(اور معاش و معاد کو) درست کرنیوالی ہے تاکہ ڈرائے سخت گرفت سے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوئی ہے اور یہ مژدہ سنائے ان اہل ایمان کو جو کرتے ہیں نیک اعمال کہ بیشک ان کے لیے بہت عمدہ جزاء ہے
نہ انھیں اللہ تعالیٰ (کی ذات و صفات) کا کچھ علم ہے اور نہ انکے باپ دادا کو کتنی بری ہے وہ بات جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے وہ نہیں کہتے ہیں مگر (سر تا سر) جھوٹ
(یاد کرو) جب پناہ لی ان نوجوانوں نے غار میں پھر انھوں نے دعا مانگی اے ہمارے رب! ہمیں مرحمت فرما اپنی جناب سے رحمت اور مہیا فرما ہمارے لیے اس کام میں ہدایت
اور ہم نے مضبوط کر دیا ان کے دلوں کو جب وہ راہ حق میں کھڑے ہو گئے تو انہوں نے (بر ملا) کہہ دیا ہمارا پروردگار وہ ہے جو پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کو ہم ہر گز نہیں پکاریں گے اس کے سوا کسی معبود کو (اگر ہم ایسا کریں) تو گویا ہم نے ایسی بات کہی جو حق سے دور ہے
یہ ہماری قوم ہے جنھوں نے بنا لیا ہے اس کے سوا غیروں کو (اپنے ) خدا ۔ کیوں نہیں پیش کرتے ان (کی خدائی ) پر کوئی ایسی دلیل جو روشن ہو ورنہ پھر اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھتا ہے
اور جب تم الگ ہو گئے ہو ان (کفّار) سے اور ان معبودوں سے جن کی یہ پوجا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا۔ تو اب پناہ لو غار میں پھیلا دے گا تمھارے لیے تمھار ا رب اپنی رحمت (کا دامن) اور مہیا کر دے گا تمھارے لیے تمھارے اس کام میں آسانیاں
اور تو دیکھے گا سورج کو جب وہ ابھرتا ہے تو وہ ہٹ کر گزرتا ہے ان کی غار سے دائیں جانب اور جب وہ ڈوبتا ہے تو بائیں طرف کتراتا ہوا ڈوبتا ہے اور وہ ( سو رہے ) ہیں ایک کشادہ جگہ غار میں ۔ (سورج) کا یوں (طلوع و غرب) اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے (حقیقت یہ ہے) کہ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے وہی ہدایت یافتہ ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے تو تو نہیں پائیگا اس کے لیے کوئی مددگار (اور) رہنما
اور (اگر تو دیکھے تو) تو انھیں بیدار خیال کریگا حالانکہ وہ سو رہے ہیں اور ہم انکی کروٹ بدلتے رہتے ہیں (کبھی) دائیں جانب اور (کبھی) بائیں جانب اور ان کا کتّا پھیلائے بیٹھا ہے اپنے دونوں بازو ان کی دہلیز پر اگر تو جھانک کر انھیں دیکھے توان سے منہ پھیر کر بھاگ کھڑا ہو اور تو بھر جائے انکے (منظر ) کو دیکھ کرہیبت سے
اور اسی طرح ہم نے انھیں بیدار کر دیا تاکہ وہ ایک دوسرے سے آپس میں پوچھیں ۔ کہنے لگا ایک کہنے والا ان سے کہ تم یہاں کتنی مدت ٹھہرے ہو؟ بعض نے کہا ہم ٹھہرے ہونگے ایک دِن یا دِن کا کچھ حصہ۔ دوسروں نے کہا تمھار ا رب بہتر جانتاہے جتنی مدت تم ٹھہرے ہو۔ پس بھیجو کسی کو اپنے ساتھیوں سے اپنے ایک سِکّہ کے ساتھ شہر کی طرف پس وہ دیکھے کہ کس کے ہاں عمدہ پاکیزہ کھانا ملتا ہے پس وہ لے آئے تھمارے پاس کھاناوہاں سے۔ اسے چاہیے کہ خوش خلقی سے کام لے اور کسی کوتمھاری خبر نہ ہونے دے
وہ لوگ اگر آگاہ ہو گئے تم پر تو وہ تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے یا تمھیں (جبراً) لوٹا دینگے اپنے (جھوٹے) مذہب میں اور (اگر تم نے ایسا کیا) تو تم کبھی بھی فلاح نہیں پا سکو گے
اور بستی والوں کو ہم نے اچانگ آگاہ کر دیا ان (اصحاب کہف) پر تاکہ وہ جان لیں کہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور بلاشبہ قیامت کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ۔ جب وہ بستی والے جھگڑ رہے تھے آپس میں انکے معاملہ میں تو بعض نے کہا کہ (بطور یادگار) تعمیر کرو ان کے غار پر کوئی عمارت ان کا رب انکے اعمال سے خوب واقف ہے، کہنے لگے وہ لوگ جو غالب آئے تھے اپنے کام پر کہ بخدا ہم ضرور ان پر ایک مسجد بنائیں گے
کچھ کہیں گے کہ اصحاب کہف تین تھے چوتھا ان کا کتّا تھا کچھ کہیں گے وہ پانچ تھے چھٹا ان کا کتّا تھا یہ سب تخمینے ہیں بن دیکھے اور کچھ کہیں گے وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتّا تھا آپ فرمائیے (اس بحث کو رہنے دو) میرا رب بہتر جانتا ہے انکی تعداد کو (اور ) نہیں جانتے ان (کی صحیح تعداد) کو مگر چند آدمی ۔ سو بحث نہ کرو ان کے بارے میں بجز اس کے کہ سرسری سی گفتگو ہو جائے اور نہ دریافت کرو انکے متعلق (اہل کتاب) میں کسی اور سے
مگر (یہ کہ ساتھ یہ بھی کہو) اگر چاہا اللہ تعالیٰ نے اور یاد کرو اپنے رب کو جب تو بھول جائے (یہ بھی) کہو کہ مجھے امید ہے کہ دکھا دے گا مجھے میرا رب اس سے بھی قریب تر ہدایت کی راہ
آپ فرمائیے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے جتنی مدت وہ ٹھیرے اسی کے لیے (علم) غیب ہے آسمانوں اور زمین کا ۔ وہ بڑا دیکھنے والا ہے اور سب باتیں سننے والا ہے نہیں ان کا اس کے سوا کوئی دوست اور نہیں شریک کرتا اپنے حکم میں کسی کو
اور روکے رکھئے اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح و شام طلب گار ہیں اس کی رضا کے اور نہ ہٹیں آپ کی نگاہیں ان سے کیا آپ چاہتے ہیں دنیوی زندگی کی زینت اور نہ پیروی کیجیے اس (بدنصیب) کی غافل کر دیا ہے ہم نے جس کے دل کو اپنی یاد سے اور وہ اتباع کرتا ہے اپنی خواہش کا اور اس کا معاملہ حد سے گزر گیا ہے
اور فرمائیے حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جس کا جی چاہے وہ ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے کفر کرتا رہے۔ بیشک ہم نے تیار کر رکھی ہے ظالموں کے لیے آگ گھیر لیا ہے انھیں اس آگ کی دیوار نے ۔ اور اگر وہ فریاد کرینگے تو انکی فریاد رسی کی جائیگی ایسے پانی کے ساتھ جو پیپ کی طرح (غلیظ ) ہے (اور اتنا گرم کہ) بُھون ڈالتا ہے چہروں کو یہ مشروب بڑا ناگوار ہے اور یہ قرار گاہ بڑی تکلیف دہ ہے
یہی وہ خوش نصیب ہیں جنکے لیے ہمیشگی کی جنت ہیں رواں ہیں جن کے نیچے ندیاں انھیں پہنائے جائیں گے ان جنتوں میں کنگن سونے کے اور پہنیں گے سبز رنگ کا لباس جو باریک ریشمی کپڑے اور موٹے ریشمی کپڑے کا بنا ہوا ہو گا۔ تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے وہاں مرصع پلنگوں پر۔ کتنا اچھا ہے یہ اجر اور کتنی عمدہ ہے یہ آرام گاہ
اور بیان فرمائیے ان کے لیے مثال دو آدمیوں کی ہم نے دیے تھے ان دونوں میں سے ایک کو دو باغ انگوروں کے اور ہم نے باڑ بنا دی ان دونوں کے اردگردکھجور (کے درختوں ) کی اوراُگا دی ان دونوں کے درمیان کھیتی
اور (باغوں کے علاوہ) اور بھی اس کے اموال تھے تو (ایک روز ) اس نے اپنے ساتھی سے بحث مباحثہ کے دوران کہا کہ میں دولت کہ لحاظ سے بھی تم سے زیادہ ہوں اور نفری کے لحاظ سے بھی تم سے طاقتور ہوں
اور میں یہ خیال بھی نہیں کرتا کہ کبھی قیامت بھی پر پا ہو گی اور بفرض محال اگر مجھے لوٹایا گیا اپنے رب کی طرف تو یقیناً میں پاؤنگا اس (نزہتگاہ) سے بہترپلٹنے کی جگہ
اور کیوں ایسا نہ ہوا کہ جب تو باغ میں داخل ہواتو تو کہتا ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ (وہی ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کسی میں کوئی طاقت نہیں) اگر تو نے مجھے دیکھا کہ میں کم ہوں تجھ سے مال اور اولاد میں
پس عجب نہیں کہ میرا رب مجھے عطا فرما دے کوئی بہتر چیز تیرے (اس) باغ سے اور اتار رہے اس باغ پر کوئی آسمانی عذاب تو ہو جائے یہ (سر سبز) باغ ایک چٹیل میدان
اور اس کے (باغ) کا پھل برباد ہو گیا پس وہ کف افسوس ملنے لگا اس مال کے نقصان پر جو اس نے باغ پر خرچ کیا تھا اور (اب) وہ گِر پڑا تھا اپنے چھپروں پر اور (بصد حسرت) کہنے لگاکاش! میں نے کسی کو اپنے رب کا شریک نہ بنایا ہوتا
بیان فرمائیے ان سے دنیوی زندگی کی (ایک اور) مثال یہ پانی کی طرح ہے جسے ہم نے اتارا ہے آسمان سے پس گنجان ہو کر اگتی ہے اس پانی سے زمین کی انگوریاں پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ خشک بوسیدہ گھاس ہو جاتی ہے اڑائے پھرتی ہے اسے ہوائیں۔ اور اللہ تعالیٰ پر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے
مال اور فرزند (تو صرف) دنیوی زندگی کی زیب و زینت ہیں اور (در حقیقت) باقی رہنے والی نیکیاں بہتر ہیں تیرے رب کے ہاں ثواب کے اعتبار سے اور بہتر ہے جس سے امید وابستہ کی جاتی ہے
اور (غور کرو) جس روز ہم ہٹا دینگے پہاڑوں کو (انکی جگہ سے) اور تم دیکھو گے زمین کو کہ کھلا میدان ہے، اور ہم جمع کرینگے انھیں پس نہیں پیچھے رہنے دینگے ان میں سے کسی کو
اور وہ پیش کیے جائینگے آپ کے رب کی بارگاہ میں صفیں باندھے ہوئے (پھر ہم انھیں کہیں گے کہ) آج تم آگئے ہو ہمارے پاس جیسے ہم نے پیدا کیا تھا تمھیں پہلی بار ہاں تم یہ خیال کیے ہوئے تھے کہ ہم نہیں مقرر کرینگے تمھارے لیے وعدہ کا وقت
اور رکھ دیا جائیگا (انکے سامنے) نامہ اعمال پس تو دیکھے گا مجرموں کو وہ ڈر رہے ہونگے اس سے جو اس میں ہے وہ کہیں گے صد حیف! اس نوشتہ کو کیا ہو گیا ہے کہ نہیں چھوڑا اس نے کسی چھوٹے گناہ کو اور نہ کسی بڑے گناہ کو مگر اس نے اس کا شمار کر لیا ہے اور (اُس دن) وہ پالیں گے جو عمل انھوں نے کیے تھے اپنے سامنے اور آپکا رب تو (اے حبیب!) کسی پر زیادتی نہیں کرتا
اور یاد کرو جب ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو پس سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے وہ قوم جِنّ سے تھا سو اس نے نافرمانی کی اپنے رب کے حکم کی (اے اولاد آدم!) کیا تم بناتے ہو اسے اور اس کی ذریت کو اپنا دوست مجھے چھوڑ کر حالانکہ وہ سب تمھارے دشمن ہیں ظالموں کے لیے بہت بر ا بدلہ ہے
میں نے ان سے مدد نہیں لی تھی جب آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور نہ (اس وقت ان سے مدد لی) جب خود انھیں پیدا کیا اور میں نہیں بنایا کرتا گمراہ کرنے والوں کو اپنا دست و بازو
اور اس روز اللہ تعالیٰ (کفار کو) فرمائیگا بلاؤ میرے شریکوں کو جنھیں تم ( میرا شریک) خیال کیا کرتے تھے تو وہ انھیں پکارینگے پس وہ انھیں کوئی جواب نہیں دینگے اور ہم حائل کر دینگے ان کے درمیان ایک آڑ
اور کس چیز نے روکا ہے لو گوں کو اس بات سے کہ وہ ایمان لے آئیں جب آگئی ان کے پا س ہدایت (کی روشنی) اور مغفرت طلب کریں اپنے رب سے مگر یہ (کہ وہ منتظر ہیں) کہ آئے ان کے پاس اگلوں کا دستور یا آئے ان کے پاس طرح طرح کا عذاب
اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر مژدہ سنانے والا اور ڈرانے والا اور جھگڑتے ہیں کافر بےسروپا دلیلوں کی آڑ لے کرتا کہ وہ ہٹا دیں اس سے حق کو اور بنا لیا ہے انھوں نے میری آیتوں کو اور جن سے وہ ڈرائے گئے ایک مذاق
اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے نصیحت کی گئی اس کے رب کی آیتوں سے پس اس نے رو گردانی کر لی ان سے اور فراموش کر دیا اس نے ان (اعمال بد کو) جو آگے بھیجے تھے اس کے دونوں ہاتھوں نے ہم نے ڈالدئیے ان کے دلوں پر پردے تاکہ وہ قرآن کو نہ سمجھ سکیں اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کر دی اور اگر تم بلاؤ انھیں ہدایت کی طرف تو جب بھی وہ ہدایت قبول نہیں کرینگے
اور آپ کا پروردگار تو بہت بخشنے والا بڑا ہی رحمت والا ہے اگر وہ پکڑ لیتا انھیں ان کے کیے پر تو جلد ان پر عذاب بھیجتا (وہ ایسا نہیں کرتا) بلکہ ان کو سزا دینے کا ایک وقت مقرر ہے نہیں پائینگے اس وقت اسکے بغیر کوئی پناہ کی جگہ
اس ساتھی نے کہا (اے کلیم!) آپ نے ملاحظہ فرمایا جب ہم (سستانے کے لیے) اس چٹان کے پاس ٹھیرے تھے تو میں بھول گیا مچھلی کو اور نہیں فراموش کرائی مجھے وہ مچھلی مگر شیطان نے کہ میں اس کا ذکر کروں اور اس نے بنا لیا تھا اپنا راستہ دریا میں ۔ بڑے تعجب کی بات ہے
پس وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب وہ سوار ہوئے کشتی میں تو اس بندے نے اس میں شگاف کر دیا موسیٰ ( علیہ السلام) بول اٹھے کیا تم نے اس لیے شگاف کیا ہے کہ اس کی سواریوں کو ڈبو دو۔ یقیناً تم نے بہت برا کام کیا ہے
پھر وہ دونوں چل پڑے حتیٰ کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو اس نے اسے قتل کر ڈالا موسیٰ ( علیہ السلام) (غضب ناک ہو کر) کہنے لگے کیا مار ڈالا آپ نے ایک معصوم جان کو کسی نفس کے بدلہ کے بغیر ۔ بیشک آپ نے ایسا کام کیا ہے جو بہت ہی نازیبا ہے
پھر وہ دونوں چل پڑے حتیٰ کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو اس نے اسے قتل کر ڈالا موسیٰ ( علیہ السلام) (غضب ناک ہو کر) کہنے لگے کیا مار ڈالا آپ نے ایک معصوم جان کو کسی نفس کے بدلہ کے بغیر ۔ بیشک آپ نے ایسا کام کیا ہے جو بہت ہی نازیبا ہے
پھر وہ چل پڑے یہاں تک کہ جب ان کا گزر ہوا گاؤں والوں کے پاس تو انھوں نے ان سے کھانا طلب کیا تو انھوں نے (صاف) انکار کر دیا ان کی میزبانی کرنے سے پھر ان دونوں نے اس گاؤں میں ایک دیوار دیکھی جو گرنے کے قریب تھی تو اس بندے نے اسے درست کر دیا ۔ موسیٰ کہنے لگے اگر آپ چاہتے تو اس محنت پر مزدوری ہی لے لیتے
اس نے کہا (بس سنگت ختم) اب میرے اور آپ کے درمیان جدائی کا وقت آگیا میں آگاہ کرتا ہوں آپ کو ان باتوں کی حقیقت پر جن کے متعلق آپ صبر نہ کر سکے میں آگاہ کرتا ہوں آپ کو ان باتوں کی حقیقت پر جن کے متعلق آپ صبر نہ کر سکے۔
وہ جو کشتی تھی وہ چند غریبوں کی تھی جو (ملاحی کا ) کام کرتے تھے دریا میں ۔ سو میں نے ارادہ کیا کہ اسے عیب دار بنا دوں اور (اسکی وجہ یہ تھی کہ) انکے آگے (جابر) بادشاہ تھا جو پکڑ لیا کرتا تھا ہر کشتی کو زبردستی سے
باقی رہی دیوار ( تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ ) وہ شہر کے دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ (دفن ) تھا اور ان کا باپ بڑا نیک شخص تھا پس آپ کے رب نے ارادہ فرمایا کہ وہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور نکال لیں اپنا دفینہ یہ (ان پر) ان کے رب کی خاص رحمت تھی اور (جو کچھ میں نے کیا) میں نے اپنی مرضی سے نہیں کیا یہ حقیقت ہے ان امور کی جن پر آپ سے صبر نہ ہو سکا
یہاں تک کہ جب وہ غروب آفتاب کی جگہ پہنچا تو اس نے اسے یوں پایا گویا وہ ڈوب رہا ہے ایک سیاہ کیچڑ کے چشمہ میں اور اس نے وہاں ایک قوم پائی ہم نے کہا اے ذوالقرنین!(تمھیں اختیار ہے) خواہ تم انھیں سزا دو خواہ تم ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو
یہاں تک کہ جب وہ پہنچا طلوع آفتاب کے مقام پر تو اس نے پایا سورج کو کہ وہ طلوع ہو رہا ہے ایسی قوم پر کہ نہیں بنائی ہم نے ان کے لیے سورج (کی گرمی) سے بچنے کی آڑ
انھوں نے کہا اے ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج نے بڑا فساد برپا کر رکھا ہے اس علاقے میں تو کیا ہم مقرر کر دیں آپ کے لیے کچھ خراج تاکہ آپ بنا دیں ہمارے درمیان اور ان کے درمیان ایک بلند دیوار
تم لے آؤ میرے پاس لوہے کی چادریں (چنانچہ کام شروع ہو گیا) یہاں تک کہ جب ہموار کر دیا گیا وہ خلا جو دو پہاڑوں کے درمیان تھاتو اس نے حکم دیا دھونکو یہاں تک کہ جب وہ لوہا آگ بنا دیا تو اس نے کہا لے آؤ میرے پاس پگھلا ہوا تانبا کہ میں اسے اس پگھلے ہوئے لوہے پر انڈیلوں
ذوالقرنین نے کہا یہ میرے رب کی رحمت ہے (کہ اس نے مجھے یہ توفیق بخشی) اور جب آجائے گا میرے رب کا وعدہ تو وہ اسے ریزہ ریزہ کر دے گا۔ اور میرے رب کا وعدہ (ہمیشہ) سچا ہوا کرتا ہے
یہی وہ (بد نصیب) ہیں جنھوں نے انکار کیا اپنے رب کی آیتوں کا اور اس کی ملاقات کا تو ضائع ہو گئے ان کے اعمال تو ہم ان (کے اعمال) تولنے کے لیے روز قیامت کوئی ترازو نصب نہیں کریں گے
(اے حبیب!) آپ فرمائیے کہ اگر ہو جائے سمندر روشنائی میرے رب کے کلمات (لکھنے ) کے لیے تو ختم ہو جائیگا سمندر اس سے پیشتر کہ ختم ہوں میرے رب کے کلمات اور اگر ہم لے آئیں اتنی اور روشنائی اسکی مدد کو (تب بھی ختم ہونگے)
(اے پیکر رعنائی و زیبائی) آپ فرمائیے کہ میں بشر ہی ہوں تمھاری طرح وحی کی جاتی ہے میری طرف کہ تمھارا خدا صرف اللہ وحدہ ہے پس جو شخص امید رکھتا ہے اپنے رب سے ملنے کی تو اسے چاہیے کہ وہ نیک عمل کرے اور نہ شریک کرے اپنے رب کی عبادت میں کسی کو