اے لوگو! ڈرو اپنے رب سے جس نے پیدا فرمایا تمھیں ایک جان سے اور پیدا فرمایا اسی سے جوڑا اس کا اور پھیلا دیئے ان دونوں سے مرد کثیر تعداد میں اور عورتیں (کثیر تعداد میں) اور ڈرو اللہ سے وہ اللہ مانگتے ہو تم ایک دوسرے سے (اپنے حقوق ) جس کے واسطے سے اور (ڈرو) رحموں (کے قطع کرنے سے ) بیشک اللہ تعالیٰ تم پر ہر وقت نگران ہے۔
اور اگر ڈرو تم اس سے کہ نہ انصاف کرسکو گے تم یتییم بچوں کے معاملہ میں ( تو ان سے نکاح نہ کرو) اور نکاح کرو جو پسند آئیں تمھیں ( ان کے علاوہ دوسری) عورتون سے دو دو تین تین اور چار چار اور اگر تمھیں یہ اندیشہ ہو کہ تم ان میں عدل نہیں کرسکو گے تو پھر ایک ہی یا کنیز یں جن کے مالک ہوں تمہارے دائیں ہاتھ۔ یہ زیادہ قریب ہے اس کے تم ایک طرف ہی جھک جاؤ۔
اور دیاکرو (اپنی) عورتوں کو ان کے مہر خوشی خوشی پھر اگر وہ بخش دیں تمھیں کچھ عرصہ اس سے خوش دلی سے تو کھاؤ اُسے لذت حاصل کرتے ہوئے خوشگوار سمجھتے ہوئے۔
اور نہ دے نادانوں کو اپنے مال جنھیں بنایا ہے اللہ تعالیٰ نے تمہاری (زندگی کے) لیے سہارا اور کھلاؤ انھیں اس مال سے اور پہناؤ انھیں اور کہو ان سے بھلائی کی بات ۔
اور آزماتے رہو یتیموں کو یہاں تک کہ وہ پہنچ جائیں نکاح (کی عمر) کو پس اگر محسوس کرو تم ان میں دانائی تو لوٹا دو انھیں ا کے مال اور نہ کھاؤ انھیں فضول خرچی سے اور جلدی جلدی اس خوف سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے اور جو سر پر ست غنی ہو تو اسے چاہیے کہ (یتیموں کے مال سے) پرہیز کرے اور جو سرپرست فقیر ہو تو وہ کھالے مناسب مقدار سے پھر جب لوٹاؤ تم ان کی طرف ان کے مال تو گواہ بنالو ان پر اور کافی ہے اللہ تعالیٰ حساب لینے والا۔
مردوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑگئے ماں باپ اور قریبی رشتہ دار اور عورتوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قریبی رشتہ دار اس ترکہ سے خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ یہ حصہ (اللہ تعالیٰ کی طر ف سے ) مقرر ہے۔
اور چاہیے کہ ڈریں (جو یتیموں کے سرپرست ہیں اور سوچیں) کہ اگر چھوڑ جاتے وہ اپنے پیچھے چھوٹے چھوٹے کمزور بچے تو وہ کتنے فکر مند ہوتے ان کے متعلق پس چاہیے کہ وہ ڈریں اللہ سے اور کہیں ایسی بات جو بالکل درست ہو۔
حکم دیتا ہے تمھیں اللہ تمہاری اولا (کی میراث) کے بارے میں ایک مرد (لڑکے) کا (حصہ) برابر ہے دو عورتوں (لڑکیوں) کے حصہ کے پھر اگر ہوں صرف لڑکیاں دو سے زائد تو ان کے لیے دو تہائی ہے جو میت نے چھوڑا اور اگر ہو ایک ہی لڑکی تو اس کے لیے نصف ہے اور میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا اس سے جو میت نے چھوڑا بشرطیکہ میت کی اولاد ہو اور اگر نہ ہو اس کی اولاد اور اس کے وارث صرف ماں باپ ہی ہوں تو اس کی ماں کا تیسرا حصہ ہے (باقی سب باپ کا ) اور اگر میت کے بہن بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ ہے (اور یہ تقسیم) اس وصیت کو پورا کرنے کے بعد ہے جو میت نے کی اور قرض ادا کرنے کے بعد ۔ تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم نہیں جانتے کون اس میں سے زیادہ قریب ہے تمھیں نفع پہنچانے میں یہ حصے مقرر ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بےشک اللہ تعالیٰ (تمہاری مصلحتوں کو) جاننے والا ہے بڑا دانا ہے۔
اور تمہارے لیے نصف ہے جو چھوڑ جائیں تمہاری بیویاں بشرطیکہ نہ ہو ان کی اولاد اور اگر ہو ان کی اولاد تو تمہارے لیے چوتھائی ہے اس سے جو وہ چھوڑ جائیں (یہ تقسیم) اس وصیت کے پورا کرنے کے بعد ہے جو وہ کرجائیں اور قرض ادا کرنے کے بعد اور تمہاری بیویوں کا چوتھا حصہ ہے اس سے ججو تم چھوڑو بشرطیکہ نہ ہو تمہاری اولاد اور اگر ہو تمہاری اولاد تو ان کا آٹھواں حصہ ہے اس سے جو تم پیچھے چھوڑ جاؤ(یہ تقسیم) اس وصیت کو پورا کرنے کے بعد ہے جو تم نے کی ہو اور (تمہارا) قرض ادا کرنے کے بعد ۔ اور اگر وہ شخص جس کی میراث تقسیم کی جانے والی ہے کلالہ وہ مرد ہو یا عورت اور اس کا بھائی یا بہن ہو تو ہر ایک کے لیے ان میں سے چھٹا حصہ ہے اور اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب شریک ہیں تہائی میں (یہ تقسیم) وصیت پوری کرنے کے بعد ہے جو کی گئی ہے اور قرض ادا کرنے کے بعد بشرطیکہ اس سے نقصان نہ پہنچایا گیا ہو۔ (یہ نظام وراثت) حکم ہے اللہ کی طر ف سے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا بڑا برد بار ہے۔
یہ حدیں اللہ کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو شخص فرمانبردای کرے گا اللہ کی اور اس کے رسول کی داخل فرمائے گا اسے اللہ تعالیٰ باغوں میں بہتی ہوں گی ان کے نیچے نہریں ہمشہ رہیں گے وہ ان میں اور یہی ہے بڑی کامیابی۔
اور جو نافرمانی کرے گا اللہ کی اور اس کے رسول کی اور تجاوز کرے گا اللہ کی (مقررہ) حدوں سے داخل کرے گا اسے اللہ آگ میں ہمیشہ رہے گا اس میں اور اس کے لیے عذاب ہے ذلیل کرنے والا۔
اور جو کوئی ارتکاب کرے بدکاری کا تمہاری عورتوں میں سے تو گواہ طلب کرو (تہمت لگانے والے سے ) ان پر چار مرد اپنوں میں سے پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو بدن کروو ان عورتوں کو گھروں میں یہاں تک کہ پورا کردے ان (کی زندگی) کو موت یا بنادے اللہ تعالیٰ ان (کی رہائی ) کے لیے کوئی رستہ
اور جو مرد عورت ارتکاب کریں بدکاری کا تم میں سے تو خوب اذیت دو انھیں پھر اگر دونوں توبہ کرلیں اور (اپنی ) اصلاح کرلیں تو چھوڑ دو انھیں بےشک اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول کرنے والا بہت رحم کرنے والا ہے۔
توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے ذمہ لیا ہے ان کی توبہ ہے جو کر بیٹھتے ہیں گناہ بےسمجھی سے پھر توبہ کرتے ہیں چلدی سے پس یہی لوگ ہیں (نظر رحمت سے) توجہ فرماتا ہے اللہ ان پر اور ہے اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا بڑی حکمت والا۔
اور نہیں یہ توبہ (جس کے قبول کرنے کا وعدہ ہے ) ان لوگوں کے لیے جو کرتے رہتے ہیں برائیاں (ساری عمر) یہاں تک کہ جب آجائے کسی ایک کو ان میں سے موت (تو) کہے بشک میں توبہ کرتا ہوں اب اور نہ ان لوگوں کی توبہ جو مرتے ہیں اس حال میں کہ وہ کافر ہیں انھیں کے لیے ہم نے تیار کر رکھا ہے عذاب دردناک ۔
اے ایمان والو! نہیں حلال تمہارے لیے کہ وارث بن جاؤ عورتوں کے زبردستی اور نہ روکے رکھو انھیں تاکہ لے جاؤ کچھ حصہ اس (مہر وغیرہ) کا جو تم نے دیا ہے انھیں بجز اس صورت کے کہ ارتکاب کریں کھلی بدکاری کا اور زندگی بسر کرو اپنی بیویوں کے ساتھ عمدگی سے پھر اگر تم نا پسند کرو انھیں تو (صبر کرو) شاید تم ناپسند کرو کسی چیز کو اور رکھ دی ہو اللہ تعالیٰ نے اس میں (تمہارے لیے) خیر کثیر ۔
اور اگر تم ارادہ کرلو کہ بدلو ایک بیوی کو پہلی بیوی کی جگہ اور دے چکے ہو تم اسے ڈھیروں مال تو نہ لو اس مال سے کوئی چیز کیا تم لینا چاہتے ہو اپنا مال (زمانہ جاہلیت کی طرح) بہتان لگا کر اور کھلا گناہ کرکے۔
اور نکاح نہ کرو جن سے نکاح کرچکے تمہارے باپ دادا مگر جو ہوچکا ( اس سے پہلے سو وہ معاف ہے) بےشک یہ فعل بہت بےحیائی اور نفرت کا فعل تھا اور بہت برا طریقہ تھا۔
حرام کردی گئیں تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری مائیں جنھوں نے تمھٰن دودہ پلایا اور تمہاری بہنیں رضاعت سے اور مائیں تمہاری بیویوں کی اور تمہاری بیویوں کی بیٹیاں جو تمہاری گودوں میں (پرورش پارہی ہیں ٩ ان بیویوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو اور اگر تم نے صحبت نہ ہو ان بیویوں سے تو کوئی حرج نہیں تم پر (ان کی بیٹیوں سے نکاح کرنے میں ) اور (حرام کی گئیں) بیویاں تمہارے ان بیٹوں کی جو تمہاری پشتوں سے ہیں اور (یہ بھی حرام ہے) کہ جمع کرو تم دو بہنوں کو مگر جو گزرچکا ( سو وہ معاف ہے) یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔
اور (حرام ہیں) خاوندوں والی عورتیں مگر (کافروں کی وہ عورتیں) جو تمہارے ملک میں آجائیں فرض کیا ہے اللہ نے (اِن احکام) کو تم پر اور حلال کردی گئیں ہیں تمہارے لیے ماسوا ان کے تاکہ تم طلب کرو (ان کو) اپنے مالوں کے زریعہ پاکدامن بنتے ہوئے نہ زناکار بنتے ہوئے پس جو تم نے لطف اٹھایا ہے ان سے تو دو ان کو ان کے مہر جو مقرر ہیں اور کوئی گناہ نہیں تم پر جس چیز پر تم آپس میں راضی ہو جاؤ مقرر کیے ہوئے مہر کے بعد بیشک اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے۔
اور جو نہ رکھتا ہو تم میں سے اس کی طاقت کہ نکاح کرے آزاد مسلمان عورتوں سے تو وہ نکاح کرے جو تمہارے قبضہ میں ہیں تمہاری کنیزیں جو مسلمان ہیں اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے تمہارے ایمان ( کی کیفیت) کو بعض تمہارا بعض (کی جنس) سے ہے تو نکاح کرلو ان سے ان کے سرپرستوں کی اجازت سے اور دو ان کو مہر ان کے دستور کے موافق (تاکہ نکاح سے ) وہ پاکدامن بن جائیں نہ (اعلانیہ) زنا کار اور نہ بنانے والی ہوں پوشیدہ یار اور جب وہ نکاح سے محفوظ ہوجائیں پھر اگر وہ ارتکاب کریں بدکاری کا تو ان پر اس سزا کا نصف ہے جو آزاد عورتوں کے لیے ہے یہ (لونڈیوں سے نکاح کی اجازت) اس کے لیے ہے جسے خطرہ ہو بدکاری میں مبتلا ہونے کا تم سے ۔ اور تمہارا صبر کرنا بہتر ہے تمہارے لیے اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔
چاہتا ہے اللہ تعالیٰ کہ کھول کر بیان کردے (اپنے احکام) تمہارے لیے اور چلائے تم کو ان (کامیاب لوگوں) کی راہوں پر جو تم سے پہلے گزرے ہیں اور اپنی رحمت سے توجہ فرمائے تم پر اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا بڑا دانا ہے۔
اے ایمان والو نہ کھاؤ اپنے مال آپس میں ناجائز طریقہ سے مگر یہ کہ تجارت ہو تمہاری باہمی رجامندی سے اور نہ ہلاک کرو اپنے آپ کو بےشک اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بڑی مہربانی فرمانے والا ہے۔
اگر تم بچتے رہو گے بڑے بڑے کاموں سے روکا گیا ہے تمھیں جن سے تہ ہم محو کردیں گے تمہارے (نامہ اعمال) سے تمہاری برائیاں اور ہم داخل کریں گے تمھیں عزت کی جگہ میں
اور نہ آرزو کرو اس چیز کی ، بزرگی دی ہے اللہ نے جس سے تمہارے بعض کو بعض پر مردوں کے لی حصہ ہے اس سے جو انھوں نے کمایا اور عورتوں کے لیے حصہ ہے اس سے جو انھوں نے کمایا اور مانگتے رہو اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل و کرم کو بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
اور ہر ایک لیے بانادیئے ہیں ہم نے وارث اس مال سے جو چھوڑ جائیں ماں باپ اور قریبی رشتہ دار اور وہ لوگ جن سے بندھ چکا ہے تمہار ا عہدو پیمان تو دو انھیں ان کا حصہ بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مشاہدہ فرمانے والا ہے۔
مرد محافظ و نگران ہیں عورتوں پر اس وجہ سے کہ فضیلت دی ہے اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر اور اس وجہ سے مرد خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں سے (عورتوں کی ضرورت و آرام کے لیے) تو نیک عورتیں اطاعت گزار ہوتی ہیں حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں (مردوں) کی غیر حاضری میں اللہ کی حفاظت سے اور وہ عورتیں اندیشہ ہو تمھیں ان کی نافرمانی کا تو (پہلے نرمی سے) انھیں سمجھاؤ اور پھر الگ کردو انھیں خواب گاہوں سے اور (پھر بھی باز نہ آئیں تو ) مارو انھیں پھر اگر وہ اطاعت کرنے لگیں تمہاری تو نہ تلاش کرو ان پر (ظلم کرنے کی) راہ یقیناً اللہ تعالیٰ (عظمت و کبریائی میں ) سب سے بالا سب سے بڑا ہے۔
اور اگر خوف کرو تم ناچاقی کا ان کے درمیان تو مقرر کرو ایک پنچ مرد کے کنبے سے اور ایک پنچ عورت کے کنبہ سے اگر وہ دونوں (پنچ ) ارادہ کریں گے صلح کرانے کا تو موافقت پیدا کردے گا اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے درمیان بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہر بات سے خبردار ہے۔
اور عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی اور نہ شریک بناؤ اس کے ساتھ کسی کو اور والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو نیز رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور پڑوسی جو رشتہ دار ہے اور پڑوسی جو رشتہ دار نہیں اور ہم مجلس اور مسافر اور جو (لونڈی غلام) تمہارے قبضہ میں ہیں ( ان سب سے حسن سلوک کرو) بےشک اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا اس کو جو مغرور ہو فخر کرنے والا ہو۔
جو خود بھی بخل کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں لوگوں کو بھی بخل کرنے اور چھپاتے ہیں جو عطا فرمایا ہے انھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل (وکرم) سے اور تیار کر رکھا ہے ہم نے کافروں کے لیے ذلیل کرنے ولا عذاب۔
اور وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال لوگوں کو دیکھانے کے لیے اور نہیں ایمان رکھتے اللہ پر اور نہ روز قیامت پر اور وہ (بد قسمت) ہوجائے شیطان جس کا ساتھی پس وہ بہت برا ساتھی ہے۔
اُس روز تمنا کریں گے وہ جنھوں نے کفر کیا اور نافرمانی کی رسول کی کہ کاش! (انھیں دبا کر) کر ہموار کردی جاتی ان پر زمین اور نہ چھپا سکیں گے اللہ کوئی بات۔
اے ایمان والو! نہ قریب جاؤ نماز کہ جب کہ تم نشہ کی حالت میں ہو یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو جو (زبان) سے کہتے ہو اور نہ جنابت کی حالت میں مگر یہ کہ تم سفر کررہے ہو یہاں تک کہ تم غسل کرلو اور اگر ہو تم بیمار یا سفر میں یا آئے کوئی تم میں سے قضائے حاجت سے یا ہاتھ لگایا ہو تم نے (اپنی ) عورتوں کو پھر نہ پاؤ تم پانی تو ( اس صورت میں ) تیمم کرلو پاک مٹی سے اور (اس کا طریقہ یہ ہے کہ ) ہاتھ پھیرو اپنے چہروں پر اور اپنے بازؤں پر بیشک اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا بڑا بخشنے والا ہے۔
کچھ لوگ جو یہودی ہیں پھیر دیتے ہیں (اللہ کے کلام کو ) اس کی آسلی جگہوں سے اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور ہم نے نافرمانی کی اور (کہتے ہیں) سنو تم نہ سنائے جاؤ اور ( کہتے ہیں) ’’راعِنا‘‘ بل دیتے ہوئے اپنی زبانوں کو اور طعنہ زنی کرتے ہوئے دین مین اور اگر وہ (یوں) کہتے ہم نے (آپ کا ارشاد) سنا اور (اسے) مان لیا اور (ہماری عرض) سنیے اور نگاہِ (کرم) فرمائیے ہم پر تو ہوتا بہت بہتر ان کے لیے اور بہت درست لیکن (اپنی رحمت سے) دور کردیا انھیں اللہ نے بوجہ ان کے کفر کے پس نہیں ایمان لائیں گے مگر تھوڑے سے۔
اے وہ لوگوں جنھیں دی گئی کتاب ١ ایمان لاؤ اس کتاب پر جو نازل فرمائی ہم نے تاکہ تصدیق کرے اس کتاب کی جو تمہارے پاس ہے (ایمان لاؤ) اس سے پہلے کہ ہم مسخ کردیں چہرے پھر پھیر دیں انہیں پشتوں کی طرف یا لعنت کریں ان پر جس طرح ہم نے لعنت کی سبت والوں پر اور اللہ کا حکم پور ا ہو کر رہتا ہے۔
بے شک اللہ تعالیٰ نہیں بخشتا اس بات کو کہ شرک کیا جائے اس کے ساتھ اور بخش دیتا ہے اس کے علاوہ جسکو چاہتا ہے اور جو شریک ٹھیراتا ہے اللہ کے ساتھ وہ ارتکاب کرتا ہے گناہ عظیم کا ۔
کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کی طرف جو پاکباز بتلاتے ہیں اپنے آپ کو بلکہ (یہ تو) اللہ کی (شان ہے کہ ) پاکباز بنادے جسے چاہے اور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے کھجور کی گھٹلی کے ریشہ کے برابر۔
کیا نہیں دیکھا تم نے ان لوگوں کی طرف جنھیں دیا گیا حصہ کتاب سے وہ (اب) اعتقاد رکھنے لگے ہیں جبت اور طاغوت پر اور کہتے ہیں ان کے بارے میں جنھوں نے کفر کیا کہ یہ کافر زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ان سے جو ایمان لائے ہیں ۔
کیا حسد کرتے ہیں لگوں سے اس نعمت پر جو عطا فرمائی ہے انھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے (وہ حسد کی آگ میں جلا کریں) ہم نے مرحمت فرمادی ہے ابراہیم کے گھرانے کو کتاب اور حکمت اور عنایت فرمادی ہے انھیں عظیم الشان سلطنت ۔
بے شک جنھوں نے انکار کیا ہماری آیتوں کا ہم ڈال دیں گے انھیں آگ میں جب کبھی پک جائیں گی ان کی کھالیں تو بدل کردے دیں گے ہم انھیں کھالیں دوسری تاکہ وہ (مسلسل) چکھتے رہیں عذاب کو بےشک اللہ تعالیٰ غالب ہے حکمت والا ہے۔
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل بھی کیے عنقر یب ہم داخل کریں گے انھیں باغوں میں روان ۃین جن کے نیچے ندیاں ہمیشہ رہیں گے ان میں تا ابد۔ ان کے لیے ان باغوں میں پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور ہم داخل کریں گے انھیں گھنے سایہ میں۔
بے شک اللہ تعالیٰ حکم فرمات ہے تمھیں کہ (اُن کے ) سپرد کرو امانتوں کو نو ان کے اہل ہیں اور جب بھی فیصلہ کرو لوگوں کے درمیان تو فیصلہ کرو انصاف سے بیشک اللہ تعالیٰ بہت ہی اچھی بات کی نصیحت کرتا ہے تمھیں بےشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا ہر چیز دیکھنے والا ہے۔
اے ایمان والوں ! اطاعت کرو اللہ تعالیٰ کی اور اطاعت کرو (اپنے ذی شان) رسول کی اور حاکموں کی جو تم میں سے ہوں پھر اگر جھگڑنے لگو تم کیس چیز میں تو لوٹادو اسے اللہ اور (اپنے) رسول (کے فرمان) کی طرف اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور روز قیامت پر یہی بہتر ہے اور بہت اچھا ہے اس کا انجام۔
کیا نہیں دیکھا آپ نے ان کی طرف جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایمان لائے اس (کتاب) کے ساتھ جو اتاری گئی آپ کی طرف اور جو اتارا گیا آپ سے پہلے ( اس کے باوجود) چاہتے ہیں کہ فیصلہ کرانے کے لیے (اپنے مقدمات) طاغوت کے پاس لے جائیں حالانکہ انھیں حکم دیا گیا تھا کہ انکار کریں طاغوت کا اور چاہا ہے شیطان کہ بکادے اھیں بہت دور تک
اور جب کہا جائے انھیں کہ آؤ اس (کتاب) کی طرف جو اتاری ہے اللہ نے اور (آؤ) رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) (پاک) کی طرف تو آپ دیکھٰن گے منافقوں کو منہ موڑ لیتے ہیں آپ سے روگردانی کرتے ہوئے۔
پس کیا حال ہوتا ہے جب پہنچتی ہے انھیں مصیبت بوجہ ان (کرتوتوں) کے جو آگے بھیچے ہیں ان کے ہاتھوں نے پھر حاضر ہوتے ہیں آپ کے پاس قسمیں اٹھاتے ہیں اللہ کی (کہتے ہیں بخدا) نہیں قصد کیا تھا ہم نے مگر بھلائی اور باہمی مصالحت کا۔
یہ لوگ ہیں خوب جانتا ہے اللہ تعالیٰ جو کچھ ا کے دلوں میں ہے ( اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) چشم پوشی فرمائیے ان سے اور نصیحت کرتے رہیے انھیں اور کہیے انھیں تنہائی میں ایسی بات جو مؤثر ہو۔
اور نہیں بھیجا ہم نے کوئی رسول مگر اس لیے کہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ کے اذن سے اور اگر یہ لگو جب ظلم کربیٹھے تھے اپنے آپ پر حاضر ہوتے آپ کے پاس اور مغفرت طلب کرتے اللہ تعالیٰ سے نیز مغفرت طلب کرتا ان کے لیے رسول (کریم) بھی تو وہ جرور پاتے اللہ تعالیٰ کو بہت توبہ قبول فرمانے والا نہایت رحم کرنے والا ۔
پس (اے مصطفی) تیرے رب کی قسم یہ لوگ مومن نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ ھاکم بنائین آپ کو ہر اس جھگڑے میں جو پھوٹ پڑا ان کے درمیان پھر نہ پائیں اپنے نفسوں میں تنگی اس سے جو فیصلہ آ پ نے کیا ور تسلیم کرلیں دل و جان سے۔
اور اگر ہم فرض کردیتے ان پر کہ قتل کرو اپنے آپ کو یا نکل جاؤ اپنے اپنے گھروں سے تو نہ بجالاتے اس کو مگر چند آدمی ان میں سے اور اگر وہ کرتے جس کی انھیں نصیحت کی گئی تھی تو ہوتا بہتر ان کے لیلے اور (اس طرح) سختی سے (اللہ کے احکام پر) ثابت قدم ہوجاتے
اور جو اطاعت کرتے ہیں اللہ کی اور (اس کے) رسول کی تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین اور کیا ہی اچھے ہیں یہ ساتھی۔
اور بےشک تم میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو ضرور دیر لگائیں گے پھر اگر پہنچے تمھیں کوئی مصیبت تو ہو کہے احسان فرمایا اللہ نے مجھ پر کہ میں نہیں تھا ان کے ہمراہ (جنگ میں) حاضر۔
اور اگر ملے تمھیں فجل (فتح اور مال غنیمت) اللہ کی مہربای سے تو ضرور کہے جیسے نہیں تھی چھارے درمیان اور اس کے درمیاں کوئی دوستی کاش میں بھی ہوتا ان کے ھمراہ تو حاصل کرتا بڑی کامیابی۔
پس چاہیے کہ لڑا کریں اللہ کی راہ میں (صرف) وہ لوگ جنھوں نے بیچ دی ہے دنیا کی زندگی آخرت کے عوض اور جو شخص لڑے اللہ کی راہ میں پھر (خواہ) مارا جائے یا غالب آئے تو (دونوں حالتوں میں ) ہم دیں گے اسے اجر عظیم ۔
اور کیا ہوگیا ہے تمھیں کہ جنگ نہیں کرتے ہو راہ خدا میں حالانکہ کئی بےبس مرد اور عورتیں اور بچے ایسے بھی ہیں جو (ظلم سے تنگ آکر ) عرض کرتے ہیں اے میرے رب نکال ہمین اس بستی سے ظالم ہیں جس کے رہتے والے اور بنادے ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی دوست اور بنادے ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مددگار۔
جو ایمان لائے ہیں وہ جنگ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں اور جو کافر ہیں وہ جنگ کرتے ہیں طاغوت کی راہ میں تو (اے ایمان والو) لڑوشیطان کے حامیوں سے بیشک شیطان کا فریب کمزور ہے۔
کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کی طرف جنھیں جب کہا گیا کہ روکو اپنے ہاتھوں کو اور قائم کرو نماز اور ادا کرو زکوٰۃ (ان باتوں کو تو مان لیا) پھر جب فرض کیا گیا ان پر جہاد تب ایک گروہ ان میں سے ڈرنے لگ گیا لوگوں سے جیسے ڈرا جاتا ہے خدا سے یا س سے بھی زیادہ اور کہنے لگے اے ہمارے پروردگار ! کیوں فرض کردیا تونے ہم پر جہاد (اور) کیوں نہ مہلت دی تونے ہمیں تھوڑی مدت تک ( اے ترجمان حقیقت انھیں) کہو دنیا کا سامن بہت قلیل ہے اور آخرت زیادہ بہتر ہے اس کے لیے جو تقویٰ اختیار کیے ہے اور نہیں ظلم کیا جائے گا تم پر کھجور کی گٹھلی کے ریشہ کے برابر۔
جہاں کہیں تم ہو لے آے گی تمھیں موت اگرچہ (پناہ گزیں) ہو تم مضبوط قلعوں میں اور اگر پہنچے انھیں کوئی بھلائی تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر پہنچے اھیں کوئی تکلیف تو کہتیہیں یہ آپ کی طرف سے ہے (اے میرے رسول) آپ فرمایئے س اللہ کی طرف سے ہے تو کیا ہوگیا ہے اس قوم کو بات سمجھنے کے قریب ہی نہیں جاتے۔
جو پہنچے آپ کو بھلائی سو وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو پہنچے آپ کو تکلیف سو وہ آپ کی طرف سے ہے اور بھیجا ہم نے آپ کو سب لوگوں کی طرف رسول بنا کر اور کافی ہے اللہ تعالیٰ (آپ کی رسالت کا ) گواہ۔
اور کہتے ہیں ہم نے حکم مان لیا اور جب باہر نکلتے ہیں آپ کے پاس سے تو رات بھر مشورہ کرتا ہے ایک گروہ ان میں سے اس کے برعکس جو آپ نے فرمایا اور اللہ تعالیٰ لکھ رہا ہے جو وہ راتوں کو سوچا کرتے ہیں پس رخِ (انور) موڑ لیجیے ان سے اور بھروسہ کیجیے اللہ پر اور کافی ہے اللہ تعالیٰ (آپ کا) کارساز۔
اور جب آتی ہے ان کے پاس کوئی بات اطمینان یا خوف کی تو چرچا کرنے لگتے ہیں اس کا ۔ اور اگر لوٹا دیتے اسے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) (کریم) کی طرف اور بااقتدار لوگوں کی طرف اپنی جماعت سے تو جانن لیتے اس خبر (کی حقیقت) کو وہ لوگ جو نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں بات کا ان میں سے اور اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل تم پر اور (نہ ہوتی) اس کی رحمت تو ضرور تم اتباع کرنے لگتے شیطان کا سوائے چند آدمیوں کے۔
تو (اے محبوب!) جہاد کرو اللہ کی راہ میں نہ تکلیف دی جائے گی آپ کو سوائے اپنی ذات کے اور ابھاریں آپ ایمان والوں کو (جہاد) پر عجب نہیں کہ اللہ تعالیٰ روک دے زور ان لوگوں کا جو کفر کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی گرفت بہت سخت ہے نیز وہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔
اور جب سلام دیا جائے تمھیں کسی لفظ دعا سے تو سلام دو تم ایسے لفظ سے جو بہتر ہو اس سے یا (کم از کم) دوہرا وہی لفظ بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔
سو کیا ہوگیا ہے تمھیں کہ منافقوں کے بارے میں (تم) دو گروہ بن گئے ہو احالناکہ اللہ تعالیٰ نے اوندھا کردیا ہے انھیں بوجہ ان کرتوتوں کے جو انھوں نے کیے کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اسے راہ دکھاؤ جسے گمراہ کردیا اللہ نے اور جسے گمراہ کردے اللہ تعالیٰ تو ہر گز نہ پائے گا تو اس کے لیے (ہدایت) کا راستہ۔
وہ دوست رکھتے ہیں اگر تم بھی کفر کرنے لگو جیسے انھوں نے کفر کیس تاکہ تم سب یکساں ہوجاؤ پس نہ بناؤ تم ان سے اپنے دوست یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں اللہ کی راہ میں پس اگر وہ (ہجرت سے ) منہ موڑیں تو پکڑلو انھیں اور قتل کرو انھیں جہاں کہیں پاؤ ان کو اور نہ بناؤ ان سے (کسی) کو اپنا دوست اور نہ مددگار۔
مگر ان کو (قتل نہ کرو) جو تعلق رکھتے ہیں اس قوم سے کہ تمہارے درمیان اور ان کے درمیان معاہدہ ہے یا آگئے ہوں تمہارے پاس اس ھال میں کہ تنگ ہوچکے ہوں ان کے سینے کہ جنگ کریں تم سے یا جنگ کریں اپنی قوم سے اور اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو مسلط کردیتا انھیں تم پر تو وہ ضرور لڑتے تم سے پھر اگر وہ کنارہ کرلیں تم سے اور جنگ نہ کریں تمہارے ساتھ اور بھیجیں تمہاری طرف صلح (کا پیغام) تو نہیں بنائی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ان پر (زیادتی کرنے کی) راہ ۔
تم پاؤگے چند اور لوگ جو چاہتے ہیں کہ امن میں رہیں تم سے بھی اور امن میں رہیں اپنی قوم سے (لیکن) جب کبھی پھیرے جاتے ہین فتنہ کی طرف تو منہ کہ بل گر پڑتے ہیں اس میں سو اگر نہ کنارہ کریں تم سے یا نہ بھیجیں تمہاری طرف صلح (کا پیغام) اور نہ روک لیں اپنے ہاتھ تو پکڑ لو انھیں اور قتل کرو انھیں جہاں تم پاؤ انھیں اور یہی لوگ ہیں کہ دیا ہے ہم نے تمھیں ان پر کھلا اختیار۔
اور نہیں (جائز) کسی موکن کے لیے کہ قتل کرے کسی مومن کو مگر غلطی سے اور جس نے قتل کیس کسی مومن کو غلطی سے تو (اس کی سزا یہ ہے کہ ) آزاد کرے مسلمان غلام اور خوں بہا ادا کرے مقتول کے گھر والوں کو مگر یہ کہ وہ خود ہی (خوں بہا) معاف کردیں پھر اگر ہو (مقتول) اس قوم سے جو دشمن ہے تمہار لیکن وہ (مقتول) خود مومن ہو تو (قاتل) آزاد کرے ایک مسلمان غلام اور اگر مقتول اس قوم سے ہو کہ ہوچکا ہے تمہارے درمیان اور ان کے درمیان معاہدہ تو (قاتل) خوں بہادے دے اس کے گھر والوں کو اور آزاد کرے ایک مسلمان غلام تو جو شخص غلام نہ پاسکے تو روزے رکھے دہ ماہ لگا تار ( اس گناہ کی) توبہ اللہ کی طرف سے (یہی مقرر ہے) اور ہے اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا حکمت والا۔
اور جو شخص قتل کرے کسی مومن کو جان بوجھ کر تو اس کی سزا جہنم ہے ہمیشہ رہے گا اس میں اور غضبناک ہوگا اللہ تعالیٰ اس پر اور اپنی رحمت سے دور کردے گا اسے اور تیار کر رکھا ہے اس نے اس کے لیے عذاب عظیم ۔
اے اہل ایمان جب تم سفر پر نکلو اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے) تو خوب تحقیق کرلو اور نہ کہو اسے جو بھیجتا ہے تم پر سلام کہ تم مومن نہیں ہو تم تلاش کرتے ہو سامن دنیوی زندگی کا پس اللہ کے پاس بہت غنیمتیں ہیں (وہ تمھیں غنی کردے گا) ایسے ہی (کافر) تم بھی تھے اس سے پہلے پھر احسان فرمایا اللہ نے تم پر تو خوب تحقیق کرلیا کرو یقیناً اللہ تعالیٰ اس سے جو کچھ کرتے ہو خبردار ہے۔
نہیں برابر ہوسکتے (گھروں میں ) بیٹھنے والے مسلامن سوائے معذوروں کے اور جہاد کرنے والے الہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے بزرگی دی ہے اللہ تعالیٰ نے جہاد کرنے والوں کو اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے (گھروں میں ) بیٹھ رہنے والوں پر درجہ میں اور سب سے وعدہ فرمایا ہے اللہ نے بھلائی کا لیکن فضیلیت دی ہے اللہ نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھنے والوں پر اجر عظیم سے۔
بے شک وہ لوگ کہ قبض کیا ان ( کی روحوں) فرشتوں نے اس حال میں کہ وہ ظلم توڑرہے تھے اپنی جانوں پر فرشتوں نے انھیں کہا تم کسی شغل میں تھے (معذرت کرتے ہوئے) انھوں نے کہا ہم تو بےبس تھے زمین میں فرشتوں نے کہا کیا نہیں تھی اللہ کی زمین کشادہ تاکہ تم ہجرت کرتے اس میں یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہے اور جہنم بہت بری پلٹ کر آنے کی جگہ ہے۔
اور جو شخص ہجرت کرے گا للہ کی راہ میں پائے گا زمین میں پناہ کے لیے بہت جگہ اور کشادہ روزی اور جو شخص نکلے اپنے گھر سے ہجرت کرکے اللہ کی طرف اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف پھر آلے اس کو (راہ میں ) موت تو ثابت ہوگیا اس کا اجر اللہ اکے ذمہ اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔
اور جب تم سفر کرو زمین میں تو نہیں تم پر کچھ حرج اگر تم قصر کرو نماز میں اگر ڈرو تم اس بات سے کہ تکلیف پہنچائیں گے تمہیں کافر بےشک کافر تو نمھارے کھلے دشمن ہیں۔
اور (اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) !) جب آپ ان میں موجود ہوں اور قائم کریں آپ ان کے لیے نماز تو چاہیے کہ کھڑا ہوا یک گروہ ان سے آپ کے ساتھ اور وہ پکڑ رکھیں اپنے ہتھیار پس جب سجدہ کرچکیں توہ وہ ہوجائیں تمہارے پیچھے اور آجائے دوسرا گورہ جن نے (ابھی) نماز نہیں پڑھی پس (اب) وہ نماز پڑھیں آپ کے ساتھ اور لیے رہیں اپنے بچاؤ کا سامان اور اپنے ہتھیار تمنا کرتے ہیں کافر اگر تم غافل ہو جاؤ اپنے اسلحہ سے اور اپنے سازوسامان سے تو وہ ٹوٹ پڑیں تم پر ایک بارگی اور نہیں کوئی حرج تم پر اگر ہو تنھیں تکلیف بارش کی وجہ سے یا ہو تم بیمار تو اتار دو اپنے ہتھیار مگر (دُشمن کی نقل و حرکت سے) ہوشیار رہو بےشک اللہ تعالیٰ نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے عذاب رسوا کرنے والا۔
جب تم ادا کرچکو نماز تو ذکر کرو اللہ تعالیٰ کا کھڑے ہوئے اور بیٹھے ہوئے اور اپنے پہلؤوں پر (لیٹے ہوئے) پھر جب مطمئن ہوجاؤ (دشمن کی طرف سے) تو ادا کرو نماز (حسب دستور) بےشک نماز مسلمانوں پر فرض کی گئی ہے اپنے اپنے مقرر وقت پر۔
اور نہ کمزوری دکھاؤ (دشمن) قوم کی تلاش میں اگر تمھیں دکھ پہنچتا ہے تو انھیں بھی دکھ پہنچتا ہے جیسے تمھیں دکھ پہنچتا ہے اور تم تو امید رکھتے ہو اللہ تعالی سے اس (ثواب ) کی جس کی وہ امید نہیں رکھتے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا بڑا دانا ہے۔
بے شک ہم نے نازل کی ہے آپ کی طرف یہ کتاب حق کے ساتھ تاکہ فیصلہ کریں آپ لوگوں میں اس کے مطابق جو دکھادیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے اور نہ بنیئے بددیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے۔
وہ چھپا سکتے ہیں (اپنے ارادے) لوگوں سے لیکن نہیں چھپا سکتے اللہ تعالیٰ سے اور وہ تو (اس وقت بھی) ان کے ساتھ ہوتا ہے جب راتوں کو مشورہ کرتے ہیں ایسی باتوں کا جو پسند نہیں اللہ کو اور اللہ تعالیٰ جو کچھ وہ کرتے ہیں اسے گھیرے ہوئے ہے۔
سنتے ہو! تم وہ لوگ ہو کہ جھگڑتے ہو ان کی طرف سے دنیا کی زندگی میں پس کون جھگڑے گا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی طرف سے قیامت کے دن یا کون ہوگا (اس روز) ان کا وکیل۔
اور اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل آپ پر اور اس کی رحمت تو تہیہ کرلیا تھا ایک گروہ نے ان سے کہ غلطی میں ڈال دیں آپ کو اور نہیں غلطی میں ڈال رہے مگر اپنے آپ کو اور نہیں ضرر پہنچاسکتے آپ کو کچھ بھی اور اتاری ہے اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور حکمت اور سکھادیا آپ کو جو کچھ بھی آپ نہیں جانتے تھے اور اللہ تعالیٰ کا آپ پر فضل عظیم ہے۔
نہیں کوئی بھلائی ان کی اکثر سرگوشیوں میں بجز ان لوگوں کے جو حکم دیں صدقہ دینے کا یا نیک کام کا یا صلح کرنے کا لوگوں میں اور جو شخص کرے یہ کام اللہ تعلاٰ کی رضا مندیاں حاصل کرنے کے لیے تو ہم عطا فرمائیں گے اسے اجر عظیم۔
اور جو شخص مخالفت کرے (اللہ کے ) رسول کی اس کے بعد کہ روشن ہوگئی اس کے لیے ہدایت کی راہ اور چلے اس راہ پر جو الگ ہے مسلمانوں کی راہ سے تو پھر ہم پھیرے دیں گے اسے جدھر وہ خود پھرا ہے اور ڈال دیں گے اسے جہنم میں اور یہ بہت بری پلٹنے کی جگہ ہے۔
بے شک اللہ تعالیٰ نہیں بخشتا اس (جرم عظیم) کو شریک ٹھیرا یا جائے اس کے ساتھ اور بخش دیتا ہے ماسوا جتنے جرائم ہوں جس کے لیے چاہتا ہے اور جو شریک ٹھیرائے (کسی کو) اللہ کے ساتھ تو وہ گمراہ ہوا اور گمراہی میں دور نکل گیا۔
اور میں ضرور انھیں گمراہ کروں گا اور میں ضرور انھیں جھوٹی امیدوں میں رکھوں گا اور میں ضرور حکم دوں گا انھیں پس وہ ضرور چیریں گے جانوروں کے کان اور میں انھیں حکم دوں گا تو وہ ضرور بدل ڈالیں گے اللہ کی مخلوق کو اور جو شخص بنالے شیطان کو (اپنا) دوست اللہ کو چھوڑ کر تو نقصان اٹھایا اس نے کھلا نقصان۔
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے داخل کریں گے ہم انین ان باغوں میں رواں ہیں جن کے نیچے ندیاں ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے (یہ) اللہ کا سچا وعدہ ہے اور کون زیاد سچا ہے اللہ تعالیٰ سے بات کرنے میں۔
(نجات کا انحصار) نہ تمہاری جھوٹی امیدوں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی جھوٹی امیدوں پر (بلکہ) جو عمل کرے گا برے اسے سزا ملے گی اس کی اور نہ پائے گا اپنے لیے اللہ کے بغیر کوئی دوست اور نہ مددگار۔
اور کون بہترہے دینی لحاظ سے اس شخص سے جس نے جھکا دیا ہو اپنا چہرہ اللہ کے لیے اور وہ احسان کرنے والا ہو اور پیروی کی ملت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس حال میں کہ وہ ہر باطل سے منہ موڑے ہوئے ہو اور بنالیا ہے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ( علیہ السلام) کو خلیل۔
اور فتویٰ پوچھتے ہیں آپ سے عورتوں کے بارے میں ۔ آپ فرمائیے اللہ تعالیٰ فتویٰ دیتا ہے تمھیں ان کے بارے میں اور وہ آیتیں جو پڑھی جاتی ہے تم پر اس کتاب (قرآن) میں (ان میں احکام ہیں) ان یتیم بچیوں کے متعلق جنھیں تم نہیں دیتے ہو جو (حق ) مقرر کیا گیا ہے ان کے اور خواہش کرتے ہو کہ خود نکاح کرلو ان کے ساتھ ( ان کا مال دبوچنے کے لیے) اور (قرآن میں احکام ہیں) کمزور بچوں کے متعلق اور (وہ یہ) کہ قائم رہو یتیموں کے معاملہ میں انصاف پر اور جو کرو گے بھلائی (کے کاموں ) سے تو یقیناً اللہ تعالیٰ اس کو خوب جاننے والا ہے۔
اور اگر کوئی عورت خوف کرے اپنے خاوند سے (اس کی ) زیادتی یا روگردانی کی وجہ سے تو نہیں کوئی حرج ان دونوں پر کہ صلح کرلیں آپس میں اور صلح ہی (دونوں کے لیے ) بہتر ہے اور موجود رکھا گیا ہے نفسوں میں بخل اور اگر تم احسان کرو اور متقی بنو تو بےشک اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔
اور تم ہرگز طاقت نہیں رکھتے کہ پورا پورا انصاف کرو اپنی بیویوں کے درمیان اگرچہ تم اس کے بڑے خواہشمند بھی ہو تو یہ نہ کرو کہ جھک جاؤ (ایک بیوی کی طرف) بالکل اور چھوڑدو دوسری کو جیسے وہ (درمیان میں ) لٹک رہی ہو۔ اور اگر تم درست کرلو (اپنا رویہ) اور پرہیزگار بن جاؤ تو بےشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ۔ اور بےشک ہم نے حکم دیا ان لوگوں کو جنھیں دی گی کتاب تم سے پہلے اور (حکم دیا ) تمھیں بھی کہ ڈرو اللہ تعالیٰ سے اور اگر کفر کرو تو بیشک اللہ کے ملک میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ بےنیا ز ہے اور ہر تعریف کا مستحق ہے۔
جو شخص ارادہ کرتا ہو صرف ثواب دنیا کا (تو یہ اس کی اپنی کم نظری ہے ) اللہ کے پاس تو دنیا و آخرت (دونوں ) کا ثواب ہے اور اللہ تعالیٰ ہر بات سننے والا ہر چیز دیکھنے والا ہے۔
اے ایمان والوں ! ہوجاؤ مضبوطی سے قائم رہنے والے انصاف پر گواہی دینے والے محض اللہ کے لیے چاہے گواہی دینا پڑے تمھیں اپنے نفسوں کے خلاف یا اپنے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ۔ (جس کے خلاف گواہی دی جارہی ہے) وہ دولت مند ہو یا فقیر۔ پس اللہ زیادہ خیر خواہ ہے دونوں کا ۔ تو نہ پیروی کرو خواہش نفس کی انصاف کرنے میں اور اگر تم ہیر پھیر کرو یا منہ موڑو تو بےشک اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اچھی طرح با خبر ہے۔
اے ایمان والو! اِیمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور اس کتاب پر جو نازل فرمائی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور اس کتاب پر جو نازل کی اس سے پہلے اور جو کفر کرے اللہ کے ساتھ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور روز آخرت کے ساتھ تو وہ گمراہ ہوا اور گمراہی میں دور نکل گیا۔
بے شک جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر بڑھتے گئے کفر میں نہیں ہے سنت الٰہی ان کے متعلق کہ بخش دے انھیں اور نہ (یہ) کہ پہنچائے انھیں راہ (راست) تک ۔
وہ منافق جو بناتے ہیں کافروں کو (اپنا) دوست مسلمانوں کو چھوڑ کر کیا وہ تلاش کرتے ہیں ان کے پاس عزت ؟ تو (وہ سن لیں) عِزت تو صرف اللہ کے لیے ہے سب کی سب۔
اور تحقیق اتارا ہے اللہ تعالیٰ نے تم پر (یہ حکم ٩ کتاب میں کہ جب تم سنو اللہ کی آیتیوں کو کہ انکار کیا جارہا ہے ان کا اور مذاق اڑایا جارہا ہے ان کا تو مت بیٹھوان (کفرو استہزا کرنے والوں ) کے ساتھ یہاں تک کہ وہ مشغول ہوجائیں کسی دوسری بات میں ورنہ تم بھی انھیں کی طرح ہوگے بےشک اللہ تعالیٰ اکٹھا کرنے والا ہے سب منافقوں اور سب کافروں کو جہنم میں ۔
وہ جو انتظار کررہے ہیں تمہارے (انجام ) کا ۔ تو اگر ہوجائے تمھیں فتح اللہ کی طرف سے (تو) کہتے ہیں کیا نہیں تھے ہم بھی تمہارے ساتھ اور اگر ہو کافروں کے لیے کچھ حصہ (کامیابی سے) کہتے ہیں کیا نہیں غالب آگئے تھے ہم تم پر اور (اس کے باوجود) کیا نہیں بچایا تھا ہم نے تم کو مومنوں سے پس (اے اہل نفاق) اللہ فیصلہ کرے گا تمہارے درمیان قیامت کے دن۔ اور ہرگز نہیں بنائے گا اللہ تعالیٰ کافروں کے لیے مسلمانوں پر (غالب آنے کا ) راستہ ۔
بے شک منافق (اپنے گمان میں) دھوکہ دے رہے ہیں اللہ کو اور اللہ تعالیٰ سزا دینے والا ہے انھیں ( اس دھوکہ بازی کی) اور جب کھڑے ہوتے ہیں نماز کی طرف تو کھڑے ہوتے ہیں کاہل بن کر ( وہ بھی عبادت کی نیت سے نہیں بلکہ) لوگوں کو دکھانے کے لیے اور نہیں ذکر کرتے اللہ تعالیٰ کا مگر تھوڑی دیر۔
۔ مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی اور اپنی اصلاح کرلی اور مضبوطی سے پکڑ لیا اللہ کا (دامن رحمت) اور خالص کرلیا اپنا دین اللہ کے لیے تو یہ لوگ ایمان والوں کے ساتھ ہیں اور عطا فرمائے گا اللہ تعالیٰ مومنوں کو اجر عظیم ۔
بے شک جو لوگ کفر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ اور چاہتے ہیں کہ فرق کریں اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان اور کہتے ہیں ہم ایمان لائے ہیں بعض رسولوں پر اور ہم کفر کرتے ہیں بعض کے ساتھ اور چاہتے ہیں کہ اختیار کرلیں کفرو ایمان کے درمیان کوئی (تیسری) راہ۔
اور جو لوگ ایمان لائے اللہ تعالیٰ اور اس کے (تمام) رسولوں کے ساتھ ار نہیں فرق کیا انھوں نے کسی میں ان سے یہی لوگ ہیں دے گا انھیں اللہ تعالیٰ ان کے اجر اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔
مطالبہ کرتے ہیں آپ سے اہل کتاب کہ آپ اتروادیں ان پر کتاب آسمان سے سو وہ تو سوال کرچکے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑی بات کا انھوں نے کہا تھا ( اے موسیٰ ( علیہ السلام) ) دکھاؤ ہمیں اللہ کھلم کھلا تو پکڑ لیا تھا انھیں بجلی کی کڑک نے بسبب ان کے ظلم کے پھر بنالیا انھوں نے بچھڑے کو (اپنا معبود) اس کے بعد کہ آچکی تھیں ان کے پاس کھلی دلیلیں پھر بھی ہم نے بخش دیا ان کا یہ (سنگین) جرم اور ہم نے عطا فرمایا موسیٰ ( علیہ السلام) کو واضح غلبہ۔
اور ہم نے بلند کیا ان کے اوپر طور کو ان سے پختہ وعدہ لینے کے لیے اور ہم نے فرمایا انھں کہ داخل ہوجاؤ اس دروازہ سے سجدہ کرتے ہوئے اور ہم نے فرمایا انھیں کہ حد سے نہ بڑھنا سبت میں اور ہم نے لیا تھا ان سے پختہ وعدہ ۔
(ان پر پھٹکار کی) وجہ یہ تھی کہ انھوں نے توڑ دیا اپنے وعدہ کو اور انھوں نے انکار کیا اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا اور انھوں نے قتل کیا انبیاء کو ناحق اور انھوں نے یہ (گستاخانہ) بات کہی کہ ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہیں (یوں نہیں) بلکہ مہر لگادی اللہ نے ان کے دلوں پر بوجہ ان کے کفر کے سووہ ایمان نہیں لائیں گے مگر تھوڑی سی تعداد۔
اور ان کے اس قول سے کہ ہم نے قتل کردیا ہے مسیح عیسیٰ فرزند مریم کو جو اللہ کا رسول ہے حالانکہ نہ انھوں نے قتل کیا اور نہ اسے سولی چڑھا سکے بلکہ مشتبہ ہوگئی ان کے لیے (حقیقت) اور یقیناً جنھوں نے اختلاف کیا ان کے بارے میں وہ بھی شک و شبہ میں ہیں ان کے متعلق نہیں ان کے پاس اس امر کا کوئی صحیح علم بجز اس کے کہ وہ پیروی کرتے ہیں گمان کی اور نہیں قتل کیا انھوں نے اسے یقینا۔
اور بوجہ ان کے سود لینے کے حالانکہ منع کیے گئے تھے اس سے اور بوجہ ان کے کھانے کے لوگون کے مال ناحق ار تیار کر رکھا ہے ہم نے کافروں کے لیے ان میں سے عذاب دردناک۔
لیکن جو پختہ ہیں علم میں ان سے (وہ بھی) اور (جو) مسلمان ہیں ایمان لاتے ہین اس پر جو اتارا گیا آپ کی طرف اور جو اتارا گیا آپ سے پہلے اور صحیح ادا کرنے والے نماز کے اور دینے والے زکوٰۃ کے اور ایمان لانے والے اللہ اور روز آخرت کے ساتھ یہی ہیں جنھیں عنقریب ہم دیں گے اجر عظیم۔
بے شک ہم نے وحی بھیجی آپ کی طرف جیسے وحی بھیجی ہم نے نوح ( علیہ السلام) کی طرف اور ان نبیوں کی طرف جو نوح ( علیہ السلام) کے بعد آئے اور (جیسے) وحی بھیجی ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) ، اسمٰعل ( علیہ السلام) ، اِسحق ( علیہ السلام) ، یعقوب ( علیہ السلام) اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ ( علیہ السلام) ، ایوب ( علیہ السلام) ، یونس ( علیہ السلام) ، ہارون ( علیہ السلام) اور سلیمان ( علیہ السلام) کی طرف اور ہم نے عطا فرمائیے داؤد ( علیہ السلام) کو زبور ۔
اور (جیسے وحی بھیجی) دوسرے رسولوں پر جن کا حال بیان کردیا ہے ہم نے آپ سے اس سے پہلے اور ان رسولوں پر بھی جن کا ذکر ہم نے اب تک آپ سے نہیں کیا اور کلام فرمایا اللہ نے موسیٰ سے خاص کلام۔
(بھیجے ہم نے یہ سارے) رسول خوشخبری دینے کے لیے اور ڈرانیکے لیے تاکہ نہ رہے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی عذر رسولوں کے (آنے کے) بعد اور اللہ تعالیٰ غالب ہے حکمت والا ہے (کوئی تسلیم نہ کرے تو اس کی مرضی)۔
لیکن اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے اس کتاب کے ذریعہ جو اس نے آپ کی طرف اتاری کہ اس نے اسے اتارا ہے اپنے علم سے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور کافی ہے اللہ تعالیٰ بطور گواہ۔
اے لوگوں ! تحقیق آگیا ہے تمھارے پاس رسول حق کے ساتھ تمھارے رب کی طرف سے پس تم ایمان لاؤ یہ بہتر ہے تمھارے لیے اور اگر تم انکار کرو تو بےشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور ہے اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا۔
اے اہل کتاب نہ غلو کرو اپنے دین میں اور نہ کہو اللہ تعالیٰ کے متعلق مگر سچی بات بےشک مسیح عیسیٰ ( علیہ السلام) پسر مریم تو صرف اللہ کے رسول ہین اور اس کا کلمہ جسے اللہ نے پہنچایا تھا مریم کی طرف اور ایک روح تھی اس کی طرف سے پس ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر اور نہ کہو تین (خدا ہیں) باز آجاؤ (ایسا کہنے سے) یہ بہتر ہے تمھارے لیے بےشک اللہ تو معبود واحد ہے پاک ہے وہ اس سے کہ ہو اس کا کوئی لڑکا اسی کا (مِلک) ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اور کافی ہے اللہ تعالیٰ کارساز۔
ہر گز عار نہ سمجھے گا مسیح (علیہ السلام) کہ وہ بندہ ہو اللہ کا اور نہ ہی مقرب فرشتے ( اس کو عار سمجھیں گے) اور جسے عار ہو اس کی بندگی سے اور وہ تکبر کرے تو اللہ جلد ہی جمع کرے گا ان سب کو اپنے ہاں۔
پھر جو ایمان لائے اور نیک عمل یے تو اللہ تعالیٰ پورا پورا دے گا انھیں ان کے اجر اور زیادہ بھی کردے گا انھیں اپنے فضل و کر م سے ۔ لیکن جنھوں نے عار سمجھا ( بندہ بننے کو ) اور تکبر کیا تو عذاب دے گا انھیں دردناک عذاب اور نہ پائین گے اپنے لیے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ کوئی مدد گار
تو جو لوگ ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر اور مضبوطی سے پکڑ لیا اللہ (رسی) کو تو عنقریب داخل کرے گا انھیں اپنی رحمت اور فضل میں اور پہنچائے گا انھیں اپنی طرف لے جانے والی سیدھی راہ پر ۔
(اے میرے رسول) فتویٰ پوچھتے ہیں آپ سے۔ آپ فرمائیے اللہ تعالیٰ فتویٰ دیتا ہے تمھیں کلالہ (کی میراث) کے بارے میں اگر کوئی ایسا آدمی فوت ہوجائے نہ جس کی کوئی اولاد اور اس کی ایک بہن ہو تو بہن کا نصف حصہ ہے اس کے ترکہ سے اور وہ وارث ہوگا اپنی بہن کا اگر نہ ہو اس بہن کی کوئی اولاد۔ پھر اگر دو بہنیں ہوں تو ان دونوں کو دو تہائی ملے گا اس سے جو اس نے چھوڑا اور اگر وارث ہوں بہن بھائی مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد (بھائی) کا حصہ دوعورتوں (بہنوں) کے حصہ کے برابر ہے۔ صاف صاف بیان کرتا ہے اللہ تمارے لیے (اپنے ) احکام تاکہ گمراہ نہ ہوجاؤ اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔