Back to Languages

Urdu - Chapter 4 - An-Nisa

Translation by Muhammad Karam Shah Al Azhari — Permalink

Verse 1 — Surah An-Nisa 4:1

اے لوگو! ڈرو اپنے رب سے جس نے پیدا فرمایا تمھیں ایک جان سے اور پیدا فرمایا اسی سے جوڑا اس کا اور پھیلا دیئے ان دونوں سے مرد کثیر تعداد میں اور عورتیں (کثیر تعداد میں) اور ڈرو اللہ سے وہ اللہ مانگتے ہو تم ایک دوسرے سے (اپنے حقوق ) جس کے واسطے سے اور (ڈرو) رحموں (کے قطع کرنے سے ) بیشک اللہ تعالیٰ تم پر ہر وقت نگران ہے۔

Verse 2 — Surah An-Nisa 4:2

اور دے دو یتیموں کو ان کے مال اور نہ بدلو (اپنی) ردی چیز کو (اُن کی) عمدہ چیز سے اور نہ کھاؤ ان کے مال اپنے مالوں سے ملا کر واقعی یہ بہت بڑا گناہ ہے۔

Verse 3 — Surah An-Nisa 4:3

اور اگر ڈرو تم اس سے کہ نہ انصاف کرسکو گے تم یتییم بچوں کے معاملہ میں ( تو ان سے نکاح نہ کرو) اور نکاح کرو جو پسند آئیں تمھیں ( ان کے علاوہ دوسری) عورتون سے دو دو تین تین اور چار چار اور اگر تمھیں یہ اندیشہ ہو کہ تم ان میں عدل نہیں کرسکو گے تو پھر ایک ہی یا کنیز یں جن کے مالک ہوں تمہارے دائیں ہاتھ۔ یہ زیادہ قریب ہے اس کے تم ایک طرف ہی جھک جاؤ۔

Verse 4 — Surah An-Nisa 4:4

اور دیاکرو (اپنی) عورتوں کو ان کے مہر خوشی خوشی پھر اگر وہ بخش دیں تمھیں کچھ عرصہ اس سے خوش دلی سے تو کھاؤ اُسے لذت حاصل کرتے ہوئے خوشگوار سمجھتے ہوئے۔

Verse 5 — Surah An-Nisa 4:5

اور نہ دے نادانوں کو اپنے مال جنھیں بنایا ہے اللہ تعالیٰ نے تمہاری (زندگی کے) لیے سہارا اور کھلاؤ انھیں اس مال سے اور پہناؤ انھیں اور کہو ان سے بھلائی کی بات ۔

Verse 6 — Surah An-Nisa 4:6

اور آزماتے رہو یتیموں کو یہاں تک کہ وہ پہنچ جائیں نکاح (کی عمر) کو پس اگر محسوس کرو تم ان میں دانائی تو لوٹا دو انھیں ا کے مال اور نہ کھاؤ انھیں فضول خرچی سے اور جلدی جلدی اس خوف سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے اور جو سر پر ست غنی ہو تو اسے چاہیے کہ (یتیموں کے مال سے) پرہیز کرے اور جو سرپرست فقیر ہو تو وہ کھالے مناسب مقدار سے پھر جب لوٹاؤ تم ان کی طرف ان کے مال تو گواہ بنالو ان پر اور کافی ہے اللہ تعالیٰ حساب لینے والا۔

Verse 7 — Surah An-Nisa 4:7

مردوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑگئے ماں باپ اور قریبی رشتہ دار اور عورتوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قریبی رشتہ دار اس ترکہ سے خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ یہ حصہ (اللہ تعالیٰ کی طر ف سے ) مقرر ہے۔

Verse 8 — Surah An-Nisa 4:8

اور جب حاضر ہو (ورثہ کی) تقسیم کے وقت (غیر وارث) رشتہ دار، یتیم بچے اور مسکین تو دو انھیں بھی اس سے اور کہو ان سے اچھی بات۔

Verse 9 — Surah An-Nisa 4:9

اور چاہیے کہ ڈریں (جو یتیموں کے سرپرست ہیں اور سوچیں) کہ اگر چھوڑ جاتے وہ اپنے پیچھے چھوٹے چھوٹے کمزور بچے تو وہ کتنے فکر مند ہوتے ان کے متعلق پس چاہیے کہ وہ ڈریں اللہ سے اور کہیں ایسی بات جو بالکل درست ہو۔

Verse 10 — Surah An-Nisa 4:10

بیشک وہ لوگ جو کھاتے ہیں یتیموں کے مال ظلم سے وہ تو بس کھارے ہیں اپنے پیٹوں میں آگ اور وہ عنقریب جھونکے جائیں گے بھڑکتی آگ میں۔

Verse 11 — Surah An-Nisa 4:11

حکم دیتا ہے تمھیں اللہ تمہاری اولا (کی میراث) کے بارے میں ایک مرد (لڑکے) کا (حصہ) برابر ہے دو عورتوں (لڑکیوں) کے حصہ کے پھر اگر ہوں صرف لڑکیاں دو سے زائد تو ان کے لیے دو تہائی ہے جو میت نے چھوڑا اور اگر ہو ایک ہی لڑکی تو اس کے لیے نصف ہے اور میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا اس سے جو میت نے چھوڑا بشرطیکہ میت کی اولاد ہو اور اگر نہ ہو اس کی اولاد اور اس کے وارث صرف ماں باپ ہی ہوں تو اس کی ماں کا تیسرا حصہ ہے (باقی سب باپ کا ) اور اگر میت کے بہن بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ ہے (اور یہ تقسیم) اس وصیت کو پورا کرنے کے بعد ہے جو میت نے کی اور قرض ادا کرنے کے بعد ۔ تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم نہیں جانتے کون اس میں سے زیادہ قریب ہے تمھیں نفع پہنچانے میں یہ حصے مقرر ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بےشک اللہ تعالیٰ (تمہاری مصلحتوں کو) جاننے والا ہے بڑا دانا ہے۔

Verse 12 — Surah An-Nisa 4:12

اور تمہارے لیے نصف ہے جو چھوڑ جائیں تمہاری بیویاں بشرطیکہ نہ ہو ان کی اولاد اور اگر ہو ان کی اولاد تو تمہارے لیے چوتھائی ہے اس سے جو وہ چھوڑ جائیں (یہ تقسیم) اس وصیت کے پورا کرنے کے بعد ہے جو وہ کرجائیں اور قرض ادا کرنے کے بعد اور تمہاری بیویوں کا چوتھا حصہ ہے اس سے ججو تم چھوڑو بشرطیکہ نہ ہو تمہاری اولاد اور اگر ہو تمہاری اولاد تو ان کا آٹھواں حصہ ہے اس سے جو تم پیچھے چھوڑ جاؤ(یہ تقسیم) اس وصیت کو پورا کرنے کے بعد ہے جو تم نے کی ہو اور (تمہارا) قرض ادا کرنے کے بعد ۔ اور اگر وہ شخص جس کی میراث تقسیم کی جانے والی ہے کلالہ وہ مرد ہو یا عورت اور اس کا بھائی یا بہن ہو تو ہر ایک کے لیے ان میں سے چھٹا حصہ ہے اور اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب شریک ہیں تہائی میں (یہ تقسیم) وصیت پوری کرنے کے بعد ہے جو کی گئی ہے اور قرض ادا کرنے کے بعد بشرطیکہ اس سے نقصان نہ پہنچایا گیا ہو۔ (یہ نظام وراثت) حکم ہے اللہ کی طر ف سے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا بڑا برد بار ہے۔

Verse 13 — Surah An-Nisa 4:13

یہ حدیں اللہ کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو شخص فرمانبردای کرے گا اللہ کی اور اس کے رسول کی داخل فرمائے گا اسے اللہ تعالیٰ باغوں میں بہتی ہوں گی ان کے نیچے نہریں ہمشہ رہیں گے وہ ان میں اور یہی ہے بڑی کامیابی۔

Verse 14 — Surah An-Nisa 4:14

اور جو نافرمانی کرے گا اللہ کی اور اس کے رسول کی اور تجاوز کرے گا اللہ کی (مقررہ) حدوں سے داخل کرے گا اسے اللہ آگ میں ہمیشہ رہے گا اس میں اور اس کے لیے عذاب ہے ذلیل کرنے والا۔

Verse 15 — Surah An-Nisa 4:15

اور جو کوئی ارتکاب کرے بدکاری کا تمہاری عورتوں میں سے تو گواہ طلب کرو (تہمت لگانے والے سے ) ان پر چار مرد اپنوں میں سے پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو بدن کروو ان عورتوں کو گھروں میں یہاں تک کہ پورا کردے ان (کی زندگی) کو موت یا بنادے اللہ تعالیٰ ان (کی رہائی ) کے لیے کوئی رستہ

Verse 16 — Surah An-Nisa 4:16

اور جو مرد عورت ارتکاب کریں بدکاری کا تم میں سے تو خوب اذیت دو انھیں پھر اگر دونوں توبہ کرلیں اور (اپنی ) اصلاح کرلیں تو چھوڑ دو انھیں بےشک اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول کرنے والا بہت رحم کرنے والا ہے۔

Verse 17 — Surah An-Nisa 4:17

توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے ذمہ لیا ہے ان کی توبہ ہے جو کر بیٹھتے ہیں گناہ بےسمجھی سے پھر توبہ کرتے ہیں چلدی سے پس یہی لوگ ہیں (نظر رحمت سے) توجہ فرماتا ہے اللہ ان پر اور ہے اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا بڑی حکمت والا۔

Verse 18 — Surah An-Nisa 4:18

اور نہیں یہ توبہ (جس کے قبول کرنے کا وعدہ ہے ) ان لوگوں کے لیے جو کرتے رہتے ہیں برائیاں (ساری عمر) یہاں تک کہ جب آجائے کسی ایک کو ان میں سے موت (تو) کہے بشک میں توبہ کرتا ہوں اب اور نہ ان لوگوں کی توبہ جو مرتے ہیں اس حال میں کہ وہ کافر ہیں انھیں کے لیے ہم نے تیار کر رکھا ہے عذاب دردناک ۔

Verse 19 — Surah An-Nisa 4:19

اے ایمان والو! نہیں حلال تمہارے لیے کہ وارث بن جاؤ عورتوں کے زبردستی اور نہ روکے رکھو انھیں تاکہ لے جاؤ کچھ حصہ اس (مہر وغیرہ) کا جو تم نے دیا ہے انھیں بجز اس صورت کے کہ ارتکاب کریں کھلی بدکاری کا اور زندگی بسر کرو اپنی بیویوں کے ساتھ عمدگی سے پھر اگر تم نا پسند کرو انھیں تو (صبر کرو) شاید تم ناپسند کرو کسی چیز کو اور رکھ دی ہو اللہ تعالیٰ نے اس میں (تمہارے لیے) خیر کثیر ۔

Verse 20 — Surah An-Nisa 4:20

اور اگر تم ارادہ کرلو کہ بدلو ایک بیوی کو پہلی بیوی کی جگہ اور دے چکے ہو تم اسے ڈھیروں مال تو نہ لو اس مال سے کوئی چیز کیا تم لینا چاہتے ہو اپنا مال (زمانہ جاہلیت کی طرح) بہتان لگا کر اور کھلا گناہ کرکے۔

Verse 21 — Surah An-Nisa 4:21

اور کیوں کر (واپس ) لیتے ہو تم مال کو حالانکہ مل جل چکے ہو تم (تنہائی میں) ایک دوسرے سے اور وہ لے چکی ہیں تم سے پختہ وعدہ ۔

Verse 22 — Surah An-Nisa 4:22

اور نکاح نہ کرو جن سے نکاح کرچکے تمہارے باپ دادا مگر جو ہوچکا ( اس سے پہلے سو وہ معاف ہے) بےشک یہ فعل بہت بےحیائی اور نفرت کا فعل تھا اور بہت برا طریقہ تھا۔

Verse 23 — Surah An-Nisa 4:23

حرام کردی گئیں تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری مائیں جنھوں نے تمھٰن دودہ پلایا اور تمہاری بہنیں رضاعت سے اور مائیں تمہاری بیویوں کی اور تمہاری بیویوں کی بیٹیاں جو تمہاری گودوں میں (پرورش پارہی ہیں ٩ ان بیویوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو اور اگر تم نے صحبت نہ ہو ان بیویوں سے تو کوئی حرج نہیں تم پر (ان کی بیٹیوں سے نکاح کرنے میں ) اور (حرام کی گئیں) بیویاں تمہارے ان بیٹوں کی جو تمہاری پشتوں سے ہیں اور (یہ بھی حرام ہے) کہ جمع کرو تم دو بہنوں کو مگر جو گزرچکا ( سو وہ معاف ہے) یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔

Verse 24 — Surah An-Nisa 4:24

اور (حرام ہیں) خاوندوں والی عورتیں مگر (کافروں کی وہ عورتیں) جو تمہارے ملک میں آجائیں فرض کیا ہے اللہ نے (اِن احکام) کو تم پر اور حلال کردی گئیں ہیں تمہارے لیے ماسوا ان کے تاکہ تم طلب کرو (ان کو) اپنے مالوں کے زریعہ پاکدامن بنتے ہوئے نہ زناکار بنتے ہوئے پس جو تم نے لطف اٹھایا ہے ان سے تو دو ان کو ان کے مہر جو مقرر ہیں اور کوئی گناہ نہیں تم پر جس چیز پر تم آپس میں راضی ہو جاؤ مقرر کیے ہوئے مہر کے بعد بیشک اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے۔

Verse 25 — Surah An-Nisa 4:25

اور جو نہ رکھتا ہو تم میں سے اس کی طاقت کہ نکاح کرے آزاد مسلمان عورتوں سے تو وہ نکاح کرے جو تمہارے قبضہ میں ہیں تمہاری کنیزیں جو مسلمان ہیں اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے تمہارے ایمان ( کی کیفیت) کو بعض تمہارا بعض (کی جنس) سے ہے تو نکاح کرلو ان سے ان کے سرپرستوں کی اجازت سے اور دو ان کو مہر ان کے دستور کے موافق (تاکہ نکاح سے ) وہ پاکدامن بن جائیں نہ (اعلانیہ) زنا کار اور نہ بنانے والی ہوں پوشیدہ یار اور جب وہ نکاح سے محفوظ ہوجائیں پھر اگر وہ ارتکاب کریں بدکاری کا تو ان پر اس سزا کا نصف ہے جو آزاد عورتوں کے لیے ہے یہ (لونڈیوں سے نکاح کی اجازت) اس کے لیے ہے جسے خطرہ ہو بدکاری میں مبتلا ہونے کا تم سے ۔ اور تمہارا صبر کرنا بہتر ہے تمہارے لیے اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

Verse 26 — Surah An-Nisa 4:26

چاہتا ہے اللہ تعالیٰ کہ کھول کر بیان کردے (اپنے احکام) تمہارے لیے اور چلائے تم کو ان (کامیاب لوگوں) کی راہوں پر جو تم سے پہلے گزرے ہیں اور اپنی رحمت سے توجہ فرمائے تم پر اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا بڑا دانا ہے۔

Verse 27 — Surah An-Nisa 4:27

اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اپنی رحمت سے توجہ فرمائے تم پر اور چاہتے ہیں وہ لوگ جو پیروی کررہے ہیں اپنی خواہشوں کی کہ تم (حق سے) بالکل منہ موڑ لو۔

Verse 28 — Surah An-Nisa 4:28

اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہلکا کرے تم سے (پابندیوں کا بوجھ) اور پیدا کیا گیا ہے انسان کمزور۔

Verse 29 — Surah An-Nisa 4:29

اے ایمان والو نہ کھاؤ اپنے مال آپس میں ناجائز طریقہ سے مگر یہ کہ تجارت ہو تمہاری باہمی رجامندی سے اور نہ ہلاک کرو اپنے آپ کو بےشک اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بڑی مہربانی فرمانے والا ہے۔

Verse 30 — Surah An-Nisa 4:30

اور جو شخص کرے گا یوں، سرکشی اور ظلم سے ڈال دیں گے ہم اسے آگ میں اور یہ اللہ پر بالکل آسان ہے۔

Verse 31 — Surah An-Nisa 4:31

اگر تم بچتے رہو گے بڑے بڑے کاموں سے روکا گیا ہے تمھیں جن سے تہ ہم محو کردیں گے تمہارے (نامہ اعمال) سے تمہاری برائیاں اور ہم داخل کریں گے تمھیں عزت کی جگہ میں

Verse 32 — Surah An-Nisa 4:32

اور نہ آرزو کرو اس چیز کی ، بزرگی دی ہے اللہ نے جس سے تمہارے بعض کو بعض پر مردوں کے لی حصہ ہے اس سے جو انھوں نے کمایا اور عورتوں کے لیے حصہ ہے اس سے جو انھوں نے کمایا اور مانگتے رہو اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل و کرم کو بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

Verse 33 — Surah An-Nisa 4:33

اور ہر ایک لیے بانادیئے ہیں ہم نے وارث اس مال سے جو چھوڑ جائیں ماں باپ اور قریبی رشتہ دار اور وہ لوگ جن سے بندھ چکا ہے تمہار ا عہدو پیمان تو دو انھیں ان کا حصہ بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مشاہدہ فرمانے والا ہے۔

Verse 34 — Surah An-Nisa 4:34

مرد محافظ و نگران ہیں عورتوں پر اس وجہ سے کہ فضیلت دی ہے اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر اور اس وجہ سے مرد خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں سے (عورتوں کی ضرورت و آرام کے لیے) تو نیک عورتیں اطاعت گزار ہوتی ہیں حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں (مردوں) کی غیر حاضری میں اللہ کی حفاظت سے اور وہ عورتیں اندیشہ ہو تمھیں ان کی نافرمانی کا تو (پہلے نرمی سے) انھیں سمجھاؤ اور پھر الگ کردو انھیں خواب گاہوں سے اور (پھر بھی باز نہ آئیں تو ) مارو انھیں پھر اگر وہ اطاعت کرنے لگیں تمہاری تو نہ تلاش کرو ان پر (ظلم کرنے کی) راہ یقیناً اللہ تعالیٰ (عظمت و کبریائی میں ) سب سے بالا سب سے بڑا ہے۔

Verse 35 — Surah An-Nisa 4:35

اور اگر خوف کرو تم ناچاقی کا ان کے درمیان تو مقرر کرو ایک پنچ مرد کے کنبے سے اور ایک پنچ عورت کے کنبہ سے اگر وہ دونوں (پنچ ) ارادہ کریں گے صلح کرانے کا تو موافقت پیدا کردے گا اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے درمیان بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہر بات سے خبردار ہے۔

Verse 36 — Surah An-Nisa 4:36

اور عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی اور نہ شریک بناؤ اس کے ساتھ کسی کو اور والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو نیز رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور پڑوسی جو رشتہ دار ہے اور پڑوسی جو رشتہ دار نہیں اور ہم مجلس اور مسافر اور جو (لونڈی غلام) تمہارے قبضہ میں ہیں ( ان سب سے حسن سلوک کرو) بےشک اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا اس کو جو مغرور ہو فخر کرنے والا ہو۔

Verse 37 — Surah An-Nisa 4:37

جو خود بھی بخل کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں لوگوں کو بھی بخل کرنے اور چھپاتے ہیں جو عطا فرمایا ہے انھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل (وکرم) سے اور تیار کر رکھا ہے ہم نے کافروں کے لیے ذلیل کرنے ولا عذاب۔

Verse 38 — Surah An-Nisa 4:38

اور وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال لوگوں کو دیکھانے کے لیے اور نہیں ایمان رکھتے اللہ پر اور نہ روز قیامت پر اور وہ (بد قسمت) ہوجائے شیطان جس کا ساتھی پس وہ بہت برا ساتھی ہے۔

Verse 39 — Surah An-Nisa 4:39

اور کیا نقصان ہوتا ان کا اگر ایمان لاتے اللہ پر اور روز آخرت پر اور خرچ کرتے اس سے جو دیا ہے اللہ تعالیٰ نے اور اللہ تعالیٰ ان سے خوب واقف ہے۔

Verse 40 — Surah An-Nisa 4:40

بے شک اللہ تعالیٰ ظلم نہیں کرتا ذرہ برابر بھی (بلکہ) اگر ہو معمولی سے نیکی تو دوگنا کردیتا ہے اسے اور دیتا ہے اپنے پاس سے اجر عظیم ۔

Verse 41 — Surah An-Nisa 4:41

تو کیا حال ہوگا (ان نافرمانوں کا ) جب ہم لے آئیں گے ہر امت سے ایک گواہ اور (اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) ہم لے آئیں گے آپ کو ان سب پر گواہ۔

Verse 42 — Surah An-Nisa 4:42

اُس روز تمنا کریں گے وہ جنھوں نے کفر کیا اور نافرمانی کی رسول کی کہ کاش! (انھیں دبا کر) کر ہموار کردی جاتی ان پر زمین اور نہ چھپا سکیں گے اللہ کوئی بات۔

Verse 43 — Surah An-Nisa 4:43

اے ایمان والو! نہ قریب جاؤ نماز کہ جب کہ تم نشہ کی حالت میں ہو یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو جو (زبان) سے کہتے ہو اور نہ جنابت کی حالت میں مگر یہ کہ تم سفر کررہے ہو یہاں تک کہ تم غسل کرلو اور اگر ہو تم بیمار یا سفر میں یا آئے کوئی تم میں سے قضائے حاجت سے یا ہاتھ لگایا ہو تم نے (اپنی ) عورتوں کو پھر نہ پاؤ تم پانی تو ( اس صورت میں ) تیمم کرلو پاک مٹی سے اور (اس کا طریقہ یہ ہے کہ ) ہاتھ پھیرو اپنے چہروں پر اور اپنے بازؤں پر بیشک اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا بڑا بخشنے والا ہے۔

Verse 44 — Surah An-Nisa 4:44

کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لگون کی طرف جنھیں دیا گیا حصہ کتاب سے وہ مول لے رہے ہیں گمراہی کو اور (یہ بھی ) چاہتے ہیں کہ بہک جاؤ تم بھی راہ راست سے ۔

Verse 45 — Surah An-Nisa 4:45

اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے تمہارے دشمنوں کو اور کافی ہے (تمہارے لیے) اللہ حمایتی اور کافی ہے (تمہارے لیے) اللہ تعالیٰ مددگار۔

Verse 46 — Surah An-Nisa 4:46

کچھ لوگ جو یہودی ہیں پھیر دیتے ہیں (اللہ کے کلام کو ) اس کی آسلی جگہوں سے اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور ہم نے نافرمانی کی اور (کہتے ہیں) سنو تم نہ سنائے جاؤ اور ( کہتے ہیں) ’’راعِنا‘‘ بل دیتے ہوئے اپنی زبانوں کو اور طعنہ زنی کرتے ہوئے دین مین اور اگر وہ (یوں) کہتے ہم نے (آپ کا ارشاد) سنا اور (اسے) مان لیا اور (ہماری عرض) سنیے اور نگاہِ (کرم) فرمائیے ہم پر تو ہوتا بہت بہتر ان کے لیے اور بہت درست لیکن (اپنی رحمت سے) دور کردیا انھیں اللہ نے بوجہ ان کے کفر کے پس نہیں ایمان لائیں گے مگر تھوڑے سے۔

Verse 47 — Surah An-Nisa 4:47

اے وہ لوگوں جنھیں دی گئی کتاب ١ ایمان لاؤ اس کتاب پر جو نازل فرمائی ہم نے تاکہ تصدیق کرے اس کتاب کی جو تمہارے پاس ہے (ایمان لاؤ) اس سے پہلے کہ ہم مسخ کردیں چہرے پھر پھیر دیں انہیں پشتوں کی طرف یا لعنت کریں ان پر جس طرح ہم نے لعنت کی سبت والوں پر اور اللہ کا حکم پور ا ہو کر رہتا ہے۔

Verse 48 — Surah An-Nisa 4:48

بے شک اللہ تعالیٰ نہیں بخشتا اس بات کو کہ شرک کیا جائے اس کے ساتھ اور بخش دیتا ہے اس کے علاوہ جسکو چاہتا ہے اور جو شریک ٹھیراتا ہے اللہ کے ساتھ وہ ارتکاب کرتا ہے گناہ عظیم کا ۔

Verse 49 — Surah An-Nisa 4:49

کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کی طرف جو پاکباز بتلاتے ہیں اپنے آپ کو بلکہ (یہ تو) اللہ کی (شان ہے کہ ) پاکباز بنادے جسے چاہے اور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے کھجور کی گھٹلی کے ریشہ کے برابر۔

Verse 50 — Surah An-Nisa 4:50

دیکھئیے کیسے گھڑتے ہیں اللہ پر جھوٹ اور کافی ہے (انھیں رسوا کرنے کے لیے) یہ کھلا گناہ۔

Verse 51 — Surah An-Nisa 4:51

کیا نہیں دیکھا تم نے ان لوگوں کی طرف جنھیں دیا گیا حصہ کتاب سے وہ (اب) اعتقاد رکھنے لگے ہیں جبت اور طاغوت پر اور کہتے ہیں ان کے بارے میں جنھوں نے کفر کیا کہ یہ کافر زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ان سے جو ایمان لائے ہیں ۔

Verse 52 — Surah An-Nisa 4:52

یہی وہ ( بد نصیب) ہیں جن پر لعنت کی ہے اللہ تعالیٰ نے اور جس پر لعنت بھیجے اللہ تعالیٰ تو ہر گز نہ پائے گا تو اس کا کوئی مددگار۔

Verse 53 — Surah An-Nisa 4:53

کیا ان کے لیے کوئی حصہ ہے حکومت میں اگر ایسا ہوتا تو نہ دیتے یہ لوگوں کو تل برابر۔

Verse 54 — Surah An-Nisa 4:54

کیا حسد کرتے ہیں لگوں سے اس نعمت پر جو عطا فرمائی ہے انھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے (وہ حسد کی آگ میں جلا کریں) ہم نے مرحمت فرمادی ہے ابراہیم کے گھرانے کو کتاب اور حکمت اور عنایت فرمادی ہے انھیں عظیم الشان سلطنت ۔

Verse 55 — Surah An-Nisa 4:55

تو ان سے کوئی ایمان لائے اس کے ساتھ اور کسی نے منہ پھیر لیا اس سے اور کافی ہے (انھیں جلانے کے لیے) جہنم کی دہکتی ہوئی آگ۔

Verse 56 — Surah An-Nisa 4:56

بے شک جنھوں نے انکار کیا ہماری آیتوں کا ہم ڈال دیں گے انھیں آگ میں جب کبھی پک جائیں گی ان کی کھالیں تو بدل کردے دیں گے ہم انھیں کھالیں دوسری تاکہ وہ (مسلسل) چکھتے رہیں عذاب کو بےشک اللہ تعالیٰ غالب ہے حکمت والا ہے۔

Verse 57 — Surah An-Nisa 4:57

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل بھی کیے عنقر یب ہم داخل کریں گے انھیں باغوں میں روان ۃین جن کے نیچے ندیاں ہمیشہ رہیں گے ان میں تا ابد۔ ان کے لیے ان باغوں میں پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور ہم داخل کریں گے انھیں گھنے سایہ میں۔

Verse 58 — Surah An-Nisa 4:58

بے شک اللہ تعالیٰ حکم فرمات ہے تمھیں کہ (اُن کے ) سپرد کرو امانتوں کو نو ان کے اہل ہیں اور جب بھی فیصلہ کرو لوگوں کے درمیان تو فیصلہ کرو انصاف سے بیشک اللہ تعالیٰ بہت ہی اچھی بات کی نصیحت کرتا ہے تمھیں بےشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا ہر چیز دیکھنے والا ہے۔

Verse 59 — Surah An-Nisa 4:59

اے ایمان والوں ! اطاعت کرو اللہ تعالیٰ کی اور اطاعت کرو (اپنے ذی شان) رسول کی اور حاکموں کی جو تم میں سے ہوں پھر اگر جھگڑنے لگو تم کیس چیز میں تو لوٹادو اسے اللہ اور (اپنے) رسول (کے فرمان) کی طرف اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور روز قیامت پر یہی بہتر ہے اور بہت اچھا ہے اس کا انجام۔

Verse 60 — Surah An-Nisa 4:60

کیا نہیں دیکھا آپ نے ان کی طرف جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایمان لائے اس (کتاب) کے ساتھ جو اتاری گئی آپ کی طرف اور جو اتارا گیا آپ سے پہلے ( اس کے باوجود) چاہتے ہیں کہ فیصلہ کرانے کے لیے (اپنے مقدمات) طاغوت کے پاس لے جائیں حالانکہ انھیں حکم دیا گیا تھا کہ انکار کریں طاغوت کا اور چاہا ہے شیطان کہ بکادے اھیں بہت دور تک

Verse 61 — Surah An-Nisa 4:61

اور جب کہا جائے انھیں کہ آؤ اس (کتاب) کی طرف جو اتاری ہے اللہ نے اور (آؤ) رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) (پاک) کی طرف تو آپ دیکھٰن گے منافقوں کو منہ موڑ لیتے ہیں آپ سے روگردانی کرتے ہوئے۔

Verse 62 — Surah An-Nisa 4:62

پس کیا حال ہوتا ہے جب پہنچتی ہے انھیں مصیبت بوجہ ان (کرتوتوں) کے جو آگے بھیچے ہیں ان کے ہاتھوں نے پھر حاضر ہوتے ہیں آپ کے پاس قسمیں اٹھاتے ہیں اللہ کی (کہتے ہیں بخدا) نہیں قصد کیا تھا ہم نے مگر بھلائی اور باہمی مصالحت کا۔

Verse 63 — Surah An-Nisa 4:63

یہ لوگ ہیں خوب جانتا ہے اللہ تعالیٰ جو کچھ ا کے دلوں میں ہے ( اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) ) چشم پوشی فرمائیے ان سے اور نصیحت کرتے رہیے انھیں اور کہیے انھیں تنہائی میں ایسی بات جو مؤثر ہو۔

Verse 64 — Surah An-Nisa 4:64

اور نہیں بھیجا ہم نے کوئی رسول مگر اس لیے کہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ کے اذن سے اور اگر یہ لگو جب ظلم کربیٹھے تھے اپنے آپ پر حاضر ہوتے آپ کے پاس اور مغفرت طلب کرتے اللہ تعالیٰ سے نیز مغفرت طلب کرتا ان کے لیے رسول (کریم) بھی تو وہ جرور پاتے اللہ تعالیٰ کو بہت توبہ قبول فرمانے والا نہایت رحم کرنے والا ۔

Verse 65 — Surah An-Nisa 4:65

پس (اے مصطفی) تیرے رب کی قسم یہ لوگ مومن نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ ھاکم بنائین آپ کو ہر اس جھگڑے میں جو پھوٹ پڑا ان کے درمیان پھر نہ پائیں اپنے نفسوں میں تنگی اس سے جو فیصلہ آ پ نے کیا ور تسلیم کرلیں دل و جان سے۔

Verse 66 — Surah An-Nisa 4:66

اور اگر ہم فرض کردیتے ان پر کہ قتل کرو اپنے آپ کو یا نکل جاؤ اپنے اپنے گھروں سے تو نہ بجالاتے اس کو مگر چند آدمی ان میں سے اور اگر وہ کرتے جس کی انھیں نصیحت کی گئی تھی تو ہوتا بہتر ان کے لیلے اور (اس طرح) سختی سے (اللہ کے احکام پر) ثابت قدم ہوجاتے

Verse 67 — Surah An-Nisa 4:67

تو اس وقت ہم بھی عطا فرماتے انھیں اپنے پاس سے اجر، عظیم ۔

Verse 68 — Surah An-Nisa 4:68

اور ضرور پہنچاتے انھیں سیدھے راستہ تک۔

Verse 69 — Surah An-Nisa 4:69

اور جو اطاعت کرتے ہیں اللہ کی اور (اس کے) رسول کی تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین اور کیا ہی اچھے ہیں یہ ساتھی۔

Verse 70 — Surah An-Nisa 4:70

یہ (محض) فضل ہے اللہ تعالیی کا اور کافی ہے الل تعالیٰ جاننے والا۔

Verse 71 — Surah An-Nisa 4:71

اے ایمان والو! ہوشیا رہو پھر (وقت آجائے تو) تو نکلو ٹولیا بن کر یا نکلو سب مل کر۔

Verse 72 — Surah An-Nisa 4:72

اور بےشک تم میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو ضرور دیر لگائیں گے پھر اگر پہنچے تمھیں کوئی مصیبت تو ہو کہے احسان فرمایا اللہ نے مجھ پر کہ میں نہیں تھا ان کے ہمراہ (جنگ میں) حاضر۔

Verse 73 — Surah An-Nisa 4:73

اور اگر ملے تمھیں فجل (فتح اور مال غنیمت) اللہ کی مہربای سے تو ضرور کہے جیسے نہیں تھی چھارے درمیان اور اس کے درمیاں کوئی دوستی کاش میں بھی ہوتا ان کے ھمراہ تو حاصل کرتا بڑی کامیابی۔

Verse 74 — Surah An-Nisa 4:74

پس چاہیے کہ لڑا کریں اللہ کی راہ میں (صرف) وہ لوگ جنھوں نے بیچ دی ہے دنیا کی زندگی آخرت کے عوض اور جو شخص لڑے اللہ کی راہ میں پھر (خواہ) مارا جائے یا غالب آئے تو (دونوں حالتوں میں ) ہم دیں گے اسے اجر عظیم ۔

Verse 75 — Surah An-Nisa 4:75

اور کیا ہوگیا ہے تمھیں کہ جنگ نہیں کرتے ہو راہ خدا میں حالانکہ کئی بےبس مرد اور عورتیں اور بچے ایسے بھی ہیں جو (ظلم سے تنگ آکر ) عرض کرتے ہیں اے میرے رب نکال ہمین اس بستی سے ظالم ہیں جس کے رہتے والے اور بنادے ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی دوست اور بنادے ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مددگار۔

Verse 76 — Surah An-Nisa 4:76

جو ایمان لائے ہیں وہ جنگ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں اور جو کافر ہیں وہ جنگ کرتے ہیں طاغوت کی راہ میں تو (اے ایمان والو) لڑوشیطان کے حامیوں سے بیشک شیطان کا فریب کمزور ہے۔

Verse 77 — Surah An-Nisa 4:77

کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کی طرف جنھیں جب کہا گیا کہ روکو اپنے ہاتھوں کو اور قائم کرو نماز اور ادا کرو زکوٰۃ (ان باتوں کو تو مان لیا) پھر جب فرض کیا گیا ان پر جہاد تب ایک گروہ ان میں سے ڈرنے لگ گیا لوگوں سے جیسے ڈرا جاتا ہے خدا سے یا س سے بھی زیادہ اور کہنے لگے اے ہمارے پروردگار ! کیوں فرض کردیا تونے ہم پر جہاد (اور) کیوں نہ مہلت دی تونے ہمیں تھوڑی مدت تک ( اے ترجمان حقیقت انھیں) کہو دنیا کا سامن بہت قلیل ہے اور آخرت زیادہ بہتر ہے اس کے لیے جو تقویٰ اختیار کیے ہے اور نہیں ظلم کیا جائے گا تم پر کھجور کی گٹھلی کے ریشہ کے برابر۔

Verse 78 — Surah An-Nisa 4:78

جہاں کہیں تم ہو لے آے گی تمھیں موت اگرچہ (پناہ گزیں) ہو تم مضبوط قلعوں میں اور اگر پہنچے انھیں کوئی بھلائی تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر پہنچے اھیں کوئی تکلیف تو کہتیہیں یہ آپ کی طرف سے ہے (اے میرے رسول) آپ فرمایئے س اللہ کی طرف سے ہے تو کیا ہوگیا ہے اس قوم کو بات سمجھنے کے قریب ہی نہیں جاتے۔

Verse 79 — Surah An-Nisa 4:79

جو پہنچے آپ کو بھلائی سو وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو پہنچے آپ کو تکلیف سو وہ آپ کی طرف سے ہے اور بھیجا ہم نے آپ کو سب لوگوں کی طرف رسول بنا کر اور کافی ہے اللہ تعالیٰ (آپ کی رسالت کا ) گواہ۔

Verse 80 — Surah An-Nisa 4:80

جس نے اطاعت کی رسول کی تو یقیناً اس نے اعطاعت کی اللہ کی اور جس نے منہ پھیرا تو نہیں بھیجا ہم نے آپ کو ان کا پاسبان بنا کر۔

Verse 81 — Surah An-Nisa 4:81

اور کہتے ہیں ہم نے حکم مان لیا اور جب باہر نکلتے ہیں آپ کے پاس سے تو رات بھر مشورہ کرتا ہے ایک گروہ ان میں سے اس کے برعکس جو آپ نے فرمایا اور اللہ تعالیٰ لکھ رہا ہے جو وہ راتوں کو سوچا کرتے ہیں پس رخِ (انور) موڑ لیجیے ان سے اور بھروسہ کیجیے اللہ پر اور کافی ہے اللہ تعالیٰ (آپ کا) کارساز۔

Verse 82 — Surah An-Nisa 4:82

تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں ؟ اور (اِتنا بھی نہیں سمجھتے کہ) اگر وہ غیر اللہ کی طرف سے (بھیجا گیا) ہوتا تو ضرور پاتے اس میں اختلاف کثیر

Verse 83 — Surah An-Nisa 4:83

اور جب آتی ہے ان کے پاس کوئی بات اطمینان یا خوف کی تو چرچا کرنے لگتے ہیں اس کا ۔ اور اگر لوٹا دیتے اسے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) (کریم) کی طرف اور بااقتدار لوگوں کی طرف اپنی جماعت سے تو جانن لیتے اس خبر (کی حقیقت) کو وہ لوگ جو نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں بات کا ان میں سے اور اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل تم پر اور (نہ ہوتی) اس کی رحمت تو ضرور تم اتباع کرنے لگتے شیطان کا سوائے چند آدمیوں کے۔

Verse 84 — Surah An-Nisa 4:84

تو (اے محبوب!) جہاد کرو اللہ کی راہ میں نہ تکلیف دی جائے گی آپ کو سوائے اپنی ذات کے اور ابھاریں آپ ایمان والوں کو (جہاد) پر عجب نہیں کہ اللہ تعالیٰ روک دے زور ان لوگوں کا جو کفر کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی گرفت بہت سخت ہے نیز وہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔

Verse 85 — Surah An-Nisa 4:85

جو کرے گا سفارش اچھی ہوگا اس کا حصہ اس میں سے اور جو کرے گا سفارش بری تو ہوگا اس کے لیے بوجھ اس سے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

Verse 86 — Surah An-Nisa 4:86

اور جب سلام دیا جائے تمھیں کسی لفظ دعا سے تو سلام دو تم ایسے لفظ سے جو بہتر ہو اس سے یا (کم از کم) دوہرا وہی لفظ بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔

Verse 87 — Surah An-Nisa 4:87

اللہ، نہیں کوئی معبود بغیر اس کے وہ ضرور جمع کرے گا تمھیں قیامت کے دن نہیں ذرا شک اس کے آنے میں اور کون زیاد سچا ہے اللہ تعالیٰ سے بات کہنے میں ۔

Verse 88 — Surah An-Nisa 4:88

سو کیا ہوگیا ہے تمھیں کہ منافقوں کے بارے میں (تم) دو گروہ بن گئے ہو احالناکہ اللہ تعالیٰ نے اوندھا کردیا ہے انھیں بوجہ ان کرتوتوں کے جو انھوں نے کیے کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اسے راہ دکھاؤ جسے گمراہ کردیا اللہ نے اور جسے گمراہ کردے اللہ تعالیٰ تو ہر گز نہ پائے گا تو اس کے لیے (ہدایت) کا راستہ۔

Verse 89 — Surah An-Nisa 4:89

وہ دوست رکھتے ہیں اگر تم بھی کفر کرنے لگو جیسے انھوں نے کفر کیس تاکہ تم سب یکساں ہوجاؤ پس نہ بناؤ تم ان سے اپنے دوست یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں اللہ کی راہ میں پس اگر وہ (ہجرت سے ) منہ موڑیں تو پکڑلو انھیں اور قتل کرو انھیں جہاں کہیں پاؤ ان کو اور نہ بناؤ ان سے (کسی) کو اپنا دوست اور نہ مددگار۔

Verse 90 — Surah An-Nisa 4:90

مگر ان کو (قتل نہ کرو) جو تعلق رکھتے ہیں اس قوم سے کہ تمہارے درمیان اور ان کے درمیان معاہدہ ہے یا آگئے ہوں تمہارے پاس اس ھال میں کہ تنگ ہوچکے ہوں ان کے سینے کہ جنگ کریں تم سے یا جنگ کریں اپنی قوم سے اور اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو مسلط کردیتا انھیں تم پر تو وہ ضرور لڑتے تم سے پھر اگر وہ کنارہ کرلیں تم سے اور جنگ نہ کریں تمہارے ساتھ اور بھیجیں تمہاری طرف صلح (کا پیغام) تو نہیں بنائی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ان پر (زیادتی کرنے کی) راہ ۔

Verse 91 — Surah An-Nisa 4:91

تم پاؤگے چند اور لوگ جو چاہتے ہیں کہ امن میں رہیں تم سے بھی اور امن میں رہیں اپنی قوم سے (لیکن) جب کبھی پھیرے جاتے ہین فتنہ کی طرف تو منہ کہ بل گر پڑتے ہیں اس میں سو اگر نہ کنارہ کریں تم سے یا نہ بھیجیں تمہاری طرف صلح (کا پیغام) اور نہ روک لیں اپنے ہاتھ تو پکڑ لو انھیں اور قتل کرو انھیں جہاں تم پاؤ انھیں اور یہی لوگ ہیں کہ دیا ہے ہم نے تمھیں ان پر کھلا اختیار۔

Verse 92 — Surah An-Nisa 4:92

اور نہیں (جائز) کسی موکن کے لیے کہ قتل کرے کسی مومن کو مگر غلطی سے اور جس نے قتل کیس کسی مومن کو غلطی سے تو (اس کی سزا یہ ہے کہ ) آزاد کرے مسلمان غلام اور خوں بہا ادا کرے مقتول کے گھر والوں کو مگر یہ کہ وہ خود ہی (خوں بہا) معاف کردیں پھر اگر ہو (مقتول) اس قوم سے جو دشمن ہے تمہار لیکن وہ (مقتول) خود مومن ہو تو (قاتل) آزاد کرے ایک مسلمان غلام اور اگر مقتول اس قوم سے ہو کہ ہوچکا ہے تمہارے درمیان اور ان کے درمیان معاہدہ تو (قاتل) خوں بہادے دے اس کے گھر والوں کو اور آزاد کرے ایک مسلمان غلام تو جو شخص غلام نہ پاسکے تو روزے رکھے دہ ماہ لگا تار ( اس گناہ کی) توبہ اللہ کی طرف سے (یہی مقرر ہے) اور ہے اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا حکمت والا۔

Verse 93 — Surah An-Nisa 4:93

اور جو شخص قتل کرے کسی مومن کو جان بوجھ کر تو اس کی سزا جہنم ہے ہمیشہ رہے گا اس میں اور غضبناک ہوگا اللہ تعالیٰ اس پر اور اپنی رحمت سے دور کردے گا اسے اور تیار کر رکھا ہے اس نے اس کے لیے عذاب عظیم ۔

Verse 94 — Surah An-Nisa 4:94

اے اہل ایمان جب تم سفر پر نکلو اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے) تو خوب تحقیق کرلو اور نہ کہو اسے جو بھیجتا ہے تم پر سلام کہ تم مومن نہیں ہو تم تلاش کرتے ہو سامن دنیوی زندگی کا پس اللہ کے پاس بہت غنیمتیں ہیں (وہ تمھیں غنی کردے گا) ایسے ہی (کافر) تم بھی تھے اس سے پہلے پھر احسان فرمایا اللہ نے تم پر تو خوب تحقیق کرلیا کرو یقیناً اللہ تعالیٰ اس سے جو کچھ کرتے ہو خبردار ہے۔

Verse 95 — Surah An-Nisa 4:95

نہیں برابر ہوسکتے (گھروں میں ) بیٹھنے والے مسلامن سوائے معذوروں کے اور جہاد کرنے والے الہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے بزرگی دی ہے اللہ تعالیٰ نے جہاد کرنے والوں کو اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے (گھروں میں ) بیٹھ رہنے والوں پر درجہ میں اور سب سے وعدہ فرمایا ہے اللہ نے بھلائی کا لیکن فضیلیت دی ہے اللہ نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھنے والوں پر اجر عظیم سے۔

Verse 96 — Surah An-Nisa 4:96

(ان کے لیے) بلند درجے ہیں اللہ (کی جناب) سے اور (نوید) بخشش اور رحمت ہے اور ہے اللہ تالیٰ سارے گناہ بخشنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ۔

Verse 97 — Surah An-Nisa 4:97

بے شک وہ لوگ کہ قبض کیا ان ( کی روحوں) فرشتوں نے اس حال میں کہ وہ ظلم توڑرہے تھے اپنی جانوں پر فرشتوں نے انھیں کہا تم کسی شغل میں تھے (معذرت کرتے ہوئے) انھوں نے کہا ہم تو بےبس تھے زمین میں فرشتوں نے کہا کیا نہیں تھی اللہ کی زمین کشادہ تاکہ تم ہجرت کرتے اس میں یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہے اور جہنم بہت بری پلٹ کر آنے کی جگہ ہے۔

Verse 98 — Surah An-Nisa 4:98

مگر واقعی کمزور بےبس مرد اور عورتیں اور بچے جو نہیں کرسکتے تھے (ہجرت کی) کوئی تدبیر اور نہیں جانتے تھے (وہاں سے نکلنے کا ) کوئی راستہ ۔

Verse 99 — Surah An-Nisa 4:99

تو یہ لوگ ہیں جن کے بارے میں امید کی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ درگزر فرمائے گا ان سے اور اللہ تعالیٰ درگزر فرمانے والا بہت بخشنے والا ہے۔

Verse 100 — Surah An-Nisa 4:100

اور جو شخص ہجرت کرے گا للہ کی راہ میں پائے گا زمین میں پناہ کے لیے بہت جگہ اور کشادہ روزی اور جو شخص نکلے اپنے گھر سے ہجرت کرکے اللہ کی طرف اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف پھر آلے اس کو (راہ میں ) موت تو ثابت ہوگیا اس کا اجر اللہ اکے ذمہ اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

Verse 101 — Surah An-Nisa 4:101

اور جب تم سفر کرو زمین میں تو نہیں تم پر کچھ حرج اگر تم قصر کرو نماز میں اگر ڈرو تم اس بات سے کہ تکلیف پہنچائیں گے تمہیں کافر بےشک کافر تو نمھارے کھلے دشمن ہیں۔

Verse 102 — Surah An-Nisa 4:102

اور (اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) !) جب آپ ان میں موجود ہوں اور قائم کریں آپ ان کے لیے نماز تو چاہیے کہ کھڑا ہوا یک گروہ ان سے آپ کے ساتھ اور وہ پکڑ رکھیں اپنے ہتھیار پس جب سجدہ کرچکیں توہ وہ ہوجائیں تمہارے پیچھے اور آجائے دوسرا گورہ جن نے (ابھی) نماز نہیں پڑھی پس (اب) وہ نماز پڑھیں آپ کے ساتھ اور لیے رہیں اپنے بچاؤ کا سامان اور اپنے ہتھیار تمنا کرتے ہیں کافر اگر تم غافل ہو جاؤ اپنے اسلحہ سے اور اپنے سازوسامان سے تو وہ ٹوٹ پڑیں تم پر ایک بارگی اور نہیں کوئی حرج تم پر اگر ہو تنھیں تکلیف بارش کی وجہ سے یا ہو تم بیمار تو اتار دو اپنے ہتھیار مگر (دُشمن کی نقل و حرکت سے) ہوشیار رہو بےشک اللہ تعالیٰ نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے عذاب رسوا کرنے والا۔

Verse 103 — Surah An-Nisa 4:103

جب تم ادا کرچکو نماز تو ذکر کرو اللہ تعالیٰ کا کھڑے ہوئے اور بیٹھے ہوئے اور اپنے پہلؤوں پر (لیٹے ہوئے) پھر جب مطمئن ہوجاؤ (دشمن کی طرف سے) تو ادا کرو نماز (حسب دستور) بےشک نماز مسلمانوں پر فرض کی گئی ہے اپنے اپنے مقرر وقت پر۔

Verse 104 — Surah An-Nisa 4:104

اور نہ کمزوری دکھاؤ (دشمن) قوم کی تلاش میں اگر تمھیں دکھ پہنچتا ہے تو انھیں بھی دکھ پہنچتا ہے جیسے تمھیں دکھ پہنچتا ہے اور تم تو امید رکھتے ہو اللہ تعالی سے اس (ثواب ) کی جس کی وہ امید نہیں رکھتے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا بڑا دانا ہے۔

Verse 105 — Surah An-Nisa 4:105

بے شک ہم نے نازل کی ہے آپ کی طرف یہ کتاب حق کے ساتھ تاکہ فیصلہ کریں آپ لوگوں میں اس کے مطابق جو دکھادیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے اور نہ بنیئے بددیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے۔

Verse 106 — Surah An-Nisa 4:106

اور مغفرت طلب کیجیے اللہ سے بےشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

Verse 107 — Surah An-Nisa 4:107

اور مت جھگڑیں آپ ان کی طرف سے جو خیانت کرتے ہیں اپنے اپ سے بےشک اللہ تعالیٰ نہیں دوست رکھتا اسے جو بڑا بددیانت (اور ) بد کار ہے۔

Verse 108 — Surah An-Nisa 4:108

وہ چھپا سکتے ہیں (اپنے ارادے) لوگوں سے لیکن نہیں چھپا سکتے اللہ تعالیٰ سے اور وہ تو (اس وقت بھی) ان کے ساتھ ہوتا ہے جب راتوں کو مشورہ کرتے ہیں ایسی باتوں کا جو پسند نہیں اللہ کو اور اللہ تعالیٰ جو کچھ وہ کرتے ہیں اسے گھیرے ہوئے ہے۔

Verse 109 — Surah An-Nisa 4:109

سنتے ہو! تم وہ لوگ ہو کہ جھگڑتے ہو ان کی طرف سے دنیا کی زندگی میں پس کون جھگڑے گا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی طرف سے قیامت کے دن یا کون ہوگا (اس روز) ان کا وکیل۔

Verse 110 — Surah An-Nisa 4:110

اور جو شخص کربیٹھے بڑا کام یا ظلم کرے اپنے آپ پر پھر مغفرت مانگے اللہ تعالیٰ سے تو پائے گا اللہ تعالیٰ کو بڑا بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا۔

Verse 111 — Surah An-Nisa 4:111

اور جو کمائے گناہ کو تو وہ کماتا ہے اسے اپنے لیے اور اللہ تعالیٰ علیم (و) حکیم ہے۔

Verse 112 — Surah An-Nisa 4:112

اور جو شخص کمائے کوئی خطا یا گناہ پھر تہمت لگائے اس سے کسی بےگناہ کو تو اس نے اٹھا لیا (بوجھ) بہتان کا اور کھلے گناہ کا۔

Verse 113 — Surah An-Nisa 4:113

اور اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل آپ پر اور اس کی رحمت تو تہیہ کرلیا تھا ایک گروہ نے ان سے کہ غلطی میں ڈال دیں آپ کو اور نہیں غلطی میں ڈال رہے مگر اپنے آپ کو اور نہیں ضرر پہنچاسکتے آپ کو کچھ بھی اور اتاری ہے اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور حکمت اور سکھادیا آپ کو جو کچھ بھی آپ نہیں جانتے تھے اور اللہ تعالیٰ کا آپ پر فضل عظیم ہے۔

Verse 114 — Surah An-Nisa 4:114

نہیں کوئی بھلائی ان کی اکثر سرگوشیوں میں بجز ان لوگوں کے جو حکم دیں صدقہ دینے کا یا نیک کام کا یا صلح کرنے کا لوگوں میں اور جو شخص کرے یہ کام اللہ تعلاٰ کی رضا مندیاں حاصل کرنے کے لیے تو ہم عطا فرمائیں گے اسے اجر عظیم۔

Verse 115 — Surah An-Nisa 4:115

اور جو شخص مخالفت کرے (اللہ کے ) رسول کی اس کے بعد کہ روشن ہوگئی اس کے لیے ہدایت کی راہ اور چلے اس راہ پر جو الگ ہے مسلمانوں کی راہ سے تو پھر ہم پھیرے دیں گے اسے جدھر وہ خود پھرا ہے اور ڈال دیں گے اسے جہنم میں اور یہ بہت بری پلٹنے کی جگہ ہے۔

Verse 116 — Surah An-Nisa 4:116

بے شک اللہ تعالیٰ نہیں بخشتا اس (جرم عظیم) کو شریک ٹھیرا یا جائے اس کے ساتھ اور بخش دیتا ہے ماسوا جتنے جرائم ہوں جس کے لیے چاہتا ہے اور جو شریک ٹھیرائے (کسی کو) اللہ کے ساتھ تو وہ گمراہ ہوا اور گمراہی میں دور نکل گیا۔

Verse 117 — Surah An-Nisa 4:117

نہیں عبادت کرتے یہ مشرک اللہ کے سوا مگر دیویوں کی اور نہیں عبادت کرتے مگر شیطان سرکش کی ۔

Verse 118 — Surah An-Nisa 4:118

لعنت کی ہے اس پر اللہ نے اور اس نے کہا تھا کہ میں ضرور لوں گا تیرے بندوں سے (اپنا) حصہ مقرر

Verse 119 — Surah An-Nisa 4:119

اور میں ضرور انھیں گمراہ کروں گا اور میں ضرور انھیں جھوٹی امیدوں میں رکھوں گا اور میں ضرور حکم دوں گا انھیں پس وہ ضرور چیریں گے جانوروں کے کان اور میں انھیں حکم دوں گا تو وہ ضرور بدل ڈالیں گے اللہ کی مخلوق کو اور جو شخص بنالے شیطان کو (اپنا) دوست اللہ کو چھوڑ کر تو نقصان اٹھایا اس نے کھلا نقصان۔

Verse 120 — Surah An-Nisa 4:120

شیطان (جھوٹے ) وعدے کرتا ہے ان سے اور (غلط) اُمیدیں دلاتا ہے انھیں اور نہیں وعدہ کرتا ان سے شیطان مگر فریب کا۔

Verse 121 — Surah An-Nisa 4:121

یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہے اور نہ پائین گے اس سے نکلنے کی جگہ۔

Verse 122 — Surah An-Nisa 4:122

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے داخل کریں گے ہم انین ان باغوں میں رواں ہیں جن کے نیچے ندیاں ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے (یہ) اللہ کا سچا وعدہ ہے اور کون زیاد سچا ہے اللہ تعالیٰ سے بات کرنے میں۔

Verse 123 — Surah An-Nisa 4:123

(نجات کا انحصار) نہ تمہاری جھوٹی امیدوں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی جھوٹی امیدوں پر (بلکہ) جو عمل کرے گا برے اسے سزا ملے گی اس کی اور نہ پائے گا اپنے لیے اللہ کے بغیر کوئی دوست اور نہ مددگار۔

Verse 124 — Surah An-Nisa 4:124

اور جس نے عمل کیے اچھے مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو سو وہی لوگ داخل ہوں گے جنت میں اور نہ ظلم کیے جائی گے تل بھر۔

Verse 125 — Surah An-Nisa 4:125

اور کون بہترہے دینی لحاظ سے اس شخص سے جس نے جھکا دیا ہو اپنا چہرہ اللہ کے لیے اور وہ احسان کرنے والا ہو اور پیروی کی ملت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس حال میں کہ وہ ہر باطل سے منہ موڑے ہوئے ہو اور بنالیا ہے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ( علیہ السلام) کو خلیل۔

Verse 126 — Surah An-Nisa 4:126

اور اللہ کے لیے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو گھیرے میں لینے والا ہے۔

Verse 127 — Surah An-Nisa 4:127

اور فتویٰ پوچھتے ہیں آپ سے عورتوں کے بارے میں ۔ آپ فرمائیے اللہ تعالیٰ فتویٰ دیتا ہے تمھیں ان کے بارے میں اور وہ آیتیں جو پڑھی جاتی ہے تم پر اس کتاب (قرآن) میں (ان میں احکام ہیں) ان یتیم بچیوں کے متعلق جنھیں تم نہیں دیتے ہو جو (حق ) مقرر کیا گیا ہے ان کے اور خواہش کرتے ہو کہ خود نکاح کرلو ان کے ساتھ ( ان کا مال دبوچنے کے لیے) اور (قرآن میں احکام ہیں) کمزور بچوں کے متعلق اور (وہ یہ) کہ قائم رہو یتیموں کے معاملہ میں انصاف پر اور جو کرو گے بھلائی (کے کاموں ) سے تو یقیناً اللہ تعالیٰ اس کو خوب جاننے والا ہے۔

Verse 128 — Surah An-Nisa 4:128

اور اگر کوئی عورت خوف کرے اپنے خاوند سے (اس کی ) زیادتی یا روگردانی کی وجہ سے تو نہیں کوئی حرج ان دونوں پر کہ صلح کرلیں آپس میں اور صلح ہی (دونوں کے لیے ) بہتر ہے اور موجود رکھا گیا ہے نفسوں میں بخل اور اگر تم احسان کرو اور متقی بنو تو بےشک اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔

Verse 129 — Surah An-Nisa 4:129

اور تم ہرگز طاقت نہیں رکھتے کہ پورا پورا انصاف کرو اپنی بیویوں کے درمیان اگرچہ تم اس کے بڑے خواہشمند بھی ہو تو یہ نہ کرو کہ جھک جاؤ (ایک بیوی کی طرف) بالکل اور چھوڑدو دوسری کو جیسے وہ (درمیان میں ) لٹک رہی ہو۔ اور اگر تم درست کرلو (اپنا رویہ) اور پرہیزگار بن جاؤ تو بےشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

Verse 130 — Surah An-Nisa 4:130

اور اگر دونوں (میاں بیوی) جدا ہوجائیں تو غنی کردے گا اللہ تعالیٰ دونوں کو اپنی وسیع بخشش سے۔ اور اللہ تعالیٰ وسیع بخشش والا حکمت والا ہے۔

Verse 131 — Surah An-Nisa 4:131

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ۔ اور بےشک ہم نے حکم دیا ان لوگوں کو جنھیں دی گی کتاب تم سے پہلے اور (حکم دیا ) تمھیں بھی کہ ڈرو اللہ تعالیٰ سے اور اگر کفر کرو تو بیشک اللہ کے ملک میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ بےنیا ز ہے اور ہر تعریف کا مستحق ہے۔

Verse 132 — Surah An-Nisa 4:132

اور اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور کافی ہے اللہ تعالیٰ کارساز۔

Verse 133 — Surah An-Nisa 4:133

اگر چاہے تو لے جائے تمھیں اے لوگوں اور لے آئے دُوسروں کو اور اللہ تعالیٰ اس بات پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

Verse 134 — Surah An-Nisa 4:134

جو شخص ارادہ کرتا ہو صرف ثواب دنیا کا (تو یہ اس کی اپنی کم نظری ہے ) اللہ کے پاس تو دنیا و آخرت (دونوں ) کا ثواب ہے اور اللہ تعالیٰ ہر بات سننے والا ہر چیز دیکھنے والا ہے۔

Verse 135 — Surah An-Nisa 4:135

اے ایمان والوں ! ہوجاؤ مضبوطی سے قائم رہنے والے انصاف پر گواہی دینے والے محض اللہ کے لیے چاہے گواہی دینا پڑے تمھیں اپنے نفسوں کے خلاف یا اپنے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ۔ (جس کے خلاف گواہی دی جارہی ہے) وہ دولت مند ہو یا فقیر۔ پس اللہ زیادہ خیر خواہ ہے دونوں کا ۔ تو نہ پیروی کرو خواہش نفس کی انصاف کرنے میں اور اگر تم ہیر پھیر کرو یا منہ موڑو تو بےشک اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اچھی طرح با خبر ہے۔

Verse 136 — Surah An-Nisa 4:136

اے ایمان والو! اِیمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور اس کتاب پر جو نازل فرمائی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور اس کتاب پر جو نازل کی اس سے پہلے اور جو کفر کرے اللہ کے ساتھ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور روز آخرت کے ساتھ تو وہ گمراہ ہوا اور گمراہی میں دور نکل گیا۔

Verse 137 — Surah An-Nisa 4:137

بے شک جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر بڑھتے گئے کفر میں نہیں ہے سنت الٰہی ان کے متعلق کہ بخش دے انھیں اور نہ (یہ) کہ پہنچائے انھیں راہ (راست) تک ۔

Verse 138 — Surah An-Nisa 4:138

خوشخبری سنادو منافقوں کو کہ بلاشبہ ان کے لیے دردناک عذاب ہے ۔

Verse 139 — Surah An-Nisa 4:139

وہ منافق جو بناتے ہیں کافروں کو (اپنا) دوست مسلمانوں کو چھوڑ کر کیا وہ تلاش کرتے ہیں ان کے پاس عزت ؟ تو (وہ سن لیں) عِزت تو صرف اللہ کے لیے ہے سب کی سب۔

Verse 140 — Surah An-Nisa 4:140

اور تحقیق اتارا ہے اللہ تعالیٰ نے تم پر (یہ حکم ٩ کتاب میں کہ جب تم سنو اللہ کی آیتیوں کو کہ انکار کیا جارہا ہے ان کا اور مذاق اڑایا جارہا ہے ان کا تو مت بیٹھوان (کفرو استہزا کرنے والوں ) کے ساتھ یہاں تک کہ وہ مشغول ہوجائیں کسی دوسری بات میں ورنہ تم بھی انھیں کی طرح ہوگے بےشک اللہ تعالیٰ اکٹھا کرنے والا ہے سب منافقوں اور سب کافروں کو جہنم میں ۔

Verse 141 — Surah An-Nisa 4:141

وہ جو انتظار کررہے ہیں تمہارے (انجام ) کا ۔ تو اگر ہوجائے تمھیں فتح اللہ کی طرف سے (تو) کہتے ہیں کیا نہیں تھے ہم بھی تمہارے ساتھ اور اگر ہو کافروں کے لیے کچھ حصہ (کامیابی سے) کہتے ہیں کیا نہیں غالب آگئے تھے ہم تم پر اور (اس کے باوجود) کیا نہیں بچایا تھا ہم نے تم کو مومنوں سے پس (اے اہل نفاق) اللہ فیصلہ کرے گا تمہارے درمیان قیامت کے دن۔ اور ہرگز نہیں بنائے گا اللہ تعالیٰ کافروں کے لیے مسلمانوں پر (غالب آنے کا ) راستہ ۔

Verse 142 — Surah An-Nisa 4:142

بے شک منافق (اپنے گمان میں) دھوکہ دے رہے ہیں اللہ کو اور اللہ تعالیٰ سزا دینے والا ہے انھیں ( اس دھوکہ بازی کی) اور جب کھڑے ہوتے ہیں نماز کی طرف تو کھڑے ہوتے ہیں کاہل بن کر ( وہ بھی عبادت کی نیت سے نہیں بلکہ) لوگوں کو دکھانے کے لیے اور نہیں ذکر کرتے اللہ تعالیٰ کا مگر تھوڑی دیر۔

Verse 143 — Surah An-Nisa 4:143

ڈانواں ڈول ہورہے ہیں کفر و ایمان کے درمیان نہ ادھر کے اور نہ ادھر کے اور جس کو گمراہ کردے اللہ تعالیٰ تو ہرگز نہ پائے گا تو اس کے لیے ہدایت کا راستہ۔

Verse 144 — Surah An-Nisa 4:144

اے ایمان والوں ! نہ بناؤ کافروں کو اپنا دوست مسلمانوں کو چھوڑ کر کیا تم ارادہ کرتے ہو کہ بنا دو اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے خلاف واضح دلیل ۔

Verse 145 — Surah An-Nisa 4:145

بے شک منافق سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے دوزخ ( طبقوں) سے اور ہرگز نہ پائے گا تو ان کا کوئی مدد گار۔

Verse 146 — Surah An-Nisa 4:146

۔ مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی اور اپنی اصلاح کرلی اور مضبوطی سے پکڑ لیا اللہ کا (دامن رحمت) اور خالص کرلیا اپنا دین اللہ کے لیے تو یہ لوگ ایمان والوں کے ساتھ ہیں اور عطا فرمائے گا اللہ تعالیٰ مومنوں کو اجر عظیم ۔

Verse 147 — Surah An-Nisa 4:147

کیا کرے گا اللہ تعالیٰ تمھیں عذاب دے کر اگر تم شکر کرنے لگو اور ایمان لے آؤ اور اللہ تعالیٰ بڑا قدردان ہے سب کچھ جاننے والا ہے۔

Verse 148 — Surah An-Nisa 4:148

کیا کرے گا اللہ تعالیٰ تمھیں عذاب دے کر اگر تم شکر کرنے لگو اور ایمان لے آؤ اور اللہ تعالیٰ بڑا قدردان ہے سب کچھ جاننے والا ہے۔

Verse 149 — Surah An-Nisa 4:149

اگر تم ظاہر کرو کوئی نیکی یا پوشیدہ رکھو اسے یا درگزر کرو (کسی کی) برائی سے تو بےشک اللہ تعالیٰ درگزر فرمانے والا قدرت والا ہے

Verse 150 — Surah An-Nisa 4:150

بے شک جو لوگ کفر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ اور چاہتے ہیں کہ فرق کریں اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان اور کہتے ہیں ہم ایمان لائے ہیں بعض رسولوں پر اور ہم کفر کرتے ہیں بعض کے ساتھ اور چاہتے ہیں کہ اختیار کرلیں کفرو ایمان کے درمیان کوئی (تیسری) راہ۔

Verse 151 — Surah An-Nisa 4:151

یہی لوگ کافر ہیں حقیقت میں اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافرورں کے لیے عذاب رسوا کرنے والا۔

Verse 152 — Surah An-Nisa 4:152

اور جو لوگ ایمان لائے اللہ تعالیٰ اور اس کے (تمام) رسولوں کے ساتھ ار نہیں فرق کیا انھوں نے کسی میں ان سے یہی لوگ ہیں دے گا انھیں اللہ تعالیٰ ان کے اجر اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

Verse 153 — Surah An-Nisa 4:153

مطالبہ کرتے ہیں آپ سے اہل کتاب کہ آپ اتروادیں ان پر کتاب آسمان سے سو وہ تو سوال کرچکے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑی بات کا انھوں نے کہا تھا ( اے موسیٰ ( علیہ السلام) ) دکھاؤ ہمیں اللہ کھلم کھلا تو پکڑ لیا تھا انھیں بجلی کی کڑک نے بسبب ان کے ظلم کے پھر بنالیا انھوں نے بچھڑے کو (اپنا معبود) اس کے بعد کہ آچکی تھیں ان کے پاس کھلی دلیلیں پھر بھی ہم نے بخش دیا ان کا یہ (سنگین) جرم اور ہم نے عطا فرمایا موسیٰ ( علیہ السلام) کو واضح غلبہ۔

Verse 154 — Surah An-Nisa 4:154

اور ہم نے بلند کیا ان کے اوپر طور کو ان سے پختہ وعدہ لینے کے لیے اور ہم نے فرمایا انھں کہ داخل ہوجاؤ اس دروازہ سے سجدہ کرتے ہوئے اور ہم نے فرمایا انھیں کہ حد سے نہ بڑھنا سبت میں اور ہم نے لیا تھا ان سے پختہ وعدہ ۔

Verse 155 — Surah An-Nisa 4:155

(ان پر پھٹکار کی) وجہ یہ تھی کہ انھوں نے توڑ دیا اپنے وعدہ کو اور انھوں نے انکار کیا اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا اور انھوں نے قتل کیا انبیاء کو ناحق اور انھوں نے یہ (گستاخانہ) بات کہی کہ ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہیں (یوں نہیں) بلکہ مہر لگادی اللہ نے ان کے دلوں پر بوجہ ان کے کفر کے سووہ ایمان نہیں لائیں گے مگر تھوڑی سی تعداد۔

Verse 156 — Surah An-Nisa 4:156

اور ان کے کفر کے باعث اور مریم ( علیہ السلام) پر بہتان عظیم باندھنے کے باعث۔

Verse 157 — Surah An-Nisa 4:157

اور ان کے اس قول سے کہ ہم نے قتل کردیا ہے مسیح عیسیٰ فرزند مریم کو جو اللہ کا رسول ہے حالانکہ نہ انھوں نے قتل کیا اور نہ اسے سولی چڑھا سکے بلکہ مشتبہ ہوگئی ان کے لیے (حقیقت) اور یقیناً جنھوں نے اختلاف کیا ان کے بارے میں وہ بھی شک و شبہ میں ہیں ان کے متعلق نہیں ان کے پاس اس امر کا کوئی صحیح علم بجز اس کے کہ وہ پیروی کرتے ہیں گمان کی اور نہیں قتل کیا انھوں نے اسے یقینا۔

Verse 158 — Surah An-Nisa 4:158

بلکہ اٹھالیا ہے اسے اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا۔

Verse 159 — Surah An-Nisa 4:159

اور کوئی ایسا نہیں ہوگا اہل کتاب سے مگر وہ ضرور ایمان لائے گا یسیھ پر ان کے موت سے پہلے اور قیامت کے دن وہ ہوں گے ان پر گواہ۔

Verse 160 — Surah An-Nisa 4:160

سو بوجہ ظلم ڈھائے یہود کے ہم نے حرام کردیں ان پر وہ پاکیزہ چیزیں جو حلال کی گئی تھیں ان کے لیے اور بوجہ روکنے یہود کے اللہ کے راستے سے بہت لوگوں کو۔

Verse 161 — Surah An-Nisa 4:161

اور بوجہ ان کے سود لینے کے حالانکہ منع کیے گئے تھے اس سے اور بوجہ ان کے کھانے کے لوگون کے مال ناحق ار تیار کر رکھا ہے ہم نے کافروں کے لیے ان میں سے عذاب دردناک۔

Verse 162 — Surah An-Nisa 4:162

لیکن جو پختہ ہیں علم میں ان سے (وہ بھی) اور (جو) مسلمان ہیں ایمان لاتے ہین اس پر جو اتارا گیا آپ کی طرف اور جو اتارا گیا آپ سے پہلے اور صحیح ادا کرنے والے نماز کے اور دینے والے زکوٰۃ کے اور ایمان لانے والے اللہ اور روز آخرت کے ساتھ یہی ہیں جنھیں عنقریب ہم دیں گے اجر عظیم۔

Verse 163 — Surah An-Nisa 4:163

بے شک ہم نے وحی بھیجی آپ کی طرف جیسے وحی بھیجی ہم نے نوح ( علیہ السلام) کی طرف اور ان نبیوں کی طرف جو نوح ( علیہ السلام) کے بعد آئے اور (جیسے) وحی بھیجی ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) ، اسمٰعل ( علیہ السلام) ، اِسحق ( علیہ السلام) ، یعقوب ( علیہ السلام) اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ ( علیہ السلام) ، ایوب ( علیہ السلام) ، یونس ( علیہ السلام) ، ہارون ( علیہ السلام) اور سلیمان ( علیہ السلام) کی طرف اور ہم نے عطا فرمائیے داؤد ( علیہ السلام) کو زبور ۔

Verse 164 — Surah An-Nisa 4:164

اور (جیسے وحی بھیجی) دوسرے رسولوں پر جن کا حال بیان کردیا ہے ہم نے آپ سے اس سے پہلے اور ان رسولوں پر بھی جن کا ذکر ہم نے اب تک آپ سے نہیں کیا اور کلام فرمایا اللہ نے موسیٰ سے خاص کلام۔

Verse 165 — Surah An-Nisa 4:165

(بھیجے ہم نے یہ سارے) رسول خوشخبری دینے کے لیے اور ڈرانیکے لیے تاکہ نہ رہے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی عذر رسولوں کے (آنے کے) بعد اور اللہ تعالیٰ غالب ہے حکمت والا ہے (کوئی تسلیم نہ کرے تو اس کی مرضی)۔

Verse 166 — Surah An-Nisa 4:166

لیکن اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے اس کتاب کے ذریعہ جو اس نے آپ کی طرف اتاری کہ اس نے اسے اتارا ہے اپنے علم سے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور کافی ہے اللہ تعالیٰ بطور گواہ۔

Verse 167 — Surah An-Nisa 4:167

بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور روکا (دوسروں کو) اللہ کی راہ سے وہ گمراہ ہوئے اور گمراہی میں بہت دور نکل گئے۔

Verse 168 — Surah An-Nisa 4:168

بے شک جنہوں نے کفر کیا اور ظلم کیا نہیں ہے اللہ تعالیٰ کہ بخش دے انھیں اور نہ یہ کہ دکھائے انھیں سیدھی راہ۔

Verse 169 — Surah An-Nisa 4:169

بجز جہنم کی راہ کے ہمشہ رہین گے اس میں ابد تک اور یہ بات اللہ تعالیٰ کے لیے بالکل آسان ہے۔

Verse 170 — Surah An-Nisa 4:170

اے لوگوں ! تحقیق آگیا ہے تمھارے پاس رسول حق کے ساتھ تمھارے رب کی طرف سے پس تم ایمان لاؤ یہ بہتر ہے تمھارے لیے اور اگر تم انکار کرو تو بےشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور ہے اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا۔

Verse 171 — Surah An-Nisa 4:171

اے اہل کتاب نہ غلو کرو اپنے دین میں اور نہ کہو اللہ تعالیٰ کے متعلق مگر سچی بات بےشک مسیح عیسیٰ ( علیہ السلام) پسر مریم تو صرف اللہ کے رسول ہین اور اس کا کلمہ جسے اللہ نے پہنچایا تھا مریم کی طرف اور ایک روح تھی اس کی طرف سے پس ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر اور نہ کہو تین (خدا ہیں) باز آجاؤ (ایسا کہنے سے) یہ بہتر ہے تمھارے لیے بےشک اللہ تو معبود واحد ہے پاک ہے وہ اس سے کہ ہو اس کا کوئی لڑکا اسی کا (مِلک) ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اور کافی ہے اللہ تعالیٰ کارساز۔

Verse 172 — Surah An-Nisa 4:172

ہر گز عار نہ سمجھے گا مسیح (علیہ السلام) کہ وہ بندہ ہو اللہ کا اور نہ ہی مقرب فرشتے ( اس کو عار سمجھیں گے) اور جسے عار ہو اس کی بندگی سے اور وہ تکبر کرے تو اللہ جلد ہی جمع کرے گا ان سب کو اپنے ہاں۔

Verse 173 — Surah An-Nisa 4:173

پھر جو ایمان لائے اور نیک عمل یے تو اللہ تعالیٰ پورا پورا دے گا انھیں ان کے اجر اور زیادہ بھی کردے گا انھیں اپنے فضل و کر م سے ۔ لیکن جنھوں نے عار سمجھا ( بندہ بننے کو ) اور تکبر کیا تو عذاب دے گا انھیں دردناک عذاب اور نہ پائین گے اپنے لیے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ کوئی مدد گار

Verse 174 — Surah An-Nisa 4:174

اے لوگوں! آچکی ہے تمھارے پاس ایک (روشن ) دلیل تمھارے پروردگار کی طرف سے اور ہم نے اتارا ہے تمھاری طرف نور درخشاں۔

Verse 175 — Surah An-Nisa 4:175

تو جو لوگ ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر اور مضبوطی سے پکڑ لیا اللہ (رسی) کو تو عنقریب داخل کرے گا انھیں اپنی رحمت اور فضل میں اور پہنچائے گا انھیں اپنی طرف لے جانے والی سیدھی راہ پر ۔

Verse 176 — Surah An-Nisa 4:176

(اے میرے رسول) فتویٰ پوچھتے ہیں آپ سے۔ آپ فرمائیے اللہ تعالیٰ فتویٰ دیتا ہے تمھیں کلالہ (کی میراث) کے بارے میں اگر کوئی ایسا آدمی فوت ہوجائے نہ جس کی کوئی اولاد اور اس کی ایک بہن ہو تو بہن کا نصف حصہ ہے اس کے ترکہ سے اور وہ وارث ہوگا اپنی بہن کا اگر نہ ہو اس بہن کی کوئی اولاد۔ پھر اگر دو بہنیں ہوں تو ان دونوں کو دو تہائی ملے گا اس سے جو اس نے چھوڑا اور اگر وارث ہوں بہن بھائی مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد (بھائی) کا حصہ دوعورتوں (بہنوں) کے حصہ کے برابر ہے۔ صاف صاف بیان کرتا ہے اللہ تمارے لیے (اپنے ) احکام تاکہ گمراہ نہ ہوجاؤ اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔