکہ وہ شکر گزار بنیں۔

﴿38﴾ اے ہمارے رب ! ہم جو کام چھپ کر کرتے ہیں، وہ بھی آپ کے علم میں ہیں، اور جو کام علانیہ کرتے ہیں، وہ بھی۔ اور اللہ سے نہ زمین کی کوئی چیز چھپی ہوئی ہے، نہ آسمان کی کوئی چیز۔

﴿39﴾ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق (جیسے بیٹے) عطا فرمائے۔ بیشک میرا رب بڑا دعائیں سننے والا ہے۔

﴿40﴾ یا رب ! مجھے بھی نماز قائم کرنے والا بنا دیجیے اور میری اولاد میں سے بھی (ایسے لوگ پیدا فرمایے جو نماز قائم کریں) اے ہمارے پروردگار ! اور میری دعا قبول فرمالیجیے ،

﴿41﴾ اس دن میری بھی مغفرت فرمائیے میرے والدین کی بھی، اور ان سب کی بھی جو ایمان رکھتے ہیں۔

﴿42﴾ اور یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ جو کچھ یہ ظالم کر رہے ہیں، اللہ اس سے غافل ہے۔ وہ تو ان لوگوں کو اس دن تک کے لیے مہلت دے رہا ہے جس میں آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔

﴿43﴾ دوسروں کو اوپر اٹھائے دوڑ رہے ہوں گے، ان کی نگاہیں جھپکنے کو واپس نہیں آئیں گی اور ان کے دل (بدحواسی میں) اڑے جارہے ہوں گے۔

﴿44﴾ اور (اے پیغمبر) تم لوگوں کو اس دن سے خبردار کرو جب عذاب ان پر آن پڑے گا، تو اس وقت یہ ظالم کہیں گے کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں تھوڑی سی مدت کے لیے اور مہلت دے دیجیے تاکہ ہم آپ کی دعوت قبول کرلیں، اور پیغمبروں کی پیرویں کریں۔ (اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ :) ارے کیا تم لوگوں نے قسمیں کھا کھا کر پہلے یہ نہیں کہا تھا کہ تم پر کوئی زوال نہیں آسکتا ؟

﴿45﴾ اور تم ان لوگوں کی بستیوں میں رہ چکے تھے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، اور یہ بات کھل کر تمہارے سامنے آچکی تھی کہ ہم نے ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا، اور ہم نے تمہیں مثالیں بھی دی تھیں۔

﴿46﴾ اور وہ لوگ اپنی ساری چالیں چل چکے تھے، اور ان کی ساری چالوں کا توڑ اللہ کے پاس تھا، چاہے ان کی چالیں ایسی کیوں نہ ہوں جن سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہل جائیں۔

﴿47﴾ لہذا اللہ کے بارے میں ہرگز یہ خیال بھی دل میں نہ لانا کہ اس نے اپنے پیغمبروں سے جو وعدہ کر رکھا ہے، اس کی خلاف ورزی کرے گا۔ یقین رکھو کہ اللہ اپنے اقتدار میں سب پر غالب ہے، (اور) انتقام لینے والا ہے۔

﴿48﴾ اس دن جب یہ زمین ایک دوسری زمین سے بدل دی جائے گی، اور آسمان بھی (بدل جائیں گے) اور سب کے سب خدائے واحد وقہار کے سامنے پیش ہوں گے۔

﴿49﴾ اور اس دن تم مجرموں کو اس حالت میں دیکھو گے کہ وہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہوں گے۔

﴿50﴾ ان کے قمیص تارکول کے ہوں گے، اور آگ ان کے چہروں پر چھائی ہوئی ہوگی۔

﴿51﴾ تاکہ اللہ ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلہ دے۔ یقینا اللہ جلد حساب چکانے والا ہے۔

﴿52﴾ یہ تمام لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے، اور اس لیے دیا جارہا ہے تاکہ انہیں اس کے ذریعے خبردار کیا جائے، اور تاکہ وہ جان لیں کہ معبود برحق بس ایک ہی ہے، اور تاکہ سمجھ رکھنے والے نصیحت حاصل کرلیں۔

الحجر

Surah 15

﴿1﴾ الر۔ یہ (اللہ کی) کتاب اور روشن قرآن کی آیتیں ہیں۔

﴿2﴾ ایک وقت آئے گا جب یہ کافر لوگ بڑی تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔

﴿3﴾ (اے پیغمبر) انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دو کہ یہ خوب کھا لیں، مزے اڑا لیں، اور خیالی امیدیں انہیں غفلت میں ڈالے رکھیں، کیونکہ عنقریب انہیں پتہ چل جائے گا (کہ حقیقت کیا تھی) ۔

﴿4﴾ اور ہم نے جس کسی بستی کو ہلاک کیا تھا، اس کے لیے ایک معین وقت لکھا ہوا تھا۔

﴿5﴾ کوئی قوم اپنے معین وقت سے نہ پہلے ہلاک ہوتی ہے اور نہ اس سے آگے جاسکتی ہے۔

﴿6﴾ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ : اے وہ شخص جس پر یہ ذکر (یعنی قرآن) اتارا گیا ہے ! تم یقینی طور پر مجنون ہو۔

﴿7﴾ اگر تم واقعی سچے ہو تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتے ؟

﴿8﴾ ہم فرشتوں کو اتارتے ہیں تو برحق فیصلہ دے کر اتارتے ہیں، اور ایسا ہوتا تو ان کو مہلت بھی نہ ملتی۔

﴿9﴾ حقیقت یہ ہے کہ یہ ذکر (یعنی قرآن) ہم نے ہی اتارا ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

﴿10﴾ اور (اے پیغمبر) ہم تم سے پہلے بھی پچھلی قوموں کے مختلف گروہوں میں اپنے پیغمبر بھیج چکے ہیں۔

﴿11﴾ اور ان کے پاس کوئی رسول ایسا نہیں آتا تھا جس کا وہ مذاق نہ اڑاتے ہوں۔

﴿12﴾ مجرم لوگوں کے دلوں میں یہ بات ہم اسی طرح داخل کرتے ہیں۔

﴿13﴾ کہ وہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔ اور پچھلے لوگوں کا بھی یہی طریقہ چلا آیا ہے۔

﴿14﴾ اور اگر (بالفرض) ہم ان کے لیے آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیں اور وہ دن کی روشنی میں اس پر چڑھتے بھی چلے جائیں۔

﴿15﴾ تب بھی یہی کہیں گے کہ ہماری نظر بندی کردی گئی ہے، بلکہ ہم لوگ جادو کے اثر میں آئے ہوئے ہیں۔

﴿16﴾ اور ہم نے آسمان میں بہت سے برج بنائے ہیں۔ اور اس کو دیکھنے والوں کے لیے سجاوٹ عطا کی ہے۔

﴿17﴾ اور اسے ہر مردود شیطان سے محفوظ رکھا ہے۔

﴿18﴾ البتہ جو کوئی چوری سے کچھ سننے کی کوشش کرے تو ایک روشن شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔

﴿19﴾ اور زمین کو ہم نے پھیلا دیا ہے، اور اس کو جمانے کے لیے اس میں پہاڑ رکھ دیے ہیں، اور اس میں ہر قسم کی چیزیں توازن کے ساتھ اگائی ہیں۔

﴿20﴾ اور اس میں تمہارے لیے بھی روزی کے سامان پیدا کیے ہیں اور ان (مخلوقات) کے لیے بھی جنہیں تم رزق نہیں دیتے۔

﴿21﴾ اور کوئی (ضرورت کی) چیز ایسی نہیں ہے جس کے ہمارے پاس خزانے موجود نہ ہوں، مگر ہم اس کو ایک معین مقدار میں اتارتے ہیں۔

﴿22﴾ اور وہ ہوائیں جو بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں، ہم نے بھیجی ہیں، پھر آسمان سے پانی ہم نے اتارا ہے، پھر اس سے تمہیں سیراب ہم نے کیا ہے، اور تمہارے بس میں یہ نہیں ہے کہ تم اس کو ذخیرہ کر کے رکھ سکو۔

﴿23﴾ ہم ہی زندگی دیتے ہیں، اور ہم ہی موت دیتے ہیں، اور ہم ہی سب کے وارث ہیں۔

﴿24﴾ تم میں سے جو آگے نکل گئے ہیں، ان کو بھی ہم جانتے ہیں اور جو پیچھے رہ گئے ہیں ان سے بھی ہم واقف ہیں۔

﴿25﴾ اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار ہی ہے جو ان سب کو حشر میں اکٹھا کرے گا، بیشک اس کی حکمت بھی بڑی ہے، اس کا علم بھی بڑا۔

﴿26﴾ ہم نے انسان کو سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔

﴿27﴾ اور جنات کو اس سے پہلے ہم نے لو کی آگ سے پیدا کیا تھا۔

﴿28﴾ اور وہ وقت یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا تھا کہ : میں گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے ایک بشر کو پیدا کرنے والا ہوں۔

﴿29﴾ لہذا جب میں اس کو پوری طرح بنا لوں، اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔

﴿30﴾ چنانچہ سارے کے سارے فرشتوں نے سجدہ کیا۔

﴿31﴾ سوائے ابلیس کے کہ اس نے سجدہ کرنے والوں میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔

﴿32﴾ اللہ نے کہا : ابلیس ! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہیں ہوا ؟

﴿33﴾ اس نے کہا : میں ایسا (گرا ہوا) نہیں ہوں کہ ایک ایسے بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے۔

﴿34﴾ اللہ نے کہا : اچھا تو یہاں سے نکل جا، کیونکہ تو مردود ہوگیا ہے۔

﴿35﴾ اور تجھ پر قیامت کے دن تک پھٹکار پڑی رہے گی۔

﴿36﴾ کہنے لگا : یا رب ! پھر مجھے اس دن تک (زندہ رہنے کی) مہلت دیدے جب لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔

﴿37﴾ اللہ نے فرمایا کہ : جا پھر تجھے مہلت (تو) دے دی گئی۔

﴿38﴾ (مگر) ایک ایسی میعاد کے دن تک جو ہمیں معلوم ہے۔

﴿39﴾ کہنے لگا : یا رب ! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، اس لیے اب میں قسم کھاتا ہوں کہ ان انسانوں کے لیے دنیا میں دلکشی پیدا کروں گا۔ اور ان سب کو گمراہ کر کے رہوں گا۔

﴿40﴾ سوائے تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے ان میں سے اپنے لیے مخلص بنا لیا ہو۔

﴿41﴾ اللہ نے فرمایا : یہ ہے وہ سیدھا راستہ جو مجھ تک پہنچتا ہے۔

﴿42﴾ یقین رکھو کہ جو میرے بندے ہیں، ان پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا، سوائے ان گمراہ لوگوں کے جو تیرے پیچھے چلیں گے۔

﴿43﴾ اور جہنم ایسے تمام لوگوں کا طے شدہ ٹھکانا ہے۔

﴿44﴾ اس کے سات دروازے ہیں۔ ہر دروازے (میں داخلے) کے لیے ان (دوزخیوں کا) ایک ایک گروہ بانٹ دیا گیا ہے۔

﴿45﴾ (دوسری طرف) متقی لوگ باغات اور چشموں کے درمیان رہیں گے۔

﴿46﴾ (ان سے کہا جائے گا کہ) ان (باغات) میں سلامتی کے ساتھ بےخوف ہو کر داخل ہوجاؤ۔

﴿47﴾ ان کے سینوں میں جو کچھ رنجش ہوگی، اسے ہم نکال پھینکیں گے، وہ بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے اونچی نشستوں پر بیٹھے ہوں گے۔

﴿48﴾ وہاں نہ کوئی تھکن ان کے پاس آئے گی، اور نہ ان کو وہاں سے نکالا جائے گا۔

﴿49﴾ میرے بندوں کو بتادو کہ میں ہی بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہوں۔

﴿50﴾ اور یہ بھی بتادو کہ میرا عذاب ہی دردناک عذاب ہے۔

﴿51﴾ اور انہیں ابراہیم کے مہمانوں کا حال سنا دو ۔

﴿52﴾ اس وقت کا حال جب وہ ان کے پاس پہنچے، اور سلام کیا۔ ابراہیم نے کہا کہ : ہمیں تو تم سے ڈر لگ رہا ہے

﴿53﴾ انہوں نے کہا : ڈریے نہیں، ہم تو آپ کو ایک صاحب علم لڑکے (کی ولادت) کی خوشخبری دے رہے ہیں۔

﴿54﴾ ابراہیم نے کہا : کیا تم مجھے اس حالت میں خوشخبری دے رہے ہو جبکہ مجھے پر بڑھاپا چھا چکا ہے ؟ پھر کس بنیاد پر مجھے خوشخبری دے رہے ہو ؟

﴿55﴾ وہ بولے : ہم نے آپ کو سچی خوشخبری دی ہے، لہذا آپ ان لوگوں میں شامل نہ ہوں جو ناامید ہوجاتے ہیں۔

﴿56﴾ ابراہیم نے کہا : اپنے پروردگار کی رحمت سے گمراہوں کے سوا کون ناامید ہوسکتا ہے ؟

﴿57﴾ (پھر) انہوں نے پوچھا کہ : اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتو ! اب آپ کے سامنے کیا مہم ہے ؟

﴿58﴾ انہوں نے کہا : ہمیں ایک مجرم قوم کی طرف (عذاب نازل کرنے کے لیے) بھیجا گیا ہے۔

﴿59﴾ البتہ لوط کے گھر والے اس سے مستثنی ہیں، ان سب کو ہم بچالیں گے۔

﴿60﴾ سوائے ان کی بیوی کے۔ ہم نے یہ طے کر رکھا ہے کہ وہ ان لوگوں میں شامل رہے گی جو (عذاب کا نشانہ بننے کے لیے) پیچھے رہ جائیں گے۔

﴿61﴾ چنانچہ جب یہ فرشتے لوط کے گھر والوں کے پاس پہنچے۔

﴿62﴾ تو لوط نے کہا : آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔

﴿63﴾ انہوں نے کہا : نہیں، بلکہ ہم آپ کے پاس وہ (عذاب) لے کر آئے ہیں جس میں یہ لوگ شک کیا کرتے تھے۔

﴿64﴾ ہم آپ کے پاس اٹل فیصلہ لے کر آئے ہیں، اور یقین رکھیے کہ ہم سچے ہیں۔

﴿65﴾ لہذا آپ رات کے کسی حصے میں اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جایے، اور آپ خود ان کے پیچھے پیچھے چلیے اور آپ میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے، اور وہیں جانے کے لیے چلتے رہیں جہاں کا آپ کو حکم دیا جارہا ہے۔

﴿66﴾ اور (اس طرح) ہم نے لوط تک اپنا یہ فیصلہ پہنچا دیا کہ صبح ہوتے ہی ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی جائے گی۔

﴿67﴾ اور شہر والے خوشی مناتے ہوئے (لوط کے پاس) آپہنچے۔

﴿68﴾ لوط نے (ان سے) کہا کہ : یہ لوگ میرے مہمان ہیں، لہذا مجھے رسوا نہ کرو۔

﴿69﴾ اور اللہ سے ڈرو، اور مجھے ذلیل نہ کرو۔

﴿70﴾ کہنے لگے : کیا ہم نے آپ کو پہلے ہی دنیا جہان کے لوگوں (کو مہمان بنانے) سے منع نہیں کر رکھا تھا ؟

﴿71﴾ لوط نے کہا : اگر تم میرے کہنے پر عمل کرو تو یہ میری بیٹیاں (جو تمہارے نکاح میں ہیں، تمہارے پاس) موجود ہی ہیں۔

﴿72﴾ (اے پیغمبر) تمہاری زندگی کی قسم ! حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ اپنی بدمستی میں اندھے بنے ہوئے تھے۔

﴿73﴾ چنانچہ سورج نکلتے ہی ان کو چنگھاڑ نے آپکڑا۔

﴿74﴾ پھر ہم نے اس زمین کو تہ وبالا کر کے رکھ دیا، اور ان پر پکی مٹی کے پتھروں کی بارش برسا دی۔

﴿75﴾ حقیقت یہ ہے کہ اس سارے واقعے میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو عبرت کی نگاہ سے دیکھتے ہوں۔

﴿76﴾ اور یہ بستیاں ایک ایسے راستے پر واقع ہیں جس پر لوگ مستقل چلتے رہتے ہیں۔

﴿77﴾ یقینا اس میں ایمان والوں کے لیے بڑی عبرت ہے۔

﴿78﴾ اور ایکہ کے باشندے (بھی) بڑے ظالم تھے۔

﴿79﴾ چنانچہ ہم نے ان سے بھی انتقام لیا۔ اور ان دونوں قوموں کی بستیاں کھلی شاہراہ پر واقع ہیں۔

﴿80﴾ اور حجر کے باشندوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا تھا۔

﴿81﴾ اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں تو وہ ان سے منہ موڑے رہے۔

﴿82﴾ اور وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر بےخوف و خطر مکان بنایا کرتے تھے۔

﴿83﴾ آخر انہیں صبح صبح ایک چنگھاڑ نے آپکڑا۔

﴿84﴾ اور نتیجہ یہ ہوا کہ جس ہنر سے وہ کمائی کرتے تھے، وہ ان کے کچھ کام نہ آیا۔

﴿85﴾ اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان جو کچھ ہے اس کو کسی برحق مقصد کے بغیر پیدا نہیں کیا، اور قیامت کی گھڑی آکر رہے گی۔ لہذا (اے پیغمبر ! ان کافروں کے طرز عمل پر) خوبصورتی کے ساتھ درگزر سے کام لو۔

﴿86﴾ یقین رکھو کہ تمہارا رب ہی سب کو پیدا کرنے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

﴿87﴾ اور ہم نے تمہیں سات ایسی آیتیں دے رکھی ہیں جو بار بار پڑھی جاتی ہیں، اور عظمت والا قرآن عطا کیا ہے۔

﴿88﴾ اور تم ان چیزوں کی طرف ہرگز آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھو جو ہم نے ان (کافروں) میں سے مختلف لوگوں کو مزے اڑانے کے لیے دے رکھی ہیں، اور نہ ان لوگوں پر اپنا دل کڑھاؤ، اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، ان کے لیے اپنی شفقت کا بازو پھیلا دو ۔

﴿89﴾ اور (کفر کرنے والوں سے) کہہ دو کہ میں تو بس کھلے الفاظ میں تنبیہ کرنے والا ہوں۔

﴿90﴾ (یہ تنبیہ قرآن عظیم کے ذریعے اسی طرح نازل کی گئی ہے) جیسے ہم نے ان تفرقہ کرنے والوں پر نازل کی تھی۔

﴿91﴾ جنہوں نے (اپنی) پڑھی جانے والی کتاب کے حصے بخرے کرلیے تھے۔

﴿92﴾ چنانچہ تمہارے رب کی قسم ! ہم ایک ایک کر کے ان سب سے پوچھیں گے۔

﴿93﴾ کہ وہ کیا کچھ کیا کرتے تھے۔

﴿94﴾ لہذا جس بات کا تمہیں حکم دیا جارہا ہے اسے علی الاعلان لوگوں کو سنا دو ، اور جو لوگ (پھر بھی) شرک کریں، ان کی پرواہ مت کرو۔

﴿95﴾ یقین رکھو کہ ہم تمہاری طرف سے ان لوگوں سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں جو (تمہارا) مذاق اڑاتے ہیں۔

﴿96﴾ جنہوں نے اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود گھڑ رکھا ہے۔ چنانچہ عنقریب انہیں سب پتہ چل جائے گا۔

﴿97﴾ یقینا ہم جانتے ہیں کہ جو باتیں یہ بناتے ہیں، ان سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے۔

﴿98﴾ تو (اس کا علاج یہ ہے کہ) تم اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو، اور سجدہ بجا لانے والوں میں شامل رہو۔

﴿99﴾ اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہو، یہاں تک کہ تم پر وہ چیز آجائے جس کا آنا یقینی ہے۔

النحل

Surah 16

﴿1﴾ اللہ کا حکم آن پہنچا ہے، لہذا اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ ۔ جو شرک یہ لوگ کر رہے ہیں، وہ اس سے پاک اور بہت بالا و برتر ہے۔

﴿2﴾ وہ اپنے حکم سے فرشتوں کو اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اس زندگی بخشنے والی وحی کے ساتھ اتارتا ہے کہ : لوگوں کو آگاہ کردو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، لہذا تم مجھی سے ڈرو، (کسی اور سے نہیں) ۔

﴿3﴾ اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق مقصد سے پیدا کیا ہے۔ جو شرک یہ لوگ کرتے ہیں، وہ اس سے بہت بالا و برتر ہے۔

﴿4﴾ اس نے انسان کو نطفے سے پیدا کیا، پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ کھلم کھلا جھگڑے پر آمادہ ہوگیا۔

﴿5﴾ اور چوپائے اسی نے پیدا کیے جن میں تمہارے لیے سردی سے بچاؤ کا سامان ہے، اور اس کے علاوہ بہت سے فائدے ہیں، اور انہی میں سے تم کھاتے بھی ہو۔

﴿6﴾ اور جب تم انہیں شام کے وقت گھر واپس لاتے ہو، اور جب انہیں صبح کو چرانے لے جاتے ہو تو ان میں تمہارے لیے ایک خوشنما منظر بھی ہے۔

﴿7﴾ اور یہ تمہارے بوجھ لاد کر ایسے شہر تک لے جاتے ہیں جہاں تم جان جوکھوں میں ڈالے بغیر نہیں پہنچ سکتے تھے۔ حقیقت یہ ہے تمہارا پروردگار بہت شفیق، بڑا مہربان ہے۔

﴿8﴾ اور گھوڑے، خچر اور گدھے اسی نے پیدا کیے ہیں تاکہ تم ان پر سواری کرو، اور وہ زینت کا سامان بنیں۔ اور وہ بہت سی ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم بھی نہیں ہے۔

﴿9﴾ اور سیدھا راستہ دکھانے کی ذمہ داری اللہ نے لی ہے، اور بہت سے راستے ٹیڑھے ہیں اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو سیدھے راستے پر پہنچا بھی دیتا۔

﴿10﴾ وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا جس سے تمہیں پینے کی چیزیں حاصل ہوتی ہیں، اور اسی سے وہ درخت اگتے ہیں جن سے تم مویشیوں کو چراتے ہو۔

﴿11﴾ اسی سے اللہ تمہارے لیے کھیتیاں، زیتون، کھجور کے درخت، انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان سب باتوں میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو سوچتے سمجھتے ہوں۔

﴿12﴾ اور اس نے دن اور رات کو اور سورج اور چاند کو تمہاری خدمت پر لگا رکھا ہے، اور ستارے بھی اس کے حکم سے کام پر لگے ہوئے ہیں۔ یقینا ان باتوں میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیں۔

﴿13﴾ اسی طرح وہ ساری رنگ برنگ کی چیزیں جو اس نے تمہاری خاطر زمین میں پھیلا رکھی ہیں، وہ بھی اس کے حکم سے کام پر لگی ہوئی ہیں۔ بیشک ان سب میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو سبق حاصل کریں۔

﴿14﴾ اور وہی ہے جس نے سمندر کو کام پر لگایا، تاکہ تم اس سے تازہ گوشت کھاؤ اور اس سے وہ زیورات نکالو جو تم پہنتے ہو۔ اور تم دیکھتے ہو کہ اس میں کشتیاں پانی کو چیرتی ہوئی چلتی ہیں، تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو، اور تاکہ شکر گزار بنو۔

﴿15﴾ اور اس نے زمین میں پہاڑوں کے لنگڑ ڈال دیے ہیں تاکہ وہ تم کو لے کر ڈگمگائے نہیں، اور دریا اور راستے بنائے ہیں تاکہ تم منزل مقصود تک پہنچ سکو۔

﴿16﴾ اور (راستوں کی پہچان کے لیے) بہت سی علامتیں بنائی ہیں۔ اور ستاروں سے بھی لوگ راستہ معلوم کرتے ہیں۔

﴿17﴾ اب بتاؤ کہ جو کچھ پیدا نہیں کرتے ؟ کیا پھر بھی تم کوئی سبق نہیں لیتے ؟

﴿18﴾ اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننے لگو، تو انہیں شمار نہیں کرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿19﴾ اور اللہ وہ باتیں بھی جانتا ہے جو تم چھپ کر کرتے ہو، اور وہ بھی جو تم علی الاعلان کرتے ہو۔

﴿20﴾ اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر یہ لوگ جن (دیوتاؤں) کو پکارتے ہیں، وہ کچھ بھی پیدا نہیں کرتے، وہ تو خود ہی مخلوق ہیں۔

﴿21﴾ وہ بےجان ہیں، ان میں زندگی نہیں، اور ان کو اس بات کا بھی احساس نہیں ہے کہ ان لوگوں کو کب زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔

﴿22﴾ تمہارا معبود تو بس ایک ہی خدا ہے۔ لہذا جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ان کے دل میں انکار پیوست ہوگیا ہے، اور وہ گھمنڈ میں مبتلا ہیں۔

﴿23﴾ ظاہر بات ہے کہ اللہ وہ باتیں بھی جانتا ہے جو وہ چھپ کر کرتے ہیں، اور وہ بھی جو وہ علی الاعلان کرتے ہیں۔ وہ یقینا گھمنڈ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

﴿24﴾ اور جب ان سے کہا گیا کہ : تمہارے رب نے کیا بات نازل کی ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ : گزرے ہوئے لوگوں کے افسانے !۔

﴿25﴾ (ان باتوں کا) نتیجہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن خود اپنے (گناہوں) کے پورے پورے بوجھ بھی اپنے اوپر لادیں گے، اور ان لوگوں کے بوجھ کا ایک حصہ بھی جنہیں یہ کسی علم کے بغیر گمراہ کر رہے ہیں۔ یاد رکھو کہ بہت برا بوجھ ہے جو یہ لاد رہے ہیں۔

﴿26﴾ ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی مکر کے منصوبے بنائے تھے۔ پھر ہوا یہ کہ (منصوبوں کی) جو عمارتیں انہوں نے تعمیر کی تھیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں جڑ بنیاد سے اکھاڑ پھینکا، پھر ان کے اوپر سے چھت بھی ان پر آگری، اور ان پر عذاب ایسی جگہ سے آدھمکا جس کا انہیں احساس تک نہیں تھا۔

﴿27﴾ پھر قیامت کے دن اللہ انہیں رسوا کرے گا، اور ان سے پوچھے گا کہ : کہاں ہیں وہ میرے شریک جن کی خاطر تم (مسلمانوں سے) جھگڑا کیا کرتے تھے ؟ جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے وہ (اس دن) کہیں گے کہ : بڑی رسوائی اور بدحالی مسلط ہے آج ان کافروں پر۔

﴿28﴾ جن کی روحیں فرشتوں نے اس حالت میں قبض کیں جب انہوں نے اپنی جانوں پر (کفر کی وجہ سے) ظلم کر رکھا تھا۔ اس موقع پر لوگ بڑی فرمانبرداری کے بول بولیں گے کہ ہم تو کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔ (ان سے کہا جائے گا) کیسے نہیں کرتے تھے ؟ اللہ کو سب معلوم ہے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔

﴿29﴾ لہذا اب ہمیشہ جہنم میں رہنے کے لیے اس کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، کیونکہ تکبر کرنے والوں کا یہی برا ٹھکانا ہے۔

﴿30﴾ اور (دوسری طرف) متقی لوگوں سے پوچھا گیا کہ : تمہارے پروردگار نے کیا چیز نازل کی ہے ؟ تو انہوں نے کہا : خیر ہی خیر اتاری ہے۔ (اسی طرح) جن لوگوں نے نیکی کی روش اختیار کی ہے، ان کے لیے اس دنیا میں بھی بہتری ہے، اور آخرت کا گھر تو ہے ہی سراپا بہتری، یقینا متقیوں کا گھر بہترین ہے۔

﴿31﴾ ہمیشہ ہمیشہ بسنے کے لیے وہ باغات جن میں وہ داخل ہوں گے، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، اور وہاں جو کچھ وہ چاہیں گے، انہیں ملے گا۔ متقی لوگوں کو اللہ ایسا ہی صلہ دیتا ہے۔

﴿32﴾ یہ وہ لوگ ہیں جن کی روحیں فرشتے ایسی حالت میں قبض کرتے ہیں کہ وہ پاک صاف ہوتے ہیں وہ ان سے کہتے ہیں کہ : سلامتی ہو تم پر ! جو عمل تم کرتے رہے ہو، اس کے صلے میں جنت میں داخل ہوجاؤ۔

﴿33﴾ یہ (کافر) لوگ اب (ایمان لانے کے لیے) اس کے سوا کس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آکھڑے ہوں، یا (قیامت یا عذاب کی صورت میں) تمہارے پروردگار کا حکم ہی آجائے۔ جو امتیں ان سے پہلے گزری ہیں، انہوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ اور اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا، لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے تھے۔

﴿34﴾ اس لیے ان کے برے اعمال کا وبال ان پر پڑا، اور جس چیز کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے، اسی نے ان کو آکر گھیر لیا۔

﴿35﴾ اور جن لوگوں نے شرک اختیار کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی اور چیز کی عبادت نہ کرتے، نہ ہم، نہ ہمارے باپ دادا، اور نہ ہم اس کے (حکم کے) بغیر کوئی چیز حرام قرار دیتے۔ جو امتیں ان سے پہلے گزری ہیں انہوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ لیکن پیغمبروں کی ذمہ داری اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ صاف صاف طریقے پر پیغام پہنچا دیں۔

﴿36﴾ اور واقعہ یہ ہے کہ ہم نے ہر امت میں کوئی نہ کوئی پیغمبر اس ہدایت کے ساتھ بھیجا ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو، اور طاغوت سے اجتناب کرو۔ پھر ان میں سے کچھ وہ تھے جن کو اللہ نے ہدایت دے دی اور کچھ ایسے تھے جن پر گمراہی مسلط ہوگئی۔ تو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ (پیغمبروں کو) جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟

﴿37﴾ (اے پیغمبر) اگر تمہیں یہ حرص ہے کہ یہ لوگ ہدایت پر آجائیں، تو حقیقت یہ ہے کہ اللہ جن کو (ان کے عناد کی وجہ سے) گمراہ کردیتا ہے ان کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا، اور ایسے لوگوں کو کسی قسم کے مددگار بھی میسر نہیں آتے۔

﴿38﴾ اور ان لوگوں نے بڑا زور لگا لگا کر اللہ کی قسمیں کھائی ہیں کہ جو لوگ مرجاتے ہیں، اللہ ان کو دوبارہ زندہ نہیں کرے گا۔ بھلا کیوں نہیں کرے گا ؟ یہ تو ایک وعدہ ہے جسے سچا کرنے کی ذمہ داری اللہ نے لے رکھی ہے، لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

﴿39﴾ (دوبارہ زندہ کرنے کا یہ وعدہ اللہ نے اس لیے کیا ہے) تاکہ وہ لوگوں کے سامنے ان باتوں کو اچھی طرح واضح کردے جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں اور تاکہ کافر لوگ جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔

﴿40﴾ اور جب ہم کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہماری طرف سے صرف اتنی بات ہوتی ہے کہ ہم اسے کہتے ہیں : ہوجا۔ بس وہ ہوجاتی ہے۔

﴿41﴾ اور جن لوگوں نے دوسروں کے ظلم سہنے کے بعد اللہ کی خاطر اپنا وطن چھوڑا ہے، یقین رکھو کہ انہیں ہم دنیا میں بھی اچھی طرح بسائیں گے، اور آخرت کا اجر تو یقینا سب سے بڑا ہے۔ کاش کہ یہ لوگ جان لیتے۔

﴿42﴾ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صبر سے کام لیا ہے، اور جو اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

﴿43﴾ اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے بھی کسی اور کو نہیں، انسانوں ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی نازل کرتے تھے۔ (اے منکرو) اب اگر تمہیں اس بات کا علم نہیں ہے تو جو علم والے ہیں ان سے پوچھ لو۔

﴿44﴾ ان پیغمبروں کو روشن دلائل اور آسمانی کتابیں دے کر بھیجا گیا تھا۔ اور (اے پیغمبر) ہم نے تم پر بھی یہ قرآن اس لیے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے ان باتوں کی واضح تشریح کر دو جو ان کے لیے اتاری گئی ہیں اور تاکہ وہ غور و فکر سے کام لیں۔

﴿45﴾ تو کیا وہ لوگ جو برے برے منصوبے بنا رہے ہیں اس بات سے بالکل بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے، یا ان پر عذاب ایسی جگہ سے آپڑے کہ انہیں احساس تک نہ ہو ؟

﴿46﴾ یا انہیں چلتے پھرتے ہی اپنی پکڑ میں لے لے، کیونکہ وہ اسے عاجز نہیں کرسکتے۔

﴿47﴾ یا انہیں اس طرح گرفت میں لے کہ وہ دھیرے دھیرے گھٹتے چلے جائیں۔ کیونکہ تمہارا پروردگار بڑا شفیق، نہایت مہربان ہے۔

﴿48﴾ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے جو چیز بھی پیدا کی ہے اس کے سائے اللہ کو سجدے کرتے ہوئے دائیں اور بائیں جھکے رہتے ہیں اور وہ سب عاجزی کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں ؟

﴿49﴾ اور آسمانوں اور زمین میں جتنے جاندار ہیں وہ اور سارے فرشتے اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ ذرا تکبر نہیں کرتے۔

﴿50﴾ وہ اپنے اس پروردگار سے ڈرتے ہیں جو ان کے اوپر ہے اور وہی کام کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔

﴿51﴾ اور اللہ نے فرمایا ہے کہ : دو دو معبود نہ بنا بیٹھنا، وہ تو بس ایک ہی معبود ہے۔ اس لیے بس مجھی سے ڈرا کرو۔

﴿52﴾ اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے، اور اسی کی اطاعت ہر حال میں لازم ہے۔ کیا پھر بھی تم اللہ کے سوا اوروں سے ڈرتے ہو ؟

﴿53﴾ اور تم کو جو نعمت بھی حاصل ہوتی ہے، وہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی سے فریادیں کرتے ہو۔

﴿54﴾ اس کے بعد جب وہ تم سے تکلیف دور کردیتا ہے تو تم میں سے ایک گروہ اچانک اپنے پروردگار کے ساتھ شرک شروع کردیتا ہے۔

﴿55﴾ تاکہ ہم نے اسے جو نعمت دی تھی اس کی ناشکری کرے۔ اچھا ! کچھ عیش کرلو، پھر عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا۔

﴿56﴾ اور ہم نے جو رزق انہیں دیا ہے اس میں وہ ان (بتوں) کا حصہ لگاتے ہیں جن کی حقیقت خود انہیں معلوم نہیں ہے۔ اللہ کی قسم ! تم سے ضرور باز پرس ہوگی کہ تم کیسے بہتان باندھا کرتے تھے۔

﴿57﴾ اور اللہ کے لیے تو انہوں نے بیٹیاں گھڑ رکھی ہیں۔ سبحان اللہ ! اور خود اپنے لیے وہ (بیٹے چاہتے ہیں) جو اپنی خواہش کے مطابق ہوں

﴿58﴾ اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی (پیدائش) کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے، اور وہ دل ہی دل میں کڑھتا رہتا ہے۔

﴿59﴾ اس خوشخبری کو برا سمجھ کر لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے کہ) ذلت برداشت کر کے اسے اپنے پاس رہنے دے، یا اسے زمین میں گاڑھ دے۔ دیکھو انہوں نے کتنی بری باتیں طے کر رکھی ہیں۔

﴿60﴾ بری بری باتیں تو انہی میں ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اور اعلی درجے کی صفات صرف اللہ کی ہیں، اور وہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

﴿61﴾ اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم کی وجہ سے (فورا) اپنی پکڑ میں لیتا تو روئے زمین پر کوئی جاندار باقی نہ چھوڑتا، لیکن وہ ان کو ایک معین وقت تک مہلت دیتا ہے۔ پھر جب ان کا وہ معین وقت آجائے گا تو وہ گھڑی بھر بھی اس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکیں گے۔

﴿62﴾ اور انہوں نے اللہ کے لیے وہ چیزیں گھڑ رکھی ہیں جنہیں خود ناپسند کرتے ہیں، پھر بھی ان کی زبانیں (اپنی) جھوٹی تعریف کرتی رہتی ہیں کہ ساری بھلائی انہی کے حصے میں ہے۔ لازمی بات ہے کہ (ایسے رویے کی وجہ سے) ان کے حصے میں تو دوزخ ہے، اور انہیں اسی میں پڑا رہنے دیا جائے گا۔

﴿63﴾ (اے پیغمبر) اللہ کی قسم ! تم سے پہلے جو امتیں گزری ہیں، ہم نے ان کے پاس پیغمبر بھیجے تھے، تو شیطان نے ان کے اعمال کو خوب بنا سنوار کر ان کے سامنے پیش کیا۔ چنانچہ وہی (شیطان) آج ان کا سرپرست بنا ہوا ہے اور (اس کی وجہ سے) ان کے لیے دردناک عذاب تیار ہے۔

﴿64﴾ اور ہم نے تم پر یہ کتاب اسی لیے اتاری ہے تاکہ تم ان کے سامنے وہ باتیں کھول کھول کر بیان کردو جن میں انہوں نے مختلف راستے اپنائے ہوئے ہیں، اور تاکہ یہ ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا سامان ہو۔

﴿65﴾ اور اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، اور زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد اس میں جان ڈال دی۔ یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو بات سنتے ہیں۔

﴿66﴾ اور بیشک تمہارے لیے مویشیوں میں بھی سوچنے کا بڑا سامان ہے، ان کے پیٹ میں جو گوبر اور خون ہے اس کے بیچ میں سے ہم تمہیں ایسا صاف ستھرا دودھ پینے کو دیتے ہیں جو پینے والوں کے لیے خوشگوار ہوتا ہے۔

﴿67﴾ اور کھجور کے پھلوں اور انگوروں سے بھی (ہم تمہیں ایک مشروب عطا کرتے ہیں) جس سے تم شراب بھی بناتے ہو، اور پاکیزہ رزق بھی بیشک اس میں بھی ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

﴿68﴾ اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ : تو پہاڑوں میں، اور درختوں میں اور لوگ جو چھتریاں اٹھاتے ہیں ان میں اپنے گھر بنا۔

﴿69﴾ پھر ہر قسم کے پھلوں سے اپنی خوراک حاصل کر، پھر ان راستوں پر چل جو تیرے رب نے تیرے لیے آسان بنا دیے ہیں۔ (اسی طرح) اس مکھی کے پیٹ سے وہ مختلف رنگوں والا مشروب نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔ یقینا ان سب باتوں میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو سوچتے سمجھتے ہوں۔

﴿70﴾ اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا ہے پھر وہ تمہاری روح قبض کرتا ہے، اور تم میں سے کوئی ایسا ہوتا ہے جو عمر کے سب سے ناکارہ حصے تک پہنچا دیا جاتا ہے، جس میں پہنچ کر وہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی کچھ نہیں جانتا۔ بیشک اللہ بڑے علم والا، بڑی قدرت والا ہے۔

﴿71﴾ اور اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں کو رزق کے معاملے میں دوسروں پر برتری دے رکھی ہے۔ اب جن لوگوں کو برتری دی گئی ہے وہ اپنا رزق اپنے غلاموں کو اس طرح نہیں لوٹا دیتے کہ وہ سب برابر ہوجائیں۔ تو کیا یہ لوگ اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں ؟

﴿72﴾ اور اللہ نے تم ہی میں سے تمہارے لیے بیویاں بنائی ہیں، اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لیے بیٹے اور پوتے پیدا کیے ہیں، اور تمہیں اچھی اچھی چیزوں میں سے رزق فراہم کیا ہے۔ کیا پھر بھی یہ لوگ بےبنیاد باتوں پر ایمان لاتے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں ؟

﴿73﴾ اور یہ اللہ کو چھوڑ کر ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو ان کو آسمانوں اور زمین میں سے کسی طرح کا رزق دینے کا نہ کوئی اختیار رکھتی ہیں نہ رکھ سکتی ہیں۔

﴿74﴾ لہذا تم اللہ کے لیے مثالیں نہ گھڑو۔ بیشک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

﴿75﴾ اللہ ایک مثال دیتا ہے کہ ایک طرف ایک غلام ہے جو کسی کی ملکیت میں ہے، اس کو کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں، اور دوسری طرف وہ شخص ہے جس کو ہم نے اپنے پاس سے عمدہ رزق عطا کیا ہے، اور وہ اس میں سے پوشیدہ طور پر بھی اور کھلے بندوں بھی خوب خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ ساری تعریفیں اللہ کی ہیں، لیکن ان میں سے اکثر لوگ (ایسی صاف بات بھی) نہیں جانتے۔

﴿76﴾ اور اللہ ایک اور مثال دیتا ہے کہ دو آدمی ہیں ان میں سے ایک گونگا ہے جو کوئی کام نہیں کرسکتا، اور اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے، وہ اسے جہاں کہیں بھیجتا ہے، وہ کوئی ڈھنگ کا کام کر کے نہیں لاتا، کیا ایسا شخص اس دوسرے آدمی کے برابر ہوسکتا ہے جو دوسروں کو بھی اعتدال کا حکم دیتا ہے اور خود بھی سیدھے راستے پر قائم ہے ؟

﴿77﴾ اور آسمانوں اور زمین کے سارے بھید اللہ کے قبضے میں ہیں۔ اور قیامت کا معاملہ آنکھ جھپکنے سے زیادہ نہیں ہوگا، بلکہ اس سے بھی جلدی۔ یقین رکھو کہ اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

﴿78﴾ اور اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حالت میں نکالا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے، اور تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل پیدا کیے، تاکہ تم شکر ادا کرو۔

﴿79﴾ کیا انہوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ وہ آسمان کی فضا میں اللہ کے حکم کے پابند ہیں ؟ انہیں اللہ کے سوا کوئی اور تھامے ہوئے نہیں ہے۔ یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہوں۔

﴿80﴾ اور اس نے تمہارے لیے تمہارے گھروں کو سکون کی جگہ بنایا، اور تمہارے لیے مویشیوں کی کھالوں سے ایسے گھر بنائے جو تمہیں سفر پر روانہ ہوتے وقت اور کسی جگہ ٹھہرتے وقت ہلکے پھلکے محسوس ہوتے ہیں۔ اور ان کے اون، ان کے رویں اور ان کے بالوں سے گھریلو سامان اور ایسی چیزیں پیدا کیں جو ایک مدت تک تمہیں فائدہ پہنچاتی ہیں۔

﴿81﴾ اور اللہ ہی نے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں سے تمہارے لیے سائے پیدا کیے، اور پہاڑوں میں تمہارے لیے پناہ گا ہیں بنائیں، اور تمہارے لیے ایسے لباس پیدا کیے جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں، اور ایسے لباس جو تمہاری جنگ میں تمہیں محفوظ رکھتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی نعمتوں کو تم پر مکمل کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار بنو۔

﴿82﴾ پھر بھی اگر یہ (کافر) منہ موڑے رہیں تو (اے پیغمبر) تمہاری ذمہ داری صرف اتنی ہے کہ واضح طریقے پر پیغام پہنچا دو ۔

﴿83﴾ یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کو پہچانتے ہیں، پھر بھی ان کا انکار کرتے ہیں، اور ان میں سے اکثر لوگ ناشکرے ہیں۔

﴿84﴾ اور اس دن کو یاد رکھو جب ہم ہر ایک امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے۔ پھر جن لوگوں نے کفر اپنایا تھا انہیں (عذر پیش کرنے کی) اجازت نہیں دی جائے گی، اور نہ ان سے یہ فرمائش کی جائے گی کہ وہ توبہ کریں۔

﴿85﴾ اور جب یہ ظالم عذاب کو آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو نہ ان سے اس عذاب کو ہلکا کیا جائے گا، اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔

﴿86﴾ اور جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تھا، جب وہ اپنے (گھڑے ہوئے) شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ : اے ہمارے پروردگار ! یہ ہیں ہمارے (بنائے ہوئے) وہ شریک جن کو ہم تجھے چھوڑ کر پکارا کرتے تھے۔ اس موقع پر وہ (گھڑے ہوئے شریک) ان پر بات پھینک ماریں گے کہ : تم بالکل جھوٹے ہو۔

﴿87﴾ اور وہ اس دن اللہ کے سامنے فرمانبرداری کے بول بولنے لگیں گے، اور جو بہتان وہ باندھا کرتے تھے اس کا انہیں کوئی سراغ نہیں ملے گا۔

﴿88﴾ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا تھا، اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکا تھا، ان کے عذاب پر ہم مزید عذاب کا اضافہ کرتے رہیں گے، کیونکہ وہ فساد مچایا کرتے تھے۔

﴿89﴾ اور وہ دن بھی یاد رکھو جب ہر امت میں ایک گواہ انہی میں سے کھڑا کریں گے اور (اے پیغمبر) ہم تمہیں ان لوگوں کے خلاف گواہی دینے کے لیے لائیں گے۔ اور ہم نے تم پر یہ کتاب اتار دی ہے تاکہ وہ ہر بات کھول کھول کر بیان کردے، اور مسلمانوں کے لیے ہدایت، رحمت اور خوشخبری کا سامان ہو۔

﴿90﴾ بیشک اللہ انصاف کا، احسان کا، اور رشتہ داروں کو (ان کے حقوق) دینے کا حکم دیتا ہے، اور بےحیائی، بدی اور ظلم سے روکتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔

﴿91﴾ اور جب تم نے کوئی معاہدہ کیا ہو تو اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرو، اور قسموں کو پختہ کرنے کے بعد انہیں نہ توڑو، جبکہ تم اپنے اوپر اللہ کو گواہ بنا چکے ہو۔ تم جو کچھ کرتے ہو، یقینا اللہ اسے جانتا ہے۔

﴿92﴾ اور جس عورت نے اپنے سوت کو مضبوطی سے کاتنے کے بعد اسے ادھیڑ کرتار تار کردیا تھا، اس جیسے نہ بن جانا کہ تم بھی اپنی قسموں کو (توڑ کر) آپس کے فساد کا ذریعہ بنانے لگو، صرف اس لیے کہ کچھ لوگ دوسروں سے زیادہ فائدے حاصل کرلیں۔ اللہ اس کے ذریعے تمہاری آزمائش کر رہا ہے۔ اور قیامت کے دن وہ تمہیں وہ باتیں ضرور کھول کر بتادے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔

﴿93﴾ اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت (یعنی ایک ہی دین کا پیرو) بنا دیتا، لیکن وہ جس کو چاہتا ہے (اس کی ضد کی وجہ سے) گمراہی میں ڈال دیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے ہدایت تک پہنچا دیتا ہے۔ اور تم جو عمل بھی کرتے تھے اس کے بارے میں تم سے ضرور باز پرس ہوگی۔

﴿94﴾ اور تم اپنی قسموں کو آپس میں فساد ڈالنے کا ذریعہ نہ بناؤ، جس کے نتیجے میں کسی (اور) کا پاؤں جمنے کے بعد پھسل جائے ، پھر تمہیں (اس کو) اللہ کے راستے سے روکنے کی وجہ سے بری سزا چکھنی پڑے، اور تمہیں (ایسی صورت میں) بڑا عذاب ہوگا۔

﴿95﴾ اور اللہ کے عہد کو تھوڑ سی قیمت میں نہ بیچ ڈالو۔ اگر تم حقیقت سمجھو تو جو (اجر) اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لیے کہیں زیادہ بہتر ہے۔

﴿96﴾ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ سب ختم ہوجائے گا، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔ اور جن لوگوں نے صبر سے کام لیا ہوگا ہم انہیں ان کے بہترین کاموں کے مطابق ان کا اجر ضرور عطا کریں گے۔

﴿97﴾ جس شخص نے بھی مومن ہونے کی حالت میں نیک عمل کیا ہوگا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، ہم اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے، اور ایسے لوگوں کو ان کے بہترین اعمال کے مطابق ان کا اجر ضرور عطا کریں گے۔

﴿98﴾ چنانچہ جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔

﴿99﴾ اس کا بس ایسے لوگوں پر نہیں چلتا جو ایمان لائے ہیں، اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

﴿100﴾ اس کا بس تو ان لوگوں پر چلتا ہے جو اسے دوست بناتے ہیں، اور اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔

﴿101﴾ اور جب ہم ایک آیت کو دوسری آیت سے بدلتے ہیں۔ اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا نازل کرے تو یہ (کافر) کہتے ہیں کہ : تم تو اللہ پر جھوٹ باندھنے والے ہو۔ حالانکہ ان میں سے اکثر لوگ حقیقت کا علم نہیں رکھتے۔

﴿102﴾ کہہ دو کہ : یہ (قرآن کریم) تو روح القدس (یعنی جبریل علیہ السلام) تمہارے رب کی طرف سے ٹھیک ٹھیک لے کر آئے ہیں، تاکہ وہ ایمان والوں کو ثابت قدم رکھے، اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور خوشخبری کا سامان ہو۔

﴿103﴾ اور (اے پیغمبر) ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ (تمہارے بارے میں) یہ کہتے ہیں کہ : ان کو تو ایک انسان سکھاتا پڑھاتا ہے۔ (حالانکہ) جس شخص کا یہ حوالہ دے رہے ہیں اس کی زبان عجمی ہے۔ اور یہ (قرآن کی زبان) صاف عربی زبان ہے

﴿104﴾ جو لوگ اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے، ان کو اللہ ہدایت پر نہیں لاتا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

﴿105﴾ اللہ پر جھوٹ تو (پیغمبر نہیں) وہ لوگ باندھتے ہیں جو اللہ کی آیات پر ایمان نہیں رکھتے، اور وہی حقیقت میں جھوٹے ہیں۔

﴿106﴾ جو شخص اللہ پر ایمان لانے کے بعد اس کے ساتھ کفر کا ارتکاب کرے، وہ نہیں جسے زبردستی (کفر کا کلمہ کہنے پر) مجبور کردیا گیا ہو، جبکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو، بلکہ وہ شخص جس نے اپنا سینہ کفر کے لیے کھول دیا ہو۔ تو ایسے لوگوں پر اللہ کی طرف سے غضب نازل ہوگا، اور ان کے لیے زبردست عذاب تیار ہے۔

﴿107﴾ یہ اس لیے کہ ایسے لوگوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں زیادہ محبوب سمجھا، اور اس لیے کہ اللہ ایسے ناشکرے لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچایا کرتا۔

﴿108﴾ یہ ایسے لوگ ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں پر ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر مہر لگا دی ہے، اور یہی لوگ ہیں جو (اپنے انجام سے) بالکل غافل ہیں۔

﴿109﴾ لازمی بات یہ ہے کہ یہی لوگ ہیں جو آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھائیں گے۔

﴿110﴾ پھر یقین جانو تمہارے پروردگار کا معاملہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے فتنے میں مبتلا ہونے کے بعد ہجرت کی، پھر جہاد کیا اور صبر سے کام لیا تو ان باتوں کے بعد تمہارا پروردگار یقینا بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿111﴾ یہ سب کچھ اس دن ہوگا جب ہر شخص اپنے دفاع کی باتیں کرتا ہوا آئے گا اور ہر ہر شخص کو اس کے سارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور لوگوں پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔

﴿112﴾ اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے جو بڑی پر امن اور مطمئن تھی اس کا رزق اس کو ہر جگہ سے بڑی فراوانی کے ساتھ پہنچ رہا تھا، پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری شروع کردی، تو اللہ نے ان کے کرتوت کی وجہ سے ان کو یہ مزہ چکھایا کہ بھوک اور خوف ان کا پہننا اوڑھنا بن گیا۔

﴿113﴾ اور ان کے پاس انہی میں سے ایک پیغمبر آیا تھا، مگر انہوں نے اس کو جھٹلایا، چنانچہ جب انہوں نے ظلم اپنا لیا تو ان کو عذاب نے آپکڑا۔

﴿114﴾ لہذا اللہ نے جو حلال پاکیزہ چیزیں تمہیں رزق کے طور پر دی ہیں، انہیں کھاؤ، اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو، اگر تم واقعی اسی کی عبادت کرتے ہو۔

﴿115﴾ اس نے تو تمہارے لیے بس مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور وہ جانور حرام کیا ہے جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو۔ البتہ جو شخص بھوک سے بالکل بےتاب ہو، لذت حاصل کرنے کے لیے نہ کھائے، اور (ضرورت کی) حد سے آگے نہ بڑھے تو اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿116﴾ اور جن چیزوں کے بارے میں تمہاری زبانیں جھوٹی باتیں بناتی ہیں، ان کے بارے میں یہ مت کہا کرو کہ یہ چیز حلال ہے اور یہ حرام ہے، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم اللہ پر جھوٹا بہتان باندھو گے۔ یقین جانو کہ جو لوگ اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے۔

﴿117﴾ (دنیا میں) انہیں جو عیش حاصل ہے، وہ بہت تھوڑا سا ہے، اور ان کے لیے دردناک عذاب تیار ہے۔

﴿118﴾ اور یہودیوں کے لیے ہم نے وہ چیزیں حرام کی تھیں جن کا تذکرہ ہم تم سے پہلے ہی کرچکے ہیں۔ اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے۔

﴿119﴾ پھر بھی تمہارا رب ایسا ہے کہ جن لوگوں نے نادانی میں برائی کا ارتکاب کرلیا اور اس کے بعد توبہ کرلی، اور اپنی اصلاح کرلی تو ان سب باتوں کے بعد بھی تمہارا پروردگار بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿120﴾ بیشک ابراہیم ایسے پیشوا تھے جنہوں نے ہر طرف سے یکسو ہو کر اللہ کی فرمانبرداری اختیار کرلی تھی، اور وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں۔

﴿121﴾ وہ اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے۔ اس نے انہیں چن لیا تھا، اور ان کو سیدھے راستے تک پہنچا دیا تھا۔

﴿122﴾ اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی بھلائی دی تھی، اور آخرت میں تو یقینا ان کا شمار صالحین میں ہے۔

﴿123﴾ پھر (اے پیغمبر) ہم نے تم پر بھی وحی کے ذریعے یہ حکم نازل کیا ہے کہ تم ابراہیم کے دین کی پیروی کرو جس نے اپنا رخ اللہ ہی کی طرف کیا ہوا تھا، اور وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھے جو اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔

﴿124﴾ سینچر کے دن کے احکام تو ان لوگوں پر لازم کیے گئے تھے جنہوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا تھا۔ اور یقین رکھو کہ تمہارا رب قیامت کے دن ان کے درمیان ان تمام باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں لوگ اختلاف کیا کرتے تھے۔

﴿125﴾ اپنے رب کے راستے کی طرف لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور خوش اسلوبی سے نصیحت کر کے دعوت دو ، اور (اگر بحث کی نوبت آئے تو) ان سے بحث بھی ایسے طریقے سے کرو جو بہترین ہو۔ یقینا تمہارا پروردگار ان لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بھٹک گئے ہیں، اور ان سے بھی خوب واقف ہے جو راہ راست پر قائم ہیں۔

﴿126﴾ اور اگر تم لوگ (کسی کے ظلم کا) بدلہ لو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنی زیادتی تمہارے ساتھ کی گئی تھی۔ اور اگر صبر ہی کرلو تو یقینا یہ صبر کرنے والوں کے حق میں بہت بہتر ہے۔

﴿127﴾ اور (اے پیغمبر) تم صبر سے کام لو، اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔ اور ان (کافروں) پر صدمہ نہ کرو، اور جو مکاریاں یہ لوگ کر رہے ہیں ان کی وجہ سے تنگ دل نہ ہو۔

﴿128﴾ یقین رکھو کہ اللہ ان لوگوں کا ساتھی ہے جو تقوی اختیار کرتے ہیں اور جو احسان پر عمل پیرا ہیں۔

بنی اسرائیل

Surah 17

﴿1﴾ پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گئی جس کے ماحول پر ہم نے برکتیں نازل کی ہیں، تاکہ ہم انہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بیشک وہ ہر بات سننے والی، ہر چیز دیکھنے والی ذات ہے۔

﴿2﴾ اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی اور اس کو بنی اسرائیل کے لیے اس ہدایت کا ذریعہ بنایا تھا کہ تم میرے سوا کسی اور کو اپنا کارساز قرار نہ دینا۔

﴿3﴾ اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا۔ اور وہ بڑے شکر گزار بندے تھے۔

﴿4﴾ اور ہم نے کتاب میں فیصلہ کر کے بنو اسرائیل کو اس بات سے آگاہ کردیا تھا کہ تم زمین میں دو مرتبہ فساد مچاؤ گے، اور بڑی سرکشی کا مظاہرہ کرو گے۔

﴿5﴾ چنانچہ جب ان دو واقعات میں سے پہلا واقعہ پیش آیا تو ہم نے تمہارے سروں پر اپنے ایسے بندے مسلط کردیے جو سخت جنگجو تھے، اور وہ تمہارے شہروں میں گھس کر پھیل گئے۔ اور یہ ایک ایسا وعدہ تھا جسے پورا ہو کر رہنا ہی تھا۔

﴿6﴾ پھر ہم نے تمہیں یہ موقع دیا کہ تم پلٹ کر ان پر غالب آؤ، اور تمہارے مال و دولت اور اولاد میں اضافہ کیا، اور تمہاری نفری پہلے سے زیادہ بڑھا دی۔

﴿7﴾ اگر تم اچھے کام کرو گے تو اپنے ہی فائدے کے لیے کرو گے، اور برے کام کرو گے تو بھی وہ تمہارے لیے ہی برا ہوگا۔ چنانچہ جب دوسرے واقعے کی میعاد آئی (تو ہم نے دوسرے دشمنوں کو تم پر مسلط کردیا) تاکہ وہ تمہارے چہروں کو بگاڑ ڈالیں، اور تاکہ وہ مسجد میں اسی طرح داخل ہوں جیسے پہلے لوگ داخل ہوئے تھے، اور جس جس چیز پر ان کا زور چلے، اس کو تہس نہس کر کے رکھ دیں۔

﴿8﴾ عین ممکن ہے کہ (اب) تمہارا رب تم پر رحم کرے۔ لیکن اگر تم پھر وہی کام کرو گے، تو ہم بھی دوبارہ وہی کریں گے، اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ بنا ہی رکھا ہے۔

﴿9﴾ حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راستہ دکھاتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا ہے، اور جو لوگ (اس پر) ایمان لاکر نیک عمل کرتے ہیں، انہیں خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لیے بڑا اجر ہے۔

﴿10﴾ اور یہ بتاتا ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ان کے لیے ہم نے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

﴿11﴾ اور انسان برائی اس طرح مانگتا ہے جیسے اسے بھلائی مانگنی چاہیے۔ اور انسان بڑا جلد باز واقع ہوا ہے۔

﴿12﴾ اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیوں کے طور پر پیدا کیا ہے۔ پھر رات کی نشانی کو تو اندھیری بنادیا، اور دن کی نشانی کو روشن کردیا، تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو۔ اور تاکہ تمہیں سالوں کی گنتی اور (مہینوں کا) حساب معلوم ہوسکے۔ اور ہم نے ہر چیز کو الگ الگ واضح کردیا ہے۔

﴿13﴾ اور ہر شخص (کے عمل) کا انجام ہم نے اس کے اپنے گلے سے چمٹا دیا ہے۔ اور قیامت کے دن ہم (اس کا) اعمال نامہ ایک تحریر کی شکل میں نکال کر اس کے سامنے کردیں گے جسے وہ کھلا ہوا دیکھے گا۔

﴿14﴾ (کہا جائے گا کہ) لو پڑھ لو اپنا اعمال نامہ ! آج تم خود اپنا حساب لینے کے لیے کافی ہو۔

﴿15﴾ جو شخص سیدھی راہ پر چلتا ہے تو وہ خود اپنے فائدے کے لیے چلتا ہے، اور جو گمراہی کا راستہ اختیار کرتا ہے وہ اپنے ہی نقصان کے لیے اختیار کرتا ہے۔ اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اور ہم کبھی کسی کو اس وقت تک سزا نہیں دیتے جب تک کوئی پیغمبر (اس کے پاس) نہ بھیج دیں۔

﴿16﴾ اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوش حال لوگوں کو (ایمان اور اطاعت کا) حکم دیتے ہیں، پھر وہ وہاں نافرمانیاں کرتے ہیں، تو ان پر بات پوری ہوجاتی ہے، چنانچہ ہم انہیں تباہ و برباد کر ڈالتے ہیں۔

﴿17﴾ اور کتنی ہی نسلیں ہیں جو ہم نے نوح کے بعد ہلاک کیں۔ اور تمہارا رب اپنے بندوں کے گناہوں سے پوری طرح باخبر ہے، سب کچھ دیکھ رہا ہے۔

﴿18﴾ جو شخص دنیا کے فوری فائدے ہی چاہتا ہے تو ہم جس کے لیے چاہتے ہیں جتنا چاہتے ہیں، اسے یہیں پر جلدی دے دیتے ہیں، پھر اس کے لیے ہم نے جہنم رکھ چھوڑی ہے جس میں وہ ذلیل و خوار ہو کر داخل ہوگا۔

﴿19﴾ اور جو شخص آخرت (کا فائدہ) چاہے اور اس کے لیے ویسی ہی کوشش کرے جیسی اس کے لیے کرنی چاہے، جبکہ وہ مومن بھی ہو، تو ایسے لوگوں کی کوشش کی پوری قدر دانی کی جائے گی۔

﴿20﴾ (اے پیغمبر) جہاں تک (دنیا میں) تمہارے رب کی عطا کا تعلق ہے ہم ان کو بھی اس سے نوازتے ہیں، اور ان کو بھی اور (دنیا میں) تمہارے رب کی عطا کسی کے لیے بند نہیں ہے۔

﴿21﴾ دیکھو ہم نے کس طرح ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دے رکھی ہے۔ اور یقین رکھو کہ آخرت درجات کے اعتبار سے بہت بڑی ہے، اور فضیلت کے اعتبار سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

﴿22﴾ اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بناؤ، ورنہ تم قابل ملامت (اور) بےیارومددگار ہو کر بیٹھ رہو گے۔

﴿23﴾ اور تمہارے پروردگار نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو، اور نہ انہیں جھڑکو۔ بلکہ ان سے عزت کے ساتھ بات کیا کرو۔

﴿24﴾ اور ان کے ساتھ محبت کا برتاؤ کرتے ہوئے ان کے سامنے اپنے آپ کو انکساری سے جھکاؤ، اور یہ دعا کرو کہ : یا رب ! جس طرح انہوں نے میرے بچپن میں مجھے پالا ہے، آپ بھی ان کے ساتھ رحمت کا معاملہ کیجیے۔

﴿25﴾ تمہارا رب خوب جانتا ہے تمہارے دلوں میں کیا ہے۔ اگر تم نیک بن جاؤ، تو وہ ان لوگوں کی خطائیں بہت معاف کرتا ہے جو کثرت سے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

﴿26﴾ اور رشتہ دار کو اس کا حق دو ، اور مسکین اور مسافر کو (ان کا حق) اور اپنے مال کو بےہودہ کاموں میں نہ اڑاؤ

﴿27﴾ یقین جانو کہ جو لوگ بےہودہ کاموں میں مال اڑاتے ہیں، وہ شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے۔

﴿28﴾ اور اگر کبھی تمہیں ان (رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں) سے اس لیے منہ پھیرنا پڑے کہ تمہیں اللہ کی متوقع رحمت کا انتظار ہو تو ایسے میں ان کے ساتھ نرمی سے بات کرلیا کرو۔

﴿29﴾ اور نہ تو (ایسے کنجوس بنو کہ) اپنے ہاتھ کو گردن سے باندھ کر رکھو، اور نہ (ایسے فضول خرچ کہ) ہاتھ کو بالکل ہی کھلا چھوڑ دو جس کے نتیجے میں تمہیں قابل ملامت اور قلاش ہو کر بیٹھنا پڑے۔

﴿30﴾ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب جس کے لیے چاہتا ہے رزق میں وسعت عطا فرما دیتا ہے، اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگی پیدا کردیتا ہے۔ یقین رکھو کہ وہ اپنے بندوں کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہے، انہیں پوری طرح دیکھ رہا ہے۔

﴿31﴾ اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرو۔ ہم انہیں بھی رزق دیں گے، اور تمہیں بھی۔ یقین جانو کہ ان کو قتل کرنا بڑی بھاری غلطی ہے۔

﴿32﴾ اور زنا کے پاس بھی نہ پھٹکو، وہ یقینی طور پر بڑی بےحیائی اور بےراہ روی ہے۔

﴿33﴾ اور جس جان کو اللہ نے حرمت عطا کی ہے، اسے قتل نہ کرو، الا یہ کہ تمہیں (شرعا) اس کا حق پہنچتا ہو۔ اور جو شخص مظلومانہ طور پر قتل ہوجائے تو ہم نے اس کے ولی کو (قصاص کا) اختیار دیا ہے۔ چنانچہ اس پر لازم ہے کہ وہ قتل کرنے میں حد سے تجاوز نہ کرے۔ یقینا وہ اس لائق ہے کہ اس کی مدد کی جائے۔

﴿34﴾ اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ پھٹکو، مگر ایسے طریقے سے جو (اس کے حق میں) بہترین ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی پختگی کو پہنچ جائے، اور عہد کو پورا کرو، یقین جانو کہ عہد کے بارے میں (تمہاری) باز پرس ہونے والی ہے۔

﴿35﴾ اور جب کسی کو کوئی چیز پیمانے سے ناپ کر دو تو پورا ناپو، اور تولنے کے لیے صحیح ترازو استعمال کرو۔ یہی طریقہ درست ہے اور اسی کا انجام بہتر ہے۔

﴿36﴾ اور جس بات کا تمہیں یقین نہ ہو، (اسے سچ سمجھ کر) اس کے پیچھے مت پڑو۔ یقین رکھو کہ کان، آنکھ اور دل سب کے بارے میں (تم سے) سوال ہوگا۔

﴿37﴾ اور زمین پر اکڑ کر مت چلو۔ نہ تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ سکتے ہو۔

﴿38﴾ یہ سارے برے کام ایسے ہیں جو تمہارے پروردگار کو بالکل ناپسند ہیں۔

﴿39﴾ (اے پیغمبر) یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جو تمہارے پروردگار نے تم پر وحی کے ذریعے پہنچائی ہیں۔ اور (اے انسان) اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بنا، ورنہ تجھے ملامت کرکے، دھکے دے کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔

﴿40﴾ بھلا کیا تمہارے رب نے تمہیں تو بیٹے دینے کے لیے چن لیا ہے، اور خود اپنے لیے فرشتوں کو بیٹیاں بنا لیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ بڑی سنگین بات کہہ رہے ہو۔

﴿41﴾ اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے وضاحتیں کی ہیں، تاکہ لوگ ہوش میں آئیں، مگر یہ لوگ ہیں کہ اس سے ان کے بدکنے ہی میں اور اضافہ ہورہا ہے۔

﴿42﴾ کہہ دو کہ : اگر اللہ کے ساتھ اور بھی خدا ہوتے جیسے کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو وہ عرش والے (حقیقی خدا) پر چڑھائی کرنے کے لیے کوئی راستہ پیدا کرلیتے۔

﴿43﴾ حقیقت ہے کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں اس کی ذات ان سے بالکل پاک اور بہت بالا و برتر ہے۔

﴿44﴾ ساتوں آسمان اور زمین اور ان کی ساری مخلوقات اس کی پاکی بیان کرتی ہیں، اور کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو، لیکن تم لوگ ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا بردبار، بہت معاف کرنے والا ہے۔

﴿45﴾ اور (اے پیغمبر) جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ایک ان دیکھا پردہ حائل کردیتے ہیں۔

﴿46﴾ اور ہم ان کے دلوں پر ایسا غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ اسے سمجھتے نہیں اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردیتے ہیں۔ اور جب تم قرآن میں تنہا اپنے رب کا ذکر کرتے ہو تو یہ لوگ نفرت کے عالم میں پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں۔

﴿47﴾ ہمیں خوب معلوم ہے کہ جب یہ لوگ تمہاری بات کان لگا کر سنتے ہیں تو کس لیے سنتے ہیں، اور جب یہ آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں (تو ان باتوں کا بھی ہمیں پورا علم ہے) جب یہ ظالم (اپنی برادری کے مسلمانوں سے) یوں کہتے ہیں کہ : تم تو بس ایک ایسے آدمی کے پیچھے چل پڑے ہو جس پر جادو ہوگیا ہے۔

﴿48﴾ دیکھو انہوں نے تم پر کیسی کیسی پھبتیاں چست کی ہیں۔ یہ راہ سے بھٹک چکے ہیں۔ چنانچہ یہ راستے پر نہیں آسکتے۔

﴿49﴾ اور یہ کہتے ہیں کہ : کیا جب ہمارا وجود ہڈیوں میں تبدیل ہو کر چورا چورا ہوجائے گا تو بھلا کیا اس وقت ہمیں نئے سرے سے پیدا کر کے اٹھایا جائے گا ؟

﴿50﴾ کہہ دو کہ : تم پتھر یا لوہا بھی بن جاؤ۔

﴿51﴾ یا کوئی اور ایسی مخلوق بن جاؤ جس کے بارے میں تم دل میں سوچتے ہو کہ (اس کا زندہ ہونا) اور بھی مشکل ہے، (پھر بھی تمہیں زندہ کردیا جائے گا) اب وہ کہیں گے کہ : کون ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا ؟ کہہ دو کہ : وہی زندہ کرے گا جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔ پھر وہ تمہارے سامنے سر ہلا ہلا کر کہیں گے کہ : ایسا کب ہوگا ؟ کہہ دینا کہ : کیا بعید ہے کہ وہ وقت قریب ہی آگیا ہو۔

﴿52﴾ جس دن وہ تمہیں بلائے گا تو تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کے حکم کی تعمیل کرو گے، اور یہ سمجھ رہے ہو گے کہ تم بس تھوڑی سی مدت (دنیا میں) رہے تھے۔

﴿53﴾ میرے (مومن) بندوں سے کہہ دو کہ وہی بات کہا کریں جو بہترین ہو۔ درحقیقت شیطان لوگوں کے درمیان فساد ڈالتا ہے۔ شیطان یقینی طور پر انسان کا کھلا دشمن ہے۔

﴿54﴾ تمہارا پروردگار تمہیں خوب جانتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم پر رحم فرما دے، اور چاہے تو تمہیں عذاب دیدے، اور (اے پیغمبر) ہم نے تمہیں ان کی باتوں کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا ہے۔

﴿55﴾ اور تمہارا پروردگار ان سب کو جانتا ہے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں۔ اور ہم نے کچھ نبیوں کو دوسرے نبیوں پر فضیلت دی ہے، اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی تھی۔

﴿56﴾ (جو لوگ اللہ کے علاوہ دوسرے معبودوں کو مانتے ہیں، ان سے) کہہ دو کہ : جن کو تم نے اللہ کے سوا معبود سمجھ رکھا ہے، انہیں پکار کر دیکھو۔ ہوگا یہ کہ نہ وہ تم سے کوئی تکلیف دور کرسکیں گے، اور نہ اسے تبدیل کرسکیں گے۔

﴿57﴾ جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں، وہ تو خود اپنے پروردگار تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں سے کون اللہ کے زیادہ قریب ہوجائے، اور وہ اس کی رحمت کے امیدوار رہتے ہیں، اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ یقینا تمہارے رب کا عذاب ہے ہی ایسی چیز جس سے ڈرا جائے۔

﴿58﴾ اور کوئی بستی ایسی نہیں ہے جسے ہم روز قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں، یا اسے سخت عذاب نہ دیں۔ یہ بات (تقدیر کی) کتاب میں لکھی جاچکی ہے۔

﴿59﴾ اور ہم کو نشانیاں (یعنی کفار کے مانگے ہوئے معجزات) بھیجنے سے کسی اور چیز نے نہیں، بلکہ اس بات نے روکا ہے کہ پچھلے لوگ ایسی نشانیوں کو جھٹلا چکے ہیں۔ اور ہم نے قوم ثمود کو اونٹنی دی تھی جو آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھی، مگر انہوں نے اس کے ساتھ ظلم کیا۔ اور ہم نشانیاں ڈرانے ہی کے لیے بھیجتے ہیں۔

﴿60﴾ اور (اے پیغبر) وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تم سے کہا تھا کہ تمہارا پروردگار (اپنے علم سے) تمام لوگوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اور ہم نے جو نظارہ تمہیں دکھایا ہے، اس کو ہم نے (کافر) لوگوں کے لیے ایک فتنہ بنادیا۔ نیز اس درخت کو بھی جس پر قرآن میں لعنت آئی ہے۔ اور ہم تو ان کو ڈراتے رہتے ہیں، لیکن اس سے ان کی سخت سرکشی ہی میں اضافہ ہورہا ہے۔

﴿61﴾ اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ چنانچہ انہوں نے سجدہ کیا، لیکن ابلیس نے نہیں کیا۔ اس نے کہا کہ : کیا میں اس کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے ؟

﴿62﴾ کہنے لگا : بھلا بتاؤ یہ ہے وہ مخلوق جسے تو نے میرے مقابلے میں عزت بخشی ہے۔ اگر تو نے مجھے قیامت کے دن تک مہلت دی تو میں اس کی اولاد میں سے تھوڑے سے لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب کو جبڑوں میں لگام ڈالوں گا۔

﴿63﴾ اللہ نے کہا : جا پھر ان میں سے جو تیرے پیچھے چلے گا تو جہنم ہی تم سب کی سزا ہوگی، مکمل اور بھرپور سزا۔

﴿64﴾ اور ان میں سے جس جس پر تیرا بس چلے۔ انہیں اپنی آواز سے بہکا لے۔ اور ان پر اپنے سواروں اور پیادوں کی فوج چڑھا لا اور ان کے مال اور اولاد میں اپنا حصہ لگالے، اور ان سے خوب وعدے کرلے۔ اور (حقیقت یہ ہے کہ) شیطان ان سے جو وعدہ بھی کرتا ہے وہ دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

﴿65﴾ یقین رکھ کہ جو میرے بندے ہیں، ان پر تیرا کوئی بس نہیں چلے گا۔ اور تیرا پروردگار (ان کی) رکھوالی کے لیے کافی ہے۔

﴿66﴾ تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے لیے سمندر میں کشتیاں لے چلتا ہے، تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو۔ یقینا وہ تمہارے ساتھ بڑی رحمت کا معاملہ کرنے والا ہے۔

﴿67﴾ اور جب سمندر میں تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو جن (دیوتاؤں) کو تم پکارا کرتے ہو، وہ سب غائب ہوجاتے ہیں۔ بس اللہ ہی اللہ رہ جاتا ہے۔ پھر جب اللہ تمہیں بچا کر خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو تم منہ موڑ لیتے ہو۔ اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔

﴿68﴾ تو کیا تمہیں اس بات کا کوئی ڈر نہیں رہا کہ اللہ تمہیں خشکی ہی کے ایک حصے میں دھنسا دے، یا تم پر پتھر برسانے والی آندھی بھیج دے، اور پھر تمہیں اپنا کوئی رکھوالا نہ ملے ؟

﴿69﴾ اور کیا تم اس بات سے بھی بےفکر ہوگئے ہو کہ وہ تمہیں دوبارہ اسی (سمندر) میں لے جائے۔ پھر تم پر ہوا کا طوفان بھیج کر تمہاری ناشکری کی سزا میں تمہیں غرق کر ڈالے، پھر تمہیں کوئی نہ ملے جو اس معاملے میں ہمارا پیچھا کرسکے ؟

﴿70﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے آدم کی اولاد کو عزت بخشی ہے، اور انہیں خشکی اور سمندر دونوں میں سواریاں مہیا کی ہیں، اور ان کو پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا ہے، اور ان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت عطا کی ہے۔

﴿71﴾ اس دن کو یاد رکھو جب ہم تمام انسانوں کو ان کے اعمال ناموں کے ساتھ بلائیں گے۔ پھر جنہیں ان کا اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا، تو وہ اپنے اعمال نامے کو پڑھیں گے، اور ان پر ریشہ برابر بھی ظلم نہیں ہوگا۔

﴿72﴾ اور جو شخص دنیا میں اندھا بنا رہا، وہ آخرت میں بھی اندھا، بلکہ راستے سے اور زیادہ بھٹکا ہوا رہے۔

﴿73﴾ اور (اے پیغمبر) جو وحی ہم نے تمہارے پاس بھیجی ہے، یہ (کافر) لوگ تمہیں فتنے میں ڈال کر اس سے ہٹانے لگے تھے، تاکہ تم اس کے بجائے کوئی اور بات ہمارے نام پر گھڑ کر پیش کرو، اور اس صورت میں یہ تمہیں اپنا گہرا دوست بنا لیتے۔

﴿74﴾ اور اگر ہم نے تمہیں ثابت قدم نہ بنایا ہوتا تو تم بھی ان کی طرف کچھ کچھ جھکنے کے قریب جاپہنچتے۔

﴿75﴾ اور اگر ایسا ہوجاتا تو ہم تمہیں دنیا میں بھی دگنی سزا دیتے، اور مرنے کے بعد بھی دگنی، پھر تمہیں ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار نہ ملتا۔

﴿76﴾ اس کے علاوہ یہ لوگ اس فکر میں بھی ہیں کہ اس سرزمین (مکہ) سے تمہارے قدم اکھاڑ دیں، تاکہ تمہیں یہاں سے نکال کر باہر کریں۔ اور اگر ایسا ہوا تو یہ بھی تمہارے بعد زیادہ دیر یہاں نہیں ٹھہر سکیں گے۔

﴿77﴾ یہ ہمارا وہ طریق کار ہے جو ہم نے اپنے ان پیغمبروں کے ساتھ اختیار کیا تھا جو ہم نے تم سے پہلے بھیجے تھے، اور تم ہمارے طریقے میں کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔

﴿78﴾ (اے پیغمبر) سورج ڈھلنے کے وقت سے لے کر رات کے اندھیرے تک نماز قائم کرو۔ اور فجر کے وقت قرآن پڑھنے کا اہتمام کرو۔ یاد رکھو کہ فجر کی تلاوت میں مجمع حاضر ہوتا ہے۔

﴿79﴾ اور رات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھا کرو جو تمہارے لیے ایک اضافی عبادت ہے۔ امید ہے کہ تمہارا پروردگار تمہیں مقام محمود تک پہنچائے گا۔

﴿80﴾ اور یہ دعا کرو کہ : یا رب ! مجھے جہاں داخل فرما اچھائی کے ساتھ داخل فرما، اور جہاں سے نکال اچھائی کے ساتھ نکال، اور مجھے خاص اپنے پاس سے ایسا اقتدار عطا فرما جس کے ساتھ (تیری) مدد ہو۔

﴿81﴾ اور کہو کہ : حق آن پہنچا، اور باطل مٹ گیا، اور یقینا باطل ایسی ہی چیز ہے جو مٹنے والی ہے۔

﴿82﴾ اور ہم وہ قرآن نازل کر رہے ہیں جو مومنوں کے لیے شفا اور رحمت کا سامان ہے، البتہ ظالموں کے حصے میں اس سے نقصان کے سوا کسی اور چیز کا اضافہ نہیں ہوتا۔

﴿83﴾ اور جب ہم انسان کو کوئی نعمت دیتے ہیں تو وہ منہ موڑ لیتا ہے، اور پہلو بدل لیتا ہے، اور اگر اس کو کوئی برائی چھو جائے تو مایوس ہو بیٹھتا ہے۔

﴿84﴾ کہہ دو کہ : ہر شخص اپنے اپنے طریقے پر کام کررہا ہے۔ اب اللہ ہی بہتر جانتا ہے کون زیادہ صحیح راستہ پر ہے۔

﴿85﴾ اور (اے پیغمبر) یہ لوگ تم سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ : روح میرے پروردگار کے حکم سے (بنی) ہے۔ اور تمہیں جو علم دیا گیا ہے وہ بس تھوڑا ہی سا علم ہے۔

﴿86﴾ اور اگر ہم چاہیں تو جو کچھ وحی ہم نے تمہارے پاس بھیجی ہے، وہ ساری واپس لے جائیں، پھر تم اسے واپس لانے کے لیے ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار بھی نہ پاؤ۔

﴿87﴾ لیکن یہ تو تمہارے رب کی طرف سے ایک رحمت ہے (کہ وحی کا سلسلہ جاری ہے) حقیقت یہ ہے کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر جو فضل ہورہا ہے وہ بڑا عظیم ہے۔

﴿88﴾ کہہ دو کہ : اگر تمام انسان اور جنات اس کام پر اکٹھے بھی ہوجائیں کہ اس قرآن جیسا کلام بنا کرلے آئیں، تب بھی وہ اس جیسا نہیں لاسکیں گے، چاہے وہ ایک دوسرے کی کتنی مدد کرلیں۔

﴿89﴾ اور ہم نے انسانوں کی بھلائی کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی حکمت کی باتیں طرح طرح سے بیان کی ہیں، پھر بھی اکثر لوگ انکار کے سوا کسی اور بات پر راضی نہیں ہیں۔

﴿90﴾ اور کہتے ہیں کہ : ہم تم پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک تم زمین کو پھاڑ کر ہمارے لیے ایک چشمہ نہ نکال دو ۔

﴿91﴾ یا پھر تمہارے لیے کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ پیدا ہوجائے، اور تم اس کے بیچ بیچ میں زمین کو پھاڑ کر نہریں جاری کردو۔

﴿92﴾ یا جیسے تم دعوے کرتے ہو، آسمان کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اسے ہم پر گرا دو ، یا پھر اللہ کو اور فرشتوں کو ہمارے آمنے سامنے لے آؤ۔

﴿93﴾ یا پھر تمہارے لیے ایک سونے کا گھر پیدا ہوجائے، یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ، اور ہم تمہارے چڑھنے کو بھی اس وقت تک نہیں مانیں گے جب تک تم ہم پر ایسی کتاب نازل نہ کردو جسے ہم پڑھ سکیں۔ (اے پیغمبر) کہہ دو کہ : سبحان اللہ ! میں تو ایک بشر ہوں جسے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

﴿94﴾ اور جب ان لوگوں کے پاس ہدایت کا پیغام آیا تو ان کو ایمان لانے سے اسی بات نے تو روکا کہ وہ کہتے تھے : کیا اللہ نے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے ؟

﴿95﴾ کہہ دو کہ : اگر زمین میں فرشتے ہی اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو بیشک ہم آسمان سے کسی فرشتے کو رسول بنا کر ان پر اتار دیتے۔

﴿96﴾ کہہ دو کہ : اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ بننے کے لیے کافی ہے۔ بیشک وہ اپنے بندوں سے پوری طرح باخبر ہے، سب کچھ دیکھ رہا ہے۔

﴿97﴾ اور جسے اللہ ہدایت دے، وہی صحیح راستے پر ہوتا ہے، اور جن لوگوں کو وہ گمراہی میں مبتلا کردے، تو اس کے سوا تمہیں ان کے کوئی مددگار نہیں مل سکتے۔ اور ہم انہیں قیامت کے دن منہ کے بل اس طرح اکٹھا کریں گے کہ وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ جب کبھی اس کی آگ دھیمی ہونے لگے گی، ہم اسے اور زیادہ بھڑکا دیں گے۔

﴿98﴾ یہ ان کی سزا ہے، کیونکہ انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا تھا، اور یہ کہا تھا کہ : کیا جب ہم (مر کر) ہڈیاں ہی ہڈٰیاں رہ جائیں گے، اور چورا چورا ہوجائیں گے تو کیا پھر بھی ہمیں نئے سرے سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا ؟

﴿99﴾ بھلا کیا انہیں اتنی سی بات نہیں سوجھی کہ وہ اللہ جس نے سارے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، وہ اس بات پر قادر ہے کہ ان جیسے آدمی پھر سے پیدا کردے ؟ اور اس نے ان کے لیے ایک ایسی میعاد مقرر کر رکھی ہے جس (کے آنے) میں ذرا بھی شک نہیں ہے۔ پھر بھی یہ ظالم انکار کے سوا کسی بات پر راضی نہیں۔

﴿100﴾ (اے پیغمبر ! ان کافروں سے) کہہ دو کہ : اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے کہیں تمہارے اختیار میں ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے ڈر سے ضرور ہاتھ روک لیتے۔ اور انسان ہے ہی بڑا تنگ دل۔

﴿101﴾ اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی کھلی نشانیاں دی تھیں۔ اب بنو اسرائیل سے پوچھ لو کہ جب وہ ان لوگوں کے پاس گئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ : اے موسیٰ ! تمہارے بارے میں میرا تو خیال یہ ہے کہ کسی نے تم پر جادو کردیا ہے۔

﴿102﴾ موسیٰ نے کہا : تمہیں خوب معلوم ہے کہ یہ ساری نشانیاں کسی اور نے نہیں، آسمانوں اور زمین کے پروردگار نے بصیرت پیدا کرنے کے لیے نازل کی ہیں۔ اور اے فرعون ! تمہارے بارے میں میرا گمان یہ ہے کہ تمہاری بربادی آنے والی ہے۔

﴿103﴾ پھر فرعون نے یہ ارادہ کیا تھا کہ ان سب (بنو اسرائیل) کو اس سرزمین سے اکھاڑ پھینکے، لیکن ہم نے اسے اور جتنے لوگ اس کے ساتھ تھے، ان سب کو غرق کردیا۔

﴿104﴾ اور اس کے بعد بنو اسرائیل سے کہا کہ : تم زمین میں بسو۔ پھر جب آخرت کا وعدہ پورا ہونے کا وقت آئے گا تو ہم تم سب کو جمع کر کے حاضر کردیں گے۔

﴿105﴾ اور ہم نے اس قرآن کو حق ہی کے ساتھ نازل کیا ہے، اور حق ہی کے ساتھ یہ اترا ہے۔ اور (اے پیغمبر) ہم نے تمہیں کسی اور کام کے لیے نہیں، بلکہ صرف اس لیے بھیجا ہے کہ تم (فرمانبرداروں کو) خوشخبری دو اور (نافرمانوں کو) خبردار کرو۔

﴿106﴾ اور ہم نے قرآن کے جدا جدا حصے بنائے، تاکہ تم اسے ٹھہر ٹھہر کر لوگوں کے سامنے پڑھو، اور ہم نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا ہے۔

﴿107﴾ (کافروں سے) کہہ دو کہ : چاہے تم اس پر ایمان لاؤ، یا نہ لاؤ، جب یہ (قرآن) ان لوگوں کے سامنے پڑھا جاتا ہے جن کو اس سے پہلے علم دیا گیا تھا تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرجاتے ہیں۔

﴿108﴾ اور کہتے ہیں : پاک ہے ہمارا پروردگار ! بیشک ہمارے پروردگار کا وعدہ تو پورا ہی ہو کر رہتا ہے۔

﴿109﴾ اور وہ روتے ہوئے ٹھوڑیوں کے بل گرجاتے ہیں اور یہ (قرآن) ان کے دلوں کی عاجزی کو اور بڑھا دیتا ہے۔

﴿110﴾ کہہ دو کہ : چاہے تم اللہ کو پکارو، یا رحمن کو پکارو، جس نام سے بھی (اللہ کو) پکارو گے (ایک ہی بات ہے) کیونکہ تمام بہترین نام اسی کے ہیں۔ اور تم اپنی نماز نہ بہت اونچی آواز سے پڑھو، اور نہ بہت پست آواز سے، بلکہ ان دونوں کے درمیان (معتدل) راستہ اختیار کرو۔

﴿111﴾ اور کہو کہ : تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جس نے نہ کوئی بیٹا بنایا، نہ اس کی سلطنت میں کوئی شریک ہے، اور نہ اسے عاجزی سے بچانے کے لیے کوئی حمایتی درکار ہے۔ اور اس کی ایسی بڑائی بیان کرو جیسی بڑائی بیان کرنے کا اسے حق حاصل ہے۔

الکھف

Surah 18

﴿1﴾ تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی، اور اس میں کسی قسم کی کوئی خاص خامی نہیں رکھی۔

﴿2﴾ ایک سیدھی سیدھی کتاب جو اس نے اس لیے نازل کی ہے کہ لوگوں کو اپنی طرف سے ایک سخت عذاب سے آگاہ کرے اور جو مومن نیک عمل کرتے ہیں ان کو خوشخبری دے کہ ان کو بہترین اجر ملنے والا ہے۔

﴿3﴾ جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

﴿4﴾ اور تاکہ ان لوگوں کو متنبہ کرے جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے کوئی بیٹا بنا رکھا ہے۔

﴿5﴾ اس بات کا کوئی علمی ثبوت نہ خود ان کے پاس ہے، نہ ان کے باپ دادوں کے پاس تھا۔ بڑی سنگین بات ہے جو ان کے منہ سے نکل رہی ہے۔ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں، وہ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔

﴿6﴾ اب (اے پیغمبر) اگر لوگ (قرآن کی) اس بات پر ایمان نہ لائیں تو ایسا لگتا ہے جیسے تم افسوس کر کر کے ان کے پیچھے اپنی جان کو گھلا بیٹھو گے۔

﴿7﴾ یقین جانو کہ روئے زمین پر جتنی چیزیں ہیں ہم نے انہیں زمین کی سجاوٹ کا ذریعہ اس لیے بنایا ہے تاکہ لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں کون زیادہ اچھا عمل کرتا ہے۔

﴿8﴾ اور یہ بھی یقین رکھو کہ روئے زمین پر جو کچھ ہے ایک دن ہم اسے ایک سپاٹ میدان بنادیں گے۔

﴿9﴾ کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ غار اور رقیم والے لوگ ہماری نشانیوں میں سے کچھ (زیادہ) عجیب چیز تھے ؟

﴿10﴾ یہ اس وقت کا ذکر ہے جب ان نوجوانوں نے غار میں پناہ لی تھی اور (اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے) کہا تھا کہ : اے ہمارے پروردگار ہم پر خاص اپنے پاس سے رحمت نازل فرمایے، اور ہماری اس صورت حال میں ہمارے لیے بھلائی کا راستہ مہیا فرما دیجیے۔

﴿11﴾ چنا نچہ ہم نے ان کے کانوں کو تھپکی دے کر کئی سال تک ان کو غار میں سلائے رکھا۔

﴿12﴾ پھر ہم نے ان کو جگایا تاکہ یہ دیکھیں کہ ان کے دو گروہوں میں سے کون سا گروہ اپنے سوئے رہنے کی مدت کا زیادہ صحیح شمار کرتا ہے۔

﴿13﴾ ہم تمہارے سامنے ان کا واقعہ ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں۔ یہ کچھ نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے، اور ہم نے ان کو ہدایت میں خوب ترقی دی تھی۔

﴿14﴾ اور ہم نے ان کے دل خوب مضبوط کردیے تھے۔ یہ اس وقت کا ذکر ہے جب وہ اٹھے، اور انہوں نے کہا کہ : ہمارا پروردگار وہ ہے جو تمام آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ ہم اس کے سوا کسی کو معبود بنا کر ہرگز نہیں پکاریں گے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم یقینا انتہائی لغو بات کہیں گے۔

﴿15﴾ یہ ہماری قوم کے لوگ ہیں جنہوں نے اس پروردگار کو چھوڑ کر دوسرے معبود بنا رکھے ہیں۔ (اگر ان کا عقیدہ صحیح ہے تو) وہ اپنے معبودوں کے ثبوت میں کوئی واضح دلیل کیوں پیش نہیں کرتے ؟ بھلا اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے ؟

﴿16﴾ اور (ساتھیو) جب تم نے ان لوگوں سے بھی علیحدگی اختیار کرلی ہے اور ان سے بھی جن کی یہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں تو چلو اب تم اس غار میں پناہ لے لو، تمہارا پروردگار تمہارے لیے اپنا دامن رحمت پھیلا دے گا، اور تمہارے کام میں آسانی کے اسباب مہیا فرمائے گا۔

﴿17﴾ اور (وہ غار ایسا تھا کہ) تم سورج کو نکلتے وقت دیکھتے تو وہ ان کے غار سے دائیں طرف ہٹ کر نکل جاتا، اور جب غروب ہوتا تو ان سے بائیں طرف کترا کر چلا جاتا، اور وہ اس غار کے ایک کشادہ حصے میں (سوئے ہوئے) تھے۔ یہ سب کچھ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ جسے اللہ ہدایت دیدے، وہی ہدایت پاتا ہے، اور جسے وہ گمراہ کردے اس کا تمہیں ہرگز کوئی مددگار نہیں مل سکتا جو اسے راستے پر لائے۔

﴿18﴾ تم انہیں (دیکھ کر) یہ سمجھتے کہ وہ جاگ رہے ہیں، حالانکہ وہ سوئے ہوئے تھے، اور ہم ان کو دائیں اور بائیں کروٹ دلواتے رہتے تھے، اور ان کا کتا دہلیز پر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے (بیٹھا) تھا۔ اگر تم انہیں جھانک کر دیکھتے تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے، اور تمہارے اندر ان کی دہشت سما جاتی۔

﴿19﴾ اور (جیسے ہم نے انہیں سلایا تھا) اسی طرح ہم نے انہیں اٹھا دیا تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ گچھ کریں۔ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا : تم اس حالت میں کتنی دیر رہے ہوگے ؟ کچھ لوگوں نے کہا : ہم ایک دن یا ایک دن سے کچھ کم (نیند میں) رہے ہوں گے۔ دوسروں نے کہا : تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ تم کتنی دیر اس حالت میں رہے ہو۔ اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سکہ دے کر شہر کی طرف بھیجو، وہ جاکر دیکھ بھال کرے کہ اس کے کون سے علاقے میں زیادہ پاکیزہ کھانا (مل سکتا) ہے۔ پھر تمہارے پاس وہاں سے کچھ کھانے کو لے آئے، اور اسے چاہیے کہ ہوشیاری سے کام کرے، اور کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دے۔

﴿20﴾ کیونکہ اگر ان (شہر کے) لوگوں کو تمہاری خبر مل گئی تو یہ تمہیں پتھراؤ کر کے ہلاک کر ڈالیں گے، یا تمہیں اپنے دین میں واپس آنے کے لیے مجبور کریں گے، اور ایسا ہوا تو تمہیں کبھی فلاح نہیں مل سکے گی۔

﴿21﴾ اور یوں ہم نے ان کی خبر لوگوں تک پہنچا دی، تاکہ وہ یقین سے جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، نیز یہ کہ قیامت کی گھڑی آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ (پھر وہ وقت بھی آیا) جب لوگ ان کے بارے میں آپس میں جھگڑ رہے تھے، چنانچہ کچھ لوگوں نے کہا کہ ان پر ایک عمارت بنادو ۔ ان کا رب ہی ان کے معاملے کو بہتر جانتا ہے۔ (آخر کار) جن لوگوں کو ان کے معاملات پر غلبہ حاصل تھا انہوں نے کہا کہ : ہم تو ان کے اوپر ایک مسجد ضرور بنائیں گے۔

﴿22﴾ کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین آدمی تھے، اور چوتھا ان کا کتا تھا، اور کچھ کہیں گے کہ وہ پانچ تھے، اور چھٹا ان کا کتا تھا۔ یہ سب اٹکل کے تیر چلانے کی باتیں ہیں۔ اور کچھ کہیں گے کہ وہ سات تھے، اور آٹھواں ان کا کتا تھا، کہہ دو کہ : میرا رب ہی ان کی صحیح تعداد کو جانتا ہے۔ تھوڑے سے لوگوں کے سوا کسی کو ان کا پورا علم نہیں۔ لہذا ان کے بارے میں سرسری گفتگو سے آگے بڑھ کر کوئی بحث نہ کرو، اور نہ ان کے بارے میں کسی سے پوچھ گچھ کرو۔

﴿23﴾ اور (اے پیغمبر) کسی بھی کام کے بارے میں کبھی یہ نہ کہو کہ میں یہ کام کل کرلوں گا۔

﴿24﴾ ہاں (یہ کہو کہ) اللہ چاہے گا تو (کرلوں گا) اور جب کبھی بھول جاؤ تو اپنے رب کو یاد کرلو، اور کہو : مجھے امید ہے کہ میرا رب کسی ایسی بات کی طرف رہنمائی کردے جو ہدایت میں اس سے بھی زیادہ قریب ہو۔

﴿25﴾ اور وہ (اصحاب کہف) اپنے غار میں تین سو سال اور مزید نو سال (سوتے) رہے۔

﴿26﴾ (اگر کوئی اس میں بحث کرے تو) کہہ دو کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنی مدت (سوتے) رہے۔ آسمانوں اور زمین کے سارے بھید اسی کے علم میں ہیں۔ وہ کتنا دیکھنے والا، اور کتنا سننے والا ہے۔ اس کے سوا ان کا کوئی رکھوالا نہیں ہے، اور وہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔

﴿27﴾ اور (اے پیغمبر) تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے وحی کے ذریعے جو کتاب بھیجی گئی ہے، اسے پڑھ کر سنادو۔ کوئی نہیں ہے جو اس کی باتوں کو بدل سکے، اور اسے چھوڑ کر تمہیں ہرگز پناہ کی جگہ نہیں مل سکتی۔

﴿28﴾ اور اپنے آپ کو استقامت سے ان لوگوں کے ساتھ رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو اس لیے پکارتے ہیں کہ وہ اس کی خوشنودی کے طلبگار ہیں۔ اور تمہاری آنکھیں دنیوی زندگی کی خوبصورتی کی تلاش میں ایسے لوگوں سے ہٹنے نہ پائیں۔ اور کسی ایسے شخص کا کہنا نہ مانو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر رکھا ہے، اور جو اپنی خواہشات کے پیچھے پڑا ہوا، اور جس کا معاملہ حد سے گزر چکا ہے۔

﴿29﴾ اور کہہ دو کہ : حق تو تمہارے رب کی طرف سے آچکا ہے۔ اب جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کفر اختیار کرے۔ ہم نے بیشک (ایسے) ظالموں کے لیے آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں ان کو گھیرے میں لے لیں گی، اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد کا جواب ایسے پانی سے دیا جائے گا جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا، (اور) چہروں کو بھون کر رکھ دے گا۔ کیسا بدترین پانی، اور کیسی بری آرام گاہ !۔

﴿30﴾ البتہ جو لوگ ایمان لائے، اور انہوں نے نیک عمل کیے، تو یقینا ہم ایسے لوگوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے جو اچھی طرح عمل کریں۔

﴿31﴾ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے ہمیشہ رہنے والے باغات ہیں، ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، ان کو وہاں سونے کے کنگنوں سے مزین کیا جائے گا، وہ اونچی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئے باریک اور دبیز ریشم کے سبز کپڑے پہنے ہوں گے۔ کتنا بہترین اجر اور کیسی حسین آرام گاہ۔

﴿32﴾ اور (اے پیغمبر) ان لوگوں کے سامنے ان دو آدمیوں کی مثال پیش کرو۔ جن میں سے ایک کو ہم نے انگوروں کے دو باغ دے رکھے تھے، اور ان کو کھجور کے درختوں سے گھیرا ہوا تھا، اور ان دونوں باغوں کے درمیان کھیتی لگائی ہوئی تھی۔

﴿33﴾ دونوں باغ پورا پورا پھل دیتے تھے، اور کوئی باغ پھل دینے میں کوئی کمی نہیں چھوڑتا تھا، اور ان دونوں کے درمیان ہم نے ایک نہر جاری کردی تھی۔

﴿34﴾ اور اس شخص کو خوب دولت حاصل ہوئی تو وہ اپنے ساتھی سے باتیں کرتے ہوئے کہنے لگا کہ : میرا مال بھی تم سے زیادہ ہے، اور میرا جتھ بھی تم سے زیادہ مضبوط ہے۔

﴿35﴾ اور وہ اپنی جان پر ستم ڈھاتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا۔ کہنے لگا : میں نہیں سمجھتا کہ یہ باغ کبھی بھی تباہ ہوگا۔

﴿36﴾ اور میرا خیال یہ ہے کہ قیامت کبھی نہیں آئے گی، اور اگر کبھی مجھے اپنے رب کے پاس واپس بھیجا بھی گیا، تب بھی مجھے یقین ہے کہ مجھے اس سے بھی اچھی جگہ ملے گی۔

﴿37﴾ اس کے ساتھی نے اس سے باتیں کرتے ہوئے کہا : کیا تم اس ذات کے ساتھ کفر کا معاملہ کر رہے رہو جس نے تمہیں مٹی سے، اور پھر نطفے سے پیدا کیا، پھر تمہیں ایک بھلا چنگا انسان بنادیا ؟

﴿38﴾ جہاں تک میرا تعلق ہے، میں تو یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ اللہ میرا پروردگار ہے، اور میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں مانتا۔

﴿39﴾ اور جب تم اپنے باغ میں داخل ہورہے تھے، اس وقت تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ ! (جو اللہ چاہتا ہے، وہی ہوتا ہے، اللہ کی توفیق کے بغیر کسی میں کوئی طاقت نہیں) ۔ اگر تمہیں یہ نظر آرہا ہے کہ میری دولت اور اولاد تم سے کم ہے۔

﴿40﴾ تو میرے رب سے کچھ بعید نہیں ہے کہ وہ مجھے تمہارے باغ سے بہتر چیز عطا فرمادے، اور تمہارے اس باغ پر کوئی آسمانی آفت بھیج دے، جس سے وہ چکنے میدان میں تبدیل ہو کر رہ جائے۔

﴿41﴾ یا اس کا پانی زمین میں اتر جائے، پھر تم اسے تلاش بھی نہ کرسکو۔

﴿42﴾ اور (پھر ہوا یہ کہ) اس کی ساری دولت عذاب کے گھیرے میں آگئی، اور صبح ہوئی تو اس حالت میں کہ اس نے باغ پر جو کچھ خرچ کیا تھا، وہ اس پر ہاتھ ملتا رہ گیا، جبکہ اس کا باغ اپنی ٹٹیوں پر گرا پڑا تھا، اور وہ کہہ رہا تھا : کاش ! میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ مانا ہوتا۔

﴿43﴾ اور اسے کوئی ایسا جتھ میسر نہ آیا جو اللہ کو چھوڑ کر اس کی مدد کرتا، اور نہ وہ خود اس قابل تھا کہ اپنا دفاع کرسکے۔

﴿44﴾ ایسے موقع پر (آدمی کو پتہ چلتا ہے کہ) مدد کا سارا اختیار سچے اللہ کو حاصل ہے۔ وہی ہے جو بہتر ثواب دیتا اور بہتر انجام دکھاتا ہے۔

﴿45﴾ اور ان لوگوں سے دنیوی زندگی کی یہ مثال بھی بیان کردو کہ وہ ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا، تو اس سے زمین کا سبزہ خوب گھنا ہوگیا، پھر وہ ایسا ریزہ ریزہ ہوا کہ اسے ہوائیں اڑا لے جاتی ہیں۔ اور اللہ ہر چیز پر مکمل قدرت رکھتا ہے۔

﴿46﴾ مال اور اولاد دنیوی زندگی کی زینت ہیں، اور جو نیکیاں پائیدار رہنے والی ہیں، وہ تمہارے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں، اور امید وابستہ کرنے کے لیے بھی بہتر۔

﴿47﴾ اور (اس دن کا دھیان رکھو) جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے۔ اور تم زمین کو دیکھو گے کہ وہ کھلی پڑی ہے، اور ہم ان سب کو گھیر کر اکٹھا کردیں گے، اور ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔

﴿48﴾ اور سب کو تمہارے رب کے سامنے صف باندھ کر پیش کیا جائے گا۔ آخر تم ہمارے پاس اسی طرح آگئے جس طرح ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔ اس کے برعکس تمہارا دعوی یہ تھا کہ ہم تمہارے لیے (یہ) مقرر وقت کبھی نہیں لائیں گے۔

﴿49﴾ اور (اعمال کی) کتاب سامنے رکھ دی جائے گی۔ چنانچہ تم مجرموں کو دیکھو گے کہ وہ اس کے مندرجات سے خوف زدہ ہیں، اور کہہ رہے ہیں کہ : ہائے ہماری بربادی ! یہ کیسی کتاب ہے جس نے ہمارا کوئی چھوٹا بڑا عمل ایسا نہیں چھوڑا جس کا پورا احاطہ نہ کرلیا ہو۔ اور وہ اپنا سارا کیا دھرا اپنے سامنے موجود پائیں گے۔ اور تمہارا پروردگار کسی پر کوئی ظلم نہیں کرے گا۔

﴿50﴾ اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ : آدم کے آگے سجدہ کرو۔ چنانچہ سب نے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے وہ جنات میں سے تھا، چنانچہ اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔ کیا پھر بھی تم میرے بجائے اسے اور اس کی ذریت کو اپنا رکھوالا بناتے ہو۔ حالانکہ وہ سب تمہارے دشمن ہیں ؟ (اللہ تعالیٰ کا) کتنا برا متبادل ہے جو ظالموں کو ملا ہے۔

﴿51﴾ میں نے نہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے وقت ان کو حاضر کیا تھا، نہ خود ان کو پیدا کرتے وقت، اور میں ایسا نہیں ہوں کہ گمراہ کرنے والوں کو دست وبازو بناؤں۔

﴿52﴾ اور اس دن کا دھیان کرو جب اللہ (ان مشرکوں سے) کہے گا کہ : ذرا پکارو ان کو جنہیں تم نے میری خدائی میں شریک سمجھ رکھا تھا۔ چنانچہ وہ پکاریں گے، لیکن وہ ان کو کوئی جواب نہیں دیں گے، اور ہم ان کے درمیان ایک مہلک آڑ حائل کردیں گے۔

﴿53﴾ اور مجرم لوگ آگ کو دیکھیں گے تو سمجھ جائیں گے کہ انہیں اسی میں گرنا ہے، اور اس سے بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پائیں گے۔

﴿54﴾ اور ہم نے لوگوں کے فائدے کے لیے اس طرح قرآن میں طرح طرح سے ہر قسم کے مضامین بیان کیے ہیں، اور انسان ہے کہ جھگڑا کرنے میں ہر چیز سے بڑھ گیا ہے۔

﴿55﴾ اور جب لوگوں کے پاس ہدایت آچکی تو اب انہیں ایمان لانے اور اپنے رب سے معافی مانگنے سے اس (مطالبے) کے سوا کوئی اور چیز نہیں روک رہی کہ ان کے ساتھ بھی پچھلے لوگوں جیسے واقعات پیش آجائیں، یا عذاب ان کے بالکل سامنے آکھڑا ہو۔

﴿56﴾ اور ہم پیغمبروں کو صرف اس لیے بھیجتے ہیں کہ وہ (مومنوں کو) خوشخبری دیں، اور (کافروں کو عذاب سے) متنبہ کریں۔ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ باطل کا سہارا لے کر جھگڑا کرتے ہیں، تاکہ اس کے ذریعے حق کو ڈگمگا دیں، اور انہوں نے میری آیتوں کو اور انہیں جو تنبیہ کی گئی تھی اس کو مذاق بنا رکھا ہے۔

﴿57﴾ اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی آیتوں کے حوالے سے نصیحت کی جائے، تو وہ ان سے منہ موڑ لے، اور اپنے ہاتھوں کے کرتوت کو بھلا بیٹھے ؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے (ان لوگوں کے کرتوت کی وجہ سے) ان کے دلوں پر غلاف چڑھا دیے ہیں جن کی وجہ سے وہ اس (قرآن) کو نہیں سمجھتے، اور ان کے کانوں میں ڈاٹ لگا دی ہے۔ اور اگر تم انہیں ہدایت کی طرف بلاؤ، تب بھی وہ صحیح راستے پر ہرگز نہیں آئیں گے۔

﴿58﴾ اور تمہارا پروردگار بہت بخشنے والا، بڑا رحمت والا ہے۔ جو کمائی انہوں نے کی ہے، اگر وہ اس کی وجہ سے انہیں پکڑنے پر آتا تو ان کو جلد ہی عذاب دے دیتا، لیکن ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے، جس سے بچنے کے لیے انہیں کوئی پناہ گاہ نہیں ملے گی۔

﴿59﴾ یہ ساری بستیاں (تمہارے سامنے) ہیں، جب انہوں نے ظلم کی روش اپنائی تو ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا، اور ان کی ہلاکت کے لیے (بھی) ہم نے ایک وقت مقرر کیا ہوا تھا۔

﴿60﴾ اور (اس وقت کا ذکر سنو) جب موسیٰ نے اپنے نوجوان (شاگرد) سے کہا تھا کہ : میں اس وقت تک اپنا سفر جاری رکھوں گا جب تک دو سمندروں کے سنگھم پر نہ پہنچ جاؤں، ورنہ برسوں چلتا رہوں گا۔

﴿61﴾ چنانچہ جب وہ ان کے سنگھم پر پہنچے تو دونوں اپنی مچھلی کو بھول گئے، اور اس نے سمندر میں ایک سرنگ کی طرح کا راستہ بنا لیا۔

﴿62﴾ پھر جب دونوں آگے نکل گئے، تو موسیٰ نے اپنے نوجوان سے کہا کہ : ہمارا ناشتہ لاؤ، سچی بات یہ ہے کہ ہمیں اس سفر میں بڑی تھکاوٹ لاحق ہوگئی ہے۔

﴿63﴾ اس نے کہا : بھلا بتائیے ! (عجیب قصہ ہوگیا) جب ہم اس چٹان پر ٹھہرے تھے تو میں مچھلی (کا آپ سے ذکر کرنا) بھول گیا۔ اور شیطان کے سوا کوئی نہیں ہے جس نے مجھ سے اس کا تذکرہ کرنا بھلا یا ہو، اور اس (مچھلی) نے تو بڑے عجیب طریقے پر دریا میں اپنی راہ لے لی تھی۔

﴿64﴾ موسیٰ نے کہا : اسی بات کی تو ہمیں تلاش تھی۔ چنانچہ دونوں اپنے قدموں کے نشان دیکھتے ہوئے واپس لوٹے۔

﴿65﴾ تب انہیں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ ملا جس کو ہم نے اپنی خصوصی رحمت سے نوازا تھا، اور خاص اپنی طرف سے ایک علم سکھایا تھا۔

﴿66﴾ موسیٰ نے ان سے کہا : کیا میں آپ کے ساتھ اس غرض سے رہ سکتا ہوں کہ آپ کو بھلائی کا جو علم عطا ہوا ہے، اس کا کچھ حصہ مجھے بھی سکھا دیں ؟

﴿67﴾ انہوں نے کہا : مجھے یقین ہے کہ آپ میرے ساتھ رہنے پر صبر نہیں کرسکیں گے۔

﴿68﴾ اور جن باتوں کی آپ کو پوری پوری واقفیت نہیں ہے، ان پر آپ صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں ؟

﴿69﴾ موسیٰ نے کہا : انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے، اور میں آپ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا۔

﴿70﴾ انہوں نے کہا : اچھا ! اگر آپ میرے ساتھ چلتے ہیں تو جب تک میں خود ہی آپ سے کسی بات کا تذکرہ شروع نہ کروں، آپ مجھ سے کسی بھی چیز کے بارے میں سوال نہ کریں۔

﴿71﴾ چنانچہ دونوں روانہ ہوگئے، یہاں تک کہ جب دونوں ایک کشتی میں سوار ہوئے تو ان صاحب نے کشتی میں چھید کردیا۔ موسیٰ بولے : ارے کیا آپ نے اس میں چھید کردیا تاکہ سارے کشتی والوں کو ڈبو ڈالیں ؟ یہ تو آپ نے بڑا خوفناک کام کیا۔

﴿72﴾ انہوں نے کہا : کیا میں نے کہا نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکیں گے ؟

﴿73﴾ موسیٰ نے کہا : مجھ سے جو بھول ہوگئی، اس پر میری گرفت نہ کیجیے، اور میرے کام کو زیادہ مشکل نہ بنایے۔

﴿74﴾ وہ دونوں پھر روانہ ہوگئے، یہاں تک کہ ان کی ملاقات ایک لڑکے سے ہوئی تو ان صاحب نے اسے قتل کر ڈالا۔ موسیٰ بول اٹھے : ارے کیا آپ نے ایک پاکیزہ جان کو ہلاک کردیا، جبکہ اس نے کسی کی جان نہیں لی تھی، جس کا بدلہ اس سے لیا جائے ؟ یہ تو آپ نے بہت ہی برا کام کیا۔

﴿75﴾ انہوں نے کہا : کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہنے پر صبر نہیں کرسکیں گے ؟

﴿76﴾ موسیٰ بولے : اگر اب میں آپ سے کوئی بات پوچھوں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے۔ یقینا آپ میری طرف سے عذر کی حد کو پہنچ گئے ہیں۔

﴿77﴾ چنانچہ وہ دونوں پھر روانہ ہوگئے، یہاں تک کہ جب ایک بستی والوں کے پاس پہنچے تو اس کے باشندوں سے کھانا مانگا تو ان لوگوں نے ان کی مہمانی کرنے سے انکار کردیا۔ پھر انہیں وہاں ایک دیوار ملی جو گرا ہی چاہتی تھی، ان صاحب نے اسے کھڑا کردیا۔ موسیٰ نے کہا : اگر آپ چاہتے تو اس کام پر کچھ اجرت لے لیتے۔

﴿78﴾ انہوں نے کہا : لیجیے میرے اور آپ کے درمیان جدائی کا وقت آگیا۔ اب میں آپ کو ان باتوں کا مقصد بتائے دیتا ہوں جن پر آپ سے صبر نہیں ہوسکا۔

﴿79﴾ جہاں تک کشتی کا تعلق ہے وہ کچھ غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں مزدوری کرتے تھے، میں نے چاہا کہ اس میں کوئی عیب پیدا کردوں، (کیونکہ) ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر (اچھی) کشتی کو زبردستی چھین کر رکھ لیا کرتا تھا۔

﴿80﴾ اور لڑکے کا معاملہ یہ تھا کہ اس کے ماں باپ مومن تھے، اور ہمیں اس بات کا اندیشہ تھا کہ یہ لڑکا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے۔

﴿81﴾ چنانچہ ہم نے یہ چاہا کہ ان کا پروردگار انہیں اس لڑکے کے بدلے ایسی اولاد دے جو پاکیزگی میں بھی اس سے بہتر ہو، اور حسن سلوک میں بھی اس سے بڑھی ہوئی ہو۔

﴿82﴾ رہی یہ دیوار، تو وہ اس شہر میں رہنے والے دو یتیم لڑکوں کی تھی، اور اس کے نیچے ان کا ایک خزانہ گڑا ہوا تھا، اور ان دونوں کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ اس لیے آپ کے پروردگار نے یہ چاہا کہ یہ دونوں لڑکے اپنی جوانی کی عمر کو پہنچیں، اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ یہ سب کچھ آپ کے رب کی رحمت کی بنا پر ہوا ہے، اور میں نے کوئی کام اپنی رائے سے نہیں کیا۔ یہ تھا مقصد ان باتوں کا جن پر آپ سے صبر نہیں ہوسکا۔

﴿83﴾ اور یہ لوگ تم سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ : میں ان کا کچھ حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں۔

﴿84﴾ واقعہ یہ ہے کہ ہم نے ان کو زمین میں اقتدار بخشا تھا، اور انہیں ہر کام کے وسائل عطا کیے تھے۔

﴿85﴾ جس کے نتیجے میں وہ ایک راستے کے پیچھے چل پڑے۔

﴿86﴾ یہاں تک کہ جب وہ سورج کے ڈوبنے کی جگہ پہنچے تو انہیں دکھائی دیا کہ وہ ایک دلدل جیسے (سیاہ) چشمے میں ڈوب رہا ہے۔ اور وہاں انہیں ایک قوم ملی۔ ہم نے (ان سے) کہا : اے ذوالقرنین ! (تمہارے پاس دو راستے ہیں) یا تو ان لوگوں کو سزا دو ، یا پھر ان کے معاملے میں اچھا رویہ اختیار کرو۔

﴿87﴾ انہوں نے کہا : ان میں سے جو کوئی ظلم کا راستہ اختیار کرے گا، اسے تو ہم سزا دیں گے، پھر اسے اپنے رب کے پاس پہنچا دیا جائے گا، اور وہ اسے سخت عذاب دے گا۔

﴿88﴾ البتہ جو کوئی ایمان لائے گا، اور نیک عمل کرے گا تو وہ بدلے کے طور پر اچھے انجام کا مستحق ہوگا، اور ہم بھی اس کو اپنا حکم دیتے وقت آسانی کی بات کہیں گے۔

﴿89﴾ اس کے بعد وہ ایک اور راستے کے پیچھے چل پڑے۔

﴿90﴾ یہاں تک کہ جب وہ سورج کے طلوع ہونے کی جگہ پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ وہ ایک ایسی قوم پر طلوع ہورہا ہے جسے ہم نے اس (کی دھوپ) سے بچنے کے لیے کوئی اوٹ مہیا نہیں کی تھی۔

﴿91﴾ واقعہ اسی طرح ہوا، اور ذوالقرنین کے پاس جو کچھ (سازوسامان) تھا، ہمیں اس کی پوری پوری خبر تھی۔

﴿92﴾ اس کے بعد وہ ایک اور راستے کے پیچھے چل پڑے۔

﴿93﴾ یہاں تک کہ جب وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچے تو انہیں ان پہاڑوں سے پہلے کچھ لوگ ملے جن کے بارے میں ایسا لگتا تھا کہ وہ کوئی بات نہیں سمجھتے۔

﴿94﴾ انہوں نے کہا : اے ذوالقرنین ! یاجوج اور ماجوج اس زمین میں فساد پھیلانے والے لوگ ہیں۔ تو کیا ہم آپ کو کچھ مال کی پیش کش کرسکتے ہیں، جس کے بدلے آپ ہمارے اور ان کے درمیان کوئی دیوار بنادیں ؟

﴿95﴾ ذوالقرنین نے کہا : اللہ نے مجھے جو اقتدار عطا فرمایا ہے، وہی (میرے لیے) بہتر ہے۔ لہذا تم لوگ (ہاتھ پاؤں کی) طاقت سے میری مدد کرو، تو میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنا دوں گا۔

﴿96﴾ مجھے لوہے کی چادریں لادو، یہاں تک کہ جب انہوں نے (درمیانی خلا کو پاٹ کر) دونوں پہاڑی سروں کو ایک دوسرے سے ملا دیا تو کہا کہ : اب آگ دہکاؤ، یہاں تک کہ جب اس (دیوار) کو لال انگارا کردیا تو کہا کہ : پگھلا ہوا تانبا لاؤ، اب میں اس پر انڈیلوں گا۔

﴿97﴾ چنانچہ (وہ دیوار ایسی بن گئی کہ) یاجوج ماجوج نہ اس پر چڑھنے کی طاقت رکھتے تھے، اور نہ اس میں کوئی سوراخ بنا سکتے تھے۔

﴿98﴾ ذوالقرنین نے کہا : یہ میرے رب کی رحمت ہے (کہ اس نے ایسی دیوار بنانے کی توفیق دی) پھر میرے رب نے جس وقت کا وعدہ کیا ہے جب وہ وقت آئے گا تو وہ اس (دیوار) کو ڈھا کر زمین کے برابر کردے گا، اور میرے رب کا وعدہ بالکل سچا ہے۔

﴿99﴾ اور اس دن ہم ان کی یہ حالت کردیں گے کہ وہ موجوں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہوں گے، اور صور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو ایک ساتھ جمع کرلیں گے۔

﴿100﴾ اور اس دن ہم دوزخ کو ان کافروں کے سامنے کھلی آنکھوں لے آئیں گے۔

﴿101﴾ جن کی آنکھوں پر (دنیا میں) میری نصیحت کی طرف سے پردہ پڑا ہوا تھا، اور جو سننے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔

﴿102﴾ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، کیا وہ پھر بھی یہ سمجھتے ہیں کہ مجھے چھوڑ کر میرے ہی بندوں کو اپنا رکھوالا بنالیں گے ؟ یقین رکھو کہ ہم نے ایسے کافروں کی مہمانی کے لیے دوزخ تیار کر رکھی ہے۔

﴿103﴾ کہہ دو کہ : کیا ہم تمہیں بتائیں کہ کون لوگ ہیں جو اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام ہیں ؟

﴿104﴾ یہ وہ لوگ ہیں کہ دنیوی زندگی میں ان کی ساری دوڑ دھوپ سیدھے راستے سے بھٹکی رہی، اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔

﴿105﴾ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے مالک کی آیتوں کا اور اس کے سامنے پیش ہونے کا انکار کیا، اس لیے ان کا سارا کیا دھرا غارت ہوگیا۔ چنانچہ قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن شمار نہیں کریں گے۔

﴿106﴾ یہ ہے جہنم کی شکل میں ان کی سزا، کیونکہ انہوں نے کفر کی روش اختیار کی تھی، اور میری آیتوں اور میرے پیغمبروں کا مذاق بنایا تھا۔

﴿107﴾ (دوسری طرف) جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کی مہمانی کے لیے بیشک فردوس کے باغ ہوں گے۔

﴿108﴾ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے (اور) وہ وہاں سے کہیں اور جانا نہیں چاہیں گے۔

﴿109﴾ (اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ : اگر میرے رب کی باتیں لکھنے کے لیے سمندر روشنائی بن جائے، تو میرے رب کی باتیں ختم نہیں ہوں گی کہ اس سے پہلے سمندر خشک ہوچکا ہوگا، چاہے اس سمندر کی کمی پوری کرنے کے لیے ہم ویسا ہی ایک اور سمندر کیوں نہ لے آئیں۔

﴿110﴾ کہہ دو کہ : میں تو تمہی جیسا ایک انسان ہوں (البتہ) مجھ پر یہ وحی آتی ہے کہ تم سب کا خدا بس ایک خدا ہے۔ لہذا جس کسی کو اپنے مالک سے جاملنے کی امید ہو، اسے چاہیے کہ وہ نیک عمل کرے، اور اپنے مالک کی عبادت میں کسی اور کو شریک نہ ٹھہرائے۔

مریم

Surah 19

﴿1﴾ کھیعص

﴿2﴾ یہ تذکرہ ہے اس رحمت کا جو تمہارے پروردگار نے اپنے بندے زکریا پر کی تھی۔

﴿3﴾ یہ اس وقت کی بات ہے جب انہوں نے اپنے پروردگار کو آہستہ آہستہ آواز سے پکارا تھا۔

﴿4﴾ انہوں نے کہا تھا کہ : میرے پروردگار ! میری ہڈیاں کمزور پڑگئی ہیں، اور سر بڑھاپے کی سفیدی سے بھڑک اٹھا ہے، اور میرے پروردگار ! میں آپ سے دعا مانگ کر کبھی نامراد نہیں ہوا۔

﴿5﴾ اور مجھے اپنے بعد اپنے چچازاد بھائیوں کا اندیشہ لگا ہوا ہے۔ اور میری بیوی بانجھ ہے، لہذا آپ خاص اپنے پاس سے مجھے ایک ایسا وارث عطا کردیجیے۔

﴿6﴾ جو میرا بھی وارث ہو، اور یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد سے بھی میراث پائے۔ اور یا رب ! اسے ایسا بنایے جو (خود آپ کا) پسندیدہ ہو۔

﴿7﴾ (آواز آئی کہ) اے زکریا ! ہم تمہیں ایک ایسے لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحی ہوگا۔ اس سے پہلے ہم نے اس کے نام کا کوئی اور شخص پیدا نہیں کیا۔

﴿8﴾ زکریا نے کہا : میرے پروردگار ! میرے یہاں لڑکا کس طرح پیدا ہوگا جبکہ میری بیوی بانجھ ہے، اور میں بڑھاپے سے اس حال کو پہنچ گیا ہوں کہ میرا جسم سوکھ چکا ہے۔

﴿9﴾ کہا : ہاں ! ایسا ہی ہوگا۔ تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ یہ تو میرے لیے معمولی بات ہے، اور اس سے پہلے میں نے تمہیں پیدا کیا تھا جب تم کچھ بھی نہیں تھے۔

﴿10﴾ زکریا نے کہا : میرے پروردگار ! میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما دیجیے۔ فرمایا : تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم صحت مند ہونے کے باوجود تین رات تک لوگوں سے بات نہیں کرسکو گے۔

﴿11﴾ چنانچہ وہ عبادت گاہ سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آئے، اور ان کو اشارے سے ہدایت دی کہ تم لوگ صبح و شام اللہ کی تسبیح کیا کرو۔

﴿12﴾ (پھر جب یحی پیدا ہو کر بڑے ہوگئے تو ہم نے ان سے فرمایا) اے یحی ! کتاب کو مضبوطی سے تھام لو۔ اور ہم نے بچپن ہی میں ان کو دانائی بھی عطا کردی تھی۔

﴿13﴾ اور خاص اپنے پاس سے نرم دلی اور پاکیزگی بھی۔ اور وہ بڑے پرہیزگار تھے۔

﴿14﴾ اور اپنے والدین کے خدمت گزار ! نہ وہ سرکش تھے، نہ نافرمان۔

﴿15﴾ اور (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) سلام ہے ان پر اس دن بھی جس روز وہ پیدا ہوئے، اس دن بھی جس روز انہیں موت آئے گی، اور اس دن بھی جس روز انہیں زندہ کر کے دوبارہ اٹھایا جائے گا۔

﴿16﴾ اور اس کتاب میں مریم کا بھی تذکرہ کرو۔ اس وقت کا تذکرہ جب وہ اپنے گھر والوں سے علیحدہ ہو کر اس جگہ چلی گئیں جو مشرق کی طرف واقع تھا۔

﴿17﴾ پھر انہوں نے ان لوگوں کے اور اپنے درمیان ایک پردہ ڈال لیا۔ اس موقع پر ہم نے ان کے پاس اپنی روح (یعنی ایک فرشتے) کو بھیجا جو ان کے سامنے ایک مکمل انسان کی شکل میں ظاہر ہوا۔

﴿18﴾ مریم نے کہا : میں تم سے خدائے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں۔ اگر تم میں خدا کا خوف ہے (تو یہاں سے ہٹ جاؤ)

﴿19﴾ فرشتے نے کہا : میں تو تمہارے رب کا بھیجا ہوا (فرشتہ) ہوں (اور اس لیے آیا ہوں) تاکہ تمہیں ایک پاکیزہ لڑکا دوں۔

﴿20﴾ مریم نے کہا : میرے لڑکا کیسے ہوجائے گا، جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں ہے، اور نہ میں کوئی بدکار عورت ہوں ؟

﴿21﴾ فرشتے نے کہا : ایسے ہی ہوجائے گا۔ تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ : یہ میرے لیے ایک معمولی بات ہے۔ اور ہم یہ کام اس لیے کریں گے تاکہ اس لڑکے کو لوگوں کے لیے (اپنی قدرت کی) ایک نشانی بنائیں۔ اور اپنی طرف سے رحمت کا مظاہرہ کریں اور یہ بات پوری طرح طے ہوچکی ہے۔

﴿22﴾ پھر ہوا یہ کہ مریم کو اس بچے کا حمل ٹھہر گیا (اور جب ولادت کا وقت قریب آیا) تو وہ اس کو لے کر لوگوں سے الگ ایک دور مقام پر چلی گئیں۔

﴿23﴾ پھر زچگی کے درد نے انہیں ایک کھجور کے درخت کے پاس پہنچا دیا۔ وہ کہنے لگیں : کاش کہ میں اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی، اور مر کر بھولی بسری ہوجاتی۔

﴿24﴾ پھر فرشتے نے ان کے نیچے ایک جگہ سے انہیں آواز دی کہ : غم نہ کرو، تمہارے رب نے تمہارے نیچے ایک چشمہ پیدا کردیا ہے۔

﴿25﴾ اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ، اس میں سے پکی ہوئی تازہ کھجوریں تم پر جھڑیں گی۔

﴿26﴾ اب کھاؤ، اور پیو، اور آنکھیں ٹھنڈی رکھو۔ اور اگر لوگوں میں سے کسی کو آتا دیکھو تو (اشارے سے) کہہ دینا کہ : آج میں نے خدائے رحمن کے لیے ایک روزے کی منت مانی ہے، اس لیے میں کسی بھی انسان سے بات نہیں کروں گی۔

﴿27﴾ پھر وہ اس بچے کو اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں وہ کہنے لگے کہ : مریم تم نے تو بڑا غضب ڈھا دیا۔

﴿28﴾ اے ہارون کی بہن نہ تو تمہارا باپ کوئی برا آدمی تھا، نہ تمہاری ماں کوئی بدکار عورت تھی۔

﴿29﴾ اس پر مریم نے اس بچے کی طرف اشارہ کیا۔ لوگوں نے کہا : بھلا ہم اس سے کیسے بات کریں جو ابھی پالنے میں پڑا ہوا بچہ ہے ؟

﴿30﴾ (اس پر) بچہ بول اٹھا کہ : میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی ہے، اور نبی بنایا ہے۔

﴿31﴾ اور جہاں بھی میں رہوں، مجھے بابرکت بنایا ہے، اور جب تک زندہ رہوں، مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہے۔

﴿32﴾ اور مجھے اپنی والدہ کا فرمانبردار بنایا ہے، اور مجھے سرکش اور سنگ دل نہیں بنایا۔

﴿33﴾ اور (اللہ کی طرف سے) سلامتی ہے مجھ پر اس دن بھی جب میں پیدا ہوا، اور اس دن بھی جس دن میں مروں گا، اور اس دن بھی جب مجھے دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔

﴿34﴾ یہ ہیں عیسیٰ بن مریم ! ان (کی حقیقت) کے بارے میں سچی بات یہ ہے جس میں لوگ جھگڑ رہے ہیں۔

﴿35﴾ اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کوئی بیٹا بنائے، اس کی ذات پاک ہے۔ جب وہ کسی بات کا فیصلہ کرلیتا ہے تو بس اس سے یہ کہتا ہے کہ ہوجا۔ چنانچہ وہ ہو جاتی ہے۔

﴿36﴾ اور (اے پیغمبر ! لوگوں سے کہہ دو کہ :) یقینا اللہ میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار، اس لیے اس کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔

﴿37﴾ پھر بھی ان میں سے مختلف گروہوں نے اختلاف ڈال دیا ہے، چنانچہ جس دن یہ ایک زبردست دن کا مشاہدہ کریں گے، اس دن ان کی بڑی تباہی ہوگی جنہوں نے کفر کا ارتکاب کیا ہے۔

﴿38﴾ جس روز یہ ہمارے پاس آئیں گے اس دن یہ کتنے سننے والے اور دیکھنے والے بن جائیں گے۔ لیکن یہ ظالم آج کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔

﴿39﴾ اور (اے پیغمبر) ان کو اس پچھتاوے کے دن سے ڈرایے جب ہر بات کا آخری فیصلہ ہوجائے گا، جبکہ یہ لوگ (اس وقت) غفلت میں ہیں، اور ایمان نہیں لارہے۔

﴿40﴾ یقین جانو کہ زمین اور اس پر سارے رہنے والوں کے وارث ہم ہی ہوں گے، اور ہماری طرف ہی ان سب کو لوٹایا جائے گا۔

﴿41﴾ اور اس کتاب میں ابراہیم کا بھی تذکرہ کرو۔ بیشک وہ سچائی کے خوگر نبی تھے۔

﴿42﴾ یاد کرو جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا تھا کہ : ابا جان ! آپ ایسی چیزوں کی کیوں عبادت کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں، نہ دیکھتی ہیں، اور نہ آپ کا کوئی کام کرسکتی ہیں ؟

﴿43﴾ ابا جان ! میرے پاس ایک ایسا علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا، اس لیے میری بات مان لیجیے، میں آپ کو سیدھا راستہ بتلا دوں گا۔

﴿44﴾ ابا جان ! شیطان کی عبادت نہ کیجیے یقین جانیے کہ شیطان خدائے رحمن کا نافرمان ہے۔

﴿45﴾ ابا جان ! مجھے اندیشہ ہے کہ خدائے رحمن کی طرف سے آپ کو کوئی عذاب نہ آپکڑے، جس کے نتیجے میں آپ شیطان کے ساتھی بن کر رہ جائیں۔

﴿46﴾ ان کے باپ نے کہا : ابراہیم ! کیا تم میرے خداؤں سے بیزار ہو ؟ یاد رکھو، اگر تم باز نہ آئے تو میں تم پر پتھر برساؤں گا، اور اب تم ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور ہوجاؤ۔

﴿47﴾ ابراہیم نے کہا : میں آپ کو (رخصت کا) سلام کرتا ہوں۔ میں اپنے پروردگار سے آپ کی بخشش کی دعا کروں گا۔ بیشک وہ مجھ پر بہت مہربان ہے۔

﴿48﴾ اور میں آپ لوگوں سے بھی الگ ہوتا ہوں، اور اللہ کو چھوڑ کر آپ لوگ جن جن کی عبادت کرتے ہیں، ان سے بھی، اور میں اپنے پروردگار کو پکارتا رہوں گا۔ مجھے پوری امید ہے کہ اپنے رب کو پکار کر میں نامراد نہیں رہوں گا۔

﴿49﴾ چنانچہ جب وہ ان سے اور ان (بتوں) سے الگ ہوگئے جنہیں وہ اللہ کے بجائے پکارا کرتے تھے، تو ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب (جیسی اولاد) بخشی، اور ان میں سے ہر ایک کو نبی بنایا۔

﴿50﴾ اور ان کو اپنی رحمت سے نوازا، اور انہیں اونچے درجے کی نیک نامی عطا کی۔

﴿51﴾ اور اس کتاب میں موسیٰ کا بھی تذکرہ کرو۔ بیشک وہ اللہ کے چنے ہوئے بندے تھے، اور رسول اور نبی تھے۔

﴿52﴾ ہم نے انہیں کوہ طور کی دائیں جانب سے پکارا اور انہیں اپنا راز دار بنا کر اپنا قرب عطا کیا۔

﴿53﴾ اور ہم نے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر اپنی رحمت سے انہیں (ایک مددگار) عطا کیا۔

﴿54﴾ اور اس کتاب میں اسماعیل کا بھی تذکرہ کرو۔ بیشک وہ وعدے کے سچے تھے اور رسول اور نبی تھے۔

﴿55﴾ اور وہ اپنے گھر والوں کو بھی نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا کرتے، اور اپنے پروردگار کے نزدیک پسندیدہ تھے۔

﴿56﴾ اور اس کتاب میں ادریس کا بھی تذکرہ کرو، بیشک وہ سچائی کے خوگر نبی تھے۔

﴿57﴾ اور ہم نے انہیں رفعت دے کر ایک بلند مقام تک پہنچا دیا تھا

﴿58﴾ آدم کی اولاد میں سے یہ وہ نبی ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا، اور ان میں سے کچھ ان لوگوں کی اولاد میں سے ہیں جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا تھا، اور کچھ ابراہیم اور اسرائیل (یعقوب (علیہ السلام)) کی اولاد میں سے ہیں۔ اور یہ سب ان لوگوں میں سے ہیں جن کو ہم نے ہدایت دی، اور (اپنے دین کے لیے) منتخب کیا۔ جب ان کے سامنے خدائے رحمن کی آیتوں کی تلاوت کی جاتی تو یہ روتے ہوئے سجدے میں گرجاتے تھے۔

﴿59﴾ پھر ان کے بعد ایسے لوگ ان کی جگہ آئے جنہوں نے نمازوں کو برباد کیا، اور اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے چلے۔ چنانچہ ان کی گمراہی بہت جلد ان کے سامنے آجائے گی۔

﴿60﴾ البتہ جن لوگوں نے توبہ کرلی، اور ایمان لے آئے، اور نیک عمل کیے تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اور ان پر ذرا بھی ظلم نہیں ہوگا۔

﴿61﴾ (ان کا داخلہ) ایسے ہمیشہ باقی رہنے والے باغات میں (ہوگا) جن کا خدائے رحمن نے اپنے بندوں سے ان کے دیکھے بغیر وعدہ کر رکھا ہے۔ یقینا اس کا وعدہ ایسا ہے کہ یہ اس تک ضرور پہنچیں گے۔

﴿62﴾ وہ اس میں سلامتی کی باتوں کے سوا کوئی لغو بات نہیں سنیں گے۔ اور وہاں ان کا رزق انہیں صبح و شام ملا کرے گا۔

﴿63﴾ یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اس کو بنائیں گے جو متقی ہو۔

﴿64﴾ اور (فرشتے تم سے یہ کہتے ہیں کہ) ہم آپ کے رب کے حکم کے بغیر اتر کر نہیں آتے۔ جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ ہمارے پیچھے ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، وہ سب اسی کی ملکیت ہے۔ اور تمہارا رب ایسا نہیں ہے جو بھول جایا کرے۔

﴿65﴾ وہ آسمانوں اور زمین کا بھی مالک ہے، اور جو مخلوقات ان کے درمیان ہیں، ان کا بھی، لہذا تم اس کی عبادت کرو، اور اس کی عبادت پر جمے رہو۔ کیا تمہارے علم میں کوئی اور ہے جو اس جیسی صفات رکھتا ہو ؟

﴿66﴾ اور (کافر) انسان یہ کہتا ہے کہ : جب میں مرچکا ہوں گا تو کیا واقعی اس وقت مجھے زندہ کر کے نکالا جائے گا ؟

﴿67﴾ کیا اس انسان کو یہ بات یاد نہیں آتی کہ ہم نے اسے شروع میں اس وقت پیدا کیا تھا جب وہ کچھ بھی نہیں تھا ؟

﴿68﴾ تو قسم ہے تمہارے پروردگار کی ! ہم ان کو اور ان کے ساتھ سارے شیطانوں کو ضرور اکٹھا کریں گے، پھر ان کو دوزخ کے گرد اس طرح لے کر آئیں گے کہ یہ سب گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے۔

﴿69﴾ پھر ان کے ہر گروہ میں سے ان لوگوں کو کھیچ نکالیں گے جو خدائے رحمن کے ساتھ سرکشی کرنے میں زیادہ سخت تھے۔

﴿70﴾ پھر یہ بات ہم ہی خوب جانتے ہیں کہ وہ کون لوگ ہیں جو سب سے پہلے اس دوزخ میں جھونکے جانے کے زیادہ مستحق ہیں۔

﴿71﴾ اور تم میں سے کوئی نہیں ہے جس کا اس (دوزخ) پر گزر نہ ہو۔ اس بات کا تمہارے پروردگار نے حتمی طور پر ذمہ لے رکھا ہے۔

﴿72﴾ پھر جن لوگوں نے تقوی اختیار کیا ہے، انہیں تو ہم نجات دے دیں گے، اور جو ظالم ہیں، انہیں اس حالت میں چھوڑ دیں گے کہ وہ اس (دوزخ میں) گھٹنوں کے بل پڑے ہوں گے۔

﴿73﴾ اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں، تو کافر لوگ مومنوں سے کہتے ہیں کہ : بتاؤ، ہم دونوں فریقوں میں سے کس کا مقام زیادہ بہتر ہے، اور کس کی مجلس زیادہ اچھی ہے ؟

﴿74﴾ اور (یہ نہیں دیکھتے کہ) ان سے پہلے ہم کتنی نسلیں ہلاک کرچکے ہیں، جو اپنے سازو سامان اور ظاہری آن بان میں ان سے کہیں بہتر تھیں۔

﴿75﴾ کہہ دو کہ : جو لوگ گمراہی میں جا پڑیں تو ان کے لیے مناسب یہی ہے کہ خدائے رحمن انہیں خوب ڈھیل دیتا رہے۔ یہاں تک کہ جب یہ لوگ وہ چیز خود دیکھ لیں گے جس سے انہیں ڈرایا جارہا ہے، چاہے وہ (اس دنیا کا) عذاب ہو، یا قیامت، تو اس وقت انہیں پتہ چلے گا کہ بدترین مقام کس کا تھا، اور لشکر کس کا زیادہ کمزور تھا۔

﴿76﴾ اور جن لوگوں نے سیدھا راستہ اختیار کرلیا ہے، اللہ ان کو ہدایت میں اور ترقی دیتا ہے۔ اور جو نیک عمل باقی رہنے والے ہیں، ان کا بدلہ بھی تمہارے پروردگار کے یہاں بہتر ملے گا، اور ان کا (مجموعی) انجام بھی بہتر ہوگا۔

﴿77﴾ بھلا تم نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے ہماری آیتوں کو ماننے سے انکار کیا، اور یہ کہا ہے کہ : مجھے مال اور اولاد (آخرت میں بھی) ضرور ملیں گے۔

﴿78﴾ کیا اس نے عالم غیب میں جھانک کر دیکھ لیا ہے، یا اس نے خدائے رحمن سے کوئی عہد لے رکھا ہے ؟

﴿79﴾ ہرگز نہیں ! جو کچھ یہ کہہ رہا ہے ہم اسے بھی لکھ رکھیں گے، اور اس کے عذاب میں اور اضافہ کردیں گے۔

﴿80﴾ اور جس (مال اور اولاد) کا یہ حوالہ دے رہا ہے، اس کے وارث ہم ہوں گے، اور یہ ہمارے پاس تن تنہا آئے گا۔

﴿81﴾ اور ان لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود اس لیے بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کی پشت پناہی کریں۔

﴿82﴾ یہ سب غلط بات ہے ! وہ تو ان کی عبادت ہی کا انکار کردیں گے، اور الٹے ان کے مخالف ہوجائیں گے۔

﴿83﴾ (اے پیغمبر) کیا تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ ہم نے کافروں پر شیاطین چھوڑ رکھے ہیں جو انہیں برابر اکساتے رہتے ہیں ؟

﴿84﴾ لہذا تم ان کے معاملے میں جلدی نہ کرو، ہم تو ان کے لیے گنتی گن رہے ہیں۔

﴿85﴾ (اس دن کو نہ بھولو) جس دن ہم سارے متقی لوگوں کو مہمان بنا کر خدائے رحمن کے پاس جمع کریں گے۔

﴿86﴾ اور مجرموں کو پیاسے جانوروں کی طرح ہنکا کر دوزخ کی طرف لے جائیں گے۔

﴿87﴾ لوگوں کو کسی کی سفارش کرنے کا اختیار بھی نہیں ہوگا، سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے خدائے رحمن سے کوئی اجازت حاصل کرلی ہو۔

﴿88﴾ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ خدائے رحمن کی کوئی اولاد ہے۔

﴿89﴾ (ایسی بات کہنے والو !) حقیقت یہ ہے کہ تم نے بڑی سنگین حرکت کی ہے۔

﴿90﴾ کچھ بعید نہیں کہ اس کی وجہ سے آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ٹوٹ کر گرپڑیں۔

﴿91﴾ کہ ان لوگوں نے خدائے رحمن کے لیے اولاد ہونے کا دعوی کیا ہے۔

﴿92﴾ حالانکہ خدائے رحمن کی یہ شان نہیں ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو۔

﴿93﴾ آسمانوں اور زمین میں جتنے لوگ ہیں، ان میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو خدائے رحمن کے حضور بندہ بن کر نہ آئے۔

﴿94﴾ یقین رکھو کہ اس نے سب کا احاطہ کر رکھا ہے اور انہیں خوب اچھی طرح گن رکھا ہے۔

﴿95﴾ اور قیامت کے دن میں سے ایک ایک شخص اس کے پاس اکیلا آئے گا۔

﴿96﴾ (ہاں) بیشک جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، خدائے رحمن ان کے لیے دلوں میں محبت پیدا کردے گا۔

﴿97﴾ چنانچہ (اے پیغمبر) ہم نے اس قرآن کو تمہاری زبان میں آسان بنادیا ہے تاکہ تم اس کے ذریعے متقی لوگوں کو خوشخبردی دو ، اور اسی کے ذریعے ان لوگوں کو ڈراؤ جو ضد کی وجہ سے جھگڑے پر آمادہ ہیں۔

﴿98﴾ ان سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ کیا تمہیں ٹٹولنے سے بھی ان میں سے کسی کا پتہ ملتا ہے، یا ان میں سے کسی کی بھنک بھی تمہیں سنائی دیتی ہے ؟

طٰہٰ

Surah 20

﴿1﴾ طہ ۔

﴿2﴾ ہم نے تم پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم تکلیف اٹھاؤ

﴿3﴾ البتہ یہ اس شخص کے لیے ایک نصیحت ہے جو ڈرتا ہو۔

﴿4﴾ اسے اس ذات کی طرف سے تھوڑ ا تھوڑا کر کے نازل کیا جارہا ہے جس نے زمین اور اونچے اونچے آسمان پیدا کیے ہیں۔

﴿5﴾ وہ بڑی رحمت والا عرش پر استوا فرمائے ہوئے ہے۔

﴿6﴾ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اور ان کے درمیان جو کچھ ہے وہ سب بھی اسی کی ملکیت ہے، اور زمین کی تہوں کے نیچے جو کچھ ہے وہ بھی۔

﴿7﴾ اگر تم کوئی بات بلند آواز سے کہو (یا آہستہ) تو وہ چپکے سے کہی ہوئی باتوں کو، بلکہ اور زیادہ چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہے۔

﴿8﴾ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کے اچھے اچھے نام ہیں۔

﴿9﴾ اور (اے پیغمبر) کیا تم تک موسیٰ کا واقعہ پہنچا ہے ؟

﴿10﴾ یہ اس وقت کی بات ہے جب ان کو ایک آگ نظر آئی تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا : تم یہیں ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ شاید میں اس میں سے کوئی شعلہ تمہارے پاس لے آؤں، یا اس آگ کے پاس مجھے راستے کا پتہ مل جائے۔

﴿11﴾ چنانچہ جب وہ آگ کے پاس پہنچے تو انہیں آواز دی گئی کہ : اے موسیٰ ۔

﴿12﴾ یقین سے جان لو کہ میں ہی تمہارا رب ہوں۔ اب تم اپنے جوتے اتار دو ، تم اس وقت طوی کی مقدس وادی میں ہو۔

﴿13﴾ اور میں نے تمہیں (نبوت کے لیے) منتخب کیا ہے۔ لہذا جو بات وحی کے ذریعے کہی جارہی ہے اسے غور سے سنو۔

﴿14﴾ حقیقت یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس لیے میری عبادت کرو، اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کرو۔

﴿15﴾ یقین رکھو کہ قیامت کی گھڑی آنے والی ہے، میں اس (کے وقت) کو خفیہ رکھنا چاہتا ہوں، تاکہ ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلہ ملے۔

﴿16﴾ لہذا کوئی شخص تمہیں اس سے ہرگز غافل نہ کرنے پائے جو اس پر ایمان نہ رکھتا ہو، اور اپنی خواہشات کے پیچھے چلتا ہو، ورنہ تم ہلاکت میں پڑجاؤ گے۔

﴿17﴾ اور موسیٰ یہ تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے ؟

﴿18﴾ موسیٰ نے کہا : یہ میری لاٹھی ہے، میں اس کا سہارا لیتا ہوں، اور اس سے اپنی بکریوں پر (درخت سے) پتے جھاڑتا ہوں، اور اس سے میری دوسری ضروریات بھی پوری ہوتی ہیں۔

﴿19﴾ فرمایا : موسیٰ ! اسے نیچے پھینک دو ۔

﴿20﴾ چنانچہ انہوں نے اسے پھینک دیا۔ بس پھر کیا تھا۔ وہ اچانک ایک دوڑتا ہوا سانپ بن گئی۔

﴿21﴾ اللہ نے فرمایا : اسے پکڑ لو، اور ڈرو نہیں۔ ہم ابھی اسے اس کی پچھلی حالت پر لوٹا دیں گے۔

﴿22﴾ اور اپنے ہاتھ کو اپنی بغل میں دباؤ، وہ کسی بیماری کے بغیر سفید ہو کر نکلے گا۔ یہ (تمہاری نبوت کی) ایک اور نشانی ہوگی۔

﴿23﴾ (یہ ہم اس لیے کر رہے ہیں) تاکہ اپنی بڑی نشانیوں میں سے کچھ تمہیں دکھائیں۔

﴿24﴾ (اب) فرعون کے پاس جاؤ۔ وہ سرکشی میں حد سے نکل گیا ہے۔

﴿25﴾ موسیٰ نے کہا : پروردگار ! میری خاطر میرا سینہ کھول دیجیے۔

﴿26﴾ اور میرے لیے میرا کام آسان بنا دیجیے۔

﴿27﴾ اور میری زبان میں جو گرہ ہے اسے دور کردیجیے

﴿28﴾ تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں۔

﴿29﴾ اور میرے لیے میرے خاندان ہی کے ایک فرد کو مددگار مقرر کردیجیے۔

﴿30﴾ یعنی ہارون کو جو میرے بھائی ہیں۔

﴿31﴾ ان کے ذریعے میری طاقت مضبوط کردیجیے۔

﴿32﴾ اور ان کو میرا شریک کار بنا دیجیے۔

﴿33﴾ تاکہ ہم کثرت سے آپ کی تسبیح کریں۔

﴿34﴾ اور کثرت سے آپ کا ذکر کریں۔

﴿35﴾ بیشک آپ ہمیں اچھی طرح دیکھنے والے ہیں۔

﴿36﴾ اللہ نے فرمایا : موسیٰ ! تم نے جو کچھ مانگا ہے تمہیں دے دیا گیا۔

﴿37﴾ اور ہم نے تم پر ایک اور مرتبہ بھی احسان کیا تھا۔

﴿38﴾ جب ہم نے تمہاری ماں سے وحی کے ذریعے وہ بات کہی تھی جو اب وحی کے ذریعے (تمہیں) بتائی جارہی ہے۔

﴿39﴾ کہ اس (بچے) کو صندوق میں رکھو، پھر اس صندوق کو دریا میں ڈال دو ۔ پھر دریا کو چھوڑ دو کہ وہ اسے ساحل کے پاس لاکر ڈال دے، جس کے نتیجے میں ایک ایسا شخص اس (بچے) کو اٹھالے گا جو میرا بھی دشمن ہوگا، اور اس کا بھی دشمن۔ اور میں نے اپنی طرف سے تم پر ایک محبوبیت نازل کردی تھی۔ اور یہ سب اس لیے کیا تھا کہ تم میری نگرانی میں پرورش پاؤ۔

﴿40﴾ اس وقت کا تصور کرو جب تمہاری بہن گھر سے چلتی ہے، اور (فرعون کے کارندوں سے) یہ کہتی ہے کہ : کیا میں تمہیں اس (عورت) کا پتہ بتاؤں جو اس (بچے) کو پالے ؟ اس طرح ہم نے تمہیں تمہاری ماں کے پاس لوٹا دیا، تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی رہے، اور وہ غمگین نہ ہو۔ اور تم نے ایک شخص کو مار ڈالا تھا، پھر ہم نے تمہیں اس گھٹن سے نجات دی، اور تمہیں کئی آزمائشوں سے گزارا۔ پھر تم کئی سال مدین والوں میں رہے، اس کے بعد اے موسیٰ ! تم ایک ایسے وقت پر یہاں آئے ہو جو پہلے سے مقدر تھا۔

﴿41﴾ اور میں نے تمہیں خاص اپنے لیے بنایا ہے۔

﴿42﴾ تم اور تمہارا بھائی دونوں میری نشانیاں لے کر جاؤ، اور میرا ذکر کرنے میں سستی نہ کرنا۔

﴿43﴾ دونوں فرعون کے پاس جاؤ، وہ حد سے آگے نکل چکا ہے۔

﴿44﴾ جاکر دونوں اس سے نرمی سے بات کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کرے، یا (اللہ سے) ڈر جائے۔

﴿45﴾ دونوں نے کہا : ہمارے پروردگار ! ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں وہ ہم پر زیادتی نہ کرے، یا کہیں سرکشی پر آمادہ نہ ہوجائے۔

﴿46﴾ اللہ نے فرمایا : ڈرو نہیں، میں تمہارے ساتھ ہوں، سن بھی رہا ہوں، اور دیکھ بھی رہا ہوں۔

﴿47﴾ اب اس کے پاس جاؤ، اور کہو کہ ہم دونوں تمہارے رب کے پیغمبر ہیں، اس لیے بنو اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دو ، اور انہیں تکلیفیں نہ پہنچاؤ، ہم تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں، اور سلامتی اسی کے لیے جو ہدایت کی پیروی کرے۔

﴿48﴾ ہم پر یہ وحی نازل کی گئی ہے کہ عذاب اس کو ہوگا جو (حق کو) جھٹلائے، اور منہ موڑے۔

﴿49﴾ (یہ ساری باتیں سن کر) فرعون نے کہا : موسیٰ تم دونوں کا رب کون ؟

﴿50﴾ موسیٰ نے کہا : ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو وہ بناوٹ عطا کی جو اس کے مناسب تھی، پھر (اس کی) رہنمائی بھی فرمائی۔

﴿51﴾ فرعون بولا : اچھا پھر ان قوموں کا کیا معاملہ ہوا جو پہلے گزر چکی ہیں ؟

﴿52﴾ موسیٰ نے کہا : ان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں محفوظ ہے۔ میرے رب کو نہ کوئی غلطی لگتی ہے، نہ وہ بھولتا ہے

﴿53﴾ یہ وہ ذات ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے فرش بنادیا، اور اس میں تمہارے لیے راستے بنائے، اور آسمان سے پانی برسایا، پھر ہم نے اس کے ذریعے طرح طرح کی مختلف نباتات نکالیں۔

﴿54﴾ خود بھی کھاؤ، اور اپنے مویشیوں کو بھی چراؤ، یقینا ان سب باتوں میں عقل والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔

﴿55﴾ اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا تھا، اسی میں ہم تمہیں واپس لے جائیں گے، اور اسی سے ایک مرتبہ پھر تمہیں نکال لائیں گے۔

﴿56﴾ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اس (فرعون) کو اپنی ساری نشانیاں دکھائیں، مگر وہ جھٹلاتا ہی رہا، اور مان کر نہیں دیا۔

﴿57﴾ کہنے لگا : موسیٰ ! کیا تم اس لیے آئے ہو کہ اپنے جادو کے ذریعے ہمیں اپنی زمین سے نکال باہر کرو ؟

﴿58﴾ اچھا تو ہم بھی تمہارے سامنے ایسا ہی جادو لا کر رہیں گے۔ اب تم کسی کھلے میدان میں ہمارے اور اپنے درمیان مقابلے کا ایسا وقت طے کرلو جس کی خلاف ورزی نہ ہم کریں، نہ تم کرو۔

﴿59﴾ موسیٰ نے کہا : تم سے وہ دن طے ہے جس میں جشن منایا جاتا ہے۔ اور یہ بھی طے ہے کہ دن چڑھے ہی لوگوں کو جمع کرلیا جائے۔

﴿60﴾ چنانچہ فرعون (اپنی جگہ) واپس چلا گیا، اور اس نے اپنی ساری تدبیریں اکٹھی کیں، پھر (مقابلے کے لیے) آگیا۔

﴿61﴾ موسیٰ نے ان (جادوگروں سے) کہا : افسوس ہے تم پر ! اللہ پر بہتان نہ باندھو ورنہ وہ ایک سخت عذاب سے تمہیں مل یا میٹ کردے گا، اور جو کوئی بہتان باندھتا ہے، نامراد ہوتا ہے۔

﴿62﴾ اس پر ان کے درمیان اپنی رائے قائم کرنے میں اختلاف ہوگیا، اور وہ چپکے چپکے سرگوشیاں کرنے لگے۔

﴿63﴾ (آخر کار) انہوں نے کہا کہ : یقینی طور پر یہ دونوں (یعنی موسیٰ اور ہارون) جادوگر ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور پر تم لوگوں کو تمہاری سرزمین سے نکال باہر کریں، اور تمہارے بہترین (دینی) طریقے کا خاتمہ ہی کر ڈالیں۔

﴿64﴾ لہذا اپنی ساری تدبیریں پختہ کرلو، پھر صف باندھ کر آؤ، اور یقین رکھو کہ آج جو غالب آجائے گا، فلاح اسی کو حاصل ہوگی۔

﴿65﴾ جادوگر بولے : موسیٰ ! یا تو تم (اپنی لاٹھی پہلے) ڈال دو ، یا پھر ہم ڈالنے میں پہل کریں ؟

﴿66﴾ موسیٰ نے کہا : نہیں، تم ہی ڈالو۔ بس پھر اچانک ان کی (ڈالی ہوئی) رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے نتیجے میں موسیٰ کو ایسی محسوس ہونے لگیں جیسے دوڑ رہی ہیں۔

﴿67﴾ اس پر موسیٰ کو اپنے دل میں کچھ خوف محسوس ہوا۔

﴿68﴾ ہم نے کہا : ڈرو نہیں، یقین رکھو تم ہی تم سربلند رہو گے۔

﴿69﴾ اور جو (لاٹھی) تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے، اسے (زمین پر) ڈال دو ، ان لوگوں نے جو کاریگری کی ہے، وہ اس سب کو نگل جائے گی، ان کی ساری کاریگری ایک جادوگر کے کرتب کے سوا کچھ نہیں، اور جادوگر چاہے کہیں چلا جائے، اسے فلاح نصیب نہیں ہوتی۔

﴿70﴾ چنانچہ (یہی ہوا اور) سارے جادوگر سجدے میں گرا دیے گئے۔ کہنے لگے کہ : ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لے آئے۔

﴿71﴾ فرعون بولا : تم ان پر میرے اجازت دینے سے پہلے ہی ایمان لے آئے، مجھے یقین ہے کہ یہ (موسیٰ) تم سب کا سرغنہ ہے جس نے تمہیں جادو سکھلایا ہے۔ اب میں نے بھی پکا ارادہ کرلیا ہے کہ تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹوں گا، اور تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی چڑھاؤں گا۔ اور تمہیں یقینا پتہ لگ جائے گا کہ ہم دونوں میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے۔

﴿72﴾ جادوگروں نے کہا : قسم اس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ ہمارے سامنے جو روشن نشانیاں آگئی ہیں ان پر ہم تمہیں ہرگز ترجیح نہیں دے سکتے۔ اب تمہیں جو کچھ کرنا ہو، کرلو۔ تم جو کچھ بھی کرو گے اسی دنیوی زندگی کے لیے ہوگا۔

﴿73﴾ ہم تو اپنے رب پر ایمان لاچکے ہیں، تاکہ وہ ہمارے گناہوں کو بھی بخش دے، اور جادو کے اس کام کو بھی جس پر تم نے ہمیں مجبور کیا۔ اور اللہ ہی سب سے اچھا اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔

﴿74﴾ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اپنے پروردگار کے پاس مجرم بن کر آئے گا، اس کے لیے جہنم ہے جس میں نہ وہ مرے گا اور نہ جئے گا۔

﴿75﴾ اور جو شخص اس کے پاس مومن بن کر آئے گا جس نے نیک عمل بھی کیے ہوں گے، تو ایسے ہی لوگوں کے لیے بلند درجات ہیں۔

﴿76﴾ وہ ہمیشہ رہنے والے باغات جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ صلہ ہے اس کا جس نے پاکیزگی اختیار کی۔

﴿77﴾ اور ہم نے موسیٰ پر وحی بھیجی کہ : تم میرے بندوں کو لے کر راتوں رات روانہ ہوجاؤ پھر ان کے لیے سمندر میں ایک خشک راستہ اس طرح نکال لینا کہ نہ تمہیں (دشمن کے) آپکڑنے کا اندیشہ رہے، اور نہ کوئی اور خوف ہو

﴿78﴾ چنانچہ فرعون نے اپنے لشکروں سمیت ان کا پیچھا کیا تو سمندر کی جس (خوفناک) چیز نے انہیں ڈھانپا، وہ انہیں ڈھانپ کر ہی رہی۔

﴿79﴾ اور فرعون نے اپنی قوم کو برے راستے پر لگایا، اور انہیں صحیح راستہ نہ دکھایا۔

﴿80﴾ اے بنی اسرائیل ! ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی، اور تم سے کوہ طور کے دائیں جانب آنے کا وعدہ ٹھہرایا، اور تم پر من وسلوی نازل کیا۔

﴿81﴾ جو پاکیزہ رزق ہم نے تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے کھاؤ، اور اس میں سرکشی نہ کرو جس کے نتیجے میں تم پر میرا غضب نازل ہوجائے۔ اور جس کسی پر میرا غضب نازل ہوجاتا ہے وہ تباہی میں گر کر رہتا ہے۔

﴿82﴾ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جو شخص توبہ کرے، ایمان لائے، اور نیک عمل کرے، پھر سیدھے راستے پر قائم رہے تو میں اس کے لیے بہت بخشنے والا ہوں۔

﴿83﴾ اور (جب موسیٰ کوہ طور پر اپنے لوگوں سے پہلے چلے آئے تو اللہ نے ان سے کہا) موسیٰ ! تم اپنی قوم سے پہلے جلدی کیوں آگئے ؟

﴿84﴾ انہوں نے کہا : وہ میرے پیچھے پیچھے آیا ہی چاہتے ہیں، اور پروردگار ! میں آپ کے پاس اس لیے جلدی آگیا تاکہ آپ خوش ہوں۔

﴿85﴾ اللہ نے فرمایا : پھر تمہارے آنے کے بعد ہم نے تمہاری قوم کو فتنے میں مبتلا کردیا ہے، اور انہیں سامری نے گمراہ کر ڈالا ہے۔

﴿86﴾ چنانچہ موسیٰ غم و غصے میں بھرے ہوئے اپنی قوم کے پاس واپس لوٹے۔ کہنے لگے : میری قوم کے لوگو ! کیا تمہارے پروردگار نے تم سے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا ؟ تو کیا تم پر کوئی بہت لمبی مدت گزر گئی تھی، یا تم چاہتے ہی یہ تھے کہ تم پر تمہارے رب کا غضب نازل ہوجائے، اور اس وجہ سے تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی ؟

﴿87﴾ کہنے لگے : ہم نے اپنے اختیار سے آپ کے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی، بلکہ ہوا یہ کہ ہم پر لوگوں کے زیورات کے بوجھ لدے ہوئے تھے، اس لیے ہم نے انہیں پھینک دیا۔ پھر اسی طرح سامری نے کچھ ڈالا

﴿88﴾ اور لوگوں کے سامنے ایک بچھڑا بنا کر نکال لایا، ایک جسم تھا جس میں سے آواز نکلتی تھی۔ لوگ کہنے لگے کہ : یہ تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے، مگر موسیٰ بھول گئے ہیں۔

﴿89﴾ بھلا کیا انہیں یہ نظر نہیں آرہا تھا کہ وہ نہ ان کی بات کا جواب دیتا تھا اور نہ ان کو کوئی نقصان یا نفع پہنچا سکتا تھا ؟

﴿90﴾ اور ہارون نے ان سے پہلے ہی کہا تھا کہ : میری قوم کے لوگو ! تم اس (بچھڑے) کی وجہ سے فتنے میں مبتلا ہوگئے ہو، اور حقیقت میں تمہارا رب تو رحمن ہے، اس لیے تم میرے پیچھے چلو اور میری بات مانو

﴿91﴾ وہ کہنے لگے کہ : جب تک موسیٰ واپس نہ آجائیں، ہم تو اسی کی عبادت پر جمے رہیں گے۔

﴿92﴾ موسیٰ نے (واپس آکر) کہا : ہارون ! جب تم نے دیکھ لیا تھا کہ یہ لوگ گمراہ ہوگئے ہیں تو تمہیں کس چیز نے روکا تھا۔

﴿93﴾ کہ تم میرے پیچھے چلے آتے ؟ بھلا کیا تم نے میری بات کی خلاف ورزی کی ؟

﴿94﴾ ہارون نے کہا : میرے ماں کے بیٹے ! میری داڑھی نہ پکڑو، اور نہ میرا سر۔ حقیقت میں مجھے یہ اندیشہ تھا کہ تم یہ کہو گے کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا، اور میری بات کا پاس نہیں کیا۔

﴿95﴾ موسیٰ نے کہا : اچھا تو سامری ! تجھے کیا ہوا تھا ؟

﴿96﴾ وہ بولا : میں نے ایک ایسی چیز دیکھ لی تھی جو دوسروں کو نظر نہیں آئی تھی۔ اس لیے میں نے رسول کے نقش قدم سے ایک مٹھی اٹھالی، اور اسے (بچھڑے پر) ڈال دیا۔ اور میرے دل نے مجھے کچھ ایسا ہی سمجھایا۔

﴿97﴾ موسیٰ نے کہا : اچھا تو جا، اب زندگی بھر تیرا کام یہ ہوگا کہ تو لوگوں سے یہ کہا کرے گا کہ مجھے نہ چھونا۔ اور (اس کے علاوہ) تیرے لیے ایک وعدے کا وقت مقرر ہے جو تجھ سے ٹلایا نہیں جاسکتا۔ اور دیکھ اپنے اس (جھوٹے) معبود کو جس پر تو جما بیٹھا تھا ! ہم اسے جلا ڈالیں گے، اور پھر اس (کی راکھ) کو چورا چورا کر کے سمندر میں بکھیر دیں گے۔

﴿98﴾ حقیقت میں تم سب کا معبود تو بس ایک ہی اللہ ہے، جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

﴿99﴾ (اے پیغمبر) ماضی میں جو حالات گزرے ہیں ان میں سے کچھ واقعات ہم اسی طرح تم کو سناتے ہیں، اور ہم نے تمہیں خاص اپنے پاس سے ایک نصیحت نامہ عطا کیا ہے۔

﴿100﴾ جو لوگ اس سے منہ موڑیں گے، تو وہ قیامت کے دن بڑا بھاری بوجھ لادے ہوں گے۔

﴿101﴾ جس (کے عذاب) میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور قیامت کے دن ان کے لیے یہ بدترین بوجھ ہوگا۔

﴿102﴾ جس دن صور پھونکا جائے گا، اور اس دن ہم سارے مجرموں کو گھیر کر اس طرح جمع کریں گے کہ وہ نیلے پڑے ہوں گے۔

﴿103﴾ آپس میں سرگوشیاں کر رہے ہوں گے کہ تم (قبروں میں یا دنیا میں) دس دن سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔

﴿104﴾ جس بارے میں وہ باتیں کریں گے اس کی حقیقت ہمیں خوب معلوم ہے۔ جبکہ ان میں سے جس کا طریقہ سب سے بہتر ہوگا، وہ کہے گا کہ تم ایک دن سے زیادہ نہیں ٹھہرے ۔

﴿105﴾ اور لوگ تم سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں (کہ قیامت میں ان کا کیا بنے گا ؟) جواب میں کہہ دو کہ میرا پروردگار ان کو دھول کی طرح اڑا دے گا۔

﴿106﴾ اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا کر چھوڑے گا۔

﴿107﴾ کہ اس میں تمہیں نہ کوئی بل نظر آئے گا، نہ کوئی ابھار۔

﴿108﴾ ان دن سب کے سب منادی کے پیچھے اس طرح چلے آئیں گے کہ اس کے سامنے کوئی ٹیڑھ نہیں دکھا سکیں گے۔ اور خدائے رحمن کے آگے تمام آوازیں دب کر رہ جائیں گی، چنانچہ تمہیں پاؤں کی سرسراہٹ کے سوا کچھ سنائی نہیں دے گا۔

﴿109﴾ اس دن کسی کی سفارش کام نہیں آئے گی، سوائے اس شخص (کی سفارش) کے جسے خدائے رحمن نے اجازت دے دی ہو، اور جس کے بولنے پر وہ راضی ہو۔

﴿110﴾ وہ لوگوں کی ساری اگلی پچھلی باتوں کو جانتا ہے، اور وہ اس کے علم کا احاطہ نہیں کرسکتے۔

﴿111﴾ اور سارے کے سارے چہرے حی وقیوم کے آگے جھکے ہوں گے، اور جو کوئی ظلم کا بوجھ لاد کر لایا ہوگا نامراد ہوگا۔

﴿112﴾ اور جس نے نیک عمل کیے ہوں گے جبکہ وہ مومن بھی ہو تو اسے نہ کسی زیادتی کا اندیشہ ہوگا، نہ کسی حق تلفی کا۔

﴿113﴾ اور ہم نے اسی طرح یہ وحی ایک عربی قرآن کی شکل میں نازل کی ہے، اور اس میں تنبیہات کو طرح طرح سے بیان کیا ہے، تاکہ لوگ پرہیزگاری اختیار کریں، یا یہ قرآن ان میں کچھ سوچ سمجھ پیدا کرے۔

﴿114﴾ ایسی ہی اونچی شان ہے اللہ کی، جو سلطنت کا حقیقی مالک ہے۔ اور (اے پیغمبر) جب قرآن وحی کے ذریعے نازل ہورہا ہو تو اس کے مکمل ہونے سے پہلے قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کرو۔ اور یہ دعا کرتے رہا کرو کہ : میرے پروردگار ! مجھے علم میں اور ترقی عطا فرما۔

﴿115﴾ اور ہم نے اس سے پہلے آدم کو ایک بات کی تاکید کی تھی، پھر ان سے بھول ہوگئی، اور ہم نے ان میں عزم نہیں پایا۔

﴿116﴾ یاد کرو وہ وقت جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو، چنانچہ سب نے سجدہ کیا، البتہ ابلیس تھا جس نے انکار کیا۔

﴿117﴾ چنانچہ ہم نے کہا کہ : اے آدم ! یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے، لہذا ایسا نہ ہو کہ یہ تم دونوں کو جنت سے نکلوا دے، اور تم مشقت میں پڑجاؤ۔

﴿118﴾ یہاں تو تمہیں یہ فائدہ ہے کہ نہ تم بھوکے ہوگے، نہ ننگے۔

﴿119﴾ اور نہ یہاں پیاسے رہو گے، نہ دھوپ میں تپو گے۔

﴿120﴾ پھر شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا۔ کہنے لگا : اے آدم ! کیا میں تمہیں ایک ایسا درخت بتاؤں جس سے جاودانی زندگی اور وہ بادشاہی حاصل ہوجاتی ہے جو کبھی پرانی نہیں پڑتی ؟

﴿121﴾ چنانچہ ان دونوں نے اس درخت میں سے کچھ کھالیا جس سے ان دونوں کے شرم کے مقامات ان کے سامنے کھل گئے، اور وہ دونوں جنت کے پتوں کو اپنے اوپر گانٹھنے لگے۔ اور (اس طرح) آدم نے اپنے رب کا کہا ٹالا، اور بھٹک گئے۔

﴿122﴾ پھر ان کے رب نے انہیں چن لیا، چنانچہ ان کی توبہ قبول فرمائی، اور انہیں ہدایت عطا فرمائی۔

﴿123﴾ اللہ نے فرمایا : تم دونوں کے دونوں یہاں سے نیچے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے پھر اگر تمہیں میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے تو جو کوئی میری ہدایت کی پیروی کرے گا، وہ نہ گمراہ ہوگا، اور نہ کسی مشکل میں گرفتار ہوگا۔

﴿124﴾ اور جو میری نصیحت سے منہ موڑے گا تو اس کو بڑی تنگ زندگی ملے گی، اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے۔

﴿125﴾ وہ کہے گا کہ : یا رب ! تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا، حالانکہ میں تو آنکھوں والا تھا ؟

﴿126﴾ اللہ کہے گا : اسی طرح ہماری آیتیں تیرے پاس آئی تھیں، مگر تو نے انہیں بھلا دیا۔ اور آج اسی طرح تجھے بھلا دیا جائے گا۔

﴿127﴾ اور جو شخص حد سے گزر جاتا ہے، اور اپنے پروردگار کی نشانیوں پر ایمان نہیں لاتا، اسے ہم اسی طرح سزا دیتے ہیں، اور آخرت کا عذاب واقعی زیادہ سخت اور زیادہ دیر رہنے والا ہے۔

﴿128﴾ پھر کیا ان لوگوں کو اس بات نے بھی کوئی ہدایت کا سبق نہیں دیا کہ ان سے پہلے کتنی نسلیں تھیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا، جن کی بستیوں میں یہ لوگ چلتے پھرتے بھی ہیں ؟ یقینا جن لوگوں کے پاس عقل ہے، ان کے لیے اس بات میں عبرت کے بڑے سامان ہیں۔

﴿129﴾ اور اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کردی گئی ہوتی، اور (اس کے نتیجے میں عذاب کی) ایک میعاد مقرر نہ ہوتی، تو لازمی طور پر عذاب (ان کو) چمٹ چکا ہوتا۔

﴿130﴾ لہذا (اے پیغمبر) یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں، تم ان پر صبر کرو، اور سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب سے پہلے اپنے رب کی تسبیح اور حمد کرتے رہو، اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو، اور دن کے کناروں میں بھی، تاکہ تم خوش ہوجاؤ۔

﴿131﴾ اور دنیوی زندگی کی اس بہار کی طرف آنکھیں اٹھا کر بھی نہ دیکھو جو ہم نے ان (کافروں) میں سے مختلف لوگوں کو مزے اڑانے کے لیے دے رکھی ہے، تاکہ ہم ان کو اس کے ذریعے آزمائیں۔ اور تمہارے رب کا رزق سب سے بہتر اور سب سے زیادہ دیرپا ہے۔

﴿132﴾ اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو ، اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہو۔ ہم تم سے رزق نہیں چاہتے رزق تو ہم تمہیں دیں گے اور بہتر انجام تقوی ہی کا ہے۔

﴿133﴾ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ : یہ (نبی) ہمارے پاس اپنے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں لے آتے ؟ بھلا کیا ان کے پاس پچھلے (آسمانی) صحیفوں کے مضامین کی گواہی نہیں آگئی ؟

﴿134﴾ اور اگر ہم انہیں اس (قرآن) سے پہلے ان کو کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو یہ لوگ کہتے کہ : ہمارے پروردگار ! آپ نے ہمارے پاس کوئی پیغمبر کیوں نہیں بھیجا، تاکہ ہم ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے آپ کی آیتوں کی پیروی کرتے ؟

﴿135﴾ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ : (ہم) سب انتظار کر رہے ہیں، لہذا تم بھی انتظار کرو، کیونکہ عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ سیدھے راستے والے لوگ کون ہیں، اور کون ہیں جو ہدایت پاگئے ہیں ؟

الانبیاء

Surah 21

﴿1﴾ لوگوں کے لیے ان کے حساب کا وقت قریب آپہنچا ہے، اور وہ ہیں کہ غفلت کی حالت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں۔

﴿2﴾ جب کبھی ان کے پروردگار کی طرف سے نصیحت کی کوئی نئی بات ان کے پاس آتی ہے تو وہ اسے مذاق بنا بنا کر اس حالت میں سنتے ہیں۔

﴿3﴾ کہ ان کے دل فضولیات میں منہمک ہوتے ہیں۔ اور یہ ظالم چپکے چپکے (ایک دوسرے سے) سرگوشی کرتے ہیں کہ : یہ شخص (یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہی جیسا ایک انسان نہیں تو اور کیا ہے ؟ کیا پھر بھی تم سوجھتے بوجھتے جادو کی بات سننے جاؤ گے ؟

﴿4﴾ پیغمبر نے (جواب میں) کہا کہ : آسمان اور زمین میں جو کچھ کہا جاتا ہے، میرا پروردگار اس سب کو جانتا ہے۔ وہ ہر بات سنتا ہے، ہر چیز سے باخبر ہے۔

﴿5﴾ یہی نہیں بلکہ ان لوگوں نے یہ بھی کہا کہ : یہ (قرآن) بےجوڑ خوابوں کا مجموعہ ہے، بلکہ یہ ان صاحب نے خود گھڑ لیا ہے، بلکہ یہ ایک شاعر ہیں۔ بھلا یہ ہمارے سامنے کوئی نشانی تو لے آئیں جیسے پچھلے پیغمبر (نشانیوں کے ساتھ) بھیجے گئے تھے۔

﴿6﴾ حالانکہ ان سے پہلے جس کسی بستی کو ہم نے ہلاک کیا، وہ ایمان نہیں لائی، اب کیا یہ لوگ لے آئیں گے ؟

﴿7﴾ اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے کسی اور کو نہیں، آدمیوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی نازل کرتے تھے۔ لہذا (کافروں سے کہو کہ) اگر تمہیں خود علم نہیں ہے تو نصیحت کا علم رکھنے والوں سے پوچھ لو۔

﴿8﴾ اور ہم نے ان (رسولوں) کو ایسے جسم بنا کر پیدا نہیں کردیا تھا کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں، اور نہ وہ ایسے تھے کہ ہمیشہ زندہ رہیں۔

﴿9﴾ پھر ہم نے ان سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچا کر دکھایا کہ ان کو بھی بچا لیا، اور (ان کے علاوہ) جن کو ہم نے چاہا ان کو بھی، اور جو لوگ حد سے گزر چکے تھے، انہیں ہلاک کردیا۔

﴿10﴾ (اب) ہم نے تمہارے پاس ایک ایسی کتاب اتاری ہے جس میں تمہارے لیے نصیحت ہے۔ کیا پھر بھی تم نہیں سمجھتے ؟

﴿11﴾ اور ہم نے کتنی بستیوں کو پیس ڈالا جو ظالم تھیں اور ان کے بعد ہم نے دوسری نسلیں پیدا کیں۔

﴿12﴾ چنانچہ جب انہوں نے ہمارے عذاب کی آہٹ پائی تو وہ ایک دم وہاں سے بھاگنے لگے۔

﴿13﴾ (ان سے کہا گیا) بھاگو مت، اور واپس جاؤ، اپنے انہی مکانات اور اسی عیش و عشرت کے سامان کی طرف جس کے مزے تم لوٹ رہے تھے، شاید تم سے کچھ پوچھا جائے۔

﴿14﴾ وہ کہنے لگے : ہائے ہماری کم بختی ! سچی بات ہے کہ ہم لوگ ہی ظالم تھے۔

﴿15﴾ ان کی یہی پکار جارہی رہی یہاں تک کہ ہم نے ان کو ایک کٹی ہوئی کھیتی، ایک بجھی ہوئی آگ بنا کر رکھ دیا۔

﴿16﴾ اور ہم نے آسمان، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، اس کو اس لیے پیدا نہیں کیا کہ ہم کوئی کھیل کرنا چاہتے ہوں۔

﴿17﴾ اگر ہمیں کوئی کھیل بنانا ہوتا تو ہم خود اپنے پاس سے بنا لیتے، اگر ہمیں ایسا کرنا ہی ہوتا۔

﴿18﴾ بلکہ ہم تو حق بات کو باطل پر کھینچ مارتے ہیں، جو اس کا سر توڑ ڈالتا ہے، اور وہ ایک دم مل یا میٹ ہوجاتا ہے۔ اور جو باتیں تم بنا رہے ہو، ان کی وجہ سے خرابی تمہاری ہی ہے۔

﴿19﴾ اور آسمانوں اور زمین میں جو لوگ بھی ہیں، اللہ کے ہیں۔ اور جو (فرشتے) اللہ کے پاس ہیں، وہ نہ اس کی عبادت سے سرکشی کرتے ہیں، نہ تھکتے ہیں۔

﴿20﴾ وہ رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں، اور سست نہیں پڑتے۔

﴿21﴾ بھلا کیا ان لوگوں نے زمین میں سے ایسے خدا بنا رکھے ہیں جو نئی زندگی دیتے ہیں ؟

﴿22﴾ اگر آسمان اور زمین میں اللہ کے سوا دوسرے خدا ہوتے تو دونوں درہم برہم ہوجاتے۔ لہذا عرش کا مالک اللہ ان باتوں سے بالکل پاک ہے جو یہ لوگ بنایا کرتے ہیں۔

﴿23﴾ وہ جو کچھ کرتا ہے اس کا کسی کو جواب دہ نہیں ہے، اور ان سب کو جواب دہی کرنی ہوگی۔

﴿24﴾ بھلا کیا اسے چھوڑ کر انہوں نے دوسرے خدا بنا رکھے ہیں ؟ (اے پیغمبر) ان سے کہو کہ : لاؤ اپنی دلیل ! یہ (قرآن) بھی موجود ہے جس میں میرے ساتھ والوں کے لیے نصیحت ہے، اور وہ (کتابیں) بھی موجود ہیں جن میں مجھ سے پہلے لوگوں کے لیے نصیحت تھی۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ حق بات کا یقین نہیں کرتے، اس لیے منہ موڑے ہوئے ہیں۔

﴿25﴾ اور تم سے پہلے ہم نے کوئی ایسا رسول نہیں بھیجا جس پر ہم نے یہ وحی نازل نہ کی ہو کہ : میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، لہذا میری عبادت کرو۔

﴿26﴾ یہ لوگ کہتے ہیں کہ : خدائے رحمن (فرشتوں کی شکل میں) اولاد رکھتا ہے۔ سبحان اللہ ! بلکہ (فرشتے تو اللہ کے) بندے ہیں جنہیں عزت بخشی گئی ہے۔

﴿27﴾ وہ اس سے آگے بڑھ کر کوئی بات نہیں کرتے، اور وہ اسی کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔

﴿28﴾ وہ ان کی تمام اگلی پچھلی باتوں کو جانتا ہے اور وہ کسی کی سفارش نہیں کرسکتے، سوائے اس کے جس کے لیے اللہ کی مرضی ہو، اور وہ اس کے خوف سے سہمے رہتے ہیں۔

﴿29﴾ اور اگر ان میں سے کوئی (بالفرض) یہ کہے کہ : اللہ کے علاوہ میں بھی معبود ہوں۔ تو اس کو ہم جہنم کی سزا دیں گے۔ ایسے ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔

﴿30﴾ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، کیا انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ سارے آسمان اور زمین بند تھے، پھر ہم نے انہیں کھول دیا۔ اور پانی سے ہر جاندار چیز پیدا کی ہے ؟ کیا پھر بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے ؟

﴿31﴾ اور ہم نے زمین میں جمے ہوئے پہاڑ پیدا کیے ہیں تاکہ وہ انہیں لے کر ہلنے نہ پائے، اور اس میں ہم نے چوڑے چوڑے راستے بنائے ہیں، تاکہ وہ منزل تک پہنچ سکیں۔

﴿32﴾ اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنادیا ہے، اور یہ لوگ ہیں کہ اس کی نشانیوں سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔

﴿33﴾ اور وہی (اللہ) ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند پیدا کیے، سب کسی نہ کسی مدار میں تیر رہے ہیں۔

﴿34﴾ اور (اے پیغمبر) تم سے پہلے بھی ہمیشہ زندہ رہنا ہم نے کسی فرد بشر کے لیے طے نہیں کیا۔ چنانچہ اگر تمہارا انتقال ہوگیا تو کیا یہ لوگ ایسے ہیں جو ہمیشہ زندہ رہیں ؟

﴿35﴾ ہر جان دار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اور ہم تمہیں آزمانے کے لیے بری بھلی حالتوں میں مبتلا کرتے ہیں، اور تم سب ہمارے پاس ہی لوٹا کر لائے جاؤ گے۔

﴿36﴾ اور جن لوگوں نے کفر اپنا رکھا ہے، وہ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو اس کے سوا ان کا کوئی کام نہیں ہوتا کہ وہ تمہارا مذاق بنانے لگتے ہیں (اور کہتے ہیں) کیا یہی صاحب ہیں جو تمہارے خداؤں کا ذکر کیا کرتے ہیں ؟ (یعنی یہ کہتے ہیں کہ ان کی کوئی حقیقت نہیں) حالانکہ ان (کافروں) کی اپنی حالت یہ ہے کہ وہ خدائے رحمن ہی کا ذکر کرنے سے انکار کیے بیٹھے ہیں۔

﴿37﴾ انسان جلد بازی کی خصلت لے کر پیدا ہوا ہے۔ میں عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھلا دوں گا، لہذا تم مجھ سے جلدی مت مچاؤ

﴿38﴾ اور یہ لوگ (مسلمانوں سے) کہتے ہیں کہ : اگر تم سچے ہو تو آخر یہ (عذاب کی) دھمکی کب پوری ہوگی ؟

﴿39﴾ کاش ان کافروں کو اس وقت کی کچھ خبر لگ جاتی جب یہ نہ اپنے چہروں سے آگ کو دور کرسکیں گے، اور نہ اپنی پشتوں سے، اور نہ ان کو کوئی مدد میسر آئے گی۔

﴿40﴾ بلکہ وہ (آگ) ان کے پاس ایک دم آدھمکے گی، اور ان کے ہوش و حواس گم کر رکے رکھ دے گی، پھر نہ یہ اسے پیچھے ہٹا سکیں گے، اور نہ انہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔

﴿41﴾ اور (اے پیغمبر) تم سے پہلے بھی پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا تھا، پھر ان کا مذاق بنانے والوں کو اسی چیز نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔

﴿42﴾ کہہ دو کہ : کون ہے جو رات میں اور دن میں خدائے رحمن (کے عذاب سے) سے تمہارا بچاؤ کرے ؟ مگر وہ ہیں کہ اپنے پروردگار کے ذکر سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔

﴿43﴾ بھلا کیا ان کے پاس ہمارے سوا کوئی ایسے خدا ہیں جو ان کی حفاظت کرتے ہوں ؟ وہ تو خود اپنی مدد نہیں کرسکتے اور نہ ہمارے مقابلے میں کوئی ان کا ساتھ دے سکتا ہے۔

﴿44﴾ بلکہ معاملہ یہ ہے کہ ہم نے ان کو اور ان کے آباؤاجداد کو سامان عیش عطا کیا، یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ان پر ایک عمر گزر گئی۔ بھلا کیا انہیں یہ نظر نہیں آتا کہ ہم زمین کو اس کے مختلف کناروں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں۔ پھر کیا وہ غالب آجائیں گے ؟

﴿45﴾ کہہ دو کہ : میں تو تمہیں وحی کے ذریعے ڈراتا ہوں، لیکن بہرے لوگ ایسے ہیں کہ جب انہیں ڈرایا جاتا ہے تو وہ کوئی پکار نہیں سنتے۔

﴿46﴾ اور اگر تمہارے پروردگار کے عذاب کا ایک جھونکا بھی انہیں چھو جائے تو یہ کہہ اٹھیں گے کہ : ہائے ہماری کم بختی ! واقعی ہم لوگ ظالم تھے۔

﴿47﴾ اور ہم قیامت کے دن ایسی ترازویں لا رکھیں گے جو سراپا انصاف ہوں گی، چنانچہ کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ اور اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر بھی ہوگا، تو ہم اسے سامنے لے آئیں گے، اور حساب لینے کے لیے ہم کافی ہیں۔

﴿48﴾ اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو حق و باطل کا ایک معیار (ہدایت کی) ایک روشنی اور ان متقی لوگوں کے لیے نصیحت کا سامان عطا کیا تھا۔

﴿49﴾ جو دیکھے بغیر اپنے پروردگار سے ڈریں، اور جن کو قیامت کی گھڑی کا خوف لگا ہوا ہو۔

﴿50﴾ اور اب یہ (قرآن) برکتوں والا پیغام نصیحت ہے جو ہم نے نازل کیا ہے۔ کیا پھر بھی تم اسے ماننے سے انکار کرتے ہو ؟

﴿51﴾ اور اس سے پہلے ہم نے ابراہیم کو وہ سمجھ بوجھ عطا کی تھی جو ان کے لائق تھی اور ہم انہیں خوب جانتے تھے۔

﴿52﴾ وہ وقت یاد کرو جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ : یہ کیا مورتیں ہیں جن کے آگے تم دھرنا دیے بیٹھے ہو ؟

﴿53﴾ وہ بولے کہ : ہم نے اپنے باپ دادوں کو ان کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے۔

﴿54﴾ ابراہیم نے کہا : حقیقت یہ ہے کہ تم بھی اور تمہارے باپ دادے بھی کھلی گمراہی میں مبتلا رہے ہو۔

﴿55﴾ انہوں نے کہا : کیا تم ہم سے سچ مچ کی بات کر رہے ہو، یا دل لگی کر رہے ہو ؟

﴿56﴾ ابراہیم نے کہا : نہیں، بلکہ تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمام آسمانوں اور زمین کا مالک ہے، جس نے یہ ساری چیزیں پیدا کی ہیں، اور لوگو میں اس بات پر گواہی دیتا ہوں۔

﴿57﴾ اور اللہ کی قسم ! جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو میں تمہارے بتوں کے ساتھ ایک (ایسا) کام کروں گا (جس سے ان کی حقیقت کھل جائے گی)

﴿58﴾ چنانچہ ابراہیم نے ان کے بڑے بت کے سوا سارے بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا، تاکہ وہ لوگ اس کی طرف رجوع کریں۔

﴿59﴾ وہ کہنے لگے کہ : ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ حرکت کس نے کی ہے ؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم تھا۔

﴿60﴾ کچھ لوگوں نے کہا : ہم نے ایک نوجوان کو سنا ہے کہ وہ ان بتوں کے بارے میں باتیں بنایا کرتا ہے، اسے ابراہیم کہتے ہیں۔

﴿61﴾ انہوں نے کہا : تو پھر اس کو سب لوگوں کے سامنے لے کر آؤ، تاکہ سب گواہ بن جائیں۔

﴿62﴾ (پھر جب ابراہیم کو لایا گیا تو) وہ بولے : ابراہیم ! کیا ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ حرکت تم ہی نے کی ہے ؟

﴿63﴾ ابراہیم نے کہا : نہیں، بلکہ یہ حرکت ان کے اس بڑے سردار نے کی ہے، اب انہی بتوں سے پوچھ لو، اگر یہ بولتے ہوں۔

﴿64﴾ اس پر وہ لوگ اپنے دل میں کچھ سوچنے لگے، اور (اپنے آپ سے) کہنے لگے کہ : سچی بات تو یہی ہے کہ تم خود ظالم ہو۔

﴿65﴾ پھر انہوں نے اپنے سر جھکا لیے، اور کہا : تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں۔

﴿66﴾ ابراہیم نے کہا : بھلا بتاؤ کہ کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کر رہے ہو جو تمہیں نہ کچھ فائدہ پہنچاتی ہیں نہ نقصان ؟

﴿67﴾ تف ہے تم پر بھی، اور ان پر بھی جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرے ہو۔ بھلا کیا تمہیں اتنی سمجھ نہیں ؟

﴿68﴾ وہ (ایک دوسرے سے) کہنے لگے : آگ میں جلا ڈالو اس شخص کو، اور اپنے خداؤں کی مدد کرو، اگر تم میں کچھ کرنے کا دم خم ہے۔

﴿69﴾ (چنانچہ انہوں نے ابراہیم کو آگ میں ڈال دیا اور) ہم نے کہا : اے آگ ! ٹھندی ہوجا، اور ابراہیم کے لیے سلامتی بن جا۔

﴿70﴾ ان لوگوں نے ابراہیم کے لیے برائی کا منصوبہ بنایا تھا، مگر نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے انہی کو بری طرح ناکام کردیا۔

﴿71﴾ اور ہم انہیں اور لوط کو بچا کر اس سرزمین کی طرف لے گئے جس میں ہم نے دنیا جہان کے لوگوں کے لیے برکتیں رکھی ہیں۔

﴿72﴾ اور ہم نے ان کو انعام کے طور پر اسحاق اور یعقوب عطا کیے، اور ان میں سے ہر ایک کو ہم نے نیک بنایا۔

﴿73﴾ اور ان سب کو ہم نے پیشوا بنایا جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، اور ہم نے وحی کے ذریعے انہیں نیکیاں کرنے، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی تاکید کی تھی، اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے۔

﴿74﴾ اور لوط کو ہم نے حکمت اور علم عطا کیا، اور انہیں اس بستی سے نجات دی جو گندے کام کرتی تھی۔ حقیقت میں وہ بہت برائی والی نافرمانی قوم تھی۔

﴿75﴾ اور لوط کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کرلیا، وہ یقینا نیک لوگوں میں سے تھے۔

﴿76﴾ اور نوح کو بھی (ہم نے حکمت اور علم عطا کیا) وہ وقت یاد کرو جب اس واقعے سے پہلے انہوں نے ہمیں پکارا تو ہم نے ان کی دعا قبول کی، اور ان کو اور ان کے ساتھیوں کو بڑی بھاری مصیبت سے بچا لیا۔

﴿77﴾ اور جس قوم نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا، اس کے مقابلے میں ان کی مدد کی۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بہت برے لوگ تھے، اس لیے ہم نے ان سب کو غرق کردیا۔

﴿78﴾ اور داؤد اور سلیمان (کو بھی ہم نے حکمت اور علم عطا کیا تھا) جب وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے کا فیصلہ کر رہے تھے، کیونکہ کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت اس کھیت میں جا گھسی تھیں۔ اور ان لوگوں کے بارے میں جو فیصلہ ہوا اسے ہم خود دیکھ رہے تھے۔

﴿79﴾ چنانچہ اس فیصلے کی سمجھ ہم نے سلیمان کو دے دی، اور (ویسے) ہم نے دونوں ہی کو حکمت اور علم عطا کیا تھا۔ اور ہم نے داؤد کے ساتھ پہاڑوں کو تابع دار بنادیا تھا کہ وہ پرندوں کو ساتھ لے کر تسبیح کریں۔ اور یہ سارے کام کرنے والے ہم تھے۔

﴿80﴾ اور ہم نے انہیں تمہارے فائدے کے لیے ایک جنگی لباس (یعنی زرہ) بنانے کی صنعت سکھائی تاکہ وہ تمہیں لڑائی میں ایکد وسرے کی زد سے بچائیں۔ اب بتاؤ کہ کیا تم شکر گزار ہو ؟

﴿81﴾ اور ہم نے تیز چلتی ہوئی ہوا کو سلیمان کے تابع کردیا تھا جو ان کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں۔ اور ہمیں ہر ہر بات کا پورا پورا علم ہے۔

﴿82﴾ اور کچھ ایسے شریر جنات بھی ہم نے ان کے تابع کردئیے تھے جو ان کی خاطر پانی میں غوطے لگاتے تھے۔ اور اس کے سوا اور بھی کام کرتے تھے۔ اور ان سب کی دیکھ بھال کرنے والے ہم تھے۔

﴿83﴾ اور ایوب کو دیکھو ! جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ : مجھے یہ تکلیف لگ گئی ہے، اور تو سارے رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

﴿84﴾ پھر ہم نے ان کی دعا قبول کی، اور انہیں جو تکلیف لاحق تھی، اسے دور کردیا اور ان کو ان کے گھر والے بھی دیے، اور ان کے ساتھ اتنے ہی لوگ اور بھی تاکہ ہماری طرف سے رحمت کا مظاہرہ ہو، اور عبادت کرنے والوں کو ایک یادگار سبق ملے۔

﴿85﴾ اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو دیکھو ! یہ سب صبر کرنے والوں میں سے تھے۔

﴿86﴾ اور ان کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کرلیا تھا، یقینا ان کا شمار نیک لوگوں میں ہے۔

﴿87﴾ اور مچھلی والے (پیغمبر یعنی یونس (علیہ السلام)) کو دیکھو ! جب وہ خفا ہو کر چل کھڑے ہوئے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ ہم ان کی کوئی پکڑ نہیں کریں گے۔ پھر انہوں نے اندھیریوں میں سے آواز لگائی کہ : (یا اللہ !) تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو ہر عیب سے پاک ہے، بیشک میں قصور وار ہوں۔

﴿88﴾ اس پر ہم نے ان کی دعا قبول کی، اور انہیں گھٹن سے نجات عطا کی۔ اور اسی طرح ہم ایمان رکھنے والوں کو نجات دیتے ہیں۔

﴿89﴾ اور زکریا کو دیکھو ! جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا تھا کہ : یا رب ! مجھے اکیلا نہ چھوڑئیے، اور آپ سب سے بہتر وارث ہیں۔

﴿90﴾ چنانچہ ہم نے ان کی دعا قبول کی، اور ان کو یحی (جیسا بیٹا) عطا کیا، اور ان کی خاطر ان کی بیوی کو اچھا کردیا، یقینا یہ لوگ بھلائی کے کاموں میں تیزی دکھاتے تھے، اور ہمیں شوق اور رعب کے عالم میں پکارا کرتے تھے، اور ان کے دل ہمارے آگے جھکے ہوئے تھے۔

﴿91﴾ اور اس خاتون کو دیکھو جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تھی، پھر ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونکی، اور انہیں اور ان کے بیٹے کو دنیا جہان کے لوگوں کے لیے ایک نشانی بنادیا۔

﴿92﴾ (لوگو) یقین رکھو کہ یہ (دین جس کی یہ تمام انبیاء دعوت دیتے رہے ہیں) تمہارا دین ہے جو ایک ہی دین ہے، اور میں تمہارا پروردگار ہوں۔ لہذا تم میری عبادت کرو۔

﴿93﴾ اور لوگوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے بانٹ لیا، (مگر) سب ہمارے پاس لوٹ کر آنے والے ہیں۔

﴿94﴾ پھر جو مومن بن کر نیک عمل کرے گا تو اس کی کوشش کی ناقدری نہیں ہوگی، اور ہم اس کوشش کو لکھے جاتے ہیں۔

﴿95﴾ اور جس کسی بستی (کے لوگوں) کو ہم نے ہلاک کیا ہے، اس کے لیے ناممکن ہے کہ وہ پلٹ کر (دنیا میں) آجائیں۔

﴿96﴾ یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کو کھول دیا جائے گا، اور وہ ہر بلندی سے پھسلتے نظر آئیں گے۔

﴿97﴾ اور سچا وعدہ پورا ہونے کا وقت قریب آجائے گا تو اچانک حالت یہ ہوگی کہ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا تھا ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی (اور وہ کہیں گے کہ :) ہائے ہماری کم بختی ! ہم اس چیز سے بالکل ہی غفلت میں تھے، بلکہ ہم نے بڑے ستم ڈھائے تھے۔

﴿98﴾ (اے شرک کرنے والو !) یقین رکھو کہ تم اور جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو، وہ سب جہنم کا ایندھن ہیں۔ تمہیں اسی جہنم میں جا اترنا ہے۔

﴿99﴾ اگر یہ وقعی خدا ہوتے تو اس (جہنم) میں نہ جاتے۔ اور سب کے سب اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

﴿100﴾ وہاں ان کی چیخیں نکلیں گی، اور وہاں وہ کچھ سن نہیں سکیں گے۔

﴿101﴾ (البتہ) جن لوگوں کے لیے ہماری طرف سے بھلائی پہلے سے لکھی جاچکی ہے، (یعنی نیک مومن) ان کو اس جہنم سے دور رکھا جائے گا۔

﴿102﴾ وہ اس کی سرسراہٹ بھی نہیں سنیں گے، اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اپنی من پسند چیزوں کے درمیان رہیں گے۔

﴿103﴾ ان کو وہ (قیامت کی) سب سے بڑی پریشانی غمگین نہیں کرے گی، اور فرشتے ان کا (یہ کہہ کر) استقبال کریں گے (کہ) یہ تمہارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔

﴿104﴾ اس دن (کا دھیان رکھو) جب ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے جیسے کاغذوں کے طومار میں تحریریں لپیٹ دی جاتی ہیں۔ جس طرح ہم نے پہلے بار تخلیق کی ابتدا کی تھی، اسی طرح ہم اسے دوبارہ پیدا کردیں گے۔ یہ ایک وعدہ ہے جسے پورا کرنے کا ہم نے ذمہ لیا ہے۔ ہمیں یقینا یہ کام کرنا ہے۔

﴿105﴾ اور ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد یہ لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔

﴿106﴾ بیشک اس (قرآن) میں عبادت گزار لوگوں کے لیے کافی پیغام ہے۔

﴿107﴾ اور (اے پیغمبر) ہم نے تمہیں سارے جہانوں کے لیے رحمت ہی رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

﴿108﴾ کہہ دو کہ : مجھ پر تو یہی وحی آتی ہے کہ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے۔ تو کیا تم اطاعت قبول کرتے ہو ؟

﴿109﴾ پھر بھی اگر یہ لوگ منہ موڑیں تو کہہ دو کہ : میں نے تمہیں علی الاعلان خبردار کردیا ہے۔ اور مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ جس (سزا) کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے، وہ قریب ہے یا دور۔

﴿110﴾ بیشک اللہ تعالیٰ وہ باتیں بھی جانتا ہے جو بلند آواز سے کہی جاتی ہیں، اور وہ باتیں بھی جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو۔

﴿111﴾ اور میں نہیں جانتا شاید (سزا میں) یہ (تاخیر) تمہارے لیے ایک آزمائش ہے اور کسی خاص وقت تک کے لیے مزے کرنے کا موقع دینا ہے۔

﴿112﴾ (آخرکار) پیغمبر نے کہا کہ : اے میرے پروردگار ! حق کا فیصلہ کردیجیے، اور ہمارا پروردگار بڑٰی رحمت والا ہے، اور جو باتیں تم بناتے ہو، ان کے مقابلے میں اسی کی مدد درکار ہے۔

الحج

Surah 22

﴿1﴾ اے لوگو ! اپنے پروردگار (کے غضب) سے ڈرو۔ یقین جانو کہ قیامت کا بھونچال بڑی زبردست چیز ہے۔

﴿2﴾ جس دن وہ تمہیں نظر آجائے گا اس دن ہر دودھ پلانے والی اس بچے (تک) کو بھول بیٹھے گی، جس کو اس نے دودھ پلایا اور ہر حمل والی اپنا حمل گرا بیٹھے گی، اور لوگ تمہیں یوں نظر آئیں گے کہ وہ نشے میں بدحواس ہیں، حالانکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہوگا۔

﴿3﴾ اور لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے بارے میں بےجانے بوجھے جھگڑے کرتے ہیں، اور اس سرکش شیطان کے پیچھے چل کھڑے ہوتے ہیں۔

﴿4﴾ جس کے مقدر میں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ جو کوئی اسے دوست بنائے گا تو وہ اس کو گمراہ کرے گا، اور اسے بھڑکتی دوزخ کے عذاب کی طرف لے جائے گا۔

﴿5﴾ اے لوگو ! اگر تمہیں دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں کچھ شک ہے تو (ذرا سوچو کہ) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ پھر نطفے سے، پھر ایک جمے ہوئے خون سے، پھر ایک گوشت کے لوتھڑے سے جو (کبھی) پورا بن جاتا ہے، اور (کبھی) پورا نہیں بنتا تاکہ ہم تمہارے لیے (تمہاری) حقیقت کھول کر بتادیں، اور ہم (تمہیں) ماؤں کے پیٹ میں جب تک چاہتے ہیں، ایک متعین مدت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں، پھر تمہیں ایک بچے کی شکل میں باہر لاتے ہیں، پھر (تمہیں پالتے ہیں) تاکہ تم اپنی بھر پور عمر تک پہنچ جاؤ، اور تم میں سے بعض وہ ہیں جو (پہلے ہی) دنیا سے اٹھالیے جاتے ہیں اور تمہی میں سے بعض وہ ہوتے ہیں جن کو بدترین عمر (یعنی انتہائی بڑھاپے) تک لوٹا دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی کچھ نہیں جانتے۔ اور تم دیکھتے ہو کہ زمین مرجھائی ہوئی پڑی ہے، پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ حرکت میں آتی ہے، اس میں بڑھوتری ہوتی ہے، اور وہ ہر قسم کی خوشنما چیزیں اگاتی ہے۔

﴿6﴾ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی کا وجود برحق ہے، اور وہی بےجانوں میں جان ڈالتا ہے، اور وہ ہر چیز پر مکمل قدرت رکھتا ہے۔

﴿7﴾ اور اس لیے کہ قیامت کی گھڑی آنے والی ہے، جس میں کوئی شک نہیں ہے، اور اس لیے کہ اللہ ان سب لوگوں کو دوبارہ زندہ کرے گا جو قبروں میں ہیں۔

﴿8﴾ اور لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑے کرتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس نہ کوئی علم ہے نہ ہدایت، اور نہ کوئی روشنی دینے والی کتاب۔

﴿9﴾ وہ تکبر سے اپنا پہلو اکڑائے ہوئے ہیں، تاکہ دوسروں کو بھی اللہ کے راستے سے گمراہ کریں، ایسے ہی شخص کے لیے دنیا میں رسوائی ہے، اور قیامت کے دن ہم اسے جلتی ہوئی آگ کا مزہ چکھائیں گے۔

﴿10﴾ (کہ) یہ سب کچھ تیرے اس کرتوت کا بدلہ ہے جو تو نے اپنے ہاتھوں سے آگے بھیجا تھا، اور یہ بات طے ہے کہ اللہ بندوں پر ظلم ڈھانے والا نہیں ہے۔

﴿11﴾ اور لوگوں میں وہ شخص بھی ہے جو ایک کنارے پر رہ کر اللہ کی عبادت کرتا ہے۔ چنانچہ اگر اسے (دنیا میں) کوئی فائدہ پہنچ گیا تو وہ اس سے مطمئن ہوجاتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش پیش آگئی تو وہ منہ موڑ کر (پھر کفر کی طرف) چل دیتا ہے۔ ایسے شخص نے دنیا بھی کھوئی، اور آخرت بھی۔ یہی تو کھلا ہوا گھاٹا ہے۔

﴿12﴾ وہ اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں، نہ کوئی فائدہ دے سکتے ہیں۔ یہی تو پرلے درجے کی گمراہی ہے۔

﴿13﴾ یہ ایسے (جھوٹے خدا) کو پکارتے ہیں جس کا نقصان اس کے فائدے سے زیادہ قریب ہے۔ ایسا مددگار بھی کتنا برا ہے، اور ایسا ساتھی بھی کتنا برا۔

﴿14﴾ جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اللہ یقینا ان کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، یقینا اللہ ہر وہ کام کرتا ہے جس کا ارادہ کرلیتا ہے۔

﴿15﴾ جو شخص یہ سمجھتا تھا کہ اللہ دنیا اور آخرت میں اس (پیغمبر) کی مدد نہیں کرے گا تو وہ آسمان تک ایک رسی تان کر رابطہ کاٹ ڈالے، پھر دیکھے کہ کیا اس کی یہ تدبیر اس کی جھنجلاہٹ دور کرسکتی ہے ؟

﴿16﴾ اور ہم نے اس (قرآن) کو کھلی کھلی نشانیوں کی صورت میں اسی طرح اتارا ہے، اور اللہ جس کو چاہتا ہے، ہدایت دیتا ہے۔

﴿17﴾ بلاشبہ مومن ہوں یا یہودی، صابی ہوں یا نصرانی اور مجوسی، یا وہ جنہوں نے شرک اختیار کیا ہے، اللہ قیامت کے دن ان سب کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ یقینا اللہ ہر چیز کا گواہ ہے۔

﴿18﴾ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ کے آگے وہ سب سجدہ کرتے ہیں جو آسمانوں میں ہیں اور وہ سب جو زمین میں ہیں۔ نیز سورج اور چاند، اور ستارے اور پہاڑ، اور درخت اور جانور، اور بہت سے انسان بھی۔ اور بہت سے ایسے بھی ہیں جن پر عذاب طے ہوچکا ہے۔ اور جسے اللہ ذلیل کردے، کوئی نہیں ہے جو اسے عزت دے سکے۔ یقینا اللہ وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے۔

﴿19﴾ یہ (مومن اور کافر) دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں ایک دوسرے سے جھگڑا کیا ہے۔ اب (اس کا فیصلہ اس طرح ہوگا کہ) جن لوگوں نے کفر اپنا یا ہے، ان کے لیے آگ کے کپڑے تراشے جائیں گے، ان کے سروں کے اوپر سے کھولتا ہوا پانی چھوڑا جائے گا۔

﴿20﴾ جس سے ان کے پیٹ کے اندر کی چیزیں اور کھالیں گل جائیں گی۔

﴿21﴾ اور ان کے لیے لوہے کے ہتھوڑے ہوں گے۔

﴿22﴾ جب کبھی تکلیف سے تنگ آکر وہ اس سے نکلنا چاہیں گے تو انہیں پھر اسی میں لوٹا دیا جائے گا، کہ چکھو جلتی آگ کا مزہ۔

﴿23﴾ (دوسری طرف) جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک کام کیے ہیں، اللہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے سجایا جائے گا، اور جہاں ان کا لباس ریشم ہوگا۔

﴿24﴾ اور (وجہ یہ ہے کہ) ان لوگوں کی رسائی پاکیزہ بات (یعنی کلمہ توحید) تک ہوگئی تھی، اور وہ اس خدا کے راستے تک پہنچ گئے تھے جو ہر تعریف کا مستحق ہے۔

﴿25﴾ بیشک وہ لوگ (سزا کے لائق ہیں) جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے اور جو دوسروں کو اللہ کے راستے سے اور اس مسجد حرام سے روکتے ہیں جسے ہم نے لوگوں کے لیے ایسا بنایا ہے کہ اس میں وہاں کے باشندے اور باہر سے آنے والے سب برابر ہیں۔ اور جو کوئی شخص اس میں ظلم کر کے ٹیڑھی راہ نکالے گا، ہم اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

﴿26﴾ اور یاد کرو وہ وقت جب ہم نے ابراہیم کو اس گھر (یعنی خانہ کعبہ) کی جگہ بتادی تھی۔ (اور یہ ہدایت دی تھی کہ) میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، اور میرے گھر کو ان لوگوں کے لیے پاک رکھنا جو (یہاں) طواف کریں، اور عبادت کے لیے کھڑے ہوں، اور رکوع سجدے بجا لائیں۔

﴿27﴾ اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو، کہ وہ تمہارے پاس پیدل آئیں، اور دور دراز کے راستوں سے سفر کرنے والی ان اونٹنیوں پر سوار ہو کر آئیں جو (لمبے سفر سے) دبلی ہوگئی ہوں۔

﴿28﴾ تاکہ وہ ان فوائد کو آنکھوں سے دیکھیں جو ان کے لیے رکھے گئے ہیں، اور متعین دنوں میں ان چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا کیے ہیں۔ چنانچہ (مسلمانو) ان جانوروں میں سے خود بھی کھاؤ اور تنگ دست محتاج کو بھی کھلاؤ۔

﴿29﴾ پھر (حج کرنے والے) لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنا میل کچیل دور کریں، اور اپنی منتیں پوری کریں، اور اس بیت عتیق کا طواف کریں۔

﴿30﴾ یہ ساری باتیں یاد رکھو، اور جو شخص ان چیزوں کی تعظیم کرے گا جن کو اللہ نے حرمت دی ہے تو اس کے حق میں یہ عمل اس کے پروردگار کے نزدیک بہت بہتر ہے۔ سارے مویشی تمہارے لیے حلال کردیے گئے ہیں، سوائے ان جانوروں کے جن کی تفصیل تمہیں پڑھ کر سنا دی گئی ہے۔ لہذا بتوں کی گندگی اور جھوٹٰ بات سے اس طرح بچ کر رہو۔

﴿31﴾ کہ تم یکسوئی کے ساتھ اللہ کی طرف رخ کیے ہوئے ہو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ مانتے ہو۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے تو گویا وہ آسمان سے گرپڑا۔ پھر یا تو پرندے اسے اچک لے جائیں، یا ہوا اسے کہیں دور دراز کی جگہ لا پھینکے۔

﴿32﴾ یہ ساری باتیں یاد رکھو، اور جو شخص اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے، تو یہ بات دلوں کے تقوی سے حاصل ہوتی ہے۔

﴿33﴾ تمہیں ایک معین وقت تک ان (جانوروں سے) فوائد حاصل کرنے کا حق ہے۔ پھر ان کے حلال ہونے کی منزل اسی قدیم گھر (یعنی خانہ کعبہ) کے آس پاس ہے۔

﴿34﴾ اور ہم نے ہر امت کے لیے قربانی اس غرض کے لیے مقرر کی ہے کہ وہ ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا فرمائے ہیں۔ لہذا تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے، چنانچہ تم اسی کی فرمانبرداری کرو، اور خوشخبردی سنا دو ان لوگوں کو جن کے دل اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں۔

﴿35﴾ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دلوں پر رعب طاری ہوجاتا ہے، اور جو اپنے اوپر پڑنے والی ہر مصیبت پر صبر کرنے والے ہیں، اور نماز قائم کرنے والے ہیں، اور جو رزق ہم نے انہیں دیا ہے، اس میں سے (اللہ کے راستے میں) خرچ کرتے ہیں۔

﴿36﴾ اور قربانی کے اونٹ اور گائے کو ہم نے تمہارے لیے اللہ کے شعائر میں شامل کیا ہے، تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے۔ چنانچہ جب وہ ایک قطار میں کھڑے ہوں، ان پر اللہ کا نام لو، پھر جب (ذبح ہوکر) ان کے پہلو زمین پر گرجائیں تو ان (کے گوشت) میں سے خود بھی کھاؤ، اور ان محتاجوں کو بھی کھلاؤ جو صبر سے بیٹھے ہوں، اور ان کو بھی جو اپنی حاجت ظاہر کریں۔ اور ان جانوروں کو ہم نے اسی طرح تابع بنادیا ہے تاکہ تم شکر گزار بنو۔

﴿37﴾ اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون، لیکن اس کے پاس تمہارا تقوی پہنچتا ہے، اس نے یہ جانور اسی طرح تمہارے تابع بنا دئیے ہیں تاکہ تم اس بات پر اللہ کی تکبیر کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت عطا فرمائی، اور جو لوگ خوش اسلوبی سے نیک عمل کرتے ہیں، انہیں خوشخبری سنا دو ۔

﴿38﴾ بیشک اللہ ان لوگوں کا دفاع کرے گا جو ایمان لے آئے ہیں، یقین جانو کہ اللہ کسی دغا باز ناشکرے کو پسند نہیں کرتا۔

﴿39﴾ جن لوگوں سے جنگ کی جارہی ہے، انہیں اجازت دی جاتی ہے (کہ وہ اپنے دفاع میں لڑیں) کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے، اور یقین رکھو کہ اللہ ان کو فتح دلانے پر پوری طرح قادر ہے۔

﴿40﴾ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں صرف اتنی بات پر اپنے گھروں سے ناحق نکالا گیا ہے کہ انہوں نے یہ کہا تھا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے۔ اور اگر اللہ لوگوں کے ایک گروہ (کے شر) کو دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہتا تو خانقاہیں اور کلیسا اور عبادت گا ہیں اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے ذکر کیا جاتا ہے، سب مسمار کردی جاتیں۔ اور اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس (کے دین) کی مدد کریں گے۔ بلاشبہ اللہ بڑی قوت والا، بڑے اقتدار والا ہے۔

﴿41﴾ یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں، اور زکوٰۃ ادا کریں، اور لوگوں کو نیکی کی تاکید کریں، اور برائی سے روکیں، اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضے میں ہے۔

﴿42﴾ اور (اے پیغمبر) اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے نوح کی قوم، اور عاد وثمود کی قومیں بھی (اپنے اپنے پیغمبروں کو) جھٹلا چکی ہیں۔

﴿43﴾ نیز ابراہیم کی قوم اور لوط کی قوم۔

﴿44﴾ اور مدین کے لوگ بھی، اور موسیٰ کو بھی جھٹلایا گیا تھا، چنانچہ ان کافروں کو میں نے کچھ ڈھیل دی، پھر انہیں پکڑ میں لے لیا، اب دیکھ لو کہ میری پکڑ کیسی تھی۔

﴿45﴾ غرض کتنی بستیاں تھیں جن کو ہم نے اس وقت ہلاک کیا جب وہ ظلم کر رہی تھیں، چنانچہ وہ اپنی چھتوں کے بل گری پڑی ہیں، اور کتنے ہی کنویں جو اب بیکار ہوئے پڑے ہیں، اور کتنے پکے بنے ہوئے محل (جو کھنڈر بن چکے ہیں) ۔

﴿46﴾ تو کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں جس سے انہیں وہ دل حاصل ہوتے جو انہیں سمجھ دے سکتے، یا ایسے کان حاصل ہوتے جن سے وہ سن سکتے ؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں۔

﴿47﴾ اور یہ لوگ تم سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں، حالانکہ اللہ اپنے وعدے کی ہرگز خلاف ورزی نہیں کرے گا، اور یقین جانو کہ تمہارے رب کے یہاں کا ایک دن تمہاری گنتی کے مطابق ایک ہزار سال کی طرح کا ہوتا ہے۔

﴿48﴾ اور کتنی ہی بستیاں ایسی تھیں جنہیں میں نے مہلت دی تھی، اور وہ ظلم کرتی رہیں، پھر میں نے انہیں پکڑ میں لے لیا، اور سب کو آخر کار میرے پاس ہی لوٹنا ہوگا۔

﴿49﴾ (اے پیغمبر) کہہ دو کہ : اے لوگو ! میں تو تمہیں وضاحت کے ساتھ خبردار کرنے والا ہوں۔

﴿50﴾ پھر جو لوگ ایمان لے آئے، اور نیک عمل کرنے لگے، تو ان کے لیے مغفرت ہے، اور باعزت رزق ہے۔

﴿51﴾ اور جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کو نیچا دکھانے کے لیے دوڑ دھوپ کی ہے، تو وہ دوزخ کے باسی ہیں۔

﴿52﴾ اور (اے پیغمبر) تم سے پہلے ہم نے جب بھی کوئی رسول یا نبی بھیجا تو اس کے ساتھ یہ واقعہ ضرور ہوا کہ جب اس نے (اللہ کا کلام) پڑھا تو شیطان نے اس کے پڑھنے کے ساتھ ہی (کفار کے دلوں میں) کوئی رکاوٹ ڈال دی، پھر جو رکاوٹ شیطان ڈالتا ہے، اللہ اسے دور کردیتا ہے، پھر اپنی آیتوں کو زیادہ مضبوط کردیتا ہے، اور اللہ بڑے علم کا، بڑی حکمت کا مالک ہے۔

﴿53﴾ یہ (شیطان نے رکاوٹ اس لیے ڈالی) تاکہ جو رکاوٹ شیطان نے ڈالی تھی، اللہ اسے ان لوگوں کے لیے فتنہ بنا دے جن کے دلوں میں روگ ہے، اور جن کے دل سخت ہیں۔ اور یقین جانو کہ یہ ظالم لوگ مخالفت میں بہت دور چلے گئے ہیں۔

﴿54﴾ اور (اس رکاوٹ کو اللہ تعالیٰ نے اس لیے دور کیا) تاکہ جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے، وہ جان لیں کہ یہی (کلام) برحق ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے آیا ہے، پھر وہ اس پر ایمان لائیں، اور ان کے دل اس کے آگے جھک جائیں، اور یقین رکھو کہ اللہ ایمان والوں کو سیدھے راستے کی ہدایت دینے والا ہے۔

﴿55﴾ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ اس (کلام) کی طرف سے برابر شک ہی میں پڑے رہیں گے، یہاں تک کہ ان پر اچانک قیامت آجائے، یا ایسے دن کا عذاب ان تک آپہنچے جو (ان کے لیے) کسی بھلائی کو جنم دینے کی صلاحیت سے خالی ہوگا۔

﴿56﴾ بادشاہی اس دن اللہ کی ہوگی، وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا، چنانچہ جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، وہ نعمتوں کے باغات میں ہوں گے۔

﴿57﴾ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے، تو ایسے لوگوں کے لیے ذلت والا عذاب ہوگا۔

﴿58﴾ اور جن لوگوں نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی، پھر قتل کردیے گئے یا ان کا انتقال ہوگیا تو اللہ انہیں ضرور اچھا رزق دے گا، اور یقین رکھو کہ اللہ ہی بہترین رزق دینے والا ہے۔

﴿59﴾ وہ انہیں ضرور ایسی جگہ پہنچائے گا جس سے وہ خوش ہوجائیں گے، اور اللہ یقینا ہر بات جاننے والا، بڑا بردبار ہے۔

﴿60﴾ یہ بات طے ہے اور (آگے یہ بھی سن لو کہ) جس شخص نے کسی کو بدلے میں اتنی ہی تکلیف پہنچائی جتنی اس کو پہنچائی گئی تھی، اس کے بعد پھر اس سے زیادتی کی گئی، تو اللہ اس کی ضرور مدد کرے گا۔ یقین رکھو کہ اللہ بہت معاف کرنے والا، بہت بخشنے والا ہے۔

﴿61﴾ یہ اس لیے کہ اللہ (کی قدرت اتنی بڑی ہے کہ وہ) رات کو دن میں داخل کردیتا اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے۔ اور اس لیے کہ اللہ ہر بات سنتا، ہر چیز دیکھتا ہے۔

﴿62﴾ یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور یہ لوگ اسے چھوڑ کر جن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں، وہ سب باطل ہیں اور اللہ ہی وہ ہے جس کی شان بھی اونچی ہے، رتبہ بھی بڑا۔

﴿63﴾ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا، جس سے زمین سرسبز ہوجاتی ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا مہربان، ہر بات سے باخبر ہے۔

﴿64﴾ جو کچھ آسمانوں میں ہے، اور جو کچھ زمین میں ہے، سب اسی کا ہے۔ اور یقین رکھو کہ اللہ ہی وہ ذات ہے جو سب سے بےنیاز ہے، بذات خود قابل تعریف۔

﴿65﴾ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے زمین کی ساری چیزیں تمہارے کام میں لگا رکھی ہیں، اور وہ کشتیاں بھی جو اس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہیں ؟ اور اس نے آسمان کو اس طرح تھام رکھا ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر زمین پر نہیں گر سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں کے ساتھ شفقت کا برتاؤ کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿66﴾ اور وہی ہے جس نے تمہیں زندگی دی، پھر وہ تمہیں موت دے گا، پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ واقعی انسان بڑا ناشکرا ہے۔

﴿67﴾ ہم نے ہر امت کے لوگوں کے لیے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کیا ہے، جس کے مطابق وہ عبادت کرتے ہیں۔ لہذا (اے پیغمبر) لوگوں کو تم سے اس معاملے میں جھگڑا نہیں کرنا چاہیے اور تم اپنے پروردگار کی طرف دعوت دیتے رہو۔ تم یقینا سیدھے راستے پر ہو۔

﴿68﴾ اور اگر وہ تم سے جھگڑیں تو کہہ دو کہ : جو کچھ تم کر رہے ہو، اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

﴿69﴾ اللہ قیامت کے دن تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔

﴿70﴾ کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان اور زمین کی تمام چیزیں اللہ کے علم میں ہیں ؟ یہ سب باتیں ایک کتاب میں محفوظ ہیں۔ بیشک یہ سارے کام اللہ کے لیے بہت آسان ہیں۔

﴿71﴾ اور یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن (کے معبود ہونے) کی اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی، اور خود ان لوگوں کو بھی اس کے بارے میں کوئی علم حاصل نہیں۔ اور ان ظالموں کا (آخرت میں) کوئی مددگار نہیں ہوگا۔

﴿72﴾ اور جب ان کو ہماری آیتیں اپنی پوری وضاحتوں کے ساتھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں، تو تم ان کافروں کے چہروں پر ناگواری کے اثرات صاف پہچان لیتے ہو، ایسا لگتا ہے کہ یہ ان لوگوں پر حملہ کردیں گے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ کہہ دو کہ : لوگو ! کیا میں تمہیں ایسی چیز بتلا دوں جو اس سے زیادہ ناگوار ہے ؟ آگ ! اللہ نے کافروں سے اس کا وعدہ کر رکھا ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

﴿73﴾ لوگو ! ایک مثال بیان کی جارہی ہے اب اسے کان لگا کر سنو ! تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر جن جن کو دعا کے لیے پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے، چاہے اس کام کے لیے سب کے سب اکٹھے ہوجائیں، اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کرلے جائے تو وہ اس سے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ ایسا دعا مانگنے والا بھی بودا اور جس سے دعا مانگی جارہی ہے وہ بھی۔

﴿74﴾ ان لوگوں نے اللہ کی ٹھیک ٹھیک قدر ہی نہیں پہچانی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ قوت کا بھی مالک ہے، اقتدار کا بھی مالک۔

﴿75﴾ اللہ فرشتوں میں سے بھی اپنا پیغام پہنچانے والے منتخب کرتا ہے اور انسانوں میں سے بھی۔ یقینا اللہ ہر بات سنتا ہر چیز دیکھتا ہے۔

﴿76﴾ وہ ان کے آگے اور پیچھے کی ساری باتوں کو جانتا ہے، اور اللہ ہی پر تمام معاملات کا دارومدار ہے۔

﴿77﴾ اے ایمان والو ! رکوع کرو، اور سجدہ کرو، اور اپنے پروردگار کی بندگی کرو، اور بھلائی کے کام کرو، تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔

﴿78﴾ اور اللہ کے راستے میں جہاد کرو، جیسا کہ جہاد کا حق ہے۔ اس نے تمہیں (اپنے دین کے لیے) منتخب کرلیا ہے، اور تم پر دین کے معاملے میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ اپنے باپ ابراہیم کے دین کو مضبوطی سے تھام لو، اس نے پہلے بھی تمہارا نام مسلم رکھا تھا، اور اس (قرآن) میں بھی، تاکہ یہ رسول تمہارے لیے گواہ بنیں، اور تم دوسرے لوگوں کے لیے گواہ بنو۔ لہذا نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، اور اللہ کو مضبوطی سے تھامے رکھو، وہ تمہارا رکھوالا ہے، دیکھو، کتنا اچھا رکھوالا، اور کتنا اچھا مددگار۔

المومنون

Surah 23

﴿1﴾ ان ایمان والوں نے یقینا فلاح پالی ہے۔

﴿2﴾ جو اپنی نماز میں دل سے جھکنے والے ہیں۔

﴿3﴾ اور جو لغو چیزوں سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔

﴿4﴾ اور جو زکوٰۃ پر عمل کرنے والے ہیں۔

﴿5﴾ اور جو اپنی شرمگاہوں کی (اور سب سے) حفاظت کرتے ہیں۔

﴿6﴾ سوائے اپنی بیویوں اور ان کنیزوں کے جو ان کی ملکیت میں آچکی ہوں۔ کیونکہ ایسے لوگ قابل ملامت نہیں ہیں۔

﴿7﴾ ہاں جو اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہیں تو ایسے لوگ حد سے گزرے ہوئے ہیں۔

﴿8﴾ اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والے ہیں۔

﴿9﴾ اور جو اپنی نمازوں کی پوری نگرانی رکھتے ہیں۔

﴿10﴾ یہ ہیں وہ وارث۔

﴿11﴾ جنہیں جنت الفردوس کی میراث ملے گی۔ یہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

﴿12﴾ اور ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے پیدا کیا۔

﴿13﴾ پھر ہم نے اسے ٹپکی ہوئی بوند کی شکل میں ایک محفوظ جگہ پر رکھا۔

﴿14﴾ پھر ہم نے اس بوند کو جمے ہوئے خون کی شکل دے دی، پھر اس جمے ہوئے خون کو ایک لوتھڑا بنادیا، پھر اس لوتھڑے کو ہڈیوں میں تبدیل کردیا، پھر ہڈیوں کو گوشت کا لباس پہنایا، پھر اسے ایسی اٹھان دی کہ وہ ایک دوسری ہی مخلوق بن کر کھڑا ہوگیا۔ غرض بڑی شان ہے اللہ کی جو سارے کاریگروں سے بڑھ کر کاریگر ہے۔

﴿15﴾ پھر اس سب کے بعد تمہیں یقینا موت آنے والی ہے۔

﴿16﴾ پھر قیامت کے دن تمہیں یقینا دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔

﴿17﴾ اور ہم نے تمہارے اوپر سات تہہ بر تہہ راستے پیدا کیے ہیں اور ہم مخلوق سے غافل نہیں ہیں۔

﴿18﴾ اور ہم نے آسمان سے ٹھیک اندازے کے مطابق پانی اتارا، پھر اسے زمین میں ٹھہرا دیا، اور یقین رکھو، ہم اسے غائب کردینے پر بھی قادر ہیں۔

﴿19﴾ پھر ہم نے اس سے تمہارے لیے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے جن سے تمہیں بہت سے میوے حاصل ہوتے ہیں، اور انہی میں سے تم کھاتے ہو۔

﴿20﴾ اور وہ درخت بھی پیدا کیا جو طور سینا سے نکلتا ہے جو اپنے ساتھ تیل لے کر اور کھانے والوں کے لیے سالن لے کر اگتا ہے۔

﴿21﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے مویشیوں میں بڑی نصیحت کا سامان ہے جو (دودھ) ان کے پیٹ میں ہے، اس سے ہم تمہیں سیراب کرتے ہیں، اور ان میں تمہارے لیے بہت سے فوائد ہیں، اور انہی سے تم غذا بھی حاصل کرتے ہو۔

﴿22﴾ اور انہی پر اور کشتیوں پر تمہیں سوار بھی کیا جاتا ہے۔

﴿23﴾ اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کے پاس بھیجا تھا، چنانچہ انہوں نے (قوم سے) کہا کہ : میری قوم کے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے، بھلا کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟

﴿24﴾ اس پر ان کی قوم کے کافر سرداروں نے (ایک دوسرے سے) کہا : اس شخص کی اس کے سوا کوئی حقیقت نہیں کہ یہ تمہی جیسا ایک انسان ہے جو تم پر اپنی برتری جمانا چاہتا ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو فرشتے نازل کردیتا۔ یہ بات تو ہم نے اپنے پچھلے باپ دادوں میں کبھی نہیں سنی۔

﴿25﴾ (رہا یہ شخص، تو) یہ اور کچھ نہیں ایک ایسا آدمی ہے جسے جنون لاحق ہوگیا ہے، اس لیے کچھ وقت تک اس کا انتظار کر کے دیکھ لو (کہ شاید اپنے حواس میں آجائے)

﴿26﴾ نوح نے کہا : یا رب ! ان لوگوں نے مجھے جس طرح جھوٹا بنایا ہے، اس پر تو ہی میری مدد فرما۔

﴿27﴾ چنانچہ ہم نے ان کے پاس وحی بھیجی کہ : تم ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بناؤ۔ پھر جب ہمارا حکم آجائے، اور تنور ابل پڑے۔ تو ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا لے کر اسے بھی اس کشتی میں سوار کرلینا۔ اور اپنے گھر والوں کو بھی، سوائے ان کے جن کے خلاف پہلے ہی حکم صادر ہوچکا ہے۔ اور ان ظالموں کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کرنا، یہ بات طے ہے کہ یہ سب غرق کیے جائیں گے۔

﴿28﴾ پھر جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی میں ٹھیک ٹھیک بیٹھ چکیں تو کہنا : شکر ہے اللہ کا جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات عطا فرمائی۔

﴿29﴾ اور کہنا : یارب ! مجھے ایسا اترنا نصیب کر جو برکت والا ہو، اور تو بہترین اتارنے والا ہے۔

﴿30﴾ اس سارے واقعے میں بڑی نشانیاں ہیں، اور یقینی بات ہے کہ ہمیں آزمائش تو کرنی ہی کرنی تھی۔

﴿31﴾ پھر ان کے بعد ہم نے دوسری نسلیں پیدا کیں۔

﴿32﴾ اور ان کے درمیان انہی میں کے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیجا۔ (جس نے کہا) کہ : اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ بھلا کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟

﴿33﴾ ان کی قوم کے وہ سردار جنہوں نے کفر اپنا رکھا تھا، اور جنہوں نے آخرت کا سامنا کرنے کو جھٹلایا تھا، اور جن کو ہم نے دنیوی زندگی میں خوب عیش دے رکھا تھا، انہوں نے (ایک دوسرے سے) کہا : اس شخص کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ یہ تمہی جیسا ایک انسان ہے۔ جو چیز تم کھاتے ہو، یہ بھی کھاتا ہے، اور جو تم پیتے ہو، یہ بھی پیتا ہے۔

﴿34﴾ اور اگر کہیں تم نے اپنے ہی جیسے ایک انسان کی فرمانبرداری قبول کرلی تو تم بڑے ہی گھاٹے کا سودا کرو گے۔

﴿35﴾ بھلا بتاؤ یہ شخص تمہیں ڈراتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے، اور مٹی اور ہڈیوں میں تبدیل ہوجاؤ گے تو تمہیں دوبارہ زمین سے نکالا جائے گا ؟

﴿36﴾ جس بات سے تمہیں ڈرایا جارہا ہے وہ تو بہت ہی بعید بات ہے، سمجھ سے بالکل ہی دور۔

﴿37﴾ زندگی تو ہماری اس دنیوی زندگی کے سوا کوئی اور نہیں ہے (یہیں) ہم مرتے اور جیتے ہیں، اور ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جاسکتا۔

﴿38﴾ (رہا یہ شخص، تو) یہ اور کچھ نہیں، ایک ایسا آدمی ہے جس نے اللہ پر جھوٹا بہتان گھڑا ہے، اور ہم اس پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

﴿39﴾ پیغمبر نے کہا : یا رب ! ان لوگوں نے مجھے جس طرح جھوٹا بنایا ہے، اس پر تو ہی میری مدد فرما۔

﴿40﴾ اللہ نے فرمایا : اب تھوڑی ہی دیر کی بات ہے کہ یہ لوگ پچھتاتے رہ جائیں گے۔

﴿41﴾ چنانچہ اس سچے وعدے کے مطابق ان کو ایک چنگھاڑ نے آپکڑا اور ہم نے انہیں کوڑا کرکٹ بنا کر رکھ دیا۔ پھٹکار ہے ایسے ظالم لوگوں پر۔

﴿42﴾ اس کے بعد ہم نے دوسری نسلیں پیدا کیں۔

﴿43﴾ کوئی امت نہ اپنے معین وقت سے پہلے جاسکتی ہے، نہ اس کے بعد ٹھہر سکتی ہے۔

﴿44﴾ پھر ہم نے پے در پے اپنے پیغمبر بھیجے، جب بھی کسی قوم کے پاس اس کا پیغمبر آتا تو وہ اسے جھٹلاتے، چنانچہ ہم نے بھی ایک کے بعد ایک (کو ہلاک کرنے) کا سلسلہ باندھ دیا، اور انہیں قصہ کہانیاں بنا ڈالا۔ پھٹکار ہے ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے۔

﴿45﴾ پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور واضح ثبوت کے ساتھ بھیجا

﴿46﴾ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس تو انہوں نے گھمنڈ کا مظاہرہ کیا، اور وہ بڑے تکبر والے لوگ تھے۔

﴿47﴾ چنانچہ کہنے لگے : کیا ہم اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں، حالانکہ ان کی قوم ہماری غلامی کر رہی ہے ؟

﴿48﴾ اس طرح انہوں نے ان دونوں کو جھٹلایا، اور آخر کار وہ بھی ان لوگوں سے جا ملے جنہیں ہلاک کیا گیا تھا۔

﴿49﴾ اور موسیٰ کو ہم نے کتاب عطا فرمائی، تاکہ ان کے لوگ رہنمائی حاصل کریں۔

﴿50﴾ اور مریم کے بیٹے (عیسیٰ (علیہ السلام)) کو اور ان کی ماں کو ہم نے ایک نشانی بنایا، اور ان دونوں کو ایک ایسی بلندی پر پناہ دی جو ایک پرسکون جگہ تھی، اور جہاں صاف ستھرا پانی بہتا تھا۔

﴿51﴾ اے پیغمبرو ! پاکیزہ چیزوں میں سے (جو چاہو) کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ یقین رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو، مجھے اس کا پورا پورا علم ہے۔

﴿52﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ یہی تمہارا دین ہے، (سب کے لیے) ایک ہی دین، اور میں تمہارا پروردگار ہوں، اس لیے دل میں (صرف) میرا رعب رکھو۔

﴿53﴾ پھر ہوا یہ کہ لوگوں نے اپنے دین میں باہم پھوٹ ڈال کر فرقے بنا لیے، ہر گروہ نے اپنے خیال میں جو طریقہ اختیار کرلیا ہے، اسی پر مگن ہے۔

﴿54﴾ لہذا (اے پیغمبر) ان کو ایک خاص وقت تک اپنی جہالت میں ڈوبا رہنے دو ۔

﴿55﴾ کیا یہ لوگ اس خیال میں ہیں کہ ہم ان کو جو دولت اور اولاد دیے جارہے ہیں۔

﴿56﴾ تو ان کو بھلائیاں پہنچانے میں جلدی دکھا رہے ہیں ؟ نہیں، بلکہ ان کو حقیقت کا شعور نہیں ہے۔

﴿57﴾ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے پروردگار کے رعب سے ڈرے رہتے ہیں۔

﴿58﴾ اور جو اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان لاتے ہیں۔

﴿59﴾ اور جو اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں مانتے۔

﴿60﴾ اور وہ جو عمل بھی کرتے ہیں، اسے کرتے وقت ان کے دل اس بات سے سہمے ہوتے ہیں کہ انہیں اپنے پروردگار کے پاس واپس جانا ہے۔

﴿61﴾ وہ ہیں جو بھلائیاں حاصل کرنے میں جلدی دکھا رہے ہیں، اور وہ ہیں جو ان کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

﴿62﴾ اور ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ کسی کام کی ذمہ داری نہیں دیتے، اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو (سب کا حال) ٹھیک ٹھیک بول دے گی، اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔

﴿63﴾ لیکن ان کے دل اس بات سے غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں، اور اس کے علاوہ ان کی اور بھی کارستانیاں ہیں جو وہ کرتے رہتے ہیں۔

﴿64﴾ یہاں تک کہ جب ہم ان کے دولت مند لوگوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے تو وہ ایک دم بلبلا اٹھیں گے۔

﴿65﴾ آج بلبلاؤ نہیں، ہماری طرف سے تمہیں کوئی مدد نہیں ملے گی۔

﴿66﴾ میری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو تم الٹے پاؤں مڑ جاتے تھے۔

﴿67﴾ بڑے غرور سے اس (قرآن) کے بارے میں رات کو مجلسیں جما کر بےہودہ باتیں کرتے تھے۔

﴿68﴾ بھلا کیا ان لوگوں نے اس کلام پر غور نہیں کیا، یا ان کے پاس کوئی ایسی چیز آگئی ہے جو ان کے پچھلے باپ دادوں کے پاس نہیں آئی تھی ؟

﴿69﴾ یا یہ اپنے پیغمبر کو (پہلے سے) جانتے ہی نہیں تھے، اس وجہ سے ان کا انکار کر رہے ہیں ؟

﴿70﴾ یا ان کا کہنا ہے کہ ان (پیغمبر) کو جنون لاحق ہوگیا ہے ؟ نہیں، بلکہ (اصل وجہ یہ ہے کہ) یہ پیغمبر ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں، اور ان میں سے اکثر لوگ حق کو پسند نہیں کرتے۔

﴿71﴾ اور اگر حق ان کی خواہشات کے تابع ہوجاتا تو آسمان اور زمین اور ان میں بسنے والے سب برباد ہوجاتے۔ نہیں، بلکہ ہم ان کے پاس خود ان کے لیے نصیحت کا سامان لے کر آئے ہیں، اور وہ ہیں کہ خود اپنی نصیحت سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔

﴿72﴾ یا (ان کے انکار کی وجہ یہ ہے کہ) تم ان سے کوئی معاوضہ مانگ رہے ہو ؟ تو (یہ بات بھی غلط ہے، اس لیے کہ) تمہارے پروردگار کا دیا ہوا معاوضہ (تمہارے لیے) کہیں بہتر ہے اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔

﴿73﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ تم تو انہیں سیدھے راستے کی طرف بلا رہے ہو۔

﴿74﴾ اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، وہ راستے سے بالکل ہٹے ہوئے ہیں۔

﴿75﴾ اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور اس تکلیف کو دور کردیں جس میں یہ مبتلا ہیں تب بھی یہ بھٹکتے ہوئے اپنی سرکشی پر اڑے رہیں گے۔

﴿76﴾ واقعہ یہ ہے کہ ہم نے ان کو (ایک مرتبہ) عذاب میں پکڑا تھا، تو اس وقت بھی یہ لوگ اپنے پروردگار کے سامنے نہیں جھکے۔ اور یہ تو عاجزی کی روش اختیار کرتے ہی نہیں ہیں۔

﴿77﴾ یہاں تک کہ جب ہم ان پر سخت عذاب والا دروازہ کھول دیں گے، تو یہ ایک دم اس میں مایوس ہو کر رہ جائیں گے۔

﴿78﴾ وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل پیدا کیے۔ (مگر) تم لوگ بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔

﴿79﴾ اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف تمہیں اکٹھا کر کے لے جایا جائے گا۔

﴿80﴾ اور وہی ہے جو زندگی اور موت دیتا ہے اور اسی کے قبضے میں رات اور دن کی تبدیلیاں ہیں۔ کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟

﴿81﴾ اس کے بجائے یہ لوگ بھی ویسی ہی باتیں کرتے ہیں جیسی پچھلے لوگوں نے کی تھیں۔

﴿82﴾ کہتے ہیں کہ : کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیوں میں تبدیل ہوجائیں گے تو کیا واقعی ہمیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا ؟

﴿83﴾ یہ وہ یقین دہانی ہے جو ہم سے بھی کی گئی ہے اور اسے پہلے ہمارے باپ دادوں سے بھی کی گئی تھی۔ اس کی کوئی حقیقت اس کے سوا نہیں کہ یہ پچھلے لوگوں کے بنائے ہوئے افسانے ہیں۔

﴿84﴾ (اے پیغمبر ! ذرا ان سے) کہو کہ : یہ ساری زمین اور اس میں بسنے والے کس کی ملکیت ہیں ؟ بتاؤ اگر جانتے ہو۔

﴿85﴾ وہ ضرور یہی کہیں گے کہ : یہ سب کچھ اللہ کا ہے۔ کہو کہ : کیا پھر بھی تم سبق نہیں لیتے ؟

﴿86﴾ کہو کہ : سات آسمانوں کا مالک اور عالی شان عرش کا مالک کون ہے ؟

﴿87﴾ وہ ضرور یہی کہیں گے کہ : یہ سب کچھ اللہ کا ہے۔ کہو کہ : کیا پھر بھی تم اللہ سے نہیں ڈرتے ؟

﴿88﴾ کہو کہ : کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا مکمل اختیار ہے، اور جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا ؟ بتاؤ اگر جانتے ہو۔

﴿89﴾ وہ ضرور یہی کہیں گے کہ : سارا اختیار اللہ کا ہے۔ کہو کہ : پھر کہاں سے تم پر کوئی جادو چل جاتا ہے ؟

﴿90﴾ نہیں (یہ افسانے نہیں) بلکہ ہم نے انہیں حق بات پہنچائی ہے، اور یہ لوگ یقینا جھوٹے ہیں۔

﴿91﴾ نہ تو اللہ نے کوئی بیٹا بنایا ہے، اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور خدا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا، اور پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتے۔ پاک ہے اللہ ان باتوں سے جو یہ لوگ بناتے ہیں۔

﴿92﴾ وہ اللہ جسے تمام چھپی اور کھلی باتوں کا مکمل علم ہے۔ لہذا وہ ان کے شرک سے بہت بلند وبالا ہے۔

﴿93﴾ (اے پیغمبر) دعا کرو کہ : میرے پروردگار ! جس عذاب کی دھمکی ان (کافروں) کو دی جارہی ہے، اگر آپ اسے میری آنکھوں کے سامنے لے آئیں۔

﴿94﴾ تو اے میرے پروردگار ! مجھے ان ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کیجیے گا۔

﴿95﴾ اور یقین جانو کہ ہم جس چیز کی انہیں دھمکی دے رہے ہیں اسے تمہاری آنکھوں کے سامنے لانے پر پوری طرح قادر ہیں۔

﴿96﴾ (لیکن جب تک وہ وقت نہ آئے) تم برائی کا دفعیہ ایسے طریقے سے کرتے رہو جو بہترین ہو۔ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ہم خوب جانتے ہیں۔

﴿97﴾ اور دعا کرو کہ : میرے پروردگار ! میں شیطان کے لگائے ہوئے چرکوں سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں۔

﴿98﴾ اور میرے پروردگار ! میں ان کے اپنے قریب آنے سے بھی آپ کی پناہ مانگتا ہوں۔

﴿99﴾ یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی پر موت آکھڑی ہوگی تو وہ کہے گا کہ : میرے پروردگار ! مجھے واپس بھیج دیجیے۔

﴿100﴾ تاکہ جس دنیا کو میں چھوڑ کر آیا ہوں، اس میں جاکر نیک عمل کروں۔ ہرگز نہیں ! یہ تو ایک بات ہی بات ہے جو وہ زبان سے کہہ رہا ہے، اور ان (مرنے والوں) کے سامنے عالم برزخ کی آڑ ہے۔ جو اس وقت تک قائم رہے گی جب تک ان کو دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے۔

﴿101﴾ پھر جب صور پھونکا جائے گا تو اس دن نہ ان کے درمیان رشتے ناتے باقی رہیں گے، اور نہ کوئی کسی کو پوچھے گا۔

﴿102﴾ اس وقت جن کے پلڑے بھاری نکلے تو وہی ہوں گے جو فلاح پائیں گے۔

﴿103﴾ اور جن کے پلڑے ہلکے پڑگئے، تو یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے لیے گھاٹے کا سودا کیا تھا، وہ دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

﴿104﴾ آگ ان کے چہروں کو جھلس ڈالے گی، اور اس میں ان کی صورتیں بگڑ جائیں گی۔

﴿105﴾ (ان سے کہا جائے گا کہ) کیا میری آیتیں تمہیں پڑھ کر سنائی نہیں جاتی تھیں ؟ اور تم ان کو جھٹلایا کرتے تھے۔

﴿106﴾ وہ کہیں گے کہ : ہمارے پروردگار ! ہم پر ہماری بدبختی چھا گئی تھی، اور ہم گمراہ لوگ تھے۔

﴿107﴾ ہمارے پروردگار ! ہمیں یہاں سے باہر نکال دیجیے، پھر اگر ہم دوبارہ وہی کام کریں تو بیشک ہم ظالم ہوں گے۔

﴿108﴾ اللہ فرمائے گا۔ اسی (دوزخ) میں ذلیل ہو کر پڑے رہو، اور مجھ سے بات بھی نہ کرو۔

﴿109﴾ میرے بندوں میں سے ایک جماعت یہ دعا کرتی تھی کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لے آئے ہیں، پس ہمیں بخش دیجیے، اور ہم پر رحم فرمایے، اور آپ سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والے ہیں۔

﴿110﴾ تو تم نے ان لوگوں کا مذاق بنایا تھا۔ یہاں تک کہ ان ہی (کے ساتھ چھیڑ چھاڑ) نے تمہیں میری یاد تک سے غافل کردیا، اور تم ان کی ہنسی اڑاتے رہے۔

﴿111﴾ انہوں نے جس طرح صبر سے کام لیا تھا، آج میں نے انہیں اس کا یہ بدلہ دیا ہے کہ انہوں نے اپنی مراد پالی ہے۔

﴿112﴾ (پھر) اللہ (ان دوزخیوں سے) فرمائے گا : تم زمین میں گنتی کے کتنے سال رہے ؟

﴿113﴾ وہ کہیں گے کہ : ہم ایک دن یا ایک دن سے بھی کم رہے ہوں گے۔ (ہمیں پوری طرح یاد نہیں) اس لیے جنہوں نے (وقت کی) گنتی کی ہو، ان سے پوچھ لیجیے۔

﴿114﴾ اللہ فرمائے گا : تم تھوڑی مدت سے زیادہ نہیں رہے۔ کیا خوب ہوتا اگر یہ بات تم نے (اس وقت) سمجھ لی ہوتی

﴿115﴾ بھلا کیا تم یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ ہم نے تمہیں یونہی بےمقصد پیدا کردیا، ، اور تمہیں واپس ہمارے پاس نہیں لایا جائے گا ؟

﴿116﴾ غرض بہت اونچی شان ہے اللہ کی جو صحیح معنی میں بادشاہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ عزت والے عرش کا مالک ہے۔

﴿117﴾ اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی اور خدا کو پکارے، جس پر اس کے پاس کسی قسم کی کوئی دلیل نہیں، تو اس کا حساب اس کے پروردگار کے پاس ہے۔ یقین جانو کہ کافر لوگ فلاح نہیں پاسکتے۔

﴿118﴾ اور تم (اے پیغمبر) یہ کہو کہ : میرے پروردگار ! ہماری خطائیں بخش دے، اور رحم فرمادے، تو سارے رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

النور

Surah 24

﴿1﴾ یہ ایک سورت ہے جو ہم نے نازل کی ہے، اور جس (کے احکام) کو ہم نے فرض کیا ہے، اور اس میں کھلی کھلی آیتیں نازل کی ہیں، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔

﴿2﴾ زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد دونوں کو سو سو کوڑے لگائے، اور اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو، تو اللہ کے دین کے معاملے میں ان پر ترس کھانے کا کوئی جذبہ تم پر غالب نہ آئے۔ اور یہ بھی چاہیے کہ مومنوں کا ایک مجمع ان کی سزا کو کھلی آنکھوں دیکھے۔

﴿3﴾ زانی مرد نکاح کرتا ہے تو زنا کا ریا مشرک عورت ہی سے نکاح کرتا ہے، اور زنا کار عورت سے نکاح کرتا ہے تو وہی مرد جو خود زانی ہو، یا مشرک ہو اور یہ بات مومنوں کے لیے حرام کردی گئی ہے

﴿4﴾ اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں، تو ان کو اسی کوڑے لگاؤ اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو، اور وہ خود فاسق ہیں۔

﴿5﴾ ہاں جو لوگ اس کے بعد توبہ کرلیں، اور (اپنی) اصلاح کرلیں، تو اللہ بہت بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔

﴿6﴾ اور جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگائیں اور خود اپنے سوا ان کے پاس کوئی اور گواہ نہ ہوں تو ایسے کسی شخص کو جو گواہی دینی ہوگی وہ یہ ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ بیان دے کہ وہ (بیوی پر لگائے ہوئے الزام میں) یقینا سچا ہے۔

﴿7﴾ اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ : اگر میں (اپنے الزام میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔)

﴿8﴾ اور عورت سے (زنا کی) سزا دور کرنے کا راستہ یہ ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ گواہی دے کہ اس کا شوہر (اس الزام میں) جھوٹا ہے۔

﴿9﴾ اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ : اگر وہ سچا ہو تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو۔

﴿10﴾ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ کثرت سے توبہ قبول کرنے والا حکمت والا ہے (تو خود سوچ لو کہ تمہارا کیا بنتا ؟)

﴿11﴾ یقین جانو کہ جو لوگ یہ جھوٹی تہمت گھڑ کر لائے ہیں وہ تمہارے اندر ہی کا ایک ٹولہ ہے تم اس بات کو اپنے لیے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہی بہتر ہے۔ ان لوگوں میں سے ہر ایک کے حصے میں اپنے کیے کا گناہ آیا ہے۔ اور ان میں سے جس شخص نے اس (بہتان) کا بڑا حصہ اپنے سر لیا ہے اس کے لیے تو زبردست عذاب ہے۔

﴿12﴾ جس وقت تم لوگوں نے یہ بات سنی تھی تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ مومن مرد بھی اور مومن عورتیں بھی اپنے بارے میں نیک گمان رکھتے اور کہہ دیتے کہ یہ کھلم کھلا جھوٹ ہے ؟

﴿13﴾ وہ (بہتان لگانے والے) اس بات پر چار گواہ کیوں نہیں لے آئے ؟ اب جبکہ وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔

﴿14﴾ اور اگر تم پر دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جن باتوں میں تم پڑگئے تھے ان کی وجہ سے تم پر اس وقت سخت عذاب آپڑتا۔

﴿15﴾ جب تم اپنی زبانوں سے اس بات کو ایک دوسرے سے نقل کر رہے تھے اور اپنے منہ سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کا تمہیں کوئی علم نہیں تھا، اور تم اس بات کو معمولی سمجھ رہے تھے، حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بڑی سنگین بات تھی۔

﴿16﴾ اور جس وقت تم نے یہ بات سنی تھی، اسی وقت تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ : ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ہم یہ بات منہ سے نکالیں، یا اللہ ! آپ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے، یہ تو بڑا زبردست بہتان ہے۔

﴿17﴾ اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی ایسا نہ کرنا، اگر واقعی تم مومن ہو۔

﴿18﴾ اور اللہ تمہارے سامنے ہدایت کی باتیں صاف صاف بیان کررہا ہے۔ اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

﴿19﴾ یاد رکھو کہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بےحیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

﴿20﴾ اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال ہے اور اللہ بڑا شفیق بڑا مہربان ہے (تو تم بھی نہ بچتے) ۔

﴿21﴾ اے ایمان والو ! تم شیطان کے پیچھے نہ چلو، اور اگر کوئی شخص شیطان کے پیچھے چلے، تو شیطان تو ہمیشہ بےحیائی اور بدی کی تلقین کرے گا۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی پاک صاف نہ ہوتا، لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے پاک صاف کردیتا ہے۔ اور اللہ ہر بات سنتا، ہر چیز جانتا ہے۔

﴿22﴾ اور تم میں سے جو لوگ اہل خیر ہیں اور مالی وسعت رکھتے ہیں، وہ ایسی قسم نہ کھائیں کہ وہ رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہیں دیں گے، اور انہیں چاہیے کہ معافی اور درگزر سے کام لیں۔ کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ اللہ تمہاری خطائیں بخش دے ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿23﴾ یاد رکھو کہ جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی مسلمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں پھٹکار پڑچکی ہے، اور ان کو اس دن زبردست عذاب ہوگا۔

﴿24﴾ جس دن خود ان کی زبانیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے خلاف اس کرتوت کی گواہی دیں گے جو وہ کرتے رہے ہیں۔

﴿25﴾ اس دن اللہ ان کو وہ بدلہ پورا پورا دیدے گا جس کے وہ مستحق ہیں اور ان کو پتہ چل جائے گا کہ اللہ ہی حق ہے، اور وہی ساری بات کھول دینے والا ہے۔

﴿26﴾ گندی عورتیں گندے مردوں کے لائق ہیں، اور گندے مرد گندی عورتوں کے لائق۔ اور پاکباز عورتیں پاکباز مردوں کے لائق ہیں، اور پاکباز مرد پاکباز عورتوں کے لائق ۔ یہ (پاکباز مرد اور عورتیں) ان باتوں سے بالکل مبرا ہیں جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ ان (پاکبازوں) کے حصے میں تو مغفرت ہے اور باعزت رزق۔

﴿27﴾ اے ایمان والو ! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک اجازت نہ لے لو، اور ان میں بسنے والوں کو سلام نہ کرلو۔ یہی طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے، امید ہے کہ تم خیال رکھو گے۔

﴿28﴾ اور اگر تم ان گھروں میں کسی کو نہ پاؤ تب بھی ان میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک تمہیں اجازت نہ دے دی جائے۔ اور اگر تم سے کہا جائے کہ : واپس چلے جاؤ۔ تو واپس چلے جاؤ۔ یہی تمہارے لیے پاکیزہ ترین طریقہ ہے، اور تم جو عمل بھی کرتے ہو اللہ کو اس کا پورا پورا علم ہے۔

﴿29﴾ تمہارے لیے اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم ایسے گھروں میں (اجازت لیے بغیر) داخل ہو جن میں کوئی رہتا نہ ہو، اور ان سے تمہیں فائدہ اٹھانے کا حق ہو۔ اور تم جو کام علانیہ کرتے ہو، اور جو چھپ کر کرتے ہو، اللہ ان سب کو جانتا ہے۔

﴿30﴾ مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہی ان کے لیے پاکیزہ ترین طریقہ ہے۔ وہ جو کاروائیاں کرتے ہیں اللہ ان سب سے پوری طرح باخبر ہے۔

﴿31﴾ اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنی سجاوٹ کو کسی پر ظاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو خود ہی ظاہر ہوجائے۔ اور اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے گریبانوں پر ڈال لیا کریں، اور اپنی سجاوٹ اور کسی پر ظاہر نہ کریں، سوائے اپنے شوہروں کے، یا اپنے باپ، یا اپنے شوہروں کے باپ کے، یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے، یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں، یا اپنی بہنوں کے بیٹوں کے، یا اپنی عورتوں کے، یا ان کے جو اپنے ہاتھوں کی ملکیت میں ہیں یا ان خدمت گزاروں کے جن کے دل میں کوئی (جنسی) تقاضا نہیں ہوتا یا ان بچوں کے جو ابھی عورتوں کے چھپے ہوئے حصوں سے آشنا نہیں ہوئے اور مسلمان عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے پاؤں زمین پر اس طرح نہ ماریں کہ انہوں نے جو زینت چھپا رکھی ہے وہ معلوم ہوجائے۔ اور اے مومنو ! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو، تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔

﴿32﴾ تم میں سے جن (مردوں یا عورتوں) کا اس وقت نکاح نہ ہو، ان کا بھی نکاح کراؤ، اور تمہارے غلاموں اور باندیوں میں سے جو نکاح کے قابل ہوں، ان کا بھی۔ اگر وہ تنگ دست ہوں تو اللہ اپنے فضل سے انہیں بےنیاز کردے گا۔ اور اللہ بہت وسعت والا ہے، سب کچھ جانتا ہے۔

﴿33﴾ اور جن لوگوں کو نکاح کے مواقع میسر نہ ہوں، وہ پاک دامنی کے ساتھ رہیں، یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے انہیں بےنیاز کردے۔ اور تمہاری ملکیت کے غلام باندیوں میں سے جو مکاتبت کا معاہدہ کرنا چاہیں، اگر ان میں بھلائی دیکھو تو ان سے مکاتبت کا معاہدہ کرلیا کرو اور (مسلمانو) اللہ نے تمہیں جو مال دے رکھا ہے اس میں سے ایسے غلام باندیوں کو بھی دیا کرو، اور اپنی باندیوں کو دنیوی زندگی کا سازوسامان حاصل کرنے کے لیے بدکاری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ پاک دامنی چاہتی ہوں، اور جو کوئی انہیں مجبور کرے گا تو ان کو مجبور کرنے کے بعد اللہ (ان باندیوں کو) بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿34﴾ اور ہم نے وہ آیتیں بھی اتار کر تم تک پہنچا دی ہیں جو ہر بات کو واضح کرنے والی ہیں اور ان لوگوں کی مثالیں بھی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں، اور وہ نصیحت بھی جو اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے کارآمد ہے۔

﴿35﴾ اللہ تمام آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثال کچھ یوں ہے جیسے ایک طاق ہو جس میں چراغ رکھا ہو چراغ ایک شیشے میں ہو، شیشہ ایسا ہو جیسے ایک ستارا، موتی کی طرح چمکتا ہوا، وہ چراغ ایسے برکت والے درخت یعنی زیتون سے روشن کیا جائے جو نہ (صرف) مشرقی ہو نہ (صرف) مغربی ایسا لگتا ہو کہ اس کا تیل خود ہی روشنی دیدے گا۔ چاہے اسے آگ بھی نہ لگے، نور بالائے نور، اللہ اپنے نور تک جسے چاہتا ہے، پہنچا دیتا ہے، اور اللہ لوگوں کے فائدے کے لیے تمثیلیں بیان کرتا ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

﴿36﴾ جن گھروں کے بارے میں اللہ نے یہ حکم دیا ہے کہ ان کو بلند مقام دیا جائے اور ان میں اس کا نام لے کر ذکر کیا جائے، ان میں صبح و شام وہ لوگ تسبیح کرتے ہیں

﴿37﴾ جنہیں کوئی تجارت یا کوئی خریدو فروخت نہ اللہ کی یاد سے غافل کرتی ہے نہ نماز قائم کرنے سے اور نہ زکوٰۃ دینے سے وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل اور نگاہیں الٹ پلٹ کر رہ جائیں گی۔

﴿38﴾ نتیجہ یہ ہے کہ اللہ ان لوگوں کو ان کے اعمال کا بہترین بدلہ دے گا، اور اپنے فضل سے مزید کچھ اور بھی دے گا اور اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب دیتا ہے۔

﴿39﴾ اور (دوسری طرف) جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹیل صحرا میں ایک سراب ہو جسے پیاسا آدمی پانی سمجھ بیٹھتا ہے، یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کچھ بھی نہیں تھا اور اس کے پاس اللہ کو پاتا ہے، چنانچہ اللہ اس کا پورا پورا حساب چکا دیتا ہے۔ اور اللہ بہت جلدی حساب لے لیتا ہے۔

﴿40﴾ یا پھر ان (اعمال) کی مثال ایسی ہے جیسے کسی گہرے سمندر میں پھیلے ہوئے اندھیرے، کہ سمندر کو ایک موج نے ڈھانپ رکھا ہو، جس کے اوپر ایک اور موج ہو، اور اس کے اوپر بادل، غرض اوپر تلے اندھیرے ہی اندھیرے۔ اگر کوئی اپنا ہاتھ باہر نکالے تو اسے بھی نہ دیکھ پائے۔ اور جس شخص کو اللہ ہی نور عطا نہ کرے، اس کے نصیب میں کوئی نور نہیں۔

﴿41﴾ کیا تم نے دیکھا نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں، اور وہ پرندے بھی جو پر پھیلائے ہوئے اڑتے ہیں۔ ہر ایک کو اپنی نماز اور اپنی تسبیح کا طریقہ معلوم ہے۔ اور اللہ ان کے سارے کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔

﴿42﴾ اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے، اور اللہ ہی کی طرف (سب کو) لوٹ کر جانا ہے۔

﴿43﴾ کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ بادلوں کو ہنکاتا ہے، پھر ان کو ایک دوسرے سے جوڑ دیتا ہے، پھر انہیں تہہ بر تہہ گھٹا میں تبدیل کردیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ بارش اس کے درمیان سے برس رہی ہے۔ اور آسمان میں (بادلوں کی شکل میں) جو پہاڑ کے پہاڑ ہوتے ہیں، اللہ ان سے اولے برساتا ہے، پھر جس کے لیے چاہتا ہے ان کو مصیبت بنا دیتا ہے، اور جس سے چاہتا ہے ان کا رخ پھیر دیتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس کی بجلی کی چمک آنکھوں کی بینائی اچک لے جائے گی۔

﴿44﴾ وہی اللہ رات اور دن کا الٹ پھیر کرتا ہے۔ یقینا ان سب باتوں میں ان لوگوں کے لیے نصیحت کا سامان ہے جن کے پاس دیکھنے والی آنکھیں ہیں۔

﴿45﴾ اور اللہ نے زمین پر چلنے والے ہر جاندار کو پانی سے پیدا کیا ہے۔ پھر ان میں سے کچھ وہ ہیں جو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں، کچھ وہ ہیں جو دو پاؤں پر چلتے ہیں، اور کچھ وہ ہیں جو چار (پاؤں) پر چلتے ہیں۔ اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ یقینا اللہ ہر بات پر قدرت رکھتا ہے۔

﴿46﴾ بیشک ہم نے وہ آیتیں نازل کی ہیں جو حقیقت کو کھول کھول کر بیان کرنے والی ہیں، اور اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے تک پہنچا دیتا ہے۔

﴿47﴾ اور یہ (منافق) لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور رسول پر ایمان لے آئے ہیں، اور ہم فرمانبردار ہوگئے ہیں، پھر ان میں سے ایک گروہ اس کے بعد بھی منہ موڑ لیتا ہے۔ یہ لوگ (حقیقت میں) مومن نہیں ہیں۔

﴿48﴾ اور جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول ان کے درمیان فیصلہ کریں تو ان میں سے کچھ لوگ ایک دم رخ پھیر لیتے ہیں۔

﴿49﴾ اور اگر خود انہیں حق وصول کرنا ہو تو وہ بڑے فرمانبردار بن کر رسول کے پاس چلے آتے ہیں۔

﴿50﴾ کیا ان کے دلوں میں کوئی روگ ہے یا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں یا انہیں یہ اندیشہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم ڈھائے گا ؟ نہیں بلکہ ظلم ڈھانے والے تو خود یہ لوگ ہیں۔

﴿51﴾ مومنوں کی بات تو یہ ہوتی ہے کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول ان کے درمیان فیصلہ کریں تو وہ یہ کہتے ہیں کہ : ہم نے (حکم) سن لیا، اور مان لیا۔ اور ایسے ہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔

﴿52﴾ اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کریں، اللہ سے ڈریں، اور اس کی نافرمانی سے بچیں تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔

﴿53﴾ اور یہ (منافق لوگ) بڑے زوروں سے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر (اے پیغمبر) تم انہیں حکم دو گے تو یہ نکل کھڑے ہوں گے۔ (ان سے) کہو کہ : قسمیں نہ کھاؤ۔ (تمہاری) فرمانبرداری کا سب کو پتہ ہے۔ یقین جانو کہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

﴿54﴾ (ان سے) کہو کہ : اللہ کا حکم مانو اور رسول کے فرمانبردار بنو، پھر بھی اگر تم نے منہ پھیرے رکھا تو رسول پر تو اتنا ہی بوجھ ہے جس کی ذمہ داری ان پر ڈالی گئی ہے، اور جو بوجھ تم پر ڈالا گیا ہے، اس کے ذمہ داری تم خود ہو۔ اگر تم ان کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاجاؤ گے، اور رسول کا فرض اس سے زیادہ نہیں ہے کہ وہ صاف صاف بات پہنچا دیں۔

﴿55﴾ تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا، اور ان کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے، اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے، اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا کرے گا۔ (بس) وہ میری عبادت کریں، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور جو لوگ اس کے بعد بھی ناشکری کریں گے تو ایسے لوگ نافرمان ہوں گے۔

﴿56﴾ اور نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، اور رسول کی فرمانبرداری کرو، تاکہ تمہارے ساتھ رحمت کا برتاؤ کیا جائے۔

﴿57﴾ یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ جن لوگوں نے کفر کا راستہ اپنا لیا ہے، وہ زمین میں (کہیں بھاگ کر ہمیں) بےبس کردیں گے۔ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور یقینا وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔

﴿58﴾ اے ایمان والو ! جو غلام لونڈیاں تمہاری ملکیت میں ہیں، اور تم میں سے جو بچے ابھی بلوغ تک نہیں پہنچے ان کو چاہیے کہ وہ تین اوقات میں (تمہارے پاس آنے کے لیے) تم سے اجازت لیا کریں۔ نماز فجر سے پہلے، اور جب تم دوپہر کے وقت اپنے کپڑے اتار کر رکھا کرتے ہو، اور نماز عشاء کے بعد یہ تین وقت تمہارے پردے کے اوقات ہیں۔ ان اوقات کے علاوہ نہ تم پر کوئی تنگی ہے، نہ ان پر۔ ان کا بھی تمہارے پاس آنا جانا لگا رہتا ہے، تمہارا بھی ایک دوسرے کے پاس۔ اللہ اسی طرح آیتوں کو تمہارے سامنے کھول کھول کر بیان کرتا ہے، اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

﴿59﴾ اور جب تمہارے بچے بلوغ کو پہنچ جائیں، تو وہ بھی اسی طرح اجازت لیا کریں جیسے ان سے پہلے بالغ ہونے والے اجازت لیتے رہے ہیں۔ اللہ اسی طرح اپنی آیتیں کھول کھول کر تمہارے سامنے بیان کرتا ہے، اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

﴿60﴾ اور جن بڑی بوڑھی عورتوں کو نکاح کی کوئی توقع نہ رہی ہو، ان کے لیے اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ وہ اپنے (زائد) کپڑے، (مثلا چادریں، نامحرموں کے سامنے) اتار کر رکھ دیں، بشرطیکہ زینت کی نمائش نہ کریں اور اگر وہ احتیاط ہی رکھیں تو ان کے لیے اور زیادہ بہتر ہے۔ اور اللہ سب کچھ سنتا، ہر بات جانتا ہے۔

﴿61﴾ نہ کسی نابینا کے لیے اس میں کوئی گناہ ہے، نہ کسی پاؤں سے معذور شخص کے لیے کوئی گناہ ہے، نہ کسی بیمار شخص کے لیے کوئی گناہ ہے، اور نہ خود تمہارے لیے کہ تم اپنے گھروں سے کچھ کھالو ، یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے، یا اپنی ماؤں کے گھروں سے، یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے، یا اپنی بہنوں کے گھروں سے، یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے، یا اپنی پھوپیوں کے گھروں سے، یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے، یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے، یا ان گھروں سے جن کی چابیاں تمہارے اختیار میں ہوں۔ یا اپنے دوستوں کے گھروں سے، اس میں بھی تمہارے لیے کوئی گناہ نہیں ہے کہ سب ملکر کھاؤ، یا الگ الگ۔ چنانچہ جب تم گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کیا کرو، کہ یہ ملاقات کی وہ بابرکت پاکیزہ دعا ہے جو اللہ کی طرف سے آئی ہے۔ اللہ اسی طرح آیتوں کو تمہارے سامنے کھول کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم سمجھ جاؤ۔

﴿62﴾ مومن تو وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کو دل سے مانتے ہیں اور جب رسول کے ساتھ کسی اجتماعی کام میں شریک ہوتے ہیں تو ان سے اجازت لیے بغیر کہیں نہیں جاتے۔ (اے پیغمبر) جو لوگ تم سے اجازت لیتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کو دل سے مانتے ہیں۔ چنانچہ جب وہ اپنے کسی کام کے لیے تم سے اجازت مانگیں تو ان میں سے جن کو چاہو، اجازت دے دیا کرو، اور ان کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کیا کرو۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿63﴾ (اے لوگو) اپنے درمیان رسول کو بلانے کو ایسا (معمولی) نہ سمجھو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کو بلایا کرتے ہو اللہ تم میں سے ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو ایک دوسرے کی آڑ لے کر چپکے سے کھسک جاتے ہیں۔ لہذا جو لوگ اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں، ان کو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی آفت نہ آپڑے، یا انہیں کوئی دردناک عذاب نہ آپکڑے۔

﴿64﴾ یاد رکھو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ تم جس حالت پر بھی ہو، اللہ اسے خوب جانتا ہے، اور جس دن سب کو اس کے پاس لوٹایا جائے گا، اس دن وہ ان کو بتادے گا کہ انہوں نے کیا عمل کیا تھا، اور اللہ کو ہر بات کا پورا پورا علم ہے۔

الفرقان

Surah 25

﴿1﴾ بڑی شان ہے اس ذات کی جس نے اپنے بندے پر حق و باطل کا فیصلہ کردینے والی یہ کتاب نازل کی، تاکہ وہ دنیا جہان کے لوگوں کو خبردار کردے۔

﴿2﴾ وہ ذات جو آسمانوں اور زمین کی بادشاہت کی تنہا مالک ہے اور جس نے نہ تو کوئی بیٹا بنایا ہے، اور نہ اس کی بادشاہت میں کوئی شریک ہے، اور جس نے ہر چیز کو پیدا کر کے اس کو ایک نپا تلا انداز عطا کیا ہے۔

﴿3﴾ اور لوگوں نے اسے چھوڑ کر ایسے خدا بنا رکھے ہیں جو کچھ پیدا نہیں کرتے، بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں، اور جن کا خود اپنے نقصان یا فائدے پر بھی کوئی بس نہیں چلتا، اور نہ کسی کا مرنا یا جینا ان کے اختیار میں ہے، نہ کسی کو دوبارہ زندہ کرنا۔

﴿4﴾ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ : یہ (قرآن) تو کچھ بھی نہیں، بس ایک من گھڑت چیز ہے جو اس شخص نے گھڑ لی ہے، اور اس کام میں کچھ اور لوگ بھی اس کے مددگار بنے ہیں۔ اس طرح (یہ بات کہہ کر) یہ لوگ بڑے ظلم اور کھلے جھوٹ پر اتر آئے ہیں۔

﴿5﴾ اور کہتے ہیں کہ : یہ تو پچھلے لوگوں کی لکھی ہوئی کہانیاں ہیں جو اس شخص نے لکھوالی ہیں، اور صبح و شام وہی اس کے سامنے پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔

﴿6﴾ کہہ دو کہ : یہ کلام تو اس (اللہ) نے نازل کیا ہے جو ہر بھید کو پوری طرح جانتا ہے، آسمانوں میں بھی، زمین میں بھی۔ بیشک وہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿7﴾ اور یہ کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا بھی کھاتا ہے، اور بازاروں میں بھی چلتا پھرتا ہے ؟ اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا جو اس کے ساتھ رہ کر لوگوں کو ڈراتا ؟

﴿8﴾ یا اس کے اوپر کوئی خزانہ ہی آپڑتا، یا اس کے پاس کوئی باغ ہوتا جس میں سے یہ کھایا کرتا۔ اور یہ ظالم (مسلمانوں سے) کہتے ہیں کہ : تم جس کے پیچھے چل رہے ہو، وہ اور کچھ نہیں، بس ایک شخص ہے جس پر جادو ہوگیا ہے۔

﴿9﴾ (اے پیغمبر) دیکھو ان لوگوں نے تمہارے بارے میں کیسی کیسی باتیں بنائی ہیں۔ چنانچہ ایسے بھٹکے ہیں کہ راستے پر آنا ان کے بس سے باہر ہے۔

﴿10﴾ بڑی شان ہے اس (اللہ) کی جو اگر چاہے تو تمہیں ان سب سے کہیں بہتر چیز، (ایک باغ کے بجائے) بہت سے باغات دیدے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں، اور تمہیں بہت سے محلات کا مالک بنا دے۔

﴿11﴾ اصل حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے قیامت کی گھڑی کو جھٹلایا ہوا ہے، اور جو کوئی قیامت کی گھڑی کو جھٹلائے، اس کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔

﴿12﴾ جب وہ ان کو دور سے دیکھے گی تو یہ لوگ اس کے بپھرنے اور پھنکارنے کی آوازیں سنیں گے۔

﴿13﴾ اور جب ان کو اچھی طرح باندھ کر اس کی ایک تنگ جگہ میں پھینکا جائے گا تو وہاں یہ موت کی آواز دے کر پکاریں گے۔

﴿14﴾ (اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ) آج تم موت کو صرف ایک بار نہ پکارو، بلکہ بار بار موت کو پکارتے ہی رہو۔

﴿15﴾ کہو کہ یہ انجام بہتر ہے یا ہمیشہ رہنے والی جنت، جس کا وعدہ متقی لوگوں سے کیا گیا ہے ؟ وہ ان کے لیے انعام ہوگی، اور ان کا آخری انجام

﴿16﴾ وہاں انہیں ہمیشہ ہمیشہ بستے ہوئے ہر وہ چیز ملے گی جو وہ چاہیں گے۔ یہ وہ ذمہ دارانہ وعدہ ہے جو تمہارے رب نے اپنے اوپر لازم کرلیا ہے۔

﴿17﴾ اور وہ دن (انہیں یاد دلاؤ) جب اللہ ان (کافروں) کو بھی حشر میں جمع کرے گا اور ان (معبودوں) کو بھی جن کی یہ خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے، اور (ان کے معبودوں سے) کہے گا کہ : کیا تم نے میرے ان بندوں کو بہکایا تھا، یا یہ راستے سے خود بھٹکے تھے ؟

﴿18﴾ وہ کہیں گے کہ : آپ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے۔ ہماری مجال نہیں تھی کہ ہم آپ کو چھوڑ کر دوسرے رکھوالوں کے قائل ہوں، لیکن ہوا یہ کہ آپ نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو دنیا کا سازوسامان دیا، یہاں تک کہ جو بات یاد رکھنی تھی یہ اسے بھلا بیٹھے، اور (اس طرح) یہ خود برباد ہو کر رہے۔

﴿19﴾ لو (اے کافرو) انہوں نے تو تمہاری وہ ساری باتیں جھٹلا دیں جو تم کہا کرتے ہو۔ اب نہ (عذاب کو) ٹالنا تمہارے بس میں ہے نہ کوئی مدد حاصل کرنا۔ اور تم میں سے جو کوئی ظلم کا مرتکب ہے، ہم اسے بڑے بھاری عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

﴿20﴾ اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے، وہ سب ایسے تھے کہ کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے، اور ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کی آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے۔ بتاؤ کیا صبر کرو گے ؟ اور تمہارا پروردگار ہر بات دیکھ رہا ہے۔

﴿21﴾ جن لوگوں کو یہ توقع ہی نہیں ہے کہ وہ (کسی وقت) ہم سے آملیں گے، وہ یوں کہتے ہیں کہ : ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے جاتے ؟ یا پھر ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ہم خود اپنے پروردگار کو دیکھ لیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ اپنے دلوں میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھے ہوئے ہیں۔ اور انہوں نے بڑی سرکشی اختیار کی ہوئی ہے۔

﴿22﴾ جس دن ان کو فرشتے نظر آگئے، اس دن ان مجرموں کے لیے کوئی خوشی کا موقع نہیں ہوگا، بلکہ یہ کہتے پھریں گے کہ خدایا ! ہمیں ایسی پناہ دے کہ یہ ہم سے دور ہوجائیں۔

﴿23﴾ اور انہوں نے (دنیا میں) جو عمل کیے ہیں، ہم ان کا فیصلہ کرنے پر آئیں گے تو انہیں فضا میں بکھرے ہوئے گرد و غبار (کی طرح بےقیمت) بنادیں گے۔

﴿24﴾ اس دن جنتی لوگ ہوں گے جن کا مستقر بھی بہترین ہوگا، اور آرام گاہ بھی خوب ہوگی۔

﴿25﴾ اور جس دن آسمان پھٹ کر ایک بادل کو راہ دے گا، اور فرشتے اس طرح اتارے جائیں گے کہ ان کا تار بندھ جائے گا۔

﴿26﴾ اس دن صحیح معنی میں بادشاہی خدائے رحمن کی ہوگی، اور وہ دن کافروں پر بہت سخت ہوگا۔

﴿27﴾ اور جس دن ظالم انسان (حسرت سے) اپنے ہاتھوں کو کاٹ کھائے گا، اور کہے گا : کاش میں نے پیغمبر کی ہمراہی اختیار کرلی ہوتی۔

﴿28﴾ ہائے میری بربادی ! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔

﴿29﴾ میرے پاس نصیحت آچکی تھی، مگر اس (دوست) نے مجھے اس سے بھٹکا دیا، اور شیطان تو ہے ہی ایسا کہ وقت پڑنے پر انسان کو بےکس چھوڑ جاتا ہے۔

﴿30﴾ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہیں گے کہ : یا رب ! میری قوم اس قرآن کو بالکل چھوڑ بیٹھی تھی۔

﴿31﴾ اور ہم نے اسی طرح مجرم لوگوں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے۔ اور تمہارا پروردگار ہدایت دینے اور مدد کرنے کے لیے کافی ہے۔

﴿32﴾ اور یہ کافر لوگ کہتے ہیں کہ : ان پر سارا قرآن ایک ہی دفعہ میں کیوں نازل نہیں کردیا گیا ؟ (اے پیغمبر) ہم نے ایسا اس لیے کیا ہے تاکہ اس کے ذریعے تمہارا دل مضبوط رکھیں۔ اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھوایا ہے۔

﴿33﴾ اور جب کبھی یہ لوگ تمہارے پاس کوئی انوکھی بات لے کر آتے ہیں، ہم تمہیں (اس کا) ٹھیک ٹھیک) جواب اور زیادہ وضاحت کے ساتھ عطا کردیتے ہیں۔

﴿34﴾ جن لوگوں کو گھیر کر نہ کے بل دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا، وہ بدترین مقام پر ہیں، اور ان کا راستہ بدترین گمراہی کا راستہ ہے۔

﴿35﴾ بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی، اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون کو مددگار کے طور پر مقرر کیا تھا۔

﴿36﴾ چنانچہ ہم نے کہا تھا کہ : تم دونوں ان لوگوں کے پاس جاؤ جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا ہے۔ آخر نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان کو تباہ کر کے نیست و نابود کردیا۔

﴿37﴾ اور نوح کی قوم نے جب پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں غرق کردیا، اور ان کو لوگوں کے لیے عبرت کا سامان بنادیا۔ اور ہم نے ان ظالموں کے لیے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

﴿38﴾ اسی طرح ہم نے عاد وثمود اور اصحاب الرس کو اور ان کے درمیان بہت سی نسلوں کو تباہ کیا۔

﴿39﴾ ان میں سے ہر ایک کو سمجھانے کے لیے ہم نے مثالیں دیں، اور (جب وہ نہ مانے تو) ہر ایک کو ہم نے پیس کر رکھ دیا۔

﴿40﴾ اور یہ (کفار مکہ) اس بستی سے ہو کر گزرتے رہے ہیں جس پر بری طرح (پتھروں کی) بارش برسائی گئی تھی بھلا کیا یہ اس بستی کو دیکھتے نہیں رہے ؟ (پھر بھی انہیں عبرت نہیں ہوئی) بلکہ ان کے دل میں دوسری زندگی کا اندیشہ تک پیدا نہیں ہوا۔

﴿41﴾ اور (اے پیغمبر) جب یہ لوگ تمہیں دیکھتے ہیں تو ان کا کوئی کام اس کے سوا نہیں ہوتا کہ یہ تمہارا مذاق بناتے ہیں کہ : کیا یہی وہ صاحب ہیں جنہیں اللہ نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے ؟

﴿42﴾ اگر ہم اپنے خداؤں (کی عقیدت) پر مضبوطی سے جمے نہ رہتے تو ان صاحب نے تو ہمیں ان سے بھٹکانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ (جو لوگ یہ باتیں کہہ رہے ہیں) جب انہیں عذاب آنکھوں سے نظر آجائے گا تب انہیں پتہ چلے گا کہ کون راستے سے بالکل بھٹکا ہوا تھا ؟

﴿43﴾ بھلا بتاؤ جس شخص نے اپنا خدا اپنی نفسانی خواہش کو بنا لیا ہو، تو (اے پیغمبر) کیا تم اس کی ذمہ داری لے سکتے ہو ؟

﴿44﴾ یا تمہارا خیال یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے یا سمجھتے ہیں ؟ نہیں ! ان کی مثال تو بس چار پاؤں کے جانوروں کی سی ہے، بلکہ یہ ان سے زیادہ راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں۔

﴿45﴾ کیا تم نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کو نہیں دیکھا کہ وہ کس طرح سائے کو پھیلا تا ہے ؟ اور اگر وہ چاہتا تو اسے ایک جگہ ٹھہرا دیتا۔ پھر ہم نے سورج کو اس کے لیے رہنما بنادیا ہے۔

﴿46﴾ پھر ہم اسے تھوڑا تھوڑا کر کے اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔

﴿47﴾ اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات کو لباس بنایا، اور نیند کو سراپا سکون اور دن کو دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کا ذریعہ بنادیا۔

﴿48﴾ اور وہی ہے جس نے اپنی رحمت (یعنی بارش) سے پہلے ہوائیں بھیجیں جو (بارش کی) خوشخبری لے کر آتی ہیں، اور ہم نے ہی آسمان سے پاکیزہ پانی اتارا ہے۔

﴿49﴾ تاکہ ہم اس کے ذریعے مردہ زمین کو زندگی بخشیں، اور اپنی مخلوق میں سے بہت سے مویشیوں اور انسانوں کو اس سے سیراب کریں۔

﴿50﴾ اور ہم نے لوگوں کے فائدے کے لیے اس (پانی) کی الٹ پھیر کر رکھی ہے، تاکہ وہ سبق حاصل کریں۔ لیکن اکثر لوگ ناشکری کے سوا ہر بات سے انکاری ہیں۔

﴿51﴾ اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک الگ آگاہ کرنے والا (پیغمبر) بھیج دیتے۔

﴿52﴾ لہذا (اے پیغمبر) تم ان کافروں کا کہنا نہ مانو، اور اس قرآن کے ذریعے ان کے خلاف پوری قوت سے جدوجہد کرو۔

﴿53﴾ اور وہی ہے جس نے دریاؤں کو اس طرح ملا کر چلایا ہے کہ ایک میٹھا ہے جس سے تسکین ملتی ہے، اور ایک نمکین ہے، سخت کڑوا۔ اور ان دونوں کے درمیان ایک آڑ اور ایسی رکاوٹ حائل کردی ہے جس کو (دونوں میں سے) کوئی عبور نہیں کرسکتا۔

﴿54﴾ اور وہی ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا، پھر اس کو نسبی اور سسرالی رشتے عطا کیے، اور تمہارا پروردگار بڑی قدرت والا ہے۔

﴿55﴾ اور یہ لوگ ہیں کہ اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کر رہے ہیں جو نہ ان کو کوئی فائدہ پہنچاتی ہیں، نہ نقصان، اور کافر انسان نے اپنے پروردگار ہی کی مخالفت پر کمر باندھ رکھی ہے۔

﴿56﴾ اور (اے پیغمبر) ہم نے تمہیں کسی اور کام کے لیے نہیں، بلکہ اس لیے بھیجا ہے کہ تم لوگوں کو خوشخبری دو ، اور خبردار کرو۔

﴿57﴾ کہہ دو کہ : میں اس کام پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا ہاں جو شخص یہ چاہے کہ اپنے رب تک پہنچنے کا راستہ اختیار کرلے (تو یہی میری اجرت ہے)

﴿58﴾ اور تم اس ذات پر بھروسہ رکھو جو زندہ ہے، جسے کبھی موت نہیں آئے گی، اور اسی کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہو، اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے کے لیے کافی ہے۔

﴿59﴾ وہ ذات جس نے چھ دن میں سارے آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزیں پیدا کیں، پھر اس نے عرش پر استواء فرمایا وہ رحمن ہے، اس لیے اس کی شان کسی جاننے والے سے پوچھو۔

﴿60﴾ اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو تو یہ کہتے ہیں کہ : رحمن کیا ہوتا ہے ؟ کیا جسے بھی تم کہہ دو ، ہم اسے سجدہ کیا کریں ؟ اور اس بات سے وہ اور زیادہ بدکنے لگتے ہیں۔

﴿61﴾ بڑی شان ہے اس کی جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں ایک روشن چراغ اور نور پھیلانے والا چاند پیدا کیا۔

﴿62﴾ اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایسا بنایا کہ وہ ایک دوسرے کے پیچھے چلے آتے ہیں (مگر یہ ساری باتیں) اس شخص کے لیے (کارآمد ہیں) جو نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہو یا شکر بجا لانا چاہتا ہو۔

﴿63﴾ اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے (جاہلانہ) خطاب کرتے ہیں تو وہ سلامتی کی بات کہتے ہیں۔

﴿64﴾ اور جو راتیں اس طرح گزارتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے آگے (کبھی) سجدے میں ہوتے ہیں، اور (کبھی) قیام میں۔

﴿65﴾ اور جو یہ کہتے ہیں کہ : ہمارے پروردگار ! جہنم کے عذاب کو ہم سے دور رکھیے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کا عذاب وہ تباہی ہے جو چمٹ کر رہ جاتی ہے

﴿66﴾ یقینا وہ کسی کا مستقر اور قیام گاہ بننے کے لیے بدترین جگہ ہے۔

﴿67﴾ اور جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں، نہ تنگی کرتے ہیں، بلکہ ان کا طریقہ اس (افراط وتفریط) کے درمیان اعتدال کا طریقہ ہے۔

﴿68﴾ اور جو اللہ کے ساتھ کسی بھی دوسرے معبود کی عبادت نہیں کرتے، اور جس جان کو اللہ نے حرمت بخشی ہے، اسے ناحق قتل نہیں کرتے، اور نہ وہ زنا کرتے ہیں، اور جو شخص بھی یہ کام کرے گا، اسے اپنے گناہ کے وبال کا سامنا کرنا پڑے گا۔

﴿69﴾ قیامت کے دن اس کا عذاب بڑھا بڑھا کر دگنا کردیا جائے گا، اور وہ ذلیل ہو کر اس عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔

﴿70﴾ ہاں مگر جو کوئی توبہ کرلے، ایمان لے آئے، اور نیک عمل کرے تو اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کردے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿71﴾ اور جو کوئی توبہ کرتا اور نیک عمل کرتا ہے، تو وہ درحقیقت اللہ کی طرف ٹھیک ٹھیک لوٹ آتا ہے۔

﴿72﴾ اور (رحمن کے بندے وہ ہیں) جو ناحق کاموں میں شامل نہیں ہوتے اور جب کسی لغو چیز کے پاس سے گزرتے ہیں تو وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔

﴿73﴾ اور جب انہیں اپنے رب کی آیات کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ ان پر بہرے اور اندھے بن کر نہیں گرتے۔

﴿74﴾ اور جو (دعا کرتے ہوئے) کہتے ہیں کہ : ہمارے پروردگار ! ہمیں اپنی بیوی بچوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما، اور ہمیں پرہیزگاروں کا سربراہ بنا دے۔

﴿75﴾ یہ لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کے بدلے جنت کے بالاخانے عطا ہوں گے، اور وہاں دعاؤں اور سلام سے ان کا استقبال کیا جائے گا۔

﴿76﴾ وہ وہاں ہمیشہ زندہ رہیں گے، کسی کا مستقر اور قیام گاہ بننے کے لیے وہ بہترین جگہ ہے۔

﴿77﴾ (اے پیغمبر ! لوگوں سے) کہہ دو کہ : میرے پروردگار کو تمہاری ذرا بھی پرواہ نہ ہوتی، اگر تم اس کو نہ پکارے اب جبکہ (اے کافرو) تم نے حق کو جھٹلا دیا ہے تو یہ جھٹلانا تمہارے گلے پڑ کر رہے گا۔

الشعراء

Surah 26

﴿1﴾ طسم

﴿2﴾ یہ اس کتاب کی آیتیں ہیں جو حق کو واضح کرنے والی ہے۔

﴿3﴾ (اے پیغمبر) شاید تم اس غم میں اپنی جان ہلاک کیے جار ہے ہو کہ یہ لوگ ایمان (کیوں) نہیں لاتے۔

﴿4﴾ اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتار دیں کہ اس کے آگے ان کی گردنیں جھک کر رہ جائیں۔

﴿5﴾ (ان کا حال تو یہ ہے کہ) ان کے پاس خدائے رحمن کی طرف سے کوئی نئی نصیحت آتی ہے، یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔

﴿6﴾ اس طرح انہوں نے حق کو جھٹلا دیا ہے۔ چنانچہ یہ لوگ جن باتوں کا مذاق اڑاتے رہے ہیں، اب عنقریب ان کے ٹھیک ٹھیک حقائق ان کے سامنے آجائیں گے۔

﴿7﴾ اور کیا انہوں نے زمین کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اس میں ہر نفیس قسم کی کتنی چیزیں اگائی ہیں ؟

﴿8﴾ یقینا ان سب چیزوں میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے

﴿9﴾ اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار صاحب اقتدار بھی ہے، بہت مہربان بھی۔

﴿10﴾ اور اس وقت کا حال سنو جب تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو آواز دے کر کہا تھا کہ : اس ظالم قوم کے پاس جاؤ

﴿11﴾ یعنی فرعون کی قوم کے پاس۔ کیا ان کے دل میں خدا کا خوف نہیں ہے ؟

﴿12﴾ موسیٰ نے کہا کہ : میرے پروردگار ! مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھوٹا بنائیں گے۔

﴿13﴾ اور میرا دل تنگ ہونے لگتا ہے، اور میری زبان نہیں چلتی۔ اس لیے آپ ہارون کو بھی (نبوت کا) پیغام بھیج دیجیے۔

﴿14﴾ اور میرے خلاف ان لوگوں نے ایک جرم بھی عائد کر رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے قتل نہ کر ڈالیں

﴿15﴾ اللہ نے فرمایا کہ : ہرگز نہیں۔ تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ۔ یقین رکھو کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، ساری باتیں سنتے رہیں گے۔

﴿16﴾ اب تم فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ : ہم دونوں رب العالمین کے پیغمبر ہیں۔

﴿17﴾ (اور یہ پیغام لائے ہیں) کہ تم بنو اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دو ۔

﴿18﴾ فرعون نے (جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) سے) کہا : کیا ہم نے تمہیں اس وقت اپنے پاس رکھ کر نہیں پالا تھا جب تم بالکل بچے تھے ؟ اور تم نے اپنی عمر کے بہت سے سال ہمارے یہاں رہ کر گزارے۔

﴿19﴾ اور جو حرکت تم نے کی تھی وہ بھی کر گزرے اور تم بڑے ناشکرے آدمی ہو۔

﴿20﴾ موسیٰ نے کہا : اس وقت وہ کام میں ایسی حالت میں کر گزرا تھا کہ مجھے پتہ نہیں تھا۔

﴿21﴾ چنانچہ جب مجھے تم لوگوں سے خوف ہوا تو میں تمہارے پاس سے فرار ہوگیا، پھر اللہ نے مجھے حکمت عطا فرمائی، اور پیغمبروں میں شامل فرما دیا۔

﴿22﴾ اور وہ احسان جو تم مجھ پر رکھ رہے ہو (اس کی حقیقت) یہ ہے کہ تم نے سارے بنو اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔

﴿23﴾ فرعون نے کہا : اور یہ رب العالمین کیا چیز ہے ؟

﴿24﴾ موسیٰ نے کہا : وہ سارے آسمانوں اور زمین کا، اور ان ساری چیزوں کا پروردگار ہے جو ان کے درمیان پائی جاتی ہیں، اگر تم کو واقعی یقین کرنا ہو۔

﴿25﴾ فرعون نے اپنے اردگرد کے لوگوں سے کہا : سن رہے ہو کہ نہیں ؟

﴿26﴾ موسیٰ نے کہا : وہ تمہارا بھی پروردگار ہے اور تمہارے پچھلے باپ دادوں کا بھی۔

﴿27﴾ فرعون بولا : تمہارا یہ پیغمبر جو تمہارے پاس بھیجا گیا ہے یہ تو بالکل ہی دیوانہ ہے۔

﴿28﴾ موسیٰ نے کہا : وہ مشرق و مغرب کا بھی پروردگار ہے، اور ان کے درمیان ساری چیزوں کا بھی، اگر تم عقل سے کام لو۔

﴿29﴾ کہنے لگا : یاد رکھو، اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود مانا تو میں تمہیں ضرور ان لوگوں میں شامل کردوں گا جو جیل خانے میں پڑے ہوئے ہیں۔

﴿30﴾ موسیٰ بولے : اور اگر میں تمہیں کوئی ایسی چیز لا دکھاؤں جو حق کو واضح کر دے، پھر ؟

﴿31﴾ فرعون نے کہا : اچھا، اگر واقعی سچے ہو تو لے آؤ وہ چیز۔

﴿32﴾ چنانچہ موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ کھلا ہوا اژدھا بن گیا۔

﴿33﴾ اور انہوں نے اپنا ہاتھ (بغل میں سے) کھینچ کر نکالا تو پل بھر میں وہ سب دیکھنے والوں کے سامنے سفید ہوگیا۔

﴿34﴾ فرعون نے اپنے ارد گرد کے سرداروں سے کہا : یقینا یہ کوئی ماہر جادوگر ہے۔

﴿35﴾ یہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے ذریعے تمہیں تمہاری سرزمین سے نکال باہر کرے۔ اب بتاؤ کیا رائے ہے ؟

﴿36﴾ انہوں نے کہا : ان کو اور ان کے بھائی کو کچھ مہلت دیجیے، اور تمام شہروں میں ہر کارے بھیج دیجیے۔

﴿37﴾ جو ماہر جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں (اور ان جادوگروں کا مقابلہ کریں)

﴿38﴾ چنانچہ ایک دن مقررہ وقت پر سارے جادوگر جمع کرلیے گئے۔

﴿39﴾ اور لوگوں سے کہا گیا کہ : کیا تم لوگ جمع ہورہے ہو ؟

﴿40﴾ شاید اگر یہ جادو گر ہی غالب آگئے تو ہم انہی کے راستے پر چلیں۔

﴿41﴾ پھر جب جادوگر آئے تو انہوں نے فرعون سے کہا : یہ بات تو یقینی ہے نا کہ اگر ہم غالب آگئے تو ہمیں کوئی انعام ملے گا ؟

﴿42﴾ فرعون نے کہا : ہاں ہاں، اور تمہیں اس صورت میں مقرب لوگوں میں بھی ضرور شامل کرلیا جائے گا۔

﴿43﴾ موسیٰ نے ان جادوگروں سے کہا : جو کچھ تمہیں پھینکنا ہے، پھینکو

﴿44﴾ اس پر ان جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈال دیں اور کہا کہ : فرعون کی عزت کی قسم ! ہم ہی غالب آئیں گے۔

﴿45﴾ اب موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈالا تو اچانک اس نے (اژدھا بن کر) اس تماشے کو نگلنا شروع کردیا جو وہ جھوٹ موٹ بنا رہے تھے۔

﴿46﴾ بس پھر وہ جادوگر سجدے میں گرا دیئے گئے۔

﴿47﴾ کہنے لگے کہ : ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے۔

﴿48﴾ جو موسیٰ اور ہارون کا پروردگار ہے۔

﴿49﴾ فرعون بولا : تم میرے اجازت دینے سے پہلے ہی موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ ثابت ہوا کہ یہ تم سب کا سرغنہ ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔ اچھا ابھی تمہیں پتہ چل جائے گا۔ میں تم سب کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹواؤں گا، اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا۔

﴿50﴾ جادوگروں نے کہا : ہمارا کچھ نہیں بگڑے گا، ہمیں یقین ہے کہ ہم لوٹ کر اپنے پروردگار کے پاس چلے جائیں گے۔

﴿51﴾ ہم تو شوق سے امیدلگائے ہوئے ہیں کہ ہمارا پروردگار اس وجہ سے ہماری خطائیں بخش دے گا کہ ہم سب سے پہلے ایمان لائے تھے۔

﴿52﴾ اور ہم نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ : میرے بندوں کو لے کر راتوں رات روانہ ہوجاؤ، تمہارا پیچھا یقینا کیا جائے گا۔

﴿53﴾ اس پر فرعون نے شہروں میں ہر کارے بھیج دیے۔

﴿54﴾ (اور یہ کہلا بھیجا کہ) یہ (بنی اسرائیل) ایک چھوٹی سی ٹولی کے تھوڑے سے لوگ ہیں۔

﴿55﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ہمارے دل جلائے ہوئے ہیں۔

﴿56﴾ اور ہم سب احتیاطی تدبیریں کیے ہوئے ہیں۔ (لہذا سب ملکر ان کا تعاقب کرو۔)

﴿57﴾ اس طرح ہم انہیں باہر نکال لائے باغوں اور چشموں سے بھی۔

﴿58﴾ اور خزانوں اور باعزت مقامات سے بھی۔

﴿59﴾ ان کا معاملہ تو اسی طرح ہوا، اور (دوسری طرف) ان چیزوں کا وارث ہم نے بنی اسرائیل کو بنادیا

﴿60﴾ غرض ہوا یہ کہ یہ سب لوگ سورج نکلتے ہی ان کا پیچھا کرنے نکل کھڑے ہوئے۔

﴿61﴾ پھر جب دونوں جتھے ایک دوسرے کو نظر آنے لگے تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا کہ : اب تو پکی بات ہے کہ ہم پکڑ ہی لیے گئے۔

﴿62﴾ موسیٰ نے کہا : ہرگز نہیں، میرے ساتھ یقینی طور سے میرا پروردگار ہے، وہ مجھے راستہ بتائے گا۔

﴿63﴾ چنانچہ ہم نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مارو۔ بس پھر سمندر پھٹ گیا، اور ہر حصہ ایک بڑے پہاڑ کی طرح کھڑا ہوگیا۔

﴿64﴾ اور دوسرے فریق کو بھی ہم اس جگہ کے نزدیک لے آئے۔

﴿65﴾ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے بچالیا۔

﴿66﴾ پھر دوسروں کو غرق کرڈالا۔

﴿67﴾ یقینا اس سارے واقعے میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

﴿68﴾ اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار صاحب اقتدار بھی ہے، بڑا مہربان بھی۔

﴿69﴾ اور (اے پیغمبر) ان کو ابراہیم کا واقعہ سناؤ

﴿70﴾ جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ : تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو ؟

﴿71﴾ انہوں نے کہا کہ : ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں، اور انہی کے آگے دھرنا دیے رہتے ہیں۔

﴿72﴾ ابراہیم نے کہا : جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا یہ تمہاری بات سنتے ہیں ؟

﴿73﴾ یا تمہیں کوئی فائدہ یا نقصان پہنچاتے ہیں ؟

﴿74﴾ انہوں نے کہا : اصل بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایسا ہی کرتے ہوئے پایا ہے۔

﴿75﴾ ابراہیم نے کہا : بھلا کبھی تم نے ان چیزوں کو غور سے دیکھا بھی جن کی تم عبادت کرتے رہے ہو ؟

﴿76﴾ تم بھی اور تمہارے پرانے باپ دادے بھی۔

﴿77﴾ میرے لیے تو یہ سب دشمن ہیں، سوائے ایک رب العالمین کے

﴿78﴾ جس نے مجھے پیدا کیا ہے، پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے۔

﴿79﴾ اور جو مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔

﴿80﴾ اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو مجھے شفا دیتا ہے

﴿81﴾ اور جو مجھے موت دے گا، پھر زندہ کرے گا۔

﴿82﴾ اور جس سے میں یہ امید لگائے ہوئے ہوں کہ وہ حساب و کتاب کے دن میری خطا بخش دے گا۔

﴿83﴾ میرے پروردگار ! مجھے حکمت عطا فرما، اور مجھے نیک لوگوں میں شامل فرمالے۔

﴿84﴾ اور آنے والی نسلوں میں میرے لیے وہ زبانیں پیدا فرمادے جو میری سچائی کی گواہی دیں۔

﴿85﴾ اور مجھے ان لوگوں میں سے بنا دے جو نعمتوں والی جنت کے وارث ہوں گے۔

﴿86﴾ اور میرے باپ کی مغفرت فرما، یقینا وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے۔

﴿87﴾ اور اس دن مجھے رسوا نہ کرنا جس دن لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔

﴿88﴾ جس دن نہ کوئی مال کام آئے گا، نہ اولاد

﴿89﴾ ہاں جو شخص اللہ کے پاس سلامتی والا دل لے کر آئے گا (اس کو نجات ملے گی)

﴿90﴾ اور جنت متقی لوگوں کے لیے قریب کردی جائے گی

﴿91﴾ اور دوزخ کھلے طور پر گمراہوں کے سامنے کردی جائے گی۔

﴿92﴾ اور ان سے کہا جائے گا کہ : کہاں ہیں وہ جن کی تم عبادت کیا کرتے تھے ؟

﴿93﴾ اللہ کو چھوڑ کر ، کیا وہ تمہاری مدد کریں گے یا خود اپنا بچاؤ کرلیں گے ؟

﴿94﴾ پھر ان کو اور گمراہوں کو بھی اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔

﴿95﴾ اور ابلیس کے سارے لشکروں کو بھی۔

﴿96﴾ وہاں یہ سب آپس میں جھگڑتے ہوئے (اپنے معبودوں سے) کہیں گے۔

﴿97﴾ کہ : اللہ کی قسم ہم تو اس زمانے میں کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔

﴿98﴾ جب ہم نے تمہیں رب العالمین کے برابر قرار دے رکھا تھا۔

﴿99﴾ اور ہمیں تو ان بڑے بڑے مجرموں نے ہی گمراہ کیا تھا۔

﴿100﴾ نتیجہ یہ ہے کہ نہ تو ہمیں کسی قسم کی سفارش کرنے والے میسر ہیں۔

﴿101﴾ اور نہ کوئی ایسا دوست جو ہمدردی کرسکے۔

﴿102﴾ اب کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ دنیا میں واپس جانے کا موقع مل جائے تو ہم مومن بن جائیں۔

﴿103﴾ یقینا اس سارے واقعے میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

﴿104﴾ اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار صاحب اقتدار بھی ہے، بہت مہربان بھی۔

﴿105﴾ نوح کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔

﴿106﴾ جبکہ ان کے بھائی نوح نے ان سے کہا کہ : کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟

﴿107﴾ یقین جانو کہ میں تمہارے لیے ایک امانت دار پیغمبر ہوں۔

﴿108﴾ لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو

﴿109﴾ اور میں تم سے اس کام پر کسی قسم کی کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو صرف اس ذات نے اپنے ذمے لے رکھا ہے جو سارے دنیا جہان کی پرورش کرتی ہے۔

﴿110﴾ لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو۔

﴿111﴾ وہ لوگ بولے : کیا ہم تم پر ایمان لے آئیں، حالانکہ بڑے نیچے درجے کے لوگ تمہارے پیچھے لگے ہوئے ہیں ؟

﴿112﴾ نوح نے کہا : میں کیا جانوں کہ وہ کیا کام کرتے ہیں ؟

﴿113﴾ ان کا حساب لینا کسی اور کا نہیں، میرے پروردگار کا کام ہے۔ کاش ! تم سمجھ سے کام لو۔

﴿114﴾ اور میں ان مومنوں کو دھتکار کر اپنے سے دور نہیں کرسکتا۔

﴿115﴾ میں تو بس ایک خبردار کرنے والا ہوں جو (تمہارے سامنے) حقیقت کھول کر رکھ رہا ہے۔

﴿116﴾ وہ کہنے لگے : اے نوح اگر تم باز نہ آئے تو تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیا جائے گا۔

﴿117﴾ نوح نے کہا : میرے پروردگار ! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا ہے۔

﴿118﴾ اب آپ میرے اور ان کے در میان دو ٹوک فیصلہ کردیجیے، اور مجھے اور میرے مومن ساتھیوں کو بچا لیجیے۔

﴿119﴾ چنانچہ ہم نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو بھری ہوئی کشتی میں بچا لیا۔

﴿120﴾ پھر اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کردیا

﴿121﴾ یقینا اس سارے واقعے میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

﴿122﴾ اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار صاحب اقتدار بھی ہے، بہت مہربان بھی۔

﴿123﴾ عاد کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔

﴿124﴾ جبکہ ان کے بھائی ہود نے ان سے کہا کہ : کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟

﴿125﴾ یقین جانو کہ میں تمہارے لیے ایک امانت دار پیغمبر ہوں۔

﴿126﴾ لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو۔

﴿127﴾ اور میں تم سے اس کام پر کسی قسم کی کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف اس ذات نے اپنے ذمے لے رکھا ہے جو سارے دنیا جہان کی پرورش کرتی ہے۔

﴿128﴾ کیا تم ہر اونچی جگہ پر کوئی یاد گار بنا کر فضول حرکتیں کرتے ہو ؟

﴿129﴾ اور تم نے بڑی کاریگری سے بنائی ہوئی عمارتیں اس طرح رکھ چھوڑی ہیں جیسے تمہیں ہمیشہ زندہ رہنا ہے ؟

﴿130﴾ اور جب کسی کی پکڑ کرتے ہو تو پکے ظالم و جابر بن کر پکڑ کرتے ہو۔

﴿131﴾ اب اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو۔

﴿132﴾ اور اس ذات سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے نواز کر تمہاری قوت میں اضافہ کیا ہے جو تم خود جانتے ہو۔

﴿133﴾ اس نے تمہیں مویشیوں اور اولاد سے بھی نوازا ہے۔

﴿134﴾ اور باغوں اور چشموں سے بھی۔

﴿135﴾ حقیقت یہ ہے کہ مجھے تم پر ایک زبردست دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

﴿136﴾ وہ کہنے لگے : چاہے تم نصیحت کرو، یا نہ کرو، ہمارے لیے سب برابر ہے۔

﴿137﴾ یہ باتیں تو وہی ہیں جو پچھلے لوگوں کی عادت رہی ہے۔

﴿138﴾ اور ہم عذاب کا نشانہ بننے والے نہیں ہیں۔

﴿139﴾ غرض ان لوگوں نے ہود کو جھٹلایا، جس کے نتیجے میں ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ یقینا اس سارے واقعے میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

﴿140﴾ اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار صاحب اقتدار بھی ہے، بڑا مہربان بھی۔

﴿141﴾ قوم ثمود نے پیغمبروں کو جھٹلایا

﴿142﴾ جبکہ ان کے بھائی صالح نے ان سے کہا کہ : کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟

﴿143﴾ یقین جانو کہ میں تمہارے لیے ایک امانت دار پیغمبر ہوں۔

﴿144﴾ لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو۔

﴿145﴾ اور میں تم سے اس کام پر کسی قسم کی کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو صرف اس ذات نے اپنے ذمے لے رکھا ہے جو سارے دنیا جہان کی پرورش کرتی ہے۔

﴿146﴾ کیا تمہیں اطمینان کے ساتھ ان ساری نعمتوں میں ہمیشہ رہنے دیا جائے گا جو یہاں موجود ہیں ؟

﴿147﴾ ان باغوں اور چشموں میں ؟

﴿148﴾ اور ان کھیتوں اور ان نخلستانوں میں جن کے خوشے ایک دوسرے میں پیوست ہیں ؟

﴿149﴾ اور کیا پہاڑوں کو بڑے ناز کے ساتھ تراش کر تم (ہمیشہ) گھر بناتے رہو گے ؟

﴿150﴾ اب اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو۔

﴿151﴾ اور ان حد سے گزرے ہوئے لوگوں کا کہنا مت مانو

﴿152﴾ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، اور اصلاح کا کام نہیں کرتے۔

﴿153﴾ وہ کہنے لگے کہ : تم پر تو کسی نے بڑا بھاری جادو کردیا ہے۔

﴿154﴾ تمہاری حقیقت اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ تم ہم جیسے ہی ایک انسان ہو۔ لہذا اگر سچے ہو تو کوئی نشانی لے کر آؤ۔

﴿155﴾ صالح نے کہا : (لو) یہ اونٹنی ہے۔ پانی پینے کے لیے ایک باری اس کی ہوگی، اور ایک معین دن میں ایک باری تمہاری۔

﴿156﴾ اور اس کو بری نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا، ورنہ ایک زبردست دن کا عذاب تمہیں آپکڑے گا۔

﴿157﴾ پھر ہوا یہ کہ انہوں نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں، اور آخر کار پشیمان ہوئے۔

﴿158﴾ چنانچہ عذاب نے انہیں آپکڑا، یقینا اس سارے واقعے میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

﴿159﴾ اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار صاحب اقتدار بھی ہے، بڑا مہربان بھی۔

﴿160﴾ لوط کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔

﴿161﴾ جبکہ ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کہ : کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟

﴿162﴾ یقین جانو کہ میں تمہارے لیے ایک امانت دار پیغمبر ہوں۔

﴿163﴾ لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو۔

﴿164﴾ اور میں تم سے اس کام پر کسی قسم کی کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف اس ذات نے اپنے ذمے لے رکھا ہے جو سارے دنیا جہان کی پرورش کرتی ہے۔

﴿165﴾ کیا دنیا کے سارے لوگوں میں تم ہو جو مردوں کے پاس جاتے ہو۔

﴿166﴾ اور تمہاری بیویاں جو تمہارے رب نے تمہارے لیے پیدا کی ہیں، ان کو چھوڑے بیٹھے ہو ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ تم حد سے بالکل گزرے ہوئے لوگ ہو۔

﴿167﴾ کہنے لگے : لوط ! اگر تم باز نہ آئے تو تم بھی ان لوگوں میں شامل ہوجاؤ گے جنہیں (بستی سے) نکال باہر کیا جاتا ہے۔

﴿168﴾ لوط نے کہا : یقین جانو، میں ان لوگوں میں سے ہوں جو تمہارے اس کام سے بالکل بیزار ہیں۔

﴿169﴾ میرے پروردگار ! جو حرکتیں یہ لوگ کر رہے ہیں، مجھے اور میرے گھر والوں کو ان سے نجات دیدے۔

﴿170﴾ چنانچہ ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی۔

﴿171﴾ سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہنے والوں میں شامل رہی۔

﴿172﴾ پھر اور سب کو ہم نے تباہ کردیا۔

﴿173﴾ اور ان پر ایک زبردست بارش برسا دی۔ غرض بہت بری بارش تھی جو ان پر برسی جنہیں پہلے سے ڈرا دیا گیا تھا۔

﴿174﴾ یقینا اس سارے واقعے میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

﴿175﴾ اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار صاحب اقتدار بھی ہے، بڑا مہربان بھی۔

﴿176﴾ ایکہ کے باشندوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔

﴿177﴾ جبکہ شعیب نے ان سے کہا کہ : کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟

﴿178﴾ یقین جانو کہ میں تمہارے لیے ایک امانت دار پیغمبر ہوں۔

﴿179﴾ لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو۔

﴿180﴾ اور میں تم سے اس کام پر کسی قسم کی کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو صرف اس ذات نے اپنے ذمے لے رکھا ہے جو سارے دنیا جہان کی پرورش کرتی ہے۔

﴿181﴾ پورا پورا ناپ دیا کرو، اور ان لوگوں میں سے نہ بنو جو دوسروں کو گھاٹے میں ڈالتے ہیں۔

﴿182﴾ اور سیدھی ترازو سے تولا کرو۔

﴿183﴾ اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دیا کرو، اور زمین میں فساد مچاتے مت پھرو۔

﴿184﴾ اور اس ذات سے ڈرو جس نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے، اور پچھلی خلقت کو بھی۔

﴿185﴾ کہنے لگے : تم پر تو کسی نے بڑا بھاری جادو کردیا ہے۔

﴿186﴾ تمہاری حقیقت اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ تم ہم جیسے ہی ایک انسان ہو اور ہم تمہیں پورے یقین کے ساتھ جھوٹا سمجھتے ہیں۔

﴿187﴾ لہذا اگر تم سچے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو ۔

﴿188﴾ شعیب نے کہا : میرا پروردگار خوب جانتا ہے کہ تم کیا کررہے ہو۔

﴿189﴾ غرض ان لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں سائبان والے دن کے عذاب نے آپکڑا ۔ بیشک وہ ایک زبردست دن کا عذاب تھا۔

﴿190﴾ یقینا اس سارے واقعے میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

﴿191﴾ اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار صاحب اقتدار بھی ہے، بڑا مہربان بھی۔

﴿192﴾ بیشک یہ قرآن رب العالمین کا نازل کیا ہوا ہے۔

﴿193﴾ امانت دار فرشتہ اسے لے کر اترا ہے۔

﴿194﴾ (اے پیغمبر) تمہارے قلب پر اترا ہے تاکہ تم ان (پیغمبروں) میں شامل ہوجاؤ جو لوگوں کو خبردار کرتے ہیں۔

﴿195﴾ ایسی عربی زبان میں اترا ہے جو پیغام کو واضح کردینے والی ہے۔

﴿196﴾ اور اس (قرآن) کا تذکرہ پچھلی (آسمانی) کتابوں میں بھی موجود ہے۔

﴿197﴾ بھلا کیا ان لوگوں کے لیے یہ کوئی دلیل نہیں ہے کہ بنو اسرائیل کے علماء اس سے واقف ہیں ؟

﴿198﴾ اور اگر ہم یہ کتاب عجمی لوگوں میں سے کسی پر نازل کردیتے۔

﴿199﴾ اور وہ ان کے سامنے پڑھ بھی دیتا تو یہ لوگ تب بھی اس پر ایمان نہ لاتے۔

﴿200﴾ مجرموں کے دلوں میں تو ہم نے اس کو اسی طرح داخل کیا ہے۔

﴿201﴾ یہ لوگ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک دردناک عذاب آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔

﴿202﴾ اور وہ ان کے پاس اس طرح اچانک آکھڑا ہو کہ ان کو پتہ بھی نہ چلے۔

﴿203﴾ پھر یہ کہہ اٹھیں کہ کیا ہمیں کچھ مہلت مل سکتی ہے ؟

﴿204﴾ تو کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں ؟

﴿205﴾ بھلا بتاؤ اگر ہم کئی سال تک انہیں عیش کا سامان مہیا کرتے رہیں۔

﴿206﴾ پھر وہ (عذاب) ان کے اوپر آکھڑا ہو جس سے انہیں ڈرایا جارہا ہے۔

﴿207﴾ تو عیش کا جو سامان ان کو دیا جاتا رہا وہ انہیں (عذاب کے وقت) کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے ؟

﴿208﴾ اور ہم نے کسی بستی کو اس کے بغیر ہلاک نہیں کیا کہ (پہلے) اس کے لیے خبردار کرنے والے موجود تھے۔

﴿209﴾ تاکہ وہ نصیحت کریں اور ہم ایسے تو نہیں ہیں کہ ظلم کریں۔

﴿210﴾ اور اس قرآن کو شیاطین لے کر نہیں اترے۔

﴿211﴾ نہ یہ قرآن ان کے مطلب کا ہے اور نہ وہ ایسا کرسکتے ہیں۔

﴿212﴾ انہیں تو (وحی کے) سننے سے بھی روک دیا گیا ہے۔

﴿213﴾ لہذا اللہ کے ساتھ کوئی معبود نہ مانو، کبھی تم بھی ان لوگوں میں شامل ہوجاؤ جنہیں عذاب ہوگا۔

﴿214﴾ اور (اے پیغمبر) تم اپنے قریب ترین خاندان کو خبردار کرو

﴿215﴾ اور جو مومن تمہارے پیچھے چلیں، ان کے لیے انکساری کے ساتھ اپنی شفقت کا بازو جھکا دو ۔

﴿216﴾ اور اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ : جو کچھ تم کر رہے ہو، اس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔

﴿217﴾ اور اس (اللہ) پر بھروسہ رکھو جو بڑا اقتدار والا، بہت مہربان ہے۔

﴿218﴾ جو تمہیں اس وقت بھی دیکھتا ہے جب تم (عبادت کے لیے) کھڑے ہوتے ہو۔

﴿219﴾ اور سجدہ کرنے والوں کے درمیان تمہاری آمد و رفت کو بھی دیکھتا ہے۔

﴿220﴾ یقین رکھو کہ وہی ہے جو ہر بات سنتا ہر چیز جانتا ہے۔

﴿221﴾ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کن لوگوں پر اترتے ہیں ؟

﴿222﴾ وہ ہر ایسے شخص پر اترتے ہیں جو پرلے درجے کا جھوٹا گنہگار ہو۔

﴿223﴾ وہ سنی سنائی بات لا ڈالتے ہیں، اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔

﴿224﴾ رہے شاعر لوگ، تو ان کے پیچھے تو بےراہ لوگ چلتے ہیں۔

﴿225﴾ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں ؟

﴿226﴾ اور یہ کہ وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں ہیں۔

﴿227﴾ ہاں مگر وہ لوگ مستثنی ہیں جو ایمان لائے، اور انہوں نے نیک عمل کیے، اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا، اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد اس کا بدلہ لیا۔ اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب پتہ چل جائے گا کہ وہ کس انجام کی طرف پلٹ رہے ہیں۔

النمل

Surah 27

﴿1﴾ طس۔ یہ قرآن کی اور ایک ایسی کتاب کی آیتیں جو حقیقت کھول دینے والی ہے۔

﴿2﴾ یہ ان مومنوں کے لیے سراپا ہدایت اور خوشخبری بن کر آئی ہے۔

﴿3﴾ جو نماز قائم کرتے ہیں، اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اور وہی ہیں جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔

﴿4﴾ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ہم نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں خوشنما بنادیا ہے۔ اس لیے وہ بھٹکتے پھر رہے ہیں۔

﴿5﴾ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور وہی ہیں جو آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

﴿6﴾ اور (اے پیغمبر) بلا شبہ تمہیں یہ قرآن اس (اللہ) کی طرف سے عطا کیا جارہا ہے جو حکمت کا بھی مالک ہے علم کا بھی مالک۔

﴿7﴾ اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا تھا کہ : مجھے ایک آگ نظر آئی ہے۔ میں ابھی تمہارے پاس وہاں سے کوئی خبر لے کر آتا ہوں، یا پھر تمہارے پاس آگ کا کوئی شعلہ اٹھا کرلے آؤں گا، تاکہ تم آگ سے گرمی حاصل کرسکو۔

﴿8﴾ چنانچہ جب وہ اس آگ کے پاس پہنچے تو انہیں آواز دی گئی کہ : برکت ہو ان پر جو اس آگ کے اندر ہیں، اور اس پر بھیجو اس کے آس پاس ہے اور پاک ہے اللہ جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔

﴿9﴾ اے موسیٰ : بات یہ ہے کہ میں اللہ ہوں، بڑے اقتدار والا، بڑی حکمت والا۔

﴿10﴾ اور ذرا اپنی لاٹھی کو نیچے پھینکو۔ پھر جب انہوں نے لاٹھی کو دیکھا کہ وہ اس طرح حرکت کر رہی ہے جیسے وہ کوئی سانپ ہو تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے، اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ (ارشاد ہوا) موسیٰ ! ڈرو نہیں، جن کو پیغمبر بنایا جاتا ہے ان کو میرے حضور کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔

﴿11﴾ الا یہ کہ کسی نے کوئی زیادتی کی ہو۔ پھر وہ برائی کے بعد اسے بدل کر اچھے کام کرلے، تو میں بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہوں۔

﴿12﴾ اور اپنا ہاتھ گریبان میں داخل کرو، تو وہ کسی بیماری کے بغیر سفید ہو کر نکلے گا۔ یہ دونوں باتیں ان نو نشانیوں میں سے ہیں جو فرعون اور اس کی قوم کی طرف (تمہارے ذریعے) بھیجی جارہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ نافرمان لوگ ہیں۔

﴿13﴾ پھر ہوا یہ کہ جب ان کے پاس ہماری نشانیاں اس طرح پہنچیں کہ وہ آنکھیں کھولنے والی تھیں تو انہوں نے کہا کہ : یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔

﴿14﴾ اور اگرچہ ان کے دلوں کو ان (کی سچائی) کا یقین ہوچکا تھا، مگر انہوں نے ظلم اور تکبر کی وجہ سے ان کا انکار کیا۔ اب دیکھ لو ان فساد مچانے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟ ۔

﴿15﴾ اور ہم داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا۔ اور انہوں نے کہا : تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔

﴿16﴾ اور سلیمان کو داؤد کی وراثت ملی اور انہوں نے کہا : اے لوگو ! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے، اور ہمیں ہر (ضرورت کی) چیز عطا کی گئی ہے۔ یقینا یہ (اللہ تعالیٰ کا) کھلا ہوا فضل ہے۔

﴿17﴾ اور سلیمان کے لیے ان کے سارے لشکر جمع کردیے گئے تھے جو جنات، انسانوں اور پرندوں پر مشتمل تھے، چنانچہ انہیں قابو میں رکھا جاتا تھا۔

﴿18﴾ یہاں تک کہ ایک دن جب یہ سب چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا : چیونٹیو ! اپنے اپنے گھروں میں گھس جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں پیس ڈالے، اور انہیں پتہ بھی نہ چلے۔

﴿19﴾ اس کی بات پر سلیمان مسکرا کر ہنسے، اور کہنے لگے : میرے پر ورگار ! مجھے اس بات کا پابند بنا دیجیے کہ میں ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو آپ نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائی ہیں، اور وہ نیک عمل کروں جو آپ کو پسند ہو، اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل فرمالیجیے۔

﴿20﴾ اور انہوں نے (ایک مرتبہ) پرندوں کی حاضری لی تو کہا : کیا بات ہے، مجھے ہدہد نظر نہیں آرہا، کیا وہ کہیں غائب ہوگیا ہے ؟

﴿21﴾ میں اسے سخت سزا دوں گا، یا اسے ذبح کر ڈالوں گا، الا یہ کہ وہ میرے سامنے کوئی واضح وجہ پیش کرے۔

﴿22﴾ پھر ہدہد نے زیادہ دیر نہیں لگائی اور (آکر) کہا کہ : میں نے ایسی معلومات حاصل کی ہیں جن کا آپ کو علم نہیں ہے، اور میں ملک سبا سے آپ کے پاس ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں۔

﴿23﴾ میں نے وہاں ایک عورت کو پایا جو ان لوگوں پر بادشاہت کر رہی ہے، اور اس کو ہر طرح کا سازوسامان دیا گیا ہے، اور اس کا ایک شاندار تخت بھی ہے۔

﴿24﴾ میں نے اس عورت اور اس کی قوم کو پایا ہے کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کے آگے سجدے کرتے ہیں، اور شیطان نے ان کو یہ سمجھا دیا ہے کہ ان کے اعمال بہت اچھے ہیں، چنانچہ اس نے انہیں صحیح راستے سے روک رکھا ہے اور اس طرح وہ ہدایت سے اتنے دور ہیں۔

﴿25﴾ کہ اللہ کو سجدہ نہیں کرتے، جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو باہر نکال لاتا ہے، اور تم جو کچھ چھپاؤ اور جو کچھ ظاہر کرو، سب کو جانتا ہے۔

﴿26﴾ اللہ تو وہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں (اور) جو عرش عظیم کا مالک ہے۔

﴿27﴾ سلیمان نے کہا : ہم ابھی دیکھ لیتے ہیں کہ تم نے سچ کہا ہے یا جھوٹ بولنے والوں میں تم بھی شامل ہوگئے ہو۔

﴿28﴾ میرا یہ خط لے کر جاؤ اور ان کے پاس ڈال دینا، پھر الگ ہٹ جانا، اور دیکھنا کہ وہ جواب میں کیا کرتے ہیں۔

﴿29﴾ (چنانچہ ہدہد نے ایسا ہی کیا اور) ملکہ نے (اپنے درباریوں سے) کہا : قوم کے سردارو ! میرے سامنے ایک باوقار خط ڈالا گیا ہے۔

﴿30﴾ وہ سلیمان کی طرف سے آیا ہے اور وہ اللہ کے نام سے شروع کیا گیا ہے جو رحمن و رحیم ہے۔

﴿31﴾ (اس میں لکھا ہے) کہ : میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو، اور میرے پاس تابع دار بن کر چلے آؤ

﴿32﴾ ملکہ نے کہا : قوم کے سردارو ! جو مسئلہ میرے سامنے آیا ہے اس میں مجھے فیصلہ کن مشورہ دو۔ میں کسی مسئلے کا حتمی فیصلہ اس وقت تک نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس موجود نہ ہو۔

﴿33﴾ انہوں نے کہا : ہم طاقتور اور ڈٹ کر لڑنے والے لوگ ہیں، آگے معاملہ آپ کے سپرد ہے، اب آپ دیکھ لیں کہ کیا حکم دیتی ہیں۔

﴿34﴾ ملکہ بولی : حقیقت یہ ہے کہ بادشاہ لوگ جب کسی بستی میں گھس آتے ہیں تو اسے خراب کر ڈالتے ہیں، اور اس کے باعزت باشندوں کو ذلیل کر کے چھوڑتے ہیں، اور یہی کچھ یہ لوگ بھی کریں گے۔

﴿35﴾ اور میں ان کے پاس ایک تحفہ بھیجتی ہوں، پھر دیکھوں گی کہ ایلچی کیا جواب لے کر واپس آتے ہیں ؟

﴿36﴾ چنانچہ جب ایلچی سلیمان کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا : کیا تم مال سے میری امداد کرنا چاہتے ہو ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ نے جو کچھ مجھے دیا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے، البتہ تم ہی لوگ اپنے تحفے پر خوش ہوتے ہو۔

﴿37﴾ ان کے پاس واپس جاؤ، کیونکہ اب ہم ان کے پاس ایسے لشکر لے کر پہنچیں گے جن کے مقابلے کی ان میں تاب نہیں ہوگی، اور انہیں وہاں سے اس طرح نکالیں گے کہ وہ ذلیل ہوں گے، اور ماتحت بن کر رہیں گے۔

﴿38﴾ سلیمان نے کہا : اے اہل دربار ! تم میں سے کون ہے جو اس عورت کا تخت ان کے تابع دار بن کر آنے سے پہلے ہی میرے پاس لے آئے ؟

﴿39﴾ ایک قوی ہیکل جن نے کہا : آپ اپنی جگہ سے اٹھے بھی نہ ہوں گے کہ میں اس سے پہلے ہی اسے آپ کے پاس لے آؤں گا، اور یقین رکھیے کہ میں اس کام کی پوری طاقت رکھتا ہوں (اور) امانت دار بھی ہوں۔

﴿40﴾ جس کے پاس کتاب کا علم تھا، وہ بول اٹھا : میں آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے ہی اسے آپ کے پاس لے آتا ہوں۔ چنانچہ جب سلیمان نے وہ تخت اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا : یہ میرے پروردگار کا فضل ہے، تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے، اور اگر کوئی ناشکری کرے تو میرا پروردگار بےنیاز ہے، کریم ہے۔

﴿41﴾ سلیمان نے (اپنے خدام سے) کہا کہ : اس ملکہ کے تخت کو اس کے لیے اجنبی بنادو ۔ دیکھیں وہ اسے پہچانتی ہے، یا وہ ان لوگوں میں سے ہے جو حقیقت تک نہیں پہنچتے ؟

﴿42﴾ غرض جب وہ آئی تو اس سے پوچھا گیا : کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے ؟ کہنے لگی : ایسا لگتا ہے کہ یہ تو بالکل وہی ہے۔ ہمیں تو اس سے پہلے ہی (آپ کی سچائی کا) علم عطا ہوگیا تھا، اور ہم سر جھکا چکے تھے۔

﴿43﴾ اور (اب تک) اس کو (ایمان لانے سے) اس بات نے روک رکھا تھا کہ وہ اللہ کے بجائے دوسروں کی عبادت کرتی تھی، اور ایک کافر قوم سے تعلق رکھتی تھی۔

﴿44﴾ اس سے کہا گیا کہ : اس محل میں داخل ہوجاؤ اس نے جو دیکھا تو یہ سمجھی کہ یہ پانی ہے، اس لیے اس نے (پائینچے چڑھا کر) اپنی پنڈلیاں کھول دیں۔ سلیمان نے کہا کہ : یہ تو محل ہے جو شیشوں کی وجہ سے شفاف نظر آرہا ہے۔ ملکہ بول اٹھی : میرے پروردگار ! حقیقت یہ ہے کہ میں نے (اب تک) اپنی جان پر ظلم کیا ہے اور اب میں نے سلیمان کے ساتھ رب العالمین کی فرمانبرداری قبول کرلی ہے۔

﴿45﴾ اور ہم نے قوم ثمود کے پاس ان کے بھائی صالح کو یہ پیغام دے کر بھیجا کہ تم اللہ کی عبادت کرو تو اچانک وہ دو گروہ بن گئے جو آپس میں جھگڑنے لگے۔

﴿46﴾ صالح نے کہا : میری قوم کے لوگو ! اچھائی سے پہلے برائی کو کیوں جلدی مانگتے ہو۔ تم اللہ سے معافی کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم فرمایا جائے ؟

﴿47﴾ انہوں نے کہا : ہم نے تو تم سے اور تمہارے ساتھیوں سے برا شگون لیا ہے، ۔ صالح نے کہا تمہارا شگون تو اللہ کے قبضے میں ہے، البتہ تم لوگوں کی آزمائش ہورہی ہے۔

﴿48﴾ اور شہر میں نو آدمی ایسے تھے جو زمین میں فساد مچاتے تھے، اور اصلاح کا کام نہیں کرتے تھے۔

﴿49﴾ انہوں نے (آپس میں ایک دوسرے سے) کہا : سب ملکر اللہ کی قسم کھاؤ کہ ہم صالح اور اس کے گھر والوں پر رات کے وقت حملہ کریں گے، پھر اس کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم ان گھر والوں کی ہلاکت کے وقت موجود ہی نہ تھے۔ اور یقین جانو ہم بالکل سچے ہیں۔

﴿50﴾ انہوں نے یہ چال چلی اور ہم نے بھی ایک چال اس طرح چلی کہ ان کو پتہ بھی نہ لگ سکا۔

﴿51﴾ اب دیکھو کہ ان کی چال بازی کا انجام کیسا ہوا کہ ہم نے انہیں اور ان کی ساری قوم کو تباہ کر کے رکھ دیا۔

﴿52﴾ چنانچہ وہ رہے ان کے گھر جو ان کے ظلم کی وجہ سے ویران پڑے ہیں۔ یقینا اس واقعے میں ان لوگوں کے لیے عبرت کا سامان ہے جو علم سے کام لیتے ہیں۔

﴿53﴾ اور جو لوگ ایمان لائے تھے اور تقوی اختیار کیے ہوئے تھے ان سب کو ہم نے بچا لیا۔

﴿54﴾ اور ہم نے لوط کو پیغمبر بنا کر بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : کیا تم کھلی آنکھوں دیکھتے ہوئے بھی بےحیائی کا یہ کام کرتے ہو ؟

﴿55﴾ کیا یہ کوئی یقین کرنے کی بات ہے کہ تم اپنی جنسی خواہش کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے ہو ؟ حقیقت یہ ہے کہ تم بڑی جہالت کے کام کرنے والے لوگ ہو۔

﴿56﴾ اس پر یہ کہنے کے سوا ان کی قوم کا کوئی جواب نہیں تھا کہ : لوط کے گھر والوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کرو، یہ بڑے پاکباز بنتے ہیں۔

﴿57﴾ پھر ہوا یہ کہ ہم نے لوط اور اس کے گھر والوں کو بچا لیا، سوائے ان کی بیوی کے جس کے بارے میں ہم نے یہ طے کردیا تھا کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل رہے گی۔

﴿58﴾ اور ہم نے ان پر ایک زبردست بارش برسائی، چنانچہ بہت بری بارش تھی جو ان لوگوں پر برسی جنہیں پہلے سے خبردار کردیا گیا تھا۔

﴿59﴾ (اے پیغمبر) کہو : تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور سلام ہو اس کے ان بندوں پر جن کو اس نے منتخب فرمایا ہے بتاؤ کیا اللہ بہتر ہے یا وہ جن کو ان لوگوں نے اللہ کی خدائی میں شریک بنا رکھا ہے ؟

﴿60﴾ بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا ؟ پھر ہم نے اس پانی سے بارونق باغ اگائے، تمہارے بس میں نہیں تھا کہ تم ان کے درختوں کو اگا سکتے۔ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ نہیں ! بلکہ ان لوگوں نے راستے سے منہ موڑ رکھا ہے۔

﴿61﴾ بھلا وہ کون ہے جس نے زمین کو قرار کی جگہ بنایا، اور اس کے بیچ بیچ میں دریا پیدا کیے، اور اس (کو ٹھہرانے) کے لیے (پہاڑوں کی) میخیں گاڑ دیں، اور دو سمندروں کے درمیان ایک آڑ رکھ دی ؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ نہیں ! بلکہ ان میں سے اکثر لوگ حقیقت سے ناواقف ہیں۔

﴿62﴾ بھلا وہ کون ہے کہ جب کوئی بےقرار اسے پکارتا ہے تو وہ اس کی دعا قبول کرتا ہے، اور تکلیف دور کردیتا ہے اور جو تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے ؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ نہیں ! بلکہ تم بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو۔

﴿63﴾ بھلا وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں تمہیں راستہ دکھاتا ہے اور جو اپنی رحمت (کی بارش) سے پہلے ہوائیں بھیجتا ہے جو تمہیں (بارش کی) خوشخبری دیتی ہیں ؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ (نہیں ! بلکہ) اللہ اس شرک سے بہت بالا و برتر ہے جس کا ارتکاب یہ لوگ کر رہے ہیں۔

﴿64﴾ بھلا وہ کون ہے جس نے ساری مخلوق کو پہلی بار پیدا کیا، پھر وہ اس کو دوبارہ پیدا کرے گا، اور جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق فراہم کرتا ہے ؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ کہو : لاؤ اپنی کوئی دلیل، اگر تم سچے ہو۔

﴿65﴾ کہہ دو کہ : اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کسی کو بھی غیب کا علم نہیں ہے۔ اور لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ انہیں کب دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔

﴿66﴾ بلکہ آخرت کے بارے میں ان (کافروں) کا علم بےبس ہو کر رہ گیا ہے، بلکہ وہ اس کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں، بلکہ اس سے اندھے ہوچکے ہیں۔

﴿67﴾ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ : کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادے مٹی ہوچکے ہوں گے تو کیا اس وقت واقعی ہمیں (قبروں سے) نکالا جائے گا ؟

﴿68﴾ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے اس قسم کے وعدے پہلے بھی کیے گئے تھے، (لیکن) ان کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ قصہ کہانیاں ہیں جو پرانے زمانے کے لوگوں سے نقل ہوتی چلی آرہی ہیں۔

﴿69﴾ کہو کہ : ذرا زمین میں سفر کر کے دیکھو کہ مجرموں کا انجام کیسا ہوا ہے۔

﴿70﴾ اور (اے پیغمبر) تم ان لوگوں پر غم نہ کرو، اور یہ جس مکاری کا مظاہرہ کر رہے ہیں، ان کی وجہ سے گھٹن محسوس نہ کرو۔

﴿71﴾ یہ (تم سے) یوں کہتے ہیں کہ : یہ وعدہ کب پورا ہوگا، اگر تم سچے ہو ؟

﴿72﴾ کہہ دو کہ : کچھ بعید نہیں ہے کہ جس عذاب کی تم جلدی مچا رہے ہو، اس کا کچھ حصہ تمہارے بالکل پاس آلگا ہو۔

﴿73﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارا پروردگار لوگوں پر بہت فضل کرنے والا ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

﴿74﴾ اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار وہ ساری باتیں بھی جانتا ہے جو ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں، اور وہ باتیں بھی جو وہ علانیہ کرتے ہیں۔

﴿75﴾ اور آسمان اور زمین کی کوئی پوشیدہ چیزایسی نہیں ہے جو ایک واضح کتاب میں درج نہ ہو۔

﴿76﴾ واقعہ یہ ہے کہ یہ قرآن بنو اسرائیل کے سامنے اکثر ان باتوں کی حقیقت واضح کرتا ہے جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔

﴿77﴾ اور یقینا یہ ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔

﴿78﴾ اور تمہارا پروردگار یقینا ان کے درمیان اپنے حکم سے فیصلہ کرے گا، اور وہ بڑا اقتدار والا، بڑا علم والا ہے۔

﴿79﴾ لہذا (اے پیغمبر) تم اللہ پر بھروسہ رکھو۔ یقینا تم کھلے کھلے حق پر ہو۔

﴿80﴾ یاد رکھو کہ تم مردوں کو اپنی بات نہیں سنا سکتے، اور نہ تم بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہو، جب وہ پیٹھ پھیر کر چل کھڑے ہوں۔

﴿81﴾ اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے بچا کر راستے پر لاسکتے ہو۔ تم تو انہی لوگوں کو اپنی بات سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لائیں، پھر وہی لوگ فرمانبردار ہوں گے۔

﴿82﴾ اور جب ہماری بات پوری ہونے کا وقت ان لوگوں پر آپہنچے گا تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے بات کرے گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔

﴿83﴾ اور اس دن کو نہ بھولو جب ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کی پوری فوج کو گھیر لائیں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے، پھر ان کی جماعت بندی کی جائے گی۔

﴿84﴾ یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے تو اللہ کہے گا کہ : کیا تم نے میری آیتوں کو پوری طرح سمجھے بغیر ہی جھٹلا دیا تھا، یا کیا کرتے رہے تھے ؟

﴿85﴾ اور انہوں نے جو ظلم کیا تھا، اس کی وجہ سے ان پر عذاب کی بات پوری ہوجائے گی، چنانچہ وہ کچھ بول نہیں سکیں گے۔

﴿86﴾ کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے رات اس لیے بنائی ہے کہ وہ اس میں سکون حاصل کریں، اور دن اس طرح بنایا ہے کہ اس میں چیزیں دکھائی دیں ؟ یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔

﴿87﴾ اور جس دن صور پھونکا جائے گا، تو آسمانوں اور زمین کے سب رہنے والے گھبرا اٹھیں گے۔ سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے۔ اور سب اس کے پاس جھکے ہوئے حاضر ہوں گے۔

﴿88﴾ تم (آج) پہاڑوں کو دیکھتے ہو تو سمجھتے ہو کہ یہ اپنی جگہ جمے ہوئے ہیں، حالانکہ (اس وقت) وہ اس طرح پھر رہے ہوں گے جیسے بادل پھرتے ہیں۔ یہ سب اللہ کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کو مستحکم طریقے سے بنایا ہے۔ یقینا اسے پوری خبر ہے کہ تم کیا کام کرتے ہو۔

﴿89﴾ جو کوئی نیکی لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر بدلہ ملے گا۔ اور ایسے لوگ اس دن ہر قسم کی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے۔

﴿90﴾ اور جو کوئی برائی لے کر آئے گا تو ایسے لوگوں کو منہ کے بل آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ تمہیں کسی اور بات کی نہیں، انہی اعمال کی سزا دی جائے گی جو تم کیا کرتے تھے۔

﴿91﴾ (اے پیغمبر ! ان سے کہہ دو کہ :) مجھے تو یہی حکم ملا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں جس نے اس شہر کو حرمت بخشی ہے، اور ہر چیز کا مالک وہی ہے، اور مجھے یہ حکم ملا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں شامل رہوں۔

﴿92﴾ اور یہ کہ میں قرآن کی تلاوت کروں۔ اب جو شخص ہدایت کے راستے پر آئے، وہ اپنے ہی فائدے کے لیے راستے پر آئے گا، اور جو گمراہی اختیار کرے، تو کہہ دینا کہ : میں تو بس ان لوگوں میں سے ہوں جو خبردار کرتے ہیں۔

﴿93﴾ اور کہہ دو کہ : تمام تعریفیں اللہ کی ہیں، وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا، پھر تم انہیں پہچان بھی لو گے۔ اور تمہارا پروردگار تمہارے کاموں سے بیخبر نہیں ہے۔

القصص

Surah 28

﴿1﴾ طسم۔

﴿2﴾ یہ اس کتاب کی آیتیں ہیں جو حقیقت واضح کرنے والی ہے۔

﴿3﴾ ہم ایمان والے لوگوں کے فائدے کے لیے تمہیں موسیٰ اور فرعون کے کچھ حالات ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں۔

﴿4﴾ واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی اختیار کر رکھی تھی، اور اس نے وہاں کے باشندوں کو الگ الگ گروہوں میں تقسیم کردیا تھا جن میں سے ایک گروہ کو اس نے اتنا دبا کر رکھا ہوا تھا کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتا۔ اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو فساد پھیلایا کرتے ہیں۔

﴿5﴾ اور ہم یہ چاہتے تھے کہ جن لوگوں کو زمین میں دبا کر رکھا گیا ہے ان پر احسان کریں ان کو پیشوا بنائیں، انہی کو (ملک و مال کا) وارث بنادیں۔

﴿6﴾ اور انہیں زمین میں اقتدار عطاکریں، اور فرعون، ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی کچھ دکھا دیں جس سے بچاؤ کی وہ تدبیریں کر رہے تھے۔

﴿7﴾ اور ہم نے موسیٰ کی والدہ کو الہام کیا کہ : تم اس (بچے) کو دودھ پلاؤ، پھر جب تمہیں اس کے بارے میں کوئی خطرہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دینا، اور ڈرنا نہیں، اور نہ صدمہ کرنا، یقین رکھو ہم اسے واپس تمہارے پاس پہنچا کر رہیں گے، اور اس کو پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر بنائیں گے۔

﴿8﴾ اس طرح فرعون کے لوگوں نے اس بچے (یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام)) کو اٹھا لیا تاکہ آخر کار وہ ان کے لیے دشمن اور غم کا ذریعہ بنے۔ بیشک فرعون، ہامان اور ان کے لشکر بڑے خطار کار تھے۔

﴿9﴾ اور فرعون کی بیوی نے (فرعون سے) کہا کہ : یہ بچہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ اسے قتل نہ کرو، کچھ بعید نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے، یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اور (یہ فیصلہ کرتے وقت) انہیں انجام کا پتہ نہیں تھا۔

﴿10﴾ ادھر موسیٰ کی والدہ کا دل بےقرار تھا۔ قریب تھا کہ وہ یہ سارا راز کھول دیتیں، اگر ہم نے ان کے دل کو سنبھالا نہ ہوتا، تاکہ وہ (ہمارے وعدے پر) یقین کیے رہیں۔

﴿11﴾ اور انہوں نے موسیٰ کی بہن سے کہا کہ : اس بچے کا کچھ سراغ لگاؤ۔ چنانچہ اس نے بچے کو دور سے اس طرح دیکھا کہ ان لوگوں کو پتہ نہیں چلا۔

﴿12﴾ اور ہم نے موسیٰ پر پہلے ہی سے یہ بندش لگا دی تھی کہ وہ دودھ پلانے والیاں انہیں دودھ نہ پلاسکیں۔ اس لیے ان کی بہن نے کہا : کیا میں تمہیں ایسے گھر کا پتہ بتاؤں جس کے لوگ تمہارے لیے اس بچے کی پرورش کریں، اور اس کے خیر خواہ رہیں ؟

﴿13﴾ اس طرح ہم نے موسیٰ کو ان کی ماں کے پاس لوٹا دیا، تاکہ ان کی آنکھ ٹھنڈی رہے، اور وہ غمگین نہ ہوں، اور تاکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہوجائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

﴿14﴾ اور جب موسیٰ اپنی بھرپور توانائی کو پہنچے اور پورے جوان ہوگئے تو ہم نے انہیں حکمت اور علم سے نوازا، اور نیک لوگوں کو ہم یوں ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔

﴿15﴾ اور (ایک دن) وہ شہر میں ایسے وقت داخل ہوئے جب اس کے باشندے غفلت میں تھے تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں دو آمی لڑ رہے ہیں، ایک تو ان کی اپنی برادری کا تھا، اور دوسرا ان کی دشمن قوم کا۔ اب جو شخص ان کی برادری کا تھا، اس نے انہیں ان کی دشمن قوم کے آدمی کے مقابلے میں مدد کے لیے پکارا، اس پر موسیٰ نے اس کو ایک مکا مارا جس نے اس کا کام تمام کردیا۔ (پھر) انہوں نے (پچھتا کر) کہا کہ : یہ تو کوئی شیطان کی کاروائی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک کھلا دشمن ہے جو غلط راستے پر ڈال دیتا ہے۔

﴿16﴾ کہنے لگے : میرے پروردگار ! میں نے اپنی جان پر ظلم کرلیا، آپ مجھے معاف فرمادیجیے۔ چنانچہ اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ یقینا وہی ہے جو بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿17﴾ موسیٰ نے کہا : میرے پروردگار ! آپ نے مجھ پر انعام کیا ہے تو میں آئندہ کبھی مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا۔

﴿18﴾ پھر صبح کے وقت وہ شہر میں ڈرتے ڈرتے حالات کا جائزہ لے رہے تھے، اتنے میں دیکھا کہ جس شخص نے کل ان سے مدد مانگی تھی وہ پھر انہیں فریاد کے لیے پکار رہا ہے۔ موسیٰ نے اس سے کہا کہ : معلوم ہوا کہ تم تو کھلم کھلا شریر آدمی ہو۔

﴿19﴾ پھر جب انہوں نے اس شخص کو پکڑنے کا ارادہ کیا جو ان دونوں کا دشمن تھا تو اس (اسرائیلی) نے کہا : موسیٰ کیا تم مجھے بھی اسی طرح قتل کرنا چاہتے ہو جیسے تم نے کل ایک آدمی کو قتل کردیا تھا ؟ تمہارا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ تم زمین میں اپنی زبردستی جماؤ، اور تم مصلح بننا نہیں چاہتے۔

﴿20﴾ اور (اس کے بعد یہ ہوا کہ) شہر کے بالکل دور دراز علاقے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا، اس نے کہا کہ : موسیٰ ! سردار لوگ تمہارے بارے میں مشورے کر رہے ہیں کہ تمہیں قتل کر ڈالیں، اس لیے تم یہاں سے نکل جاؤ، یقین رکھو میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں۔

﴿21﴾ چنانچہ موسیٰ ڈرتے ڈرتے، حالات کا جائزہ لیتے شہر سے نکل کھڑے ہوئے۔ کہنے لگے : میرے پروردگار ! مجھے ظالم لوگوں سے بچا لے۔

﴿22﴾ اور جب انہوں نے مدین کی طرف رخ کیا تو کہا کہ : مجھے پوری امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھے راستے پر ڈال دے گا۔

﴿23﴾ اور جب وہ مدین کے کنویں پر پہنچے تو دیکھا کہ اس پر ایسے لوگوں کا ایک مجمع ہے جو اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں، اور دیکھا کہ ان سے پہلے دو عورتیں ہیں جو اپنے جانوروں کو روکے کھڑی ہیں۔ موسیٰ نے ان سے کہا : تم کیا چاہتی ہو ؟ ان دونوں نے کہا : ہم اپنے جانوروں کو اس وقت تک پانی نہیں پلا سکتیں جب تک سارے چرواہے پانی پلا کر نکل نہیں جاتے، اور ہمارے والد بہت بوڑھے آدمی ہیں۔

﴿24﴾ اس پر موسیٰ نے ان کی خاطر ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا، پھر مڑ کر ایک سائے کی جگہ چلے گئے، اور کہنے لگے : میرے پروردگار ! جو کوئی بہتری تو مجھ پر اوپر سے نازل کردے، میں اس کا محتاج ہوں۔

﴿25﴾ تھوڑی دیر بعد ان دونوں عورتوں میں سے ایک ان کے پاس شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی آئی، کہنے لگی : میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں، تاکہ آپ کو اس بات کا انعام دیں کہ آپ نے ہماری خاطر جانوروں کو پانی پلایا ہے، چنانچہ جب وہ عورتوں کے والد کے پاس پہنچے اور ان کو ساری سرگزشت سنائی، تو انہوں نے کہا : کوئی اندیشہ نہ کرو، تم ظالم لوگوں سے بچ آئے ہو۔

﴿26﴾ ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے کہا : ابا جان ! آپ ان کو اجرت پر کوئی کام دے دیجیے۔ آپ کسی سے اجرت پر کام لیں تو اس کے لیے بہترین شخص وہ ہے جو طاقتور بھی ہو، امانت دار بھی۔

﴿27﴾ ان کے باپ نے کہا : میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو لڑکیوں میں سے ایک سے تمہارا نکاح کردوں۔ بشرطیکہ تم آٹھ سال تک اجرت پر میرے پاس کام کرو، پھر اگر تم دس سال پورے کردو تو یہ تمہارا اپنا فیصلہ ہوگا، اور میرا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ تم پر مشقت ڈالوں، انشاء اللہ تم مجھے ان لوگوں میں سے پاؤ گے جو بھلائی کا معاملہ کرتے ہیں۔

﴿28﴾ موسیٰ نے کہا : یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہوگئی۔ دونوں مدتوں میں سے جو بھی میں پوری کردوں، تو مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہوگی، اور جو بات ہم کر رہے ہیں، اللہ اس کا رکھوالا ہے۔

﴿29﴾ پھر جب موسیٰ نے وہ مدت پوری کرلی، اور اپنی اہلیہ کو لے کر چلے تو انہوں نے کوہ طور کی طرف سے ایک آگ دیکھی۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا : ٹھہرو ! میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید میں وہاں سے تمہارے پاس کوئی خبر لے آؤں، یا آگ کا کوئی انگارہ اٹھا لاؤں تاکہ تم گرمائی حاصل کرسکو۔

﴿30﴾ چنانچہ جب وہ اس آگ کے پاس پہنچے تو دائیں وادی کے کنارے پر جو برکت والے علاقے میں واقع تھی، ایک درخت سے آواز آئی کہ : اے موسیٰ ! میں ہی اللہ ہوں، تمام جہانوں کا پروردگار

﴿31﴾ اور یہ کہ : اپنی لاٹھی نیچے ڈال دو ، پھر ہوا یہ کہ جب انہوں نے اس لاٹھی کو دیکھا کہ وہ اس طرح حرکت کر رہی ہے جیسے وہ سانپ ہو، تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے، اور مڑ کر بھی نہ دیکھا (ان سے کہا گیا) موسیٰ ! سامنے آؤ، اور ڈرو نہیں، تم بالکل محفوظ ہو۔

﴿32﴾ اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو، وہ کسی بیماری کے بغیر چمکتا ہوا نکلے گا، اور ڈر دور کرنے کے لیے اپنا بازو اپنے جسم سے لپٹا لینا اب یہ دو زبردست دلیلیں ہیں جو تمہارے پروردگار کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس بھیجی جارہی ہیں۔ وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں۔

﴿33﴾ موسیٰ نے کہا : میرے پروردگار ! میں نے ان کا ایک آدمی قتل کردیا تھا، اس لیے مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے قتل نہ کردیں۔

﴿34﴾ اور میرے بھائی ہارون کی زبان مجھ سے زیادہ صاف ہے۔ اس لیے ان کو بھی میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج دیجیے کہ وہ میری تائید کریں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے۔

﴿35﴾ ارشاد ہوا : ہم تمہارے بھائی کے ذریعے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے دیتے ہیں، اور تم دونوں کو ایسا دبدبہ عطا کردیتے ہیں کہ ان کو ہماری نشانیوں کی برکت سے تم پر دسترس حاصل نہیں ہوگی، تم اور تمہارے پیروکار ہی غالب رہو گے۔

﴿36﴾ چنانچہ جب موسیٰ ان کے پاس ہماری کھلی ہوئی نشانیاں لے کر پہنچے تو انہوں نے کہا : یہ کچھ نہیں، بس بناوٹی جادو ہے، اور ہم نے یہ بات اپنے پچھلے باپ دادوں میں نہیں سنی۔

﴿37﴾ اور موسیٰ نے کہا : میرا پروردگار خوب جانتا ہے کہ کون اس کے پاس سے ہدایت لے کر آیا ہے اور آخر کار بہتر ٹھکانا کس کے ہاتھ آئے گا، یہ یقینی بات ہے کہ ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے۔

﴿38﴾ اور فرعون بولا : اے دربار والو ! میں تو اپنے سوا تمہارے کسی اور خدا سے واقف نہیں ہوں۔ ہامان ! تم ایسا کرو کہ میرے لیے گارے کو آگ دے کر پکواؤ، اور میرے لیے ایک اونچی عمارت بناؤ، تاکہ میں اس پر سے موسیٰ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں، اور میں تو پورے یقین کے ساتھ یہ سمجھا ہوں کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔

﴿39﴾ غرض یہ کہ اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین میں ناحق گھمنڈ کیا، اور یہ سمجھ بیٹھے کہ انہیں ہمارے پاس واپس نہیں لایا جائے گا۔

﴿40﴾ اس لیے ہم نے اس کو اور اس کے لشکروں کو پکڑ میں لے کر سمندر میں پھینک دیا۔ اب دیکھ لو کہ ظالموں کا انجام کیسا ہوا۔

﴿41﴾ ہم نے انہیں قائد بنایا تھا جو لوگوں کو دوزخ کی طرف بلاتے تھے، اور قیامت کے دن ان کو کسی کی مدد نہیں پہنچے گی۔

﴿42﴾ دنیا میں ہم نے لعنت ان کے پیچھے لگا دی ہے، اور قیامت کے دن وہ ان لوگوں میں شامل ہوں گے جن کی بری حالت ہونے والی ہے۔

﴿43﴾ ہم نے پچھلی امتوں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ کو ایسی کتاب دی تھی جو لوگوں کے لیے بصیرت کی باتوں پر مشتمل اور سراپا ہدایت و رحمت تھی، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

﴿44﴾ اور (اے پیغمبر) تم اس وقت (کوہ طور کی) مغربی جانب موجود نہیں تھے جب ہم نے موسیٰ کو احکام سپرد کیے تھے اور نہ تم ان لوگوں میں سے تھے جو اس کا مشاہدہ کر رہے ہوں۔

﴿45﴾ بلکہ ان کے بعد ہم نے بہت سی نسلیں پیدا کیں، جن پر طویل زمانہ گزر گیا۔ اور تم مدین کے بسنے والوں کے درمیان بھی مقیم نہیں تھے کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہو، بلکہ (تمہیں) رسول بنانے والے ہم ہیں۔

﴿46﴾ اور نہ تم اس وقت طور کے کنارے موجود تھے جب ہم نے (موسیٰ کو) پکارا تھا، بلکہ یہ تمہارے رب کی رحمت ہے (کہ تمہیں وحی کے ذریعے یہ باتیں بتائی جارہی ہیں) تاکہ تم اس قوم کو خبردار کرو جس کے پاس تم سے پہلے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا، شاید وہ نصیحت قبول کرلیں۔

﴿47﴾ اور تاکہ جب ان لوگوں پر ان کے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے کوئی مصیبت آئی تو وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ : ہمارے پروردگار ! آپ نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا کہ ہم آپ کی آیتوں کی پیروی کرتے اور ایمان والوں میں بھی شامل ہوجاتے ؟

﴿48﴾ پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آگیا تو کہنے لگے کہ : اس پیغمبر کو اس جیسی چیز کیوں نہیں دی گئی جیسی موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی تھی ؟ حالانکہ جو چیز موسیٰ کو دی گئی تھی کیا انہوں نے پہلے ہی اس کا انکار نہیں کردیا تھا ؟ انہوں نے کہا تھا کہ : یہ دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی تائید کرتے ہیں، اور ہم ان میں سے ہر ایک کے منکر ہیں۔

﴿49﴾ (ان سے) کہو : اچھا اگر تم سچے ہو تو اللہ کے پاس سے کوئی کتاب اور ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل ہو، میں اس کی اتباع کرلوں گا۔

﴿50﴾ پھر اگر یہ تمہاری فرمائش پوری نہ کریں، تو سمجھ لو کہ درحقیقت یہ لوگ اپنی خواہشات کے پیچھے چل رہے ہیں، اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو اللہ کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہش کے پیچھے چلے ؟ بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

﴿51﴾ اور واقعہ یہ ہے کہ ہم ان کے فائدے کے لیے ایک کے بعد ایک (نصیحت کی) بات بھیجتے رہے ہیں، تاکہ وہ متنبہ ہوں۔

﴿52﴾ جن کو ہم نے قرآن سے پہلے آسمانی کتابیں دی ہیں، وہ اس (قرآن) پر ایمان لاتے ہیں،

﴿53﴾ اور جب وہ ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ : ہم اس پر ایمان لائے، یقینا یہ برحق کلام ہے جو ہمارے پروردگار کی طرف سے آیا ہے۔ ہم تو اس سے پہلے بھی اسے مانتے تھے۔

﴿54﴾ ایسے لوگوں کو ان کا ثواب دہرا دیا جائے گا، کیونکہ انہوں نے صبر سے کام لیا اور وہ نیکی سے برائی کا دفعیہ کرتے ہیں، اور ہم نے جو کچھ ان کو دیا ہے، اس میں سے (اللہ کے راستے میں) خرچ کرتے ہیں۔

﴿55﴾ اور جب وہ کوئی بےہودہ بات سنتے ہیں تو اسے ٹال جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ : ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں، اور تمہارے لیے تمہارے اعمال۔ ہم تمہیں سلام کرتے ہیں، ہم نادان لوگوں سے الجھنا نہیں چاہتے۔

﴿56﴾ (اے پیغمبر) حقیقت یہ ہے کہ تم جس کو خود چاہو ہدایت تک نہیں پہنچا سکتے، بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت تک پہنچا دیتا ہے، اور ہدایت قبول کرنے والوں کو وہی خوب جانتا ہے۔

﴿57﴾ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ : اگر ہم آپ کے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں گے تو ہمیں اپنی زمین سے کوئی اچک کرلے جائے گا۔ بھلا کیا ہم نے ان کو اس حرم میں جگہ نہیں دے رکھی جو اتنا پر امن ہے کہ ہر قسم کے پھل اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں، جو خاص ہماری طرف سے دیا ہوا رزق ہے ؟ لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔

﴿58﴾ اور کتنی ہی بستیاں وہ ہیں جو اپنی معیشت پر اتراتی تھیں ہم نے ان کو تباہ کر ڈالا، اب وہ ان کی رہائش گا ہیں تمہارے سامنے ہیں جو ان کے بعد تھوڑے عرصے کو چھوڑ کر کبھی آباد ہی نہ ہوسکیں، اور ہم ہی تھے جو ان کے وارث بنے۔

﴿59﴾ اور تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ وہ بستیاں یونہی ہلاک کر ڈالے جب تک اس نے ان بستیوں کے مرکزی مقام پر کوئی رسول نہ بھیجا ہو، جو ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے، اور ہم بستیوں کو اس وقت تک ہلاک کرنے والے نہیں ہیں جب تک ان کے باشندے ظالم نہ بن جائیں۔

﴿60﴾ اور تم کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کی پونجی اور اس کی سجاوٹ ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کہیں زیادہ بہتر اور کہیں زیادہ پائیدار ہے۔ کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟

﴿61﴾ بھلا بتاؤ کہ جس شخص سے ہم نے اچھا سا وعدہ کر رکھا ہے اور وہ اس وعدے کو پاکر رہے گا، کیا وہ اس جیسا ہوسکتا ہے جسے ہم نے دنیوی زندگی کی پونجی کے کچھ مزے دے دیے ہیں، پھر وہ ان لوگوں میں شامل ہونے والا ہے جو قیامت کے دن دھر لیے جائیں گے ؟

﴿62﴾ اور وہ دن (کبھی نہ بھولو) جب اللہ ان لوگوں کو پکارے گا اور کہے گا : کہاں ہیں (خدائی میں) میرے وہ شریک جن کا تم دعوی کیا کرتے تھے ؟

﴿63﴾ جن کے خلاف (اللہ کی) بات پوری ہوچکی ہوگی، وہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! یہ لوگ جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا، ہم نے ان کو اسی طرح گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے، ہم آپ کے سامنے ان سے دست بردار ہوتے ہیں، یہ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے۔

﴿64﴾ اور (ان کافروں سے) کہا جائے گا کہ : پکارو ان کو جنہیں تم نے اللہ کا شریک بنا رکھا تھا۔ چنانچہ وہ ان کو پکاریں گے مگر وہ ان کو جواب نہیں دیں گے، اور یہ عذاب آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ کاش یہ ایسے ہوتے کہ ہدایت کو قبول کرلیتے۔

﴿65﴾ اور وہ دن (بھی ہرگز نہ بھولو) جب اللہ ان کو پکارے گا، اور کہے گا : تم نے پیغمبروں کو کیا جواب دیا تھا ؟

﴿66﴾ اس پر ساری باتیں (جو یہ بنایا کرتے ہیں) اس دن بےنشان ہوچکی ہوں گی، چنانچہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے کچھ پوچھ بھی نہیں سکیں گے۔

﴿67﴾ البتہ جن لوگوں نے توبہ کرلی، اور ایمان لے آئے، اور نیک عمل کیے، تو پوری امید ہے کہ وہ ان لوگوں میں شامل ہوں گے جنہیں فلاح حاصل ہوگی۔

﴿68﴾ اور تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اور (جو چاہتا ہے) پسند کرتا ہے۔ ان کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ اللہ ان کے شرک سے پاک ہے اور بہت بالا و برتر ہے۔

﴿69﴾ اور تمہارا پروردگار ان باتوں کو بھی جانتا ہے جو ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں، اور ان باتوں کو بھی جو یہ کھلم کھلا کرتے ہیں۔

﴿70﴾ اللہ وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، تعریف اسی کی ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اور حکم اسی کا چلتا ہے، اور اسی کی طرف تم سب واپس بھیجے جاؤ گے۔

﴿71﴾ (اے پیغمبر ! ان سے) کہو : ذرا یہ بتلاؤ کہ اگر اللہ تم پر رات کو ہمیشہ کے لیے قیامت کے دن تک مسلط رکھے تو اللہ کے سوا کونسا معبود ہے جو تمہارے پاس روشنی لے کر آئے ؟ بھلا کیا تم سنتے نہیں ہو ؟

﴿72﴾ کہو : ذرا یہ بتلاؤ کہ اگر اللہ تم پر دن کو ہمیشہ کے لیے قیامت کے دن تک مسلط کردے تو اللہ کے سوا کونسا معبود ہے جو تمہیں وہ رات لاکر دیدے جس میں تم سکون حاصل کرسکو ؟ بھلا کیا تمہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا ؟

﴿73﴾ یہ تو اسی نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات بھی بنائی ہے اور دن بھی، تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو، اور اس میں اللہ کا فضل تلاش کرو، اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔

﴿74﴾ اور وہ دن (نہ بھولو) جب وہ ان (مشرکوں) کو پکارے گا، اور کہے گا کہ : کہاں ہیں (خدائی میں) میرے وہ شریک جن کا تم دعوی کیا کرتے تھے ؟

﴿75﴾ اور ہم ہر امت میں سے ایک گواہی دینے والا نکال لائیں گے، پھر کہیں گے کہ : لاؤ اپنی دلیل ! اس وقت ان کو پتہ چل جائے گا کہ سچی بات اللہ ہی کی تھی اور وہ ساری باتیں جو انہوں نے گھڑ رکھی تھیں، سب گم ہو کر رہ جائیں گی۔

﴿76﴾ قارون موسیٰ کی قوم کا ایک شخص تھا، پھر اس نے انہی پر زیادتی کی ۔ اور ہم نے اسے اتنے خزانے دیے تھے کہ اس کی چابیاں طاقتور لوگوں کی ایک جماعت سے بھی مشکل سے اٹھتی تھیں۔ ایک وقت تھا جب اس کی قوم نے اس سے کہا کہ : اتراؤ نہیں، اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

﴿77﴾ اور اللہ نے تمہیں جو کچھ دے رکھا ہے اس کے ذریعے آخرت والا گھر بنانے کی کوشش کرو۔ اور دنیا میں سے بھی اپنے حصے کو نظر انداز نہ کرو۔ اور جس طرح اللہ نے تم پر احسان کیا ہے تم بھی (دوسروں پر) احسان کرو۔ اور زمین میں فساد مچانے کی کوشش نہ کرو۔ یقین جانو اللہ فساد مچانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

﴿78﴾ کہنے لگا : یہ سب کچھ تو مجھے خود اپنے علم کی وجہ سے ملا ہے۔ بھلا کیا اسے اتنا بھی علم نہیں تھا کہ اللہ نے اس سے پہلی نسلوں کے ایسے ایسے لوگوں کو ہلاک کر ڈالا تھا جو طاقت میں بھی اس سے زیادہ مضبوط تھے اور جن کی جمعیت بھی زیادہ تھی۔ اور مجرموں سے ان کے گناہوں کے بارے میں پوچھا بھی نہیں جاتا۔

﴿79﴾ پھر (ایک دن) وہ اپنی قوم کے سامنے آن بان کے ساتھ نکلا۔ جو لوگ دنیوی زندگی کے طلب گار تھے، وہ کہنے لگے : اے کاش ! ہمارے پاس بھی وہ چیزیں ہوتیں جو قارون کو عطا کی گئی ہیں۔ یقینا وہ بڑے نصیبوں والا ہے۔

﴿80﴾ اور جن لوگوں کو (اللہ کی طرف سے) علم عطا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا : تم پر افسوس ہے (کہ تم ایسا کہہ رہے ہو) اللہ کا دیا ہوا ثواب اس شخص کے لیے کہیں زیادہ بہتر ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اور وہ انہی کو ملتا ہے جو صبر سے کام لیتے ہیں۔

﴿81﴾ پھر ہوا یہ کہ ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا، پھر اسے کوئی ایسا گروہ میسر نہ آیا جو اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کرتا اور نہ وہ خود اپنا بچاؤ کرسکا۔

﴿82﴾ اور کل جو لوگ اس جیسا ہونے کی تمنا کر رہے تھے، کہنے لگے : اوہو ! پتہ چل گیا کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق میں وسعت کردیتا ہے، اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگی کردیتا ہے۔ اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو وہ ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا۔ اوہو ! پتہ چلا گیا کہ کافر لوگ فلاح نہیں پاتے۔

﴿83﴾ وہ آخرت والا گھر تو ہم ان لوگوں کے لیے مخصوص کردیں گے جو زمین میں نہ تو بڑائی چاہتے ہیں، اور نہ فساد، اور آخرت انجام پرہیزگاروں کے حق میں ہوگا۔

﴿84﴾ جو شخص کوئی نیکی لے کر آئے گا تو اس کو اس سے بہتر چیز ملے گی، اور جو کوئی بدی لے کر آئے گا تو جنہوں نے برے کام کیے ہیں، ان کو کسی اور چیز کی نہیں، ان کے کیے ہوئے کاموں ہی کی سزا دی جائے گی۔

﴿85﴾ (اے پیغمبر) جس ذات نے تم پر اس قرآن کی ذمہ داری ڈالی ہے، وہ تمہیں دوبارہ اس جگہ پر لاکر رہے گا جو (تمہارے لیے) انسیت کی جگہ ہے کہہ دو : میرا رب اس سے بھی خوب واقف ہے جو ہدایت لے کر آیا ہے، اور اس سے بھی جو کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔

﴿86﴾ اور (اے پیغمبر) تمہیں پہلے سے یہ امید نہیں تھی کہ تم پر یہ کتاب نازل کی جائے گی، لیکن یہ تمہارے رب کی طرف سے رحمت ہے، لہذا کافروں کے ہرگز مددگار نہ بننا۔

﴿87﴾ اور جب اللہ کی آیتیں تم پر نازل کردی گئی ہیں تو اس کے بعد یہ لوگ تمہیں ہرگز ان (پر عمل کرنے) سے روکنے نہ پائیں۔ اور تم اپنے رب کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے رہو، اور ہرگز ان مشرکین میں شامل نہ ہونا۔

﴿88﴾ اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ پکارو، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ ہر چیز فنا ہونے والی ہے، سوائے اس ذات کے، حکومت اسی کی ہے اور اسی کی طرف تمہیں لوٹایا جائے گا۔

العنکبوت

Surah 29

﴿1﴾ الم

﴿2﴾ کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں یونہی چھوڑ دیا جائے گا کہ بس وہ یہ کہہ دیں کہ : ہم ایمان لے آئے۔ اور ان کو آزمایا نہ جائے ؟

﴿3﴾ حالانکہ ہم نے ان سب کی آزمائش کی ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ لہذا اللہ ضرور معلوم کر کے رہے گا کہ کون لوگ ہیں جنہوں نے سچائی سے کام لیا ہے اور وہ یہ بھی معلوم کر کے رہے گا کہ کون لوگ جھوٹے ہیں۔

﴿4﴾ جن لوگوں نے برے برے کام کیے ہیں، کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہم سے بازی لے جائیں گے ؟ بہت برا اندازہ ہے جو وہ لگا رہے ہیں۔

﴿5﴾ جو شخص اللہ سے جاملنے کی امید رکھتا ہو، اسے یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ کی مقرر کی ہوئی میعاد ضرور آکر رہے گی، اور وہی ہے جو ہر بات سنتا، ہر چیز جانتا ہے۔

﴿6﴾ اور جو شخص بھی ہمارے راستے میں محنت اٹھاتا ہے، وہ اپنے ہی فائدے کے لیے محنت اٹھاتا ہے۔ یقینا اللہ تمام دنیا جہان کے لوگوں سے بےنیاز ہے۔

﴿7﴾ اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ہم ان کی خطاؤں کو ضرور ان سے جھاڑ دیں گے، اور جو عمل وہ کرتے رہے ہیں، ان کا بہترین بدلہ انہیں ضرور دیں گے۔

﴿8﴾ اور ہم نے انسان کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ اور اگر وہ تم پر زور ڈالیں کہ تم میرے ساتھ کسی ایسے (معبود) کو شریک ٹھہراؤ جس کے بارے میں تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، تو ان کا کہنا مت مانو میری ہی طرف تم سب کو لوٹ کر آنا ہے، اس وقت میں تمہیں بتاؤں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔

﴿9﴾ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ہم انہیں ضرور نیک لوگوں میں شامل کریں گے۔

﴿10﴾ اور کچھ لوگ ایسے ہیں کہ وہ کہہ دیتے ہیں کہ : ہم اللہ پر ایمان لے آئے ہیں۔ پھر جب ان کو اللہ کے راستے میں کوئی تکلیف پہنچائی جاتی ہے تو وہ لوگوں کی پہنچائی ہوئی تکلیف کو ایسا سمجھتے ہیں جیسا اللہ کا عذاب اور اگر کبھی تمہارے پروردگار کی طرف سے کوئی مدد ان (مسلمانوں) کے پاس آگئی ہے تو وہ ضرور یہ کہیں گے کہ : ہم تو تمہارے ساتھ تھے۔ بھلا کیا اللہ کو وہ باتیں اچھی معلوم نہیں ہیں جو سارے دنیا جہان کے لوگوں کے سینوں میں چھپی ہیں ؟

﴿11﴾ اور اللہ تعالیٰ ضرور معلوم کر کے رہے گا کہ کون لوگ ایمان لائے ہیں اور وہ ضرور معلوم کر کے رہے گا کہ کون لوگ منافق ہیں۔

﴿12﴾ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، انہوں نے ایمان والوں سے کہا کہ : ہمارے راستے کے پیچھے چلو تاکہ ہم تمہاری خطاؤں کا بوجھ اٹھالیں گے۔ حالانکہ وہ ان کی خطاؤں کا ذرا بھی بوجھ نہیں اٹھاسکتے، اور یہ لوگ یقینا بالکل جھوٹے ہیں۔

﴿13﴾ اور وہ اپنے گناہوں کے بوجھ بھی ضرور اٹھائیں گے اور اپنے بوجھ کے ساتھ کچھ اور بوجھ بھی۔ اور یہ لوگ جتنے جھوٹ گھڑا کرتے تھے، قیامت کے دن ان سے سب کی باز پرس ضرور کی جائے گی۔

﴿14﴾ اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کے پاس بھیجا تھا، چنانچہ پچاس کم ایک ہزار سال تک وہ ان کے درمیان رہے، پھر ان کو طوفان نے آپکڑا، اور وہ ظالم لوگ تھے۔

﴿15﴾ پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو بچا لیا، اور ہم نے اس کو دنیا جہان والوں کے لیے ایک عبرت بنادیا۔

﴿16﴾ اور ہم نے ابراہیم کو بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : اللہ کی عبادت کرو، اور اس سے ڈرو یہی بات تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم سمجھ سے کام لو۔

﴿17﴾ جو کچھ تم کرتے ہو وہ یہ ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر تم بتوں کو پوجتے ہو، اور جھوٹی باتیں گھڑتے ہو، یقین جانو کہ اللہ کو چھوڑ کر جن جن کی تم عبادت کرتے ہو، وہ تمہیں رزق دینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے، اس لیے رزق اللہ کے پاس تلاش کرو، اور اس کی عبادت کرو، اور اس کا شکر ادا کرو۔ اسی کے پاس تمہیں واپس لوٹایا جائے گا۔

﴿18﴾ اور اگر تم مجھے جھٹلا رہے ہو تو تم سے پہلے بہت سی قومیں جھٹلانے کی روش اختیار کرچکی ہیں، اور رسول پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی کہ وہ صاف صاف بات پہنچا دے۔

﴿19﴾ بھلا کیا ان لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ کس طرح مخلوق کو شروع میں پیدا کرتا ہے ؟ پھر وہی اسے دوبارہ پیدا کرے گا، یہ کام تو اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔

﴿20﴾ کہو کہ : ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے کس طرح مخلوق کو شروع میں پیدا کیا، پھر اللہ ہی آخرت والی مخلوق کو بھی اٹھا کھڑا کرے گا۔ یقینا اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

﴿21﴾ وہ جس کو چاہے گا، سزا دے گا، اور جس پر چاہے گا رحم کرے گا، اور اسی کی طرف تم سب کو پلٹا کرلے جایا جائے گا۔

﴿22﴾ اور تم نہ زمین میں (اللہ کو) عاجز کرسکتے ہو، اور نہ آسمان میں، اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی رکھوالا ہے، اور نہ کوئی مددگار۔

﴿23﴾ اور جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں کا اور اس سے جاملنے کا انکار کیا ہے، وہ میری رحمت سے مایوس ہوچکے ہیں، اور ان کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے۔

﴿24﴾ غرض ابراہیم کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ انہوں نے کہا : قتل کر ڈالو اس کو یا جلا ڈالو اسے۔ پھر اللہ نے ابراہیم کو آگ سے بچایا۔ یقینا اس واقعے میں ان لوگوں کے لیے بڑی عبرتیں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔

﴿25﴾ اور ابراہیم نے یہ بھی کہا کہ : تم نے اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو (خدا) مانا ہوا ہے، جس کے ذریعے دنیوی زندگی میں تمہاری آپس کی دوستی قائم ہے۔ پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے کا انکار کرو گے، اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے، اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا، اور تمہیں کسی بھی طرح کے مددگار میسر نہیں ہوں گے۔

﴿26﴾ پھر لوط ان پر ایمان لائے اور ابراہیم نے کہا کہ : میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کر کے جارہا ہوں وہی ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل

﴿27﴾ اور ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب (جیسے بیٹے) عطا فرمائے، اور ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب کا سلسلہ جاری رکھا، اور ان کا اجر ہم نے انہیں دنیا میں (بھی) دیا اور یقینا آخرت میں ان کا شمار صالحین میں ہوگا۔

﴿28﴾ اور ہم نے لو ط کو بھیجا جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا : حقیقت یہ ہے کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا جہان والوں میں سے کسی نے نہیں کیا۔

﴿29﴾ کیا تم مردوں کے پاس جاتے ہو اور راستوں میں ڈاکے ڈالتے ہو، اور اپنی بھری مجلس میں بدی کا ارتکاب کرتے ہو ؟ پھر ان کی قوم کے لوگوں کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں تھا کہ انہوں نے کہا : لے آؤ ہم پر اللہ کا عذاب اگر تم سچے ہو۔

﴿30﴾ لوط نے کہا : میرے پروردگار ! ان مفسد لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرمایے۔

﴿31﴾ اور جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابراہیم کے پاس (ان کے بیٹا ہونے کی) خوشخبری لے کر پہنچے تو انہوں نے کہا کہ : ہم اس بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے باشندے بڑے ظالم بنے ہوئے ہیں۔

﴿32﴾ ابراہیم نے کہا : اس بستی میں تو لوط موجود ہیں۔ فرشتوں نے کہا : ہمیں خوب معلوم ہے کہ اس میں کون ہے۔ ہم انہیں اور ان کے متعلقین کو ضرور بچا لیں گے، سوائے ان کی بیوی کے کہ وہ ان لوگوں میں شامل رہے گی جو پیچھے رہ جائیں گے۔

﴿33﴾ اور جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لوط کے پاس پہنچے تو لوط ان کی وجہ سے سخت پریشان ہوئے، اور ان کی وجہ سے ان کا دل تنگ ہونے لگا، ان فرشتوں نے کہا : آپ نہ ڈریے، اور نہ غم کیجیے۔ ہم آپ کو اور آپ کے متعلقین کو بچالیں گے، سوائے آپ کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں شامل رہے گی۔

﴿34﴾ اس بستی کے باشندے جو بدکاریاں کرتے رہے ہیں، ان کی وجہ سے ہم ان پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں۔

﴿35﴾ اور ہم نے اس بستی کی کچھ کھلی نشانی ان لوگوں کے لیے چھوڑ دی ہے جو سمجھ سے کام لیں۔

﴿36﴾ اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ چنانچہ انہوں نے کہا : میری قوم کے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو، اور آخرت والے دن کی امید رکھو، اور زمین میں فساد پھیلاتے مت پھرو۔

﴿37﴾ پھر ہوا یہ کہ ان لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا، چنانچہ زلزلے نے ان کو آپکڑا، اور وہ اپنے گھر میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

﴿38﴾ اور ہم نے عاد اور ثمود کو بھی ہلاک کیا، اور ان کی تباہی تم پر ان کے گھروں سے واضح ہوچکی ہے۔ اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نگاہوں میں خوشنما بنا کر انہیں راہ راست سے روک دیا تھا، حالانکہ وہ سوجھ بوجھ کے لوگ تھے۔

﴿39﴾ اور قارون، فرعون اور ہامان کو بھی ہم نے ہلاک کیا موسیٰ ان کے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے تھے، مگر انہوں نے زمین میں تکبر سے کام لیا، اور وہ (ہم سے) جیت نہ سکے۔

﴿40﴾ ہم نے ان سب کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ میں لیا، چنانچہ ان میں سے کچھ وہ تھے جن پر ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی اور کچھ وہ تھے جن کو ایک چنگھاڑ نے آپکڑا، اور کچھ وہ تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا، اور کچھ وہ جنہیں ہم نے پانی میں غرق کردیا۔ اور اللہ ایسا نہیں تھا کہ ان پر ظلم کرتا، لیکن یہ لوگ خود اپنی جانوں پر ظلم کیا کرتے تھے۔

﴿41﴾ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے رکھوالے بنا رکھے ہیں، ان کی مثال مکڑی کی سی ہے، جس نے کوئی گھر بنا لیا ہو، اور کھلی بات ہے کہ تمام گھروں میں سب سے کمزور گھر مکڑی کا ہوتا ہے۔ کاش کہ یہ لوگ جانتے۔

﴿42﴾ یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جس جس چیز کو پکارتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے، اور وہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

﴿43﴾ ہم یہ مثالیں لوگوں کے فائدے کے لیے دیتے ہیں، اور انہیں سمجھتے وہی ہیں جو علم والے ہیں۔

﴿44﴾ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو برحق (مقصد کے لیے) پیدا کیا ہے۔ درحقیقت اس میں ایمان والوں کے لیے بڑی نشانی ہے۔

﴿45﴾ (اے پیغمبر) جو کتاب تمہارے پاس وحی کے ذریعے بھیجی گئی ہے اس کی تلاوت کرو، اور نماز قائم کرو۔ بیشک نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ اور اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سب کو جانتا ہے۔

﴿46﴾ اور (مسلمانو) اہل کتاب سے بحث نہ کرو، مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو۔ البتہ ان میں سے جو زیادتی کریں، ان کی بات اور ہے۔ اور (ان سے) یہ کہو کہ : ہم اس کتاب پر بھی ایمان لائے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی ہے، اور اس پر بھی جو تم پر نازل کی گئی تھی، اور ہمارا خدا اور تمہارا خدا ایک ہے، اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔

﴿47﴾ اور (اے پیغمبر) اسی طرح ہم نے تم پر کتاب نازل کی ہے، اس لیے جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں، اور ان (بت پرستوں) میں سے بھی کچھ لوگ ہیں جو اس پر ایمان لارہے ہیں، اور ہماری آیتوں کا انکار صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو کافر ہیں۔

﴿48﴾ اور تم اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے، اور نہ کوئی کتاب اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے۔ اگر ایسا ہوتا تو باطل والے میں میخ نکال سکتے تھے۔

﴿49﴾ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ قرآن ایسی نشانیوں کا مجموعہ ہے جو ان لوگوں کے سینوں میں بالکل واضح ہیں جنہیں علم عطا کیا گیا ہے اور ہماری آیتوں کا انکار صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو ظالم ہیں۔

﴿50﴾ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ : ان (پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ان کے پروردگار کی طرف سے نشانیاں کیوں نہیں اتاری گئیں ؟ (اے پیغمبر ! ان سے) کہہ دو کہ : نشانیاں صرف اللہ کے پاس ہیں اور میں تو ایک واضح طور پر خبردار کرنے والا ہوں۔

﴿51﴾ بھلا کیا ان کے لیے یہ (نشانی) کافی نہیں ہے کہ ہم نے تم پر کتاب اتاری ہے جو ان کو پڑھ کر سنائی جارہی ہے ؟ یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی رحمت اور نصیحت ہے جو ماننے والے ہوں۔

﴿52﴾ کہہ دو کہ : میرے اور تمہارے درمیان گواہی دینے کے لیے اللہ کافی ہے، اسے ان تمام چیزوں کا علم ہے جو آسمانوں اور زمین میں موجود ہیں۔ اور جو لوگ باطل پر ایمان لائے ہیں، اور اللہ کا انکار کیا ہے، وہی ہیں جو سخت نقصان اٹھانے والے ہیں۔

﴿53﴾ اور یہ لوگ تم سے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں، اگر (عذاب کا) ایک معین وقت نہ ہوتا تو ان پر ضرور عذاب آجاتا اور وہ آئے گا ضرور (مگر) اتنا اچانک کہ ان کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔

﴿54﴾ یہ تم سے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں، اور یقینا جہنم ان کو گھیرے میں لے لے گی۔

﴿55﴾ اس دن جب عذاب ان پر اوپر سے بھی چھا جائے گا، اور ان کے پاؤں کے نیچے سے بھی، اور کہے گا کہ : چکھو ان کاموں کا مزہ جو تم کیا کرتے تھے۔

﴿56﴾ اے میرے بندو جو ایمان لاچکے ہو ! یقین جانو میری زمین بہت وسیع ہے، لہذا خالص میری عبادت کرو۔

﴿57﴾ ہر متنفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے، پھر ہماری ہی طرف تم سب کو واپس لایا جائے گا۔

﴿58﴾ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کو ہم ضرور جنت کے ایسے بالاخانوں میں آباد کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ بہترین اجر ہے ان عمل کرنے والوں کا۔

﴿59﴾ جنہوں نے صبر سے کام لیا، اور جو اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں۔

﴿60﴾ اور کتنے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے۔ اللہ انہیں بھی رزق دیتا ہے، اور تمہیں بھی اور وہی ہے جو ہر بات سنتا، ہر چیز جانتا ہے۔

﴿61﴾ اور اگر تم ان سے پوچھو کہ : کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور سورج اور چاند کو کام پر لگایا ؟ تو وہ ضرور یہ کہیں گے کہ : اللہ ! پھر آخر یہ لوگ کہاں سے اوندھے چل پڑتے ہیں ؟

﴿62﴾ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے، رزق میں کشادگی کردیتا ہے، اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگی کردیتا ہے، یقینا اللہ ہر چیز کا مکمل علم رکھتا ہے۔

﴿63﴾ اور اگر تم ان سے پوچھو کہ : کون ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعے زمین کے مردہ ہونے کے بعد اسے زندگی بخشی ؟ تو وہ ضرور یہ کہیں گے کہ : اللہ ! کہو : الحمدللہ ! لیکن ان میں سے اکثر لوگ عقل سے کام نہیں لیتے۔

﴿64﴾ اور یہ دنیوی زندگی کھیل کود کے سوا کچھ بھی نہیں اور حقیقت یہ ہے کہ دار آخرت ہی اصل زندگی ہے، اگر یہ لوگ جانتے ہوتے۔

﴿65﴾ چنانچہ جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو اس طرح پکارتے ہیں کہ ان کا اعتقاد خالص اسی پر ہوتا ہے۔ پھر جب وہ انہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو فورا شرک کرنے لگتے ہیں۔

﴿66﴾ کرلیں یہ لوگ ناشکری اس نعمت کی جو ہم نے ان کو دی ہے، اور اڑالیں کچھ مزے۔ پھر وہ وقت دور نہیں جب انہیں سب پتہ چل جائے گا۔

﴿67﴾ بھلا کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے (ان کے شہر کو) ایک پرامن حرم بنادیا ہے، جبکہ ان کے اردگرد لوگوں کا حال یہ ہے کہ انہیں اچک لیا جاتا ہے۔ کیا پھر بھی یہ باطل پر ایمان لاتے ہیں، اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں ؟

﴿68﴾ اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر بہتان باندھے، یا جب اس کے پاس حق کی بات پہنچے تو وہ اسے جھٹلائے ؟ کیا جہنم میں (ایسے) کافروں کا ٹھکانا نہیں ہوگا ؟

﴿69﴾ اور جن لوگوں نے ہماری خاطر کوشش کی ہے، ہم انہیں ضرور بالضرور اپنے راستوں پر پہنچائیں گے، اور یقینا اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

الروم

Surah 30

﴿1﴾ الم

﴿2﴾ رومی لوگ مغلوب ہوگئے ہیں

﴿3﴾ قریب کی سرزمین میں اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔

﴿4﴾ چند ہی سالوں میں ! سارا اختیار اللہ ہی کا ہے، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اور اس دن ایمان والے اللہ کی دی ہوئی فتح سے خوش ہوں گے،

﴿5﴾ وہ جس کو چاہتا ہے، فتح دیتا ہے اور وہی صاحب اقتدار بھی ہے، بڑا مہربان بھی۔

﴿6﴾ یہ اللہ کا کیا ہوا وعدہ ہے، اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

﴿7﴾ وہ دنیوی زندگی کے صرف ظاہری رخ کو جانتے ہیں، اور آخرت کے بارے میں ان کا حال یہ ہے کہ وہ اس سے بالکل غافل ہیں۔

﴿8﴾ بھلا کیا انہوں نے اپنے دلوں میں غور نہیں کیا ؟ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان پائی جانے والی چیزوں کو بغیر کسی برحق مقصد کے اور کوئی میعاد مقرر کیے بغیر پیدا نہیں کردیا۔ اور بہت سے لوگ ہیں کہ اپنے پروردگار سے جا ملنے کے منکر ہیں۔

﴿9﴾ کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں، تاکہ وہ یہ دیکھتے کہ ان سے پہلے جو لوگ تھے ان کا انجام کیسا ہوا ؟ وہ طاقت میں ان سے زیادہ مضبوط تھے، اور انہوں نے زمین کو بھی جوتا تھا، اور جتنا ان لوگوں نے اسے آباد کیا ہے، اس سے زیادہ انہوں نے اس کو آباد کیا تھا، اور ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلے کھلے دلائل لے کر آئے تھے، چنانچہ اللہ تو ایسا نہیں تھا کہ ان پر ظلم کرے، لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔

﴿10﴾ پھر جن لوگوں نے برائی کی تھی ان کا انجام بھی برا ہی ہوا، کیونکہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا تھا، اور وہ ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔

﴿11﴾ اللہ ہی مخلوق کی ابتدا کرتا ہے، اور وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ پھر تم سب اس کے پاس واپس بلا لیے جاؤ گے۔

﴿12﴾ اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس روز مجرم لوگ ناامید ہوجائیں گے۔

﴿13﴾ اور انہوں نے جن کو اللہ کا شریک مان رکھا تھا، ان میں سے کوئی ان کا سفارشی نہیں ہوگا، اور خود یہ لوگ اپنے مانے ہوئے شریکوں سے منکر ہوجائیں گے۔

﴿14﴾ اور جس دن قیامت برپا ہوگی، اس روز لوگ مختلف قسموں میں بٹ جائیں گے۔

﴿15﴾ چنانچہ جو لوگ ایمان لائے تھے، اور انہوں نے نیک عمل کیے تھے، ان کو تو جنت میں ایسی خوشیاں دی جائیں گی جو ان کے چہروں سے پھوٹی پڑ رہی ہوں گی۔

﴿16﴾ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا تھا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کا سامنا کرنے کو جھٹلایا تھا، تو ایسے لوگوں کو عذاب میں دھر لیا جائے گا۔

﴿17﴾ لہذا اللہ کی تسبیح کرو اس وقت بھی جب تمہارے پاس شام آتی ہے، اور اس وقت بھی جب تم پر صبح طلوع ہوتی ہے۔

﴿18﴾ اور اسی کی حمد ہوتی ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی۔ اور سورج ڈھلنے کے وقت بھی (اس کی تسبیح کرو) اور اس وقت بھی جب تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔

﴿19﴾ وہ جاندار کو بےجان سے نکال لاتا ہے، اور بےجان کو جاندار سے نکال لیتا ہے۔ اور وہ زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ اور اسی طرح تم کو (قبروں سے) نکال لیا جائے گا۔

﴿20﴾ اور اس کی (قدرت کی) ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر تم دیکھتے ہی دیکھتے انسان بن کر (زمین میں) پھیلے پڑے ہو۔

﴿21﴾ اور اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم میں سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کے پاس جاکر سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت کے جذبات رکھ دیے، یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔

﴿22﴾ اور اس کی نشانیوں کا ایک حصہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف بھی ہے۔ یقینا اس میں دانش مندوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔

﴿23﴾ اور اس کی نشانیوں کا ایک حصہ تمہارا رات اور دن کے وقت سونا اور اللہ کا فضل تلاش کرنا ہے۔ یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو بات سنتے ہوں۔

﴿24﴾ اور اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ تمہیں بجلی کی چمک دکھاتا ہے جس سے ڈر بھی لگتا ہے اور امید بھی ہوتی ہے۔ اور آسمان سے پانی برساتا ہے، جس کے ذریعے وہ زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندگی بخشتا ہے، یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

﴿25﴾ اور اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جب وہ ایک پکار دے کر تمہیں زمین سے بلائے گا تو تم فورا نکل پڑو گے۔

﴿26﴾ اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب اسی کی ملکیت ہیں۔ سب اسی کے حکم کے تابع ہیں۔

﴿27﴾ اور وہی ہے جو مخلوق کی ابتدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا، اور یہ کام اس کے لیے بہت آسان ہے۔ اور اسی کی سب سے اونچی شان ہے، آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی، اور وہی ہے جو اقتدار والا بھی ہے، حکمت والا بھی۔

﴿28﴾ وہ تمہیں خود تمہارے اندر سے ایک مثال دیتا ہے۔ ہم نے جو رزق تمہیں دیا ہے، کیا تمہارے غلاموں میں سے کوئی اس میں تمہارا شریک ہے کہ اس رزق میں تمہارا درجہ ان کے برابر ہو (اور) تم ان غلاموں سے ویسے ہی ڈرتے ہو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے ڈرتے ہو ؟ ہم اسی طرح دلائل ان لوگوں کے لیے کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو عقل سے کام لیں۔

﴿29﴾ لیکن ظالم لوگ کسی علم کے بغیر اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑے ہیں۔ اب اس شخص کو کون ہدایت دے سکتا ہے جسے اللہ نے گمراہ کردیا ہو۔ اور ایسے لوگوں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔

﴿30﴾ لہذا تم یک سو ہو کر اپنا رخ اس دین کی طرف قائم رکھو۔ اللہ کی بنائی ہوئی اس فطرت پر چلو جس پر اس نے تمام لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی۔ یہی بالکل سیدھا راستہ ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

﴿31﴾ (فطرت کی پیروی) اس طرح (کرو) کہ تم نے اسی (اللہ) سے لو لگا رکھی ہو اور اس سے ڈرتے رہو، اور نماز قائم کرو اور ان لوگوں کے ساتھ شامل نہ ہو جو شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔

﴿32﴾ وہ جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرلیا، اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ ہر گروہ اپنے اپنے طریقے پر مگن ہے۔

﴿33﴾ اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف چھو جاتی ہے تو وہ اپنے پروردگار سے لو لگا کر اسی کو پکارتے ہیں، پھر جب وہ اپنی طرف سے انہیں کسی رحمت کا ذائقہ چکھا دیتا ہے تو ان میں سے کچھ لوگ یکایک اپنے پروردگار کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔

﴿34﴾ تاکہ ہم نے انہیں جو کچھ دیا تھا اس کی ناشکری کریں۔ اچھا ! کچھ مزے اڑا لو، پھر وہ وقت دور نہیں جب تمہیں سب پتہ چل جائے گا۔

﴿35﴾ بھلا کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے جو اس شرک کا ارتکاب کرنے کو کہتی ہو جو یہ اللہ کے ساتھ کرتے رہے ہیں ؟

﴿36﴾ اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر اترا جاتے ہیں، اور اگر انہیں خود اپنے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے کوئی برائی پہنچ جائے تو ذرا سی دیر میں وہ مایوس ہونے لگتے ہیں۔

﴿37﴾ کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور (جس کے لیے چاہے) تنگ کردیتا ہے۔ اس میں یقینا ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو ایمان لائیں۔

﴿38﴾ لہذا تم رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو بھی جو لوگ اللہ کی خوشنودی چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ بہتر ہے، اور وہی ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔

﴿39﴾ اور یہ جو تم سود دیتے ہو تاکہ وہ لوگوں کے مال میں شامل ہو کر بڑھ جائے تو وہ اللہ کے نزدیک بڑھتا نہیں ہے۔ اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے ارادے سے دیتے ہو، تو جو لوگ بھی ایسا کرتے ہیں وہ ہیں جو (اپنے مال کو) کئی گنا بڑھا لیتے ہیں۔

﴿40﴾ اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، پھر اس نے تمہیں رزق دیا، پھر وہ تمہیں موت دیتا ہے پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ جن کو تم نے اللہ کا شریک مانا ہوا ہے، کیا ان میں سے کوئی ہے جو ان میں سے کوئی کام کرتا ہو ؟ پاک ہے وہ اور بہت بالا و برتر اس شرک سے جس کا ارتکاب یہ لوگ کرتے ہیں۔

﴿41﴾ لوگوں نے اپنے ہاتھوں جو کمائی کی، اس کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد پھیلا۔ تاکہ انہوں نے جو کام کیے ہیں اللہ ان میں سے کچھ کا مزہ انہیں چکھائے، شاید وہ باز آجائیں۔

﴿42﴾ (اے پیغمبر ! ان سے) کہو کہ : زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جو لوگ پہلے گزرے ہیں، ان کا کیسا انجام ہوا۔ ان میں سے اکثر مشرک تھے۔

﴿43﴾ لہذا تم اپنا رخ صحیح دین کی طرف قائم رکھو، قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کا اللہ کی طرف سے کوئی امکان نہیں ہے۔ اس دن لوگ الگ الگ ہوجائیں گے۔

﴿44﴾ جس نے کفر کیا ہے اس کا کفر اسی پر پڑے گا، اور جن لوگوں نے نیک عمل کیا ہے، وہ اپنے لیے ہی راستہ بنا رہے ہیں۔

﴿45﴾ نتیجہ یہ کہ اللہ ان لوگوں کو اپنے فضل سے جزاء دے گا جو ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں۔ یقینا اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔

﴿46﴾ اور اس (اللہ کی قدرت) کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو (بارش کی) خوشخبری لے کر آتی ہیں، اور اس لیے بھیجتا ہے تاکہ تمہیں اپنی رحمت کا کچھ مزہ چکھائے اور تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے پانی میں چلیں، اور تم اس کا فضل تلاش کرو، اور شکر ادا کرو۔

﴿47﴾ اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ان کی قوموں کے پاس بھیجے، چنانچہ وہ ان کے پاس کھلے کھلے دلائل لے کر آئے۔ پھر جنہوں نے جرائم کا ارتکاب کیا تھا، ہم نے ان سے انتقام لیا، اور ہم نے یہ ذمہ داری لی تھی کہ ایمان والوں کی مدد کریں۔

﴿48﴾ اللہ ہی وہ ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے، چنانچہ وہ بادل کو اٹھاتی ہیں، پھر وہ اس (بادل) کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلا دیتا ہے، اور اسے کئی تہوں (والی گھٹا) میں تبدیل کردیتا ہے۔ تب تم دیکھتے ہو کہ اس کے درمیان سے بارش برس رہی ہے۔ چنانچہ جب وہ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے وہ بارش پہنچاتا ہے تو وہ اچانک خوشی منانے لگتے ہیں۔

﴿49﴾ حالانکہ اس سے پہلے جب تک ان پر بارش نہیں برسائی گئی تھی وہ ناامید ہورہے تھے۔

﴿50﴾ اب ذرا اللہ کی رحمت کے اثرات دیکھو کہ وہ زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد کس طرح زندگی بخشتا ہے ! حقیقت یہ ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کرنے والا ہے، اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

﴿51﴾ اور اگر ہم (نقصان دہ) ہوا چلا دیں جس کے نتیجے میں وہ اپنے کھیت کو پیلا پڑا ہوا دیکھیں تو اس کے بعد یہ ناشکری کرنے لگیں۔

﴿52﴾ غرض (اے پیغمبر) تم مردوں کو اپنی بات نہیں سنا سکتے، اور نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہو جب وہ پیٹھ پھیر کر جارہے ہوں۔

﴿53﴾ اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر راستے پر ڈال سکتے ہو۔ تم تو انہی لوگوں کو اپنی بات سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لائیں، پھر فرمانبردار بن جائیں۔

﴿54﴾ اللہ وہ ہے جس نے تمہاری تخلیق کی ابتدا کمزوری سے کی، پھر کمزوری کے بعد طاقت عطا فرمائی، پھر طاقت کے بعد (دوبارہ) کمزوری اور بڑھاپا طاری کردیا۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اور وہی ہے جس کا علم بھی کامل ہے، قدرت بھی کامل۔

﴿55﴾ اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس دن مجرم لوگ قسم کھا لیں گے کہ وہ (برزخ میں) ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے۔ اسی طرح (دنیا میں بھی) وہ اوندھے چلا کرتے تھے۔

﴿56﴾ جن لوگوں کو علم اور ایمان عطا کیا گیا ہے وہ کہیں گے کہ : تم اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر کے مطابق حشر کے دن تک (برزخ میں) پڑے رہے ہو۔ اب یہ وہی حشر کا دن ہے، لیکن تم لوگ یقین نہیں کرتے تھے۔

﴿57﴾ چنانچہ جن لوگوں نے ظلم کی راہ اپنائی تھی، اس دن ان کی معذرت انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی، اور نہ ان سے یہ کہا جائے گا کہ اللہ کی ناراضی دور کرو۔

﴿58﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اس قرآن میں لوگوں (کو سمجھانے) کی خاطر ہر قسم کی باتیں بیان کی ہیں۔ اور (اے پیغمبر) ان کا حال یہ ہے کہ تم ان کے پاس کوئی بھی نشانی لے آؤ، یہ کافر لوگ پھر بھی یہی کہیں گے کہ تم کچھ بھی نہیں، بالکل غلط کار ہو۔

﴿59﴾ اللہ اسی طرح ان لوگوں کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیتا ہے جو سمجھ سے کام نہیں لیتے۔

﴿60﴾ لہذا (اے پیغمبر) تم صبر سے کام لو، یقین جانو اللہ کا وعدہ سچا ہے اور ایسا ہرگز نہ ہونا چاہیے کہ جو لوگ یقین نہیں کرتے ان کی وجہ سے تم ڈھیلے پڑجاؤ۔

لقمان

Surah 31

﴿1﴾ الم۔

﴿2﴾ یہ اس حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں۔

﴿3﴾ جو نیک لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت بن کر آئی ہے۔

﴿4﴾ وہ نیک لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں، اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اور آخرت کا پورا یقین رکھتے ہیں۔

﴿5﴾ وہی ہیں جو اپنے پروردگار کی طرف سے سیدھے راستے پر ہیں، اور وہی ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔

﴿6﴾ اور کچھ لوگ وہ ہیں جو اللہ سے غافل کرنے والی باتوں کے خریدار بنتے ہیں۔ تاکہ ان کے ذریعے لوگوں کو بےسمجھے بوجھے اللہ کے راستے سے بھٹکائیں، اور اس کا مذاق اڑائیں۔ ان لوگوں کو وہ عذاب ہوگا جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔

﴿7﴾ اور جب ایسے شخص کے سامنے ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ پورے تکبر کے ساتھ منہ موڑ لیتا ہے، جیسے انہیں سنا ہی نہیں، گویا اس کے دونوں کانوں میں بہرا پن ہے۔ لہذا اس کو ایک دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو ۔

﴿8﴾ البتہ جو لوگ ایمان لے آئے، اور انہوں نے نیک عمل کیے ان کے لیے نعمتوں کے باغات ہیں۔

﴿9﴾ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے اور وہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

﴿10﴾ اس نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر پیدا کیا جو تمہیں نظر آسکیں۔ اور زمین میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے ہیں، تاکہ وہ تمہیں لے کر ڈگمگائے نہیں، اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دئیے ہیں۔ اور ہم نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس (زمین) میں ہر قابل قدر قسم کی نباتات اگائیں۔

﴿11﴾ یہ ہے اللہ کی تخلیق ! اب ذرا مجھے دکھاؤ کہ اللہ کے سوا کسی نے کیا پیدا کیا ؟ بات دراصل یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔

﴿12﴾ اور ہم نے لقمان کو دانائی عطا کی تھی، (اور ان سے کہا تھا) کہ اللہ کا شکر کرتے رہو۔ اور جو کوئی اللہ کا شکر ادا کرتا ہے وہ خود اپنے فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور اگر کوئی ناشکری کرے تو اللہ بڑا بےنیاز ہے، بذات خود قابل تعریف۔

﴿13﴾ اور وہ وقت یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ : میرے بیٹے ! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، یقین جانو شرک بڑا بھاری ظلم ہے،

﴿14﴾ اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے بارے میں یہ تاکید کی ہے۔ (کیونکہ) اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری برداشت کر کے پیٹ میں رکھا، اور دو سال میں اس کا دودھ چھوٹتا ہے۔ کہ تم میرا شکر ادا کرو، اور اپنے ماں باپ کا میرے پاس ہی (تمہیں) لوٹ کر آنا ہے۔

﴿15﴾ اور اگر وہ تم پر یہ زور ڈالیں کہ تم میرے ساتھ کسی کو (خدائی میں) شریک قرار دو جس کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں تو ان کی بات مت مانو، اور دنیا میں ان کے ساتھ بھلائی سے رہو، اور ایسے شخص کا راستہ اپناؤ جس نے مجھ سے لو لگا رکھی ہو۔ پھر تم سب کو میرے پاس لوٹ کر آنا ہے، اس وقت میں تمہیں بتاؤں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔

﴿16﴾ (لقمان نے یہ بھی کہا) بیٹا ! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر بھی ہو، اور وہ کسی چٹان میں ہو، یا آسمانوں میں یا زمین میں، تب بھی اللہ اسے حاضر کردے گا۔ یقین جانو اللہ بڑا باریک بیں، بہت باخبر ہے۔

﴿17﴾ بیٹا ! نماز قائم کرو، اور لوگوں کو نیکی کی تلقین کرو، اور برائی سے روکو، اور تمہیں جو تکلیف پیش آئے، اس پر صبر کرو۔ بیشک یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔

﴿18﴾ اور لوگوں کے سامنے (غرور سے) اپنے گال مت پھلاؤ، اور زمین پر اتراتے ہوئے مت چلو۔ یقین جانو اللہ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا۔

﴿19﴾ اور اپنی چال میں اعتدال اختیار کرو اور اپنی آواز آہستہ رکھو بیشک سب سے بری آواز گدھوں کی آواز ہے۔

﴿20﴾ کیا تم لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسے اللہ نے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے، اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری پوری نچھاور کی ہیں ؟ پھر بھی انسانوں میں سے کچھ لوگ ہیں جو اللہ کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں، جبکہ ان کے پاس نہ کوئی علم ہے، نہ ہدایت ہے، اور نہ کوئی ایسی کتاب ہے جو روشنی دکھائے۔

﴿21﴾ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ : اس چیز کی اتباع کرو جو اللہ نے اتاری ہے۔ تو وہ کہتے ہیں : نہیں، بلکہ ہم تو اس طریقے کے پیچھے چلیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ داداوں کو پایا ہے۔ بھلا اگر شیطان ان (باپ دادوں) کو بھڑکتی آگ کے عذاب کی طرف بلاتا رہا ہو، کیا تب بھی (وہ انہی کے پیچھے چلیں گے ؟)

﴿22﴾ اور جو شخص فرمانبردار بن کر اپنا رخ اللہ کی طرف کردے، اور نیک عمل کرنے والا ہو، تو اس نے یقینا بڑا مضبوط کنڈا تھام لیا۔ اور تمام کاموں کا آخری انجام اللہ ہی کے حوالے ہے۔

﴿23﴾ اور (اے پیغمبر) جس کسی نے کفر اپنا لیا ہے، تمہیں اس کا کفر صدمے میں نہ ڈالے۔ آخر انہیں ہمارے پاس ہی تو لوٹنا ہے، پھر ہم انہیں بتائیں گے کہ انہوں نے کیا کیا ہے ؟ یقینا اللہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی خوب جانتا ہے۔

﴿24﴾ ہم انہیں کچھ مزے اڑانے کا موقع دے رہے ہیں، پھر ہم انہیں ایک سخت عذاب کی طرف کھینچ کرلے جائیں گے۔

﴿25﴾ اور اگر تم ان سے پوچھو کہ وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ؟ تو وہ ضرور یہ کہیں گے کہ : اللہ ! کہو : الحمدللہ ! اس کے باوجود ان میں سے اکثر لوگ سمجھ سے کام نہیں لیتے۔

﴿26﴾ اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بیشک اللہ ہی ہے جو سب سے بےنیاز ہے، بذات خود قابل تعریف۔

﴿27﴾ اور زمین میں جتنے درخت ہیں، اگر وہ قلم بن جائیں، اور یہ جو سمندر ہے، اس کے علاوہ سات سمندر اس کے ساتھ اور مل جائیں (اور وہ روشنائی بن کر اللہ کی صفات لکھیں) تب بھی اللہ کی باتیں ختم نہیں ہوں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک

﴿28﴾ تم سب کو پیدا کرنا اور دوبارہ زندہ کرنا (اللہ کے لیے) ایسا ہی ہے جیسے ایک انسان کو (پیدا کرنا اور دوبارہ زندہ کرنا) یقینا اللہ ہر بات سنتا، ہر چیز دیکھتا ہے۔

﴿29﴾ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے، اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے کہ ہر ایک کسی متعین میعاد تک رواں دواں ہے، اور (کیا تمہیں یہ معلوم نہیں) کہ اللہ پوری طرح باخبر ہے کہ تم کیا کرتے ہو ؟

﴿30﴾ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ اللہ ہی کا وجود سچا ہے، اور اس کے سوا جن (معبودوں) کو یہ (مشرک) پکارتے ہیں، وہ بےبنیاد ہیں، اور اللہ ہی وہ ہے جس کی شان بہت اونچی ہے، جس کی ذات بہت بڑی۔

﴿31﴾ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ کشتیاں سمندر میں اللہ کی مہربانی سے چلتی ہیں، تاکہ وہ تمہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائے ؟ یقینا اس میں ہر اس شخص کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو صبر کا پکا، اعلی درجے کا شکر گزار ہو۔

﴿32﴾ اور جب موجیں سائبانوں کی طرح ان پر چڑھ آتی ہیں تو وہ اللہ کو اس طرح پکارتے ہیں کہ اس وقت ان کا اعتقاد خالص اسی پر ہوتا ہے۔ پھر جب وہ ان کو بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو ان میں سے کچھ ہیں جو راہ راست پر رہتے ہیں (باقی پھر شرک کرنے لگتے ہیں) اور ہماری آیتوں کا انکار وہی شخص کرتا ہے جو پکا بدعہد، پرلے درجے کا ناشکر ہو۔

﴿33﴾ اے لوگو ! اپنے پروردگار (کی ناراضی) سے بچو، اور ڈرو اس دن سے جب کوئی باپ اپنے بیٹے کے کام نہیں آئے گا، اور نہ کسی بیٹے کی یہ مجال ہوگی کہ وہ اپنے باپ کے ذرا بھی کام آجائے۔ یقین جانو کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، اس لیے ایسا ہرگز نہ ہونے پائے کہ یہ دنیوی زندگی تمہیں دھوکے میں ڈال دے، اور ایسا ہرگز نہ ہونے پائے کہ وہ (شیطان) تمہیں اللہ کے معاملے میں دھوکے میں ڈال دے جو سب سے بڑا دھوکا باز ہے۔

﴿34﴾ یقیناً (قیامت کی) گھڑی کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، اور وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹ میں کیا ہے، اور کسی متنفس کو یہ پتہ نہیں ہے کہ وہ کل کیا کمائے گا اور نہ کسی متنفس کو یہ پتہ ہے کہ کونسی زمین میں اسے موت آئے گی۔ بیشک اللہ ہر چیز کا مکمل علم رکھنے والا، ہر بات سے پوری طرح باخبر ہے۔

السجدہ

Surah 32

﴿1﴾ الم

﴿2﴾ رب العالمین کی طرف سے یہ ایک ایسی کتاب اتاری جارہی ہے جس میں کوئی شک کی بات نہیں ہے۔

﴿3﴾ کیا لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ پیغمبر نے اسے خود گھڑ لیا ہے ؟ نہیں (اے پیغمبر) یہ تو وہ حق ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے اس لیے آیا ہے کہ تم اس کے ذریعے ان لوگوں کو خبردار کرو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا، تاکہ وہ صحیح راستے پر آجائیں۔

﴿4﴾ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان ساری چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر اس نے عرش پر استواء فرمایا۔ اس کے سوا نہ تمہارا کوئی رکھوالا ہے، نہ کوئی سفارشی کیا پھر بھی تم کسی نصیحت پر دھیان نہیں دیتے ؟

﴿5﴾ وہ آسمان سے لے کر زمین تک ہر کام کا انتظام خود کرتا ہے، پھر وہ کام ایک ایسے دن میں اس کے پاس اوپر پہنچ جاتا ہے جس کی مقدار گنتی کے حساب سے ایک ہزار سال ہوتی ہے۔

﴿6﴾ وہ ہر چھپی اور کھلی چیز کا جاننے والا ہے، جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کی رحمت بھی کامل۔

﴿7﴾ اس نے جو چیز بھی پیدا کی، اسے خوب بنایا، اور انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی۔

﴿8﴾ پھر اس کی نسل ایک نچوڑے ہوئے حقیر پانی سے چلائی۔

﴿9﴾ پھر اسے ٹھیک ٹھاک کر کے اس میں اپنی روح پھونکی، اور (انسانو) تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل پیدا کیے۔ تم لوگ شکر تھوڑا ہی کرتے ہو۔

﴿10﴾ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ : کیا جب ہم زمین میں رل کر کھو جائیں گے، تو کیا اس وقت ہم کسی نئے جنم میں پیدا ہوں گے ؟ بات دراصل یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے پروردگار سے جاملنے کا انکار کرتے ہیں۔

﴿11﴾ کہہ دو کہ : تمہیں موت کا وہ فرشتہ پورا پورا وصول کرلے گا جو تم پر مقرر کیا گیا ہے، پھر تمہیں واپس تمہارے پروردگار کے پاس لے جایا جائے گا۔

﴿12﴾ اور کاش تم وہ منظر دیکھو جب یہ مجرم لوگ اپنے رب کے سامنے سرجھکائے ہوئے (کھڑے) ہوں گے (کہہ رہے ہوں گے کہ) ہمارے پروردگار ! ہماری آنکھیں اور ہمارے کان کھل گئے، اس لیے ہمیں (دنیا میں) دوبارہ بھیج دیجیے، تاکہ ہم نیک عمل کریں۔ ہمیں اچھی طرح یقین آچکا ہے۔

﴿13﴾ اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو (پہلے ہی) اس کی ہدایت دے دیتے، لیکن وہ بات جو میری طرف سے کہی گئی تھی، طے ہوچکی ہے کہ : میں جہنم کو جنات اور انسانوں سب سے ضرور بھر دوں گا۔

﴿14﴾ اب (جہنم کا) مزہ چکھو کیونکہ تم نے اپنے اس دن کا سامنا کرنے کو بھلا ڈالا تھا۔ ہم نے (بھی) تمہیں بھلا دیا ہے۔ جو کچھ تم کرتے رہے ہو، اس کے بدلے اب ہمیشہ کے عذاب کا مزہ چکھتے رہو۔

﴿15﴾ ہماری آیتوں پر تو وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جن کا حال یہ ہے کہ جب انہیں ان آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں گرپڑتے ہیں، اور اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں، اور وہ تکبر نہیں کرتے۔

﴿16﴾ ان کے پہلو (رات کے وقت) اپنے بستروں سے جدا ہوتے ہیں وہ اپنے پروردگار کو ڈر اور امید (کے ملے جذبات) کے ساتھ پکار رہے ہوتے ہیں اور ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے، وہ اس میں سے (نیکی کے کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔

﴿17﴾ چنانچہ کسی متنفس کو کچھ پتہ نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا سامان ان کے اعمال کے بدلے میں چھپا کر رکھا گیا ہے۔

﴿18﴾ بھلا بتاؤ کہ جو شخص مومن ہو، کیا وہ اس شخص کے برابر ہوجائے جو فاسق ہے ؟ (ظاہر ہے کہ) وہ برابر نہیں ہوسکتے۔

﴿19﴾ چنانچہ جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کے لیے مستقل قیام کے باغات ہیں جو ان کو پہلی مہمانی ہی کے طور پردے دیے جائیں گے، ان اعمال کے صلے میں جو وہ کیا کرتے تھے۔

﴿20﴾ رہے وہ لوگ جنہوں نے نافرمانی کی ہے، تو اس کے مستقل قیام کی جگہ جہنم ہے۔ جب بھی وہ اس سے نکلنا چاہیں گے، انہیں وہیں واپس لوٹا دیا جائے گا، اور ان سے کہا جائے گا کہ : آگ کے جس عذاب کو تم جھٹلایا کرتے تھے اس کا مزہ چکھو۔

﴿21﴾ اور اس بڑے عذاب سے پہلے بھی ہم انہیں کم درجے کے عذاب کا مزہ بھی ضرور چکھائیں گے۔ شاید یہ باز آجائیں۔

﴿22﴾ اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جس کو اپنے پروردگار کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی گئی، تو اس نے ان سے منہ موڑ لیا۔ ہم یقینا ایسے مجرموں سے بدلہ لے کر رہیں گے۔

﴿23﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی، لہذا (اے پیغمبر) تم اس کے ملنے کے بارے میں کسی شک میں نہ رہو۔ اور ہم نے اس کتاب کو بنو اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا تھا۔

﴿24﴾ اور ہم نے ان میں سے کچھ لوگوں کو، جب انہوں نے صبر کیا، ایسے پیشوا بنادیا جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔

﴿25﴾ یقینا تمہارا پروردگار ہی قیامت کے دن ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔

﴿26﴾ اور کیا ان (کافروں) کو اس بات سے کوئی ہدایت نہیں ملی کہ ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں جن کے گھروں میں یہ خود چلتے پھرتے ہیں ؟ یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔ تو کیا یہ لوگ سنتے نہیں ہیں ؟

﴿27﴾ اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم پانی کو کھینچ کر خشک زمین کی طرف لے جاتے ہیں، پھر اس سے وہ کھیتی نکالتے ہیں جس سے ان کے چوپائے بھی کھاتے ہیں، اور وہ خود بھی۔ تو کیا انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا ؟

﴿28﴾ اور وہ یہ کہتے ہیں کہ : اگر تم سچے ہو تو یہ فیصلہ کب ہوگا ؟

﴿29﴾ کہہ دو کہ : جس دن فیصلہ ہوگا اس دن کافروں کو ان کا ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا، اور نہ انہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔

﴿30﴾ لہذا (اے پیغمبر) تم ان لوگوں کی پرواہ نہ کرو، اور انتظار کرو۔ یہ بھی انتظار کر رہے ہیں۔

الاحزاب

Surah 33

﴿1﴾ اے نبی ! اللہ سے ڈرتے رہو، اور کافروں اور منافقوں کا کہنا مت مانو۔ بیشک اللہ بہت علم والا، بڑا حکمت والا ہے۔

﴿2﴾ اور تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر جو وحی بھیجی جارہی ہے اس کی پیروی کرو، تم جو کچھ کرتے ہو، اللہ یقینی طور پر اسے پوری طرح باخبر ہے۔

﴿3﴾ اور اللہ پر بھروسہ رکھو اور کام بنانے کے لیے اللہ بالکل کافی ہے۔

﴿4﴾ اللہ نے کسی بھی شخص کے سینے میں دو دل پیدا نہیں کیے اور تم اپنی جن بیویوں کو ماں کی پشت سے تشبیہ دیتے ہو ان کو تمہاری ماں نہیں بنایا اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا قرار دیا ہے۔ یہ تو باتیں ہی باتیں ہیں جو تم اپنے منہ سے کہہ دیتے ہو، اور اللہ وہی بات کہتا ہے جو حق ہو، اور وہی صحیح راستہ بتلاتا ہے۔

﴿5﴾ تم ان (منہ بولے بیٹوں) کو ان کے اپنے باپوں کے نام سے پکارا کرو۔ یہی طریقہ اللہ کے نزدیک پورے انصاف کا ہے۔ اور اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور تمہارے دوست ہیں۔ اور تم سے جو غلطی ہوجائے اس کی وجہ سے تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، البتہ جو بات تم اپنے دلوں سے جان بوجھ کر کرو، (اس پر گناہ ہے) بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿6﴾ ایمان والوں کے لیے یہ نبی ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ قریب تر ہیں، اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔ اس کے باوجود اللہ کی کتاب کے مطابق پیٹ کے رشتہ دارو دوسرے مومنوں اور مہاجرین کے مقابلے میں ایک دوسرے پر (میراث کے معاملے میں) زیادہ حق رکھتے ہیں الا یہ کہ تم اپنے دوستوں (کے حق میں کوئی وصیت کر کے ان) کے ساتھ کوئی نیکی کرلو۔ یہ بات کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔

﴿7﴾ اور (اے پیغمبر) وہ وقت یاد رکھو جب ہم نے تمام نبیوں سے عہد لیا تھا اور تم سے بھی، اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے بھی۔ اور ہم نے ان سے نہایت پختہ عہد لیا تھا۔

﴿8﴾ تاکہ اللہ سچے لوگوں سے ان کی سچائی کے بارے میں پوچھے اور اس نے کافروں کے لیے تو ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

﴿9﴾ اے ایمان والو ! یاد کرو اللہ نے اس وقت تم پر کیسا انعام کیا جب تم پر بہت سے لشکر چڑھ آئے تھے، پھر ہم نے ان پر ایک آندھی بھی بھیجی، اور ایسے لشکر بھی جو تمہیں نظر نہیں آتے تھے۔ اور تم جو کچھ کر رہے تھے اللہ اس کو دیکھ رہا تھا۔

﴿10﴾ یاد کرو جب وہ تم پر تمہارے اوپر سے بھی چڑھ آئے تھے اور تمہارے نیچے سے بھی اور جب آنکھیں پتھرا گئی تھیں، اور کلیجے منہ کو آگئے تھے، اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کی باتیں سوچنے لگے تھے۔

﴿11﴾ اس موقع پر ایمان والوں کی بڑی آزمائش ہوئی اور انہیں ایک سخت بھونچال میں ڈال کر ہلا ڈالا گیا۔

﴿12﴾ اور یاد کرو جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے، یہ کہہ رہے تھے کہ : اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے جو وعدہ کیا ہے وہ دھوکے کے سوا کچھ نہیں

﴿13﴾ اور جب انہی میں سے کچھ لوگوں نے کہا تھا کہ : یثرت کے لوگو ! تمہارے لیے یہاں ٹھہرے کا کوئی موقع نہیں ہے، بس واپس لوٹ جاؤ۔ اور انہی میں سے کچھ لوگ نبی سے یہ کہہ کر (گھر جانے کی) اجازت مانگ رہے تھے کہ : ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں حالانکہ وہ غیر محفوظ نہیں تھے، بلکہ ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ (کسی طرح) بھاگ کھڑے ہوں۔

﴿14﴾ اور اگر دشمن مدینے میں چاروں طرف سے آگھسے، پھر ان سے فساد میں شامل ہونے کو کہا جائے تو یہ اس میں ضرور شامل ہوجائیں گے، اور (اس وقت) گھروں میں تھوڑے ہی ٹھہریں گے۔

﴿15﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اللہ سے پہلے یہ عہد کر رکھا تھا کہ وہ پیٹھ پھیر کر نہیں جائیں گے۔ اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس ضرور ہو کر رہے گی۔

﴿16﴾ (اے پیغمبر ! ان سے) کہہ دو کہ : اگر تم موت سے یا قتل سے بھاگ بھی جاؤ تو یہ بھاگنا تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، اور اس صورت میں تمہیں (زندگی کا) لطف اٹھانے کا جو موقع دیا جائے گا وہ تھوڑا ہی سا ہوگا۔

﴿17﴾ کہو کہ : کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچا سکے، اگر وہ تمہیں کوئی برائی پہنچانے کا ارادہ کرلے، یا (وہ کون ہے جو اس کی رحمت کو روک سکے) اگر وہ تم پر رحمت کرنے کا ارادہ کرلے ؟ اور اللہ کے سوا ان لوگوں کو نہ کوئی رکھوالا مل سکتا ہے، نہ کوئی مددگار۔

﴿18﴾ اللہ تم میں سے ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو (جہاد میں) رکاوٹ ڈالتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ : ہمارے پاس چلے آؤ اور خود لڑائی میں آتے نہیں، اور آتے ہیں تو بہت کم۔

﴿19﴾ (اور وہ بھی) تمہارے ساتھ لالچ رکھتے ہوئے چنانچہ جب خطرے کا موقع آجاتا ہے تو وہ تمہاری طرف چکرائی ہوئی آنکھوں سے اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کسی پر موت کی غشی طاری ہورہی ہو۔ پھر جب خطرہ دور ہوجاتا ہے تو تمہارے سامنے مال کی حرص میں تیز تیز زبانیں چلاتے ہیں۔ یہ لوگ ہرگز ایمان نہیں لائے ہیں، اس لیے اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردیے ہیں، اور یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔

﴿20﴾ وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ (دشمنوں کے) لشکر ابھی گئے نہیں ہیں۔ اور اگر وہ لشکر (دوبارہ) آجائیں تو ان کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ دیہات میں جاکر رہیں (اور وہیں بیٹھے ہوئے) تمہاری خبریں معلوم کرتے رہیں۔ اور اگر تمہارے درمیان رہے بھی تو لڑائی میں تھوڑا ہی حصہ لیں گے۔

﴿21﴾ حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے اور یوم آخرت سے امید رکھتا ہو، اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہو۔

﴿22﴾ اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں، جب انہوں نے (دشمن کے) لشکروں کو دیکھا تھا تو انہوں نے یہ کہا تھا کہ : یہ وہی بات ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا، اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا۔ اور اس واقعے نے ان کے ایمان اور تابع داری کے جذبے میں اور اضافہ کردیا تھا۔

﴿23﴾ انہی ایمان والوں میں وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا اسے سچا کر دکھایا۔ پھر ان میں سے کچھ وہ ہیں جنہوں نے اپنا نذرانہ پورا کردیا، اور کچھ وہ ہیں جو ابھی انتظار میں ہیں۔ اور انہوں نے (اپنے ارادوں میں) ذرا سی بھی تبدیلی نہیں کی۔

﴿24﴾ (یہ واقعہ اس لیے ہوا) تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا انعام دے، اور منافقوں کو اگر چاہے تو عذاب دے، یا ان کی توبہ قبول کرلے۔ اللہ یقینا بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿25﴾ اور جو لوگ کافر تھے، اللہ نے انہیں ان کے سارے غیظ و غضب کے ساتھ اس طرح پسپا کردیا کہ وہ کوئی فائدہ حاصل نہ کرسکے۔ اور مومنوں کی طرف سے لڑائی کے لیے اللہ خود کافی ہوگیا۔ اور اللہ بڑی قوت کا، بڑے اقتدار کا مالک ہے۔

﴿26﴾ اور جن اہل کتاب نے ان (دشمنوں) کی مدد کی تھی، انہیں اللہ ان کے قلعوں سے نیچے اتار لایا اور ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا کہ (اے مسلمانوں ! ان میں سے کچھ کو تم قتل کر رہے تھے، اور کچھ کو قیدی بنا رہے تھے۔)

﴿27﴾ اور اللہ نے تمہیں ان کی زمین کا، ان کے گھروں کا اور ان کی دولت کا وارث بنادیا، اور ایک ایسی زمین کا بھی جس تک ابھی تمہارے قدم نہیں پہنچے اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

﴿28﴾ اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہو کہ : اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ تحفے دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں۔

﴿29﴾ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کی طلبگار ہو تو یقین جانو اللہ نے تم میں سے نیک خواتین کے لیے شاندار انعام تیار کر رکھا ہے۔

﴿30﴾ اے نبی کی بیویو ! تم میں سے جو کوئی کسی کھلی بےہودگی کا ارتکاب کرے گی، اس کا عذاب بڑھا کر دو گنا کردیا جائے گا، اور اللہ کے لیے ایسا کرنا بہت آسان ہے۔

﴿31﴾ اور تم میں سے جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی تابع دار رہے گی اور نیک عمل کرے گی، اسے ہم اس کا ثواب بھی دو گنا دیں گے، اور اس کے لیے ہم نے باعزت رزق تیار کر رکھا ہے۔

﴿32﴾ اے نبی کی بیویو ! اگر تم تقوی اختیار کرو تو تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ لہذا تم نزاکت کے ساتھ بات مت کیا کرو، کبھی کوئی ایسا شخص بیجا لالچ کرنے لگے جس کے دل میں روگ ہوتا ہے، اور بات وہ کہو جو بھلائی والی ہو۔

﴿33﴾ اور اپنے گھروں میں قرار کے ساتھ رہو اور (غیر مردوں کو) بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو، جیسا کہ پہلی بار جاہلیت میں دکھایا جاتا تھا اور نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو۔ اے نبی کے اہل بیت ! (گھر والو) اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور رکھے، اور تمہیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح مکمل ہو۔

﴿34﴾ اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور حکمت کی جو باتیں سنائی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو۔ یقین جانو اللہ بہت باریک بین اور ہر بات سے باخبر ہے۔

﴿35﴾ بیشک فرمانبردار مرد ہوں یا فرمانبردار عورتیں مومن مرد ہوں یا مومن عورتیں، عبادت گزار مرد ہوں یا عبادت گزار عورتیں، سچے مرد ہوں یا سچی عورتیں، صابر مرد ہوں یا صابر عورتیں، دل سے جھکنے والے مرد ہوں یا دل سے جھکنے والی عورتیں صدقہ کرنے والے مرد ہوں یا صدقہ کرنے والی عورتیں، روزہ دار مرد ہوں یا روزہ دار عورتیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد ہوں یا حفاظت کرنے والی عورتیں، اور اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد ہوں یا ذکر کرنے والی عورتیں، ان سب کے لیے اللہ نے مغفرت اور شاندار اجر تیار کر رکھا ہے۔

﴿36﴾ اور جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا حتمی فیصلہ کردیں تو نہ کسی مومن مرد کے لیے یہ گنجائش ہے نہ کسی مومن عورت کے لیے کہ ان کو اپنے معاملے میں کوئی اختیار باقی رہے۔ اور جس کسی نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، وہ کھلی گمراہی میں پڑگیا۔

﴿37﴾ اور (اے پیغمبر !) یاد کرو جب تم اس شخص سے جس پر اللہ نے بھی احسان کیا تھا اور تم نے بھی احسان کیا تھا یہ کہہ رہے تھے کہ : اپنی بیوی کو اپنے نکاح میں رہنے دو ، اور اللہ سے ڈرو، اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھول دینے والا تھا اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے، حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔ پھر جب زید نے اپنی بیوی سے تعلق ختم کرلیا تو ہم نے اس سے تمہارا نکاح کرادیا، تاکہ مسلمانوں کے لیے اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (سے نکاح کرنے) میں اس وقت کوئی تنگی نہ رہے جب انہوں نے اپنی بیویوں سے تعلق ختم کرلیا ہو۔ اور اللہ نے جو حکم دیا تھا اس پر عمل تو ہو کر رہنا ہی تھا۔

﴿38﴾ نبی کے لیے اس کام میں اعتراض کی کوئی بات نہیں ہوتی جو اللہ نے اس کے لیے طے کردیا ہو۔ یہی اللہ کی وہ سنت ہے جس پر ان (انبیاء) کے معاملے میں بھی عمل ہوتا آیا ہے جو پہلے گزر چکے ہیں۔ اور اللہ کا فیصلہ نپا تلا مقدر ہوتا ہے۔

﴿39﴾ پیغمبر وہ لوگ ہیں جو اللہ کے بھیجے ہوئے احکام کو لوگوں تک پہنچاتے ہیں، اور اسی سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ اور حساب لینے کے لیے اللہ کو کسی کی ضرورت نہیں۔

﴿40﴾ (مسلمانو !) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں، اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں، اور اللہ ہر بات کو خوب جاننے والا ہے۔

﴿41﴾ اے ایمان والو ! اللہ کو خوب کثرت سے یاد کیا کرو۔

﴿42﴾ اور صبح و شام اس کی تسبیح کرو۔

﴿43﴾ وہی ہے جو خود بھی تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی، تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے آئے، اور وہ مومنوں پر بہت مہربان ہے۔

﴿44﴾ جس دن مومن لوگ اللہ سے ملیں گے اس دن ان کا استقبال سلام سے ہوگا، اور اللہ نے ان کے لیے باعزت انعام تیار کر رکھا ہے۔

﴿45﴾ اے نبی ! بیشک ہم نے تمہیں ایسا بنا کر بھیجا ہے کہ تم گواہی دینے والے، خوشخبری سنانے والے اور خبردار کرنے والے ہو۔

﴿46﴾ اور اللہ کے حکم سے لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے والے، اور روشنی پھیلانے والے چراغ ہو۔

﴿47﴾ تم مومنوں کو خوشخبری سنا دو کہ ان پر اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہونے والا ہے۔

﴿48﴾ اور کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانو اور ان کی طرف سے جو تکلیف پہنچے اس کی پرواہ نہ کرو، اور اللہ پر بھروسہ رکھو اور اللہ رکھوالا بننے کے لیے کافی ہے۔

﴿49﴾ اے ایمان والو ! جب تم نے مومن عورتوں سے نکاح کیا ہو، پھر تم نے انہیں چھونے سے پہلے ہی طلاق دے دی ہو، تو ان کے ذمہ تمہاری کوئی عدت واجب نہیں ہے جس کی گنتی تمہیں شمار کرنی ہو۔ لہذا انہیں کچھ تحفہ دے دو ، اور انہیں خوبصورتی سے رخصت کردو۔

﴿50﴾ اے نبی ! ہم نے تمہارے لیے وہ بیویاں حلال کردی ہیں جن کو تم نے ان کا مہرا دا کردیا ہے۔ نیز اللہ نے غنیمت کا جو مال تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے جو کنیزیں تمہاری ملکیت میں آچکی ہیں وہ بھی (تمہارے لیے حلال ہیں) اور تمہاری وہ چچا کی بیٹیاں اور پھوپی کی بیٹیاں اور ماموں کی بیٹیاں اور خالاؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے۔ نیز کوئی مسلمان عورت جس نے مہر کے بغیر نبی کو اپنے آپ (سے نکاح کرنے) کی پیش کش کی ہو، بشرطیکہ نبی اس سے نکاح کرنا چاہے۔ یہ سارے احکام خاص تمہارے لیے ہیں، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں۔ ہمیں وہ احکام خوب معلوم ہیں جو ہم نے ان کی بیویوں اور کنیزوں کے بارے میں ان پر عائد کیے ہیں۔ (اور تمہیں ان سے مستثنی کیا ہے) تاکہ تم پر کوئی تنگی نہ رہے اور اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔

﴿51﴾ ان بیویوں میں سے تم جس کی باری چاہو ملتوی کردو، اور جس کو چاہو، اپنے پاس رکھو، اور جن کو تم نے الگ کردیا ہو ان میں سے اگر کسی کو واپس بلانا چاہو تو اس میں بھی تمہارے لیے کوئی گناہ نہیں ہے۔ اس طریقے میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ ان سب کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی، اور انہیں رنج نہیں ہوگا اور تم انہیں جو کچھ دے دو گے اس پر وہ سب کی سب راضی رہیں گی۔ اور اللہ ان سب باتوں کو جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہیں اور اللہ علم اور حلم کا مالک ہے۔

﴿52﴾ اس کے بعد دوسری عورتیں تمہارے لیے حلال نہیں ہیں، اور نہ یہ جائز ہے کہ تم ان کے بدلے کوئی دوسری بیویاں لے آؤ، چاہے ان کی خوبی تمہیں پسند آئی ہو۔ البتہ جو کنیزیں تمہاری ملکیت میں ہوں (وہ تمہارے لیے حلال ہیں) اور اللہ ہر چیز کی پوری نگرانی کرنے والا ہے۔

﴿53﴾ اے ایمان والو ! نبی کے گھروں میں (بلا اجازت) داخل نہ ہو، الا یہ کہ تمہیں کھانے پر آنے کی اجازت دے دی جائے، وہ بھی اس طرح کہ تم اس کھانے کی تیاری کے انتظار میں نہ بیٹھے رہو، لیکن جب تمہیں دعوت دی جائے تو جاؤ، پھر جب کھانا کھا چکو تو اپنی اپنی راہ لو، اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس بات سے نبی کو تکلیف پہنچتی ہے اور وہ تم سے (کہتے ہوئے) شرماتے ہیں، اور اللہ حق بات میں کسی سے نہیں شرماتا اور جب تمہیں نبی کی بیویوں سے کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔ یہ طریقہ تمہارے دلوں کو بھی اور ان کے دلوں کو بھی زیادہ پاکیزہ رکھنے کا ذریعہ ہوگا۔ اور تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچاؤ، اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے کبھی بھی نکاح کرو۔ یہ اللہ کے نزدیک بڑی سنگین بات ہے۔

﴿54﴾ چاہے تم کوئی بات ظاہر کرو، یا اسے چھپاؤ، اللہ ہر چیز کا پورا پورا علم رکھنے والا ہے۔

﴿55﴾ نبی کی بیویوں کے لیے اپنے اپنے باپ (کے سامنے بےپردہ آنے) میں کوئی گناہ نہیں ہے، نہ اپنے بیٹوں کو، نہ اپنے بھائیوں کے، نہ اپنے بھتیجوں کے، نہ اپنے بھانجوں کے، اور نہ اپنی عورتوں کے۔ اور نہ اپنی کنیزوں کے (سامنے آنے میں کوئی گناہ ہے) اور (اے خواتین !) تم اللہ سے ڈرتی رہو۔ یقین جانو کہ اللہ ہر بات کا مشاہدہ کرنے والا ہے۔

﴿56﴾ بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو، اور خوب سلام بھیجا کرو۔

﴿57﴾ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ نے دنیا اور آخرت میں ان پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے ایسا عذاب تیار کر رکھا ہے جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔

﴿58﴾ اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ان کے کسی جرم کے بغیر تکلیف پہنچاتے ہیں، انہوں نے بہتان طرازی اور کھلے گناہ کا بوجھ اپنے اوپر لاد لیا ہے۔

﴿59﴾ اے نبی ! تم اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادریں اپنے (منہ کے) اوپر جھکا لیا کریں۔ اس طریقے میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی، تو ان کو ستایا نہیں جائے گا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿60﴾ اگر وہ لوگ باز نہ آئے جو منافق ہیں جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو شہر میں شرانگیز افواہیں پھیلاتے ہیں تو ہم ضرور ایسا کریں گے کہ تم ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوگے، پھر وہ اس شہر میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکیں گے، البتہ تھوڑے دن۔

﴿61﴾ جن میں وہ پھٹکارے ہوئے ہوں گے۔ (پھر) جہاں کہیں ملیں گے، پکڑ لیے جائیں گے، اور انہیں ایک ایک کر کے قتل کردیا جائے گا۔

﴿62﴾ یہ اللہ کا وہ معمول ہے جس پر ان لوگوں کے معاملے میں بھی عمل ہوتا رہا ہے جو پہلے گزر چکے ہیں۔ اور تم اللہ کے معمول میں کوئی تبدیلی ہرگز نہیں پاؤ گے۔

﴿63﴾ لوگ تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ اور تمہیں کیا پتہ شاید قیامت قریب ہی آگئی ہو۔

﴿64﴾ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ نے کافروں کو رحمت سے دور کردیا ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کی ہے۔

﴿65﴾ جس میں وہ ہمیشہ اس طرح رہیں گے کہ انہیں نہ کوئی حمایتی مل سکے گا، اور نہ کوئی مددگار۔

﴿66﴾ جس دن ان کے چہروں کو آگ میں الٹا پلٹا جائے گا، وہ کہیں گے کہ : اے کاش ! ہم نے اللہ کی اطاعت کرلی ہوتی اور رسول کا کہنا مان لیا ہوتا۔

﴿67﴾ اور کہیں گے کہ : اے ہمارے پروردگار ! حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کا کہنا مانا، اور انہوں نے ہمیں راستے سے بھٹکا دیا۔

﴿68﴾ اے ہمارے پروردگار ! ان کو دوگنا عذاب دے، اور ان پر ایسی لعنت کر جو بڑی بھاری لعنت ہو۔

﴿69﴾ اے ایمان والو ! ان لوگوں کی طرح نہ بن جانا جنہوں نے موسیٰ کو ستایا تھا، پھر اللہ نے ان کو ان باتوں سے بری کردیا جو ان لوگوں نے بنائی تھیں اور وہ اللہ کے نزدیک بڑے رتبے والے تھے۔

﴿70﴾ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو، اور سیدھی سچی بات کہا کرو۔

﴿71﴾ اللہ تمہارے فائدے کے لیے تمہارے کام سنوار دے گا، اور تمہارے گناہوں کی مغفرت کردے گا۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، اس نے وہ کامیابی حاصل کرلی جو زبردست کامیابی ہے۔

﴿72﴾ ہم نے یہ امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کی، تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا، اور اس سے ڈر گئے، اور انسان نے اس کا بوجھ اٹھا لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ظالم، بڑا نادان ہے۔

﴿73﴾ نتیجہ یہ ہے کہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو، نیز مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے گا، اور مومن مردوں اور مومن عورتوں پر رحمت کے ساتھ توجہ فرمائے گا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

سبا

Surah 34

﴿1﴾ تمام تر تعریف اس اللہ کی ہے جس کی صفت یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے، اور آخرت میں بھی تعریف اسی کی ہے، اور وہی ہے جو حکمت کا مالک ہے، مکمل طور پر باخبر۔

﴿2﴾ وہ ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جو زمین کے اندر جاتی ہیں اور ان کو بھی جو اس سے باہر نکلتی ہیں، ان کو بھی جو آسمان سے اترتی ہیں اور ان کو بھی جو اس میں چڑھتی ہیں اور وہی ہے جو بڑا مہربان ہے، بہت بخشنے والا ہے۔

﴿3﴾ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ کہتے ہیں کہ : ہم پر قیامت نہیں آئے گی، کہہ دو : کیوں نہیں آئے گی ؟ میرے عالم الغیب پروردگار کی قسم ! وہ تم پر ضرور آکر رہے گی۔ کوئی ذرہ برابر چیز اس کی نظر سے دور نہیں ہوتی۔ نہ آسمانوں میں، نہ زمین میں اور نہ اس سے چھوٹی کوئی چیز ایسی ہے نہ بڑی جو ایک کھلی کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں درج نہ ہو۔

﴿4﴾ (اور قیامت اس لیے آئے گی) تاکہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اللہ ان کو انعام دے۔ ایسے لوگوں کے لیے مغفرت ہے اور باعزت رزق۔

﴿5﴾ اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کے بارے میں یہ کوشش کی ہے کہ انہیں ناکام بنائیں، ان کے لیے بلا کا دردناک عذاب ہے۔

﴿6﴾ اور (اے پیغمبر) جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے وہ خوب سمجھتے ہیں کہ تم پر تمہارے رب کی طرف سے جو کچھ نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے اور اس (اللہ) کا راستہ دکھاتا ہے جو اقتدار کا مالک بھی ہے، ہر تعریف کا مستحق بھی۔

﴿7﴾ اور یہ کافر لوگ (ایک دوسرے سے) کہنے لگے : کیا ہم تمہیں ایک ایسے شخص کا پتہ بتائیں جو تمہیں یہ خبر دیتا ہے کہ جب تم (مر کر) بالکل ریزہ ریزہ ہوچکو گے اس وقت تم ایک نئے جنم میں آؤ گے ؟

﴿8﴾ پتہ نہیں اس شخص نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے یا اسے کسی طرح کا جنون لاحق ہے ؟ نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ خود عذاب میں اور پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔

﴿9﴾ بھلا کیا ان لوگوں نے اس آسمان و زمین کو نہیں دیکھا جو ان کے آگے بھی موجود ہیں اور ان کے پیچھے بھی۔ اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں، یا آسمان کے کچھ ٹکڑے ان پر گرا دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس میں ہر اس بندے کے لیے ایک نشانی ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔

﴿10﴾ اور واقعہ یہ ہے کہ ہم نے داؤد کو خاص اپنے پاس سے فضل عطا کیا تھا۔ اے پہاڑو ! تم بھی تسبیح میں ان کے ساتھ ہم آواز بن جاؤ، اور اے پرندو ! تم بھی۔ اور ہم نے ان کے لیے لوہے کو نرم کردیا تھا۔

﴿11﴾ کہ پوری پوری زرہیں بناؤ، اور کڑیاں جوڑنے میں توازن سے کام لو اور تم سب لوگ نیک عمل کرو۔ تم جو عمل بھی کرتے ہو میں اسے دیکھ رہا ہوں۔

﴿12﴾ اور سلیمان کے لیے ہم نے ہوا کو تابع بنادیا تھا۔ اس کا صبح کا سفر بھی ایک مہینے کی مسافت کا ہوتا تھا، اور شام کا سفر بھی ایک مہینے کی مسافت کا اور ہم نے ان کے لیے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا۔ اور جنات میں سے کچھ وہ تھے جو اپنے پروردگار کے حکم سے ان کے آگے کام کرتے تھے اور (ہم نے ان پر یہ بات واضح کردی تھی کہ) ان میں سے کوئی ہمارے حکم سے ہٹ کر ٹیڑھا راستہ اختیار کرے گا، اسے ہم بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھائیں گے۔

﴿13﴾ وہ جنات سلیمان کے لیے جو وہ چاہتے بنادیا کرتے تھے، اونچی اونچی عمارتیں، تصویریں حوض جیسے بڑے بڑے لگن اور زمین میں جمی ہوئی دیگیں۔ اے داؤد کے خاندان والو ! تم ایسے عمل کیا کرو جن سے شکر ظاہر ہو۔ اور میرے بندوں میں کم لوگ ہیں جو شکر گزار ہوں۔

﴿14﴾ پھر جب ہم نے سلیمان کی موت کا فیصلہ کیا تو ان جنات کو ان کی موت کا پتہ کسی اور نے نہیں بلکہ زمین کے کیڑے نے دیا جو ان کے عصا کو کھا رہا تھا۔ چنانچہ جب وہ گرپڑے تو جنات کو معلوم ہوا کہ اگر وہ غیب کا علم جانتے ہوتے تو اس ذلت والی تکلیف میں مبتلا نہ رہتے۔

﴿15﴾ حقیقت یہ ہے کہ قوم سبا کے لیے خود اس جگہ ایک نشانی موجود تھی جہاں وہ رہا کرتے تھے۔ دائیں اور بائیں دونوں طرف باغوں کے دو سلسلے تھے۔ اپنے پروردگار کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور اس کا شکر بجا لاؤ، ایک تو شہر بہترین، دوسرے پروردگار بخشنے والا۔

﴿16﴾ پھر بھی انہوں نے (ہدایت سے) منہ موڑ لیا، اس لیے ہم نے ان پر بندو الا سیلاب چھوڑ دیا، اور ان کے دونوں طرف کے باغوں کو ایسے دو باغوں میں تبدیل کردیا جو بدمزہ پھلوں، جھاؤ کے درختوں اور تھوڑی سی بیریوں پر مشتمل تھے۔

﴿17﴾ یہ سزا ہم نے ان کو اس لیے دی کہ انہوں نے ناشکری کی روش اختیار کی تھی، اور ایسی سزا ہم کسی اور کو نہیں، بڑے بڑے ناشکروں ہی کو دیا کرتے ہیں۔

﴿18﴾ اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن پر ہم نے برکتیں نازل کی ہیں، ایسی بستیاں بسا رکھی تھیں جو دور سے نظر آتی تھیں، اور ان میں سفر کو نپے تلے مرحلوں میں بانٹ دیا تھا (اور کہا تھا کہ) ان (بستیوں) کے درمیان راتیں ہوں یا دن، امن وامان کے ساتھ سفر کرو۔

﴿19﴾ اس پر وہ کہنے لگے کہ : ہمارے پروردگار ! ہمارے سفر کی منزلوں کے درمیان دور دور کے فاصلے پیدا کردے، اور یوں انہوں نے اپنی جانوں پر ستم ڈھایا، جس کے نتیجے میں ہم نے انہیں افسانہ ہی افسانہ بنادیا، اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے بالکل تتر بتر کردیا۔ یقینا اس واقعے میں ہر اس شخص کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو صبر و شکر کا خوگر ہو۔

﴿20﴾ اور واقعی ان لوگوں کے بارے میں ابلیس نے اپنا خیال درست پایا چنانچہ یہ اسی کے پیچھے چل پڑے، سوائے اس گروہ کے جو مومن تھا۔

﴿21﴾ اور ابلیس کو ان پر کوئی تسلط نہیں تھا، البتہ ہم (نے اس کو بہکانے کی صلاحیت اس لیے دی تھی کہ) ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کون ہے جو آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون ہے جو اس کے بارے میں شک میں پڑا ہوا ہے۔ اور تمہارا پروردگار ہر چیز پر نگران ہے۔

﴿22﴾ (اے پیغمبر ! ان کافروں سے) کہو کہ پکارو ان کو جنہیں تم نے اللہ کے سوا خدا سمجھا ہوا ہے۔ وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ برابر کسی چیز کے مالک نہیں ہیں، نہ ان کو آسمان و زمین کے معاملات میں (اللہ کے ساتھ) کوئی شرکت حاصل ہے، اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے۔

﴿23﴾ اور اللہ کے سامنے کوئی سفارش کارآمد نہیں ہے، سوائے اس شخص کے جس کے لیے خود اس نے (سفارش کی) اجازت دے دی ہو، یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ : تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ : حق بات ارشاد فرمائی اور وہی ہے جو بڑا عالیشان ہے۔

﴿24﴾ کہو کہ کون ہے جو تمہیں آسمانوں سے اور زمین سے رزق دیتا ہے ؟ کہو : وہ اللہ ہے ! اور ہم ہوں یا تم، یا تو ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔

﴿25﴾ کہو کہ : ہم نے جو جرم کیا ہو، اس کے بارے میں تم سے نہیں پوچھا جائے گا، اور تم جو عمل کرتے ہو، اس کے بارے میں ہم سے سوال نہیں ہوگا۔

﴿26﴾ کہو کہ : ہمارا پروردگار ہم سب کو جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان برحق فیصلہ کرے گا، اور وہی ہے جو خوب فیصلے کرنے والا، مکمل علم کا مالک ہے۔

﴿27﴾ کہو کہ : ذرا مجھے دکھاؤ وہ کون ہیں جنہیں تم نے شریک بنا کر اللہ سے جوڑ رکھا ہے۔ ہرگز نہیں ! (اس کا کوئی شریک نہیں ہے) بلکہ وہ اللہ ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کی حکمت بھی کامل

﴿28﴾ اور (اے پیغمبر) ہم نے تمہیں سارے ہی انسانوں کے لیے ایسا رسول بنا کر بھیجا ہے جو خوشخبری بھی سنائے اور خبردار بھی کرے، لیکن اکثر لوگ سمجھ نہیں رہے ہیں۔

﴿29﴾ اور (تم سے) کہتے ہیں کہ : اگر تم سچے ہو تو یہ (قیامت کا) وعدہ کب پورا ہوگا ؟

﴿30﴾ کہہ دو کہ : تمہارے لیے ایک ایسے دن کی میعاد مقرر ہے جس سے تم گھڑی برابر نہ پیچھے ہٹ سکتے ہو نہ آگے جاسکتے ہو۔

﴿31﴾ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ کہتے ہیں کہ : ہم نہ تو اس قرآن پر کبھی ایمان لائیں گے اور نہ ان (آسمانی کتابوں) پر جو اس سے پہلے ہوئی ہیں۔ اور اگر تم اس وقت کا منظر دیکھو جب یہ ظالم لوگ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے کییے جائیں گے تو یہ ایک دوسرے پر بات ڈال رہے ہوں گے۔ جن لوگوں کو (دنیا میں) کمزور سمجھا گیا تھا وہ ان سے کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے کہ : اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن بن جاتے۔

﴿32﴾ جو بڑے بنے ہوئے تھے ان سے کہیں گے جنہیں کمزور سمجھا گیا تھا کہ : کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا تھا جبکہ وہ تمہارے پاس آچکی تھی ؟ اصل بات یہ ہے کہ تم خود مجرم تھے۔

﴿33﴾ اور جنہیں کمزور سمجھا گیا تھا وہ ان سے کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے کہ : نہیں، یہ تمہاری رات دن کی مکاری ہی تو تھی (جس نے ہمیں روکا تھا) جب تم ہمیں تاکید کرتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کا معاملہ کریں، اور اس کے ساتھ (دوسروں کو) شریک مانیں۔ اور یہ سب جب عذاب کو دیکھ لیں گے تو اپنا پچھتاوا چھپا رہے ہوں گے۔ اور جن جن لوگوں نے کفر اختیار کیا تھا ہم ان سب کے گلوں میں طوق ڈال دیں گے۔ ان کو کسی اور بات کا نہیں، انہی اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔

﴿34﴾ اور جس کسی بستی میں ہم نے کوئی خبردار کرنے والا پیغمبر بھیجا، اس کے خوش حال لوگوں نے یہی کہا کہ : جس پیغام کے ساتھ تمہیں بھیجا گیا ہے ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔

﴿35﴾ اور کہا کہ : ہم مال اور اولاد میں تم سے زیادہ ہیں اور ہمیں عذاب ہونے والا نہیں ہے۔

﴿36﴾ کہہ دو کہ : میرا پروردگار ! جس کے لیے چاہتا ہے رزق کی فراوانی کردیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگی کردیتا ہے، لیکن اکثر لوگ اس بات کو سمجھتے نہیں ہیں۔

﴿37﴾ اور نہ تمہارے مال تمہیں اللہ کا قرب عطا کرتے ہیں اور نہ تمہاری اولاد۔ ہاں مگر جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو ایسے لوگوں کو ان کے عمل کا دوہرا ثواب ملے گا، اور وہ (جنت کے) بالاخانوں میں چین کریں گے۔

﴿38﴾ اور جو لوگ ہماری آیتوں کے بارے میں یہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کو ناکام بنائیں، ان کو عذاب میں دھر لیا جائے گا۔

﴿39﴾ کہہ دو کہ : میرا پروردگار اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق کی فراوانی کردیتا ہے، اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگی کردیتا ہے۔ اور تم جو چیز بھی خرچ کرتے ہو وہ اس کی جگہ اور چیز دے دیتا ہے، اور وہی سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔

﴿40﴾ اور وہ دن نہ بھولو جب اللہ ان سب کو جمع کرے گا، پھر فرشتوں سے کہے گا کہ : کیا یہ لوگ واقعی تمہاری عبادت کیا کرتے تھے ؟

﴿41﴾ وہ کہیں گے کہ : ہم تو آپ کی ذات کی پاکی بیان کرتے ہیں، ہمارا تعلق آپ سے ہے، ان لوگوں سے نہیں۔ دراصل یہ تو جنات کی عبادت کیا کرتے تھے۔ ان میں سے اکثر لوگ انہی کے معتقد تھے۔

﴿42﴾ لہذا آج تم میں سے کوئی نہ کسی کو کوئی فائدہ پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے، نہ نقصان پہنچانے کا۔ اور جن لوگوں نے ظلم کی روش اختیار کی تھی، ان سے ہم کہیں گے کہ : اس آگ کا مزہ چکھو جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔

﴿43﴾ اور جب ہماری آیتیں جو مکمل وضاحت کی حامل ہیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ (ہمارے پیغمبر کے بارے میں) کہتے ہیں کہ : کچھ نہیں، یہ شخص بس یہ چاہتا ہے کہ تم لوگوں کو ان معبودوں سے برگشتہ کردے جنہیں تمہارے باپ دادے پوجتے آئے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ : یہ (قرآن) کچھ بھی نہیں، ایک من گھڑت جھوٹ ہے۔ اور جب ان کافروں کے پاس حق کا پیغام آیا تو انہوں نے اس کے بارے میں یہ کہا کہ : یہ تو ایک کھلے جادو کے سوا کچھ نہیں ہے۔

﴿44﴾ حالانکہ ہم نے انہیں پہلے نہ ایسی کتابیں دی تھیں جو یہ پڑھتے پڑھاتے ہوں اور نہ (اے پیغمبر) تم سے پہلے ہم نے ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والا (نبی) بھیجا تھا۔

﴿45﴾ اور ان سے پہلے لوگوں نے بھی (پیغمبروں) کو جھٹلایا تھا، اور یہ (عرب کے مشرکین) تو اس سازوسامان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے ہیں جو ہم نے ان (پہلے لوگوں) کو دے رکھا تھا، پھر بھی انہوں نے میرے پیغمبروں کو جھٹلایا، تو (دیکھ لو کہ) میری دی ہوئی سزا کیسی (سخت) تھی۔

﴿46﴾ (اے پیغمبر) ان سے کہو کہ : میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ تم چاہے دو دو مل کر اور چاہے اکیلے اکیلے اللہ کی خاطر اٹھ کھڑے ہو۔ پھر (انصاف سے) سوچو (توفورا سمجھ میں آجائے گا کہ) تمہارے اس ساتھی (یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں جنون کی کوئی بات بھی تو نہیں ہے۔ وہ تو ایک سخت عذاب کے آنے سے پہلے تمہیں خبردار کررہے ہیں۔

﴿47﴾ کہو : میں نے اگر اس بات پر تم سے کوئی اجرت مانگی ہو تو وہ تمہاری ہے۔ میرا اجر تو اللہ کے سوا کسی کے ذمے نہیں ہے، اور وہ ہر چیز کا مشاہدہ کرنے والا ہے۔

﴿48﴾ کہہ دو کہ : میرا پروردگار حق کو اوپر سے بھیج رہا ہے۔ وہ غیب کی ساری باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔

﴿49﴾ کہہ دو کہ : حق آچکا ہے اور باطل میں نہ کچھ شروع کرنے کا دم ہے نہ دوبارہ کرنے کا۔

﴿50﴾ کہہ دو کہ : اگر میں راستے سے بھٹکا ہوں تو میرے بھٹکنے کا نقصان مجھی کو ہوگا، اور اگر میں نے سیدھا راستہ پالیا ہے تو یہ اس وحی کی بدولت ہے جو میرا رب مجھ پر نازل کر رہا ہے۔ وہ یقینا سب کچھ سننے والا، ہر ایک سے قریب ہے۔

﴿51﴾ (اے پیغمبر تمہیں ان کی حالت عجیب نظر آئے گی) اگر تم وہ منظر دیکھو جب یہ گھبرائے پھرتے ہوں گے، اور بھاگ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہوگا، اور انہیں قریب ہی سے پکڑ لیا جائے گا۔

﴿52﴾ اور (اس وقت) یہ کہیں گے کہ : ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں۔ حالانکہ اتنی دور جگہ سے ان کو کوئی چیز کیسے ہاتھ آسکتی ہے ؟

﴿53﴾ جبکہ انہوں نے پہلے اس کا انکار کیا تھا، اور دور دور سے اٹک پچوں تیر پھینکا کرتے تھے۔

﴿54﴾ اور اس وقت یہ جس (ایمان) کی آرزو کریں گے اس کے اور ان کے درمیان ایک آڑ کردی جائے گی، جیسا کہ ان جیسے جو لوگ ان سے پہلے ہوئے ہیں ان کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ایسے شک میں پڑے ہوئے تھے جس نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔

فاطر

Surah 35

﴿1﴾ تمام تر تعریف اللہ کی ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، جس نے ان فرشتوں کو پیغام لے جانے کے لیے مقرر کیا ہے، جو دو دو، تین تین اور چار چار پروں والے ہیں۔ وہ پیدائش میں جتنا چاہتا ہے اضافہ کردیتا ہے۔ بیشک اللہ ہر چیز کی قدرت رکھنے والا ہے۔

﴿2﴾ جس رحمت کو اللہ لوگوں کے لیے کھول دے، کوئی نہیں ہے جو اسے روک سکے اور جسے وہ روک لے تو کوئی نہیں ہے جو اس کے بعد اسے چھڑا سکے۔ اور وہی ہے جو اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

﴿3﴾ اے لوگو ! یاد کرو ان نعمتوں کو جو اللہ نے تم پر نازل کی ہیں۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہو ؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ پھر آخر تم کہاں اوندھے چلے جارہے ہو ؟

﴿4﴾ اور (اے پیغمبر) اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلا رہے ہیں تو تم سے پہلے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا گیا ہے۔ اور تمام معاملات آخر کار اللہ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

﴿5﴾ اے لوگو ! یقین جانو کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، لہذا تمہیں یہ دنیوی زندگی ہرگز دھوکے میں نہ ڈالے، اور نہ اللہ کے معاملے میں تمہیں وہ (شیطان) دھوکے میں ڈالنے پائے جو بڑا دھوکے باز ہے۔

﴿6﴾ یقین جانو کہ شیطان تمہارا دشمن ہے، اس لیے اس کو دشمن ہی سمجھتے رہو۔ وہ تو اپنے ماننے والوں کو جو دعوت دیتا ہے وہ اس لیے دیتا ہے تاکہ وہ دوزخ کے باسی بن جائیں۔

﴿7﴾ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، ان کے لیے شدید عذاب ہے اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر۔

﴿8﴾ بھلا بتاؤ کہ جس شخص کی نظروں میں اس کی بدعملی ہی خوشنما بنا کر پیش کی گئی ہو، جس کی بنا پر وہ اس بدعملی کو اچھا سمجھتا ہو (وہ نیک آدمی کے برابر کیسے ہوسکتا ہے ؟) کیونکہ اللہ جس کو چاہتا ہے راستے سے بھٹکا دیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے ٹھیک راستے پر پہنچا دیتا ہے۔ لہذا (اے پیغمبر) ایسا نہ ہو کہ ان (کافروں) پر افسوس کے مارے تمہاری جان ہی جاتی رہے۔ یقین رکھو کہ جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

﴿9﴾ اور اللہ ہی ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے پھر وہ بادلوں کو اٹھاتی ہیں، پھر ہم انہیں ہنکا کر ایک ایسے شہر کی طرف لے جاتے ہیں جو (قحط سے) مردہ ہوچکا ہوتا ہے، پھر ہم اس (بارش) کے ذریعے مردہ زمین کو نئی زندگی عطا کرتے ہیں۔ بس اسی طرح انسانوں کی دوسری زندگی ہوگی۔

﴿10﴾ جو شخص عزت حاصل کرنا چاہتا ہو، تو تمام تر عزت اللہ کے قبضے میں ہے۔ پاکیزہ کلمہ اسی کی طرف چڑھتا ہے اور نیک عمل اس کو اوپر اٹھاتا ہے۔ اور جو لوگ بری بری مکاریاں کر رہے ہیں، ان کو سخت عذاب ہوگا، اور ان کی مکاری ہی ہے جو مل یا میٹ ہوجائے گی۔

﴿11﴾ اور اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے، پھر تمہیں جوڑے جوڑے بنادیا۔ اور کسی مادہ کو جو کوئی حمل ہوتا ہے، اور جو کچھ وہ جنتی ہے وہ سب اللہ کے علم سے ہوتا ہے۔ اور کسی عمر رسیدہ کو جتنی عمر دی جاتی ہے، اور اس کی عمر میں جو کوئی کمی ہوتی ہے، وہ سب ایک کتاب میں درج ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔

﴿12﴾ اور دو دریا برابر نہیں ہوتے۔ ایک ایسا میٹھا ہے کہ اس سے پیاس بجھتی ہے، جو پینے میں خوشگوار ہے اور دوسرا کڑوا نمکین۔ اور ہر ایک سے تم (مچھلیوں کا) تازہ گوشت کھاتے ہو، اور وہ زیور نکالتے ہو جو تمہارے پہننے کے کام آتا ہے۔ اور تم کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ وہ اس (دریا) میں پانی کو پھاڑتی ہوئی چلتی ہیں، تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو، اور تاکہ شکر گزار بنو۔

﴿13﴾ وہ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو کام پر لگا دیا ہے۔ (ان میں سے) ہر ایک کسی مقررہ میعاد تک کے لیے رواں دواں ہے۔ یہ ہے اللہ جو تمہارا پروردگار ہے، ساری بادشاہی اسی کی ہے۔ اور اسے چھوڑ کر جن (جھوٹے خداؤں) کو تم پکارتے ہو، وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی کوئی اختیار نہیں رکھتے۔

﴿14﴾ اگر تم ان کو پکارو گے تو وہ تمہاری پکار سنیں گے ہی نہیں، اور اگر سن بھی لیں تو تمہیں کوئی جواب نہیں دے سکیں گے۔ اور قیامت کے دن وہ خود تمہارے شرک کی تردید کریں گے۔ اور جس ذات کو تمام باتوں کی مکمل خبر ہے اس کی برابر تمہیں کوئی اور صحیح بات نہیں بتائے گا۔

﴿15﴾ اے لوگو ! تم سب اللہ کے محتاج ہو، اور اللہ بےنیاز ہے، ہر تعریف کا بذات خود مستحق

﴿16﴾ اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کردے، اور ایک نئی مخلوق وجود میں لے آئے۔

﴿17﴾ اور یہ کام اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔

﴿18﴾ اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور جس کسی پر بڑا بوجھ لدا ہوا ہو، وہ اگر کسی اور کو اس کے اٹھانے کی دعوت دے گا تو اس میں سے کچھ بھی اٹھایا نہیں جائے گا، چاہے وہ (جسے بوجھ اٹھانے کی دعوت دی گئی تھی) کوئی قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ (اے پیغمبر) تم انہی لوگوں کو خبردار کرسکتے ہو جو اپنے پروردگار کو دیکھے بغیر اس سے ڈرتے ہوں۔ اور جنہوں نے نماز قائم کی ہو، اور جو شخص پاک ہوتا ہے وہ اپنے ہی فائدے کے لیے پاک ہوتا ہے۔ اور آخرکار سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

﴿19﴾ اور اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں ہوسکتے۔

﴿20﴾ اور نہ اندھیرے اور روشنی

﴿21﴾ اور نہ سایہ اور دھوپ

﴿22﴾ اور زندہ لوگ اور مردے برابر نہیں ہوسکتے، اور اللہ تو جس کو چاہتا ہے بات سنا دیتا ہے، اور تم ان کو بات نہیں سنا سکتے جو قبروں میں پڑے ہیں۔

﴿23﴾ تم تو بس ایک خبردار کرنے والے ہو۔

﴿24﴾ ہم نے تمہیں حق بات دے کر اس طرح بھیجا ہے کہ تم خوشخبری دو اور خبردار کرو، اور کوئی امت ایسی نہیں ہے جس میں کوئی خبر دار کرنے والا نہ آیا ہو۔

﴿25﴾ اور اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلا رہے ہیں تو جو (کافر) ان سے پہلے تھے، انہوں نے بھی (رسولوں کو) جھٹلایا تھا۔ ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر، صحیفے لے کر اور روشنی پھیلانے والی کتاب لے کر آئے تھے۔

﴿26﴾ پھر جن لوگوں نے انکار کی روش اپنائی تھی میں نے انہیں پکڑ میں لے لیا۔ اب دیکھو کہ میری سزا کیسی (ہولناک) تھی۔

﴿27﴾ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ذریعے رنگ برنگ کے پھل اگائے ؟ اور پہاڑوں میں بھی ایسے ٹکڑے ہیں جو رنگ برنگ کے سفید اور سرخ ہیں، اور کالے سیاہ بھی۔

﴿28﴾ اور انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی ایسے ہیں جن کے رنگ مختلف ہیں۔ اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔ یقینا اللہ صاحب اقتدار بھی ہے، بہت بخشنے والا بھی۔

﴿29﴾ جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں، اور جنہوں نے نماز کی پابندی کر رکھی ہے، اور ہم نے انہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے وہ (نیک کاموں میں) خفیہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں، وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی نقصان نہیں اٹھائے گی۔

﴿30﴾ تاکہ اللہ ان کے پورے اجر ان کو دیدے، اور اپنے فضل سے اور زیادہ بھی دے۔ یقینا وہ بہت بخشنے والا، بڑا قدر دان ہے۔

﴿31﴾ اور (اے پیغمبر) ہم نے تمہارے پاس وحی کے ذریعے جو کتاب بھیجی ہے وہ سچی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہوئی آئی ہے۔ یقینا اللہ اپنے بندوں سے پوری طرح باخبر، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔

﴿32﴾ پھر ہم نے اس کتاب کا وارث اپنے بندوں میں سے ان کو بنایا جنہیں ہم نے چن لیا تھا پھر ان میں سے کچھ وہ ہیں جو اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہیں، اور انہی میں سے کچھ ایسے ہیں جو درمیانے درجے کے ہیں، اور کچھ وہ ہیں جو اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں بڑھے چلے جاتے ہیں۔ اور یہ (اللہ کا) بہت بڑا فضل ہے۔

﴿33﴾ ہمیشہ بسنے کے باغات ہیں جن میں وہ لوگ داخل ہوں گے وہاں ان کو سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا اور ان کا لباس وہاں پر ریشم ہوگا۔

﴿34﴾ اور وہ کہیں گے کہ : تمام تر تعریف اللہ کی ہے جس نے ہم سے ہر غم دور کردیا۔ بیشک ہمارا پروردگار بہت بخشنے والا، بڑا قدردان ہے۔

﴿35﴾ جس نے اپنے فضل سے ہم کو ابدی ٹھکانے کے گھر میں لا اتارا ہے جس میں نہ ہمیں کبھی کوئی کلفت چھوکر گزرے گی، اور نہ کبھی کوئی تھکن پیش آئے گی۔

﴿36﴾ اور جن لوگوں نے کفر کی روش اپنا لی ہے ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے، نہ تو ان کا کام تمام کیا جائے گا کہ وہ مر ہی جائیں، اور نہ ان سے دوزخ کا عذاب ہلکا کیا جائے گا۔ ہر ناشکرے کافر کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔

﴿37﴾ اور وہ اس دوزخ میں چیخ پکار مچائیں گے کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں باہر نکال دے تاکہ ہم جو کام پہلے کیا کرتے تھے انہیں چھوڑ کر نیک عمل کریں۔ (ان سے جواب میں کہا جائے گا کہ) بھلا کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ جس کسی کو اس میں سوچنا سمجھنا ہوتا، وہ سمجھ لیتا ؟ اور تمہارے پاس خبردار کرنے والا بھی آیا تھا۔ اب مزا چکھو، کیونکہ کوئی نہیں ہے جو ایسے ظالموں کا مددگار بنے۔

﴿38﴾ بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا علم رکھتا ہے۔ بیشک وہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو خوب جانتا ہے۔

﴿39﴾ وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں (پچھلے لوگوں کا) جانشین بنایا۔ اب جو شخص کفر کرے گا تو اس کا کفر اسی پر پڑے گا۔ اور کافروں کے لیے ان کا کفر ان کے پروردگار کے پاس غضب کے سوا کسی اور چیز میں اضافہ نہیں کرتا، اور کافروں کو ان کے کفر سے خسارے کے سوا کسی چیز میں ترقی حاصل نہیں ہوتی۔

﴿40﴾ (اے پیغمبر) ان سے کہو کہ : بھلا بتاؤ تم اللہ کو چھوڑ کر اپنے جن من گھڑت شریکوں کو پوجا کرتے ہو، ذرا مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے زمین کا کونسا حصہ پیدا کیا ہے ؟ یا آسمانوں (کی پیدائش میں) ان کی کونسی شرکت ہے ؟ یا پھر ہم نے انہیں کوئی کتاب دے رکھی ہے جس کی کسی واضح ہدایت پر یہ لوگ قائم ہیں ؟ نہیں، بلکہ یہ ظالم لوگ ایک دوسرے کو خالص دھوکے کی یقین دہانی کرتے آئے ہیں۔

﴿41﴾ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو تھام رکھا ہے کہ وہ اپنی جگہ سے ٹلیں نہیں، اور اگر وہ ٹل جائیں تو اس کے سوا کوئی نہیں ہے جو انہیں تھام سکے۔ یقینا اللہ بڑا بردبار، بہت بخشنے والا ہے۔

﴿42﴾ اور انہوں نے پہلے اللہ کی بڑے زوروں میں قسمیں کھائی تھیں کہ اگر ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والا (پیغمبر) آیا تو وہ ہر دوسری امت سے زیادہ ہدایت قبول کرنے والے ہوں گے۔ مگر جب ان کے پاس ایک خبردار کرنے والا آگیا تو اس کے آنے سے ان کی حالت میں اور کوئی ترقی نہیں ہوئی، سوائے اس کے کہ یہ (حق کے راستے سے) اور زیادہ بھاگنے لگے۔

﴿43﴾ اس لیے کہ انہیں زمین میں اپنی بڑائی کا گھمنڈ تھا، اور انہوں نے (حق کی مخالفت میں) بری بری چالیں چلنی شروع کردیں۔ حالانکہ بری چالیں کسی اور کو نہیں خود اپنے چلنے والوں ہی کو گھیرے میں لے لیتی ہیں۔ اب یہ لوگ اس دستور کے سوا کس بات کے منتظر ہیں جس پر پچھلے لوگوں کے ساتھ عمل ہوتا آیا ہے ؟ (اگر یہ بات ہے) تو تم اللہ کے طے شدہ دستور میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے، اور نہ تم اللہ کے طے شدہ دستور کو کبھی ٹلتا ہوا پاؤ گے۔

﴿44﴾ اور کیا ان لوگوں نے زمین میں کبھی سفر نہیں کیا جس سے وہ یہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں، ان کا انجام کیسا ہوا، جبکہ وہ طاقت میں ان سے بہت زیادہ مضبوط تھے ؟ اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ آسمانوں یا زمین کی کوئی چیز اسے عاجز کرسکے۔ بیشک وہ علم کا بھی مالک ہے، قدرت کا بھی مالک۔

﴿45﴾ اور اگر اللہ لوگوں کے ہر کرتوت پر ان کی پکڑ کرنے لگتا تو اس زمین کی پشت پر کسی چلنے والے کو نہ چھوڑتا، لیکن وہ ایک معین مدت تک کے لیے ان کو مہلت دے رہا ہے۔ پھر جب ان کا مقررہ وقت آجائے گا تو اللہ اپنے بندوں کو خود دیکھ لے گا۔

یٰس

Surah 36

﴿1﴾ یس۔

﴿2﴾ حکمت بھرے قرآن کی قسم

﴿3﴾ تم یقینا پیغمبروں میں سے ہو۔

﴿4﴾ بالکل سیدھے راستے پر۔

﴿5﴾ یہ قرآن اس ذات کی طرف سے اتارا جارہا ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کی رحمت بھی کامل۔

﴿6﴾ تاکہ تم ان لوگوں کو خبردار کرو جن کے باپ دادوں کو پہلے خبردار نہیں کیا گیا تھا، اس لیے وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

﴿7﴾ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگوں کے بارے میں بات پوری ہوچکی ہے۔ اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے۔

﴿8﴾ ہم نے ان کے گلوں میں طوق ڈال رکھے ہیں، جو ٹھوڑیوں تک پہنچے ہوئے ہیں، اور اس وجہ سے ان کے سر اوپر کو اٹھے رہ گئے ہیں۔

﴿9﴾ اور ہم نے ایک آڑ ان کے آگے کھڑی کردی ہے، اور ایک آڑ ان کے پیچھے کھڑی کردی ہے، اور اس طرح انہیں ہر طرف سے ڈھانک لیا ہے جس کے نتیجے میں انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا۔

﴿10﴾ اور ان کے لیے دونوں باتیں برابر ہیں، چاہے تم انہیں خبردار کرو، یا خبردار نہ کرو، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

﴿11﴾ تم تو صرف ایسے شخص کو خبردار کرسکتے ہو جو نصیحت پر چلے، اور خدائے رحمن کو دیکھے بغیر اس سے ڈرے۔ چنانچہ ایسے شخص کو تم مغفرت اور باعزت اجر کی خوشخبری سنا دو ۔

﴿12﴾ یقینا ہم ہی مردوں کو زندہ کریں گے، اور جو کچھ عمل انہوں نے آگے بھیجے ہیں ہم ان کو بھی لکھتے جاتے ہیں اور ان کے کاموں کے جو اثرات ہیں ان کو بھی۔ اور ہم نے ایک واضح کتاب میں ہر ہر چیز کا پورا احاطہ کر رکھا ہے۔

﴿13﴾ اور (اے پیغمبر) تم ان کے سامنے ایک بستی والوں کی مثال پیش کرو، جب ان کے پاس رسول آئے تھے

﴿14﴾ جب ہم نے ان کے پاس (شروع میں) دو رسول بھیجے، تو انہوں نے دونوں کو جھٹلا دیا، پھر ہم نے ایک تیسرے کے ذریعے ان کی تائید کی، اور ان سب نے کہا کہ : یقین جانو ہمیں تمہارے پاس رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔

﴿15﴾ انہوں نے کہا : تمہاری حقیقت اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ تم ہم جیسے ہی آدمی ہو۔ اور خدائے رحمن نے کوئی چیز نازل نہیں کی ہے، اور تم سراسر جھوٹ بول رہے ہو۔

﴿16﴾ ان (رسولوں) نے کہا : ہمارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ ہمیں واقعی تمہارے پاس رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔

﴿17﴾ اور ہماری ذمہ داری اس سے زیادہ نہیں ہے کہ صاف صاف پیغام پہنچا دیں۔

﴿18﴾ بستی والوں نے کہا : ہم نے تو تمہارے اندر نحوست محسوس کی ہے۔ یقین جانو اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم پر پتھر برسائیں گے، اور ہمارے ہاتھوں تمہیں بڑی دردناک سزا ملے گی۔

﴿19﴾ رسولوں نے کہا : تمہاری نحوست خود تمہارے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ کیا یہ باتیں اس لیے کر رہے ہو کہ تمہیں نصیحت کی بات پہنچائی گئی ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ تم خود حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو۔

﴿20﴾ اور شہر کے پرلے علاقے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا۔ اس نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! ان رسولوں کا کہنا مان لو۔

﴿21﴾ ان لوگوں کا کہنا مان لو جو تم سے کوئی اجرت نہیں مانگ رہے، اور وہ صحیح راستے پر ہیں۔

﴿22﴾ اور بھلا میں اس ذات کی عبادت کیوں نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے ؟ اور اسی کی طرف تم سب کو واپس بھیجا جائے گا۔

﴿23﴾ بھلا کیا اسے چھوڑ کر میں ایسوں کو معبود مانوں کہ اگر خدائے رحمن مجھے کوئی نقصان پہنچانے کا ارادہ کرلے تو ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے، اور نہ وہ مجھے چھڑا سکیں ؟

﴿24﴾ اگر میں ایسا کروں گا تو یقینا میں کھلی گمراہی میں مبتلا ہوجاؤں گا۔

﴿25﴾ میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لاچکا۔ اب تم بھی میری بات سن لو۔

﴿26﴾ (آخر کار بستی والوں نے اس کو قتل کردیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سے) کہا گیا کہ : جنت میں داخل ہوجاؤ اس نے (جنت کی نعمتیں دیکھ کر) کہا کہ : کاش ! میری قوم کو معلوم ہوجائے۔

﴿27﴾ کہ اللہ نے کس طرح میری بخشش کی ہے، اور مجھے باعزت لوگوں میں شامل کیا ہے۔

﴿28﴾ اور اس شخص کے بعد ہم نے اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا، اور نہ ہمیں اتارنے کی ضرورت تھی۔

﴿29﴾ وہ تو بس ایک ہی چنگھاڑ تھی جس سے وہ ایک دم بجھ کر رہ گئے۔

﴿30﴾ افسوس ہے ایسے بندوں کے حال پر۔ ان کے پاس کوئی رسول ایسا نہیں آیا جس کا وہ مذاق نہ اڑاتے رہے ہوں۔

﴿31﴾ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے ہم کتنی قوموں کو اس طرح ہلاک کرچکے ہیں کہ وہ ان کے پاس لوٹ کر نہیں آتے ؟

﴿32﴾ اور یہ جتنے لوگ ہیں ان سبھی کو اکٹھا کر کے ہمارے سامنے حاضر کیا جائے گا۔

﴿33﴾ اور ان کے لیے ایک نشانی وہ زمین ہے جو مردہ پڑی ہوئی تھی، ہم نے اسے زندگی عطا کی، اور اس نے غلہ نکالا، جس کی خوراک یہ کھاتے ہیں۔

﴿34﴾ اور ہم نے اس زمین میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے، اور ایسا انتظام کیا کہ اس میں سے پانی کے چشمے پھوٹ نکلے۔

﴿35﴾ تاکہ یہ اس کی پیداوار میں سے کھائیں، حالانکہ اس کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا تھا۔ کیا پھر بھی یہ شکر نہیں کریں گے ؟

﴿36﴾ پاک ہے وہ ذات جس نے ہر چیز کے جوڑے جوڑے پیدا کیے ہیں، اس پیداوار کے بھی جو زمین اگاتی ہے، اور خود انسانوں کے بھی، اور ان چیزوں کے بھی جنہیں یہ لوگ (ابھی) جانتے تک نہیں ہیں۔

﴿37﴾ اور ان کے لیے ایک اور نشانی رات ہے۔ ہم اس پر سے دن کا چھلکا اتار لیتے ہیں تو وہ یکایک اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔

﴿38﴾ اور سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جارہا ہے۔ یہ سب اس ذات کا مقرر کیا ہوا نظام ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کا علم بھی کامل۔

﴿39﴾ اور چاند ہے کہ ہم نے اس کی منزلیں ناپ تول کر مقرر کردی ہیں، یہاں تک کہ وہ جب (ان منزلوں کے دورے سے) لوٹ کر آتا ہے تو کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح (پتلا) ہو کر رہ جاتا ہے۔

﴿40﴾ نہ تو سورج کی یہ مجال ہے کہ وہ چاند کو جاپکڑے، اور نہ رات دن سے آگے نکل سکتی ہے، اور یہ سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔

﴿41﴾ اور ان کے لیے ایک اور نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا

﴿42﴾ اور ہم نے ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں بھی پیدا کیں جن پر یہ سواری کرتے ہیں۔

﴿43﴾ اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کر ڈالیں، جس کے بعد نہ تو کوئی ان کی فریاد کو پہنچے اور نہ ان کی جان بچائی جاسکے۔

﴿44﴾ لیکن یہ سب ہماری طرف سے ایک رحمت ہے، اور ایک معین وقت تک (زندگی کا) مزہ اٹھانے کا موقع ہے۔ (جو انہیں دیا جارہا ہے)

﴿45﴾ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ : بچو اس (عذاب) سے جو تمہارے سامنے ہے، اور جو تمہارے (مرنے کے) کے بعد آئے گا تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (تو وہ ذرا کان نہیں دھرتے)

﴿46﴾ اور ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں آتی جس سے وہ منہ نہ موڑ لیتے ہوں۔

﴿47﴾ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ : اللہ نے تمہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے (غریبوں پر بھی) خرچ کرو، تو یہ کافر لوگ مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ : کیا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائی جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا ؟ (مسلمانو) تمہاری حقیقت اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ تم کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔

﴿48﴾ اور کہتے ہیں کہ : یہ (قیامت کا) وعدہ کب پورا ہوگا ؟ (مسلمانو) بتاؤ، اگر تم سچے ہو۔

﴿49﴾ (دراصل) یہ لوگ بس ایک چنگھاڑ کا انتظار کر رہے ہیں جو ان کی حجت بازی کے عین درمیان انہیں آپکڑے گی۔

﴿50﴾ پھر نہ یہ کوئی وصیت کرسکیں گے، اور نہ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر جاسکیں گے۔

﴿51﴾ اور صور پھونکا جائے گا تو یکایک یہ اپنی قبروں سے نکل کر اپنے پروردگار کی طرف تیزی سے روانہ ہوجائیں گے۔

﴿52﴾ کہیں گے کہ : ہائے ہماری کم بختی ! ہمیں کس نے ہمارے مرقد سے اٹھا کھڑا کیا ہے ؟ (جواب ملے گا کہ) یہ وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمن نے وعدہ کیا تھا، اور پیغمبروں نے سچی بات کہی تھی۔

﴿53﴾ اور کچھ نہیں، بس ایک زور کی آواز ہوگی، جس کے بعد یہ سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کردیے جائیں گے۔

﴿54﴾ چنانچہ اس دن کسی شخص پر کوئی ظلم نہیں ہوگا، اور تمہیں کسی اور چیز کا نہیں، بلکہ انہیں کاموں کا بدلہ ملے گا جو تم کیا کرتے تھے۔

﴿55﴾ جنت والے لوگ اس دن یقینا اپنے مشغلے میں مگن ہوں گے۔

﴿56﴾ اور وہ ان کی بیویاں گھنے سایوں میں آرام دہ نشستوں پر ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے۔

﴿57﴾ وہاں ان کے لیے میوے ہوں گے، اور انہیں ہر وہ چیز ملے گی جو وہ منگوائیں گے۔

﴿58﴾ رحمت والے پروردگار کی طرف سے انہیں سلام کہا جائے گا۔

﴿59﴾ (اور کافروں سے کہا جائے گا کہ) اے مجرمو ! آج تم (مومنوں سے) الگ ہوجاؤ۔

﴿60﴾ اے آدم کے بیٹو ! کیا میں نے تمہیں یہ تاکید نہیں کردی تھی کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

﴿61﴾ اور یہ کہ تم میری عبادت کرنا، یہی سیدھا راستہ ہے۔

﴿62﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ شیطان نے تم میں سے ایک بڑی خلقت کو گمراہ کر ڈالا۔ تو کیا تم سمجھتے نہیں تھے۔ ؟

﴿63﴾ یہ ہے وہ جہنم جس سے تمہیں ڈرایا جاتا تھا۔

﴿64﴾ آج اس میں داخل ہوجاؤ، کیونکہ تم کفر کیا کرتے تھے۔

﴿65﴾ آج کے دن ہم ان کے منہ پر مہر لگادیں گے، اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے، اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے کہ وہ کیا کمائی کیا کرتے تھے۔

﴿66﴾ اور اگر ہم چاہیں تو (یہیں دنیا میں ان کی آنکھیں مل یا میٹ کردیں، پھر یہ راستے (کی تلاش) میں بھاگے پھریں، لیکن انہیں کہاں کچھ سجھائی دے گا۔ ؟

﴿67﴾ اور اگر ہم چاہیں تو ان کی اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے ان کی صورتیں اس طرح مسخ کردیں کہ یہ نہ آگے بڑھ سکیں، اور نہ پیچھے لوٹ سکیں۔

﴿68﴾ اور ہم جس شخص کو لمبی عمر دیتے ہیں اسے تخلیقی اعتبار سے الٹ ہی دیتے ہیں۔ کیا پھر بھی انہیں عقل نہیں آتی ؟

﴿69﴾ اور ہم نے (اپنے) ان (پیغمبر) کو نہ شاعری سکھائی ہے، اور نہ وہ ان کے شایان شان ہے۔ یہ تو بس ایک نصیحت کی بات ہے، اور ایسا قرآن جو حقیقت کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔

﴿70﴾ تاکہ ہر اس شخص کو خبردار کرے جو زندہ ہو، اور تاکہ کفر کرنے والوں پر حجت پوری ہوجائے۔

﴿71﴾ اور کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لیے مویشی پیدا کیے، اور یہ ان کے مالک بنے ہوئے ہیں ؟

﴿72﴾ اور ہم نے ان مویشیوں کو ان کے قابو میں دے دیا ہے، چنانچہ ان میں سے کچھ وہ ہیں جو ان کی سواری بنے ہوئے ہیں، اور کچھ وہ ہیں جنہیں یہ کھاتے ہیں۔

﴿73﴾ نیز ان کو ان مویشیوں سے اور بھی فوائد حاصل ہوتے ہیں، اور پینے کی چیزیں ملتی ہیں۔ کیا پھر بھی یہ شکر نہیں بجا لائیں گے ؟

﴿74﴾ اور انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اس امید پر دوسرے خدا بنا رکھے ہیں کہ انہیں (ان سے) مدد ملے۔

﴿75﴾ (حالانکہ) ان میں یہ طاقت ہی نہیں ہے کہ ان کی مدد کرسکیں، بلکہ وہ ان کے لیے ایک ایسا (مخالف) لشکر بنیں گے جسے (قیامت میں ان کے سامنے) حاضر کرلیا جائے گا۔

﴿76﴾ غرض (اے پیغمبر) ان کی باتیں تمہیں رنجیدہ نہ کریں۔ یقین جانو ہمیں سب معلوم ہے کہ یہ کیا کچھ چھپاتے، اور کیا کچھ ظاہر کرتے ہیں۔

﴿77﴾ اور کیا انسان نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا تھا ؟ پھر اچانک وہ کھلم کھلا جھگڑا کرنے والا بن گیا۔

﴿78﴾ ہمارے بارے میں تو وہ باتیں بناتا ہے، اور خود اپنی پیدائش کو بھلا بیٹھا ہے، کہتا ہے کہ : ان ہڈیوں کو کون زندگی دے گا جبکہ وہ گل چکی ہوں گی ؟

﴿79﴾ کہہ دو کہ : ان کو وہی زندگی دے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا تھا، اور وہ پیدا کرنے کا ہر کام جانتا ہے۔

﴿80﴾ وہی ہے جس نے تمہارے لیے سرسبز درخت سے آگ پیدا کردی ہے۔ پھر تم ذرا سی دیر میں اس سے سلگانے کا کام لیتے ہو۔

﴿81﴾ بھلا جس ذات نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، کیا وہ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ ان جیسوں کو (دوبارہ) پیدا کرسکے ؟ کیوں نہیں ؟ جبکہ وہ سب کچھ پیدا کرنے کی پوری مہارت رکھتا ہے۔

﴿82﴾ اس کا معاملہ تو یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرلے تو صرف اتنا کہتا ہے کہ : ہوجا۔ بس وہ ہوجاتی ہے۔

﴿83﴾ غرض پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی حکومت ہے اور اسی کی طرف تم سب کو آخر کار لے جایا جائے گا۔

الصّٰفّٰت

Surah 37

﴿1﴾ قسم ان کی جو پرے باندھ کر صف بناتے ہیں،

﴿2﴾ پھر ان کی جو روک ٹوک کرتے ہیں،

﴿3﴾ پھر ان کی جو ذکر کی تلاوت کرتے ہیں۔

﴿4﴾ تمہارا معبود ایک ہی ہے۔

﴿5﴾ جو تمام آسمانوں اور زمین کا اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے، اور ان تمام مقامات کا مالک جہاں سے ستارے طلوع ہوتے ہیں۔

﴿6﴾ بیشک ہم نے نزدیک والے آسمان کو ستاروں کی شکل میں ایک سجاوٹ عطا کی ہے۔

﴿7﴾ اور ہر شریر شیطان سے حفاظت کا ذریعہ بنایا ہے۔

﴿8﴾ وہ اوپر کے جہان کی باتیں نہیں سن سکتے، اور ہر طرف سے ان پر مار پڑتی ہے۔

﴿9﴾ انہیں دھکے دیے جاتے ہیں اور ان کو (آخرت میں) دائمی عذاب ہوگا۔

﴿10﴾ البتہ جو کوئی کچھ اچک لے جائے تو ایک روشن شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔

﴿11﴾ اب ذرا ان (کافروں) سے پوچھو کہ ان کی تخلیق زیادہ مشکل ہے یا ہماری پیدا کی ہوئی دوسری مخلوقات کی ؟ ان کو تو ہم نے لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے۔

﴿12﴾ (اے پیغمبر) حقیقت تو یہ ہے کہ تم (ان کی باتوں پر) تعجب کرتے ہو، اور یہ ہنسی اڑاتے ہیں۔

﴿13﴾ اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو نصیحت مانتے نہیں۔

﴿14﴾ اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں۔

﴿15﴾ اور کہتے ہیں کہ : یہ ایک کھلے جادو کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

﴿16﴾ بھلا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیوں کی صورت اختیار کرلیں گے، تو کیا ہمیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا ؟

﴿17﴾ اور بھلا کیا ہمارے پچھلے باپ دادوں کو بھی ؟

﴿18﴾ کہہ دو کہ : ہاں ! اور تم ذلیل بھی ہوگے۔

﴿19﴾ بس وہ تو ایک ہی زور دار آواز ہوگی، جس کے بعد وہ اچانک (سارے ہولناک مناظر) دیکھنے لگیں گے۔

﴿20﴾ اور کہیں گے کہ : ہائے ہماری شامت ! یہ تو حساب و کتاب کا دن ہے۔

﴿21﴾ (جی ہاں) یہی وہ فیصلے کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔

﴿22﴾ (فرشتوں سے کہا جائے گا کہ) گھیر لاؤ ان سب کو جنہوں نے ظلم کیا تھا، اور ان کے ساتھیوں کو بھی اور ان کو بھی

﴿23﴾ جن کی یہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے، پھر انہیں دوزخ کا راستہ دکھاؤ۔

﴿24﴾ اور ذرا انہیں ٹھہراؤ، ان سے کچھ پوچھا جائے گا۔

﴿25﴾ کیوں جی ؟ تمہیں کیا ہوا کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کر رہے ؟

﴿26﴾ اس کے بجائے یہ تو آج سر جھکائے کھڑے ہیں۔

﴿27﴾ اور وہ ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے آپس میں سوال جواب کریں گے۔

﴿28﴾ (ماتحت لوگ اپنے بڑوں سے) کہیں گے کہ تم تھے جو ہم پر بڑے زوروں سے چڑھ چڑھ کر آتے تھے۔

﴿29﴾ وہ کہیں گے کہ : نہیں بلکہ تم خود ایمان لانے والے نہیں تھے۔

﴿30﴾ اور تم پر ہمارا کوئی زور نہیں تھا، اصل بات یہ ہے کہ تم خود سرکش لوگ تھے۔

﴿31﴾ اب تو ہمارے پروردگار کی یہ بات ہم پر ثابت ہوگئی ہے کہ ہم سب کو یہ مزہ چکھنا ہے۔

﴿32﴾ کیونکہ ہم نے تمہیں بہکایا ہم خود بہکے ہوئے تھے۔

﴿33﴾ غرض اس دن یہ سب عذاب میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہوں گے۔

﴿34﴾ ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں۔

﴿35﴾ ان کا حال یہ تھا کہ جب ان سے یہ کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ اکڑ دکھاتے تھے۔

﴿36﴾ اور کہا کرتے تھے کہ : کیا ہم ایسے ہیں کہ ایک دیوانے شاعر کی وجہ سے اپنے معبودوں کو چھوڑ بیٹھیں ؟

﴿37﴾ حالانکہ وہ (پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حق لے کر آئے تھے، اور انہوں نے دوسرے پیغمبروں کی تصدیق کی تھی۔

﴿38﴾ چنانچہ (ان سے کہا جائے گا کہ) تم سب کو دردناک عذاب کا مزہ چکھنا ہوگا۔

﴿39﴾ اور تمہیں کسی اور بات کا نہیں، خود تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔

﴿40﴾ البتہ جو اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں۔

﴿41﴾ ان کے لیے طے شدہ رزق ہے۔

﴿42﴾ میوے ہیں، ان کی پوری پوری عزت ہوگی۔

﴿43﴾ اور نعمت بھرے باغات میں

﴿44﴾ وہ اونچی نشستوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔

﴿45﴾ ایسی لطیف شراب کے جام ان کے لیے گردش میں آئیں گے۔

﴿46﴾ جو سفید رنگ کی ہوگی، پینے والوں کے لیے سراپا لذت۔

﴿47﴾ نہ اس سے سر میں خمار ہوگا اور نہ ان کی عقل بہکے گی۔

﴿48﴾ اور ان کے پاس وہ بڑی بڑی آنکھوں والی خواتین ہونگی جن کی نگاہیں (اپنے شوہروں پر) مرکوز ہوں گی۔

﴿49﴾ (ان کا بےداغ وجود) ایسا لگے گا جیسے وہ (گرد و غبار سے) چھپا کر رکھے ہوئے انڈے ہوں۔

﴿50﴾ پھر جنتی لوگ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر آپس میں سوالات کریں گے۔

﴿51﴾ ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا کہ میرا ایک ساتھی تھا۔

﴿52﴾ جو (مجھ سے) کہا کرتا تھا کہ : کیا تم واقعی ان لوگوں میں سے ہو جو (آخرت کی زندگی کو) سچ مانتے ہیں ؟

﴿53﴾ کیا جب ہم مٹی اور ہڈیوں میں تبدیل ہوجائیں گے تو کیا واقعی ہمیں (اپنے کاموں کا) بدلہ دیا جائے گا ؟

﴿54﴾ وہ جنتی (دوسرے جنتیوں سے) کہے گا کہ : کیا تم (میرے اس ساتھی) کو جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ؟

﴿55﴾ پھر وہ خود (دوزخ میں) جھانک کر دیکھے گا تو اسے دوزخ کے بیچوں بیچ نظر آئے گا۔

﴿56﴾ وہ جنتی (اس سے) کہے گا کہ : اللہ کی قسم ! تم تو مجھے بالکل ہی برباد کرنے لگے تھے۔

﴿57﴾ اور اگر میرے پروردگار کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو اور لوگوں کے ساتھ بھی مجھے دھر لیا جاتا۔

﴿58﴾ (پھر وہ خوشی کے عالم میں اپنے جنتی ساتھیوں سے کہے گا) اچھا تو کیا اب ہمیں موت نہیں آئے گی ؟

﴿59﴾ سوائے اس موت کے جو ہمیں پہلے آچکی ؟ اور ہمیں عذاب بھی نہیں ہوگا ؟

﴿60﴾ حقیقت یہ ہے کہ زبردست کامیابی یہی ہے۔

﴿61﴾ اسی جیسی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہے۔

﴿62﴾ بھلا یہ مہمانی اچھی ہے، یا زقوم کا درخت ؟

﴿63﴾ ہم نے اس درخت کو ان ظالموں کے لیے ایک آزمائش بنادیا ہے۔

﴿64﴾ دراصل وہ درخت ہی ایسا ہے جو درزخ کی تہہ سے نکلتا ہے۔

﴿65﴾ اس کا خوشہ ایسا ہے جیسے شیطانوں کے سر۔

﴿66﴾ چنانچہ دوزخی لوگ اسی میں سے خوراک حاصل کریں گے، اور اسی سے پیٹ بھریں گے۔

﴿67﴾ پھر انہیں اس کے اوپر سے کھولتے ہوئے پانی کا آمیزہ ملے گا۔

﴿68﴾ پھر وہ لوٹیں گے تو اسی دوزخ کی طرف لوٹیں گے۔

﴿69﴾ انہوں نے اپنے باپ دادوں کو گمراہی کی حالت میں پایا تھا۔

﴿70﴾ چنانچہ یہ انہی کے نقش قدم پر لپک لپک کر دوڑتے رہے۔

﴿71﴾ اور ان سے پہلے جو لوگ گزر چکے ہیں، ان میں سے اکثر لوگ بھی گمراہ ہوئے۔

﴿72﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ان کے درمیان خبردار کرنے والے (پیغمبر) بھیجے تھے۔

﴿73﴾ اب دیکھ لو کہ جن کو خبردار کیا گیا تھا، ان کا انجام کیسا ہوا ؟

﴿74﴾ البتہ جو اللہ کے برگزیدہ بندے تھے (وہ محفوظ رہے)

﴿75﴾ اور نوح نے ہمیں پکارا تھا تو (دیکھ لو کہ) ہم پکار کا کتنا اچھا جواب دینے والے ہیں۔

﴿76﴾ اور ہم نے انہیں اور ان کے گھر والوں کو بڑے کرب سے نجات دی۔

﴿77﴾ اور ہم نے ان کی نسل ہی کو باقی رکھا۔

﴿78﴾ اور جو لوگ ان کے بعد آئے ان میں یہ روایت قائم کی۔

﴿79﴾ (کہ وہ یہ کہا کریں کہ) سلام ہو نوح پر دنیا جہان کے لوگوں میں۔

﴿80﴾ ہم نیک عمل کرنے والوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں۔

﴿81﴾ بیشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔

﴿82﴾ پھر ہم نے دوسرے لوگوں کو پانی میں غرق کردیا۔

﴿83﴾ اور انہی کے طریقے پر چلنے والوں میں یقینا ابراہیم بھی تھے۔

﴿84﴾ جب وہ اپنے پروردگار کے پاس صاف ستھرا دل لے کر آئے۔

﴿85﴾ جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ : تم کن چیزوں کی عبادت کرتے ہو ؟

﴿86﴾ کیا اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ موٹ کے خدا چاہتے ہو ؟

﴿87﴾ تو پھر جو ذات سارے جہانوں کو پالنے والی ہے، اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟

﴿88﴾ اس کے (کچھ عرصے) بعد انہوں نے ستاروں کی طرف ایک نگاہ ڈال کر دیکھا۔

﴿89﴾ اور کہا کہ : میری طبیعت خراب ہے۔

﴿90﴾ چنانچہ وہ لوگ پیٹھ موڑ کر ان کے پاس سے چلے گئے۔

﴿91﴾ اس کے بعد یہ ان کے بنائے ہوئے معبودوں (یعنی بتوں) میں جا گھسے (اور ان سے) کہا : کیا تم کھاتے نہیں ہو ؟

﴿92﴾ تمہیں کیا ہوگیا کہ تم بولتے نہیں ؟

﴿93﴾ پھر وہ پوری قوت سے مارتے ہوئے ان (بتوں) پر پل پڑے۔

﴿94﴾ اس پر ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس دوڑے ہوئے آئے۔

﴿95﴾ ابراہیم نے کہا : کیا تم ان (بتوں) کو پوجتے ہو جنہیں خود تراشتے ہو ؟

﴿96﴾ حالانکہ اللہ نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور جو کچھ تم بناتے ہو اس کو بھی۔

﴿97﴾ ان لوگوں نے کہا : ابراہیم کے لیے ایک عمارت بناؤ، اور اسے دہکتی ہوئی آگی میں پھینک دو ۔

﴿98﴾ اس طرح انہوں نے ابراہیم کے خلاف ایک برا منصوبہ بنانا چاہا، لیکن ہم نے انہیں نیچا دکھا دیا۔

﴿99﴾ اور ابراہیم نے کہا : میں اپنے رب کے پاس جارہا ہوں، وہی میری رہنمائی فرمائے گا۔

﴿100﴾ میرے پروردگار ! مجھے ایک ایسا بیٹا دیدے جو نیک لوگوں میں سے ہو۔

﴿101﴾ چنانچہ ہم نے انہیں ایک بردبار لڑکے کی خوشخبری دی۔

﴿102﴾ پھر جب وہ لڑکا ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا تو انہوں نے کہا : بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں، اب سوچ کر بتاؤ، تمہاری کیا رائے ہے ؟ بیٹے نے کہا : ابا جان ! آپ وہی کیجیے جس کا آپ کو حکم دیا جارہا ہے۔ انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔

﴿103﴾ چنانچہ (وہ عجیب منظر تھا) جب دونوں نے سر جھکا دیا، اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل گرایا۔

﴿104﴾ اور ہم نے انہیں آواز دی کہ : اے ابراہیم

﴿105﴾ تم نے خواب کو سچ کر دکھایا۔ یقینا ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں۔

﴿106﴾ یقینا یہ ایک کھلا ہوا امتحان تھا۔

﴿107﴾ اور ہم نے ایک عظیم ذبیحہ کا فدیہ دے کر اس بچے کو بچا لیا۔

﴿108﴾ اور جو لوگ ان کے بعد آئے ان میں یہ روایت قائم کی

﴿109﴾ (کہ وہ یہ کہا کریں کہ) سلام ہو ابراہیم پر۔

﴿110﴾ ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں۔

﴿111﴾ یقینا وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔

﴿112﴾ اور ہم نے انہیں اسحاق کی خوشخبری دی، کہ وہ صالحین میں سے ایک نبی ہوں گے۔

﴿113﴾ اور ہم نے ان پر بھی برکتیں نازل کیں۔ اور اسحاق پر بھی، اور ان کی اولاد میں سے کچھ لوگ نیک عمل کرنے والے ہیں، اور کچھ اپنی جان پر کھلا ظلم کرنے والے۔

﴿114﴾ اور بیشک ہم نے موسیٰ اور ہارون پر بھی احسان کیا۔

﴿115﴾ اور ہم نے انہیں اور ان کی قوم کو ایک بڑے کرب سے نجات دی

﴿116﴾ اور ہم نے ان کی مدد کی جس کے نتیجے میں وہی غالب رہے۔

﴿117﴾ اور ہم نے ان دونوں کو ایسی کتاب عطا کی جو بالکل واضح تھی۔

﴿118﴾ اور ان دونوں کو سیدھے راستے کی ہدایت دی۔

﴿119﴾ اور جو لوگ ان کے بعد آئے، ان میں یہ روایت قائم کی۔

﴿120﴾ (کہ وہ یہ کہا کریں کہ) سلام ہو موسیٰ اور ہارون پر

﴿121﴾ یقینا ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں۔

﴿122﴾ بیشک وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔

﴿123﴾ اور الیاس بھی یقینا پیغمبروں میں سے تھے۔

﴿124﴾ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : کیا تم لوگ اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟

﴿125﴾ کیا تم بعل (نامی بت) کو پوجتے ہو، اور اس کو چھوڑ دیتے ہو جو سب سے بہتر تخلیق کرنے والا ہے ؟

﴿126﴾ اس اللہ کو جو تمہارا بھی پروردگار ہے، اور تمہارے باپ دادوں کا بھی جو پہلے گزر چکے ہیں ؟

﴿127﴾ پھر ہوا یہ کہ انہوں نے الیاس کو جھٹلایا، اس لیے وہ ضرور (عذاب میں) دھر لیے جائیں گے۔

﴿128﴾ البتہ اللہ کے برگزیدہ بندے (محفوظ رہیں گے)

﴿129﴾ اور جو لوگ ان کے بعد آئے ان میں ہم نے یہ روایت قائم کی۔

﴿130﴾ (کہ وہ یہ کہا کریں کہ) سلام ہو الیاسین پر

﴿131﴾ یقینا ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں۔

﴿132﴾ بیشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔

﴿133﴾ اور یقینا لوط بھی پیغمبروں میں سے تھے۔

﴿134﴾ جب ہم نے ان کو اور ان کے سارے گھر والوں کو (عذاب سے) نجات دی تھی۔

﴿135﴾ سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں شامل رہی۔

﴿136﴾ پھر ہم نے دوسرے لوگوں کو مل یا میٹ کردیا۔

﴿137﴾ اور (اے مکہ والو !) تم ان (کی بستیوں) پر سے گزرا کرتے ہو، (کبھی) صبح ہوتے۔

﴿138﴾ اور (کبھی) رات کے وقت کیا پھر بھی تمہیں عقل نہیں آتی ؟

﴿139﴾ اور یقینا یونس بھی پیغمبروں میں سے تھے۔

﴿140﴾ جب وہ بھاگ کر بھری ہوئی کشتی میں پہنچے۔

﴿141﴾ پھر وہ قرعہ اندازی میں شریک ہوئے، اور قرعے میں مغلوب ہوئے۔

﴿142﴾ پھر مچھلی نے انہیں نگل لیا، جبکہ وہ اپنے آپ کو ملامت کر رہے تھے۔

﴿143﴾ چنانچہ اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے۔

﴿144﴾ تو وہ اس دن تک اسی مچھلی کے پیٹ میں رہتے جس دن مردوں کو زندہ کیا جائے گا۔

﴿145﴾ پھر ہم نے انہیں ایسی حالت میں ایک کھلے میدان میں لاکر ڈال دیا کہ وہ بیمار تھے۔

﴿146﴾ اور ان کے اوپر ایک بیل دار درخت اگا دیا۔

﴿147﴾ اور ہم نے انہیں ایک لاکھ، بلکہ اس سے بھی زیادہ لوگوں کے پاس پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔

﴿148﴾ پھر وہ ایمان لے آئے تھے اس لیے ہم نے انہیں ایک زمانے تک زندگی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا۔

﴿149﴾ اب ان (مکہ کے مشرکوں) سے پوچھو کہ : کیا (اے پیغمبر) تمہارے رب کے حصے میں تو بیٹیاں آئی ہیں اور خود ان کے حصے میں بیٹے ؟

﴿150﴾ یا پھر جب ہم نے فرشتوں کو عورت بنایا تھا تو کیا یہ دیکھ رہے تھے ؟

﴿151﴾ یاد رکھو ! یہ اپنی من گھڑت بات کی وجہ سے کہتے ہیں۔

﴿152﴾ کہ اللہ کے کوئی اولاد ہے، اور یہ لوگ یقینی طور پر جھوٹے ہیں۔

﴿153﴾ کیا اللہ نے بیٹوں کے بجائے بیٹیاں پسند کی ہیں ؟

﴿154﴾ تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ تم کیسا انصاف کرتے ہو ؟

﴿155﴾ بھلا کیا تم اتنا بھی دھیان نہیں دیتے ؟

﴿156﴾ یا اگر تمہارے پاس کوئی واضح دلیل ہے۔

﴿157﴾ تو لاؤ اپنی وہ کتاب اگر تم سچے ہو۔

﴿158﴾ اور انہوں نے اللہ اور جنات کے درمیان بھی نسبی رشتہ داری بنا رکھی ہے۔ حالانکہ خود جنات کو یہ بات معلوم ہے کہ یہ لوگ مجرم بن کر پیش ہوں گے۔

﴿159﴾ (کیونکہ) جو باتیں یہ بناتے ہیں، اللہ ان سب سے پاک ہے۔

﴿160﴾ البتہ اللہ کے برگزیدہ بندے (محفوظ رہیں گے)

﴿161﴾ کیونکہ تم اور جن جن کی تم عبات کرتے ہو۔

﴿162﴾ وہ کسی کو اللہ کے بارے میں گمراہ نہیں کرسکتے۔

﴿163﴾ سوائے ایسے شخص کے جو دوزخ میں جلنے والا ہو۔

﴿164﴾ اور (فرشتے تو یہ کہتے ہیں کہ) ہم میں سے ہر ایک کا ایک معین مقام ہے۔

﴿165﴾ اور ہم تو (اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں) صف باندھے رہتے ہیں۔

﴿166﴾ اور ہم تو اللہ کی پاکی بیان کرتے رہتے ہیں۔

﴿167﴾ اور یہ (کافر) لوگ پہلے تو یہ کہا کرتے تھے۔

﴿168﴾ کہ اگر ہمارے پاس پچھلے لوگوں کی طرح کوئی نصیحت کی کتاب ہوتی۔

﴿169﴾ تو ہم بھی ضرور اللہ کے برگزیدہ بندوں میں شامل ہوتے۔

﴿170﴾ پھر بھی انہوں نے کفر کی روش اپنائی ہے۔ اس لیے انہیں سب پتہ چلا جائے گا۔

﴿171﴾ اور ہم پہلے ہی اپنے پیغمبر بندوں کے بارے میں یہ بات طے کرچکے ہیں۔

﴿172﴾ کہ یقینی طور پر ان کی مدد کی جائے گی۔

﴿173﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ ہمارے لشکر کے لوگ ہی غالب رہتے ہیں۔

﴿174﴾ لہذا (اے پیغمبر) تم کچھ وقت تک ان لوگوں سے بےپرواہ ہوجاؤ۔

﴿175﴾ اور انہیں دیکھتے رہو، عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے۔

﴿176﴾ بھلا کیا یہ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں ؟

﴿177﴾ سو جب وہ ان کے صحن میں آ اترے گا تو جن لوگوں کو خبردار کیا جاچکا تھا، ان کی وہ صبح بہت بری صبح ہوگی۔

﴿178﴾ اور تم کچھ وقت تک ان لوگوں سے بےپرواہ ہوجاؤ۔

﴿179﴾ اور دیکھتے رہو عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے۔

﴿180﴾ تمہارا پروردگار عزت کا مالک، ان سب باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بناتے ہیں۔

﴿181﴾ اور سلام ہو پیغمبروں پر۔

﴿182﴾ اور تمام تر تعریف اللہ کی ہے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔

ص

Surah 38

﴿1﴾ ص۔ قسم ہے نصیحت بھرے قرآن کی۔

﴿2﴾ کہ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، وہ کسی اور وجہ سے نہیں، بلکہ اس لیے اپنایا ہے کہ وہ بڑائی کے گھمنڈ اور ہٹ دھرمی میں مبتلا ہیں۔

﴿3﴾ اور ان سے پہلے ہم نے کتنی قوموں کو ہلاک کیا، تو انہوں نے اس وقت آوازیں دیں جب چھٹکارے کا وقت رہا ہی نہیں تھا۔

﴿4﴾ اور ان (قریش کے) لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا ہے کہ ایک خبردار کرنے والا انہی میں سے آگیا۔ اور ان کافروں نے یہ کہہ دیا کہ : وہ جھوٹا جادوگر ہے۔

﴿5﴾ کیا اس نے سارے معبودوں کو ایک ہی معبود میں تبدیل کردیا ہے ؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔

﴿6﴾ اور ان میں کے سردار لوگ یہ کہہ کر چلتے بنے کہ : چلو اور اپنے خداؤں (کی عبادت) پر ڈٹے رہو یہ بات تو ایسی ہے کہ اس کے پیچھے کچھ اور ہی ارادے ہیں۔

﴿7﴾ ہم نے تو یہ بات پچھلے دین میں کبھی نہیں سنی۔ اور کچھ نہیں، یہ من گھڑت بات ہے۔

﴿8﴾ کیا یہ نصیحت کی بات ہم سب کو چھوڑ کر اسی شخص پر نازل کی گئی ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ میری نصیحت کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں، بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔

﴿9﴾ تمہارا رب جو بڑا داتا، بڑا صاحب اقتدار ہے، کیا اس کی رحمت کے سارے خزانے انہی کے پاس ہیں ؟

﴿10﴾ یا پھر آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان ہر چیز کی بادشاہت ان کے قبضے میں ہے ؟ پھر تو انہیں چاہیے کہ رسیاں تان کر اوپر چڑھ جائیں۔

﴿11﴾ (ان کی حقیقت تو یہ ہے کہ) یہ مخالف گروہوں کا ایک لشکر سا ہے جو یہیں پر شکست کھاجائے گا۔

﴿12﴾ ان سے پہلے نوح کی قوم، قوم عاد اور میخوں والے فرعون نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا تھا۔

﴿13﴾ اور قوم ثمود، اور لوط کی قوم اور ایکہ والوں نے بھی۔ وہ تھے مخالف گروہ کے لوگ۔

﴿14﴾ ان میں سے کوئی ایسا نہیں تھا جس نے پیغمبروں کو نہ جھٹلایا ہو، اس لیے میرا عذاب بجا طور پر نازل ہو کر رہا۔

﴿15﴾ اور (کہ) یہ لوگ (بھی) بس ایک ایسی چنگھاڑ کا انتظار کر رہے ہیں جس میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا۔

﴿16﴾ اور کہتے ہیں کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہمار احصہ ہمیں روز حساب سے پہلے ہی جلدی دیدے۔

﴿17﴾ (اے پیغمبر) یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو، اور ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کو یاد کرو جو بڑے طاقتور تھے۔ وہ بیشک اللہ سے بہت لو لگائے ہوئے تھے۔

﴿18﴾ ہم نے پہاڑوں کو اس کام پر لگا دیا تھا کہ وہ شام کے وقت اور سورج کے نکلتے وقت ان کے ساتھ تسبیح کیا کریں۔

﴿19﴾ اور پرندوں کو بھی، جنہیں اکٹھا کرلیا جاتا تھا۔ یہ سب ان کے ساتھ ملکر اللہ کا خوب ذکر کرتے تھے۔

﴿20﴾ اور ہم نے ان کی سلطنت کو استحکام بخشا تھا، اور انہیں دانائی اور فیصلہ کن گفتگو کا سلیقہ عطا کیا تھا۔

﴿21﴾ اور کیا تمہیں ان مقدمہ والوں کی خبر پہنچی ہے جب وہ دیوار پر چڑھ کر عبادت گاہ میں گھس آئے تھے ؟

﴿22﴾ جب وہ داؤد کے پاس پہنچے تو داؤد ان سے گھبرا گئے۔ انہوں نے کہا ڈریے نہیں، ہم ایک جھگڑے کے دو فریق ہیں، ہم میں سے ایک نے دوسرے کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ اب آپ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیجیے اور زیادتی نہ کیجیے، اور ہمیں ٹھیک ٹھیک راستہ بتا دیجیے۔

﴿23﴾ یہ میرا بھائی ہے، اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں، اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے، اب یہ کہتا ہے کہ وہ بھی میرے حوالے کرو، اور اس نے زور بیان سے مجھے دبا لیا ہے۔

﴿24﴾ داؤد نے کہا : اس نے اپنی دنبیوں میں شامل کرنے کے لیے تمہاری دنبی کا جو مطالبہ کیا ہے اس میں یقینا تم پر ظلم کیا ہے۔ اور بہت سے لوگ جن کے درمیان شرکت ہوتی ہے وہ ایک دوسرے کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں، سوائے ان کے جو ایمان لائے ہیں، اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اور وہ بہت کم ہیں۔ اور داؤد کو خیال آیا کہ ہم نے دراصل ان کی آزمائش کی ہے، اس لیے انہوں نے اپنے پروردگار سے معافی مانگی، جھک کر سجدے میں گرگئے اور اللہ سے لو لگائی۔

﴿25﴾ چنانچہ ہم نے اس معاملہ میں انہیں معافی دے دی۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ان کو ہمارے پاس خاص تقرب حاصل ہے اور بہترین ٹھکانا۔

﴿26﴾ اے داؤد ! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے، لہذا تم لوگوں کے درمیان برحق فیصلے کرو، اور نفسانی خواہش کے پیچھے نہ چلو، ورنہ وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گی۔ یقین رکھو کہ جو لوگ اللہ کے راستے سے بھٹک جاتے ہیں، ان کے لیے سخت عذاب ہے، کیونکہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا تھا۔

﴿27﴾ اور ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان جو چیزیں ہیں ان کو فضول ہی پیدا نہیں کردیا۔ یہ تو ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر اختیار کرلیا ہے، چنانچہ ان کافروں کے لیے دوزخ کی شکل میں بڑی تباہی ہے۔

﴿28﴾ جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں کیا ہم ان کو ایسے لوگوں کے برابر کردیں جو زمین میں فساد مچاتے ہیں ؟ یا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں کے برابر کردیں گے ؟

﴿29﴾ (اے پیغمبر) یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تم پر اس لیے اتاری ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور و فکر کریں، اور تاکہ عقل رکھنے والے نصیحت حاصل کریں۔

﴿30﴾ اور ہم نے داؤد کو سلیمان (جیسا بیٹا) عطا کیا، وہ بہترین بندے تھے، واقعی وہ اللہ سے خوب لو لگائے ہوئے تھے۔

﴿31﴾ (وہ ایک یادگار وقت تھا) جب ان کے سامنے شام کے وقت اچھی نسل کے عمدہ گھوڑے پیش کیے گئے۔

﴿32﴾ تو انہوں نے کہا : میں نے اس دولت کی محبت اپنے پروردگار کی یاد ہی کی وجہ سے اختیار کی ہے۔ یہاں تک کہ وہ اوٹ میں چھپ گئے۔

﴿33﴾ (اس پر انہوں نے کہا) ان کو میرے پاس واپس لے آؤ، چنانچہ وہ (ان کی) پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔

﴿34﴾ اور یہ بھی واقعہ ہے کہ ہم نے سلیمان کی ایک آزمائش کی تھی اور ان کی کرسی پر ایک دھڑ لا کر ڈال دیا تھا۔ پھر انہوں نے (اللہ سے) رجوع کیا۔

﴿35﴾ کہنے لگے کہ : میرے پروردگار ! میری بخشش فرما دے، اور مجھے ایسی سلطنت بخش دے جو میرے بعد کسی اور کے لیے مناسب نہ ہو۔ بیشک تیری، اور صرف تیری ہی ذات وہ ہے جو اتنی سخی داتا ہے۔

﴿36﴾ چنانچہ ہم نے ہوا کو ان کے قابو میں کردیا جو ان کے حکم سے جہاں وہ چاہتے ہموار ہو کر چلا کرتی تھی۔

﴿37﴾ اور شریر جنات بھی ان کے قابو میں دے دیے تھے، جن میں ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور شامل تھے۔

﴿38﴾ اور کچھ وہ جنات جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔

﴿39﴾ (اور ان سے کہا تھا کہ) یہ ہمارا عطیہ ہے، اب تمہیں اختیار ہے کہ احسان کر کے کسی کو کچھ دو ، یا اپنے پاس رکھو، تم پر کسی حساب کی ذمہ داری نہیں ہے۔

﴿40﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ ان کو ہمارے پاس خاص تقرب حاصل ہے، اور بہترین ٹھکانا۔

﴿41﴾ اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو، جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا تھا کہ : شیطان مجھے دکھ اور آزار لگا گیا ہے۔

﴿42﴾ (ہم نے ان سے کہا) اپنا پاؤں زمین پر مارو، لو ! یہ ٹھنڈا پانی ہے نہانے کے لیے بھی اور پینے کے لیے بھی۔

﴿43﴾ اور (اس طرح) ہم نے انہیں ان کے گھر والے بھی عطا کردیے۔ اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی۔ تاکہ ان پر ہماری رحمت ہو، اور عقل والوں کے لیے ایک یادگار نصیحت۔

﴿44﴾ اور (ہم نے ان سے یہ بھی کہا کہ) اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک مٹھا لو، اور اس سے مار دو ، اور اپنی قسم مت توڑو۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انہیں بڑا صبر کرنے والا پایا، وہ بہترین بندے تھے، واقعہ وہ اللہ سے خوب لو لگائے ہوئے تھے۔

﴿45﴾ اور ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کو یاد کرو جو (نیک عمل کرنے والے) ہاتھ اور (دیکھنے والی) آنکھیں رکھتے تھے۔

﴿46﴾ ہم نے انہیں ایک خاص وصف کے لیے چن لیا تھا، جو (آخرت کے) حقیقی گھر کی یاد تھی۔

﴿47﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ ہمارے نزدیک وہ چنے ہوئے بہترین لوگوں میں سے تھے۔

﴿48﴾ اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو یاد کرو۔ اور یہ سب بہترین لوگوں میں سے تھے۔

﴿49﴾ یہ سب کچھ ایک نصیحت کا پیغام ہے، اور یقین جانو کہ جو لوگ تقوی اختیار کرتے ہیں، آخری ٹھکانے کی بہترین انہی کے حصے میں آئے گی۔

﴿50﴾ یعنی ہمیشہ بسے رہنے کے لیے جنتیں جن کے دروازے ان کے لیے پوری طرح کھلے ہوں گے۔

﴿51﴾ جہاں وہ تکیہ لگائے ہوئے بہت سے میوے اور مشروبات منگوا رہے ہوں گے۔

﴿52﴾ اور ان کے پاس وہ ہم عمر خواتین ہوں گی جن کی نگاہیں (اپنے شوہروں پر) مرکوز ہوں گی۔

﴿53﴾ یہ ہے وہ (نعمتوں سے بھر پور زندگی) جس کا تم سے ر وز حساب میں وعدہ کیا گیا ہے۔

﴿54﴾ بیشک یہ ہماری عطا ہے جو کبھی ختم ہونے والی نہیں۔

﴿55﴾ ایک طرف تو یہ ہے اور (دوسری طرف) جن لوگوں نے سرکشی اختیار کی ہے، یقین جانو، ان کا آخری ٹھکانا بہت برا ہوگا۔

﴿56﴾ یعنی دوزخ جس میں وہ داخل ہوں گے۔ پھر وہ ان کا بدترین بستر بنے گی۔

﴿57﴾ یہ ہے کھولتا ہوا پانی اور پیپ، اب وہ اس کا مزہ چکھیں۔

﴿58﴾ اور ان طرح طرح کی چیزوں کا جو اسی جیسی (تکلیف دہ) ہوں گی۔

﴿59﴾ (جب وہ اپنے پیروکاروں کو آتا دیکھیں گے تو ایک دوسرے سے کہیں گے) یہ ایک اور لشکر ہے جو تمہارے ساتھ گھسا چلا آرہا ہے، پھٹکار ہو ان پر، یہ سب آگ میں جلنے والے ہیں۔

﴿60﴾ وہ (آنے والے) کہیں گے : نہیں، بلکہ پھٹکار تم پر ہو، تم ہی تو یہ مصیبت ہمارے آگے لائے ہو، اب تو یہی بدترین جگہ ہے جس میں رہنا ہوگا۔

﴿61﴾ (پھر وہ اللہ تعالیٰ سے کہیں گے کہ) اے ہمارے پروردگار ! جو شخص بھی یہ مصیبت ہمارے آگے لایا ہے، اسے دوزخ میں دوگنا عذاب دیجیے۔

﴿62﴾ اور وہ (ایک دوسرے سے) کہیں گے : کیا بات ہے کہ ہمیں وہ لوگ (یہاں دوزخ میں) نظر نہیں آرہے جنہیں ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھے ؟

﴿63﴾ کیا ہم نے ان کا (ناحق) مذاق اڑایا تھا، یا انہیں دیکھنے سے نگاہوں کی غلطی لگ رہی ہے ؟

﴿64﴾ یقینا دوزخیوں کے آپس میں جھگڑنے کی یہ ساری باتیں بالکل سچی ہیں جو ہو کر رہیں گی۔

﴿65﴾ (اے پیغمبر) کہہ دو کہ : میں تو ایک خبردار کرنے والا ہوں، اور اس اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جو ایک ہے، جو سب پر غالب ہے۔

﴿66﴾ جو تمام آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان ہر چیز کا مالک ہے، جس کا اقتدار سب پر چھایا ہوا ہے، جو بہت بخشنے والا ہے۔

﴿67﴾ کہہ دو کہ : یہ ایک عظیم حقیقت کا اظہار ہے۔

﴿68﴾ جس سے تم منہ موڑے ہوئے ہو۔

﴿69﴾ مجھے عالم بالا کی باتوں کا کچھ علم نہیں تھا جب وہ (فرشتے) سوال و جواب کر رہے تھے۔

﴿70﴾ میرے پاس وحی صرف اس لیے آتی ہے کہ میں صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں۔

﴿71﴾ یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں گارے سے ایک انسان پیدا کرنے والا ہوں۔

﴿72﴾ چنانچہ جب میں اسے پوری طرح بنا دوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔

﴿73﴾ پھر ہوا یہ کہ سارے کے سارے فرشتوں نے تو سجدہ کیا۔

﴿74﴾ البتہ ابلیس نے نہ کیا، اس نے تکبر سے کام لیا اور کافروں میں شامل ہوگیا۔

﴿75﴾ اللہ نے کہا : ابلیس ! جس کو میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا، اس کو سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے روکا ہے ؟ کیا تو نے تکبر سے کام لیا ہے، یا تو کوئی بہت اونچی ہستیوں میں سے ہے ؟

﴿76﴾ کہنے لگا : میں اس (آدم) سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو گارے سے پیدا کیا ہے۔

﴿77﴾ اللہ نے فرمایا کہ اچھا تو نکل جا یہاں سے۔ کیونکہ تو مردود ہے۔

﴿78﴾ اور یقین جان قیامت کے دن تک تجھ پر میری پھٹکار رہے گی۔

﴿79﴾ اس نے کہا : میرے پروردگار ! پھر تو مجھے اس دن تک کے لیے (جینے کی) مہلت دیدے جس دن لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔

﴿80﴾ اللہ نے فرمایا : چل تجھے ان لوگوں میں شامل کرلیا گیا ہے جنہیں مہلت دی جائے گی۔

﴿81﴾ (لیکن) ایک متعین وقت کے دن تک۔

﴿82﴾ کہنے لگا : بس تو میں تیری عزت کی قسم کھاتا ہوں کہ میں ان سب کو بہکاؤں گا۔

﴿83﴾ سوائے تیرے برگزیدہ بندوں کے۔

﴿84﴾ اللہ نے فرمایا : تو پھر سچی بات یہ ہے اور میں سچی بات ہی کہا کرتا ہوں۔

﴿85﴾ کہ میں تجھ سے اور ان سب سے جو ان میں سے تیرے پیچھے چلیں گے، جہنم کو بھر کر رہوں گا۔

﴿86﴾ (اے پیغمبر ! لوگوں سے) کہہ دو کہ : میں تم سے اس (اسلام کی دعوت) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا، اور نہ میں بناوٹی لوگوں میں سے ہوں۔

﴿87﴾ یہ تو دنیا جہان کے لوگوں کے لیے بس ایک نصیحت ہے۔

﴿88﴾ اور تھوڑے سے وقت کے بعد تمہیں اس کا حال معلوم ہوجائے گا۔

الزمر

Surah 39

﴿1﴾ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی جارہی ہے، جو بڑے اقتدار کا مالک ہے، بہت حکمت والا ہے۔

﴿2﴾ (اے پیغمبر) بیشک یہ کتاب ہم نے تم پر برحق نازل کی ہے، اسلیے اللہ کی اس طرح عبادت کرو کہ بندگی خالص اسی کے لیے ہو۔

﴿3﴾ یاد رکھو کہ خالص بندگی اللہ ہی کا حق ہے۔ اور جن لوگوں نے اس کے بجائے دوسرے رکھوالے بنا لیے ہیں۔ (یہ کہہ کر کہ) ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں۔ ان کے درمیان اللہ ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ یقین رکھو کہ اللہ کسی ایسے شخص کو راستے پر نہیں لاتا جو جھوٹا ہو، کفر پر جما ہوا ہو۔

﴿4﴾ اگر اللہ یہ چاہتا کہ کسی کو اولاد بنائے تو وہ اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا منتخب کرلیتا، (لیکن) وہ پاک ہے (اس بات سے کہ اس کی کوئی اولاد ہو) وہ تو اللہ ہے، ایک، اور زبردست اقتدار کا مالک۔

﴿5﴾ اس نے سارے آسمان اور زمین برحق پیدا کیے ہیں۔ وہ رات کو دن پر لپیٹ دیتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹ دیتا، اور اس نے سورج اور چاند کو کام پر لگا یا ہوا ہے۔ ہر ایک کسی معین مدت تک کے لیے رواں دواں ہے۔ یاد رکھو وہ بڑے اقتدار کا مالک، بہت بخشنے والا ہے۔

﴿6﴾ اس نے تم سب کو ایک شخص سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑ بنایا، اور تمہارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ جوڑے پیدا کیے وہ تمہاری تخلیق تمہاری ماؤں کے پیٹ میں اس طرح کرتا ہے کہ تین اندھیریوں کے درمیان تم بناوٹ کے ایک مرحلے کے بعد دوسرے مرحلے سے گزرتے ہو۔ وہ ہے اللہ جو تمہارا پروردگار ہے۔ ساری بادشاہی اسی کی ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ پھر بھی تمہارا منہ آخر کوئی کہاں سے موڑ دیتا ہے ؟

﴿7﴾ اگر تم کفر اختیار کرو گے تو یقین رکھو کہ اللہ تم سے بےنیاز ہے، اور وہ اپنے بندوں کے لیے کفر پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکر کرو گے تو وہ اسے تمہارے لیے پسند کرے گا، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، پھر تم سب کو اپنے پروردگار ہی کے پاس لوٹ کر جانا ہے، اس وقت وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا کچھ کیا کرتے تھے۔ یقینا وہ دلوں کی باتیں بھی خوب جانتا ہے۔

﴿8﴾ اور جب انسان کو کوئی تکلیف چھو جاتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کو اسی سے لو لگا کر پکارتا ہے، پھر جب وہ انسان کو اپنی طرف سے کوئی نعمت بخش دیتا ہے تو وہ اس (تکلیف) کو بھول جاتا ہے جس کے لیے پہلے اللہ کو پکار رہا تھا، اور اللہ کے لیے شریک گھڑ لیتا ہے، جس کے نتیجے میں دوسروں کو بھی اللہ کے راستے سے بھٹکاتا ہے۔ کہہ دو کہ : کچھ دن اپنے کفر کے مزے اڑالے، یقینا تو دوزخ والوں میں شامل ہے۔

﴿9﴾ بھلا (کیا ایسا شخص اس کے برابر ہوسکتا ہے) جو رات کی گھڑیوں میں عبادت کرتا ہے، کبھی سجدے میں، کبھی قیام میں، آخرت سے ڈرتا ہے، اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امیدوار ہے ؟ کہو کہ : کیا وہ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے سب برابر ہیں ؟ (مگر) نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔

﴿10﴾ کہہ دو کہ : اے میرے ایمان والے بندو ! اپنے پروردگار کا خوف دل میں رکھو۔ بھلائی انہی کی ہے جنہوں نے اس دنیا میں بھلائی کی ہے، اور اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ جو لوگ صبر سے کام لیتے ہیں، ان کا ثواب انہیں بےحساب دیا جائے گا۔

﴿11﴾ کہہ دو کہ : مجھے تو حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی اس طرح عبادت کروں کہ میری بندگی خالص اسی کے لیے ہو۔

﴿12﴾ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلا فرمانبردار میں بنوں۔

﴿13﴾ کہہ دو کہ : اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک زبردست دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

﴿14﴾ کہہ دو کہ : میں تو اللہ کی عبادت اس طرح کرتا ہوں کہ میں نے اپنی بندگی صرف اسی کے لیے خالص کرلی ہے۔

﴿15﴾ اب تم اسے چھوڑ کر جس کی چاہو، عبادت کرو۔ کہہ دو کہ : گھاٹے کا سودا کرنے والے تو وہ ہیں جو قیامت کے دن اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں سب کو ہرا بیٹھیں گے۔ یاد رکھو کہ کھلا ہوا گھاٹا یہی ہے۔

﴿16﴾ ایسے لوگوں کے لیے ان کے اوپر بھی آگ کے بادل ہیں اور ان کے نیچے بھی ویسے ہی بادل۔ یہ وہی چیز ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ لہذا اے میرے بندو۔ میرا خوف دل میں رکھو۔

﴿17﴾ اور جن لوگوں نے اس بات سے پرہیز کیا ہے کہ وہ طاغوت کی عبادت کرنے لگیں اور انہوں نے اللہ سے لوگ لگائی ہے خوشی کی خبر انہی کے لیے، لہذا میرے ان بندوں کو خوشی کی خبر سنا دو ۔

﴿18﴾ جو بات کو غور سے سنتے ہیں تو اس میں جو بہترین ہوتی ہے اس کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے اور یہی ہیں جو عقل والے ہیں۔

﴿19﴾ بھلا جس شخص پر عذاب کی بات طے ہوچکی، تو کیا تم اسے بچا لو گے جو آگ کے اندر پہنچ چکا ہے ؟

﴿20﴾ البتہ جنہوں نے اپنے پروردگار کا خوف دل میں رکھا ہے ان کے لیے اوپر تلے بنی ہوئی اونچی اونچی عمارتیں ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ کبھی وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔

﴿21﴾ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اسے زمین کے سوتوں میں پرو دیا ؟ پھر وہ اس پانی سے ایسی کھیتیاں وجود میں لاتا ہے جن کے رنگ مختلف ہیں، پھر وہ کھیتیاں سو کھ جاتی ہیں تو تم انہیں دیکھتے ہو کہ پیلی پڑگئی ہیں، پھر وہ انہیں چورا چورا کردیتا ہے۔ یقینا ان باتوں میں ان لوگوں کے لیے بڑا سبق ہے جو عقل رکھتے ہیں۔

﴿22﴾ بھلا کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنے پروردگار کی عطا کی ہوئی روشنی میں آچکا ہے، (سنگ دلوں کے برابر ہوسکتا ہے ؟) ہاں، بربادی ان کی ہے جن کے دل اللہ کے ذکر سے سخت ہوچکے ہیں۔ یہ لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔

﴿23﴾ اللہ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے، ایک ایسی کتاب جس کے مضامین ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں، جس کی باتیں بار بار دہرائی گئی ہیں۔ وہ لوگ جن کے دلوں میں اپنے پروردگار کا رعب ہے ان کی کھالیں اس سے کانپ اٹھتی ہیں، پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کی یاد کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ذریعے وہ جس کو چاہتا ہے راہ راست پر لے آتا ہے، اور جسے اللہ راستے سے بھٹکا دے، اسے کوئی راستے پر لانے والا نہیں۔

﴿24﴾ بھلا (اس شخص کا کیسا برا حال ہوگا) جو قیامت کے دن اپنے چہرے ہی سے بدترین عذاب کو روکنا چاہے گا ؟ اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ : چکھو مزہ اس کمائی کا جو تم نے کر رکھی تھی۔

﴿25﴾ جو لوگ ان سے پہلے تھے، انہوں نے بھی (پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا، جس کے نتیجے میں ان پر عذاب ایسی جگہ سے آیا جس کی طرف ان کا گمان بھی نہیں جاسکتا تھا۔

﴿26﴾ چنانچہ اللہ نے ان کو اسی دنیوی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھایا، اور آخرت کا عذاب تو اور بھی بڑا ہے، کاش یہ لوگ جانتے۔

﴿27﴾ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اس قرآن میں لوگوں کی خاطر ہر قسم کی مثالیں بیان کی ہیں، تاکہ لوگ سبق حاصل کریں۔

﴿28﴾ یہ عربی قرآن جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں، تاکہ لوگ تقوی اختیار کریں۔

﴿29﴾ اللہ نے ایک مثال یہ دی ہے کہ ایک (غلام) شخص ہے جس کی ملکیت میں کئی لوگ شریک ہیں جن کے درمیان آپس میں کھینچ تان بھی ہے اور دوسرا (غلام) شخص وہ ہے جو پورے کا پورا ایک ہی آدمی کی ملکیت ہے۔ کیا ان دونوں کی حالت ایسی جیسی ہوسکتی ہے ؟ الحمدللہ (اس مثال سے بات بالکل واضح ہوگئی) لیکن ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں۔

﴿30﴾ (اے پیغمبر) موت تمہیں بھی آنی ہے اور موت انہیں بھی آنی ہے۔

﴿31﴾ پھر تم سب قیامت کے دن اپنے پروردگار کے پاس اپنا مقدمہ پیش کرو گے۔

﴿32﴾ اب بتاؤ کہ اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے، اور جب سچی بات اس کے پاس آئے تو وہ اس کو جھٹلا دے ؟ کیا جہنم میں ایسے کافروں کا ٹھکانا نہیں ہوگا ؟

﴿33﴾ اور جو لوگ سچی بات لے کر آئیں اور خود بھی اسے سچ مانیں وہ ہیں جو متقی ہیں

﴿34﴾ ان کو اپنے پروردگار کے پاس ہر وہ چیز ملے گی جو وہ چاہیں گے۔ یہ ہے نیک لوگوں کا بدلہ

﴿35﴾ تاکہ انہوں نے جو بدترین کام کئے تھے اللہ ان کا کفارہ کردے، اور جو بہترین کام کرتے رہے تھے ان کا ثواب انہیں عطا فرمائے۔

﴿36﴾ (اے پیغمبر !) کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے ؟ اور یہ لوگ تمہیں اس کے سوا دوسروں سے ڈراتے ہیں، اور جسے اللہ راستے سے بھٹکا دے، اسے کوئی راستے پر لانے والا نہیں

﴿37﴾ اور جسے اللہ راہ راست پر لے آئے اسے کوئی راستے سے بھٹکانے والا نہیں۔ کیا اللہ زبردست، انتقام لینے والا نہیں ؟

﴿38﴾ اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو وہ ضرور یہی کہیں گے کہ اللہ نے (ان سے) کہو کہ : ” ذرا مجھے یہ بتاؤ کہ تم اللہ کو چھوڑ کر جن (بتوں) کو پکارتے ہو، اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانے کا ارادہ کرلے تو کیا یہ اس کے پہنچائے ہوئے نقصان کو دور کرسکتے ہیں ؟ یا اگر اللہ مجھ پر مہربانی فرمانا چاہے تو کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکتے ہیں ؟ “ کہو کہ ” میرے لیے اللہ ہی کافی ہے۔ بھروسہ رکھنے والے اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ “

﴿39﴾ کہہ دو کہ : ” اے میری قوم کے لوگو ! تم اپنے طریقے پر عمل کیے جاؤ، میں (اپنے طریقے پر) عمل کر رہا ہوں، پھر عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا

﴿40﴾ کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر کے رکھ دے گا، اور کس پر وہ عذاب نازل ہوتا ہے جو ہمیشہ جم کر رہے گا۔ “

﴿41﴾ (اے پیغمبر !) ہم نے لوگوں کے فائدے کے لیے تم پر یہ کتاب برحق نازل کی ہے۔ اب جو شخص راہ راست پر آجائے گا۔ وہ اپنی ہی بھلائی کے لیے آئے گا، اور جو گمراہی اختیار کرے گا، وہ اپنی گمراہی سے اپنا ہی نقصان کرے گا، اور تم اس کے ذمہ دار نہیں ہو۔

﴿42﴾ اللہ تمام روح کو ان کی موت کے وقت قبض کرلیتا ہے، اور جن کو ابھی موت نہیں آئی ہوتی، ان کو بھی ان کی نیند کی حالت میں (قبض کرلیتا ہے،) پھر جن کے بارے میں اس نے موت کا فیصلہ کرلیا۔ انہیں اپنے پاس روک لیتا ہے، اور دوسری روحوں کو ایک معین وقت تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے یقینا اس بات میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو غور وفکر سے کام لیتے ہیں۔

﴿43﴾ بھلا کیا ان لوگوں نے اللہ (کی اجازت) کے بغیر کچھ سفارشی گھڑ رکھے ہیں ؟ (ان سے) کہو کہ : چاہے یہ نہ کوئی اختیار رکھتے ہوں، نہ کچھ سمجھتے ہوں (پھر بھی تم انہیں سفارشی مانتے رہو گے ؟)

﴿44﴾ کہو کہ : ” سفارش تو ساری کی ساری اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ اسی کے قبضے میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے، پھر اسی کی طرف تمہیں لوٹایا جائے گا۔

﴿45﴾ اور جب کبھی تنہا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل بیزار ہوجاتے ہیں اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو یہ لوگ خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔

﴿46﴾ کہو :” اے اللہ ! اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے، ہر غائب و حاضر کے جاننے والے ! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں “۔

﴿47﴾ اور جن لوگوں نے ظلم کا ارتکاب کیا ہے، اگر ان کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے، اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی، تو قیامت کے دن بد ترین عذاب سے بچنے کے لیے وہ سب فدیہ کے طور پر دینے لگیں گے، اور اللہ کی طرف سے وہ کچھ ان کے سامنے آجائے گا جس کا انہیں گمان بھی نہیں تھا۔

﴿48﴾ انہوں نے جو کمائی کی تھی، اس کی برائیاں ان کے سامنے ظاہر ہوجائیں گی، اور جن باتوں کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے، وہ انہیں چاروں طرف سے گھیر لیں گی۔

﴿49﴾ پھر انسان (کا حال یہ ہے کہ جب اس) کو کوئی تکلیف چھو جاتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے، اس کے بعد جب ہم اسے اپنی طرف سے کسی نعمت سے نوازتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ : ” یہ تو مجھے (اپنے) ہنر کی وجہ سے ملی ہے “۔ نہیں ! بلکہ یہ آزمائش ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے

﴿50﴾ یہی بات ان سے پہلے (کچھ) لوگوں نے بھی کہی تھی نتیجہ یہ ہوا کہ جو کچھ وہ کماتے تھے، وہ ان کے کام نہیں آیا۔

﴿51﴾ اور انہوں نے جو کمائی کی تھی، اس کی برائیاں انہی پر آپڑیں، اور ان (عرب کے) لوگوں میں جنہوں نے ظلم کا ارتکاب کیا ہے، ان کی کمائی کی برائیاں بھی عنقریب ان پر آپڑیں گی، اور یہ (اللہ) کو عاجز نہیں کرسکتے۔

﴿52﴾ اور کیا انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے، رزق میں وسعت کردیتا ہے، اور وہی تنگی بھی کردیتا ہے ؟ یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔

﴿53﴾ کہہ دو کہ : ” اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر رکھی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ یقین جانو اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے۔ یقینا وہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔

﴿54﴾ اور تم اپنے پروردگار سے لو لگاؤ، اور اس کے فرماں بردار بن جاؤ قبل اس کے کہ تمہارے پاس عذاب آپہنچے، پھر تمہاری مدد نہیں کی جائے گی۔

﴿55﴾ اور تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس جو بہترین باتیں نازل کی گئی ہیں، ان کی پیروی کرو، قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے، اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے۔

﴿56﴾ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی شخص کو یہ کہنا پڑے کہ : ” ہائے افسوس میری اس کوتاہی پر جو میں نے اللہ کے معاملے میں برتی ! اور سی بات یہ کہ میں تو (اللہ تعالیٰ کے احکام کا) مذاق اڑانے والوں میں شامل ہوگیا تھا۔ “

﴿57﴾ یا کوئی یہ کہے کہ : اگر مجھے اللہ ہدایت دیتا تو میں بھی متقی لوگوں میں شامل ہوتا۔

﴿58﴾ یا جب عذاب آنکھوں سے دیکھ لے تو یہ کہے کہ : ” کاش مجھے ایک مرتبہ واپس جانے کا موقع مل جائے تو میں نیک لوگوں میں شامل ہوجاؤں ! “

﴿59﴾ (تجھے ہدایت) کیوں نہیں (دی گئی ؟) میری آیتیں تیرے پاس آچکی تھیں، پھر تو نے انہیں جھٹلا دیا، اور بڑائی کے گھمنڈ میں پڑگیا، اور کافروں میں شامل رہا۔

﴿60﴾ اور قیامت کے دن تم دیکھو گے کہ جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے، ان کے چہرے سیاہ پڑے ہوئے ہیں۔ کیا جہنم میں ایسے متکبروں کا ٹھکانا نہیں ہوگا ؟

﴿61﴾ اور جن لوگوں نے تقوی اختیار کیا ہے، اللہ ان کو نجات دے کر ان کی مراد کو پہنچا دے گا، انہیں کوئی تکلیف چھوے گی بھی نہیں، اور نہ انہیں کسی بات کا غم ہوگا

﴿62﴾ اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے، اور وہی ہر چیز کا رکھوالا ہے

﴿63﴾ سارے آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں، اور جنہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا ہے گھاٹے میں رہنے والے وہی ہیں۔

﴿64﴾ کہہ دہ کہ کیا پھر بھی اے جاہلو ! تم مجھ سے کہتے ہو کہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرو ؟۔

﴿65﴾ اور یہ حقیقت ہے کہ تم سے اور تم سے پہلے تمام پیغمبروں سے وحی کے ذریعے یہ بات کہہ دی گئی تھی کہ اگر تم نے شرک کا ارتکاب کیا تو تمہارا کیا کرایا سب غارت ہوجائے گا۔ اور تم یقین طور پر سخت نقصان اٹھانے والوں میں شامل ہوجاؤ گے۔

﴿66﴾ لہذا اس کے بجائے تم اللہ ہی کی عبادت کرو اور شکر گزار لوگوں میں شامل ہوجاؤ

﴿67﴾ اور ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر ہی نہیں پہچانی جیسا کہ اس کی قدر پہچاننے کا حق تھا، حالانکہ پوری کی پوری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی، اور سارے کے سارے آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک ہے اور بہت بالا و برتر اس شرک سے جس کا ارتکاب یہ لوگ کر رہے ہیں۔

﴿68﴾ اور صور پھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمین میں جتنے ہیں وہ سب بےہوش ہوجائیں گے، سوائے اس کے جسے اللہ چاہے، پھر دوسری بار پھونکا جائے تو وہ سب لوگ پل بھر میں کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے۔

﴿69﴾ اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے چمک اٹھے گی اور نامہ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اور انبیاء اور سب گواہوں کو حاضر کردیا جائے گا اور لوگوں کے درمیان بالکل برحق فیصلہ کیا جائے گا۔ اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔

﴿70﴾ اور ہر شخص کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور جو کچھ لوگ کرتے ہیں۔ اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

﴿71﴾ اور جن لوگوں نے کفر اپنایا تھا انہیں جہنم کی طرف گروہوں کی شکل میں ہانکا جائے گا، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے اور اس کے محافظ ان سے کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے اپنے لوگوں میں سے پیغمبر نہیں آئے تھے جو تمہیں تمہارے رب کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہوں، اور تمہیں اس دن کا سامنا کرنے سے خبر دار کرتے ہوں ؟ وہ کہیں گے کہ بیشک آئے تھے، لیکن عذاب کی بات کافروں پر سچی ہو کر رہی۔

﴿72﴾ کہا جائے گا کہ جہنم کے دروازوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہوجاؤ کیونکہ بہت برا ٹھکانا ہے ان کا جو تکبر سے کام لیتے ہیں۔

﴿73﴾ اور جنہوں نے اپنے پروردگار سے تقویٰ کا معاملہ رکھا تھا انہیں جنت کی طرف گروہوں کی شکل میں لے جایا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچیں گے جبکہ اس کے دروازے ان کے لیے پہلے سے کھولے جا چکے ہوں گے (تو وہ عجیب عالم ہوگا۔) اور اس کے محافظ ان سے کہیں گے کہ : سلام ہو آپ پر، خوب رہے آپ لوگ ! اب اس جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے کے لیے آ جائیے۔

﴿74﴾ اور وہ (جنتی) کہیں گے کہ تمام تر شکر اللہ کا ہے جس نے ہم سے اپنے وعدے کو سچا کر دکھایا اور ہمیں اس سرزمین کا ایسا وارث بنادیا کہ ہم جنت میں جہاں چاہیں اپنا ٹھکانا بنالیں۔ ثابت ہوا کہ بہترین انعام (نیک) عمل کرنے والوں کا ہے۔

﴿75﴾ اور تم فرشتوں کو دیکھو گے کہ عرش کے گرد حلقہ بنائے ہوئے اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر رہے ہوں گے، اور لوگوں کے درمیان برحق فیصلہ کردیا جائے گا، اور کہنے والے کہیں گے کہ : تمام تر تعریف اللہ کی ہے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔

المومن

Surah 40

﴿1﴾ حم

﴿2﴾ یہ کتاب اللہ کی طرف سے اتاری جا رہی ہے جو بڑا صاحب اقدار، بڑے علم کا مالک ہے

﴿3﴾ جو گناہ کو معاف کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا، سخت سزا دینے والا، بڑی طاقت کا مالک ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔

﴿4﴾ اللہ کی آیتوں میں جھگڑے وہی لوگ پیدا کرتے ہیں جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے لہذا ان لوگوں کا شہروں میں دندناتے پھرنا تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے

﴿5﴾ ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد بہت سے گروہوں نے بھی (پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا اور ہر قوم نے اپنے پیغمبر کے بارے میں یہ ارادہ کیا تھا کہ انہیں گرفتار کرلے، اور انہوں نے باطل کا سہارا لے کر جھگڑے کیے تھے تاکہ اس کے ذریعے حق کو مٹا دیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ میں نے ان کو پکڑ میں لے لیا۔ اب (دیکھ لو کہ) میری سزا کسی (سخت) تھی۔

﴿6﴾ اور اسی طرح جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، ان کے بارے میں تمہارے پروردگار کی یہ بات بھی پکی ہوچکی ہے کہ وہ دوزخی لوگ ہیں۔

﴿7﴾ وہ (فرشتے) جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں، اور جو اس کے گرد موجود ہیں، وہ سب اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں، اور اس پر ایمان رکھتے ہیں، اور جو لوگ ایمان لے آئیں ہیں ان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں (کہ): اے ہمارے پروردگار ! تیری رحمت اور علم ہر چیز پر حاوی ہے، اس لیے جن لوگوں نے توبہ کرلی ہے اور تیرے راستے پر چل پڑے ہیں، ان کی بخشش فرما دے اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔

﴿8﴾ اور اے پروردگار ! انہیں ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں داخل فرما۔ جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ نیز ان کے ماں باپ اور بیوی بچوں میں سے جو نیک ہوں، انہیں بھی، یقیناً تیری اور صرف تیری ذات وہ ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کی حکمت بھی کامل

﴿9﴾ اور ان کو ہر طرح کی برائیوں سے محفوظ رکھ اور اس دن جسے تو نے برائیوں سے محفوظ کرلیا اس پر تو نے بڑا رحم فرمایا۔ اور یہی زبردست کامیابی ہے۔

﴿10﴾ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے، ان سے پکار کر کہا جائے گا کہ : (آج) تمہیں جتنی بیزار اپنے آپ سے ہو رہی ہے اس سے زیادہ بیزاری اللہ کو اس وقت ہوتی تھی جب تمہیں ایمان دعوت دی جاتی تھی اور تم انکار کرتے تھے۔

﴿11﴾ وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہمیں دو مرتبہ موت اور دو مرتبہ زندگی دی، اب ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں، تو کیا (ہمارے دوزخ سے) نکلنے کا کوئی راستہ ہے ؟

﴿12﴾ (جواب دیا جائے گا کہ :) تمہاری یہ حالت اس لیے ہے کہ اللہ کو تنہا پکارا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے، اور اگر اس کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرایا جاتا تھا تو تم مان لیتے تھے۔ اب تو فیصلہ اللہ ہی کا ہے جس کی شان بہت اونچی، جس کی ذات بہت بڑی ہے۔

﴿13﴾ وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا اور تمہارے لیے آسمان سے رزق اتارتا ہے۔ اور نصیحت تو وہی مانا کرتا ہے جو (ہدایت کے لیے دل سے رجوع ہو۔)

﴿14﴾ لہذا (اے لوگو !) اللہ کو اس طرح پکارو کہ تمہاری تابعداری خالص اسی کے لیے ہو چاہے کافروں کو کتنا برا لگے

﴿15﴾ وہ اونچے درجوں والا، عرش کا مالک ہے۔ وہ اپنے بندوں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے روح (یعنی وحی) نازل کردیتا ہے تاکہ ملاقات کے اس دن سے (لوگوں کو) خبردار کرے

﴿16﴾ جس دن وہ سب کھل کر سامنے آجائیں گے، اللہ سے ان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہوگی۔ (کہا جائے گا :) کس کی بادشاہی ہے آج ؟ (جواب ایک ہی ہوگا کہ :) صرف اللہ کی جو واحد وقہار ہے

﴿17﴾ آج کے دن ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے گا آج کوئی ظلم نہیں ہو گا۔ یقینا اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔

﴿18﴾ (اے پیغمبر !) ان لوگوں کو ایک ایسی مصیبت کے دن سے ڈراؤ جو قریب آنے والی ہے، جب لوگوں کے کلیجے گھٹ گھٹ کر منہ کو آجائیں گے، ظالموں کا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی ایسا سفارشی جس کی بات مانی جائے

﴿19﴾ اللہ آنکھوں کی چوری کو بھی جانتا ہے، اور ان باتوں کو بھی جن کو سینوں نے چھپا رکھا ہے

﴿20﴾ اور اللہ برحق فیصلے کرتا ہے اور اسے چھوڑ کر جن (جھوٹے خداؤں) کو یہ پکارتے ہیں، وہ کسی چیز کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔ یقیناً اللہ ہی ہے جو ہر بات سنتا، سب کچھ دیکھتا ہے

﴿21﴾ اور کیا ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر یہ نہیں دیکھا کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے، ان کا کیسا انجام ہوچکا ہے۔ وہ طاقت میں بھی ان سے زیادہ مضبوط تھے، اور زمین میں چھوڑی ہوئی یادگاروں کے اعتبار سے بھی۔ پھر اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں پکڑ میں لے لیا۔ اور کوئی نہیں تھا جو انہیں اللہ سے بچائے۔

﴿22﴾ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلی کھلی دلیلیں لے کر آتے تھے تو یہ انکار کرتے تھے، اس لیے اللہ نے انہیں پکڑ میں لیا۔ یقینا وہ بڑی قوت والا سزا دینے میں بڑا سخت ہے

﴿23﴾ اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور بڑی واضح دلیل دے کر بھیجا تھا

﴿24﴾ فرعون، ہامان اور قارون کے پاس، تو انہوں نے کہا کہ یہ جھوٹا جادوگر ہے

﴿25﴾ پھر جب وہ لوگوں کے پاس وہ حق بات لے کر گئے جو ہماری طرف سے آئی تھی تو انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لے آئے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کر ڈالو اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھو۔ حالانکہ کافروں کی چال کا اناجم اس کے سوا کچھ نہیں وہ مقصد تک نہ پہنچ سکیں

﴿26﴾ اور فرعون نے کہا : لاؤ میں موسیٰ کو قتل ہی کر ڈالوں، اور اسے چاہیے کہ اپنے رب کو پکار لے۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا، یا زمین میں فساد برپا کردے گا۔

﴿27﴾ اور موسیٰ نے کہا : میں نے تو ہر اس متکبر سے جو یوم حساب پر ایمان نہیں رکھتا، اس کی پناہ لے لی ہے جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار۔

﴿28﴾ اور فرعون کے خاندان میں سے ایک مومن شخص جو ابھی تک اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا بول اٹھا کہ کیا تم ایک شخص کو صرف اس لیے قتل کر رہے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا پروردگار اللہ ہے ؟ حالانکہ وہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے روشن دلیلیں لے کر آیا ہے۔ اور اگر وہ جھوٹا ہی ہو تو اس کا جھوٹ اسی پر پڑے گا اور اگر سچا ہو تو جس چیز سے وہ تمہیں ڈرا رہا ہے اس میں کچھ تو تم پر آ ہی پڑے گی اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گذر جانے والا (اور) جھوٹ بولنے کا عادی ہو۔

﴿29﴾ اے میری قوم ! آج تو تمہیں ایسی سلطنت حاصل ہے کہ زمین میں تمہارا راج ہے، لیکن اگر اللہ کا عذاب ہم پر آگیا تو کون ہے جو اس کے مقابلے میں ہماری مدد کرے ؟۔ فرعون نے کہا میں تو تمہیں وہی رائے دوں گا جسے میں درست سمجھتا ہوں، اور میں تمہاری جو رہنمائی کر رہا ہوں وہ بالکل ٹھیک راستے کی طرف کر رہا ہوں

﴿30﴾ اور جو شخص ایمان لے آیا تھا اس نے کہا : اے میری قوم ! مجھے ڈر ہے کہ تم پر ویسا ہی دن نہ آجائے جیسا بہت سے گروہوں پر آچکا ہے۔

﴿31﴾ (اور تمہارا حال بھی ویسا نہ ہو) جیسا حال نوح (علیہ السلام) کی قوم کا، اور عاد وثمود کا اور ان کے بعد کے لوگوں کا ہوا تھا۔ اور اللہ بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا۔

﴿32﴾ اور اے میری قوم ! مجھے تم پر اس دن کا خوف ہے جس میں چیخ پکار مچی ہوگی۔

﴿33﴾ جس دم تم پیٹھ پھیر کر اس طرح بھاگو گے کہ کوئی بھی تمہیں اللہ سے بچانے والا نہیں ہوگا اور جسے اللہ بھٹکا دے اسے کوئی راستہ دکھانے والا میسر نہیں آتا۔

﴿34﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ اس سے پہلے یوسف (علیہ السلام) تمہارے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے تھے تب بھی تم ان کی لائی ہوئی باتوں کے متعلق شک میں پڑے رہے۔ پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا کہ ان کے بعد اللہ اب کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا ۔ اسی طرح اللہ ان تمام لوگوں کو گمراہی میں ڈالے رکھتا ہے جو حد سے گذرے ہوئے، شکی ہوتے ہیں۔

﴿35﴾ جو اپنے پاس کسی واضح دلیل کے آئے بغیر اللہ کی آیتوں میں جھگڑے نکالا کرتے ہیں۔ یہ بات اللہ کے نزدیک بھی قابل نفرت ہے اور ان لوگوں کے نزدیک بھی جو ایمان لے آئے ہیں۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر جابر شخص کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔

﴿36﴾ اور فرعون نے (اپنے وزیر سے) کہا کہ اے ہامان ! میرے لیے ایک اونچی عمارت بنادو تاکہ میں ان راستوں تک پہنچوں

﴿37﴾ جو آسمانوں کے راستے ہیں پھر میں موسیٰ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں اور یقین رکھو کہ میں تو اسے جھوٹا ہی سمجھتا ہوں۔ اسی طرح فرعون کی بد کرداری اس کی نظر میں خوشنما بنادی گئی تھی اور اسے راستے سے روک دیا گیا تھا۔ اور فرعون کی کوئی چال ایسی نہیں تھی جو بربادی میں گئی ہو

﴿38﴾ اور جو شخص ایمان لے آیا تھا اس نے کہا اے میری قوم میری بات مانو، میں تمہیں ہدایت کے راستے پر لے جاؤں گا۔

﴿39﴾ اے میری قوم ! یہ دنیوی زندگی تو بس تھوڑا سا مزہ ہے۔ اور یقین جانو کہ آخرت ہی رہنے بسنے کا اصل گھر ہے

﴿40﴾ اور جس شخص نے کوئی برائی کی ہوگی، اسے اسی کے برابر بدلہ دیا جائے گا، اور جس نے نیک کام کیا ہوگا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت جبکہ وہ مومن ہو تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے وہاں انہیں بےحساب رزق دیا جائے گا۔

﴿41﴾ اور اے میری قوم ! یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف دعوت دے رہا ہوں۔ اور تم مجھے آگ کی طرف بلا رہے ہو۔

﴿42﴾ تم مجھے یہ دعوت دے رہے ہو کہ اللہ کا انکار کروں، اور اس کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک مانوں جن کے بارے میں مجھے کوئی علم نہیں ہے۔ اور میں تمہیں اس ذات کی طرف بلا رہا ہوں جو بڑی صاحب اقتدار، بہت بخشنے والی ہے۔

﴿43﴾ سچ تو یہ ہے کہ جن چیزوں کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو، وہ دعوت کے اہل نہیں ہیں، نہ دنیا میں، نہ آخرت میں اور حقیت یہ ہے کہ ہم سب کو اللہ کی طرف پلٹ کر جانا ہے اور یہ کہ جو لوگ حد سے گذرنے والے ہیں وہ آگ کے باسی ہیں۔

﴿44﴾ غرض تم عنقریب میری یہ باتیں یاد کرو گے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں، اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ یقینا اللہ سارے بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے

﴿45﴾ نتیجہ یہ ہوا کہ ان لوگوں نے جو برے برے منصوبے بنا رکھے تھے، اللہ نے اس (مرد مومن) کو ان سب سے محفوظ رکھا اور فرعون کے لوگوں کو بد ترین عذاب نے آگھیرا۔

﴿46﴾ آگ ہے جس کے سامنے انہیں صبح و شام پیش کیا جاتا ہے اور جس دن قیامت آجائے گی (اس دن حکم ہوگا کہ) فرعون کے لوگوں کو سخت ترین عذاب میں داخل کردو۔

﴿47﴾ اور اس وقت (کا دھیان رکھو) جب یہ لوگ دوزخ میں ایک دوسرے سے جھگڑ رہے ہوں گے، چنانچہ جو (دنیا میں) کمزور تھے وہ ان لوگوں سے کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے کہ ہم تو تمہارے پیچھے چلنے والے لوگ تھے تو کیا تم آگ کا کچھ حصہ ہمارے بدلے خود لے لو گے۔

﴿48﴾ وہ جو بڑے بنے ہوئے تھے کہیں گے کہ ہم سب ہی اس دوزخ میں ہیں اللہ تمام بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا ہے

﴿49﴾ اور یہ سب جو آگ میں پڑے ہوں گے، دوزخ کے نگرانوں سے کہیں گے کہ : اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ وہ کسی دن ہم سے عذاب کو ہلکا کردے

﴿50﴾ وہ کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر کھلی کھلی نشانیاں لے کر آتے نہیں رہے تھے ؟۔ دوزخی جواب دیں گے۔ کہ بیشک (آتے تو رہے تھے) وہ کہیں گے۔ پھر تو تم ہی دعا کرو، اور کافروں کی دعا کا کوئی انجام اکارت جانے کے سوا نہیں ہے۔

﴿51﴾ یقین رکھو کہ ہم اپنے پیغمبروں اور ایمان لانے والوں کی دنیوی زندگی میں بھی مدد کرتے ہی، اور اس دن بھی کریں گے جب گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے

﴿52﴾ جس دن ظالموں کو ان کی معذرت کچھ بھی فائدہ نہیں دے گی، اور ان کے حصے میں پھٹکار ہوگی، اور ان کے لیے رہئش کی بدترین جگہ

﴿53﴾ اور ہم نے موسیٰ کو ہدایت عطا کی، اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنادیا

﴿54﴾ جو عقل والوں کے لیے سراپا ہدایت اور نصیحت تھی

﴿55﴾ لہذا (اے پیغمبر !) صبر سے کام لو، یقین رکھو کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور اپنے قصور پر استغفار کرتے رہو۔ اور صبح و شام اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہو۔

﴿56﴾ یقین جانو کہ جو لوگ اللہ کی آیتوں کے بارے میں جھگڑے نکالتے ہیں، جبکہ ان کے پاس (اپنے دعوے کی) کوئی سند نہیں آئی، ان کے سینوں میں اور کچھ نہیں، بلکہ اس بڑائی کا ایک گھمنڈ ہے جس تک وہ کبھی پہنچنے والے نہیں ہیں۔ لہذا تم اللہ کی پناہ مانگو۔ یقینا وہی ہے جو ہر بات سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے

﴿57﴾ یقینی بات ہے کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسانوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑا کام ہے، لیکن اکثر لوگ (اتنی سی بات) نہیں سمجھتے

﴿58﴾ اور اندھا اور بینائی رکھنے والا دونوں برابر نہیں ہوتے، اور نہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے، وہ اور بدکار برابر ہیں، (لیکن) تم لوگ بہت کم دھیان دیتے ہو

﴿59﴾ یقین رکھو کہ قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے، جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے، لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

﴿60﴾ اور تمہارے پروردگار نے کہا ہے کہ مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا بیشک جو لوگ تکبر کی بنا پر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں، وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔

﴿61﴾ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو، اور دن کو دیکھنے والا بنایا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر فضل فرمانے والا ہے، لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔

﴿62﴾ وہ ہے اللہ جو تمہارا پروردگار ہے، ہر چیز کا پیدا کرنے والا، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ پھر کہاں سے کوئی چیز تمہیں اوندھا چلا دیتی ہے

﴿63﴾ اسی طرح وہ لوگ بھی اوندھے چلے تھے جو (پہلے) اللہ کی آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے

﴿64﴾ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو قرار کی جگہ بنایا، اور آسمان کو ایک گنبد، اور تمہاری صورت گری کی، اور تمہاری صورتوں کو اچھا بنایا، اور پاکیزہ چیزوں میں سے تمہیں رزق عطا کیا۔ وہ ہے اللہ جو تمہارا پروردگار ہے۔ غرض بڑی برکت والا ہے اللہ، سارے جہانوں کا پروردگار

﴿65﴾ وہی سدا زندہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس لیے اس کو اس طرح پکارو کہ تمہاری تابع داری خالص اسی کے لیے ہو۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔

﴿66﴾ (اے پیغمبر ! کافروں سے) کہہ دو کہ : مجھے اس بات سے منع کردیا گیا ہے کہ جب میرے پاس میرے رب کی طرف سے کھلی کھلی نشانیاں آچکی ہیں، تو پھر بھی میں ان کی عبادت کروں جنہیں تم اللہ کے بجائے پکارتے ہو۔ اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمام جہانوں کے پروردگار کے آگے سر جھکا دوں

﴿67﴾ وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے، پھر جمے ہوئے خون سے۔ پھر وہ تمہیں بچے کی شکل میں باہر لاتا ہے، پھر (وہ تمہاری پرورش کرتا ہے) تاکہ تم اپنی بھر پور طاقت کو پہنچ جاؤ اور پھر بوڑھے ہوجاؤ اور تم میں سے کچھ وہ بھی ہیں جو اس سے پہلے ہی وفات پا جاتے ہیں اور تاکہ تم ایک مقرر میعاد تک پہنچو اور تاکہ تم عقل سے کام لو

﴿68﴾ وہی ہے جو زندگی دیتا اور موت دیتا ہے اور جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اس سے صرف اتنا کہتا ہے کہ ہوجا، بس وہ ہوجاتا ہے

﴿69﴾ کیا تم نے ان لوگوں کو دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں ؟ کوئی کہاں سے ان کا رخ پھیر دیتا ہے ؟

﴿70﴾ یہ لوگ وہ ہیں جنہوں نے اس کتاب کو بھی جھٹلایا ہے، اور اس (تعلیم) کو بھی جس کا حامل بنا کر ہم نے اپنے پیغمبر بھیجے تھے۔ چنانچہ انہیں عنقریب پتہ لگ جائے گا

﴿71﴾ جب ان کے گلوں میں طوق اور زنجیریں ہوں گی، انہیں گھسیٹا جائے گا،

﴿72﴾ گرم پانی میں، پھر آگ میں جھونک دیا جائے گا۔

﴿73﴾ پھر ان سے کہا جائے گا : کہاں ہیں وہ (تمہارے معبود) جنہیں تم خدائی میں اس کا شریک مانا کرتے تھے ؟

﴿74﴾ اللہ کے سوا۔ یہ کہیں گے وہ سب تو ہم سے کھوئے گئے بلکہ ہم پہلے کسی چیز کو نہی پکارا کرتے تھے اس طرح اللہ کافروں کو بد حواس کردیتا ہے۔

﴿75﴾ ان سے یہ پہلے ہی کہہ دیا گیا ہوگا کہ : یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ تم زمین میں ناحق بات پر اترایا کرتے تھے اور اس لیے کہ تم زمین میں اکڑ دکھاتے تھے۔

﴿76﴾ جاؤ، جہنم کے دروازوں میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہوجاؤ، کیونکہ تکبر کرنے والوں کا ٹھکانا بہت ہی برا ہے

﴿77﴾ لہذا (اے پیغمبر !) تم صبر سے کام لو۔ یقین رکھو کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اب ہم ان (کافروں کو) جس (عذاب) سے ڈرا رہے ہیں، چاہے اس کا کچھ حصہ ہم تمہیں بھی (تمہاری زندگی میں) دکھلا دیں، یا تمہیں دنیا سے اٹھالیں، بہر صورت ان کو ہمارے پاس ہی واپس لایا جائے گا۔

﴿78﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر بھیجے ہیں۔ ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کے واقعات ہم نے تمہیں بتا دئیے ہیں اور کچھ وہ ہیں جن کے واقعات ہم نے تمہیں نہیں بتائے اور کسی پیغمبر کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی معجزہ لے آئے پھر جب اللہ کا حکم آئے گا تو سچائی کا فیصلہ ہوجائے گا، اور جو لوگ باطل کی پیروی کر رہے ہیں، وہ اس موقع پر سخت نقصان اٹھائیں گے

﴿79﴾ اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے مویشی پیدا کیے تاکہ ان میں سے کچھ پر تم سواری کرو اور انہی میں سے وہ بھی ہیں جنہیں تم کھاتے ہو

﴿80﴾ اور تمہارے لیے ان میں بہت سے فائدے ہیں۔ اور ان کا مقصد یہ بھی ہے کہ تمہارے دلوں میں (کہیں جانے کی) جو حاجت ہو اس تک پہنچ سکو۔ اور تمہیں ان جانوروں پر اور کشتیوں پر اٹھا کرلے جایا جاتا ہے

﴿81﴾ اور اللہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھا رہا ہے پھر تم اللہ کی کن کن نشانیوں کا انکار کرو گے

﴿82﴾ بھلا کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے جو لوگ تھے، ان کا انجام کیسا ہوا وہ ان سے تعداد میں زیادہ تھے، اور طاقت میں بھی ان سے بڑھے ہوئے تھے، اور ان یادگاروں میں بھی جو وہ زمین میں چھوڑ کر گئے ہیں۔ پھر بھی جو کچھ وہ کماتے تھے، وہ ان کے کچھ کام نہیں آیا

﴿83﴾ چنانچہ جب ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی کھلی دلیلیں لے کر آئے تب بھی وہ اپنے اس علم پر ہی ناز کرتے رہے جو ان کے پاس تھا، اور جس چیز کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے، اسی نے ان کو آگھیرا۔

﴿84﴾ پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب آنکھوں سے دیکھ لیا تو اس وقت کہا کہ : ہم خدائے واحد پر ایمان لے آئے، اور ان سب کا ہم نے انکار کردیا جن کو ہم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرایا کرتے تھے۔

﴿85﴾ لیکن جب ہمارا عذاب انہوں نے دیکھ لیا تھا تو اس کے بعد ان کا ایمان لانا انہیں فائدہ نہیں پہنچا سکتا تھا، خبر دار رہو کہ اللہ تعالیٰ کا یہی معمول ہے جو اس کے بندوں میں پہلے سے چلا آتا ہے۔ اور اس موقع پر کافروں نے سخت نقصان اٹھایا

حم السجدہ

Surah 41

﴿1﴾ حم

﴿2﴾ یہ کلام اس ذات کی طرف سے نازل کیا جارہا ہے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے

﴿3﴾ عربی قرآن کی شکل میں یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں علم حاصل کرنے والوں کے لیے تفصیل سے بیان کی گئی ہیں

﴿4﴾ یہ قرآن خوشخبری دینے والا بھی ہے، اور خبردار کرنے والا بھی پھر بھی ان میں سے اکثر لوگوں نے منہ موڑ رکھا ہے جس کے نتیجے میں وہ سنتے نہیں ہیں

﴿5﴾ اور (پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے) کہتے ہیں کہ جس چیز کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو اس کے لیے ہمارے دل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں ہمارے کان بہرے ہیں، اور ہمارے اور تمہارے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔ لہذا تم اپنا کام کرتے رہو۔ ہم اپنا کام کر رہے ہیں۔

﴿6﴾ (اے پیغمبر) کہہ دو کہ میں تو تم ہی جیسا ایک انسان ہوں۔ (البتہ) مجھ پر یہ وحی نازل ہوتی ہے کہ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے۔ لہذا تم اپنا رخ سیدھا اسی کی طرف رکھو، اور اسی سے مغفرت مانگو۔ اور بڑی تباہی ہے ان مشرکوں کے لیے۔

﴿7﴾ جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ان کا حال یہ ہے کہ آخرت کے وہ بالکل ہی منکر ہیں

﴿8﴾ (البتہ) جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کے لیے بیشک ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے۔

﴿9﴾ کہہ دو کہ : کیا تم واقعی اس ذات کے ساتھ کفر کا معاملہ کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہو ؟ وہ ذات تو سارے جہانوں کی پرورش کرنے والی ہے

﴿10﴾ اور اس نے زمین میں جمے ہوئے پہاڑ پیدا کیے جو اس کے اوپر ابھرے ہوئے ہیں اور اس میں برکت ڈال دی اور اس میں توازن کے ساتھ اس کی غذائیں پیدا کیں۔ سب کچھ چار دن میں تمام سوال کرنے والوں کے لیے برابر

﴿11﴾ پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ اس وقت دھویں کی شکل میں تھا اور اس سے اور زمین سے کہا : چلے آؤ چاہے خوشی سے یا زبردستی۔ دونوں نے کہا : ہم خوشی خوشی آتے ہیں

﴿12﴾ چنانچہ اس نے دو دن میں اپنے فیصلے کے تحت ان کے سات آسمان بنا دئیے اور ہر آسمان میں اس کے مناسب حکم بھیج دیا اور ہم نے اس قریب والے آسمان کو چراغوں سے سجایا اور اسے خوب محفوط کردیا۔ یہ اس ذات کی نپی تلی منصوبہ بندی ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کا علم بھی مکمل

﴿13﴾ پھر بھی اگر یہ لوگ منہ موڑیں تو کہہ دو کہ میں تمہیں اس کڑکے سے خبر دار کردیا ہے جیسا کڑکا عاد اور ثمود پر نازل ہوا تھا

﴿14﴾ یہ اس وقت کی بات ہے جب ان کے پاس پیغمبر (کبھی) ان کے آگے سے اور (کبھی) ان کے پیچھے سے یہ پیغام لے کر آئے کہ اللہ کے سوا کسی چیز کی عبادت نہ کرو۔ انہوں نے کہا کہ : اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتے بھیجتا۔ لہذا جس بات کے ساتھ تمہیں بھیجا گیا ہے۔ ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔

﴿15﴾ پھر عاد کا قصہ تو یہ ہوا کہ انہوں نے زمین میں ناحق تکبر کا رویہ اختیار کیا، اور کہا کہ : کون ہے جو طاقت میں ہم سے زیادہ ہو۔ بھلا کیا ان کو یہ نہیں سوجھا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے وہ طاقت میں ان سے کہیں زیادہ ہے اور وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے

﴿16﴾ چنانچہ ہم نے کچھ منحوس دنوں میں ان پر آندھی کی شکل میں ہوا بھیجی تاکہ انہیں دنیوی زندگی میں رسوائی کے عذاب کا مزہ چکھائیں اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ رسوا کرنے والا ہے۔ اور ان کو کوئی مدد میسر نہیں آئے گی۔

﴿17﴾ رہے ثمود، تو ہم نے انہیں سیدھا راستہ دکھایا تھا۔ لیکن انہوں نے سیدھا راستہ اختیار کرنے کے مقابلے میں اندھا رہنے کو زیادہ پسند کیا، چنانچہ انہوں نے جو کمائی کر رکھی تھی، اس کی وجہ سے ان کو ایسے عذاب کے کڑ کے نے آپکڑا جو سراپا ذلت تھا

﴿18﴾ اور جو لوگ ایمان لے آئے تھے اور تقویٰ اختیار کیے ہوئے تھے ان کو ہم نے نجات دے دی

﴿19﴾ اور اس دن کا دھیان رکھو جب اللہ کے دشمنوں کو جمع کر کے آگ کی طرف لے جایا جائے گا، چنانچہ انہیں ٹولیوں میں بانٹ دیا جائے گا۔

﴿20﴾ یہاں تک کہ جب وہ اس (آگ) کے پاس پہنچ جائیں گے تو ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے خلاف گواہی دیں گی کہ وہ کیا کچھ کرتے رہے ہیں

﴿21﴾ وہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی۔ وہ کہیں گی کہ ہمیں اسی ذات نے بولنے کی طاقت دے دی ہے جس نے ہر چیز کو گویائی عطا فرمائی ہے۔ اور وہی ہے جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا، اور اسی کی طرف تمہیں واپس لے جایا جا رہا ہے۔

﴿22﴾ اور تم (گناہ کرتے وقت) اس بات سے تو چھپ ہی نہیں سکتے تھے کہ تمہارے کان، تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں تمہارے خلاف گواہی دیں لیکن تمہارا گمان یہ تھا کہ اللہ کو تمہارے بہت سے اعمال کا علم نہیں ہے

﴿23﴾ اپنے پروردگار کے بارے میں تمہارا یہی گمان تھا جس نے تمہیں برباد کیا، اور اسی کے نتیجے میں تم ان لوگوں میں شامل ہوگئے جو سراسر خسارے میں ہیں۔

﴿24﴾ اب ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ اگر یہ صبر کریں تب بھی آگ ہی ان کا ٹھکانا ہے اور اگر یہ معذرت چاہیں تو یہ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جن کی معذرت قبول کی جاتی ہے

﴿25﴾ اور ہم نے (دنیا میں) ان پر کچھ ساتھی مسلط کردئیے تھے جنہوں نے ان کے آگے پیچھے کے سارے کاموں کو خوشنما بنادیا تھا چنانچہ جو دوسرے جنات اور انسان ان سے پہلے گذر چکے ہیں ان کے ساتھ مل کر عذاب کی بات ان پر بھی سچی ہوئی۔ یقینا وہ سب خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہیں

﴿26﴾ اور یہ کافر (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں کہ : اس قرآن کو سنو ہی نہیں، اور اس کے بیچ میں غل مچا دیا کرو تاکہ تم ہی غالب رہو

﴿27﴾ اس لیے ہم ان کافروں کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے اور یہ (دنیا میں) جو بدترین کام کیا کرتے تھے، اس کا پورا پورا بدلہ دیں گے

﴿28﴾ یہی ہے سزا اللہ کے دشمنوں کی جو آگ کی صورت میں ہوگی، اسی میں ان کا دائمی ٹھکانا ہوگا جو اس بات کا بدلہ ہوگا کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے۔

﴿29﴾ اور یہ کافر لوگ کہیں گے کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں ان جنات اور انسانوں دونوں کی صورت دکھائیے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا، تاکہ ہم انہیں اپنے پاؤں تلے ایسا روندیں کہ وہ خوب ذلیل ہوں ۔

﴿30﴾ (دوسری طرف) جن لوگوں نے کہا ہے کہ ہمارا رب اللہ ہے، اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے تو ان پر بیشک فرشتے (یہ کہتے ہوئے) اتریں گے کہ : نہ کوئی خوف دل میں لاؤ، نہ کسی بات کا غم کرو، اور اس جنت سے خوش ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

﴿31﴾ ہم دنیا والی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی تھے، اور آخرت میں بھی رہیں گے۔ اور اس جنت میں ہر وہ چیز تمہارے ہی لیے ہے جس کو تمہارا دل چاہے، اور اس میں ہر وہ چیز تمہارے ہی لیے جو تم منگوانا چاہو

﴿32﴾ یہ سب کچھ اس ذات کی طرف سے پہلی پہل میزبانی ہے جس کی بخشش بھی بہت ہے جس کی رحمت بھی کامل

﴿33﴾ اور اس شخص سے بہتر بات کس کی ہوگی جو اللہ کی طرف دعوت دے، اور نیک عمل کرے، اور یہ کہے کہ میں فرماں برداروں میں شامل ہوں۔

﴿34﴾ اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی، تم بدی کا دفاع ایسے طریقے سے کرو جو بہترین ہو نتیجہ یہ ہوگا کہ جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی، وہ دیکھتے ہی دیکھتے ایسا ہوجائے گا جیسے وہ (تمہارا) جگری دوست ہو

﴿35﴾ اور یہ بات صرف انہی کو عطا ہوتی ہے جو صبر سے کام لیتے ہیں اور یہ بات اسی کو عطا ہوتی ہے جو بڑے نصیب والا ہو

﴿36﴾ اور اگر تمہیں شیطان کی طرف سے کبھی کوئی کچوکا لگے تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو بیشک وہ ہر بات سننے والا، ہر بات جاننے والا ہے

﴿37﴾ اور اسی کی نشانیوں میں سے ہیں یہ رات اور دن اور سورج اور چاند۔ نہ سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو اور سجدہ اس اللہ کو کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے۔ اگر واقعی تمہیں اسی کی عبادت کرتے ہو

﴿38﴾ پھر بھی اگر یہ (کافر) تکبر سے کام لیں، تو (کرتے رہیں) کیونکہ جو (فرشتے) تمہارے رب کے پاس ہیں۔ وہ دن رات اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ اکتاتے نہیں ہیں

﴿39﴾ اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم زمین کو دیکھتے ہو کہ وہ مرجھائی پڑی ہے۔ پھر جونہی ہم نے اس پر پانی اتارا، وہ حرکت میں آگئی، اور اس میں بڑھوتری پیدا ہوگئی، حقیقت یہ ہے کہ جس نے اس زمین کو زندہ کیا وہی مردوں کو بھی زندہ کرنے والا ہے۔ یقینا وہ ہر چیز پر قادر ہے

﴿40﴾ جو لوگ ہماری آیتوں کے بارے میں ٹیڑھا راستہ اختیار کرتے ہیں وہ ہم سے چھپ نہیں سکتے۔ بھلا بتاؤ کہ جس شخص کو آگ میں ڈال دیا جائے، وہ بہتر ہے، یا وہ شخص جو قیامت کے دن بےخوف و خطر آئے گا (اچھا) جو چاہو کرلو یقین جانو کہ وہ تمہارے ہر کام کو خوب دیکھ رہا ہے

﴿41﴾ بیشک (ان لوگوں نے بہت برا کیا ہے) جنہوں نے نصیحت کی اس کتاب کا انکار کیا جبکہ وہ ان کے پاس آچکی تھی، حالانکہ وہ بڑی عزت والی کتاب ہے

﴿42﴾ جس تک باطل کی کوئی رسائی نہیں ہے نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے یہ اس ذات کی طرف سے اتاری جا رہی ہے جو حکمت کا مالک ہے، تمام تعریفیں اسی کی طرف لوٹتی ہیں

﴿43﴾ (اے پیغمبر !) تم سے جو باتیں کہی جا رہی ہیں، وہ وہی ہیں جو تم سے پہلے پیغمبروں سے کہی گئی تھیں، یقین رکھو تمہارا پروردگار مغفرت کرنے والا بھی ہے، اور دردناک سزا دینے والا بھی

﴿44﴾ اور اگر ہم اس (قرآن) کو عجمی قرآن بناتے تو یہ لوگ کہتے کہ : اس کی آیتیں کھول کھول کر کیوں نہیں بیان کی گئیں ؟ یہ کیا بات ہے کہ قرآن عجمی ہے اور پیغمبر عربی ؟ کہہ دو کہ جو لوگ ایمان لائیں، ان کے لیے یہ ہدایت اور شفا کا سامان ہے اور جو ایمان نہیں لاتے، ان کے کانوں میں ڈاٹ لگی ہوئی ہے اور یہ (قرآن) ان کے لیے اندھیرے میں بھٹکنے کا سامان ہے۔ ایسے لوگوں کو کسی دور دراز جگہ سے پکارا جا رہا ہے

﴿45﴾ اور ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب دی تھی، پھر اس میں بھی اختلاف ہوا۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کردی گئی ہوتی، تو ان لوگوں کا معاملہ چکا ہی دیا گیا ہوتا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ایسے شک میں پڑے ہوئے ہیں جس نے ان کو خلجان میں ڈال رکھا ہے

﴿46﴾ جو کوئی نیک عمل کرتا ہے، وہ اپنے ہے فائدے کے لیے کرتا ہے اور جو کوئی برائی کرتا ہے، وہ اپنے ہی نقصان کے لیے کرتا ہے اور تمہارا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے

﴿47﴾ قیامت کے کا علم اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ اور اللہ کے علم کے بغیر نہ پھلوں میں سے کوئی پھل اپنے شگوفوں سے نکلتا ہے اور نہ کسی مادہ کو حمل ٹھہرتا ہے، اور نہ اس کے کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے، اور جس دن وہ ان (مشرکوں) کو پکارے گا، کہاں ہیں میرے وہ شریک ؟ تو وہ کہیں گے کہ : ہم تو آپ سے یہی عرض کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی اب اس بات کا گواہ نہیں ہے (کہ آپ کا کوئی شریک ہے)

﴿48﴾ اور پہلے یہ لوگ جن (جھوٹے خداؤں) کو پکارا کرتے تھے ان کو اب ان کا کوئی سراغ نہیں ملے گا، اور وہ سمجھ جائیں گے کہ ان کے لیے اب بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

﴿49﴾ انسان کا حال یہ ہے کہ وہ بھلائی مانگنے سے نہیں تھکتا اور اگر اسے کوئی برائی چھو جائے تو ایسا مایوس ہوجاتا ہے کہ ہر امید چھوڑ بیٹھتا ہے

﴿50﴾ اور جو تکلیف اسے پہنچتی تھی اگر اس کے بعد ہم اسے اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ چکھا دیں تو وہ لازم یہ کہے گا کہ : یہ تو میرا حق تھا اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت آنے والی ہے، اور اگر مجھے اپنے رب کے پاس واپس بھیجا بھی گیا تو مجھے یقین ہے کہ اس کے پاس بھی مجھے خوش حالی ہی ضرور ملے گی۔ اب ہم ان کافروں کو یہ ضرور جتلائیں گے کہ انہوں نے کیا عمل کیے ہیں اور انہیں ایک سخت عذاب کا مزہ ضرور چکھائیں گے۔

﴿51﴾ اور جب ہم انسان پر کوئی انعام کرتے ہیں تو وہ منہ موڑ لیتا اور پہلو بدل کر دور چلا جاتا ہے، اور جب اسے کوئی برائی چھو جاتی ہے تو وہ لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے۔

﴿52﴾ (اے پیغمبر ان کافروں سے) کہو کہ : ذرا مجھے بتاؤ کہ اگر یہ (قرآن) اللہ کی طرف سے آیا ہے، پھر بھی تم نے اس کا انکار کیا تو اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو (اس کی) مخالفت میں بہت دور نکل گیا ہو ؟

﴿53﴾ ہم انہیں اپنی نشانیاں کائنات میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کے اپنے وجود میں بھی، یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھل کر سامنے آجائے کہ یہی حق ہے۔ کیا تمہارے رب کی یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ ہر چیز کا گواہ ہے ؟

﴿54﴾ یاد رکھو کہ یہ لوگ اپنے رب کا سامنا کرنے کے معاملے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ یاد رکھو کہ وہ ہر چیز کو احاطے میں لیے ہوئے ہے۔

الشوریٰ

Surah 42

﴿1﴾ حم۔

﴿2﴾ عسق

﴿3﴾ (اے پیغمبر) اللہ جو عزیز و حکیم ہے، تم پر اور تم سے پہلے جو (پیغمبر) ہوئے ہیں، ان پر اسی طرح وحی نازل کرتا ہے۔

﴿4﴾ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب اسی کا ہے، اور وہی ہے جو برتری اور عظمت کا مالک ہے۔

﴿5﴾ ایسا لگتا ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں گے، اور فرشتے اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر رہے ہیں، اور زمین والوں کے لیے استغفار کر رہے ہیں۔ یاد رکھو کہ اللہ ہی ہے جو بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

﴿6﴾ اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسرے رکھوالے بنا رکھے ہیں، اللہ ان پر نگرانی رکھے ہوئے ہے، اور تم ان کے ذمہ دار نہیں ہو۔

﴿7﴾ اور اسی طرح ہم نے یہ عربی قرآن تم پر وحی کے ذریعے بھیجا ہے، تاکہ تم مرکزی بستی (مکہ) اور اس کے ارد گرد والوں کو اس دن سے خبردار کرو جس میں سب کو جمع کیا جائے گا، جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے۔ ایک گروہ جنت میں جائے گا اور ایک گروہ بھڑکتی ہوئی آگ میں۔

﴿8﴾ اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک ہی جماعت بنا دیتا، لیکن وہ جس کو چاہتا ہے، اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے، اور جو ظالم لوگ ہیں ان کا نہ کوئی رکھوالا ہے، نہ کوئی مددگار ہے۔

﴿9﴾ کیا ان لوگوں نے اس کو چھوڑ کر دوسرے رکھوالے بنا لیے ہیں ؟ سچ تو یہ ہے کہ رکھوالا اللہ ہی ہے، اور وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔

﴿10﴾ اور تم جس بات میں بھی اختلاف کرتے ہو، اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے، لوگو ! وہی اللہ ہے جو میرا پروردگار ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، اور اسی سے میں لو لگاتا ہوں۔

﴿11﴾ وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کیے ہیں، اور مویشیوں کے بھی جوڑے بنائے ہیں۔ اسی ذریعے سے وہ تمہاری نسل چلاتا ہے۔ کوئی چیز اس کے مثل نہیں ہے، اور وہی ہے جو ہر بات سنتا، سب کچھ دیکھتا ہے۔

﴿12﴾ آسمانوں اور زمین کی ساری کنجیاں اسی کے قبضے میں ہیں، وہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق میں وسعت اور تنگی کرتا ہے، یقینا وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

﴿13﴾ اس نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ طے کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا، اور جو (اے پیغمبر) ہم نے تمہارے پاس وحی کے ذریعے بھیجا ہے اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا تھا کہ تم دین کو قائم کرو، اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنا۔ (پھر بھی) مشرکین کو وہ بات بہت گراں گزرتی ہے جس کی طرف تم انہیں دعوت دے رہے ہو۔ اللہ جس کو چاہتا ہے چن کر اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور جو کوئی اس سے لو لگاتا ہے اسے اپنے پاس پہنچا دیتا ہے۔

﴿14﴾ اور لوگوں نے آپس کی عداوتوں کی وجہ سے (دین میں) جو تفرقہ ڈالا ہے وہ اس کے بعد ہی ڈالا ہے جب ان کے پاس یقینی علم آچکا تھا۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک معین مدت تک کے لیے ایک بات پہلے سے طے نہ ہوتی تو ان کا فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ اور ان لوگوں کے بعد جن کو کتاب کا وارث بنایا گیا ہے وہ اس کے بارے میں ایسے شک میں پڑے ہوئے ہیں جس نے انہیں خلجان میں ڈال رکھا ہے۔

﴿15﴾ لہذا (اے پیغمبر) تم اسی بات کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے رہو اور جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے، (اسی دین پر) جمے رہو، اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلو، اور کہہ دو کہ : میں تو اس کتاب پر ایمان لایا ہوں جو اللہ نے نازل کی ہے، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں۔ اللہ ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب۔ ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے۔ ہمارے اور تمہارے درمیان (اب) کوئی بحث نہیں۔ اللہ ہم سب کو جمع کرے گا، اور اسی کے پاس آخر سب کو لوٹنا ہے۔

﴿16﴾ اور جو لوگ اللہ کے بارے میں بحثیں نکالتے ہیں جبکہ لوگ اس کی بات مان چکے ہیں، ان کی بحث ان کے پروردگار کے نزدیک باطل ہے، اور ان پر (اللہ کا) غضب ہے، اور ان کے لیے سخت عذاب ہے۔

﴿17﴾ اللہ وہ ہے جس نے حق پر مشتمل یہ کتاب اور انصاف کی ترازو اتاری ہے۔ اور تمہیں کیا پتہ، شاید کہ قیامت کی گھڑی قریب ہی ہو۔

﴿18﴾ جو لوگ اس پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کے آنے کی جلدی مچاتے ہیں، اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، وہ اس سے سہمے رہتے ہیں، اور جانتے ہیں کہ وہ برحق ہے۔ ارے جو لوگ قیامت کے بارے میں بحثیں کر رہے ہیں، وہ گمراہی میں بہت دور چلے گئے ہیں۔

﴿19﴾ اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے، اور وہی ہے جو قوت کا بھی مالک ہے، اقتدار کا بھی مالک ہے۔

﴿20﴾ جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہو، ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کریں گے، اور جو شخص (صرف) دنیا کی کھیتی چاہتا ہو، ہم اسے اسی میں سے دے دیں گے، اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔

﴿21﴾ کیا ان (کافروں) کے کچھ ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے ایسا دین طے کردیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی ہے ؟ اور اگر (اللہ کی طرف سے) فیصلہ کن بات طے شدہ نہ ہوتی تو ان کا معاملہ چکا دیا گیا ہوتا۔ اور یقین رکھو کہ ان ظالموں کے لیے بڑا دردناک عذاب ہے۔

﴿22﴾ (اس وقت) تم ان ظالموں کو دیکھو گے کہ انہوں نے جو کمائی کی ہے، اس (کے وبال) سے سہمے ہوئے ہوں گے، اور وہ ان پر پڑ کر رہے گا، اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ جنتوں کی کیا ریوں میں ہوں گے۔ انہیں اپنے پروردگار کے پاس وہ سب کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے۔ یہی بڑا فضل ہے۔

﴿23﴾ یہی وہ چیز ہے جس کی خوشخبری اللہ اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جو ایمان لائے ہیں، اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں۔ (اے پیغمبر ! کافروں سے) کہہ دو کہ : میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا، سوائے رشتہ داری کی محبت کے۔ اور جو شخص کوئی بھلائی کرے گا، ہم اس کی خاطر اس بھلائی میں مزید خوبی کا اضافہ کردیں گے۔ یقین جانو اللہ بہت بخشنے والا، بڑا قدردان ہے۔

﴿24﴾ بھلا کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس شخص نے یہ کلام خود گھڑ کر جھوٹ موٹ اللہ کے ذمے لگا دیا ہے ؟ حالانکہ اگر اللہ چاہے تو تمہارے دل پر مہر لگا دے، اور اللہ تو باطل کو مٹاتا ہے، اور حق کو اپنے کلمات کے ذریعے ثابت کرتا ہے، یقینا وہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں تک کو جانتا ہے۔

﴿25﴾ اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے، اور گناہوں کو معاف کرتا ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو، اس کا پورا علم رکھتا ہے۔

﴿26﴾ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، وہ ان کی دعا سنتا ہے اور انہیں اپنے فضل سے اور زیادہ دیتا ہے، اور کافروں کے لیے سخت عذاب ہے۔

﴿27﴾ اور اگر اللہ اپنے تمام بندوں کے لیے رزق کو کھلے طور پر پھیلا دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کرنے لگتے، مگر وہ ایک خاص اندازے سے جتنا چاہتا ہے (رزق) اتارتا ہے۔ یقینا وہ اپنے بندوں سے پوری طرح باخبر، ان پر نظر رکھنے والا ہے۔

﴿28﴾ اور وہی ہے جو لوگوں کے ناامید ہونے کے بعد بارش برساتا اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے، اور وہی ہے جو (سب کا) قابل تعریف رکھوالا ہے۔

﴿29﴾ اور اس کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور وہ جاندار جو اس نے ان دونوں میں پھیلا رکھے ہیں، اور وہ جب چاہے ان کو جمع کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

﴿30﴾ اور تمہیں جو کوئی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کیے ہوئے کاموں کی وجہ سے پہنچتی ہے، اور بہت سے کاموں سے تو وہ درگزر ہی کرتا ہے۔

﴿31﴾ اور تمہاری مجال نہیں ہے کہ زمین میں (اللہ کو) عاجز کرسکو، اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی رکھوالا ہے، نہ مددگار۔

﴿32﴾ اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں سمندر میں یہ پہاڑوں جیسے جہاز۔

﴿33﴾ اگر وہ چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے، جس سے یہ سمندر کی پشت پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں، یقینا اس میں ہر اس شخص کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو صبر کا بھی خوگر اور شکر کا بھی۔

﴿34﴾ یا (اگر اللہ چاہے) تو ان جہازوں کو لوگوں کے بعض اعمال کی وجہ سے تباہ ہی کردے، اور بہت سوں سے درگزر کر جائے۔

﴿35﴾ اور جو لوگ ہماری آیتوں میں جھگڑے ڈالتے ہیں، انہیں پتہ چل جائے کہ ان کے لیے کوئی بچاؤ کی جگہ نہیں ہے۔

﴿36﴾ غرض تمہیں جو کوئی چیز دی گئی ہے وہ دنیوی زندگی کی پونجی ہے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ ان لوگوں کے لیے کہیں بہتر اور پائیدار ہے جو ایمان لائے ہیں، اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں۔

﴿37﴾ اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب ان کو غصہ آتا ہے تو وہ درگزر سے کام لیتے ہیں۔

﴿38﴾ اور جنہوں نے اپنے پروردگار کی بات مانی ہے اور نماز قائم کی ہے اور ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں، اور ہم نے انہیں جو رزق دیا ہے ،۔ اس میں سے وہ (نیکی کے کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔

﴿39﴾ اور جب ان پر کوئی زیادتی ہوتی ہے تو وہ اپنا دفاع کرتے ہیں۔

﴿40﴾ اور کسی برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے۔ پھر بھی جو کوئی معاف کردے، اور اصلاح سے کام لے تو اس کا ثواب اللہ نے ذمے لیا ہے۔ یقینا وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔

﴿41﴾ اور جو شخص اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد (برابر کا) بدلہ لے تو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں ہے۔

﴿42﴾ الزام تو ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

﴿43﴾ اور یہ حقیقت ہے کہ جو کوئی صبر سے کام لے، اور درگزر کر جائے تو یہ بڑی ہمت کی بات ہے۔

﴿44﴾ اور جسے اللہ گمراہ کردے تو اس کے بعد کوئی نہیں ہے جو اس کا مددگار بنے۔ اور جب ظالموں کو عذاب نظر آجائے تو تم انہیں یہ کہتا ہوا دیکھیں گے کہ : کیا واپس جانے کا بھی کوئی راستہ ہے ؟

﴿45﴾ اور تم انہیں دیکھو گے کہ دوزخ کے سامنے انہیں اس طرح پیش کیا جائے گا کہ وہ ذلت کے مارے جھکے ہوئے کن انکھیوں سے دیکھ رہے ہوں گے، اور جو لوگ ایمان لاچکے ہیں وہ کہہ رہے ہوں گے کہ : واقعی اصل خسارے میں وہ لوگ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈال دیا۔ یاد رکھو کہ ظالم لوگ ایسے عذاب میں ہوں گے جو ہمیشہ قائم رہے گا۔

﴿46﴾ اور ان کو ایسے کوئی مددگار میسر نہیں آئیں گے جو اللہ کو چھوڑ کر ان کی کوئی مدد کریں۔ اور جسے اللہ گمراہ کردے، اس کے لیے بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔

﴿47﴾ (لوگو) اپنے پروردگار کی بات اس دن کے آنے سے پہلے پہلے مان لو جسے اللہ کی طرف سے ٹالا نہیں جائے گا، اس دن تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہوگی، اور نہ تمہارے لیے پوچھ گچھ کا کوئی موقع ہوگا،

﴿48﴾ (اے پیغمبر) یہ لوگ اگر پھر بھی منہ موڑیں تو ہم نے تمہیں ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجا ہے، تم پر بات پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے، اور (انسان کا حال یہ ہے کہ) جب ہم انسان کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ اس پر اترا جاتا ہے، اور اگر خود اپنے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے ایسے لوگوں کو کوئی مصیبت پیش آجاتی ہے تو وہی انسان پکا ناشکرا بن جاتا ہے۔

﴿49﴾ سارے آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کی ہے، وہ جو چاہتا ہے، پیدا کرتا ہے، وہ جس کو چاہتا ہے، لڑکیاں دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے۔

﴿50﴾ یا پھر ان کو ملا جلا کر لڑکے بھی دیتا اور لڑکیاں بھی اور جس کو چاہتا ہے بانجھ بنا دیتا ہے۔ یقینا وہ علم کا بھی مالک ہے قدرت کا بھی مالک۔

﴿51﴾ اور کسی انسان میں یہ طاقت نہیں ہے کہ اللہ اس سے (روبرو) بات کرے۔ سوائے اس کے کہ وہ وحی کے ذریعے ہو، یا کسی پردے کے پیچھے سے، یا پھر وہ کوئی پیغام لانے والا (فرشتہ) بھیج دے، اور وہ اس کے حکم سے جو وہ چاہے وحی کا پیغام پہنچا دے۔ یقینا وہ بہت اونچی شان والا، بڑی حکمت کا مالک ہے۔

﴿52﴾ اور اسی طرح ہم نے تمہارے پاس اپنے حکم سے ایک روح بطور وحی نازل کی ہے۔ تمہیں اس سے پہلے نہ یہ معلوم تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے، لیکن ہم نے اس (قرآن) کو ایک نور بنایا ہے جس کے ذریعے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں، ہدایت دیتے ہیں۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ تم لوگوں کو وہ سیدھا راستہ دکھا رہے ہو۔

﴿53﴾ جو اللہ کا راستہ ہے، وہ اللہ جس کی ملکیت میں وہ سب کچھ جو آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ جو زمین میں ہے۔ یاد رکھو کہ سارے معاملات آخر کار اللہ ہی کی طرف لوٹیں گے۔

الزخرف

Surah 43

﴿1﴾ حم۔

﴿2﴾ قسم ہے اس واضح کتاب کی۔

﴿3﴾ ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے، تاکہ تم سمجھو۔

﴿4﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ وہ ہمارے پاس لوح محفوظ میں بڑے اونچے درجے کی حکمت سے بھری ہوئی کتاب ہے۔

﴿5﴾ بھلا کیا ہم منہ موڑ کر اس نصیحت نامے کو تم سے اس بنا پر ہٹالیں کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو ؟

﴿6﴾ اور کتنے ہی نبی ہم نے پچھلے لوگوں میں بھی بھیجے ہیں۔

﴿7﴾ اور ان لوگوں کے پاس کوئی نبی ایسا نہیں آیا جس کا وہ مذاق نہ اڑاتے ہوں۔

﴿8﴾ پھر جو لوگ ان (مکہ والوں) سے کہیں زیادہ زور آور تھے ہم نے انہیں ہلاک کردیا، اور ان پچھلے لوگوں کا حال پیچھے گزر چکا ہے۔

﴿9﴾ اور اگر تم ان (مشرکوں) سے پوچھو کہ سارے آسمان اور زمین کس نے پیدا کیے ہیں، تو وہ ضرور یہی کہیں گے کہ : انہیں اس ذات نے پیدا کیا ہے جو اقتدار کی بھی مالک ہے، علم کی بھی مالک۔

﴿10﴾ یہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا، اور اس میں تمہارے لیے راستے بنائے، تاکہ تم منزل تک پہنچ سکو۔

﴿11﴾ اور جس نے آسمان سے ایک خاص اندازے سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ذریعے ایک مردہ علاقے کو نئی زندگی دے دی، اسی طرح تمہیں (قبروں سے) نکال کر نئی زندگی دی جائے گی۔

﴿12﴾ اور جس نے ہر طرح کے جوڑے پیدا کیے اور تمہاری وہ کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سواری کرتے ہو۔

﴿13﴾ تاکہ تم ان کی پشت پر چڑھو، پھر جب ان پر چڑھ کر بیٹھ جاؤ تو اپنے پروردگار کی نعمت کو یاد کرو، اور یہ کہو کہ : پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے بس میں دے دیا، ورنہ ہم میں سے یہ طاقت نہیں تھی کہ اس کو قابو میں لاسکتے۔

﴿14﴾ اور بیشک ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

﴿15﴾ اور ان (مشرک) لوگوں نے یہ بات بنائی ہے کہ اللہ کا خود اس کے بندوں میں سے کوئی جزء ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلم کھلا ناشکرا ہے۔

﴿16﴾ بھلا کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے تو بیٹیاں پسند کی ہیں، اور تمہیں بیٹوں کے لیے منتخب کیا ہے ؟

﴿17﴾ حالانکہ ان میں سے کسی کو جب اس (بیٹی) کی (ولادت) خوشخبری دی جاتی ہے جو اس نے خدائے رحمن کی طرف منسوب کر رکھی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے، اور وہ دل ہی دل میں گھٹتا رہتا ہے۔

﴿18﴾ اور کیا (اللہ نے ایسی اولاد پسند کی ہے) جو زیوروں میں پالی پوسی جاتی ہے اور جو بحث مباحثے میں اپنی بات کھل کر بھی نہیں کہہ سکتی ؟

﴿19﴾ اس کے علاوہ انہوں نے فرشتوں کو جو خدائے رحمن کے بندے ہیں، مؤنث بنادیا ہے۔ کیا یہ لوگ ان کی تخلیق کے وقت موجود تھے ؟ ان کا یہ دعوی لکھ لیا جائے گا اور ان سے باز پرس ہوگی۔

﴿20﴾ اور یہ کہتے ہیں کہ : اگر خدائے رحمن چاہتا تو ہم ان (فرشتوں) کی عبادت نہ کرتے۔ ان کو اس بات کی حقیقت کا ذرا بھی علم نہیں ہے اور ان کا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ اندازوں کے تیر چلاتے ہیں۔

﴿21﴾ بھلا کیا ہم نے انہیں اس سے پہلے کوئی کتاب دی تھی جسے یہ تھامے بیٹھے ہیں ؟

﴿22﴾ نہیں، بلکہ ان کا کہنا یہ ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم کے مطابق ٹھیک ٹھیک راستے پر جارہے ہیں۔

﴿23﴾ اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے جب بھی کسی بستی میں کوئی خبردار کرنے والا (پیغمبر) بھیجا تو وہاں کے دولت مند لوگوں نے یہی کہا کہ : ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر پایا ہے، اور ہم انہی کے نقش قدم کے پیچھے چل رہے ہیں۔

﴿24﴾ پیغمبر نے کہا کہ : تم نے اپنے باپ دادوں کو جس طریقے پر پایا ہے، اگر میں تمہارے پاس اس سے زیادہ ہدایت کی بات لے کر آیا ہوں تو کیا پھر بھی (تم اپنے طریقے پر چلے جاؤ گے ؟) انہوں نے جواب دیا کہ : تم جو پیغام دے کر بھیجے گئے ہو ہم تو اس کو ماننے والے نہیں ہیں۔

﴿25﴾ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان سے انتقام لیا، اب دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟

﴿26﴾ اور وہ وقت یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ : میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔

﴿27﴾ سوائے اس ذات کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، چنانچہ وہی میری رہنمائی کرتا ہے۔

﴿28﴾ اور ابراہیم نے اس (عقیدے) کو ایسی بات بنادیا جو ان کی اولاد میں باقی رہی، تاکہ لوگ (شرک سے) باز آئیں۔

﴿29﴾ (پھر بھی بہت سے لوگ باز نہ آئے) اس کے باوجود میں نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو زندگی کے فائدے دیے، یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف ہدایت دینے والا پیغمبر آگیا۔

﴿30﴾ اور جب وہ حق ان کے پاس آیا تو وہ کہنے لگے کہ : یہ تو جادو ہے اور ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔

﴿31﴾ اور کہنے لگے کہ : یہ قرآن دوبستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا ؟

﴿32﴾ بھلا کیا یہ لوگ ہیں جو تمہارے پروردگار کی رحمت تقسیم کریں گے ؟ دنیوی زندگی میں ان کی روزی کے ذرائع بھی ہم نے ہی ان کے درمیان تقسیم کر رکھے ہیں اور ہم نے ہی ان میں سے ایک کو دوسرے پر درجات میں فوقیت دی ہے، تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں۔ اور تمہارے پروردگار کی رحمت تو اس (دولت) سے کہیں بہتر چیز ہے جو یہ جمع کر رہے ہیں۔

﴿33﴾ اور اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمام انسان ایک ہی طریقے کے (یعنی کافر) ہوجائیں گے تو جو لوگ خدائے رحمن کے منکر ہیں، ہم ان کے لیے ان گھروں کی چھتیں بھی چاندی کی بنا دیتے، اور وہ سیڑھیاں بھی جن پر وہ چڑھتے ہیں۔

﴿34﴾ اور ان کے گھروں کے دروازے بھی، اور وہ تخت بھی جن پر وہ تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں۔

﴿35﴾ بلکہ انہیں سونا بنا دیتے، اور حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ بھی نہیں، صرف دنیوی زندگی کا سامان ہے۔ اور آخرت تمہارے پروردگار کے نزدیک پرہیزگاروں کے لیے ہے۔

﴿36﴾ اور جو شخص خدائے رحمن کے ذکر سے اندھا بن جائے، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں جو اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔

﴿37﴾ ایسے شیاطین ان کو راستے سے روکتے رہتے ہیں، اور وہ سمجھتے ہی کہ ہم ٹھیک راستے پر ہیں۔

﴿38﴾ یہاں تک کہ جب ایسا شخص ہمارے پاس آئے گا تو (اپنے شیطان ساتھی سے) کہے گا کہ : کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا، کیونکہ تو بہت برا ساتھی تھا۔

﴿39﴾ اور آج جب تم ظلم کرچکے ہو تو تمہیں یہ بات ہرگز کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی کہ تم عذاب میں ایک دوسرے کے شریک ہو۔

﴿40﴾ تو پھر (اے پیغمبر) کیا تم بہروں کو سناؤ گے، یا اندھوں کو اور ان لوگوں کو راستے پر لاؤ گے جو کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں ؟

﴿41﴾ اب تو یہی ہوگا کہ اگر ہم تمہیں دنیا سے اٹھالیں، تب بھی ہم ان سے بدلہ لینے والے ہیں۔

﴿42﴾ یا اگر تمہیں بھی وہ (عذاب) دکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے، تب بھی ہمیں ان پر ہر طرح کی قدرت حاصل ہے۔

﴿43﴾ لہذا تم پر جو وحی نازل کی گئی ہے، اسے مضبوطی سے تھامے رکھو۔ یقینا تم سیدھے راستے پر ہو۔

﴿44﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ وحی تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے ایک نیک نامی کا ذریعہ ہے، اور تم سب سے پوچھا جائے گا (کہ تم نے اس کا کیا حق ادا کیا ؟)

﴿45﴾ اور تم سے پہلے ہم نے اپنے جو پیغمبر بھیجے ہیں، ان سے پوچھ لو کہ کیا ہم نے خدائے رحمن کے سوا کوئی اور معبود بھی مقرر کیے تھے جن کی عبادت کی جائے ؟

﴿46﴾ اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تھا، چنانچہ موسیٰ نے کہا کہ : میں رب العالمین کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں۔

﴿47﴾ پھر جب انہوں نے ہماری نشانیاں ان کے سامنے پیش کیں تو وہ ان کا مذاق اڑانے لگے۔

﴿48﴾ اور ہم انہیں جو نشانی بھی دکھاتے، وہ پہلی نشانی سے بڑھ چڑھ کر ہوتی تھی، اور ہم نے انہیں عذاب میں بھی پکڑا تاکہ وہ باز آجائیں۔

﴿49﴾ اور وہ یہ کہنے لگے کہ : اے جادوگر ! تم سے تمہارے پروردگار نے جو عہد کر رکھا ہے اس کا واسطہ دے کر اس سے ہمارے لیے دعا کرو، ہم یقینا راہ راست پر آجائیں گے۔

﴿50﴾ پھر جب ہم ان سے عذاب کو دور کردیتے ہیں تو پل بھر میں وہ اپنا وعدہ توڑ ڈالتے تھے۔

﴿51﴾ اور فرعون نے اپنی قوم کے درمیان پکار کر کہا کہ : اے میری قوم ! کیا مصر کی سلطنت میرے قبضے میں نہیں ہے ؟ اور (دیکھو) یہ دریا میرے نیچے بہہ رہے ہیں۔ کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا ؟

﴿52﴾ یا پھر مانو کہ میں اس شخص سے کہیں بہتر ہوں جو بڑا حقیر قسم کا ہے، اور اپنی بات کھل کر کہنا بھی اس کے لیے مشکل ہے۔

﴿53﴾ بھلا (اگر یہ پیغبر ہے تو) اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے ؟ یا پھر اس کے ساتھ فرشتے پر باندھے ہوئے کیوں نہ آئے ؟

﴿54﴾ اس طرح اس نے اپنی قوم کو بیوقوف بنایا اور انہوں نے اس کا کہنا مان لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ سب گنہگار لوگ تھے۔

﴿55﴾ چنانچہ جب انہوں نے ہمیں ناراض کردیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کردیا۔

﴿56﴾ اور ہم نے انہیں ایک گئی گزری قوم اور بعد والوں کے لیے عبرت کا نمونہ بنادیا۔

﴿57﴾ اور جب (عیسیٰ) ابن مریم کی مثال دی گئی تو تمہاری قوم کے لوگ یکایک شور مچانے لگے۔

﴿58﴾ اور کہنے لگے کہ : ہمارے معبودبہتر ہیں یا وہ ؟ انہوں نے تمہارے سامنے یہ مثال محض کٹ حجتی کے لیے دی ہے، بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو۔

﴿59﴾ وہ (یعنی عیسیٰ (علیہ السلام)) تو بس ہمارے ایک بندے تھے جن پر ہم نے انعام کیا تھا، اور بنی اسرائیل کے لیے ان کو ایک نمونہ بنایا تھا۔

﴿60﴾ اور اگر ہم چاہیں تو تم سے فرشتے پیدا کردیں جو زمین میں ایک دوسرے کے جانشین بن کر رہا کریں۔

﴿61﴾ اور یقین رکھو کہ وہ (یعنی عیسیٰ (علیہ السلام)) قیامت کی ایک نشانی ہیں۔ اس لیے تم اس میں شک نہ کرو، اور میری بات مانو، یہی سیدھا راستہ ہے۔

﴿62﴾ اور ایسا ہرگز نہ ہونے پائے کہ شیطان تمہیں اس راستے سے روک دے۔ یقین جانو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

﴿63﴾ اور جب عیسیٰ کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے تھے تو انہوں نے (لوگوں سے) کہا تھا کہ : میں تمہارے پاس دانائی کی بات لے کر آیا ہوں، اور اس لیے لایا ہوں کہ تمہارے سامنے کچھ وہ چیزیں واضح کردوں جن میں تم اختلاف کرتے ہو۔ لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور میری بات مان لو۔

﴿64﴾ یقینا اللہ ہی میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے، اس لیے اس کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔

﴿65﴾ پھر بھی ان میں سے کئی گروہوں نے اختلاف پیدا کیا، چنانچہ ان ظالموں کے لیے ایک دردناک دن کے عذاب کی وجہ سے بڑی خرابی ہوگی۔

﴿66﴾ یہ لوگ بس اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ قیامت ان کے سامنے اچانک آکھڑی ہو، اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔

﴿67﴾ اس دن تمام دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے، سوائے متقی لوگوں کے۔

﴿68﴾ (جن سے کہا جائے گا کہ) اے میرے بندو ! آج تم پر نہ کوئی خوف طاری ہوگا اور نہ تم غمگین ہوگے۔

﴿69﴾ اے میرے وہ بندو جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے تھے اور فرمانبردار رہے تھے۔

﴿70﴾ تم بھی اور تمہاری بیویاں بھی، خوشی سے چمکتے چہروں کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔

﴿71﴾ ان کے آگے سونے کے پیالے اور گلاس گردش میں لائے جائیں گے۔ اور اس جنت میں ہر وہ چیز ہوگی جس کی دلوں کو خواہش ہوگی اور جس سے آنکھوں کو لذت حاصل ہوگی۔ (ان سے کہا جائے گا کہ) اس جنت میں تم ہمیشہ رہو گے۔

﴿72﴾ اور یہ وہ جنت ہے جس کا تمہیں اپنے اعمال کے بدلے وارث بنادیا گیا ہے۔

﴿73﴾ اس میں تمہارے لیے خوب افراط کے ساتھ میوے ہیں جن میں سے تم کھاؤ گے۔

﴿74﴾ البتہ جو لوگ مجرم تھے وہ دوزخ کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔

﴿75﴾ وہ عذاب ان کے لیے ہلکا نہیں پڑنے دیا جائے گا، اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے۔

﴿76﴾ اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا، لیکن وہ خود ہی ظالم لوگ تھے۔

﴿77﴾ اور وہ (دوزخ کے فرشتے سے) پکار کر کہیں گے کہ : اے مالک ! تمہارا پروردگار ہمارا کام ہی تمام کردے۔ وہ کہے گا کہ تمہیں اسی حال میں رہنا ہے۔

﴿78﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم تمہارے پاس حق بات لے کر آئے تھے لیکن تم میں سے اکثر لوگ حق بات ہی کو برا سمجھتے ہیں۔

﴿79﴾ ہاں کیا ان لوگوں نے کچھ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ؟ اچھا تو ہم بھی کچھ کرنے کا فیصلہ کرنے والے ہیں۔

﴿80﴾ کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کی خفیہ باتیں اور ان کی سرگوشیاں نہیں سنتے ؟ کیسے نہیں سنتے ؟ نیز ہمارے فرشتے ان کے پاس ہیں، وہ سب کچھ لکھتے رہتے ہیں۔

﴿81﴾ (اے پیغمبر) کہہ دو کہ : اگر خدائے رحمن کی کوئی اولاد ہوتی تو سب سے پہلا عبادت کرنے والا میں ہوتا۔

﴿82﴾ وہ جو آسمانوں اور زمین کا بھی مالک ہے، عرش کا بھی مالک، وہ ان ساری باتوں سے پاک ہے جو یہ بنایا کرتے ہیں۔

﴿83﴾ لہذا (اے پیغمبر) انہیں اپنے حال پر چھوڑ دو کہ یہ ان باتوں میں ڈوبے رہیں، اور ہنسی کھیل کرتے رہیں، یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے جاملیں جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے۔

﴿84﴾ وہی (اللہ) ہے جو آسمان میں بھی معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے۔ اور وہی ہے جو حکمت کا بھی مالک ہے، علم کا بھی مالک۔

﴿85﴾ اور بڑی شان ہے اس کی جس کے قبضے میں آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان تمام چیزوں کی سلطنت ہے اور اسی کے پاس قیامت کا علم ہے، اور اسی کے پاس تم سب کو واپس لے جایا جائے گا۔

﴿86﴾ اور یہ لوگ اسے چھوڑ کر جن معبودوں کو پکارتے ہیں، انہیں کوئی سفارش کرنے کا اختیار نہیں ہوگا، ہاں البتہ جن لوگوں نے حق بات کی گواہی دی ہو، اور انہیں اس کا علم بھی ہو۔

﴿87﴾ اور اگر تم ان لوگوں سے پوچھو کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ ضرور یہی کہیں گے کہ اللہ نے۔ اس کے باوجود کوئی انہیں کہاں سے اوندھا چلا دیتا ہے ؟

﴿88﴾ اور اللہ کو پیغمبر کی اس بات کا بھی علم ہے کہ : یا رب ! یہ ایسے لوگ ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔

﴿89﴾ لہذا (اے پیغمبر) تم ان کی پرواہ نہ کرو، اور کہہ دو : سلام۔ کیونکہ عنقریب انہیں خود سب پتہ چل جائے گا۔

الدخان

Surah 44

﴿1﴾ حم۔

﴿2﴾ قسم ہے اس کتاب کی جو حق کو واضح کرنے والی ہے۔

﴿3﴾ کہ ہم نے اسے ایک مبارک رات میں اتارا ہے۔ (کیونکہ) ہم لوگوں کو خبردار کرنے والے تھے۔

﴿4﴾ اسی رات میں ہر حکیمانہ معاملہ ہمارے حکم سے طے کیا جاتا ہے۔

﴿5﴾ (نیز) ہم ایک پیغمبر بھیجنے والے تھے۔

﴿6﴾ تاکہ تمہارے رب کی طرف سے رحمت کا معاملہ ہو۔ یقینا وہی ہے جو ہر بات سننے والا، ہر چیز جاننے والا ہے۔

﴿7﴾ جو سارے آسمانوں اور زمین کا اور ان کے درمیان ہر چیز کا رب ہے، اگر تم واقعی یقین کرنے والے ہو۔

﴿8﴾ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ زندگی بھی دیتا ہے، اور موت بھی، وہ تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے پہلے گزرے ہوئے باپ دادوں کا بھی رب

﴿9﴾ (پھر بھی کافر ایمان نہیں لاتے) بلکہ وہ شک میں پڑے ہوئے کھیل کر رہے ہیں۔

﴿10﴾ لہذا اس دن کا انتظار کرو جب آسمان ایک واضح دھواں لے کر نمودار ہوگا۔

﴿11﴾ جو لوگوں پر چھا جائے گا۔ یہ ایک دردناک سزا ہے

﴿12﴾ (اس وقت یہ لوگ کہیں گے کہ) اے ہمارے پروردگار ہم سے یہ عذاب دور کر دیجئے، ہم ضرور ایمان لے آئیں گے۔

﴿13﴾ ان کو نصیحت کہاں ہوتی ہے ؟ حالانکہ ان کے پاس ایسا پیغمبر آیا ہے جس نے حقیقت کو کھول کر رکھ دیا ہے۔

﴿14﴾ پھر بھی یہ لوگ اس سے منہ موڑے رہے، اور کہنے لگے کہ : یہ سکھایا پڑھایا ہوا ہے، دیوانہ ہے۔

﴿15﴾ (اچھا) ہم عذاب کو کچھ عرصے تک ہٹا دیتے ہیں۔ یقین ہے کہ تم پھر اسی حالت پر لوٹ آؤ گے۔

﴿16﴾ جس دن ہماری طرف سے سب سے بڑی پکڑ ہوگی، اس دن ہم پورا انتظام لے لیں گے۔

﴿17﴾ اور ان سے پہلے ہم نے فرعون کی قوم کو آزمایا تھا اور ان کے پاس ایک معزز پیغمبر آئے تھے۔

﴿18﴾ (اور انہوں نے کہا تھا کہ) اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو۔ میں تمہاری طرف ایک امانت دار پیغمبر بن کر آیا ہوں۔

﴿19﴾ اور یہ کہ : اللہ کے آگے سرکشی مت کرو، میں تمہارے پاس ایک کھلی ہوئی دلیل پیش کرتا ہوں۔

﴿20﴾ اور میں اس بات سے اپنے پروردگار اور تمہارے پروردگار کی پناہ لیتا ہوں کہ تم مجھے سنگسار کرو۔

﴿21﴾ اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ ہوجاؤ

﴿22﴾ پھر انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔

﴿23﴾ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ) اچھا تم میرے بندوں کو لے کر راتوں رات روانہ ہوجاؤ۔ تمہارا پیچھا ضرور کیا جائے گا۔

﴿24﴾ اور تم سمندر کو ٹھہرا ہوا چھوڑ دینا یقینا یہ لشکر ڈبویا جائے گا۔

﴿25﴾ کتنے باغات اور چشمے تھے جو یہ لوگ چھوڑ گئے۔

﴿26﴾ اور کتنے کھیت اور شاندار مکانات۔

﴿27﴾ اور عیش کے کتنے سامان جن میں وہ مزے کر رہے تھے۔

﴿28﴾ ان کا انجام اسی طرح ہوا، اور ہم نے ان سب چیزوں کا وارث ایک دوسری قوم کو بنادیا۔

﴿29﴾ پھر نہ ان پر آسمان رویا نہ زمین، اور نہ ان کو کچھ مہلت دی گئی۔

﴿30﴾ اور بنی اسرائیل کو ہم نے ذلت کے عذاب سے نجات دے دی،

﴿31﴾ یعنی فرعون سے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا سرکش، حد سے گزرے ہوئے لوگوں میں سے تھا۔

﴿32﴾ اور ہم نے ان کو اپنے علم کے مطابق جہان والوں پر فوقیت دی۔

﴿33﴾ اور ان کو ایسی نشانیاں دیں جن میں کھلا ہوا انعام تھا۔

﴿34﴾ یہ لوگ صاف کہتے ہیں۔

﴿35﴾ کہ : اور کچھ نہیں ہے، بس ہماری وہی پہلی موت ہوگی اور ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔

﴿36﴾ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو اٹھا لاؤ۔

﴿37﴾ بھلا یہ لوگ بہتر ہیں یا تبع کی قوم اور وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے ؟ ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا۔ (کیونکہ) وہ یقینی طور پر مجرم لوگ تھے۔

﴿38﴾ اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزیں بےفائدہ کھیل کرنے کے لیے پیدا نہیں کردی ہیں۔

﴿39﴾ ہم نے انہیں برحق مقصد ہی کے لیے پیدا کیا ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں ہیں۔

﴿40﴾ حقیقت یہ ہے کہ فیصلے کا دن ان سب کی مقررہ میعاد ہے۔

﴿41﴾ جس دن کوئی حمایتی کسی حمایتی کے ذرا بھی کام نہیں آئے گا اور ان میں سے کسی کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔

﴿42﴾ سوائے اس کے جس پر اللہ رحم فرمائے۔ یقینا وہ مکمل اقتدار کا مالک بھی ہے اور بہت مہربان ہے۔

﴿43﴾ یقین جانو کہ زقوم کا درخت،۔

﴿44﴾ گنہگار کا کھانا ہوگا۔

﴿45﴾ تیل کی تلچھٹ جیسا۔ وہ لوگوں کے پیٹ میں اس طرح جوش مارے گا۔

﴿46﴾ جیسے کھولتا ہوا پانی۔

﴿47﴾ (فرشتوں سے کہا جائے گا) اس کو پکڑو، اور گھسیٹ کر دوزخ کے بیچوں بیچ تک لے جاؤ۔

﴿48﴾ پھر اس کے سر کے اوپر کھولتے ہوئے پانی کا عذاب انڈیل دو ۔

﴿49﴾ (کہا جائے گا کہ) لے چکھ۔ تو ہی ہے وہ بڑا صاحب اقتدار، بڑا عزت والا۔

﴿50﴾ یہ وہی چیز ہے جس کے بارے میں تم لوگ شک کیا کرتے تھے۔

﴿51﴾ (دوسری طرف) پرہیزگار لوگ یقینا امن وامان والی جگہ میں ہوں گے۔

﴿52﴾ باغات میں اور چشموں میں۔

﴿53﴾ وہ آمنے سامنے بیٹھے ہوئے سندس اور استبرق کا لباس پہنے ہوں گے۔

﴿54﴾ ان کے ساتھ یہی معاملہ ہوگا اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کا ان سے بیاہ کردیں گے۔

﴿55﴾ وہ وہاں بڑے اطمینان سے ہر قسم کے میوے منگواتے ہوں گے۔

﴿56﴾ جو موت ان کو پہلی آچکی تھی، اس کے علاوہ وہاں وہ کسی اور موت کا مزہ نہیں چکھیں گے، اور اللہ انہیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھے گا۔

﴿57﴾ یہ سب تمہارے پروردگار کی طرف سے فضل ہوگا۔ (انسان کے لیے) زبردست کامیابی یہی ہے۔

﴿58﴾ غرض (اے پیغمبر) ہم نے اس (قرآن) کو تمہاری زبان میں آسان بنادیا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں

﴿59﴾ اب تم بھی انتظار کرو، یہ لوگ بھی انتظار کر رہے ہیں۔

الجاثیہ

Surah 45

﴿1﴾ حم۔

﴿2﴾ یہ کتاب اللہ کی طرف سے اتاری جارہی ہے جو بڑا صاحب اقتدار، بڑا صاحب حکمت ہے۔

﴿3﴾ حقیقت یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں ماننے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔

﴿4﴾ اور خود تمہاری پیدائش میں، اور ان جانوروں میں جو اس نے (زمین میں) پھیلا رکھے ہیں، ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو یقین کریں۔

﴿5﴾ نیز رات اور دن کے آنے جانے میں اور اللہ نے آسمان سے رزق کا جو ذریعہ اتارا، پھر اس سے زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد نئی زندگی دی، اس میں اور ہواؤں کی گردش میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیں۔

﴿6﴾ یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تمہیں ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ اب اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد کون سی بات ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے ؟

﴿7﴾ برا ہو اس جھوٹے گنہگار کا۔

﴿8﴾ جو اللہ کی آیتیں سنتا ہے جبکہ وہ اسے پڑھ کر سنائی جارہی ہوتی ہیں، پھر بھی وہ تکبر کے عالم میں اس طرح (کفر پر) اڑا رہتا ہے جیسے اس نے وہ آیتیں سنی ہی نہیں۔ لہذا ایسے شخص کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو ۔

﴿9﴾ اور جب ہماری آیتوں میں سے کوئی آیت ایسے شخص کے علم میں آتی ہے تو وہ اس کا مذاق بناتا ہے، ایسے لوگوں کو وہ عذاب ہوگا جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔

﴿10﴾ ان کے آگے جہنم ہے اور جو کچھ انہوں نے کمایا ہے نہ وہ ان کے کچھ کام آئے گا اور نہ وہ کام آئیں گے جن کو انہوں نے اللہ کے بجائے اپنا رکھوالا بنا رکھا ہے۔ اور ان کے حصے میں ایک زبردست عذاب آئے گا۔

﴿11﴾ یہ (قرآن) سراپا ہدایت ہے اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں کا انکار کیا ہے، ان کے لیے بلا کا دردناک عذاب ہے۔

﴿12﴾ اللہ وہ ہے جس نے سمندر کو تمہارے کام میں لگا دیا ہے، تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں، اور تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو۔ اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔

﴿13﴾ اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اس سب کو اس نے اپنی طرف سے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے۔ یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو غور و فکر سے کام لیں۔

﴿14﴾ (اے پیغمبر) جو لوگ ایمان لے آئے ہیں ان سے کہو کہ جو لوگ اللہ کے دنوں کا اندیشہ نہیں رکھتے، ان سے درگزر کریں تاکہ اللہ لوگوں کو ان کاموں کا بدلہ دے جو وہ کیا کرتے تھے۔

﴿15﴾ جو شخص بھی نیک کام کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدے کے لیے کرتا ہے اور جو برا کام کرتا ہے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے، پھر تم سب کو اپنے پروردگار ہی کے پاس واپس لایا جائے گا۔

﴿16﴾ اور ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب اور حکومت اور نبوت عطا کی تھی، اور انہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا تھا، اور انہیں دنیا جہان کے لوگوں پر فوقیت بخشی تھی۔

﴿17﴾ اور انہیں کھلے کھلے احکام دیے تھے، اس کے بعد ان میں جو اختلاف پیدا ہوا وہ ان کے پاس علم آجانے کے بعد ہی ہوا، صرف اس لیے کہ ان کو ایک دوسرے سے ضد ہوگئی تھی۔ یقینا تمہارا پروردگار ان کے درمیان قیامت کے دن ان باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔

﴿18﴾ پھر (اے پیغمبر) ہم نے تمہیں دین کی ایک خاص شریعت پر رکھا ہے، لہذا تم اسی کی پیروی کرو، اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا جو حقیقت کا علم نہیں رکھتے۔

﴿19﴾ وہ اللہ کے مقابلے میں تمہارے ذرا بھی کام نہیں آسکتے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور اللہ متقی لوگوں کا دوست ہے۔

﴿20﴾ یہ (قرآن) تمام لوگوں کے لیے بصیرتوں کا مجموعہ ہے، اور جو لوگ یقین کریں ان کے لیے منزل تک پہنچانے کا ذریعہ اور سراپا رحمت ہے۔

﴿21﴾ جن لوگوں نے برے برے کاموں کا ارتکاب کیا ہے، کیا وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ انہیں ہم ان لوگوں کے برابر کردیں گے جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں جس کے نتیجے میں ان کا جینا اور مرنا ایک ہی جیسا ہوجائے ؟ کتنی بری بات ہے جو یہ طے کیے ہوئے ہیں۔

﴿22﴾ اللہ نے سارے آسمانوں اور زمین کو برحق مقصد کے لیے پیدا کیا ہے، اور اس لیے کیا ہے کہ ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے کاموں کا بدلہ دیا جائے، اور دیتے وقت ان پر کوئی ظلم نہ کیا جائے۔

﴿23﴾ پھر کیا تم نے اسے بھی دیکھا جس نے اپنا خدا اپنی نفسانی خواہش کو بنا لیا ہے، اور علم کے باوجود اللہ نے اسے گمراہی میں ڈال دیا، اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی، اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا۔ اب اللہ کے بعد کون ہے جو اسے راستے پر لائے ؟ کیا پھر بھی تم لوگ سبق نہیں لیتے ؟

﴿24﴾ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ : جو کچھ زندگی ہے بس یہی ہماری دنیوی زندگی ہے، (اسی میں) ہم مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں کوئی اور نہیں، زمانہ ہی ہلاک کردیتا ہے۔ حالانکہ اس بات کا انہیں کچھ بھی علم نہیں ہے، بس وہمی اندازے لگاتے ہیں۔

﴿25﴾ اور جب ہماری آیتیں پوری وضاحت کے ساتھ ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ کہنے کے سوا ان کی کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ : اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو (زندہ کر کے) لے آؤ۔

﴿26﴾ کہہ دو کہ اللہ ہی تمہیں زندگی دیتا ہے، پھر وہ تمہیں موت دے گا پھر تم سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا، جس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے، لیکن اکثر لوگ سمجھتے نہیں ہیں۔

﴿27﴾ اور آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کی ہے، اور جس دن قیامت آکھڑی ہوگی، اس دن جو لوگ باطل پر ہیں، وہ سخت نقصان اٹھائیں گے۔

﴿28﴾ اور تم ہر گروہ کو دیکھو گے کہ وہ گھٹنوں کے بل گرا ہوا ہے۔ ہر گروہ کو اس کے اعمال نامے کی طرف بلایا جائے گا، (اور کہا جائے گا کہ) آج تمہیں ان اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے۔

﴿29﴾ یہ ہمارا (لکھوایا ہوا) دفتر ہے جو تمہارے بارے میں ٹھیک ٹھیک بول رہا ہے۔ تم جو کچھ کرتے تھے، ہم اس سب کو لکھوا لیا کرتے تھے۔

﴿30﴾ چنانچہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو تو ان کا پروردگار اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ یہی کھلی ہوئی کامیابی ہے۔

﴿31﴾ رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر اپنا لیا تھا، (ان سے کہا جائے گا کہ) بھلا کیا تمہارے سامنے میری آیتیں نہیں پڑھی جاتی تھیں ؟ پھر بھی تم نے تکبر سے کام لیا، اور مجرم بنے رہے۔

﴿32﴾ اور جب تم سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور قیامت وہ حقیقت ہے جس میں کوئی بھی شک نہیں ہے، تو تم یہ کہتے تھے کہ : ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہوتی ہے ؟ اس کے بارے میں ہم جو کچھ خیال کرتے ہیں، بس ایک گمان سا ہوتا ہے، اور ہمیں یقین بالکل نہیں ہے۔

﴿33﴾ اور (اس موقع پر) انہوں نے جو اعمال کیے تھے، ان کی برائیاں کھل کر ان کے سامنے آجائیں گی، اور جس چیز کا وہ مذاق اڑاتے تھے، وہی ان کو آگھیرے گی،

﴿34﴾ اور ان سے کہا جائے گا کہ : آج ہم تمہیں اسی طرح بھلا دیں گے جیسے تم نے یہ بات بھلا ڈالی تھی کہ تمہیں اپنے اس دن کا سامنا کرنا ہوگا اور تمہارا ٹھکانا آگ ہے، اور تمہیں کسی قسم کے مددگار میسر نہیں آئیں گے۔

﴿35﴾ یہ سب اس لیے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کو مذاق بنایا تھا اور دنیوی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈال دیا تھا۔ چنانچہ آج ایسے لوگوں کو نہ وہاں سے نکالا جائے گا، اور نہ ان سے معافی مانگنے کو کہا جائے گا۔

﴿36﴾ غرض تعریف تمام تر اللہ کی ہے جو سارے آسمانوں کا بھی مالک ہے، زمین کا بھی مالک، اور تمام جہانوں کا بھی مالک۔

﴿37﴾ اور تمام تر بڑائی اسی کو حاصل ہے، آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی، اور وہی ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کی حکمت بھی کامل۔

الاحقاف

Surah 46

﴿1﴾ حم۔

﴿2﴾ یہ کتاب اللہ کی طرف سے اتاری جارہی ہے جو بڑا صاحب اقتدار، بڑا صاحب حکمت ہے۔

﴿3﴾ ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کسی برحق مقصد کے بغیر اور کسی متعین میعاد کے بغیر پیدا نہیں کردیا۔ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ اس چیز سے منہ موڑے ہوئے ہیں جس سے انہیں خبردار کیا گیا ہے۔

﴿4﴾ تم ان سے کہو کہ : کیا تم نے ان چیزوں پر کبھی غور کیا ہے جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ؟ مجھے دکھاؤ تو سہی کہ انہوں نے زمین کی کونسی چیز پیدا کی ہے ؟ یا آسمانوں (کی تخلیق) میں ان کا کوئی حصہ ہے ؟ میرے پاس کوئی ایسی کتاب لاؤ جو اس قرآن سے پہلے کی ہو، یا پھر کوئی روایت جس کی بنیاد علم پر ہو۔ اگر تم واقعی سچے ہو۔

﴿5﴾ اس شخص سے بڑا گمراہ کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ان (من گھڑت دیوتاؤں) کو پکارے جو قیامت کے دن تک اس کی پکار کا جواب نہیں دے سکتے، اور جن کو ان کی پکار کی خبر تک نہیں ہے۔

﴿6﴾ اور جب لوگوں کو محشر میں جمع کیا جائے گا تو وہ ان کے دشمن بن جائیں گے اور ان کی عبادت ہی سے منکر ہوں گے۔

﴿7﴾ اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں اپنی پوری وضاحت کے ساتھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں، تو یہ کافر لوگ حق بات کے ان تک پہنچ جانے کے بعد بھی اس کے بارے میں یوں کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔

﴿8﴾ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ اسے پیغمبر نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے ؟ کہہ دو کہ : اگر میں نے اسے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے تو تم مجھے اللہ کی پکڑ سے ذرا بھی نہیں بچا سکو گے۔ جو باتیں تم بناتے ہو وہ انہیں خوب جانتا ہے۔ میرے اور تمہارے درمیان گواہ بننے کے لیے وہ کافی ہے اور وہی ہے جو بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔

﴿9﴾ کہو کہ : میں پیغمبروں میں کوئی انوکھا پیغمبر نہیں ہوں، مجھے معلوم نہیں ہے کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ یہ معلوم ہے کہ تمہارے ساتھ کیا ہوگا ؟ میں کسی اور چیز کی نہیں، صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھے بھیجی جاتی ہے۔ اور میں تو صرف ایک واضح انداز سے خبردار کرنے والا ہوں۔

﴿10﴾ کہو کہ : ذرا مجھے یہ بتاؤ کہ اگر یہ (قرآن) اللہ کی طرف سے ہو، اور تم نے اس کا انکار کردیا، اور بنو اسرائیل میں سے ایک گواہ نے اس جیسی بات کے حق میں گواہی بھی دے دی، اور اس پر ایمان بھی لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں مبتلا رہے (تو یہ کتنے ظلم کی بات ہے ؟) یقین جانو کہ اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا جو ظالم ہوں۔

﴿11﴾ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، وہ ایمان لانے والوں کے بارے میں یوں کہتے ہیں کہ : اگر یہ (ایمان لانا) کوئی اچھی بات ہوتی تو یہ لوگ اس بارے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے۔ اور جب ان کافروں نے اس سے خود ہدایت حاصل نہیں کی تو وہ تو یہی کہیں گے کہ یہ وہی پرانے زمانے کا جھوٹ ہے۔

﴿12﴾ اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے، اور یہ (قرآن) وہ کتاب ہے جو عربی زبان میں ہوتے ہوئے اس کو سچا بتارہی ہے تاکہ ان ظالموں کو خبردار کرے، اور نیک کام کرنے والوں کے لیے خوشخبری بن جائے۔

﴿13﴾ یقینا جن لوگوں نے یہ کہہ دیا ہے کہ : ہمارا پروردگار اللہ ہے، پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے تو ان پر نہ کوئی خوف طاری ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

﴿14﴾ وہ جنت والے لوگ ہیں جو ہمیشہ اس میں رہیں گے، یہ ان اعمال کا بدلہ ہوگا جو وہ کیا کرتے تھے۔

﴿15﴾ اور ہم نے انسان کو اپنے والدین سے اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کی ماں نے بڑی مشقت سے اسے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا، اور بڑی مشقت سے اس کو جنا، اور اس کو اٹھائے رکھنے اور اس کے دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہوتی ہے یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری توانائی کو پہنچ گیا، اور چالیس سال کی عمر تک پہنچا تو وہ کہتا ہے کہ یار رب ! مجھے توفیق دیجیے کہ میں آپ کی اس نعمت کا شکر ادا کروں جو آپ نے مجھے اور میرے ماں باپ کو عطا فرمائی، اور ایسے نیک عمل کروں جن سے آپ راضی ہوجائیں، اور میرے لیے میری اولاد کو بھی صلاحیت دے دیجیے، میں آپ کے حضور توبہ کرتا ہوں اور میں فرمانبرداروں میں شامل ہوں۔

﴿16﴾ یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم ان کے بہترین اعمال قبول کریں گے، اور ان کی خطاؤں سے درگزر کریں گے (جس کے نتیجے میں) وہ جنت والوں میں شامل ہوں گے، اس سچے وعدے کی بدولت جو ان سے کیا جاتا تھا۔

﴿17﴾ اور ایک وہ شخص ہے جس نے اپنے والدین سے کہا ہے کہ : تف ہے تم پر۔ کیا تم مجھ سے یہ وعدہ کرتے ہو کہ مجھے زندہ کر کے قبر سے نکالا جائے گا، حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی نسلیں گزر چکی ہیں۔ اور والدین اللہ سے فریاد کرتے ہیں۔ (اور بیٹے سے کہتے ہیں کہ) افسوس ہے تجھ پر۔ ایمان لے آ۔ یقین جان کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ تو وہ کہتا ہے کہ : ان باتوں کی اس کے سوا کوئی حقیقت نہیں ہے کہ یہ محض افسانے ہیں جو پچھلے لوگوں سے نقل ہوتے چلے آرہے ہیں۔

﴿18﴾ یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں جنات اور انسانوں کے ان گروہوں سمیت جو ان سے پہلے گزرے ہیں، (عذاب کی) بات طے ہوچکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب بڑا نقصان اٹھانے والے ہیں۔

﴿19﴾ اور ہر ایک (گروہ) کے اپنے اعمال کی وجہ سے مختلف درجے ہیں، اور اس لیے ہیں تاکہ اللہ ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے۔ اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔

﴿20﴾ اور اس دن کو یاد کرو جب ان کافروں کو آگ کے سامنے پیش کیا جائے گا (اور کہا جائے گا کہ) تم نے اپنے حصے کی اچھی چیزیں اپنی دنیوی زندگی میں ختم کر ڈالیں اور ان سے خوب مزہ لے لیا، لہذا آج تمہیں بدلے میں ذلت کی سزا ملے گی، کیونکہ تم زمین میں ناحق تکبر کیا کرتے تھے، اور کیونکہ تم نافرمانی کے عادی تھے۔

﴿21﴾ اور قوم عاد کے بھائی (حضرت ہود (علیہ السلام)) کا تذکرہ کرو، جب انہوں نے اپنی قوم کو خم دار ٹیلوں کی سرزمین میں خبردار کیا تھا۔ اور ایسے خبردار کرنے والے ان سے پہلے گزر چکے ہیں، اور ان کے بعد بھی، کہ : اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، مجھے تم پر ایک زبردست دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

﴿22﴾ انہوں نے کہا : کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمارے خداؤں سے ہمیں برگشتہ کرو ؟ اچھا اگر تم سچے ہو تو لے آؤ ہم پر وہ (عذاب) جس کی دھمکی دے رہے ہو۔

﴿23﴾ انہوں نے فرمایا : ٹھیک ٹھیک علم تو اللہ کے پاس ہے (کہ وہ عذاب کب آئے گا ؟) مجھے جو پیغام دے کر بھیجا گیا ہے میں تو تمہیں وہی پیغام پہنچا رہا ہوں، البتہ میں یہ ضرور دیکھ رہا ہوں کہ تم ایسے لوگ ہو جو نادانی کی باتیں کر رہے ہو۔

﴿24﴾ پھر ہوا یہ کہ جب انہوں نے اس (عذاب) کو ایک بادل کی شکل میں آتا دیکھا جو ان کی وادیوں کا رخ کر رہا تھا تو انہوں نے کہا کہ : یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔ نہیں ! بلکہ یہ وہ چیز ہے جس کی تم نے جلدی مچائی تھی۔ ایک آندھی جس میں دردناک عذاب ہے۔

﴿25﴾ جو اپنے پروردگار کے حکم سے ہر چیز کو تہس نہس کر ڈالے گی، غرض ان کی حالت یہ ہوگئی کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ ایسے مجرم لوگوں کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔

﴿26﴾ اور (اے عرب کے لوگو) ہم نے ان لوگوں کو ان باتوں کی طاقت دی تھی جن کی طاقت تمہیں نہیں دی، اور ہم نے ان کو کان، آنکھیں اور دل سب کچھ دے رکھے تھے، لیکن نہ ان کے کان اور ان کی آنکھیں ان کے کچھ کام آئیں اور نہ ان کے دل، کیونکہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے، اور جس چیز کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اسی نے انہیں آگھیرا۔

﴿27﴾ اور ہم نے اور بستیوں کو بھی ہلاک کیا ہے جو تمہارے اردگرد واقع تھیں، جبکہ ہم طرح طرح کی نشانیاں (ان کے) سامنے لاچکے تھے، تاکہ وہ باز آجائیں۔

﴿28﴾ پھر انہوں نے اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے جن چیزوں کو اللہ کے سوا معبود بنا رکھا تھا، انہوں نے ان کی کیوں مدد نہ کرلی ؟ اس کے بجائے وہ سب ان کے لیے بےنشان ہوگئے۔ یہ تو ان کا سراسر جھوٹ تھا، اور بہتان تھا جو انہوں نے تراش رکھا تھا۔

﴿29﴾ اور (اے پیغمبر) یاد کرو جب ہم نے جنات میں سے ایک گروہ کو تمہاری طرف متوجہ کیا کہ وہ قرآن سنیں۔ چنانچہ جب وہ وہاں پہنچے تو انہوں نے (ایک دوسرے سے) کہا کہ : خاموش ہوجاؤ، پھر جب وہ پڑھا جاچکا تو وہ اپنی قوم کے پاس انہیں خبردار کرتے ہوئے واپس پہنچے۔

﴿30﴾ انہوں نے کہا : اے ہماری قوم کے لوگو ! یقین جانو ہم نے ایک ایسی کتاب سنی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل کی گئی ہے، اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے، حق بات اور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

﴿31﴾ اے ہماری قوم کے لوگو ! اللہ کے داعی کی بات مان لو، اور اس پر ایمان لے آؤ، اللہ تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا، اور تمہیں ایک دردناک عذاب سے پناہ دے دے گا۔

﴿32﴾ اور جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہ مانے تو وہ ساری زمین میں کہیں بھی جاکر اللہ کو عاجز نہیں کرسکتا، اور اللہ کے سوا اس کو کسی قسم کے رکھوالے بھی نہیں ملیں گے۔ ایسے لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔

﴿33﴾ کیا ان کو یہ سجھائی نہیں دیا کہ وہ اللہ جس نے سارے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کو پیدا کرنے سے اس کو ذرا بھی تھکن نہیں ہوئی، وہ یقینا اس بات پر پوری طرح قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کردے ؟ اور کیوں نہ ہو ؟ وہ بیشک ہر چیز کی پوری قدرت رکھنے والا ہے۔

﴿34﴾ اور جس دن کافروں کو آگ کے سامنے پیش کیا جائے گا، اس دن (ان سے پوچھا جائے گا) کہ کیا یہ (دوزخ) سچ نہیں ہے ؟ وہ کہیں گے کہ : ہمارے رب کی قسم ! یہ واقعی سچ ہے۔ اللہ ارشاد فرمائے گا کہ : پھر چکھو مزہ عذاب کا، اس کفر کے بدلے میں جو تم نے اختیار کر رکھا تھا۔

﴿35﴾ غرض (اے پیغمبر) تم اسی طرح صبر کیے جاؤ جیسے اولوالعزم پیغمبروں نے صبر کیا ہے، اور ان کے معاملے میں جلدی نہ کرو۔ جس دن یہ لوگ وہ چیز دیکھ لیں گے جس سے انہیں ڈرایا جارہا ہے اس دن (انہیں) یوں محسوس ہوگا جیسے وہ (دنیا میں) دن کی ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے۔ یہ ہے وہ پیغام جو پہنچا دیا گیا ہے۔ اب برباد تو وہی لوگ ہوں گے جو نافرمان ہیں۔

محمد

Surah 47

﴿1﴾ جن لوگوں نے کفر اختیار کرلیا ہے اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکا ہے، اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردیے ہیں۔

﴿2﴾ اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اور ہر اس بات کو دل سے مانا ہے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کی گئی ہے۔ اور وہی حق ہے جو ان کے پروردگار کی طرف سے آیا ہے۔ اللہ نے ان کی برائیوں کو معاف کردیا ہے اور ان کی حالت سنوار دی ہے۔

﴿3﴾ یہ اس لیے کہ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے وہ باطل کے پیچھے چلے ہیں، اور جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ اس حق کے پیچھے چلے ہیں جو ان کے پروردگار کی طرف سے آیا ہے، اسی طرح اللہ لوگوں کو بتارہا ہے کہ ان کے حالات کیا کیا ہیں۔

﴿4﴾ اور جب ان لوگوں سے تمہارا مقابلہ ہو جنہوں نے کفر اختیار کر رکھا ہے، تو گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب تم ان کی طاقت کچل چکے ہو، تو مضبوطی سے گرفتار کرلو، پھر چاہے احسان کر کے چھوڑ دو ، یا فدیہ لے کر یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار پھینک کر ختم ہوجائے۔ تمہیں تو یہی حکم ہے اور اگر اللہ چاہتا تو خود ان سے انتقام لے لیتا، لیکن (تمہیں یہ حکم اس لیے دیا ہے) تاکہ تمہارا ایک دوسرے کے ذریعے امتحان لے۔ اور جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوئے، اللہ ان کے اعمال کو ہرگز اکارت نہیں کرے گا۔

﴿5﴾ وہ انہیں منزل تک پہنچا دے گا، اور ان کی حالت سنوار دے گا۔

﴿6﴾ اور انہیں جنت میں داخل کرے گا جس کی انہیں خوب پہچان کرادی ہوگی۔

﴿7﴾ اے ایمان والو ! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا، اور تمہارے قدم جما دے گا۔

﴿8﴾ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، ان کے لیے تباہی ہے، اور اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردیے ہیں۔

﴿9﴾ یہ اس لیے کہ انہوں نے اس بات کو ناپسند کیا جو اللہ نے نازل کی تھی، چنانچہ اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردیے۔

﴿10﴾ بھلا کیا ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے گزرے ہیں ؟ اللہ نے ان پر تباہی ڈالی، اور کافروں کے لیے اسی جیسے انجام مقدر ہیں۔

﴿11﴾ یہ اس لیے کہ اللہ ان لوگوں کا رکھوالا ہے جو ایمان لائیں اور کافروں کا کوئی رکھوالا نہیں ہے۔

﴿12﴾ یقین رکھو کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اللہ ان کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اور جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ (یہاں تو) مزے اڑا رہے ہیں، اور اسی طرح کھا رہے ہیں جیسے چوپائے کھاتے ہیں، اور جہنم ان کا آخری ٹھکانا ہے۔

﴿13﴾ اور کتنی بستیاں ہیں جو طاقت میں تمہاری اس بستی سے زیادہ مضبوط تھیں جس نے (اے پیغمبر) تمہیں نکالا ہے۔ ان سب کو ہم نے ہلاک کردیا، اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوا۔

﴿14﴾ اب بتاؤ کہ جو لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے ایک روشن راستے پر ہوں، کیا وہ ان جیسے ہوسکتے ہیں جن کی بدکاری ہی ان کے لیے خوشنما بنادی گئی ہو، اور وہ اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے چلتے ہوں ؟

﴿15﴾ متقی لوگوں سے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے، اس کا حال یہ ہے کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو خراب ہونے والا نہیں، ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ نہیں بدلے گا، ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لیے سراپا لذت ہوگی، اور ایسے شہد کی نہریں ہیں جو نتھرا ہوا ہوگا، اور ان جنتیوں کے لیے وہاں ہر قسم کے پھل ہوں گے، اور ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت ! کیا یہ لوگ ان جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے، اور انہیں گرم پانی پلایا جائے گا، چنانچہ وہ ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردے گا ؟

﴿16﴾ اور (اے پیغمبر) ان میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو تمہاری باتیں کانوں سے تو سنتے ہیں، لیکن جب تمہارے پاس سے نکل کر جاتے ہیں تو جنہیں علم عطا ہوا ہے ان سے پوچھتے ہیں کہ : ابھی ابھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا کہا تھا ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے، اور جو اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے لگ گئے ہیں۔

﴿17﴾ اور جن لوگوں نے ہدایت کا راستہ اختیار کیا ہے اللہ نے انہیں ہدایت میں اور ترقی دی ہے، اور انہیں ان کے حصے کا تقوی عطا فرمایا ہے۔

﴿18﴾ اب کیا یہ (کافر) لوگ قیامت ہی کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ یکایک ان پر آن پڑے ؟ (اگر ایسا ہے) تو اس کی علامتیں تو آچکی ہیں۔ پھر جب وہ آہی جائے گی تو اس وقت ان کے لیے نصیحت ماننے کا موقع کہاں سے آئے گا ؟

﴿19﴾ لہذا (اے پیغمبر) یقین جانو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، اور اپنے قصور پر بھی بخشش کی دعا مانگتے رہو، اور مسلمان مردوں اور عورتوں کی بخشش کی بھی، اور اللہ تم سب کی نقل و حرکت اور تمہاری قیام گاہ کو خوب جانتا ہے۔

﴿20﴾ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ : کیا اچھا ہو کہ کوئی (نئی) سورت نازل ہوجائے ؟ پھر جب کوئی جچی تلی سورت نازل ہوجائے، اور اس میں لڑائی کا ذکر ہو تو جن لوگوں کے دلوں میں روگ ہے، تم انہیں دیکھو گے کہ وہ تمہاری طرف اس طرح نظریں اٹھائے ہوئے ہیں جیسے کسی پر موت کی غشی طاری ہو۔ بڑی خرابی ہے ایسے لوگوں کی۔

﴿21﴾ یہ فرمانبرداری کا اظہار اور اچھی اچھی باتیں کرتے ہیں، لیکن جب (جہاد کا) حکم پکا ہوجائے اس وقت اگر یہ اللہ کے ساتھ سچے نکلیں تو ان کے حق میں اچھا ہو۔

﴿22﴾ پھر اگر تم نے (جہاد سے) منہ موڑا تو تم سے کیا توقع رکھی جائے ؟ یہی کہ تم زمین میں فساد مچاؤ، اور اپنے خونی رشتے کاٹ ڈالو۔

﴿23﴾ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے اپنی رحمت سے دور کردیا ہے، چنانچہ انہیں بہرا بنادیا ہے اور ان کی آنکھیں اندھی کردی ہیں۔

﴿24﴾ بھلا کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے، یا دلوں پر وہ تالے پڑے ہوئے ہیں جو دلوں پر پڑا کرتے ہیں ؟

﴿25﴾ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ حق بات سے پیٹھ پھیر کر مڑ گئے ہیں، باوجودیکہ ہدایت ان کے سامنے خوب واضح ہوچکی تھی، انہیں شیطان نے پٹی پڑھائی ہے اور انہیں دور دراز کی امیدیں دلائی ہیں۔

﴿26﴾ یہ سب اس لیے ہوا کہ جو لوگ اللہ کی نازل کی ہوئی باتوں کو ناپسند کرتے ہیں، ان (منافقوں) نے ان سے یہ کہا ہے کہ : بعض معاملات میں ہم تمہاری بات مانیں گے۔ اور اللہ ان کی خفیہ باتوں کو خوب جانتا ہے۔

﴿27﴾ پھر اس وقت ان کا کیا حال بنے گا جب فرشتے ان کی روح اس طرح قبض کریں گے کہ ان کے چہروں پر اور پیٹھوں پر مارتے جاتے ہوں گے ؟

﴿28﴾ یہ سب اس لیے کہ یہ اس طریقے پر چلے جس نے اللہ کو ناراض کیا، اور اس کی رضا مندی حاصل کرنے کو خود انہوں نے ناپسند کیا، اس لیے اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردیے۔

﴿29﴾ جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) روگ ہے، کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے چھپے ہوئے کینوں کو اللہ کبھی ظاہر نہیں کرے گا ؟

﴿30﴾ اور (مسلمانو) اگر ہم چاہیں تو تمہیں یہ لوگ اس طرح دکھا دیں کہ تم ان کی علامت سے انہیں پہچان جاؤ، اور (اب بھی) تم انہیں بات کرنے کے ڈھپ سے ضرور پہچان ہی جاؤ گے، اور اللہ تم سب کے اعمال کو خوب جانتا ہے۔

﴿31﴾ اور ہم ضرور تمہیں آزمائش میں ڈالیں گے، تاکہ ہم یہ دیکھ لیں کہ تم میں سے کون ہیں جو مجاہد اور ثابت قدم رہنے والے ہیں، اور تاکہ تمہارے حالات کی جانچ پڑتال کرلیں۔

﴿32﴾ یقین رکھو کہ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکا ہے، اور پیغمبر سے دشمنی ٹھانی ہے باوجودیکہ ان کے سامنے ہدایت واضح ہو کر آگئی تھی، وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، اور عنقریب اللہ ان کا سارا کیا دھرا غارت کردے گا۔

﴿33﴾ اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو، اور رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔

﴿34﴾ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکا ہے، پھر کفر ہی کی حالت میں مرگئے ہیں، اللہ کبھی ان کو نہیں بخشے گا۔

﴿35﴾ لہذا (اے مسلمانو) تم کمزور پڑ کر صلح کی دعوت نہ دو ۔ تم ہی سربلند رہو گے، اللہ تمہارے ساتھ ہے، اور وہ تمہارے اعمال کو ہرگز برباد نہیں کرے گا۔

﴿36﴾ یہ دنیوی زندگی تو بس کھیل تماشا ہے، اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقوی اختیار کرو تو اللہ تمہارے اجر تمہیں دے گا، اور تمہارے مال تم سے نہیں مانگے گا۔

﴿37﴾ اگر وہ تم سے تمہارے مال طلب کرے، اور تم سے سب کچھ سمیٹ لے تو تم بخل سے کام لو گے، اور وہ تمہارے دل کی ناراضیوں کو ظاہر کردے گا۔

﴿38﴾ دیکھو ! تم ایسے ہو کہ تمہیں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے تو تم میں سے کچھ لوگ ہیں جو بخل سے کام لیتے ہیں، اور جو شخص بھی بخل کرتا ہے وہ خود اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے۔ اور اللہ بےنیاز ہے، اور تم ہو جو محتاج ہو۔ اور اگر تم منہ موڑو گے تو وہ تمہاری جگہ دوسری قوم پیدا کردے گا، پھر وہ تم جیسے نہیں ہوں گے۔

الفتح

Surah 48

﴿1﴾ اے پیغمبر ! یقین جانو ہم نے تمہیں کھلی ہوئی فتح عطا کردی ہے۔

﴿2﴾ تاکہ اللہ تمہاری اگلی پچھلی تمام کوتاہیوں کو معاف کردے، اور تاکہ اپنی نعمت تم پر مکمل کردے، اور تمہیں سیدھے راستے پر لے چلے،

﴿3﴾ اور (تاکہ) اللہ تمہاری ایسی مدد کرے جو سب پر غالب آجائے۔

﴿4﴾ وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں سکینت اتار دی، تاکہ ان کے ایمان میں مزید ایمان کا اضافہ ہو۔ اور آسمانوں اور زمین کے تمام لشکر اللہ ہی کے ہیں، اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

﴿5﴾ تاکہ وہ مومن مردوں اور عورتوں کو ایسے باغات میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جہاں وہ ہمیشہ بسے رہیں گے، اور ان کی برائیوں کو ان سے دور کردے، اور اللہ کے نزدیک یہ بڑی زبردست کامیابی ہے۔

﴿6﴾ اور تاکہ ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے جو اللہ کے ساتھ بدگمانیاں رکھتے ہیں، برائی کا پھیرا انہی پر پڑا ہوا ہے، اور اللہ ان سے ناراض ہے اس نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے، اور ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔

﴿7﴾ اور آسمانوں اور زمین کے تمام لشکر اللہ ہی کے ہیں، اور اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

﴿8﴾ (اے پیغمبر) ہم نے تمہیں گواہی دینے والا، خوشخبری دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔

﴿9﴾ تاکہ (اے لوگو) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور اس کی مدد کرو، اور اس کی تعظیم کرو، اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں۔

﴿10﴾ (اے پیغمبر !) جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں درحقیقت وہ اللہ سے بیعت کررہے ہیں ۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے، اس کے بعد جو کوئی عہد توڑے گا، اس کے عہد کو توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گا، اور جو کوئی اس عہد کو پورا کرے گا، جو اس نے اللہ سے کیا ہے تو اللہ اس کو زبردست ثواب عطا کرے گا۔

﴿11﴾ وہ دیہاتی جو (حدیبیہ کے سفر میں) پیچھے رہ گئے تھے، اب وہ تم سے ضرور یہ کہیں گے کہ : ہمارے مال و دولت اور ہمارے اہل و عیال نے ہمیں مشغول کرلیا تھا، اس لیے ہمارے لیے مغفرت کی دعا کردیجیے۔ وہ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں۔ (ان سے) کہو کہ : اچھا تو اگر اللہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا فائدہ پہنچانا چاہے تو کون ہے جو اللہ کے سامنے تمہارے معاملے میں کچھ بھی کرنے کی طاقت رکھتا ہو ؟ بلکہ جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

﴿12﴾ حقیقت تو یہ ہے کہ تم نے یہ سمجھا تھا کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دوسرے مسلمان کبھی اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر نہیں آئیں گے، اور یہی بات تمہارے دلوں کو اچھی معلوم ہوتی تھی، اور تم نے برے برے گمان کیے تھے، اور تم ایسے لوگ بن گئے تھے جنہیں برباد ہونا تھا۔

﴿13﴾ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو (وہ یاد رکھے کہ) ہم نے کافروں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔

﴿14﴾ اور آسمانوں اور زمین کی سلطنت تمام تر اللہ ہی کی ہے، وہ جس کو چاہے بخش دے، اور جس کو چاہے عذاب دے، اور اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔

﴿15﴾ (مسلمانو) جب تم غنیمت کے مال لینے کے لیے چلو گے تو یہ (حدیبیہ کے سفر سے) پیچھے رہنے والے تم سے کہیں گے کہ : ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو ۔ وہ چاہیں گے کہ اللہ کی بات کو بدل دیں۔ تم کہہ دینا کہ : تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چلو گے۔ اللہ نے پہلے سے یوں ہی فرما رکھا ہے۔ اس پر وہ کہیں گے کہ : دراصل آپ لوگ ہم سے حسد رکھتے ہیں۔ نہیں ! بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ خود ہی ایسے ہیں کہ بہت کم بات سمجھتے ہیں۔

﴿16﴾ ان پیچھے رہنے والے دیہاتیوں سے کہہ دینا کہ : عنقریب تمہیں ایسے لوگوں کے پاس (لڑنے کے لیے) بلایا جائے گا جو بڑے سخت جنگجو ہوں گے، کہ یا تو ان سے لڑتے رہو، یا وہ اطاعت قبول کرلیں۔ اس وقت اگر تم (جہاد کے اس حکم کی) اطاعت کرو گے تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا، اور اگر تم منہ موڑو گے جیسا کہ تم نے پہلے منہ موڑا تھا تو اللہ تمہیں دردناک عذاب دے گا۔

﴿17﴾ اندھے آدمی پر (جہاد نہ کرنے کا) کوئی گناہ نہیں ہے، نہ لنگڑے آدمی پر کوئی گناہ ہے، اور نہ بیمار آدمی پر گناہ ہے۔ اور جو شخص بھی اللہ اور اس کے رسول کا کہنا مانے، اللہ اس کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اور جو کوئی منہ موڑے گا، اسے دردناک عذاب دے گا۔

﴿18﴾ یقینا اللہ ان مومنوں سے بڑا خوش ہوا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے اور ان کے دلوں میں جو کچھ تھا وہ بھی اللہ کو معلوم تھا۔ اس لیے اس نے ان پر سکینت اتار دی، اور ان کو انعام میں ایک قریبی فتح عطا فرما دی۔

﴿19﴾ اور غنیمت میں ملنے والے بہت سے مال بھی جو ان کے ہاتھ آئیں گے، اور اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

﴿20﴾ اللہ نے تم سے بہت سے مال غنیمت کا وعدہ کر رکھا ہے جو تم حاصل کرو گے، اب فوری طور پر اس نے تمہیں یہ فتح دے دی ہے، اور لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے روک دیا، تاکہ یہ مومنوں کے لیے ایک نشانی بن جائے، اور تمہیں اللہ سیدھے راستے پر ڈال دے۔

﴿21﴾ اور ایک فتح اور بھی ہے جو ابھی تمہارے قابو میں نہیں آئی، لیکن اللہ نے اس کو اپنے احاطے میں لے رکھا ہے اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت طرح قادر ہے۔

﴿22﴾ اور یہ کافر لوگ تم سے لڑتے تو یقینا پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے، پھر انہیں کوئی یار و مددگار بھی نہ ملتا۔

﴿23﴾ جیسا کہ اللہ کا یہی دستور ہے جو پہلے سے چلا آتا ہے اور تم اللہ کے دستور میں ہرگز تبدیلی نہیں پاؤ گے۔

﴿24﴾ اور وہی اللہ ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھوں کو تم تک پہنچنے سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان تک پہنچنے سے روک دیا، جبکہ وہ تمہیں ان پر قابو دے چکا تھا، اور جو کچھ تم کر رہے تھے اللہ اسے دیکھ رہا تھا۔

﴿25﴾ یہی لوگ تو ہیں جنہوں نے کفر اختیار کیا، اور تمہیں مسجد حرام سے روکا، اور قربانی کے جانوروں کو جو ٹھہرے ہوئے کھڑے تھے، اپنی جگہ پہنچنے سے روک دیا، اور اگر کچھ مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں (مکہ میں) نہ ہوتیں جن کے بارے میں تمہیں خبر بھی نہ ہوتی کہ تم انہیں پیس ڈالو گے، اور اس کی وجہ سے بیخبر ی میں تم کو نقصان پہنچ جاتا (تو ہم ان کافروں سے تمہاری صلح کے بجائے جنگ کروا دیتے، لیکن ہم نے جنگ کو اس لیے روکا) تاکہ اللہ جس کو چاہے، اپنی رحمت میں داخل کردے۔ (البتہ) اگر وہ مسلمان وہاں سے ہٹ جاتے تو ہم ان (اہل مکہ) میں سے جو کافر تھے، انہیں دردناک سزا دیتے۔

﴿26﴾ (چنانچہ) جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں اس حمیت کو جگہ دی جو جاہلیت کی حمیت تھی تو اللہ نے اپنی طرف سے اپنے پیغمبر اور مسلمانوں پر سکینت نازل فرمائی۔ اور ان کو تقوی کی بات پر جمائے رکھا، اور وہ اسی کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

﴿27﴾ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا ہے جو واقعے کے بالکل مطابق ہے۔ تم لوگ انشاء اللہ ضرور مسجد حرام میں اس طرح امن وامان کے ساتھ داخل ہوگے کہ تم (میں سے کچھ) نے اپنے سروں کو بےخوف و خطر منڈوایا ہوگا اور (کچھ نے) بال تراشے ہوں گے۔ اللہ وہ باتیں جانتا ہے جو تمہیں معلوم نہیں ہیں۔ چنانچہ اس نے وہ خواب پورا ہونے سے پہلے ایک قریبی فتح طے کردی ہے۔

﴿28﴾ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اسے ہر دوسرے دین پر غالب کردے۔ اور (اس کی) گواہی دینے کے لیے اللہ کافی ہے۔

﴿29﴾ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ تم انہیں دیکھو گے کہ کبھی رکوع میں ہیں، کبھی سجدے میں، (غرض) اللہ کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی علامتیں سجدے کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔ یہ ہیں ان کے وہ اوصاف جو تورات میں مذکور ہیں۔ اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوگئی، پھر اپنے تنے پر اس طرح سیدھی کھڑی ہوگئی کہ کاشتکار اس سے خوش ہوتے ہیں۔ تاکہ اللہ ان (کی اس ترقی) سے کافروں کا دل جلائے۔ یہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اللہ نے ان سے مغفرت اور زبردست ثواب کا وعدہ کرلیا ہے۔

الحجرات

Surah 49

﴿1﴾ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کے آگے نہ بڑھا کرو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ یقینا سب کچھ سنتا، سب کچھ جانتا ہے۔

﴿2﴾ اے ایمان والو ! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند مت کیا کرو، اور نہ ان سے بات کرتے ہوئے اس طرح زور سے بولا کرو جیسے تم ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہوجائیں، اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے۔

﴿3﴾ یقین جانو جو لوگ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اپنی آوازیں نیچی رکھتے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے خوب جانچ کر تقوی کے لیے منتخب کرلیا ہے، ان کو مغفرت بھی حاصل ہے اور زبردست اجر بھی۔

﴿4﴾ (اے پیغمبر) جو لوگ تمہیں حجروں کے پیچھے سے آواز دیتے ہیں ان میں سے اکثر کو عقل نہیں ہے۔

﴿5﴾ اور اگر یہ لوگ اس وقت تک صبر کرتے جب تک تم خود باہر نکل کر ان کے پاس آجاتے، تو ان کے لیے بہتر ہوا اور اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔

﴿6﴾ اے ایمان والو ! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کچھ لوگوں کو نقصان پہنچا بیٹھو، اور پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ۔

﴿7﴾ اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ تمہارے درمیان اللہ کے رسول موجود ہیں۔ بہت سی باتیں ہیں جن میں وہ اگر تمہاری بات مان لیں تو خود تم مشکل میں پڑجاؤ۔ لیکن اللہ نے تمہارے دل میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے، اور اسے تمہارے دلوں میں پرکشش بنادیا ہے، اور تمہارے اندر کفر کی اور گناہوں اور نافرمانی کی نفرت بٹھا دی ہے۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو ٹھیک ٹھیک راستے پر آچکے ہیں۔

﴿8﴾ جو اللہ کی طرف سے فضل اور نعمت کا نتیجہ ہے، اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

﴿9﴾ اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے کے ساتھ زیادتی کرے تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کر رہا ہو، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔ چنانچہ اگر وہ لوٹ آئے، تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ صلح کرادو، اور (ہر معاملے میں) انصاف سے کام لیا کرو، بیشک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

﴿10﴾ حقیقت تو یہ ہے کہ تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں، اس لیے اپنے دو بھائیوں کے درمیان تعلقات اچھے بناؤ، اور اللہ سے ڈرو تاکہ تمہارے ساتھ رحمت کا معاملہ کیا جائے۔

﴿11﴾ اے ایمان والو ! نہ تو مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ (جن کا مذاق اڑا رہے ہیں) خود ان سے بہتر ہوں، اور نہ دوسری عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ (جن کا مذاق اڑا رہی ہیں) خود ان سے بہتر ہوں۔ اور تم ایک دوسرے کو طعنہ نہ دیا کرو، اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے پکارو۔ ایمان لانے کے بعد گناہ کا نام لگنا بہت بری بات ہے۔ اور جو لوگ ان باتوں سے باز نہ آئیں تو وہ ظالم لوگ ہیں۔

﴿12﴾ اے ایمان والو ! بہت سے گمانوں سے بچو، بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور کسی کی ٹوہ میں نہ لگو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردے بھائی کا گوشت کھائے ؟ اس سے تو خود تم نفرت کرتے ہو، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا، بہت مہربان ہے۔

﴿13﴾ اے لوگو ! حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے، اور تمہیں مختلف قوموں اور خاندانوں میں اس لیے تقسیم کیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کی پہچان کرسکو، درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو۔ یقین رکھو کہ اللہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز سے باخبر ہے۔

﴿14﴾ یہ دیہاتی کہتے ہیں کہ : ہم ایمان لے آئے ہیں۔ ان سے کہو کہ : تم ایمان تو نہیں لائے، البتہ یہ کہو کہ ہم نے ہتھیار ڈال دیے ہیں، اور ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ اور اگر تم واقعی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو اللہ تمہارے اعمال (کے ثواب) میں ذرا بھی کمی نہیں کرے گا۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔

﴿15﴾ ایمان لانے والے تو وہ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کو دل سے مانا ہے، پھر کسی شک میں نہیں پڑے، اور جنہوں نے اپنے مال و دولت اور اپنی جانوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے۔ وہی لوگ ہیں جو سچے ہیں۔

﴿16﴾ (اے پیغمبر ! ان دیہاتیوں سے) کہو کہ : کیا تم اللہ کو اپنے دین کی اطلاع دے رہے ہو ؟ حالانکہ اللہ ان تمام چیزوں کو خوب جانتا ہے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، اور اللہ ہر چیز کا پورا پورا علم رکھتا ہے۔

﴿17﴾ یہ لوگ تم پر احسان رکھتے ہیں کہ یہ اسلام لے آئے ہیں۔ ان سے کہو کہ : مجھ پر اپنے اسلام لانے کا احسان نہ جتلاؤ۔ بلکہ اگر تم واقعی (اپنے دعوے میں) سچے ہو تو یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت دی۔

﴿18﴾ واقعہ یہ ہے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر پوشیدہ بات کو خوب جانتا ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔

ق

Surah 50

﴿1﴾ ق، قرآن مجید کی قسم ! (ان کافروں نے پیغمبر کو کسی دلیل کی وجہ سے نہیں جھٹلایا)

﴿2﴾ بلکہ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ کوئی (آخرت سے) ڈرانے والا خود انہی میں سے (کیسے) آگیا، چنانچہ ان کافروں نے یہ کہا ہے کہ : یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔

﴿3﴾ بھلا کیا ہم مر کھپ جائیں اور مٹی ہوجائیں گے، (اس وقت ہمیں پھر زندہ کیا جائے گا ؟) یہ واپسی تو ہماری سمجھ سے دور ہے۔

﴿4﴾ واقعہ تو یہ ہے کہ زمین ان کے جن حصوں کو (کھا کر) گھٹا دیتی ہے ہمیں ان کا پورا علم ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو سب کچھ محفوظ رکھتی ہے۔

﴿5﴾ دراصل انہوں نے سچ کو اسی وقت جھٹلا دیا تھا جب وہ ان کے پاس آیا تھا، چنانچہ وہ متضاد باتوں میں پڑے ہوئے ہیں۔

﴿6﴾ بھلا کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کیسے بنایا ہے ؟ اور ہم نے اسے خوبصورتی بخشی ہے، اور اس میں کسی قسم کے رخنے نہیں ہیں۔

﴿7﴾ اور زمین ہے کہ ہم نے اسے پھیلا دیا ہے اور اس میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے ہیں، اور اس میں ہر طرح کی خوشنما چیزیں اگائی ہیں۔

﴿8﴾ تاکہ وہ اللہ سے لو لگانے والے ہر بندے کے لیے بصیرت اور نصیحت کا سامان ہو۔

﴿9﴾ اور ہم نے آسمان سے برکتوں والا پانی اتارا، پھر اس کے ذریعے باغات اور وہ اناج کے دانے اگائے جن کی کٹائی ہوتی ہے۔

﴿10﴾ اور کھجور کے اونچے اونچے درخت جن میں تہہ بر تہہ خوشے ہوتے ہیں۔

﴿11﴾ تاکہ ہم بندوں کو رزق عطا کریں اور (اس طرح) ہم نے اس پانی سے ایک مردہ پڑے ہوئے شہر کو زندگی دے دی، بس اسی طرح (انسانوں کا قبروں سے) نکلنا بھی ہوگا۔

﴿12﴾ ان سے پہلے نوح کی قوم اور اصحاب الرس اور ثمود کے لوگوں نے بھی (اس بات کو) جھٹلایا تھا۔

﴿13﴾ نیز قوم عاد اور قوم فرعون اور لوط کے بھائیوں نے بھی۔

﴿14﴾ اور اصحاب الایکہ اور تبع قوم نے بھی۔ ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تھا، اس لیے میں نے جس عذاب سے ڈرایا تھا، وہ سچ ہو کر رہا۔

﴿15﴾ بھلا کیا ہم پہلی بات پیدا کرنے سے تھک گئے تھے ؟ نہیں ! لیکن یہ لوگ از سر نو پیدا کرنے کے بارے میں دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔

﴿16﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے، اور اس کے دل میں جو خیالات آتے ہیں، ان (تک) سے ہم خوب واقف ہیں، اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔

﴿17﴾ اس وقت بھی جب (اعمال کو) لکھنے والے دو فرشتے لکھ رہے ہوتے ہیں۔ ایک دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب بیٹھا ہوتا ہے۔

﴿18﴾ انسان کوئی لفظ زبان سے نکال نہیں پاتا، مگر اس پر ایک نگران مقرر ہوتا ہے، ہر وقت (لکھنے کے لیے) تیار۔

﴿19﴾ اور موت کی سختی سچ مچ آنے ہی والی ہے۔ (اے انسان) یہ وہ چیز ہے جس سے تو بدکتا تھا۔

﴿20﴾ اور صورت پھونکا جانے والا ہے۔ یہ وہ دن ہوگا جس سے ڈرایا جاتا تھا۔

﴿21﴾ اور ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہوگا، اور ایک گواہی دینے والا

﴿22﴾ حقیقت یہ ہے کہ تو اس واقعے کی طرف سے غفلت میں پڑا ہوا تھا، اب ہم نے تجھ سے وہ پردہ ہٹا دیا ہے جو تجھ پر پڑا ہوا تھا۔ چنانچہ آج تیری نگاہ خوب تیز ہوگئی ہے۔

﴿23﴾ اور اس کا ساتھی کہے گا کہ : یہ ہے وہ (اعمال نامہ) جو میرے پاس تیار ہے۔

﴿24﴾ (حکم دیا جائے گا کہ) تم دونوں ہر اس شخص کو جہنم میں ڈال دو جو کٹر کافر اور حق کا پکا دشمن تھا۔

﴿25﴾ جو دوسروں کو بھلائی سے روکنے کا عادی، بےحد زیادتی کرنے والا اور (حق بات میں) شک ڈالنے والا تھا۔

﴿26﴾ جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود بنا رکھا تھا۔ لہذا اب تم دونوں اسے سخت عذاب میں ڈال دو ۔

﴿27﴾ اس کا ساتھی کہے گا کہ : اے ہمارے پروردگار ! میں نے اسے گمراہ نہیں کیا تھا، بلکہ یہ خود ہی پرلے درجے کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا۔

﴿28﴾ اللہ تعالیٰ کہے گا کہ : تم میرے سامنے جھگڑے نہ کرو، اور میں تو پہلے ہی تمہارے پاس عذاب کی دھمکی بھیج چکا تھا۔

﴿29﴾ میرے سامنے وہ بات بدلی نہیں جاسکتی اور میں بندوں پر کوئی ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔

﴿30﴾ وہ وقت (یاد رکھو) جب ہم جہنم سے کہیں گے کہ : کیا تو بھر گئی ؟ اور وہ کہے گی کہ : کیا کچھ اور بھی ہے ؟

﴿31﴾ اور پرہیزگاروں کے لیے جنت اتنی قریب کردی جائے گی کہ کچھ بھی دور نہیں رہے گی۔

﴿32﴾ (اور کہا جائے گا کہ) یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے یہ وعدہ کیا جاتا تھا کہ وہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو اللہ سے خوب لو لگائے ہوئے ہو، (اور) اپنی نگرانی رکھنے والا ہو۔

﴿33﴾ جو خدائے رحمن سے اسے دیکھے بغیر ڈرتا ہو، اور اللہ کی طرف رجوع ہونے والا دل لے کر آئے۔

﴿34﴾ تم سب اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ وہ دن ابدی زندگی کا دن ہوگا۔

﴿35﴾ ان (جنتیوں) کو وہ سب کو کچھ ملے گا جو وہاں وہ چاہیں گے، اور ہمارے پاس کچھ اور زیادہ بھی ہے۔

﴿36﴾ اور ان (مکہ کے کافروں) سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کی طاقت پر گرفت ان سے زیادہ سخت تھی، چنانچہ انہوں نے سارے شہر چھان مارے تھے۔ کیا ان کے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ تھی ؟

﴿37﴾ یقینا اس میں اس شخص کے لیے بڑی نصیحت کا سامان ہے جس کے پاس دل ہو، یا جو حاضر دماغ بن کر کان دھرے۔

﴿38﴾ اور ہم نے سارے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا، اور ہمیں ذرا سی تھکاوٹ بھی چھو کر نہیں گزری۔

﴿39﴾ لہذا (اے پیغمبر) جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں تم اس پر صبر کرو، اور اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہو، سورج نکلنے سے پہلے بھی، اور سورج ڈوبنے سے پہلے بھی۔

﴿40﴾ اور رات کے حصوں میں بھی اس کی تسبیح کرو۔ اور سجدوں کے بعد بھی۔

﴿41﴾ اور ذرا توجہ سے سنو ! جس دن ایک پکارنے والا ایک قریبی جگہ سے پکارے گا۔

﴿42﴾ جس دن لوگ سچ مچ اس پکار کی آواز سنیں گے، وہ قبروں سے نکلنے کا دن ہوگا۔

﴿43﴾ یقین رکھو ہم ہی ہیں جو زندگی بھی دیتے ہیں اور موت بھی اور آخر کار سب کو ہمارے پاس ہی لوٹنا ہے۔

﴿44﴾ اس دن جب زمین پھٹ کر ان کو اس طرح باہر کردے گی کہ وہ جلدی جلدی نکل رہے ہوں گے۔ اس طرح سب کو جمع کرلینا ہمارے لیے بہت آسان ہے۔

﴿45﴾ جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے اور (اے پیغمبر) تم ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہو۔ لہذا قرآن کے ذریعے ہر اس شخص کو نصیحت کرتے رہو جو میری وعید سے ڈرتا ہو۔

الذاریات

Surah 51

﴿1﴾ قسم ہے ان (ہواؤں) کی جو گرد اڑا کر بکھیر دیتی ہیں۔

﴿2﴾ پھر ان کی جو (بادلوں کا) بوجھ اٹھاتی ہیں۔

﴿3﴾ پھر ان کی جو آسانی سے رواں دواں ہوجاتی ہیں۔

﴿4﴾ پھر ان کی جو چیزیں تقسیم کرتی ہیں۔

﴿5﴾ کہ جو وعدہ تم سے کیا جارہا ہے وہ یقینی طور پر سچا ہے۔

﴿6﴾ اور اعمال کا بدلہ یقینا مل کر رہے گا۔

﴿7﴾ قسم ہے راستوں والے آسمان کی۔

﴿8﴾ کہ تم متضاد باتوں میں پڑے ہوئے ہو۔

﴿9﴾ اس (آخرت کی حقیقت) سے وہی منہ موڑتا ہے جو حق سے بالکل ہی مڑا ہوا ہے۔

﴿10﴾ خدا کی مار ہو ان پر جو (عقیدے کے معاملے میں) اٹکل پیچوں باتیں بنایا کرتے ہیں۔

﴿11﴾ جو غفلت میں ایسے ڈوبے ہیں کہ سب کچھ بھلائے بیٹھے ہیں۔

﴿12﴾ پوچھتے ہیں کہ : جزاء و سزا کا دن کب ہوگا ؟

﴿13﴾ اس دن ہوگا جب انہیں آگ پر تپایا جائے گا۔

﴿14﴾ کہ چکھو مزہ اپنی شرارت کا۔ یہی ہے وہ چیز جس کے بارے میں تم یہ مطالبہ کرتے تھے کہ وہ جلدی آجائے۔

﴿15﴾ متقی لوگ بیشک باغوں اور چشموں میں اس طرح رہیں گے۔

﴿16﴾ کہ ان کا پروردگار انہیں جو کچھ دے گا، اسے وصول کر رہے ہوں گے۔ وہ لوگ اس سے پہلے ہی نیک عمل کرنے والے تھے۔

﴿17﴾ وہ رات کے و قت کم سوتے تھے۔

﴿18﴾ اور سحری کے اوقات میں وہ استغفار کرتے تھے۔

﴿19﴾ اور ان کے مال و دولت میں سائلوں اور محروم لوگوں کا (باقاعدہ) حق ہوتا تھا۔

﴿20﴾ اور ان کے لیے جو یقین کرنے والے ہوں، زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں۔

﴿21﴾ اور خود تمہارے اپنے وجود میں بھی۔ کیا پھر بھی تمہیں دکھائی نہیں دیتا ؟

﴿22﴾ اور آسمان ہی میں تمہارا رزق بھی ہے اور وہ چیز بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے۔

﴿23﴾ لہذا آسمان اور زمین کے پروردگار کی قسم ! یہ بات یقینا ایسی ہی سچی ہے جیسے یہ بات کہ تم بولتے ہو۔

﴿24﴾ (اے پیغمبر) کیا ابراہیم کے معزز مہمانوں کا واقعہ تمہیں پہنچا ہے ؟

﴿25﴾ جب وہ ابراہیم کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کہا۔ ابراہیم نے بھی سلام کہا۔ (اور دل میں سوچا کہ) یہ کچھ انجان لوگ ہیں۔

﴿26﴾ پھر چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے اور ایک موٹا سا بچھڑا لے آئے۔

﴿27﴾ اور اسے ان مہمانوں کے سامنے رکھا۔ کہنے لگے : کیا آپ لوگ کھاتے نہیں ؟

﴿28﴾ اس سے ابراہیم نے ان کی طرف سے اپنے دل میں ڈر محسوس کیا۔ انہوں نے کہا : ڈرییے نہیں، اور انہیں ایک لڑکے کی خوشخبری دی جو بڑا عالم ہوگا۔

﴿29﴾ اس پر ان کی بیوی زور سے بولتی ہوئی آئیں، اور انہوں نے اپنا چہرہ پیٹ لیا اور کہنے لگیں (کیا) ایک بانجھ بڑھیا (بچہ جنے گی ؟)

﴿30﴾ مہمانوں نے کہا : تمہارے پروردگار نے ایسا ہی فرمایا ہے۔ یقین جانو وہی ہے جو بڑی حکمت کا، بڑے علم کا مالک ہے۔

﴿31﴾ ابراہیم نے کہا : اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتو ! تم کس مہم پر ہو ؟

﴿32﴾ انہوں نے کہا : ہمیں کچھ مجرم لوگوں کے پاس بھیجا گیا ہے۔

﴿33﴾ تاکہ ہم ان پر پکی مٹی کے پتھر برسائیں۔

﴿34﴾ جن پر حد سے گزرے ہوئے لوگوں کے لیے تمہارے پروردگار کے پاس سے خاص نشان بھی لگا ہوگا۔

﴿35﴾ پھر ہوا یہ کہ اس بستی میں جو کوئی مومن تھا اس کو ہم نے وہاں سے نکال لیا۔

﴿36﴾ اور اس میں ایک گھر کے سوا ہم نے کسی اور گھر کو مومن نہیں پایا۔

﴿37﴾ اور ہم نے اس بستی میں ان لوگوں کے لیے (عبرت کی) ایک نشانی چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہوں۔

﴿38﴾ اور موسیٰ (کے واقعے) میں بھی (ہم نے ایسی ہی نشانی چھوڑی تھی) جب ہم نے انہیں ایک کھلی ہوئی دلیل کے ساتھ فرعون کے پاس بھیجا تھا۔

﴿39﴾ تو فرعون نے اپنی قوت بازو کے بل پر منہ موڑا، اور کہا کہ : یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔

﴿40﴾ چنانچہ ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑا اور سب کو سمندر میں پھینک دیا، اور وہ تھا ہی ملامت کے لائق۔

﴿41﴾ نیز قوم عاد میں (بھی ہم نے ایسی ہی نشانی چھوڑی تھی) جب ہم نے ان پر ایک ایسی آندھی بھیجی جو ہر بہتری سے بانجھ دی۔

﴿42﴾ وہ جس چیز پر بھی گزرتی، اسے ایسا کر چھوڑتی، جیسے وہ گل کر چورا چورا ہوگئی ہو۔

﴿43﴾ اور ثمود میں بھی (ایسی ہی نشانی تھی) جب ان سے کہا گیا تھا کہ : تھوڑے وقت تک مزے اڑا لو۔ (پھر سیدھے نہ ہوئے تو عذاب آئے گا)

﴿44﴾ اس پر بھی انہوں نے اپنے پروردگار کا حکم ماننے سے سرکشی اختیار کی تو انہیں کڑک نے آپکڑا اور وہ دیکھتے رہ گئے۔

﴿45﴾ نتیجہ یہ کہ نہ تو ان میں یہ سکت رہی کہ کھڑے ہوسکیں اور نہ وہ اس قابل تھے کہ اپنا بچاؤ کرتے۔

﴿46﴾ اور اس سے بھی پہلے نوح کی قوم کو بھی ہم نے پکڑ میں لیا تھا۔ یقین جانو وہ بڑے نافرمان لوگ تھے۔

﴿47﴾ اور آسمان کو ہم نے قوت سے بنایا ہے، اور ہم یقینا وسعت پیدا کرنے والے ہیں۔

﴿48﴾ اور زمین کو ہم نے فرش بنایا، چنانچہ ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں۔

﴿49﴾ اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے پیدا کیے ہیں، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔

﴿50﴾ لہذا دوڑو اللہ کی طرف یقین جانو، میں اس کی طرف سے تمہارے لیے صاف صاف خبردار کرنے والا (بن کر آیا) ہوں۔

﴿51﴾ اور اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بناؤ۔ یقین جانو میں اس کی طرف سے تمہارے لیے صاف صاف خبردار کرنے والا (بن کر آیا) ہوں۔

﴿52﴾ اسی طرح ان سے پہلے جو لوگ تھے ان کے پاس بھی کوئی پیغمبر ایسا نہیں آیا جس کے بارے میں انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ : جادوگر ہے، یا دیوانہ ہے۔

﴿53﴾ کیا یہ ایک دوسرے کو اس بات کی وصیت کرتے چلے آئے ہیں ؟ نہیں، بلکہ یہ سرکش لوگ ہیں۔

﴿54﴾ لہذا (اے پیغمبر) تم ان سے بےرخی اختیار کرو، کیونکہ تم قابل ملامت نہیں ہو۔

﴿55﴾ اور نصیحت کرتے رہو، کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کو فائدہ دیتی ہے۔

﴿56﴾ اور میں نے جنات اور انسانوں کو اس کے سوا کسی اور کام کے لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔

﴿57﴾ میں ان سے کسی قسم کا رزق نہیں چاہتا، اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔

﴿58﴾ اللہ تو خود ہی رزاق ہے، مستحکم قوت والا۔

﴿59﴾ اب تو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کی بھی ایسی ہی باری آئے گی جیسے ان کے (پچھلے) ساتھیوں کی باری آئی تھی، اس لیے وہ مجھ سے جلدی (عذاب لانے) کا مطالبہ نہ کریں۔

﴿60﴾ غرض جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے، ان کی اس دن کی وجہ سے بڑی خرابی ہوگی جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے۔

الطور

Surah 52

﴿1﴾ قسم ہے کوہ طور کی۔

﴿2﴾ اور اس کتاب کی جو ایک کھلے ہوئے

﴿3﴾ صحیفے میں لکھی ہوئی ہے۔

﴿4﴾ اور قسم ہے بیت معمور کی۔

﴿5﴾ اور بلند کی ہوئی چھت کی۔

﴿6﴾ اور بھرے ہوئے سمندر کی

﴿7﴾ کہ تمہارے پروردگار کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے۔

﴿8﴾ کوئی ہیں ہے جو اسے روک سکے۔

﴿9﴾ جس دن آسمان تھر تھرا کر لرز اٹھے گا۔

﴿10﴾ اور پہاڑ ہولناک طریقے سے چل پڑیں گے۔

﴿11﴾ تو اس دن بڑی خرابی ہوگی ان کی جو حق کو جھٹلاتے ہیں۔

﴿12﴾ جو بےہودہ باتوں میں ڈوبے ہوئے کھیل رہے ہیں

﴿13﴾ اس دن جب انہیں دھکے دے دے کر جہنم کی آگ کی طرف دھکیلا جائے گا۔

﴿14﴾ (کہ) یہ ہے وہ آگ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے

﴿15﴾ بھلا کیا یہ جادو ہے یا تمہیں (اب بھی) کچھ نظر نہیں آرہا ؟

﴿16﴾ داخل ہوجاؤ اس میں، پھر تم صبر کرو، یا نہ کرو، تمہارے لیے برابر ہے۔ تمہیں انہی کاموں کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے

﴿17﴾ متقی لوگ بیشک باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے۔

﴿18﴾ ان کے پروردگار نے انہیں جس طرح نوازا اور ان کے پروردگار ہی نے انہیں دوزخ کے عذاب سے جس طرح بچایا، اس کا لطف اٹھا رہے ہوں گے۔

﴿19﴾ (ان سے کہا جائے گا کہ) خوب مزے سے کھاؤ پیو، ان اعمال کے صلے میں جو تم کیا کرتے تھے۔

﴿20﴾ وہ ایک قطار میں لگی ہوئی اونچی نشستوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے، اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ان کا بیاہ کردیں گے۔

﴿21﴾ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی ہے تو ان کی اولاد کو ہم انہی کے ساتھ شامل کردیں گے، اور ان کے عمل میں سے کسی چیز کی کمی نہیں کریں گے۔ ہر انسان کی جان اپنی کمائی کے بدلے رہن رکھی ہوئی ہے۔

﴿22﴾ اور ہم انہیں ایک کے بعد ایک پھل اور گوشت، جو بھی ان کا دل چاہے گا، دیے چلے جائیں گے۔

﴿23﴾ وہاں وہ ایسے جام شراب پر (دوستانہ) چھینا جھپٹی کر رہے ہوں گے جس میں نہ کوئی بےہودگی ہوگی، اور نہ کوئی گناہ ہوگا۔

﴿24﴾ اور ان کے اردگرد نوجوان پھر رہے ہوں گے جو انہی (کی خدمت) کے لیے مخصوص ہوں گے، ایسے (خوبصورت) جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی۔

﴿25﴾ اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر حالات پوچھیں گے۔

﴿26﴾ کہیں گے کہ : ہم پہلے جب اپنے گھر والوں (یعنی دنیا) میں تھے تو ڈرے سہمے رہتے تھے۔

﴿27﴾ آخر اللہ نے ہم پر بڑا احسان فرمایا، اور ہمیں جھلسانے والی ہوا کے عذاب سے بچا لیا۔

﴿28﴾ ہم اس سے پہلے اس سے دعائیں مانگا کرتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہی ہے جو بڑا محسن، بہت مہربان ہے۔

﴿29﴾ لہذا (اے پیغمبر) تم نصیحت کرتے رہو، کیونکہ تم اپنے پروردگار کے فضل سے نہ کاہن ہو، نہ مجنون۔

﴿30﴾ بھلا کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ : یہ صاحب شاعر ہیں جن کے بارے میں ہم زمانے کی گردش کا انتظار کر رہے ہیں ؟

﴿31﴾ کہہ دو کہ : کرلو انتظار، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کررہا ہوں۔

﴿32﴾ کیا ان کی عقلیں ان کو یہی کچھ کرنے کو کہتی ہیں، یا وہ ہیں ہی سرکش لوگ ؟

﴿33﴾ ہاں کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ : ان صاحب نے یہ (قرآن) خود گھڑ لیا ہے ؟ نہیں، بلکہ یہ (ضد میں) ایمان نہیں لارہے۔

﴿34﴾ اگر یہ واقعے سچے ہیں تو اس جیسا کوئی کلام (گھڑ کر) لے آئیں۔

﴿35﴾ کیا یہ لوگ بغیر کسی کے آپ سے آپ پیدا ہوگئے، یا یہ خود (اپنے) خالق ہیں ؟

﴿36﴾ یا کیا آسمان اور زمین انہوں نے پیدا کیے ہیں ؟ نہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے۔

﴿37﴾ کیا تمہارے پروردگار کے خزانے ان کے پاس ہیں، یا وہ داروغہ بنے ہوئے ہیں ؟

﴿38﴾ یا ان کے لئے کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر یہ (عالم بالا کی باتیں) سن لیتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو ان میں سے جو سنتا ہو وہ کوئی واضح ثبوت تو لائے۔

﴿39﴾ کیا اللہ کے حصے میں تو بیٹیاں ہیں اور بیٹے تمہارے حصے میں آئے ہیں ؟

﴿40﴾ اور کیا تم ان سے کوئی اجرت مانگ رہے ہو جس کی وجہ سے یہ تاوان کے بوجھ میں دبے جارہے ہیں ؟

﴿41﴾ یا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ لیتے ہوں ؟

﴿42﴾ کیا یہ کوئی مکر کرنا چاہتے ہیں ؟ تو درحقیقت جو کافر ہیں، مکر تو انہی پر پڑے گا۔

﴿43﴾ کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی اور خدا ہے ؟ پاک ہے اللہ اس شرک سے جو یہ کر رہے ہیں۔

﴿44﴾ اور اگر یہ آسمان کا کوئی ٹکڑا گرتے ہوئے بھی دیکھ لیں تو یہ کہیں گے کہ یہ کوئی گہرا بادل ہے۔

﴿45﴾ لہذا (اے پیغمبر) تم انہیں (ان کے حال پر) چھوڑ دو ، یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن سے جا ملیں جس میں ان کے ہوش جاتے رہیں گے۔

﴿46﴾ جس دن ان کی مکاری ان کے کچھ کام نہیں آئے گی، اور نہ انہیں کوئی مدد مل سکے گی۔

﴿47﴾ اور اس سے پہلے بھی ان ظالموں کے لیے ایک عذاب ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر لوگوں کو پتہ نہیں ہے۔

﴿48﴾ اور تم اپنے پروردگار کے حکم پر جمے رہو، کیونکہ تم ہماری نگاہوں میں ہو، اور جب تم اٹھتے ہو اس وقت اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیا کرو۔

﴿49﴾ اور کچھ رات کو بھی اس کی تسبیح کرو، اور اس وقت بھی جب ستارے ڈوبتے ہیں۔

النجم

Surah 53

﴿1﴾ قسم ہے ستارے کی جب وہ گرے۔

﴿2﴾ (اے مکہ کے باشندو) یہ تمہارے ساتھ رہنے والے صاحب نہ راستہ بھولے ہیں، نہ بھٹکے ہیں،

﴿3﴾ اور یہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتے۔

﴿4﴾ یہ تو خالص وحی ہے جو ان کے پاس بھیجی جاتی ہے۔

﴿5﴾ انہیں ایک ایسے مضبوط طاقت والے (فرشتے) نے تعلیم دی ہے۔

﴿6﴾ جو قوت کا حامل ہے، چنانچہ وہ سامنے آگیا۔

﴿7﴾ جبکہ وہ بلند افق پر تھا۔

﴿8﴾ پھر وہ قریب آیا، اور جھک پڑا۔

﴿9﴾ یہاں تک کہ وہ دو کمانوں کے فاصلے کے برابر آگیا، بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک

﴿10﴾ اس طرح اللہ کو اپنے بندے پر جو وحی نازل فرمانی تھی، وہ نازل فرمائی۔

﴿11﴾ جو کچھ انہوں نے دیکھا، دل نے اس میں کوئی غلطی نہیں کی۔

﴿12﴾ کیا پھر بھی تم ان سے اس چیز کے بارے میں جھگڑتے ہو جسے وہ دیکھتے ہیں ؟

﴿13﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اس (فرشتے) کو ایک اور مرتبہ دیکھا ہے۔

﴿14﴾ اس بیر کے درخت کے پاس جس کا نام سدرۃ المنتہی ہے۔

﴿15﴾ اسی کے پاس جنت الماوی ہے۔

﴿16﴾ اس وقت اس بیر کے درخت پر وہ چیزیں چھائی ہوئی تھیں جو بھی اس پر چھائی ہوئی تھیں۔

﴿17﴾ (پیغمبر کی) آنکھ نہ تو چکرائی اور نہ حد سے آگے بڑھی۔

﴿18﴾ سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بہت کچھ دیکھا۔

﴿19﴾ بھلا کیا تم نے لات اور عزی (کی حقیقت) پر بھی غور کیا ہے ؟

﴿20﴾ اور اس ایک اور تیسرے پر جس کا نام منات ہے ؟

﴿21﴾ کیا تمہارے لیے تو بیٹے ہوں، اور اللہ کے لیے بیٹیاں ؟

﴿22﴾ پھر تو یہ بڑی بھونڈی تقسیم ہوئی۔

﴿23﴾ ان کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ یہ کچھ نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کے حق میں کوئی ثبوت نازل نہیں کیا، درحقیقت یہ (کافر) لوگ محض وہم و گمان اور نفسانی خواہشات کے پیچھے چل رہے ہیں، حالانکہ ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے۔

﴿24﴾ کیا انسان کو ہر اس چیز کا حق پہنچتا ہے جس کی وہ تمنا کرے ؟

﴿25﴾ (نہیں) کیونکہ آخرت اور دنیا تو تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔

﴿26﴾ اور آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے ہیں جن کی سفارش کسی کے کچھ بھی کام نہیں آسکتی، البتہ اس کے بعد ہی کام آسکتی ہے کہ اللہ جس کے لیے چاہے اجازت دیدے، اور اس پر راضی ہوجائے۔

﴿27﴾ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، وہ فرشتوں کو زنانے ناموں سے یاد کرتے ہیں۔

﴿28﴾ حالانکہ انہیں اس بات کا ذرا بھی علم نہیں ہے، وہ محض وہم و گمان کے پیچھے چل رہے ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ وہم و گمان حق کے معاملے میں بالکل کار آمد نہیں۔

﴿29﴾ لہذا (اے پیغمبر) تم ایسے آدمی کی فکر نہ کرو جس نے ہماری نصیحت سے منہ موڑ لیا ہے، اور دنیوی زندگی کے سوا وہ کچھ اور چاہتا ہی نہیں۔

﴿30﴾ ایسے لوگوں کے علم کی پہنچ بس یہیں تک ہے۔ تمہارا پروردگار ہی خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹک چکا ہے، اور وہی خوب جانتا ہے کون راہ پا گیا ہے۔

﴿31﴾ اور آسمانوں میں جو کچھ ہے وہ بھی اور زمین میں جو کچھ ہے وہ بھی اللہ ہی کا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جنہوں نے برے کام کیے ہیں، وہ ان کو ان کے عمل کا بھی بدلہ دے گا، اور جنہوں نے نیک کام کیے ہیں، ان کو بہترین بدلہ عطا کرے گا۔

﴿32﴾ ان لوگوں کو جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے بچتے ہیں، البتہ کبھی کبھار پھسل جانے کی بات اور ہے۔ یقین رکھو تمہارا پروردگار بہت وسیع مغفرت والا ہے، وہ تمہیں خوب جانتا ہے جب اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا، اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے، لہذا تم اپنے آپ کو پاکیزہ نہ ٹھہراؤ، وہ خوب جانتا ہے کہ کون متقی ہے۔

﴿33﴾ (اے پیغمبر) بھلا تم نے اس شخص کو بھی دیکھا جو (حق سے) منہ موڑ گیا۔

﴿34﴾ اور جس نے تھوڑا سا دیا، پھر رک گیا ؟

﴿35﴾ کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے جو وہ دیکھ رہا ہو ؟

﴿36﴾ کیا اسے ان باتوں کی خبر نہیں ملی جو موسیٰ کے صحیفوں میں درج ہے۔

﴿37﴾ اور ابراہیم کے صحیفوں میں بھی، جو مکمل وفادار رہے ؟

﴿38﴾ یعنی یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھاسکتا،

﴿39﴾ اور یہ کہ انسان کو خود اپنی کوشش کے سوا کسی اور چیز کا (بدلہ لینے کا) حق نہیں پہنچتا۔

﴿40﴾ اور یہ کہ اس کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی۔

﴿41﴾ پھر اس کا بدلہ اسے پورا پورا دیا جائے گا۔

﴿42﴾ اور یہ کہ آخر کار (سب کو) تمہارے پروردگار ہی کے پاس پہنچنا ہے۔

﴿43﴾ اور یہ کہ وہی ہے جو ہنساتا اور رلاتا ہے۔

﴿44﴾ اور یہ کہ وہی ہے جو موت بھی دیتا ہے اور زندگی بھی۔

﴿45﴾ اور یہ کہ اسی نے نر اور مادہ کے دو جوڑے پیدا کیے ہیں۔

﴿46﴾ (وہ بھی صرف) ایک بوند سے جب وہ ٹپکائی جاتی ہے۔

﴿47﴾ اور یہ کہ دوسری زندگی دینے کا بھی اسی نے ذمہ لیا ہے۔

﴿48﴾ اور یہ کہ وہی ہے جو مال دار بناتا اور دولت کو محفوظ کراتا ہے۔

﴿49﴾ اور یہ کہ وہی ہے جو شعری ستارے کا پروردگار ہے۔

﴿50﴾ اور یہ کہ وہی ہے جس نے پچھلے زمانے کی قوم عاد کو ہلاک کیا۔

﴿51﴾ اور ثمود کو بھی، اور کسی کو باقی نہ چھوڑا۔

﴿52﴾ اور اس سے پہلے نوح کی قوم کو بھی (ہلاک کیا) ۔ بیشک وہ سب سے زیادہ ظالم اور سرکش تھے۔

﴿53﴾ اور جو بستیاں اوندھی گری تھیں۔ ان کو بھی اسی نے اٹھا پھینکا تھا۔

﴿54﴾ پھر جس (خوفناک) چیز نے انہیں ڈھانپا، وہ انہیں ڈھانپ کر ہی رہی۔

﴿55﴾ لہذا (اے انسان) تو اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں میں شک کرے گا ؟

﴿56﴾ یہ (پیغمبر) بھی پہلے خبردار کرنے والے پیغمبروں کی طرح ایک خبردار کرنے والے ہیں۔

﴿57﴾ جو گھڑی جلد آنے والی ہے، وہ قریب آپہنچی ہے۔

﴿58﴾ اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے جو اسے ہٹا سکے۔

﴿59﴾ تو کیا تم اسی بات پر حیرت کرتے ہو ؟

﴿60﴾ اور (اس کا مذاق بنا کر) ہنستے ہو، اور روتے نہیں ہو۔

﴿61﴾ جبکہ تم تکبر کے ساتھ کھیل کود میں پڑے ہوئے ہو ؟

﴿62﴾ اب (بھی) جھک جاؤ اللہ کے سامنے اور اس کی بندگی کرلو۔

القمر

Surah 54

﴿1﴾ قیامت قریب آلگی ہے اور چاند پھٹ گیا ہے۔

﴿2﴾ اور ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ اگر وہ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ موڑ لیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ تو ایک چلتا ہوا جادو ہے۔

﴿3﴾ انہوں نے حق کو جھٹلایا، اور اپنی خواہشات کے پیچھے چل نکلے۔ اور ہر کام کو آخر کسی ٹھکانے پر ٹک کر رہنا ہے۔

﴿4﴾ اور ان لوگوں کو (پچھلی قوموں کے) واقعات کی اتنی خبریں پہنچ چکی ہیں جن میں تنبیہ کا بڑا سامان تھا۔

﴿5﴾ دل میں اتر جانے والی دانائی کی باتیں تھیں، پھر بھی یہ تنبیہات (ان پر) کچھ کارگر نہیں ہو رہیں۔

﴿6﴾ لہذا (اے پیغمبر) تم بھی ان کی پرواہ مت کرو۔ جس دن پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا۔

﴿7﴾ اس دن یہ اپنی آنکھیں جھکائے قبروں سے اس طرح نکل کھڑے ہوں گے جیسے ہر طرف پھیلی ہوئی ٹڈیاں۔

﴿8﴾ دوڑے جارہے ہوں گے اسی پکارے والے کی طرف۔ یہی کافر (جو قیامت کا انکار کرتے تھے) کہیں گے کہ یہ تو بہت ہی کٹھن دن ہے۔

﴿9﴾ ان سے پہلے نوح کی قوم نے بھی جھٹلانے کا رویہ اختیار کیا تھا۔ انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا، اور کہا کہ : یہ دیوانے ہیں، اور انہیں دھمکیاں دی گئیں۔

﴿10﴾ اس پر انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ : میں بےبس ہوچکا ہوں، اب آپ ہی بدلہ لیجیے۔

﴿11﴾ چنانچہ ہم نے ٹوٹ کر برسنے والے پانی سے آسمان کے دروازے کھول دیے۔

﴿12﴾ اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کردیا۔ اور اس طرح (دونوں قسم کا) سارا پانی اس کام کے لیے مل گیا جو مقدر ہوچکا تھا۔

﴿13﴾ اور نوح کو ہم نے ایک تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر سوار کردیا۔

﴿14﴾ جو ہماری نگرانی میں رواں دواں تھی، تاکہ اس (پیغمبر) کا بدلہ لیا جائے جس کی ناقدری کی گئی تھی۔

﴿15﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اس کو (عبرت کی) ایک نشانی بنادیا۔ تو کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے ؟

﴿16﴾ اب سوچو کہ میرا عذاب اور میری تنبیہات کیسی تھیں ؟

﴿17﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنادیا ہے۔ اب کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے ؟

﴿18﴾ عاد کی قوم نے بھی تنبیہ کرنے والوں کو جھٹلانے کا رویہ اختیار کیا، پھر دیکھ لو کہ میرا عذاب اور میری تنبیہات کیسی تھیں ؟

﴿19﴾ ہم نے ایک مسلسل نحوست کے دن میں ان پر تیز آندھی والی ہوا چھوڑ دی تھی۔

﴿20﴾ جو لوگوں کو اس طرح اکھاڑ پھینک دیتی تھی جیسے وہ کھجور کے اکھڑے ہوئے درخت کے تنے ہوں۔

﴿21﴾ اب سوچو کہ میرا عذاب اور میری تنبیہات کیسی تھیں ؟

﴿22﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنادیا ہے۔ اب کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے ؟

﴿23﴾ ثمود کی قوم نے بھی تنبیہ کرنے والوں کو جھٹلانے کا رویہ اختیار کیا۔

﴿24﴾ چنانچہ کہنے لگے کہ : کیا ہم اپنے ہی میں سے ایک تنہا آدمی کے پیچھے چل پڑیں ؟ ایسا کریں گے تو یقینا ہم بڑی گمراہی اور دیوانگی میں جاپڑیں گے۔

﴿25﴾ بھلا کیا ہم سارے لوگوں کے درمیان یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر نصیحت نازل کی گئی ؟ نہیں، بلکہ دراصل یہ پرلے درجے کا جھوٹا شیخی باز ہے۔

﴿26﴾ ہم نے پیغمبر صالح (علیہ السلام) سے کہا کہ) کل ہی انہیں پتہ چل جائے گا کہ پرلے درجے کا جھوٹا شیخی باز کون تھا ؟

﴿27﴾ ہم ان کے پاس ان کی آزمائش کے طور پر اونٹنی بھیج رہے ہیں، اس لیے تم انہیں دیکھتے رہو، اور صبر سے کام لو۔

﴿28﴾ اور ان کو بتادو کہ (کنویں کا) پانی ان کے درمیان تقسیم کردیا گیا ہے۔ ہر پانی کا حق دار اپنی باری میں حاضر ہوگا۔

﴿29﴾ پھر انہوں نے اپنے آدمی کو بلایا، چنانچہ اس نے ہاتھ بڑھایا، اور (اونٹنی کو) قتل کر ڈالا۔

﴿30﴾ اب سوچو کہ میرا عذاب اور میری تنبیہات کیسی تھیں ؟

﴿31﴾ ہم نے ان پر بس ایک ہی چنگھاڑ بھیجی، جس سے وہ ایسے ہو کر رہ گئے جیسے کانٹوں کی روندی ہوئی باڑھ ہوتی ہے۔

﴿32﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنادیا ہے۔ اب کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے ؟

﴿33﴾ لوط کی قوم نے (بھی) تنبیہ کرنے والوں کو جھٹلایا۔

﴿34﴾ ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا، سوائے لوط کے گھر والوں کے جنہیں ہم نے سحری کے وقت بچا لیا تھا۔

﴿35﴾ یہ ہماری طرف سے ایک نعمت تھی۔ جو لوگ شکر گزار ہوتے ہیں، ان کو ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔

﴿36﴾ اور لوط نے لوگوں کو ہماری پکڑ سے ڈرایا تھا، لیکن وہ ساری تنبیہات میں میکھ نکالتے رہے۔

﴿37﴾ اور انہوں نے لوط کو ان کے مہمانوں کے بارے میں پھسلانے کی کوشش کی۔ جس پر ہم نے ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا کہ : چکھو میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزہ۔

﴿38﴾ اور صبح سویرے ان پر ایسا عذاب حملہ آور ہوا جو کم کر رہ گیا۔

﴿39﴾ کہ : چکھو میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزہ۔

﴿40﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنادیا ہے۔ اب کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے ؟

﴿41﴾ اور فرعون کے خاندان کے پاس بھی تنبیہات آئیں۔

﴿42﴾ انہوں نے ہماری تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا تھا، اس لیے ہم نے ان کو ایسی پکڑ میں لیا جیسی ایک زبردست قدرت والے کی پکڑ ہوتی ہے۔

﴿43﴾ کیا تمہارے یہ کافر لوگ ان سے اچھے ہیں، یا تمہارے لیے (خدا کی) کتابوں میں کوئی بےگناہی کا پروانہ لکھا ہوا ہے ؟

﴿44﴾ یا ان کا کہنا یہ ہے کہ ہم ایسی جمیعت ہیں جو اپنا بچاؤ آپ کرلے گی ؟

﴿45﴾ (حقیقت تو یہ ہے کہ) اس جمیعت کو عنقریب شکست ہوجائے گی، اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔

﴿46﴾ یہی نہیں، بلکہ ان کے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور قیامت اور زیادہ مصیبت اور کہیں زیادہ کڑوی ہوگی۔

﴿47﴾ حقیقت یہ ہے کہ یہ مجرم لوگ بڑی گمراہی اور بےعقلی میں پڑے ہوئے ہیں۔

﴿48﴾ جس دن ان کو منہ کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا (اس دن انہیں ہوش آئے گا، اور ان سے کہا جائے گا کہ) چکھو دوزخ کے چھونے کا مزہ۔

﴿49﴾ ہم نے ہر چیز کو ناپ تول کے ساتھ پیدا کیا ہے۔

﴿50﴾ اور ہمارا حکم بس ایک ہی مرتبہ آنکھ جھپکنے کی طرح (پورا) ہوجاتا ہے۔

﴿51﴾ اور تمہارے ہم مشرب لوگوں کو ہم پہلے ہی ہلاک کرچکے ہیں۔ اب بتاؤ ہے کوئی جو نصیحت حاصل کرے ؟

﴿52﴾ اور جو جو کام انہوں نے کیے ہیں، وہ سب اعمال ناموں میں درج ہیں۔

﴿53﴾ اور ہر چھوٹی اور بڑی بات لکھی ہوئی ہے۔

﴿54﴾ (البتہ) جن لوگوں نے تقوی کی روش اپنا رکھی ہے وہ باغات اور نہروں میں ہوں گے۔

﴿55﴾ ایک سچی عزت والی نشست میں۔ اس بادشاہ کے پاس جس کے قبضے میں سارا اقتدار ہے۔

الرحمٰن

Surah 55

﴿1﴾ وہ رحمن ہی ہے

﴿2﴾ جس نے قرآن کی تعلیم دی۔

﴿3﴾ اسی نے انسان کو پیدا کیا۔

﴿4﴾ اسی نے اس کو واضح کرنا سکھایا۔

﴿5﴾ سورج اور چاند حساب میں جکڑے ہوئے ہیں۔

﴿6﴾ اور بیلیں اور درخت سب اس کے آگے سجدہ کرتے ہیں۔

﴿7﴾ اور آسمان کو اسی نے بلند کیا ہے اور اسی نے ترازو قائم کی ہے۔

﴿8﴾ کہ تم تولنے میں ظلم نہ کرو۔

﴿9﴾ اور انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو، اور تول میں کمی نہ کرو۔

﴿10﴾ اور زمین کو اسی نے ساری مخلوقات کے لیے بنایا ہے۔

﴿11﴾ اسی میں میوے اور کھجور کے گابھوں والے درخت بھی ہیں۔

﴿12﴾ اور بھوسے والا غلہ اور خوشبودار پھول بھی۔

﴿13﴾ (اے انسانوں اور جنات) اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿14﴾ اسی نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔

﴿15﴾ اور جنات کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا۔

﴿16﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿17﴾ دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا پروردگار وہی ہے۔

﴿18﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿19﴾ اسی نے دو سمندروں کو اس طرح چلایا کہ وہ دونوں آپس میں مل جاتے ہیں۔

﴿20﴾ (پھر بھی) ان کے درمیان ایک آڑ ہوتی ہے کہ وہ دونوں اپنی حد سے بڑھتے نہیں۔

﴿21﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿22﴾ ان دونوں سمندروں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے۔

﴿23﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿24﴾ اور اسی کے قبضے میں وہ جہاز ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے کیے گئے ہیں۔

﴿25﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿26﴾ اس زمین میں جو کوئی ہے، فنا ہونے والا ہے۔

﴿27﴾ اور (صرف) تمہارے پروردگار کی جلال والی، فضل و کرم والی ذات باقی رہے گی۔

﴿28﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿29﴾ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اسی سے (اپنی حاجتیں) مانگتے ہیں، وہ ہر روز کسی شان میں ہے۔

﴿30﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿31﴾ اے دو بھاری مخلوقو ! ہم عنقریب تمہارے (حساب کے) لیے فارغ ہونے والے ہیں۔

﴿32﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿33﴾ اے انسانوں اور جنات کے گروہ ! اگر تم میں یہ بل بوتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی حدود سے پار نکل سکو، تو پار نکل جاؤ، تم زبردست طاقت کے بغیر پار نہیں ہوسکو گے۔

﴿34﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿35﴾ تم پر آگ کا شعلہ اور تانبے کے رنگ کا دھواں چھوڑا جائے گا، پھر تم اپنا بچاؤ نہیں کرسکو گے۔

﴿36﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿37﴾ غرض (وہ وقت آئے گا) جب آسمان پھٹ پڑے گا اور لال چمڑے کی طرح سرخ گلاب بن جائے گا۔

﴿38﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿39﴾ پھر اس دن نہ کسی انسان سے اس کے گناہ کے بارے میں پوچھا جائے گا اور نہ کسی جن سے

﴿40﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿41﴾ مجرم لوگوں کو ان کی علامتوں سے پہچان لیا جائے گا، پھر انہیں سر کے بالوں اور پاؤں سے پکڑا جائے گا۔

﴿42﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿43﴾ یہ ہے وہ جہنم جسے یہ مجرم لوگ جھٹلاتے تھے۔

﴿44﴾ یہ اسی کے اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان چکر لگائیں گے۔

﴿45﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿46﴾ اور جو شخص (دنیا میں) اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا تھا، اس کے لیے دو باغ ہوں گے۔

﴿47﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿48﴾ دونوں باغ شاخوں سے بھرے ہوئے۔

﴿49﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿50﴾ انہی دو باغوں میں دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔

﴿51﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿52﴾ ان دونوں میں ہر پھل کے دو دو جوڑے ہوں گے۔

﴿53﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿54﴾ وہ (جنتی لوگ) ایسے فرشوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے جن کے بستر دبیز ریشم کے ہوں گے، اور دونوں باغوں کے پھل جھکے پڑ رہے ہوں گے۔

﴿55﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿56﴾ انہی باغوں میں وہ نیچی نگاہ والیاں ہوں گی جنہیں ان جنتیوں سے پہلے نہ کسی انسان نے کبھی چھوا ہوگا اور نہ کسی جن نے۔

﴿57﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿58﴾ وہ ایسی ہوں گے جیسے یاقوت اور مرجان۔

﴿59﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿60﴾ اچھائی کا بدلہ اچھائی کے سوا اور کیا ہے ؟

﴿61﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿62﴾ اور ان دو باغوں سے کچھ کم درجے کے دو باغ اور ہوں گے۔

﴿63﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿64﴾ دونوں سبزے کی کثرت سے سیاہی کی طرف مائل

﴿65﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿66﴾ انہی میں دو ابلتے ہوئے چشمے ہوں گے۔

﴿67﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿68﴾ انہی میں میوے اور کھجوریں اور انار ہوں گے۔

﴿69﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿70﴾ انہی میں خوب سیرت خوبصورت عورتیں ہوں گی۔

﴿71﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿72﴾ وہ حوریں جنہیں خیموں میں حفاظت سے رکھا گیا ہوگا۔

﴿73﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿74﴾ انہیں ان جنتیوں سے پہلے نہ کسی انسان نے کبھی چھوا ہوگا، اور نہ کسی جن نے۔

﴿75﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿76﴾ وہ (جنتی) سبز رفرف اور عجیب و غریب قسم کے خوبصورت فرش پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔

﴿77﴾ اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

﴿78﴾ بڑا بابرکت نام ہے تمہارے پروردگار کا جو عظمت والا بھی ہے، کرم والا بھی۔

الواقعہ

Surah 56

﴿1﴾ جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا۔

﴿2﴾ تو اس کے پیش آنے کو کوئی جھٹلانے والا نہیں ہوگا۔

﴿3﴾ وہ ایک تہہ وبالا کرنے والی چیز ہوگی۔

﴿4﴾ جب زمین ایک بھونچال سے جھنجوڑ دی جائے گی۔

﴿5﴾ اور پہاڑوں کو پیس کر چورا کردیا جائے گا۔

﴿6﴾ یہاں تک کہ وہ بکھرا ہوا غبار بن کر رہ جائیں گے۔

﴿7﴾ اور (لوگو) تم تین قسموں میں بٹ جاؤ گے۔

﴿8﴾ چنانچہ جو دائیں ہاتھ والے ہیں، کیا کہنا ان دائیں ہاتھ والوں کا۔

﴿9﴾ اور جو بائیں ہاتھ والے ہیں، کیا بتائیں وہ بائیں ہاتھ والے کیا ہیں ؟

﴿10﴾ اور جو سبقت لے جانے والے ہیں، وہ تو ہیں ہی سبقت لے جانے والے

﴿11﴾ وہی ہیں جو اللہ کے خاص مقرب بندے ہیں۔

﴿12﴾ وہ نعمتوں کے باغات میں ہوں گے۔

﴿13﴾ شروع کے لوگوں میں سے بہت سے۔

﴿14﴾ اور بعد کے لوگوں میں سے تھوڑے۔

﴿15﴾ سونے کے تاروں سے بنی ہوئی اونچی نشستوں پر۔

﴿16﴾ ایک دوسرے کے سامنے ان پر تکیہ لگائے ہوئے۔

﴿17﴾ سدا رہنے والے لڑکے ان کے سامنے گردش میں ہوں گے۔

﴿18﴾ ایسی شراب کے پیالے، جگ اور جام لے کر۔

﴿19﴾ جس سے نہ ان کے سر میں درد ہوگا، اور نہ ان کے ہوش اڑیں گے۔

﴿20﴾ اور وہ پھل لے کر جو وہ پسند کریں۔

﴿21﴾ اور پرندوں کا وہ گوشت لے کر جس کو ان کا دل چاہے۔

﴿22﴾ اور وہ بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں۔

﴿23﴾ ایسی جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی۔

﴿24﴾ یہ سب بدلہ ہوگا ان کاموں کا جو وہ کیا کرتے تھے۔

﴿25﴾ وہ اس جنت میں نہ کوئی بےہودہ بات سنیں گے۔ اور نہ کوئی گناہ کی بات۔

﴿26﴾ ہاں جو بات ہوگی، سلامتی ہی سلامتی کی ہوگی۔

﴿27﴾ اور وہ جو دائیں ہاتھ والے ہوں گے، کیا کہنا ان دائیں ہاتھ والوں کا۔

﴿28﴾ (وہ عیش کریں گے) کانٹوں سے پاک بیریوں میں۔

﴿29﴾ اور اوپر تلے لدے ہوئے کیلے کے درختوں میں۔

﴿30﴾ اور دور تک پھیلے ہوئے سائے میں۔

﴿31﴾ اور بہتے ہوئے پانی میں۔

﴿32﴾ اور ڈھیر سارے پھلوں میں۔

﴿33﴾ جو نہ کبھی ختم ہوں گے اور نہ ان پر کوئی روک ٹوک ہوگی۔

﴿34﴾ اور اونچے رکھے ہوئے فرشوں میں۔

﴿35﴾ یقین جانو، ہم نے ان عورتوں کو نئی اٹھان دی ہے۔

﴿36﴾ چنانچہ انہیں کنواریاں بنایا ہے۔

﴿37﴾ (شوہروں کے لیے) محبت سے بھری ہوئی، عمر میں برابر

﴿38﴾ سب کچھ دائیں ہاتھ والوں کے لیے۔

﴿39﴾ (جن میں سے) بہت سے شروع کے لوگوں میں سے ہوں گے۔

﴿40﴾ اور بہت سے بعد والوں میں سے۔

﴿41﴾ اور جو بائیں ہاتھ والے ہیں، کیا بتائیں بائیں ہاتھ والے کیا ہیں ؟

﴿42﴾ وہ ہوں گے تپتی ہوئی لو میں، اور کھولتے ہوئے پانی میں۔

﴿43﴾ اور سیاہ دھویں کے سائے میں

﴿44﴾ جو نہ ٹھنڈا ہوگا، نہ کوئی فائدہ پہنچانے والا۔

﴿45﴾ یہ لوگ اس سے پہلے بڑے عیش میں تھے۔

﴿46﴾ اور بڑے بھاری گناہ پر اڑے رہتے تھے۔

﴿47﴾ اور کہا کرتے تھے کہ : کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن کر رہ جائیں گے، تو کیا ہمیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا ؟

﴿48﴾ اور کیا ہمارے پہلے گزرے ہوئے باپ دادوں کو بھی ؟

﴿49﴾ کہہ دو کہ : یقینا سب اگلے اور پچھلے۔

﴿50﴾ ایک متعین دن کے طے شدہ وقت پر ضرور اکٹھے کیے جائیں گے۔

﴿51﴾ پھر اے جھٹلانے والے گمراہو، تم لوگوں کو

﴿52﴾ ایک ایسے درخت میں سے کھانا پڑے گا جس کا نام زقوم ہے۔

﴿53﴾ پھر اسی سے پیٹ بھرنے ہوں گے۔

﴿54﴾ پھر اس کے اوپر سے کھولتا ہوا پانی پینا پڑے گا۔

﴿55﴾ اور پینا بھی اس طرح جیسے پیاس کی بیماری والے اونٹ پیتے ہیں۔

﴿56﴾ یہ ہوگی جزاء و سزا کے دن ان لوگوں کی مہمانی۔

﴿57﴾ ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے، پھر تم تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟

﴿58﴾ ذرا یہ بتلاؤ کہ جو نطفہ تم ٹپکاتے ہو۔

﴿59﴾ کیا اسے تم پیدا کرتے ہو یا پیدا کرنے والے ہم ہیں ؟

﴿60﴾ ہم نے ہی تمہارے درمیان موت کے فیصلے کر رکھے ہیں اور کوئی نہیں ہے جو ہمیں اس بات سے عاجز کرسکے۔

﴿61﴾ کہ ہم تمہاری جگہ تم جیسے اور لوگ لے آئیں، اور تمہیں پھر سے کسی ایسی حالت میں پیدا کردیں جسے تم نہیں جانتے۔

﴿62﴾ اور تمہیں اپنی پہلی پیدائش کا پورا پتہ ہے، پھر کیوں سبق نہیں لیتے ؟

﴿63﴾ اچھا یہ بتاؤ کہ جو کچھ تم زمین میں بوتے ہو،

﴿64﴾ کیا اسے تم اگاتے ہو یا اگانے والے ہم ہیں ؟

﴿65﴾ اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا کر ڈالیں، جس پر تم بھونچکے رہ جاؤ۔

﴿66﴾ کہ ہم پر تو تاوان پڑگیا۔

﴿67﴾ بلکہ ہم ہیں ہی بدنصیب۔

﴿68﴾ اچھا یہ بتاؤ کہ یہ پانی جو تم پیتے ہو۔

﴿69﴾ کیا اسے بادلوں سے تم نے اتارا ہے، یا اتارنے والے ہم ہیں ؟

﴿70﴾ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا بنا کر رکھ دیں، پھر تم کیوں شکر ادا نہیں کرتے ؟

﴿71﴾ اچھا یہ بتاؤ کہ یہ آگ جو تم سلگاتے ہو۔

﴿72﴾ کیا اس کا درخت تم نے پیدا کیا ہے، یا پیدا کرنے والے ہم ہیں ؟

﴿73﴾ ہم نے ہی اس کو نصیحت کا سامان اور صحرائی مسافروں کے لیے فائدے کی چیز بنایا ہے۔

﴿74﴾ لہذا (اے پیغمبر) تم اپنے عظیم پروردگار کا نام لے کر اس کی تسبیح کرو۔

﴿75﴾ اب میں ان جگہوں کی قسم کھا کر کہتا ہوں جہاں ستارے گرتے ہیں۔

﴿76﴾ اور اگر تم سمجھو تو یہ بڑی زبردست قسم ہے۔

﴿77﴾ کہ یہ بڑا باوقار قرآن ہے ؟

﴿78﴾ جو ایک محفوظ کتاب میں (پہلے سے) درج ہے۔

﴿79﴾ اس کو وہی لوگ چھوتے ہیں جو خوب پاک ہیں۔

﴿80﴾ یہ تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا جارہا ہے۔

﴿81﴾ کیا پھر بھی تم اس کلام سے بےپروائی برتتے ہو ؟

﴿82﴾ اور تم نے اسی کو اپنا روزگار بنا لیا ہے کہ (اس کو) جھٹلاتے رہو ؟

﴿83﴾ پھر ایسا کیوں نہیں ہوتا ہے کہ جب (کسی کی) جان گلے تک پہنچ جاتی ہے۔

﴿84﴾ اور اس وقت تم (حسرت سے اس کو) دیکھ رہے ہوتے ہو۔

﴿85﴾ اور تم سے زیادہ ہم اس کے قریب ہوتے ہیں، مگر تمہیں نظر نہیں آتا۔

﴿86﴾ اگر تمہارا حساب کتاب ہونے والا نہیں ہے تو ایسا کیوں نہیں ہوتا۔

﴿87﴾ کہ تم اس جان کو واپس لے آؤ، اگر تم سچے ہو ؟

﴿88﴾ پھر اگر وہ (مرنے والا) اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہو۔

﴿89﴾ تو (اس کے لیے) آرام ہی آرام ہے، خوشبو ہی خوشبو ہے، اور نعمتوں سے بھرا باغ ہے۔

﴿90﴾ اور اگر وہ دائیں ہاتھ والوں میں سے ہو۔

﴿91﴾ تو (اس سے کہا جائے گا کہ) تمہارے لیے سلامتی ہی سلامتی ہے کہ تم دائیں ہاتھ والوں میں سے ہو۔

﴿92﴾ اور اگر وہ ان گمراہوں میں سے ہو جو حق کو جھٹلانے والے تھے۔

﴿93﴾ تو (اس کے لیے) کھولتے ہوئے پانی کی مہمانی ہے۔

﴿94﴾ اور دوزخ کا داخلہ ہے۔

﴿95﴾ اس میں کوئی شک نہیں کہ بالکل صحیح معنی میں یہی یقینی بات ہے۔

﴿96﴾ لہذا (اے پیغمبر) تم اپنے عظیم پروردگار کا نام لے کر اس کی تسبیح کرو۔

الحدید

Surah 57

﴿1﴾ آسمانوں اور زمین میں جو چیز بھی ہے، وہ اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔ اور وہی ہے جو اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

﴿2﴾ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے، وہی زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔

﴿3﴾ وہی اول بھی ہے اور آخر بھی، ظاہر بھی اور چھپا ہوا بھی، اور وہ ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے۔

﴿4﴾ وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر عرش پر استوا فرمایا، وہ ہر اس چیز کو جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس سے نکلتی ہے اور ہر اس چیز کو جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے اور تم جہاں کہیں ہو، وہ تمہارے ساتھ ہے۔ اور جو کام بھی تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھتا ہے۔

﴿5﴾ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے، اور تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔

﴿6﴾ وہ رات کو دن میں داخل کردتیا ہے، اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے، اور وہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو خوب جانتا ہے۔

﴿7﴾ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو، اور جس (مال) میں اللہ نے تمہیں قائم مقام بنایا ہے، اس میں سے (اللہ کے راستے میں) خرچ کرو۔ چنانچہ تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے (اللہ کے راستے میں) خرچ کیا ہے، ان کے لیے بڑا اجر ہے۔

﴿8﴾ اور تمہارے لیے کونسی وجہ ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہ رکھو، حالانکہ رسول تمہیں دعوت دے رہے ہیں کہ تم اپنے پروردگار پر ایمان رکھو، اور وہ تم سے عہد لے چکے ہیں، اگر تم واقعی مومن ہو۔

﴿9﴾ اللہ وہی تو ہے جو اپنے بندے پر کھلی کھلی آیتیں نازل فرماتا ہے، تاکہ تمہیں اندھیریوں سے نکال کر روشنی میں لائے۔ اور یقین جانو اللہ تم پر بہت شفیق، بہت مہربان ہے۔

﴿10﴾ اور تمہارے لیے کونسی وجہ ہے کہ تم اللہ کے راستے میں خرچ نہ کرو، حالانکہ آسمانوں اور زمین کی ساری میراث اللہ ہی کے لیے ہے۔ تم میں سے جنہوں نے (مکہ کی) فتح سے پہلے خرچ کیا، اور لڑائی لڑی، وہ (بعد والوں کے) برابر نہیں ہیں۔ وہ درجے میں ان لوگوں سے بڑھے ہوئے ہیں جنہوں نے (فتح مکہ کے) بعد خرچ کیا، اور لڑائی لڑی۔ یوں اللہ نے بھلائی کا وعدہ ان سب سے کر رکھا ہے، اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

﴿11﴾ کون ہے جو اللہ کو قرض دے ؟ اچھا قرض جس کے نتیجے میں اللہ اسے دینے والے کے لیے کئی گنا بڑھا دے ؟ اور ایسے شخص کو بڑا باعزت اجر ملے گا۔

﴿12﴾ اس دن جب تم مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے سامنے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا (اور ان سے کہا جائے گا کہ) آج تمہیں خوشخبری ہے ان باغات کی جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں تم ہمیشہ ہمیشہ رہو گے۔ یہی ہے جو بڑی زبردست کامیابی ہے۔

﴿13﴾ اس دن جب منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے کہ : ذرا ہمارا انتظار کرلو کہ تمہارے نور سے ہم بھی کچھ روشنی حاصل کرلیں۔ ان سے کہا جائے گا کہ : تم اپنے پیچھے لوٹ جاؤ، پھر نور تلاش کرو۔ پھر ان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا جس کے اندر کی طرف رحمت ہوگی، اور باہر کی طرف عذاب ہوگا۔

﴿14﴾ وہ مومنوں کو پکاریں گے کہ : کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے ؟ مومن کہیں گے کہ : ہاں تھے تو سہی، لیکن تم نے خود اپنے آپ کو فتنے میں ڈال لیا، اور انتظار میں رہے، شک میں پڑے رہے، اور جھوٹی آرزوؤں نے تمہیں دھوکے میں ڈالے رکھا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا اور وہ بڑا دھوکے باز (یعنی شیطان) تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکا ہی دیتا رہا۔

﴿15﴾ چنانچہ آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے (کھلے بندوں) کفر اختیار کیا تھا۔ تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے، وہی تمہاری رکھوالی ہے اور یہ بہت برا انجام ہے۔

﴿16﴾ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، کیا ان کے لیے اب بھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کے لیے اور جو حق اترا ہے اس کے لیے پسیج جائیں ؟ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ بنیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر ایک لمبی مدت گزر گئی، اور ان کے دل سخت ہوگئے، اور (آج) ان میں سے بہت سے نافرمان ہیں ؟

﴿17﴾ خوب سمجھ لو کہ اللہ زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ ہم نے تمہارے لیے نشانیاں کھول کھول کر واضح کردی ہیں، تاکہ تم سمجھ سے کام لو۔

﴿18﴾ یقینا وہ جو صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں ہیں، اور انہوں نے اللہ کو قرض دیا ہے اچھا قرض، ان کے لیے اس (صدقے) کو کئی گنا بڑھا دیا جائے گا، اور ان کے لیے باعزت اجر ہے۔

﴿19﴾ اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں، وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ ان کے لیے ان کا اجر اور ان کا نور ہے۔ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا، وہ دوزخی لوگ ہیں۔

﴿20﴾ خوب سمجھ لو کہ اس دنیا والی زندگی کی حقیقت بس یہ ہے کہ وہ نام ہے کھیل کود کا، ظاہری سجاوٹ کا، تمہارے ایک دوسرے پر فخر جتانے کا، اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرنے کا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش جس سے اگنے والی چیزیں کسانوں کو بہت اچھی لگتی ہیں، پھر وہ اپنا زور دکھاتی ہیں، پھر تم اس کو دیکھتے ہو کہ زرد پڑگئی ہے، پھر وہ چورا چورا ہوجاتی ہے۔ اور آخرت میں (ایک تو) سخت عذاب ہے، اور (دوسرے) اللہ کی طرف سے بخشش ہے، اور خوشنودی، او دنیا والی زندگی دھکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

﴿21﴾ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے پروردگار کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمان اور زمین کی چوڑائی جیسی ہے، یہ ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں، یہ اللہ کا فضل ہے جو وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

﴿22﴾ کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں نازل ہوتی یا تمہاری جانوں کو لاحق ہوتی ہو، مگر وہ ایک کتاب میں اس وقت سے درج ہے جب ہم نے ان جانوں کو پیدا بھی نہیں کیا تھا، یقین جانو یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔

﴿23﴾ یہ اس لیے تاکہ جو چیز تم سے جاتی رہے، اس پر تم غم میں نہ پڑو، اور جو چیز اللہ تمہیں عطا فرمادے، اس پر تم اتراؤ نہیں، اور اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اتراہٹ میں مبتلا ہو، شیخی بگھارنے والا ہو۔

﴿24﴾ وہ ایسے لوگ ہیں جو کنجوسی کرتے ہیں، اور دوسرے لوگوں کو بھی کنجوسی کی تلقین کرتے ہیں۔ اور جو شخص منہ موڑ لے تو یاد رکھو کہ اللہ ہی ہے جو سب سے بےنیاز ہے، بذات خود قابل تعریف۔

﴿25﴾ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی ہوئی نشانیاں دے کر بھیجا، اور ان کے ساتھ کتاب بھی اتاری، اور ترازو بھی، تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں، اور ہم نے لوہا اتارا جس میں جنگی طاقت بھی ہے اور لوگوں کے لیے دوسرے فائدے بھی، اور یہ اس لیے تاکہ اللہ جان لے کہ کون ہے جو اس کو دیکھے بغیر اس (کے دین) کی اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتا ہے۔ یقین رکھو کہ اللہ بڑی قوت کا، بڑے اقتدار کا مالک ہے۔

﴿26﴾ اور ہم نے نوح کو اور ابراہیم کو پیغمبر بنا کر بھیجا، اور ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب کا سلسلہ جاری کیا۔ پھر ان میں سے کچھ تو ہدایت پر آگئے، اور ان میں سے بہت سے لوگ نافرمان رہے۔

﴿27﴾ پھر ہم نے ان کے پیچھے انہی کے نقش قدم پر اپنے اور پیغمبر بھیجے، اور ان کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور انہیں انجیل عطا کی، اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ان کے دلوں میں ہم نے شفقت اور رحم دلی پیدا کردی۔ اور جہاں تک رہبانیت کا تعلق ہے وہ انہوں نے خود ایجاد کرلی تھی، ہم نے اس کو ان کے ذمے واجب نہیں کیا تھا۔ لیکن انہوں نے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنی چاہی، پھر اس کی ویسی رعایت نہ کرسکے جیسے اس کا حق تھا۔ غرض ان میں سے جو ایمان لائے تھے، ان کو ہم نے ان کا اجر دیا، اور ان میں سے بہت لوگ نافرمان ہی رہے۔

﴿28﴾ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو، اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ تاکہ وہ تمہیں اپنی رحمت کے دو حصے عطا فرمائے، اور تمہارے لیے وہ نور پیدا کرے جس کے ذریعے تم چل سکو، اور تمہاری بخشش فرمادے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔

﴿29﴾ تاکہ اہل کتاب کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر انہیں کوئی اختیار نہیں ہے، اور یہ کہ فضل تمام تر اللہ کے ہاتھ میں ہے جو وہ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ فضل عظیم کا مالک ہے۔

المجادلہ

Surah 58

﴿1﴾ (اے پیغمبر) اللہ نے اس عورت کی بات سن لی ہے جو تم سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث کر رہی ہے، اور اللہ سے فریاد کرتی جاتی ہے۔ اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے۔ یقینا اللہ سب کچھ سننے دیکھنے والا ہے۔

﴿2﴾ تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں (ان کے اس عمل سے) وہ بیویاں ان کی مائیں نہیں ہوجاتیں۔ ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنم دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ایسی بات کہتے ہیں جو بہت بری ہے، اور جھوٹ ہے۔ اور اللہ بہت معاف کرنے والا، بہت بخشنے والا ہے۔

﴿3﴾ اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں پھر انہوں نے جو کچھ کہا ہے، اس سے رجوع کرتے ہیں، تو ان کے ذمے ایک غلام آزاد کرنا ہے، قبل اس کے کہ وہ (میاں بیوی) ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ یہ ہے وہ بات جس کی تمہیں نصیحت کی جارہی ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

﴿4﴾ پھر جس شخص کو غلام میسر نہ ہو، اس کے ذمے دو متواتر مہینوں کے روزے ہیں، قبل اس کے کہ وہ (میاں بیوی) ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ پھر جس کو اس کی بھی استطاعت نہ ہو اس کے ذمے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ یہ اس لئے تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

﴿5﴾ یقین رکھو کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں، وہ ایسے ہی ذلیل ہوں گے جیسے ان سے پہلے لوگ ذلیل ہوئے تھے اور ہم نے کھلی کھلی آیتیں نازل کردی ہیں اور کافروں کے لیے ایسا عذاب ہے جو خوار کر کے رکھ دے گا۔

﴿6﴾ اس دن جب اللہ ان سب کو دوبارہ زندہ کرے گا، پھر انہیں بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا تھا۔ اللہ نے اسے گن گن کر محفوظ رکھا ہے، اور یہ اسے بھول گئے ہیں۔ اور اللہ ہر چیز کا گواہ ہے۔

﴿7﴾ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ اسے جانتا ہے ؟ کبھی تین آدمیوں میں کوئی سرگوشی ایسی نہیں ہوتی جس میں چوتھا وہ نہ ہو، اور نہ پانچ آدمیوں کی کوئی سرگوشی ایسی ہوتی ہے جس میں چھٹا وہ نہ ہو، اور چاہے سرگوشی کرنے والے اس سے کم ہوں یا زیادہ، وہ جہاں بھی ہوں، اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ پھر وہ قیامت کے دن انہیں بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا تھا۔ بیشک اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔

﴿8﴾ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں سرگوشی کرنے سے منع کردیا گیا تھا، پھر بھی وہ وہی کام کرتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا ؟ اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ ایسی سرگوشیاں کرتے ہیں جو گناہ، زیادتی اور رسول کی نافرمانی پر مشتمل ہوتی ہیں۔ اور (اے پیغمبر) جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو تمہیں ایسے طریقے سے سلام کرتے ہیں جس سے اللہ نے تمہیں سلام نہیں کیا، اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ : ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اس پر اللہ ہمیں سزا کیوں نہیں دے دیتا ؟ جہنم ہی ان (کی خبر لینے) کے لیے کافی ہے، وہ اسی میں جا پہنچیں گے، اور وہ پہنچنے کی بہت بری جگہ ہے۔

﴿9﴾ اے ایمان والو ! جب تم آپس میں ایک دوسرے سے سرگوشی کرو تو ایسی سرگوشی نہ کرو جو گناہ، زیادتی اور رسول کی نافرمانی پر مشتمل ہو، ہاں ایسی سرگوشی کرو جو نیک کاموں اور تقوی پر مشتمل ہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، جس کے پاس تم سب کو جمع کر کے لے جایا جائے گا۔

﴿10﴾ ایسی سرگوشی تو شیطان کی طرف سے ہوتی ہے تاکہ وہ ایمان والوں کو غم میں مبتلا کرے اور وہ اللہ کے حکم کے بغیر انہیں ذرا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔

﴿11﴾ اے ایمان والو ! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں دوسروں کے لیے گنجائش پید کرو، تو گنجائش پیدا کردیا کرو، اللہ تمہارے لیے وسعت پیدا کرے گا، اور جب کہا جائے کہ اٹھ جاؤ، تو اٹھ جاؤ، تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے اللہ ان کو درجوں میں بلند کرے گا، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

﴿12﴾ اے ایمان والو ! جب تم رسول سے تنہائی میں کوئی بات کرنا چاہو تو اپنی اس تنہائی کی بات سے پہلے کچھ صدقہ کردیا کرو۔ یہ طریقہ تمہارے حق میں بہتر اور زیادہ ستھرا طریقہ ہے۔ ہاں اگر تمہارے پاس (صدقہ کرنے کے لیے) کچھ نہ ہو تو اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔

﴿13﴾ کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ اپنی تنہائی کی بات سے پہلے صدقات دیا کرو ؟ اب جبکہ تم ایسا نہیں کرسکے، اور اللہ نے تمہیں معاف کردیا تو تم نماز قائم کرتے ہو، اور زکوٰۃ دیتے رہو، اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے رہو۔ اور جو کام بھی تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

﴿14﴾ کیا تم نے ان کو نہیں دیکھا جنہوں نے ایسے لوگوں کو دوست بنایا ہوا ہے جن پر اللہ کا غضب ہے ؟ یہ نہ تو تمہارے ہیں اور نہ ان کے، اور یہ جانتے بوجھتے جھوٹی باتوں پر قسمیں کھا جاتے ہیں۔

﴿15﴾ اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت برے ہیں وہ کام جو یہ کرتے رہے ہیں۔

﴿16﴾ انہوں نے اپنی قسموں کو ایک ڈھال بنا لیا ہے۔ پھر وہ دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے رہے ہیں۔ اس لیے ان کے لیے ایسا عذاب ہے جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔

﴿17﴾ ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے مقابلے میں ان کے کچھ کام نہیں آئیں گے۔ یہ دوزخ والے ہیں۔ یہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔

﴿18﴾ جس دن اللہ ان سب کو دوبارہ زندہ کرے گا تو اس کے سامنے بھی یہ اسی طرح قسمیں کھائیں گے جیسے تمہارے سامنے کھاتے ہیں، اور یہ سمجھیں گے کہ انہیں کوئی سہارا مل گیا ہے۔ یاد رکھو یہ لوگ بالکل جھوٹے ہیں۔

﴿19﴾ ان پر شیطان نے پوری طرح قبضہ جما کر انہیں اللہ کی یاد سے غافل کردیا ہے۔ یہ شیطان کا گروہ ہے۔ یاد رکھو شیطان کا گروہ ہی نامراد ہونے والا ہے۔

﴿20﴾ بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں، وہ ذلیل ترین لوگوں میں شامل ہیں۔

﴿21﴾ اللہ نے یہ بات لکھ دی ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور غالب آئیں گے۔ یقین رکھو کہ اللہ بڑا قوت والا، بڑے اقتدار والا ہے۔

﴿22﴾ جو لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، ان کو تم ایسا نہیں پاؤ گے کہ وہ ان سے دوستی رکھتے ہوں، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے، چاہے وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے خاندان والے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے د لوں میں اللہ نے ایمان نقش کردیا ہے، اور اپنی روح سے ان کی مدد کی ہے، اور انہیں وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوگیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے ہیں۔ یہ اللہ کا گروہ ہے۔ یاد رکھو کہ اللہ کا گروہ ہی فلاح پانے والا ہے۔

الحشر

Surah 59

﴿1﴾ آسمانوں اور زمین میں جو بھی کوئی چیز ہے اس نے اللہ کی تسبیح کی ہے، اور وہی ہے جو اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

﴿2﴾ وہی ہے جس نے اہل کتاب میں سے کافر لوگوں کو ان کے گھروں سے پہلے اجتماع کے موقع پر نکال دیا۔ (مسلمانو) تمہیں یہ خیال بھی نہیں تھا کہ وہ نکلیں گے، اور وہ بھی یہ سمجھے ہوئے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے۔ پھر اللہ ان کے پاس ایسی جگہ سے آیا جہاں ان کا گمان بھی نہیں تھا، اور اللہ نے ان کے د لوں میں رعب ڈال دیا کہ وہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے بھی اور مسلمانوں کے ہاتھ سے بھی اجاڑ رہے تھے۔ لہذا اے آنکھوں والو ! عبرت حاصل کرو۔

﴿3﴾ اور اگر اللہ نے ان کی قسمت میں جلا وطنی نہ لکھ دی ہوتی تو وہ دنیا ہی میں ان کو عذاب دے دیتا، البتہ آخرت میں ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے۔

﴿4﴾ یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی ٹھانی، اور جو شخص اللہ سے دشمنی کرتا ہے، تو اللہ بڑا سخت عذاب دینے والا ہے۔

﴿5﴾ تم نے کھجور کے جو درخت کاٹے، یا انہیں اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا، تو یہ سب کچھ اللہ کے حکم سے تھا، اور اس لیے تھا تاکہ اللہ نافرمانوں کو رسوا کرے۔

﴿6﴾ اور اللہ نے اپنے رسول کو ان کا جو مال بھی فیئ کے طور پر دلوایا۔ اس کے لیے تم نے نہ اپنے گھوڑے دوڑائے، نہ اونٹ، لیکن اللہ اپنے پیغمبروں کو جس پر چاہتا ہے، تسلط عطا فرما دیتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔

﴿7﴾ اللہ اپنے رسول کو (دوسری) بستیوں سے جو مال بھی فیئ کے طور پر دلوا دے، تو وہ اللہ کا حق ہے اور اس کے رسول کا، اور قرابت داروں کا، اور یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا، تاکہ وہ مال صرف انہی کے درمیان گردش کرتا نہ رہ جائے جو تم میں دولت مند لوگ ہیں۔ اور رسول تمہیں جو کچھ دیں، وہ لے لو، اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ، اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ سخت سزا دینے و الا ہے۔

﴿8﴾ (نیز یہ مال فیئ) ان حاجت مند مہاجرین کا حق ہے جنہیں اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے بےدخل کیا گیا ہے۔ وہ اللہ کی طرف سے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلب گار ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو راست باز ہیں۔

﴿9﴾ (اور یہ مال فیئ) ان لوگوں کا حق ہے جو پہلے ہی سے اس جگہ (یعنی مدینہ میں) ایمان کے ساتھ مقیم ہیں۔ جو کوئی ان کے پاس ہجرت کے آتا ہے یہ اس سے محبت کرتے ہیں، اور جو کچھ ان (مہاجرین) کو دیا جاتا ہے، یہ اپنے سینوں میں اس کی کوئی خواہش بھی محسوس نہیں کرتے، اور ان کو اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، چاہے ان پر تنگ دستی کی حالت گزر رہی ہو۔ اور جو لوگ اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ ہوجائیں، وہی ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔

﴿10﴾ اور (یہ مال فیئ) ان لوگوں کا بھی حق ہے جو ان (مہاجرین اور انصار) کے بعد آئے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہماری بھی مغفرت فرمایئے، اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں، اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والوں کے لیے کوئی بغض نہ رکھیے۔ اے ہمارے پروردگار ! آپ بہت شفیق، بہت مہربان ہیں۔

﴿11﴾ کیا تم نے ان کو نہیں دیکھا جنہوں نے منافقت سے کام لیا ہے کہ وہ اپنے ان بھائیوں سے جو کافر اہل کتاب میں سے ہیں یہ کہتے ہیں کہ : اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکلیں گے اور تمہارے بارے میں کبھی کسی اور کا کہنا نہیں مانیں گے، اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ بالکل جھوٹے ہیں۔

﴿12﴾ یہ پکی بات ہے کہ اگر ان (اہل کتاب) کو نکالا گیا تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔ اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے، اور اگر بالفرض ان کی مدد کی بھی تو پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے، پھر ان کی کوئی مدد نہیں کرے گا۔

﴿13﴾ (مسلمانو) حقیقت یہ ہے کہ ان کے دلوں میں تمہاری دہشت اللہ سے زیادہ ہے۔ یہ اس لیے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں سمجھ نہیں ہے۔

﴿14﴾ یہ سب لوگ اکٹھے ہو کر بھی تم سے جنگ نہیں کریں گے، مگر ایسی بستیوں میں جو قلعوں میں محفوظ ہوں، یا پھر دیواروں کے پیچھے چھپ کر۔ ان کی آپس کی مخالفتیں بہت سخت ہیں۔ تم انہیں اکٹھا سمجھتے ہو، حالانکہ ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔ یہ اس لیے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں عقل نہیں ہے۔

﴿15﴾ ان کی حالت ان لوگوں کی سی ہے جو ان سے کچھ ہی پہلے اپنے کرتوت کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

﴿16﴾ ان کی مثال شیطان کی سی ہے کہ وہ انسان سے کہتا ہے کہ : کافر ہوجا۔ پھر جب وہ کافر ہوجاتا ہے تو کہتا ہے کہ : میں تجھ سے بری ہوں، میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔

﴿17﴾ چنانچہ ان دونوں کا انجام یہ ہے کہ وہ دونوں دوزخ میں ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور یہی ظلم کرنے والوں کی سزا ہے۔

﴿18﴾ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔ اور اللہ سے ڈرو۔ یقین رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

﴿19﴾ اور تم ان جیسے نہ ہوجانا جو اللہ کو بھول بیٹھے تھے، تو اللہ نے انہیں خود اپنے آپ سے غافل کردیا۔ وہی لوگ ہیں جو نافرمان ہیں۔

﴿20﴾ جنت والے اور دوزخ والے برابر نہیں ہوسکتے۔ جنت والے ہی وہ ہیں جو کامیاب ہیں۔

﴿21﴾ اگر ہم نے یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارا ہوتا تو تم اسے دیکھتے کہ وہ اللہ کے رعب سے جھکا جارہا ہے، اور پھٹا پڑتا ہے۔ اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے سامنے اس لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور و فکر سے کام لیں۔

﴿22﴾ وہ اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ چھپی اور کھلی ہر بات کو جاننے والا ہے۔ وہی ہے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے۔

﴿23﴾ وہ اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، جو بادشاہ ہے، تقدس کا مالک ہے، سلامتی دینے والا ہے، امن بخشنے والا ہے، سب کا نگہبان ہے، بڑے اقتدار والا ہے، ہر خرابی کی اصلاح کرنے والا ہے، بڑائی کا مالک ہے۔ پاک ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

﴿24﴾ وہ اللہ وہی ہے جو پیدا کرنے والا ہے، وجود میں لانے والا ہے صورت بنانے والا ہے، اسی کے سب سے اچھے نام ہیں۔ آسمانوں اور زمین میں جتنی چیزیں ہیں وہ اس کی تسبیح کرتی ہیں، اور وہی ہے جو اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

الممتحنہ

Surah 60

﴿1﴾ اے ایمان والو ! اگر تم میرے راستے میں جہاد کرنے کی خاطر اور میری خوشنودی حاصل کرنے کے لیے (گھروں سے) نکلے ہو تو میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو ایسا دوست مت بناؤ کہ ان کو محبت کے پیغام بھیجنے لگو، حالانکہ تمہارے پاس جو حق آیا ہے، انہوں نے اس کو اتنا جھٹلایا ہے کہ وہ رسول کو بھی اور تمہیں بھی صرف اس وجہ سے (مکے سے) باہر نکالتے رہے ہیں کہ تم اپنے پروردگار اللہ پر ایمان لائے ہو۔ تم ان سے خفیہ طور پر دوستی کی بات کرتے ہو، حالانکہ جو کچھ تم خفیہ طور پر کرتے ہو، اور جو کچھ علانیہ کرتے ہو، میں اس سب کو پوری طرح جانتا ہے۔ اور تم میں سے کوئی بھی ایسا کرے، وہ راہ راست سے بھٹک گیا۔

﴿2﴾ اگر تم ان کے ہاتھ آجاؤ تو وہ تمہارے دشمن بن جائیں گے اور اپنے ہاتھ اور زبانیں پھیلا پھیلا کر تمہارے ساتھ برائی کریں گے، اور ان کی خواہش یہ ہے کہ تم کافر بن جاؤ۔

﴿3﴾ قیامت کے دن نہ تمہاری رشتہ داریاں ہرگز تمہارے کام آئیں گی، اور نہ تمہاری اولاد۔ اللہ ہی تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا، اور تم جو کچھ کرتے ہو، اللہ اسے پوری طرح دیکھتا ہے۔

﴿4﴾ تمہارے لیے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : ہمارا تم سے اور اللہ کے سوا تم جن جن کی عبادت کرتے ہو، ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم تمہارے (عقائد کے) منکر ہیں، اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض پیدا ہوگیا ہے جب تک تم صرف ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ۔ البتہ ابراہیم نے اپنے باپ سے یہ ضرور کہا تھا کہ : میں آپ کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا ضرور مانگوں گا، اگرچہ اللہ کے سامنے میں آپ کو کوئی فائدہ پہنچانے کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ اے ہمارے پروردگار آپ ہی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے، اور آپ ہی کی طرف ہم رجوع ہوئے ہیں، اور آپ ہی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔

﴿5﴾ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں کافروں کا تختہ مشق نہ بنائیے اور ہمارے پروردگار ! ہماری مغفرت فرما دیجیے۔ یقینا آپ، اور صرف آپ کی ذات وہ ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کی حکمت بھی کامل۔

﴿6﴾ (مسلمانو) یقینا تمہارے لیے ان لوگوں کے طرز عمل میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور روز آخرت سے امید رکھتا ہو۔ اور جو شخص منہ موڑے تو (وہ یاد رکھے کہ) اللہ سب سے بےنیاز ہے، بذات خود قابل تعریف۔

﴿7﴾ کچھ بعید نہیں ہے کہ اللہ تمہارے اور جن لوگوں سے تمہاری دشمنی ہے، ان کے درمیان دوستی پیدا کردے، اور اللہ بڑی قدرت والا ہے، اور اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔

﴿8﴾ اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں کرتا کہ جن لوگوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی، اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، ان کے ساتھ تم کوئی نیکی کا یا انصاف کا معاملہ کرو، یقینا اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

﴿9﴾ اللہ تو تمہیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ جن لوگوں نے تمہارے ساتھ دین کے معاملے میں جنگ کی ہے، اور تمہیں اپنے گھروں سے نکالا ہے، اور تمہیں نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے، تم ان سے دوستی رکھو۔ اور جو لوگ ان سے دوستی رکھیں گے، وہ ظالم ہیں۔

﴿10﴾ اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو تم ان کو جانچ لیا کرو۔ اللہ ہی ان کے ایمان کے بارے میں بہتر جانتا ہے۔ پھر جب تمہیں یہ معلوم ہوجائے کہ وہ مومن عورتیں ہیں تو تم انہیں کافروں کے پاس واپس نہ بھیجنا۔ وہ ان کافروں کے لیے حلال نہیں ہیں، اور وہ کافر ان کے لیے حلال نہیں ہیں۔ اور ان کافروں نے جو کچھ (ان عورتوں پر مہر کی صورت میں) خرچ کیا ہو، وہ انہیں ادا کرو۔ اور تم پر ان عورتوں سے نکاح کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے، جب تک کہ تم نے ان کے مہر ادا نہیں کردیے ہوں۔ اور تم کافر عورتوں کی عصمتیں اپنے قبضے میں باقی نہ رکھو، اور جو کچھ تم نے (ان کافر بیویوں پر مہر کی صورت میں) خرچ کیا تھا، وہ تم (ان کے نئے شوہروں سے) مانگ لو۔ اور انہوں نے جو کچھ (اپنی مسلمان ہوجانے والی بیویوں پر) خرچ کیا تھا، وہ (ان کے نئے مسلمان شوہروں سے) مانگ لیں۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے، وہی تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے، اور اللہ بڑے علم والا، بڑی حکمت والا ہے۔

﴿11﴾ اور اگر تمہاری بیویوں میں سے کوئی کافروں کے پاس جاکر تمہارے ہاتھ سے نکل جائے، پھر تمہاری نوبت آئے تو جن لوگوں کی بیویاں جاتی رہی ہیں ان کو اتنی رقم ادا کردو جتنی انہوں نے (اپنی ان بیویوں پر) خرچ کی تھی، اور اللہ سے ڈرتے رہو، جس پر تم ایمان لائے ہو۔

﴿12﴾ اے نبی ! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لیے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہیں مانیں گی، اور چوری نہیں کریں گی، اور زنا نہیں کریں گی، اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، اور نہ کوئی ایسا بہتان باندھیں گی جو انہوں نے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان گھڑ لیا ہو، اور نہ کسی بھلے کام میں تمہاری نافرمانی کریں گی، تو تم ان کو بیعت کرلیا کرو، اور ان کے حق میں اللہ سے مغفرت کی دعا کیا کرو، یقینا اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔

﴿13﴾ اے ایمان والو ! ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جن پر اللہ نے غضب فرمایا ہے۔ وہ آخرت سے اسی طرح مایوس ہوچکے ہیں جیسے کافر لوگ قبروں میں مدفون لوگوں سے مایوس ہیں۔

الصّف

Surah 61

﴿1﴾ آسمانوں اور زمین میں جو بھی کوئی چیز ہے، اس نے اللہ کی تسبیح کی ہے اور وہی ہے جو اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

﴿2﴾ اے ایمان والو ! تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ؟

﴿3﴾ اللہ کے نزدیک یہ بات بڑی قابل نفرت ہے کہ تم ایسی بات کہو جو کرو نہیں۔

﴿4﴾ حقیقت یہ ہے کہ اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کے راستے میں اس طرح صف بنا کر لڑتے ہیں جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی عمارت ہوں۔

﴿5﴾ اور وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : اے میری قوم کے لوگو ! تم مجھے تکلیف کیوں پہنچاتے ہو، حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس اللہ کا پیغمبر بن کر آیا ہوں ؟ پھر جب انہوں نے ٹیڑھ اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا، اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔

﴿6﴾ اور وہ وقت یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کہا تھا کہ : اے بنو اسرائیل میں تمہارے پاس اللہ کا ایسا پیغمبر بن کر آیا ہوں کہ مجھ سے پہلے جو تورات (نازل ہوئی) تھی، میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں، اور اس رسول کی خوشخبری دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا، جس کا نام احمد ہے۔ پھر جب وہ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ کہنے لگے کہ : یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔

﴿7﴾ اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے، جبکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جارہا ہو ؟ اور اللہ ایسے ظالم لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔

﴿8﴾ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اپنے منہ سے اللہ کے نور کو بجھا دیں، حالانکہ اللہ اپنے نور کی تکمیل کر کے رہے گا، چاہے کافروں کو یہ بات کتنی بری لگے۔

﴿9﴾ وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچائی کا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ وہ اسے تمام دوسرے دینوں پر غالب کردے، چاہے مشرک لوگوں کو یہ بات کتنی بری لگے۔

﴿10﴾ اے ایمان والو ! کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت کا پتہ دوں جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دلا دے ؟

﴿11﴾ (وہ یہ ہے کہ) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور اپنے مال و دولت اور اپنی جانوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کرو۔ یہ تمہارے لیے بہترین بات ہے، اگر تم سمجھو۔

﴿12﴾ اس کے نتیجے میں اللہ تمہاری خاطر تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور تمہیں ان باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور ایسے عمدہ گھروں میں بسائے گا جو ہمیشہ ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں واقع ہوں گے۔ یہی زبردست کامیابی ہے۔

﴿13﴾ اور ایک اور چیز تمہیں دے گا جو تمہیں پسند ہے (اور وہ ہے) اللہ کی طرف سے مدد، اور ایک ایسی فتح جو عنقریب حاصل ہوگی، اور (اے پیغمبر) ایمان والوں کو (اس بات کی) خوشخبری سنا دو ۔

﴿14﴾ اے ایمان والو ! تم اللہ (کے دین) کے مددگار بن جاؤ، اسی طرح جیسے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے حواریوں سے کہا تھا کہ : وہ کون ہیں جو اللہ کے واسطے میرے مددگار بنیں ؟ حواریوں نے کہا : ہم اللہ کے (دین کے) مددگار ہیں۔ پھر بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لے آیا، اور ایک گروہ نے کفر اختیار کیا، چنانچہ جو لوگ ایمان لائے تھے ہم نے ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد کی، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ غالب آئے۔

الجمعہ

Surah 62

﴿1﴾ آسمانوں اور زمین میں جو چیز بھی ہے وہ اللہ کی تسبیح کرتی ہے جو بادشاہ ہے بڑے تقدس کا مالک ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے جس کی حکمت بھی کامل۔

﴿2﴾ وہی ہے جس نے امی لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول کو بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتوں کی تلاوت کریں اور ان کو پاکیزہ بنائیں اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیں، جبکہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔

﴿3﴾ اور (یہ رسول جن کی طرف بھیجے گئے ہیں) ان میں کچھ اور بھی ہیں جو ابھی ان کے ساتھ آکر نہیں ملے۔ اور وہ بڑے اقتدار والا، بڑی حکمت والا ہے۔

﴿4﴾ یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

﴿5﴾ جن لوگوں پر تورات کا بوجھ ڈالا گیا، پھر انہوں نے اس کا بوجھ نہیں اٹھایا، ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو بہت سی کتابیں لادے ہوئے ہو۔ بہت بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا، اور اللہ ایسے ظالم لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔

﴿6﴾ (اے پیغمبر ان سے) کہو کہ : اے لوگو جو یہودی بن گئے ہو، اگر تمہارا دعوی یہ ہے کہ سارے لوگوں کو چھوڑ کر تم ہی اللہ کے دوست ہو تو موت کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو۔

﴿7﴾ اور انہوں نے اپنے ہاتھوں جو اعمال آگے بھیج رکھے ہیں ان کی وجہ سے یہ کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے، اور اللہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

﴿8﴾ کہو کہ : جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ تم سے آملنے والی ہے، پھر تمہیں اس (اللہ) کی طرف لوٹایا جائے گا جسے تمام پوشیدہ اور کھلی ہوئی باتوں کا پورا علم ہے، پھر وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا کچھ کیا کرتے تھے۔

﴿9﴾ اے ایمان والو ! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو، اور خریدو فروخت چھوڑ دو ۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھو۔

﴿10﴾ پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں منتشر ہوجاؤ، اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔

﴿11﴾ اور جب کچھ لوگوں نے کوئی تجارت یا کوئی کھیل دیکھا تو اس کی طرف ٹوٹ پڑے، اور تمہیں کھڑا ہوا چھوڑ دیا۔ کہہ دو کہ : جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کھیل اور تجارت سے کہیں زیادہ بہتر ہے، اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔

المنافقون

Surah 63

﴿1﴾ جب منافق لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں : ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ آپ واقعی اس کے رسول ہیں، اور اللہ (یہ بھی) گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق لوگ جھوٹے ہیں۔

﴿2﴾ انہوں نے اپنی قسموں کو ایک ڈھال بنا رکھا ہے۔ پھر یہ لوگ دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت ہی برے ہیں وہ کام جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں۔

﴿3﴾ یہ ساری باتیں اس وجہ سے ہیں کہ یہ (شروع میں بظاہر) ایمان لے آئے پھر انہوں نے کفر اپنا لیا اس لیے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، نتیجہ یہ کہ یہ لوگ (حق بات) سمجھتے ہی نہیں ہیں۔

﴿4﴾ جب تم ان کو دیکھو تو ان کے ڈیل ڈول تمہیں بہت اچھے لگیں، اور اگر وہ بات کریں تو تم ان کی باتیں سنتے رہ جاؤ، ان کی مثال ایسی ہے جیسے یہ لکڑیاں ہیں جو کسی سہارے سے لگا رکھی ہیں، یہ ہر چیخ پکار کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہی ہیں جو (تمہارے) دشمن ہیں، اس لیے ان سے ہوشیار رہو۔ اللہ کی مار ہو ان پر۔ یہ کہاں اوندھے چلے جارہے ہیں ؟

﴿5﴾ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ، اللہ کے رسول تمہارے حق میں مغفرت کی دعا کریں، تو یہ اپنے سروں کو مٹکاتے ہیں، اور تم انہیں دیکھو گے کہ وہ بڑے گھمنڈ کے عالم میں بےرخی سے کام لیتے ہیں۔

﴿6﴾ (اے پیغمبر) ان کے حق میں دونوں باتیں برابر ہیں، چاہے تم ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو یا نہ کرو، اللہ انہیں ہرگز نہیں بخشے گا، یقین جانو اللہ ایسے نافرمان لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔

﴿7﴾ یہی تو ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو، یہاں تک کہ یہ خود ہی منتشر ہوجائیں گے، حالانکہ آسمانوں اور زمین کے تمام خزانے اللہ ہی کے ہیں، لیکن منافق لوگ سمجھتے نہیں ہیں۔

﴿8﴾ کہتے ہیں کہ : اگر ہم مدینہ کو لوٹ کر جائیں گے تو جو عزت والا ہے، وہ وہاں سے ذلت والے کو نکال باہر کرے گا، حالانکہ عزت تو اللہ ہی کو حاصل ہے اور اس کے رسول کو، اور ایمان والوں کو، لیکن منافق لوگ نہیں جانتے۔

﴿9﴾ اے ایمان والو ! تمہاری دولت اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کرنے پائیں۔ اور جو لوگ ایسا کریں گے، وہ بڑے گھاٹے کا سودا کرنے والے ہوں گے۔

﴿10﴾ اور ہم نے تمہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے (اللہ کے حکم کے مطابق) خرچ کرلو، قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کے پاس موت آجائے تو وہ یہ کہے کہ : اے میرے پروردگار ! تو نے مجھے تھوڑی دیر کے لیے اور مہلت کیوں نہ دے دی کہ میں خوب صدقہ کرتا، اور نیک لوگوں میں شامل ہوجاتا۔

﴿11﴾ اور جب کسی شخص کا معین وقت آجائے گا تو اللہ اسے ہرگز مہلت نہیں دے گا، اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

التغابن

Surah 64

﴿1﴾ آسمانوں اور زمین میں جو چیز بھی ہے وہ اللہ کی تسبیح کرتی ہے، اور بادشاہی اسی کی ہے، اور تعریف اسی کی، اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

﴿2﴾ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، پھر تم میں سے کوئی کافر ہے، اور کوئی مومن، اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اسے خوب دیکھتا ہے۔

﴿3﴾ اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے، اور تمہاری صورتیں بنائی ہیں اور تمہاری صورتیں اچھی بنائی ہیں، اور اسی کی طرف آخر کار (سب کو) پلٹ کر جانا ہے۔

﴿4﴾ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، وہ اسے جانتا ہے، اور جو کچھ تم چھپ کر کرتے ہو اور جو کچھ کھلم کھلا کرتے ہو، اس کا بھی اسے پورا علم ہے، اور اللہ دلوں کی باتوں تک کا خوب جاننے والا ہے۔

﴿5﴾ کیا تمہارے پاس ان لوگوں کے واقعات نہیں پہنچے جنہوں نے پہلے کفر اختیار کیا تھا، پھر اپنے کاموں کا وبال چکھا، اور (آئندہ) ان کے حصے میں ایک دردناک عذاب ہے ؟

﴿6﴾ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر روشن دلائل لے کر آتے تھے تو وہ کہتے تھے کہ : کیا (ہم جیسے) انسان ہیں جو ہمیں ہدایت دیں گے ؟ غرض انہوں نے کفر اختیار کیا اور منہ موڑا، اور اللہ نے بھی بےنیازی برتی، اور اللہ بالکل بےنیاز ہے بذات خود قابل تعریف۔

﴿7﴾ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، وہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ انہیں کبھی دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔ کہہ دو : کیوں نہیں ؟ میرے پروردگار کی قسم ! تمہیں ضرور زندہ کیا جائے گا، پھر تمہیں بتایا جائے گا کہ تم نے کیا کچھ کیا تھا، اور یہ اللہ کے لیے معمولی سی بات ہے۔

﴿8﴾ لہذا اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس روشنی پر ایمان لاؤ جو ہم نے نازل کی ہے، اور تم جو کچھ کرتے ہو، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

﴿9﴾ (یہ دوسری زندگی) اس دن (ہوگی) جب اللہ تمہیں روز حشر میں اکٹھا کرے گا۔ وہ ایسا دن ہوگا جس میں کچھ لوگ دوسروں کو حسرت میں ڈال دیں گے۔ اور جو شخص اللہ پر ایمان لایا ہوگا، اور اس نے نیک عمل کیے ہوں گے، اللہ اس کے گناہوں کو معاف کردے گا، اور اس کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ ہے بڑی کامیابی۔

﴿10﴾ اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہوگا، اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہوگا وہ دوزخ والے ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

﴿11﴾ کوئی مصیبت اللہ کے حکم کے بغیر نہیں آتی، اور جو کوئی اللہ پر ایمان لاتا ہے وہ اس کے دل کو ہدایت بخشتا ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

﴿12﴾ اور تم اللہ کی فرمانبرداری کرو، اور رسول کی فرمانبرداری کرو۔ پھر اگر تم نے منہ موڑا تو ہمارے رسول کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ صاف صاف بات پہنچا دے۔

﴿13﴾ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

﴿14﴾ اے ایمان والو ! تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے کچھ تمہارے دشمن ہیں، اس لیے ان سے ہوشیار رہو۔ اور اگر تم معاف کردو اور درگزر کرو، اور بخش دو تو اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔

﴿15﴾ تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو تمہارے لیے ایک آزمائش ہیں۔ اور وہ اللہ ہی ہے جس کے پاس بڑا اجر ہے۔

﴿16﴾ لہذا جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو، اور سنو اور مانو اور (اللہ کے حکم کے مطابق) خرچ کرو، یہ تمہارے ہی لیے بہتر ہے، اور جو لوگ اپنے دل کی لالچ سے محفوظ ہوجائیں، وہی فلاح پانے والے ہیں۔

﴿17﴾ اگر تم اللہ کو اچھی طرح قرض دو گے تو اللہ تمہارے لیے اس کو کئی گنا بڑھا دے گا، اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور اللہ بڑا قدردان، بہت بردبار ہے۔

﴿18﴾ وہ ہر بھید کا اور ہر کھلی ہوئی چیز کا جاننے والا ہے، بڑے اقتدار کا، بڑی حکمت کا مالک۔

الطلاق

Surah 65

﴿1﴾ اے نبی ! جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دینے لگو تو انہیں ان کی عدت کے وقت طلاق دو ، اور عدت کو اچھی طرح شمار کرو اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا پروردگار ہے، ان عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالو، اور نہ وہ خود نکلیں الا یہ کہ وہ کسی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کریں، اور یہ اللہ کی (مقرر کی ہوئی) حدود ہیں اور جو کوئی اللہ کی (مقرر کی ہوئی) حدود سے آگے نکلے، اس نے خود اپنی جان پر ظلم کیا، تم نہیں جانتے، شاید اللہ اس کے بعد کوئی نئی بات پیدا کردے۔

﴿2﴾ پھر جب وہ عورتیں اپنی (عدت کی) میعاد کو پہنچنے لگیں تو تم یا تو انہیں بھلے طریقے پر (اپنے نکاح میں) روک رکھو، یا پھر بھلے طریقے سے ان کو الگ کردو، اور اپنے میں سے دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنا لو جو عدل والے ہوں۔ اور اللہ کی خاطر سیدھی سیدھی گواہی دو ، لوگو ! یہ وہ بات ہے جس کی نصیحت اس شخص کو کی جارہی ہے جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے لیے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردے گا۔

﴿3﴾ اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوگا۔ اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے، تو اللہ اس (کا کام بنانے) کے لیے کافی ہے۔ یقین رکھو کہ اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے۔ (البتہ) اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔

﴿4﴾ اور تمہاری عورتوں میں سے جو ماہواری آنے سے مایوس ہوچکی ہوں اگر تمہیں (ان کی عدت کے بارے میں) شک ہو تو (یاد رکھو کہ) ان کی عدت تین مہینے ہے، اور ان عورتوں کی (عدت) بھی (یہی ہے) جنہیں ابھی ماہواری آئی ہی نہیں، اور جو عورتیں حاملہ ہوں، ان کی (عدت کی) میعاد یہ ہے کہ وہ اپنے پیٹ کا بچہ جن لیں۔ اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے کام میں آسانی پیدا کردے گا۔

﴿5﴾ یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تم پر اتارا ہے، اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے گناہوں کو معاف کردے گا، اور اس کو زبردست ثواب دے گا۔

﴿6﴾ ان عورتوں کو اپنی حیثیت کے مطابق اسی جگہ رہائش مہیا کرو جہاں تم رہتے ہو اور انہیں تنگ کرنے کے لیے انہیں ستاؤ نہیں، اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان کو اس وقت تک نفقہ دیتے رہو جب تک وہ اپنے پیٹ کا بچہ جن لیں۔ پھر اگر وہ تمہارے لیے بچے کو دودھ پلائیں تو انہیں ان کی اجرت ادا کرو، اور (اجرت مقرر کرنے کے لیے) آپس میں بھلے طریقے سے بات طے کرلیا کرو، اور اگر تم ایک دوسرے کے لیے مشکل پیدا کرو گے تو اسے کوئی اور عورت دودھ پلائے گی۔

﴿7﴾ ہر وسعت رکھنے والا اپنی وسعت کے مطابق نفقہ دے۔ اور جس شخص کے لیے اس کا رزق تنگ کردیا گیا ہو، تو جو کچھ اللہ نے اسے دیا ہے وہ اسی میں سے نفقہ دے، اللہ نے کسی کو جتنا دیا ہے، اس پر اس سے زیادہ کا بوجھ نہیں ڈالتا۔ کوئی مشکل ہو تو اللہ اس کے بعد کوئی آسانی بھی پیدا کردے گا۔

﴿8﴾ اور کتنی ہی بستیاں ایسی ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرکشی کی تو ہم نے ان کا سخت حساب لیا، اور انہیں سزا دی، ایسی بری سزا جو انہوں نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔

﴿9﴾ چنانچہ انہوں نے اپنے اعمال کا وبال چکھا، اور ان کے اعمال کا آخری انجام نقصان ہی نقصان ہوا۔

﴿10﴾ (اور آخرت میں) ہم نے ان کے لیے ایک سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ لہذا اے عقل والو جو ایمان لے آئے ہو، اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ نے تمہارے پاس ایک سراپا نصیحت بھیجی ہے۔

﴿11﴾ یعنی وہ رسول جو تمہارے سامنے روشنی دینے والی اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں، تاکہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے آئیں، اور جو شخص اللہ پر ایمان لے آئے، اور نیک عمل کرے، اللہ اس کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں جنتی لوگ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ نے ایسے شخص کے لیے بہترین رزق طے کردیا ہے۔

﴿12﴾ اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے، اور زمین بھی انہی کی طرح اللہ کا حکم ان کے درمیان اترتا رہتا ہے، تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے اور یہ کہ اللہ کے علم نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔

التحریم

Surah 66

﴿1﴾ اے نبی ! جو چیز اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہے، تم اپنی بیویوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اسے کیوں حرام کرتے ہو ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔

﴿2﴾ اللہ نے تمہاری قسموں سے نکلنے کا طریقہ مقرر کردیا ہے، اور اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہی ہے جس کا علم بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل۔

﴿3﴾ اور یاد کرو جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے راز کے طور پر ایک بات کہی تھی۔ پھر جب اس بیوی نے وہ بات کسی اور کو بتلا دی، اور اللہ نے یہ بات نبی پر ظاہر کردی تو اس نے اس کا کچھ حصہ جتلا دیا اور کچھ حصے کو ٹال گئے۔ پھر جب انہوں نے اس بیوی کو وہ بات جتلائی تو وہ کہنے لگیں کہ : آپ کو یہ بات کس نے بتائی ؟ نبی نے کہا کہ : مجھے اس نے بتائی جو بڑے علم والا، بہت باخبر ہے۔

﴿4﴾ (اے نبی کی بیویو) اگر تم اللہ کے حضور توبہ کرلو (تو یہی مناسب ہے) کیونکہ تم دونوں کے د ل مائل ہوگئے ہیں، اور اگر نبی کے مقابلے میں تم نے ایک دوسری کی مدد کی، تو (یاد رکھو کہ) ان کا ساتھی اللہ ہے اور جبریل ہیں اور نیک مسلمان ہیں، اور اس کے علاوہ فرشتے ان کے مددگار ہیں۔

﴿5﴾ اگر وہ تمہیں طلاق دے دیں تو ان کے پروردگار کو اس بات میں دیر نہیں لگے گی کہ وہ ان کو (تمہارے) بدلے میں ایسی بیویاں عطا فرما دے جو تم سب سے بہتر ہوں، مسلمان، ایمان والی، طاعت شعار، توبہ کرنے والی، عبادت گزار اور روزہ دار ہوں، چاہے پہلے ان کے شوہر رہے ہوں، یا کنواری ہوں۔

﴿6﴾ اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے اس پر سخت کڑے مزاج کے فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے کسی حکم میں اس کی نافرمانی نہیں کرتے، اور وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔

﴿7﴾ اے کفر اختیار کرنے والو ! آج معذرتیں پیش مت کرو، تمہیں انہی اعمال کا بدلہ دیا جارہا ہے جو تم کیا کرتے تھے۔

﴿8﴾ اے ایمان والو ! اللہ کے حضور سچی توبہ کرو، کچھ بعید نہیں کہ تمہارا پروردگار تمہاری برائیاں تم سے جھاڑ دے، اور تمہیں ایسے باغات میں داخل کردے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس دن جب اللہ نبی کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو رسوا نہیں کرے گا۔ ان کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں طرف دوڑ رہا ہوگا۔ وہ کہہ رہے ہوں گے کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہمارے لیے اس نور کو مکمل کردیجیے اور ہماری مغفرت فرما دیجیے۔ یقینا آپ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔

﴿9﴾ اے نبی ! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان کے مقابلے میں سخت ہوجاؤ۔ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

﴿10﴾ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے، اللہ ان کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کو مثال کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ دونوں ہمارے دو ایسے بندوں کے نکاح میں تھیں جو بہت نیک تھے۔ پھر انہوں نے ان کے ساتھ بےوفائی کی، تو وہ دونوں اللہ کے مقابلے میں ان کے کچھ بھی کام نہیں آئے اور (ان بیویوں سے) کہا گیا کہ : دوسرے جانے والوں کے ساتھ تم بھی جہنم میں چلی جاؤ۔

﴿11﴾ اور جن لوگوں نے ایمان اختیار کیا ہے ان کے لیے اللہ، فرعون کی بیوی کو مثال کے طور پر پیش کرتا ہے۔ جب اس نے کہا تھا کہ : میرے پروردگار میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے، اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دیدے، اور مجھے ظالم لوگوں سے بھی نجات عطا فرما۔

﴿12﴾ نیز عمران کی بیٹی مریم کو (مثال کے طور پر پیش کرتا ہے) جنہوں نے اپنی عصمت کی حفاظت کی، تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی، اور انہوں نے اپنے پروردگار کی باتوں اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی، اور وہ طاعت شعار لوگوں میں شامل تھیں۔

الملک

Surah 67

﴿1﴾ بڑی شان ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں ساری بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

﴿2﴾ جس نے موت اور زندگی اس لیے پیدا کی تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ بہتر ہے، اور وہی ہے جو مکمل اقتدار کا مالک، بہت بخشنے والا ہے۔

﴿3﴾ جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کیے، تم خدائے رحمن کی تخلیق میں کوئی فرق نہیں پاؤ گے۔ اب پھر سے نظر دوڑا کر دیکھو کیا تمہیں کوئی رخنہ نظر آتا ہے ؟

﴿4﴾ پھر بار بار نظر دوڑاؤ، نتیجہ یہی ہوگا کہ نظر تھک ہار کر تمہارے پاس نامراد لوٹ آئے گی۔

﴿5﴾ اور ہم نے قریب والے آسمان کو روشن چراغوں سے سجا رکھا ہے، اور ان کو شیطانوں پر پتھر برسانے کا ذریعہ بھی بنایا ہے، اور ان کے لیے دہکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

﴿6﴾ اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے کفر کا معاملہ کیا ہے، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

﴿7﴾ جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کے دہاڑ نے کی آواز سنیں گے، او وہ جوش مارتی ہوگی۔

﴿8﴾ ایسا لگے گا جیسے وہ غصے سے پھٹ پڑے گی۔ جب بھی اس میں (کافروں کا) کوئی گروہ پھینکا جائے گا تو اس کے محافظ ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟

﴿9﴾ وہ کہیں گے کہ ہاں بیشک ہمارے پاس خبردار کرنے والا آیا تھا، مگر ہم نے (اسے) جھٹلا دیا، اور کہا کہ : اللہ نے کچھ نازل نہیں کیا، تمہاری حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ تم بڑی بھاری گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔

﴿10﴾ اور وہ کہیں گے کہ : اگر ہم سن لیا کرتے اور سمجھ سے کام لیا کرتے تو (آج) دوزخ والوں میں شامل نہ ہوتے۔

﴿11﴾ اس طرح وہ اپنے گناہ کا خود اعتراف کرلیں گے۔ غرض پھٹکار ہے دوزخ والوں پر۔

﴿12﴾ (اس کے برخلاف) جو لوگ بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں، ان کے لیے بیشک مغفرت اور بڑا اجر ہے۔

﴿13﴾ اور تم اپنی بات چھپا کر کرو، یا زور سے کرو (سب اس کے علم میں ہے، کیونکہ) وہ دلوں تک کی باتوں کا پورا علم رکھنے والا ہے۔

﴿14﴾ بھلا جس نے پیدا کیا وہی نہ جانے ؟ جبکہ وہ بہت باریک بین، مکمل طور پر باخبر ہے۔

﴿15﴾ وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو رام کردیا ہے، لہذا تم اس کے مونڈھوں پر چلو پھرو، اور اس کا رزق کھاؤ، اور اسی کے پاس دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے۔

﴿16﴾ کیا تم آسمان والے کی اس بات سے بےخوف ہو بیٹھے ہو کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے، تو وہ ایک دم تھر تھرانے لگے ؟

﴿17﴾ یا کیا تم آسمان والے کی اس بات سے بےخوف ہو بیٹھے ہو کہ وہ تم پر پتھروں کی بارش برسادے ؟ پھر تمہیں پتہ چلے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا ؟

﴿18﴾ اور ان سے پہلے جو لوگ تھے، انہوں نے بھی (پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا۔ پھر (دیکھ لو کہ) میرا عذاب کیسا تھا ؟

﴿19﴾ اور کیا انہوں نے پرندوں کو اپنے اوپر نظر اٹھا کر نہیں دیکھا کہ وہ پروں کو پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں، اور سمیٹ بھی لیتے ہیں۔ ان کو خدائے رحمن کے سوا کوئی تھامے ہوئے نہیں ہے۔ یقینا وہ ہر چیز کی خوب دیکھ بھال کرنے والا ہے۔

﴿20﴾ بھلا خدائے رحمن کے سوا وہ کون ہے جو تمہارا لشکر بن کر تمہاری مدد کرے ؟ کافر لوگ تو نرے دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔

﴿21﴾ اگر وہ اپنا رزق بند کردے تو بھلا وہ کون ہے جو تمہیں رزق عطا کرسکے ؟ اس کے باوجود وہ سرکشی اور بیزاری پر جمے ہوئے ہیں۔

﴿22﴾ بھلا جو شخص اپنے منہ کے بل اوندھا چل رہا ہو، وہ منزل تک زیادہ پہنچنے والا ہوگا یا وہ جو ایک سیدھے راستے پر سیدھا سیدھا چل رہا ہو ؟

﴿23﴾ کہہ دو کہ : وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے۔ (مگر) تم لوگ شکر تھوڑا ہی کرتے ہو۔

﴿24﴾ کہہ دو کہ : وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا، اور اسی کے پاس تمہیں اکٹھا کر کے لے جایا جائے گا۔

﴿25﴾ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ : اگر تم سچے ہو تو بتاؤ کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟

﴿26﴾ کہہ دو کہ : اس کا علم تو صرف اللہ کے پاس ہے، اور میں تو بس صاف صاف طریقے پر خبردار کرنے والا ہوں۔

﴿27﴾ پھر جب وہ اس (قیامت کے عذاب) کو پاس آتا دیکھ لیں گے تو کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے، اور کہا جائے گا کہ : یہ ہے وہ چیز جو تم مانگا کرتے تھے۔

﴿28﴾ (اے پیغمبر ! ان سے) کہو کہ : ذرا یہ بتلاؤ کہ چاہے اللہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے یا ہم پر رحم فرما دے، (دونوں صورتوں میں) کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا ؟

﴿29﴾ کہہ دو کہ : وہ رحمن ہے، ہم اس پر ایمان لائے ہیں، اور اسی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے۔ چنانچہ عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ کون ہے جو کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔

﴿30﴾ کہہ دو کہ : ذرا یہ بتلاؤ کہ اگر کسی صبح تمہارا پانی نیچے کو اتر کر غائب ہوجائے تو کون ہے جو تمہیں چشمے سے ابلتا ہوا پانی لاکر دیدے ؟

القلم

Surah 68

﴿1﴾ ن (اے پیغمبر) قسم ہے قلم کی، اور اس چیز کی جو وہ لکھ رہے ہیں۔

﴿2﴾ اپنے پروردگار کے فضل سے تم دیوانے نہیں ہو۔

﴿3﴾ اور یقین جانو تمہارے لیے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔

﴿4﴾ اور یقینا تم اخلاق کے اعلی درجے پر ہو۔

﴿5﴾ چنانچہ تم بھی دیکھ لو گے اور یہ لوگ بھی دیکھ لیں گے۔

﴿6﴾ کہ تم میں سے کون دیوانگی میں مبتلا ہے۔

﴿7﴾ یقینا تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے جو اپنے راستے سے بھٹک گیا ہے اور ان لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جنہوں نے سیدھی راہ پالی ہے۔

﴿8﴾ لہذا تم ان کی باتوں میں نہ آنا جو (تمہیں) جھٹلا رہے ہیں۔

﴿9﴾ یہ چاہتے ہیں کہ تم ڈھیلے پڑجاؤ تو یہ بھی ڈھیلے پڑجائیں۔

﴿10﴾ اور کسی بھی ایسے شخص کی باتوں میں نہ آنا جو بہت قسمیں کھانے والا، بےوقعت شخص ہے۔

﴿11﴾ طعنے دینے کا عادی ہے، چغلیاں لگاتا پھرتا ہے۔

﴿12﴾ بھلائی سے روکنے والا، زیادتی کرنے والا، بد عمل ہے۔

﴿13﴾ بد مزاج ہے اور اس کے علاوہ نچلے نسب والا بھی۔

﴿14﴾ صرف اس وجہ سے کہ وہ بڑے مال اور اولاد والا ہے۔

﴿15﴾ جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ پچھلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔

﴿16﴾ عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگا دیں گے۔

﴿17﴾ ہم نے ان (مکہ والوں) کو اسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جیسے (ایک) باغ والوں کو اس وقت آزمائش میں ڈالا تھا جب انہوں نے قسم کھائی تھی کہ صبح ہوتے ہی ہم اس باغ کا پھل توڑ لیں گے۔

﴿18﴾ اور یہ (کہتے ہوئے) وہ کوئی استثناء نہیں کر رہے تھے۔

﴿19﴾ پھر ہوا یہ کہ جس وقت وہ سو رہے تھے، اس وقت تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بلا اس باغ پر پھیرا لگا گئی۔

﴿20﴾ جس سے وہ باغ صبح کو کٹی ہوئی کھیتی کی طرح ہوگیا۔

﴿21﴾ پھر صبح ہوتے ہی انہوں نے ایک دوسرے کو آواز دی۔

﴿22﴾ کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو اپنے کھیت کی طرف سویرے چل نکلو۔

﴿23﴾ چنانچہ وہ ایک دوسرے سے چپکے چپکے یہ کہتے ہوئے روانہ ہوئے۔

﴿24﴾ کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس اس باغ میں نہ آنے پائے۔

﴿25﴾ اور وہ بڑے زوروں میں تیز تیز چلتے ہوئے نکلے۔

﴿26﴾ پھر جب اس باغ کو دیکھا تو کہنے لگے کہ : ہم ضرور راستہ بھٹک گئے ہیں۔

﴿27﴾ (پھر کچھ دیر بعد کے بعد کہا کہ) نہیں بلکہ ہم سب لٹ گئے ہیں۔

﴿28﴾ ان میں جو شخص سب سے اچھا تھا، وہ کہنے لگا : کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے ؟

﴿29﴾ کہنے لگے : ہم اپنے پروردگار کی تسبیح کرتے ہیں، یقینا ہم ظالم تھے۔

﴿30﴾ پھر ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔

﴿31﴾ (پھر) سب نے (متفق ہوکر) کہا کہ : افسوس ہے ہم سب پر ! یقینا ہم سب نے سرکشی اختیار کرلی تھی۔

﴿32﴾ کیا بعید ہے کہ ہمارا پروردگار ہمیں اس باغ کے بدلے اس سے اچھا عطا فرمادے۔ بیشک ہم اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

﴿33﴾ عذاب ایسا ہی ہوتا ہے اور آخرت کا عذاب یقینا سب سے بڑا ہے۔ کاش یہ لوگ جانتے۔

﴿34﴾ البتہ متقیوں کے لیے ان کے پروردگار کے پاس نعمتوں بھرے باغات ہیں۔

﴿35﴾ بھلا کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کے برابر کردیں گے ؟

﴿36﴾ تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ تم کیسی باتیں طے کرلیتے ہو ؟

﴿37﴾ کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو۔

﴿38﴾ کہ تمہیں وہاں وہی کچھ ملے گا جو تم پسند کرو گے ؟

﴿39﴾ یا تم نے ہم سے قیامت کے دن تک باقی رہنے والی قسمیں لے رکھی ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جو تم طے کرو گے ؟

﴿40﴾ (اے پیغمبر) ان سے پوچھو کہ : ان میں سے کون ہے جس نے اس بات کی ضمانت لے رکھی ہو ؟

﴿41﴾ کیا خدائی میں ان کے مانے ہوئے کچھ شریک ہیں (جو یہ ضمانت لیتے ہوں ؟) تو پھر لے آئیں اپنے ان شریکوں کو، اگر وہ سچے ہیں۔

﴿42﴾ جس دن ساق کھول دی جائے گی، اور ان کو سجدے کے لیے بلایا جائے گا تو یہ سجدہ کر نہیں سکیں گے۔

﴿43﴾ ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی، ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی۔ اس وقت بھی انہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا جب یہ لوگ صحیح سالم تھے (اس وقت قدرت کے باوجود یہ انکار کرتے تھے)

﴿44﴾ لہذا (اے پیغمبر) جو لوگ اس کلام کو جھٹلا رہے ہیں انہیں مجھ پر چھوڑ دو ۔ ہم انہیں اس طرح دھیرے دھیرے (تباہی کی طرف) لے جائیں گے کہ انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا۔

﴿45﴾ اور میں انہیں ڈھیل دے رہا ہوں۔ یقین رکھو میری تدبیر بڑی مضبوط ہے۔

﴿46﴾ کیا تم ان سے کوئی اجرت مانگ رہے ہو کہ وہ تاوان کے بوجھ سے دبے جارہے ہیں ؟

﴿47﴾ یا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے وہ لکھ رہے ہوں ؟

﴿48﴾ غرض تم اپنے پروردگار کا حکم آنے تک صبر کیے جاؤ، اور مچھلی والے کی طرح مت ہوجانا۔ جب انہوں نے غم سے گھٹ گھٹ کر (ہمیں) پکارا تھا۔

﴿49﴾ اگر ان کے پروردگار کے فضل نے انہیں سنبھال نہ لیا ہوتا تو انہیں بری حالت کے ساتھ اسی کھلے میدان میں پھینک دیا جاتا۔

﴿50﴾ پھر ان کے پروردگار نے انہیں منتخب فرما لیا، اور انہیں صالحین میں شامل کردیا۔

﴿51﴾ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے جب وہ نصیحت کی یہ بات سنتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ یہ اپنی (تیز تیز) آنکھوں سے تمہیں ڈگمگا دیں گے، اور وہ کہتے ہیں کہ یہ شخص تو دیوانہ ہے۔

﴿52﴾ حالانکہ یہ تو دنیا جہان کے لوگوں کے لیے ایک نصیحت ہی نصیحت ہے۔

الحاقہ

Surah 69

﴿1﴾ وہ حقیقت ہو کر رہے گی۔

﴿2﴾ کیا ہے وہ حقیقت جو ہو کر رہے گی ؟

﴿3﴾ اور تمہیں کیا پتہ کہ وہ حقیقت کیا ہے جو ہو کر رہے گی ؟

﴿4﴾ ثمود اور عاد کی قوموں نے اسی جھنجوڑ ڈالنے والی حقیقت کو جھٹلایا تھا۔

﴿5﴾ نتیجہ یہ کہ جو ثمود کے لوگ تھے، وہ (چنگھاڑ کی) ایسی آفت سے ہلاک کیے گئے جو حد سے زیادہ (خوفناک) تھی۔

﴿6﴾ اور جو عاد کے لوگ تھے، انہیں ایک ایسی بےقابو طوفانی ہوا سے ہلاک کیا گیا۔

﴿7﴾ جسے اللہ نے ان پر سات رات اور آٹھ دن لگاتار مسلط رکھا۔ چنانچہ تم (اگر وہاں ہوتے تو) دیکھتے کہ وہ لوگ وہاں کھجور کے کھوکھلے تنوں کی طرح پچھاڑے ہوئے پڑے تھے۔

﴿8﴾ اب کیا ان میں سے کوئی بچا ہوا نظر آتا ہے ؟

﴿9﴾ اور فرعون اور اس سے پہلے کے لوگوں نے اور (لوط (علیہ السلام) کی) الٹی ہوئی بستیوں نے بھی اسی جرم کا ارتکاب کیا تھا۔

﴿10﴾ کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغمبر کی نافرمانی کی تھی، اس لیے اللہ نے انہیں سخت پکڑ میں لے لیا۔

﴿11﴾ جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کردیا۔

﴿12﴾ تاکہ ہم اس واقعے کو تمہارے لیے سبق آموز بنادیں اور یاد رکھنے والے کان اسے (سن کر) یاد رکھیں۔

﴿13﴾ پھر جب ایک ہی دفعہ صور میں پھونک مار دی جائے گی۔

﴿14﴾ اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی ضرب میں ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔

﴿15﴾ تو اس دن وہ واقعہ پیش آجائے گا جسے پیش آنا ہے۔

﴿16﴾ اور آسمان پھٹ پھڑے گا اور وہ اس دن بالکل بودا پڑجائے گا۔

﴿17﴾ اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے، اور تمہارے پروردگار کے عرش کو اس دن آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔

﴿18﴾ اس دن تمہاری پیشی اسی طرح ہوگی کہ تمہاری کوئی چھپی ہوئی چیز چھپی نہیں رہے گی۔

﴿19﴾ پھر جس کسی کو اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ وہ کہے گا کہ : لوگو ! لو یہ میرا اعمال نامہ پڑھو۔

﴿20﴾ میں پہلے ہی سمجھتا تھا کہ مجھے اپنے حساب کا سامنا کرنا ہوگا۔

﴿21﴾ چنانچہ وہ من پسند عیش میں ہوگا۔

﴿22﴾ اس اونچی جنت میں

﴿23﴾ جس کے پھل جھکے پڑ رہے ہوں گے۔

﴿24﴾ (کہا جائے گا کہ) اپنے ان اعمال کے صلے میں مزے سے کھاؤ پیو، جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے تھے۔

﴿25﴾ رہا وہ شخص جس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا کہ : اے کاش ! مجھے میرا اعمال دیا ہی نہ جاتا۔

﴿26﴾ اور مجھے خبر بھی نہ ہوتی کہ میرا حساب کیا ہے ؟

﴿27﴾ اے کاش ! کہ میری موت ہی پر میرا کام تمام ہوجاتا۔

﴿28﴾ میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا۔

﴿29﴾ میرا سارا زور مجھ سے جاتا رہا۔

﴿30﴾ (ایسے شخص کے بارے میں حکم ہوگا) پکڑو اسے، اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو ۔

﴿31﴾ پھر اسے دوزخ میں جھونک دو ۔

﴿32﴾ پھر اسے ایسی زنجیر میں پرو دو جس کی پیمائش ستر ہاتھ کے برابر ہو۔

﴿33﴾ یہ نہ تو خدائے بزرگ و برتر پر ایمان لاتا تھا۔

﴿34﴾ اور نہ غریب کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔

﴿35﴾ لہذا آج یہاں نہ اس کا کوئی یارو مددگار ہے۔

﴿36﴾ اور نہ اس کو کوئی کھانے کی چیز میسر ہے۔ سوائے غسلین کے۔

﴿37﴾ جسے گنہگاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا۔

﴿38﴾ اب میں قسم کھاتا ہوں اس کی بھی جسے تم دیکھتے ہو۔

﴿39﴾ اور اس کی بھی جسے تم نہیں دیکھتے۔

﴿40﴾ کہ یہ (قرآن) ایک معزز پیغام لانے والے کا کلام ہے۔

﴿41﴾ اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے۔ (مگر) تم ایمان تھوڑا ہی لاتے ہو۔

﴿42﴾ اور نہ یہ کسی کاہن کا کلام ہے۔ (مگر) تم سبق تھوڑا ہی لیتے ہو۔

﴿43﴾ یہ کلام تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے اتارا جارہا ہے۔

﴿44﴾ اور اگر (بالفرض) یہ پیغمبر کچھ (جھوٹی) باتیں بنا کر ہماری طرف منسوب کردیتے۔

﴿45﴾ تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑ تے۔

﴿46﴾ پھر ہم ان کی شہ رگ کاٹ دیتے۔

﴿47﴾ پھر تم میں سے کوئی نہ ہوتا جو ان کے بچاؤ کے لیے آڑے آسکتا۔

﴿48﴾ اور یقین جانو کہ یہ پرہیزگاروں کے لیے ایک نصیحت ہے۔

﴿49﴾ اور ہمیں خوب معلوم ہے کہ تم میں کچھ لوگ جھٹلانے والے بھی ہیں۔

﴿50﴾ اور یہ (قرآن) ایسے کافروں کے لیے حسرت کا سبب ہے۔

﴿51﴾ اور یہی وہ یقینی بات ہے جو سراسر حق ہے۔

﴿52﴾ لہذا تم اپنے پروردگار کے عظمت والے نام کی تسبیح کرتے رہو۔

المعارج

Surah 70

﴿1﴾ ایک مانگنے والے نے وہ عذاب مانگا ہے

﴿2﴾ جو کافروں پر آنے والا ہے کوئی نہیں ہے جو اسے روک سکے۔

﴿3﴾ وہ اللہ کی طرف سے آئے گا جو چڑھنے کے تمام راستوں کا مالک ہے۔

﴿4﴾ فرشتے اور روح القدس اس کی طرف ایک ایسے دن میں چڑھ کر جاتے ہیں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔

﴿5﴾ لہذا تم خوبصورتی کے ساتھ صبر سے کام لو۔

﴿6﴾ یہ لوگ اسے دور سمجھ رہے ہیں۔

﴿7﴾ اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔

﴿8﴾ (وہ عذاب) اس دن ہوگا جب آسمان تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوجائے گا۔

﴿9﴾ اور پہاڑ رنگین روئی کی طرح ہوجائیں گے۔

﴿10﴾ اور کوئی جگری دوست کسی جگری دوست کو پوچھے گا بھی نہیں۔

﴿11﴾ حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھا بھی دیے جائیں گے۔ مجرم یہ چاہے گا کہ اس دن کے عذاب سے چھوٹنے کے لیے اپنے بیٹے فدیہ میں دیدے۔

﴿12﴾ اور اپنی بیوی اور اپنا بھائی

﴿13﴾ اور اپنا وہ خاندان جو اسے پناہ دیتا تھا۔

﴿14﴾ اور زمین کے سارے کے سارے باشندے۔ پھر (ان سب کو فدیہ میں دے کر) اپنے آپ کو بچا لے۔

﴿15﴾ (لیکن) ایسا ہرگز نہیں ہوسکے گا۔ وہ تو ایک بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔

﴿16﴾ جو کھال اتار لے گی۔

﴿17﴾ ہر اس شخص کو بلائے گی جس نے پیٹھ پھیر کر منہ موڑا ہوگا۔

﴿18﴾ اور (مال) اکٹھا کیا ہوگا پھر اسے سینت سینت کر رکھا ہوگا۔

﴿19﴾ حقیقت یہ ہے کہ انسان بہت کم حوصلہ پیدا کیا گیا ہے۔

﴿20﴾ جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جاتا ہے۔

﴿21﴾ اور جب اس کے پاس خوشحالی آتی ہے تو بہت بخیل بن جاتا ہے۔

﴿22﴾ مگر وہ نمازی ایسے نہیں ہیں۔

﴿23﴾ جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں۔

﴿24﴾ اور جن کے مال و دولت میں ایک متعین حق ہے۔

﴿25﴾ سوالی اور بےسوالی کا

﴿26﴾ اور جو روز جزاء کو برحق مانتے ہیں۔

﴿27﴾ اور جو اپنے پروردگار کے عذب سے سہمے رہتے ہیں۔

﴿28﴾ یقینا ان کے پروردگار کا عذاب ایسی چیز نہیں ہے جس سے بےفکری برتی جائے۔

﴿29﴾ اور جو اپنی شرمگاہوں کی (اور سب سے) حفاظت کرتے ہیں۔

﴿30﴾ سوائے اپنی بیویوں اور ان باندیوں کے جو ان کی ملکیت میں آچکی ہوں، کیونکہ ایسے لوگوں پر کوئی ملامت نہیں ہے۔

﴿31﴾ البتہ جو لوگ ان کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہیں وہ حد سے گزرے ہوئے لوگ ہیں۔

﴿32﴾ اور جو اپنی امانتوں اور عہد کا پاس رکھنے والے ہیں۔

﴿33﴾ اور جو اپنی گواہیاں ٹھیک ٹھیک دینے والے ہیں۔

﴿34﴾ اور جو اپنی نماز کی پوری پوری حفاظت کرنے والے ہیں۔

﴿35﴾ وہ لوگ ہیں جو جنتوں میں عزت کے ساتھ رہیں گے۔

﴿36﴾ تو (اے پیغمبر) ان کافروں کو کیا ہوگیا کہ یہ تمہاری طرف چڑھے چلے آرہے ہیں۔

﴿37﴾ دائیں طرف سے بھی اور بائیں طرف سے بھی، ٹولیاں بنا بنا کر۔

﴿38﴾ کیا ان میں سے ہر شخص کو یہ لالچ ہے کہ اسے نعمتوں والی جنت میں داخل کیا جائے ؟

﴿39﴾ ہرگز ایسا نہیں ہوگا ہم نے ان کو اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے یہ خود جانتے ہیں۔

﴿40﴾ اب میں قسم کھاتا ہوں ان تمام مقامات کے مالک کی جہاں سے ستارے نکلتے اور جہاں سے غروب ہوتے ہیں کہ ہم یقینا اس بات پر قادر ہیں۔

﴿41﴾ کہ ان کی جگہ ان سے بہتر لوگ لے آئیں، اور کوئی ہمیں ہرا نہیں سکتا۔

﴿42﴾ لہذا تم انہیں چھوڑ دو کہ یہ اپنی بےہودہ باتوں میں منہمک اور کھیل کود میں پڑ رہیں، یہاں تک کہ اپنے اس دن سے جا ملیں جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے۔

﴿43﴾ جس دن یہ جلدی جلدی قبروں سے اس طرح نکلیں گے جیسے اپنے بتوں کی طرف دوڑے جارہے ہوں۔

﴿44﴾ ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی، ذلت ان پر چھائی ہوئی ہوگی۔ یہ وہی دن ہوگا جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے۔

نوح

Surah 71

﴿1﴾ ہم نے نوح کو ان کی قوم کے پاس بھیجا کہ اپنی قوم کو خبردار کرو، قبل اس کے کہ ان پر کوئی دردناک عذاب آکھڑا ہو۔

﴿2﴾ (چنانچہ) انہوں نے (اپنی قوم سے) کہا کہ : اے میری قوم ! میں تمہارے لیے ایک صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں۔

﴿3﴾ کہ اللہ کی عبادت کرو، اور اس سے ڈرو، اور میرا کہنا مانو۔

﴿4﴾ اللہ تمہارے گناہوں کی مغفرت فرمائے گا، اور تمہیں ایک مقرر وقت تک باقی رکھے گا۔ بیشک جب اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آجاتا ہے تو پھر وہ موخر نہیں ہوتا۔ کاش کہ تم سمجھتے ہوتے۔

﴿5﴾ (پھر) نوح نے (اللہ تعالیٰ سے) کہا کہ : میرے پروردگار ! میں نے اپنی قوم کو رات دن (حق کی) دعوت دی ہے۔

﴿6﴾ لیکن میری دعوت کا اس کے سوا کوئی نتیجہ نہیں ہوا کہ وہ اور زیادہ بھاگنے لگے۔

﴿7﴾ اور میں نے جب بھی انہیں دعوت دی، تاکہ آپ ان کی مغفرت فرمائیں تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دے لیں، اپنے کپڑے اپنے ا وپر لپیٹ لیے، اپنی بات پر اڑ رہے، اور تکبر ہی تکبر کا مظاہرہ کرتے رہے۔

﴿8﴾ پھر میں نے انہیں پکار پکار کر دعوت دی

﴿9﴾ پھر میں نے ان سے علانیہ بھی بات کی، اور چپکے چپکے بھی سمجھایا۔

﴿10﴾ چنانچہ میں نے کہا کہ : اپنے پروردگار سے مغفرت مانگو، یقین جانو وہ بہت بخشنے والا ہے۔

﴿11﴾ وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا۔

﴿12﴾ اور تمہارے مال اور اولاد میں ترقی دے گا، اور تمہارے لیے باغات پیدا کرے گا، اور تمہاری خاطر نہریں مہیا کردے گا۔

﴿13﴾ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت سے بالکل نہیں ڈرتے ؟

﴿14﴾ حالانکہ اس نے تمہیں تخلیق کے مختلف مرحلوں سے گزار کر پیدا کیا ہے

﴿15﴾ کیا تم نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان اوپر تلے پیدا فرمائے ہیں ؟

﴿16﴾ اور ان میں چاند کو نور بنا کر اور سورج کو چراغ بنا کر پیدا کیا ہے۔

﴿17﴾ اور اللہ نے تمہیں زمین سے بہترین طریقے پر اگایا ہے۔

﴿18﴾ پھر وہ تمہیں دوبارہ اسی میں بھیج دے گا، اور (وہیں سے پھر) باہر نکال کھڑا کرے گا۔

﴿19﴾ اور اللہ نے ہی تمہارے لیے زمین کو ایک فرش بنادیا ہے۔

﴿20﴾ تاکہ تم اس کے کھلے ہوئے راستوں پر چلو۔

﴿21﴾ نوح نے کہا : اے میرے پروردگار ! حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے میرا کہنا نہیں مانا، اور ان (سرداروں) کے پیچھے چل پڑے جن کو ان کے مال اور اولاد نے نقصان پہنچانے کے سوا کچھ نہیں دیا۔

﴿22﴾ اور انہوں نے بڑی بھاری مکاری سے کام لیا ہے۔

﴿23﴾ اور (اپنے آدمیوں سے) کہا ہے کہ : اپنے معبودوں کو ہرگز مت چھوڑنا۔ نہ ود اور سواع کو کسی صورت میں چھوڑنا، اور نہ یغوث، یعوق اور نسر کو چھوڑنا۔

﴿24﴾ اس طرح انہوں نے بہت سوں کو گمراہ کردیا ہے، لہذا (یا رب) آپ بھی ان کو گمراہی کے سوا کسی اور چیز میں ترقی نہ دیجیے۔

﴿25﴾ ان لوگوں کے گناہوں کی وجہ ہی سے انہیں غرق کیا گیا، پھر آگ میں داخل کیا گیا، اور انہیں اللہ کو چھوڑ کر کوئی حمایتی میسر نہیں آئے۔

﴿26﴾ اور نوح نے یہ بھی کہا کہ : میرے پروردگار ! ان کافروں میں سے کوئی ایک باشندہ بھی زمین پر باقی نہ رکھیے۔

﴿27﴾ اگر آپ ان کو باقی رکھیں گے تو یہ آپ کے بندوں کو گمراہ کریں گے، اور ان سے جو اولاد پیدا ہوگی وہ بدکار اور کافر ہی پیدا ہوگی۔

﴿28﴾ میرے پروردگار ! میری بھی بخشش فرما دیجیے، میرے والدین کی بھی، ہر اس شخص کی بھی جو میرے گھر میں ایمان کی حالت میں داخل ہوا ہے۔ اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کی بھی۔ اور جو لوگ ظالم ہیں ان کو تباہی کے سوا کوئی اور چیز عطا نہ فرمایے۔

الجن

Surah 72

﴿1﴾ (اے پیغمبر) کہہ دو : میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنات کی ایک جماعت نے (قرآن) غور سے سنا، اور (اپنی قوم سے جاکر) کہا کہ : ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے۔

﴿2﴾ جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے، اس لیے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں، اور اب اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو (عبادت میں) ہرگز شریک نہیں مانیں گے۔

﴿3﴾ اور یہ کہ : ہمارے پروردگار کی بہت اونچی شان ہے، اس نے نہ کوئی بیوی رکھی ہے، اور نہ کوئی بیٹا۔

﴿4﴾ اور یہ کہ : ہم میں سے بیوقوف لوگ اللہ کے بارے میں ایسی باتیں کہتے تھے جو حقیقت سے بہت دور ہیں۔

﴿5﴾ اور یہ کہ ہم نے یہ سمجھا تھا کہ انسان اور جنات اللہ کے بارے میں جھوٹی بات نہیں کہیں گے۔

﴿6﴾ اور یہ کہ : انسانوں میں سے کچھ لوگ جنات کے کچھ لوگوں کی پناہ لیا کرتے تھے، اس طرح ان لوگوں نے جنات کو اور سر چڑھا دیا تھا۔

﴿7﴾ اور یہ کہ : جیسا گمان تم لوگوں کا تھا، انسانوں نے بھی یہی گمان کیا تھا کہ اللہ کسی کو بھی مرنے کے بعد دوسری زندگی نہیں دے گا۔

﴿8﴾ اور یہ کہ : ہم نے آسمان کو ٹٹولنا چاہا تو ہم نے پایا کہ وہ بڑے سخت پہرے داروں اور شعلوں سے بھرا ہوا ہے۔

﴿9﴾ اور یہ کہ : ہم پہلے سن گن لینے کے لیے آسمان کی کچھ جگہوں پر جا بیٹھا کرتے تھے۔ لیکن اب جو کوئی سننا چاہتا ہے وہ دیکھتا ہے کہ ایک شعلہ اس کی گھات میں لگا ہوا ہے۔

﴿10﴾ اور یہ کہ : ہمیں یہ پتہ نہیں تھا کہ آیا زمین والوں سے کوئی برا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے پروردگار نے ان کو راہ راست دکھانے کا ارادہ فرمایا ہے۔

﴿11﴾ اور یہ کہ : ہم میں کچھ نیک ہیں، اور کچھ ایسے نہیں ہیں اور ہم مختلف طریقوں پر چلے آرہے ہیں۔

﴿12﴾ اور یہ کہ : ہم یہ سمجھ چکے ہیں کہ نہ ہم زمین میں اللہ کو عاجز کرسکتے ہیں اور نہ (کہیں اور) بھاگ کر اسے بےبس کرسکتے ہیں۔

﴿13﴾ اور یہ کہ : جب ہم نے ہدایت کی بات سن لی تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ چنانچہ جو کوئی اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے تو اس کو نہ کسی گھاٹے کا اندیشہ ہوگا، اور نہ کسی زیادتی کا۔

﴿14﴾ اور یہ کہ : ہم میں سے کچھ تو مسلمان ہوگئے ہیں، اور ہم میں سے (اب بھی) کچھ ظالم ہیں۔ چنانچہ جو اسلام لاچکے ہیں، انہوں نے ہدایت کا راستہ ڈھونڈ لیا ہے۔

﴿15﴾ اور رہے وہ لوگ جو ظالم ہیں تو وہ جہنم کا ایندھن ہیں۔

﴿16﴾ اور (اے پیغمبر ! اہل مکہ سے کہو کہ مجھ پر) یہ (وحی بھی آئی ہے) کہ : اگر یہ لوگ راستے پر آکر سیدھے ہوجائیں تو ہم انہیں وافر مقدار میں پانی سے سیراب کریں۔

﴿17﴾ تاکہ اس کے ذریعے ان کو آزمائیں۔ اور جو کوئی اپنے پروردگار کی یاد سے منہ موڑے گا۔ اللہ اسے چڑھتے ہوئے عذاب میں پرو دے گا۔

﴿18﴾ اور یہ کہ : سجدے تو تمام تر اللہ ہی کا حق ہیں۔ اس لیے اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت مت کرو۔

﴿19﴾ اور یہ کہ : جب اللہ کا بندہ اس کی عبادت کرنے کے لیے کھڑ اہوا تو ایسا معلوم ہوا جیسے یہ لوگ اس پر ٹوٹے پڑ رہے ہیں۔

﴿20﴾ کہہ دو کہ : میں تو صرف اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں، اور اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں مانتا۔

﴿21﴾ کہہ دو کہ : نہ تمہارا کوئی نقصان میرے اختیار میں ہے، اور نہ کوئی بھلائی۔

﴿22﴾ کہہ دو کہ : مجھے اللہ سے نہ کوئی بچا سکتا ہے اور نہ میں اسے چھوڑ کر کوئی پناہ کی جگہ پاسکتا ہوں۔

﴿23﴾ البتہ (جس چیز پر مجھے اختیار دیا گیا ہے، وہ) اللہ کی طرف سے بات پہنچا دینا، اور اس کے پیغامات ہیں۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ایسے لوگ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

﴿24﴾ (اور یہ لوگ نافرمانی کرتے رہیں گے) یہاں تک کہ جب وہ چیز انہیں نظر آجائے گی جس سے انہیں ڈرایا جارہا ہے تو اس وقت انہیں پتہ چل جائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں، اور کون تعداد میں کم ہے۔

﴿25﴾ کہہ دو کہ : مجھے معلوم نہیں ہے کہ جس چیز سے تمہیں ڈرایا جارہا ہے، آیا وہ نزدیک ہے یا میرا پروردگار اس کے لیے کوئی لمبی مدت مقرر فرماتا ہے۔

﴿26﴾ وہی سارے بھید جاننے والا ہے، چنانچہ وہ اپنے بھید پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔

﴿27﴾ سوائے کسی پیغبر کے جسے اس نے (اس کام کے لیے) پسند فرما لیا ہو۔ ایسی صورت میں وہ اس پیغمبر کے آگے اور پیچھے کچھ محافظ لگا دیتا ہے۔

﴿28﴾ تاکہ اللہ جان لے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغامات پہنچا دیے ہیں، اور وہ ان کے سارے حالات کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اور اس نے ہر ہر چیز کی پوری طرح گنتی کر رکھی ہے۔

المزمل

Surah 73

﴿1﴾ اے چادر میں لپٹنے والے۔

﴿2﴾ رات کا تھوڑا حصہ چھوڑ کر باقی رات میں (عبادت کے لیے) کھڑے ہوجایا کرو۔

﴿3﴾ رات کا آدھا حصہ، یا آدھے سے کچھ کم کرلو۔

﴿4﴾ یا اس سے کچھ زیادہ کرلو، اور قرآن کی تلاوت اطمینان سے صاف صاف کیا کرو۔

﴿5﴾ ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں۔

﴿6﴾ بیشک رات کے وقت اٹھنا ہی ایسا عمل ہے جس سے نفس اچھی طرح کچلا جاتا ہے، اور بات بھی بہتر طریقے پر کہی جاتی ہے۔

﴿7﴾ دن میں تو تم لمبی مصروفیت میں رواں دواں رہتے ہو۔

﴿8﴾ اور اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرو، اور سب سے الگ ہو کر پورے کے پورے اسی کے ہو رہو۔

﴿9﴾ وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس لیے اسی کو کارساز بنا لو۔

﴿10﴾ اور جو باتیں یہ (کافر لوگ) کہتے ہیں ان پر صبر سے کام لو، اور خوبصورتی کے ساتھ ان سے کنارہ کرلو۔

﴿11﴾ اور تمہیں جھٹلانے والے جو عیش و عشرت کے مالک بنے ہوئے ہیں، ان کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو ، اور انہیں تھوڑے دن اور مہلت دو ۔

﴿12﴾ یقین جانو ہمارے پاس بڑی سخت بیڑیاں ہیں، اور دہکتی ہوئی آگ ہے۔

﴿13﴾ اور گلے میں پھنس جانے والا کھانا ہے، اور دکھ دینے والا عذاب ہے۔

﴿14﴾ اس دن جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے، اور سارے پہاڑ ریت کے بکھرے ہوئے تودے بن کر رہ جائیں گے۔

﴿15﴾ (جھٹلانے والو !) یقین جانو ہم نے تمہارے پاس تم پر گواہ بننے والا ایک رسول اسی طرح بھیجا ہے، جیسے ہم نے فرعون کے پاس ایک رسول بھیجا تھا۔

﴿16﴾ پھر فرعون نے رسول کا کہنا نہیں مانا، تو ہم نے اسے ایسی پکڑ میں لے لیا جو اس کے لیے زبردست وبال تھی۔

﴿17﴾ اگر تم بھی نہ مانے تو پھر اس دن سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا بنا دے گا۔

﴿18﴾ (اور) جس سے آسمان پھٹ پڑے گا۔ اللہ کے وعدے کو تو پورا ہو کر رہنا ہے۔

﴿19﴾ یہ ایک نصیحت کی بات ہے۔ اب جو چاہے، اپنے پروردگار کی طرف جانے والا راستہ اختیار کرلے۔

﴿20﴾ (اے پیغمبر) تمہارا پروردگار جانتا ہے کہ تم دو تہائی رات کے قریب، اور کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات (تہجد کی نماز کے لیے) کھڑے ہوتے ہو، اور تمہارے ساتھیوں میں سے بھی ایک جماعت (ایسا ہی کرتی ہے) اور رات اور دن کی ٹھیک ٹھیک مقدار اللہ ہی مقرر فرماتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ تم اس کا ٹھیک حساب رکھ سکو گے، اس لیے اس نے تم پر عنایت فرما دی ہے۔ اب تم اتنا قرآن پڑھ لیا کرو جتنا آسان ہو۔ اللہ کو علم ہے کہ تم میں کچھ لوگ بیمار ہوں گے، اور کچھ دوسرے ایسے ہوں گے جو اللہ کا فضل تلاش کرنے کے لیے زمین میں سفر کر رہے ہوں گے۔ اور کچھ ایسے جو اللہ کے راستے میں جنگ کر رہے ہوں گے۔ لہذا تم اس (قرآن) میں سے اتنا ہی پڑھ لیا کرو جتنا آسان ہو۔ اور نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، اور اللہ کو قرض دو ، اچھا والا قرض ! اور تم اپنے آپ کے لیے جو بھلائی بھی آگے بھیجو گے، اسے اللہ کے پاس جاکر اس طرح پاؤ گے کہ وہ کہیں بہتر حالت میں اور بڑے زبردست ثواب کی شکل میں موجود ہے۔ اور اللہ سے مغفرت مانگتے رہو۔ یقین رکھو کہ اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔

المدثر

Surah 74

﴿1﴾ اے کپڑے میں لپٹنے والے

﴿2﴾ اٹھو اور لوگوں کو خبردار کرو۔

﴿3﴾ اور اپنے پروردگار کی تکبیر کہو۔

﴿4﴾ اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو

﴿5﴾ اور گندگی سے کنارہ کرلو۔

﴿6﴾ اور کوئی احسان اس نیت سے نہ کرو کہ زیادہ وصول کرسکو۔

﴿7﴾ اور اپنے پروردگار کی خاطر صبر سے کام لو۔

﴿8﴾ پھر جب صور میں پھونک مار دی جائے گی۔

﴿9﴾ تو وہ بڑا مشکل دن ہوگا۔

﴿10﴾ اور کافروں کے لیے وہ آسان نہیں ہوگا۔

﴿11﴾ اس شخص کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔

﴿12﴾ اور اس کو مال دیا جو دور تک پھیلا پڑا ہے۔

﴿13﴾ اور بیٹے دیے جو سامنے موجود رہتے ہیں۔

﴿14﴾ اور اس کے لیے ہر کام کے راستے ہموار کردیے۔

﴿15﴾ پھر بھی وہ یہ لالچ کرتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں۔

﴿16﴾ ہرگز نہیں ! وہ ہماری آیتوں کا دشمن بن گیا ہے۔

﴿17﴾ عنقریب میں اسے ایک کٹھن چڑھائی پر چڑھاؤں گا۔

﴿18﴾ اس کا حال تو یہ ہے کہ اس نے سوچ کر ایک بات بنائی۔

﴿19﴾ خدا کی مار ہو اس پر کہ کیسی بات بنائی۔

﴿20﴾ دوبارہ خدا کی مار ہو اس پر کہ کیسی بات بنائی۔

﴿21﴾ پھر اس نے نظر دوڑائی۔

﴿22﴾ پھر تیوری چڑھائی، اور منہ بنایا۔

﴿23﴾ پھر پیچھے کو مڑا، اور غرور دکھایا۔

﴿24﴾ پھر کہنے لگا کہ : کچھ نہیں، یہ تو ایک روایتی جادو ہے۔

﴿25﴾ کچھ نہیں یہ تو ایک انسان کا کلام ہے۔

﴿26﴾ عنقریب میں اس شخص کو دوزخ میں جھونک دوں گا۔

﴿27﴾ اور تمہیں کیا پتہ کہ دوزخ کیا چیز ہے ؟

﴿28﴾ وہ نہ کسی کو باقی رکھے گی، اور نہ چھوڑے گی۔

﴿29﴾ وہ کھالوں کو جھلس دینے والی چیز ہے۔

﴿30﴾ اس پر انیس (کارندے) مقرر ہوں گے۔

﴿31﴾ اور ہم نے دوزخ کے یہ کارندے کوئی اور نہیں، فرشتے مقرر کیے ہیں۔ اور ان کی جو تعداد مقرر کی ہے وہ صرف اس لیئے کہ اس کے ذریعے کافروں کی آزمائش ہو، تاکہ اہل کتاب کو یقین آجائے اور جو لوگ ایمان لاچکے ہیں ان کے ایمان میں اور اضافہ ہو، اور اہل کتاب اور مومن لوگ کسی شک میں نہ پڑیں، اور تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو لوگ کافر ہیں، وہ یہ کہیں کہ بھلا اس عجیب سی بات سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ اسی طرح اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، اور تمہارے پروردگار کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور یہ ساری بات تو نوع بشر کے لیے ایک یاد دہانی کرانے والی نصیحت ہے اور بس۔

﴿32﴾ خبردار ! قسم ہے چاند۔

﴿33﴾ اور رات کی جب وہ منہ پھیر کر جانے لگے۔

﴿34﴾ اور صبح کی جب اس کا اجالا پھیل جائے۔

﴿35﴾ کہ یہ بڑی بڑی باتوں میں سے ایک ہے۔

﴿36﴾ جو تمام انسانوں کو خبردار کر رہی ہے۔

﴿37﴾ تم میں سے ہر اس شخص کو جو آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا چاہے۔

﴿38﴾ ہر شخص اپنے کرتوت کی وجہ سے گروی رکھا ہوا ہے۔

﴿39﴾ سوائے دائیں ہاتھ والوں کے

﴿40﴾ کہ وہ جنتوں میں ہوں گے۔ وہ پوچھ رہے ہوں گے۔

﴿41﴾ مجرموں کے بارے میں۔

﴿42﴾ کہ : تمہیں کس چیز نے دوزخ میں داخل کردیا ؟

﴿43﴾ وہ کہیں گے کہ : ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے۔

﴿44﴾ اور ہم مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔

﴿45﴾ اور جو لوگ بےہودہ باتوں میں گھستے، ہم بھی ان کے ساتھ گھس جایا کرتے تھے۔

﴿46﴾ اور ہم روز جزاء کو جھوٹ قرار دیتے تھے۔

﴿47﴾ یہاں تک کہ وہ یقینی بات ہمارے پاس آہی گئی۔

﴿48﴾ چنانچہ سفارش کرنے والوں کی سفارش ایسے لوگوں کے کام نہیں آئے گی۔

﴿49﴾ اب ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ نصیحت کی بات سے منہ موڑے ہوئے ہیں ؟

﴿50﴾ اس طرح جیسے وہ جنگلی گدھے ہوں۔

﴿51﴾ جو کسی شیر سے (ڈر کر) بھاگ پڑے ہوں۔

﴿52﴾ بلکہ ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے کھلے ہوئے صحیفے پکڑا دیئے جائیں۔

﴿53﴾ ہرگز نہیں ! بات اصل میں یہ ہے کہ ان کو آخرت کا خوف نہیں ہے۔

﴿54﴾ ہرگز نہیں ! یہ (قرآن ہی) ایک نصیحت ہے۔

﴿55﴾ اب جو چاہے، اس سے نصیحت حاصل کرلے۔

﴿56﴾ اور یہ لوگ نصیحت حاصل کریں گے نہیں، الا یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے۔ وہی اس بات کا اہل ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور وہی اس کا اہل ہے کہ لوگوں کی مغفرت کرے۔

القیامہ

Surah 75

﴿1﴾ میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔

﴿2﴾ اور قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی۔ (کہ ہم انسان کو ضرور دوبارہ زندہ کریں گے)

﴿3﴾ کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو اکٹھا نہیں کرسکیں گے ؟

﴿4﴾ کیوں نہیں ؟ جبکہ ہمیں اس پر بھی قدرت ہے کہ اس کی انگلیوں کے پور پور کو ٹھیک ٹھیک بنادیں۔

﴿5﴾ اصل بات یہ ہے کہ انسان چاہتا یہ ہے کہ اپنی آگے کی زندگی میں بھی ڈھٹائی سے گناہ کرتا ہے۔

﴿6﴾ پوچھتا ہے کہ : کب آئے گا وہ قیامت کا دن ؟

﴿7﴾ پھر جب آنکھیں چندھیا جائیں گی۔

﴿8﴾ اور چاند بےنور ہوجائے گا۔

﴿9﴾ اور چاند اور سورج اکٹھے کردئے جائیں گے۔

﴿10﴾ اس وقت انسان کہے گا کہ : کہاں ہے کوئی جگہ جہاں بھاگ کر جاؤں ؟

﴿11﴾ نہیں نہیں ! پناہ کی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔

﴿12﴾ اس دن تو ہر ایک کو تمہارے پروردگار ہی کے سامنے جاکر ٹھہرنا پڑے گا۔

﴿13﴾ اس دن ہر انسان کو جتلا دیا جائے گا کہ اس نے کیا کچھ آگے بھیجا ہے، اور کیا کچھ پیچھے چھوڑا ہے۔

﴿14﴾ بلکہ انسان خود اپنے آپ سے اچھی طرح واقف ہوگا۔

﴿15﴾ چاہے وہ کتنے بہانے بنائے۔

﴿16﴾ (اے پیغمبر) تم اس قرآن کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو ہلایا نہ کرو۔

﴿17﴾ یقین رکھو کہ اس کو یاد کرانا اور پڑھوانا ہماری ذمہ داری ہے۔

﴿18﴾ پھر جب ہم اسے (جبرائیل کے واسطے سے) پڑھ رہے ہوں تو تم اس کے پڑھنے کی پیروی کرو

﴿19﴾ پھر اس کی وضاحت بھی ہماری ذمہ داری ہے۔

﴿20﴾ خبردار (اے کافرو) اصل بات یہ ہے کہ تم فوری طور پر حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا) سے محبت کرتے ہو۔

﴿21﴾ اور آخرت کو نظر انداز کئیے ہوئے ہو۔

﴿22﴾ اس دن بہت سے چہرے شاداب ہوں گے۔

﴿23﴾ اپنے پروردگار کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔

﴿24﴾ اور بہت سے چہرے اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے۔

﴿25﴾ سمجھ رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ وہ معاملہ ہوگا جو کمر توڑ دینے والا ہے۔

﴿26﴾ خبردار ! جب جان ہنسلیوں تک پہنچ جائے گی۔

﴿27﴾ اور (تیمار داروں کی طرف سے) کہا جائے گا کہ : ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ؟

﴿28﴾ اور انسان سمجھ جائے گا کہ جدائی کا وقت آگیا۔

﴿29﴾ اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی۔

﴿30﴾ تو اس دن تمہارے پروردگار ہی کی طرف روانگی ہوگی۔

﴿31﴾ اس کے باوجود انسان نے نہ مانا، اور نہ نماز پڑھی۔

﴿32﴾ بلکہ حق کو جھٹلایا اور منہ موڑ لیا۔

﴿33﴾ پھر اکڑ دکھاتا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس چلا گیا۔

﴿34﴾ بربادی ہے تیری، ہاں بربادی ہے تیری !۔

﴿35﴾ پھر سن لے کہ بربادی ہے تیری، ہاں بربادی ہے تیری !۔

﴿36﴾ کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا ؟

﴿37﴾ کیا وہ اس منی کا ایک قطرہ نہیں تھا جو (ماں کے رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے ؟

﴿38﴾ پھر وہ ایک لوتھڑا بنا، پھر اللہ نے اسے بنایا، اور اسے ٹھیک ٹھاک کیا،

﴿39﴾ نیز اسی سے مرد اور عورت کی دو صفتیں بنائیں۔

﴿40﴾ کیا وہ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ مردوں کو پھر سے زندہ کردے ؟

الدھر

Surah 76

﴿1﴾ انسان پر کبھی ایسا وقت آیا ہے کہ نہیں جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہیں تھا ؟

﴿2﴾ ہم نے انسان کو ایک ملے جلے نطفے سے اس طرح پیدا کیا کہ اسے آزمائیں۔ پھر اسے ایسا بنایا کہ وہ سنتا بھی ہے، دیکھتا بھی ہے۔

﴿3﴾ ہم نے اسے راستہ دکھایا کہ وہ یا تو شکر گزار ہو، یا ناشکرا بن جائے۔

﴿4﴾ ہم نے ہی کافروں کے لیے زنجیریں، گلے کے طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کی ہے۔

﴿5﴾ بیشک نیک لوگ ایسے جام سے مشروبات پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی۔

﴿6﴾ یہ مشروبات ایک ایسے چشمے کے ہوں گے جو اللہ کے (نیک) بندوں کے پینے کے لیے مخصوص ہے، وہ اسے (جہاں چاہیں گے) آسانی سے بہا کرلے جائیں گے۔

﴿7﴾ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی منتیں پوری کرتے ہیں، اور اس دن کا خوف دل میں رکھتے ہیں جس کے برے اثرات ہر طرف پھیلے ہوئے ہوں گے۔

﴿8﴾ اور وہ اللہ کی محبت کی خاطر مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔

﴿9﴾ (اور ان سے کہتے ہیں کہ) ہم تو تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کھلا رہے ہیں۔ ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ کوئی شکریہ۔

﴿10﴾ ہمیں تو اپنے پروردگار کی طرف سے اس دن کا ڈر لگا ہوا ہے جس میں چہرے بری طرح بگڑے ہوئے ہوں گے۔

﴿11﴾ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ ایسے لوگوں کو اس دن کے برے اثرات سے بچا لے گا، اور ان کو شادابی اور سرور سے نوازے گا۔

﴿12﴾ اور انہوں نے جو صبر سے کام لیا تھا، اس کے بدلے میں انہیں جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا۔

﴿13﴾ وہ ان باغوں میں آرام دہ اونچی نشستوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے، جہاں نہ دھوپ کی تپش دیکھیں گے اور نہ کڑا کے کی سردی۔

﴿14﴾ اور حالت یہ ہوگی کہ ان باغوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے، اور ان کے پھل مکمل طور سے ان کے آگے رام کردیے جائیں گے۔

﴿15﴾ اور ان کے سامنے چاندی کے برتن اور وہ پیالے گردش میں لائے جائیں گے جو شیشے کے ہوں گے۔

﴿16﴾ شیشے بھی چاندی کے جنہیں بھرنے والوں نے توازن کے ساتھ بھرا ہوگا

﴿17﴾ اور وہاں ان کو ایسا جام پلایا جائے گا جس میں سونٹھ ملا ہوا ہوگا۔

﴿18﴾ وہاں کے ایسے چشمے سے جس کا نام سلسبیل ہے۔

﴿19﴾ ان کے سامنے (خد مت کے لیے) ایسے لڑکے گردش میں ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ جب تم انہیں دیکھو گے تو یہ محسوس کرو گے کہ وہ موتی ہیں جو بکھیر دیے گئے ہیں۔

﴿20﴾ اور (حقیقت تو یہ ہے کہ) جب تم وہ جگہ دیکھو گے تو تمہیں نعمتوں کا ایک جہان اور ایک بڑی سلطنت نظر آئے گی۔

﴿21﴾ ان کے اوپر باریک ریشم کا سبز لباس اور دبیز ریشم کے کپڑے ہوں گے، اور انہیں چاندی کے کنگنوں سے آراستہ کیا جائے گا، اور ان کا پروردگار انہیں نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا۔

﴿22﴾ (اور فرمائے گا کہ) یہ ہے تمہارا انعام اور تم نے (دنیا میں) جو محنت کی تھی اس کی پوری قدر دانی کی گئی ہے۔

﴿23﴾ (اے پیغمبر) ہم نے ہی تم پر قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے۔

﴿24﴾ لہذا تم اپنے پروردگار کے حکم پر ثابت قدم رہو، اور ان لوگوں میں سے کسی نافرمان یا کافر کی بات نہ مانو۔

﴿25﴾ اور اپنے پروردگار کے نام کا صبح و شام ذکر کیا کرو۔

﴿26﴾ اور کچھ رات کو بھی اس کے آگے سجدے کیا کرو، اور رات کے لمبے وقت میں اس کی تسبیح کرو۔

﴿27﴾ یہ لوگ تو (دنیا کی) فوری چیزوں سے محبت کرتے ہیں اور اپنے آگے جو بھاری دن آنے والا، اسے نظر انداز کیے ہوئے ہیں۔

﴿28﴾ ہم نے ہی انہیں پیدا کیا ہے اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے ہیں، اور ہم جب چاہیں ان کے بدلے ان جیسے دوسرے پیدا کردیں۔

﴿29﴾ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک نصیحت کی بات ہے۔ اب جو چاہے اپنے پروردگار کی طرف جانے والا راستہ اختیار کرلے۔

﴿30﴾ اور تم چاہوگے نہیں جب تک اللہ نہ چاہے۔ اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

﴿31﴾ وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے، اور یہ جو ظالم لوگ ہیں ان کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

المرسلات

Surah 77

﴿1﴾ قسم ہے ان (ہواؤں) کی جو ایک کے بعد ایک بھیجی جاتی ہیں۔

﴿2﴾ پھر جو آندھی بن کر زور سے چلتی ہیں۔

﴿3﴾ اور جو (بادلوں کو) خوب اچھی طرح پھیلا دیتی ہیں۔

﴿4﴾ پھر قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو حق اور باطل کو الگ الگ کردیتے ہیں۔

﴿5﴾ پھر نصیحت کی باتیں نازل کرتے ہیں۔

﴿6﴾ جو یا تو لوگوں کے لیے معافی مانگنے کا سبب بنتی ہیں یا ڈرانے کا۔

﴿7﴾ یقینا وہ واقعہ ضرور پیش آکر رہے گا جس کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے۔

﴿8﴾ چنانچہ (وہ واقعہ اس وقت ہوگا) جب ستارے بجھا دیے جائیں گے۔

﴿9﴾ اور جب آسمان کو چیر دیا جائے گا۔

﴿10﴾ اور جب پہاڑ ریزہ ریزہ کردئے جائیں گے۔

﴿11﴾ اور جب پیغمبروں کے جمع ہونے کا وقت آجائے گا۔

﴿12﴾ (کوئی پوچھے کہ) اس معاملے کو کس دن کے لیے ملتوی کیا گیا ہے ؟

﴿13﴾ (تو جواب یہ ہے کہ) فیصلے کے دن کے لیے۔

﴿14﴾ اور تمہیں کیا معلوم کہ فیصلے کا دن کیا چیز ہے ؟

﴿15﴾ بڑی خرابی ہوگی اس دن ایسے لوگوں کی جو حق کو جھٹلاتے ہیں۔

﴿16﴾ کیا ہم نے پہلے لوگوں کو ہلاک نہیں کیا ؟

﴿17﴾ پھر انہی کے پیچھے بعد والوں کو بھی چلتا کردیں گے۔

﴿18﴾ ایسا ہی سلوک ہم مجرموں کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔

﴿19﴾ بڑی خرابی ہوگی اس دن ایسے لوگوں کی جو حق کو جھٹلاتے ہیں۔

﴿20﴾ کیا ہم نے تمہیں ایک حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا ؟

﴿21﴾ پھر ہم نے اسے ایک مضبوط قرار کی جگہ میں رکھا۔

﴿22﴾ مقررہ وقت تک

﴿23﴾ پھر ہم نے توازن پیدا کیا، چنانچہ اچھا توازن پیدا کرنے والے ہم ہیں۔

﴿24﴾ بڑی خرابی ہوگی اس دن ایسے لوگوں کی جو حق کو جھٹلاتے ہیں۔

﴿25﴾ کیا ہم نے زمین کو ایسا نہیں بنایا کہ وہ سمیٹ کر رکھنے والی ہے۔

﴿26﴾ زندوں کو بھی اور مردوں کو بھی ؟

﴿27﴾ اور ہم نے اس میں گڑھے ہوئے اونچے اونچے پہاڑ پیدا کیے، اور تمہیں میٹھے پانی سے سیراب کرنے کا انتظام کیا۔

﴿28﴾ بڑی خرابی ہوگی اس دن ایسے لوگوں کی جو حق کو جھٹلاتے ہیں۔

﴿29﴾ (ان سے کہا جائے گا کہ) چلو اب اسی چیز کی طرف جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔

﴿30﴾ چلو اس سائبان کی طرف جو تین شاخوں والا ہے۔

﴿31﴾ جس میں نہ تو (ٹھنڈک والا) سایہ ہے، اور نہ وہ آگ کی لپیٹ سے بچا سکتا ہے۔

﴿32﴾ وہ آگ تو محل جیسے بڑے بڑے شعلے پھینکے گی۔

﴿33﴾ ایسا لگے گا جیسے وہ زرد رنگ کے اونٹ ہوں۔

﴿34﴾ بڑی خرابی ہوگی اس دن ایسے لوگوں کی جو حق کو جھٹلاتے ہیں۔

﴿35﴾ یہ ایسا دن ہے جس میں یہ لوگ بول نہیں سکیں گے۔

﴿36﴾ اور نہ انہیں اس بات کی اجازت ہوگی کہ وہ کوئی عذر پیش کرسکیں۔

﴿37﴾ بڑی خرابی ہوگی اس دن ایسے لوگوں کی جو حق کو جھٹلاتے ہیں۔

﴿38﴾ یہ فیصلے کا دن ہے۔ ہم نے تمہیں اور پچھلے لوگوں کو اکٹھا کرلیا ہے۔

﴿39﴾ اب اگر تمہارے پاس کوئی داؤ ہے تو مجھ پر وہ داؤ چلا لو۔

﴿40﴾ بڑی خرابی ہوگی اس دن ایسے لوگوں کی جو حق کو جھٹلاتے ہیں۔

﴿41﴾ جن لوگوں نے تقوی اختیار کیا، وہ بیشک سایوں اور چشموں کے درمیان ہوں گے۔

﴿42﴾ اور اپنے من پسند میووں کے درمیان

﴿43﴾ (ان سے کہا جائے گا کہ) مزے سے کھاؤ، اور پیو ان اعمال کی بدولت جو تم کیا کرتے تھے۔

﴿44﴾ ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔

﴿45﴾ بڑی خرابی ہوگی اس دن ایسے لوگوں کی جو حق کو جھٹلاتے ہیں۔

﴿46﴾ (اے کافرو) کچھ وقت کھالو، اور مزے اڑا لو۔ حقیقت میں تم لوگ مجرم ہو

﴿47﴾ بڑی خرابی ہوگی اس دن ایسے لوگوں کی جو حق کو جھٹلاتے ہیں۔

﴿48﴾ اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے آگے جھک جاؤ، تو یہ جھکتے نہیں ہیں۔

﴿49﴾ بڑی خرابی ہوگی اس دن ایسے لوگوں کی جو حق کو جھٹلاتے ہیں۔

﴿50﴾ اب اس کے بعد اور کون سی بات ہے جس پر یہ ایمان لائیں گے ؟

النبا

Surah 78

﴿1﴾ یہ (کافر) لوگ کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں ؟

﴿2﴾ اس زبردست واقعے کے بارے میں

﴿3﴾ جس میں خود ان کی باتیں مختلف ہیں۔

﴿4﴾ خبردار ! انہیں بہت جلد پتہ لگ جائے گا۔

﴿5﴾ دوبارہ خبردار ! انہیں بہت جل پتہ لگ جائے گا۔

﴿6﴾ کیا ہم نے زمین کو ایک بچھونا نہیں بنایا ؟

﴿7﴾ اور پہاڑوں کو (زمین میں گڑی ہوئی) میخیں ؟

﴿8﴾ اور تمہیں (مرد و عورت کے) جوڑوں کی شکل میں ہم نے پید ا کیا۔

﴿9﴾ اور تمہاری نیند کو تھکن دور کرنے کا ذریعہ ہم نے بنایا۔

﴿10﴾ اور رات کو پردے کا سبب ہم نے بنایا۔

﴿11﴾ اور دن کو روزی حاصل کرنے کا وقت ہم نے قرار دیا۔

﴿12﴾ اور ہم نے ہی تمہارے اوپر سات مضبوط وجود (آسمان) تعمیر کیے۔

﴿13﴾ اور ہم نے ہی ایک دہکتا ہوا چراغ (سورج) پیدا کیا۔

﴿14﴾ اور ہم نے ہی بھرے ہوئے بادلوں سے موسلا دھار پانی برسایا۔

﴿15﴾ تاکہ اس سے غلہ اور دوسری سبزیاں بھی اگائیں۔

﴿16﴾ اور گھنے باغات بھی۔

﴿17﴾ یقین جانو فیصلے کا دن ایک متعین وقت ہے۔

﴿18﴾ وہ دن جب صور پھونکا جائے گا تو تم سب فوج در فوج چلے آؤ گے۔

﴿19﴾ اور آسمان کھول دیا جائے گا تو اس کے دروازے ہی دروازے بن جائیں گے۔

﴿20﴾ اور پہاڑوں کو چلایا جائے گا تو وہ ریت کے سراب کی شکل اختیار کرلیں گے۔

﴿21﴾ یقین جانو جہنم گھات لگائے بیٹھی ہے۔

﴿22﴾ وہ سرکشوں کا ٹھکانا ہے۔

﴿23﴾ جس میں وہ مدتوں اس طرح رہیں گے۔

﴿24﴾ کہ اس میں نہ وہ کسی ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے، اور نہ کسی پینے کے قابل چیز کا ہے۔

﴿25﴾ سوائے گرم پانی اور پیپ لہو کے۔

﴿26﴾ یہ ان کا پورا پورا بدلہ ہوگا۔

﴿27﴾ وہ (اپنے اعمال کے) حساب کا عقیدہ نہیں رکھتے تھے۔

﴿28﴾ اور انہوں نے ہماری آیتوں کو بڑھ چڑھ کر جھٹلایا تھا۔

﴿29﴾ اور ہم نے ہر ہر چیز کو لکھ کر محفوظ کر رکھا ہے۔

﴿30﴾ اب مزہ چکھو ! اس لئے کہ ہم تمہارے لیے سزا کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہیں کریں گے۔

﴿31﴾ جن لوگوں نے تقوی اختیار کیا تھا، ان کی بیشک بڑی جیت ہے۔

﴿32﴾ باغات اور انگور۔

﴿33﴾ اور نو خیز ہم عمر لڑکیاں۔

﴿34﴾ اور چھلکتے ہوئے پیمانے۔

﴿35﴾ وہاں پر وہ نہ کوئی بےہودہ بات سنیں گے، اور نہ کوئی جھوٹی بات۔

﴿36﴾ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے صلہ ہوگا۔ (اللہ کی) ایسی دین ہوگی جو لوگوں کے اعمال کے حساب سے دی جائے گی۔

﴿37﴾ اسی پروردگار کی طرف سے جو سارے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان ہر چیز کا مالک، بہت مہربان ہے ! کسی کی مجال نہیں ہے کہ اس کے سامنے بول سکے۔

﴿38﴾ جس دن ساری روحیں اور فرشتے قطاریں بنا کر کھڑے ہوں گے، اس دن سوائے اس کے کوئی نہیں بول سکے گا۔ جسے خدائے رحمن نے اجازت دی ہو، اور وہ بات بھی ٹھیک کہے۔

﴿39﴾ وہ دن ہے جو برحق ہے۔ اب جو چاہے وہ اپنے پروردگار کے پاس ٹھکانا بنا رکھے۔

﴿40﴾ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تمہیں ایک ایسے عذاب سے خبردار کردیا ہے جو قریب آنے والا ہے جس دن ہر شخص وہ اعمال آنکھوں سے دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیج رکھے ہیں، اور کافر یہ کہے گا کہ کاش ! میں مٹی ہوجاتا۔

النازعات

Surah 79

﴿1﴾ قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو (کافروں کی روح) سختی سے کھینچتے ہیں۔

﴿2﴾ اور جو (مومنوں کی روح کی) گرہ نرمی سے کھول دیتے ہیں۔

﴿3﴾ پھر (فضا میں) تیرے ہوئے جاتے ہیں۔

﴿4﴾ پھر تیزی سے لپکتے ہیں۔

﴿5﴾ پھر جو حکم ملتا ہے اس (کو پورا کرنے) کا انتظام کرتے ہیں۔

﴿6﴾ کہ جس دن بھونچال (ہر چیز کو) ہلا ڈالے گا۔

﴿7﴾ پھر اس کے بعد ایک اور جھٹکا آئے گا۔

﴿8﴾ اس دن بہت سے دل لرز رہے ہوں گے۔

﴿9﴾ ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی۔

﴿10﴾ یہ (کافر لوگ) کہتے ہیں کہ : کیا ہم پہلی والی حالت پر لوٹا دیئے جائیں گے ؟

﴿11﴾ کیا اس وقت جب ہم بوسیدہ ہڈیوں میں تبدیل ہوچکے ہوں گے ؟

﴿12﴾ کہتے ہیں کہ : اگر ایسا ہوا تو یہ بڑے گھاٹے کی واپسی ہوگی۔

﴿13﴾ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ بس ایک زور کی آواز ہوگی۔

﴿14﴾ جس کے بعد وہ اچانک ایک کھلے میدان میں ہوں گے۔

﴿15﴾ (اے پیغمبر) کیا تمہیں موسیٰ کا واقعہ پہنچا ہے ؟

﴿16﴾ جب ان کے پروردگار نے انہیں طوی کی مقدس وادی میں آواز دی تھی۔

﴿17﴾ کہ : فرعون کے پاس چلے جاؤ، اس نے بہت سرکشی اختیار کر رکھی ہے۔

﴿18﴾ اور اس سے کہو کہ کیا تمہیں یہ خواہش ہے کہ تم سنور جاؤ ؟

﴿19﴾ اور یہ کہ میں تمہیں تمہارے پروردگار کا راستہ دکھاؤں تو تمہارے دل میں خوف پیدا ہوجائے ؟

﴿20﴾ چنانچہ موسیٰ نے اس کو بڑی زبردست نشانی دکھائی

﴿21﴾ پھر بھی اس نے (انہیں) جھٹلایا، اور کہنا نہیں مانا۔

﴿22﴾ پھر دوڑ دھوپ کرنے کے لیے پلٹا۔

﴿23﴾ پھر سب کو اکٹھا کیا اور آواز لگائی۔

﴿24﴾ اور کہا کہ : میں تمہارا اعلی درجے کا پروردگار ہوں۔

﴿25﴾ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا۔

﴿26﴾ حقیقت یہ ہے کہ اس واقعے میں اس شخص کے لیے بڑی عبرت ہے جو اللہ کا خوف دل میں رکھتا ہو۔

﴿27﴾ (انسانو) کیا تمہیں پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کو ؟ اس کو اللہ نے بنایا ہے۔

﴿28﴾ اس کی بلندی اٹھائی ہوئی ہے، پھر اسے ٹھیک کیا ہے۔

﴿29﴾ اور اس کی رات کو اندھیری بنایا ہے، اور اس کے دن کی دھوپ باہر نکال دی ہے۔

﴿30﴾ اور زمین کو اس کے بعد بچھا دیا ہے۔

﴿31﴾ اس میں سے اس کا پانی اور اس کا چارہ نکالا ہے۔

﴿32﴾ اور پہاڑوں کو گاڑھ دیا ہے۔

﴿33﴾ تاکہ تمہیں اور تمہارے مویشیوں کو فائدہ پہنچائے۔

﴿34﴾ پھر جب وہ سب سے بڑا ہنگامہ برپا ہوگا۔

﴿35﴾ جس دن انسان اپنا سارا کیا دھرا یاد کرے گا۔

﴿36﴾ اور دوزخ ہر دیکھنے والے کے سامنے ظاہر کردی جائے گی۔

﴿37﴾ تو وہ جس نے سرکشی کی تھی۔

﴿38﴾ اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی۔

﴿39﴾ تو دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی۔

﴿40﴾ لیکن وہ جو اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے کا خوف رکھتا تھا اور اپنے نفس کو بری خواہشات سے روکتا تھا۔

﴿41﴾ تو جنت ہی اس کا ٹھکانا ہوگی۔

﴿42﴾ یہ لوگ تم سے قیامت کی گھڑی کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب قائم ہوگی ؟

﴿43﴾ تمہارا یہ بات بیان کرنے میں کیا کام ؟

﴿44﴾ اس کا علم تو تمہارے پروردگار پر ختم ہے۔

﴿45﴾ جو شخص اس سے ڈرتا ہو، تم تو صرف اس کو خبردار کرنے والے ہو۔

﴿46﴾ جس دن یہ اس کو دیکھ لیں گے، اس دن انہیں ایسا معلوم ہوگا جیسے وہ (دنیا میں یا قبر میں) ایک شام یا ایک صبح سے زیادہ نہیں رہے۔

عبس

Surah 80

﴿1﴾ (پیغمبر نے) منہ بنایا، اور رخ پھیرلیا۔

﴿2﴾ اس لیئے کہ ان کے پاس وہ نابینا آگیا تھا۔

﴿3﴾ اور (اے پیغمبر) تمہیں کیا خبر ؟ شاید وہ سدھر جاتا۔

﴿4﴾ یا وہ نصیحت قبول کرتا، اور نصیحت کرنا اسے فائدہ پہنچاتا۔

﴿5﴾ وہ شخص جو بےپروائی دکھا رہا تھا۔

﴿6﴾ اس کے تو تم پیچھے پڑتے ہو۔

﴿7﴾ حالانکہ اگر وہ نہ سدھرے تو تم پر کوئی ذمہ داری نہیں آتی۔

﴿8﴾ اور وہ جو محنت کر کے تمہارے پاس آیا ہے۔

﴿9﴾ اور وہ دل میں اللہ کا خوف رکھتا ہے۔

﴿10﴾ اس کی طرف سے تم بےپروائی برتتے ہو۔

﴿11﴾ ہرگزا یسا نہیں چاہیے۔ یہ قرآن تو ایک نصیحت ہے۔

﴿12﴾ اب جو چاہے، اسے یاد کرلے۔

﴿13﴾ وہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو بڑے مقدس ہیں۔

﴿14﴾ اونچے رتبے والے ہیں، پاکیزہ ہیں۔

﴿15﴾ ان لکھنے والوں کے ہاتھ میں رہتے ہیں۔

﴿16﴾ جو خود بڑی عزت والے، بہت نیک ہیں۔

﴿17﴾ خدا کی مار ہو ایسے انسان پر، وہ کتنا ناشکرا ہے۔

﴿18﴾ (وہ ذرا سوچے کہ) اللہ نے اسے کس چیز سے پیدا کیا ؟

﴿19﴾ نطفے کی ایک بوند سے، اسے پیدا بھی کیا، پھر اس کو ایک خاص انداز بھی دیا۔

﴿20﴾ پھر اس کے لیے راستہ بھی آسان بنادیا۔

﴿21﴾ پھر اسے موت دی، اور قبر میں پہنچا دیا۔

﴿22﴾ پھر جب چاہے گا اسے دوربارہ اٹھا کر کھڑا کردے گا۔

﴿23﴾ ہرگز نہیں ! جس بات کا اللہ نے اسے حکم دیا تھا، ابھی تک اس نے وہ پوری نہیں کی۔

﴿24﴾ پھر ذرا انسان اپنے کھانے ہی کو دیکھ لے۔

﴿25﴾ کہ ہم نے اوپر سے خوب پانی برسایا۔

﴿26﴾ پھر ہم نے زمین کو عجیب طرح پھاڑا۔

﴿27﴾ پھر ہم نے اس میں غلے اگائے۔

﴿28﴾ اور انگور اور ترکاریاں۔

﴿29﴾ اور زیتون اور کھجور۔

﴿30﴾ اور گھنے گھنے باغات۔

﴿31﴾ اور میوے اور چارہ۔

﴿32﴾ سب کچھ تمہارے اور تمہارے مویشیوں کے فائدے کی خاطر۔

﴿33﴾ آخر جب وہ کان پھاڑنے والی آواز آ ہی جائے گی۔ (اس وقت اس ناشکری کی حقیقت پتہ چل جائے گی)

﴿34﴾ یہ اس دن ہوگا جب انسان اپنے بھائی سے بھی بھاگے گا۔

﴿35﴾ اور اپنے ماں باپ سے بھی۔

﴿36﴾ اور اپنے بیوی بچوں سے بھی۔

﴿37﴾ (کیونکہ) ان میں سے ہر ایک کو اس دن اپنی ایسی فکر پڑی ہوگی کہ اسے دوسروں کا ہوش نہیں ہوگا۔

﴿38﴾ اس روز کتنے چہرے تو چمکتے دمکتے ہوں گے۔

﴿39﴾ ہنستے، خوشی مناتے ہوئے۔

﴿40﴾ اور کتنے چہرے اس دن ایسے ہوں گے کہ ان پر خاک پڑی ہوگی۔

﴿41﴾ سیاہی نے انہیں ڈھانپ رکھا ہوگا۔

﴿42﴾ یہ وہی لوگ ہوں گے جو کافر تھے، بدکار تھے۔

التکویر

Surah 81

﴿1﴾ جب سورج لپیٹ دیا جائے گا۔

﴿2﴾ اور جب ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گریں گے۔

﴿3﴾ اور جب پہاڑوں کو چلایا جائے گا۔

﴿4﴾ اور جب دس مہینے کی گابھن اونٹنیوں کو بھی بیکار چھوڑ دیا جائے گا۔

﴿5﴾ اور جب وحشی جانور اکٹھے کردیے جائیں گے۔

﴿6﴾ اور جب سمندروں کو بھڑکایا جائے گا۔

﴿7﴾ اور جب لوگوں کے جوڑے جو ٹے بنا دئے جائیں گے۔

﴿8﴾ اور جس بچی کو زندہ قبر میں گاڑ دیا گیا تھا، اس سے پوچھا جائے گا۔

﴿9﴾ کہ اسے کس جرم میں قتل کیا گیا ؟

﴿10﴾ اور جب اعمال نامے کھول دئے جائیں گے۔

﴿11﴾ اور جب آسمان کا چھلکا اتار دیا جائے گا۔

﴿12﴾ اور جب دوزخ بھڑکائی جائے گی۔

﴿13﴾ اور جب جنت قریب کردی جائے گی۔

﴿14﴾ تو اس وقت ہر شخص کو اپنا سارا کیا دھرا معلوم ہوجائے گا۔

﴿15﴾ اب میں قسم کھاتا ہوں ان ستاروں کی جو پیچھے کی طرف چلنے لگتے ہیں۔

﴿16﴾ جو چلتے چلتے دبک جاتے ہیں۔

﴿17﴾ اور قسم کھاتا ہوں رات کی جب وہ رخصت ہو۔

﴿18﴾ اور صبح کی جب وہ سانس لے۔

﴿19﴾ کہ یہ (قرآن) یقینی طور پر ایک معزز فرشتے کا لایا ہوا کلام ہے۔

﴿20﴾ جو قوت والا ہے، جس کا عرش والے کے پاس بڑا رتبہ ہے۔

﴿21﴾ وہاں اس کی بات مانی جاتی ہے۔ وہ امانت دار ہے۔

﴿22﴾ اور (اے مکہ والو) تمہارے ساتھ رہنے والے یہ صاحب (یعنی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی دیوانے نہیں ہیں۔

﴿23﴾ اور یہ بالکل سچی بات ہے کہ انہوں نے اس فرشتے کو کھلے ہوئے افق پر دیکھا ہے۔

﴿24﴾ اور وہ غیب کی باتوں کے بارے میں بخیل بھی نہیں ہیں۔

﴿25﴾ اور نہ یہ (قرآن) کسی مردود شیطان کی (بنائی ہوئی) کوئی بات ہے۔

﴿26﴾ پھر بھی تم لوگ کدھر چلے جارہے ہو ؟

﴿27﴾ یہ تو دنیا جہان کے لوگوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔

﴿28﴾ تم میں سے ہر اس شخص کے لیے جو سیدھا سیدھا رہنا چاہے۔

﴿29﴾ اور تم چاہو گے نہیں، الا یہ کہ خود اللہ چاہے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔

الانفطار

Surah 82

﴿1﴾ جب آسمان چر جائے گا۔

﴿2﴾ اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے۔

﴿3﴾ اور جب سمندروں کو ابال دیا جائے گا۔

﴿4﴾ اور جب قبریں اکھاڑ دی جائیں گی۔

﴿5﴾ اس وقت ہر شخص کو پتہ چل جائے گا کہ اس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔

﴿6﴾ اے انسان ! تجھے کس چیز نے اپنے اس پروردگار کے معاملے میں دھوکا لگا دیا ہے جو بڑا کرم والا ہے۔

﴿7﴾ جس نے تجھے پیدا کیا پھر تجھے ٹھیک ٹھیک بنایا، پھر تیرے اندر اعتدال پیدا کیا ؟

﴿8﴾ جس صورت میں چاہا، اس نے تجھے جوڑ کر تیار کیا۔

﴿9﴾ ہرگز ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن تم جزاء و سزا کو جھٹلاتے ہو۔

﴿10﴾ حالانکہ تم پر کچھ نگران (فرشتے) مقرر ہیں۔

﴿11﴾ وہ معزز لکھنے والے۔

﴿12﴾ جو تمہارے سارے کاموں کو جانتے ہیں۔

﴿13﴾ یقین رکھو کہ نیک لوگ یقینا بڑی نعمتوں میں ہوں گے۔

﴿14﴾ اور بدکار لوگ ضرور دوزخ میں ہوں گے۔

﴿15﴾ وہ اس میں جزاء و سزا کے دن داخل ہوں گے۔

﴿16﴾ اور وہ اس سے غائب نہیں ہوسکتے۔

﴿17﴾ اور تمہیں کیا پتہ کہ جزاء و سزا کا دن کیا چیز ہے ؟

﴿18﴾ ہاں تمہیں کیا پتہ کہ جزاء و سزا کا دن کیا چیز ہے ؟

﴿19﴾ یہ وہ دن ہوگا جس میں کسی دوسرے کے لیے کچھ کرنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا، اور تمام تر حکم اس دن اللہ ہی کا چلے گا۔

المطففین

Surah 83

﴿1﴾ بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی۔

﴿2﴾ جن کا حال یہ ہے کہ جب وہ لوگوں سے خود کوئی چیز ناپ کرلیتے ہیں تو پوری پوری لیتے ہیں۔

﴿3﴾ اور جب وہ کسی کو ناپ کر یا تول کردیتے ہیں تو گھٹا کردیتے ہیں۔

﴿4﴾ کیا یہ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ انہیں زندہ کر کے اٹھایا جائے گا ؟

﴿5﴾ ایک بڑے زبردست دن میں

﴿6﴾ جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

﴿7﴾ ہرگز ایسا نہیں چاہیے ! یقین جانو کہ بدکار لوگوں کا اعمال نامہ سجین میں ہے۔

﴿8﴾ اور تمہیں کیا معلوم کہ سجین (میں رکھا ہوا اعمال نامہ) کیا چیز ہے ؟

﴿9﴾ وہ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے۔

﴿10﴾ اس دن بڑی خرابی ہوگی حق کو جھٹلانے والوں کی۔

﴿11﴾ جو جزاء و سزا کے دن کو جھٹلاتے ہیں۔

﴿12﴾ اور اس دن کو وہی جھٹلاتا ہے جو حد سے گزرا ہوا گنہگار ہو۔

﴿13﴾ اسے جب ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہوں تو وہ کہتا ہو کہ : یہ تو پچھلے لوگوں کے افسانے ہیں۔

﴿14﴾ ہرگز نہیں ! بلکہ جو عمل یہ کرتے رہے ہیں اس نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے۔

﴿15﴾ ہرگز نہیں ! حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اس دن اپنے پروردگار کے دیدار سے محروم ہوں گے۔

﴿16﴾ پھر ان کو دوزخ میں داخل ہونا پڑے گا۔

﴿17﴾ پھر کہا جائے گا کہ : یہ ہے وہ چیز جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔

﴿18﴾ خبردار ! نیک لوگوں کا اعمال نامہ علیین میں ہے۔

﴿19﴾ اور تمہیں کیا معلوم کہ علیین (میں رکھا ہوا اعمال نامہ) کیا چیز ہے ؟

﴿20﴾ وہ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے۔

﴿21﴾ جسے مقرب فرشتے دیکھتے ہیں۔

﴿22﴾ یقین جانو کہ نیک لوگ بڑی نعمتوں میں ہوں گے۔

﴿23﴾ آرام دہ نشستوں پر بیٹھے نظارہ کر رہے ہوں گے۔

﴿24﴾ ان کے چہروں پر نعمتوں میں رہنے سے جو رونق آئے گی، تم اسے صاف پہچان لوگے۔

﴿25﴾ انہیں ایسی خالص شراب پلائی جائے گی جس پر مہر لگی ہوگی۔

﴿26﴾ اس کی مہر بھی مشک ہی مشک ہوگی۔ اور یہی وہ چیز ہے جس پر للچانے والوں کو بڑھ چڑھ کر للچانا چاہیے۔

﴿27﴾ اور اس شراب میں تسنیم کا پانی ملا ہوا ہوگا۔

﴿28﴾ جو ایک ایسا چشمہ ہے کہ جس سے اللہ کے مقرب بندے پانی پئیں گے۔

﴿29﴾ جو لوگ مجرم تھے، وہ ایمان والوں پر ہنسا کرتے تھے۔

﴿30﴾ اور جب ان کے پاس سے گزرتے تھے تو ایک دوسرے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کرتے تھے۔

﴿31﴾ اور جب اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر جاتے تھے، تو دل لگی کرتے ہوئے جاتے تھے۔

﴿32﴾ اور جب ان (مومنوں) کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ لوگ یقینا گمراہ ہیں۔

﴿33﴾ حالانکہ ان کو ان مسلمانوں پر نگران بنا کر نہیں بھیجا گیا تھا۔

﴿34﴾ آخر ہوگا یہ کہ آج ایمان لانے والے کافروں پر ہنس رہے ہوں گے۔

﴿35﴾ آرام دہ نشستوں پر بیٹھے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے۔

﴿36﴾ کہ کافر لوگوں کو واقعی ان کاموں کا بدلہ مل گیا جو وہ کیا کرتے تھے۔

الانشقاق

Surah 84

﴿1﴾ جب آسمان پھٹ پڑے گا۔

﴿2﴾ اور وہ اپنے پروردگار کا حکم سن کر مان لے گا، اور اس پر لازم ہے یہی کرے۔

﴿3﴾ اور جب زمین کو کھینچ دیا جائے گا۔

﴿4﴾ اور اس کے اندر جو کچھ ہے وہ اسے باہر پھینک دے گی اور خالی ہوجائے گی۔

﴿5﴾ اور وہ اپنے پروردگار کا حکم سن کر مان لے گی، اور اس پر لازم ہے کہ یہی کرے (اس وقت انسان کو اپنا انجام معلوم ہوجائے گا)

﴿6﴾ اے انسان ! تو اپنے پروردگار کے پاس پہنچنے تک مسلسل کسی محنت میں لگا رہے گا، یہاں تک کہ اس سے جا ملے گا۔

﴿7﴾ پھر جس شخص کو اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔

﴿8﴾ اس سے تو آسان حساب لیا جائے گا۔

﴿9﴾ اور وہ اپنے گھر والوں کے پاس خوشی مناتا ہوا واپس آئے گا۔

﴿10﴾ لیکن وہ شخص جس کو اس کا اعمال نامہ اس کی پشت کے پیچھے سے دیا جائے گا۔

﴿11﴾ وہ موت کو پکارے گا

﴿12﴾ اور بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔

﴿13﴾ پہلے وہ اپنے گھر والوں کے درمیان بہت خوش رہتا تھا۔

﴿14﴾ اس نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ وہ کبھی پلٹ کر (اللہ کے سامنے) نہیں جائے گا۔

﴿15﴾ بھلا کیوں نہیں ؟ اس کا پروردگار اسے یقینی طور پر دیکھ رہا تھا۔

﴿16﴾ اب میں قسم کھاتا ہوں شفق کی۔

﴿17﴾ اور رات کی اور ان تمام چیزوں کی جنہیں وہ سمیٹ لے۔

﴿18﴾ اور چاند کی جب وہ بھر کو پورا ہوجائے۔

﴿19﴾ کہ تم سب ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف چڑھتے جاؤ گے۔

﴿20﴾ پھر ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے ؟

﴿21﴾ اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ سجدہ نہیں کرتے ؟

﴿22﴾ بلکہ یہ کافر لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں۔

﴿23﴾ اور جو کچھ یہ جمع کر رہے ہیں، اللہ کو خوب معلوم ہے۔

﴿24﴾ اب تم انہیں ایک دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو ۔

﴿25﴾ البتہ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کو ایسا ثواب ملے گا جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔

البروج

Surah 85

﴿1﴾ قسم ہے برجوں والے آسمان کی۔

﴿2﴾ اور اس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔

﴿3﴾ اور حاضر ہونے والے کی اور اس کی جس کے پاس لوگ حاضر ہوں

﴿4﴾ کہ خدا کی مار ہے ان خندق (کھودنے) والوں پر

﴿5﴾ اس آگ والوں پر جو ایندھن سے بھری ہوئی تھی۔

﴿6﴾ جب وہ اس کے پاس بیٹھے تھے۔

﴿7﴾ اور وہ ایمان والوں کے ساتھ جو کچھ کر رہے تھے، اس کا نظارہ کرتے جاتے تھے۔

﴿8﴾ اور وہ ایمان والوں کو کسی اور بات کی نہیں، صرف اس بات کی سزا دے رہے تھے کہ وہ اس اللہ پر ایمان لے آئے تھے جو بڑے اقتدار والا، بہت قابل تعریف ہے۔

﴿9﴾ جس کے قبضے میں سارے آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے۔ اور اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔

﴿10﴾ یقین رکھو کہ جن لوگوں نے مومن مردوں عورتوں کو ظلم کا نشانہ بنایا ہے، پھر توبہ نہیں کی ہے، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کو آگ میں جلنے کی سزا دی جائے گی۔

﴿11﴾ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کے لیے بیشک (جنت کے) ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ یہ ہے بڑی کامیابی۔

﴿12﴾ حقیقت یہ ہے کہ تمہارے پروردگار کی پکڑ بہت سخت ہے۔

﴿13﴾ وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔

﴿14﴾ اور وہ بہت بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا ہے۔

﴿15﴾ عرش کا مالک ہے، بزرگی والا ہے۔

﴿16﴾ جو کچھ ارادہ کرتا ہے کر گزرتا ہے۔

﴿17﴾ کیا تمہارے پاس ان لشکروں کی خبر پہنچی ہے۔

﴿18﴾ فرعون اور ثمود (کے لشکروں) کی ؟

﴿19﴾ اس کے باوجود کافر لوگ حق کو جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں۔

﴿20﴾ جبکہ اللہ نے ان کو گھیرے میں لیا ہوا ہے۔

﴿21﴾ (ان کے جھٹلانے سے قرآن پر کوئی اثر نہیں پڑتا) بلکہ یہ بڑی عظمت والا قرآن ہے۔

﴿22﴾ جو لوح محفوظ میں درج ہے۔

الطارق

Surah 86

﴿1﴾ قسم ہے آسمان کی اور رات کو آنے والے کی۔

﴿2﴾ اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ رات کو آنے والا کیا ہے ؟

﴿3﴾ چمکتا ہوا ستارا

﴿4﴾ کہ کوئی جان ایسی نہیں ہے جس کی کوئی نگرانی کرنے والا موجود نہ ہو۔

﴿5﴾ اب انسان کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ؟

﴿6﴾ اسے ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔

﴿7﴾ جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔

﴿8﴾ بیشک وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔

﴿9﴾ جس دن تمام پوشیدہ باتوں کی جانچ ہوگی۔

﴿10﴾ تو انسان کے پاس نہ اپنا کوئی زور ہوگا نہ کوئی مددگار۔

﴿11﴾ قسم ہے بارش بھرے آسمان کی۔

﴿12﴾ اور پھوٹ پڑنے والی زمین کی۔

﴿13﴾ کہ یہ (قرآن) ایک فیصلہ کن بات ہے۔

﴿14﴾ اور یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔

﴿15﴾ بیشک یہ (کافر لوگ) چالیں چل رہے ہیں۔

﴿16﴾ اور میں بھی اپنی چال چل رہا ہوں۔

﴿17﴾ لہذا (اے پیغمبر) تم ان کافروں کو ڈھیل دو ، انہیں تھوڑے دنوں اپنے حال پر چھوڑ دو ۔

الاعلیٰ

Surah 87

﴿1﴾ اپنے پروردگار کے نام کی تسبیح کرو جس کی شان سب سے اونچی ہے۔

﴿2﴾ جس نے سب کچھ پیدا کیا اور ٹھیک ٹھیک بنایا۔

﴿3﴾ اور جس نے ہر چیز کو ایک خاص انداز دیا، پھر راستہ بتایا۔

﴿4﴾ اور جس نے سبز چارہ (زمین سے) نکالا۔

﴿5﴾ پھر اسے کالے رنگ کا کوڑا بنادیا۔

﴿6﴾ (اے پیغمبر) ہم تمہیں پڑھائیں گے پھر تم بھولو گے نہیں۔

﴿7﴾ سوائے اس کے جسے اللہ چاہے۔ یقین رکھو وہ کھلی ہوئی چیزوں کو بھی جانتا ہے اور ان چیزوں کو بھی جو چھپی ہوئی ہیں۔

﴿8﴾ اور ہم تمہیں آسان شریعت (پر چلنے کے لیے) سہولت دیں گے۔

﴿9﴾ لہذا تم نصیحت کیے جاؤ، اگر نصیحت کا فائدہ ہو۔

﴿10﴾ جس کے دل میں اللہ کا خوف ہوگا، وہ نصیحت مانے گا۔

﴿11﴾ اور اس سے دور وہ رہے گا جو بڑا بدبخت ہوگا۔

﴿12﴾ جو سب سے بڑی آگ میں داخل ہوگا۔

﴿13﴾ پھر اس آگ میں نہ مرے گا اور نہ جیے گا۔

﴿14﴾ فلاح اس نے پائی ہے جس نے پاکیزگی اختیار کی۔

﴿15﴾ اور اپنے پروردگار کا نام لیا، اور نماز پڑھی۔

﴿16﴾ لیکن تم لوگ دنیوی زندگی کو مقدم رکھتے ہو۔

﴿17﴾ حالانکہ آخرت کہیں زیادہ بہتر اور کہیں زیادہ پائیدار ہے۔

﴿18﴾ یہ بات یقینا پچھلے (آسمانی) صحیفوں میں بھی درج ہے۔

﴿19﴾ ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں۔

الغاشیہ

Surah 88

﴿1﴾ کیا تمہیں اس واقعے (یعنی قیامت) کی خبر پہنچی ہے جو سب پر چھا جائے گا ؟

﴿2﴾ بہت سے چہرے اس دن اترے ہوئے ہوں گے۔

﴿3﴾ مصیبت جھیلتے ہوئے، تھکن سے چور۔

﴿4﴾ وہ دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔

﴿5﴾ انہیں کھولتے ہوئے چشمے سے پانی پلایا جائے گا۔

﴿6﴾ ان کے لیئے ایک کانٹے دار جھاڑ کے سوا کوئی کھانا نہیں ہوگا۔

﴿7﴾ جو نہ جسم کا وزن بڑھائے گا اور نہ بھوک مٹائے گا۔

﴿8﴾ بہت سے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے۔

﴿9﴾ (دنیا میں) اپنی کی ہوئی محنت کی وجہ سے پوری طرح مطمئن۔

﴿10﴾ عالیشان جنت میں ہوں گے

﴿11﴾ جس میں وہ کوئی لغو بات نہیں سنیں گے۔

﴿12﴾ اس جنت میں بہتے ہوئے چشمے ہوں گے۔

﴿13﴾ اس میں اونچی اونچی نشستیں ہوں گی۔

﴿14﴾ اور سامنے رکھے ہوئے پیالے۔

﴿15﴾ اور قطار میں لگائے ہوئے گداز تکیے۔

﴿16﴾ اور بچھے ہوئے قالین۔

﴿17﴾ تو کیا یہ لوگ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ انہیں کیسے پیدا کیا گیا ؟

﴿18﴾ اور آسمان کو کہ اسے کس طرح بلند کیا گیا ؟

﴿19﴾ اور پہاڑوں کو کہ انہیں کس طرح گاڑا گیا ؟

﴿20﴾ اور زمین کو کہ اسے کیسے بچھایا گیا ؟

﴿21﴾ اب (اے پیغمبر) تم نصیحت کیے جاؤ۔ تم تو بس نصیحت کرنے والے ہو۔

﴿22﴾ آپ کو ان پر زبردستی کرنے کے لیے مسلط نہیں کیا گیا۔

﴿23﴾ ہاں مگر جو کوئی منہ موڑے گا، اور کفر اختیار کرے گا۔

﴿24﴾ تو اللہ اس کو بڑا زبردست عذاب دے گا۔

﴿25﴾ یقین جانو ان سب کو ہمارے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے۔

﴿26﴾ پھر یقینا ان کا حساب لینا ہمارے ذمے ہے۔

الفجر

Surah 89

﴿1﴾ قسم ہے فجر کے وقت کی۔

﴿2﴾ اور دس راتوں کی

﴿3﴾ اور جفت کی اور طاق کی۔

﴿4﴾ اور رات کی جب وہ چل کھڑی ہو۔ (کہ آخرت میں جزاء و سزا ضرور ہوگی)

﴿5﴾ ایک عقل والے (کو یقین دلانے) کے لیے یہ قسمیں کافی ہیں کہ نہیں ؟

﴿6﴾ کیا تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے پروردگار نے عاد کے ساتھ کیا سلوک کیا۔

﴿7﴾ اس اونچے ستونوں والی قوم ارم کے ساتھ

﴿8﴾ جس کے برابر دنیا کے ملکوں میں کوئی اور قوم پیدا نہیں کی گئی ؟

﴿9﴾ اور ثمود کی اس قوم کے ساتھ کیا کیا جس نے و ادی میں پتھر کی چٹانوں کو تراش رکھا تھا ؟

﴿10﴾ اور میخوں والے فرعون کے ساتھ کیا کیا ؟

﴿11﴾ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دنیا کے ملکوں میں سرکشی اختیار کرلی تھی۔

﴿12﴾ اور ان میں بہت فساد مچایا تھا۔

﴿13﴾ چنانچہ تمہارے پروردگار نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا۔

﴿14﴾ یقین رکھو تمہارا پروردگار سب کو نظر میں رکھے ہوئے ہے۔

﴿15﴾ لیکن انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا پروردگار اسے آزماتا ہے اور انعام و اکرام سے نوازتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ : میرے پروردگار نے میری عزت کی ہے۔

﴿16﴾ اور دوسری طرف جب اسے آزماتا ہے اور اس کے رزق میں تنگی کردیتا ہے تو کہتا ہے کہ : میرے پروردگار نے میری توہین کی ہے۔

﴿17﴾ ہرگز ایسا نہیں چاہیے۔ صرف یہی نہیں بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔

﴿18﴾ اور مسکینوں کو کھانا کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے۔

﴿19﴾ اور میراث کا مال سمیٹ سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔

﴿20﴾ اور مال سے بےحد محبت کرتے ہو۔

﴿21﴾ ہرگز ایسا نہیں چاہیے۔ جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔

﴿22﴾ اور تمہارا پروردگار اور قطاریں باندھے ہوئے فرشتے (میدان حشر میں) آئیں گے۔

﴿23﴾ اور اس دن جہنم کو سامنے لایا جائے گا، تو اس دن انسان کو سمجھ آئے گی اور اس وقت سمجھ آنے کا موقع کہاں ہوگا ؟

﴿24﴾ وہ کہے گا کہ : کاش ! میں نے اپنی اس زندگی کے لیے کچھ آگے بھیج دیا ہوتا۔

﴿25﴾ پھر اس دن اللہ کے برابر کوئی عذاب دینے والا نہیں ہوگا۔

﴿26﴾ اور نہ اس کے جکڑنے کی طرح کوئی جکڑنے والا ہوگا۔

﴿27﴾ (البتہ نیک لوگوں سے کہا جائے گا کہ) اے وہ جان جو (اللہ کی اطاعت میں) چین پاچکی ہے۔

﴿28﴾ اپنے پروردگار کی طرف اس طرح لوٹ کر آجا کہ تو اس سے راضی ہو، اور وہ تجھ سے راضی۔

﴿29﴾ اور شامل ہوجا میرے (نیک) بندوں میں۔

﴿30﴾ اور داخل ہوجا میری جنت میں۔

البلد

Surah 90

﴿1﴾ میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی۔

﴿2﴾ جبکہ (اے پیغمبر) تم اس شہر میں مقیم ہو

﴿3﴾ اور (قسم کھاتا ہوں) باپ کی اور اس کی اولاد کی۔

﴿4﴾ کہ ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔

﴿5﴾ کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس پر کسی کا بس نہیں چلے گا ؟

﴿6﴾ کہتا ہے کہ : میں نے ڈھیروں مال اڑا ڈالا ہے۔

﴿7﴾ کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کو کسی نے دیکھا نہیں ؟

﴿8﴾ کیا ہم نے اسے دو آنکھیں نہیں دیں ؟

﴿9﴾ اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے ؟

﴿10﴾ اور ہم نے اس کو دونوں راستے بتا دیئے ہیں۔

﴿11﴾ پھر وہ اس گھاٹی میں داخل نہیں ہوسکا۔

﴿12﴾ اور تمہیں کیا پتہ کہ وہ گھاٹی کیا ہے ؟

﴿13﴾ کسی کی گردن (غلامی سے) چھڑا دینا ہے۔

﴿14﴾ یا پھر کسی بھوک والے دن میں کھانا کھلا دینا

﴿15﴾ کسی رشتہ دار یتیم کو۔

﴿16﴾ یا کسی مسکین کو جو مٹی میں رل رہا ہو۔

﴿17﴾ پھر وہ ان لوگوں میں بھی شامل ہوا جو ایمان لائے ہیں، اور جنہوں نے ایک دوسرے کو ثابت قدمی کی تاکید کی ہے، اور ایک دوسرے کو رحم کھانے کی تاکید کی ہے۔

﴿18﴾ یہی وہ لوگ ہیں جو بڑے نصیب والے ہیں۔

﴿19﴾ اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا ہے، وہ نحوست والے لوگ ہیں۔

﴿20﴾ ان پر ایسی آگ مسلط ہوگی جو ان پر بند کردی جائے گی۔

الشمس

Surah 91

﴿1﴾ قسم ہے سورج کی اور اس کی پھیلی ہوئی دھوپ کی۔

﴿2﴾ اور چاند کی جب وہ سورج کے پیچھے پیچھے آئے۔

﴿3﴾ اور دن کی جب وہ سورج کا جلوہ دکھا دے۔

﴿4﴾ اور رات کی جب وہ اس پر چھا کر اسے چھپالے۔

﴿5﴾ اور قسم ہے آسمان کی، اور اس کی جس نے اسے بنایا۔

﴿6﴾ اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے بچھایا۔

﴿7﴾ اور انسانی جان کی، اور اس کی جس نے اسے سنوارا۔

﴿8﴾ پھر اس کے دل میں وہ بات بھی ڈال دی جو اس کے لیے بدکاری کی ہے، اور وہ بھی جو اس کے لیے پرہیزگاری کی ہے۔

﴿9﴾ فلاح اسے ملے گی جو اس نفس کو پاکیزہ بنائے۔

﴿10﴾ اور نامراد وہ ہوگا جو اس کو (گناہ میں) دھنسا دے۔

﴿11﴾ قوم ثمود نے اپنی سرکشی سے (پیغمبر کو) جھٹلایا۔

﴿12﴾ جب ان کا سب سے سنگدل شخص اٹھ کھڑا ہوا۔

﴿13﴾ تو اللہ کے پیغمبر نے ان سے کہا کہ : خبردار ! اللہ کی اونٹنی کا اور اس کے پانی پینے کا پورا خیال رکھنا۔

﴿14﴾ پھر بھی انہوں نے پیغبر کو جھٹلایا، اور اس اونٹنی کو مار ڈالا نتیجہ یہ کہ ان کے پروردگار نے ان کے گناہ کی وجہ سے ان کی اینٹ سے اینٹ بجا کر سب کو برابر کردیا۔

﴿15﴾ اور اللہ کو اس کے کسی برے انجام کا کوئی خوف نہیں ہے۔

اللّیل

Surah 92

﴿1﴾ قسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے۔

﴿2﴾ اور دن کی جب اس کا اجالا پھیل جائے۔

﴿3﴾ اور اس ذات کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا۔

﴿4﴾ کہ حقیقت میں تم لوگوں کی کوششیں الگ الگ قسم کی ہیں۔

﴿5﴾ اب جس کسی نے (اللہ کے راستے میں مال) دیا، اور تقوی اختیار کیا۔

﴿6﴾ اور سب سے اچھی بات کو دل سے مانا۔

﴿7﴾ تو ہم اس کو آرام کی منزل تک پہنچنے کی تیاری کرا دیں گے۔

﴿8﴾ رہا وہ شخص جس نے بخل سے کام لیا، اور (اللہ سے) بےنیازی اختیار کی۔

﴿9﴾ اور سب سے اچھی بات کو جھٹلایا۔

﴿10﴾ تو ہم اس کو تکلیف کی منزل تک پہنچنے کی تیاری کرا دیں گے۔

﴿11﴾ اور جب ایسا شخص تباہی کے گڑھے میں گرے گا تو اس کا مال اس کے کچھ کام نہیں آئے گا۔

﴿12﴾ یہ سچ ہے کہ راستہ بتلا دینا ہمارے ذمے ہے۔

﴿13﴾ اور یہ بھی سچ ہے کہ آخرت اور دنیا دونوں ہمارے قبضے میں ہیں۔

﴿14﴾ لہذا میں نے تمہیں ایک بھڑکتی ہوئی آگ سے خبردار کردیا ہے۔

﴿15﴾ اس آگ میں کوئی اور نہیں، وہی بدبخت داخل ہوگا۔

﴿16﴾ جس نے حق کو جھٹلایا، اور منہ موڑا۔

﴿17﴾ اور اس سے ایسے پرہیزگار شخص کو دور رکھا جائے گا۔

﴿18﴾ جو اپنا مال پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے (اللہ کے راستے میں) دیتا ہے۔

﴿19﴾ حالانکہ اس پر کسی کا کوئی احسان نہیں تھا جس کا بدلہ دیا جاتا۔

﴿20﴾ البتہ وہ صرف اپنے اس پروردگار کی خوشنودی چاہتا ہے جس کی شان سب سے اونچی ہے۔

﴿21﴾ یقین رکھو ایسا شخص عنقریب خوش ہوجائے گا۔

الضحیٰ

Surah 93

﴿1﴾ (اے پیغمبر) قسم ہے چڑھتے دن کی روشنی کی۔

﴿2﴾ اور رات کی جب اس کا اندھیرا بیٹھ جائے۔

﴿3﴾ کہ تمہارے پروردگار نے نہ تمہیں چھوڑا ہے اور نہ ناراض ہوا ہے۔

﴿4﴾ اور یقینا آگے آنے والے حالات تمہارے لیے پہلے حالات سے بہتر ہیں۔

﴿5﴾ اور یقین جانو کہ عنقریب تمہارا پروردگار تمہیں اتنا اتنا دے گا کہ تم خوش ہوجاؤ گے۔

﴿6﴾ کیا اس نے تمہیں یتیم نہیں پایا تھا، پھر (تمہیں) ٹھکانا دیا ؟

﴿7﴾ اور تمہیں راستے سے ناواقف پایا تو راستہ دکھایا

﴿8﴾ اور تمہیں نادار پایا تو غنی کردیا۔

﴿9﴾ اب جو یتیم ہے تم اس پر سختی مت کرنا۔

﴿10﴾ اور جو سوال کرنے والا ہو، اسے جھڑکنا نہیں۔

﴿11﴾ اور جو تمہارے پروردگار کی نعمت ہے اس کا تذکرہ کرتے رہنا۔

الم نشرح

Surah 94

﴿1﴾ (اے پیغمبر) کیا ہم نے تمہاری خاطر تمہارا سینہ کھول نہیں دیا ؟

﴿2﴾ اور ہم نے تم سے تمہارا وہ بوجھ اتار دیا ہے۔

﴿3﴾ جس نے تمہاری کمر توڑ رکھی تھی۔

﴿4﴾ اور ہم نے تمہاری خاطر تمہارے تذکرے کو اونچا مقام عطا کردیا ہے۔

﴿5﴾ چنانچہ حقیقت یہ ہے کہ مشکلات کے ساتھ آسانی بھی ہوتی ہے۔

﴿6﴾ یقینا مشکلات کے ساتھ آسانی بھی ہوتی ہے۔

﴿7﴾ لہذا جب تم فارغ ہوجاؤ تو (عبادت میں) اپنے آپ کو تھکاؤ۔

﴿8﴾ اور اپنے پروردگار ہی سے دل لگاؤ۔

التین

Surah 95

﴿1﴾ قسم ہے انجیر اور زیتون کی۔

﴿2﴾ اور صحرائے سینا کے پہاڑ طور کی۔

﴿3﴾ اور اس امن وامان والے شہر کی۔

﴿4﴾ کہ ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھال کر پیدا کیا ہے۔

﴿5﴾ پھر ہم اسے پستی والوں میں سب سے زیادہ نچلی حالت میں کردیتے ہیں۔

﴿6﴾ سوائے ان کے جو ایمان لائے، اور انہوں نے نیک عمل کیے، تو ان کو ایسا اجر ملے گا جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔

﴿7﴾ پھر (اے انسان) وہ کیا چیز ہے جو تجھے جزاء و سزا کو جھٹلانے پر آمادہ کر رہی ہے ؟

﴿8﴾ کیا اللہ سارے حکمرانوں سے بڑھ کر حکمران نہیں ہے ؟

العلق

Surah 96

﴿1﴾ پڑھو اپنے پروردگار کا نام لے کر جس نے سب کچھ پیدا کیا۔

﴿2﴾ اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا ہے۔

﴿3﴾ پڑھو، اور تمہارا پروردگار سب سے زیادہ کرم والا ہے۔

﴿4﴾ جس نے قلم سے تعلیم دی۔

﴿5﴾ انسان کو اس بات کی تعلیم دی جو وہ نہیں جانتا تھا۔

﴿6﴾ حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلی سرکشی کر رہا ہے۔

﴿7﴾ کیونکہ اس نے اپنے آپ کو بےنیاز سمجھ لیا ہے۔

﴿8﴾ سچ تو یہ ہے کہ تمہارے پروردگار ہی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔

﴿9﴾ بھلا تم نے اس شخص کو بھی دیکھا جو ایک بندے کو منع کرتا ہے

﴿10﴾ جب وہ نماز پڑھتا ہے ؟

﴿11﴾ بھلا بتلاؤ کہ اگر وہ (نماز پڑھنے والا) ہدایت پر ہو۔

﴿12﴾ یا تقوی کا حکم دیتا ہو (تو کیا اسے روکنا گمراہی نہیں ؟)

﴿13﴾ بھلا بتلاؤ کہ اگر وہ (روکنے والا) حق کو جھٹلاتا ہو، اور منہ موڑتا ہو۔

﴿14﴾ کیا اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے ؟

﴿15﴾ خبردار ! اگر وہ باز نہ آیا تو ہم (اسے) پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے۔

﴿16﴾ اس پیشانی کے بال جو جھوٹی ہے، گنہگار ہے

﴿17﴾ اب وہ بلالے اپنی مجلس والوں کو۔

﴿18﴾ ہم دوزخ کے فرشتوں کو بلا لیں گے۔

﴿19﴾ ہرگز نہیں ! اس کی بات نہ مانو، اور سجدہ کرو، اور قریب آجاؤ۔

القدر

Surah 97

﴿1﴾ بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔

﴿2﴾ اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا چیز ہے ؟

﴿3﴾ شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔

﴿4﴾ اس میں فرشتے اور روح اپنے پروردگار کی اجازت سے ہر کام کے لیے اترتے ہیں۔

﴿5﴾ وہ رات سراپا سلامتی ہے فجر کے طلوع ہونے تک۔

البیّنہ

Surah 98

﴿1﴾ اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کافر تھے، وہ اس وقت تک باز آنے والے نہیں تھے جب تک کہ ان کے پاس روشن دلیل نہ آتی۔

﴿2﴾ یعنی ایک اللہ کا رسول جو پاک صحیفے پڑھ کر سنائے۔

﴿3﴾ جن میں سیدھی تحریریں لکھی ہوں۔

﴿4﴾ اور جو اہل کتاب تھے، انہوں نے جدا راستہ اسی کے بعد اختیار کیا جب ان کے پاس روشن دلیل آچکی تھی۔

﴿5﴾ اور انہیں اس کے سوا کوئی اور حکم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت اس طرح کریں کہ بندگی کو بالکل یکسو ہو کر صرف اسی کے لیے خاص رکھیں، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، اور یہی سیدھی سچی امت کا دین ہے۔

﴿6﴾ یقین جانو کہ اہل کتاب اور مشرکین میں سے جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ جہنم کی آگ میں جائیں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ لوگ ساری مخلوق میں سب سے برے ہیں۔

﴿7﴾ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ بیشک ساری مخلوق میں سب سے بہتر ہیں

﴿8﴾ ان کے پروردگار کے پاس ان کا انعام وہ سدا بہار جنتیں ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں۔ وہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے خوش ہوگا اور وہ اس سے خوش ہوں گے۔ یہ سب کچھ اس کے لیے ہے جو اپنے پروردگار کا خوف دل میں رکھتا ہوں۔

الزلزال

Surah 99

﴿1﴾ جب زمین اپنے بھونچال سے جھنجھوڑ دی جائے گی۔

﴿2﴾ اور زمین اپنے بوجھ باہر نکال دے گی۔

﴿3﴾ اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوگیا ہے ؟

﴿4﴾ اس دن زمین اپنی ساری خبریں بتادے گی۔

﴿5﴾ کیونکہ تمہارے پروردگار نے اسے یہی حکم دیا ہوگا۔

﴿6﴾ اس روز لوگ مختلف ٹولیوں میں واپس ہوں گے، تاکہ ان کے اعمال انہیں دکھا دیے جائیں۔

﴿7﴾ چنانچہ جس نے ذرہ برابر کوئی اچھائی کی ہوگی وہ اسے دیکھے گا۔

﴿8﴾ اور جس نے ذرہ برابر کوئی برائی کی ہوگی، وہ اسے دیکھے گا۔

العادیات

Surah 100

﴿1﴾ قسم ہے ان گھوڑوں کی جو ہانپ ہانپ کر دوڑتے ہیں۔

﴿2﴾ پھر جو (اپنی ٹاپوں سے) چنگاریاں اڑاتے ہیں۔

﴿3﴾ پھر صبح کے وقت یلغار کرتے ہیں۔

﴿4﴾ پھر اس موقع پر غبار اڑاتے ہیں۔

﴿5﴾ پھر اسی وقت کسی جمگھٹے کے بیچوں بیچ جاگھستے ہیں۔

﴿6﴾ کہ انسان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے۔

﴿7﴾ اور وہ خود اس بات کا گواہ ہے۔

﴿8﴾ اور حقیقت یہ ہے کہ وہ مال کی محبت میں بہت پکا ہے۔

﴿9﴾ بھلا کیا وہ وقت اسے معلوم نہیں ہے جب قبروں میں جو کچھ ہے اسے باہر بکھیر دیا جائے گا۔

﴿10﴾ اور سینوں میں جو کچھ ہے اسے ظاہر کردیا جائے گا۔

﴿11﴾ یقینا ان کا پروردگار اس دن ان (کی جو حالت ہوگی اس) سے پوری طرح باخبر ہے۔

القارعہ

Surah 101

﴿1﴾ (یاد کرو) وہ واقعہ جو دل دہلا کر رکھ دے گا۔

﴿2﴾ کیا ہے وہ دل دہلانے والا واقعہ ؟

﴿3﴾ اور تمہیں کیا معلوم وہ دل دہلانے والا واقعہ کیا ہے ؟

﴿4﴾ جس دن سارے لوگ پھیلے ہوئے پروانوں کی طرح ہوجائیں گے۔

﴿5﴾ اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین اون کی طرح ہوجائیں گے۔

﴿6﴾ اب جس شخص کے پلڑے وزنی ہوں گے۔

﴿7﴾ تو وہ من پسند زندگی میں ہوگا۔

﴿8﴾ اور وہ جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے۔

﴿9﴾ تو اس کا ٹھکانا ایک گہرا گڑھا ہوگا۔

﴿10﴾ اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ گہرا گڑھا کیا چیز ہے ؟

﴿11﴾ ایک دہکتی ہوئی آگ

التکاثر

Surah 102

﴿1﴾ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر (دنیا کا عیش) حاصل کرنے کی ہوس نے تمہیں غلفت میں ڈال رکھا ہے۔

﴿2﴾ یہاں تک کہ تم قبرستانوں میں پہنچ جاتے ہو۔

﴿3﴾ ہرگز ایسا نہیں چاہیے۔ تمہیں عنقریب سب پتہ چل جائے گا۔

﴿4﴾ پھر (سن لو کہ) ہرگز ایسا نہیں چاہیے۔ تمہیں عنقریب سب پتہ چل جائے گا۔

﴿5﴾ ہرگز نہیں ! اگر تم یقینی علم کے ساتھ یہ بات جانتے ہوتے (تو ایسا نہ کرتے)

﴿6﴾ یقین جانو تم دوزخ کو ضرور دیکھو گے۔

﴿7﴾ پھر یقین جانو کہ تم اسے بالکل یقین کے ساتھ دیکھ لو گے۔

﴿8﴾ پھر تم سے اس دن نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا (کہ ان کا کیا حق ادا کیا)

العصر

Surah 103

﴿1﴾ زمانے کی قسم۔

﴿2﴾ انسان درحقیقت بڑے گھاٹے میں ہے۔

﴿3﴾ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اور ایک دوسرے کو حق بات کی نصیحت کریں، اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کریں۔

الھمزہ

Surah 104

﴿1﴾ بڑی خرابی ہے اس شخص کی جو پیٹھ پیچھے دوسروں پر عیب لگانے والا (اور) منہ پر طعنے دینے کا عادی ہو۔

﴿2﴾ جس نے مال اکٹھا کیا ہو اور اسے گنتا رہتا ہو۔

﴿3﴾ وہ سمجھتا ہے کہ اسکا مال اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا۔

﴿4﴾ ہرگز نہیں ! اس کو تو ایسی جگہ میں پھینکا جائے گا جو چورا چورا کرنے والی ہے۔

﴿5﴾ اور تمہیں کیا معلوم وہ چورا چورا کرنے والی چیز کیا ہے ؟

﴿6﴾ اللہ کی سلگائی ہوئی آگ

﴿7﴾ جو دلوں تک جا چڑھے گی۔

﴿8﴾ یقینا جانو وہ ان پر بند کردی جائے گی۔

﴿9﴾ جبکہ وہ (آگے کے) لمبے چوڑے ستونوں میں (گھرے ہوئے) ہوں گے۔

الفیل

Surah 105

﴿1﴾ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیسا معاملہ کیا ؟

﴿2﴾ کیا اس نے ان لوگوں کی ساری چالیں بیکار نہیں کردی تھیں ؟

﴿3﴾ اور ان پر غول کے غول پرندے چھوڑ دیے تھے۔

﴿4﴾ جو ان پر پکی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے۔

﴿5﴾ چنانچہ انہیں ایسا کر ڈالا جیسے کھایا ہوا بھوسا۔

قریش

Surah 106

﴿1﴾ چونکہ قریش کے لوگ عادی ہیں۔

﴿2﴾ یعنی وہ سردی اور گرمی کے موسموں میں (یمن اور شام کے) سفر کرنے کے عادی ہیں۔

﴿3﴾ اس لیے انہیں چاہیے کہ وہ اس گھر کے مالک کی عبادت کریں۔

﴿4﴾ جس نے بھوک کی حالت میں انہیں کھانے کو دیا، اور بدامنی سے انہیں محفوظ رکھا۔

الماعون

Surah 107

﴿1﴾ کیا تم نے اسے دیکھا جو جزاء و سزا کو جھٹلاتا ہے ؟

﴿2﴾ وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔

﴿3﴾ اور مسکین کو کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتا۔

﴿4﴾ پھر بڑی خرابی ہے ان نماز پڑھنے والوں کی

﴿5﴾ جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں۔

﴿6﴾ جو دکھاوا کرتے ہیں۔

﴿7﴾ اور دوسروں کو معمولی چیز دینے سے بھی انکار کرتے ہیں۔

الکوثر

Surah 108

﴿1﴾ (اے پیغمبر) یقین جانو ہم نے تمہیں کوثر عطا کردی ہے۔

﴿2﴾ لہذا تم اپنے پروردگار (کی خوشنودی) کے لیے نماز پڑھو، اور قربانی کرو۔

﴿3﴾ یقین جانو تمہارا دشمن ہی وہ ہے جس کی جڑ کٹی ہوئی ہے۔

الکافرون

Surah 109

﴿1﴾ تم کہہ دو کہ : اے حق کا انکار کرنے والو۔

﴿2﴾ میں ان چیزوں کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو۔

﴿3﴾ اور تم اس کی عبادت نہیں کرتے جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔

﴿4﴾ اور نہ میں (آئندہ) اس کی عبادت کرنے والا ہوں جس کی عبادت تم کرتے ہو۔

﴿5﴾ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔

﴿6﴾ تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔

النصر

Surah 110

﴿1﴾ جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے۔

﴿2﴾ اور تم لوگوں کو دیکھ لو کہ وہ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہورہے ہیں۔

﴿3﴾ تو اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو، اور اس سے مغفرت مانگو۔ یقین جانو وہ بہت معاف کرنے والا ہے۔

اللهب

Surah 111

﴿1﴾ ہاتھ ابولہب کے برباد ہوں، اور وہ خود برباد ہوچکا ہے۔

﴿2﴾ اس کی دولت اور اس نے جو کمائی کی تھی وہ اس کے کچھ کام نہیں آئی۔

﴿3﴾ وہ بھڑکتے شعلوں والی آگ میں داخل ہوگا۔

﴿4﴾ اور اس کی بیوی بھی لکڑیاں ڈھوتی ہوئی۔

﴿5﴾ اپنی گردن میں مونجھ کی رسی لیے ہوئے۔

الاخلاص

Surah 112

﴿1﴾ کہہ دو : بات یہ ہے کہ اللہ ہر لحاظ سے ایک ہے۔

﴿2﴾ اللہ ہی ایسا ہے کہ سب اس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں۔

﴿3﴾ نہ اس کی کوئی اولاد ہے، اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔

﴿4﴾ اور اس کے جوڑ کا کوئی نہیں۔

الفلق

Surah 113

﴿1﴾ کہو کہ : میں صبح کے مالک کی پناہ مانگتا ہوں۔

﴿2﴾ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔

﴿3﴾ اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ پھیل جائے۔

﴿4﴾ اور ان جانوں کے شر سے جو (گنڈے کی) گرہوں میں پھونک مارتی ہیں۔

﴿5﴾ اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔

الناس

Surah 114

﴿1﴾ کہو کہ : میں پناہ مانگتا ہوں سب لوگوں کے پروردگار کی۔

﴿2﴾ سب لوگوں کے بادشاہ کی۔

﴿3﴾ سب لوگوں کے معبود کی۔

﴿4﴾ اس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو پیچھے کو چھپ جاتا ہے۔

﴿5﴾ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔

﴿6﴾ چاہے وہ جنات میں سے ہو، یا انسانوں میں سے۔