Back to Languages

Urdu - Chapter 2 - Al-Baqarah

Translation by Muhammad Karam Shah Al Azhari — Permalink

Verse 1 — Surah Al-Baqarah 2:1

الف لام میم

Verse 2 — Surah Al-Baqarah 2:2

یہ ذِی شان کتاب ذرا شک نہیں اس میں یہ ہدایت ہے پرہیزگاروں کے لیے

Verse 3 — Surah Al-Baqarah 2:3

وہ جو ایمان لائے ہیں غیب پر اور صحیح صحیح ادا کرتے ہیں نماز اور اس سے جو ہم نے انھیں روزی دی خرچ کرتے ہیں

Verse 4 — Surah Al-Baqarah 2:4

اور وہ جو ایمان لائے ہیں اس پر (اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) جا اتارا گیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور جو اتارا گیا آپ سے پہلے اور آخرت پر بھی وہ یقین رکھتے ہیں

Verse 5 — Surah Al-Baqarah 2:5

وُہی لوگ ہدایت پر ہیں اپنے رب (کی توفیق) سے اور وہی دونوں جہان میں کامیاب ہیں

Verse 6 — Surah Al-Baqarah 2:6

بے شک نہوں نے کفر اختیار کرلیا ہے یکساں ہے ، ان کے لیے چاہے آپ انھیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے

Verse 7 — Surah Al-Baqarah 2:7

مُہر لگادی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔

Verse 8 — Surah Al-Baqarah 2:8

اور کچھ لوگ ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر اور روز قیات پر حالانکہ وُہ مومن نہیں

Verse 9 — Surah Al-Baqarah 2:9

فریب دیا چاہتے ہیں اللہ کو اور اینا والوں کو اور (حقیقت میں) نہیں فریب دے رہے مگر اپنے آپ کو (اور اس حقیقت کو) نہیں سمجھتے

Verse 10 — Surah Al-Baqarah 2:10

ان کے دلوں میں بیماری ہے پھر بڑھادی اللہ نے ان کی بیماری اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے بوجہ اس کے کہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔

Verse 11 — Surah Al-Baqarah 2:11

اور جب کہا جائے اُنھیں کہ مت فساد پھیلاؤ زمین میں تو کہتے ہیں ہم ہی تو سنوارنے والے ہیں ۔

Verse 12 — Surah Al-Baqarah 2:12

ہوشیار! وُہی فسادی ہیں لیکن سمجھتے نہیں

Verse 13 — Surah Al-Baqarah 2:13

اور جب کہا جائے اُنھیں ایمان لاؤ جیسے ایمان لائے (اور) لوگ تو کہتے ہیں کیا ہم ایمان لائیں جس طرح ایمان لائے بیوقُوف خبردار! بےشک وہی احمق ہیں مگر وہ جانتے نہیں ۔

Verse 14 — Surah Al-Baqarah 2:14

اور جب ملتے ہیں ایمان والوں سے کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب اکیلے میں ہوتے ہیں اپنے شیطانوں کے پاس تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو صرف (اِن کا ) مذاق اڑارہے تھے ۔

Verse 15 — Surah Al-Baqarah 2:15

اللہ سزا دے رہا ہے انھیں اس مذاق کی اور ڈھیل دیتا ہے انھیں تاکہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں

Verse 16 — Surah Al-Baqarah 2:16

(یہ) وہ لو گ ہیں جنھوں نے خرید لی گمراہی ہدایت کے بدلے مگر نفع بخش نہ ہوئی ان کی (یہ) تجارت اور وہ صحیح راہ نہ جانتے تھے ۔

Verse 17 — Surah Al-Baqarah 2:17

ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ روشن کی پھر جب جگمگا اٹھا اس کا آس پاس تو لے گیا الہ ان کا نور اور چھوڑ ید انھیں گھپ اندھیروں میں کچھ نہیں دیکھتے۔

Verse 18 — Surah Al-Baqarah 2:18

یہ بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں سو وہ نہیں پھریں گے

Verse 19 — Surah Al-Baqarah 2:19

یا پھر جیسے زور کا مینہ برس رہا ہو بادل سے جس میں اندھیرے ہوں اور گرج اور چمک ہو ٹھونستے ہیں اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں کڑک کے باعث موت کے ڈر سے اور اللہ گھیرے ہوئے کافروں کو

Verse 20 — Surah Al-Baqarah 2:20

قریب ہے کہ بجلی اچک لے جائے ان کی بینائی جب چمکتی ہے ان کے لیے تو چلنے لگتے ہیں اس (کی روشنی) میں اور جب اندھیرا چھا جاتا ہے ان پر تو کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر چاہے اللہ تو لے جائے ان کے سننے کی قوت اور ان کی بینائی بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے ۔

Verse 21 — Surah Al-Baqarah 2:21

اے لوگو! عبادت کرو اپنے رب کی جس نے پیدا فرمایا تمہیں اور جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ

Verse 22 — Surah Al-Baqarah 2:22

وہ جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو عمارت اور اتارا آسمان سے پانی پھر نکالے اس سے کچھ پھل تمہارے کھانے کے لیے پس نہ ٹھراؤ اللہ کے لیے مد مقابل اور تم جانتے ہو

Verse 23 — Surah Al-Baqarah 2:23

اور اگر تمھیں شک ہو اس میں جو ہم نے نازل کیا اپنے (برگزیدہ) بندے پر تو لے آؤ ایک سورۃ اِ س جیسی اور بلا لو اپنے حماتیوں کو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو۔

Verse 24 — Surah Al-Baqarah 2:24

پھر اگر ایسا نہ کرسکو اور ہرگز نہ کرسکو گے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں جو تیار کی گئی ہے کافروں کے لیے

Verse 25 — Surah Al-Baqarah 2:25

اور خوشخبری دیجیے انھیں جو ایمان لائے اور کیے نیک عمل (کہ) یقیناً ان کے لیے باغات ہیں بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں جب کھلایا جائے گا انھیں ان باغوں سے کوئی پھل (تو صورت دیکھ کر ) کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ہمیں پہلے کھلایا گیا تھا اور دیا گیا انھیں پھل (صورت میں ) ملتا جلتا اور ان کے لیے جنت میں پاکیزہ بیویاں ہوں گی۔ اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ۔

Verse 26 — Surah Al-Baqarah 2:26

بے شک اللہ حیا نہیں فرماتا اس سے کہ زکر کرے کوئی مثال مچھر کی ہو یا س سے بھی حقیر چیز کی تو جو ایمان لائے وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ مثال حق ہے ان کے رب کی طرف سے (اُتری ہے ) اور جنھوں نے کفر کیا سو وہ کہتے ہیں کیا قصد کیا اللہ نے اس مثال کے زکر سے گمراہ کرتا ہے اللہ اسے بہتیروں کو اور ہدایت دیتا ہے اس سے بہتروں کو اور نہیں گمراہ کرتا اس سے مگر نافرمانوں کو

Verse 27 — Surah Al-Baqarah 2:27

وہ جو توڑتے رہتے ہیں عہد خداوندی کو اسے پختہ باندھنے کے بعد اور کاٹتے رہتے ہیں اسے، حکم فرمایا اللہ نے جس کے جوڑنے کا اور فساد مچاتے رہتے ہیں زمین میں وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔

Verse 28 — Surah Al-Baqarah 2:28

کیونکر تم انکار کرتے ہو اللہ کا ف حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا پھر اسی کی طرف تم پلٹائے جاؤ گے ف۔

Verse 29 — Surah Al-Baqarah 2:29

وہی تو ہے جس نے پیدا کیا تمہارے لیے جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب پھر توجہ فرمائی اُوپر کی طرف تو ٹھیک ٹھیک بنادیا انھیں ساتھ آسمان اور وہ سب کچھ خوب جانتا ہے

Verse 30 — Surah Al-Baqarah 2:30

اور یاد کرو جب فرمایا تمہارے رب نے فرشتوں سے میں مقرر کرنے والا ہوں زمین میں ایک نائب کہنے لگے کیا تو مقرر کرتا زمین میں جو فساد برپا کرے گا اس میں اور خونریزیاں کرے گا حالانکہ ہم تیری تسبیح کرتے ہیں تیری حمد کے ساتھ اور پاکی بیان کرتے ہیں تیرے لیے فرمایا بےشک میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

Verse 31 — Surah Al-Baqarah 2:31

اور اللہ نے سکھادیے آدم کو تمام اشیاء کے نام پھر پیش کیا انھیں فرشتوں کے سامنے اور فرمایا بتاؤ تو مجھے نام ان چیزوں کے اگر تم (اپنے اس خیال میں) سچے ہو

Verse 32 — Surah Al-Baqarah 2:32

عرض کرنے لگے ہر عیب سے پاک تو ہی ہے کچھ علم نہیں ہمیں مگر جتنا تونے ہمیں سکھادیابے شک تو ہی علمِ و حکمت والا ہے

Verse 33 — Surah Al-Baqarah 2:33

فرمایا اے آدم! بتادو انھیں ان چیزوں کے نام پھر جب آدم نے بتادیے فرشتوں کو ان کے نام تو اللہ نے فرمایا کیا نہیں کہا تھا میں نے تم سے کہ میں خوب جانتا ہوں سب چھپی ہوئی چیزیں آسمانوں اور زمین کی اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے تھے۔

Verse 34 — Surah Al-Baqarah 2:34

اور جب ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور (داخل) ہوگیا وہ کفار (کے ٹولہ) میں

Verse 35 — Surah Al-Baqarah 2:35

اور ہم نے فرمایا اے آدم! رہوتم اور تمہاری بیوی اس جنت میں اور دونوں کھاؤ اس سے جتنا چاہو جہاں سے چاہو اور مت نزدیک جانا اس درخت کے ورنہ ہوجاؤ گے اپنا حق تلف کرنے والوں سے

Verse 36 — Surah Al-Baqarah 2:36

پھر پھسلادیا انھیں شیطان نے اس درخت کے باعث اور نکلوادیا ان دونوں کو وہاں سے جہاں وہ تھے اور ہم فرمایا اتر جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن رہوگے اور (اب) تمہارا زمین میں ٹھکانہ ہے اور فائدہ اٹھانا ہے وقت مقرر تک

Verse 37 — Surah Al-Baqarah 2:37

پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے چند کلمے تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کی ۔ بےشک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم فرمانے والا

Verse 38 — Surah Al-Baqarah 2:38

ہم نے حکم دیا اترجاؤ اس جنت سے سب کے سب پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے (پیغام) ہدایت تو جس نے پیروی کی میری ہدایت کی انھیں نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

Verse 39 — Surah Al-Baqarah 2:39

اور جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو (تو) وہ دوزخی ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

Verse 40 — Surah Al-Baqarah 2:40

اے اولاد یعقوب یاد کرو میرا وہ احسان جو کیا میں نے تم پر اور پورا کرو تم میرے (ساتھ کیے ہوئے) وعدہ کو میں پورا کروں گا تمہارے (ساتھ کیے ہوئے) وعدہ کو اور صرف مجھی سے ڈرا کرو

Verse 41 — Surah Al-Baqarah 2:41

اور ایمان لاؤاُس (کتاب) پر جو نازل کی ہے میں نے یہ سچا ثابت کرنے والی ہے اس کو جو تمہارے پاس ہے اور نہ بن جاؤ تم سب سے پہلے انکار کرنے والے اس کے اور نہ خریدہ تم میری آیتوں کے عوض تھوڑی سے قیمت اور صرف مجھی سے ڈرا کرو

Verse 42 — Surah Al-Baqarah 2:42

اور مت ملایا کرو حق کو باطل کے ساتھ ف اور مت چھپاؤ حق کو حالانکہ تم (اسے) جانتے ہو

Verse 43 — Surah Al-Baqarah 2:43

اور صحیح ادا کرو نماز اور دیا کرو زکوٰۃ اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ

Verse 44 — Surah Al-Baqarah 2:44

کیا تم حکم کرتے ہو (دوسرے ) لوگوں کو نیکی کا اور بھلا دیتے ہو اپ آپ کو حالانکہ تم پڑھتے ہو کتاب ف کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے

Verse 45 — Surah Al-Baqarah 2:45

اور مدد لو صبر اور نماز سے اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر عاجزی کرنے والوں پر (بھاری نہیں)

Verse 46 — Surah Al-Baqarah 2:46

جو یقین کرتے ہیں کہ وہ ملاقات کرنے والے ہیں اپنے رب سے اور وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں

Verse 47 — Surah Al-Baqarah 2:47

اے اولاد یعقوب علیہ السلام! یاد کرو میرا وہ احسان جو میں نے تم پر کیا اور (یہ کہ ) میں نے فضیلت دی تھی تمہیں سارے جہان والوں پر

Verse 48 — Surah Al-Baqarah 2:48

اور ڈرو اس دن سے جب نہ بدلہ دے سکے گا کوئی شخص کسی کا کچھ بھی اور نہ قبول کی جائے گی اس کے لئے سفارش ف اور نہ لیا جائے گا اس سے کوئی معاوضہ اور نہ وہ مدد کئے جائیں گے

Verse 49 — Surah Al-Baqarah 2:49

اور یاد کرو جب نجات بخشی ہم نے تمہیں فرعونیوں سے جو پہنچاتے تھے تمہیں سخت عذاب (یعنی) ذبح کرتے تھے ف تمہارے بیٹوں کو اور زندہ رہنے دیتے تھے تمہاری عورتوں (بیٹیوں ) کو اور اس میں بڑی بھاری آزمائش تھی تمہارے رب کی طرف سے ف

Verse 50 — Surah Al-Baqarah 2:50

اور جب پھاڑ دیا ہم نے تمہارے لئے سمندر کو پھر ہم نے بچا لیا تم کو اور ڈبو دیا فرعونیوں کو اور تم (کنارے پر کھڑے) دیکھ رہے تھے ف

Verse 51 — Surah Al-Baqarah 2:51

اور یاد کرو جب ہم نے وعدہ فرمایا موسیٰ ( علیہ السلام) سے چالیس رات کا پھر بنالیا تم نے بچھڑے کو (معبود) اس کے بعد اور تم سخت ظالم تھے

Verse 52 — Surah Al-Baqarah 2:52

پھر بھی درگزر فرمایا ہم نے تم سے اس (ظلم عظیم) کے بعد شاید کہ تم شکر گزار بن جاؤ ف

Verse 53 — Surah Al-Baqarah 2:53

اور جب عطا فرمائی ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب اور حق وباطل میں تمیز کی قوت ف تاکہ تم سیدھی راہ پر چلنے لگو

Verse 54 — Surah Al-Baqarah 2:54

اور یاد کرو جب کہا موسیٰ (علیہ السلام نے) اپنی قوم سے اے میری قوم! بےشک تم نے ظلم ڈھایا اپنے آپ پر بچھڑے کو (خدا) بنا کر پس چاہئے کہ توبہ کرو اپنے خالق کے حضور سو قتل کرو اپنوں کو (جنہوں نے شرک کیا) یہ بہتر ہے تمہارے لئے تمہارے خالق کے نزدیک ف پھر حق تعالیٰ نے تمہاری توبہ قبول کر لی بےشک وہی بہت توبہ قبول کرنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے

Verse 55 — Surah Al-Baqarah 2:55

اور یاد کرو جب تم نے کہا اے موسیٰ علیہ السلام! ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے تجھ پر جب تک ہم نہ دیکھ لیں اللہ کو ظاہر ف پس (اس گستاخی پر) آلیا تم کو بجلی کی کڑک نے اور تم دیکھ رہے تھے

Verse 56 — Surah Al-Baqarah 2:56

پھر ہم نے جلا اٹھایا تمہیں تمہارے مرجانے کے بعد کہ کہیں تم شکر گزار بنو

Verse 57 — Surah Al-Baqarah 2:57

اور ہم نے سایہ کردیا تم پر بادل کا اور اتارا تم پر من و سلویٰ کھاؤ پاکیزہ چیزوں سے جو ہم نے تمھیں دے رکھی ہیں اور انھوں نے ہم پر کوئی زیادتی نہیں کی بلکہ وہ اپنی ہی جانوں پر زیادتی کرتے رہتے تھے۔

Verse 58 — Surah Al-Baqarah 2:58

اور یاد کرو جب ہم نے حکم دیا داخل ہو جاؤ اس بستی میں ف پھر کھاؤ اس میں جہاں سے چاہو اور جتنا چاہو اور داخل ہونا دروازہ سے سر جھکائے ہوئے ف اور کہتے جانا بخش دے (ہمیں ) ہم بخش دیں گے تمہاری خطائیں اور ہم زیادہ دیتے ہیں نیکو کاروں کو

Verse 59 — Surah Al-Baqarah 2:59

پس بدل ڈالا ان ظالموں نے اور بات سے جو کہا گیا تھا انہیں تو ہم نے اتارا ان ستم پیشہ لوگوں پر عذاب آسمان سے بوجہ اس کے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے ف

Verse 60 — Surah Al-Baqarah 2:60

اور یاد کرو جب پانی کی دعا مانگی موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے لئے تو ہم نے فرمایا مارو اپنا عصا فلاں چٹان پر تو فوراً بہہ نکلے اس چٹان سے بارہ چشمے ف پہچان لیا ہر گروہ نے اپنا اپنا گھاٹ کھاؤ اور پیو اللہ کے دئیے ہوئے رزق سے اور نہ پھرو زمین میں فساد برپا کرتے ہوئے

Verse 61 — Surah Al-Baqarah 2:61

اور یاد کرو جب تم نے کہا اے موسیٰ علیہ السلام! ہم صبر نہیں کر سکتے ایک ہی طرح کے کھانے پر سو آپ دعا کیجئے ہمارے لئے اپنے پروردگار سے کہ نکالے ہمارے لئے وہ جن کو زمین اگاتی ہے (مثلاً ) ساگ اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز ، موسیٰ علیہ السلام نے کہا کیا تم لینا چاہتے ہو وہ چیز جو ادنیٰ ہے اس کے بدلہ میں جو عمدہ ہے (اچھا ) جا رہو کسی شہر میں تمہیں مل جائے گا جو تم نے مانگا اور مسلط کر دی گئی ان پر ذلت اور غربت ف اور مستحق ہوگئے غضب الٰہی کے یہ (سب کچھ) اس وجہ سے تھا کہ وہ انکار کرتے رہتے تھے اللہ کی آیتوں کا اور قتل کرتے تھے انبیاء کو ناحق ف یہ (سب کچھ) اس وجہ سے تھا کہ وہ نافرمان تھے اور حد سے بڑھ جایا کرتے تھے

Verse 62 — Surah Al-Baqarah 2:62

یقین کرو ف اسلام کے پیروکار ہوں یا یہودی، عیسائی ہوں یا صابی ف جو کوئی بھی ایمان لائے اللہ پر اور دن قیامت پر اور نیک عمل کرے تو ان کے لئے ان کا اجر ہے ان کے رب کے ہاں اور نہیں کوئی اندیشہ ان کے لئے اور نہ وہ غمگین ہوں گے

Verse 63 — Surah Al-Baqarah 2:63

اور یاد کرو جب ہم نے لیا تم سے پختہ وعدہ اور بلند کیا تم پر طور کو (اور حکم دیا) پکڑ لو جو ہم نے تم کو دیا مضبوطی سے اور یاد رکھنا وہ (احکام) جو اس میں درج ہیں شاید کہ تم پرہیز گا ر بن جاؤ ۔

Verse 64 — Surah Al-Baqarah 2:64

پھر منہ موڑ لیا تم نے پختہ وعدہ کرنے کے بعد تو اگر تم ر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم ضرور ہوجاتے نقصان اٹھانے والوں میں۔

Verse 65 — Surah Al-Baqarah 2:65

اور تم خوب جانتے ہو ف انہیں جنہوں نے نافرمانی کی تھی تم میں سے سبت کے قانون کی تو ہم نے حکم انہیں کہ بن جاؤ بندر پھٹکارے ہوئے ف

Verse 66 — Surah Al-Baqarah 2:66

پس ہم نے بنادیا اس سزا کو عبرت ان کے لیے جو اس زمانہ میں موجود تھے اور جو بعد میں آنے والے تھے اور (اسے) نصیحت بنا دیا پرہیزگاروں کے لیے۔

Verse 67 — Surah Al-Baqarah 2:67

اور یاد کرو جب کہا موسیٰ (علیہ السلام نے) اپنی قوم سے کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے تمہیں کہ تم ذبح کرو ایک گائے ف وہ بولے کیا آپ ہمارا مذاق اڑاتے ہیں ف آپ نے کہا میں پناہ مانگتا ہو خدا سے کہ میں شامل ہو جاؤں جاہلوں (کے گروہ) میں ف

Verse 68 — Surah Al-Baqarah 2:68

بولے دعا کیجئے ہمارے لئے اپنے رب سے کہ وہ بتائے ہمیں کہ کیسی ہے وہ گائے ف موسیٰ علیہ السلام نے کہا اللہ فرماتا ہے کہ وہ گائے ہے جو نہ بوڑھی ہو اور نہ بالکل بچی (بلکہ) درمیانی عمر کی ہو تو بجا لاؤ جو تمہیں حکم دیا جا رہا ہے

Verse 69 — Surah Al-Baqarah 2:69

کہنے لگے دعا کرو ہمارے لیے اپنے رب سے کہ بتائے ہمیں کیسا رنگ ہو اس کا موسیٰ ( علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسی گائے جس کی رنگت خوب گہری زرد ہو جو فرحت بخشے دیکھنے والوں کو ۔

Verse 70 — Surah Al-Baqarah 2:70

کہنے لگے پوچھو ہمارے لیے اپنے رب سے کہ کھول کر بیان کرے ہمارے لیے کہ گائے کیسی ہو بیشک گائے مشتبہ ہوگئی ہے ہم پر اور ہم اگر اللہ نے چاہا تو ضرور اس کو تلاش کرلیں گے ۔

Verse 71 — Surah Al-Baqarah 2:71

موسیٰ علیہ السلام بولے اللہ فرماتا ہے وہ گائے جس سے خدمت نہ لی گئی ہو کہ ہل چلائے زمین میں اور نہ پانی دے کھیتی کو بےعیب بےداغ (عاجز ہو کر) کہنے لگے اب آپ لائے صحیح پتہ پھر انہوں نے ذبح کیا اسے اور وہ ذبح کرتے معلوم نہیں ہوتے تھے ف

Verse 72 — Surah Al-Baqarah 2:72

اور یاد کرو جب قتل کرڈالا تھا تم نے ایک شخض کو پھر تم ایک دوسرے پر قتل کا الزام لگانے گلے اور اللہ ظاہر کرنے والا تھا جو تم چھپا رہے تھے ۔

Verse 73 — Surah Al-Baqarah 2:73

تو ہم نے فرمایا کہ مارو اس مقتول کو گائے کے کسی ٹکڑے سے (دیکھا) یوں زندہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ مردوں کو اور دکھاتا ہے تمھیں اپنی (قدرت کی) نشانیاں شاید تم سمجھ جاؤ ۔

Verse 74 — Surah Al-Baqarah 2:74

پھر سخت ہوگئے تمہارے دل یہ منظر دیکھنے کے بعد بھی وہ تو پتھر کی طرح (سخت) ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت (کیونکہ) کئی پتھر ایسے بھی ہیں جن سے بہ نکلتی ہیں نہریں اور کئی ایسے بھی ہیں کہ جو پھٹتے ہیں تو ان سے پانی نکلنے لگتا ہے اور کئی ایسے بھی ہیں جو گر پڑتے ہیں خوف الہیٰ سے اور اللہ بےخبر نہیں ہے ان (کرتوتوں) سے جو تم کرتے ہو۔

Verse 75 — Surah Al-Baqarah 2:75

(اے مسلمانو) کیا تم یہ امید رکھتے ہو کہ (یہ یہودی) ایمان لائیں گے تمہارے کہنے سے حالانکہ ایک گروہ ان میں ایسا تھا جو سنتا تھا کلام الہیٰ کو پھر بدل دیتے تھے اسے خوب سمجھ لینے کے بعد جان بوجھ کر ۔

Verse 76 — Surah Al-Baqarah 2:76

اور جب ملتے ہیں ایمان والوں سے تو کہتے ہیں ہم بھی ایمان لائے ہیں اور جب تنہا ملتے ہیں ایک دوسرے سے تو کہتے ہیں (ارے) کیا بیان کرتے ہو ان سے جو کھلا ہے اللہ نے تم پر یوں تو وہ دلیل قائم کریں گے تم پر ان باتوں سے تمہارے رب کے سامنے کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے۔

Verse 77 — Surah Al-Baqarah 2:77

کیا وہ (یہ) نہیں جانتے کہ اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔

Verse 78 — Surah Al-Baqarah 2:78

اور ان میں کچھ ان پڑھ ہیں جو نہیں جانتے کتاب کو بجز جھوٹی امیدوں کے اور وہ تو محض وہم و گمان ہی کرتے رہتے ہیں۔

Verse 79 — Surah Al-Baqarah 2:79

پس ہلاکت ہو ان کے لیے جو لکھتے ہیں کتاب خود اپنے ہاتھوں سے پھر کہتے ہیں یہ نوشتہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ حاصل کرلیں اس کے عوض تھوڑے سے دام سو ہلاکت ہو ان کے لیے بوجہ اس کے جو لکھا ان کے ہاتھوں نے اور ہلاکت ہو ان کے لیے بوجہ اس مال جو وہ (یوں) کماتے ہیں۔

Verse 80 — Surah Al-Baqarah 2:80

اور انہوں نے کہا ہرگز نہ چھوئے گی ہمیں (دوزخ کی ) آگ بجز گنتی کے چند دن ف آپ فرمائیے کیا لے رکھا ہے تم نے اللہ سے کوئی وعدہ تب تو خلاف ورزی نہ کرے گا اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کی یا (یونہی) بہتان باندھتے ہو اللہ پر جو تم جانتے ہی نہیں

Verse 81 — Surah Al-Baqarah 2:81

ہاں (ہمارا قانون یہ ہے) جس نے جان کر برائی کی اور گھیر لیا اس کو اس کی خطا نے تو وہی دوزخی ہیں وہ ا س میں ہمیشہ رہنے والے ہیں

Verse 82 — Surah Al-Baqarah 2:82

اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہی جنتی ہیں ف وہ اس جنت میں ہمیشہ رہنے والے ہیں

Verse 83 — Surah Al-Baqarah 2:83

اور یاد کرو جب لیا تھا ہم نے پختہ وعدہ بنی اسرائیل سے (اس بات کا) کہ نہ عبادت کرنا بجز اللہ کے ف اور ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا نیز رشتہ داروں یتیموں اور مسکینوں سے بھی (مہربانی کرنا ) اور کہنا لوگوں سے اچھی باتیں اور صحیح ادا کرنا نماز اور دیتے رہنا زکوٰۃ پھر منہ موڑ لیا تم نے مگر چند آدمی تم سے (ثابت قدم رہے) اور تم رو گردانی کرنے والے ہو

Verse 84 — Surah Al-Baqarah 2:84

اور یاد کرو جب لیا ہم نے تم سے پختہ وعدہ کہ تم اپنوں کا خون نہیں بہاؤ گے اور نہیں نکالوگے اپنوں کو اپنے وطن سے پھر تم نے (اِس وعدہ پر ثابت رہنے کا ) اقرار بھی کیا اور تم خود اس کے گواہ ہو۔

Verse 85 — Surah Al-Baqarah 2:85

پھر تم وہی ہونا (جنہوں نے یہ وعدے کئے ) کہ اب قتل کر رہے ہو اپنوں کو اور نکال باہر کرتے ہو اپنے گروہ کو ان کے وطن سے (نیز) مدد دیتے ہو ان کے خلاف (دشمنوں کو) گناہ اور ظلم سے اور اگر آئیں تمہارے پاس قیدی بن کر (تو بڑے پاکباز بن کر) ان کو فدیہ ادا کرتے ہو حالانکہ حرام کیا گیا تھا تم پر ان کا گھروں سے نکالنا تو کیا تم ایمان لاتے ہو کتاب کے کچھ حصہ پر اور انکار کرتے ہو کچھ حصہ کا ف (تم خود ہی کہو) کیا سزا ہے ایسے نابکار کی تم میں سے سوائے اس کے کہ رسوا رہے دنیا کی زندگی میں اور قیامت کے دن تو انہیں پھینک دیا جائے گا سخت ترین عذاب میں اور اللہ بےخبر نہیں ان (کرتوتوں ) سے جو تم کرتے ہو

Verse 86 — Surah Al-Baqarah 2:86

یہ ہیں وہ لوگ جنھوں نے مول لے لی ہے دنیا کی زندگی آخرت کے عوض تو نہ ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی۔

Verse 87 — Surah Al-Baqarah 2:87

اور بےشک ہم نے عطا فرمائی موسیٰ علیہ السلام کو کتاب اور ہم نے پے در پے ان کے پیچھے پیغمبر بھیجے اور دیں ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) بن مریم علیہ السلام کو روشن نشانیاں ف اور ہم نے تقویت دی انہیں جبرائیل سے ف تو کیا جب کبھی لے آیا تمہارے پاس کوئی پیغمبر ایسا حکم ہے جسے تمہارے نفس پسند نہ کرتے تو تم اکڑ گئے بعض کو تم نے جھٹلایا اور بعض کو قتل کرنے لگے

Verse 88 — Surah Al-Baqarah 2:88

اور یہودی بولے ہمارے دلوں پر تو غلاف چڑھے ہیں ف نہیں بلکہ پھٹکار دیا ہے انہیں اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے وہ بہت ہی کم ایمان رکھتے ہیں

Verse 89 — Surah Al-Baqarah 2:89

اور جب آئی ان کے پاس اللہ کی طرف سے وہ کتاب (قرآن) جو تصدیق کرتی تھی اس (کتاب) کی جو ان کے پاس تھی اور وہ اس سے پہلے فتح مانگتے تھے کافروں پر (اس نبی کے وسیلہ سے ) ف تو جب تشریف فرما ہوا ان کے پاس وہ نبی جسے وہ جانتے تھے تو انکار کر دیا اس کے ماننے سے سو پھٹکار ہو اللہ کی (دانستہ) کفر کرنے والوں پر

Verse 90 — Surah Al-Baqarah 2:90

بہت بری چیز ہے جس کے بدلے سود اچکایا انہوں نے اپنی جانوں کا وہ یہ کہ کفر کرتے ہیں اس (کتاب) کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے نازل کی حسد ف کے مارے کہ نازل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اپنا فضل (وحی) جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں سے سو وہ حق دار ہو گئے مسلسل ناراضگی کے اور کافروں کے لئے ذلیل ورسوا کرنے والا عذاب ہے

Verse 91 — Surah Al-Baqarah 2:91

اور جب ان سے کہا جاتا ہے ایمان لے آؤ اس پر جسے اللہ نے اتارا ہے تو کہتے ہیں ہم تو (صرف) اس پر ایمان لائے ہیں جو نازل کی گئی ہم پر اور کفر کرتے ہیں اس کے علاوہ (دوسری کتابوں) کے ساتھ حالانکہ وہ بھی حق ہے تصدیق کرتا ہے اس کتاب کی جو ان کے پاس ہے آپ فرمائیے پھر تم کیوں قتل کرتے رہے اللہ کے پیغمبروں کو اس سے پہلے اگر تم (اپنی کتاب پر ہی ) ایمان رکھتے تھے ف

Verse 92 — Surah Al-Baqarah 2:92

اور بےشک آئے تمہارے پاس موسیٰ علیہ السلام روشن دلیلیں لے کر پھر تم نے بنا لیا بچھڑے کو (اپنا معبود) اس کے بعد اور تم (تو عادی) جفا کار ہو

Verse 93 — Surah Al-Baqarah 2:93

اور یاد کرو جب ہم نے لیا تم سے پختہ وعدہ اور بلند کیا تمہارے سروں پر کوہ طور (اور تمہیں حکم دیا) کہ پکڑلو جو ہم نے تمہیں دیا مضبوطی سے اور (خوب غور سے ) سنو انہوں نے (زبان سے) کہا ہم نے سن لیا اور (دل میں کہا) نہیں مانا سیراب ہو چکے تھے ان کے دل بچھڑے (کے عشق) سے یہ ان کے پیہم انکار کی نحوست تھی فرمائیے بہت برا ہے جس کا حکم کرتا ہے تمہیں (یہ ) تمہارا (عجیب وغریب ) ایمان اگر تم ایمان دار ہو ف

Verse 94 — Surah Al-Baqarah 2:94

آپ فرمائیے اگر تمہارے لئے ہی دار آخرت (کی راحتیں) اللہ کے ہاں مخصوص ہیں تمام لوگوں کو چھوڑ کر تو بھلا آرزو تو کرو موت کی اگر تم سچ کہتے ہو ف

Verse 95 — Surah Al-Baqarah 2:95

اور وہ ہرگز کبھی بھی اس کی تمنا نہ کریں گے اپنی کارستانیوں کے خوست اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو ۔

Verse 96 — Surah Al-Baqarah 2:96

اور آپ یقیناً پائیں گے انھیں سب سے لوگوں سے زیادہ ہوس رکھنے والے زندگی کی حتیٰ کہ مشرکوں سے بھی (زیادہ جینے پر حریص ہیں) چاہتا ہے ہر ایک ان میں سے کہ زندہ رہنے دیا جائے ہزار سال اور نہیں بچا سکتا اس کو عذاب سے (اتنی مدت) جیتے رہنا اور اللہ ہر وقت دیکھ رہا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔

Verse 97 — Surah Al-Baqarah 2:97

آپ فرمائیے جو دشمن ہو جبرئیل علیہ السلام کا (اسے معلوم ہونا چاہئے) کہ اس نے اتارا قرآن آپ کے دل پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ف (یہ ) تصدیق کرنے والا ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے اتریں ف اور سراپا ہدایت اور خوشخبری ہے ایمان والوں کے لئے

Verse 98 — Surah Al-Baqarah 2:98

جو کوئی دشمن ہو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل ( علیہ السلام) و میکائیل ( علیہ السلام) کا تو اللہ بھی دشمن ہے (ان) کافروں کا۔

Verse 99 — Surah Al-Baqarah 2:99

اور یقیناً ہم نے اتارے ہیں آپ پر روشن نشان اور کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا ان کا بجز نافرمانوں کے۔

Verse 100 — Surah Al-Baqarah 2:100

کیا (یوں نہیں) کہ جب کبھی انھوں نے وعدہ کیا تو پھر توڑ پھینکا اسے انھیں میں سے ایک گروہ نے بلکہ ان کی اکثریت تو (سرے سے) ایمان ہی نہیں لائی

Verse 101 — Surah Al-Baqarah 2:101

اور جب آیا ان کے پاس رسول اللہ کی طرف سے تصدیق کرنے والا اس کتاب کی جو ان کے پاس ہے تو پھینک دیا ایک جماعت نے اہل کتاب سے ف اللہ کی کتاب کو اپنی پشتوں کے پیچھے جیسے وہ کچھ جانتے ہی نہیں

Verse 102 — Surah Al-Baqarah 2:102

اور پیروی کرنے لگے اس کی جو پڑھا کر تے تھے شیطان ف سلیمان علیہ السلام کے عہد حکومت میں ف حالانکہ سلیمان علیہ السلام نے کوئی کفر نہیں کیا بلکہ شیطانوں نے ہی کفر کیا سکھایا کرتے تھے ف لوگوں کو جادو نیز وہ بھی جو اتارا گیا دو فرشتوں پر (شہر) بابل میں (جن کے نام) ہاروت اور ماروت تھے ف اور (کچھ) نہ سکھاتے تھے وہ دونوں کسی کو جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو نری آزمائش ہیں (ان پر عمل کر کے) کفر مت کرنا (اس کے باوجود) لوگ سیکھتے رہے ان دونوں سے وہ منتر ف جس سے جدائی ڈالتے تھے خاوند اور اس کی بیوی میں اور وہ ضرر نہیں پہنچا سکتے اپنے جادو منتر سے کسی کو بغیر اللہ کے ارادہ کے ف اور وہ سیکھتے ہیں وہ چیز جو ضرر رساں ہے ان کے لئے اور نہیں نفع پہنچا سکتی انہیں اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جس نے اس کا سودا کیا اس کے لئے آخرت میں (رحمت الٰہی سے) کوئی حصہ نہیں اور بہت بری ہے وہ چیز بیچا ہے انہوں نے جس کے عوض اپنی جانوں (کی فلاح کو) کاش! وہ کچھ جانتے

Verse 103 — Surah Al-Baqarah 2:103

اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیز گا ر بنتے تو (اس کا ) ثواب اللہ کے ہاں بہت اچھا ہوتا کاش! وہ کچھ جانتے۔

Verse 104 — Surah Al-Baqarah 2:104

اے ایمان والو! (میرے حبیب سے کلام کرتے وقت ) مت کہا کرو ’’راعنا ‘‘ ف بلکہ کہو ’’ انظرنا‘‘ اور (ان کی بات پہلے ہی) غور سے سنا کرو ف اور کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے

Verse 105 — Surah Al-Baqarah 2:105

نہیں پسند کرتے وہ لوگ جو کافر ہیں اہل کتاب سے اور نہ مشرک کہ اتاری جائے تم پر کچھ بھلائی تمہارے رب کی طرف سے ف اور اللہ خاص فرما لیتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہت بڑا فضل (فرمانے) والا ہے

Verse 106 — Surah Al-Baqarah 2:106

جو آیت ہم منسوخ کر دیتے ہیں یا فراموش کرا دیتے ہیں تو لاتے ہیں (دوسری) بہتر اس سے یا (کم از کم) اس جیسی ف کیا تجھے علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ کر سکتا ہے

Verse 107 — Surah Al-Baqarah 2:107

کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور تمہارا اللہ کے سوا کوئی یارو مددگا نہیں۔

Verse 108 — Surah Al-Baqarah 2:108

کیا تم (یہ) چاہتے ہو کہ پوچھو اپنے رسول سے (ایسے سوال) جیسے پوچھے گئے موسیٰ علیہ السلام سے اس سے پہلے ف اور جو بدل لیتا ہے کفر کو ایمان سے وہ (قسمت کا مارا) تو بھٹک گیا سیدھے راستہ ہے

Verse 109 — Surah Al-Baqarah 2:109

دل سے چاہتے ہیں بہت سے اہل کتاب کہ کسی طرح پھر بنا دیں تمہیں ایمان لانے کے بعد کافر ف (ان کی یہ آرزو) بوجہ اس حسد کے ہے جو ان کے دلوں میں ہے (یہ سب کچھ) اس کے بعد جبکہ خوب واضح ہو چکا ہے ان پر حق پس (اے غلامان مصطفے ٰ) معاف کرتے رہو اور در گزر کرتے رہو یہاں تک کہ بھیج دے اللہ (ان کے بارے میں ) اپنا حکم۔ بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے

Verse 110 — Surah Al-Baqarah 2:110

اور صحیح ادا کرو نماز اور دیا کرو زکوٰۃ اور جو کچھ آگے بھیجو گے اپنے لئے نیکیوں سے ضرور پاؤ گے اس کا ثمر اللہ کے ہاں ف یقیناً اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب دیکھ رہا ہے

Verse 111 — Surah Al-Baqarah 2:111

اور انہوں نے کہا نہیں داخل ہوگا جنت میں (کوئی بھی) بغیر ان کے جو یہودی ہیں یا عیسائی یہ ان کی من گھڑت باتین ہین آپ (اُنھیں) فرمائیے لاؤ اپنی کوئی دلیل اگر تم سچے ہو۔

Verse 112 — Surah Al-Baqarah 2:112

ہاں جس نے بھی جھکا دیا اپنے آپ کو اللہ کے لئے اور وہ مخلص بھی ہو تو اس کے لئے اس کا اجر ہے اپنے رب کے پاس ف نہ کوئی خوف ہے انہیں اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے

Verse 113 — Surah Al-Baqarah 2:113

اور کہتے ہیں یہودی کہ نہیں ہیں عیسائی سیدھی راہ پر اور کہتے ہیں عیسائی نہیں ہیں یہودی سیدھی راہ پر ف حالانکہ وہ سب پڑھتے ہیں (آسمانی ) کتاب اسی طرح کہی ان لوگوں نے جو کچھ نہیں جانتے ان کی سی بات ف تو (اب) اللہ فیصلہ فرمائے گا ان کے درمیان قیامت کے دن جن باتوں میں وہ جھگڑتے رہتے تھے

Verse 114 — Surah Al-Baqarah 2:114

اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جو روک دے اللہ کی مسجدوں سے ف کہ ذکر کیا جائے ان میں اس کے نام (پاک) کا اور کوشاں ہو ان کی ویرانی میں انہیں مناسب نہیں تھا کہ داخل ہوتے مسجدوں میں مگر ڈرتے ڈرتے ان کے لئے دنیا میں (بھی بڑی) ذلت ہے ف اور ان کے لئے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے

Verse 115 — Surah Al-Baqarah 2:115

اور مشرق بھی اللہ کا ہے اور مغرب بھی ف سو جدھر بھی تم رخ کرو وہیں ذات خداوندی ہے ۔ بےشک اللہ تعالیٰ فراخ رحمت والا خوب جاننے والا ہے

Verse 116 — Surah Al-Baqarah 2:116

اور یہ کہتے ہیں کہ بنا لیا ہے اللہ نے (اپنا) ایک بیٹا پاک ہے وہ (اس تہمت سے) ف بلکہ اسی کی ہے جو چیز آسمانوں میں ہے اور زمین میں سب اسی کے فرمانبردار ہیں

Verse 117 — Surah Al-Baqarah 2:117

موجد ہے ف آسمانوں اور زمین کا اور جب ارادہ فرماتا ہے کسی کام کا تو صرف اتنا حکم دیتا ہے اسے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے

Verse 118 — Surah Al-Baqarah 2:118

اور کہتے ہیں وہ لوگ جو کچھ نہیں جانتے کہ کیوں نہیں کلام کرتا ہمارے ساتھ (خود) اللہ یا کیوں نہیں آتی ہمارے پاس کوئی نشانی۔ اسی طرح کہی تھی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے (گزرے ) تھے ان کی سی (بے سروپا ) بات ف ملتے جلتے ہیں ان سب کے دل، بےشک ہم نے صاف صاف بیان کر دی ہیں (اپنی) نشانیاں اس قوم کے لئے جو یقین رکھتے ہیں ف

Verse 119 — Surah Al-Baqarah 2:119

بے شک ہم نے بھیجا ہے ف آپ کو (اے حبیب) حق کے ساتھ (رحمت کی ) خوشخبری دینے والا (عذاب سے) ڈرانے والا۔ اور آپ سے باز پرس نہیں ہوگی ان دوزخیوں کے متعلق

Verse 120 — Surah Al-Baqarah 2:120

اور ہرگز خوش نہیں ہوں گے آپ سے یہودی اور نہ عیسائی ف یہاں تک کہ آپ پیروی کرنے لگیں ان کے دین کی آپ (انہیں) کہہ دیجئے کہ اللہ کا بتایا ہوا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے اور اگر (بفرض محال ) آپ پیروی کریں ان کی خواہشوں کی اس علم کے بعد بھی جو آپ کے پاس آچکا ہے (تو پھر) نہیں ہوگا آپ کے لئے اللہ (کی گرفت) سے بچانے والا کوئی یار اور نہ کوئی مدد گار ف

Verse 121 — Surah Al-Baqarah 2:121

جن کو ہم نے کتاب دی وہ اس کی تلاوت کا حق ادا کرتے ہیں وہی ایمان لائے ہیں اس کے ساتھ اور جو کوئی انکار کرتا ہے اس کا تو وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔

Verse 122 — Surah Al-Baqarah 2:122

اے بنی اسرائیل! یاد کرو میری وہ نعمت جو میں نے تم پر فرمائی اور (خصوصا یہ کہ) میں نے تم کو فضیلت دی (اس زمانہ کے) سب لوگوں پر

Verse 123 — Surah Al-Baqarah 2:123

اور ڈرو اس ف دن سے کہ نہ پکڑا جائے گا کوئی آدمی کسی کے عوض اور نہ قبول کیا جائے گا اس سے مالی تاوان اور نہ نفع دے گی اسے کوئی سفارش اور نہ ہی ان کی امداد کی جائے گی

Verse 124 — Surah Al-Baqarah 2:124

اور یاد کرو جب ف آزمایا ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں سے تو انہیں پورے طور پر بجالایا ف اللہ نے فرمایا بےشک ہیں بنانے والا ہوں تمہیں تمام انسانوں کا پیشوا ف عرض کی میری اولاد سے بھی ! ف فرمایا نہیں پہنچتا میرا وعدہ ظالموں تک

Verse 125 — Surah Al-Baqarah 2:125

اور یاد کرو جب ہم نے بنایا اس گھر (خانہ کعبہ ) کو مرکز ف لوگوں کے لئے اور امن کی جگہ اور (انہیں حکم دیا کہ ) بنالو ابراہیم (علیہ السلام) کے کھڑے ہونے کی جگہ کو جائے نماز ف اور ہم نے تاکید کر دی ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمٰعیل علیہ السلام کو کہ خوب صاف ستھرا رکھنا میرا گھر ف طواف کرنے والوں ، اعتکاف بیٹھنے والوں اور رکوع وسجود کرنے والوں کے لئے

Verse 126 — Surah Al-Baqarah 2:126

اور یاد کرو جب عرض کی ابراہیم نے اے میرے رب! بنا دے اس شہر کو ف امن والا اور روزی دے اس کے باشندوں کو طرح طرح کے پھلوں سے (یعنی) جو ان میں سے ایمان لائے اللہ پر اور روز قیامت پر۔ اللہ نے فرمایا (ان میں سے) جس نے کفر بھی کیا اسے بھی فائدہ اٹھانے دوں گا چند روز پھر مجبور کروں گا اسے دوزخ کے عذاب کی طرف اور یہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے

Verse 127 — Surah Al-Baqarah 2:127

اور یاد کرو جب اٹھا رہے تھے ابراہیم (علیہ السلام ) بنیادیں ف خانہ کعبہ کی اور اسمٰعیل (علیہ السلام ) بھی۔ اے ہمارے پروردگار قبول فرما ہم سے (یہ عمل) بےشک تو ہی سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے

Verse 128 — Surah Al-Baqarah 2:128

اے ہمارے رب! بنادے ہم کو فرماں بردار اپنا اور ہماری اولاد سے بھی ایک ایسی جماعت پیدا کرنا جو تیری فرمابنردار ہو اور بتادے ہمیں ہماری عبادت کے طریقے اور توجہ فرما ہم پر (اپنی رحمت سے) بےشک تو ہی بہت توبہ قبول کرنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔

Verse 129 — Surah Al-Baqarah 2:129

اے ہمارے رب! ف بھیج ان میں ایک برگزیدہ رسول انہیں میں سے تاکہ پڑھ کر سنائے ف انہیں تیری آیتیں اور سکھائے انہیں یہ کتاب اور دانائی کی باتین اور پاک صاف کر دے انہیں۔ بےشک تو ہی بہت زبردست (اور ) حکمت والا ہے

Verse 130 — Surah Al-Baqarah 2:130

اور کون رو گردانی کر سکتا ہے دین ابراہیم (علیہ السلام) سے ف بجز اس کے جس نے احمق بنا دیا ہو اپنے آپ کو اور بےشک ہم نے چن لیا ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا میں اور بلاشبہ وہ قیامت کے دن نیکو کاروں میں ہوں گے

Verse 131 — Surah Al-Baqarah 2:131

اور یاد کرو جب فرمایا اس کو اس کے رب نے ف (اے ابراہیم علیہ السلام) گردن جھکا دو عرض کی میں نے اپنی گردن جھکا دی سارے جہانوں کے پروردگار کے سامنے ف

Verse 132 — Surah Al-Baqarah 2:132

اور وصیت کی اسی دین کی ابراہیم (علیہ السلام) کے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب ف نے اے میرے بچو! بےشک اللہ نے پسند فرمایا ہے تمہارے لئے یہی دین سو تم ہرگز نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو

Verse 133 — Surah Al-Baqarah 2:133

بھلا کیا تم (اس وقت) موجود تھے جب آپہنچی یعقوب ( علیہ السلام) کو موت جب کہ پوچھا اس نے اپنے بیٹوں سے کہ تم کس کی عبادت کروگے میرے (انتقال کرنے جانے کے ) بعد انھوں نے عرض کی ہم عبادت کریں گے آپ کے خدا کی اور آپ کے بزرگوں ابراہیم (علیہ السلام) و اسمعیل ( علیہ السلام) اور اسحاق ( علیہ السلام) کے خدا کی جو وحدہ لاشریک ہے اور ہم اسی کے فرمابنردار رہیں گے۔

Verse 134 — Surah Al-Baqarah 2:134

یہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی انھیں فائدہ دے گا جو (نیک عمل) انھوں نے کمایا اور تمھیں نفع دیں گے جو (نیک اعمال) تم نے کمائے اور نہ پوچھے جاؤ گے تم اس سے جو وہ کیا کرتے تھے ۔

Verse 135 — Surah Al-Baqarah 2:135

اور (یہودی) کہتے ہیں یہودی بن جاؤ (عیسائی کہتے ہیں ) عیسائی بن جاؤ (تب) ہدایت پالو گے آپ فرمائیے میرا دین تو دین ابراہیم ہے جو باطل سے من موڑنے والا حق پسند تھا اور وہ نہیں تھا شرک کرنے والوں سے ف

Verse 136 — Surah Al-Baqarah 2:136

کہہ دو ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر اور اس پر جو نازل کیا گیا ہماری طرف اور جو اتارا گیا ابراہیم (علیہ السلام) واسمٰعیل علیہ السلام واسحاق علیہ السلام ویعقوب علیہ السلام اور ان کی اولاد کی طرف اور جو عطا کیا گیا موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور جو عنایت کیا گیا دوسرے نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے ہم فرق نہیں کرتے ان میں کسی پر ایمان لانے میں اور ہم تو اللہ کے فرماں بردار ہیں ف

Verse 137 — Surah Al-Baqarah 2:137

تو اگر یہ بھی ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو جب تو وہ ہدایت پاگئے اور اگر وہ منہ پھیر یں تو (معلوم ہوگیا کہ) وہی مخالفت پر کمر بستہ ہیں تو کافی ہوجائے گا آپ کو ان کے مقابلے میں اللہ اور وہ سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔

Verse 138 — Surah Al-Baqarah 2:138

(ہم پر) اللہ کا رنگ (چڑھا ہے) اور کس کا رنگ خوبصورت ہے اللہ کے رنگ سے ف ہم تو اسی کے عبادت گزار ہیں

Verse 139 — Surah Al-Baqarah 2:139

آپ فرمائیے کیا تم جھگڑتے ہو ہمارے ساتھ اللہ کے بارے میں حالانکہ وہ ہمارا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی مالک ۔ اور ہمیں ہمارے اعمال اور تمھیں تمہارے اعمال فائدہ پہنچائیں گے ہم تو اسی کی اخلاص سے عبادت کرتے ہیں۔

Verse 140 — Surah Al-Baqarah 2:140

کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم (علیہ السلام) و اسمعیل ( علیہ السلام) و اسحاق ( علیہ السلام) و یعقوب ( علیہ السلام) اور ان کے بیٹے یہودی تھے یا عیسائی فرمائیے کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جو چھپاتا ہے گواہی جو اللہ کی طرف سے اس کے پاس ہے اور اللہ بےخبر نہیں ہے جو تم کررہے ہو۔

Verse 141 — Surah Al-Baqarah 2:141

وہ ایک امت تھی جو گزر چکی اسے ملے گا جو اس نے کمایا اور تمھیں ملے گا جو تم نے کمایا اور تم سے نہ پوچھا جائے گا اس سے جو وہ کیا کرتے تھے۔

Verse 142 — Surah Al-Baqarah 2:142

اب کہیں گے بےوقوف لوگ ف کہ کس چیز نے پھیر دیا ان (مسلمانوں) کو اپنے قبلہ سے جس پر وہ اب تک تھے آپ فرمائیے اللہ ہی کا ہے مشرق بھی اور مغرب بھی ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے سیدھے راستہ کی طرف

Verse 143 — Surah Al-Baqarah 2:143

اور اسی ف طرح ہم نے بنا دیا تمہیں (اے مسلمانو!) بہترین امت تاکہ تم گواہ بنو لوگوں پر ف اور (ہمارا) رسول تم پر گواہ ہو اور نہیں مقرر کیا ف ہم نے (بیت المقدس کو) قبلہ جس پر آپ (اب تک ) رہے مگر اس لئے کہ ہم دیکھ لیں کہ کون پیروی کرتا ہے (ہمارے) رسول کی (اور) کون مڑتا ہے الٹے پاؤں بےشک یہ (حکم ) بہت بھاری ہے مگر ان پر (بھاری نہیں) جنہیں اللہ نے ہدایت فرمائی اور نہیں اللہ کی یہ شان کہ ضائع کر دے تمہارا ایمان ف بےشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر بہت ہی مہربان (اور) رحم فرمانے والا ہے

Verse 144 — Surah Al-Baqarah 2:144

ہم دیکھ رہے ہیں ف بار بار آپ کا منہ کرنا آسمان کی طرف تو ہم ضرور پھیر دیں گے آپ کو اس قبلہ کی طرف جسے آپ پسند کرتے ہیں (لو) اب پھیر لو اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف ف (اے مسلمانو! ) جہاں کہیں تم ہو پھیر لیا کرو اپنے منہ اس کی طرف اور بےشک وہ جنہیں کتاب دی گئی ف ضرور جانتے ہیں کہ یہ حکم برحق ہے ان کے رب کی طرف سے اور نہیں اللہ تعالیٰ بےخبر ان کا موں سے جو وہ کرتے ہیں

Verse 145 — Surah Al-Baqarah 2:145

اور اگر آپ لے آئیں اہل کتاب کے پاس ہر ایک دلیل (پھر بھی) نہیں پیروی کریں گے آپ کے قبلہ کی اور نہ آپ پیروی کرنے والے ہیں ان کے قبلہ کی اور نہ وہ ایک دوسرے کے قبلہ کو ماننے والے ہیں اور اگر (بفرض محال) آپ پیروی کریں ف ان کی خواہشوں کی اس کے بعد کہ آچکا آپ کے پاس علم تو یقیناً آپ اس وقت ظالموں میں (شمار) ہوں گے

Verse 146 — Surah Al-Baqarah 2:146

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ پہچانتے ہیں انہیں جیسے وہ پہچانتے ہیں اپنے بیٹوں کو ف اور بےشک ایک گروہ ان میں سے چھپاتا ہے حق کو جان بوجھ کر

Verse 147 — Surah Al-Baqarah 2:147

یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے تو ہرگز نہ بن جانا شک کرنے والوں سے۔

Verse 148 — Surah Al-Baqarah 2:148

اور ہر قوم کے لئے ف ایک سمت (مقرر) ہے وہ اسی کی طرف منہ کرتی ہے پس آگے بڑھ جاؤ ف دوسروں سے نیکیوں میں تم کہیں ہو لے آئے گا اللہ تعالیٰ تم سب کو یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے

Verse 149 — Surah Al-Baqarah 2:149

اور جہاں سے بھی آپ (باہر) نکلیں تو موڑلیا کریں (نماز کے وقت) اپنا رخ مسجد حرام کی طرف اور بےشک یہی حق ہے آپ کے رب کی طرف سے اور نہیں اللہ تعالیٰ بےخبر جو کچھ تم کرتے ہو۔

Verse 150 — Surah Al-Baqarah 2:150

اور جہاں سے آپ (باہر) نکلیں تو موڑ لیا کریں اپنا رخ (نماز کے وقت) مسجد حرام کی طرف اور (اے مسلمانو! ) جہاں کہیں تم ہو تو پھیر لیا کرو اپنے منہ اس کی طرف تاکہ نہ رہے لوگوں کو تم پر اعتراض (کی گنجائش) ف بجز ان لوگوں کے جو نا انصافی کریں ان سے سو نہ ڈرو تم ان سے (بلکہ صرف) مجھ سے ڈرا کرو تاکہ میں پورا کردوں اپنا انعام تم پر ف تاکہ تم راہ راست پر ثابت قدم رہو

Verse 151 — Surah Al-Baqarah 2:151

جیسا کہ بھیجا ف ہم نے تمہارے پاس رسول تم میں سے پڑھ کر سنتا ہے تمہیں ہماری آیتیں اور پاک کرتا ہے تمہیں اور سکھاتا ہے تمہیں کتاب اور حکمت اور تعلیم دیتا ہے تمہیں ف ایسی باتون کی جنہیں تم جانتے ہی نہیں تھے

Verse 152 — Surah Al-Baqarah 2:152

سو تم مجھے یاد کیا کرو ف میں تمہیں یاد کیا کروں گا اور شکر ادا کیا کرو میرا اور میری ناشکری نہ کیا کرو ف

Verse 153 — Surah Al-Baqarah 2:153

اے ایمان والو! مدد طلب کیا کرو صبر ف اور نماز (کے ذریعہ) سے بےشک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

Verse 154 — Surah Al-Baqarah 2:154

اور نہ کہا کرو انہیں جو قتل کئے جاتے ہیں ف اللہ کی راہ میں کہ وہ مردہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم (اسے ) سمجھ نہیں سکتے

Verse 155 — Surah Al-Baqarah 2:155

اور ہم ضرور آزمائیں گے تمہیں کسی ایک چیز کے ساتھ یعنی خوف ف اور بھوک اور کمی کرنے سے (تمہارے) مالوں اور جانوں اور پھلوں میں اور خوشخبری سنائیے ان صبر کرنے والوں کو

Verse 156 — Surah Al-Baqarah 2:156

جو کہ جب پہنچتی ہے انھیں کوئی مُصیبت تو کہتے ہیں بےشک ہم صرف اللہ ہی کے ہیں اور یقیناً ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

Verse 157 — Surah Al-Baqarah 2:157

یہی وہ (خوش نصیب ) ہیں جن پر ان کے رب کی طرح طرح کی نوازشیں اور رحمت ہے ف اور یہی لوگ سیدھی راہ پر ثابت قدم ہیں

Verse 158 — Surah Al-Baqarah 2:158

بےشک صفا اور مروہ ف اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں پس جو حج کرے اس گھر کا یا عمرہ کرے تو کچھ حرج نہیں اسے کہ چکر لگائے ان دونوں کے درمیان اور جو کوئی خوشی سے نیکی کرے تو اللہ تعالیٰ بڑا قدر دان خوب جاننے والا ہے

Verse 159 — Surah Al-Baqarah 2:159

بےشک جو لوگ ف چھپاتے ہیں ان چیزوں کو جو ہم نے نازل کیں روشن دلیلوں اور ہدایت سے اس کے بعد بھی کہ ہم نے کھول کر بیان کر دیا انہیں لوگوں کے واسطے (اپنی) کتاب میں یہی وہ لوگ ہیں کہ دور کرتا ہے انہیں اللہ تعالیٰ (اپنی رحمت سے) اور لعنت کرتے ہیں انہیں لعنت کرنے والے

Verse 160 — Surah Al-Baqarah 2:160

البتہ جو لوگ توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں اور ظاہر کردیں (جو اب تک چھپاتے رہے) تو ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہوں اور میں بہت توبہ قبول کرنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ہوں۔

Verse 161 — Surah Al-Baqarah 2:161

بے شک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور مرے اس حال پر کہ وہ کافر تھے یہی وہ لوگ ہیں جن پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور سب لوگوں کی

Verse 162 — Surah Al-Baqarah 2:162

ہمیشہ رہیں گے اس میں نہ ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ انھیں مہلت دی جائے گی۔

Verse 163 — Surah Al-Baqarah 2:163

اور تمہارا خدا ایک خدا ہے ف نہیں کوئی خدا بجز اس کے بہت ہی مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے

Verse 164 — Surah Al-Baqarah 2:164

بےشک ف آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کی گردش میں اور جہازوں میں جو چلتے ہیں سمندر میں وہ چیزیں اٹھائے جو نفع پہنچاتی ہیں لوگوں کو اور جو اتارا اللہ تعالیٰ نے بادلوں سے پانی پھر زندہ کیا اس کے ساتھ زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد اور پھیلا دئیے اس میں ہر قسم کے جانور اور ہواؤں کے بدلتے رہنے میں اور بادل میں جو حکم کا پابند ہو کر آسمان اور زمین کے درمیان (لٹکتا رہتا ) ہے (ان سب میں) نشانیان ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں

Verse 165 — Surah Al-Baqarah 2:165

اور کچھ لوگ وہ ہیں ف جو بناتے ہیں اوروں کو اللہ کا مد مقابل محبت کرتے ہیں ان سے جیسے اللہ سے محبت کرنا چاہئے اور جو ایمان لائے وہ سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں اللہ سے ف اور کاش ! (اب) جان لیتے جنہوں نے ظلم کیا (جو وہ اس وقت جانیں گے ) جب (آنکھوں سے ) دیکھ لیں گے عذاب کہ ساری قوتوں کا مالک اللہ ہے اور بےشک اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے

Verse 166 — Surah Al-Baqarah 2:166

جب بیزار ہوجائیں گے وہ جن کی تابعداری کی گئی ان سے جو تابعداری کرتے رہے اور دیکھ لیں گے عذاب کو اور ٹوٹ جائیں گے ان کے تعلقات ۔

Verse 167 — Surah Al-Baqarah 2:167

اور کہیں گے تابعداری کرنے والے کاش ! ہمیں لوٹ کر جانا ہوتا (دنیامیں ) تو ہم بھی بیزار ہوجاتے ان سے جیسے وہ (آج) بیزار ہوگئے ہیں ہم سے یونہی دکھائے گا انھیں اللہ تعالیٰ ان کے (بُرے) اعمال کہ باعث پشیمانی ہوں گے ان کے لیے اور وہ (کسی صورت میں) نہ نکل پائیں گے آگ (کے عذاب) سے۔

Verse 168 — Surah Al-Baqarah 2:168

اے انسانو! کھاؤ اس سے جو زمین میں ہے حلال (اور) پاکیزہ (چیزیں ) ف اور شیطان کے قدموں پر قدم نہ رکھو بےشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

Verse 169 — Surah Al-Baqarah 2:169

وہ تو حکم دیتا ہے تمہیں فقط برائی اور بےحیائی کا اور یہ کہ بہتان باندھو اللہ پر جو تم جانتے ہی نہیں ف

Verse 170 — Surah Al-Baqarah 2:170

اور جب کہا جاتا ہے ف ان سے پیروی کرو اس کی جو نازل فرمایا ہے اللہ نے تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے پایا اپنے باپ دادوں کو۔ اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھ سکتے ہوں اور نہ ہدایت یافتہ ہوں

Verse 171 — Surah Al-Baqarah 2:171

اور مثال ان کی ف جنہوں نے کفر (اختیار ) کیا۔ ایسی ہے جیسے کوئی چلا رہا ہو ایسے (جانوروں) کے پیچھے جو نہیں سنتے سوائے خالی پکارا اور آواز کے۔ یہ لوگ بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے سو وہ کچھ نہیں سمجھتے

Verse 172 — Surah Al-Baqarah 2:172

اے ایمان والو! کھاؤ پاک چیزیں جو ہم نے تم کو دی ہیں اور شکر ادا کیا کرو اللہ تعالیٰ کا اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو۔

Verse 173 — Surah Al-Baqarah 2:173

اس نے حرام کیا ہے ف تم پر صرف مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور بلند کیا گیا ہو جس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام ف لیکن جو مجبور ف ہوجائے در آنحالیکہ وہ نہ سرکش ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر (بقدر ضرورت کھا لینے میں ) کوئی گناہ نہیں۔ بےشک اللہ تو بہت گناہ بخشنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے

Verse 174 — Surah Al-Baqarah 2:174

بےشک جو لوگ چھپاتے ہیں ف اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور خرید لیتے ہیں اس کے بدلے حقیر سا معاوضہ۔ سو وہ نہیں کھا رہے اپنے پیٹوں میں سوائے آگ کے اور بات تک نہ کرے گا ان سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ف اور نہ (ان کے گناہ بخش کر ) انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے

Verse 175 — Surah Al-Baqarah 2:175

یہ وہ (بدنصیب ) ہیں جنہوں نے خرید لی گمراہی ہدایت کے عوض، اور عذاب کو نجات کے بدلے (تعجب ہے) کِس چیز نے اتنا صابر بنادیا ہے انہیں آگ (کے عذاب) پر۔

Verse 176 — Surah Al-Baqarah 2:176

یہ سزا اس لیے ہوگ کہ اللہ نے تو اتاری کتاب حق کے ساتھ اور بےشک جو لوگ اختلاف ڈال رہے ہیں کتاب میں وہ دور دراز کے جھگڑوں میں پھنسے ہیں۔

Verse 177 — Surah Al-Baqarah 2:177

نیکی (بس یہی ) نہیں کہ (نماز میں ) تم پھیر لو اپنے رخ ف مشرق کی طرف اور مغرب کی طرف بلکہ ف نیکی (کا کمال ) تو یہ ہے کہ کوئی شخص ایمان لائے اللہ پر اور روز قیامت پر اور فرشتون پر اور کتاب پر اور سب نبیوں پر اور دے اپنا مال اللہ کی محبت سے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو اور (خرچ کرے ) غلام آزاد کرنے میں اور صحیح صحیح ادا کیا کرے نماز اور دیا کرے زکوٰۃ اور جو پورا کرنے والے ہیں اپنے وعدوں کو جب کسی سے وعدہ کرتے ہیں اور کمال نیک ہیں ف جو صبر کرتے ہیں مصیبت میں اور سختی میں اور جہاد کے وقت یہی لوگ ہیں جو راستباز ہیں اور یہی لوگ حقیقی پرہیزگار ہیں

Verse 178 — Surah Al-Baqarah 2:178

اے ایمان والوں فرض کیا گیا ہے تم پر قصاص ف جو (ناحق) مارے جائیں۔ آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت ، پس جس کو ف معاف کی جائے اس کے بھائی ف (مقتول کے وارث ) کی طرف سے کچھ چیز تو چاہئے ف کہ طلب کرے (مقتول کا وارث ) خون بہا دستور کے مطابق اور (قاتل کو چاہئے) کہ اسے ادا کرے اچھی طرح۔ یہ رعایت ف تمہارے رب کی طرف سے اور رحمت ہے ۔ تو جس نے زیادتی کی ف اس کے بعد تو اس کے لئے دردناک عذاب ہے

Verse 179 — Surah Al-Baqarah 2:179

اور تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے اے عقل مندو ف تاکہ (قتل کرنے سے ) پرہیز کرنے لگو

Verse 180 — Surah Al-Baqarah 2:180

فرض کیا گیا ہے تم پر جب قریب آجائے تم میں سے کسی کے موت۔ بشرطیکہ چھوڑے کچھ مال ف ۔ کہ وصیت کرے اپنے ماں باپ کے لئے اور قریبی رشتہ داروں کے لئے انصاف کے ساتھ۔ ایسا کرنا ضروری ہے پرہیزگاروں پر

Verse 181 — Surah Al-Baqarah 2:181

پھر جو بدل ڈالے اس وصیت کو سن لینے کے بعد تو اس کا گناہ انہیں بدلنے والوں پر ہوگا۔ بےشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا جاننے والاہے

Verse 182 — Surah Al-Baqarah 2:182

اور جسے اندیشہ ہو وصیت کرنے والے سے کسی طرفداری یا گناہ کا پس وہ صلح کرادے ان کے درمیان تو کچھ گناہ نہیں اس پر بےشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

Verse 183 — Surah Al-Baqarah 2:183

اے ایمان والو! فرض کئے گئے تم پر روزے ف جیسے فرض کئے گئے تھے ان لوگوں پر جو تم سے پہلے تھے کہ کہیں تم پرہیزگار بن جاؤ ف

Verse 184 — Surah Al-Baqarah 2:184

یہ گنتی کے چند روز ہیں۔ پھر جو تم میں سے بیمار ہو ف یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں رکھ لے ۔ اور جو لوگ ف اسے بہت مشکل سے ادا کر سکیں ان کے ذمہ فدیہ ہے ایک مسکین کا کھانا۔ اور جو خوشی سے زیادہ نیکی کرے تو وہ اس کے لئے زیادہ بہتر ہے۔ اور تمہارا روزہ رکھنا ہی بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم جانتے ہو

Verse 185 — Surah Al-Baqarah 2:185

ماہ رمضان المبارک جس میں اتارا گیا قرآن ف اس حال میں کہ یہ راہ حق دکھاتا ہے لوگوں کو اور (اس میں ) روشن دلیلیں ہیں ہدایت کی اور حق وباطل میں تمیز کر نے کی۔ سو جو کوئی پائے ف تم میں سے اس مہینہ کو تو وہ یہ مہینہ روزے رکھے۔ اور جو کوئی ف بیمار ہو، یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں رکھ لے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تمہارے لئے سہولت اور نہیں چاہتا ف تمہارے لئے دشواری اور (چاہتا ہے کہ ) تم گنتی پوری کر لیا کرو۔ اور اللہ کی بڑائی بیان کیا کرو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر گزاری کیا کرو

Verse 186 — Surah Al-Baqarah 2:186

اور جب پوچھیں ف آپ سے (اے میرے حبیب ) میرے بندے میرے متعلق تو (انہیں بتاؤ) میں (ان کے ) بالکل نزدیک ہوں۔ قبول کرتا ہوں دعا ف دعا کرنے والے کی جب وہ دعا مانگتا ہے مجھ سے پس انہیں چاہئے کہ میرے حکم مانیں اور ایمان لائیں مجھ پر تاکہ وہ کہیں ہدایت پا جائیں

Verse 187 — Surah Al-Baqarah 2:187

حلال ف کر دیا گیا ہے تمہارے لئے رمضان کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا۔ وہ ف پردہ ، زینت وآرام ہیں اور تم ان کے لئے پردہ، زینت و آرام ہو۔ جانتا ہے اللہ تعالیٰ کہ تم خیانت کیا کرتے تھے اپنے آپ سے پس اس نے نظر کرم فرمائی تم پر اور معاف کر دیا تمہیں، سو اب تم ان سے ملو ملاؤ اور طلب کرو جو (قسمت میں ) لکھ دیا ہے اللہ نے تمہارے لئے اور کھاؤ اور پیؤ یہاں تک کہ ظاہر ہوجائے تمہارے لئے سفید ڈورا۔ سیاہ ڈورے سے ف صبح کے وقت پھر پورا کرو ف روزہ کو رات تک اور نہ مباشرت کرو ان سے ف جب کہ تم اعتکاف بیٹھے ہو مسجدوں میں یہ اللہ کی حدیں ہیں ان (کو توڑنے ) کے ف قریب بھی نہ جانا۔ اسی طرح بیان فرماتا ہے اللہ تعالیٰ اپنی آیتیں لوگوں کے لئے تاکہ وہ تقویٰ اختیار کر لیں

Verse 188 — Surah Al-Baqarah 2:188

اور نہ کھاؤ ایک دوسرے کا مال آپس میں ناجائز طریقہ سے اور نہ رسائی حاصل کرو اس مال سے (رشوت دیکر) حاکموں تک تاکہ یوں کھاؤ کچھ حصہ لوگوں کے مال کا ظلم سے حالانکہ تم جانتے ہو (کہ اللہ نے یہ حرام کیا ہے) ۔

Verse 189 — Surah Al-Baqarah 2:189

دریافت کرتے ہیں آپ سے نئے چاندوں کے متعلق (کہ یہ کیونکر گھٹتے بڑھتے ہیں) فرمائیے یہ وقت کی علامتیں ہیں لوگوں کے لیے اور حج کے لیے اور یہ کوئی نیکی نہیں کہ تم داخل ہو گھروں میں انکے پچھواڑے سے ہاں نیکی تو یہ ہے کہ انسان تقویٰ اختیار کرے۔ اور آیا کرو گھروں میں ان کے دروازوں سے اور ڈرتے رہو اللہ سے اس امید پر کہ کامیاب ہوجاؤ۔

Verse 190 — Surah Al-Baqarah 2:190

اور لڑو اللہ کی راہ میں ان سے جو تم سے لڑتے ہیں اور (ان پر بھی) زیادتی نہ کرنا۔ بےشک اللہ تعالیٰ دوست نہیں رکھتا زیادتی کرنے والوں کو۔

Verse 191 — Surah Al-Baqarah 2:191

اور قتل کرو انہیں جہاں بھی انہیں پاؤ اور نکال دو انہیں جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا اور فتنہ انگیزی تو قتل سے بھی زیادہ سخت ہے۔ اور نہ جنگ کرو ان سے مسجد حرام کے قریب یہاں کہ وہ (خود ) تم سے وہاں جنگ کرنے لیکیں۔ سو اگر وہ لڑیں تم سے تو پھر قتل کرو انہیں۔ یہی سزا ہے (ایسے) کافروں کی۔

Verse 192 — Surah Al-Baqarah 2:192

پھر اگر وہ باز آجائیں (تو جان لو) اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔

Verse 193 — Surah Al-Baqarah 2:193

اور لڑتے رہو ان سے یہاں تک کہ نہ رہے فتنہ (وفساد) اور ہوجائے دین صرف اللہ کے لیے پھر اگر وہ باز آجائیں ( تو سمجھ لو) کہ سختی (کسی پر) جائز نہیں مگر ظالموں پر۔

Verse 194 — Surah Al-Baqarah 2:194

حرمت والا مہینہ حرمت والے مہینہ کا بدلہ ہے اور ساری حرمتوں میں (فریقین کے رویہ میں) برابری چاہیے تو جو تم پر زیادتی کرے تم اس پر زیادتی کرلو (لیکن) اسی قدر جتنی زیادتی اس نے تم پر کی ہو۔ اور ڈرتے رہا کرو اللہ سے اور جان لو یقیناً اللہ (نصرت) پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

Verse 195 — Surah Al-Baqarah 2:195

اور خرچ کیا کرو اللہ کی راہ میں اور نہ پھینکو اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں تباہی میں اور اچھے کام کیا کرو بےشک اللہ تعالیٰ محبت فرماتا ہے اچھے کام کرنیوالوں سے ۔

Verse 196 — Surah Al-Baqarah 2:196

اور پورا کرو حج اور عمرہ اللہ (کی رضا) کے لیے پھر اگر تم گھر جاؤ تو قربانی کا جانور جو آسانی سے مل جائے (وہ بھیجدو) اور نہ منڈاؤ اپنے سر یہاں تک کہ پہنچ جائے قربانی کا جانور اپنے ٹھکانے پر۔ پس جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا اسے کچھ تکلیف ہو سر میں (اور وہ سر منڈالے) تو وہ فدیہ دیدے روزوں سے یا خیرات سے یا قربانی سے ، اور جب تم امن میں ہوجاؤ(اور حج سے پہلے مکہ پہنچ جاؤ) تو جو فائدہ اٹھانا چاہے عمرہ کا حج کے ساتھ تو جو اسے میسر ہو قربانی دے پھر جسے قربانی کی طاقت نہ ہو تو وہ تین دن روزے رکھے حج کے وقت اور سات جب تم گھر لوٹ آؤیہ پورے دس (روزے) ہوئے۔ یہ رعایت اس کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے قریب نہ ہوں۔ اور ڈرا کرو اللہ سے اور جان لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔

Verse 197 — Surah Al-Baqarah 2:197

حج کے چند مہینے ہیں جو معلوم ہیں پس جو نیت کرلے ان میں حج کی تو اسے جائز نہیں بےحیائی کی بات اور نہ نافرمانی اور نہ جھگڑا ۔ حج کے دنوں میں اور جو تم نیک کام کرو اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے، اور سفر کا توشہ تیار کرو اور سب سے بہت توشہ تو پرہیزگاری ہے اور ڈرتے رہو مجھ سے اے عقلمندو ! ۔

Verse 198 — Surah Al-Baqarah 2:198

نہیں ہے تم پر کوئی حرج (اگر حج کے ساتھ ساتھ) تم تلاش کرو اپنے رب کا فضل (رزق) پھر جب واسپس آؤ عرفات سے تو ذکر کرو اللہ کا مشعر حرام (مزدلفہ) کے پاس اور ذکر کرو اس کا جس طرح اس نے تمہیں سکھا یا اور اگرچہ تم اس سے پہلے گمراہوں میں سے تھے۔

Verse 199 — Surah Al-Baqarah 2:199

پھر تم بھی (اے مغروران قریش) وہاں تک (جاکر) واپس آؤ جہاں جاکر دوسرے لوگ واپس آتے ہیں، اور معافی مانگو اللہ سے بےشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔

Verse 200 — Surah Al-Baqarah 2:200

پھر جب تم پورے کرچکو حج کے ارکان تو اللہ کو یاد کرو جس طرح اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ ذکر الہیٰ کرو اور کچھ لوگ ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب دیدے ہمیں دنیا میں ہی (سب کچھ) نہیں ہے اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ۔

Verse 201 — Surah Al-Baqarah 2:201

اور بعض لوگ ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ! عطا فرما ہمیں دنیا میں بھی بھلائی اور آخرت میں بھی بھلائی اور بچالے ہمیں آگ کے عذاب سے

Verse 202 — Surah Al-Baqarah 2:202

اور انہی لوگوں کو بڑا حصہ ملیگا (دونوں جہانوں میں) بسبب انکی (نیک ) کمائی کے، اور اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب چکانے والا ہے۔

Verse 203 — Surah Al-Baqarah 2:203

اور (خوب) یاد کرلو اللہ تعالیٰ کو ان دنوں میں جو معدوے چند ہیں اور جو جلدی کرکے دو دنوں میں چلا گیا تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ اور جو کچھ دیر وہاں ٹھیرا رہا تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں (بشرطیکہ) وہ ڈرتا رہا ہو۔ اور ڈرتے رہو اللہ سے اور (خوب) جان لو تمہیں اسی کی بارگاہ میں اکٹھا کیا جائے گا ۔

Verse 204 — Surah Al-Baqarah 2:204

اور (اے سننے والے) لوگوں سے وہ بھی ہے کہ پسند آتی ہے تجھے اس کی گفتگو دنیاوی زندگی کے بارے میں اور وہ گواہ بنا رہتا ہے اللہ کو اس پر جو اس کے دل میں ہے۔ حالانکہ وہ (حق کا) سخت ترین دشمن ہے۔

Verse 205 — Surah Al-Baqarah 2:205

اور وہ جب حاکم بن جاتا ہے تو سرتوڑ کوشش کرتا ہے کہ ملک میں فساد برپا کردے اور تباہ کردے کھیتوں کو اور نسل انسانی کو اور اللہ تعالیٰ فساد کو ہرگز پسند نہیں کرتا ۔

Verse 206 — Surah Al-Baqarah 2:206

اور جب کہا جائے اسے کہ (میاں) خدا سے تو ڈرو تو اکساتا ہے اسے غرور گناہ پر پس اس کے لیے جہنم کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

Verse 207 — Surah Al-Baqarah 2:207

اور لوگوں میں سے وہ بھی ہے جو بیچ ڈالتا ہے اپنی جان (عزیز) بھی اللہ کی خوشنودیاں حاصل کرنے کے لیے اور اللہ نہایت مہربان ہے اپنے بندوں پر ۔

Verse 208 — Surah Al-Baqarah 2:208

اے ایمان والو داخل ہوجاؤ اسلام میں پورے پورے اور نہ چلو شیطان کے نقش قدم پر بےشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔

Verse 209 — Surah Al-Baqarah 2:209

اور اگر تم پھسلنے لگو اس کے بعد کہ آچکی ہیں تمہارے پاس روشن دلیلیں تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ زبردست حکمت والا ہے ۔

Verse 210 — Surah Al-Baqarah 2:210

کیا وہ اس بات کا انتظار کر رہے کہ آئے انکے پاس اللہ کا عذاب چھائے ہوئے بادلوں (کی صورت) میں اور فرشتے اور (انکا) فیصلہ ہی کردیا جائے اور (آخر کار) اللہ کی طرف ہی لوٹائے جائیں گے سارے معاملات ۔

Verse 211 — Surah Al-Baqarah 2:211

آپ پوچھیئے بنی اسرائیل سے کہ ہم نے انہیں کتنی روشن دلیلیں عنایت فرمائیں اور جو (قوم) بدل ڈالے اللہ کی نعمت کو اس کے مل جانے کے بعد تو یقیناً اللہ تعالیٰ (اس قوم کو) سخت عذاب دینے والا ہے۔

Verse 212 — Surah Al-Baqarah 2:212

آراستہ کردی گئی ہے کافروں کے لیے دنیا کی (فانی) زندگی اور مذاق اڑاتے ہیں یہ ایمان والوں کا ، حالانکہ پرہیزگاروں کی شان بلند ہوگی ان سے قیامت کے دن اور اللہ تعالیٰ روزی تو جسے چاہے بےحساب دیتا ہے۔

Verse 213 — Surah Al-Baqarah 2:213

(ابتدا میں) سب لوگ ایک ہی دین پر تھے (پھر جب انمیں اختلاف پیدا ہوگیا) تو بھیجے اللہ نے انبیاء خوشخبری سنا نے والے اور ڈرانے والے اور نازل فرمائی ان کے ساتھ کتاب برحق تاکہ فیصلہ کردے لوگوں کے درمیان جن باتوں میں جھگڑنے لگے گے اور کسی نے اختلاف نہیں کیا اس میں بجز ان لوگوں کے جنہیں کتاب دی گئی تھی بعد ازاں کہ آگئی تھیں ان کے پاس روشن دلیلیں (اسکی وجہ) ایک دوسرے سے حسد تھا۔ پس اللہ نے ہدایت بخشی انھیں جو ایمان لائے تھے ان سچی باتوں پر جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے اپنی توفیق سے اور اللہ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے سیدے راستے کی طرف۔

Verse 214 — Surah Al-Baqarah 2:214

کیا تم خیال کررہے ہو کہ (یونہی) داخل ہوجاؤگے جنت میں حالانکہ نہیں گزرے تم پر وہ حالات جو گزرے ان لوگوں پر جو تم سے پہلے ہوئے ہیں، پہنچی انھیں سختی اور مصیبت اور وہ لرز اٹھے یہاں تک کہہ اٹھا (اس زمانہ کا) رسول اور جو ایمان لے آئے تھے اسکے ساتھ کب آئیگی اللہ کی مدد؟ سن لو یقیناً اللہ کی مدد قریب ہے ۔

Verse 215 — Surah Al-Baqarah 2:215

آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں ، آپ فرمائیے جو کچھ خرچ کرو (اپنے) مال سے تو اس کے مستحق تمہارے ماں باپ ہیں ، اور قریبی رشتہ دار ہیں اور یتیم ہیں اور مسکین ہیں اور مسافر ہیں اور جو نیکی تم کرتے ہو تو بلا شبہ اللہ تعالیٰ اُسے خوب جانتا ہے۔

Verse 216 — Surah Al-Baqarah 2:216

فرض کیا گیا ہے تم پر جہاد اور وہ نا پسند ہے تمہیں اور ہوسکتا ہے کہ تم نا پسند کرو کسی چیز حالانکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہو اور ہوسکتا ہے کہ تم پسند کرو کسی چیز کو حالانکہ وہ تمہارے حق میں بری ہو اور ( حقیقت حال ) اللہ ہی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔

Verse 217 — Surah Al-Baqarah 2:217

وہ پوچھتے ہیں آپ سے کہ ماہ حرام میں جنگ کرنے کا حکم کیا ہے آپ فرمائیے کہ لڑائی کرنا اس میں بڑا گناہ ہے لیکن روک دینا اللہ کی راہ سے اور کفر کرنا اس کے ساتھ اور (روک دینا) مسجد حرام سے اور نکال دینا اسمیں بسنے والوں کو اس ، اسے بھی بڑے گناہ ہیں اللہ کے نزدیک اور فتنہ (و فساد) قتل سے بھی بڑا گنا ہے۔ اور ہمیشہ لڑتے رہیں گے تم سے یہاں تک کہ پھیر دیں تمہیں تمہارے دین سے اگر بن پڑے اور جو پھر سے تم میں سے اپنے دین سے پھر مرجائے حالت کفر پر تو یہی وہ (بدنصیب) ہیں کہ ضائع ہوگئے ان کے عمل دینا و آخرت میں اور یہی دوزخی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

Verse 218 — Surah Al-Baqarah 2:218

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا ، اللہ کی راہ میں ، (تو ) یہی لوگ امید رکھتے ہیں اللہ کی رحمت کی ، اور اللہ بڑا بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔

Verse 219 — Surah Al-Baqarah 2:219

وہ پوچھتے ہیں آپ سے شراب اور جوئے کی بابت ، آپ فرمائیے ان دونوں میں بڑا گناہ ھے۔ اور کچھ فائدے بھی ہیں لوگوں کے لیے اور ان کا گناہ بہت بڑا ہے ان کے فائدے سے اور پوچھتے ہیں آپ سے کیا خرچ کریں فرمایے جو ضرورت سے زیادہ ہو اسی طرح کھول کر بیان کرتا ہے اللہ تمہارے لیے اپنے حکموں کو تاکہ تم غور و فکر کرو ۔

Verse 220 — Surah Al-Baqarah 2:220

دنیا اور آخرت کے کاموں میں ۔ اور پوچھتے ہیں آپ سے یتیموں کے بارے میں فرمائیے (ان سے الگ تھلک رہنے سے) انکی بھلائی کرنا بہتر ہے، اور اگر (کاروبار میں) تم انہیں ساتھ ملالو تو وہ تمہارے بھائی ہیں۔ اور اللہ خوب جانتا ہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے اور اگر چاہتا اللہ تو مشکل میں ڈال دیتا تمہیں بےشک اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا حکمت والا ہے۔

Verse 221 — Surah Al-Baqarah 2:221

اور نہ نکا ح کرو مشرک عورتوں کے ساتھ یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں۔ اور بےشک مسلمان لونڈی بہتر ہے (آزاد) مشرک عورت سے اگرچہ وہ بہت پسند آئے تمہیں۔ اور نہ نکاح کردیا کرو (اپنی عورتوں کا ) مشرکوں سے یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں اور بیشک مومن غلام بہتر ہے (آزاد) مشرک سے، اگرچہ وہ پسند آئے تمہیں وہ لوگ تو بلاتے ہیں دوزخ کی طرف اور اللہ تعالیٰ بلاتا ہے جنت کی اور مغفرت کی طرف اپنی توفیق سے اور کھول کر بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے حکم لوگوں کے لیے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں

Verse 222 — Surah Al-Baqarah 2:222

اور وہ پوچھتے ہیں آپ سے حیض کے متعلق فرمائیے وہ تکلیف دہ ہے پس الگ رہا کرو عورتوں سے حیض کی حالت میں اور نہ نزدیک جایا کرو ان کے یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں ۔ پھر جب وہ پاک ہوجائیں تو جاؤ ان کے پاس جیسے حکم دیا ہے تمہیں اللہ نے بےشک اللہ دوست رکھتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور دوست رکھتا ہے صاف ستھرا رہنے والوں کو۔

Verse 223 — Surah Al-Baqarah 2:223

تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں سو تم آؤ اپنے کھیت میں جس طرح چاہو اور پہلے پہلے کرلو اپنی بھلائی کے کام اور ڈرتے رہو اللہ سے اور خوب جان لو کہ تم ملنے والے ہو اس سے اور (اے حبیب) خوشخبری دو مومنوں کو ۔

Verse 224 — Surah Al-Baqarah 2:224

اور نہ بناؤ اللہ (کے نام) کو رکاوٹ اس کی قسم کھا کر کہ نیکی نہ کروگے اور پرہیزگاری نہ کرو گے اور صلح نہ کرو گے لوگوں میں اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔

Verse 225 — Surah Al-Baqarah 2:225

نہیں پکڑے گا تمہیں اللہ تعالیٰ تمہاری لایعنی قسموں پر لیکن پکڑے گا تمہیں ان قسموں پر جن کا ارادہ تمہارے دلوں نے کیا ہے اور اللہ بہت بخشنے والا حلم والا ہے۔

Verse 226 — Surah Al-Baqarah 2:226

ان کے لیے جو قسم اٹھاتے ہیں کہ وہ اپنی بیویوں کے قریب نہ جائیں گے مہلت ہے چار ماہ کی پھر اگر رجوع کرلیں (اِس مدت میں) تو بیشک اللہ غفور رحیم ہے

Verse 227 — Surah Al-Baqarah 2:227

اور اگر پکا ارادہ کرلیں طلاق دینے کا تو بےشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

Verse 228 — Surah Al-Baqarah 2:228

اور طلاق دی ہوئی عورتیں روکے رکھیں اپنے آپ کو تین حیضوں تک اور جائز نہیں ان کے لیے کہ چھپائیں جو پیدا کیا ہے اللہ نے ان کے رحموں میں اگر وہ ایمان رکھتی ہوں اللہ پر اور روز آخرت پر ان کے خاوند زیادہ حقدار ہیں ان کو لوٹانے کے اس مدت میں اگر وہ ارادہ کرلیں اصلاح کا اور ان کے بھی حقوق ہیں (مردوں پر) جیسے مردوں کے حقوق ہیں ان پر دستور کے مطابق البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ عزت والا حکمت والا ہے۔

Verse 229 — Surah Al-Baqarah 2:229

طلاق دوبار ہے پھر یا روک لینا ہے بھلائی کے ساتھ یا چھوڑدینا ہے احسان کے ساتھ اور جائز نہیں تمارے لیے کہ لو تم اس سے جو تم نے دیا ہے انہیں کچھ بھی بجز اس کے کہ دونوں اندیشہ ہو کہ وہ قائم نہ رکھ سکیں گے اللہ کی حدو کو تو کوئی حرج نہیں ان پر کہ عورت کچھ فدیہ دیگر جان چھڑالے۔ یہ حدیں ہیں اللہ کی سو ان سے آگے نہ بڑھو اور جو کوئی آگے بڑھتا ہے اللہ کی حدو سے سو وہی لوگ ظالم ہیں۔

Verse 230 — Surah Al-Baqarah 2:230

(دوبار طلاق دینے کے بعد) پھر اگر وہ طلاق دے اپنی بیوی کو تو وہ حلال نہ ہوگی اس پر اس کے بعد یہاں تک کہ نکاح کرے کسی اور خاوند کے ساتھ۔ پس اگر وہ (دوسرا) طلاق دے اسے تو کوئی حرج نہیں ان دونوں پر کہ رجوع کرلیں۔ بشرطیکہ انہیں خیال ہو کہ وہ قائم رکھ سکیں گے اللہ کی حدوں کو اور یہ حد یں ہیں اللہ کی وہ بیان فرماتا ہے انہیں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔

Verse 231 — Surah Al-Baqarah 2:231

اور جب تم طلاق دیدو عورتوں کو اور وہ پوری کر لیں اپنی عدت پس یا تو روک لو انہیں بھلائی کے ساتھ یا چھوڑ دو انہیں بھلائی کے ساتھ اور نہ روکو انہیں تکلیف دینے کی غرض سے تاکہ زیادتی کرو۔ اور جو کوئی کرے گا اس طرح تو وہ ظلم کریگا اپنی ہی جان پر اور نہ بنا لو اللہ کی آیتوں کو مذاق اور یاد کرو اللہ کی نعمت کو جو تم پر ہے اور (یاد کرو) جو اس نے نازل فرمایا تم پر قرآن اور حکم وہ نصیحت فرماتا ہے تمہیں اس سے۔ اور ڈرتے رہو اللہ سے اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

Verse 232 — Surah Al-Baqarah 2:232

اور جب تم طلاق دو عورتوں کو پھر وہ پوری کرچکیں اپنی عدت تو نہ منع کرو انہیں کہ نکاح کرلیں اپنے خاوندوں سے جبکہ رضا مند ہوجائیں آپس میں مناسب طریقہ سے یہ فرمان الٰہی (ہے) نصیحت کی جاتی ہے اسکے ذریعے اسکو جو تم میں سے یقین رکھتا ہو اللہ پر اور قیامت پر یہ بہت پاکیزہ ہے تمہارے لیے اور بہت صاف اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

Verse 233 — Surah Al-Baqarah 2:233

اور مائیں دودھ پلائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال ( یہ مدت) اس کے لیے ہے جو پورا کرنا چاہتا ہے دودھ کی مدت۔ اور جس کا بچہ ہے اس کے ذمہ ہے کھانا ان ماؤں کا اور ان کا لباس مناسب طریقہ سے۔ تلیف نہیں دی جاتی کسی شخص کو مگر اسکی حیثیت کے مطابق نہ ضرر پہنچایا جاجے کیس ماں کو اسکے لڑکے کے باعث اور نہ کسی باپ کو (ضرر پہنچا یا جائے) اسکے لڑکے کے باعث اور وارث پر بھی اسی قسم کی ذمہ داری ہے۔ پس اگر دونوں ارادہ کرلیں دودھ چھڑانے کا اپنی مرضی اور مشورہ سے تو کوئی گناہ نہیں دونوں پر اور اگر تم چاہو کہ دودھ پلواؤ (دایہ سے) اپنی اولاد کو پھر کوئی گناہ نہیں تم پر جبکہ تم ادا کردو جو دینا ٹھرایا تھا تم نے مناسب طریقہ سے اور ڈرتے رہو اللہ سے اور (خوب) جان لو کہ یقیناً اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کررہے ہو اسے دیکھنے والا ہے۔

Verse 234 — Surah Al-Baqarah 2:234

اور جو لوگ فوت ہوجائیں تم میں سے اور چھوڑ جائیں بیویاں تو ہو بیویاں انتظار کریں چار مہینے اور دس دن اور جب پہنچ جائیں اپنی (اس) مدت کو تو کوئی گناہ نہیں تم پر اس میں جو کریں وہ اپنی ذات کے بارے میں مناسب طریقہ سے ۔ اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو خوب واقف ہے۔

Verse 235 — Surah Al-Baqarah 2:235

اور کوئی گناہ نہیں تم پر اس بات میں کہ اشارہ سے پیغام نکاح دو اِ ن عورتوں کو یا جو چھپائے ہو تم اپنے دلوں میں جانتا ہے اللہ تعالیٰ کہ تم ضرور اس کا ذکر کرو گے البتہ نہ وعدہ لینا ان سے خفیہ طور پر بھی مگر یہ کہ کہو (ان سے ) شریعت کے مطابق کوئی بات اور نہ پکی کرلو نکاح کی گرہ یہاں تک کہ پہنچ جائے عدت اپنی انتہا کو اور جان لو کہ یقیناً اللہ جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے سو اس ڈرتے رہو اور جان لو کہ بےشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا حلم والا ہے۔

Verse 236 — Surah Al-Baqarah 2:236

کوئی حرج نہیں تم پر اگر تم طلاق دے دو ان عورتوں کو جن کو تم نے چھوا بھی نہیں اور نہیں مقرر کیا تم نے ان کا مہر اور خرچہ دہ انہیں مقدور والے پر اسکی حیثیت کے مطابق اور تنگدست پر اس کی حیثیت کے مطابق یہ خرچہ مناسب طریقہ پر ہونا چاہیے۔ یہ فرض ہے نیکو کاروں پر۔

Verse 237 — Surah Al-Baqarah 2:237

اور اگر تم طلاق دو انہیں اس سے پہلے کہ تم انہیں ہاتھ لگاؤ اور مقرر کرچکے تھے ان کے لیے مہر تو نصف مہر (ادا کرو) جو تم نے مقرر کیا ہے مگر یہ کہ وہ (اپنا حق ) معاف کردیں یا معاف کردے وہ جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ اور (اے مردو) اگر تم معاف کردو تو یہ بہت قریب ہے تقویٰ سے اور نہ بھلایا کرو احسان کو آپس (کے لین دین) میں بیشک اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے

Verse 238 — Surah Al-Baqarah 2:238

پابندی کرو سب نمازوں کی اور (خصوصا!) درمیانی نماز کی اور کھڑے رہا کرو اللہ کے لیے عاجزی کرتے ہوئے۔

Verse 239 — Surah Al-Baqarah 2:239

پھر اگر تم کو ڈر ہو (دشمن وغیرہ کا ) تو پیادہ یا سوار (جیسے بن پڑے) پھر جب تمہیں امن حاصل ہوجائے تو یاد کرو اللہ تعالیٰ کو جس طرح اس نے سکھایا ہے ، تمہیں جو تم جانتے نہیں تھے۔

Verse 240 — Surah Al-Baqarah 2:240

اور جو لوگ فوت ہو جاتے ہیں تم میں سے اور چھوڑ جاتے ہیں بیویاں (انہیں چاہیے کہ ) وصیت کرجایا کریں اپنی بیویوں کے لیے انہیں خرچ دیا جائے ایک سال تک (اور) نہ نکالا جائے (انہیں گھر سے ) پھر اگر وہ خود چلی جائیں تو کوئی گناہ نہیں تم پر جو کچھ وہ کریں۔ اپنے معاملہ میں مناسب طور پر اور اللہ بہت زبردست بڑا دانا ہے۔

Verse 241 — Surah Al-Baqarah 2:241

اور (اسی طرح) جن کو طلاق دی گئی انکو خرچ دینا چاہیے مناسب طور پر ۔ یہ واجب ہے پرہیزگاروں پر ۔

Verse 242 — Surah Al-Baqarah 2:242

اسی طرح کھول کر بیان فرماتا ہے اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنے احکام تاکہ تم سمجھ جاؤ۔

Verse 243 — Surah Al-Baqarah 2:243

کیا نہیں دیکھا تو نے ان لوگوں کی طرف جو نکلے تھے اپنے گھروں سے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے تو فرمایا انہں اللہ تعالیٰ نے کہ مرجاؤ پھر زندہ فرمایا انھیں بےشک اللہ تعالیٰ بڑا مہربان ہے لوگوں پر لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے ۔

Verse 244 — Surah Al-Baqarah 2:244

اور لڑائی کرو اللہ کی راہ میں اور جان لو کہ بےشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔

Verse 245 — Surah Al-Baqarah 2:245

کون ہے جو دے اللہ تعالیٰ کو قرض حسن تو بڑھا دے الہ اس قرض کو اس کے لیے کئی گنا اور اللہ تعالیٰ تنگ کرتا ہے (رزق کو ) اور فراخ کرتا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤگے۔

Verse 246 — Surah Al-Baqarah 2:246

کیا نہیں دیکھا تم نے اس گروہ کو بنی اسرائیل سے (جو) موسیٰ کے بعد ہوا جب کہا انھوں نے اپنے نبی سے کہ مقرر کردو ہامرے لیے ایک امیر تاکہ لڑائی کریں ہم اللہ کی راہ میں نبی نے کہا کہیں ایسا نہ ہو کہ فرض کردیا جائے تم پر جہاد تو تم جہاد نہ کرو وہ کہنے لگے (کوئی وجہ) نہیں ہمارے لیے کہ ہم جہاد نہ کریں اللہ کی راہ میں حالانکہ ہم نکالے گئے اپنے گھروں سے اور اپنے فرزندوں سے مگر جب فرض کردیا گیا ان پر جہاد تو منہ پھیر لیا انھوں نے بجز چند نے ان میں سے اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے ظالموں کو ۔

Verse 247 — Surah Al-Baqarah 2:247

اور کہا انھیں ان کے نبی نے بےشک اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمادیا ہے تمہارے لیے طالوت کو امیر بولے کیونکر ہوسکتا ہے اسے حکومت کا حق ہم پر حا لانکہ ہم زیادہ حقدار ہیں حکومت کے اس سے اور نہیں گئی اسے فراخی ما ل و دولت میں بنی نے فرمایا بےشک اللہ تعالیٰ نے چُن لیا ہے اسے تمہارے مقابلہ میں اور زیادہ دی ہے اسے کشادگی علم میں اور جسم میں اور اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے اپنا ملک جسے چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ وُسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے۔

Verse 248 — Surah Al-Baqarah 2:248

اور کہا انھیں ان کے نبی نے کہ اس کی بادشاہی کے نشانی یہ ہے کہ آئے گا تمہارے پاس ایک صندوق اس میں تسلی (کا سامان) ہوگا تمہارے رب کی طرف سے اور (اس میں) بچی ہوئی چیزیں ہوں گی جنھیں چھوڑ گئی ہے اولاد موسیٰ اور اولاد ہارون اٹھالائیں گے اس صندوق کو فرشتے بےشک اس میں بڑی نشانی ہے تمہارے لیے اگر تم ایمان دار ہو ۔

Verse 249 — Surah Al-Baqarah 2:249

پھر جب روانہ ہوا طالوت اپنی فوجوں کے ساتھ اس نے کہا کہ بےشک اللہ تعالیٰ آزمانے والا ہے تمھیں ایک نہر سے جس نے پانی پی لیا اس وہ نہیں میرے ساتھیوں سے اور جس نے نہ پیا وہ یقیناً میرے ساتھیوں میں سے ہے مگر جس نے بھر لیا ایک چلو اپنے ہاتھ سے پس سب نے پیا اس سے مگر چند آدمیوں نے ان سے (نہیں پیا) پھر جب عبور کیا اسے طالوت نے اور ان لوگوں نے جو ایمان لائے تھے، اس کے ساتھ کہنے لگے کچھ طاقت نہیں ہم میں آج جالوت اور اس کے لشکر کے مقابلہ کرنے کی (مگر) کہا ان لوگوں نے جو یقین رکھتے تھے وہ ضرور ملاقات کرنے والے ہیں اللہ سے کہ بارہا چھوٹی جماعتیں غالب آئی ہیں بڑی جماعتوں پر اللہ کے ازن سے اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

Verse 250 — Surah Al-Baqarah 2:250

اور جب سامنے آگئے جالوت اور اس کی فوجوں کے تو بارگاہِ الٰہی میں عرض کرنے لے اے ہمارے رب! اُتار ہم پر صبر اور جمائے رکھ ہمارے قدموں کو اور فتح دے ہمیں قوم کفار پر

Verse 251 — Surah Al-Baqarah 2:251

پس انہوں نے شکست دی جالوت کے لشکر کو۔ اللہ کے اذن سے اور قتل کردیا داؤد نے جالوت کو اور عطا فرمائی داؤد کو اللہ نے حکومت اور دانائی اور سکھادیا اس کو جو چاہا اور اگر نہ بچاؤ کرتا اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کا بعض کے ذریعہ تو برباد ہوجاتی زمین لیکن اللہ تعالیٰ فضل و کرم فرمانے والاہے سارے جہانوں پر

Verse 252 — Surah Al-Baqarah 2:252

یہ آیتیں ہیں اللہ کی ہم پڑھتے ہیں انھیں آپ پر (اے حبیب) ٹھیک ٹھیک اور یقیناً آپ رسولوں میں سے ہیں۔

Verse 253 — Surah Al-Baqarah 2:253

یہ آیتیں ہیں اللہ کی ہم پڑھتے ہیں انھیں آپ پر (اے حبیب) ٹھیک ٹھیک اور یقیناً آپ رسولوں میں سے ہیں۔

Verse 254 — Surah Al-Baqarah 2:254

اے ایمان والو خرچ کرلو اس (مال) سے جو ہم نے دیا ہے تم کو اس سے پہلے کہ آجائے وہ دن جس میں نہ خرید و فروخت ہوگی اور نہ (کفار کے لیے ) دوستی ہوگی اور نہ (ان کے لیے) شفاعت ہوگی اور جو کافر ہیں وہی ظالم ہیں ۔

Verse 255 — Surah Al-Baqarah 2:255

اللہ (وہ ہے کہ) کوئی عبادت کے لائق نہیں بغیر اس کے زندہ ہے سب کو زندہ رکھنے والا ہے نہ اس کو اونگھ آتی ہے اور نہ نیند اُسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے کون ہے جو سفارش کرسکے اسکے پاس بغیر اس کی اجازت کے جانتا ہے جو ان سے پہلے (ہوچکا) ہے اور جو ان کے بعد (ہونے والا) ہے اور وہ نہیں گھیر سکتے کسی چیز کو اس کے علم سے مگر جتنا وہ چاہے سما رکھا ہے اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو اور نہیں تھکاتی اسے زمین و آسمان کی حفاظت اور وہی ہے سب سے بلند عظمت والا ۔

Verse 256 — Surah Al-Baqarah 2:256

کوئی زبردستی نہیں ہے دین میں بےشک خوب واضح ہوگئی ہے ہدایت گمراہی سے تو جو انکار کرے شیطان کا اور ایمان لائے اللہ کے ساتھ تو اس نے پکڑ لیا مضبوط حلقہ جو ٹوٹنے ولا نہیں اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے

Verse 257 — Surah Al-Baqarah 2:257

اللہ مدد گار ہے ایمان والوں کا نکال لے جاتا ہے انھیں اندھیروں سے نور کی طرف اور جنھوں نے کفر کیا اس کے ساتھی شیطان ہیں نکال لے جاتے ہیں انھیں نور سے اندھیروں کی طرف یہی لوگ دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

Verse 258 — Surah Al-Baqarah 2:258

کیا نہ دیکھا آپ نے (اے حبیب) اسے جس نے جھگڑا کیا ابراہیم سے ان کے رب کے بارے میں اس وجہ سے کہ دی تھی اے اللہ نے بادشاہی جب کہ کہا ابراہیم (علیہ السلام) نے (اسے) کہ میرا رب وہ ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے اس نے کہا کہ میں بھی جلاسکتا ہوں اور مارسکتا ہوں ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نکالتا ہے سورج کو مشرق سے تو تو نکال لا اسے مغرب سے (یہ سن کر) ہوش اڑ گئے اس کافر کے اور اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا ظالم قوم کو۔

Verse 259 — Surah Al-Baqarah 2:259

یا (کیا نہ دیکھا) اس شخص کو جو گزر ا ایک بستی پر درآں حال کہ وہ گری پڑی تھی اپنی چھتوں کے بل کہنے لگا کہ کیونکر زندہ کرے گا اسے اللہ تعالیٰ اس کے ہلاک ہونے کے بعد۔ سو مردہ رکھا اسے اللہ تعالیٰ نے سو سال تک پھر زندہ کیا اسے فرمایا کتنی مدت تو یہاں ٹھیرا رہا اس نے عرض کی کہ میں ٹھیرا ہوں گا ایک دن یا د کا کچھ حصہ اللہ نے فرمایا نہیں بلکہ ٹھیرا رہا ہے تو سو سال اب (ذرا) دیکھ اپنے کھانے اور اپنے پینے کے سامان کی طرف یہ باسی نہیں ہوا اور دیکھ اپنے گدھے کو اور یہ سب اس لیے کہ ہم بنائیں تجھے نشان لوگوں کے لیے اور دیکھ ان ہڈیوں کو کہ ہم کیسے جوڑتے ہیں انھیں پھر (کیسے) ہم پہناتے ہیں انھیں گوشت پھر جب حقیقت روشن ہوگئی اس کے لیے (تو) اس نے کہا میں جان گیا ہون کہ بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

Verse 260 — Surah Al-Baqarah 2:260

اور یاد کرو جب عرض کی ابراہیم (علیہ السلام) نے اے میرے پروردگار دکھا مجھے کہ تو کیسے زدہ فرماتا ہے مردوں کو فرمایا (اے ابراہیم ( علیہ السلام) ) کیا تم اس پر یقین نہیں رکھتے عرض کی ایمان تو ہے لیکن (یہ سوال اس لیے ہے) تاکہ مطمئن ہوجائے میرا دل فرمایا تو پکڑلے چار پرندے پھر مانوس کرلے انھیں اپنے ساتھ پھر رکھ دے ہر پہاڑ پر ان کا ایک ایک ٹکڑا پھر بلا انھیں چلے آئیں گے تیرے پاس دوڑتے ہوئے اور جان لے یقیناً اللہ تعالیٰ سب پر غالب بڑا دانا ہے۔

Verse 261 — Surah Al-Baqarah 2:261

مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں کو اللہ کی راہ میں ایسی ہے جیسے ایک دانہ جو اگاتا ہے سات بالیں (اور ) ہر بال میں سو دانہ ہو اور اللہ تعالیٰ (اس سے بھی) بڑھا دیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور اللہ وسیع بخشش والا جاننے والا ہے۔

Verse 262 — Surah Al-Baqarah 2:262

جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی راہ میں پھر جو خرچ کیا اس کے پیچھے نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ دکھ دیتے ہیں انھیں کے لیے ثواب ہے ان کا ان کے رب کے پاس نہ کوئی خوف ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

Verse 263 — Surah Al-Baqarah 2:263

اچھی بات کرنا اور (غلطی) معاف کردینا بہتر ہے اس صدقہ سے جس کے پیچھے دکھ پہنچایا جائے اور اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے بڑے حلم والا ہے۔

Verse 264 — Surah Al-Baqarah 2:264

اے ایمان والو! مت ضائع کرو اپنے صدقوں کو احسان جتلا کر اور دکھ پہنچا کر اس آدمی کی طرح جو خرچ کرتا ہے اپنا مال لوگوں کو دیکھانے کے لیے اور یقین نہیں رکھتا اللہ پر اور دِن قیامت پر اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی چکنی چٹان ہو جس پر مٹی پڑی ہو پر برسے اس پر زور کی بارش اور چھوڑ جائے اُسے چٹیل صاف پتھر (ریا کار) حاصل نہ کرسکیں گے کچھ بھی اس سے جو انھوں نے کمایا ۔ اور اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا کفر اختیار کرنے والوں کو۔

Verse 265 — Surah Al-Baqarah 2:265

اور مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی خوشنودیاں حاصل کرنے کے لیے اور اس لیے تاکہ پختہ ہوجائیں ان کے دل ان کی مثال اس باغ جیسی ہے جو ایک بلند زمین پر ہو برسا ہو اس پر زور کا مینہ تو لایا ہو وہ باغ دوگنا پھل اور اگر نہ برسے اس بارش تو شبنم ہی کافی ہو جائے اور اللہ تعالیٰ جو تم کررہے ہو سب دیکھ رہا ہے۔

Verse 266 — Surah Al-Baqarah 2:266

کیا پسند کرتا ہے کوئی تم میں سے کہ ہو اس کا ایک باغ کھجوروں اور انگوروں کا بہتی ہو اس کے نیچے ندیاں ( کھجور و انگورکے علاوہ) اس کے لیے اس میں ہر قسم کے اور پھل بھی ہوں اور آلیا ہو اسے بڑھاپے نے اور اس کی اولاد بھی کمزور ہو (تو کیا وہ پسند کرتا ہے ) کہ پہنچے اس کے باغ کو بگولہ جس میں آگ ہو پھر وہ باغ جل بھن جائے ایسے ہی کھول کر بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ تمہارے لیے (اپنی ) آیتیں تاکہ تم غور و فکر کرو۔

Verse 267 — Surah Al-Baqarah 2:267

اے ایمان والو ں! خرچ کیا کرو عمدہ چیزوں سے جو تم نے کمائی ہیں اور اس سے جو نکالا ہے ہم نے تمہارے لیے زمین سے اور نہ ارادہ کرو ردی چیز کا اپنی کمائی سے کہ ( تم اسے ) خرچ کرو حالانکہ (اگر تمھیں کوئی ردی چیز دے تو) تم نہ لو اسے بجز اس کے چشم پوشی کرلو اس میں اور (خوب ) جان لو کہ اللہ تعالیٰ غنی ہے ہر تعریف کے لائق ہے۔

Verse 268 — Surah Al-Baqarah 2:268

شیطان ڈراتا ہے تمھیں تنگدستی سے اور حکم کرتا ہے تم کو بےحیائی کا اور اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے تم سے اپنی بخشش کا اور فضل (وکرم) کا اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے۔

Verse 269 — Surah Al-Baqarah 2:269

عطا فرماتا ہے دانائی جسے چاہتا ہے اور جسے عطا کی گئی دانائی تو یقیناً اُسے دے دی گئی بہت بھلائی اور نہیں نصیحت قبول کرتے مگر عقل مند۔

Verse 270 — Surah Al-Baqarah 2:270

اور جو تم خرچ کرتے ہو اور مننت مانتے ہو تو یقیناً اللہ تعالیٰ اُسے جانتا ہے اور نہیں ہے ظالموں کے لیے کوئی مدد گار۔

Verse 271 — Surah Al-Baqarah 2:271

اگر ظاہر کرو (اپنی) خیرات تو بہت اچھی بات ہے اور اگر پوشیدہ رکھو صدقوں کو اور دو انھیں فقیروں کو تو یہ بہت بہتر ہے تمہارے لیے اور (صدقہ کی برکت سے ) مٹادے گا تم سے تمہارے بعض گناہ اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کررہے ہو خبردار ہے۔

Verse 272 — Surah Al-Baqarah 2:272

نہیں ہے آپ کے ذمہ ان کو سیدھی راہ پر چلانا ہاں اللہ سیدھی راہ پر چلاتا ہے جسے چاہتا ہے اور جو کچھ تم خرچ کرو (اپنے) مال سے سے (اس میں ) تمہارا اپنا فائدہ ہے اور تم تو خرچ ہے نہیں کرتے ہو سوائے اللہ کی رضا طلبی کے اور جتنا کچھ تم خرچ کرو گے ( اپنے) مال سے پورا ادا کردیا جائے گا تمھیں اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

Verse 273 — Surah Al-Baqarah 2:273

(خیرات) ان فقیروں کے لیے ہے جو روکے گئے ہیں اللہ کی راہ میں نہیں فرصت ملتی انھیں (روزی کمانے کے لیے ) چلنے پھرنے کی زمین میں خیال کرتا ہے انھیں ناواقف (کہ یہ) مالدار (ہیں) بوجہ ان کے سوال نہ کرنے کے (اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) آپ پہچانتے ہیں انھیں ان کی صورت سے یہ نہیں مانگا کرتے لوگوں سے لپٹ کر اور جو کچھ تم خرچ کروگے (اپنے ) مال سے پس یقیناً اللہ تعالیٰ اسے خوب جاننے والا ہے۔

Verse 274 — Surah Al-Baqarah 2:274

جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مال رات میں اور دن میں چھپ کر اور علانیہ تو ان کے لیے ان کا اجر ہے اپنے رب کے پاس اور نہ انھیں کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

Verse 275 — Surah Al-Baqarah 2:275

جو لوگ کھایا کرتے ہیں سود وہ نہیں کھڑے ہوں گے مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے وہ جسے پاگل بنا دیا ہو شیطان نے چھو کر یہ حالت اس لیے ہوگی کہ وہ کہا کرتے تھے کہ سوداگری بھی سود کی مانند ہے حالانکہ حلا ل فرمایا اللہ تعالیٰ نے تجارت کو اور حرام کیا سود کو پس جس کے پاس آئی نصیحت اپنے رب کی طرف سے تو وہ (سود سے) رک گیا تو جائز ہے اس کے لیے جو گزر چکا اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اور جو شخص پھر سود کھانے لگے تو وہ لوگ دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

Verse 276 — Surah Al-Baqarah 2:276

مٹاتا ہے اللہ تعالیٰ سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو اور اللہ تعالیٰ دوست نہیں رکھتا ہر ناشکرے گنہگار کو۔

Verse 277 — Surah Al-Baqarah 2:277

بے شک جو لوگ ایمان لائے اور کرتے رہے اچھے عمل اور صحیح صحیح ادا کرتے رہے نماز کو اور دیتے رہے زکوٰۃ کو ان کے لیے ان کا اجر ہے ان کے رب کے پاس نہ کوئی خوف ہے انھیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

Verse 278 — Surah Al-Baqarah 2:278

اے ایمان والو! ڈرو اللہ سے اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود سے اگر تم (سچے دل سے) ایمان دار ہو۔

Verse 279 — Surah Al-Baqarah 2:279

اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اعلان جنگ سن لو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اور اگر تم توبہ کرلو تہ تمھیں (مل جائیں گے) اصل مال نہ تم ظلم کیا کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔

Verse 280 — Surah Al-Baqarah 2:280

اور اگر مقروض تنگدست ہو تو مہلت دو اسے خوشحال ہونے تک اور بخش دینا اسے (قرض) بہت بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم جانتے ہو ۔

Verse 281 — Surah Al-Baqarah 2:281

اور ڈرتے رہو اس دن سے لوٹائے جاؤگے جس میں اللہ کی طرف پھر پورا پورا دے دیا جائے گا ہر نفس کو جس اس نے کمایا ہے اور ان پر زیادتی نہ کی جائے گی۔

Verse 282 — Surah Al-Baqarah 2:282

اے ایمان والا! جب تم ایک دوسرے کو قرض دو مدت مقررہ تک تو لیکھ لیا کرو اسے اور چاہیے کہ لکھے تمہارے درمیان لکھنے والا دعدل و انصاف سے اور نہ انکار کرے لکھنے والا لکھنے سے جیسے سکھایا ہے اس کو اللہ نے پس وہ بھی لکھ دے اور لکھوائے وہ شخص جس کے ذمہ حق (قرضہ) ہے اور ڈرے اللہ سے جو اس کا پروردگار ہے اور نہ کمی کرے اس سے ذرہ بھر پھر اگر وہ شخص جس پر قرض ہے بیوقوف ہو یا کمزور ہو یا س کی طاقت نہ رکھتا ہو کہ خود لکھا سکے تو لکھائے اس کا ولی (سرپرست) انصاف سے اور بنا لیا کرو دو گواہ اپنے مردوں سے اور اگر نہ ہوں دو مرد تو ایک مرد اور دو عورتیں ان لوگوں میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو تم (اپنے لیے) گواہ تاکہ اگر بھول جائے ایک عورت تو یاد کرائے (وہ) ایک دوسری کو اور نہ انکار کریں گوہ جب وہ بلائے جائیں اور نہ اکتایا کرو اسے لکھنے سے خواہ (رقم قرضہ) تھوڑی ہو یا زیادہ اس کی میعاد تک یہ تحریر عدل قائم کرنے کے لیے بہت مفید ہے اللہ کے نزدیک اور بہت محفوظ رکھنے والی ہے گواہی کو اور آسان طریقہ ہے تمھیں شک سے بچانے کا مگر یہ کہ سودا دست بدستی ہو جس کا تم لین دین آپس میں کرو (اس صورت میں) نہیں تم پر کچھ حرج اگر نہ بھی لکھو اسے اور گواہ ضرور بنالیا کرو جب خرید و فروخت کرو اور ضرر نہ پہنچایا جائے لکھنے والے کو اور نہ گواہ کو اور اگر تم ایسا کروگے تو یہ نافرمانی ہوگی تمہاری اور ڈرا کرو اللہ سے اور سکھاتا ہے تمھیں اللہ تعالیٰ (آداب معاشرت) اور اللہ ہر چیز کو خوپ جاننے والا ہے۔

Verse 283 — Surah Al-Baqarah 2:283

اور اگر تم سفر میں ہو اور نہ پاؤ کوئی لکھنے والا تو کوئی چیز گروی رکھ لیا کرو اور اس کا قبضہ دے دیا کرو پھر اگر اعتبار کرلے کوئی تم میں سے دوسرے پر پس چاہیے کہ ادا کردے وہ جس پر اعتبار کیا گیا ہے اپنی امانت کو اور ضروری ہے کہ ڈرتا رہے اللہ سے جو اس کا رب ہے، اور مت چھپاؤ گواہی کو اور جو شخص چھپاتا ہے اسے تو یقیناً گنہگار ہے اس کا ضمیر اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو خوب جاننے والا ہے۔

Verse 284 — Surah Al-Baqarah 2:284

اللہ تعالیٰ کا ہی ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اگر تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے یا تم اسے چھپائے رہو حساب لے گا تم سے اس کا اللہ تعالیٰ پھر بخش دے گا جسے چاہے گا اور عذاب دے گا جسے چاہے گا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

Verse 285 — Surah Al-Baqarah 2:285

ایمان لایا جو رسول (کریم) اس (کتاب) پر جو اتاری گئی اس کی طرف اس کے رب ک طرف سے اور ( ایمان لائے ) مومن یہ سب دل سے مانتے ہیں اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی کتابوں کو اوراُس کے رسولوں کو (نیز کہتے ہیں) ہم فرق نہیں کرتے کسی میں اس کے رسولوں سے اور انھوں نے کہا ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی ہم طالب ہیں تیری بخشش کے اے ہامرے رب! اور تیری ہی طرف ہمہیں لوٹنا ہے۔

Verse 286 — Surah Al-Baqarah 2:286

ذمہ داری نہیں ڈالتا اللہ تعالیٰ کسی شخص پر مگر جتنی طاقت ہو اس کی ۔ اس کو اجر ملے گا جو (نیک عمل) اس نے کیا اور اس پر وبال ہوگا جو (برا عمل) اس نے کمایا اے ہمارے رب نہ پکڑ ہم کو اگر ہم بھولیں یا خطا کر بیٹھیں اے ہمارے رب ! نہ ڈال ہم پر بھاری بوجھ جیسے تونے ڈالا تھا ان پر جو ہم سے پہلے گزرے ہیں اے ہمارے پروردگار! نہ ڈال ہم پر وہ بوجھ جس کے اٹھانے کی ہم میں قوت نہیں اور درگزر فرما ہم سے اور بخش دے ہم کو اور رحم فرما ہم پر توہی ہمارا دوست (اور مددگار) ہے تو مدد فرما ہماری ، قوم کفار پر