اور بےشک ہم نے آزمایا تھا ان لوگوں کو جو ان سے پہلے گزرے پس اللہ تعالیٰ ضرور دیکھے گا انھیں جو (دعوائے ایمان میں) سچے تھے اور ضرور دیکھے گا (ایمان کے ) جھوٹے (دعویداروں ) کو
جو شخص امید رکھتا ہے اللہ تعالیٰ سے ملنے کی تو (وہ سن لے) کہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا وقت ضرور آنے والا ہے اور وہی ہر بات سننے والا ، ہر چیز کو جاننے والا ہے
اور جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے تو ہم دور کر دیں گے ان سے ان کی برائیوں (کی نحوست) کو اور ہم انھیں بہت عمدہ بدلہ دیں گے ان (اعمال حسنہ) کا جو وہ کیا کرتے تھے
اور ہم نے حکم دیا انسان کو کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور اگر وہ یہ کوشش کریں تیرے ساتھ کہ تو شریک بنائے کسی کو میرا جس کے متعلق تجھے کوئی علم نہیں تو ( اس بات میں) ان کی اطاعت نہ کر میری طرف ہی تمھیں لوٹنا ہے ۔ پھر میں آگاہ کرونگا تمھیں ان اعمال سے جو تم کیا کرتے تھے
اور بعض لوگ ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اللہ تعالیٰ پر ۔ پھر جب ستایا جائے اسے راہ خدا میں تو بنا لیتا ہے لوگوں کی آزمائش کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے برابر اور اگر آجائے نصرت آپ کے رب کی طرف سے تو وہ کہنے لگتے ہیں ہم تو تمھارے ساتھ تھے کیا نہیں ہے اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہر اس چیز کو جو لوگوں کے سینوں میں (پنہاں ) ہے
اور کہا کافروں نے ایمان والوں سے تم چلو ہماری راہ پر اور ہم اٹھا لیں گے تمھارے گناہوں (کے بوجھ) کو اور وہ نہیں اٹھا سکتے ان کے گناہوں سے کچھ بھی وہ بالکل جھوٹ بول رہے ہیں
اور وہ ضرور اٹھائیں گے اپنے بوجھ اور دوسرے کئی بوجھ اپنے (گناہوں کے ) بوجھوں کے ساتھ اور ان سے باز پرس ہو گی قیامت کے دن ان (جھوٹوں) کے متعلق جو وہ گھڑا کرتے تھے
اور بےشک ہم نے بھیجا نوح (علیہ السلام ) کو ان کی قوم کی طرف تو وہ ٹھیرے رہے ان میں پچا س کم ہزار سال ۔ آخر کا ر آلیا انھیں طوفان نے اس حال میں کہ وہ ظالم تھے
اور ابراہیم کو یاد کرو جب آپ نے فرمایا اپنی قوم کو کہ عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی اور اس سے ڈرتے رہا کرو۔ یہی بہتر ہے تمھارے لیے اگر تم (حقیقت کو) جانتے ہو
تم تو پوجا کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں کی اور تم گھڑا کرتے ہو نرا جھوٹ بیشک جن کو تم پوجتے ہو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر وہ مالک نہیں تمھارے رزق کے پس طلب کیا کرو اللہ تعالیٰ سے رزق کو اور اس کی عبادت کیا کرو اور اس کا شکر ادا کیا کرو اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے
اور اگر تم جھٹلاتے ہو تو (یہ کوئی نئی بات نہیں) جھٹلایا (اپنے نبیوں کو) ان امتوں نے بھی جو تم سے پہلے تھیں ۔ اور رسول پر فرض نہیں بجز اس کے کہ وہ (اللہ کا حکم) صاف طور پر پہنچا دے ۔
کیا انھوں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کس طرح آغاذ فرماتا ہے اللہ تعالیٰ پیدا کرنے کا ۔ پھر وہ (کس طرح) اس کا اعادہ کرتا ہے بلاشبہ یہ بات اللہ تعالیٰ کے لیے بالکل آسان ہے
فرمائیے سیر وسیاحت کرو زمین میں اور غور سے دیکھو کس طرح اس نے خلق کی ابتدا فرمائی پھر اللہ تعالیٰ (اسی طرح) پیدا فرمائے گا دوسری بار۔ بیشک اللہ تعالیٰ پر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے
اور نہیں ہو تم بےبس کرنے والے (اللہ تعالیٰ کو) زمین میں (بھاگ کر) اور نہ آسمان میں (پناہ لے کر) اور نہیں ہے تمھارے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوست اور نہ کوئی مددگار
آپ کی قوم سے کوئی جواب نہ بن پایا بجز اس کے کہ انھوں نے کہا اسے قتل کر ڈالو یا اسے جلا دو۔ سو بچا لیا اسے اللہ تعالیٰ نے آگ سے بیشک اس واقعہ میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں
اور ابراہیم نے کہا کہ تم نے بنا لیے ہے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں کو باہمی محبت (و پیار) کا ذریعہ اس دنیوی زندگی میں پھر قیامت کے دن تم انکار کرو گے ایک دوسرے کا اور پھٹکار بھیجو گے ایک دوسرے پر اور تمھارا ٹھکانا آتشِ (جہنم ) ہوگا اور نہیں ہوگا تمھارا کوئی مددگار
اور ہم نے عطا فرمایا آپ کو اسحق (جیسا فرزند) اور یعقوب (جیسا پوتا) اور ہم نے رکھ دی ان کی اولادمیں نبوت اور کتاب۔ اور ہم نے دیا ان کو ان ( کی جانثاری) کا اجر اس دنیا میں اور بلاشبہ وہ آخرت میں صالحین (کے زمرہ ) میں ہوں گے
اور (ہم نے ) لوط کو رسول بنا کر بھیجا جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا تم ایسی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو کہ نہیں پہل کی تم سے اس (بے حیائی ) کی طرف کسی قوم نے دنیا بھر میں
کیا تم بد فعلی کرتے ہو مردوں کے ساتھ اور ڈاکے ڈالتے ہو عام راستوں پر ۔ اور اپنی کھلی مجلسوں میں گناہ کرتے ہو تو نہیں تھا کوئی جواب آپ کی قوم کے پاس بجز اس کے کہ انھوں نے کہا اے لوط! لے آؤ ہم پر اللہ کا عذاب اگر تم (اپنے دعویٰ میں ) سچے ہو
اور جب آئے ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر ۔ انھوں نے بتایا کہ ہم ہلاک کر نے والے ہیں ۔ اس گاؤں کے باشندوں کو بیشک یہاں کے رہنے والے بڑے ظالم تھے
آپ نے کہا اس میں تو لوط بھی رہتا ہے ۔ فرشتوں نے عرض کی ہم خوب جانتے ہیں جو وہاں رہتے ہیں ۔ ہم ضرور بچا لیں گے اسے اور اس کے گھر والوں کو سوائے اس کی عورت کے وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے
اور جب آئے ہمارے فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس تو بڑے غمزدہ ہوئے ان کی آمد سے اور دل تنگ ہوئے اور (انھیں پریشان دیکھ کر) فرشتوں نے کہا نہ خوفزدہ ہو اور نہ رنجیدہ خاطرہم نجات دینے والے ہیں تجھے اور تیرے کنبہ کو سوائے تمھاری بیوی کے ، وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہے
اور (ہم نے بھیجا) مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو آپ نے کہا اے میری قوم! عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی اور امید رکھو پیچھے آنے والے دن کی اور ملک میں فتنہ و فساد برپا نہ کرو
اور (ہم نے برباد کیا) عاد اور ثمود کو ۔ اور واضح ہیں تمھارے لیے ان کے مکانات۔ اور آراستہ کر دیا ان کے لیے شیطان نے ان کے (بُرے ) عملوں کو اور روک لیا انھیں راہ (راست) سے حالانکہ وہ اچھے بھلے سمجھدار تھے
اور (ہم نے ہلاک کر دیا) قارون ، فرعون اور ہامان کو۔ اور بلاشبہ تشریف لائے ان کے پاس موسیٰ روشن دلیلوں کے ساتھ پھر بھی وہ غرور تکبر کرتے رہے زمین میں اور وہ (ہم سے) آگے بڑھ جانیوالے نہ تھے
پس ہر (سر کش ) کو ہم نے پکڑا اس کے گناہ کے باعث ۔ پس ان میں سے بعض پر ہم نے برسائے پتھر اور ان میں سے بعض کو آلیا شدید کڑک نے اور بعض کو ہم نے غرق کر دیا زمین میں ۔ اور بعض کو ہم نے (دریا میں ) ڈبو دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ نہیں کہ وہ ان پر ظلم کرے بلکہ وہ اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے تھے
ان نادانوں کی مثال جنھوں نے بنا لیے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اور دوست، مکڑی کی سی ہے اس نے (جالے کا) گھر بنایا۔ اور (تم سب جانتے ہو) کہ تمام گھروں سے کمزور ترین مکڑی کا گھر ہوا کرتا ہے ۔ کاش! وہ بھی اس (حقیقت ) کو جانتے
اور (اے مسلمانو!) بحث مباحثہ نہ کیا کرو اہل کتاب سے مگر شائستہ طریقہ سے مگر وہ جنھوں نے ظلم کیا ان سے اور تم کہو ہم ایمان لاتے ہیں اس پر جو اتارا گیا ہماری طرف اور ہمارا خدا اور تمھارا خدا ایک ہی ہے اور ہم اس کے سامنے گردن جھکا نیوالے ہیں
اور (اے حبیب!) اس طرح ہم نے نازل کی آپ کی طرف کتاب۔ پس وہ جنھیں ہم نے دی تھی کتاب (تورات) وہ ایمان لاتے ہیں قرآن پر ۔ اور ان اہل مکہ سے بھی کئی لوگ ایمان لا رہے ہیں قرآن پر اور نہیں انکار کرتے ہماری آیتوں کا مگر کفار
اور انہوں نے کہا کیوں نہ اتاری گئیں ان پر نشانیاں ان کے رب کی طرف سے ۔ آپ فرمائیے نشانیاں تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ اور میں تو صاف صاف ڈرانے والا ہوں
آپ فرمائیے کافی ہے اللہ تعالیٰ میرے اور تمھارے درمیان گواہ۔ وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں باطل پر اور انکار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ۔ وہی لوگ گھاٹے میں ہیں
وہ آپ سے جلدی عذاب نازل ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ اور اگر میعاد مقرر نہ ہوتی تو آجاتا ان پر عذاب اور (اپنے وقت پر) وہ ان پر اچانک آئیگا اور انھیں ہوش تک نہ ہو گا
اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے ، انھیں ہم ٹھہرائیں گے جنت کے بالاخانوں میں رواں ہوں گی جن کے نیچے نہریں وہ وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔ کتنا عمدہ صلہ ہے نیک کام کرنے والوں کا
اور کتنے ہی زمین پر چلنے والے ہیں جو اٹھائے نہیں پھرتے اپنا رزق۔ اللہ تعالیٰ رزق دیتا ہے انھیں بھی اور تمھیں بھی اور وہ سب باتیں سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے
اور (اے حبیب!) اگر آپ پوچھیں ان (مشرکوں) سے کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور کس نے فرمانبردار بنا دیا ہے سورج اور چاند کو تو وہ ضرور کہیں گے ، اللہ تعالیٰ نے ، پھر وہ کہاں توحید سے پھیرے جاتے ہیں
اور اگر پوچھیں ان سے کہ کس نے اتارا آسمان سے پانی ، پھر زندہ کر دیا اس کے ساتھ زمین کو اس کے بنجر بن جانے کے بعد تو ضرور کہیں گے اللہ تعالیٰ نے آپ فرمائیے الحمد للہ (حق واضح ہو گیا) بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نادان ہیں
پھر جب سوار ہوتے ہیں کشتی میں تو دعا مانگتے ہیں اللہ تعالیٰ سے خالص کرتے ہوئے اس کے لیے اپنے دین کو پھر جب وہ سلامتی سے پہنچاتا ہے انھیں خشکی پر تو اس وقت وہ شرک کرنے لگتے ہیں
کیا انھوں نے (غور سے) نہیں دیکھا کہ ہم نے بنا دیا ہے حرم کو امن والا حالانکہ اچک لیا جاتا ہے لوگوں کو ان کے آس پاس سے کیا وہ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کی نا شکری کرتے ہیں