Back to Languages

Urdu - Chapter 18 - Al-Kahf

Translation by Muhammad Karam Shah Al Azhari — Permalink

Verse 1 — Surah Al-Kahf 18:1

سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے نازل فرمائی اپنے (محبوب) بندے پر یہ کتاب اور نہیں پیدا ہونے دی اس میں ذراکجی

Verse 2 — Surah Al-Kahf 18:2

(اور معاش و معاد کو) درست کرنیوالی ہے تاکہ ڈرائے سخت گرفت سے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوئی ہے اور یہ مژدہ سنائے ان اہل ایمان کو جو کرتے ہیں نیک اعمال کہ بیشک ان کے لیے بہت عمدہ جزاء ہے

Verse 3 — Surah Al-Kahf 18:3

وہ ٹھیریں گے اس (جنت) میں تا ابد

Verse 4 — Surah Al-Kahf 18:4

اور تاکہ ڈرائے ان (نادانوں) کو جو یہ کہتے ہیں کہ بنا لیا ہے اللہ تعالیٰ نے (فلاں کو اپنا ) بیٹا

Verse 5 — Surah Al-Kahf 18:5

نہ انھیں اللہ تعالیٰ (کی ذات و صفات) کا کچھ علم ہے اور نہ انکے باپ دادا کو کتنی بری ہے وہ بات جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے وہ نہیں کہتے ہیں مگر (سر تا سر) جھوٹ

Verse 6 — Surah Al-Kahf 18:6

تو کیا آپ (فرط غم سے ) تلف کر دیں گے اپنی جان کو انکے پیچھے اگر وہ ایمان نہ لائے اس قرآن کریم پر افسوس کرتے ہوئے

Verse 7 — Surah Al-Kahf 18:7

بے شک ہم نے بنایا ان چیزوں کو جو زمین پر ہیں اس کے لیے باعث زینت و آرائش تاکہ ہم انھیں آزمائیں کہ ان میں سے کون عمل کے لحاظ سے بہتر ہے

Verse 8 — Surah Al-Kahf 18:8

اور ہم ہی بنانے والے ہیں ان چیزوں کو جو زمین پر ہیں (ویران کر کے) چٹیل میدان، غیر آباد

Verse 9 — Surah Al-Kahf 18:9

کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ غار والے اور رقیم والے ہماری ان نشانیوں میں سے ہیں جو تعجب خیز ہیں

Verse 10 — Surah Al-Kahf 18:10

(یاد کرو) جب پناہ لی ان نوجوانوں نے غار میں پھر انھوں نے دعا مانگی اے ہمارے رب! ہمیں مرحمت فرما اپنی جناب سے رحمت اور مہیا فرما ہمارے لیے اس کام میں ہدایت

Verse 11 — Surah Al-Kahf 18:11

پس ہم نے بند کر دئیے ان کے کان (سننے سے) اس غار میں کئی سال تک جو گنے ہوئے تھے

Verse 12 — Surah Al-Kahf 18:12

پھر ہم نے انھیں بیدار کر دیا تاکہ ہم دیکھیں کہ ان دو گروہوں میں سے کو ن صحیح شمار کر سکتا ہے اس مدت کا جو وہ (غار) میں ٹھہرے تھے

Verse 13 — Surah Al-Kahf 18:13

(اے حبیب!) ہم بیان کرتے ہیں آپ سے ان کی خبر ٹھیک ٹھیک بیشک وہ چند نو جوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کے (نور) ہدایت میں اضافہ کر دیا

Verse 14 — Surah Al-Kahf 18:14

اور ہم نے مضبوط کر دیا ان کے دلوں کو جب وہ راہ حق میں کھڑے ہو گئے تو انہوں نے (بر ملا) کہہ دیا ہمارا پروردگار وہ ہے جو پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کو ہم ہر گز نہیں پکاریں گے اس کے سوا کسی معبود کو (اگر ہم ایسا کریں) تو گویا ہم نے ایسی بات کہی جو حق سے دور ہے

Verse 15 — Surah Al-Kahf 18:15

یہ ہماری قوم ہے جنھوں نے بنا لیا ہے اس کے سوا غیروں کو (اپنے ) خدا ۔ کیوں نہیں پیش کرتے ان (کی خدائی ) پر کوئی ایسی دلیل جو روشن ہو ورنہ پھر اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھتا ہے

Verse 16 — Surah Al-Kahf 18:16

اور جب تم الگ ہو گئے ہو ان (کفّار) سے اور ان معبودوں سے جن کی یہ پوجا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا۔ تو اب پناہ لو غار میں پھیلا دے گا تمھارے لیے تمھار ا رب اپنی رحمت (کا دامن) اور مہیا کر دے گا تمھارے لیے تمھارے اس کام میں آسانیاں

Verse 17 — Surah Al-Kahf 18:17

اور تو دیکھے گا سورج کو جب وہ ابھرتا ہے تو وہ ہٹ کر گزرتا ہے ان کی غار سے دائیں جانب اور جب وہ ڈوبتا ہے تو بائیں طرف کتراتا ہوا ڈوبتا ہے اور وہ ( سو رہے ) ہیں ایک کشادہ جگہ غار میں ۔ (سورج) کا یوں (طلوع و غرب) اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے (حقیقت یہ ہے) کہ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے وہی ہدایت یافتہ ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے تو تو نہیں پائیگا اس کے لیے کوئی مددگار (اور) رہنما

Verse 18 — Surah Al-Kahf 18:18

اور (اگر تو دیکھے تو) تو انھیں بیدار خیال کریگا حالانکہ وہ سو رہے ہیں اور ہم انکی کروٹ بدلتے رہتے ہیں (کبھی) دائیں جانب اور (کبھی) بائیں جانب اور ان کا کتّا پھیلائے بیٹھا ہے اپنے دونوں بازو ان کی دہلیز پر اگر تو جھانک کر انھیں دیکھے توان سے منہ پھیر کر بھاگ کھڑا ہو اور تو بھر جائے انکے (منظر ) کو دیکھ کرہیبت سے

Verse 19 — Surah Al-Kahf 18:19

اور اسی طرح ہم نے انھیں بیدار کر دیا تاکہ وہ ایک دوسرے سے آپس میں پوچھیں ۔ کہنے لگا ایک کہنے والا ان سے کہ تم یہاں کتنی مدت ٹھہرے ہو؟ بعض نے کہا ہم ٹھہرے ہونگے ایک دِن یا دِن کا کچھ حصہ۔ دوسروں نے کہا تمھار ا رب بہتر جانتاہے جتنی مدت تم ٹھہرے ہو۔ پس بھیجو کسی کو اپنے ساتھیوں سے اپنے ایک سِکّہ کے ساتھ شہر کی طرف پس وہ دیکھے کہ کس کے ہاں عمدہ پاکیزہ کھانا ملتا ہے پس وہ لے آئے تھمارے پاس کھاناوہاں سے۔ اسے چاہیے کہ خوش خلقی سے کام لے اور کسی کوتمھاری خبر نہ ہونے دے

Verse 20 — Surah Al-Kahf 18:20

وہ لوگ اگر آگاہ ہو گئے تم پر تو وہ تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے یا تمھیں (جبراً) لوٹا دینگے اپنے (جھوٹے) مذہب میں اور (اگر تم نے ایسا کیا) تو تم کبھی بھی فلاح نہیں پا سکو گے

Verse 21 — Surah Al-Kahf 18:21

اور بستی والوں کو ہم نے اچانگ آگاہ کر دیا ان (اصحاب کہف) پر تاکہ وہ جان لیں کہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور بلاشبہ قیامت کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ۔ جب وہ بستی والے جھگڑ رہے تھے آپس میں انکے معاملہ میں تو بعض نے کہا کہ (بطور یادگار) تعمیر کرو ان کے غار پر کوئی عمارت ان کا رب انکے اعمال سے خوب واقف ہے، کہنے لگے وہ لوگ جو غالب آئے تھے اپنے کام پر کہ بخدا ہم ضرور ان پر ایک مسجد بنائیں گے

Verse 22 — Surah Al-Kahf 18:22

کچھ کہیں گے کہ اصحاب کہف تین تھے چوتھا ان کا کتّا تھا کچھ کہیں گے وہ پانچ تھے چھٹا ان کا کتّا تھا یہ سب تخمینے ہیں بن دیکھے اور کچھ کہیں گے وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتّا تھا آپ فرمائیے (اس بحث کو رہنے دو) میرا رب بہتر جانتا ہے انکی تعداد کو (اور ) نہیں جانتے ان (کی صحیح تعداد) کو مگر چند آدمی ۔ سو بحث نہ کرو ان کے بارے میں بجز اس کے کہ سرسری سی گفتگو ہو جائے اور نہ دریافت کرو انکے متعلق (اہل کتاب) میں کسی اور سے

Verse 23 — Surah Al-Kahf 18:23

ہرگز نہ کہنا کسی چیز کے متعلق کہ میں اسے کرنیوالا ہوں کل

Verse 24 — Surah Al-Kahf 18:24

مگر (یہ کہ ساتھ یہ بھی کہو) اگر چاہا اللہ تعالیٰ نے اور یاد کرو اپنے رب کو جب تو بھول جائے (یہ بھی) کہو کہ مجھے امید ہے کہ دکھا دے گا مجھے میرا رب اس سے بھی قریب تر ہدایت کی راہ

Verse 25 — Surah Al-Kahf 18:25

اور (اہل کتاب کہتے ہیں کہ) وہ ٹھیرے رہے اپنے غار میں تین سو سال اور زیادہ کیے انھوں نے (اس پر) نو سال

Verse 26 — Surah Al-Kahf 18:26

آپ فرمائیے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے جتنی مدت وہ ٹھیرے اسی کے لیے (علم) غیب ہے آسمانوں اور زمین کا ۔ وہ بڑا دیکھنے والا ہے اور سب باتیں سننے والا ہے نہیں ان کا اس کے سوا کوئی دوست اور نہیں شریک کرتا اپنے حکم میں کسی کو

Verse 27 — Surah Al-Kahf 18:27

اور پڑھ سنائیے (انھیں ) جو وحی کیا جاتا ہے آپ کی طرف آپ کے رب کی کتاب سے کوئی بدلنے والا نہیں اس کے ارشادات کا۔ اور نہیں پائیں گے آپ اس کے سواپناہ گاہ

Verse 28 — Surah Al-Kahf 18:28

اور روکے رکھئے اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح و شام طلب گار ہیں اس کی رضا کے اور نہ ہٹیں آپ کی نگاہیں ان سے کیا آپ چاہتے ہیں دنیوی زندگی کی زینت اور نہ پیروی کیجیے اس (بدنصیب) کی غافل کر دیا ہے ہم نے جس کے دل کو اپنی یاد سے اور وہ اتباع کرتا ہے اپنی خواہش کا اور اس کا معاملہ حد سے گزر گیا ہے

Verse 29 — Surah Al-Kahf 18:29

اور فرمائیے حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جس کا جی چاہے وہ ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے کفر کرتا رہے۔ بیشک ہم نے تیار کر رکھی ہے ظالموں کے لیے آگ گھیر لیا ہے انھیں اس آگ کی دیوار نے ۔ اور اگر وہ فریاد کرینگے تو انکی فریاد رسی کی جائیگی ایسے پانی کے ساتھ جو پیپ کی طرح (غلیظ ) ہے (اور اتنا گرم کہ) بُھون ڈالتا ہے چہروں کو یہ مشروب بڑا ناگوار ہے اور یہ قرار گاہ بڑی تکلیف دہ ہے

Verse 30 — Surah Al-Kahf 18:30

بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے (تو ہمارا یہ دستور ہے کہ) ہم ضائع نہیں کرتے کسی کا اجرجو عمدہ اور (مفید) کام کرتاہے

Verse 31 — Surah Al-Kahf 18:31

یہی وہ خوش نصیب ہیں جنکے لیے ہمیشگی کی جنت ہیں رواں ہیں جن کے نیچے ندیاں انھیں پہنائے جائیں گے ان جنتوں میں کنگن سونے کے اور پہنیں گے سبز رنگ کا لباس جو باریک ریشمی کپڑے اور موٹے ریشمی کپڑے کا بنا ہوا ہو گا۔ تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے وہاں مرصع پلنگوں پر۔ کتنا اچھا ہے یہ اجر اور کتنی عمدہ ہے یہ آرام گاہ

Verse 32 — Surah Al-Kahf 18:32

اور بیان فرمائیے ان کے لیے مثال دو آدمیوں کی ہم نے دیے تھے ان دونوں میں سے ایک کو دو باغ انگوروں کے اور ہم نے باڑ بنا دی ان دونوں کے اردگردکھجور (کے درختوں ) کی اوراُگا دی ان دونوں کے درمیان کھیتی

Verse 33 — Surah Al-Kahf 18:33

یہ دونوں باغ اپنے اپنے پھل لائے اور نہ کم ہوئی ان سے کوئی چیز اور ہم نے جاری کر دی ان کے درمیان نہریں

Verse 34 — Surah Al-Kahf 18:34

اور (باغوں کے علاوہ) اور بھی اس کے اموال تھے تو (ایک روز ) اس نے اپنے ساتھی سے بحث مباحثہ کے دوران کہا کہ میں دولت کہ لحاظ سے بھی تم سے زیادہ ہوں اور نفری کے لحاظ سے بھی تم سے طاقتور ہوں

Verse 35 — Surah Al-Kahf 18:35

اور (ایک دن) وہ اپنے باغ میں گیا در آنحالیکہ وہ اپنی جان پر ظلم کرنیوالا تھا کہنے لگا میں نہیں خیال کرتاکہ (یہ سر سبز و شاداب باغ کبھی برباد ہوگا)

Verse 36 — Surah Al-Kahf 18:36

اور میں یہ خیال بھی نہیں کرتا کہ کبھی قیامت بھی پر پا ہو گی اور بفرض محال اگر مجھے لوٹایا گیا اپنے رب کی طرف تو یقیناً میں پاؤنگا اس (نزہتگاہ) سے بہترپلٹنے کی جگہ

Verse 37 — Surah Al-Kahf 18:37

اس کے ساتھی نے اسے بحث و مباحثہ کے درمیان کہا کیا تو انکار کرتا ہے اس ذات کا جس نے تجھے پیدا فرمایا مٹی سے پھر نطفہ سے پھر بنا سنوار کر تجھے مرد بنایا

Verse 38 — Surah Al-Kahf 18:38

لیکن میں ،(تو) وہ اللہ ہی میرا رب ہے اور میں شریک نہیں ٹھیراتا اپنے رب کے ساتھ کسی کو

Verse 39 — Surah Al-Kahf 18:39

اور کیوں ایسا نہ ہوا کہ جب تو باغ میں داخل ہواتو تو کہتا ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ (وہی ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کسی میں کوئی طاقت نہیں) اگر تو نے مجھے دیکھا کہ میں کم ہوں تجھ سے مال اور اولاد میں

Verse 40 — Surah Al-Kahf 18:40

پس عجب نہیں کہ میرا رب مجھے عطا فرما دے کوئی بہتر چیز تیرے (اس) باغ سے اور اتار رہے اس باغ پر کوئی آسمانی عذاب تو ہو جائے یہ (سر سبز) باغ ایک چٹیل میدان

Verse 41 — Surah Al-Kahf 18:41

یا یوں جذب ہو جائے اس کا پانی زمین کی گہرائی میں کہ پھر تو اس کو تلاش کے باوجود نہ پا سکے

Verse 42 — Surah Al-Kahf 18:42

اور اس کے (باغ) کا پھل برباد ہو گیا پس وہ کف افسوس ملنے لگا اس مال کے نقصان پر جو اس نے باغ پر خرچ کیا تھا اور (اب) وہ گِر پڑا تھا اپنے چھپروں پر اور (بصد حسرت) کہنے لگاکاش! میں نے کسی کو اپنے رب کا شریک نہ بنایا ہوتا

Verse 43 — Surah Al-Kahf 18:43

اور نہ رہی تھی اس کے پاس کوئی جماعت جو اس کی مدد کرتی اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں اور نہ وہ بدلہ لینے کے قابل تھے

Verse 44 — Surah Al-Kahf 18:44

یہاں سے ثابت ہو گیا کہ سارا اختیار اللہ سچے کے لیے ہے وہی بہتر ثواب دینے والا ہے اور اس کے ہاتھ میں بہتر انجام ہے

Verse 45 — Surah Al-Kahf 18:45

بیان فرمائیے ان سے دنیوی زندگی کی (ایک اور) مثال یہ پانی کی طرح ہے جسے ہم نے اتارا ہے آسمان سے پس گنجان ہو کر اگتی ہے اس پانی سے زمین کی انگوریاں پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ خشک بوسیدہ گھاس ہو جاتی ہے اڑائے پھرتی ہے اسے ہوائیں۔ اور اللہ تعالیٰ پر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے

Verse 46 — Surah Al-Kahf 18:46

مال اور فرزند (تو صرف) دنیوی زندگی کی زیب و زینت ہیں اور (در حقیقت) باقی رہنے والی نیکیاں بہتر ہیں تیرے رب کے ہاں ثواب کے اعتبار سے اور بہتر ہے جس سے امید وابستہ کی جاتی ہے

Verse 47 — Surah Al-Kahf 18:47

اور (غور کرو) جس روز ہم ہٹا دینگے پہاڑوں کو (انکی جگہ سے) اور تم دیکھو گے زمین کو کہ کھلا میدان ہے، اور ہم جمع کرینگے انھیں پس نہیں پیچھے رہنے دینگے ان میں سے کسی کو

Verse 48 — Surah Al-Kahf 18:48

اور وہ پیش کیے جائینگے آپ کے رب کی بارگاہ میں صفیں باندھے ہوئے (پھر ہم انھیں کہیں گے کہ) آج تم آگئے ہو ہمارے پاس جیسے ہم نے پیدا کیا تھا تمھیں پہلی بار ہاں تم یہ خیال کیے ہوئے تھے کہ ہم نہیں مقرر کرینگے تمھارے لیے وعدہ کا وقت

Verse 49 — Surah Al-Kahf 18:49

اور رکھ دیا جائیگا (انکے سامنے) نامہ اعمال پس تو دیکھے گا مجرموں کو وہ ڈر رہے ہونگے اس سے جو اس میں ہے وہ کہیں گے صد حیف! اس نوشتہ کو کیا ہو گیا ہے کہ نہیں چھوڑا اس نے کسی چھوٹے گناہ کو اور نہ کسی بڑے گناہ کو مگر اس نے اس کا شمار کر لیا ہے اور (اُس دن) وہ پالیں گے جو عمل انھوں نے کیے تھے اپنے سامنے اور آپکا رب تو (اے حبیب!) کسی پر زیادتی نہیں کرتا

Verse 50 — Surah Al-Kahf 18:50

اور یاد کرو جب ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو پس سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے وہ قوم جِنّ سے تھا سو اس نے نافرمانی کی اپنے رب کے حکم کی (اے اولاد آدم!) کیا تم بناتے ہو اسے اور اس کی ذریت کو اپنا دوست مجھے چھوڑ کر حالانکہ وہ سب تمھارے دشمن ہیں ظالموں کے لیے بہت بر ا بدلہ ہے

Verse 51 — Surah Al-Kahf 18:51

میں نے ان سے مدد نہیں لی تھی جب آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور نہ (اس وقت ان سے مدد لی) جب خود انھیں پیدا کیا اور میں نہیں بنایا کرتا گمراہ کرنے والوں کو اپنا دست و بازو

Verse 52 — Surah Al-Kahf 18:52

اور اس روز اللہ تعالیٰ (کفار کو) فرمائیگا بلاؤ میرے شریکوں کو جنھیں تم ( میرا شریک) خیال کیا کرتے تھے تو وہ انھیں پکارینگے پس وہ انھیں کوئی جواب نہیں دینگے اور ہم حائل کر دینگے ان کے درمیان ایک آڑ

Verse 53 — Surah Al-Kahf 18:53

اور دیکھیں گے مجرم (جہنم کی ) آگ کو اور وہ خیال کرینگے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور نہ پائیں گے اس سے نجات پانے کی کوئی جگہ

Verse 54 — Surah Al-Kahf 18:54

اور بیشک ہم نے طرح طرح سے بار بار بیان کی ہیں اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثالیں اور انسان ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے

Verse 55 — Surah Al-Kahf 18:55

اور کس چیز نے روکا ہے لو گوں کو اس بات سے کہ وہ ایمان لے آئیں جب آگئی ان کے پا س ہدایت (کی روشنی) اور مغفرت طلب کریں اپنے رب سے مگر یہ (کہ وہ منتظر ہیں) کہ آئے ان کے پاس اگلوں کا دستور یا آئے ان کے پاس طرح طرح کا عذاب

Verse 56 — Surah Al-Kahf 18:56

اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر مژدہ سنانے والا اور ڈرانے والا اور جھگڑتے ہیں کافر بےسروپا دلیلوں کی آڑ لے کرتا کہ وہ ہٹا دیں اس سے حق کو اور بنا لیا ہے انھوں نے میری آیتوں کو اور جن سے وہ ڈرائے گئے ایک مذاق

Verse 57 — Surah Al-Kahf 18:57

اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے نصیحت کی گئی اس کے رب کی آیتوں سے پس اس نے رو گردانی کر لی ان سے اور فراموش کر دیا اس نے ان (اعمال بد کو) جو آگے بھیجے تھے اس کے دونوں ہاتھوں نے ہم نے ڈالدئیے ان کے دلوں پر پردے تاکہ وہ قرآن کو نہ سمجھ سکیں اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کر دی اور اگر تم بلاؤ انھیں ہدایت کی طرف تو جب بھی وہ ہدایت قبول نہیں کرینگے

Verse 58 — Surah Al-Kahf 18:58

اور آپ کا پروردگار تو بہت بخشنے والا بڑا ہی رحمت والا ہے اگر وہ پکڑ لیتا انھیں ان کے کیے پر تو جلد ان پر عذاب بھیجتا (وہ ایسا نہیں کرتا) بلکہ ان کو سزا دینے کا ایک وقت مقرر ہے نہیں پائینگے اس وقت اسکے بغیر کوئی پناہ کی جگہ

Verse 59 — Surah Al-Kahf 18:59

اور یہ بستیاں ہیں ہم نے تباہ کر دیا ان کے باشندوں کو جب وہ ستم شعار بن گئے اور ہم نے مقرر کر دی تھی انکی ہلاکت کے لیے ایک میعاد

Verse 60 — Surah Al-Kahf 18:60

اور یاد کرو جب کہا موسیٰ نے اپنے (نوجوان) ساتھی کو کہ میں چلتا رہونگا یہاں تک کہ پہنچوں جہاں دو دریا ملتے ہیں یا (چلتے چلتے ) گزار دونگا مدّت دراز

Verse 61 — Surah Al-Kahf 18:61

پھر جب وہ دونوں پہنچے جہاں آپس میں دو دریا ملتے ہیں دونوں بھول گئے اپنی مچھلی کو تو بنا لیا اس نے اپنا راستہ دریا میں سرنگ کی طرح

Verse 62 — Surah Al-Kahf 18:62

پس جب وہاں سے آگے بڑھ گئے آپ نے اپنے نوجوان ساتھی سے کہا لے آؤ ہمارا صبح کا کھانابیشک ہمیں برداشت کرنی پڑی ہے اپنے اس سفر میں بڑی مشقت

Verse 63 — Surah Al-Kahf 18:63

اس ساتھی نے کہا (اے کلیم!) آپ نے ملاحظہ فرمایا جب ہم (سستانے کے لیے) اس چٹان کے پاس ٹھیرے تھے تو میں بھول گیا مچھلی کو اور نہیں فراموش کرائی مجھے وہ مچھلی مگر شیطان نے کہ میں اس کا ذکر کروں اور اس نے بنا لیا تھا اپنا راستہ دریا میں ۔ بڑے تعجب کی بات ہے

Verse 64 — Surah Al-Kahf 18:64

آپ نے فرمایا یہی تو وہ ہے جس کی ہم جستجو کر رہے تھے پس وہ دونوں لوٹے اپنے قدموں کے نشان دیکھتے ہوئے

Verse 65 — Surah Al-Kahf 18:65

تو پایا انھوں نے ایک بندے کو ہمارے بندوں میں سے جسے ہم نے عطا فرمائی تھی رحمت اپنی جانب سے اور ہم نے سکھایا تھا اسے اپنے پاس سے (خاص) علم

Verse 66 — Surah Al-Kahf 18:66

کہا اس بندے کو موسیٰ ( علیہ السلام) نے کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں بشرطیکہ آپ سکھائیں مجھے رشد و ہدایت کا خصوصی علم جو آپ کو سکھایا گیا ہے

Verse 67 — Surah Al-Kahf 18:67

اس بندے نے کہا (اے موسیٰ!) آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے

Verse 68 — Surah Al-Kahf 18:68

اور آپ صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں اس بات پر جس کی آپ کو پوری طرح خبر نہیں

Verse 69 — Surah Al-Kahf 18:69

آپ نے کہا آپ مجھے پائیں گے اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا صبر کرنے والا اور میں نافرمانی نہیں کرونگا آپ کے کسی حکم کی

Verse 70 — Surah Al-Kahf 18:70

اس بندے نے کہا اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں پوچھیے نہیں یہاں تک کہ میں آپ سے اس کا خود ذکر کروں

Verse 71 — Surah Al-Kahf 18:71

پس وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب وہ سوار ہوئے کشتی میں تو اس بندے نے اس میں شگاف کر دیا موسیٰ ( علیہ السلام) بول اٹھے کیا تم نے اس لیے شگاف کیا ہے کہ اس کی سواریوں کو ڈبو دو۔ یقیناً تم نے بہت برا کام کیا ہے

Verse 72 — Surah Al-Kahf 18:72

اس بندے نے کہا کیا میں نے نہیں کہا تھاکہ آپ میں یہ طاقت نہیں کہ میری سنگت پر صبر کرسکیں

Verse 73 — Surah Al-Kahf 18:73

آپ نے (عذر خواہی کرتے ہوئے) کہا کہ نہ گرفت کرو مجھ پر میری بھُول کی وجہ سے اور نہ سختی کرو مجھ پر میرے اس معاملہ میں بہت زیادہ

Verse 74 — Surah Al-Kahf 18:74

پھر وہ دونوں چل پڑے حتیٰ کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو اس نے اسے قتل کر ڈالا موسیٰ ( علیہ السلام) (غضب ناک ہو کر) کہنے لگے کیا مار ڈالا آپ نے ایک معصوم جان کو کسی نفس کے بدلہ کے بغیر ۔ بیشک آپ نے ایسا کام کیا ہے جو بہت ہی نازیبا ہے

Verse 75 — Surah Al-Kahf 18:75

پھر وہ دونوں چل پڑے حتیٰ کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو اس نے اسے قتل کر ڈالا موسیٰ ( علیہ السلام) (غضب ناک ہو کر) کہنے لگے کیا مار ڈالا آپ نے ایک معصوم جان کو کسی نفس کے بدلہ کے بغیر ۔ بیشک آپ نے ایسا کام کیا ہے جو بہت ہی نازیبا ہے

Verse 76 — Surah Al-Kahf 18:76

آپ نے کہا اگر میں پوچھوں آپ سے کسی چیز کے بارے میں اس کے بعد تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیں۔ آپ میری طرف سے معذور ہوں گے

Verse 77 — Surah Al-Kahf 18:77

پھر وہ چل پڑے یہاں تک کہ جب ان کا گزر ہوا گاؤں والوں کے پاس تو انھوں نے ان سے کھانا طلب کیا تو انھوں نے (صاف) انکار کر دیا ان کی میزبانی کرنے سے پھر ان دونوں نے اس گاؤں میں ایک دیوار دیکھی جو گرنے کے قریب تھی تو اس بندے نے اسے درست کر دیا ۔ موسیٰ کہنے لگے اگر آپ چاہتے تو اس محنت پر مزدوری ہی لے لیتے

Verse 78 — Surah Al-Kahf 18:78

اس نے کہا (بس سنگت ختم) اب میرے اور آپ کے درمیان جدائی کا وقت آگیا میں آگاہ کرتا ہوں آپ کو ان باتوں کی حقیقت پر جن کے متعلق آپ صبر نہ کر سکے میں آگاہ کرتا ہوں آپ کو ان باتوں کی حقیقت پر جن کے متعلق آپ صبر نہ کر سکے۔

Verse 79 — Surah Al-Kahf 18:79

وہ جو کشتی تھی وہ چند غریبوں کی تھی جو (ملاحی کا ) کام کرتے تھے دریا میں ۔ سو میں نے ارادہ کیا کہ اسے عیب دار بنا دوں اور (اسکی وجہ یہ تھی کہ) انکے آگے (جابر) بادشاہ تھا جو پکڑ لیا کرتا تھا ہر کشتی کو زبردستی سے

Verse 80 — Surah Al-Kahf 18:80

اور جو لڑکا تھا تو (اس کی حقیقت یہ ہے کہ) اس کے والدین مومن تھے پس ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ (اگر زندہ رہا تو) مجبور کر دیگا انھیں سر کشی اور کفر پر

Verse 81 — Surah Al-Kahf 18:81

پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے انھیں ان کا رب (ایسا بیٹا) جو بہتر ہو اس سے پاکیزگی میں اور (ان پر) زیادہ مہربان ہو

Verse 82 — Surah Al-Kahf 18:82

باقی رہی دیوار ( تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ ) وہ شہر کے دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ (دفن ) تھا اور ان کا باپ بڑا نیک شخص تھا پس آپ کے رب نے ارادہ فرمایا کہ وہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور نکال لیں اپنا دفینہ یہ (ان پر) ان کے رب کی خاص رحمت تھی اور (جو کچھ میں نے کیا) میں نے اپنی مرضی سے نہیں کیا یہ حقیقت ہے ان امور کی جن پر آپ سے صبر نہ ہو سکا

Verse 83 — Surah Al-Kahf 18:83

اور وہ دریافت کرتے ہیں آپ سے ذی القرنین کے متعلق فرمائیے میں ابھی بیان کرتا ہوں تمھارے سامنے ان کا حال

Verse 84 — Surah Al-Kahf 18:84

ہم نے اقتدار بخشا تھا اسے زمین میں اور ہم نے دیا تھا اسے ہر چیز (تک رسائی حاصل کرنے ) کا سازو سامان

Verse 85 — Surah Al-Kahf 18:85

پس وہ روانہ ہوا ایک راہ پر

Verse 86 — Surah Al-Kahf 18:86

یہاں تک کہ جب وہ غروب آفتاب کی جگہ پہنچا تو اس نے اسے یوں پایا گویا وہ ڈوب رہا ہے ایک سیاہ کیچڑ کے چشمہ میں اور اس نے وہاں ایک قوم پائی ہم نے کہا اے ذوالقرنین!(تمھیں اختیار ہے) خواہ تم انھیں سزا دو خواہ تم ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو

Verse 87 — Surah Al-Kahf 18:87

ذوالقرنین نے کہا جس نے ظلم (کفر و فسق) کیا تو ہم ضرور اسے سزا دینگے پھر اسے لوٹا دیا جائیگا اس کے رب کی طرف تو وہ اسے عذاب دیگا بڑا ہی سخت عذاب

Verse 88 — Surah Al-Kahf 18:88

اور جو شخص ایمان لایا اور اچھے عمل کیے تو اس کے لیے اچھا معاوضہ ہے اور ہم اسے حکم دینگے ایسے احکام بجا لانے کا جو آسان ہوں گے

Verse 89 — Surah Al-Kahf 18:89

پھر وہ روانہ ہوا دوسرے راستہ پر

Verse 90 — Surah Al-Kahf 18:90

یہاں تک کہ جب وہ پہنچا طلوع آفتاب کے مقام پر تو اس نے پایا سورج کو کہ وہ طلوع ہو رہا ہے ایسی قوم پر کہ نہیں بنائی ہم نے ان کے لیے سورج (کی گرمی) سے بچنے کی آڑ

Verse 91 — Surah Al-Kahf 18:91

بات یونہی ہے اور ہم نے احاطہ کر رکھا ہے ہر اس چیز کا جو اس کے پاس تھی اپنے علم سے

Verse 92 — Surah Al-Kahf 18:92

پھر وہ روانہ ہوا یک اور راہ پر

Verse 93 — Surah Al-Kahf 18:93

یہاں تک کہ جب وہ پہنچادو پہاڑوں کے درمیان تو پایا اس نے ان پہاڑوں کے پیچھے ایک قوم کو جو نہیں سمجھ سکتے تھے (انکی ) کوئی بات

Verse 94 — Surah Al-Kahf 18:94

انھوں نے کہا اے ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج نے بڑا فساد برپا کر رکھا ہے اس علاقے میں تو کیا ہم مقرر کر دیں آپ کے لیے کچھ خراج تاکہ آپ بنا دیں ہمارے درمیان اور ان کے درمیان ایک بلند دیوار

Verse 95 — Surah Al-Kahf 18:95

وہ بولا وہ دولت جس میں میرے رب نے مجھے اختیار دیا ہے وہ بہتر ہے پس تم میری مدد کرو جسمانی مشقت سے میں بنا دوں گا تمھارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط آڑ

Verse 96 — Surah Al-Kahf 18:96

تم لے آؤ میرے پاس لوہے کی چادریں (چنانچہ کام شروع ہو گیا) یہاں تک کہ جب ہموار کر دیا گیا وہ خلا جو دو پہاڑوں کے درمیان تھاتو اس نے حکم دیا دھونکو یہاں تک کہ جب وہ لوہا آگ بنا دیا تو اس نے کہا لے آؤ میرے پاس پگھلا ہوا تانبا کہ میں اسے اس پگھلے ہوئے لوہے پر انڈیلوں

Verse 97 — Surah Al-Kahf 18:97

سو یاجوج ماجوج بڑی کوشش کے باوجود اسے سر نہ کر سکے اور نہ ہی اس میں سوراخ کر سکے

Verse 98 — Surah Al-Kahf 18:98

ذوالقرنین نے کہا یہ میرے رب کی رحمت ہے (کہ اس نے مجھے یہ توفیق بخشی) اور جب آجائے گا میرے رب کا وعدہ تو وہ اسے ریزہ ریزہ کر دے گا۔ اور میرے رب کا وعدہ (ہمیشہ) سچا ہوا کرتا ہے

Verse 99 — Surah Al-Kahf 18:99

اور ہم واگزار کر دیں گے بعض کو اس دن کہ وہ (تُند خوں کی طرح) دوسروں میں گھس جائیں گے اور صور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو اکٹھا کر دیں گے

Verse 100 — Surah Al-Kahf 18:100

اور ہم ظاہر کر دیں گے جہنم کو اس دن کفار کے لیے بالکل عیاں

Verse 101 — Surah Al-Kahf 18:101

وہ کافرجن کی آنکھوں پر پردے پڑے تھے میری یاد سے اور جو (کلمہ حق) سُن بھی نہیں سکتے تھے

Verse 102 — Surah Al-Kahf 18:102

کیا گمان کرتے ہیں کفار کہ وہ بنا لیں گے میرے بندوں کو میرے بغیر اپنا حمایتی (یہ نا ممکن ہے) بیشک ہم نے تیار کر رکھا ہے جہنم کو کفار کی رہائش کے لیے

Verse 103 — Surah Al-Kahf 18:103

فرمائیے (اے لوگو) کیا ہم مطلع کریں تمھیں ان لوگوں پر جو اعمال کے لحاظ سے گھاٹے میں ہیں

Verse 104 — Surah Al-Kahf 18:104

یہ وہ لوگ ہیں جن کی ساری جدوجہد دنیوی زندگی کی اراستگی میں کھو کر رہ گئی اور وہ یہ خیال کر رہے ہیں کہ وہ کوئی بڑا عمدہ کام کر رہے ہیں

Verse 105 — Surah Al-Kahf 18:105

یہی وہ (بد نصیب) ہیں جنھوں نے انکار کیا اپنے رب کی آیتوں کا اور اس کی ملاقات کا تو ضائع ہو گئے ان کے اعمال تو ہم ان (کے اعمال) تولنے کے لیے روز قیامت کوئی ترازو نصب نہیں کریں گے

Verse 106 — Surah Al-Kahf 18:106

یہ ہے ان کی جزا جہنم اس وجہ سے کہ انھوں نے کفر کیا اور میری آیتوں اور رسولوں کو مذاق بنا لیا

Verse 107 — Surah Al-Kahf 18:107

یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل (بھی ) کرتے رہے تو فردوس کے باغات ان کی رہائش گاہ ہونگے

Verse 108 — Surah Al-Kahf 18:108

وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں (اور) نہیں چاہیں گے کہ وہ اس جگہ کو بدل لیں

Verse 109 — Surah Al-Kahf 18:109

(اے حبیب!) آپ فرمائیے کہ اگر ہو جائے سمندر روشنائی میرے رب کے کلمات (لکھنے ) کے لیے تو ختم ہو جائیگا سمندر اس سے پیشتر کہ ختم ہوں میرے رب کے کلمات اور اگر ہم لے آئیں اتنی اور روشنائی اسکی مدد کو (تب بھی ختم ہونگے)

Verse 110 — Surah Al-Kahf 18:110

(اے پیکر رعنائی و زیبائی) آپ فرمائیے کہ میں بشر ہی ہوں تمھاری طرح وحی کی جاتی ہے میری طرف کہ تمھارا خدا صرف اللہ وحدہ ہے پس جو شخص امید رکھتا ہے اپنے رب سے ملنے کی تو اسے چاہیے کہ وہ نیک عمل کرے اور نہ شریک کرے اپنے رب کی عبادت میں کسی کو